Bheegi Palkon Par Naam Tumhara Hai By Areej Shah

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara Hai By Areej Shah

 

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara Hai is a beautifully written by Areej Shah, This is a Romantic Love-Based Urdu Novel, she shows us if someone falls in love with how she can survive. The Novel of Areej Shah tells us how life goes up and down, good and bad people we meet, pleasant and sorrowful moments we share with our friends and family.

Areej Shah is considered one of the best Urdu novels writers. Areej Shah has written many Urdu Novels on Facebook that people have liked a lot.  Areej Shah publishes her novels on the FB page. Bheegi Palkon Par Naam Tumhara Hai is her latest novel.Many readers read Areej Shah Novels List on her Fb page.

 

↓ Download  link: 

Download

Bheegi Palkon Par Naam Tumhara Hai By Areej Shah

 

↓ Read Online 

Ep : 1
Ep: 2
Ep: 3 & 4
Ep: 5
Ep: 6
Ep: 7 & 8
Ep: 9 & 10
Ep: 11
Ep: 12
Ep: 13
Ep: 14
Ep: 15
Ep: 16
Ep: 17
Ep: 18
Ep: 19
Ep: 20
Ep: 21
Ep: 22
Ep: 23
Ep: 24
Ep : 25
Ep : 26
Ep : 27
Ep: 28
Ep : 29
Ep : 30
Ep : 31
Ep : 32
Ep : 33
Ep : 34
Ep 35
Ep : 36
Ep: 37
Ep : 38
Ep : 39
Ep: 40
Ep : 41
Ep : 42
Ep: 43
Ep : 44
Ep : 45
Ep : 46
Ep : 47
Ep 48
Ep 49
Ep 50
Ep 51
Ep 52
Ep 53
Ep 54
Ep 55
Ep 56
Ep : 1
پورے گاؤں میں خاموشی کا سماں تھا رنگ برنگی چڑیا اپنے رب پاک کی ثنا خوانی کرتی ۔اپنی خوبصورت آواز میں حسین صبح کی برکتوں کی نوید سنا رہی تھی ۔
گاؤں کی کچن زمیں پر رات بارش کی وجہ سے بھینی بھینی خوشبو پھیلی ہوئی تھی اذان شروع ہونے میں تھوڑا وقت تھا گاؤں کی عورتیں اپنے خاندان کی خدمتوں میں بستر سے اٹھتی چہولا چوکی سنبھالے لگی ۔یہ گاؤں باقی گاؤں کے لحاظ سے کافی حد تک خود مختار تھا
۔کیونکہ یہاں پر شاہ سائیں کی حکومت تھی ۔قاسم شاہ سائیں کس گاؤں کے سرپنچ تھے ۔برسوں سے انہیں کاخاندان اس گاؤں کی دیکھ ریکھ کر رہا تھا
اس وقت صبح کے پانچ بجے تھے حویلی کے سب نوکر شاہ سائیں کے اٹھنے کا انتظار کر رہے تھے ابھی اذان ہونے میں تھوڑا سا وقت باقی تھا کیا شاہ سائیں کوسستی سے نفرت تھی اور اس حویلی کے ملازموں کو شاہ سائیں کے غصے سے خوف آتا تھا ۔
شاہ ساہیں کی مرضی کے خلاف اس حویلی میں کچھ نہیں ہوسکتا تھا اس حویلی میں تو کیا اس گاؤں میں بھی شاہ سائیں کے مرضی کے خلاف پتہ تک ہل نہیں سکتا تھا
انصاف کے معاملے میں وہ اپنی اولاد کے ساتھ بھی نرمی سے پیش نہ آتے تھے لوگ انہیں سخت گیر کہتے تھے کیونکہ اپنے دو جوان بیٹوں اور داماد کو دفناتے ہوئے ان کی آنکھوں سے آنسو تک نہ گرا ۔
اس حویلی میں برسوں سے صرف شاہ سائیں کی ہی چلتی آئی تھی اور آگے بھی نہ جانے کتنے برسوں تک انکی ہی چلنی تھی ان کے اصول ان کا روعب پورے خاندان کے ساتھ پورے گاؤں پر پھیلا ہوا تھا
۔
قتل وغیرت کے معاملوں سے لے کر گاؤں کے گھر گھر کے پانی کا معاملہ تک شاہ سائیں خود سمبھالتے تھے ۔
یہ گاؤں ان کے لیے صرف ایک گاؤں نہیں بلکہ ان کا اپنا گھر تھا ان کا خاندان تھا ۔جس کا خیال رکھنا اپنا فرض سمجھتے تھے
••••••••••••••••
آج سے 18 سال پہلے اس حویلی پر ملکوں کا ایسا قہر ٹوٹا جو ان کا خاندان تباہ کر گیا ان کے گھر کو ریزہ ریزہ کر گیا
ان کی پانچ اولادیں سب سے بڑے عاصم شاہ ان کے بعد حالم شاہ ان کے بعد بیٹی رضوانہ شاہ اور پھر احمد شاہ اور ان سب کے بعد ان کی سب سے لاڈلی اور پیاری بیٹی آہانہ جس کا نام لیتے ہوئے بھی اکثر ان کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑتے
اس حویلی کے سب ہی لوگ شاہ سائیں کے لیے بہت اہم تھے سوائے حوریہ کے۔ وہ معصوم سی بےقصور لڑکی اس گھر میں ہر کسی کی نفرت کا شکار تھی
اور اس نفرت کی وجہ اس کی ماں اہانہ شاہ نہیں بلکہ باپ احسن ملک تھا۔اس کا باپ جیسے اس نے زندگی میں کبھی دیکھا تک نہ تھا ۔جس کا لمس نے کبھی محسوس ہی نہ کیا تھا اس شخص کی نفرت کی وجہ سے وہ اپنی حویلی کے بیج نفرتوں کا شکار تھی۔
وہ اکثر سوچتی کہ وہ ان سب کے نفرتوں کا شکار کیوں ہے دادا سائیں اس کی طرف دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے
ایک کردم لالا تھے جو اس سے محبت سے پیش آتے محبت سے تو مقدم لالہ بھی پیش آتے تھے لیکن وہ خود کو لالہ نہیں کہنے دیتے ہیں
وہ اسے اپنی نظروں سے بہت کچھ پیغام دیتے تھے یہ نہیں تھا کہ وہ ان کی نظروں کے پیغامات سمجھ نہیں سکتی تھی وہ اتنی بھی بچی نہ تھی۔
وہ کبھی مقدم کی محبت کی طرف پیش قدمی نہیں کر سکتی تھی شاید وہ اپنی اوقات اس حویلی میں اچھے سے سمجھتی تھی ۔
کردم لالہ اورمقدم لالہ کے علاوہ اگر تائشہ کی بات کی جائے تو اسے صرف اپنے مطلب کے وقت ہی حوریہ کو یاد کرتی تھی
اس بے ضروسی لڑکی سے تائشہ کو بھلا کیا مطلب ہو سکتا ہے سوائے کردم شاہ کے وہ اس کے بچپن کا منگیتر تھا اس کا ساتھی تھا ۔اس کے خوابوں کا شہزادہ تھا تائشہ کا ہر جذبات اس کے ساتھ جڑا تھا ۔
لیکن کردم کے خیالات اس سے تھوڑے الگ تھے اس کا کہنا تھا انگوٹھی پہنا دی ہے شادی بھی کر لوں گا لیکن یہ پیار محبت کی میٹھی باتیں کرنا ایک دوسرے کا خیال رکھنا یہ سب کچھ شادی کے بعد ہی سوٹ کرتا ہے شادی سے پہلے یہ سب فضولیات ہیں
منگنی کوئی ایسا مضبوط رشتہ نہیں جس کے بینا پر وہ تائشہ کو خوابوں کی دنیا دکھانا شروع کر دے۔کردم کی نظروں میں منگنی کی کوئی اہمیت نہ تھی
۔اہمیت تھی تو صرف اپنے دادا سائیں کی زبان کی ۔جس کی وجہ سے تائشہ کردم شاہ اس کے نام پر بیھٹی تھی ۔
••••••••••••••••••
رضوانہ خالہ سائیں نے ابھی ابھی کیچن میں قدم رکھا تھا ۔
لیکن ہر روز کی طرح آج بھی پہلے حوریہ کو یہاں دیکھ کر ان کا موڈ خراب ہوگیا
صبح صبح اس منہوس کی شکل دیکھلی سارا دن ہُرا گزرے گا کتنی بار کہا ہے صبح صبح یہ مشکل مت دکھایا کرو منہوس کہیں کی ۔۔۔۔۔
خالہ سائیں کچن سے باہر نکل گئی تھی۔ان کا صبح صبح حوریہ کی شکل دیکھ کر اپنا موڈ مزید خراب کرنے کا کوئی ارادہ نہ تھا حوریہ کو ان سب باتوں کی عادت تھی لیکن ہر روز یہ بات برداشت کرتے کرتے وہ نازک سی لڑکی اندر ہی اندر ختم ہوتی جارہی تھی ۔
اس نے ایک نظر ممانی سائیں کی طرف دیکھا جو ہر روز کی طرح سب کچھ سن کر بھی خاموش تھی جیسی یہاں جو کچھ ابھی ابھی ہوا ہے ان سب سے بالکل انجان ہوں
18 سال پہلے ماموں سائیں کے انتقال کے بعد اب تک وہ سوائے مقدم سائیں اور ناناسائیں کےکسی سے بات نہ کرتی
انہیں سوائے اپنے بیٹے کے کسی سے مطلب نہ تھا۔
حویلی میں کیا ہوتا ہے کیوں ہوتا ہے انہیں کسی بات کی پروا نہ تھی اس وقت بھی وہ اپنے بیٹے کے لئے ناشتہ بنا رہی تھی ۔
ہر روز کی طرح آج بھی وہ خالہ سائیں کی باتیں اگنور کرتے ہوئے حوریہ نے اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کیے اور ناشتہ اٹھا کر باہر لے آئی۔جبکہ اس کے پیچھے ممانی سائیں نے بس ایک نظر دروازے کی طرف دیکھا تھا
کردم لالا کمرے میں ناشتہ کریں گے خالہ سائیں کی نگاہوں کو آگے پیچھے جاتے دیکھ کر وہ فوراً بولی
کس نے پوچھا ہے تجھ سے ہر بات میں ٹانگ نا اڑایا کر
خالہ سائیں غصے سے کہتی اپنی بیٹی کی طرف دیکھنے لگی ۔
وہ جو کب سے نفرت زدہ نظروں سے اسے گھور رہی تھی اچانک ہی ان کی نظر میں اپنی اپنی بیٹی کے لیے محبت بھر آئی
جاتائشہ کردم سائیں اوپر ہیں جاکے ناشتہ دے آ۔
اماں سائیں کے کہنے پر تائشہ آگے آئی اور حوریہ کے ہاتھ سے ٹرے لے لی توحوریہ نے شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوئے ٹرے اس کے حوالے کر دی تھی جس پر وہ شرماتی ہوئی کردم کے کمرے کی طرف چل دی
••••••••••••••
اس نے ہلکی سی دستک دے کر اندر آنے کی اجازت چاہی
اور اجازت ملتے ہی دروازے کی حدود پار کرتی اندر داخل ہوکر اپنے محبوب کا دیدار کرنے لگی ۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔۔۔؟
کتنی بار منع کہا ہے تمہیں میرے کمرے میں مت آیا کرو ۔
اسے اپنے کمرے میں دیکھتے ہی کردم کے بے شکن ماتھے پر بل پر چکے تھے ۔
وہ کردم سائیں حوریہ کالج کے لیے لیٹ ہو رہی تھی بیچاری جس دن آپ گھر پے ہوتے ہیں آپ کا ناشتہ بناتے ہوئے لیٹ ہو جاتی ہے
لیکن اماں سائیں نے کہا کہ یہ سارے کام میری ذمہ داری ہیں اور یہ مجھے کرنے چاہیے آج نہیں تو کل حوریہ چلی جائے گی اور آپ کو تو اس کی اتنی عادت ہوگئی ہے کردم سائیں کہ اپنے سارے کام آپ اسی سے کرواتے ہیں ۔
لیکن یہ سب میری ذمہ داری ہے جو مجھے سمجھنا چاہیے اسی لیے میں نے آپ کا ناشتہ بنا دیا وہ نظریں جھکائے جھوٹ بولنے لگی
یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے میں نے تم سے پوچھا میں نے تمہیں اپنے کمرے میں آنے سے منع کیا تھا تو تم کیوں آئی ہو اس کی شرم و حیا کو اگنور کئے بولا
وہ جو اسے دیکھ کر اپنی بے چین نظروں کو سکون دینے آئی تھی نظر اٹھا کر اسے دیکھا بھی نہ پائی
میں پہلے بھی منع کر چکا ہوتا ہے تائشہ اب بھی منع کر رہا ہوں شادی کے بعد تمہیں اسی کمرے میں آنا ہے
اور اس گھر میں ہی نہیں بلکہ اس سے پورے گاؤں میں میری بہت عزت ہے اور تمہارا نام میرے نام کے ساتھ جڑا ہے میں نہیں چاہتا کہ نوکروں کی نظر میں آکر تم بد نام ہو جاؤ کیونکہ اپنے خلاف میں کچھ بھی برداشت کر لوں گا لیکن داداسائیں کی عزت پر حرف ہے تو خود کو ختم کر دوں گا ۔
اس طرح سے نہ کہیں کردم سائیں تائشہ نے تڑپ کر اس کی بات کاٹی
میں نے کہا جاؤ یہاں سے تائشہ کر دم نے اس بار زیادہ سختی سے کہا تو وہ نظر جھکاتی کمرے سے باہر نکل گئی اسے خود پر ترس آ رہا تھا
وہ آج تین دن کے بعد گھر ہے اور اس سنگدل محبوب نے اسے جی بھر کر دیکھنے بھی نہ دیا۔
اسے اپنے پیچھے دروازہ بند ہونے کی آواز آئی
جبکہ کھانے کا پہلا نوالہ لیتے ہیں کردم سمجھ چکا تھا کہ کھانا کس نے بنایا ہے۔
کسے تائشہ کی یہ بات بہت بری لگتی تھی کہ وہ اس سے جڑی ہر بات پر جھوٹ بولتی تھی۔
 
