Jeny Be De Duniya Humain By Sidra Sheikh

Jeny Be De Duniya Humain By Sidra Sheikh

Jeny Be De Duniya Humain By Sidra Sheikh

Jeny e De Duniya Humain By Sidra Sheikh is a romantic type of novel. this novel is related to love romance and family issues reality which are around us. They have such a capacity to manage us through their words and stories. Sidra Sheikh novels and stories have countless fans waiting for her novels.

Sidra Sheikh Novels is currently considered one of the best Facebook writers. she has written a few novels so far but the number of people who read her novels in a thousand.

 

↓ Read Online

 

Episode 1
Episode 2
Episode 3
Episode 4
Episode 5
Episode 1
"ارے نایاب بیٹا تم تو مجھے نظر ہی نہیں آئی بیٹا زرا روشنی میں بیٹھا کرو نا۔۔۔"
چھوٹی پھپھو نے نایاب پر نظر پڑتے ہی بہت چاہت سے وہ بات کی تھی جو وہ ہمیشہ کرتی آئیں تھی
"ہاہاہاہاہاہا۔۔۔میں بھی سوچوں پھپھو نے ابھی تک نایاب کی عزت میں کچھ اشعار نہیں بولے۔۔۔"
سویرا نے خوب ہنستے ہوئے نایاب کی طرف نظریں گھماکر کہا تھا۔۔۔
"ہاہاہاہاہا۔۔۔۔"
باقی کزنز نے بھی بہت ہنسی ٹھٹھہ لگا دیا تھا ہمیشہ کی طرح۔۔۔
"پھپھو مجھے نہیں پتا تھا آپ مجھ سے ملنے کے لیے اتنی بےتاب ہیں سچی میں میں یہیں بیٹھ جاتی۔۔یہاں روشنی زیادہ ہے۔۔
اگر پھر بھی آپ مجھے جی بھر کے دیکھنا چاہتی ہیں تو آپ کا سیل فون دیجئیے ہم سیلفی لے لیتے ہیں۔۔
کم آن سویرا ایک فیملی فوٹو ہوجائے۔۔۔"
نایاب مسکراتے ہوئے پھپھو کے گلے لگی تھیں جن کا منہ نایاب کے جوب نے بند کر دیا تھا۔۔۔
"ہاہاہاہاہا۔۔۔۔اب سکون ہے فاخرہ۔۔؟؟"
بڑی پھپھو نے اپنی چھوٹی بہن کو چڑاتے ہوئے کہا تھا۔۔
نایاب سر اٹھا کر فیملی فوٹو کے بعد اس گیدرنگ سے باہر آگئی تھی۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
"کیا ہوا نازو اتنی اداس کیوں ہوگئی ہو۔۔؟"
"اماں کیسے لوگ ہیں یہ نایاب باجی جیسے ہیرے کو انکے رنگ کی وجہ سے ایسے ذلیل کرتے ہیں۔۔"
"فاخرہ بیگم ایسی ہی ہیں بیٹا۔۔ ابھی کچھ دن برداشت کر لے نایاب بیٹی۔۔
جو قسمت میں لکھ دیا جائے وہی ملتا ہے۔۔۔"
"اماں میں حیران ہوں خاندان میں اتنی خوبصورت لڑکیوں کے باوجود انیسہ میڈم نے نایاب باجی کو ہی کیوں چنا۔۔؟؟"
"انیسہ باجی بھی چار سال پہلے فاخرہ باجی کی طرح تھی بیٹا۔۔۔ پر التمش بھائی کے فالج کے اٹیک کے بعد وہ بہت زیادہ ڈھل گئیں تھیں۔۔
اور وہ اب نایاب کو ہر وقت اپنی آنکھوں کا تارہ بنا کر رکھتی ہیں۔۔۔
نایاب بیٹی ہے ہی اتنی اچھی۔۔۔
دیکھنی کی نظر ہونی چاہیے یہ رنگ روپ دیکھ کر سرہانے والے بہت ہوتے ہیں پر آپ کی خوب سیرت آپ کا نیک دل اور دیکھنے والی نظریں بہت کم ہوتی ہیں۔۔۔اور وہی نظریں قابل ہوتی ہیں ہیرا پرکھنے کے۔۔"
۔
دونوں ماں بیٹی کی گفتگو رک گئی تھی جب باہر سے کچھ ہلکی ہلکی آوازیں آئیں تھیں انہیں۔۔۔
۔
۔
"نایاب تم زرا سی دیر بھی اپنی آواز بند نہیں رکھ سکتی۔۔؟"
نایاب کی امی نے اپنی بیٹی کا بازو پکڑ کر ایک کونے پر لے جا کر پوچھا تھا۔۔۔
"امی میں نے ایسی کیا بات کہہ دی ہے۔۔؟ میں نے تو بہت ہنستے ہوئے کہا جو بھی کہا۔۔۔"
"نایاب ہر کسی کو ایسے جواب دینا بند کر دو۔۔ جو تم ہو۔۔۔"
"امی پلیز۔۔۔"
نایاب نے بہت ادب سے اپنا ہاتھ واپس چھڑا لیا تھا اپنی امی کی انگلیوں کی مظبوط گرفت سے۔۔۔
"امی میں جو ہوں میں نے وہی ایکسیپٹ کیا ہے۔۔
پر امی میں جو ہوں اس پر میں وہ چیزیں یا باتیں کیوں برداشت کروں جن کو برداشت کرنا کوئی لازم نہیں ہے۔۔
آپ کا ماننا ہے کہ میں اپنے رنگ کی وجہ سے وہ طنز یا بےعزتی برداشت کروں جس کا سرے سے ہی جواز نہیں بنتا۔۔۔
جب جواز ہے ہی نہیں تو پھر کیوں۔۔؟؟"
نایاب کی والدہ غصے میں آگئی تھیں۔۔۔
"نایاب تم جو ہو وہ ہو۔۔۔ بار بار خبردار تم نے کسی کو بھی پلٹ کر جواب دیا تم۔۔۔۔"
۔
"زاران بھیا آگئے۔۔۔۔۔"
زاران آگیا ہے بھابھی۔۔۔۔"
زاران بیٹا۔۔۔۔۔"
لان سے بہت سی اونچی آوازیں آنے پر ایک آخری بار نایاب کو دیکھ کر وہ اپنے چہرے پر وہی مسکراہٹ سجائے باہر چلی گئی تھیں۔۔۔۔
۔
"زاران۔۔۔۔"
نایاب کے چہرے پر وہی مسکان تھی۔۔۔ جو شاید ان خوبصورت چہرے والوں کے پاس بھی نا ہو۔۔
"ابو زاران آگئے ہیں۔۔۔"
نایاب اپنے والد کی ویل چئیر باہر ے گئی تھی آہستہ آہستہ۔۔۔۔۔
۔
اسکی دھڑکن کم ہو کر بڑھ رہی تھیں۔۔۔
اسکی نظریں ٹک نہیں پا رہی تھی اس خوبصورت شخص پر جو نین نقش میں اور خوبصورت نظر آرہا تھا۔۔۔۔
نایاب کی نظروں کے سامنے جب کوئی آکر زاران کو گلے ملتا اسے تب تب زاران کا ہنستا چہرہ اور خوبصورت لگتا۔۔۔۔
۔
"زاران میرے بچے۔۔۔۔کتنے کمزور ہوگئے ہو تم۔۔۔"
"ہاہاہا۔۔۔امی جانے دیجئیے۔۔۔ بہت موۓٹا ہوگیا ہوں۔۔ ابھی جم جوائن کروں گا۔۔"
"کوئی جم نہیں بس کہہ دیا میں نے۔۔۔"
"ہاہاہاہا ارے بس بیگم چار سال کے سارے بدلے ایک دن میں لینے ہیں۔۔۔اندر تو آنے دو پہلے۔۔۔"
۔
ایک خوشی کا سما بندھ گیا تھا۔۔۔زاران کو سب آگے ہو ہر کر ملے تھے۔۔۔
بچے بھی بڑے بزرگ بھی۔۔۔
کزنز شرما شرما کر سلام کر رہی تھیں جس پر زاران سب کو بہت عزت اور احترام سے جواب دے کر مل رہا تھا۔۔۔
۔
۔
"اسلام وعلیکم مامو۔۔۔ممانی کیسے ہیں آپ سب۔۔؟"
زاران ویل چئیر کے پاس جھک گیا تھا اور سلام کیا تھا باقی سب سے ملنے کے بعد۔۔۔نایاب کچھ قدموں کے فاصلے ہر تھی۔۔۔جی بھر کے دیکھ رہی تھی اس ایک شخص کو جو نا ہو کر بھی اس زات کا حصہ بنا رہا۔۔
"اسلام وعلیکم۔۔۔"
نایاب سے سر جھکائے کہا تھا جس پر زاران پاس سے گزر گیا تھا۔۔۔
"زاران بیٹا نایاب کے سلام کا جواب نہیں دیا"
"وہ امی نایاب نظر نہیں آئی۔۔۔وعلیکم سلام۔۔۔"
زاران اپنا بیگ اٹھائے بنا نایاب کو دیکھے اندر چلا گیا تھا۔۔
پیچھے کچھ کزنز پھر سے ہنس رہی تھی۔۔۔
"افففو نایاب میں نے کہا تھا نا ایسے ڈریس نا پہنو کسی کو تم نظر بھی نہیں آتی ہو۔۔۔"
سویرا اسے کہہ کر اندر چلی گئی تھی اور پھر باقی سب بھی۔۔
یہ سب تو تھا روٹین کا کام اب گھر کے بڑے بزرگوں نے کرنا شروع کردیا تھا نظر انداز اس پر بحث مباحثے کو۔۔
ان کو لگتا تھا بچوں کا آپس کا کھیل ہے ہنسی مذاق ہے
۔
"اِٹس اوکے بیٹا۔۔وہ تھکا ہوا ہے۔۔۔بس تم شام کے لیے تیاری کرو۔۔۔اور ایک بات نایاب جو تمہیں پسند آئے وہی پہننا۔۔۔جو تمہیں اچھا لگے بچے سب کچھ تمہارے کمرے میں بھجوا دیا تھا نازو کے ہاتھوں۔۔"
زاران کی امی نے اپنے دونوں ہاتھوں سے نایاب کے چہرہ کو اپنی طرف کر کے بوسہ دیا تھا وہ پیار اور چاہت کے ساتھ۔۔۔
زاران اپنے کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے باہر جھانکا تھا تو اسکی نظروں کے سامنے کا یہ منظر حیران کن تھا۔۔۔
اسے یاد تھے وہ دن جب اسکی امی نایاب کا نام لینے سے بھی حقارت محسوس کرتی تھیں یہ جان کر بھی کہ وہ انکے بھائی کی اکلوتی اولاد ہے۔۔۔
پر اب اسکی امی کا اپنی آنکھوں میں اتنی محبت لئیے نایاب کے ماتھے کو چومنا حیران کن بات تھی زاران کے لئے۔۔۔
"ہمم کافی کچھ بدل گیا ہر چار سالوں میں۔۔۔پر تم نہیں بدلی نایاب التمش۔۔۔
ویسی کی ویسی۔۔۔ ویسے ہی ڈڑیسنگ جب تمہیں پتا ہے تم پر ایسے رنگ سوٹ نہیں کرتے تو نا پہنو۔۔۔"
زاران نے دروازہ بند کر لیا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
"بھائی صاحب آج میں ہمارا وعدہ وفا کر دوں گی۔۔۔
دوپہر کے کھانے پر زاران سے بات کروں گی نایاب اور اسکی شادی کی۔۔۔اور آج ہی منگنی کا فنگشن کریں گے ہم دھوم دھام سے۔۔۔"
انیسہ نے اپنے بڑے بھائی التمش عبید کے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا جن کی نظروں میں بہت زیادہ عزت اور پیار بڑھ گیا تھا اپنی چھوٹی بہن کے لیے۔۔۔
وہ اپنی پلکیں جھلک رہے تھے ان کے آنسو چھلک رہے تھے۔۔
انیسہ بھی اپنے بھائی کو دیکھ کر رو دی تھیں۔۔
"بس بھائی۔۔۔ اب آپ نے نہیں رونا۔۔ نایاب میری بہو نہیں میری بیٹی بن کر رہے گے۔۔
میرا زاران بہت خوش رکھے گا آپ کی نایاب کو۔۔
یہ میرا وعدہ ہے۔۔۔"
۔
کسے پتا تھا یہ وعدہ چند گھنٹوں میں ٹوٹنے والا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
"مجھے دیکھا نہیں تھا زاران پر میرے سلام کی آواز تو آپ کے کانوں تک پہنچی تھی نا۔۔۔؟؟
پھر جواب کیوں نہیں دیا۔۔؟
سانس بند ہونے پر ہی انسان مرتے نہیں۔۔۔
جن کی انسانیت مر جاتی ہے وہ بھی زندوں میں نہیں ہوتے۔۔
مجھے یقین ہے آپ چار سالوں میں بدلے نہیں ہوں گے۔۔لیکن موٹے تو آپ ہو گئے ہیں لازمی جم جوائن کرنی چاہیے آپ کو۔۔۔"
۔
