Junoon e Ishqam Novel by Areej Shah | Free Urdu Novels

Junoon e Ishqam Novel by Areej Shah,  Areej shah is one of the best famous Urdu novel writers. Junoon e Ishqam Novel by Areej Shah is the latest novel by Areej Shah. Although it is much the latest, even though it is getting very much fame. Every novel reader wants to be in touch with this novel. Junoon e Ishqam Novel by Areej Shah is a very special novel based on our society and love.

Areej Shah has written many famous novels that her readers always liked. Now she is trying to instill a new thing in the minds of the readers. She always tries to give a lesson to her readers, so that a piece of writing read by a person, and his time, of course, must not get wasted.

Junoon e Ishqam Novel by Areej Shah

Junoon e Ishqam Novel

Junoon e Ishqam Novel by Areej Shah Urdu Novel Read Online & Free Download, in this novels, fight, love, romance everything included by the writer. there are also sad moments because happiness in life is not always there. so this novel is a lesson for us if you want to free download Junoon e Ishqam Novel to click on the link given below, or you can also read it online.

Junoon e Ishqam Novel by Areej Shah | Rude Hero Based Novel

Junoon e Ishqam Novel is the latest novel. Although it is much the latest, even though it is getting very much fame. Every novel reader wants to be in touch with this novel. Junoon e Ishqam Novel by Areej Shah is a very special novel based on our society

 

↓ Download  link: ↓

If the link doesn’t work then please refresh the page.

 

Junoon e Ishqam Novel by Areej Shah Ep 1 to 74 Episode PDF

 

 

 

Read Online Junoon e Ishqam Novel by Areej Shah:

 

