Hamara Mashra Or Be Hayaii by Sana Razaq

Hamara Mashra Or Be Hayaii Afsana is written by Sana Razzaq very beautifully, she has expressed almost every evil side of our society about love. She has shown the difficulties created by love. The wrong traditions created by our society and vulgarity is getting know. 

Hamara Mashra Or Be Hayaii by Sana Razaq

Sana Razaq is writing from much time, now she wanted to show her potential to you guys and also she want to show the wrong customs of our society to you all. Sana Razaq has very beautiful ability to write  Afsana and Beautiful Lines.

Hamara Mashra Or Be Hayaii

ہمارا معاشرہ اور بے حیائ
ثناء رزاق ( سیالکوٹ)

ہم اس معاشرے میں رہ رہ
رہیے ہیں جہاں ہر اس کام کو جس سے اللہ نے منع کیا ہے فیشن کا نام دے کر کیا جاتا ہے ۔ہمارے معاشرے میں بے حیائ اس قدر عام ہو چکی ہے کہ ایک انسان کا اس کے بغیر گزارہ ممکن نہیں۔مرد و عورت کی پہچان کرنا مشکل ہے اب ۔عورت جسکا مطلب ہی چھپی ہوئی چیز کہ ہے سرے عام اپنی نمائش کرتی نظر آ رہی ہے ۔ فیشن کے نام پر مغربی لباس اور رہن سہن کے طریقے اپنا رہی خود کو ایک ماڈرن لڑکی کہتی ہے مگر حقیقت تو یہ ہے ایک ماڈرن نہیں بلکہ جاہل لڑکی ہے ۔ ماڈرن زمانے کے نام پر جو فیشن آج کر رہے ہیں آج سے چودہ سو سال پہلے بھی یہ ہی کام کیا جاتا تھا ۔عورت تنگ اور چست لباس پہن کر گلیوں میں گھوما کرتی تھیں ۔پہلے بھی عورتیں نا محرم مردوں سے تعلق رکھتی تھی مگر اب اس تعلق کو بوائے فرینڈز ، گرلفرینڈ کا نام دیے دیا ہے ۔اج سے ہزاروں سال پہلے بھی عورت میک اپ کر کے گھر سے باہر نکلتی تھی اور مردوں کو اپنی طرف مائل کرتی تھی ۔ آج کے زمانے میں بھی وہی کام ،وہی باتیں ہو رہی ہیں فرق بس اتنا ہے کہ ان سب کو اب ہم لوگوں نے فیشن کا نام دے دیا ہے۔
اس بات کو سمجھنے کے لئے قرآن مجید کی یہ آیت مبارکہ ہی کافی ہے
اے نبی کہ دیجیے اپنی اور مسلمان عورتوں کو کہ قدیم زمانے کی طرح اپنے بناؤ سنگھار کا اظہار نہ کرو ‘
اس سے یہ بات صاف پتہ چل جاتی ہے کہ میک اپ اور اپنے جسم کی نمائش کرنا فیشن نہیں بلکہ جہالت ہے ۔اس میں ساری غلطی عورتوں کی نہیں اس میں کچھ حصہ مردوں کا بھی ہے ۔مرد کو اللہ پاک نے عورتوں پر حاکم بنایا ہے ۔سورت النساء میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
مرد عورت پر حاکم ہے اس وجہ سے کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے بھی کی مرد مردوں نے مال خرچ کیا ہے “
اب مرد تو عورت پر حاکم ہے ۔اب مرد بے حیائ پھیلانے میں کس طرح کردار ادا کرتا ہے ؟اس کی ایک عام سی مثال بیان کرو گی جب عورتیں اپنے چھوٹے بچوں کے لئے کپڑے لینے جاتی ہیں تو ان لباس کا انتخاب کیا جاتا ہے جو کہ مغربی لباس کی عکاسی کرتا ہو اور وہ لباس لا کر اپنی چھوٹی بچیوں کو پہنا دیتی ہیں اور جب وہ بڑی ہوتی ہے تو بھی ایسا ہی لباس استعمال کرتی ہے ۔اب اس سلسلے میں اگر مرد باپ ہے تو اسکی زمہ داری ہے کی وہ اپنی بیٹی کو ایسے لباس اور چیزیں استعمال کرنے سے روکیں ۔اگر بھائ ہے یا شوہر ہے تو بھی منع کریں کیو نکہ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جب ایسی عورت کو دوزخ میں ڈالا جائے گا تو وہ کہے گی میرے ساتھ چار لوگوں اور لوگوں کو ڈالاجائے ،باپ ،بھائ ،شوہر، بیٹا کیو نکہ میں نے جو جو کام کیا ،جو لباس استعمال کیا ان لوگوں نے مجھے نہیں روکا بلکہ یہ ہی وہ لوگ ہے جنہوں نے ایسے بے حیائ کے لباس کو پسند کیا ۔
ہم بے حیائ اور فیشن کے دلدل میں اس قدر پھنس گئے ہیں کہ ہر وہ حرام کام کر رہے ہیں سے منع کیا گیا ہے ۔ماں جسکو بچے کی پہلی درس گاہ کہا گیا ہے وہ بھی اپنے بچوں کو بے حیائ کی طرف مائل کر رہی ہے ۔ فلم انڈسٹری کہتی ہے تم محبت کرو ،فیشن کرو پیسے اللہ دے گا راستے اللہ بنائے مگر اللہ کہتا ہے میں کبھی بھی بے حیائ کا ساتھ نہیں دیتا کبھی بھی بے حیائ کے دروازے نہیں کھولتا ۔فلمعں اور ڈراموں میں جس قدر بے حیائ دکھائی جاتی ہماری نوجوان نسل اپنی عملی زندگی اس پر عمل کرتے ہیں ۔
بے حیائ اس قدر عام ہو چکی ہے کہ زنا بلکل آسان ہوگیا ہے اور اسکا انعام کچروں کے ڈبوں میں ملتا ہے ۔نہ انسان صرف اپنی دنیا بلکے آخرت بھی تباہ کر لیتا ہے ۔ والدین سے گزارش ہے کہ اپنی اولاد کو فیشن کے نام جہالت میں دھکیلے ماڈرن زمانہ تو بس دین اسلام ہے

 

See also  Mohabbat Zad e Hayat Novel by Komal Sultan Khan | Best Urdu Novels

 

 

♥ Download More:

 

 

 

آپ ہمیں اپنی پسند کے بارے میں بتائیں ہم آپ کے لیے اردو ڈائجیسٹ، ناولز، افسانہ، مختصر کہانیاں، ، مضحکہ خیز کتابیں،آپ کی پسند کو دیکھتے ہوے اپنی ویب سائٹ پر شائع کریں  گے

Copyright Disclaimer:

We Shaheen eBooks only share links to PDF Books and do not host or upload any file to any server whatsoever including torrent files as we gather links from the internet searched through world’s famous search engines like Google, Bing etc. If any publisher or writer finds his / her book here should ask the uploader to remove the book consequently links here would automatically be deleted.

Leave a Comment

close