Ep: 2
اپنے بیٹے کا ناشتہ بنا کر وہ اس کے کمرے میں آ گئی ۔
نازیہ نے ایک نظر پورے کمرے کو دیکھا ۔
اور پھر اپنے بیٹے کو ۔۔جو ان سے بے خبر پر سکون نیند سو رہا تھا ۔
رات دوستوں کے ساتھ جانے کی وجہ سے وہ بہت دیر سے واپس آیا تھا ۔مقدم شاہ زندگی گزارنے والوں میں سے نہیں زندگی جینے والوں میں سے تھا ۔
وہ اپنی زندگی کو بھرپور طریقے سے جی رہا تھا کردم شاہ کے مقابلے میں وہ ذرا لاپروا تھا ۔اس کی زندگی میں تین چیزیں سب سے زیادہ اہمیت رکھتی تھی ایک اس کی ماں دوسری اس کی آزادی اور تیسری حوریہ۔
حوریہ کے لیے اس کے جذبات نازیہ بچپن سے ہی دیکھتی آئی تھی وہ اسے لے کر بہت ٹچی تھا ۔نازیہ جانتی تھی کہ وہ حوریہ کے لیے اپنے دل میں جذبات رکھتا ہے لیکن وہ حقیقت کو قبول نہیں کرنا چاہتی تھی اور نہ ہی اس حقیقت کا سامنا ۔
وہ اپنے شوہر کے قاتل کی بیٹی سے اپنے بیٹے کی محبت کو قبول نہیں کرنا چاہتی تھی۔ابھی تک مقدم شاہ نے اس سے خود اس بارے میں کوئی بات نہ کی تھی ۔
لیکن وہ جانتی تھی آج نہیں تو کل مقدم شاہ اپنی ماں کو اپنی پسندضرور بتائیے گا ۔لیکن اس معاملے میں وہ کچھ حد تک پر سکون بھی تھی۔
کیونکہ مقدم شاہ کا بچپن سے ہی رشتہ اس کی چاچا زاد سویرہ سے تہہ تھا ۔جس کی پیدائش پر ہی مقدم شاہ کے بابا حالم شاہ نے سویرا کے ہاتھ میں مقدم شاہ کے نام کی انگوٹھی پہنائی تھی۔
احمد شاہ لندن میں اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ رہتے تھے اب تک انہیں سویرہ کی شادی کے سلسلے میں یہاں آ جانا چاہیے تھا ۔لیکن بابا سائیں کی ناراضگی کی وجہ سے وہ ابھی تک یہاں نہ آئے تھے بابا سائیں ان کا چہرہ تک نہیں دیکھنا چاہتے تھے ۔
بابا سائیں کی ناراضگی بلکل صحیح تھی اس معاملے میں گھر کا کوئی فرد کچھ نہ کہتا ۔احمد شاہ کو معاف کرنا یا سزا دینا بابا سائیں کے ہاتھ میں تھا ۔
•••••••••••••
اٹھ جائیں بیٹا سائیں صبح ہو چکی ہے آپ کے دادا سائیں کا آرڈر ہے کہ آپ کو نو بجے ڈیرے پر پہنچنا ہے نازیہ نے محبت سے مقدم شاہ کو جگانے کی کوشش کی
وہ جانتی تھی کہ وہ اتنی آسانی سے نہیں اٹھے گا اسی لیے دادا سائیں کا نام لینا بہت ضروری تھا ۔
لیکن یہ بھی سچ تھا کہ 9 بجے اسے ڈیرے پر پہنچنا تھا ۔
دادا سائیں اپنے دونوں پوتوں میں گاؤں کے غریب اور بے بس لوگوں کے لیے احساس دیکھنا چاہتے تھے ۔
کردم تو اس معاملے میں مقدم سے بہت آگے تھا ۔
وہ گاؤں والوں کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتا تھا۔ سارے گاؤں کو یقین تھا کہ اس گاؤں کا اگلا سرپنچ کردم شاہ ہوگا ۔
لیکن دادا سائیں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے دونوں پوتوں کو آزمائیں گے جو اس گدی کے لائق ہوا اسی کو ہی یہ گدی دی جائے گی ۔
لیکن اب وہ مقدم سے ناامید ہوتے جارہے تھے کیونکہ مقدم کو گدی میں کوئی انٹرسٹ نہ تھا ۔اسے سب سے زیادہ اپنی آزادی پیاری تھی جس میں وہ کسی قسم کا انٹر فیر برداشت نہیں کر سکتا ۔
صبح بخیر میرا چاند اسے اٹھتا دیکھ کر نازیہ نے محبت سے اس کی پیشانی چومی
بابا سائیں بہت تعریف کر رہے تھے صبح آپ کی کہہ رہے تھے کہ آپ شیر کا شکار کر کے لائیں ہیں نازیہ مسکراتے ہوئے بتانے لگی اور ساتھ میں اس کا ناشتہ میز پر لگانے لگی ۔
جب کہ وہ ان کی باتوں پر مسکراتا فریش ہونے چلا گیا جلدی کریں بیٹا سائیں ناشتہ ٹھنڈا ہوجائے گا۔۔
نازیہ کے لہجے میں اس کے لئے محبت تھی وہ مسکراتے ہوئے باہر آیا اور ان کی پیشانی پر اپنے لب رکھے وہ جب رات شراب پی کے سوتا تھا تو صبح اپنی ماں سے تب تک بات نہیں کرتا جب تک اس شراب کی بدبو اس کے منہ سے چلی نہ جائے ۔
دادا سائیں نے اپنے پوتوں کو ہر طرح کی آزادی دی تھی یہی وجہ تھی کہ نازیہ اپنے بیٹے کو بری عادتوں کی طرف جانے سے روک نہ پائی ۔
دادا سائیں کا کہنا تھا کہ وہ خاندانی جاگیر ہیں ۔اور اس طرح کی آزادی ان کے خاندان کے ہر مرد کو دی جاتی ہے
لیکن اتنی بری عادتوں کے باوجود بھی مقدم شاہ اپنے بڑوں کی عزت اور احترام میں کبھی کمی نہ کرتا ۔
جبکہ یہی ساری آزادیاں کردم کو بھی میسر تھی ۔ لیکن آوارہ گردی شراب رات دیر تک پارٹیاں ۔ یہ سب کردم کو ہرگز پسند نہ تھا ۔
اسے بس ڈیرے پر جانا اچھا لگتا تھا ۔وہاں نہ جانے کتنے گھنٹے بیٹھا رہتا تھا ۔اسے محفل پسند نہ تھی وہ تنہائی پسند تھا ۔وہ اپنا زیادہ وقت اپنے آپ کے ساتھ گزارتا تھا
اماں سائیں آپ کے ہاتھ میں جادو ہے وہ ان کے ہاتھ چومتا ناشتہ کرنے میں مصروف ہو چکا تھا جبکہ نازیہ اپنے وجاہت کے منہ بولتے ثبوت کو دیکھ رہی تھی جو اپنے باپ کے سب نقش چڑھائے ان کے سامنے بڑی شان سے بیٹھا تھا۔
اس کی خوبصورتی لفظوں کی محتاج نہ تھی اس کی گہری سیاہ آنکھیں ہی سامنے والے کو اپنا اسیر کا لیتی تھی وہ ہر صبح اس کو اپنے سامنے بٹھا کر ناشتہ کرواتی تھیں ۔
اور جس دن وہ ان کے سامنے ناشتہ کئے بغیر چلا جائے ان کا سارا دن بیچینی سے گزرتا ۔
بس سارا دن ایک ہی سوچ سر پر سوار رہتی نہ جانے ان کے بیٹے نے کچھ کھایا بھی ہوگا یا نہیں ۔
اور مقدم شاہ جانتا تھا کہ اس کی ماں سوائے اس کے حویلی میں کسی سے بات نہیں کرتی تھی ۔
اسی لیے وہ چاہے جتنا بھی مصروف کیوں نہ ہو اپنی ماں کے لئے ہر روز وقت ضرور نکالتا تھا جو اسے دیکھ کر جیتی تھی
•••••••••••••
ان کا خاص آدمی صدیق بہت دنوں سے ہی سویراپہ نظر رکھے ہوئے تھا ۔
سویرا کی جو خبر یں انہیں مل رہی تھی اس کی وجہ سے وہ اس سے بہت زیادہ غصہ تھے ۔
سویرا کا باہر لڑکوں کے ساتھ گھومنا شراب نوشی کرنا یہ ان کے خاندان کے عورتوں کی روایات نہ تھی ۔
انہوں نے شروع سے ہی اپنی بیٹیوں پر کوئی پابندی نہ لگائی تھی شاید یہ اسی کا ہی نتیجہ تھا جو سویرا مکمل ان کے ہاتھ سے نکل چکی تھی ۔
انہیں سویرا پر بہت غصہ تھا ۔اس وقت رات کے ایک بجے وہ اس کا انتظار کر رہے تھے ۔
صدیق نے جس لڑکے کے بارے میں بتایا تھا وہ ایک انگریز تھا
اور احمد شاہ یہ بھی سمجھ رہے تھے کہ ان کی بیٹی بہت جلد اس انگریز کی وجہ سے ان سے بغاوت کرنے والی ہے ۔
اور حقیقت یہی تھی کہ سویرہ صرف اور صرف مقدم شاہ کی امانت دی ۔
اس کی آزادی اپنی جگہ لیکن وہ یہ رشتہ توڑ نہیں سکتے تھے ایک یہی آخری سہارا تھا حویلی واپس جانے کا بابا سائیں سے ملنے کا ان سے معافی مانگنے کا ۔
اور ان کی لاڈلی بیٹی ان سے یہ آخری سہارا بھی چھین لینا چاہتی تھی ۔
جو انہیں ہر چیز گوارا نہ تھا
•••••••••••••••
سویرہ یہ کونسا وقت ہے گھرآنے کا احمد شاہ نے غصے سے اپنی بیٹی سے کہا۔
بابا سائیں میں اپنے فرینڈز کے ساتھ تھی اور آپ کو تو پتا ہے فرینڈز کے ساتھ وقت تو لگ ہی جاتا ہے اس کے لہجے کی لڑکھڑاہٹ احمد شاہ شاپر بہت کچھ ظاہر کر رہی تھی جس کی وجہ سے احمد شاہ کا ہاتھ اٹھا ۔
تھپڑ کی گونج نے پورے گھر کو ہلا کر رکھ دیا
دھڑکن دوڑ کر نیچے آئی لیکن احمد شاہ کو غصے میں دیکھ کر وہیں سے پلٹ گئی
احمد شاہ نے سے جاتے ہوئے دیکھ لیا تھا
بابا سائیں آپ نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں آپ جانتے ہیں نہ یہ ان لیگل ہے سویرا اپنی تمیز اور تربیت کو پیروں تلے روندتے ہوئے بولی
بدتمیز تم مجھے بتاؤ گی کہ کیا ان لیگل ہے وہ غصے سے دھاڑتے ہوئے بولے وہ ابھی تک اس بات کا یقین نہیں کر پا رہے تھے کہ ان کی بیٹی سچ میں نشےکی حالت میں بے ہودہ لباس میں ان کے سامنے کھڑی ہے ۔اور اب اس کے گستاخانہ لہجے نے انہیں مزید تاش دلایا تھا
وہ جانتے تھے کہ انہیں کی دی گئی چھوٹ کا نتیجہ تھا کان کھول کر سن لو سویرا یہ جو کچھ تم کرتی پھر رہی ہو ایک ایک بات کی خبر ہے مجھے ان لڑکوں سے اپنی دوستی ختم کرو میں یہ سب کچھ برداشت نہیں کروں گا مجھے مجبور مت کرو کہ میں تم سے تمہاری آزادی چھین لوں
اور ایک بات جو خبریں مجھے مل رہی ہیں ان میں سے ایک پرسنٹ بھی سچ ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔
تو آپ نے میرے پیچھے جاسوس چھوڑے ہوئے ہیں شک تو مجھے پہلے ہی تھا لیکن اب یقین ہو گیا ہے کیوں بابا سائیں ۔۔۔؟ یہ سب کچھ آپ نے یہ جاننے کے لیے کیا ہے کہ آپ پتا لگا سکیں کہ میرا بائے فرینڈ ہے یا نہیں تو سن لیں ولیم میرا بوئے فرینڈ ہے ۔
چٹاخ۔ ۔۔
اس کی بات ابھی مکمل نہ ہوئی تھی کہ احمدشاہ کا ہاتھ پھر سے اٹھا
خبردار جو تم نے یہ بات دوبارہ کی کان کھول کر سن لو سویرا مقدم شاہ کی امانت ہو تم اس گھرمیں اور اس امانت میں خیانت احمدشاہ مرتے دم تک نہیں کرے گا
صدیق آج کے بعد یہ گھر سے باہر نہ نکلے وہ اپنے خاص ملازم کو آرڈر دیتے ہوئے جانے لگے
نہیں بابا سائیں آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے ۔
اگر آپ نے مجھے زبردستی اس گھرمیں روکنے کی کوشش کی تو میں پولیس میں جاؤں گی اور آپ جانتے ہیں اس ملک کا قانون آپ کے حکم کا غلام نہیں ہے وہ بنا خوف اور ڈر کے بولی ۔
نہیں بیٹا سائیں آپ کے بابا سائیں کے آگے اس ملک کے قانون کی کوئی اوقات نہیں جو اولاد کو باغی کر دے اس قانون کو ہم اپنے پیروں کی جوتی کے نیچے کچلتے ہیں وہ مغرورانہ انداز میں کہتے ہوئے زینے چڑھنے لگے ۔
ان کا ارادہ دھڑکن کے پاس جانے کا تھا آج جو کچھ بھی ہوا اس سے وہ کتنا ڈر گئی ہوگی اس بات کا انہیں اچھے سے اندازہ تھا
سویرا ضد اور اکڑ کے معاملے میں احمدشاہ پر تھی جبکہ دھڑکن ہر معاملے میں اپنی ماں پرتھی ڈر ۔ پیار۔ احساس۔شرارت اس کی ہر بات انہیں اپنی جان سے پیاری بیوی یاد آتی
دھڑکن کے ہر انداز میں ملائکہ کا عکس جھلکتا تھا ایک یہ بھی وجہ تھی کہ احمدشاہ کو ان کی یہ بیٹی ان کی جان سے بھی زیادہ عزیز تھی عزیز تو سویرا بھی بہت تھی لیکن اس کی اکڑ اور ضدی پن اسے احمد شاہ سے دور کر رہا تھا
•••••••••••
تم کالج نہیں گئی ابھی تک حوری کردم شاہ ابھی نیچے آیا تھا اس کا ارادہ ڈیرے پر جانے کا تھا
نہیں کردم لالا وہ آج ڈرائیور چاچا کسی کام کے سلسلے میں شہر چلے گئے ہیں اس لئے میں آج چھٹی پر ہوں نہیں جا پائی حوریہ نے وجہ بتائی ۔
تو مجھے جگالیتی تمہارے ایگزامز ہونے والے ہیں تم اس طرح لاپروائی کیسے کر سکتی ہو اس کا نتیجہ جانتی ہو نا تم کردم نےسخت لہجے میں کہا ۔
وہ شروع سے ہی عورتوں کی تعلیم کے حق میں تھا وہ تائشہ کو بھی آگے پڑھنے کا کہیں بار کہہ چکا تھا لیکن اسے آگے پڑھنے میں کوئی دلچسپی نہ تھی
وہ لالا آپ سو رہے تھے اور ویسے بھی تین دن کے بعد آپ ٹھیک سے آرام کر رہے تھے مجھے آپ کو جگانا مناسب نہیں لگا حوریہ نے نظریں جھکا کر کہا
آئندہ اپنا دماغ چلانے کی ضرورت نہیں ہے اگر چاچا نہ ہوں تو مجھے کہہ دیا کرو ورنہ مقدم سائیں بھی گھر پر ہی ہوتے ہیں اس وقت کردم نے سمجھاتے ہوئے کہا جبکہ وہ تو مقدم کا نام سنتے ہی پریشان ہوگئی
وہ جو جب بھی اس سے اکیلے میں ملتا عجیب عجیب باتیں کرتا اسے تومقدم کی کچھ بات سمجھ ہی نہیں آتی تھی لیکن اس کی پیام دیتی نظریں سے بہت عجیب خوف میں مطلع کر دیتی
وہ منہ سے کم آنکھوں سے زیادہ باتیں کرتا تھا مقدم شاہ کی باتوں کے بارے میں اس نے کہیں بار کسی نہ کسی کو بتانے کے بارے میں سوچا لیکن اس حویلی میں مقدم شاہ کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا تھا کیونکہ وہ نانا سائیں کے لاڈلے تھے ۔انہیں تو بتانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی
خالہ سائیں تو اس سے کلام تک کرنا پسند نہ کرتی مامی سائیں تو کسی سے بھی بات نہیں کرتی تھی ۔اور ویسے بھی مامی سائیں کے تو وہ بیٹے تھے ۔
تائشہ سے کہتی تو وہ اس کا مذاق اڑا دیتی ۔کیونکہ مقدم شاہ پر تو پوری گاؤں کی لڑکیاں مرتی تھی ۔
کردم لالہ سے اس طرح کی بات کرنا ناممکن تھا کردم ڈیرے پر جا سکا تھا جبکہ اس کی آج کالج سے چھٹی ہو چکی تھی ۔
اسی لیے وہ اپنا فیورٹ کام کوکنگ کرنے کے لئے کچن میں آگئی
Ep: 3 & 4
احمد شاہ نے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اندر داخل ہوئے دھڑکن نے نظریں اٹھا کر انہیں دیکھا
میری جان اداس ہے دھڑکن کے ہاتھوں میں ملائکہ کی تصویر دیکھ کر وہ آگے بھرے ۔
بابا سائیں آپ دیدہ پر غصہ کیوں ہو رہے تھے وہ اس کے قریب آ کر بیٹھے تو پوچھنے لگی ۔
آپ کی دیدہ تنگ ہی بہت کرتی ہے میں کیا کروں احمدشاہ چاہ کر بھی اسے نہیں بتا پائیں کے سویرا کیا کرکے آئی ہے وہ اسے نہیں بتا سکتے تھے کہ وہ کس طرح سے ان کے سامنے ان کی عزت کو لڑکوں کے ساتھ پارٹی اور کلبوں میں برباد کر رہی ہے ۔
بابا سائیں انہوں نے آپ کو سوری بولا ہوگا نہ وہ معصومیت سے بولی ۔
تو بابا نے نامیں سر ہلایا
پھر تو ڈانٹ پڑنی چاہیے لیکن آپ نے ان کو تھپڑ کیوں مارا ۔
دھڑکن نے پھر پوچھا ۔
اس کی غلطی بہت بری تھی احمد شاہ نے سمجھاتے ہوئے کہا ۔
اور وہ جانتے تھے کہ ان کی دھڑکن ان کی بات کو سمجھ جائے گی۔
ہم پاکستان جا رہے ہیں احمد شاہ نے کہا ۔
اور پھر دھڑکن کے چہرے کے ایکسپریشن دیکھنے لگے جو ہمیشہ سے پاکستان جانا چاہتی تھی
سچی بابا سائیں آپ سچ کہہ رہے ہیں ہم پاکستان جا رہے ہیں ۔۔۔ !
تھینک یو بابا سائیں ہم پاکستان جا رہے ہیں کتنا مزا آئیگا میں داداسائیں سے ملونگی وہ خوشی سے بیڈ پر اچھلنے لگی۔
تو احمد شاہ نے ہنستے ہوئے اپنی باہیں کھولی وہ بھاگ کر ان کے سینے سے لگی
اسے اپنے سینے سے لگایا تو انہیں لگا جیسے وہ اپنا ہر درد بھول گئے ہوں
لیکن اب وہ فیصلہ کر چکے تھے کہ سویرا کو مقدم کے حوالے کر دیں گے اور پھر دھڑکن اس کا تو انہیں یقین تھا کہ وہ کبھی بھی ان کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں کرے گی۔
•••••••••••••••••
تم کالج نہیں گئی اسے کچن میں کھڑا دیکھ کر وہ یہیں آ گیا اسے دیکھے بغیر تو ویسے بھی وہ گھر سے باہر نہیں نکلتا تھا جبکہ اپنے پیچھے اچانک اس کی آواز سن کر وہ ڈرگئی۔
ارے تم تو ڈر گئی کتنی بار کہا ہے تمہیں عادت ڈال لو ساری زندگی ڈرتی رہو گی کیا مقدم شاہ نے فاصلہ کم کرتے ہوئے کہا ۔
مقدم لالہ آپ اچانک ۔۔۔۔۔۔۔؟کچھ چاہئے آپ کو ۔۔۔۔۔؟
حوریہ نے اس کے قریب آنے پر گھبرا کر پوچھا
جبکہ اس کے اس طرح سے گھبرانے پر اس کے گھنی مونچھوں کے نیچے عنابی لب مسکرائے تھے۔
"تم"۔۔۔۔۔ ایک لفظی جواب آیا حوریہ نے گھبرا کر اسے دیکھا
جو جان لٹاتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا اس کی نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے فوراً نگاہیں جھکا گئی ۔
میرا مطلب ہے تم کالج نہیں گئی آج۔۔۔۔۔۔؟ "مجھے تو لگا تھا کہ دیدارِ محبوب آج بھی نصیب نہیں ہوگا "یہ جملہ اس نے کم آواز میں کہا تھا لیکن اس کی بڑبڑاہٹ سننے کی ناکام سی کوشش کی تھی اس نے ۔
وہ آج ڈرائیور چاچا نہیں آئے نانا سائیں نے انہیں شہر بھیجا ہے حوریہ نے نگاہیں نیچی رکھ کر جواب دیا
تو مجھے جگا دیتی غلام ہر وقت حاضر ِخدمت ہے مقدم نے ایک اور قدم کا فاصلہ کم کیا تھا ۔
جو بڑی مشکل سے کھسکتے ہوئے حوریہ نے فاصلہ قائم کیا تھا وہ پھر سے ختم ہوگیا
وہ مقدم لالا۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنی بار سمجھایا ہے کہ مجھے لالہ کہہ کر مت پکارا کرو وہ سخت لہجے میں بولا اس کا موڈ خراب ہوچکا تھا ۔
اس لیے اسے اسی طرح سے کچن میں چھوڑ کر باہر چلا گیا اس کا تو کچھ انتظام کرنا ہوگا اماں سائیں سے بات کرتا ہوں کہ وہ حور کے رشتے کی بات کریں۔
دلہن بن کے میرے کمرے میں آو گی تو تمہیں پتہ چلے گا کہ مقدم شاہ کے جذبات تمہارے لیے کس حد تک بے لگام ہو چکے ہیں وہ سوچتے ہو اپنی جیپ کی طرف بھر گیا
•••••••••••••••••
شاہ سائیں میری بیٹی کی شادی ہونے والی تھی
کل صبح وہ درزیانی کے پاس گئی اور اپنے کپڑے دے کر واپس آ رہی تھی کہ اس ظالم نے کھیتوں میں اس کے ساتھ راحت سر پر ہاتھ مارتے زور زور سے رونے لگا
میری بیٹی کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی میں کس طرح سے اس کی شادی کروں گا
راحت اونچی اونچی آواز میں سر پیٹتا رو رہا تھا
بس کرو چاچا تمہارہ انصاف ضرور ہوگا تم گھبرا مت ہم ہیں نہ مقدم شاہ نے اسے کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا اور پھر شاہ سائیں کی طرف دیکھا جس کا مطلب تھا کہ وہ بھی ان کے فیصلے کا انتظار کر رہا ہے
تم کچھ کہنا چاہتے ہو شاہ سائیں نے فیصل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
شاہ سائیں اس کی بیٹی نے خود مجھے بلایا تھاوہ پہلے بھی مجھ سے ملتی رہی ہے فیصل نے کہا جبکہ راحت غصے سے اس کا گربان پکڑ چکا تھا
راحت بیٹھ جا کیوں پنچایت کی توہین کر رہا ہے پیچھے سے ایک لڑکے نے سے تھام کر بٹھایا
آج جو کچھ ہوا ہے ہمارے گاؤں میں وہ انسانیت کی توہین ہے اکبر تو اس پنچایت کی توہین ہو جائے تو کیا فرق پڑتا ہے آج کے اس مقدمے کا فیصلہ میرے پوتے کریں گے شاہ سائیں نے فیصلہ سنا کر اپنے پوتوں کی طرف اشارہ کیا ۔
بولو مقدم سائیں کیا فیصلہ ہے تمہارا ۔۔۔۔؟
کیا کرنا چاہیے فیصل کے ساتھ۔۔۔۔۔؟ انھوں نے مقدم شاہ سے پوچھا
اسے بیچ چرائے پر پھانسی لگا دینی چاہیے مقدم نے ایک ہی پل میں اپنا جذبات سے بھرپور فیصلہ سنایا ۔
شاہ سائیں نے ہاں میں گردن ہلاتے ہوئے اب کردم کی جانب دیکھا
میرے خیال میں فیصل کو راحت چچا کی بیٹی سے نکاح کروا دینا چاہیے کردم نے کہا تو مقدم نے غصے سے اس کی طرف دیکھا
جبکہ شاہ سائیں نے اس کے فیصلے پر بھی ہاں میں گردن ہلائی ۔
تو فیصلہ ہوگیا ہم قاسم علی شاہ آج یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ راحت کی بیٹی کا نکاح اس جمعہ کو فیصل سے ہوگا اور اگر اس نکاح کے بعد فیصل نے بچی کے ساتھ کسی قسم کا کوئی زیادتی یا انچی آواز میں بھی بات کی تو اس کا انجام اس کی سوچ سے زیادہ خطرناک ہوگا
بچی کی شادی کی ساری ذمہ داری ہم اٹھائیں گے جہیز بھی ہمیں دیں گے اور بچی کی ہر ضرورت کا خیال رکھا جائے گا
ہم تمہیں اس بچی کے لیے معاف کر رہے ہیں فیصل ورنہ مقدم شاہ کا فیصلہ بھی قابل غور تھا وہ کہتے ہوئے آگے بڑھ چکے جبکہ مقدم شاہ کا آف موڈ وہ دیکھ چکے تھے
اس کی شکل دیکھ کردم شاہ کا قہقہ بری مشکل سے روکا تھا
•••••••••••••••••
مقدم سائیں آپ کا فیصلہ غلط نہیں تھا لیکن کردم سائیں نے آج آپ سے زیادہ عقلمندی دکھائی ہے
شاہ سائیں نے بہت محبت سے مقدم کو سمجھایا لیکن وہ اس کے موڈ سے یہ اندازہ لگا چکے تھے کہ اس کو اس طرح سب کے سامنے اپنے فیصلے کو نہ ماننا غصہ دلا گیا ہے
لیکن وہ اپنے لاڈلے پوتے کی ضد پر کسی کی زندگی برباد نہیں کرسکتے تھے ۔
ہم نے آج شام حویلی میں کچھ لوگوں کو دعوت دی ہے بہت اچھے لوگ ہیں ماشاءاللہ حوریہ بھی اب 19 سال کی ہو چکی ہے
ہم نے اسی کی شادی کے سلسلے میں کچھ لوگوں کو دعوت دی ہے ہم چاہتے ہیں کہ وہ اپنے گھر کی ہو جائے وہ کردم کو بتا رہے تھے
جبکہ گاڑی میں بیٹھا تیسرا وجود غصے کی آخری انتہا پر تھا
گاڑی روکو۔۔۔ ۔ ۔ اس نے ڈرائیور کو حکم دیا شاہ سائیں نے ایک نظر اس کے چہرے کو دیکھا جہاں سےوہ اس کے غصے کا اندازہ لگا سکتے تھے
کیا ہوا مقدم سائیں سب کچھ ٹھیک تو ہے ۔۔۔؟ شاہ سائیں نے پریشانی سے پوچھا
میں کچھ دیر اکیلے رہنا چاہتا ہوں وہ اتنا کہہ کر گاڑی سے اتر چکا تھا جبکہ اسے دیکھتے ہی اس کے چاروں گارڈز بھی اس کے پیچھے آئے ۔
میں کچھ دیر اکیلے رہنا چاہتا ہوں وہ چلایا
لیکن شاہ سائیں آپ کی حفاظت۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے تمہاری حفاظت کی ضرورت نہیں ہے مقدم شاہ اپنی حفاظت خود کرنا جانتا ہے دفع ہو جاؤ یہاں سے وہ غصے سےدھاڑتے ہوئے بولا ۔
اس کے غصے سے خوفزدہ گارڈز پیچھے ہی رک گئے لیکن اسے اکیلا چھوڑ کر شاہ سائیں کے غصے کو ہوا نہیں دے سکتے تھے ۔
اس لیے وہی فاصلے پر رکنا بہتر سمجھا
••••••••••••••
دادا سائیں مقدم سائیں کو اچانک ہوا کیا ہے پہلے تو کبھی اس طرح سے ری ایکٹ نہیں کیا کردم شاہ نے پریشانی سے پوچھا
نہیں کردم سائیں وہ اس بات کو لے کر پریشان نہیں ہیں
بات کچھ اور ہے خیر جو بھی ہے شام تک پتہ چل جائے گی وہ زیادہ دیر تک اپنا غصہ اپنے تک نہیں رکھ پاتے
شاہ سائیں نے بے فکری سے کہا
آج صبح چاچا سائیں کا فون آیا تھا وہ لوگ پاکستان آنا چاہ رہے ہیں میرے خیال سے اس بار وہ مقدم شاہ اور سویرا کی شادی کے لئے آنا چاہتے ہیں کردم شاہ نے پوری بات بتائی۔
لیکن اس کے بعد بھی قاسم شاہ سائیں کے چہرے پر کوئی خوشی نظر نہ آئی تھی ۔
کیونکہ وہ ایک ایسے بیٹے کی واپسی کی خوشی نہیں منانا چاہتے تھے جو انہیں تب چھوڑ کر دوسرے ملک چلا گیا جب انہیں سب سے زیادہ اس کی ضرورت تھی
جب ان کا ہنستا کھیلتا گھرانہ برباد ہوا تھا تب ان کے بیٹے نے ان کا ساتھ دینے کی بجائے ان کو چھوڑ دیا وہ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ۔
ان کے وہاں جانے کے دو سال بعد انہیں پتہ چلا کہ سویرا کے بعد ان کی ایک اور بیٹی پیدا ہوئی ہے ۔
پھر ان کی بہو کا انتقال ہوگیا اس وقت اماں سائیں نے انہیں واپس آنے کے لیے کہا تو انہوں نے کہا کہ وہ اپنی بیٹیوں کی پرورش خون خرابے میں نہیں کرنا چاہتے
وہ تو اپنی اماں سائیں کی وفات پر بھی لوٹ کر نہ آئے ۔
دو بیٹوں اور ایک بیٹے جیسے دماد کو پہلے ہی کھو چکے تھے لیکن اس دن انہوں نے اپنا آخری بیٹا بھی کھو دیا ۔
اس دن ان کے دل سے احمدشاہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اتر گیا19 سال سے وہ اپنے بیٹے کو دیکھ نہیں پائے تھے اور نہ ہی دیکھنے کی تمنا تھی اور نہ ہی آنے کی خوشی •
بے سکونی سی بے سکونی تھی اس کی محبت کو اس سے دور کرنے کی بات کی جا رہی تھی
کتنی پی چکا تھا اور کتنی اور پی رہا تھا اسے اندازہ نہ تھا
وہ رات کو حویلی آیا تو حویلی میں عجیب سا سناٹا چھایا ہوا تھا ایک عجیب سی گھٹن اس کے اندر اور باہر تھی اس کا دل چاہا کہ ہر چیز تہس نہس کر دے اس نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی شیشے کی بوتل زور سے زمین پر دے ماری
سرخ انگارے نما آنکھوں میں غصہ تھا
کچھ ٹوٹنے کی آواز پر کردم سائیں جو اسٹڈی میں بیٹھا تھا باہر آیا اس کے پیچھے وہ بھی آئی اور اکثر اس وقت کردم سے اسٹڈی میں ہیلپ لیتی تھی
کیا بات ہے مقدم سائیں تم ٹھیک تو ہو۔۔۔؟ کر دم اس سے سترہ دن ہی بڑا تھا اس لئے ان دونوں میں کبھی کسی نے فرق نہیں کیا وہ دونوں ایک دوسرے کو نام سے پکارتے تھے
دادا سائیں کہاں ہیں۔ ۔۔۔؟ مجھے ان سے بہت ضروری بات کرنی ہے وہ اسے دیکھ کر بولا
ایسی حالت میں جاو گے ان کے پاس وہ اسے نشے میں دھت دیکھ کر بولا
ہاں مجھے بہت ضروری بات کرنی ہے ان سے بہت ضروری مجھے ابھی ان سے بات کرنی ہے اس کے لہجے میں نشے کے ساتھ ساتھ ضد بھی سر اٹھائے بول رہی تھی
ٹھیک ہے وہ اپنے کمرے میں ہی شاید سو چکے ہوں گے
اس بتاتے ہوئے کردم نے پیچھے مڑ کر دیکھا جہاں حوریہ کھڑی تھی شاید وہ مقدم شاہ کی حالت سے خوفزدہ تھی
حوری گڑیا اگر تم پڑھ چکی ہو تو اب جاکر آرام کرو کل کا ٹیسٹ اچھا ہونا چاہیے میں خود چیک کروں گا وہ سختی سے بولا پڑھائی کے معاملے میں کسی بات کا لحاظ نہیں کرتا تھا
حوریہ ہاں میں سرہلاتی اپنے کمرے کی طرف چلی گئی جبکہ کردم شاہ سوچ رہا تھا کہ مقدم سائیں کو دادا سائیں سے اس وقت کیا بات کرنی ہے
کیوں فیصلے والی بات کو لے کر وہ زیادہ سیریس نہیں تھا اتنی بات کا اندازہ وہ لگا چکا تھا
•••••••••••••
داداسائیں آپ جاگ رہے ہیں نہ مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے وہ بیڈ پر بیٹھ کر کچھ پڑھ رہے تھے اور وہ دروازے پر کھڑا ان کو اجازت طلب نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔
اس کے لہجے سے وہ اندازہ لگا چکے تھے کہ وہ نشے میں ہے
ہم صبح بات کرتے ہیں مقدم سائیں اس وقت تمہیں آرام کی ضرورت ہے وہ اپنے لہجے کو نرم بنا کر بولے وہ اپنے پوتوں سے کبھی اونچی آواز میں بات نہیں کرتے تھے ۔
مجھے آرام کی نہیں حوریہ کی ضرورت ہے وہ بلند آواز میں بولا داداسائیں اسے دیکھ کر رہ گئے
یہ کیا کہہ رہے ہو مقدم سائیں وہ اسے دیکھتے ہوئے بولیں۔
ہاں دادا سائیں میں ٹھیک کہہ رہا ہوں مجھے حوریہ چاہیے میں اس سے محبت کرتا ہوں وہ میری ہر سوچ پر سوار ہے وہ میری زندگی ہے وہ میری راحت ہے میرا سکون ہے اور کل کوئی انجان میرا سکون لوٹنے آرہا ہے ۔
اور قسم لے لیں دادا سائیں اپنا سکون لوٹنے والے کو میں کل موت کی نیند سلا دوں گا ۔
اگر کسی نے مجھ سے میری محبت کو چھینا چاہاتو قسم خدا کی دوسری سانس لینے کے قابل نہیں چھوڑوں گا وہ تش کے عالم میں بولا
مقدم سائیں سویرا تمہاری امانت ہے اس کے ہاتھ میں تمہارے نام کی انگوٹھی ہے منگیتر ہے وہ تمہاری اور مت بھولو کےحوریہ کس کی بیٹی ۔۔۔۔۔
وہ میری محبت ہے دادا سائیں وہ ادب و لحاظ بھول کر بولا وہ صرف میری ہے دادا سائیں اسے کسی اور کا نہ کہیں میں برداشت نہیں کر سکتا وہ میری ہے بس بات ختم مقدم شاہ نے بات ختم کردی
اور اب مقدم شاہ کی ضد کے سامنے سب بیکار تھا
وہ اس رشتے سے خوش ہے مقدم شاہ ۔دادا سائیں نے آخری کوشش کی
مجھ سے زیادہ وہ کسی کے ساتھ خوش نہیں رہ سکتی آپ انکار کردیں مقدم شاہ کے لہجے میں ضد بول رہی تھی
اگر وہ خود انکار کردے تو ٹھیک ہے مقدم سائیں اس کے ساتھ کوئی زبردستی نہیں ہوگی دادا سائیں نے پھر سے کہا جس پر مقدم شاہ کے چہرے پر دلفریب مسکراہٹ کھل گئی
وہ انکار ضرور کرے گی مقدم شاہ نے یقین سے کہا
ٹھیک ہے اگر وہ انکار کرکے تم سے شادی کے لیے حامی بھرتی ہے تو مجھے اس شادی پر کوئی اعتراض نہیں دادا سائیں نے ہار مانتے ہوئے کہا
تو مقدم شاہ لاڈ سے اس بار ان کے سینے سے لگ گیا
آج پھر مقدم شاہ کی ضد کے آگے دادا سائیں کی ضد ہار رہی تھی
وہ شخص جو اپنی اولاد کے سامنے کبھی سر نہیں جھکاتا تھا آج اپنی اولاد کی اولاد کے سامنے بے بس ہو کر رہ گیا
•••••••
میں کہیں نہیں جاؤں گی بابا سائیں آپ میرے ساتھ زبردستی نہیں کرسکتے
اور نا ہی میں ایسا کچھ ہونے دوں گی اگر آپ نے مجھے زبردستی پاکستان لے جانے کی کوشش کی تو میں پولیس سے کانٹیکٹ کروں گی
پھر آپ کو مجھے بیٹی کہتے ہوئے اور زیادہ شرمندگی محسوس ہوگی میں بالغ لڑکی ہوں اپنی مرضی کی مالک ہوں دھڑکن نہیں جسے آپ اپنی مرضی پر چلائیں گے سویرا بغاوت پر اترتی بدتمیزی کی سیڑھیاں پھلانگنے لگی
کاش میں بابا سائیں کی بات مان کر یہاں نہ آتا تم لوگوں کو اس ماحول سے دور رکھنے کے لیے میں اپنی ماں کی میت پر بھی نہیں گیا
تم لوگوں کو پرسکون زندگی دینے کے لیے میں نے اپنا سب کچھ چھوڑ دیا اور تم میرے سامنے سر اٹھا کر بکواس کر رہی ہو
اگر اس وقت تم حویلی میں ہوتی تو اس سرکشی پر تمہیں زندہ زمین میں گاڑ دیا جاتا لیکن اب سب باتوں کا کوئی فائدہ نہیں گاؤں تو تمہیں چلنا ہوگا اگر چاہو تو اپنا سامان پیک کرلو اگر نہیں تو تمہاری شادی کی شاپنگ تو ویسے بھی ہم کریں گے بابا سائیں اس کی کسی بات کو کوئی اہمیت دے یہ بغیر بولے
شادی مائی فٹ میں ابھی پولیس میں جاونگی وہ کہتے ہوئے اپنا فون اٹھا کر کال کرنے لگی لیکن فون نہیں لگا
میں تمہارا نمبر ان رجسٹر کروا چکا ہوں اس گھر سے نکلنے کی کوشش بھی مت کرنا صدیق اسے روکنے کے لیے تم اس کے ساتھ جیسا چاہے سلوک کر سکتے ہو میری اجازت ہے وہ صدیق کو کہتے ہوئے آگے بڑھ گئے سویرا نے ایک خطرناک گھوری سے صدیق کو دیکھا
جو اس کی بات کو کوئی اہمیت نہیں دیتا تھا شاید اس کے لئے صرف دھڑکن ہی اس کے مالک کی بیٹی تھی جسے وہ کسی معصوم بچی کی طرح ٹریٹ کرتا تھا
وہ تھی ہی اتنی معصوم کے کوئی بھی اس سے محبت سے بات کرتا ہوں صدیق جیسے پتھر دل انسان کے لیے بھی اہم تھی
۔
•••••••
بابا سائیں پاکستان میں تو بہت سردی ہوگی یہ بھی رکھ لیتی ہوں وہ ہاتھ میں پکڑا ہوا جمپر بھی بیگ میں رکھ کر بولی
بابا سائیں میرے برتھڈے تک ہم وہیں رہیں گے میں اپنے سب کزنز کے ساتھ اپنا برتھ ڈے سیلیبریٹ کرونگی کتنا مزا آئے گا نہ
بابا سائیں میں یہ بھی رکھ لوں وہ اپنا لیدر جیکٹ ہاتھ میں پکڑے ہوئے بولی
پاکستان میں لنڈن کے مقابلے سردی بہت کم ہے آپ یہ سب کچھ مت رکھے بیٹا سائیں
بابا سائیں نے سمجھانا چاہا
نہیں بابا سائیں موسم کا کیا بھروسہ وہ معصومیت سے کہتی جیکٹ کے ساتھ ساتھ 2 جمپر اور رکھ چکی تھی
جبکہ بابا سائیں اسے دیکھ کر مسکرا رہے تھے
بابا سائیں سویرا دیدہ کی پیکنگ میں ہی کردوں
وہ باہر لان میں بیٹھی ہیں جب تک وہ واپس آتی ہیں میں چپکے سے ان کی ساری پیکنگ کر دوں گی وہ شرارت کے بولی
وہ جانتی تھی کہ سویرا پاکستان نہیں جانا چاہتی
بیٹاسائیں سویرا کی شاپنگ ہم پاکستان سے کرلیں گے ان کی شاپنگ تو ویسے بھی کرنی ہے شادی جو کرنی ہے وہاں جاکر ان کی احمد شاہ نے اسے پیار سے سمجھایا تو وہ انہیں دیکھنے لگی
مطلب دیدہ کی شادی کے لیے ہم پاکستان جا رہے ہیں وہاں سویرہ دیدہ کی شادی ہوگئی کتنا مزا آئے گا
دھڑکن چہکتے ہوئے بولی تو بابا پھر سے مسکرایں
یہی خوشی وی سویرا کے چہرے پر دیکھنا چاہتے تھے لیکن وہ ان کے فیصلے سے خوش نہیں تھی
وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے سویرا مقدم شاہ کی منگ ہے اور ان کی زندگی کا سب سے بڑا سچ یہی تھا ان کے خاندان میں جب ایک بار لڑکی کے ہاتھ میں انگوٹھی ڈال دی جائے تو اس کی شادی اسی کے ساتھ کروا دی جاتی ہے چاہے اس کی مرضی شامل ہو یا نہ ہو برسوں سے یہی ہوتا آیا تھا اور آگے بھی یہی ہونا تھا اور ویسے بھی سویرا نے جو حرکت کی ہے وہ اس سے سخت خفا تھے
Ep: 5
دروازہ دھڑم سے کھلا تھا حوریہ جو ابھی سونے کے لئے لیٹی تھی اٹھ کر بیٹھ گئی اور خوفزدہ نظروں سے دروازے پر کھڑے وجود کو دیکھنے لگی
جو ہاتھ میں پستول پکڑے آہستہ آہستہ قدم کمرے کے اندر رکھ چکا تھا اس نےاٹھنے کی کوشش کی اس کا ارادہ کمرے سے باہر جانے کا تھا ۔
لیکن وہ دروازے کے بیچوں بیچ کھڑا تھا
مقدم لالا آپ یہاں کیوں ۔۔۔۔۔۔؟ میرا مطلب ہے اس وقت ۔۔۔۔۔؟
وہ اس کا راستہ روکے کھڑا تھا حوریہ کا باہر نکلنا مشکل تھا
بات کرنے آیا ہوں وہ نشے سے لڑکھراتی آواز میں بولا
اگر رات کے اس وقت مقدم شاہ کو کوئی اس کے کمرے میں دیکھ لیتا خاص کرکے رضوانہ خالا وہ اس سے آگے سوچ بھی نہیں سکتی تھی
وہ سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھنے لگی
جی کہیں وہ بہت ہمت کرکے بولی کیونکہ اس کے ہاتھ میں جو پستول تھی وہ نجانے کتنے لوگوں کو زخمی کر چکی تھی ۔
اور خون خرابے سے تو اسے بچپن سے ہی ڈر لگتا تھا کہیں پر بھی اس طرح کی بات سن کر اس کی جان کانپ جاتی تھی
اور اس نے تو یہ بھی سنا تھا کہ نشے کی حالت میں انسان کو اتنا بھی خوش نہیں ہوتا کہ وہ کیا کرنے جا رہا ہے یہ نہ ہو کہ نشے کی حالت میں وہ اس کی جان ہی لے لیں اپنی جان تو حوریہ کو ویسے بھی بہت پیاری تھی۔
کم ازکم قتل نہیں ہونا چاہتی تھی ۔
اس کا خوف زدہ چہرہ دیکھ کر اس کے بلکل قریب آکر رکا۔
حوریہ اسے اپنے مزید قریب آتے دیکھ کر پریشان ہوگئی
جی کہیں کیا کہنا چاہتے ہیں وہ سہمی ہوئی آواز میں بولی
کل تمہیں دیکھنے کے لیے کچھ لوگ آرہے ہیں جانتی ہو نا وہ سخت لہجے میں بولا
جی ہاں مقدم شاہ کی پستول کی نوک اس کی تھوڑی کو چھو رہی تھی حوریہ کی آواز لڑکھڑائی
انکارکردینا مقدم شاہ نےحکم دیا تو وہ اسے دیکھنے لگی
ایسے کیا گھور رہی ہوجتنا کہا ہے اتنا کرنا وجہ پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی میں بتانا ضروری سمجھتا ہوں بس انکار کر دینا ورنہ پستول کی نوک سے وہ اس کی تھوڑی اوپر کرتے ہوئے اسے ڈرا رہا تھا جس پر حوریہ نے نظروں سے اقرار کیا
اس کے اس طرح سے خوفزدہ ہونے پر مقدم کے لبوں پر مسکراہٹ کھلی تھی جسے وہ فورا چھپا گیا
پھر کل ملتے ہیں حوریہ سائیں وہ مسکراتے ہوئے اس کا چہرہ اپنی آنکھوں میں بھرے کمرے سے باہر نکل کیا جبکہ حوریہ کی سانس میں سانس آئی اب وہ یہ سوچ رہی تھی کہ نانا سائیں کے سامنے وہ اس رشتے سے انکار کیسے کرے گی اور کیوں۔ ۔۔۔۔؟
••••••••••••••
اس کا فون بج رہا تھا نہ جانے کس میں اتنی ہمت آ گئی تھی کہ مقدم شاہ کی نیند میں خلل ڈالنے کی گستاخی کرے
صبح کے چار بج رہے تھے اس وقت اسے فون کرنے کی ہمت کسی میں نہ تھی اس نے غصے سے فون اٹھایا
جہاں پر کوئی دوسرے ملک کا نمبر شو ہو رہا تھا چا چو سائیں وہ زیر لب بڑبڑآتا ہوا فون اٹھانے لگا
اسلام علیکم وہ اپنے مخصوص روعب دارلہجے میں بولا وعلیکم سلام مقدم لالا میں دھڑکن بات کر رہی ہوں
دھڑکن نے چہکتے ہوئے کہا
اور حال وخیریت پوچھنے کی زحمت نہ کی
جی دھڑکن گڑیا بولیں کیسی ہیں آپ ۔۔۔مقدم نے اپنے لہجے کو نرم بنایا وہ اس سے شاید آج تیسری بار بات کر رہا تھا
ایک بار بچپن میں اس سے بات ہوئی تھی دوسری بار جب مقدم کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا اور آج
میں تو ٹھیک ہوں بس آپ سے کچھ پوچھنا تھا آپ کو تو پتا ہے میں پاکستان آ رہی ہوں میں نے بابا سائیں سے بولا کہ آپ مجھے گھمانے لے کے جائیں گے تو بابا سائیں نے کہا کہ آپ بہت بیزی ہوتے ہیں آپ کے پاس ٹائم نہیں ہوتا اس لئے میں نے سوچا کہ کیوں نہ میں خود ہی آپ سے پوچھ لوں کیا آپ مجھے گھمانے لے کے جائیں گے وہ ایک ہی سانس میں تیزتیز بولی مقدم شاہ کو اس کی پوری بات سمجھ میں نہ آئی تھی اس کے سامنے آج تک کسی نے اس طرح سے بات نہیں کی تھی
لیکن اسے چاچا سائیں کی یہ بیٹی اسے ہمیشہ سے بہت پیاری لگتی تھی
اسے دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ سامنے والے سے پہلی بار مل رہی ہے وہ جلدی ہی سامنے والے سے پہچان بنالیتی اور اس کی دوست بن جاتی
دھڑکن گڑیا آپ یہاں پہنچے تو سہی میں آپ کو پورا پاکستان گھماؤں گا مقدم شاہ نے نرم لہجے میں کہا
سچی ۔۔۔۔وہ چہکتے ہوئے بولی
جی بلکل وہ مسکرایا
ویسے میں آپ سے ایک بات پوچھوں اس بار اس نے پوچھنے کی زحمت کرلی
مقدم پھر سے مسکرایا جی پوچھیں
وہاں پاکستان میں ٹائم کیا ہوا ہے آخر بابا سائیں کی گوری نے اثر دکھا ہی دیا جو اسے اس وقت فون کرنے سے منع کر رہے تھے
جی گڑیا اس وقت یہاں ٹائم صبح کے چار بج رہے ہیں مقدم نے اپنی ہنسی دباکر کہا
اچھا وہاں صبح کے چار بج رہے ہیں ٹھیک ہے آپ آرام کریں ایم سوری میں نے آپ کو ڈسٹرب کیا
اوکے بائے وہ مقدم کو بولنے کا موقع دیے بغیر فون بند کر چکی تھی اور اب معصومیت سے بابا سائیں کو دیکھ رہی تھی
جس پر وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے مسکرائے
بابا سائیں مقدم لالہ بہت اچھے ہیں دیدہ ان کے ساتھ بہت خوش رہیں گی احمد شاہ کمرے سے باہر نکل رہے تھے کہ پیچھے مڑ کر اسے دیکھا اور پھر مسکرا دئیے
اسی لئے تو یہ فیصلہ کیا ہے
وہ کہتے ہوئے مسکرا کر باہر چلے گئے
•••••••••••••
وہ ٹیبل پر آکر بیٹھا تو اماں سائیں نے اس کے سامنے ناشتہ رکھا دادا سائیں اس کے سامنے بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے حوریہ کو جو لوگ دیکھنے آ رہے ہیں حوریہ کو ان کے سامنے آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے آپ اکیلے میں پہلے ان سے بات کرلیں مقدم شاہ نے مصروف انداز میں کہا
اگر وہ ان کے سامنے نہیں جائے گی تو وہ لوگ پسند کیسے کریں گے لگتا ہے آپ کا نشہ ابھی تک اترا نہیں مقدم سائیں اب سیریس ہوجائیں دادا سائیں کو لگاکہ وہ رات والی ساری باتیں بھول چکا ہوگا لیکن وہ ابھی بھی اپنی ضد پر اڑا ہوا تھا
حوریہ کے معاملے میں میں ہمیشہ سے سیریس ہوں دادا سائیں رات میں نے جو بھی کہا سب سچ تھا وہ لڑکی میری جان ہے اب مجھے نہیں لگتا آپ کو اسے ان سب کے سامنے لے کر جانے کی ضرورت ہے مقدم شاہ نے یقین سے کہا
آپ نے کہا تھا اس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوگا تو اب اس کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں ہوگا مقدم شاہ نے اٹھتے ہوئے کہا
رضوانہ حوریہ کو میرےکمرے میں بھیجو
انہوں نے کچن سے نکلتی رضوانہ سے کہا
جی بابا سائیں آپ چلے میں بھیجتی ہوں وہ فرمانبرداری سے بولی
•••••••••••••
مقدم شاہ اپنے کمرے کی طرف جارہا تھا جب سامنے سے حوریہ کو آتے دیکھا اس کے چہرے پر مسکان کھل اٹھی
حوریہ جو اسے سامنے سے آتا دیکھ کر راستہ بدلنے لگی تھی اس کے دیکھتے ہی کسی ربورٹ کی طرح سیدھی چلتی اس کے قریب سے گزرنے لگی
جب مقدم شاہ نے اس کا راستہ روکا
دادا سائیں تمہیں اپنے کمرے میں بلاکر رشتے کے بارے میں پوچھیں گے
جواب کیا دینا ہے جانتی ہو یا میں ایک بار پھر سے یاد کرواؤں وہ ہاتھ پیچھے کی طرف لے جاتے ہوئے بولا
جی مجھے یاد ہے مقدم لالا فکر نہ کریں میں انکار کر دوں گی اس سے پہلے کہ وہ پستول نکالتا حور یہ بول اٹھی
مقدم شاہ کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری
کافی فرمانبردار ہو تم اچھی بات ہے آگے تمہارے لیے آسانی ہوگی دادا سائیں کے سامنے کوئی بھی فالتو بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے
جتنا میں نے کہا ہے بس اتنا کہہ دینا مقدم نے محبت سے اس کا گال تھپتھپایا اس کے اس طرح سے چھونے پر حور یہ پیچھے ہٹی جبکہ اس کی یہ حرکت سامنے والے کو پسند نہ آئی تھی لیکن فی الحال وہ کچھ بھی نہ بولا کیونکہ ان سب چھوٹی چھوٹی باتوں کا حساب وہ بعد میں سود سمیت لینے کا ارادہ رکھتا تھا
مقدم لالہ میں سب کے سامنے انکار کیسے کروں گی حوریہ جو سوال کل رات سے پوچھنا چاہتی تھی آخر پوچھ بیٹھی تمہیں کس نے کہا ہے تمہیں سب کے سامنے انکار کرنا ہے بس دادا سائیں کے کمرے میں جا کر ان کے سامنے انکار کر دینا تمہیں کسی کے سامنے نہیں جانا
مقدم جانتا تھا کہ وہ لڑکی کس حد تک ڈرپوک ہے گھر والوں کے سامنے بھی مشکل سے زبان کھول پاتی تھی تو سب کے سامنے انکار کیسے کرے گی یہ تو اس کے لیے ناممکن تھا اس لیے اس نے شاہ سائیں کوحوریہ سے اکیلے میں بات کرنے کے لیے کہا تھا
لیکن حوریہ اس کی بات سے مطمئن نہیں تھی وہ اس کے قریب سے گزر کر اپنے کمرے میں جا چکا تھا
جب ملازمہ نے اسے شاہ سائیں کے کمرے میں آنے کا حکم سنایا اور وہ ڈرتے ڈرتے ان کے کمرے کی طرف جانے لگی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ انکار کی کیا وجہ بتائے گی جبکہ وہ پہلے ہی نانا سائیں کو فیصلہ کرنے کا حق دے چکی تھی پھر اچانک انکار کی کیا وجہ بتا سکتی ہے
Ep: 6
سویرا ہرممکن کوشش کر چکی تھی لیکن لیکن صدیق نے اسے فون کو ہاتھ لگانے دیا تھا اور نہ ہی گھر سے باہر نکلنے دیا تھا اب وہ لوگ پاکستان جانے کے لئے ایئرپورٹ جارہے تھے
دھڑکن کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی جبکہ سویرا کبھی بھی اس کے اتنے قریب نہ رہی تھی کہ اس کی خوشی سے کوئی واسطہ ہوتا
وہ ہمیشہ سے ہی اس کی ڈرپوک طبیعت سے چڑتی تھی کم لوگوں سے ملنا گھر سے نہ نکلنا اس کے تو فرینڈ بھی صرف بابا سائیں تھے
جبکہ دھڑکن سویرا سے بہت محبت کرتی تھی وہ اس کی پسند ناپسند ہر چیز سے واقف تھی
وہ ہر ممکن طریقے سے اس کے قریب رہنے کی کوشش کرتی لیکن سویرا کو اپنی بہن سے زیادہ اپنے فرینڈ اور آزادی عزیز تھی اور یہ بات وہ کہیں بار اس پر ظاہر بھی کرچکی تھی اسے پتہ تھا کہ بابا سائیں اسے اپنے ساتھ کیوں لے کے جا رہے ہیں لیکن اس نے بھی سوچ لیا تھا کہ وہ سب کے سامنے مقدم شاہ سے شادی کرنے سے انکار کرے گی اور گاؤں کا گوار( باقول سویرا) اپنی انسلٹ کروا کر دوبارہ اس سے شادی کی خواہش نہیں کرے گا
اگر وہ نہ مانا تو اسے بتائے گی کہ وہ ولیم سے محبت کرتی ہے اور ایک غیرت مند مرد کبھی ایک ایسی لڑکی سے شادی نہیں کرتا جس کا کسی اور سے تعلق ہو اور باباسائیں کے مطابق ان کے خاندان کے سب مرد بہت غیرت مند تھے
••••••••••••••
کردم سائیں اگر آپ فری ہیں تو مجھے میری سہیلی کے گھر چھوڑ دینگے اس نے کردم شاہ کوجاتے دیکھ کر پیچھے سے کہا تھا
اگر میں فری ہوتا تو گھر پر رکتا نہ کہ باہر جا رہا ہوتا کردم نے اسے دیکھتے ہوئے کہا
ڈرائیور چاچا کے ساتھ چلی جاؤ اور اپنی سہیلی کو بولا کرو یہاں آ جایا کرے ملکوں کی نظر ہے ہم پر
اور میں نہیں چاہتا کہ ہمارے خاندان کی عزت پر حرف آئے وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا اور باہر چلا گیا تھا
جبکہ تائشہ ابھی تک اس کی آواز کے سحر میں کھوئی ہوئی تھی
ہائے کردم سائیں آپ کو میری اتنی پرواہ ہے مجھے یقین نہیں آرہا آپ مجھے سے تیری محبت کرتے ہیں کہ آپ نہیں چاہتے کہ میں حویلی سے باہر نکلوں اس نے شرماتے ہوئے سوچا
ٹھیک ہے میرے کردم سائیں آپ کا حکم سر آنکھوں پر رضیہ جاؤ گاؤں سے میری سہیلی کو بُلا لاو اور کہہ دینا کہ میں نہیں آ سکتی کیونکہ کردم سائیں نے مجھے حویلی سے باہر نکلنے سے منع کر دیا ہے
وہ ایک ادا سے کہتی اپنے کمرے کی طرف چل دی اور کمرے میں آکر اپنے آپ کو خوبصورت بنانے کی تمام چیزیں باہر نکالنے لگی
••••••••••••
آپ نے بلایا نانا سائیں حوریہ نے ڈرتے ہوئے کمرے میں قدم رکھا
شاہ سائیں نے ایک نظر اس کے چہرے کی طرف دیکھا جو ان کی لاڈلی بیٹی کی یاد دلاتا تھا پھر نظریں جھکا گئے کیونکہ وہ یہ نہیں بھول سکتے تھے کہ وہ صرف ان کی بیٹی کی نہیں بلکہ احسن ملک کی بیٹی تھی جس سے وہ نفرت کرتے تھے بلکہ نفرت بھی ان کے جذبات بیان کرنے کے لئے ایک چھوٹا لفظ تھا
آج شام کو کچھ لوگ آپ کو دیکھنے آ رہے تھے لیکن اس سے پہلے میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کیا آپ شادی کے لیے تیار ہیں نانا سائیں نے اپنا چہرہ دیوار کی طرف موڑ کر کہا
وہ کبھی اس کا چہرا نہیں دیکھتے تھے اور یہ بات وہ بھی جانتی تھی
اس کا دل چاہا کے کہہ دے کہ اسے اپنے نانا سائیں کا ہر فیصلہ منظور ہے لیکن اسے اپنی جان بھی بہت پیاری تھی اور اگر مقدم لالہ اسے شادی سے منع کر رہے تھے تو کوئی نہ کوئی وجہ ضرور تھی
ورنہ وہ کبھی ایسے معاملے میں نہیں پڑتے
نا نا سائیں میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی وہ ٹھہر ٹھہر کر نظریں جھکاکر بالی
شاہ سائیں نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا پھر چہرہ موڑ گے
وہ جو اس کا 18 سال کا ہونے کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے کہ اس کی کسی اچھی جگہ شادی کرکے احسن ملک کو ہرا دیں گے
اپنے پوتے کی ضد کے سامنے خود ہار گئے
ٹھیک ہے آپ کے ساتھ کوئی زبردستی نہیں ہوگی آج جو لوگ آپ کو دیکھنے آ رہے ہیں ہم انہیں منع کر دیں گے شاہ سائیں کی نظریں اب بھی دیوار کی طرف تھی
اب آپ جا سکتی ہیں
اجازت ملتے ہی وہ کمرے سے باہر نکل گئی ابھی سے جلدی سے جلدی مقدم لالہ کے کمرے میں جانا تھا
•••••••••••
مقدم لالا آپ نے جو کہا تھا میں نے کر دیا میں نے رشتے سے انکار کر دیا ہے ۔حوریہ نے کمرے میں قدم رکھتے ہوئے اسے خوشخبری سنائی ۔
بہت اچھا کیا ہے تم نے اب آگے بھی اسی طرح سے میری ساری باتیں مانتی رہنا ۔وہ اپنی جیب سے پستول نکال کرایک سائیڈ پر رکھتے ہوئے بولا ۔
جسے دیکھ کر ایک بار پھر سے حوریہ کے پسینے چھوٹ گئے ۔
جی جی مقدم لالا آپ جو کہیں گے میں وہی کروں گی ۔وہ گھبرا کر بولی اس کی گھبرآہٹ سے وہ محفوظ ہوا تھا
لیکن اپنی ہنسی دباتا سیریس انداز میں بولا ۔
آج اماں سائیں آئینگی تمہارارشتہ لے کر تمہیں ۔۔۔
جی جی مجھے پتا ہے آپ فکرنا کریں میں انکار کر دوں حوریہ نے اس کی بات کاٹی ۔
کوشش بھی مت کرنا انکار کرنے کی مقدم شاہ نے ایک جھٹکے سے اسے دیوار کے ساتھ لگا کر پستول اٹھائی۔
اگر انکار کیا تو جانتی ہو نہ تمہارا انجام کیا ہوگا اس نے پستول اس کی آنکھوں کے سامنے لہراتے ہوئے کہا ۔
آپ سے شادی۔۔؟ لیکن میں تو آپ سے پیار نہیں کرتی وہ معصومیت سے بولی
یہ پیار محبت شادی کے بعد کے چونچلے ہیں پہلے کے نہیں تم بس وہ کرو جو میں کہتا ہوں۔
وہ اسے سختی سے آنکھیں دکھاتے ہوئے بولا تو حوریہ نے ہاں میں گردن ہلائی اب اسے جان تو چھوڑانی تھی ۔
ہاں میں کیا سر ہلا رہی ہو کل اماں سائیں رشتہ لے کے آئیں گی تو ان کے سامنے ہاں کرو گی تم ۔کروگی نہ ہاں وہ اب بھی سختی سے پوچھ رہا تھا ۔
ج۔ ۔جی۔ وہ جلدی سے بولی
اور ہاں یہ مجھے لالا کہہ کر بُلانا چھوڑ دو پہلے بھی بہت بار سمجھا چکا ہوں ۔آگے مشکل ہوگی مقدم نے سمجھاتے ہوئے کہا
اور اسے باہر جانے کا راستہ دیا ۔
اور پھر حوریہ کی سپیڈدیکھنے کے لائق تھی۔اور مقدم شاہ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا ۔
شاہد خواہش پوری ہونے کی خوشی
•••••••••••••••
کردم آدھا گھنٹہ پہلے ہی ایئرپورٹ پہنچ گیا تھا تاکہ چچا سائیں کو کوئی پریشانی نہ ہو
اس نے دور سے آتے چاچا سائیں کو دیکھ کر پہچان لیا تھا چاچاسائیں نے اپنے ساتھ آئی لڑکی کو کچھ کہتے ہوئے اس کی طرف اشارہ کیا تو ان سے پہلے بھاگ کر اس کے پاس آئی
السلام علیکم کردم لالا کیسے ہیں آپ۔۔۔؟ آپ نے مجھے نہیں پہچانا ہوگا ارے میں آپ کی کزن دھڑکن وہ اپنے مخصوص انداز میں تیز تیز بول رہی تھی جبکہ اس کے کپڑوں سے لے کر اس کی بات کرنے کا انداز تک کردم سائیں کو پسند نہ آیا تھا
آواز کم رکھو اور بات کرنے کا سلیقہ سیکھو ہمارے خاندان کی لڑکیاں نہ تو اس طرح سے بات کرتی ہیں اور نہ ہی اس طرح کا لباس پہنتی ہے وہ سخت لہجے میں گویا ہوا
جبکہ اس کے اس طرح سے سخت لہجے پر دھڑکن خاموش سی ہوگئی
سویرا کی طرف ایک نظر دیکھنے کے بعد وہ دوبارہ نہ دیکھ پایا کیونکہ اس کے کپڑے دھڑکن سے بھی زیادہ ناقابل قبول تھے وہ چاچاسائیں سے گلے ملتا ہوا ان کا سامان گاڑی میں رکھوا کر گاڑی حویلی کے رستے ڈال چکا تھا
کردم کے ڈانٹ کھانے کے بعد وہ کافی دیر خاموش رہی بابا نے بھی اس کی خاموشی نوٹ کی تھی
لیکن وہ دھڑکن تھی زیادہ دیر چپ ہو بیٹھ ہی نہیں سکتی تھی اس کو تو پیدا ہی بولنے کے لئے کیا گیا تھا
ابھی ان کے سفر کو شروع ہوئے تقریبا دس منٹ ہی ہوئے تھے کہ دھڑکن کی ٹیپ ایک بار پھر سے سٹارٹ ہوگئی ۔
وہ اتنا کیسے بول سکتی ہے کردم نے تو کبھی کسی لڑکی کو اس طرح سے بولتے ہوئے نہ سنا تھا ۔
اور اوپر سے چاچا سائیں کا اس کی ہر بات کا جواب دینا شاید انہی کے لاڈ پیار کا نتیجہ تھا ۔
اس کی باتوں سے کردم سخت اریٹیٹ ہو چکا تھا ۔
بے فضول بے معنی باتیں جن کا کوئی سر پیر ہی نہیں ہے ۔
یقیناً اگر اس وقت وہ دھڑکن کے ساتھ اکیلا ہوتا تو اسے گاڑی سے باہر پھینک دیتا
•••••••••••••••
چاچا سائیں گھر ابھی بہت دور ہے آپ لوگوں کو بھوک لگ رہی ہوگی
اس نے گاڑی ایک چھوٹے سے ہوٹل کے سامنے رکی
بابا سائیں مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے اس سے پہلے کہ احمد شاہ انکارکرتے دھڑکن نے معصومیت سے کہا
کردم نے ایک نظر اس کے چہرے کودیکھا پھر کچھ آرڈر کرنے لگا
سویرا تم بھی کچھ کھا لو احمد شاہ نے اس کی طرف دیکھ کر کہا جبکہ وہ بہت دنوں سے اس سے بات نہیں کر رہے تھے
مجھے زہر کھلا دے آپ کے بھتیجے سے شادی کرنے سے تو بہتر ہے کہ میں زہر کھا کے مر جاؤں سویرا نے تپ کر کہا جبکہ اس کے الفاظ کردم تک پہنچ چکے تھے احمد شاہ نے اپنے قریب کردم کو کھڑا دیکھا تو پریشان ہوگئے جبکہ سامنے کھڑی لڑکی نظریں جھکا گئی لیکن چہرے پر کوئی شرمندگی نہیں تھی یقیناً یہ الفاظ اس تک پہنچانے کے لیے ہی بولے گئے تھے
کھانا کھالیں چاچا سائیں پھر خویلی چلنا ہے حوری اور تائشہ آپ لوگوں کا بے چینی سے انتظار کر رہی ہیں کردم نےسویرا کو اگنور کرتے ہوئے کہا
بابا سائیں جلدی چلیں مجھے حوری دیدہ سے ملنا ہے
میں نے حوری دیدہ کے لیے بہت سی شاپنگ کی ہے دھڑکن نے پھر سے نان اسٹاپ بولنا شروع کیا
اف یہ لڑکی کتنا بولتی ہے کردم کی بڑبڑاہٹ وہ سن چکی تھی جبکہ بابا سائیں کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی
بابا سائیں یہ حوری دیدہ سے جلتے ہیں
کیوں کہ ان کی منگیتر میرا مطلب ہے تائشہ دیدہ کے بارے میں بات نہیں کر رہی اس لیے وہ احمد شاہ کے کان میں پھسپھوسائی جو کردم نے بخوبی سن لیا لیکن بولا کچھ نہیں
کیونکہ بولنے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں
اس نے تائشہ کو اپنی زندگی میں کبھی اتنی اہمیت دی ہی نہیں تھی کہ وہ اس کے نام سے ڈسٹرب ہوتا
وہ شادی کے بعد کی محبت پر یقین رکھتا تھا اس کے نزدیک منگنی کی کوئی اہمیت نہ تھی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ وہ تائشہ کے جذبات سے انجان ہے
سویرا چپ چاپ بیٹھی تھی چاچا سائیں کھانا کھا رہے تھے جبکہ دھڑکن کھانے کے دوران بھی مسلسل بول رہی تھی اس کا منہ ایک سیکنڈ کے لیے بھی بند نہیں ہو رہا تھا اس کا دل چاہا کہ ایک بار اسے منع کرئے کھانے کے دوران بات کرنے سے لیکن چچا سائیں جس طرح سے اس کی ہر بات توجہ سے سن رہے تھے وہ کچھ بھی نہ بول سکا
سوائے اس کے کہ یہ لڑکی کتنا بولتی ہے
پھر وہ لوگ گاڑی میں بیٹھنے لگے جب دھڑکن بولی
بابا مجھے ہاتھ وش کرنے ہے ۔
کیونکہ احمدشاہ گاڑی پر چڑھ چکے تھے اسی لئے کردم نے یہ فریضہ بھی سرانجام دیا ۔
زبان کو تھوڑا آرام بھی دیا جاتا ہے دھڑکن یہ صرف بک بک کرنے کے لئے نہیں بنائے گی ۔وہ اس کے ہاتھ دلاواتے ہوئے دھیمی آواز میں بولا تھا ۔
اور پھر وہ گاڑی کی طرف بڑھ گیا جبکہ اس پیچھے سے اسے ایک لفظ سنائی دیا تھا
کھڑوس شاہ
•••••••••••••••••••
دادا سائیں اورمقدم شاہ شہر آئے تھے دادا سائیں کو بہت ضروری کام نہ تھا لیکن مقدم جانتا تھا کہ وہ شہر کیوں آئے ہیں ۔
دادا سائیں کو آفس چھوڑنے کے بعد وہ حور کے لیے کوئی پریزنٹ لینے باہر آیا تھا ۔
وہ چاہتا تھا کہ جب حوریہ اس کے نام کی انگوٹھی پہنے وہ اسے کوئی گفٹ دے ۔
بس اسی لیے اس کا گف لینے مارکیٹ آگیا ۔
اسے ایک بہت نفیس وخوبصورت سا بریسلٹ پسند کیا تھا ۔
سریہ بک چکا ہے ۔کاؤنٹر پر کھڑے ہوئے آدمی نے اسے بتایا تو اس نے قہر برستی نگاہوں سے اسے دیکھا ۔
یہ نہیں بکا ہے اسے میں خریدوں گا ۔تم مجھ سے اس کی ڈبل قیمت لینا ۔پیک کروں سے مقدم نے آرڈر دیا
سر پلیز سمجھنے کی کوشش کریں یہ بریسلیٹ بک چکا ہے اور وہ ہمارے ریگولر کسٹمر ہے ہم ان کے ساتھ اس طرح سے نہیں کر سکتے ۔آدمی نے سمجھانے کی کوشش کی
تین گنا قیمت لے لو اس بار مقدم نے آفر کی تھی ۔
سوری سر یہ۔ ۔۔۔۔۔
چارگنا لے لو وہ اس کی بات ختم ہونے سے پہلے بولا تھا ۔
آئی ایم سو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سر آپ لے لیں آج سے یہ بریسلیٹ آپ کا اس کی ریوالور سے ڈر کر آدمی نے فورا ہی اس کی بات مان لی۔
گڈ پیک کر واسے ۔مقدم کا غصہ جاگ کی طرح بیٹھا تھا ۔جو چیز اسے اپنی حور کے لیے پسند آگئی تھی وہ اسے کسی اور کو کیسے لینے دیتا ۔بریسلیٹ پیک کروا کر وہ واپس اپنے آفس کی طرف چلا گیا
••••••••••••••••••
رضوانہ تو ہر تھوڑی دیر میں سویرا اور دھڑکن کی نظر اتار رہی تھی جب کہ دھڑکن مزے سے حوریہ اور تائشہ سے باتیں کر رہی تھی
سویرا کسی کو اہمیت دیے بغیر اپنے کمرے کا پوچھ کر آرام کرنے جا چکی تھی اس کا کھیچا کھیچا انداز سب نے نوٹ کیا تھا
حوریہ کو تو بس اتنا پتا تھا کے وہ مقدم شاہ کی منگیتر ہے اور ان کی شادی ہونے والی ہے لیکن مقدم شاہ کی کل والی باتیں کہ مامی اس کا رشتہ مانگنے آئیں گی
اگر مقدم شاہ کی شادی سویرا سے ہونے والی ہے تو وہ اس کا رشتہ کیوں مانگنے والا ہے
وہ صبح سے گھر سے غائب تھا دادا سائیں نے ایک ضروری کام کے لیے بھیجا تھا سویرا خوبصورت تو بہت تھی لیکن موڈی تھی
اس نے حوریہ کی طرف دیکھا تک نہیں تھا بات کرنا تو دور کی بات تھی
چھوٹے ماموں سائیں بہت اچھے تھے تائشہ توکب سے ان کے قریب بیٹھی باتیں کر رہی تھی اس کا بھی بہت دل چاہا کہ وہ ان کے پاس بیٹھ کر باتیں کرے
لیکن وہ ہمیشہ سے اس معاملے میں زیرو تھی جبکہ دھڑکن کے لئے اسے کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں پڑی وہ تو جب سے آئی تھی اسی کے ساتھ تھی کچن میں روم میں ہر جگہ اس کے ساتھ ساتھ تھی
احمد شاہ نے ایک نظر سامنے فل سائز کی تصویر کو دیکھا جہاں دادا سائیں اپنے دونوں پوتوں کے ساتھ کھڑے تھے ۔
کردم بے شک بہت پرکشش نوجوان تھا لیکن مقدم آپ کے چہرے کی خوبصورتی اسے الگ بناتی تھی
کیا دیکھ رہے ہو احمد سائیں رضوانہ نے انہیں تصویر کی طرف اسے دیکھتے ہوئے بولا
اپنی بچی کا نصیب دیکھ رہا ہوں دیدہ سائیں ۔ماشااللہ مقدم کا بہت خوبصورت ہے ۔رہا ہے ابھی تک ملاقات نہیں ہوئی تھی احمد شاہ نے پوچھا
وہ بابا سائیں کے ساتھ شہر گئے ہیں رات دیر سے واپس آئیں گے ۔آپ بیٹھے میں چائے لے کر آتی ہوں رضوانہ ان کے قریب سے اٹھ کر کچن میں چلی گئی جبکہ احمد شاہ کا سارا دھیان سامنے تصویر پر پرکشش نوجوان کی طرف تھا
•••••••••
یہ کردم شاہ شکل سے بالکل بھی پینڈو نہیں لگتا یہ تو کافی ہینڈسم ہے ۔
نہ جانے مقدم شاہ کیسا دکھتا ہوگا کمرے میں آ کرسویرا کا دھیان کردم کی طرف گیا ۔
ضروری نہیں کہ دونوں ایک جیسے ہوں کردم شاہ تو کافی پڑھا لکھا لگتا ہے ۔
وہ نہ چاہتے ہوئے مقدم کے بارے میں سوچنے لگی تھی ۔
لیکن یہ فیصلہ تو وہ کرکے آئی تھی چاہے کچھ بھی ہوجائے وہ مقدم شاہ کی دلہن تو کبھی نہیں بنے گی
••••••••••••
مجھے مقدم لالہ اور دادا سائیں سے ملنا ہے وہ لوگ کب تک آئینگے دھڑکن نے پوچھا
رات تک وہ کسی کام کے لئے شہر گئے ہوئے ہیں آنے میں بہت وقت لگ جائے گا حوریہ نے کھانا بناتے ہوئے بتایا
مقدم لالہ بڑے ہیں یا کردم لالہ ایک اور اچھلتا کودتا سوال آیا حوریہ مسکرائی
کردم لالہ مقدم لالہ سے سترہ دن بڑے ہیں
وہ ہم سب سے بڑے ہیں سب سے پہلے کردم لالہ پھر مقدم لالا پھر سویرہ دیدہ پھر تائشہ دیدہ پھر میں اور پھر
پھرسب سے پیاری دھڑکن احمد شاہ حوریہ کے بولنے سے پہلے ہی دھڑکن نے ایک ادا سے کہا تو حوریہ مسکرائی
جبکہ کچن کے دروازے پر کھڑا کردم نے اس کے اپنے بارے میں خیالات جان کر سرجھٹکتے ہوئے حوریہ کو مخاطب کیا
ایک کپ چائے بنا دو حوری۔
اوہو آپ اتنی زیادہ چائے پیتے ہیں چائے پینے سے انسان کالا ہو جاتا ہے اور آپ کے لال لال ٹماٹر جیسے گال جلی ہوئی ڈبل روٹی جیسے ہو جائیں گے وہ تیز تیز بولی جبکہ حوریہ اسے روکنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی
چائے بنا کر کمرے میں لے آنا وہ اسے اگنور کرتا کہہ کر کچن سے باہر نکل گیا
عجیب کھڑوس بندے ہیں یہ مسکرانا گناہ ہے کیا اس نے پیچھے سے دھڑکن کی بڑبڑاہٹ سنی۔
اس لڑکی کا منہ بند نہیں ہوسکتا کیا ۔۔۔۔؟وہ خود سے سوال کرتا اپنے کمرے کی طرف چلا گیا
••••••••
پھوپھو سائیں دادا سائیں کب واپس آئیں گے اب تو رات کے دس بج چکے ہیں کب آئیں گے ابھی تو مجھے نیند بھی آ رہی ہے دھڑکن کب سے مسلسل ٹہلتی شاہ سائیں کا انتظار کر رہی تھی
بیٹا سائیں آپ سو جائیں سویرا تو کب کی سو چکی ہے رضوانہ کب سے اسے سونے کے لئے کہہ تھی کیونکہ وہ جانتی تھی اگربابا سائیں نے اسے دیکھ لیا تو غصہ ہوں گئے
وہ تو اپنے بیٹے کو بھی نہیں دیکھنا چاہتے تھے اور رضوانہ بھی یہ بات جانتی تھی
دھڑکن اپنی بات پر قائم رہے گی آخر پوتی تو انہیں کی ہے
لیکن ان کو ٹائم لگائے گا رضوانہ نے اسے سمجھانے کی ناکام کوشش کی
اگر میں بھی دادا سائیں اور دیدہ کی طرح سو گئی تو کتنا برا لگے گا انہیں
اس لئے مجھے انتظار کرنا ہے آپ فون کریں نا ان کو کہ جلدی آئیں میں ان کا ویٹ کر رہی ہوں وہ معصومیت سے کہتی اب رضوانہ پھوپھو سے کہنے لگی
لیکن ان کے آنے میں بہت وقت لگے گا وہ اکثر لیٹ ہو جاتے ہیں آپ سو جائیں صبح ان سے مل لیجئے
نہیں آپ سو جائیں میں ان کا انتظار کروں گی وہ کمبل لے کر صوفے پر آ کر بیٹھ گئی
پھوپھو سائیں نے ایک بار اس کی ضد دیکھی پھر ہار مان کر خود بھی سونے کے لئے چلی گئیں جبکہ ابھی تک دادا سائیں کا انتظار کر رہی تھی
Ep: 7 & 8
کردم کے ڈانٹ کھانے کے بعد وہ کافی دیر خاموش رہی بابا نے بھی اس کی خاموشی نوٹ کی تھی
لیکن وہ دھڑکن تھی زیادہ دیر چپ ہو بیٹھ ہی نہیں سکتی تھی اس کو تو پیدا ہی بولنے کے لئے کیا گیا تھا
ابھی ان کے سفر کو شروع ہوئے تقریبا دس منٹ ہی ہوئے تھے کہ دھڑکن کی ٹیپ ایک بار پھر سے سٹارٹ ہوگئی ۔
وہ اتنا کیسے بول سکتی ہے کردم نے تو کبھی کسی لڑکی کو اس طرح سے بولتے ہوئے نہ سنا تھا ۔
اور اوپر سے چاچا سائیں کا اس کی ہر بات کا جواب دینا شاید انہی کے لاڈ پیار کا نتیجہ تھا ۔
اس کی باتوں سے کردم سخت اریٹیٹ ہو چکا تھا ۔
بے فضول بے معنی باتیں جن کا کوئی سر پیر ہی نہیں ہے ۔
یقیناً اگر اس وقت وہ دھڑکن کے ساتھ اکیلا ہوتا تو اسے گاڑی سے باہر پھینک دیتا
•••••••••••••••
چاچا سائیں گھر ابھی بہت دور ہے آپ لوگوں کو بھوک لگ رہی ہوگی
اس نے گاڑی ایک چھوٹے سے ہوٹل کے سامنے رکی
بابا سائیں مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے اس سے پہلے کہ احمد شاہ انکارکرتے دھڑکن نے معصومیت سے کہا
کردم نے ایک نظر اس کے چہرے کودیکھا پھر کچھ آرڈر کرنے لگا
سویرا تم بھی کچھ کھا لو احمد شاہ نے اس کی طرف دیکھ کر کہا جبکہ وہ بہت دنوں سے اس سے بات نہیں کر رہے تھے
مجھے زہر کھلا دے آپ کے بھتیجے سے شادی کرنے سے تو بہتر ہے کہ میں زہر کھا کے مر جاؤں سویرا نے تپ کر کہا جبکہ اس کے الفاظ کردم تک پہنچ چکے تھے احمد شاہ نے اپنے قریب کردم کو کھڑا دیکھا تو پریشان ہوگئے جبکہ سامنے کھڑی لڑکی نظریں جھکا گئی لیکن چہرے پر کوئی شرمندگی نہیں تھی یقیناً یہ الفاظ اس تک پہنچانے کے لیے ہی بولے گئے تھے
کھانا کھالیں چاچا سائیں پھر خویلی چلنا ہے حوری اور تائشہ آپ لوگوں کا بے چینی سے انتظار کر رہی ہیں کردم نےسویرا کو اگنور کرتے ہوئے کہا
بابا سائیں جلدی چلیں مجھے حوری دیدہ سے ملنا ہے
میں نے حوری دیدہ کے لیے بہت سی شاپنگ کی ہے دھڑکن نے پھر سے نان اسٹاپ بولنا شروع کیا
اف یہ لڑکی کتنا بولتی ہے کردم کی بڑبڑاہٹ وہ سن چکی تھی جبکہ بابا سائیں کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی
بابا سائیں یہ حوری دیدہ سے جلتے ہیں
کیوں کہ ان کی منگیتر میرا مطلب ہے تائشہ دیدہ کے بارے میں بات نہیں کر رہی اس لیے وہ احمد شاہ کے کان میں پھسپھوسائی جو کردم نے بخوبی سن لیا لیکن بولا کچھ نہیں
کیونکہ بولنے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں
اس نے تائشہ کو اپنی زندگی میں کبھی اتنی اہمیت دی ہی نہیں تھی کہ وہ اس کے نام سے ڈسٹرب ہوتا
وہ شادی کے بعد کی محبت پر یقین رکھتا تھا اس کے نزدیک منگنی کی کوئی اہمیت نہ تھی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ وہ تائشہ کے جذبات سے انجان ہے
سویرا چپ چاپ بیٹھی تھی چاچا سائیں کھانا کھا رہے تھے جبکہ دھڑکن کھانے کے دوران بھی مسلسل بول رہی تھی اس کا منہ ایک سیکنڈ کے لیے بھی بند نہیں ہو رہا تھا اس کا دل چاہا کہ ایک بار اسے منع کرئے کھانے کے دوران بات کرنے سے لیکن چچا سائیں جس طرح سے اس کی ہر بات توجہ سے سن رہے تھے وہ کچھ بھی نہ بول سکا
سوائے اس کے کہ یہ لڑکی کتنا بولتی ہے
پھر وہ لوگ گاڑی میں بیٹھنے لگے جب دھڑکن بولی
بابا مجھے ہاتھ وش کرنے ہے ۔
کیونکہ احمدشاہ گاڑی پر چڑھ چکے تھے اسی لئے کردم نے یہ فریضہ بھی سرانجام دیا ۔
زبان کو تھوڑا آرام بھی دیا جاتا ہے دھڑکن یہ صرف بک بک کرنے کے لئے نہیں بنائے گی ۔وہ اس کے ہاتھ دلاواتے ہوئے دھیمی آواز میں بولا تھا ۔
اور پھر وہ گاڑی کی طرف بڑھ گیا جبکہ اس پیچھے سے اسے ایک لفظ سنائی دیا تھا
کھڑوس شاہ
•••••••••••••••••••
دادا سائیں اورمقدم شاہ شہر آئے تھے دادا سائیں کو بہت ضروری کام نہ تھا لیکن مقدم جانتا تھا کہ وہ شہر کیوں آئے ہیں ۔
دادا سائیں کو آفس چھوڑنے کے بعد وہ حور کے لیے کوئی پریزنٹ لینے باہر آیا تھا ۔
وہ چاہتا تھا کہ جب حوریہ اس کے نام کی انگوٹھی پہنے وہ اسے کوئی گفٹ دے ۔
بس اسی لیے اس کا گف لینے مارکیٹ آگیا ۔
اسے ایک بہت نفیس وخوبصورت سا بریسلٹ پسند کیا تھا ۔
سریہ بک چکا ہے ۔کاؤنٹر پر کھڑے ہوئے آدمی نے اسے بتایا تو اس نے قہر برستی نگاہوں سے اسے دیکھا ۔
یہ نہیں بکا ہے اسے میں خریدوں گا ۔تم مجھ سے اس کی ڈبل قیمت لینا ۔پیک کروں سے مقدم نے آرڈر دیا
سر پلیز سمجھنے کی کوشش کریں یہ بریسلیٹ بک چکا ہے اور وہ ہمارے ریگولر کسٹمر ہے ہم ان کے ساتھ اس طرح سے نہیں کر سکتے ۔آدمی نے سمجھانے کی کوشش کی
تین گنا قیمت لے لو اس بار مقدم نے آفر کی تھی ۔
سوری سر یہ۔ ۔۔۔۔۔
چارگنا لے لو وہ اس کی بات ختم ہونے سے پہلے بولا تھا ۔
آئی ایم سو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سر آپ لے لیں آج سے یہ بریسلیٹ آپ کا اس کی ریوالور سے ڈر کر آدمی نے فورا ہی اس کی بات مان لی۔
گڈ پیک کر واسے ۔مقدم کا غصہ جاگ کی طرح بیٹھا تھا ۔جو چیز اسے اپنی حور کے لیے پسند آگئی تھی وہ اسے کسی اور کو کیسے لینے دیتا ۔بریسلیٹ پیک کروا کر وہ واپس اپنے آفس کی طرف چلا گیا
••••••••••••••••••
رضوانہ تو ہر تھوڑی دیر میں سویرا اور دھڑکن کی نظر اتار رہی تھی جب کہ دھڑکن مزے سے حوریہ اور تائشہ سے باتیں کر رہی تھی
سویرا کسی کو اہمیت دیے بغیر اپنے کمرے کا پوچھ کر آرام کرنے جا چکی تھی اس کا کھیچا کھیچا انداز سب نے نوٹ کیا تھا
حوریہ کو تو بس اتنا پتا تھا کے وہ مقدم شاہ کی منگیتر ہے اور ان کی شادی ہونے والی ہے لیکن مقدم شاہ کی کل والی باتیں کہ مامی اس کا رشتہ مانگنے آئیں گی
اگر مقدم شاہ کی شادی سویرا سے ہونے والی ہے تو وہ اس کا رشتہ کیوں مانگنے والا ہے
وہ صبح سے گھر سے غائب تھا دادا سائیں نے ایک ضروری کام کے لیے بھیجا تھا سویرا خوبصورت تو بہت تھی لیکن موڈی تھی
اس نے حوریہ کی طرف دیکھا تک نہیں تھا بات کرنا تو دور کی بات تھی
چھوٹے ماموں سائیں بہت اچھے تھے تائشہ توکب سے ان کے قریب بیٹھی باتیں کر رہی تھی اس کا بھی بہت دل چاہا کہ وہ ان کے پاس بیٹھ کر باتیں کرے
لیکن وہ ہمیشہ سے اس معاملے میں زیرو تھی جبکہ دھڑکن کے لئے اسے کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں پڑی وہ تو جب سے آئی تھی اسی کے ساتھ تھی کچن میں روم میں ہر جگہ اس کے ساتھ ساتھ تھی
احمد شاہ نے ایک نظر سامنے فل سائز کی تصویر کو دیکھا جہاں دادا سائیں اپنے دونوں پوتوں کے ساتھ کھڑے تھے ۔
کردم بے شک بہت پرکشش نوجوان تھا لیکن مقدم آپ کے چہرے کی خوبصورتی اسے الگ بناتی تھی
کیا دیکھ رہے ہو احمد سائیں رضوانہ نے انہیں تصویر کی طرف اسے دیکھتے ہوئے بولا
اپنی بچی کا نصیب دیکھ رہا ہوں دیدہ سائیں ۔ماشااللہ مقدم کا بہت خوبصورت ہے ۔رہا ہے ابھی تک ملاقات نہیں ہوئی تھی احمد شاہ نے پوچھا
وہ بابا سائیں کے ساتھ شہر گئے ہیں رات دیر سے واپس آئیں گے ۔آپ بیٹھے میں چائے لے کر آتی ہوں رضوانہ ان کے قریب سے اٹھ کر کچن میں چلی گئی جبکہ احمد شاہ کا سارا دھیان سامنے تصویر پر پرکشش نوجوان کی طرف تھا
•••••••••
یہ کردم شاہ شکل سے بالکل بھی پینڈو نہیں لگتا یہ تو کافی ہینڈسم ہے ۔
نہ جانے مقدم شاہ کیسا دکھتا ہوگا کمرے میں آ کرسویرا کا دھیان کردم کی طرف گیا ۔
ضروری نہیں کہ دونوں ایک جیسے ہوں کردم شاہ تو کافی پڑھا لکھا لگتا ہے ۔
وہ نہ چاہتے ہوئے مقدم کے بارے میں سوچنے لگی تھی ۔
لیکن یہ فیصلہ تو وہ کرکے آئی تھی چاہے کچھ بھی ہوجائے وہ مقدم شاہ کی دلہن تو کبھی نہیں بنے گی
••••••••••••
مجھے مقدم لالہ اور دادا سائیں سے ملنا ہے وہ لوگ کب تک آئینگے دھڑکن نے پوچھا
رات تک وہ کسی کام کے لئے شہر گئے ہوئے ہیں آنے میں بہت وقت لگ جائے گا حوریہ نے کھانا بناتے ہوئے بتایا
مقدم لالہ بڑے ہیں یا کردم لالہ ایک اور اچھلتا کودتا سوال آیا حوریہ مسکرائی
کردم لالہ مقدم لالہ سے سترہ دن بڑے ہیں
وہ ہم سب سے بڑے ہیں سب سے پہلے کردم لالہ پھر مقدم لالا پھر سویرہ دیدہ پھر تائشہ دیدہ پھر میں اور پھر
پھرسب سے پیاری دھڑکن احمد شاہ حوریہ کے بولنے سے پہلے ہی دھڑکن نے ایک ادا سے کہا تو حوریہ مسکرائی
جبکہ کچن کے دروازے پر کھڑا کردم نے اس کے اپنے بارے میں خیالات جان کر سرجھٹکتے ہوئے حوریہ کو مخاطب کیا
ایک کپ چائے بنا دو حوری۔
اوہو آپ اتنی زیادہ چائے پیتے ہیں چائے پینے سے انسان کالا ہو جاتا ہے اور آپ کے لال لال ٹماٹر جیسے گال جلی ہوئی ڈبل روٹی جیسے ہو جائیں گے وہ تیز تیز بولی جبکہ حوریہ اسے روکنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی
چائے بنا کر کمرے میں لے آنا وہ اسے اگنور کرتا کہہ کر کچن سے باہر نکل گیا
عجیب کھڑوس بندے ہیں یہ مسکرانا گناہ ہے کیا اس نے پیچھے سے دھڑکن کی بڑبڑاہٹ سنی۔
اس لڑکی کا منہ بند نہیں ہوسکتا کیا ۔۔۔۔؟وہ خود سے سوال کرتا اپنے کمرے کی طرف چلا گیا
••••••••
پھوپھو سائیں دادا سائیں کب واپس آئیں گے اب تو رات کے دس بج چکے ہیں کب آئیں گے ابھی تو مجھے نیند بھی آ رہی ہے دھڑکن کب سے مسلسل ٹہلتی شاہ سائیں کا انتظار کر رہی تھی
بیٹا سائیں آپ سو جائیں سویرا تو کب کی سو چکی ہے رضوانہ کب سے اسے سونے کے لئے کہہ تھی کیونکہ وہ جانتی تھی اگربابا سائیں نے اسے دیکھ لیا تو غصہ ہوں گئے
وہ تو اپنے بیٹے کو بھی نہیں دیکھنا چاہتے تھے اور رضوانہ بھی یہ بات جانتی تھی
دھڑکن اپنی بات پر قائم رہے گی آخر پوتی تو انہیں کی ہے
لیکن ان کو ٹائم لگائے گا رضوانہ نے اسے سمجھانے کی ناکام کوشش کی
اگر میں بھی دادا سائیں اور دیدہ کی طرح سو گئی تو کتنا برا لگے گا انہیں
اس لئے مجھے انتظار کرنا ہے آپ فون کریں نا ان کو کہ جلدی آئیں میں ان کا ویٹ کر رہی ہوں وہ معصومیت سے کہتی اب رضوانہ پھوپھو سے کہنے لگی
لیکن ان کے آنے میں بہت وقت لگے گا وہ اکثر لیٹ ہو جاتے ہیں آپ سو جائیں صبح ان سے مل لیجئے
نہیں آپ سو جائیں میں ان کا انتظار کروں گی وہ کمبل لے کر صوفے پر آ کر بیٹھ گئی
پھوپھو سائیں نے ایک بار اس کی ضد دیکھی پھر ہار مان کر خود بھی سونے کے لئے چلی گئیں جبکہ ابھی تک دادا سائیں کا انتظار کر رہی تھی