میں تمہیں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں
آسمان اور زمین کو لرزا دینے والے الفاظ کے ساتھ اس نے اس کے ساتھ جڑا ہوا سات سالہ رشتہ ختم کر لیا
وہ بے بس سی عورت اس وقت اپنے سامنے کھڑے اس ظالم اور جابر شخص کو سن رہی تھی
اپنے چادر نما دوپٹے کو اپنے سینے سے لگائے اپنا آپ چھپاتی وہ اندر تک لرز چکی تھی
یہ وہ شخص تھا جس کے لیے اس نے اپنے پورے خاندان والوں سے بغاوت کی تھی اور پھر سات سال کے بعد اس کے ساتھ ہی یہاں پاکستان آ گئی تھی اپنے رشتے ناطے سب چھوڑ کر سات سال پہلے اس شخص کے نکاح میں آکر وہ اپنے آپ کو اس دنیا کی سب سے خوش قسمت ترین لڑکی محسوس کر رہی تھی
جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اس شخص نے اس کے دل پر دستک دی تھی
جس نے آج محض ایک غلط فہمی پر اس کے ساتھ جڑے ہر رشتے کو ختم کر دیا
دل تڑپ رہا تھا اس سنگ دل کی بے وفائی پر جو خود اعتبار نہ کر سکا اور اسے بے وفائی کا انعام دینے آ پہنچا
میری بات تو سنو تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے ایک بار پوری بات جان لو وہ اسے سمجھانے کے لئے آگے بڑھا تھا۔
لیکن اب کیا کچھ باقی تھا۔۔۔نہیں اب تو سب کچھ ختم ہو چکا تھا
بس کیجئے میں آپ کی شکر گزار ہوں کہ آپ وقت رہتے یہاں آگئے اور آپ کا یہ احسان ساری زندگی نہیں بھولوں گی لیکن اس شخص کے ساتھ اب میرا کوئی رشتہ نہیں ہے آپ جا سکتے ہیں یہاں سے۔وہ اس کو دیکھتی مضبوط لہجے میں بولی
نہیں میں سمجھاؤں گا یہ غلط فہمی کا شکار ہے تیسرے وجود نے سمجھانا چاہا
سمجھنے سمجھانے کے تمام مراحل سے گزر چکے ہیں آپ کا احسان شاید کبھی نہیں اتار پاؤں گی اور آپ کا بھی آج محبت کا اصلی چہرہ دیکھ کر تکلیف کے ساتھ مجھے خود پر ترس بھی آرہا ہے
کاش پہلے جان جاتی کہ محبت کےرشتے میں اگر اعتبار کی کمی ہو تو وہ رشتہ محبت کا نہیں ہوتا
اب میرے لیے فیصلہ اور بھی آسان ہوگیا ہے شاہ صاحب میں اپنے بچوں کے ساتھ یہاں سے ہمیشہ کے لئے واپس چلی جاؤں گی اپنے وجود سے چادر مضبوطی سے لپٹتے ہوئے اس کی آنکھ سے ایک آنسو گرا تھا
فقط ایک آنسو ہاں وہ اس شخص کے لیے اپنا آپ ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی کہ اسے جینا تھا اپنے بچوں کے لئے وہ ایک بہادر عورت تھی اگر اپنی محبت کے لیے اپنے خاندان سے لڑ کر بغاوت کر سکتی تھی تو اپنے بچوں کے لئے اپنی محبت ہے ٹکرانے میں اسے کوئی اعتراض نہ تھا
تمہارے بچے کون سے تمہارے بچے ۔۔۔؟ وہ میرے بچے ہیں اور میرے ساتھ رہیں گے تم سے یا تمہارے غلیظ ناپاک وجود سے میرے بچوں کا کوئی ناتا نہیں تم لندن جانا چاہتی ہو شوق سے جاؤ
لیکن میرے بچے اب سے میرے ساتھ رہیں گے وہ تو بابا جان کا حکم تھا کہ وہ معصوم بچوں کو ان کی ماں سے الگ نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن اب میں تمہیں اپنی زندگی سے نکال چکا ہوں چلی جاؤ اپنے یار کے ساتھ لیکن خبردار جو میرے بچوں کو مجھ سے یا میرے خاندان سے دور کرنے کی کوشش کی میرے بچے ہمیشہ میرے ساتھ رہیں گے
لیکن تم نکلو میرے گھر سے ابھی اور اسی وقت وہ بے دردی سے اس کا بازو پکڑ کر اسے گھسیٹتے ہوئے باہر نکالنے لگا تیسرا شخص بے بسی کی تصویر بنا تھا
وہ اس سے ہر رشتہ ختم کر چکا تھا لیکن پھر بھی وہ ان دونوں کے بیچ میں نہیں آنا چاہتا تھا یہ ان کا پرسنل میٹر تھا
خدا کا شکر ہے کہ اللہ نے وقت رہتے اسے یہاں بھیج دیا ورنہ جانے آج اس عورت کے ساتھ کیا ہوتا وہ اس کی عزت بچانے میں تو کامیاب ہو گیا تھا لیکن اس کی زندگی اس کا گھر بچانے میں کامیاب نہ ہوسکا
شاہ صاحب میری بات سنیے آپ ایک بار بات کلیئر کرلیں آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔
چپ ہو جاؤ بے غیرت آدمی میری بیوی کے ساتھ رنگ رلیاں مناتے ہوئے شرم بھی نہیں خیال تک نہ آیا کہ یہ دو بچّوں کی ماں ہے اور اب تم اس کی صفائیاں پیش کر رہے ہو اب سمجھ میں آیا کہ اسے حویلی سے دورگھر کیوں چاہیے تھا
اس لیے رہنا چاہتی تھی تو مجھ سے دور تاکہ اپنے عاشق سے راتوں میں مل سکے اس نے بے دردی سے ایک تھپڑ اس صف نازک کے چہرے پر دے مارا ۔
اس بار تیسرے وجود کے برداشت کی انتہا ہو گئی تھی وہ ایک تو بے قصور عورت پر الزام لگائے جا رہا تھا اور دوسرا اس کی ذات کو بھی بیچ میں گھسیٹ رہا تھا
وہ ایک غیرت مند انسان تھا اپنی ذات پر ایسے الزامات برداشت نہیں کر سکتا تھا اس لئے اب کی بار اسے گربان سے پکڑتے ہوئے سیدھا کیا
بس بہت ہوگئی تمہاری بکواس میں اس معاملے کو تم دونوں کا ذاتی معاملہ سمجھ کر بیچ میں انٹرفر نہیں کر رہا تھا لیکن تم نرمی کے لائق ہی نہیں ہو۔تم ایک گندی ذہانت کے مرد ہو بلکہ تم جیسے مرد میری نظر میں مرد ہی نہیں
اس معصوم کو طلاق دے کر یااس پر ہاتھ اٹھا کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہو کہ بہت غیرت ہے تم میں ۔اسے گالیاں دے کر اسے اس کے بچوں سے دور کرکے کیا حاصل کر لو گے تم سوائے اپنی انا کے تسکین کے یہ تمہاری محبت ہے جس میں تم اپنے بچوں کی ماں پر اعتبار تک نہیں کرسکتے
تم کہتے ہو یہ اور تمہارے لائق نہیں ہے سچ تو یہ ہے کہ تم اس کے لائق نہیں ہوتم اپنی ذات اونچی رکھنے والے مردوں میں سے ہو۔جو عورت کو بے قصور جان کر بھی اسے اس لئے سزا دیتے ہیں کہ اگر وہ جھک گیا یہ اس نے اپنی غلطی مان لی اس کی انا کو ٹھیس پہنچے گی ۔
لیکن حقیقت تو یہ ہے تم جیسے مرد کبھی اپنی ہار کو قبول نہیں کر سکتے اور تم بھی قبول نہیں کر پاؤ گے ۔
تمہاری ہار یہ ہے کہ تم نے خود اپنی آنکھوں پرکالی پٹی بندھی لی ہے جس کی وجہ سے آج تم اس عورت کی بے گناہی کو دیکھ نہیں پا رہے لیکن آنے والی زندگی کے ایک ایک پل میں تم اس لمحے کو پچھتاؤگے جب تم نے اس عورت کو اپنی زندگی سے نکال کر پھینک دیا
اور خبردار جو تم نے اس پر دوبارہ ہاتھ اٹھایا اسے طلاق دے کر اس سے ہر رشتہ توڑ چکے ہو تم ۔۔۔
وہ اسے دھکا دے کر پیچھے کرتا تھا اب اس لڑکی کے سامنے آ رہا تھا جو حیرانگی سے دیکھ اور سن رہی تھی
جانتا ہوں میں تمہارے لئے میں ایک انجان ہوں تم نہیں جانتی کہ میں کون ہوں لیکن تم سے بس اتنا کہوں گا کے ایک انجان ہوکر بھی میں تمہاری عزت کا رکھوالا ہوں تمہارا محافظ ہوں میں وعدہ کرتا ہوں یہ شخص تم سے تمہارے بچوں کو کبھی بھی چین نہیں پائے گا کیا تم مجھ پر اعتبار کرکے میرے ساتھ آنے کو تیار ہو۔۔۔۔؟
وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سوال کر رہا تھا وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ یہ لڑکی کون ہے ۔۔۔
وہ تو بس اسے مصیبت میں دیکھ کی مدد کرنے آیا تھا لیکن شاید اللہ نے اسے اسی کے لیے چن لیا تھا ۔
ایک طرف اس کا محبوب اس کا شوہر اس کا پیار اس کا سب کچھ تھا جو اس پر ایک لمحے کو بھی اعتبار نہ کر سکا
اور دوسری طرف یہ شخص تھا جس نے اسے آج بے آبرو ہونے سے بچا لیا اور ایک انجان ہونے کے باوجود اس کی مدد کرنے کو تیار تھا اسے کسی سوچ میں گم دیکھ کر اس نے دو قدم آگے بڑھائے تو اسے اپنے پیچھے آہستہ آہستہ چلنے کی آواز سنائی دی
اور ساتھ ساتھ گھٹی گھٹی سسکیوں کی آواز ۔۔۔۔
اس میں موڑ کر دیکھا تو وہ اب اپنے دوپٹے سے اپنا آپ چھپاتی اپنے آنسو صاف کرنے کی کوشش کر رہی تھی اس نے اپنی جیب سے رومال نکال کر اس کے حوالے کیا جس پر اس نے ایک نظر اس کے چہرے کو دیکھ کر رومال تھام لیا
اس کا دل دھڑک رہا تھا اسے پیچھے دیکھنے پر مجبور کر رہا تھا وہ قہر برساتی نظروں سے انہیں جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔لیکن اس نے مڑ کر نہیں دیکھا آج وہ رشتہ ختم کر کے آگے کی طرف قدم اٹھا چکی تھی ۔
ایک ایسے شخص کے ہمراہ جس کا نام تک وہ نہیں جانتی تھی
°°°°°°
دیکھو لا لا سوال کو بہت غور سے سنو ۔۔۔وہ اسے بہت پیار سے سمجھا رہا تھا
آپ مجھے لاڈو کہہ کر سوال سمجھائے لالہ کہیں گے تو بھائی والی فیلنگ آئے گی اور پھر جب مجھے بھائی والی فلینگ آئے گی تو مجھے آپ پر بہت پیار آئے گا ادا۔ یو نو نہ آئی لو یو سو مچ ۔۔وہ آنکھیں پٹپٹاتی اس کو مسکرانے پر مجبور کر گئی۔لیکن وہ اسے چہرے پر سنجیدگی لاتا اسے فورکس کرنے کو کہہ رہا تھا
ہاں لاڈو میری جان آئی لو یو ٹو لیکن دو دن کے بعد تمہارے پیپر ہونے والے ہیں اور اللہ کا واسطہ ہے اس بار سپلی مت لینا چلو پڑھائی کرو وہ ہاتھ جوڑ کر منتیں کرتے ہوئے بولا لالی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے اپنے ہونٹوں پر انگلی سے زپ کرتی اب خاموش رہنے کا وعدہ کرنے لگی
جب کہ سنیہا تو کب سے اپنے پیپر پر جھکی اپنا کام کرنے میں مصروف تھی
اچھا سوال یہ ہے کے دس لوگوں نے آم کے درخت سے چار دن میں ہزار آم اتار لیے تو بیس لوگ چار دن میں کتنے آم اتایں گے ۔۔۔۔۔۔؟
وہ بالکل سیریس انداز میں اسے سوال کر رہا تھا اور وہ بھی کافی سیریس لگ رہی تھی
ادا بیس لوگ ایک آم کے درخت پر ایک ساتھ کیوں آم اتار رہے ہیں کیا ان میں کوئی شرط لگی ہے ۔۔۔۔؟اس کے بالکل سیریس سے انداز پر سوال کرنے پر پاس بیٹھی سنیہا کھکھلا کر ہنسی تھی یہ تو وہ بھی جانتی تھی لالی کبھی بھی اپنی پڑھائی کو لے کر سیریز نہیں ہو سکتی
لالی بکواس مت کرو میں سوال پوچھ رہا ہوں اس کا جواب دو زایار شاہ نے ذرا سختی سے کہا
ایک بھی نہیں وہ بھی منہ بنا کر جواب دیتے ہوئے بولی تو زایار اسے گھور کر رہ گیا
ہمارے کھیت میں ایک درخت ہے آم کا اور دس لوگوں اس سے سارے آم اتار چکے ہیں اب بیس لوگوں کیا شاتوت کے درخت سے آم اتاریں گے ۔
بابا کہتے ہیں ہمیں صرف اپنی چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے اور ہمارے کھیتوں میں بس ایک ہی آم کا درخت ہے اور وہ اتنا برا نہیں ہے کہ ایک ساتھ بیس لوگ اس پر چڑھ سکے اور ہزار آم ہاہاہا اس پر تو سو بھی نہیں لگتے
ان میتھ والوں سے کہیں پہلے ٹھیک سوال کرے پھر لالی جواب دے گی وہ کتاب بند کر دیتے منہ بسورے ہوئے بولی
اسے سمجھاتے سمجھاتے اس کا اپنا سر دکھنے لگا تھا وہ تو پتہ نہیں کیا سوچ کر اس نے چاچا سے کہہ دیا کہ اس بار لالی پاس ہو جائے گی
وہ جو ہر بار سپلی لے کر آخری چانس میں پاسنگ مارکس لیتی تھی اس کے لئے چاچو سے کہے الفاظ کے لیے وہ خود بھی پچھتا رہا تھا
اسے پڑھائی میں بالکل دلچسپی نہیں تھی اس بات کا انداز زایار شاہ کو پہلے ہرگز نہیں تھا وہ پاس ہو جاتی تھی اس کے لئے اتنا ہی کافی تھا وہ کہاں جانتا تھا کہ اس کی لاڈلی بہن اتنی نالائق ہے پڑھائی میں
دوسری طرف پہلے دن سنیہا کو پڑھائی میں اتنی زیادہ دلچسپی لیتے دیکھ وہ لالی کے لئے بھی یہی گمان کئے ہوئے تھا کہ وہ بھی لائق ہوگی لیکن یہاں تو سب کچھ الٹا ہو رہا تھا ابھی اسے پتہ چلا تھا جن کتابوں میں وہ پاس ہوتی تھی وہ بھی سنیہاکی بدولت تھا ۔ورنہ اسے پڑھائی میں بالکل کوئی دلچسپی نہیں تھی
رات کے تقریبا ساڑھے نو بجے رہے تھے وہ تین دن سے گھر آتے ہی انہیں پڑھنے کے لئے بٹھا رہا تھا کیونکہ ان کے پیپر سر پر تھے بہت مشکلوں کے بعد سنیہا کو ایف ایس سی کے بعد کراچی یونیورسٹی میں ایڈمیشن لینے کی اجازت مل گئی تھی
جس کے لیے وہ بہت محنت کر رہی تھی جب کہ لالی کو تو کہیں جانا ہی نہیں تھا وہ بس پڑھائی سے جان چھڑانا چاہتی تھی اور ایف ایس سی کے بعد اس کو آگے بڑھنے کا کوئی ارادہ تھا ہی نہیں ۔
یہاں تک کہ اماں کی دھمکی بھی کام نہیں آئی تھی کہ اگر پڑھائی نہیں کرے گی تو شادی کر دیں گے اس بےشرم نے تو اماں کے سامنے بھی صاف کہہ دیا مجھ سے پڑھا نہیں جاتا مجھے میرا دلہا لا دو ۔اور اس فرمان کے بعد اماں سے جوتے کھانے کے بعد بھی عقل نہ آئی
اچھا ادا اب میں جاؤں مجھے سچی والی بہت نیند آ رہی ہے ۔
دیکھیں میری آنکھیں بھی سوج رہی ہیں وہ اپنی آنکھیں پوری کھولتی اسے دکھا رہی تھی زایار نے نفی میں سر ہلایا اس کے ساتھ مزید سر کھپانے کا اس کا بھی کوئی ارادہ نہیں تھا جب کہ سنیہا بھی بھی اپنے سوالات مکمل حل کرکے پیپراس کے حوالے کر چکی تھی
اللہ تم عقل دے لاڈو جس حساب سے تمہاری پڑھائی جا رہی ہے تم پاس نہیں ہو سکتی وہ اس کے سر پر چپت لگاتا اٹھ کر سنیہاکو شاباش دیتا باہر نکل گیا ۔
جس پر لالی نے جہاں یاہو کا نعرہ لگایا وہیں سنیہا اسے گھور کر رہ گئی اس کا ارادہ آج زیادہ دیر پڑھنے کا تھا ۔لیکن یہ الگ بات تھی کہ اس معاملے میں ہمیشہ سے چلتی صرف اور صرف لالی کی تھی
°°°°°
وہ اپنے کمرے میں آیا تو امی جان ہادی کے پاس بیٹھی اسے کوئی کہانی سنانے میں مصروف تھیں اسے دیکھتے ہی ہادی اس کی ٹانگوں سے آلپٹا
بابا جانی دادی مجھے کہانی سنا رہی ہیں ۔بہت مزے کی کہانی ہے آپ بھی سنے وہ کا ہاتھ تھامیں اسے اپنے ساتھ اندر لے جانے لگا زایار نے مسکراتے ہوئے اس ننھے سے بچے کو اپنی باہوں میں اٹھایا
زیادہ تنگ تو نہیں کیا اس نے آپ کو وہ بیڈ پر بیٹھتے ہوئے اپنی ماں کی گود میں اپنا سر رکھتا ہادی کو اپنے سینے پر لٹا چکا تھا
نہیں میرا پوتا بہت سمجھ دار ہے وہ اپنی دادی کو بالکل تنگ نہیں کرتا اماں بیگم نے مسکراتے ہوئے اس کے سر میں انگلیاں چلائیں۔ ماں کی ممتا سے بھر پور لمس پر وہ آنکھیں موندے ان کی محبت کو محسوس کرنے لگا ۔
ہادی جو ہمیشہ سے اس کے سینے پر سر رکھتے ہی سو جاتا تھا آج بھی گہری نیند میں اتر گیا
جب کہ وہ اپنی ماں کی گود میں سر رکھے کچھ سوچنے میں مصروف تھا
میری جان اب یہ سب کچھ برداشت نہیں ہوتا اپنی زندگی میں آگے بڑھو تم دوسری شادی کر لو کیوں دوسروں کی غلطیوں کی سزا خود کو دے رہے ہو ۔
کیوں اپنی زندگی کو کیوں برباد کر رہے ہو مجھ سے نہیں دیکھی جاتی تمہاری حالت مجھ سے نہیں برداشت ہوتا تمہاری زندگی کا یہ ویرانہ پن اب اگے بڑھو سات سال گزر چکے ہیں ۔تمہارے ابو بھی تو تمہیں لے کر بہت پریشان ہیں
ایک آنسو ان کی آنکھ سے نکل کر اس کے رخسار پہ آ گرا اس نے آنکھیں کھول کر ایک نظر اپنی ماں کو دیکھا
آپ کیوں پریشان ہیں وہ امی جان اور انہیں تو خوش ہونا چاہیے یہی تو چاہتے تھے وہ
اپنے بھائی کی بیٹی کو اپنے گھر کی بہو بنانا چاہتے تھے تو ہو تو چکی ہے ان کی خواہش پوری انہیں نہ سات سال پہلے میری خوشیوں کا احساس تھا اور نہ آج احساس ہے
میں بریرہ کو کبھی چھوڑ نہیں سکتا وہ میری بیوی ہے اوروہ اپنی آخری سانس بھی میری بیوی بن کر لے گی ۔
لیکن تمہاری زندگی کا کیا تمہاری خوشیوں کا کیا تمہارا کیا میری جان وہ ماں تھیں اپنے بچے کو یوں نہیں دیکھ سکتی تھی اس لیے روتے ہوئے بولیں
آپ پریشان نہ ہوں امی جان میری زندگی رکے گی نہیں جس دن کوئی لڑکی مجھے پسند آئی میں اس دن دوسری شادی کر لوں گا۔
کوئی بریرہ یا سکندر شاہ مجھ پر پابندی نہیں لگا سکتا
میری زندگی کا ایک فیصلہ سکندر شاہ نے کیا ہے لیکن اپنی زندگی کے تمام آنے والے فیصلے میں خود کروں گا وہ مضبوط لہجے میں بولا ۔
کب کرو گے تم اپنی زندگی کا فیصلہ ہاں کب بھرو گے تم اپنی زندگی میں آگے بتاو مجھے زایار کب دیکھوں گی میں تمہاری خوشیاں کب آئے گی تمہارے چہرے پر اصل مسکراہٹ اپنے اکلوتے بیٹے کی خوشیاں تک نہیں دیکھ پاتی کتنی بدنصیب ماں ہوں میں ۔وہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بولیں تو زایار نے ان کا ہاتھ تھام کر ان کے ہاتھ کی پشت پر اپنے لب رکھے
بہت جلد امی جان بہت جلد آپ میری خوشیاں دیکھیں گیں ۔یہ آنسو بے مول مت کریں۔ اللہ حساب لے کر مجھ سے کہ میں نے اپنی جنت کو رلایا کیوں ۔بس تھوڑا صبر کریں مجھے جس دن کوئی لڑکی پسند آئی میں اسے زایار شاہ کی بیوی بنا کر اس حویلی میں لے آؤں گا ۔اس نے مسکراتے ہوئے ان کے آنسو صاف کیے
کیا تم بریرا کے ساتھ اپنی نئی زندگی کی شروعات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن زایار کی سرخ آنکھوں نے جیسے ان کے لب سی لئے ۔وہ کیسے کہہ سکتی تھیں ایسا جب کہ وہ ساری حقیقت سے واقف تھیں انہی کو تو پتہ تھا سب کچھ حویلی میں صرف وہی تو جانتی تھیں ساری حقیقت تو وہ بلا ایسی بات کیسے کر سکتی ہیں۔
میرے خیال میں اب آپ کو آرام کرنا چاہیے بہت وقت ہو چکا ہے ۔وہ کر کھڑے ہوتے ہوئے بولا تو امی جان ہاں میں سر ہلاتیں بیڈ سے اٹھ کر بنا کچھ بولے کمرے سے نکل گئی زایار نے ایک نظر ہادی کے نازک وجود کو دیکھا اور پھر فریش ہونے چلا گیا
°°°
میں تیری آنکھوں کا کاجل میں تیرے ۔۔۔۔۔
میں تیرے دل کے کابل ۔۔
تو مسافر میں تیری منزل
او ساقی ساقی رے ساقی ساقی
آپاس آ رہ نا جائے کوئی باقی
سنیہا آگے کیا تھا بتاؤ نا مجھے ۔۔۔۔۔وہ آئینے کے سامنے کھڑی لہرا لہرا کر اپنے بال آگے پیچھے کرتی
بیڈ پر کتابیں پھیلائیں بیٹھی سنیہا کی طرف دیکھتے اس سے پوچھنے لگی
لاڈو پلیز مجھے تنگ مت کرو مجھے کام کرنے دو تیزی سے پن پیپر پر چلاتے ہوئے بولی اور پھر سے مصروف ہو گئی ۔
واہ واہ میری جان واہ دیکھ لی تمہاری بے وفائی ابھی تو یونیورسٹی میں ایڈمیشن تک نہیں ہوا اور اپنی جان سے پیاری سب سے عزیز دوست کو اگنور کرنے لگی وہاں جاکر تو تم مجھے بالکل ہی بھول جاؤگی وہ اچھل کر اس کے ساتھ بیڈ پر آ بیٹھی
بعد میں۔۔۔۔ بعد میں ۔۔۔سنیہا اسے اشارہ کرتی اسے بعد میں ڈرامہ کرنے کا کہہ رہی تھی اور اس کے انداز پر لالی نے مزید آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا
بھاڑ میں جاؤ کمینی جا رہی ہوں میں نیچے ملازمہ نے دودھ ابال لیا ہوگا دودھ کی ملائی سے سکن اور زیادہ خوبصورت ہو جاتی ہے میں ذرا اپنے سکن کو مزید خوبصورت کرلوں
وہ ایک ادا سے اسے اگنور کرتی بیڈ سے اٹھی تھی جب پیچھے سے آواز آئٙی میرے لئے ایک کپ چائے بنا کر لانا
یا اللہ کیا دماغ خراب ہے تمہارا ایک یہ پڑھائی کر کر کے اپنا آپ بگاڑ رہی ہو اور دوسری طرف چائے پی پی کر اپنی سکن خراب کر رہی ہو ذرا ہوش کے ناخن لو یہ وقالت کی ڈگری کام نہیں آئے گی یہ حسن اور نزاکت کام آئے گا وہ اسے سمجھا رہی تھی جس پر سنیہانے اسے گھور کر اس کے سامنے اپنے ہاتھ جوڑے تو وہ اس پر دو لفظ لعنت بھیجتی
کمرے سے ہی نکل گئی سمجھانا مشکل نہیں بلکہ ناممکن تھا
لیکن اس بیچاری کے پیچھے تو اس حویلی کے سارے ہی لوگ پڑے تھے ابھی وہ پہلی سیڑھی پر تھی کہ اس کا پیر پھسلا اور وہ لہرتی اپنا بچاو کرتی نیچے دو دو سیڑھیاں اترتی اچانک ایک چٹان سے موجود سے ٹکرائی اگلے ہی لمحے وہ آخری سیڑھیوں سے نیچے گرتی کسی نے اسے تھام لیا اس نے بند آنکھوں سے شکر الحمدللہ پڑھتے ہوئے اپنی آنکھیں کھول کر دیکھا اور خود پر لعنت بھیجی مطلب ہیرو والا سین ہونا بھی تھا تو اس موچھڑ کے ساتھ
لعنت ہےمیری قسمت پر وہ کم آواز سے کہنا چاہتی تھی لیکن اس کی زبان نے الفاظ اونچی آواز میں ادا کیے اسے یقینا سامنے موجود اس موچھڑ( بقول لالی) نے بھی سن لیتے تھے
اس کے نتیجے میں وہ اگلے ہی لمحے اس کا ہاتھ چھوڑ چکا تھا ۔اور اب لالی صاحبہ سیڑھیوں کے نیچے پڑی اپنی کمر مسل رہی تھی ساتھ ساتھ کم آواز میں بد دعائیں بھی جاری تھی جبکہ موچھڑ صاحب اس کی باتوں پہ غور کیے بنا سیڑھیاں چڑھ کے اپنے کمرے میں جا چکا تھا
یا اللہ یہ اپنا فون چارجنگ پہ لگا کے پلگ ان کرنا بھول جائے ۔
یا اللہ یہ بلڈوزراپنی بوڈی پے صابن لگائے اور نل سے پانی آنا بند ہو جائے
یا اللہ یہ فلم دیکھنے جائے تو اسے سب سے آخر والی سیٹ ملے وہ بد دعائیں دیتے ہوئے اٹھ رہی تھی جب اسے یاد آیا یہ تو دنیا کا سب سے بورنگ انسان ہے یہ تو فلمیں بھی نہیں دیکھتا
یا اللہ اسے ایسی لڑکی ملے جو اسے تگنی کا ناچ نچائے ۔
سب اس کے خلاف کام کرے ۔
اس کی ایک بات نہ مانے ۔۔۔۔وہ اپنی کمر سہلاتی ہائے ہائے کرتی کچن کی جانب جا رہی تھی ۔
جبکہ موچھڑ صاحب اوپر گرل سے یہ سارا سین کافی انجوائے کر رہے تھے
روحان یار تُو تو اتنا امیر ہے تو کچھ بھی لے سکتا ہے یار اپنے بابا سے فرمائش کرکے اسپورٹ بائیک کیوں نہیں لے لیتا کیوں برداشت کرنا اس راحیل کو اس کی نظر ہے دانی پر بتا رہا ہوں مِیں
طیب نے اسے دانی کے بارے میں بتاتے ہوئے مشورہ دیا تو اس نے ایک نظر اسے دیکھ کر نہ میں سر ہلایا
اب اگر وہ میری دانی کے پاس بھی نظر آیا نا تو دیکھ لوں گا اور تم میرے بابا کو نہیں جانتے وہ مجھے کچھ بھی نہیں دینے والے اور اوپر سے نئی فرمائش وکالت کرو مطلب حد نہیں ہوگئی کیا اس خاندان کے سبھی لوگوں کو وکیل بنانا ہے انہوں نے
اب خود وکیل ہیں تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ہر کوئی وکیل بننا چاہتا ہے
ایک تو میری بہن سنیہا ہر وقت باباجانی باباجانی کرتی رہتی ہے اور بابا جان کے سامنے یہ بھی کہہ دیا کہ وہ وکیل بنے گی بہت جلد وہ ہماری یونیورسٹی میں ایڈمیشن لینے والی ہے
مجھے تو اس کی ٹینشن ہو رہی ہے اگر وہ یہاں آ گئی تو اسے میری ساری روٹین پتہ چل جائے گی اور وہ باباجان کو بتانے میں ایک سیکنڈ نہیں لگائے گی
روحان نے پریشانی سے کہا
ارے تو اپنی بہن کی وجہ سے پریشان کیوں ہو رہا ہے وہ تو ویسے بھی تجھ سے اتنا ڈرتی ہے کہ ایک بار گھورنے پر ہی خاموشی سے بیٹھ جائے گی ۔اور اگر آرہی ہے تو آنے دے بس اسے اپنی ذاتی زندگی میں دخل اندازی مت کرنے دینا
طیب نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تو اس نے ہاں میں سر ہلایا
چل اپنے بابا کوچھوڑ یہ بتا کہ تیری سپورٹ بائیک کبھی نہیں آ سکتی میرا مطلب ہے ہم سب میں سب سے زیادہ پیسہ تمہارے پاس ہے اورراحیل کی ٹیم سے مقابلہ کرنا بھی صرف تمہارے بس کی بات ہے ہم تو بس تمہیں سپورٹ کر سکتے ہیں اس کے پاس کتنی عمدہ سپورٹ بائیک ہے پاکستان کی سب سے مہنگی بائیک ہے وہ
ویسی نہ سہی لیکن اس کے ٹوئنٹی پرسنٹ بائیک بھی ہم خرید لیں تو شاید اس کا مقابلہ کر سکیں
میں تو یونیورسٹی میں بھی مشکل سے ہی ایڈمیشن لے پایا ہوں بائیک خریدنا کہاں میرے بس کی بات ہے ۔لیکن اس راحیل کا ایٹیٹیوڈ ختم کرنے کے لئے کاش تم کچھ کر پاتے ہماری ٹیم کی بھی یونیورسٹی میں واہ واہ ہو جاتی
اور دانی کی نظر میں بھی تم ہی بیسٹ ہوتے
مگر شاید ہماری اتنی اوقات ہی نہیں ہے کہ ہم کچھ خرید پائیں کیا فائدہ تیرے باپ کے اتنے امیر ہونے کا اپنے اکلوتے بیٹے کی ایک چھوٹی سی خواہش پورا نہیں کر سکتا اور ملک کا سب سے بڑا وکیل بن کر گھومتا ہے طیب اسے چابی دیتا اٹھ کر جا چکا تھا جبکہ اب یہی کچھ سوال اس کے اپنے دماغ میں بھی چل رہے تھے
جب اس کا فون بجا "ادا" کا نام جگمگاتا دیکھ اس کے چہرے پر رونق آ چکی تھی
السلام علیکم ادا کیسے ہیں آپ ۔۔۔؟آپ کو پتا ہے میں آپ کو بہت زیادہ مس کر رہا تھا آپ لندن سے واپس کب آئے ۔۔۔؟آپ کا ٹور کیسا رہا ۔۔۔
وہ ایک ہی سانس میں پوچھے جا رہا تھا دوسری طرف موجود عالم سلطان شاہ کے چہرے پر تبسم سا چھا گیا
میں جانتا ہوں میرا چھوٹا بھائی مجھے بہت مس کر رہا تھا اسی لئے تو آتے ہی سب سے پہلے تمہیں فون کیا ۔
شام کو تم سے ملنے کے لیے تمھارے ہوسٹل آنے والا تھا تین دن کے بعد تمہاری سالگرہ بھی تو بہت دھوم دھام سے منانی ہے عالم نے مسکراتے ہوئے اس کی سالگرہ کا ذکر کیا تو اس کے اندر ہلچل سی مچ گئی
یس مطلب اس بار بھی آپ میرے لئے کچھ اسپیشل کرنے والے ہو ادا مجھے سپورٹ بائیک چاہیے تاکہ میں راحیل کو بتا سکوں کے میں اس سے بہتر ہوں
بہت ایٹیٹیوڈ ہے اس کمینے میں کیا آپ میرے لئے سپورٹ بائیک کا انتظام کر سکتے ہیں بے شک آپ مجھے اگلی بیس سالگرہ پر کوئی گفٹ مت دیجئے گا
کہیں سے امید کی کرن پاتے ہی وہ اپنے دل کی بات لبوں پر لے آیا
تم بس ایک بار کہہ دیا کرو میری جان میں ساری دنیا کو تمہارے قدموں میں رکھ سکتا ہوں اور بائیک تمہیں آج رات مل جائے گی
لیکن اس کے لیے مجھے تمہیں بتانا ہوگا کہ یہ دانی کا قصہ کیا ہے عالم نے اچانک ہی دانی کی بات کی جس پر روحان کے ماتھے پر پسینہ آ گیا
وہ ادا دانی ادا نہیں دراصل وہ میری ۔
ہاں جانتا ہوں وہ تمہاری گرل فرینڈ ہے اور تم اسےکافی چاہتے ہو اس کے طرح اس لڑکھڑاتی آواز سن کر عالم نے بات ہی کلیئر کر دی
کافی نہیں ادا میں اسے بے حد چاہتا ہوں میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں اس سے بے پناہ محبت کرتا ہوں اور سپورٹ بائیک بھی اسی کی وجہ سے لینا چاہتا ہوں کیونکہ آج کل وہ راحیل اسے امپریس کرنے کے پیچھے پڑاہے روحان اس سے کبھی بھی کچھ بھی چھپاتا نہیں تھا
تم اسے کتنا چاہتے ہو وہ تمہارے ہاتھ پر بنائے ٹیٹو جیسی بیوقوفی کا سن کر اندازہ لگا چکا ہوں میں اور مجھے یہ حرکت بہت بری لگی ہے محبت کا اظہار کرنے کے لیے خود کو تکلیف دینا صرف بیوقوفی ہے اور کچھ نہیں آئندہ اس بات کا خیال رکھنا کہ تمہاری تکلیف سے "شاہ حویلی" والوں کو تکلیف ہوتی ہے اور تمہیں جو بھی چاہیے تم مجھ سے کہا کرو اور کسی سے نہیں ۔باقی تمہیں تمہاری پسند کی ہر چیز مل جائیگی وہ سختی سے بولا توروحان خاموش ہو گیا ۔
اس نے تو بس دانی سے اپنی محبت کا اظہار کرنے کے لئے اس کے نام کا ٹیٹو بنوا لیا تھا لیکن یقیناً اس بات سے شاہ حویلی کے مکینوں کو تکلیف پہنچی ہوگی کیونکہ وہ سب اس سے بے پناہ محبت کرتے تھے
اور سناؤ سنیہا کیسی ہے اس کی خاموشی پر عالم نے پھر سے بات شروع کی
کیسی ہو سکتی ہے وہ پتا نہیں شاید بابا نے اسے فورس کیا ہے اسے پریشرائز کیا ہے اور اب وہ وکالت کے پیچھے پڑ گئی ہے اور اب یونیورسٹی آنا چاہتی ہے اور ان لوگوں نے اسے ایف ایس سی کے بعد یونیورسٹی میں ایڈمیشن لینے کی اجازت بھی دے دی ہے
جانتے بھی ہیں کہ یونیورسٹی کا ماحول کیسا ہے ۔روحان برا پڑا تھا اپنے انداز میں عالم کو بتانے لگا
یونیورسٹی کا ماحول کیسا بھی ہو ہمہیں اپنی بچیوں پر اعتبار ہے اور تم بھی تو ہو یہاں اس کا خیال رکھنے کے لیے جس طرح سے تمہاری پڑھائی جا رہی ہے نہ بچے مجھے لگتا ہے کہ تم اگلے دو سال بھی اسی یونیورسٹی میں گزارنے والے ہو
تمہاری پانچ سال چھوٹی بہن تمہارے برابر آپہنچی ہے تمہارے ساتھ ایک یونیورسٹی میں پڑھنے جا رہی ہے اور تم پچھلے تین سال سے اس یونیورسٹی میں صرف ٹائم پاس کر رہے ہو جو کہ ایک بہت غلط بات ہے عالم نے سمجھاتے ہوئے کہا تو روحان اپنے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مسکرا دیا
میں یونیورسٹی میں صرف اپنی لائف کھل کر جینے آیا ہوں ادا مجھے صفدر شاہ کی طرح وکالت میں کوئی انٹرسیٹ نہیں ہے اور نہ ہی میں سنیہا کی طرح ان کی چالوسی کر سکتا ہوں ۔وہ بہت صاف انداز میں بولا تھا
ٹھیک ہے تو پھر آج رات تم سے ملاقات ہو گی ڈنر ساتھ میں کریں گے عالم نے بات ختم کرتے ہوئے کہا
اور میری سپورٹ بائیک۔۔۔۔۔؟ اس سے پہلے کے عالم فون بند کرتا اس کی بے قرار سی آواز آئی
وہ بھی آج ہی مل جائے گی شہزادے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں عالم نے مسکرا کر کہتے فون بند کر دیا ۔وہ جانتا بھی نہیں تھا کہ اس کے علاوہ اور کسی سے اتنی نرمی سے بات کرتا بھی ہے کہ نہیں لیکن اس کی ہر خواہش کو پورا کرنا اس نے اپنا مقصد بنا لیا تھا
وہ شاہ حویلی کا بیٹا تھا اس حویلی کا وارث تھا جو بڑی حویلی میں رہنے کی وجہ سے ذرا ذرا سی چیزوں کے لیے ترستا تھا
نہ جانے سنیہا کیسے رہتی ہوگی وہاں کیاکوئی اس کی بھی فرمائشوں خواہشوں کو پورا کرتا ہوگا یا نہیں ۔
کاش وہ اس کی بھی ہر خواہش کو پورا کر سکتا جب وہ واقعہ پیش آیا تب سنیہا صرف گیارہ ماہ کی تھی اور روحان چھ سال کا نادان بچہ ہونے کے باوجود بھی وہ اپنے گھر والوں کو نہیں بھولا تھا اسی لئے تو جب اس کی بیس سال کی عمر میں عالم نے اس سے رابطہ کیا تو وہ اس کی طرف باہیں پھیلائے دوڑ آیا
وہ اپنی ہر فرمائش اپنی ہر خواہش عالم سے ہی پوری کرواتا تھا اور عالم کے لئے تو وہ اس کی جان تھا جس سے وہ بے پناہ محبت کرتا تھا فکر تو اسے ہمیشہ سے سنیہا کی تھی وہ تو شکر تھا کہ وقت رہتے ہی گیارہ ماہ کی عمر میں ہی اس کی زندگی کا فیصلہ کردیا گیا ورنہ شاید بڑی حویلی کے لوگ تو اسے اس کے اپنوں سے ملنے بھی نہ دیتے لیکن اب وہ وقت دور نہیں جب وہ بھی اپنے اپنوں کے بہت قریب ہو گی جیسے روحان ہے
°°°°°
وہ سو رہا تھا جب اسے باہر ہوسٹل کے لڑکوں کی آواز سنائی دی بہت سارے لڑکے ایک جگہ جمع تھے اس نے روم کی چھوٹی سی گریل سے نیچے کی جانب دیکھا تو وہ سب ایک نیو بائیک کے سامنے جمع تھے
وہ دیکھنے میں ہی بہت مہنگی لگ رہی تھی ساتھ ہی اس نے راحیل کو کھڑے دیکھا تو سمجھ گیا کہ اس نے نیو بائیک خرید لی ہے ۔وہ اندر جانے ہی والا تھا جب اسے پیون نے نیچے آنے کا اشارہ کیا
اسے غصہ تو بہت آیا مطلب اب یہ دو کوڑی کا انسان راحیل کے سامنے اس کا مذاق بنا کر یقیناً اسے راحیل کی نئی بائیک دکھانے والا ہے جس کی وہ تمام لڑکے برابری نہیں کر سکتے وہ اسے کھا جانے والے نگاہوں سے دیکھتا نیچے آگیا
بولو کیا بکواس کرنی ہے کیوں بلایا ہے مجھے وہ پیون پر چڑھ دوڑا جب پیون نے گھبراتے ہوئے چابی اس کے ہاتھ میں تھما دی
کوئی عالم سلطان شاہ کا بندہ دے گیا ہے آپ کے لیے اس نے یونہی گھبرا کر پوری بات اسے بتائی تو طیب چلا اٹھا
کیا یہ دو کروڑ کی بائیک تمہاری ہے ۔طیب نے حیرانگی سے اسے اس بائیک کی مالیت بھی بتائی
اتنی مہنگی بائیک خرید لی میرے بھائی ایسی بائیک کے تو لوگ صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہیں رضوان نے ایک نظر راحیل کی جانب دیکھتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا
یار مجھے یقین نہیں ہو رہا یہ بائیک تمہاری ہے میں اسے ٹچ کر کے یقین کر لیتا ہوں ویسے مجھے تو یہی پتہ تھا کہ 45 لاکھ کی بائیک سب سے مہنگی ہوتی ہے لیکن تو نے تو دو کڑور کی بائیک خرید کر کسی کو اس کی اوقات یاد دلادی عمر بھی راحیل کی ٹانگ کھنچتا ہنستے ہوئے بولا جس پر ان سب کا قہقہ بلند ہوا جبکہ راحیل سرخ چہرے سے ہوں کرتا ہوں وہاں سے جا چکا تھا
چل تیری نیو بائیک پر چلتے ہیں بہت مزا آئے گا طیب راحیل کو جاتے دیکھ کر کہنے لگا
نہیں خبردار کوئی بھی ٹچ نہیں کرنا اس پر سب سے پہلے میری جان دانی بیٹھے گی باقی سب کی باری بعد میں آئے گی وہ اپنی جیب سے موبائل نکالتے دانی کو فون کرنے لگا جس پر سب کا موڈ بن گیا
روحان لیکن وہ تجھے بےوقوف بنا رہی ہے ہمیشہ کی طرح عمر نے مخلص دوست کی طرح اسے سمجھانا چاہا
عمر خدا کے لئے بکواس نہ کیا کرو وہ مجھ سے بہت پیار کرتی ہے اور میں جلدی شادی کے لئے بھی پرپوزکرنے والا ہوں اس لیے بہتر ہوگا کہ تم سب اپنا دماغ درست کرلو کیونکہ اب میں دانی کے خلاف ایک لفظ بھی برداشت نہیں کروں گا
وہ غصے سے کہتا دانی کو فون کرتا اپنا نیا بائیک لیے وہاں سے نکل چکا تھا
عالم کے ساتھ تھوڑی دیر پہلے ہی وہ ڈنر کر کے آیا تھا عالم نے تو بائیک کا کوئی ذکر نہیں کیا اسی لئے تو ہوسٹل آتے ہی وہ سو گیا تھا ۔اور رات کے گیارہ بجے ایک ہائی اسٹینڈر بائیک جس کی قیمت راحیل کی بائیک سے چار گنا زیادہ تھی اس کو مل چکی تھی
کیا ہے رونی کیوں بار بار فون کر رہے ہو میں سو رہی ہوں دانی کی نیند میں ڈوبی ہوئی آواز آئی
سونے کی ضرورت نہیں ہے میں تمہارے ہوسٹل آ رہا ہوں میں نے نیو بائیک لی ہے تمہیں دکھانی ہے اور تمہارے ساتھ لانگ ڈرائیو پر جانا ہے جلدی سے نیچے آ جاؤ پہنچنے ہی والا ہوں بس اتنا کہہ کر مسکراتے ہوئے فون بند کر چکا تھا وہ اسے اپنا نیو بائیک دکھانے کے لیے بہت زیادہ ایکسائٹڈ تھا ۔
اس وقت اس نے شاہ حویلی میں فون کرنے کی غلطی نہیں کی تھی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ رات دس بجے کے بعد وہاں کوئی بھی موبائل فون استعمال نہیں کرتا یہ حویلی کا اصول تھا جو ان لوگوں کو ان کی نقلی دنیا سے نکال کر اصل دنیا میں لے آتا تھا اس لئے عالم کو وہ صبح تھینک یو بولنے والا تھا
°°°°
واو روحان اتنی مہنگی بائیک کیسے خریدلی تم نے کیا تمھارے بابا نے تمہیں اتنے پیسے دے دیے
بابا نے نہیں ادا نے میرے بڑے بھائی انہوں نے لی ہے میرے لیے یہ بائیک میرا برتھ ڈے گفٹ اس نے مسکراتے ہوئے فخر سے بتایا وہ اسے اپنے ساتھ ایک ویران جگہ پر لے آیا تھا جس پر دانی بننا کوئی اعتراض یہاں تک آ گئی تھی
واو تمہارے ادا تو بہت امیر ہیں شادی شدہ ہیں یا ابھی کنوارے گھوم رہے ہیں اس کا انداز معلومات لینے والا تھا جسے روحان اس کی محبت میں محسوس نہ کر پایا
ہاہاہا کنوارے ہیں انہیں اپنے معیار کے مطابق کوئی ملی ہی نہیں
کوئی بات نہیں اب مل جائے گی ویسے میں تمہیں بتانا بھول گئی۔راحیل نے مجھے آج دوپہر میں پرپوز کیا ہے لیکن ڈونٹ وری میں نے انکار کر دیا
وہ مجھے ایک ڈائمنڈ رنگ دے رہا تھا اور اس نے ساتھ میں یہ بھی کہا کہ یونیورسٹی کے کسی بھی لڑکے کی اتنی اوقات نہیں کہ اس جیسی رنگ خرید سکے لیکن تمہاری نیو بائیک دیکھنے کے بعد مجھے اندازہ ہو گیا ہے کہ تم راحیل کی اس غلط فہمی کو جلد ہی دور کر دو گے دانی نے مسکراتے ہوئے اس کی گردن میں باہیں ڈالی اور ساتھ ہی اس کے گال پر اپنے لب رکھتے ہوئے کہا
جس پر روحان کے چہرے پر ایک گہری کی مسکراہٹ آ گئی تھی لیکن اس کی بات نے اسے اندر تک پریشان بھی کر دیا تھا اسے عالم سے اپنے لئے بائیک مانگتے ہوئے عجیب نہیں لگا لیکن اپنی گرل فرینڈ کے لئے ڈائمنڈ رنگ بھلا وہ کیسے مانگ سکتا تھا لیکن عالم تو ہمیشہ کہتا تھا اس کی ہر چیز پر اس کا حق ہے وہ جو کچھ اسے دیتا ہے کوئی احسان نہیں ہے بلکہ یہ سب اس کی اپنی چیزیں ہیں اس نے ایک نظر دانی کے چہرے کو دیکھ کر ہاں میں سر ہلایا
وہ عالم سے ایک رنگ تو مانگ سکتا تھا یقینا اس کے باپ نے اسے کچھ نہیں دینا تھا اس کا سہارا صرف عالم ہی تھا
اس کے مسکرانے پر دانی نے بے باک انداز میں اس کے لبوں پہ اپنے لب رکھے روحان کو اسے اس حد تک بے باکی کی امید ہرگز نہیں تھی
آئی لو یو روحان میں تمہاری برتھ ڈے پر اپنے لیے اس تحفے کا انتظار کروں گی ۔وہ کہتے ہوئے روحان کی باہوں میں جھول چکی تھی ۔جبکہ روحان اس کے حسین سراپے میں گم ایک بار پھر سے اس کے لبوں پر جھکا
°°°°°°
وہ ایک میٹنگ میں مصروف تھا جب اسے فون آیا کہ یونیورسٹی میں روحان کا لڑکوں کے ساتھ جھگڑا ہو گیا ہے اور اس کے باپ کو فون کرنے کے بجائے ان لوگوں نے عالم کو فون کیا تھا کیونکہ روحان نے وہاں دیا ہی عالم کا نمبر تھا
وہ پریشانی سے اپنا سارا کام کاج چھوڑ کر سیدھا یونیورسٹی پہنچا تھا یونیورسٹی سےسب لوگ جا چکے تھے بس بیچ بیچ میں کچھ اسٹوڈنٹ ہی رہتے تھے جو شاید اپنی گاڑیوں کا ویٹ کر رہے تھے
وہ ابھی گاڑی پارک کرنے کے لیے جگہ تلاش کر رہا تھا جب اچانک گرین لباس میں ایک لڑکی اس کی گاڑی سے ٹکرائی غلطی عالم کی تھی
اپنی پریشانی میں وہ فلحال کچھ دیکھ نہیں پا رہا تھا اسی لئے فورا گاڑی سے نکل کر اس لڑکی کو دیکھنے لگا جو اس کی گاڑی کے سامنے پڑی تھی
آپ ٹھیک ہیں آئی ایم ریلی سوری میں کچھ ٹینشن کی وجہ سے آپ کو دیکھ نہیں سکا وہ فوراً معذرت کرتے ہوئے لڑکی کے پاس آیا جس نے بس ایک نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا تھا اور پھر جیسے عالم سلطان شاہ کی زندگی کا وہ لمحہ قدرت نے محفوظ کر لیا
کانچ سی آنکھیں لمبے بال بے حد خوبصورتی سے قدرتی تراشے ہوئے ہونٹ اور اوپر کے ہونٹ کے بلکل ساتھ کالا تل چھوٹی سی ناک وہ خوبصورتی کا جیتا جاگتا شہکار تھی
چہرے پر بلا کی معصومیات تھی ایک ہی پل میں وہ سامنے والے کو بے قرار کر گئی
اسے اپنے بائیں جانب جسم کا حصہ تیزی سے ہلتا ہوا محسوس ہوا دھک دھک کی آواز اپنے کانوں میں سنائی دی
اس نے آج تک اپنے بائیں جانب کسی قسم کی کوئی ہلچل محسوس نہیں کی تھی لیکن سامنے کھڑی اس لڑکی نے تو اسے پورا ہلا کر رکھ دیا تھا وہ فورا اپنی نگائیں چُڑا گیا
اتنے زور کا مار کر سوری بول رہے ہیں آپ پتہ نہیں آپ کو یہ بڑی بڑی گاڑیاں کیوں دے دی جاتی ہیں گاڑی چلانی نہیں آتی آپ کو پہلے انسٹیٹیوٹ میں جاکر سیکھیں پھر چلائیں میں تو بچ گئی ضروری نہیں کہ ہر کسی کی قسمت ایسی ہو وہ اپنا بازو سہلاتی اٹھ کھڑی ہوئی
میں سوری بول تو رہا ہوں آج اس نے خود اپنے لہجے میں نرمی محسوس کی تھی ورنہ آفس سے اٹھتے ہوئے وہ کافی غصے میں تھا کیوں کہ جو میٹنگ وہ چھوڑ کر آیا تھا وہ اسے کافی نقصان دے چکی تھی
آپ کے سوری بولنے سے میرا خون بند ہوجائے گا اس نے اپنا بازد سامنے کرتے ہوئے کہا اس کا زخم دیکھ کر عالم کا دل ایک بار پھر سے دھڑکا تھا
ارے آپ کو تو بہت گہری چوٹ لگی ہے آئیے میں آپ کو ڈاکٹر کے پاس لے جاتا ہوں اس کی تکلیف کا سوچ کر وہ فورا بولا تھا
بہت شکریہ انکل جی میں خود چلی جاؤں گی ڈاکٹر کے پاس آپ بس گاڑی چلانا سیکھ لے وہ سختی سے کہتی دروازے کی طرف بھری جہاں ایک لڑکی اس کے انتظار میں کھڑی تھی
جلدی کر دانی ہم لیٹ ہو رہے ہیں آج تو ابا نے میری جان نکال دینی ہے کل سے ہم ایکسٹرا کلاس نہیں لیں گے وہ لڑکی پریشانی سے اسے بلاتے ہوئے کہہ رہی تھی عالم نے بس اس کا نام سنا تھا
یہ نام اس کے لیے انجان نہیں تھا لیکن ضروری تو نہیں کہ اس دنیا میں بس ایک ہی دانی ہو اور وہ جانتا تھا روحان کی پسند اتنی سیدھی سادی ہرگز نہیں ہو سکتی ۔
اسے تو بس عالم سلطان شاہ کے لیے بنایا گیا تھا اس کی نگاہوں نے دور تک اس کا پیچھا کیا
گہری کالی آنکھیں عنابی لبوں پر گنی سیاہ مونچھیں۔وہ جب کہیں سے گزرتا تھا تو لوگ اپنے آپ کی اس کی پرسنیلٹی دیکھ کر اس کا رستہ چھوڑ دیتے تھے
وہ کسی قسم کے الفاظ کا محتاج نہیں تھا وہ وجاہت اور خوبصورتی کا جیتا جاگتا ثبوت تھا ۔اس کی خوبصورتی کو بیان کرنے کے لیے الفاظ کم پڑ جاتے تھے وہ کسی بھی لڑکی کا خواب ہو سکتا تھا ۔
لیکن خود کو کسی کا خواب بنانا اسے پسند نہیں تھا ۔وہ اپنی طبیعت میں ایک کھینچاو رکھتا تھا جس کی وجہ سے کوئی بھی جلدی اس سے فری نہیں ہو سکتا تھا ۔
یہ تو روحان تھا جو اس کے لیے خاص تھا جس نے آج اپنی گرل فرینڈ کی وجہ سے کسی لڑکے کے سر پر کانچ کی بوتل ماری تھی ۔
اور اس کی شکایت اس کے والدین نے یونیورسٹی کے پرنسپل سے لگائی تھی جس کے نتیجے میں عالم کو یہاں آنا پڑا
لیکن وہ کہاں جانتا تھا کہ یہاں آتے ہی اسے اپنے دل کی دنیا بدلتی ہوئی محسوس ہونے لگے گی
ارے آپ کو سمجھ نہیں آرہا کیا آپ کے بھائی نے میرے بیٹے کے سر پر بوتل ماری ہے اس کی حالت دیکھیں وہ تو اللہ پاک کا کرم ہے کہ اس کی جان بچ گئی
ورنہ نہ جانے آج کیا ہو جاتا آپ کے بھائی کی وجہ سے آج میں اپنے بیٹے سے ہاتھ دھو بیٹھتا
حال دیکھے میرے معصوم بچے کا کیسے ظالموں کی طرح اس کا نقشہ بگاڑ دیا ہے
ترس نہ آیا آپ کے ظالم بھائی کو میرے بچے پر وہ صاحب دوائیاں دیتے ہوئے اپنے بیٹے کا رونا رو رہے تھے جو کافی بری حالت میں ان کے سامنے ہی بیٹھا تھا
تو آپ کا بیٹا نہ کرتا فضول بات اس کی ہمت کیسے ہوئی میری گرل فرینڈ کو چھیڑنے کی کوئی اس کے پاس جائے میں برداشت نہیں کرتا اور اس نے اسے تنگ کیا میں اس کی جان نکالنے میں ایک سیکنڈ نہ لگاوں گا اگر اس نے دوبادہ یہ حرکت کی
شکر کریں کہ زندہ بچ گیا ہے روحان کا غصہ بھی ابھی کم نہیں ہوا تھا جس کے عالم مسکراتے ہوئے اس کا یہ انداز دیکھ رہا تھا ۔
آخر اس کی رگوں میں بھی اس کے خاندان کا خون بہتا تھا جوش نہ مارے ایسا ممکن ہی نہیں تھا ۔
دیکھ رہے ہیں آپ اسے کس طرح سے بات کر رہا ہے اسے ذرا احساس نہیں ہے کہ اس نے میرے بیٹے کے ساتھ کیا کیا ہے
وہ صاحب اب تک دوائیاں دے رہے تھے جب عالم اٹھ کر کھڑا ہوا اور ایک چیک سائن کرتے ہوئے ان کے منہ پر دے مارا
یہ پیسے لے لو اور اس کیس کو یہیں پر ختم کر دو میں اپنے بھائی کی لائف میں کسی قسم کی کوئی ٹینشن نہیں چاہتا
اور ہاں یہ عالم سلطان شاہ کا بھائی ہے اگر اپنی مرضی سے اپنی پسند سے زندگی نہیں گزرے گا تو پھر کیسے گزارے گا
اور بیٹا زندہ ہے آپ کا لگام ڈالیں ۔ورنہ ہر بار زندہ بچ جائے یہ ضروری نہیں
اور تم اب سے تم کوشش کرنا کہ تم میرے بھائی کے راستے میں نہ آؤ۔ورنہ اگلی بار تم سے عالم سلطان شاہ خود ملاقات کرے گا اس کے منہ پر چیک مارتے ہوئے وہ اس زخمی لڑکے کو دیکھ کر بولا
جس کی آنکھیں چیک دیکھتے ہی روشن ہو گئی تھی اور کچھ ایسا ہی حال اس کے باپ کا بھی تھا ابھی کل ہی تو اس نے اپنے باپ کو بتایا تھا کہ روحان بہت امیر خاندان سے تعلق رکھتا ہے
جس کا اسے کل ہی اندازہ ہوا تھا جب اس نے اس کے پاس دو کروڑ کی بائیک دیکھی تھی بس اس کے بعد اس نے ساری باتیں اپنے باپ کو بتائیں اور پھر وہ ان کو غصہ دلاکر خود پر حملہ کروا دیا جس کے نتیجے میں دس لاکھ کا چیک وہ حاصل کر چکے تھے
روحان خود بھی یہ سب کچھ دیکھ کر بہت پریشان تھا اس کا بھائی اسے اس چھوٹی سی پرابلم سےبچانے کے لیے دس لاکھ کی اماؤنٹ دے دے گا اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا
سچ تھا اس کا باپ تو اس پر ایک پھوٹی کوڑی بھی نہ لگاتا ان لوگوں کو فارغ کرکے وہ دونوں باہر آ گئے تھے اسے لگا تھا عالم سے ڈانٹے گا
وہ جب بھی خود کو کسی قسم کا کوئی نقصان پہنچا تھاتو عالم اسے بہت ڈانٹا تھا لیکن اس بار ایسا بالکل بھی نہیں ہوا
باہر نکلتے ہی عالم نے اسے لانچ کی آفر کر ڈالی ۔
ہاں ادا کہیں پر بھی چلتے ہیں بھوک تو مجھے بھی بہت سخت لگی ہے وہ اس کے ساتھ باہر نکلتے ہوئے بولا
تو ٹھیک ہے تم اپنی گرل فرینڈ کو انوائٹ کرو ہم ساتھ میں لانچ کرتے ہیں اس کا ارادہ اصل میں دانی سے ملنے کا تھاوہ دانی سے ملکر جاننا چاہتا تھا کہ آخر کس طرح کی لڑکی ہے اور اس کے ساتھ کس حد تک اس ریلیشن شپ میں سیریز ہے
ادا وہ تو گھر جا چکی ہے آج دراصل اس کی کوئی فیملی ممبر لندن سے آنے والی ہیں جن سے ملنے کے لیے وہ کافی زیادہ ایکسٹڈ تھی جب آپ آئیں تو وہ گئی تھی
اب اسے یوں واپس بلانا عجیب لگے گا کیونکہ وہ ہوسٹل میں رہتی ہے اور آج پورے ایک مہینے کے بعد گھر واپس گئی ہے روحان نے اسے تفصیل سے بتایا تو ایک بار پھر سے عالم کی نظروں کے سامنے وہ پیارا سا چہرہ گھوم گیا
اچھا چلو کوئی بات نہیں ہم پھر کبھی اس سے ملنے آئیں گے او پہلے لانچ کرتے ہیں
عالم روحان کی پسند کو اچھے سے سمجھتا تھا اسے کون سی چیز اٹریکٹ کرتی تھی کونسی چیز اچھی لگتی تھی وہ ہر چیز سے واقف ہو گیا تھا
ایسے میں اس لڑکی کو روحان کی پسند گمان کرنا صرف ایک بے وقوفی تھی روحان بہت الگ نیچر کا بندہ تھا اسے سادگی یا سادہ چیزوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی
اور اسے یقین تھا کہ وہ لڑکی جو اس سے باہر ملی تھی روحان کی پسند ہرگز نہیں ہو سکتی ۔
جبکہ روحان کے دماغ میں اس وقت دانی کی باتیں چل رہی تھیں راحیل نےاس کیلئے ڈائمنڈ رنگ خریدی تھی اور اس کا باپ اسے اس کی گرل فرینڈ کے لیے کبھی ایسی کوئی چیز نہیں خرید کر دے سکتا تھا اسے لگا تھا کہ عالم کا موڈ آف ہو گا لیکن عالم کا موڈ بہت اچھا تھا وہ فرمائش کر سکتا تھا
°°°°°
بریرا بیگم گھر واپس آ گئی ہیں ملازمہ سامان اندر رکھتے ہوئے دوسری ملازمہ کو بتانے لگی ۔ہادی نے یہ بات سنتے ہی باہر کی جانب دوڑ لگا دی تھی
جہاں اپنی ماں سے پہلے اسے ز ایار کا چہرہ نظر آگیا بابا ماما گھر واپس آ گئی وہ بہت خوشی سے اپنے باپ کو بتا رہا تھا
زایار جاننے کے باوجود بھی بیٹے کے سامنے انجان بن کر مسکرا دیا
جب کہ وہ بریرا آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے انہی کی جانب آ رہی تھی ہادی بہت خوشی سے اپنی ماں سے مل رہا تھا
وہ خود بھی سے اپنے سینے سے لگائیں اپنی ممتا کی پیاس بجھا رہی تھی اس کی سہیلی کی شادی تھی جس کی وجہ سے اسے لندن جانا پڑ گیا تھا وہ ہادی کو اپنے ساتھ لے کر جانا چاہتی تھی لیکن ہادی زایار کے بغیر رہ نہیں سکتا تھا
اور زایار کویہ فضولیات ہرگز پسند نہیں تھی ۔
تم ایک ہفتے کے لیے گئی تھی اور دس دن کے بعد واپس آئی ہو۔تمہیں اندازہ بھی ہے تمہارے پیچھے ہادی نے تمہیں کتنا مس کیا ایک بات اچھی طرح سے جان لو بریرہ بیگم میں اپنے بیٹے کے لئے تمہاری غیر ذمہ داری ہرگز برداشت نہیں کروں گا
وہ کرسی سے اٹھتے ہوئے بے حد سرد سے انداز بولا تھا
میں آنے والی تھی لیکن فلائٹ کا کچھ مسئلہ ہو گیا تھا جس کی وجہ سے میں فورا واپس نہیں آ سکی میں نے خود بھی ہادی کو بہت مس کیا ۔
اور یہ بات آپ جانتے ہیں کہ میں ہرگز غیر ذمہ دار نہیں ہوں بس مجبوری تھی جس کی وجہ سے واپس جلدی نہ آ سکی۔
لیکن میں پھر بھی آپ سے معذرت خواہ ہوں آئندہ ایسی غلطی نہیں ہوگی پلیز اپنا موڈ درست کریں اتنے دنوں کے بعد آئی ہوں میں وہ اس کے سینے پہ ہاتھ رکھ کے بے حد قریب آ کر بولی ۔
جبکہ ہادی کے سامنے اس کا یہ انداز اسے بہت ناگوار گزرا تھا
اس نے ایک ہی جھٹکے میں اس کا ہاتھ اپنے سینے سے جھٹک دیا ۔بے حد توہین آمیز لمحہ تھا ۔وہ بھیگی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی
وہ ایک بے حد بے درد انسان تھا اس کے احساسات اس کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتے تھے اور اس کے جذبات کو تو وہ سرے سے نظر انداز کر دیتا تھا
بریرا ابھی تک اسے یوں ہی دیکھ رہی تھی جب باہر آتے چاچو نے انہیں دیکھا وہ غصے میں لگ رہے تھے یقینا زارار کا یہ انداز ان سے چھپا نہیں رہا تھا
زایار بیٹا کیا حرکت تھی تمہاری بیوی دس دن کے بعد تم سے مل رہی ہے اور تم اس کے ساتھ یہ سلوک کر رہے ہو ۔وہ خاندان کا سب سے بڑا اور سمجھدار بیٹا تھا وہ اس سے اس طرح کی امید ہرگز نہیں رکھتے تھے
پتہ نہیں صفدر چاچو ابھی کیا کیا کہنا چاہتے تھے جب بریرا اپنا دوپٹہ اپنے لبوں پر رکھتی اپنے آنسوؤں پر ضبط نہ کرتی وہاں سے بھاگتی چلی گئی ۔
آپنی ماں کو اداس دیکھ ہادی بھی اس کے پیچھے بھاگ گیا
ایم سوری صفدر چاچو لیکن اس طرح ملازموں کے بیچ اس کی یہ حرکت مجھے ہرگز پسند نہیں ہے ۔
سات سال سے یہ میرے ساتھ ابھی تک اس لڑکی کو میری نیچر سمجھ میں نہیں آئی کبھی کبھی حد سے بڑھ جاتی ہے یہ
وہ اپنا غصہ کنٹرول کرتا ہے بہت نرم لہجے میں بولا
میں جانتا ہوں زایار
لیکن یہاں کوئی ملازم نہیں تھا وہ بے وقوف نہیں ہے بہت سمجھدار بچی ہے جس طرح سے اس نے گھر بار سب سنبھالا ہے میں تو اس سے متاثر ہو گیا ہوں
جتنی البیلی اور غیر زمدار تھی ہادی کے آنے کے بعد اتنی ہی سمجھدار اور اپنی ذمہ داریوں کو بھرپور طریقے سے نبھا رہی ہے
اس کے ساتھ زیادہ سختی مت کیا کرو
وہ اسے سمجھا رہے تھے جب زایار نے سرجھکا کر ہاں میں سر ہلا دیا
اور یہ سچ تھا کہ وہ بہت سمجھدار تھی شادی کی پہلی رات کی زایار نے صاف الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ کمرے کے اندر ہمارا رشتہ جیسا بھی ہو کمرے کے باہر وہ کامیاب شادی شدہ زندگی گزاریں گے اور اس کی بات کو وہ اچھے طریقے سے سمجھ گئی تھی
ان سات سالوں میں بریرہ نے اسے کبھی شکایت کا موقع نہیں دیا تھا ۔لیکن پھر بھی کچھ تلخ باتیں اور تلخ حقیقت آج بھی اس کی زندگی میں کالا سایہ بنی ہوئی تھی
جنہیں وہ کبھی نہیں بھلا سکتا تھا بریرا کو قبول کرنا اس کے بس میں نہیں تھا ۔اسے اس کے وجود سے نفرت تھی اس کا ہونا اسے تکلیف دیتا تھا
وہ اور چوبیس گھنٹے اس کے ساتھ رہتی تھی اس کے کمرے میں اس کے بستر پر ہر چیز پر اس کا حق تھا
وہ جانتا تھا وہ اس سے محبت کرتی ہے بے پناہ محبت کرتی ہے لیکن زایار شاہ کے دل میں اس کے لئے کوئی جذبات نہیں تھے
بس وہ تو اس رشتے کو ایک سزا کے طور پر نبھا رہا تھا ۔
جو اس کی مجبوری تھی بریرا تو اپنے آپ کو اس کی پسند میں ڈال چکی تھی سات سال میں اس نے خود کو مکمل طور پر اس کے رنگ میں رنگ لیا تھا
وہ آزاد ماحول میں پلی بری ایک آزاد خیال لڑکی تھی۔وہ تو شادی جیسے بندھن پر یقین تک نہیں کرتی تھی لیکن جب اس کے ساتھ اس کا نکاح ہوا وہ سرے سے بدل چکی تھی
وہ سر سے پاؤں تک صرف اس کی بن چکی تھی لیکن زایارکو اس کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا وہ صرف اور صرف ہادی کی ماں تھی
زایار اسے چھوڑ نہیں سکتا تھا اسی لیے اپنی اور اس کی زندگی عذاب بنا ڈالی تھی اس کے پیچھے دو وجہ تھی ایک ہادی اور ایک وہ وعدہ جو اس نے اپنے مرتے ہوئے چچا سے کیا تھا
لیکن یہ بھی اس نے خود ہی کہا تھا کہ جب بریرہ اس سے خود طلاق مانگے گی تو اسی دن وہ اسے آزاد کر دے کا اسے بریرا کو طلاق دینے میں کوئی حرج نہیں اگر بریرہ خود اس سے جڑا ہوا رشتہ ختم کرے گی تو اسے کوئی اعتراض نہیں ہوگا
لیکن بریرا جو اس کے عشق میں سر سے پاؤں تک ڈوبی ہوئی تھی جسے اس کے پیر کی خاک تک بھول تھی وہ بھلا کیسے اسے چھوڑنے کا سوچ سکتی تھی
اس کا غصہ اس کی نفرت وہ ہر چیز کو قبول کر چکی تھی اس کے لئے بس اتنا ہی کافی تھا کہ زایار شاہ اس کا ہے اس کا شوہر ہے سات سال پہلے اسی امید سے تو اس سے شادی کی تھی کہ آج نہ سہی لیکن زندگی میں کبھی تو وہ اسے اپنائے گا کبھی تو اسے قبول کرے گا
اس کی محبت کا جواب محبت سے دے گا اور سات سال سے یہ انتظار انتظار ہی تھا اور وہ آج بھی اسی انتظار میں تھی
°°°°°°
یا اللہ میں اتنی سندر کیوں ہوں۔۔؟
کیوں ہوں۔۔۔
وہ آئینے کے سامنے کھڑی فون میں سیلفی بناتے ہوئے بولی۔جس پر سنیہا کی ہنسی نکل گئی
کیوں کہ تم میری بہن ہو میری دوست ہو میری جان ہو وہ اس کے پیچھے آتے ہوئے اس کے گرد باہوں کے حصار بناتے ہوئے بولی تو لالی نے اسے گھور کر دیکھا
وہ تو میں ہوں اس میں کوئی شک نہیں ہے لیکن تمہیں مجھ پر اتنا پیار کیوں آ رہا ہے ۔اس سے سنیہا کی محبت بالکل ہضم نہیں ہو رہی تھی
کیونکہ مجھے سر میں درد محسوس ہو رہا ہے اس نے اپنے سر کی طرف اشارہ کیا تو اگلے ہی لمحے ڈریسنگ ٹیبل سے اسی کا رجسٹر اٹھا کر اس کے سر پر مارچکی تھی
اب راحت ملی یا ایک اور ماروں وہ رجسٹر سامنے کرتے ہوئے بولی کیونکہ وہ جان گئی تھی سنیہا کی ساری محبت چائے کے ایک کپ کے لیے تھی۔
بس یہ بات اس خاندان میں مشہور ہو چکی تھی کہ لالی بہت اچھی چائے بناتی ہے جو اس نے سنیہاکی سالگرہ والے دن اچھے موڈ میں بنا ڈالی تھی اور اب اس غلطی پر پچھتا رہی تھی
لالی جب میں چلی جاؤں گی میں تمہارے ہاتھ کی چائے کو بہت مس کروں گی وہ ایموشنل ہوتے ہوئے اسے کھینچ کر اپنے سینے سے لگا چکی تھی
تم بہت مطلبی ہو سنہی۔میں جانتی ہوں تم وہاں پر مجھے نہیں میری چائے کو مس کرو گی اس کے ایموشنل ہونے پر لالی بھی ایموشنل ہوگئی
سنیہا کو اپنا کام بنتا نظر آیا
تمہیں پتا ہے لالی مجھے اس دنیا میں سب سے زیادہ کس چیز سے محبت ہے
جائے سے سنیہا کے سوال پر لالی نے فوراً منہ بنا کر جواب دیا
بالکل صحیح کہا تم نے وہ کیا کہتے ہیں عرض کیا ہے
"تم پھول لادو کلیاں دو محل بنوا دو
لیکن محبت ہم پھر بھی "چائے" سے ہی کریں گے
وہ شاعرانہ انداز میں کہتی آخر میں لالی کو دیکھنے لگی ۔
لیکن تم جانتی ہو مجھے چائے سے اتنی محبت کیوں ہے ۔۔۔۔۔؟نہیں تم نہیں جانتی اس سے پہلے کہ لالی جواب دیتی ہو اس کا چہرہ تھام کر ڈرامائی انداز میں بولی
میں تمہیں بتاتی ہوں لالی مجھے چائے اتنی پسند کیوں ہے کیونکہ یہ چائے مجھے تم بنا کے دیتی ہو
اپنے پیارے پیارے مہندی انگوٹھی اور بریسلیٹ والے ہاتھوں کے ساتھ ان کنواری نازک اور خوبصورت ہاتھ کی چائے واللہ
جب تم میرے جیجو کو پہلی بار ان ہاتھوں سے چائے بنا کر پلاؤ گی تو وہ تمہارے عشق میں فلیٹ ہو کر تمہیں چاہے کے پرستان میں لے جائیں گے ۔
چائے کا پرستان۔۔۔۔ وہ حیران ہوئی لیکن سنیہانے اس کے لبوں پر ہاتھ رکھ کر اپنی بات جاری رکھی
ایک بڑے سے کپ میں دو کرسیاں لگی ہوں گی بیچ میں چھوٹی سی میز ہوگی جس پر چھوٹے چھوٹے دو کپ چا۔ ۔۔۔۔میرا مطلب ہے ایک کپ چائے اور ایک ڈیری ملک چاکلیٹ ہوگی (لالی چائے نہیں پیتی بقول لالی وہ کالی ہو سکتی ہے) دنیا کی سب سے الگ ڈیٹ لالی کی ڈیٹ ہے تو الگ تو ہوگی ہی۔کیونکہ تم جیسا نمونہ میرا مطلب ہے تم جیسا نگینہ دنیا میں واحد ہے
اپنی بات مکمل کرتے ہوئے لالی کو دیکھنے لگی جو اپنی تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھے خود بھی شاید اپنی اس چائے والی ڈیٹ کے بارے میں سوچ رہی تھی
ارے تم خاموش کیوں ہو گئی بتاؤ نا پھر کیا ہوگا ایسی ڈیٹ تو میں نے کبھی ناولوں میں بھی نہیں پڑھی اور نہ ہی کسی رومینٹک فلم میں دیکھی ہے میری ڈیٹ بھی دنیا کی سب سے الگ ڈیٹ ہوگی اسے سچ میں سنیہاکی خیال کردہ ڈیٹ بہت پسند آئی تھی
ارے ڈیٹ ایسے ہی تو نہیں ہو جاتی تو بہت کچھ سوچنا پڑتا ہے اس میں اور بھی بہت ساری رومانٹک رومانٹک چیزیں ایڈکرنی ہوں گی لیکن فی الحال میں سر میں بہت درد ہے میں سوچ نہیں پا رہی
تم ایسا کرو میرے لئے ایک کپ چائے بناؤ تب تک میں سوچتی ہوں وہ فوراً اپنے مطلب پر آئی جس پر لالی نے اسے سخت نگاہوں سے گھورا پھر مسکرائی
اچھا اچھا میں ابھی لاتی ہوں اپنی پیاری سہیلی کے لیے چائے کا کپ تک تم ڈیٹ فائنل کرو
یہ کہانی تو سارے ناولوں سے زیادہ مزے کی ہ اسے کام پر لگاتی وہ اس کے لئے چائے بنانے جا چکی تھی ۔ابھی وہ پہلی سیڑھی پر تھی جب اسے دور سے مونچھڑ آتا نظر آیا
وہیں پر رک جائیں شیر بھائی پہلے مجھے نیچے آنے دیں آج پھر سے کمر توڑوانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے میرا وہ اسے پہلی سیڑھی پر ہی روکتے ہوئے بلند آواز میں بولی
اس کی بات اسے بھی شاید پسند آئی تھی وہ ہاں میں سر ہلاتا ہے اس کے نیچے آنے کا انتظار کرنے لگا
وہ آہستہ آہستہ چلتی نیچے آگئی تھی اس نے ایک نظر سر سے پیر تک اس کی جانب دیکھا ۔
کاٹن کی خوبصورت سرخ فراک میں روز کی طرح بے حد پیاری لگ رہی تھی بال کھلے پشت پر پڑے تھے لبوں پر ہلکی سی لالی لگی تھی آنکھوں میں گہرا کاجل اور دونوں نازک ہاتھ مہندی اور چوڑیوں سے سجے ہوئے تھے
وہ اپنا آپ سنوار کر رکھتی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ بے حد خوبصورت ہے اور وہ اللہ کی دی اس خوبصورتی کی نہ قدری ہرگز نہیں کرتی تھی وہ اپنی فیورٹ تھی اس سے اپنا آپ بے حد پسند تھا اسی لئے تو ہر وقت سجی رہتی
دوپٹہ سر پر لیا کرو اور بال نہ کھولا کرو یوں گھر ملازموں سے بھرا ہوا ہے اس کے قریب سے گزرتے ہوئے وہ ذرا سخت لہجے میں بولا
گھر نہیں گھر کی باہر کی سائڈ ملازموں سے بھری ہوئی ہے اور اندر صرف فوزیہ اور بشریٰ آپا ہی ہوتیں ہیں اور وہ جب بھی مجھے دیکھتی ہیں ماشاء اللہ کہتی ہے نظر لگنے کے تو کوئی چانس ہی نہیں ہیں
وہ اس کی بات کو اپنے انداز میں لیتے ہوئے بولی
بے وقوف لڑکی نظر خوبصورت لوگوں کو لگتی ہے باندری جیسی شکل والوں کو نہیں ایک تو اللہ نے شکل ہی ایسہ دی ہے اور اوپر سے ہر وقت کی لاپا توپی اور پھر محترمہ کو یہ ڈر بھی ہے کہ انہیں نظر لگ جائے گی وہ بڑابڑتے ہوئے سیڑھیاں چڑھنے لگا لیکن لالی کی شان میں توہین ہوچکی تھی
یہاں موجود ہر انسان اس کی خوبصورتی کی نظریں اتارتا تھا اور یہ شخص اسے باندری کہہ کر چلا گیا اس کی بد دعاؤں کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو چکا تھا اسے جتنی بددعائیں آتی تھیں اس نے دینا شروع کر دی وہ اس کے سامنے ایسی حرکت نہیں کرتی تھی کیونکہ شیر کا غصہ بہت سخت تھا جس سے وہ سہم جاتی تھی
اس کے غصے کا نظارہ وہ بہت بار کر چکی تھی اسے تو اکثر ڈانٹ پڑ جاتی تھی اسی لیے وہ اپنے دل کی تمام تمنائیں دل میں بد دعاؤں کی صورت پوری کر لیا کرتی تھی
لیکن آج اسے سچ میں صدمہ لگا تھا
وہ شیشے نما میز میں اپنا چہرہ دیکھنے لگی جو روز کی با نسبت بے حد خوبصورت لگ رہی تھی
اس نے مکمل طور پر اپنا جائزہ لیا جہاں نظر کرتی کوئی نہ کوئی شیشہ نظر آ ہی جاتا جو اس کی خوبصورتی کے قصیدے پڑھتا
بندر کیا جانے ادرک کا سواد۔وہ خوبصورت تھی اور یہ بات وہ خود جانتی تھی کسی مونچھڑ کے کہنے سے وہ بانداری نہیں بن سکتی وہ خود کو تسلی دیتی اپنے بال پیچھے کرتی دوپٹہ سر پہ لینے لگیں کیونکہ باہر سے ملازموں کی آواز آ رہی تھی
گھر کے اندر ہر طرح کی آزادی کے باوجود بھی وہ اپنی حدود کو اچھے سے پہچانتی تھی سنیہا بریرا آپی اور وہ ملازموں کے سامنے کبھی نہیں آتی تھی اور نہ ہی ان کے گھر کے مردوں کو یہ بات پسند تھی اسی لیے ملازموں کو گھر کی باہر تک ہی محدود رکھا گیا تھا ان کا اندر آنا بہت کم ہوا کرتا
°°°°°
میں ایک بار اس سے ملنا چاہتا ہوں روحان پھر تم بے شک اسےرپوز کر لینا میں تمہیں خود اس کے لیے رنگ خریددوں گا
لیکن اس سے پہلے میں اس سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں عالم نے اسے سمجھانا چاہا
بھائی میری سالگرہ پر آپ ملیں گے اس سے میں اسی دن اسے پرپوز کر لوں گا پلیز میری بات کو سمجھنے کی کوشش کریں یہ بہت ضروری ہے
روحان اس انداز میں بولا کہ عالم نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلا دیا
وہ صرف اپنے بھائی کی ہر خواہش پوری کرنا چاہتا تھا لیکن اس کے پرپوز کرنے سے پہلے وہ جاننا چاہتا تھا کہ یہ دانی کس طرح کی لڑکی ہے لیکن اس کی ضد کے سامنے وہ اس کی بات ماننے کو تیار ہو چکا تھا
جس پر روحان بے حد خوش تھا
اب راحیل اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا اور وہ اپنی محبت کو ہمیشہ کے لئے اپنا بنانے جا رہا تھا ۔
وہ لوگ تھوڑی ہی دیر میں اٹھ کر وہاں سے جا چکے تھے جبکہ ہوٹل کے مینیجر نے روحان صفدر شاہ کو عالم سلطان شاہ کے ساتھ دیکھ کر زایار شاہ کو باخبر کردیا تھا جس کے بعد بڑی حویلی میں یہ خبر تیزی سے پھیل چکی تھی
زایار بہت بار عالم کو روحان سے ملنے سے منع کر چکا تھا لیکن عالم باز نہ آیا اب یقیناً اسے اپنے طریقے سے اسے یہ بات سمجھا نی تھی کہ روحان کا شاہ حویلی سے کوئی تعلق نہیں ہے
آج پورے ایک ہفتے کے بعد وہ گاؤں واپس آ گیا تھا
تراب کے گھر نہ ہونے کی وجہ سے آفس کی ساری زمداریاں آج کل اسی کے اوپر تھی
تراب ایک ہفتے سے اپنا کوئی ضروری کام نمٹانے اسلام آباد گیا ہوا تھا ایسے میں عالم نے اس کے سارے کام بھی خود ہی سنبھال رکھے تھے
جس کی وجہ سے شاہ حویلی آنا اس کے لئے مشکل ہو گیا تھا
آج ایک ہفتے کے بعد اس نے حویلی کا رخ کیا تھا گاڑی کچی پکی سڑکوں سے ہوتی ہوئی گاؤں کی حدود میں شامل ہو چکی تھی
جب اچانک اس کی جیپ کے ٹائر چڑچڑائے تھے اس نے بے حد غصے سے سامنے سے آتی گاڑی کو دیکھا ۔جس میں بیٹھا زایار شاہ اس کے غصے کو دگنا کر چکا تھا
اس نے ہون پہ ہاتھ رکھتے ہوئے مسلسل دبانا شروع کر دیا تاکہ اسے بتا سکے کہ وہ اس کی شکل دیکھنے کا بالکل کوئی ارادہ نہیں رکھتا
لیکن سامنے بھی زایارشاہ موجود تھا جیسے اس کے ارادوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا
نہ وہ گاڑی پیچھے ہٹانے کو تیار تھا اور نہ ہی اس کا راستہ چھوڑنے کو
لیکن اس معاملے میں عالم بھی اپنی ضد کا پکا تھا وہ بھی اس کا راستہ چھوڑنے کو تیار نہیں تھا ۔
یہ ضد تو برسوں سے ان کی طبیعت کا حصہ تھی
وہ چھوٹی چھوٹی بات کو لے کر مقابلے پر اتر آتے تھے جیسے اب وہ دونوں مقابلے پر اترے ہوئے ایک دوسرے کا راستہ چھوڑنے کو تیار نہیں تھے ۔
وہ دوستی نبھانے والے اور دشمنیوں میں حد پار کر جانے والوں میں سے تھے
گاؤں کی اس مٹی کی سڑک پر یقینا ایک اور جنگ چھڑنے جا رہی تھی
وہ دونوں سرخ آنکھوں میں سرد مہری ور نفرت سے ایک دوسرے کو گھور رہے تھے دونوں ہی ایک دوسرے کا راستہ چھوڑنے کو تیار نہیں تھے۔
کیونکہ یہاں کسی ایک کا پیچھے ہٹنا دوسرے کی ہار تھی۔اور ہار ان کے خاندان کی روایتوں میں شامل نہیں تھی دیکھتے دیکھتے گاؤں کے کہیں لوگ وہاں جمع ہونے لگے تھے
گاؤں کے کسی بھی انسان میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ عالم سے یہ کہتا کہ وہ راستہ چھوڑ دے اور نہ ہی زایار شاہ کہ بگاڑے تیور سے مقابلہ کرنے کی کسی میں ہمت تھی ۔
اس سے پہلے کے گاؤں میں ایک اور جنگ چھڑتی۔ایک اور دشمنی جنم لیتی ایک آدمی بھاگتا ہوا شاہ جی شاہ جی کرتا ان کی جانب آیا
کیا بات ہے بخشو چاچا کیوں چلائے جا رہے ہو عالم نے غصے سے پوچھا
اور یہی سوال زایار بھی کرنا چاہتا تھا
شاہ جی گاؤں کے بڑے درخت پر فیصل کے بیٹی نے پھندا لگا کر خود کشی کر لی ہے
لاش گاؤں کے بیچوں بیچ لٹک رہی ہے
مہربانی کر کے جلدی چلیں وہاں فیصل نے رو رو کر برا حال کر رکھا ہے اس سے پہلے بےچارہ اپنی ہی جان لے بیٹھے اس کی بیٹی کو انصاف دلائیں
میں بڑی حویلی اور شاہ حویلی گیا تھا لیکن بڑے شاہ جی وہاں موجود نہیں تھے اس لئے آپ دونوں کو ادھر دیکھ کر یہی بھاگ آیا
وہ تفصیل سے بتا رہا تھا
جب کہ زایاراور عالم دونوں پریشان ہو چکے تھے
۔
وہ ایک وفادار ساتھی تھا جو مشکل آنے پر جان بھی لٹانے کو تیار رہتا اس کی بیٹی نے بلا خودکشی کیوں کی یہ سوال ان دونوں کے ذہن میں تھا وہ اپنی گاڑیاں وہی چھوڑتے ہوئے گاؤں کے کھیتوں کے رستے بڑے درخت کی طرف جا رہے تھے
°°°
پولیس کے آنے سے پہلے انہوں نے کسی کو بھی لاش کو چھونے سے منع کر دیا تھا
اور پولیس کے آنے کے بعد لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے لے جایا گیا
فیصل نے تو رو رو کر اپنا برا حال کر رکھا تھا
صبر کرو چاچا تمہاری بیٹی جس کی وجہ سے ان حالات میں پہنچی ہے اسے بھی سکون نہیں ملے گا اتنی آسانی سے تو ہم بھی نہیں چھوڑیں گے اسے۔زایار نے فیصل کو سمجھاتے ہوئے کہا
لیکن تمہاری بیٹی کو ایسا قدم اٹھانے سے پہلے ایک بار اعتبار میں لے کر اپنی ماں کو بتا دینا چاہیے تھا
محبت کرنا گناہ نہیں چاہتا لیکن محبت میں ہر حد پار کر جانا گناہ ہے
ہمارے مذہب میں زندگی کے ہر پہلو کو بہت روشن طریقے سے بیان کیا گیا ہے مرد کو اپنی اور عورت کو اس کی حدود بتائی گئی ہیں ۔
یوں چھپ چھپ کرگھر سے جھوٹ بول کر کسی غیر محرم سے ملنا اس کے ساتھ ہر حد پار کر جانا محض ڈیڑھ مہینے میں وہ اس کے اتنے قریب ہو گیا کہ اس نے اپنا آپ اس کے حوالے کر دیا ۔وہ اس کے بچے کی ماں بننے والی تھی۔تم خود بتاؤ کہ اس میں غلطی صرف اس لڑکے کی تھی ۔۔۔۔؟
جو کچھ بھی ہوا اس میں غلطی تمہاری بیٹی کی بھی اتنی ہی تھی جتنی اس لڑکے کی ۔عالم کے پاس جھوٹے الفاظ نہیں تھے
جن کا سہارا لے کر وہ اس کے آنسو صاف کرتا
آج یہ شخص رو رہا تھا اپنی بیٹی کی لاش پر لیکن حقیقت تو یہ تھی کہ جب اس کی بیٹی ایک غیر محرم سے چھپ کر ملنے لگی تو وہ باپ کا فرض ادا کرنے کی بجائے اپنی زندگی میں مگن رہا اگر وہ اپنے باپ ہونےکا فرض ادا کرتا تو آج ایسا نہیں ہوتا
کون سا باپ اپنی جوان بیٹی سے اس حد تک بے خبر رہتا ہے کہ اسے یہ تک نہیں پتا کہ اس کی بیٹی ایک غیر شخص سے ملتی ہے ۔
حالات اتنے بگڑ گئے کہ وہ ماں بننے والی تھی
اور اس لڑکے نے شادی سے انکار کردیا تھا ۔اس کے پاس سوائے خودکشی کے اور کوئی رستہ نہیں تھا ۔آج فیصل اپنی بیٹی کے لیے تڑپ تڑپ کر رو رہا تھا ۔لیکن اگر وہ اپنی بیٹی کی غیر حاضری اور غیر دماغی کو نوٹ کرتا تو شاید آج اس کی بیٹی زندہ ہوتی
دور جہالت اب بھی باقی تھا بیٹیوں سے ان کی مرضی پوچھنا ان کی پریشانیوں پر غور کرنا آج بھی ان لوگوں کے لئے غیر ضروری تھا ان کے لئے اہم بس اتنا ہی تھا کہ وہ فیصلہ سنائیں اور بیٹی سرجھکاکر ہاں کردے آج بھی کہیں خاندانوں میں شادی سے پہلے ان سے مرضی تک نہیں پوچھی جاتی تھی
اور فیصل بھی ایسی ہی سوچ رکھتا تھا کہ جب اس کی بیٹی شادی کے قابل ہو گی وہ اپنی مرضی سے کسی کے ساتھ بھی اس کی شادی کر دے گا اسی لئے وہ اسے جھوٹے سہارے دینے کے بجائے حقیقت بتا رہا تھا وہ اسے بتا رہا تھا کہ اس کی بھی اتنی ہی غلطی ہے جتنی اس کی بیٹی اور اس لڑکے کی
لیکن زایار کے خیالات عالم سے الگ تھے اس کی سوچ تھی کہ اس وقت چاچا کو سہارے کی ضرورت ہے نہ کہ تلخ حقیقت کی
لیکن عالم اس میں اس کا ساتھ نہیں دے سکتا تھا
بچی کو سدھار نے یا بگاڑنے میں سب سے پہلا ہاتھ اس کے اپنے والدین کا ہوتا ہے
کیوں کہ ایک لڑکی کو اس کے ماں باپ سے بہتر اور کوئی نہیں سمجھ سکتا اگر وقت رہتے ماں باپ اس کو صحیح غلط کی پہچان بتاتے رہے تو حالات بگڑ نہیں سکتے
چاچا آپ بے فکر رہیں جس نے ہمارے گاؤں کی بیٹی کے ساتھ یہ ظلم کیا ہے خوش تو بھی نہیں رہ پائے گا جیل کی چار دیواری اس کے انتظار میں ہے
اللہ آپ کو صبر دے زایار ان کے کاندھے پے ہاتھ رکھتا انہیں ہمت دیتے ہوئے بولا جبکہ عالم سے اس طرح کے ڈرامے نہیں ہوتے تھے
وہ بنا کچھ بولے وہاں سے پلٹ گیا جب اسے پیچھے سے زایارکی آواز سنائی دی
مجھے تم سے کچھ بہت ضروری بات کرنی تھی وہ اس کے روبرو رک کر کہنے لگا
عالم نے ایک نظر اپنے ریسٹ واچ کی طرف دیکھا اور پھر اس کی طرف جیسے کہہ رہا ہو وقت نہیں ہے جلدی کرو
میں نے تمہیں روحان سے ملنے سے منع کیا تھا لیکن تم باز نہیں آئے میں تمہیں آخری بار کہہ رہا ہوں عالم سلطان شاہ روحان کا تم سے یا تمہارے خاندان سے کوئی تعلق ۔۔۔۔۔
خون کا تعلق ہے زایار سکندرشاہ ۔
اس کی اور میری رگوں میں ایک ہی خون بہتا ہے ۔میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا کہ میں اس سے ملوں گا اور صرف اس سے ہی نہیں بلکہ سنیہا سے بھی تم مجھے نہیں روک سکتے ۔
اگر تمہیں یہ لگتا ہے کہ تم میری بہن کو مجھ سے چھپا لو گے یہ صرف تمہاری غلط فہمی ہے میرے بہن بھائی بہت جلد میرے ساتھ ہوں گے ۔اور روحان تو اب میرے ساتھ ہی ہے ۔تم لوگوں کی جھوٹی محبتوں کے دکھاوے بھی اسے روک نہیں پائے
وہ برک کر بولا
تم لوگوں کی سچی محبتیں بھی سترہ سال پہلے ظاہر ہو چکی ہیں عالم سلطان شاہ ۔روحان اور سنیہا سے تم لوگوں کا کوئی واسطہ نہیں ہے
اگر تمہیں لگتا ہے کہ دنیا کی سب سے مہنگی بائیک خرید کر یا پھر اس کے سامنے کسی پردس لاکھ کا چیک پھینک کر تم اسے اپنی طرف کر لو گے تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے اور کچھ نہیں
روحان کو لالچ دے کر تم اس کی ساری خواہشات کو تو پورا کر لو گے لیکن اس کے دل میں اپنے لیے محبت نہیں جگا پاؤ گے کیونکہ جو محبت تم جگانے کی کوشش کر رہے ہو وہ تمہاری نہیں بلکہ تمہاری دولت کی ہے
وہ تمہارے ساتھ اس لیے اٹیچ ہو رہا ہے کیوں کہ تم اس کی خواہشات کو پورا کر رہے ہو ۔اس لیے نہیں کہ وہ تم سے محبت کرتا ہے
۔آج تم اس کی خواہشات پورا کرنے سے انکار کر دو کوئی محبت نظر بھی نہیں آئے گی ۔زایار نے اس کے سامنے حقیقت کا آئینہ رکھا تھا
اس کے انداز پر عالم سلطان شاہ مسکرایا تھا کیونکہ وہ اس کے ارادے جان چکا تھا ۔اور روحان کے سامنے اس کی پسند کی ہر چیز رکھ کر اسے بڑی حویلی والوں سے دور کر رہا تھا ۔
اس کی خواہشات کو پورا کرکے وہ اسے صفدر شاہ کے اتنا خلاف کر چکا تھا کہ اب وہ اپنے باپ کا نام تک لینے کو تیار نہیں تھا عالم یہی چاہتا تھا کہ بڑی حویلی والوں کی حقیقت روحان اور سنیہا کے سامنے آجائے اور اس کے لئے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار تھا
روحان کو لگتا تھا کہ عالم کو اس کی روٹین کے بارے میں کچھ بھی نہیں پتا لیکن اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ عالم اس کے لمحے لمحے سے واقف ہے
طریقہ کوئی بھی ہو زایار سکندرشاہ لیکن اپنے بھائی کو میں تم لوگ سے بہت دور کر دوں گا اور جہاں تک بات ہے سنیہا کی تو تم شاید تراب حیدر شاہ کو بھول چکے ہو ۔
تم روحان کو ہم سے دور کر سکتے ہو ۔
لیکن تراب حیدر شاہ اپنی ملکیت کبھی نہیں چھوڑتا یاد رکھنا ۔اس کے چہرے کا رنگ اڑ تا دیکھ عالم سلطان شاہ کے چہرے پر تبسم بکھرا تھا ۔
وہ مسکرا کر اس کا رستہ چھوڑتا آگے بڑھنے لگا
صفدر شاہ اس ملک کے سب سے بڑے اور مشہور ایڈوکیٹ میں سے ایک ہے عالم سلطان شاہ تم بے فکر ہو جاؤ وہ اپنی بیٹی سینہا صفدر شاہ کو انصاف وہ خود دلا لے گا ۔زایار کے الفاظ نے اس کے قدم جکڑ لیے
اس نے پلٹ کر دیکھا اس کے چہرے کی دلکش مسکراہٹ ابھی بھی برقرار تھی
میں بالکل بے فکر ہوں زایار کیوں کہ تم تراب حیدر شاہ کو نہیں جانتے ۔تم اسے دنیا کے آخری کونے میں چھپا لو۔سات آسمانوں یا سات زمینوں میں کہیں غائب کر دو ۔یا بے شک اسے کسی دوسرے پلانٹ پر بھیج دو ۔وہ ڈھونڈ نکالے گا ۔تمہارا وکیل ایڈوکیٹ صفدر شاہ تراب حیدر شاہ کی ملکیت چھین نہیں سکتا ۔
اس کے الفاظ نے نہیں لیکن مسکراہٹ نے زایار کو آگ ضرور لگائی تھی وہ مٹھیاں بیچ کر اپنا غصہ کنٹرول کرتا رہا ۔
زایار سکندر شاہ غصے کا تیز ضد کا پکا انسان تھا
لیکن عالم سلطان شاہ لوگوں کی ضد اور غصے کو آگ لگانے میں ماہر تھا
°°°°
°°°°°
شاہ جی آپ کو نئی خبر پتہ چلی راشد اس کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا بول رہا تھا عالم کا موڈ آج کافی اچھا تھا زایار کو آگ لگا کر اسے ہمیشہ سے بہت سکون ملتا تھا
کون سی خبر کی بات کر رہے ہو ارشد ۔۔۔۔؟
وہ کھیتوں کے بیچ سے گزرتا اپنی گاڑی کی طرف جا رہا تھا ۔۔۔جب ارشد نے پرتجسس انداز میں اس سے بات شروع کی
شاہ صاحب آپ کو نہیں پتہ کیا اس بار زایارشاہ الیکشن میں کھڑے ہو رہے ہیں وہ بھی بالکل آپ کے سامنے آپ کے مقابلے میں ۔اس بار ان کا ارادہ گاؤں کی کرسی سنبھالنے کا ہے
ان کے کانوں میں یہ خبر لگ چکی ہے کہ اس بار آپ بھی الیکشن میں کھڑے ہو رہے ہیں ۔بس پھر کیا تھا وہ بھی کود پڑے میدان میں آپ کا مقابلہ کرنے کے لیے
ارشد کا انداز بالکل فسادی عورتوں جیسا تھا لیکن عالم کو اس سے بات کرنے میں ہمیشہ ہی بہت مزہ آتا تھا اور آج اس کی خبر پر تو اس کی مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی تھی
مطلب اب مقابلے میں اور بھی زیادہ مزہ آئے گا۔کھیل مزیدار تب ہوتا ہے جب سامنے والا کھلاڑی آپ کی ٹکر کا ہو وہ گہری مسکراہٹ کے ساتھ بولا تو ارشد نے حیرانگی سے دیکھا اور پھر بے ڈھنگے انداز میں ہنسنے لگا
انکی کہاں اوقات آپ کا مقابلہ کرنے کی بس الیکشن میں کود کر اپنی بےعزتی کروائیں گے کیونکہ پورا گاؤں تو آپ کے ساتھ ہے وہ گاڑی کے پاس پہنچتے ہوئے بولا تو عالم نے مڑ کر اسے دیکھا
حقیقت کا ساتھ دیا کرو ارشد مجھے چالوسی کرنے والے لوگوں سے نفرت ہے ۔خبر دیتے رہنا وہ اس انداز میں بولا کہ ارشد نظر جھکا گیا
اور عالم اپنی گاڑی اڑاتا ہوا وہاں سے لے گیا
جبکہ اب وہاں پر زایار کی گاڑی نہیں تھی کیونکہ زایار کا ارادہ ابھی گاؤں میں تھوڑی دیر رہنے کا تھا اس لیے اس کی گاڑی وہاں سے بڑی حویلی پہنچا دی گئی تھی
°°°°
دریا کی ٹھیک سے صاف کروائی تھی نا ۔۔۔۔۔!
وہ منشی جی کے ساتھ چلتے ہوئے دریادیکھنے آیا تھا جس کی صفا ئی کا اس نے کچھ دن پہلے بھی ٹھیکا دیا تھا
جی چھوٹے شاہ جی دریا تو میں نے ٹھیک سے صاف کروا دیا تھا لیکن مجھے تو یہ پیسوں کی بربادی ہی لگی کیوں کہ ایک مہینہ نہیں گزرے کایہ پھر سے گندہ ہو جائے گا
آپ ہر بار اتنے پیسے خر چ کر کے اسے صاف کرواتے ہیں اور لوگو کو بس گندگی پھیلانا ہی آتی ہے منشی جی بھرے ہوئےتھے ان کے انداز پر نرمی سے مسکرا دیا ان کا غصہ بھی جائز تھا
آپ کی بات میں سمجھ سکتا ہوں منشی جی لیکن اگر گاؤں کا سب سے بڑا اور خوبصورت دریااس طرح سے گندہ ہو گا تو گاؤں والوں کے لئے مشکل ہو گی اور بیماریاں بھی پھیلے گی
اس دریا کا بہتا پانی رکنا نہیں چاہیے ورنہ گاؤں والوں کے لئے پریشانیوں میں اضافہ ہوجائے گا
۔وہ دریا کا ٹھنڈا پانی ہاتھوں میں محسوس کرتے ہوئے اپنی قمیض اتارنے لگا
منشی جی مسکرا دیئے وہ بچپن سے ہی اسی دریا میں نہانے کے لئے آتا تھا اسے یہ دریا بے حد پسند تھا گاؤں میں یہ جگہ اسے سب سے زیادہ خوبصورت لگتی تھی وہ جب بھی یہاں آتا تھا اس دریا کے ٹھنڈے پانی سے ضرور نہاتا تھا
اور یہی وجہ تھی کہ اس کی صفائی کا خیال بھی وہ خود رکھتا تھا
وہ اپنی قمیض اور ضروری سامان پاس رکھے پتھر پر رکھتا منشی جی کو جانے کا اشارہ کر چکا تھا وہ کچھ وقت اکیلے گزارنا چاہتا تھا منشی جی ہاں میں سر ہلاتے اسے خدا حافظ کہتے اپنے کام کے لئے نکل چکے تھے
وہ اس ٹھنڈے پانی کو محسوس کرتا ہے اس کی گہرائی میں جانا چاہتا تھا
وہ پانی کے اندر تک جاتا تھا بچپن میں اس کا شوق ہوا کرتا تھا کہ وہ سکے پھینک کر ڈھونڈنے جاتا اور جب تک اسے سکہ مل نہیں جاتا وہ واپس اوپر نہیں آتا تھا اس کی ماں تو گھبرا جاتی تھی کہیں اس کےبیٹےکو اندر کچھ ہو ہی نہ جائے لیکن وہ اس کھیل میں ماہر تھا
وہ کافی دیر سے اس پانی کو محسوس کر رہا تھا دو بار باہر آکر اس نے گہرا سانس لیا لیکن ابھی تک اس کا دل نہیں بھرا تھا اسی لئے ایک بار پھر سے اس کی گہرائی میں اتر کر محسوس کرنے لگا
لیکن اس بار جب وہ پانی کے اوپر پہنچ کر گہرا سانس لینے لگا اسے خود پر کوئی پردہ سا محسوس ہوا آنکھیں کھول کر دیکھا تو کسی کا دوپٹہ اس کے چہرے کے ساتھ کندھوں پر بھی پھیلا ہوا تھا
بہتے دریا میں سفید رنگ کا یہ دوپٹہ اسے پریشان کر گیا تھا اس نے دریا کے چاروں طرف مڑ کر دیکھا تو تھوڑے ہی فاصلے پر اسے سفید فراک میں ایک لڑکی نظر آئی
جو اسے دیکھتے ہی چہرہ مڑ گئی
ہاتھ سینے پر باندھے شاید وہ شرم کے مارے ادھر نہیں دیکھ پا رہی تھی
پاس رکھی بالٹیوں سے وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ دریا سے پانی بھرنے آئی ہے
وہ اپنا رخ اس کی جانب کرتا تیرتا ہوا پانی سے باہر نکلا اپنے کندھوں پر پھیلا ہوا دوپٹہ کچھ فاصلے پر کھڑی اس دوشیزہ اس کی جانب کیا ۔وہ اس کی جانب سے دیکھ نہیں رہی تھی لیکن اپنی پشت پر وہ اسے محسوس کر چکی تھی
یہ لو تمہارا دوپٹہ ۔۔۔اور آئندہ ایک بات یاد رکھنا ایک عورت کے لئے اس کے سر کی چادر سے زیادہ اہم اور کچھ نہیں ہونا چاہیے ۔یہ تو وہ بھی سمجھ گیا تھا کہ یقیناً پانی بھرتے ہوئے اس کا دوپٹہ دریا میں بہہ گیا جسے وہ سنبھال نہیں پائی ہوگی
اس کی بات سن کر وہ بولی کچھ نہیں لیکن اس نے ذرا سا چہرہ مڑ کر دیکھا زایار دوسری طرف منہ کیے دوپٹہ اس کی طرف کر چکا تھا اس سے پہلے کہ وہ دوپٹہ پکڑتی دور سے کسی کے چلانے کی آواز آئی
پازیب جلدی کر مہمان آگئے ہیں اتنا وقت لگا دیا پانی بھرنے میں تیری تائی غصے سے پاگل ہو رہی ہے ۔
اس آواز پر بوکھلا کر وہ کچھ فاصلے پر اسے دیکھنے کے بجائے سامنے رکھی بالٹیاں اٹھاتی وہاں سے بھاگ گئی
اس کے بھاگنے پر زایار اس کی طرف دیکھنے لگا۔کچھ فاصلے پر جاکر اس نے مڑ کر دیکھا زایار کی جانب دیکھ رہا تھا ۔وہ نظریں جھکا گئی شاید اسے شرٹ لیس دیکھ کر وہ گھبرا رہی تھی
وہیں رک دومیں اٹھا لوں گی وہ جاتے ہوئے کانپتی آواز میں بوئی شاید وہ اس سے خوفذدہ ہوگئی تھی اور پھر وہ بھاگ گئی ۔
جتنی وہ خوبصورت تھی اس سے کہیں زیادہ خوبصورت اس کی آواز تھی زایارکو لگا جیسے وہ اس آواز اور اس لمحے میں قید ہو گیا ہواس کی نگاہوں نے اس منظر کو بس آنکھوں سے دل میں محفوظ کر لیا تھا ۔
اس نے دوپٹہ پاس بڑے پتھر پر پھیلانا چاہا لیکن پھر اس کا دل نہیں مانا
نہ جانے کیا تھا اس لمحے میں جس میں قید ہوکر زایار نے اس کا دوپٹہ اپنے ہاتھ پر باندھا اور پھر دریا میں تیریا دوسری جانب اپنے سامان کی پاس چلا گیا
ہیپی برتھ ڈے
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو
ہیپی برتھ ڈے ڈیئر روحان
وہ بھری محفل میں اس کا گال چومتی بے باکی سے گا رہی تھی
عمر کا غصے سے برا حال تھا کیونکہ اس کی لالچی فطرت سے وہ اچھے سے واقف تھا
لیکن روحان کی آنکھوں پر تو محبت کی پٹی بندھی تھی
کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ روحان کے دماغ میں کیا چل رہا ہے جھٹکا تو سب کو تب لگا جب وہ دانی کے قدموں میں بیٹھ کر اس کے ہاتھ میں ہیرے کی انگوٹھی پہنانے لگا
دانی کیا تم مجھ سے شادی کروگی ۔۔۔۔؟
میں تمہیں اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہتا ہوں وہ زمین پر بیٹھا اس سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے شادی کی آفر کر رہا تھا ۔
عالم کو بہت ضروری کام کی وجہ سے گاؤں جانا پڑ گیا جس کی وجہ سے آج وہ اس پارٹی میں شامل نہیں ہو سکا تھا
۔لیکن اس کی برتھ ڈے کو پوری شان و شوکت سے منانے کا فیصلہ کرتے ہوئے وہ اپنے سیکٹری کو پیسے پانی کی طرح بہانے کا آرڈر دے گیا تھا
ان کی یونیورسٹی میں آج تک اتنی بڑی پارٹی کبھی نہیں ہوئی تھی
روحان کی تو ہر طرف واہ واہ ہو رہی تھی
زایار نےفون کرکے اس سے واپس آنے کے لیے کہا تھا وہ اس کی سالگرہ حویلی میں منانا چاہتے تھے لیکن اس نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ وہ سالگرہ اپنے دوستوں کے ساتھ منانا چاہتا ہے
اور اس کے دوست چاہتے ہیں کہ وہ یونیورسٹی کے آخری سال میں اپنا برتھ ڈے ان کے ساتھ منائے پھر شاید ہی کبھی ملاقات ہو اس نے بہت اموشنل الفاظ میں زایار کو یہ سب کہا تھا
زایارسمجھ چکا تھا کہ روحان یہ بہانہ بازی کیوں کر رہا ہے یقینا عالم نے اسے لالچ دیا ہوگا
وہ اس پر نظر رکھنے والے گارڈ سے پتہ لگا چکا تھا کہ یونیورسٹی میں پارٹی ہو رہی ہے جس کا سارا خرچہ عالم نے اٹھایا ہوا ہے
بہت آسانی سے عالم اپنے مقصد پورا کر رہا تھا
وہ بہت آسان طریقے سے اسے حویلی والوں سے دور کر رہا تھا ۔وہ سب کچھ پلان کے تحت کرتا تھا اور اس کا یہ تیر بالکل نشانے پر لگ رہا تھا ۔
وہ اس کے دماغ میں یہ بات ڈال رہا تھا کہ حویلی کے لوگ اس سے پیار نہیں کرتے اس کی کوئی خواہش پوری نہیں کر سکتے لیکن وہ شاید یہ بھول گیا تھا کہ یہ سب کچھ کر کے وہ اسے حویلی والوں سے دور کر دے گا
لیکن اس کی ناجائز خواہشات پورا کرکے وہ صرف اس کی آنے والی زندگی کو مشکل بنا رہا ہے ۔
بھری محفل میں دانی نے اس کے ہاتھ سے ہیرے کی انگوٹھی اپنے ہاتھ میں پہنی ہر طرف تالیوں کی گونج تھی
سب خوش تھے سوائے عمر کے وہ بہت کوشش کے باوجود بھی اپنے دوست کو اس دلدل میں جانے سے روک نہیں پایا تھا
°°°°
ایک ہفتہ ہو چکا تھا وہ دوپٹہ اسی کے پاس تھا نہ جانے کیوں وہ اسے ہمیشہ اپنے ساتھ لیے گھوم رہا تھا
اسے خود بھی اپنی حرکت پسند نہیں آ رہی تھی
وہ ہر روز دریا پر جاتا لیکن وہ پانی بھرنے والی اسے دوبارہ نہیں ملی تھی
ہاں مگر اس کا دوپٹہ ہر وقت اسی کے پاس ہوتا تھا
وہ اس ڈوپٹے کو ہرگز واپس نہیں کرنا چاہتا تھا اور نہ ہی اس کا ایسا کوئی ارادہ تھا وہ تو بس اسے اسے دیکھنا چاہتا تھا نہ جانے کیوں اس کے دیدار کے لیے اس کی آنکھیں ترس رہی تھی
پہلی نظر کی محبت پر وہ یقین نہیں رکھتا تھا اس کے لیے یہ سب فضول باتیں تھیں ۔بلا ایک انسان کو ایک نظر دیکھتے ہی محبت کیسے ہو سکتی ہے ۔۔۔؟
محبت تو اس سے ہوتی ہے جسے وہ جانتا ہوجس کی رگ رگ سے واقف ہو۔جس کے ہر انداز کو محسوس کر سکتا ہو
بلا یہ کیسے ممکن تھا کہ کسی کو ایک نظر دیکھ کر محبت ہوگئی لیکن زایارشاہ کے دل کی دنیا ہی بدل چکی تھی ۔
اس کے دوپٹے کو ہر وقت اپنے ہاتھ پر باندھے وہ بے مقصد اسے دیکھتا رہتا ۔وہ بھول چکا تھا کہ وہ ایک شادی شدہ انسان ایک بچے کا باپ ہے لیکن یہ بات اس کے لیے اہمیت نہیں رکھتی تھی
وہ ایک بہت مضبوط اعصاب کا مالک انسان تھا ۔وہ کیوں چھا گئی تھی کہ احساسات پر وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا
آپنے اس جذبے کو محبت کا نام دینا اس کے لیے بے وقوفی تھی لیکن اب وہ اس بے وقوفی کے سامنے ہار ماننے لگا تھا ایک ہفتے کی بے چینی کے بعد وہ قبول کر چکا تھا کہ وہ لڑکی کہیں تو بس چکی ہے
اس کی زندگی میں کہیں نہ کہیں وہ حصہ ڈال چکی ہے
اب یہ محبت تھی یا کچھ اور وہ نہیں جانتا تھا لیکن اس کے دل نے اس کے نام پر دھڑکنا شروع کر دیا تھا ۔
اپنی بے قراریوں سے پریشان ہوتے اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اگر آج بھی وہ اسے دریا پر نظر نہ آئی تو وہ اسے گاؤں میں ڈھونڈنے پہنچ جائے گا آخر اسے اپنے سوال کا جواب تو چاہے تھا
تھی تو وہ اسی گاؤں کی
سیاست میں یہ اس کا پہلا سال تھا
بس وہ اپنے گاؤں والوں کے لیے کچھ کرنا چاہتا تھا
وہ ہمیشہ سے گاؤں میں بہت کم وقت گزارتا تھا اس کا ذیادہ وقت شہر میں اپنے بزنس میں گزر جاتا ۔وہ روز گاوں نہیں آ سکتا تھا
زیادہ وقت باہر گزارنے کی بڑی وجہ بریرہ تھی ۔بریرہ کی وجہ سے وہ حویلی میں کم ہی آتا تھا ۔بس جب جب وہ اسے دیکھتا اس کے اندر نفرت کی ایک نئی لہر اٹھتی ۔
اور پھر اس لہر میں بریرہ کے ساتھ ساتھ اسے بھی تکلیف سے گزرنا پڑتا
اس نے بریرہ پر کبھی ترس نہیں کھایا تھا جب اس کی نفرت نے انگڑائی لی وہ پوری طرح اس پر قہر بن کر اترا تھا ۔
اس نے شادی کی رات ہی کہہ دیا تھا ۔کہ وہ ساری زندگی صرف اس کی نفرت برداشت کرے گی
اور سات سال سے وہ یہی تو کر رہی تھی
اس نے یہ سوچ کر پتھر سے دل لگایا تھا کہ آج نہیں تو کل وہ بھی نکل جائے گااپنے خول سے لیکن وہ اس کے دل میں جگہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی
ہاں لیکن اس دل میں کسی اور نے جگہ بنا لی اپنے تمام تر جذبات سے لڑ کر اس نے ایک فیصلہ کر لیا تھا اب مزید یہ سب کچھ برداشت کرنا اس سے بس سے باہر تھا ۔
وہ اسے اپنی زندگی میں شامل کر لینا چاہتا تھا
اب وقت آ گیا تھا کہ وہ اپنے دل میں کسی کو بسا لیا ۔وہ آگے برے اپنی زندگی جئے ۔ہاں اس لڑکی کے ساتھ جس نے ایک ہی نظر میں اسے بری طرح سے اپنا اسیر کر لیا تھا
°°°°°
بیگم صاحبہ مجھے سارے کام آتے ہیں کپڑے دھونا برتن دھونا گھر کی صفائی کرنا آپ نہ آرام سے بے فکر ہو کر مجھے اس نوکری پر رکھ لیں
ورنہ میری تائی امی میرے سر پر ایک بار نہیں چھوڑے گی اور قسم سے جی اتنی مشکل سے بال لمبے کیے ہیں میں نے ۔تائی امی نے تل لگا لگا کے
وہ سامنے بیٹھی معصوم سی لڑکی کی باتیں سن کر ہنسنے لگی
مجھے ان سب کاموں کے لیے ملازم نہیں چاہیے پازیب مجھے بس میرے بیٹے کے لئے ایک اچھی سی دوست چاہیے وہ کسی کے ساتھ گلتا ملتا نہیں ہےاور آج کل اس کی دونوں پھوپھیاں اپنے آنے والے پیپروں کی تیاریوں میں مصروف ہو چکی ہیں
جس کی وجہ سے وہ تنہائی محسوس کرتا ہے
گھر میں اور کوئی بچہ ہے ہی نہیں جس کے ساتھ میں ہادی کو کھیل کود میں لگا دوں
اور مجھ پر گھر کی اتنی ذمہ داریاں ہیں کہ مجھے سمجھ ہی نہیں آتا کہ میں کس کس چیز پر دھیان دوں
میں نہیں چاہتی کہ میں ہادی سے غافل ہو جاؤں اسی لیے عذرا خالہ کو ملازمہ کا انتظام کرنے کے لئے کہا
تم بہت پیاری ہو میں تمہیں یہ نوکری دینے کے لئے تیار ہوں لیکن تمہیں میرے بیٹے کا بہت خیال رکھنا ہوگا
بیگم صاحبہ آپ بالکل پریشان نہ ہوں ہادی بابا کا خیال میں بہت اچھے سے رکھوں گی مجھے خود بھی چھوٹے بچے بہت پسند ہیں
بس آپ مجھے اس نوکری پر رکھ لیں کیونکہ اگر آج مجھے یہ نوکری نہیں ملی تو تائم مجھے جان سے مار ڈالیں گی
بریرہ سامنے بیٹھی اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھ رہی تھی جو اپنے دکھ سناتے ہوئے کافی پریشان لگ رہی تھی وہ دیکھنے میں جتنی خوبصورت تھی اس کی آواز اتنی ہی مدہم اور سریلی تھی
بریرا تو اس سے زیادہ اس کی آواز کی دیوانی ہو چکی تھی ۔اور دیکھنے میں اتنی معصوم تھی یقینا ہادی کو اپنی یہ دوست بہت پسند آئیں گی
تمہاری عمر کیا ہے دکھنے میں تو تم بہت چھوٹی سی لگتی ہو اپنی پڑھائی مکمل کی ہے کہ نہیں وہ تھوڑی دیر مزید بیٹھ کر اس سے باتیں کرنے لگی
کیونکہ اسے باتیں کرنا بڑا اچھا لگ رہا تھا اور سچ میں اس کی آواز اتنی خوبصورت تھی کہ جو بھی اس سے باتیں کرتا اسی کا ہو کر رہ جاتا
کیا بتاؤں بی بی جی ساتویں مہینے میں پورے 19 سال کی ہو جاؤں گی 3 سال پہلے میٹرک کا رزلٹ آیا تو تایا ابو سے خوب لڑ جھگڑ کر کالج بھی جانا شروع کر دیا
لیکن تایا ابو کی زندگی زیادہ لمبی نہیں تھی ایک رات اچانک ہی ان کے سینے میں درد اٹھا ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے اور اسی دن کالج بھی چھوٹ گیا اور تایا ابا کی محبتیں بھی یہ نہیں کہتی کہ تائی امی مجھ سے محبت نہیں کرتی کرتی ہیں وہ بہت اچھی ہیں
بس ڈرتی ہیں کہ میرے ساتھ کچھ الٹا سیدھا نہ ہو جائے اب بھی اگر بیمار نہ ہوتیں تو مجھے گھر سے بھی نہ نکلنے دیتیں۔
تین سال سے لوگوں کے برتن مانجھ کر جتنا تھوڑا بہت کماتی ہے مجھے پر لگاتیں ہیں۔ یہ تو میں عذرہ خالہ کے پیچھے پڑھ گئی کہ مجھے کوئی نوکری دلواؤ
پہلے تو وہ مان ہی نہیں رہیں تھیں پھر میں نے مناکر دم لیا اور انھیں نوکری چھڑوا کر بٹھا دیا اب پریشان ہیں بچاری کہ اگر مجھے بھی نوکری نہ ملی تو ہم کھائیں گے کہاں سے ۔اسی لئے تھوڑا غصہ ہو جاتیں ہیں ۔پچھلے گیارہ دن سے گاؤں کا کوئی گھر نہیں چھوڑا جہاں جا کر کام کا نہ پوچھا ہو
لیکن گاؤں کے لوگ تو اپنے کام خود اپنے ہاتھ سے کرتے ہیں بس آج عذرا حالہ مجھے آپ کے پاس لے آئیں کہتی ہیں کہ بی بی کا دل بہت بڑا ہے اور آپ نے یہ بات سچ ثابت کر دی
وہ بے حد خوش لگ رہی تھی
بریرہ اس کے انداز پر مسکراتی ہوئی اس کا گال تھپتھپا کر ہادی کو بلانے لگی تاکہ وہ اس سے مل سکے
جب کہ اپنی نوکری پکی ہو جانے پر بے حد خوش تھی
°°°°
پازیب نام کی لڑکی ہمارے گاؤں میں ہوسکتی ہے ۔لیکن مجھے کوئی خاص انفارمیشن نہیں اب میں کیا گاؤں والوں کی لڑکیوں کے نام یاد کرتا رہتا ہوں
شیر ہنستے ہوئے بولا
شیر میں مذاق نہیں کر رہا بالکل سیریز ہوں مجھے اس لڑکی کے بارے میں سب کچھ جاننا ہے ۔اس کے ہسنے پر وہ آنکھیں دکھاتے ہوئے بولا
اوکے ٹھیک ہے کوئی نہ کوئی حل نکال لیں گے تمہارے مسئلے کا لیکن پہلے تو مجھے اپنا مسئلہ تو بتاؤ ۔
میرا مطلب ہے کیا کام پڑ گیا ہےپازیب نام کی لڑکی سے جو تم اسے ڈھونڈنے نکل پڑے ہو ۔۔۔۔؟شیر اب سیریس ہو کر پوچھنے لگا ۔اور ساتھ ہی اس کی سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا
میں شادی کرنا چاہتا ہوں ۔شیر۔ ۔۔۔اس نے سامنے بیٹھے وجود کو جھٹکا دیا تھا
تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا پاگل ہو گئے ہو کیا تم تمہارا چھ سال کا بچہ ہے تم ایسا سوچ کیسے سکتے ہو بریرا بھابھی تم سے کتنی محبت کرتی ہیں
خبردار جو تم نے دماغ میں ایسی بات دوبارہ لائی کیا کمی ہے بریرہ بھابھی میں جو تم انہیں چھوڑ کر دوسری شادی کے بارے میں سوچ رہے ہو ۔وہ غصے سے برک اٹھا
میں نے کب کہا کہ اس میں کوئی کمی ہے یا میں اسے چھوڑ رہا ہوں ۔۔۔۔۔؟وہ میری بیوی ہے میرے ساتھ رہے گی میں اسے چھوڑنے کا خیال کبھی اپنے دماغ میں نہیں لایا شیر۔
کونسی کتاب میں لکھا ہے کہ دوسری شادی کرنے کے لیے پہلی بیوی کو چھوڑ دو وہ بہت پرسکون انداز میں بولا
کیا مطلب ہے تمہارا ۔۔۔۔؟تم بریرہ بھابھی پر سوتن لانے کا سوچ رہے ہو ۔
کیسے زایار کیسے تمہارے دماغ میں یہ بات آئی کیسےکون ہے یہ پازیب بتاؤ مجھے اسے تمہیں ٹھیک کرتا ہوں ۔
اس کو شرم نہیں ایک شادی شدہ آدمی پر ۔۔۔۔۔۔
بس بہت ہوگیا شیر میں نے بتایا نا میں نے اسے بس ایک بار دیکھا ہے صرف ایک بار اس کی آواز سنی ہے اس نے پلٹ کر مجھے دیکھا تھا اور میرا دل دھڑکنا بھول گیا
مجھے وہ چاہیے شیر میں اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں ۔میں اسے اپنی بیوی بنا کر حویلی میں لانا چاہتا ہوں ۔
تنگ آ چکا ہوں میں اس زندگی سے میں آگے بڑھنا چاہتا ہوں وہ بہت پرسکون لہجے میں بول رہا تھا جبکہ شیر کو حیرت کے ساتھ ساتھ افسوس بھی ہو رہا تھا
تم سات سال پہلے کی بات کو اب تک دل پر لگائے بیٹھے ہو بریرہ سے غلطی ہوئی تھی اب بس کر دو معاف کر دو اسے ۔
اس کی مرتے باپ نے تمہارے سامنے ہاتھ جوڑ کر اس کے لیے معافی مانگی تھی بس یار بریرہ کے لیے نہ سہی لیکن اس کے باپ کے لیے ہی اب اس کی سزا ختم کر دو
اور کتنی سزا دو گے اسے تم سے محبت کرنے کی ہی غلطی کی ہے نہ اس نے
تمہارا ایک بچہ بھی ہے ۔۔
جو تم سے اور بریرہ سے بے حد محبت کرتا ہے ذرا سوچو اس معصوم پر کیا گزرے گی کیا اثر ہوگا اس کی ذہانت پر وہ معصوم ہے چھوٹا بچہ ہے
نہیں سمجھ پائے گا یہ مقدر کا کھیل
وہ اپنی ماں کی جگہ کسی اور کو قبول نہیں کر پائے گا بریرہ کے لیے نہ سہی اپنی معصوم اولاد کے لیے ہی اب بس کر دو معاف کر دو بریرہ کو پلیز وہ اس کے سامنے بیٹھا جتنا ہوسکے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا ۔
جب کہ زایار خاموشی سے سن رہا تھا جیسے کہنے کے لیے الفاظ ہی نہ ہوں۔
بریرا میری محبت نہیں ہے ۔۔۔اور نہ ہی یہ دل نے کبھی اسے قبول کیا ہے ۔میں کبھی اسے معاف نہیں کر سکتا ۔اس کا گناہ معافی کے لائق نہیں ہے ۔
اور جہاں تک بات ہادی کی ہے تو معصوم بچہ ہے رشتوں کو سمجھنا اس کے بس سے باہر ہے ۔
اور پازیب بھی اس کی ماں ہوگی ۔وہ بھی اس کا اتنا ہی خیال رکھے گی جتنا بریرہ رکھتی ہے ۔وہ بے حد نارمل انداز میں بولا
واہ تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ ایک پرائی عورت ایک سوتیلی ماں حویلی میں ا کر ھادی کا خیال رکھے گی
ایسا کبھی نہیں ہوگا سوتیلی سوتیلی ہوتی ہے ۔۔۔۔
سگی اور سوتیلی کے رشتے ہم نے بنائے ہیں شیر ۔حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں ہے اور جو لڑکی مجھ سے جوڑے گی اسے میری اولاد کا خیال رکھنا ہوگا
۔وہ دونوں جس تیسرے وجود کی بات کر رہے تھے شاید بھول چکے تھی کہ وہ بھی عقل و شعور رکھتی ہو گی وہ بس اپنی زندگی کے فیصلے کر رہے تھے کسی کی مرضی شاید ان کے لیے اہم نہیں تھی
مطلب کے تم نے فیصلہ کرلیا ہے ۔۔۔شیر اس کی بات کاٹ کر گھورتے ہوئے بولا
حیرت ہے تم اب بھی پوچھ رہے ہو ۔۔۔۔۔وہ اسے دیکھتے ہوئے پرسکون انداز میں بولا
وہ اس کا بھائی اس کا دوست اس کا سب کچھ تھا وہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اس کے پاس آتا تھا لیکن اس کی زندگی کے بہت سارے تلخ حصوں سے وہ آج بھی بے خبر تھا
زایار کا یہ پہلا فیصلہ تھا جو شیر کو بالکل پسند نہیں آیا تھا ۔
وہ بناجواب دیے کمرے سے نکل گیا تو زایار مسکر ا کر اپنے ہاتھ میں بندھے دوپٹے کی جانب دیکھنے لگا
تو پازیب بی بی بہت جلدی مجبور کر دیا تم نے کوئی فیصلہ لینے پر تم تو واقعی ہی بہت تیز نکلی اتنی تیزی سے دماغ کے ساتھ ساتھ دل پر بھی قبضہ کر لیا ہے
۔ایک ہی بار میں تم نے پورے زایار سکندر شاہ کو گھائل کر دیا یہ سودا بہت مہنگا پڑے گا تمہیں وہ اس کے دوپٹے پر لب رکھتے ہوئے بے حد مسرور سے انداز میں بولا
اس کی آواز میں ایک خمار سے اتر آیا تھا ۔
تمہارا انتظار کرنا مشکل ہو گیا ہے ۔۔پازیب بی بی ۔
°°°°°°
صبح کی اذانوں کے ساتھ ساتھ ہی اس کے کاموں کا طویل سلسلہ شروع ہو چکا تھا
سات سال میں وہ اس حویلی کی جان بن چکی تھی اس کے بنا تو اس حویلی کا کوئی کام ہو ہی نہیں سکتا تھا
اس نے دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے سکندر شاہ (تایا ابو )کو نماز کے لیے جگایا ۔ساتھ ہی خدیجہ بیگم (تائی امی ) نے دروازہ کھولتے ہوئے سامنے آ کر ہاں میں سر ہلایا مطلب کے وہ جاگ چکے ہیں
زایار کے بعد اس گھر میں یہ دوسرا فرد تھیں جو اسے پسند نہیں کرتیں تھیں
آپ لوگ نماز ادا کریں تب تک میں آپ کے لئے چائے بناتی ہوں وہ مسکرا کر نیچے کی جانب چلی گئی ۔
صفدر شاہ اور پاکیزہ بیگم ( چاچا چاچی) کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے انھیں جگایا ۔پاکیزہ بیگم اسے بہت ساری دعائیں دیتے ہوئے نماز ادا کرنے لگیں
جب کے صفدر چاچو کو اپنے انداز میں جگایا کرتی تھی روم فریز سے ٹھنڈے پانی کا گلاس بھر کے وہ ان کا ہاتھ اس گلاس میں ڈبو دیا کرتی تھی جیسے اس نے ابھی کیا
صفدر چاچو نے اس سے مصنوعی غصے سے گھورا تو وہ کان پکڑ کر سوری سوری کرتی کمرے سے باہر بھاگ گئی ۔جبکہ اس کی اسپیڈ دیکھ کر چاچو مسکراتے ہوئے خود بھی وضو کی نیت سے نیند کو خداحافظ کہہ چکے تھے
سنیہا کو جگانا دنیا کا سب سے آسان کام تھا اس کے قریب اسی کی کسی کتاب کو اٹھا کر زمین پر پھینک دیں تو اس کی آنکھوں کپ کھل جاتی تھی وہ ڈرپوک سی لڑکی اکثر ہوا کی آواز سے بھی اٹھ کر بیٹھ جایا کرتی تھی
مشکل تو تھا صرف لالی کو جگانا جس کی نیند ہادی سے بھی زیادہ پکی تھی
لیکن اس کو جگانے کا بھی اس کے پاس بہت آسان طریقہ تھا ۔ایک ہی لمحے میں اس کے گرد باہوں کا حصار کھینچتے ہوئے اس کے اوپر لیٹ چکی تھی
وہ نازک کمزور سی لڑکی اس کا وزن نہ برداشت کرتے ہوئے اپنی سانسوں کے لئے تڑپنے لگتی نیند کیا بلا ہے اس کو یاد بھی نہیں رہتا تھا
اور ان دونوں کو جگانے کے بعد اس کا اگلا شکار تھے شیر ادا جن کو جگانا ہرگز مشکل نہیں تھا
وہ جب بھی صبح ان کے کمرے میں ان کو جگانے کے لیے جاتی ہے وہ اکثر اپنی جم ٹریننگ کرنے میں مصروف ہوتے
ان کو جوس کا گلاس دیتے ہوئے گڈ مارننگ وش کر کے ہادی کی باری آتی تھی
جس کو ابھی اس کی دادی کی فرمائش پر صبح نماز کی عادت ڈالنے کے لیے جگایا جاتا تھا
زایار نے تو بہت کہا کہ وقت ہے سیکھ جائے گا فی الحال رہنے دیں اس کی نیند نہ خراب کیا کریں لیکن اس معاملے میں حدیجہ بیگم زیادہ سختی سے کام لیتی تھیں
اور ان کا حکم مانتے ہوئے ان کی بہو ہادی کو جگانا بھی اپنی ذمہ داریوں میں شامل کر چکی تھی
اس نے اپنے کمرے میں قدم رکھا تو ہادی زایار کے سینے پر سر رکھے گہری نیند میں تھا
اس نے بے حد محبت سے اسے جگا نہ شروع کیا پہلے تو وہ خوب کسمکسایا لیکن بریرہ نے بھی ٹھان رکھی تھی کہ وہ اپنے شہزادے کو نیند کی وادیوں سے نکال کر ہی دم لے گی اور پھر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو ہی گئی
ہادی کو دادی کے روم میں بیھج کر اس نے ایک نظر کمرے کو دیکھا جو ہادی کی شرارتوں اور کھیلوں کی وجہ سے کچھ حد تک بکھرا ہوا تھا
وہ ہادی کی چیزوں کو سنبھالتی ساتھ ساتھ اپنے روز مرہ کے کام میں مصروف تھی بار بار نظر شایار کے چہرے پر اٹھتی تو اپنے آپ پر رشک آتا
وہ اتنے بھرپور مرد کی ادھوری سی بیوی تھی جسے کچھ بھی حاصل نہ تھا نہ شوہر کی محبت نا اس کی توجہ
اس کی خوبصورتی اس کا حسن اس کے کسی کام نہ آیا
پچھلے سات سالوں میں اس کے شوہر نے ایک نظر بھی محبت سے اس کی جانب نہ اٹھائی تھی ۔سب نے کہا تھا مرد ہے ایک نا ایک دن اس کی خطاؤں کو بھول کر آگے بھر جائے گا
لیکن وہ کوئی عام مرد نہ تھا
وہ زایارسکندر شاہ تھا جو نہ اپنی غلطیاں بھولتا ہے نہ دوسروں کی غلطیاں بھلانے دیتا ہے ۔کتنے ہی مرد تھے جو کسی کمزور لمحے کی گرفت میں بہک کر آگے بڑھ جاتے ہیں لیکن وہ لمحہ ان سات سالوں میں بریرہ کی زندگی میں نہ آیا
وہ کبھی اس کی توجہ کا مرکز نہ بن سکی
وہ آہستہ آہستہ چلتی بالکل اس کے پاس آ بیٹھی۔اسے اپنی نظروں کے حصار میں لیے اس نے بے حد نرمی سے اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے
اس کی آنکھوں میں لرزش سی پیدا ہوئے
بریرہ نے پچھے ہٹنے کی بجائے نرمی سے اس کے ہوہٹوں پر اپنے لب رکھیں
لیکن اگلے ہی لمحے وہ نفرت سے اسے خود سے دور کرتے ہوئے اٹھا تھا
احساس توہین سے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے
لیکن اسے کہاں پروا تھی وہ ایک نظر غلط اس پر ڈالے بغیر کمرے سے ہی نکل گیا

