The Beast By Areej Shah | Read Online The Beast Novel By Areej Shah

The Beast By Areej Shah is the latest episode-wise novel,  Areej shah is one of the best famous Urdu novel writer.  The Beast By Areej Shah Although it is much the latest, even though it is getting very much fame. Every novel reader wants to be in touch with this novel. The Beast By Areej Shah is a Forced Marriage and rude hero based novel that our society loves to read.

The Beast By Areej Shah is the latest episode-wise novel,  Areej shah is one of the best famous Urdu novel writer.  The Best Novel By Areej Shah Although it is much the latest, even though it is getting very much fame. Every novel reader wants to be in touch with this novel. The Best By areej Shah is a Forced Marriage and rude hero based novel that our society loves to read.

The Beast By Areej Shah 

The Beast by areej shah

Areej Shah has written many famous  Romantic novels that her readers always liked. Now she is trying to instill a new thing in the minds of the readers. She always tries to give a lesson to her readers, so that a piece of writing read by a person, and his time, of course, must not get wasted.

The Beast Novel By Areej Shah

The Beast By Areej Shah Complete Novel you can Read Online & Free Download, in this novels, fight, love, romance everything included by the writer. there are also sad moments because happiness in life is not always there. so this novel is a lesson for us if you want to free download The Beast By Areej Shah pdf to click on the link given below,

The Beast By Areej Shah Pdf 

 

↓ Download  link: 

If the link doesn’t work then please refresh the page.

The Beast Novel by Areej Shah PDF Ep 1 to 34

 

 

Read Online The Beast By Areej Shah

وہ یہاں پہنچ چکا تھا اسے بے دردی سے ایک تہہ خانے میں پھینک دیا گیا جہاں پہلے ہی کچھ لوگ موجود تھے یہ تین کمرے تھے اسے سمجھنے میں زیادہ دیر نہیں لگی کہ یہ بھی ایک جیل تھی ایک کمرا بالکل خالی تھا جبکہ دوسرے کمرے میں چار شخص ماجود تھے اور تیسرے کمرے میں دو شاید اسی کی عمر کے لڑکے ۔
اسے اسی بچوں والے کمرے میں پھینک دیا گیا ۔ایک لڑکا بالکل خاموش تھا جب کہ دوسرا اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔جبکہ ایک سائیڈ دیوار کے ساتھ لگ کے بیٹھا تھا جبکہ دوسرا دوسری دیوار کے ساتھ وہ بھی خاموشی سے تیسری دیوار کے ساتھ اپنی جگہ بناتا بیٹھ کر انہیں دیکھنے لگا
پھر ان میں سے ایک لڑکا ذرا سا مسکرایا اس کے انداز سے سمجھنا مشکل نہ تھا کہ وہ ان دو لڑکوں کی طرح عام لڑکا نہیں بلکہ ایک خواجہ سرا ہے اس کے مسکرانے پر وہ بھی مسکرا دیا
جب کہ دوسرا لڑکا انتہائی سنجیدگی سے زمین کے کسی کونے کو گھور رہا تھا ۔توتو بڑا پیارا ہے یہاں کیسے آیا ۔۔۔!اسی لڑکے نے سوال کیا
وہ لوگ اس وقت جہلم کی ایک جیل میں تھے کل ان سب کو اڈیالہ شفٹ کیا جا رہا تھا یہ تقریبا سات لوگ تھے جو قتل اور ایسے ہی بڑے بڑے گناہوں کی سزا پانے اپنے مقام پر جا رہے تھے
میں نے قتل کیا ہے وہ ٹھہر کر بولا لہجے میں انتہا کی نفرت تھی جب کہ اس کے اس بار بولنے پر دوسرا بچہ بھی اسے دیکھ کر ذرا سا مسکرایا ۔
ہائے ہائے کس کا قتل کیا ہے تو نے وہ بچہ تقریب بھاگتے ہوئے اس کے پاس آ بیٹھا جبکہ دوسرا لڑکا بھی شاید اس کے جواب کا منتظر تھا
اپنی ماں اور چچا کا اس نے جواب دیا ۔
بچہ بتائے گا کیا۔ ۔۔! لڑکے نے پوچھا ۔
جب اس نے نا میں سر ہلایا ۔
تم یہاں کیسے آئے اس نے اس بچے سے پوچھا
میرے ابانے مجھے گھر سے نکال دیا وہ کہتا ہے کہ میں اس کا بچہ نہیں ہوں میری ماں مجھ سے بہت پیار کرتی تھی لیکن چھپا کے رکھتی تھی سب سے اور پھر ایک دن ابا نے مجھے بہت مار کر گھر سے باہر نکال دیا ایک بڑے صاحب نے مجھے اپنے ساتھ کام پر رکھا مجھے کھانے کے لیے بہت پیسے بھی دیئے لیکن نہ جانے کیوں چھوٹے سے پیکٹ میں آٹا بنا کر میری جیب میں آٹا ڈال دیا لیکن وہی آٹا
جب پولیس والوں نے دیکھا مجھے بہت مارا اور جیل میں ڈال دیا میں نے کچھ نہیں کیا وہ بچہ اگلے ہی لمحے پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے اپنی حقیقت بیان کرنے لگا اسے اس پر ترس سا آنے لگا تھا ۔
کیسے کسی نے اپنے مطلب کے لئے اس کا استعمال کیا تھا ۔
اور تم یہاں کیوں آئے ہو وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اسے مخاطب کر بیٹھا ۔
میں نے اپنے باپ کو مار ڈالا لیکن فکر نہ کر وجہ تیرے والی نہیں تھی وہ مسکراتے ہوئے بولا جب کہ نہ جانے کیوں اس کی مسکراہٹ اس بچے کو شرمندہ کر گئی تھی وہ کیسے جان گیا تھا وجہ کہ اس نے اپنے ماں اور چچا کا قتل کیوں کیا ۔
تم لوگ کتنے دنوں سے یہاں ہو۔۔۔!وہ اس بچے کو نظر انداز کرتے ہوئے دوسرے سے پوچھنے لگا
ہم تو چار دن سے یہاں ہیں آج کوئی دوسرا صاحب آنے والا تھا نئے قیدیوں کے ساتھ ہم اس کے ساتھ کل اڈیالہ والی جیل میں جائیں گے ۔
مطلب جو صاحب ہمارے ساتھ آئے ہیں ان کے ساتھ ہم لوگ صبح جائیں گے اس نے پھر سے سوال کیا جس پر بچے نے ہاں میں سر ہلا دیا
پھر وہ بچہ بھی اسی کے ساتھ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا دوسرے بچے کو تو اس نے پھر دیکھنے کی بھی غلطی نہیں کی تھی عجیب پرسرار سا لڑکا تھا
°°°°°°°°
کتنے لوگ ہیں جیل میں افسر نے پوچھا ۔۔۔۔
سر سات لوگ ہیں صبح انھیں دوسری جیل میں شفٹ کر دیا جائے گا
کوئی عورت ہے بڑے صاحب کے پوچھنے کا انداز ایسا تھا کہ سامنے والا بات کی گہرائی تک پہنچ گئے
جی نہیں سرچار مردہیں تین بچے ہیں ۔وہ اس نے فوراً جواب دیا ہے اسے ایسے مرد اچھے نہ لگتے تھے جو ان قیدیوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے تھے نہ جانے کتنی ہی معصوم عورتیں اور لڑکیاں اس جیل سے دوسری جیل جانے سے پہلے اس شخص کے سامنے برباد ہو چکی تھی ۔
کیا یار موڈ خراب کر دیا کوئی لڑکی عورت نہیں ہے کیا ۔۔۔! اس نے پھر سے سوال کیا
نہیں صاحب کوئی عورت نہیں ہے کوئی لڑکی نہیں ہے تین بچے ہیں اور چار مرد ہیں
لیکن میں نے تو سنا تھا کہ ایک خواجہ سرا بھی ہے ان سب میں اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا اور اس کے انداز پر افسر کا دل چاہا کہ اس کا منہ توڑ سے
صاحب وہ بچہ ہے وہ نہ چاہتے ہوئے بھی بولا ۔
ہاں اس بچے کو لے آؤ وہی تیسرے کمرے میں کون ہے اس کا پوچھنے والا وہ اٹھتے ہوئے بولا جبکہ افیسر کانپ کر رہ گیا ۔
صاحب بچہ ہے مر جائے گا وہ جانتا بھی نہیں ہے کہ آپ کیا کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں وہ اس کے پیچھے آتے ہوئے التجاً بولا تھا ۔
مرتا ہے تو مر جائے کون ہے اس کا پوچھنے والا خواجہ سرا ہے ان کا کوئی نہیں ہوتا وہ بچوں والے کمرے میں آیا جہاں وہ تینوں سونے کے لئے لیٹے ہوئے تھے
وہ ایک ہی سیکنڈ میں سمجھ چکا تھا کہ ان تینوں میں وہ الگ بچہ کون ہے وہ اگلے ہی لمحے اسے بازو سے پکڑ کر تے ہوئے تقریبا اپنے ساتھ لے گیا
جبکہ اپنے پر ہونے والے اس اچانک حملے پر وہ بچہ نہ چاہتے ہوئے بھی چیخ اٹھا اور اس کی چیخ کے ساتھ سارے قیدی جاگ چکے تھے
کہاں لے کر جا رہے ہو اسے چھوڑ دو اس کو صاحب وہ بھاگتے ہوئے اس کے پیچھے آیا اے چل دروازہ لاک کر وہ چلاتے ہوئے اسے گھور کر بولا
اور دوسرا افسر نہ چاہتے ہوئے بھی دونوں دروازہ لاک کر چکا تھا اور پوری ہی دیر میں تیسرے کمرے سے آنے والی درد ناک چیخوں کی آواز نے ان کے رونگٹے کھڑے کر دیے تھے
°°°°°°°°
سنو کیا وہ لوگ اسے مار رہے ہیں اس کی درد ناک چیخوں کی آواز کافی دیر تک آتی رہی اور پھر خاموشی چھا گئی
نہیں ۔۔۔وہ ایک لفظی جواب دیتے ہوئے خود پر کمبل لیتے ہوئے بولا
تو پھر وہ چیخ کیوں رہا ہے اس نے پھر سے سوال کیا ۔اور دوسری جیل کی سب لوگ توبہ توبہ کیوں کر رہے ہیں شاید اس کی خاموش رہنے کا کوئی ارادہ نہ تھا لیکن سامنے لیٹا بچہ اس کے سوالوں سے پریشان ہو چکا تھا
تھوڑی دیر میں لے آئیں گے اسے یہاں پر اگر زندہ ہوا تو پوچھ لینا وہ کروٹ لیتے ہوئے بولا جبکہ اس کے کروٹ لینے کے بعد اب وہ اس بچے اور پولیس والے کا انتظار کر رہا تھا
اور اس کے کہنے کے مطابق تھوڑی ہی دیر بعد وہ اس بےجان وجود کو جیل کے اس کمرے میں پھینک کر چلے گئے۔
وہ بے چینی سے اسے دیکھ رہا تھا نہ تو وہ سن رہا تھا اور نہ ہی بات کر رہا تھا نہ جانے اسے کیا ہوا تھاوہ اس کے قریب بیٹھا اس سے بات کرنے کی کوشش کرنے لگا
سنو وہ مر رہا ہے بچاؤ اسے وہ لوگ اسے پھینک کر چلے گئے ہیں وہ نہ چاہتے ہوئے بھی دوسرے بچے کو اٹھانے لگا تو میں کیا کروں مرتا ہے تو مر جائے مجھے کیوں تنگ کر رہے ہو وہ اپنا ہاتھ جھٹکتا اس سے دور ہوا
تم انسان نہیں ہوکیا اس کا حال دیکھو ۔وہ ایک بار پھر سے جگانے کی کوشش کرنے لگا جب اس نے اٹھ کر آگے پیچھے دیکھا اس بچے کو دیکھنے کے بجائے وہ ہر طرف دیکھ رہا تھا
یہاں سے بھاگنا چاہتے ہو ۔۔۔۔! اس نے سوال کیا ۔۔
کیا تم اسے بچانے میں میری مدد کرو گے اس کے سوال کے جواب میں بھی ایک سوال آیا تھا ۔۔۔
اس کی زندگی کو چھوڑو اپنی زندگی کے بارے میں سوچو اگر زندہ بچنا چاہتے ہو تو یہاں سے بھاگ چلتے ہیں میں پچھلے چار دن سے یہاں سے ایک راستہ نکال رہا ہوں اور کامیاب ہو گیا ہوں تمہیں پتا ہے ہمیں اس جیل میں کیوں رکھا جاتا ہے کیونکہ ہم بچے ہیں ہم سمجھ نہیں سکتے کہ یہاں سے باہر جانے کا ایک راستہ ہے اس نے کمرے کے کونے کی طرف اشارہ کیا جہاں پانی کا ایک مٹکا رکھا گیا تھا
کیا وہاں یہاں سے باہر نکلنے کا راستہ ہے کیا اس کی جان بچ سکتی ہے وہ بے چینی سے پوچھنے لگا جبکہ سامنے کھڑے لڑکے کا دل چاہا کہ اس لڑکے کو جان سے مار دے وہ اس کی زندگی بچانے کے بارے میں سوچ رہا تھا اسے آزادی دینے کے بارے میں سوچ رہا تھا جبکہ اس سے صرف اور صرف اس لڑکے کی زندگی کی پڑی تھی
میں تمہارے بارے میں بات کر رہا ہوں یہ یہی پر رہے گا یہ ہمارے ساتھ بھاگنے کے قابل نہیں ہے اور ویسے بھی اب یہ افسر کی نظر میں آ چکا ہے مجھے نہیں لگتا کہ وہ اسے یہاں سے سینٹرل جیل جانے دے گا ہمیں یہاں سے نکلنا چاہیے ہمارے پاس یہاں سے بھاگنے کا ایک موقع ہے وہ اسے سمجھا رہا تھا
نہیں میں یہاں سے تب تک نہیں چلوں گا تمہارے ساتھ جب تک تم اس بچے کو ہمارے ساتھ لے کر نہیں جاتے اور ایک اور بات یاد رکھو اگر تم نے یہاں سے بھاگنے کی کوشش کی تو میں اپنے ساتھ ساتھ تمہیں بھی پھسا دوں گا ۔
وہ اسے دھمکی نہیں دینا چاہتا تھا لیکن وہ اتنا سنگدل پتھر دل انسان تھا کہ اسے اس مرتے ہوئے انسان کی پرواہ ہی نہیں تھی اس نے مجبور ہو کر ایسا کہا
میری کوئی ذمہ داری نہیں ہے اگر ہم دونوں کے بھاگنے میں یہ یا تم مارے گئے تو یہ امید مت رکھنا کہ میں بچانے آؤنگا اور راستہ کھولتے ہوئے بولا ۔
جبکہ اس کے مان جانے پر اگلے ہی لمحے کمبل اس بچے پر ڈالتے ہوئے اسے اپنے کندھوں پر اٹھانے لگا ۔
اب جلدی چلو کیا ساری زندگی یہی کھڑے رہنے کا ارادہ ہے وہ انتہائی غصے سے گھورتے ہوئے بولا کہ اس کے دھاڑنے پر وہ فورا اس کے پیچھے بھاگتے ہوئے آیا تھا اسے اپنے کندھے پر اٹھا کر بھاگنا اس کے لیے آسان نہیں تھا لیکن وہ اسے یوں مرنے بھی نہیں دے سکتا تھا
°°°°°°°°
یا اللہ جانے وہ بچہ زندہ بھی ہوگا یا مر چکا ہوگا وہ بھاگتے ہوئے جیل میں آیا تھا لیکن یہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا مٹکا ایک سائیڈ پر تھا وہاں سے پردہ ہٹا دیا گیا تھا انسپکٹر فوراآیا اور کمبل اس جگہ سیدھا کرکے مٹکا دوبارہ اسی جگہ پر رکھنے لگا وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ بچے پکڑے جائیں گے ہاں وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ اس ستم گر کا نشانہ ایک بار پھر سے بنے
یا اللہ ان بچوں کی جان کی حفاظت کرنا ۔۔وہ دعائیں مانگتے ہوئے واپس جیل سے باہر جانے لگا
جب باہر لگے ہوئے ایک ٹیلی فون کی گھنٹی کی آواز سنائی دی وہ فورا اس کی طرف آیا دو بچے باہر کی طرف بھاگ رہے تھے جلدی سے سب کو خبر کرو میں ان کے پیچھے جا رہا ہوں باہر کھڑے کانسٹیبل نے کہا
ہاں تم پکڑنے کی کوشش کرومیں سب کو خبر کرتا ہوں اس نے ٹیلی فون واپس اپنی جگہ پر رکھا ہے لیکن کسی کو بھی خبر کیا بنا باہر کی طرف چلا گیا
°°°°°°
جلدی بھاگو تم سے تو بھاگابھی نہیں جا رہا لاؤ اسے میرے کندھے پر رکھو وہ نا چاہتے ہوئے بھی اس پر ترس کھانے لگا
تم اتنے بھی برے نہیں ہوتے جتنے کے بنتے ہو ۔۔۔
بکواس بند کرو ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہے وہ اس کے کندھے سے بچے کو اپنے کندھے پر لیتے ہوئے غصے سے دھارا تھا جبکہ نہ چاہتے ہوئے بھی دوسرا بچہ مسکرا دیا مجھے اپنا نام تو بتا دو
یہاں سے نکلنے کے بعد میرا تم سے اور تمہارے اس دوست سے کوئی تعلق نہیں ہوگا بہتر ہے ہم ایک دوسرے کو اپنے نام بھی نہ بتائیں وہ تیزی سے بھاگتے ہوئے بول رہا تھا جبکہ پیچھے سے حولدار کی آواز آ رہی تھی جسے وہ دونوں اگنور کیے ہوئے تھے
میرا نام آریان ہے اس نے مسکراتے ہوئے بتایا ۔
میں اپنا نام تمہیں نہیں بتانا چاہتا ہوں لیکن اس بیٹری کا نام ٹائر ہوگا ۔وہ تیزی سے بات کرتے ہوئے اونچی آواز میں بولا تھا جبکہ اس کے مزاق پر نہ چاہتے ہوئے بھی وہ ہنس دیا جب اچانک پیچھے سے ایک گولی سے آریان کی ایک دردناک چیخ بلند ہوئی
°°°°°°°°
اگلے ہی لمحے اس کی آنکھ کھلی تھی وہ پسینے سے شرابور بیڈ سے اٹھ کر آئینے کے سامنے جا کر رکا اس کے بازو اور سینے کے بیچو بیچ گولیوں کے تین نشان تھے اس نے اپنے سینے کو گھور کر دیکھا تھا
پھر ایک گہرا سانس لیا وقت گزر چکا تھا نہ تو وہ دوبارہ ملا اور نہ ہی اسے اپنا دوست ٹائر ۔۔نجانے وہ دونوں آج کہاں ہوں گے زندہ بھی ہوں گے یا مر چکے ہوں گے اکثر صبح اس کی آنکھیں اسی خواب کے ساتھ کھلتی تھی اس کا فون بجا
ڈی ایس پی کا فون آرہا تھا آج رات ان کے گھر پر اس نے ڈنر کرنا تھا وجہ تو وہ جانتا تھا ان کی دوجوان بیٹیاں تھیں جن کا ذکر وہ کہیں بار اس کے سامنے کر چکے تھے ۔وہ خود بھی اب شادی کر لینا چاہتا تھا اگر ان دونوں میں سے اس سے کوئی بھی لڑکی پسند آتی ہے تو وہ شادی کے لیے تیار تھا اب خود بھی اکیلے رہ رہ کر وہ تھک چکا تھا وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھنا چاہتا تھا اپنا گھر بسانا چاہتا تھا
°°°°°°°°
بابا کیا اس بار میں گھر آ سکتی ہوں اس نے معصومیت سے پوچھا ۔وہ کتنے دنوں سے ان کے فون کا انتظار کر رہی تھی لیکن ان کا فون نہ آنے کی وجہ سے آج مجبور ہو کر اس نے خود فون کر لیا تھا
آخر وہ اس کے بابا تھے اس کے لیے عزیز تھےلیکن شاید وہ ان کے اتنی عزیز نہیں تھی تبھی تو انہیں اس کی یاد بھی نہیں آتی تھی
جاناں میں تمہیں کتنی بار سمجھا چکا ہوں کہ تم گھر نہیں آ سکتی میری بات تمھیں سمجھ کیوں نہیں آتی بابا کی آواز میں کہیں نہ کہیں غصہ شامل تھا
بابا میری ساری کلاس فیلوز اپنے اپنے گھر جا رہی ہیں صرف میں یہاں رہ کر کیا کروں گی وہ پریشانی سے بتانے لگی۔
پورا ہوسٹل تو نہیں جا رہا نہ گھر دوسری کلاس کی لڑکیاں ہیں نہ وہاں بہتر ہے وہیں رہو ۔جب مجھے لگے گا کہ تمہیں گھر بلا لینا چاہیے میں خود بلا لوں گا اور ہر بار فضول باتیں کرنے کے لیے فون مت کیا کرو بیزی ہوتا ہوں میں اکبر صاحب نے غصے سے کہا
بابا میری روم میٹس بھی اپنے گھر جا رہی ہیں وہ پھر سے بتانے لگی ۔
جاناں تمہیں ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کتنی بار سمجھاؤں۔ کہ تم گھر نہیں آ سکتی مطلب نہیں آ سکتی۔
اب فون رکھ رہا ہوں میں تمہاری فضول باتوں کے لئے وقت نہیں ہے میرے پاس مجھے لگا تھا کہ تمہیں کوئی بہت ضروری کام ہوگا چیک بھجوا دوں گا تمہارا جو چاہے شاپنگ کرنا ۔اپنے فرینڈ کے ساتھ انجوائے کرنا
بابا مجھے پیسے نہیں چاہیے آپ کو چیک بھجوانے کی ضرورت نہیں ہے وہ یہ نہیں کہہ سکی تھی کہ اسے اپنے باپ کی توجہ چاہیے تھی اسے ان کی محبت کی ضرورت تھی ان کی ضرورت تھی ۔
نہیں ضرورت پڑ سکتی ہے اور تم ہوسٹل سے باہر نکلتی ہی نہیں ہو۔جایا کرو آگے پیچھے اپنے دوستوں کے ساتھ اپنے فرنیڈز کے ساتھ شاپنگ کیا کرو انجوائے کیا کرو خود کو اپنے آپ کو ایک ہوسٹل کے کمرے تک تم نے خود محدود کیا ہوا ہے
جاناں باہر نکلا کر وہاں سے لوگوں سے ملا کرو کیوں اپنے آپ کو قید رکھتی ہو ۔
تمہارے پیپرز ہونے والے ہیں ان کی تیاری کرو خوش رہو اور اس بار مجھے بہت اچھا رزلٹ چاہیے پچھلی بار بھی تمہارا رزلٹ قابل قبول نہیں تھالیکن میں نے پھر بھی کچھ نہیں کہا
میں جلد تم سے ملنے آؤں گا نہیں تو تمہاری عینی آنٹی کو بھیج دوں گا
نہیں بابا اس کی ضرورت نہیں ہے میں ٹھیک ہوں میرے پیپرزہونے والے ہیں میں نہیں چاہتی کہ فی الحال میرا دھیان کسی بھی طرح سے بٹھکے میں اپنے پیپرز پر دھیان دینا چاہتی ہوں وہ انہیں بتانا چاہتی تھی کہ اسے اپنے باپ کی ضرورت ہے سوتیلی ماں کی نہیں
لیکن بابا کے سامنے عینی آنٹی کو کچھ بھی کہنےسے بابا ناراض ہو سکتے تھے اور اگر بابا ناراض ہو جاتے تو مطلب صاف تھا جو فون ایک ماہ کے بعد آتا تھا وہی شاید چھ ماہ کے بعد آئے
عینی آنٹی کی وجہ سے ہی تو آج وہ اپنے بابا سے اتنی دور تھی ۔ صرف چھ سال کی عمر میں وہ اپنے باپ سے اتنی دور آ گئی تھی اسے سمجھ نہیں آتا تھا کہ اس کی پرھائی بابا کے لیے اتنی ہی اہمیت رکھتی تھی تو بابا نے اسے لندن یا امریکا کیوں نہیں بھجوایا
ترکی میں ایک ایسی جگہ پر جہاں لوگ بھی بہت کم ہیں اور پڑھائی بھی باقی کالجز کی بانست پر اتنی قابل تعریف نہیں ہے ۔
اس کے بابا تو اتنے امیر تھے ہر ماہ اسے اتنی بڑی رقم بجھتے تھے اینی دولت سے تو وہ کچھ بھی کر سکتے تھے تو کیا وہ اپنی بیٹی کے لیے اسے اچھے کالج میں داخلہ نہیں دلوا سکتے تھے بچپن سے لے کر جوانی تک وہ نہ جانے کتنے ہی ملک میں گم نام زندگی گزار رہی تھی
اور اب پچھلے دو سال سے وہ ترکی کے ایک ہوسٹل میں رہتی تھی جہاں شاید وہ سب سے امیر باپ کی بیٹی تھی کیونکہ اس کالج میں بہت غریب اور کالجز کی فیس نہ ادا کر پانے والے اسٹوڈنٹ تھے
اسے پاکستان سے بے تحاشہ محبت تھی وہ دس سال کی عمر میں آخری بار پاکستان گئی تھی ۔اس کے بعد سے لے کر اب تک وہ کیسی زندگی گزار رہی تھی وہ خود بھی نہیں جانتی تھی ۔
بچپن میں اس کا نام کچھ اور تھا جب وہ پاکستان سے سریا گئی تھی لیکن وہاں کے سکول میں اسے جاناں کے نام سے متعارف کروایا گیا اور اس کے باپ نے منع کردیا کہ اس کا نام وہ بھی اپنی زبان سے نہ لے ۔
خیر اب تو وہ اپنا نام بھی بھول چکی تھی
اسے سکول میں داخل کروانے کے لیے بھی ڈرائیورانکل آئے تھے ۔وہ کیوں تھی اتنی گم نام کیوں اس کا باپ نہیں چاہتا تھا کہ لوگ اس کو جانے جب کہ اس کے دو بڑے بھائیوں کو تو ساری دنیا جانتی تھی ۔
لیکن وہ خود ٹھیک سے اپنے بھائیوں تک کو نہیں جانتی تھی ۔ایک دو بار اس نے اپنے بابا کے ساتھ ان دو بھائیوں کو دیکھا تھا جو اس کے اپنے بھائی تھے اور انہوں نے بھی اس سے کبھی ملنے کی کوشش نہیں کی ۔
کیوں بابا اسے دنیا سے چھپا کے رکھتے تھے وہ پاکستان جانا چاہتی تھی لیکن بابا ایسا نہیں چاہتے تھے اسے پتہ تھا کہ ان تینوں کے علاوہ بھی ان کا ایک اور بھائی ہے لیکن ابھی تک وہ اس سے بھی نہیں ملی تھی ۔
°°°°°°°°
تم بھی اپنے گھر جا رہی ہو یار تم تو رک جاؤ میں کیسے رہوں گی یہاں اکیلے وہ عائشہ اور اریشفہ دونوں کو ہی جاتے دیکھ کر پریشان تھی ۔
پورے کالج میں بس دو ہی لڑکیوں کو جانتی تھی اور یہ دونوں اس کی بیسٹ فرینڈ تھی ۔بابا نے اس سے کہا تھا کہ وہ جسے چاہے اپنا دوست بنا سکتی ہے لیکن جھوٹی پہچان کے ساتھ اور یہی وجہ تھی کہ وہ لوگوں سے ملنے سے بات کرنے سے گھبراتی تھی ۔
کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ جس سے بھی بات کرے گی اسے اپنی جھوٹی پہچان دے گی ۔
اگر عائشہ اور اریشفہ اس کی کلاس میں نہ ہوتی تو شاید وہ کبھی ان کی بھی دوست نہیں بن پاتی ۔
پچھلے دو سال سے وہ یہاں رہ رہی تھی اور یہ دونوں اس کی بہترین دوست تھی وہ اس کی ہر بات کو سمجھتی تھی۔
اس کی پریشانی دیکھتے ہوئے اریشفہ اس کے پاس آ بیٹھی
اور اشاروں کی مدد سے اس سے باتیں کرنے لگی
ایسا بھی کیا ضروری ہے تمہارا وہاں جانا تمہاری کزن کی شادی کیا تمہارے بغیر نہیں ہو سکتی اور ابھی تو صرف وہ تمہاری کزن کو دیکھنے آ رہے ہیں
ویسے بھی تو تمہاری تائی تمہیں پسند نہیں کرتی تو تم یہیں رک جاؤ نا اس نے اریشفہ کے دونوں ہاتھ تھامتے ہوئے کہا ۔
لیکن وہ نفی میں سر ہلاتے اشاروں کی مدد سے پھر اسے اپنی اگلی بات بتانے لگی
یہ کیا بات ہوئی ۔ویسے تو تمہیں یہاں خود سے دور رکھا ہوا ہے اور جب رشتےدار بلادری کی بات آتی ہے تو تمہیں وہاں بلا کر جھوٹی محبت جتانے لگتے ہیں
۔ کیا فائدہ اس سب کا اگر وہ تم سے محبت نہیں کرتے تو یہ ڈرامے کیوں کرتے ہیں ۔جاناں کو غصہ آنے لگا جس پر اریشفہ مسکرا دی
اب وہ بیچاری اسے کیا بتاتی ۔یہ تو اس کے تایا کا احسان تھا کہ وہ یہاں اس کالج میں پڑھ رہی تھی ۔ورنہ اگر اس کی تائی کا بس چلتا تو وہ کبھی بھی اس سے اس چار دیواری سے باہر نکلنے دیتیں۔ اور اب ان کا حکم تھا کہ آج ان کی بیٹی کو دیکھنے کے لیے کچھ لوگ آنے والے ہیں جس کے لئے اسے ہر حالت میں گھر واپس جانا تھا
کیونکہ اس کے تایا اسے ہر خوشی میں شامل کوتے تھے ۔اور تائی نے بھی تایا کی نظروں میں اپنے نمبر بھرنے تھے اسے شامل کر کے انہیں یہ بتانا تھا کہ وہ اسے بھی اپنی بیٹوں کی طرح عزیر رکھتیں ہیں
۔ویسے تو وہ ہر سنڈے ہی اپنے گھر جاتی تھی ۔لیکن جب سے جاناں کو پتہ چلا تھا کہ وہ دو ہفتوں کے لیے جا رہی ہے جاناں بہت پریشان تھی
اور عائشہ بھی اپنے گھر جا رہی تھی اپنے پیپرز سے پہلے اپنے گھر والوں سے ملنے کے لیے کیوں کہ اس کے بعد وہ بھی اپنے پیپرز میں بیزی ہونے والی تھی ۔
اور اب اسے اس کمرے میں اکیلے رہنا تھا اور وہ دونوں ہی جانتی تھی کہ جاناں بہت بزدل ہے ۔
لیکن وہ دونوں ہی مجبور تھی ان کا گھر جانا بہت ضروری تھا ایسے میں جاناں کو اکیلے چھوڑنا نہیں بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔
اس کی فیملی پرابلم تو وہ دونوں نہیں جانتی تھی ہاں لیکن اتنا جانتی تھی کہ اس کے بابا نہیں چاہتے کہ وہ گھر واپس آئے ۔ اور ویسے بھی ان دونوں کی طرح اس کا گھر ترکی میں نہیں تھا
وہ یہ تو جانتی تھی کہ اس کے بابا ایک بہت بڑی شخصیت ہیں لیکن وہ اسے کیوں چھپا کر رکھتے تھے یہ بات ان دونوں کے لئے بھی ایک راز تھی
۔ °°°°°°°°°°°
لاش کی حالت کیسی ہے انسپکٹر آریان نے پوچھا ۔
سر بہت بری حالت ہے دیکھا تک نہیں جا رہا انسپیکٹر رضی نے جواب دیا ۔
سر دونوں آنکھیں نکال دی ہیں لڑکی کی اور ساری انگلیاں بھی کاٹ دی ہیں ۔بہت ظلم انسان ہے سر خوفِ خدا تو نام کا بھی نہیں رضی نے پریشان یسے کہا
سر پر ایک بال تک نہیں چھوڑا اس طرح سے کھینچ کر بال اکھاررے ہیں کہ اسپیکٹر رضی بولتے بولتے خاموش ہوگیا ۔
بالکل ٹھیک کیا ہے ایسا ہی ہونا چاہیے ایسی گھٹیا لڑکیوں کے ساتھ ۔انسپیکٹر عمران نے کہا ۔
سر یہ وہی لڑکیوں کا گینگ ہے جنہوں نے سڑک پر سے یتیم بچوں کو اٹھا کر انلیگل طریقے سے یورپ بھجوآیا پھر ان کی انگلیاں اور آنکھیں نکال کر انہیں بھیک مانگنے پر مجبور کردیا تھا ۔
سر یہ 128 لوگوں کا گروپ ہے اب اس گروپ میں کون کون لوگ شامل ہیں ہم نہیں جانتے ۔
سوائے اس کے ان کے سر کے بالوں کے بیچ میں سرجری سے ایک کارڈ لوڈ کیا گیا ہے ۔
سر یہ قاتل جو کوئی بھی ہے اپنے ہر قتل کے بعد ایک چھوٹا سا کارڈ چھوڑتا ہے جس کے اوپر "دا بیسٹ "لکھا ہوتا ہے ۔
اور لاشوں کی حالت ایسی ہوتی ہے کے دیکھا تک نہیں جا سکتا ۔
لیکن سر جتنی بھی لاشیں ملی ہیں ان سب لڑکیوں کے بال اکھاڑ کروہ چپ نکال لی گئی ہے ۔اور پھر سر وہی چپ کسی نہ کسی ایماندار آفیسر کے پاس جاتی ہے
انسپکٹر عمران نے بتایا توانسپیکٹر آریان کو کل رات والا پارسل یاد آیا جس میں سے ایک چپ ملی تھی ۔
سراب اس لاش کے اندر سے جو چپ نکلی ہے ضرور کس نے کسی ایماندا روافیسر کو سینڈ کرے گا ۔
مطلب کے یہ جو بیسٹ ہے یہ اچھا کام کرتا ہے میرا مطلب ہے ایک قسم کی وہ ہماری مدد کر رہا ہے انسپیکٹر رضی نے کہا۔
انسپکٹر رضی کے کہنے پر انسپیکٹر آریان نے اسے گھور کر دیکھا
سر میرا مطلب ہے
نفرت گناہ سے کرنی چاہیے گناہ گار سے نہیں ۔
مجھے گناہ سے بھی نفرت ہے اور گناہگار سے بھی ۔آریان کھا جانے والے انداز میں بولا ۔
وہ بے شک ہماری مدد کر رہا ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ وہ گناہگار نہیں ہے ۔
قانون کی نظروں میں وہ گناہگار ہے پر بہت جلدی میرا ہاتھ اس کی گردن تک پہنچ جائے گا ۔
وہ گناہ گار ہونے کے باوجود بھی گناہ گاروں کے لیے بیسٹ ہوگا ۔
لیکن ایسے بیسٹ کے اوپر بھی ایک بیسٹ ہوتا ہے جسے لوگ انسپیکٹر آریان کہتے ہیں ۔آریان غصے سے ان دونوں کو گھورتا اس لڑکی کی لاش کی طرف چلا گیا جسے دیکھنا بھی عام انسان کے بس سے باہر تھا.
لاش کو فورنسک لیب لےجاؤ اس نے آرڈر دیتے ہوئے اپنا موبائل نکالا جہاں ڈی ایس پی کی کال دوبارہ آ رہی تھی
جی سر میں بس نکلنے والا ہوں ایک کیس کی جانچ کر رہا تھا ۔آج کا ڈنر اس کے دماغ سے بالکل نکل چکا تھا کہ آج وہ ڈی ایس پی کے گھر پر ڈنر کرنے والا ہے
کوئی بات نہیں برخودار ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں انہوں نے مسکراتے ہوئے فون بند کیا جبکہ اس نے ایک طرف اپنے قریب کھڑے انسپکٹرز کو دیکھا
تم لوگ گاڑی لے جاؤ میں بس سے چلا جاؤں گا وہ سمجھ چکا تھا کہ اگر وہ اپنی گاڑی لے کر چلا گیا تو ان لوگوں کا واپس جانا مشکل ہو جائے گا ۔ کیونکہ اس وقت وہاں صرف وہی تین تھے باقی ٹیم باڈی لے لر جا چکی تھی
نہیں سر آپ گاڑی لے جائیں ہم فون کر کے دوسری گاڑی منگوا ۔۔۔۔۔
ان دونوں کو بناکچھ کہنے کا موقع دیے وہ بس کی تلاش میں نظر پھیرتا جلد ہی بس کا مسافر بن چکا تھا ۔
بس میں داخل ہوتے ہوئے اس نے آگے پیچھے ہر طرف اپنے لئے ایک جگہ تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن یہ بھی اپنے آپ میں ایک بہت مشکل کام تھا کیونکہ بس مسافروں سے بھری ہوئی تھی ۔
اسےسب سے آخر میں ایک خالی سیٹ نظر آئی ۔ اور سیٹ کے ساتھ نیلے رنگ کا دوپٹہ یقیناً کوئی پاکستانی ہی تھی ۔وہ مسکراتے ہوئے اس کے قریب آ بیٹھا
جو اپنے چہرے کو پوری طرح سے نقاب میں چھپائے دنیا جہان سے انجان آنکھیں بند کیے بس کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے شاید سو رہی تھی
--------------------
°°°°°°°°
آریان بہت غور سے نقاب سے چھپے اس چہرے کو دیکھ رہا تھا جس کی آنکھیں بند ہونے کے باوجود بھی اتنی پر کشش تھی کہ وہ اس سے اپنی نظریں نہیں ہٹا پا رہا تھا
ترکی جیسے آزاد خیال ماحول میں یہ نقاب پوش کون تھی اس کا دل اس سے سوال کر رہا تھا اس کا دل خود با خود متجسس ہو رہا تھا
وہ بار بار نظر چڑا کر آگے پیچھے دیکھنے کی کوشش کرتا لیکن دل بار بار اسے اس کی طرف متوجہ کرتا جیسے ضد کر رہا ہو کہ اپنی نظریں نہ ہٹا نا
آریان اپنے دل کی صداؤں کو اگنور کرتے ہوئے ایک بار پھر سے آگے پیچھے دیکھنے لگا وہ رشتہ دیکھنے جا رہا تھا اور اس سے پہلے کسی اور کو اس نگاہ سے دیکھتے ہوئے یا اپنے دل کی سننا اسے بالکل غلط لگ رہا تھا
اس کے جذبے صرف اور صرف اس کی ہمسفر کے لیے تھے
وہ آگے پیچھے دیکھتے ہوئے مکمل طور پر اسے نظر انداز کر گیا جب اچانک بس کو دھکا لگا اور وہ سویا ہوا وجود اس کی پناہوں میں آ گیا۔جھٹکا کافی شدید تھا
اگلے ہی لمحے وہ اٹھ کر کھڑی ہو چکی تھی شاید اس کی منزل آ چکی تھی اس نے ایک نظر اسے دیکھا سحر آنکھوں میں عجیب دلکش تاثر تھا وہ شرمندہ سی لگ رہی تھی شاید اس کے بازوؤں میں گرنے کی وجہ سے لیکن بنا کچھ بھی بولے اسے نظر انداز کرتی ڈرائیور کو پیسے دینے لگی۔اور وہاں سے نکلنے لگی
آریان کی بھی منزل یہی تھی وہ بھی اسی اسٹاپ پر اتر گیا لیکن جب تک وہ ڈرائیور کو پیسے دیتا تب تک وہ غائب ہوچکی تھی نہ جانے کون تھی کہاں سے آئی تھی اور کہاں کو جانا تھا
جہاں اس کے غائب ہونے پر دل اداس ہو گیا تھا وہیں آریان کو تھوڑا سکون ملا تھا کیونکہ وہ کسی اور سے رشتہ جوڑنے جا رہا تھا ایسے میں پہلے ہی وہ اپنے جذبات کا سودا ہرگز نہیں کرنا چاہتا تھا
لیکن اس کا دل اسے کسی پل چین نہیں لینے دے رہا تھا نگاہیں بار بار ان خالی راستوں کی طرف جا رہی تھی
اس نے اپنے دل کو سنبھالا کیونکہ اس سے آگے بھرنا تھا یہاں سے کچھ فاصلے پر ہی ڈی ایس پی کا گھر تھا وہ پہلے یہاں کبھی نہیں آیا تھا لیکن پھر بھی اسے گھر کے کچھ فاصلے پر لگے بورڈ سے پتہ چل چکا تھا کہ وہ یہی کہیں فاصلے پر ہی رہتے ہیں اس نے راستے میں ایک انسان سے پوچھ لیا
جو خود خوش ہوتے ہوئے اسے اس رہنمائی انسان کے گھر لے گیا تھا نرم دل نرم گو سے انسان اپنی نرم طبیعت سے سب کی رہنمائی کرتے تھے اور یہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ انھیں تکلیف دینے کی ذرا سی بھی وجہ بنے
اس کے ساتھی تمام آفیسرز کہتے تھے کہ تم بہت خوش قسمت ہو کے سر تمہیں اتنا پسند کرتے ہیں اور یہ ان کی پسندیدگی کی ہی علامت تھی کہ انہوں نے باتوں ہی باتوں میں کہیں بار اسے جتایا تھا کہ وہ اس کو اپنا بیٹا بنانا چاہتے ہیں ۔
شاید وہ جانتے تھے کہ آریان کا کوئی بھی نہیں ہے نہ ماں باپ نہ کوئی دوست نہ بھائی شاید اسی لئے وہ خود ہی اس کے لیے رشتہ لے کر آئے تھے وہ بھی کسی غیر کا نہیں بلکہ اپنی بڑی بیٹی کا ۔
ویسے تو آریان نے بھی ہاں کردی تھی ہاں اسے کوئی اعتراض نہیں تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ سر کی طرح ان کی بیٹی بھی ایک بہت اچھے اور پیارے سے دل کی مالک ہوں گی
اور آج نہیں تو کل تو اسے گھر بسانا ہی ہے وہ بھی تنہا رہ رہ کر تھک چکا تھا وہ بھی چاہتا تھا کہ جب وہ شام کو تھک ہار کر گھر جائے تو اس کی پیاری سی بیوی اس کا انتظار کر رہی ہو
وہ اسے اپنے سارے دن کی روٹین بتائے جس پر وہ مسکراتے ہوئے اس کے مسئلے کا حل بتا کر اپنی میٹھی میٹھی باتوں سے اس کے سارے مسائل حل کر دے اور مسائل بھی حل نہ کر پائے تو پیار کی دو میٹھی باتیں جو اس کی تھکاوٹ کو بھلا دیں اس کے لئے بہت تھی
اپنی محنت اور قابلیت سے وہ نہ صرف اپنا گھر لے چکا تھا بلکہ اس قابل بھی تھا کہ وہ اپنا گھر بسا سکے کہیں بار نہ جانے کتنے رشتے دیکھنے بھی جا چکا تھا لیکن کوئی بھی اسے اس قابل نہ لگی جسے وہ اپنے دل میں بسا سکے ۔
لیکن سر کی بیٹی سے وہ کہیں ساری امیدیں جوڑ کر جا رہا تھا جب یہ دل اس سے بغاوت کرنے لگا صرف ایک بار ہی تو دیکھا تھا اسے اتنی پاس بیٹھی تھی وہ کیوں پاگلوں کی طرح جا کر اس کے پاس بیٹھ گیا اگر دل کا حال سمجھتا تو یقیناً وہ نہ جاتا اسے کیا پتا تھا کہ اس کا دل یوں بے لگام ہو جائے گا ۔
کے اب ہاتھ ہی نہیں آرہا تھا ۔
ابھی ایک گھنٹہ پہلے تو دل بھی نارمل تھا بس یہ نیلے ڈوپٹے والی بے چین کر گئی
اس نے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو سر خود اسے رسیو کرنے باہر تک آئے تھے
بہت دیر لگا دی برخودار میں تو کب سے تمہارا انتظار کر رہا تھا انہوں نے مسکراتے ہوئے اسے اپنے گلے سے لگایا جب کہ وہ بنا کچھ کہیں خاموشی سے ان کے ساتھ اندر آ گیا تھا ۔
تائبہ آئمہ میری جان جلدی سے کھانا لگاؤ پھر مل کر باتیں کرتے ہیں انہوں نے اپنی دونوں بیٹیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جب کہ آریان ان کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے باہر نکل گیا تھا جہاں ایک چھوٹے سے باغیچے میں انہوں نے کھانے کا انتظام کیا ہوا تھا ان کا گھر زیادہ بڑا نہیں تھا
لیکن اپنی محنت سے بنا یہ آشنانہ انہیں بہت عزیز تھا
یہ ہے میری بیگم اور یہ میری بیٹیاں تائبہ اور یہ آئمہ ہیں ۔انہوں نے اپنی دونوں بیٹیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تعارف کروایا ۔وہ دونوں جینس پر لونگ جمپر پہنے اسکاف سے چہرہ کور کیے بہت پیاری لگ رہی تھی مسکرا کر اسے ہیلو کہتی سامنے بیٹھ چکی تھی
ارے میرے ارشی آگئی ہے اسے بھی کہو کہ آ کر کھانا کھا لےانہوں نے مسکراتے ہوئے کہا لہجے میں بے حد محبت تھی جیسے وہ اپنی عزیزِ جان کا نام لے رہے ہوں
جس پر نہ جانے کیوں ان کی بیگم کا موڈ بری طرح سے آف ہو گیا تھا
وہ تھک گئی ہے ابھی ابھی تو آئی ہے آرام کرنے دیں اسے بیگم نے سختی سے کہا
ارے آرام بعد میں کر لے گی پہلے بلاؤ اسے کھانا تو کھا لے بنا کھانا کھائے سو جائے گئی ۔
ان دونوں کے علاوہ میری ایک اور بیٹی بھی ہے میری بتیجی اریشفہ ابھی پڑھ رہی ہے ہوسٹل میں رہتی ہے یہاں سے اس کا کالج بہت دور پڑ جاتا ہے نہ اس لئے آج ہی واپس آئی ہے دو ہفتے یہی پر رہے گی شادی وغیرہ کے بعد ہی واپس جائے گی میں نے تو سب کو بتا دیا کہ تمہیں شادی کی جلدی ہے ۔
اور ہمیں بھی اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہم فرض شناس لوگ ہیں ہمیں سارے کام جلدی جلدی کر لینے چاہیے کہ نا جانے کب بلاوا آ جائے وہ قہقہ لگاتے ہوئے بولے جب کہ آریان کو اتنی جلدی ان سب چیزوں کی امید نہیں تھی اب وہ ہاں کرکے شاید نہیں یقیناً انہیں جلد بازی کا ثبوت دے چکا تھا
کچھ دن پہلے جب سر نے پوچھا کہ تمہیں ایک اچھی سی لڑکی مل جائے تو کیا شادی کر لو گے تو آریان نے کہا سر کوئی لڑکی ملے تو میں فورا سے شادی کر لوں گا اور اس کا مطلب صحیح معنوں میں اسے اب پتہ چل رہا تھا
آپ بھی کن باتوں میں لگ گئے ہیں بچے کو کھانا تو کھا نے دیں بیگم نے ایک بار پھر سے سختی سے کہا مطلب صاف تھا کہ اس سب کے بیچ میں وہ اس کا ذکر نہیں سننا چاہتی تھی۔
تائبہ بیٹا کھانا دو اسے انہوں نے تائبہ کو دیکھتے ہوئے کہا تو وہ فوراً ہاں میں سر ہلا کر اسے سرو کرنے لگی ۔
کھانا پرسکون سے ماحول میں کھایا گیا
اور تھوڑی ہی دیر میں اس نے جانے کے لیے کہا جس پر سر نے اسے چائے کے لیے روکنا چاہا لیکن نہ جانے کیوں اس ماحول میں خود کو مس فٹ محسوس کر رہا تھا اس کے دوسرے بار کہنے پر شاید سر بھی اس کے مزاج کو سمجھتے ہوئے اسے جانے کی اجازت دے چکے تھے
°°°°°°°°
تم میری بیٹی سے مل چکے ہو بیٹا اب آگے تمہاری مرضی سچ کہوں تو میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا تھا اسی لیے یہ سب کچھ اتنی جلدی جلدی کر رہا ہوں تمہارے جیسا قابل انسان میرا بیٹا بن جائے اس سے زیادہ اور خوشی کی کون سے بات ہو سکتی ہے میرے لیے
میری بیٹی میں کسی قسم کی کوئی برائی نہیں ہے یہ میں ایک باپ ہونے کے ناطے فخر سے کہتا ہوں وہ تمہارے ساتھ ایک کامیاب خوش حال زندگی گزار سکتی ہے میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ میری بیٹی تمہیں کبھی شکایت کا موقع نہیں دے گی ۔اور مجھے یقین ہے کہ تم بھی کبھی مجھے شکایت کا موقع نہیں دو گے انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا
جی سر میں پوری کوشش کروں گا نہ جانے کیوں اس کا دل اس کے الفاظ کا ساتھ نہیں دے رہا تھا
تم کچھ چھپا رہے ہو مجھ سے انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا
نہیں سر ایسا تو کچھ نہیں ہے بس ۔۔۔
بس بس کیا برخودار تم مجھے اپنا دوست سمجھ کر بتا سکتے ہو یہ مت سوچنا کہ اگر میری بیٹی تمہیں پسند نہیں آئی تو میں تمہارے ساتھ کسی قسم کی کوئی زبردستی کروں گا ایسا ہرگز نہیں ہے بیٹا
۔تم آرام سے سوچ سمجھ کر جواب دو ۔انہوں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کندھے کو تھپتھپایا
سر در اصل میں آپ سے کچھ چھپنا نہیں چاہتا یہاں سے آپ کے گھر آتے ہوئے میں نے ایک بس لی تھی اور وہاں میں نے ایک لڑکی کو دیکھا نہ جانے کیوں سراس لڑکی کو دیکھتے ہی جیسے میرا دل دھڑکنا بھول گیا نہ جانے وہ کون تھی میں نے اسے نظر انداز کرنے کی مکمل کوشش کی لیکن نہیں کر پایا نہ جانے کیوں میرے دل کا ہرٹکڑا میرے ساتھ بغاوت کر رہا تھا ۔
میں مکمل بے بس ہو گیا تھا اس لڑکی کو سوچے ہی میرا دل بہت زور زور سے دل دھڑکنے لگا ہے مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ابھی کچھ گھنٹے پہلے کی بات ہے سر آپ مجھے جانتے ہیں میں اس طرح کا انسان نہیں ہوں بٹ یہاں آکے میں خود کو بے بس محسوس کررہا ہوں
سر بس یہی وجہ ہے کہ میں تائبہ کے لئے شیور نہیں ہو پا رہا سر پلیز یقین کریں آج سے پہلے کوئی نہیں تھی میری زندگی میں لیکن نہ جانے اس لڑکی کو دیکھتے ہی مجھے کیا ہوگیا ہے شایدمیں اس کا چہرہ نہیں دیکھ پایا اسی لئے اس کی طرح سے بے بس ہو رہا ہوں سر وہ ایک دوست کی طرح اپنی بے چینی بیان کرنے لگا جس پر وہ مسکرائے
تو یہ بات ہے برخودار تمہیں پہلی نظر کی محبت ہو گئی ہے تمہارا تو وہی حساب ہوگیا جو تمہاری انٹی اور میرا ہوا تھا بس انہیں دیکھتے ہی دل مچل اٹھا اور سارے ارمان جاگ اٹھے محبت کی پہلی نظر میں ایسے ہی حالات ہوتے ہیں نہ دل ساتھ دیتا ہے نہ دماغ کچھ سوچ پاتا ہے
تم بے فکر ہو جاؤ اب آرام سے جاؤ اور اس لڑکی کے بارے میں پتہ کرواؤ کون ہے کہاں سے آئی ہے اس کے بارے میں سوچو ان شاءاللہ اگر وہ تمہارا نصیب ہوئی تو تمہیں ضرور ملے گی اور ایک بات یاد رکھنا اللہ ایسے شخص کی محبت کو کبھی دل میں جگہ نہیں بنانے دیتا جو آپ کا نصیب نہ ہو اگر تم محبت کا شکار ہوئے ہو تو وہ تمہارا نصیب ضرور بنے گی
جاؤ اور اسے تلاش کرو ۔انہوں نے مسکراتے ہوئے اسکا کندھاتھپتھپایا
جبکہ ان کی زندہ دلی پر وہ پریشان ہو گیا تھا
لیکن سر اندر تائبہ اور آپ کی بیگم اس نے پریشانی سے کہا جس پر وہ کھل کر مسکرائے
میری بیٹی اور میری بیوی کی وجہ سے تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں سنبھال لوں گا لیکن کبھی کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کروں گا
آریان بیٹا یہ تو نصیبوں کے کھیل ہیں میری خواہش ہے تمہیں اپنا داماد بنانے کے تو ہو سکتا ہے تمہارے نصیب میری بچی کے ساتھ ہی لکھا ہو ۔
اللہ تمہیں خوش رکھے اگر میری مدد کی ضرورت ہو تو ضرور کہنا اور رشتہ لینے میں خود جاؤں گا تم بس میری بہو کو تلاش کرو انہوں نے ہنستے ہوئے سے گلے لگایا جبکہ آریان یہ سوچ رہا تھا کہ اس دنیا میں ایسے شخص کی بہت کمی ہے اگر ہر انسان ان کی طرح سوچنے لگے تو یہ دنیا بہت بدل جائے
°°°°°°
آریان کو دروازے تک چھوڑنےکے بعد وہ گھر میں داخل ہوئے تو سامنے ہی وہ منہ پھلائے بیٹھی تھی اور انہیں دیکھتے ہی بھاگتے ہوئے ان کے سینے سے آ لگی
میری بیٹی اتنی خفا کیوں ہے لگتا ہے ابھی تک اس نے کھانا نہیں کھایا وہ اس کے چہرے پر بوسہ دیتے ہوئے بولے جس پر وہ ہاں میں سرہلا کو ان کا ہاتھ تھام کر ٹیبل پر بیٹھنے لگی مطلب صاف تھا کہ انہیں بھی اس کے ساتھ ہی کھانا کھانا ہوگا
اور یہی وجہ تھی کہ انہوں نے آریان اور اپنی بیٹیوں اور بیگم کے ساتھ پیٹ بر کر کھانا نہیں کھایا تھا کیونکہ پیٹ بھر کر کھانا تو وہ اپنی لاڈلی اریشفہ کے ساتھ کھاتے تھے
تائبہ لگاو کھانا ہم دونوں باپ بیٹی کو بہت بھوک لگی ہے وہ مسکر کر تائبہ کو آواز دینے لگے
جبکہ ان دونوں کے پیار کو دیکھ کر جہاں تائبہ مسکراتے ہوئے ان کے سامنے کھانا رکھ رہی تھی وہی تھوڑے فاصلے پر ان کی بیگم ناگواری سے ان کی محبت کو دیکھ رہی تھی جو ہر کوشش کرنے کے باوجود بھی آج تک کم نہیں ہوئی تھی
ان کی سب ناگواری اور نفرت صرف تایا ابو کی غیر ماجودگی میں تھی ورنہ تایا کی ماجودگی میں وہ اس پر سخت نگاہ بھی نہیں ڈال سکتی تھی
°°°°°°°
°°°°°°°°
کیا ہوا جاناں تمہیں ڈر لگ رہا ہے اگر ایسا ہے تو تم ہمارے کمرے میں آ سکتی ہو اور عائشہ میری منتیں کر کے گئی ہےکہ تمہیں اکیلے کمرے میں نہ رہنے دوں
تم وہاں ڈر جاؤگی دوسری کلاس کی لڑکیاں جو اس کے کمرے کے ساتھ ہی بنے کمرے میں رہتی تھی اس کے پاس آ کر کہنے لگی عائشہ نے جانےسے پہلے ان کے ساتھ ایک گھنٹے کی میٹنگ کی تھی اب وجہ سمجھ آئی تھی لیکن وہ عائشہ اور اریشفہ کے ساتھ جیتنے سکون سے رہتی تھی اتنی ان لوگ کے ساتھ ہرگز پرسکون نہیں تھی
نہیں میں ٹھیک ہوں تم لوگ جاؤ میں رہ لوں گی یہاں جاناں نے کہا جب کے سچ تو یہ تھا کہ اسے واقعی بہت ڈر لگ رہا تھا
لیکن وہ دوسرے کمرے میں نہیں جانا چاہتی تھی کیونکہ دوسرے کمرے میں ان لڑکیوں کے ساتھ جو کچھ اور لڑکیاں رہتی تھی ان کے بارے میں مشہور تھا کہ رات کو ان سے ملنے کے لیے یہاں لڑکے آتے ہیں ۔اور جاناں کبھی بھی خود پر ایسا گھٹیا اور بے بنیاد الزام برداشت نہیں کرسکتی تھی
اور پھر بابا کا غصہ یاد آنے پر تو اس کی جان پر بن آتی تھی
عجیب بولڈ بے حیا لڑکیاں تھیں وہ کتنی بار تو ان لڑکیوں کی وجہ سے یہ معصوم بھی بد نام ہوتے ہوتے رہ گئی تھی
جو ان کے کمرے میں رہتی تھی لیکن ان کی مجبوری تھی کہ انہیں یہیں پر رہنا تھا کیونکہ وہ تو پھر صرف اپنے گھر سے دور تھی ان بیچاریوں کے پاس تو ماں باپ جیسی نعمت بھی نہیں تھی
کل ہمارے پیپرز ہیں ہم ساری رات تیاری کرنے والے ہیں اگر تمہیں کچھ بھی ضرورت ہو تو تم ہمیں کہہ سکتی ہو اس کی کلاس کی دوسری لڑکی نے اس سے کہا
ہاں اگر مجھے کسی چیز کی ضرورت ہوئی تو میں تم لوگوں کو بتا دوں گی اس نے مسکرا کر کہا اور مسکراتے ہوئے اس کے گال کا معصوم سا ڈمپل ان سب کو بھی مسکرانے پر مجبور کر گیا تھا
ٹھیک ہے پھر تم آرام کرو وہ تینوں کہتے ہوئے اس کے کمرے سے باہر نکل گئی ۔جبکہ جاناں اب کوئی کتاب پرھنے کے بارے میں سوچ رہی تھی پھر اپنے آپ کو اکیلا سوچ کر فوراً کتاب پڑھنے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے کمبل کو ٹھیک سے اپنے گرد لیپٹ لیا
سونا سب سے بیسٹ ایکشن تھا اس کے لیے کیوں کہ اس وقت اکیلے میں اسے بہت ڈر لگتا تھا سب سے زیادہ جان تو اس کی اندھیرے میں جاتی تھی یہ نہ ہو کہ لائٹ چلی جائے اکثر ہوسٹل کی لائٹ چلی جاتی تھی اور پھر ساری رات واپس نہیں آتی تھی اور آج تو اتفاق سے باہر بارش بھی ہو رہی تھی جس کی وجہ سے ہر تھوڑی دیر کے بعد باہر بجلی کڑک رہی تھی جس کی وجہ سے جاناں کی جان پر بنی ہوئی تھی ۔
ارشی عاشی تم لوگ واپس آؤ میں تم سے کبھی بات نہیں کرنے والی پکی والی ناراض ہو جاؤں گی وہ بیڈ پر لیٹتے ہوئے خود سے وعدہ کرتے بولی۔
جب اس کے پاس پڑا موبائل فون بجا جس پر ارشی کا میسج آرہا تھا گڈ نائٹ ود سمائلی امیوجی جاناں مسکرائی
اس کی سہلیاں اسے کبھی بھی خود سے ناراض نہیں ہونے دیتی تھی بس اب اسے ایک بار نیند آجائے اس نے آنکھیں بند کرتے ہوئے کبھی نہ کھولنے کی قسم کھاتے ہوئے سونے کی کوشش کی
لیکن نیند تھی جو آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی کبھی اس طرف کروٹ لیتی تو کبھی دوسری طرف لیکن شاید آج نیند بھی اس سے روٹھے بیٹھی تھی
پلیز آجاؤ ۔یہ نہ ہو کہ لائٹ چلی جائے پھر مجھے بہت ڈر لگے گا ابھی وہ بول ہی رہی تھی جب اس کی چیخ بلند ھوئی کیونکہ لائٹ جا چکی تھی اور کمرے میں بالکل اندھیرا چھا چکا تھا ۔
کیا ہوا جاناں تم ٹھیک تو ہو دوسرے کمرے سے لڑکی بھاگ کر اس کے کمرے کی طرف آئی تھی ۔ہاتھ میں ایک کیلنڈر اور ماچس تھی جو اس کے قریب رکھ کر جلانے لگی جب کے دوسرے ہاتھ میں روشنی کے لئے لائٹ موبائل پکڑ رکھا تھا
وہ لائٹ چلی گئی نہ اسی لیے یہ میری چیخ نکل گئی آئی ایم سوری میری وجہ سے تم لوگ ڈسٹرب ہو گئی وہ شرمندہ ہوتے ہوئے بولی
کوئی بات نہیں جاناں تم ہماری دوست ہو کیا ہم تمہارے لئے اتنا نہیں کرسکتے وہ اس کے قریب کینڈل جلاتے ہوئے محبت سے بولی
تمہارا بہت بہت شکریہ اب تم جاؤ جا کر پڑھائی کرو میں ٹھیک ہوں میں سو جاؤں گی وہ اسے یقین دلانے لگی جس پر وہ مسکراتے ہوئے اس کے قریب سے اٹھ کر باہر چلی گئی
سنو تم اپنا دروازہ کھلا رہنے دو ہمارے کمرے کا بھی دروازہ کھلا ہے اگر تمہیں زیادہ ڈر لگے تو وہاں آ جانا وہ دوسرے کمرے میں جاتے ہوئے بولی جس پر جاناں نے ہاں میں سر ہلا کر ایک بار پھر سے سونے کی کوشش کی
ایک تو اندھیرے میں ویسے ہی اس کی جان جا رہی تھی دوسری بارش کی وجہ سے بادل چمکنے گرجنے سے آوازیں پیدا کر رہے تھے وہ ہر ممکن طریقے سے سونے کی کوشش کر رہی تھی خود کو پوری طرح سے بلینکیٹ میں چھپائے وہ کوئی معصوم چھوٹی سے بچی لگ رہی تھی ۔
عاشی اور ارشی تو اسے ویسے بھی معصوم گڑیا ہی کہتی تھی ۔لیکن پھر بھی وہ اپنی معصوم گڑیا کو اکیلے کمرے میں چھوڑ کر چلی گئی اس نے منہ بسور کر کہا
تم دونوں بہت بری ہو میں تم سے بات نہیں کروں گی وہ ایک بار پھر سے اپنے خیالوں میں ان دونوں سے مخاطب تھی ۔
کاش اس کے بھی ماں باپ اسے اپنے پاس بلا لیتے
کاش وہ بھی اپنی فیملی کے ساتھ رہتی
کاش وہ بھی ان سے ملنے جایا کرتی ۔
کیا کوئی والدین کوئی بھائی اپنی بہن کو اپنی بیٹی کو خود سے دور رکھ سکتے ہیں ۔
کیا وہ اتنی بری تھی کہ اس کے اپنے اسے خود سے دور کر چکے تھے نہ جانے کیوں ہر رات کی طرح یہ سب سوال اس کے دماغ میں پھر سے آنے لگے ۔اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔
کیوں وہ اپنے گھر نہیں جا سکتی تھی کیوں اپنے ماں باپ سے نہیں مل سکتی تھی کیوں ان کے ساتھ نہیں رہ سکتی تھی کیوں وہ یہاں اتنے انجان ملک میں ہے
پچھلے 14 سالوں سے وہ نہ جانے کون کون سے ملک میں جا چکی تھی کبھی ایک جگہ جاتی تو کبھی دوسری جگہ پر تھوڑے عرصے کے بعد اسے وہاں سے بھی کسی دوسرے ملک میں شفٹ کر دیا جاتا ترکی اس کا 11 واں ملک تھا
اس کی تعلیم بری طرح سے متاثر ہوئی تھی ۔لیکن یہ کیوں تھا وہ نہیں جانتی تھی کہ اگر پتہ تھا تو بس اتنا کہ وہ کبھی اپنے ملک میں نہیں جا سکتی کبھی اپنے اپنوں کے پاس نہیں جا سکتی
وہ انہی سوچوں میں گم بیڈ پر لیٹ نہ جانے کہاں تک جا چکی تھی اور پھر آہستہ آہستہ اس کی آنکھیں بند ہونے لگی
شکر ہے کہ اس بار نیند اس پر مہربان ہو چکی تھی ۔
ورنہ شاید آج کی یہ رات تو ڈرتے ڈرتے ہی گزر جاتی اور اسے ساری رات نیند نہ آتی ۔
°°°°°°
دوسرے کمرے کی لڑکیاں ہر تھوڑی دیر کے بعد اس کے کمرے میں آ کر اسے دیکھ کر جاتی جو گہری نیند میں سو رہی تھی کیونکہ دوسری طرف انہیں ہر تھوڑی دیر کے بعد اریشفہ اور عائشہ کے میسج رسیو ہو رہے تھے
کہ وہ اس کا خیال رکھیں وہ دونوں اپنے اس پیاری سی سہیلی کو لے کر ہمیشہ فکر مند رہتی تھی وہ نہیں جانا چاہتی تھی لیکن مجبوری تھی کہ ان دونوں کو اس سے دور جانا پڑا
اریشفہ تو ہر ہفتے اپنے تایا سے ملنے کے لئے گھر واپس ضرور جاتی تھی لیکن عائشہ کا اس بار جانا ایک ماہ بعد ہوا تھا وہ بہت کم ہی اپنے گھر جاتی تھی کیونکہ اس کے بابا اسے بچپن میں ہی چھوڑ چکے تھے وہ اپنی ماں کے ساتھ رہتی تھی لیکن اب اس کی ماں نے دوسری شادی کر لی تھی اور اس کا سوتیلا باپ اسے زیادہ پسند نہیں کرتا تھا ۔
یہی وجہ تھی کہ وہ بہت کم کم ہی اپنے گھر جایا کرتی تھی صرف اپنی ماں سے مل کر جلد واپس آ جاتی ۔
وہ تینوں ہی کہیں نہ کہیں اپنوں کے ستم کا شکار تھی اور شاید یہی وجہ تھی کہ ان تینوں میں دوستی بھی کمال کی تھی
اریشفہ پیدایشی گویائی سے محروم تھی وہ کبھی بول نہیں پائی تھی لیکن جاناں اور عائشہ اس کی آواز تھی وہ اسے کبھی بھی اس محتاجی کو محسوس نہ کرنے دیتی
۔اور یہی وجہ تھی کہ عاشی ہر وقت ان دونوں کے ساتھ رہتی کیونکہ وہ واحد سہیلیاں تھیں جو اس کی بے بسی کا مذاق نہیں آتی تھی
°°°°°°
جنوری کی سرد رات میں وہ معصوم سی شہزادی اپنے بیڈ پر اپنے خوابوں کی دنیا میں مدہوش سارا جہاں بھلائے ہوئی تھی
جب کوئی کھڑی کود کر آہستہ آہستہ چلتا اس کے بالکل پاس آیا اس کے بائیں ہاتھ میں ایک ٹیٹو تھا جس سے آسانی سے پہچانا جا سکتا تھا ۔
ماہی ۔۔۔شاید کسی بہت عزیز ہستی کا نام تھا وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اس شہزادی کے بالکل پاس آکر زمین پر بیٹھ گیا
ساری دنیا سے بے خبر کینڈل کی روشنی میں دمکتے چہرے کے ساتھ پرسکون نیند لے رہی تھی وہ محبت پاش نظروں سے اس کی طرف دیکھتا آہستہ آہستہ اس کے بال سہلانے لگا ۔
لیکن اس کا انداز اتنا نرم تھا کہ وہ نیند میں اسے محسوس نہیں کر پا رہی تھی یا اگر محسوس کر بھی رہی تھی تو بھی اسے اپنا کوئی عزیز جان کر اس کے لیے یہ لمس انجان نہیں تھا ۔
میری جاناں ۔۔۔۔میری ماہی ۔۔۔آئی لو یو میری جان میری پرنسز میں بہت جلد تمہیں لے جاؤں گا ان سب سے دور میری دنیا میں جہاں کوئی نہیں ہوگا جان اور اس کی جاناں اس کی شہزادی ۔
میری دنیا میں چلو گی نہ شہزادی ۔تمہارا بیسٹ تمہیں لینے آئے گا ۔
تمہیں اس دنیا سے چھپا لے گا اور جنہیں لگتا ہے کہ وہ تمہیں مجھ سے چھپا پائیں گے ۔ان کو بھی پتا نہیں چلنے دوں گا ۔
وہ بے وقوف لوگ تو جانتے ہی نہیں ہیں کہ جس سے وہ تم کو چھپا رہے ہیں وہ تمہارے اتنے قریب ہے اتنے قریب کے تمہاری آتی جاتی سانسوں کی خوشبو کو محسوس کرسکتا ہے وہ اس کے بالکل قریب اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے نرمی سے بولا ۔
ماہی میں جانتا ہوں تمہیں پیار کی ضرورت ہے ان لوگوں نے میری ماہی کو اکیلا کر دیا میری جان کو مجھ سے دور کرنے کے لیے اتنی اذیت دی لیکن اب میں تمہیں ڈھونڈ چکا ہوں میں تمہیں لے جاؤں گا میری جان ۔
لیکن میں تمہیں تمہاری مرضی کے بغیر نہیں لے کر جا سکتا تمہیں ان سب کو بتانا ہوگا کہ تم میری ہو ۔تم میرے ساتھ رہنا چاہتی ہو۔پھر ہمیں کوئی الگ نہیں کر پائے گا ۔الگ تو ہم اب بھی کوئی نہیں کر سکتا جاناں۔ لیکن میں تمہیں تمہاری مرضی سے اپنے ساتھ لے کر جانا چاہتا ہوں ۔
تمہیں میرے لئے میری محبت کے لئے ان لوگوں کو چھوڑنا ہوگا ان لوگوں سے بغاوت کرنی ہوگی ان لوگوں کو کیا لگا تھا یہ لوگ تمہیں مجھ سے الگ کر دیں گے
تمہارا نام بدل کر تمہارا ملک بدل کر تمہاری آئیڈنٹٹی بدل کر یہ لوگ تمہیں مجھ سے دور کر دیں گے میں ایسا کچھ نہیں ہونے دوں گا تم میری ہو اور میری رہو گی
جان تمہارے لیے سب کچھ چھوڑ سکتا ہے سب کو ختم کر سکتا ہے وہ اس کے کان کے قریب سرگوشی کرتے ہوئے بولا جب اچانک جاناں نے اپنا ہاتھ اٹھا کر سائیڈ پر رکھنا چاہا اس سے پہلے ہی وہ اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں تھام چکا تھا
وہ گہری نیند میں اپنا ہاتھ کینڈل پر رکھنے والی تھی ۔اس نے غصے سے ایک نظر کی جلتی موم بتی کو دیکھا جو اپنے آتش نما وجود کے ساتھ اپنا کام سرانجام دے رہی تھی لیکن نہ جانے کیوں اسے غصہ آگیا
تم میری جان کو نقصان پہنچانے والی تھی
تم میری جاناں کو تکلیف دینے والی تھی میری جان کو ۔۔تم نے ایسا کیوں کیا کیوں کیا ۔۔۔! وہ انتہائی غصے سے کینڈل سے پوچھ رہا تھا جب اگلے ہی لمحے وہ اسے اپنی مٹھی میں دبوچتے ہوئے زمین پر پھینکتا اپنے پیروں سے کچھلنے لگا جیسے وہ کوئی زندہ شخص ہو اور اسے جاناں کو تکلیف پہنچانے کے جرم میں سزائے موت دے دی گئی ہو ۔
جو چیز میری ماہی کو تکلیف پہنچائی گئی میں اسے دنیا سے مٹا دوں گا ۔وہ انتہائی غصے سے کینڈل کو مزید کچلتا ایک نظر جاناں کی طرف دیکھنے لگا جب کہ اندھیرے میں سوائے سیاہی کے اور کچھ نہیں تھا
لیکن شاید وہ اپنی جان کو اندھیرے میں بھی دیکھنے کا فن جانتا تھا وہ مسکرایا ۔
ماہی میں کل پھر آؤں گا تم سے ملنے کے لیے ویسے ہی جیسے روز آتا ہوں تمہیں دیکھے بنا مجھے چین نہیں آتا وہ اس کے ماتھے پر بوسہ دیتا خاموشی سے جس راہ پہ آیا تھا اسی راہ واپس نکل گیا
جب کہ روز کی طرح آج بھی جاناں اپنے خیالوں کی دنیا میں مدہوش کسی اور ہی شہزادے کا انتظار کر رہی تھی لیکن وہ کہاں جانتی تھی کہ اس شہزادی کے انتظار میں ایک بیسٹ بھی ہے
°°°°°°°°°°
اس کی آنکھ کھلی تو وارڈن صفائی کر رہی تھی اس نے مسکرا کر انہیں سلام کیا ۔ جس کا جواب دے کر وہ باہر جانے لگی لیکن ایک سیکنڈ کے لئے مڑی۔
جاناں تمہارے کلاس کی دوسری دو لڑکیاں کہاں ہیں۔۔۔۔۔! جو یہاں تمہارے ساتھ ہوتی ہیں ۔وہ کیا اپنے اپنے گھر گئی ہیں۔۔۔۔۔! تم اس بار بھی نہیں گئی ۔۔۔۔! کیا تمہیں اپنے گھر والوں کی یاد نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔!وہ ترکش میں اس سے پوچھنے لگی۔
نہیں ایسی بات نہیں ہے دراصل بابا گھر پہ تو ہوتے نہیں ہیں وہ کبھی ایک کنٹری تو کبھی دوسری کنٹری چلے جاتے ہیں ۔ اور آپ کو تو پتہ ہی ہے میرے بابا کے علاوہ میرا اور کوئی نہیں ہے ۔بابا نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ اس بار وہ آئیں گے تو مجھے اپنے ساتھ لے کر جائیں گے وہ چاہ کر بھی کسی کو نہیں بتا سکتی تھی کہ اس کی ایک سوتیلی ماں کے ساتھ تین تین بھائی بھی ہیں ۔
تم بھی کہیں گھوم پھر آؤ بہت وقت ہوگیا تم کہیں گئی نہیں نہ ہی تمہارے بابا تم سے ملنے آئے ہیں ۔اب تمہارے ایگزامز ہونے والے ہیں اس سے پہلے پہلے تم بھی کہیں انجوائمنٹ کر آؤ فریش ہو جاؤ گی ۔انہوں نے مشورہ دیا
جی ان شاءاللہ میں بھی جلد ہی جانے والی ہوں اس نے مسکرا کر انہیں مطمئن کیا ۔اور اٹھ کر فریش ہونے لگی لیکن پہلے موبائل دیکھا جہاں میسیجز کا کوئی شمار نہ تھا ۔اس نے مسکرا کر دونوں کو گڈ مارننگ وش کیا ۔ اور فریش ہونے چلی گئی ۔
°°°°°°
آریان نے گھر آتے ہی سب سے پہلے وہ پارسل دیکھا تھا۔ جس میں کچھ لاشوں کی تصویریں تھیں جن کی حالت اتنی بگڑی ہوئی تھی جتنی کے آج کی لاش کو دیکھ کر آیا تھا
تصویروں کے علاوہ اس میں ایک چپ تھی اور اس کے علاوہ ایک کاغذ جس پر 122 لوگوں کے نام لکھے تھے ۔لیکن صرف نام لکھے تھے نام کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ان میں سے کچھ لوگوں کو وہ جان چکا تھا شاید یہی لوگ مارے گئے تھے
ان میں سے کہیں لوگوں کی لاشیں تصویروں سمیت انہیں مل چکی تھی
لیکن وہ صرف ناموں کے سہارے ان تک نہیں پہنچ سکتا تھا ان میں سے 33ناموں پر ٹک لگی تھی مطلب کے وہ اپنے عبرتناک انجام تک پہنچ گئے تھے ۔
آخری نام عیلا جابر کا تھا جس کی لاش انہیں کل رات ہی ملی تھی اور اسی لسٹ میں جن ناموں پر ٹک لگی تھی ان کی لاشیں موصول ہو چکی تھی ۔
یعنی کے بیسٹ کا اگلا شکار اسی لسٹ میں موجود اگلا نام صنم بسیل تھا اب یہ صنم بسیل کون تھی اور سے کہاں ملنی تھی اس کا اس کیس سے کیا تعلق تھا ۔یہ بات تو کلیئر تھی کہ کہیں نہ کہیں یہ لڑکی بھی گناہوں کی دنیا میں شامل تھی۔ اور اگلی موت بیس کے ہاتھوں کسی کی ہونے والی تھی لیکن وہ اسے کیسے بچائے گا یہ اس کی سمجھ سے باہر تھا آج تک اس نے یہ نام نہیں سنا تھا
وہ اس لڑکی تک کیسے پہنچے گا کیسے بتائے گا کہ اس کی جان خطرے میں ہے لیکن وہ کوئی اچھی لڑکی نہیں تھی کیونکہ بیسٹ کو جتنا وہ جان چکا تھا یہ اس کی سمجھ میں آ چکا تھا کہ وہ صرف ان لوگوں کو مارتا ہے جو غلط کام کرتے ہیں ۔
ضرور عیلا جابرسے اس لڑکی کا کوئی نہ کوئی کنیکشن ضرور ہوگا ۔سب سے پہلے تو اس کا بائیو ڈیٹا نکالنا پڑے گا ۔ہو سکتا ہے بیسٹ سے پہلے میں اس لڑکی تک پہنچ کر اس کی جان بچا سکوں۔
آریان یہ بات تو سمجھ چکا تھا کہ بیسٹ جو بھی کر رہا ہے وہ غلط نہیں ہے ۔ لیکن اس کا طریقہ بہت غلط تھا یہ قانون کا کام تھا اور بیسٹ قانون کو اپنے ہاتھوں میں لے رہا تھا ۔ اس سے پہلے بھی بہت سارے آفیسر یہ کام چھوڑ چکے تھے بیسٹ کو ایک سائیکو کلر کا نام دے کر
اور پھر آفیسرز کا یہ بھی کہنا تھا کہ بیسٹ کچھ غلط نہیں کر رہا وہ ہمارا کام کر رہا ہے لیکن آریان کو اپنا کام کسی اور کو کروانا ہرگز پسند نہیں تھا ۔
آریان کو اس نام بیسٹ سے اسے الگ ہی چڑ ہوتی جا رہی تھی ایک شخص جو 33 قتل یہاں ترکی میں کر چکا ہے اس سے پہلے بھی یہ نام کہیں نہ کہیں کیسز میں شامل ہی رہا تھا
بیسٹ یہ سب کچھ اپنے لیے کر رہا تھا یا سب کچھ کوئی کروا رہا تھا لیکن وہ ایک کلر تھا ایک گناہ گار تھا اور آریان کا کام گناہ گاروں کو ان کے انجام تک پہنچانا تھا ۔
آریان کو فرق نہیں پڑتا تھا کہ بیسٹ کتنا اچھا ہے اور کتنے اچھائی کے لئے کام کر رہا ہے اسے بس اپنا فرض نبھانا تھا اور اس کے فرض میں بس اس سائیکو کلر کو ڈھونڈ کر شوٹ ایٹ سائٹ کرنا تھا۔
کیونکہ انسانیت کے اس طرح سے حیوانوں کی طرح جان لینے والوں کا اور کوئی انجام نہیں تھا ۔اس نے چپ لگائی جو اس سامان میں شامل تھی۔ اس میں ایک ویڈیو تھی
لیکن اس ویڈیو کو بھی سمجھنا اس کے بس سے بالکل ہی باہر تھا یہ کوئی بہت پرانی اور غار نما جگہ تھی جو کافی زیادہ پرانی اور ٹوٹی پھوٹی تھی لیکن یہ جاننا مشکل نہیں تھا کہ وہ ترکی کا ہی کوئی علاقہ تھا ۔
کیونکہ اس ویڈیو میں ایک بورڈ تھا جو کافی پرانا تھا لیکن وہاں پر ترکی لکھا تھا پیچھے کیا لکھا تھا پڑھنا آسان نہیں تھا ۔کیونکہ دھول اور مٹی سے وہ جگہ پوری طرح سے کور تھی۔
اس سے پہلے جس آفیسر کو ایسا پارسل ملا تھا اس میں بھی ایک جگہ کا ویڈیو تھا اور کل انہیں وہیں لاش ملی تھی ۔مطلب کے اگلی لاش انہیں اس جگہ پر ملنے والی تھی ۔ آریان اس کلو سے یہی اندازہ لگا پایا ۔
لیکن پھر بھی وہ سب واردات سے پہلے وہاں جانا چاہتا تھا وہ اس جگہ کے بارے میں معلوم کرنا چاہتا تھا ۔
°°°°°°°°°°
تین گلیاں چھوڑ کے کالج تھا وہ جانا تو نہیں چاہتی تھی لیکن یہاں ہوسٹل میں بور ہونے سے بہتر تھا کہ وہیں لائبریری میں بیٹھ کر پیپرز کی تیاری کرلیتی۔
دوسری کلاس کی تو لڑکیاں اپنے روم میں ہی بیٹھ کر تیاری کر رہی تھی لیکن اس کا ماننا تھا کہ جتنی اچھی تیاری کالج میں ہو سکتی ہے اتنی یہاں نہیں ہو سکتی
لیکن یہ علاقہ کافی ویران تھا پچھلے کالج کی پچھلی طرف بہت کم لوگوں کی آمدورفت تھی کیونکہ یہاں گرلز ہوسٹل کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں تھا اور یہ علاقہ بھی کافی زیادہ ویران تھا کالج کا مین ڈور آگے کی طرف تھا جبکہ پیچھے کی طرف کوئی دروازہ نہیں تھا کالج کے اندر داخل ہونے کا بس وہی ایک راستہ تھا
جوان لڑکیوں کے لئے کافی لمبا پر جاتا تھا
وہ اپنی ہی دھن میں آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی کالج کی طرف بڑھ رہی تھی جب اسے سامنے سے کچھ لڑکے آتے دکھائی دیے ۔ان لڑکوں کے بارے میں کافی مشہور تھا کہ لڑکیوں کو تنگ کرتے ہیں اور رات میں ہوسٹل میں آنا جانا بھی انہیں تھا ۔
آج سے پہلے وہ کبھی بھی اکیلے اس طرف نہیں آئی تھی ہمیشہ سے اریشفہ اور عائشہ کے ساتھ ہی آتی تھی لیکن آج اتفاق سے وہ اکیلے میں آئی تو یہ لڑکے بھی راستے میں سے دکھائی دیے وہ دل ہی دل میں آیت الکرسی کا ورد کرتی آہستہ سے ان کے قریب سے گزر گئی وہ لڑکے عجیب نظروں سے اسے دیکھتے رہے ۔
لیکن بولے کچھ نہیں ان کی گھٹیا مسکراہٹ اور عجیب انداز میں اس کے ایکسرے کرنا اسے اچھا خاصا غصہ دلا چکا تھا لیکن اس جگہ وہ اپنا غصہ نکالنے کی جرات نہیں کر سکتی تھی نہ جانے یہ نشائی لڑکے اس کے ساتھ کیا سے کیا کر دیں۔
یہ تو شکر تھا کہ ان لوگوں نے اسے بلایا نہیں بات کرنے کی کوشش نہیں کی اور راستہ نہیں روکا ورنہ اس کی تو کھڑے کھڑے ہی جان نکل جانی تھی ۔
اللہ کرے ان لوگوں کے پیچھے کتے لگ جائیں ۔
کتے نہیں بلکہ شیر لگ جائے ۔
یہ تو اتنے بڑے بڑے ہیں یہ تو کتوں سے ڈرتے ہی نہیں ہوں گے ۔
شیر لگیں گے تو لگ پتا جائے گا سارا نشہ اتر جائے گا ۔ وہ بڑبڑاتے ہوئے کالج کے اندر داخل ہوئی بہت کم لوگ آئے تھے ۔جب سے پیپرز کی اناؤنسمینٹ ہوئی تھی کالج میں اسٹوڈنٹس کا آنا جانا بند ہوگیا تھا
صرف وہی لوگ آتے تھے جو اپنی پڑھائی کو لے کر کچھ حد تک سیریز تھے یا جن کو اس کی طرح ہوسٹل میں بیٹھ کر پڑھنا نہیں آتا تھا
وہ خاموشی سے بنا کسی کو بھی مخاطب کیے آ کر لائبریری میں بیٹھ کر اپنی کورس کی بک پڑھنے لگی ۔یہاں کے لوگوں سے وہ کم ہی بات چیت کرتی تھی ۔وہ خود میں محدود رہنے والی لڑکی تھی اسی لیےلوگ خود بھی اس سے بات نہیں کرتے تھے ۔
°°°°°°°°
عائشہ کو یہاں آتے ہی سب سے زیادہ ٹینشن جاناں کی تھی وہ اکیلی کیسے رہے گی ۔ لیکن یہاں آ کر اسے یہ پتہ چلا تھا کہ اس کی ماں نے اسے یہاں اس کی شادی کے لئے بلایا ہے کوئی لڑکا ہے جو اسے دیکھنا چاہتا ہے اور اتفاق سے وہ لڑکا اسی کے سوتیلے باپ کے دوست کا بیٹا ہے ۔
اپنے سوتیلے باپ سے تو پہلے دن ہی نفرت کرتی تھی جس نے آتے ہی اس سے اس کی ماں کو چھین لیا تھا اسے اس کی ماں سے دور کردیا تھا وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی ماں سے اتنی دور ہوسٹل میں رہتی تھی
ماما آپ نے مجھ سے ایک بار پوچھا تک نہیں کہ میں شادی کے لیے تیار بھی ہوں یا نہیں ابھی تو میری پڑھائی بھی مکمل نہیں میں کچھ بننا چاہتی ہوں اگر میں نے شادی کرلی تو یہ سب ممکن نہیں ہے نہ خیر ان سب باتوں کو چھوڑیں میں شادی کے لیے تیار نہیں ہوں آپ ان لوگوں کو منع کردیں اس نے ایک ہی بار میں بات ختم کرنا چاہی ۔
دیکھو بیٹا تمہارے بابا نے تمہارے لئے بہت اچھا رشتہ ڈھونڈا ہے لڑکا بہت اچھا ہے مجھے بہت پسند ہے ماما نے سمجھانے کی کوشش کی
اوو پلیز ماما وہ میرے بابا نہیں ہیں میرے بابا فوت ہو چکے ہیں اور وہ کبھی میرے بابا ہو بھی نہیں سکتے جو اولاد کو اس کی ماں سے دور کر دے وہ شخص کبھی باپ نہیں بن سکتا ۔اس لیے بہتر ہوگا کہ بار بار آپ اس شخص کو میرا باپ نہ کہے ۔وہ انتہائی غصے سے بولی جب وہ شخص کمرے کے اندر داخل ہوا
بند کرو یہ سارے ڈرامے اسی لیے تمہیں نہیں بلآیا یہاں آ کر اپنی بے زبانی اور بد اخلاقی کی مثالیں قائم کرو ۔ میرے دوست کے بیٹے نے تمہیں پسند کر لیا ہے اور وہ بہت اچھا شخص ہے اور اس شادی کے بدلے میں مجھے بہت بری ڈیل دے رہا ہے اگر تم نے اس شادی سے انکار کیا ۔۔۔
اب میں سمجھی تو یہ شادی آپ لوگ مجھے بیچ کر کر رہے ہیں تاکہ آپ کو وہ ڈیل مل جائے لیکن میں یہ شادی نہیں کروں گی میں اپنی مرضی کی مالک ہوں اور کوئی بھی میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتا۔اگر آپ نے میرے ساتھ ذرا بھی زبردستی کرنے کی کوشش کی تو میں پولیس میں جاؤں گی کمزور مت سمجھیے گا مجھے ۔صبح ہوتے ہی یہاں سے چلے جاؤں گی ۔
وہ انتہائی غصے سے کہتی کمرے سے باہر نکل گئی جب سامنے ہی کھڑا لڑکا کافی دلچسپ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا اس نے نفرت سے اسے دیکھا اور آگے بڑھ گئی یقینا یہ وہی لڑکا تھا جس کے ساتھ اس کا باپ سے بیچنے کے لیے ڈیل طے کر چکا تھا
انکل آپ اتنا غصہ کیوں کر رہے ہیں بس ایک پر آپ میری شادی اس سے کروا دیں میں خود اسے کنٹرول کر لوں گا وہ مسکراتے ہوئے ان کے پاس آکر کھڑا ہوا انہوں نے شرمندگی سے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا ۔
بیٹا یہ اپنی ماں کی ڈیل کی وجہ سے اتنی بھگڑ گئی ہے اگر میں اسے سنبھال رہا ہوتا تو اب تک تیر کی طرح سیدھی ہوتی وہ انتہائی غصے سے بولے تھے جبکہ اس کی ماں نے ایک نظر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا اور پھر نظر جھکا گئی ۔
°°°°°°
واپسی انہی راستوں پر ہوئی تھی وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی واپس آرہی تھی اس وقت بھی وہ بالکل تنہا تھی اس ویران سے علاقے میں ۔
لیکن ایک چیز تھی جو اسے گھبرانے پر مجبور کر گئی صبح جہاں وہ لڑکے کھڑے تھے اس وقت وہاں بے تحاشہ خون پھیلا ہوا تھا ۔
یااللہ کیا ان میں سے کسی کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے
کہیں سچ میں تو ان لوگوں کے پیچھے شیر تو نہیں لگ گیا کہیں سچ میں میری بدعا قبول نہیں ہوگی اللہ جی پلیز میرا اعمال نامہ خراب مت ہونے دیجیے گا
میں نے تو بس مذاق مذاق میں کہہ دیا تھا کہ ان کے پیچھے شیر لگا دیں آپ نے کہیں سچ میں تو ان کے پیچھے شیر نہیں لگا دیا یا اللہ جی پلیز ان لوگوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھنا وہ پریشانی سے خون کو دیکھتی آگے کی طرف بڑھ رہی تھی کیونکہ اتنا خون دیکھنا بھی اس کے بس سے باہر تھا
°°°°°°°°