نایاب نے اپنی وہ پینٹنگ مکمل کر کے اسی جگہ ایک کونے میں چھپا دی تھی جہاں اس نے اپنے ابھی تک کے خزانے کو چھپایا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
"زاران خاص تمہارے لیے بریانی بنائی ہے سویرا نے۔۔"
"آہاں پھر تو ضرور کھانا چاہوں گا میں۔۔۔"
زاران کی نظریں اس ڈائننگ ٹیبل پر سویرا پڑی تھی سویرا نے بھی زاران کی آنکھوں میں دیکھا تھا۔۔
اور یہ بات وہاں پر موجود تین لوگوں کو اچھی نہیں لگی تھی۔۔۔
التمش عبید۔۔۔
انیسہ بیگم
نایاب التمش
۔
"ہمم ایسا کیوں لگ رہا ہے سویرا کامیاب ہوگئی ہے وہ چیز چرانے میں جو میری جمع پونجی تھی جو میرا سرمایا تھی۔۔؟؟"
نایاب نے ایک بار پھر سے زاران کی طرف دیکھا تھا جو ابھی بھی مصروف تھا سویرا کو دیکھنے میں۔۔۔
۔
"بیٹا یہ کھیر نایاب نے بنائی ہے۔۔۔تمہیں پسند ہے نا کھیر۔۔۔"
انیسہ نے پلیٹ زاران کے سامنے رکھی تھی۔۔۔
"امی ایم سوو سوری میں نے کھیر کھانا چھوڑ دی ہے۔۔
میں میٹھا بہت کم کھاتا ہوں اب۔۔۔"
۔
زاران نے پلیٹ پیچھے کر دی تھی۔۔۔
نایاب نے گہرا سانس بھرا تھا۔۔۔ اور وہ پلیٹ اٹھا لی تھی۔۔۔
"ابو آپ کھیر کھائیں گے۔۔؟؟"
انہوں نے بے ساختہ اپنا سر ہلا کر جواب دیا تھا اپنی بیٹی کو۔۔۔وہ بے تاب ہوگئے تھے اپنی بچی کے چہرے پر چھائی اداسی دیکھ کر۔۔۔
اور جب انہوں نے سر ہلایا تو نایاب کے چہرے پر وہی مسکان تھی۔۔۔
نایاب نے اپنی کرسی پاس کر لی تھی۔۔۔جیسے اسے ڈائریکٹ ہوئی ریجیکشن سے کوئی فرق نہیں پڑا ہو۔۔
۔
"امی۔۔۔ میں نے ایک فیصلہ لیا ہے میرا مطلب ہے کہ میں نے ایک بات کا جوب سوچا ہے جو آپ سب پچھلے چار سال سے مجھ سے پوچھ رہے تھے۔۔۔
۔
"کیا بیٹا۔۔۔؟"
آفاق صاحب نے پوچھا تو زاران نے سویرا کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
"ابو میں سویرا سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔"
نایاب کے ہاتھوں سے وہ چمچ گرتے گرتے رہ گیا تھا۔۔۔
"یا اللہ زاران بیٹا سچ میں"
کنول بیگم نے زاران کے ماتھے پر اٹھ کر بوسہ دیا تھا
"جی ممانی۔۔۔اگر آپ سب کی رضا مندی ہوگی تو۔۔۔"
"سویرا جی۔۔۔۔"
"ارے سویرا بھابھی بولو۔۔۔"
سویرا ہنستے ہوئے انکے ساتھ بھاگ گئی تھی شرما کر وہاں سے۔۔۔
کنول بیگم کے علاوہ سب ہی کے چہرے بجھ سے گئے تھے یہاں تک کے سویرا کے والد کے بھی بڑے بھائی کو شرمندگی کی نظر سے دیکھ رہے تھے۔۔۔
"آپ سب کو کیا ہوا۔۔؟؟ آپ سب چاہتے تھے میں شادی کے لیے ہاں کروں۔۔امی آپ خوش نہیں لگ رہی۔۔۔؟؟"
زاران پریشانی کے عالم میں اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔
"نہیں بیٹا۔۔۔ تم خوش ہو۔۔۔ سویرا بہت اچھی خوبصورت بچی ہے۔۔۔تم دونوں کی جوڑی بہت جچے گی ماشااللہ۔۔۔"
نایاب کی امی نے جیسے ہی یہ بات کی تھی۔۔
نایاب کے ابو کا کانپتا ہوا ہاتھ نایاب کے ہاتھ پر تھا۔۔۔جو اپنے ابو کو کھیر کھلاتے ہوئے رک گئی تھی۔۔
"ابو میں ٹھیک ہوں۔۔۔"
نایاب نے پھر سے کھیر کھلانا شروع کر دی تھی
۔
وہ ٹھیک ہوں ایک جملہ وہاں بیٹھے کتنے لوگوں کی ہمدردی اور ترس کی نگاہیں نایاب پر کر چکا تھا۔۔۔
نایاب نے رمال سے اپنے ابو کا چہرہ صاف کیا اور وہ کھیر کچن میں لے گئی تھی۔۔۔سب س ایکسکیوز کر کے۔۔۔
۔
۔
"بہت سے سوال جواب کے بعد گھر کے بڑے بزرگوں نے فیصلہ کیا تھا کہ آج شام کو ہی منگنی ہوگی۔۔۔
زاران عابدی کی۔۔۔
پر نایاب التمش سے نہیں۔۔۔
بلکہ سویرا راحیل سے۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
"زاران بیٹا کیا باہر کچھ ہوا تھا۔۔؟؟ تمہارے اور سویرا کے درمیان جو اب تم نے اچانک سے شادی کی بات کی ہے۔۔۔؟؟"
اپنے بیٹے کو بستر پر بٹھا لیا تھا انیسہ نے۔۔۔
وہ ابھی بھی اس شوکڈ سے باہر نہیں آئی تھیں کہ اب زران کی منگنی نایاب سے نہیں سویرا سے ہوجائے گی آج شام کو۔۔۔
"استغفراللہ امی آپ کیسے ایسا سوچ سکتی ہیں۔۔؟؟
آپ لوگ چاہتے تھے نا شادی ہو جائے خاندان میں میری۔۔۔"
زاران نے اپنی امی کے ہاتھ کو بوسہ دے کر بہت ادب سے جواب دیا تھا۔۔۔
"پر سویرا ہی کیوں۔۔؟؟ نایاب کیوں نہیں زاران۔۔۔؟"
اپنے بیٹے کے گال پر ہاتھ رکھ کر پوچھا تھا انہوں نے۔۔
"امی وہ لڑکی۔۔؟؟ سیریسلی۔۔۔؟؟ وہ لڑکی۔۔؟
آپ نے سوچ بھی کیسے لیا امی۔۔؟؟
کہاں میں ہوں کہاں وہ لڑکی وہ سٹینڈرڈ نہیں ہے اسکا کے میری بیوی بن سکے وہ امی۔۔۔"
زاران نے والدہ کے ہاتھ چھوڑ دئیے تھے اور چلتے ہوئے کھڑکی کی طرف چلا گیا تھا۔۔۔
"وہ لڑکی۔۔؟؟ وہ لڑکی نایاب ہے زاران۔۔۔ میری بھتیجی تمہاری کزن۔۔۔نایاب التمش نام ہے اسکا۔۔۔"
انکا لہجہ تلخ ہوگیا تھا
"خرابی کیا ہے نایاب میں۔۔۔؟"
"امی اچھائی کیا ہے اس میں۔۔؟ آپ مجھے دیکھیں میں آکسفورڈ گریجویٹ ہوں انٹڑنیشنل ڈگری ہولڈر ہوں بزنس سٹارٹ کیا ہے میں نے۔۔۔
میرے دوست ہیں میری الگ دنیا ہے امی۔۔
آپ کی بھتیجی میرے لائف سٹائل میں فٹ نہیں ہوسکتی۔۔۔ امی میں مذاق نہیں بننا چاہتا
میری لائف سٹائل میں سویرا جیسی خوبصورت ماڈرن لڑکی سوٹ کرے گی وہ میری زندگی کو اور پرفیکٹ بنائے گی امی۔۔۔"
۔
اسکی باتیں اسکے نا کہنے کی وجوہات نے اسکی امی کا چہرہ بھگو دیا تھا۔۔۔
اپنے پڑھے لکھے بیٹے کی وہ باتیں جو صرف جاہلانہ تھی انکی نظروں میں انیسہ نےاپنا چہرہ صاف کیا اور اپنے بیٹے کی پشت پر دیکھا تھا جو ابھی بھی باہر دیکھ رہا تھا
"وہ فٹ نہیں ہوگی یا اسکی سیاہ رنگت زاران۔۔؟؟
"دونوں امی۔۔۔نایاب التمش بھی اور اسکی سیاہ
رنگت بھی۔۔۔امی آج اسکے سلام کا جواب میں نے اپنی زبان سے دے دیا تھا پر آہستہ۔۔۔
میں اسکی موجودگی کو بھی محسوس نہیں کرنا چاہتا۔۔
پتا نہیں کیوں امی آپ نے اتنی بڑی بات کر دی ہے۔۔
لائک سیریسلی امی۔۔؟؟ آپ نے اسکی شادی کرنی ہے تو کوئی میٹرک پاس ڈھونڈ لیں میرے نام کے ساتھ نام جوڑنے کو بھی میں توہین سمجھتا ہوں اپنی امی۔۔۔"
انہیں سمجھ نہیں آئی تھی اتنی گہری تفصیل وہ انکو دے رہا تھا یا خود کو۔۔
۔
وہ خاموش ہو کر سن رہی تھیں اور جب زاران نے اپنی بات مکمل کر دی اس وقت انیسہ اٹھ کر زاران کی جانب بڑھی تھیں
"زاران یہ جو الفاظ ہم بولتے ہیں نا۔۔۔انکی کوئی قیمت نہیں ہوتی بے مول ہوتے ہیں۔۔۔پر جب یہ الفاظ کسی کے لیے استعمال ہوتے ہیں نا تو یہ ایک تیز دھاڑ آلے کا کام کر جاتے ہیں۔۔۔ یہ الفاظ زخمی کر جاتے ہیں،،،تم جانتے ہو آج شام کو تمہاری منگنی ہم نے نا۔۔۔"
پھپھو۔۔۔"
نایاب دروازے پر کچھ کپڑے لئیے کھڑی تھی۔۔۔
"وہ کپڑے جو اس نے آج پہننے تھے۔۔۔اپنی منگنی پر۔۔۔"
۔
"نایاب بیٹا یہ تو۔۔۔"
نایاب نے آگے بڑھ کر پھپھو کے گال پر بوسہ دیا تھا اور ہنس دی تھی پھپھو کے شوکڈ چہرے کے تاثرات پر۔۔۔"
"پھپھو۔۔۔آپ کو پتا ہے آپ روتے ہوئے کتنی عجیب سی لگتی ہیں۔۔"
"ہاہاہاہا اتنی عجیب بھی نہیں لگتی تمہارے پھپھا ہمیشہ کہتے ہیں میں روتے ہوئے بھی خوبصورت لگتی ہوں۔۔۔"
انیسہ نے آنکھیں صاف کر کے آنکھ ماری تھی نایاب کو۔۔
"ہاہاہاہا۔۔۔ارے پھپھو وہ تو صوفے پر سونے کے ڈر سے جھوٹ بولتے ہیں۔۔۔"
'ہاہاہا ابھی بتاتی ہوں۔۔۔"
"پھپھوآپ کو یہ کچھ چیزیں واپس کرنی تھی۔۔
ہاں ایک جوڑا میں نے لے لیا ہے آج میں وہی پہنوں گی ۔۔۔آپ نے جو کرنا ہو باقی کپڑوں اور جیولری کے ساتھ آپ کر دینا۔۔۔"
"نایاب۔۔۔"
"پھپھو پلیز زاران کو کبھی پتا نہیں چلنا چاہیے کہ آج انکی منگنی میرے ساتھ ہونے جارہی تھی۔۔"
نایاب نے آہستہ سے کہا تھا زاران ابھی اس بات پر فکرمند سا ہوگیا تھا کہ کہیں اسکی گفتگو سن تو نہیں لی تھی نایاب نے۔۔۔پر نایاب کے چہرے پر ہنسی آنکھوں میں شرارت سے اسکی فکر ختم ہوئی تھی پر کچھ پل کے لیے۔۔۔۔
"پھپھو آپ اپنے بیٹے سے کہہ دیں کے میں انکے پلے نہیں بندھی جو یہ میرا کسی میٹرک پاس سے رشتہ کروانے کی بات کر رہے ہیں۔۔۔
میرے والد محترم زندہ ہیں ابھی۔۔۔ انہیں ضرورت نہیں ہے کوئی بھی سجیشن یا سلیوشن دینے کی۔۔۔"
نایاب اس کمرے سے واپس اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔۔۔۔
۔
Episode 2
"نایاب تمہیں پتا ہے زاران کی منگنی ہو رہی ہے آج۔۔۔
پر تم سے نہیں سویرا سے۔۔۔ یو نو بیوٹی ود برین"
نایاب نے کاپی کا صفحہ پلٹ کر دیکھا تو دروازے پر سحر باجی کھڑی تھیں چھوٹے چاچو کی بیٹی
"سحر باجی میں بھی سوچ رہی تھی ابھی تک آپ کیوں نہیں آئی۔۔۔؟؟
آئیے آئیے۔۔۔ تو آپ آج لیٹ ہوگئی ہیں۔۔؟ سمجھ سے بالاتر ہےآپ سب باری باری آکر مجھے زاران کی منگنی کا سنا رہیں ہیں ایک ساتھ آجایا کریں۔۔۔"
نایاب نے ہنسی چھپاتے ہوئے کاپی پر پھر سے لکھنا شروع کیا تھا۔۔
پر سامنے کھڑی سحر باجی کو نایاب کا دو ٹوک جواب نہایت ناگوار گزرا جس پر چند قدم آگے بڑھ کر انہوں نے نایاب کا چہرہ اپنے ہاتھوں کی مظبوط گرفت میں لے لیا تھا۔۔
"نایاب اپنی تیز زبان کے وار مجھ پر نا کرو لڑکی آج تو غرور ٹوٹا ہے تمہارا۔۔۔