ادا مجھے نہیں پتا وہ اچانک کیسے آگئے میں نے ان کو نہیں بلایا تھا نہ جانے وہ کیسے وہاں آگئے اور اس آدمی کو دس لاکھ کا چیک دے ڈالا
میں تو خود پریشان ہو گیا تھا اس سچویشن سے بات اتنی بڑی تھی ہی نہیں کہ آپ کو بلانے کی نوعبت آتی لیکن وہ لڑکااور اس فادر شکایت پرنسپل تک لے گئے
اور پھر وہاں اچانک عالم ادا آ گئے اور اس آدمی کو دس لاکھ کا چیک دے ڈال
تم یہ کہنا چاہتے ہو نہ کہ تم نہیں جانتے عالم وہاں کیسے آیا زایار انتہائی غصے سے اس کی بات کاٹ گیا
میں نہیں جانتا وہ اچانک کہاں سے آگئے اور انہوں نے پیسے کیوں دیئے میرا اس سارے معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے
آپ کو تو پتہ ہی ہے نا عالم ادا خود بھی مجھ سے ملنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں میں تو اس سارے قصے سے بالکل انجان ہوں وہ معصوم بنتے ہوئے بولا جیسے سب چیزوں سے اس کا کوئی لینا دینا ہی نہ ہو
چلو ٹھیک ہے میں تمہاری بات مان لیتا ہوں کہ تمھیں نہیں پتہ کہ عالم وہاں کیسے آیا لیکن اس بائیک کا کیا کہو گے تم جو عالم نے تمہیں خرید کر دیا ہے زایار کا غصہ اب بھی کم نہیں ہوا تھا
اس کے بارے میں کچھ نہیں کہوں گا وہ برتھ ڈے گفٹ تھا جو عالم ادا نے زبردستی مجھے دیامیں نے تو لینے سے صاف انکار کر دیا تھا
وہ اپنی سائیڈ کلیر کرتے ہوئے بولا جب کہ اس جھوٹ نے زایار کا غصہ مزید بڑھا دیا تھا
بس بہت ہو چکا ہے روحان آپنے فائنلز کلیئر کرو اور گاوں واپس آ جاؤ اسی وجہ سے میں نہیں چاہتا تھا کہ تم پاکستان کی کسی یونیورسٹی میں پڑھو
اب یہی کوشش کرنا کے عالم سے تمہاری بالکل کوئی ملاقات نہ ہو اور نہ ہی وہ تم سے مل پائے یاد رکھنا
وہ غصے سے کہہ رہا تھا جبکہ روحان سارا الزام عالم کے سر لگا کے خود ریلیکس ہو چکا تھا
لیکن اس کے دماغ میں یہ بات کہی نہہیں آئی تھی کہ زایار کو یہ ساری باتیں کہاں سے پتہ چلی وہ اس بات سے بالکل انجان تھا کہ زایار جانتا ہے کہ عالم سے ملاقاتوں پر اس کی کتنی انولئومنٹ ہے۔
وہ اس پر بالکل غصہ نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ جانتا تھا وہ ایسا کرنے سے اس کا ہی کام بگڑےگا
عالم اسے ان سب سے بدزن کرنا چاہتا تھا کہ بڑی حویلی کے لوگ اس سے محبت نہیں کرتے بلکہ صرف اور صرف اسے شاہ حویلی والی سے دور کرنا چاہتے ہیں
اور کہیں نہ کہیں اس کے دماغ میں یہ بات بیٹھنے گئی تھی تبھی تو وہ صفدر شاہ سے بات کرنا چھوڑ چکا تھا ۔ لیکن اب زایار اسے خود سے دور ہرگز نہیں کرنا چاہتا تھا
وہ اسے بہت محبت سے ہینڈل کرنا چاہتا تھا جو کہ عالم کی چالوں کے بیچ ایک بہت مشکل کام تھا
اس نے سوچا تھا کہ اس کی تعلیم مکمل ہوتے ہی یا تو وہ اسے واپس حویلی بلا لے کا یا پاکستان سے ہی کہیں دور بھیج دے گا کیونکہ وہ سنیہا اور روحان پر عالم اور اس کے خاندان کا سایہ بھی نہیں پڑنے دینا چاہتا تھا
کچھ دیر مزید اسے باتیں اور نصیحتیں کرنے کے بعد زایار نے فون رکھ دیا
اور ملازمہ کو بریرہ کو کمرے میں بیچنے کا حکم دیا
وہ اس سے کھل کر بات کرنا چاہتا تھا تاکہ بعد میں وہ گھر والوں کے سامنے کسی قسم کی کیا کوئی ولولہ نہیں مچائے
۔
سات سال بہت ہوتے ہیں زندگی کا فیصلہ کرنے کے لئے جس دن اس کی شادی ہوئی تھی اس نے سب حویلی والوں کے سامنے اعلان کیا تھا جس دن اسے کوئی لڑکی پسند آئے گی تو اسے اپنی زندگی میں شامل کرنے کے لئے کسی کی اجازت کا محتاج نہیں ہوگا
اور سکندر شاہ نے خود کہا تھا کہ وہ دوسری شادی کر سکتا ہے یہاں تک کہ نکاح نامہ کی شرائط پر بھی یہ شرط عائد کی گئی تھی زایار جب چاہے جسے چاہے سے اپنی زندگی میں شامل کر سکتا ہے
اور بریرہ کو اپنی مرضی سے طلاق لینے کا پورا حق ہے ۔۔لیکن اس کے باوجود بھی وہ جانتا تھا کہ گھر میں کافی ولولا مچے گا یہ سب اتنا آسان ہرگز نہیں تھا
اس لیے اس نے سب سے پہلے بریرہ سے بات کرنے کے بارے میں سوچا تھا جبکہ پازیب کو ڈھونڈنے کے لئے اس نے اپنے ایک آدمی کو لگا دیا تھا جو گاؤں والوں کے لئے کافی قابل احترام تھا
اپنے دل کے جذبات وہ سمجھ چکا تھا پازیب نے ایک ہی جھلک میں اس کے دل میں ایسی ہلچل مچائی تھی کہ اب اسے اپنی زندگی میں شامل کرنے کے علاوہ اس کے پاس اور کوئی راستہ نہیں بچا تھا
اس پتا تھا پازیب کی طرف سے اسے انکار نہیں ہو گا اور اگر انکار کی کوئی وجہ نکل آئی تو وہ اس وجہ کو جڑ سے ختم کر دے گا اس لیے پازیب کو اپنی زندگی میں شامل کرنے سے پہلے وہ تمام گھر والوں سے بات کر لینا چاہتا تھا
لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری تھا بریرہ سے بات کرنا گھر کے تمام افراد بریرہ کو بے حد چاہتے تھے اور یقیناً اس کی جگہ کسی اور لڑکی کو دینا ان کے لیے بہت مشکل تھا اور اس کے لئے بریرہ کو اپنی زندگی میں شامل کرنا دنیا کا سب سے مشکل ترین کام
اور اب پازیب کو دیکھنے کے بعد تو اب یہ نا ممکن ہو چکا تھا اب اس کی زندگی میں بریرہ کی کوئی جگہ نہیں تھی
وہ کوئی چھوٹا بچہ ہرگز نہ تھا جو ایک چیز کو دیکھ کر اس کی ضد کرتا ہے سات سال سے بریرہ کے ساتھ اس کا یہ رشتہ اسی لئے چل رہا تھا کہ ابھی تک زایار شاہ کے دل تک جانے والی کوئی لڑکی اس کی زندگی میں آئی ہی نہیں تھی
لیکن پازیب کو ایک نظر دیکھتے ہی اس کا دل جیسے دھڑکنا ہی بھول گیا
یہ نہیں تھا کہ اس نے کبھی کوئی خوبصورت لڑکی نہیں دیکھی تھی اس نے خوبصورت سے خوبصورت لڑکی کو نظرانداز کر دیا تھا لیکن پازیب میں کچھ تو ایسا تھا کہ اس کا دل اس سے بغاوت کرنے پر اتر آیا
اور اب اس باغی دل کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی پازیب کی محبت میں گرفتار ہو چکا تھا
°°°°°°
مما کاشف بھیا مجھے اپنی سسٹر کے ساتھ نہیں کھیلنے دے رہے ان کو بولے نہ کے تھوڑی دیر کے لئے بےبی مجھے دے میں اسے گود میں اٹھاوں گا
ہادی بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا باہر گاؤں کے کچھ لوگ اپنا کوئی مسئلہ بیان کرنے سے سکندر صاحب کے پاس آئے تھے جن کے ساتھ ان کا چھوٹا بیٹا اور بیٹی بھی تھی
ہادی کو بچی پیاری لگی کاشف کے ساتھ کھیلتے ہوئے اس نے اس سے بےبی لینی چائی تو اس نے دینے سے صاف انکار کردیا جس پر ہادی کا موڈ خراب ہوگیا
تو تم کیوں ضد کر رہے ہو اگر وہ نہیں دے رہے تو تم بھی مت لو تم یہاں بیٹھ جاؤ میرے پاس اور ٹی وی پر کارٹون دیکھو بریرہ اسے پاس بھی بٹھاتے کر پیار کرتے ہوئے بولی
نہیں مجھے اس بےبی کے ساتھ کھیلنا ہے وہ ضدی ہو رہا تھا
لیکن ملازمہ نے آ کر بتایا کہ وہ لوگ جا چکے ہیں ہادی آف موڈ کے ساتھ روم میں چلا گیا
اسی لیے میں تمہیں کہتی ہوں کہ دوسرے بچے کی پلاننگ کرو لیکن میری بات تو تمہارے دماغ کے اوپر سے گزر جاتی ہے نہ پاکیزہ بیگم وہی بیٹھیں ان دونوں کو سنتے اور ہادی کو اداسی سے جاتے دیکھ کر بولیں توبریرہ بے اختیار ہی نظریں جھکا گئی
آپ بیٹھے میں آپ کے لئے چائے بنا کر لاتی ہوں وہ کسی بہانے سے اٹھنے ہی والی تھی جب پاکیزہ بیگم نے اس کا بازو تھام لیا
بیٹھو بریرہ مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے
جی جی باتیں کریں گے نہ میں ذرا چائے بنا کر لاتی ہوں چائے کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے اور مزہ آئے گا اور ویسے بھی ابھی سیہنا بھی کہہ کر گئی ہے چائے کے لیے
کوئی ضرورت نہیں ہے اسے اتنی چائے دینے کی پہلے ہی بہت پیتی ہے اور تم اس کی ہر فرمائش پر لبیک کہہ کر کچن میں نہ گھس جایا کرو یہاں بیٹھو مجھے تم سے کوئی ضروری بات کرنی ہے
ان کی بات پر مجبورااسے بیٹھنا ہی پڑا
دیکھو بیٹا میں صرف تمہاری چاچی ساس ہی نہیں بلکہ ماں جیسی ہوں تم اپنا ہر مسئلہ مجھ سے شیئر کر سکتی ہو تمہارے ساتھ بھی میرا وہی رشتہ ہے جوزا یار کے ساتھ ہے
چاچی مجھے بلا کیا مسئلہ ہو گا ۔۔۔؟ ان کی باتوں سے وہ پریشان ہونے لگی۔
میں تمہارے بچے کے متعلق بات کر رہی ہوں ۔اگر دوبارہ ماں نہ بننے کی وجہ سے تم پریشان ہو تو میں تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے چلتی ہوں میں بہت اچھی گائنالوجسٹ کو جانتی ہوں جو تمہارا یہ مسئلہ حل کر دے گی
اور کسی کو اس بارے میں کچھ پتہ بھی نہیں چلے گا۔چاچی نے اس انداز میں کہا بریرہ پریشانی سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی
ایسا کچھ نہیں ہے چاچی آپ غلط مطلب نکال رہی ہیں وہ نظر چڑاتے ہوئے بولی ۔
اس کا مطلب ہے کہ تم دونوں خود ہی ابھی اور کوئی بچہ نہیں چاہتے ۔لیکن یہ تو غلط بات ہے نا ہادی اب چھ سال کا ہوچکا ہے اب تمیں اس بارے میں سوچنا چاہیے
اب ہادی کی بہن کو اس دنیا میں آجانا چاہئے چاچی نے بہت محبت سے اسے دیکھتے ہوئے کہا جبکہ بریرہ صرف ہاں میں سر ہلا گئی ان کی باتوں پر وہ ٹھیک سے مسکرا بھی نہ سکتی تھی کہ ملازمہ آئی
بریرہ بی بی آپ کو شاہ جی اوپر کمرے میں بلا رہے ہیں ملازمہ نے زایار کا حکم اس تک پہنچایا
جسے سن کر اسے خوشگوار حیرت ہوئی تھی اس کا دل بے چینی سے دھڑکنے لگا ۔خواہش تو یہ تھی کہ وہ اڑکر اس کے پہلو میں جا پہنچے
لیکن وہ جانتی تھی کہ وہ اسے ضرور کسی نہ کسی اہم ترین کام کے لیے بلا رہا ہوگا وہ تو اسے منہ لگانا بھی پسند نہیں کرتا تھا کہاں وہ کسی خوش فہمی کا شکار ہو کر اس کی پکار پر بھاگی چلی جاتی
وہ ملازمہ کو بیج کر خود زایار کے بلاوے پر کمرے میں جانے لگی
کل صبح کی حرکت کے بعد ان دونوں کا آمنا سامنا نہیں ہوا تھا وہ ساری رات ڈیرے پر نا جانے کیا کیا کرتا رہا
اس سال سیاست میں قدم رکھنے کی وجہ سے اس کے کام کافی بڑھ گئے تھے اس لیے وہ زیادہ تر وقت گاؤں کے لوگوں کی مشکلات حل کرنے میں ہی گزار دیتا
ابھی وہ سیڑھیاں چڑھ رہی تھی جب پیچھے سے پازیب کی آواز آئی وہ تیز تیز باتیں کرتی ملازمہ کو نہ جانے کیا کیا کہانیاں سنا رہی تھی اس کے انداز پر بریرہ نے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا
اسے یہاں کام کرتے تقریبا چار دن ہو چکے تھے اور ہادی کے ساتھ ساتھ سنیہا اور لالی کے ساتھ بھی اسکی کافی اچھی دوستی ہو چکی تھی
لیکن اس کے ساتھ ایک مسئلہ تھا جب تک اس کی زبان نہیں چلتی تھی تب تک اس سے کوئی کام نہیں ہوتا تھا
وہ اتنی باتونی تھی کہ حد نہیں اور اس کی ساری باتیں بھی بے مقصد ہاں لیکن اس کی آواز میں یہ ساری باتیں بہت میٹھی لگتی تھی
وہ پیاری سی لڑکی بھرپور طریقے سے اپنی زندگی جیتی بریرہ کو بہت اچھی لگتی تھی
السلام علیکم بریرہ بیگم بارش تھی نہ کیچر بہت تھا اس لئے آنے میں دیر ہوگئی ۔وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی خوبصورت سے وائٹ فراک پر اس نے نیلے رنگ کا دوپٹہ لیا ہوا تھا
کوئی بات نہیں دیر سویر تو ہو جاتی ہے لیکن تم نے اس ڈریس پر یہ دوپٹہ کیوں لیا ہے سفید رکھو زیادہ پیارا لگے گا
وہ اس کا خوبصورت چہرہ دیکھتے ہوئے بولی
اس کے پیچھے بھی ایک کہانی ہے بریرہ بیگم وہ بے حد معصومیت سے بولی تو بریرہ مسکرائی جبکہ سیڑھیوں سے اترتی لالی بھی تیزی سے سیڑھیاں طے کرتی کی کہانی سننے کے لیے بے چین تھی
ایک یہ لڑکی تو اس سے اپنی ٹکر کی ملی تھی بالکل اسی کی طرح کھل کر باتیں کرتی تھی
جلدی سناؤ مجھے اپنی کہانی پائل تمہاری کہانی سن کر مجھے اپنا کام بھی کرنا ہے وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی
لالی بی بی میرا نام پازیب ہے پائل نہیں وہ منہ بنا کر بولی تو لالی کو اور بھی پیاری لگی
ٹھیک ہے پازیب بی بی آئندہ غلطی نہیں ہوگی لیکن کہانی سناو مجھے جو ابھی بھابھی کو سنانے والی تھی وہ اپنے الفاظ کی درستگی کرتے ہوئے بولی
کیا بتاؤں یہ کہانی آج سے دس دن پرانی ہے جب میں گھر کے پاس کی ندی پر پانی بھرنے گئی تھی بالٹی بہت وزنی تھی اسے نکالتے نکالتے دوپٹہ پانی میں گرکر بہہ گیا وہ منہ بناتے ہوئے اپنے دکھی داستان سنا رہی تھی ۔
اور پانی میں بہہ کر شہید ہوگیا لالی کو افسوس ہوا
ارے نہیں شہید نہیں ہوا کسی چور نے چرا لیا وہ اس کی بات پر فوراً غصہ ہوتے ہوئے بولی
کیا ہمارے گاؤں میں چور وہ بھی آدا کے ہوتے ہوئے ناممکن تمہیں اس چور کی شکل یاد ہے تو بتاؤ مجھے تمہارا دوپٹہ میں تمہیں واپس دلوا کے رہوں گی لالی نے اسے انصاف دلانے کی ٹھانی
بس لالی بس تمہارے ادا نے سیاست میں قدم ان چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے نہیں رکھا اور میرے پاس ہو گا ایسا دوپٹا تم مجھ سے لے لینا میرے پاس ہے سفید دوپٹہ تمہاری ڈریس سے میچ کرے گا
بریرہ نے بات ہی ختم کرتے ہوئے کہا
شکریہ بی بی جی میں ذرا ہادی بابا کو دیکھ کر آتی ہوں پازیب ہادی کے کمرے کی جانب چلی گئی جبکہ لالی کا موڈ آف ہو گیا تھا کیونکہ وہ پازیب کو انصاف دلانا چاہتی تھی اس کا دوپٹہ اسے واپس دلانا چاہتی تھی
لیکن بریرہ نے اس مسئلہ کو یہیں پر ختم کرتے ہوئے اس کیس کو ہائی کورٹ میں پہنچنے ہی نہیں دیا
کیا فائدہ ہے ادا کے سیاست میں جانے کا جب ہم کوئی اپنا کام ان سے کروا ہی نہیں سکتے وہ منہ بناتی اس کے ساتھ سیڑھیاں چڑھنے لگی
آپ اپنے سارے کام کروا سکتی ہیں لیکن وہ کام جو قابل غور ہوں سیاست میں بڑے بڑے کاموں پر غور کرنے پڑتی ہے دوپٹوں پر نہیں وہ ہنستے ہوئے اس کا گال کھنچتی اپنے کمرے کی جانب چلی گئی
جبکہ لالی کی نظر میں تو سب سے بڑا مسئلہ ہی دوپٹا تھا کیوں کہ اس کی ماں کہتی تھی کہ سر کی چادر سے ضروری اور کچھ بھی نہیں تو پھر بھلا اس سے بڑا اور کیا مسئلہ ہو سکتا تھا کوئی چور پازیب کی سر کی چادر اڑا کے لے گیا اور بھابھی کو یہ مسئلہ مسئلہ ہی نہیں رہا تھا ۔
°°°°°°
اس نے کمرے میں قدم رکھا تو زایار اسی کے انتظار میں تھا
آپ نے بلایا مجھے اسے اپنے انتظار میں دیکھ کر نہ جانے کیوں بریرا کو انجانی سی خوشی ہوئی تھی
ہاں بیٹھو مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے وہ اسے سامنے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولا
بریرہ نے وقت ضائع کئے بغیر وہی اپنی جگہ بنائی اور بیٹھ گئی
دیکھو جو بات میں کرنے جا رہا ہوں وہ بہت ضروری ہے غور سے سننا اور سمجھنا بھی
جی یقینا ہو گی ورنہ آپ مجھے کبھی نہیں یاد کرتے خیر چھوڑیں ان باتوں کو آپ کہیں کیا کہنا چاہتے ہیں میں سن رہی ہوں
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ اس کے الفاظ اس کے لیے ہیں وہ اس سے بات کر رہا ہے
میں دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں ۔۔اس نے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے جیسے دھماکہ کیا تھا بریرہ نے ایک نظر اسے دیکھا اندر کچھ چھن سے ٹوٹا تھا
بے شک کریں مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں وہ اسے دیکھتے ہوئے نظر جھکا گئی دل میں درد سا اٹھا تھا
میں پوچھ نہیں رہا بتا رہا ہوں ۔۔۔"
تمہیں یاد ہو تو ہمارا نکاح اسی شرط پے ہوا تھا کہ میں جب چاہوں جس سے چاہوں دوسری شادی کر سکتا ہوں اور تم مجھے روکنے کا کوئی حق نہیں رکھتی
پہلے نہیں ملی مجھے کوئی ایسی لڑکی جس سے میں شادی کر سکوں لیکن اب میں اپنی زندگی کو مزید امتحان نہیں بنانا چاہتا میں آگے بڑھنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔"
میں کیا کر سکتی ہوں ۔۔۔۔۔"وہ ہارے ہوئے لہجے میں بولی۔جیسے سامنے بیٹھا پتھردل محسوس کر کے بھی نظر انداز کر گیا
میری اس خبر سے گھر میں اچھا خاصہ ولولہ مچے گا' اسی لئے سب سے پہلے تمہیں بتا رہا ہوں اگر بات بڑھے تو کہہ دینا کہ یہ سب کچھ پہلے سے ہی تمہارے علم میں ہے
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا تو بریرہ نے ہاں میں سر ہلا دیا جیسے کہنے کے لیے الفاظ ہی نہ ہوں
ٹھیک ہے گھر میں کوئی تماشا نہیں ہونے دوں گی اس کے گلے میں آنسوؤں کا گولا پھنس گیا الفاظ ادا کرنا مشکل لگا
ٹھیک ہے اب تم جاؤ یہی بات کرنی تھی تم سے وہ بات ختم کرتے ہوئے اپنی فائل کی طرف متوجہ ہو گیا
ہاں کون سا وہ اس کے لیے اہم تھی جو وہ اسے اپنے اس فیصلے کی صفائیاں دیتا
کب تک کریں گے آپ یہ بات گھر میں وہ جاتے جاتے پلٹ کر پوچھنے لگی آنکھیں آنسوؤں سے بیھگنے لگی تھی زایار نے ایک نظر اس کا چہرہ دیکھا تو اس کی آنکھیں چھلک پڑیں
اسی ہفتے بات ہو جائے گی میں نے جو کہا ہے اس کا خیال رکھنا گھر میں کسی قسم کا کوئی ولولہ نہیں مچنا چاہیے
میں نہیں چاہتا کہ میری زندگی میں آنے والی لڑکی کے لئے کسی قسم کی کوئی بھی پرابلم ہو ۔اور یہ آنسو صاف کرو تمہارے یہ آنسو مجھے نہیں پھگلا سکتے
اور نہ ہی میری نظر میں ان کی کوئی اہمیت ہے ۔ وہ پتھرلی نگاہوں سے گھورتے ہوئے بولا تو بریرہ نے اگلے ہی لمحے اس کے حکم کی تکمیل کرتے ہوئے اپنے آنسو صاف کیے
یہ آنسو آپ کو دکھانے کے لئے نہیں ہیں شاہ جی۔۔۔۔۔" میں جانتی ہوں آپ اپنا فیصلہ کبھی نہیں بدلیں گے بس یہ سوچ رہی ہوں کہ ہادی ۔۔۔۔۔"
ہادی کے بارے میں سوچنے والی تم کون ہوتی ہو ۔۔۔؟وہ میرا بچہ ہے اس کے متعلق میں سوچوں گا یاد رکھو تم نے صرف اسے جنم دیا ہے اس سے زیادہ تمہارا اس کے ساتھ اور کوئی نہ تعلق نہیں ۔۔۔۔"
میں تمہیں اس سے بات کرنے کی اجازت صرف اور صرف اس لئے دیتا ہوں کہ میں اپنے بیٹے کی ذہانت پر کسی قسم کا کوئی برا اثر نہیں چاہتا ۔
اور ہادی کے بارے میں تم سے بہتر اور اچھا سوچ سکتا ہوں میں صاف کرو یہ آنسو اور باہر خبردار جو کسی کو یہ آنسو دکھا کر ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کی
چلو نکلو اب شکل غائب کرو یہاں سے وہ حکم دیتا ہے اسے کمرے سے باہر کا راستہ دکھا چکا تھا جبکہ بریرہ آنسو پیتی وہاں سے نکل گئی
ابھی اس نے دروازہ بند کیا ہی تھا کہ پازیب کی سیڑھیوں سے اوپر چڑھتی نظر آئی
بریرہ بیگم آپ کا بیٹا کہیں چھپ گیا ہے اور میں اسے ڈھونڈ ڈھونڈ کے تھک گئی نہیں مل رہا وہ کافی پریشان لگ رہی تھی پھر اس کی شکل دیکھ کر بریرہ مسکرا دی
لیکن اس سے پہلے کہ وہ اسے ہادی کو ڈھونڈنے کی کوئی جگہ بتاتی ہادی اسی کے پیچھے سے نکلتا چپکے سے اس کے کمرے کے اندر چلا گیا
کمرے میں گیا ہے وہ فوراً ہی اسے بتا چکی تھی
پازیب نے جانا چاہا تو بریرہ نے اسے روک دیا
نہیں کمرے میں مت جاؤ اس وقت میرے شوہر تھوڑا غصہ ہیں یہ نہ ہو کہ تم ان کے غصے کا شکار بن جاؤ تھوڑی دیر میں واپس آئے گا تو پھر اپنا کھیل یہیں سے شروع کر لینا
تم نیچے چلو میں تمہارا دوپٹہ بھی نکال لاتی ہوں اس نے پازیب کو بھیجتے ہوئے کہا تو پازیب ہاں میں سر ہلاتی نیچے کی جانب چلی گئی جہاں سنیہانے تھوڑی ہی دیر پہلے اسے پکارا تھا کیونکہ اتفاق سے وہ اس کی چائے پارٹنر بن گئی تھی
تھوڑے سے ہی دنوں میں سنیہااور لالی دونوں اسے بے حد چاہنے لگی تھی اور اس کی بہت اچھی سہیلیاں بن چکی تھی
°°°°°
وہ واپس کمرے میں آئی تو ہادی بیڈ پر لیٹا زایار کے فون پر کوئی گیم کھیل رہا تھا شاید بھول گیا تھاکہ باہر پازیب بےچاری اسے ڈھونڈ رہی ہے
جب کہ وا شروم سے پانی ٹپکنے کی آواز آ رہی تھی مطلب زایارباہر جانے والا تھا بریرہ نے فوراً زایار کے کپڑے نکال کر بیڈ پر رکھے
وہ اس کے واپس آنے سے پہلے پہلے ہی کمرے سے چلی جانا چاہتی تھی کیونکہ زایار اس سے غصہ تھا اور اس کی شکل نہیں دیکھنا چاہتا تھا
زایار کے کپڑے اور ضروری سامان بیڈ پر رکھ کر اس نے پازیب کے لیے دوپٹہ نکالنا چاہا تو صوفےپر ایک سفید دوپٹہ نظر آیا
یہ اس کاتھا یا نہیں اسے یاد نہیں تھا شاید اب وہ کافی وقت سے اس کے استعمال میں نہیں تھا اس لیے لیکن یہ صوفے پر کیا کر رہا تھا شاید ہادی نے کھیل ہی کھیل میں نکال کر باہر رکھ دیا ہوگا اور اتفاق سے یہ پازیب کی فراک سے بے حد میچ کرتا تھا
اس نے کچھ سوچتے ہوئے یہی دوپٹہ اٹھایا اور نیچے چلی گئی اسے یاد نہیں پڑتا تھا کہ اس طرح کا کوئی ڈریس اس کے پاس موجود ہے اس لیے یہ دوپٹہ وہ پازیب کو دینے لگی تھی
یہ جانے بغیر کے زایار صوفے سے اپنی اتنی اہم چیز غائب دیکھ کر اتنا قہر برپا کرے گا
بھابھی یہ پازیب کتنی پیاری ہے نہ دل کرتا ہے کہ یہ ہمارے ہی گھر میں رہ جائے
لیکن مجھے سمجھ نہیں آ رہا آپ لوگ اس مونچھڑ مطلب شیرا دا کی شادی کے بارے میں کیوں نہیں سوچ رہے
اگلے مہینے میں وہ پورے 28 سال کے ہو جائیں گے پھر تو ان کو کوئی لڑکی بھی منہ نہیں لگائے گی وہ کب سے اس کا سر کھا رہی تھی
لالی بنا سوچے سمجھے مت بولا کرو کسی کی بہن بیٹی کو کسی کے ساتھ اس طرح سے نہیں جوڑا جاتا
اور شیر ادا کے لئے سب نے بہت کچھ سوچا ہوا ہے تم پر اپنی پڑھائی پر دھیان دو ورنہ پازیب کا تو پتا نہیں لیکن تمہیں دلہن ضرور بنا دیا جائے گا وہ اسے ڈر آتے ہوئے بولی لیکن لالی کو کہاں ڈرنا آتا تھا
وہ بھی کیا دن ہوگا جب میں دلہن بنوں گی ہائے کتنی حسین لگوں گی میں سب کو پہلے ہی بتا دیجئے گا میں پنک کلر کا لہنگا پہنوں گی
اور مجھ پر دولہے کا روعب بلکل نہیں چلے گا میں سب کچھ اپنی مرضی سے کرنے والی ہوں
اپنی شادی کی باتوں پر خوش ہوتے ہوئے وہ جوش میں آئی اور پھر بولتی ہی چلی گئی بریرہ کا تو منہ کھلا کا کھلا رہ گیا
شرم سے ڈوب مرو لالی تمہیں پڑھائی کی طرف متوجہ کرنے کے لئے ڈرایا جا رہا ہے کہ تمہاری شادی کر دی جائے گی
اور تم تو یہاں شادی کے لیے مری جا رہی ہوبیوقوف لڑکی ساری آزادیاں ختم ہو جائیں گی تم شیر ادا کو نہیں جانتی وہ بہت سخت ہے
ان کے کچھ اصول ہیں جن کو سمجھنے کے لیے تمہیں بہت ساری چیزوں پر غور کرنا ہوگا وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی جب کہ اس کی ساری باتیں لالی کے سر کے اوپر سے گزر گئی تھی
آپ تو ایسے کہہ رہی ہیں جیسے شیر ادا میرا دولہا بھی اپنے جیسا کھڑوس اور مونچھڑ ڈھونڈ کے لیں گے
مجھے نہیں پتہ ایک بات کان کھول کر سن لیجئے مجھے کسی مونچھڑ سے شادی نہیں کرنی مجھے تو کلین شیو والا چاہیے زہر لگتی ہیں مجھے تھانے داروں جیسی مونچھے
وہ منہ بناتے ہوئے بولی تو بریرہ کو ہنسی آگئی
وہ بیس کے آگے بین بجانے کا کام کر رہی تھی اس کو صاف الفاظ میں بھی بتا دیا جائے تو اسے سمجھ کچھ نہیں آنا تھا یہاں تو بریرانے ذومعنی لفظوں میں اسے اس کا فیوچر دکھایا تھا
لیکن ہمیشہ کی طرح لالی تو اپنی ہی دھن میں مگن تھی
اللہ تمہیں عقل دے لالی مجھے تو شیر اداسا پر ترس آ رہا ہے وہ ہنستی ہوئی بولی جبکہ لالی کچن سے باہر نکلنے ہی لگی تھی اس کا ڈرامہ شروع ہو گیا تھا کہ شیر نے کچن کے دروازے پر قدم رکھا
بریرہ بھابھی چار کپ چائے بلکہ آپ رہنے دیجئے تم بناؤ چائے میرے کچھ دوست آئے ہیں مردان خانے میں جلدی سے چائے بنا کر ملازمہ کے ہاتھ بجاؤ وہ بریرہ کو چھوڑ اسے آرڈر دیتے ہوئے باہر جانے ہی لگا تھا
بھابھی ان لو بتا دیجیے مجھ سے دو یا تین کپ خراب ہو جاتے ہیں میں ایک کپ چائے ہی اچھی بناتی ہوں وہ جان چھراتے ہوئے بولی ۔اس کا ڈرامہ اہم تھا
وہ جو باہر جاتے ہوئے اس کی بات سن کر چکا تھا پلٹ آیا
کوئی مسئلہ نہیں ہے میرے لیے تم بناؤ باقیوں کے لیے بھابھی بنائے گی جلدی کرو وہ حکم جھاڑتا باہر نکل گیا جب کہ لالی پیرپٹخ کر رہ گئی
بریرہ اس کے انداز پر مسکراتی اسے چائے کی طرف متوجہ کرنے لگی لیکن لالی نے کام چوری سے کام لیتے ہوئے کہا کہ آپ بنا دیجئے میں بعد میں کہہ دوں گی کہ میں نے بنایا تھا
جس پر بریرہ نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمہارے ہاتھ کا سواد پہچانتے ہیں
جس کی وجہ سے نہ چاہتے ہوئے بھی لالی کو چائے بنانی پڑی
ایک دن انشاءاللہ ایسی چائے بنا کر پلاؤں گی کہ چائے پینا ہی چھوڑ دیں گے وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی ہوئی گھڑی کی جانب دیکھنے لگی
جہاں گھڑی علان کر رہی تھی کہ اس کا ڈرامہ شروع ہو چکا ہے جو اس چائے کی وجہ سے وہ نہیں دیکھ پارہی ۔
°°°°°
وہ نہا کر نکلا تو صوفے پر وہ دوپٹہ غائب تھا
ہادی یہاں بابا ایک کپڑا رکھ کے گئے تھے وہ کہاں ہے وہ ہادی سے پوچھنے لگا جو اس کے موبائل پر بہت مصروف تھا
بابا جانی وہ وائٹ کلر کا دوپٹہ تھا نہ ہادی نے کنفرم کرنا چاہا
ہاں میری جان وہی
ماما اٹھاکر باہر لے گئی ہادی بتا کر دوبارہ لیٹ گیا جب کہ اس کی بات سننے کے بعد اس کے ماتھے پر بہت ساری شکنیں آ گئی تھی
وہ غصے سے شرٹ پہنتا باہر نکل گیا ۔
وہ ملازمہ کو چائے کو کپ دے کر واپس کچن میں جا رہی تھی جب اچانک ہی زایار غصے سے اس کا بازو تھام کر اسے گھسیٹ کر کونے کی طرف لے گیا
اوپر سفید رنگ کا دوپٹہ تھا کہاں گیا اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ دھاڑتے ہوئے پوچھنے لگا
اس کی گرفت اتنی سخت تھی کہ بریرہ کی آنکھوں سے بے اختیار نمی چھلک پڑیں
زایار مجھے تکلیف ہو رہی ہے وہ اپنا ہاتھ چھڑوانے کی ناکام کوشش کرنے لگی
وہ دوپٹہ کہاں ہے بریرہ وہ اس کے ہاتھ کو جھٹکا دیتا مزید اسے اپنے قریب کھینچ کر بولا
مجھے نہیں پتا تھا کہ وہ آپ کے لئے اتنا اہم ہے مجھے لگا میرا ہے میں نے اٹھا کر ملازمہ کو دے دیا اور اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوئے بولی
تمہاری اتنی ہمت کرے تو میری چیزیں اٹھا کر کسی کو بھی دے دو وہ اس کاچہرہ ایک ہاتھ میں دبوچتا اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا
زایار آپ کیوں غصہ ہو رہے ہیں ایک دوپٹہ ہی تو تھا ۔
ملازمہ کے کپڑوں کے ساتھ میچ کر رہا تھا میں نے اٹھا کر دے دیا مجھے لگا میرا ہے وہ صفائی دیتے ہوئے بولی
دس منٹ ہے تمہارے پاس بریرہ دس منٹ کے اندر اندر مجھے وہ دوپٹہ واپس چاھیے وہ ایک جھٹکے سے اس کا منہ چھوڑتا سیرھیاں چڑھ گیا جبکہ بریرہ پریشان ہو چکی تھی اب وہ اپنی دی سے بھی چیز بلا کیسے مانگتی
لیکن زایار کا غصہ کہہ رہا تھا کہ وہ چیز اس کے لیے بہت اہم ہے
اور اسے ہر حال میں واپس چاھیے ۔کتنی خوش ہو رہی تھی کہ پازیب کہ وہ دوپٹہ اس کے کپڑوں سے اس حد تک میچ کرتا ہے بلکہ اس کا اپنا دوپٹہ اسی دوپٹے کےجیساتھا
اب وہ اس سے واپس مانگتے ہوئے کتنی شرمندگی محسوس کرے گی
°°°°°
اس کے ہاتھ پینٹنگ بورڈ پرچل رہے تھے وہ کسی بھی چیز کو ایک بار دیکھتا تو اس کی پینٹنگ بنانا اس کے لئے مشکل نہیں تھا
بس اسے کوئی چیز پسند آ جانی چاہیے
اور اس بار بھی ایسا ہی ہوا تھا وہ لڑکی اس کے دماغ اور دل پر بری طرح سے سوار ہو چکی تھی
اپنے دماغ میں آئے اس کے کہیں سارے عکس کو تصویر کی شکل دے چکا تھا وہ ہر چیز کی پینٹنگ صرف ایک بار ہی بناتا تھا لیکن نہ جانے کیا تھا اس حسین چہرے میں کہ اس کو دیکھنے کے بعد اس کے ہاتھ بھی اس کے بس میں نہیں رہے تھے
اس کا ایک اور بے حد خوبصورت شاہکار تیار تھا یہ دانی کی پانچویں تصویر تھی جسے وہ ایک الگ انداز میں ایک الگ مقام پر پینٹ کر چکا تھا
وہ ہر چیز کو دیکھ کر اس کی پینٹنگ بناتا تھا لیکن دانی کا چہرہ بنانے کے لیے اسے دانی کو بار بار دیکھنے کی ضرورت نہ تھی
پینٹنگ مکمل ہونے کے بعد نہ جانے کتنی دیر اس تصویر کو دیکھتا رہا ہے چہرے پر ایک مسکراہٹ تھی
زندگی میں دانی کے آنے کے بعد اس کے لبوں سے مسکان کم ہی غائب ہوتی
تو مس دانی مسزعالم سلطان شاہ بننے کے لئے تیار ہو جاؤ
وہ دو دن کے بعد شہر واپس جانے والا تھا اور اس بار شہر جا کر وہ اپنی اس بے چینی کو بھی راحت دینا چاہتا تھا
اس نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ دانی سے ملنے یونیورسٹی جائے گا اور صاف الفاظ میں اسے اپنے دل کا حال سنا کر اسے اپنی زندگی میں شامل کرے گا بلا عالم سلطان شاہ کو انکار کرنے کی ہمت کس میں تھی
وہ جانتا تھا اس کی دولت اس کا ربہ اس کی پرسنیلٹی سامنے والے کو اسیر کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگاتی
جی لو اپنی زندگی ہونے والی مسز کیونکہ آگے تمہاری زندگی بہت مشکل ہونے والی ہے کیونکہ اب سے تمہاری زندگی عالم شاہ کی پناہوں میں گزرے گی
وہ مسکراتا ہوا تصور میں اس سے مخاطب تھا
ابھی وہ اپنی سوچوں میں ہی مصروف تھا جب اس کا فون بجا وہ فون اٹھا کر بالکنی میں چلا گیا
واپس آیا تو اس کی چھوٹی بہن اس کی پینٹنگ کے سامنے کھڑی غور سے پینٹنگ کو دیکھ رہی تھی
عائزہ تم یہاں کیا کر رہی ہو اور بنا پرمیشن کے کمرے کے اندر کیوں آئی وہ اپنی 15 سالہ بہن کو دیکھتے ہوئے سوال کرنے لگا جو اپنی تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھے تصویر دیکھنے میں مصروف تھی
میں نے نوک کیا تھا آپ نے سنا نہیں خیر چھوڑیں یہ بتائیں کہ یہ لڑکی کون ہے اور آپ اتنے دنوں سے صرف اسی کی پینٹنگز کیوں بنا رہے ہیں۔۔۔۔
اتنی بھی کوئی خاص نہیں دکھتی میں تو اس سے بھی پیاری ہوں آپ نے کبھی میری پینٹنگ تو نہیں بنائی وہ اسے شکی نظروں سے گھورتے ہوئے بولی تو عالم مسکرایا
غور سے دیکھو کتنی پیاری ہے اور ہاں عزت سے بھابھی ہے تمہاری وہ اس کے سر پر دھماکہ کرتے ہوئے اسے تصویر کی طرف متوجہ کرنے لگا جبکہ عائزہ کا تو منہ ہی کھل چکا تھا
بھابھی میری بھابھی یہ میری بھابھی ہے اماں چاچی تائی امی وہ چلاتے باہر کی جانب جانے لگی جب عالم نے اس کے لبوں پہ ہاتھ رکھ کے اس خاموش رہنے کا اشارہ کیا
چپ کر و پاگل لڑکی یہ میرا اور تمہارا سیکرٹ ہے کمرے سے باہر نہیں جانا چاہیے وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولا تو عائزہ نے فوراً ہاں میں سر ہلایا
تو یہ سیکرٹ ہے لیکن اس سیکرٹ کو رکھنے کے لئے بھی تو کچھ کرنا پڑے گا وہ شرارتی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولی تو عالم نے اسے گھور کر دیکھا
تمہاری وہ آن لائن پرنسز ڈریس میں نے آرڈر کر دی تھی ۔اگر تم اس سیکرٹ کو سیکرٹ نہیں رکھ سکتی تو کسنل کرنے میں مجھے ایک سیکنڈ لگے گا وہ دھمکاتے ہوئے بولا تھا عائزہ کی آنکھیں روشن ہوگئی
آدا آپ کا سیکرٹ میرا سیکرٹ آپ بے فکر ہو جائیں یہ بات اسی کمرے میں رہے گی پر نیچے چلے اماں آپ کا کھانے پر ویٹ کر رہی ہیں وہ اسے ایک ماں کا پیغام دیتے ہوئے بولی تو عالم پینٹ شیٹ اپنی پینٹنگ پر ڈالتا اس کے ساتھ باہر نکل آیا
°°°°°
وہ غصے سے سیڑھیاں چڑھتا اپنے کمرے کی جانب جانے ہی والا تھا کہ اچانک سامنے سے بھاگتی ہوئی لڑکی اس سے ٹکرائی اس سے پہلے کہ وہ نیچے گرتی وہ اسے کمر سے تھام چکا تھا
بے یقینی سی بے یقینی تھی اب تو اس کا چہرہ وہ کروڑوں میں پہچان سکتا تھا
وہ ہادی کے پیچھے بھاگ رہی تھی اچانک گرتے گرتے بچی
لیکن آپنے مسیحاکو دیکھتے ہی اس کی آنکھیں پوری کھل گئیں
چو ۔۔۔۔۔۔اس نے چیخ کر ہنگامہ کرنا چاہا لیکن اس سے پہلے ہی زایار اس کے لبوں پر اپنا ہاتھ دبا چکا تھا
خاموش اتنا شور کیوں مچایا رہی ہو ۔۔۔؟اور اس طرح سے بھاگ کیوں رہی ہو پہلے اسے یقین کرنے میں کافی وقت لگ گیا یہ وہی تھی جو اس کی نیندیں چرا چکی تھی لیکن وہ یہاں کیا کر رہی تھی یہ سوچے بغیر وہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتا ہے اسے اپنے بےحد قریب کر چکا تھا
لیکن اس کے گلے میں لٹکتا دوپٹہ دیکھ اس کی مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی جبکہ ساتھ ہی اس کے ہاتھ میں نیلے رنگ کا ایک اور دوپٹہ موجود تھا جسے اس نے گولے کی شکل میں تھام رکھا تھا
اس نے ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت لگایا تھا اس سفید دوپٹے کو اس کی گردن سے نکالنے میں
یہ میرا ہے ۔۔۔اور میری چیزوں کو میری اجازت کے بنا ہاتھ لگانے والوں کومیں سخت سزا دیتا ہوں ۔
پھر بھی تمہیں معاف کر رہا ہوں لیکن آگے سے احتیاط کرنا میں ہر بار معاف نہیں کرتا وہ اس کے کان میں سرگوشی کرتا
اسے ایک ہی لمحے میں خود سے دور کر چکا تھا
اپنے قریب اس نے پہلی بار کسی مرد کو محسوس کیا تھا اس کی گرم سانسیں اس کا لمس اس کے پورے جسم میں سرد لہر دوڑا گیا تھا
دل تیزی سے دھڑک رہا تھا وہ کچھ بولنے کے قابل ہی نہ رہی تھی
زایار اس کا دوپٹہ اپنے ہاتھ میں باندھتا اس کے یہاں آنے کی وجہ پوچھنے ہی والاتھا کہ سیڑھیوں پر ہادی نے آواز دی جو ادھر ہی آ رہا تھا
جلدی آؤ پازیب نیچے میرے فرینڈ آئے ہیں میں تمہیں ملاؤں گا ان سے وہ اس کے پاس آتا اس کا ہاتھ تھامے نیچے چلنے کے لئے کہنے لگا
جبکہ ہادی کو آتا دیکھ زایار آگے بڑھ گیا تھا
کیا ہوا تمہیں اتنا پسینہ کیوں آ رہا ہے تمہیں گرمی لگ رہی ہے آؤ میں تمہیں لیمن جوس پلاتا ہوں اس سے تم بیٹر فیل کرو گی
وہ اسے اپنے ساتھ لے جاتے ہوئے کہنے لگا جب کہ پازیب اپنے دھڑکتے دل کے ساتھ آہستہ آہستہ سیڑھیاں اترنے لگی اس کی ساری شوخی ساری شرارتیں ہوا ہو چکی تھی
°°°°°°
گاؤں سے خبر آئی تھی کہ کھیت میں آگ لگ گئی ہے ۔زایار اور شیر پریشانی سے حویلی سے نکل چکے تھے
۔اس نے بات پھیلانے سے منع کیا تھا اور سکندر شاہ کو گھر میں کسی کو بھی یہ بات بتانے سے بھی منع کر دیا تھا سب پرسکون نیند سو رہے تھے وہ کسی کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتے تھے
نہ جانے کتنا نقصان ہوگا۔اور یہ خبر بھی ان کھیتوں کی جانب سے آئی تھی جس کا مال غریبوں میں تقسیم کرتے تھے
اسی لئے پریشانی بھی زیادہ تھی
°°°°
گھر میں اس وقت بہت کم لوگ تھے ملازم بھی کم تھے گارڈ بھی موجود نہیں تھے وہ دیوار سے سیڑھی لگا کر حویلی کے اندر جمپ کر گیا
اس کام کے لیے وہ ملازمہ کو پہلے ہی پیسے دے چکا تھا اس لیے وہ اندھیرا ہوتے ہی اپنا کام کر کے جا چکی تھی
وہ تیزی سے حویلی میں داخل ہوا اور سیڑھیاں چڑھتا ہوا اس کمرے کی طرف گیا جہاں جانے کے لیے وہ یہاں آیا تھا
وہ کھڑکی سے کمرے میں داخل ہوا کمرے میں اندھیرا تھا لیکن اس کے لیے یہ جگہ انجان نہیں تھی اور پھر چاند کی چاندنی اسے رستہ دکھانے میں مدد کر رہی تھی اس کی شہزادی بیڈ پر گہری نیند میں سو رہی تھی
وہ آہستہ آہستہ چلتا اس کے بے حد قریب آیا اور اس کے دونوں طرف ہاتھ رکھ سکتے ہو ئے اس کے پاس بیٹھ گیا
بہت مس کیا تمہیں شہزادی میری بے چینیاں بڑھاتی جا رہی ہو تم ۔
وہ بے حد نرمی سے اس کا ماتھا چومتا غیر محسوس انداز میں پیچھے ہٹا وہ جانتا تھا اس کی نیند بے حد کچی ہے اس کی چھوٹی سی غلطی سنیہا کی نیند توڑ سکتی تھی
وہ زیادہ دیر کے لیے یہاں آیا بھی نہیں تھا بس وہ چاند کی چاندنی میں اس کا حسین چہرہ دیکھتے ہوئے اپنے دل کی بے قراری کو مٹا رہا تھا
وہ جانتا تھا شیر اور زایار چیل کی نگاہ رکھتے ہیں وہ ان کے سامنے کسی قسم کی کوئی غلطی نہیں کر سکتا تھا
اسی لیے یہاں تک آنے تک اچھی خاصی پلیننگ کرنی پڑی یہاں تک کہ کھیت میں آگ لگنے کی جھوٹی خبر بھی اسی نے پھیلائی تھی
کیا کرتا مجبور تھا جب سے اس کے کالج میں چھپیاں شروع ہوئی تھی اسے دیکھنے کے لئے اس کی آنکھیں ترس گئی تھی
اور آج یہ اپنی تڑپ مٹانے کے لیے وہ یہاں آ گیا تھا ۔اسے دیکھ کر اسے سکون ملا تھا اس کے بے چین دل کو راحت ملی تھی اس کی آنکھوں اس کی بند پلکوں کو دیکھتے ہوئے وہ اس کے ہونٹوں پر آر کا
اس کے حسین لب جو اسے بے چین کر رہے تھے وہ ان پر جھکا اور بے حد نرمی سے ان ہونٹوں کو اپنے لبوں سے چومتا پیچھے ہٹا
یہ اس کا حق تھا ۔اور اپنا حق لینے کے لیے اسے سنیہا کی اجازت کی ضرورت نہیں تھی ۔اس کی تشنگی بھرنے لگی تھی
سنیہا کے نازک وجود پر وہ کسی قسم کا کوئی ظلم نہیں کرنا چاہتا تھا اور فی الحال تو وہ اس کی دسترس میں بھی نہیں تھی اسے ابھی انتظار کرنا تھا جو یقینا اس کے قریب رہ کر بہت مشکل ہو جاتا
اسی لئے اس کا جانا ضروری تھا اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے اس کے قریب سے اٹھنے لگا جب نظر ایک بار پھر سے اس کے لبوں پر آ رکی
وہ جانتا تھا کہ اگر اس بار جھکا تو اپنے جذبات پر لگام نہیں ڈال پائے گا لیکن یہاں آ کر وہ ہمیشہ بے بس ہو جاتا تھا
اس کے نازک پنکھڑیوں جیسے لبوں کو اپنے لبوں سے چھوتے ہوئے نہ جانے کب اس کی شدت میں اضافہ ہوا
وہ ایک جھکے سے اٹھ بیٹھی تھی ۔
کچھ تو تھا اس کمرے میں اس بے چینی کی کوئی نہ کوئی وجہ تو ضرور تھی
وہ پورے کمرے میں نظر دوڑنے لگی لیکن اس کمرے میں سوائے اس کی بے چین سانسوں کی آواز کے علاوہ کچھ نہ تھا
خوف سے کا چہرہ سرد پڑنے لگا وہ فورا سے اپنا تکیہ اٹھاتی لالی کے کمرے میں بھاگ گئی تھی
پردے کے پیچھے وہ اس کی ساری حرکتیں دیکھ کر دلکشی سے مسکرایا
شکر ہے وقت رہتے اس نے اپنے جذبات پر لگام ڈالی تھی
اب اس کمرے میں رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا ۔وہ جس راستے آیا اسی راستے واپس جانے لگا
تھوڑی دیر میں زایار اور شیر واپس آ چکے تھے کھیت میں آگ لگنے کی خبر جھوٹی نکلی ۔یہ ان کے لیے بہت اچھی خبر تھی لیکن انہیں جھوٹی خبر بھلا کوئی کیوں دے گا یہ دونوں ہی سوچ کر پریشان تھے
اس نے کمرے میں قدم رکھا تو بریرہ جاگ رہی تھی
آگئے آپ زیادہ نقصان تو نہیں ہوا ۔۔۔۔۔۔! اس کے آتے ہی وہ پوچھنے لگی
جب کہ وہ اس کے سوال کو سرے سے نظر انداز کرتا واش روم میں بند ہو گیا
تھوڑی ہی دیر میں ٹاول کے ساتھ اپنے بال سکھاتا باہر نکلا اور بنا اس کی طرف دیکھیں اپنی سائیڈ پر آ کر لیٹ گیا جیسے اس کے علاوہ کمرے میں اور کوئی موجود ہی نہ ہو
اس حد تک نظرانداز ہو جانے کے باوجود بی بریرہ پیچھے نہ ہٹی تھی
آپ کھانا نہیں کھائے گے میں کب سے انتظار کر رہی تھی کہ آپ آئیں گے اور ۔۔۔۔۔
بھوک نہیں ہے مجھے دماغ مت خراب کرو سو جاؤ وہ سرد لہجے میں بولا
جب کہ ہاتھوں کی پوروں سےاپنے سر کی کنپٹیاں دبا رہا تھا آنکھیں بند تھیں
بریرہ نے آہستہ سے اپنا ہاتھ اس کے ماتھے پر رکھ کر اس کا سر دبانا چاہا
اگلے ہی لمحے زایار نے دونوں آنکھیں کھول کرسرخ نگاہوں سے اسے دیکھا اس وقت اس کی نگاہوں میں اتنی نفرت تھی برا کا ہاتھ کانپ سا گیا
مجھے سمجھ میں نہیں آتا تمہیں ذلیل ہونے کا شوق ہے یاتم انجانے میں یہ سب کچھ کرتی ہووہ اس کے منہ نہیں لگنا چاہتا تھا لیکن پچھلے دو دن سے وہ نوٹ کر رہا تھا بریرہ کچھ زیادہ ہی اس کے آگے پیچھے گھوم رہی تھی
اس کے ہاتھوں ذلیل ہونے کے باوجود بھی وہ سائے کی طرح اس کے آگے پیچھے گھومتے رہتی
آپ کے سر میں درد ہے چائے بنا لاؤں ۔وہ اسے یہ نہیں کہہ سکتی تھی کہ یہ سب کچھ تو وہ اس کی محبت میں کرتی ہے وہ چاہے اسے کتنا بھی ذلیل کیوں نہ کردے بریرہ اس سے محبت کرنا چھوڑ نہیں سکتی
تمہیں پتا ہے تم اس دنیا میں وہ واحد انسان ہو جس کی شکل دیکھتے ہوئے مجھے اپنی آنکھوں سے نفرت ہونے لگتی ہے
جس کا وجود دن رات مجھے کانٹوں کی طرح چبتا ہے
تم وہ واحد انسان ہو جس کی شکل میں زندگی کے آخری وقت میں بھی نہیں دیکھنا چاہتا ۔لیکن اس کے باوجود بھی میں تمہیں برداشت کر رہا ہوں کیوں کہ تم میرے بچے کی ماں ہو
اور ایک وعدہ جو میں نے اپنے مرتے ہوئے چاچا سے کیا تھا ۔
ورنہ میں ایسی غلطی' غلطی سے بھی نہیں کرتا ۔
اور اگر تمہیں یہ لگتا ہے کہ یہ سارے پیار محبت کے ڈرامے کر کے تم مجھے دوسری شادی سے روک سکتی ہو تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے
اپنے اس چھوٹے سے دماغ میں یہ بات اچھے سے بٹھا لو کہ اگلے 15 دن کے اندر اندر اس گھر میں اس کمرے میں اس بستر پر تمہاری جگہ کوئی اور ہو گی
تم اپنی یہ چالبازیاں اور یہ دو گلا چہرہ میرے گھر والوں کے لیے رکھو میں تمہارا اصل چہرہ دیکھ چکا ہوں میں تمہاری رگ رگ سے واقف ہوں بریرہ بیگم میرے سامنے یہ کچھ نہیں چلے گا
اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے غصے سے کہتا اٹھ بیٹھا تھا
میں آپ سے محبت کرتی ہوں زایار وہ تڑپ کر بولی
تم مجھ سے نہیں خود سے محبت کرتی ہو بریرا اس بات کو قبول کرو تمہیں اپنے آپ سے زیادہ اور کسی سے محبت نہیں ہے
۔تمہارا اندر کچھ اور باہر کچھ اور ہے بس ختم کرو یہ ڈرامے طلاق لو اور جان چھوڑو میری نہیں ہو تم برداشت مجھے میری زندگی میں
ہاتھ جوڑتا ہوں میں تمہارے آگے میری جان چھوڑ دو وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے انتہائی نفرت سے بولا
اس کے سامنے آنسو بہاتی وہ معصوم سی لڑکی تڑپ تڑپ کر رو رہی تھی لیکن اس کے آنسوؤں سے نہ تو زایار کو پہلے کبھی کوئی فرق پڑا تھا نہ ہی آگے پڑنا تھا
اپنا کمبل ایک طرف پھینکتا وہ اٹھ کر باہر نکل گیا جب کہ اپنے پیچھے اس کا روتا سسکتا وجود اس کے دل دماغ کہیں پر بھی اپنی جگہ نہیں بنا سکا تھا
°°°°°°°°
آ گئے تھے تم میں تمہارے کمرے میں آیا تو تم وہاں نہیں تھے عالم اپنی ہی سوچوں میں گم چھت پر آیا تو تراب کو خیالوں میں گم دیکھ کر اس کے سامنے والی کرسی پر آ بیٹھا
مجھے چھوڑو یہ بتاؤ کہ جس کی پینٹنگ بنا رہے ہو وہ کون ہے ۔۔۔؟وہ اس کا سوال نظر انداز کرتا پوچھنے لگا
تو تم یہاں بیٹھ کر سگریٹ پی رہے تھے عالم نے اس کا سوال نظرانداز کر کے سگریٹ کی ڈبی کی جانب دیکھا اس نے اسے بہت بار منع کیا تھا کہ گھر کے اندر یہ سب کچھ نہ کیا کرے
لیکن رات کے اندھیرے میں وہ کبھی کبھی چھت پے آ کر اپنا شوق پورا کر لیتا تھا
جبکہ حویلی کے باہر اس کا یہ شوق شوق نہیں بلکہ عادت تھی
رہا نہیں گیا اسی لیے پینے لگا ۔لیکن یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے جلدی سے بتاو وہ لڑکی کون ہے ورنہ تم جانتے ہو میں کیا کر سکتا ہوں وہ اس سے دھمکا رہا تھا عالم مسکرا دیا
عائزہ پر یقین کرکے غلطی کی نہ میں نے وہ سوال کرنے لگا
اب غلطی کر ہی دی ہے تو پردہ کھول دو کیونکہ میں ٹلنے والا نہیں جو پرنسز ڈریس تم اسے لے کر دینے والے تھے ویسا ہی ایک ڈریس لے کر دے چکا ہوں جس کے نتیجے میں اس نے اپنا منہ کھول دیا اب فرمائیں ورنہ مجھے راز نکلوانے کے اور بہت سارے طریقے آتے ہیں
وہ دو سیگریٹ سلگاتا اس کی جانب بڑھاتے ہوئے بولا تو عالم نے پرکشمش مسکراہٹ کے ساتھ سگریٹ تھام کر لبوں سے لگایا
ہاں ہے ایک لڑکی یار کچھ دن پہلے ہی ملاقات ہوئی ہے روحان کی یونیورسٹی میں پڑھتی ہے بس پسند آگئی مجھے وہ جان چھڑانے والے انداز میں بولا تو تراب مسکرایا
تمہیں یہ بات سارے گھر والوں کو بتانی چاہیے بلکہ پورے گاؤں میں اعلان کروا دینا چاہیے اور تم کسی کو اپنے دل میں بٹھا کر بیٹھے ہو تمہیں پتا ہے یہ گاؤں کتنے سالوں سے تمہاری شادی کا انتظار کر رہا ہے
فائنلی عالم سلطان شاہ کو کوئی لڑکی پسند آ ہی گئی چلو اب جلدی سے بارات لے کر جاؤ تاکہ میری بھی باری آئے تمہارے چکر میں میں اپنی بیوی سے دور ہوں وہ اسے گھورتے ہوئے سارا الزام اس کے سر پر لگانے لگا عالم بے اختیار قہقہ اٹھا
تم اس سے دور کہاں ہو کتنے دن ہوئے اسے کالج کی چھٹیاں ہوئے صرف تین دن اور آج رات تم حویلی میں پہنچ گئے عالم نے اس کے راز سے پردہ اٹھایا تو وہ اسے دیکھ کر رہ گیا
اگر جانتے ہو تو پوچھ کیوں رہے تھے ۔وہ گھورتے ہوئے پوچھنے لگا
تمہارے لبوں سے تمہارا کارنامہ سننا چاہتا تھا
چلو بھائی میں کونسا کسی سے ڈرتا ہوں جو کچھ چھپاؤں گا ہاں گیا تھا میں اپنی بیوی کو دیکھنے کے لیے مل کے بھی آیا ہوں کافی قریب سے ملاقات کی ہے۔
پتہ نہیں کون سی لڑکیاں ہوتی ہیں جن کی نیند کھلتی ہی نہیں یہاں تو ذراسی سانسوں کی آواز پر وہ ڈر کر اٹھ بیٹھتی ہے
جیسے کوئی جن ہوں اور کھا جاؤں گا اسے
اس نے تمہیں دیکھ تو نہیں لیا اس کی خمار سے بھرپور آواز پر عالم نے پریشانی سے پوچھا
تم تو ایسے بات کر رہے ہو جیسے میں پہلی بار گیا تھا دیکھنے کے چانس بھی نہیں ہے بھئی میں اس کام میں ایکسپرٹ ہو چکا ہوں
وہ بے فکری سے بولا
آگے کیا سوچتے ہو میں نے سنا ہے کہ سنیہا یونیورسٹی میں ایڈمیشن لینے والی ہے عالم نے بات بدلی
کیوں بے کار کاموں میں ڈال رہے ہیں وہ لوگ اسے کیا جانتے نہیں اس یونیورسٹی کا ماحول کیسا ہے میری بیوی ہرگز نہیں جائے گی یہ یونی معصوم لڑکیوں کی معصومیت تباہ کر دیتی ہے اس یونیورسٹی میں تو ایک سیکنڈ کے لئے بھی سنیہا کو وہاں نہ چھوڑوں۔
کتنا سرکھپائے گی اس پڑھائی میں میرے خیال میں اب تمہیں تایا ابو سے بات کر لینی چاہیے اس کی بات پر وہ پریشانی سے بولا جبکہ عالم اس کی پوزیسو نیچر پر مسکرا دیا تھا
تھوڑا صبر کر جا میرے بھائی وہ تیری ہی ہے اور تیرے پاس بھی آئے گی بس سہی وقت آنے دے ایک بار روحان حویلی والوں کو چھوڑ کر ہمارے پاس آ جائے تو ہم سنیہا کو بھی وہاں نہیں رہنے دیں گے
وہ ہمارے خاندان کے بچے ہیں انہیں یہی پرآنا ہے لیکن فی الحال ہمیں صبر سے کام لینا ہوگا روحان کو ان لوگوں سے الگ کرنا اتنا آسان نہیں ہے عالم اسے سمجھا رہا تھا
تمہاری ملاقات ہوئی تھی اس لڑکی سے جس سے روحان محبت کرتا ہے روحان کو اپنی طرف لانے کا وہ لڑکی بھی سہارا بن سکتی ہے
اگر وہ ایک اچھی لڑکی ہے اور سچ میں روحان سے محبت کرتی ہے تو ہمیں وہ ان کا ساتھ دینا ہوگا کیونکہ بری حویلی والوں نے وہ ان کی منگنی بچپن سے ہی کہیں پہ طے کر رکھی ہے اور وہ اتنی آسانی سے رشتہ ٹوٹنے نہیں دیں گے
روحان جب ان لوگوں سے اس لڑکی کے لئے ضد کرے گا تب ہمارا کام اور بھی آسان ہو سکتا ہے اس طرح روحان ہمارے قریب ہو جائے گا تراب نے کچھ سوچتے ہوئے کہا تھا عالم نےہاں میں سر ہلایا
اب بس وہ لڑکی اچھی ہو یہ نہ ہو کے روحان غلط جگہ دل لگائے بیٹھا ہواگر ایسا ہوا تو ہمارے لئے بھی مشکل ہوگی کیونکہ روحان کی ساری زندگی کا فیصلہ ہوگا ہم روحان کی زندگی کسی قسم کی مشکل میں نہیں ڈال سکتے
اور اگر وہ ان لوگوں سے الگ ہوکر یہاں آ بھی گیا تو بھی سنیہا کو یہاں لانا مشکل ہو جائے گا عالم نے کچھ پریشانی سے کہا
سینہا کو روکنے والا اس دنیا میں کوئی پیدا نہیں ہوا وہ ترات حیدرشاہ کی امانت ہے اسے میرے پاس آنا ہی ہوگا کیونکہ اسے دنیا میں بھیجا ہی میرے لئے کیا ہے تم اس کی ٹینشن لینا چھوڑ دوتم صرف روحان پر غور کرو سنیہا کو میں سنبھال لوں گا
وہ اسے بے فکر کرتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا
یہ کیا نیند آ گئی کیا ۔۔۔!اسے اٹھتے دیکھ کر عالم نے مسکرا کر پوچھا
تمھاری بھابھی خوابوں میں بلا رہی ہے میں ذرا ملاقات کر لوں صبح ملوں گا تم سے وہ شرارت سے آنکھ دباتا عالم کو قہقہ کا لگانے پر مجبور کر گیا
°°°°°
سنیہا بازو پڑیں کرو میرا دم گھٹ رہا ہے وہ اس کا ہاتھ خود سے ہٹاتے ہوئے بولی لیکن سنیہا نیند میں دوبارہ اس کے گرد حصار بنا لیتی
اف لڑکی مجھے جان سے مارنے کا ارادہ ہے کیا وہ اس کے گھیرے میں مچلتی ہوئی بولی ایک تو اچھی بھلی اس کی نیند خراب ہو گئی تھی بس اسی وجہ سے وہ سنیہاکے ساتھ نہیں سوتی تھی
سنیہا پلیز یار سونے دے مجھے وہ اسے پیچھے کرتی سونے کی کوشش کرنے لگی اچھی خاصی نیند کا بیڑا غرق ہو چکا تھا اور سنیہا کا بازو ایک بار پھر سے اس کے اوپر آ چکا تھا اور اس بار تو اس کی ٹانگ بھی اس کے اوپر تھی
یا اللہ میں نہیں سو سکتی اس کے ساتھ وہ اس کی ٹانگ اور بازو پیچھے کرتے ہوئے بیٹھے اٹھی
چاچع گھر پے نہیں ہیں چاچی کے پاس جا کر سو جاتی ہوں وہ اس پر دو حرف لعنت بھیجتیاپنا تکیہ اپنے سینے سے لگائے نیچے کی جانب جانے لگی جہاں چاچی کا کمرہ تھا
وہ اپنی ہی دھن میں آڈھی آنکھیں بند کیے چل رہی تھی جب اچانک کسی کے چٹان نما موجود سے ٹکرائی
اس سے پہلے کے وہ نیچے گرتی کسی نے اس کے گرد حصار تنگ کر لیا تھا
رات کے ساڑھے بارہ بجے بد روحوں کی طرح گھومنے کی کوئی خاص وجہ وہ اس کے بنا دوپٹے کے ہوشربا وجود سے نظریں چراتے ہوئے پیچھے ہٹا
ابھی نہیں مونچھڑ میرا مطلب شیر ادامجھے نیند آرہی ہے وہ نیند میں بڑبڑائی تھی ۔اس کے ساتھ ایسا ہی ہوتا تھا اگر نیند کے حصار میں وہ کسی سے زیادہ دیر بات کرے تو اس کی نیند خراب ہو جاتی تھی اور پھر ساری رات نیند نہیں آتی تھی وہ اس کا اپنا لو جک تھا
اسے جلدی جلدی یہاں سے نکلنا تھا
تم نیچے کہاں جا رہی ہو اپنے کمرے میں جا کر سو جاؤ ۔شیر کا مسئلہ حل کرتے ہوئے بولا نہیں سو سکتی نہ میرے روم میں سنیہا ہے وہ کبھی بازو پر رکھ لیتی ہے کبھی ٹانگیں رکھ دیتی ہے مجھ سے سویا نہیں جاتا گھٹن ہوتی ہے وہ اپنا مسئلہ بیان کرتی کافی معصوم لگ رہی تھی
پھر تو شادی کے بعد اچھی خاصی مشکل ہو جائے گی وہ بڑبڑایا
کس کی شادی کے بعد وہ اسے گھور کر دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی نیند کی وجہ سے پوری آنکھیں کھل ہی نہیں رہی تھی
میں اپنی شادی کی بات کر رہا ہوں وہ بات ختم کرتے ہوئے بولا
صرف باتیں ہی کرتے رہے شادی تو آپ نے کرنی نہیں ہے پتہ نہیں کب اس گھر میں شادی ہو گئی اور میں ڈھیر سارے نئے کپڑے لونگی ۔
بندہ اپنا نہیں دوسرے کا ہی فائدہ کروا دیتا ہے شادی کا سوچ رہے ہیں سوچتے ہی رہیے وہ اسے گھور کر آگے بڑھنے لگی جب شیر نے اس کا بازو پکڑ کر اسے اپنی جانب کھینچا
شادی بھی کروں گا لیکن گرنٹی نہیں دیتا کہ میری شادی سے تمہیں فائدہ ہوگا یا نقصان خیر وہ بعد کی باتیں ہیں بعد میں دیکھی جائے گی
آج کے بعد رات کے اس وقت یا دن میں تم بنا دوپٹے کے اس طرح بد روحوں کی طرح گھومتی ہوئی نظر نہ آؤاور یہ بال کس خوشی میں کھولے ہوئے ہیں اس کا نیند سے برا حال تھا فلحال تو اس کی ساری باتیں اس کے سر کے اوپر سے گزر رہی تھی
ایک رات کا وقت پھر اس کی نیند اوپر سے وہ اسے فضول میں اس جگہ پر کھڑے کیے باتیں سنا رہا تھا
آئندہ نظر نہیں آؤں گی اب میں جاؤ مجھے بہت نیند آ رہی ہے وہ بے حد معصومیت سے بولی تو شیر کے لبوں پر ایک خوبصورت سی مسکراہٹ پھیل گئی
جاؤ سو جاؤ ویسے بھی جلد ہی میں تمھاری نیندیں حرام کرنے والا ہو وہ مسرور انداز میں کہتا بنا اسے دیکھیں اس کے قریب سے گزر گیا
لالی بھی اس کی عجیب و غریب باتوں پر غور کرنے کی بجائے اپنی نیند کا سوچنے لگی جو اسے بے حد پیاری تھی
°°°°°
بریرہ کی آنکھ کھلی تو زایاراد کے قریب سو رہا تھا نہ جانے کب وہ رات واپس آیا اس کی تو روتے روتے آنکھ لگ گئی تھی
رات زایار کی باتوں نے اسے بہت ہرٹ کیا تھا لیکن نہ تو زایار کو پہلے اس کی پرواہ تھی اور نہ ہی آگے کبھی ہونی تھی زایار کے خوبصورت چہرے کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ اندر سے اتنا سخت ہے
اب تو سارے خاندان میں بات ہونے لگی تھی کہ ہادی چھے سال کا ہوچکا تھا ان کے گھر میں دوسرے بچے کی آمد کیوں نہیں ہوئی
لوگ تو اندر ہی اندر بریرہ میں ہی کمیاں نکالنے لگے تھے اب وہ کس کس کو یہ بتاتی کہ اس کا شوہر تو اسے دیکھنا تک پسند نہیں کرتا یہ تو وہ اس کے نکاح میں تھی ورنہ شاید وہ خود کو دیکھنے پربھی پابندی لگانے سے پیچھے نہ رہتا
وہ اٹھ کر اس کے کپڑے نکالنے لگی کہ دھیان اس دوپٹے پر گیا
کل پازیب شام کو ہی گھر واپس چلی گئی تھی جبکہ بریرہ سے جاتے ہوئے اس کی ملاقات نہیں ہوئی تھی
دوپٹہ زایار کے پاس واپس آ چکا تھا مطلب نجانے اس نے پازیب کو کیا کہا ہوگا اس معصوم سی لڑکی پر اسے ترس آنے لگا اس کی وجہ سے یقیناً وہ بھی زایار کے غصے کا شکار ہوئی ہوگی
اس نے جلدی سے اپنے کپڑوں میں سے ایک دوپٹا نکالا یہ سوٹ اس کا بہت فیورٹ تھا جو کہ قیمتی ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد خوبصورت بھی تھا اس کا دوپٹہ پازیب کی اس ڈریس کے ساتھ کچھ حد تک میچ کرتا تھا
اس نے یہ نکال کے رکھ دیا تاکہ وہ پازیب کو دے سکے نہ جانے اس دوپٹے میں کیا تھا کہ زایار اس کے لیے اتنا پاگل ہو رہا تھا بالکل سادہ سا کرنکل کا دوپٹہ جس کی کوالٹی بھی اتنی اچھی نہیں تھی زایار کے لیے بھلا اہم کیسے ہو گیا اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا
لیکن اس دوپٹے کو دوبارہ چھونے کی غلطی وہ ہرگز نہیں کرنا چاہتی تھی اس کے کپڑے اور دوپٹہ نکال کے وہ کمرے سے باہر چلی گئی
اس کا معمول شروع ہو چکا تھا سب کو جگانے کے بعد وہ صبح کا ناشتہ لگا کہ واپس کمرے میں آئی
تو زایار بھی ڈیرے پر جانے کے لئے تیار ہو رہا تھا
اس کے ہاتھ میں وہی دوپٹہ بندھا ہوا تھا جسے دیکھ کر نہ جانے کیوں بریرا کے اندر کچھ جلنے لگا
جینی توجہ کا مرکز اس وقت یہ دوپٹہ بنا ہوا تھا اس سے ایک پرسنٹ بھی توجہ کبھی ببریرہ کو اس شخص سے نہیں ملی تھی
یہ دوپٹہ تم نے جیسے دیا تھا وہ ہمارے گھر میں کیوں ہے وہ بیڈ شیٹ درست کرنے لگی جب اس کی آواز آئی
وہ میں نے ہادی کے لئے ملازمہ رکھی ہے ہادی آج کل ۔۔۔۔۔۔
نے ہادی کے لیے ملازمہ رکھی کیوں وجہ جان سکتا ہوں میں اور کس کی اجازت سے تم نے ہادی کو کسی ملازمہ کے حوالے کیا
اور تمہیں کیا تکلیف ہے کہ تم ہادی کا خیال نہیں رکھ سکتی وہ براہ راست کے سامنے آتا اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا سرخ آنکھوں میں غصہ صاف جھلک رہا تھا
گھر کی بہت ساری ذمہ داریاں ہیں زایار آج کل لالی اور سنیہا کے بھی پیپر شروع ہونے والے ہیں میں نہیں چاہتی کہ ہادی تنہا محسوس کرے یا پھر ۔۔۔۔
تم اس گھر میں کسی قسم کی کوئی ذمہ داریاں نبھانے کے لیے نہیں لائی گئی ہو بریرہ بیگم تم یہاں اس گھر میں ہادی کی وجہ سے رہتی ہو
تم میرے نکاح میں بھی ہادی کی وجہ سے ہی ہو تمہیں ہادی کے لیے کوئی ملازم رکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ میں نے تمہیں ہادی کی ملازمہ ہی رکھا ہے
کیونکہ بیوی بننے کے تم لائق نہیں ہو۔۔۔اور باقی جن زمداریوں کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہو وہ تمہاری نہیں بلکہ میری ہونے والی بیوی کی ہیں اس گھر میں تمہاری ذمہ داری بس اتنی ہے کہ ہادی کا خیال رکھو ۔۔۔وہ اس سے سخت سناتے ہوئے بولا
ٹھیک ہے میں اسے نکال دوں گی ۔وہ بنا بحث کی بات ختم کرنا چاہتی تھی
جب کہ اس کا آدمی اسے پازیب کےبارے میں ساری معلومات حاصل کر چکا تھا وہ جلد ہی اس کا رشتہ لینے جانے والا تھا
وہ نہیں چاہتا تھا کہ پازیب کووی سب گھر والوں سے گھر کی ملازمہ کے طور پر متعارف کروائے یہ تو وہ کل ملازم ہی پتہ کر چکا تھا کہ پازیب یہاں کیوں آتی ہے لیکن بریرہ کو بھی اس کی اوقات یاد دلانا ضروری سمجھا
عہ دوپٹہ اٹھا کر باہر جانے لگی جب زایار نے اسے روک لیا
اگر تم یہ دوپٹہ اس کو دینے والی ہو تو ایسی غلطی کرنے کے بارے میں سوچنا بھی نہیں اس کی آواز پر وہ پلٹ کر دیکھنے لگی
کیا مطلب میں سمجھی نہیں
تمہیں سمجھنے کی ضرورت بھی نہیں ہے ہاں لیکن اتنا بتا دیتا ہوں کہ میری ہونے والی بیوی کو اپنی اترن دینے کی غلطی مت کرنا ورنہ پچھتانے کے علاوہ اور کچھ نہیں بچے گا وہ اس کے پاس آتا اس کا دوپٹہ اس کے ہاتھ سے لے کر صوفے پر پھینک چکا تھا
مطلب پا۔ ۔۔۔پازیب وہ لڑکی ۔۔۔۔۔لڑکی ہے جس سے آپ شادی ۔۔۔۔۔شادی کرنے والے ہیں وہ بے یقینی کی کیفیت میں تھی
ہاں ۔وہ ایک لفظی جواب دیتا پرفیوم سپرے کرنے لگا
اسے لگا جیسے کمرے کی چھت اس کے سر پہ آگئی ہو
مطلب جس کو وہ اپنی بہنوں کی طرح پیار دے رہی تھی وہی اس کی سوتن بننے جا رہی تھی اگر ایسا تھا تو وہ اس کے گھر میں بلا ملازمہ کی حیثیت سے کام کیوں کر رہی تھی کیا وہ جانتی تھی اس بارے میں
کیا وہ بھی آپ سے ۔۔۔۔۔
اس کو بھی پتہ چل جائے گا وہ بے فکر انداز میں بولا
مطلب کہ وہ آپ سے پیار نہیں کرتی اور نہ ہی آپ کے بارے میں کچھ جانتی ہے
جان بھی جائے گی اور پیار بھی کرے گی تمہیں ان سب میں پڑنے کی ضرورت نہیں تم بس وہ کام کرو جس کے لیے تمہیں یہاں رکھا گیا ہے ہادی کا خیال رکھو
اور اچھا ہی ہے پازیب اور ہادی پہلے سے ہی ایک دوسرے کو جان گئے ہیں
آگے کافی آسانی رہے گی میرے خیال میں اب تمہیں بھی اپنی زندگی کا فیصلہ کرلینا چاہیے
یقینا اب تمہاری امیدوں کی ڈور ٹوٹ چکی ہوگی
اپنے کندھے پر چادر رکھتا باہر نکلتے والا تھا
