Mera Naam O Nishan Mile By Ana Ilyas | Best Romantic Urdu Novel

Mera Naam O Nishan Mile By Ana Ilyas

Mera Naam O Nishan Mile By Ana Ilyas

 

Mera Naam O Nishan Mile By Ana Ilyas is A romantic rude Urdu novel. Mera Naam O Nishan Mile wrote By Ana Ilyas. Mera Naam O Nishan Mile By Ana Ilyas describes the reality of life and teaches many new things to the novel readers. Novel readers always learn many things from the novels.

Mera Naam O Nishan Mile Novel is the latest novel By Ana Ilyas. Although it is much the latest, even though it is getting very much fame. Every novel reader wants to be in touch with this novel. Mera Naam O Nishan Mile By Ana Ilyas is a very special novel based on our society and love.

Mera Naam O Nishan Mile By Ana Ilyas

Ana Ilyas has written many famous novels that her readers always liked. Now she is trying to instill a new thing in the minds of the readers. She always tries to give a lesson to her readers, so that a piece of writing read by a person, and his time, of course, must not get wasted.

 Read online Mera Naam O Nishan Mile By Ana Ilyas

 

Ep: 1
Ep: 2
Ep: 3
Ep: 4
Ep: 5
Ep: 6
Ep: 7
Ep: 8
Ep: 9
Ep: 10
Ep: 11
Ep: 12
Ep: 13
Ep: 1
پورے گھر میں صف ماتم بچھا تھا. بھانت بھانت کی آوازیں.. لوگ رو رہے تھے. افسوس بھرے جملوں کا تبادلہ ہو رہا تھا.
بہت سی عورتیں اسکے ساتھ لپٹ کر رو رہی تھیں. مگر وہ یک ٹک باپ کے چہرے سے نظر نہیں ہٹا پا رہی تھی. اسکے بازوؤں کے ایک گھیرے میں یمنی اور دوسرے گھیرے میں مصطفی تھا.
وہ ایک ہی دن میں اپنی ماں اور بہن بھائ کے لئے چھاؤن بن گئ تھی. اسکی سوچ اپنے ساتھ قسمت کے ہونے والے ستم سے بڑھ کر اب اپنی فیملی کی کفالت پر ٹک گئ تھی.
آنسو.. ماتم وہ سب بھول گئ تھی. بے یقینی کی کیفیت تھی. کل تک تو بابا بالکل ٹھیک تھے.. اور صبح فجر کی نماز کے دوران ہی ایسا ہارٹ اٹیک ہوا. کہ پہلی بار میں ہی وہ انکی جان لے گیا. اور ان سب کو تپتی دھوپ میں لا کھڑا کیا.
باپ کا جنازہ اٹھتے ہی وہ لوگ جو بلک بلک کر انکے غم میں شریک ہونے کے دعوے دار تھے. اب بریانی کی بوٹیوں اور چاولوں سے انصاف کر رہے تھے.
زندگی کی حقیقت بس اتنی ہی ہے. انسان کے مرتے ہی سب اپنی اپنی دنیا میں مگن ہو جاتے ہیں سوائے ان کے جن کا سب سے قریبی رشتہ ان سے جدا ہو جاتا ہے. اور آج ولیہ, یمنہ, مصطفی اور سائرہ کے علاوہ اس دکھ سے کسی کا تعلق اتنا گہرا نہیں تھا.
....................
صداقت اور سائرہ کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا. صداقت بینک میں کلرک کی نوکری کرتا تھا. دونوں کے تین بچے تھے. ولیہ بڑی تھی. اسکے بعد یمنہ اور مصطفی سب سے چھوٹا تھا. ولیہ نے حال ہی میں پرائیوٹ گریجویشن کیا تھا. یمنہ ابھی ایف اے کے فرسٹ ائیر میں تھی جبکہ مصطفی نویں جماعت میں تھا. تینوں میں دو دو سال کا فرق تھا. بڑی مشکل سے گزر بسر ہو رہی تھی. پھر بھی دونوں نے کوشش کرکے اپنے بچوں کو جیسے تیسے پڑھانے کا بیڑا سر لے لیا تھا. ولیہ بی اے کے بعد چھوٹی موٹی نوکری ڈھونڈ رہی تھی. مگر آجکل ملک کے جو حالات ہیں اس میں ایم اے اور ایم فل پاس جوتیاں چٹخا رہے ہیں. اسکے بی اے کو کس نے پوچھنا تھا. ابھی وہ اس تگ و دو میں تھی کہ صداقت کی اچانک طبیعت خراب ہوئ. تین دن ہاسپٹل میں رہنے کے بعد چوتھے دن وہ زندگی کی بازی ہار گیا. سر میں درد طبیعت کی خرابی کا باعث بنی. ہاسپٹل لے جانے پہ پتہ چلا اسے ٹیومر ہے. ابھی وہ لوگ اسی کشمکش میں تھیں کہ اسکے علاج کے لئے پیسے کہاں سے لائے جائیں کہ زندگی نے اسے علاج کی مہلت ہی نہ دی. اپنے پیچھے تین بچوں اور بیوی کو لاوارث چھوڑ کے چلا گیا. رشتے داروں نے غربت کی وجہ سے بہت پہلے ان سے ملنا جلنا چھوڑ رکھا تھا. ہاں مگر اللہ نے محلے دار رشتے داروں سے بڑھ کر اچھے دئیے تھے. اب بھی انہوں نے ان چاروں پر چھاؤں کر رکھی تھی. وہ سب تو غم میں نڈھال تھے ادھر ادھر والے ہی مہمانوں اور کفن دفن کا انتظام کر رہے تھے.
...................
"اماں آپ کیوں نہیں سمجھ رہیں یہ سب بے حد ضروری ہے" ولیہ نے بے بس نظروں سے ماں کو دیکھا. صداقت کی وفات کو بیس دن گزر چکے تھے. اسکے بینک والوں نے تھوڑے بہت روپے انہیں دے دئیے تھے مگر وہ مکمل طور پر ان چاروں کی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کر چکے تھے. دو لاکھ انکے کتنے دن کام آ سکتے تھے.
ولیہ اس وقت ماں کے پاس بیٹھی کپڑے سلائ کرنے کی اجازت مانگ رہی تھی.
سائرہ بھی کپڑے سلائ کرتی تھی. بچیوں کو اس نے سکھایا بھی تھا مگر اپنے ساتھ اس کام کو کرنے نہیں دیا تھا.
"تو کوئ نوکری ڈھونڈ ولیہ. میں نے تم لوگوں کو اس لئے تو نہیں پڑھایا لکھایا تھا کہ میری طرح اپنی کمر جھکا لو اور آنکھوں کو اس کام کے پیچھے لگ کر خراب کر لو" سائرہ نے مایوسی سے کہا.
" اماں آپکے سامنے میں نے کتنی جگہوں پہ اپلائ کیا ہے. مگر بے روزگاری اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ مجھے کہاں سے نوکری ملے گی. اور جو آس پڑوس کے سکولوں میں ملتی ہے تو وہ چھ سات ہزار سے آگے دینے کی بات نہیں کرتے. اماں اس مہنگائ میں چھ سات ہزار سے ہم کیسے گزارا کریں گے" وہ ہر ممکن طور پہ ماں کو قائل کرنا چاہ رہی تھی.
سائرہ جانتی تھیں وہ غلط نہیں کہہ رہی.
"پھر میرے پاس ایک اور آپشن ہے" اس نے پراوچ انداز میں ماں کو دیکھتے ہوئے کہا.
" کیا"؟ سائرہ متجسس ہوئیں.
"مین سڑک پر میں ایک چھوٹا سا ہوٹل یا کھانے پینے کی دکان کھول لوں. بہت سے لوگ آتے جاتے ہیں. مزدور طبقہ ہوتا ہے. ہماری دکان چل جآئے گی. اور آپ ہی تو کہتی ہیں کہ میرے ہاتھ میں بہت ذائقہ ہے. تو کیوں نہ اسے بروئے کار لاؤں" اسکی بات پر سائرہ ہکا بکا اسے دیکھتی رہیں.
" دماغ خراب ہے تیرا..." وہ صدمے سے چیخ کر رہ گئیں.
" تو کیا کروں پھر.. فاقے کریں. بھوک سے مریں.. بھیک مانگیں. کیا کریں پھر ہم اماں.. بتاؤ" وہ بے بسی سے رو دی.
"ابھی ہاتھ میں وہ پیسے ہیں جو ابا کے بینک والوں نے دئیے ہیں. ہم دکان کرائے پہ لے سکتے ہیں. جب یہ بھی ختم ہوگئے تو اماں سوچو کیا کریں گے" سائرہ بے بسی سے آنسو بھری آنکھوں کو میچ کر رہ گئیں. دوپٹہ منہ پہ رلھ کر بمشکل سسکیاں روکیں.
ولیہ ماں کے پاس چارپائ پر بیٹھ گئ. مصطفی اور یمنہ بھی ماں سے لپٹ گئے.
"اماں میں نے آج دلاور سے بات کی تھی. وہ کہہ رہا تھا کہ وہ اور اسکے دو تین اور دوست میری مدد کو تیار ہیں. میں صرف دکان کے ایک مخصوص حصے میں پکاؤں گی. لوگوں کو کھانا دینا یہ سب وہ سنبھالیں گے. اور ابھی انہوں نے تنخواہ لینے سے بھی منع کر دیا ہے. کہہ رہا تھا باجی ایک مہینے بعد سوچیں گے. ابھی کام شروع کرو." وہ ساتھ والے رفیق چاچا کے بیٹے کے بارے میں ماں کو بتانے لگی. رفیق چاچا حقیقت میں چچا سے بڑھ کر تھے. کہنے کو غیر مگر اپنوں سے بڑھ کر انہوں نے ان لوگوں کا ہمیشہ ساتھ دیا تھا.دلاور کو کچھ عرصہ ولیہ نے پڑھایا بھی تھا. اسی لئے بھی وہ اسکی بہت عزت کرتا تھا.
یہی حال اسکے دوستوں کا تھا. وہ سب ولیہ کی مدد کو تیار کھڑے تھے.
" اماں آج تو یہ لوگ ہمارے ساتھ ہیں. کل کو یہ بھی اجنبی بن گئے تو ہم کیا کریں گے. مجھے شروع کرنے دو. اگر میری یا آپکی عزت پہ آنچ آنے کا خطرہ ہوا تو یقین کرو میں وہیں سب چھوڑ دوں گی" وہ ماں کو بازو کے گھیرے میں لئے تسلیاں دینے لگی. اور وہ سب کر بھی کیا سکتے تھے. یہ کڑوا گھونٹ تو انہیں پینا ہی تھا.
سائرہ کو مانتے ہی بنی.
..............
آفس کا دروازہ عجلت میں کھول کے وہ اندر داخل ہوا. پیچھے پیچھے ریاض فائل تھامے اتنی ہی تیزی میں آیا.
دارم نے ٹیبل کے اس طرف اپنی ریوالوننگ چئیر سنبھالی اور ایک ہاتھ سے ریاض کو ٹیبل کے اس جانب موجود چئیر پر بیٹھنے کا اشارہ کیا.
"آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں رپورٹ کی کہ پاشا بلڈرز نے ہماری آفر ریجیکٹ کر دی ہے" چوڑے شفاف ماتھے پہ بل واضح تھے. ستواں ناک پہ غصے کے باعث ہلکی سی سرخی در آئ تھی.
"سر وہ.. میں نے سوچا ہم خود معاملہ ہینڈل کرنے کی کوشش کرتے ہیں. اب آپ کو کیا دور بیٹھے پریشان کریں" ریاض نے سچائ سے اپنا دفاع کیا. جانتا تھا دارم کو جھوٹ سے شدید نفرت ہے.
"ریاض صاحب میں شارجہ گیا تھا.. دنیا سے نہیں چلا گیا تھا. اور کیا آپ کو میں نے یہ اتھارٹی دے رکھی ہے کہ کسی ڈیلر سے بات نہ بننے پر آپ میرے علم میں لائے بغیر اپنی مرضی سے کوششیں کرتے پھریں" وہ ریاض پہ برس اٹھا. کروڑوں کا پراجیکٹ تھا جو اسکے ورکرز تباہ کرنے پہ تلے تھے.
"میری اسی ہفتے میں ان سے میٹنگ ارینج کریں" وہ بمشکل غصہ ضبط کرکے بولا.
"جی جی سر" ریاض جانے لگا. پھر کچھ سوچ کر رکا.
"سر وہ ایک اور بات بھی بتانی تھی" اب کی بار وہ ڈرا ڈرا بولا.
" جی بتائیں" دارم اپنے سامنے لیپ ٹاپ کھول چکا تھا. ایک ہاتھ سے کوٹ کا بٹن کھول کر کوٹ اتار کر کرسی کے پیچھے رکھا.
"سر وہ کک یہ نوکری چھوڑنا چاہ رہا ہے. اسکے گاؤں میں کچھ مسئلہ ہے وہ کہہ رہا تھا میں اب یہاں نوکری جاری نہیں رکھ سکتا" ریاض کی بات پر ایک ترچھی نظر اس نے لمحہ بھر کو اس پہ ڈالی.
" بھیجیں اسے میرے پاس" نظر ہٹا کر لیپ ٹاپ پہ جماتے حکم صادر کیا.
"جی جی سر. ابھی بھیجتا ہوں" ریاض جلدی سے اسکے آفس سے بھاگنے کے سے انداز میں نکلا.
.................
سائرہ سے اجازت ملتے ہی ولیہ نے دلاور اور رفیق چاچا کو گھر پہ بلایا. سائرہ عدت کی وجہ سے انکے سامنے نہیں آ سکتیں تھیں. لہذا انکے گھر آتے ہی وہ دوسرے کمرے میں چلی گئیں. جبکہ ولیہ., یمنہ اور مصطفی صحن میں ہی کرسیوں پہ دلاور اور رفیق کے سامنے بیٹھے تھے.
"چاچا آپ نے ڈیلر سے دکان کرائے پہ لینے کی بات کی؟" انہیں شربت ک گلاس تھماتے ولیہ نے استفسار کیا.
"ہاں بیٹا بات ہوگئ ہے. بس دو چار دن میں وہ دکان کی چابی ہمارے حوالے کر دیں گے پندرہ ہزار ماہانہ پہ دکان دینے پہ مان گئے ہیں. بل کے پیسے الگ ہوں گے. " رفیق نے تفصیل سے بتایا.
"آپا میں نے دوست سے بات کر لی ہے. وہ سیکنڈ ہینڈ دکان سے ہمیں سب فرنیچر لا دے گا. کرسیاں اور میز میں نے ایک طرح کے اٹھوا لئے ہیں. اسکے ساتھ ہی برتنوں کا انتظام ایک اور دوست نے کر دیا ہے. اور ابھی انہوں نے پیسے لینے سے انکار کیا ہے. کہہ رہے تھے ایک دو ماہ میں آہستہ آہستہ پیسے ادا کر دینا.ایک بات کام چل پڑے تو پھر کوئ ٹینشن نہیں. میں نے سب کے پیسوں کا حساب اس ڈائری میں لکھ لیا ہے. تم یہ اپنے پاس رکھ لو. ایک کاپی اسکی میرے پاس ہوگی ایک تمہارے پاس تاکہ حساب کتاب ادھر ادھر نہ ہو" دلاور نے ایک ڈائری اسکی جانب بڑھائ جو وہ آتے ہوئے لے آیا تھا. ولیہ اسکی اس ذمہ دار بھائ کی طرح ہر ہر موڑ پہ اسکا ساتھ دے رہا تھا.
ولیہ کی آنکھیں نم ہوگئیں.سائرہ کا بھی اندر بیٹھے یہی حال تھا. اللہ ایک دروازہ بند کرتا ہے تو سو دروازے کھول دیتا ہے.
"میں آپ دونوں کا شکریہ کس منہ سے ادا کروں" نم لہجے اور تشکر بھری نظروں سے وہ انہیں دیکھ رہی تھی.
"لے... جھلی نہ ہو تو.. باپ اور بھائ کو بھی کوئ شکریہ کہتا ہے. میرے اتنے حالات نہیں ورنہ میں کبھی تمہیں یہ سب نہ کرنے دیتا" رفیق اپنی جگہ سے اٹھ کر ولیہ کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا.
" آپا آج تو یہ کہہ دیا ہے آئندہ نہ کہنا" دلاور بھی مان بھری ناراضگی سے بولا.
"بس تم مینو لکھو اور مجھے چیزیں بتاؤ جو ہم بنائیں گے" وہ اسکے لئے ایک اور کام نکال چکا تھا.
"میرا خیال ہے آغاز بریانی, پکوڑوں اور سموسوں سے کرتے ہیں. ایک بار یہ چل پڑے تو پھر اور چیزوں کا اضافہ کرلیں گے؟" اپنا خیال ظاہر کرتے اس نے رفیق اور دلاور سے پوچھا.
" بالکل صحیح ہے.. ابھی قریب کے لوگ آنا شروع کریں تو پھر ہم پمفلٹ بنوا کر گھروں میں تقسیم کرنا شروع کریں گے. ریٹ میں تمہیں بتا دوں گا کہ کس چیز کا کتنا رکھنا ہے" دلاور اور رفیق نے اسکی بات کی تائید کی. .
"ٹھیک ہے کل صبح مجھ سے سامان کی لسٹ لے جانا. کچھ چیزیں میں رات میں بنا لیا کروں گی اور کچھ وہیں مکس کرلوں گی"
"ہاں ٹھیک ہے" دلاور اور رفیق کچھ دیر مزید بیٹھ کر اسکی دکان کو ہی ڈسکس کرتے رہے پھر واپسی کے لئے اٹھ گئے. .انکے جاتے ہی سائرہ باہر آئیں.
"اللہ تمہیں کامیاب کرے میری بچی" ولیہ کو ساتھ لگاتے انکے آنسو چھلک گئے.
Ep: 2
"رياض تم نے کسی سے کک کی بات کی۔ مجھے آفس ميں ضرورت ہے۔ تم جانتے ہو مجھے باہر کا کھانا بالکل پسند نہيں۔ ايک دو بار سے زيادہ ميں نہيں کھا سکتا اور نہ ہی تم لوگوں کو بھی اس کی اجازت ديتا ہوں" دارم نے اگلے دن آفس آتے ہی رياض کی طلبی کی۔
"جی سر ميں نے ايک لڑکے سے بات کی ہے۔ ميرا جاننے والا ہے۔ وہ کہہ رہا تھا کہ ايک دو دن ميں بندوبست ہو جاۓ گا" رياض نے اسے تسلی دی۔
"پليز ذرا جلدی" دارم کو کچھ تسلی ہوئ۔ اسے جانے کا اشارہ کرکے وہ فون کی جانب متوجہ ہوا۔
"جی ممی کيسی ہيں آپ" مسکراتے لہجے ميں دوسری جانب کی آواز سن کر استفسار کيا۔
"نہيں آپ ٹينشن فری ہو کر ٹور کريں۔ ہم دونوں ٹھيک ہيں۔" دارم نے ماں کو تسلی دی۔
"افف ممی۔ پليز کيا يہ ضروری ہے کہ ہر بار يہی ٹاپک ڈسکس ہو۔ مجھے فی الحال اپنی مرضی کی لڑکی نہيں ملی۔ جب ملی آپ کو بتا دوں گا اور يقين کريں دير نہيں لگاؤں گا۔" اسکی گھنی مونچھوں کے ساۓ تلے موجود خوبصورت تراشيدہ لب مسکراۓ۔
"اچھا کل کہاں کہاں ميٹنگ ہے" اب وہ انہيں موضوع سے ہٹا کر انکے مطلب کے موضوع پر آچکا تھا۔ اور اسکی کوشش کامياب ہوئ۔ صدف بھی اپنی امريکہ ميں ہونے والی ميٹنگز کی تفصيلات بتانے لگيں۔
______________________
صدف اور ياور ملک کے دو ہی بيٹے تھے ايک دارم اور دوسرا صارم۔ صارم بڑا تھا۔ پی ايچ ڈی کے لئے جرمنی گيا اور پھر وہيں ايک گوری سے شادی کرکے وہيں کا ہو کر رہ گيا۔ سال ميں ايک بار وہ بيوی اور دو بچوں سميت آجاتا تھا۔ جبکہ دارم چھوٹا تھا۔ ايم بی اے کے بعد باپ کے ڈيری فارمز اور فيکٹريز کو وہی سنبھال رہا تھا۔ جبکہ صدف اينج ای او کی سی ای او تھيں۔ يہ اينج ای او عورتوں کے ساتھ ہونے والے ظلم و ستم کو منظر عام پر لا کر انکی مدد کرواتے تھے۔ دارم اگر اس اينج ای او کے خلاف نہيں تھا تو حق ميں بھی نہيں تھا۔ بہرحال وہ ماں کی اس سوشل ايکٹويٹی سے کافی حد تک دور ہی رہتا تھا۔ آجکل صدف ملک سے باہر فنڈز اور ڈونيشنز کے لئے گئ ہوئيں تھيں۔ دارم کو اتنا يقين ضرور تھا کہ ماں ايک پيسہ بھی ادھر سے ادھر نہيں کرتی تھين۔ اسی لئے اس نے کبھی انہيں روکا نہيں تھا اور نہ ہی ياورد ملک نے۔ يہ ايک مصروفيت کا ذريعہ تھا اسی لئے وہ انہيں منع نہيں کرتے تھے۔ بلکہ خود بھی وقتا فوقتا ڈونيٹ کرتے رہتے تھے۔
____________________
"يار ايک بہت بڑے بندے کے آفس سے آفر آئ ہے انہيں کک چاہئيے۔ تو باجی سے بات کر وہ وہاں جاب کرليں۔ يہ کھوکھا بھی تو کھولنا ہے نا۔ تو وہيں آفس ميں کک کی جاب کرليں" شہزاد کو دارم کے مينجر رياض صاحب نے کال کرکے آفس آنے کا کہا تھا۔ اور يہ بتايا تھا کہ انہيں آفس کے لئے کک کی ضرورت ہے۔ شہزاد کے دماغ ميں اسی وقت سے کھلبلی مچی ہوئ تھی۔ وہ سب دوست اس وقت وليہ کی دکان سجا رہے تھے۔ مختلف چيزيں سيٹ کررہے تھے۔
کل سے انہوں نے دکان پر کام کرنا شروع کرنا تھا۔
"نہيں يار ميں انہيں اچھے سے جانتا ہوں وہ نہيں مانيں گی۔ اور ويسے بھی ماحول کا کچھ نہيں پتہ۔ يہاں تو ہم سب ہوں گے نا انکے پاس۔ انکی طرف ميلی نگاہ بھی نہيں اٹھنے ديں گے۔ مگر وہاں تو جانتا ہے آفسز کا ماحول کيسا ہوتا ہے۔" دلاور کے لہجے مين بھائيوں جيسی فکر تھی۔ ايسے ہی تو وليہ کو اس پر اندھا اعتماد نہيں تھا۔
"اچھا چل جيسے تيری مرضی خير ميں تو کل جا کر ديکھتا ہوں" وہ دلاور کے دو ٹوک انداز پر خاموش ہوگيا۔ جلدی جلدی وہ سب کام نمٹانے لگے۔
_____________________
"سر ميں لڑکے کو لے آيا ہوں" رياض صاحب دارم کے آفس آتے ہی پيچھے پيچھے اسکے آفس ميں داخل ہوۓ۔
"کس لڑکے کو؟" دارم کے ذہن سے محو ہوچکا تھا کہ وہ کس بارے ميں بات کر رہے ہيں۔ آفس کی کرسی پر بيٹھے ايک ہاتھ ميں موبائل تھامے وہ اچنبھے سے بولا۔
"سر وہ کک کے لئے آپ کو بتايا تھا؟" دارم کے سوال پر انہوں نے سہولت سے جواب ديا۔
"اوہ ہاں۔ لے آئيے اسے۔ ميں چھوٹا سے انٹروڈکشن لينا چاہتا ہوں" دارم سے موبائل ميز پر رکھتے انہيں فورا لڑکے کے لانے کا اشارہ کيا۔
وہ الٹے قدموں باہر کی جانب گۓ۔ چند ہی لمحوں بعد پھر سے آفس مين داخل ہوۓ۔ اب کب بار ان کے ساتھ ايک دبلا پتلا لڑکا بھی تھا۔ شلوار قميض پہنے وہ لڑکا آفس سے مرعوب ہوتا اندر داخل ہوا۔
"السلام عليکم سر" اندر داخل ہوتے ہی اس نے دارم کوسلام کيا۔
"وعليکم سلام۔ آؤ بيٹھو" دارم نے سيدھا ہاتھ اٹھا کر اسے ميز کے دوسری جانب رکھی کرسی پر بيٹھنے کا اشارہ کيا۔
وہ شکريہ کرتے ہوۓ بيٹھ گيا۔ رياض صاحب بھی اسکے بيٹھتے ہی ساتھ والی کرسی سنبھال چکے تھے۔
"کيا نام ہے آپکا؟" دارم نے نہايت شائستگی سے اس کا نام پوچھا۔
"شہزاد احمد نام ہے سر" اس نے سہولت سے بتايا۔
"کتنا پڑھے ہو؟" دارم کے سوال پر اس نے ايک لمحے کو رياض کو ديکھا۔
"جی ايف اے کيا ہے" شہزاد نے سادے لہجے ميں جواب ديا۔
"آگے کيوں نہيں پڑھا؟"
"سر جی اتنے وسائل نہيں تھے کہ پڑھتا۔ اور اگر پڑھتا تو گھر کا ہانڈی چولہا کيسے چلتا۔ بس کمانے کے لئے نکل پڑا" اسکی بات پر دارم کے چہرے پر گہرا سايہ لہرايا۔ ابھی اس لڑکے کی عمر ہی کيا تھی اور وہ معاش کے لئے فکر مند تھا۔
"تمہارے ابو کيا کرتے ہيں؟" اسکے سوال پر شہزاد کا چہرہ تاريک ہوا۔
"وہ معذور ہيں۔ کچھ سال پہلے ايکسيڈنٹ ميں انکی دونوں ٹانگيں۔۔" اس سے آگے اس کا لہجہ گلو گير ہوگيا۔
"اوکے اوکے۔۔ تم کل سے آجانا۔ اور ہاں ميری کچھ شرائط ہيں وہ تمہيں ماننی پڑيں گی" دارم کی بات پر اس نے فورا سر ہلايا۔
"سر جو کہيں گے مانوں گا" اس نے جلدی سے ہامی بھری۔
"پہلے تو يہ کہ تم يہاں کام کرنے کے ساتھ ساتھ بی اے کی تياری کرو گے۔ اور جب بی اے کے پيپر پاس کرلوگے تو تنخواہ ميں اضافہ ہوجاۓ گا۔ دوسرا يہ کہ تين مہينے کے پروبيشن پيريڈ کے بعد تم يہاں کے مستقل ورکر بن جاؤ گے۔ لہذا تمہارے والد کا علاج اور انکی معذوری کو بہتری ميں بدلنے کے لئے ہم پوری کوشش کريں گے"۔اسکی شرائط پر شہزاد کی آنکھيں نم ہوئيں۔
"بہت شکريہ سر۔ ميں ضرور پڑھائ جاری رکھوں گا" نم مگر مسکراتے لہجے ميں اسکے ہامی بھرنے پر دارم لمحہ بھر کو مسکرايا۔
"گڈ۔ رياض صاحب آپ اسے کام کی نوعيت بتا ديں۔ اور صفائ پر ميں کسی بات کم کمپرومائز نہيں کروں گا" رياض سے مخاطب ہوتے آخری بات اس نے شہزاد کو ديکھ کر تنبيہی لہجے ميں کی۔
"جی جی سر کوئ شکايت نہيں ہوگی" شہزاد بھی اسکی بات کا مطلب سمجھ گيا۔
:گريٹ" اسکی بات ختم ہوتے ہی رياض صاحب شہزاد کو لئے اسکے آفس سے باہر آگۓ۔
_____________________
آج اس کا پہلا دن تھا دکان پر۔ سائرہ سے دعائيں لے کر وہ اشکبار نگاہوں سے اپنی دکان ميں داخل ہوئ۔
ہر ہر قدم پر اسے باپ کی ياد ستا رہی تھی۔ کون سی ايسی لڑکی ہوتی ہے کہ جس کا گھر کی چار ديواری سے باہر نکل کر زمانے کی سرد و گرم نظريں برداشت کرنے کو دل کرتا ہے مگر اسے برداشت کرنا تھا۔ وہ کر رہی تھی۔ اپنے گھر والوں کے لئے۔ اللہ نے پيٹ اور بھوک کی ايسی ضرورت انسان کے ساتھ لگا رکھی ہے کہ جس کو پورا کرنے کے لئے انسان کو ہاتھ پاؤں مارنے پڑتے ہيں۔ اور اسی مجبوری کی وجہ سے وليہ کو گھر سے باہر نکلنا پڑا۔ مصطفی ابھی اس قابل نہيں تھا کہ انہيں گھر کے خرچے کی فکر ہوتی۔ وہ ابھی پڑھ رہا تھا۔ وليہ اسے کسی قابل بنانا چاہتی تھی۔ اور اس سب کے لئے اسے قربانی دينی تھی۔
سارا دن کيسے گزرا اسے پتہ بھی نہ چلا۔ دکان کا نام اس نے مصطفی ہوٹل کے نام سے ہی رکھا تھا۔
محلے والے جانتے تھے اسی لئے سارا دن اسکی مدد کے لئے گاہکی بڑھاتے رہے۔ دلاور نے کچھ سٹنگ ارينجمنٹ دکان کے اندر رکھا تھا اور کچھ باہر۔
اسے اميد تھی کہ اتنے مخلص لوگوں کی ہمراہی ميں اس کا کاروبار جلد ہی ترقی کرے گا۔
______________________
آج اسے دکان پر کام شروع کئے پانچواں روز تھا۔ اور دن بہ دن لوگوں کا رش بندھتا جارہا تھا۔
دوپہر کا وقت تھا کہ يکدم وليہ کو باہر سے کچھ شور کی آواز آئ۔ يہ شور کچھ غير معمولی نوعيت کا تھا۔
اس نے ذرا سا پردہ سرکا کر باہر ديکھا تو عجيب سے حليے والے لوگ باہر کی کرسيوں پر بيٹھے نظر آۓ۔ دلاور کا انداز ايسا تھا جيے کچھ بحث کررہا ہو۔
وليہ کا دل پريشان سا ہوا۔
سامنے دو مرد بيٹھے تھے لمبے لمبے بالوں والے۔ گريبان کے بٹن کھلے تھے۔ سونے کی موٹی موٹی چينيں گلے ميں اور ويسی ہی ہاتھوں ميں پہن رکھی تھين۔ ميزوں پر ٹانگيں رکھے ہاتھوں کو سر کے پيچھے باندھے ايسے بيٹھے تھا جيسے انہی کی دکان ہو۔
وليہ نے پردہ گرا کر موبائل اٹھايا اور دلاور کے نمبر پر بيل دی۔
تھوڑی ہی دير ميں دلاور نے ايک اور کام کرنے والے لڑکے کو وليہ کے پاس بھيجا۔
"جی باجی" اس لڑکے کی شکل پر بھی بارہ بجے تھے۔ کچھ پريشان سا دکھ رہا تھا۔
"مدثر يہ باہر کون لوگ ہيں۔ دلاور کو کيوں گھيرے بيٹھے ہيں؟" اس نے تشويش سے پوچھا۔
"کچھ نہيں باجی ويسے ہی کوئ لوگ آۓ ہيں۔ تم پريشان نہ ہو" اس نے نظريں چرائيں۔
"مجھے صحيح سے بتاؤ۔ " وليہ اسکے بات چھپانے پر تھوڑا غصے سے بولی۔
"اچھا مگر تم دلاور کو مت بتانا کہ مين نے تمہيں بتا ديا ہے" اس نے ڈرتے ڈرتے ہامی بھری۔
"نہيں بتاتی" اس نے بھی وعدہ کيا۔
"باجی يہ يہاں کی جماعت کے غنڈے ہيں۔ جو بھی دکان يہاں کھلتی ہے وہ ان سے بھتہ ليتے ہيں۔ دلاور کو بھی وہ مجبور کر رہے ہيں کہ ہر ہفتے انہيں اس دکان کی کمائ کا تيس فيصد دينا ہوگا۔ اگر نہ ديا تو وہ دکان توڑ ديں گے۔ اور۔۔۔۔ اور۔۔۔" وہ کپکپاتے ہوۓ بتا رہا تھا۔
"اور کيا مدثر" وليہ کا بھی رنگ فق ہوا۔ يہ سب کرتے خيال بھی نہ آيا تھا کہ بھتہ خوری کتنی عام ہے۔ اور وہ بھی اس ميں پھنس سکتی تھی۔
"اور باجی وہ دھمکی دے رہے ہيں کہ ايسا نہ کيا تو وہ تمہارے گھر ميں گھس کر دنگا فساد کريں گے" مدثر نے ہچکچاتے ہوۓ بات پوری کی۔
وليہ سر تھام کر بيٹھ گئ۔
کيسا معاشرہ ہے کہ جس ميں ايک عورت سکون سے روزی روٹی بھی نہيں کما سکتی۔
دو آنسو لڑھک کر گالوں سے پھسلے۔
"باجی تم پريشان نہ ہو۔ ہم ہيں نا تمہارے ساتھ۔ تم پر آنچ بھی نہيں آنے ديں گۓ"اسے روتا ديکھ کر مدثر نے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی۔
کيسے سائبان تھے اسکے ساتھ۔
"تم دلاور کو ميرے پاس بھيجو" اس نے سر اثبات ميں ہلاتے مدثر کو کہا۔