°°°°°°°°
جاناں کالج سے سیدھا ہوسٹل واپس آئی تھی ویسے بھی وہ آگے پیچھے کہاں جاتی تھی اس نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا بیڈ پے انتہائی خوبصورت پھولوں کا بکے دیکھا
یہ کون رکھ گیا ۔۔۔۔۔!
اس نے کنفیوز ہوتے ہوئے آگے قدم بڑھائے اور پھولوں کو اٹھا دیکھنے لگی جلد ہی اسے مطلوبہ چٹ مل گئی
پھولوں پر اسی کا نام لکھا تھا جان کی جاناں ۔۔۔۔۔۔یہ کون تھا اور اسے پھول کیوں بھیجے آج تک اس کے لئے تو اس طرح کبھی کوئی بھی پارسل نہیں آیا تھا اور اب یہ پھول ۔۔۔۔!
بےحد خوبصورت خوشبو دار پھول جاناں کی بچپن سے ہی کمزوری تھے اسی پھول حد سے زیادہ پسند تھے اور اب اسے کوئی پھول دے گیا
ترکی کے جس علاقے میں وہ رہتی تھی یہاں اس پھولوں کی کوئی شاپ نہیں تھی تو پھول کہاں سے آئے اس کے لیے یہ پھول کون چھوڑ گیا ۔۔۔۔۔! اور کیوں
جاناں نے کنفیوز ہو کر پھولوں کے ساتھ ملی پرچی کو پھر سے چیک کیا جس پہ صرف جان کی جاناں ہی لکھا تھا
اب یہ جان کون تھا اور پھول اسے کیوں بھیجے تھے
ہوسکتا ہے بابا کا کوئی جاننے والا ہو یا بابا نے ہی بھیجے ہوں اس کا دل تھوڑی دیر کے لئے خوش ہو گیا لیکن پھر اپنے بابا کے مزاج کو سوچتے ہوئے وہ اس سوچ پر بھی قائم نہیں رہ سکی
نہیں بابا یہ پھول نہیں بھیج سکتے بابا نے تو پہلے بھی کبھی نہیں بھیجے اور وہ پھول کیوں بھیجیں گے مجھے وہ بھی کسی اور کے نام پر ۔۔۔۔لیکن یہ کون ہو سکتا ہے آخر اس نے مجھے کیوں پھول بھیجے ہیں جاناں بری طرح سے الجھ گئی تھی
کیا مجھے اس بارے میں کسی کو بتانا چاہیے وہ پھولوں کا بکے ہاتھ میں لیے کنفیوز سی خود سے سوال کرنے لگی۔
ہاں بتانا چاہیے ہو سکتا ہے کسی اور کے پھول ہوں غلطی سے کوئی میرے کمرے میں رکھ گیا ہو وہ کہتے ہوئے باہر آ کے وارڈن سے پوچھنے لگی کہ یہ پھول کس نے دیے ہیں
لیکن ان کا بھی یہی جواب تھا کہ کوئی دروازے پر رکھ گیا اس ہوسٹل میں جاناں تمہارے علاوہ اور کوئی نہیں اسی لئے تمہارے کمرے میں چھوڑ آئیں ۔
واڈن کی بات سن کر وہ واپس اپنے روم میں آ گئی تھی ہوسٹل میں اس کے علاوہ جاناں اور کسی کا بھی نام نہیں تھا ۔
لیکن پھر بھی اس کا سوال وہی تھا کہ اس کے لئے بلا یہ پھول کون بھیجے گا
ارشی اور عائشہ نے پہلے کبھی ایسی شرارت نہیں کی تھی اور نہ ہی وہ ان دونوں سے اس طرح کی کسی شرارت کی امید رکھ سکتی تھی وہ بھی تب جب وہ ہوسٹل میں اکیلی ہے اور وہ دونوں ہی جانتی ہیں کہ جاناں کتنی ڈرپوک ہے
یقیناٰ یہ پھول میرے لئے نہیں آئے لیکن جس کے لئے بھی آئے ہیں بہت خوبصورت ہے وہ پھولوں کو اپنے سینے سے لگاتے ہوئے محبت سے بولی۔
لیکن اچانک ہی گلاب کی ایک ٹہنی کے ساتھ لگا کانٹا اس کے ہاتھ کی انگلی میں کھب گیا
شسس۔ ۔۔انگلی پر ننھا ساخون کا قطرہ تھا جسے اس نے اپنی دوسری انگلی سے دبا کر بند کر دیا جہاں اس کے لیے یہ ایک معمولی سی بات تھی وہیں کسی دوسرے کی آنکھوں میں یہ منظر کسی کانٹے کی طرح چھبا تھا
°°°°°°°°
ارشی جلدی چلو یہ نہ ہو کہ سیل آفر ختم ہو جائے پھر میری پسند کی ڈریس یہیں رہ جائے گی تائبہ اسے اپنے ساتھ بھگاتے ہوئے کہہ رہی تھی جب کہ ارشی سے جتنا تیز ہو سکے اتنا چلنے کی کوشش کر رہی تھی
کیوں کہ وہ بھی جانتی تھی کہ تائبہ شاپنگ کے لیے کتنی پاگل ہے اور جہاں اسے سیل نظر آجائے وہاں تو وہ بالکل ہی پاگل ہو جاتی تھی اور اب وہ مہینہ شروع ہوتے ہی مہینے کے ختم ہونے کا انتظار کر رہی تھی کہ اسے اچھی سیل پر اچھی چیزیں مل جائیں گی
ائمہ کا تو کہنا تھا کہ اسے اپنی بہن کے ساتھ بازار جاتے ہوئے شرمندگی ہوتی ہے اور ایسا ہی کچھ کہنا اس کی ماں کا بھی تھا اس کا باپ اتنا بڑا ڈی ایس پی تھا اور ان کی بیٹی سیل کے لیے پاگل ہوئی پھرتی تھی بس یہی وجہ تھی کہ ارشی کو ہی اپنی قربانی دینی پڑتی تائبہ کے ساتھ آکر
آخرکار بھاگ بھاگ کر وہ دونوں سیل پر سب سے پہلے آ پہنچیں تھیں فی الحال یہاں کوئی نہیں آیا تھا اور سیل شروع ہونے میں بھی ابھی دس منٹ باقی تھے
جہاں تائبہ یہ جان کر خوش ہوگئی تھی وہی ارشی کو یہ جان کر دورہ پڑ رہا تھا کہ اسے دس منٹ مزید بازار میں رکنا ہوگا ابھی وہ انہیں سب سوچوں میں گم تھی جب اسے ایسا محسوس ہوا کہ کوئی بہت قریب سے مگر بہت غور سے اسے گھور رہا ہے اس نے اس طرف مڑ کر دیکھا تو ایک آدمی فل یونیفارم میں اسے ہی دلچسپی نظروں سے دیکھ رہا تھا
اس نے چہرے پر نقاب لیا ہوا تھا لیکن پھر بھی عجیب آدمی تھا جو نقاب میں بھی اسے گھورے جا رہا تھا اوپر سے یہ محافظ تھا یونیفارم پہنے ہوئے اور پھر ایسی حرکتیں ارشی نے نفرت سے چہرہ پھیر لیا لیکن پھر بھی اپنے عقب میں اس کی نظروں کی تپش کو محسوس کر رہی تھی
تھوڑی دیر میں رش ہوگیا سیل پر لوگوں کی بھرمار تھی تائبہ تو سب سے آگے اور پہلے پہلے لینے کی کوشش میں تھی جب کہ تھوڑے سے فاصلہ پر کھڑی ہو کر اسے دیکھنے لگی لیکن اس کے باوجود بھی اپنے آپ کو کسی کی نظروں کے حصار میں ہی پایا
آگے پیچھے نظریں دہرائی تو اس پھر وہی پولیس والا اس کے پیچھے کی طرف کھڑا اسے دیکھ رہا تھا اس نے انتہائی گھور کر اسے دیکھا لیکن سامنے والے کی نظروں میں مزید دلکشی پھیل چکی تھی جیسے وہ اس کی اس حرکت سے لطف اندوز ہوا ہو
عجیب ڈھیٹ انسان تھا اس کے چہرے پے نقاب ہوا تھا لیکن پھر بھی گھورے جا رہا تھا
اس کا اس طرح سے دیکھنا ارشی کو اتنا کنفیوز کر رہا تھا جیسے وہ بغیر نقاب کے کھڑی ہو
°°°°°°°°°
عمران کو پاکستان جانا تھا وہ خود تو ترکی میں پیدا ہوا تھا لیکن اس کے دادا اور دادی پاکستان میں رہتے تھے جن کے لیے وہ اکثر ہی شاپنگ کر کے بہت ساری چیزیں لے کے جاتا تھا اریان کو ان سب چیزوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن عمران کے لئے اسے یہاں آنا پڑا تھا کیونکہ عمران کے پاس اپنی گاڑی نہیں تھی آریان ہی اسے صبح اور شام گھر چھوڑتا اور لینے جاتا تھا
آج اس نے یہ فرمائش کر ڈالی کہ وہ کچھ دنوں میں پاکستان جانے والا ہے تو آپنے دادا دادی کے لئے گفٹ لے کر جانے ہیں بس اسی لئے آریان کو بھی اس کے ساتھ شاپنگ پر آنا پڑا لیکن یہاں اس مہ جبین کو دیکھ کر ایک پل کے لئے اس کی نظریں ہی رک سی گئی
وہ اتنا بے اختیار تو کبھی بھی نہیں تھا لیکن اس لڑکی کو دیکھتے ہی نہ جانے اسے کیا ہو جاتا تھا کہ وہ اپنا عہدہ تک بھول جاتا تھا اس وقت مکمل یونیفارم میں اسے پاگلوں کی طرح گھورے جا رہا تھا اپنی اس حرکت پر اسے خود بھی بہت غصہ آ رہا تھا لیکن سامنے والے کے ایکسپریشن اسے مزید لطف اندوز کر رہے تھے
وہ کبھی اسے سخت نظروں سے گھورتی تو کبھی آنکھوں میں غصہ لیے دیکھتی اور پھر جب کسی چیز پر زور نہیں چلتا تو اسے نظر انداز کرتے ہوئے آگے پیچھے دیکھنے لگتی وہ اس کی آنکھوں سے ہی اندازہ لگا چکا تھا کہ اس کے گھورنے کی وجہ سے وہ کس حد تک کنفیوز ہے
لیکن پھر بھی نہ جانے کیوں اس کی آنکھوں کی یہ خیر پھیر اسے پاگل کر رہی تھی جیسے وہ اس کی خوبصورت آنکھیں نہیں بلکہ پورا چہرہ دیکھ رہا ہو۔
پھر آخر ہمت جواب دے ہی گئی وہ اس سے بات کرنا چاہتا تھا اس سے اس کا ایڈریس معلوم کر کے رشتہ بیچنا چاہتا تھا اسے اپنی زندگی میں شامل کر لینا چاہتا تھا
جیسے اب صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہو
جیسے اسے دوسری بار نہیں بلکہ نہ جانے کتنی بار دیکھ چکا ہو
جیسے وہ اس کی زندگی کا حصہ ہو
جیسے آریان اپنی زندگی میں جس کمی کو پورا کرنا چاہتا ہو وہ کمی یہیں لڑکی ہو
بس یہ لڑکی اسے چاہیے تھی کسی بھی قیمت پر ہو اس کی آنکھوں کا دیوانہ ہو گیا تھا اس کی شرم و حیا اس کا خود سیمٹ کے رہنا اپنے آپ کو چھپا کر رکھنا اسے پاگل کر رہا تھا
بس اب اور نہیں وہ اس کے قریب بالکل قریب آکر رکا
تمہارا نام کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بنا کسی تہمہید کے اس سے پوچھنے لگا جب کہ وہ کنفیوز سی دوسری طرف کسی کو ڈھونڈنے لگی شاید جس کے ساتھ آئی ہو وہ اندر لڑکیوں کی بھرمار تھی
آریان سمجھ چکا تھا کہ وہ اس جگہ جسی کے ساتھ آئی ہے اسے ڈھونڈ رہی ہے
اسے بعد میں دیکھ لینا نام بتاؤ اپنا وہ اسے اس طرح سے ڈرتے دیکھ کر بے حد نارمل انداز میں سمجھانے لگا ۔ لیکن شاید مجرموں کے ساتھ باتیں کرنے کا اس کا انداز ہی ایسا اکھڑ اور سرد مزاج تھا کہ سامنے کھڑی لڑکی اس سے ڈر گئی تھی
وہ کبھی سامنے کھڑے اس آدمی کو دیکھتی تو کبھی شاپ کے اندر اپنی بہن کو جو نجانے بھرمار میں کہاں کھو گئی تھی
دیکھو پلیز تم اس طرح سے ڈرو نہیں میں بس تم سے تمہارے نام ہی تو پوچھ رہا ہوں وہ اس کے پیچھے ہٹنے اور ڈرنے پر سمجھانے والے انداز میں بولا لیکن شاید سامنے کھڑی لڑکی کچھ بھی سمجھنا نہیں چاہتی تھی اسی لیے اسے دھکا دیتے ہوئے اس شاپ کے اندر گھس گئی
اس کے اس طرح سے اچانک دھکا مارنے پر آریان خود ہی پچھے ہو چکا تھا شاید اس کے اچانک اس حرکت کی وجہ سے وہ ڈر گئی ہے
یار مجھے اس طرح سے اس سے نام نہیں پوچھنا چاہیے تھا میں بھی پاگل ہوگیا ہوں وہ بلا انجان انسان کو اپنا نام کیوں بتائے گی وہ اپنی عقل پر ماتم کرتے ہوئے پیچھے ہٹا جہاں عمران اپنے دادا دادی کی شاپنگ کر کے اب اسے باہر آنے کا اشارہ کر رہا تھا
آریان اس طرف جانے کی بجائے اس کی جگہ آیا تھا جہاں تھوڑی دیر پہلے وہ لڑکی کھڑی تھی
شاید وہ اپنے لئے ان سب میں سے کوئی حجاب پسند کر رہی تھی اس نے ان ڈمیز پر لگے حجاب کو دیکھتے ہوئے سوچا اور پھر اسی حجاب کو چھوا جسے وہ چھوا کر چیک کر رہی تھی اس پے پٹی لگی تھی شاید اس حجاب کی قیمت لکھی تھی وہ مسکرایا
اب وہ اس کی قیمت دیکھ کر اندازہ لگا چکا تھا کہ وہ لڑکی اس طرح سے اس حجاب کو چھوڑ کر کوئی عام سا حجاب کیوں چوز کرنے لگی تھی ۔
اس کا انداز ہی اسے بتا چکا تھا کہ شاید مہنگا ہونے کی وجہ سے اس نے اسے نہیں خریدہ ۔آریان نے وہ حجاب خریدا اور شاپ کپر کو کچھ سمجھا کر عمران کے ساتھ واپسی کی راہ لی
°°°°°°°°°
وہ صبح سے اس کمرے میں بند تھی اس کے باپ نے بس اتنا ہی کہا تھا جب تک سو ہم نہ آجائے تو اس کمرے سے باہر نہیں نکل سکتی
اور اب وہ اسے سوہم کے ساتھ زبردستی ڈنر پر بھیج رہا تھا ایک تو اسے وہ لڑکا زہر لگ رہا تھا اوپر سے اپنے باپ سے اسے بے تحاشہ نفرت تھی جو اسے ایک ڈیل کی وجہ سے بیچ رہا تھا
اس نے فیصلہ کر لیا تھا وہ کبھی بھی اس شخص کے ساتھ ڈنر پر نہیں جائے گی اور وہ بھی ایسی بے ہودا ڈریس پہن کر تو ہرگز نہیں جو بیڈ پر پڑی ہوئی تھی اور اسے کوئی غیر نہیں بلکہ اس کی ماں اس کے حوالے کر کے گئی تھی کہ رات سوہم کے ساتھ ڈنر پر یہ گھٹیا ڈریس پین کر جاؤگی
اسے غصہ اپنی ماں پے آتا تھا جو اس شخص سے ڈر کر اس سے یہ سب کچھ کرواتی تھیں اور کہیں نہ کہیں تو اس کی ماں بھی اس میں شامل تھی وہ بھی تو چاہتی تھی کہ سوہم کے ساتھ اس کی شادی ہو جائے اور شادی سے پہلے سوہم اسے چیک کرنا چاہتا تھا
مطلب کے وہ اس کے ساتھ بنا کسی رشتے کے ایک کمرے میں رہنا چاہتا تھا اور یہ بات اسے ہرگز بھی برداشت نہیں تھی
ترکی اتنا آزاد خیال ملک ہرگز نہیں تھا جہاں یہ سب کچھ ہو یہ لوگ بے شک ویسٹرن کلچر کو فالو کرتے تھے لیکن اس کے باوجود بھی یہاں زیادہ تر مسلمان تھے جو مسلم کلچر کو بھی فالو کرتے تھے
سو ہم خود کو مسلمان کہلاتے ہوئے بھی اتنی گھٹیا حرکت سے پرہیز نہیں کر رہا تھا اور اس کے باپ کو تو جیسے صرف اور صرف ان پیسوں سے مطلب تھا
جو اسے اس ڈیل سے ملنے تھے وہ اپنے آپ کو کیسے محفوظ کرے کہاں جائے اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کوئی کمزور یہ نادان لڑکی ہرگز نہیں تھی وہ جانتی تھی وہ کسی بھی طرح یہاں سے نکل جائے گی لیکن فی الحال وہ کیا کرے اس کا باپ اسے اندر بند کر گیا تھا وہ پولیس سے بھی کونٹیکٹ نہیں کر پا رہی تھی
°°°°°°°°°
وہ نہا کر باہر نکلی تو بیڈ پر پھولوں کا حشر بگڑا ہوا تھا وہ فورا بیڈ پر آکر پھولوں کو دیکھنے لگی جس کے ایک ایک پتے کو ہاتھوں سے مسلہ گیا تھا
کسی نے انتہائی نفرت سے ان خوبصورت پھولوں کا جنازہ نکال دیا تھا جاناں کو دکھ ہوا کتنے خوبصورت پھول تھے اور کسی نے ان کا کتنا برا حال کر دیا صرف اور صرف وہ کارڈ ہی موجود تھا جو ان کے ساتھ آیا تھا
یااللہ پھولوں کا یہ حال کس نے کیا وہ سوچنے لگی پھر خیال آیا دوسری کلاس کی لڑکیاں جو اکثر ہی عائشہ کے ساتھ لڑتی جھگڑتی رہتی تھی وہ اکثر عائشہ کی چیزیں برباد کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹتی
شاید روم میں کسی کو نہ پا کر انہوں نے ہی ایسی واحیات حرکت کی ہے ۔ پہلے اس نے سوچا کہ وارڈن کو شکایت لگائی لیکن پھر صرف پھولوں کے لیے وہ ان کو شکایت لگا نہیں سکتی تھی کیونکہ کمرے کی ساری چیزیں ویسی کی ویسی ہی پڑی تھی اور اگر دیکھا جائے تو اس کے ساتھ ان لڑکیوں کی کوئی دشمنی نہیں تھی بس عائشہ کے ساتھ ہی بولتی تھی
کیونکہ عائشہ کو اپنے اور اپنی ہم دونوں سہیلیوں کے حق میں لڑنے کی عادت تھی اسے تو اس گروپ کا ڈون بھی کہا جاتا تھا
°°°°°°°°°
وہ سونے کی کوشش کر رہی تھی رات کو نہ جانے کون سا وقت تھا جب اس کے موبائل پر ایک ان نون نمبر سے کال آنے لگی
پہلے تو اس نے دو تین بار اگنور کرنے کی کوشش کی لیکن پھر مجبوراً اسے فون اٹھانا یہ پڑا کیوں کہ پتا نہیں فون کرنے والا ڈھیٹ تھا یا کوئی ضروری کام تھا جو فون بند کرنے کا نام نہیں لے رہا تھا
اس نے مجبور ہوکر فون اٹھایا
دو تین بار ہیلو ہیلو کرنے کے بعد بھی کوئی نہیں بولا تو جاناں نے فون رکھ دیا ایک نظر کھڑی کی طرف دیکھا نو بج رہے تھے اوپر سے اسے نیند بھی آ رہی تھی اور تھوڑی دیر میں اسے ڈر لگنا بھی شروع ہو جانا تھا اس سے پہلے پہلے وہ سونا چاہتی تھی
اور نہ جانے کون تھا جو فون کرکے بار بار اسے ڈسٹرب کر رہا تھا
اب کرتے رہو فون میں بھی نہیں اٹھاؤں گی وہ موبائل سے کہتے ہوئے موبائل کو ایک طرف رکھ کر سونے لگیں وہ نہ تو موبائل سائلینٹ پر لگا کے سونے کی عادی تھی اور نہ ہی بند کرنے کی کیونکہ بابا کبھی بھی فون کر سکتے تھے
اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ بند ہونے یا موبائل سائلنٹ پر ہونے کی وجہ سے وہ اپنے بابا سے بات نہ کر سکے ۔ہو سکتا ہے کوئی رونگ نمبر ہو اس نے خود سے ہی اندازہ لگاتے ہوئے دوبارہ سونے کی کوشش کی
لیکن تھوڑی ہی دیر میں موبائل ایک بار پھر سے بچنے لگا اس نے گھور کر غصے سے فون کو دیکھا جس نے اس کی نیند برباد کی تھی اس نے فون اٹھا کر دوبارہ کان سے لگایا لیکن ہمیشہ کی طرح نرم لہجے میں بولی اس کی عادت تھی وہ سختی سے تو کسی سے بات کر ہی نہیں سکتی تھی ۔
بار بار ہیلو کر کے وہ تھک گئی لیکن دوسری طرف تو جیسے کوئی تھا ہی نہیں
دیکھو تم جو کوئی بھی ہو پلیز بات کر لو کچھ بھی بول دو لیکن اس طرح سے بار بار فون کر کے میری نیند خراب نہ کرو ۔مجھے بہت سخت نیند آ رہی ہے وہ التجا کرنے والے انداز میں بولی جبکہ دوسری طرف کسی کے لبوں پر دلکش مسکراہٹ میں پہرا جمایا تھا
ماہی۔۔۔ کسی کے لبوں میں لرزش ہوئی ۔
کون ۔۔۔۔! جاناں نے پریشانی سے کہا ۔
تمہارا اور صرف تمہارا جان ۔۔۔۔۔ انداز میں بلا کی دلکشی تھی
ایک پل کے لیے جاناں اس آواز کے سحر میں کھو سی گئی
کون جان میں تو کسی جان کو نہیں جانتی وہ الجھتے ہوئے بولی جبکہ اس کے انداز پر وہ مسکرایا تھا
ابھی نہیں جانتی لیکن جان جاؤ گی بہت جلد آخر میں تمہیں تو ڈھونڈ رہا ہوں تمہارے لیے ہی تو آیا ہوں یہاں ۔ اب سو جاؤ ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے میں ہوں نہ کوئی تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔ جب تک تمہارا جان تمہارے آس پاس ہے ۔کوئی ہوا بھی تمہیں چھو کر نہیں گزر سکتی
اس کے انداز میں ایک عجیب سا جنون بول رہا تھا جسے سوچ کر جاناں بھی ایک پل کے لئے گھبرا گئی تھی ۔
لیکن وہ اس شخص سے الجھنا نہیں چاہتی تھی شاید کوئی رونگ نمبر ہو ۔ شاید وہ کسی اور سے بات کرنا چاہتا ہو ۔لیکن وہ تو اسی کا نام لے رہا تھا ۔ صبح جو پھول آئے تھے وہ بھی اسی کے نام کے تھے اور اس پر بھی تو جان کا نام ہی لکھا تھا ۔
کہیں سچ میں تو اس کے پیچھے کوئی عشق وغیرہ نہیں لگ گیا ۔وہ پریشانی سے فون کان سے لگائے سوچے جارہی تھی جب اس کے کان میں سرگوشی نما آواز گونجی
۔
اپنے دماغ سے ہر سوچ کو نکال دو گڈنائٹ ماہی اپنا خیال رکھنا میرے لیے ۔۔اور اس کے ساتھ ہی فون بند ہو گیا
جب کہ وہ اسی فون کے بارے میں سوچتے ہوئے بیڈ پر لیٹ گئی نہ جانے کب اس کی آنکھ بند ہوئی اور وہ نیند کی وادیوں میں چلی گئی
°°°°°°°°
آریان اس چپ کے بارے میں سب کچھ معلوم کرا چکا تھا اسے پتہ چل چکا تھا کہ وہ ویڈیو تقریبا 20 سال پرانی ہے کیونکہ جس جگہ کا ایڈریس تھا اس وقت وہاں ایک بہت ہی بڑی بلڈنگ تعمیر ہو چکی تھی جو کہ شہر کی سب سے بڑی بلڈنگ میں سے ایک تھی
یعنی کہ اس کیس کا راز کہیں نہ کہیں بیس سال کے عرصے سے تعلق رکھتا ہے کچھ تو ایسا ہے جو 20 سال پہلے ہوا ہے یا شاید اس جگہ پر کچھ ایسا ہوا ہے اس شخص نے اسے بری طرح سے الجھا دیا تھا ۔
اگر وہ بیسٹ ان لوگوں کی مدد ہی کر رہا تھا تو یہ کون سا طریقہ تھا مدد کرنے کا وہ سیدھی طرح سے اسے کچھ بھی بتا سکتا تھا لیکن اس طرح کی ایک ویڈیو بھیجنا جو بیس سال پہلے ریکارڈ کی گئی ہو
اور لیسٹ کا اگلا نام صنم اس لڑکی کا جس کا کوئی اتا پتا نہیں تھا نہ جانے وہ کون تھی اور کس حال میں تھی۔ اسے پتہ تھا تو صرف اور صرف اتنا کے بہت جلد اس لڑکی کی موت ہونے والی ہے اور بہت کوشش کی باوجود بھی وہ نہ تو اسے ڈھونڈ پا رہا تھا اور نہ ہی اس چپ سے کوئی خاص ثبوت اس کے ہاتھ لگا تھا
اور دوسری طرف آریان کے دماغ سے وہ لڑکی نہیں نکل رہی تھی کہ جانے سے پہلے نہ تو اسے اپنا نام بتا کر گئی اور نہ ہی اسے کوئی اچھی امید لگا کر گئی جس طرح اسے وہ اس سے ڈر رہی تھی آریان کو تو اپنا آپ ہی برا لگا۔
لیکن اس میں آریان اپنی غلطی سمجھتا تھا اسے لگا رہا تھا کہ اس طرح سے بات کرنے سے وہ لڑکی اس سے بہت خوف زدہ ہوگئی تھی لیکن اس نے اتنا اچھا موقع گنوا دیا ۔ لڑکی کا ایڈریس تو بتا کر سکتا تھا اس کا پیچھا کر کے یا اس کے ساتھ موجود دوسرے انسان سے پوچھ کر وہ تو اس سب میں اس دوسری لڑکی کو بھی نہیں دیکھ پایا تھا جس کے ساتھ وہ آئی تھی ۔اب اسے پھر اسے ڈھونڈنے کی کوشش کرنی تھی
°°°°°°°°°
بہت منع کرنے کے باوجود بھی وہ سوہم کے ساتھ ہی باہر آئی تھی وہ اسے ڈنر کروانے کے لئے اسے ایک شاندار ہوٹل میں لے کر آیا تھا
عائشہ اسے بُری طرح سے نظر انداز کرتے ہوئے اپنے ڈنر میں اس طرح سے مصروف تھی جیسے اس سے ضروری اور کام اس نے آج تک نہ کیا ہو
سو ہم اس سے بات کرنے کی کوشش کر رہا تھا جب کہ وہ تو ساری دنیا کو بھلائے صرف اور صرف اپنے کھانے میں مصروف تھی
عائشہ لگتا ہے تم نے کبھی اتنا اچھا کھانا نہیں کھایا وہ زیادہ دیر برداشت نہ رہ سکا اس لیے طنز کرتے ہوئے بولا
نہیں سوہم کھانا تو میں نے بہت اچھا کھایا ہے لیکن کیا ہے نا جب آپ کے پاس کوئی ضروری کام نہ ہو تو آپ کو سب سے پہلے اپنے کھانے پر دھیان دینا چاہیے ۔عائشہ نے اسے غیر ضروری قرار دیا تھا
مطلب تم یہ کہنا چاہتی ہو کہ میرا ہونا یا نہ ہونا تمہارے لئے ایک برابر ہے سو ہم کو آگ لگی تھی
تم بہت سمجھدار ہو سو ہم ۔ لیکن پھر بھی میرے باپ جیسے انسان کے چکر میں پھنس گئے ۔تمہیں پتا ہے وہ میری شادی تمہارے ساتھ صرف اور صرف پیسوں کے لیے کروانا چاہتا ہے وہ اس کی آنکھیں کھولنا چاہتی تھی جب کہ وہ اس کے انداز پر مسکرایا
لائف ایک ڈیل ہے عائشہ ڈارلنگ ہر کوئی اپنے متعلق ڈیل کرتا ہے ۔تمہارے باپ کو وہ پروجیکٹ چاہیے ۔اور مجھے تم ۔تمہارے باپ نے اس ڈیل کے بدلے میری تمہارے ساتھ شادی کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ لیکن سچ تو یہ تھا کہ اگر تمہارے لئے مجھے اپنی ساری دولت بھی دینی پڑتی تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔
تم ایک انمول نگینہ ہو جس کو میں اپنی زندگی میں شامل کروں گا ۔وہ فتح یاب نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا
میں کوئی نگینہ نہیں ہوں انسان ہوں سو ہم پہلے ایک انسان اور ایک شے میں فرق سمجھو ۔ اور دوسری بات مجھے میری مرضی کے بغیر کوئی بھی تمہاری زندگی میں شامل نہیں کر سکتا ۔اس کے لئے تمہیں میری اجازت کی ضرورت ہے اور میں تم سے شادی کرنے سے صاف انکار کر چکی ہوں
کوئی بھی میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتا یہ مت سوچنا کہ میں اپنے باپ کے کہنے پر آئی ہوں۔ یہاں میں اپنی مرضی سے آئی ہوں اور اپنی مرضی سے ہی یہاں سے واپس جاؤں گی ۔مجھے کمزور سمجھنے کی غلطی مت کرنا وہ ٹیشو سے اپنے لپس صاف کرتے ہوئے ٹیبل سے اٹھی تھی جب اچانک سوہم نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اندر کی طرف لے جانے کی کوشش کی
سو ہم ہاتھ چھوڑ دو میرا وہ انتہائی غصے سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی لیکن اس پر تو جیسے کوئی جنون سوار تھا وہ اسے گھستے ہوئے اپنے ساتھ لے جانے لگا
نو عائشہ ڈارلنگ تم میری ہو اور تمیں اس طرح سے مجھ سے کوئی بھی چھین نہیں سکتا آج میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں کیا کر سکتا ہوں ۔وہ اسے اپنے ساتھ گھسیٹنے کی کوشش کر رہا تھا جب اچانک عائشہ نے اپنا ہاتھ کھینچتے ہوئے ایک زوردار طماچہ اس کے منہ پر دے مارا ۔
تمہیں لڑکیوں سے بات کرنے کی تمیز نہیں ہے جا کر پہلے اپنے ماں باپ سے مینرز سیکھو اور پھر کسی کو ڈنر پر لے کے آنا ۔وہ اسے دیکھتے ہوئے اپنا ہاتھ چھڑوا کر وہاں سے نکل گئی جبکہ سو ہم انتہائی غصے سے ہوٹل کے لوگوں کو دیکھ رہا تھا جن کی توجہ کا مرکز وہ اکیلا تھا
اتنا بڑا بزنس مین اور ترکی کا جانا پہچانا بیچلر سب کے سامنے یوں ایک لڑکی سے تھپڑ کھاتے ہوئے اچھا خاصہ شرمندہ ہو گیا تھا ۔
یہ تم نے اچھا نہیں کیا عائشہ میں تمہیں آسان طریقے سے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا تھا لیکن اب تم نے اپنی راہ خود ہی مشکل کرلی ہے یہ تھپڑ تمہیں بہت بھاری پڑے گا
°°°°°°°°°°
صبح جاناں کی آنکھ کھلی تو اس کے بیڈ پر ایک پارسل پرا تھا
وہ ڈور لاک کرکے نہیں سوتی تھی آج سنڈے تھا تو یقیناً کسی نے بیڈ پر ہی چھوڑ دیا ہوگا
لیکن اس کے دماغ میں بس یہی سوال تھا کہ اسے کوئی پارسل کیوں بھیجے گا اور اگر بابا نے کچھ بھیجا ہوتا تو وہ تو فون کرکے بتا دیتے اور بابا نے تو کبھی اس کے لیے سوائے پیسوں کے کچھ بھیجاہی نہیں تھا ۔
اس نے جلدی سے پارسل کھولا جس میں بہت ساری تصویریں تھیں اور ساری تصویریں کل کی تھی ۔اور یہ ساری تصویریں کسی اور کی نہیں بلکہ اس کی اپنی تھی ۔
کل اس کا اس روم میں تیار ہونا۔
پھر باہر جانا ۔
ان لڑکوں کے پاس سے گزرنا ۔
کالج پہنچنا ۔
وہاں لائبریری میں جانا ۔
وہاں پر بیٹھ کر بکس پڑھنا ۔
کینٹین میں لینچ کرنا
انہی راستوں سے واپس آنا
سڑک پر ان لڑکوں کا خون دیکھنا۔
وہاں سے واپس ہوسٹل آنا ۔
چینج کرنا۔
اسٹوری پڑھنا۔
موبائل پر عائشہ سے بات کرنا ۔
یہاں تک کہ رات کو اپنے بیڈ پر سونا۔
ایک ایک موومیٹ کی بے شمار تصویریں یعنی کوئی تھا جو اس پر نظر رکھے ہوئے تھا کوئی تھا جو اس کے پل پل کی خبر رکھتا تھا
لیکن کون اور کیوں اب جاناں سچ مچ میں گھبرا گئی تھی ۔
اس نے جلدی سے تصویروں کے پارسل سے گرے ہوئے کاغذ کو اٹھایا اور پڑھنے لگی ۔
دیکھو اپنے آپ کو خود تمہارا ایک ایک انداز کتنا خوبصورت ہے ۔ دیکھو اپنے آپ کو جب تم بات کرتی ہو جب تم چلتی ہو جب مسکراتی ہوکتنی پیاری لگتی ہو ایک بار اپنی آپ کو میری نظر سے دیکھو تمہیں خود اپنے آپ سے محبت کی جائے گی ۔
کوئی مجھ سے پوچھے اس دنیا میں سب سے خوبصورت کیا ہے تم میں کہوں گا میری ماہی ۔
آئی لو یو ماہی ۔۔ میں آگیا ہوں تمہیں لینے کے لیے تمہارا اور صرف تمہارا جان ۔
اس نے کاغذ پر لکھی ہوئی تحریر پڑھی ۔ کون تھا یہ شخص ہے اور اسے اس طرح سے تصویریں کیوں بھیج رہا تھا ۔ یقینا وہ پھول بھی کسی نہیں بھیجے ہوں گے ۔
مجھے عاشی اور ارشی کو سب کچھ بتا دینا چاہیے اس بارے میں یہ نہ ہو کہ میں کسی بڑی مصیبت میں پھنس جاؤں ۔ اس نے سوچتے ہوئے اپنا موبائل اٹھایا
لیکن اس سے پہلے کہ وہ عائشہ کو فون کرتی اس کی موبائل پر میسج آیا تھا ۔
"ایک بار آئینے میں اپنے آپ کو میری نظر سے دیکھو تمہیں خود سے محبت ہو جائے گی " میسج پڑھتے ہی بے ساختہ اس کی نظر سامنے آئینے کی طرف اٹھی تھی ۔ کیا آپ سچ میں اتنی خوبصورت تھی کہ کسی کو یوں اس سے محبت ہو جائے ۔اس کے دل نے اس سے سوال کیا تھا ۔
جب اچانک روم کھول کر دوسرے کمرے کی لڑکی اس کے پاس آئی ۔ جاناں ہم سامنے آئس کریم کھانے چل رہے ہیں چلو آؤ تم بھی چلو تم اکیلی یہاں روم میں کیا کرو گی ۔ وہ لڑکی بنا اسے بات کرنے کا موقع دیئے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے آئی ۔میری جاناں کو بھی مجبور اس کے ساتھ آنا پڑا
°°°°°°°°°°
وہ سوہم کو تھپڑ مار تو آئی تھی لیکن ان بوڈی گارڈ کا کیا کرتی جو اس کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے وہ جتنا تیز چلتی وہ بھی اتنی ہی تیزی سے قدم اٹھانے لگتے وہ جہاں جاتی وہ 5 فٹ کی دوری پر جا کر کھڑے ہو جاتے ہیں یقینا اسی سوہم نے اس کے پیچھے لگائے تھے
دوسری طرف غصے سے اس کا برا حال ہو رہا تھا وہ چاہ کر بھی ان لوگوں کو منع نہیں کر پا رہی تھی اور نہ ہی ان سے دور ہو پا رہی تھی۔
ان لوگوں سے بھاگنے کے چکر میں وہ جیسے ہی دوسری گلی کی طرف مڑی اسے ایک بے کاری زمین پر بیٹھا ہوا نظر آیا جو کہ اپنے آپ کو پوری طرح سے چادر نما کمبل میں کور کئے ہوئے تھا وہ بھی اسی کے ساتھ بیٹھ کر اسی کی چادر کو زبردستی اپنے گرد پھیلا کر اس چادر میں چھپ گئی
جب کہ دوسرے آدمی کو بولنے کا موقع دیئے بغیر اس کے ہاتھوں میں چند نوٹ پکڑا دیے
پلیز خاموشی سے بیٹھے رہو میرے پیچھے کچھ لوگ لگے ہیں مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے میں ان سے چھپ رہی ہوں پلیز خاموش رہو کچھ مت بولنا یہ پیسے تمہارے ہیں وہ ترکش میں اس سے کہنے لگی
جبکہ دوسرا آدمی بھی خاموشی سے اسے دیکھ کر بیٹھ گیا جیسے اس کا کام ہو گیا ہوجب کہ اس دئے پیسے اپنے ہاتھ میں دبا لیے تھے
تھوڑی ہی دیر میں وہ بوڈی گارڈ ہر طرف اسے تلاش کرنے لگے اور پھر اس کے قریب سے گزر کر آگے چلے گئے جیسے انھیں یقین تھا وہ یہ بیک تو ہرگز نہیں مانگے گیی
خدا کا شکر ہے جان چھوٹی ان کمینوں سے وہ اردو بڑبڑائی
ان کے جاتے ہی اسے جھٹکا لگا تھا کیونکہ وہ شخص نے اسے دھکا مار کے خود سے دور کیا تھا اور اٹھ کر کھڑا ہوگیا لیکن یہ کیا یہاں ایک بیکاری کی جگہ ایک انتہائی خوبصورت نوجوان اس کے سامنے کھڑا تھا شاید ہی اس سے پہلے اس نے اس قدر حسین جو ان دیکھا ہوگا
جب کے اگلے ہی پل وہ اس کے پیسے اس کے منہ پر مار چکا تھا ۔
اوئے تمہیں تمیز نہیں ہے کیا تم نے مجھے دھوکہ دیا تو دیا کیسے وہ انتہائی اسے ترک زبان میں بولی ۔وہ اس کی سحر انگیز پرسنیلٹی سے فورا نظریں چرا چکی تھی
اپنی بکواس بند کرو مجھے اردو آتی ہے وہ بھی تم سے بہتر اور تمہاری ہمت کیسے ہوئی اس طرح سے میر ےکبمل میں گھسنے کی وہ انتہائی غصے سے اسی پر چڑھ دوڑا
جب کہ وہ جو پہلے ہی اس کی پرسنیلٹی کو دیکھ رہی تھی اس کی اردو زبان پر تو بالکل ہی حیران ہوگئی۔
لیکن وہ بھولی نہیں تھی کہ یہ ایک بے کاری ہے
اووو ہیلو تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے اس طرح سے بات کرنے کی بیکاری کہیں گے تمہیں تمہاری قیمت دے چکی ہوں اگر اور چاہیے تو بتاؤ میں تمہیں میں ایسے ہزاروں کبمل خرید سکتی ہوں مجھے مدد کی ضرورت تھی اس لئے تمہارے کمبل کو لے لیا ورنہ تو میں ایسی گندی چیزوں کو چھوتی تک نہیں
اسے لگا کہ اس جگہ اپنی حیثیت بتانا بہت ضروری ہے یہ بے کاری خود کو کوئی بہت توپ چیز سمجھ رہا تھا
تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے بھکاری کہنے کی اگر میں سڑک پر سوتا ہوں تو کیا تم مجھے بھکاری کہو گی ہو گی تم بہت امیر ہوگی لیکن مدد کے لیے تمہیں یہی کمبل کام آیا نہ وہ تمہارے ہزار کمبل جو تم خرید سکتی ہو وہ تو نہیں آئیں اپنے پیروں پر چل کر تمہاری مدد کرنے کے لئے بڑی آئی مجھے بھکاری کہنے والی اٹھاؤ یہ اپنے نوٹوں کے بنڈل اور نکلو یہاں سے ایک مدد کی اوپر سے گلے پر رہی ہے
وہ انتہائی غصے سے کہتا ہے اسے مزید چڑا گیا تھا ۔
لیکن اس سے پہلے کہ وہ اس کی بدتمیزی کا منہ توڑ جواب دیتی وہ بوڈی گارڈ واپس اسی طرف آ رہے تھے اسے اس پاگل انسان کی مدد لینی تھی ۔
دیکھو ہم بعد میں لڑیں گے پہلے پلیز میری مدد کرو ذرا سا کمبل دے دو مجھے میں اس میں چھپ جاتی ہوں
دیکھو پلیز مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے اگر تم میری مدد کرو گے تو میں تمہیں بہت سارے پیسے دوں گی میرا وعدہ ہے تم اس سے وہ ایسی لالچ دیتے ہوئے بولی جب کہ وہ اس کے کمبل میں چھپنے کی کوشش کی تھی
اپنے پیسے رکھو اپنے پاس مجھے نہ تو تمہاری مدد کرنی ہے اور نہ ہی مجھے تمہارے پیسوں کی ضرورت ہے وہ تو کسی طرح اس کی مدد کو تیار نہ تھا۔
پلیز میری مدد کرو وہ اب مینتوں پر اتر آئی تھی ۔
یہ طریقہ ہے مدد مانگا اب میں تمہاری مدد کرنے کے بارے میں سوچ سکتا ہوں لیکن اس سے پہلے تمہیں مجھے سوری بولنا ہوگا وہ دلکشی سے مسکراتے ہوئے بولا
ایک پل کے لیے تو اسکے چہرے کے نقوش میں کھو سی گئی وہ شخص اتنا خوبصورت کیسے ہو سکتا ہے اس کے ذہن میں پھر سے ایک سوال آیا ضرور پٹھان ہوگا اس نے دل ہی دل میں کہا
آئی ایم سوری میری مدد کرو وہ بولی جیسے اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ ہو
اسے کہتے ہیں ضرورت کے وقت گدے کو باپ بنانا ۔ بڑبڑاتے ہوئے کمبل اس پر پھینک چکا تھا جبکہ کچھ ہی دیر میں وہ لوگ ان کے پاس سے گزر کر آگے بڑھ گئے جیسے ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک چکے ہوں
ان کے جاتے ہی اس نے سکون کا سانس لیا اور کمبل کو پھینکتے ہوئے اٹھ کر کھڑی ہو گئی
جس کبمل کو پھینک کر اٹھی ہو اس سے ٹھیک سے لپیٹ کر فولڈ کر کے رکھو یہ تمہارے باپ کے پیسوں سے نہیں بلکہ میرے پیسوں سے آیا ہے اور میں نے وہ پیسے بہت محنت سے کمائے ہیں وہ جیسے اس سے اس چیز کی اہمیت کا احساس دلانا رہا تھا ۔
جب کے عائشہ کو تو اس کی باتوں پر مزید غصہ آ رہا تھا اللہ نے جتنی پیاری شکل دی تھی وہ زبان سے اتنا ہی زہر اگلتا تھا اس نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور جتنے بھی پیسے ہاتھ سے اٹھا کر اس کے ہاتھ میں تھما دیے
مدد کے لئے شکریہ ناؤ ڈونٹ ویسٹ مائی ٹائم تمہاری تقریریں سننے کے لیے نہیں کھڑی ہوں میں یہاں وہ غصے سے کہتے ہوئے سے دھکا دے کر جانے لگی لیکن سامنے والا شاید اتنی آسانی سے اسے بخشنے کے موڈ میں نہیں تھا تبھی تو اس کا ہاتھ تھام کر زمین سے کمبل اٹھا کر اس کے ہاتھ میں پکڑا دیا
میری مدد کی قیمت ہے کہ تم جس چیز کو استعمال کرو اس کی اہمیت کو جانو اور اسے صحیح جگہ پر رکھو اب اسے فولڈ کرو اور جہاں سے اٹھایا تھا وہی رکھو اور یہ پیسوں کا روب کسی اور پر جمعنا اٹھاؤ اپنے پیسے یہاں سے تمہیں شاید ان کی اہمیت کا احساس نہیں ہوگا لیکن یہ پیسے تمہارے باپ نے شاید بہت محنت سے کمائے ہیں ۔
لیسن تمہیں میرے باپ کا زیادہ ہمدرد بننے کی ضرورت نہیں ہے اور تمہاری ملازم گری کرنے کے لئے میرے پاس ٹائم نہیں ہے اور نہ ہی عائشہ چوہدری نے کبھی یہ کام کیے ہیں ۔سو گڈ بائے اپنا ہاتھ چڑھاتے ہوئے اپنے ازلی ایٹیوٹ انداز میں بولی ۔
اگر عائشہ چوہدری نے کبھی یہ کام نہیں کیئے تو طہٰ بخاری نے بھی بہت لوگوں کو سیدھا کیا ہے عائشہ چوہدری کو بھی کر دے گا بہت ڈھیٹ لوگ دیکھے ہیں تم بھی ان میں سے ایک ہو لیکن اس وقت تمہارا ڈھیٹ پن ختم کرنے کا میرے پاس ٹائم نہیں ہے کیونکہ مجھے بہت ضروری کام ہے دوبارہ ملاقات ہوگی اور میرا یہ احسان تم پر قرض ہے اور میں قرض واپس ضرور لیتا ہوں ۔
وہ اس کا ہاتھ چھوڑ کر اپنے دونوں کمبل خود ہی لپیٹ کر وہاں سے نکلتا چلا گیا جب کہ عائشہ کے دیے ہوئے پیسے وہیں زمین پر پڑے تھے ۔
عجیب آدمی ہے ۔ عائشہ غصے سے کہتی زمین پر پڑے اپنے پیسے اٹھانے لگی لیکن وہی پاس بانسری پڑی دیکھی یقینا اس آدمی کی تھی ۔
تو جناب بانسری بجاتے ہیں اور ایٹیٹیوڈ تو ایسا ہے جیسے شہزادہ چارلس ہو۔
کیا کہا تھا تم نے قرض تمہارا یہ قرض تو میں جکا ہی دوں گی تمہاری یہ بانسری واپس کر کے مسٹر طہٰ بخاری ۔
°°°°°°°°
پچھلے تین دن سے مسلسل پار سل رسیو ہو رہے تھے اور ہرپارسل میں بے شمار تصویریں ہوا کرتی تھی شروع شروع میں وہ جان سے خوفزدہ رہتی تھی لیکن اب نہیں نہ جانے کیوں اس کے خط کو پڑھنے کے لئے بے چین رہتی ۔
ہر خط میں بے شمار چاھتوں کا اظہار ہوتا ۔ غیر ارادی طور پر بھی جان کے پارسل کا انتظار کرتی تھی وہ صبح کالج جاتی تو کالج میں ایک پارسل ملتا شام واپس ہوسٹل آتی تو ہوسٹل میں ایک پارسل ہوتا
وہ کوئی بہت حسیں لڑکی تو نہ تھی کہ کوئی اس طرح سے دیوانہ ہو جائے ۔
°°°°°°°°
جاناں نے جیسے ہی کالج میں قدم رکھا پیون نے بھاگتے ہوئے آ کر ایک پارسل پکڑ آیا اس پارسل کو لیتے ہی وہ پریشان ہو چکی تھی کیونکہ یہ بھی بالکل ویسا ہی تھا جیسا جان اس کے لئے بھیجتا تھا تو یقینا یہ پارسل بھی اسی نے بھیجا ہوگا اس نے جلدی سے پارسل کھولا اور روز کی طرح آج بھی اس میں بے شمار تصویریں دیکھی کبھی اس کے روم کی کبھی کوئی کتاب پڑھتے ہوئے کبھی موبائل یوز کرتے ہوئے اس کے ہر مومنٹ کی بے شمار تصویریں اور ہر بار کی طرح اس بار اس میں بھی ایک خط وجود تھا۔
ماہی میری جاناں
میں اپنا نام دیکھنے کے بعد تمہارے چہرے پر ایک خوبصورت سی مسکراہٹ دیکھنا چاہتا ہوں نہ کہ ڈری ہوئی جاناں میں کوئی غیر نہیں ہوں جاناں میں تمہارا اپنا ہوں تمہارا جان
میں بے تحاشا چاہتا ہے تمہیں دیوانوں کی طرح پیار کرتا ہے تمہارے لیے ہر حد پار کر سکتا ہوں جاناں میں تمہارا جان ہوں پلیز مجھ سے اس طرح سے خوفزدہ مت ہو تمہارے چہرے پر یہ ڈر یہ خوف دیکھ کر مجھے دکھ ہوتا ہے
میں تو اپنے نام سے آئی ہوئی مسکراہٹ کو تمہارے چہرے پر دیکھنا چاہتا ہوں میں چاہتا ہوں جہاں میرا نام آئے میری جاناں خوش ہوجائے
اس کے گال کا وہ پیارا سا ڈمپل میرے نام پر کھلے
پلیز جاناں مجھ سے اس طرح سے مت ڈرو میں تمہیں بے انتہا چاہتا ہوں اس دنیا میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو تمہیں میرے جتنی محبت کر سکے تو میں میری جتنی چاہت دے سکے ّّ
صرف اور صرف تمہارا جان ہی تمہیں وہ پیار و محبت سے سکتا ہے جس کی تم حقدار ہو ۔
میں بہت جلد آونگا تم سے ملنے کے لیے مجھ سے ملو گی نہ جاناں ۔۔۔۔! وہ اس کی تحریر پڑھتی چلی جا رہی تھی خوبصورت الفاظ میں ہر جگہ اس کا نام تھا اس کے خط سے ہی وہ اس کی محبت کا اندازہ لگا رہی تھی
تو کیا میں بیکار میں اس سے خوف زدہ ہوں وہ تو صرف مجھ سے اپنی محبت کا اظہار کر رہا ہے اس میں کچھ غلط نہیں ہر انسان کو اپنی پسند کا اظہار کرنے کی حق ہے اس کے دل نے کہا
ہاں بالکل ہے لیکن چھپ چھپا کر نہیں اگر وہ مجھ سے پیار کرتا ہے تو میرے سامنے آئے اس کا دل کچھ اور تو دماغ کچھ اور کہہ رہا تھا
میں تم سے خوفزدہ نہیں ہوں جان میں بس تمہیں دیکھنا چاہتی ہوں ۔
میں اس چھپن چھپائی سے تھک چکی ہوں جان میں تمہیں دیکھنا چاہتی ہوں تم سے ملنا چاہتی ہوں تم کون ہو اگر تم مجھ سے محبت کرتے ہو تو میرے سامنے آؤ
محبت بھلا اس طرح سے چھپ چھپا کر تھوڑی نہ ہوتی ہے
وہ آہستہ آہستہ لائبریری کی طرف جاتی مسلسل جان کو ہی سوچ رہی تھی جب کہ وہ جو ہر ایک پل اسی پر نظر رکھے ہوئے تھا اس کے چہرے پر آتے جاتے رنگوں کو دیکھ کر مسرور تھا کیونکہ یہ آتے جاتے رنگ صرف اور صرف اسی کے نام کے تھے
°°°°°°°°
آریان اس وقت ایک قلب میں موجود تھا
اب تک جتنے بھی لوگوں کی موت ہوئی تھی ان سب کا تعلق کہیں نہ کہیں اس کے قلب سے جڑا ہوا تھا اور یہ وہی قلب تھا جہاں پر بیس سال پہلے صرف اور صرف ایک ویران کھنڈر تھا اور یہ وہی قلب تھا جس کی ویڈیو اسے بیسٹ نے بھیجی تھی
یہ تو سمجھ چکا تھا کہ جو بھی ہونا ہے وہ اسی ہوٹل کے اسی قلب میں ہی ہوگا اور اس لڑکی کا تعلق بھی کہیں نہ کہیں اسی جگہ سے ہے اگلا نام صنم کا تھا اور اسے یقین تھا کہ وہ لڑکی اسے یہی پر ملے گی
لیکن بہت کوشش کے باوجود بھی وہ اس لڑکی صنم تک نہیں پہنچ پایا جسے وہ ڈھونڈ رہا تھا کیونکہ وہ اس کے چہرء سے نا واقف تھا
رات کے 2 بجے ہر طرف شور شرابا تھا کیونکہ اوپر کے ایک کمرے میں ایک لڑکی کی لاش ملی تھی جس کا نام صنم تھا
اور اس لڑکی کی حالت بھی اتنی ہی نہ کابل دید تھی جتنی کے پہلی لڑکی کی
مطلب کے بیسٹ اپنا کام کرکے جا چکا تھا
لڑکی کی ایک آنکھ نکالی گئی تھی جبکہ ہاتھ کی ساری انگلیوں کو الگ الگ کاٹ کر رکھا گیا تھا ۔یقینا اس شخص میں رحم میں کوئی چیز نہیں تھی اگر ہوتی تو لاش کی حالت اتنی خراب نہ ہوتی
کوئی جانور کو بھی اس طرح سے زبح نہیں کرتا جتنی بری طرح سے اس لڑکی کا گلا کاٹا گیا تھا
مسٹر بیسٹ میری نظر میں یہ لوگ گناہگار نہیں اصل گناہگار تم ہو جو رحم نامی چیز سے بے خبر ہے
اب سے میرا مقصد ان لوگوں کے گینگ کو ڈھونڈ کر ان کے گناہوں کا پتہ کرنا نہیں بلکہ تمہیں ڈھونڈ کر تمھارے اصل مقام تک پہنچانا ہے ۔
اس دنیا میں سب سے پہلے جو چیز ختم ہونا چاہیے وہ تم جیسا درندہ ہے اور میں بہت جلد تم تک پہنچ کر تمہیں جڑ سے اکھاڑ دوں گا ۔
لاش کو فورا لیپ بھیج دیا گیا تھا
پریشان مت ہوں آریان بہت جلد کوئی نہ کوئی ثبوت مل جائے گا ڈی ایس پی سر اس جگہ کو چیک کرتے ہوئے اس کے ساتھ ساتھ ہی روم سے باہر آئے تھے
کب ثبوت ملے گا سر ہماری ٹیم بہت سلو کام کر رہی ہے وہ بیسٹ ہم سے بہت آگے ہے بہت زیادہ آگے ہم اتنی آسانی سے اس تک نہیں پہنچ پائیں گے
وہ پریشانی سے بولا
چھوڑو ان سب باتوں کو چلو آؤ ایک کپ چائے پیتے ہیں ہوٹل کے ایک ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے اس سے کہا
سر ایم سوری میں اون ڈیوٹی ہوں وہ مسکراتے ہوئے معذرت کر گیا
ہاہاہاہا برخوردار میں بھی تو اون ڈیوٹی ہوں
یاد آیا وہ لڑکی ملی تمہیں جس سے بس میں دیکھا تھا تم نے وہ اس سے پوچھنے لگے جبکہ وہ نفی میں سر ہلا گیا ۔
چلو کوئی بات نہیں کیس کے ساتھ ساتھ اپنی لائف پر بھی دھیان دو وہ اسے بتا رہے تھے جب ویٹر نے چائے کا کپ اِن کے سامنے لا کر رکھا ۔
انہیں چائے میں مصروف دیکھ کر وہ ایک بار پھر سے اس کمرے کی طرف آ گیا تھا
°°°°°
°°°°°°°°
آریان بیٹا یہاں مارکیٹ کے قریب گاڑی روکنا مجھے کچھ کام ہے ڈی ایس پی سر نے اس سے کہا
سر خیریت تو ہے آپ کو کچھ چاہیے وہ اسے مارکیٹ کے باہر گاڑی کھڑی کرنے کا کہہ رہے تھے وہ انہیں گغر چھوڑے جا رہا تھا
ہاں بیٹا کچھ نہیں بس ایک چھوٹا سا کام ہے کل میری بیٹی یہاں سے شاپنگ کرنے آئی تھی تو ایک شاپنگ بیگ اس کے ساتھ آ گیا شاید دکاندار کی غلطی کی وجہ سے بس وہی واپس کرنا ہے انہوں نے اسے مکمل بات بتائی
کل۔۔۔! کل تو اس نے اس لڑکی کے لیے ایک ایکسٹرا شاپنگ بھیجا تھا جس میں وہ حجاب تھا اس نے یاد کیا ۔
میں ذرا وہ شاپنگ بیگ واپس کر کے آتا ہوں پتہ نہیں کس کا ہو گا میں دے کے آتا ہوں پھر گھر کے لیے نکلتے ہیں وہ گاڑی سےباہر آتے ہوئے کہنے لگے
لیکن اس سے پہلے ہی وہ گاڑی سے نکل کر ان کے سامنے آگیا
سر میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں ۔ مجھے نہیں پتا آپ کس ایکسٹرا شاپنگ کے بارے میں بات کر رہے ہیں لیکن کل ایک ایکسٹرا شاپنگ بیگ میں نے بھی کسی کو دیا تھا یقیناً یہ وہ شاپنگ بیگ نہیں ہوگا لیکن پھر بھی میں نہیں چاہتا کہ کسی بھی قسم کی کوئی غلط فہمی ہو
کل یہاں وہ لڑکی آئی ہوئی تھی جسے میں پسند کرتا ہوں جسے میں نے بس میں دیکھا تھا اس کے لیے میں نے ایک حجاب خریدا تھا اور اس کے شاپنگ بیگز میں دکاندار کو شامل کرنے کے لئے کہا تھا ۔کہیں یہ وہ شاپنگ بیگ تو نہیں ایک ہی مارکیٹ میں ایک ہی دن ایک ہی واقعہ دو بار تو نہیں ہو سکتا اسی لئے وہ پوری بات انہیں بتانے لگا ۔
تو وہ تم نے کیا ہے وہ اس سے حیرت بڑے انداز میں پوچھنے لگے ۔
جی سر کل وہی لڑکی ایک حجاب پسند کر رہی تھی لیکن خریدا نہیں اسی لئے میں نے اس کے لئے وہ خرید کر اس کے شاپنگ بیگز میں ایڈ کروا دیا وہ کچھ شرمندہ سا لگ رہا تھا
۔کچھ دن پہلے انہیں کے گھر میں وہ انہیں کی بیٹی سے شادی کرنے سے انکار کر چکا تھا اور آج اتفاق ایسا تھا کہ جس لڑکی کو وہ جانتا تک نہیں تھا اسی کی محبت میں بری طرح سے گرفتار ہوکر ایک طرح سے ان سے جا ملا تھا ۔
لیکن اس دن اس نے ان کی بیٹیوں کو دیکھا تھا ہاں لیکن صرف ائمہ اورتائبہ کو تو کیا یہ ارشفہ کے بارے میں بات کر رہا ہے وہ اسے دیکھتے ہوئے سوچنے لگے ۔
تو کیا وہ یہ جانتا ہے کہ ارشفہ گونگی ہے وہ بول نہیں سکتی
اس لڑکی کا نام کیا ہے وہ انجان بنے پوچھنے لگے۔ آریان کو کچھ عجیب لگا تھا وہ خود اسے بتا رہے تھے کہ کل ان کی بیٹی شاپنگ پر آئی تھی یہ اور ان کے پاس وہی حجاب وہ بیگ بھی ہے اور اب اس سے اپنی بیٹی کا نام پوچھ رہے تھے ۔وہ ان کے ہاتھ سے بیگ لے کے بھی دیکھ چکا تھا اس میں وہی حجاب ہی تھا
سر آپ کی بیٹی ہے آپ اس کا نام بہتر جانتے ہوں گے ۔ وہ ہمیشہ سے صاف بات کرنے کا عادی تھا اب جب کہ وہ ان کی بیٹی کو پسند کرتا تھا اور وہ بھی یہی چاہتے تھے کہ وہ ان کا دماد بنے تو وہ اس طرح کیوں بن رہے تھے ۔
کیا جانتے ہو اس کے بارے میں وہ پھر سے پوچھنے لگے ۔
ان کی بات پر آریان مسکرایا تھا سر میں تو اس کا نام تک نہیں جانتا ۔ اس کے علاوہ ایک لڑکی مجھے پسند آگئی ہے میں اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں بس میں اور کچھ نہیں جانتا آگے سب کچھ آپ نے کرنا ہے سب آپ کی ذمہ داری کی جیسا آپ نے وعدہ کیا تھا
اس کا تو جیسے سب سے بڑا مسئلہ حل ہوچکا تھا جس لڑکی کو کل تک وہ جانتا تک نہیں تھا آج وہ اسی کے باس کی بیٹی تھی
وہ بھی ایسے شخص کی جنہں وہ دنیا میں سب سے زیادہ پسند کرتا تھا بھلا اس سے زیادہ اچھا اور کیا ہو سکتا تھا اس کے لیے ۔
دیکھو آریان تم اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے دراصل بات ۔۔۔۔
سر میں بس اتنا جانتا ہوں کہ اس کو پسند کرتا ہوں اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں آپ پلیز مجھ پر اعتبار کیجئے اسے دیکھتے ہی میں محبت کر بیٹھا جبکہ سچ تو یہ ہے کہ میں نے ابھی تک اس کا چہرہ نہیں دیکھا کل تک میں بہت پریشان تھا کہ شاید وہ لڑکی مجھے کبھی ملے گی بھی یا نہیں لیکن آج یہ جان کے کہ وہ آپ کی بیٹی ہے ساری پریشانی دور ہو چکی ہے
سر میں اس کا خیال رکھوں گا سر پلیز میری بے سکونی کو قرار دیں اس پریشانی کو ختم کردیں سر میں اسے بے تحاشا چاہتا ہوں میں اس سے کتنی محبت کرتا ہوں یہ تو شاید میں خود بھی نہیں جانتا
ہاں لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ مجھے اپنی ذات سے بھی اتنی محبت نہیں جتنی کے اس لڑکی سے ہے
بس اسے آپ ہی میری زندگی میں شامل کر سکتے ہیں اور میں جانتا ہوں کہ آپ مجھے انکار نہیں کریں گے اس نے مسکراتے ہوئے ان کے ہاتھوں کو تھاما ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں بچا تھا
حجاب واپس لوٹانے کی بجائے وہ اس کے ساتھ واپس گھر آ گئے تھے راستے میں انہوں نے کوئی بات نہیں کی تھی اور آریان بھی ان کے چہرے پر پریشانی دیکھ رہا تھا اور اسی پریشانی کی وجہ سے اس نے اس لڑکی کا نام تک نہیں پوچھا تھا نہ جانے کیا وجہ تھی کہ سر جو کل تک اسے اپنا دماد بنانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھے آج اتنے خاموش اور پریشان تھے
°°°°°°°°
اس نے ہوسٹل میں قدم رکھا تو روز کی طرح آج ایک اور پارسل اس کا منتظر تھا اس نے مسکراتے ہوئے بیڈ کی جانب قدم اٹھائے اور اس پارسل کو اٹھا کر کھول کر دیکھنے لگی روز کی طرح بے تحاشہ تصویریں وہی بیڈ پر لیٹتے مسکراتے ہوئے ایک ایک تصویر کو دیکھ رہی تھی
بس بہت ہوگیا مسٹر چان میں تم سے ملنا چاہتی ہوں یہ چھپن چھپائی بند کرو اس نے مسکراتے ہوئے ایک تصویر کو دیکھتے ہوئے کہا اور پھر آخر اسے اس کی مطلوبہ چیز بھی مل گئی ایک اور خط
کتنی بے چین ہو مجھ سے ملنے کے لیے میں بھی تم سے ملنا چاہتا ہوں بس بہت ہوگیا یہ چھپن چھپائی کا کھیل اب آمنے سامنے بیٹھ کر ملاقات ہوگی لیکن اگر میں تمہیں پسند نہیں آیا تو ۔۔۔۔۔؟
یہ مت سوچنا کہ اگر میں تمہیں پسند نہیں آیا تو میں تمہاری جان چھوڑ دوں گا میں سائے کی طرح موت تک تمہارے ساتھ رہوں گا تم صرف میری ہو میں اتنی آسانی سے نہیں جانے دوں گا تمہیں میرا ہونا ہوگا تیار ہو جاؤ اپنے آپ کو صرف اور صرف میرے نام کرنے کے لئے
خط ختم ہوچکا تھا جبکہ وہ ابھی تک اس کے لفظوں کو غور کر رہی تھی کتنا جنون تھا اس کے لفظوں میں کتنا چاہتا تھا وہ اسے وہ اس کی محبت پر ٹوٹ کر یقین کرنے لگی تھی ۔اس کا ایک کے خلاف اس سے اپنی محبت کو بیان کر رہا تھا وہ دن رات اس کی محبت میں ڈوبتی چلی جارہی تھی پچھلے 10 دن سے مسلسل رسیو ہونے والے خطوط اور پارسلز اسے اس پر یقین کرنے پر مجبور کر گئے
جب کہ وہ تو جانتی تک نہیں تھی کی کوئی ہے جو اس سے اس قدر ٹوٹ کر محبت کرتا ہے کہ ساری رات اس کے قریب بیٹھ کر اس کا دیدار کرتا ہے کہ کہیں اسے نیند میں بھی کوئی تکلیف نہ ہو ۔
کہیں کوئی نیند میں اسی تکلیف نہ پہنچائے ۔کوئی 24 گھنٹے سائے کی طرح اس کے ساتھ رہتا ہے لیکن جاناں تو شاید اس کے سائے سے بھی ناواقف ہے نہ جانے کتنے سالوں سے وہ پل پل اس کے ساتھ ہے لیکن اس کے ہونے کا احساس صرف ان دس دنوں میں ہی ہوا ہے ۔
اس نے تو اسے پتہ تک نہیں چلنے دیا کہ وہ اسے برسوں سے جانتا ہے نہ جانے کتنے سالوں سے وہ دن رات اس کے ساتھ ہے لیکن اب وقت آ گیا تھا کہ جاناں سب کچھ جان جائے وہ اس کے سائے سے لے کر اس کی ذات تک کو پہچان جائے اب وہ وقت آ چکا تھا کہ وہ اس کے سامنے آجائے وہ وقت آگیا تھا جب جاناں کو اس سے محبت کرنی تھی ساری دنیا کو ٹھکرا کر صرف اور صرف اس کےساتھ کو قبول کرنا تھا سب کو چھوڑ کر پاس کے ساتھ آنا تھا ۔
کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اب جاناں کو بھی اس سے ملنے کا تجسس ہے وہ بھی اسے ملنا چاہتی ہے اسے دیکھنا چاہتی ہے وہ بھی جاننا چاہتی ہے کہ آخر کون ہے جو اسے اس قدر محبت کرتا ہے
°°°°°°°°
سارے راستے میں ان دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی تھی وہ انہیں گھر چھوڑ کر کافی دیر باہر کھڑا رہا لیکن آج تو انہوں نے اسے گھر کے اندر بھی نہیں بلایا تھا نہ جانے وہ کیوں اتنے پریشان تھے وہ خاموشی سے اندر چلے گئے آج تو نے اسے الوداع بھی نہیں کہا تھا
وہ پریشان تو تھا لیکن کہیں نہ کہیں اندر سکون بھی تھاکہ جس لڑکی کو ڈھونڈ رہا تھا وہ لڑکی نہ صرف اسے مل چکی تھی بلکہ اس کے لیے راستے بھی کافی آسان ہو چکے تھے لیکن سر کے پریشانی اسے پریشان کر رہی تھی۔
گھر آ کر کافی دیر اس لڑکی کو سوچتا رہا اس کا ڈرنا اس سے گھبرنا دور بھاگنا اس کی ایک ایک ادا اسے پاگل کر رہی تھی اور اس کا صبر جواب دے رہا تھا ۔۔۔پھر اپنی سو چوں کو لگام ڈال کر اس کے بارے مِیں سوچنا چھوڑ کر اپنے کیس کی طرف متوجہ ہو گیا اس نے اپنا کام بھی کرنا تھا
پتا نہیں بیسٹ اگلا حملہ کس پر کرنے والا تھا اس کا اگلا شکار کون تھا اب لسٹ میں اگلا نام جس لڑکی کا تھا وہ بھی اس کے لیے انجان تھی لیکن اب اس نے سوچ لیا تھا وہ اس لڑکی اور اس کے گینگ کو نہیں بلکہ پہلے بیسٹ کو ڈھونڈے گا
یہ بات تو وہ سمجھ چکا تھا کہ بیسٹ جن لوگوں کو مار رہا ہے وہ کوئی نیک لوگ نہیں ہے لیکن جو انداز بیسٹ نے اپنایا تھا وہ بھی کوئی اچھا نہیں تھا اسی لئے اب سب سے پہلے وہ اس کیس کے اصل دندے کو ڈھونڈ رہا تھا جو صرف نام کا نہیں بلکہ سچ میں ایک بیسٹ تھا ۔
ہر بار کی طرح اس بار بھی ایک چپ ایسے ہی رسیو ہوئی تھی لگتا ہے بیسٹ کی لسٹ ایماندار آفیسر میں بہت کم لوگوں کا نام تھا تبھی تو اسے یہ چیپ دوسری بار ملی تھی وہ گھر آیا تو ایک پارسل اس کا انتظار کر رہا تھا اس میں بھی اسے ایک چیپ ہوئی تھی اور اس سب کے اندر بھی ہمیشہ کی طرح ایک کھنڈر کی ویڈیو تھی یقیناً یہ بھی کوئی جگہ ہی تھی جو آج کے زمانے میں کوئی نہ کوئی مقبول کلب یا کوئی ہوٹل ہوگا ۔
جہاں کچھ عرصہ پہلے کالے دھندے ہوتے رہے ہیں اس ہوٹل کی ہسٹری نکالنے پر اسے پتہ چلا تھا کہ بیس سال پہلے وہاں بہت بڑے اور غیر قانونی کام ہوتے رہے ہیں شاید تب ہی بیسٹ ایسی جگہوں کو ہی ڈھونڈتا تھا جہاں پہلے سے دندنگی نما واقعہ ہواہو
جس ہوٹل میں وہ واقعہ پیش آیا تھا قانون کی ہسٹری میں وہ جتنا مقبول اور بڑا ہوٹل تھا بیس سال پہلے وہاں عورتوں کی سمگلنگ کی جاتی تھی اور اب اس کے میں بہت بڑے بڑے لوگ پھنس چکے تھے اور اسے یقین تھا جس جگہ کی ویڈیو اس نے اس بار بھی ہے یقیناً وہاں بھی کوئی نہ کوئی ایسا ہی کام ہوتا رہا ہے ۔
لیکن مسئلہ یہ تھا کہ اس بار بھی وہاں پہلے کوئی قتل ہونا تھا پھر ہی انہیں کچھ پتہ چلانا تھا اور لاش کی حالت ایسی ہی ہوتی کہ اس سے کچھ بھی پتہ لگانا ناممکن تھا پچھلی لاش سے بھی انہیں ابھی تک کچھ بھی پتہ نہیں چلا تھا نہ کوئی ہاتھوں کے نشان تھے اور نہ ہی وہ چاکو ملا تھا جس سے اس لڑکی کی انگلیاں کاٹی گئی تھی یقینا اپنا کوئی الگ ہتھیار رکھتا تھا جسے وہ صرف اس کام کے لیے استعمال کرتا تھا اور وہ اس کام میں اتنا زیادہ ایکسپیرینسڈ ہو چکا تھا کہ اب وہ کوئی بھی غلطی نہیں کرتا تھا
°°°°°°°°
آج اتوار کا دن تھا اسے صبح صبح ایک پار سل رسیو ہوا
اس نے فوراً مسکرا کر پارسل لے لیا
اور اسے کھول کر دیکھنے لگی یہ پہلا پارسل تھا جس میں تصویریں نہیں بلکہ ایک بہت ہی خوبصورت ڈریس تھی
ایک انتہائی خوبصورت پاؤں کو چھوتی لونگ فراک اور اس کے ساتھ ہم رنگ ہی حجاب ۔آف وہ اس کا کتنا خیال رکھتا تھا ۔کہ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ وہ اپنی ہر ڈریس کے ساتھ حجاب لے کر ہی باہر نکلتی ہے
وہ اس کی ہر چیز سے واقف تھا لیکن وہ تو اس کی شکل سے بھی نا آشنا تھی وہ اس کے نام کے علاوہ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی اس کا نام بھی اصل تھا یا نہیں اس بات سے بھی بے خبر تھی
اس کے ذہن میں بہت سارے سوال تھے وہ کسی کو بتائے بغیر کسی انجان سے ملنے جا رہی تھی یہی بات اسے اندر سے پریشان کر رہی تھی
ایک ان دیکھے انسان پر بھروسہ کر رہی تھی اگر یہ بات اس کے باپ تک چلی جاتی تو وہ اس سے آگے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی
اور نہ ہی وہ سوچنا چاہتی تھی کہ اس کے ذہن میں صرف اور صرف جان کو دیکھنے کا تجسس تھا اخر کون تھا وہ اور اس سے اتنی محبت کرتا تھا اس نے اسے کہاں دیکھا تھا وہ کس جذبے کو محبت کا نام دیتا تھا جاناں سب کچھ جاننا چاہتی تھی
ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ اس نے کوئی بات ارشی اور عاشی سے بھی چھپائی تھی۔
اسے پتہ تھا کہ اگر ان دونوں کو اس بارے میں کچھ بھی بتائے گی تو وہ اسے منع ضرور کریں گی وہ اسے کبھی انجان شخص سے ملنے کی اجازت نہیں دے گئی
اور یہی وجہ تھی کہ جاناں نے ان کو بھی کچھ نہیں بتایا تھا کیونکہ اب وہ رکنا نہیں چاہتی تھی اس شخص سے ملنا تھا جو سامنے آئے بغیر اس کے دل کی دنیا میں ہلچل مچا چکا تھا
کہ جاناں کو پہلی بار اپنّے پر لگائیں تمام پہیروں کو توڑ کر باہر قدم اٹھانا پر رہا تھا ۔
وہ ڈریس کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھ رہی تھی جب اس کا فون بجا وہ مسکراتے ہوئے فون کی طرف آئی آج کل اس کی ہر سوچ سے پر صرف جاں سوار تھا اسے لگا تھا شاید وہ آج اسے فون کرے گا اس سے پہلے تو اس نے صرف ایک بار ہی اسے فون کیا تھا ورنہ وہ بھی اپنی تمام باتیں خطوط کے ذریعے ہی کرتا تھا ۔
لیکن جاناں کو لگا تھا کہ شاید وہ آج اس سے ملنے کے لیے کسی جگہ کا بتانے کے لیے فون کرے گا لیکن فون بابا کا تھا اسے پچھلے کچھ دنوں سے بابا کو فون کرنے کا ہوش ہی نہ تھا
وہ پوری طرح سے اپنے خوابوں خیالوں کی دنیا میں گم تھی اسے یاد ہی نہ تھا اس نے پچھلے ہفتے میں اپنے بابا سے بات بالکل کرنے کی کوشش نہ کی اور شاید اس بات کو وہ بھی نوٹ کر چکے تھے اسی لئے تو آج وہ خود اسے فون کر رہے تھے
السلام علیکم بابا کیسے ہیں آپ اس کا لہجہ بہت خوشگوار تھا آج تک اس نے ہمیشہ مایوسی سے ہی ان سے بات کی تھی ۔
وعلیکم السلام میں ٹھیک ہو جاناں تم کیسی ہو کیا چل رہا ہے آج کل بابا کی یاد نہیں آئی اتنے دنوں سے وہ شکوہ کرنے لگے
نہیں بابا ایسی بات نہیں ہے وہ دراصل پیپرز کی تیاری چل رہی ہیں نیکسٹ منتھ سے ایگزیم شروع ہونے والے ہیں تو سارا دھیان پڑھائی کی طرف ہے اس نے صاف جھوٹ بولا تھا کیوں کہ وہ انھیں جان کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتانا چاہتی تھی ۔
گڈ یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ تم اپنی پڑھائی کو لے کر سیریس ہو
میں سوچ رہا ہوں کہ تمہارے پیپر شروع ہونے سے پہلے تم سے ایک بار مل آوں چھ ماہ ہو چکے ہیں تمہیں دیکھا تک نہیں وہ مسکراتے ہوئے اس کے لہجے میں ایکسائٹمنٹ کا انتظار کر رہے تھے
جبکہ دوسری طرف جاناں کو چپ لگ گئی بابا کو جان کے بارے میں پتہ تو نہیں چل گیا اس کے اندر چور نے سر اٹھایا
پھر اپنے لہجے کو درست کرتے ہوئے بولی نہیں بابا آپ بزی ہوں گے بے کار میں وقت ضائع ہوگا آپ کا پیپرز کو بہت کم وقت رہ گیا ہے میرا دھیان تو پیپرز کی طرف ہے آپ بور ہو جائیں کہ میں ٹھیک سے آپ کو کمپنی تک نہیں دے سکوں گی وہ بہانہ بناتے ہوئے بولی
جب کہ بابا کو تو دوسری طرف حیرت کا جھٹکا لگا تھا اس کا فون نہ کرنا پھر ان سے ملنے کے لیے کوئی ایکسایٹمنٹ نہ دکھانا انہوں نے اسے خود سے بہت دور کر دیا تھا
پچھلے ہفتے اس سے بات کرنے کے بعد انہوں نے اس سے ملنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن اب وہ یہ سوچ رہے تھے کہ اس کے پیپرز ختم ہوتے ہی وہ اسے اپنے پاس بلا لیں گے ان کی بیٹی ان سے بہت دور ہوتی جارہی ہے
ٹھیک ہے بیٹا میں تمہیں ڈسٹرب نہیں کروں گا تم آرام سے اپنے پیپرز کی تیاری کرو ان کے انداز پر وہ پرسکون ہو کر فون رکھ چکی تھی
خدایا یہ جان تو میری جان لے کر رہے گا اس نے دل ہی دل میں جان کو کوسا تھا جس کی وجہ سے بابا سے بات کرتے ہوئے مسلسل اس کا دل زور زور سے دھڑکتا رہا تھا
°°°°°°°°
جان نے خط میں کہا تھا کہ وہ آج رات اس سے ملے گا وہ ٹائم کے مطابق مکمل اسی کی ڈریس میں تیار ہو کر کھڑی تھی ۔
اور بے چینی سے اس کے اگلے پیغام کا انتظار کر رہی تھی وہ جانتی تھی کہ وہ غلط کر رہی ہے لیکن اس وقت جان اس پر پوری طرح سے سوار تھا ۔وہ صحیح غلط کو سوچنا ہی نہیں چاہتی تھی ۔
اس کے موبائل کی ٹون بجی ان نون نمبر سے میسج تھا باہر ایک بلیک کار کھڑی ہے اس میں بیٹھ کر میرے پاس آجاؤ تمہارا جان میسج پڑھ کر اس نے ایک نظر کھڑکی کا پردہ ہٹا کر باہر سڑک پر ایک کالی گاڑی کو کھڑا دیکھا
اس کا دل الگ ہی ترنگ میں دھڑکا تھا اس کے دل نے تو نیا انداز میں دھڑکنا تب سے ہی شروع کر دیا تھا جب سے اسے جان کے پارسل موصول ہو رہے تھے
کیا کرنے جا رہی تھی وہ اس طرح سے کسی انجان شخص سے ملنا غلط تھا اس کے دماغ نے کہا ۔
نہیں وہ مجھ سے پیار کرتا ہے اور پیار میں کچھ غلط نہیں ہوتا اس کے دل نے کہا تھا
اور پھر اس نے دماغ کی ہر بات کو رد کرتے ہوئے باہر کی طرف قدم اٹھائیں ۔اسے اندر ہی اندر خوف محسوس ہو رہا تھا
وہ اس شخص سے ملنے جا رہی تھی جو اس کے سامنے آئے بغیر اس کی ذات پر پوری طرح سے حاوی ہوچکا تھا
بس اب وہ اس سے ملنا چاہتی تھی اس نے اپنے دل سے خوف نکالا اور اپنی فراک کو سنبھالتے ہوئے گاڑی میں آ بیٹھی
اس نے زندگی میں بہت کم لوگوں کی محبت پائی تھی بابا سے بھائیوں سے دور ایک گمنام زندگی گزار کر تھک چکی تھی اور اب اسے ایک ایسا شخص مل رہا تھا جو اس سے محبت کرتا تھا اور وہ اسے کھونا نہیں چاہتی تھی
°°°°°°°°
آخر کار سفر ختم ہو چکا تھا جیسے جیسے منزل قریب آ رہی تھی اس کا ڈر بھی ختم ہوتا چلا جا رہا تھا وہ تمام ہمت جمع کر کے آئی تھی اب کیا ڈرنا
گاڑی ایک خوبصورت فلیٹ کے سامنے آرکی گاڑی سے کچھ فاصلے پر ہی ایک لڑکا کھڑا تھا وہ لڑکا تھا یا کچھ اور جاناں کو سوچنا پڑا
وہ آہستہ آہستہ چلتا گاڑی کے پاس آیا ویلکم پیاری لڑکی اس نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے مسکرا کر کہا وہ بہت خوبصورت نوجوان تھا تو کیا یہ جان تھا جاناں کے دل کو مایوسی ہوئی وہ تو بہت امید سے آئی تھی
اور یہاں تو سب الٹا ہوا تھا کیونکہ سامنے کھڑے لڑکے میں اس سے زیادہ نزاکت تھی
او پیاری لڑکی اوپر چلو میں صبح سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں وہ دل کش انداز میں بولا
آو پیاری تم یقیناً جان کی تلاش میں ہو جان ہا ہاہا وہ تو پاگل ہو رہا ہے کبھی ادھر کبھی ادھر گھوم رہا ہے میری ماہی کو یہ پسند ہے میری جاناں کو وہ پسند نہیں پگلا دیوانہ ہوا ہوا ہے
خیرتمہارا دیوانہ تو وہ برسوں سے ہے
وہ دلکش انداز میں کہتا ہاتھوں کو لڑکیوں کی طرح حرکت دیتا اسے بتا رہا تھا
جاناں کو سکون ملا وہ جان نہیں تھا
اف پیاری لڑکی تمہارے اس دیوانے نے تو میرا جینا حرام کر رکھا ہے
صبح سے میرا سرکھا رکھا ہے میرے تو ہاتھ بھی درد ہو گئے ہیں کام کر کر کے دیکھو صبح میرا ناخن ٹوٹ گیا لیکن ظالم کو ذرا رحم نہ آیا وہ ہاتھوں کو بغور اسے دکھاتے ہوئے بتا رہا تھا جاناں صرف مسکرائی اس نے زندگی میں پہلی بار کسی خواجہ سرا کو دیکھا تھا
لیکن وہ کتابوں میں ان کے بارے میں اکثر پڑھتی آئی تھی
اور تو اور سامنے کھڑا یہ نوجوان اپنے حسن کو لے کر بہت ٹچی تھا دیکھنے میں تو بہت خوبر جوان لگتا تھا لیکن انداز لڑکیوں سے بھی زیادہ نازک تھے
اس نے فلیٹ کا دروازہ کھولا تو سامنے حال نما کمرا تھا
آو پیاری لڑکی اس کمرے میں ہے تمہارا دیوانا اور میرے حسن کا دشمن مجھے کہتا ہے کہ میں زیادہ دیر تم سے بات نہ کروں کیوں کہ اسے لگتا ہے کہ تم مجھ سے خوفزدہ ہو جاؤ گی کیا میں ایسا بھیانک دیکھتا ہوں وہ مایوسی سے بولا
نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے میں آپ سے بالکل بھی خوفزدہ نہیں ہوں جاناں نے فورا کہا تو وہ کھل اٹھا
ہائے میں صدقے پیاری لڑکی تم چلو اپنے دیوانے سے ملو پھر میں تمہاری بیوٹی فل سکن کو مزید بیوٹی فل کرنے کا طریقہ بتاؤں گا
وہ نرمی سے ہاتھوں سے اس کے چہرے کو چھوتے ہوئے بولا اور روم کے دروازے تک چھوڑ کر خود دوسرے کمرے میں کہیں غائب ہوگیا جاناں نے دھڑکتے دل کے ساتھ دروازہ کھولا
°°°°°°°°
روم میں ہر طرف کینڈل کی روشنی خوابناک ماحول بنا رہی تھی
ہر طرف اپنی تصویریں دیکھ کر اسے جھٹکا لگا روم کی چار دیواروں میں ہر طرف اس کی تصویر تھی ایک تصویر تو تب کی تھی جب وہ 10 سال کی تھی۔
اس کی سانس سانس حیرات میں ڈوبی تھی ۔
میری اتنی ساری تصویریں اور یہ اتنی پرانی تصویر یہاں کیسے۔ ۔۔۔! وہ بڑبڑاتے ہوئے خود سے سوال کر رہی تھی
یہ تو کچھ بھی نہیں تمہاری ہر سانس سے باخبر ہوں میں وہ بالکل قریب سرگوشی نما آواز میں بولا
اسے آپنے اتنے قریب محسوس کرکے وہ گھبرا کر دور ہوئی لیکن اس سے پہلے ہی وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈال تھا اسے اپنی بالکل قریب کر چکا تھا
مجھ سے دور جانے کے بارے میں سوچنا بھی مت جاناں۔
بہت لمبا سفر طے کیا ہے بہت دوری سہی ہے تمہارے قریب آنے کے لیے اب دور نہیں جانے دوں گا
تمہیں خود سے وہ اسے اپنے قریب کرتے ہوئے آہستہ آہستہ بول رہا تھا
جبکہ جاناں اس کی گرم سانسوں کو اپنے چہرے پر محسوس کر رہی تھی وہ اس کی دھڑکن کی طرح اس کے قریب تھا ۔
وہ اسے دیکھ رہی تھی دل بے تربیت تھا لیکن وہ خوف زدا نہیں تھی۔ وہ اس کے خوابوں کے شہزادے سے بھی حسن تھا ۔
اور خاموشی سے اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو دیکھ رہی تھی وہ کتنا خوبصورت تھا شاید اس سے بھی زیادہ
وہ خاموشی سے اسے دیکھتے ہوئے اس کے گال پر جھکا اور اس کے نازک گال کو اپنے لبوں سے چھوا ۔اس کے گرم لمس پر وہ فورا اس سے دور ہٹی تھی جیسے کرنٹ نے چھو لیا ہو
°°°°°°°°