چار سال جس کی راہ دیکھی وہ واپس لوٹ کر آیا بھی تو کسی اور کے لیے۔۔؟
جب سویرا بتاتی تھی زاران اور وہ باہر کتنے نزدیک ہوئے۔۔اس وقت تو تم بہت اتراتی تھی یہ کہہ کر کے زاران ایسا نہیں ناؤ وٹ۔۔۔؟؟"
نایاب کی آنکھوں میں ایک ایسا جذبہ ایک ایسا درد سحر باجی کی بات سن کر ابھرا ضرور تھا پر کچھ سیکنڈ کے لیے۔۔
"سحر باجی مجھ سے زیادہ دکھ آپ لوگوں کو ہورہا ہے شاید۔۔
مجھے چار سال سے انتظار نہیں تھا۔۔۔نا میں رکی تھی نا میری دنیا۔۔
اگر زاران چار سال سے سویرا کے نزدیک ہوئے تو انکے لیے اچھی بات ہوئی نا منگنی ہو رہی۔۔
پر انکی منگنی سے میرے لیے کیا برا ہوا۔۔؟ سوائے آپ گھر والوں کے طنز اور طعنوں سے۔۔؟
مجھے دیکھیں میں کیا دکھی بکھری ہوئی روتی ہوئی لگ رہی ہوں۔۔؟؟"
سحر پوری طرح سے ہکی بکی رہ گئی تھی نایاب کی باتیں سن کر۔۔
پر سحر باجی کو زیادہ چوکنیہ نایاب کی اس گرفت نے کیا تھا جوسحر کے اس ہاتھ پر تھی جو نایاب کے چہرے کو پکڑے ہوئے تھا۔۔
"سحر باجی اگر آج آپ کی جگہ میری سگی بہن مجھے اس طرح سے پکڑے ہوتی تو شاید میں صبر کر جاتی۔۔۔پر آپ۔۔۔آپ میری کزن ہیں۔۔
رشتوں کی حدود ہوتی ہیں باجی۔۔۔ جو رشتے باتوں سے اذیتوں تک آجائیں انہیں حیثیت یاد دلا دینی چاہیے۔۔۔جیسے کہ اب آپ ہیں۔۔۔
ہمارے رشتے کا حسن خوش اخلاق بات چیت تھا۔۔۔ پر آپ نے باضابطہ ہاتھ اٹھا کر وہ ختم کر دیا ہے۔۔۔"
نایاب کی مظبوط گرفت کا اندازہ اسے ہوگیا تھا جب سحر باجی کے چہرے پر درد جھلکا تھا۔۔
"اب آپ جائیے۔۔۔اور باقی کا کوٹہ زاران کی منگنی کے بعد سویرا کے ساتھ آکر پورا کر لیجیئے گا۔۔۔"
اور نایاب نے مسکراتے ہوئے وہ ہاتھ جھٹک دیا تھا۔۔۔
"نایاب تمہیں تو میں۔۔۔"
"بس سحر۔۔۔ بہت ہوا اپنے کمرے میں جاؤ۔۔۔"
چھوٹی چاچی انیسہ پھپھو کے ساتھ دروازے پر کھڑی تھیں۔۔۔
"اسلام وعلیکم۔۔۔آپ لوگ تو غضب لگ رہیں ہیں۔۔۔لیڈیز۔۔۔"
نایاب اٹھ کھڑی ہوئی اپنی جگہ سے اور چمک آگئی تھی پھپھو اور چاچی کو سجے سنورے دیکھ کر۔۔۔
یہ نایاب التمش تھی۔۔۔یہ اسکا دل تھا جو ایک پل کو یاد رکھتا تھا پھر وہ ویسی ہوجاتی تھی۔۔
چاہے گھر کے بڑے ہوں یا چھوٹے۔۔۔۔
"بیٹا تم نے تیار ہونا شروع نہیں کیا ابھی تک۔۔؟"
پھپھو نے نایاب کے چہرے پر شفقت سے ہاتھ رکھ کر پوچھا۔۔۔
"پھپھو میری کونسی منگنی ہے آج۔۔ مجھے تیاری کی کیا ضرورت۔۔میں بس حاضری لگوانے آجاؤں گی۔۔۔"
نایاب نے نظریں چرائے اپنی بکس اکھٹی کرنا شروع کر دی تھی بستر سے۔۔
"نایاب سحر کی بات کا بُرا نا مناؤ بیٹا وہ بس۔۔۔"
"چاچی نہیں میں نے برا نہیں منایا۔۔۔ہاہاہاہا البتہ وہ برا منا گئیں ہیں۔۔۔"
"ہاہاہا۔۔۔انیسہ میں کہتی ہوں نا ہماری نایاب بہت نایاب ہے۔۔۔اب میں سکون کے ساتھ فنکشن اٹئینڈ کر سکتی ہوں۔۔۔"
چاچی نایاب کے سر پر پیار دئیے وہاں سے چلی گئیں تھیں۔۔۔
"پھپھو۔۔۔ ابھی آپ بھی جائیے۔۔۔میں نہیں چاہتی دنیا سے ایک اور الزام اپنے سر لے لوں کے آپ اپنے بیٹے کی منگنی پر میری وجہ سے نہیں وقت پر پہنچی۔۔۔"
نایاب نے برو اچکا کر کہا تھا۔۔۔
"ہاہاہاہاہا۔۔۔لڑکی دنیا کا کام یہی ہے جینے نا دینا۔۔۔"
پھپھو نایاب کو اپنے ساتھ بیڈ پر بٹھا چکی تھیں۔۔۔
"اگر آپ معافی تلافی ماانگنے والی ہیں تو لڑکی میں بتا دوں ایسا نا کیجئیے گا۔۔۔"
"ہاہاہاہا لڑکی اور میں۔۔؟"
پھپھو سامنے شیشے میں خود کو دیکھ کر مسکرا دی تھی نایاب کی بات پر
"ہاہاہاہا زیادہ خوش نا ہوئیے آپ پھپھو جان۔۔مسکا لگا رہی آپ کو کمرے سے بھیجنے کا۔۔۔"
"ہاہاہاہاہا۔۔۔لیکن اچھی تو میں لگ رہی ہوں ویسے۔۔۔"
"ہاہاہاہاہا۔۔۔"
نایاب کے چہرے پر مسکان لانے میں کامیاب ہوگئیں تھیں انیسہ۔۔۔
"نایاب۔۔۔میری بچی۔۔۔اگر تم ایک بار بس ایک بار ہاں کر دو تو یہ منگنی نہیں ہونے دوں گی میں۔۔۔ "
"اور زاران کا کیا۔۔؟؟"
"زاران وہی کرے گا جو میں کہوں گی بیٹا۔۔۔"
"پر زاران کا دل وہ کرے گا جو انکی چاہت ہے"
انیسہ پھپھو نے بھی گہرا سانس بھرا تھا نایاب کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لینے سے پہلے۔۔۔
"پھر میں کیا کروں میری بچی۔۔؟ چار سال تم نے زاران کی راہ دیکھی چار سال سے
تمہارے لیے آنے والے ہر رشتے سے انکار کیا ہم لوگوں نے۔۔۔
چار سال انتظار میں گزر گئے تمہارے۔۔۔"
۔
"پھپھو۔۔۔میں ابھی بھی یہی کہوں گی کہ چار سالوں میں میری زندگی رکی نہیں تھی۔۔۔
چل رہی تھی۔۔ میں نے تعلیم مکمل کی میں نے گھر ہستی سنبھالی۔۔سب کے ساتھ ہر پل ہر لمحہ ا ینجوائے کیا۔۔۔
سانسیں چلتی رہی میں چلتی رہی۔۔۔زندگی نہیں رکی پھپھو اور زندگی رکتی بھی نہیں ہے،،،"
چہرے کے تاثرات یک دم سنجیدہ ہو گئے تھے نایاب کے جیسے اس نے پھپھو کے ہاتھ پر اپنی گرفت مظبوط کی۔۔۔
"پھپھو زندگی اس وقت رک جانی تھی جب زاران کے دل میں کوئی اور رہتا اور نکاح میں میں۔۔۔
زندگی نےاس وقت تھم جانا تھا جب ان کے ساتھ میں ہوتی اور انکی نگاہیں کسی اور پر۔۔۔
زندگی ایسے نہیں رکتی۔۔۔۔پر ویسے رک جانی تھی۔۔۔جب آپ زبردستی باندھ دئیے جاتے ہیں کسی کے ساتھ۔۔۔جیسے آپ زاران کے ساتھ کرنا چاہتی ہیں۔۔۔
میں زاران کے بغیر خوش ہوں پر شادی کے بعد انکی پسند جان لینے کے بعد میں نےشاید مر جانا تھا۔۔ گھٹ گھٹ کر جینا تھا۔۔۔
اب دیکھیں میرے چہرے پر کہیں کوئی پریشانی ہے۔۔؟ میں مطمئن ہوں
اور نیک دعائیں ہیں میرے دل میں زاران اور سویرا کے لیے۔۔۔
اور میرے بتیس دانت بھی نکل رہیں ہیں۔۔۔"
نایاب نے آخر والی بات پر اپنے دانت نکال کر پھپھو کو دیکھائیں تھے۔۔۔
جو روتے روتے ہنس دی تھیں۔۔۔
"اوووہ نایاب میری بچی۔۔۔ تم چاہے جتنا مرضی خوش ہوکر دکھا دو میں جانتی ہوں تمہیں میری بچی۔۔۔"
پھپھو نے یہ کہتے ہی اسے گلے لگایا تھا بہت گرم جوشی سے۔۔۔ جس نے پھپھو کے گلے لگتے ہی آنکھیں بند کر لی تھی،،،۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
"یہ فنگشن ہماری فیملی کا پہلا فنگشن ہے۔۔۔ جیسے کہ آپ سب جانتے ہیں آج میری بیٹی کی منگنی میرے بھتیجے زاران عابدی کے ساتھ تہہ پائی ہے۔۔۔
میں اپنی بہن انیسہ اور بہنوئی آفاق عابدی کو سٹیج پر بلانا چاہوں گا۔۔۔"
راحیل صاحب کی بات کے اختتام پر تالیوں کی آواز گونج اٹھی تھی۔۔۔
۔
"زاران عابدی اور سویرا راحیل کو سٹیج پر بلایا گیا تھا۔۔۔
انیسہ بیگم کی نگاہیں شرمندہ تھیں وہ کبھی ویل چئیر پر اپنے معذور بھائی پر جا پڑتی تھیں تو کبھی اپنی بھتیجی کو ڈھونڈتی تھیں۔۔۔ جو ابھی تک ہال میں نہیں آئی تھی۔۔۔
۔
اور جب نایاب التمش ہال میں آئیں تو چاچو کے بیٹے نے شرارت کرتے ہوئے عین ٹائم پر وہ سپوٹ لائٹ سویرا سے ہاٹ کر داخلی راستے پر کی تھی جہاں سے نایاب اندر داخل ہو رہی تھی۔۔۔
اور زاران رنگ پہناتے ہوئے رک گیا تھا۔۔۔
"دیکھ لوں گی تمہیں۔۔۔کل اکیڈمی تو میرے پاس ہی پڑھنا ہے نا۔۔؟؟"
نایاب نے تھپڑ کا اشارہ کرتے ہلکی آواز میں کہا تھا۔۔۔
اور سب کی نظروں کو اگنور کرتے ہوئے کھانے کی میز پر چلی گئی تھی۔۔۔
"زاران بیٹا۔۔۔رنگ پہناؤ۔۔۔"
آفاق صاحب نے اپنے بیٹے سے کہا تھا جس کی نظریں واپس سویرا پر آگئی تھیں۔۔۔
۔
"اتنا زیادہ کھانا۔۔۔۔"
نایاب نے پوری پلیٹ پھر لی تھی اور کونے پر جا کر بیٹھ گئی تھی جیسے اسے پھر سے اتنا کھانا دیکھنے کو بھی نہیں ملنا تھا۔۔۔
۔
۔
"تالیوں کی آواز گونجنے پر نایاب نے سٹیج کی طرف نظریں اٹھا کر دیکھا جہاں سویرا شرمائے سر جھکائے کھڑی تھی اور زاران سینا چوڑہا کئیے کھڑا تھا۔۔
اور سینا چوڑہا ہوتا بھی کیوں نا سویرا پڑھی لکھی خوبصورت لڑکی تھی۔۔۔
۔
نایاب نے واپس نظریں پلیٹ کی طرف کر لی تھیں۔۔۔
۔
۔
"نایاب زاران جب واپس آجائے گا نا ہم بہت بڑا فنگشن رکھیں گے۔۔۔
تم ایسے سج سنور کے میرے زاران کے ساتھ کھڑی ہوگی۔۔۔
اس وقت سب فیملی والوں کے منہ بند ہوجائیں گے بیٹا۔۔۔"
پھپھو کی باتیں گونج رہی تھی نایاب کے کانوں میں۔۔۔
"نایاب التمش۔۔۔ میں تمہیں اس چھوٹی سی انگوٹھی کے ساتھ قید کرنا چاہتا ہوں۔۔
اور بتانا چاہتا ہوں دنیا کو کہ تم زاران عابدی کی چاہت ہو۔۔۔پسند ہو زاران عابدی کی"
۔
اور وہ ایک خواب جو وہ ناجانے کتنے سالوں سے دیکھ رہی تھی وہ دھندلا رہا تھا ۔۔
اور ایک ایک کر کے اسکی آنکھوں سے وہ قطرے نکل رہے تھے۔۔
اس نے منہ پھیر لیا تھا۔۔۔
نایاب التمش مرتی مر جائے گی پر کسی کے سامنے کمزور نہیں پڑے گی۔۔۔
۔
"آج اسے کسی نے نہیں اسکے اس دھوندلے خواب نے آبدیدہ کیا تھا۔۔
اس لیے وہ خواب نہیں دیکھنا چاہتی تھی کبھی بھی۔۔
وہ یہ سمجھتی تھی کہ ہمیں لوگ نے ہماری اپنی امیدیں رلا دیتی ہیں جو ہم وابستہ کر لیتے ہیں۔۔۔"
۔
"نایاب بیٹا آؤ زاران اور سویرا کے ساتھ تصویر نہیں بنواؤ گی۔۔۔۔؟؟؟"