وہ پردہ اٹھا کر باہر نکل گيا۔
کچھ ہی دير بعد دلاور اسکے سامنے موجود تھا۔
"دلاور ۔۔۔ وہ جتنا کہتے ہيں انہيں ہر ہفتے کا اتنا حصہ دے دو" وليہ نے کچھ بھی پوچھے بنا اسے حکم ديا۔
"آپا تم کيوں ڈر رہی ہو۔ کچھ نہيں کرسکتے يہ۔ صرف دھمکياں دے رہے ہيں۔ مين معاملہ سنبھال لوں گا" دلاور نے اسے تسلی دلائ۔
"نہيں دلاور۔ مجھے تم سب بہت عزيز ہو۔ ميں اپنی وجہ سے تم سب کو مشکل ميں نہيں ديکھ سکتی۔ مين جانتی ہوں يہ کس قماش کے لوگ ہيں۔
ہماری قسمت ميں جتنا ہوگا۔ اللہ ہميں دے دے گا۔ پليز۔ " اس نے ہاتھ جوڑے وہ جانتی تھی۔ يہ لوگ انکار کرنے والوں کو اٹھا کر لے جاتے ہيں اور پھر
بند بوری لاشيں انکے گھر والوں کو ديتے ہيں۔ وہ اس دکان کے کسی بندے کو اپنی وجہ سے ان کا شکار نہيں ہونے دينا چاہتی تھی۔ يہ سب اسے بھائيوں کی طرح عزيز تھے۔
اسکے جڑے ہاتھ ديکھ کر دلاور نے ايک بے بس نظر اس پر ڈالی اور باہر نکل گيا۔
کچھ دير بعد وہ لوگ چلے گۓ۔ وليہ نے پردہ اٹھا کر باہر موجود خالی کرسيوں کو ديکھا اور سکھ کا سانس ليا۔
Ep: 3
رات تک يہ خبر جنگ ميں آگ کی طرح پورے محلے ميں پھيل چکی تھی کہ کسی جماعت کے لوگ وليہ کی دکان پر بھتہ خوری کی نيت سے آۓ تھے اور دلاور کو اچھا خاصا دھمکا کر گۓ ہيں۔
يہ کيسے ممکن تھا کہ سب کو پتہ چل جاتا اور سائرہ کو پتہ نہ چلتا۔
رات ميں جس وقت وليہ دکان بند کرکے واپس آئ۔ سائرہ اسے گھر کے داخلی دروازے سے اندر آتے ديکھ کر کچن سے نکل کر صحن ميں آئيں۔
"وليہ يہ ميں کيا سن رہی ہوں بيٹا" پريشان حال سائرہ کو ديیکھ کر لمحہ بھر کو وليہ حيران ہوئ۔
"کيا ہوا اماں؟" يمينہ اور مصطفی بھی پريشان سے چارپائ پر بيٹھے نظر آئے۔
"مجھے پتہ چلا ہے کہ کچھ لوگ بھتہ خوری کی نيت سے تيری دکان پر آئے تھے۔" سائرہ نے جيسے ہی اسے پريشانی کی وجہ بتائ وليہ ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئ۔
يمينہ اتنی دير ميں پانی لے کر آئ۔
وليہ نے چادر اور کندھے سے لٹکا بيگ اتار کر چارپائ پر رکھا۔
سائرہ کو نظر انداز کرکے وہ يمينہ سے پانی کا گلاس لے کر چاپائ پر بيٹھتے ايک ہی سانس ميں پی گئ۔
"وليہ ديکھ بہانا مت کرنا کوئ" سائرہ اسکی خاموشی کو جانتی تھيں کہ وہ اتنا وقت تبھی ليتی تھی جب اسے کوئ بہانا گڑھنا ہوتا تھا۔
"اماں ايسا نہيں ہے۔ آپ ادھر بيٹھيں" خالی گلاس يمينہ کو تھماتے اس نے سائرہ کا ہاتھ تھام کر اپنے پاس بٹھايا۔
"ديکھو اماں! گھر سے باہر کی دنيا آپ کو ہر قدم پر نگلنے کو تيار ہوتی ہے۔ بچتے وہی ہيں جو اس دنيا کے ساتھ اور اسکے مطابق اس دريا ميں بہتے جائيں۔ جس نے موجوں کا رخ اپنے مطابق موڑا وہاں پھر طوفان ہی آتا ہے اور ايسے طوفان دريا ميں موجود ہر چيز کو نگل جاتے ہيں۔ آپ يہ سمجھو کہ ميں بھی اب اس دريا ميں نکل کھڑی ہوئ ہون۔ اور مجھے اسکی موجوں کے ساتھ بہنا ہے۔
ايسے ميں مجھے اس کاساتھ دينا ہے۔ وہ بھتہ خور تب تک ہمارے خلاف نہيں ہوسکتے جب تک ہم انکی بات نہيں مانتے۔ اگر انکار کيا تو وہ ہميں نگل جائيں گے" وليہ نے بہت طريقے سے ماں کو سمجھانا چاہا۔
"تو بيٹا يہی تو کہہ رہی ہوں۔ تو۔۔ تو بس چھوڑ يہ سب۔ بند کر دکان۔ بيٹا ميری دنيا تم تينون ہی ہو۔ ميں برداشت نہيں کر پاؤں گی اگر تم تينوں ميں سے کسی کو بھی کچھ ہوا۔" سائرہ منہ پر ہاتھ رکھے رونے لگيں۔ کب سے ضبط کئے ہوۓ تھيں۔
"اماں۔۔ اماں۔۔ کچھ نہيں ہوتا۔ پليز آپ ايسے کريں گی تو ہمارا کيا ہوگا۔ مجھے آپ کے حوصلے اور ہمت کی ضرورت ہے۔ اگر آپ يوں ہار کر بيٹھ گئيں تو ميں کچھ نہيں کرپاؤں گی۔ اماں پيٹ پالنے کے لئے بہت کچھ ديکھنا پڑتا ہے۔ اور مجھے ان چند دنوں ميں اندازہ ہوگيا ہے۔ مگر ميں آپ ميں سے کسی کو اس دنيا کی جھلک نہيں دکھانا چاہتی۔
اماں پليز ميرا حوصلہ بنيں مجھے کمزور نہ کريں" وليہ سائرہ کو ساتھ لگاۓ اشکبار ہوئ ۔ وہ بھی اس واقعہ کے بعد سے اب تک اپنے آنسو اندر ہی اندر جمع کئ ہوۓ تھی۔ اب ماں کو سامنے ديکھ کر ضبط کھو گئ۔
"ميں آپ لوگون کے لئے مضبوط چٹان بننا چاہتی ہوں۔ بھربھری ريت کا ٹيلہ نہيں" کہاں سے اسے ايسی بڑی بڑی باتيں آگئيں تھيں۔ سائرہ نہيں جانتی تھيں۔ مگر سچ ہے کہ باپ کا سائبان اٹھتے ہی بچے بڑے ہوجاتے ہيں۔ سائرہ کو وليہ کی باتيں سن کر اندازہ ہوگيا تھا۔
"ٹھيک ہے۔ ميری جان مگر ايک وعدہ کر۔ کہيں بھی تجھے ذرا سا خود کو بھی تکليف پہنچنے کا شائبہ تک ہوا۔ تو يہ کاروبار بند کردے گی۔ وليہ تيری جان سے بڑھ کر ہماری بھوک مجھے عزيز نہيں" سائرہ نے آنسو پونچھتے۔ اس کا چہرہ ہاتھون ميں لے کر محبت سے چور لہجے ميں کہا۔
"ميں وعدہ کرتی ہوں اماں۔ اب کھانا کھلا دو۔۔ بہت بھوک لگی ہے" ماں کی ہمت بندھتے ديکھ کر اس نے بھی خود پر ضبط کرکے موضوع ہی بدل ڈالا۔
"ہاں ہاں۔۔۔ چل يمينہ کھانا لگا" سائرہ نے دوسری چارپائ پر بيثھی يمينہ کو پکارا۔
"جی اماں" وہ بھی ماں اور بہن کو روتا ديکھ کر پريشان تھی۔ آنسو اسکی بھی آنکھوں ميں رواں تھے۔ آنسو پونچھتے وہ اٹھی۔
________________________
"جی ڈيڈی ميں بس ممی کو لينے کے لئے نکل رہا ہوں۔ ہاں آپ دوسری گاڑی بھی بھجوا ديں۔ سامان ان کا اس پر آجاۓ گا۔ اور ميں ممی کو لے آؤں گا" گھڑی کی سوئيوں کو دو اور بارہ پر موجود ديکھ کر وہ تيزی سے سيٹ سے کھڑا ہوا۔ کورٹ کرسی کی پشت سے اٹھا کر پہنا۔ اسی اثناء ميں ياور کی اسکے موبائل پر کال آگئ۔
باپ سے بات کرتا ہوا وہ آفس سے نکل رہا تھا۔
جيسے ہی اپنے روم سے نکلا رياض صاحب جو لنچ کرنے ميں مصروف تھے دارم کو اپنی سيٹ کے پاس آتا ديکھ کر اٹھ کھڑے ہوۓ۔
"رياض صاحب ميں ائير پورٹ جارہا ہوں۔ کوئ ضروری کال آئے گی تو پليز آپ ہينڈل کر ليجئے گا دو ڈھائ گھنٹوں تک ميری واپسی ہوگی۔" رياض کو کام بتاتا ہوا وہ عجلت ميں بولا۔
"سر آپ کا لنچ۔ شہزاد تيار کر چکا ہے"
"نہيں ابھی ٹائم نہيں۔ شہزاد کو منع کرنا ياد ہی نہيں رہا۔ خير وہ آپ ديکھ ليجئے گا۔ ميں نکلتا ہوں" ہاتھ کے اشارے سے منع کرتے ہوۓ وہ تيزی سے باہر کی جانب بڑھا۔
_________________________
آج رش معمول سے زيادہ تھا يا پھر وليہ کو ہی محسوس ہورہا تھا۔
گيارہ بجے سے دکان پر دش بڑھتا جارہا تھا اور اسکے کام کرنے کی رفتار بھی۔ آج تو اسے لگ رہا تھا وہ شديد تھک جاۓ گی۔
کام زيادہ بڑھ گيا تو اس نے کچھ چيزيں ماں کو فون کرکے گھر سے بنانے کا کہا۔ تاکہ گاہک وقت پر اپنے مطلب کی چيز نہ ملنے پر خفا نہ ہوں۔
دلاور کو کال کرکے اس نے اپنے پاس آنے کا کہا۔
وہ پردہ ہٹا کر وليہ کے پاس آيا۔
"جی آپا؟"
"آج خير ہے رش کافی زيادہ ہے؟" وليہ نے کب سے دماغ ميں کلبلانے والا سوال پوچھا۔
"ہاں وہ آج کوئ جلوس ہے۔ تو بہت سے لوگ جو سڑک پر نکلے تھے وہ اب پھنس گۓ ہيں۔ ان کا نقصان ہے اور ہمارا فائدہ" دلاور نے مسکراتے ہوۓ وجہ بتائ۔
وليہ بھی مسکرائ۔
"اچھا ميں نے گھر سے کچھ چيزيں بنوا لی ہيں۔ تم کسی لڑکے کو بھيج کر منگوا لو۔ آج ضرورت سے زيادہ رش تھا تو مجھ سے اکيلے مينج نہيں ہوپايا۔" وليہ نےاسے کام بتايا۔
"لو۔ زبردست ہوگيا۔ ميں بس ابھی فخر کو بھيجتا ہوں" وہ جلدی سے کہہ کر واپس مڑا۔
___________________________
"باقر کيا مسئلہ ہے۔ يہ ٹريفک کيوں جام ہے يہاں؟" بيس منٹ ہو چکے تھے انہيں سڑک پر کھڑے نہ تو آگے سگنل تھا اور نہ ہی کوئ ناکہ کہ پھنسنے کی وجہ سمجھ آتی۔ دارم جلدی ائير پورٹ پہ پہچنا چاہتا تھا اور اتنی ہی دير ہورہی تھی۔ پورے دو ہفتوں بعد صدف واپس آرہی تھيں۔
دارم انہيں بہت مس کررہا تھا۔ وہ شروع سے ماں سے بہت قريب رہا تھا۔ اسی لئے ہميشہ ان کے ٹوررز پر جانے کے بعد وہ انہيں بہت مس کرتا تھا۔
تين بجے کی فلائيٹ تھی۔ وہ جو آدھے گھنٹے ميں پہنچنے کا سوچے ہوۓ تھا۔ بيس منٹ تو يہيں سڑک پر لگ گۓ تھے۔ اور اسکے علاوہ کوئ اور راستہ بھی نہيں تھا۔ جہاں سے ائير پورٹ جايا جاتا۔
"سر ميں باہر نکل کر ديکھتا ہوں" اسکے ڈرائيور نے باس کی پريشان آواز سن کر باہر جا کر لوگوں سے پوچھنے کا سوچا۔ اور اگلے ہی لمحے وہ باہر جاچکا تھا۔
کچھ دير بعد ايک دو لوگون سے بات کرکے وہ واپس گاڑی ميں آکر بيثھا۔
"سر آگے کوئ جلوس ہے۔ دو گھنٹے تک ہم يہاں سے نہيں نکل سکتے" اسکی بات پر دارم اچھا خاصا تپ گيا۔
"کيا مصيبت ہے" جھنجھلاہٹ عروج پر تھی۔
"يہاں سے واپس بھی نہيں نکل سکتے"دارم نے پيچھے مڑ کر اپنے پيچھے گاڑيوں کی لمبی قطار ديکھ کر سوا کيا يا خود سے مخاطب ہوا۔ باقر سمجھنے سے قاصر تھا۔
"نہيں سر بہت مشکل ہے" باقر نے بھی گردن موڑ کر پيچھے ديکھا اور مايوسی سے گويا ہوا۔
اب دو گھنٹے انہيں گاڑی ميں ہی بيثھنا تھا۔ دارم کو سوچ کر ہی کوفت شروع ہوگئ۔
"يار تم ايسا کرو يہاں کہيں سے کچھ کھا پی لو۔ ميری وجہ سے تمہارا لنچ بھی نکل گيا" دارم نے کھڑکی سے باہر ديکھتے ہوۓ کہا۔ اردگرد کافی سارے چھوٹے چھوٹے ہوٹل تھے۔
"سرآپ نے لنچ کر ليا تھا؟" باقر نے اسکی بات کے جواب ميں سوال کيا تھا۔
"نہيں يار۔ پر تم ميری ٹيشنش نہ لو۔ کچھ کھا لو"دارم نے سہولت سے انکار کيا۔ ساتھ ہی موبائل نکال کر کوئ نمبر ملاتے کان سے لگایا۔
باقر اسکے قطيعت بھرے انداز پر باہر نکلا۔ دائيں جانب بنے "مصطفی ہوٹل" کو ديکھ کر اسکے قدم اس ہوٹل کی جانب اٹھے۔
"جی ڈيڈی ميں يہاں ٹريفک ميں پھنس گيا ہوں۔ اور ابھی دو گھنٹے تک يہاں سے نکلنے کا کوئ چانس نہيں" اس نے ياور کو کال کی۔
"اوہ بيٹا کوئ بات نہيں۔ ڈرائيور اب تک ائير پورٹ پہنچ چکا ہوگا۔ تم کہاں پھنسے ہو؟" ياور اسکی بات سن کر پريشان ہوۓ۔ دارم نے جگہ کا نام بتايا۔
"چلو تم پريشان نہ ہو۔ اور پليز کچھ کھا لينا۔ اب اتنی دير خالی پيٹ مت رہنا۔ صبح تم نے ناشتہ بھی ڈھنگ سے نہيں کيا تھا" باپ کے لہجے ميں اپنے لئے
اتنی فکر ديکھ کر وہ مسکرايا۔
"جی ميں ديکھتا ہوں" الواداعی کلمات کے بعد اس نے کال بند کردی۔
وقت گزاری کو گاڑی ميں گانے لگا دئيے۔ کچھ ہی دير مين باقر گاڑی ميں آکر بيٹھا۔ اسکے ہاتھ ميں ڈسپازيبل لنچ باکس تھا۔ جس ميں بريانی تھی۔
باقر کے بيٹھتے ہی اشتہا انگيز خوشبو پوری گاڑی ميں پھيل گئ۔
اسے لگا اسکی بھوک چمک اٹھی ہو۔
"يار يہ کہاں سے لاۓ ہو؟" دارم سے جب رہا نہ گيا تو باقر سے پوچھا۔
باقر دو چمچ کھا چکا تھا نہيں تو وہی اسے دے ديتا۔
"سر ميں اور لا ديتا ہون" وہ جلدی سے بريانی کی پليٹ سائيڈ پر رکھ کر اترنے لگا۔
"ارے نہيں يار تم کھاؤ۔ کوئ سروس بوائۓ ہوگا ميں اس سے منگوا ليتا ہوں" دارم نے اسے اترنے سے منع کيا۔
"سر وہ مصطفی ہوٹل سے لی ہے۔ ميں وہاں کے سروس بواۓ کو آواز ديتا ہوں" اس نے فورا کھڑکی نيچے کرکے سامنے کھڑے ايک لڑکے کو اشارہ کيا۔ وہ تيزی سے گاڑی کی جانب آيا۔
"يار بريانی کی ايک اور پليٹ بھجوا دو" باقر نے لڑکے کے پاس آتے ہی آرڈر ديا۔
"جی صاحب ابھی لاتا ہوں" دارم نے اچٹتی نگاہ ہوٹل پر ڈالی۔ بند مٹھی ٹھوڑی کے نيچے رکھے ہوٹل کے باہر کے حصے سے ہوتی اسکی نظر جيسے ہی اندرونی حصے کی جانب پڑی وہ چونکا۔
دکان کے ايک جانب پردہ سا لگا کر الگ حصہ بنايا گيا تھا۔
ابھی وہ غور کرہی رہا تھا کہ پردہ ہٹا اور ايک لڑکی چادر اوڑھے بريانی کی پليٹ اسی لڑکے کو پکڑا رہی تھی جو ابھی ابھی باقر سے آرڈر لے کر گيا تھا۔
يکدم دارم کو احساس ہوا اس ہوٹل پر کوئ کک کچھ پکاتا نظر نہيں آرہا۔
تھوڑی دير بعد پھر پردہ ہٹا اور وہی لڑکی ايک اور لڑکے کو سموسوں کی پليٹوں سے بھری ٹرے پکڑاتی نظر آئ۔
کيا حزن تھا اس چہرے پر۔ عجيب سی نفاست تھی۔ دارم کچھ لمحے پلکيں جھپکاے اسے ديکھتا رہا۔ يہاں تک کہ پردہ پھر سے واپس نہيں گرگيا۔
اسی اثناء ميں دلاور بريانی کی پليٹ لے کر گاڑی کی جانب آيا۔
اس کی تيز نظر سے دارم کا ٹکٹکی باندھ کر وليہ کے حصے کی جانب ديکھنا اوجھل نہيں رہ سکا۔ يکدم اسکے چہرے کے زاويے تن گۓ۔
دارم نے اسے آتا ديکھ کر اپنی جانب کا شيشہ گرايا۔
جسے ہی دلاور اسے پليٹ پکڑا کر مڑنے لگا۔ دارم نے اسے آواز دی۔
"سنو" اسے پاس آنے کا اشارہ کيا۔
دلاور منہ بناتا اسکی گاڑی کے قريب آيا۔
"تمہارے ہوٹل ميں يہ سب کون پکاتا ہے؟" دارم کے سوال پر چند پل وہ اسے خشمگيں نظروں سے گھورتا رہا۔
"آم کھاؤ صاحب پيڑ مت گنو" وہ ہر لفظ چبا چبا کر بولا۔
"کيا وہ لڑکی پکاتی ہے يہاں؟" دارم نہيں جانتا تھا کہ وہ بے حد غلط بات غلط جگہ پوچھ رہا ہے۔
"بات سنو صاحب! يہ تمہارا پيسہ اور تمہاری سوچ تمہيں مبارک۔ ميری آپا کو ايسی ويسی نظر سے ديکھا تو آنکھيں يہيں نکال دوں گا۔ کھاؤ اور اپنا راستہ ناپو" دلاور غصے سے بپھر گيا۔ وليہ انکی عزت تھی۔
باقر اور دارم ہقا بقا اسکی دھمکی سن رہے تھے۔
دارم نے تو يونہی تجسس کے تحت پوچھا تھا وہ نہيں جانتا تھا کہ يہ اسکی سوسائٹی نہيں جہاں عورت کی عزت اور غيرت والی کوئ بات نہيں ہوتی۔ جگہ چھوٹی تھی مگر سوچ ان کی سوسائٹی سے کہيں بڑی تھی۔
"کيا بکواس کررہے ہو" باقر يکدم غصے ميں آيا۔ دارم نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے خاموش رہنے کا اشارہ کيا۔
"اٹس اوکے يار۔۔ معذرت بھائ۔ ميں نے يونہی پوچھا تھا۔ يقين جانو کوئ غلط نيت نہيں تھی۔ کھانا بہت لذيذ ہے۔ شکريہ" دارم نے جلدی سے بات سنبھالی۔
دلاور ہونہہ کرکے چلا گيا۔
دارم نے ايک بار پھر نادانستہ اس جگہ ديکھا۔ نجانے کيا سحر محسوس ہوا۔
I saw your face in a crowded place
And I don't know what to do
'Cause I'll never be with you
گاڑی ميں بجتے گانے کے بول اور موقع اسے يکدم بالکل ايک سے لگے۔ دارم نے اب کی بار نظروں کو اس جانب جانے سے روکا۔
يہ کيا تھا؟ کيوں تھا؟ وہ تو بڑے عام سے حليے ميں موجود تھی۔ پھر ايسا کيا خاص تھا۔ دارم سمجھ نہ سکا۔
Ep: 4
کيا بات ہے يار تم کچھ دنوں سے بہت پريشان سے لگ رہے ہو" کافی دن بعد دونوں کو فرصت سے ملنے کا موقع ملا تھا۔ ملتے تو روز تھے مگر بس سلام دعا اور پھر اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے تھے۔
"کچھ خاص نہيں۔ تم سناؤ تمہاری نوکری کيسی چل رہی ہے" وہ جو کسی گہری سوچ ميں تھا۔ شہزاد کی بات کو جھٹلا کر موضوع بدلا۔
"شکر ہے يار بہت اچھا کام چل رہا ہے۔ سر بہت خوش ہيں۔ اور تمہيں پتہ ہے انہوں نے مجھے بی اے کرنے کا کہا ہے۔ ميں نے پڑھائ پھر سے شروع کردی ہے۔ بلکہ کچھ سمجھ نہ آۓ تو سر يا باقی آفس کے لوگ مجھے پڑھا بھی ديتے ہيں۔" شہزاد پرجوش ہوا۔
"يار اميروں ميں بھی ايسے نيک لوگ بہت کم ہوتے ہيں" دلاور کی بات پر وہ سر ہلا کر رہ گيا۔
"ليکن ميں اب بھی يہی کہوں گا کہ تم بہتر ہے کہ اپنی پريشانی مجھ سے شئير کرلو۔ ميں حل نہ کرسکا تو ہوسکتا ہے کوئ بہتر مشورہ ہی دے دوں" چند لمحوں کی خاموشی کے بعد شہزاد نے پھر سے وہی موضوع چھيڑا۔
دلاور نے چند پل کچھ سوچا۔ پھر ٹھنڈی سانس بھری۔
"مجھے جماعت والوں کے ارادے کچھ ٹھيک نہيں لگ رہے۔ ہم بھتہ خوری کے لئے بھی مان گۓ ہيں۔ مگر کوئ نہ کوئ روز ہوٹل آکر بيٹھ جاتا ہے اور آپا کے مخصوص حصے کی جانب نظر لگا کر رکھتا ہے۔ يار مجھے آپا کی بہت فکر ہورہی ہے۔"دلاور کی بات سن کر شہزاد بھی پريشان ہوا۔ سب جانتے تھے کہ يہ جماعت والے حکومت کا کام کم اور غنڈوں والے کام زيادہ کرتے تھے۔
وہ يہ بھی جانتے تھے کہ وہ ان کا مقابلہ کسی صورت نہيں کرسکتے۔
"تم جانتے ہو۔۔ اللہ نے آپا کو بنايا بھی کتنا پيارا ہے۔" دلاور کے لہجے ميں بھائ جيسی فکر تھی۔ وہ سب ايک دوسرے کے لئے ايسے ہی پريشان ہو جاتے تھے۔ بچپن سے ايک دوسرے کو جانتے تھے۔
"ميرے ذہن ميں ايک آئيڈيا آيا ہے" شہزاد جو کچھ دير پہلے تک پريشان تھا يکدم جوش سے بولا۔
"بتاؤ" دلاور بھی متجسس ہوا۔
"ميرے باس کے بہت سے لنکس ہيں۔ يقينا وہ پوليس تک بھی پہنچ رکھتے ہوں گے۔ اور سب سے بڑھ کر انکی امی سوشل ورکر ہيں۔ کيوں نا ان سے بات کی جاۓ۔" شہزاد کی بات پر دلاور نے نفی ميں سر ہلايا۔
"نہيں يار۔ يہ سب بڑے آپس ميں ملے ہوتے ہيں۔ تمہارا کيا خيال ہے کہ يہ جو پوليس والے ہيں يہ اتنے ہی اچھے ہيں۔ ارے يہ جماعت والے جو اتنا ہمارے سروں پر ناچتے ہيں۔ انہی کی شہ پر ناچتے ہيں۔ انہوں نے بھی اپنے علاقے کے حوالے سے کميشن رکھے ہوتے ہيں" دلاور کی بات پر شہزاد کا سب جوش جھاگ بن کر بيٹھ گيا۔
"يار تمہاری بات ٹھيک ہے مگر کوشش کرنے ميں کيا حرج ہے۔ يہ زمانہ آپا جيسی لڑکيوں کو ہضم نہيں کرتا۔ يا تو نگل جاتا ہے يا اگل ديتا ہے۔ کيا ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تماشائ بنے تماشا ديکھتے رہيں گے۔ انکی نظر جس عورت پر پڑ جاۓ ہم سب جانتے ہيں کہ۔۔۔"
"پليز يار! اللہ انہيں اپنی حفاظت ميں رکھے" شہزاد کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی دلاور نے کاٹ دی۔ لہجے ميں خوف تھا۔
اسی خوف کی وجہ سے ہی وہ پريشان تھا۔
وليہ سے وہ ذکر نہيں کرسکتا تھا۔ وہ بيچاری پہلے ہی مصيبتوں کی ماری اور پريشان ہو جاتی۔
شہزاد خاموش ہوگيا مگر دل ميں پکا ارادہ کرليا کہ دارم سے بات کرکے رہے گا۔
_____________________________________
جب سے وہ چہرہ نظر ميں آيا تھا نجانے کيا بات تھی کہ وہ بھول نہيں پارہا تھا۔ مسلسل چند دن سے وہ اسے سوچے جارہا تھا۔ اس لڑکے نے اسے آپا کہا تھا۔ مگر وہ وہاں کام کيوں کررہی تھی۔
باہر کا ملک ہوتا تو کبھی وہ توجہ نہ ديتا وہاں مرد اور عورت کا کسی بھی طريقے سے کمانا عام بات تھی۔
مگر پاکستانی معاشرے ميں عورت کا يوں مردوں کے معاشرے ميں نکل کر کمانا عام بات نہيں تھی۔
آفس جاب عام ہوگئ تھی مگر دکان پر اور وہی بھی ايک لوکل ہوٹل ميں يہ سب کرنا عام بات نہيں تھی۔ يقينا مجبوری تھی۔
اور وہ مجبوری کيا تھی يہی بات اسے بے چين کررہی تھی۔
آج بھی وہ ايک ميل سامنے کھولے بيٹھا تھا۔ خود تو آفس ميں تھا مگر دل اور دماغ کہيں اور تھا۔ يکدم کمرے کے دروازے پر ناک ہوا۔
"مے آئ کم ان" ايک نسوانی آواز اور دلکش چہرہ دروازے ميں نمودار ہوۓ۔
"اوہ حاجرہ! واٹ آ پليزينٹ سرپرائز" آنے والی کو ديکھ کر وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ ميز کے دوسری جانب جاتے دونوں نے گرمجوشی سے ہاتھ ملايا۔
"سوچا بہت بزی ہوگۓ ہو۔۔ تو کراچی آکر خود ہی مل لوں۔۔ تم نے تو پشاور نہ
آنے کی قسم کھا رکھی ہے" رائل بليو کلر کر ديدہ زيب سوٹ زيب تن کئے وہ ہميشہ کی طرح دمک رہی تھی۔
"کب آئ تم؟" وہ اسے لئے آفس کے صوفے کی جانب آيا۔ ہاتھ سے بيٹھنے کا اشارہ کيا۔
"بس کل ہی ہم سب پہنچے ہيں۔ پھوپھو سے ميں مل چکی ہوں۔ تمہارا پوچھا تو پتہ لگا جناب آج کل جلدی جاتے اور دير سے آتے ہيں۔ سوچا آفس ہی چل کر پکڑوں" ايک ہاتھ سے خوبصورت لمبے بالوں کو پيچھے کرتے وہ مسکراتے لہجے ميں بولی۔
دارم کے چہرے پر بھی مسکراہٹ مسلسل احاطہ کئے ہوۓ تھی۔ وہ سب کزنز آپس ميں بہت اچھے دوست تھے۔ حاجرہ اور شاکر تو تھے بھی اسکے ہم عمر اسی لئے ان سے بہت بنتی تھی۔
"اس کا مطلب ہے اگلے دنوں ميں ۔۔ ميں اور بھی بزی ہونے والا ہوں" سب کا سن کر وہ مسکراتے ہوۓ بولا۔
"جی بالکل۔۔ کيونکہ ہم سب کا ارادہ ايک دو دن کے لئے تمہيں چرانے کا ہے" حاجرہ کی بات پر اس نے ہلکا سا قہقہہ لگايا۔
"ويل ميں چوری ہونے کے لئے تيار ہوں" ہاتھ اٹھا کر اس نے جيسے گيو اپ کيا۔
"گڈ بوائے۔۔ تو بس اٹھو پھر اور سب سے مل کر پلين کرتے ہيں۔" وہ عجلت بھرے لہجے ميں بولی
"يار ابھی تو نہيں ميں لنچ آوورز ميں تم لوگوں کو جوائن کرتا ہوں۔ دودن کے سب کام ورکرز کے سپرد کرتے بھی تو وقت لگے گا۔۔ سو پليز کچھ گھنٹے دو"وہ ملتجی لہجے ميں بولا۔
"کچھ گھنٹے۔۔ ياد رکھنا۔۔" وہ اسے باور کرواتے لہجے ميں بولی۔
"ہاں ہاں کچھ گھنٹے۔" اس نے تصديق کی۔
"تمہاری بات پر يقين کرکے جارہی ہوں۔ جانتی ہوں کا کميٹڈ بندے ہو۔۔" وہ اسے جتا کر اٹھی۔
"يس آئ ايم۔۔ ميم" وہ ايک ہاتھ سينے پر رکھ کر مسکراتے ہوۓ بولا۔
"اوکے سی يو سون" وہ بھی جيسے آئ تھی ويسے ہی اٹھ کر چلی گئ۔
دارم بھی اپنی کرسی واپس سنبھالتے پوری طرح کام ميں مگن ہوگيا۔
گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ دروازہ ناک ہوا۔
يس کی آواز پر شہزاد اندر داخل ہوا۔
"ہاں بھئ شہزاد کيا ہوا؟" دارم نے اسے ايک نظر ديکھ کر توجہ واپس ليپ ٹاپ پر مرکو‌ز کی۔
"سر وہ آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے" شہزاد انگلياں آپس ميں الجھاۓ اسکی ميز کے قريب آتے جھجھکتے لہجے ميں بولا۔
"ہاں ہاں بيٹھو خيريت ہے۔۔ پريشان لگ رہے ہو" ايک نگاہ ميں ہی وہ شہزاد کی پريشانی بھانپ گيا تھا۔ مخاطب اس سے تھا مگر انگلياں مسلسل کی بورڈ پر چل رہی تھيں۔
"سر وہ ہمارے محلے ميں ايک آپا ہيں۔ انہوں نے ہميں ايف اے کا پڑھايا بھی ہے۔،۔" اور پھر شہزاد اسے وليہ کے بارے ميں سب بتاتا چلا گيا۔ اسکی بات سن کر دارم چونکا۔
"ان کے ہوٹل کا کيا نام ہے؟" دارم نے اب کی بار ليپ ٹاپ سائيڈ پر کرکے مکمل توجہ شہزاد پر دی۔
"سر ۔۔ مصطفی ہوٹل" شہزاد اسکے توجہ دينے پر تھوڑا پرجوش ہوا۔
دارم نے لمحہ بھر کو آنکھيں بند کرکے کھوليں۔ دونوں ہاتھ آپس ميں ملا کر مٹھی بنائ اور ہونٹوں کے قريب جمائ۔
وہ جس کے بارے ميں اتنے دنوں سے سوچ رہا تھا۔ اس کے بارے ميں جاننے کے لئے پريشان تھا۔ اسے اندازہ ہی نہيں تھا کہ اسکے قريب موجود ايک بندہ اسکے ماضی حال سب کے بارے ميں واقف ہے۔
گلا کھنکھار کر اس نے ہاتھ نيچے کئے۔
"يہ معاشرہ ايسا ہی ہے۔ عورت کی آزادی کی ہر سانس چھيننے والا۔ خير تم فکر مت کرو۔ ميں کوئ حل نکالتا ہوں۔ ميرے بہت سے پوليس مين جاننے والے ہيں۔ اور ہاں دلاور کو کہنا ہر پوليس والا ان غنڈوں کے ہاتھوں بکا نہيں ہوتا۔ کچھ کرتے ہيں۔" شہزاد نے سب گتھياں سلجھا دی تھيں۔
"بہت شکريہ سر ۔۔ مجھے اميد تھی کہ آپ ہی کچھ کرسکتے ہيں" شہزاد خوشی سے جھلملاتے لہجے ميں بولا۔
"نہيں يار ميں نہيں۔۔ وہ ۔۔ اوپر والا کرتا ہے۔ ہم تو بس وسيلہ بنتے ہيں" دارم نے اوپر کی جانب انگلی کرتے اسے باور کروايا۔
يکدم گھڑی پر نظر پڑی تو لنچ ٹائم ہونے والا تھا۔
"چلو تم کام کرو۔، مجھے ذرا ضروری کہين جانا ہے۔ ميں کچھ دنوں تک تمہيں تسلی بخش حل بتاؤں گا" شہزاد کو مطمئن کرکے وہ اپنی سيٹ سے اٹھا۔
"جی جی سر" شہزاد اسے اٹھتے ديکھ کر جلدی سے سيٹ سے اٹھا اور اسکے نکلنے سے پہلے خود اسکے کمرے سے باہر جا چکا تھا۔
_________________________
وہ سب اس وقت مشہور ہوٹل ميں بيٹھے لنچ کررہے تھے۔
"ہميں ہر تين ماہ بعد ايسی گيٹ ٹوگيدر رکھنی چاہئيے۔ کتنا ريفريشنگ لگ رہا ہے سب" طلحہ کی بات کی سب نے تائيد کی۔ وہ سب اپنی اپنی مصروفيات کو ترک کرکے مل بيٹھے تھے اور يہ پروگرام حاجرہ کا تھا۔
"تو بس اس پروگرام کو اور يادگار بنانے کے لئے ہم سب کل دارم کے فارم ہاؤس پر دو دن کے لئے جارہے ہيں۔" حاجرہ نے ايک اور پروگرام ترتيب ديا۔
"بالکل ۔۔ کل ہی چلتے ہيں" دارم نے فورا ہامی بھری۔