کیا مطلب ہے اس لڑکے کو میری بیٹی نہیں بلکہ وہ لڑکی پسند آئی ہے عشرت بیگم کا تو غصے سے برا حال تھا ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اریشفہ کو جان سے مار ڈالے
زبان سنبھال کر بات کرو بیگم اور مت بھولو تم جس کے بارے میں بات کر رہی ہو وہ میری بیٹی ہے دیا
شاکر صاحب نے غصے سے کہا
جی جی میرا وہ مطلب نہیں تھا اس طرح سے کیسے وہ ہماری ایک بچی کو ٹھکرا کر دوسری کے لیے رشتہ مانگ سکتا ہے آپ صاف انکار کر دیں وہ بہت کوشش کے باوجود بھی اپنا غصہ دبا نہیں پا رہی تھی
انکار کیوں کر دوں بلا اتنا اچھا لڑکا ہے بس اسے سچ بتا دوں گا کہ ہماری بچی شروع سے گویائی سے محروم ہے ۔اور ویسے بھی اس بچے کی نظروں میں میں نے اپنی بچی کیلئے بے تحاشہ محبت دیکھی ہے میں جانتا ہوں یہ سب جان کر بھی وہ اس رشتے سے انکار نہیں کرے گا ۔ڈی ایس پی سر نے پورا اعتماد لہجے میں کہا
لیکن مجھے سمجھ نہیں آ رہا میں اسی کی بات بتاؤں گا کیسے ۔۔۔ بھلا کوئی باپ اپنی بیٹی کی محرومی کا اس طرح کیسے اظہار کرسکتا ہے
۔ہمارے لئے ہماری بیٹی گھونگی نہیں ہے بلکہ وہ اشاروں سے ہی سب کچھ سمجھا سکتی ہے بتا سکتی ہے اپنے دل کی ہر بات ہمارے سامنے رکھ سکتی ہے ۔ان کے انداز میں اپنی بیٹی کے لیے بے تحاشہ محبت تھی جو عشرت بیگم لو پسند نہیں تھی
جی آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ہماری اوشی آسانی سے اپنی بات ہمیں سمجھا سکتی ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہم یہ بات آریان کو بھی سمجھا پائے اور ہو سکتا ہے کہ آپ آریان کو یہ بات کھل کر بتا بھی نہ پائے
اسی لئے مجھے لگتا ہے کہ میرا اسے بتانا زیادہ بہتر رہے گا میرا مطلب ہے ۔ ہم آریان کے مزاج سے بے خبر ہیں ۔ ہمیں نہیں پتا وہ کس طرح سے ری ایکٹ کرے گا یہ نہ ہو کہ وہ غصہ ہو جائے
میرا مطلب ہے یہ کوئی اتنی عام سے بات تو نہیں اگر اس نے انکار کردیا تو بیکار میں آپ کا دل اس سے کھٹا ہو جائے گا جب کہ اگر سچ جانے کے بعد وہ انکار کرتا ہے تو یہ اس کا حق ہے ہر انسان کو اپنی من پسند جیون ساتھی چننے کا حق ہے
اس لئے میں خود اس کو یہ بات بتاؤں گی اگر اس کے بعد بھی اریان ہماری اریشفہ کو اپنی دلہن بنانا چاہتا ہے تو سمجھے ہماری بچی کی قسمت کھل گئی
عشرت بیگم نے انہیں سمجھاتے ہوئے کہا تو وہ صرف ہاں میں سر ہلا کے جیسے کہنے کو کچھ بچا ہی نہ ہو
°°°°°°
اس کے یوں پیچھے ہٹنے پر جان کے ماتھے پر بل پڑ گئے
کیا ہوا ماہی میرا چھونا تمہیں برا لگا وہ آنکھوں میں ناراضگی کیلئے بولا
نہیں وہ میں۔۔۔۔۔ اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا کیونکہ وہ اسے یہ نہیں کہہ سکتی تھی کہ بغیر کسی رشتے کے اس کو یہ سب کچھ پسند نہیں۔کیونکہ وہ یہاں تنہائی میں اس سے ملنے بھی بغیر کسی رشتے کے آئی تھی وہ باغور اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا
تمہیں روم کیسا لگا۔۔۔۔! وہ اس کی گھبراہٹ کو نوٹ کرتے ہوئے بولا تو جاناں ایک بار پھر سے اپنی تصویریں دیکھنے لگی
یہ تصویریں تو میں کہاں سے ملیں ۔۔۔! وہ پوچھنے لگی
تم نے زندگی کے جتنے بھی لمحات جیے ہیں وہ میرے سامنے ہیں
تم کب سے جانتے ہو مجھے۔۔۔ اس کے الجھے ہوئے جواب پر وہ پھر سے سوال کرنے لگی
ہمیشہ سے ۔۔۔۔اس نے مسکراتے ہوئے کہا
ہمیشہ سے ۔۔۔۔۔؟ جاناں نے حیرت سے دہرایا
پہلے ڈنر کرو گی یا میں پرپوز کروں وہ دلفریب انداز میں بولا تو جاناں اسے دیکھ کر رہ گئی
تمہیں نہیں لگتا کہ یہ سب کچھ بہت جلدی ہو رہا ہے میں تمہیں جانتی تک نہیں جاناں اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی
میں تم سے محبت کرتا ہوں اور تمھارے لئے کچھ بھی کر سکتا ہوں اس کے علاوہ تمہیں کچھ بھی جاننے کی ضرورت نہیں لیکن پھر بھی اگر جاننا ضروری ہے تو میں ایک کھلی کتاب ہوں پڑھ لو مجھے وہ دلکشی سے بولا تو جان بے ساختہ مسکرا دی
ہاں کھلی کتاب لیکن اس زبان میں جو دنیا میں ابھی ایجاد تک نہیں ہوئی وہ کھکھلاتے ہوئے بولی تو جان بھی مسکرا دیا ہے
ڈنر ٹھنڈا ہو رہا ہے وہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے میز کی طرف لے جاتے ہوئے بولا وہ بھی ریلکس ہو کر اس کے ساتھ میز کی جانب آئی تھی ۔
ہر ڈش اس کی پسند کی تھی ارے یہ تو سب میرا فیورٹ ہے تمہیں کیسے پتہ چلا وہ حیرت سے پوچھنے لگی
میں تمہارے بارے میں سب کچھ جانتا ہوں اس نے پھر سے بتایا
سب کچھ وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی انداز امتحان لینے والا تھا وہ مسکرا کر سرہاں میں ہلا گیا ۔
تم میرا ٹیسٹ لینا چاہتی ہو تو یاد رکھو اگر میں جیت گیا تو تمہیں میرا پرپوز ایکسیپٹ کرنا ہوگا وہ شرط رکھتے ہوئے بولا تو جاناں نے گھبرا کرسر نہ میں ہلایا
نہیں میں ایسا کچھ نہیں کرنے والی میں تو ایسے ہی پوچھ رہی تھی ۔
کیا میں تمہیں پسند نہیں آیا وہ سیاہ آنکھیں اس کی آنکھوں میں ڈالتے ہوئے بولا
تم اچھے ہو جان لیکن میں اپنی زندگی کا انتہائی اہم فیصلہ اس طرح سے نہیں کر سکتی وہ آہستہ سے بولی
وقت چاہیے میں اتنی جلدی یہ سب کچھ نہیں کرنا چاہتی۔
جتنا وقت چاہیے تم لے سکتی ہو جاناں لیکن جواب مجھے ہاں میں چاہیے وہ گہری نظروں سے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے بولا
مجھے سویٹ بہت پسند ہے وہ ڈنر کے بعد میز پر کچھ میٹھا نہ دیکھ کر بولی شاید اس کا دیکھنا اسے گھبراہٹ میں مبتلا کر رہا تھا۔
ابھی ٹائر لا ریا ہو گا اس کے انداز پر وہ مسکرا کر بولا
کون ٹائر۔ ۔۔۔؟ جاناں نے پوچھا
میں ہوں دروازے پر کھڑے اسی پیارے سے انسان نے جواب دیا جو اسے یہاں لایا تھا
آپ کا نام ٹائر ہے وہ حیرت سے پوچھنے لگی بھلا یہ بھی کوئی نام ہوا
میرا نام کچھ اور ہے لیکن یہ تمہارا دیوانہ مجھے ٹائر کہتا ہے اسی لیے میں اپنا نام بھول گیا اب تو اپنا نام کبھی کبھی بس آئی ڈی کارڈ پر دیکھتا ہوں تو پتہ چلتا ہے کہ اصل نام وہ ہے اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھول جاتا ہوں ۔
وہ خالص عورتوں والے انداز میں بولا
ٹائر ۔۔۔۔جان کی سخت آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی
جا تو رہا ہوں وہ منہ بسور کر بولا اور پھر اگلے ہی لمحے وہاں سے نکل گیا
تم ان پر غصہ کیوں ہو رہے تھے وہ گھورتے ہوئے بولی
فضول بول رہا تھا اسے وقت دیا تھا تم سے بات کرنے کا نیچے سے فلیٹ میں آنے تک اس نے اپنا وقت گزار لیا اب میرا وقت ہے صرف میرا اس کے انداز سے ایک جنون تھا جو جاناں نے شدت سے محسوس کیا
تم بہت ہینڈسم ہو وہ بات بدلنے لگی
مطلب میں تمہیں پسند ہوں وہ دلکشی سے مسکرایا
اب ایسا بھی نہیں ہے وہ ہنسی چھپا گئی
تو پھر کیسا ہے وہ گہری نظر اس کے چہرے پر جمائے ہوئے بولا
تمہارا نام کیا ہے اصل والا۔ ۔وہ اصل پر زور دیتے ہوئے بولیی
جان مرتضی میری عمر 26 سال ہے ڈبل MAکرنے کے بعد نوکری ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی نہیں ملی تو اپنا کام شروع کر دیا اور کامیابی سے چل رہا ہے تمہیں بھوکا نہیں دوں گا شادی کے بعد وہ مسکرا کر بولا
شادی۔ ۔۔۔ جاناں نے حیرانگی سے دیکھا
ہاں تو تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہیں زندگی بھر تمہیں گرل فرینڈ بنا کر رکھوں گا وہ پرسکون انداز میں بولا
لمحے میں جاناں کے گال لال ٹماٹر ہوئے تھے حیا چھلکتا یہ انداز جان کو بہت بھلا لگتا تھا
مجھے ہوسٹل واپس جانا چاہئے بہت وقت گزر گیا ہے جان وارڈن کو بتائے بغیر آئی تھی وہ گھڑی کی جانب دیکھتے ہوئے بولی ۔
جان بھی بنا کچھ بولنے کچھ بولے کرسی سے اٹھا ۔
ہم پھر کب ملیں گے وہ پوچھنے لگی جان مسکرایا
تم جب چاہے یہاں آ سکتی ہووہ اس کے لئے دروازہ کھولتے ہوئے بولا
وہ خود اسے ہوسٹل چھوڑنے آیا تھا وہ جانے سے پہلے جتنی زیادہ خوفزدہ تھی اب اتنی ہی رلیکس تھی اس کا ڈر بیکار ثابت ہوا تھا جان تو بہت اچھا انسان تھا اور ٹائر بھی جاناں ہوسٹل واپس آنے کے بعد صرف اسی کے بارے میں سوچے جا رہی تھی وہ پوری طرح اس کی سوچوں پر سوار تھا
°°°°°°
آریان کافی خوش اور مطمئن ہو کر ان کے گھر آیا تھا ڈی ایس پی سرنے ڈنر کے بعد کچھ الجھے ہوئے انداز میں کہا کہ وہ اس سے کچھ بات کرنا چاہتے ہیں اس رشتے کے حوالے سے جبکہ آریان انہیں پہلے ہی بتا چکا تھا کہ وہ اگلے ہفتے استنبول جانے والا ہے تین ماہ کے لئے اس سے پہلے ہی وہ شادی کرنا چاہتا ہے
تاکہ ان تین مہینوں میں وہ اس لڑکی کو ٹھیک سے جان سکے جب کہ ڈی ایس پی سر نے کہا تھا کہ ایک بار وہ اس کی مکمل بات کو اطمنان سے سن لے پھر ہی شادی کے بارے میں کوئی بات کی جائے گی۔
جبکہ آریان کا دھیان بار بار دروازے کے دوسری طرف کھڑی اس لڑکی کی طرف جا رہا تھا شاید وہ اسے دیکھنے کی کوشش میں تھہ ائمہ او تائبہ بار بار اندر باہر آ جا رہی تھی مطلب کے وہاں وہی تھی۔
پھر کچھ ہی دیر میں عشرت آنٹی اسے اپنے ساتھ لے گئی تھی آریان سوچ رہا تھا نہ جانے کیا بات کرنی ہو گی لیکن آنٹی کے باتیں سن کر پریشان ہو چکا تھا ۔
دیکھو بیٹا تائبہ ہماری بیٹی ہے اس کی ذمہ داری ہم لے سکتے ہیں لیکن کسی غیر کی بیٹی کی ذمہ داری ہم نہیں لیں گے ۔ اریشفہ ہماری اپنی اولاد تو ہے نہیں میرے دیور کی بیٹی ہے۔اور کسی کہ بچی کی ذمہ داری اٹھانا بہت مشکل ہے ۔
وہ بھی ایک ایسی لڑکی کی ذمہ داری اٹھانا جو منہوس ہو میرا مطلب ہے پیدا ہوتے ہی ماں باپ کو کھا گئی ہو اس کی وجہ سے حاندان برباد ہو گیا ہو۔
ان کے لب و لہجے میں اس کے لئے نفرت محسوس کرکے وہ انہیں دیکھ کر رہ گیا ۔لیکن ابھی ان کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی وہ خاموشی سے انہیں سنتا رہا
اور دو سری سب سے اہم بات ہم شادی پر ایک روپیہ خرچ نہیں کریں گے ۔اگر تمہیں اس سے شادی کرنے کا اتنا ہی شوق ہے تو تمہیں بنا جہز اس سے نکاح کرنا ہوگا اور جتنا جلدی ہو سکے نکاح کرو
۔
ہم بھی اسے زیادہ وقت اپنے پاس نہیں رکھنا چاہتے اور یہی بات تمہارے انکل بھی تم سے کرنا چاہتے تھے لیکن وہ تمہیں بہت پسند کرتے ہیں اسی لیے یہ ساری باتیں انہوں نے خود نہیں کی لیکن مجھ سے یہی ساری باتیں تم تک پہنچائی ہیں آگے تمہاری مرضی چاہے تو اسے انکار کر دو ۔
وہ کہتے ہوئے اٹھ کر باہر چلی گئی جس کے آریان تو سکتے میں چلا گیا تھا جس شخص کی اتنی عزت کرتا تھا وہ کتنا گھٹیا اور گرا ہوا تھا
وہ خود بھی اپنی محبت کو ایسے گھٹیا اور لالچی لوگوں کے درمیان نہیں رکھنا چاہتا تھا جو اسے منہوس سمجھتے تھے کالا سا یہ کہتے تھے
°°°°°°
دیکھو بیٹا تمہاری آنٹی نے تمہیں سب کچھ بتا دیا ہے کیا اس کے بعد بھی تم یہ رشتہ کرنے کے لیے تیار ہو ڈی ایس پی سر سامنے والی کرسی پر بیٹھے اسے دیکھ کر پوچھنے لگے ایک پل کے لئے تو اسے اس انسان سے نفرت ہو رہی تھی کتنا گرا ہوا شخص تھا یہ
کل تک وہ بہت سے زیادہ اس انسان کی عزت کرتا تھا اسے اپنے باپ کا درجہ دیتا تھا لیکن آج اسے خود شرمندگی ہورہی تھی کہ وہ ایسے انسان کے لیے اپنے دل میں اتنی عزت بنائے ہوئے تھا
جی آپ کی مسز نے مجھے سب کچھ بتا دیا آپ فکر نہ کریں ۔ مجھے یہ رشتہ قبول ہے ۔ مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے نکاح سادگی سے ہوگا ۔ آریان نے کہتے ہوئے ایک نظر دوسرے دروازے کے قریب کھڑی اس لڑکی پر ڈالی جو ان کی نظروں سے بچ کر انہیں سننے کی کوشش کر رہی تھی
آریان تو اسے اسی وقت دیکھ چکا تھا جب یہاں آکر بیٹھا تھا تائبہ اور آئمہ دونوں باری باری اس کے سامنے کچھ نہ کچھ رکھنے اس کمرے میں آ رہی تھی جب کہ وہ وہی دروازے کے پیچھے کھڑے نے سن رہی تھی
بہت جلد وہ اسے اس دنیا سے چھپا کر اپنی دنیا میں لے جانے والا تھا جسے وہ دل ہی دل میں بے پناہ چاہنے لگا تھا۔
بیٹا سادگی سے۔۔۔۔! میں اپنی بیٹی کو یوں اتنی سادگی سے رخصت نہیں کرنا چاہتا ۔ڈی ایس پی سر نے مایوسی سے کہا ۔ جبکہ ان کے ڈرامے دیکھ کر آریان کا دل چاہا کہ وہ ابھی ان کے سامنے حقیقت کا آئینہ رکھتے ہوئے بتائے کہ وہ ان کے بارے میں سب کچھ جان چکا ہے۔
لیکن وہ اس معصوم لڑکی کا کیا کرتا ہے جو اسے اپنا باپ بنائے ہوئے ان کی گفتگو کو چھپ کر سن رہی تھی
دیکھیں سر آپ جانتے ہیں میرا آگے پیچھے اور کوئی نہیں ہے ۔ شادی میں جو بھی لوگ شامل ہوں گے وہ آپ کی طرف سے ہوں گے ۔اسی لیے مجھے نہیں لگتا کہ زیادہ ہنگامہ کرنا چاہیے ۔اور اسلام میں بھی سادگی سے نکاح کا ہی حکم ہے ۔ پوری طرح سے تو نہ سہی لیکن کچھ معاملوں کو ہم اسلام کو فالو کر سکتے ہیں ۔
باقی جو کمی ہو گی وہ میں ولیمے میں پوری کر لوں گا ۔اس کا انداز کافی خشک تھا جو ڈی ایس پی سر کے ساتھ ساتھ ان کی دونوں بیٹیوں نے بھی نوٹ کیا تھا ۔ لیکن اس کا یہ انداز سامنے بیٹھی اور دیکھو بہت اچھا لگ رہا تھا ۔ اگر وہ اتنی آسانی سے ان کی بیٹی کو ٹکرا کر ارشفہ کو دلہن بنانے کو تیار تھا ۔ تو کیا وہ ذرا سے جھوٹ نہیں بول سکتی ۔
لیکن اس سے قیامت تو اس دن آنے تھی جس دن آریان کو یہ پتہ چلانا تھا کہ اس کی ہونے والی بیوی تو گونگی ہے ۔ اور یہ بات کم از کم نکاح سے پہلے تو وہ اسے پتہ چلنے دینے والی نہیں تھی۔ جی شادی کے پہلے ہی دن طلاق کا دھبہ لگا کر گھر واپس آئے گی ۔ اس دن سے پتہ چلے گا اس جیسی لڑکیوں کا کیا انجام ہوتا ہے ۔
بہت پچھتاؤ گی اریشفہ تم نے ہمیشہ میری بچیوں کا حق مارا ہے ان کا باپ ان سے بڑھ کر تمہیں چاہتا ہے ۔وہ اپنی ہی سوچوں میں ڈوبی ہوئی تھی جب انہیں آریان کی آواز سنائی تھی
بہت وقت ہوگیا ہے اب مجھے چلنا چاہیے ۔ باقی جب آپ نکاح کی رسم کرنا چاہے میں آ جاؤں گا وہ بہت کوشش کے باوجود بھی اپنے لہجے میں آئی ناگواری کو چھپا نہیں پا رہا تھا ۔
ٹھیک ہے بیٹا اسی جعمے کو نکاح رکھ لیتے ہیں پھر تم تین مہینوں کے لئے استنبول چلے جاؤ گے ۔ اور باقی اریشفہ کے پیپرز تو استنبول میں ہی ہوں گے ۔ وہ اسے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا ۔ ڈی ایس پی سر نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
جبکہ وہ صرف ایک نظر دروازے کو دیکھتے وہاں سے نکل گیا۔
°°°°°°°°
اس ہی شادی رہی تھی وہ بھی یوں اچانک وہ حیران تھی اسے بس اتنا ہی پتہ تھا کہ اس کی شادی کی بات چل رہی ہے لیکن اتنی جلدی شادی کا اس نے تصور تک نہیں تھا
لیکن تایا ابو اتنا زیادہ خوش ہے کہ حد نہیں تایا ابو کی خوشی کے لیے اس رشتے کے لئے ہاں کردی ۔
یہ وہی شخص تھا جو اس دن اسے مارکیٹ میں گھور رہا تھا اور وہ حجاب بھی ان کے سامان میں اسی نے رکھا تھا جواب اس کی الماری میں تھا وہ اس کے تایا ابو کی پسند تھا ۔
اور بس یہی بات اس کے لیے اہم تھی کیونکہ تایا ابو کی خوشی سے زیادہ اور کوئی بات اہمیت نہیں رکھتی تھی وہ تایاابو کو پسند تھا تو مطلب اچھا انسان تھا اور شادی کے بعد اسے اس کے پڑھنے پر بھی کوئی اعتراض نہ تھا اور اس کے گگونے ہونے کے باوجود وہ اس سے شادی کر رہا تھا ۔
وہ اسے اس کی کمی کے ساتھ قبول کر رہا تھا بس اسے اور کچھ نہیں چاہئے تھا آئمہ اور تائبہ کو تو اسے چھڑے کا بہانہ مل گیا تھا یہ رشتہ تائبہ کا تھا لیکن اس کے باوجود بھی وہ اس کی شادی سے بہت خوش تھی۔
وہ تو ابھی سے جمعے کے دن کی تیاریاں شروع کر چکی تھی آئمہ اور تائبہ دونوں گھر کی پہلی خوشی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی تھی آریان کے منع کر دینے کے باوجود بھی ڈی ایس پی سر نے اپنی جائیداد کا کچھ حصہ اریشفہ کے نام کردیا تھا آخر وہ ان کی بیٹی تھی وہ اسے خالی ہاتھ تو ہرگز رخصت نہیں کر سکتے تھے
°°°°°°°°
جاناں کو ہوسٹل چھوڑنے کے بعد اس نے اس سے کہاتھا کہ وہ فون پر رات میں اس سے بات کرے گا ۔جاناں کے چہرے پر اپنے محبت کے حسین رنگ دیکھ کے وہ دل ہی دل میں بہت خوش تھا ۔
پرسکون انداز میں گھرمیں داخل ہوا تو آتے ہی اس نے سب دروازے سے لانک کرتے ہوئے کچن کا رخ کیا تھا اسے چائے کی اشد طلب ہو رہی تھی اس نے کیف چراتے ہوئے سفید شرٹ کے اوپری تین بٹن کھولے سرخ و سفید کثرتی جسمانیت پر سیاہ بال اس کی مردانگی کا ثبوت دے رہے تھے ۔
اس نے آگے بڑھتے ہوئے چولہے پر چائے کا پانی چڑھایا اور ساتھ ہی دوسرے چولہے کو ان کرتے اس پر اپنی چُھری رکھ دی۔اور ابلتے پانی میں چائے کے لوازمات ڈال دیئے
چائے کو کاپ ڈال کر وہ شان بے نیازی سے چلتا کمرے کی جانب آیا تھا دروازے کوس نے اپنے پیر کی مدد سے کھولا تھا ۔
اب وہ بیڈ کی جانب آتے ہوئے کرسی گھسیٹ کر بیٹھا اور بیڈ پر لیٹے موجود کو گھورنے لگا ۔جبکہ ساتھ ساتھ چائے کی گھونٹ بھرتا وہ بھرپور اس کے سرابے پر گہری نظر جمائے ہوئے تھا
حد ہوتی ہے عاصم گھر میں مہمان آئے ہیں اور تم سوئے پڑے ہو وہ لہجے میں ناراضگی لئے ہوئے بولا۔
جب کہ اپنے آپ پر گہری نظروں کا تعاقب محسوس کرتے ہوئے وہ گہری نیند سے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔سامنے بیٹھا شخص اس کے لیے انجان تھا لیکن موت کو پہچاننا مشکل تھوڑی نہ ہوتا ہے
گڈ مارننگ وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ کر بولا ۔انداز اصل جگری یار والا تھا ۔
بی بی ۔۔۔۔بیسٹ لمحے میں اسے پہچان گیا تھا ۔
اگر تم مجھے پہچاننے میں دیر لگاتے تو مجھے بہت برا لگتا وہ ڈرامائی انداز میں بولا
بہت ہی برے مہمان نواز کو تم عاصم میں نے خود چائے بنا کر پی ہے اور تم بھاگنے کی کوشش کیوں کر رہے ہو بھاگو مت مرتے ہوئے زیادہ تکلیف ہوگی وہ اسے بھاگنے کی تیاری میں دیکھ کر بولا جب کہ خالص کسی مہمان کی طرح چائے سے انصاف کر رہا تھا ۔
پلیز مجھے چھوڑ دو بیسٹ میں نے کچھ نہیں کیا میں بے گناہ ہوں وہ خوف کے مارے بیڈ سے اٹھ تک نہیں پا رہا تھا ۔
ہاں عاصم تم نے کچھ نہیں کیا تم تو صرف آٹھ سال کی مہک اور چھ سال کی عروہ کو پاکستان سے اٹھا کر ملائیشیا لے گئے تم نے معصوم بچیوں کو ہوس کے درندوں کے سامنے پھینک دیا وہ خود پر یہ ظلم برداشت نہ کر سکی بچیاں دم توڑ گئیں تو تم نے عاصم تم نے ان کے جسموں کے ٹکڑے کاٹ کر بیچ ڈالے۔
اور تم کہتے ہو کہ تم بھی گناہوں اس کے بعد بھی تم ہی سکون نہیں آیا تم نے ان کی لاشوں کے ملوے کو دفنانے کی بجائے ملیشیا کی پہاڑوں پر پھینک دیا اور یہ سب کچھ تمہاری نظروں میں کچھ بھی نہیں ہے رائٹ دنیا کے سامنے نیک اور شریف بنے وہ یہ گھٹیا کام کرتا تھا ۔
جس کا ثبوت بھی بعد میں کسی کو نہیں ملتا تھا لیکن جس کا ثبوت قانون نہیں ڈھونڈ سکتا تھا ایسے لوگوں کو بیسٹ جڑ سے اکھار کر ان کے انجام تک پہنچاتا تھا اور آج عاصم اپنے انجام تک پہنچنے والا تھا جس طرح اس کے ساتھیوں کو پہنچایا گیا تھا ۔
عروا اور مہک کے ساتھ ہوئی زیادتی کی سزا میں دوں گا کیوں کہ اللہ نے مجھے شاید تمہارے جیسے لوگوں کو انجام تک پہنچانے کے لیے ہی اتنی طاقت بھی ہے لیکن باقی سب کا حساب تم خود دینا ۔
یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنے آپ کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے اس نے بھی کی تھی وہ اپنی جان بچانے کے لئے بھاگ دوڑ کرنے لگا جبکہ بیسٹ وہیں کرسی پر بیٹھا اس کے کرتب ملاحظہ کرنے لگا ۔
وہ کبھی لاک دروازے کی طرف بھاگتا تو کبھی کسی کی سے کود کر اپنی جان بچانا چاہتا لیکن یہاں سے اگر کوئی دتا تو بہت بری موت مرتا اس کے علاوہ گھر کے تمام دروازے بھی لاکھ تھے وہ اطمینان سے چائے پی کر کب کو ایک طرف رکھنے لگا
عاصم تم میرا وقت ضائع کر رہے ہو دیکھو جتنا میرا نقصان ہو گا اتنی ہی بری موت مروگے اگر تم نہیں چاہتے کہ تمہیں دردناک موت ملے تو پلیز مجھے تنگ مت کرو
جلدی سے مرو گھرجا کر جاناں سے فون پر بہت ساری باتیں کرنی ہیں وہ میرے فون کا انتظار کر رہی ہوگی میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے وہ اکتا کر بات کر رہا تھا ۔
پھر نفی میں سر ہلا تا ہوا کچن کی طرف آیا اور چولہے پر رکھی ہوئی چھری کو اٹھا کر واپس آیا اب اس کا وقت مکمل ہو چکا تھا شاید وہ اس گیم سے بری طرح سے اکتا گیا تھا ۔
چلو تمہارا وقت ختم ہوا اچھے بچوں کی طرح مر جاؤ وہ اس کے پاس آتے ہوئے چھری چلا چکا تھا اس کے دو انگیاں کٹ کر زمین پر جا گری وہ چلاتے ہوئے اپنے درد کا اظہار کرنے لگا
شور مت جاؤ بے وقوف آدمی پروسی ڈسٹرب ہوں گے وہ کسی ٹیچر کی طرح اپنے اسٹوڈنٹ کو ڈانٹ رہا تھا جبکہ اس کی بات سن کر اس نے امید کے سہارے چلانا شروع کر دیا تھا شاید کوئی سن کر اس کی جان بچانے آجائے لیکن آج قسمت کو بھی اس پر ترس نہیں آیا تھا ۔
اس کی چیخ و پکار میں اضافہ ہوتا چلا گیا جب کہ وہ کسی معصوم بچے کی طرح اسے بہلاتے ہوئے اس کے جسم کے پیسزکو الگ کر رہا تھا شاید اب اسے ان معصوم بچوں کے درد کا احساس ہوا ہو گا جو بنا کسی جرم کے ایسے حالات کا شکار ہوتےتھے
°°°°°°°°
وہ اس کے جسم کے ہزاروں ٹکڑے کر چکا تھا اب بھی اس کے پاس بیٹھا اپنا پسندیدہ کام سرانجام دے رہا تھا چیخ و پکار تو کب کی دم توڑ چکی تھی ۔ آپ تو صرف سر ہی تھا یہاں جو شناخت رکھتا تھا سر کو اٹھا کر اگر پہچاننے کی کوشش کی جائے تو یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا تھا
کہ یہاں کوئی قتل ہوا ہے یہ کسی جانور کو ذبح کیا گیا ہے جب کہ وہ پرسکون انداز میں کسی قصائی کی طرح اپنا کام کرنے میں مصروف تھا ۔وہ انتہائی احتیاط سے گلوز چڑھائے جسم کے اہم ترین حصے نکال کر میڈیکل مشین میں رکھ رہا تھا ۔
سوری جاناں میں تمہیں بتانا ہی بھول گیا کہ میں کام کیا کرتا ہوں تم نے بھی تو نہیں پوچھا اگر پوچھتی تو بتا دیتاکہ سیریل کلر ہوں۔ لیکن اگر میں نے تمیں یہ بتایا تو تم مجھ سے خوفزدہ ہو جاؤ گی میں تمہیں خود سے ڈرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا لیکن میں تم سے جھوٹ بھی نہیں بول سکتا جاناں۔
وہ خود سے کہتا ہوا اپنا میڈیکل سسٹم کو الگ کر کے اٹھ کھڑا ہوا کمرے میں آیا تو کپ ابھی تک وہیں پڑاتھا اسے اٹھا کر کچن میں لاکر چائے کے اپنے برتن دھونے لگا ۔
دیکھو اس عاصم میں کتنا اچھا مہمان ہوں میں نے اپنے گندے برتن خود ہی صاف کر دئیے اچھا میں چلتا ہوں بہت وقت ضائع کر دیا تم نے جاناں سے بات تک نہیں ہو کر پاؤں گا تمہاری وجہ سے وہ افسوس کرتے ہوئے اپنا سامان اٹھا کر وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔
وہ سیدھا ہسپتال آیا تھا یہ بہت غریب اور لاچار لوگوں کا ہسپتال تھا جہاں صرف خیرات کے پیسوں سے ہی علاج ممکن تھا ۔وہ چہرے پر ماکس لگائے آگے بڑھا جہاں ڈاکٹر پریشان حالت میں کسی کا انتظار کر رہے تھے یہ سامان دوسرے ہسپتال سے بھیجا گیا ہے وہ میڈیکل سٹم ڈاکٹر کو دیتے ہوئے بولا ڈاکٹر نے فوارً سسٹم چیک کیا تھا ۔
اس سسٹم میں چار مختلف خانے بنے ہوئے تھے ایک میں دھڑکتا ہوا دل جبکہ دوسرے میں دو آنکھیں اور باقی دونوں میں کیڈیناں موجود تھی
نرس ڈاکٹر کو بلاؤ دل کا انتظام ہو گیا ہے اس آدمی کی جان بچ جائے گی جاؤ جلدی سے ان سب چیزوں کا میڈیکل جانچ کرو میڈیکل سسٹم نرس کے حوالے کرتے ہوئے وہ اس نوجوان کا شکریہ ادا کرنے لگے ۔
آپ کا بہت بہت شکریہ اپنے باس کا بھی شکریہ ادا کیجیے گا ہمیں اس وقت ایک مریض کے لیے دل کی ضرورت تھی اس کا دل پوری طرح سے ساتھ چھوڑ چکا ہے لیکن جسم میں زندگی کی نوعیت اب بھی باقی ہے
ان کے چہرے پر خوشگوار سی مسکراہٹ بھی جب کہ ان کی خوشی اس حد تک سوار تھی کہ انہوں نے پوچھا ہی نہیں کہ سامان کس نے بھیجا ہے
°°°°°°°°
رضی آپ کے بزنس پارٹنر کا خون ہو گیا ہے اور اتنی بے دردی سے کہہ حد نہیں مجھ سے تو یہ خبر دیکھی تک نہیں جا رہی
یہ تو حیوان ہے پورا ذرا رحم نہ آیا
آپ کیا حیوانوں کے سامنے حیوانیت کی باتیں کر رہی ہیں عائشہ کمرے سے نکل کر کچن کی طرف جاتی اونچی آواز میں بولی
کیا حیوانیت کی ہے میں نے تمہارے ساتھ وہ انتہائی غصے سے اس کی جانب بڑھ رہا تھا
میرے ساتھ کچھ بھی کرنے کی ہمت بھی نہیں ہے آپ میں۔میں تو اپنی ماں کی بات کر رہی ہوں جس کے چہرے پر آپ کی حیوانیت کا نشان ہے
وہ ان کا چہرہ دیکھتے ہوئے بولی تو وہ شرمندگی سے سر جھکا گئی ہیں
وہ میری بیوی ہے میں جو چاہے کر سکتا ہوں اس کے ساتھ تم کون ہوتی ہوں مجھے پوچھنے والی وہ غصے سے دھاڑا تھا
میں پوچھوں گی بھی نہیں آپ سے لیکن بیوی ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ان پر کبھی بھی ہاتھ اٹھا سکتے ہیں وہ بھی اس گھٹیا سو ہم کی وجہ سے وہ بھی ان ہی کے انداز میں جواب دیتے ہوئے بولی
سوہم کی وجہ سے نہیں تمہاری وجہ سے تم نے سو ہم پر ہاتھ اٹھایا اس وجہ سے تمہاری وجہ سے میری دیل ختم ہوسکتی تھی وہ بلند آواز میں چلایا
مطلب ختم ہوئی نہیں بھرے ہی بے غیرت لوگ ہیں ابھی تک دیل ختم نہیں کی عائشہ کو حیرت کے ساتھ ساتھ افسوس بھی ہوا تھا
عائشہ تم سو ہم کو بیکار میں ضد لا کر رہی ہو وہ تمہیں پسند کرتا ہے بہت لکی ہو تم ورنہ اس کے تو آگے پیچھے لڑکیاں پاگلوں کی طرح گھومتی رہتی ہیں اس کی ماں نے سمجھانا چاہا
بھاڑ میں جائے وہ اور بھاڑ میں جائے یہ رشتہ میرے سامنے اس رشتے کا ذکر بھی مت کیجئے گا ورنہ میں آج ہی ہاٹسل چلی جاؤں گی
وہ غصے سے کہتی اپنے کمرے کی طرف چلی آئی تھی اس کا دل چاہا آج ہی واپس ہوسٹل چلی جائے لیکن ہوسٹل میں تو سب کو ہی اس کی ذات سے زیادہ ہی دلچسپی تھی
وہ کسی کی بھی انٹرٹینمنٹ کا سامان نہیں بننا چاہتی تھی اسی لیے چھٹیاں گزار کر واپس جانے کا ارادہ رکھتی تھی ورنہ تو کب کی اس سوہم نامی مصیبت سے جان چھڑا چکی ہوتی
°°°°°°=
جاناں کالج سے واپس آئی تھی جب دوسری کلاس کی لڑکی کو تیار شیار ہو کر باہر جاتے دیکھا کہاں جا رہی ہو وہ سرسری سے انداز میں پوچھ رہی تھی
میں اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ آئس کریم کھانے جا رہی ہو وہ الگ ہی انداز میں بولی
تمہارا بوائے فرینڈ ۔۔۔۔! اسے حیرت کا جھٹکا لگا
ہاں یار وہ میرا ہونے والا شوہر کہتا ہے کہ شادی سے پہلے ہمیں ایک دوسرے کو سمجھ لینا چاہئے اسی لیے اکثر مجھے اپنے ساتھ باہر آئسکریم یا لنچ پر لے جاتا ہے ہم ایک دوسرے کو کافی اچھے سے سمجھنے لگے ہیں لیکن ایک لیمٹ میں وہ لیمٹ پر زور دیتے ہوئے بولی
تو وہ اس کی بات سمجھ کر اسے بیسٹ آف لک کہتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف آ گئی تھی کمرے میں آتے ہی اس نے جان کو فون کیا تھا
کہاں ہو تم ۔۔۔۔۔!وہ منہ بسور روٹھےانداز میں بولیی
کام کر رہا ہوں وہ اپنی چھڑیوں کی دھار تیز کرتے ہوئے بولا
کیسے بوائے فرینڈ ہو تم تم نے کبھی مجھے آئس کریم کی آفر نہیں کی میں تمہارے پرپوزل پر کبھی یس نہیں بولوں گی وہ روٹھی روٹھی سی اسے دھمکیاں دینے لگی
میں تمہارا بوائے فرینڈ بن گیا ہوں وہ حیرت زدہ ہوا
تو کیا تم نہیں بننا چاہتے جاناں نے معصومیت سے پوچھا
میں توشوہر بننا چاہتا ہوں وہ مسکرا کر بولا جب کہ اس کی بات پر جاناں کے گال لال ہو گئے تھے
جانے کہاں سے اپنے لہجے میں اتنی نرمی لاتا تھا وہ جاناں سے بات کرتے ہوئے سامنے بیٹھے ٹائر نے سوچا جو کب سے اس کی چھریوں کو دھو دھو کر رکھ رہا تھا
آئس کریم کھانی ہے میرے ماہی نے وہ اس کی حیا کو محسوس کر کے محفوظ ہوا تھا
ہاں وہ بس اتنا ہی بول پائی
15 منٹ میں آتا ہوں تیار ہو جاؤ وہ مسکرا کر فون بند کر چکا تھا ۔
اٹھ ٹائر یہ سب کچھ سنبھال مجھے جاناں سے ملنے جانا ہے وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا
میرے ساتھ ایسے بات کرتے ہو اور اپنی جاناں سے کیسے پیار سے میٹھے میٹھے ہو کر بولتے ہو وہ منہ بسور کر بولا
تمارا اور اس کا بھلا کیا مقابلہ وہ گھورتے ہوئے پوچھنے لگا
نہیں مقابلہ نہیں کر رہا ہوں بس یہ بتا رہا ہوں کہ جب اس سے بات کرتے ہو تو تم بیسٹ نہیں لگتے وہ اس کی انفارمیشن میں اضافہ کرنے لگا وہ دلکشی سے مسکرایا ۔
میں بیسٹ دنیا کے لیے ہوں جاناں کیلئے صرف جان ہوں صرف اس کا جان اس پر غصہ ہو کر اس کی فرمائش پوری نہ کر کے اس کی بات نہ مان کر اس کو ڈرا کر خود سے دور نہیں کر سکتا اسے میرے پاس آنا ہے سب کچھ چھوڑ کر صرف میرا بننا ہے
جاناں اپنے جان سے ڈرے گی نہیں بلکہ اس سے محبت کرے گی صرف محبت وہ اس کو اپنے دل کی بات بتا رہا تھا ٹائر تو بس ہائے صدقے کہتا ہے اپنی کاجل سے بھری آنکھوں سے نظر کاٹکہ اس کی گردن کے پیچھے لگانے لگا جبکہ اس کے انداز پر وہ مسکرا کر جاناں کی فرمائش پوری کرنےجانے لگا
°°°°°°°
تو میری ماہی کو کون سا آئس کریم کھانی ہے وہ مسکراتے ہوئے بولا
میرا نام جاناں ہے جاناں تو مجھے ماہی کیوں کہتے ہو وہ اسے گھور کر پوچھنے لگی
کیونکہ تم میری ماہی ہو وہ مسکرا کر بولا ۔
چلو ٹھیک ہے تم مجھے ماہی کہو اور میں تمہیں ۔۔۔۔۔
میں تمہارا جان ہوں۔ وہ اس کی بات کاٹ گیا
اووو ہو تم جو مرضی بولو میں جارہی ہوں آئسکریم آرڈر کرنے تم یہیں بیٹھ کر ویٹ کرو
رکو تم کیوں جا رہی ہومیں جاتا ہوں اور آڑڈر کرکے آتا ہوں وہ اسے روکتے ہوئے بولا
بالکل بھی نہیں آج کی ٹریٹ میری طرف سے ہے اور آرڈر بھی میں ہی کروں گی
ٹھیک ہے تم آرڈر کر کے آ جاؤ لیکن یہ ٹریٹ میری طرف سے میرے خاندان میں ہونے والی بیوی کا خرچہ اٹھانے کا رواج ہے وہ دلکشی سے مسکرا کر بولا جبکہ اس کی بات کے جواب میں جاناں کے گال لال ہو گئے
اب اگر شرمآ لیا ہو تو کچھ کھانے کو لے آو یار میں نے لنچ بھی نہیں کیا وہ اسے شرماتے ہوئے دیکھ کر بولا ۔تو جاناں کو وہاں سے کھسکنے کا بہانہ مل گیا وہ فوراً وہاں سے اٹھ کر کاونٹر پر جانے لگی
وہ بھی آرڈر کر کے مڑنے ہی والی تھی کہ اسے اپنی کمر پر سخت گرفت محسوس ہوئی اس نے نظریں اٹھا کر جان کی جانب دیکھا جو اسے دیکھنے کے بجائے سامنے کی طرف دیکھ رہا تھا آنکھوں میں اتنی وحشت تھی کہ جاناں گھبرا کر رہ گئی ۔
سامنے ہی کاؤنٹر پر موجود کچھ آوارہ لڑکے اسے عجیب نظروں سے سر سے پیر تک دیکھ رہے تھے جان کو دیکھتے ہوئے ہیں وہ اندازہ لگا چکی تھی کہ ان کی اس حرکت کی وجہ سے جان کو بہت غصہ آرہا ہے اور یقینا جان نے اب ان کو کچھ ایسا ضرور کرنا تھا جو ان لڑکوں کو عقل آ جاتی اس نے فورا جان کے سینے پہ ہاتھ رکھا چلو یہاں سے وہ وحشت سے بولی۔
ڈانٹ یو ڈیر شی از مائنڈ ۔۔۔وہ نرم لیکن انتہائی سرد انداز میں بولا ۔اور اس کے انداز پر وہ لڑکے بھی کچھ ہربڑا کر دونوں ہاتھ اوپر لہراتے باہر کی طرف بڑھ گئے جاناں کو کچھ سکون آیا
جاناں کو کچھ سکون آیا جان اوڈر کر رہا تھا جبکہ جاناں کا دھیان اب بھی ان لڑکوں کی طرف تھا جواب قہقے لگاتے ہوئے باہر کی جانب جا رہے تھے کے اچانک دو تین لڑکوں نے مڑ کر واپس کاؤنٹر کی طرف دیکھا اور اسے انتہائی گندے انداز میں دیکھتے ہوئے آنکھ مارتے قہقہ لگا کر باہر نکل گئے یہ تو شکر ہے ان کی یہ حرکت جان کی نظروں میں نہیں آئی تھی ۔
اس نے اگلے ہی لمحے جان کا تھامتے ہوئے اسے دوسرے ٹیبل کی طرف بڑھایا وہ نہیں چاہتی تھی کہ جان دروازے کی جانب بھی جائے آج جان کے انداز میں اس نے جو استحقاق سنا تھا اس کے بعد جہاں وہ دل ہی دل میں اپنے آپ کو بہت محفوظ سمجھ رہی تھی وہی اسے جان سے خوف بھی محسوس ہوا تھا ۔
°°°°°°
کتنے عجیب ہوتا ہے نا انسان دنیا کے سامنے اتنا اچھا اور اندر ہی اندر نجانے کیا کیا راز چھپائے ہوئے ہوتا ہے آریان کو ڈی ایس پی سر ہمیشہ سے بہت اچھے لگتے تھے وہ کبھی بھی ان کے بارے میں اتنا برا نہیں سوچ سکتا تھا لیکن اریشفہ کی محبت نے جیسے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھی تھی اس کے ساتھ کچھ برا ہوا اور کرنے والے یہ لوگ تھے
تو کیا ڈی ایس پی سر بھی اریشفہ کو مہنوس کہتے تھے وہ انسان جو کچھ ہی دن میں اس کے لئے اس کی جان سے زیادہ عزیز ہو گیا تھا اسے کوئی برا کہے تو کہے کیوں شاید یہی وجہ تھی کہ وہ کچھ بھی نہیں سوچنا چاہتا تھا بس جلد سے جلد اپین اریشفہ اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا تھا
اس وقت بھی جب ڈی ایس پی سر نے کہا کہ اریشفہ کو اپنے ساتھ لے جاؤ اور ڈریس سلیکٹ کر لو اسے خوشی ہوئی تھی ۔
وہ بھی شادی سے پہلے ایک بار اس سے ملنا چاہتا تھا اسے اپنے دل سے بات کہنا چاہتا تھا
لیکن کہیں نہ کہیں ڈی ایس پی سر کی طرف سے بے اعتباری اس کے دل میں بس گئی تھی اسے سچ میں انکی حقیقت جان کر افسوس ہوا تھا وہ انہیں بہت زیادہ عرصے سے نہیں جانتا تھا تقریبا ایک ڈیڑھ سال سے اور وہ بھی صرف ڈیوٹی ہاؤرز میں لیکن پھر بھی وہ اسے بہت اچھے لگتے تھے
اس نے گاڑی گھر سامنے روک دی اور دروازہ کھٹکٹایا آنٹی خود دروازے پے آئی تھی
آنٹی اریشفہ کو باہر بھیجنے ہمیں ویڈنگ ڈریس لینے جانا ہے اس نے انہیں سلام کرتے ہوئے کہا کہ آنٹی کے چہرے پر فکر مندانہ تاثرات تھے
ارے بیٹا عرشی تو گھر نہیں ہے وہ تھوڑی دیر پہلے ہی اپنی سہیلی کے گھر گئی ہے آنے میں کافی وقت لگ جائے گا تم اندر آؤ بیٹھو وہ مہمان نوازی کرنے لگی
نہیں میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے مجھے واپس جانا ہوگا ڈیوٹی ہاؤرز ہیں صرف لنچ بریک میں باہر آیا تھا چلیں کوئی بات نہیں میں کل آ جاؤں گا نہیں بلکہ کل تو نکاح ہے وہ پریشانی سے بولا
پھر کچھ سوچتے ہوئے اس نے اپنی جیب سے کچھ نکال کر ان کے حوالے کیا۔ آنٹی پلیز آپ خود اس کے لیے ڈریس لے آئیے گا یہ میرا کارڈ ہے ۔ میں جانتا ہوں یہ کچھ عجیب ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ میری بیوی اپنے نکاح پر میری طرف سے ڈریس پہنے
وہ انہیں کارڈ تھماتے ہوئے بولا جب کہ انہوں نے اس کا دل رکھنے والے انداز میں کارڈ تھام لیا ۔
اور دروازہ بند کر کے اندر کمرے میں داخل ہوئی ۔
اریشفہ اندر بیٹھی اپنے پیپرز کی تیاری کر رہی تھی کل اس کا نکاح تھا اور آج وہ اپنی پڑھائی میں بری طرح سے مگن تھی
اچھا ہی تھا اگر اسے پتہ بھی نہیں چلا کہ دروازے پر کون آیا ہے تو مسلہ ہو جاتا
تائبہ اور ائمہ دونوں ہی شاپنگ پر گئی ہوئی تھی اگر وہ آریان کے ساتھ چلی جاتی تو یقینا اس کو پتہ چل جاتا کہ وہ گونگی ہے اور ان کا کھیل شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جاتا
°°°°°°°°
وہ اس وقت ٹریفک میں پھنسے ہوئے تھے آگے پیچھے ہر طرف صرف اور صرف گاڑیاں ہی گاڑیاں تھی وہ دونوں ہی ٹریفک کھلنے کا انتظار کر رہے تھے جب جاناں کی نظر کے پار ایک بزرگ پر بڑی بڑی مشکل سے سڑک پار کرنے کی کوشش کر رہے تھے
اس نے ایک طرف ہو کر جان کو مخاطب کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے دیکھنے سے پہلے ہی جان ان بزرگ کے مسلے کو جان چکا تھا ۔
اور اب ان کے پاس پہنچ کر سہارا دے کر سرک پار کر آنے لگا ۔
کتنا اچھا تھا وہ جاناں سوچ کر مسکرائی ۔
اسی لڑائی جھگڑے سے شروع سے الجھن تھی جہاں لڑائی جھگڑا ہو رہا ہو تو وہاں سے کوسوں دور چلی جاتی اور شکر ہے جان بھی اس کی ذات کو پہچاننے لگا تھا ۔ اسی نہیں پتا تھا جان جگرالو ہے یا نہیں لیکن اس کے سامنے وہ اونچی آواز میں بھی بات نہیں کرتا تھا انتہائی نرم اور خوبصورت انداز ہر کسی کے درد کو سمجھنے والا تھا جان ۔وہ سوچ کر مسکرائی
یہ جانے بغیر کہ اس کا لوگوں کو کاٹنے کا انداز بھی انتہائی نرم تھا ۔
وہ جان بھی محبت سے لیتا تھا ۔
وہ اپنے شکاری کو کسی بچے کی طرح ٹریٹ کرتا تھا ۔
جان نے آکر گاڑی کا دروازہ کھولا اور گاڑی آگے بڑھا دی ٹریفک کھلا جاناں کو خود بھی پتا نہیں چلا تھا ۔
اگلی بار کب آوو گی آئس کریم کھانے اس نے مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام کر پوچھا
جب میرا دل چاہے گا وہ الگ ہی ترنگ میں بولی ۔
جان مسکرایا میں دو دن کے لئے کسی کام کے سلسلے میں باہر جا رہا ہوں دو دن تم سے ملاقات نہیں ہو گی اس نے مسکراتے ہوئے لیکن اداس لہجے میں کہا تھا ۔
کوئی بات نہیں تم اپنا کام کر کے مجھے آئس کتیم کھلانے آ جانا اس نے مسکرا کر شرارت سے کہا تو وہ بھی ہنس دیا
مطلب کی یہ جو مجھے بوائے فرینڈ والی سیٹ ملی ہے تمہں آئس کریم کھلانے کے لیے ملی ہے اس نے گھورتے ہوئے پوچھا جس پر جاناں نے زور زور سے ہاں میں سر ہلایا ۔اور پھر دونوں ہی مسکرا دیئے
°°°°°°°
سڑک کے بیچوں بیچ تین لڑکے ایک لڑکی کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کر رہے تھے اس نے اچانک گاڑی روکی سر پر ہڈ ڈال کر آگےبڑھ رہا ۔
مدد کرو یہ لوگ میرے ساتھ زبردستی کررہے ہیں لڑکی نے بھاگتے ہوئے اس کی طرف قدم بڑھائے اور مدد کے لئے پکارنے لگی یہ نہ جانے کتنی لڑکیوں کی زندگی برباد کر چکے ہیں پلیز میری مدد کرو یہ کلب میں ڈرگز بھیجتے ہیں میں وہیں پر کام کرتی ہوں آج میں نے ان لوگوں کو یہ کرتے ہوئے دیکھ لیا یہ میرے ساتھ بھی وہی کرنے جا رہے ہیں جو آج تک سب کے ساتھ کرتے ہیں وہ لڑکی ترکش میں کہتی اس کے پیچھے چھپتی اسے اپنا محافظ سمجھنے لگی۔
یہ تو وہی لڑکا ہے جو دن میں اس لڑکی کے ساتھ تھا ان میں سے ایک لڑکے نے ترکش زبان میں کہا۔
ہاں میں وہی ہوں جان آگے قدم بڑھاتے ہوئے اس کے پاس روکا ۔
میں نے تم سے کہا تھا نہ وارن کیا تھا تمہیں کیا اس کی طرف مت دیکھو پھر بھی تم نے اس کی طرف دیکھا ۔ کیوں دیکھا تم نے میری جان کو گندی نظر سے وہ انتہائی غصے سے بولا تھا اس نے اپنی جیب سے ایک سرینج نکالی
جو کہ پیک تھی مطلب کی بات بالکل نیو تھی لڑکے نے مسکرا کر اسے دیکھا وہ نہ جانے کیا کرنے جا رہا تھا ۔
ہے یوں تم اپنی ڈاکٹری کسی ہسپتال میں جا کر کرو ہمیں ہمارا کام کرنے تو وہ اسے دھکا دیتے ہوئے بولا جبکہ جان ہوا کو سرینج میں لوڈ کرتے ہوئے اگلے ہی لمحے انجیکشن اس کی گردن میں مار چکا تھا ۔
ایک لمحے کم ہوا تو لگا تھا اس لڑکے کو موت کا مزا چکھنا ہے ہوئے ۔
اگر ڈاکٹری ہسپتال میں کروں گا تو تم لوگوں کا علاج کون کرے گا وہ مسکراتے ہوئے دوسرے لڑکے کی طرف بڑھا اور اس کے ساتھ بھی اس نے بالکل ایسا ہی کیا تھا تیسرے نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن اس سے پہلے ہی وہ اس کا کام تمام کر چکا تھا
دور کھڑی لڑکی یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی
میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی میں نے کچھ نہیں دیکھا وہ کہتے ہوئے پیچھے کی طرف آ گئی تھی جبکہ جان جانتا تھا وہ کسی کو کچھ نہیں بتائیں گی
°°°°°°°
ارے عرشی تجھے چھٹیاں گزارنے بھیجا تھا یا شادی کرنے تجھے پتہ ہے میں تیری شادی پر نہیں آسکتی اتنے دور میں آؤگی اور بابا بھی فون نہیں اٹھا رہے ان کی اجازت کے بغیر میں وہاں نہیں جا سکتی اور جان وہ بھی تو یہاں نہیں ہے کل ہی وہ پتا نہیں کون سے کام کے سلسلے میں کہاں گیا ہے دو دن بعد واپس آئے گا وہ بے اختیار ہیں بولی تھی
جبکہ عرشی اشاروں سے پوچھ رہی تھی کہ وہ کس کے بارے میں بات کر رہی ہے اسے جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہوگیا
تم شادی وغیرہ کرکے واپس آؤ نا پھر تمہیں بتاؤں گی ارے تمہیں تمہارا شوہر شادی کے بعد ہوسپٹل آنے تو دے گانا تم اپنی پڑھائی تو مکمل کرو گی نا وہ پریشانی سے بولی
جس پر عرشی نے اطمنان سے ہاں میں سر ہلایا تھا
شکر ہے ورنہ تو میں تو پریشان ہوگئی تھی تمہیں پتا ہے عاشی نے جانے کے بعد صرف دو تین میسج کیے ہیں مجھے فون بھی دو تین منٹ میں بند کر دیتی ہے وہ منہ بناتے ہوئے اسے شکایت کرنے لگی جب کہ وہ روز رات کو ایسے بہت سارے میسیج کرتی تھی ۔
جبکہ فون تو وہ خود جلدی میں بند کر دیتی تھی کہ اسے جان سے بات کرنی ہوتی تھی لیکن عاشی کو بھی اس نے جان کے بارے میں ابھی تک کچھ نہیں بتایا تھا اس نے سوچا تھا وہ دونوں یہاں آئیں گی تو وہ انہیں سکون سے اس کے بارے میں سب بتائے گی ۔
اچھا تو بتا اپنے منگیتر کے بارے میں کیسا دکھتا ہے ہینڈسم تو ہے نہ کرتا کیا ہے وہ اکسائیڈ ہو کر پوچھنے لگی جب کہ وہ اشارے سے سر پر ٹوپی لگاتی اسے بتانے کی کوشش کرنے لگی
کیا ٹوپیاں بیچتا ہے اس نے شرارت سے کہا جس پر وہ نفی میں سر ہلا تی ناراضگی کا اظہار کرنے لگی
ویڈیو کال پر وہ ناراض ناراض شرمائی شرمائی بہت پیاری لگی تھی اور اوپر سے آج تو ائمہ اسے زبردستی پالر لے کر گئی تھی اور بیوٹیشن میں تو واقع ہی اس کے حسن کو فیشل سے کافی نکھار دیا تھا
پھر جاناں اسے مانا کر ایک بار پھر سے اس کے بارے میں پوچھنے لگی جب وہ اپنے ہاتھ میں ڈنڈا پکڑ کر سر پر ٹوپی لگاتی اسے سمجھانے لگی اور اس بار جانا واقعہ ہی سمجھ گئی تھی کہ وہ پولیس انسپکٹر ہے ۔
اس نے اس کی خوشیوں کے لیے بہت ساری دعائیں کی یقینا وہ شخص بہت اچھا تھا جو اسے اس کی کمی کے ساتھ قبول کر رہا تھا اور اس کے تایا ابو بھی تو بہت اچھے تھے وہ کبھی اسے کسی غلط انسان کی زندگی میں شامل نہیں کر سکتے تھے
°°°°°°°°
سر آپ کے گھر کو بہت اچھے طریقے سے صاف کروا دیا ہے سب کچھ پرفیکٹ ہے عمران جو کہ کل سے استنبول اس کی شادی کی تیاریوں میں آیا ہوا تھا اسے فون پر بتانے لگا ۔
دیکھو عمران کوئی کمی نہیں رہنی چاہیے تمہاری بھابھی کو ذرا بھی گندگی محسوس نہ ہو پتا نہیں چلنا چاہیے کہ اس گھر میں کوئی مرد رہتا ہے اتنے اچھے سے صاف کرنا کہ میرا پہلا انپریشن اس پر اچھا پڑھے۔ کو سمجھاتے ہوئے بولا تو عمران مسکرایا
سر آپ پریشان نہ ہوں میں نے سب کچھ بہت اچھے سے کروایا ہے عمران نے ہنستے ہوئے جواب دیا تو اس نے بھی اطمینان سے فون بند کر دی۔
اس کی ہر سوچ پر صرف اریشفہ سوار تھی اوہ س سے ملنا چاہتا تھا بے شمار باتیں کرنا چاہتا تھا اسے اپنے دل کی ہر بات کہنا چاہتا تھا اور نہ جانے کتنی باتیں ہوں گی جو وہ اس سے کرنے کے لیے بے چین ہو گئی
۔
کل سے تم میری زندگی میں شامل ہو جاؤ گی اور میں تمہاری ہر خواہش پوری کروں گا میں تم سے وعدہ کرتا ہوں تمیہں کبھی بھی ایک اچھے ساتھی کی کمی محسوس نہیں ہونے دوں گا میں تمہیں اتنا پیار دوں گا قسمت کے ساتھ دنیا تم پررشک کریں گی۔
وہ چھت کو دیکھتے ہوئے اپنی زندگی کے حسین خواب سجا رہا تھا
°°°°°°°°
عائشیہ سوہم ایک بہت اچھا انسان ہے تم اس کے ساتھیہ سب کر کے اپنا فیوچربرباد کر رہی ہو وہ ایک بار پھر اس کے سامنے بیٹھی اسے سمجھا رہی تھی لیکن وہ کچھ بھی سمجھ نہیں چاہتی تھی
آپ اس کی وکالت کرنا بند کریں زہر لگتا ہے مجھے وہ شخص اور دوسرا آپ کا شوہر نہیں رہوگی میں زیادہ دن یہاں کچھ دن سکون سے رہنے دیں چلی جاؤں گی میں یہاں سے وہ انتہائی غصے سے کہتی ان کے قریب سے اٹھنے لگی لیکن وہ اس کا ہاتھ تھام چکی تھی
ایک عورت کو زندگی جینے کے لیے ایک مرد کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے عائشہ اس بات کو سمجھ جاؤ تمہارے لئے بہتر رہے گا تم اپنی زندگی برباد کر دو گی اس طرح تمہارا باپ بھی میرے آگے پیچھے پھیرا کرتا تھا شادی سے پہلے لیکن میں اسے اکثر اس کی اوقات یاد دلاتی رہتی لیکن جب وہ میرے گھر رشتہ لے کر آیا تو میری ماں باپ نے انکار نہیں کیا تھا گھونگٹ اٹھاتے ہی اس نے پہلا لفظ جانتی ہو مجھے کیا کہا
اس نے مجھ سے کہا کہ تم مجھے میری اوقات دلاتی ہے یاد دلادیتی رہی اور دیکھو تمہاری اوقات کیا ہے تم میری ہی سج سجا کر بیٹھی ہواس زندگی کے سات سال پل پل مجھے اس بات کا احساس ہوتا رہا کیوں میں شادی سے پہلے اس سے ٹھیک سے بات نہیں کی
تم اندازہ بھی نہیں لگا سکتی کہ میں نے شادی کے سات سال کتنے مشکل گزارے ہیں
سکون سے تو آپ زندگی اب بھی نہیں گزار رہی ماما وہ طنز کرتے ہوئے بولی شاید اپنے باپ کی بڑھائی اس سے برداشت نہیں ہوئی تھی ۔
ہاں بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو تم سکون سے تو میں اب بھی زندگی نہیں گزار رہی لیکن اس وقت مجھے پتا ہے کہ میرے پاس ایک سہارا تو ہے اگر کبھی مجھ پر کوئی سوال کیا گیا تو میرا شوہر جواب دینے کے لیے تیار رہے گا میں بے سہارا نہیں ہوں۔
میرا شوہر ہر قدم پر میرے ساتھ کھڑا ہے وہ جیسا بھی ہے مجھے بہت چاہتا ہے اور میں ایسی خواہش تمہارے لئے بھی کرتی ہوں
بس کر دیں ماما اپنی زندگی سکون سے جینے کے لیے میں کبھی کسی غلط چیز کا ساتھ نہیں دوں گی وہ غصے سے کہتے ہوئے اٹھ کر باہر چلی گئی جب کہ وہ ہمیشہ کی طرح سے جاتے ہوئے دیکھتے رہیں
°°°°°°°°
باہر آ کر بھی اسے سکون نہیں ملا تھا گھر میں رہ کر ماں اسے باتیں بتاتے رہتی ہیں اور باہر آ کر بھی اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔
اور نہ ہی طہٰ بخاری اسے واپس ملا تھا تاکہ وہ اسے اس کی بانسری واپس کر سکے ہاں لیکن وہ ہمیشہ اس کے پاس ہی رہتی تھی ۔
بھائی تمہاری قسمت میں تمہارے مالک کا ملنا لکھا ہی نہیں ہے وہ بانسری سے کہتی اسے واپس اپنے بیگ میں رکھ کر آہستہ آہستہ آگے کی طرف چلنے لگی جب دور سڑک پر اسے بانسری کی ہی مدہم سی سنائی دی
وہ اس کی طرف بھی چلی گئی بے اختیار ہی سہی لیکن وہ اس کی لڑائی کو بھول کر اس کی بانسری کی دھن سن رہی تھی آج سے پہلے اس نے کبھی بھی بانسری کی آواز کو نہیں سنا تھا
بلکہ اسے تو اس طرح بے اختیار سڑکوں پر کھڑے رہنے والے لوگوں سے چڑ تھی لیکن آج نہیں سامنے وہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ وہی پر جس کی امانت اس نے اسے لوٹانی تھی وہ آنکھیں بند کیے آہستہ آہستہ سر ہلا رہا تھا ۔
عائشہ کو کافی ایٹریکٹیو لگا اپنی خوبصورتی کو بہت استعمال کرتا تھا اس کی دھن سے لطف اندوز ہو کر لوگ اس کی ٹوپی میں پیسے ڈال رہے تھے کافی اچھا طریقہ تھا یہ پیسے کمانے کا وہ انپرسڈ ہوئی تھی
سب لوگ آہستہ آہستہ سے اس کی ٹوپی میں پیسے ڈال کر نکلتے چلے جارہے تھے وہ بھی وہیں پاس کھڑی یہ سب منظر دیکھ رہی تھی
سو مسٹر طہٰ بخاری تو تم یہاں یہ کام کرتے ہو تم نے تو کہا تھا کہ تم بے کاری نہیں ہو لیکن یہ کام تو بیکارہوں والے ہی ہیں وہ مسکراتے ہوئے اسے جتا رہی تھی
جب اگلے ہی لمحے اس نے اپنی جیب سے کچھ نکالتے ہوئے اس کی کیپ میں پھینکنا چاہیے لیکن اس سے پہلے ہی وہ اس کا ہاتھ تھام چکا تھا ۔
ا میں صرف ان لوگوں سے لیتا ہوں جو میرے ٹیلنٹ کو اپنے سکون کے لئے استعمال کرتے ہیں ان لوگوں سے نہیں جو اپنے پیسے کا رعب جما کر میرے ٹیلنٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسے اپنی دولت پھنک کر چلے جاتے ہیں محترمہ پھینکے ہوئے پیسوں پر تو میں لعنت بھی نہیں بھیجتا
وہ اس کا ہاتھ پھینکنے والے انداز میں دور کر چکا تھا ۔
بڑے ہی کوئی ڈیھٹ انسان ہو یہ سب بھی بھیک مانگنے کے ہیں برابر ہے وہ اپنی جیب سے بانسری نکالتے ہوئے اس کی طرف بڑھنے لگی
خیرتم سے بحث کرنے کا وقت میرے پاس بالکل نہیں ہے میں نے تمہاری اس چیز کو واپس کرنا تھا یہ اس دن مجھے اس جگہ لی تھی جہاں میں نے تم سے مدد مانگی تھی سو میں تمھاری مدد کے بدلے تمہیں تمہاری چیز واپس کر رہی ہو حساب برابر وہ بانسری کے حوالے کرتے ہوئے بولی اور اس نے نوٹ کیا تھا اس بانسری کو دیکھتے ہی اس کے چہرے پر رونق سی آ گئی تھی
ہاں سہی کہا تم نے حساب برابر میں اس چیز کا ہمیشہ تمہارا مشکور رہوں گا یہ میرے لئے بہت قیمتی ہے وہ مسکرا کر اس کا تلخ لہجہ نظرانداز کر چکا تھا
اور پھر کچھ ہی دیر میں ایک بار پھر سے لوگوں کا ہجوم جمع ہونے لگا اسے سننے کے لیے بہت سارے لوگ منتظر بیٹھے تھے ۔لیکن عائشہ کا اس کے پاس کھڑے رہنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا وہ اس کے اس ٹیلنٹ سے انپریسڈ نہیں ہوئی تھی اسی لیے واپس جانے لگی لیکن جیسے ہی اس نے دھن بجانا شروع کی اس کے قدم جم سے گئے
وہ بہت چاہنے کے باوجود بھی اس دن کو نظر انداز نہیں کر پائی تھی پیاری تھی مدہوش کر دینے والی دھن ۔
°°°°°°°°
باربی سنے درندگی کی انتہا کر دی تھی ایم صرف تصویریں ہی دیکھ پایا کیونکہ ان کی تیاریوں میں بیزی تھا ویسے تو آج وہ چھٹی پر تھا لیکن کام زیادہ ہونے کی وجہ سے جلد ہی کام ختم کرکے کل پیاری ماں کو لیکر استنبول روانہ ہو جانا چاہتا تھا لیکن پھر بھی کامل کی ذات کا سب سے پہلا حصہ تھا
یہ کام بھی بیس تک کا ہی تھا میں لاش کی آنکھیں نکال کر اس نے لاش کے ماتھے پر بھی سفر دیکھا تھا ۔
کون تھے یہ لوگ اور بیس ٹریننگ کیوں مار رہا تھا کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا لاش کے اتنے ٹکڑے کیے گئے تھے کہ اب شور نہ ناممکن تھا لاش مسح ضروری فضول نکال لیے گئے تھے اگلا شخص کے گھر سے نہ ملتی تو وہ بھی پہچاننا بھی مشکل تھا کہ یہ فلاسفر کس کی ہے ۔
گھر میں کوئی بھی فالتو یا کوئی بھی چیز بے ترتیب نہیں تھی جب سے بیس کی کسی غلطی کا اندازہ لگایا جا سکے ۔
بہت چالاک آدمی ہے اتنی آسانی سے ہمارے ہاتھ نہیں آئے گا علی نے تصویریں دیکھتے ہوئے عمران سے کہا جو کافی گہری نظر سے تصویروں کو دیکھ رہا تھا وہ آج ہی استنبول سے واپس آیا تھا
عالین کے میں بہت مضبوط دل کا شخص ہوں لیکن اس آدمی کو دیکھ کر مجھے بھی بھوک محسوس ہو رہا ہے اس نے اپنے دل کی بات کہی توارین مسکرا دیا
ذرا سوچو عمران جس شخص نے یہ کام کیا ہے اس نے کیسے کیا ہوگا کوئی بکریوں کو بھی اس طرح سے زباں نہیں کرتا جس طرح اس نے انسان کی گردن کاٹی ہے ۔
مجھے تو لگتا ہے یہ کوئی قصائی ہے ۔ عمران نے تصویریں ایک طرف رکھتے ہوئے کہا ۔
میری بھی ایسی ہی رائے ہے ۔وہ دونوں فوٹوگرافیک لیپ سے باہر آئے تھے ۔۔
°°°°°°°°
وہ سو رہی تھی انتہائی گہری نیند میں جب کہ جان اس کے پاس بٹھا تھا اس کے چہرے کے ایک کے نقش کو اپنی نظروں کے حصار میں لیے ہوئے تھا ۔
تین دن کے بعد دیکھ رہا ہوں تمہیں دیکھو کیا حال ہو گیا ہے تمہارے دیوانے کا۔میں نے کہا تھا صبح تم سے ملوں گا لیکن ٹائر نے کہا رات کو اسی حالت میں رہے گے تو مر جاؤ گے بس موت کے ڈر سے بھاگا چلا ابھی تو ملی ہو تم ابھی تو محسوس کیا ہے تمہیں تمہارے ساتھ جیے بنا مرنا نہیں چاہتا
کیونکہ مجھے بھی یہی لگ رہا تھا کہ اب تمہیں نہیں دیکھا تو مر جاؤں گا
کیوں ہو تم اتنی پیاری ہاں میرا دل ہی نہیں لگتا تمہارے بنا جاناں اگر ایسے سب کچھ چلتا رہا تو میں کیسے کام کروں گا اور اگر میں کام نہیں کروں گا تو وہ گندے لوگ سب کچھ تباہ کر دیں گے ۔
اور یہ قانون پولیس ہاتھ پہ ہاتھ رکھے بیٹھے رہیں گے تمہیں پتا ہے ٹائر میرا دوست میری جان ایسی ہی ایک قانون کے محافظ نے میرے اس دوست کو موت کے دورائے پر کھڑا کر دیا ۔تمہیں پتا ہے وہ کیسے تڑپتا تھا ساری ساری رات روتا رہا اس رات کو یاد کر کے وہ پل پل مرتا رہا لیکن میں اپنے دوست کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا میں نے بھی اس کا وہی حال کیا جس کا وہ حقدار تھا
تمہیں پتا ہے اس دن ٹائر کتنا نچا خوشی سے بالکل پاگل ہو گیا تھا ۔
جیل میں گزرا وہ وقت بہت برا تھا جاناں بہت برا جب بھی وہ وقت یاد آتا ہے نابتو وہ چھڑا ہوا دوست یاد آجاتا ہے پتہ نہیں وہ آج کہاں ہو گا ۔
جہاں بھی ہوگا بہت خوش ہوگا ۔اہ ہو میں بھی کیسی باتیں لے کر بیٹھ گیا میں تو تمہیں دیکھنے آیا تھا ۔تم سے اپنے دل کی باتیں کرنے آیا تھا تو میں اپنے دل کا حال سنایا تھا یہ تین دن میں نے تمہارے بغیر کیسے گزارے بتانے آیا تھا ۔
اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیتا لبوں سے لگا کر ایک بار پھر اسکے چہرے کے نقوش میں کھو سا گیا جب کہ وہ اپنے آپ کو شاید نیند میں بھی محفوظ محسوس کرکے گہری نیند میں تھی۔
°°°°°°°°
شادی کا ڈریس آریان کی طرف سے تھا
جو بے حد خوبصورت تھاوہ خود بھی کسی حسین پری سے کم نہیں لگ رہی تھی
۔ بری بری گہری جیل آنکھیں جن کا آریان دیوانہ ہو گیا تھا۔
پیاری سے چھوٹے چھوٹے پنکھڑی ہونٹ اور چھوٹی سی ناک ۔رنگت سفید تھی لیکن اس وقت آئمہ اور تائبہ کی چھڑچھاڑ کی وجہ سے وہ مکمل سرخ ہوئی پری تھی ۔
اس نے عائشہ کو بھی فون کر کے بتایا تھا۔ کہ اس کا نکاح ہے ۔لیکن جانتی تھی اس کا اتنی جلدی میں یہاں آنا ممکن نہیں ہے اور ویسے بھی اس کی فیملی باہر جانے کی اجازت نہیں دیتی بالکل جاناں کی طرح
کاش آج زندگی کے سب سے اہم وقت پر اس کی سہیلیاں بھی اس کے ساتھ ہوتی
اس کے دل میں ایک حسرت تھی لیکن یہ بھی تھا واپس انئیں کے پاس ہی تو جا رہی تھی ۔ یقیننا اریان ویسے اس کی ہر کمی کے ساتھ قبول کر رہا ہے اس کی سہیلی سے ملنے سے منع تو نہیں کرے گا
آج آریان کا سوچتے ہوئے بھی اس کے گال لال ہونے لگے تھے ابھی تو وہ شخص زندگی میں شامل تک نہیں ہوا تھا کہ اتنا پیارا لگنے لگا تھا ۔وہ سوچ کر مسکرا دی
نکاح کی ساری تیاریاں مکمل ہو چکی تھی
اسی دلہن کی طرح سجایا گیا اریشفہ نے اپنے آپ کو کبھی اتنا حسین محسوس نہیں کیا تھا جتنی آج وہ آریان کی دلہن بن کر لگ رہی تھی
نکاح میں بہت کم لوگ شامل تھے ۔ان کے خاندان بلادری والے بہت لوگ تھے لیکن جنہوں اچانک نکاح وجہ سے بہت ناراضگی کا اظہار کیا لیکن بابا نے بھی کہہ دیا کہ اچھا رشتہ تھا اور لڑکا بھی بہت اچھا ہے ان کے ساتھ ہی کام کرتا ہے انہیں کوئی اعتراض نہیں تھا تو انہوں نے سب سے پہلے اپنی بھتیجی کے بارے میں سوچا ۔
°°°°°°°°
نکاح کی رسم ادا ہوئی اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ نکاح نامے پر سائن کیے آریان کافی غور سے اس کی آواز کو سننے کے لیے منتظر تھا ۔وہ سامنے ہی تو بیٹھا تھا یہ رسم باہر لان میں کی گئی تھی درھیان میں جالی دار پردہ لگا دیا گیا ایک کرسی پر اریشفہ کی دوسری کرسی پر آریان بیٹھا تھا
وہ نقاب میں ایک مکمل حیسن کا پیکر لگتی تھی آج سامنے آئی تو آریان کا نظریں ہٹانا مشکل ہو گیا
اسے قبولیت کے وقت اریشفہ کی آواز سنائی نہیں دی گئی لیکن نکاح نامہ پر سائن ملتے ہی مولوی صاحب اٹھ کر اس کی طرف آ گئے وہ تھوڑی پریشان ہوا تھا اس کی شرم و حیا کو سوچتے ہوئے مسکرا دیا
اور حاموشی سے نکاح نامے پر سائن کرتے ہوئے رسم مکمل کر دی اور اب سامنے بیٹھی وہ خاموش سی شرمائی شرمائی سی لڑکی اس کی ملکیت تھی نکاح کے بعد پردہ ہٹا دیا گیا ۔