پھپھو کے بلانے پر نایاب کو وہ پلیٹ مجبورا وہاں رکھ کر سٹیج پر جانا پڑا جہاں سویرا کے چہرے پر جیت کی خوشی نمایاں تھی۔۔۔۔
"اسلام وعلیکم۔۔۔بہت بہت مبارک ہو آپ دونوں کو۔۔۔۔۔"
"وعلیکم سلام۔۔۔۔سویرا میرے دوست آگئے ہیں میں ابھی آیا۔۔۔۔۔"
زاران نایاب کو نظر انداز کر کے چلا گیا تھا۔۔۔۔
"اوووہ نایاب۔۔۔دیکھا تمہاری موجودگی بھی نہیں بھاتی زاران کو دیکھو تو کیسسے چلا گیا۔۔۔۔
اور تم سپنے سجائے بیٹھی تھی کہ وہ تمہیں اپنائے گا۔۔۔۔۔"
"نایاب بیٹا آؤ میں تمہیں اپنی دیورانی سے ملواؤں۔۔۔۔"
پھپھو نے نایاب ک ہاتھ پکڑ لیا تھا انہوں نے سن لی تھی سویرا کی باتیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Episode 3
"اب تم بیچلر نہیں رہے مائی ڈیئر فرینڈ۔۔۔۔۔"
"لکی مین۔۔۔سویرا بھابھی بہت خوبصورت ہیں۔۔۔۔"
زاران اپنے کزنز اور فرینڈز کے ساتھ اوپر جشن منا رہا تھا اپنی منگنی کا۔۔۔
"زاران اگر ڈرنکس میں کچھ اور مل جاتا تو مزہ آجاتا۔۔۔"
زاران کے کزنز نے حیرانگی سے زاران کے دوستوں کو دیکھا تھا۔۔۔
"یہاں یہ سب نہیں ہوتا اظہر۔۔۔۔"
زاران نے سختی سے کہا تھا جس پر اسکے دوست چپ ہوگئے تھے
"ارے یار ویسے وہ بلیک بیوٹی تمہاری کزن ہے جس کے بارے میں سویرا بتاتی تھی۔۔۔؟؟؟"
"ہاہاہاہا۔۔۔۔ہاں یار اس سے تو ملواؤ ہمیں۔۔۔۔ کیا پتا ہمیں پسند آجائے۔۔۔"
زاران کے کزنز غصے سے اٹھ گئے تھے۔۔۔۔
پر زاران وہیں بیٹھا تھا۔۔۔۔۔
"وہ بلیک بیوٹی بہن ہے ہماری۔۔۔۔آپ لوگ چاہے باہر پلے بڑھے ہو ماڈرن ہو۔۔۔
پر جس طرح ہمارے خاندان کی لڑکیاں آپ لوگ یہاں ڈسکس کر رہے ہیں اگر زاران بھائی کے دوست نا ہوتے تو ابھی نکال باہر کرتا۔۔۔۔۔"
یہ وہ کزن تھا جو کچھ دیر پہلے سپوٹ لائٹ ڈال کر نایاب کو تنگ کر رہا تھا۔۔۔
جو ہر وقت فن اور مذاق کے موڈ میں رہتا تھا پر آج شدید ترین غصے میں کھڑا تھا۔۔۔۔
"ساحل۔۔۔۔میرے دوست ہیں وہ۔۔۔۔"
زاران نے بہت سخت لہجے سے کہا تھا۔۔۔۔۔
"اور وہ میری بہن ہے زازان بھائی۔۔۔۔ آپ بھی چار سال پہلے ایسے ہی تھے۔۔۔
اب باہر کا پانی راس آگیا ہے تو کیا۔۔۔؟؟ آپ اپنے دوستوں کو حدود تک محدود رکھے۔۔۔"
وہ تینوں کزنز چلے گئے تھے وہاں سے
"ہاہاہاہا اسے کیا ہوا۔۔۔۔سویرا تو کہہ رہی تھی اس بلیک بیوٹی کو کچھ کہنے سے کسی کو فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔کہیں اسکا کچھ چکر تو نہیں اس بلیک۔۔۔"
"شٹ اپ اننف۔۔۔۔میں خاموش ہوں اسکا مطلب یہ نہیں تم میری عزت کی دھجیاں اڑاؤ۔۔۔۔"
اپنی کولڈ ڈرک کا گلاس غصے میں پھینک دیا تھا اس نے۔۔۔۔
"پر زاران سویرا نے تو۔۔۔۔۔"
"سویرا نے غلط کیا گھر کی عزت باہر اچھال کر۔۔۔۔"
زاران کے غصے پر اسکے تمام دوست چپ ہوگئے تھے۔۔۔
"پر زاران تمہارے سامنے سویرا کے بارے میں بھی ہم ایسے ہی بات کرتے آۓ تب تو غصہ نہیں آیا۔۔۔۔آج اپنی دوسری کزن کا سن کر کیوں آگ بگولہ ہورہے۔۔۔۔؟؟؟"
"ہاہاہاہا۔۔۔۔۔ کہیں دکھتی نبض پر ہاتھ تو نہیں رکھ دیا۔۔۔؟؟"
"وٹ رببیش یار۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔۔"
۔
۔
وہ سب پھر سے ویسے ہی ہوگئے تھے جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو۔۔۔
پر زاران عابدی کو ابھی بھی وہ بات بے چین کر رہی تھی۔۔۔اسکا یوں غصہ کرنا اپنے دوست پر۔۔۔جوپ اس نے کبھی سویرا کو لیکر بھی نہیں کیا تھا۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
"کچھ دن بعد۔۔۔"
۔
زاران اب غصہ چھوڑ بھی دو پلیز۔۔۔۔۔"
"سویرا تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا غیر لوگوں کو گھر کے معاملات بتانے کا۔۔۔۔۔"
"غیر لوگ۔۔۔؟ وہ دوست ہیں ہمارے اور۔۔۔۔زاران نایاب کی بیوٹی کونسا چھپی ہوئی۔۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔۔۔ویسے بھی تمہیں وہ نہیں پتا جو مجھے پتا ہے۔۔۔"
زاران نے سوالیہ نظروں سے پوچھا اس سے جس پر وہ بہت ہنسی تھی۔۔۔۔مذاق بناتے ہوئے۔۔۔۔
۔
"زاران تم جانتے ہو وہ بہن جی تمہیں پسند کرتی آئی بچپن سے۔۔۔
اور پھپھو نے بھی بات پکی کر لی تھی تایا جان سے۔۔۔
وہ تو تم نے اپنی بزنس ٹرپ سے واپس آکر مجھ سے شادی کا اظہار کردیا سب کے سامنے ورنہ وہ تو کیا کیا خواب بُن بیٹھی تھی۔۔۔۔
تم جیسے چاند پر اپنی سیاہ رنگت کا گرہن لگانے کے لیے۔۔۔۔"
اس نے اپنی بات زور دار قہقہے کے ساتھ ختم کی تھی
پر سامنے بیٹھے اپنے منگیتر پر اس نے ایک آسمان گرا دیا تھا
جو بظاہر کچھ ثابت نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔
لیکن اس کا دل دھک دھک کر رہا تھا۔۔۔۔اس ایک انکشاف پر وہ غصہ بھی تھا اور خوش بھی۔۔۔۔
اسکی رؤب دار شخصیت ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔
پر اب اسکی توجہ کا مرکز سامنے میز پر پڑا لیپ ٹاپ نہیں۔۔۔۔
اس کی کزن تھی۔۔۔۔
"زاران کہاں کھو گئے۔۔۔۔؟؟"
گہرا سانس لئیے وہ اپنے الفاظ جمع کر رہا تھا جیسے وہ وہ اپنا غصہ عیاں کرنا چاہتا تھا۔۔۔
"میں یہ سوچ رہا ہوں کیسے اتنی پارسا لڑکی کسی نامحرم کو پسند کر سکتی ہے۔۔۔؟؟ میں جب جب اس کے سامنے سے گزرا
میں نے اسکی نظریں جھکی ہوئی پائی ہمیشہ۔۔۔۔اور آج مجھے پتا چل رہا ہے
نایاب التمش مجھے پسند کرتی ہے۔۔۔؟؟
اِٹس سم کائنڈ آف جوک سویرہ۔۔۔؟؟"
زاران کے لہجے میں غصے واضع تھا پر آواز دھیمی تھی۔۔۔۔
"ہاہاہاہا۔۔۔ تم اس کی سادگی سے ایمپریس ہونے سے پہلے یہ تو سوچو کس طرح اس نے تمہیں فالو کیا۔۔۔۔
تمہارے کالج میں ایڈمیشن۔۔۔۔
پھر یونیورسٹی میں ٹاپ کرنا۔۔۔ جیسے تم نے کیا تھا۔۔۔۔
اور اب آکسفورڈ میں اپلائی کیا ہوا ہے محترمہ نے۔۔۔۔۔
اسکے رنگ کی طرح اس کے ارادے بھی ایسے ہی رہے کالے۔۔۔۔
ہماری شادی ہوجائے سب سے پہلے اسے اس گھر سے چلتا کروں گی۔۔۔"
زاران پر چپی چھا چکی تھی۔۔۔ اب اسے سمجھ آرہا تھا کیوں اس کی کزن ہمیشہ سے دلچسپی لیتی تھی کیوں اسے ای میلز آتے تھے پاکستان سے۔۔
کیوں اسکی امی بار بار نایاب کا ذکر کرتے ہوئے ہنس دیا کرتی تھی۔۔۔
"اچھا زاران ہماری منگنی کی تصاویر دیکھی تم نے۔۔۔؟؟
ہر ایک کے منہ پر ہم دونوں کے نام تھے۔۔۔یہ دیکھو۔۔۔۔
لگ رہا ہے نا میڈ فور ایچ ادر۔۔۔"
سویرہ نے اپنا موبائل فون زاران کی طرف کیا تھا۔۔۔۔۔
اس تصویر میں اس کی نظریں ساتھ کھڑی اپنی منگیتر پر نہیں دور کھڑی اپنی کزن پر پڑی تھیں جو ہاتھ میں کھانے کی پلیٹ پکڑے ایسی لالچ سے کھانے کو دیکھ رہی تھی اور اس کے چہرے پر ایسی مسکان تھی کہ دیکھنے والا اس مسکان پر مر مٹے۔۔۔۔۔
زاران عابدی کی نظریں بھی جمی ہوئی تھی اس مسکان پر۔۔۔۔۔
"تم نے کہا وہ مجھے پسند کرتی آئی بچپن سے۔۔۔۔ پھر میری منگنی پر وہ اداس کیوں نہیں ہے۔۔۔؟ اس کے چہرے پر سکون کی بےپناہ چھلک
اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں خوشی کے وہ جواہرات کیوں نظر آرہے ہیں جیسے اسے فرق نہیں پڑ رہا میرا کسی اور کا ہوجانے پر۔۔۔۔۔؟؟"
۔
زاران کے بےچین دل نے وہ سوال کر ڈالے تھے جو ابھی ابھی کچھ لمحات میں اسکی زبان پر آگئے تھے۔۔۔۔
"کیونکہ وہ نایاب التمش ہے۔۔۔۔اتنا تو میں اپنی چھوٹی سی کزن کو جانتی ہوں۔۔۔
جب تم کسی کے نہیں تھے اسے تمہیں چاہے جانا گناہ نہیں لگتا ہوگا۔۔۔
پر ہماری منگنی کے بعد اسے اپنی حیثیت سمجھ آگئی ہو گی۔۔۔۔۔"
"کیا گھر میں کسی کو پتا ہے۔۔۔؟؟"
بہت دھیرے سے پوچھا گیا تھا۔۔۔بہت کشمکش کے بعد زاران کے نرم لہجے نے سویرہ کے چہرے پر ایسے تاثرات عیاں تھے جیسے وہ انتظار میں ہو اس سوال کہ پوچھے جانے کے
۔
"کسی نہیں معلوم۔۔۔؟؟؟ بس یہ جان لیجیئے جس دن آپ نے مجھ سے شادی کا اظہار کیا تھا اسی شام نایاب اور آپ کی منگنی ہوجانی تھی
ہاہاہاہا۔۔۔پر خواب خواب رہ گئے نا ادھورے۔۔۔۔؟؟
ادھوری محبت کی طرح۔۔۔۔۔"
سویرہ کچھ دیر میں وہاں سے چلی گئی تھی اور ملازم چاۓ کا مگ سامنے میز پر رکھ گیا تھا۔۔۔۔
بے چین دل اور دماغ میں جمع ہوتے غصے نے زاران کو ڈھلتی شام میں باہر بالکونی میں جانے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔۔۔
۔
شام کے اس پہر وہ سکون کا سانس بحال کر رہا تھا۔۔۔جو کچھ دیر پہلے ایک سچ نے چھین لیا تھا اس سے۔۔۔۔
گھر جاتے پرندوں کو دیکھ کر وہ اس خوبصورت سورج ڈوبنے کے مناظر سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔۔۔۔
جب ہی اس کی نظر دومنزلہ نیچے۔۔۔۔۔ گھر کے باغیچے پر پڑی جہاں بنے ایک خوبصورت سوئمنگ پول میں ٹانگیں ڈوبائے بیٹھی اپنی کتاب پڑھ رہی تھی۔۔۔۔
اور پھر کچھ لکھ رہی تھی ایک نوٹ بک پر۔۔۔۔
وہ بچپن سے اسے ایسے الگ تھلگ رہتا دیکھتا آیا تھا بچپن سے۔۔۔۔
رئیلنگ پر اپنے دونوں ہاتھ جمائے کھڑا وہ اب ڈھلتی شام اب مرکز نگاہ نہیں رہی تھی اسکا۔۔۔۔
۔