امید پر دنیا قائم ہے شاہ صاحب آپ خوشی سے شادی کریں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہاں ایک ڈر تھا کہ میرے ہادی کو سوتیلی ماں نہ جانے کیسی ملے لیکن اب یہ ڈر بھی ختم ہوگیا
اللہ آپ کے لئے آسانیاں پیدا کرے لیکن میرے سننے میں آیا ہے کہ پازیب کی منگنی ہو چکی ہے
منگنی ہوئی ہے نکاح تو نہیں ہوا اور اگر نکاح ہوتا تو وہ بھی میں توڑوانا جانتا ہوں تم بے فکر رہو مجھ سے طلاق لو اپنی نئی زندگی شروع کرو
آگر نہیں کر سکتی تم بھی میری بیوی کی دھوم دھام سے اس گھر میں آمد کا انتظار کرو وہ دل جلانے والی مسکراہٹ لبوں پر سجائے کمرے سے نکل گیا
اب بریرہ تھی اور اس کے آنسو
کیا مطلب تم مجھے شاپنگ نہیں کروا سکتے دانی بدمزا ہوئی تھی
یار میری اتنی پاکٹ میں نہیں ہے کہ تمہاری پسند کا ایک ڈریس بھی تمہیں دلوا سکوں
تم نہیں جانتی پچھلی بار بھی تمہاری شاپنگ کو کس طرح سے ہینڈل کیا تھا میں نے
مطلب تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ میری وہ دو ڈریس بھی تمہارے لیے ناقابل قبول تھی
مجھے یقین نہیں آرہا تم مجھے شاپنگ تک نہیں کروا سکتے اور بات میرے لئے جان دینے کی کرتے ہو۔لائک سیریسلی وہ تمسخرانہ انداز میں بولی
دانی میں تم سے بے حد محبت کرتا ہوں یار تم چھوٹی چھوٹی باتوں پر سیدھی محبت پر کیوں اتر آتی ہو فی الحال نہیں ہیں میرے پاس اتنے پیسے
تو اتنے بڑے خاندان کے چشم وچراغ ہونے کے باوجود بھی تمہارے پاس کچھ نہیں ہے کنگال کہیں کے جیب میں کچھ ہے نہیں اور تم میری ہر خواہش پوری کرنے کا دعوی کرتے ہو وہ بد مزا ہو چکی تھی
اٹھ کر جانے لگی تو روحان نے اس کا ہاتھ تھام لیا
مت جاؤ یار ناراض کیوں ہو رہی ہو اچھا نا کرتا ہوں تمہاری شاپنگ کا کوئی حل وہ مسکرا کر کہنے لگا دانی خوشی سے چہکتی واپس بیٹھی
میں جانتی تھی تو مجھے ناراض نہیں کرو گے ۔اس کے کہنے پر روحان مسکرا دیا تھا وہ اسے ناراض نہیں کر سکتا تھا کیونکہ وہ اسے بے حد چاہتا تھا
اور اس وقت اس کی ناراضگی کا مطلب تھا کہ اگلے دس پندرہ دن وہ اسے بالکل نہیں منہ لگائے گی اور اب اس کے دل کا حال ایسا تھا کہ اس سے پانچ منٹ بھی بات کئے بغیر رہا نہیں رہ سکتا تھا
اس نے دانی سے شاپنگ کا وعدہ تو کر دیا تھا لیکن اب کیا کرے اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا بہت دیر سوچنے کے بعد اس نے عالم کو ہی فون کرنے کا فیصلہ کیا
°°°°
تو کیا وہ چاہتی ہے کہ تم اسے شاپنگ کرواؤ اپنے آفس روم میں بیٹھا سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے وہ ریلیکس انداز میں بات کر رہا تھا وہ دانی سے ملنا چاہتا تھا اس کے بارے میں سب کچھ جاننا چاہتا تھا
وہ روحان کو کسی ایسی لڑکی سے محبت کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا تھا جو صرف اور صرف اس کی دولت اور رتبہ دیکھ کر اس کی طرف قدم اٹھائے وہ اس کے لئے ایک ایسی لڑکی چاہتا تھا جو سچ میں اس سے محبت کرتی ہو
نہیں ادا اس نے نہیں کہا میں خود اسے شاپنگ کروانا چاہتا ہوں کیونکہ اس کی برتھ ڈے ہے روحان نے جھوٹ بولا
مطلب کے تم اسے برتھ ڈے گفٹ دینا چاہتے ہو ٹھیک ہے مجھے اپنا اکاؤنٹ نمبر سینڈ کرو تمہارا کام ابھی ہو جائے گا اس نے مسکرا کر کہا تو روحان نے خوشی سے ایک لمبی سانس لی
تھینک یو سو مچ ادا صرف آپ ہی ہیں جو مجھے سمجھتے ہیں بڑی حویلی میں تو کسی کو میری فیلنگ سے کوئی لینا دینا ہی نہیں ہے
آپ کو پتہ ہے اگر میں اس بارے میں بابا یا زایار ادا سے بات بھی کرتا تو الٹا مجھے سننے کو ملتا
اس کے لہجے میں ناراضگی بول رہی تھی لیکن عالم اس ناراضگی کو نفرت کا روپ دینا چاہتا تھا
میری جان تم اس خاندان کے وارث ہو میں تمہیں کچھ بھی دے کر تم پر کوئی احسان نہیں کرتا یہ سب کچھ تمہارا ہے تمہارا حق ہے میرا جو کچھ بھی ہے سب تمہارا ہے
اور ایک اور بات جو تمہیں اپنے ذہن میں بٹھا لینی چاہیے کہ اس خاندان پر اس حویلی پر تمہارا کوئی حق دعویٰ نہیں ہے ان کی دولت ان کی جائیداد میں تم کہیں بھی حصے دار نہیں ہو
وہ تم پر بھلا اپنا پیسہ کیوں خرچ کریں گے تمہارا اصل گھر یہ ہے تم سے محبت کرنے والے تمہارے اپنے شاہ حویلی کے لوگ ہیں بڑی حویلی کے نہیں
اور جب تم ہمیشہ کے لئے ہمارے پاس آ جاؤ گے تو یہ سب کچھ تمہیں مل جائے گا پاور آف اٹارنی تمہارے نام کر دی جائے گی
تمہارا حصہ تمہیں دے دیا جائے گا تمہیں پتہ ہے اس خاندان کے تین وارث ہیں
میں عالم سلطان شاہ سلطان شاہ کا بیٹا
تراب حیدر شاہ ۔حیدر شاہ کا بیٹا
اور روحان واصف شاہ۔واصف شاہ کا بیٹا نہ کہ صفدر شاہ کا بیٹا وہ اس انداز میں بولا کہ روحان کے اندر کچھ ٹوٹا تھا
ادا میں آپ سے بعد میں بات کرتا ہوں اپنے دل کی بے چینی کو سنبھالتا فون بند کر چکا تھا دوسری طرف عالم نے اس کی جلد بازی پر کوئی ری ایکشن نہ دیا
یقینا وہ ہرٹ ہوا تھا لیکن حقیقت اس سے چھپی ہوئی تو نہیں تھی وہ واصف کا بیٹا تھا صفدر شاہ کا نہیں اور اسے یہ بات قبول کرنی تھی۔
°°°°
وہ کتنی ہی دیر موبائل کو ہاتھوں میں لیے گھورتا رہا تھا عالم کی آواز اس کی کانوں میں گونج رہی تھی ۔
وہ جانتا تھا کہ وہ صفدر شاہ کا بیٹا نہیں ہے لیکن جو محبت اسے صفدر شاہ نے دی تھی وہ اس سے انکاری بھی نہیں تھا
وہ جانتا تھا کہ وہ اسے بے پناہ چاہتے ہیں بس وہ اصول پسند ہیں اور اپنے بچوں کو بگاڑنا ان کے اصولوں میں شامل نہیں ہے
اس آدمی کی قربانیاں اس سے چھپی ہوئی تو نہ تھیں
ان دونوں کو پالنے کے لیے اس نے اپنی اولاد کو دنیا میں نہ آنے دیا وہ ان کے لیے اپنی اولاد سے منہ موڑ گیا تھا وہ گیارہ سال کا تھا جب دادی جان نے کہا کہ انہیں صفدر کی اپنی اولاد چاہے جس پر صفدر نے کہا کہ سنیہا اور روحان ہی ان کے بچے ہیں
وہ جانتا تھا 17 سال پہلے واصف شاہ نے اس کی ماں کو طلاق دی تب سہارا دینے والا صفدر شاہ ہی تھا
اس وقت وہ نادان تھا اس رات کی حقیقت نہیں جانتا تھا لیکن اب بہت کچھ اس کے سامنے آ رہا تھا۔
عدت پوری ہوتے ہی صفدر شاہ نے اس کی ماں سے نکاح کیا۔اور دو ماہ کے اندر ہی بچوں کی کسٹڈی حاصل کر چکا تھا ۔دو مہینے کے اندر اندر وہ ان دونوں کو ان کی ماں کے پاس گیا تھا
اور واصف شاہ خالی ہاتھ رہ گیا ۔
لیکن اب وقت کے ساتھ ساتھ سوچیں بدلنے لگی تھی اخر ایسا کیا ہوا تھا کہ اس کے باپ نے اس کی ماں کو طلاق دے دی
اور پھر عدت ختم ہوتے ہی اس کی ماں نے دوسرا نکاح کر لیا
آخر کیا وجہ تھی کہ صفدر شاہ نے ان کے لیے اپنی اولاد تک کی ڈیمانڈ نہ کی ۔بلکہ سینہا اورروحان کو ہی اپنی اولاد مان کر سگے باپ سے بر کران کا خیال رکھا ۔
ان کا اصل باپ ان کے لیے ترستا رہا ان کے لمس کے لیے تڑپتا رہا ۔لیکن صفدر شاہ نے اسے کبھی روحان اور سنیہا سے ملنے نہ دیا
وہ تو بچپن سے ہی ساری حقیقت جانتا تھا لیکن سنیہا ان سب باتوں سے انجان تھی وہ جانتی بھی نہیں تھی کہ وہ صفدر شاہ کی اصلی بیٹی ہے ہی نہیں بلکہ وہ تو واصف کی بیٹی ہے
ابھی تک تو وہ خود بھی ان سے نہیں ملا تھا اسے بس اتنا ہی پتہ تھا کہ واصف شاہ یہاں نہیں بلکہ لندن میں رہتے ہیں ۔
لیکن عالم نے اسے بتایا تھا کہ ان کی دوسری بیوی صفیہ بیگم اور بیٹی عائزہ حویلی میں ہی رہتے ہیں
اور وہ شاہ حویلی کے بارے میں سب کچھ جانتا تھا لیکن ابھی تک حویلی گیا نہیں تھا صرف ایک بار اس کی ملاقات حیدر تایا (تراب حیدر شاہ کا باپ)سے ہوئی تھی اور وہ اس سے بہت محبت سے ملے تھے
ایک بار اس کی فون پر بات ثمینہ تائی (عالم کی ماں )سے ہوئی تھی اور وہ اسے بہت نیک اور اچھی عورت لگیں تھیں ۔ٹیلی فونک ملاقات محبت سے بھرپور تھی ان سے بات کر کے اسے بالکل اپنی ماں جیسی فیلینگ آئی تھی
باقی وہ بہت جلد عالم سے حویلی چل کر سب سے ملنے کا وعدہ بھی کر چکا تھا لیکن وہ جانتا تھا کہ اس کا باپ صفدر شاہ اور زایار اسے ایسا ہرگز نہیں کرنے دیں گے ۔
اس لئے وہ خود بھی فاصلہ رکھنے کی کوشش کرتا تھا لیکن عالم سے ملاقات اس کے لیے ہمیشہ سے فائدہ مند ثابت ہوتی تھی وہ جب سے یونیورسٹی آیا تھا تب سے عالم سے مل رہا تھا
عالم سے پہلی ملاقات بھی اسے بری نہیں لگی تھی عالم اسے کہتا تھا کہ جو کچھ بھی اسےدیتا ہے اسی کا ہے لیکن پھر بھی عالم سے پیسے مانگتے ہوئے اسے شرمندگی ہوتی تھی
عالم نے کہا تھا کہ وہ اپنے لیے اس سے کوئی بھی فرمائش کر سکتا ہے پر دانی کے لیے کچھ مانگ کر وہ شرمندہ ہو جاتا تھا لیکن وہ کیا کرتا دانی اس کی محبت تھی اس کی خواہشات پوری کرنا اپنا فرض سمجھتا تھا
ہاں وہ دانی کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھا یہاں تک کہ اس کے لیے اپنی جان دینے میں بھی اسے کوئی اعتراض نہ تھا
دانی بس ایک بار آواز تو کرے وہ اس کے لئے کچھ بھی کر گزرے گا دانی کے لئے اس کی محبت میں دن بدن شدت آتی جا رہی تھی اس میں بڑی وجہ راحیل تھا جو دانی میں انٹرسٹ لے رہا تھا
اور وہ دانی کے سامنے کبھی بھی خود کو نیچے نہیں ہونے دے سکتا تھا اسے ہر حال میں راحیل سے اوپر رہنا تھا
وہ اپنی ہی سوچوں میں نہ جانے کہاں نکل چکا تھا جب اس کے فون کی بیل بجی بینک کی طرف سے میسج تھا
اس کے اکاؤنٹ میں عالم نے رقم ٹرانسفر کر دی تھی ۔اس نے فورا عالم کو تھینک یو کا میسج بھیجا ۔اور دانی کو کال کی کہ وہ اس سے لینے آ رہا ہے
دانی کاخوشی سے چہکنے پر وہ مسکرایا تھا یہ لڑکی اس کی زندگی بنتی جا رہی تھی وہ اس کی محبت میں بہت آگے نکل چکا تھا
لیکن یہ نہیں جانتا تھا کہ اس کی محبت اسے آگے کہاں کہاں تک لے کے جائے گی
°°°°°
دانی نے مارکیٹ میں مہنگی سے مہنگی چیز پر ہاتھ رکھا اور وہ مسکرا کر اسے خرید کر دیتا رہا
بہت کوشش کے باوجود بھی عمر دانی کا اصل چہرہ اس کے سامنے نہیں لا سکا تھا دانی کے خلاف کچھ بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا ۔
اسے سمجھا سمجھا کر اب عمر مت ہار چکا تھا اس نے اپنے قدم پیچھے ہٹالیے تھے
اب وہ اسے دانی کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا تھا ۔روحان پوری یونیورسٹی کے سامنے وہ دانی سے اظہار محبت کر چکا تھا
اب تو ان کے الگ ہونے کے کوئی چانس نہیں تھے عمر جانتا تھا کہ اس کا دل بہت برے طریقے سے ٹوٹنے والا ہے
لیکن روحان کی آنکھوں پر بھی محبت کی پٹی جو اسے کچھ بھی نہیں دیکھنے دے رہی تھی دانی کی لالچی فطرت اس کی بے جا فرمائشیوں کو وہ اس کا حق قرار دے رہا تھا
اسےدانی کی ہر بات میں اپنے لیے محبت ہی دیکھ رہی تھی
لیکن اب بہت ہو چکا تھا اب عمر نے ایک فیصلہ کیا تھا وہ سمجھ چکا تھا کہ اسے یہ سب کچھ دینے والا علم سلطان شاہ ہے عمر اپنے دوست کو اس طرح سے لوٹتے نہیں دیکھ سکتا تھا اس لئے اس نے یہ سب کچھ عالم کو بتانے کا فیصلہ کیا تھا
وہ چاہتا تھا یہ عالم کو سب کچھ پتہ چل جائے تاکہ وہ اس کے قدم روک لے کیوں کہ اپنے دوست کو ٹوٹتے بکھرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا
یونیورسٹی کے ان چار سالوں میں وہ اس کے لئے بہت عزیز ہو گیا تھا اور دانی کے آنے سے پہلے وہ اس کا بیسٹ فرینڈ بھی تھا
لیکن جب عمر نے اسے دانی کی حقیقت بتانے کی کوشش کی تو دانی نے سب سے پہلے اسے عمر سے ہی الگ کیا تھا
اس نے عمر پر یہ الزام لگایا تھا کہ وہ اس پر غلط نگاہ رکھتا ہے اپنے دوست کے منہ سے یہ الفاظ سن کر عمر کو بہت تکلیف ہوئی تھی۔وہ روحان سے الگ ہو گیا تھا
لیکن کچھ دن کے بعد روحان یہ کہہ کر معافی مانگی کہ ہو سکتا ہے اسے کوئی غلط فہمی ہو گئی ہو اس کی باتوں کو دل پر مت لو تو عمر کو منانا پڑا کیونکہ روحان بھی اپنے دوست کو بہت چاہتا تھا
دانی کے سامنے وہ عمر سے کم ہی ملتا تھا کیوں کہ دانی کو عمر کے ساتھ اس کی ملاقات نہ گوار گزرتی اس لیے وہ دانی کے سامنے عمر سے ملنے سے بھی گریز کرتا تھا
اور قب عمر دانی کو سمجھ چکا تھا اور وہ آج ہی عالم سے ملنے جانے والا تھا
°°°°°
مجھے عالم سلطان شاہ سے ملنا ہے وہ باہر کافی دیر سے انتظار کر رہا تھا لیکن باہر کھڑی لڑکی سے بار بار بیٹھنے کے لئے کہہ دیتی کیونکہ عالم سلطان شاہ اسے جانتا ہی نہیں تھا وہ ہر تھوڑی دیر کے بعد اس لڑکی سے پوچھتا تو وہ اسے بیٹھنے کا کہہ دیتی
جب کہ اندر عالم کو فون کرکے بتانے کی غلطی وہ کر بھی نہیں رہی تھی
دیکھیے میم آپ عالم بھائی کو فون کرکے بتائیں تو سہی کہ میں ان کے بھائی روحان کا دوست ہوں اور ان سے ملنے آیا ہوں وہ تنگ آ کر کہنے لگا
دیکھیں مسٹر فلحال سر اندر میٹنگ میں بیزی ہیں آپ کو یہاں آنے سے پہلے ان کے ٹائم ٹیبل کو مدنظر رکھنا چاہیے تھا اور اگر آپ ان کے بھائی کے دوست ہیں تو ان کے گھر پر مل لیجئے گا ا
سر آفس ٹائم میں وہ کسی سے نہیں ملتے اس کے بار بار پوچھنے پر وہ غصے سے بولی
تبھی تراب حیدر شاہ افس روم سے نکلتا ان کو بحث کرتے دیکھ چکا تھا
کیا بات ہے وانیہ آپ اتنی غصہ کیوں ہو رہی ہیں خیریت توہے وہ اس کے پاس آ کر ایک نظر عمر کو دیکھتا ہوا وانیہ سے پوچھنے لگا
سر ان جناب کا کہنا ہے کہ یہ کسی روحان کے دوست ہیں اور عالم سر سے بہت ضروری بات کرنا چاہتے ہیں
وہ اپنے بالوں کو جھٹکا دیتی عمر کی طرف اشارہ کرکے بتانے لگی اس کا انداز ایسا تھا کہ روحان کا نام اس نے کبھی سنا ہی نہ ہو اور نہ ہی اس کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتا ہو
سر میرا نام عمر ہے میں روحان کا دوست ہوں اور میں عالم بھائی کو روحان کے بارے میں بہت اہم بات بتانا چاہتا ہوں اگر انہیں یہ بات وقت رہتے نہ پتا چلی تو شاید آگے مسائل پیش آئیں اس کے انداز پر تراب ہ اں میں سر ہلا تا اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کر چکا تھا
°°°°°
آفس روم میں تنہا بیٹھا وہ کسی سوچ میں گم تھا تراب کو واپس جاتے دیکھ کر وہ مسکرایا وہعمر کو بھی وہ پہچان چکا تھا وہ روحان کے بارے میں وہ سب کچھ جانتا تھا اس کا کن لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہے کون لوگ اس کے قریب ہے پہلے پہلے تو روحان جب بھی عالم سے ملتا تھا عمر کے بارے میں بہت باتیں کرتا تھا لیکن اب صرف دانی کی باتیں تھی
او عمر بیٹھو کیسے آنا ہوا وہاں سے پہچان کر اٹھ کر ہاتھ ملاتے ہوئے بولا عمر نے سکون کا سانس لیا تھا کوئی تو اسے جانتا تھا جبکہ اکثر میگزین اور نیوز پیپرزکے فرنٹ پیج پر عالم سلطان شاہ کی تصویریں دیکھ کر اس کا فین ہوا عمر اس سے ملتے ہوئے کافی دیر ہچکچا رہا تھا
اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کے یہ عالم سلطان شاہ روحان کا بھائی ہوگا
وہ بہت خوبصورت نوجوان تھا تصویروں سے کہیں درجہ زیادہ ہینڈسم شخص اس کے سامنے بیٹھا اس سے باتیں کر رہا تھا
لیکن اسے دیکھ کر وہ اپنی بات بھولا نہیں تھا وہ جلدی ہی اسے روحان کے بارے میں بتا دینا چاہتا تھا
عالم بھائی روحان جس سے لڑکی سے محبت کرتا ہے میں اس کے بارے میں بتانے آیا ہوں یہ سب کچھ دھوکا ہے دانی اسے دھوکا دے رہی ہے
عمر کی بات پر عالم سیدھا ہوبیٹھا تھا
کا مطلب ہے عمر تمہاری بات کا مجھے تفصیل سے بتاؤ کچھ بھی چھپانا تر اب بھی پریشانی سے اسے دیکھنے لگا تھا
وہ ایسا نہیں چاہتے تھے وہ اس سے کتنی محبت کرتا تھا وہ ان کی باتوں سے اندازہ لگا چکا تھا
دانی نے جب یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا تو وہ راحیل کی گرل فرینڈ تھی انہوں نے کسی کے سامنے شو تو نہیں کیا تھا لیکن میں اکثر کلب میں ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھتا تھا پھر اچانک کچھ ایسا ہوا کہ دانی میں نے راحیل کو صرف ایک اچھا فرینڈ کہنا شروع کر دیا
روحان کب اس کی محبت میں گرفتار ہوا میں خود بھی نہیں جانتا میں یہ سب کچھ صرف ٹائم پاس سمجھ رہا تھا لیکن وہ ان سب چیزوں کو لے کر بہت سیریس ہو چکا ہے
دانی صرف اور صرف دولت کی وجہ سے اس کے ساتھ ہے وہ اکثر اس سے الٹی سیدھی فرمائشیں کرتی ہے یہاں تک کہ دانی کے نام کا ٹیٹو بھی صرف اور صرف دانی کی فرمائش پر بنایا تھا
وہ روحان کو بے وقوف بنا رہی ہے کیونکہ دو ماہ پہلے میں نے دانی اور راحیل کو ایک دوسرے کے بے حد قریب دیکھا تھا
وہ اتنے قریب تھے جتنے دوست نہیں ہو سکتے ۔
میں نے ان دونوں کا پیچھا کیا تھا راحیل نے ہی دانی سے کہا تھا تم اپنے بوائے فرینڈ سے کچھ بھی مانگ سکتی ہو تو مجھے 50000 لے دو مجھے پیسوں کی ضرورت ہے اور اس سے اگلے دن ہی دانی نے جھوٹ بولا تھا کے اس کا بیگ چوری ہوگیا اور اس کے پاس کچھ نہیں ہے روحان نے آپ سے پچاس ہزار مانگ کر دانی کو دیے تھے
اس کے علاوہ بھی بہت بار ایسا ہوا راحیل اور دانی مل کر روحان کو بے وقوف بنا رہے ہیں اور وہ بنتا جا رہا ہے
دانی اس سے کوئی محبت نہیں کرتی سب جھوٹ ہے سب فریب ہے اگر آپ کو مجھ پر یقین نہ آئے تو دانی کے کندھے کی بیک سائیڈ پر آپ ایک آر کا ( R)ٹیٹو دیکھ سکتے ہیں جو روحان کے نہیں بلکہ راحیل کے نام کا ہے
وہ ٹیٹو دو سال پرانا ہے تب وہ روحان سے نہیں ملی تھی
اور اب وہ دونوں کچھ بڑا پلان کر رہے ہیں روحان سے زیادہ پیسے لینے کے لئے
پلیز روحان کو بچا لیجئے عالم بھائی وہ بہت بڑی مصیبت میں پھنسنے والا ہے وہ اسے پوری بات بتاتا اینڈ پر عالم کو دیکھ کر کہنے لگا جو فکرمندی سے اس کی باتیں سن رہا تھا
تراب بھی کافی پریشان لگ رہا تھا
تم فکر مت کرو عمر تم نے اپنی دوستی کا فرض نبھا دیا آگے ہم سنبھال لیں گے ہم تمہارے دوست کو پھسنے نہیں دیں گے تراب نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو عمر مسکرایا
تم اس کے سچے دوست ہو عمر زندگی میں کوئی بھی مصیبت آئی اپنا بڑا بھائی سمجھ کر بنا کسی جھجک کے میرے پاس آ جانا وہ اس سے ملتے ہوئے بولا
انہیں سب کچھ بتا دیا وہ ریلیکس ہو چکا تھا جبکہ عمر کی باتیں ان دونوں کو بے حد پریشان کر گئی تھی
اب تو دانی سے ملنا ہی پڑے گا عمر کے جانے کے بعد اس نے تراب سے کہا
بالکل ملنا پڑے گا یہ تو بڑی تیز نکلی میں تو کوئی معصوم سی لڑکی سمجھ رہا تھا تراب نے پریشانی سے کہا تو عالم کرسی سے اٹھ گیا
ہمیں دیر نہیں کرنی چاہیے وہ بس اتنا کہتا آفس سے نکل گیا جبکہ تراب عالم کی میٹنگ اٹینڈ کرنے کیلئے سیکٹری کو ہدایات دینے لگا
اس نے اس یونیورسٹی کے اندر قدم رکھا ہی تھا کے سامنے ہی دیوار پر کسی لڑکی کے ساتھ وہ پری پیکر اسے نظر آگئی اس کا دل بے اختیار کر دھڑکا تھا
وہ بے اختیار اسے دیکھنے لگا وہ اس کا سکون تھی اس کی سوچ اس کا خیال اسے ہر پریشانی سے آزار کر دیتا تھا
وہ یہاں اس کے لئے نہیں آیا تھا عالم نے اپنے دل کو سمجھانے کی کوشش کی ۔لیکن اس کے دل نے اس کے معاملے میں تو اس کی سننا ہی چھوڑ دیا تھا
وہ اپنی ہی باتوں میں مگن ہنستی ہوئی باتیں کر رہی تھی جب اچانک کچھ کھاتے ہوئے اس کے گلے میں اٹکا مرچی جیسے پوری طرح اس کی رگوں میں دوڑی تھی
وہ بے چینی سے کھانسنے لگی اس کی دوست اچانک اس کی حالت پر پریشان ہوتی بھاگ کر پانی لانے جا چکی تھی اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ چکی تھی وہ ہوا کی طرح اس کے پاس آیا اور اس کی پیٹھ پر تھپکنے لگا
اس کی سانسس الجھنے لگی تھی جیسے یہ تکلیف اس کی نہیں بلکہ عالم سلطان شاہ کی ہو
دماغ خراب ہو گیا ہے کیا کھاتے ہوئے اس طرح سے کون ہنستا ہے اور کھانے والی چیز نہیں کھائی جاتی تم سے ہوش کہاں تھا لڑکی وہ کی کمر سہلاتا آہستہ آہستہ بات کر رہا تھا جب اس کی سہیلی تیزی سے پانی لائی
یہ لو دانی پانی پیو وہ بے چینی سے پانی اسے دینے لگی جبکہ اس کی کھانسی ابھی تک رکی نہیں تھی
دماغ خراب ہے کیا تمہارا اس کی سانس اٹکی ہوئی ہے اور تم اسے پانی دے کر جان سے مارنا چاہتی ہواسے وہ دھاڑتے ہوئے بولا جبکہ دانی کا ہاتھ جو پانی کی جانب جا رہا تھا اچانک ہی رک گیا
اس کی سہیلی نے گھبرا کر پانی پیچھے کر لیا
کچھ نہیں ہوا تھا گھانسی رکے گی ابھی تو آرام سے پانی پی لینا اسے نارمل ہوتے دیکھ کر عالم نے سمجھاتے ہوئے کہا
تھینک یو سر کیا سچ میں ایسی کنڈیشن میں پانی نہیں دینا چاہیے اس کی سہیلی حیرانگی سے دیکھ کر پوچھنے لگی
جب سانس اٹکتی ہے پانی دینے سے سانس روک بھی سکتی ہے تھوڑا سا صبر اور سمجھداری سے کام لینا چاہیے وہ آنکھوں سے آنسو صاف کرتی اس کی باتیں سن رہی تھی
آپ وہی ہونا جس نے اس دن مجھے گاڑی سے ٹکر ماری تھی وہ اسے پہچانتے ہوئے بولی اس کا انداز بہت مٹھا تھا ۔معصومیات سے سجی آواز عالم کے دل کے تار چھیڑ لگی
اس کی بات پر عالم مسکرایا وہ اسے بھولی نہیں تھی عالم کے لیے یہ خوشگوار احساس تھا
ہاں وہی ہوں اس نے مسکرا کر کہا
تو لیجئے حساب برابر ہوگیا اس دن آپ کی وجہ سے میں مرتے مرتے بچی اور آج آپ نے مجھے مرتے مرتے بچا یا وہ معصومیت سے بولی تو عالم مسکرایا
آپ ہمارے کیمسٹر ی کے نیو ٹیچر تو نہیں ہیں ۔میں نے آپ کو کہیں دیکھا ہے شاید نیوز پیپر یا ٹی وی میں اس کی سہیلی نے پوچھا کیوں کہ آج ایک نیا ٹیچر آنے والا تھا جو پہلے دو بار یونیورسٹی چیک کرکے جا چکا تھا لیکن زیادہ لوگ اسے جانتے نہیں تھی
میرا نام عالم ہے عالم سلطان شاہ میں ایک بزنس مین ہوں اور شاہ انڈرسٹیز کا مالک ہوں ۔اس یونی میں میرا بھائی پڑھتا ہے اور آپ وہ دوسری لڑکی کو نظر انداز کرتا دانی۔ ۔۔ کو دیکھ کر کہنے لگا
دانین
میرا نام دانین ہے ۔
نین۔۔۔ "وہ زیرلب بڑبڑایا
نین نہیں دانین آپ مجھے دانی بھی کہہ سکتے ہیں وہ اپنا نام دوبارہ بتانے لگی
دانی تو تم سب کے لیے ہو عالم کے لیے تو اس کی "۔۔۔نین۔۔" ہو وہ اس کے کان کے قریب سرگوشی کرتا دلکشی سے مسکرایااس کے انداز پر دانین کے جسم میں سنسناہٹ سی ہوئی
کیا مطلب ہے آپ کی اس بےخودہ بات کا اس کے انداز پر اسے غصہ آیا تھا جب کہ اس کی چھوٹی سی ناک پر غصہ دیکھ کر عالم کےلبوں پر تبسم بکھر گیا
سمجھ جاؤ گی بہت جلدی ساری باتوں کا مطلب سمجھ جاؤ گی اس کے چہرے کی مسکراہٹ اب بھی قائم تھی
جبکہ وہ اسے غصے سے گھورتی اپنی سہیلی کا ہاتھ تھامتی وہاں سے نکل چکی تھی وہ اسے لوگوں کے منہ نہیں لگتی تھی
نفرت ہے مجھے ایسے گھٹیا لوگوں سے ذرا سی مدد کیا کر دی اپنی اوقات دکھانے پر آگیا وہ تیزی سے چلتی اچانک سامنے سے آتے لڑکے سے ٹکرائی تھی
یا اللہ رحم ۔۔وہ اپنا بازو سہلاتی اسے گھورتے ہوئے بولی
چلیں کی تمیز نہیں ہے کیا آپ کو اپنی دوست کو تکلیف میں دیکھ اقصیٰ بولی
روحان جو تیزی سے سیڑھیاں اترتا عالم کے آنے کی خبر سن کر نیچے جا رہا تھا اس لڑکی کو دیکھ کر رک گیا
تمہیں بہت تمیز ہے تو ہر راستہ بدل لو ہم تو ایسے ہی آتے جاتے ہیں اے اقصی کا انداز نہ گوار گزرا جبکہ دوسری چھوٹی سی لڑکی تو بالکل خاموش تھی لیکن اگر اقصیٰ کو جواب دینا اس نے اپنا فرض سمجھا اور اسے گھورتے ہوئے بولا
تو پھر آپ یہ لعنت قبول کریں وہ اپنے ہاتھ سے مکا بناتی اچانک کھول کر بولی اس کے انداز نے روحان کو غصہ دلادیا تھا
دیکھو لیٹل گرل چوٹ تمہیں گئی ہے اور بکواس یہ کر رہی ہے سمجھاؤ اپنی دوست کو میرے منہ مت لگے ورنہ چٹکیوں میں اوقات یاد کروا دوں گا
رونی بےبی تم کیا جاہلو کے وہ لگتے ہو جاو تمہارا بھائی تمہارا انتظار کر رہا ہے۔میں بھی چلتی ہوں رانیہ کی برتھ ڈے پارٹی ہے میرا جانا ضروری ہے اس کے پیچھے کھڑی دانیہ معارج دانین اور اقصیٰ کو گھورتے ہوئے بولی
دانین کسی سے بحث نہیں کرتی تھی نہ ہی سے لڑنا جھگڑنا پسند تھا وہ اقصیٰ کا ہاتھ پکڑ کر زبردستی اسے اپنے ساتھ چلنے کو کہہ رہی تھی وہ لڑاکو مزاج ہرگز نہیں تھی
نہ ہی وہ کبھی کسی کو جواب دیتی تھی عالم کی بات میں پہلے ہی اس کا دماغ گھوما کر رکھا تھا
چلو کلاس شروع ہونے والی ہے وہ اقصیٰ کا غصہ کم کرتی اس کا ہاتھ تھامیں اپنے ساتھ لے آئی
اقصی بھی اس پر لعنت بھیجتی دانین کے ساتھ آ گئی ایسے لوگوں کے منہ لگنے کا ویسے بھی کوئی فائدہ نہیں تھا
اور دانین اتنی حساس طبیعت کی مالک تھی کہ ذرا ذرا سی باتوں کو دل پر لے لیتی وہ اپنی دوست کو اچھے سے جانتی تھی اسے پتہ تھا کہ عالم کی اس بات نے اس کی رات کی نیند حرام کر دینی تھی
دیکھنے میں کتنا ڈیسنٹ اور روعب دار پرسنیلٹی کا تھا بات سنیں اس کی لعنت ہے ایسے لوگوں پر وہ مسلسل عالم کے بارے میں بات کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی جب کہ اقصیٰ پریشان ہو چکی تھی کیونکہ اب یہ بات دانی کے ذہن سے جلدی نہیں جانی تھی
°°°°°°
وہ آتے ہی عالم سے ملا تھا عالم نے بھی خوشی سے اپنے گلے لگایا
آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا کہ آپ آنے والے ہیں اگر بتا دیتے تو یہاں یونیورسٹی کی جگہ کہیں باہر ملتے
کیونکہ یہاں کوئی ایسا ہے جو زایار بھائی کو میری خبر دیتا ہے پتہ نہیں ان کو کیسے پتہ چل جاتا ہے میں کب کہاں کیا کرنے والا ہوں
اس نے عالم کو دیکھتے ہوئے کہا تو عالم اس کی بات نظرانداز کرتے ہوئے بولا
اسے چھوڑو جاودانی کو بلا کے لاوساتھ لنچ کرتے ہیں
وہ حکم دے رہا تھا
وہ تو ٹھیک ہے لیکن دانی تو جا چکی ہے اس کی کسی دوست کی برتھ ڈے ہے اس کی پارٹی ہے روحان نے جلدی سے بتایا وہ جلدی سے جلدی یہاں سے عالم کے ساتھ نکلنا چاہتا تھا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ یہ بات زایارتک جائے
لیکن میں تو اسپیشل وقت نکال کر دانی سے ملنے آیا ہوں مجھے اس سے ملنا ہے روحان یہ ضروری ہے تمہارے لئے بھی اور اس کے لئے بھی عالم نے سیریس انداز میں کہا
ادا ٹھیک ہے نا میں پرسوں آپ کو اس سے ملواؤں گا پرسوں میں اور وہ ڈیٹ پر جانے والے ہیں ہم ساتھ میں ڈنر کریں گے اسی بہانے آپ اس سے مل لیجئے گا روحان نے سوچتے ہوئے کہا وہ جھوٹ نہیں بول رہا تھا یہ سچ تھا کہ دانی آج اپنی دوست کی برتھ ڈے پرجانے کےلیے یونیورسٹی سے جلدی نکل چکی تھی
ٹھیک ہے میں پرسوں اس سے ملوں گا اور اس بار کوئی بہانہ نہیں اپنی گرل فرینڈ کو بھی بتا دینا کہ مجھے اس سے ملنا ہے ہر حال میں عالم روحان کو شک نہیں ہونے دینا چاہتا تھا اسی لئے اس کی بات مانتے ہوئے کہا
روحان نے صرف ہاں میں سر ہلایا اور اس کے ساتھ ہی یونیورسٹی سے نکل آیا تھا
ویسے تو وہ روزہوسٹل واپس عمر کے ساتھ جاتا تھا لیکن آج کسی وجہ سے آج عمر یونیورسٹی نہیں آیا تھا اور ایک لحاظ سے اس کے لیے اچھا ہی تھا کیوں کہ دانی عمر کو پسند نہیں کرتی تھی اور نہ ہی وہ اس سے ملنے دیتی تھی
°°°°°°
وہ دونوں ابھی لنچ کے لئے ہوٹل میں بیٹھے ہی تھے کہ روحان کا فون بجنے لگا
زایار کا فون آتے دیکھ اس کے ماتھے پر پسینہ آیا تھا اس نے ہر طرف دیکھا کہیں کوئی نہیں تھا تو زایار کو خبر کس نے دی
اسلام علیکم ادا کیسے ہیں آپ اس نے سنبھل کر عالم کے اشارے پر فون اٹھایا
وعلیکم سلام روحان میں ٹھیک ہوں تم اسی وقت یہی یونی کے دوسری طرف جلدی سے قریبی ہسپتال آ جاؤ چاچو کو کسی نے گولی ماری ہے وہ اس سے بس اتنی سی بات بتا کر فون بند کر چکا تھا
ادا بابا جان کو گولی لگی ہے مجھے بھی جانا ہوگا وہ بے چینی سے اٹھ کھڑا ہوا
لیکن عالم کو اس کا یہ انداز نہ گوار گزرا تھا وہ اسے ان لوگوں سے دور کرنا چاہتا تھا خاص کر صفدر شاہ سے
اس کا صفدر شاہ کے لیے تڑپنا اسے ہرگز پسند نہیں آیا تھا اس اولاد کے لیے اس کا اپنا چچا واصف سترہ سال سے پل پل تڑپ رہا تھا
پریشان مت ہو روحان سب ٹھیک ہوگا عالم سمجھاتے ہوئے بولا لیکن وہ کچھ بھی سمجھنے کو تیار نہیں تھا آنکھوں سے نمی بہنے کو تیار تھی
عالم کو مجبور ہو کر اٹھنا ہی پڑا
تھوڑی ہی دیر میں وہ اسے ہسپتال کے باہر اتارتا خود اپنے آفس کی جانب جا چکا تھا
اگر وہ چاہتا تو اپنے کسی بھی بندے سے دانی کے متعلق ساری انفارمیشن لے سکتا تھا
لیکن انفارمیشن دینے والا کبھی بھی اس انسان کے اندر کا حال نہیں جان سکتا تھا جبکہ عالم کسی کی بھی آنکھوں میں دیکھ کر جان سکتا تھا کہ وہ کس طرح کی فطرت کا مالک ہے
اسی لیے وہ اس کی انفارمیشن لینے کے بجائے خود اس سے ملنا چاہتا تھا
لیکن ہر بار کچھ نہ کچھ ایسا ہوجاتا کہ وہ اس سے ملاقات نہیں کر پاتا شاید پرسوں ملاقات ہو جائے ایک امید کے ساتھ عالم نے روحان کی زندگی باندھ رکھی تھی
°°°°
میرے بچوں میں بالکل ٹھیک ہوں بس گولی چھو کر گزر گئی ہے ان لوگوں کا ارادہ صرف مجھے ڈرانے کا تھا
سنیہا کو روتے دیکھ وہ اسے اپنے سینے سے لگائے سمجھا رہے تھے جبکہ روحان بالکل پاس بیٹھا آنکھوں میں آنسو لیے دیکھ رہا تھا
کون کہہ سکتا تھا کہ وہ ان کا سوتیلا باپ ہے ۔
بابا جان اب آپ کام نہیں کریں گے آپ گھر پر رہیں کوئی ضرورت نہیں ہے کسی سے دشمنی کرنے کی سنیہا سرخ آنکھیں اٹھائے انہیں دیکھتے ہوئے سختی سے حکم دے رہی تھی
اس کے لب و لہجے پر وہ مسکرائے
ویسے وہ چپ چاپ شرمائی شرمائی رہتی تھی مگر غصے میں پوری پاکیزہ پارٹ ٹو تھی
جو میری جان کا حکم لیکن میں کوئی دشمنی نہیں مول لے رہا تھا بیٹا یہ دشمنیاں تو اٹھائیس سال سے میرے ساتھ چل رہی ہیں
جو شخص ایمان داری سے اپنا کام کرتا ہے دنیا اس کی دشمن بن جاتی ہے لیکن آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں آپ کے بابا بہت بہادر ہیں
ایسے چھوٹے موٹے واقعات آپ کے بابا کو ان کے مقصد سے ہٹا نہیں سکتےاور روحان بیٹا مرد بنوبچوں کی طرح رونے والی عمر گزر چکی ہے روحان کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر وہ اسے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے بولے
اگر آپ کو کچھ ہو جاتا تو ہمارا کیا ہوتا بابا اس کی آنکھوں میں کب سے بیتاب آنسو نکل کر گال پر آ گئے تھے
جبکہ زقیار اور شیر چاچو کو ان دونوں کے ساتھ مصروف دیکھ کر باہر نکل آئے تھے
وہ تھوڑی دیر میں چاچو کو ڈسچارج کرنے والے تھے انہیں جب یہ خبر ملی کسی نے چاچو کو گولی لگی ہے تو شیر بھی گھر پر ہی تھا
سکندر شاہ کے بار بار پوچھنے پر شعر کوئی نہیں بتانا کے صدر چاچو کو گولی لگی ہے اور یہ بات سیڑھیوں سے اترتی سے نہانے سے ملی تھی جس کے بعد وہ ضد کرکے ان کے ساتھ چلی آئیں سارے راستے میں وہ روتی ہیں آئی تھی
وہ تو اللہ کا کرم تھا کہ چاچو بالکل ٹھیک تھے گولی بس بازوں کو ذرا سی چھو کر گزر گئی تھی
یہ ایک نیا کیس تھا جس میں سیاست کی کسی جانی مانی شخصیت کے بیٹے نے سڑک پر کسی کا ایکسیڈنٹ کرکے اسے جان سے مار ڈالا تھا
صفدر شاہ بہت چالاکی سے اس کیس کو جیت رہے تھے اور روز بروز تاریخوں سے بھی تنگ تھے آج وہ اس کیس کا فیصلہ سننے کے لیے جا رہے تھے کہ راستے میں ہی ان پر حملہ کردیا گیا
نتیجے اس وقت وہ ہسپتال میں تھے
لیکن ان کے حوصلے بلند تھے ان کا کہنا تھا کہ وہ شخص کو سزا دلوا کر رہیں گے سڑک پر چلنے والے انسان کوئی کیڑے مکوڑے نہیں کہ کوئی بھی آ کر کچل ڈالے
زایار کو اپنے چاچو کی سوچ پر فخر تھا اور وہ ہر قدم پر ان کے ساتھ تھاشیر نے گھر پہ فون کرکے سب کو ان کی خیریت بتائی تھی اور کہا تھا کہ رات تک وہ لوگ واپس آجائیں گے ۔
زایار ہسپتال کی مینجمنٹ سے ڈسچارج کے پیپر لینے جا چکا تھا
°°°°°
دن تیزی سے گزر رہے تھے سینہا اور لالی کے پیپر شروع ہوچکے تھے
پتہ نہیں اچانک کیا ہوا تھا جو بریرہ نے پازیب کو آنے سے منع کردیا
اس کے دس دن کے کام پر بریرہ نے اسے پورے مہینے کی تنخواہ دی تھی لیکن پریشانی اس بات کی تھی کہ صرف دس دنوں میں ہی ہادی اس کے بے حد قریب ہو چکا تھا
اور اب اس کی ضدی تھی کہ پازیب کو لاو لالی اور سنیہاکے پاس تو اس کے لئے بالکل وقت نہیں ہوتا تھا پیپر دینے کے بعد وہ ساری کلاس کی لڑکیاں مل کر اگلے پیپر کی تیاری کرتے شام پانچ بجے تک گھر واپس آتی تھی
اور آتے ہی تھکاوٹ سے اتنا برا حال ہوتا کہ انہیں کھانے پینے کا بھی ہوش نہیں رہتا ایسے میں ہادی کو ٹائم دینا ان کے لئے بے حد مشکل تھا
اور اوپر سے ہادی کی ایک ہی ضد تھی کہ اسے پازیب چاہیے بریرہ تو بہت پریشان کر گئی تھی یہ نہیں تھا کہ پازیب اسے بری لگتی تھی یا وہ اس سے نفرت کرتی تھی زایار نے اسے نوکری سے نکالنے کے لیے کہہ دیا تو اس نے نکال دیا
اور اب زایار نے اسے نیا حکم دینے والا تھا ۔تھوڑی دیر پہلے ہی ملازمہ نے آکر بتایا تھا کہ زایار اسے کمرے میں بلایا رہا ہے وہ فوراً کمرے میں آئی
زایاراس کے انتظار میں بیٹھا تھا اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہی وہ اپنی بات شروع کر چکا تھا
کل تم میرے ساتھ تمام گھر والوں کے سامنے یہ بات کہوگی کہ میں دوسری شادی کر رہا ہوں اور تمہیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہے تمہاری اس میں مکمل رضامندی شامل ہے
مطلب کہ وہ بندوق اس کے کندھے پر رکھ کر چلا رہا تھا
میں ایسا کیسے کر سکتی ہوں سارے گھر والے کیا سوچیں گے وہ تو الٹا مجھے ہی سمجھانے لگے گےکہ میں غلط کر رہی ہوں اور سب ہی جانتے ہیں کہ میں ایسا کوئی کام کبھی نہیں کر سکتی اس لیے بہتر ہوگا کہ آپ خود ہی یہ سب ۔۔۔۔
بند کرو اپنی بکواس زیادہ ڈرامہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے تم ان لوگوں کی سوچ کو آسانی سے بدل سکتی ہو
کوئی کیا سوچتا ہے تمہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے تم جو سوچتی ہو وہ دوسرے کے ذہن میں ڈالنے کی قابلیت رکھتی ہو
جاؤ اور سب کو کہہ دو کہ تم اپنی مرضی سے میری دوسری شادی کروانا چاہتی ہو خبردار جو سب کے سامنے مظلوم بننے کی کوشش کی اگر تم نے مجھے میرے گھر والوں کے سامنے ظالم دیکھا کر انہیں میرے خلاف کرنے کی کوشش کی تو یاد رکھنا بریرا بیگم مجھ سے برا اور کوئی نہیں ہوگا
اگر چاہتی کہ جو باتیں چھپی ہوئی ہیں کسی کے سامنے نہ آئے تو جو میں کہتا ہوں وہ کرتی جاؤ ۔ورنہ تم جانتی ہو کہ حقیقت کھلنے کے بعد کیا کیا ہوگا
مجھے کوئی سخت فیصلہ کرنے پر مجبور مت کرو ۔میں تمہاری حقیقت کھل کر بھی پازیب سے شادی کر سکتا ہوں
وہ اسے دھمکا رہا تھا بریرا کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے
آپ میری ایک غلطی کی کتنی سزا دیں گے مجھے وہ اپنے گال رگڑتے ہوئے بولی
غلطی۔۔۔۔۔ تم نے غلطی کی تھی ۔۔۔۔غلطی نادانی میں ہوتی ہے بریرہ بیگم جو تم نے کیا وہ غلطی نہیں تھی ۔۔اور نہ ہی تم نادان ہو
لیکن تمہیں لگتا ہے نا کہ تم نے غلطی کی تو خود سے پوچھو وہ اس کا ہاتھ تھامے اسے ایک ہی جھٹکے میں کھڑا کرتا شیشے کے سامنے دھکا دے چکا تھا
پوچھو خود سے جو تم نے کیا کیا وہ ایک غلطی تھی یہ تمہیں بتائیے گا جو تم نے کیا وہ غلطی نہیں بلکہ گناہ سے بھی بڑا گناہ تھا
تمہارے گناہوں کے سامنے تو سارے گناہ توبہ بھی کر لیں اور تم کہتی ہو کہ تم نے غلطی کردی
مجھے تو سمجھ میں نہیں آتا کہ اگر تم شرمندہ ہو تم پچھتا رہی ہو تو تم زندہ کیسے ہو
کیونکہ اتنا سب کچھ ہوجانے کے بعد تو تمہیں مر جانا چاہیے تھا
کوئی بھی انسان اپنے سینے پر اتنا بڑا بوجھ لے کر زندہ نہیں رہ سکتا ۔
وہ اسے گھورتے انتہائی نفرت سے بولا
جس دن تمہیں تمہاری غلطی گناہ لگنے لگے گی اور تمہیں احساس ہوگا کہ تم نے کیا کیا ہے اس دن تم زندہ نہیں رہ پاؤگی بریرہ
خیر تمہیں آج شام ہی سب کے سامنے اس بات کا اعلان کرنا ہوگا وہ خود کو ریلیکس کرتا باہر نکل چکا تھا جبکہ بریرہ اپنا عکس آئینے میں دیکھ کر نظر جھکا گئی
میں تمہیں آخری بار سمجھا رہا ہوں لالی اس بار اگر تم نے غلط کیا نہ تو یہ اسٹک میں تم پر توڑوں گا وہ اپنے ہاتھ میں پکڑی اسٹک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا تو لالی جو پہلے ہی اس کے ڈانٹنے پر آنسو ضبط کرتی لال ہو چکی تھی فوراً ڈر کر اپنی کتاب پر جھک گئی
کل ان کا آخری پیپر تھا
لالی تو بہت خوش تھی کہ اس کی جان چھوٹنے والی ہے لیکن اس مونچھڑنے کہاں اسے سکون کا سانس لینے دینا تھا
یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ اس مونچھڑ کے ہاتھوں وہ بچ جائے زایار کو بھی آج ہی ضروری کام نکلنا تھا
سنیہا تو شیر کے غصے سے شروع سے ہی خوف کھاتی تھی اور اسے اچھے بچوں کی طرح پڑھتی اسے سب کام ٹھیک کرکے دے رہی تھی
اپنی معصوم سہیلی پر ترس بھی بہت آ رہا تھا جو اس ہٹلر کے ہاتھ چڑھ گئی تھی
یہ کیا ہے ۔۔۔لالی میں تم سے پوچھ رہا ہوں یہ کیا ہے یہ سوال ابھی میں نے تمہیں 8 بار سمجھایا ہے
اور تم اسے پھر غلط کر رہی ہو کوئی اتنا کند ذہن کیسے ہو سکتا ہے
اگر یہی حال رہا تو تم پاس کیسے ہوگی اور کیا باقی پیپرز بھی تم نے اسی طرح دیئے ہیں وہ حیرانگی سے دیکھ رہا تھا
وہ جانتا تھا کہ وہ نالائق ہے لیکن حالات اتنے خراب ہیں اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا
ببب ۔۔۔بس ۔۔بببب۔ ۔بہت ہوگیا ۔۔ممم۔ ۔۔مجھے ۔۔۔نہیں پڑھنا ۔۔۔آآآ۔آپ کے پاس ۔۔جا جا جا رہی ہوں میں یہاں ۔۔۔۔۔۔۔سے وہ اپنا سرخ چہرا ہتھیلیوں سے رگڑتی اٹھ کھڑی ہوئی آنسو لڑک کر گال پہ آ گئے تھے جنہیں وہ بے دردی سے صاف کر رہی تھی
بیٹھ جاؤ آرام سے ملازم نہیں لگا ہوں تمہارے بھائی کا وہ مجھے یہاں بیٹھا کر گیا ہے اپنی جگہ یہ سارے ڈرامے تم اپنے بھائی کے سامنے کرنا بیٹھ جاؤ
اور یہ رونا دھونا بند کرو ایک تو آتا جاتا کچھ ہے نہیں اور بیٹھ کر رونا دھونا شروع کر دیتی ہے
اور یہ روٹھ کر جانے والے ڈرامے اپنے بھائی کے سامنے کرنا میرے سامنے نہیں اگر تم اس پیپز فیل ہوئی نا تو کسی کا لحاظ نہیں کروں گا میں اپنی نیند برباد کر کے یہاں بیٹھا ہوں تمہیں پڑھانے کا شوق نہیں ہے مجھے
سنیہابیٹا تمہارا ہو گیا جا کر سو جاؤصبح پیپر دینے جانا ہے وہ سنیہا کو اٹھنے کا کہنے لگا جبکہ لالی کو ابھی تک چھٹی نہیں ملی تھی
وہ سر اسے بیٹھنے کا اشارہ کر رہا تھا
اس کی سرخ نیند سے بھری آنکھوں سے ڈر کر وہ فوراً دوبارہ بیٹھ گئی جبکہ سنیہا کو اپنے کمرے میں جانا تھا کیوں کہ شیر اسے جانے کا کہہ چکا تھا اور اب وہ اپنی سہیلی کی کوئی مدد نہیں کر سکتی تھی
ادھر دیکھو آخری بار سمجھا رہا ہوں اگر اس بار غلط ہوا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا نظر اوپر کرو بعد میں رونا دھونا وہ سر جھکائے آنسو بہا رہی تھی جب شیر نے شیر کی دھاڑ سے کہا
وہ اس کے قریب کھڑے ہوکر سوال سمجھنے کی کوشش کرنے لگی ایک تو نیند سے برا حال تھا دوسرا اسے ڈر بھی لگ رہا تھا اور رونا بھی آ رہا تھا ایسے میں خاک ہی اس کے پلے کچھ پڑنا تھا
لیکن یہ بات تو اس نے طے کر لی تھی کہ اب آگے پڑھائی ہی چھوڑ دے گی پتا نہیں کب یہ شیر ٹیچر بن کر متھے لگ جائے
کرو اب تم حل کرکے دکھاؤ وہ اسے بیٹھنے کا کہتا دوبارہ سوال اس کے سامنے رکھ چکا تھا جس کو وہ ایک بار پھر سے آپنے ہی طریقے سے حل کرنے لگی
یہ زایار نہیں تھا جسے وہ باتوں میں بہلا پھسلا کر وقت گزار لیتی یہ تو فضول بات بھی نہیں کرنے دیتا تھا
قلم رکنا نہیں چاہیے وہ کب سے اسے کاپی پر جھکے سوال کو گھورتے دیکھ کر بولا تو لالی بوکھلا کر فوراً پن چلا نے لگی
لکھنا کیا تھا کیا نہیں اس کے بالکل ذہن میں کچھ نہیں تھا
اس کے الٹے سیدھے الفاظ پر شیر نے اگلے ہی لمحے کاپی اس کے ہاتھ سے چھین لی تھی
کیا زندگی میں کوئی ایسا لمحہ آسکتا ہے جب میں یہ سوچوں
کہ میں عقل آ گئی ہے فضول لڑکی یہ کیا حرکت ہے اب تک تمہارے دماغ میں کچھ نہیں گھسا
دل کرتا ہے رکھ کر لگاؤں دو سر میں درد ہو گیا ہے لیکن اس کے سر میں گھسا کچھ نہیں وہ اٹھا کر کاپی صوفے پر پھینک چکا تھا
جاؤ جا کر چائے بنا کر لاؤ وہ آرڈر دیتا اپنا سر دبانے لگا لالی سوں سوں کرتہ اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے اسے گھورنے لگی اس کا چہرہ اور چھوٹی سی ناک رونے کی وجہ سے بے تحاشا سرخ ہو چکی تھی
بہری ہو آواز نہیں آرہی جاؤ جا کر چائے بنا کر لاؤ اس بار وہ غصے سے دہارا تو لالی 120 کی سپیڈ سے نیچے بھاگ گئی تھی
بیوقوف لڑکی کل یہ پیپر دے کر آئے گی اور نہ جانے جو دیے ہیں ان میں کون سے کارنامے سر انجام دے کر آئی ہے
یا اللہ اس لڑکی کے ساتھ میرے فیوچر پر رحم فرمانا وہ دونوں ہاتھ دعا کے لیے اٹھاتا آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا اور اس کی کاپی اٹھا کر کوئی آسان طریقہ نکالنے لگا اس کی دماغ میں بات گھسانے کا
جس میں اب وہ کافی حد تک کامیاب بھی ہو گیا تھا ہو سکتا ہے اس طریقے سے یہ سوال اسے سمجھ آ جاۓ اسے پڑھاتے ہوئے اسے زیادہ خود محنت کرنی پڑ رہی تھی
اتنا پریشان تو وہ اپنے پیپرز کے دوران نہیں ہوا تھا اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ ایف ایس سی تک پہنچی کیسے
تھوڑی ہی دیر میں وہ سوں سوں کرتی چائے کا کپ ٹیبل پر پٹک چکی تھی
اس کی سرخ آنکھیں اور ناک سے سوں سوں کرتے دیکھ شیر کے دل میں ہلچل سی پیدا ہوئی ہری ہلچل تو تب سے ہو رہی تھی جب سے وہ اسے پڑھ رہا تھا اس کے آنسو نے اچھا خاصا بے قرار کر دیا تھا
اگر وہ اس وقت اس کی دسترس میں ہوتی تو اپنے لبوں سے آنسو چن کر اسے اپنے سینے سے لگا کر پرسکون کرتا
لیکن فی الحال وہ اس کے آنسو صاف کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتا تھا
اس کے چہرے کو دیکھتا وہ سوچوں کی گہری کھائی میں اتر رہا تھا جب اچانک ہی اس کا فون بجا ایک جھٹکے کے ساتھ وہ سیدھا ہوا
لاحول ولا قوۃ ۔۔۔یل کیا سوچ رہا تھا وہ اپنے آپ پر لاحول پڑھتا فون دیکھنے لگا
شیر نے ٹیبل پر ایک چاکلیٹ پھینکی جو اس کی چائے کے کپ کے بالکل ساتھ گری تھی
جلدی سے کھاؤ اسے تب تک میں فون سن کے آتا ہوں پھر پڑھائی شروع کرتے ہیں وہ اٹھ کر باہر نکلنے لگا جب اسے ناراضگی سے بھرپور آواز سنائی دی
مجھے نہیں چاہیے وہ سوں سوں کرتی اپنی کتاب پر جھک گئی شیر بنا کچھ بولے ٹیبل کے پاس آیا چوکلیٹ جیب میں ڈالی ساتھ ہی اپنی چائے کا کپ اٹھایا اور باہر نکل گیا
اس کی اس حرکت پر لالی کو مزید رونا آنے لگا
یہ کون سا طریقہ تھا منانے کا وہ روتی ہوئہ دوبارہ کتاب پر جھک گئی اب اسے ایک اور غم بھی تھا اس کے نخرے نہیں چلے تھے اور چوکلیٹ جا چکی تھی
کاش نخرے دکھانے کی بجائے چوکلیٹ اٹھا لیتی ڈانٹ کا غم ہی کم ہو جاتا
لیکن اب کیا ہو جب چڑیاں چگ گئیں کھیت وہ اداسی سے دوبارہ اپنی کتاب پر جھک کر سوال حل کرنے کی کوشش کرنے لگی تھوڑی دیر میں واپس آیا تو وہ صوفے کے ساتھ رکھے گہری نیند میں اتر چکی تھی
اس نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اتنا سخت جھٹکا دیا کہ وہ ہربڑا آ کر اٹھ بیٹھی
پڑھائی کے لیے ایک جھٹکا کافی ہے یا ایک اور دوں اور کس کی اجازت سے سو رہی تھی جب تک یہ سوال حل نہیں ہوتا تم سو نہیں سکتی وہ اسے ایک بار پھر سے سوال کی طرف متوجہ کر گیا
وہ چاۓ پی چکا تھا اور لالی بناکچھ بولے کر سوال حل کرنے لگی ابدر افسوس ہی افسوس تھا کاش وہ چوکلیٹ لے لیتی
اس بار اس نے بہت دل لگا کر سوال حل کرکے اسے دیا وہ آہستہ آہستہ سوال چیک کرتا کافی خوش ہو رہا تھا لیکن آدھا سوال صحیح اور باقی غلط تھا لیکن یہ بھی غنیمت سے کم نہ تھا اسے کچھ تو سمجھ آیا تھا
بہت اچھی کوشش ہے اس نے تھوڑی امید سے کہا تھا لالی خوش ہوگئی جیسے اس نے سارا سوال ٹھیک کر دیا ہو
بس ہوگیا جان چھوٹ گئی اب میں جا رہی ہوں سونے
خبردار جومجھے روکا ۔۔۔
اور خبردار جو مجھے ڈانٹا ۔۔۔
اور حبردار جو کبھی مجھے پڑھانے آئے۔۔۔۔
مجھے نہیں پڑھنا آپ کے پاس میرے اپنے ادا بیسٹ ہیں
اللہ پوچھے گا معصوموں کے ساتھ ظلم کرنے پر اللہ کبھی معاف نہیں کرتا
اس کا روز آخرت الگ سے حساب ہوگا
وہ بناتی اٹھنے لگی جب شیر نے اس کی امیدوں پر پانی پھیر کر اسے دوبارہ بیٹھنے کے لیے کہا
کاش اللہ اس بات کا بھی حساب لے کے عاشق پر سرخ نگاہوں سے وار کیوں کیے گئے وہ زیر لب بڑبڑاتا وہ بک اس کے سامنے پھر سے کھول چکا تھا
میں نے کہا کوشش اچھی ہے یہ نہیں کہا کہ ٹھیک کیا ہے دوبارہ کرو وہ اسے گھورتے ہوئے بولا لالی کی شکل رونے جیسی ہوگی
کیا گناہوں کی سزا اسی کو کہتے ہیں اس نے سوچا
لیکن وہ تو معصوم تھی اس نے بھلا کون سے گناہ کیے تھے جس کی سزا اسے اس شخص کی صورت مل رہی تھی
زقیارادا میں آپ سے پکی والی ناراض ہوں وہ دل ہی دل میں زایارسے مخاطب ایک بار پھر سے سوال حل کرنے لگی
رات کے تین بج چکے تھے فائنلی لالی کا سوال حل ہوگیا شیر کو تھوڑا سا سکون ملا تھا
اسے بنا شاباشی دیے وہ اٹھ کھڑا ہوا اس کے سات گھنٹے برباد کرنے کے بعد اگر وہ کچھ سمجھ گئی تھی تو وہ شاباشی کی حقدار ہرگز نہیں تھی
لیکن لالی کو اس کا یہ انداز بالکل اچھا نہیں لگا تھا
وہ خاموشی سے کتابیں بند کرنے کا کہتا اٹھ کر باہر نکل گیا جبکہ لالی منہ بناتی بیڈ پرڈھیر ہوتی نیند کی وادیوں میں گم ہونے یہ والی بھی کے اس کے ہاتھ سے کوئی چیز ٹکڑائی
اس نے فورا اٹھا کر دیکھا یہ وہی چوکلیٹ تھی جو وہ لینے سے وہ انکار کر چکی تھیں اس کی آنکھیں چمک اٹھی تھی اس نے جلدی سے چاکلیٹ کھولی
تین ہی بائٹ کے اندر اسے ہضم کرتی بیڈ پر لیٹ گئی اب اسے پرسکون نیند آنی تھی ورنہ شاید خو اب میں بھی یہ چوکلیٹ آ کر اس سے سوال کرتی کہ تم نے مجھے لینے سے انکار کیوں کیا
اور پھر لالی کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا لیکن اب شاید وہ اپنے خوابوں میں اس چوکلیٹ کے ساتھ کپل ڈانس کر رہی ہوگی
تقریبا دس منٹ کے بعد شیر دوبارہ کمرے میں آیا وہ اپنا فون یہی بھول گیا تھا
اس نے ایک نظر بیڈ پر بے ترتیب پڑی لالی کو دیکھا جس کے لبوں پر چاکلیٹ لگی ہوئی تھی وہ بے اختیار مسکرا کر اپنا فون اٹھانے لگا خود کو بہت روکنے کے باوجود بھی وہ اس کے قریب جانے سے خود کو روک نہیں سکا
اس نے آہستہ سے اپنی جیب سے رومال نکالا اور اس کے ہونٹ صاف کیے
میری لالی میری جھلی۔ محبت پاش نظروں سے اسے دیکھتا لائٹ آف کرتا کمرے سے باہر نکل آیا
میں بہت جلدی یہ فاصلے مٹا ونگالا لی تمہارے بغیر گزارا کرنا واقع ہی مشکل ہوتا جا رہا ہے وہ خود سے کہتا اپنے کمرے کی طرف قدم بڑھانے لگا
°°°°°
آخری پیپر دے کر وہ پرسکون سی ڈرائیور کے ساتھ گھر واپس آ رہی تھی ساری ٹینشن ختم ہوگئی تھی لالی نے پہلی بار اپنے بل بوتے پر سارا پیپر دیا تھا
جس پر سینہا نے اسے دل کھول کر داد دی
آج شام کو وہ اس کے ساتھ باغ چلنے کے لیے بھی تیار ہو گئی تھی پچھلے کچھ دنوں سے وہ بہت ضد کر رہی تھی کہ اسے باغ میں جانا ہے
لیکن سنیہا پیپر کی ٹینشن کی وجہ سے کہیں نہیں جا رہی تھی لیکن آج پیپر ختم ہوتے ہی اس نے خود لالی کو کہا کہ شام کو باغ میں چلیں گے جس پر لالی کھل چکی تھی
وہ اپنی باتوں میں مگن جب اچانک ڈرائیور نے بریک لگا کر گاڑی روکی اور تیزی سے گاڑی سے نکل کر سامنے والی گاڑی والے کو کچھ کہنے لگا
راستے سے ہٹائیں گاڑی چھوٹے سرکار
یہ کون سا طریقہ ہے ڈرائیور دبے سےلہجے میں کہنے لگا
یہ ترات حیدر شاہ کا طریقہ ہے جس راستے سے ہم آتے ہیں وہ ہمارا ہو جاتا ہے گاڑی ہٹاؤ ورنہ اس ریوالور کی چھ گولیاں تمہارے دماغ میں اتار دوں گا وہ اپنے ہاتھ میں پکڑے ریوالور سے اسے ڈراتے ہوئے بولا نجانے کیوں شاہ حویلی کے ملازمین کو ڈرتا دیکھ سے بہت خوشی ہوتی تھی
اور اس بار بھی ایسا ہی ہوا تھا
ٹھیک ہے ہم گاڑی ہٹا رہے ہیں لیکن یہ نہ کریں چھوٹے سرکار گاڑی میں بیبیاں بیٹھی ہیں خوف زدہ ہو جائیں گیں
ہم نہیں چاہتے بچیاں ڈر جائیں وہ بہت عاجزی سے بولا توتراب نے ایک نظر گاڑی میں موجود دو کالی چادر ڈالی تھی
ایک چہرے کو تو کروڑوں میں پہچان سکتا تھا
اس نے ایک نظر گھورکر اپنے خبری کو دیکھا وہ تو بس تھوڑی دیر انٹرٹین ہونے کے لئے شاہ حویلی کے ملازم کو ڈرا رہا تھا
اگر اس سے اندازہ ہوتا کہ گاڑی میں اس کی جان سے عزیز ہستی موجود ہے تو وہ ایسی حرکت کبھی نہ کرتا
نکلو یہاں سے وہ ریولوار والے ہاتھ سے اشارہ کرتا اسے جانے کا کہہ رہا تھا جبکہ سنیہا
خوفزدہ سی اپنے چڑیا جیسے دل پہ ہاتھ رکھے ریولوار والے ہاتھ دیکھ رہی تھی
جب کہ لالی بھی اچھی خاصی خوفزدہ ہو چکی تھی اس کا سارا ٹینشن پشن حویلی کی حدود تک تھا باہر کیا ہوتا ہے کیوں ہوتا ہے اسی کوئی لینا دینا نہ تھا
کیا ہوا چاچا سب خیریت تو ہے ڈرائیور کو واپس گاڑی میں آ کر بیٹھے دیکھ لالی نے فکر مندی سے پوچھا تو چاچا مسکرا دیئے
ہاں بی بی چھوٹے سرکار ہم سے کوئی بات کر رہے تھے اسی لیے راستے میں ہمارا انتظار کر رہے تھے کوئی ڈرنے والی بات نہیں ہے وہ بہانہ کرتے ہوئے کہنے لگے وہ ہرگز یہ بات زایار یا شیرکے کانوں تک نہیں جانے دے سکتے تھے اگر ایسا ہوتا تو پھر نہ جانے کیا ہوتا
°°°°°
پیپر ختم ہونے کے بعد اب وہ پرسکون ہو چکی تھی آج باغ جانے کا ارادہ تھا لیکن اماں نے منع کردیا اور کہا کہ کل ہادی کو بھی لے جانا ہادی بھی ان کے ساتھ آنا چاہتا تھا لیکن اسے بخار تھا
اور اگر وہ ہادی کے سامنے چلی جاتی تو اس کا دل ٹوٹ جاتا اپنے پیپر سے فارغ ہوکر تو وہ اپنا سارا وقت اس گڈے کے ساتھ ہی گزرنے والی تھی
سب نے یہی کہا تھا کہ پازیب کو اچانک نوکری سے نکال دینے کی وجہ سے ہادی کا یہ حال ہوا ہے دس دن ہی سہی لیکن وہ ہادی کے بے حد قریب ہو چکی تھی
وہ یادی کے لئے اتنی عزیز ہو چکی تھی کہ جب تک وہ اس سے روز ملتا اسے سکون نہیں آتا
پہلے ہادی نے ضد کرکے رکھیں کہ اسے پازیب چاہیے اور ہر طرف سے جب اسے نہ امیدی نظر آئیں تو اپنے آپ کو ہی بیمار کر لیا
زایار اپنے بیٹے کی بیماری کا سن کر کمرے میں آیا تو اسے بیڈ پر لیٹا دیکھ کر اس کے پاس ہی لیٹ گیا
کیا بات ہے میرا بچہ اتنا بیمار کیوں ہو گیا وہ ا سے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے بولا تو ہادی ایک نظر اسے دیکھ کر کہنے لگا
کوٙی بھی ہادی سے پیار نہیں کرتا کوئی اس کے ساتھ نہیں کھیلتا
ہادی کے بہن بھائی بھی نہیں ہیں جن کے ساتھ وہ کھیلے اپنی ٹوئٹس شئیر کرے
جس کے ساتھ ہادی باتیں کرے
سب لوگ اپنے اپنے کاموں میں لگے رہتے ہیں ہادی کو کوئی پیار نہیں کرتا وہ اس کے سینے پر سر رکھ کے آہستہ آہستہ بول رہا تھا جب کہ وہ اس کی معصومانہ باتیں سنتا اس کے سر پر ہاتھ پھیر رہا تھا
آپ کو پتہ ہے پازیب بادی پیار کرتی تھی اس کے ساتھ کھیلتی تھی باتیں کرتی تھی
پھر گندی ماما نے اس کو بھی بھیج دیا
ہادی کی کوئی دوست نہیں ہے ہادی کو پازیب چاہیے وہ ہادی کی دوست ہے وہ ہادی سے پیار کرتی ہے ہادی کے ساتھ کھیلتی ہے اس سے باتیں کرتی ہے وہ ایک ہی سانس میں بولتا چلا گیا
صرف ہادی کو نہیں بلکہ ہادی کے بابا کو بھی پازیب چاہیے اس نے مسکراتے ہوئے ہادی کا ماتھا کیوں اور پھر اٹھ کر کھڑا ہوا
بابا جانی آپ کہاں جا رہے ہو وہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا تو زایار نے جھک کر اس کے دونوں ہاتھ چومیں
ةادی کے بابا ہادی کی دوست کو ہمیشہ کے لئے لینے جا رہے ہیں کچھ ہی دن میں ہادی کی دوست ہمیشہ کے لئے ہادی کے پاس آ جائے گی
سچی بابا اس کی بات پر وہ اچانک بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا
موچی بابا کی جان وہ اسے اپنے سینے سے لگاتا میڈیسن دے کر باہر آ گیا تھا ہال میں سب باتوں میں مصروف تھے
بریرہ نے اچانک ہی بے ساختہ نظر اس کی جانب دیکھا جو کافی دیر سے اسے دیکھ رہا تھا اور اس کا اگلا اشارہ سمجھتے ہی بریرہ گھبرا کر سب گھر والوں کو دیکھنے لگی اور پھر بہت ہی ہمت کرکے سب کو مخاطب کیا
°°°°°°°
سکندر شاہ صفدر شاہ اور شاہزار شاہ تینوں بھائی اس کی طرف متوجہ ہوئے
جی بیٹا جی کہیں کیا کہنا چاہتی ہیں سکندر شاہ نے اپنی لاڈلی بہو کو دیکھتے ہوئے کہا جو کافی گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی
اس کی گھبراہٹ پر سب لوگ ہی اسے دیکھنے لگے
جبکہ زایاز آہستہ آہستہ چلتا پر سکون ساسامنے لگے صوفے پر بیٹھ کر ٹیبل سے چائے کا کپ لیے یہ سارا منظر انجوائے کرنے لگا
دیکھیں آپ لوگ میرے فیصلے کو غلط مت سمجھئے گا میں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہے وہ تمہید باندھتے ہوئے بولی بات وہ سب سے کر رہی تھی لیکن دیکھ صرف اور صرف سکندرشاہ کو رہی تھی جنہوں نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے اس کی حوصلہ افزائی کی
آج سے سات سال پہلے میری اور زایار کی شادی جن حالات میں ہوئی ہوں کسی سے بھی چھپی ہوئی ہے نہیں
زایار ے ہر طریقے سے میرے ساتھ نباہ کرنے کی کوشش کی لیکن میں دیکھ سکتی ہوں کہ زایار میرے ساتھ خوش نہیں ہیں
میں چاہے کتنی بھی کوشش کرلوں ان کے معیار پر پوری نہیں اترتی
زایار کسی سے کچھ نہیں کہتے بس خاموشی سے یہ زندگی جی رہے ہیں ایک ناپسندیدہ زندگی لیکن کب تک میں ان سے محبت کرتی ہوں انہیں اس طرح سے گھوٹ کر جیتے نہیں دیکھ سکتی۔وہ کہتی ہوئی اپنے ہی الفاظ پر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
تمہاری ان سب باتوں کا کیا مطلب ہے بریرہ بیٹا صاف بات کرو اس کے رونے پر سکندر شاہ بے چینی سے پوچھنے لگے
تایا ابو پلیز میری بات مانیں ۔مجھے انکار مت کیجئے گا میں بہت آس لے کر آئی ہو
آپ زایار کی دوسری شادی کرا دیں مجھے کوئی اعتراض نہیں میں خود ایسا چاہتی ہوں زایار بھی دوسری اولاد کے خواہشمند ہے اور میں اپنی بیوقوفیوں کی وجہ سے ان کی کوئی خواہش پوری نہیں کر سکتی
میں نے بہت غلطیاں کی ہیں تایا ابو لیکن زایار نے مجھے ہر حامی کے ساتھ قبول کیا یہاں تک کہ وہ میری وجہ سے اپنی محبت سے منہ مورے بیٹھے ہیں نکاح کے شرائط میں یہ شرط تھی کہ وہ جب چاہے دوسرا نکاح کر سکتے ہیں لیکن آپ سب کی خوشی کے لیے انہوں نے ایسا نہیں کیا
لیکن میں ان کو ان کی محبت سے محروم نہیں کر سکتی میں ان کو دوسری شادی کی اجازت دیرتی ہوں اور آپ لوگ اعتراض نہیں کریں گے پلیز وہ روتے ہوئے سکندرشاہ کے قدموں میں بیٹھی ان کی منتیں کر رہی تھی
زایار نے آئی برو اچکا کر اسے داد دی
تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا بریرہ خود پر سوتن لانے کی باتیں کر رہی ہو ایسا ممکن نہیں ہے اور اگر ایسا کچھ ہوتا تو زایار خود کہتا ہم سے کہ وہ کسی سے محبت کرتا ہے وہ اسی سے شادی سے خوش ہے اور ایسے ہی رہنے دو سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے
سکندر شاہ اسے اپنے قدموں سے اٹھاتے ہوئے بولے تو اس نے نفی میں سر ہلایا
وہ خوش نہیں ہیں یہ میں جانتی ہوں اور ان کی خوشی کے لئے آپ سے جھولی پھیلا کر بھیک مانگتی ہوں وہ اپنا دوپٹہ بھی پھیلانے لگی سکندر شاہ نے ہی لمحے اسے اپنے سینے سے لگا لیا
نہ میری بچی نہ تیرا تایا اتنا کم ظرف نہیں ۔تو جو چاہتی ہے وہی ہوگا لیکن یوں جولی کپھیلا ر شرمندہ نہ کر
کیا تمھارے شوہر کی بیچ میں رضامندی شامل ہے وہ زایار کو دیکھتے ہوئے کہنے لگے جو ان سب چیزوں سے کٹ کر پوری طرح اپنی چائے کے کپ کی طرف متوجہ تھا
سات سال پہلے ایک تھپڑ کی صورت انہوں نے زایارسے اپنے ہر رشتے کو ختم کیا تھا اور پھر زایار نے بھی جیسے ان سے ہر تعلق ختم کر دیا سات سال سے وہ باپ بیٹا ایک دوسرے سے متوجہ نہیں ہوئے تھے
اپنی محبت سے بھلا کون انکار کرتا ہے وہ آنسو صاف کرتے ہوئے بولی تو سکندر جان ہاں میں سر ہلایا زایار کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ ابھیپری
وہ اٹھ کھڑا ہوا ۔ٹھیک ہے بریرہ کل تیار رہنا اب سب کچھ تمہیں ہی سنبھالنا ہےآخر تم اپنی مرضی سے میری شادی کر رہی ہو میری شادی تک بعد میں سب کچھ میری دوسری بیوی سنبھال لے گی
وہ ایک مسکراہٹ ہال میں موجود سب افراد پراچھالتا سرشار سا باہر نکل گیا جب کے بریراسکندر شاہ کے سینے سے لگی پھوٹ پھوٹ کر روتی رہی