دادا سائیں مجھے پتا ہے آپ اتنی دیر سے حویلی اس لیے واپس لائے ہیں تاکہ آپ چاچا سائیں سے نہ مل پائیں مقدم شاہ نے ان کے ساتھ جویلی میں قدم رکھا تھا
ہاں کیوں کہ میں اس نافرمان اولاد کا چہرا نہیں دیکھنا چاہتا تھا دادا سائیں نے ایک ہی جملے میں اپنے جذبات کا اظہار کیا
خیر میرے بارے میں کیا سوچا ہے آپ نے وہ اپنے مطلب کی بات پر اتر آیا
مقدم سائیں سویرا آپ کے منگیتر ہے وہ اسے سمجھانے والے انداز میں بولے
مجھے پروا نہیں وہ لاپروائی سے بولا
لیکن وہ اسے سمجھانے ہی سکتے تھے کہ انہیں پرواہ ہے وہ اپنی زبان سے نہیں پھر سکتے
وہ جیسے ہی حویلی میں داخل ہوئے سامنے صوفے پر دھڑکن کمبل میں بیٹھی جوانہیں دیکھتے ہی بھاگ کر ان کے قریب آئی اور ان کے سینے سے لگ گئی
اف دادا سائیں آپ اس عمر میں بھی کتنے ہینڈسم ہیں آئی لو یو وہ تیز تیز بولتی ان کا گال چوم چکی تھی
دادا سائیں نے غصیلی نظروں سے اس کی طرف دیکھا جبکہ مقدم شاہ حیران اور پریشان اس کی حرکتیں دیکھ رہا تھا مقدم لالا آپ وہ اس کی طرف مڑی آپ بھی بہت ہینڈسم ہیں لیکن میری دادوسائیں سے تھوڑا وہ مسکراتے ہوئے اسے بولی تو مقدم شاہ نے مسکراتے ہوئے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا
دادو سائیں آپ کی خوبصورتی اور صحت کا راز کیا ۔ ۔ ؟
وہ اپنے ہاتھ کا مائیک بناتے ہوئے ان کے سامنے کرکے پوچھ رہی تھی
تمہارا باپ اور بہن کہاں ہے وہ روعب دار لہجے میں گویا ہوئے تھے
وہ لوگ تو آپ سے پیار ہی نہیں کرتے آپ کا ویٹ کیے بنا سو گئے لیکن میں میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں اسی لیے تو نہیں سوئی میں کب سے آپ کا ویٹ کر رہی تھی وہ اپنی دونوں باہیں پھیلائے بولی اور پھر انہیں باہوں سے ان کے گرد گھیرا بنایا
آپ ان دونوں سے ناراض ہو جائیں وہ لوگ آپ سے ملے بغیر سو گئے لیکن میں آپ سے ملنے کے لیے آپ کا یہاں انتظار کر رہی تھی باہر سردی میں وہ صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی
دیکھا میں آپ سے کتنا پیار کرتی ہوں وہ ان کے بازوں کے ساتھ جھولے لینے میں مصروف تھی جبکہ اس کی ان پیاری پیاری حرکتوں پر مقدم شاہ مسکرائے جا رہا تھا
ہممم اب مل لیانہ ہم سے جاؤ تم بھی جا کر آرام سے سو جاؤ وہ اپنے لہجے کو سخت بنا کر بولے
ہاں مجھے بھی بہت نیند آ رہی ہے میں تو بس آپ کا انتظار کر رہی تھی وہ اب ایک بار پھر سے ان کا گال چوم کر گڈنائٹ کہتی اپنے کمرے کی طرف چلی گئی اس کے جاتے ہی کا شاہ سائیں کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی جو مقدم نہ دیکھ لے اس لئے جلدی سے چھپا گئے
••••••••••••
آگیا میرا چاند اس نے اپنے کمرے میں قدم رکھا تو اماں سائیں اس کے کمرے میں اس کا انتظار کر رہی تھی
وہ مسکرا کر اندر داخل ہوا
جی ہاں آگیا ابھی تک کیوں جاگ رہی ہیں آپ۔۔۔۔؟ وہ ان کی گود میں سر رکھتے ہوئے پوچھنے لگا
بیٹا سائیں آپ نے صبح جانے سے میں کیا تھا کہ آپ کو مجھ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے اس لئے میں آپ کا انتظار کر رہی تھی
اماں سائیں مسکراتے ہوئے اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگی تو وہ شرمندہ ہوگیا
آئی ایم سوری اماں سائیں آپ کو میری وجہ سے اتنا انتظار کرنا پڑا وہ ان کا ہاتھ چوم کر بولا تو وہ مسکرائی
کوئی بات نہیں میری جان آپ کا انتظار آپ کی ماں کو برا نہیں لگتا
بتائیں کیا بات کرنا چاہتے تھے آپ مجھ سے اماں سائیں نے پوچھا
جی میں شادی کے بارے میں سوچ رہا تھا
ارے بیٹا سائیں یہ تو بہت اچھی بات ہے احمد بھائی بھی اسی سلسلے میں سویرا کو لے کر یہاں آئے ہیں آپ کہتے ہیں تو میں صبح ہی احمد بھائی سے بات کرتی ہو ۔
اپنے بیٹے کے چہرے پر وہ سویرا کے نام سے آئی بیزاری دیکھ چکی تھی لیکن پھر بھی اپنی بات جاری رکھی
میں حوریہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں میں دادا سائیں سے بات کر چکا ہوں آپ ایک بار ان سے بات کر لیں میں جانتا ہوں گھرکی بات ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ سب کچھ اس رسم و رواج کے مطابق ہو
میں نہیں چاہتا کہ حوریہ کسی بھی قسم کے احساس کمتری کا شکار ہو وہ ابھی بول ہی رہا تھا کہ اس کی نظر
اماں سائیں کے چہرے پر پڑی جو بے یقینی سے اس کی طرف دیکھ ر ہی تھی
اماں سائیں ماضی میں جو کچھ ہوا اس میں حوریہ کی کوئی غلطی نہیں ہے اور حوریہ میری خواہش ہے اور
آپ کی ہر خواہش پوری ہو گی آپ کو آپ کی پسند کی ہر چیز ملے گی مجھے آپ کی خوشی سے زیادہ عزیز کوئی چیز نہیں ہے وہ اس کا ماتھا چومتے باہر نکل گئی ان کی آنکھوں کا پانی وہ دیکھ چکا ہے لیکن اپنے گھر والوں کی یہ نفرت حوریہ کے لیے اسے بیکار لگتی تھی
وہ لوگ حوریہ کے باپ سے کی جانے والی نفرت بھی حوریہ سے کر رہے تھے انہیں لگاتا تھا انیس سال پہلے خویلی کی بربادی حوریہ کی وجہ سے ہوئی ہے لیکن کوئی یہ نہیں سوچتا تھا کہ چند دن کی بچی کیسے کسی کی بربادی کی وجہ بن سکتی ہے
برباد تو وہ ہوئی تھی جس سے اس کا سب کچھ چھن گیا تھا اس کا باپ اس سے الگ کہ کردیاگیا باپ ہوتے ہوئے بھی وہ یتیموں جیسی زندگی گزاری تھی انیس سال پہلے اصل بربادی توحوریہ کی ہوئی تھی جیسے بربادی کی وجہ بنایا جارہا تھا
••••••••••
کیا تم حوریہ کواپنی بہو کے روپ میں قبول کر پاؤگی میں جانتا ہوں اپنے شوہر کے قاتل کی بیٹی کو اپنے سامنے اپنی بیٹےکی بیوی کے روپ میں قبول کرنا تمہارے لیے مشکل ہے کیا تم اسے قبول کر پاؤ گی جانتا ہوں یہ بہت مشکل ہے اور اگر تم اسے اپنی بہو کے روپ میں قبول نہیں کر پائی تو
دیکھو بہو یہ بچی کے ساتھ ہی نہیں تمہارے ساتھ بھی زیادتی ہوگی
نہیں بابا سائیں مجھے میرے بیٹے کی خوشی کے آگے اور کچھ نہیں
میں مقدم سائیں کی شادی حوریہ سے کرنا چاہتی ہوں آپ اگر ہاں کر دیں تو آج شام میں حوریہ کو مقدم سائیں کے نام کی انگوٹھی پہنا دوں گی نازیہ نے پوچھا
اور جہاں تک احمد بھائی کی بات ہو تو آپ بہتر جانتے ہیں کہ آپ ان کو کیا کہہ کر مطمئن کریں گے لیکن میں اپنے بیٹے کی ضد کے آگے مجبور ہوں
ہاں ہم ایک بار حوریہ سے بات کرلیں پھر سوچیں گے
حور یہ سے کیا بات کرنی ہے شاہ سائیں کیا یہ کافی نہیں ہے
کہ وہ ہمیشہ اسی خویلی میں رہے گی اور ویسے بھی یہاں تک بات مقدم سائیں کی خواہش کی ہے جو آپ ہر حال میں پوری کریں گے
چاہے حوریہ کی مرضی ہو یا نہ ہو اگر آپ حوریہ کو فیصلے کا حق دیں گے تو وہ پہلے کی طرح انکار کر دے گی تو آپ کو کیا لگتا ہے سید حالم شاہ کا بیٹا پیچھے ہٹ جائے گا
نہیں وہ ہر حد پار کر جائے گا کیا آپ مقدم سائیں کی ضد سے واقف نہیں ہیں ۔۔۔۔۔؟
آپ حوریہ کا رشتہ طے کردیں وہ قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لے گی لیکن اگر آپ نے اسے فیصلے کا حق دیا تو وہ آپ کے لئے مقدم سائیں کی ضد پوری کرنا مشکل ہوجائے گا
نازیہ اپنی بات مکمل کرتے ہوئے اٹھیں تو شاہ سائیں سوچ میں پڑ گئے
ہم تمہاری بیٹی کی شادی اپنے پوتے سے کر کے تمہیں ہمیشہ کے لئے اس سے محروم کردیں گے
تم ساری زندگی اپنی بیٹی کی شکل نہیں دیکھ پاؤگے احسن ملک تم ساری زندگی ہم سے بیک مانگو گے لیکن ہم تم پر ترس نہیں کھائیں گے
تاریخ ایک پر پھر سے دہرائی جائے گی جس طرح سے تم نے ہم سے ہماری بیٹی چھین لی اب تم اپنی بیٹی کے لیے تڑپو گے
••••••••••••
شام کے سائے گہرے ہوئے تو خویلی کے لوگ باہر لان میں تازہ ہوا سے لطف اندوز ہونے لگے
سویرا جب سے آئی تھی اپنے کمرے میں بند تھی اسے کسی سے کوئی مطلب ہی نہ تھا بابا سائیں اس سے ناراض تھے اور دھڑکن کو بھی اس بات کرنے سے منع کر چکے تھے
اور حویلی کے لوگوں کو وہ خودمنہ لگانا پسند نہیں کرتی تھی
حوریہ تو اسے دھڑکن کی کاپی لگ رہی تھی جبکہ تائشہ اس سے بات کرنے کے بہانے ڈھونڈتی تھی تاکہ وہ اسے فیشن کے بارے میں کچھ سیکھا سکے تائشہ کو تو اس کا ہر انداز اچھا لگ رہا تھا اس کے میک اپ سے لے کر ڈریسنگ اسے تو وہ ہر انداز میں سے کمال لگ رہی تھی
جبکہ دھڑکن اسے بچی ہی لگی تھی جو دن رات اچھلتی کودتی رہتی ہے اور اب اس کی ڈریسنگ بھی حوریہ جیسی ہی ہو گئی تھی
اپنے سے زیادہ بڑا دوپٹا جو ہر وقت اس کے پیروں میں گرا ہوتایا کہیں رکھ کر بھول جاتی لیکن کردم شاہ کے سامنے نہ جانے اس کا دو پٹہ کیسے سر پر ٹکتا تھا شاہد اس کی طرح اس کا دوپٹہ بھی کردم شاہ سے خوف کھاتا سے دادا سائیں سے اس رات کے بعد ملاقات نہیں ہوئی
دو دن سے مقدم اور دادا سائیں شہر گئے ہوئے تھے جس کی وجہ سے چھوٹی بڑی ہر ذمہ داری کردم شاہ سنبھال رہا تھا اسے تو سمجھ نہیں آتا تھا کہ یہ بندہ اتنے سارے کام ایک ساتھ کیسے کر لیتا ہے
ابھی وہ بیٹھے کچے امرود کھا رہی تھی کہ کردم شاہ آیا
احمد شاہ نے اسے دھڑکن کو گاوں دکھانے کا کہا
آج صبح بڑی مشکل سے اس نے بابا سائیں کو منایا تھا
وہ حیرانگی سےاپنے باپ کو دیکھنے لگی اس نے کہا تھا کہ کسی کے ساتھ میں بھیج دینا لیکن کردم سائیں کے ساتھ نہیں
بابا سائیں میں تو آپ کی اچھی بیٹی ہوں نہ معصومیت سے پوچھا؟
ایک پل کے لئے کردم نے بھی اس کا چہرا دیکھا لیکن پھر نظریں جھکا گیا
ہاں بیٹاسائیں اسی لیے تو آپ کو بھیج رہے ہیں
بابا سائیں نے محبت سے کہا
لیکن آپ میرے ساتھ اتنا برا ظلم کیسے کرسکتے ہیں وہ کردم شاہ کے پیچھے کھڑی تھی اتنا بڑا کہتے ہوئے اس نے باقاعدہ کردم شاہ کی سر سے پاوں تک طرف اشارہ کیا جو شاید اس کی بات کو سمجھ چکا تھا
حوریہ میں گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں جلدی سے آؤ مجھے کچھ دیر بعد ڈیرے پر بھی جانا ہے وہ کہتا ہوا باہر نکل گیا جبکہ تائشہ اس سے پوچھ بھی نہ پائی کہ کیا وہ بھی ان کے ساتھ آ سکتی ہے
حوریہ اور دھڑکن سے تو اس کو کوئی مطلب ہی نہیں تھا وہ تو بس کردم کے لیے جانا چاہتی تھی لیکن اب دل کے ارمان دل میں ہی رہ گئے
Ep: 9 & 10
وہ گاڑی میں آکر بیٹھی تو کردم نے گاڑی آگے بڑھا دی
تھوڑی دیر میں گاڑی میں دھڑکن کی باتیں شروع ہوگئی
کردم کے سامنے وہ تیز تیز بولنے سے احتیاط کر تی تھی کیونکہ وہ پہلے دن ہی اسے ڈانٹ گیا تھا لیکن پھر بھی کسی کسی بات پر اس کی زبان تیزی پکڑلیتی
ہائے مجھے افسوس ہو رہا ہے کہ ہم یہاں اپنی باتوں میں مصروف ہیں اور وہاں کردم لالہ بیچارے
اگر ہم تائشہ دیدہ کو بھی ساتھ لے آتے تو کردم لالہ بھی بور نہ ہوتے اور ویسے بھی کردم لالا تو ہر وقت ہی غصہ کرتے رہتے ہیں ان پر اس نے ہلکی آواز میں کہا لیکن کردم سن چکاتھا
مجھے اپنی بوریت دور کرنے کے لئے تائشہ سے بات کرنے کی ضرورت نہیں وہ میری منگیتر ہے اس کی عزت مجھ پے فرض ہے شادی کے بعد میرا سارا وقت اسی کیلئے ہوگا اگر اس وقت میں اسے اپنے ساتھ لے کر نہیں چلتا تو وجہ صرف یہ ہے کہ میں شادی کے بعد اسے سمجھنا چاہتا ہوں میرے نزدیک منگنی کوئی ایسا رشتہ نہیں جس کی بنا پر تائشہ کو لے کر اپنے ساتھ لیے گھوموں
اس کی اہمیت میری زندگی میں تب ہوگی جب وہ میری بیوی بن کر میری زندگی میں شامل ہو گی کردم شاہ کے لہجے میں کوئی غصہ کوئی سختی نہ تھی اس کے بعد اسے ندی اور اپنی چند زمینیں دکھانے لے گیا لیکن باغ میں جھولے دیکھنے کے بعد دھڑکن کا واپس آنے کا دل نہیں کر رہا تھا پورا گاؤں اپنی مثال آپ تھا لیکن یہ باغ دھڑکن کا معصوم دل اس پر آکر رکا تھا
کردم نےچلنے کو کہا تو وہ جانے کے لئے تیار نہ تھی
جس کی وجہ سے کردم کو سختی دکھانی پڑی تو وہ منہ پھلاتی جھولے سے اتری تبھی ایک لڑکا دوڑتا ہوا ان کے پاس آکر رکا
چھوٹے شاہ سائیں
وہ دودسے ہی اسے پکار رہا تھا
جاوید تم اتنے پریشان کیوں ہو اس کے قریب آ کر رکا تو کردم نے پوچھا
چھوٹے شاہ سائیں وہ اکبر اپنی بچی کی شادی کر رہا ہے نکاح کی رسم ادا ہوچکی ہے جاوید نے بتایا تو کردم شاہ کے ماتھے پر بے شمار شیکنیں نمایاں ہوئی
جبکہ اس کے غصے کی وجہ دھڑکن سمجھ نہیں پائی تھی اکبر ایسا کیسے کر سکتا ہے اس کی ہمت کیسے ہوئی ایسا کرنے کی اگر دادا سائیں گاؤں میں نہیں ہیں تو ان کی مرضی کے خلاف اتنا بڑا قدم اٹھائے گا اس کی عقل کو ٹھکانے میں لگاوں گا تم چلو میں پہنچتا ہوں وہ حوریہ اور دھڑکن کو گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے خود بھی ڈرائیونگ سیٹ سنبھال چکا تھا
گھر کی عزت کے معاملے میں وہ کسی پر یقین نہیں کرتا تھا
اگر کسی نے اپنی بیٹی کی شادی کردی ہے تو اس میں اس کی کیا غلطی ہے ہر انسان کو اپنی بیٹیوں کے حق میں بہتر فیصلہ کرنے کا حق ہے دھڑکن صرف سوچ سکتی تھی کیونکہ بولنے کی ہمت تو کردم شاہ کے سامنے اس میں پیدا ہی نہیں ہوتی تھی
••••••••••••••
ارے سویرا بچے تم بھی گھوم آتی گاؤں دھڑکن گئی ہے ۔
رضوانہ پھپھو تھوڑی دیر اس کے پاس بیٹھنے کے لیے اس کے کمرے میں آئی تھی ۔
ایم ناٹ انٹرسٹڈ ۔بیزاریت سے بھرپور جواب آیا جبکہ ان کا اس طرح سے اپنے کمرے میں آنا سویرہ کو ہرگز پسند نہ آیا تھا ۔
سویرا نے کیا کہا تھا یہ تو پھپھو سائیں کو سمجھ نہ آیا لیکن اس کا لہجہ بہت کچھ بیان کر رہا تھا ۔
اس کا سب سے کٹ رہنا سب ہی ٹوٹ کر چکے تھے ۔
لیکن پھر بھی وہ اس کی پھپھو سائیں تھی
رشتے کا احساس اور اس رشتے سے جڑے جذبات انہیں اس کے پاس بیٹھنے پر مجبور کر رہے تھے ۔
اچھا بتاؤ لنڈن کیسا ہے لنڈن میں اور پاکستان میں کیا فرق ہے وہ اس سے بے تکی باتیں کرنے لگیں ۔
زمین آسمان کا فرق ہے آپ کے پاکستان اور میرے لندن میں ۔
جب سے میں یہاں آئی ہوں کسی نے مجھے باہر نہیں جانے دیا آزادی نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے پرائیویسی نام کی کوئی چیز نہیں ہے جس کا دل چاہے وہ منہ اٹھا کر آ جاتا ہے کمرے میں پوچھنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کرتا وہ کوئی بھی لحاظ رکھے بغیر بولی
جبکہ احساس توہین سے پھپھو سائیں کا چہرہ سرخ ہو گیا
اوروہ وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئیں ۔
بیٹا سائیں اس کمرے سے باہر بھی نکلا کرو آخر ساری زندگی تم نے اسی گھر میں رہنا ہے ۔
وہ اسے کچھ احساس دلانے والے انداز میں بولیں اور اٹھ کر باہر چلی گئی ۔
جبکہ ان کے جاتے ہی سویرا کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی اس کا پہلا تیر بالکل نشانے پر لگا تھا
••••••••••••••
تائشہ تم یہاں کیا کر رہی ہو بیٹا تم بھی چلی جاتی کردم کے ساتھ ۔وہ کب سے گھرمیں بولائی بولائی پھر رہی تھی ۔
جب احمد شاہ نے اسے مخاطب کیا ۔
جی ماموں سائیں میں جانا تو چاہتی تھی لیکن گھرمیں بہت کام تھا اب کردم سائیں کے آتے ہی مجھے انہیں چائے بنا کر دینی ہوتی ہے
اور پھر صبح کے لئے ان کے کپڑے بھی تیار کرنے ہوں گے ۔
اور میرے خیال میں آج رسوئی میں بھی ان کی پسند کا کچھ نہیں بنا لگتا ہے ان کا کھانا بھی الگ سے بنانا پڑے گا ۔
ماشاءاللہ ماشاءاللہ میری بچی تو بہت سمجھدار ہو گئی ہے
ہر کام کردم کی مرضی کا ہوتا ہے یہاں تو ۔
احمد شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو تائشہ شرما دی۔
تھوڑی سے اپنی عقل میری بیٹی کو بھی بانٹ دو ۔
اسے تو سمجھ ہی نہیں ہے مقدم کے مزاج کے مطابق خود کو ڈالتے ڈالتے اسے بہت وقت لگ جائے گا ۔
لیکن تم دونوں کا تو زندگی بھر کا ساتھ ہے ۔ اس کے ساتھ وقت گزارا کرو ۔احمد شاہ نے بہت محبت سے اس سے التجا کی تھی
کیوں نہیں ماموں سائیں آپ فکر نہ کریں تائشہ کی تو جیسے مراد بھر آئی تھی
وہ سویرا کے کمرے کی طرف آئی تھی لیکن کمرا اندر سے بند تھا دو تین بار کھٹکٹھانے کے بعد بھی اندر سے کوئی آواز نہ آئی تو وہ مایوس لوٹ آئی
••••••••••••••••••
وہ لوگ کہاں آئے تھے دھڑکن کو نہیں پتا تھا
اگر یہاں پر شادی ہو رہی تو یہ کس قسم کی شادی کے بابا سائیں اسے بتایا کرتے تھے کہ پاکستان کی شادی میں بہت مزہ آتا ہے
یہاں پر کسی کی آواز بھی نہیں آرہی تھی
دھڑکن سوچتے ہوئے حوریہ کے ساتھ اس کمرے نما گھر میں داخل ہوئے جہاں ابھی کردم شاہ تیزی سے داخل ہوا تھا
چھوٹے شاہ سائیں آپ یہاں۔۔۔۔ آپ لوگوں شہر گئے ہوئے تھے سامنے کھڑا اکبر کاپنتے ہوئے اس کی طرف آیا
ہاں گئے تھے شہر لیکن میں نہیں دادا سائیں اور تم نمک حرام ان کی غیر موجودگی میں اپنی بچی کی شادی کر رہے ہو
بلکہ یہ کہنا تو غلط ہوگا تم اس کی شادی نہیں کر رہے تم اس معصوم بچی کو بیچ رہے ہو بتاؤ کتنے میں بیچا ہے تم نے اپنا ایمان بتاؤ مجھے کیا قیمت لگائی ہے تم نے اس معصوم بچی کی اس نے سامنے کھڑی دلہن کے روپ میں دس سے گیارہ سالہ بچی کی طرف اشارہ کیا
دادا سائیں نے مجھ سے کہا تھا کہ تم گاؤں میں رہو گاوں میں کسی کا ہونا ضروری ہے لیکن میں نے کہا دادا سائیں آپ فکرنہ کریں یہ گاوں والے تو ہمارے اپنے ہیں
آپ کے خلاف کبھی نہیں جائیں گے لیکن تم نے کیا کیا تھا یہ صلہ دیا تم نے دادا سائیں کے احسانوں کا ارے ان کی نہ سہی اس معصوم بچی کا خیال کرلیتے یہ تو تمہاری اپنی بیٹی ہے جس کا نکاح تم نے اپنے سے دو سال کم عمر کے آدمی سے کردیا ہے
کردم نے اسے ایک زوردار جھٹکا دیا اور سامنے کھڑے آدمی کے پاس آیا ابھی کے ابھی طلاق دوبچی کو وہ اسے پکڑ کر سیدھا کرتے ہوئے بولا تو آدمی تو گھبرا کر اکبر کو دیکھنے لگا
باسل اس آدمی کو لے جاؤ اور جب تک یہ بچی کو طلاق نہ دے دیں اسے چھوڑنا مت
اور اگرتم اس کا خرچہ نہیں اٹھا سکتے تو آج سے اس کے منہ میں جانے والا ہر نوالہ بھی حویلی سے ائے گا لیکن اٹھارہ سال کے ہونے سے پہلے تم نے اس کی شادی کرنی چاہیے تو تمہیں بھول جاؤں گا کہ تمہاری بیٹی ہے
آج کے بعد اس گاوں میں اٹھارہ سال سے کم کسی بچی کی شادی نہیں ہوگی یہ کردم شاہ کا بنایا گیا قانون ہے اور اگر کسی نے اس قانون کی خلاف ورزی کی تو کردم کا وہ روپ دیکھے گا جو پہلے کبھی نہیں دیکھا لیکن ہمارے گاؤں میں بچپن میں نکاح کردیا جاتا ہے ایسا کرنے والے اٹھارہ سال سے پہلے بچی کی رخصتی نہیں کرسکتے فیصلہ سناتے ہوئے وہ اٹھ کر باہر نکل گیا جبکہ اکبر ابھی تک اپنے ہاتھ جوڑے کھڑا تھا
کردم کو باہر چلے جاتے حوریہ نے فوراً دھڑکن کا ہاتھ تھام اور باہر لے گئی
حوری دیدہ وہ بڑا آدمی دلہا تھا کیا وہ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگی حوریہ نے آواز کم کرنے کا اشارہ کیا تو وہ لبوں پر انگلی رکھتے اس بار آرام سے پوچھنے لگی
وہ دلہن کتنی پیاری تھی اور دلہا تو بابا کی ایج کا تھا مجھے نہیں اچھا لگا وہ منہ بسور کر بولی
ویسے حوری دیدہ پاکستان کی شادیاں ایسی ہوتی ہیں کیا عجیب و غریب سی اتنی بورینگ ہوتی ہیں کیا یہاں کی شادیاں اب مقدم لالا اور سویرا دیدہ کی شادی بھی ایسی ہی ہوگی وہ معصومیت سے منہ پھلا کر پوچھنے لگی
جبکہ مقدم شاہ کے ذکر حوریہ سوچ میں پڑ گئی
اس نے کہا تھا کہ اماں سائیں اس کا رشتہ مانگے گی
بولو نہ حوری دیدہ پاکستان کی شادیوں ایسی ہوتی ہیں کیا وہ اس کا ہاتھ زور سے ہلاتی اسے خیالوں کی دنیا سے کھینچ کر باہر لائی
تم تھوڑی دیر اپنا رکھنا منہ بند رکھ سکتی ہو
اس بار کردم شاہ اسے آنکھیں دکھاتا سختی سے بولا تو اسے چپ لگ گئی
لیکن گاڑی جیسے ہی حویلی کے باہر آکر رکی اس کے منہ سے ایک لفظ نکلا
"کھڑوس "۔
دھڑکن ناشتہ کرنے نیچے آئی تو ٹیبل پر دادا سائیں کو بیٹھا دیکھا احمد شاہ بھی ابھی ابھی آئے تھے بابا سائیں کو دیکھ کر نظر جھکا گئے
دادو سائیں شکر ہے آپ کا چہرہ نظر تو آیا ورنہ تو آپ غائب ہی ہو گئے تھے دھڑکن مسکراتی ہوئی ان کے قریب آئی اور جھک کر ان کا گال چوما گڈمارننگ وہ مسکرا کر ان کے دائیں سائیڈ والی چیئر پر بیٹھ گئی
جبکہ اس کی اس حرکت کو سب نے حیران نظروں سے دیکھا تھا دادا سائیں نے کوئی خاص رسپونس نہ دیا
بیٹاسائیں یہ آپ کی کرسی نہیں ہے رضوانہ پھوپھو نے کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک نظر سیڑھیوں کی طرف دیکھا
ارے پھوپھو سائیں یہ چیئر میری نہیں بلکہ لکڑی کی ہے وہ اپنی ہی دھن میں بول کر کھلکھلا کر ہنسی اور ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گئی
لیکن یہ چیئر مقدم شاہ نے کچھ کہنا چاہا
مقدم لالہ آپ ناشتہ کریں ورنہ آپ کے پراٹھے پر میری نظر ہے پھر بعد میں مت کہیے گا کہ پہلے بتایا نہیں آج تک تائشہ میں بھی اتنی ہمت نہ ہوئی تھی کہ مقدم شاہ سے اس طرح سے بات کرتی اور حوریہ تو اس معاملے میں سب سے پیچھے تھی مقدم شاہ اس کی بات پر مسکرایا اور اپنے ناشتے میں مصروف ہوگیا
ویسے میں آپ سے ناراض ہو مقدم لالا فون پر آپ نے بولا تھا کہ ہم گھومنے والے ہیں لیکن آپ کے کام ہی ختم نہیں ہو رہے آپ کی وجہ سے میں اس "کھڑوس " اس نے ایک نظر دادا سائیں کی طرف دیکھا میرا مطلب ہے کردم لالہ کے ساتھ گئی تھی گھومنے ہی نہیں دیا چلو گھر چلتے ہیں ساری رات یہی رہنے کا ارادہ ہے کیا وہ آواز کو موٹا کرتی منہ بناکر کردم شاہ کی نقل اتارنے لگی
اس نے پھرسے دادا سائیں کی طرف دیکھا جن سے ان کے پوتے کی برائی برداشت نہیں ہو رہی تھی
او کم آن دادو سائیں یہ صرف ایک جوک تھا ریلیکس اس نے شاہ سائیں کو دیکھ کر کہا
جبکہ احمد شاہ اسے چپ رہنے کا اشارہ کر رہے تھے
تایا سائیں اور تائی اماں سائیں نے نجانے کس چیز کی گھٹی دی ہے انکو قسم سے ایسے گھورتے ہیں جیسے کچا چبا جائیں گے وہ تیز تیز بول رہی تھی جبکہ اس کی باتوں پر مسکرانے والا صرف مقدم شاہ ہی تھا
اگر اتنا ہی ڈر لگتا ہے اس سے تو اس کی چیئر پر کیوں بیٹھی ہو مقدم شاہ نے مسکرا کر پوچھا لیکن دھڑکن اس صدمے کو سکون سے برداشت نہیں کر سکی
وہ کرنٹ کھاکر کرسی سے اٹھی
اوگاؤڈ آپ نے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ یہ اس کھڑوس کی چیئر ہے وہ پریشانی سے پوچھنے لگی
بتا تو رہے تھے تم نے کہا لکڑی کی ہے مقدم شاہکو اس کی کنڈیشن مزا دے رہی تھی
لالہ سائیں آپ کو نہیں پتہ یہ چیئر لکڑی کی نہیں بلکہ کردم تھا مونسٹر کی ہے وہ مڑکر کرسی کی طرف اشارہ کرنے لگی لیکن پیچھے دیکھتے ہی اس کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا
لالہ۔۔۔۔۔۔۔ آپ۔۔۔۔ کر۔۔۔کردم ۔۔۔لالہ آپ ۔۔۔اس کی آواز اا کا ساتھ نہیں دے رہی تھی کردم لالہ دھڑکن نے ایک نظر داداسائیں کی طرف دیکھا اور پھر بنا کچھ بولے بھاگ کر ان کی کرسی کی دوسری سائیڈ چھپ کر بیٹھ گئی
دادو سائیں بچا لیں یہ بِیسٹ مجھے کھا جائیں گے وہ ہلکی آواز میں منمنائی جبکہ کردم اس کو گھورنے میں مصروف تھا
کردم سائیں آپ بیٹھ کر ناشتہ کریں شاہ سائیں اپنی ہنسی دبا کر بولے تو وہ اسے گھورنا چھوڑ کر اپنی کرسی پر بیٹھ گیا
آپ بھی اٹھیں بیٹھ کر ناشتہ کریں شاہ سائیں کا لہجہ نرم تھا
نہیں دادو سائیں میرا ناشتہ ہوگیا میں روم میں جارہی ہوں وہ جلدی سے ان کا گال چومتی اپنے کمرے کی طرف چلی گئی
ناجانے کیوں دادا سائیں کو یہ لڑکی بہت پیاری لگ رہی تھی اسے دیکھ کر انہیں سکون ملتا تھا
مقدم شاہ اسے اپنی بہن کی طرح چاہنے لگاتھا حوریہ کیلئے وہ اپنے دل میں ہمیشہ سے جذبات رکھتا تھا تائشہ اس کے خوف سے کبھی اس کے ساتھ فرینک نہیں ہوئی تھی دھڑکن حویلی کی رونق بن گئی تھی پہلی بار اس حویلی میں کوئی ایسا آیا تھا جس سے یہ حویلی خالی خالی نہیں لگتی تھی
ہر وقت قہقہے شرارتیں دھڑکن سب کو ہی بہت پیاری ہوتی جارہی تھی سوائے کردم کے کردم شاہ نے ایک نظر پلیٹ کی طرف دیکھا جس سے ایک ہی چھوٹا سا نوالہ لیا گیا تھاحوریہ نے جلدی سے پلیٹ اٹھائی اور اس کے لئے دوسری پلیٹ تیار کرنے لگی
عاصمہ بی جائیں دھڑکن کے لئے ناشتہ لے جائیں اس نے ناشتہ نہیں کیا حوریہ نے ملازمہ سے کہتے ہوئے کردم کے سامنے ناشتہ رکھا
ہاں اس کے لئے کچھ بھیج دو اس نے ناشتہ نہیں کیا بیچاری سارا دن اچھلتی کودتی رہتی ہے بھوکی رہ جائے گی دادا سائیں نے بے اختیار کہا تو سب ان کی طرف حیرانگی سے دیکھنے لگے شاید ہی مقدم اور کردم کے علاوہ انہوں نے کبھی کسی کی اتنی پرواہ کی تھی
•••••••••••
یار یہ دھڑکن کیا چیز ہے کیسے کردم سائیں کی کرسی پر بیٹھ گئی اور پھر انہی کو انگریزی میں گالیاں دینے لگی تائشہ جب سے باہر سے آئی تھی تپی ہوئی تھی
اسے کردم سائیں کی کرسی پر دھڑکن کا بیٹھنا ہرگز پسند نہ آیا تھا
ارے تاشی دیدہ جو بھی تھا ویسے دھڑکن چھا گئی کیسے نانا سائیں سے باتیں کر رہی تھی اور مقدم لالہ سے کیسے باتیں کر رہی تھی آج تک تو ہم میں سے کسی نے اس طرح سے بات نہیں کی حوریہ کو دھڑکن کی دلیری بہت اچھی لگی تھی
ارے مقدم لالہ کی تو ہونے والی سالی ہے لیکن نانا سائیں کے سامنے اس کی زبان کے تیور دیکھے تھے تم نے توبہ توبہ نہ کوئی شرم نہ کوئی لحاظ کردم سائیں کو تو اس کی باتیں بالکل بھی اچھی نہیں لگی دیکھا تھا تم نے کیسےاسے گھور رہے تھے مجھے تو پکا یقین ہے یہ لڑکی ان کے لہر کا نشانہ بنے گی تائشہ نے کہا
ہاں دیدہ کردم لالہ کافی غصے میں لگ رہے تھے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اتنی سی بات پر وہ اسے کچھ کہیں گے اور مونسٹر کوئی گالی نہیں ہوتی حوریہ نے بتانا ضروری سمجھا
ہاں ہاں مجھے پتا ہے میٹرک پاس ہوں میں زیادہ سمجھایا مت کرومجھے تم سے زیادہ انگریزی سمجھتی ہوں میں تائشہ کو اس کی بات پر غصہ آیا
لیکن حوریہ کچھ نہیں بولی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ مونسٹر کو گالی سمجھ رہی ہے
لیکن وہ کبھی اس بات کو قبول نہیں کرے گی
•••••••••••••
ویسے کردم سائیں یہ دھڑکن بھی کیا لڑکی ہے قسم سے مقدم شاہ جب سے ڈیرے پر آیا تھا ہنسے جارہا تھا
مجھے تو انتہائی بدتمیز لگتی ہے بات کرنے کی تمیز نہیں ہے بڑے چھوٹے کا لحاظ تک نہیں ہے دیکھا تم نے وہ دادا سائیں سے کیسے بات کرتی ہے جانتی بھی ہے کہ داداسائیں ان لوگوں سے ناراض ہیں پھر بھی ہر بات میں گھستی ہے کردم نے اپنے خیالات بیان کیے
لیکن کردم سائیں شاید تم نے نوٹ نہیں کیا کہ دادا سائیں دھڑکن کی پرواہ کرنے لگے ہیں ہوسکتا ہے دادا سائیں چچا سائیں کو معاف کردیں مقدم شاہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا اگر تمہیں ایسا لگتا ہے کہ دھڑکن کی ان بچکانہ حرکتوں سے دادا سائیں چچا سائیں کو معاف کردیں گے تو تمہاری سوچ غلط ہے ہاں مجھے لگتا ہے کہ دادا سائیں دھڑکن کو پسند کرنے لگے ہیں ورنہ اتنی باتیں تو وہ کسی کی برداشت نہیں کرتے کردم نے سوچتے ہوئے کہا
بہت کیوٹ ہے ویسے مقدم شاہ نے مسکرا کر کہا
کیوٹ کا تو پتا نہیں باتیں بہت کرتی ہے کردم شاہ کی بات پر مقدم شاہ مسکراہٹ گہری ہوگئی
•••••••••••••••
دادا سائیں میں اندر آجاؤں وہ دروازے سے آدھی اندر جانکتی اجازت مانگ رہی تھی ان کے چہرے پر سکون ساآیا
آجاؤ انہوں نے اجازت دی
اس کے ہاتھ میں کچھ تھا جو وہ چھپانے کی کوشش کر رہی تھی
دادوسائیں میرے ساتھ لڈو کھیلیں نا پلیز حوری دیدہ کو اس ہٹلر نے میرا مطلب ہے کردم لالہ نے کالج بھیج دیا ہے
تاشی دیدہ کو کھیلنا نہیں آتا اور سویرا دیدہ سے بات کرنے سے بابا نے منع کیا ہے اور وہ خود وہ ڈیرے پر چلے گئے ہیں مقدم ملالہ کے ساتھ اور میں بور ہو رہی ہوں وہ معصومیت سے منہ بناتی سب گھر والوں کا بیزی شیڈیول بتا رہی تھی
ہم بھی بیزی ہیں اور ویسے بھی ہم یہ سب کچھ نہیں کھیلتے وہ رعب دار لہجے میں بولے
آپ تو اتنا کام کرتے ہیں چھوڑیں زرا ریلیکس بھی کیا کریں
اور ریلیکس ہونے کا بیسٹ آئیڈیا تو لڈو کھیلنا ہے آپ ٹرائی تو کریں بہت مزہ آئے گا وہ انہیں مناتے ہوئے ساتھ والی چیئر پر بیٹھ گئی
ہم نے کہا تھا نہ ہم نہیں کھیلتے اس بار وہ ذرا سخت لہجے میں بولے
ارے یہ کیا بات ہوئی سیدھے سے بول دیں آپ مجھ سے ہار مان رہے ہیں
دھڑکن نے اٹھ کر باہر کا راستہ لینا چاہا
کیا مطلب ہے تمہارا تمیہں لگتا ہے ہم اس بچوں والے کھیل میں جتم سے جیت نہیں سکتے دادا سائیں نے حیرانگی سے اس ننھی سی لڑکی کی جرت دیکھی
جی ہاں آپ مجھے ہرا نہیں سکتے اسی لئے بہانے بنا رہے ہیں ٹھیک ہے میں جارہی ہوں باہر وہ نخرے دکھاتی اٹھ کر باہر جانے لگی
ایک منٹ ادھر اور یہ گیم یہاں لاو اور شروع کرو
وہ روعب دار لہجے میں کہتے سیدھے ہو کر بیٹھے
آپ میرے ساتھ کھیلیں گے وہ خوشی سے بولی
ہاں ہم تمہارے ساتھ کھیلیں گے اور تمہیں ہارا کر دکھائیں گے وہ ان کے اشارے پر فورا بیٹھ گئی جب کہ اس کے چہرے کی خوشی دیکھ کر نہ جانے کیوں انہیں سکون مل رہا تھا اس کی شرارت تو وہ شروع سے ہی سمجھتے تھے لیکن اسے خوش دیکھ کر وہ بھی خوش تھے اس کی پیاری پیاری باتیں انہیں بہت اچھی لگنے لگی تھی جب بھی یہ بچی ان کے سامنے آتی وہ اپنے بیٹے کا دھوکا بھول جاتے
سویرا سے تو وہ اتنے دن سے ٹھیک سے ملے تک نہیں تھے لیکن دھڑکن ہر وقت ان کے آگے پیچھے گھومتی رہتی
••••••••••••••
بابا سائیں کیا میں اندر آ سکتا ہوں احمد شاہ نے دروازے پر رک کر اجازت مانگی ابھی تھوڑی دیر پہلے دھڑکن ان کے قریب سے اٹھ کر گئی تھی ابھی وہ اس کی شرارتیں یاد کر کے مسکرا رہے تھے کہ احمد شاہ نے انہیں ڈسٹرب کر دیا آجاہیں وہ سرد مہری سے بولے
احمد شاہ اندر داخل ہوئے بابا سائیں مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے وہ ان کے قریب رک کر کہنے لگے باباسائیں نے ان کی طرف نہیں دیکھا
میں یہاں سویرہ اور مقدم شاہ کی شادی کے سلسلے میں آیا تھا میں جانتا ہوں آپ مجھ سے خفا ہیں اور آپ کی ناراضگی جائز ہے لیکن میں حالم لالا اور بھابھی کو دیا ہوا وعدہ پورا کرنا چاہتا ہوں
اگر آپ کی اجازت ہو تو شادی کی بات آگے برائے وہ ٹھہرٹھہر کر بول رہے تھے جبکہ شاہ سائیں انہیں بتانا چاہتے تھے کہ مقدم شاہ سویرا سے شادی کرنے سے انکار کر چکا ہے
وہ توحوریہ سے شادی کرنا چاہتا ہے اور اپنے پوتے کی ضد سے واقف تھے لیکن اپنے محروم بیٹے کا وعدہ بھی پورا کرنا چاہتے تھے
ہم اس بارے میں گھر کے سب لوگوں کے سامنے بات کریں گے شاہ سائیں نے بات ختم کرنے والے انداز میں کہا
تو احمد شاہ بنا کچھ بولے کمرے سے باہر نکل گئے
Ep: 11
دوپہر لنچ کے وقت سب لوگ آگئے سویرا کو بھی بابا سائیں نے خود آ کر کہا تھا کہ لنچ سب کے ساتھ کرے گی تو وہ بھی باہر آ گئی کیونکہ وہ سمجھ چکی تھی کہ تماشے کا وقت آ چکا ہے آج وہ سب کے سامنے اس رشتے سے انکار کرنے والی تھی
جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ احمدشاہ اپنی بڑی بیٹی کی شادی کے سلسلے میں یہاں آئے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک منٹ ایک منٹ داداسائیں اس سے پہلے کے آپ کچھ کہیں میں کچھ کہنا چاہتی وہ ان کی بات کاٹتے ہوئے بولی احمد شاہ نے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا لیکن وہ خاموش نہ ہوئی
جو بھی کہنا ہے میری بات سُننے کے بعد کہہ لیجئے گا
وہ بدتمیزی سے گویا ہوئی مجھے یہاں آنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اور نہ ہی آپ کے پوتے سے شادی کرنی ہے سو پلیز آپ کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے میری یہ بات جان لیں گے میں کسی اور کو صرف چاہتی ہوں بلکہ اس کے ساتھ ریلیشنشپ میں ہوں بابا سائیں میری شادی مقدم شاہ سے کروانا چاہتے ہیں لیکن ایم سوری آپ کے اس گوار پوتے میں مجھے کوئی انٹرسٹ نہیں ہے وہ اپنی دھن میں بولتی اپنی بات مکمل کر چکی تھی
جس کے بعد احمد شاہ کا سر شرمندگی سے جھک گیا جبکہ سویرا کو اب یہ یقین تھا کہ شاہ سائیں اپنے ہونہار پوتے کی شادی کم ازکم اس سے تو نہیں کروائیں گے
بہو مقدم شاہ کے نام کی انگوٹھی لے کر آؤ وہ نازیہ کو حکم دیتے ہوئے بولے تو سویرا بے چین ہو گئی اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی کیا وہ اسے انگوٹھی پہنانے والے تھے
اور ان کے حکم پر نازیہ فورا ہی انگوٹھی لے آئی
بہو مقدم شاہ کے نام کی انگوٹھی حوریہ کے ہاتھ میں پہنو انہوں نے فیصلہ کرنے والے انداز میں کہا تو حوریہ بوکھلا کر ادھر ادھر دیکھنے لگی
شاہ سائیں نے اس کی طرف دیکھا ہمیں یقین ہے کہ تم انکار نہیں کرو گی ہمیں ہماری تربیت پر پورا بھروسہ ہے وہ حوریہ کو دیکھتے ہوئے بولے جبکہ وہ نظریں جھکاۓ کھڑی تھی مامی سائیں خاموشی سے اس کے ہاتھ میں انگوٹھی پہنانے لگی سویرا بنا کسی کی پرواہ کیے اپنے کمرے کی طرف جا چکی تھی
کیونکہ اس کے خیال میں مقدم شاہ جیسے ان پڑھ گوار کے لئے حوریہ جیسی لڑکی ہی سوٹ کرتی تھی
جبکہ احمدشاہ خامو شی سے یہ کاروائی دیکھ رہے تھے ان کی اولاد نے آج انہیں کسی کے سامنے نظر اٹھانے کے قابل نہ چھوڑا جب کہ دھڑکن اپنے باپ کی تکلیف کو سمجھتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکتی تھی
کاش سویرہ دیدہ آپ بابا کی تکلیف سمجھ پاتی وہ صرف سوچ سکتی تھی
•••••••••••••
آپ نے اچانک فیصلہ کردیا دادا سائیں ایک بار پوچھ لیتے کردم کو جب سے پتہ چلا تھا کہ حوریہ کو مقدم شاہ کے نام کی انگوٹھی پہنا دی گئی ہے وہ ایک سیکنڈ بھی ڈیرے پر نہ
رکا اور اب جب سے آیا تھا تب سے شاہ سائیں کے کمرے میں تھا
وہ احمد شاہ کی بیٹی ہمارے پوتے کو گوار کہہ رہی تھی اتنی بدتمیز ہے اس کی بیٹی کے حد نہیں ہمیں برداشت نہیں کردم شاہ کہ کوئی ہمارے پوتے کے لیے اتنے گھٹیا الفاظ استعمال کرے ہم تو خود اس شادی سے انکار کرنے والے تھے لیکن اس لڑکی کی ہمت دیکھو تم کیسے اپنے باپ کے سامنے منہ کھولے بول رہی تھی
اور ہمارے سامنے کسی کا نام لے رہی تھی کہ اس کے ساتھ وہ تعلقات رکھتی ہے دل تو چاہا کہ اسی وقت گولی مار دیں اس بدلحاظ لڑکی کو
لیکن احمدشاہ کا لحاظ کر کے جو نظریں تک نہیں اٹھا پارہا تھا ہمارے سامنے اور ویسے بھی حوریہ کی مرضی کی بات ہے تو اس کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اس حویلی کو چھوڑ کر کہیں نہیں جائے گی
اورمقدم سائیں کیا وہ شادی کے لیے تیار ہے کردم شاہ کو اب مقدم کا خیال آیا جس کی مرضی کے بغیر اس حویلی میں کبھی کچھ نہیں ہوا تھا اور یہاں اسے بتائے بغیر اتنا بڑا فیصلہ کردیا گیا
اس کی بات پر دادا سائیں مسکرائے تمیہں کیا لگتا ہے اس کے بارے میں دادا سائیں نے مسکراتے ہوئے پوچھا
آپ اس کی ضد سے واقف ہیں دادا سائیں پلیز پہلے اس سے پوچھ تو لیتے وہ ابھی بول ہی رہا تھا کہ ملازم نے مقدم شاہ کی واپسی کی خبر دی
چلو تمہارے سامنے اس سے پوچھ لیتے ہیں وہ مسکراتے ہوئے اسے لئے مقدم شاہ کے کمرے کی طرف آئے
••••••••••••
ارے دادا سائیں آپ یہاں مجھے بلا لیا ہوتا تو وہ کردم شاہ اور دادا سائیں کو اپنے کمرے کے باہر دیکھ کر وہ مسکرایا
وہ ابھی ابھی نہا کر نکلا تھا
کام ہی ایسا تھا کہ ہمیں خود آنا پڑا
ہاں بولیں نہ کیا بات ہے وہ انکا پریشان انداز دیکھ کر پریشان ہوا
وہ دراصل تم تو جانتے ہی ہو کہ تمہارے چچا سائیں اپنی بیٹی کی شادی کے سلسلے میں پاکستان آئے ہیں دادا سائیں نے بات شروع کی
ہماری اس بارے میں بات ہوچکی ہے دادا سائیں مقدم شاہ کوان کا انداز کچھ عجیب لگا تو وہ انہیں کچھ یاد کروانے کی کوشش کرنے لگا
ہاں ہماری بات ہوچکی ہے بیٹا سائیں لیکن
لیکن ۔۔۔۔۔؟لیکن کیا دادا سائیں میں چاچا سائیں کی بیٹی سے شادی نہیں کروں گا وہ ضدی انداز میں بولا
ٹھیک ہے ہم تمہاری شادی سویرہ سے نہیں کر رہے لیکن پھر لیکن میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ میں اس سے شادی نہیں کروں گا وہ ان کی بات کاٹتے ہوئے بولا
اپنی ضد کے معاملے میں وہ ایسا ہی تھا جہاں بات اس کی مرضی سے نہ ہوتی وہاں وہ بدتمیزی پر بھی اتر آتا تھا
اسی لیے ہم نے تمہاری شادی حوریہ سے طے کر دی ہے وہ اس کے پریشان انداز پر سیریس ہوکر بولے
جب کہ وہ تو انہیں دیکھتا رہ گیا
اس بار اگر تم نے انکار کیا تو ہم تم سے ناراض۔۔۔۔۔۔
آئی لو یو دادا سائیں اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتے مقدم شاہ ان سے لپٹ چکا تھا دادا سائیں کھل کر مسکرائے اس کی یہ حالت انہیں بہت مزہ لے رہی تھی اور آج وہ دعوے کہہ سکتے تھے کہ وہ اپنے پوتوں کی ہر خواہش کا مان رکھتے ہیں
انہوں نے ایک نظر اپنے نزدیک کھڑے کردم شاہ کو دیکھا جو مقدم شاہ کے لیے ری ایکشن پر مسکرایا اسے ڈر تھا کہ حوریہ کی زندگی کہیں ناپسندیدگی کا شکار نہ ہو
لیکن مقدم کی خوشی دیکھنے کے بعد اس کا اندیشہ دور ہوگیا اس لیے تو اس طرح سے انہیں گلے لگا دیکھ کر ان دونوں کے گرد باہیں پھیلا گیا
•••••••••••••
بابا سائیں کومقدم شاہ سے پوچھ کر فیصلہ کرنا چاہے تھا وہ کیسے اپنے پوتے کی نام کی انگوٹھی اس گھٹیا آدمی کی بیٹی کے ہاتھ میں پہنا سکتے ہیں
جو ان کے بیٹے کا قاتل ہے رضوانہ پھوپھو کب سے ادھر سے اُدھر ٹہل رہی تھی ان سے یہ بات برداشت نہیں ہو رہی تھی کہ اب ساری زندگی حوریہ ان کی نظروں کے سامنے رہے گی انہیں صرف حوریہ پر ہی نہیں بلکہ نازیہ پر بھی غصہ آ رہا تھا وہ کیسے اپنے شوہر کے قاتل کی بیٹی کو اپنے بیٹے کے نام کی انگوٹھی پہنا سکتی ہے
لیکن وہ جانتی تھی اب کچھ بھی نہیں ہوسکتا تھا کیوں کہ فیصلہ ہو چکا تھا اب انہیں حوریہ کی شکل ہمیشہ دیکھنی تھی
•••••••••••
حوریہ کب سے اپنے ہاتھ میں موجود انگوٹھی کو دیکھ رہی تھی
کیا سچ میں مقدم لالہ مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہیں کیا وہ مجھے پسند کرتے ہیں کیا میں چاہے جانے کے قابل ہوں کیا اب میں ساری زندگی اسی حویلی میں رہوں گی تائشہ دیدہ کی طرح مجھے بھی یہ گھر چھوڑ کر نہیں جانا ہوگا ان کی طرح اب میں بھی ہمیشہ اپنے اپنوں کے ساتھ رہوں گی
حوریہ نے ایک بار پھر سے اپنی انگوٹھی کو دیکھا یہ حویلی کی بہو کو پہنائے جانے والا زیور تھا جس کی قیمت کا اندازہ لگانا آسان نہ تھا
اس حویلی میں حوریہ کو ہر وہ چیز دی گئی جس کی ایک لڑکی خواہش کرتی ہے سوائے محبت کے
اس حویلی میں اگر اسے کچھ نہیں ملا تو وہ محبت تھی اپنوں کا مان تھا لیکن شاید اب اس کی یہ شکایت بھی دور ہونے والی تھی
مامی نے کبھی اس سے بات نہ کی تھی نانا سائیں اس کی طرف نہیں دیکھتے تھے کیونکہ انہیں اس کی صورت میں اپنی بیٹی کی یاد ستاتی تھی
کردم لالا اسے بہت چاھتے تھے اور مقدم شاہ نے اپنی محبت کا احساس اس انگوٹھی سے کروایا تھا اور تائشہ کو تو حویلی میں کسی سے کوئی مطلب نہ تھا وہ تو صرف کردم شاہ کی دیوانی تھی اور رضوانہ خالہ وہی تھی جو اس سے نفرت کرتی تھی بلکہ اپنے نفرت کا اظہار بھی اس کے منہ پر کرتی تھی خیر وہ حق پر تھی
اس کے باپ نے ان کے شوہر کا قتل کیا تھا نہ صرف ان کے شوہر کا بلکہ اس کے دو ماموں کا بھی
اس کا باپ قاتل تھا جس کی شکل سے بھی حوریہ واقف نہ تھی حوریہ نے ایک بار پھر اس انگوٹھی کو دیکھا ایک انجانی سی خوشی اس کے چہرے پر تھی
••••••••••
کیا میں اندر آ سکتی ہوں دادا سائیں وہ کب سے اس کے منتظر تھے جو آنے کا نام نہیں لے رہی تھی اب آئی تو منہ لٹکائے ہوئے آدھی دروازے کے اندر اجازت مانگ رہی تھی
دادا سائیں نے اپنی ہنسی دبائی
آو کہو کیا کہنا چاہتی ہو وہ ناراضگی سے بولیں کیوں کہ صبح وہ ان سے کہہ کر گئی تھی کہ شام کو انہیں اپنی پینٹنگز دکھائے گی اور اب وہ رات کے دس بجے ان کے کمرے میں آئی
آپ کو توسویرہ دیدہ اور بابا سائیں سے ناراض ہونا چاہئے مجھ سے ناراض کیوں ہیں وہ منہ پھیلائے پوچھنے لگی
انہیں تو احساس بھی نہیں تھا کہ آج جو کچھ بھی ہوا کم نہ تھا لیکن یہ لڑکی اس مسئلہ کو اتنا سنجیدہ لے رہی تھی
مقدم شاہ کی خوشی دیکھ کر وہ اس معاملے کو رفع دفع کر چکے تھے
جو بھی ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے سویرا دیدا کو بابا کا احساس نہیں ہے اگر وہ ایک بار مقدم لالہ کو دیکھ لیتی تو شاید۔۔۔۔
تم چھوڑو ان سب باتوں کو اپنی پیٹنگز دکھاو یہ سب باتیں تمہارے سوچنے کی نہیں ہیں بڑوں کے مسائل ہیں وہ حل کرلیں گے تم تو مستیاں کرو جو تم پر سوٹ کرتی ہیں دادا سائیں نے محبت سے اس کے گرد بائیں پھیلا کر کہا تو وہ مسکرائی
مطلب آپ ناراض نہیں ہیں مجھ سے وہ سوں سوں کرتی پوچھنے لگی جب دادا سائیں نے اسے اپنے سینے سے لگایا ناراض رہنے کہاں دیتی ہوتم اتنی پیاری ہو کہ کوئی ناراض رہ کر دکھائیں ان کی بات پر وہ کھل کر مسکرائی
آئی لو یو دادو سائیں آپ کو پتا ہے بابا سائیں کہہ رہے ہیں کہ میری برتھ ڈے سے پہلے ہم لوگ واپس چلے جائیں گے یہ سب کچھ سویرہ دیدہ کی وجہ سے ہوا ہے میں نہیں جانا چاہتی آپ پلیز بابا سائیں سے بات کریں نا انہیں سمجھائیں کہ مجھے اپنے ساتھ نہ لے کے جائے مجھے یہی آپ لوگوں کے پاس چھوڑ کے جائیں
وہاں جاکر تو پھر بابا سائیں بزنس میں بیزی ہو جائیں گے اور سویرا دیدہ اپنے دوستوں میں
وہ اداسی سے بولی تو دادا سائیں سوچ میں پڑ گئے
یہ تمہارے باپ نے کہا ہے کہ تم لوگ جانے والے ہو وہ اس سے پوچھنے لگے تو اس نے ہاں میں گردن ہلائی
میں نہیں جانا چاہتی وہ ناچاہتے ہوئے بھی ان کے سینے سے لگ کر رو دی
•••••••••••
سویرا کو ابھی پتہ چلا تھا کہ وہ کچھ دنوں میں واپس جانے والے ہیں اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا وہ ابھی بیڈ پر لیٹی اپنی واپس جانے کی خوشی منا رہی تھی کہ پیاس کی شدت ستانے لگی
شام میں پانی رکھنے آئی ملازمہ کو اس نے ذلیل کرکے واپس بھیج دیا تھا اب یہاں پر پانی نامی کوئی چیز نہ تھی اور اس کی پیاس بڑھتی جا رہی تھی
اسے اکثر رات میں پیاس لگتی تھی
دھڑکن اس بات کا خیال رکھتی اور اس کے کمرے میں روز پانی رکھواتی اور یہاں آنے کے بعد بھی دھڑکن روز ہی اس کے کمرے میں پانی رکھواتی تھی
آج بھی دھڑکن نے ہی ملازمہ کو یہاں پانی رکھنے کا کہا لیکن اسے غصہ آگیا
شادی سے انکار کرکے وہ بہت خوش تھی لیکن وہ اپنی اس خوشی میں اس دو ٹوٹکے کی ملازمہ کو شامل نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے کمرہ بند کرکے سکون سے اپنے بستر پر لیٹ کی اپنی واپسی کی خوشی منا رہی تھی
کہ پیاس کی شدت ستانے لگی تو وہ مجبور ہوکر اٹھی کمرے سے نکل کر زینے اترتی کچن کی طرف جانے لگی کہ اچانک اس کا پیر پھسلا اس سے پہلے کہ وہ گرتی کسی نے اسے تھام لیا ۔
وہ ٹھیک ہے یا نہیں ادے ہوش نہ رہا
وہ سامنے کھڑے شخص کو دیکھتی ہی رہ گئی اس نے زندگی میں بہت مرد دیکھے تھے لیکن آنکھوں کا جو جاود یہ شخص چلا رہا تھا وہ آج تک کوئی نہ چلا سکا تھا
نہ جانے اس شخص میں ایسا کیا تھا وہ ایک پل کو ولیم کو بھی بھول گئی نجانے وہ اسے کیا کیا بول رہا تھا
جبکہ وہ تو اس کی آواز اور آنکھوں کے سحر میں کھوئی ہوئی تھی اس کے ذہن میں صرف ایک سوال تھا آخر یہ شخص کون ہے ۔۔۔۔؟
وہ نہ جانے اسے کیا کہہ کر سیڑھیاں چڑھ گیا اور وہ کھڑی اسے دیکھتی رہ گئی وہ جیسے آئی تھی ویسے ہی واپس لوٹ گئی اس کے پانی کی پیاس بھی کہیں دور جا سوئی تھی
نجانے کون تھا یہ شخص جو اس سے ایک ہی نظر میں اپنا اسیر کر گیا اس کی شخصیت سے نکلنا اس کے بس سے باہر تھا ساری رات ایک پل کو بھی اسے نیند نہ آئی
کچھ دیر پہلے جو یہ سوچ کر خوش ہو رہی تھی کہ اب وہ ہمیشہ کے لئے ولیم کے پاس چلی جائے گی اس کی خوشی کہیں کھو گئی تھی
اب وہ یہ سوچ کر پریشان تھی کہ اگر وہ یہاں سے چلی گئی تو اس شخص کو کھو دے گی وہ اس شخص کے بارے میں کیسے معلوم کر پائے گی
وہ اس شخص کے بارے میں کیوں جانا چاہتی تھی اس سوال کا جواب اسے ایک ہی پل میں مل چکا تھا وہ پہلی نظرمیں اس کی دیوانی ہوگئی تھی اب اس کے بغیر رہنا اس کے بس سے باہر تھا وہ کسی ولیم سے محبت کرتی تھی یہ بات بھی اس وقت مکمل فرموش کر چکی تھی
وہ شاید اسی حویلی کا رہنے والا ہے لیکن کون۔۔۔۔؟ کون ہے وہ جو ایک نظر میں اپنا دیوانہ کر گیا اس شخص کو بھولنا اب سویرا کے بس سے باہر تھا
Ep: 12
وہ ابھی تک اپنے خیالوں میں گم تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی
اس وقت کون ہو سکتا ہے وہ سوچتے ہوئے اٹھی اوردروازہ کھولا
لیکن سامنے مقدم شاہ کو دیکھ کر بوکھلا گئی جو اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔
سنا ہے میری منگ بنایا گیا ہے تمہیں سوچا میں بھی دیکھ آوں منگ کیسی ہوتی ہے وہ مسکراتے ہوئے نہ صرف اندر داخل ہوا بلکہ دروازہ بھی بند کر دیا ۔
مقدم لالا آپ۔۔۔۔۔۔۔ وہ کچھ بولنے ہی والی تھی کہ مقدم شاہ نے اسے گھور کر دیکھا ۔
میرا مطلب ہے مقدم سائیں آپ جائیں یہاں سے کوئی آ جائے گا حوریہ نے فوراً بات بدلی تو مقدم شاہ کے لبوں کی مسکراہٹ گہری ہوئی ۔
ظالم ایک ہی بار میں مار ڈالو گی کیا ۔۔۔مقدم شاہ نے کہتے ہوئے اس کا ہاتھ تھاما۔
جہاں اس کے نام کی انگوٹھی آب و تاب سے چمک رہی تھی آج پہلی بار یہ انگوٹھی مجھے اتنی پیاری لگی ہے مقدم شاہ نے اس کا ہاتھ اپنے لبوں کے قریب لے جاتے ہوئے کہا اس سے پہلے کوئی گستاخی کرتا ہے حوریہ نے اپنا ہاتھ کھینچا ۔
لیکن آگلے ہی پل اس کی نظر مقدم شاہ کے چہرے پر پڑی جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہ تھا اس کی یہ حرکت مقدم شاہ ناگوار گزری ہے ۔
مجھے یہ گریز پسند نہیں اگر تم مجھ سے شرما رہی ہو تو قبول ہے لیکن اگر یہ ہاتھوں کسی اور آ جانے کے خوف سے چھڑوایا ہے تو سن لو آج کے بعد تمہاری اس طرح کی غلطی معاف نہیں ہوگی
ہونے والی بیوی ہو میری جب دل چاہے گا ملنے آؤں گا جب دل چاہے گا ۔۔۔۔۔۔۔وہ اس کے چہرے کو اپنے قریب کرتے ہوئے بول رہا تھا
ہونے والی بیوی ہوں مقدم سائیں ہوچکی بیوی تو نہیں ہوں حوریہ نے نگاہیں جھکا کر دھیمے لہجے میں کہا اس کے انداز پر مقدم شاہ مسکرایا
تو یہ وجہ ہے اس گریز کی
تو پھر تمہیں جلدی سے مسز مقدم شاہ بناتے ہیں پھر اگر تم نے نخرے دکھائیں تو دیکھنا وہ اسے سخت نگاہوں سے گھورتا باہر جانے لگا پھر ایڑیوں کے بل مڑا اور اپنی جیب سے آج صبح اس کے لیے خریدا گیا تحفہ نکالا ۔
اور بنا اس کی مزاحمت کی پروا کیے اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ کی گرفت میں لے کر وہ بریسلیٹ اس کی نازک کلائی پر پہنا دیا
اسے دیکھ کے ایسا لگا جیسے یہ تمہارے لیے بنایا گیا ہے اور جو چیز تمہارے لیے بنائی گئی ہے وہ تو تمہارے پاس ہی ہونی چاہیے جیسے کہ میں ۔اس کے خوبصورت چہرے کو اپنی نظروں کے حصار میں لیے وہ نرمی سے بولا ۔
میں جا رہا ہوں دروازہ بند کر لو اور سانس لے لو وہ جو کب سے سانس روکے کھڑی تھی مقدم شاہ اس کی حالت سے لطف اندوز ہوتے ہوئے بولا اور کمرے سے باہر نکل گیا
اس کے جاتے ہی حوریہ نے دروازہ بند کیا دروازے کے ساتھ کھڑی ہو کر سکون کی سانس لی
مقدم شاہ کا یہ بے باک انداز اس کے دل کی دنیا ہلا گیا تھا اسے مقدم شاہ کا یہ حق جتاتا انداز اچھا لگ رہا تھا
وہ سارا دن اسی کے بارے میں سوچتی رہی تھی آخر اس شخص نے اپنی محبت کو اپنے نام کی انگوٹھی پہنا کا ثابت کردیا ۔
•••••••••••••••
سویرا ساری رات نہ سو سکی صبح کی روشنی پھیلتے ہی وہ کمرے سے باہر نکل گئی
رضوانہ پھوپھو کو دیکھتے ہی وہ ان کے قریب آئی اسے دیکھ کر وہ نظریں پھیر گئی
ان کے اس طرح سے کرنے پر سویرا کو بہت غصہ آیا وہ بنانے انہیں محاطب کیے پلٹ گئی جب کہ رضوانہ نے غصے سے اسےجاتے ہوئے دیکھا
انہیں اس پر بہت غصہ تھا جس کی وجہ سے انہیں حوریہ کو روز یہاں حویلی میں دیکھنا پڑگیا تھا
کل تک تو میری بلائیں لے کر نہیں تھکتی تھی آج شادی سے کیا انکار کردیا سارا پیار ختم ہوگیا وہ بڑابڑ آتے ہوئے واپس کمرے میں چلی آئی
جبکہ نظریں اس شخص کا دیدار کرنے کے لیے بے چین تھی
وہ اسے بے چین کر کے نہ جانے کہاں غائب ہو گیا تھا
وہ اپنے سر کل میں سب سے زیادہ خوبصورت لڑکی تھی ۔اور اس کے ساتھ صرف ولیم ہی جچتا تھا لیکن اس شخص کو دیکھنے کے بعد اسے ویلم بھی اس کے مقابلے میں بہت کم لگ رہا تھا اسے ولیم اور اس میں زمین آسمان کا فرق محسوس ہو رہا تھا ۔
سویرا کو ہر خوبصورت چیز پسند آتی تھی کیونکہ اس کا ماننا تھا کہ ہر خوبصورت چیز پر پہلا حق اس کا ہے ۔اور اس شخص پر بھی پہلا حق اسی کا تھا اب بس یہ جاننا تھا کہ آخر وہ ہے کون
•••••••••••••••
شاہ سائیں کہیں جا رہے تھے جب احمد شاہ کو باہر کھڑا دیکھا بلکہ وہ کل کے بعد ابھی انہیں نظر آئے تھے
بابا سائیں کو اپنی طرف دیکھتا پا کر وہ ان کے قریب آئے ہم دو دن کے بعد واپس جارہے ہیں بابا سائیں اس کے بعد آپ کو میری صورت نہیں دیکھنی پڑے گی ۔
جانتا ہوں میری غلطی معافی کے لائق نہیں ہے لیکن پھر بھی آپ سے اپنی خطاؤں کی معافی مانگتا ہوں کل جو سویرا نے کیا اس کے بعد مجھے اتنی ہمت نہیں کہ میں کسی سے نظر ملا پاؤں ہو سکے تو مجھے معاف کر دیجئے گا
ہوسکتا ہے اس کے بعد میں کبھی واپس نہ پاؤں وہ نظرجھکائیں کہتے ہوئے بابا سا ئیں کو بے چین کر کے گئے
اس کا مطلب ہے دھڑکن بھی ان کے ساتھ واپس جارہی ہے۔
دھڑکن کے جانے کا سن کر نہ جانے کیوں ان کا دل ویران ہونے لگا
وہ ان سے کچھ کہے بغیر باہرنکل گئے احمد شاہ بس انہیں جاتا ہوا دیکھ رہے تھے
••••••••••
سویرا کی بے چینی حد سے سوارتھی صبح پھوپھو سائیں کی بے مروتی دیکھ کر اس کا واپس باہر جانے کا دل نہیں کر رہا تھا لیکن اپنے بے چین دل کا کیا کرتی وہ خود اپنی حالت نہیں سمجھ پا رہی تھی بس ایک ہی جنون سر پہ سوار تھا کہ اس شخص کو دیکھنا ہے
اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر باہرآئی باہر ملازموں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا کچن میں جھنکا تو حوریہ کھڑی نظر آئی اس لڑکی سے وہ بالکل بات نہیں کرنا چاہتی تھی پھر اسے حوریہ پر ترس آیا بیچاری کو اس کا ریجیکٹ کیا ہوا لڑکا جو مل رہا تھا
لیکن یہ بے وقوف لڑکی اس کی مدد کر سکتی تھی سویرا سوچتے ہوئے کیچن میں داخل ہوگئی
ہائے حوریہ کیسی ہو تم وہ اس کے پاس اگر مسکرا کر پوچھنے لگی
میں ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں
وہ کل والی ساری بات نظرانداز کر کے اس سے پوچھنے لگی ٹھیک ہوں ویسے کیا کرتی ہو تم ۔۔۔۔؟ اس نے حوریہ سے سرسری سا پوچھا
کچھ نہیں بس پڑھتی ہوں اور کھانا بنانے کا شوق ہے تو اس نے گیس پر رکھی ہوئی ہانڈی کی طرف اشارہ کیا
گڈ نائس سویرا نے مسکرا کر کہا
ویسے کون کون ہوتا ہے حویلی میں وہ اپنے مطلب کی بات آئی
میرا مطلب ہے اتنی بڑی حویلی ہے ۔۔۔۔۔۔؟
ہم ہی ہیں بس گھر کے لوگ
پھر بھی کون کون میں زیادہ کسی سے ملی نہیں مجھے تھوڑا ٹینشن تھا اب ریلیکس ہوں تو اس نے کل والی بات کی طرف بھی اشارہ کیا
دادا سائیں ہیں رضوانہ خالہ سائیں ہیں نازیہ مامی سائیں ہیں کردم لالا سائیں تائشہ دیدہ ہیں اور مقدم لالہ میرا مطلب ہے مقدم سائیں مقدم کے نام پر حوریہ کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی
اور۔ ۔؟ سویرا اس کی مسکراہٹ اگنور کر گئی
اور بس یہی لوگ ہیں حوریہ نے کہا
بس اور کوئی بھی نہیں سویرا نے حیرت سے پوچھا وہ جو کوئی بھی تھا کا حویلی کے نوکروں میں سے نہیں تھا
یہ تو اسے یقین تھا ۔
مقدم شاہ میرے لیے بنا ہی نہیں ہے اس کے ساتھ صرف تم ہی سوٹ کرو گی اسی لئے میں نے اس سے شادی سے انکار کر دیا لیکن تم کافی خوش لگ رہی ہو یقیناً اس کے ساتھ تمہاری اچھی کٹ جائیں گی لیکن میں اس طرح کے انسان کے ساتھ ساری زندگی نہیں گزار سکتی ۔ میرا مطلب ہے اجوکیشن اور اسٹائل زندگی کا بہت بڑا حصہ ہے تم میری بات کا مطلب سمجھ رہی ہو نہ ۔سویرا ان ڈائریکٹلی اسے یہی بتانے کی کوشش کر رہی تھی کہ وہ ایک گوار کے ساتھ ساری زندگی گزارنے کے لئے مجبور ہو چکی ہے ۔
سویرا دیدہ آپ نے مقدم سائیں کو دیکھا بھی ہے ۔اسٹائل کی بات کر رہی ہیں نہ آپ یہاں کا اسٹائل مقدم شاہ کے ہونے سے ہے ۔یہاں کے لوگ انہیں فالو کرتے ہیں ۔
اور انہوں نے ڈبل ایم اے کیا ہے ۔وہ بھی یہاں سے نہیں امریکہ سے اسے سویرا کے طنز کی سمجھ نہیں آئی تھی ۔لیکن اس کا انداز اس سے یہ بتانے پر مجبور کردیا کہ وہ مقدم کو غلط سمجھ رہی ہے ۔
جبکہ سویرا کو اس کی باتوں میں کوئی انٹرسٹ نہ تھا
چلو ٹھیک ہے تم کھانا بناؤ میں چلتی ہوں سویرا کہہ کے کر باہر نکل گئی
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°
کیا بات ہے دادا سائیں آپ جب سے آئے ہیں اداس لگ رہے ہیں کردم شاہ کب سے انہیں دیکھ رہا تھا جو آج بہت پریشان لگ رہے تھے
احمد شاہ دھڑکن کو واپس لے کے جا رہا ہے
وہ لوگ واپس جانے والے ہیں وہ دھڑکن کو بھی اپنے ساتھ لے جائیں گے ہم پھر سے اکیلے ہو جائے گے تم ہمیشہ کہتے تھے تائشہ اور حوریہ ہماری نواسیاں ہیں ہمارے دل میں ہمیشہ سے اپنے پوتیوں کو دیکھنے کی خواہش تھی
ہم کبھی تائشہ اور حوریہ کے اتنے قریب نہیں گے کیونکہ ہم جانتے تھے کہ یہ ان کا اصل گھر نہیں ہے ہم سویرا اور دھڑکن سے نہیں ملنا چاہتے تھے ہم ان کے قریب نہیں جانا چاہتے تھے لیکن وہ دھڑکن وہ خود ہمارے قریب آگئی
ہم نہیں چاہتے کہ وہ واپس جائے ہم اسے اپنے پاس رکھ لینا چاہتے ہیں ہمیشہ کے لئے
تو آپ چاچا سائیں سے بات کریں نہ کہ وہ اسے یہی چھوڑ جائیں کردم شاہ جانتا تھا کہ وہ دھڑکن کو بہت چاہنے لگے ہیں اس لیے ان کی پریشانی کا حل بتایا
ورنہ دھڑکن کے بارے میں وہ کبھی کوئی بات نہیں کرتا تھا
ہم اس سے بات نہیں کرنا چاہتے اس نے نہ صرف ہمیں بلکہ اپنی ماں کو دھوکہ دیا ہم اسے معاف نہیں کرسکتے کردم سائیں
پھر آپ کیا کریں گے کردم شاہ نے پوچھا دادا سائیں نے ایک نظر اس کے چہرے کو دیکھا
پھر بنا کچھ بولے چلے گئے کردم شاہ انہیں جاتا ہوا دیکھ رہا تھا
°°°°°°°°°°°°°°°°°°
ہائے تاِئشہ سویرا نے تائشہ کو باہر آتا دیکھ کر کہا تھا اور مسکرا کے پاس آئی
سویرا دیدہ آپ یہاں تائشہ نے اس کے باہر آنے پر خیرت کا اظہار کیا
ہاں آج موسم اچھا تھا ہے تم سناؤ کیا کرتی ہو ویسے تمہارے بال بہت خوبصورت ہے اگر انکی لینتھ تھوڑی سی کم کرو تو اور زیادہ اچھے لگے گے سویرا نے اس کے بالوں کو دیکھتے ہوئے کہا
کیونکہ وہ سمجھ چکی تھی کہ وہ اس کے فیشن سینس کو فالو کر رہی ہے ۔
اچھا کیا واقعی ایسی بات ہے تو آج ہی میں اپنی سہیلی کو بلاکر بال کٹوا لیتی ہوں وہ پالر میں کام کرتی ہے کردم سائیں نے مجھے باہر جانے سے منع کردیا ہے وہ اکثر آ جاتی ہے
چھوڑو کسی کو کیوں بلاؤ گی میں کاٹ دوں گی کیا ضرورت ہے اس کو بلانے کی
ویسے حویلی میں کتنے ملازم ہیں سویرا نے اپنے مطلب کی طرف آتےہوئے پوچھا
بہت سے ہیں کیوں ۔۔۔تائشہ نے ناسمجی سے پوچھا
نہیں بس ایسے ہی پوچھ رہی تھی اگر کسی کو کہیں جانا ہو تو
تو کردم سائیں یا مقدم لالا سائیں لے جاتے ہیں گھر کی عورتوں کے معاملے میں وہ کسی پر اعتبار نہیں کرتے تائشہ نے فوراً کہا
رات میں حویلی میں کتنے لوگ ہوتے ہیں سویرا نے پوچھا
مرد میں کوئی نہیں ہوتا کچھ ملازمہ ہوتی ہیں
مرد تو سارے چلے جاتے ہیں اپنے اپنے گھر
میں نے رات کے وقت حویلی میں ایک آدمی کو دیکھا تھا ۔سویرا نے بتایا
باہر کا تو کوئی نہیں ہوتا رات میں آپ نے کردم سائیں کو دیکھا ہو گا
نہیں تو کردم لالہ کو تومیں جانتی ہوں
تو پھر مقدم لالہ ہوں گے
نہیں مقدم شاہ نہیں ہوسکتا سویرا نے فوراً نفی کی وہ اس شخص کو مقدم سوچ بھی نہیں سکتی تھی
انہوں نے کندھے پر کالی چادر ڈالی تھی جینز کے ساتھ ۔
تائشہ نے پوچھا
ہاں اونچا قدتھا مونچھیں ڈارک براؤن بڑی بڑی آنکھیں سفید سرخ رنگت سویرا کی آنکھوں کے سامنے رات والے آدمی کا چہرہ تھا
اس کا چہرہ اسے خفظ ہو چکا تھا اب تو وہ ساری زندگی اسے نہیں بھلا سکتی تھی
ہاں ہاں وہ مقدم لالا ہیں وہ اکثر رات کو لیٹ آتے ہیں اور کل تو وہ شہر گئے ہوئے تھے رات کو بہت دیر سے آئے تھے انہی کو دیکھا ہوگا آپ نے تائشہ نے سویرا کے قدموں سے زمین کینچی سویرا نے اپنے ہاتھوں سے اپنا سب کچھ تباہ کرلیا تھا وہ بھی یقینی سے تائشہ کی باتیں سنتی رہی
•••••••••••••
کیا وہ لوگ شادی تک بھی نہیں روکیں گے رضوانہ شاہ سائیں کے کمرے میں آئی تھی تو
ان سے پتہ چلا کہ احمد شاہ اور ان کی بیٹیاں واپس جارہی ہیں تو ان سے پوچھنے لگی
ہمیں نہیں پتا ہمیں دھڑکن نے بس اتنا ہی بتایا ہے کہ احمد شاہ واپس جا رہا ہے شاہ سائیں نے کہا
چلے جیسے ان لوگوں کی مرضی ہم زبردستی تو ان لوگوں کو روک نہیں سکتے
مجھے تو ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ احمد شاہ کی بیٹی اس قدر بد لحاظ ہو سکتی ہے
شکر ہے ہمارے گھر کی بہو بننے سے پہلے پتا چل گیا نجانے کتنا شرمندہ کرتی
اس میں احمدشاہ کبھی کوئی غلطی نہیں ہے بن ماں کی بچیاں کیسے سنبھالتا
رضوانہ افسوس سے کہتی اپنے کمرے میں جا چکی تھی
جبکہ شاہ سائیں اب تک یہی سوچ رہے تھے کہ دھڑکن جانے والی ہے ۔
کچھ ہی دن میں وہ دھڑکن کے کتنے قریب آگئی تھی ۔
اب اچانک اس کے جانے کے بارے میں سن کر انہیں اچھا تو نہیں لگ رہا تھا ۔
ان کی ہر سوچ دھڑکن کی طرف جا رہی تھی انہیں بار بار اس کے آنسو یاد آرہے تھے
Ep: 13
سویرا پریشانی سے کمرے میں واپس آئی نہیں وہ مقدم شاہ نہیں ہو سکتا نہیں میں ایسا کیسے کر سکتی ہوں یہ میں نے کیا کر دیا اپنے ہاتھوں سے سب کچھ تباہ کر دیا اب کیا ہوگا کیا اس کی شادی ہو جائے گی ۔
نہیں مقدم شاہ میرا منگیتر ہے میں اسے اس طرح سے کسی سے شادی نہیں کرنے دوں گی مجھے بابا سائیں سے بات کرنی چاہیے ۔
میں ان سے معافی مانگ لوں گی مجھے یقین ہے وہ میری ساری باتیں مانیں گے ۔
نہیں میں اپنی پہلی محبت کو خود سے دور نہیں جانے دوں گی ۔اس وقت کو وہ بھول چکی تھی کہ وہ ولیم نامی کسی شخص کے عشق میں گرفتار ہے ۔
پتا تھا تو بس اتنا کہ وہ مقدم شاہ کے بغیر نہیں رہ سکے گی ۔
۔وہ جلدی سے کمرے سے باہر نکلی تاکہ اپنے بابا کے کمرے میں جا سکے لیکن سامنے سے مقدم شاہ کو آتے دیکھ کر اس کے لب مسکرائے
عجیب سا احساس اس کے چاروں اور تھا ۔
وہ شخص اپنی مثال آپ تھا اسے خود پر حیرت ہو رہی تھی کہ وہ اس شخص کے لئے کس قسم کے الفاظ استعمال کرتی رہی ۔
وہ شخص تو شہزادوں کی آن بان رکھنے والا تھا ۔
اس کے قدم اپنے آپ ہی اس کی طرف اٹھنے لگے ۔
پھر سویرا نے نوٹ کیا کے اس کا دھیان کہیں اور تھا
مقدم شاہ کے لبوں پر تبسم تھا ۔
سویرا نے اس کی نظروں میں کسی اور کے لئے جذبات دیکھے مقدم شاہ کے قدم کچن کی طرف اٹھ رہے تھے ۔
اس نے شاید سویرا کو دیکھا تک نہیں تھا یا شاید اگنور کر گیا ۔
وہ کچن میں کیوں جا رہا تھا سویرا کے لئے اندازہ لگانا مشکل تھا وہ تو بس اسے جاتا ہوا دیکھ رہی تھی
••••••••••
تم مجھ سے چھپ رہی ہو۔۔۔۔۔؟
اپنے پیچھے اچانک اس کی آواز سن کر حوریہ اچھلی تھی
اس کے ڈر جانے کی وجہ سے مقدم شاہ ہمیشہ کی طرح دل کھول کر مسکرایا ۔
وہ دل موہ لینے والی مسکراہٹ لیے اس کے ہوشربا حسین چہرے کو دیکھ رہا تھا۔
کتنی بار کہا ہے تمہیں عادت ڈالو زندگی بھر کام آئے گی خیر ویسے آب تک تو عادت ہو جانی چاہیے تمہیں مقدم شاہ نے فاصلہ کم کرتے ہوئے کہا وہ بالکل اس کے قریب آ گیا تھا
مقدم لالہ ۔۔۔۔۔میرا مقصد مطلب ہے مقدم سائیں حوریہ کو خود سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ سامنے کھڑے آدمی سے کیا کہے
اف ظالم دل خوش کر دیا تم نے
آج اپنے لبوں سے میرا نام لے کر وہ نثار ہوتے انداز میں ایک بار پھر سے اس کے قریب ہوا ۔
جبکہ وہ خاموش نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی
ایک بار پھر سے میرا نام لو نہ اپنے لبوں سے تمہارے لبوں سے اپنا نام بھی پیارا لگتا ہے سکون سا ملتا ہے وہ اس کے بالکل قریب کھڑا فرمائش کر رہا تھا
کوئی آجائے گا
یہ میرا نام نہیں ہے ۔۔۔وہ بدمزا ہوا
اس وقت اپنے نام کے سوا میں اور کچھ نہیں سننا چاہتا
مقدم سائیں راستہ دیں وہ اس کی ضد سے اچھی طرح سے واقف تھی اسی لیے دھیمی آواز میں احتجاج کیا
کوئی آتا ہے تو آتا رہے مجھے پروا نہیں مقدم شاہ کسی سے نہیں ڈرتا آج تم نے مجھے بہت خوشی دی ہے
اور تمہیں اس کا انعام ضرور ملے گا آج رات تم میرے کمرے میں آؤ گی مقدم شاہ نے ایک اور حکم دیا
مقدم شاہ میں کیسے ۔۔۔۔۔۔۔میں آپ کے کمرے میں کیسے آسکتی ہوں ۔۔،۔ ۔ کیا ہوگیا ہے آپ کو ۔۔۔۔۔۔۔۔میں کیوں میں ۔حوریہ بوکھلا کر بولی
حوریہ کا سارا دھیان دروازے پر تھا
کیوں آوگی کیا مطلب ہے بولا نہیں میں تمہیں انعام دوں گا ۔اور کیسے آؤگی کا جواب اس سے بھی زیادہ آسان ہے اپنے پیروں پر چل کر ۔ورنہ تمھارے لیے اپنی باہوں میں اٹھا کر لانے کا انتظام بھی کر سکتا ہوں وہ چہرے پر شرارت لیے بولا
مقدم سائیں بات کو سمجھنے کی کوشش کریں
کمرے میں آکر سمجھا دینا سمجھ جاؤں گا وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا
حوریہ نے بے بسی سے دیکھا لیکن سامنے کھڑے شخص کو اس بات کی پرواہ نہ تھی ۔وہ اس وقت بس اپنی ضد پوری کرنا چاہتا تھا
آخر اس کی ہونے والی بیوی اس کی بات کیوں کر نا مانے ایک تفصیلی نظر اس کے حسین سراپے پر ڈالتا وہ باہر نکل گیا
سویرا کی نظروں نے دور تک اس کا پیچھا کیا اور ایک غصلی نگاہ سے کچن میں کام کرتی حور یہ کو دیکھا ۔
میں مقدم شاہ کو تمہارا کبھی نہیں ہونے دوں گی حوریہ وہ صرف میرا ہے اور میرا رہے گا سویرا غصے سے اسے دیکھتی احمدشاہ کے کمرے کی طرف جا چکی تھی
•••••••••••••
تم یہاں کیوں آئی ہو۔۔۔۔؟
اب کیا کوئی کسر باقی رہ گئی ہے احمدشاہ اسے دیکھتے ہی نظر پھیر گئے
ایم سوری بابا سائیں میں نے آپ کو شرمندہ کیا پلیز مجھے معاف کر دیں مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی آئی ایم ویری سوری پلیز معاف کردیں مجھ سے غلطی ہوئی ہے
میں نے جو بھی کیا وہ بہت غلط تھا مجھے یہ سب کچھ نہیں کرنا چاہیے تھا میں کل سے آپ سے معافی مانگنا چاہتی تھی لیکن ہمت ہی نہیں کر پائی
اس ولیم کے لئے میں آپ کو نہیں چھوڑ سکتی بابا سائیں مجھے معاف کردیں آپ جہاں کہیں گے میں وہی شادی کروں گی لیکن پلیز آپ مجھ سے خفا نہ ہوں آپ چاہتے ہیں میں اس مقدم شاہ سے شادی کر لوں تو ٹھیک ہے میں اس سے شادی کرنے کے لیے تیار ہوں چاہے آج ہی میرا نکاح کر دیں چاہے آج ہی میری شادی کر دیں
اس نے اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا تو بابا سائیں نے اس کے چہرے پر دیکھا
مجھے خوشی ہے کہ تمہیں تمہاری غلطی کا احساس ہو گیا لیکن اب تمہاری شادی مقدم شاہ سے تو نہیں ہوسکتی اس کی نسبت طے ہوچکی ہے اگر نہ بھی ہوتی تو بھی وہ اپنی اتنی انسلٹ کے بعد تم سے شادی ہرگز نہ کرتا بابا سائیں نےگویا اسے احساس دلایا تھا کہ وہ اپنی تقدیر پر اپنے ہاتھوں سے پانی پھیل چکی ہے
وہ جن قدموں سے آئی تھی انہیں سے واپس لوٹ گئی
•••••••••••
احمد شاہ اپنے کمرے میں بیٹھے تھے جب باباسائیں کا پیغام آیا
بابا سائیں انہیں اپنے کمرے میں بلایا تھا
وہ خوشی سے ان کے کمرے کی طرف آئے آج اتنے سالوں بعد بابا سائیں نے انہیں بلایا تھا احمدشاہ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا
کیا میں اندر آ سکتا ہوں ۔۔۔۔۔؟دروازے پر کھڑے ہو کر انہوں نے اجازت چاہی
ہاں احمد شاہ اندر آجائیں ہم آپ ہی کا انتظار کر رہے تھے ہمیں آپ سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے وہ انہیں اندر آنے کی اجازت دیتے ہوئے بولیں
جی بابا سائیں حکم کریں
احمد شاہ ہم سوچا رہے تھے کہ ہمیں تمہیں معاف کرنا چاہیے یا نہیں تو ہمارے دل کے ہر کونے نے یہی کہا کہ تم معافی کے لائق نہیں ہو ۔
بابا سائیں نے انہیں دیکھتے ہوئے کہا تو وہ نظر جھکا گئے
وہ جانتے تھے کہ ان کے سامنے بیٹھا ان کا بیٹا کچھ نہیں کہے گا
لیکن پھر بھی ہم نے سوچا ہے کہ ہم تمہیں معاف کریں گے لیکن اس کے لیے ہماری شرط ہے انہوں نے احمد شاہ چہرے پر خوشی کی ایک لہر دیکھی
بابا سائیں مجھے آپ کی ہر شرط منظور ہے آپ حکم کریں وہ کرسی سے اٹھ کر ان کے قدموں میں آ گئے تھے
حکم کریں بابا سائیں میں آپ کو کیا دے سکتا ہوں میرے لائق کوئی خدمت جو آپ کو خوشی دے آپ کو کیا چاہیے آپ کی معافی کے لئے احمد شاہ اپنی جان بھی دے دے گا
ہمیں دھڑکن چاہیے احمد شاہ بابا سائیں نے ان کی بات کاٹتے ہوئے کہا ہم چاہتے ہیں کہ دھڑکن ہمیشہ ہمارے پاس رہے ہماری نظروں کے سامنے
اس لئے ہم تم سے دھڑکن کا ہاتھ اپنے پوتے کردم شاہ کے لیے مانگتے ہیں بابا سائیں کےکہنے کی دیر تھی احمد شاہ ان کا چہرہ دیکھنے لگا
بولو احمدشاہ کیا تم اپنی بیٹی کا رشتہ ہمارے پوتے سے کرنے کے لیے تیار ہو بابا سائیں نے ان کے چہرے پر نظریں جما کر پوچھا
بابا سائیں کردم شاہ تو تائشہ کے منگیتر ہیں
تم اپنا فیصلہ سناؤ اس بار وہ زرا سخت لہجے میں بولے
بابا سائیں کردم شاہ اور دھڑکن کی عمر میں بہت فرق ہے
تو ہم تمہاری طرف سے انکار سمجھیں ۔۔۔۔۔۔؟بابا سائیں سخت لہجے میں کہا
میں ایک بار دھڑکن سے بات کرتا ہوں انیہں اٹھتے دیکھ کر وہ جلدی سے بولے
بابا سائیں نے ایک نظر ان کے چہرے کو دیکھا کہ ابھی تک تو انہوں نے کردم شاہ سے بھی بات نہیں کی تھی ۔
نہ جانے وہ کیسے ری ایکٹ کریں گے اس بات پر
بابا سائیں جانتے تھے کہ وہ احمد شاہ کو ایک بہت بڑے امتحان میں ڈال چکے ہیں ۔
احمد شاہ خامو شی سے ان کے قریب سے اٹھ کر دھڑکن کے کمرے میں آئے تھے
••••••••••••••••
ارے بابا سائیں آپ یہاں اندر آئیں انہیں اپنے کے کمرے کے دروازے پر کھڑے دیکھ کر وہ بولی
مجھے تم سے کچھ پوچھنا ہے وہ اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے بولے
جی پوچھیں نا ۔۔
اگر میں تمہاری شادی کرنا چاہوں اپنی مرضی سے تو کیا تم ہاں کرو گی احمد شاہ نے اس کے معصوم چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا تو پریشانی سے انہیں دیکھنے لگی
بابا سائیں ابھی تو میں اسٹڈی بھی کمپلیٹ نہیں ہوئی وہ انہیں دیکھتے ہوئے بولی
تم شادی کے بعد بھی اپنے اسٹڈی کر سکتی ہو بابا سائیں اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے بولے شاید وہ اس کے آگلے بہانے کا انتظار کر رہے تھے
وہ انہیں خود کو دیکھتے دیکھ کر مسکرائی
آپ کی مرضی بابا سائیں آپ کی دھڑکن آپ کی مرضی کے خلاف کبھی نہیں جائے گی دھڑکن ان کے گرد بازو پھیلا کر بولی تو مسکرا دیئے
تھینک یو سو مچ بیٹا تم نہیں جانتی کہ آج تم نے میری پرورش کا مان رکھا ہے