شاکر، طلحہ، فائقہ، فضا اور عالم بھی راضی ہوئے۔ فضا اور عالم کی چںد ماہ پہلے ہی شادی ہوئ تھی۔ باقی سب ابھی کنوارے ہی تھے۔
"ليکن پليز۔۔ ہميں تمہارے وہاں کے کک کے ہاتھ کا کھانا نہيں کھانا۔۔ کسی اور کا ارينج کرنا ہوگا۔" عالم نے بے چاری سی شکل بنا کر کہا۔
اسکی دہائ پر دارم کے ذہن کے پردوں پر چادر ميں لپٹا چہرہ چھم سے آيا۔
وہ جو اس کے پاس جانے کا بہانہ تلاش رہا تھا۔ اب اچھا بہانہ ملا تھا۔
"ميرے آفس کا ايک کک ہے اور اسکی بہن ہے۔ ميں ان سے بات کرتا ہوں۔ وہ مان گئے تو دو دن کے لئے انہيں لے جائيں گے۔" دارم کی بات پر سب نے سر ہلايا۔
______________________________
رات کا وقت تھا۔ وہ اپنے کمرے ميں بيڈ پر نيم دراز کتاب ہاتھ ميں پکڑے کيا پڑھ رہا تھا اسے نہيں معلوم۔ وہ مسلسل وليہ کو سوچے جارہا تھا۔ اگر اس نے انکار کرديا۔
کچھ سوچ کر پاس رکھا موبائل اٹھايا۔ شہزاد کے نمبر پر کال ملائ۔
"السلام عليکم! سر۔۔ خيريت" اس نے کبھی شہزاد کو اس وقت کال نہيں کی تھی۔ اس کا حيران ہونا بنتا تھا۔
"ہاں۔۔ اصل ميں ميرے کچھ کزنز آۓ ہوۓ ہيں۔ وہ ميرے فارم ہاؤس جانا چاہ رہے ہيں دو دن کے لئے۔ ويسے تو ميرے کک وہاں موجود ہيں۔ مگر انہيں انکے ہاتھ کا کھانا کچھ خاص پسند نہيں۔ تو ميں سوچ رہا تھا کہ تمہيں ساتھ لے چلوں اور۔۔ وہ تم جو اس لڑکی کا بتا رہے تھے۔ تمہارے محلے والی۔۔۔" دارم جان بوجھ کر وليہ کے لئے لہجے ميں سرسری پن لايا۔
"جی جی۔۔ وليہ باجی" شہزاد نے جلدی سے اسکا نام ليا۔
"ہاں ہاں۔۔ وہی۔ کيا وہ چل سکتی ہيں۔ ميں چاہ رہا تھا کہ ايک بار مجھے اسکے کھانوں کا اندازہ ہو جاتا تو ميں اس کے لئے کچھ اور سوچ رہا تھا" دارم نے لہجے کو حتی المقدور سرسری ہی رکھا۔
"جی جی سر۔۔ بلکہ ميں ايسا کرتا ہوں۔ آپ کو ان کا نمبر ديتا ہوں۔ آپ خود تفصيل سے بات کرليں۔ " شہزاد اسکی شرافت سے واقف تھا اسی لئے فورا وليہ کا نمبر دينے کا فيصلہ کربيٹھا۔ پھر اسے اميد تھی کہ دارم اسکے لئے کچھ بہتر سوچ رکھتا ہوگا۔ وہ وليہ کے لئے يہ موقع ہاتھ سے جانے نہيں دينا چاہتا تھا۔ دکان ميں اسکے لئے بس خطرہ ہی خطرہ تھا۔
"تم ايسا کرو پہلے ايک بار ان سے اجازت لے لو۔ ميرے بارے ميں بتا دو۔ يہ نہ ہو کہ وہ برا مان جائيں۔ " شہزاد کی باتوں سے اتنا تو اندازہ ہوگيا تھا کہ وليہ رکھ رکھاؤ والی ہے۔
"جی جی سر ميں ان سے پوچھ کر آپکو بتاتا ہوں" شہزاد کو بھی يہی مناسب لگا۔
"ٹھيک ہے ميں تمہارے ميسج کا انتظار کررہا ہوں۔ کيونکہ کل جانا ہے لہذا آج بات کرنا ضروری ہے"دارم نے سہولت سے کہا۔
"جی سر آپ بس دس منٹ انتظار کريں" شہزاد نے کہتے ساتھ ہی فون بند کرکے وليہ کو فون کيا۔
_______________________
وہ اس وقت بيٹھی کل کی چيزوں کی لسٹ تيار کررہی تھی۔ موبائل پر شہزاد کا نمبر ديکھ کر چونکی۔ وقت ديکھا تو رات کے ساڑھے نو کا وقت تھا۔ اس وقت تو وہ کبھی فون نہيں کرتا تھا۔
پريشان ہوتے فون اٹھايا۔
"کيا بات ہے؟ گھر ميں سب خير ہے؟" سلام دعا کرتے ساتھ ہی اس نے پريشانی سے استفسار کيا۔
"ہاں باجی۔۔ سب خير ہے۔ وہ آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔ آپ مصروف تو نہيں" شہزاد کی بات پر وہ تھورا ريليکس ہوئ۔
"ارے نہيں کہو کيا بات ہے"
"ميرے باس اپنے کزنز کے ساتھ اپنے فارم ہاؤس جارہے ہيں۔ دو دن کے لئے انہيں کک چاہئيں۔ ميں نے کچھ دن پہلے آپکا ذکر کيا تھا ان سے تو وہ آپ کو اور مجھے لے کر جانا چاہتے ہيں۔" شہزاد کی بات پر وہ ٹھٹھکی۔
"تم نے ميرا ذکر ان سے کيوں کيا تھا؟" وليہ کے لہجے ميں ناگواری آئ۔
"آپ وہ بہت بڑے آدمی ہيں۔ ميں نے بھتہ خوروں کی وجہ سے اس نے ذکر کيا تھا۔ کہ وہ ہماری مدد کريں اور آپ کی ان سے جان چھڑوائيں۔" شہزاد کی بات پر وہ مسکراۓ بنا نہ رہ سکی۔ کس قدر وہ سب اس کا دھيان کرتے تھے۔
شہزاد نے اصل بات وليہ سے چھپائ۔ جس وجہ سے اس نے دارم سے اس کا ذکر کيا تھا۔
"ليکن ميں کيسے جاسکتی ہوں۔ دکان کو کون ديکھے گا۔" سائرہ جو وليہ کے لئے چاۓ لے کر آئ تھيں۔ اسکی بات سن کر ٹھٹھکيں۔
"اور ويسے بھی تمہارے باس ہيں ميرے لئے تو اجنبی ہيں" وليہ نے منع کرنا چاہا۔
"اجنبی ہيں مگر اعتبار کے بندے ہيں۔ اور ويسے بھی ميں آپکے ساتھ جاؤں گا۔ اکيلے تھوڑی بھيجوں گا۔ وہ آپ سے بات کرنا چاہ رہے ہيں۔ تفصيل بتانے کے لئے۔ آپ کہتی ہيں تو آپ کا نمبر دے دوں۔ اور جہاں تک دکان کی بات ہے وہ دلاور اور سائرہ خالہ سنبھال ليں گی۔ دو دن کی تو بات ہے۔ کيا پتہ يہ موقع آپکے لئے کوئ بہترين مستقبل لے آۓ" شہزاد کی بات پر وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوئ۔
"اچھا ميں تمہيں سوچ کر بتاتی ہوں۔ اب پانچ منٹ تو دو" وليہ شش و پنج ميں پڑ گئ۔
"پليز باجی جلدی۔۔ انہوں نے کل نکلنا ہے" شہزاد نے التجائيہ انداز ميں کہا۔
"اچھا ميں دلاور سے تو بات کرلوں۔ پھر اماں سے پوچھ لوں" اسکی عجلت پہ وليہ کے ہاتھ پاؤں پھولے۔
"آپ خالہ سے بات کرو۔ دلاور کو ميں خود ہی قائل کرليتا ہوں" شہزاد نے فون بند کيا۔
سائرہ کی استفہاميہ نظريں وليہ کے چہرے کا طواف کر رہی تھين۔
"کيا ہوا" سائرہ اسکے پاس ہی اسکے بيڈ پر بيٹھ گئيں۔
وليہ نے ساری بات ماں کو بتائ۔
"بيٹے کبھی کبھی اللہ ہمارے لئے ايسی جگہوں سے سبب بنا ديتا ہے۔ جو ہمارے وہم وگمان ميں بھی نہيں ہوتے۔ کيا پتہ اس ايک موقع سے ايسے راستے تجھ پر کھليں۔ جن کے بارے ميں ہم ميں سے کسی کا گمان بھی نہ ہو۔ ورنہ کہاں يہ بڑے لوگ اور کہاں ہم۔۔ تو اس کے باس سے بات کر اور جا۔۔ شہزاد ہے تيرے ساتھ۔ يہاں کل کا کام ميں سنبھال ليتی ہوں۔ تو فکر نہ کر۔ اللہ کا نام لے کر چلی جا۔" سائرہ کی بات پر اس نے خاموشی سے سر ہلاکر شہزاد کو اپنے باس کو اتنا نمبر دينے کی رضامندی کا ميسج کيا۔
________________________
بيس منٹ گزر چکے تھے۔ دارم بے چينی سے انتظار کررہا تھا۔ ابھی وہ دوبارہ فون کرنے کا سوچ ہی رہا تھا۔ کہ شہزاد نے وليہ کا نام اور نمبر ميسج کيا۔
دارم کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھری۔
پھر سنجيدہ ہو کر نمبر ملايا۔
تيسری ہی بيل پر دوسری جانب سے فون اٹھا ليا گيا۔
"السلام عليکم!" فون کے دوسری جانب نفيس سی آواز بالکل اسی کی طرح ابھری۔
"وعليکم سلام!" اس نے گلا کھنکھار کر جواب ديا۔
"ميں دارم ملک بات کررہا ہوں۔ شہزاد ميرے آفس ميں جاب کرتا ہے" دارم نے اپنا تعارف کروايا۔
"جی سر۔" مختصر جواب جبکہ دارم کو اسے سنتے رہنے کی خواہش جاگ رہی تھی۔
"ميرا خيال ہے شہزاد آپ سے ميرا آپ کا نمبر لينے کا مقصد ڈسکس کر چکا ہے۔ تو کيا آپ کل جاسکتی ہيں ميرے فارم ہاؤس پر۔ ان فيکٹ ميری تين فی ميل کزنز بھی ہيں۔ اور ہم بہت شريف سے لوگ ہيں۔ آپ کو کسی بھی قسم کی ان سيکيورٹی نہيں ہوگی۔ آپ ميری ذمہ داری ہيں۔ آپ کو پوری عزت و احترام سے وہاں رکھا جاۓ گا۔"دارم کی گھمبير آواز اور شائستہ لہجہ وليہ کے بے جد بھلا لگا۔ وہ نہيں جانتی تھی کہ اسکی عمر کيا ہے۔ نہ اسے اس سے مطلب تھا۔
"جی سر۔ بس مجھے يہی پريشانی تھی۔ خير آپ مجھے وقت بتا ديجئيے گا۔ مين اور شہزاد آجائيں گے" وليہ نے دھيمے لہجے ميں کہا۔
"نہيں آپ کو ضرورت نہيں آپ بس صبح گيارہ بجے تک تيار رہئيے گا۔ ميرا ڈرائيور آپ دونوں کو پک کرلےگا۔ اور آپ ميرا نمبر اپنی مدر کو دے سکتی ہيں۔
تاکہ وہ کانٹيکٹ کرنا چاہئيں تو کرليں" دارم کے اتنے فکرمند لہجے نے وليہ کو تھورا سا مطمئن کيا۔
"جی ضرور۔ ٹھيک ہے سر۔ آپ کا دو دن کا مينيو کيا ہوگا۔ مجھے تھوڑا سااندازہ ہو جاۓ تو آسانی ہوگی۔" وليہ نے پروفيشنل انداز ميں پوچھا۔
"باربی کيو ہی ہوگا۔ باقی ہم اتنی مشکل ڈشز نہيں کھاتے ميں زيادہ ديسی کھانے ہی پسند کرتا ہوں۔ تو آپ کو مشکل نہيں ہوگی" دارم نے پھر سے اسکی مشکل آسان کی۔
"جی سر بہتر" وليہ نے پھر مختصر جواب ديا۔ دارم کو اسکے اتنا مختصر بولنے پر چڑ ہوئ۔
پھر خيال آيا وہ کون سا اسے برسوں سے جانتی ہے۔ ان کے درميان تعلق ہی کيا ہے۔
"اوکے سر اللہ حافظ" وليہ نے دوسری جانب خاموشی محسوس کرکے فون بند کرنا مناسب سمجھا۔
"جی ۔۔ کل ملتے ہيں پھر۔ اللہ حافظ" دارم نے خود کو سرزنش کی اور فون بند کرديا۔ يہ کيا ہورہا تھا کيوں ہو رہا تھا۔ ابھی وہ دو دن اسکے علاوہ کچھ اور سوچنا نہيں چاہتا تھا۔ وہ دل پھينک تو ہرگز نہيں تھا۔ ورنہ ہزاروں لڑکياں اور ہزاروں موقع تھے۔ پھر يہ پہلی بار دل کس ڈگر پر چل پڑا تھا۔
اس نے وليہ کے نمبر کو ايک بار پھر ديکھا اور حيات کے نام سے سيو کرليا۔
پہلی بار ۔۔ زندگی ميں پہلی بار کسی کے لئے دل يوں اسے تنگ کرنے پہ تلا تھا۔
___________________________________
Ep: 5
اگلے دن ساڑھے دس بجے وہ تيار تھی۔ دو سوٹ رکھ لئے تھے۔ اور باقی کچھ کھانے پکانے سے متعلق سامان۔ پہلی بار يوں گھر سے باہر اکيلی جارہی تھی تو دل تھوڑا پريشان تھا۔ دلاور کو نجانے شہزاد نے کيا کہہ کر آمادہ کيا تھا کہ اس نے وليہ سے کوئ باز پرس نہيں کی۔
"دھيان سے رہنا بيٹا" سائرہ نے اجازت تو دے دی تھی مگر پريشان بھی تھيں۔
وہ سب اس وقت صحن ميں چارپائ پر بيثھے شہزاد کا انتظار کررہے تھے۔
"اماں کو تنگ مت کرنا۔ ان کا ہاتھ بٹا دينا" وليہ نے يمينہ کو نصيحت کی۔
"آپا آپ فکر مت کريں۔۔ ميں اماں کی مدد کروا دوں گی" يمينہ نے اسے تسلی دلائ۔
گيارہ بجنے ہی والے تھے جب بيرونی دروازہ کھٹکا۔ مصطفی فورا دروازے کے قريب گيا۔
"کون"
"ميں شہزاد باجی سے کہو آجاۓ" شہزاد کی آواز دروازے کے پار سنائ دی۔
"اچھا بھائ" مصطفی نے دروازہ وا کرکے شہزاد سے مصافحہ کيا۔ اور پھر تيزی سے اندر کی جانب برھا۔
"آپا شہزاد بھائ آۓ ہيں۔" اس نے وليہ کو اطلاع دی۔ سائرہ نے بڑھ کر ڈھيروں قرآنی آيات اس پر پڑھ کر پھونکیيں۔
"اللہ کی امان ميں" دروازہ پار کرتے وہ شہزاد کے ساتھ ہولی۔
شہزاد نے فورا اس کا چھوٹا سا سفری بيگ پکڑا دائيں ہاتھ ميں پکڑا۔ بائيں ہاتھ ميں اس کا اپنا ويسا ہی چھوٹا سا بيگ تھا۔ چادر کوپوری طرح لپيٹے وليہ شہزاد کے ہمقدم تھی۔
"گاڑی ميں روڈ پر ہے" شہزاد نے ساتھ چلتے اسے کہا۔
وليہ نے ہولے سے سر ہلايا۔
تھوڑی ہی دير ميں مين روڈ آگئ۔ سفيد چمچاتی کرولا انکے سامنے کھڑی تھی اور ساتھ ہی باوردی ڈرائيور بھی۔
سلام کرے اس نے آگے بڑھ کر شہزاد سے دونوں بيگ تھامے۔ شہزاد نے پچھلی جانب کا دروازہ کھول کر وليہ کو بيٹھنے کا اشارہ کيا۔ وہ خاموشی سے بيٹھ گئ تو شہزاد نے دروازہ بند کيا اور خود ڈرائيور کے ساتھ والی پسنجر سيٹ پر بيٹھ گيا۔
يہ گاڑی دارم کے آفس کی گاڑی تھی۔ لہذا شہزاد ڈرائيور کواچھے سے جانتا تھا۔ وہ دونوں باتوں ميں مصروف ہوگۓ اور وليہ باہر بھاگتے دوڑتے نظاروں ميں مگن ہوگئ۔
بيس منٹ بعد گاڑی ايک خوبصورت اور عاليشان گھر کے سامنے رکی۔
"آپ دونوں بيٹھيۓ ميں سر سے پوچھ کر آتا ہوں۔ پھر آپ دونوں ميرے ساتھ ہی فارم ہاؤس تک چليں گے" ڈرائيور نے شائستہ لہجے ميں شہزاد سے کہا۔
"ٹھيک ہے" شہزاد کے کہتے ہی وہ دروازہ کھول کر باہر نکلا۔
وليہ گردن موڑے گھر کے اندرونی حصے کو ديکھ رہی تھی جہاں پہلے سے ہی دو گاڑياں کھڑی تھيں۔ اور تين گاڑياں گھر سے باہر موجود تھيں۔ ڈرائيور جيسے ہی اندرونی حصے کی جانب بڑھا۔ چند منٹ بعد چھ لوگ گھر کے اندرونی حصے سے برآمد ہوۓ جن ميں تين فيشن ايبل لڑکياں اور چار اونچے لمبے خوبرو سے لڑکے برآمد ہوۓ۔ شہزاد انہيں باہر آتا ديکھ کر فورا گاڑی سے باہر نکلا۔ وليہ کچھ کنفيوز سی ہوئ۔ کيونکہ وہ سب انکی گاڑی کی ہی جانب ديکھ رہے تھے۔ وليہ نے اب کی بار چہرہ موڑ کر سامنے ديکھنا شروع کرديا۔ وہ پہلی بار اتنے امير لوگوں کے بيچ تھی۔
"پتہ نہيں مجھے ان سے بات کرنے کا سليقہ بھی آۓ گا کہ نہيں" اب تھوڑا سا گھبرا رہی تھی۔ حالانکہ يہ اسکی سرشت نہيں تھی۔ وہ مشکل سے مشکل وقت ميں بھی خوداعتمادی کا مظاہرہ کرتی تھی۔
وليہ کی نظر اب شہزاد پر پڑی جو کسی سے بغلگير ہورہا تھا۔ پھر اس لڑکے نے باری باری شہزاد کا تعارف بافی سب سے کروايا۔ اور ايک اچٹتی نگاہ گاڑی ميں بيٹھی خود کو تکتی وليہ پر ڈالی۔ وليہ نے پھر چہرہ دائيں جانب موڑ ليا۔
"يا اللہ ميں نے شہزاد سے اسکے باس کی عمر کا کيوں نہيں پوچھا يہ سب تو بہت ينگ ہيں۔ ہاں کيا پتہ انکے بچے ہوں۔" وہ خود سے مفروضے گھڑنے لگی۔ ہاتھوں کی انگليوں کو اضطرابی انداز ميں مروڑ رہی تھی۔
"ميں بيٹھی ہی ہوں کہ باہر نکل آؤں۔۔۔ يہ شہزاد کا بچہ بھی جاکر چپک گيا ہے۔۔کتنا برا لگتی ہے انہی کی گاڑی ميں ٹھاٹھ سے بيٹھی انہيں نظر انداز کررہی ہوں" وہ شہزاد کو کوسنے لگی۔
ابھی وہ اسی ادھيڑ بن ميں تھی کہ کيا کرے کيا نہ کرے کہ شہزاد اسکی جانب والے دروازے کی جانب آيا۔
"باجی ايک منٹ باہر آؤگی ميں آپ کو باس سے ملوا دوں" شہزاد دروازہ کھولے اسے باہر آنے کی درخواست کررہا تھا۔ وہ لب بھينچے کانپتے وجود سے باہر آئ۔ جو بھی تھا مال دار لوگوں سے ملتے ايک فطری کمپليکس کا حملہ ہر غريب پر ہوتا ہے۔
مگر وہ دل ہی دل ميں خود کو ہمت دلا رہی تھی۔
باہر نکل کر اس نے اپنا رخ انکی جانب کيا جو اب خود گاڑی کی جانب آرہے تھے۔ ان ميں ايک لڑکا اور ايک ماڈرن سی لڑکی ہی اسکی جانب بڑھے باقی سب اپنی جگہ کھڑے تھے۔
وليہ اپنی جگہ پر ہی کھڑی رہی۔
"السلام عليکم" اس نے انکی جانب ديکھتے آواز کی لرزش پر قابو پايا۔
"وعليکم سلام۔۔ وليہ۔۔" لڑکی آگے آتی اسکی جانب ايسے بڑھی جيسے وہ بچپن کی سہلياں ہوں۔ وليہ نے اسکے جوش پر ايک مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر اثبات ميں سر ہلايا۔ حاجرہ نے آگے بڑھ کر يکدم اسے گلے سے لگايا۔
وليہ اس قدر پرجوش استقبال کے لئے تيار نہ تھی۔ اسکے چہرے کی حيرت دارم سے چھپی نہ رہی۔ وہ بمشکل مسکراہٹ چھپا گيا۔
"يو آر سو پريٹی۔۔ ميں دارم کی کزن ہوں" اس نے خود ہی اپنا تعارف کروايا۔
"باجی يہ ميرے باس سر دارم ہيں" شہزاد نے دارم کی جانب اشارہ کرتے وليہ کو بتايا۔
"کيسی ہيں آپ۔ بہت شکريہ آپ نے آنے کی حامی بھری۔" اونچا لمبا خوبصورت نين نقوش والا دارم اسی شائستہ لہجے ميں وليہ سے مخاطب ہوا جس لہجے ميں رات ميں وہ فون پر بات کررہا تھا۔
"نہيں پليز"وليہ نے نظريں جھکا کر بس اسی قدر کہا۔
"بھئ يہ دو دن تو اور بھی اچھے گزرنے والے ہيں۔ تمہاری کوکنگ کی دارم بہت تعريف کررہا تھا" حاجرہ کی بات پر وليہ چونکی۔۔ شہزاد نے بھی حيران ہوکر ديکھا۔ اس نے کب وليہ کے ہاتھ کے بنے کھانے کھاۓ۔ اب وليہ کی حيرت ميں ڈوبی نظريں دارم کی جانب اٹھيں۔
"شہزاد کافی تعريف کرتا ہے آپکی تو وہی ميں نے حاجرہ سے ڈسکس کيا" دارم نے کھاجانے والی نظروں سے حاجرہ کو ديکھا۔ جسے رات ميں ہی اس نے بريانی کھانے والے دن کا واقع بتايا تھا۔ مگر ابھی وہ شہزاد اور وليہ کے سامنے يہ بات نہيں کرنا چاہتا تھا۔
"چليں آپ لوگ بيٹھيں۔۔ ہم نکلتے ہيں" اس سے پہلے کے حاجرہ مزيد کوئ گل افشانی کرتی دارم نے فورا انہيں ادھر ادھر کيا۔
"ہاں چلو۔ اب فارم ہاؤس ميں ملافات ہوگی" حاجرہ کے پيچھے ہٹتے وليہ نے سکھ کا سانس ليا۔ وہ ايک دم گھلنے ملنےوالی نہيں تھی۔ ريزرو سی پرسنيلٹی تھی اس کی۔
وہ سب مختلف گاڑيوں ميں بيثھتے فارم ہاؤس کی جانب چل پڑے۔
__________________________
"کيا ضرورت تھی تمہيں يہ بات کہنے کی کہ مجھے اسکے کھانے بہت پسند ہيں" حاجرہ دارم کی گاڑی ميں اسکے ساتھ موجود تھی۔
"تو کيا نہيں ہیں؟" اس نے بھول پن سے پوچھا۔۔ پہلی بار وہ دارم کو يوں جھنجھلاتے ديکھ رہی تھی۔ وہ تو لوگون کی پرواہ کرنے والا ہی نہيں تھا۔ کون کيا کہتا ہے کيا سوچتا ہے۔۔ پھر۔۔حاجرہ نے آنکھيں سکيڑ کے اس کی جھنجھلاہٹ سے لطف اٹھايا۔
"ہر بات ہر ايک کے سامنے نہيں کرتے۔۔اسے نہيں پتہ کہ ميں نے اسکے ہوٹل سے کبھی کچھ کھايا ہے۔ وہ شہزاد کے سامنے ميرے لئے بالکل اجنبی ہے" وہ خود بھی حيران تھا کہ اسے کيوں اس بات کی پرواہ ہورہی ہے اگر وہ اسے کے سامنے کھل جاۓ کہ وہ اسے پہلے سے جانتا ہے يا نہيں۔
"ہر ايک يا۔۔۔۔۔۔" حاجرہ نے اسے ديکھتے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑی۔ دارم کو لگا وہ کچھ زيادہ ری ايکٹ کرگيا ہے۔ فورا بات پلٹ کر حاجرہ کا دھيان کہيں اور لگايا۔ ابھی تو وہ بھی اپنی کيفيات کوکوئ حتمی سند نہيں دے پارہا تھا کسی اور کو کيا بتاتا۔
_____________________
گھنٹے کے بعد گاڑی ايک بہت پرسکون، خاموش اور ہرے بھرے علاقے ميں پہنچی۔ دور تلک آبادی بہت کم تھی۔ يہ پرفضا سا علاقہ وليہ کو بے حد بھلا لگا۔
"نجانے اللہ کی تقسيم ميں يہ تضاد کيوں ہے؟" خود سے مخاطب وہ ان اميروں کے ٹھاٹھ ديکھ کر حيران تھی۔ جہاں غريب ايک چھت کے لئے ترستے ہيں۔ وہيں ايسے لوگ بھی ہيں جو نجانے کتنی چھتوں کے مالک ہيں۔ اس نے ايک گہری سانس کھينچی۔ شہزاد اور گاڑی کا ڈرائيور دونوں باتوں ميں مگن تھے۔
اسے موقع نہيں ملا شہزاد کو گھرکنے کا کہ اس نے اپنے باس کی عمر کے بارے ميں اسے کچھ نہيں بتايا تھا۔ اسکی بوکھلاہٹ کی اصل وجہ يہی تھی۔ وہ تو يہی سوچے بيٹھی تھی کہ کوئ عمر رسيدہ شخص ہوگا۔ مگر اس خوبرو شخص کو باس کی صورت ميں ديکھ کر وہ
گھبراتی نہ تو اور کيا کرتی۔
گاڑی ايک بڑے سے دروازے سے گزر کر ايک بہت بڑے ہائ وے پہ رواں دواں تھی۔ اردگرد خوبصورت لان تھے جنہيں کچھ مصنوعی چيزيں لگا کر اور بھی جاذب نظر بنايا ہوا تھا۔
وہ اس جگہ کی خوبصورتی کو سراہے بغير نہ رہ سکی۔ جس کا بھی ذوق تھا بہت اعلی تھا۔
کچھ دور جاکر تھوڑا سا رہائشی حصہ تھا۔ سفيد ماربل سے بنا وہ رہائشی حصہ ہرے بھرے درختوں کے درمياں بے حد بھلا معلوم ہورہا تھا۔
گاڑی رکتے ہی وليہ اتری۔ اسکے آگے ان سب کی گاڑياں بھی رک چکی تھيں۔ حاجرہ کو دارم نے وليہ کے پاس بھيجا۔ وہ اسے لئے فضا اور فائقہ سے ملانے لے آئ۔
وہ دونوں بھی گرمجوشی سے اس سے مليں۔ وليہ کو يہ ديکھ کر اور بھی اطمينان ہوا کہ وہ سب اميروں کی طرح نک چڑھی اور مغرور نہيں تھيں۔ بلکہ وليہ سے ايسے پيش آرہی تھيں جيسے اسکی دوست ہوں۔
وہ سب رہائشی حصے کے اندر آچکے تھے۔ تين چار ملازم انکے سامان لئے دارم کی ہدايات پر مختلف کمروں ميں پہنچا رہے تھے۔
"ميرا روم وہی ہوگا جو ميں ہر بار ليتی ہوں" حاجرہ دارم کو ہدايات دے کر دھونس بھرے لہجے مين بولی۔
"اچھا يار" دارم نے عجلت ميں کہا۔
"شہزاد اور آپ آئيں مس آپ کو روم دکھا دوں" دارم نے شہزاد اور پھر اس سے مخاطب ہو کر کہا۔ وليہ شہزاد کی پيروی ميں چل پڑی۔
دارم ديکھ رہا تھا کہ وہ بہت خاموش طبع ہے۔ حاجرہ، فائقہ اور فضا کی باتون کا جواب بھی وہ ہوں ہاں کے علاوہ نہيں دے رہی تھی۔
"يہ والا روم آپ کا ہے۔ يہ شہزاد کا" اس نے دو کمروں کی جانب اشارہ کيا۔ وليہ کو اس کاريڈور ميں آمنے سامنے موجود سب کمرے ايک جيسے ہی لگ رہے تھے۔
"آپ چاہئيں تو فريش ہوليں" دارم پھر اس سے مخاطب ہوا۔ وليہ مسلسل نظريں دارم کے علاوہ باقی سب جگہوں پر گھوما رہی تھی۔
"جی ۔۔ پھر آپ ہميں کچن کا بتا ديجئيے گا تاکہ دوپہر کا کھانا ٹائم پہ تيار کرليں" وليہ نے پھر سے پروفيشنل انداز ميں کہا۔
"جی ضرور" دارم کے کہتے ساتھ ہی وہ اپنے روم ميں آگئ۔ ملازم اس کا بيگ رکھ کر جاچکا تھا۔ اتنا ويل فرنشڈ کمرہ تو وہ کبھی خواب ميں بھی نہيں سوچ سکتی تھی۔ دبيز قالين۔۔ خوبصورت آف وائٹ اور گولڈن رنگ کے امتزاج سے بنا بيڈ۔۔ کمرے ميں فرنيچر کی بھرمار نہيں تھی۔ بيڈ کے علاوہ دو خوبصورت لکڑی کی کرسياں موجود تھيں۔ بيڈ کے ساتھ اسی طرز کے سائيڈ ٹيبل تھے۔ کمرے کی کھڑکی پچھلے باغ کی جانب کھلتی تھی۔
وليہ ہولے سے چلتی بيڈ پر آکر بيٹھی۔ وہ اس مقام پر آکر بھی اپنی اوقات نہيں بھول رہی تھی۔ وہ ملازم تھی اور بس۔۔
بيڈ سے اٹھ کر وہ تيزی سے واش روم کی جانب بڑھی۔ جس کا دروازہ کھلا تھا۔ چادر وہ پہلے ہی اتار کر بيڈ پر رکھ چکی تھی۔ منہ دھو کر تھوڑا خود کو چاک و چوبند کيا۔ بيگ سے چادر نما دوپٹہ اتارا۔۔۔ واش بيسن کے شيشے ميں خود کا جائزہ ليا۔ يکدم نگاہوں ميں حاجرہ، فضا اور فائقہ کی ڈريسنگ لہرائ۔ جديد تراش خراش کی شرٹس کے ساتھ کيپری پہنے ہوۓ تھيں۔ دوپٹے سرے سے تھے ہی نہيں۔ اس نے سر جھٹکا۔ اس نے اپنے ہينڈ بيگ ميں سے موبائل نکال کر سائرہ کو اپنے ادھر پہنچ جانے کی اطلاع دی اور دروازے کی جانب بڑھی۔ آہستہ سے دروازہ کھول کر باہر آئ۔ سمجھ نہيں آئ کون سا کمرہ شہزاد کا تھا۔ سب کمروں کے دروازے ايک سے تھے۔ وہاں آمنے سامنے چھ کمرے بنے تھے۔
کچھ جھجھک کر اپنے ساتھ والے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹايا۔
يہی غالبا دارم نے بتايا تھا۔ ايک بار ناک کرکے وہ انتظار ميں کھڑی تھی کہ اندر جانے کی اجازت ملے تو وہ جاۓ يا شہزاد باہر آئے۔
ابھی وہ سوچ ہی رہی تھی کہ درواز جھٹکے سے کھلا۔
وہ جو سامنے شہزاد کو ديکھنے کی اميد کرتے ہوۓ دروازے کی جانب پلٹی دارم کو سامنے کھڑے ديکھ کر بوکھلائ۔
"اوہ سوری۔۔ وہ ميں سمجھی يہ شہزاد کا روم ہے" اس نے جلدی سے اپنی بوکھلاہٹ پر قابو پاتے وضاحت کی۔
"اٹس اوکے ميم۔۔ شہزاد کا روم اس طرف والا ہے" اس نے وليہ کے ہی ساتھ کمرے کے دوسری جانب اشارہ کيا۔ مخصوص نرم سی مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ اس نے وليہ کی راہنمائ کی۔
"تھينکس" وليہ نے اسکی گھنی مونچھوں تلے تراشيدہ لبوں پر کھلنے والی مسکراہٹ سے نظر چرائ۔ تيزی سے وہ دوسرے دروازے کی جانب بڑھی۔ دارم اپنے کمرے کا دروازہ بند کرکے کاريڈور سے گزر کر جاچکا تھا۔ وليہ نے بے اختيار اسکی چوڑی پشت کو ديکھا۔ بليو جينز اور لمين کلر کی ٹی شرٹ پہنے وہ حسين مرد تھا۔
يا شايد بے تحاشا دولت لوگون کو حسين بنا ديتی ہے۔
وليہ کے سوچنے کی رفتار ان لمحوں ميں بہت زيادہ ہو چکی تھی۔ شہزاد کے باہر آتے ہی وہ اسکے ساتھ مين ہال کی جانب آئ۔
دارم اپنے کزنز کے ساتھ وہاں پہلے سے موجود تھا۔ سب باتوں ميں مصروف تھے۔ دارم انہيں آتا ديکھ کر اٹھا اور ايک جانب اشارہ کرکے کچن ميں لے آيا۔
"يہ ان دو دنوں کے لئے آپ دونوں کا ہوا۔ اسکی ذمہ داری آپ دونوں کے کندھوں پر" دارم نے خوش اخلاقی سے کچن ميں داخل ہوتے کہا۔
وہ دونوں بھی اسکے پيچھے آۓ۔ کشادہ، جديد طرز کا بنا يہ کچن وليہ کو بے حد بھلا لگا۔
دارم کے انداز پر وہ ہولے سے مسکرائ۔ دارم نے کسی قدر حسرت سے اسکی خوبصورت سی مسکان ديکھی۔
"اوکے سر" شہزاد کی آواز نے اسکی محويت توڑی۔
"پليز اگر اس وقت چاۓ بنا ديں تو مہربانی ہوگی۔" دارم نے دونوں کو مخاطب کيا۔
"کوئ اسنيکس بھی چاہئيں اسکے ساتھ؟" وليہ نے فريج کی جانب بڑھتے سوال کيا۔ پھر کھولنے سے پہلے اسکی جانب ديکھا جيسے اجازت چارہی ہو۔
"اب سے يہاں کی ہر چيز آپ دونوں کی جب چاہئيں کھوليں۔ جيسے چاہے استعمال کريں۔۔۔"
"مجھ سميت" دل کے کونے سے آخری جملے کی بازگشت سنائ دی۔ جسے فی الحال دارم نے ڈپٹ کر چپ کروايا.