گھر میں کچھ تو ہوا تھا سب لوگ پریشان تھے
کوئی گڑ بڑ تو تھی لالی صبح اٹھ کر باہر آئی تھی اس نے گھر میں ایک خاموشی سی محسوس کی تھی
بریرہ بھابھی کی آنکھیں سوجی ہوئی تھی
کچھ تو ہوا تھا گھر میں جو سنیہا اور لالی کو نہیں بتایا گیا تھا کل تک تو سب کچھ ٹھیک تھا
بھابھی آپ اتنی اداس کیوں ہیں وہ ناشتے کی میز پر بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی پیپر ختم ہونے کے بعد وہ لیٹ ہی جاگیی تھی
میری جان میں کہاں سے اداس ہو گئی بس رات کو نیند نہیں آئی اس لیے شاید تمہیں ایسا لگ رہا ہو گا بریرا نرمی سے اس کے بال سہلاتی ہوئی بولی لیکن اس کی مسکراہٹ میں بھی لالی کو دکھ نظر آ رہا تھا
نہیں آپ اداس ہیں مجھے پتا ہے آپ بہت روئی ہیں بتائیں مجھے کیا ہوا ہے وہ پریشانی سے بریرہ کے بازو تھام کے اسے ساتھ ہی بٹھاچکی تھی
میری جان بلا مجھے کیا ہوگا کچھ نہیں ہوا سب ٹھیک ہے وہ اس سے نظریں چراتے ہوئے بولی ۔
نہیں سب ٹھیک نہیں ہے کچھ ہوا ہے آپ اداس ہے اور آپ بہت زیادہ روئی بھی ہیں آپ کی آنکھیں سوجی ہوئی ہے بتائیں مجھے کیوں رو رہی ہیں آپ کو ادا نے آپ کو ڈانٹا ہے
وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی اس کی اتنی اچھی بھابھی اداس تھی تو مطلب یہی تھا کہ غلطی کہیں نہ کہیں اس کے بھائی کی ہے
مجھے تمہارے ادا کیوں ڈانٹیں گے کچھ بھی نہیں ہوا تم بس ایسے ہی پریشان ہو رہی ہو بتایا تو سہی رات کو ٹھیک سے نیند نہیں آئی تھی سر میں درد تھا اس لیے شاید تمہیں ایسا محسوس ہو رہا ہے
سر میں درد تھا تو مجھے کیوں نہیں بتایا میں جاگ کر آپ کے لئے چائے بناتی اور میرے ہاتھ کی شفا والی چائے پی کر آپ فورا ٹھیک ہو جاتیں اب دیکھیں ناں کتنی تھکی تھکی لگ رہی ہیں ایسا لگ رہا ہے جیسے ساری رات روتے ہوئے گزاری ہے
اور مجھے آپ کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں لگ رہی آپ یہاں بیٹھیں یہ کام میں کر دیتی ہوں وہ اسے زبردستی بٹھا کر کہنے لگی
اس کی بھابھی اس کا کتنا خیال رکھتی تھی اسے ذرا سے تکلیف نہیں ہونے دیتی تھی زایار کے ساتھ جڑے ہر رشتے کو اس نے پوری ایمانداری سے نبھایا تھا
سنیہا اور لالی اگر کبھی بیمار ہو جاتیں تو وہ ساری رات جاگ کر ان کا خیال رکھتی وہ بچپن سے ان کے ساتھ نہیں تھی بلکہ اپنی ماں کے ساتھ پیرس میں رہتی تھی ۔حویلی تو وہ تب آئی جب اس کی ماں نہیں رہیں
اور حویلی والوں کی محبت اور توجہ نے اسے بہت جلد پیرس کے آزادانہ ماحول سے حویلی کے رنگ روپ میں ڈھال لیا تھا
اسے حویلی سے بہت محبت ملی تھی اور اسی حویلی سےاسے اس کی محبت تھی زایار شاہ کا ساتھ بھی تو نصیب ہوا تھا
حویلی والے اسے بہت چاہتے تھے اسی لیے تو اس کی غیر دماغی اور اداسی کو نوٹ کر چکے تھے ہر کوئی اس کے پاس آ کر اسے دلاسہ دے چکا تھا
پاکیزہ بیگم کو یہ سب بہت مشکل لگ رہا تھا وہ اس وقت سے گزر آئیں تھیں جب شوہر بے وفائی کرتا ہے
بنا کسی وجہ کے ساتھ چھوڑ دیتا ہے ۔انہیں اپنا وقت بھولا نہیں تھا انہیں بنا کسی گناہ کی سزا سنائی گئی تھی اور آج بریرا کے ساتھ بھی تو وہی ہو رہا تھا ۔وی بھی بنا کسی گناہ کی سزا کاٹنے جا رہی تھی
رات زایار کا لب و لہجہ ہی ظاہر کر گیا تھا کہ بریرا کے اس فیصلے میں اس کی مرضی شامل ہے بلکہ صرف اسی کی مرضی ہے
لیکن اس نے بریرہ پر دباؤ ڈال کر یہ بات کروائی ہے اور اس کے بعدبریرہ کا پھوٹ پھوٹ کر رونا سب گھر والوں کو پریشان کر گیا
سکندر شاہ نے تو کہہ دیا کہ وہ ایسا کچھ نہیں ہونے دیں گے زایار دوسری شادی نہیں کر سکتا اگر وہ اپنی پہلی بیوی کے حقوق ادا نہیں کر سکتا تو اسے دوسری بیوی لانے کا بھی کوئی حق نہیں
وہ اس کی دوسری شادی کسی بھی قیمت نہیں ہونے دیں گے
کوئی بھی ان کی بیٹی کا حق نہیں چھین سکتا ٹھیک ہے وہ مانتے تھے کہ نکاح اسی شرت پر ہوا تھا کہ زایارجب چاہے دوسری شادی کر سکتا ہے اور یہ شرط بھی تب انہوں نے خود رکھی تھی
لیکن اس طرح سے یوں اچانک دوسری شادی کا فیصلہ سب کو پریشان کر گیا تھا سات سال تک تو زایار نے ذکر بھی نہ کیا وہ ان سب کے سامنے بالکل نارمل کپل کی طرح رہتے تھے
سکندر شاہ کو یقین تھا کہ بریرا نے اپنی محبت سے زایار کو اپنی طرف متوجہ کرلیا ہے انہیں یقین ہوگیا تھا کہ وہ دونوں خوشحال ازدواجی زندگی گزار تو پھر اچانک ایسا کیا ہوگیا کہ زایار دوسری شادی کرنے جا رہا تھا
سکندر شاہ کا غصے سے برا حال تھا لیکن بریرہ نے سکندر شاہ کو اس بارے میں زایار سے بات کرنے سے منع کر دیا اور اپنی قسم دی کہ زایار دوسری شادی کرے گا اور کوئی بھی اس اس معاملے میں کچھ نہیں کہے گا
سات سال سے زایار کے ساتھ گزارنے کے بعد بھی حقیقت یہی تھی کہ وہ زایارکو حاصل نہیں کرپائی تھی اور نہ ہی اس کے دل میں اپنے یہ جگہ بنا پائی تھی۔
وہ اپنے شوہر کو اپنی طریقے سے روک نہیں سکتی تو قصور اس کا تھا اس زایار کا نہیں۔شادی کی پہلی رات سے ہی زایار ایک خول میں قید تھا اور وہ اس کا خول توڑ نہیں پائی تھی
اگر اس کی محبت سچی تھی زایار کو اب تک اس کی طرف لوٹ آنا چاہیے تھا سکندر شاہ کو اس کی قسم نے باندھ دیا تھا
۔اس نے سب گھر والوں کے سامنے کہہ دیا تھا کہ وہ زایار کو دوسری شادی کی اجازت دے چکی ہے اور نکاح نامے پر شرط کے مطابق وہ اسے روکنے کا کوئی حق نہیں رکھتی اور بہت جلد زایار کا رشتہ مانگنے پازیب کے گھر پہ جائے گی
یہ بات سب گھر والوں کو شاکڈ کر گئی تھی زایار نہ صرف خود اپنے راستے الگ کر رہا تھا بلکہ اسے بھی تکیف سے دو چار کر رہا تھا یہاں صرف صفیہ بیگم ہی تھیں جہیں بریرہ پر ترس نہیں آیا تھا ۔بلکہ وہ اپنے بیٹے کے آگے بڑھنے پرخوش تھیں
یہ ساری باتیں سنیہا اور لالی کے کانوں میں نا پڑیں تھیں اور ان کو بتانے سے بھی منع کر دیا گیا تھا اس لیے وہ ان سب چیزوں سے بالکل انجان ہیں لیکن پھر بھی گھر میں چھائی حاموشی ان کے لئے بھی سوالیہ نشان بنی ہوئی تھی
°°°°
یار مجھے سمجھ نہیں آرہا کچھ تو گڑبڑ ہے بھابھی اداس ہیں۔گھر میں سب پریشان ہیں ہمیں کوئی کچھ بتا ہی نہیں رہا کچھ تو ہوا ہے یار لالی سنہا کے سامنے بیٹھتے ہوئے بولی جب کہ سنیہا بھی یہی سب کچھ سوچ رہی تھی
گھر میں چھائی خاموشی انہیں پریشان کر رہی تھی
جب کہ پاس لیٹا ہادی بالکل بے فکری سے انہیں سن رہا تھا
ہادی کیا تمہارے سامنے کوئی ایسی بات ہوئی ہے وہ اپنے خبری سے پوچھنے لگی
نہیں میرے سامنے تو کوئی بات نہیں ہوئی لیکن بابا جانی نے مجھے ایک سیکرٹ بتایا
‏وہ اس کے کان میں پھسپھساتے ہوئے بولا
جلدی سے بتاو ہمیں بھی سیکرٹ ہمیں بھی تو پتہ چلے آپ کے بابا جانی نے آپ کو کیا بتایا ہے لالی نے فوراً اسے اپنی گود میں لیتے ہوئے کہا
او ہو پھوپھو سیکرٹ ہے اس طرح سے نہیں بتایا جاتا اس کی عقل پر ماتم کرتے ہوئے بولا
ایک تو تم بھی نا تمہیں پتا تو ہے اسے سیکرٹ نہیں بتائے جاتے سنیہا اپنے بیگ سے چاکلیٹ نکالتی ہادی کے سامنے کرتے ہوئے بولی
ہادی کی آنکھیں چمکی تھی
لیکن پھوپھو سے کچھ بھی نہیں چھپاتا اگلے ہی لمحے وہ سنیہا کی گود میں بیٹھ کر اس کے ہاتھ سے چاکلیٹ لے چکا تھا
تو پھر اب ہادی جلدی سے بتائے گا کہ کون سا سیکرٹ اسے پتہ تھا اسے یقین تھا کہ کوئی فضول سی بات ہی ہوگی لیکن ہادی سے دوبارہ دوستی کرنے کے لئے وہ کافی محنت کر رہی تھی کیونکہ وہ ان سے سخت خفا ہو چکا تھا
ہر تھوڑی کے بعد اسے یاد آجاتا کہ اپنے ایگزایم کی وجہ سے وہ اس سے بالکل ٹائم نہیں دے رہی تھی جو اس کی ناراضگی کی وجہ بن جاتا
گھر میں کیا چل رہا تھا وہ پتہ کرنا تو مشکل تھا لیکن ہادی کے ساتھ وقت گزار کے وہ دونوں اسے خوش کرنے میں مصروف تھیں
بابا نے ہادی سے پرومس کیا ہے کہ وہ پازیبک و ہمیشہ کے لئے یہاں لے آئیں گے وہ بھی پکاپکا وہ رات کو بھی اپنے گھر نہیں جائے گی وہ خوشی سے چاکلیٹ کھاتے ہوئے بولا تو ان دونوں کو جھٹکا لگا
مبارک ہو مونچھڑ کی شادی ہونے جا رہی ہے بھابھی نے میری بات پر عمل کیا میں نے آئیڈیا دیا تھا مونچھڑ کی شادی کا لالی فخر سے اپنے فرضی کالر کھڑے کرتے ہوئے بولی
دماغ خراب ہے کیا ایسا ممکن نہیں ہے مونچھڑ میرا مطلب ہے شیر ادا کسی سے شادی نہیں کریں گے وہ جلدی سے بولی تو لالی آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی
کیوں نہیں کریں گے شادی کسی سے بھی وہ حیرانگی سے دیکھتے ہوئے پوچھتا لگی
ارے میرا مطلب ہے پازیب سے شادی نہیں کریں گے وہ بھلا پازیب سے شادی کیوں کریں گے پازیب تو ان سے بہت چھوٹی ہے نا
زایار ادا نے ایسے ہی اسے خوش کرنے کے لئے بول دیا ہوگا تم تو جانتی ہو نہ پازیب سے کتنا زیادہ اٹیچ ہو گیا تھا اسی لیے کہہ دیا ہوگا وہ اس کی بات نظر انداز کرتے ہوئے بولی دونوں کا پوائنٹ اب بھی وہی تھا حویلی میں ایسا کیا ہوا ہے کہ سب لوگ اتنے پریشان ہے
لالی نے سوچا کہ کیوں نہ اپنی اماں سے پوچھ لے لیکن جوتے کھانے کا ارادہ کینسل کر کے تو پاکیزہ چاچی کی طرف جانے کا ارادہ کر چکی تھی جو کچھ بھی آج صبح سے کمرے سے نہیں نکلی تھی
°°°°°
وہ پاکیزہ چاچی کے روم میں چلے جا رہی تھی جب اچانک سامنے سے آتے چٹان نما وجود سے ٹکراتے ٹکراتے بچی
اسے دیکھ کر اچانک ہی اسے آخری پیپر والی رات یاد آگئی اس کے بعد سے وہ دونوں ایک دوسرے سے مخاطب نہیں ہوئے تھے
لالی اسے دیکھتے ہی چہرہ پھیر جاتی اور کھل کر ناراضگی کا اظہار کرتی تھی جبکہ شیر بھی اس کی ناراضگی کو کوئی خاص اہمیت نہیں دے رہا تھا
آنکھیں کھول کر چلا کرو لڑکی اگر تمہارے ان ہاتھوں سے میری شرٹ خراب ہوتی نا تو ابھی کے ابھی دھواتا تم سے وہ اسے گھورتے ہوئے بولا اور ساتھ ہی اس کے چوکلیٹ سے بھرے ہاتھ دیکھے
گندی نہیں ہوئی نہ آپ کی شرٹ اور نہ ہی میرا ہاتھ لگا پھر مجھ سے اس طرح سے بات کیوں کر رہے ہیں جب دیکھو ڈانٹتے رہتے ہیں ہٹیں راستے سے مجھے پاکیزہ چاچی کے کمرے میں جانا ہے وہ ناراضگی سے بولیں
تم ناراض ہو مجھ سے وجہ جان سکتا ہوں
وہ اس کی بات کو نظرانداز کرتے ہوئے بولا آخر کار آج اس نے اس کی ناراضگی کو اہمیت دے رہی تھی
نہیں جان سکتے وجہ اب راستے سے ہٹاہیں ۔وہ ناک چڑاتی غصے سے بولی
جیسے تمہاری مرضی بعد میں مجھ سے شکایت مت کرنا کہ میں نے پوچھا نہیں تھا وہ راستہ چھوڑ ےے ہوئے بولا تو لالی نے غسے سے اسے گھورا
مطلب حد نہیں ہوگی یہ کون سا طریقہ منانے کا
آپ نے مجھے اس رات اتنا زیادہ ڈانٹا تھا
اور مجھ پر ڈنڈا توڑنے کی بات بھی کی تھی
اور یہ بھی کہا تھا کہ دو لگاؤں گا دو کان کے نیچے
اور کہا تھا کہ میں نالائق ہوں کند ذہن ہو مجھے کچھ آتا جاتا نہیں وہ فوراً اسے وجہ بتانے لگی
لالی کے لیے اپنی ناراضگی اہمیت رکھتی تھی ۔اس کا شیر کو پتہ ہونا چاہئے کہ وہ ناراض ہے اور کیوں ناراض ہے وجہ جان کر اسے منانا بھی چاہیے ۔کیونکہ اسے منانا تو سب حویلی والوں کا فرض تھا
ہاں تو اس میں غلط کیا ہے وہ اپنے بازو سینے پر باندھتے ہوئے پوچھنے لگا تو لالی نے جھٹکے سے نظریں اٹھائیں
آپ نے مجھے اتنا ڈانٹا اس میں کچھ غلط نہیں ہے اس کی بات پر آنکھیں پھیلائے ہوئے بولی تو شیر نے آئی برو اچکائے
تم نے ڈانٹ کھائی اپنی ذہانت کی وجہ سے اور میں سچ میں دو لگانے والا تھا شکر کرو کہ بچ گئی میرے ہاتھوں سے لیکن اگر تم نے میری تیاری کروائے ہوئے یپر میں سے کچھ غلط کیا تو وہ حال کروں گا جو ساری زندگی یاد رکھو گی
وہ رعایت دیے بغیر بولا
اپنی پڑھائی پر غور کرو نکمی لیتی تم نالائق کند ذہن اور بد دماغ لڑکی ہو کوئی چیز تمہارے دماغ میں نہیں گھستی محنت کرو وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولا
نہیں مجھے نہیں کرنی اور نہ ہی آگے پڑھائی کرنی ہے میں بابا کو بتا چکی ہوں اب میں آگے نہیں پڑھوں گی میں پڑھائی چھوڑنے والی ہوں وہ اپنا فیصلہ سناتے گردن اکڑاکر بہت فخر سے بتا رہی تھی جیسے بہت عظیم کارنامہ سرانجام دینے والی ہو
گڈ لیکن اپنے دماغ سے یہ غلط فہمی نکال دو کہ میں تمہیں پڑھائی چھوڑ نے دوں گا گریجویٹ تو تمہیں ہونا ہی پڑے گا وہ اسے دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنے والے انداز میں بولا تو لالی ناک سے مکھی اڑائی
میں اپنی زندگی کا فیصلہ کر چکی ہوں اور فیصلہ یہی ہے کہ مجھے آگے نہیں پڑھنا اور اس معاملے میں کوئی بھی مجھ پر زبردستی نہیں کر سکتا مجھے آپ جیسے ہٹلر ٹیچر نہیں چاہیے آپ کے پاس پڑھنے سے بہتر ہے بندہ پڑھائی ہی چھوڑ دے
وہ کہہ کر جاتے جاتے ہوئے سیڑھیاں اترنے لگی ارادہ سیدھا چاچی کے کمرے میں جانے کا تھا
پڑھائی تو تمہیں کرنی پڑے گی لالی
میں خود پر کسی کو باتیں بنانے کا موقع نہیں دے سکتا کیا کہیں گے سب لوگ خود میڈیکل کی ڈگری لے کر بیٹھا ہے ۔اور بیوی نے ایف ایس سی بھی مرمرکے کیا ہے نومیری جانو تمہیں تو گریجویشن کرنا ہوگا اگر سیدھی انگلی سے نہیں تو الٹے ہاتھ سے سہی جو کان کے نیچے لگیں گے تو اپنے آپ دماغ میں پڑھائی کا کیڑا جاگ جائے گا
وہ اس کی کمر پر لہراتی لمبی چوٹی کو چاچی کے کمرے میں غائب ہونے تک دیکھتا رہا ۔
°°°°
تم تیار ہو وہ اپنے کمرے میں داخل ہوتے بیڈ پر بیٹھے بریرہ کو دیکھ کر پوچھنے لگا
کس چیز کی تیاری اسے اچانک خود کو مخاطب کرتے دیکھ وہ پوچھنے لگی
کس چیز کی تیاری کا کیا مطلب ہے میں نے تم سے کیا کہا تھا ہم پازیب کے گھر چل رہے ہیں اس کے انجان بننے پر وہ غصے سے دہاڑا
زایار آپ بہت جلدی کر رہے ہیں میں نے آپ کو بتایا وہ منگنی شدہ ہے وہ کھڑی ہو کر سمجھانے لگی
جب تک ہم ان کے گھر میں پہنچیں گے وہ منگنی شدہ نہیں رہے گی اٹھو جلدی سے تیاری کرو وہ ایک بار پھر سے حکم دیتا اپنے موبائل پر مصروف ہوگیا
اس کا مطلب ہے کہ آپ نے اس کی منگنی توڑنے کا کوئی طریقہ ڈھونڈ لیا ہے لیکن زایار یہ بھی تو ممکن ہے کہ وہ کسی اور کو چاہتی ہو۔میرا مطلب ہے جس سے اس کی مگنی ہوئی ہے۔وہ پریشانی سے بولی
وہ صرف مجھے چاہے گی۔میں اسے کسی اور کو چاہنے کی اجازت نہیں دیتا ۔اور اب ایک اور فضول بات نہیں ۔تیاری کرو
اس کو سمجھانا مشکل تھا لیکن وہ پازیب کو کسی مشکل میں نہیں ڈال سکتی تھی
فضول بات ہی سہی زایار لیکن میں آپ سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ کوئی بھی انسان اپنی بیٹی کی شادی کا ایک ایسے شخص سے کیوں کرے گا جس کی پہلی بیوی موجود ہو اور چھ سال کا ایک بچہ بھی ہو اب بریرہ براہ راست اس سے پوچھنے لگی ۔آخر کب تک برداشت کرتی
وہ جانتی تھی کہ وہ لوگ ایسے شخص سے رشتہ کرنے سے پہلے ہزار بار سوچیں گے وہ خود پازیب کی تائی امی سے مل چکی تھی جو ایک بہت اچھی خاتون تھیں اور پازیب کو بے حد چاہتی تھیں وہ بلا پازیب کی شادی کیوں کرتیں ایک ایسے انسان سے جس کا چھ سال کا بچہ بھی تھا
اور پہلی بیوی بھی ساتھ موجود بھی
فکر مت کرو اگر انہوں نے پہلی بیوی کو طلاق دینے کی شرط رکھی تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔وہ لمحے میں اسے اس کی اوقات بتاتے ہوئے بولا بریرہ نے شکوہ بھری نظروں سے دیکھا ۔کتنی فالتو تھی وہ اس کی زندگی میں
زایار آپ میری بات کو سمجھ نہیں رہے میں آپ کو سمجھانا چاہتی ہوں ایک بار میری بات پر غور تو کریں یہ اتنا آسان نہیں ہے جتنا آپ سمجھ رہے ہیں آپ بہت جلدی کر رہے ہیںخ
بس بہت ہوا بریرہ میں نے کہا کہ تیاری کرو اس کا تمہیں سمجھ نہیں آرہا بیکار میں دماغ خراب کیے جا رہی ہوجاو جا کر سب گھر والوں کو بتاؤ وہ اسے گھورتے ہوئے بولا
کوئی بھی آپ کے ساتھ آنے کے لئے تیار نہیں ہے زایار گھر میں کوئی بھی اس بات سے خوش نہیں ہے آپ کی دوسری شادی کسی کو کوئی خوشی نہیں دے رہی
تایا ابو نے آپ کے ساتھ چلنے سے منع کر دیا ہے اور نہ ہی وہ آپ کی شادی میں شریک ہوں گےاور گھرکے کسی اور فرد سے آپ ایسی امید مت رکھیے گا وہ اسے حقیقت بتاتی اٹھ کر جانے لگی جب اگلے ہی لمحے زایار نے اسے بازو سے دبوچ کر اپنے قریب کیا
فضول عورت دکھا دی اپنی اوقات کر دیا سب کو میرے خلاف یہی چاہتی تھی نہ تم اسی لئے رات کو اتنے ڈرامے کر رہی تھی وہ سارا منظر دیکھ کر میں پہلے ہی سمجھ گیا تھا کہ تمہارے دماغ میں کیا چل رہا ہے
بڑی محبت کے دعوے کرتی پھر رہی تھی تم تو یہ ہے تمہاری محبت میرے جانے کے بعد کتنی دیر تک ان سب کےسامنے آنسو بہاتی اپنی مظلومیت کا رونا روتی ہوتی رہی کتنی دیر جاری رکھا وہ سارا ڈرامہ کر دیا سب کو میرے خلاف مل گیا سکون لیکن ایک بات کان کھول کر سن لو
میرے پازیب آپ سے شادی کر کے رہوں گا گھر میںنکسی کی مرضی شامل ہو نہ ہو وہ میری زندگی میں آئے گی ہر قیمت پر آئے گی چاہے تم کتنی بھی گیم کھیلو تم اسے میری زندگی سے نکال نہیں سکتی ۔اب میں تمہارے ساتھ اپنی زندگپی برباد نہیں کروں گا۔وہ میری محبت ہے جیسے حاصل کرنا میرا جنون ہے یاد رکھنا
وہ آئے گی میری زندگی میں اور تم خود اسے میری زندگی میں لاؤگی کوئی میری شادی میں شریک ہوتا ہے یا نہیں ہوتا مجھے فرق نہیں پڑتا تم ہو گی
یہ شادی میں سادگی سے نہیں کروں گا بلکہ دھوم دھام سے ہوگی اور اس کی ہر رسم میں سب سے آگے تم ہو گی
میری دلہن کو میرے لیے تم سجا کر لاؤگی
میری سیج بھی تم سجاؤ گی اور وہاں میری پازیب کو میرے لئے رخصت کروا کے تم لاؤ گی اور تم ایسا کرو گی تمہیں کرنا ہو گا وہ اس کا منہ دبوچتا اس لے چہرے پر پھینکارا تھا
بس کریں زایار میں ایسا کچھ نہیں کروں گی آپ مجھے مارنا چاہتے ہیں نا تو ایسے ہی مار سے یوں قسطوں میں تڑپا تڑپا کر کیوں مار رہے ہیں آپ جانتے ہیں میں آپ سے کتنی محبت کرتی ہوں آپ کو کسی اور کے ساتھ دیکھنا میرے لیے قیامت سے کم نہیں
کیا میرے لیے یہ سزا کافی نہیں ہے کہ میں اسے آپ کی دلہن کے روپ میں دیکھوں گی
اسے سوتن کے روپ میں قبول کروں گی
کیا میرے لیے یہ سزا کافی نہیں ہے کہ وہ یہاں میری جگہ ہوگی کیا میرے لیے یہ سزا کافی نہیں جیسے میں جان سے زیادہ چاہتی ہوں وہ کسی اور کا ہونے جا رہا ہے
زایار میں تو ویسے بھی آپ کو کسی اور کا ہوتے دیکھ کر مر ہی جاؤں گی لیکن مجھے تڑپاتڑپا کرنا ماریں
مجھ سے نہیں ہوگا یہ سب کچھ آپ شادی کرلیں مجھے اعتراض نہیں لیکن اس سب میں مجھے مت گھسٹیں
آپ کو کسی اور کا ہو تا سوچ کر یہ میری جان جا رہی ہے اور آپ مزید میری جان لینا چاہتے ہیں وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی اس کے سینے سے لگ چکی تھی
جبکہ زایار ساکت کھڑا اسے سن رہا تھا اس کے ایک ایک لفظ کو بہت غور سے اپنی سماعتوں میں اتار رہا تھا ۔
آج اس کا دکھ اس کی تکلیف سچی تھی وہ سچ میں تڑپ رہی تھی اس کی جدائی کے ڈرنے اس کے دل پر بہت سخت وار کیا تھا
وہ تو کبھی بھی اس کا تھا ہی نہیں لیکن ایک مان تو تھا کہ وہ اس کا ہے اور آج وہ اس سے وہ مان بھی چھین رہا تھا
وہ اس کے سینے سے لگی تڑپ تڑپ کر رو رہی تھی
زایار نے آہستہ سے خود سے پیچھے کیا اور نرمی اسے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے اس کا چہرا دیکھا
جانتی ہو بریرہ میں نے آج تک تم سے زیادہ بری ڈرامے باز عورت نہیں دیکھی ۔لیکن مجھ پر تمہارے ان ڈراموں کا کوئی اثر نہیں ہوگا تمہارے پاس دس منٹ ہے جلدی سے تیاری کرو
پھر تم میرے لیے میری پازیب ایک کو مانگنے میرے ساتھ چلو گی میری شادی میں کوئی اور شرکت کرے یا نہ کرے لیکن تمہیں ہر رسم میں میرے ساتھ کھڑا ہونا ہے ۔اب میری محبت میں تم اتنا تو کرو گی نہ محبت میں تو انسان دوسرے انسان کی خوشی کے لیے کچھ بھی کر جاتا ہے
وہ اس کے آنسو صاف کرتا گال تھپتھپاتا وہاں سے نکل گیا
بریرہ خاموشی سے آنسو پیتی اپنے لیے کپڑے نکالنے لگی زایار فیصلہ کر چکا تھا اور اب اسے زایار کے اس حکم کو ماننا تھا چاہے کچھ بھی ہو جائے
وہ ضد کا پکا تھا جانتی تھی کہ اگر وہ ایسے نہیں مانی تو اسے جان سے مار کر اس کی لاش کو اپنے ساتھ لے کر جائے گا۔ا لیکن اسے ہر قیمت پر ساتھ جانا ہوگا۔وہ اپنے دل پر پتھر رکھتی طہرے پر جھوٹی مسکان سجانے لگی ۔
ہر طرف پریشانی تھی کوئی نہ کوئی برُی خبر اس کے انتظار میں تھی پچھے کچھ دن سے وہ کانٹوں پر جی رہی تھی ۔وہ کہاں جانتی تھی کہ بریرہ بیگم سے پچاس ہزار لے کر وہ یوں لوگوں کی نظروں کا شکار ہوگی
تائی امی تو پیسے لوٹنے بھی گئیں تھیں لیکن بریرہ نے سمجھایا یہ ان کے علاج کے لیے ہیں جو اس نے نیک نیتی سے دیئے ہیں ۔اور اب وہ واپس نہیں لے سکتی ۔
تائی امی وہ پیسے گھر تو لے آئیں لیکن وہ کہاں جان تھیں کہ پیسے ان کی اور پازیب کی زندگی میں عذاب بن جائے گے
کچھ دن پہلے ان کی بہن نے آ کر انہیں بہت باتیں سنائی اور پازیب سے انگوٹھی واپس لے گئی ۔کیونکہ حویلی میں ان کے محلے کی کوئی عورت بھی کام کرتی تھی ۔جس نے بتایا تھا کہ اس کو بنا کسی وجہ کے نوکری سے نکال دیا گیا ہے ۔اور جاتے ہوئے پچاس ہزاربروپے بھی دئیے ہیں
نجانے حویلی والوں نے اپنے کون سے کالے کارنامے چھپانے تھے کہ اسے پچاس ہزار جیسی بڑی رقم دی ۔کچھ تو گڑبڑ تھی ۔خوبآورت تو وہ بہت تھی ۔محلے میں عجیب عجیب باتیں ہو رہی تھی اس نے تو گھر سے نکلنا ہی چھوڑ دیا تھا
ہر کسی نے اس بات کا اپنا ہی مطلب نکلا تھا اور کچھ دن پہلے وہ بھی آئیں تائی امی کی بہن نے بھی اپنی ذہانت کے مطابق مطلب نکالا اور گھر آ کر رشتہ ختم کر دیا ۔اس کے بعد سے گاوں کے پر گھر سے عورتیں آ کر اس کے بداغ دامن پر داغ لگا چکیں تھیں
اور آج ناصر بھی آیا تھا۔اس کی تائی امی کی بہن کا بیٹا جس کے ساتھ انہوں نے اسے باندھ دیا تھا تاکہ ان کے جانے کے بعد کوئی اس کا سہارہ ہو ۔لیکن اس نے بھی آج وہی سب کہا جو وہ اتنے دنوں سے سن رہی تھی
°°°°
ایسے نہیں ٹوٹتی بچپن کی منگنیاں ناصر تم تو میری بچی کو سمجھو تم تو خود یہ رشتہ لے کے آئے تھی تم تو اس کو پسند کرتے ہو ۔۔وہ تمہاری منگیتر ہے ایک سال میں نکاح ہو جائے گا اور تم یوں اچانک منگنی توڑ کر کہیں جا رہے ہو
تائی امی کا غصے سے برا حال تھا جب کہ سامنے کھڑے ناصر کو ان سب چیزوں سے کوئی مطلب نہ تھا
کون سی شادی کون سا نکاح خالہ جیسے میں تو جانتا ہی نہیں کام کرنے کے لئے اسے بڑی حویلی بھیج دیا اور اور وہاں کے سیٹوں کا دل بہلا کر اسے میرے سر باندھ رہی ہو ناصر حقارت سے دیکھتے ہوئے بولا تو تائی امی کا تو دماغ ہی گھوم گیا
انہوں نے غربت میں پازیب کو پالا تھا لیکن پالا پوری ایمانداری کے ساتھ تھا وہ تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتیں تھیں جس طرح کا گھٹیا الزام ان کا بھانجا ان کی ذات پہ لگا رہا تھا اس کی گھٹیا بات سن کر ان کا ہاتھ اٹھا اور ناصر کا چہرہ سرخ کر گیا
وہ تو نجانے کتنے دنوں سے سب سے لڑ رہیں تھیں اس کے لیے اور آج ان کا بھانجا بھی وہی سب کہہ رہا تھا
لعنت ہے تیرے جیسے گھٹیا انسان پر خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ تو نے پہلے ہی اپنا مکرو چہرہ دیکھا دیا
ورنہ پازیب کو تیرے ساتھ بہا کر ساری زندگی بچانا پڑتا کہ میں نے اپنی معصوم بچی تجھ جیسے بغیرت کے حوالے کردی
جا نکل جا میرے گھر سے وہ خبردار آج کے بعد اس دہلیز پر قدم رکھا
وہ انتہائی غصے سے دھکا دیتے ہوئے کہنے لگیں۔
میں تو کیا خالہ اب تیری اس دہلیز پر کوئی نہیں آئے گا کوئی نہیں آئے گا تیری پازیب کو بہانے اب یہ حویلی والوں کے منہ لگ چکی ہے
اب دنیا کا کوئی شخص نہیں آئے گا تیری دہلیز پر اس سے بیاہ رچانے مجھے تو اس کے وجود کو دیکھتے ہوئے بھی اسے نفرت ہو رہی ہے کہ ایسا معصوم چہرہ ہے اور کیسے ذلیل کام کرواتی ہے تو اس سے کھل کر کیش کی ہے تو نے اپنے دیور کی اولاد اور اب تو اسے میرے متھے مل رہی ہے
لیکن حقیقت نہیں چھپتی خالہ پورا گاؤں پوچھ رہا ہے یہ نوکری کرنے گئی تھی تو دس دن میں واپس کیوں آ گئی کہیں پیر بھاری تو نہیں ہو گیا
ایسا بھی کیا ہو گیا ایسے حویلی کی بیگمات نے دس دن برداشت کیا اسے ۔میں پوچھتا ہوں دس دن کا کام کرکے آئی ہے تو ہاتھ میں پچاس ہزار روپے کہاں سے لائی تھیں ۔
حویلی والوں کا کوئی بوجھ تو گرانے کے پیسے نہیں تھے
ایک چھ سال کے بچے کو سنبھالنے کے اتنے پیسے کوئی نہیں دیتا نہ تو وہ اس سے کوئی ملازمت کرواتے تھے اور نہ ہی کوئی اور کام صرف اور صرف یہ اس بچے کو سنبھالتی تھی
خیر چھوڑو یہ تو منہ کی باتیں ہیں وہاں پتہ نہیں کس کس کو سنبھالتی رہی۔پتہ نہیں حویلی کے کس کس سیٹھ کے جذبات بھی سنبھال کر آئی ہے اسی بوجھ کو ختم کرنے کے ہوں گے وہ پچاس ہزار
تبھی تو صرف دس دن میں بڑی بی بی نے اسے پچاس ہزار روپے دے کر کر نوکری سے نکال دیا۔اب ان پچاس ہزار کو خصم نہ کر جانا دیکھنا یہ نہ ہو کہ اس پچاس ہزار کا رزلٹ بھی دو تین دن میں نکل آئے
چٹاخ ۔چٹاخ۔ گھٹیا ذلیل انسان دفع ہو جاؤ یہاں سے نکل جا میرے گھر سے میری معصوم بچی پر الزام لگانے والے کیڑے پڑِیں تجھے کتے کی موت مرے تو وہ آپے سے باہر ہوتیں ڈنڈا آٹھ آنے ہی والیں تھیں کہ نا صر ان پرتمسخرانہ انداز میں ہنستا وہاں سے نکل گیا
باہر گلی کے ہر مکان میں کوئی نہ کوئی جھانکتا ان کا یہ تماشہ دیکھ رہا تھا تائی امی شرمندگی سے دروازہ بند کر گئیں
اور جلدی سے چلتی ہوئی پازیب کے کمرے کی جانب آئی ۔لیکن وہ کمرے میں نہیں تھی وہ پریشانی سے اسے ڈھونڈنے لگیں
°°°°°
پازیب میری بچی کیا کرنے جا رہی ہے تو دروازہ کھول اسے کمرے میں نہ دیکھ کر وہ کچن کی جانب بھاگ گئیں تھیں جہاں وہ کچن کا دروازہ بند کیے خود پر تیل چھڑک رہی تھی
پازیب دروازہ کھول یہ کیا بیوقوفی کرنے جارہی ہے تو
لوگوں کی باتوں کا اتنا اثر کیوں لے رہی ہے میری بچی کوئی تجھے کچھ بھی کہے تائی تیرے خلاف نہیں ہو سکتی میں جانتی ہوں میری بچی معصوم ہے
تائی امی سینا پیٹتے ہوئے اسے روکنے کی کوشش کر رہیں تھیں اونچی اونچی آواز میں چلانے کے باوجود کوئی مدد کے لیے نہیں آ رہا تھا
نہیں تائی امی مجھ منہوس کے لیے آنسو نہ بہائیں میرے پیدا ہوتے ہیں میرے ماں باپ دنیا سے چل بسے اپنے تایا کو کھا گئی میں میری منحوسیت کی وجہ سے آپ اپنی اولاد سے محروم ہوگئیں میرے لئے آنسو نہ بہائیں
میری وجہ سے آپ سر اٹھانے کے قابل نہیں رہیں مجھے یہ ضد کرنی ہی نہیں چاہیے تھی ہر کوئی آتا ہے باتیں سنا کر چلا جاتا ہے میں کہاں جانتی تھی کہ بریرہ بیگم کے دیئے پچاس ہزار مجھے اتنی بڑی مصیبت میں ڈال دیں گے میں خود سے نظر ملانے کے قابل نہیں رہی
وہ نیک عورت صرف میری مدد کرنا چاہتی تھی ۔لیکن وہ بھلا کہاں جانتی تھی کہ اس کے لیے پچاس ہزار روپے میری عزت پر کیچڑ اچھال دیں گے
یا اللہ مجھے معاف کر دینا میں تیرا سب سے ناپسندیدہ کام کر رہی ہوں لیکن ان جاہلوں کے سامنے جینا میرے بس سے باہے ہے اس دن رضیہ خالہ کی باتوں سے مجھے پہلے سے اندازہ ہو گیا تھا کہ کیا ہونے والا ہے
۔اور آج ان کے بیٹے نے آکر رشتہ ختم کرتے میری ہر امید ہرآس توڑ دی میں آپ پر بھی بوجھ بن گئی تائی امی میں آپ کی بیٹی نہیں آپ کے لیے ذلالت کا سامان ہوں اس دنیا نے مجھ سے جینے کا حق چھین لیا ہے
مجھے پالنے کے لیے آپ نے کتنی محنت کی ہر کسی سے میرے لیے لڑی اور آج میں آپ کے لئے گالی بن گئی مجھے معاف کر دیجیے گا تائی امی میں آپ پر بوجھ بن کر زندگی نہیں گزار سکتی اگر ہو سکے تو مجھے معاف کر دیجیے گا لیکن خود پر لگے ان الزامات کی بنا پر میں زندہ نہیں رہ سکتی
میں قسم کھاتی ہوں بڑی حویلی کے کسی مرد نے مجھ پر غلط نظر نہیں ڈالی وہ سب بے قصور ہیں میری موت میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں
نہیں پازیب یہ غلطی مت کرنا میری جان میرا بچہ تو ہی تو میرا سہارا ہے تیرے بنا میں کیسے جیوں گی ہم چلے جائیں گے یہاں سے ہم گاؤں چھوڑ دیں گے ہم کہیں اور جا کر اپنی دنیا بنائیں گے میری بچی تو ایسا قدم اٹھاتے ہوئے سوچ تو سہی تیری تائی مر جائے گی
°°°°°
اس نے گھر کے اندر قدم رکھا تو اسے یہ ساری آوازیں سنائی دیں اور بریرہ پریشانی سے اس کے پیچھے چل رہی تھی
ارے ظالمو کوئی تو بچاؤ میری بچی کو میری بچی مر جائے گی
کیوں نہیں جینے دیتے ہو غریبوں کو ایک عزت کے علاوہ ہمارے پاس ہوتا ہی کیا ہے وہ بھی ۔۔۔۔نہیں پازیب میری بات سن ایسا مت کرنا اسے ماچس کی تیلی سے آگ لگاتے دیکھ تائی چیخ اٹھی
زایاربریرہ کو ایک طرف ہٹاتا تیزی سے ان کے پاس آیا تھا
کچن کے اندر آگ بھڑک اٹھی تھی اسے پہچاننے میں دیر نہ لگی ایک ہی لمحے میں وہ کچن کا دروازہ توڑتا اپنی شال اس کے ارد گرد پھیلا کر آگ بجھانے کی کوشش کرنے لگا
یہ تو خدا کا شکر تھا کہ آگ ابھی تک صرف اس کے بازو کی حدود تک ہی محدود ہوگئی تھی ورنہ جو اس نے کیا تھا اس کی جان جانے میں دیر نہیں لگتی
وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہو چکی تھی زایار اس کے بے جان وجود کو اٹھا کر باہر لایا
اسے ہسپتال لے کر جانا ہوگا سرکار بازو پوراجھلس گیا ہے اور پیر بھی
اسے دیوانوں کی طرح پازیب کا وجود خود سے لگائے دیکھ اس کا خاص نوکر کہتا ہوا گاڑی نکالنے بھاگا جبکہ دوسرے دو باڈی گارڈ آگ بجھانے لگے
وہ بریرہ کو اشارہ کرتا ہے پازیب کو اسی حالت میں اٹھائے باہر بھاگ گیا
ہائے میری بچی بڑی بیگم میری بچی
تائی امی سینہ پیٹتے ہوئے دروازے تک اس کے پیچھے بھاگ گئیں تھیں
صبر خالہ کچھ نہیں ہوتا یہاں آئے بیٹھیں آپ پانی کہاں ہے بریرہ کہتے ہوئے ان کے پاس پانی ڈھونڈنے لگی پیڑ کی چھاؤں میں اسے مٹکا نظر آیا وہ بھاگ کر وہاں سے پانی لاتی ان کے لبوں سے لگانے لگی
بریرہ بیگم میری بچی بے قصور ہے اسے گناہ کی سزس مل تہی ہے ہمیں نہیں پتا تھا آپ کے دیئے پچاس ہزار اس کی عزت پر سوال اٹھائیں گے
ہم نے تو اس کے کام کا تحفہ سمجھ کر رکھ لیا لیکن ہمیں کہاں معلوم تھا کہ لوگ یہ مطلب نکالیں گے نوکری چھوڑنے کے بعد گاؤں والوں نے بہت الٹی سیدھی باتیں کی
سب سے پہلے تو میری بہن نے آ کر اس کے نام کی انگوٹھی میرے منہ پر ماری اور کہا کہ شاہ حویلی والوں نے دس دن میں ہی اس کی خوبصورتی روند کر۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ہائے اللہ میری بچی کے لئے ایسے الفاظ سننے سے پہلے میں مر کیوں نہیں گئی
میں کہتی تھی تیرے لیے شہزادہ آئے گا لیکن اب کون آئے گا اس کا ہاتھ تھامے وہ اپنا ماتھا پیٹنے لگی بریرہ نے پریشانی سے ان کے دونوں ہاتھ تھام لئے
صبر کریں خالہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے میں نے وہ پیسے صرف اس لیے دیے تھے تاکہ آپ کا مشکل وقت گزر جائے میں بھلا کہاں جانتی تھی کہ میری غلطی سے یہ سب ہوگا میں بہت معذرت کرتی ہوں ساری غلطی میری ہے لیکن اس غلطی کو میں سدھاروں گی
آپ کی بیٹی میری وجہ سے بد نام ہوئی ہے نہ تو آپ کی بیٹی کو نام بھی میں دوں گی میں پازیب کو اپنی جگہ دیتی ہوں ۔
میں پازیب کو آپ سے شاہ حویلی کے وارث زایار کے لئے مانگتی ہوں کہتے ہوئے ان کی آنکھوں سے آنسو لڑک کر زمین پر گرے
ہائے اللہ کی۔۔۔ یہ کیا۔۔۔ آپ کیا کہہ رہی ہیں بریرہ بیگم آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہیں ۔میں اپنی بیٹی کو ساری زندگی اپنے گھر پر بیٹھا لوں گی لیکن آپ کا گھر توڑنے کا میں سوچ بھی نہیں سکتی
توبہ توبہ آپ کی جگہ میری پازیب اس کے دماغ میں ایسی سوچ آئے تو میں خود اسے گولی مار دوں ۔اور آپ ایسا کہہ رہی ہیں ایسا ممکن نہیں ہے
ایسا ممکن ہے خالہ اور ایسا ہی ہوگا آج ہم یہاں اسی مقصد کے لیے آئے تھے پازیب کے حال کے بارے میں مجھے خبر مل چکی تھی ملازمہ صوفیہ نے مجھے یہ ساری باتیں بتائی ہیں
میری وجہ سے آج آپ کی بیٹی اس مصیبت کا شکار ہوئی ہے تو میں ہی اسے اس مصیبت سے نکالوں گی
میں اس سے اپنی جگہ دوں گی شاہ حویلی کے سب سے بڑے بیٹے کی دلہن بنا کر میں اسے یہاں سے لے جاؤں گی ۔کون کہتا ہے کہ اس کے لیے شہزادہ نہیں آئے گا اس کے لئے شہزادہ آچکا ہے آپ صرف انکار کرنے کے بارے میں مت سوچیے گا خالہ
کیوں کہ اگر آپ نے ایسا سوچا تو آپ کی بیٹی کی زندگی مزید مشکل ہو جائے گی بڑی حویلی کی وجہ سے بد نام ہوئی ہے نا وہ اب بڑی حویلی والے ہی دھوم دھام سے بارات لے کر آئیں گے
بڑی حویلی کا اگلا وارث اس کی کوکھ سے جنم لے گا میں اس جمعہ کو اپنے شوہر زایار شاہ کے ساتھ آپ کی بیٹی پازیب کو رخصت کروانے آؤں گی وہ اپنے ہاتھ میں پہنے سونے کے کنگن اتار کر ان کو پکڑ آتی خاموشی سے باہر نکل چکی تھی حویلی سے دوسری گاڑی اس کے انتظار میں تھی
جو یقینا اس کے ملازم کے حکم پر آئی تھی ۔
ٹائی امی اپنے ہاتھ میں موجود سونے کے کنگنوں کو دیکھ رہی تھی جو بے حد خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ بے حد قیمتی تھے
ان زیورات کو پہچاننا مشکل نہ تھا یہ صرف حویلی کی عورتوں کے لیے بنائے جانے والے سے زیورات تھے جن کی قیمت لاکھوں اور کروڑوں میں تھی
°°°°°
°°°°°
وہ ٹھیک ہے صرف دایاں بازو اور کندھا جلا ہے وہ بھی اتنا زیادہ نہیں ایک حد تک شکر ادا کرو جس طرح سے اس نے خود کو آگ لگائی تھی اس کا بچنا مشکل نہیں ناممکن تھا
تم ایسے وقت رہتے یہاں لے آئے
پتا نہیں گاؤں کی لڑکیاں ذرا سی بات کو سر پر سوار کیوں کر لیتی ہیں ڈاکٙر زاہد اس کا دوست تھا ۔جو جانتا تھا کہ زایار الیکشن میں حصہ لینے والا ہے اور گاؤں کی چھوٹی چھوٹی پریشانیوں کو حل کرنے کے لئے اس کے پاس آتا رہتا ہے
کچھ دن پہلے بھی گاؤں میں کسی لڑکی نے خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی جیسے وقت رہتے وہ ہسپتال لے آیا لیکن اس وقت وہ اتنا بے چین نہیں تھا بلکہ بے حد نارمل تھا اور اس وقت زایار کی حالت ایسی تھی کہ اس لڑکی کو کچھ ہوا تو وہ ابھی مر جائے گا
تم اتنا پریشان کیوں ہو رہے ہو کہیں تمہیں ایک ووٹ کم ہو جانے کا خطرہ تو نہیں وہ شرارتی انداز میں کہتا اس کے سامنے چائے کا کپ رکھ رہا تھا
زایار نے سرخ نظروں سے اس کے مسکراتے چہتے کو دیکھا
میں اس سے شادی کرنے والا ہوں اس کے اچانک کہنے پر ڈاکٹر زاہد کو اچھوت لگا تھا
کیا۔۔۔ کیا ۔۔۔کہہ رے ہو تم پاگل تو نہیں ہو گے تم سیریس ہو کیا شایدمیں نے کچھ غلط سن لیا ہے وہ اپنی سماعتوں پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بولا
چہرے سے خوشی واضح جھلک رہی تھی ۔اس کے انداز پر زایار مسکرا دیا
فائنلی میرے دوست کو وہ لڑکی مل ہی گئی
بہت بہت مبارک ہو میں تمہارے لیے بہت خوش ہوں شکر ہے تم نے اپنی زندگی کے بارے میں کچھ تو سوچا لیکن اس نے خودکشی کرنے کی کوشش کیوں کی میرا مطلب ہے میری ہونے والی بھابھی نے یہ قدم کیوں اٹھایا سب خیریت تو ہے نا وہ پریشانی سےہو کر پوچھنے لگا
میں خود کچھ نہیں جانتا میں تو آج ہی اس کے منگیتر ناصر سے مل کر اسے شادی سے انکار کرنے کے لیے کہنے والا تھا لیکن ناصر نے کہا کہ وہ خود ہی انکار کرنے والا ہے جس کے بعد میں ریلیکس ہو گیا
لیکن مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ کس طرح اور کیوں انکار کرنے والا ہے ڈرائیور نے مجھے بتایا کہ کچھ دنوں سے گاؤں میں اس کے بارے میں کی باتیں کی جا رہی ہیں اور گاؤں کی عورتوں نے ان کے گھر جاکر اس پر بہت بے بنیاد الزام لگائے
اور آج اس کی برداشت کی حد ہو گئی ان سب چیزوں کے بارے میں مجھے بالکل پتہ نہیں تھا زاہد میں نے تو ناصر کو پیسے دیے تھے اس سے کہا تھا کہ وہ گاؤں چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے شہر یا کسی اور ملک چلا جائے اپنا کریئر بنائے
لیکن مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ ایسا کچھ کرنے جارہا ہے ان کے سامنے اگر مجھے پتا ہوتا کہ حالات اتنے جائیں گے تو ناصر سے ملنے سے پہلے میں اس کی تائی امی سے مل کر یہ بات کرتا میری وجہ سے پازیب آج اس حالت میں ہے
ذہنی دباؤ اور ٹینشن کی وجہ سے اس نے اتنا بڑا قدم اٹھایا وہ ہمیشہ کے لئے مجھے چھوڑ کر جانے والی تھی ۔ابھی تو اس نے ٹھیک سے میری زندگی میں قدم بھی نہیں رکھا وہ پریشانی سے سر اپنے ہاتھوں پر رکھے بول رہا تھا
اٹس اوکے یار زندگی آسان نہیں ہے یہاں آئے دن ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتے
اور اب تو تمہیں خوش ہونا چاہیے کہ بھابھی اب بالکل ٹھیک ہیں کچھ زخم ہیں جلد ہی بھر جائیں گے
لیکن تمہیں ان کا بہت خیال رکھنا ہوگا نکاح کب ہے زاہد اسے باتوں میں لگانے لگا
فی الحال کچھ نہیں پتا بریرہ کو اس کی تائی امی کے گھر چھوڑ کر کہا تو تھا کہ وہ بات کرلے
کیا دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا تم نے بریرہ کو بات کرنے کے لیے کہا۔ تمہیں اسے اس سب میں شامل ہی نہیں کرنا چاہیے بلکہ میری مانو تو تم پازیب کو بھی دور ہی رکھو اس سے الگ گھر میں رکھنا یہ نہ ہو کے ۔۔۔
کچھ نہیں ہوگا زاہد میں اپنی پازیب کو کچھ نہیں ہونے دوں گا ۔اور وہ وہیں پر رہے گی بریرہ کی آنکھوں کے سامنے میں بریرہ کو مجبور کر دوں گا طلاق لینے پر اسے اس زبردستی کے رشتے کو اب توڑنا ہی ہوگا
میں نے چاچو کی قسم کھائی تھی کہ جب تک بریرہ خود مجھ سے طلاق نہیں مانگتی میں اسے طلاق نہیں دوں گا سات سال سے وہ اپنی ضد پر قائم ہے
لیکن اب میں اپنے طریقے سے اس کی ضد توڑونگا اس بار بریرہ ہار جائے گی وہ یقین سے کہہ رہا تھا
یہ نہ ہو کہ بریرہ کو ہارتے ہارت تم اپنا سب کچھ ہار دو زایار۔
سرپشینٹ کو ہوش آ چکا ہے وہ بہت شور کررہی ہیں چیخیں مار رہی ہیں ااور شاید تلکیف سے رو رہی ہیں آپ جلدی سے آ جائیں نرس نے کہا تو زاہد کے ساتھ ساتھ وہ بھی اس کے پیچھے بھاگا تھا
کیوں بچایا مجھے مر جانے دیا ہوتا ایسی زندگی سے موت بہتر ہے میری زندگی کا کوئی فائدہ نہیں مر جانے دو مجھے
میں کسی کو کوئی خوشی نہیں دے سکتی میرا مرجانا ہی بہتر ہے زمین سے بوجھ کم ہو جائے گا
نہیں رہنا مجھے زندہ چھوڑ دو مجھے میں مر جانا چاہتی ہوں نرس اسے کنٹرول کر رہی تھی جب اچانک اس کے ہاتھ میں موجود ٹے سے کینچی اٹھا کر خود پر وار کرنے ہی والی تھی کہ جب زایار نے اس کا ہاتھ تھاما اور ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر دے مارا
تھپڑ اتنا شدید تھا کہ لمحے کی دیر نہ کرتے ہوئے وہ ہوش و ہواس دوبارہ بیگانہ ہو چکی تھی
لو جی کردیا بیہوش یہ کون سا طریقہ ہے پیار جتانے کا باہر تو تم کہہ رہے تھے کہ تم بہت پیار کرتے ہو عشق جنون پتہ نہیں کیا کیا اندر آ کے رکھ کر لگا دیا زاہد بے یقینی سے اسے دیکھ رہا تھا
اور ساتھ اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیے دیکھ رہا تھا جس کے بس ایک ہی وار سے وہ بیڈ پر بے ہوش پڑی تھی
تم باتیں سن نہیں رہے تھے اس کی کیا بکواس کر رہی تھی بہت شوق ہے نہ جان دینے کا نکاح ہو جائے جان تو اس کی میں نکالوں گاوہ غصے سے نرس کو اس کے اسے ہوش میں لانے کے لئے کہہ رہا تھا
نرس پریشانی سے اس کی باتیں سنتی اس کے اشارے پر اسے ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگی
جبکہ زاہد اس کی سوچ پر ہنستا اس سے باہر آنے کے لئے کہنے لگا اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ زایار جیسا مچیور اور اتنا سیریس انسان ایک ٹین ایج لڑکی کے پیچھے اتنا پاگل ہو رہا ہے
ویسے تم سے چودا پندرہ سال چھوٹی ہو گی وہ سوچتے ہوئے بولا
تم سے کسی نے پوچھا اس کی بات پر بہت بد مزا ہو کر دیکھنے لگا
کافی زیادہ چھوٹی نہیں ہے ۔۔۔؟
میری امی میرے بابا 17 سال چھوٹی ہیں ابھی تک کامیاب زندگی بسر کر رہے ہیں
اور خیر اتنی بھی چھوٹی نہیں ہے مجھ سے صرف گیارہ بارہ سال چھوٹی ہو گی وہ" صرف " پر زور دیتے ہوئے بولا تھا زاہد کا بے اختیار قہقہ بلند ہوا
گیارہ بارہ سال "صرف" نہیں "بہت" ہوتے ہیں زایارسکندر شاہ وہ ہنستے ہوئے بولا
تمہاری اس بکواس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا وہ میری ہے وہ کسی ضدی بچے کی طرح بولا جیسے زاہد بہت ساری وجوہات بیان کر کے اس سے چھین لے گا
کبھی نہیں میری جان میں تمہیں کبھی ایسا نہیں کہوں گا اللہ تمہیں خوش رکھے تم اندازہ تک نہیں لگا سکتے کہ تمہاری دوسری شادی کی بات پر میں کتنا خوش ہوں
آخر میرا دوست بھی زندگی میں آگے بھر رہا ہے اس کی زندگی میں کوئی آگیا ہے جو اسے خوش رکھے گا اس کی خوشیوں کی فکر کرے گا
زاہد خوشی سے دعائیں دیتے ہوئے اپنی خوشی کا اظہار کرنے لگا
وہ باتوں میں مگن تھی جب نرس نے آ کر بتایا کہ پیشنٹ کو دوبارہ ہو چکا ہے
نکاح میں آنا نرس کے جاتے ہی وہ اس سے کہنے لگا اس نے صرف ہاں میں سر ہلایا
°°°°°
سب لوگ بریرہ کے منتظر تھے اس کی سونی کلیاں دیکھ کر پاکیزہ بیگم کی آنکھوں میں آنسو آگئے
ارے آپ سب لوگ یہاں اتنے آرام سے بیٹھے ہیں گھر والے ایک ساتھ بیٹھے ہوں تو مزہ تب آتا ہے جب کا چائے کادور چلے آپ سب بیٹھے میں ابھی چائے لے کر آتی ہوں
وہ مسکراتے ہوئے کچن کی جانب جا رہی تھی جب اچانک پاکیزہ بیگم نے اس کا بازو تھام لیا
کیا فیصلہ کر کے آئی ہوں بریرا وہ اس کا ہاتھ تھام کر بولی گھر میں سبھی لوگ اسے دیکھ رہے تھے
میں کیا فیصلہ کروں گی چاچی فیصلہ تو آپ کے بھتیجے نے کیا ہے اور ان کے حکم کے مطابق جمعہ کو نکاح کی رسم ادا کرنی ہے
ان کا کہنا ہے شادی بہت دھوم دھام سے ہوگی کوئی بھی رسم چھوٹنی نہیں چاہیے بہت ساری تیاریاں کرنی ہوں گی
آپ سب لوگ بھی اپنی تیاری کر لیں وہ اپنا درد چھپا تی مسکرا کر ان کے قریب سے اٹھ گئی تھی
کیا تم بھی اس شادی میں شرکت کرو گی وہ بے یقینی سے پوچھ رہی تھیں جبکہ زار چاچو اور صفدر چاچو خاموشی سےاسے دیکھ رہے تھے
زایار کا حکم ہے کہ ان کی دلہن کو میں اپنے ہاتھوں سجاؤں اور تمام رسموں میں سب سے آگے رہوں اب تو شوہر کا حکم ماننا پڑے گا
اتنا گر گیا ہے وہ میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔پہلے وہ تمہیں آگے کر کے شادی کی فرمائش کرتا ہے اور اب تمہیں سزا دینے کے لیے اس نے یہ نیا طریقہ نکالا ہے اس گھر میں کوئی اس کی شادی میں شرکت نہیں کرے گا تم بھی نہیں سنا تم نے دروازے سے آتے سکندر صاحب نے غصے سے اسے کہا تھا
مجھے کرنا ہوگا تایاابو۔ میں پیچھے نہیں ہٹ سکتی اور نہ ہی اپنے شوہر کے خلاف جا سکتی ہوں ان کی مخالفت کے روپ میں طلاق مجھے تحفہ میں ملے گی اور مجھے یہ تحفہ قبول نہیں وہ آنسو بہاتی وہاں سے جا چکی تھی جبکہ سکندر شاہ کو اپنی بہو کی باتوں پر یقین نہ آیا
مطلب ان کا بیٹا اتنا گر گیا تھا کہ اب وہ اسے طلاق کی دھمکیاں دے رہا تھا
مانتے تھے سات سال پہلے جو کچھ بھی ہوا اس میں ان کی غلطی تھی لیکن اب جو یہ سب ہو رہا تھا اس میں صرف اور صرف زایار کی غلطی تھی
وقت گزر چکا تھا جو ہونا تھا ہو چکا تھا آخر کب تک بریرہ کو سزا دینا چاہتا تھا اب بس کر دے ایک بیٹا بھی تھا ان کا جو ان دونوں سے بے حد محبت کرتا تھا کیا زایار کو اس کی بھی پروا نہیں تھی
°°°°°
بیٹا اللہ نے تجھے نئی زندگی دی ہے اس کی قدر کر آنسو بہا کر یوں ناشکری نہ کرنا چاچا اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے سمجھا رہے تھے
تو میں کیا کروں چاچا یہ دنیا مجھے جینے نہیں دے رہی کیا غلطی ہے میری کیا غلط کیا ہے میں نے میری ذات کو تنکوں میں بکھیر دیا ان ظالموں نے وہ عورت جو میری تعریفوں کے پل باندھ کی تھی میری ذات کو ریزہ ریزہ کر گئی
میں تو تائی امی کی تکلیف کم کرنے کی کوشش کر رہی تھی ان کا بوجھ بانٹنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن لگتا ہے کہ موت کو بھی میری ضرورت نہیں وہ آنسو پیتے آہستہ آہستہ بول رہی تھی
شکریہ میری جان بچانے کے لئے مجھے تو اللہ نے میرے گناہ کی سزا ضرور دے گا لیکن اللہ آپ کو آپ کے نیک عمل کا اجر دے سے دعا ہی کر سکتی ہوں
بیٹا تیری جان میں نے نہیں چھوٹے سرکار میرا مطلب ہے زایار صاحب نے بچائی ہے بری حویلی میں بڑے سرکار سکندر شاہ کے بیٹے نے آج اُن کی وجہ سے زندہ ہے
زایار صاحب تو بریرہ بیگم کے شوہر ہے نا ہادی کے باباکیا انہوں نے ہی مجھے تھپڑمارا تھا جب میں تھوڑی دیر پہلے پاگل ہو رہی تھی اپنہ سچویشن کو سوچتے ہوئے وہ شرمندگی سے بولی ڈرائیور چچا نے ہاں میں سر ہلایا
اچھا یہ بریرہ بیگم کے شوہر ہیں انہوں نے میرا دوپٹہ بھی چرایا تھا کچھ یاد آنے پر وہ پھر بولی
بکواس کر رہی ہے لڑکی دماغ خراب تو نہیں ہو گیا وہ کروڑوں عربوں کے مالک ہے تیرا دوپٹہ کیوں چرائیں گے ڈرائیور چچا نے اسے خاموش کرتے ہوئے کہا اگر یہ بات زایار صاحب سن لیتے کہ وہ ان کو چور سمجھتی ہے تو کیا سوچیں گے
ایک تو وہ اس کی جان بچا کر یہاں آئے ہیں اور اور یہ پاگل لڑکی ا نہیں چور بلا رہی ہے
لیکن میں سچ کہہ رہی ہو چاچا انہوں نے میرا دوپٹہ چرایا تھا اور ایک بار نہیں دو بار وہ بہت آہستہ آواز میں بول رہی تھی جیسے کوئی راز کی بات بتا رہی ہو
زایارجو کب سے ان کی باتیں سن رہا تھا گلا کھنکار کر اسے اپنی جانب متوجہ کیا
ہاں اسے پسند نہیں آیا تھا ڈرائیور چاچا کے ساتھ اس کا سر گوشانہ انداز اس کا یہ انداز وہ خود تک محدود رکھنا چاہتا تھا
وہ چاہتا تھا اس کی زبان سے نکلا ہر لفظ زایار شاہ کی امانت ہو
بس بیٹا اب صاحب کے بارے میں ایسی بات مت کرنا اور نہ ہی ایسا قدم دوبارہ اٹھانا اپنا نہ سہی تو اپنی تائی امی کا تو احساس کرو اس کا ہے ہی کون تمہارے علاوہ اس عورت نے تمہیں بڑی مشکل سے پالا ہے
اور اس کے سر پہ ہاتھ رکھ کے بہت محبت سے سمجھارہے تھے وہ نظریں جھکائے ہاں میں سر ہلا گی
گاڑی نکالو تم وہ ڈرائیور کو اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا ۔ڈرائیور فوراً گاڑی نکالنے جا چکا تھا
چلو اٹھو گاؤں واپس جانا ہے رات بہت گہری ہو چکی ہے وہ نرمی سے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتا اس سے اٹھنے میں مدد کر رہا تھا
پازیب کو آج بھی شرمندگی ہو رہی تھی کوئی مرد اس کے اتنے قریب کھڑا ہوکے اسے اٹھنے میں مدد کر رہا تھا کاش یہاں اس کی تائی امی یا کوئی اور عورت ہوتی اس کے وجود پر کوئی دوپٹہ نہیں تھا خود سے چارد ہٹاتے وہ شرم سے سرخ ہو چکی تھی
بس ایک پاوں تک آتا کرتاسا پہنایا ہوا تھا اسے اپنے کپڑوں کو دیکھ کر اسے مزید شرمندگی ہونے لگی
ابھی وہ کر سیدھی ہی ہوئی تھی کہ نرس ایک ہاتھ میں بیگ لیے اندر داخل ہوئی سریہ آپ نے منگوایا تھا نیو ریڈی میٹ برینڈیڈ سوٹ اس کی طرف بڑھایا جو دیکھنے میں بھی بہت قیمتی محسوس ہو رہا تھا
مجھےکیادے رہی ہو جاؤ اس کو پہنانے میں ہیلپ کرو اور تکلیف نہیں ہونی چاہیے خیال رکھنا وہ نرس کو دیکھتے ہوئے بولا تو وہ جی سر کرتی اسے تھام کر اندر لے گئی
اسے کپڑے پہنانے میں مدد کر کے وہ واپس باہر لے کےآئی شاید آج اس کی زندگی میں شرمندہ ہونے کا ہی دن تھا
زایار نے اس کی جان بچائی تھی تو یقینا اسے اسی حالت میں ہسپتال لے کے آیا تھا نرس نے کہا تھا کہ اس کے کپڑے پوری طرح سے جل چکے تھےیہ تو اس کی قسمت اچھی تھی کہ وہ بچ گئی
اس لئے یہاں پہنچتے ہی اس کے کپڑے بدل دیے گئے بار بار یہ سوچ کہ اتنی بری حالت میں یہاں لایا گیا اسے نظریں اٹھانے دے رہی تھی
خیال رکھنا اس کا ٹائم پر دوا وغیرہ دیتے رہنا موسم کے حساب سے آج کل زخم کبھی بھی خراب ہو سکتے ہیں لاپرواہی بہت بری ثابت ہوگی
اور اس موسم میں تکلیف بھی بہت زیادہ ہوتی ہے ایک بھی ٹائم دوا مس نہیں ہونی چاہیے وہ بالکل بے تکلف ہوکر پازیب سے بول رہا تھا جیسے برسوں سے جانتا ہو پازیب کو اس ڈاکٹر کا انداز بالکل اچھا نہ لگا تھا
اور پرسوں تک میں بھی گاؤں آ جاؤں گا وہ زاہار سے بولا