میں تمہارا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گا وہ اس کا ماتھا چومتے ہوئے جانے لگے
جبکہ ان کی خوشی کو دیکھ کر دھڑکن مسکرائی وہ خوش تھی کیوں کہ آج اس کے بابا سائیں اس کی وجہ سے خوش تھے
•••••••••••
آو کردم سائیں ہم کب سے تمہارا انتظار کر رہے تھے دادا سائیں نے اپنے نوکر کو کردم کے آتے ہی اپنے کمرے میں بھیجنے کا کہا تھا
حکم دادا سائیں وہ مسکرا کر ان کے قریب آ کر بیٹھا
ہم نے تمہاری زندگی کا ایک بہت اہم فیصلہ کیا ہے
اس کے لئے تمہاری اجازت چاہتے ہیں
ان کے انداز سے وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ اس کی شادی کے بارے میں بات کر رہے ہیں
مطلب اب کردم شاہ کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہونے والا تھا
جی دادا سائیں آپ کا جو حکم آپ جو چاہیں گے وہی ہوگا کردم شاہ نے فیصلہ ان کو دیا
ہم تمہاری شادی کرنا چاہتے ہیں لیکن تائشہ سے نہیں دادا سائیں اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے بولے جو بے تاثر تھا مطلب صاف تھا کی تاشتہ کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا
جیسی آپ کی مرضی دادا سائیں مجھے یقین ہے آپ نے جو بھی سوچا ہوگا بہتر سوچا ہوگا اس نے لڑکی کا نام جاننا ضروری نہ سمجھا
ٹھیک ہے پھر آج شام کو ہی ہم تمہاری نسبت دھڑکن سے طے کر رہے ہیں
کردم شاہ نے ایک نظر ان کے چہرے کی طرف دیکھا پھر نظریں جھکا گیا
جیسا آپ کا حکم وہ کہتے ہوئے کمرے سے باہر جانے لگا
دھڑکن تیزی سی چلتی دادا سائیں کے کمرے کی طرف آ رہی تھی اچانک اس سے ٹکراتے ٹکراتے بچی
آرام سے چلا کرو کوئی پیچھے پڑا ہے کیا وہ سختی سے گویا ہوا
جبکہ دھڑکن نظریں زمین میں گاڑے کھڑی تھی
اب کیا ساری رات یہی درخت بن کر کھڑے رہنے کا ارادہ ہے کیا وہ سختی سے بولا
(درخت نہیں پودا درخت تو آپ ہیں) اس نے دل میں سوچا
اب راستے سے ہٹنا پسند کریں گی آپ اس نے سختی سے کہا
گویا اسے سائیڈ پہ ہٹنے کا اشارہ کر رہا ہو
وہ دروازے کے بیچوں بیچ کھڑا تھا جس کی وجہ سے دھڑکن اندر نہیں آئی پا رہی تھی
اس کے جانے تک دھڑکن کا سارا دھیان دروازے پر ہی رہا اب وہ اس کے خلاف بولنے سے پہلے احتیاط کرتی تھی
ہٹلر خود پورے دروازے کے بیچ میں کھڑے ہوکر مجھ پر روعب جماتے ہیں وہ منہ بناتی دادا سائیں کو بتانے لگی
تو وہ مسکرا دیئے
ایسا نہیں کہتے وہ اسے دیکھتے ہوئے بولے
بالکل ٹھیک کہا اس سے بھی بُری طرح سے کہتے ہیں وہ ان کے قریب بیٹھ گئی
آپ کو پتہ ہے بابا سائیں میری شادی کرنا چاہتے ہیں اس نے بریکنگ نیوز سنائی
ہاں ہم جانتے ہیں ہم ہی نے یہ فیصلہ کیا ہے تم نے کیا کہا تھا کہ تم ہمیں چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی اسی لیے ہم نے تمہیں ہمیشہ اپنے پاس رکھنے کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے بابا سائیں مسکراتے ہوئے بولے
کیا آپ میری شادی کر رہے ہیں لیکن کس کے ساتھ میرا مطلب ہے حویلی میں تو مقدم لالا اور کرد م لالہ کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے اور وہ تو دونوں مجھ سے اتنے بڑے ہیں اس نے ہاتھ کے اشارے سے دونوں کے قدوں کا اندازہ لگایا
مقدم لالا کی شادی ہورہی ہے اور کرد م لالہ کی شادی تائشہ دیدہ سے ہوجائے گی
اس کی شادی تمہارے ساتھ کر رہے ہیں دادا سائیں نے اس کے سر پر دھماکہ کیا
کیا مطلب ہے آپ کا۔ ۔۔۔۔؟
کردم لالہ کی شادی تو تائشہ دیدہ سے ہونے والی ہے دھڑکن نے پریشانی سے کہا
ہونے والی تھی اب تمہارے ساتھ ہوگی دادا سائیں نے اس کی بات کاٹی
نہیں میں ایسے انسان سے شادی نہیں کروں گی جس نے کسی اور کے خوابوں کی دنیا سجائی ہو دھڑکن نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا
اور اگر تائشہ دیدہ نہ بھی ہوتی تب بھی میں کردم لالا جیسے انسان سے شادی نہیں کرتی ان کی پسند کے مطابق ڈھالنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے
وہ بہت روڈ اور سخت گیر انسان ہیں ہر وقت غصہ ان کی ناک پر ہوتا ہے میں کبھی اتنے سخت انسان سے شادی نہیں کرنا چاہوں گی
جس کی باتیں مجھے اس کی محبت سے نہیں بلکہ ڈر سے مانی پڑے
ایم سوری دادا سائیں میں انکار کرتی ہوں وہ کہتے ہوئے جانے لگی
جیسے ہی مڑی سامنے کردم شاہ کھڑا اس کی ساری باتیں سن چکا تھا۔ اسے اس طرح سے اپنے قریب دیکھ کر دھڑکن کا دل بری طرح سے دھڑکنے لگا
Ep: 14
کردم کو اپنے سامنے دیکھ کر دھڑکن کے ہاتھ پر پھول چکے تھے وہ ایک ایک قدم اٹھاتا اس کی طرف آ رہا تھا اس کی آنکھوں سے نکلتے شعلے دیکھ کر دھڑکن اندر تک کانپ کر رہ گئی ۔
وہ انکار کیے جانے کے قابل تو ہرگز نہ تھا ۔
یہ چھوٹی سی لڑکی کیسے اس سے شادی سے انکار کر سکتی ہے ۔
کردم کے غصے کو دیکھ کر دھڑکن نے ایک نظر دادا سائیں کی طرف دیکھا اور اپنی طرف بڑھتے اس کے قدموں کو اگنور کر کے دادا سائیں کے پیچھے آکھڑی ہوئی ۔
جبکہ وہ خاموشی سے آگے آیا اور سامنے ٹیبل پر رکھا ہوا فون دادا سائیں کے سامنے سے اٹھاکر اسے سخت نگاہوں سے گھورتا باہر نکل گیا ۔
دھڑکن کی سانس میں سانس آئی ۔
اب یہ خود ہی انکار کر دیں گے دھڑکن نے دادا سائیں کو دیکھتے ہوئے خوشی سے کہا
وہ تب تک انکار نہیں کرے گا جب تک میں اسے نہیں کہوں گا ۔
تو پھر آپ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں انکار کریں وہ لاڈ سے ان کے قریب بیٹھ گئی ۔
دادو سائیں مجھے ان سے شادی نہیں کرنی آپ دیکھ رہے تھے نہ وہ مجھے کس طرح سے گھور رہے تھے وہ مجھے پسند نہیں کرتے یہ بات وہ مجھ پر ظاہر کر چکے ہیں ۔
آپ کو پتہ ہے پہلی ملاقات میں ہی انہوں نے مجھے کس طرح سے ڈانٹا تھا ۔میں کبھی ان کے ساتھ نہیں چل سکتی۔ہم دونوں ایک دوسرے کے لئے نہیں بنے ہم دونوں کا نیچر بہت الگ ہے ۔وہ مجھے کبھی اپنی بیوی کے روپ میں قبول نہیں کر پائیں گے ۔اور نہ ہی میں انہیں ۔ سمجھنے کی کوشش کریں وہ ان کے پاس بیٹھی سیریسی بولی تھی
آئی پرومس آپ جو کہیں گے میں وہ کروں گی لیکن کردم لالا سے شادی نہیں کر سکتی میں آپ کو نہیں پتا وہ مجھے اتنا نا پسند کرتے ہیں کہ ایک ہی دن میں میرے گلے میں رسی ڈال کر مجھے پھندا چڑادیں گے ۔
آپ جہاں کہیں گے جس سے کہیں گے میں شادی کر لوں گی لیکن کردم لالاسے نہیں وہ تو مجھے گھورگھور کر ہی مار ڈالیں گے وہ بے بسی کی انتہا پر تھی ۔
ٹھیک ہے دھڑکن ہم تم سے زبردستی نہیں کریں گے تم کردم سے شادی نہیں کرنا چاہتی نا تو نہ سہی ہم دوبارہ تمہیں کردم سے شادی کرنے کے لیے کبھی نہیں کہیں گے ۔
لیکن کیا تم جانتی ہو کہ آج تمہارے لئے ہم نے کیا کیا ہے ۔
ہم نے تمہارے لئے آج اپنے . 19 سالہ غصے کو اپنے سینے میں دفن کر دیا ۔
تم ہمیں چھوڑ کر نہ جاؤ تم ہم سے دور نہ جا پاؤ اسی لئے آج ہم نے تمہارے باپ سے بات کی ۔
ہم نے تمہارے اس خود غرض باپ سے بات کی جو انیس سال پہلے ہمیں چھوڑ کر چلا گیا ۔
جب ہمیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی ۔جب اس کے علاوہ ہمارا اور کوئی سہارا نہ تھا تب تمہارا خود غرض باپ ہمیں چھوڑ کر چلا گیا ۔
اس نے ایک بار نہیں سوچا کہ اس کےباپ نے اپنے دو جوان بیٹے کھوئے ہیں اسے سہارے کی ضرورت ہے ۔
اس نے ایک بار نہیں سوچا کہ اس کا باپ تنہا کس طرح سے اس کے بھائیوں کو دفنائے گا داداسائیں کی آنکھیں میں نمی اترنے لگی ان کی آواز میں گلتی نمی کو دھڑکن محسوس کر چکی تھی ۔
ہم نے اپنا بیٹے جیسا دماد کھو دیا
اپنی سب سے عزیز بیٹی آہانہ کو کھو دیا ۔
ؐہماری جوان بیٹی اپنی دو سالہ بچی کو لے کر ہمارے دروازے پر بیوہ ہو کرآبیٹھی
ہماری بہو ہمارے سامنے بیوہ ہو گئی
ہم نے اس دن اپنے سارے رشتے کھودیئے جس دن تمہارا باپ ہمیں چھوڑ کر چلا گیا تھا تمہاری دادی پل پل بیماری کی حالت میں تڑپتے ہوئے اپنے احمد کو پکار رہی تھی ۔
لیکن اس نے کہا کہ وہ خون خرابے کے ماحول میں اپنی بیٹیوں کو نہیں لانا چاہتا ۔
ہم نے سوچا تھا کہ ہم اس سے کبھی بات نہیں کریں گے پھرکبھی زندگی میں اس کی طرف مڑ کر نہیں دیکھیں گے لیکن تمہارے لئے ہم نے دیکھا ۔
تمہارے لئے ہم اپنے برسوں کا غصہ بھلا کر اس سے بات کرنے جا پہنچے
ہاں دھڑکن تمہارے لیے کیوں کہ ہمیں لگا تھا کہ تمہارے باپ کی ہوئی غلطی کی سزا ہم تمہیں کبھی نہیں دیں گے
ہم نے سوچا تھا کہ ہم تمہیں کبھی خود سے دور نہیں جانے دیں گے ۔ہم نے اپنے 19سالہ غصے کو اپنے اندر ہی مار دیا
اور تم نے ہمیں کیا صلہ دیا دھرکن یہ تھی ہمارے لئے تمہاری محبت اسی لیے روئی تھی تم ہمارے سینے سے لگ کر
تمہارے لیے دھرکن ہم اپنی بیوی کی تڑپ کو بھول گئے ہم بھول گئے کہ وہ عورت کس طرح سے تمہارے باپ کو پکارتی تھی اور تمہارا باپ پلٹ کر نہ آیا
ہم نے خود ہی اسے فون کیا تھا اس کے سامنے روئے تھے احمد واپس آؤ ہمیں تمہاری ماں کو تمہاری ضرورت ہے لیکن وہ نہیں آیا ہے وہ کم ظرف تو اپنی ماں کی موت پر بھی واپس نہ لایا ان کندھوں پر اس کے بھائیوں کے جنازے اٹھائے تھے ۔
اور اس وقت ہمارے ساتھ تمہارا باپ کھڑا نہیں تھا ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنا خاندان لٹتا دیکھا تھا آپنے اپنوں کو خود سے دور جاتا دیکھا تھا لیکن آج انیس سال بعد تمہاری محبت ان سب کی محبت پر حاوی ہوگئی کہ ہم اس شخص کے پاس تمہارا رشتہ لے کر گئے ۔
لیکن تمہارے ساتھ کوئی زبردستی نہیں ہوگی ۔
تم کردم سے شادی نہیں کرنا چاہتی نا تو چلی جاؤ اپنے باپ کے ساتھ واپس ہمیں بھی تم سے کوئی رشتہ نہیں رکھنا
دادا سائیں ۔۔
ان کے آنسوؤں اور لفظوں پردھڑکن اندر تک تڑپ اٹھی تھی
نہیں لگتے ہم تمہارے کچھ بھی کوئی رشتہ نہیں ہے کچھ نہیں لگتی ہو تم صرف اپنے خود غرض باپ کی بیٹی ہو آج تم نے ہمارا دل توڑ دیا دھڑکن چلی جاؤ یہاں سے ہم تمہارا چہرہ نہیں دیکھنا چاہتے ہم نے کہا چلی جاؤ یہاں سے وہ چلاتے ہوئے بولے تھے دھڑکن سہم کر پیچھے ہٹی ۔
جبکہ ان کے گرتے آنسو اور غصیلی بھری نگاہوں نے دھڑکن کو وہاں سے جانے پر مجبور کر دیا
•••••••••••
دھڑکن ان کے کمرے سے روتی ہوئی نکلی ۔
باہر سب لوگ ہی موجود تھے لیکن کمرے کا دروازہ بند ہونے کی وجہ سے اندر کی کاروائی سے کوئی بھی واقف نہ تھا لیکن دھڑکن کےبے تحاشا رونے سے سب اس کی طرف متوجہ ہوگئے ۔
اس وقت وہ کسی کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی اسی لئے اپنے کمرے کی طرف رخ کیا لیکن احمدشاہ سے دیکھ چکے تھے ۔
دھڑکن بیٹا کیا ہوا تم اس طرح سے کیوں رو رہی ہو ۔
احمد شاہ نے اسے روکا تو دھڑکن روتے ہوئے ان سے لپٹ گئی
بابا سائیں ۔ دادا سائیں کو کہیں کہ وہ نہ روئے وہ جہاں کہیں گے میں وہی شادی کروں گی مجھے شادی پر کوئی اعتراض نہیں ہے پلیز وہ نہ روئیں میں انہیں روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی ۔
وہ بے تحاشا روتے ہوئے ان سے لپٹی ہوئی تھی جبکہ کردم اورمقدم تو دادا سائیں کے رونے کے بارے میں سنتے ہی اس کمرے کی طرف بھاگ چکے تھے ۔
دادا سائیں آپ ٹھیک تو ہیں مقدم فوراً ہی بھاگ کر ان کے قریب آیا وہ کرسی پر نظریں جھکائے نڈھال سے پڑے تھے ۔
کیا ہوا ہے آپ کو دادا سائیں آپ ٹھیک تو ہیں کردم نے ان کا ہاتھ تھامتے ہوئے پوچھا ۔
انہوں نے ایک نظر اپنے دونوں پوتوں کو دیکھا
جس کے اس کے پاس دو جوان بازو ہوں اسے بھلا کیا ہو سکتا ہے انہوں نے مسکرانے کی کوشش کی۔
جبکہ ایک نظر دروازے پر کھڑے ہوئے احمد شاہ کو دیکھا ۔وہ دھڑکن کو کمرے میں چھوڑ کر ان کے پاس آئے تھے ۔
دادا سائیں نے منہ پھیر لیا ۔آج دھڑکن کی وجہ سے وہ بہت ہرٹ ہوئے تھے ۔
اپنی بیٹی کو یہاں سے لے کر چلے جاؤ احمدشاہ ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں وہ سنگ دلی کی انتہا پر تھے ۔
ایسے کیسے چلا جاؤں بابا سائیں میں اپنی بیٹی کو آپ کے پوتے کے ساتھ بہا کے ہی جاؤں گا ۔
احمد شاہ کے کہنے پر بابا سائیں نظر اٹھا کر ان کے چہرے کو دیکھا ۔
اسے آپ کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں ہے بابا سائیں وہ میری بیٹی بعد میں آپ کی پوتی پہلے ہے آپ کا سب سے پہلا حق ہے اس پر ۔ آپ سے زیادہ وہ مجھ سے محبت نہیں کرتی ۔
کہہ رہی تھی کہ میرے دادا سائیں کو کہیں کہ وہ نہ روئیں وہ شادی کے لیے تیار ہے ۔احمد شاہ نے ان کے قدموں کے قریب بیٹھتے ہوئے بتایا تو وہ بے یقینی سے ان کا چہرہ دیکھنے لگے ۔
بابا سائیں میری دھڑکن سویرا جیسی نہیں ہے وہ آپ کے حکم کے خلاف کبھی نہیں جائے گی وہ میرا سر کبھی جھکنے نہیں دے گی آپ آج ہی مقدم اور حوریہ کے ساتھ دھڑکن اور کردم کے نکاح کا اعلان کردیں۔
وہ ان کے قریب بیٹھے آہستہ آہستہ بتا رہے تھے جبکہ مقدم کا سارا دھیان کردم کے چہرے پر تھا جو پے تاثر سا چہرہ لیے ان کے الفاظ سن رہا تھا ۔
اس سب کے بعد مقدم نےاسے اوپرچھت پر ملنے کے لیے کہا تھا وہ اسے کیوں بلا رہا ہے کردم خود بھی جانتا تھا لیکن صرف گردن ہلا دی
•••••••••••••••
کیا مطلب تم سے پوچھ کر یہ فیصلہ کیا گیا ہے مقدم شاہ نے سامنے کھڑے کردم شاہ سے پوچھا
نہیں مجھ سے پوچھا تو نہیں گیا لیکن دادا سائیں کا فیصلہ ہے اور میں ٹال نہیں سکتا مقدم سائیں
اور تائشہ کے بارے میں کیا سوچتے ہو تم وہ تمہاری منگیتر ہے اس پہ کیا گزرے گی کردم سائیں وہ تو بچپن سے ہی تمہیں اپنا سب کچھ مانتی آئی ہے اب اگر اچانک ہی تمہاری شادی کسی اور سے ہو جائے گی تو اس پہ کیا گزرے گی ۔مقدم نے پریشانی سے پوچھا
بچپن سے آج تک وہ لڑکی میرے دل میں اپنی جگہ نہیں بنا پائی ۔اس نے ہر بات میں جھوٹ کا سہارا لیا ہے مقدم ہر بات میں ہمارا تو رشتہ ہی جھوٹ کی بنیاد پر کھڑا ہے ۔وہ تو شکر ہے کہ میں نے کبھی اسے اتنی اہمیت ہی نہیں دی ذرا سوچو اگر میں اس کے بارے میں اپنے دل میں کوئی نرم جذبات رکھتا اور وہ ہر بات پر مجھ سے جھوٹ بولتی تو کیا وہ رشتہ قائم رہتا ۔
بڑی سے بڑی بات لےکر چھوٹی سے چھوٹی بات ۔یہاں تک کہ میٹرک میں وہ فیل تھی ۔لیکن اس نے مجھے یہ بات نہیں بتائی ۔میری خواہش تھی کہ میری ہونے والی بیوی ایک پڑھی لکھی لڑکی ہو وہ لڑکی میری اس خوائش کو بھی پورا نہیں کرنا چاہتی ۔وہ مجھ سے محبت کے دعوے تو کرتی ہے لیکن میری محبت میں خود کو ایک قابل انسان نہیں بنانا چاہتی۔
حوریہ سے میری کام کروا کے مجھے کہتی ہے کہ وہ اس نے کئے ہیں ۔
میں جانتا ہوں مقدم شاہ یہ بہت چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن پھر بھی کچھ رشتے انہی باتوں پر قائم ہوتے ہیں ۔اگر وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر مجھ پر یقین نہیں کر سکتی تو آگے زندگی کے اہم فیصلوں میں وہ میرا ساتھ کیا دے گی
اور تمہیں اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے مقدم سائیں میں کبھی اپنی حد سے آگے بھرکر تائشہ کے قریب نہیں گیا ۔
میں نے اسے کبھی ایک منگیتر کے طور پر نہیں دیکھا ہمیشہ اسے کزن کی طرح رکھا ہے مقدم سائیں میں اس کے جذبات سے بے خبر نہیں ہوں لیکن میں نے اپنے جذبات کو کبھی بے لگام نہیں ہونے دیا
میں نے کبھی اس سے اپنے ساتھ بات کرنے کا زیادہ موقع نہیں دیا کبھی اسے لے کر باہر نہیں گھوما یہاں تک کہ میں اسے اپنے کمرے میں بھی نہیں آنے دیتا
جانتے ہو کیوں۔ ؟کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ میرا نام اس کے نام سے الگ ہونے کے بعد وہ میرے نام کی وجہ سے بد نام ہو ۔
شاید میں دادا سائیں کی بات مان کر اسے شادی کر لیتا لیکن وہ کبھی میرے دل میں اپنی جگہ نہیں بنا پاتی
میں محبت پر یقین رکھتا ہوں مقدم سائیں لیکن اس محبت پر جو پاکیزہ بندھن میں بندھنے کے بعد ہوتی ہے میں تائشہ سے محبت نہیں کرتا اور نہ ہی اس سے خود سے محبت کرنے کا حق دیتا ہوں تب تک نہیں جب تک وہ میرے نکاح میں نہیں آجاتی ۔
میں نے دادا سائیں سے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ میرے دل میں محبت کے دیپ تب جلیں گے جب میرا نکاح ہوگا اس سے پہلے نہ تو میں کسی لڑکی کے بارے میں ایسا سوچ سکتا ہوں اور نہ ہی میں اپنے دل کو بے لگام ہونے کی اجازت دیتا ہوں ۔
اور دھڑکن اس کے بارے میں کیا سوچتے ہو تم مقدم نے پوچھا ۔
اس کے بارے میں کیا سوچنا ہے مقدم سائیں دادا سائیں کا فیصلہ سر آنکھوں پر ۔
دھڑکن کے بارے میں سوچتے ہوئے اس سے تھوڑی دیر پہلے دھڑکن کے ساتھ اپنا ٹکڑاو یاد آیا اور اس کے بعد جس طرح سے اس نے دادا سائیں کے سامنے اس سے شادی سے انکار کیا نجانے کیوں اسے غصہ آرہا تھا ۔
اب وہ اتنا بھی گیا گزرا نہ تھا کہ ایک ہی پل میں اس سے شادی سے انکار کر دیا جائے اس گاؤں کی کوئی لڑکی ایسی نہ تھی جو کردم شاہ کے لئے انکار کرتی اور وہ ننھی سی لڑکی ایک ہی پل میں انکار اس کے دادا کے منہ پر مار گئی
بہت ڈرتی ہے وہ تم سے مقدم شاہ نے کہا
پھر تو بہت مزہ آئے گا کردم ذرا سا مسکرایا
Ep: 15
ڈنر کے بعد بابا سائیں نے سب کو اپنے کمرے میں بلایا
تاکہ کردم اور دھڑکن کی شادی کے بارے میں سب کو بتا سکے
ان کے حکم کے مطابق تھوڑی ہی دیر میں سب ان کے کمرے میں حاضر تھے ۔
ہم نے سوچا تھا تین دن بعد بڑی مسجد میں ہم مقدم اور حوریہ کا نکاح کریں گے ۔
لیکن ہم نے سوچا ہے کہ کردم سائیں تو مقدم سائیں سے بڑے ہیں اسی لئے پہلے کردم کا نکاح ہوگا
بابا سائیں کی بات پر رضوانہ پھوپو نے مسکراتے ہوئے تائشہ کو دیکھا جبکہ تائشہ شرمانے کی پوری تیاری پکڑ چکی تھی
اسی لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آج سے تین دن بعد با روز جمعہ بڑی مسجد میں مقدم اورحوریہ سے پہلے کردم شاہ اور دھڑکن کا نکاح ہوگا بابا سائیں نے کمرے میں موجود سب لوگوں کے سروں پر بم گرایا
بابا سائیں یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں میرا مطلب ہے کردم سائیں کا نکاح تائشہ سے ہوگا رضوانہ پھوپو جلدی سے بولی
یہ فیصلہ ہم نے کیا ہے رضوانہ اور اس فیصلے میں ہم کسی کی عمل دخل برداشت نہیں کریں گے ۔
ہم نے کہہ دیا کہ دھڑکن کا نکاح کر دم سے ہوگا تو ہوگا اب اس معاملے میں ہم کسی سے کچھ نہیں کہنا چاہتے اور نہ ہی کسی کے آگے جوابدہ ہیں یہی بتانے کے لئے ہم نے تم سب کو یہاں بلایا تھا اب تم سب یہاں سے جا سکتے ہو وہ سخت لہجے میں گویا ہوئے ۔
رضوانہ کا اس طرح سے مخالفت کرنا انہیں ہرگز پسند نہ آیا تھا ۔جبکہ تائشہ بے یقینی سے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی جو اس کے حق میں آواز تک نہیں اٹھا رہی تھی ۔
وہ کچھ کہنے کے لئے آگے بڑھی رضوانہ نے اس کا ہاتھ تھام لیا چل یہاں سے میری بچی مجھے پہلے ہی یقین تھا میری یتیم بیٹی کے سر پہ کوئی اپنا ہاتھ نہیں رکھے گا
آج آپ نے بھی ثابت کردیا کہ نواسی سے پوتی ہمیشہ عزیز ہوتی ہے وہ اس کا ہاتھ تھا میں اسے گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئی ۔
جبکہ سویرا اس تماشے کو دیکھ کر کافی انجوائے کر رہی تھی دھڑکن کی شادی اگر کردم سے ہوگئی تو اس کا کام اور بھی آسان ہو جائے گا
••••••••••••••••••
کمرے میں آنے کے بعد تائشہ نے خوب ہنگامہ کیا
یہاں تک کہ اپنی ماں کو بھی اچھی خاصی سنا ڈالی جبکہ وہ اسے سنبھالتی سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن وہ کچھ بھی سمجھنے کو تیار نہ تھی آخر اس طرح سے اچانک کیسے اس کے کردم سائیں کو کسی اور کے ساتھ شادی کرنے کے لیے مجبور کر رہے ہیں
اسے تو یہی لگ رہا تھا کہ کردم کے ساتھ زبردستی کی جارہی ہے
کیونکہ وہ اس کا منگیتر ہے اس سے کوئی کیسے چھین سکتا ہے اسے
وہ بچپن سے اس کے نام پر بیٹھی ہے
اس طرح سے تو اچانک کسی اور کے ساتھ اس کی شادی نہیں کی جاسکتی ۔
اور وہ بھی جب کے کردم خود جانتا ہے کہ تائشہ اس کے لیے بچپن سے ہی کس طرح کے جذبات رکھتی ہے ۔
لیکن اس سارے ہنگامے پر کسی نے بھی کوئی خاص غور نہ کیا ۔
بس حکم کے مطابق تین دن کے بعد کردم کے ساتھ دھڑکن اور حوریہ کے ساتھ مقدم کا نکاح طے پا گیا
••••••••••••••••••
مقدم آج بہت خوش تھا اور مقدم کے حکم کے مطابق حوریہ اس سے ملنے اس کے کمرے میں بھی نہیں آئی تھی
اس کی وجہ سے اسے غصہ تو بہت آیا لیکن یہ سارے معاملات وہ شادی کے بعد بے باک کرنے والا تھا ۔
حوریہ بھی خوش تھی مقدم کی شوخ شرارتی نظریں دیکھ کر وہ خود سے بھی نظریں نہیں ملا پا رہی تھی
جبکہ کردم بالکل خاموش تھا اور دھڑکن کو اس کی خاموشی سے خوف آرہا تھا
وہ جانتی تھی کہ کردم سب کچھ سن چکا ہے اس دن اس نے کردم کے خلاف کیا کیا بکواس کی وہ سب جانتا ہے اس کے بعد بھی وہ دادا سائیں کے حکم کے مطابق اس سے نکاح کر رہا ہے
جب سے کردم اور اس کی شادی کی باتیں شروع ہوئیں تھیں دھڑکن کے دل میں کردم کے لیے عجیب سے احساسات پیدا ہونے لگے تھے
ہاں کل تک وہ اس سے دور بھاگتی تھی لیکن اسے ناپسند تو وہ کبھی نہیں کرتی تھی ۔
وہ شخص اس کی زندگی میں آنے والا پہلا مرد تھا ۔اس کے لیے اپنے دل کی نرمی کو میں خود بھی محسوس کر چکی تھی اس کے نام سے اپنے چہرے پر چھانے والی سرخی اس کے نام سے دھڑکتا اپنا دل اس کی تو پوری دنیا ہی بدل چکی تھی
لیکن یہ بات الگ تھی کہ کردم کو دیکھ کر آج بھی اس کی جان جاتی تھی ۔
آج دھڑکن اور کردم کی نسبت طے کی گئی اوراس کے ساتھ ہی ان چاروں کے آج دن ڈالے گئے ۔
جس میں تھوڑی دیر کے لیے انہیں ساتھ بٹھایا گیا ۔
حوریہ بلکل سادہ سے سفید لباس میں مقدم کے قریب بیٹھی شرمائے جا رہی تھی
تم مجھ سے ملنے نہیں آئی نہ کل رات میرے کمرے میں میری بات نہ مان کر خود پنگا لے لیا ہے تم نے مجھ سے اب اپنے انجام کے لیے بھی تیار رہنا مقدم شاہ نے شرارتی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی
۔جب کہ حوریہ اس کی باتوں کے ساتھ اپنے دل کی ایک ایک دھڑکن کو بھی باآسانی سن رہی تھی جو اس کے ساتھ بیٹھنے کی وجہ سے تیز ہو چکی تھی ۔
جبکہ ان کے ساتھ کچھ فاصلے پر کردم اور دھڑکن بیٹھے تھے ۔
دھڑکن مسلسل کانپ رہی تھی جبکہ کردم بالکل نارمل تھا ۔ہاں لیکن اس کے کانپنے کی وجہ سے ان کی کرسی ہل رہی تھی آرام سے نہیں بیٹھ سکتی تم وہ سرد لہجے میں گویا ہوا
انسان ہوں میں جن نہیں جو تمہیں کھا نہیں جاؤں گا وہ اسے سخت نظروں سے گھورتے ہوئے دھیمی آواز میں بول رہا تھا
جبکہ اس کی آواز سننے کے بعد دھڑکن کے مزید رونگٹے کھڑے ہوگئے
سو۔ ۔۔سو۔ سوری بڑی مشکل سے ایک لفظ زبان سے ادا ہوا
••••••••••••••••••••
یہ کردم سائیں کی منگنی تو بچپن میں ہی تائشہ بی بی کے ساتھ ہوگئی تھی ۔
تو پھر ان کی شادی کسی اور کے ساتھ کیوں ہو رہی ہے گاؤں کی ایک عورت نے پوچھا
پتا نہیں سننے میں تو یہی آیا تھا اور دیکھو تو سہی یہاں تو نہ رضوانہ بی بی ہیں اور نہ ہی تائشہ بی بی لگتا ہے خویلی میں کوئی ہنگامہ ہوا ہے ۔
ضرور تائشہ بی بی نے کچھ الٹا سیدھا کردیا جس کی وجہ سے کردم سائیں ان سے شادی نہیں کر رہے
پتا نہیں اب یہ بڑے لوگ ہی جانتے ہیں کہ کیا ہوا ہے مجھے تو بس یہ پتا ہے کہ کردم سائیں کی شادی اس لڑکی سے ہوگی
تو پھر منگنی ٹوٹ گئی کیا ۔دوسری عورت نے پوچھا
ظاہری سی بات ہے منگنی ٹوٹی ہے تبھی تو کہیں اور شادی ہونے جارہی ہے
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کردم سائیں نے خود ہی تائشہ بی بی سے شادی کرنے سے انکار کر دیا ہو اب اس لڑکی کو دیکھو نہ کتنی پیاری ہے اس نے کردم شاہ کے ساتھ بیٹھی دھڑکن کی طرف اشارہ کیا
ہاں پیاری تو بہت ہے لیکن تائشہ بی بی بھی تو کسی سے کم نہ تھی ۔
ان کے کچھ فاصلے پر کھڑی نازیہ ساری باتیں سن چکی تھی بابا سائیں کے ایک فیصلے نے تائشہ کی ذات کو سوالیہ نشان بنا دیا تھا
ان کے ساتھ ساتھ گھر کے سبھی لوگ لوگوں میں ہونے والی باتوں کو محسوس کر چکے تھے
••••••••••••••••••
پھوپو سائیں کیا میں اندر آ سکتا ہوں کردم سائیں دروازے پر کھڑا رضوانہ سے اجازت مانگ رہا تھا اسے کمرے میں آتے دیکھ کر پریشان ہوگئی
رضوانہ نے خاموشی سے ہاں میں گردن ہلائی
کردم آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ان کے قدموں کے قریب آ بیٹھا
جانتا ہوں آپ مجھ سے خفا ہیں جانتا ہوں دادا سائیں نے جو فیصلہ کیا اس کی وجہ سے آپ کا خفا ہونا بالکل صحیح ہے
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ آپ سے محبت نہیں کرتے
دادا سائیں نےکیا سوچ کر یہ فیصلہ کیا مجھے نہیں پتا مجھے بس یہ بتا ہے کہ میری پھوپھو سائیں میری رسم میں شامل نہیں ہیں
پلیز پھوپھو سائیں میرا دل رکھ لیں سب نے کہا آپ نہیں آئیں گی لیکن میں پھر بھی اندر آیا ہوں یہ سوچ کے کہ آپ کبھی میری بات نہیں ڈالیں گی میری شادی کن حالات میں ہو رہی ہے
میں نہیں جانتا مجھے بس یہ پتا ہے کہ آپ کو میری شادی پہ آنا ہوگا
تائشہ کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے میں جانتا ہوں
اس نے پھپھو کے ساتھ بیڈ پر بیٹھی تائشہ کی طرف دیکھا جو بخار کی وجہ سے سرخ پڑچکی تھی ۔
جانتی ہو تائشہ میں تم سے تنہائی میں کیوں نہیں ملا کیونکہ مجھے قسمت کے فیصلوں پر یقین ہے
اگر میری شادی دھڑکن کے ساتھ ہونی لکھی ہے تو اسی کے ساتھ ہوگی اگر میں چاہتا تو تمہیں اپنی محبت کے حسین خواب دکھا سکتا تھا لیکن میں ایسا کیوں کرتا جبکہ میں قسمت کے فیصلوں پر یقین رکھتا ہوں
قسمت کا کچھ پتہ نہیں ہوتا کب کس کے ساتھ جڑ جائے تم یوں بیمار ہوکہ مجھے گناہگار کر رہی ہو
میں تمہاری محبت سے انجان نہیں ہوں لیکن شاید تمہاری یہ محبت کسی اور کے حصے میں لکھی ہے ۔
جانتا ہوں تم نے میرے لیے اپنے دل میں ایک الگ مقام رکھا ہے ۔
لیکن وہ مقام میرا نہیں ہے تائشہ وہ خوبصورت مقام کسی اور کا ہے
میں نے کبھی تمہاری معصومیت کو رسوا نہیں ہونے دیا کبھی تمہاری عزت پر آنچ نہیں آنے دی کبھی تمہاری جذبات کے ساتھ کھلواڑ نہیں کیا ۔
لیکن میں پھر بھی تم سے معافی مانگتا ہوں
جو کچھ بھی ہوا اس کے لئے مجھے معاف کر دو کردم نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑنا چاہئے جب تائشہ نے اس کے ہاتھ تھام لئے
کردم سائیں آپ کی کوئی غلطی نہیں ہے آپ یہ سب کچھ کر کے مجھے گناہگار نہ کریں میں جانتی ہوں آپ کے ساتھ بھی زبردستی کی گئی ہے اس رشتے کے لئے
آپ بھی دھڑکن کو پسند نہیں کرتے لیکن شاید ہمارے نصیبوں میں یہی لکھا ہے
مجھے آپ سے کوئی گلا نہیں ۔
اس کا مطلب یہی ہوا کہ تم میری شادی میں شرکت کرو گی کردم نے پوچھا
اس نے ایک نظر رضوانہ کو دیکھا
اٹھے اماں سائیں تیار ہو جائیں ہمیں باہر چلنا ہے گاؤں والے باتیں بنا رہے ہوں گے
تائشہ نے بستر ایک طرف تہہ کرتے ہوئے کہا
اپنی خوشیوں کو آگ لگا کر مسکرانا کسے کہتے ہیں آج کوئی تائشہ سے پوچھتا
•••••••••••••••••
اس دن کے بعد اسے دھڑکن کہیں نظر نہ آئی تھی آج دو دن ہو گئے ان کے دن ڈالے ہوئے ۔
لیکن دھڑکن نہ جانے کہاں چھپ کر بیٹھ گئی تھی وہ غیر ارادی طور پر اس کا منتظر تھا ۔
ناشتے کی میز پر نہ ڈنر ٹیبل پر دن کے وقت وہ گھر پر نہیں ہوتا تھا ۔
ایک دو بار دل چاہا کہ وہ پوچھ لے لیکن پھر سوچا نہ جانے سب کیا سوچیں گے اور وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ آخر وہ اس کے بارے میں کیوں پوچھنا چاہتا ہے
کل نکاح تھا مقدم شاہ تو بہت خوش تھا ۔
اور اب کسی کی بھی پرواہ کیے بغیر وہ حوریہ کو اپنے ساتھ شہر لے کر گیا ہے تاکہ اسے شادی کی شاپنگ کروائے اس کا ارادہ اس کو ہر چیز اپنی پسند کی چیزیں دلانے کا تھا
اماں سائیں نے پوچھا تو اس نے صاف لفظوں میں کہہ دیا اب دلہن میری من پسند ہے تو باقی ساری چیزیں بھی میری من پسند ہوں گی
کل نکاح کے بعد شام کو ان کی مایوں اور مہندی کی رسم ہونی تھی
جس کا فنکشن ساتھ میں رکھا گیا تھا ۔
حوریہ کے لیے ڈریس خریدا جا چکا تھا لیکن اس کے باوجود بھی مقدم اسے اپنے ساتھ لے کر گیا کیونکہ اس نے کہا تھا مہندی کی دلہن کو وہ اپنی پسند کا ڈریس دلوائے گا ۔
اس نے تو کردم کو بھی کہا تھا کہ دھڑکن کو ساتھ لے کر چلے لیکن کردم چاہ کر بھی اتنا بےباک نہیں ہوسکتا تھا
اس نے اپنے دونوں ہاتھ مقدم کے سامنے باندھے اور اسے کہا کہ تم اکیلے ہی جاؤ بھائی میں یہی ٹھیک ہوں
••••••••••••••••
سکول کا کیا بنا ۔کردم شاہ ڈیرے پر آیا تو پوچھنے لگا
سائیں چوہدری کہتا ہے زمین اس کی ہے اور وہ کوئی سکول وہاں پر تعمیر نہیں ہونے دے گا
ہم نے اسے بتانے کی بہت کوشش کی کہ اس کا باپ یہ زمین
شاہ سائیں کو بیچ چکا ہے
لیکن وہ مانتا ہی نہیں یہاں تک کہ پیپر تک چرا لئے ہیں اس نے نہ جانے کیا ہوگا شاید اسکول تعمیر نہ ہوسکے
نہیں یہ اسکول ضرور تعمیر ہوگا یہ داداسائیں کا خواب ہے اور یہ خواب ضرور پورا ہوگا یہاں بچیوں کی تعلیم کے لیے سکول ضرور تعمیر ہوگا اور کوئی چوہدری اس زمین پر قبضہ نہیں کرسکتا
چودھری کے باپ نے خود یہ زمین بیچی ہے
چوہدری یہ سب کچھ کر کے ٹھیک نہیں کر رہا بہت برا انجام ہوگا سب کا کردم کو چودھری کی بے ایمانی پر بہت غصہ آرہا تھا لیکن فی الحال گھرمیں شادی کے فنکشن سے چل رہے تھے اسی لیے وہ کسی قسم کا کوئی اشو افورڈ نہیں کر سکتا تھا
جہاں تک پیپرز کی بات ہے تو اصل کاغذات ہمارے پاس ہے جس نے اس کے اباواجداد کے سائن ہیں
•••••••••••••••
کچھ تو بولو خاموش کیوں ہو
مقدم سائیں جو کب سے اس سے باتیں کرتے ہوئے گاڑی چلا رہا تھا اس کے خاموش بیٹھنے پر بولا
بول تو رہی ہوں حوریہ نے نظریں جھکا کر کہا
تم بول نہیں رہی ہوں منمنا رہی ہو۔یار باتیں کرو میرے ساتھ یہ سب کچھ کیوں کیا ہے میں نے تم سے باتیں کرنے کے لئے تمہارے ساتھ وقت گزارنے کے لئے
اور تم ہو کہ منہ بنا کر بیٹھی ہو۔مقدم نے اس کے حسین چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا
میں کیا بات کروں حوریہ کنفیوز ہوئی ۔
میری تعریف ہی کر دو ۔مقدم نے جلدی سے جواب دیا
کیا تعریف کروں حوریہ سیریز انداز میں بولی
کچھ بھی تعریف کر دو اپنی سوچ ہی بتا دو یہی بول دو مقدم سائیں آپ اتنے ہنڈسم.ہیں کہ پورے گاؤں کی لڑکیاں مرتی ہیں آپ پر اور آپ کا دل مجھ پر آگیا ہے ۔آپ ہیں جو مجھ سے محبت کر بیٹھے ہیں ۔مجھے دیوانوں کی طرح چاہنے لگے ہیں اور ایک میں ہو جو آپ کو گاس ہی نہیں ڈالتی مقدم اس کے چہرے پر نظر جمائے بولے جا رہا تھا
مقدم سائیں یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں میں ایسا کبھی نہیں سوچتی حوریہ نے جلدی سے جواب دیا ۔
مطلب میں تمہیں ہنڈسم نہیں لگتا مقدم صدمے سے اس کی طرف دیکھا تھا ۔
نہیں آپ لگتے ہیں آگے جو آپ نے کہا ۔
اچھا تو میں ہنڈسم ہوں مقدم نے اس کی نظروں کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
حوریہ شرما کر باہر دیکھنے لگی اس شخص کی باتوں کا مقابلہ کرنا اس کے بس میں نہ تھا ۔
دیکھا اب منہ پھیر لیا ٹھیک ہی تو کہتا ہوں کہ تم گھاس نہیں ڈالتی مجھے مقدم نے منہ بنا کر کہا ۔
پتا نہیں کیا سوچتے رہتے ہیں آپ میں نے کبھی نہیں سوچا آپ کے بارے میں ایسا ۔
تو پھر کب سوچو گی جانے من ۔مقدم شوخ ہوا
پلیز اب اس طرح کی باتیں نہ کریں اس نے اپنے سرخ گالوں کو دوپٹے سے چھپاتے ہوئے کہا
اف یار کتنا شرماتی ہو تم اچھا نہیں کرتا میں اس قسم کی باتیں یہ ساری باتیں ہم شادی کے بعد کریں گے پھر تو کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔جان من
مقدم نے پھر سے چھیڑتے ہوئے کہا جبکہ وہ تو بس شرمائے جارہی تھی پھر مقدم نے اسے خوب شاپنگ کروائی ۔
میں چاہتا ہوں تم اپنے آپ کو بس میرے نام کر دو میں جیسے چاہوں تمہیں سجاؤں ۔جیسے چاہے تم سے پیار کروں ۔بس میری بن جاؤ
وہ جذبات سے بھرپور لہجے میں بولا
جبکہ حوریہ اس کی قربت سے گھبراتی جلد سے جلد واپس گھر جانا چاہتی تھی
لیکن مقدم بھی اپنے نام کا ایک تھا اس نے واپس آتے آتے رات اندھیرا کر ہی دیا
Ep: 16
سچ بتاؤ تم لوگ میری مدد کیوں کر رہی ہو ۔۔۔۔؟
اور یہ بتاؤ کہ تم دونوں کیوں نہیں چاہتی مقدم شاہ اور کردم شاہ کا نکاح نہ ہو ۔
چودھری ان دونوں کے سامنے بیٹھادلچسپی سے ان کی خوبصورتی کو دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا
کیونکہ مقدم شاہ میرا منگیتر ہے اور کردم شاہ ا سکا ۔
لیکن وہ بڈھا کردم شاہ کا نکاح میری بہن کے ساتھ اورمقدم شاہ کا نکاح اس گنوار کے ساتھ کر رہا ہے ۔سویرا نے انتہائی بدتمیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا
اس لئے ہم تمہارے پاس آئے ہیں بتاؤ تم ہماری مدد کرو گے یا نہیں سویرا نے اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔
خوبصورت لوگوں کی چوہدری مدد نہ کرے ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا اور عاشق تو مجھے بہت ہی پسند ہیں
تم لوگ بس یہ چاہتی ہو نا کہ نکاح سے پہلے مقدم شاہ اور کردم شاہ حویلی سے کہیں چلے جائیں تاکہ عین وقت پر ان کا نکاح نہ ہو ۔
اور تم لوگ یہ بھی چاہتی ہو کہ کوئی بڑا مسئلہ بنے تاکہ نکاح کچھ دن کے لیے ٹل جائے
ٹھیک ہے مجھے منظور ہے میں تم دونوں کی مدد کرنے کے لئے تیار ہوں میں کل ہی سکول والی اس زمین پر آگ لگا دوں گا وہ بھی نکاح سے کچھ دیر پہلے یہ خبر سن کر وہ دونوں آئیں گے اور نکاح نہیں ہوگا ۔
اس زمین کو بچانے میں ان لوگوں کے کچھ خاص لوگ زخمی ہو جائیں گے جس سے ان دونوں کا نکاح ٹل جائے گا پھر تم لوگ سوچ لو تم دونوں کو آگے کیا کرنا ہے
میں صرف وقتی نکاح روک سکتا ہے ۔چودھری نے بات کرتے ہوئے ان کے چہرے کی رونق دیکھی تھی ۔
تھینک یو سو مچ ہمیں اس سے زیادہ تمہاری اور مدد چاہیے بھی نہیں باقی ہم خود سنبھال لیں گے ۔
لیکن فی الحال نکاح روک دو سویرہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا اور پھر تائشہ کو دیکھ کر مسکرائی وہ جو اس کے ساتھ آنے کو تیار ہی نہ تھی ۔
لیکن جب اس نے یہ کہا کہ کردم شاہ ہمیشہ کے لئے اس کا ہو سکتا ہے تو وہ اس کے ساتھ آنے پر مجبور ہوگئی
لیکن کردم کے دشمنوں کے ساتھ ہاتھ ملا کر وہ خوش نہیں تھی ۔
وہ تو کردم شاہ کی دیوانی تھی اسے ہر حالت میں پانا چاہتی تھ ی وہ اس کے لئے کوئی بھی قیمت چکانے کو تیار تھی اسے بس کردم شاہ کا ساتھ چاہیے تھا ۔
اسے لگ رہا تھا کہ اس کے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے اس نے زندگی کے ہر مقام پر کردم شاہ کو ٹوٹ کر چاہا تھا وہ کتنی آسانی سے اسے چھوڑ کر کسی دوسری سے نکاح کرنے لگا بے شک محبت اندھی ہوتی ہے وہ سہی غلط کی پہچان ختم کر دیتی ہے اور تائشہ کی پہچان ختم ہوچکی تھی
•••••••••••••••
حوریہ بہت ساری رسمیں ادا کر چکی تھی اور نہ جانے کتنی ہی رسمیں ادا کرنی تھی کردم کی شادی میں ایک بہن کے روپ میں وہ سب سے آگے تھی۔
آج ان دونوں کا نکاح تھا ۔
تائشہ اور سویرہ دونوں کو اس شادی میں کوئی دلچسپی نہ تھی وہ دونوں اپنے کمرے میں گھسی ہوئی تھی بلکہ ایک ہی کمرے میں دونوں گھسی ہوئی تھی
دھڑکن کو اپنی بہن پر بہت دکھ ہو رہا تھا وہ اپنی ہی بہن کی شادی میں شرکت نہیں کر رہی تھی اگر حوریہ یہاں نہ ہوتی تو کیا ہوتا
ایسے وقت میں بہنیں اور سہیلیاں ہی تو ہوتی ہیں جس کے ساتھ ایک لڑکی اپنی جذبات کا اظہار کر سکتی ہے ۔لیکن نہ تو اس کی بہن کو اس میں دلچسپی تھی اور نہ ہی وہ اس کے جذبات جاننا چاہتی تھی ۔
لیکن حوریہ نے اپنی شادی کی پرواہ کیے بغیر دھڑکن کا خیال رکھا ۔
دھڑکن عمر میں تو تم مجھ سے چھوٹی ہو لیکن پھر بھی میری جیٹھانی بننے جارہی ہو یا میں تمہیں اپنی بھابھی کہوں ۔ حوریہ اس کا دوپٹا سیٹ کرتے ہوئے پوچھنے لگی
کچھ بھی کہہ لیں کیا فرق پڑتا ہے دھڑکن نے بے دلی سے کہا اسی وقت ان کے کمرے کے قریب سے نکلتے ہوئے کردم کے قدموں وہی روک گئے۔
یہ تو وہ جاہتا تھا کہ وہ اسے پسند نہیں کرتی ۔اور اس شادی کے لیے بھی وہ صرف اور صرف دادا سائیں کے لئے تیار ہوئی ہے لیکن وہ اسے اتنی بددل تھی کہ اسے اس شادی سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا تھا
کیا مطلب کوئی فرق نہیں پڑتا حوریہ اس کے قریب بیٹھ کر پوچھنے لگی
میں اپنی بات نہیں کر رہی میں کردم لالہ آئی مین کردم سائیں کے بارے میں بات کر رہی ہوں ۔
کیا مطلب میں کچھ سمجھی نہیں حوریہ کے ساتھ ساتھ دروازے پر کھڑا کر دم بھی اس کی بات کو نہیں سمجھا تھا
ارے میرا مطلب ہے کہ کردم سائیں یہ شادی صرف دادو سائیں کے کہنے پر کر رہے ہیں ورنہ وہ مجھے بالکل لائک نہیں کرتے ۔
کبھی کبھی سوچتی ہوں مقدم لالا کتنے رومانٹک ہیں وہ نہ صرف آپ کیلئے مہندی کی ڈریس لائیں بلکہ آپ کو اپنے ساتھ لے کر کے اور شاپنگ کروائی لیکن کردم سائیں نے مجھے دیکھنا تک گوارا نہ کیا ۔
آپ نے دیکھا جب سے ہماری منگنی ہوئی ہے انہوں نے ایک بار بھی مجھ سے بات کی نہیں کی یہاں تک یہ بھی نہیں پوچھا ۔کہ تمھیں شاپنگ پہ جانا ہے
بلکہ شاپنگ کو چھوڑو انہوں نے تو مجھے بات بھی نہیں کروایا صبح میں کمرے سے باہر نکلی تو وہ مجھے دیکھے بنا باہر چلے گئے ۔ٹھیک ہے پہلے ہمارا کوئی ایسا رشتہ نہیں تھا لیکن اب یہ اس نے ہاتھ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا یہ پہنائی ہے انہوں نے مجھے میں منگیتر ہوں ان کی بات تو کر ہی سکتے ہیں لیکن کیوں کریں گے بات وہ مقدم لالا تھوڑی ہیں وہ کردم سائیں ہیں دنیا کے سب سے ان رومنٹک اور بورنگ پرسن وہ معصومیت سے کہتی اپنی بات پر اداسی سے بیٹھ گئی ۔
حوریہ نے گہرا سانس لیا جو وہ سوچ رہی تھی ایسی کوئی بات نہیں تھی ۔
ہر لڑکی کی طرح دھڑکن بھی اپنے منگیتر سے کچھ امید رکھتی تھی ۔
جب کہ دروازے پہ کھڑا کردم اس کی مکمل بات سننے کے بعد اپنا ماتھا کھجا رہا تھا ۔
اتنی بیوقوف لڑکی ہے یہ اس طرح کے باتیں کھلے عام کون کرتا ہے بھلا ۔
اگر کرنی تھی شاپنگ تو بتا دیتی لے جاتا ساتھ کردم نےسوچتے ہوئے قدم آگے کی طرف بڑھائے
کچھ زیادہ ہی ان رومنٹک اور بورڈنگ پرسن سمجھا ہے نہ مجھے تمہیں تو میں بتاؤں گا رومیس کیسے کہتے ہیں
•••••••••••••••••
نکاح کا وقت ہوچکا تھا اس وقت دوپہر کےڈھائی بج رہے تھے
دادا سائیں نے یہ وقت مقرر کیا تھا نکاح کیلئے۔
مولوی صاحب آ چکے تھے مقدم اور کردم دادا سائیں کے دائیں اور بائیں بیٹھے ہوئے تھے ۔
سویرا اور تائشہ بے فکر تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ یہ نکاح آج کی تاریخ میں ممکن نہیں ہے اور اس کے بعد وہ یہ نکاح نہیں ہونے دیں گی یہ وہ سوچ چکی تھی
سویرانے ایک آخری بار چوہدری کو فون کرکے کنفرم کروایا ۔اور چودھری نے اسے بے فکر رہنے کے لیے کہا
مولوی صاحب نے نکاح شروع کردیا تھا جبکہ ابھی تک کردم یا مقدم کا فون نہیں بجا تھا ۔
جس کی وجہ سے سویرا اور تائشہ دونوں ہی بہت پریشان تھی۔
سویرا دیدہ نکاح تو شروع ہو گیا ہے لیکن ابھی تک کوئی فون نہیں آیا چودھری ابھی تک فون کیوں نہیں کر رہا تائشہ نے بیچینی سے پوچھا ۔
پتا نہیں میں بھی یہی سوچ رہی ہوں وہ مسلسل چودھری کو فون کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن فون بند جا رہا تھا
••••••••••••
چوہدری صاحب آپ کا فون کے سے بج رہا ہے آپ اٹھا کیوں نہیں رہےاس کے ایک آدمی نے پوچھا ۔
کیونکہ میرا دماغ خراب نہیں ہے میں نے ان بیوقوف لڑکیوں کے سامنے یہ تو کہہ دیا کہ میں ان کی مدد کروں گا لیکن وہ یہ نہیں سمجھ پائیں کہ میں ان کے خاندان کا دشمن ہوں
اور ان کو میری وجہ سے کوئی خوشی میں نصیب نہیں ہونے دوں گا ۔
وہ بیوقوف لڑکیاں چاہتی ہیں کہ میں اس وقت جب کہ میں بالکل آزاد ہوں مقدم شاہ اور کردم شاہ سے بغاوت کروں تاکہ وہ مجھے گاؤں کے چوڑائے پہ کھڑا کرکے گولی مار دیں ۔
میں اتنا بھی بے وقوف نہیں ہوں ۔بلکہ میں تو چاہتا ہوں ان دونوں کی شادی ہو جائے تاکہ کچھ دن کے لیے ان دونوں کا دھیان بٹ اور وہ زمین میری ہو جائے ۔
وہ تو لڑکیاں حسین تھی تو میں نے دل رکھنے کے لیے کہہ دیا کہ میں مدد کروں گا چوہدری نےقہقہ لگاتے ہوئے ان دونوں کی بیوقوفی کا مذاق اڑایا ۔
•••••••••••••••
نکاح کی رسم مکمل ہوچکی تھی آج کی تاریخ میں مقدم شاہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حوریہ کو پاگیا تو دھڑکن ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کردم کے نام کردی گئی ۔
نکاح کے بعد دونوں جوڑیوں کو ایک ساتھ بٹھایا گیا ۔
دھڑکن کی حالت آج بھی کچھ دن پہلے جیسے ہی تھی ۔
لیکن آج رشتہ بدل چکا تھا۔
جبکہ مقدم کی خوشی کا اندازہ اس کے چہرے سے بھی صاف لگایا جا سکتا تھا ۔
سنو تم تو نہیں آئی مجھ سے ملنے کے لیے لیکن آج رات میں آونگا مقدم شاہ نے سامنے دیکھتے ہوئے حوریہ کو سرگوشی نماآواز میں کہا جس کے بعد حوریہ کے دل کی دھرکن کسی گاڑی کی طرح بھاگی تھی
جبکہ دوسری طرف اسے اس طرح سے کانپتے دیکھ کر نرمی سے کہا تھا ۔
ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے میں کچھ بھی نہیں کہوں گا ۔
ریلیکس ہو جاؤ ۔وہ پہلی بار اس سے اتنے نرم لہجے میں بات کر رہا تھا ۔
دھڑکن نے ذرا نظر اٹھا کر دیکھا تو کردم کو پہلی بار زندگی میں مسکراتے ہوئے پایا ۔
دیکھو تو اس طرح سے گھبراو گی تو سب لوگ کیا سمجھیں گے ۔ہہہم۔آرام سے بیٹھو ۔وہ اس کا ہاتھ میں سے اپنے ہاتھوں میں لیے آہستہ آہستہ اس کے ہاتھ کی نرماہٹ کو محسوس کر رہا تھا ۔
••••••••••••••
شام کو مہندی کی رسم ادا ہو رہی تھی
تائشہ اور سویرا فون کا انتظار ہی کرتے رہ گئی لیکن کوئی فون نہیں آیا سویرا کو تو اتنا غصہ آ رہا تھا کہ اس کا دل چاہا ابھی چوہدری کے ڈیرے پر جا کے اس کا منہ توڑ آئے
جبکہ تائشہ روئے جارہی تھی
جس نے ساری پلاننگ کرلی تھی لیکن سویرا کی بات سن کر اس نے نقصان اٹھایا تھا اس نے سوچا تھا کہ وہ خودکشی کا ڈرامہ کرے گی تب کردم اس پر ترس کھا کر اسے شادی کرلے گا ۔
لیکن وہ بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکی اسے رہ رہ کر سویرا پہ غصہ آ رہا تھا ۔
جس نے اس سے کہا تھا کہ جو میں کہتی ہوں تم وہ کرو تمہیں کردم شاہ مل جائے گا لیکن اس کے حصے میں کچھ نہ آیا جس طرح سے سویرا خالی ہاتھ تھی
تائشہ اس وقت بیٹھی روئے جارہی تھی جبکہ سویرا اس کے آنسوؤں سے اریٹیٹ ہو چکی تھی ۔
تائشہ فور گارڈ سک رونا بند کرو رونے سے کچھ نہیں ہوگا ہمیں کچھ سوچنا ہوگا۔
کیا ہوگا کیا کریں گے ہم بتائیں مجھے وہ غصے سے غراتے ہوئے بولی ۔
سویرا کو اس کا لہجہ بہت برا لگا تھا لیکن فی الحال وہ ضبط کر گئی کیونکہ اس کے علاوہ اس کا ساتھ دینے والا اور کوئی نہ تھا
اور فلحال تائشہ کی مدد کرنا اس کے لیے بہت ضروری تھا اسی لئے اس کے پاس زمین پر بیٹھ گئی
میری بات سنو تائشہ دھڑکن بہت ڈرپوک ہے اتنی کہ ہم جو بھی کرے گی وہ کسی کو کچھ نہیں بتائے گی میں اس کی بہن ہوں اس کے ساتھ کچھ نہیں کرسکتی لیکن تم میرا مطلب ہے اس سے ڈراؤ دھمکاؤ اور کچھ نہ سہی وہ تمہاری دھمکی میں آکر کر دم سے دور تو رہ سکتی ہے ۔
ہم ان دونوں کا ریلیشن نہیں بننے دیں گے کردم بہت انا پرست ہے اگر دھڑکن نے اسے خود سے قریب آنے سے روکا تو یقین کرو وہ کبھی اسے منہ نہیں لگائے گا
جو لڑکی اس کے کام ہی نہ سکے وہ اس کا کیا کرے گا اچار ڈالے گا چار دن میں طلاق دے کر فارغ کرےگا اور پھر تم سے شادی کرلے گا ۔
سویرا کتنی آسانی سے اپنی ہی بہن کی طلاق کی بات کر رہی تھی ۔
اور اس کی بات پر عمل کرنے کا تائشہ نے پورا ارادہ کر لیا تھا
جبکہ سویرا کو آج ہی پتہ چلا تھا کہ اگر حوریہ سے مقدم کی شادی نہ ہوتی تو سویرا سے بھی کبھی نہیں ہو سکتی تھی کیونکہ حوریہ اس کی پسند ہے اور وہ پہلے ہی اسے ریجیکٹ کر چکا ہے ۔
لیکن وہ بھی فیصلہ کر چکی تھی جس انسان نے اسے ریجیکٹ کیا تھا وہ اس نے حاصل کرکے دم لے گی ۔
لیکن اگر وہ اپنی محبت کا بھوت اتارنا چاہتا ہے تو سویرا کو کوئی اعتراض نہ تھا وہ چار دن اپنی محبت کے ساتھ گزار سکتا ہے
•••••••••••••••••••
مہندی کی رسم ادا ہورہی تھی ۔
حویلی میں شورو ہنگامے تھے ۔دادا سائیں بہت خوش تھے ۔آخر کے دونوں پوتوں کی شادی تھی
اپنی بیٹی کو اپنی خواہش پوری کرتے دیکھ کر احمدشاہ کی آنکھیں بار بار نم ہو رہی تھی ۔
دھڑکن کردم کے ساتھ بیٹھی باربار اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی ۔
دوپہر میں کردم کے نرم لہجے نے اسے ایسا کرنے پر مجبور کردیا آخر وہ بھی اس کا چہرا دیکھ رہی تھی
وہ بھی مقدم سے کم نہ تھا ۔مگر مقدم کی با نسبت اس کے چہرے پر سنجیدگی تھی ۔
جبکہ مقدم تھورا شوخ اور ہنس مکھ تھا ۔
وہ بار بار ایک ہی بات سوچ رہی تھی وہ اور کردم دونوں ایک ساتھ کیسے لگتے ہوں گے ویسے تو لوگوں نے بہت تعریف کی تھی اس کے ذہن میں خود سے ہی سوال پیدا ہو رہے تھے
لیکن وہ جانتی تھی کہ اس کے سوالوں کا جواب دینے کے لئے کردم شاہ اس کے ساتھ آئینے کے سامنے ہرگز کھڑا نہیں ہوگا کیونکہ وہ ان رومینٹک پرسن ہے ۔
دھڑکن کے اس طرح کے چونچلے اسے ہرگز پسند نہیں آئیں گے
یا اللہ میرے نصیب میں کتنا ہنڈسم بندہ لکھ ہی دیا تھا تو تھوڑا رومینٹک بھی لکھ دیتے وہ منہ بسورکر اللہ سے شکایتیں کر رہی تھی ۔
جبکہ دوسری طرف ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مقدم شاہ اس محفل کے ختم ہونے کا انتظار کر رہا تھا کیونکہ اس کے بعد حوریہ اس سے ملنے آنے والی تھی اور اسے یقین تھا کہ اب وہ ہرگز انکار نہیں کرے گی
حوریہ کو ملنے کا آنے کے بعد دھمکی بھی دے چکا تھا کہ نہ آنے کی صورت میں وہ اس کے کمرے میں آ جائے گا ۔
اور اسے یقین تھا کہ وہ کبھی اسے اپنے کمرے میں نہیں آنے دے گی ۔
لیکن ہائے یہ رسم جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی
Ep: 17
رات ایک بجے تک رسم چلتی رہی گاؤں کی عورتوں نے گیت گائے اور نجانے کون کون سے رسمیں ادا کی ۔
مقدم تو اس سب سے اکتا چکا تھا لیکن کردم اپنے باپ کا دل رکھتا تھا جس طرح سے اس کا باپ گاوں والوں سے محبت کرتا تھا بالکل اسی طرح سے وہ بھی گاؤں والوں سے بے پناہ محبت کرتا تھا گاؤں کی کتنی ہی عورتیں اسے اپنا بیٹا نہ صرف کہتی تھی بلکہ مانتی بھی تھی
ان کے مسائل حل کرنا ان کی مشکلوں میں ان کا ساتھ دینا تو کردم کا کام تھا ۔
یہی وجہ تھی کہ گاؤں والے مقدم شاہ سے زیادہ کردم شاہ کو پسند کرتے تھے اور اسی کوئی اگلا سرپنچ بنانا چاہتے تھے
لیکن مقدم کو سرپنچ بننے میں کوئی خاص انٹرسٹ نہ تھا وہ تو اپنی زندگی بہت مزے سے جی رہا تھا ۔
•••••••••••••••••••••
میں پوچھتا ہوں ایسے کیسے میری بیٹی کا نکاح کر دیا ۔
دیکھو قاسم شاہ تم نے کبھی مجھ سے میری بیٹی کو ملنے نہیں دیا کبھی اسے میری شکل نہیں دیکھنے دی لیکن اس کے نکاح میں تو مجھے شامل کر لیتے ۔
ملک آج بندوق یا تلوار اٹھا کر نہیں آیا تھا بلکہ اپنی بیٹی کے لیے آیا تھا جس کے نکاح میں بھی وہ شامل نہ ہو سکا ۔
ملک کی حوریہ کے علاوہ اور کوئی اولاد نہ تھی اولاد ہوتے ہوئے بھی وہ بے اولادوں جیسی زندگی گزار رہا تھا ۔
قاسم شاہ نے کبھی حوریہ کو اس سے ملنے تک نہ دیا ۔
اور آج اسے خبر دئے بغیر ہی حوریہ کا نکاح کردیا ۔
جاؤ قاسم شاہ مقدم شاہ سے پوچھ لو کہ وہ اپنی منکوحہ کو تم سے ملنے کی اجازت دیتا ہے ۔
مقدم شاہ۔۔۔ ملک نے نام دہرایا ۔
ہاں مقدم شاہ وہی مقدم شاہ جس کے باپ کو تم نے بے دردی سے قتل کر دیا تھا ۔وہی مقدم شاہ جس کے تایا کو تم نے بیڑیاں ڈال کر اپنی گاڑی کے پیچھے گھسٹا تھا ۔
وہی مقدم شاہ جس کی پھوپھی کو تم نے زبردستی اپنے نکاح میں لیا تھا ۔
وہی مقدم شاہ جس کی دوسری پھوپھو کو تم نے بیوہ کیا تھا ۔
وہی مقدم شاہ جس کے خاندان کو تم نے برباد کیا تھا اب تمہاری بربادی کی باری ہے ۔
میرا پوتا مقدم شاہ کبھی اپنی بیوی کو تم سے ملنے کی اجازت نہیں دے گا ۔
تم بندق یا تلوار اٹھا کر نہیں لائے ورنہ ہم بھی مقابلہ کرنے کے لیے میدان میں ضرورت اترتے لیکن تم سوالی بن کے آئے ہو اپنی بیٹی سے ملاقات کی بھیک مانگنے آئے ہو لیکن ۔
ہم تمہیں کچھ نہیں دے سکتے ۔بابا سائیں غرور سے کہتے وہاں سے جا چکے تھے ۔
جبکہ ملک اور اس کے آدمی دلہن کی طرح سجی ہوئی حویلی کو دیکھ رہے تھے جس میں آج اس کی بیٹی بہائی جارہی تھی جس میں اسے شامل تک نہ کیا گیا
•••••••••••••••••••
رسم ختم ہونے کے بعد دونوں دولہنیں نے اپنے کمرے میں جا چکی تھی ۔حوریہ نے ابھی ڈریس چینج کرنے کے بارے میں سوچا تھا جبکہ دھڑکن اپنے دوبٹے اور جویلری کے ساتھ بری طرح سے الجھ کر رہ گئی ۔
حوریہ جو اپنی جویلری اتارنے کے بعد اس کے لیے واپس آنے والی تھی پتہ نہیں کہاں رہ گئی ۔
حوریہ دیدہ اب آ جائیں کہاں رہ گئی خدا کے لئے مجھے بچائیں ۔
یہ دوپٹہ نہیں پورا پنجرہ ہے میں تو کیا قید ہوگئی وہ اپنے آپ کو چھڑواتے یہ بھی نہ دیکھ پائی کہ اس کے قریب کون آیا ۔
جبکہ اس کے دوپٹے سے ساری سیفٹی پن ہٹانے کے بعد دھڑکن اس کی طرف پیٹھ کرکے کھڑی ہو گئی
دیدہ یہ بھی اتاریں وہ گلے کے ہار کی طرف اشارہ کر رہی تھی ۔
کردم شاہ نے بہت غور سے اس کا حسین سراپہ دیکھا تھا ۔
وہ بے پناہ حسین تھی شاید اس سے زیادہ حسین وہ پہلے کبھی نہ لگی تھی ۔
مطلب نکاح کے دو بولوں نے اپنا اثر دکھا دیا تھا ۔
اس نے آہستہ سے اس کے گلے کا ہار نکالا اور سامنے ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا لیکن جیسے ہی اس کی نظر شیشے پر پڑی تو دھڑکن بوکھلا کر رہ گئی
کردم سائیں آپ۔۔۔۔۔۔۔ اس کی زبان سے الفاظ اٹک اٹک کر نکلے تھے ۔
ہاں میں سب لوگوں کی وجہ سے ٹھیک سے دیکھ نہیں پایا تمہیں ۔لیکن میں نے نوٹ کیا ہے تم نے مجھے کافی غور سے دیکھا ہے ۔
خیر یہ بتاؤ کہ ہم دونوں ساتھ کیسے لگتے ہیں وہ آئینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔
میں تو ٹھیک ہوں تمہاری ہائیٹ بہت کم ہے خیر وہ میں کھینچ کر لمبا کر لوں گا ۔کردم نے مسکرا کر کہا تو دھڑکن نے اسے گھور کر دیکھا
مذاق تھا یار وہ ابھی بھی مسکرا رہا تھا
آپ مذاق بھی کرتے ہیں ۔۔دھڑکن نے پوچھا
اب میں کیا کیا کرتا ہوں یہ تو تمہیں کل رات ہی پتا چلے گا ۔کردم نے بڑے حق سے اس کے لبوں کو اپنے انگوٹھے سے چھوا ۔
حوریہ سے کیا کہہ رہی تھی تم کہ میں رومینٹک نہیں ہوں بورنگ ہوں وہ اس کے مزید قریب ہوا ۔
میرا آج یہاں آنے کا کوئی ارادہ نہ تھا ۔
لیکن پھر سوچا کیوں نے تمہیں ثبوت دے دوں رومینٹک ہونے کا ۔وہ اس کے ہونٹوں پر جھکا اور اپنے ہونٹ اسکے خوبصورت نرم لبوں پر رکھ دیے ۔
دھڑکن نے پیچھے ہٹنے کی ناکام سی کوشش کی ۔لیکن اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر کردم نے اسے مزید اپنے قریب کر لیا ۔
وہ اس کے چہرے پر جھکا اس کی خوشبو کا اپنے سینے میں اتارا وہ اسے مکمل بےبس کر چکا تھا ۔
اس کے پکڑ میں وہ حل تک نہیں پا رہی تھی ۔
کیسا لگا پہلا رومینٹک ڈوز کردم نے پیچھے ہٹتے ہوئے پوچھا ۔
جبکہ وہ اپنی پھولی ہوئی سانسوں کو نارمل کرنے کی کوشش میں نظریں جھکا ادھر ادھر دیکھ رہی تھی اس کا چہرہ شرم سے سرخ ہو چکا تھا ۔
میرے خیال سے آج کے لیے کافی ہے ۔یہ تو ٹریلر تھا بے بی فلم میں کل دکھاؤں گا ۔
تیار رہنا یہ نازک مزاجی نہیں چلے گی وہ اس کی کپکپاہٹ کو دیکھتے ہوئے بولا ۔
ویلکم ٹو مائی لائف ۔۔۔
وہ اس کے ماتھے کو اپنے ہونٹوں سے چھوتا باہر چلا گیا ۔
جبکہ دھڑکن نے اپنے ماتھے سے پسینہ صاف کیا اور جلدی سے کمرے کا دروازہ بند کیا وہی کمرے کے دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی ۔
اب اسے حوریہ کا انتظار بالکل نہیں تھا ۔
یا اللہ یہ تو ضرورت سے زیادہ رومانٹک ہیں دھڑکن نے اپنے دھڑکتے ہوئے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا
پھر خود ہی شرما کااپنے ہاتھوں میں چہرہ چھپا گئی
••••••••••••••
مقدم شاہ مسلسل ایک گھنٹے سے حوریہ کا کمرے میں آنے کا ویٹ کر رہا تھا
لیکن وہ ابھی تک نہیں آئی تھی ۔
حوریہ کانہ آنا اسے غصہ دلا رہا تھا ۔
اب تک کیوں نہیں آئی وہ اب تک تو آ جانا چاہیے تھا ۔
وہ کمرے میں چکر کاٹتا مسلسل اس کا انتظار کر رہا تھا ۔
اب صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو رہا تھا ۔
حوریہ اگر آج تم میرے کمرے میں نہ آئی تو تمہیں یہ رات بہت بھاری پڑے گی ۔
وہ مسلسل ٹہلتے ہوئے بڑبڑارہا تھا ۔
تمہارے پاس یہ آخری آدھاگھنٹہ ہے حوریہ اگر تم اس آدھے گھنٹے میں نہیں آئی تو پھر مجھے مجبوراً آنا پڑے گا وہ خود سے اسے ٹائم دے رہا تھا ۔
اور پھر اسی طرح سے ٹہلتے ٹہلتے یہ آدھا گھنٹہ بھی گزر گیا ۔
تمہارا وقت ختم ہوا حوریہ۔ اور آج کی رات اپنے شوہر کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ ۔
وہ کمرے سے نکلتے ہوئے بڑبڑایا تھا ۔
لیکن اپنے کمرے کے کچھ فاصلے پر سویرا کو دیکھ کر وہی رک گیا ۔
اس رات اس سے ٹکرانے سے پہلے اور بعد میں دونوں کے بیچ کوئی بات نہ ہوئی تھی یہاں تک کہ وہ تو اس کے آنے پر بھی اس سے ملا تک نہ تھا ۔
مقدم شاہ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے سویرا اس کے قریب آ کر کہنے لگی ۔
ہم صبح بات کریں گے ۔وہ اگنور کرتا آگے جانے لگا اس کے اس انداز پر سویرا سلگ اٹھی ۔کوئی اسے اس طرح سے اگنور کرے اسے ہرگز گوارا نہ تھا ۔
میری بات ضروری ہے شاید آپ کو یہ بات پتا نہیں ہے حوریہ کس کی بیٹی ہے ۔کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کی شادی جس لڑکی سے ہوئی ہے اس کا باپ تایا سائیں کا قاتل ہے آپ کو اندازہ بھی ہے اس کے باپ نے کیا کیا نہیں کیا اس خاندان کے ساتھ
سویرہ نےدادا سائیں اور ملک کی باتیں سن لی تھی اور یہی سوچا تھا کہ اس راز کے ذریعے وہ مقدم کے دل میں حوریہ کے لئے نفرت پیدا کرے گی ۔
آپ کو پتہ ہے آج وہ شخص یہاں بھی آیا تھا حوریہ کی نکاح میں شامل ہونے کے لئے لیکن دادا سائیں نے اسے نکال دیا ۔
کیا آپ کو پتہ ہے ۔۔۔ ۔
مجھے سب کچھ پتہ ہے اس بارے میں سب کچھ جانتا ہوں میں اس خاندان کا کوئی بھی راز مجھ سے چھپا ہوا نہیں ہے ۔
لیکن ایک بات سویرہ جو تمہیں بھی بتانا چاہوں گا وہ یہ ہے کہ حوریہ ملک کی بیٹی نہیں بلکہ مقدم شاہ کی بیوی ہے ۔
اور اس گھر میں اس کی حیثیت وہی ہے جو مقدم شاہ کی بیوی کی ہے اس کے علاوہ وہ دادا سائیں کی سب سے لاڈلی بیٹی کی آخری نشانی ہے ۔
میں سمجھ سکتا ہوں شاید یہ جان کر کے حوریہ ملک کی بیٹی ہے تمہیں افسوس ہوا ہوگا لیکن وہ صرف ہمارے دشمن کا خون نہیں ہے سویرا وہ ہمارے گھر کی بیٹی ہے ۔
مقدم کو لگا کے شاید اپنے خاندان کے قاتل کے بارے میں سن کر سویرا کو دکھ ہوا ہے اسی لیے اس نے سمجھانے والے انداز میں کہا اور آگے بڑھ گیا ۔
جبکہ سویرا کو لگ رہا تھا کہ یہ باتیں جان کر مقدم غصے میں حوریہ کے ساتھ کچھ الٹا سیدھا کرے گا تو یہ صرف اس کی سوچ ہی رہ گئی ۔
کیونکہ یہ بات اس کے لیے کوئی نئی نہ تھی
•••••••••••••••••••
کیا مجھے وہاں جانا چاہیے ۔حوریہ نے خود سے سوال کیا نہیں نہیں پتا نہیں مقدم سائیں میرے ساتھ کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ سوچتے ہوئے واپس بیٹھ گئی ۔
لیکن اگر میں نا گئی تو وہ پھر سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی ۔
اسے آگے کنواں پیچھے کھائی نظر آرہی تھی
دونوں ہی طرف سے اپنا نقصان ۔
لیکن بعد میں اپنا نقصان کروانے سے بہتر تھا کہ پہلے سب کچھ ٹھیک کردے ۔
لیکن اگرمقدم سائیں نے کچھ ایسا ویسا کیا تو ۔
ہاں تو کیا ہوا وہ میرے شوہر ہیں وہ خود کو جواب دیتی پھر اٹھ کر کھڑی ہوگئی ۔
لیکن ابھی میری رخصتی تو نہیں ہوئی نا
۔لیکن نکاح تو ہوگیا ہے کبھی اس کا دل ہاں اور کبھی نہ کر رہا تھا ۔
اگر مقدم سائیں خود یہاں گئے تو ۔تو پھر تیرا بیرا غرق ہوگا حوریہ
مجھے مقدم سائیں کو غصہ بالکل نہیں دلانا چاہیے مجھے جانا چاہیے ان کے کمرے میں ۔
خود سے فیصلہ کرتے ہوئے اٹھی تو اس کے کمرے کا دروازہ بجا ۔
وہ خود ہاں نہ سی کیفیت میں اٹھ کا دروازہ کھولنے لگی لیکن سامنے دیکھتے ہی اس کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے نیچے رہ گئی
Ep: 18
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں دادا سائیں ملک یہاں آیا تھا ۔
آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا ۔کردم کو ملک کے بارے میں سوچ کا ہی غصہ آنے لگا تھا ۔
کردم سائیں اپنا غصہ کنٹرول کریں ۔
آج کی تاریخ میں اس شخص کے لئے یہی شکست کافی ہے کہ اسے اس کی بیٹی کے نکاح میں شامل نہیں کیا گیا ۔
ہم جانتے ہیں ہم نے حوریہ کو کبھی اس کی اولاد نہیں مانا کبھی اس سے ملنے نہیں دیا لیکن سچ یہ بدل تو نہیں سکتا کہ حوریہ اس کا خون ہے ۔
جس سے وہ بے پناہ محبت کرتا ہے ۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے دادا سائیں کہ حوریہ صرف اس کا ہی نہیں بلکہ پھوپھو سائیں کا بھی خون ہے ۔
ہم نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہم حوریہ کی زندگی اس شخص کے حوالے کبھی نہیں کریں گے ۔
حوریہ اس گھر کی بیٹی ہے ۔
دادا سائیں جانتے تھے کہ کردم شاہ کے سامنے ملک کا ذکر بھی غلط ہے اس شخص کے نام پر وہ غصے سے آگ بگولا ہو جاتا
آج انہوں نے کردم کو یہاں دھڑکن کے بارے میں پوچھنے کے لیے بلایا تھا ۔لیکن کسی نوکر نے یہاں آتے ہوئے اسے یہ بتا دیا کہ ملک حویلی آیا تھا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت غصے میں تھا ۔
ملک کے سامنے تو وہ کہہ آئے تھے کہ وہ جیت گئے ہیں ۔لیکن یہ بھی بات سچ تھی کہ آج ملک کو دیکھ کر ان کے پرانے سارے زخم تازہ ہو گئے تھے ۔
کردم ہم نے آپ کو یہاں کسی اور مقصد کے لیے بلایا تھا ۔اور آپ ہیں کہ دشمن کو لے کر بیٹھ گئے ہیں اس آدمی کا ذکر کرنے سے بہتر ہے کہ ہم اپنی خوشی آپ کے ساتھ منائیں
کردم شاہ جانتا تھا کہ آج اس کے دادا کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں ۔اسی لیے فی الحال وہ بھی ملک کا ذکر نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
کہیں آپ نے کیوں بلایا ہے وہ تھوڑا نارمل انداز میں پوچھنے لگا ۔
ہم نے یہ پوچھنے کے لئے بلایا ہے کہ تمہیں دھڑکن پسند تو ہے میرا مطلب ہے کہیں تائشہ کے لیے تمہارے دل میں جذبات تو نہیں اس دن تائشہ کا نام ہٹا کر جب ہم نے دھڑکن کا نام لیا تو تمہارا چہرہ بے تاثر تھا ۔
ہمیں تمہارے چہرے پر کہیں پر بھی اس کے لیے محبت نظر نہیں آئی ۔ہم جانتے ہیں کہ جذبات میں بہہ کر ہم نے تائشہ کے ساتھ ناانصافی کی ہے ۔
لیکن بہت جلد ہم اسے پیار سے بٹھا کر سمجھائیں گے تو وہ ہماری بات سمجھ جائے گی بہت سمجھدار بچی ہے ۔
لیکن ہمیں ڈر ہے کہ ہم نے تمہارے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کی نا ۔
دادا سائیں نے اس سے پوچھا تو وہ مسکرا دیا ۔
دھڑکن کا معصوم چہرہ ایک بار پھر سے نظروں کے سامنے لہرایا تھا ۔
وہ جونکاح کے بعد محبت پر یقین رکھتا تھا آج دل سے اس بات پر ایمان بھی لے آیا تھا ۔
آپ کا ڈر بالکل بے مقصد ہے دادا سائیں آپ کی پسند میری پسند ۔
وہ لڑکی جو شادی سے پہلے ہی اپنے آپ کو اس کی پسند میں ڈال چکی تھی وہ اسے کیسے پسند نہ آتی ۔
اور کوئی سوال ۔۔۔۔۔۔؟اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا تو دادا سائیں نے نہ میں گردن ہلائی ۔
جاو آرام کرو کل شادی ہے تمہاری ۔دادا ساری نے خوشی سے کہا
••••••••••••••••••
یہ کیا کہہ رہی ہے تو تائشہ تم لوگ چوہدری کے پاس کیوں گئی تھی
تمہیں اندازہ بھی ہے اگر اس بارے میں کر دم اور مقدم
کوپتا چل گیا تو۔ ۔۔۔؟
ایسا کیسے کر سکتی ہے تو رضوانہ تو غصے سے آگ بگولا ہو چکی تھی ۔
مجھےسویرا دیدا نے جو بولا وہ میں نے کردیا اماں سائیں غلطی ہوگئی مجھ سے
میں نےنانا سائیں کے کمرے سے اس زمین کے اوریجنل پیپر چودھری کو دے دیے لیکن میں نے سویرا دیدہ کے کہنے پر ایسا کیا انہوں نے کہا کہ چودھری ہماری مدد کرے گا توکردم سائیں کا اس دھڑکن سے نکاح رک جائے کا ۔
اور اگر نکاح رک گیا تو ان کی شادی مجھ سے ہو جائے گی ۔
تیرا دماغ خراب ہوگیا تھا یہ تو نے کیا کر دیا ۔
اب کیا ہوگا آج نہیں تو کل یہ بات کردم سائیں کو پتہ چل جائے گی پھر وہ کبھی تم سے شادی نہیں کرے گا ۔
اور اب تو بالکل بھی نہیں ۔ ہمارے خاندان میں مرد بس ایک ہی بار شادی کرتا ہے ۔
اور کردم شاہ کا نکاح ہو چکا ہے اس بات کو قبول کرو وہ اب تجھے کبھی نہیں اپنائے گا بھول جاؤ اسے اور اپنی آنے والی زندگی کے بارے میں سوچو ۔
تجھے اندازہ بھی ہے جو غلطی تو نے کی ہے وہ کیا رنگ لائے گی اور اس زمین پر بچیوں کا سکول نہیں بنے گا ۔
اگر اوریجنل پیپر چوہدری کے پاس چلے گئے ہیں تو اس کی بہت بڑی قیمت چکانی ہوگی تائشہ ۔
لیکن میں نے کچھ نہیں کیا جو بھی کیا سویرا دیدہ نے کیا ۔تائشہ نےا ماں کو سمجھاتے ہوئے کہا
لیکن تیری اس بات کو کون قبول کرے گا کہ تم نے جو کچھ بھی کیا وہ اس کے کہنے پر کیا ۔
کیا تو اپنی عقل نہیں رکھتی تھی ۔
رضوانہ کو پریشانی کھائے جا رہی تھی
جبکہ تائشہ کو اب اس بات کی فکر تھی کہ اگر کردم کو یہ پتہ چل گیا کہ وہ اوریجنل پیپر چودھری تک پہنچانے میں تائشہ کا ہاتھ ہے تو وہ اسے کبھی معاف نہیں کرے گا پیار تو بہت دور کی بات ہے
•••••••••••••••••••
اپنے سامنے مقدم شاہ کو کھڑا دیکھ کر اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے جبکہ وہ اس کے کمرے کے اندر آیا اور آہستہ سے دروازہ بند کر دیا
تمہیں کیا کہا تھا میں نے ایک بار میری بات سمجھ میں نہیں آئی تھی وہ آنکھوں میں سختی لیے بول رہا تھا
اس کے آنکھوں کی سختی دیکھ کر حوریہ گھبرا کر پیچھے ہٹی ۔
قسم سے مقدم سائیں میں آ رہی تھی ۔وہ اس سے ڈرتے ہوئے اتنی جلدی میں بولی تھی کہ مقدم شاہ کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی جسے وہ بڑی صفائی سے چھپا گیا
اچھا مطلب عاشق کو تڑپا تڑپا کے آنے کا ارادہ تھا ۔
لیکن تمہارا عاشق نہ صبر کے معاملے میں بہت کمزور ہے ۔اسی لئے تمہارے آنے سے پہلے حاضر ہوگیا ۔
وہ اسے کھینچ کر اپنی باہوں میں بھر چکا تھا ۔
مقد م سے فی الحال وہ اس طرحکی امید نہیں رکھتی تھی اسی لئے اس کے باہوں میں بوکھلا کر رہ گئی
جویلری اور میک اپ وہ صاف کر چکی تھی لیکن مہندی کا پیلا جوڑا ابھی اس کے بدن پر موجود تھا ۔
بہت خوبصورت لگ رہی ہو ۔
اس کے نازک سے سراپے سے اٹھتی اوپٹن اور مہندی کی خوشبو اسے بے قابو کر رہی تھی۔
اوپر سے نکاح کا جائز رشتہ اور احساس ملکیت اسے بہت کچھ کرنے پر مجبور کر رہا تھا ۔
وہ بنا اس کی حالت کی پرواہ کیے اس کے لبوں پر جھکا اور اس اسحقاق سے اپنی محبت کی پہلی مہر لگائی ۔
اس کی اس بے ساختہ جرت پر حوریہ گھبرا کر پیچھے ہٹی
حوریہ نے اس سے دور اٹھنا چاہا لیکن نہ تو مقدم شاہ کے گرفت اتنی ڈیلی تھی اور نہ ہی حوریہ میں اتنی جان کہ وہ اس کے حصار سے نکل پاتی۔
حوریہ جتنا اس سے دور جانے کی کوشش کرتی مقدم اسے کمر سے پکڑ اتنا ہی اپنے نزدیک کر چکا تھا
وہ نازک سی جان بہت مشکل میں پڑ چکی تھی
اس کے لبوں کو آزاد چھوڑتا وہ نگاہوں میں خمار لیے اسے
کے حسین سراپے کو اٹھائے بیڈ پر آیا ۔
حوریہ کو لیٹا کر خود بالکل اس کے ساتھ لیٹتا ہوا اس کے دونوں ہاتھ تھام کر اپنے لبوں سے چھونے لگا
اب تو کوئی پابندی نہیں ہے نہ اس کے دونوں ہاتھوں کو قید کرتا مدہوش لہجے میں بولا ۔
اب ہوگیا نکاح وہ اس کی تھوڑی کو اپنے لبوں سے چھوتا اس کی صراحی دار گردن کی طرف آیا ۔
اور اپنے دہکتے ہوئے لبوں کو سیراب کرنے لگا
نہیں ۔۔۔۔۔مقدم نے اس کا دوپٹہ اس کے بدن سے الگ کیا اس سے پہلے کہ وہ زمین پر گرتا حوریہ اسے تھام چکی تھی ۔
مقدم شاہ نے آنکھوں میں غصے کے شرارے لئے اس کے چہرے کی طرف دیکھا
اس وقت تمہاری مزاحمتیں برداشت نہیں کروں گا میں ۔
تمہارے قریب آنے کی شرط تم نے نکاح رکھا تھا جو پوری ہو چکی ہے ۔
اب تم مجھے روکنے کا حق نہیں رکھتی ہو ایک بار پھر سے اس کے لبوں پر جھکتا ہوا سخت لہجے میں بولا ۔
مقدم شاہ نکاح ہوا ہے رخصتی نہیں ۔ لبوں کو آزادی ملتے ہی حوریہ بےبسی سے بولی
حوریہ کے دل کی دھڑکن مقدم کے سینے میں دھڑکتا اس کا دل محسوس کر رہا تھا
کل تک صبر کرلیں ۔۔۔۔۔ حوریہ نے اس کے باہوں میں قید بے بسی سے کہا تھا ۔
اگرمیرا جواب انکار ہو تو ۔شاید مقدم اس سے زیادہ بے بس تھا
آنسو خاموشی سے اس کی آنکھوں سے نکل کر تکیے میں جذب ہو چکا تھا ۔
مقدم شاہ کی نظروں سے وہ آنسو بھی چھپانا رہا وہ اس کے ایک ایک جذبات سے واقف تھا ۔
مقدم نے سختی سے اس کے بال اپنی مضبوط مٹھی میں پکڑے اور اس کا چہرہ اپنے چہرے کے بالکل قریب لے آیا ۔
اگر تم نے کل مجھے یہ نخرے دکھائے تو میں کوئی لحاظ نہیں کروں گا ۔
وہ اتنی سختی سے بولا تھا کہ حوریہ ایک لفظ بھی ادا نہ پائی
مقدم نے اسے پھینکنے والے انداز میں خود سے دور کیا تھا ۔
نظریں صاف اس سے ناراضگی کا اظہار کر رہی تھی ۔
لیکن حوریہ میں نہ تو اس اسے روکنے کی ہمت تھی ۔اور نہ ہی اپنی تربیب کو شرمندہ کرنے کا حوصلہ ۔
میں کل آپ کو منا لوں گی مقدم سائیں ۔اس کے جانے کے بعد حوریہ خاموشی سے اٹھی اور دروازہ بند کیا ۔
اسے یقین تھا کہ وہ اسے منا لے گی ۔
لیکن مقدم کا غصے میں جانا اچھا نہ لگا تھا
••••••••••••••••
آج ان کی رخصتی تھی کردم کی کل والی حرکت کے بعد دھڑکن اس حد تک ڈری ہوئی تھی کہ اسے کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا ۔
اس وقت بھی کردم اسے نظروں کے حصار میں لیے اس کے بالکل سامنے کھڑا تھا ۔جبکہ دھڑکن اس کی نظروں سے کنفیوز ہو رہی تھی
وہ ہر تھوڑی دیر میں نگاہیں اٹھا کر کردم کو دیکھتی اور ہر بار اسے خود کو دیکھتا پا کر نگاہیں جھکا لیتی
نہ جانے اس کے دل میں کیا چل رہا تھا ۔
جبکہ وہ اسے خود دیکھتے پاکر مسکرا رہا تھا
اپنی شادی پر بھی کردم بیچارا سب کچھ اکیلے سنبھال رہا تھا مقدم نہ جانے کہاں تھا ۔
صبح اسے کہہ کر گیا تھا کہ تھوڑی دیر میں واپس آ جاؤں گا لیکن وہ گیا کہاں یہ سوچ سوچ کر کردم پریشان ہو چکا تھا
ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی دلہنوں کو لاکر باہر بٹھایا گیا تھا ۔