"اسنیکس بنانا چاہئیں تو ویل اینڈ گڈ"
"اوکے بس بيس منٹ ميں ہم لاتے ہيں" وليہ نے فريج ميں موجود چيزوں کا جائزہ ليتے ہوۓ مصروف انداز ميں کہا۔
ايک مسکراتی نظر اس پر ڈال کر وہ کچن سے چلا گيا۔
_____________________________
آدھے گھنٹے بعد شہزاد لوازمات سے سجی ٹرالی لے کر سيٹنگ روم ميں آيا۔
دارم کے ملازم اسکے آنے سے پہلے ہی ضرورت کی ہر چيز لے کر آچکے تھے۔ لہذا ان سب کو مد نظر رکھتے وليہ نے جلدی سے ايگ چيز سينڈوچ اور ساتھ ميں کوکونٹ بسکٹس اوون ميں بنا ليے۔ گرم گرم کوکونٹ بسکٹس کا ايروما پورے سيٹنگ لاؤنج ميں پھيل چکا تھا۔
"واہ۔۔۔۔ خوشبو اتنی لاجواب ہے تو ذائقہ کيا ہوگا" شاکر نے خوشبو کو آنکھيں بند کرکے اچھے سے محسوس کرتے کہا۔
شہزاد نے سب کو چاۓ سرو کی۔
"بھئ تمہاری باجی کے تو ہم ابھی سے قائل ہوگۓ" حاجرہ نے بھی بسکٹس سے لطف ليتے ہوئے شہزاد کو مخاطب کيا۔ جو مسکراتے ہوۓ انکی تعريف وصول کررہا تھا۔
"دوپہر کا مينيو بتا ديں" شہزاد مئودب ہو کر ايک جانب کھڑا پوچھنے لگا۔
"بريانی بنا لو" دارم کا دل تو وليہ کی بريانی پہ ايسا آيا تھا کہ اسی کی فرمائش کر بيٹھا۔
"ہاں ٹھيک ہے۔۔ رات ميں باربی کيو رکھ ليتے ہين" باقيوں نے بھی تائيد کی۔
"جی" شہزاد مڑ کر جانے لگا کہ دارم کی آواز پر رکا۔
"تم نے اور وليہ نے چاۓ لی؟" اس کے استفسار پر وہ خاموش ہی رہا۔
"چلو" اسے ايک نظر تاسف سے ديکھتا وہ اسکے ساتھ کچن کی جانب ہوليا۔
جہاں وليہ چيزيں سميٹ رہی تھی۔ اور فارم ہاؤس کی ہی ايک ملازمہ اسکا ہاتھ بٹا رہی تھی۔
دوپٹہ سر سے ڈھلک کر کندھوں پر موجود تھا۔ اس نے بھی ٹھيک نہيں کيا۔ اطمينان تھا کہ اب کوئ اس جانب نہيں آۓ گا سواۓ شہزاد کے۔ وہ مگن سی اس لڑکی کے ساتھ باتوں ميں بھی مصروف تھی۔
کچن کی جانب آتی ہوئ اسکی آواز دارم کو بے حد بھلی لگی۔
"تو ميڈم بولتی بھی ہيں مگر اپنی مرضی سے اور اپنی مرضی کے لوگوں سے" دارم کے لبوں پر ہولی سی مسکراہٹ جھلکی۔ کچن ميں داخل ہوتے ہی وہ ٹھٹھکا۔ بالوں کا اونچا سا جوڑا بناۓ
دروازے کی جانب پشت کئے وہ سنک کے پاس کھڑی دھلے برتنوں کو کپڑے سے صاف کررہی تھی۔ دارم کی نظر اسکی گردن کی پشت پر موجود تل پر لمحے بھر کو ٹھٹھکی۔ پھر نظر موڑ کر اس نے ہولے سے کچن کا دروازہ بجايا۔
وہ تيزی سے مڑی۔ دارم کو نظريں جھکاۓ دروازے کے قريب ديکھ کر ہاتھ سرعت سے دوپٹے کی جانب گيا۔
شہزاد بھی دارم کے پيچھے کچن کے دروازے ميں نمودار ہوا۔
"آپ لوگوں کو ميں صرف کام کے لئے نہيں لايا۔ پليز جو بھی کھانا پينا ہو۔ آپ سہولت سے لے سکتے ہيں۔ مجھے خوشی ہوگی کہ جيسے ميں آپ لوگوں کو اپنا سمجھ کر يہاں لايا ہوں۔ آپ بھی اس جگہ کو اپنا ہی سمجھيں گے۔ سو پہلے چاۓ ليں۔ اسکے بعد کچھ اور کيجئے گا۔ دوپہر اور رات کا مينيو ميں نے شہزاد کو بتا ديا ہے۔" آخر مين اس نے نگاہ اٹھا کر اسکی جانب ديکھا جو ہاتھوں کو باندھے ۔۔ اب نظريں جھکاۓ کھڑی تھی۔
"جی" افففف پھر وہی مختصر جواب۔ دارم نے ايک خشمگيں نگاہ اسکے جھکے سر پر ڈالی۔
مڑ کر شہزاد کو اندر آنے کا راستہ ديا اور خود نکل کھڑا ہوا۔
وليہ کو شہزاد کے باس کی بولتی نظريں ذرا اچھی نہيں لگ رہی تھيں۔
"پتہ نہيں ايسے کيوں گھورتا ہے۔ شہزاد کو گھورے وہ اس کا مستقل ملازم ہے۔۔ ميں تو نہيں ہوں" چاۓ نکالتے وہ مسلسل اسے سوچ رہی تھی۔
"ہاں مگر اچھا ہے۔۔ عزت کرنا جانتا ہے۔ اور اسی لئے اچھا بھی لگا ہے" چاۓ پيتے۔ وہ اپنی سوچوں ميں مگن تھی۔
_____________________
Ep: 6
دوپہر کا کھانا کھا کر وہ سب پچھلے باغ ميں بنے سوئمنگ پول کی جانب آگۓ۔ قہقہے، ہنسی مذاق ۔۔کتنی بے فکری تھی انکے لہجے ميں۔ لڑکياں ڈيک چئيرز پر براجمان تھيں جبکہ سب لڑکے سليوليس شرٹس اور برمودہ پہنے سوئمنگ کرنے ميں مگن تھے۔
وليہ اس وقت فارغ تھی۔ کچن سے نکل کر وہ يوں ہی پچھلے حصے کی جانب آئ۔ وہ نہيں جانتی تھی کہ وہ سب بھی وہاں ہيں۔ رہائشی کمروں کے آگے دالان سا موجود تھا جہاں بے حد خوبصورت پودے اور بيليں لپٹی ہوئ تھيں۔ وہ انہی کو ديکھتی۔ مگن اس حصے کی جانب آئ جہاں سے کچھ دور سوئمنگ پول نظر آتا تھا۔
"ايک يہ ہيں۔۔۔ فکر و فاقے سے آزاد زندگی کا مزہ بھرپور انداز ميں لے رہے ہيں۔ اور ايک ہم جيسے ہيں۔ صبح اسی فکر سے ہوتی ہے کہ آج چيزيں بکيں گی کہ نہيں۔ اور رات اس فکر پر ختم ہوتی ہے کہ کل کا کيا بنے گا۔" ايک پلر کے ساتھ ٹيک لگاۓ وہ ان سب کو حسرت سے ہنستے زندگی کو جيتے ديکھ رہی تھی۔
اس بات سے انجان کے پول سے باہر آکر دارم جو ايک چئير پر بيٹھا توليے سے ہاتھ منہ صاف کررہا تھا۔ اسکی نظريں وليہ کے چہرے پر ہی ٹکی تھيں۔
اور جيسے وليہ اسکی نظروں سے انجان تھی۔ اسی طرح وہ حاجرہ کی نظروں سے انجان تھا۔
جو اسکی وليہ پر بار بار اٹھنے والی نظروں سے بہت کچھ جان گئ تھی۔ اپنی چئير سے اٹھ کر وہ اسکے پاس آئ۔ ايک بازو کی کہنی اسکے دائیں کندھے پر ٹکاۓ اسکے کان کے قريب جھکی۔ دارم نے يکدم چونک کر نظروں کا رخ پھير کر حاجرہ کو ديکھا۔
"بات کيا ہے باس؟" وليہ کے لہجے کی شرارت پر دارم نے بھنويں اچکائيں۔
"کون سی بات؟" اسکے سوال پر اس نے بھی سوال کيا۔
"بات معدے سے ہوکر دل پر لگ گئ ہے" اسکی شرارت ميں ڈوبی بات کو وہ ايسے نظر انداز کرگيا جيسے واقعی کچھ نہيں۔
"کس کے معدے۔۔۔ کيا بدہضمی ہورہی ہے تمہيں۔۔ ميرے خيال سے بريانی ميں ايسا کچھ نہيں تھا"دارم نے حتی المقدور لہجے کو سرسری رکھا۔ مگر سنجيدہ چہرے کے ہمراہ جيسے وہ اپنی مسکراہٹ چھپانے کی کوشش کررہا تھا حاجرہ سے چھپا نہيں رہ سکا۔
"بکواس نہ کرو۔۔ ہمارے لئے تو نہيں مگر تمہارے لئے اس بريانی ميں بہت کچھ تھا۔"سيدھے ہوتے اسکے کندھے پر دھپ ماری۔
"اچھا مثلا۔۔وضاحت پليز" محبوب نہ سہی محبوب کا ذکر ہی سہی۔
"مجھے چکر دے رہے ہو مجھے" وہ اپنی جانب انگلی کرکے حيرت سے بولی۔
"تمہيں کافی چکر چڑھ چکے ہيں۔ پہلے انہيں اتارو۔۔" اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑے ہوتے اب وہ ہاتھ سينے پر باندھے کھڑا تھا۔
"کھوج تو ميں لگا کر رہوں گی" اس نے بھی دھمکی دی۔
دارم نے اسکے تلملانے پر قہقہہ لگايا۔ يہ پہلی بار تھا کہ وہ کسی طرح اسکے ہاتھ نہيں آرہا تھا۔ ورنہ وہ ہميشہ ہر بات ايک دوسرے سے ڈسکس کرتے تھے۔
وليہ نے اپنے خيالون سے چونک کر دارم کو قہقہہ لگاتے ديکھا۔
"لگتا ہے ان کی کوئ سيٹنگ ہے" وہ ان دونوں کو آپس ميں زيادہ باتيں کرتے ديکھتی تھی۔ باقی سب ہوتے تھے۔ مگر وہ دونوں زيادہ فرينک لگتے تھے۔
"مجھے کيا" اپنی بات پر خود کو سرزنش کی۔ اور مڑ کر اندر کی جانب چلی گئ۔
رات کی بھی تو تياری کرنی تھی۔
________________________
رات ميں وہ ہر چيز کو مصالحہ پہلے سے لگا چکی تھی۔
دارم نے انگيٹھی اور کھانے کی ٹيبل کا اہتمام باہر لان ميں ہی کر ديا تھا۔
ايک جانب کرسياں لگا کر وہ لوگ بيٹھے تھے اور انکے سامنے شہزاد اور وليہ تيزی سے ہاتھ چلاتے۔ کباب،، تکے بنا رہے تھے۔
"باجی يہ ديکھو صحيح رکھيں ہيں نا" شہزاد سيخيں انگيٹھی پر رکھتے اس سے پوچھ رہا تھا۔
وہ کام والی دو لڑکيوں کے ساتھ مل کر تيزی سے سلاد کاٹ رہی تھی۔
"ہاں ٹھيک ہے۔ بس اب ذرا آہستہ آہستہ پنکھی سے ہوا ديتے جاؤ۔۔ آہستہ دينا تيز دو گے تو کوئلے کی راکھ ہوا ميں زيادہ تيزی سے اڑے گی" اسے ہدايات دے کر وہ واپس اپنے کام ميں مگن ہوگئ۔
جيسے سلاد کو اچھے سے سجا کر مڑی دارم اور اسکے کزنز انہی کی جانب آرہے تھے۔
"لاؤ بھئ شہزاد ہم بھی شہيدوں ميں اپنا نام لکھوا ليں" عالم نے اسکے ہاتھ سے پنکھی پکڑتے اسے جھلاتے ہوۓ کہا۔
وليہ جو دوسری جانب اور سيخيں تيار کررہی تھی۔ دارم کو اپنی جانب آتا ديکھ کر جھجھکی۔
کوئ تصويريں لے رہا تھا اور کوئ سيخوں کی سيٹنگ ميں موجود تھا۔
"سر آپ لوگ انجواۓ کريں۔ ہم ہيں نا کرليں گے سب" وليہ نے دارم کو اپنے قريب کھڑے ديکھ کر مصروف انداز ميں کہا۔ ايک سيخ اسکے سامنے سے اٹھا کر وہ بھی برتن ميں موجود چکن کی بوٹيوں کو سيخوں پر لگانے لگا۔
"ہم انجواۓ ہی کررہے ہيں۔ ايک نيا ايکسپيرينس۔۔" دارم نے بھی مصروف سے انداز ميں کہا
"آپ اتنا ہی کم بولتی ہيں يا ہمارے ساتھ آپ کو بات کرنا اچھا نہيں لگتا" ہاتھ روک کر سيخ پر چلتے ہوۓ اسکے ہاتھ ديکھے جو سيخ کباب لگا رہے تھے۔ وہ بھی ايک سيخ لے کر اسی کے انداز کو فالو کرنے لگا۔
اسکی بات پر چند لمحوں کے لئے وليہ کے چلتے ہاتھ رکے۔
"انسان کو انہی لوگوں سے بات کرنی چاہئے جو اس کے مقام اور مرتبے کے مطابق ہوں۔ اگر اپنے مقام سے اوپر والوں سے بات کرتا ہے تو منہ کے بل گرتا ہے۔ اور اگر اپنے سے نيچے والوں سے بات کرنے کی کوشش کرتا ہے تو لوگ اسے منہ کے بل گرانے ميں کوئ کسر نہيں چھوڑتے" وليہ کی بات پر وہ لحظہ بھر کو اسکی بات کی گہرائ پہ ششدر رہ گيا۔ اتنی سی عمر اور اتنا تجربہ۔
"اگر وہ اپنے مرتبے سے ہٹ کر لوگوں سے بات چيت نہيں کرے گا۔ تو ميرا خيال ہے دنيا
پرکھنے کی صلاحيت سے محروم رہ جائے گا" دارم نے اسکی بات کو جھٹلايا۔ حالانکہ وہ اسکی بات ميں چھپی حقيقت سے متفق ہوا تھا۔
وليہ نے پہلی بار جھکی آنکھيں اٹھا کر اسکی جانب ديکھا جو اپنی بات کے تاثرات اسکے چہرے پر ديکھا تھا۔ وليہ کی نظريں بہت کچھ جتاتی سی تھيں۔
"سر جب انسان غريب ہو اور لاچار بھی تو وہ اس مقام پر رہتے ہوۓ بھی دنيا کے بہت سے چہروں کو پرکھ ليتا ہے۔ بہت سے تجربے حاصل کرليتا ہے۔ مگر يہ بات محلوں ميں رہنے والے نہيں جان پاتے" اس کا لہجہ طنزيہ نہيں سادہ سا تھا جيسے اپنا تجربہ بتا رہی ہو۔
"تو لوگوں کو پرکھنے کے فن سے آشنا ہيں آپ" دارم نے سراہا۔
"اپنے تئيں کوشش کرتی ہوں۔ مگر کون جانے کب کون کيسے بدل جاۓ۔ ساری کی ساری پرکھی ہوئ باتيں وہيں کی وہيں رہ جاتی ہيں، اسی لئے ميں کسی کی ذات کے حوالے سے کسی کو کچھ نہيں بتاتی" اس سے پہلے کے دارم اسے کہتا کہ اسکے بارے ميں کچھ بتائے۔ وليہ نے جيسے اسے شٹ اپ کال دے دی۔۔
دارم متاثر ہوۓ بنا نہ رہ سکا۔ اگر وہ اتنے مردوں کی بھيڑ ميں دکان چلا رہی تھی تو کيسے اور کيوں چلا رہی تھی۔ دارم کو آج اس بات کا جواب مل گيا تھا۔ اللہ نے اسے اس قدر اعتماد سے نوازا تھا کہ وہ بڑے بڑوں کے چھکے اڑا دينے کی صلاحيت رکھتی تھی۔
اور دارم کو پسند ہی ايسی مضبوط لڑکياں تھيں۔ ايسی لڑکياں مقابل کو خود بخود اپنی جانب کھينچتی ہيں۔ انہيں بننے سنورنے خود پر محنت کرنے کی ضرورت ہی نہيں ہوتی۔ ان کا مضبوط کردار مقابل کو چاروں خانے چت کرديتا ہے۔
جيسے رفتہ رفتہ دارم ہورہا تھا۔
دارم کو خاموش کروا کر اب وہ تندہی سے اپنا کام ختم کررہی تھی۔
کھانے تک پھر ان کے درميان کوئ بات نہيں ہوئ۔
کھانے کے بعد وليہ اور شہزاد باقی ملازموں کے ساتھ چيزيں سميٹ کر اندر جاچکے تھے۔
جبکہ وہ سب ابھی باہر ہی بيٹھے تھے۔
" يار کل قريب کے دريا سے مچھلی کا شکار نہ کريں" عالم کی بات پر فضا سب سے زيادہ ايکسائيٹڈ ہوئ۔
"واؤ گڈ آئيڈيا"
"ميرا خيال ہے يہاں ايک تاريخی قلعہ ہے اس کی سير کرکے آتے ہيں" فائقہ نے بھی مشورہ ديا۔
"ايسا کرتے ہيں پہلے قلعہ ديکھ آتے ہيں پھر وہيں سے مچھلی پکڑ کر وہيں پر پکا کر کھاليں گے۔" شاکر کے مشورے کی سب نے تائيد کی۔
"بيٹر پلين" دارم نے بھی سراہا۔
"شہزاد اور وليہ کو ساتھ لے جائيں گے" حاجرہ نے بھی مشورہ ديا۔
"ظاہر ہے تم نکميوں کو مچھلی پکانے کا طريقہ کہاں آتا ہوگا؟" شاکر کی بات پران تينوں نے تيکھے چتونون سے اسے ديکھا۔ باقی سب لڑکوں کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔
شہزاد چاۓ کے کپ لئے انکی جانب آيا۔
"جيتے رہو" طلحہ نے خوش ہو کر اسے دعا دی۔
"آجا يار ادھر ہی بيٹھ جا" عالم نے اسے بھی وہيں ايک خالی کرسی پر بيٹھنے کا اشارہ کيا۔
"تم چائے نہيں پيتے" شاکر نے سوال کيا۔
"نہيں سر اس وقت نہيں پيتا" اس نے متانت سے جواب ديا۔
"وليہ کيا کررہی ہے۔ اس سے کہو ادھر ہی آجاۓ" حاجرہ کو اسکی کمی محسوس ہوئ۔ اور يقينا دارم کو بھی۔ اسے لگا حاجرہ نے اسکے دل کی بات کہہ دی ہے۔ ايک اچٹتی نگاہ حاجرہ پر ڈالی اس نے شرارت سے آنکھ دبائ۔
اسکی شرارت سمجھ کر چہرے پر کھلنے والی مسکراہٹ کو اس نے بمشکل باقی سب سے چھپايا۔
"باجی نماز پڑھنے چلی گئيں ہيں اپنے کمرے ميں" شہزاد کی بات پر حاجرہ نے گہرا سانس لے کر جان بوجھ کر دارم کو ديکھا۔
وليہ کے حوالے سے يہ چھيڑ چھاڑ اسے بہت اچھی لگ رہی تھی۔ زندگی ميں پہلی بار وہ ايسے کسی جذبے سے واقف ہوا تھا۔
چاۓ ختم کرتے ہی دارم نے سب کو اٹھنے کا اشارہ کيا۔
"چلو يار ريسٹ کرو۔۔ پھر صبح جلدی اٹھنا ہے۔ شہزاد کل ہم يہاں قريب ای ايک قلعہ کو ديکھنے جارہے ہيں۔ پھر مچھلی کے شکار کے لئے تو تم بھی تيار رہنا اور وليہ کو بھی بتا دينا۔" دارم کی بات پر اس نے اثبات ميں سر ہلايا۔
اندرونی حصے کی جانب بڑھتے وہ سب اپنے اپنے کمروں ميں چل دئيے۔
_______________________________
دارم دراوزہ دھکيل کر اندر داخل ہوا۔ اپنے پيچھے دروازہ بند کيا۔ لاک لگايا اور ريليکس انداز ميں بيڈ پر جاکر دھپ سے اس پر گرا۔۔
وليہ نے جلدی جلدی نفل ختم کرکے سلام پھيرا۔۔ کمرے کے ايک کونے ميں وہ نماز پڑھ رہی تھی۔ کمرے ميں کسی کی موجودگی محسوس کرکے وہ گھبرائ۔ چاپ مردانہ محسوس ہوئ تو گبھراہٹ سوا ہوئ۔
سلام پھيرتے جيسے ہی بيڈ کی جانب پھٹی پھٹی نظروں سے ديکھا دارم اوندھے منہ ليٹا نظر آيا۔
يکدم وہ جاء نماز سے اٹھی۔ خاموشی ميں کسی کے کپڑوں کی سرسراہٹ محسوس کرتے دارم ليٹے ليٹے ہی سيدھا ہوا۔
سامنے نماز کے سٹائل ميں دوپٹہ لپيٹے وليہ کو حيرت اور دہشت بھری نظروں سے ديکھتے پايا۔
جھٹکا کھا کر اپنی جگہ سے اٹھا۔
"آ۔۔۔۔ آپ يہاں کيا کررہے ہيں۔۔ " حيرت اور دہشت کی جگہ اب اشتعال نے لے لی تھی۔
"سوری۔۔۔ ميم يہ ميرا روم ہے" يکدم دارم کو بات سمجھ آئ تو اعصاب ريليکس ہوۓ۔رہائشی حصے خاص کر کمروں کی سجاوٹ کرتے يہ دارم کا ہی مشورہ تھا کہ سب کمروں کی سيٹنگ، سٹائل۔۔ حتی کہ فرنيچر بھی ايک سا ہو۔۔ کبھی کبھی آنے والے واقعی پريشان ہو جاتے تھے کہ کون سا کس کا کمرہ ہے۔ اور وليہ کے ساتھ بھی يہی ہوا۔
"ليکن يہ روم تو آپ نے مجھے ديا تھا" وہ اب بھی بے يقين کھڑی تھی۔
"نہيں ميم يہ روم نہيں تھا۔ معذرت اصل ميں سب رومز يہاں ايک جيسے ہيں۔ لہذا غلطی آپکی بھی نہيں اور غلطی ميری بھی نہيں" اس نے گويا اسے سمجھايا۔
وليہ کے بھی تنے اعصاب ڈھيلے پڑے۔
"ايک منٹ" وہ اسے وہيں کھڑے ہونے کا کہہ کر الماری کی جانب بڑھا۔
"يہ ديکھئے۔" الماری کھولی تو سامنے مردانہ کپڑے پڑے تھے۔ وليہ کو ياد آيا وہ بھی کمرے سے نکلنے سے پہلے اپنا بيگ اور ہينڈ بيگ الماری ميں رکھ آئ تھی۔ اسی لئے اندر آتے اسے کوئ ايسی چيز نظر نہيں آئ کہ جس کے باعث وہ چونکتی۔ تھکی ہوئ تھی اسی لئے جلدی جلدی وضوکرکے باہر نکلی کہ کہيں سستی کے چکر ميں نماز نہ نکل جاۓ۔
"آئم سوری" وہ شرمندگی سے بولی۔
"يو شڈ بی" دارم کی بات پر اس نے حيرت سے اسے ديکھا۔ وہ اميد کررہی تھی کہ وہ اٹس اوکے کہے گا۔ جتنا کلچرڈ وہ اسے لگا تھا اس لمحے انتہائ بدتہذيب لگا۔
"کمرے ميں آنے پہ نہيں بلکہ مجھے بداعتماد سمجھنے پر" دارم کی بات پر اس نے ہونٹ بھينچے۔
"ميں مانتا ہوں کہ ہم اجنبی ہيں۔۔ مگر اتنا گيا گزرا ہوں کہ آپ نے يوں بے اعتباری ظاہر کی" دارم کے لہجے ميں ہلکا سا شکوہ تھا۔
وليہ سے کوئ جواب نہيں بن پڑا۔
"اگين سوری"
"وليہ ميں امير ضرور ہوں مگر عياش امير نہيں۔ اميد ہے يہ بات آپ جيسی چہرہ شناس سمجھ چکی ہوگی" پہلی بار اس نے وليہ کے سامنے شايد اس کا نام ليا تھا۔ يا اتنی توجہ سے وليہ نے پہلی بار اسے اپنا نام ليتے سنا تھا۔
اب کی بار وہ کچھ بھی کہے بنا باہر نکلی۔ دارم اسکے پيچھے آيا۔ ايک ہاتھ سے اسے روکا۔
پھر چند قدم اس کے آگے چل کر اسکے کمرے کا دروازہ کھول کر ايک جانب ہوا۔ اسے اندر جانے کا اشارہ کرتے خود تيزی سے اسکی جانب سے نکلتا اپنے کمرے ميں چلا گيا۔
وليہ اسکے ری ايکشن پر حيران تھی۔ وہ اسکی کيا لگتی تھی جس کی کہی بات پر وہ يوں مايوس ہو کر اس سے ناراض سا ہوگيا تھا۔
وليہ آنکھ لگنے تک يہی سوچے جارہی تھی۔
Ep: 7
اگلے دن صبح وہ سب تيار تھے۔ دارم معمول سے ہٹ کر سنجيدہ تھا۔ وليہ نے پرنٹڈ سادہ سی شلوار قميض پر انہی رنگوں سے ہم رنگ دوپٹہ چادر کی طرح لے رکھا تھا۔
دارم نے حاجرہ کو کچھ کہہ کر وليہ کی جانب بھيجا جو شہزاد کے ساتھ کھڑی باتوں ميں مصروف تھی۔
"تم دونوں ہمارے ساتھ آجاؤ" حاجرہ نے وليہ کے قريب آتے مزے سے اسکا بازو اپنی قيد ميں ليتے اسے ساتھ چلاتے ہوۓ کہا۔
وليہ کوئ بھی پس و پيش کئے بنا خاموشی سے اسکے ساتھ چلنے لگی۔
گاڑی کی پچھلی سيٹ پر وليہ اور شہزاد جبکہ ڈرائيونگ سيٹ پر دارم اور اسکے ساتھ حاجرہ بيٹھی تھی۔
سب گاڑياں ايک ايک کرکے آگے پيچھے چل پڑيں۔ سب سے آگے دارم کی گاڑی تھی۔
"وليہ تمہاری ايجوکيشن کيا ہے؟" وہ حاجرہ ہی کيا جو بولے بنا رہ سکے۔
"پرائيوٹ بی اے" وليہ نے مختصر جواب ديا۔
"آگے ايم اے کا کيوں نہيں سوچا؟" ايک اور سوال۔
"معاش کی فکر علم کی فکر سے زيادہ تھی۔ اسی لئے کسی ايک کشتی کا سوار ہونا پڑا" وليہ کی بات پر سن گلاسز کے پيچھے چھپی دو نظروں نے بڑے غور سے اسے ديکھا۔ عجيب فلسفی لڑکی تھی۔ چھوٹی سی بات ميں بھی
اتنی بڑی بات کر جاتی تھی کہ بندہ سوچتا ہی رہے۔
"يار تم ميں بہت ٹيلنٹ ہے۔ ميں صرف کوکنگ کی بات نہيں کررہی۔۔ تم۔۔ تم بہت بڑی بڑی باتيں کر جاتی ہو" حاجرہ نے ایک بار پھر دارم کے ان کہے الفاظ کو زبان دی۔
"علم صرف کتابوں ميں ہی ہوتا تو ۔۔ پڑھے لکھے جاہل اس معاشرے ميں نظر نہ آتے" وليہ نے ہنکارا بھر کر کہا۔ وہ بھی تو ايسے ہی معاشرے کے بيچ تھی۔ جہاں پڑھے لکھے لوگ بھی ہمہ وقت اسے کچھ کرنے نہيں دے پارہے تھے۔
"ميں اميد کرتی ہوں۔۔ ہم دوبارہ پھر کبھی ضرور مليں۔ " حاجرہ نے صاف گوئ سے کہا۔
"آپ بہت اچھی ہيں۔" وليہ نے ہولے سے مسکرا کر اعتراف کيا۔
"ارے يار تم خود اتنی اچھی ہو۔۔ کيوں دارم؟" يکدم حاجرہ نے اسے جواب ديتے دارم کو انوالو کيا۔ گلاسز آنکھوں پہ ہونے کے باعث وہ اسکی گھوری سے فيض ياب نہيں ہوسکی۔
"انسان کی اچھائ اسکے چہرے پر نہيں لکھی ہوتی۔ يہ کل رات مجھے اندازہ ہوا ہے۔" دارم نے بات کو گھما کر جس بات کا حوالہ ديا وہ وليہ کو بہت اچھے سے سمجھ آگيا۔ چونک کر بيک ويو مرر مين ديکھا۔ مگر ہاۓ رے يہ سن گلاسز۔۔۔۔
وليہ نے سرعت سے آنکھيں پھيريں۔۔ مگر وہ اسکی نظروں کی چوری بڑے آرام سے پکڑ چکا تھا۔
حاجرہ اپنی شرارت کا اتنا بے تکا جواب سن کر بدمزہ ہوئ۔
گھنٹے کی ڈرائيو کے بعد وہ سب پرانے قلعہ پہنچ چکے تھے۔ کھنڈرات ميں يہ بھی ايک شاہکار ہی تھا۔ خوف بھی آرہا تھا مگر عجيب سی کشش بھی رکھتا تھا۔
سب گاڑيوں سے نکل کر ٹولوں کی صورت اس قلعہ کی جانب بڑھے۔ حاجرہ اور وليہ کے پيچھے فضا اور فائقہ تھيں۔ جبکہ شہزاد دارم اور عالم انکے آگے اور شاکراور طلحہ انکے پيچھے تھے۔
"يار يہ کتنا خوبصورت ليکن خوفناک ہے" فضا اس جگہ کی خوبصورتی کو سراہتی آگے بڑھ رہی تھی۔ بڑے بڑے پتھر۔۔ کمرے دالان۔۔۔
"کاش کہ ان جگہوں کی صحيح سے مرمت کروائ جاتی تو يہ جگہ ٹورئسٹ کے لئے بہترين اٹريکشن بن جاتی" دارم نے بھی اسے سراہتے افسوس سے کہا۔
"يہی تو الميہ ہے ہم نے ملک تو لے ليا مگر اپنی جگہوں سے محبت نہ کی نہ ہی ان کا خيال رکھا۔" عالم کی بات پر سب نے اتفاق کيا۔
"کيا يہاں شہزادے اور شہزادياں بھی رہتے ہوں گے" وليہ کی بات پر حاجرہ نے بھی انہيں ديکھا۔ دارم کو اس جگہ کی ہسٹری کا کافی علم تھا۔
"جی بالکل۔ يہ بادشاہوں کے ہی بناۓ ہوۓ ہيں اور يہاں انکی اولاديں يعنی شہزادے اور شہزادياں بھی رہتے تھے۔" دارم نے سہولت سے اسکی بات کا جواب ديا۔
ايک مين ہال ميں آکر وہ سب گول دائرے کی سی صورت ميں کھڑے اس جگہ کی خوبصورتی کو ديکھ رہے تھے۔
"ميں نے سنا ہے کہ جب آرکيٹيکٹ اس وقت ميں ايسے شاہکار تعمير کرتے تھے تو بادشاہ ان کو مروا ديتے تھے۔" وليہ تجسس کے مارے ايک اور سوال کر رہی تھی۔ وہ اتنی کم گو تھی کہ اسکے سوال پر دارم حيران تھا۔
"ہاں يار مين نے بھی کچھ ايسا ہی سنا ہے" فضا نے بھی اسکی تائيد کی۔
"جی ايسا ہی ہوتا تھا۔ ان فيکٹ اس دور ميں لوگ اتنے مغرور اور خود کو نعوذ باللہ خدا سمجھتے تھے کہ وہ اپنے جيسی چيز کسی اور کی برداشت نہيں کرتے تھے۔ ان کا يہی خيال ہوتا تھا کہ بس جو ہمارے پاس ہے اس جيسا کسی اور کو رکھنے يا بنانے کی ہمت نہ ہو۔۔ بس اسی زعم ميں نہ صرف آرکيٹيکٹس کو بلکہ ککس تک کو مار ديتے تھے۔ اگر آپ اس دور مين ہوتیں تو يقينا اپنے شاہکار کھانوں کے بعد کسی بادشاہ کے کہنے پر آپ کو مروا ديا جاتا" دارم نے جس سنجيدگی سے بات شروع کی تھی اختتام ہر گز سنجيدگی پر نہيں تھا۔
وليہ نے پہلی بار اسکی بات پر منہ بنايا۔
___________________________
کچھ دير وہاں گزارنے کے بعد وہ لوگ مچھلی پکڑنے کی غرض سے دريا پر چلے گۓ۔
سب مچھلی پکڑنے کے فن کو انجواۓ کر رہے تھے۔ جبکہ وليہ ان سے ذرا فاصلے پر دريا کے قريب ايک بڑے سے پتھر پر براجمان تھی۔ گھٹنوں پر بازو رکھے وہ نجانے کس سوچ ميں تھی۔
کچھ دير بعد اسے اپنے قريب آہٹ کا احساس ہوا۔
بليو جينز اور ہلکی اسکن سی ٹی شرٹ پہنے دارم بھی اسکے برابر تھوڑے فاصلے پر بيٹھا۔
وليہ نے چہرہ موڑ کر اسکی جانب ديکھا جو اسکی جانب متوجہ ہوتے ہوۓ بھی نہيں تھا۔ عجيب بے نياز بھی رہتا تھا اور نہيں بھی۔
وليہ نے چہرہ واپس موڑا۔
"مجھے آپکا رات کا رويہ سمجھ نہيں آيا" وليہ نے نہ چاہتے ہوۓ بھی بات کا آغاز کيا۔
"پھر بھی آپ کو برا لگا تو معذرت۔ مگر انسان انجان لوگوں پر يک دم اعتبار نہيں کرتا" وليہ نے دھيرے سے بہت کچھ سمجھاتے ہوۓ کہا۔
"ميں نے رات مين بھی آپ کو کہا تھا آپ جيسی چہرہ شناس کو يہ بات سمجھ لينی چاہئيے تھی۔ بہرحال مجھے برا اسی لئے لگا کہ ميں ايک پورا دن آپکے سامنے رہا۔ کيا ميں نے کوئ غلط حرکت۔۔ کوئ غلط نظر آپ پر ڈالی؟" وليہ نے اسکے سوال پر ہولے سے سر نفی ميں ہلايا۔
"ميری حيرانگی سے آپ کو سمجھ جانا چاہئيے تھا کہ مجھے بھی اس سچوئيشن کا اندازہ نہيں ہوا۔ خير چھوڑيں" دارم بات کلئير کرتے کرتے موضوع ہی بدل گيا۔
"آپکی کوکنگ ديکھنے کے بعد ميں چاہتا ہوں کہ آپ اسے بہتر انداز ميں پروفيشن بنائيں"دارم جو کہنا چاہتا تھا اس مدع پر آيا۔
"ميرے پاس جو ذرائع تھے ان کو بروئۓ کار لا کر ميں فقط اس کو اسی حد تک پروفيشن بنا سکتی تھی" ايک گہری سانس خارج کرکے اس نے کہا۔
"اگر ميں آپ کو کچھ آپشنز دوں؟" اس نے بات کرتے اسے سواليہ نظروں سے جانچا۔
"مثلا؟" اس نے ناسمجھی سے پوچھا۔