اس لڑکی کی مسکان اور ہوا کے جھونکے سے اڑتی وہ ذلفیں توجہ لے گئی تھیں زاران عابدی کی
وہ لڑکی جو آج تک ایک پہیلی بنی رہی اس کے لیے۔۔۔۔
۔
۔
وقت گزرتا گیا۔۔۔۔ اپنی اسائنمنٹ مکمل کر کے جب اس پانی چاند کی چھوی دیکھی تو پانی پر اور جھکنے سے اسے اپنا چہرہ اس چاند کے ساتھ گرہن جیسے لگا۔۔۔۔ جیسے اس کی کزنز اسے چھیرتی آئی۔۔۔۔
پر جب اس نے اپنا چہرہ اٹھا کر اوپر چاند کی طرف دیکھا تو اسے اپنا آپ گرہن نہیں لگا۔۔۔۔
یہ اس کی خاصیت تھی وہ اپنے آپ کو کمتر نہیں سمجھتی تھی۔۔۔۔
کالے رنگ کو شاید لوگ کمزوری بنا لیتے ہوں گے۔۔۔۔
پر وہ کمزور نہیں تھی۔۔۔۔۔
"میں کمزور نہیں ہوں۔۔۔۔میں نایاب ہوں۔۔۔۔۔"
اور وہی مسکان چھا گئی تھی اس کے چہرے پر جب اسے محسوس ہوئی تھیں کسی کی نظریں خود پر۔۔۔۔۔
"پینٹنگ نمبر چارہزار تین سو چار یہ کہتے ہی نایاب نے جب اس ایک خاص کمرے کی بالکونی کی طرف دیکھا تو کوئی چھپ گیا تھا ستون کے پیچھے۔۔۔۔
پر نایاب واقف تھی اس انسان سے اسکی نقل وحرکت سے۔۔۔۔
وہاں پڑے چاۓ کے مگ کو دیکھ چکی تھی۔۔۔۔
اور اسکی انگلیاں اپنے آپ چلنا شروع ہوگئی اس پینٹ والی بک پر جو اس نے اپنی باقی کتابوں کے درمیان چھپائی ہوئی تھی۔۔۔۔
جب اس بالکونی کے مناظر کو اپنے کاغذ پر اتار لیا تو اس پینٹنگ میں اس نے وہ تین انگلیاں بھی ڈراء کی تھی جو اس چھپے ہوئے شخص کی موجودگی کا ثبوت دے رہی تھی۔۔۔۔۔
"زاران عابدی میں تو آپ کے سامنے آنے سے نظریں اٹھا کر دیکھنے سے اس لیے بھی ڈرتی ہوں کی آکسفورڈ گریجویٹ کہیں میری چھپی محبت نا پڑھ لے میری نگاہوں میں۔۔۔۔۔
پر اللہ جانے آپ کو کس بات کا خوف ہے جو چھپ جاتے ہیں پکڑے جانے پر۔۔۔۔۔۔
ہمیشہ سے ایسا ہی چلتا رہا۔۔۔۔۔۔
مجھے بتانا نہیں آیا
تمہیں چھپانا نہیں آیا۔۔۔۔۔۔"
اور اس پینٹنگ کے نیچے یہ کچھ لائینز لکھ کر اپنی کتاب پوری طرح بند کر دی تھی اس نے۔۔۔۔
اپنے ہاتھوں کو پانی میں ڈالے وہ اپنی ہتھیلی پر پانی پر کر چاند کے ساتھ نمایا ہوتے اپنے عکس پر ڈال رہی تھی۔۔۔۔
اور جب پانی میں اسکا چہرہ دھندلا گیا تھا تو وہ ہنس دی تھی بہت کھلکھلا کے۔۔۔۔۔
اور اس کے چہرے پر وہی سکون وہی مسکان تھی۔۔۔۔
اس نے اپنی محبت کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیا تھا جو آنکھوں میں آنسو سجا دے۔۔۔۔۔
اس نے محبت کو اپنے چہرے کی مسکان بنا لیا تھا جس پر اسے نے کبھی پچھتاوا کرنے کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی تھی۔۔۔۔۔"
۔
وہ جیسے ہی وہاں سے اٹھ کر چلی گئی زاران واپس بالکونی میں کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔
وہ نا چاہتے ہوئے بھی سوچنے لگا تھا اس لڑکی کو اب جب اسے پتا چل گیا تھا اسکی کزن کی پسندیدگی کا اسے لیکر بھی۔۔۔۔
اس کے دل میں غصہ نہیں تھا پر اسکا دماغ اسے مجبور کر رہا تھا جیسے اسکی کزن نے اسے پسند کر کے بہت بڑا گناہ کر لیا ہو۔۔۔۔۔
۔
"نایاب التمش۔۔۔۔غلط کیا تم نے مجھے پسند کر کے۔۔۔۔ میں تمہیں کتنا پارسا سمجھتا آیا۔۔۔اور تم ایک چھت تلے مجھ پر نظریں جمائے بیٹھی تھی۔۔۔
میں تمہیں کبھی پسند نہیں کروں گا نایاب التمش۔۔۔۔اور اب تمہیں اس چھت کے نیچے برداشت بھی نہیں کروں گا۔۔۔۔
تمہاری شادی مجھ سے پہلے کرواں گا۔۔۔۔ اور یہ میرا وعدہ ہے۔۔۔۔"
۔
آج جہاں اسکے دماغ میں غصہ تھا وہاں اسکے دل میں سکون بھی تھا۔۔۔
پر دل اور دماغ کی اس جنگ میں جیت دماغ کی ہوئی تھی۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
"زاران عابدی دکھ اس بات کا نہیں کہ درگزر کر رہے ہو۔۔۔۔
افسوس اس چیز کا ہے کہ ظاہر کروا کر کر رہے ہو۔۔۔۔
ہم کزنز بھی تھے زاران۔۔۔۔۔
پر شاید باہر کی عیش عشرت اور کامیابی نے آپ سے آپ کا وہ حسن اخلاق لے لیا ہے جس نے آپ کی جگہ بنائی تھی یہاں سب کے دلوں میں بھی۔۔۔۔
تعلیم یافتہ انسان لوگوں کو رنگ نسل امیری غریبی دیکھ کر نیچا نہیں دیکھاتے۔۔۔۔
پر آپ شاید صف اول میں ہیں اب۔۔۔۔۔"
نایاب نے وہ بنائی ہوئی پینٹنگ اس قیمتی دیوار پر لگانے کی کوشش کی پر اسکی نظر اس ہاتھ کی ایک انگلی پر پڑی تھی جہاں نقشہ کھینچتے ہوئے نایاب نے وہ منگنی کی انگوٹھی بھی بنا دی تھی۔۔۔۔۔
۔
"نایاب عابدی اتنی گئی گزری بھی نہیں رہی اب کے کسی اور کی پسند کو اپنے کمرے میں سجائے۔۔۔۔۔"
نایاب نے وہ پینٹنگ فولڈ کر دی تھی۔۔۔۔۔۔
۔
پسند اور محبت وہ ہونی چاہیے جو آپ کو سکون دے نا ملنے پر۔۔۔
اور عزت دے مل جانے پر۔۔۔۔۔
۔
۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
Episode 4
"ممانی یہ رشتہ بہت اچھا رہے گا نایاب کے لیے۔۔۔اور پھر کب تک وہ ایسے ہی بیٹھی رہے گی۔۔۔؟؟"
زاران نے یاسمین بیگم کو بہت اعتماد میں لیا تھا۔۔
پر وہاں زاران کی خود کی والدہ شدید غم و غصے میں تھیں زاران کی اس بات نے انہیں بہت مایوس کیا زیادہ مایوسی اس وقت ہوئی جبنایاب کے والد نے منہ موڑ لیا تھا ان کے چہرے پر وہ دکھ عیاں تھا۔۔۔
"زاران میری بات سنو بیٹا۔۔ تم کیسے جانتے ہو وہ رشتہ ٹھیک ہوگا۔۔؟ اور تمہیں پاکستان آئے ہوئے کتنے دن ہوئے ہیں۔۔؟ یہ باتیں تم نایاب کے والدین پر چھوڑ دو۔۔۔"
زاران سے اس طرح سے سب کے سامنے بات کر کے انہوں نے ایک واضع پیغام دینے کی کوشش کی تھی سب کو۔۔۔
"پھپھو زاران نے کونسا کوئی بُری بات کر دی ہے۔۔؟ کیا نایاب کو ہم گھر بٹھا کر رکھیں گے۔۔؟"
سویرا کی امی نے اسے چپ کروانے کی کوشش کی تھی۔۔
"زاران کی بات سن لو انیسہ کیا پتا رشتہ پسند آجائے۔۔۔
چھوٹی چچی نے یاسمین کی طرف دیکھا تو انہیں سمجھ آگئی تھی۔۔۔
اور یاسمین بیگم نے بھی ہاں میں سر ہلایا تھا۔۔۔
جس پر انیسہ بیگم نے ایک نگاہ غصے کی ڈالی تھی زاران پر۔۔۔
جو باضابطہ اگنور کر رہا تھا۔۔وہ ایک مشن پر تھا۔۔۔ نایاب التمش کی شادی کروانے کے مشن پر۔۔۔
"زاران کس رشتے کی بات کر رہے ہو۔۔؟
اور ایک بات۔۔ نایاب ہم پر بوجھ نہیں ہے۔۔وہ کسی پر بھی بوجھ نہیں ہے یہ بات یاد رکھیں سب۔۔۔"
انیسہ بیگم نے سویرا کی طرف دیکھ کر بات کی جو ابھی بھیگی بلی بن گئی تھی پھپھو کے سامنے۔۔۔
"ماں وہ خاور کی بات کر رہا ہوں میں۔۔ میں کل ملنے گیا تھا چاچو سے تو ان لوگوں نے خاور کے لیے لڑکی ڈھوندنے کی بات کی تو میرے ذہن میں نایاب کا خیال آیا۔۔۔"
۔
"ہمم التمش بھائی خاور اچھا لڑکا ہے۔۔۔میرا بھتیجا ہے اس لیے تعریف نہیں کر رہا۔۔"
آفاق صاحب التمش صاحب کی وئیل چئیر کے پاس کرسی پر بیٹھ گئے تھے۔۔
"یاسمین بھابھی۔۔بھائی آپ دونوں پر کوئی زبردستی نہیں ہوگی۔۔"
انیسہ بیگم کی نظروں میں غم تھا۔۔۔انکے لہجے میں ابھی بھی غصہ جھلک رہا تھا۔۔
غم تھا کہ جو انسان آج نایاب کا رشتہ لیکر آیا اس سے نایاب کے رشتے کی باتیں چلتی رہیں چار سال تک۔۔۔
اور اب۔۔۔وہ غم میں تھیں۔۔ انہیں پتا تھا جب نایاب کو یہ بات پتا چلے گی وہ کتنا ٹوٹ جائے گی۔۔۔
پر پھپھو بھی نایاب التمش کو کمزور سمجھ رہی تھیں۔۔۔
"کھانے پر بُلا لیتے ہیں پھر۔۔؟؟"
سویرا کے والد صاحب نے مشورہ دیا تھا۔۔۔
اور زاران عابدی نے مسکراتے ہوئے اوپر سیڑھیوں کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
جہاں سے بھاگتے ہوئے نایاب نیچے آرہی تھی۔۔
اور بنا کچھ کہے وہ اپنی پسندیدہ جگہ پہ چلی گئی تھی۔۔۔وہ باغیچہ اور وہ تالاب۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
"نایاب ایسی تربیت نہیں کی تھی میں نے آپ کی۔۔۔
آپ کو زرا شرم نہیں آئی اس طرح سے زاران کے پیچھے پیچھے جا رہی ہیں آپ۔۔؟؟"
وہ بھاگتے ہوئے نیچے آئی تھی اور اپنی پسندیدہ جگہ کے سامنے آکر اسے ڈانٹ رہی تھی جسے وہ اوپر دو منزلہ سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
"اب چپ کیوں ہیں آپ نایاب۔۔۔؟؟ آپ کو اس لیے میں نے فری ہینڈ دئیے تھے کہ آپ ایسے گھومیں زاران کے پیچھے۔۔۔؟؟ اوپر سے آپ کی غلطی پر آپ کو مرغی بھی نہیں بنا سکتی۔۔۔۔ کیونکہ آپ تو ہیں ہی بطخ۔۔۔"
نایاب اسی تالاب میں پاؤں ڈالے بیٹھ گئی تھی اور سامنے کھڑی اپنی بطخ کی خوب کلاس لے رہی تھی۔۔۔
جس کا نام اس نے نایاب ہی رکھا تھا۔۔۔
اور اسی تالاب میں اس نے دو جوڑے رکھے تھے بطخوں کے۔۔۔ جس میں ایک کا نام زاران تھا۔۔۔
اور جب یہ چھوٹے بچے تھے اس ٹائم سے نایاب نے ان کو گود لے لیا تھا
اپنے گھر کے ملازم دلاور چاچا سے۔۔۔
"آپ جانتی ہیں نا زاران کس طرح سے آپ سے دور بھاگ رہا ۔۔۔اور پھر بھی آپ پیچھے پیچھے۔۔۔۔لڑکی نفاست لے کر آئیں اپنی چال چلن میں۔۔۔ ایسے لڑکوں کے پیچھے نہیں بھاگتے خاص کر وہ جو زراران جیسے ہوں۔۔"
پانی میں کھڑی چھوٹی نایاب اپنی بولی میں کیا کیا کہہ رہی تھی جسے نایاب نظر انداز کرتے ہوئے اپنی اڈاپٹڈ چائلڈ کو اور ڈانٹ رہی تھی۔۔۔