آریان نے مسکرا کر اسے دیکھا تو وہ نظر اٹھا کر اسے دیکھتی اگلے ہی لمحے دوبارہ نظر جھکا گئی تھی اس انداز پر وہ گہرا سا مسکرا دیا تھا
رخصتی کا وقت بھی آہی گیا وہ اپنے تایا کے آنگن سے اپنے ساجن کی آنگن کی طرف قدم اٹھا رہی تھی ۔بہت سنجیدہ سا ماحول تھا تایا ابو نے بہت کچھ دینے کی کوشش کی لیکن آریان کا صرف ایک ہی جواب تھا کہ وہ ان سے صرف اپنی دلہن لینے آیا ہے
انہیں اپنی پسند پر فخر تھا انہوں نے اپنی بیٹی کے لئے بالکل صحیح فیصلہ کیا تھا ۔قرآن کے سائے میں انہوں نے اپنی بیٹی کو رخصت کیا
جبکہ اگلے ہی لمحے تائی اس کی واپسی کا انتظار کرنے لگی وقت دور نہیں جب وہ خود اسے اسی حالت میں واپس چھوڑنے آئے گا ۔
پیار محبت اپنی جگہ لیکن کوئی بھی شخص اتنی بڑی کمی کے ساتھ ایک لڑکی کو ساری زندگی کے لیے قبول نہیں کر سکتا تھا اریشفہ کو واپس اسی گھر میں آنا تھا اور اس گھر میں ان کی بیٹی ائمہ نے آریان کےگھر جانا تھا
تم نے میری بیٹی کی جگہ لی ہے اریشفہ اتنی آسانی سے تمہیں چھوڑوں گی نہیں اور آریان تم نے میری بیٹی کو ٹکرا کر ایک گونگی لڑکی کو اپنایا تمہیں تو سزا دینا بنتی ہے
°°°°°°°°
آریان خود کار ڈرائیو کر رہا تھا جب کہ اریشفہ ابھی تک آنسو بہا رہی تھی اپنوں سے بچھڑنے کا بھی الگ ہی غم ہوتا ہے اسے کوئی نہیں سمجھ پاتا جن کے ساتھ ساری زندگی گزاری ہو پھر ایک دن انہیں چھوڑ کر چلے جانا کوئی عام بات نہیں وہ گھر سے ہی چہرہ گھونگھٹ میں لیے باہر آئی تھی اور پھر اسی طرح ہی ساتھ لے آیا
اس وقت بھی اس کا چہرہ گھونگھٹ میں چھپا ہوا تھا جب آریان نے ایک ہی لمحے میں اس کا گھونگھٹ پیچھے کر دیا عرشی نے گھبرا کر اس کی طرف دیکھا
ارے ایسے کیوں دیکھ رہی ہو میں اپنی دلہن کو دیکھنا چاہتا ہوں اب کیا سارے سفر میں تمہارا گھونگھٹ ہی دیکھ کر دل کی بے چینیوں پر کنٹرول کروں یار ایسے نہیں چلے گا میں خود پر بہت مشکل سے کنٹرول کر رہا ہوں اس کے انداز پر وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی اور پھر اس کی نظروں میں دیکھتے ہوئے نظر ہی جھکا گئی
ہائے اس کے انداز آریان نے آہ بھری
پتا ہے اریشفہ پہلے تو تمہارے بغیر شاید خود پر کنٹرول بھی کر لیتا لیکن یہ جو احساس ملکیت ہے نا اس نے سارا کام خراب کر رکھا ہے وہ گاڑی ایک طرف لگاتے ہوئے کچھ الگ انداز میں بولا تو اریشفہ نے اسے حیرانگی سے دیکھا
وہ کیا بات کر رہا تھا ایک تو اسے اس شخص کی باتیں سمجھ نہیں آرہی تھی
ہاں لیکن وہ اس کے ساتھ خوف زدا بالکل بھی نہیں تھی وہ کیوں اس سے ڈرتی وہ کوئی غیر تو نہیں بلکہ اس کا محافظ اس کا اپنا ہمسفر تھا ۔وہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی اس نے بیچ سڑک پر گاڑی کیوں روک دی تھی آخر یہ کرنے کی والا تھا ۔
پہلے تو اس نے وہاں موجود لڑکے سے کہہ دیا کہ گاڑی خود ڈرائیو کرے گا اور پھر اپنے ساتھ آنے سے بھی منع کر دیا اس نے کہا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ یہ سفر اکیلے طے کرنا چاہتا ہے اور اب گاڑی بھی سڑک پر کھڑی کردی
وہ اپنی ہی سوچوں میں مصروف تھی جب آریان نے اسے بازو سے تھام کر اپنی طرف کیا اور اگلے ہی لمحےوہ اس کے نازک لبوں کو اپنے ہونٹوں کی قید میں لے چکا تھا۔
اریشفہ کا نازک دل بے ترتیبی سے دھڑکنے لگا اس کا ایک ہاتھ اریان کی قید میں جب کہ دوسرا اس کے سینے پے آ چکا تھا ۔جب کہ اس کے ہاتھ کی کپکپاہٹ کو محسوس کرکے وہ محفوظ ہوتے ہوئے مزید اسے اپنے قریب کر گیا
وہ اس کے ہونٹوں کو اپنے دسترس میں لیے مکمل مد ہوش ہوچکا تھا اریشفہ اپنی تمام تر ہمت جمع کرکے اسے خود سے الگ کرنے لگی کیونکہ اب وہ اس کی سانس بند کر رہا تھا وہ تو آج اس معصوم کی جان لینے کے در پر تھا وہ جتنا اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کرتی وہ اتنا ہی اسے خود بھی قید کئے جا رہا تھا
اس کا دوپٹہ سر سے گر کر کندھے پے چکا تھا جب آریان نے پتہ نہیں کیا سوچ کر اس سے دوری اختیار کی اور بنا کسی بناوٹ کے اس کا دوپٹہ واپس اس کے سر پر ٹھیک کرنے لگا اس کا موجود جی جان سے کانپ رہا تھا
جیسے بیٹھے بٹھائے اس پر قیامت ٹوٹی ہو
یار کانپنا بند کرو مجھے عجیب فیل ہو رہا ہے اس معاملے میں جذبات بھی بے لگام ہیں اور خواہش بھی دل میں دبی تھی لیکن تم اس طرح سے کانپ کر مجھے مزید پاگل کر رہی ہو
ویسے تو آج رات سارے فاصلے مٹا ہی دونگا لیکن تب تک تم میرے اس معصوم دل کا کچھ خیال کرو یار بڑی مشکل سے کنٹرول کیے بیٹھا ہوں وہ اسے نظروں کے حصار میں لیے جذبات سے چور لہجے میں بولا اریشفہ کے ہاتھوں کی ہتھیلیاں بھیگنے لگیں
اللہ میں کیسے کہوں ان سے کہوں مجھ سے اس طرح کی باتیں نہ کریں پتا نہیں یہ میرے اشارے سمجھتے بھی ہوں گے یا نہیں وہ کانپتے وجود کے ساتھ پوری طرح اس کی طرف متوجہ تھیں جبکہ اس کی گھبراہٹ سے محفوظ ہو کر اس نے گاڑی دوبارہ سٹارٹ کر دی
°°°°°°°°
وہ تمام راستے میں اس سے باتیں کرتے ہوئے آیا لیکن اسے بولنے کے لئےکچھ نہیں کہا ۔بس خود ہی اپنے دل کا حال سنا تا رہا اور اس کی باتوں کے ساتھ وہ اسے مزید گھبراھٹ میں مبتلا کرتا رہا سارے راستے میں اور کچھ نہیں تو اس کی محبت کو سمجھ گئی تھی ۔
وہ اس بات کا اندازہ لگا چکی تھی کہ وہ سچ میں اس سے بہت پیار کرتا ہے اور آج رات اسے پوری طرح سے اپنا بنا کر اس کے ہوش ٹھکانے لگانے کا بھی خوب ارادہ رکھتا ہے
ہاں وہ آنے والے وقت کو لے کر تھوڑی بہت خوفزدہ تھی لیکن آریان کی بھرپور توجہ محبتوں کے ساتھ وہ اس گھر کے اندر داخل ہوئی تھی
یہ گھر تمہارا ہے اب تمہیں اسے سنوارنا اور تمہیں ہی سجانا ہے اور آپنے ایک عدد شوہر کا بہت سارا خیال رکھنا ہے وہ شرارت سے بولا یقیناً وہ اسے اپنے ساتھ فری کرنے کی کوشش کر رہا تھا سارے راستے میں وہ اسی طرح اس سے مزاق کرتا ہوا آیا ۔
جس سے اور کچھ نہ سہی لیکن اس کے ساتھ وہ کانفٹیبل ہو کر تھوڑا سا مسکرا دیتی تھی۔
شاید اس نے یہ سفر اکیلے کرنے کا اسی لئے کہا تھا تاکہ وہ اس کے ساتھ بات کر کے مطمئن کر سکے ۔
آریان اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے ساتھ اندر لے کر آیا کھانا تو وہ لوگ ڈی ایس پی سر کی ہاں کھا کر آئے تھے اس وقت رات کا ایک بجا رہا تھا یقیناً وہ تھک گئی ہو گی اسی خیال سے وہ اسے گھر کے بارے میں بتانے لگائے
ادھر کچن ہے اور یہ ایکسٹرا بیڈ روم ہے ۔
اس طرح سے یہ بالکنی کا دروازہ ہے اور یہ اسٹور روم ہے اس کے علاوہ میرے استعمال میں جو بیڈروم ہے وہ اوپر ہے تو یہاں پر ٹائم ویسٹ کرنے سے بہتر ہے کہ ہم اوپر چلیں وہ اوپر چلنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
جب اریشفہ نے سیڑھیوں کی طرف قدم بڑھائے لیکن اس سے پہلے ہی وہ اسے اپنی باہوں میں اٹھا چکا تھا اریشفہ کا دل ایک لمحے کے لئے تھم سآگیا پھر اس کی مسکراتی نظروں میں دیکھ کر نظر جھکا گئی ۔
ایم سوری میں تمہارے لئے کچھ بھی اسپیشل نہیں کر پایا میں تمہیں بتانا چاہتا تھا کہ تم میرے لیے کتنی اسپیشل ہو لیکن اگر میں یہاں آ جاتا تو نکاح کے لئے کسی اور آریان کا انتظام کرنا پڑتا ہے ّّ
لیکن میں تم سے وعدہ کرتا ہوں تمہارا ویلکم نہ سہی لیکن تمہاری زندگی کو بہت اسپیشل بنا دوں گا ۔فی الحال اس اسپیشل سفر کی اسپیشل سی شروعات کرتے ہیں وہ اس کے کانوں میں گنگنانے والے انداز میں کہتا سیڑھیاں چڑھنے لگا جبکہ اریشفہ اس کے سینے پہ ہاتھ رکھتی شرمائی تھی
°°°°°°°°
وہ اسے ایک انتہائی خوبصورت کمرے میں لے آیا تھا جس کو ڈریم لینڈ کہنا غلط نہیں ہوگا وہ اپنے آپ میں ایک جایزہ معلوم ہوتا تھا کمرے کی ہر چیز آریان کے بازوق ہونے کی منہ بولتا ثبوت بھی ۔
دروازے سے لے کر بیڈ تک پھولوں کا ایک خوبصورت راستہ بنایا گیا تھا اس کے علاوہ بیڈ پر لاتعداد پھولوں کی پتیاں تھی اس کے علاوہ سارا کمرہ بالکل سادہ سا تھا لیکن کمرے کے قیمتی آرائش سے پتہ چل رہا تھا کہ اس کمےر میں اور کسی سجاوٹ کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔
اور یہ سب جو تھوڑا بہت کام کیا گیا تھا وہ بھی شاید عمران کی محنت تھی اس نے ایک بار آ کر نہ صرف گھر کو بالکل ٹھیک طریقے سے صاف کروایا تھا بلکہ خود سے بھی تھوڑا بہت سجا کر دیا تھا ۔
اریشفہ اب تک میں نے جتنا کمایا ہے میں نے اپنے اس گھر پہ لگایا ہے اس گھر میں موجود ایک ایک چیز ےے انتہا کی محبت کرتا ہوں میری زندگی کی ایک ایک چیز قیمتی ہے اور اس گھر میں موجود سب سے اہم وجود تم ہو ۔
میں اپنی ہر ممکن کوشش کرتے تمہیں خوش رکھوں گا میں تمہیں یہ نہیں کہوں گا کہ مجھ سے کبھی جھوٹ نہیں بولنا میرا اعتبار نہیں توڑنا یا مجھے دھوکا نہیں دینا ان سب باتوں کو مد نظر رکھ کر ہی میں نے تمہیں اپنے لیے چنا ہے ۔
اگر تم اس طرح کی ہوتی تو کبھی آریان تمہیں اپنی دلہن بنا کر نہیں لاتا میں جانتا ہوں تم اس بناوٹی دنیا کی بناوٹ سے پاک ہو ۔
میں تم سے اتنا ہی کہوں گا میں تمہیں بہت پیار دوں گا بس میرے پیار کے بدلے تم اپنا پیار مجھے دینا ۔وہ اس کے ماتھے کو چومتے ہوئے بولا تو نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی آنکھیں نم ہونے لگی
او یار نہیں پلیز ایسا مت کرنا تم گھر سے ہی اتنا رونا دھونا کرکے آئی ہواب نئی زندگی کی شروعات ہوئی ہے خدا کے لئے یہ آنسو مت بہانا میں اپنی زندگی کی شروعات ہنستے کھیلتے کرنا چاہتا ہوں روتے روتے نہیں وہ اس کے چہرے کو صاف کرتے ہوئے اس انداز میں بولا کہ اریشفہ کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔
تمہیں نہیں لگتا کہ ہم اپنا وقت برباد کر رہے ہیں اسے مسکراتے دیکھ ایک ہی لمحے میں سے کھینچ کر اپنے قریب کر لیا تھا جبکہ اس کی اس حرکت پر اریشفہ کا دل ایک بار پھر سے بے ترتیب ہونے لگا ۔
جب کہ وہ اس کے انداز سے لطف اٹھاتے ہوئے اس کے گال پر اپنے لب رکھ چکا تھا اس کا نازک وجود کانپے جا رہا تھا ۔
تم بہت خوبصورت ہو مجھے فخر ہے کہ تم میری پسند ہو وہ اس کے گلے سے بھاری نکلیس نکل کے ایک طرف رکھتے ہوئے الماری سے ایک خوبصورت سی چین نکالنے لگا ۔
یہ ہے شادی کا تحفہ جو میں نے آج نہیں بلکہ بہت پہلے اپنے ہم سفر کے لیے بنوایا تھا ۔مجھے یقین ہے کہ تم مجھ سمت اسے قبول کرو گی وہ اس کے گلے میں چین پہناتے ہوئے محبت سے بولا ۔
سونے کی خوبصورت بھاری چین تھی جس کے درمیان میں انگلش میں آریان لکھا ہوا تھا۔عرشی نے دل و جان سے اس پہلے تحفے کو قبول کیا تھا ۔
تو ابھی کیا ہم شروعات کر سکتے ہیں وہ اس کے کانوں سے جھمکے نکالتے ہوئے شرارت سے بولا اریشفہ خاموشی سے سر جھکا گئی
مشرقی لڑکی اگر سر جھکا لے تو مطلب ہاں سمجھو اس بار شرارت سے وہ اس کے ماتھے پر لب رکھتا ہوا آہستہ آہستہ نیچے کی طرف سفر کر رہا تھا وہ آنے والے وقت کو سوچتے ہوئے اچانک ہی اس کے سینے پہ ہاتھ رکھ چکی تھی آریان نے مسکرا کر اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں تھامے ہوئے لبوں سے چھوا ۔
یار اتنا بھی مت ڈرو انسان ہی ہوں کوئی جن نہیں جو تمہیں کھا جاؤں گا وہ اب بھی شرارتی انداز میں بولا
لیکن وہ تو جیسے کچھ سنا ہی نہیں رہی تھی آنے والے لمحات میں سوچتے ہوئے اس نے بس ایک نظر اٹھا کے آریان کے چہرے کو دیکھا تھا جہاں محبت اور جذبات کا ایک الگ ہی جہاں تھا اس کو اپنی طرف دیکھتے پاکر اس کے لبوں کو اپنی قید میں لے چکا تھا ۔
رات گزرتی چلی جارہی تھی اور ہر لمحے میں وہ آریان کی بے باکیوں پر بکھرتی چلی جا رہی تھی لیکن سامنے بھی آریان تھا اگر اسے بکھیرنا آتا تھا تو وہ سمٹنا بھی جانتا تھا ۔
آریان کا جنونی شدت بھرا انداز اس کی محبت کو بیان کر گیا تھا اس کا روم روم اس کی محبت کی گواہی دینے لگا وہ پوری طرح سے اس کی محبت میں ڈوب گئی تھی ۔ساری رات ایک لمحے کے لئے بھی آریان نے اسے سونے نہیں دیا تھا صبح اذانوں کے قریب نہ جانے اسے کیسے اس پر ترس آ گیا اس کی ڈوبی ہوئی نیند سے بھرپور آنکھوں کو دیکھ کر اسے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے سونے سے اجازت دے ڈالی
°°°°°°
اٹھ جاؤ میری سلیپنگ کوئین کیا سونے کے لئے شادی کی ہے دوپہر کے 12 بج رہے ہیں وہ ایک ہاتھ میں ٹرے جب کے دوسرے ہاتھ سے اسے جگانے کی کوشش کر رہا تھا ۔
چہرے پر مسکراہٹ تھی ۔
اور آنکھوں میں بے تحاشہ محبت
یار بڑی ظالم قسم کی لڑکی ہو تم خود تو سو گئی اور ذرا پروا نہیں کی اپنے شوہر کی تائی امی نے تمہیں سکھایا نہیں کہ جب تک شوہر خود نیندوں کی وادیوں میں گم نہ ہو جائے بیوی کا فرض ہے کہ وہ سو نہیں سکتی نہ جانے کیوں وہ تائی کا نام لے بیٹھا ۔
ویسے تمہیں تمہاری تائی کی بہت یاد آتی ہو گی نہ بے تحاشہ محبت کرتی ہیں تم سے وہ اس کا ہاتھ تھامیں اسے واش روم کی طرف لے کر آیا تھا ۔
جلدی سے باتھ لے کر باہر نکلو بھوک سے میری جان نکل رہی ہے صبح سے میں نے کچھ نہیں کھایا تمہارے چکر میں کہ جب میری بیگم شریف کی آنکھیں کھلیں گی تب وہ کچھ کھائیں گی اور میں بھی کچھ کھا لوں گا لیکن نہیں میری بیگم نے تو جیسے سونے کے آج ریکارڈ توڑ دیے ہیں
وہ اسے واش روم کے اندر جانے کا اشارہ کرتے ہوئے خود ہی بربڑاتے ہوئے ٹیبل پر کھانا لگانے لگا عرشی بھی اس کے اشارے پرفوارً ہی واش روم میں جا چکی تھی لیکن اس نے باتوں ہی باتوں میں تائی امی کا ذکر کیوں کیا اور اسے کیسے پتہ کہ وہ اس سے کتنا پیار کرتی ہیں وہ کچھ کنفیوز تھی
آریان نے خود ہی وار ڈراپ سے اس کے لئے کپڑے نکالے اور باہر دروازے کے قریب رکھ کر اسے بتایا
وہ باہر نکلی تو وہ کھانا لگا چکا تھا اسے جلدی آنے کا اشارہ کیا ۔
آریان نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا ڈارک بلو سوٹ میں وہ کسی حور سے کم نہیں لگ رہی تھی آریان مسکرایا یہ وہی رنگ تھا جب اس نے پہلی بار اسے دیکھا تھا ۔
وہ مسکرا کر اٹھا اور س کے پاس آیا ۔یار میں رات سے کتنی بار تمہیں اپنی محبت کا بتا چکا ہوں مجال ہے جو تم نے ایک بار مجھے احساس بھی دلایا ہو وہ شکوہ بھری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا
ارہشفہ کو لگا وہ اس سے خفا ہو رہا ہے وہ مڑکر جانے لگا۔ تو اریشفہ نے اس کو شرٹ سے تھام لیا وہ مسکراہٹ دبا کر اس کی طرف موڑا ۔
جبکہ اریشفہ اسے ناراض سوچ کر ہاتھ سے کچھ اشارہ کرنے لگی آریان قہقہ لگا کہ اسے اپنی باہوں مِیں لے چکا تھا۔
پریشان مت ہو جانم میں تو مزاق کر رہا ہوں وہ اس کے ہاتھوں کو چومتا ہوا مسکرایا۔
تم تو اپنے اشاروں سے مجھے ساری باتیں سمجھا لو گی لیکن میری اشارے کب سمجھو گی وہ اسے ٹیبل کی طرف لے جاتے ہوئے مسکرا کر بولا اور اپنے ہاتھ سے نوالہ بنا کر اس کے منہ کے قریب لے آیا ۔
اریشفہ نے ہاتھ اور سر کے اشارے سے بتایا تھا کہ وہ اسے بہت اچھی طرح سے سمجھ گئی ہے ۔
وہ ایک بار پھر سے قہقہ گا اٹھا
ایک ہی رات میں اتنے اچھے سے سمجھ گئی مطلب کہ آگے اور بھی مزہ آئے گا وہ اب پھر سے شرارتی ہوا ۔اریشفہ نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر اسے خود سے دور کیا جب کہ وہ قہقہ لگاتے ہوئے اسے پھر سے کھانا کھلانے کی طرف متوجہ کرنے لگا
°°°°°°°°
عائشیہ سوہم ایک بہت اچھا انسان ہے تم اس کے ساتھیہ سب کر کے اپنا فیوچربرباد کر رہی ہو وہ ایک بار پھر اس کے سامنے بیٹھی اسے سمجھا رہی تھی لیکن وہ کچھ بھی سمجھ نہیں چاہتی تھی
آپ اس کی وکالت کرنا بند کریں زہر لگتا ہے مجھے وہ شخص اور دوسرا آپ کا شوہر نہیں رہوگی میں زیادہ دن یہاں کچھ دن سکون سے رہنے دیں چلی جاؤں گی میں یہاں سے وہ انتہائی غصے سے کہتی ان کے قریب سے اٹھنے لگی لیکن وہ اس کا ہاتھ تھام چکی تھی
ایک عورت کو زندگی جینے کے لیے ایک مرد کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے عائشہ اس بات کو سمجھ جاؤ تمہارے لئے بہتر رہے گا تم اپنی زندگی برباد کر دو گی اس طرح تمہارا باپ بھی میرے آگے پیچھے پھیرا کرتا تھا شادی سے پہلے لیکن میں اسے اکثر اس کی اوقات یاد دلاتی رہتی لیکن جب وہ میرے گھر رشتہ لے کر آیا تو میری ماں باپ نے انکار نہیں کیا تھا گھونگٹ اٹھاتے ہی اس نے پہلا لفظ جانتی ہو مجھے کیا کہا
اس نے مجھ سے کہا کہ تم مجھے میری اوقات دلاتی ہے یاد دلادیتی رہی اور دیکھو تمہاری اوقات کیا ہے تم میری ہی سج سجا کر بیٹھی ہواس زندگی کے سات سال پل پل مجھے اس بات کا احساس ہوتا رہا کیوں میں شادی سے پہلے اس سے ٹھیک سے بات نہیں کی
تم اندازہ بھی نہیں لگا سکتی کہ میں نے شادی کے سات سال کتنے مشکل گزارے ہیں
سکون سے تو آپ زندگی اب بھی نہیں گزار رہی ماما وہ طنز کرتے ہوئے بولی شاید اپنے باپ کی بڑھائی اس سے برداشت نہیں ہوئی تھی ۔
ہاں بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو تم سکون سے تو میں اب بھی زندگی نہیں گزار رہی لیکن اس وقت مجھے پتا ہے کہ میرے پاس ایک سہارا تو ہے اگر کبھی مجھ پر کوئی سوال کیا گیا تو میرا شوہر جواب دینے کے لیے تیار رہے گا میں بے سہارا نہیں ہوں۔
میرا شوہر ہر قدم پر میرے ساتھ کھڑا ہے وہ جیسا بھی ہے مجھے بہت چاہتا ہے اور میں ایسی خواہش تمہارے لئے بھی کرتی ہوں
بس کر دیں ماما اپنی زندگی سکون سے جینے کے لیے میں کبھی کسی غلط چیز کا ساتھ نہیں دوں گی وہ غصے سے کہتے ہوئے اٹھ کر باہر چلی گئی جب کہ وہ ہمیشہ کی طرح سے جاتے ہوئے دیکھتے رہیں
°°°°°°°°
باہر آ کر بھی اسے سکون نہیں ملا تھا گھر میں رہ کر ماں اسے باتیں بتاتے رہتی ہیں اور باہر آ کر بھی اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔
اور نہ ہی طہٰ بخاری اسے واپس ملا تھا تاکہ وہ اسے اس کی بانسری واپس کر سکے ہاں لیکن وہ ہمیشہ اس کے پاس ہی رہتی تھی ۔
بھائی تمہاری قسمت میں تمہارے مالک کا ملنا لکھا ہی نہیں ہے وہ بانسری سے کہتی اسے واپس اپنے بیگ میں رکھ کر آہستہ آہستہ آگے کی طرف چلنے لگی جب دور سڑک پر اسے بانسری کی ہی مدہم سی سنائی دی
وہ اس کی طرف بھی چلی گئی بے اختیار ہی سہی لیکن وہ اس کی لڑائی کو بھول کر اس کی بانسری کی دھن سن رہی تھی آج سے پہلے اس نے کبھی بھی بانسری کی آواز کو نہیں سنا تھا
بلکہ اسے تو اس طرح بے اختیار سڑکوں پر کھڑے رہنے والے لوگوں سے چڑ تھی لیکن آج نہیں سامنے وہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ وہی پر جس کی امانت اس نے اسے لوٹانی تھی وہ آنکھیں بند کیے آہستہ آہستہ سر ہلا رہا تھا ۔
عائشہ کو کافی ایٹریکٹیو لگا اپنی خوبصورتی کو بہت استعمال کرتا تھا اس کی دھن سے لطف اندوز ہو کر لوگ اس کی ٹوپی میں پیسے ڈال رہے تھے کافی اچھا طریقہ تھا یہ پیسے کمانے کا وہ انپرسڈ ہوئی تھی
سب لوگ آہستہ آہستہ سے اس کی ٹوپی میں پیسے ڈال کر نکلتے چلے جارہے تھے وہ بھی وہیں پاس کھڑی یہ سب منظر دیکھ رہی تھی
سو مسٹر طہٰ بخاری تو تم یہاں یہ کام کرتے ہو تم نے تو کہا تھا کہ تم بے کاری نہیں ہو لیکن یہ کام تو بیکارہوں والے ہی ہیں وہ مسکراتے ہوئے اسے جتا رہی تھی
جب اگلے ہی لمحے اس نے اپنی جیب سے کچھ نکالتے ہوئے اس کی کیپ میں پھینکنا چاہیے لیکن اس سے پہلے ہی وہ اس کا ہاتھ تھام چکا تھا ۔
ا میں صرف ان لوگوں سے لیتا ہوں جو میرے ٹیلنٹ کو اپنے سکون کے لئے استعمال کرتے ہیں ان لوگوں سے نہیں جو اپنے پیسے کا رعب جما کر میرے ٹیلنٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسے اپنی دولت پھنک کر چلے جاتے ہیں محترمہ پھینکے ہوئے پیسوں پر تو میں لعنت بھی نہیں بھیجتا
وہ اس کا ہاتھ پھینکنے والے انداز میں دور کر چکا تھا ۔
بڑے ہی کوئی ڈیھٹ انسان ہو یہ سب بھی بھیک مانگنے کے ہیں برابر ہے وہ اپنی جیب سے بانسری نکالتے ہوئے اس کی طرف بڑھنے لگی
خیرتم سے بحث کرنے کا وقت میرے پاس بالکل نہیں ہے میں نے تمہاری اس چیز کو واپس کرنا تھا یہ اس دن مجھے اس جگہ لی تھی جہاں میں نے تم سے مدد مانگی تھی سو میں تمھاری مدد کے بدلے تمہیں تمہاری چیز واپس کر رہی ہو حساب برابر وہ بانسری کے حوالے کرتے ہوئے بولی اور اس نے نوٹ کیا تھا اس بانسری کو دیکھتے ہی اس کے چہرے پر رونق سی آ گئی تھی
ہاں سہی کہا تم نے حساب برابر میں اس چیز کا ہمیشہ تمہارا مشکور رہوں گا یہ میرے لئے بہت قیمتی ہے وہ مسکرا کر اس کا تلخ لہجہ نظرانداز کر چکا تھا
اور پھر کچھ ہی دیر میں ایک بار پھر سے لوگوں کا ہجوم جمع ہونے لگا اسے سننے کے لیے بہت سارے لوگ منتظر بیٹھے تھے ۔لیکن عائشہ کا اس کے پاس کھڑے رہنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا وہ اس کے اس ٹیلنٹ سے انپریسڈ نہیں ہوئی تھی اسی لیے واپس جانے لگی لیکن جیسے ہی اس نے دھن بجانا شروع کی اس کے قدم جم سے گئے
وہ بہت چاہنے کے باوجود بھی اس دن کو نظر انداز نہیں کر پائی تھی پیاری تھی مدہوش کر دینے والی دھن ۔
°°°°°°°°
باربی سنے درندگی کی انتہا کر دی تھی ایم صرف تصویریں ہی دیکھ پایا کیونکہ ان کی تیاریوں میں بیزی تھا ویسے تو آج وہ چھٹی پر تھا لیکن کام زیادہ ہونے کی وجہ سے جلد ہی کام ختم کرکے کل پیاری ماں کو لیکر استنبول روانہ ہو جانا چاہتا تھا لیکن پھر بھی کامل کی ذات کا سب سے پہلا حصہ تھا
یہ کام بھی بیس تک کا ہی تھا میں لاش کی آنکھیں نکال کر اس نے لاش کے ماتھے پر بھی سفر دیکھا تھا ۔
کون تھے یہ لوگ اور بیس ٹریننگ کیوں مار رہا تھا کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا لاش کے اتنے ٹکڑے کیے گئے تھے کہ اب شور نہ ناممکن تھا لاش مسح ضروری فضول نکال لیے گئے تھے اگلا شخص کے گھر سے نہ ملتی تو وہ بھی پہچاننا بھی مشکل تھا کہ یہ فلاسفر کس کی ہے ۔
گھر میں کوئی بھی فالتو یا کوئی بھی چیز بے ترتیب نہیں تھی جب سے بیس کی کسی غلطی کا اندازہ لگایا جا سکے ۔
بہت چالاک آدمی ہے اتنی آسانی سے ہمارے ہاتھ نہیں آئے گا علی نے تصویریں دیکھتے ہوئے عمران سے کہا جو کافی گہری نظر سے تصویروں کو دیکھ رہا تھا وہ آج ہی استنبول سے واپس آیا تھا
عالین کے میں بہت مضبوط دل کا شخص ہوں لیکن اس آدمی کو دیکھ کر مجھے بھی بھوک محسوس ہو رہا ہے اس نے اپنے دل کی بات کہی توارین مسکرا دیا
ذرا سوچو عمران جس شخص نے یہ کام کیا ہے اس نے کیسے کیا ہوگا کوئی بکریوں کو بھی اس طرح سے زباں نہیں کرتا جس طرح اس نے انسان کی گردن کاٹی ہے ۔
مجھے تو لگتا ہے یہ کوئی قصائی ہے ۔ عمران نے تصویریں ایک طرف رکھتے ہوئے کہا ۔
میری بھی ایسی ہی رائے ہے ۔وہ دونوں فوٹوگرافیک لیپ سے باہر آئے تھے ۔۔
°°°°°°°°
وہ سو رہی تھی انتہائی گہری نیند میں جب کہ جان اس کے پاس بٹھا تھا اس کے چہرے کے ایک کے نقش کو اپنی نظروں کے حصار میں لیے ہوئے تھا ۔
تین دن کے بعد دیکھ رہا ہوں تمہیں دیکھو کیا حال ہو گیا ہے تمہارے دیوانے کا۔میں نے کہا تھا صبح تم سے ملوں گا لیکن ٹائر نے کہا رات کو اسی حالت میں رہے گے تو مر جاؤ گے بس موت کے ڈر سے بھاگا چلا ابھی تو ملی ہو تم ابھی تو محسوس کیا ہے تمہیں تمہارے ساتھ جیے بنا مرنا نہیں چاہتا
کیونکہ مجھے بھی یہی لگ رہا تھا کہ اب تمہیں نہیں دیکھا تو مر جاؤں گا
کیوں ہو تم اتنی پیاری ہاں میرا دل ہی نہیں لگتا تمہارے بنا جاناں اگر ایسے سب کچھ چلتا رہا تو میں کیسے کام کروں گا اور اگر میں کام نہیں کروں گا تو وہ گندے لوگ سب کچھ تباہ کر دیں گے ۔
اور یہ قانون پولیس ہاتھ پہ ہاتھ رکھے بیٹھے رہیں گے تمہیں پتا ہے ٹائر میرا دوست میری جان ایسی ہی ایک قانون کے محافظ نے میرے اس دوست کو موت کے دورائے پر کھڑا کر دیا ۔تمہیں پتا ہے وہ کیسے تڑپتا تھا ساری ساری رات روتا رہا اس رات کو یاد کر کے وہ پل پل مرتا رہا لیکن میں اپنے دوست کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا میں نے بھی اس کا وہی حال کیا جس کا وہ حقدار تھا
تمہیں پتا ہے اس دن ٹائر کتنا نچا خوشی سے بالکل پاگل ہو گیا تھا ۔
جیل میں گزرا وہ وقت بہت برا تھا جاناں بہت برا جب بھی وہ وقت یاد آتا ہے نابتو وہ چھڑا ہوا دوست یاد آجاتا ہے پتہ نہیں وہ آج کہاں ہو گا ۔
جہاں بھی ہوگا بہت خوش ہوگا ۔اہ ہو میں بھی کیسی باتیں لے کر بیٹھ گیا میں تو تمہیں دیکھنے آیا تھا ۔تم سے اپنے دل کی باتیں کرنے آیا تھا تو میں اپنے دل کا حال سنایا تھا یہ تین دن میں نے تمہارے بغیر کیسے گزارے بتانے آیا تھا ۔
اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیتا لبوں سے لگا کر ایک بار پھر اسکے چہرے کے نقوش میں کھو سا گیا جب کہ وہ اپنے آپ کو شاید نیند میں بھی محفوظ محسوس کرکے گہری نیند میں تھی۔
°°°°°°°°
شادی کا ڈریس آریان کی طرف سے تھا
جو بے حد خوبصورت تھاوہ خود بھی کسی حسین پری سے کم نہیں لگ رہی تھی
۔ بری بری گہری جیل آنکھیں جن کا آریان دیوانہ ہو گیا تھا۔
پیاری سے چھوٹے چھوٹے پنکھڑی ہونٹ اور چھوٹی سی ناک ۔رنگت سفید تھی لیکن اس وقت آئمہ اور تائبہ کی چھڑچھاڑ کی وجہ سے وہ مکمل سرخ ہوئی پری تھی ۔
اس نے عائشہ کو بھی فون کر کے بتایا تھا۔ کہ اس کا نکاح ہے ۔لیکن جانتی تھی اس کا اتنی جلدی میں یہاں آنا ممکن نہیں ہے اور ویسے بھی اس کی فیملی باہر جانے کی اجازت نہیں دیتی بالکل جاناں کی طرح
کاش آج زندگی کے سب سے اہم وقت پر اس کی سہیلیاں بھی اس کے ساتھ ہوتی
اس کے دل میں ایک حسرت تھی لیکن یہ بھی تھا واپس انئیں کے پاس ہی تو جا رہی تھی ۔ یقیننا اریان ویسے اس کی ہر کمی کے ساتھ قبول کر رہا ہے اس کی سہیلی سے ملنے سے منع تو نہیں کرے گا
آج آریان کا سوچتے ہوئے بھی اس کے گال لال ہونے لگے تھے ابھی تو وہ شخص زندگی میں شامل تک نہیں ہوا تھا کہ اتنا پیارا لگنے لگا تھا ۔وہ سوچ کر مسکرا دی
نکاح کی ساری تیاریاں مکمل ہو چکی تھی
اسی دلہن کی طرح سجایا گیا اریشفہ نے اپنے آپ کو کبھی اتنا حسین محسوس نہیں کیا تھا جتنی آج وہ آریان کی دلہن بن کر لگ رہی تھی
نکاح میں بہت کم لوگ شامل تھے ۔ان کے خاندان بلادری والے بہت لوگ تھے لیکن جنہوں اچانک نکاح وجہ سے بہت ناراضگی کا اظہار کیا لیکن بابا نے بھی کہہ دیا کہ اچھا رشتہ تھا اور لڑکا بھی بہت اچھا ہے ان کے ساتھ ہی کام کرتا ہے انہیں کوئی اعتراض نہیں تھا تو انہوں نے سب سے پہلے اپنی بھتیجی کے بارے میں سوچا ۔
°°°°°°°°
نکاح کی رسم ادا ہوئی اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ نکاح نامے پر سائن کیے آریان کافی غور سے اس کی آواز کو سننے کے لیے منتظر تھا ۔وہ سامنے ہی تو بیٹھا تھا یہ رسم باہر لان میں کی گئی تھی درھیان میں جالی دار پردہ لگا دیا گیا ایک کرسی پر اریشفہ کی دوسری کرسی پر آریان بیٹھا تھا
وہ نقاب میں ایک مکمل حیسن کا پیکر لگتی تھی آج سامنے آئی تو آریان کا نظریں ہٹانا مشکل ہو گیا
اسے قبولیت کے وقت اریشفہ کی آواز سنائی نہیں دی گئی لیکن نکاح نامہ پر سائن ملتے ہی مولوی صاحب اٹھ کر اس کی طرف آ گئے وہ تھوڑی پریشان ہوا تھا اس کی شرم و حیا کو سوچتے ہوئے مسکرا دیا
اور حاموشی سے نکاح نامے پر سائن کرتے ہوئے رسم مکمل کر دی اور اب سامنے بیٹھی وہ خاموش سی شرمائی شرمائی سی لڑکی اس کی ملکیت تھی نکاح کے بعد پردہ ہٹا دیا گیا ۔
آریان نے مسکرا کر اسے دیکھا تو وہ نظر اٹھا کر اسے دیکھتی اگلے ہی لمحے دوبارہ نظر جھکا گئی تھی اس انداز پر وہ گہرا سا مسکرا دیا تھا
رخصتی کا وقت بھی آہی گیا وہ اپنے تایا کے آنگن سے اپنے ساجن کی آنگن کی طرف قدم اٹھا رہی تھی ۔بہت سنجیدہ سا ماحول تھا تایا ابو نے بہت کچھ دینے کی کوشش کی لیکن آریان کا صرف ایک ہی جواب تھا کہ وہ ان سے صرف اپنی دلہن لینے آیا ہے
انہیں اپنی پسند پر فخر تھا انہوں نے اپنی بیٹی کے لئے بالکل صحیح فیصلہ کیا تھا ۔قرآن کے سائے میں انہوں نے اپنی بیٹی کو رخصت کیا
جبکہ اگلے ہی لمحے تائی اس کی واپسی کا انتظار کرنے لگی وقت دور نہیں جب وہ خود اسے اسی حالت میں واپس چھوڑنے آئے گا ۔
پیار محبت اپنی جگہ لیکن کوئی بھی شخص اتنی بڑی کمی کے ساتھ ایک لڑکی کو ساری زندگی کے لیے قبول نہیں کر سکتا تھا اریشفہ کو واپس اسی گھر میں آنا تھا اور اس گھر میں ان کی بیٹی ائمہ نے آریان کےگھر جانا تھا
تم نے میری بیٹی کی جگہ لی ہے اریشفہ اتنی آسانی سے تمہیں چھوڑوں گی نہیں اور آریان تم نے میری بیٹی کو ٹکرا کر ایک گونگی لڑکی کو اپنایا تمہیں تو سزا دینا بنتی ہے
...........
آریان خود کار ڈرائیو کر رہا تھا جب کہ اریشفہ ابھی تک آنسو بہا رہی تھی اپنوں سے بچھڑنے کا بھی الگ ہی غم ہوتا ہے اسے کوئی نہیں سمجھ پاتا جن کے ساتھ ساری زندگی گزاری ہو پھر ایک دن انہیں چھوڑ کر چلے جانا کوئی عام بات نہیں وہ گھر سے ہی چہرہ گھونگھٹ میں لیے باہر آئی تھی اور پھر اسی طرح ہی ساتھ لے آیا
اس وقت بھی اس کا چہرہ گھونگھٹ میں چھپا ہوا تھا جب آریان نے ایک ہی لمحے میں اس کا گھونگھٹ پیچھے کر دیا عرشی نے گھبرا کر اس کی طرف دیکھا
ارے ایسے کیوں دیکھ رہی ہو میں اپنی دلہن کو دیکھنا چاہتا ہوں اب کیا سارے سفر میں تمہارا گھونگھٹ ہی دیکھ کر دل کی بے چینیوں پر کنٹرول کروں یار ایسے نہیں چلے گا میں خود پر بہت مشکل سے کنٹرول کر رہا ہوں اس کے انداز پر وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی اور پھر اس کی نظروں میں دیکھتے ہوئے نظر ہی جھکا گئی
ہائے اس کے انداز آریان نے آہ بھری
پتا ہے اریشفہ پہلے تو تمہارے بغیر شاید خود پر کنٹرول بھی کر لیتا لیکن یہ جو احساس ملکیت ہے نا اس نے سارا کام خراب کر رکھا ہے وہ گاڑی ایک طرف لگاتے ہوئے کچھ الگ انداز میں بولا تو اریشفہ نے اسے حیرانگی سے دیکھا
وہ کیا بات کر رہا تھا ایک تو اسے اس شخص کی باتیں سمجھ نہیں آرہی تھی
ہاں لیکن وہ اس کے ساتھ خوف زدا بالکل بھی نہیں تھی وہ کیوں اس سے ڈرتی وہ کوئی غیر تو نہیں بلکہ اس کا محافظ اس کا اپنا ہمسفر تھا ۔وہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی اس نے بیچ سڑک پر گاڑی کیوں روک دی تھی آخر یہ کرنے کی والا تھا ۔
پہلے تو اس نے وہاں موجود لڑکے سے کہہ دیا کہ گاڑی خود ڈرائیو کرے گا اور پھر اپنے ساتھ آنے سے بھی منع کر دیا اس نے کہا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ یہ سفر اکیلے طے کرنا چاہتا ہے اور اب گاڑی بھی سڑک پر کھڑی کردی
وہ اپنی ہی سوچوں میں مصروف تھی جب آریان نے اسے بازو سے تھام کر اپنی طرف کیا اور اگلے ہی لمحےوہ اس کے نازک لبوں کو اپنے ہونٹوں کی قید میں لے چکا تھا۔
اریشفہ کا نازک دل بے ترتیبی سے دھڑکنے لگا اس کا ایک ہاتھ اریان کی قید میں جب کہ دوسرا اس کے سینے پے آ چکا تھا ۔جب کہ اس کے ہاتھ کی کپکپاہٹ کو محسوس کرکے وہ محفوظ ہوتے ہوئے مزید اسے اپنے قریب کر گیا
وہ اس کے ہونٹوں کو اپنے دسترس میں لیے مکمل مد ہوش ہوچکا تھا اریشفہ اپنی تمام تر ہمت جمع کرکے اسے خود سے الگ کرنے لگی کیونکہ اب وہ اس کی سانس بند کر رہا تھا وہ تو آج اس معصوم کی جان لینے کے در پر تھا وہ جتنا اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کرتی وہ اتنا ہی اسے خود بھی قید کئے جا رہا تھا
اس کا دوپٹہ سر سے گر کر کندھے پے چکا تھا جب آریان نے پتہ نہیں کیا سوچ کر اس سے دوری اختیار کی اور بنا کسی بناوٹ کے اس کا دوپٹہ واپس اس کے سر پر ٹھیک کرنے لگا اس کا موجود جی جان سے کانپ رہا تھا
جیسے بیٹھے بٹھائے اس پر قیامت ٹوٹی ہو
یار کانپنا بند کرو مجھے عجیب فیل ہو رہا ہے اس معاملے میں جذبات بھی بے لگام ہیں اور خواہش بھی دل میں دبی تھی لیکن تم اس طرح سے کانپ کر مجھے مزید پاگل کر رہی ہو
ویسے تو آج رات سارے فاصلے مٹا ہی دونگا لیکن تب تک تم میرے اس معصوم دل کا کچھ خیال کرو یار بڑی مشکل سے کنٹرول کیے بیٹھا ہوں وہ اسے نظروں کے حصار میں لیے جذبات سے چور لہجے میں بولا اریشفہ کے ہاتھوں کی ہتھیلیاں بھیگنے لگیں
اللہ میں کیسے کہوں ان سے کہوں مجھ سے اس طرح کی باتیں نہ کریں پتا نہیں یہ میرے اشارے سمجھتے بھی ہوں گے یا نہیں وہ کانپتے وجود کے ساتھ پوری طرح اس کی طرف متوجہ تھیں جبکہ اس کی گھبراہٹ سے محفوظ ہو کر اس نے گاڑی دوبارہ سٹارٹ کر دی
°°°°°°°°
وہ تمام راستے میں اس سے باتیں کرتے ہوئے آیا لیکن اسے بولنے کے لئےکچھ نہیں کہا ۔بس خود ہی اپنے دل کا حال سنا تا رہا اور اس کی باتوں کے ساتھ وہ اسے مزید گھبراھٹ میں مبتلا کرتا رہا سارے راستے میں اور کچھ نہیں تو اس کی محبت کو سمجھ گئی تھی ۔
وہ اس بات کا اندازہ لگا چکی تھی کہ وہ سچ میں اس سے بہت پیار کرتا ہے اور آج رات اسے پوری طرح سے اپنا بنا کر اس کے ہوش ٹھکانے لگانے کا بھی خوب ارادہ رکھتا ہے
ہاں وہ آنے والے وقت کو لے کر تھوڑی بہت خوفزدہ تھی لیکن آریان کی بھرپور توجہ محبتوں کے ساتھ وہ اس گھر کے اندر داخل ہوئی تھی
یہ گھر تمہارا ہے اب تمہیں اسے سنوارنا اور تمہیں ہی سجانا ہے اور آپنے ایک عدد شوہر کا بہت سارا خیال رکھنا ہے وہ شرارت سے بولا یقیناً وہ اسے اپنے ساتھ فری کرنے کی کوشش کر رہا تھا سارے راستے میں وہ اسی طرح اس سے مزاق کرتا ہوا آیا ۔
جس سے اور کچھ نہ سہی لیکن اس کے ساتھ وہ کانفٹیبل ہو کر تھوڑا سا مسکرا دیتی تھی۔
شاید اس نے یہ سفر اکیلے کرنے کا اسی لئے کہا تھا تاکہ وہ اس کے ساتھ بات کر کے مطمئن کر سکے ۔
آریان اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے ساتھ اندر لے کر آیا کھانا تو وہ لوگ ڈی ایس پی سر کی ہاں کھا کر آئے تھے اس وقت رات کا ایک بجا رہا تھا یقیناً وہ تھک گئی ہو گی اسی خیال سے وہ اسے گھر کے بارے میں بتانے لگائے
ادھر کچن ہے اور یہ ایکسٹرا بیڈ روم ہے ۔
اس طرح سے یہ بالکنی کا دروازہ ہے اور یہ اسٹور روم ہے اس کے علاوہ میرے استعمال میں جو بیڈروم ہے وہ اوپر ہے تو یہاں پر ٹائم ویسٹ کرنے سے بہتر ہے کہ ہم اوپر چلیں وہ اوپر چلنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
جب اریشفہ نے سیڑھیوں کی طرف قدم بڑھائے لیکن اس سے پہلے ہی وہ اسے اپنی باہوں میں اٹھا چکا تھا اریشفہ کا دل ایک لمحے کے لئے تھم سآگیا پھر اس کی مسکراتی نظروں میں دیکھ کر نظر جھکا گئی ۔
ایم سوری میں تمہارے لئے کچھ بھی اسپیشل نہیں کر پایا میں تمہیں بتانا چاہتا تھا کہ تم میرے لیے کتنی اسپیشل ہو لیکن اگر میں یہاں آ جاتا تو نکاح کے لئے کسی اور آریان کا انتظام کرنا پڑتا ہے ّّ
لیکن میں تم سے وعدہ کرتا ہوں تمہارا ویلکم نہ سہی لیکن تمہاری زندگی کو بہت اسپیشل بنا دوں گا ۔فی الحال اس اسپیشل سفر کی اسپیشل سی شروعات کرتے ہیں وہ اس کے کانوں میں گنگنانے والے انداز میں کہتا سیڑھیاں چڑھنے لگا جبکہ اریشفہ اس کے سینے پہ ہاتھ رکھتی شرمائی تھی
°°°°°°°°
وہ اسے ایک انتہائی خوبصورت کمرے میں لے آیا تھا جس کو ڈریم لینڈ کہنا غلط نہیں ہوگا وہ اپنے آپ میں ایک جایزہ معلوم ہوتا تھا کمرے کی ہر چیز آریان کے بازوق ہونے کی منہ بولتا ثبوت بھی ۔
دروازے سے لے کر بیڈ تک پھولوں کا ایک خوبصورت راستہ بنایا گیا تھا اس کے علاوہ بیڈ پر لاتعداد پھولوں کی پتیاں تھی اس کے علاوہ سارا کمرہ بالکل سادہ سا تھا لیکن کمرے کے قیمتی آرائش سے پتہ چل رہا تھا کہ اس کمےر میں اور کسی سجاوٹ کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔
اور یہ سب جو تھوڑا بہت کام کیا گیا تھا وہ بھی شاید عمران کی محنت تھی اس نے ایک بار آ کر نہ صرف گھر کو بالکل ٹھیک طریقے سے صاف کروایا تھا بلکہ خود سے بھی تھوڑا بہت سجا کر دیا تھا ۔
اریشفہ اب تک میں نے جتنا کمایا ہے میں نے اپنے اس گھر پہ لگایا ہے اس گھر میں موجود ایک ایک چیز ےے انتہا کی محبت کرتا ہوں میری زندگی کی ایک ایک چیز قیمتی ہے اور اس گھر میں موجود سب سے اہم وجود تم ہو ۔
میں اپنی ہر ممکن کوشش کرتے تمہیں خوش رکھوں گا میں تمہیں یہ نہیں کہوں گا کہ مجھ سے کبھی جھوٹ نہیں بولنا میرا اعتبار نہیں توڑنا یا مجھے دھوکا نہیں دینا ان سب باتوں کو مد نظر رکھ کر ہی میں نے تمہیں اپنے لیے چنا ہے ۔
اگر تم اس طرح کی ہوتی تو کبھی آریان تمہیں اپنی دلہن بنا کر نہیں لاتا میں جانتا ہوں تم اس بناوٹی دنیا کی بناوٹ سے پاک ہو ۔
میں تم سے اتنا ہی کہوں گا میں تمہیں بہت پیار دوں گا بس میرے پیار کے بدلے تم اپنا پیار مجھے دینا ۔وہ اس کے ماتھے کو چومتے ہوئے بولا تو نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی آنکھیں نم ہونے لگی
او یار نہیں پلیز ایسا مت کرنا تم گھر سے ہی اتنا رونا دھونا کرکے آئی ہواب نئی زندگی کی شروعات ہوئی ہے خدا کے لئے یہ آنسو مت بہانا میں اپنی زندگی کی شروعات ہنستے کھیلتے کرنا چاہتا ہوں روتے روتے نہیں وہ اس کے چہرے کو صاف کرتے ہوئے اس انداز میں بولا کہ اریشفہ کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔
تمہیں نہیں لگتا کہ ہم اپنا وقت برباد کر رہے ہیں اسے مسکراتے دیکھ ایک ہی لمحے میں سے کھینچ کر اپنے قریب کر لیا تھا جبکہ اس کی اس حرکت پر اریشفہ کا دل ایک بار پھر سے بے ترتیب ہونے لگا ۔
جب کہ وہ اس کے انداز سے لطف اٹھاتے ہوئے اس کے گال پر اپنے لب رکھ چکا تھا اس کا نازک وجود کانپے جا رہا تھا ۔
تم بہت خوبصورت ہو مجھے فخر ہے کہ تم میری پسند ہو وہ اس کے گلے سے بھاری نکلیس نکل کے ایک طرف رکھتے ہوئے الماری سے ایک خوبصورت سی چین نکالنے لگا ۔
یہ ہے شادی کا تحفہ جو میں نے آج نہیں بلکہ بہت پہلے اپنے ہم سفر کے لیے بنوایا تھا ۔مجھے یقین ہے کہ تم مجھ سمت اسے قبول کرو گی وہ اس کے گلے میں چین پہناتے ہوئے محبت سے بولا ۔
سونے کی خوبصورت بھاری چین تھی جس کے درمیان میں انگلش میں آریان لکھا ہوا تھا۔عرشی نے دل و جان سے اس پہلے تحفے کو قبول کیا تھا ۔
تو ابھی کیا ہم شروعات کر سکتے ہیں وہ اس کے کانوں سے جھمکے نکالتے ہوئے شرارت سے بولا اریشفہ خاموشی سے سر جھکا گئی
مشرقی لڑکی اگر سر جھکا لے تو مطلب ہاں سمجھو اس بار شرارت سے وہ اس کے ماتھے پر لب رکھتا ہوا آہستہ آہستہ نیچے کی طرف سفر کر رہا تھا وہ آنے والے وقت کو سوچتے ہوئے اچانک ہی اس کے سینے پہ ہاتھ رکھ چکی تھی آریان نے مسکرا کر اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں تھامے ہوئے لبوں سے چھوا ۔
یار اتنا بھی مت ڈرو انسان ہی ہوں کوئی جن نہیں جو تمہیں کھا جاؤں گا وہ اب بھی شرارتی انداز میں بولا
لیکن وہ تو جیسے کچھ سنا ہی نہیں رہی تھی آنے والے لمحات میں سوچتے ہوئے اس نے بس ایک نظر اٹھا کے آریان کے چہرے کو دیکھا تھا جہاں محبت اور جذبات کا ایک الگ ہی جہاں تھا اس کو اپنی طرف دیکھتے پاکر اس کے لبوں کو اپنی قید میں لے چکا تھا ۔
رات گزرتی چلی جارہی تھی اور ہر لمحے میں وہ آریان کی بے باکیوں پر بکھرتی چلی جا رہی تھی لیکن سامنے بھی آریان تھا اگر اسے بکھیرنا آتا تھا تو وہ سمٹنا بھی جانتا تھا ۔
آریان کا جنونی شدت بھرا انداز اس کی محبت کو بیان کر گیا تھا اس کا روم روم اس کی محبت کی گواہی دینے لگا وہ پوری طرح سے اس کی محبت میں ڈوب گئی تھی ۔ساری رات ایک لمحے کے لئے بھی آریان نے اسے سونے نہیں دیا تھا صبح اذانوں کے قریب نہ جانے اسے کیسے اس پر ترس آ گیا اس کی ڈوبی ہوئی نیند سے بھرپور آنکھوں کو دیکھ کر اسے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے سونے سے اجازت دے ڈالی
°°°°°°
اٹھ جاؤ میری سلیپنگ کوئین کیا سونے کے لئے شادی کی ہے دوپہر کے 12 بج رہے ہیں وہ ایک ہاتھ میں ٹرے جب کے دوسرے ہاتھ سے اسے جگانے کی کوشش کر رہا تھا ۔
چہرے پر مسکراہٹ تھی ۔
اور آنکھوں میں بے تحاشہ محبت
یار بڑی ظالم قسم کی لڑکی ہو تم خود تو سو گئی اور ذرا پروا نہیں کی اپنے شوہر کی تائی امی نے تمہیں سکھایا نہیں کہ جب تک شوہر خود نیندوں کی وادیوں میں گم نہ ہو جائے بیوی کا فرض ہے کہ وہ سو نہیں سکتی نہ جانے کیوں وہ تائی کا نام لے بیٹھا ۔
ویسے تمہیں تمہاری تائی کی بہت یاد آتی ہو گی نہ بے تحاشہ محبت کرتی ہیں تم سے وہ اس کا ہاتھ تھامیں اسے واش روم کی طرف لے کر آیا تھا ۔
جلدی سے باتھ لے کر باہر نکلو بھوک سے میری جان نکل رہی ہے صبح سے میں نے کچھ نہیں کھایا تمہارے چکر میں کہ جب میری بیگم شریف کی آنکھیں کھلیں گی تب وہ کچھ کھائیں گی اور میں بھی کچھ کھا لوں گا لیکن نہیں میری بیگم نے تو جیسے سونے کے آج ریکارڈ توڑ دیے ہیں
وہ اسے واش روم کے اندر جانے کا اشارہ کرتے ہوئے خود ہی بربڑاتے ہوئے ٹیبل پر کھانا لگانے لگا عرشی بھی اس کے اشارے پرفوارً ہی واش روم میں جا چکی تھی لیکن اس نے باتوں ہی باتوں میں تائی امی کا ذکر کیوں کیا اور اسے کیسے پتہ کہ وہ اس سے کتنا پیار کرتی ہیں وہ کچھ کنفیوز تھی
آریان نے خود ہی وار ڈراپ سے اس کے لئے کپڑے نکالے اور باہر دروازے کے قریب رکھ کر اسے بتایا
وہ باہر نکلی تو وہ کھانا لگا چکا تھا اسے جلدی آنے کا اشارہ کیا ۔
آریان نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا ڈارک بلو سوٹ میں وہ کسی حور سے کم نہیں لگ رہی تھی آریان مسکرایا یہ وہی رنگ تھا جب اس نے پہلی بار اسے دیکھا تھا ۔
وہ مسکرا کر اٹھا اور س کے پاس آیا ۔یار میں رات سے کتنی بار تمہیں اپنی محبت کا بتا چکا ہوں مجال ہے جو تم نے ایک بار مجھے احساس بھی دلایا ہو وہ شکوہ بھری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا
ارہشفہ کو لگا وہ اس سے خفا ہو رہا ہے وہ مڑکر جانے لگا۔ تو اریشفہ نے اس کو شرٹ سے تھام لیا وہ مسکراہٹ دبا کر اس کی طرف موڑا ۔
جبکہ اریشفہ اسے ناراض سوچ کر ہاتھ سے کچھ اشارہ کرنے لگی آریان قہقہ لگا کہ اسے اپنی باہوں مِیں لے چکا تھا۔
پریشان مت ہو جانم میں تو مزاق کر رہا ہوں وہ اس کے ہاتھوں کو چومتا ہوا مسکرایا۔
تم تو اپنے اشاروں سے مجھے ساری باتیں سمجھا لو گی لیکن میری اشارے کب سمجھو گی وہ اسے ٹیبل کی طرف لے جاتے ہوئے مسکرا کر بولا اور اپنے ہاتھ سے نوالہ بنا کر اس کے منہ کے قریب لے آیا ۔
اریشفہ نے ہاتھ اور سر کے اشارے سے بتایا تھا کہ وہ اسے بہت اچھی طرح سے سمجھ گئی ہے ۔
وہ ایک بار پھر سے قہقہ گا اٹھا
ایک ہی رات میں اتنے اچھے سے سمجھ گئی مطلب کہ آگے اور بھی مزہ آئے گا وہ اب پھر سے شرارتی ہوا ۔اریشفہ نے اس کے سینے پر ہاتھ مار کر اسے خود سے دور کیا جب کہ وہ قہقہ لگاتے ہوئے اسے پھر سے کھانا کھلانے کی طرف متوجہ کرنے لگا
°°°°°°°°
کیسا رہا تمہارا کام تم نے ایک بار بھی مجھے فون نہیں کیا وہ اس سے شکوہ کر رہی تھی
تم نے مجھے مس کیا ان تین دنوں میں وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا تو نظریں جھکا گئی
بالکل بھی نہیں نلا میں کیوں تمہیں مس کروں گی تم کون سا میرے بوائے فرینڈ ہو وہ منہ بناتے ہوئے بولی
اچھا تو اتنی جلدی بوائے فرینڈ کی پوسٹ سے برخاست کر دیا وہ مسکرایا تھا
میری پوسٹ میرا بوائے فرینڈ تو میری مرضی تمہیں کیا۔۔۔ اس کی مسکراہٹ پر وہ نظریں پھیرتے ہوئے بولی
اب جب تم ہی میری ہو تو تمہاری مرضی میں کہیں نہ کہیں تو میری مرضی شامل ہونی چاہیے نہ وہ اب بھی مسکرا رہا تھا
مجھ سے بات مت کرو میں ناراض ہوں تم سے وہ جتانے والے انداز میں بولی
یار ایک تو تم ناراض بہت ہوتی ہو ویسے بوائے فرینڈ کی پوسٹ سے برخاست کیوں کیا گیا یہ تو بتاؤ اس کا یہ روٹھا روٹھا انداز سے جاند کو بہت پیارا لگ رہا تھا
تم نے مجھے ایک بار بھی فون نہیں کیا تین دن اپنی بات پر زور دیتے ہوئے بولی
مطلب کے وہ اس کے فون نہ کرنے پر اس سے حفا تھی جان کو یہ بات بھی اچھی لگی
کام بہت زیادہ تھا نا اس لئے تمہیں فون نہیں کر سکا لیکن تمہیں بہت مس کیا سارا ٹائم دھیان تمہیں پر لگا رہا ادھر تم مجھے مس کر رہی تھی اور ادھر میں تمہیں تم سے بات نہ کرپانے کی وجہ سے پریشان تھا
لیکن یہاں آکر تم نے مجھے خوش کر دیا مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ تم مجھے اتنا مس کر رہی ہو گی وہ واقع ہی خوش تھا
ایک منٹ تمہیں کس نے کہا کہ میں نے تمہیں مس کیا وہ حیران ہوتی پوچھنے لگی
تم نے ہی تو بھی کہا کہ میں نے تمہیں فون نہیں کیا
تم نے مجھے فون نہیں کیا مجھے برا لگا لیکن میں نے تمہیں مس کیا یہ میں نے کب کہا میں نے تمہیں بالکل بھی مس نہیں کیا تمہیں زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے وہ فوراً ہی اس کی غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے بولی
جس پر جان پھر سے مسکرا دیا تھا جہاں اس کی دلکش مسکراہٹ بہت خوبصورت تھی وہی اس کی سرد آنکھیں جاناں کو کہیں سوال پوچھنے پر مجبور کر دیتی جاناں کو اس کی آنکھوں سے عجیب سا خوف آتا تھا
اس کی آنکھیں سیاہ کالی گہری تھی جیسے اپنے آپ میں کہیں راز چھپائے ہوئے ہوں جان تمہارے گھر میں کون کون ہے میرا مطلب ہے تمہاری فیملی وغیرہ میں وہ اپنی ناراضگی کو نظر انداز کرتے اس کے بارے میں جاننے کی کوشش کرنے لگی
آخر ساری زندگی کا ساتھ تھا وہ اس کے بارے میں سب کچھ جاننا چاہتی تھی۔
صرف ٹائر اور بعد میں تم ہو جاؤ گی خیر اب مجھے چلنا چاہیے بہت وقت ہو گیا ہے وہ مسکراتے ہوئے اسے گڈبائے کہنے لگا جب کہ نہ جانے کیوں جاناں کو لگا تھا کہ وہ اس کے سوالوں سے بچ کر کہیں جا رہا ہے
°°°°°°°°
کیسے ہو آریان بیٹا سب کچھ ٹھیک تو ہے نہ ارہشفہ تو ٹھیک ہے نہ تم دونوں میں کوئی ایسی بات تو نہیں ہوئی نا میرا مطلب ہے اس کی محرومی کے بارے میں ڈی ایس پی سر ویڈیو کال پر کافی پریشان لگ رہے تھے
اس وقت اریان اپنے گھر کی چھت پر کھڑا ان سے بات کر رہا تھا جب کہ اور اریشفہ اس کے لیے نیچے چائے بنا رہی تھی اس نے دوسرے ہی دن اپنے گھر کی ساری زمہ داری اٹھا لی تھی اس نے منع کرنا چاہا لیکن اس کا کہنا تھا کہ وہ اپنے گھر کو خود سنبھالے گی
سر کیا ہوگیا ہے آپ کو میں نے اریشفہ سے محبت کرنے سے پہلے یہ تو نہیں کہا تھا کہ اس میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں ہو سکتی یا میں نے آپ سے کبھی کہا ہو اس کے گویائی سے محروم ہونے سے مجھے کوئی فرق پڑتا ہے ۔
میں نے اس سے محبت کی ہے سر اور وہ مجھے اس کی ہر خامی ہر خوبی کے ساتھ قبول ہے ہاں نکاح کے بعد میں وقتی طور پر پریشان ہو گیا تھا کیونکہ میرے لیے یہ جھٹکا بہت برا تھا مجھے پہلے اس بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں تھا
اسی لیے وقتی طور پر میں نے تھوڑا شاکڈ ہو گیا تھا لیکن اریشفہ میری پہلی اور آخری محبت ہے سر میں اسے بے پناہ چاہتا ہوں اور وہ جیسی بھی ہے مجھے قبول ہے ۔
عشرت آنٹی نے مجھے بتایا تھا اس کی محرومی کے بارے میں لیکن میں اتنی گہرائی سے نہیں جان پایا تھا اور نہ ہی اس دن میں آنٹی کی باتوں کو ٹھیک سے سمجھ پایا تھا
لیکن اب آپ کو پریشان ہونے کی بالکل ضرورت نہیں ہے میں اریشفہ کو ہر ممکن طریقے سے خوش رکھنے کی کوشش کروں گا اچھا اب میں چلتا ہوں
آپ کی بیٹی چائے پر میرا انتظار کر رہی ہوگی آج رات کام سے واپس آؤں گا تو آپ کی اس سے بات بھی کرواؤں گا اس نے مسکراتے ہوئے فون بند کر دیا تھا
جب کہ ڈی ایس پی سراب کافی مطمئن ہو چکے تھے نکاح کے فورا بعد ہی اسے پتہ چل چکا تھا کہ اریشفہ بول نہیں سکتی اور یہ بھی کی ڈی ایس پی سر کو ان کے سامنے غلط طریقے سے پیش کیا گیا تھا ڈی ایس پی سر واقعی ایک قابل تعریف انسان تھے
انہوں نے اپنی آدھی جائیداد اریشفہ کے نام کر دی تھی
تاکہ کوئی بھی اسے اس کی محرومی کا طعنہ نہ دے سکے اسے سر نے خود بھی بتایا تھا کہ ارہشفہ بول نہیں سکتی یہ سن کر تو وہ تھوڑی دیر کے لئے تو ساکت رہ گیا تھا کہ نکاح کے بعد اسے یہ بات بتائی گئی ہے
لیکن جب سر نے کہا کہ عشرت تم سے اس بارے میں بات کر چکی ہے وہ سمجھ چکا تھا کہا عشرت نے نہ صرف اریشفہ کے معاملے میں ہی غلط بیانی نہیں کی ہے بلکہ ان کو بھی اس کی نظروں سے گرانے کی کوشش کی ہے
اس کا دل چاہا کہ وہ انہیں سب کچھ بتا دے کہ ان کی بیوی نے آخر کیا کیا ہے لیکن پھر اس نے کچھ بھی نہیں بتایا کیونکہ وہ آج اریشفہ کے ساتھ خوشیوں سے شروعات کرنا چاہتا تھا نہ کہ اسے لوگوں کی بد دعاؤں سے
°°°°°°°°°
وہ آج پھر باہر آئی تھی
دو دن کے بعد وہ ہوسٹل واپس جانے والی تھی اریشفہ شادی کا سن کر اسے خوشی بھی بہت ہوئی تھی لیکن اتنی جلدی شادی کا سوچ کر اسے عجیب بھی لگا تھا
ایسی کونسی مجبوری تھی کہ یو اچانک شادی کر دی ابھی تو اس کی پڑائی بھی مکمل نہیں ہوئی تھی لیکن پھر اس نے اسے بتایا تھا کہ وہ اسے پسند کرتا ہے ویڈیو کال پر اسکا شرمایا شرمایا حسین روپ دے کر اسے بہت خوشی ہوئی تھی
اس نے شادی پر جانے کے لیے اپنی ماں سے بھی بات کی تھی لیکن اس کی ماں نے صاف انکار کردیا اور باپ نے انتہائی غصے سے کہا کہ اگر تم سو ہم کے ساتھ باہر نہیں جا سکتی تو اپنے دماغ سے یہ سوچ بھی نکال دو کے ہوسٹل کے علاوہ تمہیں کہیں اور جانے کی اجازت دی جائے گی
وہ کسی سے لڑنا نہیں چاہتی تھی اسی لیے خاموش ہو گئی اسی کو یہ بھی ڈر تھا کہ یہ نہ ہو کہ اس کا باپ اسے دوبارہ کمرے میں بند کر دے اور وہ اس گھٹن زدہ کمرے سے باہر نہ نکل سکے اور ویسے بھی اتنی جلدی شادی پر پہنچنا بھی بہت مشکل تھا
ارشفہ کا شوہر استمبول کا ہی رہنے والا تھا تو یقینا انہوں نے یہی پرآنا تھا تو شادی کے بعد اس سے ملاقات بھی کر سکتی تھی اور وہ اپنی پڑھائی بھی شادی کے بعد ہی پوری کرنے والی تھی
وہ اس وقت کسی سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی نہ ہی کسی سے ملنا چاہتی تھی بس حاموشی سے اس طرف آگئی جہاں طہٰ بخاری بانسری بجاتا تھا یقیناً آج بھی وہ اسی طرف ہو گا ۔
اس جگہ پہنچ کر غیر اداری طور پر وہ طہٰ کو ڈھونڈنے لگی آج وہ وہاں نہیں تھا بلکہ کوئی بھی نہیں تھا یہ عجیب سنسان سی جگہ تھی
اس نے واپسی کے لیے قدم اٹھائے تو بہت دور اسے کوئی لڑکی کھڑی نظر آئی جو عجیب نظروں سے اسے گھور رہی تھی
اس کے اس طرح سے گھورنے پر عائشہ کو اس کا انداز بہت عجیب تھا لیکن تھوڑا سا آگے جانے پر اریشفہ کو احساس ہوا کہ وہ کوئی لڑکی نہیں ہے لیکن وہ کوئی لڑکا بھی نہیں ہے بلکہ وہ تو ایک خواجہ سرا تھا
وہ اسے کیوں اس طرح سے گھور رہا تھا اچانک ہی عائشہ کو خوف آنے لگا اس کی نظروں میں عجیب سا تاثر تھا
اور پھر اس سے پہلے کہ عائشہ اس تک پہنچتی وہ غائب ہوگیا نہ جانے کہاں چلا گیا اچانک سے عائشہ کو خوف نے آ گھیرا اگلے ہی لمحے وہ قدم گھر کے لیے آٹھا چکی تھی
°°°°°°°°°
سر جس آدمی کا قتل ہوا تھا اس کا تعلق سوہم سے ہے سوہم بھی کافی بد نام ہے لیکن آج تک اس کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا اور نہ ہی قانون کے ہاتھ اس تک پہنچے ہیں ہم لوگ صرف شک ہی کر سکتے ہیں سکتا ہے اس بیسٹ کا اگلا شکار سو ہم ہو ۔
عمران اسے فون پر بتا رہا تھا
ہاں ہو سکتا ہے اور ویسے بھی تفصیلات کے مطابق سوہم کے ساتھ کافی گہرے تعلقات تھے اس کے سوہم بیگ کو خبر کر دو کہ ہوسکتا ہے کہ بیسٹ کا اگلا شکار وہی ہو
آریان نے تفصیل سے کہتے ہوئے ایک نظر اپنے کمرے کی طرف ڈالی جہاں اریشفہ آج سرخ رنگ میں اس کی دھڑکن دھڑکا رہی تھی ۔اس وقت وہ بے حد حسین لگ رہی تھی
اس کا دماغ اچانک ہی عمران کی باتوں سے بھٹک کر اس کی جانب ہوگیا اس کی بہکتی نظریں اس کی وجود کا طواف کر رہی تھی
جب کہ اسے اپنی طرف متوجہ پا کر اریشفہ نظر جھکا گئی آنکھوں میں شرم و حیا ور چہرے پر محبت کی لالی تھی آریان بے ساختہ مسکرا دیا
شادی کو ایک ہفتہ ہو چکا تھا ۔لیکن آج بھی وہ اس سے پہلے دن کی طرح شرماتی گھبراتی پھر رہی تھی اور اس کی یہی ادا آریان کو مزید بے خود کر رہی تھی
وہ عمران کی بات سنے بغیر ہی فون کاٹ کر اس کی طرف قدم اٹھانے لگا ۔
جب کہ اسے اپنی طرف بڑھتے پاکر وہ اس کی نظروں کا مطلب سمجھنے لگی تھی اس نے کچن کی طرف دیکھا جہاں کوکر پر اس میں دال گلنے کے لئے رکھی تھی آج وہ اس کے لئے دال چاول بنانے والی تھی اپنے ہاتھوں کا ذائقہ تو وہ اسے خوب چکا چکی تھی
اس کے ہاتھوں کی لذت سے وہ واقع ہی بہت متاثر ہوا تھا اور اب اپنے سکھر پن سے گھر کی حالت کو ایک ہفتے میں ہی نکھار ڈالا تھا یہ گھر واقعہ میں اس کا تھا اریان نے پہلے دن ہی کہا تھا یہ گھر تمہارا ہے اسے تم نے سجانا ہے اور اس کی بات پر عمل کرتے ہوئے اگلے ہی دن اس نے نہ صرف سیٹنگ کو چینج کردی بلکہ جو اس کا دل چاہا وہ کیا
جبکہ آریان بھی اپنے گھر میں آنے والی اس چینجز سے بہت خوش تھا اس نے تو گھر کی چابیاں اریشفہ کے حوالے کر دی تھی۔
کبھی اس طرح بھی نظرکرم کر دیجئے حضور آپ تو اس گھر کی یا پھر اس کیچ کی ہو کر رہ گئی ہیں میرا تو بالکل ہی خیال نہیں وہ اسے کچن کی طرف دیکھتے پا کر اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں سے اپنی طرف کرتے ہوئے بولا
پتہ نہیں ابھی کیا کیا سوچ رہی تھی کہ آریان نے جھک کر اس کے لبوں کو اپنی دسترس میں لیا فاصلہ مٹ چکا تھا وہ مکمل مدہوش ہوئے ایسے کمر سے تھامتے ہوئے اپنے بے حد قریب کر چکا تھا اریشفہ نے گھبرا کر پیچھے ہونا چاہا لیکن آریان نے سارے راستے بند کر دیئے
اس سے پہلے کہ وہ اسے باہوں میں اٹھاتا اریشفہ نے کچن کی طرف اشارہ کیا اور اسے کسی بھی طرح سے روکنا چاہا آریان نے اس کی گھبراہٹ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے اسے ایک منٹ کا اشارہ کیا اور پھر ایک منٹ کے اندر ہی کچن سے چولہا بند کر کے اس کے پاس آیا تھا
اب تو کوئی مسئلہ نہیں ہے وہ اس کا واحد بہانہ بھی سرے سے مٹاتے ہوئے بولا تھا اریشفہ نظر جھکا گئی جبکہ وہ اس سے اپنی باہؤں میں اٹھائے بیڈروم میں لے کر جانے لگا
اسے آرام سے بیڈ پر لیٹاتے ہوئے اس کے دوپٹے کو اس سے الگ کر چکا تھا
تم صرف نیلے رنگ میں نہیں بلکہ ہر رنگ میں آریان کے دل میں دھڑکن بن کر رہوں گی وہ اس کے لبوں کو چھوتے ہوئے اس کے چہرے پر جھکا تھا اریشفہ نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور اب اس کا لمس اپنے ہونٹوں پر محسوس کر رہی تھی
°°°°°°°°°