"اگر ميں آپ کو ايک شاپ بنا کر ديتا ہوں۔ پيسہ فی الحال ميں لگاؤں گا۔ آپ شہزاد اور اسی طرح کے چند لڑکے جو آپکی شاپ پر بھی ہين انہيں کھانا پکانے ميں ٹرينڈ کرديں۔ پھر کيٹرنگ کا کام وہ سنبھاليں گے اور آپ صرف آرڈرز لے کر مينيو سيٹ کريں گی۔ اور مختلف ايوينٹس اور ہماری کلاس کی شاديوں ميں آپ کو ان ميں کرواؤں گا" دارم کی بات پر وہ جتنا حيران ہوتی کم تھا۔
"ليکن آپ يہ اتنا پيسہ کيوں لگائيں گے؟" وليہ نے حيران ہوتے پوچھا۔
"کيونکہ ميرے پاس بہت فالتو پيسے ہيں سوچا تھوڑے سے آپ کو دے کر ثواب کماؤں" دارم کی سنجيدہ بات ميں چھپے مذاق کو سمجھ کر وليہ کے تاثرات بگڑے۔
"محترمہ آپ جو بھی کمائيں گی اس کا ففٹی پرسنٹ ميں رکھوں گا اور ففٹی آپ" دارم کی بات پر وہ تھوڑا پرسکون ہوئ۔
"مجھے آپ صرف يہ بتائيں کہ آپ ان لڑکوں کو کتنی دير تک اپنے جيسا ٹرينڈ کرسکتی ہيں۔ شہزاد تو پہلے سے ہی ہے۔" دارم کی بات پر وہ اپنے مخصوص انداز ميں مسکرائ۔
"شہزاد کے علاوہ ميری شاپ پر جتنے لڑکے ہيں۔ وہ کافی ٹرينڈ ہيں۔ اور مزيد مجھے پنددہ دن ميں وہ اور بھی ٹرينڈ ہو جائيں گے۔" وليہ کی بات پر اس نے ہولے سے سر ہلايا۔
"ديٹس گريٹ۔۔ ميں چند دنوں ميں ايک اينويل ڈنر ارينج کروا رہا ہوں۔ اپنے گھر آپ وہاں آکر پہلا ايونٹ ارينج کريں۔۔" دارم نے اسے پہلی آفر بھی کردی۔
"اس کا ففٹی پرسنٹ بھی آپ رکھيں گے؟" دارم کے نرم سے لہجے نے وليہ کو باور کروايا کہ وہ برا انسان نہيں۔ اور پھر جب اس نے نئے جہانوں کو درياقت کرنے کے لئے اسکا سہارا لينا ہے تو پھر خوامخواہ کی روڈنيس دکھانے کا کيا فائدہ۔
اسکے سوال پر دارم کے چہرے پر نرم سی مسکراہٹ بکھری۔
"نہيں وہ سب کا سب آپکا ہوگا۔ ہاں شاپ اوپن ہونے کے بعد ميں کوئ رعايت نہيں دوں گا۔" اس نے مصنوعی سرزنش کی۔
"مچھلی پکڑی جاچکی ہے۔ اب آپ ہميں اپنے اچھے سے کھانے سے انٹرٹين کريں"دارم نے دائيں جانب ديکھتے اسے اٹھنے کا اشارہ کيا۔
شام تک ان سب نے واپسی کی راہ لی۔
مگر سائرہ کی بات وليہ کے لئے سچ ثابت ہوئ تھی۔ يہاں آنا اسکے لئے قسمت کے نئے دروا‌زے کھول گيا تھا۔
_______________________
واپس آکر وليہ نے سائرہ کو دارم سے ہونے والی سب گفتگو بتائ۔
"ميں نے کہا تھا نہ وليہ يہ ايک دم سے ايک انجان راستے پر چلنے کا حکم آنا ايسے ہی نہيں تھا" سائرہ نے مسکراتے ہوۓ اسے کہا۔
"ہاں اماں۔ ميں تو سمجھتی تھی يہ بڑی گاڑيوں والے ہوتے ہی مغرور ہيں۔ مگر اماں وہ سب بہت اچھے ہيں۔۔ احساس ہی نہيں ہوا کہ پہلی بار ان سے مل رہی تھی۔" وليہ نے کھوۓ ہوۓ لہجے ميں کہا۔ جيسے ابھی بھی وہيں ہو۔
"ہاں بيٹا مگر ان سے تعلق بڑی سوچ سمجھ کر بناتے ہيں۔ يہ اوپر لے جانے والے نيچے بھی اسی تيزی سے پھينکتے ہيں۔ تو بس ہوشيار رہنا" سائرہ ابھی تھورا ڈری ہوئيں تھيں۔ اور پھر وليہ لڑکی ذات تھی۔ وہ جانتی تھيں کہ اسے اپنی حدود کا علم ہے مگر کسی دوسرے کو تو نہيں پتہ ہوتا نا۔
وليہ نے چند ہی دنوں ميں ان سب لڑکوں کو کافی حد تک کوکنگ ميں ٹرينڈ کرديا تھا۔
وہاں سے آنے کے کچھ دن بعد دارم کی وليہ کو کال آئ۔
"کيسی ہيں" سلام دعا کے بعد وہ گويا ہوا۔
"جی الحمداللہ آپ سنائيں" وليہ اس بار کافی شائستگی سے پيش آئ۔
"اس ويک اينڈ پہ ڈنرہے تو ميں چاہ رہا تھا آپ ايک بار ميرے گھر آکر کچن اور لان کا جائزہ لے ليتيں تاکہ کھانے پينے کی چيزوں کو کيسے رکھنا ہے اس کا اندازہ بھی ہوجاتا۔ اور مينيو بھی بيٹھ کر ڈيسائيڈ کرليتے" دارم کی بات پر وہ چند لمحوں کو سوچ ميں پڑی۔
"ميں کل گاڑی بھجوا ديتا ہوں آپ پہلے آفس آجائيں وہاں سے شہزاد کو ساتھ لے کر ميں آپ کو گھر بھی دکھا ديتا ہوں" دارم اسکی شش و پنج سے کسی قدر واقف تھا۔ يقينا وہ اکيلے نہيں جانا چاہتی تھی۔ اسے بنا جتاۓ دارم نے فورا حل نکالا۔
"جی ٹھيک ہے" اب کی بار وہ آرام سے مان گئ۔
"چليں پھر کل ملاقات ہوگی۔"دارم نے الوداعيہ کلمات کہہ کر فون بند کرديا۔
وليہ اس وقت دکان پر ہی موجود تھی۔ جب تک نيا کام نہ چل پڑتا دلاور نے اسے ابھی دکان ختم نہ کرنے کا مشورہ ديا تھا۔ وہ بھی سمجھ گئ تھی۔
اتنا اندازہ تو ہوگيا تھا کہ کوئ بھی بزنس يکدم نہيں چل پڑتا۔
__________________________
اگلے دن دوپہر کے بعد دارم نے اپنی گاڑی بھجوا دی۔ گاڑی کا نمبر اور کلر وہ پہلے ہی بتا چکا تھا۔ وليہ نے دلاور کو پڑھا ديا۔ دلاور اسے گاڑی تک چھوڑنے آيا تھا۔
کچھ دير ميں بعد گاڑی ايک شاندار سی بلڈنگ کی پارکنگ کی طرف مڑی۔
وليہ اس وقت اپنی مخصوص بڑی سی چادر ميں موجود تھی۔
گاڑی پارک کرنے سے پہلے ہی ڈرائيور نے کسی کو فون کيا۔ کچھ دير بعد اسے شہزاد گاڑی کی جانب آتا دکھائ ديا۔
وہ گاڑی سے اتری۔
"کيسی ہيں باجی" وہ مسکراتے ہوۓ اسے لئے آگے بڑھا۔
"بالکل ٹھيک تم سناؤ" وہ بھی خوشدلی سے بولی۔
"پڑھائ کيسی چل رہی ہے۔ تم نے کچھ دنوں سے گھر کا چکر نہيں لگايا۔
اماں تمہيں بہت پوچھ رہی تھيں" وہ محبت بھرے لہجے ميں بولی۔ دلاور اور شہزاد کی روٹين تھی کہ وہ روزانہ رات ميں گھر جانے سے پہلے اسکے گھر آتے سائرہ کو سلام دعا کرنے کے بعد کسی چيز کی ضرورت ہوتی تو ضرور پوچھ کر جاتے۔
"بس باجی آج آؤں گا۔ آپ سے تو روز ملاقات ہوجاتی ہے۔ چيزيں سيکھتے ہوۓ۔ اصل ميں آجکل پڑھائ مين زيادہ مصروف ہوں۔ کيونکہ ويک اينڈ پہ تو ہم سرکے گھر بزی ہوں گے۔اسی لئے سوچا پڑھائ کا حرج نہ ہو۔ تو ان دنوں وہ کوور کررہا ہوں" شہزاد مختلف راستوں سے ہوتا اسے لئے ايک کمرے کے دروازے تک آيا۔
"سر کا آفس" دروازہ کھولنے سے پہلے اس نے بتايا۔
پہلے دروازے پر دستک دی۔ کم ان کی آواز پر وہ دروازہ دھکيل کر اندر داخل ہوا۔
دارم انہيں اندر آتا ديکھ کر اپنی سيٹ سے کھڑا ہوگيا۔ وليہ نے دھيرے سے سلام کيا۔ جس کا دارم نے خوشدلی سے جواب ديا۔
"پليز آئيۓ" دارم نے ايک کرسی کی جانب اسے اشارہ کرکے بيٹھنے کا بولا۔
دارم کی آنکھوں ميں ايک مخصوص چمک تھی۔
"شکريہ ميرے کہنے پر ايک بار پھر آپ ميرے سامنے حاضر ہيں" شہزاد اسے بيٹھتا ديکھ کر جا چکا تھا۔
"نہيں شکريہ آپ کا کہ آپ نے مجھے اتنا اہم موقع ديا۔ مجھ پر اور ميری صلاحيتوں پر اعتماد کيا۔"وليہ صاف گوئ سے بولی۔
"آپ کی تقريب ميں انداز کتنے بندے ہوں گے؟" وليہ نے پروفيشنل انداز ميں سوال کيا۔
"يہی کوئ لگ بھگ ڈيڑھ سو۔ ميں بہت بڑی گيدرنگ نہيں رکھتا۔ بس ميرے آفس کے ورکرز ہوں گے اور کچھ دوست" کرسی کے بازوؤں پر ہاتھ ٹکائے وہ اسے تفصيل بتا رہا تھا۔
اس وقت آفس کے فارمل حليے ميں وہ ان فارمل سے دارم کی نسبت اور بھی خوبصورت اور ڈيشنگ لگ رہا تھا۔ وليہ نے دل ميں اسے سراہا۔
کچھ ہی دير ميں شہزاد چاۓ کے کپ کی ٹرے تھامے آفس ميں داخل ہوا۔
"ارے جيو يار" دارم خوشدلی سے بولا۔ ايک کپ اس نے وليہ کے آگے اور ايک دارم کے آگے رکھا اور پھر سے چلا گيا۔
"پليز" اسے ہاتھ پر ہاتھ دھرے ديکھ کر دارم نے چاۓ پينے کا اشارہ کيا۔
"آپکے گھر کے کتنے لوگ ہوں گے؟" وليہ نے ايک بار سلسلہ پھر سے وہيں سے جوڑا۔۔
"ميرے گھر کے صرف ميں۔ اور ميرے مام اينڈ ڈيڈ ہوں گے۔ ہماری بہت لمبی چوڑی فيملی نہيں ہے۔ ايک بھائ اور بھابھی ہيں وہ باہر ہوتے ہيں اور يہاں پر ہم تين" دارم کی بات پر اس نے سر ہلانے پر اکتفا کيا۔
_________________________
Ep: 8
شام کا وقت تھا۔ وليہ چونکہ دارم کے گھر تھی لہذا دلاور نے سوچا کہ دکان شام ميں جلد بند کردے گا۔ اس نے بھی کسی ضروری کام سے جانا تھا اور وہ پہلے ہی وليہ کو بتا چکا تھا۔ وليہ کو بھی کوئ اعتراض نہيں تھا۔
ابھی وہ دکان پر سے سب چيزيں سميٹ رہا تھا کہ جماعت کا ايک بندہ دکان کے اندر داخل ہوا۔
دلاور نے اچٹتی نگاہ اس پر ڈالی اور اپنے کام مين مصروف رہا۔
وہ شخص اب دلاور کے قريب آچکا تھا۔
اسکے کندھے پر ہاتھ جمايا۔
"تيری بہن آجکل بڑی اونچی اڑان اڑ رہی ہے۔ باس کا حکم آيا ہے کہ اسے کہہ ذرا زمين پر ہی رہے۔۔۔ ورنہ ہميں پر کاٹنے بڑے اچھے سے آتے ہيں" اپنی کالی سرمے سے بھری آنکھوں کو نچاتے وہ دلاور کا خون خشک کررہا تھا۔
"ديکھو تمہيں بھتے سے غرض تھا ہم وہ دينے پر راضی ہوگۓ۔ اب ہم اپنی ذاتی زندگی ميں کيا کر رہے ہيں۔ تم لوگوں کو اس سے مطلب نہيں ہونا چاہئيے"
دلاور نے دل کڑا کرکے اپنا دفاع کيا۔
اسکے جواب پر اس شخص نے دلاور کے کندھے پر اپنی گرفت مضبوط کی۔
پان کی پيک اسکے پاؤں کے قريب پھينکتے۔۔ لال انگارہ آنکھوں سے دلاور کے ايسے ديکھا جيسے کچا چبا جائے گا۔
"تيری تو۔۔۔" اسکے کندھے کو زور سے جکڑا۔ دکان پر کام کرنے والے لڑکوں کو انکے درميان کچھ غير معمولی پن کا احساس ہوا۔ سب اسکے گرد گھيرا ڈالے کھڑے کڑی نظروں سے اب اس بندے کو ديکھ رہے تھے۔
جيسے آنکھوں سے اشارہ کررہے ہوں چھوڑو دلاور کو۔
اس نے ان سب کی جانب ديکھتے دلاور کو مارنے کا ارادہ ترک کيا۔
"ديکھ پيارے۔۔۔ تيری بہن پر تو اپنے باس کا دل آگيا ہے۔۔ ابے پريشان نہ ہو۔۔
اسے عزت بناۓ گا۔۔ بس تو يہ پيغام اسکی ماں کو دے ديو۔۔۔ آگے ہم جانيں اور ہمارا کام۔ اور ان اگر اسے ان بڑی گاڑيوں کا شوق ہے تو آج کے آج لائن لگا ديں گے۔
بس وہ ہماری لائن پہ آجائيں" آخر ميں ايک آنکھ دبا کر خباثت سے جو بات کا حوالہ وہ دے کر گيا دلاور کا خون کھول اٹھا۔ مگر کبھی جوش سے نہيں ہوش سے کام لينا تھا۔
اپنی بات کا اثر دلاور کے چہرے پر ديکھ کر بے ڈھنگا قہقہہ لگا کر سامنے پڑی ٹيبل کو ٹھوکر مار کر وہ وہاں سے جاچکا تھا۔
"بھائ آپ ٹھيک ہو" سب لڑکے دلاور کے گرد جمع تھے۔
"ہاں۔۔ ہاں۔۔ ميں ٹھيک ہوں" اس نے ان سب کو تو تسلی دلا دی۔ مگر وہ اندر سے اس لمحے بے حد پريشان تھا۔
اب اسکے لئے ناگزير ہوگيا تھا کہ وہ کسی بڑے کو اس سب کے بارے ميں باخبر نہ کرتا۔ دکان بند کرتے اس نے تہيہ کر ليا تھا کہ وہ آج رات اپنے باپ سے اس سب کا ذکر کرے گا۔
______________________
وہ تينوں اس وقت دارم کے گھر موجود تھے۔ وہ انہيں لئے گھر کے پچھلی جانب بنے لان کی طرف آيا۔
ايک ايک چيز سے انتہائ خوبصورتی ٹپک رہی تھی۔
"آپکے پيرنٹس گھر پہ نہيں" وليہ کو گھر ميں بے حد خاموشی لگی۔
"نہيں وہ دونوں اپنے اپنے کام ميں بزی ہوتے ہيں۔ ممی تو سوشل ورکرہيں اور ميرے فادر کا اپنا بزنس ہے۔ تو وہ دونوں اس وقت اپنے آفس ميں ہی ہوتے ہيں" وہ تفصيل سے وليہ کو بتا رہا تھا۔
"جی جناب تو يہ ميرا لان ہے۔ سب ارينجمنٹ يہيں پر ہوگا۔۔ ميں چارہا تھا ايک چاکليٹ فاؤنٹين يہاں پر ارينج کيا جاۓ۔ اور سيلڈ کا ٹيبل الگ سے يہاں سيٹ ہو" دارم نے دو مختلف جگہوں کی جانب اشارہ کيا۔ وليہ خاموشی سے ساری جگہ کا جائزہ لے رہی تھی۔ پھر ايک جانب جہاں وائيٹ ٹيلوپ لگا تھا اس طرف بڑھی۔
"چاکليٹ فاؤنٹيں اگر يہاں سيٹ کريں تو کيا خيال ہے۔۔ کيونکہ آپ جس جانب کہہ رہے ہيں۔ وہاں بيک گراؤنڈ مين سب ڈارک کلرز کے پھول ہيں۔ اور چاکليٹ کا کلر بھی ڈارک ہے تو وہ بيک گراؤنڈ دب جاۓ گا۔ وائيٹ ٹيلوپس کے اوپر وائٹ لائٹس لگا ديں۔ اور سامنے چاکليٹ فاؤنٹيں نصب کروا ديں تو دونوں ايک دوسرے کو کامپليمينٹ کريں گے۔ اور سيلڈ بار کو اگر اس لان امبريلا کے نيچے ارينج کرديں تو بڑا ٹريڈيشنل سا بار کا لک آئے گا" اس نے سامنے ہی ايک جانب موجود لان امبريلا کو ديکھ کر کہا۔
"ونڈرفل آئيڈيا۔۔ کيا خيال ہے شہزاد" دارم نے اسکی سوچ کو سراہا۔ اور ساتھ ہی شہزاد کو شامل گفتگو کيا۔
"باجی بہتر جانتی ہيں۔ يقينا صحيح کہہ رہی ہيں" شہزاد نے اسکی ہاں مين ہاں ملائ۔
"آپ ميں تو ايوينٹس کو ڈيکوريٹ کرنے کی سينس بھی موجود ہے" دارم نے صاف گوئ سے کہا۔
"چليں يہ تو ڈن ہوگيا۔ اور مينيو کی لسٹ آپکے پاس موجود ہے نا؟" دارم کے سوال پر اس نے اثبات ميں سر ہلايا۔
"چليں پھر آئيۓ تھوڑی سی آپ دونوں کی خاطر مدارت کرديں" دارم کی بات پر اس نے سہولت سے انکار کيا۔
"نہيں پليز۔ آپ اب ہميں گھر بھجوا ديں۔ ويسے بھی چاۓ تو آپکے آفس ميں پی لی تھی۔ اور ميں کھانے پينے کی اتنی شوقين نہيں۔ سو پليز آپ اب ہميں بھجواديں" وليہ نے رات کے سائے گہرے ہوتے ديکھے تو کہا۔
"پليز اس طرح اچھا نہيں لگتا"
"نہيں سر باجی ٹھيک کہہ رہی ہيں۔ بس اب ہم چلتے ہيں" شہزاد نے بھی سہولت سے منع کيا۔
"چلو پھر ميں چھوڑ آتا ہوں" دارم مان ہی گيا۔
"نہيں پليز آپ ڈرائيور سے کہہ کر ہميں بھجوا ديں۔ آپ اب کہاں ہميں اتنی دور چھوڑنے جائيں گے" وليہ کی بات پر وہ ہولے سے مسکرايا۔ اب اسے کيا بتاتا کچھ دير مزيد اسکی ہمراہی کے خیال سے ہی تو وہ يہ سب کہہ رہا ہے۔
"اٹس اوکے۔۔۔ آپ آئيے پليز" دارم کے قطعيت بھرے انداز پر وہ اب خاموش ہوگئ۔
____________________________
"آپا کيا ان کا گھر ۔۔ انکے فارم ہاؤس کی طرح ہی خوبصورت اور بڑا ہے؟" رات ميں وہ اور يمنہ جب ليٹی باتيں کر رہی تھيں۔ تب يکدم يمنہ نے پوچھا۔ وہ دارم کے بارے ميں سب کچھ يمنہ اور ماں کو بتا چکی تھی۔
"نہيں ميری جان۔ اتنا بڑا تو نہيں ہے۔ ہاں مگر کافی بڑا اور خوبصورت ہے" وليہ نے سادے سے لہجے ميں بتايا۔ اس کا اشتياق ديکھ کر وہ مسکراتے ہوۓ اسکے بالون ميں دھيرے سے انگلياں پھير رہی تھی۔ وہ اور يمنہ ايک ہی کمرے ميں سوتی تھيں۔ جبکہ سائرہ کے پاس مصطفی ہوتا تھا۔
"آپا اللہ نے اتنی ناانصافی والی تقسيم کيوں کررکھی ہے" اب کے يمنہ کے لہجے ميں مايوسی سی تھی۔
"ہشت۔۔ ايسے نہيں کہتے۔۔۔ ديکھو ميری شہزادی جيسے ٹيچر کے لئے سب اسٹوڈنٹ برابر ہوتے ہيں۔۔ مگر امتحان ميں جب ہم سوالون کے جواب لکھتے ہيں تو ہر اسٹوڈنٹ کے ايک جيسے نمبر نہيں آتے۔۔ کيا تب ہم استاد سے جا کر لڑتے ہيں کہ اسکے نمبر زيادہ کيوں اور ميرے کم کيوں۔۔۔ اسی لئے نا۔۔ کہ ہم جانتے ہيں کہ ہو سکتا ہے ہم نے جو جواب لکھا ہو وہ استاد کے معيار پر اس طرح پورا نہ اتر سکا ہو جيسے دوسرے اسٹوڈنٹ کا ہو۔ تو پھر اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس نے يہ تقسيم کيوں اور کسی لئے کر رکھی ہے۔
بس يہ ياد رکھو کہ کچھ لوگوں کو اللہ دے کر آزماتا ہے کہ وہ اسکی دی گئ نعمتوں اور پيسے کا استعمال کيسے کرتے ہيں۔ جبکہ کچھ کو نہ دے کر آزماتا ہے۔ کہ وہ اپنے معيار کی زندگی حاصل کرنے کے لئے صحيح راستے کا انتخاب کرتے ہيں يا غلط کا۔۔ سمجھ رہی ہو نا" وليہ کے پوچھنے پر يمنہ نے سر اثبات ميں ہلايا۔
"بس يہ ياد رکھنا ہے کہ ہم اللہ کے بتاۓ راستے کے مطابق جدوجہد کريں۔۔ اگر يہ جدوجہد زندگی سے نکل جاۓ نا۔ تو يمنہ۔۔ ہماری زندگیوں ميں بے سکونی بڑھ جاۓ۔ بڑے اور امير لوگوں ميں بے سکونی اسی لئے زيادہ ہوتی ہے۔ کہ ان کے پاس سب ہوتا ہے۔ کوئ مقصد اور اس کا حصول ايسا نہيں ہوتا جس کے لئے انہيں محنت کرنا پڑے۔ تو بس وہ اپنا پيسہ ادھر ادھر اڑاتے ہيں۔ اور بے سکونی سميٹتے ہيں۔" وليہ کی باتون کو وہ کسی حد تک سمجھ سکی تھی کسی حد تک نہيں۔
"آپا ۔۔ آپکے پاس ان کی تصوير ہے؟" يمنہ چند پل خاموش رہنے کے بعد ايک اور سوال اٹھا چکی تھی۔
"ميں کيوں ان کی تصوير رکھوں؟" يمنہ کے سوال پر يادداشت کے پردے پہ دو خوبصورت ۔ چمکتی آنکھيں لہرائيں۔۔
"کيا وہ بہت خوبصورت ہيں؟" يمنہ کی تسلی نہيں ہورہی تھی۔
"بہت کا تو مجھے نہيں پتہ ہاں خوبصورت ہيں۔۔ ويسے بھی جب فکر اور فاقہ نہ ہو تو انسان کے چہرے پر خوبصورتی آ ہی جاتی ہے" وليہ نے پھر بات کو گول کرنا چاہا۔
اب کی بار خوبصورت سی مسکراہٹ ياد آئ۔ وليہ نے خود کو سرزنش کی۔
"مگر ہم تو فکر اور فاقے ميں مبتلا رہتے ہيں۔ پھر بھی آپ کتنی پياری ہيں" يمنہ کی بات پر وہ لاجواب ہوگئ۔
"اچھا اب باتين بند کرو۔۔ اور سو جاؤ۔" وليہ نے اب کی بار اسے ڈپٹا۔
اسے ڈانٹ کر وہ کروٹ دوسری جانب کرکے سونے لگی۔ مگر آنکھيں بند کرتے ہی۔ کچھ دير پہلے دارم کے ساتھی گاڑی ميں گزرے لمحے ياد آۓ۔ وہ ان دونوں کو باہر ہی اتار کر چلا گيا تھا۔
حالانکہ اس نے کہا بھی تھا کہ وہ انکے گھر تک چھوڑ ديتا ہے۔ ليکن وليہ نے سہولت سے انکار کر ديا۔ اور پھر دارم نے اصرار نہيں کيا۔
وہ کچھ نہيں بھی کہتا تھا مگر جب جب وليہ کو ديکھتا تھا اسکی آنکھيں بہت سی ان کہی باتيں کر جاتی تھيں۔ جنہيں وليہ سننا اور سمجھنا نہيں چاہتی تھی۔
_____________________
"ابو آپ سے ايک ضروری بات کرنی ہے" دلاور رات ميں باپ کے آنے کا شدت سے منتظر تھا۔
رفيق جيسے ہی کھانا کھا کر فارغ ہوا۔ دلاور باپ کے پاس آکر بيٹھ گيا۔
"ہاں ہاں بيٹا کہو۔۔ کياہوا ہے؟" رفيق کو دلاور پريشان سا لگا۔
اسکے پوچھتے ہی دلاور شام کا واقعہ بتاتا چلا گيا۔
"يہ تو بہت پريشانی کی بات ہوگئ ہے" رفيق بھی سب سن کر پريشان ہوگيا۔
"وہ تم کيا نام ليتے ہو شہزاد کے باس کا؟" رفيق نے ذہن پر زور ڈالتے ہوۓ کہا۔
"دارم۔۔ سر دارم" دلاور نے جھٹ سے بتايا۔
"تم اس سے بات کرکے ديکھو۔ اب تو ويسے بھی تم لوگ اسکے لئے کام کرنے والے ہو۔ اور ويسے بھی اثر ورسوخ والا بندہ ہے شايد کچھ مدد کردے۔ ميرا تو خيال ہے کل ہی دکان بند کردو۔ يہ لوگ يہ کام چلنے نہيں ديں گے۔ تم اس سے بات کرو۔ اور صبح سائرہ بہن سے ميں خود بات کرتا ہوں۔ وليہ کا اب يوں دکان پر بيٹھنا خطرے سے خالی نہيں۔"
دلاور نے رفيق کی بات پر اثبات ميں سر ہلايا۔
"شہزاد کو فون کرکے ابھی بات کرو" رفيق کے کہنے پر دلاور نے شہزاد کو فون کرکے سب صورتحال بتائ۔
"ٹھيک ہے ميں سر سے بات کرکے ديکھتا ہوں" شہزاد کے کہنے پر دلاور کو مکمل تو نہيں مگر تھوڑی سی تسلی ہوئ۔
____________________
رات کے دس بجے تھے۔ شہزاد جانتا تھا کہ دارم اس وقت جاگ ہی رہا ہوگا۔ اس نے پہلے ميسج کيا۔
اسکے ميسج کے جواب ميں دارم نے خود ہی کال ملا دی۔
"کيا ہوا شہزاد خيريت ہے سب؟" دارم اس وقت اپنے کمرے ميں ہی نيم دراز سامنے مووجود ايل ای ڈی پر نيوز ديکھ رہا تھا کہ شہزاد کا ميسج" سر آپ جاگ رہے ہيں تو مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے" چونکا۔
فورا سے پہلے اسے فون ملايا۔
"جی سر بس ہے بھی اور نہيں بھی۔"
"کيوں کيا ہوا ہے؟" اور دارم کے سوال پر وہ سب کچھ بتاتا چلا گيا۔
"ہمم۔ ميں نے اسی لئے وليہ کو اپنے پاس کام کرنے کی آفر کی تھی۔ مگر ميں انہيں يہ باور نہيں کروانا چاہتا تھا کہ ميں کس وجہ سے يہ سب کہہ رہا ہوں۔ خير ميرا کزن پوليس ميں ہے ميں کل نہ صرف اس سے بات کرتا ہوں۔ بلکہ ممی سے بھی کہتا ہوں کہ کسی لائر سے بات کريں۔ کافی سارے وکيل انکے جاننے والے ہيں۔ ان کا کچھ بندوبست کرتے ہيں تم نے اچھا کيا مجھے بتايا۔ اور دلاور کے والد کی بات بالکل صحيح ہے فی الحال وليہ کا دکان پر جانا بند کرواؤ۔
بلکہ ايک کام کرو۔ وليہ سے ابھی ڈسکس مت کرو۔ انکی امی سے بات کرلو۔ اور وليہ کو کہنا کل وہ تمہارے ساتھ ميرے آفس آئيں۔ ميں انہيں شاپ دکھا دوں گا۔ جہاں سے وہ اور تم سب اب ميرے ساتھ کام کروگے" دارم نے لمحوں ميں سب معاملہ سيٹ کرديا۔
"بلکہ دلاور کو بھی لے آنا" اسے يوں وليہ کو اکيلے بلانا ٹھيک نہيں لگا۔
"ٹھيک ہے سر بہت بہت شکريہ" شہزاد بے حد مشکور تھا۔
"اچھا بس۔۔ اپنا شکريہ اپنے پاس رکھو۔ اللہ حافظ" دارم نے اسے مصنوعی رعب سے کہا۔
ابھی وہ فون بند کرکے فارغ ہی ہوا تھا کہ صدف دروازہ ناک کرکے اندر آئيں۔
"اس وقت ميری کال آگئ تھی سوچا اس وقت تم سے بات کرلوں" صدف مسکراتے لہجے ميں کہتیں اسکے بيڈ پر ہی بيٹھ گئيں۔ وہ بھی سيدھا ہو کر ماں کے مقابل بيٹھا تھا۔
"تم اس بار اپنا اينول ڈنر کس سے ارينج کروا رہے ہو؟" صدف نے استفہاميہ لہجے مين پوچھا۔
"ممی جو ابھی لاسٹ ويک اينڈ ميرے فارم ہاؤس پر گئيں تھيں۔ انہی سے۔ ميں آج لايا تھا انہيں ايريا دکھانے تاکہ وہ اپنے حساب سے چيزيں ارينج کرنے کا سوچيں۔" دارم نے تفصيل بتائ۔
"مجھے بھی ملواؤ نہ اس بچی سے" وہ ماں کو پہلے ہی وليہ کے بارے ميں بتا چکی تھا۔ وہ اسکی باتيں سن کر پہلے سے ہی وليہ سے امپريسڈ تھيں۔
"جی ضرور۔۔ مجھے انہيں کے حوالے سے آپ سے کچھ بات کرنی ہے" دارم نے ٹہرے ہوۓ لہجے ميں کہا۔
"ہاں ہاں بتاؤ" وہ ہمہ تن گوش ہوئيں۔
"کچھ جماعت والے انکے پيچھے لگ گۓ ہيں ۔ پہلے تو انکی دکان پہ بھتہ خوری کے لئے آۓ پھر۔۔ اب وليہ کو ديکھ کر ان پر غلط نيت رکھے ہوۓ ہيں" دارم نے ڈھکے چھپے الفاظ ميں بتايا۔
"افف۔ حد ہے۔۔ ان گدھوں کی وجہ سے ہمارا معاشرہ اب تک جہالت سے ہی سر نہيں اٹھا سکا۔ تم فکر مت کرو۔ ميں بيرسٹر شمشاد سے بات کرکے ان پر کيس کرواؤں گی۔
کوئ طريقہ ہے يہ کسی کی غربت سے کھيلنا۔"
"جی ممی اسی لئے ميں چاہتا ہوں کہ ميں انکے ساتھ مل کر ايونٹس آرگنائز کرنے کا کام شروع کروں" اور پھر دارم نے اپنا ارادہ بتايا۔
"اچھی بات ہے۔ ہماری اين جی اوز کے تو بہت سے ايونٹس ہوتے ہيں۔ ميں اس لڑکی کے لئے بہت سارا کام لا سکتی ہوں۔" صدف بھی پرجوش ہوئيں۔
"تھينکس ماں" دارم نے محبت سے انہيں بازوؤں کے گھيرے ميں ليا۔
"نو پرابلم ميری جان" وہ محبت سے اسکے ساتھ لگيں۔
__________________________
Ep: 9
اتنی صبح دروازہ بجنے پر سائرہ نے يکدم دل تھاما۔
"اللہ خير کرے اس وقت کون آگيآ" وہ ابھی کچن ميں بچوں کا ناشتہ بنانے کے لئے گئيں ہی تھيں کہ دروازے پر بے وقت ہونے والی دستک پر پريشان ہو اٹھيں۔
"کون"دروازے کے قريب جا کر وہ ہولے سے بوليں۔
"بہن ميں رفيق ہوں۔ مجھے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔ آپ مہربانی کرکے بس تھوڑا سا دروازہ کھول کر اسکی اوٹ ميں ہو جائيں" رفيق کی آواز سن کر وہ جو مطمئن ہوئيں تھيں۔ وہيں يوں بات بتانے پر پريشان تھيں۔ آخر ايسی کيا بات تھی۔
خاموشی سے دروازہ ہلکا سا وا کيا۔
"جی بھائ صاحب۔۔ سب خير ہے نا" وہ پريشان سی آواز ميں بوليں۔
"جی بہن۔۔" انہوں نے فقط اتنا ہی کہا پھر گہری سانس بھر کر مناسب الفاظ ميں انہيں سارے مسئلے سے آگاہ کيا۔
"آپ پريشان مت ہوئيے گا۔ ہم اس کا کوئ حل نکال ليں گے۔ آپ کو بتانے کا مقصد پريشان کرنا نہيں۔ بس يہی تھا کہ ايک تو آپ مناسب طريقے سے وليہ کو دکان پر جانے سے روکيں۔ دوسرے ميری بہن کا بيٹا ہے۔ بہت اچھا لڑکا ہے۔ نوکری بھی اچھی ہے۔ اور اسے بچی کے کام کرنے سے کوئ اعتراض بھی نہيں ہوگا۔ ميرا خيال ہے ہم وليہ کو جتنی جلدی اسکے گھر کا کرديں ہم سب کے لئے بہتر ہوگا۔
آپ سوچ لين۔ پھر ميں بچے کو آپ سے ملوانے لے آؤں گا۔ آپ پرکھ ليجئے گا۔
جيسے آپ مناسب سمجھيں گی ہم کر ليں گے۔ مگر مجھے اس بات کا واحد حل يہی لگتا ہے۔ جب وہ منحوس انسان جان لے گا کہ بچی کی شادی ہورہی ہے تو خودبخود پيچھے ہٹ جاۓ گا۔"رفيق کا مشورہ سائرہ کو بھی بہتر لگا۔
"جی بھائ صاحب ميں آپ کو کل تک بتاتی ہوں۔ آپ سب کی مہربانی کے آپ لوگوں نے ايسے چھاؤں کر رکھی ہے ہم پر۔ اللہ آپ کو اجر دے۔ اور يقينا آپکے خاندان سے ہے تو بچہ اچھا ہی ہوگا۔ مجھے آپ کی پسند پہ کوئ شبہ نہيں۔
وليہ مجھ سے زيادہ آپ سب کی بچی ہے" سائرہ نم آنکھيں دوپٹے سے صاف کرتے ہوۓ بوليں۔
"بالکل بہن۔ ميں پھر آپکے جواب کا انتظار کروں گا۔ اچھا اب مين چلتا ہوں" رفيق کے جاتے ہی سائرہ شکستہ قدموں سے صحن ميں بچھی چارپائ کی جانب آئيں۔
انہيں لگ رہا تھا ان کی ٹانگوں ميں اب جان نہيں رہی۔