""اور اچھی بچیاں ماما کے آگے ایسے زبان نہیں چلاتیں۔۔اب چپ کر کے بات سنیں میری۔۔
نایاب نے جیسے ہی اپنے ہاتھ میں پکڑے سکیل کو اپنی بطخ کے سامنے کیا تھا وہ جلدی سے آواز نکالنا بند ہوگئی تھی۔۔۔
"آپ کو بس سلام دعا تک سب بات رکھنی چاہیے۔۔۔ یہ بار بار پیچھے جانا آپ کو زیب دیتا ہے۔۔؟؟ وہ دیکھیں کیسے وہ آپ کو اگنور کر رہا اور آپ ہیں کے بےشرموں کی طرح پھر اسی جگہ۔۔۔اب آپ میری ناک کٹوانا چاہتی ہیں۔۔؟؟؟"
وہ بطخ ہاں میں سر ہلا رہی تھی جس پر نایاب نے سکیل پھر سے آگے کیا۔۔۔
"لڑکی سیدھا منہ پر جواب نہیں دیتے۔۔۔آپ کی وجہ سے وہ اوپر سے نیچے آنا پڑا مجھے اور اب میں نا دیکھوں آپ کو کسی کے پیچھے جاتے دیکھ اسے بات کرنے ہوگی وہ پیچھے آئے گا اوکے۔۔۔؟؟"
۔
اب اس بطخ نے سر ہاں میں ہلایا تو نایاب کے چہرے پر مسکان آگئی تھی۔۔۔
۔
"تم سچ میں اس بطخ سے باتیں کر رہی ہو۔۔؟ یا مجھے وہم ہوا۔۔۔؟؟"
زاران کی آواز سن کر نایاب نے سر پر دوپٹہ لے لیا تھا جلدی سے۔۔۔
"یہ بطخ نہیں ہے۔۔۔میری اڈوپٹڈ بیٹی ہے۔۔۔۔"
"ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔سب سہی کہتے ہیں تم سچ میں جھلی ہو۔۔۔؟؟"
زاران نے بنا سوچے سمجھے انسلٹ کر دی تھی۔۔۔۔
"ہمم سب سہی کہتے ہیں میں جھلی ہوں وہ جھلی جس نے شہر کی ٹاپ یونیورسٹی میں ٹاپ کیا ہے جو باقی سب نہیں کر سکے۔۔۔"
"ایٹیٹیوڈ۔۔۔ مجھے پسند نہیں ہے یہ سب۔۔۔"
زاران غصے سے کہہ کر وہان سے جانے لگا تھا۔۔۔۔ پر جیسے ہی نایاب نے منہ کھولا زاران کا غصہ آسمان چھونے کو تھا
"زاران آئیندہ جوتے پہن کر اس جگہ داخل مت ہوئیے گا۔۔۔"
اپنے سر کو پھر سے ڈھانپ کر وہ اندر جانے لگی تھی پر زاران کی بات نے اسے رکنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔
"آئندہ مجھے زاران نہیں زاران بھائی کہہ کر مخاطب کرنا جیسے باقی سب عمر سے چھوٹی کزنز مجھے کرتے ہیں۔۔۔"
زاران کو ابھی بھی سویرہ کے ساتھ ہوئی وہ گفتگو یاد تھی جس کا اچھا فائدہ اٹھایا تھا اس نے یہ طعنہ دے کر۔۔۔
"باقی کوئی کزن آپ کے نام کے ساتھ منسوب نہیں رہی پچھلے چار سال سے زاران۔۔۔ مجھے منسوب کیا گیا تھا کہ جیسے ہی آپ اپنی تعلیم اپنی بزنس ٹرپ مکمل کر کے آئیں گے تو میری شادی ہوجائے گی آپ کے ساتھ۔۔۔
جہاں تک رہی بھائی کہنے کی بات تو اب مجھے پتا ہے آپ کسی اور کے ساتھ منسوب ہوگئے ہیں میں وہ بھی کہنا سیکھ لوں گی۔۔۔۔"
اس نے جو باتیں کی تھیں سب جھکی نظروں کے ساتھ کی تھیں۔۔۔
نا لہجے میں اپنائیت تھی نا کوئی غصہ۔۔۔ورنہ چار سال منسوب رہنے کے بعد کوئی شخص ایسی بات کہہ جائے تو غصہ کرنا جائز بھی ہو جاتا ہے
پر یہ نایاب التمش تھیں۔۔۔ یہ احساسات کو کنٹرول میں رکھنا سیکھ چکی تھیں نا کہ احساسات کے ہاتھوں کنٹرول ہونا۔۔۔۔
نایاب واپس زاران کے پاس سے گزری تھیں اور بیک یارڈ سے گھر میں چلیں گئیں تھیں۔۔۔
زاران عابدی نے دونوں ہاتھ پینٹ پاکٹ میں ڈال کر واپس اس تالاب کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
اور وہاں ایک بات جو زاران صاحب نے نوٹ کی تھی وہ تھے ان دو بطخ کے رنگ۔۔۔
ایک بطخ رنگ میں بلکل سیاح تھی۔۔۔اور ایک جو بلکل سفید۔۔۔
۔
زاران ابھی اس سیاح بطخ کو پکڑنے لگا تھا کہ نایاب اندر سے اتنی ہی تیزی سے واپس آئیں اور وہ سیاہ بطخ جلدی سے پکڑ کر اٹھا لی تھی۔۔۔
۔
"نایاب کے نہانے کا وقت ہوگیا ہے۔۔۔"
نایاب نے جلدی سے کہہ کر جانے کی کی۔۔۔
"پر نایاب تو پانی میں ہی تھی۔۔۔اور کتنا نہلاناہے۔۔؟؟"
زاران کا لہجہ مسکراہٹ سے بھرا ہوا تھا۔۔۔پر اسکی بات سے نایاب کا منہ کھلا رہ گیا تھا۔۔۔
"تالاب کا پانی سہی نہیں۔۔۔۔"
اور وہ اپنی بطخ کو لیکر اندر چلی گئی تھی۔۔۔۔
"ہاہاہاہاہاہاہا ۔۔۔تم یقینا "زاران" ہوگے۔۔۔۔ہاہاہاہاہاہا جھلی۔۔۔۔"
زاران بہت وقت کے بعد کھل کر ہنسا تھا۔۔۔ اور جوتے اتار کر وہیں بیٹھ گیا تھا پھر سوکس اتار کر اسی جگہ تالاب میں پاؤں ڈالے بیٹھا رہا تھا وہ۔۔۔
اور جس طرح کچھ دیر پہلے نایاب باتیں کر رہی تھی اپنی نایاب سے۔۔۔
اب اسی طرح زاران باتیں کر رہا تھا نایاب کے زاران سے۔۔۔۔۔
۔
"کچھ دن کی مہمان ہے تمہاری نایاب میڈم اتناگہمنڈ انسان کو لے ڈوبتا ہے جیسے نایاب التمش کو۔۔"
۔
زاران کوئی اتنا پوچھتا کہ آخر نایاب التمش نے گہمنڈ کس بات یا چیز پر کیا تھا۔۔؟
وہ بس اس بات کو ماننے کو تیار نہیں تھی جو دنیا والے اس سے زبردستی منوانے کی کوشش کر رہے تھے۔۔
وہ نہیں سمجھتی تھی اپنے رنگ کو کمزوری۔۔۔۔
وہ نہیں سمجھنا چاہتی تھی کوئی بھی کمزوری۔۔۔
اگر اپنے آپ کو پرفیکٹ کہنا گہمنڈ تھا تو۔۔۔تو ہے نایاب التمش گہمنڈی۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
"نایاب یہ کپڑے پہن کر نیچے آجانا کچھ دیر میں۔۔۔"
پر امی کیوں۔۔؟؟ میری کلاس ہے کل یونیورسٹی میں میں نے کچھ پروجیکٹس میں حصہ لیا تھا۔۔۔"
"تمہیں ضرورت نہیں پڑے گی اگر یہ رشتہ پکا ہوگیا تو۔۔۔"
نایاب نے حیرت بھری نظروں سے دیکھا تھا۔۔۔
"امی اتنی جلدی ایک اور رشتہ بلوا لیا آپ لوگوں نے۔۔؟؟"
یاسمین بیگم نے وہ کپڑے رکھے نہیں تھے پھینک دئیے تھے بیڈ پر۔۔۔
"نایاب ہم لوگ یہاں بوجھ ہیں ان لوگوں پر۔۔۔ پچھلے چار سالوں سے۔۔۔
شکر کرو یہ رشتے دار ہمیں اپنے سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔۔
بس تم تیار ہو جاؤ اور یہی کپڑے پہننا پچھلی بار بھی تم پنک کلر کا ڈریس پہن آئی تھی۔۔۔ کیا لگ رہی تھی تم۔۔۔۔"
"ہاہاہاہاہا سہی کہا تائی جان آپ نے کیا لگ رہی تھی تم نایاب رشتہ بھی پکا نہیں ہوا اوپر سے مذاق بھی بنا لیا تھا اپنا۔۔۔"
سحر باجی سویرا اور باقی دو کزنز کے ساتھ کھڑی ہنس رہی تھی۔۔۔۔
"پر وہ ڈریس میرا فیورٹ تھا امی۔۔۔لوگوں کو ہنسی مذاق لگا تو لگتا رہے۔۔۔"
نایاب نے دروازے پر کھڑے ہر شخص کو اگنور کر دیا تھا۔۔اور اپنی بکس پر دھیان باندھ لیا تھا ۔
"نایاب رکھو ساری کتابیں لڑکی تم ایسے نہیں سنو گی۔۔؟؟"
"تائی جان آپ جائیں ہم لے آئیں گے ہماری نایاب کو۔۔۔"
یاسمین بیگم وہاں سے چلی گئی تھی نایاب کی ان نظروں کو درگزر کر کے جو انہیں رکنے کا اشارہ کئیے جا رہی تھیں۔۔۔
"نایاب تم جانتی ہو پچھلی بار تمہارا جو تماشہ بنا تھا میں نے سوچا تھا کہ اگلا رشتہ کوئی تین چار مہینے بعد ہی آئے۔۔۔۔
پر زاران کو کچھ زیادہ ہی جلدی تھی وہ چاہتا تھا تمہارا بوجھ اس گھر سے جلدی جلدی چلا جائے۔۔۔"
نایاب کے ہاتھ رک گئے تھےسویرا کی بات سن کر اور وہ ہاتھوں میں پکڑا قلم بھی۔۔۔
"نایاب تمہارے لیے بہت مشکل ہوگا نا زاران کو بھلا پانا۔۔۔؟؟ آخر کر تم نے چار سال انتظار کیا۔۔
اس سے محبت کی۔۔۔اور اتنی گہری محبت کو بھلانا آسان تھوڑی نا ہوتھا ہے۔۔؟؟"
سحر باجی نے باقی کی کمی پوری کر دی تھی۔۔۔۔
"ردا ارے ٹشو لاؤ نا نایاب کو رونا آگیا ہوگا۔۔۔"
پر جب نایاب نے سر اٹھا تو اسکی آنکھوں میں ایک بھی آنسو نہیں تھا
چہرے پر اداسی نہیں تھی۔۔۔بلکہ مسکان تھی۔۔۔وہ مسکان جس سے اسکی کزنز جل جاتی تھیں۔۔
"سحر باجی یہ دیکھیں زاران۔۔۔۔"
نایاب نے کاپی کے ایک صفحہ پر لکھا تھا۔۔۔
"اور یہ چار سال کا انتظار۔۔۔ اب وہ کسی اور کا ہوگیا ہے تو یہ دیکھیں نایاب التمش کی زندگی میں زاران عابدی کا نام ع نشان۔۔۔"
نایاب نے ایک ریزر سے آہستہ آہستہ وہ نام مٹا دیا تھا۔۔۔
سویرا کا چہرہ غصے سے بھر گیا تھا۔۔۔
"سویرا ہم انسانوں کے لیے کوئی بھی کام مشکل ضرور ہوسکتا ہے پر ناممکن نہیں۔۔۔
کسی کی چاہت میں رک جانے۔۔۔مٹ جانے۔۔۔بکھر جانے والی لڑکی نہیں ہوں میں۔۔۔"
اور وہ اٹھ گئی تھی۔۔۔اور اپنی امی کے لائے ہوئے کپڑے اس نے الماری میں رکھ دئیے تھے اور الماری سے وہی پنک ڈریس نکال لیا تھا۔۔۔۔ سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے تھے۔۔۔۔
"مجھے پتا ہے اگر رشتہ زاران عابدی نے بلوایا ہے تو یہ کپڑے تمہاری اترن ہوں گے۔۔۔
جو میں کبھی نہیں پہنوں گی۔۔۔۔"
۔
نایاب اپنا پنک جوڑا لیکر باتھروم میں چلی گئی تھی۔۔
اپنی ان چار کزن کو آگ بگولہ چھوڑ کر۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Episode 5
"بھائی صاحب یہ تو ہماری خوش نصیبی ہوگی آپ کے سسرال میں رشتہ تہہ پاجانا۔۔۔"
وہاب صاحب نے اپنے بھائی آفاق کر گلے لگتے ہوئے کہا تھا۔۔۔
سب میل ملاپ کے بعد بیٹھ گئے تھے لیونگ روم میں۔۔
باتیں ہنسی مذاق چلا رہا تھا تب ہی نصرت بیگم نے نایاب کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔۔
اور کچھ دیر میں نایاب چائے کے کپ کی ٹرے لے آئی تھی سر کو اچھی طرح ڈھانپے
نایاب کی کزن ہنس پڑی تھی۔۔۔پر انیسہ پھپھو کی ایک نظر نے انہیں چپ کروا دیا تھا۔۔۔