ناجانے مقدم کہاں تھا ۔
کل رات کے بعد تو وہ حوریہ کو کہیں نظر نہ آیا ۔
شاید وہ اس سے بہت غصہ تھا ہاں یہ سچ تھا کہ حوریہ کو نکاح کے بعد اس کے قریب آنے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن پھر بھی کل رات مقدم کے اس کے قریب آنے پر حوریہ نے اسے خود سے دور کردیا ۔
ٹھیک ہے حوریہ اس کی بیوی تھی لیکن ابھی تک اس کی رخصتی نہیں ہوئی تھی اسے عزت کے ساتھ مقدم کے کمرے تک رخصت نہیں کیا گیا تھا ۔
وہ کسے جاتی اس کے قریب
مقدم شاہ یہی سمجھ رہا تھا کہ وہ اس کے جذبات کی قدر نہیں کرتی ۔
حوریہ کو اس کا احساس نہیں ہے ۔لیکن مقدم جس طرح رات غصے سے اس کے کمرے سے گیا تھا وہ بہت ڈری ہوئی تھی نجانے وہ اس کے ساتھ کیا سلوک کرے ۔
••••••••••••••••••
دماغ خراب ہوگیا ہے تائشہ اگر یہ بات تم نے اسے بتا دی تو وہ کیا کرے گا ۔
تائشہ نے ابھی سویرہ کو آکرکہا تھا کہ وہ کردم کو یہ بات بتا دی گئی کہ وہ فائل چودھری تک ان دونوں نے پہنچائی ہء۔
نہیں سویرہ دیدہ مجھے یہ بات کر دم سائیں کو بتانی ہوگی کہ وہ فائل چوہدری تک پہنچانے والی میں ہوں نہیں تو وہ بعد میں مجھے کبھی معاف نہیں کریں گے ۔
اور ابھی معاف کردے گا نہیں نہ وہ اپنی شادی والے دن ہی ہو تمہیں شوٹ کردے گا ۔
تھوڑا صبر کر لو ۔میں نے تمہارے لئے بہت خاص پلاننگ کر کے رکھی ہے ۔مجھے پہلے سے ہی پتہ تھا کہ تم دھڑکن کو ڈرا نہیں پاؤ گی
اسی لئے اس بار جو میں نے پلاننگ کی ہے اسے کردم کبھی دھڑکن کے نزدیک نہیں جا پائے گا ۔
ایسا کیا کیا ہے آپ نے اب تائشہ کو سویرا پر بالکل بھی یقین نہ تھا تائشہ اور سویرہ کی ساری پلاننگ فیل ہوئی تھی کردم اور دھڑکن کا نکاح ہوگیا تھا تو اب ان دونوں کو ایک دوسرے سے الگ رکھنا ناممکن تھا تائشہ یہ بات سمجھ رہی تھی لیکن سویرا کے دماغ میں نہ جانے کیا چل رہا تھا ۔
تم دیکھتی جاؤ تائشہ تم نے تو میرا ساتھ چھوڑ دیا لیکن میں تمہارا ساتھ نہیں چھوڑوں گی ۔
شاطرانہ انداز میں مسکراتی سویرہ آگے بڑھ چکی تھی جبکہ تائشہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ سویرا نے کیا سوچا ہے
•••••••••••••••••••
رخصتی کا وقت ہو چکا تھا لیکن نہ جانے مقدم کہاں تھا
دادا سائیں دو تین بار اسے فون کر چکے تھے ۔
لیکن ہر بار ایک ہی جواب ملتا کہ اس کا فون بند ہے ۔
اب دادا سائیں کو پریشانی ہونے لگی تھی ۔
آخر مقدم گیا تو گیا کہاں ۔۔۔
میں ڈیرے پر چکر لگا کے آؤں وہ دو تین لوگوں کو ڈیرے پر بھیج چکے تھے لیکن مقدم کا کچھ پتہ نہ چلا اب کردم دادا سائیں کی پریشانی دیکھتے ہوئے بولا تھا ۔
نہیں کردم تم کہیں نہیں جاسکتے رخصتی کا وقت ہونے والا ہے بچیاں انتظار کر رہی ہیں مہمان انتظار کر رہے ہیں
تو پھر کیا کریں گے کردم نے پوچھا۔
اس طرح بغیر دلہے کے دلہن کو رخصت تو نہیں کر سکتے نا ۔پہلے دھڑکن کی رخصتی کرتے ہیں پھر حوریہ کے بارے میں سوچتے ہیں ۔
دادا نے سائیں نے پریشانی سے کہا
مقدم اتنا غیرزمادار تو کبھی نہ تھا
لوگوں کے بیچ میں باتیں شروع ہوچکی تھی کہ مقدم شادی سے غائب ہے ۔
لیکن وہ کہاں گیا ہے کوئی نہیں جانتا تھا ۔
••••••••••••••••••
مقدم سائیں آپ کہاں چلے گئے ہیں وہ مجھ سے ناراض ہو کر تو نہیں چلے گئے حوریہ کو اپنے ہی اندیشہ کھائے جا رہے تھے ۔
اسے بار بار مقدم کا غصے سے بھرا چہرہ یاد آتا ۔
نہیں مقدم سائیں آپ اس طرح سے نہیں کر سکتے میری غلطی اتنی بڑی نہیں ہے جس کی سزا اس طرح دی جائے
حوریہ کے ہاتھ پیر کانپنے لگے تھے
دھڑکن کو اکیلے رخصت کرتے ہوئے بہت عجیب لگ رہا تھا ۔
لیکن اس سے پہلے کے دھڑکن کی رخصتی شروع ہوتی مقدم پہنچ ایا ۔
کہاں تھے تم مقدم ہم تمہارا انتظار کر رہے تھے اتنی غیر ذمہ داری ۔
دادا سائیں نے غصے سے کہا ۔
دادا سائیں زمین کے پیپرزکسی نے حویلی سے چوری کرکے چودھری کو پہنچا دیے تھے بس میں وہی پیپرز لینے گیا تھا میرے دادا سائیں کا خواب پورا نہ ہو ایسے میں ہونے نہیں دوں گا ۔مقدم نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے پیپرز کی طرف اشارہ کیا
جسے دیکھتے ہی سویرااور تائشہ کے رونگٹے کھڑے ہو چکے تھے ۔
یہ پیپرز ہمارے روم میں تھے وہاں سے کس نے نکالے ۔
داداسائیں نے پریشانی سے پوچھا ۔
وہ تو پتہ چل ہی جائے گا آپ پریشان مت ہوں اس نے تائشہ کو سخت نظروں سے گھورتے ہوئے دادا سائیں کو جواب دیا ۔
اب چلے نہ میری دلہن کب سے میرا انتظار کر رہی ہے ۔مقدم نے مسکراتے ہوئے کہا تو دادا سائیں نے اس کے کپڑوں کی طرف اشارہ کیا ۔
اس حلیےمیں دلہن نہیں ملے گی کیا ۔مقدم نے مسکراتے ہوئے کردم کی طرف دیکھا ۔
بالکل نہیں اگر میری بہن چاہیے تو اپنا حلیہ درست کرو کردم نے روعب جھاڑتے ہوئے کہا ۔تومقدم مسکراتا ہوا اپنے کمرے کی طرف چلا گیا ۔لیکن ایک سخت نظر تائشہ کو ڈالنا نہ بھولا ۔
••••••••••••••••••••
میں تمہارا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گی بیٹا تم نے تائشہ کو کردم کی نظروں میں گرنے سے بچا لیا ۔
پھوپو سائیں آپ کے لئے کچھ بھی کروں گا لیکن تائشہ کو کہے کہ بازآ جائے ان سب حرکتوں کا کوئی فائدہ نہیں کردم کا نکاح ہوچکا ہے ۔
اللہ نے اس کے نصیب میں بھی کچھ اور لکھا ہوگا ۔
اسے کہیں کہ اس طرح سے ناشکری کرکے اپنا نصیب نہ بھگاڑے ۔
مقدم نے پھوپو سائیں سے نرم لہجے میں بات کی تھی لیکن تائشہ پر اسے اب بھی بہت غصہ تھا ۔
جو کردم کے لئے اپنے نانا کا خواب اس طرح سے کسی کے حوالے کر آئی تھی ۔
•••••••••••••••
رخصتی کی رسم ادا ہوچکی تھی ۔
دھڑکن کو کردم کے کمرے میں پہلے چھوڑا گیا ۔
جانے کتنی ہی چھوٹی چھوٹی رسم تھی جو اسی حویلی سے شروع ہوکر کی حویلی میں ختم ہوگئی ۔
لیکن اسے بار بار اپنے بابا یاد آرہے تھے جو رخصتی میں بہت زیادہ اداس لگ رہے تھے ۔
انہوں نے اس سے کہی بات کی تھی کہ کردم تمہارا سایہ ہے اور تم نے ساری زندگی اسی کے ساتھ گزارنی ہے ۔
مرد کے بغیر عورت کا کوئی وجود نہیں ۔
ایک مرد ہی عورت کا اصل محافظ ہے اور دھڑکن کا حافظ اب کردم ہے ۔
بابا کی ساری باتوں پر ہاں میں سر ہلاتی کو ان کے سینے سے لگ کر بہت روئی تھی ۔
جبکہ حوریہ کو اس طرح کا کوئی کندا نصیب نہ ہوا سوائے کردم کے ۔
وہ جو کہہ رہی تھی کہ وہ نہیں روئے گی اس نے کہاں کسی اور گھر جانا ہے لیکن نہ جانے کیوں کردم کا کندھا ملتے ہی اس کی آنکھیں نم ہونے لگی ۔
شاید ہی وہ اس گھر میں کردم سے زیادہ کسی سے محبت کرتی تھی وہ اس کا سگا بھائی نہیں تھا مگر سگوں سے بڑھ کر تھا
Ep: 19
دھڑکن کو لاکر کردم کے کمرے میں بٹھا دیا گیا
لیکن اسے زیادہ دیر انتظار نہ کرنا پڑا ۔
تھوڑی ہی دیر میں کردم کمرے میں آ گیا تھا کیونکہ کردم کبھی زیادہ دوست نہیں بناتا تھا اور گاؤں کے کسی بھی لڑکے کی اتنی اوقات نہ تھی کے کردم کو اس کی دلہن سے ملنے سے روک سکے ۔
جبکہ سویرا اور تائشہ نے کسی رسم میں حصہ نہ لیا ۔
اس نے سالی ہونے کے ناطے سویرا کے لئے گفٹ لیا تھا لیکن شاید اسے کیسی رسم میں کوئی دلچسپی نہ تھی ۔
وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کے قریب آکر بیٹھا دھڑکن اپنے دل کی دھڑکن شمار کرتی چپکے سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
اب بتانا شروع کروں میں رومینٹک ہوں یا نہیں ۔وہ اس کے کان کے قریب سرگوشی کرتے ہوئے بولا ۔
نہیں مجھے پتہ ہے آپ ہو ۔۔اپنی جان مشکل میں دیکھ کر دھڑکن فوراً سے بولی تھی ۔
اچھا تو تمہیں پتہ ہے کہ میں رومنٹک ہوں ذرا مجھے بھی بتاؤ کہ میں کتنا رومینٹک ہوں اسے ایک ہی لمحے میں کھینچ کر اپنے قریب کر چکا تھا ۔
کردم سائیں میں بہت تھک گئی ہوں مجھے یہ سب کچھ اتارنا ہے ۔وہ اسے اپنے اس قدر نزدیک دیکھتے ہوئے بولی ۔
تکیلف کرنے کی کیا ضرورت ہے اس کام کے لیے میں ہوں نا ۔
وہ اسے اپنی باہوں سے چھوڑے بغیر بولا ۔دھڑکن نے ایک بے بس سی نظر اس کے چہرے پر ڈالی ۔
اس طرح سے مت دیکھو دھڑکن تمہاری جان مشکل میں پڑ جائے گی ۔
وہ شرارت سے کہتا ہے اس کے خوبصورت چہرے پر جھکا
اس کے لبوں کو آزادی بخش تو دھڑکن ذرا سا پیچھے ہٹی بو اس کی قربت میں اپنے آپ کو بالکل بے بس محسوس کر رہی تھی ۔
کردم نے اسے اس طرح سے خود سے فاصلہ بناتے ہوئے دیکھا تو مسکرا دیا ۔
آج کی رات یہ دوریاں نہیں چلے گی وہ اسے اشارے سے اپنے قریب بلا رہا تھا ۔
مجھے چینج کرنا ہے وہ اس کی گستاخ نظروں سے چپکنے کی کوشش کرتے ہوئے بہانہ بنانے لگی ۔
ابھی تو کہا اس کام کے لیے کردم سائیں حاضر ہے وہ اس کا ہاتھ پکڑ کے ایک بار پھر سے اسے اپنے نزدیک کھینچ چکا تھا ۔
اس کا دوپٹا جو نجانے کتنی پیز سے سیٹ کیا گیا تھا وہ ایک ایک کرکے کھولنے لگا۔
کردم سائیں۔ وہ اسے دیکھ کر بے بسی سے پکارنے لگی کیونکہ اس کا دوپٹہ کردم اتار کے دور اچھال چکا تھا ۔
بولو دھڑکن سائیں آج جو کہو گی مانوں گا سوائے دوری کے ۔
دھڑکن کو اپنی شرٹ کی ڈوری کھلتی ہوئی محسوس ہوئی ۔
کردم نے ذرا سا اس کی گردن پر جھکا تودھڑکن نے مضبوطی سے اس کے کندھوں کو تھاما ۔
اس کے اس طرح سے گھبرانے پر مسکرایا تھا ۔
گھبراؤ مت دھڑکن میں کوئی غیر نہیں ہوں جو تم اس طرح سے ڈر رہی ہو ۔مجھ سے اس طرح سے ڈرو گی تو مجھے بالکل اچھا نہیں لگے گا ۔
وہ اسے خود سے لگائے محبت سے بولا ۔
دھڑکن نے ایک نظر اس کے چہرے کو دیکھا پھر اس کے سینے میں چہرہ چھپا گئی
آپ اس طرح سے دیکھیں گے تو ڈر تو لگے گا نا۔۔۔وہ آہستہ سے منمنائی تو کردم مسکرا دیا
مطلب دیکھنے سے مسئلہ ہو رہا ہے ابھی اس مسئلہ کا حل نکالتے ہیں ۔کردم نے مسکراتے ہوئے اسے بیڈ پر لٹایا اور ہاتھ بھراکر لائٹ آف کر دی ۔
اب تو ڈر نہیں لگ رہا نا ۔وہ اہستہ سے اس کے کان میں سرگوشی کرتا پوچھ رہا تھا ۔جب دھڑکن نرمی سے مسکرا دی۔
وہ کوئی غیر محرم تھوڑی تھا جس کی قربت میں وہ ڈر تھی وہ اس کا شوہر تھا اس کا محرم اس کا جیون ساتھی دھڑکن اپنی آنکھیں بند کیے کردم کی بے باکیاں محسوس کر رہی تھی
••••••••••••••••
مقدم نے کمرے میں قدم رکھا تو حوریہ بیڈ پر بیٹھی کافی گھبرائی ہوئی تھی ۔
وہ اپنی شیروانی کے بٹن کھولتا اس کے قریب آیا ۔
اور ایسے ہی کھڑے اس نے اسے اپنی طرف کھینچا تھا ۔
میں نے سوچا تھا کہ آج کی رات میں تم سے اپنی بےعزتی کا بدلہ لوں گا ۔
لیکن تمہارے اس معصوم چہرے کے آگے میں ہمیشہ بے بس ہو جاتا ہوں ۔
اسی چہرے میں تو مجھے اپنا گھائل بنایا ہے وہ بے دردی سے اس کے لبوں کو نشانہ بناتے ہوئے بولا ۔
حوریہ اس کے جارحانہ انداز پر گھبرا کر پیچھے ہوئی۔
جب مقدم نے اسے کھینچ کر ایک بار پھر سے اپنے قریب کیا کہا تھا نہ تم سے کہ کل یہ نخرے برداشت نہیں کروں گا میں ۔
وہ سختی سے کہتا ایک بار پھر سے اس کے لبوں پر جھکا ۔
اسے اپنی لبوں پر چُبن سی محسوس ہوئی۔
اگلے لمحے مقدم نے اسے بیڈ پر دھکا دیا ۔
حوریہ نے اپنے لبوں کو چھوا جہاں خون کی ایک ننھی سی بوند تھی
بڑی سے بڑی غلطی کرلو مسز مقدم شاہ اس سے زیادہ بری سزامقدم شاہ کبھی نہیں دے سکتا ۔
وہ اس کے ماتھے پر اپنی محبت کی مہر لگاتا محبت سے بولا ۔حوریہ پر سکون سے اپنی آنکھیں موند گئی ۔
اگر تم نے مجھے نخرے دکھائے تو پچھتاؤ گی۔ وہ اس کا دوپٹہ اس کے وجود سے الگ کرتا مسکرا کر بولا ۔
آپ نے مجھے ڈرا دیا تھا مقدم سائیں مجھے لگا آپ اب مجھ سے خفا ہیں ۔وہ اس کے سینے میں منہ چھپاتے ہوئے بولی ۔
ناراص تو تھا تم سے لیکن آج تمہارا یہ حسین چہرا دیکھ کر مقدم شاہ اپنی ساری ناراضگی بھول گیا ۔ تمہارے پاس بہت سارے طریقے ہیں مجھے اپنا اسیر کرنے کی ۔سب سے خوبصورت طریقہ تمہارا یہ حسین روپ وہ اس کے دلہن کی طرح سجے سراپے کو دیکھ کر بولا ۔
مقدم نے اسے اپنے مزید قریب کیا تو وہ ذرا سا پیچھے ہٹی مودم کو ناگوار گزرا کہا تھا نہ نخرے برداشت نہیں کروں گا اس کا مطلب ہے کہ مجھے آپ کو نخرے دکھانے کی اجازت نہیں وہ اس کی لو دیتی نظروں میں دیکھتے ہوئے بولی ۔
تمہارا غصہ تمہاری باتیں تمہارے نخرے سب سر آنکھوں پر ۔مگر اس معاملے میں نخرے برداشت نہیں کروں گا ۔
وہ اس کے بالوں کا عاشیآنہ کھلتے ہوئےاس کی گردن میں اپنا چہرہ چھپا گیا ۔
آج میرا ارادہ تمہیں یہ بتانے کا ہے کہ جب سے تم پیدا ہوئی ہو تب سے کتنا تڑپایا ہے تم نے ۔وہ اس کی آنکھوں پر محبت کی مہر لگاتا آہستہ آواز میں بولا ۔
جب سے میں پیدا ہوئی ہوں حوریہ نے سرگوشی نما آواز میں کہا ۔
ہاں جب سے تم پیدا ہوئی تب سے مقدم شاہ نے تمہیں چاہا ہے ۔تمہیں اپنے لئے سوچا ہے ۔ کبھی نگاہ بھر کر تمہیں نہیں دیکھا کہیں جذبات نے لگام نہ ہوجائیں ۔
لیکن آج یہ دریا نہیں رکے گا ۔
آج تمہارے وجود کی رانیاں مقدم شاہ کے نام ہیں
جسے کو سود سمیت وصول کرے گا مقدم شاہ لائٹ کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس کے نازک وجود کو خود میں سمیٹ لیا اور یہ رات مقدم شاہ کی زندگی کی سب سے خوبصورت تھی۔
•••••••••••
دھڑکن کے ساتھ ابھی مشکل سے اس کے 15 منٹ گزرے تھے کہ اس کا دروازہ زور سے بجا
اف یہ کون سے ظالم لوگ آگئے ہیں جو آج کی رات بھی سکون سے نہیں دے رہے ۔
وہ اندھیرے میں بڑبڑایا تھا ۔
جب اسے دھڑکن کی معصوم سی ہنسی سنائی دی ۔
یہ مت سوچنا کہ تم بچ گئی ہو دو منٹ میں واپس آ رہا ہوں ۔
وہ لائٹ آن کرتے ہوئے بولا ۔
اور ابھی اترای اپنی شرٹ کو دوبارہ پہننے لگا ۔
جبکہ دھرکن شرم سے نظر تک نہیں ملا پا رہی تھی ۔
ابھی اتنا بھی مت شرماؤ شرمانے والا تو ابھی کچھ ہوا ہی نہیں ۔
وہ آنکھ دباتا اس کے قریب سے اٹھا اور دروازہ کھولنے لگا
کردم سائیں جلدی چلیے باہر گاوں والے احتجاج کر رہے ہیں ۔
دروازے پہ اس کا خاص ملازم کھڑا اسے بتا رہا تھا ۔
کس بات کا احتجاج کر رہے ہیں کردم کوکچھ سمجھ نہ آیا تھا ۔
آپ نیچے چلے ملازم نے پریشانی سے کہا تو کردم دروازہ بند کرتا ہوں نیچے آگیا
•••••••••••••••••
کردم باہر آیا تو بہت سارے لوگ کھڑے تھے ۔
وہ دادا سائیں کے ساتھ آ کر کھڑا ہوا ۔
میں مقدم سائیں کو بلا کے لاتا ہوں اس کے ملازم نے کہا ۔
نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے میں سنبھال لوں گا ۔
کردم کے کہنے پر ملازم نے پیچھے دور کھڑی سویرا اور تائشہ کو دیکھا تھا ۔
پھر وہ نظر جھکا گیا
تائشہ یہ ملازم اوپر مقدم سائیں کے کمرے میں کیوں نہیں جا رہا سویرا نے پریشانی سے پوچھا
مجھے نہیں پتا سویرہ دیدہ میں نے تو اسے کہا تھا جیسے ہی گاؤں والے اکٹھے ہوں وہ مقدم لالہ اور کردم سائیں کو بلا لائے لیکن یہ تو صرف کردم سائیں کو بلا کر لایا ہے ۔
تائشہ نے کہا تو سویرا ملازم کو غصے سے گھورتی گاؤں میں ہونے والا نیا تماشہ دیکھنے لگی
••••••••••••••••••
آپ لوگ کون ہوتے ہیں میری شادی پر اعتراض کرنے والے کردم کو ان کی باتوں پر غصہ آنے لگا تھا ۔
دیکھیے کردم سائیں حویلی والوں نے جو اصول بنائے ہیں ہم ان کے پابند ہیں ہم نے وہی کیا ہے جو آپ لوگوں نے ہم سے کرنے کو کہا اب وہ اصول آپ خود کیوں توڑ رہے ہیں ۔
گاوں کے ایک آدمی نے سامنے آتے ہوئے سوال پوچھا
کس نے اصول توڑے ہیں کردم نے پوچھا ۔
آپ نے توڑے ہیں کردم سائیں ۔دوسرے آدمی نے جواب دیا
بات کو گمانے کی ضرورت نہیں ہے بتاؤ کیا چاہتے ہو تم لوگ اور کون سا اصول توڑا ہے میں نے میرے لیے بھی وہی سزا ہوگی جو اس گاوں میں ہر اصول توڑنے والے انسان کو ملتی ہے ۔
کردم فیصلہ کرتے ہوئے آگے ہوا اس سے کبھی کوئی غلطی نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی کبھی کوئی غلطی ہو سکتی تھی
اگر آپ کو یاد ہو تو کچھ دن پہلے گاؤں کا ایک آدمی اپنی بیٹی کی شادی کر رہا تھا ۔نکاح بھی ہوچکا تھا آپ نے اس لڑکی کو طلاق دلوائی تھی یہ کہہ کر کے وہ آدمی اس لڑکی سے عمر میں بہت بڑا ہے اور وہ لڑکی 18 سال کی نہیں ہے اور گاؤں میں یہ اصول بنایا تھا کہ کوئی بھی 18سال سے کم لڑکی کو رخصت نہیں کیا جائے گا ۔
تو آپ یہ اصول کیسے توڑ سکتے ہیں ۔اس آدمی کی مکمل بات سننے کے بعد اس نے داداسائیں کو دیکھا تھا ۔
اس نے نکاح نامے پر دھڑکن کی عمر دیکھنے کی غلطی نہ کی تھی ۔
معاملے کو سمجھتے ہوئے احمد شاہ آگے ہوئے تھے ۔
میری بیٹی 18 سال کی ہوجائے گی اگلے مہینے صرف 17 دن رہ گئے ہیں اس کے اٹھارہ سال ہونے میں احمد شاہ نے کہتے ہوئے کردم سے نظر چرائی تھی۔
جبکہ اپنا ہاتھ میں پکڑا ہوا موبائل کردم نے اتنی زور سے زمین پر پھینکا تھا کہ وہ کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا ۔
نکاح نامے پر لڑکیوں کی عمر نہ دیکھنا کوئی بڑی بات نہ تھی لیکن گھرمیں کردم کو یہ بات نہ بتانا واقع ہی غلط تھا
اس نے کیوں نکاح نامے پر دھڑکن کی عمر نہیں دیکھی تھی اپنا ہی بنایا ہوا اصول اس نے کیوں توڑا تھا وہ خود اصولوں کا پابند اتنی بڑی غلطی کیسے کر گیا تھا ۔
ہمیں یہ ساری باتیں نہیں سنیں ہیں احمد سائیں ہمیں انصاف چاہیے اگر گاؤں کی بیٹیوں کے لئے اصول بنائے گئے ہیں تو یہی اصول حویلی کی بیٹیوں پر بھی لاگو ہوتے ہیں ۔
کردم شاہ نے غلطی کی ہے اور اس کی سزا انہیں ضرور ملے گی ۔
نہ جانے وہ آدمی کس کی باتوں میں آکر اتنے باتیں کر رہا تھا ۔
ٹھیک ہے مجھے منظور ہے بتائیں آپ مجھے کیا سزا دینا چاہیں گے لیکن ایک بات کان کھول کر سن لیجیے میں دھڑکن کو نہیں چھوڑوں گا وہ میری بیوی ہے میری عزت ہے کردم جلد سے جلد اس معاملے کو رفع دفع کرنا چاہتا تھا ۔
فیصلہ تو شاہ سائیں کریں گے
بتائیے شاہ سائیں اس طرح کا اصول اگر کسی گاؤں والے نے توڑا ہوتا تو آپ سے کیا سزا دیتے ۔وہ آدمی اب شاہ سائیں سے مخاطب تھا ۔
نکاح جائز رشتہ ہے ۔اور ہمارے دین میں بچیوں کا نکاح کیا جاتا ہے لیکن قانونی طور پر دھڑکن ابھی 18سال کی نہیں ہے اسی لئے ہم فیصلہ کرتے ہیں جب تک دھڑکن 18 سال کی نہ ہوجائے تب تک ہم اس کی رخصتی واپس لیتے ہیں ۔
دھڑکن کو اب سترہ دن کے بعد ہی رخصت کیا جائے گا ۔
دادا سائیں نے فیصلہ کرتے ہوئے ایک نظر کردم کی طرف دیکھا جو شاید ان کی طرف متوجہ نہیں تھا ۔
گاؤں کے سبھی لوگ ان کے فیصلے سے مطمئن تھے اور ویسے بھی اس غلطی کی اس کے علاوہ اور کوئی سزا ہو بھی نہیں سکتی تھی ۔
کردم تمہیں کوئی اعتراض ہے دادا سائیں نے پوچھا ۔
آپ کا فیصلہ سر آنکھوں پر دادا سائیں ۔کردم کہتا ہوا وہی سے باہر جاچکا تھا دادا سائیں جانتے تھے کہ وہ ڈیرے پر جارہا ہے اور آج کی رات وہی رکے گا ۔
••••••••••••••••••••
تائشہ کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی یہ سویرا کا پہلا پلان تھا جو کامیاب ہوا تھا ۔
کل ہی ایک ملازمہ کردم کی تعریف کرتے ہوئے اسے کردم کے گاؤں کے لیے کیے جانے والے کام بتا رہی تھی ۔
جس میں اس نے کردم کے اصول کے بارے میں بات کی تھی ۔
اور وہیں سے سویرا کو پتہ چلا تھا کہ وہ 18 سال سے کم عمر کی لڑکی کی ۔شادی بھی اس گاؤں کا اصول توڑنا ہے
سویرا جانتی تھی کہ دھڑکن کی عمر 18 سال نہیں ہے ۔
اس نے اس ملازمہ کو اس طرح سے پزل کیا تھا کہ گاؤں میں جاکر ڈھنڈورا پیٹ چکی تھی ۔
تائشہ کی خوشی کی کوئی انتہا نہ کچھ بھی نہ کرتے ہوئے بھی وہ دھڑکن اور کردم کو الگ کر چکی تھی ۔
اب سترہ دن سے پہلے ان دونوں کی طلاق کروانی تھی ۔
لیکن سویرا کو افسوس اس بات کاتھاکہ مقدم کو اس سارے معاملے میں شامل تک نہیں کیا گیا تھا اس کا ارادہ تو مقدم کو حوریہ اسے دور کرنے کا تھا ۔
لیکن اس کے پلان میں گڑبڑ ہوگی لیکن تائیشہ کا فائدہ ہو چکا تھا
Ep: 20
تمہیں کیا لگتا ہے دھڑکن یہ کیا ذرا سی بات ہے تمہیں اندازہ بھی ہے کتنی بڑی بےعزتی کی بات ہے کہ دلہن کو دلہے کے کمرے سے نکال کر واپس اسی کمرے میں لا کر پھینک دیا گیا ۔
اور اس کردم نے ذرا سا اعتراض نہیں اٹھایا ۔
مانا کے اس کی شادی زبردستی کی گئی ہے لیکن تم اس کی دلہن ہو اس طرح سے کیسے کرسکتا ہے وہ تمہاری بےعزتی ۔
سویرا مقدم اور حوریہ کا غصہ دھڑکن کو کردم کے خلاف کرکے نکال رہی تھی
لیکن سویرا دیدہ کردم سائیں مجبور تھے دادا سائیں نے فیصلہ کردیا تھا تو اب وہ کیا کرتے ۔
کیا کرتے تمہارا دماغ خراب ہے دھڑکن تم کیا سمجھ رہی ہو یہ کوئی بہت چھوٹی سی بات ہے دھڑکن تمہیں تمہاری شادی والی رات اس کے کمرے سے نکال کر واپس تمہارے کمرے میں بھیج دیا گیا ہے ۔
اور وہ آکر تمہیں کچھ سمجھاتا اس بارے میں تمہیں کچھ بتاتا وہ گھر سے ہی باہر نکل گیا ۔
مجھے تو یہ سمجھ نہیں آرہا کہ ڈیرے پر کیوں گیا ہے مجھے ڈر ہے کہیں وہ تم سے جڑے جذباتوں کا سودا ڈیرے پر نہ کسی سے یہ کر رہاہو ۔سویرا اس کے کان کی بالکل قریب بولی تھی جس سے وہ اور کنفیوز ہو رہی تھی ۔
کیا مطلب ہے آپ کی اس بات کا سویرا دیدہ ۔
مطلب صاف ہے دھڑکن اب تم بچی نہیں ہو شادی شدہ ہو اور وہ آخر مرد ہے یقینا اس وقت وہ تمہارے حقوق سے کسی اور کو نواز رہا ہوگا ۔
نہیں سویرا دیدا کردم سائیں ایسے نہیں ہیں سویرا کی باتیں سے اس وقت کتنی بری لگ رہی تھی کہ وہ وہاں سے اٹھ کر باہر جانے لگی
ہاں شاید نہیں ہوگا میں بھی نہ جانے کیا بات ہے لے کر بیٹھ گئی اپنی کچھ پرابلم کی وجہ سے تمہاری شادی میں بھی ٹھیک سے شرکت نہیں کر پائی لیکن سترہ دن بعد تمہاری رخصتی بہت دھوم دھام سے کریں گے ۔
چلو اب تم ریسٹ کرو میں بھی اپنے روم میں جا رہی ہوں ۔
سویرا خاموشی سے اس کے قریب سے اٹھ کر باہر جا چکی تھیں ۔
کردم سائیں سچ میں ڈیرے پر کسی لڑکی کے ساتھ ہوں گے ۔یہی ایک بات سوچ سوچ کر دھڑکن کے سر میں درد شروع ہوچکا تھا ۔
نہیں کردم سائیں ایسے نہیں ہیں وہ خود کو جتنا یقین دلاتی بار بار اس کا دھیان اتنا ہی سویرا کی باتوں پر چلا جاتا۔
ساری رات اس سے یہ سوچ کر نیند نہ آئی تھی کہ کردم شاہ کہاں ہوگا اور کیا کر رہا ہوگا
•••••••••••••
مقدم سائیں اپ مجھے سونے دیں نہ
ساری رات مقدم کی شدتیں برداشت کرکے اب وہ بہت تھک گئی تھی ۔
لیکن مقدم نے تو قسم کھا رکھی تھی کہ نا تو اب وہ اسے خود سے دور جانے دے گا ۔
اور ناہی سونے دے گا ۔
سو کر کیا کر لینا ہے ۔جاگ کر اپنے شوہر کی خدمتیں کرو
وہ آنکھوں میں محبت لیے بولا توحوریہ شرمائی۔
ساری رات خدمت کی توہے وہ بڑی مشکل سے یہ الفاظ بول پائی تھی مقدم کی بے باک نظریں اسے کچھ بولنے نہیں دے رہی تھی
ٹھیک سے نہیں کی چلو میں سیکھتا ہوں کیسے کرتے ہیں شوہر کی خدمت وہ ایک بار پھر سے اس کے نازک وجود کو اپنے شکنجے میں لے چکا تھا
اور جس نے ساری رات اسے ایک سیکنڈ کے لیے نہ سونے دینا دیا تھا اس نے اب بھی نہیں سونے دینا تھا یہ بات ہو وہ ایک رامیں ہی سمجھ چکی تھی ۔
••••••••••••••••••
اتنا کچھ ہوگیا آپ لوگوں نے مجھے بتایا کیوں نہیں ۔
اور گاؤں والوں میں اتنی ہمت کہاں سے آگئی کہ وہ شاہ سائیں سے بغاوت کریں ۔
کہ وہ کردم سائیں کے خلاف آواز اٹھائیں
دادا سائیں کردم سے کبھی غلطی نہیں ہو سکتی اور ویسے بھی دھڑکن 18 سال کی ہونے والی ہے تو پھر کیا مسئلہ ہے ۔صرف چند دن کیلئے آپ نے کردم کی دلہن کو اس کے کمرے سے نکال دیا ۔
یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھا دادا سائیں کہ دھڑکن کی رخصتی واپس لے لی جائے
دیکھو مقدم اس وقت ہمیں یہی ٹھیک لگا گاوں والے بغاوت پر اتر آئے تھے ۔اس لئے ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے اور کردم کو اس فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں ہے
کردم کو اعتراض نہیں لیکن آپ نے دھڑکن کا سوچا اس کے جذبات کا سوچا ۔
اس طرح سے کسی کی رخصتی کرکے رخصتی واپس لے لینا کیا اتنی چھوٹی سی بات ہے ۔اور مجھے کسی نے بتانا ضروری بھی نہیں سمجھا ۔مقدم غصے سے ان کے قریب بیٹھ گیا ۔
مقدم سائیں آپ کو کیا لگتا ہے مجھے احساس نہیں ہے لیکن یہ اصول بھی تو کردم سائیں نے خود بنایا ہے گاؤں میں اور اس پر عمل کرنے کا پہلا فرض کردم سائیں کا ہے ۔
ہم سمجھ سکتے ہیں ان کی کوئی غلطی نہیں تھی انہیں ہم نے ہی نہیں بتایا کہ دھڑکن ابھی 18سال کی نہیں ہے ۔
لیکن پھر بھی یہ ان کا اپنا بنایا گیا اصول تھا جس پر عمل کرنا ان کا فرض تھا ۔
بس کچھ دن کی ہے تو بات ہے ہم کونسا ان دونوں کی طلاق کروا رہے ہیں اور مقدم سائیں آپ اس طرح سے ناراض نہ ہوں شام کو آپ کا ولیمہ ہو گا ۔
اور کردم کا ولیمہ بھی ہم ان شاءاللہ دھوم دھام سے کریں گے
کہاں ہے کردم سائیں میں ابھی جاتا ہوں اسے لینے کے لیے
رات کو ہی ڈیرے پر چلے گئے تھے واپس نہیں آئیں دادا سائیں نے بتایا ۔
مجھے پہلے ہی اندازہ تھا وہ جب بھی پریشان ہوتا ہے وہی جاتا ہے ۔خیر میں اسے لے کے آتا ہوں آنے میں تھوڑا وقت لگ جائے گا ۔
مقدم کہتا اپنی گاڑی کی چابی اٹھا کر گھر سے باہر جا چکا تھا
••••••••••••••••••
اتنا کچھ ہو گیا اور میں کچھ جانتی بھی نہیں ہوں ۔
حوریہ نے پریشانی سے کہا اسے رات والے واقعے کی خبر بس ابھی ہی لگی تھی ۔
ہاں حوریہ دیدا پہلے تو مجھے بھی پتہ نہیں چلا رات پھوپو سائیں آئیں تھیں اور مجھے کہنے لگی کہ میری رخصتی واپس لے لیے گئی ہے۔
اور مجھے میرے کمرے میں واپس جانا ہوگا ۔
ویسے اگر یہ بات خود کردم سائیں آ کر مجھے بتاتے تو بات کچھ اور ہوتی ۔لیکن کردم سائیں تو رات کو ہی ڈیرے پر چلے گئے مجھے کچھ بھی بتانا ضروری تک نہ سمجھا انہوں نے ۔
دھڑکن کے اندر کہیں نہ کہیں سویرا والی باتوں کا اثر ہو چکا تھا اسے ڈر تھا کہ ڈیرے پر وہ کسی لڑکی کے ساتھ نہ ہو ۔
ویسے حوریہ دیدا ڈیرے پر کیا ہے کردم سائیں اتنا کیوں جاتے ہیں ڈیرے پر ۔
دھڑکن نے پوچھا ۔
یہ تو نہیں پتہ کہ وہاں پر کیا ہے بس اتنا پتہ ہے کہ بڑے ماموں سائیں کو مامی سائیں سے محبت ڈیرے پر ہی ہوئی تھی
ماموں سائیں نے پہلی مامی سائیں کو وہیں پر دیکھا تھا اور وہیں سے پسند کرلیا ۔
اور پھر وہیں پر ان دونوں کا نکاح ہوا تھا ۔
اوہو مجھے تو یاد ہی نہیں رہا میں نے چہولے پر کھیر رکھی تھی ۔
حوریہ نے اٹھتے ہوئے کہا
اف دیدہ آپ کی شادی کا پہلا دن ہے اور آپ کام میں الجھی ہوئی ہیں ۔
دھڑکن نے اس طرح سے اسے کام کرنے پر ٹوکا تھا پہلے دن کی دلہن تو وی آئی پی ہوتی ہے (دھڑکن کے مطابق )
نہیں وہ مقدم سائیں کردم لالہ کو لینے گئے ہیں نہ ان دونوں کو میرے ہاتھ کی کھیر بہت پسند ہے ۔
کردم لالا کا موڈ اچھا ہو جائے گا اور میں مقدم سائیں بھی خوش جائیں گے اس نے شرماتے ہوئے کہا اور کر باہر چلی گئی ۔
جبکہ اس کے اس طرح سے شرما کر باہر جانے پر دھڑکن کو اپنے آپ میں کوئی کمی سی محسوس ہوئی ۔
آج نجانے کیوں وہ اداس تھی بہت اداس
•••••••••••
مجھے نہ بتانے کی وجہ جان سکتا ہوں میں مقدم اس کے سامنے بیٹھ کر پوچھنے لگا ۔
تم ہی تو کہہ رہے تھے کہ تم حوریہ سے بچپن سے محبت کرتے ہو میں نہیں چاہتا تھا کہ تمہارے اور حوریہ کے پرسنل مومنٹ میں میری وجہ سے ڈسٹربنس پیدا ہو۔
کردم نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
کچھ دن پہلے کردم نے جب اس سے پوچھا تھا کہ حوریہ اس کو کیسے پسند آئی تو اس نے بچپن سے لے کر جوانی تک کے سارے قصے سنا ڈالے ۔
اس کے ہر انداز میں حوریہ کے لیے محبت ہی جھلکتی تھی ۔
کردم کو یہی بات بہت پسند آئی تھی اس نے اپنی بہن کی خوشیوں کے لئے نہ جانے کتنی دعائیں مانگی تھی اور اب وہ اپنی اور دھڑکن کی وجہ سے ان دونوں کی کی زندگی ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
ہاں پتا ہے مجھے تم بہت بڑے تیس مار خان ہو سب کچھ اکیلے سنبھالو گے
لیکن کردم تمہیں مجھے یہ سب کچھ کل رات ہی سب کچھ بتانا چاہیے تھا میں دادا سائیں کو کبھی یہ فیصلہ نہیں کرنے دیتا اور گاؤں والوں کا تو میں وہ حال کرتا جو ساری زندگی یاد رکھتے
اور حوریہ میری بیوی ہے میں کبھی بھی اس سے اپنی محبت کا اظہار کر سکتا تھا کل رات تمہیں میری ضرورت تھی اور میں مقدم غصے میں تھا
اور اس کے غصے پر بھی کردم مسکرا رہا تھا
ہاں بھائی پتہ چل گیا مجھے تم مجھے حوری زیادہ چاہتے ہو ۔کردم نے شرارت سے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
تومقدم کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
اوئے زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے اس سے زیادہ کسی سے پیار نہیں کرتا
وہ اس کی ہر بات سے یہ اندازہ لگا چکا تھا کہ حوریہ سے زیادہ کسی سے محبت نہیں کرتا ۔
لیکن پھر بھی مقدم نے بتانا ضروری سمجھا
چلو آج تمہارا ولیمہ ہے میں بھی چل کر ذرا دھڑکن سے بات کرتا ہوں ۔
رات کو بنا اس سے کچھ بولے میں یہاں چلایا یقیناً وہ بہت ہرٹ ہوئی ہوگی ۔کردم نے اٹھتے ہوئے کہا ۔
رات غصے میں وہ حویلی سے نکل کر یہاں تو آ گیا لیکن بعد میں اس نے دھڑکن کے بارے میں بہت سوچا اس میں اتنی ہمت ہی نہیں تھی کہ دھڑکن کو کہتا کہ جاؤ میرے کمرے سے
وہ اس کی دلہن تھی وہ اسے اپنے کمرے سے نکال نہیں سکتا تھا وہ عزت سے رخصت ہو کر اس کے کمرے تک آئی تھی کل رات سے اپنا کمرہ آباد لگا تھا اور اور اب اس ویران کمرے میں وہ نہیں جانا چاہتا تھا
Ep: 21
کوئی فرق نہیں پڑتا دھڑکن پہن لو ۔حوریہ نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا
لیکن پھر بھی وہ دلہن والی ڈریس نہیں پہننا چاہتی تھی آج اس کا نہیں بلکہ حوریہ کا ولیمہ تھا
اسی لئے برائیڈل ڈریس پہنتے ہوئے اسے عجیب محسوس ہورہا تھا ۔
فرق پڑتا ہے حوریہ دیدہ دلہن آپ ہیں میں نہیں میں یہ ڈریس نہیں پہن سکتی میں کوئی اور ڈریس دیکھتی ہوں دھڑکن بے دلی سے اٹھی ۔
حوریہ نے اس معصوم لڑکی کیلئے اس طرح سے کبھی نہ سوچا تھا آج اس کے چہرے پر عجیب سی اداسی تھی ۔
میرا کوئی سامان نہیں مل رہا حوریہ دیدہ میرے بری کے کپڑے کہاں ہیں انہی میں سے ایک ڈریس پہن لونگی وہ کمرے میں واپس آئی اور حوریہ سے پوچھنے لگی ۔
تمہارے سارے کپڑے تو میں نے کردم لالہ کے کمرے میں رکھوا دیئے تھے ۔
حوریہ نے اسے مزید الجھا دیا تھا ۔
اب میں اس کمرے میں نہیں جا سکتی نا دھڑکن نے معصومیت سے پوچھا ۔
کیوں نہیں جاسکتی کمرے میں جانے سے کیا فرق پڑے گا ویسے بھی تو پورے گھر میں مہمان ہیں تم وہاں ہی جاکر تیار ہو جاؤ ۔
حوریہ نے کہا تو دھڑکن جانےکے لیے اٹھی میں صرف ڈریس لے کر واپس آتی ہوں
اس کا دل شدت سے چاہ رہا تھا کہ وہ کردم سے ملے اس سے پوچھے کہ وہ رات اسے اس طرح سے چھوڑ کر کیوں گیا تھا ۔
اورڈیرے پر کیوں گیا تھا وہ ڈیرے پر ایسا کیا ہے نہ چاہتے ہوئے بھی سویرہ نے ان دونوں کے بیچ میں جو شک کا بیج بویا تھا دھڑکن اس پر یقین کرنے لگی تھی
•••••••••••••••
اپنے کمرے کا دروازہ لاک دیکھ کر اسے حیرانگی ہوئی ۔
بنا دروازہ کھولے سامنے پھوپو سائیں کے پاس آیا ۔
پھوپوسائیں میرے کمرے میں کوئی مہمان ہیں کیا ۔۔میرا کمرہ لاک کیوں ہے ۔۔۔؟
ارے نہیں بیٹا تمہارے کمرے میں تو کبھی کوئی مہمان نہیں رکوایا ۔گھر والوں کے ساتھ ساتھ مہمان میں جانتے ہیں کہ تمہارے کمرے میں رکھنے پر ان پر کیاقیامت گزرے گی کسی میں اتنی ہمت ہی نہیں ہے کہ تمہارے کمرے میں رہے پھوپو سائیں نے مسکرا کر کہا ۔
تو پھر دروازہ لاک کیوں ہےکردم نے پھر سے پوچھا ۔
پتا نہیں کوئی گھر کا ہی اندر گیا ہوگا پھوپھو نے اس کے کمرے میں کسی کو جاتے نہیں دیکھا تھا اسی لیے بتانے لگی ۔
کردم خاموشی سے واپس پلٹا وہ اپنے کمرے کے چابی کو ہمیشہ ہی اپنے پاس رکھتا تھا ۔
اس کی اجازت کے بغیر اس کے کمرے میں کون جاسکتا ہے کردم نے سوچتے ہوئے دروازہ کھولا ۔
سامنے بیڈ پر پنک کلر کی خوبصورت شارٹ فراک ۔جس کے ساتھ پنک کلر کا ہی ٹروزراور لمبا سا دوپٹہ تھا ۔
اور واش روم سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی ۔
اسے اپنے کمرے میں محسوس کرتے ہی کردم نے دروازہ بند کر دیا ۔
اس کے کپڑے ایک طرف ہٹا کر وہ پر سکون سے بیڈ پر لیٹ گیا ۔
ایک بار پھر سے اس سے اپنا کمرہ آباد محسوس ہوا ۔
ان کے گھر میں بہت سارے مہمان آئے تھے حویلی مہمانوں سے بھری ہوئی تھیں وہ سمجھ سکتا تھا کہ دھڑکن آجکل حوریہ کے کمرے میں رکی ہوئی ہے ۔
کیونکہ اس کے کمرے میں بھی لڑکیاں ٹھہری ہے ۔
لیکن دھڑکن کا اس کے کمرے میں آکر تیار ہونا کردم کو بہت خوش کر گیا تھا ۔
وہ اس کا باہر نکلنے کا انتظار کر رہا تھا
••••••••••••••••
بیوٹیشن حوریہ کو تیار کرکے باہر جا چکی تھی۔
ولیمے کے دلہن کے روپ میں غضب ڈھا رہی تھی ۔
ابھی وہ اپنے آپ کو ایک آخری بار شیشے میں دیکھ رہی تھی جب اسے اپنی کمر پر کسی کے ہاتھ محسوس ہوئے اور پھر اگلے ہی پل ششے میں اس کا عکس ۔صبح وہ اسے سوتا ہوا چھوڑ گیا تھا ۔
اور اس وقت اس شخص سے نظریں ملانا حوریہ کے بس سے باہر تھا ۔
مقدم نے اس کا چہرہ تھوڑی سے پکڑ کر اونچا کیا اس سے پہلے کہ وہ جھکتا حوریہ ہوش کی دنیا میں آئی
مقدم سائیں میک اپ خراب ہو جائے گا ۔۔۔وہ اس سے دوری بناتے ہوئے بتانے لگی
آؤو تو اب اس لاپا تو پی کی وجہ سے تم مجھ سے دور ہو گی مقدم نے اسے کھینچ کر اپنے قریب کیا کیونکہ اسے اس کا بہانہ بالکل فضول لگا تھا ۔
اوہو مقدم سائیں سمجھنے کی کوشش کریں ۔ابھی تھوڑی دیر میں باہر بلا لیں گے آپ بھی جائیں تیار ہوں۔
جب تک تم میرے ہونٹوں کی پیاس نہیں بجھجاتی تب تک نہ تمہیں جانے دؤں گا اور نہ ہی جاوں گا ۔
وہ اس کی لپسٹک کے پروا کیے بغیر اس کے لبوں پر جھکا۔
اور اپنے لبوں کی پیاس بجھجانے لگا۔
اور اس کے جذباتی انداز پر حوریہ خاموشی سے اس کی من مانیاں برداشت کرنے لگی۔
مقدم اس کے لبوں کو اپنی گرفت میں لیے ۔اور اسے مکمل طور پر اپنی باہوں میں قید کئے مدہوش سا اس پر جھکا تھا جب اچانک دروازہ کھلا ۔
حوریہ جھٹکے سے اس سے دور ہوئی تھی جو مقدم کو ناگوار گزرا
سویرا کو بنا اجازت ان کے کمرے میں دیکھ کر مقدم کے ماتھے کی رگیں سامنے ظاہر ہونےلگی
تمہیں مننرز نہیں ہیں کیا اس طرح سے منہ اٹھ کر کسی کے بھی کمرے میں نہیں آیا جاتا وہ کھا جانے والے انداز میں بولا تھا ۔
جبکہ سویرا اپنی اس بےعزتی پر نظریں جھکا گئی ۔
وہ میں دھڑکن سے ملنے آئی تھی ۔ان دونوں کو ایک دوسرے کے اتنے قریب دیکھ کر سویرا کے اندر جلن کی ٹھسیں اٹھ رہی تھی ۔
کہاں ہے دھڑکن تمہیں کہیں نظر آرہی ہے مقدم کو اس وقت اس پر بہت غصہ آرہا تھا ۔
وہ حوریہ اور اپنے پرسنل مومنٹ میں کسی کی مخالفت برداشت نہیں کر سکتا تھا ۔
ٹھیک ہے سویرا کہتی ہوئی پیر پٹکتی باہر چلی گئی ۔
اورمقدم زور سے دروازہ بند کرتا ہے ایک بار پھر سے حوریہ کے نزدیک آیا اور اسے کھینچ کر اپنے قریب کیا ۔
مقدم سائیں ابھی کوئی اور ۔۔۔
چپ ایک دم چپ ۔۔وہ اسے سخت نظروں سے گھورتا اس کے لبوں پر ایک بار پھر سے جھکا تھا ۔
سویرا کا اس طرح ان کے کمرے میں آنا اور حوریہ کا اس طرح سے اس سے دور ہونا اسے ناگوار گزرا تھا اور اپنی شدت سے شاید حوریہ کو اسی بات کا انداز احساس دلانا چاہ رہا تھا
•••••••••••••••
وہ باتھ گون پہنے جیسے ہی باہر نکلی۔بیڈ پر کردم کو لیٹا دیکھ کر شاکڈ رہ گئی۔
اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ قدم اٹھاتی پیچھے واش روم میں بند ہوتی کردم اسے اٹھ کر پکڑ چکا تھا ۔
اس کا ہاتھ پکڑ کے کردم نے ایک بھرپور نظر اس کے سراپے پر ڈالی ۔
گھٹنوں تک آتا باتھ گون وہ کھینچ کھینچ کر لمبا کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
اس کی اس بچکانہ سے حرکت پر کردم کو ہنسی آرہی تھی ۔
ایسے لمبا ہوجائے گا کیا ۔۔۔وہ اس سے کے کھینچنے پر چوٹ کرتے ہوئے مسکرا کر بولا ۔
مجھے نہیں پتا اپنا دوسرا ہاتھ بھی کردم کی گرفت میں جاتا دیکھ کر وہ بے بسی سے بولی
جب کردم نے اس کے دونوں ہاتھ کھینچ کر اسے اپنے قریب کیا ۔
اپنا توازن برقرار نہ رکھتے ہوئے وہ اس کے سینے سے آ لگی
کردم کی اس حرکت پر دھڑکن کا معصوم دل زور سے دھڑکا تھا ۔
وہ اس کی گر دن پر اپنی محبت کی مہر ثبت کرتا اس کی بولتی بند کر چکا تھا ۔
دھڑکن کے ہاتھ پیر اس حد تک ٹھنڈے پر چکے تھے وہ اپنا بچاؤ تک نہیں کر پا رہی تھی ۔
کردم ۔۔۔۔۔۔سائیں ۔۔۔۔۔۔
سششش۔ وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتا اس کے ہونٹوں پر جھکا ۔
اس سے پہلے کہ وہ اس کے ہونٹوں پر اپنی چھاپ چھوڑتا اس کے کمرے کا دروازہ بجنے لگا ۔
کردم سائیں آپ کو شاہ سائیں نیچے بلا رہے ہیں ۔دروازے کے ساتھ کسی کی آواز بھی آئی اور اس کے ساتھ ہی دھڑکن کی کمر پر کردم کے ہاتھ کی گرفت ڈیلی پر گئی ۔
دھڑکن تم جلدی سے چینج کرو ۔
تم پہلے کمرے سے باہر نکلو تاکہ تم کسی کی نظروں میں نہ آؤ ۔میں نہیں چاہتا کہ باہر لوگ کسی بھی قسم کی کوئی بات بنائے ۔
کردم نے بیڈ پر رکھے ہوئے اس کے کپڑے اٹھا کر اس کے ہاتھ میں رکھے ۔
جبکہ دھڑکن اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی کتنے سوال کرنے تھے اس شخص سے اور وہ اسے بھگا رہا تھا ۔
مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔ بات ۔ ۔ ۔۔کرنی ہے۔۔ آپ سے ۔۔وہ شرم حیا کوئی ایک طرف رکھتی کہنے لگی ۔
ہم بعد میں بات کریں گے پہلے جاؤ تم تیار ہو جاؤ ۔فی الحال دادا سائیں بلا رہے ہیں ۔اور سترہ دن بعد میرے پاس ہیں تو آوگی ۔وہ مسکرا کر اس کے ماتھے پر اپنے محبت کی مہر لگا تھا اسے واش روم کی طرف بھیج چکا تھا ۔
دھڑکن خاموشی سے اس کی بات مانتی چینج کرنے چلی گئی۔
Ep: 22
ولیمہ کے دوران کردم کا دھیان بار بار اس چھوٹی سی پٹاکا پر جا رہا تھا ۔
جو اس سے بے نیاز اپنے حسن کے جلوے ہر طرف بکھیر رہی تھی
دو تین بار تو اس کا دل چاہا کہ دادا سائیں سے بات کر لے لیکن پھر اپنا ہی بنایا گیا اصول وہ توڑ نہیں سکتا تھا ۔
گلابی رنگ کے سوٹ میں وہ اتنی پیاری لگ رہی تھی کہ کردم کا دل بار بار اس کی طرف کھنچتا جارہا تھا ۔
پھر بہت مشکل سے اپنے آپ پر جبر کرتا وہ خود کو کنٹرول کر چکا تھا ۔
لیکن ہر تھوڑی دیر کے بعد جب اسے دھڑکن ادھر سے ادھر ٹہلتی نظر آتی تو ایک بار پھر سے اس کا دل بے قابو ہوجاتا ۔
کبھی کسی عورت کی خواہش کے دل میں جاگی نہ ہی تھی تائشہ ہمیشہ سے اس کے نزدیک آنا چاہتی تھی اس کے آس پاس رہنا چاہتی تھی اس کے کام اپنے ہاتھوں سے کرنا چاہتی تھی لیکن اس نے تائشہ کو کبھی اپنے دل کے اختیارات نہ دیے ۔
اور اب نہ جانے کب دھڑکن پوری طرح سے اس کے دل کے ساتھ ساتھ پورے وجود پر قبضہ کر چکی تھی۔
اس کا دل چاہ رہا تھا کہ آج وہ دھڑکن کو بتائے کہ وہ اس رنگ میں وہ کتنی پیاری لگ رہی ہے لیکن پھر یہ سترہ دن بیچ میں آ جاتے جو گزرنے کا نام تک نہیں لے رہے تھے ۔
بے دھیانی میں بس ایک نظر ہی کردم کی طرف دھڑکن نے دیکھا تھا
جو اسے کب سے نظروں کے حصار میں لیے ہوئے تھا ۔
اپنے اوپر کسی کی نظریں تو وہ کب سے محسوس کر رہی تھی لیکن آگے پیچھے دیکھنے کا اسے وقت ہی نہیں مل رہا تھا کبھی ایک آکر اس سے ملتا تو کبھی دوسرا کردم شاہ گاؤں والوں کے لیے ایک مسیحا تھا ۔
اور وہ صرف اس حویلی کی نہیں بلکہ پورے گاؤں کے چہیتی بہو بن چکی تھی ۔
ہر تھوڑی دیر میں کوئی نہ کوئی آجاتا جس کی وجہ سے وہ کافی زیادہ گھبرائی ہوئی تھی اور اب خود کو کردم کی نظروں کے حصار میں پاکر وہ مزید گھبرا رہی تھی ۔
اس نے ایک نظر کردم کی طرف دیکھا جو لو دیتی نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا
وہ نظروں سے اس کے حسن کو سراہا رہا تھا ۔
اسے اس طرح سے اپنے آپ کو شدت سے دیکھتے ہوئے وہ بے اختیار نظریں جھکا گئی ۔
اور پھر ہر تھوڑی دیر کے بعد وہ کردم کو دیکھتی تو خود کو ایسے دیکھتا پا کر شرماتی ۔
اس نے ایک نظر تائشہ کی طرف دیکھا پھر اپنے آپ کو وہ تائشہ جتنی خوبصورت تو نہ تھی ۔
لیکن پھر بھی کردم اس کے نصیب کا ستارہ تھا
••••••••••••••••
مقدم شاہ کو کسی کی پروا نہ کی ولیمے کے درمیان بھی اس نے حوریہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام کر رکھا ہے دو تین بار حوریہ نے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا تو مقدم نے گھور کر اسے دیکھا ۔
جیسے نظروں ہی نظروں میں وارن کر رہا ہوکہ یہ تمہارے بس کی بات نہیں ۔
حوریہ شرمندہ سی اپنی نظریں جھکا گئی کیونکہ اس شخص کا وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی ۔
وہ اس کے معاملے میں ہر چیز میں شدت پسند تھا ۔
اس کا اندازہ وہ شادی سے پہلے سے ہی لگا چکی تھی ۔
مقدم سائیں سب دیکھ رہے ہیں ہاتھ چھوڑیں میرا اس نے منت بھرے لہجے میں کہا ۔
سب دیکھ رہے تھے تو کیا گرل فرینڈ ہو ۔۔۔۔۔؟
میری بیوی ہو ہاتھ پکڑوں یا اٹھا کر کمرے میں لے جاؤں کسی کے باپ میں اتنی ہمت نہیں کہ مجھے کچھ کہہ سکے ۔
اسے دیکھتے اس کے چہرے پہ آئی بالوں کی لٹ کو پیچھے کیا تو وہ ذرا سا پیچھے ہٹی ۔
وہ واقع ہی آگے پیچھے کسی انسان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اس کے پیچھے ہٹنے پر مقدم نے ایک نظراسے گھور کر دیکھا اور پھر ہاتھ بڑھا کر اس کی بالوں کی لٹ کو پیچھے کیا ۔
کسی کی بھی پرواہ کیے بغیر مقدم کا بار بار حوریہ کی طرف دیکھنا اس کے کان میں سرگوشی کرنا سویرا کی نظروں سے چھپا ہوا نہیں تھا ۔
حوریہ کا شرمایا ہوا روپ اسے زہر لگ رہا تھا ۔
اس کا دل چاہا کہ ہر چیز تہس نہس کر دے ۔
لیکن اس کے بس میں کچھ بھی نہ تھا سب سے زیادہ غصہ تو اسے چودھری پر آرہا تھا ۔
جس نے اپنا کام بھی کروا لیا تھا اور ان کے کسی کام بھی نہ آیا وہ تو شکر تھا کہ مقدم نے سب کچھ سنبھال لیا ۔
لیکن اگر کسی کو بھی پتہ چل گیا کہ اس میں سویرا کا ہاتھ ہے تو وہ خود ہی سوچنے لگی ۔
تو کیا میں کیا کسی سے ڈرتی ہوں سویرا خود سے بولی ۔
اورایک نفرت بھری نگاہ حوریہ پر ڈالتی اپنے کمرے میں چلی گئی
••••••••••
حد ہے دھڑکن اب تم اس گھر کی مہمان نہیں بلکہ بہو ہو۔
حد ہوتی ہے کسی بات کی کب سے وہ عورتیں اندر بیٹھی ہیں اور کچھ نہیں تو انہیں چائے پوچھ لو ہماری زمداری ہے یہ اب ان ساری باتیں پر تمہیں غور کرنا چاہیے تاٹشہ اسے ڈانٹتے ہوئے بولی
آج کی دلہن تم نہیں حوریہ ہے اور اُسے ہی رہنے دو تو بہتر ہوگا ۔
یہ سارا گاؤں اس گھر میں کردم سائیں کے نام سے آتا ہے اور تم ہو جو یہاں آگے پیچھے گھوم رہی ہو اب آرام سے کھڑی کیا ہو جاؤ اور کچن سے چائے لے کر آؤ
اور ان عورتوں کو دو کوئی ملازمت تک نہیں ہے اس طرف نجانے کیا سوچ رہی ہوں گی یہ عورت تائشہ اسے ڈانتے ہوئے آگے بڑھ چکی تھی ۔
اس نے ایک نظر اندر بیٹھی چند عورتوں کو دیکھا پھر پریشانی سے سوچنے لگی کہ تائشہ دیدہ کہتی ٹھیک ہیں مجھے خیال رکھنا چاہیے اب میں اس گھر کی مہمان نہیں بلکہ بہوہوں ۔
دھڑکن خود سے باتیں کرتی کچن کی طرف آئی جہاں تائشہ ملازمہ سے چائے بنوا رہی تھی ۔
ولیمہ تو کب کا ختم ہو چکا تھا سب لوگ اپنے اپنے گھر جا چکے تھے بس کچھ ہی مہمان تھے جو حویلی میں تھے اور ان کا خیال رکھنا حویلی والوں کی ذمہ داری ۔
وہاں کھڑی کیا دیکھ رہی ہو او یہ ٹرے اٹھاؤ تائشہ نے لوہے کی ٹرے کی طرف اشارہ کیا ۔
میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو اٹھاو اسے اس کے کہنے پر دھڑکن نے فوراً ٹرے اٹھائی لیکن اس کی گرمائش نے دھڑکن کے ہاتھ جھلسا کے رکھ دیے تھے ۔
دیدہ یہ تو بہت گرم ہے ۔ایسا لگ رہا تھا جیسے اسے چولہے پر جھلسایا گیا ہے ۔
بہانے بنانا بند کرو دھڑکن ٹائم نہیں ہے اور یہ نازک مزاجی یہاں نہیں چلےگی کردم سائیں کی بیوی ہوتم ذمہ داریاں ہیں تمہاری کچھ ۔
اس سے پہلے کہ دھڑکن ٹرے واپس رکھتی تائشہ اس کے دونوں ہاتھ ٹرےپر دباتے ہوئے بولی ۔
جبکہ گرمائش سے اپنا ہاتھ جلستا محسوس ہوتے ہی دھڑکن کی آنکھیں نم ہونے لگی ۔
تائشہ نے اسے کچن سے باہر تقریباً دھکا دیا تھا
گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا وہ ٹرے وہاں کہیں چھوڑ بھی نہیں سکتی تھی ۔
اس کے پیچھے تائشہ غصے سے آرہی تھی ۔
پھر اچانک اس نے دھڑکن کا بازو تھاما اور تیزی سے چلتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔
اور اسے مہمان والے کمرے میں لاکر کھڑا کیا ۔
اس کے ہاتھ ٹرے سے چپک چکے تھے ۔
گلے میں پھنسا آنسووں کا گولا ہونے کی وجہ سے وہ کچھ بول بھی نہیں پا رہی تھی آنسو تھے جو بس چھلکنے ہی والے تھے ۔
اس نے ہمت کرکے ٹرے باری باری سب عورتوں کے سامنے کی اور پھر دوڑ کرکے کچن میں آکر ٹرے کو وہاں پر پھینک دیا
اور اب اپنے ہاتھوں کو دیکھا جو بری طرح سے سرخ ہو چکے تھے اس وقت کچن میں کوئی نہیں تھا وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
اس بیچ اسے یہ بھی احساس نہ ہوا کہ اس کے جسم پر دوپٹہ موجود نہیں ہے
•••••••••••••••
سب مہمانوں کو عزت کے ساتھ واپس بھیج کر کردم ابھی ابھی واپس آیا تھا جب اس کے پیر میں کوئی چیز الجھی ۔
آج سارا دن وہ اس کی نظروں کے حصار میں رہی تھی اس کے دوپٹے کو وہ کیسے نہ پہنچانتا لیکن حویلی کے بیچوں بیچ اپنی بیوی کا دوپٹہ دیکھ کر اس کے ماتھے کی رگیں تک سامنے آ گئی تھی ۔
یہ لڑکی اتنی لا پرواہی کیسے ہوسکتی ہے غصے سے اس کا دماغ گھومنے لگا تھا ۔
پہلے اسے کمرے میں دیکھا لیکن وہ کمرے میں نہیں تھی اس کا دماغ ٹھکانے لگانے کا فیصلہ تو آج وہ ویسے بھی کر چکا تھا ۔
وہ اسے دوپٹے کی اہمیت بتانا چاہتا تھا ۔
وہ اسے سمجھانا چاہتا تھا کہ وہ صرف دھڑکن کی اپنی ہی نہیں بلکہ کردم کی عزت ہے جس سے وہ اس طرح سے راستے میں نہیں پھینک کر آ سکتی
ملازمہ سے دھڑکن کا پوچھا تو پتہ چلا کہ وہ کچن میں ہے ۔
وہ کچن میں کیا کر رہی ہے وہ خود سے سوال کرتا کچن کی طرف آیا تھا ۔
کچن میں سوائے دھڑکن کے اور کوئی نہیں تھا وہ دوسری طرف منہ کیے کھڑی تھی ۔
ذرا سا ہوش ہے تمہیں وہ اس پر دوپٹہ پھینکنے والے انداز میں بولا جبکہ اس کی آواز سنتے ہوئے دھڑکن نے فورا اپنے آنسو صاف کیے۔
اور اس کے پھینکے ہوئے دوپٹے میں اپنے دونوں ہاتھ چھپاگئی ۔
میں پوچھ رہا ہوں تمہارا یہ دوپٹہ وہاں ہال میں کیا کر رہا تھا اور تم بنا دوپٹے کے یہاں کچن میں کیا کر رہی ہو ۔
بار بار ملازمین آتے جاتے ہیں پوری حویلی مہمانوں سے بھری ہے اور تم ۔وہ نظریں جھکاۓ اس کے سامنے کھڑی تھی جبکہ اس کی لاپروائی پر کردم کا دل چاہا کہ اس زندہ زمین میں گاڑ دے ۔
میں یہ لاپرواہی برداشت نہیں کروں گا دھڑکن ۔میں اپنی عزت پر حرف ہرگز نہیں آنے دوں گا وہ غصے سے دھارتے ہوئے بولا
نیچے زمین میں کیا گھور رہی ہو اوپر دیکھو کردم نے سختی سے اس کا چہرہ تھام کر اپنی طرف کیا لیکن اس کی سرخ آنکھیں دیکھ کر کھٹکا ۔
تم رو رہی تھی ۔۔۔؟
کردم نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تو اگلے ہی لمحے وہ اس کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
شاید اسے پتہ تھا کہ اس کا سائبان ہی اس کا اصل ہمدرد ہے
دھڑکن کیا ہوگیا ہے تم اس طرح سے کیوں ہو رہی ہو ۔۔اسے اس طرح سے روتے دیکھ کر کردم پریشانی سے بولا
جب دھڑکن نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے سامنے کیے
۔جو بری طرح سے سرخ ہو چکے تھے ان پر چھوٹے چھوٹے دانے واضح ہورہے تھے وہ سمجھ چکا تھا کہ اس کے ہاتھ جل چکے ہیں ۔
کیسے جلے تمہارے ہاتھ وہ اس کے دونوں ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا جبکہ وہ ابھی تک اس کے سینے سے لگی رونے میں مصروف تھی ۔
دھڑکن یہ کیا کیا ہے تم نے بتاؤ مجھے کیسے جلے کردم کا لہجہ اپنے آپ ہی نرم ہو چکا تھا ۔
اس کے ہاتھوں کے زخم دیکھنے کے لئے تائشہ نے جیسے ہی کچن میں قدم رکھا ۔
اس کا سر بری طرح سے گھوما تھا وہ کیا سوچ کر یہاں آئی تھی اور یہاں کیا ہوچکا تھا ۔
دھڑکن میری جان رونا بند کرو چلو آو روم میں چلو میں تمہیں دوائی لگاتا ہوں وہ اسے اپنے ساتھ لگاتے کچن سے باہر لے جانے لگا جب کہ دروازے پر کھڑی تائشہ کو بری طرح سے اگنور کر گیا تھا ۔
جبکہ اسے اپنے قریب سے اس طرح سے گزرتے دیکھ کر تائشہ کی آنکھیں نم ہونے لگی ۔
لیکن اسے چپ کرانے والا کوئی نہ تھا
Ep: 23
تائشہ کمرے میں آ کر پھوٹ پھوٹ کر روئی ۔
وہ جتنا دھڑکن کو کر دم سے دور کرنے کی کوشش کر رہی تھی انجانے میں ان کے قریب آنے کی راہ بنا رہی تھی
سویرا کا جب موڈ ہوتا وہ اسے منہ لگاتی اور جب نہیں اسے دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی ۔
کاش میں سویرا کی بات نہ مان کر اپنے پلان پر عمل کرتی ۔
ایک چھوٹی سے خودکشی کرنے کی کوشش کردم کو ہمیشہ کے لئے اسکا کرسکتی تھی لیکن اب اس کی آنکھوں کے سامنے کردم کسی اور کا ہو چکا تھا ۔
وہ اس کی آنکھوں کے سامنے دھڑکن کو اپنے ساتھ اپنے کمرے میں لے کر گیا تھا ۔
اور وہ بس دیکھتے ہی رہ گئی کردم نے تو شاید اسے دیکھنا تک گوارا نہ کیا تھا ۔
وہ کسے کردم کو اپنی زندگی میں واپس لائے گی
کیسے دھڑکن کو اس سے دور کرے گی اس کی سوچ یہیں سے شروع ہوکر یہیں پر ختم ہو رہی تھی ۔
سویرا کو بٹے ہوئے آدمی سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کیونکہ شاید وہ خود ہی بٹی ہوئی عورت تھی ۔
لیکن تائشہ کے جذبات تو ایک ہی شخص سے شروع ہوکر ایک ہی شخص سے ختم ہو رہے تھے وہ کیسے اسے کسی اور کا ہونے دے سکتی تھی۔
میں تمہیں جان سے مار ڈالوں گی دھرکن ۔تم نے مجھ سے میرے کردم شاہ کو چھین کر ٹھیک نہیں کیا اس شخص پر صرف میرا حق تھا ۔
روتے ہوئے اپنے بیڈ پر بیٹھ گئی ۔
کیونکہ سوائے رونے کے اب وہ اور کچھ نہیں کرسکتی تھی
دھڑکن اپنے آپ ہاتھ نہیں جلتا اور جب ہاتھ جلنا شروع ہوتا ہے انسان کو پتہ چلتا ہے بتاؤ مجھے تمہارا ہاتھ کیسے جلا کردم غصے سے پوچھ رہا تھا ۔
میں بتا تو رہی ہوں مجھے نہیں پتا کس طرح سے جلا ہاتھ مجھے نہیں پتہ چلا کہ ٹرے گرم ہے ۔دھڑکن دھیمی آواز میں منمنائی ۔
اس کی منمناہٹ نے کردم کا غصہ کم کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کیا تھا کردم کو لگا کہ شاید وہ اس سے ڈر رہی ہے اگرٹرے گرم تھی تو تم اسے رکھ دیتی واپس تمہیں اٹھاکر لے کر جانے کی ضرورت کیا تھی
وہاں کیچن میں تائشہ موجود تھی نہ تم اسے کہہ سکتی تھی ۔ہاتھ پر مرہم لگاتے ہوئے اس بار ذرا نرمی دکھائی تھی وہ اسے یہ نہیں بتا پائی کہ تائشہ نے ہی تو اسے زبردستی ٹرے اٹھانے پر مجبور کیا تھا ۔
نجانے کیوں ایسے لگ رہا تھا کہ تائشہ نے یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا ہے ۔
شاید وہ اسے جان بوجھ کر ہرٹ کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔لیکن تائشہ کی بلا اس کے ساتھ کیا دشمنی وہ خود سے ہی سوال کرتی کردم کے چہرے کو دیکھنے لگی
ہاں یہی تو دشمنی کی سب سے بڑی وجہ تھی۔
کردم شاہ ۔۔
تائشہ کی پہلی اور آخری محبت ۔جو اب صرف اور صرف دھڑکن کا ہوچکا تھا وجہ جاننا دھڑکن کے لئے مشکل نہ تھا لیکن ایک فیصلہ اس نے کر لیا تھا ۔
وہ تائشہ کو اپنے ساتھ اس طرح کبھی نہیں کرنے دے گی
حور کافی دیر سے مقدم کا انتظار کر رہی تھی ابھی تک تو وہ اس کی کل رات کی شدتوں سے نہیں سنبھلی تھی ۔
اور پھر آج دوپہر میں اس کا غصہ دیکھ کر بھی وہ کافی گھبرا گئی تھی ۔
بیچاری سویرا دیدہ کو بھی کتنا ڈانٹ دیا ۔
سارا دن ایک ہی جگہ بیٹھنے کی وجہ سے اب وہ اتنا تھک چکی تھی کہ کوئی انتہا نہیں اور اوپر سے کل رات بھی وہ ایک سیکنڈ کے لیے بھی نہ سوئی تھی ۔
ایک بار اس کا دل چاہا کہ وہ تھوڑی دیر آرام کر لے لیکن مقدم کی خواہش اور اس کے جذبات کو اس طرح سے نظر انداز ہرگز نہیں کر سکتی تھی ۔
اس کے ہر انداز میں اپنے لیے بے پناہ محبت محسوس کر وہ ایک ہی رات میں مغرور ہو چکی تھی ۔
وہ اس شخص کی محبتوں کا جواب محبت سے دینا چاہتی تھی ۔تھکن کے باوجود بھی وہ اس کا انتظار کرتی رہی نہ جانے وہ کہاں تھا ۔
شاید ان سب مہمانوں کو سنبھال رہا ہوگا ۔کافی سارے مہمان تو جا چکے تھے اور کافی سارے حویلی میں رکے تھے اور کچھ ابھی بھی جا رہے تھے ۔
ساری حویلی ہی مہمانوں سے بھری ہوئی تھی۔
آخر شاہ سائیں کے دونوں پوتوں کی شادی تھی۔ نمائشوں کے عادی تو شاہ سائیں پہلے بھی کبھی نہ تھے اوپر سے کردم کی سادہ طبیعت ۔یہ سب ہنگامہ شور شرابہ تو انہوں نے مقدم کے کہنے پر کیا تھا ورنہ وہ تو سادگی سے ان کی شادی کرنا چاہتے تھے
جبکہ مقدم نے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ وہ حور کو اس کی شادی کی ہر خوشی دینا چاہتا ہے ۔
جس پر دادا سائیں نے مجبور ہوکر شادی پر اپنے سارے رشتہ داروں کو بلایا تھا ان کے خاندان کا کوئی شخص ایسا نہ تھا جس نے ان کے دونوں پوتوں کی شادی نہ دیکھی ہو
وہ مہمانوں کو ایئرپورٹ تک چھوڑنے گیا تھا آتے آتے اسے رات ہو چکی تھی ۔
اسے یقین تھا کہ حور اس وقت تک سوچ چکی ہوگی ۔
شادی کے بعد اس نے اپنی ساری ذمہ داریوں کو سمجھنا شروع کر دیا تھا کیونکہ حور اس کی ذمہ دارا سائیں یا کردم سائیں کی نہیں ۔
اس لیے اس نے فیصلہ کیا تھا کہ اب اسے اپنی ساری ذمداریاں وہ خود سنبھالے گا آج اس نے دادا سائیں سے بھی اس بارے میں بات کی تو وہ بہت خوش ہوئے ۔
اور یہ بھی کہہ دیا کہ اب ان کا پوتا اسےزمہ دار ہوچکا ہے ۔
اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے لگا ہے لیکن ساتھ یہ بھی کہا کہ کہ یہ سوچ وقتی نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے ہونی چاہیے ۔
یہ نہ ہو کہ ذمہ داریاں سنبھالنے کا شوق صرف دو دن کا ہی ہو کیونکہ مقدم شاہ جب بور ہو جاتا تھا تب وہ کام چھوڑ دیتا تھا ۔
اس نے بھی کہہ دیا تھا آپ بے فکر رہیں دادا سائیں مقدم شاہ اس ہر اپنی ذمہ داریاں سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے اور بوریت کی بات تو کرنی ہی نہیں چاہیے کیونکہ وہ حوریہ سے کبھی بور نہیں ہو سکتا ۔
وہ تو 19 سال سے اس کی جان تھی ۔
مرہم لگانے کے بعد کردم نے اسے اپنے کمرے میں جانے کے لیے کہا ۔
اتنا مشکل نہیں تھا کردم سائیں یہ بات آپ مجھے کل رات میں خود کر کہہ سکتے تھے وہ اس کی زبان سےنکلا
کہنا چاہتا تھا درکن لیکن اس وقت میں واپس کمرے میں نہیں آنا چاہتا تھا ۔
ہاں بالکل آپ اس وقت کمرے میں کیوں آئیں گے آپ کو تو ڈیرے پر جانا تھا آخر دل بہلانے کا سامان جو موجود تھا وہاں خالص بیویوں والے انداز میں دھڑکن نے اس کے پیروں تلے سے زمین کھینچی تھی ۔
کردم اسے دیکھ کر رہ گیا اس لڑکی کو 17 دن کی رہائی کی تو ہر کی ضرورت نہ تھی وہ عمر میں ضرور چھوٹی تھی لیکن دماغ اس کا چھوٹے بچوں جیسا ہرگز نہ تھا ۔
دل بہلانے کا سامان ہاں۔ ۔۔۔۔ کردم نے حالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی بات پکڑی تھی جی بالکل سویرا دیدہ نے بتایا ہے مجھے کہ وہاں دل بہلانے کا سامان موجود ہے ۔
درک نے اپنی بات مکمل کی ۔
اچھا اور کیا بتایا تمہاری سوئی راجدھانی کردم نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے نزدیک کیا ۔
بس یہی کہا کہ پوچھو کہ ڈیرے پر ایسا کونسا خزانہ موجود ہے ۔جب کل رات آپ میرے پاس کمرے میں آنے کے بجائے ڈیرے پر چلے گئے ۔
بلکہ اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے جانچتے نظروں سے پوچھنے لگے جبکہ قدم کا دل چاہا کہ اس کی باتوں پر کہہ کے لگائے ۔
سویرا اسے کونسیپٹ یا پر آ رہی تھی یہ تو وہ اچھے طریقے سے سمجھ چکا تھا ۔
لیکن فی الحال وہ اس کی یہ غلط فہمی دور کرنے قبل کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا اور ویسے بھی یہ بات سویرہ نے دھڑکن کی سوچ میں ڈالی تھی۔
کسی دن تمہیں لے کے جاؤں گا اس ٹیلے پر پھر بتاؤں گا کہ وہاں کیا حزانہ ہے ۔
لیکن فی الحال جلدی سے اس کمرے سے نکلوں کیونکہ تمہیں اس طرح سے دیکھ کر میری نیت خراب ہو رہی ہے ۔
کردم کی زمانی بات نے درکن کے کانوں کی لو تک سفر دی تھی ۔
آپ کی نیت پہلے دن سے ہی ٹھیک نہیں ہے ۔اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ کھینچتی وہ جلدی سے باہر بھاگ گئی ۔
جبکہ کردم اس کی بات کا مطلب نکال رہا تھا
کیا وہ پہلے ہی نظر میں اس کی نظروں میں اپنے لیے پسندگی کی دیکھ چکی تھی ۔
کیا وہ پہلے دن سے جانتی تھی کہ کردم کا دل اس کے لیے مچلنے لگا ہے ۔وہ کردم جو اپنے جذبات کو قابو کرنے کیلئے اس پر پابندیاں لگاتا تھا جو اسے بے فضول میں ڈانٹا تھا ۔کیا اس سب کی وجہ دھڑکن جانتی تھی ۔
کیا دھڑکن کو اس بات کا اندازہ تھا کہ کردم نے جب پہلی بار اسے ایئرپورٹ سے باہر نکلتے دیکھا ۔تب ہی اس کا دل اس کے کنٹرول سے باہر ہو چکا تھا لیکن اس نے اپنے دل کو سمجھایا کہ اس سب پر ڈرف تائشہ کا حق ہے ۔
اس نے کبھی اپنے جذبات کو محبت کا نام نہ دیا تھا ۔پھر نہ جانے کس طرح سے اللہ نے اس کی سن لی اور دادا سائیں کے دل نے دھڑکن کے لیےکردم کو سوچ لیا ۔
کتنی حسین تھی وہ رات اس کی زندگی میں جب اس نے دھڑکن کا نام اپنے نام کے ساتھ محسوس کیا تھا اور دھڑکن نے اس سے شادی کرنے سے انکار کردیا ۔
لیکن پھر اس کا اقرار کردم کو ایک نئی زندگی دے گیا تھا
اوراب تو وہ مجبور تھا کیونکہ اب وہ اس کے نکاح میں تھی۔ اس سے محبت کرنا اس کو چاہنا ہیں تو آپ کردم کا کام تھا
میری چھوٹی سی پٹاہا
اسے خطاب سے نوازتے ہوئے وہ بے اختیار مسکرایا
Ep: 24
وہ کمرے میں آیا تو حوریہ ولیمے کے ڈریس میں بیڈ کراون کے ساتھ ٹیک لگائے آنکھیں موندھے بیٹھی تھی ۔
یا شاید سو رہی تھی وہ کل رات بھی نہ سوئی تھی اور پھر آج سارا دن بھی اسے ایک سیکنڈ بھی آرام کرنے کو نہ ملا اس وقت بھی وہ مقدم کی واپسی کا انتظار کرتی اس کی خواہش کے احترام میں اسی طرح سے تیار بیٹھی تھی ۔
اس وقت اسے اپنی معصوم بیوی پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا وہ اس کے قریب بیٹھ کر اس سے زیورات کی قید سے آزاد کرنے لگا ۔
حوریہ اپنے قریب حرکت محسوس کرکے آنکھیں کھولے اسے دیکھنے لگی
مجھے پتا ہے آپ کو میری بہت پرواہ ہے میرے محبوب لیکن تھوڑی سی پروا اپنی بھی کیجئے کیونکہ اگر آپ بیمار پڑ گئی تو میرا گزارا نہیں ہوگا۔
وہ گمبیر لہجے میں کہتا اس کے دوپٹے سے پنز نکالتے ہوئے اسے دوپٹے کی قید سے آزاد کرنے لگا ۔
اٹھو جاؤ جلدی سے چینج کرکے آؤ ورنہ میری نیت خراب ہو رہی ہے۔جاو چینج کرکے اور ریلیکس ہو کر آرام کرو ۔
وہ اسے سہارا دے کر اٹھانے لگا حوریہ اس کی بات مانتے ہوئے اپنا شرارہ سنبھلاتی اٹھی
اسے یہ جان کر خوشی ہوئی تھی کہ مقدمم صرف اپنی خواہشوں کی ہی نہیں بلکہ اس کی بھی فکر کرتا ہے ۔
تھوڑی دیر کے بعد وہ چینج کرکے آئی تو مقدم چینج کیے بیڈ پر لیٹا تھا ایسے آتا دیکھ کر اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا جیسے فورا ہی حوریہ نے تھام لیا ۔
اس کا ہاتھ تھام کر مقدم نے اس کا سر اپنے سینے پر رکھا ت یہاں کان لگاو اور پوچھو ان جناب سے آخر چاہتے کیا ہیں تمہیں دیکھ کر اتنے بے قابو کیوں ہوجاتے ہیں ۔اس کے انداز پر حوریہ بےاختیار مسکرائی جبکہ اس کی ہر دھڑکن کے ساتھ حوریہ اپنا دل دھڑکتا محسوس کر رہی تھیی
کیا کہہ رہا ہے مقدم نے پوچھا
کہ رہا ہے سو جائیں بہت رات ہو گئی ہے حوریہ نے اس کے جذبات سے گھبراتے ہوئے کہا ۔جب کہ اس کے انداز پر مقدم کا قہقہ بلند ہوا تھا ۔
بہت ہی ڈرپوک واقع ہوئی ہیں آپ محترمہ ایک ہی رات کی شدت نہیں سہہ پائی ۔اور ہم ہیں جو انیس سال سے دن رات آپ کا انتظار کرتے رہے ہیں ۔
وہ اسے اپنے سینے میں بھیجے ہوئے بولا جبکہ حوریہ کو اس کی ایک ایک بات پر یقین تھا اپنی محبت کو اس نے نکاح کی صورت میں ثابت کیا تھا ۔
اس کی پرسکون باہوں میں نجانے کب وہ پرسکون نیند سو گئی لیکن نیند میں بھی اپنے بالوں میں چلتی اس کی انگلیوں کو محسوس کر رہی تھی
کیا تم نے دھڑکن کے ہاتھ جلائے تمہاری ہمت کیسے ہوئی ایسا کرنے کی تائشہ میں نے تمہیں صرف اسے ڈرانے کے لیے کہا تھا اسے نقصان پہنچانے کے لیے نہیں تم ایسا کیسے کر سکتی ہو ۔
نجانے سویرہ کے دل میں کیا سمائی کہ وہ دھڑکن کے لیے پریشان ہوگئی وہ تو بس کردم اور دھڑکن کی طلاق کروانا چاہتی تھی
لیکن کل رات اکیلے میں اس نے کی سوچا کہ وہ تائشہ کی مدد کرے ہی کیوں نہیں ہے جبکہ تائشہ کوراستے سے ہٹا کر وہ اور دھڑکن ہمیشہ کے لئے ایک ہی گھر میں رہ سکتی تھی وہ دونوں بہنیں ہمیشہ خوشی رہ سکتی تھی اسے تائشہ جیسی مصیبت کو گلے ڈالنے کی ضرورت ہی کیا تھی ۔
میں کیا کر کرتی دیدہ وہ لڑکی ہر وقت کردم سائیں کے آگئےپیچھے گھومتی رہتی ہے ہر وقت ان کے ساتھ رہتی ہے مجھے بہت غصہ آرہا تھا بس اسی لیے میں نے ایسا کیا ۔پلیز آپ کچھ کریں نا تائشہ نے سویرا کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا
جو سویرہ نے فورا ہی جھٹک دیاا
اس کا دل تو چاہ رہا تھا کہ اس کے منہ پر دو تھپڑ مار دے ۔
جس نے اس کی بہن کو نقصان پہنچایا تھا ۔
ٹھیک ہے میں کچھ کرتی ہوں لیکن آج کے بعد دھڑکن کو بے فضول نقصان پہنچانے کی ضرورت نہیں ہے ۔سویرا نے ٹالنے والے انداز میں کہا اٹھ کر باہر چلے گئی
دادا سائیں میں کچھ وقت حوریہ کے ساتھ اکیلے گزارنا چاہتا ہوں یہاں بہت ڈسٹربنس ہے کبھی مہمان تو کبھی گھر کے ہی لوگ میں تھوڑا وقت اس کے ساتھ بالکل اکیلے گزارنا چاہتا ہوں
اسی لئے اسے اپنے ساتھ ہی لے کے جانا چاہتا ہوں
مقدم سائیں ہم کہہ تو رہے ہیں کچھ دن انتظار کر لیجئے آپ بےشک چلے جائے گا لیکن دھڑکن اور لردم بھی آپ کے ساتھ جائیں گے دادا سائیں نے سمجھاتے ہوئے کہا ۔
نہیں میں اتنے دن انتظار نہیں کر سکتا میں حوریہ کو لے کر جا رہا ہوں مطلب جا رہا ہوں وہ ضدی لہجے میں بولا
اس کے لہجے کے سامنے دادا سائیں ہمیشہ کی طرح ہار مان گئے
اگر فیصلہ کرکے ہی آئے ہیں تو بتائیں کہاں جانا چاہتے ہیں ۔
اس کا موڈ خراب ہوتا دیکھ دادا سائیں مسکرا کر بولے
زیادہ دور نہیں ناران کاغان سوات کشمیر اس نے کل رات ہی حوریہ سے اس کی ساری پسند کی جگہ پوچھی تھی اور حوریہ نے برسوں سے دل میں دبی خواہش بتاتے ہوئے اپنی پسند کی ہر جگہ اسے بتا دی ۔
ٹھیک ہے لیکن زیادہ دن کے لئے نہیں آپ جتنا جلدی ہو سکے واپس آنے کی کوشش کریں گے ۔
ہم تو حیران ہیں کہ کردم اکیلے یہ سب کچھ کیسے سنبھالتے ہیں ان کی ہمت کی داد دینی پڑے گی اتنی ذمہ داریاں ہیں ان پر آپ کے سارے کام وہ کر رہے ہیں ۔
کل آپ کو دیکھ کر لگا کہ آپ سمجھدار ہو گئے ہیں لیکن آج پھر وہی بچوں والی حرکتیں کررہے ہیں ۔
اپنی طبیعت میں تھوڑا ٹھہرو لائیں مغدم سائیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی کوشش کریں
واپس آ کے سمجھوں گانہ شاید وہ ان کی باتوں سے بور ہو رہا تھا اس لئے جلدی سے بولا تو دادا سائیں مسکرائے
ٹھیک ہے جائیں ۔انہوں نے مسکراتے ہوئے اجازت دی تو وہ مسکراتے ہوئے اٹھ کر چلا گیا
حوریہ ہم لوگ سب شادی پر جا رہے ہیں تم اکیلی ہو گھر پر ۔
شام کا کھانا تم نے بنانا ہے سب کچھ تیار کرلینا رضوانہ خالہ نے سختی سے کہا
جب دھڑکن ان کے قریب آئی
لیکن پھوپوسائیں یہ کیا بات ہوئی ان کی شادی کو دو تین دن نہیں ہوئے اور آپ ان کو کام پر لگا رہی ہیں ۔
دھڑکن یہ اس گھر کی بہو ہے اور یہ سارے کام کرنا اس کی ذمہ داری ہے یہ پہلے بھی یہ سب کچھ کر دیا ہے کوئی نئی بات نہیں ہے اور تم بھی یہ اچھل کودچھوڑو اور اپنی ذمہ داریاں سنبھال لو تمبھی اس گھر کی بہو ہو ۔
دادا سائیں نے کہا ہے کہ تم شادی پر ضرور چلو گی لیکن اس گھر کی پوتی بن کر نہیں بلکہ کردم سائیں کی بیوی بن کر یہ سارا گاؤں انکی بہت عزت کرتا ہے ۔
اسی لئے آج جب تیار ہو تو اس بات کا دھیان رکھنا کہ تم حویلی کی بیٹی نہیں رکھتی بہو بن کر باہر نکل رہی ہو
اس گھر میں تمہاری بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں ۔
اپنی ذمہ داریاں سنبھالو جب سے یہ لڑکی ان کی بیٹی کی جگہ پر آئی تھی نہ جانے کیوں انہیں یہ لڑکی بھی نے زہر لگنے لگی تھی ۔
پھوپو سائیں کے لہجے میں کچھ ایسا چاہے جو دھڑکن نے شدت سے محسوس کیا تھا وہ پہلے کی طرح اس سے محبت سے بات نہیں کرتی تھی ۔
شاید نئے رشتوں نے پرانے رشتے چھین لیے تھے
اس وقت سوائے حوریہ کے گھر پر اور کوئی نہیں ہے یہی وقت ہے جب آپ اسے ساری سچائی بتا سکتے ہیں اسے بتا سکتے ہیں کہ مقدم شاہ نے اس سے صرف بدلہ لینے کے لئے شادی کی ہے وہ اس سے محبت نہیں کرتا ۔
سویرا سب سے چھپ چھپا کر ملک سے بات کر رہی تھی
تم فکر مت کرو میں اسے یقین دلوا دوں گا بس تم ایک بار میری بیٹی ملوا دو ملک تڑپ کر بولا تھا ۔
آپ کے لئے ہی تو کیا ہے یہ سب کچھ ۔
حوریہ اس وقت گھر پر بالکل اکیلے ہے ہم سب لوگ شادی بھی آئے ہوئے ہیں ۔
آپ جائےیہی وقت ہے حوریہ سے بات کر سکتے ہیں ۔یہ موقع آپ کو دوبارہ نہیں ملے گا سویرا نے فون رکھتے ہوئے کہا
وہ خاموشی سے گھر میں تھا ۔اس نے اپنا حلیہ بدل رکھا تھا کوئی بھی آسانی سے نہیں پہچان سکتا تھا
لیکن پھر بھی اس نے سامنے کے دروازے سے آنے کی غلطی نہ کی تھی کہیں نوکراسے دیکھ کر شک نہ کریں ۔
وہ آہستہ سے چلتا حویلی کے اندر داخل ہوا ۔
اوپر کی منزل پر اسے اپنی بیٹی کہیں نظر نہ آئی وہ زینے اترتا دائیں طرف آیا جہاں کیچن میں ہی اسے اپنی بیٹی نظر آئے ۔
اس سے پہلے کہ وہ اندر جاتا اسے مین گیٹ سے مقدم شاہ اندراتا نظر آیا جو سیدھا ہی کیچن میں آیا تھا
وہ خاموشی سے کچن میں آیا اور سب نوکروں کو آہستہ سے باہر جانے کا اشارہ کیا ۔
وہ سب غیر محسوس انداز میں اس کے قریب سے نکل کر باہر چلے گئے ۔
جبکہ وہ اپنے کام میں اس حد تک مصروف تھی کہ مقدم نےجب اسے اپنی باہوں میں بھرا تو گھبرا کر پیچھے ہٹی
جانم اب یہ ڈرفضول ہے ۔
کتنی بار کہا ہے تمہیں عادت ڈالومقدم اس کے چہرے پر جھکتے ہوئے بولا
مقدم سائیں ہم کچن میں ہے ۔
تو چلو بیڈروم میں چل کر تمہاری یہ شکایت بھی دور کر دیتے ہیں
میں نے کھانا بنانا ہے ۔
اس شدتوں سے گھبراتی اسے خود سے دور کرنے کی ناکام کوشش کرنے لگی جب کردم نے کھینچ کر اسے اپنے قریب کیا ۔
میں وہ ہر وجہ مٹا دوں گا جو تمہیں مجھ سے دور کرتی ہے ۔مجھے تمہاری یہ مزاحمت زہر لگتی ہیں ۔وہ بنا اس کی مزاحمتوں کی پرواہ کیے سے اپنے باہوں میں اٹھائے اپنے بیڈ روم میں لے گیا۔
جبکہ ملک جس طرح سے آیا تھا انہی قدموں پر پلٹ گیا