فی الحال اسے ہسپتال سے لے کر جانا ٹھیک ہے کیونکہ پرسوں نکاح تھا بریرہ اسے فون کرکے بتا چکی تھی اورایسے میں اسے ہسپتال رکھنا بہت مشکل تھا ۔اسی لیے وہ اپنے ساتھ گھر لے آیا
تائی امی دروازے پر بے چینی سے انتظار کر رہیں تھیں اسے اپنے سینے سے لگائے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں زایار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بھی کی آنکھیں نم تھیں جبکہ زایار انہیں پرسوں آنے کا کہتا جا چکا تھا وہ پرسوں کیوں آئے گا یہ سوال پازیب کے لئے حیران کن تھا
°°°°°
بریرہ گھر والوں کے سامنے کہہ چکی تھی کہ جمعہ کو زایار کا نکاح ہے اور کوئی بھی اس بارے میں کوئی بات نہیں کرے گا گھر کا کوئی فرد نکاح میں شامل ہونے کو تیار نہ تھا سوائے اس کی ماں کے
سنیہا اور لالی پر تو یہ خبر قیامت کی طرح ٹوٹی تھی انہیں یقین نہیں آ رہا کہ ایسا کچھ ہونے جا رہا ہے بلا ان کا بھائی یوں اچانک دوسری شادی کیسے کر سکتا ہے ان کے لیے تو زایار اور بریرہ کا دنیا سب سے خوبصورت کپل تھا
انہیں تو اب تک یقین نہیں آرہا تھا کہ جمعہ کو پازیب کا نکاح ان کے زایار ادا کے ساتھ ہے اب لالی کو اپنی بھابھی کی اداسی کی وجہ سمجھ میں آئی تھی اسے نہ چاہتے ہوئے بھی پازیب کے وجود سے نفرت سی ہو نے لگی
وہ دونوں زایار کو بالکل مخاطب نہیں کر رہیں تھیں اس وقت بھی زایار کتنی ہی ان کے سامنے بیٹھا رہا لیکن وہ اپنے کام میں مصروف رہیں اور پھر اٹھ کر اندر چلی گئیں
ان کے خفاخفا انداز پر زایار بھی خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آگیا تھا سب گھر والے اس سے خفا تھے
لیکن اس وقت وہ اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا یہ اس کی زندگی تھی اور وہ اپنی زندگی پر پورا اختیار رکھتا تھا
°°°°°°
بریرہ بیگم آپ نے جیسا کہا تھا بالکل ایسا ہی کیا پہلے ہم نے پورے گاؤں میں پازیب کو بد نام کر دیا گاؤں کے ایک ایک گھر میں جا کر بتایا کہ پازیب کا بری حویلی کے مردوں کے ساتھ غلط تعلق تھا
جس کی خبر خویلی کی بیگمات کو ملتے ہیں انہوں نے اسے نوکری سے نکال دیا اور منہ بند رکھنے کے لیے بھاری رقم بھی دی ڈالی
ملازمہ اس کے سامنے بیٹھی تیز تیز بول رہی تھی جبکہ دروازےپر کھڑے زایار کا غصے سے برا حال تھا وہ دھاڑتا ہوتاسے کمرے میں داخل ہوا
اور چٹاخ چٹاخ کی آواز کے ساتھ بریرہ کے چہرے پر کہیں تھپڑ لگا ڈالے وہ بے حال سی ہو کر بیڈپر پڑی ہوئی تھی جبکہ ملازمہ اس کا غصہ دیکھتی فورا باہر بھاگ گئی
دکھا دیں اپنی اوقات پازیب کو اس حال تک تم نے پہنچایا تھا پازیب کو خودکشی کرنے پر مجبور تم نے کیا وہ ایک اور زور دار تھپڑ اس کے چہرے پر مارتے ہوئے بولا شور کی آوازیں سنتے سب تیزی سے کمرے کی جانب آئیں
جبکہ اسے برے حال میں بیڈ پر پٹکتا زایار نے اپنا ریوالور نکالا
یقیناً آج وہ اسے گولی مار دیتا اگر شیر بیچ میں آ کر اسے کنٹرول کر کے گھسیٹاتا باہر نہ لے جاتا ۔۔۔۔۔۔
چھوڑ دے مجھے شیر آج میں اسے جان سے مار ڈالوں گا آج یہ حد پار کر گئی ہے میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا بہت برداشت کر لیا میں نے یہ گھٹیا عورت کبھی نہیں بدل سکتی
اس سے چلاتے ہوئے بولا ۔جب کہ شیر اسے سمجھاتا بند کمرے میں لے آیا تھا
°°°°°
میں کیا کرتی چاچی میرے پاس کوئی راستہ نہیں تھا
کوئی بھی عورت اپنی بیٹی کی شادی ایسے مرد سے کیوں کرے گی جس کی پہلی بیوی اور بچہ اسی کے گھر میں موجود ہوں
ان کے ساتھ ایک خوشحال زندگی گزار رہا ہو زایار انکار نہیں سننا چاہتے تھے
اور ان کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے مجھے یہ قدم اٹھانا پڑا میں نے ہی ملازمہ کو کہا تھا کہ گاؤں کے گھروں میں جاکر وہ پازیب کا نام زایار کے ساتھ لے تا کہ اس کا رشتہ ٹوٹ جائے لیکن مجھے نہیں پتا تھا کہ پازیب اس حد تک چلی جائے گی
وہ لڑکی خود کو نقصان پہنچانے جا رہی تھی خودکشی کرنے جا رہی تھی وہ تو خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم وقت پر پہنچ گئے
اور وہ بچ گئی ۔اگر ہم ایک لمحے کی بھی تاخیر کرتے تو شاید پازیب آج ہمارے بیچ نہ رہتی ۔لیکن مجھے نہیں پتا تھا کہ زایار ہر چیز کا مجرم مجھے ہی ٹھہرا لیں گے وہ تو ویسے بھی آج کل مجھے اپنی خوشیوں کا دشمن سمجھتے ہیں وہ پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے بولی تو چاچی نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا
لیکن بریرہ انجانے میں سہی تم نے بیوقوفی کی ہے ایسا قدم اٹھانے سے پہلے کسی سے مشورہ تو کر لیتی مجھ سے پوچھ لیتی ۔
میں صرف زایار کی خوشی چاہتی ہوں چاچی اور کچھ نہیں ۔میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ وہ خوش رہے چاہے کسی کے ساتھ بھی
میں نہ کل ان کی پسند تھی نہ ہی آج ان کی پسند ہوں زبردستی کا رشتہ کب تک نبھاتے رہیں گے وہ کیا انہیں اپنی خوشیاں جینے کا حق نہیں کیا وہ اپنی مرضی سے اپنی زندگی نہیں گزار سکتے تایا ابو آپ نے اس وقت فیصلہ کیا ہم نے سر جھکا لیا
زایار میری محبت ہیں۔ لیکن میں ان کے لئے کیا تھی کیا ہے ہمارا رشتہ صرف ایک سمجھوتا ۔اور سمجھوتے ساری عمر نہیں نبھائے جاتے میں اپنی محبت کو اس حال میں نہیں دیکھ سکتی تھی میں نے پازیب کو ان کے لیے مانگ لیا ہے مجھے یقین ہے وہ انہیں ہر خوشی دے گی جس کی وہ حقدار ہیں۔
اور آپ سب کو نکاح میں شامل ہونا پڑے گا کوئی انکار نہیں کرے گا جس نے زایارکی شادی میں شرکت نہیں کی وہ میرا منہ دیکھے گا میں کہہ رہی ہوں آپ سب کو میری قسم آپ سب کو زایار کی خوشیوں میں اس طرح سے شامل ہونا ہوگا جس طرح آپ کا فرض بنتا ہے وہ پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے بول رہی تھی جبکہ اس کے ساتھ لالی اور سنیہا ابھی بری طرح سے رو رہی تھی
آخر کیا تھا اس پا زیب میں جو بریرہ میں نہیں تھا آخر کیوں زایار کو اس کی محبت نظر نہیں آتی
کہیں سوال اپنے دل میں لیے وہ اس کے نکاح کی تیاریاں کرنے لگی ۔گھر میں اس خوشی کو بھی ماتم زدہ ماحول میں منایا جا رہا تھا سب لوگ تیاریاں کر رہے تھے حویلی کو دلہن کی طرح سجایا جا رہا تھا ۔
لیکن یہ سب کچھ اتنی خاموشی سے ہو رہا تھا جیسے کسی کی بارات نہیں جنازہ جا رہا ہوں
°°°°
پازیب کو صدمہ لگا تھا بریرہ بیگم ایسے کیسے اپنے شوہر کے لئے اس کا رشتہ مانگ کر چلی گئی ایسا کیسے ممکن تھا بلا ایک بیوی اپنی ہی سوتن کا رشتہ کیسے مانگ سکتی ہے
تائی امی خاموشی سے اس کے نکاح کی تیاریاں کر رہی تھیں گاؤں میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل رہی تھی لیکن کسی کو بھی ان کے گھر میں آنے کی اجازت نہ تھی
یہ تو وہ جانتی تھی کہ اب اس کے لئے کوئی اچھا رشتہ نہیں آئے گا یا تو پانچ بچوں کا باپ یا کوئی معذور اپنی زندگی سے تنگ ہواس کے وجود کا مالک بنے گا لیکن بریرہ بیگم کے شوہر کا رشتہ سوچ بھی اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی
بریرہ بیگم اسے بے حد پسند تھی وہ ایک بہت اچھی اور نیک عورت کی بلا سوتن کیسے بن سکتی تھی
السلام علیکم میرا نام نعمہ ہے اور میں دلہن کو مہندی لگانے آئی ہوں ۔
مجھے زایار شاہ نے یہاں بھیجا ہے کیا آپ مجھے دلہن سے ملوائیں گئیں ایک خوبصورت سی لڑکی دروازے پر کھڑی اجازت مانگ رہی تھی
سب کچھ بہت اچانک ہو رہا تھا
وہ شادی کر رہا ہے ٹھیک ہے اسے عزت دے رہا تھا اچھی بات تھی لیکن اس طرح دھوم دھام سے شادی بھلا کوئی اپنی دوسری شادی کی اتنی خوشی مناتا ہے
بریرہ بیگم کے ان احسانوں کو وہ کیسے چکائیں گے
جو ان کی بیٹی کی خوشی کے لیے اس کی خواہشوں کے لیے اپنا گھر تباہ کر رہی تھی اپنا بسابسایہ سنسار اجھاڑ رہی تھی
کیا بھلا کسی میں اتنی ہمت ہو سکتی ہے کہ وہ اپنا سب کچھ برباد کر کے اپنی خوشیاں کسی اور کی جھولی میں ڈال دے
ایک عورت بلا کیسے دوسری عورت کو اپنے شوہر کی زندگی میں قبول کر سکتی ہے بریرہ بیگم کا دل بہت بڑا تھا وہ کسی اور کا نہیں بلکہ اپنے ہی شوہر کا رشتہ لائی تھی
یہ بہت بڑی بات تھی تائی امی تو اس لڑکی کے حوصلے پر پریشان ہو رہی تھی
اور خاموشی سے اس لڑکی کو اندر آنے کا راستہ دیا اور اسے پازیب کا کمرہ بتایا
حویلی میں تو دھوم دھام سے مہندی مایوں کی رسم کی جا رہی تھی لیکن پازیب کی تکلیف کا خیال کے اس طرف کچھ نا کیا گیا
اس کی حالت کل سے بہتر تھی زخم اب بھی تھے تکلیف اب بھی بہت تھی لیکن جو زخم جو داغ اس کی ذات پر لگائے تھے
جو اس کی عزت کو بکھیر کر رکھ گئے ان سب کے سامنے یہ سب کچھ بھی نہیں تھا
دلہن تو بے حد خوبصورت ہے لڑکی نے کمرے میں قدم رکھتے ہوئے اسے دیکھا
تو وہ لڑکی کو انجان نظروں سے دیکھنے لگی ۔جس کا مطلب وہ لڑکی بھی سمجھ چکی تھی
میرا نام نعمہ ہے اور میں ایک بیوٹیشن ہوں مجھے زایارشاہ نے یہاں آپ کو مہندی لگانے اور کل صبح تیار کرنے کے لئے بھیجا ہے
آپ کو مہندی لگا کر میں حویلی جاؤں گی آج رات میں حویلی میں مہمان ہوں وہ ابھی بہت لوگوں کو تیار کرنا ہے اس لیے پہلے یہاں آ گئی اپنے ہاتھ دکھائیں
کہاں سے جلا ہے آپ کا ہاتھ مجھے بہے اخییاط سے کرنا ہو گا
وہ اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے اس کے ہاتھ سامنے کرنے کا کہتے اپنے بیگ سے مہندی نکالنے لگی
اس کا بلکل کوئی ارادہ نہیں تھا مہندی لگانے کا بلکہ وہ تو یہ شادی دھوم دھام سے بھی نہیں چاہتی تھی بد سادگی سے نکاح ہو جائے اس کے لیے کافی تھا
بریرہ کی سوتن بننا بھی اس کے لیے قیامت سے کم نہیں تھا لیکن یہ اس کی مجبوری تھی عزت سے سر اٹھا کر چلنے کے لئے اسے یہ قدم اٹھانا تھا
لیکن اس نے خود سے وعدہ کیا تھا وہ کبھی بریرہ بیگم اور ان کے شوہر کی زندگی میں نہیں آئے گی ۔
اور نہ ہی بریرہ بیگم کے اعتبار کو ٹھیس پہنچائے گی ۔بریرہ بیگم نے حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے اپنا ہمسفر دینے کا فیصلہ تو کر لیا تھا لیکن یہ کتنا مشکل تھا یہ سمجھنا کسی بھی عورت کے لیے مشکل نہ تھا
وہ سادگی سے نکاح چاہتی تھی لیکن بریرہ بیگم کے حکم پر شادی دھوم دھام سے کی جارہی تھی تاکہ اس کی کوئی خواہش دھوری نہ رہے
انہوان نے کہا تھا کہ وہ چاہتی ہیں کہ پازیب بھی ہر لڑکی کی طرح دلہن بنے اور دھوم دھام سے اس کی بارات آئے
ان کا کہنا تھا کہ وہ جانتی ہیں کہ ہر لڑکی کی طرح پازیب کی بھی کچھ خواہشات ہوں گی اور اس سب کی وجہ سے وہ پازیب کی خواہشوں کو نظر انداز نہیں کر سکتی ۔اس لیے پازیب کو یہاں سے دھوم دھام سے دلہن بنا کر رخصت کیا جائے گا اور اس کی شادی کی تمام رسمیں بھی ہوگی
شادی کا سارا خرچہ بڑی حویلی کے لوگ اٹھا رہے تھے وہ تائی امی کو ایک کوئی بھی پیسا خرچ کرنے سے منع کر چکے تھے اور نہ ہی وہ کوئی دہیج چاہتے تھے لیکن تائی امی نے پھر بھی کچھ چیزیں اس کے لیے بنوا کر رکھی تھی
لیکن بریرہ نے کہہ دیا کہ ایسی چیزیں حویلی میں بہت ہیں اب وہ حویلی کی بہو بننے جا رہی ہے تو ان سب چیزوں کی ضرورت نہیں
تائی امی اداس تو ہوگئیں لیکن انہوں نے اپنی بچی کی خوشیوں کے لیے ہر چیز کو نظر انداز کردی ان کو صرف اور صرف اس کی شادی کی فکر میں لگ گئیں
کل جمعہ تھا کل اس کا نکاح تھا اور آج اس کے ہاتھ میں زایار شاہ کے نام کی مہندی لگائی جارہی تھی وہ خاموشی سے اپنے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی جہاں وہ لڑکی اپنی مہارت سے اس کے ہاتھوں کو سجا رہی تھی
زایار نے اسے بتا کر بھیجا تھا کہ وہ تکلیف میں ہے اس لیے اسے زیادہ دیر بیٹھنے کیلئے نہ کہے ۔بس دلہن کا سنگھار پورا کرنے کے لئے مہندی لگا دیں
اور اس نے ایسا ہی کیا تھا ۔اس نے بہت مہارت سے ایک چھوٹا سا ڈیزائن اس کے ہاتھ میں لگایا جس کی وجہ سے اسے زیادہ دیر بیٹھنا نہیں پڑا لیکن سامنے ہاتھ کی جانب اس نے بہت خوبصورتی سے زایار شاہ کا نام لکھ ڈالا تھا
وہ کچھ بھی نہ بولی نہ انکار کر پائی نہ اقرارکل وہ شخص اس کی زندگی کا مالک بننے والا تھا اگر اس کا نام اگر اس کے ہاتھ میں آگیا تو کیا ہوگیا وہ تو پوری کی پوری اس کی ملکیت میں جا رہی تھی
لیکن جب پازیب اس کے ہاتھ کو دیکھتی اس کے دل میں عجیب سی بے چینی پیدا ہوتی وہ بار بار اپنے دل کو سمجھاتی کہ اس شخص پرکیا اس کے نام بلکہ اس کے سائےپر بھی اس کا کوئی حق نہیں ہے
وہ بریرہ بیگم کا شوہر ہے اور یہی حقیقت ہے اسے کوئی بدل نہیں سکتا اس کے ساتھ اس کا رشتہ صرف اور صرف ایک سمجھوتا ہے
جو اس کی عزت بچانے کے لئے کیا جا رہا ہے
اس لیے اس نے اپنے دل میں کسی خوش فہمی کو جنم نہیں لینے دیا تھا
یہ نکاح صرف اور صرف ایک سمجھوتا تھا اور اب اسے اس سمجھوتے کے ساتھ ساری زندگی گزارنی تھی
مہندی والی خاموشی سے مہندی لگا کر جا چکی تھی جب کہ پازیب خاموشی سے اپنے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی جس میں بڑی مہارت اور خوبصورتی سے اس شخص کا نام لکھا تھا جس پر اس کا کوئی حق نہیں تھا
°°°°
حویلی مہمانوں سے بھری ہوئی تھی ہر طرف مہمان ہی مہمان تھے سب کے لبوں پر ایک ہی سوال تھا آخر کیا وجہ تھی کہ زایار دوسرا نکاح کرنے جا رہا تھا
ہر کوئی اپنی طرف سے کہانیاں بناتا مہمانوں کو مطمئن کر رہا تھا ۔سب کے سب لوگوں کی پریشانی کی وجہ یہی تھی کہ بریرہ خود اس شادی میں شامل تھی اور سب مہمانوں کا خیال بھی وہ خود ہی رکھ رہی تھی
دور دور کے سارے مہمان اسے بلا بلا کر وجہ پوچھ رہے تھے
مہمانوں کو کیا وجہ بتائی جائے گی یہ تو پہلے ہی وہ سوچ چکی تھی اس نے سب گھر والوں کے سامنے کہا تھا کہ وہ دوبارہ ماں نہیں بن سکتی اور یہی وجہ اس نے مہمانوں کے سامنے بھی رکھ دی
سب یہی کہہ رہے تھے کہ بریرہ کا دل بہت بڑا ہے
جو خود اپنے ہاتھوں سے سوتن اپنے سر پہ خا رہی ہے ۔جبکہ بریرہ بے حد مطمئن انداز میں سب کے سوالوں کے جواب دیتی خود کو بے حد پرسکون ظاہر کر رہی تھی
یہاں آنے سے پہلے ہی اس نے اپنے آپ کو تیار کر لیا تھا ہر طرح کے سچویشن کے لیے یہ صرف ایک نامی رسم تھی کہ مہندی اور ہلدی کی رسم ادا کی جائے گی تاکہ سب کو پتا چل جائے اس لیے سب رسمیں ادا کی جائے گی
مہمان تو بہت آئے تھے لیکن ایسا ہوا کچھ بھی نہیں تھا
حویخی میں مہمانوں کا ہجوم دیکھ کر زایار رات ہونے سے پہلے ہی ڈیرے پر جا چکا تھا ۔اس نے کہا تھا اگر پازیب اس رسم کو ادا نہیں کر سکتی تو یہ سب بےکار ہے
بریرہ میں اتنی ہمت ہرگز نہیں تھی کہ وہ اسے روک پاتی ہے اس کے جانے کی وجہ پوچھتی کل کے بعد تو بریرا کمرے میں بھی نہیں گئی تھی بلکہ ہادی کے ساتھ اس کے کمرے میں سوئی تھی
پتا نہیں وہ غصے میں اس کا کیا حال کرتا
بریرہ نہیں جانتی تھی کہ اس کی اس نادانی کی وجہ سے حالات اتنے خراب ہو جائیں گے وہ تو بس اس کی خوشی کے لئے یہ سب کچھ کرنا چاہتی تھی لیکن پاکیزہ بیگم نے اسے سمجھایا کہ اسنے بہت غلط قدم اٹھایا ہے کسی کی ذات پر بہتان لگانا اسے دنیا کے سامنے بد نام کر دینا کسی گناہ سے کم نہیں
وہ بے حد شرمندہ تھی اپنی نادانی میں وہ یہ غلطی تو کر بیٹھی لیکن یہ سوچ آتے ہی کہ جس کی وجہ سے پازیب کی جان جا سکتی تھی وہ اندر تک کانپ کر رہ جاتی
اس نے جو بھی کیا تھا زایار کی خوشی کے لئے کیا تھا اور آگے بھی اس کی خوشی کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھی اس وقت وہ سب مہمانوں کو سنبھالتی ان کا خیال رکھ کر ان کی ہر ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کر رہی تھی
جبکہ لالی اور سنیہا سب کو دکھانے کے لئے رسم میں شامل تھیں ۔ان دونوں نے تو مہندی بھی نہیں لگائی تھی ۔بریرہ کے بار بار کہنے کے باوجود بھی ان پر کوئی اثر نہ ہوا تو بریرہ ہمت ہار گئی
یہاں تک آگئی تھی یہی کافی تھااگر کچھ کہتی تو خاندان میں بات پھیل جاتی اور وہ کسی بھی قسم کا رسک نہیں لینا چاہتی تھی
پہلے ہی پازیب کی بدنامی نے بہت کچھ پر خراب کر رکھا تھا اب وہ پازیب کو کسی بھی قسم کی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی
°°°°°°
لالی تم یہاں کیا کر رہی ہو سب لوگ تمہیں وہاں ڈھونڈ رہے ہیں
شیر جو اس دشمن جان کو سب کے بیچ نہ پا کر ڈھونڈتے ہوئے ادھر آیا تھا ایسے پودوں کے ساتھ بیٹھے روتے دیکھ کر اس کے پاس آ گیا
لالی نے جلدی سے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے نفی میں سر ہلایا
نہیں کچھ نہیں میں تو بس ایسے ہی یہاں آکر بیٹھی تھی وہ اپنے آنسو چھپاتے ہوئے بولی
اس طرح سے اکیلے بیٹھ کر رونے سے کیا حاصل ہوگا وہ تمہارا بھائی ہے اس کی خوشیوں میں شامل ہونا تمہارا فرض ہے
حویلی مہمانوں سے بھری ہوئی ہے تمہارے یہاں بیٹھ کر رونے سے کوئی بھی کچھ بھی مطلب نکال سکتا ہے وہ اسے سمجھا رہا تھا
مجھے کسی سے کوئی مطلب نہیں کوئی کیا سوچتا ہے کیا نہیں میرا کوئی لینا دینا نہیں ہے میں بس اس شادی سے خوش نہیں ہوں تو نہیں ہوں میں چہرے پر برا بھابھی کی طرح جھوٹافیس نہیں لگا سکتی
یہ دکھاوے مجھ سے نہیں ہوتے ۔میں خوش نہیں ہوں ۔اور نہ ہی اب میں مہمانوں کے سامنے جاؤں گی ۔اور نہ ہی کبھی ادا سے بات کروں گی وہ روتے ہوئے بولی شیر نے ایک نظر اس کی سرخ ہوتی آنکھوں پر ڈالی
ضروری نہیں لالی جیسا ہم سوچیں ہر بار ویسا ہی ہو ہوسکتا ہے حقیقت اس سے الگ ہوسات سال پہلے جو کچھ بھی ہوا تمہاری سمجھ سے بہت باہر ہے
تم نہیں سمجھ سکتی کہ ۔۔۔۔۔
کیا چاچو بہت زیادہ بیمار تھے مرنے سے پہلے انہوں نے آخری خواہش کے طور پر اپنی بیٹی کی سکیورٹی مانگی تھی زایار ادانے سب کے سامنے یہ کہا تھا کہ وہ اس سے شادی کر لیں
اور ادا نے ان کی آخری خواہش کا احترام کرتے ہوئے بریرہ بھابھی کا ہاتھ ہمیشہ کے لئے تھام لیا تھا
مجھے سب پتہ ہے زایارادا کے ساتھ نا انصافی ہوئی تھی انہیں ایک ان چاہی لڑکی کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کرنا پڑا
لیکن بھابھی نے کبھی انہیں شکایت کا موقع نہیں دیا وہ ہر طرح کے حالات فیس کرتی رہی ہیں ہر مشکل میں ان کا ساتھ دیتی رہی ہیں
آپ جب انہیں ادا کی ضرورت پڑی تو وہ ان کا ہاتھ چھوڑ کر کسی اور کا ہاتھ تھام گئے انہیں میری بھابھی کے ساتھ ایسا کرنے کا کوئی حق نہیں تھا ۔ان کی خوشیوں کے لیے وہ اپنے چہرے پر جھوٹی مسکراہٹ سجائے نہ جانے کس کرب سے گزر رہی ہیں
آپ اندازہ بھی لگا سکتے ہیں ان کی کیا حالت ہے ۔ہر تھوڑی دیر کے بعد وہ اپنا میک اپ ٹھیک کرنے جاتی ہیں
تاکہ بار بار بہنے والے آنسوؤں سے وہ خراب نہ ہو جائے کہیں ان کی حقیقت سب کے سامنے نہ جائے ان کا درد ان کی تکلیف کوئی دیکھ نہ لے
عورت عورت ہی ہوتی ہے شیر ادا وہ اپنے شوہر کی زندگی میں کسی اور عورت کو برداشت نہیں کر سکتی چاہے وہ کتنی ہی حوصلہ مند کیوں نہ ہو سوتن سہنے کی ہمت کوئی عورت نہیں رکھتی
خیر میں تو جا رہی ہوں اپنے کمرے میں اگر کسی نے پوچھا تو کہہ دیجئے گا کہ میں اپنے کمرے میں ہوں اور یہ جھوٹا دکھاوا مجھ سے نہیں ہوتا
وہ چھوٹی سی لڑکی سے اپنے باتوں سے اسےحیران اور پریشان جو لگی تھی وہ تو کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس کی سوچ اتنی آگے جا سکتی ہیں
وہ تو ابھی تک اسے کل کی بچی سمجھ رہا تھا لیکن اس بات تو کو وہ اتنی گہرائی سے سمجھتی تھی یہ تو اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا
°°°°°°
وہ ندی کے قریب بیٹھا ہوا ہر تھوڑی دیر میں ندی میں پانی پھینک رہا تھا چاند کی روشنی ندی کے پانی میں چمکتی ایک الگ ہی منظر پیش کر رہی تھی
وہ خاموشی سے ندی کو دیکھتا اس کے بہتے پانی کی آوازیں سن کر مسرور ہو رہا تھا
وہ خوش تھا بے حد خوش اسے اس کی منزل ملنے جا رہی تھی وہ اپنی محبت کے قریب جا رہا تھا کل اس کا نکاح تھا
لیکن اندر کچھ تھا جو اسے بے حد بے چین کر رہا تھا ۔اسے تکلیف ہو رہی تھی ۔وہ ساری زندگی ایسی ہی گزارنے کو تیار تھا وہ کبھی کسی عورت کی تمنا نہ کرتا
لیکن پازیب کو دیکھتے ہی اس کے تمام سوئے جزبات جاگ گئے وہ ایک ہی نظر میں اس کے دل پر پوری طرح سے قابض ہو گئی تھی
لوگ کہتے ہیں محبت ہونے میں دیر نہیں لگتی اس نے اس بات کو آزما لیا تھا
اس نے ایک نظر آسمان پر چمکتے کہیں ستاروں کو دیکھا
مجھے معاف کر دیجیے گا چاچو میں جانتا ہوں آج آپ کی روح پر سکون نہیں ہوگی جانتا ہوں آج آپ تکلیف میں ہیں
لیکن میں مجبور ہوں میں نہیں نبھا سکتا اس ان چاہےرشتے کو میں نے کوشش کی سات سال ہر وقت اس لمحے کا انتظار کیا جب مجھے بریرہ کے کیے گئے گناہ کم لگنے لگے
لیکن ایسا نہیں ہو سکتا چاچو آپ اس کے باپ ہیں وہ آپ میں طاقت ہے اسے معاف کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں میں نہیں رکھتا
مجھ میں نہیں ہے ہمت اسے معاف کرنے کی وہ آج بھی ویسی ہی ہے چاچو نہیں بدلی اور نہ ہی وہ کبھی بدل سکتی ہے ۔
میں نے اس کی آنکھوں میں بہت آنسو دیکھے ہیں سات سال سے لیکن میں قسم کھاتا ہوں ان سات سال میں بہائے گئے آنسؤوں میں ایک بھی آنسو ندامت کا نہیں تھا ۔وہ خاموشی سے آسمان کی طرف دیکھتا ہر روز کی طرح اپنے چاچو سے اپنے دل کا حال بیان کر رہا تھا
کتنی دیر اپنی ہی سوچوں میں لگے اسے وقت کا احساس ہوا تو صبح کے تین بج رہے تھے اس نے اٹھ کر حویلی کا رخ کیا صبح نکاح تھا ۔وہ اپنی زندگی میں اپنی چاہت اپنی محبت اپنی پازیب . کو ویلکم کرنے جا رہا تھا
°°°°°°
اس کی سماعتوں میں مولوی صاحب کی آواز گونج رہی تھی وہ خاموشی سے انہیں سن رہی تھی نکاح کی رسم ادا کی جارہی تھی
قبول ہے خوبصورت لہجے اعتراف کیا گیا
سرخ لہنگے میں بیوٹیشن کے باہر ہاتھوں سے تیار ہوئی وہ کوئی آسمان سے اتری ہوئی اپسرہ ہی لگ رہی تھی ۔
اس کے سارے جسم پر قیمتی زیورات تھے ۔وہ گردن اٹھا کر کسی کو دیکھ نہیں پا رہی تھی ۔اس نے تو زندگی میں کبھی نفلی یورات بھی اتنے نہیں پہنے تھے ۔جتنے اصلی کا بوجھ اٹھا کر کو یہاں بیٹھی تھی
زایار نے اسے یہ سب کچھ کرنے سے منع کیا تھا بلکہ وہ تو شادی کا لہنگا پہنانے سے بھی منع کر چکا تھا
لیکن زار چاچو نے اسے سمجھایا کہ مہمان نہیں جانتے کے پازیب نے خود کشی کرنے کی کوشش کی ہے اور نہ ہی یہ بات بتا کر وہ اپنا تماشا لگا سکتے ہیں اسی لئے اس کو تھوڑا بہت تو برداشت کرنا پڑے گا
جس کے بعد بس زایار نے جلدی نکاح کا شور مچا دیا مقصد یہ تھا کہ جلدی سے جلدی یہ سب کچھ ختم ہو اور وہ اسے ان سب تھکن زدا چیزوں سے آزاد کرے
اس نے خاموشی سے نکاح نامے پر سائن کیے اس کا چھوٹا سا گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا سب کچھ اتنا اچانک ہو رہا تھا کہ کسی کو کچھ بھی سوچنے سمجھنے کا موقع نہ ملا
تھوڑی ہی دیر میں وہ اپنا سب کچھ زایارکے نام لکھ چکی تھی
نکاح مکمل ہوتے ہی ہر طرف مبارک ہو کا شور گونجنے لگا اور تھوڑی ہی دیر میں رخصتی کا شور اُٹھا
تائی امی پریشان ہوئی وہ اتنی جلدی رخصتی نہیں چاہتی تھیں ابھی تو پازیب کے زخم بھی نہیں بھرئے تھے
کہ وہ لوگ ابھی رخصتی چاہتے تھے ان لوگوں نے پہلے اس چیز کا ذکر نہیں کیا تھا
لیکن ان کے حکم پر تائی امی نی اس وقت ہی اسے رخصت کرنے کا فیصلہ کر دیا گیا
اپنی تائی کے سینے سے لگتی پازیب پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی
جبکہ وہ اسے بہت ساری دعائیں دے کر اس کی منزل کی طرف رواں دواں کرچکیں تھیں
°°°°
زایار کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا وجود ہچکیوں سے روئے جا رہا تھا ۔
وہ اسے خاموش کروانا چاہتا تھا لیکن ڈرائیور کی موجودگی میں ایسا ممکن نہیں تھا وہ خاموشی سے اپنے جذبات کو قابو کرتا اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ چکا تھا
یہ زیور اتار دو تمہارے زخم پر نی لگ جائے وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھنمیں لیے بولا تو
اس کے ایسا کرنے پر پازیب نے تڑپ کر اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ کی گرفت سے نکالا جیسے کسی کرنٹ نے چھولیا تھا ۔اس کے انداز پر زایارکے چہرے پر تبسم بکھر گیا
اس کی گھبراہٹ کو وہ نوٹ کر چکا تھا
اتنا گھبرا کیوں رہی ہو ۔۔۔میں کوئی غیر تھوڑی ہوں۔ سمجھ سکتا ہوں کہ تم اپنی رخصتی کی وجہ سے اداس ہو
پریشان مت ہو میں کل ہی تمہیں تمہاری تائی امی سے ملوانے واپس لے آؤں گا وہ بہت آہستہ آواز میں بول رہا تھا کہ ڈرائیور سن نہ پائے جبکہ پازیب کا تو جیسے سارا جسم سماعت بنا ہوا تھا ۔اسے اپنے قریب محسوس کر کے زایار تو لسی اور ہی جہان میں تھا
آ۔۔۔آپ۔۔۔ آپ مجھ سے دور۔۔دور۔ ۔ ہو کر بیٹھے
وہ گھبرائے ہوئے دروازے میں گھسنے کی کوشش کر رہی تھی
کیوں۔ ۔۔؟میں تو تمہارے پاس آنے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہوں اور تم مجھے خود سے دور کر رہی ہو اس کے اچانک کہنے پر پازیب اسے گھور کر رہ گئی
گھبراؤ مت یار بہت شریف آدمی ہوں فی الحال ایسا کچھ نہیں کروں گا جس سے تمہاری مشکلوں میں اضافہ ہو وہ آہستہ سے کہتا اپنا ہاتھ اس کی گردن کے پیچھے لے گیا اس کے ہاتھوں کا لمس اپنی گردن پت محسوس کرتی وہ جی جان سے کانپ لر گئی دل بے ترتیب ہونے لگا وہ سکھے پتے کی طر لریزنے لگی
اس کی حالت سے باخبر زایار نے اس کے گلے میں پہنے وزنی ہار کی ہک کھول دی جس سے اگلے ہی لمحے وہ اس کی گود میں آ گرا تھا
میں نہیں چاہتا کہ میری بیوی کو کوئی بھی چیز تکلیف دے وہ بے حد نرمی سے کہتا اس کا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں کی گرفت میں لے چکا تھا پازیب کا معصوم سا دل پسلیوں سے باہر آنے کو مچل رہا تھا
حویلی میں بہت دھوم دھام سے اس کو ویلکم کیا گیا ۔
زایار بے حد محبت سے اس کا ہاتھ تھامے ہوئے اسے حویلی تک لایا تھا
وہ دلہن کی طرح سجی عمارت بہت خوبصورت لگ رہی تھی
لیکن اپنے اندر چھائی ویرانی کی وجہ سے وہ اس کی خوبصورتی کو سمجھنے سے قاصر تھی
وہیں رک جائیں بھابھی آپ اس طرح سے اندر نہیں آ سکتی پہلے آپ کو سب گھر والوں کے سامنے اونچی آواز نے اپنا تعارف کروانا ہوگا لالی اس کے سامنے آتے ہوئے راستہ روک کر بولی
وہ بہت دنوں سے زایار سے ناراض تھی۔
لیکن روز کی بانسبت آج سنیہا اور لالی دونوں بہت الگ لگی تھیں وہ اپنے آپ کو بے حد خوش ظاہر کر رہی تھیں صبح بارات نکلنے سے پہلے بھی انھوں نے زایار کے ساتھ بہت ساری رسم کی تھی
مجھے اتنے دنوں سے ان کی ناراضگی کی وجہ سے پریشان تھا آج اس کا دل پہ خوش تھا کیوں کہ اس کی بہنوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے چاچا بڑے چاچا پاکیزہ چاچی سب ہی اس کی شادی کی رسموں میں حصہ لے رہے تھے اس کی ماں تو پہلے ہی اس کے ساتھ تھیں اگر شادی سے کوئی خوش نہیں تھا تو وہ پھر سکندر شاہ
جنہیں اپنی بھتیجی کی جگہ یہ لڑکی ہر گز پسند نہیں آئی تھی
لیکن انہوں نے بھی اپنی ناپسندیدگی کا اظہار نہیں کیا
بلکہ رسموں کے دوران وہ بھی بچوں کی شرارتیں دیکھ کے مسکرا رہے تھے
اور اس وقت بھی انہوں نے ہی کوئی بھی رسم کرنے سے منع کیا تھا
سنیہا اور لالی تم لوگوں کی بھابھی کی طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں ہے تم لوگ جانتی ہو ابھی ابھی تو حادثہ ہوا ہے فی الحال اسے تنگ مت کرو اسے آرام کی ضرورت ہے
بابا نے بہت کم آواز میں کہا تھا کہ مہمان نہ سن سکیں
مہمانوں کو پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ دلہن کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے
اب سکندر شاہ کے کہنے پر لالی اور سنیہا دونوں کا ہی منہ بن گیا
بابا جانی ہم اور کوئی رسم نہیں کریں گے صرف یہ والی اور کوئی نہیں وعدہ اس کے بعد ہم بھابھی کو کمرے میں چھوڑ آئیں گے
سنیہا نے منت بھرے انداز میں کہا تو سکندرا مسکرا دیئے
ٹھیک ہے بھئی جلدی کرو یہ رسم ۔۔۔
اور پھر تم لوگ بہو کو سیدھا کمرے میں لے کر جاؤ گیں تاکہ وہ آرام کر سکے سکندر شاہ کے منہ سے بہو لفظ سن کر زایار نے ایک نظر اٹھا کر میں نے دیکھا تھا اسے اپنے دل میں ٹھنڈک سی اترتی محسوس ہوئی
ٹھیک ہے تو پازیب اُپس میرا مطلب ہے بھابی وہ اپنی بات کو درست کرتی زبان دانتوں تلے دبا گئی۔
بھابھی آپ کو کرنا یہ ہے کہ جیسا کہ آپ ادا کو شادی سے پہلے سے نہیں جانتی
کہ ان کا مکمل نام کیا ہے یا ان کے بارے میں کچھ بھی اسی طرح ادا بھی آپ کے بارے میں کچھ نہیں جانتے
تو اب آپ کو اونچی آواز میں تاکہ اس حلقے میں کھڑے سب لوگوں کو آپ کی آواز سنائی تھی آپ کو اپنا نام دوہرانہ ہوگا مطلب کے آپ کو اپنا نام ہم سب کو بتانا ہوگا تاکہ ہم سب آپ سے متعارف ہوجائیں اور ادا بھی ۔۔۔لالی شرارتی انداز میں بولی ۔
او بھئی یہ کونسی رسم ہے اس رسم کے بارے میں ہم نے کبھی کچھ نہیں سنا اور نہ ہی ہم ایسی بے فضول ہی رسم کرنے والے ہیں شیر میدان میں کودتے ہوئے بولا
آپ تو بس ہی کریں آپ سے کس نے پوچھا اور کون سا ہم آپ کو رسم کرنے کے لئے کہہ رہے ہیں رسم تو ادا اور بھابھی نے ادا کرنی ہے آپ کی باری پر ہم کوئی نئی رسمِ نکال لیں گے گھر کی کھیتی ہے آپ کی شادی پر بھی اگائے گی
وہ ناک سے مکھی اڑاتے ہوئے پھر سے پازیب کی جانب متوجہ ہوئی جو کنفیوز سے ان سب کو دیکھ رہی تھی
اچھا بھابھی بولیں۔۔ اپنا نام ان کے منہ پر ماریں آپ خاموش کیوں ہیں بس نام ہی تو لینا ہے کہہ دیجئے آپ کا نام پازیب ہے اور آپ زایار شاہ کی بیوی ہیں اسی طرح سے زایار بھی آپ کے سامنے اپنا نام لے کا اوت رسم ختم ۔۔ پھر آپ کو کمرے میں آرام کے لئے بھیج دیا جائے گا شیر نے آسان الفاظ میں اسے رسم سمجھائی تھی جو کوئی رسم نہیں بلکہ بس ایک چھوٹی سی شرارت تھی
میرا نام۔۔۔۔ پازیب ہے۔۔" وہ مدھم آواز میں بولی اس کی آواز میں جیسے پوری دنیا کی معصومیات سیمٹ آئی تھی
ساتھ کھڑے زایار شاہ کے دل کو کچھ ہوا تھا ۔
تھوڑی اونچی آواز میں بولیں اور پورا نام لے کر سنیہانے ٹوکا
میرا نام پازیب روف ہے ۔۔۔
نہیں آپ کا نام پازیب روف نہیں بلکہ پازیب زایار شاہ ہےاس بار لالی نے ٹوک دیا
جس پر پازیب کے دل کو کچھ ہوا تھا اس کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے لگی تھی اس شخص کا نام اپنے نام کے ساتھ جڑا دیکھ کر
بول بھی دیں۔ ۔۔۔لالی نے منت کی جس پر سب لوگ ہنسنے لگے
میرا ۔۔نام پازیب۔ زززایاا۔۔۔ارر شششاہ۔ ۔۔۔۔۔ہے۔ ۔اس کی زبان سے ٹوٹے پھوٹے الفاظ ادا ہوئے
جس پر زایار شاہ کے لبوں پر تبسم بکھرا تھا
اور اس کے ساتھ ہی پورے ہال میں چھت پھاڑ قہقے گونجے
بس بہت ہوا لڑکیوں بہت ستا لیا تم نے اسے اب جلدی سے کمرے میں چھوڑ کے آؤ پاکیزہ چاچی نے ان سب کو ٹوکتے ہوئے پازیب کی نظر اتاری جو بے شک حسن کا مجسمہ تھی
یہ پاکیزہ اور صاف دل لڑکی ان کے گھر میں ہر کسی کو پسند تھی ۔بس حالات کچھ ایسے ہو گئے تھے کہ ان کے دل میں پازیب کے لیے تھوڑی سی غلط فہمی نے جگہ بنا لی
لیکن پھر جس انداز میں بریرہ نے ان سب کو بلا کر یہ سمجھایا تھا کہ اس سب میں پازیب کا کوئی قصور نہیں ہے اور نہ ہی وہ شادی سے پہلے زایار کو جانتی تھی
اس شادی میں صرف اور صرف زایار کی پسند شامل ہے پازیب کا اس سب سے کوئی لینا دینا نہیں تو اس کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہ کیا جائے
وہ اس گھر میں ایک بے قصور لڑکی کے ساتھ کسی قسم کی کوئی زیادتی نہیں ہونے دے گی
وہ ایک عام سی لڑکی ہے جو اپنی زندگی جینے کے لئے اس حویلی میں آ رہی ہے اور اسے اس حویلی میں وہی مقام وہی رتبہ دیا جائے گا جو ایک بہو کو دیا جاتا ہے
جبکہ لالی اور سنہا کو اس نے بس اتنا ہی پوچھا تھا کہ اگر میں تم لوگوں کی زندگی میں نہ ہوتی تو کیا تم آج اپنے ادا کی اس خوشی کو نامحسوس کرتی ۔۔۔؟ تم لوگوں کے بھائی کو تمہاری ضرورت ہے
مجھ سے کہیں زیادہ وہ تم لوگوں سے محبت کرتا ہے اس کے ساتھ ایسا مت کرو
اسے بھی جینے کا حق ہے وہ بھی خوشیوں پر اختیار رکھتا ہے لالی اوف سنیہا کافی دیر اس سے ناراض رہیں لیکن اس کی بات غلط نہیں تھی زایار ادا کی دوسری شادی ان کی مرضی تھی ان کی پسند تھی وہ کوئی حق نہیں رکھتی تھی انہیں روکنے کا
ہر انسان کو اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کا پورا حق ہے اور زایار نے اپنی مرضی سے اپنی زندگی کا فیصلہ کیا تھا بے شک وہ لوگ خوش نہیں تھے لیکن زایار کی خوشی کے لئے انہیں یہ سب کچھ کرنا تھا کیونکہ بریرہ نے ان سب کو اپنی قسم دی تھی
بریرا کا کہنا تھا کہ اگر وہ بیوی ہوکر خود دوسری عورت گھر میں لا سکتی ہے اپنی جگہ اپنا مقام دے سکتی ہے تو وہ لوگ اسے بہو کے روپ میں قبول کیوں نہیں کرسکتے وہ بھی تب جب وہ بالکل بے قصور ہے
پاکیزہ چاچی کو اس کی بات بہت اچھی لگی تھی ۔باقی سب بھی سمجھتے تھے
زا یار کو دوسری شادی کا حق اللہ نے دیا ہے تو وہ تو عام سے لوگ تھے بلاوہ زایار سے یہ حق چھین کیسے سکتے تھے
ارے رک جائے ماما اتنی جلدی کیا ہے آپ کو ابھی تو ادا نے اپنا تعارف ہی نہیں کروایا سنیہانے فوراً پاکیزہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا
میرا نام زایار شاہ بیگم اور ہم رشتے میں آپ کے شوہر ہوتے ہیں باقی تم لوگوں کو میرے بارے میں سب کچھ پتہ ہے یا میں بتاوں اس نے جتنی محبت سے پازیب کی جانب دیکھا تھا اتنی ہی سختی سے سامنے دیکھ کر بولا
تو لالی اور سنیہانے فورا کانوں کو ہاتھ لگایا
نہیں نہیں ہمیں پتا ہے کہ آپ کون ہیں ہم تو کہہ رہے تھے کہ ہم بھابھی کو اندر لے کر جا رہے ہیں لالی کانوں کو ہاتھ لگاتی شرارتی انداز میں بولی تو سب لوگ ہنسنے لگے
زایار شیر اور زاہد کے ساتھ مردان خانے میں جا چکا تھا جبکہ لالی اور سنیہا اسے کمرے کی جانب لے جانے لگی
°°°°
لالی اور سنیہا پازیب کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرتی رہی تھی پازیب بہت انکنفرم ٹیبل محسوس کر رہی تھی اتنے بھاری لہنگے اور زیورات میں اس کی جان جا رہی تھی کندھے پر جلن بھی ہو رہی تھی لیکن وہ یہ ساری باتیں انہیں بتا نہیں سکتی تھی
پتہ نہیں وہ کیا مطلب نکالیں اسی لئے وہ خاموشی سے بیٹھی ان کی باتیں سنتی رہی وہ زیادہ آپس میں باتیں کر رہی تھیں
پر زیادہ تر باتیں زایار کے بارے میں ہوتی کہ اسے کیا اچھا لگتا ہے کیا نہیں کون سی چیز پسند ہے کس بات پر اسے غصہ آتا ہے کس بات کا اسے خیال رکھنا ہوگا
جب کہ وہ خاموشی سے انہیں سنتی ہاں میں سر ہلا رہی تھی
کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ زندگی میں آگے کیا ہونے والا ہے بریرہ بیگم کے احسانوں کے تلے دبی وہ کس طرح سے اپنی زندگی گزارے گی
اچھا ٹھیک ہے بھابھی آپ بیٹھیں اب ہم بھی چلتے ہیں وہ اس کا لہنگا پورے بیڈ پر پھیلاتے ہوئے مسکرا کر اٹھنے لگی پازیب نے جواب نہ کچھ نہیں کہا
گاڑی میں زایارکی بے باک باتوں پر اس کے کان سرخ ہو رہے تھے گھبراہٹ سے زیادہ سوار تھی
زایار نے اس سے شادی کیوں کی تھی وہ اس سے کیا چاہتا تھا بھلا اس سے کیا مطلب ہو سکتا تھا
۔بریرہ بیگم نے اس پر اتنا بڑا احسان کیوں کیا کیا انہیں بدنامی کا ڈر تھا اس کے ذہن میں بہت سارے سوال تھے
جن کا جواب بس یہ تھا کہ وہ عزت سے رخصت ہوکر اس چھوٹے سے گھر سے اس حویلی میں آ گئی تھی
وہ اس وقت حویلی کے بہت بڑے شاندار کمرے میں موجود تھی جس میں ضرورت کی ہر شے تھی وہ کمرے میں نظر دہراتی آہستہ سے نظریں جھکائے اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگی
کیا تھا اس کی ہاتھوں کی لکیروں میں ۔۔ اس کی سہیلی کے شوہر نے دوسری شادی کی تو اسی دن کے ساتھ اسے دعا مانگنا شروع کر دی یا اللہ میری نصیب میں کوئی سوتن نہ لکھنا
لیکن نصیب لکھنے والے نے تو اس کے لئے کچھ اور ہی سوچ رکھا تھا
°°°°
وہ سرشار سا اپنے کمرے کی جانب جا رہا تھا جب پاکیزہ چاچی نے اسے بتایا کہ پازیب کو نیچے والے کمرے میں رکھا گیا ہے
وہ بنا کچھ بولے نیچے آیا تو بریرہ کو کمرے کے باہر کھڑے دیکھا غصے سے اس کے ماتھے کی لگیں باہر آ رہی تھیں
میری بیوی کو اس کمرے میں کیوں رکھا ہے اسے میرے کمرے میں کیوں نہیں بھیجا گیا وہ اس کے سر پر سوار سوال کر رہا تھا اس وقت اسے کمرے جانے سے زیادہ اپنے جواب کی بے چینی تھی
میں تو کرنا چاہتی تھی زایار لیکن وہاں بہت سامان ہے شفٹ کرتے ہوئے ٹائم لگے گا اور پھر پازیب ویسے بھی یہاں زیادہ کنفرم ٹیبل رہے گی ۔۔۔۔کیونکہ وہاں میں اور آپ۔۔۔۔ بریرا نےکچھ کہنا چاہا
مجھے اور کسی کمرے میں نیند نہیں آتی تم جانتی ہو نہ یہ بات ۔۔۔۔۔
زایار وہ آپ کا ہی کمرہ ہے میں ۔۔۔۔۔
وہ میرا ہی کمرہ ہے بریرہ اور وہاں میں اور میری بیوی رہیں گے جلدی سے جلدی اس کمرے کو چھوڑ دو وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا
پچھلے کچھ دنوں سے رو رو کر اس کا کیا حال تھا وہ تو اس کی آنکھیں ہی بیان کر رہی تھی لیکن زایار شاہ تو بےحس بنا ہوا تھا اپنے علاوہ اسے کسی سے مطلب نہیں تھا
میں کر دوں گی آپ بے فکر ہو جائیں وہ نظریں چراتی ہوئی بولی
تبھی لالی اور سنہیا کمرے سے باہر آئیں
ادا آپ آ گئے لائیے دیجئے ہمارا نیگ ورنہ ہم کمرے کے اندر نہیں جانے دیں گے ۔
وہ دونوں کمرے کے باہر کسی چوکیدار کی طرح کھڑے ہوتے ہوئے بولیں تو اتنے غصے میں نہ چاہتے ہوئے بھی زایار کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی
جب کہ مہمان کے کمرے سے نکلتے شر کویہ حرکت بالکل پسند نہیں آئی تھی
یہ کیا بیہودگی ہے ایسی کوئی رسم نہیں ہوتی راستہ چھوڑو تم لوگ وہ سختی سے بولا
ادا ان کو بتائیں کہ یہ رسم ہے لالی ممنائی اس کے غصہ کرنے کی وجہ سے لالی کی آنکھیں نم ہونے لگی تھی
آج تو ویسے بھی اس سے رونے کا بہانہ چاہیے تھا لیکن بریرہ کی دی قسم کی وجہ سے وہ رو نہیں پا رہی تھی
اچھا بابا ٹھیک ہے یہ رسم ہے زایاردے دیجئے انہیں ان کا نیگ ۔بریرہ نے اس کی مشکل آسان کردی
جس پر لالی نے ایک چور سی نظر شیر کے چہرے پر ڈالی جس نے اتنے پیسے کمانے والی رسم کو بے ہودگی قرار دے دیا تھا
شیر یار میرے تو سارے پیسے ختم ہوگئے اب تم ہی کچھ نکال دو مجھے تو یہ اچھا حاضا لوٹ چکی ہیں
وہ شیر کو دیکھتے ہوئے بولا
مونچھر بہت کنجوس ہیں یہ تو اپنی جیب سے ایک پیسہ بھی نہ نکالے لالی نے غصے سے منہ بنایا
ایسی بے ہودہ رسم پر تو میں واقعی ایک پیسہ نھی نہ نکالوں لیکن فی الحال زایار کو آرام کی ضرورت ہے
پکڑ و یہ پیسے اور اس کا راستہ چھوڑو جیب سے چند نوٹ نکالتے ہوئے بولا پیسے کم تھے لیکن وہ احتجاج نہیں کر سکتی تھی کیونکہ انھیں پتہ تھا جو ملنے والے تھے وہ بھی ہاتھ سے نکل جاتےا سی لیے بنا کچھ بولے سنیہانے فورا ہی پیسے تھام لیے تھے
چل لالی گزارہ ہو جائے گا ہمارا اتنے میں صبح سے ویسے بھی بہت مل چکے ہیں وہ لالی کو آنکھ دباتے ہوئے بولی جب کہ شیر وہاں مزید کھڑا ہونے کے بجائے جا چکا تھا
جبکہ زایر بھی کمرے میں چلا گیا
زایار کے کمرے میں جاتے ہی لالی اور سنہانے بریرہ کی جانب دیکھا
اس سے زیادہ ہم سے امید مت رکھیے گا اب اور ہم سے نہیں ہوگا وہ شکایتی نظروں سے بریرہ کو دیکھتے ہوئے بولی تو بریرہ نے اپنی باہیں پھیلائیں۔جس میں وہ دونوں سمائیں تھیں
میری پیاری بہنیں تھینک یو سو مچ میرے لئے اتنا سب کچھ کرنے کے لئےوہ محبت سے انہیں اپنے گلے سے لگاتی ہوئی بولی
اچھا اب تم لوگ جاؤ آرام کرو بہت وقت ہو چکا ہے وہ ان دونوں کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہنے لگی
میرا چائے پینے کا موڈ ہو رہا ہے بالکل نیند نہیں آرہی سنیہا نے انکار کیا
اور مجھے بھوک بھی لگی ہے تم چلو چھت کی لائٹ جلاؤ نیچھے تو اتنے سارے مہمان ہیں کہاں بیٹھ کر کھائیں گے اور کمرے میں تو جانے کا دل ہی نہیں کر رہا تھوڑی دیر ٹھنڈی ہوامیں انجوائے کریں گے
لالی نے پوری پلاننگ کرتے ہوئے بتایا تو اس نے فوراً ہاں میں سر ہلانے لگی
ٹھیک ہے تم لوگ کرو اپنی مستی میں اس بار بالکل منع نہیں کروں گی میں روم میں جا رہی ہوں یہ نہ ہو کہ ہادی جاگ گیا ہو بریرہ ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑتی کمرے کی جانب بڑھ گئی جبکہ لالی کیچن اور سنیہا چھت کی جانب
°°°°
تم ابھی تک اسی طرح سے یہاں بیٹھی ہو کم ازکم چینج تو کر لیتی کہ تم نے دوا لگائی ہے
بیوقوف لڑکی تم یہاں بیٹھ کر اتنی دیر سے یہ تکلیف برداشت کر رہی ہو اور کچھ نہیں تو یہ کپڑے اتار کر اپنی میڈیسن لے لیتی وہ دلہن کے روپ میں بٹھی اس آپسرا کو دیکھ کر رہ گیا تھا
ہاں اس کو پازیب کو دلہن کی طرح سجےدیکھنے سے زیادہ اس کی صحت کی فکر تھی ۔اس کی تکلیف کا اندازہ وہ لگا سکتا تھا
پازیب آنے والے وقت کے لئے بے حد پریشان تھی اس کی بات سن کر حیران رہ گئی
ابھی تک بیٹھی مجھے کیا دیکھ رہی ہو اٹھو اور چینج کرو میں تمہاری دوا بلکہ یہی وہ ٹیبل پر بڑی ہے وہ کمرے سے باہر جانے والا تھا کہ سامنے ہی میزپر اسے اس کی میڈیسن پڑیں نظر آئیں
وہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔آپ۔ ۔۔میں۔۔۔۔
دیکھو لڑکی مجھ سے سیدھی طرح سے بات کیا کرو میں اچھی خاصی بولنے والی بیوی لے کر آیا تھا ہکلاتی لڑکیوں سے ہے مجھے چڑہےوہ سختی سے بولا
باہر بھی اس طرح سے میرا نام لے رہی تھی جیسے میں کوئی جن ہوں ۔وہ سخت انداز میں کہتا الماری سے اس کے لیے کپڑے نکالتا اس کا بازو تھام کر اسے کھڑا کرنے لگا
میری ہیلپ کی ضرورت ہوگی وہ تو کب سے سر جھکائے اس کی نظروں سے دور ہونے کا انتظار کر رہی تھی اس کے سوال پر پوری رفتار سے نہ میں سر ہلایا
اس کے انداز پر زایار نے بے اختیار آنے والی مسکراہٹ کو روکا تھا عنابی لبوں پر گھنی مونچھوں نے اس کام میں اس کا خوب ساتھ دیا تھا
اس نے آہستہ سے پازیب کے کانوں کے جھمکے اتارے اور پن سے اس کا دوپٹہ آزاد کیا
اس کا سر پہ جما ڈوپٹہ کندھوں پر آ گرا تو اس نے فورا دو قدم پیچھے ہٹائے جبکہ وہ اس کی گھبراہٹ کو نظر انداز کرتا آہستہ اس لہنگے کی شرٹ کی ڈوریاں کھلنے لگا۔
پازیب کے ہاتھ پاوں کاپنے لگے۔پازیب نے اپنی آنکھیں سختی سے بند کر لیں
اب جاو ۔تمہیں کپڑے چینج کرتے تکلیف نہیں ہوگی ۔کوئی مشکل پیش آئے تو باہر آجانا ۔خود نہ حل کرنے بٹھنا ۔ورنہ دیر ہونے پر میں اندر آکر کچھ چینج کرنے میں مدد کروں گا۔
وہ دھمکا رہا تھا یا سمجھا رہا تھا اس کو سمجھ نہیں آیا لیکن ایک ہی لمحے میں واش روم میں بند ہو چکی تھی
تھوڑی دیر میں واپس آئی تو زایار بھی چینج کیے اس کا منتظر تھا
اس کے ہاتھ میں ایک ٹیوب موجود تھی جو شاید اس کے زخموں پر لگانے کے لئے تھی اس نے نظر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا تو اس سے نظریں چرا گئی
جس کا مطلب سمجھ کر وہ مسکرا دیا تھا اس نے آہستہ سے اس کا ہاتھ تھام کر اسے بیڈ پر بٹھایا اور خود اس کے پیچھے بیٹھ گیا
اور اس کے بالوں کو ایک طرف کرتا نرمی سے اس کے زخموں پر مرہم لگانے لگا
پازیب شرمندہ تھی کیونکہ وہ اپنی قمیض کی ڈوریوں کو پیچھے سے بند نہیں کر پائی تھی ہاتھ پیچھے لے جاتے ہوئے اسے تکلیف ہو رہی تھی اور زایار کی دھمکی کی وجہ سے وہ جلدی واش روم سے باہر نکل آئی تھی
لیکن زایار نے اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے مرہم لگایا
اور اٹھ کر ایک نظر اس کے چہرے پر ڈالی وہ آنکھیں بند کیے نہ جانے کن سوچوں میں گم تھی جب اسے اپنے ماتھے پر ایک لمس محسوس ہوا اسنے فورا آنکھیں کھول کر دیکھازایار اس کا ماتھا چومتا اسے دیکھ رہا تھا
تم آرام کرو جب تک تم بالکل ٹھیک نہیں ہو جاتی میں اپنے جذبات کو مکمّل لگام لگا کے رکھوں گا کیونکہ مجھے میری بیوی بالکل ٹھیک چاہیے ہم محبت سے اس کاگال تھپتھاتا اس کے قریب سے اٹھ کر اسی لیٹنے کا اشارہ کرنے لگا
پازیب تو جیسے کسی بہانے کی تلاش میں تھی فوراً بیڈ پر لیٹ کر آنکھیں موند گئی اس کی جلد بازی پر وہ مسکرا کر آئی سی کی کولنگ تیز کرتا اس پر بلینکیٹ پھیلا کر باہر نکل گیا
ارادہ سیدھابریرہ کے پاس جانے کا تھا
تجھے عشق ہو خدا کرے
کوئی تجھ کو اس سے جدا کرے
تیرے ہونٹ ہسنا بھول جائیں
تیری آنکھیں پُرنم رہا کریں
اسے دیکھ کر تو رُکا کرے
وہ نظر جھکا کر چلا کرے
تیرے خواب بکھرے ٹوٹ کر
تو کرچی کرچی جمع کرے
تجھے ہجر کی ایسی جھڑی لگے
تو ملن کی ہرپل دعا کرے
تجھے عشق ہو' پھر یقین ہو
ایسے تسبیوں میں پڑھا کرے
پھر میں کہوں عشق ڈھونک ہے
تو نہیں نہیں کہا کرے
زندگی بدل چکی تھی کل تک وہ صرف اس کا تھا ۔آج کوئی اور بھی اس کا حق دار تھا
اس کا فون مسلسل بج رہا تھا جبکہ
وہ اپنی سوچوں میں گم ہادی کے بالوں میں ہاتھ پھیرنا ہی تھی جب کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا
اس وقت بھلا کون ہو سکتا ہے وہ فون کو نظر انداز کرتی سوچتے ہوئے اٹھ کر دروازہ کھولنے لگی جب سامنے زایار کو دیکھا
زایارآپ یہاں کسی چیز کی ضرورت ہے کیا ۔۔۔وہ پریشانی سےاسے دیکھ کر پوچھنے لگی
جب زایار بنا کچھ بولے اسے پیچھے کرتا کمرے میں داخل ہوا
اور آہستہ سے ہادی کے پاس آکر اسے اٹھانے لگا
زایار یہ آپ کیا کر رہے ہیں ۔۔۔۔؟
وہ پریشانی سے اسے دیکھنے لگی تھی ۔
کیا تم نہیں جانتی کہ میں کیا کر رہا ہوں وہ سخت لہجے میں گویا اور ہادی کو وہ باہوں میں اٹھا چکا تھا
ہاں جانتی ہوں ٹھیک ہے مگر آج آپ پلیز اسے رہنے دیں یہی پر آپ جائیں آپ کی بیوی کو آپ کی ضرورت ہے یہ سب میں دیکھ ۔۔۔۔۔
کس انداز میں دیکھ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔اور مجھے کس طرح سب کے سامنے پیش کر رہی ہوسب دیکھ چکا ہوں میں لیکن تم کبھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو گی یاد رکھنا
اس کی باتوں پر بریرہ کی آنکھیں نم ہوئیں۔آخر وہ اس پر اعتبار کیوں نہیں کرتا تھا
بند کر یہ جھوٹے آنسو مجھے فرق نہیں پڑھتا کیونکہ تم کبھی بدل نہیں سکتی
کیا ایسا ہو سکتا ہے بریرہ کے تم اپنی مطلب کی فطرت صرف ایک بار چھوڑ دو صرف ایک بار اپنی خودپسندی چھوڑ کر کسی اور کی جانب دیکھ لو
اگر تم اپنا مطلب چھوڑ دیتی تو آج پازیب کی جگہ تم ہوتی لیکن نہیں۔۔۔۔تمہاری خود پسندی۔۔۔۔
پتہ ہے تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے ۔۔۔؟
تمہیں اپنے علاوہ کسی سے کوئی مطلب نہیں ہے
میں جب بھی تمہاری طرف بڑھتا ہوں یہ سوچتا ہوں کہ تم بدل گئی ہو ۔۔۔۔۔۔تم بدل رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔تم بدل جاؤ گی ۔۔۔۔۔۔۔
تم کچھ نہ کچھ ایسا کردیتی ہو کہ میری ساری امیدوں پر پانی پھر جاتا ہے
میرے سارے گھر والے سمجھتے ہیں کہ تم اس رشتے کو نبھانے کی کوشش کر رہی تھی
لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ اس رشتے کو نبھانے کی کوشش صرف میں اور میں کر رہا ہوں تم نے تو اس رشتے کو نبھانے کی کوشش کی ہی نہیں
صرف سازشیں کرتی آئی ہوتم۔۔۔۔
وہ اسے کچھ بھی نہیں کہنا چاہتا تھا لیکن اس کے راستے میں آ جانے کی وجہ سے وہ خود پر کنٹرول نہیں کر سکا
تو اس سب کے انعام میں اب آپ میرے بیٹے کو اپنی دوسری بیوی کے گود میں ڈالنے جا رہے ہیں اس کا لہجہ یکسر بدل چکا تھا
اس کے اس طرح سے کہنے پر وہ طنزنہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا
تمہارا بیٹا ۔۔۔۔؟
ہادی تمہارا بیٹا کب سے ہوگیا ۔۔؟
تم اس کی ماں نہیں بن سکتی صرف پیدا کرنے سے کوئی کسی کی ماں نہیں بن جاتی تم صرفمیرے ایک سوال کا جواب دو کون سی ماں ہے جو اپنے ہی بچے کو پیٹ میں چھ بار مارنے کی کوشش کرتی ہے۔