"اے اللہ تو ہی اس آزمائش سے نکال۔ ہم غريبوں کا تجھ سے بڑھ کر کوئ آسرا نہيں۔
اے اللہ ميری بچی کو ان درندوں سے بچا لينا" زير لب وہ آسمان کی جانب ديکھتے۔۔ آسمان کے اور اس کل کائنات کے رب سے مخاطب تھيں۔
وہ تو خاموش دلوں ميں پنہاں ا'ن ان کہی باتوں کو بھی سن ليتا ہے جو ہم کہتے نہيں۔ تو پھر سائرہ کی اس زيرلب دعا کو کيسے نہ سنتا۔
_____________________
اسکی آنکھ موبائل پر آنے والے ميسج کی ٹون سے کھلی۔ مندی آنکھوں سے سرہانے پڑا موبائل اٹھا کر ديکھا۔ دلاور کا ميسج تھا۔
"باجی مجھے کچھ ضروری کام ہے دو تين دن۔ ميں دکان نہيں کھول سکوں گا۔ آپ بھی دو تين دن ريسٹ کرلو۔" وہ حيران ہوئ۔ رات تک تو ايسا کچھ نہيں تھا۔ بلکہ دلاور خود آج جو چيزيں دکان پر بنانی تھيں وہ رات ميں ہی گھر پہنچا کر گيا تھا۔
وہ کچھ حيران سی اٹھ بيٹھی۔
اسی لمحے شہزاد کی کال آنے لگی۔
تيسری بيل پہ اس نے فون اٹھا ليا۔
"کيسی ہو باجی" سلام دعا کے بعد اس نے حال پوچھا۔
"ٹھيک ہوں خيريت شہزاد" ابھی تو دلاور کے ميسج کے معمے سے نہيں نکلی تھی کہ اب شہزاد کا صبح صبح فون آگيا۔
"ہاں باجی وہ سر دارم کا رات کو فون آيا تھا وہ ہميں دکان کی لوکيشن دکھانا چاہتے ہيں۔ دلاور کو بھی ساتھ آنے کو کہا تھا مگر وہ شايد مصروف ہے کہيں" ايک تو يہ سب مل کر اسے اس لمحے حيران کرنے پہ تلے تھے۔
"اب يہ دارم صاحب کو رات ميں کون سا خواب آگيا ہے" وہ يہ بات فقط دل ميں ہی کہہ سکی۔
"ہاں آج دکان بھی نہيں کھولنی تو چلتے ہيں۔ تمہارے ساتھ جاؤں گی؟" اس نے ہامی بھر لی۔
"ہاں باجی۔ سر گاڑی بھجوا رہے ہيں۔ آپ تيار ہوجاؤ۔۔ تو بس ميں تھوڑی دير ميں آتا ہوں"
"ٹھيک ہے ميں ريڈی ہوتی ہوں۔ تم ناشتہ ادھر ہی آکر کر لو۔۔ تمہارا پسنديدہ پراٹھا اور مصالحے والا انڈہ بناتی ہوں" وليہ کی بات پر وہ مسکرايا۔
"اچھا باجی ميں آرہا ہوں" وليہ بھی فون بند کرکے تيار ہونے چل پڑی۔
_____________________
"ہيلو۔۔ ہاں صفی کيسے ہو؟" ابھی کچھ دير پہلے ہی وہ آفس آيا تھا۔ سيٹ سنبھالتے ہی وہ صفی اللہ کو فون ملا چکا تھا۔
"بالکل ٹھيک۔۔ تم کيسے ہو اور يہ آج سورج کہاں سے نکلا ہے" اس نے دارم کے فون کرنے پر چوٹ کی۔
"يار ميرے تو گھر کے لان سے نکلتا ہے۔ تمہارا کہاں سے نکلتا ہے ميں کچھ کہہ نہيں سکتا" وہ مسکراہٹ دباۓ بڑے مزے سے اس کے طنز سے بچ چکا تھا۔
"اچھا سقراط صاحب کام بتائيں" وہ کہاں کسی سے باتوں ميں ہارنے والا تھا۔
"يار ميرے آفس ميں ايک لڑکا کام کرتا ہے۔ اسکی کزن کو شمس سومرو نے کہيں ديکھ ليا ہے۔ ان فيکٹ اسکے ابو بھی نہيں ہيں اور بھائ بھی چھوٹا ہے۔ تو بس اسی بات پہ سومرو شير بن گيا ہے۔
اور اسکے کزن کو دھمکی بھی دی ہے کہ وہ اسے اٹھوا ليں گے اگر اسے سومرو کے حوالے نہ کيا۔
تم تو جانتے ہو کہ يہ لوگ غريب کی غربت اور بے بسی کا فائدہ اٹھاتے ہيں۔
تو بس اس کے ساتھ بھی يہی ہوا ہے" دارم نے اسے کسی حد تک اصل بات سے آگاہ کيا۔
"تو اب تم مجھے سے کيا فيور چاہتے ہو؟" صفی نے سب بات تحمل سے سنی۔
"اس لڑکی کی حفاظت چاہتا ہوں" دارم نے صاف لہجے ميں کہا۔
"ٹھيک ہے مجھے لوکيشن بتاؤ ميں اپنے کچھ بندے سادہ پوليس کی صورت ميں اسکے گھر کے آس پاس ارينج کروا ديتا ہوں۔"
"ويسے دارم تو لڑکيوں کے لئے کم ہی اتنے کنسرنڈ ہوتے ہيں۔۔۔ کہيں کوئ اور معاملہ تو نہيں" سب کی عادت سے واقف تھے۔۔اسی لئے صفی کی بھی حيرت يقینی تھی۔
"فضول بک بک نہيں" دارم نے بمشلکل لبوں پر کھلتی مسکراہٹ دبائ۔
_______________________
شہزاد اور وليہ دونوں آفس پہنچ چکے تھے۔ شہزاد اسے دارم کے آفس ميں چھوڑ کر خود کچن ميں جا چکا تھا۔
"کيسی ہيں آپ؟" چہرے پر بشاش سی مسکراہٹ جماۓ وہ ہميشہ کی طرح وليہ کو فريش اور مطمئن سا لگا۔ کچھ لوگ ايسے ہی ہوتے ہيں۔ انکی قربت ميں آپ خود بخود زمانے بھر کی پريشانی بھول جاتے ہيں۔ دارم بھی وليہ کے لئے ايسا ہی شخص تھا۔ پتہ نہيں کيوں جب جب وہ سامنے ہوتا وليہ کے ذہن سے ہر بری سوچ اور پريشانی محو ہوجاتی تھی۔ وہ ساحر تھا يا؟ وليہ اس بات سے انجان تھی۔
"آج تو ميں حيران ہوں"وليہ کی صاف گوئ پر وہ مسکرايا۔ وہ اب بہت حد تک اس کے ساتھ پروفيشنل گفتگو سے ہٹ کر بھی بات کرليتی تھی۔ مگر انداز لئے دئيے والا ہی ہوتا تھا۔
"کيوں۔۔ حيرانگی کس بات کی" اس نے اچھنبھے سے پوچھا۔
"کل تک تو آپ نے ايسا کوئ ذکر نہيں کيا تھا۔ پھر رات ميں کيسے ايکدم پلين بن گيآ۔؟" اس کی بات پر وہ بس ہولے سے مسکرائے۔
"پلين ہم نہيں۔۔ اللہ بناتا ہے۔ اور اسکے بنائے گۓ پلين حيران کن ہی ہوتے ہيں۔" وہ بات کو بری خوبصورتی سے کسی اور جانب موڑ گيا۔
"يہ بھی ٹھيک ہے" وليہ نے اس کی بات سے اتفاق کيا۔
"ميں ذرا پتہ کرلوں۔۔ مارکيٹ کھل گئ ہے تو چل کر دکان ديکھ ليتے ہيں" دارم نے کہتے ساتھ ہی موبائل پہ کوئ نمبر ڈائل کيا۔ اپنی کرسی سے اٹھ کر دائيں جانب بنی کھڑکی کے قريب کھڑا ہوگيا۔
پشت وليہ کی جانب تھی۔ وليہ نے بے اختيار اسکی جانب ديکھا۔ اونچا لمبا،کسرتی جسم، اس وفت ڈارک گرے پينٹ کوٹ ميں ملبوس اسکائ بلو شرٹ پہنے نفيس سی ٹائ لگاۓ۔ اپنے تيکھے نقوش سميت وہ واقعی ايک خوبصورت مرد تھا۔ نہ صرف چہرے بلکہ دل کا بھی وہ اتنا ہی خوبصورت تھا۔ اس پر سے نظر ہٹا کر وليہ نے طائرانہ نظر اسکے آفس پہ ڈالی۔ آفس کی سجاوٹ پر خاص توجہ دی گئ تھی۔ چںد انڈور پلانٹس ماحول کو فريش سی لک دے رہے تھے۔ وليہ کا ارتقاز دارم کی آواز سے ختم ہوا۔
"چليں" دارم نے گاڑی کی چابی اٹھاتے اسے نکلنے کے اشارہ کيا۔ بڑھ کر آفس کا دروازہ تغظيما اسکے لئے کھولا۔ وليہ خاموشی سے دروا‌زے سے باہر نکلی پيچھے پيچھے وہ بھی تھا۔ شہزاد کو بھی آنے کا فون کر چکا تھا۔
کچھ دير بغد ہی تينوں دارم کے آفس کے قريب موجود مارکيٹ کی ايک دکان ميں کھڑے تھے۔
تينوں کو لوکيشن بے حد پسند آئ۔ دکان فائنل کرکے وہ کچھ ہی دير ميں وہ آفس کے باہر پارکنگ ميں موجود تھے۔
"شہزاد تم جاؤ ميں وليہ کو ڈراپ کرکے آتا ہوں" دارم کے حکم پر شہزاد تو فورا سے پيشتر اتر گيا۔
وليہ نے چونک کر اسے ديکھا۔
"آپ آگے آجائيں" شہزاد کے اترتے ہی دارم نے بيک ويو مرر سے وليہ کی کچھ حيران اور کسی قدر پريشان آنکھوں ميں ديکھا۔
"آپ مجھے ڈرائيور کے ساتھ واپس بھجوا ديں۔۔" اسکی بات پر دارم نے بھنويں اچکائيں۔
"آپ دوسری بار مجھے بے اعتبار کررہی ہيں" دارم کی خطرناک حد تک سنجيدہ آواز پر وہ گڑبڑائ۔
"ايسا نہيں ہے ميں تو آپ کے قيمتی وقت کی وجہ سے کہہ رہی تھی" اس نے وضاحت کی۔
"مجھے اچھے سے معلوم ہے کہ ميرا وقت کس چيز ميں اور کہاں قيمتی ہے۔ آپ پريشان مت ہوں۔ پليز آگے آجائيں" دارم کی بات پر اس نے گہری سانس بھری کوئ نا چار اسے آگے اسکے ساتھ والی سيٹ پر بيٹھنا پڑا۔
جيسے ہی اس نے دروازہ بند کيا۔ دارم نے گاڑی آگے بڑھا دی۔
کچھ دير گاڑی ميں خاموشی ہی رہی۔ وليہ کھڑکی سے باہر بھاگتے دوڑتے نظاروں کو کم اور اپنے دل کی الگ ہی انداز ميں دھڑکنے کی دھن کو زيادہ سن رہی تھی۔ اور اسے ڈپٹنے ميں مصروف تھی۔
"امير لوگوں کے بارے ميں آپکے کيا خيالات ہيں؟" دارم کے سوال پر وہ کچھ حيران ہوئ۔
"کس قسم کے خيالات؟" وہ اس کا سوال سمجھ نہيں سکی۔
"مطلب کے وہ اچھے ہوتے ہيں يا برے ہی ہوتے ہيں" دارم کی بات پر وہ چںد لمحے خاموش ہی رہی جيسے الفاظ ترتيب دے رہی ہو۔
"ميرا خيال ہے لوگوں کے اچھے يا برے ہونے کا تعلق اللہ کی رضا سے ہوتا ہے۔ بہت سے غريب بھی بہت برے ہيں۔ اور بہت سے امير بھی بہت اچھے ہوتے ہيں۔" اسکے جواب پر وہ پھر سے ہولے سے مسکرايا۔ وليہ نے اسکی جانب سے نظر چرائ۔
"جيسے کہ ميں" اسکے بے ساخت جواب پر وليہ بھی مسکراۓ بغير نہ رہ سکی۔ دارم نے چہرہ موڑ کر يہ خوبصورت منظر آنکھوں ميں قيد کيا۔
"آپ ويسے ہی کہہ ديتے کہ آپ اپنی تعريف سننا چاہتے ہيں۔ تو ميں کہہ ديتی کہ ہاں آپ امير ہو کربھی اچھے انسان ہيں" وليہ کی حاضر جوابی پر اب وہ قہقہہ لگاۓ بغير نہيں رہ سکا۔ يہ دوسری بار تھا جب وليہ اسے قہقہہ لگاتے ديکھ رہی تھی۔ وليہ نے ابھی تک اس کے بہت سے روپ ديکھے تھے۔ سنجيدہ، خفا، مسکراتے اور اب قہقہہ لگاتے اور اسے ماننا پڑا کہ وہ ہر روپ ميں وجيہہ ہے۔
"ويل سيڈ" اس نے بمشکل اپنی ہنسی روکتے وليہ کے جواب کو سراہا۔
"چليں آج آپکے گھر والوں سے بھی مل ليتے ہيں" دارم گاڑی اسکے گھر کے باہر روکتے ہوۓ بولا۔
"امی تو ابھی عدت ميں ہيں شايد مل نہ سکيں۔ ميں بہن اور بھائ سے ملواتی ہوں" وليہ کی بات پر وہ ہولے سے سر ہلا کر گاڑی سے نکلتا لاک کرکے وليہ کے پيچھے گھر ميں داخل ہوا۔
________________________
"آپا بس مجھے نہيں پتہ آپ نيا سوٹ ليں گی" يمنہ پچھلے ايک گھنٹے سے اس کا سر کھا رہی تھی۔ آج رات اسے دارم کے گھر اينول ڈنرکے لئے جانا تھا۔
"گڑيا کيا ضرورت ہے اتنے پيسے ضائع کرنے کی۔ ويسے بھی مين وہاں مہمان نہيں کک بن کے جارہی ہوں" اس کے باور کروانے پر وہ منہ بنا گئ۔
"ہاں تو۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ اچھے کپڑے پہن کر نہيں جاسکتيں" وہ پھر سے منہ پھلا کر بولی۔
جب سے اس نے دارم کو ديکھا تھا اس کے دل سے دعا نکلی تھی کہ اتنا شاندار انسان اسکی بہن کا مقدر بنے۔
اور اسی لئے وہ چاہتی تھی کہ آج وليہ وہاں اتنا پيارا تيار ہو کر جاۓ کہ دارم کو اسکے علاوہ کوئ اور نہ دکھے۔
جبکہ وہ نہيں جانتی تھی کہ دارم کو اب بھی اس حليے ميں بھی۔۔ اسکے علاوہ کوئ نہيں دکھتا۔
"افوہ يمنہ۔۔ اچھا سنو۔ وہ جو حميرا کی شادی ميں فراک بنوايا تھا وہ پہن لوں گی۔ اب پليز تم چپ کرجاؤ" وہ اسکی باتوں سے پريشان ہوتی جلدی سے بولی۔
"ہاں آپا وہ تو مجھے ياد ہی نہيں تھا۔۔ ڈن" اس سوٹ کا خيال آتے وہ بھی خوشی سے بولی۔
____________________
وہ آفس سے جلد نکل آیا تھا۔ شہزاد اسی کے ساتھ اسکے گھر آيا تھا۔ وليہ کو لينے کے لئے اس نے ڈرائيور کو بھجوا ديا تھا۔ وليہ کے ساتھ دلاور اور دو تين اور لڑکوں نے بھی آنا تھا۔
لہذا وہ سب اکٹھے ہی آرہے تھے۔ دارم گھر آکے چينج کرتے فورا گھر کے پچھلے لان کی جانب گيا۔ گرے ٹراؤذر اور وائٹ ٹی شرٹ ميں رف سے حليے ميں وہ لان کے انتظامات کا جائزہ لے رہا تھا۔ صدف پارلر گئيں ہوئيں تھيں۔ جبکہ ياور بھی دارم کے پاس چلے آۓ تھے۔
"اور بھئ کتنا کام ہوگيا" لان پر ايک طائرانہ نگاہ ڈالے وہ بيٹے سے مخاطب ہوۓ۔
"تقريبا ہو چکا ہے۔۔يار يہ ادھر اس چھتری کے نيچے يہ ٹبيل سيٹ کرو" ياور کو جواب ديتے وہ سامنے کھڑے ايک لڑکے سے بولا۔ اسی اثناء ميں ايک اور ملازم اندرونی حصے کی جانب سے دوڑتا ہوا اسکے پاس آيا۔
"دارم بھائ وہ جنہوں نے کھانا پکانا ہے وہ آگئيں ہيں" اسے اطلاع ديتے وہ لڑکا پھر سے انددونی حصے کی جانب بڑھا۔
"آئيں ڈيڈی آپ کو ولیہ سے ملواتا ہوں" ياور کو لئے وہ بھی اندرونی حصے کی جانب بڑھا۔ مگر لاؤنج ميں داخل ہوتے اسے قدم آگے بڑھانے دوبھر ہوگۓ۔
انہيں اندر آتے ديکھ کر وہ جو صوفے پر بيٹھی انہی کا انتظار کررہی تھی يکدم اپنی جگہ سے کھڑی ہوئ۔ ڈارک بليو پلين شيفون کے لمبے سے خوبصورت فراک پر ہم رنگ دوپٹہ ليا ہوا تھا جس نے سر اور سينے کو ڈھانپ رکھا تھا۔ ميک اپ کے نام پر شايد پہلی بار دارم نے اسکے ہونٹوں پر ہلکے سے پنک کلر کی لپ اسٹک دیکھی تھی۔ فراک کے ساتھ چوڑی دار پاجامہ تھا۔ مگر اپنی اتنی سی تياری ميں بھی وہ دارم کے ہوش اڑا رہی تھی۔
بمشکل خود پر قابو پاتے وہ آگے بڑھا جہاں ياور اسکے سر پر پيار سے ہاتھ پھيرنے کے بعد حال احوال پوچھ رہے تھے۔ وليہ نے دارم کا ٹھٹھکنا نوٹ کيا تھا۔ مگر چہرے پر کوئ بھی تاثر لاۓ بنا وہ دھيمی سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے سلام کرنے کے بعد ياور سے باتوں ميں مگن تھی۔
شہزاد، دلاور اور باقی لڑکے بھی وہيں موجود تھے۔ سب خوش اخلاقی سے دارم اور ياور سے باتيں کر رہے تھے۔
"سر کچن کس سائيڈ پر ہے" تھوڑی دير پہلے ہی ملازم انہيں جوس سرو کرکےگيا تھا۔ وہ ختم کرتے ہی وليہ نے پوچھا۔
"عمر"دلاور نے کسی کو آواز دی کچھ ہی دير ميں وہی ملازم دوبارہ نمودار ہوا جو کچھ دير پہلے ہی جوس سرو کرکے گيا تھا۔
"انہيں کچن ميں لے جاؤ" دارم کے کہتے ہی وہ سب اٹھے۔
"اوکے بيٹا جی کچھ دير بعد ملتے ہيں۔" ياور نے خوش دلی نے انہيں اٹھتے ديکھ کر خوش دلی سے کہا۔
"يہ تمہارے باس آپا کو کچھ زيادہ ہی نہيں گھورتے" دلاور کب سے دارم کی وليہ کی جانب بار بار اٹھنے والی نگاہ کو نوٹ کرچکا تھا۔
"فضول بکواس نہ کرو۔ وہ ايسے نہيں ہيں" شہزاد نے اسے گھرکا۔ دلاور خاموش ہوگيا۔ مگر اسے دارم کا يوں وليہ کو ديکھنا کھولا گيا تھا۔
"آپ کو کيا ضرورت تھی اتنا تيار ہو کر آنے کی"کچن ميں داخل ہوتے ہی وہ وليہ کے قريب آکر اس پر بگڑا۔
"کيوں کيا ہوا۔ کيا ميں بہت اوور لگ رہی ہوں۔ اس يمنہ کی بچی نے دماغ خراب کر رکھا تھا۔۔ بتاؤ دلاور بہت بری لگ رہی ہوں" وليہ يکدم پريشان ہوئ۔ وہ تو تيار ہو کر آنا ہی نہيں چاہتی تھی۔ ابھی بھی اپنی طرف سے سادگی ہی اختيار کی تھی۔
"يہی تو مسئلہ ہے کہ بری ہی نہيں لگ رہيں" دلاور نے گہری سانس کھينچ کر کہا۔
"کيا کہنا چاہ رہے ہو" اسکی بات پر وہ الجھی۔
دلاور اسکی بات کا جواب دئيے بغير اب کام ميں مصروف تھا۔
______________________________
ايونيول ڈنر اپنے عروج پر تھا۔ وليہ اور سب لڑکوں نے بڑی مہارت سے سب سنبھال رکھا تھا۔ جوسز۔۔ سيلڈ۔۔ باربی کيو۔۔ ميٹھا۔۔ اور بھی نجانے کيا کيا وہ بنا چکے تھے اور سب پرفيکٹ تھا۔
صدف جب پارلر سے آئيں تب دارم کو لئے وہ خاص وليہ سے ملنے کچن ميں آئيں۔
"ارے يہ تو بہت پياری بچی ہے" وليہ کو گلے لگانے کے بعد وہ دارم سے مخاطب ہوئيں۔ جس کی نظريں تو نجانے کتنی بار اس کی نظر اتار چکی تھيں۔
"يہی تو مسئلہ ہے کہ بچی بہت پياری ہے۔۔ اور مجھے سب سے پياری لگتی ہے" دارم کی گہری نگاہوں پر نا چاہتے ہوئے بھی وليہ کا چہرہ پل بھر کو سرخ ہوا تھا۔
"ماشاءاللہ" نجانے اس نے ماں کو جواب ديا تھا يا اسے کچھ باور کروايا تھا۔
"بہت خوشی ہوئ آنٹی آپ سے مل کر" وليہ نے اخلاقيات نبھاۓ۔
"مجھے بھی۔۔ چليں کيری آن يور ورک۔۔ سوری تمہيں ڈسٹرب کيا۔" وہ موقع کی نزاکت ديکھتے بوليں۔
"کوئ بات نہيں۔"
اس وقت پورا لان خوشگوار اور بے پرواہ ہنستے بستے لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔
سب کچھ ريڈی کروا کر دارم نے ان سب کو بھی باہر آنے کا کہہ ديا تھا۔ وليہ اب صرف انہيں سپروائز کر رہی تھی اور باقی کا کام سب لڑکے کر رہے تھے۔
دارم خود بليک ٹو پس ميں بليک ہی شرٹ اور لائننگ والی بليک ٹائ لگاۓ پورے ماحول پر چھايا ہوا تھا۔
سب خوش گپـيوں ميں مصروف تھے۔
وليہ ايک پلر کے ساتھ کھڑی خاموش نظروں سے سب کو ديکھ رہی تھی۔
دارم نے ايک نظر اسے الگ تھلگ ديکھا۔ خاموشی سے چلتا اسکے قريب آيا۔
"کيسی لگی آپ کو ميری فيملی؟" اپنے قريب اسکی خوشبو محسوس کرتے وہ پہلے ہی چوکنا ہوئ اور پھر خود پر حيران بھی۔ وہ کب سے اسکی خوشبو کو پہچاننے لگی۔
"بہت اچھے ہيں۔ آپ کو ديکھ کر لگتا ہی ہے کہ آپ کی تربيت بہت اچھے ہاتھوں نے کی ہے۔ اور آج يقين بھی ہوگيا" وليہ نے اسکی جانب ديکھنے سے گريز کيا۔
"يہ ميری تعريف ہے يا ميری فيملی کی؟" اس نے پھر سے اسے الجھايا۔
"ايٹی پرسنٹ آپکی فيملی کی اور ٹوئنٹی پرسنٹ آپکی" دارم اسکی حاضر جوابی سے پھر سے لطف اندوز ہوا۔
"اور اس فيملی کا جب آپ حصہ بنيں گيں تو يقينا يہ اور بھی اچھی ہوجاۓ گی" دارم کی اس بے موقع بات پر اب کی بار وہ جھٹکے سے اسکی جانب مڑی۔
دارم کا اس لمحے دل کيا وہاں سے سب ہٹ جائيں۔۔ انکے اردگرد کوئ نہ ہو اور وہ فرصت سے ان حيران آنکھوں کو ديکھ سکے۔
"ميں بات گھما پھرا کر نہيں کرتا۔ آپ کو زندگی ميں شامل کرنا چاہتا ہوں۔ جب وقت ملے اس بات پر ضرور سوچئيے گا" وہ ايسے بات کررہا تھا جيسے کوئ نوکری آفر کرکے پوچھے "ميری آفر پر سوچنا" اور اپنی بات کہہ کر وہ مزے سے اسکے پاس سے ہٹ گيا۔
Ep: 10
اس نے يہ بھی ديکھنے کی زحمت نہيں کی کہ اس بات کے بعد آنکھوں کے ساتھ ساتھ وليہ کا منہ بھی اب حيرت سے کھل چکا تھا۔
بمشکل خود کو سب کی نظروں سے بچانے کے لئے اس نے چہرہ موڑ ليا۔ ہاتھ خودبخود دل پہ جا ٹہرا تھا۔ وہ سوچ بھی نہيں سکتی تھی کہ وہ جو ابھی خود کو جھٹلا رہی تھی کہ دارم کی نظريں کچھ ان کہے پيغام ديتی ہيں۔
انہيں وہ يوں سب کے درميان۔ سر راہ کہہ ڈالے گا۔
اسے وہاں کھڑے رہنا دوبھر ہوگيا تھا۔ اس نے بمشکل پلر کا سہارا ليا۔
"خواب تھا يا حقيقت" وہ خود سے سوال کر اٹھی۔
"آپا" اسی لمحے دلاور وہاں آچکا تھا۔ اسکی مخدوش حالت ديکھ کر وہ پریشان ہو اٹھا۔
"ک۔۔ کک۔۔ کيا ہوا ہے؟" اسے تو لگ رہا تھا دماغ ہی ٹھکانے پر نہيں رہا۔
"آپ کو کيا ہوا ہے؟" دلاور اسکے نزديک آتے بولا۔
"اللہ پوچھے آپ کو دارم۔۔ ايسے جان نکالنی تھی" دل ہی دل ميں وہ دارم سے بری طرح خفا ہوئ۔
"کچھ نہيں۔۔ بس۔۔ بس ايسے ہی چکر سا آگيا تھا" اس سے بہانہ ہی بننا مشکل ہوگيا۔
"کسی نے کچھ کہا تو نہيں" وہ زيرک نگاہ رکھتا تھا۔ اسکا نظريں چرانا اور چہرے پر موجود خفت کو نوٹ کر چکا تھا۔
"نہيں پاگل۔ مجھے کسی نے کيا کہنا ہے۔ تم بتاؤ" اب کی بار وہ کافی حد تک خود کو سنبھال چکی تھی۔
"وہ کھانے کی تو سب چيزيں ہم نے سرو کر دی ہيں۔ اب اسکے بعد ٹی بھی رکھ ديں" دلاور کے ساتھ باتيں کرتی وہ اندر کی جانب بڑھ گئ۔
____________________________
پھر سارا وقت وہ دارم سے چھپتی ہی رہی۔ وہ ابھی تک بے يقين تھی کہ وہ سچ کہہ رہا تھا يا جھوٹ۔۔ اسے يہی لگ رہا تھا کہ يہ سب مذاق ہی تھا۔
وہ اتنا امير۔۔ جسے لڑکيوں کی کوئ کمی نہيں وہ بے وقوف تھا کہ ايک غريب کو اپناۓ۔
مگر وہ نہيں جانتی تھی کہ وہ يہ بے وقوفی کر چکا تھا۔
فنکشن ختم ہوتے ہی سب کے جانے کے بعد وہ لوگ بھی واپسی کے لئے تيار کھڑے تھے۔ آتے وقت شہزاد دارم کے ساتھ آيا تھا۔ لہذا اب واپسی پر ڈرائيور کے ساتھ جاتے وہ سب پانچ لڑکے تو گاڑی ميں بيٹھ سکتے تھے۔ مگر انکے ساتھ وليہ کی جگہ نہيں بنتی تھی۔
"آپ لوگ ڈرائيور کے ساتھ بيٹھيں۔ وليہ کو ميں اپنی گاڑی ميں چھوڑ آتا ہوں۔ آگے پيچھے ہی نکلتے ہيں" دارم کی بات پر دلاور نے ايک تيکھی نگاہ اس پر ڈالی۔ جبکہ ياور نے چونک کر بيٹے کی جانب ديکھا۔
انہيں آج سارا دن اسکے چہرے پر ايک غير معمولی چمک اور خوشی نظر آئ تھی۔
انہيں ايسا لگا تھا کہ يہ چمک اس لڑکی کی مرہون منت ہے۔ مگر ابھی شک تھا يقين نہيں۔
"ٹھيک ہے سر" شہزاد تو پہلے ويسے ہی اسکی ہاں ميں ہاں ملاتا تھا۔
ياور اور صدف بھی انہيں باہر تک سی آف کرنے آۓ تھے۔
"مجھے دارم نے آپکے بارے ميں بتايا تھا۔ ميں اميد رکھوں گی کہ آپ ہماری اينج ای او کے لئے بھی کام کرو۔ " صدف نے محبت سے اسے ساتھ لگاتے ہوۓ کہا۔ وہ مسکراہ بھی نہ سکی۔ دارم کی اس بات کے بعد وہ اس سے چھپتی پھر رہی تھی اور اب اسی کے ساتھ گھر تک کا سفر کرنا تھا۔
بمشکل چہرے پر ہلکی سی زبردستی کی مسکراہٹ لائ۔
"اچھا بيٹے۔ اللہ حافظ" ياور نے بھی محبت سے اسکے سر پر ہاتھ پھيرا۔
وہ سب لڑکے بھی صدف اور ياور سے مل کر ڈرائيور کے ساتھ گاڑی ميں بيٹھ چکے تھے۔ جبکہ دارم نے وليہ کے لئے فرنٹ سيٹ کا دروازہ وا کيا۔ جيسے ہی وہ بيٹھی۔ وہ دوسری جانب سے گھوم کر ڈرائيونگ سيٹ پر بيٹھ چکا تھا۔
اگلی گاڑی کے باہر نکلتے ہی دارم نے بھی اپنی گاڑی اسکے پيچھے باہر نکالی۔
وليہ اس لمحے شديد گھبراہٹ کا شکار تھی۔
دارم نے ايک نظر اس کے پرفکر چہرے پر ڈال کر ہلکی آواز ميں گاڑی کا اسٹريو آن کيا۔
I finally found someone, that knocks me off my feet
I finally found the one, that makes me feel complete
It's funny how from simple things, the best things begin
This time it's different,
It's better than it's ever been
'Cause we can talk it through
Oh, my favorite line was "Can I call you sometime?"
It's all you had to say to take my breath away
This is it, oh, I finally found someone
Someone to share my life
I finally found the one, to be with every night
'Cause whatever I do, it's just got to be you
My life has just begun
I finally found someone
دارم کو لگا تھا اس لمحے برائن آيڈيم کی گاڑی ميں گونجنے والی آواز نے اسکے دل کی کيفيت کی مزيد ترجمانی کر دی تھی۔ وليہ ہونٹ بھينچے ہوۓ تھی۔
"مجھے کب تک جواب کا انتظار کرنا پڑے گا؟" دارم نے آخر بات کا آغاز کيا۔
"ميرے خيال ميں يہ انتہائ بھوںڈا مذاق تھا۔ مجھے آپ سے اس سب کی اميد نہيں تھی" وليہ نے سخت لہجے ميں کہا۔ اب جب سر پر پڑ گئ تھی تو اس مشکل سے نمٹنا تھا۔
"اگر آپ چہرہ شناس ہيں تو آپکی يہ بات مير‌ے خالص جذبات کی توہين کے علاوہ اور کچھ نہيں۔" دارم کا لہجہ بھی سخت تھا۔
"يہ بے وقوفی ہے" وہ بے بسی سے بولی۔
"يہ محبت ہے" دارم نے ہر ہر لفظ پر زور ديتے اسکے حسين چہرے کو پل بھر کو ديکھا۔
"آپ غلط کررہے ہيں" وہ مسلسل اسے جھٹلا رہی تھی۔
"آپ مجھ سے زيادہ غلط کررہی ہيں" اسکے پاس جيسے ہر بات کا جواب تھا۔
"آپ سمجھ ہی نہيں رہے" وہ زچ ہو چکی تھی۔
"سمجھ تو آپ بھی نہيں رہيں" دارم اب اسکے الجھنے سے محظوظ ہوا۔ بے ساختہ مسکراہٹ ہونٹوں ميں دبائ۔
"اففف"وليہ نے اکتا کر ماتھے پہ ہاتھ مارا۔
دارم قہقہہ لگا گيا۔
"آپ برا کررہے ہيں ميرے ساتھ" وہ روہانسی لہبے ميں بولی۔
"اور آپ بھی بہت برا کر رہی ہيں۔ ميری محبت کی نفی کرکے" دارم کا گمبھير لہجہ وليہ کی دھڑکنيں منتشر کرگيا۔
"آپ ميں مجھ ميں بہت فرق ہے" وہ کسی طرح اسے اس سب سے ہٹانا چاہتی تھی۔
"کيا فرق ہے۔ کيا آپ اور ميں اللہ کے بندے نہيں۔ کيا آپ ايک اللہ ۔ ايک رسول اور ايک قرآن پر يقين نہيں کرتيں۔ اور ميں بھی انہی سب پہ يقين کرتا ہوں۔ آپ بھی مسلمان ہيں، ميں بھی مسلمان ہوں۔ اور ميرے لئے اتنا ہی کافی ہے۔ باقی کسی حسب نسب، اسٹيٹس ڈفرنس کو ميں نہيں مانتا۔ کيونکہ يہ زندگی گزارنے کے لئے ترجيحات نہيں ہيں۔ يہ صرف ضروراتيں ہيں ۔ جيسے کھانا پينا۔ خود کو کپڑوں سے ڈھانپنا بس۔ ميں رشتوں کو دولت ميں تولنے کے حق ميں نہ کبھی تھا نہ کبھی ہوں" دارم نے اب کی بار اور بھی وضاحت دی۔
"مگر ہم اس معاشرے سے کٹ کر تو نہيں رہ سکتے۔ جہاں قدم قدم پر يہی سب اعتراضات ہميں جھيلنے پڑتے ہيں۔ آپ بہت اچھے ہيں۔ آپ اپنے جيسی ہی اچھی لڑکی ڈيزرو کرتے ہيں" وہ جانتی تھی وہ اسکے خواب ديکھنے کی مرتکب نہيں ہوسکتی۔ پھر کيوں وہ خود کو اور اسے مشکلوں ميں ڈالتی۔
"اچھی نہيں امير کہيں۔" دارم نے اسکی تصحيح کی۔
"ايک ہی بات ہے" وليہ نے پھر سے دامن بچايا۔