Ep : 25
مقدم کے جانے کے بعد حوریہ جلدی سے کچن میں آئی
لیکن سامنے دیکھا تو سب کچھ تقریبا تیار تھا ۔
یہ سب کچھ کس نے بنایا اس نے قریب کھڑی ملازمہ سے پوچھا
یہ سب کچھ میں نے بنایا ہے حوریہ بی بی ۔
آپ ہماری اتنی مدد کرتی ہیں تو کیا ہم آپ کی تھوڑی سی مدد نہیں کر سکتے ملازمہ نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
اب صرف روٹیاں بنانی رہتی ہیں اور کباب وہ تو آپ خود ہی بنائیں گئی ُ۔
میں باقی کام کرتی ہوں۔اور فکر نہ کریں میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی
میں نے بہت کوشش کی ہے کہ سب کچھ اسی طرح سے بناؤں جس طرح سے نازیہ بی بی بناتی ہیں ۔
اب بالکل ان کے جیسا تو نہیں بنا ہوگا لیکن اتنا برا بھی نہیں بنا ۔
اس نے جیسے حوریہ کی ساری پریشانی دور کر دی
آپ کا بہت بہت شکریہ اگر آپ یہ سب کچھ نہیں کرتی تو میں پھنس گئی تھی ۔
حوریہ نے شکر کی سانس لی ۔
•••••••••••••••
ہیلو میں نے آپ سے کیا کہا تھا کہ آپ مجھے فون نہیں کریں گے بلکہ میں آپ کو فون کروں گی ۔
ملک کا فون آتا دیکھ کر سویرا پریشانی سے لوگوں میں سے اٹھ کر باہر آئی تھی ۔
تم نے مجھ سے کہا تھا کہ گھر میں حوریہ کے علاوہ اور کوئی نہیں لیکن یہاں تو مقدم شاہ بھی ہے ۔
میں اپنی بیٹی سے مل ہی نہیں پایا ۔ملک نے غصے سے کہا
کیا مطلب ہے آپ کی اس بات کا مقدم سائیں تو ڈیرے پر ہیں وہ حویلی میں کیسے آئیں ۔
سویرا نے پریشانی سے کہا ۔
دیکھو لڑکی اگر تم میری مدد کرنا ہی چاہتی ہو تو ٹھیک سے کرو یہ تو تم مجھے پھسا رہی ہو اگر آج میں وقت پر وہاں سے نہیں نکلتا یا کسی نوکر کی نظر میں آجاتا تو جانتی بھی ہو حویلی والے میرا کیا حال کرتے ۔ملک نے کہا تو سویرا کو اس کی باتوں سے مزید غصہ آنے لگا
پہلے ہی مقدم شاہ کا سب سے چھپ کر حویلی میں حوریہ سے ملنے جانا ہی اسے غصہ دلا گیا تھا ۔
اور اب یہ ملک اپنی بیٹی سے نہ مل پانے کا افسوس کر رہا تھا فون بند ہونے کے بعد بھی وہ اپنا غصہ کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی رہیں
بس بہت ہو گیا حوریہ بہت جی لی تم نے اپنی زندگی اس بارے میں کچھ ایسا کروں گی ۔کے مقدم شاہ خود تمہیں چھوڑ دے گا
••••••••••••••
شام میں کھانا تقریبا سبھی لوگوں کو پسند آیا تھا ۔
جس کی وجہ سے حوریہ اب پر سکون ہو چکی تھی
جبکہ دوسری طرف زمینوں کے مسائل پھر سے کھڑے ہو چکے تھے ۔
ایسے میں مقدم کا کہیں جانا مشکل ہوگیا تھا لیکن کردم نے دادا صاحب کو سمجھایا کہ وہ سب کچھ اکیلے ہینڈل کر لے گا ۔
دادا سائیں اس کی بات نہیں مان رہے تھے ۔لیکن کردم نے جب مقدم کومایوس دیکھا تو آخر اس نے دادا سائیں کو منا ہی لیا ۔
مقدم نے بھی اس سے یہی کہا تھا کہ وہ اسے اتنے بڑے مسئلے میں اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتا ۔
جس پر کردم نے اسے بھی یقین دلایا تھا کہ وہ یہ سب کچھ سنبھال سکتا ہے اس نے پہلے بھی کیا ہوا ہے ۔
وہ نہیں چاہتا تھا کہ مقدم اس کی وجہ سے اپنی زندگی کے حسین ترین دن برباد کر دے ۔
اسی لیے دادا سائیں کو بھی اس نے خود مطمئن کیا تھا تب جا کہ وہ اسے کہیں بیھجنے کے لئے تیار ہوئے
آج ان کی شادی کو سات دن گزر چکے تھے ہر طرف دعوتوں کا سسلہ جاری تھا مقدم کی سنگت میں اس کے دن رات حسین گزر رہے تھے ۔
وہ جو چاہتا تھا اسے حاصل کرتا تھا ۔نہ حوریہ کی مزاحمتیں کام آتی تھی اور نہ ہی مینتیں
وہ اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے معاملے میں بے باک تھا ۔
کمرے میں آکر جب مقدم نے اسے یہ سرپرائز دیا کہ وہ کچھ ہی دن میں سوات کے لئے یہاں سے نکل رہے ہیں تو اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا ۔
وہ تو بچپن سے ہی سوات ناران اور کاغان جانا چاہتی تھی
لیکن اسے یہ بھی پتا تھا کہ حویلی سے لڑکیوں کو باہر نہیں دیا جاتا اور اتنی دور تو ناممکنات میں سے تھا ۔
لیکن شادی کے بعد اس کی یہ خواہیش اتنی جلدی پوری ہو جائے گی اسے امید نہ تھی اسی لئے خوشی بھی دوگنی ہو رہی تھی
اس وقت وہ بڑے مزے سے اپنی اورمقدم کے بیگ پیک کر رہی تھی ۔
جب مقدم کمرے میں داخل ہوا اس سے اس قدر مصروف دیکھ کر اس کے قریب بیٹھ گیا ۔
میرے دل کا قرار یہ سارے کپڑے تو گرمیوں کے رکھے ہیں ۔
وہ اسے دیکھ کر بولا ۔
ہاں مقدم سائیں موسم بدل چکا ہے نہ تو وہاں پر گرمی ہورہی ہوگی ۔حوریہ نے وجہ بتائی ۔
جی نہیں وہاں اتنی گرمی نہیں ہوئی کہ ہم یہ والے کپڑے پہنے ۔
ویسے بھی آپکو پیکنگ کرنے کی ضرورت کیا ہے آپ کو وہاں میری پسند کے کپڑے پہنے ہیں ۔مجھے بھی تو دیکھنا ہے کہ میری بیوی پے کون کون سی چیز سوٹ کرتی ہے ۔
مقدم سائیں میں پہلے بتا رہی ہوں میں وہ بے ہودہ لباس نہیں پہننے والی ۔
کل رات ہی ایک فلم کے دوران مقدم نے کہا کہ حوریہ ایسے کپڑے پہنے جس پر ہیروئن کو دیکھ کر حوریہ کی آنکھ کھل گئی ۔
ویسے ہی کپڑے پہنو گی ڈونٹ وری میں تمہیں ان کپڑوں میں کہیں باہر نہیں لے جاؤں گا صرف بیڈروم میں ۔
میرے سامنے ۔
نہیں نہیں بالکل نہیں آپ کے سامنے بھی نہیں کسی کے سامنے کہیں مجھے شرم آئے گی نہ ۔
وہ بے بسی سے بولی جبکہ وہ اسے دیکھ کر مسکرائے جا رہا تھا ۔
میرے دل کا قرار تمہیں وہ لباس پہنا کر شرماتے ہی تودیکھنا چاہتا ہوں میں۔قسم سے جب شرما شرما کے میری پناہوں میں سماتی ہونا دل کے سارے تار ہل کے رہ جاتے ہیں ۔
وہ اس کے قریب آکر خمار آلود لہجے میں بولا ۔
مقدم سائیں پکینگ ۔۔اس کےلہجے سے ہی وہ اس کے ارادوں کا پتا لگا چکی تھی ۔
بعد میں کر لینا کون سا ہم ابھی جا رہے ہیں اس کے ہاتھوں سے کپڑے لے کر دور اچھالتا اسے اپنے قریب کرنے لگا ۔
مقدم لالا آپ کو نانا سائیں بلا رہے ہیں ۔تائشہ نے کھلے دروازے پر دستک دیتے ہوئے کہا تو پھر یہ فورا اس سے دور ہٹی ۔
جبکہ انہیں اس حد تک نزدیک دیکھ کر تائشہ فوراً پلٹ گئی ۔
وہاں جاکر ایک اور فائدہ ہوگا ۔کوئی بھی ہم دونوں کو ڈسٹرب تو نہیں کرے گا ۔وہ منہ بنا کر کہتا داداسائیں سے ملنے چلا گیا ۔
مقدم شاہ کی بنی ہوئی شکل پر حوریہ کی مسکان بڑی مشکل سے رکی تھی
•••••••••••••••
آج کل کام کی نوعیت اتنی زیادہ بڑھ چکی تھی کہ کردم کو دھڑکن کو دیکھنے تک کا وقت نہیں ملتا
اور دھڑکن بھی اب اپنی پرانی روٹین پر آ چکی تھی وہ اکثر لڈو لیے دادا سائیں کے کمرے میں ملتی۔
لیکن دادا سائیں کے سامنے وہ بالکل بھی کوئی بات نہیں کر سکتا تھا پر دادا سائیں اس کی نظروں میں دھڑکن کے لیے پسندگی دیکھ چکے تھے ۔
مشکل سے ہی سہی لیکن سات دن گزر چکے تھے ۔
لیکن دھڑکن کو دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے اسے اپنے آنے والی زندگی کا انتظار ہی نہیں اس کا بچپنانہ ایک بار پھر سے سر اٹھا کر سامنے آ چکا تھا ۔
پہلے کردم کو لے کر اس کے دل میں جو ڈر تھا تقریبا ختم ہو چکا تھا ۔
کردم اور دھڑکن کا آمنا سامنا بھی بہت کم ہوتا تین دن پہلے ڈنر ٹیبل کے بعد آج وہ داداسائیں کے ساتھ لڈو کھیلتی نظر آئی ۔
دیکھو دھڑکن ہم نے ابھی تمہاری گوٹ ماری ہے ۔
دادا سائیں میں نے تو کوئی بکری رکھی ہی نہیں ہے آپ نے کیسے میری بکری مار دی ۔
اپنی بےایمانی پکڑے جانے پر فوراً ہی انہیں باتوں میں لگانے کی کوشش کرنے لگی ۔
دیکھو دھڑکن ہم بکری کی نہیں اپنے کھلاڑی کی بات کر رہے ہیں جسے تم نے ابھی بڑی صفائی سے ہماری آنکھوں کے سامنے اٹھانے کی کوشش کی ہے ۔۔ہمیں پہلے بھی تم پر شک تھا کہ تم نے دو بار ہماری گوٹ کو گھر پہنچنے سے پہلے اٹھا دیا ہے ۔اور اب تم نے ہمارے سامنے کیا ہے پہلے ہم غلط فہمی سمجھ کر اگنور کر رہے تھے لیکن اس بار تم نے ہماری آنکھوں کے سامنے کیا ہے تم بے ایمانی کر رہی ہو اور ہم بے ایمانی نہیں کرنے دیں گے تمہیں ۔
واہ وا ہ واہ ہار رہے ہیں تو اس طرح سے الزام لگائیں گے مجھ پر وہ جلدی جلدی بول رہی تھی جب کردم کو آتا دیکھ کر خاموش ہو گئی ۔
بہت بڑی بے ایمان ہو تم دھڑکن ہم تم پر الزام نہیں لگارہے بلکہ حقیقت بیان کر رہے ہیں تم نے بے ایمانی کی ہے اب شرافت سے گوٹ واپس رکھ دو ہماری ۔
دادا سائیں کو اس کے ساتھ بچہ بنے دیکھ کر کردم مسکراتا ہوا ان کے قریب بیٹھ گیا ۔
جبکہ دلچسپ نظروں سے سامنے بیٹھی دھڑکن کو دیکھ رہا تھا جو اسے خود کو دیکھتا پا کر کنفیوز ہو گئی
اور فورا ہی گوٹ رکھ دی ۔
میں نے بے ایمانی نہیں کی لیکن پھر بھی اگر آپ کو لگتا ہے کہ ایسا ہے تو لے رکھ لے واپس وہ معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑتی گوٹ ان کے حوالے کرنے لگی
اس کی معصوم بنی ہوئی شکل دیکھ کر دادا سائیں کو اس پر ترس آگیا ۔
ٹھیک ہے اس بار ہم تمہیں معاف کر رہے ہیں لیکن اگلی بار ایسی غلطی نہیں ہونی چاہیے ۔دادا سائیں نے ترس کھاتے ہوئے کہا جبکہ ان دونوں سے چھپ کر
دھڑکن نے اپنی ہنسی چھپائی لیکن چھپانے کے باوجود بھی کردم سے وہ چھپ نہیں سکی ۔
بہت بڑی پٹاکا ہے یہ لڑکی ۔میں بیکار میں سے چھوٹا پٹاکا سمجھ رہا تھا ۔کردم پر ایک اور راز فاش ہوا ۔
دھڑکن ایک کپ چائے بنا لاو دادا سائیں مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے ۔
وہ داداسائیں سے کچھ چودھری کے بارے میں بات کرنا چاہتا تھا اسی لیے اسے باہر بیجنے لگا ۔
چائے تو میں بنا لائی ہوں تائشہ نے دادا سائیں کے کمرے میں قدم رکھتے ہوئے کہا مجھے پتا ہے آپ کو حویلی واپس آتے ہی چائے کی طلب ہوتی ہے تائشہ نے مسکراتے ہوئے چائے کا کپ اس کے سامنے رکھا ۔جب کہ جتلاتی نظروں سے دھڑکن کو دیکھا
مجھ سے زیادہ آپ کو کوئی نہیں جانتا کردم سائیں تائشہ کی لہجے میں غرور تھا
جبکہ تائشہ کو چائے سرو کرتے دیکھ کر دھڑکن کو بالکل اچھا نہ لگا ۔
تم نے ٹھیک کہا تھا تائشہ لیکن فی الحال مجھے اپنی بیوی کے ہاتھ کی چائے پینے کی طلب ہے جاو دھڑکن ۔
اس نے تائشہ کے کپ کواگنور کرتے ہوئے دھڑکن کو مخاطب کیا
جوکہ کنفیوز نظروں سے اسے دیکھنے لگی
مجھے چائے بنانی نہیں آتی کردم سائیں وہ معصومیت کے ریکارڈ توڑ تے ایک بار پھر سے بولی
لیکن کردم کو اس چہرے پر بالکل ترس نہیں آیا تھا
کوئی بات نہیں دو تین بار بناؤ گی تو آجائے گی جاو ملازمہ ہوں گی وہ تمہیں بتائے گی ان سے سیکھ کر بناؤ ۔
اور آج سے روز شام میرے لئے چاہے تم بناؤ گی۔ وہ اسے رعایت دینے کا ارادہ بلکل نہیں رکھتا تھا ۔
جبکہ وہ مرے قدموں سے اٹھی اور کچن کی طرف جانے لگی ۔
جبکہ تائشہ اپنے جلے ہوئے جذبات لے کر وہاں سے باہر آگئی
ملازمہ سے پوچھ کر بنا لو مطلب کیا سوچے گی ملازمہ کہ اس گھر کی بڑی بہو کو چائے تک بنانا نہیں آتی انٹرنیٹ سے دیکھ کر بناؤں گی فون پے یوٹیوب کھولتے ہوئے کچن کی طرف جانے لگی
Ep : 26
تائشہ غصے سے اپنے کمرے میں آگئی اس کا دل چاہا کہ دھڑکن کا منہ توڑ دے کس طرح سے کردم نے آج پہلی بار اس کے ہاتھ کی چائے پینے سے انکار کر دیا ۔
وہ کیسے اس کے دل کے ساتھ یوں کھیل سکتا ہے وہ جانتا ہے کہ وہ اس سے کتنی محبت کہتی ہے اور اس کے دل کو اتنی آسانی سے توڑ دیا ۔
کتنی محبت سے وہ اس کے لئے چائے بنا کر لائی تھی
یہ آپ نے ٹھیک نہیں کیا کردم سائیں میں آپ کو اس طرح سے اپنی محبت کو نظرانداز نہیں کرنے دوں گی ۔
میں کبھی اپنی جگہ دھڑکن کو نہیں لینے دوں گی ۔
آپ پر پہلا حق میرا ہے اور میرا ہی رہے گا دھڑکن چاہے کچھ بھی کر لے کبھی میری جگہ نہیں لے پائے گی اور نہ ہی اسے میں اپنی جگہ یہ لینے دوں گی جو بھی ہوا ہے اس پر تم بہت پچھتاؤ گی ۔
تمہیں لگتا ہے نہ تم مجھ سے میرے کردم شاہ کو چھین لو گی تو میں تمہاری یہ غلط فہمی میں دور کروں گی ۔
•••••••••••••••••
کردم شاہ داداسائیں کے قریب سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا اس کا ارادہ فریش ہونے کا تھا ۔
دھڑکن کی معصوم شرارت یاد کرتے ہوئے دادا سائیں ایک بار پھر سے مسکرا اٹھے
دھڑکن بالکل اہانہ شاہ جیسی تھی اسی کی طرح معصوم اسی کی طرح شرارتی کتنی پیاری تھیں ان کی بیٹی آہانہ سب سے عزیز
لیکن اتنی ہی مشکل ترین زندگی ۔کتنی محبت لاڈ اور پیار سے کتنے نازوں سے اپنی بیٹی پالی تھی
اتنی محبت تو انہوں نے کبھی رضوانہ سے بھی نا کی تھی جتنی اہانہ سے کرتے تھے ۔
اسے دیکھتے ہی ان کے لبوں پر مسکراہٹ آ جاتی تھی ۔
دیکھنے میں حوریہ بھی بالکل آہانہ جیسے ہی دکھتی تھی ۔
بالکل آہانہ جیسی آنکھیں جنہیں دیکھنے سے وہ اکثر گرز کرتے قدبالکل آہانہ جتنا تھا ۔
وہ ان کی سب سے لاڈلی بیٹی کی بیٹی تھی لیکن صرف اہانہ کی نہیں وہ تو احسن ملک کی بیٹی تھی ۔
جس سے وہ نفرت کرتے تھے ۔
اور اس آدمی سے نفرت کی انتہا یہ تھی کہ وہ اپنی بیٹی کی بیٹی تک کو نہ دیکھتے ۔
وہ خاموشی سے اپنی کرسی سے اٹھے ہو اور اہانہ کے کمرے کی طرف چلے آئے اس کمرے میں سوائے دادا سائیں کے اور کوئی نہیں آتا تھا ۔
وہ جب بھی اداس ہوتے یا آہانہ کی یاد حد سے زیادہ آتی تو وہ اس کمرے میں چلے جاتے جہاں اہانہ نے اپنا خوبصورت بچپن گزارا تھا ۔
•••••••••••••
دھڑکن نے یوٹیوب سے چائے بنانا سیکھی ۔
لیکن ملازمائیں اسے عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھی چائے کے لیے وہ کبھی ایک چیز مانگتی تو کبھی دوسری چیز
چھوٹی بی بی جی چائے میں اتنی چیزیں نہیں ڈالی جاتی ملازمہ نے سمجھاتے ہوئے کہا
اوہو آپ مجھے کنفیوز نہ کریں یوٹیوب والے ماسٹر ہیں انہیں سب پتہ ہوتا ہے ۔
جیسے آپ بناتے ہیں ویسے چائے نہیں بنتی مجھ سے سیکھیں کہ کس طرح سے چائے بنائی جاتی ہے ۔
دھڑکن نے کسی ماہر شیف کی طرح کہا اور چائے بنانے میں جھٹ گئی ملازمہ بھی اس کی ڈانٹ سے ڈرتے ہوئے جو کچھ وہ مانگ رہی تھی دیتی جارہی تھی ۔
اور پھر چائے نا می ایک شاہکار تیار ہوگیا جسے اب کردم سائیں نے پینا تھا ۔
مبارک ہو کردم سائیں آپ کی بیوی نے پہلی بار چائے بنائی ہے وہ خود کو شاباشی دیتی ہوئی کردم کو بھی مبارک بھی دے ڈالی اور چائے لے کر اس کے کمرے میں جانے لگی
•••••••••••••••••
دادا سائیں کتنی ہی دیر اہانہ کے کمرے میں رہیں ۔
انہیں یاد تھا یہ کمرہ اہانہ اور وہ دونوں سجاتے تھے ۔
وہ اپنے ہر کام میں صرف اپنے باپ کو شامل کرتی تھی ۔
شاہ سائیں جو دنیا کے لئے سخت گیر انسان تھے اپنی بیٹی کے لیے دنیا کے کے بہترین باپ تھے ۔
اہانہ کے لئے ان کے چہرے پر کبھی غصہ نظر نہ آیا ۔
وہ اس پر کبھی غصہ کر ہی نہیں پاتے تھے بالکل دھڑکن کی طرح ۔
دھڑکن کے ہر اسٹائل میں انہیں کہیں نہ کہیں اہانہ نظر آتی تھی ۔
شاید حوریہ کے بھی انداز میں اہا نہ ہوتی ہوگی لیکن حوریہ پرانہوں نے کبھی دھیان ہی نہیں دیا وہ ان کے دشمن کی جو بیٹی تھی ۔
تصویر والا البم کہاں گیا یہیں تو رکھا تھا وہ الماری میں تصویروں والا البم ڈھونڈ رہے تھے لیکن بہت ڈھونڈنے کے بعد بھی انہیں نہ ملا پھر اچانک یاد آیا وہ تو کچھ دن پہلے وہ اپنے کمرے میں لے گئے تھے ۔
پھر کچھ سوچتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف چل دیے ان کا ارادہ اپنے کمرے سے البم لانے کا تھا ۔
•••••••••••••••
وہ چائے لے کر آئی کردم نہا رہا تھا ۔
کردم سائیں آپ کی چائے دھڑکن نے ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا ۔
وہی میز پر رکھ دو دھڑکن میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں ۔وہ اندر سے بولا
ٹھیک ہے آپ چائے پی لیجئے گا میں نے بنائی ہے یوٹیوب سے دیکھ کر دھڑکن نے بتانا ضروری سمجھا جس پر اندر کردم بےساختہ مسکرایا ۔
اچھا تم نے یوٹیوب سے دیکھ کر چائے بنائی ہے گویا بات کھینچنے کو اس کے ساتھ باتیں کرنا چاہتا تھا ۔
جی ہاں آپنے ہاتھوں سے بنائی ہے میں نے اچھا میں جارہی ہوں دھڑکن نے واپسی کی راہ لیتے ہوئے کہا ۔
دھڑکن تھوڑی دیر رکو مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے کردم کا دل اسے بہت ساری باتیں کرنے کو تھا لیکن دھڑکن تھی جو یہاں سے بھاگنا چاہتی تھی ۔
نہیں مجھے حوریہ دیدہ کے کمرے میں جانا ہے مجھے ان سے کچھ کام ہے آپ بعد میں بات بتا دیجئے گا نہ جانے کیا کیا کام ہیں آپ کا مجھ
وہ اس کے جذبات اور خواہشات سے انجان بولی اور کمرے سے باہر نکل گئی ۔
تھوڑے ہی دن رہ گئے ہیں پھر تمہیں بتاتا ہوں کیا کیا کام ہے ۔
پھر دیکھوں گا کیسے کرتی ہوں یہ بھاگ دوڈ آنا تو تمہیں میرے ہی پاس ہے
••••••••••••••
حوریہ نے دھڑکن سے کہا تھا کہ وہ چائے بنا کر اس کے کمرے میں آ جائے ۔
لیکن کافی دیر کے بعد بھی جب وہ نہ آئی تو پھر حوریہ اس کے پیچھے چلی گئی ہو سکتا ہے اس سے چائے نہ بنی ہو ۔
لیکن راستے میں ہی نظر اچانک اہانہ کے کمرے پر پڑی ۔
اسے یاد تھا بچپن میں جب وہ ایک بار کمرے میں گئی تھی تو نانا سائیں نے اسے بہت سخت ڈانٹا تھا ۔
اور اس کے بعد وہ اس کمرے میں نہ گئی لیکن یہ اس کی ماں کا کمرہ تھا وہ خود کو روک بھی نہیں سکتی تھی ۔
نہ چاہتے ہوئے بھی وہ کمرے کے اندر چلی گئی اس کمرے کی ہر ایک چیز اس کی ماں کی تھی
جس میں اس کی ماں کی یادیں تھیں
اس گھر میں کبھی بھی اسے اہانہ کی بیٹی کے روپ میں قبول نہ کیا گیا سب لوگ اسے احسن ملک کی بیٹی کہتے تھے ۔
وہ تو کبھی بھی اہانہ کی بیٹی نہ بن پائی ۔
لیکن ان سب کے کہنے سے کیا وہ اہانہ کی بیٹی نہیں رہے گی ۔
وہ اس کی بیٹی تھی کوئی مانے یا نہ مانے ۔
اس کے سامنے ایک بہت بڑی تصویر تھی جس میں نانا سائیں نے اس کی ماں کو اپنے سینے سے لگایا ہوا تھا ۔
کتنا پیار کرتے تھے وہ اس کی ماں سے اور اس سے اتنی ہی نفرت ۔
جیسے اس کی ماں کا قتل اس کے باپ نے نہیں بلکہ اس نے کیا ہو ۔
وہ ہر چیز کو چھوتی اپنی ماں کا لمس محسوس کر رہی تھی ۔اس کی آنکھیں کب بھیگنے لگی اسے محسوس نہ ہوا
•••••••••••••••••
کردم شاہ نہا کر نکلا تو نظر سامنے میز پر الٹا پڑے ہوئے کپ پر پڑی
وہ پریشانی سے آگے بڑھا اور کپ کو ایک طرف کرتا ضروری کاغذات دیکھنے لگا جن کا بیڑا غرق ہو چکا تھا
یا خدایا یہ کیا ہو گیا کاغذات کو دیکھتے ہوئے وہ بہت پریشان ہو چکا تھا کیونکہ یہ بہت ضروری کاغذات تھے
یہ اس لڑکی نے کیا کردیا کردم کا غصے سے برا حال ہو رہا تھا ۔
یہ انتہائی ضروری کاغذات تھے ۔
تو اس لیے بھاگ گئی بیوقوف لڑکی غلطی قبول کی جاتی ہے اس طرح اسے بھاگا نہیں جاتا ۔
شاید کردم کو اتنا غصہ نہ آتا اگر دھڑکن اسے بنا بتائے یہاں سے چلی نہ جاتی اگر چائے پیپرز پر گر گئی تھی تو اسے بتا دینا چاہیے تھا نہ کہ اس طرح سے جھوٹ بول کر یہاں سے بھاگ جانا چاہیے تھا ۔
وہ پیپرز اٹھا کر نیچے آیا ۔
کیونکہ مانا چاہے غلطی سے گری ہو گی لیکن اسے چھپا کر دھڑکن نے غلطی کی تھی جو کردم کو ہرگز پسند نہ آئی وہ کبھی نہیں چاہتا تھا کہ وہ تائشہ کی طرح ہر بات میں اس سے جھوٹ بولے وہ اپنا اور دھڑکن کا رشتہ سچائی سے مضبوط کرنا چاہتا تھا
اب ان پیپرز کی وجہ سے جو نقصان ہونا تھا سو ہوا لیکن کردم کا ارادہ دھڑکن کو یہ بتانے کا ضرور تھا کہ اپنی غلطی ایکسیپٹ کرنی چاہیے نہ کہ چھپانی
Ep : 27
شاہ سائیں کمرے کی طرف واپس جا رہے تھے تصویروں والا البم مل چکا تھا لیکن دروازے پر قدم رکھتے ہی جب انہوں نے حوریہ کو آنسوبہاتے دیکھا تو غصے سے ان کے ماتھے کی رگیں باہر آنے لگیں ۔
یہ وقت وہ اپنی بیٹی کے ساتھ تنہا گزارنا چاہتے تھے یہ وہ وقت تھا جب وہ حوریہ کی شکل ہرگز نہیں دیکھنا چاہتے تھے
اس وقت غصے کے باعث ان کا پورا بدن کانپ رہا تھا ۔
وہ غصے سے آگے بڑھیں
••••••••••••••
یہ تم نے کیا کیا بےوقوفی لڑکی کردم نے پیپرز اس کے سامنے ٹیبل پر پھینکے تھے ۔
یہ کیا ہے کردم سائیں اور میں نے کیا کیا ہے دھڑکن نے انجان نظروں سے پیپرز کو دیکھتے ہوئے پوچھا جواب زمین اب پڑے تھے ۔
یہ بھی تمہیں میں بتاؤں کہ تم نے کیا کیا ہے ۔۔۔۔
دیکھودھڑکن اگر غلطی ہو جائے تو مجھے بتا دو ۔کم ازکم اس طرح سے وہاں سے بھاگنے کا کیا مطلب تھا ۔
تم مجھے بتا سکتی تھی نہ ۔
غلطی سے گر گئی چائے کوئی بات نہیں لیکن مجھے بتائے تمہارا یہاں غلطی ہے ۔
اس طرح سے جھوٹ بولنا غلط ہے ۔
میں نے کوئی جھوٹ نہیں بولا کردم سائیں اس طرح سب کے سامنے اپنی انسلٹ ہوتے دیکھ کر وہ چپ نہیں رہی ۔
سچ چھپانا جھوٹ ہی ہوتا ہے دھڑکن تم سے غلطی ہوئی ہے اسے ایکسیپٹ کرو ۔
مجھ سے کوئی غلطی نہیں ہوئی کردم سائیں میں نے چائے آپ کے بیڈ کی سائیڈ والی ٹیبل پر رکھی تھی وہاں کوئی پیپرز نہیں تھے میں کوئی بے وقوف یا چھوٹی بچی نہیں ہوں کہ ایسی چیزوں کی سمجھ نہ ہو ۔
دھڑکن اگر غلطی ہو جائے تو اسے قبول کرلینا چاہیے کونسا کردم سائیں تمہیں کچھ کہیں گے جو تم اس طرح سے جھوٹ بول رہی ہو
تائشہ نے آگے بڑھتے ہوئے کہا
تائشہ دیدہ آپ خاموش رہیں یہ ہمارا پرسنل میٹر ہے
تائشہ کی مخالفت نے دھڑکن کو مزید غصہ دلایا تھا ۔
جس دن سے تائشہ نے اس کے ہاتھ جلائے تھے اسے لگ رہا تھا کہ تاِئشہ نے یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا ہے اس کی نفرت زدا نگاہوں کو بھی وہ خود پر نوٹ کر چکی تھی ۔
اور اب اس سب کی وجہ بھی سمجھنے لگی تھی ۔
وہ اپنی خود تک محدود رہنے والی نیچر کی وجہ سے کسی کو کچھ نہیں کہتی تھی لیکن آج تائشہ کا اس کے اور کردم کے بیچ میں بولنا اسے زہر لگا تھا ۔
اگر میں غلطی کروں گی تو اسے ایکسیپٹ کروں گی اتنا حوصلہ ہے مجھ میں ۔میں نے کچھ نہیں کیا میں نے چائے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور وہاں کوئی پیپرز نہیں تھے۔
نجانے کیوں اپنی سچائی کا یقین دلاتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔
بابا تو کہتے تھے کہ کردم اس کا سائباں ہے زندگی کے ہر معاملے میں اس کا ساتھ دے گا ۔یہاں وہ خود کھڑا اس پر جھوٹا الزام لگا رہا تھا
اس کے آنسو دیکھ کر کردم کا غصہ تھوڑا کم ہو چکا تھا ۔
اس سے پہلےکہ اس سے وہ کچھ کہتا بابا سائیں کی بلند آواز نے سب کو اپنی طرف متوجہ کرلیا
••••••••••••
میں پوچھتا ہوں ہمت کیسے ہوئی تمہاری اس کمرے میں قدم رکھنے کی وہ غصے سے دھاڑے ۔
ناناسائیں وہ ۔۔۔وہ میں دراصل ۔۔۔۔حوریہ نے کچھ کہنا چاہا جب شاہ سائیں نے تصویر ہاتھ سے کھینچ نکالی
دفع ہو جاؤ یہاں سے اور آج کے بعد اس کمرے میں قدم رکھنے کی جرات کبھی مت کرنا ۔
یہ میری بیٹی کا کمرا ہے جس کا قتل تمہارے باپ نے کیا ہے وہ غصے سے اپنے آپے سے باہر ہو چکے تھے ۔
آپ کی بیٹی میری بھی کچھ لگتی ہے نا نا سائیں وہ آنسو بھرے چہرے سے بولی شاید انہیں احساس دلانا چاہتی تھی کہ ان کی بیٹی کا اس کے ساتھ بھی ایک مضبوط رشتہ ہے ۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی گھر کے سارے ہی لوگ اس کمرے میں پہنچ چکے تھے ۔
بکواس بند کرو کچھ نہیں لگتی ہماری بیٹی تمہاری تمہارا باپ ہمارے خاندان کا قاتل ہے ۔
تمہارے باپ نے میرے جوان بیٹوں کو مار ڈالا ایک بیٹی کو بیوہ کردیا تو دوسری بیٹی کی جان لے لی ۔
دادا سائیں ۔کردم نے آگے بڑھتے ہوئے ان کے کندھے تھامے۔
نہیں ہو تم ہمارے خاندان کا خون دشمن کی بیٹی ہو تم وہ دھارتے ہوئے بولے یہ جانے بغیر کے ان کے الفاظ سامنے والےکیا اثر رہےہیں ۔
چھوڑیں بابا سائیں آپ کس کے سامنے یہ ساری باتیں کر رہے ہیں ۔پیدا ہوتے ہی اپنی ماں کو کھا گئی اور اپنی منحوسیت ہمارے گھر لے آئی ۔
گھٹیا باپ گھٹیا بیٹی رضوانہ نے زہر اگلولتے ہوئے کہا
۔بس پھوپو سائیں کردم دھیمی آواز میں بولا ۔ادب اور لہٰذاسے کچھ بھی سخت نہ بولنے پر مجبور کر گیا تھا
اور اب اس کی منحوسیت میرے بیٹے کی زندگی خراب کرے گی نجانے کون سی ادائیں دکھا دکھا کر اس نے میرے بیٹے کو پھسایا ہے آج پہلی بار اس گھر میں نازیہ کے منہ سےاپنے لئے اس نے کچھ سنا تھا
اس کا دل چاہا کہ وہ ڈوب مرے یا زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائے ۔
اسے یقین تھا کہ نازیہ مامی سائیں اس سے محبت نہیں کرتی لیکن اتنی شدید نفرت
حوریہ سے مزید برداشت کرنا مشکل ہوگیا وہ بھاگتے ہوئے اس کمرے سے نکلتی چلی گئی ۔
کتنی آسانی سے یہ سب لوگ اسے قاتل کی بیٹی کہہ رہے تھے کوئی نہیں کہہ رہا تھا جس کا قتل ہوا ہے وہ اس کی ماں ہے ۔
اپنے کمرے میں آکر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔
جب اگلے ہی لمحے اس کمرے میں دھڑکن داخل ہوئی ۔ اور اسے اپنے سینے سے لگایا ۔
اور اسے سنبھالنے لگی
•••••••••••••••
شام تک گھرکاماحول بہتر ہو چکا تھا دادا سائیں کا غصہ اتر چکا تھا ۔
اس وقت انہیں اپنے لفظوں کا احساس بھی تھا ۔وہ غصے میں حوریہ کیلئے بہت غلط الفاظ استعمال کر چکے تھے وہ اس معصوم کو تکلیف نہیں پہنچانا چاہتے تھے لیکن وہ کبھی یہ بات بھی نہیں بھلا سکتے تھے کہ وہ ملک کی بیٹی ہے
دھڑکن نے حوریہ کو چپ کروایا جبکہ اس کی اداسی ابھی بھی بہت کچھ بیان کر رہی تھی۔
مقدم شاہ آج دوسرے گاؤں گیا ہوا تھا ۔اسے تو خبر ہی نہ تھی کہ آج اس کے گھر میں کیا کیا ہوا ہے ۔
حوریہ ابھی تک کمرے سے نہ نکلی آج اسے اپنے ہی وجود سے نفرت ہوگئی ۔
وہ اپنے اندر ایسی گھٹن محسوس کر رہی تھی کے موت کی خواہش بھی شدت سے کر بیٹھی ۔
•••••••••••••
کل مقدم شاہ اور حوریہ کو حویلی سے نکلنا تھا ۔
اسی لئے آج وہ اپنے سارے کام نپٹا دینا چاہتا تھا سارے کام نپٹاتے نپٹاتے اسے رات کے ساڑھے گیارہ بج گئے ۔
دادا سائیں سے ملنے گیا تو وہ آرام کر رہے تھے وہ انہیں ڈسٹرب کئے بغیر ہی واپس اپنے کمرے کی طرف چلا آیا ۔
کمرے میں آیا تو حوریہ بھی شاید سو رہی تھی ویسے وہ اس طرح سے کبھی سوتی نہیں تھی اس کا انتظار کرتی تھی لیکن آج ضرورت سے زیادہ لیٹ ہو گیا تھا جس دن سے اس کی شادی ہوئی تھی وہ اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھانے لگا تھا ۔
داداسائیں بھی اس سے بہت خوش تھے ۔
وہ حوریہ کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن اسے فلحال بہت بھوک لگی تھی ۔اور ملازمہ کا ہاتھ کا کھانا وہ کبھی پسند نہیں کرتا تھا ۔
جب سے اس کی شادی ہوئی تھی اماں سائیں کافی بے فکر رہنے لگی تھی ۔انہوں نے تو اپنی ساری ذمہ داریاں حوریہ کے حوالے کردی تھی ۔
اس کے لئے مقدم نے ہی ان سے کہا تھا کہ۔اب آپ بے فکر ہو جائے اور اپنی صحت کا خیال رکھا کریں میرا خیال رکھنے کے لیے میری بیوی آگئی ہے ۔
ابھی مقدم سوچ ہی رہا تھا کہ وہ حوریہ کو جگائے یا نہ جگائے کہ حوریہ کی آنکھ کھل گئی ۔
آپ آ گئے میں آپ ہی کا انتظار کر رہی تھی ۔وہ بیٹھتے ہوئے بولی تو مقدم مسکرایا
مجھے اندازہ تھا کہ تم میرا انتظار کیے بغیر نہیں سو سکتی اب جلدی سے کھانا لگاو بہت بھوک لگی ہے ۔وہ بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولا
اس وقت گھر کے زیادہ لوگ سوتے نہیں تھے بس اپنے اپنے کمرے میں چلے جاتے تھے ۔
حوریہ اس کے قریب سے اٹھنے لگی
جب اس کی آنکھوں پر نظر گئی ۔
اس سے پہلے کہ وہ اٹھتی مقدم نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔
تم روئی ہو ۔۔۔؟
کیوں روئی ہو تم ۔۔۔؟
کسی نے کچھ کہا ہے تم سے ۔۔۔؟
کس نے کہا ہے پھپو سائیں۔ ۔۔؟
مجھے پہلے ہی اندازہ تھا کہ وہ باز نہیں آئیں گی ان سے تمہیں خود بات کرتا ہوں وہ اس سے کہتا بیڈ سے اٹھا
مقدم سائیں مجھے کسی نے کچھ نہیں کہا ۔
اور میں نہیں روئی ہوں ۔۔اس نے خوفزدہ ہوکر فوراً کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولی لیکن مقدم کے روکنے کا کوئی ارادہ نہ تھا ۔
مقدم سائیں میں کہہ رہی ہوں نہ مجھے کسی نے کچھ نہیں کہا ۔اور اگر خالا سائیں کچھ کہہ بھی دیں تو کیا فرق پڑتا ہے ان کی باتیں سننے کی عادت ہے مجھے ۔وہ سمجھانے والے انداز میں بولی
اس کا مطلب ہے کسی اور نے کچھ کہا ہے ۔۔کس نے کہا ہے بتاؤ مجھے ۔اس بار وہ اس کا چہرہ تھام کر نرمی سے بولا ۔
مجھے کسی نے کچھ نہیں کہا مقدم سائیں آپ کو غلط فہمی ہو رہی ہے ۔
تو اگر کسی نے کچھ نہیں کہا تو یہ آنکھیں سرخ کیوں ہیں ۔بتاؤ مجھے اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا ۔
اس وقت کون ہو سکتا ہے یہ سوچتے ہوئے مقدم نے دروازہ کھولا ۔
مقدم لالہ ابھی تھوڑی دیر پہلے بابا سائیں میرے کمرے میں آئے تھے وہ کہہ رہے تھے۔
کہ دودھ پینے سے طبیعت جلدی ٹھیک ہوتی ہے ۔ سر میں بھی آرام آجاتا ہے یہ لیں حوریہ دیدہ میں آپ کے لیے دودھ لے کر آئی ہوں یہ جلدی سے پی لیں تاکہ آپ کے سر کا درد ٹھیک ہوجائے ۔
دھڑکن نے دودھ کا گلاس اس کے ہاتھ میں تھما دیا اور مقدم کی طرف متوجہ ہوئی
آپ کو پتہ ہے آج دادا سائیں اور بڑی امی اور پھپھو سائیں نے ان کو اتنا ڈانٹا بیچاری اتنی روئی ہیں
وہ مقدم کو دیکھ کر بتانے لگی ۔جبکہ مقدم کا دھیان اس کی باتوں پر ضرور تھا لیکن وہ دیکھ حوریہ کو رہا تھا ۔
اماں سائیں نے تمہیں کچھ کہا ہے وہ بےیقینی سے پوچھ رہا تھا
ہاں مقدم لالا انہوں نے ہی کہا ہے
وہ کہہ رہی تھی کہ یہ دیدہ نے آپ کو پھنسا کر آپ سے شادی کرلی ہے اب آپ کی زندگی خراب کر دی گئی
بس کرو دھڑکن جاؤ یہاں سے ۔اس سے پہلے کے دھڑکن اور کچھ کہتی حوریہ فوراً اٹھ کھڑی ہوئی ۔
دیدہ میں تو بس اسے اس طرح سے غصہ ہوتے دیکھ کر دھڑکن پریشان ہوگئی
دھڑکن گڑیا تم اپنے کمرے میں جاؤ ۔
اس سے پہلے کہ حوریہ کچھ جواب دیتی مقدم نے کہا ۔
اوکے گڈ نائٹ
دھڑکن کو اب وہاں اپنا رکنا بےمقصد لگا حوریہ نے اسے دن میں بھی یہ سب کچھ مقدم کو بتانے سے منع کیا تھا لیکن اس نے خود ہی سوچا تھا کہ وہ مقدم کو ضرور بتائے گی آخراسے بھی تو پتہ چلے کہ اس کے پیچھے وہ دن رات طعنے سہتی ہے ۔
شاید حوریہ کے غصے کی بھی یہی وجہ تھی لیکن دھڑکن کو فرق نہیں پڑتا تھا ۔کیونکہ جو کچھ اس کے ساتھ ہو رہا تھا وہ غلط تھا ۔
تم نے مجھے یہ سب کچھ کیوں نہیں بتایا حور وہ غصے سے بولا ۔
میں نہیں بتانا چاہتی تھی ۔اور پلیز اس وقت میرے سر میں بہت درد ہے آپ مجھ سے بالکل بھی کچھ نہیں پوچھیں گے ۔اس سے نظر ملاتے ہوئے اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو گرنے لگے ۔
مقدم نے اگلے ہی پل کھینچ کر اسے اپنے سینے سے لگایا ۔
میں بہت بری ہوں مقدم سائیں جب سے اس حویلی میں آئی ہوں سب کی زندگی حرام کر رکھی ہے میں نے ۔وہ اس کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
تم نے میری زندگی جنت بنادی حور وہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتا بولا
گھٹیا باپ کی گھٹیا بیٹی ہوں۔ اس بار حوریہ کے رونے میں شدت آگئی
نہیں ہو تم اس کی بیٹی صرف میری ہو میری بیوی ہو تم ۔
اسے اپنے ساتھ لگائے اسے رونے دے رہا تھا ۔
آپ کی زندگی میں شامل ہو کر میں نے آپ کی زندگی خراب کردی ۔وہ پھر سے روتے ہوئے بولی تو مقدم بےاختیار مسکرایا وہ اسے کبھی نہیں بتا سکتا تھا کہ اسے اپنی زندگی میں شامل کرنے کے بعد وہ آسمانوں میں اڑ رہا ہے ۔اپنی زندگی کو ایک خواب تصور کرنے لگا ہے ۔ اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے ۔
اپنی محبت کو حاصل کرکے وہ سب کچھ حاصل کر چکا ہے ۔وہ اسے یہ سب کچھ بتانا نہیں چاہتا تھا وہ اسے احساس دلانا چاہتا تھا اپنی محبت کا ۔
لیکن اس سب کے لئے سب سے ضروری یہ تھا کہ مقدم اس گھر میں حور کو ایک پہچان دے ۔اور اس نے یہ کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا تھا ۔
Ep: 28
دھڑکن اپنے کمرے میں جا رہی تھی جب پیچھے سے ملازمہ کی آواز آئی
دھڑکن بی بی اسے کردم سائیں کے کمرے میں دے آئیں
ابھی ان کا خاص ملازم دے کر گیا ہے اس نے کہا ہے کہ یہ فائل کردم سائیں کو دینی ہے۔
اس وقت اگر میں ان کے کمرے میں جاؤنگی تو غصہ ہو جائیں گے لیکن آپ سے نہیں ہونگے تو یہ فائل آپ ہمیں دے آئیں ۔
ملازمہ نے فائل اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا جبکہ آج کے واقعے کی وجہ سے اس کا دل بالکل بھی کردم کو دیکھنے کو نہیں کر رہا تھا ۔
وہ اس سے خفا تھی اس لیے اس واقعے کے بعد اس کو دیکھا تک نہیں چاہتی تھی اس کے بعد وہ گھر پر رہا لیکن دھڑکن نے اسے بالکل بھی اہمیت نہ دی
ڈنر ٹیبل پر اس سے بالکل بھی بات نہ کی ۔
لیکن اب یہ سچ تھا کہ اس وقت کردم کے کمرے میں ملازماؤں میں سے کوئی گیا تو وہ بہت غصہ ہوگا ۔اس نے ملازمہ کے ہاتھ سے فائل پکڑی اور اوپر کی طرف جانے لگی ۔
دروازہ کھٹکھٹانے کی زحمت نہیں کرنی پڑی کیونکہ دروازہ پہلے ہی پورا کھلا تھا ۔
وہ بیڈ پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر کچھ کر رہا تھا ۔۔
اسے آتے دیکھ کر لیپ ٹاپ ایک سائیڈ پر رکھنے لگا جبکہ وہ فائل بیڈ پر رکھتی وہی سے پلٹ گئی ۔
دھڑکن میری بات سنو ۔مجھے لگتا ہے آج جو کچھ ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے اور شاید میں بھی کچھ زیادہ ہی اوور ری ایکٹ کر گیا مجھے لگتا ہے ہمیں اس بارے میں بات کرنی چاہیے ۔
کردم نے اسے اس طرح سے وہ بنا کر کھڑے دیکھ کر کہا
جبکہ وہ اس کی بات کو اہمیت دئے بغیر وہاں سے جانے لگی دھڑکن میں تم سے بات کر رہا ہوں اور یہاں پر تم مجھے نخرے دکھا رہی ہو کردم کو اب اس پر غصہ آ رہا تھا پہلے جو کچھ بھی ہوا یقیناً دھڑکن کی غلطی نہیں تھی لیکن اب تو وہ سب جان بوجھ کر رہی تھی ۔
اس وقت میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتی
دھڑکن واپس جانے لگی جب نظر اسٹڈی کی ٹیبل کے ساتھ رکھی کرسی پر پڑی ۔
اور کرسی کے کونے کے ساتھ پیلے رنگ کے ٹسیل پر یقینا یہ تائشہ کا تھا ۔
تائشہ نے کافی ہوشیاری سے کام کیا تھا لیکن پھر بھی چور اپنی کوئی نشانی چھوڑ کے جاتا ہے اس نے وہ ٹیسل کرسی سے اتارا ۔آج صبح تائشہ نے اسی رنگ کپڑے پہنے تھے اور اس کے دوپٹے کے چاروں کونوں کے ساتھ یہ ٹیسلز تھے
اس نے ٹیسل کردم کو دکھاتے ہوئے اپنی مٹھی میں رکھا ۔
اس کا ارادہ کردم کے کمرے میں رک کر اسے صفائی دینے کا نہیں بلکہ تائشہ سے وجہ پوچھنے کا تھا ۔
•••••••••••••
وہ تائشہ کے کمرے میں آئی وہ یہ تو جانتی تھی کہ اس کی کردم کے ساتھ شادی اسے ہرگز پسند نہیں آئی لیکن وہ اتنا گر سکتی ہے یہ اس نے کبھی نہیں سوچا تھا ۔
اس نے دروازہ کھٹکھٹایا تو دروازہ کھلتا چلا گیا ۔
دھڑکن تم یہاں کیا کر رہی ہو تائشہ سونے کی تیاری کر رہی تھی جب اسے اپنے کمرے میں دیکھ کر پریشان ہوئی
وہ تائشہ دیدہ جب آپ نے اسٹڈی ٹیبل پرچائے گر ائی تب آپ کاٹیسل کرسی سے اٹک گیا تھا آئندہ ایسا کچھ بھی کرتے ہوئے یاد رکھیے گا کہ اس طرح کی کوئی چیز نہ پہنیں جو آپ کی غلطی کا ثبوت چھوڑ جائے ۔
خیر اب وجہ بتانا پسند کریں گی آپ ۔دھڑکن اتنی دلیر نہیں تھی کہ کسی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے اس کی غلطی کی وجہ پوچھ پاتی لیکن نہ جانے کیا بات تھی کہ کردم کی نظروں میں خود کو غلط دیکھ کر وہ یہاں تک آ چکی تھی ۔
شاید بابا کی باتوں کا اثر تھا
دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا ۔مجھے کیا پتا یہ ان کے کمرے میں کیسے پہنچا میں تو آج سارا دن ان کے کمرے میں گئی ہی نہیں ۔اور میں ویسے بھی ان کے کمرے میں نہیں جاتی تم مجھ پر الزام لگا رہی ہو تائشہ نے بڑک کر کہا ۔
اپنی چوری پکڑے جانے پر تائشہ کورونہ آنے لگا اب یہ رونا چوری پکڑے جانے پر تھا یا کسی اور وجہ سے دھڑکن نہیں سمجھی لیکن اس کے رونے کی وجہ سے اسے مزید غصہ آ رہا تھا
اپنے یہ ڈرامے کردم سائیں کے سامنے کریں یا پھر اس کے سامنے کریں جیسے آپ کے ان ڈرموں پر یقین ہو بتائیں مجھے کہ آپ نے کردم سائیں کی فائل پر وہ چائے کیوں گرائی ۔
بس دھڑکن بہت ہوگیا حد ہوتی ہے بدتمیزی کی ۔اپنا نہ سہی اس کا ہی خیال کر لو وہ عمر میں تم سے بڑی ہے دھڑکن کو احساس بھی نہ ہوا تھا کہ کردم کب اس کے پیچھے آیا ۔
مجھے تم کبھی بھی اتنی بدتمیز نہیں لگی تھی معافی مانگو تائشہ سے فوراً وہ غصے سے دھارتے ہوئے بولا ۔
میری کوئی غلطی نہیں ہے کردم سائیں وہ چائے تائشہ دیدہ گرائی تھی ۔
اور اب انہوں نے مجھ پر الزام لگایا ہے اس کی بات پر تائشہ کے رونے میں شدت آگئی جس کا مطلب صاف تھا کہ وہ پہلے ہی کردم کو کمرے میں دیکھ چکی تھی تبھی اس نے یہ رونے دھونے والا ڈرامہ کیا تھا ۔
بس کرو دھڑکن بہت ہوگئی بدتمیزی ابھی کے ابھی معافی مانگو تائشہ سے ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔کردم کے غصے کو دیکھ کر دھڑ کن ایک پل کے لئے سہم سی گئی لیکن وہ کیوں ڈرتی وہ غلط تو نہیں تھی
بلکہ اسے زبردستی غلط ثابت کیا جا رہا تھا ۔
ٹھیک ہے تائشہ کردم سے محبت کرتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ اس کی زندگی برباد کرنے کی کوشش کرے اور ان دونوں میں غلط فہمیاں پیدا کرے وہ بھی تک جب ان کا رشتہ پوری طرح سے شروع بھی نہیں ہوا ۔
دھڑکن تم نے سنا نہیں میں نے کیا کہا میں نے کہا ابھی کے ابھی تائشہ سے معافی مانگو وہ ایک ایک لفظ چھپا چھپا کر بولا ۔
ایم سوری۔۔ اپنی غلطی نہ ہوتے ہوئے بھی معافی مانگ کا دھڑکن کو رونا آنے لگا لیکن اس شخص کے سامنے وہ بالکل نہیں رونا چاہتی تھی ۔
اسی لئے فوراً ہی اس کمرے سے باہر نکل آئی
بس تائشہ رونا بند کرو جو بھی ہوا بھول جاؤیہ بات ہم لوگوں میں رہنی چاہیے بڑوں تک نہیں پہنچنی چاہیے ۔
تم آرام کرو میں چلتا ہوں وہ تائشہ کو دیکھتے ہوئے بولا اور کمرے سے باہر ہوگیا ۔
جبکہ ان دونوں کے رشتے میں پہلی دراڑ ڈال کرتا تائشہ بہت پرسکون تھی
•••••••••••••
کل جو کچھ بھی ہوا کردم نہیں چاہتا تھا کہ یہ بات بڑوں میں جائے ۔
وہ اتنے چھوٹے چھوٹے مسئلوں میں دادا سائیں یا چاچا سائیں کو شامل نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
اس نے تائشہ کو تو منع کردیا تھا لیکن اسے یقین تھا کہ دھڑکن اپنے چھوٹے دماغ کا استعمال ضرور کرے گی ۔
اسی لیے صبح صبح ہی اسے منع کرنے اس کے کمرے میں آیا تھا لیکن بدقسمتی سے وہ اس وقت اپنے کمرے میں نہیں بلکہ کچن میں تھی
اسے لگا تھا کہ شاید صبح صبح اسے بھوک لگی ہوگی لیکن ملازمہ نے اسے یہ بتایا کہ وہ تو صبح صبح شاید آپ کے لئے ناشتہ بنا رہی ہے ۔
کردم نے توجیسے شاید لفظ سنا ہی نہیں تھا ۔وہ ناشتہ بنا رہی تھی اس کے لیے اسے تو یقین تھا کہ وہ اس سے ناراض ہوگی ۔
لیکن یہاں تو وہ اس کے لئے ناشتہ بنا رہی تھی کردم خوشگوار موڈ میں ناشتے کی میزپر آیا ۔
مقدم نہیں آیا ابھی تک ناشتے کی ٹیبل پر مقدم کو نہ پا کر اس نے پہلا سوال یہی پوچھا تھا ۔
نہیں آج وہ دونوں جا رہے ہیں نہ مقدم سامان گاڑی میں رکھوا رہا ہے دادا سائیں نے بتایا
اور ناشتہ کرنے میں مصروف ہوگئے ۔
جب کہ کردم اپنی بیوی کے ہاتھ کا ناشتہ کرنے کے لئے اس کا انتظار کر رہا تھا
رک جائیں دادو سائیں آپ یہ نہیں کھا سکتے یہاں دیکھیں میں نے اپنے ہاتھوں سے آپ کے لئے ناشتہ بنایا ہے ۔
دھڑکن بھاگتے ہوئے آئی اور ٹیبل پر نقشے نما پراٹھا رکھتے ہوئے بولی ۔
دادو سائیں نے ایک نظر پراٹھے کو دیکھا پھر بے اختیار مسکرا دیے وہ جانتے تھے کہ صبح چھ بجے کے بعد سے وہ کچن میں گھسی ہوئی ہے ۔
اور انہیں یقین تھا اتنی دیر میں اس نے یہی پراٹھا ہی بنایا تھا ۔
بابا سائیں آپ بھی یہ ناشتہ مت کیجئے گا میں نے آپ کے لیے بھی اپنے ہاتھوں سے ناشتہ بنایا ہے ۔
احمد شاہ کا ناشتے کی طرف جاتا ہاتھ اچانک رک گیا ۔
رضوانہ اور ناز یہ دونوں ہی اسے دیکھ رہی تھی ۔
باقی سب لوگ کھا سکتے ہیں ۔اس نے باقی سب لوگ کہتے ہوئے کردم کو خاص دھیان میں رکھا تھا ۔
یعنی کہ اب وہ اس کے لئے اسپیشل نہیں تھا ۔
بابا سائیں میں آپ کے لئے چائے لے کر آتی ہوں وہ بھی میں نے اپنے ہاتھ سے بنائی ہے اس نے "چائے " پر زور دیتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو ہوا میں لہراتے ہوئے بتایا ۔
یہ تو آج انقلاب ہوگیا احمد شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو دادا سائیں بول اٹھے خبردار جو ہماری پوتی کے خلاف ایک لفظ بھی کہا ۔
اتنی محنت سے اس نے ناشتہ بنایا ہے یہی کھاؤ ۔
ارےکردم سائیں آپ کیوں روکے ہیں آپ بھی کھائے نہ ۔کردم کو اس طرح سے خاموش بیٹھا دیکھ کر دادا سائیں بولے ۔
جی داداسائیں میں کر رہا ہوں وہ بد مزا ہوکر روز مرہ کا ناشتہ دیکھنے لگا ۔
جو ہر لحاظ سے پرفیکٹ تھا لیکن آج اسے اپنی بیوی کا تیڑا میڑا پراٹھا چاہیے تھا اپنی پلیٹ میں پراٹھا رکھتے ہوئے اس کا دھیان داداسائیں کی پلیٹ پر نقشے نما پراٹھے پر گیا تھا ۔
کاش یہ ساری محنت اس کے لئے کی جاتی ۔
اس سے پہلے کہ وہ ناشتہ شروع کرتا تائشہ نے اس کی پلیٹ میں ناشتہ رکھنا چاہا ۔
ضرورت نہیں ہے تائشہ میں کر لوں گا نا چاہتے ہوئے بھی اس کا لہجہ تلخ تھا ۔
جس پر تائشہ شرمندہ سے ہوکر پیچھے ہوئی ۔
آج حوریہ نہیں نکلی اپنے کمرے سے رضوانہ پھوپھو نے بتانا ضروری سمجھا کیونکہ وہ روزہی کردم کا ناشتہ اپنے ہاتھ سے لگاتی تھی ۔
حوریہ کی ضرورت نہیں ہے میری اپنی بیوی ہے یہ سب کام کرنے کے لئے ۔اس نے دروازے سے اندر آتی دھڑکن کو کچھ جتلاتی نظروں سے دیکھا تھا
شاید اسے بتانا چاہتا تھا کہ یہ جو ناشتہ اس نے بابا سائیں اور دادو سائیں کے لئے بنایا ہے اس کے لیے بھی بنانا تھا ۔
نہ جانے کیسے لیکن دادو سائیں اس کے اندر کی جلن کو محسوس کرچکے تھے ۔
دھڑکن بیٹا اس کے لیے بھی ناشتہ لگاؤ ۔وہ مسکراتے ہوئے دھڑکن سے بولے جس کا موڈ آف ہونے لگا تھا ۔
لگاؤ نہیں بناؤ ۔کردم نے حکم دیا ۔
میں تھک گئی ہوں ۔یہی کھالیں ۔وہ اس کے لئے ناشتہ نکالتے ہوئے ایک سائیڈ ہوگئی ۔
کردم نےگھور کر دیکھا ۔
فی الحال مجھے بھوک نہیں ہے ۔ شام تک اپنی تھکن اتار لینا اور میرے لیے کچھ بنا دینا ۔
وہ اسے گھورتے ہوئے اٹھ کر باہر نکل گیا ۔
جبکہ اپنی پیٹھ پر اس کے نظروں کی تبش بھی محسوس کر چکا تھا
باہر آنے کے بعد دیر تک سوچتا رہا کہ وہ یہ بچکانا حرکت کرکے کیوں آ رہا ہے ۔
سب گھر والوں نے نوٹ کرلیا تھا کہ وہ کہ دھڑکن کے ہاتھ کا ناشتہ بنا کرنا چاہتا تھا ۔دھڑکن نے کتنی صفائی سے اسے اس بات کا یقین دلایا تھا کہ وہ اس کے لئے خاص نہیں ہے ۔
وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ اتنی ذرا سی بات پر اتنا غصہ کیوں آرہا ہے ۔
لیکن دھڑکن کو اس طرح سے خود سے لاپروا ہوتے دیکھ کر اسے بہت غصہ آرہا تھا
••••••••••••••••
مقدم سائیں اتنا سارا سامان آپ تو بس 15 دنوں کے لیے جارہے ہیں اور آپ نے شہر والا بنگلا کیوں کھووانے کے لیے کہا ہے ۔ملازم بتا رہے تھے کہ آپ وہاں شفٹ ہونے کی بات کر رہے ہیں وہ ناشتے کی ٹیبل پر آیا تو دادا سائیں پوچھنے لگے ۔
بالکل ٹھیک سنا ہے آپ نے دادا سائیں میں حوریہ کو لے کر شہر والے بنگلے میں شفٹ ہو رہا ہوں اس نے میز پر موجود سب کے سروں پر دھماکہ کیا تھا ۔
وجہ جان سکتے ہیں ہم دادا سائیں کو غصہ تو بہت آیا لیکن اس کے معاملے میں وہ ہمیشہ ٹھنڈے دماغ سے سوچتے تھے ۔اس کی ضد کے آگے ان کا غصہ اور طاقت ہمیشہ دب کر رہ جاتے ۔
کردم جتنا سنجیدہ مزاج تھا مقدم کا مزاج اتنا ہی ضدی تھا ضد اس کی ذات کا حصہ تھی ۔اسی لیے وہ اس پر غصہ کر کے اسے کسی قسم کی ضد نہیں دلوانا چاہتے تھے ۔
وجہ بہت معمولی سی ہے دادا سائیں ۔کہ یہاں میری بیوی کو میری بیوی ہونے کی اہمیت نہیں مل رہی ۔
آپ لوگوں نے حوریہ کو اب بھی صرف ملک کی بیٹی سمجھا ہوا ہے نہ کہ مقدم شاہ کی بیوی ۔
چاہے دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے لیکن وہ ملک کی بیٹی ہی رہے گی آپ سب کی نظروں میں ۔
اور میں اپنی بیوی کو بات بات پر ذلیل ہوتے نہیں دیکھ سکتا ۔اس لڑکی کی آنکھوں میں آنسو آتے ہیں نا تو میرا دل کانپنے لگتا ہے وہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر شدت سے بولا ۔
مجھے لگتا تھا میں اس سے محبت کرتا ہوں دادا سائیں ۔لیکن یہ معاملہ محبت کی حدود سے بہت آگے نکل چکا ہے ۔اپنی محبت کو بیان کرنے کے لیے عشق سے بڑا کوئی لفظ نہیں ہوتا نہ اگر ہوتا تو وہ بھی میرے حوریہ کے لئے جذبات بیان کرنے کے لئے چھوٹا ہوتا ۔
آپ لوگوں کو میری بیوی پسند نہیں ہے ۔کسی کے لیے وہ ملک کی بیٹی ہے تو کسی کے لئے منہوس ۔اور آپ کے لیے اماں سائیں وہ رک کر اپنی ماں کو دیکھنے لگا ۔
آپ کے لیے تو وہ ایک آوارہ لڑکی ہے جس نے آپ کے بیٹے کو پھسا لیا ۔ آئندہ میری بیوی کے لئے ایسے لفظ استعمال مت کیجئے گا ۔آپ کی شاید وہ کچھ نہ لگے لیکن میری عزت ہے ۔
آج سے پندرہ دن کے بعد جب میں واپس آؤں گا میں شہر والے بنگلے میں رہوں گا اپنی بیوی کے ساتھ ۔
کیونکہ اس حویلی میں اب میں واپس تبھی آؤں گا جب میری بیوی کو میری بیوی ہونے کی حیثیت ملے گی ۔
ایک ہی رات میں تمہارے کان بھر دیے اس نے مقدم سائیں رضوانہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔
فکر نہ کریں پھپھو سائیں اس نے مجھے کچھ نہیں بتایا ۔وہ تو کہہ رہی تھی کہ آپ کی تلخ باتوں سننے کی اس کو عادت ہے افسوس تو مجھے کسی اور پر ہے اس نے اماں سائیں کو دیکھتے ہوئے کہا ۔
اس کے نظروں کے حصار میں خود کو محسوس کرتے ہوئے نازیہ کاسر مزید جھک گیا ۔
آپ نے کہا تھا نہ آپ کی ہر چیز سے بڑھ کر میری خواہش ہے اماں سائیں ۔ لیکن میری خواہش تو آپ کی سوچ کا مقابلہ بھی نہ کر سکی۔
تم یہ گھر نہیں چھوڑ سکتے مقدم سائیں تم جانتے ہوکہ ہمارے لئے کتنے اہم ہو تم جو چاہو گے وہ ہی ہوگا ۔آج سے بلکہ ابھی سے حوریہ کو اس گھر میں تمہاری بیوی کی حیثیت سے قبول کیا جائے گا ۔
شاید ہم کچھ زیادہ ہی جذباتی ہوگئے تھے ۔اپنے پوتے کو خود سے دور کرنے کا سوچتے ہوئے بھی دادا سائیں پریشان ہوگئے تھے
کردم مقدم اور اب دھڑکن تینوں میں انکی جان تھی وہ ان تینوں کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے ۔
یہ ساری باتیں مجھے نہیں آپ کو حوریہ کو بتانی ہوں گی وہ کہتے ہوئے ٹیبل سے اٹھ کھڑا ہوا ۔
مطلب کے صاف لفظوں میں وہ ان کو حوریہ سے بات کرنے کے لئے کہہ رہا تھا ۔
Ep : 29
حوریہ دیدہ میں کب سے آپ کا انتظار کر رہی تھی چلیں ناشتہ کریں وہ جانتی تھی کہ حوریہ رات سے اس سے ناراض ہے وہ جب مقدم کو سب کچھ بتا رہی تھی تب حوریہ کی آنکھوں میں اپنے لیے ناراضگی وہ محسوس کر چکی تھی
اور اب اتنی دیر سے اس کے باہر آنے کا انتظار کر رہی تھی اس نے ابھی تک ناشتہ نہیں کیا تھا حوریہ نے ایک نظر اس کے معصوم چہرے کو دیکھا پھر بے اختیار مسکرا دی
تم بہت شرارتی ہو دھڑکن میں نے تمہیں منع کیا تھا نہ مقدم سائیں کو وہ سب کچھ بتانے کے لئے ۔
وہ اپنا ناشتہ لے کر باہر آئی۔
شاید ٹیبل پر موجود لوگ اس کا ہی انتظار کر رہے تھے کیونکہ ناشتہ تو وہ کافی دیر پہلے ہی کر چکے تھے
او حوریہ بیٹا بیٹھو ہمیں تم سے بات کرنی ہے۔
دادا سائیں نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا تو وہ پریشان سی بیٹھ گئی
دیکھو بیٹا کل جو کچھ بھی ہوا وہ بہت زیادہ تھا وہ ٹیبل کی طرف دیکھتے ہوئے بولے وہ کبھی بھی اس سے بات کرتے ہوئے اس کے چہرے کو نہیں دیکھتے تھے
شاید ہم کل کچھ زیادہ ہی جذباتی ہوگئے تھے ہم سب نے کل تمہیں بہت ہرٹ کیا ۔
ہم تم سے اس کے لیے معافی چاہیے۔۔۔۔
پلیز مجھے برا نہیں لگا اس سے پہلے کہ وہ معافی مانگتے ہوئے وہ بول اٹھی
وہ اس شخص کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھنا چاہتی تھی وہ اسے اپنے سامنے جھکتےتو کبھی نہیں سوچ سکتی تھی ۔
مقدم سائیں کہہ رہے ہیں کہ وہ تمہیں لےکر شہر والے بنگلے میں شفٹ ہو رہے ہیں مامی نے بات میں حصہ لیا ۔
ہم سب ایسا نہیں چاہتے حوریہ تم ہمارے خاندان کی بہو ہو مقدم اس خاندان کا بیٹا ۔
ہم کوشش کریں گے کہ آج کے بعد ہمارے لفظوں سے یا ہمارے رویوں سے تمہیں تکلیف نہ پہنچے ۔آج سے بلکہ ابھی سے میں تمہیں اپنی بہو کے روپ میں قبول کر تی ہوں لیکن خدا کے لئے اس حویلی سے مت جانا میں اپنے بیٹے کے بغیر نہیں رہ پاؤں گی وہ ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی ۔
ان کی آنکھوں سے نکلتے آنسو دیکھ کرحوریہ اندر تک کانپی تھی ۔ایک ماں اپنے بیٹے کے لئے ایک ایسی لڑکی کو قبول کر رہی تھی جس کا باپ اس کے شوہر کا قاتل تھا
آپ فکر نہ کریں مامی سائیں ہم کہیں نہیں جائیں گے ۔ہم نے کہاں جانا ہے یہ تو ہمارا گھر ہے اور صبح کا بھولا شام کو اپنے گھر ہی آتا ہے کہیں اور نہیں جاتا ۔
حوریہ یار جلدی سے ناشتہ کرو کیا چڑیا کی طرح چوگ رہی ہو ۔کیا کہا تھا تم سے کہ صبح صبح نکلیں گے اور تم ابھی تک تیار بھی نہیں ہو ۔
وہ اسے گھر کے کپڑوں میں دیکھتے ہوئے اچھا خاصہ تپ اٹھا تھا ۔
ہم تھوڑی دیر اپنی بہو سے بات کر رہے تھے
حوریہ بیٹا آرام سے ناشتہ کرو اور پھر سکون سے نکلنا ۔اسے تو ہر بات کی جلدی ہوتی ہے دادا سائیں کرسی سے اٹھتے ہوئے خوشگوار لہجے میں کہا ۔
جبکہ مقدم کو آتا دیکھ کر نازیہ اپنی آنکھیں صاف کر چکی تھی ۔
جبکہ رضوانہ تو ابھی بھی اسے قہر پرستی نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔
اچھا ٹھیک ہے تم ناشتہ کرو تب تک میں کردم سائیں سے ڈیرے پر ملنے جا رہا ہوں اور جب تک میں آؤں تم بالکل تیار ملو مجھے ۔
وہ اسے کہتا ہوا اٹھ کر چلا گیا ۔
جبکہ حوریہ کی خوشی کی تو کوئی انتہا ہی نہ تھی ۔آج اتنے سالوں کے بعد نانا سائیں نے اسے اتنی محبت سے مخاطب کیا کل وہ جن لفظوں سے ہرٹ ہوئی تھی آج تو وہ ان الفاظوں کو بھول ہی چکی تھی _
اسے اس گھرمیں مقدم شاہ کی بیوی کی حیثیت ملی تھی نہ کہ ملک کی بیٹی کی اس کا دل چاہا کہ مقدم شاہ کے گلے سے لگا کر اس سے اپنے دل کی کیفیت بیان کرے ۔
لیکن اسے پتہ تھا اس کے بعد مقدم شاہ نے فری ہو جانا ہے ۔مقدم شاہ کی محبت اور بے باکی کو سمجھتے ہوئے بے اختیار شرمائی جبکہ دھڑکن قریب بیٹھی اااوو ہووو کرتی اس سے لپٹ چکی تھی ۔
ویسے مقدم لالا نے ایسی بھی کوئی رومینٹک بات نہیں کی کہ آپ شرمائے وہ اسے چھڑتے ہوئے بولی توحوریہ مزید شرمانے لگی
۔••••••••••••••
ہاہاہا ۔مجھے یقین نہیں آرہا وہ چھوٹی سی لڑکی تمہارا دماغ خراب کر چکی ہے ۔
کردم نے جب سے اسے صبح والا واقعہ سنایا تھا وہ ہنسے جا رہا تھا ۔
اور کیا تم مجھے وجہ بتا سکتے ہو کہ وہ تم سے اتنی خفا کیوں ہے آخر ہوا کیا ہے ۔اس کی بگڑی ہوئی شکل دیکھ کر مقدم پوچھے بنا نہ رہ سکا
یار وہی چائے والا قصہ ۔کردم نے سرسری سی وجہ بتائی
مطلب وہ کل کی وجہ سے تم سے ناراض ہے جو تم نے وہ فائل کی وجہ سے اسے ڈانٹا تھا تو وہ اس کی غلطی تھی اسے چائے نہیں گرانی چاہیے تھی اور اگر غلطی سے چائے تمہاری فائل پر گر گئی تھی تو اسے بتا دینا چاہیے تھا مقدم کو حوریہ نے سب کچھ بتایا تھا ۔
جس پر مقدم کو ساری غلطی دھڑکن کی ہی لگی تھی ۔
چائے دھڑکن نے نہیں گرائی تھی تائشہ نے گرائی تھی
کردم نے اس کی بات کاٹتے ہوئے بتایا ۔اور ساتھ میں باقی کی کاروائی بھی بتائی کہ کس طرح سے اس نے دھڑکن کو تائشہ سے معافی مانگنے پر مجبور کیا
کیا تائشہ نے کیوں کیا مطلب وہ ایسا کیوں کرے گی مقدم اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا ۔
اور اگر تم جانتے ہو کہ چائے تائشہ نے گرائی ہے تو پھر تم نے دھڑکن کو ڈانٹا ۔اور اسے تائشہ سے معافی مانگنے پر مجبور کیوں کیا ۔اب مقدم کو کردم غلط لگنے لگا تھا ۔
مجھے پہلے نہیں پتا تھا لیکن تائشہ کے دوپٹے سے اترے موتی میرے کمرے میں پڑے تھے ۔
تب مجھے احساس ہوا کہ مجھے دھڑکن کو نہیں ڈاٹنا چاہیے تھا
رات کو وہ میرے کمرے میں چائے دینے آئی تو میرا ارادہ اس سے بات کلیر کرنے کرنے کا تھا لیکن وہ آگے سے نخرے دکھا رہی تھی ۔
اور پھر اس کے ہاتھ وہ موتی لگے جسے اٹھا کر وہ تائشہ کے سر پر جا پہنچی۔
اور اس سے اچھی خاصی بدتمیزی کر ڈالی جو بھی ہے تائشہ عمر میں اس سے بڑی ہے اور اس کا مقام وہی ہے جو ایک گھر کی بڑی بیٹی کا ہوتا ہے ۔دھڑکن کی بدتمیزی پر مجھے غصہ آگیا اسی لیے میں نے اسے ڈانٹ کر معافی مانگنے کے لئے کہا ۔
تو بتاؤ مقدم سائیں اگر دادا سائیں سے کوئی غلطی ہو جائے گی تو کیا ہم اس طرح سے بدتمیزی کریں گے ان سے نہیں نہ دھڑکن کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے ۔
آگے اس طرح کے اوع حالات آئیں گے ۔اور اگر میں معافی نہیں مانگواتا تو بات بھر جاتی اور بڑوں میں چلی جاتی ۔دادا سائیں زمین کی وجہ سے پہلے ہی بہت پریشان رہنے لگے ہیں میں نہیں چاہتا تھا کہ گھر میں ہونے والے چھوٹے چھوٹے مسائل کی وجہ سے دادا سائیں کی طبیعت مزید خراب ہو
چاہے دھڑکن سہی تھی لیکن بدتمیزی تو بدتمیزی ہوتی ہے اور میں نہیں چاہتا کہ میری بیوی کو کوئی بدتمیز کہے
واہ کردم سائیں یعنی کے آپ کو دھڑکن کی بدتمیزی پر غصہ آیا اور تائشہ کی گھٹیا حرکت پر غصہ نہیں آیا آج پہلی بار اسے کردم غلط لگا تھا ۔اس کا دل تو چاہ رہا تھا کہ وہ شادی پر کی جانے والی تائشہ کی حرکت بھی اس کے سامنے کھول دے
تائشہ میری کیا لگتی ہے جو میں اس پر غصہ کروں گا کیا حق ہے میرا اس پر جو میں اسے صحیح غلط کی پہچان بتاؤں ۔
میری بیوی دھڑکن ہے مقدم سائیں میں کسی باہر کی عورت پر یہ حق نہیں رکھتا کہ میں اسے ڈانٹوں یا اس سے معافی مانگنے کے لیے کہوں۔
کردم نے ایک نظر اس سے دیکھا جو اس سے بہت گھور کر دیکھ رہا تھا
بہت دیر ہوگئی ہے مقدم سائیں تمہیں اب نکلنا چاہیے گڑیآ انتظار کر رہی ہوگی ۔
اس سے مل کر وہ کھیتوں کی طرف چلا گیا ۔جبکہ مقدم وہیں کھڑا سوچ رہا تھا ۔
اس انسان کو سمجھنا کتنا مشکل ہے بیچاری دھڑکن
••••••••••••••
یہ سفر حوریہ کی زندگی کا سب سے خوبصورت ترین سفر ثابت ہوا تھا وہ مقدم کے سنگ بہت خوش تھی ۔
مقدم ہرتھوڑی دیر میں اسے کسی نہ کسی بات سے چھڑتا ۔
اس کا شرمایا ہوا روپ مقدم کو بہت پسند تھا اس کا تو ہر روپ ہی مقدم کی جان تھا ۔
اس کی ہر ادا مقدم کے لیے جان لیوا تھی۔
اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت احساس یہ تھا کہ اس کی جان اس کے ساتھ ہے ۔
گزرتے ہر ایک لمحے کے ساتھ حوریہ اپنے رب کا شکر ادا کر رہی تھی اس نے کہاں اپنی زندگی کو اتنا خوبصورت سوچا تھا ۔
یہ تومقدم کی سنگت تھی جو اسے دن بہ دن اور خوبصورت بنا رہی تھی ۔
ایک عورت چاہتی کیا ہے اپنی زندگی میں ۔صرف چاہے جانے کا احساس یہ احساس کتنا خاص ہوتا ہے یہ صرف
ایک عورت ہی سمجھ سکتی ہے وہ ہر کسی کی محبت نہیں چاہتی وہ محبت میں صرف اپنے شوہر کی محبت چاہتی ہے اپنے ساتھی کی محبت وہ اس کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھنا چاہتی ہے ۔
چاہے جانے کا احساس محسوس کرنا چاہتی ہے شادی کے ان دس دونوں میں حوریہ نے یہ احساس دل و جان سے محسوس کیا تھا ۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ مقدم کی محبت اس کے لیے بڑھتی جا رہی تھی۔ وہ ہر نماز میں اپنے لیے مقدم کی محبت کو کبھی کم نہ ہونے کی دعائیں مانگتی تھی۔
اور مقدم اسے اپنی محبت کا یقین دلاتا اپنے ہرانداز میں اسے بتاتا کہ وہ اس کے لیے کتنی خاص ہے ۔
وہ جو کبھی کسی کی محبت اپنے لئے محسوس نہیں کر سکی تھی اب اسے سوائے مقدم کے اور کسی کی محبت کی ضرورت نہ تھی
پہلے مقدم صرف اس سے محبت کرتا تھا لیکن اب اس نے اس گھر میں اس کے لیے ایک مقام بنایا تھا ۔بے شک وہ لوگ اسے کبھی اہانہ شاہ کی بیٹی کے روپ میں قبول نہ کرتے لیکن مقدم شاہ کی بیوی کے روپ میں قبول کرنے پر وہ مجبور ہوچکے تھے ۔
وہ اس گھر کی بیٹی نہ تھی لیکن بہت بہو تو تھی بس یہی بات حوریہ کو فرش سے عرش پر بیٹھا گئی تھی اب وہ بے مول نہیں تھی بلکہ اس گھر کے سب سے لاڈلے بیٹے مقدم شاہ کی بیوی تھی اس خاندان کی بہو تھی۔ اور یہ صرف اس کا مقام تھا جس پر اور کسی کا کوئی حق نہ تھا
••••••••••••••
سویرا دیدہ اب آپ کیا کرے گی مجھے کچھ بتائیں گی ۔
آخر کیا چل رہا ہے آپ کے دماغ میں ۔
میں نےتو دھڑکن اور کردم سائیں کی لڑائی کروا کے ان دونوں کو الگ کردیا اب وہ دونوں ایک دوسرے سے بات تک نہیں کر رہے لیکن آپ نے کیسے ان دونوں کو ہنی مون پر جانے دیا آپ نے کچھ نہیں کیا آخر چل کیا رہا ہے آپ کے دماغ میں ۔
تائشہ کب سے اس کے کمرے میں بیٹھی اس سے باتوں میں مگن تھی۔
اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا وہ نہیں جانتی تھی لیکن اس کی پرسرار مسکراہٹ بہت کچھ بیان کر رہی تھی ضرور اس کے دماغ میں کوئی ایسی کھچڑی پک رہی تھی جو بہت کچھ تباہ کرنے والی تھی ۔
بے فکر ہو جاو کچھ نہیں ہوگا ۔دھڑکن مجھے بتا رہی تھی کہ مقدم سائیں حوریہ کو بہت پہلے سے چاہتے ہیں وہ کبھی بھی مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتے تھے ۔
وہ ہمیشہ سے اس دو ٹکے کی لڑکی کو اپنی دلہن کے روپ میں دیکھنا چاہتے تھے ۔تو دیکھنے دو کچھ دن عیش کرنے دو انہیں جینے دو انہیں اپنی زندگی اور پھر انہیں میرے پاس آنا ہے ہمیشہ کے لئے میں نہیں چاہتی کہ ان کی کوئی بھی خواہش دھوری رہے ۔
وہ ہمیشہ کے لئے میرے ہونے والے ہیں تو کیا فرق پڑتا ہے کہ کہ وہ کچھ دن اس لڑکی کے ساتھ گزار لیں جیسے وہ کبھی پسند کرتے تھے ۔
سویرا نے بے فکری سے کہا ۔
سویرا دیدہ کیا آپ مجھے اپنی پلاننگ بتائیں گی وہ اس کی باتوں سے اچھی خاصی گھبرا گئی تھی وہ ضرور کوئی بہت برا کارنامہ سرانجام دینے کے بارے میں سوچ رہی تھی
اور تائشہ کو اس کی باتوں سے ہول اٹھ رہے تھے ۔
کچھ تو گڑبڑ تھی جو سویرہ سے نہیں بتا رہی تھی وہ کیا پلان کر رہی تھی اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا تائشہ بھی نہیں جانتی تھی۔
اور اس کی شکل سے لگ رہا تھا کہ وہ اسے کچھ بھی نہیں بتانے والی
Ep : 30
وہ رات گھر واپس آیا تو دھڑکن اسے کہیں نظر نہ آئی۔ اس کے بعد ڈنر ٹیبل پر بھی وہ اسے کہیں نظر نہ آئی۔ کھانا بھی روز کی طرح آج بھی ملازموں کے ہاتھ کا بنا ہوا تھا ۔
یعنی کہ اس کے کہنے کے باوجود بھی دھڑکن نے اس کے لئے کچھ بھی نہیں بنایا تھا ۔
تائشہ نے سب کو چائے پلائی وہ بھی کچھ بھی بولے بنا چائے پی گیا ۔
شاید وہ دھڑکن کے ساتھ کچھ زیادہ ہی زیادتی کر چکا تھا ۔
شاید وہ تائشہ سے معافی مانگنے کی وجہ سے اس سے زیادہ خفا تھی ۔اپنی غلطی نہ ہونے کے باوجود معافی مانگنا کتنا اذیت ناک ہوتا ہے وہ سمجھ سکتا تھا
لیکن وہ یہ بات کبھی نہیں سمجھ سکتی تھی کہ کردم نے ایسا کیوں کیا ۔
اس نے حوریہ کے علاوہ کبھی کسی کو نہیں روکا ٹوکا تھا وہ کسی پر بھی اپنا حق نہیں سمجھتا تھا ۔
یا شاید دھڑکن پر ضرورت سے زیادہ حق جمانے لگا تھا ۔
کھانا کھا کے وہ روم میں آیا اور یہی سب سوچنے لگا ۔
اس کی ماں کہا کرتی تھی اپنے سے بڑے انسان سے کبھی بدتمیزی مت کرنا یہ تمہاری تربیت کو دو کوڑی کا کردے گی ۔
شاید وہ یہی بات دھڑکن کو سمجھانا چاہتا تھا ۔وہ اس کے علاوہ بھی دھڑکن کو بہت ساری باتیں سمجھانا چاہتا تھا وہ اسے اپنی مکمل بیوی کے روپ میں دیکھنا چاہتا تھا وہ جانتا تھا کہ دھڑکن ان میچیور ہے لیکن کل کواسے یہ گاؤں سنبھالنا تھا اس گاؤں کا سرپنچ بننا تھا تو دھڑکن پر ناجانے کتنی ذمداریاں تھی جو وقت رہتے اسے سمجھنے اور سیکھنی تھی لیکن شاید وہ اس سے کچھ زیادہ ہی امید لگا بیٹھا تھا ۔
••••••••
مقدم ہوٹل چیکنگ کروا کر واپس آیا تو حوریہ گہری نیند سو رہی تھی شاید سفر سے بہت تھک گئی تھی ۔
اسے اس طرح سے گہری نیند سوتا دیکھ کر مقدم بےاختیار مسکراتے ہوئے اس کی طرف بڑھا ۔
غیر محسوس انداز میں اس کے ماتھے کو چومتا ہوا وہ اٹھ کھڑا ہوا اس کا آرام کرنے کا بالکل بھی کوئی ارادہ نہ تھا ۔
بلکہ وہ تو اپنی حوریہ کو خوابوں کی دنیا میں لایا تھا ۔
وہ اس ہنیمون کا ہر لمحہ یادگار بنانا چاہتا تھا ۔
مقدم نہیں چاہتا تھا کہ حوریہ کے لبوں سے مسکراہٹ ایک سیکنڈ کے لئے غائب ہو ۔
اس وقت بھی سوتے ہوئے ایک خوبصورت سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر تھی ۔
تو میرا سوہنا ماہی بی ریڈی ایک خوبصورت سا سرپرائز تمہارا انتظار کر رہا ہے ۔
وہ مسکراتا ہوا کمرے سے باہر نکل آیا ۔
•••••••••••••••
کیا مطلب آج پھر کوئی شادی ہے ۔دھڑکن جو ابھی اپنے کمرے میں آئی تھی احمد شاہ اس کے پیچھے آکر اسے شادی کے بارے میں بتانے لگے ۔
ان کو لگ رہا تھا کہ کردم نے جو کل دھڑکن کو ڈانٹا تھا وہ مسئلہ حل ہو چکا ہے کیونکہ اس کے بعد اس بات کابلکل بھی ذکر نہ کیا گیا
ہاں آج بھی ایک شادی ہے گاؤں ہے کوئی نہ کوئی شادی ہوتی رہتی ہے ۔
آپ کے داداسائیں نے کہا ہے کہ آپ جلدی سے تیار ہو جائے ہم سب لوگ جا رہے ہیں ۔سوائے کردم سائیں کے احمد شاہ نے مسکراتے ہوئے بتایا
کردم سائیں کیوں نہیں جا رہے ۔کردم کو یاد کرتے ہوئے دھڑکن کےلب مسکرائے
اسے تنگ کرکے دھڑکن کو بہت مزہ آیا تھا ۔
وہ بھیر بھاڑ میں جانا زیادہ پسند نہیں کرتے کہیں جانا ضروری ہو تو بیشک چلے جاتے ہیں ۔احمد شاہ نے بتایا
ٹھیک ہے میں جلدی سے تیار ہوتی ہوں ۔اسے بول کر وہ بابا سائیں کے کمرے کی طرف چل کے آئے کچھ دنوں سے ان دونوں کے تعلقات بہت خوشگوار ہوگئے تھے ۔
دھڑکن نے سب کچھ ٹھیک کر دیا تھا ۔
احمد شاہ کو بس ایک بات کا افسوس تھا کہ گزرا ہوا وقت وہ واپس نہیں لا سکتے تھے ۔
اپنے بھائیوں کو واپس ہنستے کھیلتے دیکھ سکتے تھے اور نہ ہی اپنی لاڈلی بہن اہانہ کے سر پہ ہاتھ پھیر سکتے تھے ۔
ماں کی ممتا روٹھے ہوئے تو نجانے کتنے برس بیت چکے تھے ۔
لیکن وہ باپ کا سایا کھونا نہیں چاہتے تھے ۔
جب سے دھڑکن اور کردم کا نکاح ہوا تھا دادا صاحب بہت خوش رہنے لگے تھے ۔اور اب انہیں خوشیوں میں وہ احمد شاہ کو بھی مکمل شامل رکھتے
••••••••••••••
ہاں بھئی دھڑکن تیار ہو ۔ تائشہ سویرا اور گھر کے باقی سب لوگ جانے کے لیے تیار تھے ۔
جب دھڑکن کو محسوس نہ کر کے دادا سائیں نے پکارا ۔
کردم ابھی ابھی گھر واپس لوٹ کے آیا تھا ۔
سب کو اس طرح سے تیار دیکھ کر وہ سمجھ چکا تھا کہ وہ سب لوگ شادی پر جا رہے ہیں ۔
دھڑکن بھی آگئی۔احمد شا ہ نے اسے سیڑھیوں سے اترتے دیکھ کر کہا کردم کی نظر بے اختیار اس پر اٹھی تھی
سفید انارکلی فراک میں سرپر خوبصورتی سے دوپٹہ سجائے وہ کسی اور ہی دنیا کی خوبصورت ترین پری لگ رہی تھی ۔کردم کی نظر اس پر رک سی گئی ۔
ماشاءاللہ میری شہزادی تو بہت خوبصورت لگ رہی ہیں دادا سائیں سے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے کہا تو وہ بے اختیار شرما دی۔
دھڑکن ایک کپ چائے بنا کر میرے کمرے میں لے آؤ ۔کردم اس پر سے نظریں ہٹا تا اپنے کمرے کی طرف جانے لگا ۔
میں شادی پہ جا رہی ہوں ۔دھڑکن جانتی تھی کہ کردم جانتا ہے کہ وہ شادی پر جانے کے لیے تیار ہوئی ہے پھر بھی اس طرح سے آرڈر جھاڑرہا ہے وہ بھی جب کہ وہ جا رہی ہے ۔
اسی لیے دھڑکن نے اسے بتانا ضروری سمجھا کہ فی الحال وہ اس کے لئے چائے تو ہرگز نہیں بنا سکتی اور ویسے بھی اس دن کی عزت افزائی کے بعد دھڑکن نے قسم کھالی تھی کہ اب اُس کا کوئی کام نہیں کرے گی ۔
دھڑکن شاید تم نے سنا نہیں کہ میں نے کیا کہا میں نے کہا چائے بنا کر میرے کمرے میں لاؤ ۔ اس بار کردم ذرا سختی سے بولا ۔
دھڑکن نے دادا سائیں کی طرف دیکھا
دادا سائیں نے ایک نظر دھرکن کی طرف اور پھر کردم کی طرف دیکھا پھر دھڑکن کو دیکھتے ہوئے ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولے
بیٹا جاو اپنے شوہر کو چائے بنا کر دو ۔
تم کل ولیمے پر چلی جانا ۔اب تم لوگ میرا منہ کیا دیکھ رہے ہو چلو گاڑی میں بیٹھو وہ دھڑکن کو بات کرنے کا موقع دیے بغیر آگے بڑھ گئے ۔
جبکہ کردم اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا ۔
دھڑکن کا موڈ بری طرح سے آف ہوچکا تھا
•••••••••••
بہت شوق ہے نہ میرے ہاتھ کی چائے پینے کا آج ایسی چائے پلاؤں گی ساری زندگی یاد رکھیں گے ۔
وہ غصے سے کچن کی طرف آئی ۔
اورغصے سے چیزیں پٹکتی برتن ادھراُدھر کر رہی تھی ۔
چینی اور نمک کے ڈبے سامنے رکھتے ہوئے اس کے شرارتی دماغ میں کچھ کلک ہوا ۔
آئی ایم سوری کردم سائیں مجھے پتہ نہیں چلا نمک کون سا تھا اور چینی کونسی تھی ۔اس کو تو لونگ بولتے ہیں نا وہ شرارت سے کہتی ایک ڈبا اٹھانے لگی چائے کی پتی بھی تو کچھ اسی کی طرح دیکھتی ہے اس نے لانگ کا چمچا بھرتے ہوئے چائے کے پانی میں انڈیل دیا ۔
اور پھر نمک کے تین بڑے سائز کے چمچے اپنی شاندار چائے کا حصہ بنانے لگی ۔
نمک کے نام پر چینی کی بس ایک چٹکی ہی ڈالی تھی ۔کیونکہ دونوں ایک جیسی ہونے کی وجہ سے وہ دونوں میں فرق نہیں کر پائی غلطی سے نمک کی جگہ چینی اور پتی کی جگہ لونگ ڈال دیئے ۔
کردم سائیں آپ کی شاندار جائے تیار ہے ۔
چائے کوکپ میں ڈالتی وہ اس کے کمرے کی طرف جانے لگی بے شک آج اس کے ہاتھوں جو ڈش تیار ہوئی تھی وہ چائے کے علاوہ کچھ بھی کہلاسکتی تھی
Ep : 31
تمہیں ٹھیک سے پتا ہے نہ کہ وہ لوگ کون سے ہوٹل میں ٹھہرے ہیں ۔
احسن ملک نے اپنے لوگوں سے پوچھا تو انہوں نے اسے مکمل انفارمیشن دی ۔
ان لوگوں پر نظر رکھو لیکن دیہان رکھنا کے مقدم شاہ بہت تیز انسان ہے اسے یہ سب کچھ پتہ نہ چلے ۔
اس کا دماغ چیتے کی رفتار کو مار دے سکتا ہے اور اس کی نظر چیل کی نظر کو بھی اگر اسے شک ہوا اور میری بیٹی پر آنچ آئی تو تم لوگوں میں سے ایک بھی زندہ نہیں بچے گا
سر بے فکر ہو جائیں کسی کو کچھ بھی پتا نہیں چلے گا ہم آپ کی بیٹی اور مقدم شاہ پر نظر رکھیں گے ۔
اور جب آپ کی بیٹی اکیلی ہوگی تب آپ کو خبر دے دیں گے آپ اس سے مل کر سب کچھ بتا دیجیے گا فحال بھی آپ کی بیٹی کمرے میں تنہا ہے لیکن مقدم شاہ اس کا بہت خیال رکھ رہا ہے اورہر تھوڑی دیر کے بعد وہ کمرے میں جا رہا ہے یہ نہ ہو کے آپ پکڑے جائے ۔
اس کے آدمی نے بتایا ۔
ٹھیک ہے لیکن مقدم شاہ کے ہر قدم پر نظر رکھو اور حوریہ کو تنہا پاتے ہی مجھے بتاؤ ۔ملک نے فون رکھتے ہوئے کہا
وہ وقت دور نہیں قاسم شاہ سائیں جب میری بیٹی میرے پاس ہوگی وہ خیالوں میں شاہ سائیں سے مخاطب تھا
•••••••••••••••
آپ بہت اداس لگ رہی ہیں بڑی اماں آپ کی پریشانی سمجھ سکتی ہوں ۔
حوریہ نے کس طرح سے مقدم سائیں کو اپنی طرف لگا کر آپ کو خود معافی مانگنے پر مجبور کیا ۔سب سمجھ رہی ہوں ۔
پہلے اس کے باپ کی وجہ سے ہمارا سارا خاندان تباہ ہوا اور اب اس کی وجہ سے مقدم سائیں آپ سے الگ ہو رہے ہیں ۔
کاش میں آپ کے لئے کچھ کر پاتی ۔
میں نے جو کچھ بھی اس دن کہا تھا سب جھوٹ تھا ۔اصل میں بات یہ ہے کہ میں فی الحال شادی نہیں کرنا چاہتی تھی ۔اسی لئے اس دن میں نے بدتمیزی سے مقدم سائیں سے شادی کرنے سے انکار کر دیا لیکن میرا یقین ماں سائیں کاش میں انہیں پہلے دیکھ لیتی ۔
سویرا کب سے ان کے قریب بیٹھی باتیں کئے جا رہی تھی جبکہ نازیہ نے اس کے کسی سوال کا کسی بات کا کوئی جواب نہ دیا ۔
کافی دیر وہ ان کے جواب کا انتظار کرتی رہی پھر مایوس ہوکر ان کے قریب سے اٹھ گئی ۔
ماں بالکل بیٹے جیسی ہے مغرور اکڑو سویرا بڑبڑاتے ہوئے باہر آگئی
••••••••••••••
وہ چائے لے کر کمرے میں آئی تو کردم نہا رہا تھا ۔
کردم سائیں چائے میں نے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر رکھی ہے نہ کہ سٹڈی ٹیبل پہ پہلے بتا رہی ہوں بعد میں الزام لگانے کی ضرورت نہیں ہے ۔
وہ اونچی آواز میں بولی جبکہ اس کی آواز سن کر کردم بے اختیار مسکرا یا ۔
یہی رکوآ رہا ہوں میں اس سے پہلے کے وہ باہر نکلتی کردم کا ایک اور آرڈر آگیا ۔
اور پھر اگلے دو منٹ میں کردم باہر تھا ۔
اپنے کرتے کے بٹن بند کرتے ہوئے وہ اس کے قریب آ روکا ۔وہاں کبرڈ سے ٹائول نکال کے لاؤ وہ الماری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بیڈ پر آ بیٹھا ۔
اور دوسرے ہاتھ سے قریب سے چائے کا کپ اٹھایا ۔
چائے کا پہلا گھونٹ بھرتے ہی الماری سے تولیہ نکالتی دھڑکن کو ہنسی آگئی لیکن وہ بامشکل اسے ظبط کرتی تو اس کے قریب آئیں
کردم کے چہرے پر کسی بھی قسم کا کوئی تاثر نہ تھا ۔
کھڑی کیا ہو سر پہنچو میرا اور دوسرا حکم دیتا چائے پینے لگا ۔
دھرکن نے اس کے آرڈر پر منہ بنایا اور پھر حیران اور پریشان نظروں سے اس کے ہاتھ میں چائے کا کپ دیکھ رہی تھی جو آدھا خالی ہو چکا تھا ۔
یا اللہ یہ کیا ہو رہا ہے اتنی گندی چائے کس طرح پی رہے ہیں وہ سوچتے ہوئے اسے گھور گھور کر دیکھ رہی تھی کردم نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا پھر اپنے سر کی طرف اشارہ کیا تو اس نے فوراً ہی تولیہ اس کے سر پر رکھا ۔
اس افراتفری میں وہ اس کے بہت نزدیک آ چکی تھی ۔ایک نظر کردم نے اسے اپنے بالکل قریب دیکھا دھڑکن فی الحال صرف چائے کا سوچ رہی تھی جو کردم کے اندر جا کر نہ جانے اس کے گردے پھیپھڑے ہلا رہی تھی کہ نہیں ۔
جبکہ کردم اس کے فل سپیڈ میں چلتے ہاتھ کو محسوس کرکے مسکرایا
چائے ختم کرکے کردم نے کپ ایک طرف رکھا اور اپنے سر پر چلتے ہوئے اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا دھڑکن ایک دم گھبرا گئی ۔اور جلدی سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی لیکن یہ اس کے بس کی بات نہ تھی
بہت اچھی چائے بنائی ہے ۔لیکن اگلی بار نمک ذرا تیز رکھنا ویسے ایک بات تو بتاؤ تمہیں کس نے بتایا کہ میں نمک والی چائے پیتا ہوں۔وہ مسکراتے ہوئے پوچھ رہا تھا جب کہ دھڑکن کی نگاہوں کے سامنے وہ چائے کے تین بڑے چمچ جس میں اس نے نمک بھربھر کر چائے میں ڈالا تھا وہ منظر یاد آیا
ہمارے گھر میں تو اور کوئی نمک والی چائے نہیں پیتا کردم نے اسے اپنے ساتھ بیڈ پر بٹھاتے ہوئے پوچھا ۔
پچھلی دفعہ ملازمہ نے بتایا تھا ۔وہ معصومیت سے بولتی اس کے چہرے کے ایکسپریشن دیکھ رہی تھی ۔جبکہ اس کے بلکل قریب بیٹھی وہ نروس بھی ہو چکی تھی ۔
آپ کو واقع ہی چائے پسند آئی دھڑکن کنفیوز سی پوچھنے لگی ہاں اچھی تھی پھر کوشش کروگی تو اس سے بھی زیادہ اچھی بن جائے گی کردم مسکرایا
اس وقت صرف اس کے ساتھ وقت گزارتا اس کے لئے مسکراتا کردم دھڑکن کو بہت پیارا لگ رہا تھا ۔
اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامتیں مسکراتے ہوئے وہ اسے باتیں کر رہا تھا نہ جانے کیوں دھڑکن کا دل چاہا کہ یہ وقت کبھی ختم نہ ہو اور کردم اسی طرح اس کا ہاتھ تھام کر اس سے باتیں کرتا رہے
دھڑکن میں تم سے تائشہ کے بارے میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کردم مسکرا کر بات کا آغاز کرنے لگا ۔
جب دھڑکن نے اچانک ہی اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑایا بیشک وہ اس کے ساتھ رہنا چاہتی تھی اس سے باتیں کرنا چاہتی تھی ۔ لیکن تائشہ کے لئے اس کے پاس بات کرنے کے لئے کوئی بات نہ تھی ۔
مجھے لگا شاید آپ میرے بارے میں کچھ بات کرنا چاہتے ہیں وہ اس کے قریب سے اٹھتی ہوئی بولی موڈ اف ہو چکا تھا ۔
دیکھو دھڑکن میں تم سے ۔۔۔۔۔
آپ دیکھیں کردم سائیں اگر آپ مجھے اس بات کا یقین دلانے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں کہ وہ سب کچھ میری غلط فہمی تھی تو میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ وہ کوئی غلط فہمی نہیں تھی تائشہ دیدہ نے یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا ہے اگر آپ کو مجھ پر یقین نہیں ہے تو پلیز مجھ سے کوئی بات نہ کریں ۔
اس کا نام سن کر وہ بیزار ہو چکی تھی وہ اس کے قریب سے اٹھ کر کمرے سے باہر جانے لگی پھر اچانک مڑی
میں اس سے کبھی بات نہیں کرتی جو زبردستی مجھے غلط ثابت کرنے کی کوشش کرے لیکن آپ سے بات کرنا میری مجبوری ہے ۔کیوں کہ میں دادو سائیں کو دکھ نہیں دینا چاہتی اگر میں چاہتی تو آپ کی اور آپ کی اس لاڈلی پلس چہیتی تائشہ دیدہ کی ساری باتیں میں دادو سائیں کو بتا سکتی تھی ۔
لیکن میں نے ایسا کچھ نہیں کیا کیونکہ میں انہیں کسی قسم کا کوئی دکھ نہیں دینا چاہتی ۔
اسی لیے بہتر ہوگا کہ آپ میری بات کو سمجھیں
میں نہیں چاہتی کہ کل جو کچھ بھی ہوا وہ بات ہم تینوں کے علاوہ کسی اور کو پتہ چلے اسی لئے بہتر ہوگا کہ گھر میں کسی بھی قسم کی کوئی بد مزگی نہ پھیلائی جائے ۔
اور مجھے محاطب کرنے کی کوشش بھی نہ کی جائے ۔کیونکہ میں ناراض ہوں ۔
اور جب تک کوئی سرپرائز پلان کرکے مجھے نہیں مناتا میں تب تک نہیں مانتی دھڑکن نے اسے منانے کا آئیڈیا بھی دیا تھا
لیکن فکر نہ کریں میں آپ سے خود کو منانے کی کوئی امید نہیں رکھتی ۔کیونکہ میں جانتی ہوں آپ دنیا کے سب سے بورنگ ترین انسان ہے
اسی لئے اب اگر کوئی بھی کام ہو تو ملازمہ سے کہیے گا مجھے نہیں ۔اگر الزام لگاتے ہوئے اور ڈانٹتے ہوئے آپ کو یاد نہیں آیا تھا کہ میں آپ کی منکوحہ ہوں تو کام کرتے ہوئے بھی یاد نہیں آنا چاہیے ۔وہ اپنی طرف سے اسے بہت بڑی بڑی باتیں سنا رہی تھی ۔
جبکہ کردم کو ایک پل کے لئے وہ بہت سمجھدار اور دوسرے ہی پل میں کوئی نھنی سی بچی لگ رہی تھی ۔
وہ اسے بہت بھاری بھاری باتیں سنا کر کمرے سے باہر جا چکی تھی
تو اب میڈم کو منانا پڑے گا ظاہری سی بات ہے اسی لئے تو بتا کے گئی ہے کہ ناراض ہوں ۔
لیکن کیسے مناؤں گا میں نے کبھی کسی کو نہیں منایا اور نہ ہی کسی نے مجھے اس طرح سے منایا ہے خیر میں تو کبھی کسی سے اس طرح سے خفا بھی نہیں ہوا ۔
کیا مطلب کیا اب میں اس کی طرح بچے جیسی حرکتیں کرونگا
مقدم سائیں اب تم ہی کوئی آئیڈیا دو وہ فون اٹھاتے ہوئے مقدم کا نمبر ملانے لگا ۔
کیونکہ دھڑکن کی نظر میں مقدم بہت ہی رومانٹک ہسبنڈ تھا ۔اب ایک رومینٹک انسان دھڑکن کے شوہر کو اپنی بیوی کو منانے کا کوئی طریقہ تو بتا ہی سکتا تھا
Ep : 32
اس کا فون کب سے بج رہا تھا ایک بار اس نے فون کی طرف دیکھا کردم کا نمبر آتا دیکھ کر اسے فون اٹھانا پڑا جب کہ اس وقت وہ بہت مصروف تھا اس کا کسی سے بھی بات کرنے کا کوئی ارادہ نہ تھا ۔
ہاں کردم سائیں جلدی بولیں میں بہت مصروف ہوں مقدم نے فون اٹھاتے ہوئے جلدی سے کہا ۔
ایسی بھی کیا مصروفیت ہیں جناب ابھی تو آپ کو گئے ہوئے بمشکل ایک دن گزرا ہے کردم نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا ۔
یار میں حور کے لیے سرپرائز پلان کر رہا ہوں تم بتاؤ کیا کام ہے مقدم نے وجہ بتاتے ہوئے کہا تو کردم مسکرا دیا
وہ کتنا پیار کرتا تھا حوریہ سے وہ اپنے ہرانداز میں میں حوریہ کے لیے چھپی ہوئی محبت کو ظاہر کر رہا تھا ۔
مجھے آپ کی تھوڑی سی مدد چاہیے لو گرو دراصل میری بیوی مجھ سے خفا ہے کردم کی بات ابھی ادھوری تھی کہ مقدم کا قہقہ بلند ہوا ۔
مطلب تم نے اپنی ننھی سی بیوی کو خفا کردیا جو ابھی تک رخصت ہو کے بھی نہیں آئی تھی ۔
مقدم سائیں خدا کا واسطہ بار بار اسے ننھی نہ بلایا کرو دادا سائیں نے بھی نہ جانے کیا سوچ کر یہ پٹاخہ میرے ساتھ باندھ دیا ہے ۔ایک دن اس کی باتیں سن لو کھڑے کھڑے فوت ہو جاؤ گے ۔
ایسی باتیں کرتی ہے جن کا نہ تو سر ہوتا ہے اور نہ ہی پیر اتنا فضول بولتی ہے کہ حد نہیں اور اب روٹھ کر بیٹھ گئی ہے اور یہ کہہ دیا ہے کہ کوئی سرپرائز پلان کرو مجھے منانے کے لیے ۔اور ساتھ میں یہ بھی کہا ہے کہ مجھ سے کسی پلان کی امید بھی نہیں رکھتی کیونکہ میں بونگ ترین انسان ہوں ۔کردم نے اپنی پریشانی ظاہر کرتے ہوئے کہا
کردم سائیں کتنے بورنگ انسان ہو تم ۔چلو اب تم نے مجھے لو گرو بول ہی دیا ہے تو میں تمہاری مدد ضرور کروں گا مقدم نے احسان جتاتے ہوئے کہا
جی بڑی نوازش ہوگی آپ کی کردم نے اس کا احسان قبول کہا۔
ویسے تو میں یہ پلان صرف اور صرف اپنی حور کے لیے کر رہا تھا لیکن میں تمہارے شیئر کر رہا ہوں ۔
مقدم نے اسے پلان بتاتے ہوئے کہا
تمہارا دماغ خراب ہے کیا میں ایسی بچکانا حرکتیں ہرگز نہیں کروں گا کردم کو اس کا آئیڈیا بالکل بھی پسند نہ آیا تو ٹھیک ہے خود کچھ کرلو لیکن نازک دل کی لڑکیاں نے ایسی سے خوش ہوتی ہیں ۔
میں تو اپنی بیوی کو ایسے ہی خوش کروں گا اب تمہیں اسے راضی کرنا ہے تو میرے پلان پر عمل کرو اگر نہیں کر سکتے تو اپنا اکڑو مائنڈ چیک کرکے دھڑکن کو روٹھا ہوا ہی رہنے دو ۔
کیوں کہ لڑکیوں کو منانا تمہارے بس کی بات نہیں ہے اور میں بہت بیزی ہوں اپنی بیوی کے لئے اسپیشل پلانینگ کر رہا ہوں مجھے ڈسٹرب مت کرنا مقدم نے فون بند کرتے ہوئے کہا ۔
💕
مطلب حد ہوتی ہے بندا کوئی عقلمندی کا کام بھی تو کر سکتا ہے یہ احمقانہ حرکتیں کر کے میں دھڑکن کو مناوں گا۔ ۔۔۔؟۔
یہ سب کچھ میرے بس سے باہر ہے مجھے سیدھے سے دھڑکن سے بات کرنی چاہیے ۔
یہ روٹھنا منانا مجھ سے نہیں ہوگا ۔
پتا نہیں مقدم یہ سب کچھ کر کیسے لیتا ہے
بچہ سمجھ کے رکھا ہے مجھے کیا پڑی ہے میں دھڑکن کے لیے ایسی حرکتیں ہرگز نہیں کروں گا سیدھے سے اس سے بات کروں گا اگر ایسے ہی راضی ہوتی ہے تو ٹھیک ہے ورنہ روٹھی ہی رہے ۔
کردم فیصلہ کرکے اٹھا ۔
••••••••••••
حوریہ جاگی تو کمرے میں بالکل تنہا تھی اس نے ایک نظر پورے کمرے کو دیکھا جو مقدم شاہ کے وجود سے خالی تھا وہ جلدی سے بیڈ سے اٹھ کر اسے ڈھونڈنے لگی انجان جگہ انجان کمرے میں وہ بالکل اکیلی تھی ۔
واشروم اور بلکنی چیک کرکے اسے عجیب سے خوف نے آ گھیرا ۔
یہ مقدم سائیں کہاں چلے گئے ۔دروازےکے قریب ہی باہر گلی نما رہداری میں اسے ڈھونڈنے لگی ۔
لیکن اسے دور تک نہ پا کر وہیں سے پلٹ آئی ۔ اکیلے کہیں جانے کے بارے میں تو وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی اور وہ بھی اس انجان جگہ سے ہرگز نہیں
اب سوائے کمرے میں اس کے پاس انتظار کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہ تھا ۔
•••••••••••
دھڑکن کہاں ہے گھر میں کام کرتی ملازمہ کو دیکھتے ہوئے کردم نے پوچھا
چھوٹے شاہ سائیں وہ تو اپنے کمرے میں ہیں
ملازمہ نے جلدی سے بتایا تو کردم نے ہاں میں گردن ہلائی ۔
جنید ایک کام کرو ایک رسی اور ایک مضبوط لکڑی اور تازہ پھولوں کی لڑیاں لے آؤ ۔
کردم نے اس سے آرڈر دیا تو وہ اسے حیران نظروں سے دیکھنے لگا ۔
سائیں آپ ان کا کیا کریں گے۔۔۔۔؟جنید پوچھے بنا نہ رہ سکا تم اتنا کرو جتنا میں کہہ رہا ہوں بیکار میں فضول سوال پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
مجھے کچھ چیزیں چاہیے فٹافٹ لے کے آؤ ۔کردم نے اسے ڈپٹتے ہوئے کہا۔
تووہ حکم سائیں کرتا باہر کی طرف دوڑگیا ۔
کردم کو اپنے آپ پر حیرانگی ہو رہی تھی وہ دھڑکن کو منانے کے لیے مقدم کے آئیڈیا پر عمل کر رہا تھا جبکہ اس نے خود ہی کہا تھا کہ وہ بچکانہ حرکت نہیں کرے گا لیکن شاید محبت چیز ہی ایسی ہے کسی کو کچھ بھی کرنے پر مجبور کردے
محبت ۔۔۔۔۔۔
محبت ہی تو تھی وہ محبت جو نکاح کے اصل بندھن میں بندھ کر پیدا ہوتی ہے ۔
ہر ناپاکی سے محفوظ محبت ۔
ہر لحاظ سے محرم محبت ۔
بنا ڈر اور خوف کے محبت ۔
خوبصورت اور پاکیزہ محبت
جائز اور اصل محبت ۔
محبت کے بھی کتنے خوبصورت نام ہوتے ہیں نا ۔لیکن آج کل کے عاشقوں نے محبت کو اس طرح سے بد نام کیا ہے کہ اس کا نام لینے سے بھی خوف آنے لگتا ہے ۔
جبکہ سچ تو یہ ہے کہ دنیا میں بنایا گیا پہلا رشتہ آدم اور حوا کا تھا ایک خوبصورتی جائز رشتہ تھا ان کے درمیان جذبات پیدا کیے گئے وہ محبت تھے ۔
وہ محبت جو نکاح کے بعد ہوئی تھی نکاح ہی تو محبت ہے محبت کا دوسرا نام ہی نکاح ہے ۔
اگر تمہیں کسی سے محبت ہو تو اسے اپنے نکاح میں لے لو
اپنا وہ رشتہ جائز کرلو اپنی محبت کا ثبوت دے دو ۔
وہ ہوتی ہے اصل محبت ۔
جنید بھاگتا ہوا آیا اور رسی اور لکڑی اس کے ہاتھوں میں تھی۔
یہ لے سائیں پھولوں کی لڑیاں میں نے آرڈر دیا ہے وہ آدھے گھنٹے میں دے جائے گا ۔
ہاں ٹھیک ہے جب پھولوں کی لڑیاں آجائے مجھے بتا دینا کردم نے اسے بیجتے ہوئے کہا
میں کچھ مدد کروں آپ کی
تم کچھ مدد نہیں کر سکتے میرا یہ کام مجھے اکیلے کرنا ہوگا کردم نے اسے آنکھ کے اشارے سے جانے کا کہا ۔
وہ فورا ہی پلٹ گیا جبکہ اندر تجسس ضرور موجود تھا کہ آخر کردم سائیں کرنے کیا والے ہیں۔
•••••••••••
مقدم کمرے میں آیا تو حور بے چینی سے اس کا انتظار کر رہی تھی اس کے آتے ہی وہ اس کے قریب آ کر رکی ۔
کہاں تھے آپ مقدم سائیں میں کب سے آپ کا انتظار کر رہی تھی کیوں چھوڑ کر اکیلے چلے گئے تھے مجھے پتہ ہے مجھے ڈر لگ رہا تھا ۔
وہ اس کے قریب کھڑی اسے بتانے لگی ۔
اتنے دور سے کیسے پتہ چلے گا مجھے تمہیں کتنا ڈر لگ رہا تھا یہاں آکر بتاؤ وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتا اسے اپنے قریب کھینچ چکا تھا ۔
بس کریں مقدم سائیں دیکھیں میرا دل کس طرح سے دھڑک رہا ہے اور آپ ہیں کہ آپ کو مستیاں سوج رہی ہیں حور نے ناراضگی سے کہا
کیا کہاں بتاؤ مجھے تمہارا دل کس طرح سے دھڑک رہا ہے مقدم نے شرارت سے کہا توحور نے گھور کر فاصلہ قائم کیا ۔
آپ بہت بے شرم ہیں مقدم سائیں میں آپ سے کبھی بات نہیں کروں گی ۔
وہ کہتے ہوئے اس سے الگ ہوئی ۔
اچھا بابا میں کچھ نہیں کہتا فلحال چلو میرے ساتھ تمہارے لئے ایک بہت خوبصورت سا بالکل تمہارے جیسا سرپرائز پلان کیا ہے ۔
مقدم اس کے کندھے پہ ہاتھ پھیلاتا اپنے ساتھ باہر آیا ۔
ہم کہاں جا رہے ہیں مقدم سائیں
او ہو میری جان تم چلو تو سہی وہ محبت سے کہتا ہوا اسے اپنے ساتھ لے کر جانے لگا جب اسے محسوس ہوا کہ ان کے پیچھے کوئی آ رہا ہے اس نے پیچھے دیکھا لیکن پیچھے دور دور تک کوئی نہ تھا ۔
کیا ہوا آپ رک کیوں گئے حوریہ نے اسے روکتے دیکھ کر پوچھا
کچھ نہیں چلو مقدم نے ہنستے ہوئے اس کے کندھے پر پھر سے ہاتھ رکھا ۔
جبکہ اس کا دھیان ابھی بھی پیچھے کی طرف تھا
•••••••••••••
Ep : 33
کردم نے پہلے سوچا کہ وہ ملازمہ کو بیچ کر دھڑکن کو بلا لے گا پھر دھڑکن کی ناراضگی کا سوچتے ہوئے وہ خود ہی اسے لینے کے لیے آگیا ۔
اس لگا تھا کہ شاید دھڑکن اس کے بلانے پر نہ آئے اور اس کا پلان دھرا کا دھرا رہ جائے ۔
کمرے میں داخل ہوا تو دھڑکن زمین پر بیٹھی زمین پر ہی سکیچ بک رکھے اس میں کچھ بنانے میں مصروف تھی
قریب آ کر دیکھا تو وہ دادا سائیں کی تصویر بنا رہی تھی ۔
وہ واقع ہی بہت ٹیلنٹڈ تھی۔
وہ کسی ماہر پینٹر کی طرح نہیں بلکہ کسی معصوم بچے کی طرح سکیچ بک زمین پر رکھے اس پر جھکی ہوئی تھی ۔
اور ساتھ ہی دادا سائیں کی ایک تصویر پڑی تھی اور بالکل سیم ٹو سیم سکیچنگ دھڑکن نے کی تھی۔
کردم نے دل ہی دل میں اسے داد دی جبکہ سے دیکھ کر دھڑکن کا موڈ آف ہو چکا تھا ۔
یہ دروازہ یہاں اس لیے لگایا گیا ہے تاکہ اسے کھٹکھٹا کر اجازت مانگ کر اندر آیا جائے وہ اسے یہ نہیں کہہ سکتی تھی کہ ‏مینرز نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے شوہر تھا عزت تو کرنی ہی تھی ۔
ہاں بالکل یہ دروازہ اسی لیے لگایا گیا ہے تاکہ اجازت مانگ کراندر آیا جا سکے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اپنی بیوی کے کمرے میں نے کے لئے مجھے اجازت کی ضرورت ہے ۔
چلو اٹھو میں تمہیں لینے آیا ہوں چلو باہر چلتے ہیں کردم اپنی طبیعت کے برخلاف مسکرا کر بولا تھا ۔
اپنی چہیتی تائشہ کو لے کے جائیں بلکہ تائشہ نہیں آپ تو پیار سے انہیں تاشی کہتے ہوں گے ۔ویسے بھی تو انکی غلطیاں آپ کو کہیں سے نظر نہیں آتی بلکہ ان کی غلطیوں پر آپ دوسروں کو ڈانٹتے ہیں ۔
دھڑکن کے لہجے میں جلن ہی جلن تھی ۔
اس کے خالص بیویوں والے انداز پر وہ بے اختیار مسکرایا تھا ۔
ارے یہ خیال مجھے پہلے کیوں نہیں آیا میں بیکار میں یہاں آگیا مجھے تو تائشہ نہیں بلکہ تاشی کےکمرے میں جانا چاہیے تھا وہ اس کے قریب سے اٹھتے ہوئے بولا جبکہ اس کی بات سن کر دھڑکن کا منہ کھل چکا تھا
ایسے کیسے اس کے کمرے میں جانا چاہیے تھا ۔باہر بیویوں کے ساتھ جایا جاتا ہے اور وہ آپ کی بیوی نہیں ہے دھڑکن نے یاد دلانے والے انداز میں کہا ۔
اسے لگا تھا کہ وہ اس اسے راضی کرنے کے لیے محبت سے سمجھائے گا لیکن یہ تو الٹا اس کے کمرے میں جا رہا تھا ۔
ہاں تو تم نے ہی تو کہا کہ تائشہ کے کمرے میں جاؤ ویسے بھی اگر بیوی اجازت دے رہی ہو تو رکنا نہیں چاہیے یہ موقعے کم ہی زندگی میں نصیب ہوتے ہیں کردم نے قدم آگے کی طرف برائے جب دھڑکن اس کے سامنے آکر رکی
بس بہت ہوگیا ۔
بہت شوق ہے نہ آپ کو ان کے ساتھ جانے کا ابھی دادوسائیں کو بتاتی ہوں ۔
وہ خود ہی آپ کا فیصلہ کریں گے بلکہ آج فیصلہ ہو کر رہے گا ۔
جب ان کو پتہ چلے گا نا کہ آپ نے بغیر کسی غلطی کے مجھے اتنا زیادہ ڈانٹا پھر پتہ چلے گا آپ کو ۔
بائی دا وے میں آپ کو بتا دوں کہ اب آپ کا پتا کٹ چکا ہے اور دادو سائیں کی لاڈلی میں ہوں دھڑکن نے اتراتے ہوئے بتایا ۔
گڈ لیکن اس وقت تم دادا سائیں کو کچھ نہیں بتا سکتی کیونکہ وہ سب لوگ شادی پر گئے ہیں لیکن فی الحال تم میرے ساتھ باہر چل سکتی ہو
میں نے تمہیں منانے کے لیے ایک اسپیشل سرپرائز پلان کیا ہے کردم نے مسکراتے ہوئے کہا ۔اس وقت وہ اسے مزید تنگ نہیں کرنا چاہتا تھا اسی لیے پیار سے بولا
آپ نے پلان کیا ہے اس نے سوالیہ انداز میں پوچھا
ہاں بالکل کردم مسکرایا تھا
لائک سیریسلی آپ کو لگتا ہے کہ میں آپ کی اس بات پر یقین کروں گی مقدم لالہ کا آئیڈیا ہوگا دھڑکن نے اس کے ارادوں پر پانی پھیرتے ہوئے کہا ۔
اسے یہ تو پتہ تھا کہ وہ اسے ان رومانٹک سمجھتی ہے بلکہ تھی ۔
مگر یہ نہیں پتا تھا کہ وہ اسے اس حد تک بورنگ بھی سمجھتی ہے کہ اس سے اس طرح کی کوئی امید بھی نہیں تھی۔
تمہارا لالہ کوئی توپ نہیں ہے جو اس کی ہر بات مانوں گا یہ میری اپنی بھی پلاننگ ہے نہ جانے کیوں کردم اسے صفائیاں پیش کر رہا تھا۔شاید وہ اس کی ساری امیدوں پر کھڑا اترنا چاہتا تھا
چلو اب بہت ہوگیا چلو میرے ساتھ اس بار کردم نے حکم دیا تھا وہ اتنا بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا
کوئی زبردستی ہے کیا نہیں چلوں گی کیا کر لیں گے ۔
اگر نہیں چلوگی تو اٹھا کے لے جاؤں گا ۔کردم سختی سے بولا تھا ۔
بڑے آئے اٹھا کر لے جانے والے دھڑکن اسے اگنور کرتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھتی ہوئی بولی
جب اچانک کردم نے اس کا ہاتھ تھاما اور اسے اٹھا کر اپنے کندھے پر ڈال دیا ۔
دھڑکن میری برداشت کی ایک انتہا ہے ۔مجھ سے تمہارے بچوں والے نخرے نہیں اٹھائے جاتے وہ تیزی سے سیڑیاں اترتا اسے بول رہا تھا جبکہ دھڑکن اپنے آپ کو چھڑوانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی تھی
 