کون سی ماں ہے جو اپنے بیٹے کی پیدائش کے بعد اسے دودھ میں زہر دے کر مارنے کی کوشش کرے
بریرہ میرے منہ مت لگو اس وقت میرا دماغ بہت خراب ہے مزید خراب مت کرو
میں تم پر اتنا اعتبار نہیں کر سکتا کہ اپنے بیٹے کو تمہارے ساتھ یہاں اکیلا چھوڑ دوں۔ مجھے تم پر بھروسا نہیں ہے بریرہ بیگم
یہ دنیا ماں کی محبت پر قائم ہے ایک ماں ہی ہوتی ہے جو اپنی اولاد کو ہر مصیبت سے ہر درد سے بچا کر اپنی کوکھ میں پالتی ہے
اس دنیا میں ماں اور بچے کا رشتہ دنیا میں آنے سے پہلے ہی بن جاتا ہے ۔لیکن تم نے صرف اور صرف رشتوں کا استعمال کیا پہلے بھی اور آج بھی تم پر اعتبار نہیں کر سکتا میں اپنے بیٹے سے بہت محبت کرتا ہوں
زایار پلیز ایسانہ کریں میں آپ سے محبت کرتی ہوں ۔۔ہادی میرا بھی بچہ ہے۔پلیز مجھےخود سے الگ نہ کریں ۔میں بیوی پوں آپ کی ۔۔۔میرا بھی حق ہے آپ پرمیں نے آپ کے لیے کیا نہیں کیا ۔۔۔۔ وہ رورہی تھی اور وہ کیوں رو رہی تھی صرف زایار جانتا تھا
تم مجھے سے پیار کرتی ہونا۔۔۔۔!
تم میری توجہ مانگتی تھی نا ۔۔۔۔۔؟
تم نے میری محبت کے لیے سارے گھر والوں کو قبول کیا میرے ساتھ جوڑے ہر رشتے کو قبول کیا ۔
لیکن تم نے ان رشتوں کے ساتھ بھی ملاوٹ کی ان تمام رشتوں کو اپنے مطلب کے لئے استعمال کرتی رہی
تم نے مجھ سے جوڑے رشتوں کو اپنے مطلب کے لئے استعمال کیا تم نے ان رشتوں کو سنوارا ان کی خوبصورتی کو نکھارا لیکن اس سب میں صرف اور صرف تمہارا اپنا مطلب شامل تھا
یہ سب کچھ تم نے صرف اپنے لئے کیا ۔۔۔۔
اپنے لئے نہیں زایار شاہ آپ کےلئےآپ کو پانے کے لیے آپ کو حاصل کرنے کے لیے اپنا سب کچھ چھوڑ کر میں آپ کے لئے آئی اپنا آپ برباد کر کے آپ کو بچا پیدا کرکے دیا
آپ کی بہنوں کو پیار دیا آپ کے ماں باپ کو عزت بھی اور جن رشتوں کا ہونا یا نہ ہونا معنی نہیں رکھتا ان کی بھی خدمت کر رہی ہوں میں
اور آپ نے کیا کیا سوتن لاکر میرے سر پر سوار کردی۔کیا یہ نانصافی نہیں ۔وہ رو رہی تھی
اس کے علاوہ بھی تم نے بہت کچھ کیا ہے برہرہ پازیب کو بدنام کر کے خودکشی پر مجبور کیا۔۔۔۔کہویہ سب پلان تھا نہ تمہارا سوچی سمجھی سازش ۔۔۔۔وہ یقین سے بولا۔
ہاں تھا یہ سب کچھ میرا پلان تھا میں نے ہی کیا تھا یہ سب کچھ تا کہ وہ پازیب خود کشی کر کے مر جائے اور میراکام آسان ہو .کیعنکہ نہیں برادشت کرسکتی کسی اور کوآپ کی زندگی میں میرا حق ہے آپ پر
آپ کے لئے دن رات پاگلوں کی طرح آپ کےرشتہ داروں کی نوکر بنی ہوئی ہوں پالگوں کی طرح آپ کے گھر خاندان کی نوکریاں کررہی ہوں اور آپ کسی اور کے اسیر ہوگئے اور آپ کہتے ہیں میں اسے ایسے ہی چھوڑ دوں
یہ تو کچھ بھی نہیں زایارشاہ اب آپ دیکھتے جاؤ میں کیا کرتی ہوں وہ سارے پردے ایک طرف رکھ کر کھل کر اس کے سامنے کھڑی تھی
اس کے انداز پر وہ قہقہ لگاؤ اٹھا
یہ ہے تمہاری حقیقت ۔۔۔اور کچھ نہیں کر سکتی تم کچھ بھی نہیں کیونکہ تم کچھ ہو ہی نہیں
میری بیوی کی طرف آنکھ اٹھا کر مت دیکھنا ۔پر اگر تم نے اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو وہ دن تمہارا اس زمین پر آخری دن ہوگا ۔وہ غصے سے کہتاہادی کو اٹھا کر لے گیا جبکہ بریرہ اپنے بال نوچتی اب آگے کا سوچ رہی تھی
°°°°°
وہ لالی کا انتظار کر رہی تھی جو چائے کے ساتھ ساتھ پتہ نہیں اپنے کھانے کے لئے کیا بنا رہی تھی جو اسے اتنی دیر لگ گئی
اس وقت چھت پر اس کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا اور چھت کا راستہ بھی صرف ان کے گھر کے اندر سے ہی تھا اسی لیے وہ چھت پر اکیلی آنے سے ڈرتے نہیں تھیں۔
ان کا جب تک دل ہوتا تب تک وہ رات چھت پر انجوائے کرتی تھیں
یہ ان دونوں کا فیورٹ مقام تھا حویلی میں
سنیہا چھت کی دیوار کے ساتھ کھڑی تھی بالکل اندھیرا چھایا ہوا تھا آگے پیچھے کوئی نہیں تھا سبھی تھک کر اپنے اپنے بستر پر آرام کر رہے تھے ۔ہر طرف خاموشی کا راج تھا
وہ خاموشی سے اندھیرے میں خاموش گاؤں کو دیکھ رہی تھی جب اسے اپنی گردن پر گرم سانسوں کا لمس محسوس ہوا ۔اس کا دل جیسے حلق میں آ گیا
وہ لالی نہیں تھی لا لی کبھی ایسی حرکت نہیں کر سکتی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی سینہا کتنی ڈرپوک ہے اس نے پلٹنا چاہا جب کسی نے اس کے ہاتھ تھام لئے
ہاتھوں پر مردانہ گرفت محسوس کر کے اس کی روح تک کانپ اٹھی اس کے پیچھے کوئی آدمی تھا جو اپنی گرم سانسس اس کی گردن پر چھوڑ رہا تھا
جب پہنی تم نے ناک میں یہ ننھی سی نتھلی
میرا تو خداحافظ بتاؤ آئینے پر کیا گزری ۔۔۔"
بے حد دلکش پرکشش آواز میں اپنی ناک سے اسکی گردن کی شہ رگ سہلاتے وہ اسے کاپنے کرنے پر مجبور کر گیا
ان کی حویلی میں کوئی مردچھت پر اس طرح سے کیسے آسکتا ہے نوکر ہر وقت الرٹ رہتے تھے کہ کوئی باہر کا انسان اندر نہ آئے سکیورٹی کا سخت پہرہ تھا اندر تو نوکروں کو آنے کی بھی اجازت نہ تھی
تو پھر کون تھا جواتنی سخت سکیورٹی کے باوجود یہاں تک آ گیا اور اس کی جرت یہ کی سنیہا کے پیچھے کھڑے اس نے اس کے دونوں ہاتھ تھام رکھے تھے اس کا پورا وجود لرز رہا تھا
اس کا دل سوکھے پتے کی طرح کانپ رہا تھا
وہ اپنا آپ اس سے چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی جبکہ اس کی مزاحمت پر وہ دلکشی سے مسکرایا ۔اس چھوٹی سی لڑکی کا پر انداز اس کے لیے پرکشش تھا
میرے ذرا سے چھونے پر اتنی مزاحمت دلبر
ذرا سوچ ایک دن تو میری دسترس میں ہو گا ۔۔۔"
اس کے کان میں ایک بار پھر سے گھمبیر آواز اتری تھی
اس کی سانسیں تیز ہونے لگی دل پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو بے چین ہو چکا تھا
ک۔۔۔۔۔۔ک۔۔و کو کون۔۔۔۔ ہو تم
چھوڑ۔ ۔۔۔چھوڑو۔ ۔۔۔
میرے۔ ۔۔۔ادا۔ ۔تمہیں۔ ۔چھیڑ کر رکھ دیں گے۔ ۔۔۔وہ غصے اور خوف کی ملی جلی کیفیت میں بولی
تو پیچھے کھڑے شخص کا جاندار قہق بلند ہوا
ڈارلنگ تمہارا ایک بھائی حویلی میں موجود نہیں ہے اور دوسرا بھائی اس وقت اپنی نئی نویلی بیوی کے ساتھ مصروف ہے
آؤ ہم دونوں ایک دوسرے میں مصروف ہو جاتے ہیں وہ اس کی گردن کو لبوں سے چومتا بے باک لہجے میں کہتا ہے اس کی جان ہوا کرنے لگا
اس کا اتنا قریب ہونا اس کا بےباکی سے چھونا سنیہا اپنی بےبسی پر روہاسی ہوگئی
اس کا لمس وہ اپنے پیچھے گردن پر جابجا محسوس کر رہی تھی
وہ اپنی پوری طاقت لگانے کے باوجود بھی اس سے اپنا آپ چھڑوا نہیں پا رہی تھی اور نہ ہی پلٹ کر اس شخص کو دیکھ پا رہی تھی
اتنا ڈر کیوں رہی ہو ۔۔۔۔! یو آر مائن شہزادی تم میری ہو میں آ رہا ہوں تمہیں لینے کے لئے اپنے آپ کو تیار کر لومیرے لیے۔ آج تمہاری خوبصورتی دیکھ کر اندازہ ہوا کہ اب انتظار کرنا خود پر جبر کرنا ہے۔ اور میں خود کو اس اذیت میں نہیں ڈال سکتا
اب تمہارے حسن کو خود میں سمٹنے کا وقت آ گیا ہے۔اب اپنا آپ اس میری شدتوں کے لیے تیار کر لو۔
کیونکہ اب سے جو میرا ہے میں اسے لے جاوں گا ۔تیار رہوشہزادی تمہاری آزادی ختم ہونےوالی ہے۔
اس کا پورا وجود سماعت بنا اسے سن رہا تھا۔اور وہ بےباکی سی اپنے لبوں کا لمس اس پر چھوڑ رہا تھا
وہ مدہوش تھا اور سنیہا کانپ رہی تھی
جب اسے سیڑھیوں سے کوئی آواز آئی۔اچانک کسی نے اسے چھوڑ ا ۔اس نے لمحے کی تاخیر نہ کرتے مڑ کر دیکھا۔
وہاں کوئی نہیں تھا لالی اوپر آ چکی تھی۔سنیہا کا سارا بدن پسینے میں شاربور تھا۔وہ بری طرح کانپ رہی تھی اسے دیکھ لالی پریشان ہوئی
سوری جانو دیر ہوگئی۔وہ پستا بناتے ٹائم لگ گیا وہ اس کے پاس آتی ہوئی بولی سنیہا نے کوئی جواب نہ دیا۔
کیا ہو ناراض ہو گئی کیا دیکھو چائے بھی لائی ہوں۔پیو اور ناراضگی دور کرو جلدی سے
لالی یہاں کوئی تھا ابھی وہ میرے پیچھے کھڑا سرگوشیاں کر رہا تھااس نے میری گردن کو چھوا سنیہا بے حد ڈری ہوئی بولی
کیا کر رہی ہو یار مجھے ڈر لگ رہا اس طرح سے بات مت کرو لالی خوفزدہ ہوئی
لالی میں جھوٹ نہیں بول رہی بالکل سچ کہہ رہی ہوں سچ میں یہاں کوئی تھا ابھی وہ میرے کان میں سرگوشیاں کر رہا تھا اس نے میرے ہاتھ ۔۔۔۔۔
یار پلیز مجھے نہیں ڈراو ہم نیچے چلتے ہیں وہ اس کا ہاتھ پکڑے سپیڈ سے نیچے اتری اسے کچھ بھی کہنے کا موقع دئیے بغیر سیڑھیاں اترگئی۔سنیہا بھی آگے پیچھے دیکھے بنا اس کے داتھ نیچے بھا گئی
لگتا ہے میری شہزادی ڈر گئی ۔اندھیرے میں کھڑا تراب مسکرا کر دیوار پھلانگنے کی تیاری کرنے لگا اسے دیوار کے پاس جانا تھا۔جہاں حویلی لی ملازمہ نے پہلے ہی سیڑھی کا انتظام کر رکھا تھا
تمہارے دیدار کے لیے بہت پاپڑ بیلنے پڑھتے ہیں جانم اس بات کا بھی حساب لوں گا
وہ کود کر نیچے پہنچتا ہوا بولا ۔
اور سب کی نظروں سے بچ کل دیوار کے قریب آیا ۔اور آسانی سے دیوار پھلانگ کر حویلی سے نکلتا کھیتوں کی جانب گیا جہاں اس کی گاڑی کھڑی تھی
اگر آج بھی وہ سنیہا سے نہ ملتا تو شایداسے آج بھی نیند نہ آتی ۔وہ پرسکون سا مسکراتا ہوا گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا
°°°°°
وہ چور راستے سے آہستہ آہستہ گھر کے اندر آ رہا تھا جب عالم اچانک ہی کا راستہ روک گیا
کہاں تھے آپ جناب ۔۔۔؟اور یہ کونسا وقت ہے گھرآنے کا کیا شریف گھر کے بھائی بیٹے اس طرح سے رات رات گھر سے غائب رہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ وہ رات کے 2 بجے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا تھا تراب مسکرایا
گئے تھے دیدار یار کرنے
اپنا دل وہیں پہ چھوڑ آئے ہیں
وہ انتہائی دلفریب انداز میں مسکرا کر بولا
خیر مجھے یقین تھا تیرے دل کو قرار نہیں آنا
تو کیا یہ بات سچ ہے کہ زایار شاہ نے دوسری شادی کر لی ہے وہ اس کے ساتھ اندر آتے ہوئے پوچھنے لگا
ہنڈریڈ پرسنٹ سچ ہے وہ ہاں میں سر ہلا گیا عالم کو کچھ عجیب لگا تھا سات سال کے بچے کا باپ دوسری شادی کر سکتا ہے اور وہ بھی پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے
اور یہ بھی سچ ہے کہ اس کی پہلی بیوی نے خود اس کی دوسری شادی کروائی ہے وہ پھر سے پوچھنے لگا کیونکہ یہ بات یقین کرنے والی نہیں تھی
تراب نے پھر ہاں میں سرہلایا چہرے پر شرارتی مسکراہٹ تھی
اللہ ایسی بیوی سب کو دے ۔
عالم نےشرارتی انداز میں مسکراتے ہوئے کہا تھا کہ تراب قہقہ لگاؤاٹھا
مجھے نہیں چاہے میں تو چاہتا ہوں میں کسی دوسری عورت کا نام لوں تو وہ میری ناک توڑ دے ۔اور کہے تراب آپ صر ف میرے ہیں ۔۔۔وہ مسکرا کر بولا تو عالم ہنس دیا
لیکن یار کچھ تو گڑبر ہے
میری انفارمیشن کے مطابق اس لڑکی کو پہلے گاؤں میں بد نام کیا گیا ہے پھر زایار کی بیوی نے اپنا ظرف بڑا کرکے اس کی شادی زایار شاہ کے ساتھ کروائی ہے ۔ہے نا عجیب بات وہ اسے پوری بات بتاتے ہوئے بولا
مطلب کہ کوئی عورت اتنی بھی اچھی ہو سکتی ہے عالم شاکڈ ہوا
نہیں ہو سکتی عالم ۔۔اپنے شوہر کو کسی اور دینے کا ڈرامہ تو کیا جا سکتا مگر ایسا کیا نہیں جا سکتا
کہتے ہیں لڑکی شاہ حویلی والوں کی وجہ سے بدنام ہو گئی تھی کہ حویلی کے لوگوں اس اس کے ساتھ ناجائز تعلق ہے۔تراب کو آج ہی یہ سب ایک ملازم سے پتہ چلاتھا سو عالم کو بتا دیا
اگر ایسی بات تھی تو شیر کے ساتھ بھی تو شادی ہو سکتی تھی وہ تو غیر شادی شدہ بھی ہے زیادہ کیوں ۔۔۔؟عالم کا انداز کھوجنے والا تھا
یار مجھے تو زایار کی بیوی بہت تیز چلتی ہے ایک تو کوئی انسان اتنا اچھا نہیں ہو سکتا مطلب اس نے کیا گرنیز بک آف ریکارڈ میں اپنا نام لکھوانا ہے اچھے پن کے لیے ۔دنیا کی سب سے اچھی عورت مسز زایارشاہ وہ ہنستے ہوئے اندر چلا گیا
عالم کو بھی اس کی بات سچی لگی تھی عورت کتنی بھی اچھی کیوں نہ ہو لیکن خود پر سوتن برداشت کرنا ناقابل برداشت تھا
عالم کہیں یہ بھی تو الیکشن جتنے کا کوئی قدم تو نہیں۔شاید زایاز یہ سب کر کے گاوں میں سب کے سامنے اچھا بن رہا ہو تراب نے سوچتے ہوئے کہا تو عالم کو اس کی بات میں دم نہیں لگا۔
وہ پکا کھلاڑی ہے اصولوں کے خلاف نہیں کھلتا
خیرچھوڑو مسز زایار کو تم بتاؤ سنیہا کیسی ہے اس کے لہجے میں اپنی بہن کے لئے بہت محبت تھی
یار نہ پوچھو قسم سے بہت اچھی ہے نازک سی شہزادی ہے میری ننھی سی جان۔دل کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
میں اس کی طبیعت کا پوچھ رہا ہوں وہ اس کے جذباتی پن پر جلدی سےبولا
تو تراب جو تکیہ کو سینے میں بھیجنے ہی والا تھا اس کے بات پر رک کر اسے گھورنے لگا
اس کی طبیعت کو کیا ہوگا ایک دم ٹھیک ٹھاک فٹ فاٹ ہے
شکر اللہ کا بس یہی پوچھ رہا تھا تو اپنے بے لگام جذبات کو لگام ڈالا کر
تیری عاشقی معشوقی سننے کے موڈ میں نہیں ہوں عالم اٹھ کر اپنے کمرے میں جانا لگا
میں بھی تجھے سنانے کے موڈ میں نہیں ہوں کیونکہ میں تو اسے سناؤں گا جسے سنا چاہیے بس اب ایک بار اس سے ملاقات کرنے وقت پر آجائے اس کے قدم اب بھی دروازے پر ہی تھے کہ ترات میں لائٹ آف کر دی
عالم ہنستے ہوئے باہر نکلنے لگا جب اس کی آواز سنائی دی
ویسے بری ڈرپوک واقع ہوئی ہے تیری بہن میرے خیال سے اس نے مجھے کوئی جن بھوت سمجھ لیا ہےوہ اونچی آواز میں بولا
تو کسی جن بھوت سے کم بھی نہیں ہے میرے بھائی ۔اللہ محفعظ رکھیے اس بےچاری کو عالم کہتا کمرے سے باہر نکل گیا جبکہ تراب نے گھور کر دروازے کو دیکھا تھا
پھر ہنس کر آنکھ بند کر لی
کیا مسئلہ ہے روحان کیوں بار بار مجھے فون کر رہے ہووہ غصے سے کہنے لگی
بھابی میں بہت بڑی مصیبت میں پھنس گیا ہوں پلیز میری ہیلپ کریں روحان عاجزی سے بولا
اب کون سی مصیبت آ گئی ہے تم تو کسی نہ کسی مصیبت میں پھنسے ہی رہتے ہو جلدی بولو پہلے زندگی میں کم مسلے تھے جو ایک تم بھی گلے پڑ گئے ہو
بھابھی پلیز ایسا مت کہیں میں سچ بہت بڑے مسئلے میں پھنس چکا ہوں دانی پریگننٹ ہے اور اب وہ مجھے شادی کے لیے فورس کر رہی ہے
کیا ۔برہرہ جھٹکے سے بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی
بھابھی وہ کہہ رہی ہے کہ اگر میں نے اس سے شادی نہیں کی تو مجھے چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے چلی جائے گی پھر کبھی واپس نہیں آئے گی بھابھی میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا آپ جانتی ہیں نا
پلیز میری مدد کریں آپ کے علاوہ کوئی مدد نہیں کر سکتا آپ سب گھر والوں کو بتا کر سمجھائیں اور شادی کے لیے منائیں ورنہ دانی مجھے چھوڑ کر چلی جائے گی آپ نے وعدہ کیا تھا آپ میرے ساتھ ہیں
بے حد پریشان لگ رہا تھا
لیکن میں نے تم سے یہ بھی کہا تھا کہ اب سے تمہاری لائف میں کوئی بھی مسئلہ ہوگا تو تم عالم سلطان شاہ سے شئیر کرو
کتنی بار تمہیں سمجھاؤں کہ اب وہی تمہاری ہیلپ کر سکتا ہے وہی تمہاری مدد کرے گا کیونکہ وہ تمہارا بھائی ہے ہم سے یا اس خاندان سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے وہ بےزار مگر بہت کم آواز میں بولی
بھابی میں عالم ادا کو کیسے بتاؤں کے دانی پریگننٹ ہے جبکہ زایار ادا نے مجھے عالم ادا سے ملاقات بھی منع کر رکھاہے ۔میرے پیچھے جاسوس لگا کر رکھیں ہیں
اور آپ نے بھی تو کہا تھا کہ دانی کو عالم ادا سے نہ ملنے دوں وہ مجھےبہت بار کہہ چکے ہیں کہ انہیں دانی سے ملنا ہے لیکن ہر بار کسی نہ کسی طریقے سے ٹال دیتا ہوں
اور اگر میں نے عالم ادا کو یہ بات بتائی تو وہ تفصیل میں جائیں گے اور دانی سے ملنے کی بھی کوشش کریں گے پھر انہیں یہ بھی پتہ چلا جائے گاکے دانی کس کی بیٹی ہے تو ساری بنی بنائی بات بگڑ جائے گی
پھر تو وہ بھی میری شادی دانی سے نہیں ہونے دیں گے
ہاں تو تمہیں کس نے کہا تھا جا کر دشمن کی بیٹی سے دل لگاؤ
اگر کسی کو پتہ چل گیا نہ کہ ہم نے اس شخص کے خاندان کے کسی بھی انسان سے کوئی تعلق رکھا ہے تو ہم دونوں کی لاشیں گاوں کے کسی چُرائے پر لٹک رہی ہوں گی
اور تمہیں تو بھی کوئی اور نہیں ملی تھی نہ دل لگانے کے لیے اب یہ بات کھلے گی تو میرا نام بھی آئے گا دیکھو روحان اگر تمہاری وجہ سے میں پھنسی نہ تو میں تمہیں زندگی معاف نہیں کروں گی یہ مت سوچنا کہ تمہیں آسانی سے زندگی گزارنے دوں گی
ایک بات کان کھول کر سن لو دانی اس خاندان کی بہو کبھی نہیں بن سکتی میں نے تم سے اس سے تعلق ختم کرنے کے لیے کہا تھا لیکن تم نے میری بات نہیں مانی تمہارے اوپر تو عاشقی کا بھوت سوار تھا
اب کر لی نا اپنی کیا حاصل ہو گا سوائے رسوائی کے اس لڑکی کی زندگی برباد ہو سکتی ہے
بھابھی پلیز ایسا مت کہیں میں دانی کے بغیر میں مر جاؤں گا اگر وہ مجھے چھوڑ کر گئی نا تو میں سچ کہتا ہوں میں مر جاؤں گا وہ بہت زیادہ جذباتی ہو رہا تھا
کوئی کسی کے لیے نہیں مرتا روحان اگر کوئی کسی کے لیے مرتا نہ تو آج اس گھر سے ایک جنازہ اٹھ چکا ہوتا
آج تمہارا بھائی بھی تو مجھے چھوڑ کر چلا گیا نہ میں خود اس کی سیج سجا کر آئی ہوں کیا نہیں کیا میں نے اس کے لئے اور اس نے کیا کیا
یہی حقیقت ہے روحان ہم خود کشی کرنے کا فیصلہ تو کرتے ہیں لیکن ہمیں مرنے سے بھی ڈر لگتا ہے
میں نہیں ڈرتا بھی اگر مجھے دانی نہ ملی تو میں سچ میں مر جاؤں گاوہ بے حد سیریس انداز میں بولا بریرا کو کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا تو اس نے اپنی ٹون بدل لی
اچھا ٹھیک ہے زیادہ جزباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے دانی کے بارے میں سوچو جب لڑکی پریگننٹ ہوتی ہے نا تب اس پر بہت ساری ٹینشن ہوتی ہیں وہ کبھی بھی کچھ بھی سوچ سکتی ہے اسی ٹینشن میں ہے بچاری اس لیے کہا دیا کہ وہ تمہیں چھوڑ کر چلی جائے گی لیکن تم فکر مت کرو میں اسے سمجھاؤں گی سب ٹھیک رہے گا
ٹھیک ہے اب آپ بات کریں اس سے میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں میں اسے اپناوں گا اپنے بچے کو نام بھی دوں گا کوئی مجھے اس سے الگ نہیں کر سکتا اگر دانی کے لیے مجھے سارے خاندان کو چھوڑنا پڑا تو میں پیچھے نہیں ہٹوں گا
وہ مضبوط لہجے میں بولا تو بریرہ کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری
تم بے فکر ہو جاؤ میں ہوں نہ سنبھال لوں گی تمہاری دانی کو سمجھاتی ہوں پہلے بس فی الحال تم جذبات سے کام مت لینا
میں تمہاری ہمدرد ہوں ہر وقت تمہارے ساتھ ہوں تمہیں کوئی بھی مسئلہ ہو تو تم بآسانی مجھ سے شیئر کر سکتے ہو
لیکن عالم سے بھی یہ بات چھپاؤ مت اسے بتا دوں دانی تمہارے بچے کی ماں بننے والی اور تم اس سے شادی کرنا چاہتے ہو اس بچے کو اپنا نام دینا چاہتے ہو
عالم تمہاری مدد ضرور کرے گا وہ یقین سے کہہ رہی تھی
وہ تو ٹھیک ہے بھابھی لیکن عالم ادا اور زایارادا ایک دوسرے کے خلاف ہیں
تو پھر تم یہ فیصلہ کر لو کہ تمہیں دانی چاہیے یا زایارادا خیر فی الحال تم آرام کرو اور زیادہ ٹینشن مت لو وہ اسے گہری سوچوں میں چھوڑتی فون بند کر چکی تھی
بہت مان ہے نہ تمہیں اپنی محبتوں اور اپنے رشتوں پر ایک دن تمہارے پاس صرف ایک رشتہ ہوگا زایارشاہ اور وہ ہوگی تمہاری بیوی بریرہ زایار شاہ وہ سامنے دیوار پر لگی تصویر کو محبت بھری نظروں سے دیکھ کر مسکرائی
تم پر صرف میرا حق ہے زایارشاہ صرف میرا میں تمہیں سب سے دور کر دوں گی تمہارا کوئی رشتہ تمہارے پاس نہیں بچے گا ان رشتوں کا مان ہے نہ تمہیں یہ سب چھوڑ جائیں گے تمہارے پاس صرف اور صرف میں رہوں گی
تمہیں میرا بن کر رہنا ہوگا
بریرہ اپنی چیزوں میں شرکت برداشت نہیں کر سکتی جی لو اپنی زندگی وہ دن دور نہیں جب تم سب کو چھوڑ کر صرف میرے پاس آؤ گے صرف میرے بن کر رہو گے
°°°°
اس کی آنکھ ایک ننھے سے لمس پرکھلی اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو ہادی بالکل اس کے ساتھ لگے سو رہا تھا اس کے لب بے ساختہ ہی مسکرائے تھے
لیکن ہادی کی دوسری جانب زایار کو سوتے دیکھ کہ اس کے لب واپس سکھڑگئے
دل نہ جانے کس خوف سے دھڑکنے لگا تھا اس نے بے حد آہستہ سے اٹھنے کی کوشش کی
جب زایار کی نظروں نے اس کی کوشش ناکام کردی
کیا ہوا کسی چیز کی ضرورت ہے کیا درد تو نہیں ہو رہا ہے وہ فکرمندی سے پوچھ رہا تھا
پازیب نے فوراً نامیں سر ہلا کر باتھ روم کی جانب اشارہ کیا اس کے پاس اور کوئی بہانہ نہیں تھا کہ زایار نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا اور سر دوبارہ تکیہ پر رکھ دیا
جلدی آنا اسے تیزی سے بھاگتے پیچھے سے آواز سنائی دی وہ بنا پر پلٹے ہی واش روم میں بند ہو چکی تھی
زایار کے ساتھ جوڑا رشتہ بہت اچھے طریقے سے سمجھ سکتی تھی وہ اس کا شوہر تھا یقینا اس کے لئے کوئی جذبات رکھتا تھا
وہ اس پر پورا حق بھی رکھتا تھا اگر وہ اسے وقت دے رہا تھا تو اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ یہ وقت ہمیشہ کے لئے ہے آج نہیں تو کل اسے اس کے پاس جانا تھا لیکن اس کے پاس جانے کے بعد وہ بریرہ بیگم سے نظر کیسے ملائے گی
بریرہ کی سوچ ہی اسے توڑ رہی تھی اس عورت نے اس کی عزت کی خاطر اتنا بڑا قدم اٹھا لیا تھا لیکن وہ اس کے ساتھ اتنا برا کیسے کر سکتی تھی جب کہ وہ جانتی تھی کہ وہ اپنے شوہر سے بے پناہ محبت کرتی ہے
تو وہ بلا اس سے اس کا شوہر کیسے چھین سکتی تھی اس کا سر بری طرح سے دکھنے لگا تھا ۔وہ چلی جانا چاہتی تھی یہاں سے اس کی زندگی مشکل ہوتی جا رہی تھی
°°°°°°
بہت مشکل سے اس نے اپنے آپ کو سمجھا کر کمرے میں قدم رکھا
کیا ہوا میرے یہاں ہونے کی وجہ سے انکنفرٹیبل فیل کر رہی ہو وہ آئی تو زایار بیڈ کر ان سے ٹیک لگائے لبوں میں سگریٹ دبائے اسے ہی دیکھ رہا تھا اس کے پوچھنے پر وہ نظریں چرا گئی
ٹھیک ہے میں سمجھ سکتا ہوں شاید اچانک اس رشتے کو تم قبول نہیں کر پا رہی میں تمہارے جذبات سمجھ سکتا ہوں اور میں تمہارے جذبات کی قدر بھی کرتا ہوں اگر تم میرے اس کمرے میں رہنے کی وجہ سے ٹینشن لے رہی ہو تو مت لو تمہیں تھوڑا بہت وقت تو میں دے ہی سکتا ہوں
لیکن زیادہ نہیں فی الحال کے لیے تم آزاد ہو لیکن جس دن تم مکمل صحت یاب ہوگئی میں تمہیں یہاں سے اپنے روم میں لے جاؤں گا کیونکہ تمہاری جگہ وہی ہے جہاں تمہارا شوہر رہتا ہے
آج کی رات ہم دونوں کے لیے مشکل ہے میرے ساتھ تم ان کنفرٹیبل فیل کر رہی ہو اور اپنے کمرے کے علاوہ مجھے کہیں اور نیند نہیں آتی اگر مجھے ساری رات نیند نہ آئی تو تمہارے لیے ہی مسئلہ بن جائے گا۔اپنی بات پر پازیب کے گالوں کی لالی دیکھ وہ بےساختہ مسکرا دیا
اسی لیے میرا فی الحال یہاں سے چلے جاناہی بہتر ہے
تو تم اب آرام کرو جلد از جلد آنا ہے تمہیں میرے بیڈروم میں جہاں کوئی پابندی نہیں ہو کوئی روک ٹوک نہیں تم میری باہوں میں ہو گی اور میں تمہیں ہر طرح سے خود میں محفوظ کروں گا
اور ایک بات میں تمہیں وقت دے رہا ہوں صرف چند دن کے لیے وہ بیڈ سے اٹھتا ہوا اس کے بالکل نزدیک آ کرروکا اور بے حد نرمی سے اس کی پیشانی پر رکھے
میں تمہارے اشارے کا منتظر ہوں پازیب زایار شاہ اپنی چاہت کو زبردستی نہیں اپنانا چاہتا
میں چاہتا ہوں کہ تم اپنی پوری رضامندی کے ساتھ میری زندگی میں بہار لے کر آؤ ہادی کا خیال رکھنا اور میرا بیٹا تمہارا خیال رکھے گا مسکرا کر کہتا کمرے سے نکل چکا تھا جب کہ اس کے جانے کے بعد پازیب نے ایک گہری سانس لی
اور اللہ کا شکر ادا کیا
وہ اس کے جذبات سمجھ رہا تھا اسے وقت بھی دے رہا تھا مطلب کے وہ بریرہ کے ساتھ ساتھ اس کے ساتھ بھی اس تعلق کو نبھانا چاہتا تھا وہ اپنی دونوں بیویوں کے ساتھ انصاف چاہتا تھا
یہ تو اللہ کا کرم تھا ورنہ جتنی بدنامی اس کی ہو چکی تھی کسی سے بھی شادی کے بعد بھی پل پل کے طعنے سننے پڑتے لیکن زایار اور بریرا نے اس کی زندگی خراب ہونے سے بچا لی
اگر آج بریرا بیگم نہ ہوتی تو اس کی زندگی ختم ہو چکی ہوتی وہ تو اپنی زندگی سے مایوس ہو چکی تھی
لیکن اللہ نے بریرا کو کسی مسیحا کی طرح اس کے پاس بھیج دیا بریرہ اس کی زندگی میں کسی فرشتے سے کم ثابت نہ ہوئی تھی اور یہ سچ تھا کہ وہ ساری زندگی اس کا یہ احسان چکا نہیں سکتی تھی
وہ آہستہ آہستہ چلتی ہادی کے پاس آئی اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرکراس کے ساتھ ہی لیٹ گئی آج تک وہ اس کا ایک اچھا دوست تھا لیکن آج وہ اس کا بیٹا تھا نہ جانے کیوں یہ معصوم سا پیارا سا بچہ اسے ہمیشہ سے بہت اچھا لگتا تھا
°°°°°°
یہ تم کیا بکواس کر رہے ہو روحان تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے مجھے کبھی بھی اندازہ نہیں تھا کہ تم اور وہ لڑکی ایک دوسرے کے اتنے قریب ہو
تمہیں شرم آنی چاہیے روحان ایک لڑکی کے ساتھ ناجائز رشتہ بناتے ہوئے ۔بنا شادی کے تم لوگوں نے ہر حد پار کر دی ۔اتنا گھٹیا تعلق تم اسے محبت کہتے ہو روحان۔۔
تم جانتے ہو محبت پاکیزہ جذبات کا نام نہ کہ نفس کی تسکین کا
میں نے سوچا تھا کہ تم لوگ ایک دوسرے کو پسند کرتے ہو شادی کرنا چاہتے ہو اس میں میں تم لوگوں کی مدد کرنا چاہتا تھا میں تم دونوں کی محبت کو نکاح میں بدل کر ایک جائز اور خوبصورت نام دینا چاہتا تھا لیکن تم لوگوں کو تو شاید اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی
کیا تم جائز اور ناجائز تعلق کو نہیں سمجھتے ۔
کیا یہ سیکھاتا ہے ہمیں ہمارا دین روحان یہ سیکھا ہے تم نے ہمارے پاکیزہ مذہب سے تم سے زیادہ تم مجھے اس لڑکی پر غصہ آ رہا ہے جسے اپنے خاندان کی عزت کا خیال نہیں
فرض کرو کہ اگر اس کے گھر والوں کو یہ بات پتا چل گئی کہ لڑکی پریگننٹ ہے اس کا باپ تو پھر غیرت سے مر جائے گا
تم خاندان دیکھو اپنا حرکتیں دیکھو اتنی گری ہوئی حرکت کی ہے تم نے اور اب یہاں میرے سامنے بیٹھ کر محبت کا رونا رو رہے ہو شرم آتی ہے مجھے تمہیں اپنا بھائی کہتے ہوئے
عالم انتہائی غصے سے کہتا ہوا وہاں سے اٹھ کر جانے لگا
ادا پلیز مت جائیں پلیز میری بات کو سمجھنے کی کوشش کریں میں دانی سے بے پناہ محبت کرتا ہوں میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا وہی میرے جینے کی وجہ ہے
اگر میں نے اس کو اور اس کے بچے کو اپنا نام نہ دیا تو وہ ہمیشہ کے لئے مجھے چھوڑ کر چلی جائے گی اور میں اس کے بغیر جی نہیں سکتا مجھے بچا لیں وہی میری زندگی ہے اگر وہ میری زندگی میں نہ رہی تو میں خود کشی کر کے مر جاؤں گا
روحان یہ کس طرح کی باتیں کر رہے ہو تم تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا
کیا زندگی کو اتنا بے مول سمجھ رکھا ہے تم نے کہ ایک لڑکی کے لئے تم اپنی زندگی ختم کر دو گے
ادا میں اس سے بے پناہ محبت کرتا ہوں وہ کہتا ہوا سر جھکا گیا
‏ٹھیک ہے پریشان مت ہو ریورٹس دو مجھے وہ اس کے سامنے ہارتے ہوئے بولا
کون سی رپورٹ روحان کچھ الجھاتا ہوا تھا
کون سی رپورٹ کا کیا مطلب ہے روحان دانی کی رپورٹ دو مجھے عالم نے سمجھاتے ہوئے کہا روحان نے بے حد پریشانی سے اس کا چہرہ دیکھا تھا لیکن وہ پوری تیاری کے ساتھ آیا تھا
بریرہ نے کہا تھا عالم پوری بات جاننے بغیر یقین نہیں کرے گا
تمہیں اس کے پاس ثبوت لے کر جانا پڑے گا کہ وہ بچہ تمہارا ہے
اور پتہ نہیں آج صبح کیا ہوا تھا کہ دانی خود ہی پریگنینسی رپورٹس اور ڈی این اے
اسکے پاس لے آئی
اس نے اپنے بیگ میں ہاتھ ڈال کر رپورٹس کے حوالے کردی جن کو عالم بہت غور سے پڑھنے لگا تھا
بریرہ نے کہا تھا کہ وہ کسی بھی باہر کی لڑکی کا یقین نہیں کرے گا عالم ایک الگ ماحول کا انسان ہے وہ ہر چیز پر ثبوت مانگتا ہے پیار محبت اس کے لئے بچپنا ہے یونیورسٹی میں ایک لڑکی کا آفئر اس کے لئے قابل قبول نہیں ہے
وہ کبھی اس بات کو قبول نہیں کر سکتا کہ آزاد ماحول میں رہتی لڑکی کا آفئر کسی ایک لڑکے کے ساتھ ہوگا ۔وہ پرانی سوچ کا مالک ہے اور بریرہ کی بات سچ تھی
فی الحال اسے عالم کی ضرورت تھی ورنہ دانی کی رپورٹس اس طرح سے اس کے حوالے ہرگز نہیں کرتا کیونکہ اسے اپنی دانی پر پورا یقین تھا کہ وہ اس سے کبھی جھوٹ نہیں بولتی
ٹھیک ہے تم پریشان مت ہو میں کوئی نہ کوئی حل نکالتا ہوں وہ ریوڑٹس اپنے بریف کیس میں ڈالتا اٹھ کر جانے لگا
دانی نکاح چاہتی ہےاگر شادی نہ ہوئی تو ۔۔۔۔
میں نے کہا نہ میں سنبھال لوں گا فی الحال تو ان سب کی ٹینشن چھورواور اپنے ایگرامز پر غور کرو جو اگلے ہفتے شروع ہونے والےہیں
یہ سب کچھ میں دیکھ لوں گا تمہارے پیپر خراب نہیں ہونے چاہیے شاہ حویلی والوں کی ٹینشن مت لو تم ہمارے گھرکے بیٹے ہو اگر وہ لڑکی تمہارے بچے کی ماں بننے والی ہے تو وہ بچہ بھی ہمارے خاندان کا بچہ ہے
اسے اس طرح سے رولنے میں نہیں گے تم بے فکر رہو وہ اس کا کندھا تھپتھپاتے اسے ریلیکس کرنے لگا
روحان کی یہ حرکت اسے بہت بری لگی تھی لیکن اس وقت وہ جس ٹینشن سے گزر رہا تھا وہ اس پر غصہ ہو کر یا باتیں سنا کر اسے مزید پریشان نہیں کر سکتا تھا
غلطی انسان سے ہوتی ہے اور اس غلطی کو قبول کرنا ہی بہاردی ہے روحان اپنی زمہ داری سے بھاگ نہیں رہا تھا یہ اچھی بات تھی لیکن عالم کو دیکھنا تھا کہ وہ لڑکی اسے پھسا تو نہیں رہی
کیونکہ عمر نے جو نقشہ کھنچا تھا وہ روحان کے لیے نہ قابل قبول تھا
وہ شاہ حویلی والوں سے پہلے ہی بے حد بدگمان تھا اور ایسے میں اسے خود سے بد گمان کرنا بہت غلط تھا اسی لئے وہ اسے سمجھا کر سیدھا اپنے ایک بے حد قریبی دوست کے پاس آیا تھا کہ ان رپورٹس کو چیک کروا سکے
کیا مطلب ہے تمہارا کیا وہ سچ میں روحان کا بچہ ہے تراب کو یقین نہیں آ رہا تھا
ڈاکٹر نے یہی کہا ہے کہ ڈی این اے رپورٹس بالکل سیم ٹو سیم ہیں اور یہ رپورٹ اسی ہوسپیٹل کی ہیں جہاں پر میں چیک کروانے گیا تھا
وہ بچہ روحان کا ہی ہے یہ اس رپورٹ سے ثابت ہو گیا ہے
عالم نے یقین سے کہا تھا
ناجائز ۔۔۔تراب کے مٹھیاں بھینجیں تو عالم نے ہاں میں سر ہلایا
مطلب کے اب ہمارے خاندان کی بہو ایک ایسی لڑکی بنے گی جو کسی غیر محرم سے رشتے میں اس قدر آگے بڑھ گئی
مجھے یقین نہیں آرہا عالم شرم کہاں گم ہو گئی ہے شرم حیا کچھ بھی نہیں بچاکہا وہ بے حد غصے سے بول رہا تھا عالم نے کچھ نہیں کہا کیونکہ وہ اس کے جذبات سمجھتا تھا اس کے ہی نہیں وہ غیرت مند انسان کے جذبات سمجھ سکتا تھا
کیا کوئی بھی غیرت مند انسان یہ چاہے گا کہ اس کی بہن بیٹی اس طرح کا قدم اٹھائے تراتب کے پریشانی سے اٹھنے پر غور سے دیکھنے لگا
کیا ہوا تم کہیں جا رہے ہو ابھی تو آئے ہیں
نہیں مجھے کچھ کام ہے ہم گھر پہ بات کریں گے تراب بس اتنا کہہ کر وہاں سے چلا گیا یقینا اس کے دماغ میں فی الحال سنیہا چل رہی تھی
ان کے کالج کا رزلٹ آؤٹ ہوچکا تھا اور سنیہا نے ضلع سے پوزیشن لی تھی مطلب صاف تھا کہ وہ جلد ہی یونیورسٹی جوائن کرنے والی ہے اور یونیورسٹی کے ماحول کو لے کر عالم خود بھی بہت پریشان تھا
لیکن تربیت اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہوتا ایک اچھی تربیت کبھی بچے کو غلط قدم نہیں اٹھائے دیتی
اور اسے یقین تھا سنیہا کی تربیت میں شاہ حویلی والوں نے کوئی جھول نہیں رکھا ہوگا
°°°°°°
وہ اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھی
صبح بہت ہنگامہ ہوا تھا آج ولیمہ ہوا تھا اسی شان و شوکت کے ساتھ جس شان و شوکت سے وہ کل یہاں آئی تھی
اس کی تائی امی کو بہت عزت اور احترام سے بلایا گیا زاریر نے سب کے سامنے کہا تھا کہ وہ اس کی ساس ہیں
اور حویلی والوں سب نے ہی انہیں بہت اہمیت دی تھی
اپنی بیٹی کو لاکھوں کے زیورات پہنے دیکھ اس تا ئی امی تو سرشار ہو گئیں اور پھر زایار کا اس کے ساتھ بیٹھنا بار بار اس کی طبیعت کا پوچھنا
سب کے بیچ اس کا اتنا خیال رکھنا
اور بریرہ بیگم نے تواسے ہاتھ کا چھالا بنایا ہوا تھا
صبح انھوں نے خود آ کر اسے میڈیسن دیں اور بیوٹیشن کے ساتھ خود مل کر اسے تیار بھی کروایا
یہ سب کچھ دیکھ کروہ بے حد خوش تھی یہاں ایسا کوئی ماحول نہیں تھا جسے سوچ کر وہ ڈسٹرب ہوتی بریرہ بیگم اس کے ساتھ بالکل سگی بہنوں جیسا سلوک کر رہی تھی
ان کے کسی انداز سے نہیں لگتا تھا کہ وہ اس کی سوتن ہیں اور ہادی تو بار بار اس کا گال چوم رہا تھا کیونکہ اس کی دوستی اسے ہمیشہ کے لئے مل چکی تھی جسے پا کر وہ بےحد خوش تھا
زندگی آسان تو پھر بھی نہیں تھی ہاں لیکن پریشانیوں میں تھوڑی کمی آ چکی تھی جس طرح کا ماحول اس نے سوچ رکھا تھا یہاں ایسا کچھ نہیں تھا
جسے سوچ کر وہ بے حد مطمئن ہو چکی تھی ۔
لالی اورسنیہا ہر وقت اس کے ساتھ ساتھ رہیں اور جس کا انداز سب سے الگ اور سب سے منفرد تھا وہ تھیں زایار کی ماں وہ تو ہر انسان کو بلا بلا کر بتا رہیں تھیں کہ یہ ان کی بہو ہے اتنی عزت اتنا احترام اس نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ حویلی والے اس قدر کھلے دل سے اسے قبول کریں گے
ضروری نہیں کہ محلوں میں رہنے والوں کے دل چھوٹے ہوں یہاں تو سب کے دل بڑے تھے اور سب سے بڑا دل تھا بریرہ بیگم کا
جو اسے اپنی چیزوں کا حقدار بنا کر بھی خوشی سے مسکرا رہی تھی
بریرہ بیگم نے اسے آرام کرنے کے لئے کمرے میں بھیج دیا کیونکہ کافی دیر بیٹھے رہنے کی وجہ سے وہ کافی تھک گئی تھی
اس وقت بھی وہ بیڈ پر لیٹی انہیں سب چیزوں کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ یاد آیا کہ دن میں زایار نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے کچھ قریبی دوست اور ان کی بیویوں سے ملوایا تھا
جن میں وہ ڈاکٹرزاہد بھی شامل تھا جس کے پاس وہ گئی تھی علاج کے لیے اس دن کی طرح وہ آج بھی بہت بے تکلف ہو کر اس سے بات کرتا رہا
بریرہ بیگم نے اس سے رات کے بارے میں پوچھا تھا اس نے بھی کچھ بھی نہیں چھپایا بتا دیا کہ زایارا سے وقت دے رہا ہے اور اس بات کے بعد اس نے بریرہ بیگم کے چہرے پر خوشی کھوجنے کی بہت کوشش کی جو اسے کہیں نظر نہیں آئی الٹا وہ تو پریشان ہو رہی تھی
اور پھر بریرہ بیگم کا یہ کہنا کہ فکر مت کرو سب ٹھیک ہو جائے گا زایار قبول کرلیں گے اتنا اچانک میں نے زبردستی ان کی شادی پر زور دیا شاید اس لیے وہ اس رشتے کو قبول نہیں کر پا رہے ہیں لیکن آہستہ آہستہ قبول کر لیں گے وہ تمہیں بھی وہی رتبہ دیں گے وہی مقام دیں گے جو مجھے دیتے ہیں
آج تو ان کی بیوی کے آئی ہوکل تو ان کی بیوی بن جاؤ گی بس تم انہیں وقت دو ۔بریرہ کی باتوں سے اس کے چہرےپر اداسی چھا گئی
اسے تو یہ لگا تھاکہ زایار اس کی مرضی اس کی ہاں کا انتظار کر رہا ہے لیکن وہ یہ بات سمجھ نہیں پائی کہ اس کی پہلی محبت بریرہ ہے
اور بریرا کو بلا کر یوں اچانک آگے بڑھنا اس کے بس میں نہیں ہے اس لیے فی الحال وہ اسے قبول نہیں کر پا رہا
کل تو نہیں لیکن آج وہ بھی یہی چاہتی تھی کہ زایار اسے قبول نہ کرے وہ بریرہ کا حق کسی اور کو نہ دے اس کا کیا تھا اسے عزت مل گئی تھی وہ ساری زندگی ان کے گھر نوکر بن کر رہنے کو تیار تھی
ہاں نکاح کے بعد اس کے دل میں خواھشات نے گھر بنایا تھا
لیکن وہ اپنی خواہشات کے لئے کسی دوسرے کے دل میں زبردستی جگہ نہیں بنا سکتی اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ زایار کو کبھی خود سے رشتہ جوڑنے پر مجبور نہیں کرے گی بلکہ اسے پورا حق دے گی کہ وہ بریرہ کے ساتھ اپنا رشتہ قائم رکھے
اگر وہ اپنی بیوی ہونے کے حق نہیں دینا چاہتا تو وہ بھی اس سے کوئی حق نہیں مانگے گی وہ عزت سے جی رہی تھی اس کے لئے اتنا ہی کافی تھا وہ بڑے بڑے خواب نہیں رکھتی تھی اور نہ ہی کسی شہزادے کی شہزادی بننا چاہتی تھی
اسے بس عزت کی ایک زندگی چاہے تھی جو زایار نے اسے مہیا کر دی تھی اب اس کے دل میں کوئی خواہش نہیں تھی
اور یہ بات وہ صاف الفاظ میں زایار کو کہہ دینا چاہتی تھی لیکن یہاں سے جانے کے بعد زایار اس کے کمرے میں واپس نہیں آیا
بس کمرے کے باہر اس نے بریرہ کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ اسے میڈیسن ضرور دے دینا بریرہ نے صرف ہاں میں سر ہلایا اور اسے لے کر اندر چلی گئی
اور پھر میڈیسن دے کر وہ اپنے کمرے میں چلی گئی وہ زایار کے بارے میں سوچنا نہیں چاہتی تھی لیکن ذہن کے کسی کونے میں زایاراور بریرہ کا دھندلا سا عکس تھا شاید کہیں اندر یہ تکلیف بھی تھی کہ وہ اپنی نئی نویلی بیوی کو چھوڑ کر اپنی پہلی بیوی کے پاس چلا گیا
لیکن وہ بڑی بڑی خواہشیں بڑےبڑے خواب میں نہیں سجانا چاہتی تھی اسے جتنا ملا تھا وہ اتنے میں خوش تھی وہ اپنی اوقات میں رہنا جانتی تھی
°°°°°°
میں اس یونیورسٹی میں سنیہاکو نہیں آنے دوں گا وہ پریشانی سے بولا
تراب تربیت بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے اور سب سے بڑی چیز ہوتی ہے نسل خون اور سنیہا کی رگوں میں ہمارا خون بہتا ہے وہ ہمارے خاندان کا حصہ ہے
روحان بھی تو ہمارے خاندان کا حصہ ہے اس نے کیا کیا تمہارے سامنے ہے اس نے غصے سے کہا
ہم یہ بھی تو کہہ سکتے ہیں کہ وہ بہک گیا عالم جیسے صفائی دے رہا تھا وہ خود بھی شرمندہ سا تھا
روحان بہک گیا تو کیا سنیہا آسمان سے اتری ہے میں اپنی منکوحہ پر کسی غیر مرد کی نظر بھی نہیں پڑھنے دوں گا اس کے دل اور دماغ پر صرف میرا حق ہے وہ یہاں نہیں آ سکتی میں نہیں آنے دوں گا اس یونیورسٹی میں اسے یہاں کا ماحول تو ننھا سے معصوم بچے کو بگاڑ دے
ابھی اس رخصتی کردیں یاپھر وہ اسی حویلی میں رہے گی
تراب بات کو اپنی طرف مت کھنچنے کی کوشش کرو عالم نے پریشانی سے سمجھانا چاہا اس نے سوچا تھا کہ وہ ان کے مسئلے میں اس کی مدد کرے گا لیکن اسے سنیہا کی فکر لگ چکی تھی
یقینا وہ اپنی سنیہا کے دماغ میں کسی قسم کی گندگی نہیں ڈال سکتا تھا ۔
میں بات کو کھنچ نہیں رہا صرف اپنے دل کی بات کہہ رہا ہوں عالم مجھے یہ سب کچھ منظور نہیں ہے میں نہیں برداشت کرسکتا
سنیہا کو خود سے دور جاتا سوچ تراب پریشان ہو چکا تھا
وہ اس کی رگ رگ میں اترنا چاہتا تھا مگر اس طرح تو تراب حیدر اس کی زندگی میں آنے سے پہلے ختم ہو جائے گا
میں یہ نہیں کہتا کہ مجھے سنیہا کو لے کر کوئی شک ہے بالکل بھی نہیں میں جانتا ہوں اس کا دل دماغ بالکل صاف ہے
وہ صرف اور صرف پڑھنے کے لئے یہاں آنا چاہتی ہے لیکن وہ لڑکی ہے عالم یہ لوگ اسے اپنے رنگ میں رنگنے میں ٹائم نہیں لگائیں گے
میں اپنی سنیہا کو اس ماحول کی نظر نہیں ہونے دوں گا میں اس سے بچاؤ گا میں اس کا خیال رکھوں گا ۔۔۔
ہاں بلکل رکھو خیال بچاؤ اسے اس ساری یونیورسٹی کے خراب ماحول سے یہاں صرف چند لوگ گندہ پھیلا رہے ہیں سب نہیں
تم بچاؤ اسے ۔تم سنیہا کو اس ماحول میں جانے سے تو روکو اس طرح کی زندگی کیوں تنگ کر رہے ہو
تم بچا سکتے ہو سے اسے محفوظ رکھ سکتے ہو تم شوہر ہو اس کے محافظ ہو سکے حفاظت کرواسکی اسے قید کیوں کر رہے ہو تراب
اسے اس کی زندگی جینے دو وہ جو چاہتی ہے جیسا چاہتی ہے ہونے دو لیکن تم اس کے ساتھ ہو جاؤ اس کے محافظ بن جاؤ اسے ہر بری نظر سے بچاؤ اسے اپنی نگاہوں میں رکھ کر محفوظ رکھو عالم اس کی بات کاٹتے ہوئے بولنے لگا
اسے یونیورسٹی آنے دو کرنے دو اسے اس کے خواب پورے تم اس کے ہمسفر بنو تراب اس کی راہ کی رکاوٹ نہیں
کیونکہ راہ کی رکاوٹ کو کوئی پسند نہیں کرتا ساتھ چلنے والے ساتھ نبھانے والے ساتھی ہوتے ہیں
وہ اس کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے اسے سمجھا رہا تھا اور وہ جانتا تھا کہ یہ جذباتی ساانسان اس کی بات کی گہرائی کو اچھے سے سمجھ چکا ہے
°°°°°
وہ تیزی سے سیڑھیاں اتر رہی تھی کہ اچانک سامنے سے اس کے وجود کے ساتھ ٹکرائی ابھی وہ لمبی سانس لے کر اسے اندھا بولنے ہی والی تھی کہ سب سے پہلے نظر اس کے لبوں پر سجی کالی سیاہ مونچھوں پر پڑی
لب اپنے آپ ہی سکھڑگئے
لیکن سیدھا ہوتے ہی نظر اس کے ہاتھ پر پڑی لالی کی تو آنکھیں پھٹ کر باہر آنے کو تھی
یہ تو پچھلے ہفتے کالج سے آتے ہوئے وہ نالے میں پھینک آئی تھی اس کے ہاتھ کیسے لگ گیا
وہ بےحد غصے اور سخت نگاہوں سے اسے گھور رہا تھا لیکن لالی کو لگاکہ اسے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ فزکس میں پاس تھی
آپ مجھے اس طرح سے گھور کیوں رہے ہیں۔۔۔؟
اپنا ڈزلٹ کارڈ اس کے ہاتھ میں دیکھ کر وہ پوچھنے لگی
تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا کہ تمہارا ڈزلٹ آ چکا ہے وہ اپنے ہاتھ میں رکھے رزلٹ کو دیکھ کر بولا
ہاں تو ایگزام کو ڈھائی مہینے ہو چکے ہیں اب تو آنا ہی چاہیے تھا اچھا ہوا نہ لگے وہ بھاگنا چاہتی تھی
لیکن سامنے کھڑا یہ شخص اسے بھاگنے دیتا کہاؑ تھا کبھی سیڑھیوں پر ٹکراتا تو کبھی کمرے کے دروازے پر اسےساری زندگی اسی بندے سے ٹکرا نہ تھا
فضول مت بولو لالی جو پوچھا ہے اس کا جواب دو اپنے رزلٹ کے بارے میں کیوں نہیں بتایا
گھر میں سب کو بتایا ہے صرف آپ کو پتا نہیں ہے وہ بنا شرماے ہونی
آپ کو پتہ ہے ہماری سنیہا نے پورے ضلع سے تیسری پوزیشن لی ہے اس کی خوشی منانے کی بجائے آپ مجھے گھور رہے ہیں اس نے اسے سنیہا کی پوریشن کی جانب متوجہ کرنا چاہا لیکن یہ بھی بہت مشکل ثابت ہوا
ٹھیک ہے غلطی کرتی میں نے آپ کو نہ بتا کر اب خوش وہ منہ بنا کر بولی
مجھے بس یہ بتاؤ لالی کے اردو میں کون فیل ہوتا ہے اس کے پھولے گالوں کو دیکھتے ہوئے غصےسے بولا
"لالا رخ سکندر شاہ" ہوتی ہے وہ اکڑ سکر بولی اور اب وہ ڈانٹ کے لئے بالکل تیار تھی
لا لی تمہیں ذرا بھی احساس ہے کہ تم نے اردو میں فیل ہو کر مثال قائم کردی ہے
اسلامیات میں بس ایک نمبر سے پاس ہوئی ہو تم کیا کرتی رہی ہو پیپرز میں کوئی اتنا نالائق کیسے ہو سکتا ہے وہ یقین نہیں کر پا رہا تھا
جیسے میں ہوں اور آپ اس بارے میں کوئی بات نہیں کر سکتے کیونکہ فزکس میں پاس ہو گئی ہوں
بلکہ نہ صرف میں پاس ہوں یوں بلکہ اصل نمبروں سے صرف سات نمبر کم ہیں پوری کلاس میں کسی نے اتنے نمبر نہیں لیے گزکس میں جتنے میں لے کر آئی ہوں وہ فخر سے بول رہی تھی
فزکس میں پاس ہو کر تم نے مجھ پر کوئی احسان نہیں کیا وہ غصے سے بولا تو لالی سہم کر رہ گئی
آپ نے صرف فزکس ہی پڑھائی تھی اس نے یاد کروایا
ہاں تو ۔۔۔۔۔تم نے باقیوں میں پاس نہیں ہونا تھا وہ شاکڈ تھا
آپ نے کہا تھا اگر میں فزکس میں فیل ہو گئی تو آپ مجھے ڈانٹیں گے میں فزکس میں پاس ہوں آپ مجھے کچھ نہیں کہہ سکتے لالی منہ پھولا آئے ہوئے بولی
لالی تمہیں سب میں پاس ہونا تھا یہ بھی اہم تھیں اپنی بات خود پر آنے پر وہ ذرا نرم ہوا
آپ نے کہا تھافزکس میں فیل ہونے پر آپ مجھے نہیں چھوڑیں گے اور میں فزکس میں پاس ہوں تو آپ مجھے کچھ نہیں کہہ سکتے اور ویسے بھی بابا نے کہا ہے کوئی بات نہیں صرف ایک ہی تو سپلی ہے وہ بھی اردو میں پاس کر لے گی
وہ اسے نظر انداز کرتی نخرے دکھاتی آگے جانے ہی لگی تھی کہ اچانک اس کے مونچھڑ نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی جانب کھینچا
وہ اچانک حملے پر سیدھی آ کر اس کے سینے کا حصہ بنی تھی دل اچھل کر منہ میں آگیا دھڑکنوں نے عجیب سا شور مچا ڈالا تھا
اور اس کے مونچھڑ کا حال بھی اس سے الگ نہیں تھا
اس کی دھڑکنوں کو اپنی دھڑکنوں کے ساتھ محسوس کرتے عنابی لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی
جس سے وہ بڑی صفائی سے دبا گیا
جب کہ لالی کے چہرے پر تو لالی نے الگ ہی رقص کر ڈالا
وہ اس کے خوبصورت چہرے کی کی سڑخیاں دیکھتا اپنے دل کی دھڑکنوں کو محسوس کر رہا تھا
بہت غلط کر رہی ہو تم خود کے ساتھ بلکہ بہت غلط کر چکی ہواب کوئی حل نکالنا ہوگا تیاری پکڑ لو وہ اس کا گال تھپتھپا تا آہستہ سے اسے خود سے دور کرتا تو وہیں سے سیڑھیاں اتر گیا
°°°°°
جلدی بولو وقت نہیں ہے میرے پاس اتنی دیر سے بچتے ہوئے فون کو اس نے سولویں کال پر اٹھایا
بکواس بند کرو اور یہ بتاؤ کہ یہ بچہ کس کا ہے جسے تم روحان کے سر پر تھوپ رہی ہو
میں نے ڈاکٹر زہرہ سے بات کی ہے وہ بچہ روحان کا نہیں ہے وہ تو میں نے رپورٹ چینج کروا دی ورنہ عالم کو پتہ چل چکا ہوتا اور پھر اس کے بعد تمہارا اور میرا وہ حال کرتا جب تمہارا تو پورا خاندان یاد رکھتا ہے لیکن میرے خاندان کے لئے بھی ایک کہانی بن جاتی
ہاہاہاہا بڑی بھابھی جی ڈرگئی ۔صرف اتنے سے جھٹکے پر تمہارا یہ حال ہو گیا بریرا اور یہاں جو تم نے مجھے اپنےاس کم عقل دیور کے ساتھ پھنسا رکھا ہے اس کا کیا
مجھے پچھلے ہفتے پتہ چلا تھا کہ میں پریگنیٹ ہوں ہے میں یہ بچہ نہیں چاہتی اس کا تمہیں کام خود ہی تمام کر لوں گی لیکن فی الحال میں تمہارے دیور سے جان چھڑانا چاہتی ہوں
میں تنگ آ چکی ہوں اس سے۔دماغ خراب کر رکھا ہے اس نے میرا پیار پیار پیار تنگ آ چکی ہوں میں اس پیار سے اب مجھ سے یہ ڈرامے نہیں ہوتے اسی لیے میں نے سوچا میں اسے شادی کے لیے فورس کروں گی
تنگ آ کر وہ مجھے چھوڑ دے گا کیونکہ جس خاندان سے اس کا تعلق ہے وہ مجھے اپنائیں یی تو ناممکن سے بات ہے اسی لئے روحان خاموشی سے اپنے قدم پیچھے ہٹا لے گا
اور میری اس پاگل مجنوں سے جان چھوٹ جائے گی وہ بےزاریت سے بولی
اتنی جلدی کیا ہے تمہیں میں نے کہا تھا نہ میں جلدی سے روحان کا کوئی نہ کوئی قصہ گھر میں پھیلا کر تمہارا قصہ ختم کر دوں گی
بس مجھے کسی طرح سنیہا کو وہ اسی یونیورسٹی میں پہنچانے دو جب سنیہاوہاں
جا ئے گی میں کوئی نہ کوئی کہانی نکالوں گی اور پھر زا یار خود اپنے ہاتھوں سے انہیں گھر سے نکال دیں گے
یہ دونوں اپنے جائز باپ کے پاس جائیں گے اور اس گھر میں رشتہ داروں کا بوجھ کم ہو جائے گا لیکن تم نے تو سارا کام بگاڑ دینا ہے
یہ روحان تمہارے عشق میں پاگل ہو کر تم سے شادی کیلئے مجھے تنگ کر رہا ہے اور میرے پاس کوئی راستہ نہیں ہے اس بے وقوف کو روکنے کا
اگر زایاز کی شادی کا مسئلہ نہ ہوتا تو اب تک سنیہا کو یونیورسٹی میں پہنچ چکی ہوتی
پر اب تک میں سب گھر والوں کو زایار کے خلاف بھی کر چکی ہوتی اور وہ لڑکی تو بس میرے ایک وار کی مار ہے
اس کے بعد زار چاچو لندن جانے والے ہیں اورلالی کو میں کسی بھی طرح شیرزار سے شادی کرواکر چاچو کے پاس بھیج دوں گی
پاکیزہ چاچی تو اپنے بچوں کے پیار میں پاگل ہو ہی جائے گیں اور صفدر چاچو کاحال نھی ان سے کچھ زیادہ الگ نہیں ہوگا
اس بڑھیا کو تو میں راستے سے ہٹا کر رہوں گی قور اس کے بعد تایا ابو کا ہونا نہ ہونا برابر ہے
اور زایار کی نئی نویلی بیوی کو میں اس طرح سے شیشے میں اتارنپوں گی کہ وہ کبھی زایار کی جانب دیکھے گی بھی نہیں
پھر میں اور میرے زایار اور ہم دونوں کی حسین زندگی اور ہادی کے لیے اس کی دادی ہے نہ ویسے بھی وہ بڑھیا میرے کسی کام کی نہیں لیکن زایار اسے بہت چاہتا ہے اسی لیے جب تک میرا کام ہوتا ہے تب تک تم یہ ڈراما کرتی رہو اور اس کی پوری قیمت میں تمہیں دیتی رہوں گی
نونیور میں مزید یہ سب کچھ نہیں کر سکتی وہ روحان پاگل ہے میں اسے چھوڑنے والی تم مجھے سمجھو میں مزید ۔۔۔۔
میں نے تمہارے اکاؤنٹ میں دس لاکھ ٹرانسفر کر دیے ہیں جو کم ازکم مزید ایک مہینے کے لئے تو بہت ہوں گے
لیکن اگر تم اور چاہو تو میں اور بھی بھجوا دوں گی بریرا اس کی بات کاٹتے ہوئے بولی تو دانی کو چھپ لگ گئی
تم بہت شاطر کھلاڑی بریرہ بیگم اچھے سے سمجھتی ہو کہ سامنے والے کو کس طرح سے زیر کرنا ہے
اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو بریرہ نے سکون کا سانس لیا
ہاں یہ کھیل کھیلتے ہوئے سات سال ہو چکے ہیں آج تک مجھے میرے شوہر کے علاوہ کوئی نہیں سمجھ پایا وہ قہقہ لگاتے ہوئے بولی اور فون رکھ دیا
جبکہ دوسری طرف دانی فون بند ہوتے ہی اپنے فون پر آنے والا ایس ایم ایس چیک کرنے لگی جو دس لاکھ کا تھا
ایک مہینہ اور سہی روحان ڈارلنگ تم میرے لیے کافی فائدہ مند ثابت ہوئے ہو وہ ہنستے ہوئے بیڈ پر ڈھیر ہو گئی