"ايک بات نہيں ہيں۔ کيا آپکے اچھے ہونے ميں کوئ کھوٹ ہے۔ پھر وہ اچھی لڑکی آپ کيوں نہيں ہوسکتيں۔ اور جہاں تک معاشرے کی بات ہے تو اس ميں يقينا آپ ميری فيملی کی بات کررہی ہيں۔ انہيں اس سب کے لئے راضی کرنا ميرا کام ہے۔ وہ آپ سے کبھی کچھ نہيں کہيں گے۔ آپ اپنی بات کہيں" اس نے تو جيسے سب سوال ہی ختم کر ڈالے تھے۔
"دارم آپ غلط کررہے ہيں" وليہ نے پہلی بار اس کا نام ليا تھا۔
اسکی گاڑی جھٹکے سے رکی۔ حيرانگی سے اسکے چہرے پر ديکھا جہاں گاڑی رکنے پر وہ پريشان ہوئ۔
"چليں اسی بہانے آپ نے پہلی بار ميرا نام تو ليا" گاڑی سٹارٹ کرتے وہ محظوظ کن مسکراہٹ اسکی جانب اچھالتا بولا۔
وليہ کو اپنی بے اختياری کا اندازہ نہيں ہوا۔
"سوری"
"فار واٹ" اس نے اچنبھے سے پوچھا۔
"آپ کا نام لينے پر" وليہ نے چہرہ کھڑکی کی جانب موڑ کر کہا۔ چہرے پہ آنے والے رنگوں کو وہ اس سے چھپانا چاہتی تھی۔
"کيوں ميرا نام اتنا برا ہے کہ وہ لينے پر آپ کو افسوس ہوا۔" دارم نے ايک ملامتی نظر اس پر ڈالی جو اپنے ارادوں ميں انہتائ سخت ثابت ہوئ تھی۔
وليہ اب کی بار خاموش رہی۔
گاڑی اسکے گھر کے باہر روکی۔ اس سے پہلے کہ وہ اترتی اسکے پکارنے پر اسکی جانب ديکھے بنا روک گئ۔
پشت دارم کی ہی جانب تھی۔
"ميں آپ کی کسی بھی بودی دليل کو نہيں مانتا۔۔ بہتر ہے کہ کوئ اسٹرانگ وجوہات ڈھونڈيں۔ ميں جب ارادہ کر لوں تو پيچھے نہيں ہٹتا۔ اچھے سے سوچيں۔ مجھے جلدی نہيں۔ آپ کو ضد نہيں دل کی خوشی بنانا چاہتا ہوں۔" وہ اسے باور کروا رہا تھا کہ وہ اسکی باتوں سے پيچھے ہٹنے والا نہيں۔
"وليہ يہ وقتی جذبہ نہيں ہے۔ اور نہ ميں ٹين ايجر ہوں۔ يہ ميچور انسان کی محبت ہے جوکسی بھی وجود کے حصول سے ہٹ کر روح کے حصول کی ہوتی ہے۔ اميد ہے آپ سمجھ گئ ہوں گی۔ جائيے اور اچھے سے سوچيں۔ مجھے يہ سوچ کر ہی تسلی ہو رہی ہے کہ آپکی سوچوں کا محور اب سے ميری ذات ہوگی" اسکے لہجے ميں بسی محبت وليہ کو بے بس کر رہی تھی۔
"خدا حافظ" وہ کچھ بھی نہيں کہہ پا رہی تھی۔ خاموشی سے اتر کر گھر کے دروازے کی جانب بڑھ گئ۔
پيچھے ديکھنے کی غلطی نہيں کی حالانکہ جانتی تھی اس نے گاڑی بڑھائ نہيں۔
دروازہ کھلتے ہی وہ اندر چلی گئ۔ اسکے جاتے ہی دارم نے بھی گاڑی آگے بڑھا لی۔
____________________________
منتشر سوچوں کے ہمراہ وہ گھر ميں داخل ہوئ۔
کپڑے بدل کر وہ خاموشی سے بيڈ پر بيٹھی تھی۔ يمنہ اس سے تفصيل سننے کو بے چين تھی۔ مگر سائرہ نے اسے چاۓ بنانے بھيج ديا۔
اور خود اسکے سامنے بيٹھ بيڈ پر بيٹھ گئيں۔
"ميری بيٹی تھک گئ ہوگی" محبت سے اسکے چہرے پر ايک ہاتھ رکھے کہا۔
"نہيں اماں" اسکے چہرے پر رقم فکر کو وہ تھکاوٹ سمجھيں تھيں۔ موبائل کو بے دھيانی ميں وہ مسلسل ہاتھ ميں گھماتی جارہی تھی۔
"مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے" اب کی بار ان کا رخ مکمل طور پر وليہ کی جانب تھا۔
"جی اماں کہيں" وہ بھی ماں کی جانب متوجہ ہوئ۔
"ديکھو بيٹا تمہارے ابو کے بعد ميں بہت پريشان ہوں۔ تم تينوں کی ذمہ داری بہت بھاری ہے مجھ پر۔۔
وقت کا کوئ بھروسہ نہيں۔ ميں چاہتی ہوں تم اپنے گھر کی ہوجاؤ" ماں کی بات پر وہ اب کی بار چونکی۔ خفگی سے انہيں ديکھا۔
"اماں کيسی باتيں کررہی ہيں۔ پليز۔۔ ابھی تو ہم ايک غم سے نہيں نکلے اور آپ" سائرہ کے ہاتھون کو تھام کر وہ خفا سے لہجے ميں بولی۔
"کچھ دن پہلے رفيق بھائ نے اپنے بھانجے کا رشتہ بتايا تھا۔ ميں نے آج انہيں ہاں کردی ہے۔ لڑکے کی تصوير ديکھ لی ہے۔ اور آج شمع بھابھی لڑکے کی ماں کو لے کر گھر آئيں تھيں۔ مجھے تو بہت اچھے لوگ لگے ہيں۔ سادہ سے ہيں۔ اور ہاں تجھے بھی انہوں نے ديکھ رکھا ہے۔ تو کوئ اعتراض ہی نہيں۔ سمجھ بات پکی ہی تھی ان کی جانب سے۔
اور ہاں لڑکے کو تيرے کام سے بھی کوئ اعتراض نہيں۔ تو اپنا گھر بسا کر بھی ہماری مدد کرسکتی ہے" وليہ ششدر ماں کی باتيں سن رہی تھی۔
"اماں" وہ فقط يہی کہہ سکی۔ آج کا دن ہی کچھ عجيب تھا جو اسکے لئے ہر قدم پر حيرانياں لے کر اترا تھا۔
"وليہ ديکھ يہ ميرے ہاتھ" سائرہ نے يکدم ہاتھ جوڑے
"اماں ايسا نہ کريں" وہ رو دينے کو تھی
"انکار نہ کرنا بيٹا۔ مجھے تيری بہت فکر لگی ہے۔ بس تو اپنے گھر کی ہو جا۔ باقی سب ٹھيک ہو جاۓ گا۔ اللہ ہمارے گھر کی گاڑی چلا ہی دے گا۔ وہی چلانے والا ہے"نظر چرا کر اسے اس جلدی کی وجہ نہيں بتا سکتی تھيں۔
اس نے بے بسی سے آنکھيں بند کرکے گہرا سانس بھرا۔
"بيٹا امير لوگوں کے ساتھ کاروبار تو ہو سکتا ہے مگر رشتے داری نہيں" اسکی آنکھوں ميں غور سے ديکھتيں وہ کيا باور کروا رہی تھيں۔
وليہ نے نظريں چرائيں۔ اس نے تو ابھی ڈر کے مارے وہ خواب بھی نہ ديکھے تھے جنہيں اس کی ماں نے جان ليا تھا۔
"مجھے آپ کے فيصلے پہ کوئ اعتراض نہيں" بدقت سر جھکاۓ وہ راضی ہوگئ۔ اسے راضی ہونا ہی تھا۔ وہ سراب کے پيچھے نہيں بھاگ سکتی تھی۔
"اللہ تجھے ہميشہ خوش رکھے ميری بچی" سائرہ نم آنکھوں سے مسکراتيں اسکا ماتھا چوم کر چلی گئيں۔
وليہ نے آنکھيں بھينچ کر ناديدہ آنسوؤں کو پيا۔
کچھ رشتے پل بھر کے ہی ہوتے ہيں۔ آج اس نے بھی ايسے ہی ايک رشتے کو محسوس کيا تھا۔
موبائل کی بپ پر وہ اپنے ان خوابوں کی کرچياں سميٹ گئ جوابھی سجاۓ ہی نہيں تھے۔
موبائل کا پاس ورڈ کھولا تو دارم کا نام جگمگايا۔
Private eyes, they're watching you
You play with words, you play with luck
You can twist it around, I've had enough cause girl
I've gotta know if you're letting me in or letting me go
Don't lie when you're hurting inside
Cause you can't escape my.
Private eyes, they're watching you
ايک خاموش آنسو اسکی آنکھ سے بہہ کر ان محبت بھرے لفظوں پر گرا۔
کل سے اس نے دارم کی دلائ ہوئ دکان پر بيٹھنا تھا۔ اس دکان کا کام فی الحال دلاور نے اپنے ذمہ لے ليا تھا۔
اور کل دارم نے بھی وہاں موجود ہونا تھا۔ وہ کيسے کل اس کا سامنا کرے گی۔
"يہ کس مشکل ميں آپ نے ڈال ديا ہے" وہ دارم کے ہيولے سے مخاطب ہوئ۔
"وليہ۔ ميں سوچ رہی ہوں کہ بس اگلے جمعہ والے دن تمہاری منگنی رکھ دوں۔" سائرہ باہر سے بولتی اندر آئيں۔
اس نے تيزی سے چہرہ صاف کيا۔
"اماں آپ کو جيسے بہتر لگے" وہ آہستہ سے ان کی ہاں ميں ہاں ملاگئ۔
"بس ميں کل ہی شمع بھابھی سے کہہ ديتی ہوں۔ وہ لوگ تو کل ہی تمہيں انگوٹھی پہنانے کے لئے آنا چاہ رہے تھے۔ مگر پھر شمع بھابھی نے ميری عدت کی وجہ سے منع کرديا۔ بدھ کو ختم ہورہی ہے۔ تو ميں نے سوچا جمعہ کو رکھ دوں" وليہ نے اب کی بار ماں کی طرف نہيں ديکھا۔ کہيں وہ آنکھوں کے باقی ماندہ راز نہ جان جائيں۔
"يہ تمہاری چاۓ آپا" يمنہ چاۓ لے کر کمرے ميں آئ۔
سائرہ جا چکی تھيں۔
"آپ کو دکھائ اماں نے لڑکے کی تصوير" يمنہ نے رازداری سے پوچھا۔
"نہيں" چاۓ پيتے وہ خود کو کمپوز کرنے لگی۔
"مجھے توذرا اچھا نہيں لگا" اسکی بات پر چھم سے مسکراتا ۔ قہقہے لگاتا کوئ ياد کے پردے پر لہرايا۔
"يمنہ پليز يار ميں بہت تھکی ہوئ ہوں۔ پھر اس بارے ميں بات کريں گے۔ تم لائٹ آف کرکے نائٹ بلب آن کرو۔ اور سوجاؤ۔ ميں بھی چاۓ ختم کرکے ليٹ جاؤں گی" وہ بيزار لہجے ميں بولی۔
"سوری آپا" وہ اسکی تھکاوٹ کا خیال کرتی لائٹ آف کرنے چل دی۔ وليہ اس وقت تنہائ چاہتی تھی۔ وہ اتنی مضبوط نہيں تھی کہ قسمت کی ستم ظريفی کو اتنی جلدی اور اتنے آرام سے سہہ ليتی۔
_______________________________
"کيا خبر ہے" وہ شرٹ پہنتا اپنے خاص بندے کے ساتھ فون پر مصروف تھا۔
"باس وہ اسی لڑکے کے ساتھ مل کر ايک اور دکان کھول رہی ہے۔ شايد اب يہاں نہ بيٹھے۔" دوسری جانب کی آواز سن کر اس نے ہنکارا بھرا۔ فون سنتے وہ کھڑکی ميں جا کھڑا ہوا۔
چہرہ موڑ کر بيڈ پر بکھرے وجود کو ديکھا۔ جسے کچھ دير پہلے ہی وہ ٹشو پيپر کی طرح مسل چکا تھا۔
"اسے اٹھوانے کا بندو بست کرو۔۔ بس چند دن اور ديکھ لو۔ پھر وہ مجھے يہاں اس کمرے ميں ملے۔ اور ہاں ميں کمرے سے جارہا ہوں۔ ميرے کمرے ميں موجود اس (گالی) کو اس کے باپ کے گھر کے سامنے پھينک آؤ۔ تاکہ اسے معلوم ہو۔ مجھے انکار کا انجام کيا ہوتا ہے" وہ کرخت لہجے ميں بولتا فون بند کرتا کمرے سے نکلتا چلا گيا۔
____________________________
Ep: 11
اور اگلے دن وہ اسکے روبرو تھی۔ شہزاد اور دلاور کے ساتھ وہ دکان پہنچی تھی جہاں دارم پہلے سے موجود تھا۔ اسے انکے ہمراہ آتا ديکھ کر وہ ہولے سے مسکرايا۔ پہلے دن کے بعد وليہ دوبارہ اس دکان ميں نہيں آئ تھی۔ دارم، شہزاد اور دلاور نے ہی ساری دکان سيٹ کی تھی۔
ايک جانب لکڑی کی ديوار سےی بنا کر وليہ کا آفس بنايا ہوا تھا۔ جبکہ باقی دکان ميں ديوار کے دونوں جانب صوفے اور کرسياں لگائ گئيں تھيں۔
ديواروں پر مختلف کھانوں اور ريٹ لسٹ کے بورڈ تھے۔
يہ سب ان سب نے کب کيا اسے کچھ معلوم نہيں تھا۔ دکان کی بيسمنٹ ميں کيٹرنگ کا سامان آج ہی آيا تھا جسے دلاور اور شہزاد اپنی نگرانی ميں رکھوا رہے تھے۔ دارم اسے لئے آفس کی جانب آگيا تھا۔
جسے شارٹ نوٹس پہ دارم نے اپنی مرضی سے سيٹ کروايا تھا۔ شيشے کی ٹيبل کے ايک جانب ريوالونگ چئير اور دوسری جانب دو کرسياں تھيں۔
ايک کونے ميں ويسے ہی انڈور پلانٹس تھے جيسے دارم کے آفس ميں موجود تھے۔ شايد اس دن دارم نے اسے وہ پلانٹس غور سے ديکھتے ہوۓ ديکھ ليا تھا۔ يکدم اسکی محبت پر وليہ کی آنکھوں ميں آنسو جھلملاۓ۔ اسے ابھی دارم سے بات کرنی ہوگی۔
"کيسا لگا آفس۔ ان شاءاللہ جيسے جيسے آپ ترقی کی مںازل طے کريں گی۔ اس آفس کو ہم اور بڑا کرتے جائيں گے ابھی تو شروعات ہے" اسکے سامنے موجود ايک کرسی پر وہ خود ٹک گيا۔ بازو ٹیبل پر رکھے۔ جينز اور ٹی شرٹ ميں اپنے رف حليے کے ساتھ وہ وليہ کو مشکل ميں ڈال رہا تھا۔
اپنی بات کے جواب ميں اسکی غير معمولی خاموشی اور مسلسل نظريں چرانا دارم سے چھپا نہ رہ سکا۔
"وليہ کيا بات ہے؟" اب کی بار اسکے مسکراتے چہرے پر بھی سنجيدگی ابھری۔
"ميری منگنی ہے اگلے جمعہ کو" ايک گہرا سانس بھر کر اس نے ہمت مجتمع کی۔
اس کی بات پر وہ بے يقين نظروں سے اسے ديکھے گيا۔
"ہم ميں بہت فرق ہے دارم۔۔ ہم کبھی بھی اکٹھے نہيں چل سکتے۔ کل رات اماں نے ميرا رشتہ دلاور کے کزن سے طے کرديا ہے" اب کی بار نظريں اٹھاۓ اس نے دارم کی بے جان ہوتی نظروں کو ديکھا۔
"پليز مجھے معاف کرديں۔ ميں آپکے جذبے کی بہت قدر کرتی ہوں۔ مگر ميں اسے سنبھال نہيں سکتی۔
اپنا نہيں سکتی۔" وليہ نے بے بسی سے اسے ديکھا۔ جو بالکل خاموش تھا۔ اسکی بڑھتی خاموشی وليہ کو پريشان کررہی تھی۔
"آپ نے تو ميرے لئے اپنا مقدمہ لڑنے کا کوئ موقع ہی نہيں چھوڑا۔۔" ہاتھ کی مٹھی بنا کر ٹھوڑی کے نيچے رکھتے وہ چہرہ ديوار کی جانب موڑ گيا۔
اس لمحے وہ کتنا بے بس تھا يہ صرف وہی جانتا تھا۔
"ميں ايک بار آنٹی سے ملنا چاہتا ہوں" اسکی جانب ديکھتے اس نے پھر سے فيصلہ سنايا۔
"آپ کيوں نہيں سمجھ رہے۔۔ کيا ضروری ہے محبت ميں سب مل ہی جائے" وہ ہر ممکن طريقے سے اسے روکنا چاہتی تھی۔
"يعنی ميں يکطرفہ محبت کا ہی مرتکب ہوا" اسکی آنسو دھکيلتی آنکھوں کو اپنی گھور آنکھوں ميں جکڑے وہ اعتراف چاہتا تھا۔ اتنا تو حق رکھتا تھا۔
اسکی بات پر آنکھوں سے گرتے آنسوؤں نے خاموش اعتراف کر ليا تھا۔ وليہ نے نظريں جھکا ليں۔
"چليں اتنی تو تسلی ہوگئ کہ اس راستے ميں ۔۔۔ ميں اکيلا سفر نہيں کررہا تھا۔ يہ ان کہا اعتراف ہی بہت ہے" وہ اسے ستانا نہيں چاہتا تھا۔ اسی لئے اٹھ کر وہاں سے چلا گيا۔ وليہ نے چہرہ ہاتھوں ميں چھپا ليا۔
محبت کی قسمت ميں خسارہ ہی آيا
تمہارا کيا گيا ہم نے تو سب کچھ لٹايا
__________________________
دارم نے اسکے بعد وليہ سے کسی قسم کی بات نہيں کی۔
دن يوں ہی پر لگا کر اڑتے گۓ۔ وليہ کا کام بھی اچھا شروع ہوگيا تھا يا يہ کہنا بہتر تھا کہ کام کے معاملے ميں قسمت اس پہ مہربان تھی۔
انہی دنوں صدف نے بھی اپنے اين جی او کے دو فنکشنز کے لئے وليہ کی کيٹرنگ لی تھی۔
دارم ايک دو بار کے بعد اسکے آفس نہيں آيا۔ اور وہ بھی دلاور اور شہزاد سے مل کر چلا گيا۔
وليہ نے ايک جانب تو سکھ کا سانس ليا کہ اسے بار بار دارم کا سامنا نہيں کرنا پڑ رہا۔
وہيں کسک حد سے سوا تھی۔
منگنی سے ايک دن پہلے سائرہ کے اصرار پر وہ دکان پہ نہيں گئ۔
"يہ ديکھو لڑکے والوں نے تمہارا سوٹ بھيجا ہے" ہلکے کام والا سوٹ وليہ نے بس ايک نظر ديکھا۔
سائرہ کو نجانے اس کا انداز اتنا بجھا بجھا کيوں لگا۔
"وليہ کيا بات ہے بيٹا تو خوش نہيں" سائرہ نے اسے جانچتی نظروں سے ديکھا۔
"نہيں اماں۔ بس ميں نے اتنی جلدی اس سب کا نہيں سوچا تھا" وليہ نے سيدھے سبھاؤ سے کہا
"بيٹا جلدی يا بدير مگر يہ سب تو کرنا ہی تھا" وہ پھر سے اسے سمجھا رہی تھيں۔
"اپنے باس کو دعوت دی ہے؟" سائرہ کی بات پر اس نے چونک کر ديکھا۔
"نہيں" وہ بدقت بولی۔
"ارے تو فون کرونا" سائرہ نجانے جان بوجھ کر کہہ رہی تھيں۔ يا ان کا انداز سرسری تھا۔
"فون کرو ابھی"
"کردوں گی اماں" وہ کبھی بھی اس کو فون کرکے اتنی بے رحمی کا ثبوت نہيں دے سکتی تھی۔
"ارے بعد مين بھول جاۓ گا ابھی کرو" سائرہ مصر تھيں۔
وليہ نے بے بسی سے ماں کے ضدی لہجے کو ديکھا۔ پھر موبائل پکڑ کر دارم کا نمبر ملايا۔
"السلام عليکم" چوتھی بيل کے بعد دوسری جانب سے فون اٹھا ليا گيا تھا۔
"وعليکم سلام۔۔ کيسی ہيں؟" محبت سے گندھا لہجہ وليہ کا بس نہيں چل رہا تھا رو دے۔
"سر وہ کل ميری منگنی ہے"وليہ اٹک اٹک کر بولی۔
"جی جانتا ہوں۔ کاش يہ دن ميں آپکی اور اپنی زندگی سےمٹا سکتا۔" اسکی بات پر وليہ کے چہرے کا رنگ متغير ہوا۔ سائرہ غور سے اسے ديکھ رہی تھيں۔ وہ جان گئ اسکی ماں نے جان بوجھ کر يہ کروايا ہے۔
"ہم چاہ رہے تھے کہ آپ بھی کل آئيں" نظريں جھکاۓ وہ بے تاثر لہجے ميں بولی۔
"اگر ميں آگيا تو آپ کسی اور کی نہيں ہوسکيں گی" اس سے زيادہ وہ نہيں سن سکتی تھی کال کاٹ دی۔
"کيا ہوا" کسی بھی سلام دعا کے بغير اسے فون بند کرتے ديکھ کر سائرہ نے پوچھا۔
"کہہ رہے تھے وقت ملا تو آؤں گا" وليہ نے لہجے کو ہموار کرنا چاہا۔
"آجاۓ تو بہتر ہے" سائرہ ايک گہری سانس خارج کرتيں اسکے پاس سے اٹھ گئيں۔ وليہ نظريں جھکائے رہی
"اللہ کيوں ڈالی ايسے شخص کی محبت" سائرہ کے جاتے ہی وہ لب بھينچ کر آنسو روکنے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔
_________________
اور بالآخر وہ دن بھی آگيا۔ شام ميں ہلکا پھلکا ميک اپ کئے وہ بوجھے دل کے ساتھ تيار تھی۔
کچھ ہی دير ميں لڑکے والے آنے ہی والے تھے۔ وہ کمرے ميں خاموش بيٹھی ہاتھوں ميں پہنی چوڑیوں اور انگوٹھيوں سے کھيل رہی تھی۔
يمنہ نے رات ميں زبردستی اسکے ہاتھوں پہ مہندی بھی لگا دی۔ وليہ اپنی تياری سے الجھن ہورہی تھی۔
"آپا يہ تمہارے باس کا ڈرائيور دے کر گيا ہے" يمنہ ہاتھوں ميں بکے اور ايک گفٹ تھامے اندر آئ۔
وليہ نے بجھے دل سے ہی وہ دونوں چيزيں تھاميں۔
بکے پر ايک کارڈ لگا تھا۔
اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے دونوں چيزيں تھام کر کارڈ کھولا
My love is pure
I saw an angel
Of that I'm sure
She smiled at me on the subway
She was with another man
But I won't lose no sleep on that
'Cause I've got a plan
You're beautiful
I saw your face in a crowded place
And I don't know what to do
'Cause I'll never be with you
Yes, she caught my eye
As we walked on by
She could see from my face that I was
Flying high
And I don't think that I'll see her again
But we shared a moment that will last 'til the end
There must be an angel with a smile on her face
When she thought up that I should be with you
But it's time to face the truth
I will never be with you
ہاتھ سے بکے اور گفٹ بيڈ پر رکھ کر ايک ہاتھ ميں کارڈ تھامے دوسرے ہاتھ سے بمشکل اپنی سسکياں روک رہی تھی۔
اسی لمحے فون پر دارم کا نام جگمگايا۔ وہ آنکھيں ميچ گئ۔ آنسو تواتر سے گالوں پر گر رہے تھے۔
اس ميں ہمت نہيں تھی اس لمحے اس کا فون اٹھانے کی۔
مگر دل تھا کہ ہمک ہمک کر اسی کی جانب کھنچ رہا تھا۔
آخری بيل ختم ہونے سے پہلے اس نے فون اٹھا ديا۔
کان سے لگاۓ اسکی سسکياں دوسری جانب وہ بآسانی سن سکتا تھا۔
"مجھ ميں ہمت نہيں تھی کہ آپ کو کسی اور کے نام ہوتا ديکھتا۔ اسی لئے معذرت آپکی اس خوشی ميں ميں شريک نہيں ہوسکتا تھا۔" اس کا ٹوٹا لہجہ وليہ کو اور بھی توڑ گيا۔
"کيوں محبت کی آپ نے مجھ سے؟" وہ خفا لہجے ميں بولی۔
ايک زخمی مسکراہٹ اسکے لبوں کو چھو گئ۔
"يہ محبت کب پوچھ کر ہوتی ہے۔ بس دل کے دروازے کھول کہ قبضہ کرليتی ہے۔ اور پھر جانے کا نام بھی نہيں ليتی"وہ بے بسی سے بولا۔
"تھينک يو" وليہ نے گفٹ کو ايک نظر ديکھا۔ نجانے اس ميں کيا تھا۔ وہ تہيہ کرچکی تھی کہ نہيں کھولے گی۔
"کس بات کا؟" وہ چونک کر بولا۔
"گفٹ اور پھولوں کا" آنسو صاف کرتے اب وہ لہجے کو ہموار کرنے لگی۔
"کاش يہ کسی اور استحقاق سے بھجوا سکتا۔" دارم کے لہجے کی ياسيت اسے پھر سے بکھيرنے لگی۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی۔ دارم نے کال کاٹ دی۔
وليہ نے ہارے ہوۓ جواری کی طرح ہاتھ گود ميں گراۓ۔
پھر وہ کب فہد کے گھر والوں کے سامنے گئ۔ انہوں نے کب اسے انگوٹھی پہنائ۔
اسے کچھ پتہ نہيں تھا۔
اسی دن اسکے سسرال والے اگلے ماہ شادی کی ڈيٹ رکھ گۓ۔
انکے جانے کے بعد وہ سائرہ کے سر ہوگئ۔
"اماں اتنی جلدی کيا ہے۔ کچھ دير رک جائيں" وہ تو ابھی اس منگنی کو قبول نہيں کر پارہی تھی کہاں شادی۔
"وليہ ديکھو ميں پہلے ہی بہت پريشان ہوں۔ اب تم مجھے اور پريشان مت کرو"
"اماں ميرے ابھی قدم تو مضبوط ہونے ديں۔۔ ميں شادی کے بعد کيسے ايک دم سب مينج کروں گی" وہ کرلائ۔
"جب فہد نے کہا ہے کہ وہ ہر طرح تمہارا ساتھ دے گا تو پھر تمہيں کيا مسئلہ ہے" سائرہ نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
ماں کو سمجھانا اب بے سود تھا۔ وہ جان گئ تھی۔
_________________________________
"ہيلو وليہ" وہ اس وقت دکان پر تھی کہ صدف کی کال آئ۔
"السلام عليکم! کيسی ہيں آنٹی" وليہ نے خوشدلی سے کہا۔
"وعليکم سلام بالکل ٹھيک۔ کل ميں ايک کيٹی پارٹی رکھ رہی ہوں۔ ميری دس بارہ فرينڈز ہوں گی۔ تو تم گھر آکر مينج کرسکتی ہو" صدف کی بات پر چند لمحے وہ خاموش رہی۔
جب سے اسکی منگنی ہوئ تھی تب سے دارم نے کوئ رابطہ نہيں کيا تھا۔ چند بار وہ دکان پر اسے نظر آيا تھا مگر دارم اور باقی لڑکوں سے مل کر وہ چلا گيا تھا۔
وليہ سے اس نے کوئ بات نہيں کی تھی۔ نہ اس ميں ہمت تھی کہ وہ دارم سے بات کرتی۔
پہلے سوچا منع کردے پھر خيال آيا اس وقت تو وہ آفس ميں ہی ہوگا۔
"جی آنٹی ميں مينج کرلوں گی۔ آپ بتا ديجئے گا مينيو کيا رکھنا ہے" اس نے ہامی بھر لی۔
"تھينک يو ميری جان۔ ميں ڈرائيور بھجوا دوں گی بس تم گيارہ بارہ بجے تک آجانا اور مينو ميں رات ميں ميسج کردوں گی" صدف خوش ہوگئيں۔
"جی بہتر" خداحافظ کہہ کر اس نے فون بند کرديا۔
_____________________________
"آپی ايک بات کہوں" رات ميں وہ صدف کے بھيجے ہوۓ مينو کو پڑھ رہی تھی کہ يمنہ اسکے پاس ليٹی اسکے لمبے گھنے بالوں کو ہاتھ ميں تھامے ان سے کھيل رہی تھی۔
"کہو" وہ مصروف سے انداز ميں بولی۔
"آپ کو فہد بھائ سوٹ نہيں کرتے۔" اسکی بات پر پل بھر کو وليہ کا دل دھڑکا
"اچھا کون سوٹ کرتا ہے پھر؟" اس نے لہجے کو سرسری رکھا۔
"دارم بھائ" يمنہ کی بات پر اس نے حيرت سے نظريں اس پر ڈاليں۔
"خبردار ايسی بات آئندہ کی" اسے غصے سے گھرکا
"کيا ہے آپی۔ ميں نے جب پہلی بار دارم بھائ کو ديکھا تھا تب ہی سوچا تھا کہ کاش ايسا ہی بندہ ميری آپا کے لئے ہو۔ بلکہ يہی ہوں" يمنہ کی باتيں اسکے زخم پھر سے ہرے کر رہی تھيں۔ اس نے بڑی مشکل سے ان دنوں خود کو سميٹا تھا۔
"يمنہ چپ کرجاؤ" وہ بيزار لہجے ميں بولی۔
"کاش ميں تمہارے لئے کچھ کرسکتی" وہ بے بسی سے بولی
"تم صرف اتنا کرو کہ آئندہ يہ ذکر مت کرنا۔" وليہ نے بے بس لہجے ميں کہا يمنہ خاموش ہوگئ۔
___________________
اگلے دن وہ اسی گھر ميں موجود تھی جہاں سے زندگی نے نيا اور تکليف دہ رخ ليا تھا۔
گہری سانس بھر کر وہ گاڑی سے اتر کے اندر داخل ہوئ۔
صدف نے دارم کو نہيں بتايا تھا کہ انکی کيٹی پارٹی کو وليہ ہوسٹ کرے گی۔
صدف سے ملنے کے بعد وہ کچن ميں مصروف ہوچکی تھی۔
صدف نے دو تين اور لڑکياں بلوا ليں تھيں۔ جو وليہ کی مدد کروا رہی تھيں۔
اچھا خاصا مينيو تھا جو چار بجے تک اسے بنا لينا تھا۔ اسکے بعد تو بس سرو کرنا تھا۔
مگر سرو کرنے کی ذمہ داری وليہ کی نہيں تھی اس نے بس سپروائز کرنا تھا۔
وہ مطمئن سی کچن ميں چادر اتارے دوپٹہ کندھوں پر ڈالے کام کررہی تھی۔
سب سے زيادہ تسلی اس بات کی تھی کہ اس کے ہونے تک دارم نہيں ہوگا۔ کيونکہ وہ آفس سے رات کو ہی گھر آتا تھا۔
مگر کچھ باتيں پوری ہونے کے لئے نہيں ہوتيں۔
صدف تيار ہونے قريبی پارلر گئيں ہوئيں تھيں۔ انہيں تسلی تھی کہ وليہ سب مينيج کرلے گی۔
چيزيں پکانے کے ساتھ ساتھ وليہ نے انکے ڈرائنگ روم کی سيٹنگ کرنے کی ذمہ داری بخوشی اپنے سر لے لی تھی۔ مينی پيزا اور کوکيز وہ بيک ہونے کے لئے رکھ آئ تھی۔
اب ڈرائينگ روم ميں کام واليوں کی سيٹنگ ميں مدد کروا رہی تھی۔ کہ ڈرائنگ روم کا دروازہ کھول کر دارم عجلت ميں اندر آيا۔
"ممی۔۔ ڈيڈی کی۔۔۔" ڈرائنگ روم ميں وليہ کو بنا چادر اور کندھوں پر دوپٹہ لئے کھڑے اس نے بے يقين نظروں سے ديکھا۔ وليہ اس اچانک افتاد پر حيران کھڑی تھی۔ سرعت سے رخ موڑ کر دوپٹہ ليا۔
"سوری وہ ميں سمجھا ممی يہاں ہيں" اس نے معذرت کی مگر وليہ کو ديکھ کر جو چمک اسکی آنکھون ميں نظر آئ وہ وليہ سے چھپی نہيں رہی۔
وہ دھڑکتے دل کو سنبھالے اب رخ اسکی جانب موڑچکی تھی۔
"کوئ بات نہيں" وہ دھيرے سے بولی۔
"آپ ويسے يہاں کيا کررہی ہيں؟" اب وہ اسکی اپنے گھر موجودگی کی وجہ دريافت کررہا تھا۔
"آنٹی نے مجھے پارٹی ارينج کرنے کے لئے بلايا تھا" اسکی وضاحت پر وہ ہولے سے سر ہلا کر رہ گيا۔
"آنٹی نزديکی سيلون گئيں ہيں" وليہ نے صدف کے بارے ميں بتايا۔
"ميرے روم ميں چاۓ بھجوا ديں گی پليز" دارم کی بات پر وہ بے تاثر چہرہ لئے ہاں ميں سر ہلا کر اسکے قريب سے گزر کر کـچن کی جانب چلی گئ۔
چاۓ خود بنا کر علی کے ہاتھ دارم کے کمرے ميں بھجوائ۔
اسکے بعد واپسی تک وليہ کا اس سے سامنا نہيں ہوا۔ اس نے شکر کيا۔
_______________________
رات ميں وہ ٹيرس پر اکيلا کھڑا نجانے آسمان ميں کيا ڈھونڈ رہا تھا۔ يا قسمت کی ستم ظريفی پر کڑھ رہا تھا۔
کندھے پہ پڑنے والے ہاتھ کے دباؤ پہ اس نے مڑ کر ديکھا۔ ياور اسکے ساتھ آکر کھڑے ہوۓ۔
"کچھ عرصے سے نوٹ کررہا ہوں تم بہت خاموش ہوگۓ ہو۔ باپ سے بھی شئير نہيں کروگے" ان کی بات پر وہ زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر لايا۔
"ايسی کوئ بات نہيں ڈيڈي" وہ انہيں جھٹلانے لگا۔