مقدم اسے بالکل تنہائی میں لے کے آیا تھا یہاں پر ان دونوں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا ایک بہت ہی خوبصورت سے جھولے کو پھولوں سے سجایا گیا تھا
حوریہ بے اختیار مسکراتے ہوئے اس کی طرف آئی تھی۔
مقدم سائیں یہ کتنا پیارا ہے یہ آپ نے کیا ہے ۔وہ اسے دیکھ کرخوشی سے چہکتے ہوئے پوچھنے لگی تو مقدم نے ہاں میں سر ہلایا
میرے لیے ۔۔۔۔۔؟اس نے بے یقینی سے پوچھا تھا
نہیں ہوٹل کی روم سروسز کے لیے ۔
افکورس تمہارے لئے تمہارے علاوہ ہے کوئی جس کے لیے میں یہ کروں گا ۔
مقدم اس کے قریب آ کر بیٹھا ۔
تھینک یو مقدم سائیں آپ کو پتہ ہے مجھے بچپن سے اس طرح کے جھولے پر بیٹھے کا شوق تھا ۔
مجھے تمہارے بارے میں سب کچھ پتہ ہے حور مقدم شاہ کو تمہارے لفظوں کے اظہار کی ضرورت نہیں ہے وہ تمہاری آنکھوں میں تمہاری خواہش پڑھ سکتا ہے ۔مقدم نے محبت سے اس کی دونوں آنکھوں کو چُوما تھا
مقدم نے آہستہ سے جھولے کو موو کیا تو وہ بے اختیار اس کے قریب آئی۔
تائشہ تو بچپن سے سہیلیوں کے ساتھ باغ میں جایا کرتی تھی اسے بھی بہت شوق تھا باغ میں جاکر جھولے پر بیٹھنے کا لیکن ملک کی وجہ سے دادا سائیں اسے کبھی حویلی سے باہر جانے کی اجازت نہ دیتے اگر وہ کسی کے ساتھ جا بھی سکتی تھی تو صرف اور صرف کردم کے ساتھ ۔
اور کردم کے سامنے اس طرح کی ننھی ننھی خواہشوں کا اظہار اس نے کبھی کیا ہی نہ تھا اگر کرتی تو شاید وہ اسے منع بھی نہ کرتا ۔وہ تو ہمیشہ سے اس کا بہت خیال رکھتا تھا
لیکن وہ اپنی وجہ سے کبھی کسی کو تکلیف نہیں دیتی تھی ۔
اسے بالکل اندازہ نہ تھا کہ مقدم شاہ اس کے لئے کچھ ایسا کرنے والا ہے ۔
جھولے کو خوبصورت پھولوں کی تازہ لڑیوں کے ساتھ سجایا گیا تھا ۔حور ان تازہ پھولوں پے ہاتھ پھیرتی مقدم کے سینے میں سر رکھ گئی ۔
آپ مجھ سے ہمیشہ اسی طرح سے پیار کریں گے مقدم سائیں ۔ ۔۔۔وہ اس کے سینے پر سر رکھے آہستہ سے بولی
نہیں ۔ مقدم نے ایک لفظی جواب دیا توحوریہ اس کے سینے سے سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی ۔
وقت کے ساتھ میری محبت بڑھتی چلی جائے گی ۔کہتے ہیں محبتوں کا سلسلہ کبھی رکتا نہیں ۔لوگ کہتے ہیں کہ جس چیز کو ہم چاہنے لگے اور وہ ہمیں حاصل ہوجائے تو ہماری شدت میں کمی آجاتی ہے لیکن تمہارے معاملے میں لوگوں کی یہ بات غلط ثابت ہو رہی ہے حور
تمہیں دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر دن تم میں میں ایک نئی حوریہ کو دیکھتا ہوں جس سے ہر روز مجھے محبت ہو جاتی ہے ۔
میں گرنٹی دے سکتا ہوں محبت بھر جائے گی حوریہ لیکن کم کبھی نہیں ہوگی ۔
اللہ کے سوائے دنیا کی اور کوئی طاقت ہمیں الگ نہیں کر پائے گی تم میری پہلی اور آخری چاہت ہو تمہارے بعد تو زندگی کی خواہش بھی نہیں رہی ۔
مقدم سائیں پلیز اس طرح کی باتیں نہ کریں ۔
کیوں مرنا تو ہے ایک دن سبھی مریں گے بات کرنے میں کیا حرج ہے مقدم اس کے انداز پر مسکراتے ہوئے بولا
ابھی تو زندگی شروع ہوئی ہے میں نہیں چاہتی کہ ہم مرنے مرانے کی باتیں کرکے اس کی ناشکری کریں۔
ابھی مجھے آپ کے ساتھ بہت ساری خوشیاں دیکھنی ہے ۔
جیسے کے۔ ۔۔۔۔۔؟ مقدم اس کے گرد باہیں پھیلائے آہستہ سے جھولے کو ہلانے لگا ۔
وہ تو ہمیشہ سے فرصت سے بیٹھ کر اس سے باتیں کرنا چاہتا تھا اس کی خواہش جاننا چاہتا تھا اس کی پسند ناپسند کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا لیکن وہ کم گو سی لڑکی کچھ بولتی نہیں تھی آج وہ بولنے پر آئی تو مقدم نے اسے روکا نہیں ۔وہ اس کی ہر بات میں ایک نئی بات نکال رہا تھا
جیسے کے ہم یہاں سے جائیں گے تو کردم لالہ کی شادی کی خوشی ۔پھر تائشہ دیدہ کی شادی بھی تو ہوگی ۔
ویسے مجھے تائشہ دیدہ کے لیے بہت برا لگا کہ ان کی شادی کردم لالا سے نہیں ہوگی اور وہ ہمیشہ کے لئے یہاں نہیں رہ سکیں گی لیکن دھڑکن کے لیے اچھا بھی لگ رہا ہے اب وہ ہمیشہ ہمارے پاس رہے گی حوریہ نے خوشی سے کہا۔
اور پھر کردم لالا کے بچے میں ان سے بہت پیار کروں گی ۔۔۔وہ ایکسائٹڈ سی بتانے لگی
اور ہمارے بچے ۔۔۔۔۔؟مقدم نے آہستہ سے ان کے کان میں سرگوشی کی ۔
جبکہ حوریہ اس بار نظر اٹھا کر بھی اسے نہ دیکھ پائی
یہ چیٹنگ ہے حوریہ اپنے بھائی کے بچوں کو کس طرح سے محبت سے یاد کر رہی ہو اور میرے بچے ۔خبردار جو تم نے میرے بچوں میں محبت کی کمی کی تو۔
ویسے تو تم بہت پیاری ہو مجھے نہیں لگتا بھی تم ظلم ٹائپ ماں ثابت ہو گی ۔
لیکن پھر بھی میں تمہیں وارن کر رہا ہوں ۔مجھے اپنے بچوں کے لئے ایک پیاری سی ماں چاہیے ۔
اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے شرارت سے بولا
حوریہ کو بالکل بھی امید نہ تھی کہ وہ اس سے اس طرح سے بات کرے گا ۔
وہ تو بس اپنی خوشیوں گنے جا رہی تھی اپنے بچوں کے بارے میں تو اس نے سوچا بھی نہیں تھا ۔
اچھا بتاؤ نہ کہ کب تک خوشخبری ملے گی ۔اس کا شرمایا ہوا روپ دیکھ کر مقدم نے پھر سے اس کے کان میں سرگوشی کی تھی ۔
مجھے کیسے پتہ ہوگا وہ شرما کے اس کے سینے میں منہ چھپا گئی ۔
تو پھر کسے پتہ ہوگا بتاؤ میں اسی سے پوچھ آتا ہوں ۔
مقدم نے مسکراتے ہوئے اس کی تھوڑی کو اونچا کیا ۔
آپ بہت بے شرم ہیں ۔وہ اس کا ہاتھ ہٹاتی اس کے سینے میں منہ چھپا گئی جب مقدم مسکرایا ۔
شادی کے تیرویں دن بھی وہ پہلی رات کی طرح شرما رہی تھی ۔
شاید یہی چیزمقدم کو اس کا مزید دیوانہ کرتی تھی ۔
ہاں یار کیا کروں مجھے اپنے بچوں کی بہت جلدی ہے اب ان کا باپ اتنا ذمہ دار ہو گیا ہے ۔تو بچوں کو جلدی آنا چاہیے نا ویسے بھی میں نے سنا ہے کہ بچوں کے بعد پیار بڑھ جاتا ہے میں تو دن رات اپنا پیار بڑھنا چاہتا ہوں ۔
اسے اپنے سینے سے لگائے آہستہ آہستہ بولتے ہوئے مقدم کو ایک بار پھر سے اپنے پیچھے کسی کا سایہ محسوس ہوا ۔
نجانے سے کیوں لگ رہا تھا کہ کوئی اسے اپنی نظروں کے حصار میں لیے ہوئے ہے ۔
مقدم نے غیر محسوس انداز میں ہر طرف دیکھا تھا وہ حوریہ کو خوفزدہ نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
مقدم سائیں موسم خراب ہورہا ہے چلے اندر چلتے ہیں ۔حوریہ اسے دیکھتے ہوئے بولی ۔
ہاں چلو اندر چلتے ہیں تھوڑی دیر میں بارش ہونے والی ہے کمرے میں چل کر اس بھیگی بارش کا فائدہ اٹھاتے ہیں ۔
مطلب ہم بارش میں بھیگے گے حوریہ نے خوشی سے چہکتے ہوئے کہا
اس کے بچکانہ انداز میں مقدم بےاختیار مسکرایا ۔
ہاں بالکل اس موسمی بارش کے ساتھ ساتھ اپنے پیار کی بارش میں بھی ۔
مقدم ذومعنی انداز میں کہتا اسے ایک بار پھر سے شرمانے پر مجبور کر گیا تھا
💕
وہ اس سے حویلی کے پیچھے لے آیا تھا ۔یہ تو شکر ہے کہ اس کو آتے ہوئے گھر کے ملازموں نے نہیں دیکھا تھا ۔ورنہ کردم شاہ کا یہ روپ دے کر یقینا بے ہوش ہو جاتے ۔لیکن یہاں سے دھڑکن کے کمرے میں جاتے ہوئے کردم میں سب نوکروں چھٹی دیتی تھی سوائے جنید کے
چھوڑیں مجھے یہ کیا طریقہ ہے ہر بات میں زبردستی اور دھونس نہیں چلے گی وہ ا سے دھکا دے کر اس سے دور ہوئی تھی
اس کی یہ حرکت دھڑکن کو ہرگز پسند نہ آئی تھی ۔
دیکھو دھڑکن میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا تمہارے نخرے ایک حد تک برداشت کروں گا میں ۔
سو حد سے زیادہ میرے بس میں نہیں ہے دیکھو یہ سب کچھ دو گھنٹے کی محنت سے کیا ہے اس نے بڑے سے درخت کے ایک سرے سے جھولے کو دکھاتے ہوئے کہا جیسے پھولوں کی لڑیوں سے سجایا گیا تھا ۔
لکڑی کے بڑے سے ٹکڑے کو نرم گدوں سے خوبصورت کرسی کا روپ دیا گیا تھا ۔
دھڑکن جھولا دیکھ کر کردم کو دیکھنے لگی ۔
جو مسکرا کر اس ایکسپریشنز دیکھ رہا تھا شاید نہیں یقینا سے یہ سرپرائز بہت پسند آیا تھا ۔
آپ نے مجھے بے وقوف سمجھا ہوا ہے ۔کیا لگتا ہے آپ کو کہ اگر آپ یہ کہیں گے کہ یہ سب کچھ آپ نے کہا ہے میں یقین کرلوں گی ۔
کردم سائیں میں چھوٹی ضرور ہوں بے وقوف نہیں ۔
ایک نظر خود کو شیشے میں دیکھ کر سوچیں کیا آپ یہ کر سکتے ہیں ۔وہ اسے گھورتے ہوئے یقین سے کہہ رہی تھی کہ یہ سب کچھ اس نے نہیں کیا ۔
تبھی دوڑتا ہوا جنید آیا اور کردم کا موبائل اس کے ہاتھ میں دیا
شاہ سائیں آپ کا فون ۔۔۔جنید اس طرح سے کبھی نہ آتا اگر اس کے فون پر چودھری کا فون نہ آرہا ہوتا ۔
کردم نے اس کے ہاتھ سے فون لیا اور ایک طرف ہو گیا جبکہ جنیددھڑکن کے قریب سرجھکائیں ہاتھ باندھے کھڑا تھا ۔
سنو یہ سب کچھ کردم سائیں نے کیا ہے کیا ۔وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جبکہ کردم کے تیز کانوں نے اس کی آواز سن لی تھی ۔
مطلب اس لڑکی کو اپنے شوہر پر یقین نہیں تھا لیکن نوکر پر یقین تھا ۔
جی بی بی جی یہ کردم سائیں ہی دو گھنٹے سے کر رہے تھے ۔
تھوڑی دیر چوہدری سے بات کر کے کردم دوبارہ اس کے قریب آگیا ۔
اب اگر کوئی بھی ڈسٹرب کرے تو خود ہی ہنیڈل کر لینا مجھے مت دینا اس نے جنید کو واڑن کرنے والے انداز میں کہا اور وہ اس کے ہاتھ سے فون لے کر وہاں سے چلا گیا ۔
کرلی تشویش آگیا یقین کہ یہ سب کچھ میں نے کیا ہے ۔۔
وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے جھولے پر بیٹھا رہا تھا ۔
ہاں آگیا یقین کا یہ سب کچھ آپ نے کیا ہے لیکن یہ کس کا آئیڈیا ہے یہ بتائیں کیونکہ یہ آپ خود نہیں کر سکتے ۔
آپ دنیا کے بورنگ ترین انسان ہیں پتا ہے مجھے یہ آپ نے نہیں کیا بتائیں کس نے کیا ہے وہ جھولا ہلاتے ہوئے بولی ۔
کردم نے ایک نظر اس کے چہرے پر دیکھا پھر بے اختیار مسکرا دیا ۔
ہاں یہ میرا آئیڈیا نہیں ہے تمہارے لالہ کا ہے لیکن وعدہ کرتا ہوں کے آگے زندگی میں اپنے آئیڈیاسے مناؤں گا تمہیں کردم نے ہار مانتے ہوئے اس کے جھولے کو ہلایا ۔
دھڑکن کھلکھلاتے ہوئے جھولا جھولنے لگی ۔
دیکھا میں نے بتایا تھا نہیں آپ نے نہیں کیا ۔دھڑکن مسکراتے ہوئے بولی۔
اچھا لگا مجھے کہ تمہیں پتا چل گیا کہ یہ میں نہیں کر سکتا لیکن میں یہی چاہتا ہوں کہ تم آگے زندگی میں بھی مجھے اسی طرح سے سمجھو تمہیں پتا ہونا چاہیے کہ میں کیا کرسکتا ہوں اور کیا نہیں ۔
تمہیں میرے بارے میں سب کچھ جننا ہوگا ۔
میں جانتا ہوں تمھیں اس بات کا بہت دکھ ہے کہ میں نے تائشہ کی وجہ سے تمہیں ڈانٹا ۔
لیکن اس کے پیچھے بھی ایک وجہ تھی دھڑکن میں حویلی میں کوئی تماشہ نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
تمہیں ڈانٹ پھٹکار کے میں تمہیں منع تو کر سکتا تھا لیکن اگر تائشہ کو ڈاٹتا تو یہ بات بڑوں جاتی ۔
اور فی الحال دادا سائیں لڑکیوں کے سکول کی وجہ سے پہلے ہی بہت پریشان ہیں میں انہیں اس طرح سے پریشان نہیں دیکھنا چاہتا وہ ہماری شادی سے بہت زیادہ خوش ہیں
میں نہیں چاہتا کہ ان ذرا ذرا سے باتوں کی وجہ سے ان کے چہرے پر اداسی آئیں اور مجھے یقین ہے کہ تم بھی ایسا نہیں چاتی ۔
بس پانچ چھ دن کی بات ہے پھر تم ہمیشہ کے لئے میرے پاس آ جاؤگی ۔
وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ بھی تمہیں غلط بات پر نہیں ڈانٹوں گا دھڑکن میں ان مردوں میں سے نہیں ہوں جو اپنی غلطیوں کو قبول کرنے سے ڈرتے ہیں لیکن تم بھی اپنی غلطیوں پر ڈانٹ کھانے کے لیے ہمیشہ تیار رہنا ۔
کردم نے اس بار اس کے جھولے کو روکتے ہوئے کہا تھا ۔
کردی نہ ہٹلر والی بات دکھا دیا نا اپنا آپ
یہ میری غلطی ہے جو میں نے سوچ لیا کہ قاسم شاہ سائیں کا پوتا رومینٹک ہوگیا ہے ۔
ہائے کہاں قسمت پھوٹی ہے میری ۔چلے اب شروع ہو جائے وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی
کیا شروع ہو جاؤں کردم کنفیوز ہوا ۔اس کی یہ بے فضول سی دہائیاں اسے بالکل سمجھ نہیں آرہی تھی
وہی سب جو جو آج کل کے مرد اپنی بیویوں سے کہتے ہیں میرے کھانے کا خیال رکھنا میرے جوتوں کا خیال رکھنا میرے موزوں کا خیال رکھنا مجھے کسی چیز کی شکایت نہیں ملنی چاہیے اگر میں تمہیں کوئی ڈانٹے تو سکون سے اس کی ڈانٹ سننا ۔
اگر کوئی مارے تو ڈنڈا خود اس کو اٹھا کر دینا ۔
اگر ساس باتیں سنئں اف سوری ساس ہی نہیں ساس کا رول تو آپ پلے کر رہے ہیں
۔طنے آپ ماریں گے ۔اور رہی بات میری نند کی تووہ اللہ کا شکر ہے کہ ہے ہی اچھی ۔ویسے اگر دیکھا جائے تو سویرا دیدہ بھی میری نند ہوئی نا اور تائشہ دیدہ بھی تائشہ کا نام لیتے ہوئے اس کی آواز کم ہوگئی تھی لیکن قہقہ بہت زور کا بلند ہوا تھا ۔
اس کے اس طرح سے ہنسنے پر وہ بھی مسکرایا ۔
اب اسے یہ کہہ کہ تم ہنستے ہوئے پیاری لگتی وہ مزید اسے سر پر نہیں چڑا سکتا تھا پہلے ہی اس کے بہت نخرے اٹھا چکا تھا ۔
تم بہت فضول بولتی ہو دھڑکن تمہاری باتوں کا نہ سرہے نہ پیر اس نے تعریف کرنا ضروری سمجھا جو دھڑکن نے سر کو خم دے کر قبول کی
آپ ایسے کیا دیکھ رہے ہیں جھولا جھولائے مجھے اگر رومینٹک ہونے کی تھوڑی کوشش کر ہی لئے تو مکمل طریقے سے کریں دھڑکن نے اس کے دونوں ہاتھ رسیوں پر رکھتے ہوئے کہا ۔
تو کردم نے مسکراتے ہوئے اس کے جھولے کو دھکا دیا اور اس کے ساتھ ہی وہ کھلکھلائی تھی ۔
 