سر ہم صرف آپ کو سکیورٹی فراہم کرنا چاہتے ہیں بیسٹ کی لسٹ میں اگلا نام آپ کا ہے اس کے نخرے دیکھانے پر آریان نے غصے سے لسٹ اس کے سامنے کی تھی
جس میں اب اگلا نام سو ہم بیگ لکھا تھا اور وہ اس سوہم تک بہت جلدی پہنچ چکے تھے کیونکہ اس کے اچھے تعلقات تھے عاصم مرزا کے ساتھ اور وہ دونوں بزنس میں پارٹنرز تھے ۔
دیکھو مجھے یہ سب کچھ نہیں پتا اور عاصم مرزا کے ساتھ بھی میرے کوئی بہت اچھے تعلقات نہیں تھے میں بس کچھ وقت سے ہی اسے جانتا تھا اس بیسٹ نے میرا نام کیوں لکھا ہے میں نہیں جانتا ہو سکتا ہے یہ سو ہم بھی کوئی اور ہو اس دنیا میں صرف میں ہی سوہم نہیں ہوں
اور مجھے تم لوگوں کی سکیورٹی کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں ہے اسی لئے تم لوگ یہاں سے جا سکتے ہو سوہم نے حکمرانہ انداز میں کہا تھا اور اس کا یہی انداز تواریان کو غصہ چڑھا رہا تھا اس کے ناز نخرے دیکھتے ہوئے آریان کا دل چاہا کہ بیسٹ سے پہلے وہ اسے ختم کر دے ۔
ٹھیک ہے سر جیسی آپ کی مرضی ہم آپ کو سکیورٹی فراہم کرنا چاہتے تھے ۔۔۔
لیکن مجھے اس کی ضرورت ہی نہیں سوہم نے اسے کو دیکھتے ہوئے کہا
جب کہ اب وہ بدتمیزی سے باہر جانے کا اشارہ کر رہا تھا ۔
سر میں یونیفارم ضروری پہنتا ہوں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں آپ کا غلام ہوں بہتر ہوگا کہ آپ اپنے اشاروں پر کنٹرول کریں آریان نے اپنی توہین محسوس کرتے ہوئے کہا
آئی ایم سوری مسٹر آریان مجھے شاید آپ کے ساتھ بدتمیزی نہیں کرنی چاہیے تھی لیکن یقین جانے میں وہ نہیں ہوں جس کا نام اس لسٹ میں لکھا ہے
آپ بے فکر ہو جائیں مجھے سکیورٹی کی ضرورت نہیں اس کے سخت لہجے پر سو ہم نے معذرت کرتے ہوئے کہا کیونکہ قانون کے ساتھ بدتمیزی کرنا ترکی جیسے ملک میں کوئی عام بات ہرگز نہیں تھی ۔
°°°°°°°°°°
ہم ایک ضروری کام کے لیے باہر جا رہے ہیں عائشہ تم گھر پر اکیلی ہو اپنا خیال رکھنا ۔اس کی ماں نے ساڑی کو سنبھالتے ہوئے کہا اس نے ایک نظر میں ماں کی مکمل ڈرسنگ پر ڈالی تھی ۔
ایک وقت تھا جب اس کی ماں ایک سیدھی سادی عورت تھی اپنے آپ کو چھپا کر رکھنے والی اپنے آپ کو شوہر کی امانت سمجھنے والی لیکن آج یہ عورت خود کو دنیا کے سامنے اس طرح سے پیش کرتی تھیں جس طرح سے اس کا شوہر پسند کرتا تھا ۔
اس کے باپ کے بعد اس کی ماں نے دوسری شادی کر لی تھی اور اس کے نانا کے سامنے اس کے دوسرے شوہر نے کی شرط رکھی تھی کہ عائشہ کو اپنے ساتھ لے کر نہیں جائے گا لیکن ان کی شادی کے ایک سال بعد ہی نانا کا انتقال ہوگیا اور وہ اپنی ماں اورسوتیلے باپ کے پاس آ گئی لیکن اس کے رویوں سے ہی اندازہ لگا چکی تھی کہ وہ اسے پسند نہیں کرتا ۔
اسی لیے چھوٹی عمر سے ہی وہ ہوسٹل میں رہنے لگی ۔اس کی ماں کو بھی اس بات پر کوئی اعتراض نہیں تھا اس کے سوتیلے باپ کو اولاد کی خواہش نہیں تھی نہ سوتیلی کی نہ سگی کی ۔ اسے تو بس اپنی اس خوبصورت بیوی کوشو پیس بنا کر دنیا کے سامنے پیش کرنا تھا جس میں وہ کافی کامیاب ہوگیا تھا ۔
اس کی ماں کی خوبصورتی کو دیکھتے ہوئے وہ سے ہر محفل کی شان بناتا اسے اپنے ساتھ رکھتا ۔اسے سب کو دیکھاتا تھا کہ کتنے ہی لوگ اس کی ماں کو بے باک نظروں سے دیکھتے لیکن اس کی ماں کا فرض تھا مسکراتے رہنا ۔
کہ کہیں اس کے سوتیلے باپ کے دوستوں کو کوئی بات بری نہ لگ جائے شروع شروع میں وہ اکثر اپنی ماں کو روتے دھوتے دیکھتی تھی لیکن بعد میں آہستہ آہستہ اس کی ماں بھی اس ماحول کی عادی ہوگئی ۔
دروازہ بند کرنے کے بعد وہ اپنی سوچوں میں ڈوبی ہوئی اپنے کمرے میں آ کر سونے کی بجائے کتاب کا مطالعہ کر رہی تھی ۔کہ دروازہ بجا
۔ارے اس وقت کون آ گیا ابھی تو یہ دونوں گئے ہیں وہ پریشانی سے دروازے کی طرف آئی ۔لیکن دروازہ کھولنے پہ سامنے موجود آدمی کو دیکھ کر اس کے ہوش اڑ چکے تھے
رات کے ساڑھے گیارہ بجے یہ یہاں کیا کر رہا تھا ۔اوپر سے اس وقت اور اکیلے تھی گھر پہ
°°°°°°°°°°
تو کیا تم مجھے مس کر رہی ہو وہ سڑک پر چلتے ہوئے اس سے بات کر رہا تھا ہاتھ میں ایک چاقو تھا جب کہ سر پہ ہوڈی چڑھائے منہ پر ماسک لگائے ہوئے تھا
ارے میں تمہیں مس نہیں کرتی میں نے تمہیں پہلے ہی بتایا تھا نا جانا نے پھر سے نخرے دکھانے شروع کر دیے
مس نہیں کرتی تو پھر پیار بھی نہیں کرتی ہوگی جان نے کہا
اب یہ میں نے کب کہا جاناں کو حیرت ہوئی
مطلب تم مجھ سے پیار کرتی ہو جان کے لہجے میں کھنک تھی
اب میں نے یہ بھی نہیں بولا جاناں اترائی
تم نہیں تمہارا لہجہ بولتا ہے جاناں اور بہت پیارا بولتا ہے اس نے مسکراتے ہوئے کہا جبکہ دوسری طرف جاناں بھی مسکرا دی۔
تم کیا کر رہے ہو کیا تم چل کر رہے ہو اس نے اندازہ لگایا تھا
ہاں واک کر رہا ہوں یار ۔جان نے جواب دیا
یہ کون سا وقت ہے واک کرنے کا اس نے گھڑی کی طرف دیکھا جہاں ساڑھے گیارہ بجے تھے ۔
میں اکثر اس وقت واک کرتا ہوں شادی کے بعد ہم دونوں مل کر پر واک کر جایا کریں گے ۔جان نے پھر سے اس کی بولتی بند کر دی ۔
جان تمہیں یقین ہے ہماری شادی ہو گی اور نہ جانے کیا سوچ کر اس سے پوچھنے لگی
کیوں تمہیں یقین نہیں ہے جان نے کہا
مجھے نہیں پتہ جان میری فیملی کو میں خود بھی نہیں جانتی اس کے انداز میں بے بسی تھی
لیکن میں بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں جان نے بے ساختہ کہا
کیا تم میری فیملی کو جانتے ہو جاناں کو حیرت ہوئی
فیملی کی نہیں تمہاری بات کر رہا ہوں مجھے یقین ہے ہماری شادی ہو گی اور وہ بھی بہت جلد
اگر میری فیملی نہیں مانی تو جاناں نے کہا
تم مان گئی میرے لئے اتنا ہی کافی ہے جان مسکرایا ۔
اور جان کی اس بات پر جاناں کو اپنی غلطی پر افسوس ہوا تھا وہ کب سے اس سے شادی کی باتیں کر رہی تھی جب کہ اب تک اس نے اس کے پرپوزسر کو ایکسپٹ نہیں کیا تھا
میں کب مانی ۔۔۔ وہ مکرنے لگی
بہت پہلے جب تمہیں مجھ سے پیار ہوا ۔۔جان اس کی بے ساختگی پر مسکرایا۔
اور مجھے پیار کب ہوا جاناں اتراتے ہوئے پوچھنے لگی
جب تم نے مجھے پہلی بار دیکھا تمہاری آنکھوں میں وہ حیرانگی نہیں بلکہ محبت بھی ۔تمھیں مجھ سے تب ہی محبت ہو گئی تھی جب میں نے تمہارے لئے پھول بھیجے جب میں نے تمہارے لئے وہ کارڈ بھیجا جب میں نے تم سے اپنی محبت کا اظہار کیا جاناں تمہیں ہی محبت کی تلاش تھی تم تب سے ہی مجھے ڈھونڈنے لگی تھی
تمہیں بہت پہلے مجھ سے محبت ہوگئی تھی لیکن اب بھی میں تمہاری طرف سےہاں کا منتظر ہوں میں بے چینی سے اس لمحے کا انتظار کر رہا ہوں جب تم ہاں کہو گی اور مجھے یقین ہے تم بہت جلد کہنے والی ہو کیوں بھی سہی کہہ رہا ہوں نا وہ مسکراتے ہوئے بولا
مجھے نہیں پتا جاناں کو لگا جیسے وہ سامنے کھڑے اس کی چوری پکڑ چکا ہواس نے فون بند کر دیا جبکہ اس کی اس طرح سے فون بند کرنے پر جان بس مسکرایا اور سامنے دیکھا ۔
یہ ہے وہ جگہ بیسٹ جاؤ تمھارا شکار تمہارا انتظار کر رہا ہوگا میں باہر خیال رکھتا ہوں ٹائر نے مسکراتے ہوئے کہا وہ دو ہی دن میں ساری معلومات لے کر اسے بتا چکا تھ
وہا بالکل صحیح جگہ پر آیا تھا لیکن یہ اس اس کے شکار کا اپنا گھر نہیں تھا ۔
لیکن بیسٹ کو صرف شکار سے مطلب تھا جگہ سے نہیں ۔
°°°°°°°°°°°°
تم اس وقت یہاں کیا کر رہے ہو وہ انتہائی غصے سے بولی
کیوں ڈارنگ تمہیں کسی اور کا انتظار تھا سوہم اگلے ہی لمحے اسے دھکا دیتے ہوئے دروازہ بند کر چکا تھا
یہ کیا کر رہے ہو تم دفعہ ہو جاؤ یہاں سے ابھی اور اسی وقت وہ غصے سے چلائی تھی
اتنی جلدی کیا ہے ابھی تو میرا وہ کام بھی نہیں ہوا جس کے لئے تمہارے باپ کو میں نے تمہاری ماں کو باہر لے جانے کا کہا تھا وہ ہنستے ہوئے اس کی جانب بڑھا ۔
تمھیں نہیں پتہ کتنے پاپڑ بیلے ہیں میں نے یہاں تک آنے کے لئے اب تمہیںحاصل کرکے ہی جاؤںگا تمہاری یہ جنوانی آج رات میرے نام اور بہت شوق ہے نہ تمہیں مجھے تھپڑ مارنے کا اب ذرا اس کا حساب بھی دے دو ڈارلنگ وہ اس کی شرٹ کو نوچتے ہوئے بولا وہ اس کس مقصد سمجھ چکی تھی ۔وہ اس کی طرف بڑھا
یہ گھٹیا شخص اسے یہاں بے آبرو کرنے کے لئے آیا تھا وہ دھکا دیتے ہوئے بھاگنے کی کوشش کرنے لگی
اس سے پہلے کہ وہ اسے پکڑتا کسی نے اسے پکڑ لیا عائشہ نے حیرات سے مڑ کر دیکھا
کالی جینز پر کالا جیکٹ سر پہ ہوڈی چہرے پے کالا مارکس اسے پہچاننا دنیا کا سب سے مشکل ترین کام تھا لیکن اس نے سوہم کو اس طرح سے دبوچ رکھا تھا کہ وہ ہل تک نہیں پا رہا تھا
کون ہو تم چھوڑو مجھے وہ اپنے آپ کو چھڑوانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن سامنے والے کی پکر اتنی مضبوط تھیکہ اسے یہ ناممکن سا کام لگا عائشہ کے لئے تو وہ کسی فرشتے سے کم نہیں تھا جو اس کے بے آبرو ہونے سے پہلے پہنچ چکا تھا ۔
وہی جس کے لئے تمہیں وران کیا گیا تھا وہی ہوں میں اس کے لیے اس آفیسر نے تمہیں بچ کر رہنے کے لیے کہا تھا تمہیں سیکیورٹی لے لینی چاہیے تھی لیکن کوئی فائدہ نہیں اگر تم سیکیورٹی لے بھی لیتے تو میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑتا اس کے لہجے میں عجیب سا جنون تھا عجیب سی وحشت تھی ۔
بیسٹ۔۔۔۔۔۔ سوہم نے دھڑکتے دل کے ساتھ اس کا نام لیا تھا لیکن اگلے ہی لمحے وہ اس کے دل کے بیچوں بیچ اپنی چھڑی چلا رہا تھا ایک دلخارش چیخ عائشہ کی جانب سے بلند ہوئی تھی وہ اپنی نظروں کے سامنے یہ قتل عام دیکھ کر تو بوکھلا کر رہ گئی ۔
لیکن سامنے کھڑا شخص شاید اب بھی اس پر رحم کرنے کو تیار نہیں تھا وہ اسے گلے سے دبوچ کر کھڑا تھا جبکہ ایک کے بعد دوسرا وار وہ اس کے سینے پر برساتا چلا جا رہا تھا اور ہر وار عائشہ کے لبوں سے چیخ بلند ہوٹی ۔
جب کہ وہ کھلی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا سرخ وحشت ذدا آنکھیں نفرت سے بھرپور اس پر جمی ہوئی تھیں عائشہ کا دل بری طرح سے لرز رہا ہے جب اس نے انہی وحشت ذداس کا اشارہ ملتے ہی آنکھوں سے اسی جانے کا اشارہ کیا اس کا اشارہ ملتے ہی وہ دروازے کی جانب بھاگ گئی
وہ جلد سے جلد یہاں سے نکل جانا چاہتی تھی وہ اپنی پوری رفتار کے ساتھ مین گیٹ کی طرف بھاگ رہی تھی جب اچانک کوئی اس کے ساتھ آ کر ٹکرایا پہچاننا مشکل نہیں تھا یہ وہی خواجہ سرا تھا جو آج دوپہر اس پر نظر رکھے ہوئے تھا ۔
اس کے پیروں میں مزید تیزی آ گئی تھی وہ اسے خود سے دور کرتے ہوئے ایک بار پھر سے باہر کی جانب آ گئی جب کہ وہیں کھڑا ٹائر اسے ڈرتے ہوئے دیکھ کر مسکرایا۔
پاگل لڑکی وہ اسے بھاگتے دیکھ کر بولا اور پھر بیسٹ اس کا انتظار کرنے لگا
°°°°°°°°
آدھی رات کا وقت تھا وہ پوری طرح سے اریشفہ میں گم اپنی حسین رات کو مزید حسین بنا رہا تھا ۔
جبکہ اریشفہ شرماتی گھبراتی اس کے سینے میں منہ چھپا رہی تھی ۔
وہ اس کے سینے پر سر رکھیں نہ جانے انگلی سے کیا لکھ رہی تھی جبکہ اس کی انگلی سے اپنے سینے اور دل پر کچھ لکھتے ہوئے محسوس کرکے مسکرایا
تھوڑا صبر کر لو یار کچھ دن کام زیادہ ہے اس کے بعد لے چلوں گا تمہیں تمھارے تایا ابو سے ملوانے کے لیے وہ اس کی بات کو سمجھتے ہوئے مسکرا کر بولا تو عرشی نے فوراً اٹھا کر اس کی طرف دیکھا تھا
اس کے دیکھنے میں ہی اتنی خوشی تھی کہ آریان کا دل ایک بار پھر سے بے ایمان ہونے لگا آج کل تو اسے بس بہانہ چاہیے تھا اریشفہ کو اپنے قریب اپنی باہوں میں بھرنے کا جبکہ دوسری طرف اریشفہ سے ہر لمحے بے باک اور بے خود ہوتے دیکھ کر پریشان ہو جاتی تھی۔
اس کی محبت نے اسے بہت حسین بنا دیا تھا اس کے موڈ کو سمجھنا بھی اریشفہ کے لئے کافی آسان تھا وہ صرف محبت مانگتا اور محبت کرنے پر یقین رکھتا تھا ۔
اور سب سے خاص بات وہ اس کے ایک ایک اشارے کو سمجھتا تھا ۔
بلکہ کل تو اس نے یہ بھی کہا تھا اتنی باتیں کرتی ہو تم تھکتی نہیں ہوں کیا اتنا شور مچا کر اقور اس کی اس کی بات پر وہ کھل کھلا کر مسکرائی تھی اس کے ساتھ تواریشفہ کر کچھ ہی دن میں ایسا محسوس ہونے لگا جیسے وہ کسی بھی قوت سے محروم ہے ہی نہیں
اسے خود محسوس ہونے لگا تھا کہ وہ بہت بولتی ہے اور آریان اس کی ایک ایک بات کو سمجھتا ہے وہ اس کے لئے ڈھیر ساری چوڑیاں لایا تھا لیکن کہاں سے یہاں سے سمجھ نہیں آیا ترکی کے اس علاقے میں کہیں پر بھی چوڑیاں نہیں ملتی تھی کانچ کی ڈھیروں چوڑیاں جو وہ ہر کپڑوں کے ساتھ میچنگ پہنتی تھی ۔
اور وہ ہمیشہ اس کے ہاتھ پکڑ کر اس کی چوریوں کی چھنچھنآہٹ سے لطف اندوز ہوتا وہ خود بھی سمجھ چکی تھی کہ آریان کو چوڑیاں پسند ہیں اسی لیے وہ اپنے بناؤ سنگھار میں اس چیز کا خاص خیال رکھتی تھی کچھ ہی دن میں خود سر سے پیر تک آریان کی محبت میں رنگ چکی تھی ۔
اب تو وہ خود ہی جانتی تھی کہ اریان کے بغیر وہ نہیں رہ سکتی اس وقت بھی وہ اس کے سینے پر سر رکھے اپنی چوڑیوں سے شور مچانے میں مصروف تھی جب آریان کا فون بجا
سر سو ہم کا کام تمام ہو گیا عمران کے لہجے میں عجیب سی خوشی تھی
یہ تو ہونا ہی تھا جناب کو سکیورٹی نہیں چاہیے تھی لیکن جن دو لوگوں کو تم نے کام پر لگایا تھا ان کا کیا ہوا وہ اس کے انکار کے بعد کی بات کر رہا تھا جو عمران نے خفیہ طور پر دو آفیسرز اس کے پیچھے لگائے تھے
سر وہ دونوں سو ہم بے کے گھر سے بے ہوش ملے ہیں ۔عمران نے بتایا
آتا ہوں میں تم کیس کی تفشیش شروع کرو ۔وہ عمران سے بول کر فون رکھ چکا تھا جبکہ اریشفہ نے گھور کر اسے دیکھا مطلب وہ دوبارہ جا رہا تھا جبکہ اس کے گھورنے پر آریان کو بے ساختہ اس پر پیار آیا تھا جس کا اظہار اس نے اس کے لبوں پر اپنے ہونٹ رکھتے ہوئے کیا تھا
°°°°°°°°°°
عائشہ کا پورا وجود کانپ رہا تھا
بھاگتے بھاگتے وہ ایک سنسان سڑک پر آ پہنچی تھی
اس وقت سڑک پر کوئی نہیں تھا
دور دور تک کسی کا نام و نشان بھی نہیں تھا
وہ بار بار اپنے پیچھے دیکھ رہی تھی کہ کہیں وہ شخص اس کا پیچھا نہ کر رہا ہو
لیکن دور دور تک کوئی نہیں تھا
وہ بھاگتے بھاگتے ایک گلی کے نکڑ پر پہنچی وہاں چھپنے کی تھوڑی سی جگہ تھی
وہ وہیں بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
اپنے سامنے اس طرح کا قتل دیکھ کر اس کے رونگٹے کھڑے ہو چکے تھے
اس کا دل چاہا کہ پولیس سٹیشن جائے اور وہاں جا کر بتا دے
کہ اس کی آنکھوں کے سامنے قتل ہوا ہے
لیکن اس کے باوجود بھی اس نے قاتل کو نہیں دیکھا تھا
وہ پوری طرح سے اپنے آپ کو چھپائے ہوئے تھا اگر وہ اس کے سامنے آتا تو وہ اسے پہچان نہیں سکتی تھی وہ صرف اس کی آنکھوں سے واقف تھی
ہاں وہ سرخ دہشت زدہ آنکھیں کتنی خوفناک آنکھیں تھیں
وہ ان کو سوچتے ہی اس کا دل ایک بار پھر سے کانپنے لگا
۔ابھی وہ وہیں بیٹھی نہ جانے کیا کیا سوچ رہی تھی کہ اچانک کوئی اس کے پاس آ کر بیٹھا ہے اس کی چیخ نکل گئی لیکن سامنے والے نے فورا اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا تھا
تم یہاں کیا کر رہی ہو ۔۔۔۔!
اورمجھے دیکھ کر چیخ کیوں مار رہی ہو
طہ بخاری اس کے لبوں پر اپنا ہاتھ جمائے پوچھ رہا تھا
خون طہ اس نے قتل کیا میری آنکھوں کے سامنے اس نے میرے سامنے ایک آدمی کو مار دیا پھوٹ پھوٹ کر روتی اگلے ہی لمحے اس کے سینے سے لگ چکی تھی طہ کے لیے یہ سیچویشن بہت عجیب تھی
لیکن اس کے پھوٹ پھوٹ کر رونے پر اور بری طرح سے کانپنے پر وہ اسے خود سے دور نہیں کر پایا تھا
میں نے اسے دیکھا تھا طہ
اس نے میرے سامنے سوہم کو مار دیا میری آنکھوں کے سامنے اس نے سو ہم کا قتل کردیا اب وہ مجھے بھی مار دے گا وہ میرے پیچھے آ رہا ہوگا
وہ بری طرح سے کانیتے ہوئے اس کے ساتھ چپکی ہوئی تھی
ریلیکس عائشہ ریلیکس سب صحیح ہوگا اور یہاں میرے علاوہ اور کوئی نہیں ہے اگر اس نے تمہیں مارنا ہی ہوتا تو تم اس وقت تک یہاں نہیں ہوتی ایسے لوگ تو کہیں سے بھی اپنا شکار ڈھونڈ لیتے ہیں لیکن تم کس کی بات کر رہی ہو تم نے کس نے دیکھا ہے وتل کرتے ہوئے اور کس کو مارا ہے اس نے اور کہاں دیکھا ہے طہ اسے ڈرتے دیکھ کر پوچھنے لگا ۔
بیسٹ ۔۔۔۔طہ میں نے بیسٹ کو دیکھا ہے
اسے قتل کرتے ہوئے دیکھا ہے
اس نے سوہم کو مار ڈالا تھا میری آنکھوں کے سامنے مارڈالا
اب وہ مجھے بھی مار ڈالے گا
پلیز مجھے بچالو طہ ۔وہ بری طرح سے روتے ہوئے اس سے کہہ رہی تھی
عائشہ کچھ نہیں ہوگا تم چلو میرے ساتھ پولیس سٹیشن ہم پولیس کو بتا کر ابھی سب کچھ کلیئر کر لیتے ہیں ارے تمہیں تو بہت تیز بخار ہے ۔
ہم پہلے پولیس سٹیشن چلتے ہیں پھر بعد تمہیں ہوسپیٹل لے کے جاتا ہوں وہ اس کی صحت کو مد نظر رکھتے ہوئے بولا شاید ڈر کی وجہ سےاسے بخار چڑ چکا تھا ۔
نہیں مجھے کہیں نہیں جانا
وہ میرے پیچھے آ رہا ہو گا
وہ مجھے مار ڈالے گا
پلیز طہ مجھے بچا لو پلیز وہ آ رہا ہو گا
وہ بار بار ایک ہی جملہ کہتی اس سے چپکی ہوئی بری طرح سے رو رہی تھی
اور تھوڑی ہی دیر میں اس کا سسکتا وجود ایک دم خاموش ہو گیا تھا ۔
طہ کو لگا تھا کہ وہ رونا ختم کر چکی ہے لیکن اسے جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ وہ خوف سے بے ہوش ہو چکی ہے ۔اس نے پریشانی سے اس کے گال پر تھپتھپائے تھے
لیکن وہ بے ہوش تھی کہ اس نے مجبور ہوکر اس کا بے جان وجود اپنی باہوں میں اٹھایا اور اپنے ساتھ لے گیا کیونکہ وہ اسے اس طرح بھی سڑک پر چھوڑ کر نہیں جا سکتا تھا
وہ نہیں جانتا تھا کہ عائشہ کسی خواب کے زیرِ اثر ہےیا اس نےسچ میں ایسا کچھ دیکھا ہے لیکن جو بھی تھا وہ اسے اس طرح سے چھوڑ کر جانے کا رسک نہیں لے سکتا تھا
°°°°°°°°°°
جس کا ڈر تھا وہی ہوا
بیسٹ نےاپنا کام کر دیا
سوہم کی لاش کو پہچانا بھی ایک بہت مشکل کام تھا
آریان کو اس کی موت کا زرا برابر افسوس نہیں تھا ۔
کیوں کہ ایسے لوگوں کے ساتھ ایسا ہی کیا جاتا ہے
سو ہم بھی نا جانے کتنی ہی معصوم لڑکیوں کی زندگی کو تباہ کر چکا تھا
اور نہ جانے کتنی ہی معصوم لڑکیاں اس کی ہوس کی بھینٹ چڑھنے والی تھی
اور اس معاملے قانون کے ہاتھوں بری طرح سے بندھے ہوئے تھے
سب کچھ جاننے کے باوجود بھی وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے
۔ بیسٹ جیسے ہی لوگوں کی ضرورت انہیں قانون میں بھی تھیی
لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے کہ یہ بیسٹ جس طرح سے کھلے عام یہ کام کر سکتا ہے قانون نہیں کر سکتا قانون کو بہت سارے اصولوں کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے
لیکن بیسٹ جیسے انسان کے لئے کوئی بھی اصول اس کے اپنے اصولوں سے برا نہیں تھا
۔سوہم کی لاش کی جانچ پڑتال ہو رہی تھی سب کچھ صاف تھا قتل بیسٹ نے ہی کیا تھا کیونکہ بیسٹ اپنا کلر سائن چھور کر جا چکا تھا ۔لیکن مسئلہ یہ تھا کہ یہ قتل راحیل خان کے گھر پر ہوا تھا اور لسٹ میں راحیل خان کا نام بھی شامل تھا
۔اس قتل کے بعد پانچ نام اور تھے اس کے بعد راحیل خان کی باری تھی ۔جس کے لیے وہ اسے وارن کر چکا تھا لیکن راحیل خان نے یہی ظاہر کیا کہ وہ تو سوہم کو ٹھیک سے جانتا تک نہیں تھا نہ جانے اس کے گھر یہاں کہاں سے آگیا
۔لیکن آریان کا اس کے ڈرامے دیکھنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا بس اتنا ہی کہہ دیا کہ اگر اپنی جان بچانا چاہتا ہے تو سیکیورٹی کے روز کو فالو کرے جبکہ مسز راحیل تو پاگلوں کی طرح اپنی بیٹی عائشہ کو ڈھونڈ رہی تھی
جو گھر پر اکیلی تھی لیکن راحیل نے یہ بات پولیس کو بتانے سے منع کر دیا تھا
وہ اس کیس میں پولیس کی کسی بھی طرح کی انٹرفرنزنہیں چاہتا تھا اور نہ ہی کہیں اپنا نام ۔لیکن مسز راحیل ل کافی پریشان لگ رہی تھی ۔
سر اب کیا کرنا ہے عمران نے پوچھا
کیا کرنا ہے کیا نہیں اس کو چھوڑو یہ بتاؤ ان لڑکوں کو ہوش آیا جن کو تم سکیورٹی کے طور پر رکھا تھا آریان نے پوچھا جس پر وہ نفی میں سر ہلانے لگا ۔
نہیں سر کافی ہے سخت ڈیوز دیا گیا ہے دونوں کو لیکن بالکل بھی خطرناک نہیں ہے
۔عمران نے پوری بات بتائی آریان کو نہ جانے کیوں لگا جیسے عمران اپنی پوری سپورٹ بیسٹ کو دیتا ہے اس کے خلاف نہ کوئی بات کرتا ہے نہ ہی سنتا ہے
چلو ٹھیک ہے پھر میں گھر جلتا ہوں تمھاری بھابھی انتظار کر رہی ہوگی آریان نے بتایا تھا عمران مسکرا دیا
سر آپ بہت لکی ہیں
آپ کو اتنی پیاری وائف ملی ہے عمران نے خوشی سے کہا
ہاں میں تو ہوں ہی لیکن تم بھی بہت جلدی لکی ہونے والے ہو آریان اس کا دھیان اس کی شادی کی طرف دلانے لگا تو وہ صرف مسکرا کر ہاں میں سر ہلا دیا جبکہ آریان بھی اپنے گھر کی طرف آنے کی تیاری کرنے لگا
°°°°°°°°
جاناں ٹی وی چینل پر سرچ کر رہی تھی
آج سنڈے تھا اسے لگتا تھا کہ جان اسے فون کرے گا یا اس کے لئے کچھ اسپیشل کرے گا
لیکن جان کو جیسے ہوش ہی نہیں تھا
صبح سے نہ تو اس کا فون آیا اور نہ ہی شاید فون آنا تھا
وہ بار بار فون کو دیکھتی لیکن بار بار ناامیدی سے دوبارہ ٹی وی کے چینل سرچ کرنے لگتی ۔
ابھی یہی سب کچھ چل رہا تھا
جب اچانک ایک چینل پر نظر پڑتے ہی اس نے ہاتھ روک گئے اس نے ٹی وی پر کسی اور کی نہیں بلکہ اس کے بھائی کی تصویر تھی ۔
ناصر خان پر قاتلانہ حملہ ۔۔
۔ناصر خان اس وقت ہسپتال میں ایڈمٹ ہیں
۔۔۔حملہ کس نے کیا کون ہے جوان کی جان کا دشمن ہے
جاننے کے لیے دیکھتے رہیے نیوز کاسٹر باربار چند لائنیں دہرا رہی تھی جبکہ جاناں ساکت سی ٹی وی پر اپنے بھائی کی تصویر دیکھ رہی تھی ۔
اس نے بے چینی سے فون اٹھا کر بابا کے نمبر پر کال کی
بار بار فون کرنے کے بعد بھی بابا فون نہیں اٹھا رہے تھے
لیکن اس نے بھی ہمت نہ ہاری آخرکار بابا نے تنگ آکر فون اٹھا ہی لیا ۔
کیا مسئلہ ہے جاناں تمہیں ایک بار میری بات سمجھ نہیں آتی وہ انتہائی غصے سے بولے تھے ۔
بابا ناصر بھائی۔۔۔۔۔۔ اس سے زیادہ کچھ بول ہی نہیں پائی بلکہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
اس کا بھائی اس سے دور تھا لیکن اس کے باوجود بھی وہ اسے بہت چاہتی تھی ۔
ٹھیک ہے ناصر اور خبردارجو تم نے کسی سے کہا کہ ناصر تمہارا بھائی ہےوہ غصے سے بولے تھے
بابا میں بھقائی سے ملنا چاہتی ہوں پلیز ایک بار مجھے ان سے بات کروا دیں اس نے بری طرح سے روتے ہوئے کہا
خاموش ہو جاناں تمیں سمجھ نہیں آیا میں نے کیا کہا کسی کو پتہ نہیں چلنا چاہیے کہ نا صر تمہارا بھائی ہے کسی کو بھی پتہ نہ چلے کہ تم کون ہو سمجھیایک تو پہلے ہی جان عزاب بنی ہوئی ہے اور دوسرا عذاب تم ہو میری جان کا ۔
تمہاری وجہ سے سکون کا سانس نہیں لے پاتا ہوں
میں کاش بیٹی کی بجائے ایک اور بیٹا ہو جاتا میرا کم از کم یہ عذاب تو نہیں سہنا پڑتا مجھے
ایک بات کان کھول کر سن لو تم جب تک میں فون کروں تب تک مجھے فون مت کرنا بابا نے کہتے ہوئے فون بند کر دیا جبکہ وہ وہ فون بیڈ پر پھینک سے بری طرح سے رونے لگی
وہ اپنے باپ کے لیے ایک مصیبت تھی
اس کی جان کا عذاب تھی
اس سے تو بہتر تھا کہ اسے ایک اور بیٹا ہو جاتا بیٹی پیدا کر کے اس کا باپ پچھتا رہا تھا وہ اس کے لفظوں کے زیر اثر تھی
اتنی بری تھی وہ کہ ہر کوئی اس سے نفرت کرتا تھا کیوں تھی وہ اسے اپنے پیدا ہونے پر افسوس تھا
جب اچانک اس کا فون بجا فون پر جان کا میسج تھا اس نے جلدی سے فون اٹھایا ۔
جلدی سے باہر آجاؤ میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں سمائلی امیوجی کے ساتھ ایک میسج تھا وہ تقریب بھاگتے ہوئے باہر کی جانب کی تھی جہاں گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے جانے کا بے چینی سے انتظار کر رہا تھا ۔
ارے پاگل ایسے ہی آ گئی تیار تو ہو کے آتی وہ اس سے نائٹ ڈریس ملبوس دیکھ کر بولا ۔
جبکہ وہ بنا کچھ سمجھے روتے ہوئے اس کے سینے سے لگ چکی تھی ۔
جاناں کیا ہوا میری جان تم اس طرح سے کیوں رو رہی ہو
وہ اس کی روتے ہوئے وجود کو اپنے ساتھ لگائے بے چینی سے بولا ۔
جان وہ کہتے ہیں کہ میں ان کی زندگی کا عذاب ہوں
مجھے پیدا کرکے وہ پچھتا رہے ہیں
مجھ سے بہتر تھا کہ انہیں ایک اور بیٹا ہو جاتا بری طرح سسکتے ہوئے وہ اسے بتا رہی تھی جب جان نے اسے ایک بار پھر سے اپنے سینے سے لگا لیا ۔
نہیں جاناں تم بہت پیاری ہو جیسی ہو ویسی اچھی ہو وہ اس کے احساس کمتری کم کرنے کی کوشش کرنے لگا
نہیں ہوں میں اچھی کاش میں پیدا ہوتے ہی مر جاتی
تو آج اپنے باپ کی جان کا عذاب تو نہیں بنتی وہ سسکتے ہوئے بول رہی تھی ۔
نہیں جاناں ایسا مت سوچو نہیں ہو تم کسی کی جان کا عذاب سے تم تو جان ہو میری تم ایسے لوگوں کے لئے اپنے آنسو ضائع کر رہی ہو جو تمہاری قدر ہی نہیں کرتے ۔
ایسے لوگوں کے لئے آنسو بہا رہی ہو جن کو تمہارے وجود سے نفرت ہے ان کو تمہاری پیدائش سے افسوس ہے مجھے دیکھو میری آنکھوں میں دیکھو کتنی محبت ہے یہاں تمہارے لئے ۔
جاناں سب کچھ چھوڑ دو بس میرے پاس آ جاؤ میں تمہیں اتنا پیار دوں گا کہ تمہیں خود پہ ناز ہوگا بس میری ہو جاو پھر دیکھنا پوری دنیا کی خوشیاں تمہارے قدموں میں ڈھیر کر دوں گا
۔ہم شادی کر لیتے ہیں جاناں اپنی الگ دنیا بناتے ہیں جس میں کوئی نہیں ہوگا صرف ہماری خوشیاں ہوں گی وہ اس کی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے محبت سے بولا
نہیں جان میں ایسا نہیں کر سکتی
۔میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی جان میں اپنی فیملی کو بتائے بغیر اتنا بڑا قدم نہیں اٹھا سکتی
وہ لوگ اس طرح کبھی میری شادی کے لیے تیار نہیں ہوں گے
تم میرے بابا کو نہیں جانتے تم نہیں جانتے میرے بھائی کون ہیں وہ اسے سمجھانا چاہتی تھی لیکن اگلے ہی لمحے جاناسے اپنے بازو دھکا دے کر دور کر چکا تھا
مطلب تم کبھی میرا ہونا ہی نہیں چاہتی
۔تمہیں مجھ سے محبت ہی نہیں ہے
جاناں اگر تمہیں مجھ سے محبت ہوتی تو میری ایک بار کہنے پر میرے پاس چلی آتی ۔
یہ کیسا رشتہ ہے جاناں یہ سب سےچھپ کر ہم کیا رہے ہیں ۔
محبت میں ہمت ہونی چاہیے ساری دنیا سے لڑنے کی ہمت تم تو بہت بزدل نکلی جاناں
تم میں تو اتنی ہمت بھی نہیں ہے کہ اپنے والدین کے سامنے اپنی محبت کا اظہار کر سکو۔
مجھے ایسی محبت نہیں چاہیے جاناں مجھے یہ رشتہ چھپا کر نہیں بنانا اگر تم مجھ سے محبت کرتی ہو تو صاف جواب دو
اگر تمہیں مجھ سے محبت ہے تو کھل کر اظہار کرو
ڈر ڈر کر محبت کرنابند کرو جاناں
میں نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر اس لئے تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں اب جب تم مجھ سے شادی کرنے کے لیے تیار ہو گی تب ہی ہم ملیں گےاب سے ملاقات ہماری تب ہی ہوگی جب تم مجھ سے نکاح کے لیے راضی ہوگئی
ورنہ اس رشتے کو یہیں ختم کر دیتے ہیں میں کبھی ایسا رشتہ جوڑ کر نہیں رکھنا چاہتا جس کی کوئی منزل نہ ہو
۔میں جا رہا ہوں جاناں اب واپس تب ہی آوں گا جب تم ہاں کرو گی
جان پلیز نہیں اس طرح سے مجھے چھوڑ کر مت جاؤ مجھے تمہاری ضرورت ہے وہ روتے ہوئے اس کے سینے سے آ لگی تھی
لیکن میں تمہارا وقتی سہارا نہیں بن سکتا اگلے ہی لمحے اس نے پھر سے خود سے دور کر دیا اور گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے چلا گیا جب کہ جاناں وہی سڑک پر بیٹھ کے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
وہ اسے کھونا نہیں چاہتی تھی یہ تو واحد رشتہ تھا جو اس سے محبت کرتا تھا
°°°°°°°°
اس نے گھر میں قدم رکھا تو اریشفہ صوفے پر بیٹھی ابھی تک اس کا انتظار کر رہی تھی
اس نے نو بجے تک واپس آنے کے لیے کہا تھا
لیکن اس وقت رات کا ڈیڑھ بج رہا تھا
اسے دیکھتے ہی وہ منہ پھلا کر صوفے سے اٹھ کر کمرے کے اندر چلی گئی
یقینا اس کے انتظار سے اکتا کر اب وہ سے ناراضگی کا اظہار کر رہی تھی
آریان کو اس پر ڈھیروں پیار آیا
اور دروازہ بند کرتے ہوئے اس کے پیچھے ہی کمرے میں آ گیا تھا
جہاں اب وہ بیڈ پر لیٹی دوسری طرف کروٹ بدلتی ناراضگی ظاہر کر رہی تھی
اف ایک تو اتنی پیاری بیوی اور اتنی سخت ناراضگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یار مجھے لڑکیوں کو منانے کا طریقہ نہیں ہے وہ اسے پیچھے سے اپنی باہوں میں لیتے ہوئے بولا
جس پر وہ اپنی چوڑیاں چھنچھناتی اسے خود سے دور ہونے کے لئے کہہ رہی تھی
شاید وہ اس کے اشاروں سے زیادہ اس کی چوڑیوں کی زبان سمجھنے لگا تھا
بالکل بھی نہیں میں تو تم سے ایک سیکنڈ دور نہیں ہو سکتا اور تم کیا کہہ رہی ہو میں تم سے دور رہوں
نو نیور۔ ۔۔۔۔۔
اچھا اب مان جاو نہ
یار اچھی بیویاں اس طرح شوہر سے ناراض نہیں ہوتی
وہ ابھی بھی صلح کرنے والے انداز میں اس کے گرد بازو پھیلائے اس کی پیٹھ کو خود سے لگائے ہوئے تھا
جب کہ وہ اشاروں سے اب پوچھ رہی تھی کہ اچھے شوہر کیا کرتے ہیں ۔
اس کے انداز پر وہ کھل کر مسکراتے ہوئے اسے اپنی جانب کر کے اس کے لبوں پر جھکا تھا
اچھے شوہر ہر وقت اپنی بیوی کو اپنی نظروں کے سامنے رکھتے ہوئے اسے اپنے پیار کے بارش میں بھیگوتے ہیں وہ اس کے لبوں پہ اپنے لب رکھ دئیے ہوئے پوری شدت سے وہ اپنا لمس چھوڑ دیا
غلطی کی معافی سوری ہوتی ہے اور میں سوری بول رہا ہوں
اس لیے اب مزید ناراضگی ختم وہ اس کے دونوں بازو کو اپنے ہاتھوں میں قید کرتے ہوئے بولا اور قید ایسی تھی
کہ وہ نہ تو اشارہ کر رہی تھی اور نہ ہی اپنی چوڑیاں چھنچھنا پا رہی تھی ۔
اس بار اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں لیتے ہوئے وہ مکمل مدہوش ہی سے اپنے کام میں مصروف ہو چکا تھا
جبکہ اریشفہ اس کی جسارتوں سے گھبراتی اپنی ناراضگی کی بھلائے اس کی باہوں میں سما چکی تھی
°°°°°°°°°°
وہ رو رہی تھی بری طرح سے پھوٹ پھوٹ کر جیسے سب کچھ لٹ گیا ہو
جیسے سب کچھ برباد ہو گیا ہو اس کے پاس کچھ بھی نہ بچاہو ۔
اب رونے کے علاوہ اس کے پاس اور کوئی چارہ نہ تھا
آنسو تھے روکنے کا نام نہیں لے رہے تھے
ایک طرف اس کا باپ اس سے کا فون نہیں اٹھا رہا تھا نہ جانے ناصر کیسا تھا دوسری طرف جان بھی اس کا فون بالکل ہی اگنور کیے ہوئے تھا ۔
وہ بار بار فون کیے جا رہی تھی لیکن سامنے والا تو شاید پتھر دل تھا
جسے اس کے احساسات کی خبر ہی نہ تھی یا حبر ہوتے ہوئے بھی وہ بےخبر بنا تھا ۔
وہ مسلسل آنسو بہاتی کبھی جان کو تو کبھی بابا کو فون کر رہی تھی
بس کر دو جاناں میں نے تمہیں منع کیا تھا نہ مجھے بار بار فون مت کرنا تو کیا تم ایک بار میری بات سمجھ نہیں آتی
بابا کی پھنکارتی ہوئی آواز فون سے آئی تھی وہ کانپ کر رہ گئی
بابا پلیز مجھے بتائے ناصر بھائی کیسے ہیں وہ ان کی بات کو نظر انداز کرتے کہنے لگی ۔
جاناں میں تمہیں ایک بار بتا چکا ہوں نا کہ وہ ٹھیک ہے تو تم کیوں بار بار مجھے تنگ کر رہی ہوایک بات کیا تمہیں سمجھ نہیں آرہی
اب خدا کے لئے مجھے فون مت کرنا
میں نہیں کر سکتا تم سے بات اور تم بھی بار بار مجھے فون کرنے کے بجائے اپنے پیپرزکی تیاری کرو تو تمہارے لئے بہتر ہوگا ۔
وہ انتہائی غصے سے کہتے فون رکھ گئے تھے ۔
بابا آپ کو جاناں سے اس طرح سے بات نہیں کرنی چاہیے
اس طرح سے تو وہ ہم سے بددل ہو جائے گی
ناصراس وقت ہسپتال کے بیڈ پر لیٹا ہوا ان سے کہنے لگا کل سے مسلسل جاناں کی کال کو نظرانداز کیے ہوئے تھے لیکن وہ اس کی بہن تھی وہ جانتا تھا اسے اس کی پرواہ ہے
تو میں کیا کروں ناصر اس لڑکی نے میرا دماغ خراب کر رکھا ہے
میری بات کو سمجھنے تک کی کوشش نہیں کر رہی ہے یہ بیوقوف لڑکی
اگر وہاں کسی کو پتہ چل گیا کہ جاناں میری بیٹی اور تمہاری بہن ہے تو ہمارا بنا بنایا کھیل بگڑ جائے گا
اور اگر وہ لڑکا اگر غلطی سے بھی جاناں کے پاس پہنچ گیا
تو پھر سوچو کیا ہوگا ہم نے اسے دنیا سے چھپا کے رکھا ہے صرف اس لیے تاکہ پندرہ سال پہلے کے راز دفن ہیں رہیں اگر کسی کو بھنک بھی پڑ گئی نہ تو تم اندازہ بھی نہیں لگا سکتے ہم کس طرح سے برباد ہوں گے
لیکن بابا ہم ساری زندگی جاناں کو خود سے دور بھی تو نہیں کر سکتے اس کے انداز پر نا صر نے سمجھانا چاہا
میں اسے خود سے دور نہیں کر رہا ناصر میںاس کے پیپرز ختم ہوتے ہی اسے اپنے پاس بلا لوں گا بس اس کے یہ پیپر ہوجائے پھر اسے ہمیشہ کے لئے یہاں لے آؤں گا اس سے نہ صرف وہ اس لڑکے سے دور ہو جائے گی بلکہ خود ہی کوئی اچھا سا لڑکا دیکھ کر اس کی شادی کر دوں گا
لیکن بابا اس کی شادی کیسے ممکن ہے ناصر نے نہ سمجھنے والے انداز میں کہا ۔
ممکن ہے ناصر سب کچھ ممکن ہے
میں اپنی اس غلطی کی وجہ سے اپنی بیٹی کی زندگی تباہ نہیں ہونے دوں گا
میں جاناں کو غائب کر دوں گا اس کی پہچان میں بدل چکا ہوں میں اس کی پوری زندگی بدل چکا ہوں اب وہ لڑکا کبھی بھی جاناں تک نہیں پہنچ پائے گا
اور نہ ہی جاناں کو بچپن کی کوئی بھی بات یاد ہے اسی لئے میں جتنی جلدی ہو سکے جاناں کی زندگی کا کوئی اچھا سا فیصلہ کروں گا
°°°°°°°°°°
اس کی آنکھ کھلی تو اپنے آپ کو ایک بہت ہی انجان جگہ پر پایا
یہ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا بہت تھوڑی سی جگہ تھی
اس میں صرف ایک ہی بیڈ تھا اور اس سے تھوڑے سے فاصلے پر ایک سنگل صوفہ رکھا گیا تھا جس پر وہ بیٹھے بیٹھے سو رہا تھا
وہ پوری طرح سے اپنی سوچوں میں ڈوبی ہوئی تھی
وہ وحشت زدہ آنکھیں اسے یاد آنے لگیی
اور اس کا قتل کرنے کا انداز وہ ایک دم سے اٹھ بیٹھی
اس نے بیڈ سے اٹھنے کی کوشش کی تو وہ فوراً ہی اٹھ کر اس کے پاس آ گیا
شاید وہ اس کے لئے ان سے جاگنے کا انتظار کر رہا تھا
اب کیسی طبیعت ہے تمہاری رات کو تم بے ہوش ہو گئی تھی
مجھے نہیں پتا تم کہاں رہتی ہو اسی لیے میں تمہیں اپنے روم میں لے آیا
یقیناً تمہیں برا نہیں لگے گا
رات کو تم کسی قتل کے بارے میں بات کر رہی تھی تم کہہ رہی تھی کہ بیسٹ نے کسی کو مار ڈالا کیا تم نے کوئی خبر سنی تھی یا تم سچ میں کسی کو قتل کرتے ہوئے دیکھ چکی ہو
وہ خود بھی بہت پریشان لگ رہا تھا جب عائشہ نے ہاں میں سر ہلایا
میں نے اسے دیکھا ہے طہٰ میں جھوٹ نہیں بول رہی تھی
میں نے اسے قتل کرتے ہوئے دیکھا ہے
سوہم نے میرے سامنے اس کا نام لیا اور پھر اس نے میری آنکھوں کے سامنے سوپم کو مار ڈالا میں جھوٹ نہیں بول رہی پلیز میرا یقین کرو وہ بولتے ہوئے ایک بار پھر سے رونے لگی تھی
عائشہ مجھے تم پر یقین ہے پلیز تم پریشان مت ہو چلو ہم پولیس سٹیشن چلتے ہیں اور اور وہاں تم کو سب کچھ بتا دینا
تم نے جو کچھ بھی دیکھا اور وہ آدمی کیسا دکھتا ہے سب کچھ طہٰ نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا لیکن عائشہ کے چہرے پر پریشانی تھی
لیکن میں نے تو اسے دیکھا ہی نہیں تھا وہ چہرے پر ماکس لگائے ہوئے تھا
اور سر پر اس نے ہوڈی پہنی ہوئی تھی میں اس کا چہرہ نہیں دیکھ اس کی آنکھیں دیکھی ہیں
عائشہ بہت زیادہ پریشان تھی جب کہ ہر تھوڑی دیر میں رونے لگتی
طہ کو یہ ساری باتیں خود بھی بہت عجیب لگ رہی تھی
اسی لیے اسے ریلکس رہنے کے لئے کہتا ہوا اس کا ایڈریس پوچھنے لگا
نہیں مجھے گھر نہیں جانا اسے پتہ ہے وہ میرا گھر ہے میں وہاں نہیں جاؤں گی مجھے اس سے بہت خوف آتا ہے
تم پلیز مجھے میرے ہوسٹل چھوڑ دو اس وقت وہ بھول چکی تھی کہ اس شخص سے مدد لینا اپنی توہین سمجھتی ہے
ٹھیک ہے تم پریشان مت ہو میں تمہیں تمہارے ہوسٹل چھوڑ رہا ہوں پریشان مت ہو سب ٹھیک ہے اب بالکل مت رونا اور اس سب کا کسی کے سامنے ذکر مت کرنا میں سب سبھال لوں گا وہ اٹھتے ہوئے اپنا ہاتھ دے کر اٹھانے لگا
عائشہ بھی خاموشی سے اس کے ساتھ فریش ہو کر اس کے روم نما گھر سے چلی آئی تھی
°°°°°°°°
جان پلیز میرے ساتھ ایسا مت کرو
پلیز فون اٹھا لو
میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی
پلیز فون اٹھاؤ مجھے تمھاری ضرورت ہے
اس کا فون مسلسل بج رہا تھا بار بار واٹس ایپ پر اس کے میسج آ رہے تھے جو وہ صرف سنتا اور پھر ڈیلیٹ کر دیتا لیکن پھر اس کا نمبر بلاک کر دیا
تم بہت ظالم بہو جان تم بھلا اپنی ہی جاناں کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو
تم تو اسے روتے ہوئے ییں دیکھ سکتے
تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے تھے نہ تو پھر یہ سب کچھ کیا ہے اس کے مسلسل فون کاٹنے پر ٹائر نے پوچھا
نہیں ٹائر میں اسے تکلیف نہیں دے سکتا
میں خود اسے درد میں نہیں دیکھ سکتا اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر میرا اپنا دل تڑپ رہا ہے لیکن میں مجبور ہوں
میں کیا کروں ٹائر میرے پاس یہی موقع ہے جاناں کو اپنے پاس لانے کا جاناں کو یہ بتانے کا کہ مجھ سے زیادہ اسے کوئی پیار نہیں کرتا
اب جاناں کو اپنے ہر ڈر سے لڑ کر میرے پاس آنا ہوگا اسے نکاح کے لیے حامی بھر لی ہوگی ورنہ
ورنہ ورنہ کیا اس کے خاموش ہونے پر ٹائر نے پوچھا
اسے میرے پاس آنا ہوگا ٹار اس کے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہے وہ اپنی بات بدل گیا تو ٹائر خاموش ہو گیا
°°°°°°°°°
وہ ہوسٹل آئی تو جاناں ہوسٹل میں نہیں تھی
اریشفہ کا تو وہ جانتی تھی کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ اس کے گھر میں ہے
لیکن جاناں کو یہاں نہ پا کر اسے پریشانی ہوئی تھی وہ تو باہر کہیں نہیں جاتی تھی
لیکن اس وقت اس کے ذہن پر بیسٹ سوار تھا جس نے اس کے سامنے قتل کیا
اس کی آنکھوں کی وحشت سے یاد آتے ہی اس کا جسم کانپنے لگتا تھا ۔
اسے اس شخص سے اتنا خوف نہیں آتا تھا
جتنا خوف شخص کی آنکھوں سے آتا تھا اور اس کا قتل کرتا انداز اس کا ہاتھ بار بار سو ہم کے سینے میں دب جاتا اور پھر وہ نکالتا تو ہر بار سو ہم کے سینے سے خون کا فوارہ نکلتا
وہ منظر یاد کرتے ہیں اس کی آنکھیں نم ہونے لگی اس کا پورا بدن کانپ رہا تھا
اس کی طبیعت بہت خراب تھی یہ تو طہ کا احسان تھا کہ وہ اس کو اپنے ساتھ لے گیا اور اب اسے ہوسٹل چھوڑ گیا تھا دوائیوں کے زیر اثر وہ کو بیڈ پر لیٹتے ہی گہری نیند سو چکی تھی
نہ جانے زندگی آگے کیا موڑ لانے والی تھی ۔
°°°°°°°°°°
اس نے دروازہ کھولا تو وہ جاناں باہر کھڑی تھی
پیاری لڑکی کیسی ہو تم اس کا مرجایا ہوا چہرہ دیکھ کر وہ تڑپ اٹھا تھا
جان کہاں ہے وہ اپنی آنکھوں سے آنسو صاف اس سے پوچھنے لگی
وہ تمہیں بہت چاہتا ہے جاناں اس کا حال بھی تم سے الگ نہیں
شادی کے لیے ہاں کر دو وہ تمہیں بہت خوش رکھے گا میں تم سے وعدہ کرتا ہوں وہ کبھی تمہیں تکلیف نہیں دے گا تم بس ایک بار ہاں کر دو وہ سب کچھ خود سنبھال لے گا
ٹائر کسی ہمدرد بہن کی طرح اس کے دونوں ہاتھ تھامے ہوئے کہہ رہا تھا
پلیز اس سے کہو مجھ سے بات کر لے
میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتی
پلیز وہ تمہاری بات ضرور مانے گا وہ تمہیں بہت چاہتا ہے پلیز اس سے کہو کہ تم جو کہو گے میں کروں گی
لیکن مجھے اس طرح سے محبت کی راہوں میں لاکر یہ تنہا نہ چھوڑے
جان بری طرح سے روتے ہوئے چہرہ ہاتھوں میں چھپاتی وہیں زمین پر بیٹھی سسکنے لگی جب ٹائر نے وہیں زمین پر بیٹھتے ہوئے اسے اپنے سینے سے لگا لیا
تم پریشان مت ہو جاناں میں ابھی اسے فون کرتا ہوں تمہاری طرف سے ہاں سن کر وہ بھاگا چلا ائے گا تمہارا دیوانہ عشق کرتا ہے تم سے وہ اس یقین دلا رہا تھا
°°°°°°°°°°