خاور کی والد تو خوش تھے۔۔۔پر خاور کی والدہ اور خاور کے چہرے کے رنگ اڑھ سے گئے تھے۔۔۔
" بہت پیاری لگ رہی ہو بیٹا ۔۔۔ اب تم جاؤ کل تمہاری کلاس ہے۔۔۔"
پھپھو نے اسے وہاں سے جانے کا کہہ دیا تھانایاب کے ماتھے پر بوسہ دے کر۔۔۔
"آپ نے تو کہا تھا نایاب تھوڑی سی سانولی ہے۔۔پر نایاب کا رنگ تو۔۔۔"
چاچی کی بات پر نایاب جاتے جاتے رک گئی تھی۔۔۔پر پھر گہرا سانس لیے وہ واپس مڑی تھی۔۔۔
اور زاران عابدی۔۔۔آکسفورڈ گریجویٹ۔۔۔ بڑوں کا فرمانبردار بیٹا۔۔۔
آج غصے سے اپنی چچی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔اسکے غصے کا عالم یہ تھا کہ اسکی مٹھی بند ہوگئی تھی۔۔
۔
"آنٹی زرا سا رنگ سانولا بھی آپ کو زاران نے ہی کہا ہوگا۔۔۔ زاران کو زیادہ جلدی ہے میرے بوجھ سے بری ہونے کی اس لیے جھوٹ بول دیا ہوگا جلدی جلدی میں۔۔۔
پر میرا رنگ زرا سا سانولا نہیں ہے بہت ہے۔۔۔"
"میرا مطلب وہ نہیں تھا بیٹا۔۔۔"
نصرت بیگم نے ہڑبڑا کر بات بدل دی تھی اپنے شوہر کا چہرا غصے سے بھرا دیکھ کر۔۔۔
اور پھر انکی نظر اپنے جیٹھ پر پڑی تھی۔۔۔
۔
"نایاب آپ جائیے۔۔ماں مجھے بات کرنی ہے کچھ آپ دونوں سے۔۔۔"
خاور نے بہت بے تکلفی سے کہا تھا اور اپنے پیرنٹس کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
نایاب اپنے کمرے میں واپس آگئی تھی جیسے اسے فرق نہیں پڑا ہو۔۔۔
وہ ایک کونے میں چھپ کر رونے والوں میں سے نہیں تھی۔۔۔اس نے کسی کی دل آزاری نہیں کی تھی جو وہ روتی۔۔۔
اس نے کسی کو برا بھلا نہیں کہا تھا جو وہ روتی۔۔۔
وہ غلط نہیں تھی۔۔۔سوو وہ واپس اپنی اسائنمنٹ پر فوکس کر چکی تھی۔۔۔
۔
اور نیچے خاور کے کہنے پر یہ بات تہہ ہوئی تھی کہ بچے کچھ وقت آپس میں بات چیت کر کے فیصلہ کریں۔۔ جو کہ نصرت بیگم کو ناگنوار گزری تھی یہ بات۔۔۔
پر خاور نے ضد کی تھی وہ نایاب کو سمجھنا چاہتا تھا۔۔۔اور پھر فیصلہ کرنا چاہتا تھا۔۔۔
پر ان لوگوں کو یہ نہیں پتا تھا کہ نایاب کو یہ سب نئے زمانے کی باتیں پسند نہیں تھیں۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
"نایاب میں نے کہہ دیا بس تم اس کے ساتھ یونیورسٹی جا رہی ہو۔۔
بیٹا وہ بہت اچھا لڑکا ہے۔۔۔"
"امی وہ لڑکا اچھا ہے۔۔۔اور اچھا رہے گا۔۔۔پر بنا کسی رشتے کے اسکی گاڑی
کی فرنٹ پر بیٹھ کر یونیورسٹی جانے سے
میں اچھی لڑکی نہیں رہوں گی۔۔۔کیونکہ وہ میرا 'محرم 'نہیں ہے۔۔۔"
نایاب کی باتوں سے سب ہی ششدر رہ گئے تھے خاص کر اسکی والدہ۔۔
۔
"نایاب خدا کے لئے اس رشتے کو انکار کرنے کی وجہ نا ڈھونڈو۔۔۔ تمہیں پتا ہے تمہارے اس رنگ کی وجہ سے کوئی رشتہ آتا بھی ہے تو وہ لوگ تمہیں دیکھنے کے بعد انکار کر دیتے ہیں یہ رشتے بھی تمہاری پھپھو کے سسرال سے آیا ہے۔۔۔۔"
نایاب کو محسوس ہوئی تھیں سب کی نظریں ان ماں بیٹی کی گفتگو پر تھیں اور اسکی شرمندگی کی انتہا نہیں رہی تھی جب زاران عابدی کے چہرے پر ایک جیت کی خوشی عیاں تھی۔۔
کیونکہ اس رشتے کو زاران عابدی نے اس گھر میں تجویز کیا تھا
اپنے کزن خاور کا رشتہ نایاب التمش کے لیے وہ ہی لائے تھے۔۔۔
"امی رشتے آکر چلے جانا یا میرے سیاح رنگ سے کسی کا مجھے دیکھنے کے بعد انکار کر جانا یہ کوئی نقصان نہیں تھا میرا جو میں خود کو کسی سامنے پلیٹ میں رکھ کر ازالہ کروں۔۔۔؟؟؟"
اس سے پہلے نایاب کی والدہ کچھ کہتیں زاران کی والدہ آگئے آگئیں تھیں
"بھابھی میں بات کرتی ہوں۔۔۔نایاب بیٹا خاور بہت اچھا لڑکا ہے۔۔وہ ایک اچھا لائف پارٹنر ثابت ہوگا۔۔۔کبھی تم پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گا۔۔۔
کبھی تمہارا دل ٹوٹنے نہیں دے گا۔۔۔"
پھپھو کا لہجہ ہمیشہ کی طرح نرم تھا جیسے وہ نایاب کی مدر ہوں۔۔۔
"پھپھو۔۔۔آپ نے زاران کے وقت بھی یہی کہا تھا۔۔"
پھپھو خاموش ہوگئیں تھیں۔۔
"دیکھا آپ نے کیسے باتیں کر رہی ہے ۔۔۔"
نایاب کی امی کی نظریں اسکے والد کی طرف ہوئی تھیں جن کو بہت کھانسی آنے شروع ہوئی تھی
"ابو ایم سو سوری آپ کو سب سننا پڑا۔۔۔"
نایاب نے وئیل چئیر کے پاس بیٹھ کر اپنے ابو کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔۔
"امی آپ نے مجھے کچھ بھی کہنا ہو اکیلے کمرے میں لے جایا کیجیے مجھے مارے ڈانٹے پر امی ابو کے سامنے نہیں ابھی انہوں نے ریکور کرنا شروع کیا ہے۔۔۔"
اپنی بکس اس نے واپس لیونگ روم کے ٹیبل پر رکھ کر اپنے ابو کی وئیل چئیر کا رخ بیک یارڈ کے باغیچے کی جانب کیا تھا۔۔۔پر زاران کے پاس سے ہوتے ہوئے وہیں رک گئی تھی وہ۔۔۔
۔
"زاران میری زندگی میں مداخلت کرنا بند کر دیجئیے۔۔۔ آپ اپنی شادی کی تیاریاں کریں۔۔نا کہ نت نئے رشتے ڈھونڈھیں میرے لیے۔۔۔
اور اپنے کزن سے بھی کہہ دینا شادی سے پہلے ایک دوسرے کو جاننے کے لیے یونیورسٹی چھوڑنا شاپنگ لے جانا گھوما پھیرا کر ہونے والے رشتوں سے اچھا ہے کوئی مجھے کالے رنگ کا کہہ کر ریجیکٹ کر دے۔۔۔
ریجیکشن دھوکے جتنی تکلیف نہیں دیتی۔۔۔اور ریجیکشن زندگی موت کا مسئلہ بھی نہیں ہونی چاہئیے۔۔۔جو ہم ہے اسے اپنانا چاہیے ناکہ ڈر ڈر کے جینا چھوڑ دینا چاہیے۔۔۔۔"
۔
وہ وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔باقی سب حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے پر
زاران عابدی کی تذلیل پہلی دفعہ کسی نے اس طرح سے کی تھی خاص کر سب فیملی ممبرز کے سامنے۔۔۔
زاران ناشتے کی میز چھوڑ کر نایاب کے پیچھے پیچھے گیا تھا۔۔۔
"ابو آپ جلدی ٹھیک ہوجائیں پھر ہم اپنے گھر چلے جائیں گے۔۔۔یہ آنے والا آٹھواں رشتہ ہے۔۔۔ اور ایک ہی بات سیاہ رنگ۔۔۔ ابومجھے لوگوں کی سمجھ نہیں آتی دنیا کہاں بستی ہے۔۔؟ جب اللہ نے اپنے بندوں میں فرق نہیں کیا تو بندے کیوں کرتے ہیں۔۔۔ کسی کے منہ پر ایک ہی بات بار بار کہنا اسے توڑنے کی کوشش کرنا اس میں احساسِ کمتری ڈالنے کی کوشش کرنا۔۔۔۔"
نایاب نے اپنے ابو کی گود پر سر رکھ دیا تھا۔۔۔
زاران اس وقت زیادہ حیران ہوا تھا جب اسکے ماموں نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ کو اپنی بیٹی کے سر پر رکھا تھا۔۔۔جو وہ کسی کے سامنے ہلانے کی کوشش پر ناکام ہوجاتے تھے۔۔۔
پر آج اپنی بیٹی کی تکلیف انہیں محسوس ہورہی تھی۔۔۔
"ابو آپ پریشان نا ہوا کریں میں حالات کے آگے جھکنے والوں میں سے نہیں ہوں۔۔ جو میں ہوں وہ میں ہوں۔۔ کسی کا مجھے ریجیکٹ کر جانا مجھ زرا برابر تکلیف نہیں پہنچاتا۔۔۔
تکلیف تب ہوگی 'جب کوئی مجھے اپنا کر ریجیکٹ کرے گا' ابو۔۔۔
اور آپ جانتے ہیں میں نے یونیورسٹی میں ایک چھوٹی سی بلی کے بےبی کو آڈوپٹ کیا ہے۔۔۔ہاہاہا۔۔۔ اور اسکو لینے جا رہی تھی میں۔۔۔۔۔"
نایاب نے منہ بنا لیا تھا۔۔۔پر اسکے چہرے پر وہی مسکان تھی۔۔۔
جس کو دیکھ کر زاران عابدی کا وہ غصہ ہوا میں اڑ گیا تھا۔۔۔ اسکے چہرے پر بھی مسکان تھی۔۔۔پر نایاب جتنی خوبصورت نہیں۔۔۔
۔
"ابو۔۔۔میں چاہتی ہوں ہم زاران اور سویرہ کی شادی سے پہلے یہاں سے چلے جائیں۔۔۔آپ ٹھیک ہونے کی کوشش کریں گے نا۔۔؟؟؟"
نایاب کے ابو نے جیسے ہی سر ہاں میں ہلا دیا تھا نایاب کی خوشی کی انتہا نہیں رہی تھی۔۔
"ابو آپ اور پھپھو کی محبت مجھے محسوس ہی نہیں ہونے دیتی کہ میرا رنگ مجھے سب سے مختلف بنا دیتا ہے۔۔۔ آپ دونوں اس طرح سے مجھے تھامے ہوئے ہیں۔۔۔
اور وہ میری پانی والی نایاب۔۔۔آپ جانتے ہیں کیسے وہ زاران کے پیچھے گھوم رہی تھی۔۔۔
میں نے بھی کلاس لی۔۔۔اب وہ دیکھیں زرا کتنی نفاست سے زاران کو اگنور کر رہی ہے۔۔۔۔ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔"
نایاب کے ابو ہنس نہیں پا رہے تھے فالج کے اٹیک نے انہیں بستر پر لٹا دیا تھا۔۔۔
پر نایاب کی بات سے انکی آنکھوں میں ہنسی کی چمک تھی۔۔۔۔وہ بھی ہاں میں سر ہلا رہے تھے۔۔۔۔
اور دور کھڑا زاران عابدی بھی پانی میں نایاب کے پیچھے زاران کو غصے کی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
"زاران کے بچے تمہیں میں بعد میں بتاؤں گا۔۔۔ اگر وہ نایاب نفاست کے ساتھ تمہیں اگنور کر رہی ہے تو تم بھی نفیس بنو اور ڈبل اگنور کرو۔۔۔دیکھتا ہو تم دونوں کو۔۔۔
یہ نایاب اور وہ زاران۔۔۔تم دونوں کی کلاس لوں گا۔۔۔۔۔"
زاران اپنی کزن نایاب اور پانی میں نایاب کے پیچھے جاتے ہوئے زاران کو ایک نظر دیکھ کر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔۔۔
۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
اگلے دن۔۔۔۔۔۔
۔
۔
"نایاب نے جس یونیورسٹی سے ٹاپ کیا تھا۔۔۔اب وہاں اسے عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔۔
جہاں کبھی اسکے رنگ کو لیکر اسے فیملی جیسے طعنے ملتے تھے کبھی۔۔۔
نایاب نے ریسینٹلی کچھ سٹوڈنٹس کی ہیلپ کرنے کے لیے حامی بھر لی تھی کچھ پروجیکٹس میں اسی سلسلے میں وہ یونیورسٹی آتی جاتی تھی۔۔۔