"دارم ۔۔۔ مجھے خوش فہمی تھی کہ ميں تمہارا اچھا دوست ہوں۔۔ چلو تم نہ صحيح مگر ميں ضرور ہوں۔ شايد تمہاری اس خاموشی کی وجہ سے بھی واقف ہوں" انکی بات پر اس نے جھٹکے سے رخ ياور کی جانب کيا۔
"کون سی وجہ؟" وہ شايد انہيں آزما رہا تھا۔
"وليہ۔۔ کيا وہ بچی تمہاری اس خاموشی کی وجہ ہے؟" انکی بات پر وہ ہولے سے سر نفی ميں ہلا کر ہلکا سا مسکرايا۔ ياور کو يہ مسکراہٹ بڑی تکليف دہ لگی۔
"آپ واقعی اچھے دوست ہيں" کچھ دير بعد وہ بڑی ياسيت سے بولا۔
"تو کيا مسئلہ ہے تم کہو تو ہم اسکے گھر والوں سے بات کرتے ہيں" دارم نے محبت سے انہيں ديکھا۔
وہ ايے ہی تھے شروع سے دونوں بيٹوں کی خوشی کے لئے کچھ بھی کرنے کو ہر دم تيار۔ ايسے ہی تو اس نے وليہ سے حال دل نہيں کہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ياور اسکا ساتھ ديں گے۔
"اسکی شادی ہونے والی ہے" دارم کی بات پر وہ بھونچکا رہ گئے۔
"يہ کب ہوا؟"
"پچھلے ماہ اسکی منگنی تھی اور اب چند دنوں ميں شادی ہونے والی ہے۔" دارم کی بات پر وہ خاموش رہ گۓ۔
"تم نے اسے کيوں نہيں بتايا"
"سب بتايا تھا۔ وہ نہيں مانتی۔ نہ اسکی امی۔ ميں بس اسکی خوشی ميں خوش رہنے کی کوشش کررہا ہون" اس نے بے بسی سے کہا۔
وہ اسے کيا تسلی ديتے۔
_________________________
"اس لڑکی کا کيا بنا" وہ آج پھر سے اپنے خاص بندے سے پوچھ رہا تھا۔
"باس منگنی ہوگئ ہے۔ چند دنوں بعد شادی ہے" اس کی بات پر وہ دانت پيس کر رہ گيا۔
"منحوس اتنی دير سے کيوں بتايا۔ اٹھوا اسے ۔۔ موقع ملتے ہی وہ ميرے پاس ہونی چاہئے۔
کرواتا ہوں ميں اسکی شادی۔۔ گالی)" اسکی پھنکار پر دوسری جانب اس کا خاص بندہ کانپ کر رہ گيا۔
"کچھ دنوں ميں وہ ميرے پاس نہ ہوئ۔ تو تو جانتا ہے کہ ميں تيرے ساتھ کيا کروں گا" اسکی بات پر وہ ہونٹوں پر زبان پھير کر رہ گيا۔
"جی جی باس ۔۔ جيسے ہی وہ اب اکيلی نظر آئ ۔۔ ميں اپنا کام کرلوں گا" وہ جلدی سے بولا۔
"گڈ" قہقہہ لگاتے اس نے فون بند کرديا
___________________
سائرہ نے آج اسے دکان پر نہيں جانے ديا تھا۔ کيونکہ اسکی ساس نے اسے ساتھ لے جاکر وليمہ کا ڈريس پسند کرنا تھا۔
"تم تيار ہو جاؤ وہ کچھ دير ميں آتی ہوں گی" وليہ نے ماں کی بات پر ہولے سے سر ہلايا۔ اور کپڑے بدلنے اٹھ کھڑی ہوئ۔
کمرے ميں آکر ابھی وہ کپڑے نکال ہی رہی تھی کہ باہر سے دروازہ کھٹکنے اور پھردلاور کی امی کی آواز آئ۔
تھوڑی دير بعد آوازيں اونچی ہونے لگيں جيسے وہ لڑ رہی ہوں۔
وليہ حيران ہوتی باہر آئ۔
"بھابھی اگر وليہ اور اسکے باس کے بيچ کچھ تھا تو آپ کو پہلے بتانا چاہئيۓ تھا۔ آپ جانتی ہيں آپا نے کس قدر بے عزتی کی ہے ہماری" وليہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ وہ کيا کہہ رہی ہيں۔
"بھابھی ايسا کچھ نہيں ہے ميری وليہ ايسی نہيں ہے" سائرہ نے وضاحت دی۔
"ہميں بھی يہی گمان تھا۔ مگر افسوس" انہوں نے کاٹ دار نظروں سے کمرے کے دروازے ميں کھڑی وليہ کو ديکھ کر کہا،
"پاگل تو نہيں ہے نا وہ لڑکا جو انہيں فون کرکے اپنی محبت کے قصے سنا رہا ہے۔ آخر اسی کے ساتھ کام کرتی ہے۔ راتوں رات اس نے دکان بھی بنوا دی اسے۔ اور کام بھی دينے شروع کردئيے آخر کوئ ايسے ہی تو اپنا پيسہ نہيں لٹاتا" وليہ حيران پريشان ان کے الزام سن رہی تھی۔
"فون ۔۔ لڑکا۔۔ محبت" سب گڈ مڈ ہوگيا۔ اسی لمحے دروازہ پھر بجا۔
يمنہ اور مصطفی جو وليہ کے ساتھ دروازے ميں کھڑے سب سن رہے تھے۔ دروازے کی جانب بھاگے۔
مصطفی نے دروازہ کھولا تو دلاور غصے ميں بھرا اندر آيا۔
وليہ اسکی جانب بڑھی۔
"ميں شہزاد کو پہلے ہی کہتا تھا يہ بندہ مجھے ٹھيک نہيں لگتا۔ کر ديا نہ اس نے اپنا کام" اس کا بھی لہجہ ماں کی طرح چبھتا ہوا تھا۔
"ہوا کيا ہے۔۔ مجھے تو کچھ سمجھ نہيں آرہی" وليہ بے بسی سے بولی۔
"آپکے ان ہمدرد نے فہد بھائ کو فون کرکے يہ کہا ہے کہ آپ اور وہ ايک دوسرے کو پسند کرتے ہيں لہذا وہ اس رشتے سے انکار کريں" وہ ايک ايک لفظ چبا چبا کر بولا۔
وليہ کو لگا اسکے سر پر آسمان گر پڑا ہو۔ وہ پھٹی پھٹی نظروں سے دلاور کی جانب ديکھ رہی تھی۔
دارم يہ کيسے کرسکتا تھا۔ اتنا بڑا ظلم۔۔وليہ سر پکڑ کر کھڑی تھی۔
"اب آپا کی طرف سے انکار ہے" شمع غصے سے پھنکارتيں دلاور کو لے کر چلی گئيں۔
"وليہ" سائرہ نے ملامتی نظروں سے وليہ کو ديکھا۔
"اماں يقين کريں ايسا کچھ نہيں تھا۔ آپ۔۔ آپ مجھے جانتی ہيں ميں ايسی نہيں ہوں" اس نے تو محبت کی قربانی دے دی تھی۔ پھر دارم نے اسے کيوں روندھا۔۔۔ کيوں دنيا کے سامنے يوں ذليل و رسوا کيا۔
_______________
Ep: 12
"ہيلو باس سب انتظامات پورے ہيں" اس وقت وہ اپنے مخصوص کلب ميں موجود تھا جس وقت منظر کا فون آيا۔ وہ تيزی سے اپنے بازوؤں ميں جھولنے والی مشہور ماڈل گرل کو پيچھے دھکيل کر فون سننے باہر کی جانب بڑھا۔
"احتياط کرنا اسکے گھر کے پاس سے مت اٹھوانا۔ اسکے عاشق نے اسکے گھر کے باہر پہرے لگوائے ہيں۔ ہميں بے وقوف سمجھتا ہے۔۔ جيسے ہميں نہيں معلوم کے سادہ لباس ميں پوليس اس کے گھر کو گھيرے ہوۓ ہے۔ بس کسی اور جگہ پر شب خون مارنا" ايک ہاتھ سے اپنی گھنی داڑھی اور مونچھوں پر ہاتھ پھيرتا وہ زہر خند لہجے ميں بولا۔
"جی باس ميں اس بات کا خاص اہتمام کروں گا" اسکی بات پر دوسری جانب ہميشہ کی طرح جی حضوری کی گئ۔
"اسے لے کر ميرے فارم ہاؤس پہنچنا سيدھا" اسکی بات پر پھر سے دوسری جانب سے اچھا جی کی گردان ہوئ۔
"کل ملتے ہيں۔۔ ميری چڑيا کے سنگ" مکاری سے ہنستے اس نے فون بند کيا۔
ايک بار وہ کسی کام سے اس علاقے کے کونسلر سے ملنے گيا تھا۔
وہ علاقے کا وزٹ کروا رہا تھا۔
وہيں وليہ کے گھر کے سامنے سے گزرتے اسکی نظر جونہی چھت پر پڑی۔
اس پری چہرہ کو ديکھتے ہی وہ تو مانو پاگل ہوگيا۔ اگلے دن ہی اس کا سب پتہ کروايا۔
بھتہ خوری کا ڈر بھی جان بوجھ کر بٹھايا۔ اس کے خيال ميں تھا کہ اسکے ساتھ کام کرنے والے لڑکے نہيں مانيں گے۔
اور وہ اسی پاداش ميں وليہ کے گھر جا کر اسے اٹھوا لے گا۔
مگر وہ اس بات سے انجان تھا کہ دارم جيسا بندہ اس معاملے ميں کود پڑے گا۔
اس کے اثر و رسوخ سے وہ اچھے سے واقف تھا۔ اسی لئے بڑے سبھاؤ سے معاملہ لے کر چلنا چاہتا تھا۔ دارم کا جھکاؤ وليہ کی طرف وہ محسوس کرگيا تھا۔ يکدم اسکے گھر تک وليہ کا چلے جانا يقينا دال ميں کچھ کالا تھا۔
ليکن وليہ کے ايک دم سے رشتہ جڑنے کی خبر نے اسے مزيد صبر سے چلنے نہيں ديا۔
اب وہ جلد از جلد وہ سب کرنا چاہتا تھا جو وہ نجانے کتنی بے کس اور مجبور لڑکيوں کے ساتھ کر چکا تھا۔
اپنے عہدوں پر اکڑنے والے ايسے درندے ہمارے معاشرے کے لئے ناسور سے کم نہيں۔ مگر افسوس کے يہ ہمارے درميان بڑے فخر اور عزت سے رہتے ہيں جبکہ دوسروں کی عزتوں کے ساتھ کھيل کر يہ نجانے کس کالے قانون کے تحت آزاد پھرتے رہتے ہيں۔
___________________
"تم کہاں جارہی ہو اس وقت" اسے چادر لپيٹے اور بيگ کندھے سے لٹکاتے ديکھ کر وہ جو کچن سے نکل کر اپنے کمرے کی جانب جارہی تھيں، حيران ہوئيں۔
"کچھ کام ہے اماں" وہ سنجيدگی سے بوليں۔
"کوئ ضرورت نہيں اب گھر سے نکلنے کی۔ جتنی بے عزتی ہماری کل ہونی تھی ہوگئ۔ اب کمانے کا خيال دل سے نکالو۔۔ ميں کسی اور سے بات کرکے تمہيں تو اپنے گھر کی کروں۔۔" وہ غصے سے اسے ديکھ کر بوليں۔
رات ميں سواۓ ايک بار ملامتی نظر ڈالنے کے انہوں نے وليہ سے بات ہی کرنی ترک کی ہوئ تھی۔ وہ انہيں وضاحتيں دے دے کر تھک گئ مگر سائرہ نے اسے نظر اٹھا کر نہ ديکھا۔
آخر يمنہ زبردستی اسے وہاں سے اٹھا کر لے گئ۔
"اماں جوتے مار ليں۔ ميری چمڑی ادھيڑ ديں۔ مگر باخدا ميں آپکی خوشی ميں خوش تھی۔ ميں نے دارم کو بڑھاوا نہيں ديا تھا" وہ ايک بار پھر ماں کے قريب آتے بے بسی سے بولی۔
"وليہ ايک عزت ہی تو تھی ہمارے پاس۔۔ کل وہ بھی نہ رہی" انہوں نے پہلا شکوہ کيا۔
"اماں کچھ نہيں ہوا۔ سب ٹھيک ہوجاۓ گا۔ ميں بس تھوڑی دير ميں آتی ہوں۔ شمع خالہ اور فہد کی ماں خود آئيں گی۔ سب صحيح کرنے۔ آپ ديکھنا" وہ ماں کے آنسو صاف کرکے يقين سے بولی۔
"کيوں کيا جادو کی چھڑی ہے تمہارے پاس؟" انہوں نے کاٹ دار لہجے ميں کہا۔
"نہيں۔۔ مگر جس نے سب غلط کيا ہے اب وہی اسے صحيح کرے گا۔ بس گھنٹے تک ميں آتی ہوں۔ پليز اماں اس کے بعد کہيں نہيں جاؤں گی۔ جو آپ کہيں گی وہی کروں گی" اس نے منت بھرے انداز ميں اسے ديکھا۔ نجانے کيوں ان کا دل پريشان ہو رہا تھا۔
"اللہ کرے تم جيسا سوچ رہی ہو ويسا ہو۔ دھيان سے جانا" وہ زيادہ دير اپنا غصہ برقرار نہيں رکھ سکيں۔ وہ تھی بھی تو اتنا احساس کرنے والی۔ وليہ نے سرہلايا۔ منہ چادر سے ڈھانپا اور گھر سے نکل گئ۔
_________________________
گھر سے نکل کر دارم کے آفس کی جانب جانے والی بس پکڑی۔
تمام راستہ وہ مختلف الفاظ ترتيب دے رہی تھی۔ ساری رات وہ کڑھتی رہی تھی۔ وہ اميد نہيں کرسکتی تھی کہ دارم ايسا وار کرے گا۔
"دکھا دی اپنی اميری اور ديکھ لی ميری بے بسی" تمام راستہ اس نے بمشکل آنسو پئے تھے۔ بيگ کو تھپتھپا کر کچھ چيک کيا۔
اسکے آفس کے سامنے بس روکی۔ وہ اتری۔
سر اٹھا کر اس اونچی بلڈنگ کو حقارت سے ديکھا۔
"ميں تمہيں کيا سمجھی تھی اور تم ۔۔۔ تم کتنے بودے نکلے" کل رات دارم کا جو بت اس نے دل ميں تراشا تھا وہ پاش پاش ہوا تھا۔
"غلطی ميری تھی۔ بت تو ہوتے ہی ٹوٹنے کے لئے ہيں۔ کيونکہ تمہارا بت دل ميں سجايا۔ دلوں مين بت نہيں اللہ کی مجت رہتی ہے۔ اور دنيا کی محبت کو دل مين بسانے والے شايد ميری طرح يونہی تہی داماں رہ جاتے ہيں" دل کيا تھا پھوٹ پھوٹ کر روۓ چيخے چلاۓ۔ مگر اسے ابھی مضبوط رہنا تھا۔
من من بھر کے قدم اٹھاتی اندر کی جانب بڑھی۔
اسکی ريسيپشنسٹ وليہ کو جانتی تھی۔
"جی ميم" وہ مسکرا کر بولی۔
"آپکے باس سے ملنا ہے" اسکی بات پر اس نے مسکرا کر سر ہلايا اور دارم کو ايکسٹينشن پر اطلاع دی۔
"ميم آپ سر کے آفس ميں جاسکتی ہيں" وہ مخصوص مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولی۔
مگر وليہ تھوڑا سا بھی مسکرا نہيں سکی۔
خاموشی سے وہ تيسری منزل یکی جانب بڑھی جہاں دارم کا آفس تھا۔ اسکے آفس کے باہر کھڑے ہوتے اس نے گہرا سانس کھينچ کر خود کو ہمت دلائ۔
اگلے ہی لمحے وہ دروازہ دھکيل کر اندر موجود تھی۔
دارم اسے ديکھتے خوشگوار انداز ميں کھڑا ہوا۔
"واٹ آ پليزينٹ سرپرائز" اسکے خوشی سے دمکتے چہرے پر وليہ نے نفرت بھری نظر ڈالی۔
"مگر جو سرپرائز آپ نے کل مجھے ديا تھا وہ پليزينٹ ہر گز نہيں تھا" اسکے چہرے اور لہجے ميں موجود غير معمولی پن دارم کو چونکا گيا۔
"شرم نہيں آئ آپ کو۔۔ يہ محبت ہے آپ کی۔۔ کسی کی زندگی۔۔ اسکی عزت کو پل بھر ميں دو کوڑی کا کر دينا۔۔۔ کيا سوچ کر آپ نے يہ سب کيا۔۔ غريب ہوں مگر بے غيرت نہيں" وليہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے اسکی ميز کےقريب آتے نفرت سے بھرے تير اسکی جانب پھينک رہی تھی۔
"کيا ہوا ہے۔۔ ؟ کہنا کيا چاہ رہی ہيں ميں سمجھا نہيں؟" وہ اسکے انداز پر بے طرح حيران اور اب تو پريشان ہو گيا تھا۔
"آپ بيٹھ کر بات کريں؟" اپنی جگہ سے نکل کر وہ اسکی جانب آيا۔
"بيٹھ کر ۔۔۔ ميں يہاں بيٹھنے اور مذاکرات کرنے نہيں آئ۔ صرف آپ سے پوچھنے آئ ہوں کہ کيا سوچ کر آپ نے اتنی گری ہوئ حرکت کی؟" اس کا تنفر آميز لہجہ دارم کے اعصاب جھنجھوڑ کر رکھ گيا۔
"وليہ مجھے نہيں معلوم آپ کس بارے ميں بات کررہی ہيں" وہ اب کی بار اپنی بات پر زور دے کر اونچی آواز ميں بولا۔
"کيا آپ نے فہد کو فون کرکے ميری اور اپنی سو کالڈ محبت کے راگ نہيں الاپے؟ کيا آپ نے اسے يہ نہيں کہا کہ وہ شادی سے انکار کرے؟ کتنے رنگ ہيں آپ کے۔۔ مجھے محبت کے جال ميں پھنسا کر جب يہ ديکھا کہ ميں عام لڑکيون کی طرح نہيں پھنسی تو اس انداز ميں مجھ سے بدلا ليا ہے آپ نے" اس کا ٹھنڈا ٹھار لہجہ اور الفاظ کوڑے کی طرح دارم پر برس رہے تھے۔
"انف وليہ۔۔۔ ہيو يو گون ميڈ۔۔۔ ميں کيوں کروں گا اس کو فون۔۔" اس نے جھٹلايا۔ دونوں آمنے سامنے کھڑے تھے۔
"تو اسے کيسے آپ کا نام پتہ چلا۔۔ اسے کس نے فون کيا۔ يہ بات تو ايسی تھی کہ مين نے کبھی اکيلے مين خود سے نہيں کی۔۔ تو ۔۔۔ کيوں کيا آپ نے ميرے ساتھ يہ۔۔ کيوں؟" وہ رو پڑی۔۔
"نفرت ہورہی ہے مجھے آپ کے اس حسين چہرے سے اس لمحے۔۔ جانتے ہيں۔۔ کيا حال ہوا ہے ہمارا کل سے اب تک۔۔ لوگ آ کر ميری عزت کو تار تار کررہے ہيں۔ ميری ماں کو باتيں سنا رہے ہيں۔۔ ميں نے آپ کا کيا بگاڑا تھا۔۔" چہرہ ہاتھوں ميں لئے وہ بے بسی سے رو پڑی۔
"فار گاڈ سيک وليہ ميں نے ايسا کچھ نہيں کيا۔۔ ميں ايسا سوچ بھی نہيں سکتا" دارم اسکے قريب آيا۔ اسکی خوشبو قريب محسوس کرکے اس نے چہرے سے سرعت سے ہاتھ ہٹا کر دو قدم پيچھے لئے۔
"خبردار ۔۔۔ خبردار جو آپ ميرے قريب آۓ۔۔۔ دل نہيں بھرا ابھی مجھ سے بدلہ لے کر۔۔۔ اب اپنی ہوس بھی پوری کرنا چاہتے ہيں" اسکے الفاظ تھے کہ کوئ ہتھوڑا۔
"شٹ اپ جسٹ شٹ اپ۔۔۔ تم ۔۔ تم اس قابل نہيں تھيں کہ ميں تم سے محبت کرتا۔ اپنے اتنے سچے جذبے تمہارے نام کرتا۔۔ ہاں کی تھی ميں نے کال۔۔ کيا کرلوگی۔۔ بولو" اس کا چہرہ غصےسے سرخ ہو چکا تھا۔ لہجے ميں تيزی آچکی تھی۔ خون آشام نظروں سے وہ وليہ کو ديکھا رہا تھا جس کی آنکھوں ميں بے يقينی در آئ تھی۔ اسے کسی قدر اميد تھی کہ شايد يہ دارم نہ ہو۔ مگر اسکے يوں مان جانے پر وہ حيران اور ساکت نظروں سے اسکی جانب ديکھ رہی تھی۔
"مجھے اپنی محبت پہ آج افسوس ہے۔۔" دارم نے ملامتی نظروں سے اسکی جانب ديکھا۔ پھر بڑھا کر آفس کا دروازہ وا کيا۔
"تمہاری ناقص عقل کے مطابق اس سے پہلے کہ ميں تمہيں اپنی ہوس کا نشانہ بناؤ۔۔ تم چلی جاؤ يہاں سے۔۔ ہميشہ افسوس رہے گا کہ ايک کم ظرف کے لئے ميں نے دل ميں جگہ بنائ" اب کے دارم کے لہجے کی کاٹ وليہ کے لئے سننا مشکل ہوگئ۔
"ميں تب تک يہاں سے نہيں جاؤں گی۔ جب تک آپ دوبارہ فہد کو فون کرکے اس سےنہ معافی مانگيں اور ميری پوزيشن نہ کلئير کريں" وہ اٹل انداز لئے وہيں کی وہيں جمی رہی۔
"نہيں کرتا ميں کال۔۔ کيا کرلوگی۔ہاں" وہ دروازہ ايک دھماکے سے بند کرتا پھر اسکی جانب آيا۔
"پھر کم ظرف ميں نہيں آپ ہيں۔۔ کس روح کے رشتے کی بات کی تھی۔ آپ جيسے امير زادے ہوتے ہی ايسے ہيں۔ محبت کے ہجوں سے ناواقف اور ہوس کی کتابيں رٹے ہوۓ۔۔ مگر اللہ انصاف کرے گا" وليہ ايک بار پھر اسے لعن طعن کرنے لگی۔
"سٹاپ اٹ" اب کی بار دارم کی دھاڑ پر وہ سہم گئ۔
"نکلو يہاں سے" اس کا بازو غصے سے اپنے ہاتھ کے شکنجے ميں جکڑے اسے لئے وہ دروازے کی جانب آيا۔ غصے سے اسے باہر دھکيل کر دروازہ بند کرديا۔ وليہ شدت سے رو پڑی۔
خاموشی سے قدم واپس موڑ لئے۔
اندر اپنے آفس ميں بيٹھا دارم غصے سے ہاتھوں کی مٹھياں بھينچۓ ٹيبل پر ہاتھ ٹکاۓ بمشکل وليہ کی باتوں پر غصہ کنٹرول کررہا تھا۔ وہ اسے اتنا گرا ہوا سمجھتی تھی۔ مگر فون ۔ فہد۔۔ يہ سب وہ کيا کہہ رہی تھی۔
اسے سمجھ نہ آئ کس سے پتہ کرے۔ پھر شہزاد کا خيال آيا۔ وہ آج آفس نہيں آيا تھا۔
اس نے فورا سے پيشتر موبائل نکال کر شہزاد کو فون ملايا۔ خود کھڑکی ميں آکھڑا ہوا۔
جہاں سے مين گيٹ کا منظر صاف نظر آتا تھا۔ کچھ دير بعد وليہ وہاں سے نکلتی ہوئ نظر آئ۔ کچھ دير اسے ديکھنے کے بعد اس نے چہرہ موڑ ليا۔ موبائل کان سے لگاۓ چلتا ہوا وہ ميز کے قريب آيا۔
کچھ دير بعد شہزاد نے فون اٹھا ليا۔
"ہيلو سر" شہزاد کی آواز ميں بھی اسے غير معمولی پن لگا۔
"ہيلو۔۔ شہزاد۔۔ وليہ کے گھر کيا ہوا ہے؟" دارم کی بات پر وہ بمشکل ہنکارا بھر کر رہ گيا۔
"سر آپ نے ايسا کيوں کيا؟" شہزاد کے سوال پر اس کا دماغ پھر سے چکرا گيا۔
"يار ميں نے ايسا کيا کيا ہے جو مجھے بھی نہيں پتہ۔ پليز تم ابھی يہ بات چھوڑو کل وليہ کے ہونے والے شوہر کو جو کال آئ۔۔ پليز وہ سب بات مجھے ايسے سمجھ کر بتاؤ جيسے کسی انجان بندے کو بتا رہے ہو۔۔ پليز يار" وہ بے بسی سے بولا۔ اور پھر شہزاد کی ساری بات سن کر وہ سر پکڑ کر رہ گيا۔
"ميرے خدا يار يقين کرو۔۔ ميرا اس معاملے سے کوئ تعلق نہيں۔ ہاں ميں وليہ کو پسند کرتا تھا۔ مگر اس نے مجھے انکار کيا اور ميں نے دوبارہ اس سب کا نام نہيں ليا۔ ميں پاگل ہوں کہ۔۔ اففف" وہ حقيقت ميں چکرا گيا تھا۔ يہ کيا ہوگيا تھا اس بيچاری کے ساتھ۔ اس سے پہلے کے وہ کچھ اور کہتا۔ اسکا گيٹ کيپر عجلت ميں آفس ميں داخل ہوا۔
"سر جی۔۔ سرجی وہ جو بی بی يہاں آئيں تھيں۔ انہيں کوئ وين اغوا کرکے لے گئ ہے" اسکی بات پر دارم کا دماغ بھک سے اڑ گيا۔
"کيا ہوا ہے سر؟ " دوسری جانب شہزاد پريشان ہوا۔
"کچھ نہيں ميں بعد ميں بات کرتا ہوں" دارم نے عجلت مين فون بند کيا۔
"تم وہاں کھڑے کيا کررہے تھے" وہ غرايا اس پر۔
"سر ميں نے گولی ماری بھی مگر وہ چار بندے تھے۔ بی بی کو ڈال کر فٹا فٹ لے گۓ۔ مگر مين نے گاڑی کا نمبر نوٹ کر ليا ہے" وہ تيزی سے بولا۔ اتنی ہی تيزی سے دارم نے صفی کا نمبر ملايا۔
"ہيلو صفی ۔۔۔ کچھ لوگ ميرے آفس کے باہر سے وليہ کوکڈنيپ کرکے لے گئے ہيں۔" اسکی بات سن کر صفی اللہ بھی پريشان ہوا۔
"گاڑی کا نمبر ميرے گن مين نے نوٹ کرليا ہے" کہتے ساتھ ہی دارم نے فون اسے پکڑايا۔
"نمبر بتاؤ" فون اسے پکڑا کر وہ سر پکڑ کر بيٹھ گيا۔
"يہ ليں سر" دارم نے اسے جانے کا اشارہ کيا۔
"ہاں صفی۔" اسکی آواز کی پريشانی اس سے چھپی نہ رہ سکی۔
"تم فکر مت کرو۔ مجھے لگتا ہے يہ شمس سومرو کا کام ہے۔ گاڑی کا کنفرم ہوجاۓ کہ اسی زير تصرف ہے تو اسکے اڈوں پر ريڈ کرواتا ہوں"
"پليز يار۔۔ وليہ کو کچھ نہ ہو" دارم کے لہجے مين بے بسی تھی۔
"اس کا ايک فارم ہاؤس ميرے فارم ہاؤس کے پاس بھی ہے وہاں بھی چيک کرو۔۔ پليز جلدی۔ اس پر آنچ نہ آئے" دارم کا بس نہيں چل رہا تھا کسی طرح اسے ڈھونڈ نکالے۔
"تم فکر مت کرو۔۔"
"ميں تمہارے پاس آرہا ہوں" دارم يک دم گاڑی کی چابی اٹھاتے اٹھا۔
"اوکے آجاؤ" صفی نے اسے منع نہيں کيا۔
_______________________
وہ غم سے نڈھال دارم کے آفس سے باہر نکل کر بے دلی سے اپنی مطلوبہ بس کا انتظار کررہی تھی کہ ايک کالے شيشوں والی کالی ہی وين اسکے قريب آئ۔ اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتی چار نقاب پوش اس ميں سے باہر نکلے۔
وليہ ڈر کے پيچھے ہوئ مگر ان ميں سے ايک نے اسے کچھ سوچنے کا موقع نہ ديا۔ رومال والا ہاتھ آگے بڑھا کر ايک ہاتھ سے اس کا بازو پکڑا اور ايک ہاتھ سے رومال اسکے منہ پر رکھا۔ وہ اس کی گرفت ميں مچل کر رہ گئ۔ باقی تينوں نے پھرتی سے اسے اندر گھسيٹا۔
دارم کے آفس کے باہر کھڑے گيٹ کيپر نے گولی چلائ مگر وہ صاف بچ کر تيزی سے گاڑی ميں بيٹھ کر نکل گۓ۔
"اوۓ خبيثو۔۔ چھوڑو بچی کو" مگر اسکی چيخ و پکار بے سود تھی۔
اس نے دور ہوتی گاڑی کا نمبر ذہن نشين کيا اور اندر کی جانب بھاگا۔
__________________
جس لمحے اسے ہوش آيا وہ بيڈ پر چت ليٹی تھی۔ سر اور آنکھيں شديد بھاری ہورہے تھے۔ آنکھيں پہلے آہستہ سے کھوليں اور پھر آس پاس کا منظر ديکھ کر پٹ سے کھل گئيں۔
وہ تيزی سے اٹھ بيٹھی۔ کسی لگژری گھر کا وہ کمرہ وليہ کو پريشان کر گيا۔ اسے ياد آيا اسکے ساتھ قسمت نے ايک اور ستم ظريفی کر دی ہے۔
اس کا ذہن کہيں اور نہيں اب بھی دارم کی جانب گيا تھا۔
"افففف۔۔۔ اور کتنا گرے گا يہ شخص" وہ نفرت سے سوچ کر رہ گئ۔
"مگر يوں اٹھوالينا" وہ تيزی سے بيڈ سے اٹھ کر دروازے کی جانب بڑھی۔ زور زور سے ہينڈل پکڑ کر بجايا مگر بے سود۔ وہاں سے نظر کھڑکی پر پڑے دبيز پردوں پر پڑی۔ تيزی سے اسکی جانب بڑھی مگر وہ بھی بند۔۔ اور باہر شام کے ساۓ گہرے ہو رہے تھے۔
وہ بے بسی سے رو دينے کو تھی۔
"يا اللہ مجھے نہيں معلوم تھا وہ شخص ايسا نکلے گا۔ ميں نے غلط نيت نہيں رکھی تھی۔ ميں تو تيری رضا ميں راضی ہو گئ تھی۔ پھر يہ سزا کيوں" وہ روتے ہوۓ وہيں بيٹھتی چلی گئ۔
يکدم کچھ ياد آنے پر ادھر ادھر ديکھا۔ صوفے پر اس کا بيگ موجود تھا۔
جلدی سے اسے کھولا تو اس ميں موبائل ندارد تھا۔ وہ پھر سے رو دی۔
پھر کچھ ياد آنے پر اندر ايک خفيہ جيب کو کھنگالا۔۔ اور تيزی سے ہاتھ مارا تو وہ چاقو وہيں موجود تھا۔ جلدی سے نکال کر اسے اپنی چادر کے دوپٹے ميں گرہ ميں باندھ ديا۔ وہ اتنا چھوٹا سا تھا کہ کسی کو شک بھی نہ ہوتا اور وہ آرام سے اسکی چادر کی گرہ ميں بھی آگيا۔
اسی اثناء مين دروازے کے پاس ہلچل ہوئ۔ وہ سيدھی ہو کر بيٹھ گئ۔
دروازے کا لاک کھلا۔
ايک ڈيل ڈول والا غنڈہ سا اندر داخل ہوا۔ اسکے ہاتھ ميں کھانے کی ٹرے تھی۔
"يہ لے اور کھا" اسکے سامنے ٹيبل پر کھانا رکھ کر وہ بدتميزی سے بولا۔
"کون ہو تم لوگ اور کيوں لاۓ ہو يہاں؟" وہ خود کو کمپوز کرتی بيگ پر گرفت مضبوط کرکے بولی
"زبان کم چلا۔۔۔ چپ کرکے کھا اسے" وہ کرختگی سے بولا۔
"کيوں اغوا کيا ہے مجھے۔۔ کہاں ہے تمہارا سرغنہ" وہ چلائ۔
اس کے انداز پر اس غنڈے نے وليہ کا منہ زور سے اپنے ہاتھ ميں لے کر گرفت سخت کی۔
"اگر سومرو سر کی ہدايت نہ ہوتی تو تيرے اس حکميہ انداز پر ان سے پہلے ميں تيرے ہوش ٹھکانے لگا ديتا۔ ليکن پہلے وہ تجھے خراج بخشيں گے پھر ہماری باری آۓ گی" اسکی بات پر وليہ کے اوسان خطا ہوگۓ۔ اسکے ہاتھ ميں موجود اپنے چہرے پر اسکی سخت گرفت کی تکليف وہ بھول گئ۔
مگر اسکی نظروں ميں جو ہوس جاگی وہ وليہ کو منجمد کرگئ۔
"يہ دارم نہيں کوئ اور تھا۔" اسکے منہ سے کسی سومرو کا نام سن کر وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسکے ديکھ کر رہ گئ۔ ايک جھٹکے سے اس نے وليہ کا منہ چھوڑا۔
"اسے کھا۔۔ مر۔۔۔ ميں دس منٹ ميں آؤں تو يہ سب ختم ہو۔ سومرو سر کا آرڈر ہے۔ ورنہ وہ تھوڑی دير تک آکر تيرا دماغ سيدھا کرديں گے۔" وہ آنکھيں نکالتا وہاں سے چلا گيا۔
"يا اللہ يہ کون ہيں۔۔ کہاں پھنس گئ" وہ سر پر ہاتھ رکھ کر پريشان ہو گئ۔
____________________________
Ep: 13

Very Soon 

 

♥ Download More:

⇒ Areej Shah Novels

⇒ Zeenia Sharjeel Novels

  Sidra Shiekh Novels

⇒ Famous Urdu novel List

⇒ Romantic Novels List

⇒ Cousin Rude Hero Based romantic  novels

 

 

آپ ہمیں آپنی پسند کے بارے میں بتائیں ہم آپ کے لیے اردو ڈائجیسٹ، ناولز، افسانہ، مختصر کہانیاں، ، مضحکہ خیز کتابیں،آپ کی پسند کو دیکھتے ہوے اپنی ویب سائٹ پر شائع کریں  گے

Copyright Disclaimer:

We Shaheen eBooks only share links to PDF Books and do not host or upload any file to any server whatsoever including torrent files as we gather links from the internet searched through world’s famous search engines like Google, Bing etc. If any publisher or writer finds his / her book here should ask the uploader to remove the book consequently links here would automatically be deleted.

Leave a Comment