اس نے جیسے ہی گھر کے اندر قدم رکھا جاناں بھاگتی ہوئی اس سے آ لیپٹی تھی۔
جان جو فی الحال اس سے بات کرنے موڈ میں نہیں تھا اس کے بری طرح سے رونے پر اسے اپنے سینے سے لگانے پر مجبور ہوگیا ۔
جاناں رونا بند کرو ۔وہ اس کے سر کو تھپتھپاتے ہوئے محبت سے بولا
نہیں تم پہلے وعدہ کرو کہ کبھی مجھے چھوڑ کر نہیں جاؤ گے وہ اس کے سینے سے لگی کسی چھوٹے بچے کی طرح سے بات کر رہی تھی۔
تمہیں چھوڑ کر جاؤں گا کہاں جاناں تم تو میری آخری منزل ہو ۔میری زندگی میری جینے کی وجہ ہو
ہمارے بغیر تو میں ایک پل نہیں جی سکتا ۔تمہیں چھوڑ کر بلا جاؤں گا بھی تو کہاں جاؤں گا ۔
وہ اسے اپنے ساتھ لگائے آہستہ آہستہ اپنی محبت کا اظہار کر رہا تھا
تو پھر کیوں گئے تھے مجھے چھوڑ کے وہ اپنا چہرہ اس کے سینے سے اٹھاتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پوچھنے لگی ۔
تم نے مجبور کیا تھا جاناں میں چھپ چھپا کر محبت کرنے والوں میں سے نہیں ہوں میں ڈنکے کی چوٹ پر کام کرتا ہوں
اگر محبت کی ہے تو سینہ تان کے کروں گا ۔
اور تمہیں بھی میرا ساتھ دینا ہوگا ۔
ہمارا نکاح آج ہی ہوگا وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بات ختم کرنے والے انداز میں بولا
لیکن جان آج ہی کیسے ممکن ہے میں نے تو ابھی تک ہمارے رشتے کے بارے میں کسی کو کچھ بھی نہیں بتایا جاناں پریشان ہوئی تھی ۔
ابھی تک ہم دونوں کے بیچ میں کوئی رشتہ نہیں ہے جاناں نکاح کے بعد ایک مضبوط رشتہ ہو گا تم سب کو بتا دینا وہ ہار ماننے کے بالکل موڈ میں نہیں تھا لیکن جاناں کا انکار اور ڈر اسے غصہ دلا رہا تھا ۔
ٹائر نکاح کے انتظامات کرو کوئی کمی نہیں رہنی چاہیے ۔
آج سے میری جاناں میری ہو جائے گی ہمیشہ کے لئے وہ ٹائرکی طرف دیکھتے ہوئے بولا تو جاناں نے ایک پل کے لئے اسے روکنا چاہا ۔
جاناں اگر تم نکاح کے لیے تیار نہیں ہو تو چلی جاؤ یہاں سے اور مڑ کر کبھی اس طرف مت دیکھنا وہ اتنے غصے سے بولا تھا کہ جاناں اپنی جگہ ساکت رہ گئی ۔
جب کہ اسے غصے میں دیکھ کر ٹائر فورا نہیں باہر کی طرف بھاگ گیا تھا ۔
وہ ایک نظروں سے بھرپور جاناں کی طرف دیکھتا باہر نکل گیا ۔
°°°°°°°°°°
سیڈے کو کون بے وقوف پڑھتا ہے ۔
آریان کب سے اسے کتابوں میں سردیےدیکھ کر بولا آج سنڈے تھا اور وہ گھر پے تھا لیکن اس کے باوجود بھی اریشفہ اپنا سارا کام ختم کرکے اپنی پڑھائی کی طرف متوجہ ہوگئی تھی اور یہی چیز آریان سے برداشت نہیں ہو رہی تھی کہ اس کے ہوتے ہوئے بھی وہ کتابوں میں سر کھپا رہی ہے ۔
اس کے سوال پر اریشفہ مسکراتے ہوئے اپنی طرف اشارہ کرنے لگی آریان نے سرد آہ بھری ۔
اتنی زیادہ پڑھائی کرنا صحت کے لیے موثر ہے اس سے بہتر ہے کہ یہ سب چھوڑو اور اپنے شوہر پر دھیان دو جو تمہارے لئے آج گھر پر ہے اس کی خدمت کرو ثواب پاؤ گی
اللہ بھی خوش ہوگا ۔
وہ اس کا دھیان اپنی طرف سے لگاتے ہوئے بولا جس پر اریشفہ آنکھیں گھما کر اس کی طرف دیکھا ۔
اور پھر اشارے سے بتانے لگی کہ اس کی پیپرز کو پندرہ دن بھی نہیں رہ گئے اور اسے تیاری کرنی ہے لیکن آریان تو آج کچھ سننے کے موڈ میں ہی نہیں تھا ۔
جب سے جاناں نے اسے فون پر بتایا تھا کہ ایک پیپرز شروع ہونے والے ہیں تب سے ہی اریشفہ کا زیادہ دھیان اپنی سٹڈیز کی طرف آ گیا تھا ۔
ویسے تو آریان روز رات اس کی بہت مدد کرتا تھا کھانا کھانے کے بعد روز اسے خود پڑھ رہا تھا لیکن اس کے اپنے ہی کچھ اصول تھے ۔
اور محبت کے معاملے میں جو اصول اس نے بنائے رکھے تھے ان پر اریشفہ جیسی لڑکی کے لیے پیرائے عمل کرنا بہت مشکل تھا ۔
اور اتوار والے دن تو وہ صاف لفظوں میں کہہ چکا تھا کہ اریشفہ سر سے لے کر پاؤں تک صرف ان کی ہے تو ایسے میں وہ اسے کوئی اور کام کرنے دیتا یہ تو ناممکن بات بھی
کوئی پڑھائی نہیں پیپر ہوتے رہیں گے پہلے ادھر دھیان دو وہ اس کی کتابیں بند کرنے لگا تو اریشفہ نے التجاً نظر اس کی طرف دیکھا ۔
بیوی اگر فیل بھی ہوگئی تو وہ بھی پروا نہیں میں اگلے سال پھر سے تمہیں تیاری کروا دوں گا لیکن اس وقت میرا موڈ خراب مت کرو اس کے گھورنے پر وہ محبت سے بولا ۔
کون سا اس کے سامنے اریشفہ کی کبھی چلی تھی جو چلنے دیتا اس کی کتابیں ایک طرف رکھ کے وہ اسے اپنی باہوں میں اٹھائے بیڈروم میں لے آیا تھا ۔
جب کہ وہ منہ پھلائے اسے نظر انداز کرتے دوسری طرف دیکھ رہی تھی آریان نے نرمی سے اسے بیڈ پر لٹایا ۔
اور پھر اس کے چہرے پر جابجا اپنے لب رکھتے ہوئے اس کی ناراضگی کو دور کرنے لگا ۔وہ جو اپنے دل میں سے ناراضگی کا پکا ارادہ کر چکی تھی اس کی جساتوں پر اسی دل کو باغی ہوتے پاکر بے بس ہو گئی ۔
اس کا ہاتھ تھا بے اختیار ہی آریان کی پیٹھ پر آرکا تھا ۔آریان ایک نظر اٹھا کر اس کے چہرے کو دیکھا
پھر مسکراتے ہوئے اس کے لبوں پر جھک کر اپنی تشنگی مٹانے لگا ۔
جب کہ اریشفہ خاموشی سے اس کی من مانیاں برداشت کرتی اس کی باہوں میں سمٹ کے چلی جارہی تھی
°°°°°°°°°°
وہ واپس آیا تو ابھی تک وہیں بیٹھی ہوئی تھی
اندر آو کمرے میں اور یہ ڈریس پہن کر تیار ہو جاؤ دو تین منٹ میں مولوی صاحب اور باقی لوگ آتے ہی ہوں گے
وہ اس کا ہاتھ تھام کے اسے اپنے اسی کمرے میں لے کر آیا تھا جہاں وہ پہلی بار اس سے ملی تھی ۔
اور پھر ایک خوبصورت لال ڈریس کی طرف کرتے ہوئے وہ دوبارہ کمرے سے نکل گیا
سب کچھ یوں اچانک ہو رہا تھا کہ جاناں مطمئن نہیں تھی۔
لیکن جان کا غصہ دیکھنے کے بعد اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا نہ تو وہ جان کو چھوڑ سکتی تھی اور نہ ہی اس کے بغیر رہ سکتی تھی
کچھ غلط نہیں ہے جاناں ہر انسان کو حق ہے محبت کرنے کا اور اپنی محبت کو پانے کا تمہیں بھی پورا حق ہے کوئی تمہیں روکنے کا حق نہیں رکھتا تم چھوٹی بچی نہیں ہو بالغ ہو اور خود اپنی زندگی کا فیصلہ کر سکتی ہو ۔لیکن بابا۔دل اور دماغ میں ایک عجیب جنگ چل رہی تھی
بابا نے تو کبھی مجھے پیار نہیں کیا کبھی مجھے اپنے قریب نہیں آنے دیا میں کبھی اپنے بھائیوں سے بھی نہیں ملی ان لوگوں نے کبھی مجھے اپنی محبت کا احساس نہیں دلایا اگر میں ان کے لئے اہم ہوتی تو کیا وہ یوں مجھے چھوڑ دیتے۔
صرف جان ہی ہے جو مجھ سے محبت کرتا ہے تبھی تو وہ مجھ سے شادی کر رہا ہے ایک مضبوط رشتہ قائم کر رہا ہے ۔
اس نے اپنے دل کو مطمئن کرنے کے لئے خود ہی دلائل دیے تھے اس نے ایک نظر ڈریس کی طرف دیکھا بے تحاشا خوبصورت ریڈ برائیڈل ڈریس ۔
اور اب وہ اس ڈریس کو دیکھتے ہوئے تیار ہونے واش روم میں جا چکی تھی ۔
اس کے دل نے فیصلہ کرلیا تھا اسے جان کی محبت سے زیادہ اور کچھ بھی عزیز نہیں تھا اسی جان کے ساتھ خوبصورت زندگی گزارنی تھی اور وہ جانتی تھی اگر ایک بار نکاح ہوگیا تو جان خود ہی سب سنبھال لے گا اپنے وعدے کے مطابق ۔
اسے جان پر پورا یقین تھا وہ محبت کے لیے لڑنے والوں میں سے تھا اور اسے یقین تھا کہ وہ خود بابا کے سامنے آئے گا اور سب کچھ بتا دے گا ۔
اسے تو بس ہمت کرکے نکاح کے پیپر پر سائن کرنا تھا اور اپنی محبت کو ایک پاکیزہ نام دینا تھا
°°°°°°°°°°
تیار ہو تم اس نے کمرے میں جھانک کر پوچھا تو ایک نظر اس کے خوبصورت سراپے کو دیکھ کر جان کھٹکا تھا ۔اس کی نظروں سے گھبرا کر جاناں فورا نظریں جھکا گئی
یوں تو مت کرو یار ابھی تو نکاح بھی نہیں ہوا اور تم میرے ہوش اڑانے پر تلی ہوئی ہو اس کے خوبصورت سراپے پر نظر ڈالتے ہوئے وہ اس کے سامنے آ روکا تھا ۔
دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی تھوڑی ہی دیر میں صرف میری ہو جائے گی وہ مسکرایا تھا
ان شاللہ جاناں کے لبوں نے سرگوشی کی بھی جس پر جان کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی تھی
بہت پیاری لگ رہی ہو میری لگ رہی ہو اس نے مسکراتے ہوئے اس کے سراپے پر ایک بھرپور نظر ڈالی تھی اس کی نظریں جابجا اس کے چہرے اور دلکشی میں الجھ رہی تھی۔پھر محبت پاس نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے اس کی طرف دیکھ کر بولا
دیکھو مجھ سے زیادہ اچھی امید مت رکھنا شادی کے بعد میں بہت ظالم شوہر ثابت ہوں گا وہ اس کی نظروں میں جھانکتے ہوئے بولا ۔
انداز سے شرارت جھلک رہی تھی ۔
جان مت کرو ایک دو بابا کو بتائے بغیر میں ویسے ہی گلٹی فیل کر رہی ہوں اور تم بھی وہ اس کے مذاق کرنے پر تھوڑی ناراض ہوئی تھی ۔
اگر اتنا ہی گلٹی فیل کر رہی ہو تو چلی جاؤ یہاں سے مت کرو نکاح اسے غصہ آنے لگا تھا
اگر تم دل سے راضی نہیں ہو جاناں تو چلی جاؤ اب بھی موقع ہے ایک بار نکاح ہو گیا نا تو تمہیں جانے نہیں دوں گا خود سے دور وہ غصے میں بے اختیار اس کا بازو پکڑ چکا تھا
تم مجھے ڈراو گے تو میں تم سے نکاح نہیں کروں گی جاناں نے اس کے غصے کو کم کرنے کی ناکام سی کوشش کی
تم انکار کرو گی۔ ۔۔۔۔۔۔۔؟
وہ انجانے میں اس کے غصے کو مزید ہوا دے چکی تھی۔
میں ایسے انسان سے شادی کرونگی جو بالکل غصہ نہ کرے اسے اپنے آپ کو گھورتے پاکر وہ معصومیت سے بولی
تم کوشش کرونا کہ مجھے غصہ نہ آئے اس کا بازو چھوڑ کر وہ اس کا دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے وہ نرمی سے بولا تھا
میں کب غصہ دلاتی ہوں تم خود ہی غصہ کرتے ہو وہ منہ بنا کر بولی
تم کام کیا کرتے ہو ۔۔۔۔۔؟
اسے خاموش پا کر وہ دوبارہ بولی شاید وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ اس کا غصہ کم ہوا ہے یا نہیں ۔
سیریل کلر( Serial killer) ہوں اس کے یکدم کہنے پر جاناں خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی
پھر اس کی شرارت سمجھ کر کھلکھلا کر ہنسی ۔اور وہ بنا پلکیں جھپکائیں اسے دیکھتا رہا
تم بولتے ہوئے اتنی پیاری نہیں لگتی جتنی کہ ہنستے ہوئے لگتی ہو اس کے کہنے پر وہ پھر سے کھلکھلائی
تم رومینٹک ہو رہے ہو کیا ۔۔۔۔۔۔۔؟
نہیں فی الحال تو صرف بتا رہا ہوں رومینٹک تومیں مولوی صاحب کے جانے کے بعد ہوں گا
جان تمہیں نہیں لگتا کہ بابا کو ایک بار میرے نکاح کے بارے میں بتا دینا چاہیے وہ اداسی سے بولی آج اس کی زندگی کا سب سے بڑا دن تھا اور وہ اپنے اس دن میں اپنے باپ کا ساتھ چاہتی تھی ۔
اور آج یہ اداسی وہ جاناں کے چہرے پر نہیں دیکھنا چاہتا تھا
تمہارا باپ نہیں مانے گا اب کچھ دیر میں مولوی صاحب آجائیں گے نکاح کے بعد تمہارے باپ کے پاس لے جاؤں گا تمہیں ۔نہ جانے کیوں اسے اور زیادہ غصہ آنے لگا تھا وہ کیوں بار بار اپنے باپ کا ذکر کر رہی تھی جب اس کی زندگی میں شامل ہونے جا رہی تھی
اگر بابا نے ہماری شادی کو قبول نہ کیا تو ۔۔۔۔؟
تو کیا۔۔۔۔۔؟جاناں کے سوال پراس نے آگے سے سوال کیا تھا
تو ہم الگ ہو جائیں گے ۔۔۔۔؟
آج یہ بکواس کی ہے آئندہ کبھی مت کرنا جان لے لوں گا تمہاری وہ ایک ہی لمحے میں اس منہ وہ اپنے ہاتھوں میں تو دبوچ چکا تھا دنیا کی کوئی طاقت تمیہں مجھ سے الگ نہیں کرسکتی میری ہو تم اگر کوئی ہمارے بیچ میں آیا تو زندہ زمین میں گاڑ دوں گا ۔
میں نے تمہیں موقع دیا تھا مجھ سے دور جانے کا مجھے چھوڑنے کا لیکن تم خود چل کر میرے پاس آئی ہوگا اور اب تمہارا وقت ختم ہو چکا ہے اب تم میری ہو صرف میری
تم اتنے شدت پسند کیوں ہو۔۔۔۔۔۔؟ اس کا دوپٹہ زمین پر گر چکا تھا جاناں کو اس سے اس وقت اس طرح کے غصے کی امید نہ تھی ۔
میں ایسا ہی ہوں اور تمہیں مجھے ایسا ہی قبول کرنا ہوگا تمہیں ایسے ہی شخص کے ساتھ ساری زندگی رہنا ہوگا وہ غصے سے اس کا منہ چھوڑ کر باہر نکل گیا یہ دیکھنے کی زحمت کیے بغیر کہ اس کے اس طرح سے چھوڑنے کی وجہ سے جاناں کا سر سامنے رکھے ٹیبل پر لگا ہے
وہ اپنے سر کی چوٹ پہ ہاتھ رکھتی خون روکنے کی کوشش کرتی وہیں زمین پر بیٹھ چکی تھی جب دو تین دن منٹ کے بعد ٹائر نے اسے مولوی صاحب کے آنے کی خبر دی ۔
اس کے ہاتھ میں ایک بینڈیج تھا جو اس نے اس کی طرف بڑھایا یہ جان نے دیا ہے ۔وہ اتنا بھی بے خبر نہ تھا جتنا جاناں نے سوچا تھا اس نے فوراً ہی اس کے ہاتھ سے بینڈیج لے لیا
وہ جانتی تھی کہ وہ غصے کا بہت تیز ہے اور اپنے غصے پر کبھی کنٹرول نہیں کر پاتا ۔اور اس بات کا اندازہ بھی اسے اس دن آئسکریم والے واقعے سے ہی ہوا تھا ۔ورنہ وہ تو جان کو ایک بہت لائٹ پرسن سمجھتی تھی لیکن اب جو بھی تھا وہ جاناں کی محبت تھا وہ اس کے بغیر نہیں رہ سکتی تھی جاناں کو یقین تھا کہ وہ اپنی محبت سے اس کا غصہ کم کرلے گی ۔
اور وہ سب بھی تو اسی کیلئے کرتا ہے اسے جان کہیں سے بھی غلط نہیں لگتا تھا ۔شاید محبت میں اندھا ہونا اسی کو کہتے ہیں
ٹھیک کہتا ہے جان مجھے اسے غصہ نہیں دلانا چاہیے کہیں نہ کہیں غلطی میری ہے میں ہی اس کے غصے کو ہوا دیتی ہوں ۔
سارے معاملے میں بے قصور ہونے کے باوجود بھی خود کو قصوروار ٹھہراتی اپنا دوپٹہ اچھے سے سر پر جماتی باہر نکل آئی ۔
اور پھر کچھ ہی دیر میں اس کا نکاح اس سنگدل انسان سے ہو گیا جس سے وہ انجانے میں محبت کر بیٹھی۔نکاح کی رسم بہت سادگی سے ادا ہوئی تھی جاناں ہمیشہ کے لیے اپنی جان کی ہو چکی تھی ۔
نکاح کے بعد وہ اٹھ کر ٹائر کے ساتھ اسے کمرے میں آگئی تھی جب کہ جان مہمانوں کو رخصت کرکے واپس اسی کمرے میں آیا تھا ۔
جاناں تمہیں چوٹ لگی تھی وہ اس کے بلکل پاس بیٹھا اس کے ماتھے پے ہاتھ رکھ کے اس کے چوٹ کو دیکھنے لگا ۔
ٹائر اسے دیوانہ کہتا تھا اس وقت وہ بھی جانا کو کوئی دیوانہ نہیں لگ رہا تھا ۔
میں ٹھیک ہوں جان کوئی بات نہیں اس کے اس طرح سے اپنی چوٹ کو دیکھ کے پا کر جاناں نے اسے مطمئن کیا تھا جبکہ وہ باربار اس کے ماتھے پہ رکھتا اس کی چوٹ کو دیکھ رہا تھا ۔
°°°°°°°°