پر آج یونیورسٹی کے داخلی راستے پر نا اسے گھر کی گاڑی نظر آرہی تھی اور نا ہی کوئی فرد۔۔
جو کہ ہر روز اسے لینے آتا تھا۔۔۔
۔
"نایاب میم لفٹ چاہیے۔۔۔؟؟"
ایک گرل سٹوڈنٹ نے اپنی گاڑی سے اتر کر پوچھا تھا۔۔۔
"ارے نہیں رمشا انتظار کر رہی تھی دلاور چاچا آتے ہی ہوں گے۔۔۔"
۔
"اور جب آدھے گھنٹے تک کوئی نہیں آیا تو نایاب نے پیدل ہی چلنا شروع کر دیا تھا۔۔۔
کچھ دور اسے ایک گاڑی جو اسی کی طرف آرہی تھی۔۔۔اور نایاب کے پاس آکر سپیڈ سے بریک لگا دی تھی۔۔۔
"نایاب۔۔۔۔"
نایاب جب اس گاڑی کے پاس سے گزر گئی تھی تو اسے پیچھے سے آواز آئی تھی۔۔۔
"نایاب۔۔۔میں خاور۔۔۔زاران بھائی کا کزن۔۔۔"
خاور نے اپنی گلاسیز اتار کر نایاب سے کہا تھا جو نظرئیں جھکائے پیچھے ہوگئی تھی۔۔۔
"نایاب۔۔میں آپ کو لینے آیا ہوں سو سوری لیٹ ہوگیا۔۔۔چلیے۔۔۔بکس مجھے پکڑا دیں۔۔۔"
پر نایاب نے بہت قدم پیچھے کر لیئے تھے۔۔۔
"اس لیے دلاور چاچا نہیں آئے۔۔۔؟؟ کس نے بھیجا آپ کو۔۔؟؟"
نایاب نے سخت لہجے میں پوچھا تھا۔۔۔
"زاران بھائی نے کہا تھا۔۔چلیں"
"خاور صاحب۔۔ شاید زاران نے بتایا نہیں پر میں اس چیز کو پسند نہیں کرتی اور نا ہی میں ایسے آپ کے ساتھ جاؤں گی۔۔۔"
"ایکسکیوزمئ۔۔۔کچھ زیادہ ایٹیٹیوڈ نہیں دیکھا رہی آپ۔۔؟ گاڑی میں بیٹھے آپ میرے ساتھ جا رہی ہیں۔۔۔"
خاور نے زبردستی ہاتھ پکڑ لیا تھا نایاب کا اور گاڑی تک کھینچتے ہوئے لے گیا تھا۔۔۔
"یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔؟؟ دماغ ٹھیک ہے آپ کا۔۔؟"
نایاب نے اپنا ہاتھ چھڑا لیا تھا۔۔۔
"میرا دماغ تمہارے اس مسلسل انکار نے خراب کیا ہے۔۔۔اتنا غرور ہے کس چیز کا۔۔۔؟"
خاور نایاب کی جانب بڑھا تھا۔۔۔
اور پہلی بار نایاب کو شدید غصہ آیا تھا زاران عابدی پر۔۔اور اپنی فیملی پر۔۔۔
"آپ پیچھے ہٹ رہے ہیں یا نہیں۔۔؟؟"
"نہیں ہٹوں گا اب تو تمہیں میں بتاتا ہوں خاور وہاب کو انکار کرنے کا مطلب۔۔۔"
خاور نے نایاب کے کندھے کو پکڑ کر گاڑی کے ساتھ لگا دیا تھا اور زبردستی نایاب کا منہ اپنی طرف کیا تھا۔۔۔۔
"جب اس لڑکی نے کہہ دیا تو پیچھے دفعہ ہوجانا چاہیے تھا تمہیں۔۔۔۔"
پیچھے سے ایک آواز آئی اور پھر ایک سٹک بھاری سی خاور کے سر پر لگی تھی جس سے وہ گر گیا تھا
اپنا سر پکڑے۔۔۔
"نایاب آپ ٹھیک ہیں۔۔۔؟"
نایاب اس قدر حیران تھی اتنا سب کچھ اسکے ساتھ ہوتا دیکھ کر کہ سامنے کھڑے شخص کے دو بار بلانے پر اسکی نظر سامنے کھڑے نعمان شمس پر پڑی تھی۔۔۔
جو چار سال پہلے ان کے ہمسائے بھی تھے۔۔۔
جو بچپن میں دوست تھے۔۔۔
جو ایک یونیورسٹی سے گریجویٹ ہوئے تھے۔۔۔
"نعمان۔۔۔جی۔۔ میں ٹھیک ہوں۔۔۔بہت بہت شکریہ۔۔۔"
خاور کے سر سے خون بہنا شروع ہوگیا تھا پر نایاب نےغصے سے اپنی گری بکس اٹھا لی تھی اور خاور کی طرف دیکھا بھی نہیں تھا۔۔۔
"چلیں نایاب میں گھر تک چھوڑ آتا ہوں آپ کو۔۔۔"
نعمان نے جس سٹک سے خاور کو مارا تھا وہ اسکی بیساکھی تھی۔۔۔جو اس نے واپس ٹھیک سے لیکر چلنا شروع کر دیا تھا۔۔۔
"میں گھر چلی جاتی۔۔پر اس گھٹیا شخص کی وجہ سے مجھے آپ کی مدد لینی پڑ رہی ہے۔۔۔"
نایاب نے اپنا دوپٹہ ٹھیک سے لیا تھا جو سرک گیا تھا۔۔۔اس بد بخت کی وجہ سے۔۔۔
"ہاہاہاہاہاہاہا نایاب ابھی بھی آپ ویسی ہی ہیں۔۔۔ کسی کی کوئی مدد لینا پسند نہیں۔۔۔"
پر نایاب نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔۔۔
اسکے ہاتھ کی مٹھی کھل رہی تھی بند ہو رہی تھی۔۔۔
نعمان نایاب کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا جو بہت پیچھے رہ گیا تھا۔۔۔
جب نایاب نے اتنے قدم نعمان کو پیچھے دیکھا جو اپنی بیساکھیوں سے چلا کر آہستہ آہستہ آرہا تھا۔۔۔
نایاب نے بھی آہستہ سے چلنا شروع کر دیا تھا۔۔۔
"انکل نہیں آتے اب آپ کو لینے۔۔۔؟؟"
نایاب نے ہلکی آواز میں پوچھا تھا۔۔۔
"ابو کہتے ہیں اب میں بڑا ہوگیا ہوں اب خود آنا جانا چاہیے مجھے۔۔۔
اور ویسے بھیان بیساکھیوں کے سہارے نے بہت دبا دیا مجھے۔۔۔اور سہارے لیتا ہوں تو سر شرم سے جھک جاتا ہے میرا۔۔۔
بوڑھا باپ کب تک مجھے لینے اور چھوڑنے آئے۔۔۔؟؟"
نایاب کے قدم چلتے چلتے رک گئے تھے۔۔۔
"ایم سوو سوری نعمان۔۔۔۔"
"پلیز نایاب۔۔۔ہمدردی اور ترس کی نظروں سے نا دیکھنا مجھے۔۔۔
آپ بھی جانتی ہیں کہ ہمدردی اور ترس کی نگاہیں آپ کی خود داری کو بے سہارا بنا دیتی ہیں۔۔۔"
۔
۔
چلتے چلتے وہ کب گھر کے سامنے آگئے تھے پتا ہی نہیں چلا تھا۔۔۔
پر جب گھر کے سامنے آئے تو زاران عابدی کسی زخمی شیر کی طرح چکر لگا رہا تھا۔۔۔
اور جب اس نے فون کان نے ہٹا کر سامنے دیکھا تو اس نے واپس فون کان پر لگایا تھا۔۔۔
"خاور آگئی ہے وہ۔۔۔تم آرام کرو میں بعد میں بات کرتا ہوں۔۔۔"
زاران نے فون جیب میں ڈال کر قدم بڑھائے تھے نایاب کی طرف۔۔۔
جو کسی انجان شخص کے ساتھ آرہی تھی۔۔۔
"آگئی تم۔۔۔؟ ڈیٹ اتنی جلدی ختم ہوگئی تمہاری۔۔؟؟"
نایاب جو غصے میں تھی۔۔۔
زاران کے الزام اور ڈیٹ جیسے بے ہودہ لفظ پر اس نے باقی کے قدموں کا فاصلہ تہہ کیا تھا۔۔۔
۔
"زاران عابدی۔۔۔ میرے رنگ پر بات کی میں نے برداشت کیا۔۔۔
میری زندگی پر بات کی میں نے برداشت کیا۔۔۔
پر میرے کردار پر بات کرو گے تو نایاب برداشت نہیں کرے گی۔۔۔
آپ ایک لڑکی کو اسکے وجود پر بات کر کے توڑ نہیں سکتے۔۔۔
پر کسی لڑکی کے کردار پر اٹھنے والی انگلی اسے پوری طرح سے برباد کر جاتی ہے۔۔۔
ڈیٹ جیسے الفاط جو کبھی مجھے پسند نہیں تھے آج آپ میرے کردار کے ساتھ تھوپ رہے ہیں۔۔؟؟
اگر میں اتنی بوجھ ہی تو مجھے اس طرح سے آپ باپردہ نہیں کر سکتے۔۔۔۔
میں آج ہی ابو سے بات کرتی ہوں۔۔۔
مجھے رنگ پر طعنے منظور ہیں۔۔۔۔
پر کردار پر داغ ہرگز نہیں۔۔۔۔"
نایاب نے نظریں اٹھا کر زاران کی آنکھوں میں پہلی بار دیکھا تھا۔۔۔
آج اسکی آنکھوں میں مایوسی بھر آئی تھی۔۔۔۔۔
۔
۔
"جینے بھی دے دنیا ہمیں۔۔۔الزام نا لگا۔۔۔۔"
۔
۔
وہ اس تعش میں اندر گئی تھی کہ اسکا پورا وجود کانپ رہا تھا۔۔۔
وہ اس قدر غصے میں تھی۔۔۔۔
زاران کی آنکھوں میں بھی نفرت جھلک رہی تھی۔۔۔ غصہ جھلک رہا تھا نایاب کے لیے۔۔۔
پر خاور کے فون نے اسکی باتوں نے زاران کے منہ سے وہ الفاظ نکلوا دئیے تھے جو وہ کبھی کسی بھی لڑکی کو کہنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔وہ الزام لگانا نہیں چاہتا تھا۔۔۔
جو اس نے آج اپنی کزن پر لگایا۔۔۔۔
"زاران بھائی۔۔آپ اتنے پڑھے لکھے ہیں آپ کو بنا تصدیق کے ایسی باتیں زیب نہیں دیتی۔۔۔"
زاران نے اور حیرانگی سے سامنے کھڑے انجان شخص کو دیکھا تھا۔۔۔
"میں آپ سب کو جانتا ہوں۔۔۔التمش انکل کے گھر آتے جاتے دیکھا آپ کو۔۔۔ میرے والد صاحب آپ کے والد صاحب کے اچھے دوست رہ چکے ہیں۔۔۔"
"اسکا یہ مطلب نہیں تمہیں سند مل گئی ہے گھر کی عزت کے ساتھ اس طرح کھلے عام سڑکوں پرگھومنے کی۔۔۔"
زاران نے بہت اونچی آواز میں کہا تھا۔۔۔
"زاران بھائی نایاب کو ایک شخص پریشان کر رہا تھا۔۔ زبردستی اپنی گاڑی میں بیٹھانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
اس وقت میں وہیں سے جا رہا تھا۔۔۔ جو بلکل اتفاق تھا۔۔۔
اور اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو اسی جگہ جا کر روڈ پر پڑے خون سے تصدیق کر لیجئے گا۔۔۔ جو میں نے اپنی اسی بیساکھی کو مار کر نکالا تھا۔۔۔
اگر نایاب کی جگہ کوئی اور بھی ہوتی میں یہی کرتا۔۔۔ نایاب التمش کے ساتھ یونیورسٹی کے وہ سال ایک کلاس میں گزارے ہیں کے انکے کردار کی قسم کھا سکتا ہوں میں۔۔۔"
نعمان یہ کہہ کر وہاں سے جانے لگا تھا کہ زاران نے روک لیا تھا اسے۔۔۔
"یہی تھا وہ شخص۔۔۔؟؟؟"
زاران نے فون نکال کر خاور کی تصویر دیکھائی تھی۔۔۔
"جی یہی تھا۔۔۔آپ جانتے ہیں اسے۔۔۔؟؟"
"نہیں۔۔۔نہیں جانتا۔۔۔تم نے کیا نام بتایا اپنا۔۔۔؟؟"
"نعمان۔۔۔"
نعمان نے ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔۔۔پر زاران نے آگے بڑھ کر نعمان کو گلے لگا کر اسکی کمر تھپتھپائی تھی۔۔۔
"نعمان بہت بہت شکریہ مدد کرنے کا۔۔۔"
۔
نعمان تو وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
پر زاران عابدی نے اپنی گاڑی نکال کر خاور کو فون کیا تھا۔۔جو کہ چچی نے اٹھایا تھا۔۔۔
"خاور گھر ہے نا ہسپتال چچی۔۔؟؟"
"بیٹا گھر پر ہے۔۔۔کتنی چوٹ لگوا کر آیا ہے۔۔۔"
"میں آرہا ہوں۔۔۔اسکا علاج کرتا ہوں۔۔۔ ہسپتال لے جاؤں گا پھر اسکو۔۔۔۔"
زاران نے سٹئیرنگ کو غصے سے پکڑ لیا تھا۔۔۔اور گاڑی چچا کے

 

Related Post:

⇒ Famous Urdu novel List

⇒ Romantic Novels List

⇒ Rude Hero based romantic  based novels

⇒ Stories for Kids

⇒ Urdu Shayari