مقدم سائیں بارش کا موسم تو بنا ہوا ہے لیکن بارش ہونے کا نام نہیں لے رہی حور بالکنی میں کبھی ادھر تو کبھی ادھر ٹہل رہی تھی ۔
لیکن بارش تھی جو ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔
لگتا ہے یہ بارش نہیں ہوگی پھر ہم اپنی بارش برساتے ہیں مقدم نے کھینچ کر اسے اپنے قریب کیا ۔
بالکل نہیں جب تک بارش نہیں ہوتی تب تک آپ میرے پاس نہیں آ سکتے ۔
حوریہ نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اس سے دور کیا جبکہ وہ اس کی ننھی سی فرمائش پر عمل کرتے ہوئے ذرا دور ہوا پانچ نہیں تو دس منٹ میں بارش ویسے بھی سٹارٹ ہونے ہی والی تھی ۔اتنا صبر تو وہ کر ہی سکتا تھا ۔
وہ اپنا لمباسا دوپٹہ ہوا میں لہراتی ادھر سے ادھر کہ رہی تھی جب اچانک بارش کا ایک ننھا سا قطرہ اس کے چہرے پہ آگیا ۔
اس سے پہلے کہ حوریہ اسے محسوس کرتی مقدم اسے کھینچ کر اپنے قریب کر چکا تھا ۔
ہوگئی شروع بارش اب پابندی ختم وہ اس کے چہرے پر جھکتے ہوئے محبت سے بولا
ابھی ٹھیک سے شروع نہیں ہوئی وہ بے بسی سے بولی لیکن اس کے کہنے کی دیر تھی کے بارش نے زور پکڑتے ہوئے ان دونوں کو بھیگو ڈالا ۔
اب تو کوئی اعتراض نہیں ۔
وہ مسکراتے ہوئے اس کے چہرے پر جھکا جبکہ حوریہ اس کی باہوں میں سمٹتی برستی بارش کے ساتھ اس کی محبت کی بارش میں بھیگتی چلی جا رہی تھی
💕
مبارک ہو کردم سائیں ہو گیا ستیانہ آپ کے آئیڈیا کا اگر کچھ کرنا ہی تھا تو اس موسم میں کرنا ضروری تھا ابھی دھڑکن کے ساتھ مشکل سے تھوڑا سا وقت ہوا تھا کہ بارش شروع ہوگئی
مقدم سائیں کا کوئی آئیڈیا میرے کام آ جائے ایسا تو ممکن ہی نہیں وہ بدمزہ ہوکر بولا تھا ۔
دھڑکن جھولے سے اترتی حویلی کے اندر جانے لگی کہ کردم نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی طرف کھینچا تھا ۔
دھڑکن میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں
وہ اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے تھامتے ہوئے بولا اسے اپنی اس قدر قریب سنجیدہ دیکھ کر دھڑکن ایک پل کے لئے کنفیوز ہو گئی۔
کیا ۔۔ ۔۔۔؟
اس کی بدلتی نظروں کو دیکھ کر دھڑکن فوراً ہی وہاں سے جانا چاہتی تھی ۔
جھولے کا آئیڈیا ضرور مقدم شاہ کا تھا اور بارش اللہ میاں نے دی ہے ۔لیکن اس بارش میں بھیگنے کا آئیڈیا میرا ہو سکتا ہے ۔
وہ مسکراتے ہوئے بولا ۔
ہم آپ کے آئیڈیا دینے سے پہلے ہی بھیگ چکے ہیں ۔اس نے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا جب کرد م نے اس کا ہاتھ چھوڑ کروہی ہاتھ اسکی کمر میں ڈال کر اسے مزید اپنے قریب کیا ۔
مزید بھیگتے ہیں ۔میں نہیں چاہتا کہ اسی سال بعد تم مجھ سے یہ کہو کہ نکاح کے بعد پہلی بارش میں آپ نے مجھے بھیگنے نہیں دیا ۔
کردم نے نرمی سے اس کے گالوں کو اپنے لبوں سے چھوا دھڑکن خود میں سمیٹتی اس سے دور ہونے کی کوشش کرنے لگی ۔
تو بولو نا اسی سال کے بعد بھی تم میرے ساتھ اسی طرح بارش میں بھیگو گی ۔
آپ میرے ساتھ زندگی کے اسی سال گزارنا چاہتے ہیں دھڑکن کو جب سب راہ فرار بند دکھی تو وہ اسی کی سینے میں منہ چھپاگئی ۔
ہاں اسی سال گزارنا چاہتا ہوں تمہارے ساتھ بس یہ پانچ دن گزر جائے گا۔کردم نے اسے اپنے سینے میں چھپاتے ہوئے شرارت سے کہا تو وہ کھلکھلائی ۔
مجھے نہیں پتا تھا آپ اتنے بے صبر ےہیں۔
اپنے بالوں میں اس کے ہاتھوں کا لمس محسوس کرتے ہوئے دھڑکن آہستہ سے بولی ۔
کرلیتا میں صبر یار اگر اس رات میرے اتنے قریب آکر تم مجھ سے دور نہ جاتی ۔
اب ایک بار میرے قریب آؤ پھر تمہیں بتاؤں گا کہ میں کتنا رومینٹک ہوں اس دن بھی ٹھیک سے نہیں بتا پایا ۔
کردم شرارتی انداز میں بولا ۔
ویسے آج کے اس سرپرائز کے بعد تم یہ تو کہہ ہی سکتی ہو کہ میں بورنگ نہیں ہوں ۔
ہاں اور آپ کے بارش میں بھیگنے والے آئیڈیا کے بعد یہ بھی نہیں کہہ سکتی ہوں کہ آپ رومنٹک نہیں ہیں ۔وہ اس سے دور ہونے کی کوشش کرنے لگی جب کردم نے اسے مزید اپنے قریب کیا ۔
اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیے کردم نے نرمی سے اس کی آنکھوں کو چھوا تھا ۔
دھڑکن تم بہت عزیز ہوتی جارہی ہو یار اس طرح سے تو میرا گزارہ اور بھی مشکل ہو جائے گا وہ اس کے نرم گالوں کو اپنے لبوں سے چومتا اس کے ہونٹوں کو اپنے انگوٹھے سے چھو رہا تھا ۔
وہ دونوں ایک دوسرے میں کھوئے برستی بارش میں اس حسین وقت کو انجوائے کر رہے تھے ۔
جب اس خوبصورت ماحول میں ایک آواز گونجی ۔
اور اگلے یہ لمحے کردم سائیں نے اسے خود سے دور کیا
Ep : 34
دادا سائیں کی غضب ناک آواز سن کر کردم نے فورا دھڑ کن کو اپنے پیچھے کیا تھا
جبکہ انہیں کردم کو اس طرح سے دیکھتا پا کر دھڑکن کردم کے پیچھے چھپ گئی ۔
ان دونوں کو غصیلی نگاہوں سے دیکھتے دادا سائیں وہیں سے پلٹ گئے ۔
تم کمرے میں جاؤ میں دادا سائیں سے مل کے آتا ہوں ۔کردم نے اسے جانے کا اشارہ کیا ۔
کردم سائیں دادا سائیں آپ کو کچھ کہیں گے تو نہیں دھڑکن معصومیت سے بولی تو وہ مسکرایا ۔
ابھی یہ تو ان کے پاس جانے سے ہی پتہ چلے گا آخر اتنا بڑا رول توڑا ہے ہم نے ۔
ہم نے نہیں صرف آپ نے میرا نام بھی نہیں لینا دھڑکن نے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا ۔
واہ تمہارا نام نا لوں اور میں جاؤؑ بھاڑ میں کردم نے گھورا تھا ۔
ہاں تو میں ے تھوڑی نہ کچھ کیا ہے یہ آپ ہی کا آئیڈیا تھا جولا لگانا پھر بارش میں بھیگنا اس سب میں میری تو کوئی غلطی نہیں ہے میں تو ہوں ہی معصوم سی آپ کی غلطی ہے آپ ہی ڈانٹ کھائیں اکیلے خبردار جو میرا نام لیا
وہ فورا ہی اس کے قریب سے نکل کر حویلی کے اندر آئی جہاں دروازے کے پیچھے ہی تائشہ کھڑی ذہ معنی انداز میں مسکرا رہی تھی مطلب صاف داداسائیں کو یہاں تک پہنچانے والی وہی ہے ۔
تھوڑا سا صبر ہی کر لیتی دھڑکن تم تو پیچھے ہی پڑ گئی ہو کردم سائیں کے ۔ابھی تمہاری رخصتی کو وقت باقی ہے ۔
اور ویسے بھی کردم سائیں کو زیادہ چپکنے والی لڑکیاں پسند نہیں ہیں ۔
تائشہ نے اس کے قریب کھڑے ہو کر مسکراتے ہوئے اس کی معلومات میں اضافہ کیا
مجھے پتا ہے تائشہ دیدہ کہ کردم سائیں کو چپکنے والی لڑکیاں پسند نہیں ہیں
لیکن وہ خود بہت رومینٹک ہیں ۔
کل مجھے ڈانٹ دیا نہ اسی لیے معافی مانگنے کے لیے انہوں نے میرے لیے سرپرائز پلان کیا تھا ۔
مجھے نہیں پتا تھا کہ کردم سائیں اتنے رومنٹک ہو سکتے ہیں ۔آپ کو بھی نہیں پتا تھا نا خیر چھوڑیں آپ کو کیسے پتا ہوگا آپ ان کی بیوی تھوڑی ہیں۔دھڑکن نے شرماتے ہوئے اسے جلایا تھا
اور ویسے بھی وہ آپ سے تو زیادہ بات نہیں کرتے وہ کیا ہے کہ انہیں چپکنے والی لڑکیاں پسند نہیں ہیں ۔
دھڑکن اس پر طنز کے تیر چلاتے مسکراتے ہوئے اندر چلی گئی جبکہ اس کی باتوں انداز اور چہرے پہ کھلی مسکراہٹ نے تائشہ کو اندر تک راگ کر دیا تھا
💕
حوریہ یار اٹھ جاؤ ہمیں باہر جانا ہے کب تک یوں ہی سوتی رہوگی کتنا انتظار کروں ۔
مقدم کافی دیر سے جگا ہوا تھا اور ایک بار تو پورے ہوٹل کا راؤنڈ بھی لگا کے آیا تھا ۔
اور اب بے چینی سے اس کے جاگنے کا انتظار کر رہا تھا ۔
کل رات مقدم نے اپنے ہرانداز میں اس سے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا ۔
جبکہ وہ اس کی باہوں میں بکھرتی اسکی محبت کے ہر رنگ میں رینگتی چلی جا رہی تھی ۔
حور اگر تم اب نہیں جاگی نہ تو پھر میں تمہیں اپنے طریقے سے جگاوں گا اور یقینا پھر تم مجھ سے ناراض ہو جاؤ گی ۔اس کے کان کے قریب سرگوشی نما آواز میں بولا
ؓمقدم سائیں آپ بہت خراب ہے نہ مجھے رات میں سونے دیتے ہیں اور نہ ہی دن میں ۔حور کروٹ بدلتے دوسری طرف سونے کی کوشش کرنے لگی۔
جبکہ اس کی بڑبڑاہٹ سن کر مقدم کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی ۔
کیا کروں میری نازک سی گڑیا تمہیں سونے دے کر خود پر جبر نہیں کرسکتا ۔
وہ اسے اپنی باہوں میں بھرتے ہوئے محبت سے بولا ۔
اور مجھے نہ سونے دے کر مجھ پر جبر کر سکتے ہیں وہ آہستہ سے بڑبڑائی۔
نہیں بالکل بھی نہیں لیکن تمہیں ہی تو گھومنے جانا تھا نا اب اس طرح سے سارا وقت سوتے گزار کر تم خود ہی اس حسین جگہ کی بے قدری کر رہی ہومیرے دل کا قرار مقدم نرمی سے اس کے گالوں کو لبوں سے چھوتے ہوئے بولا
آپ کے دل کا قرار اس وقت سونا چاہتا ہے مقدم سائیں۔
حورمعصومیت سے بھرپورآواز میں لاڈ سے بولی شاید نیند کے خمار میں وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ کیا بول رہی ہے ۔
مقدم کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا ۔
ٹھیک ہے میرے دل کا قرار تم سو جاؤ ہم شام کو باہر جائیں گے ۔وہ نرمی سے اس کا ماتھا چومتا اس پر کمبل برابر کرنے لگا ۔
جبکہ اسے اپنے قریب سے اٹھتا محسوس کرکے حوریہ فورا اس کی طرف کروٹ بدلتے ہوئے اس کے سینے پر اپنا سر رکھ گئی ۔
جس پر مقدم کو یقین آ گیا تھا کہ وہ
آدھی جاگی سوئی کیفیت میں ہے کیونکہ اگر وہ پوری جاگ رہی ہوتی تو اس طرح سے اس کے قریب آنے کی غلطی کبھی نہ کرتی۔
جبکہ اس کی نیند کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مقدم نے اپنی باہوں کا گھیرا تنگ کر لیا ۔
اس کے تنگ گھیرے میں ایک بار وہ کسمسکائی پھر بے خبر سو گئی
💕
ملک صاحب مقدم شاہ ایک لمحے کے لئے بھی آپ کی بیٹی کو تنہا نہیں چھوڑتا ۔
وہ ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے ہم چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پا رہے ۔
اور مجھے تو لگتا ہے کہ مقدم شاہ کو ہم پر شک بھی ہوگیا ہے ۔ملک کے آدمی نے اپنا ڈر بیان کرتے ہوئے کہا
مجھے اس بات کی پرواہ نہیں ہے مجھے بس یہ جاننا ہے کہ میری بیٹی تنہا کب ہوتی ہے اسی دوران میں اسے مقدم کی حقیقت کے ساتھ ساتھ شاہ سائیں کے بارے میں بھی بتا دوں گا۔
پھر یقیناً میری بیٹی مقدم شاہ کے ساتھ نہیں رہنا چاہیے گی ۔
اور ویسے بھی کچھ دنوں کے لیے میں گاوں واپس جا رہا ہوں اماں سائیں کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے ڈاکٹر نے جواب دے دیا ہے ۔
ملک نے پریشانی سے کہا ۔
ٹھیک ہے ملک صاحب آپ گھر ہو آئیں تب تک ہم مقدم شاہ پر نظر رکھتے ہیں ۔ملک کے آدمی نے فون بند کرتے ہوئے کہا ۔
جبکہ ملک کا ارادہ اس وقت واپس گاؤں کی طرف جانے کا تھا وہ بہت کوشش کے باوجود بھی اپنی بیٹی سے بات نہیں کر پایا تھا
💕
ہم مقدم سے اس طرح کی امید کر سکتے ہیں کردم لیکن تم تو سمجھدار ہو ۔
تمہاری اس بچکانہ حرکت کا کیا مطلب نکالوں میں ۔مجھے لگا تھا کہ تم ایسا کچھ نہیں کرو گے جو ہماری شرمندگی کا باعث بنتے لیکن آج جو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا وہی گھر کا کوئی نوکریا کوئی گاوں والا دیکھ لیتا توہماری کتنی بدنامی ہوتی ۔
وہ دادا سائیں کے سامنے سرجھکائے کھڑا تھا شاید اسے اپنی غلطی کا اندازہ تھا
میں نے سب کچھ دیکھ کر کیا تھا داداسائیں
میں نے سب ملازموں کو چھٹی دی تھی اور جنید کو کہا تھا کہ باہر کا کوئی بھی آدمی حویلی کے اندر یا پچھلے کی سائیڈ نہ آئے ۔کردم کی بات پردادا سائیں نے حیرت سے اسے دیکھا ۔
مطلب کے اب تم بھی مقدم کی طرح پلاننگ کرکے یہ سب کچھ کرنے لگے ہو وہ صدمے سے بولے
کیونکہ ان کی نظر میں کردم ایک سنجیدہ اور سمجھدار انسان تھا
دھڑکن ناراض تھی مجھ سے دادا سائیں دھیمی آواز میں کہا ۔
دادا سائیں بےساختہ مسکرائے
تمہارا باپ بھی اسی طرح سے کرتا تھا تمہاری ماں کے لیے اور تمہاری ماں زیادہ تر اس سے ناراض ہی رہتی تھی ۔بہت لاڈ اٹھاتا تھا وہ اس کے ۔
لیکن ہمارے خاندان کو ملک کی نظر لگ گئی ۔
دادا سائیں مسکراتے ہوئے سنجیدہ ہوگئے وہ ان کے قریب ان کے قدموں کے پاس بیٹھ گیا ۔
دادا سائیں اب تو سب کچھ ٹھیک ہے نا پلیز ان سب چیزوں کے بارے میں مت سوچیں ۔
کردم نے ا