میں بالکل ٹھیک ہوں جان وہ اسے اپنی پروا کرتے دیکھ خوش ہوئی تھی پھر اس کے پریشان چہرے کو دیکھتے ہوئے محبت سے بولی
میں نے تمہیں ہرٹ کیا اپنی زندگی میں شامل کرتے ہی میری وجہ سے تو میں چوٹ لگی بہت برا ہوں نہ میں وہ اسے دیکھتے ہوئے اگلے ہی لمحے اپنا ہاتھ اپنے چہرے پر تھپڑ کی صورت مار چکا تھا جاناں نے گھبرا کر اس کے چہرے کو تھاما ۔
نہیں جان تم بہت اچھے ہو مجھے تمہاری وجہ سے کبھی بھی کوئی تکلیف نہیں ہوگی
میں جانتی ہوں تم جتنا غصہ کرتے ہو اتناہی پیار بھی کرتے ہو اور تمہیں پتا ہے محبت اور غصہ دو واحد چیزیں ہیں جن پر ہمارا بالکل کنٹرول نہیں ہوتا شاید میں بھی بہت فضول بول گئی تھی جبکہ جانتی بھی ہوں کہ تم اپنی زندگی میں شامل کرکے مجھے ہر مسئلے سے دور رکھنا چاہتے ہو ۔
مجھے یقین ہے تم میرے بابا کو منا لو گے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔
میرے بابا بھی بالکل تمہارے جیسے ہی پیار تو بہت کرتے ہیں لیکن غصے کے بھی بہت تیز ہیں ۔میں جانتی ہوں شاید اس دن انھوں نے غصے میں مجھ سے وہ ساری باتیں کہی تھی میں بھی تو ان کو بہت تنگ کرتی ہوں نا ۔
ایک تو بھیا پر جان لیوا حملہ ہوا اور اوپر سے میں بابا کو بار بار فون کر کے انہیں تنگ کر رہی تھی جب کہ بابا مجھے ہزار بار کہہ چکے ہیں کہ جب تک وہ مجھے فون نہ کرے میں انہیں فون نہ کیا کروں
لیکن میری عقل میں کوئی بات سمائے تب نہ ۔اپنے سر پہ ہاتھ مارتے ہوئے اپنی غلطی کا اعتراف کر رہی تھی
جب کہ وہ اب بھی اس کے ماتھے کی چوٹ کو اپنی انگلیوں سے چھو کر دیکھ رہا تھا
تم پریشان مت ہو جان میں بالکل ٹھیک ہوں اس کے ہاتھ کو تھامتے ہوئے مسکرا کر بولی ۔
اچھا چلو مجھے ہوسٹل چھوڑ دو ۔ وارڈن انتظار کر رہی ہوں گی کسی کو بھی بتائے بغیر میں یہاں آئی تھی جاناں نے اسے دیکھتے ہوئے بولی تو جان نے الگ ہی انداز میں اسے گھورا تھا اور اس کے اس طرح سے گھورنے پر وہ کھل کھلا کر ہنس دی۔
جان میں جانتی ہوں ہمارے نکاح کے بعد تمہارے دل میں اس رشتے کو لے کر بہت سارے احساسات جذبات ہوں گے اور میں تمہارے سب احساسات کی قدر کرتی ہوں اور یقین مانو تمہارے ساتھ ایک نئی زندگی کی شروعات کرنے کے لیے میں دل و جان سے تیار ہوں۔
لیکن پلیز میرے پیپر ختم ہونے دو ۔ کیونکہ میں اس مسئلے کو لے کر شاید کبھی بھی ایک میرڈ لائف کو انجوائے نہ کر سکوں
میرا مطلب ہے جان میں تمہارے ساتھ اپنی زندگی کا ہر لمحہ سپیشل بنانا چاہتی ہوں اور میں نہیں چاہتی کہ جب تک میرے پیپرز ختم ہوں تب تک ہم اپنے رشتے کی شروعات کریں ورنہ میرا سارا دھیان اس طرف چلا جائے گا ۔وہ اس کے ہاتھ تھا میں اسے سمجھانے والے انداز میں بولی تھی جان زرا سا مسکرایا
مجھے باتوں میں مت لگایا کرو جاناں میں جانتا ہوں تم میرے ساتھ اس رشتے کی شروعات اس لیے نہیں کرنا چاہتی کیونکہ تم اپنے باپ سے ڈرتی ہو اسے بتائے بغیر کچھ نہیں کرنا چاہتی
پھر میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ تم اپنے بابا کو سب کچھ بتا دو اور اپنے بھائی اپنی فیملی کو بھی ۔اور جہاں تک تمہارے پیپرز کی بات ہے تو یہ تو میں بھی جانتا ہوں کہ نالائق نہیں ہو تم اپنی فیملی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے جاناں ۔
اپنی ہر پریشانی ہر مسئلہ میرے سر ڈال دو میں سب کچھ سنبھال لوں گا تمہاری فیملی اور تمہارے بابا کو میں ہینڈل کر لوں گا ۔اب سے تم میری ذمہ داری ہو ۔ تم ریلیکس ہو کر اپنے پیپرز پر فوکس کرو پھر میں خود تمہارے بابا سے ملنے آؤں گا
اور پھر میں بھی دیکھوں کون اعتراض کرتا ہے اب تو تم قانونی اور شرعی طور پر بھی میری ہو چکی ہو ۔ اب تمہارا روح دل ہی نہیں بلکہ تمارے روم روم پر میرا حق ہے اور اپنا حق لینے کے لیے مجھے تمہاری بھی اجازت کی ضرورت نہیں
وہ کہتے ہوئے بنا اسے اپنی بات سمجھنے کا موقع دیے اس کے لبوں پر جھکا تھا شدت سے بھرپور لمس اس کے لبوں پر چھوڑتا وہ کب ہونٹوں سے گردن کا سفر طے کرنے لگا جاناں خود بھی سمجھ نہیں پائی تھی دل تھا جو پسلیاں توڑ کر باہر آنا چاہتا تھا ۔
سارا جسم جیسے برف بن چکا تھا اس کے ہاتھ پیر کانپنے لگے ۔
جب کہ جان تو اپنی ہی دنیا میں مدہوش اپنی جاناں کو اپنے رنگ میں رنگنے میں مصروف تھا ۔
جاناں نے اس کے سینے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اسے خود سے ذرا سے دور کرنے کی کوشش کی تو وہ اس کے دونوں ہاتھ تھامتے ہوئے اسے اپنے ساتھ بیڈ پر لٹا گیا ۔اس کی باہوں میں پگھلتی وہ بالکل بے بس ہونے لگی تھی اس کی گردن پر جابجا اپنے لبوں کو بے لگام چھوڑتا اب وہ اپنے جنون کی ایک الگ داستان لکھ رہا تھا ۔جاناں کا روم روم کانپنے لگا ۔
جان پر تو جیسے کوئی مدہوشی سوار ہوئی تھی اس کے دونوں ہاتھ جان کی ہاتھوں میں قید تھے وہ اپنے ہاتھوں کو ہلا تک نہیں پا رہی تھی اسے روکنے کی کیا کوشش کرتی ۔
جان کا ہاتھ اس کے دوپٹے کو اس کے سر سے ہٹاتے ہوئے اس کے ڈریس کی ڈوریوں میں الجھ چکا تھا ایک ایک کرکے ساری ڈوریاں کھل گئی جاناں نے آنکھیں بند کرتے ہوئے جیسے خود سپردگی کا اعلان کیا تھا وہ جو تھوڑی بہت مزاحمت کر رہی تھی اب چھوڑ چکی تھی ۔
پھر اس نے محسوس کیا جان کا ہاتھ حرکت نہیں کر رہا تھا اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو جان اب پرسکون سا لیٹا اس کے چہرے کی سرخی کو اپنی نظروں کے حصار میں لیے مسکرا رہا تھا ۔
سوچ رہا ہوں تمہارے پیپرز کا انتظار کر ہی لیتا ہوں وہ کیا ہے نہ میں نہیں چاہتا کہ تمہارے پاس کوئی بھی بہانہ بچے اور پھر میرے دماغ میں یہ سوچ بھی ہے کہ اگر میں نے تمہیں اپنا بنا لیا تو تم تو کبھی میرے ہزار سے نکل ہی نہیں پاؤگی اور شاید میری دیوانگی برداشت کرنا بھی تمہارے بس سے باہر ہو تم ایسا کرو آرام سے اپنے پیپرز کی تیاری کرو ۔
اور پھر جب تم پیپرز کے بعد میرے پاس آؤں گی جان تمہیں اپنی جان بنا لے گا میں تمہیں اس طرح سے قید کروں گا کہ نکلنے کا کوئی راستہ تمہارے سامنے نہیں ہوگا جاناں تیار ہو جاؤ میری دیوانگی میری شدت میری محبت کو برداشت کرنے کے لیے ۔
اپنے لئے بہت مشکل ٹاسک چناہے وہ اسے چھوڑتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا تھا جبکہ وہ اسے گھور کر دیکھنے لگی تھی ۔
وہ جو اپنے آپ کو اس کی شدتیں سہنے کے لیے تیار کئے ہوئے تھی اس کے اس طرح سے پیچھے ہٹنے پر نہ جانے کتنی دیر تک اسے گھورتی رہی پھر خود ہی مسکرا دی چہرے پر سرخی چھائی ہوئی تھی اس کی قربت میں اسے مکمل اپنے اپ میں قید کر لیا تھا لیکن پھر بھی وہ اس کی بات کا مان رکھ رہا تھا
اس کرم نوازی کا شکریہ ۔ بیڈ سے اٹھتے ہوئے اپنا دوپٹہ اٹھانے لگی لیکن اس سے پہلے ہی جان اس کا دوپٹہ دور پھینکتا اس کے پیچھے آ کر اس کی ڈوریاں دوبارہ بند کرنے لگا ۔
میں چینج کروں گی جان اب یہ ڈریس پہن کر تو میں ہوسٹل نہیں جا سکتی نا اس کی قربت میں وہ گھبرائے ہوئے بولی تھی ۔
ہاں تم چینج کر لو میں ویسے بھی نہیں چاہتا کہ تمہیں اس ڈریس میں میرے علاوہ کوئی اور دیکھے ۔یہ سنگار یہ روپ سروپ صرف میرے لیے ہے اس سراپے اس دلکشی اور ان تمام رعنائیوں پر صرف اور صرف میرا حق ہے ۔
اس نے مسکراتے ہوئے اس کے ماتھے اور لبوں کے دوران ایک انگلی سے لکیر کھینچی اور پھر اس کی انگلی سے اس کے لبوں کو چھوتے ہوئے رک گئی جاناں پھر سے نروس ہو گئی تھی اس کا ہاتھ بالکل حرکت نہیں کر رہا تھا اس نے سر اٹھا کر جان کی طرف دیکھا جو مسکراتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا پھر سرگوشی نما آواز میں بولا ۔
اجازت ہے ۔۔۔
جاناں نے بے ساختہ اس کی طرف دیکھا تھا اس کی نظروں میں طلب تھی وہ حق رکھتے ہوئے بھی اجازت مانگ رہا تھا جاناں نے مسکرا کر آپا میں سر ہلایا وہ شاید کبھی بھی اس شخص کو انکار نہیں کرتی سکتی تھی ۔
جان نے جھکتے ہوئے اس کے نازک لبوں پر اپنے لب رکھ دئیے ۔
وہ جو سوچ سے ہی تھی کہ کہ وہ بس ایک چھوٹی سی کس لے گا اس کی سوچ بالکل غلط ثابت ہوئی تھی وہ تو اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں لیے ابھی اپنی پچھلی تشنگی مٹانے لگا ۔انداز ایک بار پھر سے جنون اختیار کرنے لگا ۔
جاناں نے اس سے دور ہٹنا چاہا لیکن شاید اس سے اجازت لینے کی وجہ یہی تھی کہ وہ اسے آسانی سے چھوڑنے والا نہیں تھا وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتا اسے بالکل اپنے ساتھ جوڑ چکا تھا جب کہ اس کےلب اب بھی جان کی دسترس میں تھے ۔
جاناں کی سانس رُکنے لگی لیکن شاید یہ رحم کرنا نہیں جانتا تھا جاناں نے اس سے پیچھے ہٹنا چاہا لیکن اس سے پہلے ہی جان اسے اسی طرح سے کھینچتے ہوئے دیوار کے ساتھ لگا چکا تھا جبکہ اس لب اس دوران بھی جان کے ہونٹوں میں قید تھے ۔
اس کے دونوں ہاتھ اس ظالم نے خود میں قید کر رکھے تھے ۔
جاناں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے رکتی سانس کا یہ ستم برداشت کرنا اب اس کے بس سے باہر تھا وہ سچ میں جنونی تھا شدت پسند تھا رحم کرنا نہیں جانتا تھا لیکن پھر بھی جاناں اس سے محبت کرتی تھی حد سے زیادہ سب سے زیادہ
نہ جانے کیا سوچ کر وہ اس سے دور ہٹا جاناں لمبی لمبی سانسیں لیتی بے اختیار اپنے لبوں کو چھو بیٹھی ننھا سا خون کا قطرہ اسے جان کی محبت کی نشانی دے گیا تھا وہ اس سے نظر ملائے بغیر واش روم کی طرف بھاگ گئی تھی ۔
°°°°°°°°°°°°
جان کمرے سے باہر نکالتا ٹائر کو آوازیں دینے لگا ۔
جو گھر کے باہر کھڑا تھا ۔
کیا ہو گیا ہے جان کیوں آواز ہی دے رہے ہو مجھے وہ بھی اتنے غصے سے مجھ پر اتنا غصہ کیوں کرتے ہو آج تو تمہاری خوشی کا دن ہے تمیں تمہاری جاناں مل گئی تو اس کے ساتھ خوش رہو میں تو بس اپنا سامان لینے آیا تھا جا رہا ہوں یہاں سے میں تم لوگوں کی پرائیویسی کو بالکل ڈسٹرب نہیں کروں گا
وہ حالص زنانہ انداز میں ہاتھ ہلاتا اس کے پاس آتے ہوئے اپنا سامان دکھانے لگا ۔
تم بعد میں یہاں سے جانا پہلے جاناں کو ہوسٹل چھوڑ کے آؤ ۔وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو وہ سوالیہ انداز میں اسے دیکھنے لگا ۔
جاؤ اور اسے چھوڑ کے آؤ ابھی وہ اپنے ایگزامز میں بیزی ہے سو جب تک اس کے ایگزامز نہیں ہو جاتے اس کی ساری ذمہ داری تم پر ہے اس کا بہت خیال رکھنا اور ہر وقت اس کے ساتھ رہنے کی کوشش کرنا اسے کسی بھی قسم کی مدد کی ضرورت ہو تو تم وہیں رہنا وہ اسے دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا یعنی کہ اپنی ذمہ داری وہ اسے سن رہا تھا
کیا ہوا جان تم کیا کہیں جا رہے ہو وہ اسے دیکھ کر پوچھنے لگا ۔
ہاں مجھے دو تین ضروری کام نمٹانے ہیں تب تک جاناں کا خیال تم نے رکھنا ہے ۔
پہلے وعدہ کرو کے گنجا کرو گے لسٹ میں اگلا نام لڑکی کا تھا وہ پرجوش ہو کر وعدہ لینے لگا ۔
جہاں چیپ ہو گئی بس وہی پارٹ کاٹوں گا ۔وہ اسے دیکھتے ہوئے سیریس انداز میں بولا تھا
اس چڑیل کے بال خوبصورت ہیں ٹائر نے جل کر کہا
اگر اس کے سر میں چیپ ہوئی تو بال اکھاڑ دوں گا ورنہ نہیں کسی کے بال اکھاڑنا میری مجبوری ہے شوق نہیں وہ اسے سمجھانے کی خاطر بولا تو ٹائر کا موڈ آف ہو گیا
اب نخرے بند کرو اور جاؤ جاناں کو ہوسٹل چھوڑ کے آو اسے اپنے پیپرز کی تیاری کرنی ہے وہ اسے گاڑی نکالنے کا اشارہ کرتے ہوئے اپنے کمرے سے نکلتی جاناں کی طرف متوجہ ہوا
بلیک جینز اور بلیک لیڈیز شرٹ کے اوپر لیدر جیکٹ اسے بہت سوٹ کر رہا تھا
وہ واپس اپنے بولڈ کپڑے پہن چکی تھی لیکن اس کے باوجود بھی اس کی نظروں سے چھلک شررم و حیا اسے بولڈ نہیں بننے دے رہی تھی
اگر کسی نے پوچھا تو کیا جواب دوگی وہ اس کے ہونٹوں کو دیکھتے ہوئے بولا تو جاناں فوراً اس کے سوال کی تہہ تک پہنچ گئی
پھر شرارت سے بولی کہوں گی کسی کیڑے نے کاٹا ۔
مطلب تم مجھے کیڑا کہہ رہی ہو ۔وہ مصنوعی غصے سے گھورتے ہوئے بولا تو جاناں سر ہلا گئی
ہاں کیڑا کاٹنے والا کیڑا وہ کہاں اس سے ڈرنے والی تھی ۔
اس کیڑے نے ٹھیک سے نہیں کاٹا ایک اور موقع ملے گا وہ دو قدم اس کے قریب آیا تو جاناں بوکھلا کر فورا باہر کی طرف دوڑ لگا چکی تھی اب شخص کا کوئی بھروسہ نہ تھا ۔
نکاح کے بعد تو یہ پھیل ہی گیا تھا جاناں نفی میں سر ہلاتے ہوئے سوچتی باہر نکل گئی .
°°°°°°°°
جیت کتنی پرسکون ہوتی ہے آج وہ جیت گیا تھا صرف اپنی محبت ہی نہیں بلکہ اپنا سب کچھ اگر وہ چاہتا تو وہ اسے کبھی بھی اپنے پاس رکھ سکتا تھا اپنے ساتھ لے کر آنا سکتا تھا ان دونوں میں مضبوط رشتہ آج کا نہیں بلکہ برسوں پرانا تھا
وہ تو ہمیشہ سے اسی کی تھی لیکن جان اس کے ساتھ ایک نئی شروعات کر رہا تھا اسے اپنی زندگی میں اس کی اس نئی پہچان کے ساتھ شامل کر رہا تھا پرانے رشتے کبھی ختم نہیں ہوتے ہاں لیکن بھول جایا کرتے ہیں
جان سامنے رکھی اس تصویر کو دیکھ رہا تھا جس میں چار سالہ جاناں خوبصورت سا لال دوپٹہ اپنے سر پہ ڈالے نکاح نامہ ہے اپنے باپ اکبر کا ہاتھ تھامیں سکنیچر کر رہی تھی وہ تو ہمیشہ سے ہی اس کی تھی اگر چاہتا تو حق سے اسے اپنے پاس رکھ سکتا تھا
لیکن وہ جانا. کو محبت سے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا تھا وہ چاہتا تھا کہ جو محبت جان اس سے کرتا ہے ویسی ہی محبت جاناں بھی اس سے کرے اور اب وہ اس سے محبت کرتی تھی وہ اس کی زندگی میں شامل ہو چکا تھا اس کی محبت بن کر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا تھا
°°°°°°°°
ٹائر اسے ہاسٹل کے باہر چھوڑ کر جا چکا تھا
لیکن دروازے پر ہی وارڈن نے اس کی کلاس لے ڈالی
کہاں تھی تم لڑکی یہ کوئی وقت ہے ہوسٹل واپس آنے کا تمہارا گھر نہیں ہے یہ وہ انتہائی غصے سے دیکھتے ہوئے بولی
تمہاری دوست واپس آئی ہے اس کی حالت دیکھوجا کے دو بار ڈاکٹر آچکا ہے اتنی بری کنڈیشن ہے اس کی کہ کوئی حال نہیں
اور تمہیں گھومنے پھرنے سے ہی فرصت نہیں ہے وہ انتہائی غصے سے کہتے ہوئے اسے عائشہ کی حالت کی سنگینی کا احساس دلایا
پہلے تو اسے عائشہ کو یہاں دیکھ کر جھٹکا لگا تھا جو کہ کچھ دن بعد واپس آنے والی تھی اور اوپر سے اس کے بخار میں کانپتے وجود کو دیکھ کر وہ پریشانی سے اس کے پاس آ گئی تھی
عائشہ میری جان کیا ہوا ہے تمہیں اتنا تیز بخار آپ نے ڈاکٹر کو دکھایا وہ اسے دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھنے لگی
ابھی تو بتایا کہ دو بار ڈاکٹر چکا ہے اس کے والدین نہ جانے کہاں گئے ہوئے ہیں نوکر نے فون اٹھایا تھا اور کہاں کہ صاحب اور ان کی بیوی کا کوئی اتا پتا نہیں ہے وارڈن ترکش میں اس سے بات کر رہی تھی
ڈاکٹر نے کہا ہے کہ حالت بہت خراب ہے یہ کسی چیز سے بہت زیادہ خوفزدہ ہو چکی ہے آج صبح ہی یہاں آئی تھی لیکن تم تو صبح سے غائب ہو کہاں تھی صجح سے وہ اب اس کی طرف متوجہ ہوئی تھی
وہ دراصل میرے ڈیڈی آئے تھے میں ان کے ساتھ تھی صبح سے اسی لئے اس طرف دھیان نہیں دے سکی ان کی جانب دیکھتے ہوئےجاناں نے جھوٹ بولا تھا ورنہ وارڈن نے بات کی تہہ تک پہنچ کر ہنگامہ کر دینا تھا ۔
اچھا ٹھیک ہے اب میں جا رہی ہوں تم اس کا خیال رکھنا بیچاری بہت زیادہ گھبرائی ہوئی ہے نہ جانے کیا بات ہے جب سے آئی ہے یہی بستر پر پڑی تھی دوسری کلاس کی لڑکی تمہارا پتہ کرنے کے لیے یہاں آئی تو اسے دیکھ کر پریشان ہوگئی بخار اتنا زیادہ تھا کہ سوچا اسے ہسپتال لے جاؤں لیکن اس نے صاف منع کردیا ۔
اور اب اس کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی ہے تم دھیان رکھنا کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے کہہ دینا وہ ایک نظر عائشہ کی طرف دیکھتی جاناں کو کہتی باہر جا چکی تھیں
جبکہ جاناں اب پریشان بیٹھی اس کے سر پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھنے لگی اتنے دنوں کے بعد دوست ملی بھی تھی تو اتنی بری حالت میں کہ وہ ٹھیک سے خوش بھی نہ ہو سکی اس کی واپسی پر
پتا نہیں عائشہ کو ہوا کیا تھا کہ اس کی حالت حد درجہ خراب تھی بخار کے ساتھ ساتھ اس نے جاناں کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما ہوا تھا جاناں اندازہ لگا سکتی تھی کہ وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں بھی کسی سے حد درجہ خوفزدہ ہے
°°°°°°°°
آریان اپنا سارا کام نبٹا کر جلدی سے جلدی گھر واپس آیا تھا
کیونکہ آج صبح کے تایا ابو ان کے شہر آئے تھے وہ دوپہر کو ہی انہیں گھر بھیج چکا تھا تاکہ وہ اریشفہ سے مل کر تھوڑا وقت اس کے ساتھ گزار سکیں
کیونکہ وہ اپنے ایک بہت ضروری کام کے لیے یہاں آئے ہوئے تھے انہیں شام کو ہی واپس چلے جانا تھا یقیناً اس وقت تک وہ گئے نہیں ہوں گے یہی سوچ کر خود آتے ہوئے ان کے لئے ارجنٹ ڈنر پیک کروا کے لایا تھا
لیکن پھر بھی وہ بہت لیٹ ہو گیا تھا اب اپنا سارا کام ختم کرکے وہ گھر آیا جانتا تھا کہ آج اریشفہ بہت زیادہ خوش ہو گی کیونکہ وہ کافی ٹائم سے اس کو کہہ رہی تھی کہ اسے گھر جانا ہے
وہ مسکراتے ہوئے بلڈنگ میں داخل ہوا تو گھر لاک تھا وہ اکیسٹرا کی یوز کر کے اندر آیا تو یہاں اریشفہ تھی اور نہ ہی ڈی ایس پی سر موجود تھے
۔اس نے جلدی سے اپنا فون نکالا تاکہ پتہ لگاسکے کہ وہ دونوں کدھر گئے ہیں لیکن اس کے فون پر اتنی ساری مسڈکال تھی اس نے دیکھا تو ساری کی ساری اریشفہ کی ہی تھی
وہ اسے اتنا زیادہ فون کیوں کر رہی تھی اس کا فون سائلڈ پر ہونے کی وجہ سے اسے اس کی ایک بھی کال کا پتا نہ چلا ۔یا اللہ پتہ نہیں کیوں کال کررہی ہو گی پتا نہیں کیا بات کرنی ہو گی اسے مجھ سے
لیکن اتنی زیادہ مس کالز وہ پریشانی سے اسے فون کرنے لگا وہ ہمیشہ اسے ویڈیو کو ہی کرتا تھا ۔اور اب بھی اس نے ایسا ہی کیا
فون رسیو ہوا تو سامنے اریشفہ کی جگہ اس کے تایا ابو مسکرا رہے تھے
۔معاف کرنا اریان بیٹا تمہاری اجازت کے بغیر میں اپنی بیٹی کو اپنے گھر لے کر جا رہا ہوں وہ کیا ہے کہ اس کے پیپر سے شروع ہونے والے ہیں تو اچھا ہے ایک بار سب سے مل لے
پھر تو اپنے پیپرز کی تیاری میں بیزی ہو جائے گی اریشفہ نے تمہیں بہت بار فون کیا لیکن شاید تم بیزی تھے تم نے فون نہیں اٹھایا تو میں بنا اجازت ہی اسے لے آیا یقینا تم برا نہیں مانو گے سر نے مسکراتے ہوئے کہا تو آریان بھی مسکرا دیا
اب یہ تو وہی جانتا تھا کہ اریشفہ کے بغیر تو اسے نیند بھی نہیں آتی ۔
سر میں بھی کل یا پرسوں اسے وہاں لے کر آنے ہی والا تھا عرشی تو روز کہتی تھی شادی کے بعد میں اسے بالکل بھی اس کے گھر لے کر نہیں جا سکا
آپ تو جانتے ہی ہیں کہ یہ جو کیس اس دفعہ کھلا ہے اس کی وجہ سے میں کتنا مصروف ہوں ۔آریان نے اپنا غصہ چھپانے کی کوشش کی تھی ۔
ہاں بیٹا یہ کیس بہت مشکل ہے میں سمجھ سکتا ہوں تمہاری مصروفیات کو لیکن اریشفہ کا بھی بہت دل تھا آنے کا اسی لیے میں اسے اپنے ساتھ لے آیا
کچھ دن میں واپس آ جائے گی انہوں نے سمجھاتے ہوئے کہا جب کہ آریان نے تو صرف "کچھ دن" ہی سنا تھا ۔
کچھ دن تو مشکل ہو جائے گا سر کل تومیں خود ویسے بھی وہاں آنے ہی والا ہوں آپنے ایک کام کے سلسلے میں تو میں خود ہی اس کو لینے آ جاؤں گا اب آپ کیا زحمت کریں گے اور اسی بہانے میں بھی سب سے مل لوں گا ۔
اس نے صفائی سے بات کو اپنے مطلب تک پہنچایا تھا ۔
ارے بیٹا اب تو تمہاری ہی ہے تم جب چاہے لے جانا انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔پھر تھوڑی دیر مزید باتیں کرکے فون بند کر دیا
اس دوران اریشفہ بالکل فون کے سامنے نہیں آئی تھی وہ کسی بھی طرح آریان کو غصہ نہیں دلانا چاہتی تھی اس کا دل جانتا تھا بے شک آریان ان سامنے کچھ بھی نہ کہے لیکن وہ اس وقت غصے میں تو تھا
تم تو کہہ رہی تھی کہ آریان غصہ ہوگا تمہارے اس طرح سے جانے پر وہ تو بالکل بھی غصہ نہیں ہوا اب فون بند کرنے کے بعد وہ اس کی طرف متوجہ ہوئے تو وہ مسکرا دی
یہ بات تو صرف وہی جانتی تھی کہ آریان کو تو کام سے واپس آتے ہی بس اسی کے چہرے کی طلب ہوتی ہے اسے دیکھے بنا تو وہ کوئی بات نہیں کرتا کہاں اس کے بنا رہ پائے گا
آریان کو سوچ کر وہ بہت پریشان تھی یقینا اس وقت وہ بہت غصے میں ہو گا لیکن تایا ابو کے سامنے وہ اسی طرح ظاہر کر رہی تھی جیسے اس کچھ ٹھیک ہو
اور اس کی سوچ کے عین مطابق آریان کو بہت غصہ آرہا تھا وہ جانتی تھی کہ اس کی شکل دیکھے بنا میں نہیں رہ سکتا تو اس طرح سے کیسے جا سکتی ہے دو دن صبر کرلیتی لے جاتا اسے وہ سگریٹ کے کش لگاتا ہوا ادھر سے ادھر گھوم رہا تھا ۔
لیکن غصہ کسی طرح سے کم نہیں ہو رہا تھا اب کہہ دیا تھا کہ صبح لینے آئے گا اس وقت پیچھے بھی نہیں جا سکتا ۔ ورنہ دل تو کر رہا تھا کہ ابھی واپس لے آئے اسے لیکن اسے یہ بھی سمجھنا تھا کہ صرف اسی کا حق نہیں ہے اس پہ وہ رشتے رکھتی ہے ایک فیملی رکھتی ہے جن سے وہ محبت کرتی ہے
آریان تو بچپن سے ہی اکیلا تھا تنہا تھا رشتے ناطے فیملی کسے کہتے ہیں اس سے پتہ تک نہیں تھا وہ تو اریشفہ کے آنے کے بعد اسے احساس ہوا تھا کہ اس کا بھی کوئی ہے اس دنیا میں ورنہ برسوں سے اکیلے رہتے ہوئے اسے کسی رشتے کی طلب تک نہیں تھی ۔
لیکن اب سب کچھ بدل گیا تھا
اب ہر شام کو گھر واپس آتے ہیں اسے اریشفہ شکل دیکھنی تھی
اور اسے اپنے پورے دن میں ہوئے تمام واقعات سنانے تھے وہ اسے ہر بات بتاتا تھا جن میں سارا دن اسے کتنا مس کیا کتنی بار فون کیا
کیا کیا سب شامل ہوتا تھا اور آج اسے اس کے بنا رہنا
تھا جو کہ دنیا کا سب سے مشکل ترین کام تھا اس کے لیے
°°°°°°
وہ اس وقت ایک کلب میں موجود تھا
ہاتھ میں مشروم کا گلاس تھا جسے وہ پی نہیں رہا تھا بلکہ صرف گھور رہا تھا
جبکہ دھیان سامنے ڈانسنگ فلور پر ناچتی ایک لڑکی کی طرف تھا ۔
جو خود بھی گہری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی
۔پھر تھوڑی دیر کے بعد آہستہ آہستہ اس کی طرف چلی ائی
تم کافی دیر سے مجھے دیکھ رہے ہو کیا میں تمہیں بہت اچھی لگی ۔مجھے بھی تم کافی اچھے لگے اگر تم چاہو تو ہم اس شام کو ایک ساتھ انجوائے کر سکتے ہیں
اس کا انداز کچھ ایسا تھا جیسے وہ اسے اپنی بات کی گہرائی کا مطلب سمجھا رہی ہو ۔
میں شادی شدہ انسان ہوں اس نے اس کی معلومات میں اضافہ کیا تو اس کے اپنے چہرے پر بھی ایک دلکش مسکراہٹ آ رکی نہ جانے کیسے اسے اس وقت جاناں کا خیال آ گیا وہ تو یہاں اپنے کام کے لئے آیا تھا
میرے جتنی خوبصورت تو نہیں ہوگی ۔اور اگر ہو گی تو اس میں وہ مزہ کہاں جو مجھ میں ہے ۔یقین مانو جتنا سکون میں دوں گی وہ نہیں دے پائے گی ۔ بیویاں تو صرف گھر کے لئے ہوتی ہیں سکون تو ہم جیسی عورتوں سے ملتا ہے وہ ایک آنکھ دباتی اسے اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کر رہی تھی ۔
میری جاناں سے زیادہ خوبصورت اور کوئی نہیں ہے مجھے اس کے علاوہ اور کوئی خوشی نہیں چاہیے وہ اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے بولا ۔
کیوں وہ کیا آسمان سے اتری ہوئی کوئی حور ہے
۔ پا پری ستان سے اتری ہوئی پری ۔
ایک بار مجھے آزما لو اسے بھول جاؤ گے
وہ کوئی عام لڑکی نہ تھی یہاں تو اس کا روز کا آنا جانا تھا اور یہاں کا ہر شخص اس کی قربت کے لیے تڑپتا تھا
لیکن وہ ہمیشہ اسی کو اپنے لئے چنتی جو اسے اچھا لگتا اور آج اسے جو اچھا لگا تھا وہ اس کے سامنے کسی اور کی تعریف کر رہا تھا جو اسے ہرگز گوارا نہ تھا ۔
وہ کتنی ہی دیر اس کے چہرے کو دیکھتا رہا ۔پھر اچانک ہی اسے یاد آگیا وہ یہاں جاناں کے نام پر لڑنے کے لیے نہیں بلکہ اپنے کام کے لئے آیا ہے
میرے گھر چلو گی وہ اسے دیکھ کر بولا تو اس کے چہرے پر خوشی کے کہیں رنگ جگمگائے ۔
ہاہاہا دیکھا آخر میری خوبصورتی کا رنگ تم پر چڑھ گیا
تم جہاں کہو گے تمہارے ساتھ چلوں گی بے بی وہ اس کی گردن میں باہیں ڈالتے ہوئے اس کے بالکل پاس آ گئی تھی لیکن اس سے پہلے کہ وہ اپنے لبوں سے اس کے ہونٹوں کو چھوتی جان اس کا ہاتھ تھامتے اسے گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ لے آیا تھا جب کہ وہ ٹوٹی ہوئی ڈالی کی طرح اس کے پیچھے پیچھے کھینچی چلی آ رہی تھی ۔
آہستہ چلو بی تم تو جان ہی لینے پر تلے ہو وہ مسکراتے ہوئے کہتے اسے اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی تھی
جب کہ وہ اسے اپنی گاڑی میں بیٹھاتا ڈرائیونگ سیٹ سنبھال چکا تھا ۔
زندگی کا آخری سفر مبارک ہو اس نے مسکرا کر کہا ۔جبکہ وہ اس کی بات کی گہرائی کا مطلب سمجھتے بغیر قہقہ لگا گئی
°°°°°°°°
رات جاناں کے خیال رکھنے کی وجہ سے عائشہ کی طبیعت کافی ٹھیک تھی عائشہ نے اس پر ظاہر نہیں ہونے دیا تھا کہ وہ کیوں پریشان ہے بس اسے یہ پتہ چلا تھا کہ اس کے ماں باپ غائب ہیں ۔
اس نے بے ساختہ ہی اپنی ماں کے لیے دل سے دعا کی تھی کہ وہ بالکل ٹھیک ہوں جبکہ سوتیلے باپ سے اسے کبھی بھی کوئی لینا دینا نہیں تھا وہ جیے یا مرے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا اسے بس اپنی ماں سے محبت تھی جسے وہ لاکھ انکار کے باوجود بھی اپنے دل سے نکال نہیں سکتی تھی ۔
جاناں نہانے گئی تو اس کے فون پراریشفہ کے میسج آنے لگے وہ اٹھ کر اس کا موبائل چیک کر رہی تھی جب اریشفہ کے نیچے اسے جان نامی آدمی کے میسج نظر آئے
اس نے فورا ہی اوپن کیا تھا کسی کے میسج پڑھنا بری بات تھی لیکن جاناں کوئی غیر نہیں تھی۔
اور جاناں کے لئے وہ کچھ بھی برا نہیں سوچنا چاہتی تھی
اسی لیے وہ اس کے ہر موو پر نظر رکھتی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ جانب بہت معصوم ہے اور اپنی زندگی کو بہت مشکل طریقے سے گزار رہی ہے
وہ اس کی زندگی میں کبھی بھی کچھ برا نہیں ہونے دے سکتی تھی اور جان نامی شخص کو وہ خود نہیں جانتی تھی اس لئے اس کے میسج دیکھنا اپنا فرض سمجھا
وہ سارے مسجز کو پڑھ چکی تھی یہ بات سمجھنا اس کے لئے مشکل نہیں تھا کہ جان اس کے لئے ایک بہت خاص شخصیت ہے جانا واش روم سے نکلتی اپنا موبائل عائشہ کے ہاتھ میں دیکھ چکی تھی ۔
کون ہے یہ وہ جان کے میسجز اس کے سامنے کرتی غصے سے بولی تھیں جاناں نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا لیکن دل بہت بری طرح سے دھڑکنے لگا تھا
آخر کار وہ پکڑی گئی
اور اب وہ عائشہ کے میسج پڑھنے والی حرکت کا برا منائے بغیر اپنی صفائی دینا شروع کر چکی تھی ۔
وہ بہت اچھا ہے عائشہ مجھ سے بہت پیار کرتا ہے مجھے ہمیشہ سے جانتا ہے تم اس سے ملو گی نہ تو تمہیں بھی وہ بہت اچھا لگے گا پلیز میرا یقین کرو وہ بہت اچھا ہے
میں اس سے ملنا چاہتی ہوں وہ اس کی بات پر دھیان دیئے بغیر غصے سے بولی تو جاناں صرف ہم سر ہلا گئی۔
میں ابھی اس سے ملنا چاہتی ہوں اس بار وہ مزید غصے سے بولی تو جاناں نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا پھر ہاں میں سر ہلا گئی ۔
کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ اسے جو بھی کہے ایسا نے وہی کرنا ہے جو اسے بہتر لگے گا
اس وقت عائشہ بھی اپنا ڈر بلائے صرف اسی کے بارے میں سوچ رہی تھی
کہاں ہے تمہاری بیوی مجھے بھی تو بتاؤ میں بھی تو دیکھوں اس حسین اپسرا کو وہ اس کے گھر میں داخل ہوتی شان بے نیازی سے صوفے پر ٹانگ پے ٹانگ رکھ کر بیٹھ گئی ۔
اسے چھوڑو تم اپنی بات کرو وہ اس کے سامنے کھڑا کہنے لگا ۔
ابھی وہ اسے کہہ رہا تھا جب اس کا فون بجا اس نے فوراً فون اٹھا لیا تھا ۔
جان میں تم سے ملنا چاہتی ہوں جاناں فون اٹھاتے ہی بول اٹھی
ہاں میری جان کیوں نہیں جب تم کہو اس نے مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا تھا ۔
ہم تھوڑی دیر میں ملتے ہیں میں تمہیں فون کروں گا اس نے کہتے ہوئے فون بند کر دیا تھا
اسی کا فون تھا نہ اسی چڑیل کا میں ملنا چاہتی ہوں اس سے ارے دکھاؤ تو مجھے اس ڈائن کو میں بال نوچ لوں گی اس کے جو تمہیں میرے بالوں سے خوبصورت لگتے ہیں ۔
آنکھیں نکال دوں گی اس کی جو روز تمہیں دیکھتی ہیں بتاؤ تو سہی ہے کہاں ۔
وہ مجھ سے خوبصورت کیسے ہو سکتی ہے ایک بار نظر تو آئے مجھے میں جان نکال دوں گی اس کے وہ سامنے کھڑے جان کو دیکھتے ہوئے بولی نہ جانے اس شخص میں ایسا کیا تھا جو آج تک اسے کسی میں بھی محسوس نہیں ہوا ۔
بس وہ اس شخص کو حاصل کرنا چاہتی تھی جبکہ وہ اسے سرخ آنکھوں سے اسے گھور رہا تھا جیسے اس نے کچھ غلط کہہ دیا ہو
لیکن وہ تو خود سے زیادہ کسی کو حیسن سمجھتی نہیں تھی اس کے لئے جاناں کی خوبصورتی بھی کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی لیکن اہمیت رکھتا تھا سامنے کھڑا یہ آدمی جو اس کے سامنے جاناں کے گن گا رہا تھا ۔
تمہیں میری جاناں کے بارے میں ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا تمہیں اس کے لیے ایسے الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہیے تھے جان تو میں تمہاری ویسے بھی لینے والا تھا لیکن اب شاید جو ہو گا وہ پہلے نہیں ہونا تھا ۔
وہ آہستہ آہستہ اس کی طرف قدم بڑھتا اسے بھی پریشان کر گیا تھا وہ کیا کہہ رہا تھا سامنے بیٹھی لڑکی کو تو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔
پھر اس نے اپنا موبائل فون نکالا کسی کو فون کیا ۔
میں نے جو کام کہا تھا وہ ہوا ۔۔۔! اس نے سوال کیا ۔
میں تھوڑی دیر میں ان دونوں لڑکیوں کو لے کر فلیٹ میں پہنچ جاؤں گا تب تک تو تم اس لڑکی کا کام تمام کر دینا ۔ٹائر نے کہتے ہوئے فون رکھا جبکہ جان اب پوری طرح اس لڑکی کی طرف متوجہ تھا
°°°°°°
یہ کیا چمچ نہیں ہے ساتھ اب کیا ہاتھوں سے کھاؤں گا یہ چاول اس کا موڈ سخت بگڑا لیکن بھوک بھی بہت لگی تھی اس نے جلدی سے چاول پلیٹ میں نکالے
ایک تو بھوک سے جان نکلے جارہی ہے ایسے میں یہ ٹائر کام بھی پورا نہیں کرتا ۔کھانا لانے کی زحمت اگر کر ہی دی تھی تو چمچ بھی ساتھ لے آتا
وہ پانی کا گلاس اور چاول کی پلیٹ لاکر واپس وہیں آ کر بیٹھ گیا
اس نے ایک نظر فرش پر پڑے خون پر ڈالی۔ یار اب اس کا کیا کرنا ہے
اب اس نے نظروں سے سامنے پڑی لڑکی کو دیکھا ۔
جس کی حالت اتنی خراب تھی کہ کوئی عام آدمی اسے دیکھ لیتا تو اسے ابکائی آنے لگتی
وہ خاموشی سے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ چرائے بیٹھا اور اپنا گلاس سامنے خون سے بڑے ہوئے ٹیبل پر رکھ دیا
جیسے ہی اس نے پہلا نوالہ لیا اس کی نظر ٹیبل پر ہی پڑی انگلی پر پڑی جو تھوڑی دیر پہلے اس نے فرصت سے اس لڑکی کی کاٹی تھی ۔
اس نے ایک نظر تھوڑا جھک کر اس لڑکی کو ٹیبل کی شیشے سے دیکھا ۔
جس کی ایک آنکھ غائب ہیں اور دوسری باہر نکل رہی تھی ۔
اور اس کے ایک انگلی ٹیبل پر جبکہ باقی نو زمین پر تھی ایک بازو دروازے کے قریب پڑا تھا ۔
دوسرا اس کے ساتھ صوفے پر وہ پرسکون ہو کر اپنی انگلیوں کی مدد سے چاول کھانے لگا ۔
مکمل کھانہ کھا کر اس نے پلیٹ ٹیبل پر رکھی اور پانی کا گلاس ایک ہی سانس میں پی گیا ۔
پھر آرام سے اٹھا اپنا پیر اس کے خون سے بچاتے ہوئے اس کے بلکل قریب اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا
درد ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔؟اس نے مردہ جسم سے پوچھا
تمہیں میری جاناں کے خلاف بکواس نہیں کرنی چاہیے تھی نا تم جانتی ہو نہ میں اس سے کتنا پیار کرتا ہوں ۔کیا کہہ رہی تھی تم جان لے لو گی اس کی لو میں نے تمہاری جان لے لی
اور کیا کہہ رہی تھی تم بال نوچ لوگی میری جاناں کہ اس نے لڑکی کے گنجے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ۔
آنکھیں نکالوگی میری جاناں کے ۔اس نے اس کے آنکھوں کو دیکھتے ہوئے قہقہ لگایا
تم نے صرف سوچا تو میں نے تمہارا یہ حال کر دیا
اگر کسی نے میری جاناں کی طرف دیکھنے کی بھی کوشش کی تو اس کا حال میں اس سے بھی بدتر کروں گا ۔
وہ صرف میری ہے صرف میری بیسٹ کی بیوٹی
°°°°°°°°°
سامنے پڑے فرش پہ خون کو دیکھ کر وہ ریلیکس فیل کر رہا تھا
نہ جانے خون کا گہرا سُرخ رنگ اسے اتنا کیوں پسند تھا ایک عجیب سا نشہ تھا اسے سکون ملتا تھا
اگر اس کی جاناں اسے اس طرح سے دیکھ لیتی تو ڈر کر کبھی اس کے پاس بھی نہ آتی ۔
وہ فرش سے اٹھ کر ان دونوں لڑکیوں کے وجود کے قریب آیا
جبکہ ٹائر اس وقت تھوڑی دیر پہلے ہونے والی کاروائی کی صفائی کر رہا تھا
ہمیں۔۔۔۔۔ چھوڑ دو۔۔ ہم نے۔۔۔۔۔۔ تمہارا کیا۔۔۔۔۔۔ بگاڑا ہے خدا کے لیے ۔۔۔۔چھوڑ دو ۔۔۔۔لڑکی روتے ہوئے بولی ۔
شس۔۔۔۔ شسش۔ ۔اس نے اپنے ہونٹوں پے انگلی رکھ کر ان دونوں کو خاموش کروایا ۔
شٹ اپ تم دونوں مرنے والی ہو اور اس طرح سے رو رو کر مجھے اریٹیٹ مت کرو ۔
مجھے مزا نہیں آئے گا ۔
وہ غصے سے ان دونوں کو ڈانٹتے ہوئے ایک لڑکی کی انگلی پکڑ چکا تھا ۔
اور پھر اگلے ہی لمحے اس نے انگلی کو اپنے ہاتھوں سے کاٹ دیا ۔
واو۔۔۔۔واو دیکھو تمہارے خون کا کلر کتنا پیارا ہے ۔۔۔تم لڑکیاں ہر چیز میں پنک کلیر ڈھونڈتی ہونا اسے دیکھو یہ سرخ لال رنگ ۔کتنا خوبصورت رنگ ہے لیکن اتنا کم کیوں ہے ۔مجھ زیادہ رنگ دیکھنا ہے ہر طرف لال ہر طرف سرخ رنگ ۔اس نے پاگلوں کی طرح کہتے کہ ہوئے لڑکی کی ایک کرکے ساری انگلیاں کاٹ دی ۔
لڑکی اونچی آواز میں رو رہی تھی چلا رہی تھی جبکہ اس کو اس طرح سے روتے دیکھ کر دوسری لڑکی بھی بری طرح سے رونے رہی تھی شاید وہ بھی اپنا انجام جانتی تھی ۔
اب تمہاری باری اب وہ دوسری لڑکی کے قریب آ کر بیٹھا تو وہ ڈر کر پیچھے ہٹنے لگی۔
لیکن شایداس کی قسمت اچھی تھی کہ اس کا فون بج اٹھا ۔
اس نے ٹائر کواشارہ کیا جو اپنی خوبصورت ادائیں دکھاتا آیا اور مضبوط مردانہ ہاتھ دونوں لڑکیوں کے منہ پر رکھ دیا ۔
آواز مت کرنا میری جاناں کا فون ہے ۔اس نے سرگوشانہ انداز میں کہا تھا ۔
جی جان ۔۔۔۔۔وہ اپنے لہجے میں دنیا جہان کی محبت لئے بولا تھا ۔
کہاں ہو تم ۔۔۔؟تم نے کیا کہا تھا مجھ سے کہ تم کچھ دیر میں مجھ سے ملنے والے ہو اور پھر تم نے فون بند کر دیا ہاں ۔دیکھو مجھے ابھی تم سے ملنا ہے بتاؤ مجھے کہاں ہو شاید ملاقات نہ ہونے کی وجہ سے اس کی جاناں آج بہت غصے میں تھی
جاناں اس وقت تو میں فلیٹ میں ہوں ۔میں کچھ ہی دیر میں تمہارے ہوسٹل آتا ہوں ۔جاناں سے کہیں زیادہ وہ خود اس سے ملنے کے لیے بے چین تھا ۔
نہیں بدھو تم مت آو میں آئی ہوں تمہارے فلیٹ میں عائشہ بھی میرے ساتھ ہے ۔اسے یہاں کچھ کام تھا اس نے مجھے بتایا تو میں بھی اس کے ساتھ آگئی ۔اسے میں نے تمہارے بارے میں سب کچھ بتا دیا ہے اب وہ تم سے ملنا چاہتی ہے جاناں نے اس سے آدھی ادھوری بات بتائی
ہم بس دو منٹ میں اوپر آ رہے ہیں جاناں نے بتاتے ہوئے فون بند کر دیا ۔
جلدی ۔۔۔۔جلدی سے صاف کرو ایک ایک چیز صاف کرو کچھ بھی گندا نہیں ہونا چاہیے یہ خون فرش سے ہٹاؤ اسے خون سے ڈر لگتا ہے جان نے اسے دیکھتے ہوئے کہا اس کے بارے میں سب کچھ جانتا تھا ابھی کچھ دن پہلے جب اس نے جان کے ہاتھ پر چوٹ دیکھی تھی کتنی خوف ذدا ہو گئی تھی اور اگر وہ یہاں اتنا خون دیکھ لیتی تو یقیناً بے ہوش ہوجاتی ۔وہ جلدی سے ٹائر کو حکم دیتا خود بھی اس کے ساتھ کام کرنے میں مصروف ہو چکا تھا جب کہ وہ دونوں لڑکیاں اونچی آواز میں چلانے لگی شاید ان کی جان بچنے کا یہ آخری موقع تھا ۔
جب کہ وہ ان دونوں کو اگنور کیے اپنے کام میں مصروف تھا ۔
جتنا جلدی ہو سکے دونوں نے مل کر فرش صاف کیا اور وہاں سے ان دونوں لڑکیوں کی انگلیاں اٹھائیں لیکن ان لڑکیوں نے چلانا اب تک بند نہ کیا ۔
جب ایک ہی لمحے میں وہ ایک لڑکی کو گھسیٹ کر اندر لے آیا اس کا منہ دبوچتے ہوئے زبان باہر نکالی ۔
بہت شوق ہے نہ تمہیں چلانے کا آج تمہاری جان بچ سکتی تھی میں اپنی جاناں کے صدقے تمہیں بخش سکتا تھا لیکن اگر تم اپنا منہ بند رکھتی تو لڑکی باہر لٹکی ہوئی زبان کو اس نے کینچی کی مدد سے کاٹا تھا ۔پھر وہ باہر آیا۔اس لڑکی کی حالت کیا تھی یہ سوچتے ہوئے بھی دوسری لڑکی کی روح کانپ اُٹھی تھی
آواز نہیں آنی چاہیے تمہاری وہ دوسری لڑکی کی آنکھوں میں دیکھ کر غرایا جس نے فوراً نفی میں سر ہلاتے ہوئے اسے یقین دلایا کہ اس کی آواز نہیں آئے گی ۔
ٹائر اسے لے کے جاؤ یہاں سے اس نے لڑکی کی طرف اشارہ کیا اور خود جلدی سے کپڑے چینج کیے اور دروازہ کھولا ۔
ارے بدھو بیل تو بجانے دیتے ۔۔جاناں نے اندر آ کر کہا
کیسے بجانے دیتا ہوں میری وجہ سے تمہیں اتنی سی بھی تکلیف ہو میری برداشت سے باہرہے وہ اس کے ہاتھ کی انگلیوں کو اپنے لبوں سے چومتے ہوئے بولا ۔
عائشہ نے ایک نظر اسے دیکھا کافی خوبصورت نوجوان تھا عائشہ نے بس ایک نظر اسے دیکھا کافی خوبصورت اور خوبر جوان تھا اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ شخص وہی ہوسکتا ہے جس سے وہ پہلے بھی مل چکی ہے اور آج تک اس سے ملاقات کے خوف کے زیر اثر ہے۔
جان نے مسکرا کر اسے ہیلو کہا تھا جس کے بدلے میں وہ بھی مسکرائی
یہ عجیب سے سمل کیوں آرہی ہے عائشہ نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا وہ ابھی نجانے کیا کیا کہہ رہی تھی لیکن اس کی ایک ہی گھوری نے اس کی بولتی بند کردی
ہاں بہت گندی سمیل آ رہی ہے ۔اس بار جاناں بولی سخت آنکھیں اپنے آپ پر نرم ہو چکی تھی ۔
پتہ نہیں میں بھی کافی دیر سے محسوس کر رہا ہوں چلو باہر چلتے ہیں ۔اس نے جاناں کا ہاتھ تھامتے ہوئے باہر کی راہ لینی چاہیے
لیکن عائشہ نے اس کی بے اختیاری پر جاناں کو انکار کرنے کے لئے بولا
ارے نہیں میں تو بس تم سے ملنے آئی تھی ہم واپس جا رہے ہیں ۔وہ کیا ہے نہ میری فرینڈ تم سے ملنا چاہتی تھی ۔
عائشہ یہ ہے جان ۔اور میں اس کی جاناں ۔جاناں نے شرارت سے اس کے قریب کھڑے ہوتے ہوئے عائشہ سے کہا ۔
تو تم ہو اس کے بوائے فرینڈ ۔۔۔۔؟ عائشہ نے اپنا ہاتھ اس کے طرف بڑھاتے ہوئے کہا
بوائے فرینڈ نہیں ہزبینڈ میرا مطلب ہے ہونے والا ہزبینڈ رائٹ اس نے ایک نظر اپنے قریب کھڑی جاناں کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
جاناں کی نظروں کا مطلب ہو جلدی سمجھ گیا تھا مطلب کہ یہ لڑکی ابھی تک ان کے نکاح کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی
وہ بظاہر عائشہ سے مسکرا کر باتیں کر رہا تھا لیکن نہ جانے کیوں وہ اس کی نظروں میں اپنے لئے سختی کو محسوس کر چکی تھی نہ جانے کیوں وہ اسے گھور کر دیکھ رہا تھا
یس ۔جاناں نے اس کے کندھے پر اپنا سر رکھا
اسے اس طرح سے خود کو گھورتے پاکر عائشہ نظروں کا زاویہ بدلا لیکن سامنے پار کے کمرے کے بند دروازے سے بہتے ہوئے خون کو دیکھ کر اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے لیکن جب نظر پردے کے پیچھے کٹی ہوئی انگلی پر پڑی تو اس کا وجود لرزنے لگا ۔
جاناں چل یہاں سے اس نے کپکپاتی آواز میں جاناں سے کہا تھا ۔جبکہ اس کی آواز سن کر اس کے لبوں پر پرسرار مسکراہٹ کھلی تھی ۔
ایسے کیسے چائے تو پی لو اسے خود سے خوف کھاتا دیکھ کر وہ اسے چائے آفر کرنے لگا
نی ۔۔۔۔نہیں نہیں پینی چاہیے چلو جاناں وہ جاناں کا ہاتھ تھام کر گھسیٹنے لگی
جاناں مجھے لگتا ہے تمہاری سہیلی کی طبیعت خراب ہے اسے لے جاؤ اس نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
ہاں اس کی طبیعت بہت خراب ہے جب سے ہوسٹل واپس آئی ہے روز بخار چڑجاتا ہے ہم دوبارہ آئیں گے تم سے ملنے کے لیے جاناں مسکرا کر اسے خدا حافظ کرنے لگی جب جاناں کا ہاتھ چومتے ہوئے اس نے اپنا فون کان سے لگایا تھا
جو میرے خلاف بکواس کرتے ہیں میں ان کی زبان کاٹ دیتا ہوں ۔وہ کان سے فون لگائے عائشہ کو گھور رہا تھا۔
جبکہ اس کی بات سننے کے بعد وہ لڑکھڑا کر گرنے لگی اگر جاناں سے نہ تھمتی تو یقیناً گر جاتی شاید وہ اس سے اپنی بات کا مطلب سمجھا رہا تھا مطلب کہ اگر اس نے جاناں کواس بارے میں کچھ بھی بتایا تو وہ اس کی زبان کاٹ دے گا ۔
اس نے ایک نظر اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا کچھ تو تھا جو اسے یاد آیا لیکن وہ جاناں کو وہاں سے لے کر جلدی نکلنا چاہتی تھی
ان کے جاتے ہی وہ قہقہ لگاکر ہنسا تھا ٹائر بھی تالیاں بجاتا اس کے پاس آ کر رکا
ٹائر تو نے دیکھا اس عائشہ کو بہت میری جاناں سے بھی زیادہ ڈرپوک ہے
وہ مجھ سے ڈر رہی تھی لیکن میری جاناں کو مجھ سے ڈر نہیں لگتا مجھ سے بہت پیار کرتی ہے
اس کی خوشی میں اس کا دوست ٹائر بھی بہت خوش تھا
لیکن اگر اس نے جاناں کو کچھ بتا دیا تو وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا ابھی تو پچھلا معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا وہ لڑکی اسے قتل کرتے ہوئے دیکھ چکی تھی اور اب یہاں پر کٹی انگلی کے ساتھ ساتھ خون کی نہر بھی ۔
وہ کسی کو کچھ نہیں بتائے گی تو بے فکر رہ جان نے مسکراتے ہوئے کہا تو ٹائر بھی بے فکر ہو گیا
راستہ بالکل خاموشی سے گزر رہا تھا
وہ اس سے بالکل بھی بات نہیں کر رہا تھا
اور اریشفہ بے چاری بار بار نظریں اٹھا کر اس کی جانب دیکھی لیکن وہ بالکل انجان بنا گاڑی چلانے میں مصروف تھا
جیسے گاڑی میں بالکل اکیلا ہو اس کے ساتھ کوئی موجود ہی نہ ہو
اریشفہ یہ تو جانتی تھی کہ وہ اس خفا ہوا ہے لیکن وہ اسے اس طرح سے نظر انداز کرے گا یہ بات اسے بہت چُب رہی تھی
صبح ہوتے ہی وہ اسے لینے آ پہنچا تھا کہنے کو تو اس نے کہا تھا کہ وہ کسی کام کے سلسلے میں آیا ہے جو واپسی پر سرانجام دے گا
لیکن واپسی پر اس نے کوئی کام نہیں کیا تھا بس اسے لے کر واپس گھر کے راستے پر چل پڑا تھا
اریشفہ نے یہی سوچا تھا کہ گھر جاکر اسے منانے کی بھر پور کوشش کرے گی
ایک تو وہ اس سے پہلے بار ناراض ہوا تھا
دوسرا اس سے تو کبھی کوئی ناراض ہی نہیں ہوا تھا اسے تو منانا تک نہیں آتا تھا
پتا نہیں اپنے محبوب شوہر کو کیسے منائے گی
بہت ساری سوچیں اس کے ذہن و دل پر سوار تھی
وہ آریان کو اس طرح سے حفا دیکھ کر اندر ہی اندر بہت پریشان تھی ۔آریان کا یہ بے گانہ پن اسے بہت الجھن میں مبتلا کر رہا تھا
۔اور سب سے اہم بات اس کے غصے کا لیول کیا تھا وہ تو یہ بھی نہیں جانتی تھی بلا ایسے منائے گی کیسے
وہ بار بار نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھتی جو بالکل بھی اس کی طرف متوجہ نہیں تھا اور اس کا معصوم دل ڈوبتا جا رہا تھا آج آریان کی ناراضگی نہ جانے کون سا طوفان لانے والی تھی
سفر ختم ہو چکا تھا وہ گھر کے باہر گاڑی کھڑی کرتا بنا بھی اسے مخاطب کیے اندر چلا گیا
شاید اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہا تھا
اریشفہ خاموشی سے اٹھ کر اس کے پیچھے پیچھے ہی اندر آ گئی ۔
اب وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے اندر کی جانب جا رہی تھی جہاں وہ اپنے کام کی تیاری کرتے ہوئے یونیفارم لئے باتھ روم میں گھس چکا تھا
اور اس نے فورا کیچن کی طرف دوڑ لگائی ناشتے کا وقت تو گزر گیا تھا دوپہر کے کھانے کا وقت ہو چکا تھا عرش والے جلدی جلدی ہاتھ چلائے آریان نے وہاں پر بھی کچھ نہیں کھایا تھا اور اسے یقین تھا کہ وہ گھر سے کچھ کھا کر نہیں آیا
کیونکہ استنبول سے اس کے گھر کا سفر تقریبا ساڑھے تین گھنٹے کا تھا اور اسے پتہ تھا کہ آریان نے یہ سفر بھوکے ہی طے کیا ہوگا
اس نے جلدی جلدی ہاتھ چلاتے ہوئے آریان کے لئے کھانا بنایا تھا لیکن جیسے ہی اس نے میز پر کھانا رکھا آریان کی گاڑی کی آواز باہر سے آئی
اس نے دور کر دروازے پر دیکھا تھا لیکن آریان اپنی گاڑی اسٹارٹ کیے وہاں سے جا چکا تھا اس کی آنکھوں میں پانی آنے لگا اس کا شوہر اس سے اس حد تک خفا تھا
°°°°°°°°
کیا ہوا عائشہ تم جب سے آئی ہو بہت پریشان ہو کیا تمہیں جان سے مل کر اچھا نہیں لگا کیا وہ تمہیں پسند نہیں آیا جاناں کب سے اس کے پاس بیٹھی مسلسل اسکا سرکار ہی تھی ۔
جبکہ اس کا دھیان ابھی تک اس جان کی نظروں پر تھا کچھ تو تھا اس کی نظروں میں کچھ تو ایسا تھا جسے وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی
نہ جانے کیوں اس بیسٹ اور اس جان میں اسے پر کرنا بہت مشکل لگ رہا تھا
کیا وہ خون اصلی تھا کیا وہاں پر وہ انگلی سچ میں ایک انسان کی تھی عائشہ اپنی ہی سوچوں میں بری طرح سے ڈوبی ہوئی تھی جب جاناں نے اس کے بازو سے پکڑ کر ہلایا
بولو نہ عائشہ کیا تمہیں جان پسند نہیں آیا
کیا تمہیں اس سے مل کر خوشی نہیں ہوئی
وہ بہت اچھا ہے مجھ سے بہت پیار کرتا ہے میرے بھائی اور بابا سے بھی زیادہ جاناں اسے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی
جاناں اتنے تھوڑے وقت میں کسی پر بھروسہ کرنا سوائے بیوقوفی کے اور کچھ نہیں ہے تم اس پر ضرورت سے زیادہ جلدی بھروسہ کر رہی ہو تم بے وقوفی کر رہی ہو جاناں کیا جانتی ہو تم اس شخص کے بارے میں جو تم اس سے محبت کا دعویٰ کرنے لگی ہو یا وہ تمہارے بارے میں کیا جانتا ہے ہاں وہ انتہائی غصے سے اس کے سامنے جان کی ناپسندیدگی کی وجہ بتانے لگی
میں جان کے بارے میں سب کچھ جانتی ہوں
وہ مجھ سے پیار کرتا ہے اور میں اس سے پیار کرتی ہوں
اس سے زیادہ ہمیں ایک دوسرے کو جاننے کی ضرورت نہیں ہے
اور اگر جان کی بات کروں تو میرے بارے میں سب کچھ جانتا ہے سب کچھ عائشہ وہ مجھے بچپن سے جانتا ہے
میری زندگی کا ہر لمحہ اس کی آنکھوں کے سامنے گزرا ہے
وہ مجھ سے بہت پیار کرتا ہے
عائشہ دیوانوں کی طرح تم نے اس کی محبت نہیں دیکھی ورنہ اس طرح کبھی نہیں کہتی تم ایک بار اس کی محبت کو دیکھ لو پھر دیکھنا تمیں بھی جان اچھا لگنے لگے گا وہ اسے سمجھانے کے لیے مضبوط دلائل ڈھونڈنے لگی
یہ ساری باتیں لڑکے لڑکیوں کو پھنسانے کے لیے اکثر کرتے رہتے ہیں جاناں
اب کیا کوئی بھی اٹھ کر تم سے یہ کہے گا کہ وہ تمہیں بچپن سے جانتا ہے تو کیا تم اس پر یقین کر لوگی
یہ ساری باتیں لڑکے لڑکیوں کو امپریس کرنے کے لئے کہتے رہتے ہیں اس نے بھی بول دیے ہوں گے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ تمہیں سچ میں جانتا ہے ۔
نہیں عائشہ اس کے پاس میرے بچپن کی تصویریں ہیں
جاناں یہ سب کچھ آج کل مشکل نہیں ہے کسی بھی انسان کے بارے میں جاننا ہے اس کی انفرمیشن اکٹھا کرنا یا اس کی تصویر نکالنا کوئی مشکل کام نہیں ہے
یہ انٹرنیٹ کا دور ہے جاناں بیوقوف مت بنو اگر تم اس سے محبت کرتی ہو تو ٹھیک ہے میں تمہارے راستے میں نہیں آوں گی لیکن اگر اس نے کل تم سے شادی کرنے سے انکار کردیا تو کیا کرو گی ہم مسلمان ہیں جاناں ہماری آخری منزل نکاح ہوتا ہے
وہ اسے سمجھا رہی تھی
جبکہ جاناں مسکرا کر اسے قریب سے اٹھ کر اپنے بیڈ پر لیٹ چکی تھی اگر اسے اپنے بابا کا ڈر نہ ہوتا تو وہ اسے بتا دیتی کہ وہ محبت کی آخری منزل بھی طے کر چکے ہیں
°°°°°°°°°°
جاناں گہری نیند سو چکی تھی
جب عاشی کا فون پر جا وہ آہستہ سے فون اٹھا کر نمبر دیکھنے لگی انجان نمبر سے فون آ رہا تھا اس بلا انجان نمبر سے کون کرے گا
اس نے سوچتے ہوئے فون دوبارہ رکھ دیا اس طرح کے فون اٹھانے کی غلطی وہ نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن شاید فون کرنے والا کوئی ڈھیٹ آدمی تھا جو بار بار نان سٹاپ فون کیے ہی جا رہا تھا
عائشہ نے مجبور ہوکر فون اٹھایا ایک نظر اس نمبر پر ڈالی جو اس کے لئے بالکل بھی آشنا نہیں تھا پھر فون اٹھا ہی لیا ۔
ہیلو عائشہ کیا تم بول رہی ہو دوسری طرف سے طہ کی آواز پہچان نا اس کیلئے مشکل نہیں تھا
طہ کیسے ہو تم مجھے نہیں پتا تھا کہ یہ نمبر تمہارا ہے سوری میری وجہ سے تمہیں بار بار فون کرنا پھر اس نے مسکراتے ہوئےسوری کی تھی تو دوسری جانب طہ بھی مسکرا دیا
نہیں کوئی بات نہیں تم بتاؤ آپ کیسی طبیعت ہے تمہاری بخار اترا کے نہیں وہ مسکرا کر بولا تو عائشہ بھی مسکرا دی
پھر کچھ سوچتے ہوئے بولی
طہ مجھے تم سے کوئی بہت ضروری بات کرنی ہے بیسٹ کے بارے میں کیا ہم مل سکتے ہیں بیسٹ کے بارے میں کوئی بھی بات وہ اس وقت جاناں سے تو شئر نہیں کر سکتی تھی اور نہ ہی وہ اس نازک دل لڑکی کو بتا سکتی تھی اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے کیا ہوتا دیکھا ہے
عائشہ اس بیسٹ کو تم اپنے دماغ سے نکال کیوں نہیں دیتی
پلیز عائشہ اسے اپنے دل سے نکال کر اپنے پیپرز پر دھیان دو ایک ایسے شخص کے بارے میں سوچنا جسے تم نے دیکھا تک نہیں
میں نے ایک انسان کو دیکھا ہے طہ اور مجھے لگتا ہے کیوں وہی بیسٹ ہے میں نے تمہیں بتایا تھا نا کہ میں نے ابھی اس کو دیکھا ہے اس کی آنکھیں اور اس آدمی کی آنکھیں بالکل ایک جیسی ہیں سرد بے رحم تم ایک بار مجھے ملو میں تمہیں سب کچھ بتاؤں گی وہ کچھ سوچتی ہوئے کہنے لگی تو طہ نے بھی حامی بھر لی تھی اوکے عائشہ میں تمہیں کل صبح ریسٹورنٹ میں ملتا ہوں ۔
لیکن پلیز اس وقت ریلیکس ہو کر سو جاؤ اپنے دماغ سے یہ سوچے نکال دو عائشہ اپنے پیپرز پر دھیام دو اپنے کیلیر کے بارے میں سوچو تمہارے سامنے تمہارا فیوچر ہے تم ایک انسان کی وجہ سے اپنے آپ کو اس حد تک ڈسٹرب کر لو گی میں نے کبھی نہیں سوچا تھا
وہ اس کا دوست نہ ہوتے ہوئے بھی ایک اچھے دوست کی طرح اسے مشورہ دے رہا تھا پھر دو چار باتیں اور کرنے کے بعد اس نے فون رکھ دیا جب کہ عائشہ نے سوچ لیا تھا کہ وہ طہ کو جان اور بیسٹ کے بارے میں سب کچھ بتا دے گی
°°°°°°°°°°
عائشہ سو رہی تھی
جب اسے ایسا محسوس ہوا کہ کوئی بہت غور سے دیکھ رہا ہے
اس کے دل و دماغ پر ابھی تک بیسٹ کا ڈر بری طرح سے سوار تھا
وہ اکثر نیند میں جاگ جاتی تھی یا اپنے آپ کو بیسٹ کے ہاتھوں قتل ہوتے دیکھتی
آج کل اس کے دماغ میں سوائے قتل خون اور بیسٹ کے اور کچھ چلتا ہی نہیں تھا اس وقت بھی گہری نیند میں تھی بہت دنوں کے بعد اسے ایسی نیند آئی تھی لیکن اب اسے اس نیند میں خلل ہوتا محسوس ہوا کوئی بہت قریب گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا وہ زیادہ دیر تک نیند کو بچا نہیں پائی ۔
اس کی آنکھ کھلی تو چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی
وہ اس کے سامنے بیٹھا ہوا تھا جبکہ ہاتھ میں ایک چاقو تھا
بالکل میں ایسا ہی چاقو جیسا اس دن بیسٹ کے ہاتھ میں تھا لیکن یہ بیسٹ نہیں بلکہ جان تھا
کیسی ہو جاناں کی دوست سوری میں دن میں تم سے ٹھیک سے نہیں مل پایا تھا وہ کیا ہے نہ اس وقت میں بہت مصروف تھا اسی لئے اسپیشل تم سے ملنے آیا ہوں ۔وہ مسکراتے ہوئے اسے بتا رہا تھا یا ڈرا رہا تھا یہ عائشہ کو سمجھ نہیں آ رہا ۔بس اس کا دل جس رفتار میں دوڑ رہا تھا عائشہ کو لگا کے کچھ ہی دیر میں اس کی سانسیں رک جائیں گی
تم جاناں بکی دوست ہو تو میری بھی دوست ہوئی نہ تم مجھ سے پوچھو گی نہیں کہ میں دن میں اس وقت کیا کر رہا تھا چلو میں خود ہی بتا دیتا ہوں وہ کیا ہے نہ اس وقت میں ایک بہت ضروری کام سرانجام دے رہا تھا ایک لڑکی تھی
وہ میری جاناں کو یہ بتانے آ رہی تھی کہ میں کیا کرتا ہوں مجھے بہت غصہ آیا تو میری جاناں کو مجھ سے دور کرنے کے لیے اسے سب بتانے آ رہی تھی بس اسی لئے میں نے اس کی ساری انگلیاں کاٹ دی اور ہاں اس کے سارے بال بھی کاٹ دیے سوری اکھاڑ دیے وہ اپنے سر پہ ہاتھ مارتا دوستانہ انداز میں بولا تھا
جب کہ اس کے سامنے بیٹھی تھی عائشہ تھر تھر کانپ رہی تھی
کیا ہوا عائشہ تم ڈر گئی جاناں کی دوست تم یوں کیوں ڈر رہی ہو میں تمہیں بھلا کچھ کہہ سکتا ہوں کیا تم تو جاناں کی دوست ہواور تم تھوڑی نہ جاناں کو میرے بارے میں کچھ بتانے والی ہو
تم کون سا اسے یہ بتانے والی ہو کہ اس دن سو ہم کو میں نے کس طرح سے مارا تھا ہیں نا تم نہیں بتاؤ گی نہ تم تو جاناں کی دوست ہوں اور جاناں کی دوستوں میری بھی دوست ہے
تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں عائشہ تم مجھ سے ڈر کیوں رہی ہو میں بھلا کیا کہوں گا چھوڑو ان سب باتوں کو میں نے تو میں ڈسٹرب کیا تم سو جاؤ اب میں بھی چلتا ہوں وہ مسکراتے ہوئے اٹھ کر کھڑا ہو چکا تھا
۔
عائشہ کی جان میں جان آئی تھی وہ فورا اٹھ کر جاناں کی طرف جانے لگی تھی جب اگلے ہی لمحے وہ الٹے قدموں سے واپس آیا جان نے اپنا چاقو نکال کر اس کے سامنے کیا شاید وہ اسے مارنے ہی والا ہے اس سے پہلے کہ وہ چختی جان نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا
چپ ایک دم چپ تم میری جاناں کی نیند خراب کر رہی ہو وہ دوسرے بیڈ پر گہری نیند میں سو ہی جاناں کی طرف دیکھتے ہوئے ہرایا
کسی دوست ہو تم تمہیں پتا ہے نہ جب وہ کچی نیند سے جانتی ہے اس کے سر میں درد ہو جاتا ہے پھر بھی ایسی چیخ چلا کر اس کی نیند خراب کر رہی ہو ۔
وہ اس کے منہ سے ہاتھ ہٹاتے ہوئےغصے سے بھری نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا تو عائشہ نے بہت ہمت کر کے کہا
نہیں مجھے چھوڑ دو میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی مجھے جانے دو بہت زیادہ گھبرائیں بری طرح سے کانپ رہی تھی اسے دیکھ کر جان ذرا سا مسکرا دیا
جب تک تم اپنا منہ بند رکھو گی تب تک میرا چاقو بھی ضد نہیں کرے گا
ورنہ آج تک جس جس کے سامنے میں نے قتل کیا ہے وہ زندہ نہیں بچا
بیسٹ وہ درندہ جس کا نام ہر ٹی وی چینل پر گونجتا ہے وہ تو تمہیں پتا ہی ہوگا وہ درندہ میں ہوں ان لوگوں کی جان لینا ان کے پارٹس کو کاٹ کاٹ کر الگ کرنا میرا پسندیدہ کام ہے میری ہوبی ہے اور تمہیں بھی کاٹنے میں مجھے زیادہ وقت نہیں لگے گا
اپنا منہ کھولنے سے پہلے ایک بار کل ٹی وی پر اس لڑکی کی خبر سن لینا جس کے ہاتھ کی انگلی تو میرے گھر پر دیکھ کر آئی تھی چلو اب سو جاؤ پیپرز ہونے والے ہیں تم لوگوں کے اتنی دیر رات تک جاگنا اچھی بات نہیں ہوتی گڈ نائٹ وہ آہستہ سے اسے وش کرتے ہوئے ایک محبت بھری نظر جاناں کی طرف دیکھ کر کھڑکی سے نیچے چھلانگ لگا کیا
اب یہ تو عائشہ ہی جانتی تھی کہ اس کی یہ گڈ نائٹ کتنی گڈ ہے
°°°°°°°°
اس نے گھر میں قدم رکھا تو عریشفہ سامنے بیٹھی ہوئی تھی
اسے دیکھتے ہی کھل اٹھی روز کی بانسبت وہ آج ذرا لیٹ آیا تھا
اریشفہ اس کا فیورٹ کلر بلو پہنے سیدھے اس کے دل میں اتر رہی تھی
لیکن فی الحال وہ اتنی آسانی سے ماننا نہیں چاہتا تھا
وہ اسے اپنی اہمیت کا احساس دلانا چاہتا تھا وہ محبت کے بدلے محبت چاہتا تھا وہ چاہتا تھا کہ جتنی محبت وہ اریشفہ سے کرتا ہے اتنی ہی محبت اریشفہ بھی اس سے کرے
جتنا اس کا خیال رکھتا ہے اتنا ہی خیال اریشفہ بھی اس کا رکھے
جس طرح وہ اس کے جذبات کا احترام کرتا ہے وہ بھی اس کے جذبات کا احترام کرے ابھی کل صبح ہی کی تو بات تھی جب وہ اسے اپنے تمام تر جذبات کا اظہار کر کے کام پر گیاتھا
اس نے کہا تھا کہ شام کو وہ ڈنر باہر کریں گے ایک محبت سے بھرپور شام ایک دوسرے کے ساتھ گزاریں گے
وہ تو ڈی ایس پی سر آگئے تو آریان کا کام زیادہ بڑھ گیا
لیکن اس نے اپنے پلانز کو پھر بھی اگنور نہیں ہونے دیا تھا
اسے پتہ تھا کہ سر واپس چلے جائیں گے کیونکہ وہ کبھی بھی گھر سے باہر رات نہیں گزارتے تھے
اس نے سوچا تھا کہ سر کے جانے کے بعد وہ اسے لانگ ڈرائیو پر لے کر جائے گا
اور اس کے ساتھ خوبصورت لمحات گزارے گا
اس کے پیپرز شروع ہونے سے پہلے وہ اس کے ساتھ اسپیشل ٹائم گزارنا چاہتا تھا
اور اس پہ یہ سب کچھ جاننے کے باوجود بھی ڈی ایس پی سر کے ساتھ چلی گئی اسی بات نےآریان کو ہرٹ کیا تھا اور اب آریان چاہتا تھا کہ وہ اسے اس بات کا احساس دلائے
اسی لئے وہ اس سے ناراض ہو گیا تھا دوپہر بنا اس کے ہاتھ کا کھانا کھائے وہ چلا گیا تاکہ وہ اس پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرسکے
وہ گھر واپس آیا اور اسے اگنورکرتےسیدھا اپنے کمرے کی طرف جانے لگا جب اریشفہ نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے ٹیبل کی طرف اشارہ کیا
سامنے ٹیبل پر اس کی پسندیدہ بریانی تیار تھی ۔
وہ اپنا ہاتھ چھڑواتا ایک نظر اس کی طرف دیکھتا پھر اسے نظرانداز کرتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا ۔
وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے ہی پریشان صورت لے کر آئی اس کا چہرہ دیکھ کر آریان کی بار بار ہنسی نکل رہی تھی
جس پر وہ بھرپور کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔
ابھی وہ واڈراب کھول کر کپڑے نکال ہی رہا تھا جب اچانک اریشفہ نے میوزک آن کر دیا
۔"تمہاری نظر کیوں خطا ہو گئی
خطا بخش دو گر خطا ہو گئی"
"تمہاری نظر کیوں خفا ہو گئی
خطا بخش دو گر خطا ہو گئی "
ہمارا ارادہ تو کچھ بھی نہ تھا
ہماری خطا خود سزا ہو گئی "
اریشفہ کمرے کے دروازے سے ٹیک لگائے مسکراتے ہوئے اپنی صورتحال کو گانے کی صورت بیان کر رہی تھی
پھر مسکراتے ہوئے آواز بلند کر دی
آریان نے آئی برو اچکا کر اس کے اس انداز پر داد دی تھی وہ مسکراتے ہوئے اس کے قریب ائی اس کے غصے میں کمی دیکھ کر اریشفہ کو تھوڑا حوصلہ ملا تھا اب۔وہ اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے سنگر کی آواز کے ساتھ ہونٹ ہلاتے ہوئے اسے منانے کی کوشش کر رہی تھی
"سزا ہی سہی آج کچھ تو ملا ہے
سزا میں بھی اک پیار کا سلسلہ ہے "
"سزا ہی سہی آج کچھ تو ملا ہے
سزا میں بھی اک پیار کا سلسلہ ہے "
"محبت کا اب کچھ بھی انجام ہو
ملاقات کی ابتدا ہوگئی "
ہمارا ارادہ تو کچھ بھی نہ تھا
ہماری خود خود سزا ہوگئی
۔
آریان کا دل چاہا کہ اپنی ساری ناراضگی بھلا کر اسے اپنی بانہوں میں سمیٹ لے لیکن اسے تنگ کرنے میں بھی اپنا ہی مزا آ رہا تھا آج وہ کھل کر اس سے اپنی محبت کا اظہار کر رہی تھی آج تو یہ سنگر واقع ہی اس کے دل کے الفاظ اس کی زبان پر لے آئی تھی
اسی لیے اسے پیچھے کرتے ہوئے مسکرا کر سنگر کے ساتھ خود بھی گنگنانے لگا
"ملاقات پہ اتنا مسرور کیوں ہو
ہماری خوشامد سے مجبور کیوں ہو "
"ملاقات پہ اتنا مسرور کیوں ہو
ہماری خوشامد پہ مجبور کیوں ہو"
منانے کی عادت کہاں پر گئی
ستانے کی تعلیم کیا ہوگئی "
ہمارا ارادہ تو کچھ بھی نہ تھا
تمہاری خطا خود سزا ہوگئی ۔
خوب نکھرے دکھاتا وہ ایک بار پھر سے اسے خود سے پیچھے کرتے ہوئے ناراضگی سے گنگنایا اریشفہ ابھی تک اسے منانے کا مکمل ارادہ رکھتی تھی اس کے پیچھے پیچھے ہی آئی ۔
اتنی جلدی ہار نہیں مان سکتی تھی ہاں لیکن اب اتنا یقین ہو چکا تھا آریان مان چکا ہے اب تو یہ بس اوپر اوپر کا ڈرامہ ہے جو وہ جلد ہی ختم کرکے اپنی ناراضگی کو بھلا دے گا
اسی لئے اس کے پیچھے پیچھے سر پے ہاتھ رکھے کسی فوجی کی طرح چلتی پھر سے سنگر کی آواز پر لب ہلاتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
"ستاتے نہ ہم تو مناتے ہی کیسے
تمہیں اپنے نزدیک لاتے ہی کیسے "
" ستاتے نہ ہم تو مناتے ہی کیسے
تمہیں اپنے نزدیک لاتے ہی کیسے "
وہ اس کے سامنے کھڑی ابھی تک مانا رہی تھی جب آریان اس کے ہاتھوں پہ ہاتھ رکھتے ہوئے خود گنگنانے لگا
"اسی دن کا چاہت کو ارمان تھا
قبول آج دل کی دعا ہوگئی۔ "
وہ اس کے دونوں گالوں پے ہاتھ رکھتے ہوئے اگلے ہی لمحے اس کے لبوں پر جھکا تھا ۔اس کے مان جانے پر آریشفہ نے سکون کی سانس لی
لیکن یہ تو اس کی سانسیں روکنے کے در پر تھا لیکن آج اس کا یہ ظلم قبول تھا آج سچ میں وہ بہت ڈر گئی تھی
اگر آریان بھی اس سے ناراض ہو گیا تو اس کی زندگی میں بچے گا ہی کیا بہت کم وقت میں اسے پتہ چل چکا تھا کہ آریان سے زیادہ اس کی زندگی میں اور کوئی اتنا عزیز نہیں اور آریان کا روٹھنا اس کے لیے سوھان روح ھے ۔
°°°°°°
عائشہ چلو باہرچلتے ہیں
وہ صبح صبح تیار اس کے سامنے کھڑی تھی
اس نے ایک نظر اس کی تیاری پر دیکھا اب جاناں اپنے آپ کو کافی تیار شیار رکھتی تھی ۔
وہ سادگی جو اس کی طبیعت کا حصہ تھی اپنے آپ کو نظر انداز کیے اپنی ذات کو بھلائے وہ جاناں اس جاناں سے بالکل مختلف تھی ۔
وہ جب سے آئی تھی اس نے اس بات کو بہت زیادہ نوٹ کیا تھا کہ اب وہ اپنا بہت خیال رکھنے لگی تھی پہلے کی طرح کچھ بھی نہیں تھا اب وہ ہر وہ کام کرتی جو اس کی خوبصورتی کو بڑھاتا یہ تو وہ بھی سمجھ چکی تھی کہ یہ سب کچھ اس لئے کرتی تھی تاکہ وہ جان کو اور اچھی لگے وہ اس سے اور زیادہ محبت کرنے لگے ۔
یہ معصوم تو جانتی تک نہیں تھی کہ جس سے وہ محبت کر بیٹھی ہے وہ انسان نہیں بلکہ بھیڑیا ہے انسان کے روپ میں چھپا ہوا حیوان ایک درندہ ہے
۔اور جس درندگی سے وہ لوگوں کی جان لیتا ہے وہ سوچتے ہوئے بھی عائشہ سوچ کر ہی کانپ گئی
۔اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اسے سو ہم کو موت کے گھاٹ اتارتے دیکھا تھا
وہ کیسے اپنی دوست کے لئے اس شخص پر یقین کر سکتی تھی وہ انسان نہیں تھا یا شاید اس کے سینے میں دل نہیں تھا جس طرح سے وہ لوگوں کو کاٹ کر ٹکرے ٹکڑے کرتا تھا کسی انسان کے بس کی بات تو وہ ہرگز نہیں تھی
اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ جاناں کو سب کچھ بتا دے
وہ جان کی حقیقت اس کے سامنے کھول دے
وہ اسے حقیقت کا آئینہ دکھائے لیکن پھر کیا ہوگا جان تو شاید اسے جان سے مار دے گا
اپنی سہیلی کے لئے جان دینے کے لیے بھی تیار تھی
لیکن اس معصوم لڑکی پر کیا بیتے گی جب سے پتہ چلے گا کہ جسے اتنی محبت کرنے لگی ہے کہ اس کے لئے اپنے آپ کو سر تا پیر بدل رہی ہے وہ ایک قاتل ہے
جاناں تو بکھر کر رہ جائے گی
۔ساری زندگی اپنوں سے محبتوں کے نام پر اسے کچھ بھی نہیں ملا تھا اور اب محبت میری بھی کو انسان کے روپ میں ایک درندے کی کیسے برداشت کرے گی وہ یہ سب کچھ کیسے جیے کہ اس شخص کے ساتھ
نہیں میں جاناں کی زندگی برباد نہیں ہونے دوں گی
میں اسے سب کچھ بتا دوں گی اس نے فیصلہ کیا تھا
لیکن پھر سوہم کی لاش آنکھوں کے سامنے آگئی
خون سے لت پت جسم سے خون کے فوارے نکلتے وہ منظر اتنا خوفناک تھا کہ آج بھی اس کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے
جاناں جو کب سے اس کی منتظر تھی اس کے چہرے پر سوچو کا جال دیکھ کر اس کے سامنے چٹکی بجائی
چلو نہ یار بہت مزہ آئے گا جان بھی آئے گا اچھا ہے نہ تم اس کے ساتھ ٹائم سپینڈ کرکے اسے اچھی طرح سے جان لو گی پھر تمہارے بیکار کے وہم بھی دور ہو جائیں گے وہ اسے دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھی عائشہ کو یاد آیا آج وہ طہہ سے ملنے والی ہے
نہیں جاناں میں تمہارے ساتھ نہیں چل سکتی میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے تم جاؤ انجوائے کرو وہ سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بولی تو جاناں کو بھی پریشانی نے آ گھیرا
کیا ہوا عاشی طبیعت زیادہ خراب ہے میں جان کو فون کرکے منع کر دیتی ہوں وہ اس کے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بولی تو ہے اس نے اس کے ہاتھ کو تھام لیا ۔
نہیں جاناں میں بالکل ٹھیک ہوں تم جاؤ انجوائے کرو وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی وہ طہ کے بارے میں سے کچھ نہیں بتانا چاہتی تھی پتا نہیں طہ کو سب کچھ بتا کہ وہ ٹھیک کر رہی تھی یا نہیں وہ خود میں ہی بری طرح الجھی ہوئی تھی
جاناں کے فون پر میسج آیا جان باہر اس کا انتظار کر رہا تھا وہ عائشہ کو خدا حافظ کرتی جان کے پاس چلی گئی جب کہ وہ جان کی گاڑی کے نکلنے کا انتظار کرتی رہی تاکہ خود طہ سے ملنے جا سکے
کیوں کہ یہ تو اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ خاموش نہیں بیٹھتے گی وہ جان کو اس کے گناہوں کی سزا ضرور دے گی وہی ہے جو لوگوں کو کاٹ کر ان کی زندگیاں ختم کر رہا ہے بے قصور لوگوں کی جان لے رہا ہے
میں اپنی دوست کی زندگی برباد نہیں ہونے دوں گی جان تمہیں تمہارے گناہوں کی سزا ضرور ملے گی تم جیسے حیوان کی جگہ باہر میں نہیں بلکہ جیل میں ہے ۔تم جیسے انسان کو سلاخوں کے پیچھے رہنا چاہیے تمہیں کوئی حق نہیں ہے اس طرح آزاد زندگی گزارنے کا
°°°°°°°°
جان تم نے تو کہا تھا کہ ہم ڈیٹ پر جا رہے ہیں لیکن یہ تم مجھے یہاں کیوں لے کے آئے ہو اسے گھر کے باہر کار روکتے دیکھ کر وہ پوچھنے لگی ۔
ڈیٹ پر جا کر کیا کرنا ہے ہم اپنا وقت میرے بیڈروم میں بھی تو گزار سکتے ہیں ۔
وہ اس کے بالکل نزدیک آتے ہوئے بولا تو جاناں نے فوراً اپنے لبوں پر ہاتھ رکھ لیا جس پر جان کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی ۔
ارے کیا تم تو بہت خوفزدہ ہو مجھ سے ایسے کیسے چلے گا ابھی تو تمہیں بہت کچھ سہنا ہے وہ اس کے ہاتھوں کو اس کے لبوں سے ہٹانے لگا
جان خبرادار جو تم نے کوئی بھی شرارت کی
تم نے مجھے آئس کریم کھلانے کا وعدہ کیا تھا لیکن تم مجھے یہاں لے آئے چھیٹر کہیں کے چلو مجھے آئس کریم کھلانے لے کر جاؤ
میں تمہارے ساتھ اکیلے اس گھر میں ہرگز نہیں آؤں گی بالکل بھی اچھے نہیں ہو تم ایک نمبر کے چھچھوڑے آدمی ہو۔تمہارے چھچھوڑے پن کے مناظر میں اس دن دیکھ چکی ہوں وہ اسے گھورتے ہوئے بولی
لڑکی ابھی تم نے میرا چھچھوڑاپن دیکھا کہاں ہے ایک بار تمہارے پیپرز ختم ہو جائیں پھر میں تمہیں بتاؤں گا کہ میں کیا ہوں اور کیا نہیں ۔لیکن فی الحال مجھے برداشت کر لو وہ کیا ہے نا پچھلے چار دن سے میں نے خود پر بہت مشکل سے قابو کیا ہوا ہے ۔
کہاں ملے گا مجھ جیسا مسکین شوہر جو سارے حقوق رکھنے کے باوجود بھی اتنی دوری اختیار کئے ہوئے ہے وہ اس کے دونوں گالوں پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کی پیالیوں میں بھر چکا تھا پھر اس کے لبوں پر جھکا
پلیز جان نہیں ۔۔ وہ اس کے ہونٹوں پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اسے خود سے دور کرنے لگی ۔
ائی پرامس اس بار بہت پیار سے ہ وعدہ کرنے والے انداز میں بولا تو جاناں کا ہاتھ اپنے آپ ہی اس کے لبوں سے ہٹ گیا ۔
جان مسکرایاایسے جیسے جاناں نے خود اسے چھونے کی اجازت دی ہو جان اس پر جھکا اس کے نرم و ملائم نازک لبوں کو اپنے ہونٹوں کی قید میں لیے وہ کچھ ہی پل میں اسے آزاد کر چکا تھا ۔
دیکھا کوئی چھچھوڑاپن نہیں دکھایا وہ آنکھ دباتے ہوئے مسکرا کر بولا تو جاناں بھی ہسن کر چہرا جھکا گئی ۔لیکن لال چہرہ شرم و حیا کی سرخی کو بیان کر گیا ۔
میری بلشنگ کوئین چلو آؤ تمہیں آئسکریم کھلاتا ہوں وہ نرمی سے اس کے گالوں کو چھوتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کر گیا جاناں نے مسکراتے ہوئے اس کے کندھے پر اپنا سر رکھا جان نے بے اختیار اپنے لب اس کے بالوں پہ رکھے تھے
آئی لو یو ماہی تمہارے بغیر تمہارا جان ادھورا ہے وہ اس کے ہاتھوں کی انگلیوں کو چومتا محبت سے بولا جب کہ جان صرف مسکرائی تھی
°°°°°°°°

