Uncategorized

Zindigi Umeed Kash

       السلام علیکم!

 اس ارٹیکل کے اندر میں نے اپنی سی ایک کوشش کی ہے کہ میں زندگی میں امید کا ایک پہلو روشن کر پاؤں امید کرتی ہوں کہ آپ سب اس کو پڑھ کر سمجھیں گے۔۔۔۔

شکریہ !

عشاء قاضی ..

                 بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کبھی کبھی میں سوچتی ہوں انسان کتنی لاحاصل چیزوں کی جدوجہد کرتا ہے  کہ  اور ایک

ٹرائینگل میں  پھنس کر  رہ جاتا ہے ۔

زندگی  ، کاش، امید یہ بولنے میں کتنے معمولی سے الفاظ لگتے ہیں نا لیکن ہماری پوری زندگی انہی الفاظوں پر مقید  ہو کر رہ جاتی ہے

اور انسان کو اپنے اصل سے کہیں دور ماضی کی خواہشات میں بند کر دیتی ہے لیکن پھر میں سوچتی ہوں کہ اگر  آدم ذات کو معلوم ہی نہ ہوتا کہ اسے امید لگانا کب اور کیوں ہے تو شاید وہ خواب دیکھنا بھی نہیں جانتا۔

اگر انسان مستقبل کے فیصلوں کو جاننا شروع کر دے تو جو آج جگنو کی سی  چمک ہے اس کی انکھوں میں خواب بنتے ہوئے وہ کبھی ہوتی ہی نا۔۔

ہم ہر چیز پر امید لگا دیتے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کہ وہ اچھی ہے یا بری وہ ہمارے حق میں ہے بھی یا نہیں لیکن جب وہ چیز پوری نہ ہو تو ہم مایوس ہو کر سوچتے ہیں کہ کاش ایسا ہو جاتا اور یہ نہیں دیکھتے کہ اسکے رب نے اس کے لیے فیصلہ کیا کیا ہے۔۔

میں جانتی  بولنا بہت آسان ہے  ، جو خواب آپ نے اپنی انکھوں سے دیکھا ہو اسکے ٹوٹنے  پر  جو زخم لگتے ہیں اسے تو کوئی پورا نہیں کر سکتانا لیکن  اس  زخم کو لے کر بیٹھ جائیں اور اپنے آج کو اپنے ماضی کے خواب سے ملا کر یہ سوچنا کہ کاش ایسا ہو جاتا  تو جو اج آپ کے ہاتھ میں ہے اس کی  اہمیت آپ نے خود گرا دی  یہ تو عقلمندانہ سوچ نہ ہوئی ۔۔ اور اپنے رب سے مایوس ہو کر ناراض ہو جانا یہ جانتے ہوئے کہ مایوسی کفر ہے

وہ کہتے ہیں نا کہ امید آدھی زندگی ہے لیکن اگر یہی امید پوری نہ ہو تو یہ آدھی موت ضرور بن جاتی ہے

 “کیا دیکھا نہیں تم نے وہ چہرہ جو رکھتا ہے امید اور توکل اپنے رب پر ؟؟

مگر یہ نہ سمجھ لوگ رب کی جگہ لگا بیٹھے ہیں امید دنیا سے ذرا سوچو

اگر اے  آدم زاد  ہر چیز کا صلہ انسان دیتا تو بھلا وہ انسان ہوتا؟”

کیوں نہ ہم اس کاش والی مایوسی کو قبول کرنا سیکھ جائیں اور  اپنی زندگی میں اگے بڑھنا سیکھ جائیں اس زخم میں سے  رستہ خون  کو ٹپکنے   اور گہرا ہونے دیںنے کے بجائے روکنا سیکھ جائیں اور اس سے اپنی منزل بنانا شروع کر دیں؟

 ہم اس کاش کو   اللہ کا فیصلہ کیوں نہیں تسلیم کر لیتے؟ بولنا اور کرنے میں بہت فرق ہے لیکن اگر ہم یہ سمجھ جائیں کہ آزمائش بھی تو ہمارے لیے ہی رکھی جاتی ہے تو کیا ہو اگر انسان  کو  اسکی ہر من چاہی چیزیں دے دی جائے تو وہ شاید اپنے رب کو کبھی یاد ہی نہ کرے

زندگی  تو نام ہی ایک سفر کا ہے نہ تو پھر نا امید کیوں ہوتے ہو خواب ٹوٹنے سے لوگوں سے مایوس بھی ہو گئے تو کیا تمہاری زندگی ختم ہو گئی؟؟

کیا تم اتنے بزدل ہو گئے کہ تم امید وابستہ کرنے سے ہی ڈرنے لگے ؟؟ لیکن جب تم یہ جان جاؤ کہ کوئی تم سے کوئی امید وابستہ کر بیٹھا ہے تو تم اپنے آخری حد تک اسے پورا کرنے کی کوشش کرو کیونکہ تم تو سمجھ سکتے ہو نا کہ امید ٹوٹنا کیا ہوتا ہے

زندگی کے فلسفے میں کہیں کاش تو کہیں اگر رہ ہی جاتا ہے لیکن یہ تو تم پر انحصار کرتا ہے کہ تم اپنے ساتھ  تمہاری خوشیاں  کہاں تک لے کر چلتے ہو۔۔   

اور جب تمہارا دل مایوسی سے بھر جائے  اور تمہیں لگے کہ تم اب ہر طرح سے امید کھو چکے ہو تو بس یہ یاد رکھنا تمہارے کامیاب ہونے سے لوگوں کو فرق نہیں پڑتا نہ تمہاری کامیابی لوگوں کو دکھانے کے لیے ہے تم جو ہو وہ اپنے لیے ہو دوسروں کے بارے میں سوچ کر اپنی ناکامیابی پر رو  کر کیا فائدہ؟؟

یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ تمہارے لیے اس سے بہت اچھا ہو لیکن یہ وقت غلط ہو

بس اتنا یاد رکھو کہ۔ قرآن تو جگہ جگہ تسلی دے رہا ہے کہ ” نا امید نہ ہو، کمزور نہ پڑو اور یقین رکھو، تمہارا رب تمہارے ساتھ ہے دیکھنا وہ بہت جلد سب ٹھیک کر دے گا “..

About the author

Muhammad Shoaib

Leave a Comment