آریان کی آنکھ کھلی تو وہ اس کے سینے پرسر رکھے گہری نیند سو رہی تھی ۔اریان نے محبت سے ایک نظر اس کی طرف دیکھا پھر آہستہ سے اسے خود سے دور کرتے ہوئے بیڈ پر لٹایا ۔اوراس کے قریب سے اٹھا
رات اس نے کافی دیر تک اسے جگائے رکھا تھا اس وقت وہ اسے تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرتے تیار ہونے لگا آئے دن بیسٹ کی کوئی نہ کوئی خبر آتی ہی رہتی تھی یقیناً آج بھی اس میں کچھ نہ کچھ ضرور کارنامہ سرانجام دیا ہو گا ۔
اسےبیسٹ کی طرف سے تین پارسل ریسیو ہوچکے تھے مطلب کہ ان دنوں میں اس کے لیے سب سے زیادہ ایماندار آفیسر آریان ہی تھا اسی لئے وہ سب چیزیں اسی کو بھیج رہا تھا ۔لیکن اس کے باوجود بھی آریان ان لوگوں کو بچا نہیں پا رہا تھا ۔
اب لسٹ میں اگلا نام جس کا تھا اسی کے گھر سےسوہم کی لاش ملی تھی لیکن آج کل اس کا بھی کوئی پتا نہیں تھا سو ہم کی موت کے بعد وہ شخص ایسا غائب ہوا کہ اس کا نام و نشان بھی نہ ملا وہ اور اس کی بیوی دونوں ہی منظر عام سے غائب تھے جبکہ ان کی بیٹی کا بھی کوئی اتا پتا نہیں تھا ۔
جس دن سو ہم کی موت ہوئی تھی اس کی بیٹی اس دن کر گھر پر تھی لیکن اریان صرف اسے تصویروں کی حد تک جانتا تھا ۔لیکن اس لڑکی کو اس نے کبھی بھی نہیں دیکھا تھا ابھی سے پتہ چلا تھا کہ وہ کسی ہوسٹل میں رہائش پذیر ہے آج اریان کا وہاں جانے کا ارادہ تھا ہوسکتا ہے کہ وہ لڑکی اپنے والدین کے بارے میں کچھ جانتی ہو ۔
اس کا ارادہ صرف خان صاحب کی جان بچانے کا تھا لیکن وہ بے وقوف آدمی بیسٹ سے بچنے کی کوشش میں نہ جانے کہاں جا چکا تھا موت پر کسی کا زور نہیں اگر اس کا جان کے ہاتھوں اس کا مرنا لکھا ہے تو وہ ضرورمرے گا لیکن کوشش تو کر سکتا تھا اس سے بچانے کی ۔
ابھی وہ انہیں سب سوچوں میں اپنے شرٹ کے بٹن بند کر رہا تھا جب نظر بیڈ کی طرف دیکھا اریشفہ نیند سے بھری آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہی تھی آریان نے مسکرا کر پلٹ کر دیکھا اب وہ اشاروں میں اس سے بات کر رہی تھی ۔
آپ جا رہی ہیں اتنی جلدی میں آپ کے لئے ناشتہ تیار کرتی ہوں آپ تب تک تیاری کرے وہ تیزی سے بیڈ سے اٹھی جب آریان نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی طرف کھینچ لیا ۔
اس ناشتہ کا ٹائم نہیں ہے لیکن اگر تم چاہتی ہو کے میں گھر سے یوں نہار منہ نہ جاؤں تو تم مجھے ایک کس دے سکتی ہو اس نے مسکراتے ہوئے اس کے لبوں کو اپنی انگلیوں سے چھوا جب اریشفہ نےاسے خود سے دور کرتے ہوئے سخت نظروں سے گھورا
یار جب تم ایسی گھورتی ہو تو تم پر اور بھی زیادہ پیارآتا ہےوہ اس کے دونوں گالوں پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اس کے لبوں پر جھکا تھا محبت سے بھرپور دہکتا لمس پراریشفہ آنکھیں بند کر لیں وہ نرمی سے اس کے لبوں کو چھوتا پیچھے ہٹتے مسکرایا ۔
پیپرزکی تیاری کیسی ہے اب وہ اپنی تیاری مکمل کرتے ہوئے سیریس انداز میں پوچھنے لگا جس پر خود دونوں ہاتھ کو انگوٹھے کی شکل دیتے ہوئے اپنے پیپرز کی تیاری کا بتانے لگی چہرے سے خوشی جھلک رہی تھی ۔
ویری گڈ ایسے ہی پیپر بھی ہونے چاہیے اس نے اریشفہ کے چہرے پر الجھن سی دیکھی تھی اسے لگا جیسے وہ اس سے کچھ پوچھنا چاہتی ہے ۔
جو کہنا چاہتی ہوکہہ دیا کرو اس طرح سے تمہیں اپنی طرف اجازت طلب نظروں سے دیکھ کر مجھے غیروں جیسی فیلینگ آتی ہے وہ کچھ ناراضگی سے بولا تو عرشی فوراً ہی اس کے پاس کھڑی اشارے کرنے لگی ۔
لڑکی تمہارے پاس ایک گھر ہے تمہیں بھلا ہوسٹل میں جانے کی کیا ضرورت ہے وہ بگڑ چکا تھا جب وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے اسے پھر سے سمجھانے لگی ۔
ٹھیک ہے چلی جانا اپنی دوستوں سے ملنے کے لیے لیکن آج نہیں کل انہیں بھی بتا دینا کہ تم آنے والی ہو یہ نہ ہو کہ تم ہوسٹل جاؤ اور وہ لوگ کالج چلی جائیں ۔
لیکن آج کے لئے اپنے دماغ سے یہ پڑھائی وغیرہ سب کچھ نکال تو آج رات ہم دونوں ڈنر باہر کریں گے اور لانگ ڈارئیو پر چلیں گے پلاننگ تو پرسوں رات کی تھی لیکن آج ہی سہی میں شام کو آؤں تو تیار ملنا وہ نک سنک سے تیار اس کے گالوں کو اپنے لبوں سے چھوٹا خدا حافظ کرتا باہر نکل گیا
جبکہ اریشفہ اپنا فون اٹھائے عائشہ اور جاناں کو آپ نے کل آنے کی خبر دینے لگی ۔ ویسے تو ان دونوں کے سامنے اس نے اریان کے تعریفوں کے ایسے پل باندھے تھے کہ وہ دونوں ہی اپنے لئے آریان جیسے شخص کی دعائیں کرنے لگی تھی
وہ دونوں اس بات کو قبول کرتی تھی کہ آریان ایک بہت اچھا شوہر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہت اچھا انسان بھی ہے ۔وہ دونوں ہی اریشفہ اور آریان کے ہمیشہ ساتھ رہنے کی دعائیں کرتی تھی اور اب اس کے کل آنے کی خبر سن کر وہ دونوں ہی بے تحاشا خوش تھی وہ اس کی شادی پر نہیں جا پائیں تھی لیکن شادی کے بعد اس سے ملنے کی خواہش تو ان دونوں کے اندر تھی ۔
اسی لئے تو کل اس کی آنے کی خبر سن کر وہ دونوں بہت خوش ہو گئی تھی لیکن اب یہ سوچ کر بھی وہ دونوں ہی اداس تھی کہ وہ ہمیشہ ان کے ساتھ نہیں رہے گی اب تو ان دونوں کا ساتھ بھی ہمیشہ کا نہیں تھا پیپرز ختم ہونے کے بعد جاناں نے اپنے گھر چلے جانا تھا جبکہ عائشہ کو وہی نفرت زدہ زندگی جینی تھی جو ہمیشہ سے جیتی آئی تھی ۔
وہ تو جانتی تک نہیں تھی کہ اس کے ماں باپ کہاں ہیں کیسے ہیں ۔
بس اپنی ماں کے لیے دعائیں کرتی تھی کہ وہ جہاں بھی ہو ٹھیک ہو
°°°°°°°°
جاناں کے ہوسٹل سے جانے کے بعد وہ خود طہ سے ملنے کے لیے باہر آئیں تھی اس وقت وہ ریسٹورنٹ میں اس کا انتظار کر رہی تھی اس کے سامنے بیٹھے ہوئے بولا بھی تو کیا
اتنے مہنگے ریسٹورنٹ میں آنے کی ضرورت کیا تھی یہ بل تم دوگی میں نہیں میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں ۔وہ جو اسے اتنی اہم بات بتانے آئی تھی اس کی یہ بات سن کر غصے سے سرخ ہو گئی
چپ کر جاؤ بیکاری کہیں کے میں تم سے پیسے نہیں لوں گی ووٹر کو اشارہ کرتے ہوئے غصے سے بولی تھی
شکر ہے میں تو گھبرا ہی گیا تھا سوچا تم بیمار ہو اور بیمار حالت میں یہاں آ کر بیٹھ گئی تو میں اندازہ تو ہے نہ یہ ہوٹل کتنا مہنگا ہے تمہارے پاس پیسے تو ہیں نہ وہ اب بھی اس کا غصہ دیکھ کر پریشانی سے بولا تھا ۔
بس کر جاؤ طہ میرے پاس پیسے ہیں تم آرام سے کوف پیو پتہ نہیں کس انسان سے اپنی پرابلم شیئر کرنے بیٹھ گئی میں وہ اکتا کر بولی تھی وہ اس سے اتنی اہم ترین بات کرنے آئی تھی اور اسے پیسوں کی پڑی تھی ۔
اچھا ٹھیک ہے نا غصہ کیوں ہو رہی ہو بتاؤ تم نے مجھے کیوں بلایا ہے کون سی خاص بات کرنی تھی تم نے مجھ سے وہ ا سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا نہ چاہتے ہوئے بھی اسے اس بیسٹ میں انٹرسٹ ہوگیا تھا جس کی خبروں کو ٹی وی پر آتے دیکھتے ہی وہ نظر انداز کر کے آگے بڑھ جاتا
تم بیسٹ کے بارے میں تو جانتے ہی ہو نا وہ درندہ ہے جو قتل کرتا ہے آئے دن نیوز میں آتا ہے میں نے تمہیں بتایا تھا نا میں نے اسے دیکھا ہے ۔اس نے اپنی بات کا آغاز کیا
یار عائشہ ختم کر دو اس سارے قصے کو کیوں پیچھے پڑ گئی ہو تم جتنا زیادہ اس میں انٹرسٹڈ لو گی تمہیں اتنا ہی اس سے خوف آئے گا بھلا دواسے اپنی فیوچر پر دھیان دو
بکواس بند کرو اور بات سنو میری میں نے اسے دیکھا ہے بنا نقاب کے میں کل اپنی دوست جاناں کے ساتھ اس کے بوائے فرینڈ سے ملنے گئی تھی میں نے وہاں کچھ عجیب دیکھا ۔
ایک منٹ ایک منٹ تم نے کہا کہ تم نے اسے بنا نکاب کے دیکھا کیسا دکھتا ہے وہ بتاؤ مجھے طہ کے لہجے میں ایکسائٹمنٹ تھی۔
عائشہ تم حاموش کیوں ہو بتاؤ مجھے کیسا دکھتا ہے وہ آدمی مطلب کیا اس کے سر پر سینگ ہیں اس کے سر پر ایک بڑی سی آنکھ ہے لائک ایکسٹرا آئی ۔دو کے بجائے اس کے چار کان ہیں کیا اس ماتھے پر بڑے بڑے دو ہونٹ ہیں یار پلیز بتاؤ نہ وہ کیسا دکھتا ہے مجھے نہ بہت تجسس ہو رہا ہے اسے دیکھنے کا ۔طہ بولا تو اس انداز میں جیسے عائشہ کا مذاق کر رہا ہو نہ چاہتے ہوئے بھی عائشہ کی آنکھوں میں نمی سے اتر آئی
وہ فورا اس کے قریب سے اٹھ کر تیزی سے ریسٹورنٹ کے باہر جانے لگی جب تک کہ طہ نے جلدی سے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔
یار میری بات تو سنو کیا ہو گیا ہے تمہیں اس طرح سے کیسے جا سکتی ہو تم اس کے دونوں ہاتھ تھامتے ہوئے اس کے سامنے آ کر رکا عائشہ نے اپنے دونوں ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی لیکن اس کی اگلی بات سن کر اسے پھر سے غصہ آ گیا تھا
یار جانے سے پہلے کم از کم کوفی کے پیسے ہی دے جاؤ میرے پاس کچھ نہیں ہے بالکل خالی جیب ہے میری اس کی التجا پر عائشہ کا دل چاہا کہ اس کا منہ توڑ دے ۔
بیکاری انسان میں پیسے دے کے جاوں گی تم پر اپنا کوئی بھی خرچ نہیں ڈال رہی وہ اپنے پرس سے پیسے نکالتے ہوئے ٹیبل پر رکھ کر ہوٹل سے باہر نکلی جب اس کے ساتھ بھاگتا ہوا باہر آیا تھا ۔
عائشہ ایک بار میری بات کو غور سے سنو میں پاگل نہیں ہوں عائشہ تمہاری ساری باتوں کو سمجھ رہا ہوں جانتا ہوں کہ تم نے اپنی آنکھوں کے سامنے کسی کا خون ہوتے دیکھا ہے لیکن تم نے اسے اپنے سر پر بہت زیادہ سوار کر لیا ہے عائشہ تمہیں اس کے علاوہ کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تم اس شخص کے علاوہ کچھ اور سوچ تک نہیں پا رہی ہو وہ تمہیں پاگل کر رہا ہے اور تم پاگل ہو رہی ہو تم نے اسے کہیں نہیں دیکھا عائشہ ۔تمہیں صرف لگتا ہے کہ تم نے اسے دیکھا اب ہر انسان میں تمہیں اسی کا چہرہ نظر آئے گا ۔
کیونکہ وہ تمہارے سر پر سوار ہے تمہارے دماغ پر بری طرح سے حاوی ہے اور کچھ بھی نہیں
وہ کل رات ہوسٹل میں آیا تھا مجھے دھمکی دینے کے لیے کہ اگر میں نے جاناں کو کچھ بھی بتایا تو وہ مجھے جان سے مار ڈالے گا وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال تے تقریبا چلاتے ہوئے بولی تھی۔
عائشہ یہ صوف تمہارا وہم بھی تو ہو سکتا ہے یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ تم نے کوئی خواب دیکھا ہو وہ اب بھی پیچھے نہیں ہٹاتا عائشہ کو اس پر غصہ آنے لگا ۔
اپنا منہ بند رکھو تم میرا ہی دماغ خراب تھا جو میں تمہیں سب کچھ بتانے آگئی تمہیں مجھ پر یقین نہیں ہے نہ بھاڑ میں جاؤ میری طرف سے مجھے بھی تمہاری ضرورت نہیں ہے لیکن میں جھوٹ نہیں بول رہی تھی کہ میں نے اسے دیکھا ہے جاناں کا بوائے فرینڈ ہے وہ اس نے میرے سامنے قبول کیا ہے کہ اس نے سوہم کو مارا ہے
اور اگر میں نے جاناں کو کچھ بھی بتایا تو وہ مجھے بھی مار دے گا ۔وہ ابھی اسے بتا ہی رہی تھی کہ اس کا فون بجا ۔
اتنے دنوں کے بعد اپنی ماں کا فون دیکھ کر اس کے دل میں اس سے بات کرنے کی خواہش مچلتی تھی اس نے فوراً ہی فون اٹھا یا فون پر اس کی ماں سسکیاں لیتے رو رہی تھی ۔
عائشہ اس نے مار ڈالا اس نے مار ڈالا تمہارےبابا کو وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی اب وہ کون تھا یہ اندازہ لگانا عائشہ کے لئے مشکل تو نہیں تھا ۔
ماما آپ تو ٹھیک ہیں نا اس نے اپنے بھے جان ہوتے اساب کو کنٹرول کرتے پوچھا ۔کیا اس کی ماں ٹھیک تو تھی اس کا سر بری طرح سے چکر آنے لگا
خواہش تم ٹھیک تو ہو تا جا اس کے پاس ہی کھڑا تھا اسے یوں اچانک گرتے دیکھ کر پوچھنے لگا ۔اس اس نے ایک نظر طہ کی جانب دیکھا تھا جو حیرانگی سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا لیکن اس کے بےجان ہوتے مود کو دیکھ کر وہ اس کے ہاتھ سے موبائل لے کر خود بات کرنے لگا
°°°°°°°°°°
جان اسے ملنے آیا تو وہ تقریبا بھاگتے ہوئے اس کے پاس آئی تھی
جاناں میری جان تم پریشان کیوں ہو کیا تم یہ اداسی وہ اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیے بولا اس کی اداسی پر تڑپ ہی تو اٹھا تھا ۔وہ تو اسے ہمشہ خوش دیکھنا چاہتا تھا
جان تمہیں میری دوست یاد ہے نا عائشہ تم پرسوں تو اس سے ملے تھے اس کے پاپا کا انتقال ہوگیا بیسٹ نے مار ڈالا اوف تم نے ان کی لاش دیکھی ٹی وی پر ان کی لاش برل کر کے دکھائی گئی ابھی بھی وہ لوگ ٹی وی پر دکھا رہے تھے اف کتنا ظالم شخص تھا وہ جس نے انکل کا قتل کیا ۔
مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے جان ایسے کسی بے قصور کی جان کیسے لے سکتا ہے وہ کیا اسے رحم نہیں آتا کیا ان لوگوں کے خون کو دیکھ کر اس کے اندر انسانیت نہیں جاگتی اس طرح کیسے کسی کی جان لے سکتا ہے ۔وہ بری طرح سے گھبرائی تقریبا اس کے ساتھ چپکے ہوئے بولی تھی ۔
جانو پلیز میرے سامنے یہ ساری باتیں مت کرو مجھے بہت عجیب فیل ہو رہا ہے عائشہ کے والد کا سن کر افسوس ہوا لیکن پلیز وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے مت لاؤ مجھے خون بالکل بھی پسند نہیں ہے وہ اسے ٹوک گیا ۔
۔ہاں تم بھی سہی کہہ رہے ہو میں بیکار میں یہ ساری باتیں لے کر بیٹھ گئی عائشہ کی ما ما بہت بیمار ہیں وہ اسے بتانے لگی تو جان نے عائشہ کے بارے میں پوچھا
عاشی کو کوئی فرق نہیں پڑتا وہ سگے بابا نہیں تھے اس کے اور بہت برے تھے لیکن اس کی ماں بہت اچھی ہیں اور ان کا شوہر تھا نا تو افسوس تو ہو گا ہی عائشہ اپنی ماما کے لیے وہاں گئی ہے ۔
جاناں نے اسے پوری بات بتائی تو وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے گاڑی میں بیٹھنے لگا
جان اس وقت میں تمہارے ساتھ نہیں جاسکتی بہت وقت ہو گیا ہے وہ اسے سمجھانے لگی
زیادہ دور نہیں جائیں گے بس پاس سے ہی واپس آ جائیں گے تمہارا مائنڈ ذرا فریش ہو جائے گا ورنہ ساری رات اس بیسٹ کے بارے میں سوچتی رہو گی اور مجھے بھول جاؤ گی اور یہ میں برداشت نہیں کر سکوں گا وہ پیار سے اسے گاڑی میں بٹھاتے ہوئے بولا تو جاناں بے ساختہ مسکرا دی
کتنی فکر کرتا تھا یہ شخص اس کی کتنی محبت کرتا تھا اس سے جاناں اس کی محبت کو پا کر خود پر نازاں ہو گئی تھی
°°°°°°°°
آریان کو کل ہی مسڑ خان کی موت کی خبر مل چکی تھی
۔اگر وہ ان لوگوں سے چھپ کر نہیں جاتا تو شاید وہ اسے بچا لیتے
لیکن موت تو موت ہے جو کبھی بھی کہیں بھی آسکتی ہے
اریشفہ کو وعدے کے مطابق اس نے صبح سویرے ہی ہوسٹل چھوڑ دیا تھا یہاں آکر اسے عاشی غائب ملی تو جاناں نے اسے بتایا کہ اس کے فادر کی ڈیتھ ہوچکی ہے
اور بیسٹ نے بے دردی سے ان کا قتل کر دیا ہے جاناں تو کل سے ہی ٹی وی پر یہی ساری خبریں سنتی آئی تھی اسے تو بس موقع چاہیے تھا کہ کسی نہ کسی سے اس کے بارے میں بات کرنے لگی
عائشہ کے پاپا کے بارے میں سن کر انہیں بہت افسوس ہوا تھا
اریشفہ ائی تو عائشہ یہاں نہیں تھی اسے بھی پتہ چل چکا تھا کہ عائشہ کا سوتیلا باپ کسی کے ہاتھوں قتل ہو چکا ہے
وہ جانتی تھی عاشی نہ سہی لیکن اس کی ماں اس وقت بہت دکھ میں ہوگی آخر وہ اس کا شوہر تھا اس کا ہمسفر تھا اس کے لیے عزیز تھا
ایسے میں عائشہ کا اپنی ماں کے ساتھ رہنے کا فیصلہ بالکل ٹھیک تھا
اس نے فون پر انہیں بتایا تھا کہ وہ صرف اور پیپرز کے وقت ہی آئے گی کیونکہ اس کے ماں کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے زیادہ وقت اسی کے ساتھ گزارنا چاہتی ہے ۔
ارشی یار مجھے تو بہت افسوس ہو رہا ہے پتا نہیں آنٹی کی کیا حالت ہوگی
کل تک وہ ارشی یہاں واپس آنے کی تیاری کر رہی تھی انہوں نے پورے روم کو ٹھیک سے صاف کیا تھا خاص کر ارشی کی ساری چیزیں پیک کردی تھی جیسے وہ اپنے ساتھ لے کر جانا والی تھی ۔
عائشہ سے ملنے کے لیے بہت ایکسائٹڈ تھی لیکن اس واقعے کی وجہ سے وہ اس سے نہیں مل پائی ۔
اس نے اریشفہ کو فون پر جان کے بارے میں بتایا تھا کہ وہ کسی سے محبت کرتی ہے اس نے وعدہ کیا تھا کہ جس دن ارشی یہاں آئے گی وہ اسے اس سے ضرور ملوائے گی لیکن جان کا کوئی ضروری کام نکل آنے کی وجہ سے وہ اسے اس سے بھی نہیں ملنا پائی تھی
اور حالات بھی کچھ ایسے تھے ۔
کہ عائشہ اور اس کے باپ کی موت کے علاوہ وہ دونوں کوئی اور بات ہی نہیں کر پائی شام کو آریان اسے لینے آیا تو اس کی ملاقات جاناں سے بھی ہوئی تھی
جاناں اسے بہت اچھی لگی تھی اور اس نے پیپرز کے بعد ان دونوں کو اپنے گھر آنے کے لیے بھی کہا تھا جاناں کو بھی آریان کر بہت اچھا لگا تھا
اور جو چیز اسے سب سے زیادہ اچھی لگی وہ تھی اس کا بار بار اریشفہ کی جانب دیکھ کر مسکرانا
اس کی باتوں کو اہمیت دینا ان دونوں کے درمیان بار بار اسے مخاطب کرنا کتنی محبت کرتا تھا وہ اریشفہ سے اس کے لب ولہجے سے ہی پتہ چلتا تھا ۔
°°°°°°°°
ہمیں بہت افسوس ہے کہ ہم اس طرح ان کو نہیں بچا پائے
لیکن اگر وہ ہمارے ساتھ تعاون کرتے تو آج ایسا نہیں ہوتا آریان نے افسوس کرنے والے انداز میں کہا تھا عائشہ نے ایک نظر اسے دیکھا عائشہ کو تو ایسا لگ رہا تھا جیسے اس شخص کو اس کے باپ کی موت سے بہت سکون ملا ہے
اور وہ اندر ہی اندر بہت خوش ہے صرف اوپر سے اس کے اس کی ماں کے سامنے ڈرامے کر رہا ہے ۔
خیر افسوس تو اس سب کا عائشہ کو بھی نہیں تھا وہ تو خود اپنے باپ کے موت کی دعائیں مانگی تھی لیکن اسے یہ نہیں پتا تھا کہ اس کی ماں کی حالت اتنی بگر جائے گی شوہر کی جدائی کے غم میں بری طرح سے تڑپ رہی تھی ۔
خان نے مرنے سے پہلے اپنی ساری جائیداد اپنی بیوی اور بیٹی کے نام کر دی تھ اسے تو یہ بھی کوئی کرشمہ ہی لگا تھا ورنہ اس کا باپ اا سے اتنی محبت کہاں کر تا تھا کہ مرنے سے پہلے اپنی جائیداد ان کے نام لکھوا دیتا ۔
کیا آپ مجھے بتا سکتی ہیں کہ آپ کے شوہر کسی وسیم راجپوت کو جانتے ہیں کیونکہ لسٹ میں اگلا نام وسیم راجپوت کا ہے مطلب اگلا قتل ان کا ہو گا
دیکھیں میڈم یہ لسٹ بہت لمبی ہے پتہ نہیں کون کون مرے گا اور کس کس کی موت آپ کے شوہر کی موت سے بھی زیادہ خطرناک ہوگی ہم اس کیس کا کوئی سراغ نہیں لگا رہے گا وہ بیسٹ وہ اپنے پیچھے سے سوائے ایک لوگوکے اور کچھ بھی نہیں چھوڑتا
پلیز ہمارے ساتھ تعاون کرے تاکہ ہم مزید بے گناہ لوگوں کو موت کے گھاٹ اترنے سے بچالیں آریان ان کے سامنے کھڑا کہہ رہا تھا جب عائشہ کو غصہ آنے لگا
انسپکٹر کیا آپ کو نظر نہیں آرہا میری ماں کی کیا حالت ہے اس وقت وہ بات کرنے کی کنڈیشن میں نہیں ہے اور آپ کو اپنے کیس کی پڑی ہے پلیز خدا کے لیے رحم کرے ہم پر ہم لوگ کسی وسیم راجپوت کو نہیں جانتے
عائشہ نے انتہائی غصے سے کہا لیکن مسز خان کے چہرے پر ایک عجیب سی الجھن تھی جسے آریان بھی محسوس کر چکا تھا ۔
وسیم راجپوت یہ تو ان کا کوئی دوست تھا اور پاکستان سے آئے دن اس کے فون آتے تھے اس کا تعلق پاکستان سے ہے خان اسے فون پر کہتے تھے کہ تم بے کار میں گھبرا رہے ہو کوئی بیسٹ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا بس تم اپنا منہ بند رکھنا ۔
پتہ نہیں وہ کس بارے میں بات کر رہے تھے ہاں لیکن ایک بار انھوں نے کہا تھا کہ دمکا کا ہوگا اور بہت زور دار ہوگا اس دن میں نے ان سے پوچھا بھی تھا کہ آپ کس سلسلے میں بات کر رہے ہیں تو انہوں نے مجھے ڈانٹ دیا کہا تم ان سب میں مت کرو تمہارا ان سب سے کوئی تعلق نہیں ہے مسز خان اپنی ہی رومیں بولتی چلی جا رہی تھی ۔
کیا آپ مجھے ان کا فون یا کانٹیکٹ لسٹ دے سکتی ہے پلیز آریان نے امید سے پوچھا تھا اتنے دنوں کے بعد بس ایک سراغ ان کے ہاتھ لگا تھا ۔
ان کا فون تو ہمارے اٹلی والے بنگلو میں ہے ۔جہاں ان کا قتل ہوا مسز خان نے فورا کہا تھا ۔
مطلب کہ ہمیں کسی نہ کسی کو اٹلی بھیجنا ہوگا آریان ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وہاں سے باہر نکل کر عمران سے کہنے لگا ۔
جو سر ہلاتا فور نہیں اٹلی میں اپنے کانٹیکٹ سے رابطہ کرنے لگا ۔
°°°°°°°°
میرے پاس اچھا موقع تھا مجھے انسپکٹر کو سب کچھ بتا دینا چاہئے تھا کہ میں نے بیسٹ کو دیکھا ہے اور بیسٹ کیسا دکھتا ہے یہ بھی میں جانتی ہوں لیکن اگر اس سب کے بعد بیسٹ نے میری ماں کو کچھ کر دیا تو نہیں میں اپنی ماں پر کوئی رسک نہیں لے سکتی وہ پہلے ہی اتنی پریشان ہیں ۔
لیکن اگر میں کچھ بھی نہیں بولی تو وہ درندہ نہ جانے کتنے معصوم لوگوں کی جان لے لے گا نہ جانے کتنے اچھے لوگوں کو اس نے دنیا سے ختم کر دیا ہوگا ۔
لیکن میرا باپ تو اچھا انسان نہیں تھا
اس کے دل میں ایک الجھن سی ہونے لگی
سو ہم بھی اچھا انسان نہیں تھا ۔
لیکن اس کی ماں تو بری نہیں ہے اور جاناں
جاناں وہ تو بری نہیں ہے تو پھر وہ جاناں کے ساتھ سب کچھ کیوں کر رہا ہے کیا وہ سچ میں جاناں سے محبت کرتا ہے اس کی نظروں میں جاناں کے لئے جو جذبات تھے وہ سچے تھے ۔
لیکن وہ ایک قاتل ہیں ایک درندہ ہے اگر وہ جاناں سے محبت کرتا بھی ہے تو جب جاناں کو حقیقت پتہ چلے گی تب کیا ہوگا ۔کیا تب وہ جاناں کو بھی ختم کر دے گا ۔
وہ اپنی ہی سوچوں میں الجھی ہوئی تھی جب اسے اپنی ماں کی آواز سنائی دی وہ بے چینی سے اسے پکار رہی تھی وہ بھاگتے ہوئے اندر آئی
ماما کیا ہوا میں یہاں ہوں آپ کے پاس دیکھیں مجھے اس کے چیخنے چلانے پر وہ اس کے پاس آ کر بیٹھی تھی جب اگلے ہی لمحے انہوں نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا
عائشہ تم مجھ سے دور مت جانا ورنہ وہ تمہیں بھی مار دے گا تم بالکل یہاں سے مت ہلانا میں تمہیں بچا لوں گی میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گی میری جان بس تم میرے پاس رہنا ۔
اسے اپنے سینے میں بھیجتے ہوئے کہہ رہی تھی عائشہ پریشانی سے ان کے ساتھ لگی بس یہی سوچ رہی تھی کہ اگر اس نے جان کے بارے میں کسی کو کچھ بھی بتا دیا تو اس کی ماں کی کیا حالت ہوگی
نہیں جب تک اس کی ماں بالکل ٹھیک نہیں ہو جاتی تب تک وہ اس بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتا سکتی تھی
°°°°°°°°
یہ موبائل تمہارے پاس ہے اور وہاں انسپکٹر آریان پاگل ہو رہا ہے ۔ٹائر اس کے ہاتھ میں ناچتے فون کو دیکھ کر کہنے لگا تو جان مسکرا دیا
بیسٹ اتنا پاگل نہیں ہے کہ اپنے خلاف کوئی ثبوت چھوڑ دے وہ موبائل کو ہاتھ میں لیے ادھر کبھی ادھر کر رہا تھا
تو کیا اب تم پاکستان جاؤ گے اس نے پوچھا تو جان نے ہاں میں سر ہلایا ۔
ڈونٹ وری میں تمہاری جاناں کا بہت خیال رکھوں گا ویسے بھی پرسوں اس کا پہلا پیپر ہے میں اس کے آس پاس ہی رہوں گا ۔
اس نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو جان نے مسکرا کر کہا
میں جانتا ہوں تم میری جاناں کا خیال رکھو گے ۔
مجھے فکر ہے اس عائشہ کی جو میرا چہرا دیکھنے کے بعد بح چین سے رہنے لگی ہے اس کا دھیان مجھ سے ہٹانا ہو گا ۔ اور یہ پارسل اس آریان تک پہنچا دینا ۔
اسے پتہ چل جانا چاہیے کہ میرا اگلا شکار پاکستان میں ہے وہ اپنے کوٹ کے بٹن بند کرتے ہو تو ٹائر نے اس کا رہ روک لیا
تم جاناں سے ملنے جا رہے ہو ضرور جاؤ لیکن جانے سے پہلے مجھے ایک بات بتا کر جاؤ کہ یہ بس کچھ تم انسپکٹر آریان کو ہی کیوں بھیجتے ہو اتنے اچھے اچھے پولیس والے ہیں اور کافی امانت دار بھی ہیں لیکن تم سب کچھ اسی کو کیوں بھیج رہے ہو
کیونکہ مجھے پسند آگیا ہے وہ جب مجھے بچپن میں ملا تھا نا تب بھی بہت اچھا لگا تھا
ہاں مجھے تو بالکل بھی پسند نہیں ٹائر نے منہ بنا کر کہا
تم آج زندہ ہو تو اسی کی وجہ سے اگر وہ میری منتیں نہ کرتا تو میں تمہیں کبھی اس جیل سے نہ اٹھا کر لے کر جاتا ۔
ہاں مجھے بچا کر لے جارہا تھا خود ہی گولی کھا کر لیٹ گیا ٹائر اسٹائل سے کہتے ہوئے منہ بنا گیا ۔
تم کبھی اس کا احسان نہیں مانو گے نہ وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا ۔
احسان تو اسے تمہارا ماننا چاہیے کہ اس دن تم نے میرے ساتھ ساتھ اس کی بھی جان بچاری اور آج کل تمہارے پیچھے تمہاری جان لینے کے لئے پڑا ہے ۔
وہ اپنا کام کر رہا ہے جس طرح سے ہم اپنا کام کر رہے ہیں تمہیں اسے اپنا فرض نبھانے دینا چاہیے جان اسے سمجھانے لگا ۔
ہم اس دنیا سے برائی کو ختم کر رہے ہیں اور وہ برائی کو بچا رہا ہے اس میں کو نسا اچھا کام ہے ٹائر اب بھی نہیں مانا تھا
ہم اچھا کام غلط طریقے سے کر رہے ہیں لیکن وہ اپنا فرض نبھا رہا ہے ۔اور ایسے میں ہمیں اس کی مدد کرنی چاہیے میرا مطلب ہے موت کے بعد لاش کا پتہ بتا دینا چاہیے وہ مسکراتے ہوئے بولا تو ٹائر بھی مسکرا دیا
ہاں کیوں کہ موت سے پہلے تو ہم اسے پتہ بھی نہیں چلنے دیں گے کہ ہم کب کہاں کیسے مارنے والے ہیں اتنی لمبی لسٹ بھیج دی تم نے اس کو اور کسی ایک تک بھی پہنچ نہیں پایا ہم سے پہلے وہ نزاکت سے ٹیبل پر پڑی لوشن کی شیشی اپنے ہاتھوں پیروں میں لگانے لگا ۔
جبکہ جان اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے باہر نکل گیا اس کا ارادہ جاناں سے ملنے جانے کا تھا کل وہ پاکستان کے لیے روانہ ہونے والا تھا اپنا اگلا شکار کرنے اور اس سے پہلے وہ ایک بار جاناں سے ملنے جانا چاہتا تھا
°°°°°
میں نہیں بولتی تم سے یہ کیا بات ہوئی میرے پیپر ہو رہے ہیں اور میں تمہیں کہیں نہیں جانے دوں گی وہ اس ہاتھ تھامتے ہوئے بولی تو جان نے مسکراتے ہوئے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیا ۔
کام ہے ماہی جانا بہت ضروری ہے کام نہیں کروں گا تو تمیں ایک خوشحال زندگی کیسے دوں گا وہ اس کے ماتھے پر لب رکھتے ہوئے مسکرا کر بولا جب جاناں اس کے سینے سے لگ گئی ۔
مجھے ڈر لگنے لگا ہے جان مجھے لگتا ہے کہ کہیں سے بابا کو ہمارے نکاح کے بارے میں پتہ چل جائے گا بابا یہاں آ جائیں گے مجھے لینے کے لئے وہ تمیں مجھ سے دور کر دیں گے جان اور تم کبھی مجھے ڈھونڈ نہیں پاؤ گے اس کی آنکھوں میں نمی سی اترنے لگی
اس دنیا میں کوئی تمہیں مجھ سے دور نہیں پڑھ سکتا جاناں اپنے دماغ سے یہ فتور نکال دو کہ تمہارا باپ تمہیں مجھ سے دور کر سکے گا وہ جو کو کچھ کرسکتا تھا کر چکا ہے تم میری ہو صرف میری
وہ اسے اپنے سینے سے لگائے سمجھا رہا تھا
دس سال میں دن رات اسے اس سے چھپاتا رہا اس کی پہچان بدل دی اس کا نام بدل دیا یہاں تک کہ اس نے اپنی اکلوتی بیٹی کو خود سے دور کر دیا
لیکن جان سے دور نہیں کر پایا وہ جان کی امانت تھی اور جان نے اسے خود سے دور نہیں جانے دیا تھا اور نہ ہی آگے کبھی جانے دے گا وہ جاناں کے پیپرز کے فورا بعد خود ہی اس سے ملنے کا ارادہ رکھتا تھا
جہاں جاناں خود اپنے باپ کو چھوڑ کر اس کے پاس آنے والی تھی اسے یقین تھا جان اپنے باپ کے بغیر رہ لے گی لیکن جان کے بغیر نہیں
جان جانتا تھا اس نے اس دن کو تیاری کر رکھی ہو گی اس لیے جان نے وقت رہتے جاناں سے نکاح کر لیا کیونکہ آگے ہونے والی کارروائی میں وہ چاہتا تھا کہ جاناں ہر لمحے اس کے ساتھ ہو اور وہ جانتا تھا ایسا بھی ہوگا جیسا اس نے سوچا ہے
°°°°°°°°
ان کے پیپرز شروع ہوچکے تھے
اور جان کو گئے ہوئے آج تین دن ہو چکے تھے اس کا کوئی رابطہ نہیں جاناں سے
جاناں اس کے بغیر کافی بے چین تھی
لیکن عائشہ بہت پرسکون تھی کہ اس درندے نما انسان سے اس کی ملاقات نہیں ہو رہی ہے ۔
جاناں یہ بھی تو ہو سکتا ہے وہ تمھیں چھوڑ کر چلا گیا ہواس کے بار بار جان کے بارے میں بات کرنے پر وہ چر کر بولی تو تو عرشی نے بھی ایسے ناگوار نظروں سے دیکھا ۔
تم مجھے ایسے کیوں گھور رہی ہو یہ ایک انجان آدمی پر یقین کر کے اس سے محبت کر بیٹھی ہے میں اسے سمجھانا چاہتی ہوں عائشہ نے اسے اپنے آپ کو گھورتے دیکھ کر سمجھانا چاہا
اریشفہ وہ بہت اچھا ہے مجھ سے بہت پیار کرتا ہے یہ تو پاگل ہے اسے کچھ بھی نہیں پتا وہ اریشفہ کو جان کی طرح سے صفائی دینے لگی تو اریشفہ بے اختیار مسکرا دی
اور اشاروں سے اسے بتانے لگی کہ اسے پتہ ہے کہ اس کی سہیلی ایسے شخص پر کبھی یقین نہیں کرے گی جو برا ہو
یہ بات الگ ہے کہ اسے اشارے کرتے دیکھا عائشہ کو بالکل بھی اچھا نہیں لگا تھا ۔
ایک دن آئے گا تمیں بھی میرے جان پر یقین ہو جائے گا
کہ وہ مجھ سے بہت پیار کرتا ہے اس کے انداز میں ایک غرور تھا شاید چاہت کو پالینے کا غرور عائشہ کو اس کے انداز دیکھ کر کچھ عجیب لگا تھا
وہ کیسے ایک درندے کی محبت کو خود پر اس حد تک سوارکر سکتی تھی
اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ اسے سب کچھ بتا دے اس رات کی دھمکیوں سے لے کر سو ہم کے قتل تک سب کچھ لیکن وہ اسے کچھ بھی نہیں پتا پا رہی تھی ایک اپنی ماں کی زندگی کا خوف دوسرا اس کے اپنے دل میں بھی اس شخص کا ہو پوری طرح سے بیٹھا ہوا تھا
اللہ تمہیں ہدایت دے جاناں اور تمہارے ساتھ وہی ہو جو تمہارے لیے بہتر ہے وہ اٹھتے ہوئے باہر جانے لگی اس کا ڈرائیور آچکا تھا ابھی اسے گھر جاناں تھا کہ وہ اپنی ماں کو تنہا نہیں چھوڑ سکتی تھی جبکہ اریشفہ آریان کے آنے کا انتظار کر رہی تھی ان کا دوسرا پیپر تھا اور آریان ہی نہیں اسے لینے آتا تھا ۔
عائشہ ابھی باہر نکلی ہی تھی کے سامنے انسپکٹر آریان کو اپنی طرف آتے دیکھ کر پریشان ہو گئی ۔تبھی عائشہ کے پیچھے سے اریشفہ بھی آ گئی ۔
اور عائشہ کو اشارہ کرنے لگی کہ وہ اسے کسی سے ملوانا چاہتی ہے عائشہ بھی بے دھیانی میں ہی اس کے سامنے آ روکی اور اب اریشفہ اان دونوں کو ایک دوسرے سے متعارف کروا رہی تھی
آریان کو جان کر عجیب لگا کہ خان کی بیٹی کا تعلق اس کی بیوی سے ہے
بیسٹ کیس میں وہ اپنی فیملی کو کہیں سے بھی شامل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا عائشہ سے ملنے کے بعد وہ اریشفہ لے کر گھر چلا جانے لگا
اریشفہ نے بھی نوٹ کیا تھا جہاں جاناں کے ساتھ اس کی ملاقات بہت خوشگوار تھی وہ گرم جوشی اس نے عائشہ سے ملاقات پر محسوس نہیں کی تھی
پیپر کیسا ہوا تمہارا وہ اس کا دھیان بٹانے کے لیے آئس کریم پارلر لے آیا تھا
Meshur bondur maci Ali Ysta
استنبول کا ایک بہت مشہور آئس کریم پالر تھا اور وہ اسے اکثر یہی پر لے کر آتا تھا ۔یہاں زیادہ تر کپلز ہی آتے تھے
اریشفہ تو آریان کی دیوانی تھی اسے ہر وہ چیز پسند تھی اس کے ہر پسند کو اپنی پسند مانتی تھی ۔
ان دنوں میں آریان اس کا بہت زیادہ خیال رکھنے لگا تھا شام کو ایسے دودھ میں بادام ڈال کر لازمی پلاتا صبح اسے الرجی ڈرنک دیتا وہ ہر ممکن طریقے سے اس کا خیال رکھ رہا تھا ۔اسے ہر کی ٹینشن سے دور رکھتا تاکہ وہ پرسکون ہو کے پیپرز دے سکے
آریان کے ساتھ رہتے ہوئے وہ اپنی قسمت پہ نازاں ہونے لگی تھی بے شک رب نوازتا ہے اور اوقات سے بڑھ کر نوازتا ہے ۔اریشفہ نے تو کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ اس آریان جیسا جیون ساتھی ملے گا اس کے لیے وہ اپنے رب کا جینا شکریہ ادا کرتی کم تھا
آریان کے ساتھ اس کے دن اور رات کیسی حسین خواب کی طرح گزر رہے تھے آریان ایک بہت اچھا ہونے والا محبت کرنے والا انسان تھا
رشتے کیسے نبھائیں جاتے ہیں یہ بات کوئی آریان سے پوچھے اس نے اپنے گھر میں بھی بہت محبتیں پائی تھی لیکن آریان کی محبت کے سامنے اسے دنیا کی ہر چیز کم لگنے لگی وہ آریان سے کسی اور کی محبت کا مقابلہ کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی
°°°°°
جاناں کی بیچینی حد سے زیادہ تھی
وہ بار بار جان کے موبائل پر فون کرتی لیکن اس کا فون نہیں لگتا
ٹائر کا نمبر نہیں تھا اس کے پاس لیکن اس نے دو تین بار اس کو اپنے کالج کے باہر دیکھا تھا اور ایک بار ہوسٹل کے باہر دیکھا تھا شاید جان نے اسے اس کا خیال رکھنے کے لئے کہا تھا
لیکن وہ اس سے ملتا کیوں نہیں تھا کل بھی وہ اس کے ہاسٹل کے باہر کھڑا تھا اور جب تک نیچے گی تب تک ٹائر جا چکا تھا
نجانے جان کہاں گیا تھا یقیناًٹائر کے پاس اس نمبر تھا وہ اس سے لے سکتی تھی لیکن اگر اس سے ملتا تو ہی کالج کے باہر بھی اس نے دو تین بار ملنے کے لیے گئی تب تک وہ جا چکا ہوتا ۔
اسے جان پر بھی بہت غصہ آرہا تھا جو جانے سے پہلے اسے اپنا کنٹیکٹ نمبر تک نہیں دے کر گیا ۔شاید وہ اس کی محبت کو آزما رہا تھا شاید جاننا چاہتا تھا کہ وہ جان اس سے کتنا پیار کرتی ہے ۔اور ان شاید ہوجاناں کی بے چینی دیکھ کر محفوظ ہو رہا ہوگا ۔
ایک بار اس نے سوچا کیوں نہ وہ ٹائر سے ملنے کے لئے گھر چلی جائے لیکن وہاں بھی نہیں جاسکی مشکل پیپر ہونے کی وجہ سے اسے ٹائم ہی نہیں ملا تھا وہ جان کو بہت زیادہ مس کرنے لگی تھی جان اسے بہت بری طرح آزما رہا تھا ۔
میں تم سے روٹھ جاؤں گی جان بات بھی نہیں کروں گی فون میں اس کی فوٹو دیکھتے ہوئے نم آنکھوں سے تو
آخر وہ چلا گیا تھا ایسا کون سا ضروری کام تھا اس کے لیے جو جان سے بھی زیادہ اہم تھا
کوئی محبت کرنے والوں کے ساتھ ایسا کرتا ہے بھلا ۔وہ اپنی سوچوں میں ڈوبی ہوئی تھی جب ایک پارسل اسے دروازے پر رسیو ہوا اس نے فوراً پارسل کھولا تھا بالکل وہی پیکنگ تھی جو جان اس کے لئے کرتا تھا ۔
اس نے گفٹ نظر انداز کرتے ہوئے فوراً لیٹر کو اوپن کیا تھا
بیوقوف لڑکی مجھے بہت یاد آ رہی ہو تمہاری وجہ سے میں اپنا کام نہیں کر پا رہا مجھے اتنا مس مت کرو ورنہ میں روٹھ جاؤں گا تم سے کوئی ایسا کرتا ہے محبت کرنے والوں کے ساتھ وہی شکوے گلے جو وہ ابھی اپنے خیالوں میں اس سے کر رہی تھی وہ لفظوں میں کر چکا تھا
میں بالکل ٹھیک ہوں بہت جلدی آ جاؤں گا تمہارے پاس تم اپنے ایگزام پر غور کرو نہ جانے کتنی بار اس کا خط پڑھ چکی تھی شکر ہے کہ وہ ٹھیک تھا اور جلد ہی واپس آنے والا تھا وہ بھی اسے اتنا ہی مس کر رہا تھا جتنا کےجاناں
اپنے کام کے دوران بھی اسے اس کی بس کی فکر ہو رہی تھی
جان جب تک تم واپس آؤ گے تب تک میں پیپر سے فارغ ہو جاؤں گی تم میرے پاپا سے بات کرو گے اب میں بھی تمہارے بغیر نہیں رہنا چاہتی جان بہت ہوگیا اگر محبت کی ہے تو ڈرنا کیسا میں تمہاری ہر قدم پر تمہارا ساتھ دوں گی ۔
وہ خیالوں میں اس سے مخاطب تھی آنے والا وقت ان دونوں کی زندگی میں کیا لانے والا تھا یہ اس سے تو جاناں انجان تھی ان کی زندگیوں میں کتنے مشکل موڑ آنے والے تھے ماضی میں نہ جانے کتنے راز دفن تھے اس کے بارے میں تو جاناں کچھ بھی نہیں جانتی تھی ۔
جاناں نے تو بس محبت کی تھی اور اپنی محبت کو ایک جائز نام دیا تھا یہ راستہ اگے کتنا مشکل تھا یہ جاناں کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا لیکن اب وہ وقت دور نہیں تھا بہت جلد حقیقت اس کے سامنے کھلنے والی تھی۔
اور جان تو اس کے لئے اس کی زندگی کی محبت اور دنیا کا سب سے اچھا انسان تھا اس کی حقیقت کیا تھی وہ کون تھا کہاں سے آیا تھا جاناں نہ تو کبھی جاننے کی کوشش کی تھی نہ ہی اسے جاننا تھا
۔وہ جانتی بھی تو بس اتنا کہ جان اس کی محبت ہے اور اب وہ جان کے لیے کچھ نہیں کر سکتی
°°°°°°°°°°°°
تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہوگیا کیا تم اس کے گھر جا رہی ہو اور وہ اکیلی تم کیسے جاؤ گی وہاں طہٰ اس کے سامنے بیٹھا تھا س کی بے وقوفی پر تو اسے پہلے ہی یہی لگ رہا تھا کہ یہ کوئی نہ کوئی چاند چڑھائے گی ۔
تمہیں لگتا ہے نہ کہ یہ سب میرا وہم ہے تو تیار ہو جاؤ میں ایسا ہی کروں گی میں ثابت کر کے دکھاوں گی کہ جان ہی بیسٹ ہے وہی ہے وہ درندہ جو لوگوں کا قتل کرتا ہے اس وقت جان ترکی میں نہیں ہے اور یہ ایک بہت اچھا موقع ہے اس کے خلاف ثبوت اکھٹے کرنے کا
وہ شخص باہر بالکل بھی اچھا نہیں لگتا ایسے درندوں کو جیل کے اندر ہونا چاہیے اور میں اسے جیل کے اندر پہنچاکر رہوں گی۔
اپنی موت کے خوف سے اور بے قصور لوگوں کو مرنے نہیں دوں گی میں جاناں کے سامنے ثبوت پیش کروں گی اس کے خلاف میں اپنی سہیلی کی زندگی برباد نہیں ہونے دوں گی
لڑکی تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے کیوں کسی کی جاسوسی کرنے لگی ہو اگر تمہیں لگتا ہے کہ ان سب بیوقوفیوں میں تمہارا ساتھ دوں گا تو ایسی کوئی امید مت رکھنا وہ اس پر غصہ ہوتے ہوئے بولا تو عائشہ نے افسوس سے نفی میں سر ہلایا مجال ہے جو یہاں کوئی غلط کےحلاف بولنے دے
دیکھو مسٹر میں تم سے مدد نہیں مانگ رہی ہوں میں اپنا کام خود کروں گی بس تمہیں بتا دیا وہ اٹھتے ہوئے کہنے لگی تو طہٰ نے اس اس کا راستہ روک لیا
اب کیا تکلیف ہے پیسے دے کر جا رہی ہوں میں وہ غصے سے بولی
تو طہٰ نے اسے دوبارہ بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔
بولو کیا کہنا ہے کہ وہ بیٹھے ہوئے احسان کرنے والے انداز میں بولی
دیکھو وہ جگہ خطرناک ہے میں تمہیں اکیلے نہیں جانے دوں گا ہم دونوں چلے گئے لیکن ہمیں نہیں پتا ہے کہ وہ کہاں رہتا ہے میرا مطلب ہے اس کا گھر کہاں ہے کیا تم جانتی ہو وہ پوچھنے لگا
ہاں میں جاناں کے ساتھ گئی تھی وہاں مجھے پتا ہے کہ وہ کہاں رہتا ہے میں تمہیں اس سب میں شامل نہیں کرنا چاہتی لیکن میں مجبور ہوں کیوں کہ میں نے تمہیں صرف تمہیں اس بارے میں بتایا ہے اور تمھیں مجھ پر یقین نہیں تمہیں لگتا ہے کہ میں پاگل ہوں اور یہ سب میرا وہم ہے طہ میں یہ تمہارے سامنے ثابت کروں گی
کہ جان ہیں بیسٹ ہے لیکن اگر تمہیں ڈر لگ رہا ہے یا تم یہ سوچ رہے ہو کہ تم پھس جاؤ گے تو تم ابھی ہی اس سب سے نکل سکتے ہو میں تمہارے ساتھ کسی قسم کی کوئی زبردستی نہیں کر رہی وہ اپنی بات پر زور دیتے ہوئے بولے طہ میں نفی میں سر ہلایا
یہ بات نہیں ہے مجھے تم پر یقین نہیں ہے میں جانتا ہوں کہ تم سچ کہہ رہی میں بس یہ نہیں چاہتا تھا کہ تم اس سب کو اپنے اوپر سوار کر لو لیکن اگر تمہیں جاسوس پر بننے کا اتنا ہی شوق ہے تو میں تمہارے ساتھ ہوں کیونکہ اس بیسٹ جو تو میں بھی دیکھنا چاہتا ہوں
ٹھیک ہے تو چلو تیاری کرلو جب جانا ہوامجھے بتا دینا میں انکار نہیں کروں گا وہ مسکرا کر بولا تو عائشہ بھی مسکرا دی کوئی تو تھا اس کے ساتھ جو دنیا میں ایسی برائی کو ختم کرنا چاہتا تھا
°°°°°°°°°°°
جان کے بارے میں کچھ پتہ چلا آج ان کا ساتوا پیپر تھا جب وہ اس سے پوچھنے لگی ۔
کچھ دن پہلے اس کا لیٹر آیا تھا وہ بالکل ٹھیک ہیں اور جلد ہی واپس آنے والا ہے جاناں نے مسکر آ کر بتایا ۔
جلد ہی مطلب کہ مجھے بہت جلدی جان کے گھر جانا ہو گا تاکہ میں اس کے خلاف کوئی ثبوت ڈھونڈ سکو اس سے پہلے کے جان واپس آئے مجھے اپنا کام کرنا ہوگا وہ کتنے ہی دنوں سے ان کے گھر جانے کی پلاننگ کر رہے تھے ۔
اس کام میں طہٰ اس کے ساتھ تھا اور آج اس میں طہٰ کو فون کرکے کہا تھا وہ آج رات ہی اس کے گھر جاکر ثبوت ڈھونڈ لیں گے طہٰ کافی گبھرایا ہوا تھا لیکن اس نے حامی بھر لی تھی ۔
وہ کافی ڈرپوک تھا لیکن اس کا ساتھ دے رہا تھا عائشہ کو اسی بات کی خوشی تھی ۔
اپنے ضمیر سے لڑ لڑ کر اس نے کہ یہ فیصلہ کیا تھا کہ اپنی جان کے بارے میں سوچنے سے بہتر ہے کہ بے گناہ لوگوں کے بارے میں سوچے موت تو ویسے بھی آنی ہے تو کیوں نہ مرنے سے پہلے کوئی اچھا کام کر جائے ایسے درندے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر جائے
°°°°°°°°°°°

 

 

♥ Download More:

 Areej Shah Novels

 Zeenia Sharjeel Novels

 Famous Urdu novel List

 Romantic Novels List

 Cousin Rude Hero Based romantic  novels

 

 

 

آپ ہمیں آپنی پسند کے بارے میں بتائیں ہم آپ کے لیے اردو ڈائجیسٹ، ناولز، افسانہ، مختصر کہانیاں، ، مضحکہ خیز کتابیں،آپ کی پسند کو دیکھتے ہوے اپنی ویب سائٹ پر شائع کریں  گے

 

 

Copyright Disclaimer:

We Shaheen eBooks only share links to PDF Books and do not host or upload any file to any server whatsoever including torrent files as we gather links from the internet searched through world’s famous search engines like Google, Bing etc. If any publisher or writer finds his / her book here should ask the uploader to remove the book consequently links here would automatically be deleted.

Leave a Comment