راحیل تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے تم نے مجھے یہاں کیوں بلایا جبکہ تم جانتے ہو کہ وہ روحان ہر وقت میرے آس پاس رہتا ہے

اگر اسے بھنک بھی پڑ گئی کہ میں تم سے ملی ہوں یا تم نے مجھ سے ملنے کی کوشش کی ہے تو وہ پاگل انسان ہمہیں آسانی سے معاف نہیں کرے گا

تمہیں اندازہ بھی ہے وہ تم سے کتنی نفرت کرتا ہے دانی آتے ہی شروع ہو چکی تھی رات کے تقریبا 11 بجے کا وقت تھا

یہ ایک بے حد سنسان علاقہ تھا جہاں پر وہ اکثر ملنے آتے تھے راحیل اس کی بات کو نظرانداز کرتا اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے سے اپنی بے حد قریب کرتے ہوئے اس کے چہرے پر جھکا تھا

تمہاری پریگنسی والی خبر جھوٹی ہے نہ ڈرالنگ مجھ سے جھوٹ کیوں بولا تم نے مجھے ڈرا دیا تھا وہ اس کے گردن میں منہ چھپاتا ناراض ہے لہجے میں بولا

میں دیکھنا چاہتی تھی کہ تم اس خبر پر کس طرح سے ری ایکٹ کرتے ہو دانی اسے خود سے دور کرتے ہوئے بولی

او میری جان میں تمہیں کیا بتاؤں میں اس وقت بہت گھبرا گیا کیونکہ ابھی ہمارا کریئر تک سیٹ نہیں ہوا آگے پیچھے کا کچھ بھی پتا نہیں ہے

پتہ نہیں زندگی میں آگے کیا ہونا ہے اور ایسے میں اس خبر نے مجھے اچھا خاصا پاگل کر دیا تھا میں ٹینشن میں آ گیا تھا

پلیز مجھے معاف کر دو بےبی تم جانتی ہو نا آئی لویو وہ پاگلوں کی طرح اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیے بے باک انداز میں اس سے اپنی محبت کا اظہار کر رہا تھا اور دانی جلد ہی اس کی باتوں میں بہل گئی

راحیل میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں پلیز مجھے چھوڑنے کی بات مت کرنا تم جانتے ہو نا یہ سب کچھ میں تمہارے اور اپنے لئے کر رہی ہوں

میرے بابا میری شادی تم سے نہیں ہونے دیں گے جب انہیں پتہ چلے گا کہ تم لوگوں کو بے وقوف بنا کر تھوڑے بہت پیسے کماتے ہو بابا میری اور تمہاری شادی کا نام تک نہیں لینے دیں گے

وہ بے حد پریشان تھی جبکہ راحیل اسے اپنے سینے سے لگاتا ہوس پرست نظروں سے اس لے وجود کو دیکھ رہا تھا

بےبی یہ کیسی باتیں کر رہی ہو اس وقت یہ سب سننے کا موڈ نہیں ہے اس وقت مجھے تم پر بہت پیار آ رہا ہے وہ اپنا مطلب پورا کرنا چاہتا تھا اسے دانی کے جذبات سے کوئی لینا دینا نہیں تھا

دانی مجھے تھوڑے پیسے چاہیے تھے تم سے نہیں مانگتا لیکن تمہیں پتا ہے نہ میں نے اپنے ایک دوست سے کچھ قرض لیا تھا وہ اسے اپنے سامنے کرتا عاجزی سے بولا

ہاں مجھے یاد ہے تم فکر مت کرو میرے پاس پیسے ہیں آج صبح ہی بریرہ نے مجھے پیسے سینڈ کر دیے تھے

وہ بے فکری سے بولی

یار مجھے سمجھ نہیں آتا یہ عورت تمہیں اتنے پیسے کیوں دے رہی ہے مطلب صرف روحان کو قابو میں رکھنے کے لیے وہ اتنے پیسے دے رہی ہے پچھلے ہفتے ہی اسے دس لاکھ روپے بریرانے سینٹ کیے تھے جو راحیل کسی نہ کسی طریقے سے اس سے نکلوا چکا تھا

اور اب بریرہ اسے مزید پیسے دے چکی تھی

بہت بڑا سارا راز ہے میرے پاس جو اگر کھلا تووہ بری طرح سے پھس جائے گی اپنی قیمت چکاتی ہے وہ اگر اسے پتہ چل گیا کہ مجھ سے یعنی کہ اصغرمعارج احمد کی بیٹی سے بریرہ شاہ کا کوئی تعلق ہے تو وہ زایار اسے طلاق دینے میں ایک سیکنڈ نہیں لگائے گا

اور وہ بے وقوف لڑکی اس آدمی کے پیچھے پوری طرح سے پاگل ہے اس شخص کیلئے وہ کچھ بھی کر سکتی ہے لیکن میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی وہ بے فکری سے بولی

کچھ بھی ۔۔۔۔اس نے الفاظ کو لمبا کھینچا تو اس نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا

تو ڈارلنگ یہ چھوٹی چھوٹی رقم مانگنے سے بہتر ہے کہ ایک ہی بار بڑا ہاتھ مارو وہ امیرذادی مجبور ہے تم جتنے کہو گی وہ اتنے پیسے دے دے گی

میرے خیال میں تمہیں اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے نہ کہ بے وقوفوں کی طرح ہاتھ پہ ہاتھ رکھے بیٹھے چاہیے وہ تمہیں بہت کچھ دے سکتی ہے وہ جیک پوٹ سے کم نہیں

راحیل اس کے ذہن میں اپنی چالبازی ڈال رہا تھا

کیا مطلب تم کیا چاہتے ہو میں کتنے پیسے مانگوں وہ جلد ہی اس کی باتوں میں آ گئی

فی الحال کے لیے دو کروڑ اور مچھلی جال میں پھنسی ہےزندگی بچانے کے لئے کچھ بھی کرے گی اگر دس لاکھ بیس لاکھ پچیس لاکھ اس کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتے دو کروڑ دینے میں بھی اسے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا

ایسی چیزوں سے کس طرح سے فائدہ اٹھانا چاہئے تم تو جانتی ہی نہیں میری جان ذرا فون کرو اس محترمہ کو آج رات اور دو کروڑ کی ڈیمانڈ کرو آخر ہمیں بھی ہمارا فیوچر سیٹ کرنا ہے ہم نے شادی کرنی ہے اپنا گھر بنانا ہے وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا تھا دانی نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا

دانی بے حد بولڈ ماڈرن اور اپنی مرضی سے جینے والی لڑکی تھی لیکن راحیل اسے اپنے اشاروں پر نچانا رہا تھا محبت کا ایسا جال اس نے دانی کے سامنے پھیلایا تھا کہ راحیل کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آتا تھا

یہاں تک کہ راحیل کے کہنے پر ہی ہر وہ روحان کے اس حد تک قریب جا چکی تھی کہ جس کے بعد وہ خود بھی بہت پچھتائی

اس کے لئے راحیل سے نظریں ملانا تک مشکل ہو گیا تھا لیکن راحہل نے کہا اٹس اوکے بےبی یہ نارمل ہے مجھے اس چیز سے کوئی فرق نہیں پڑتا تم کل بھی میری محبت تھی اور آج بھی میری محبت ہو

اور اس کے انہی سب باتوں پر دانی ایک بار پھر سے اس کے ہاتھوں بے وقوف بن گئی

°°°°°

زایار اور پازیب کی شادی کو ایک ہفتہ ہو چکا تھا اور اس تمام عرصے میں زایار نے یہی محسوس کیا تھا کہ پازیب اس سے بھاگنے کی کوشش کرتی ہے

وہ جتنا اس کے قریب جانے کی کوشش کرتا جتنا اس کو سمجھنا چاہتا ہے وہ اتنا ہی اس سے بھاگتی تھی اس سے دور ہوتی تھی

اس کی اس حرکت پر اسے بے حد غصہ آتا تھا لیکن فی الحال وہ خاموش تھا

لیکن وہ کب تک یہ سب کچھ برداشت کرتا بہت ہو چکا تھا اب تو ایک ہفتہ ہو چکا تھا اب وہ سیدھا اس سے بات کرنا چاہتا تھا

اس نے نوٹ کیا تھا کہ وہ جہاں بھی جاتا پازیب وہاں سے غائب ہو جاتی یا منظر سے ہٹ جاتی اسی لئے آج وہ اس کے کمرے میں جا رہا تھا تاکہ وہ صاف الفاظ میں اسے بتا دے کہ یہ حرکتیں اسے بالکل پسند نہیں ہیں

وہ اس کی بیوی ہے اور وہ اس پر حق رکھتا ہے وہ اسے اس کی محبت کو نظر انداز نہیں کر سکتی اگر فی الحال وہ اس سے اپنا کوئی حق نہیں مانگتا تو اس کی طبیعت کی وجہ سے لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ وہ اپنی من مانیوں پر اتر آئے

°°°°°

وہ ابھی فریش ہو کر باہر نکلی کہ سامنے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے وہ شان بے نیازی سے بیٹھا تھااسے دیکھ کر اٹھ کر اس کے پاس آیا

طبیعت کیسی ہے تمہاری ۔۔۔۔۔؟وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا

جی ….جی جی میں بالکل… ٹھیک ہوں اسے اپنے کمرے میں دیکھ وہ بوکھلا کر بولی تھی

اور زخم کیسا ہے۔۔۔۔۔؟

اب درد تو نہیں ہو رہا۔۔۔۔۔؟

اس کی بوکھلاہٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ پھر سے پوچھنے لگا اور ساتھ ہی چلتے ہوئے چند قدم اس کے اور قریب آرکا

درد نہیں۔۔۔۔ بالکل نہیں اب میں بالکل ٹھیک ہوں وہ جلدی سے بولی تھی

یہ تو بہت اچھی بات ہے اس کے لہجے اور کپکپاتے وجود کو دیکھ کر اس نے اپنی ہنسی دبائی تھی وہ اس پر اپنا غصہ ظاہر کرنے آیا تھا لیکن اس معصومیات سے بھرپور صورت پر غصہ بھی نرمی میں بدل جاتا

پازیب نے نظر اٹھا کر بس ایک جھلک اس کی طرف دیکھااس کی گھنی مونچھوں کے نیچے عنابی لب شاید مسکرائے تھے کناروں پہ اب بھی تھورا سا تبسم باقی تھا

چلو یہ تو بہت اچھا ہو گیا تم جتنی جلدی ٹھیک ہو گی ہمارے لئے اتنا ہی اچھا ہے وہ ذومعنی انداز میں بولا

جی….. پازیب نے نہ سمجھنے والے انداز میں کہا

اپنا زخم دکھاؤ مجھے وہ اس کی بات کو نظرانداز کرتے ہوئے بولا

اس کالرتا وجود مزید لرزنے لگا دل پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو تیار تھا یہ شخص ہر بار اس کی جان مشکل میں ڈال دیتا تھا

ج۔ ۔۔جی۔ ۔۔۔؟اس نے دوبارہ سننا چاہا شاید اسے وہم ہوا تھا کہ اس نے کچھ غلط سن لیا کاش یہ غلط ہی ہو

زخم دکھاؤ اپنا مجھے وہ اس کا کندھاآپنے بے حد قریب کرتے ہوئے بولا

اس کی ۔۔۔ضرورت نہیں ۔۔۔ہے میں ٹھیک۔۔۔ ہوں اس نے ذرا پیچھے ہٹنا چاہا

وہی تو میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ تم کتنا ٹھیک ہو میری نیندیں خراب کر کے وہ زو معنی سے انداز میں مسکراتا اس کا کندھا اپنے سامنے کر گیا

اور اس کا دوپٹہ بیڈ پر رکھ کر اس کے بال کندھے اور بازو سے پیچھے کرنے لگا

پازیب کالرزتا کانپتا وجود اس کی نظروں سے چھپا ہوا نہیں تھا

اس نے آہستہ سے پازیب کی فراک کی ڈوریاں کھولیں اور اس کے ساتھ ہی پازیب کے دل کی دھڑکن کسی ڈھول کی طرح بجنے لگی

اسے اپنی ٹانگوں پر کھڑا رہنا مشکل ہولگنے لگا

جب کہ وہ شخص اس کی حالت سے باخبر ہونے کے باوجود بھی انجان بنا اس کے زخم کا معائنہ کر رہا تھا جواب پہلے سے کافی بہتر ہو چکا تھا

زایار نےبہت نرمی سے اپنی انگلیوں کے پوروں سے کی جلد کو چھوا تھا ۔

پازیب کا دل چاہا کہ وہ یہاں سے کہیں بھاگ جائے یا ابھی کوئی آجائے ۔لیکن وہ مشکل کی گھڑی تھی شاید یہ امتحان کا وقت تھا اور یہ بہت مشکل وقت تھا

لیکن اس کی جان لبوں میں تب آئی جب اس نے اپنے کندھے پر زایار کے لبوں کا دہکتا لمس محسوس کیا وہ بہت نرمی سے اس کے کندھے کو چومتا اسے بےحال کر رہا تھا

اس کے پورے وجود میں سنسنی سی دوڑ گئی

اس نے فاصلہ قائم کرنے کی چھوٹی سی کوشش کی لیکن زایار نے اس کے گرد حصار باندھتے ہوئے بڑی آسانی سے اس کی کوشش کو ناکام کر کے اس کی دھڑکنوں کو مزید مشکل میں ڈال دیا

وہ با آسانی اس کے دل کی آواز سن سکتا تھا وہ سانسیں روکے کھڑی تھی

جب کہ دونوں ہاتھ کی مٹھیاں بھینجیں وہ آنکھیں بھی بند کر چکی تھی۔اس کی گھبراہٹ پر زایار نے اپنے بے قابو ہوتے جذبات کو قابو کیا اور بے حد نرمی سے اس کے گال کو اپنے لبوں سے چھوتے اس کی شہ رگ سہلائی ۔

تم تو اتنے میں ہی ڈر کر تھر تھر کانپنے لگی ہو ۔اس طرح سے تم مجھے جلدی ہی پاگل کرکے کوئی لمٹ کراس کرنےپر مجبور کردوگی

اسے یوں شرماتے گھبراتے دیکھ زایار کو بہت اچھا لگ رہا تھا اسی لئے تو وہ اس طرح کی باتوں پر اسے مزید سمٹنے پر مجبور کر رہا تھا

وہ جانتا تھا کہ ایسا کرنے سے مسئلہ اسی کو ہوگا اسی کو ہی اس کے بغیر رہنے میں مشکل پیش آئے گی

لیکن اگر وہ اتنا انتظار کر رہا تھا تو پھراس کا تھوڑا سا حق تو بنتا تھا اپنی بیوی کو تنگ کرنے کا

اس کا شرمایا ہوا روپ اس کا حیا سے جھکا سر شرم سے بے قابو ہوتی دھڑکن اور اس کے گالوں پر پھیلی سرخی اسے ہر حد پار کر جانے پر اکسا رہی تھی لیکن وہ اپنے نفس پر قابو رکھنا جانتا تھا

وہ اس موم کی مورت کو بہت محبت اور نرمی سے چھونا چاہتا تھا وہ اسے توڑنا نہیں چاہتا تھا وہ اس کی محنت نہیں عشق تھا ۔اس کے اس عشق میں جنون رقصم کرتا تھا

وہ شہزادیوں سا حسن رکھنے والی لڑکی صرف اس کی تھی اسے اسی کی دسترس میں آنا تھا

اس کا رخ اپنی جانب کرتے ہوئے وہ اس کے حسین چہرے کے نقش میں کھونے سا لگا بے بے اختیار ہی اس نے اپنے دہکتے ہوئے لبوں کو اس کی پیشانی پر رکھا اس سے پہلے کے پازیب کے لئے مشکل مزید بڑھتی یا زایار مزید اپنے جذبات اس کے نازک وجود پر ظاہر کرتا تھا

ہادی دروازہ کھولتا اپنا ٹیڈی اپنے ہاتھ میں پکڑےاپنی ننھی سی آنکھیں مسلتا ہوا اندر داخل ہوا

دوست میری مما کہہ رہی ہیں کہ اب سے میں آپ کے روم میں آپ کے پاس ہی سوؤں گا وہ فورا سے بھاگتا ہوا اس کی ٹانگوں سے لپٹتا بےحد معصومیت سے بولا

پازیب کو اس ننھےسے وجود پر بے حد پیار آیا تھا جس نے اس دیو کی قید میں جانے سے بچا لیا تھا

آج تو سچ میں وہ اس کے لئے کسی فرشتے سے کم ثابت نہ ہوا تھا اسے یقین تھا اگر تھوڑی دیر کوئی اور نہیں آتا تو زایارتو بہکتا ہے مہکتا ہے لیکن پازیب کی دھڑکن بھی رک جاتی کیونکہ اس کی قربت سے پہلے ہی اس کا برا حال ہو چکا تھا

بابا کیا آپ بھی ہمارے پاس سوو گے وہ جو پازیب کی ٹانگوں سے لپٹا ہوا اس سے پیار لے رہا تھا زایار سے بولا

مجھے تو کوئی اعتراض نہیں لیکن تم اپنی دوست ماما سے پوچھ لو کیا وہ مجھے اپنے پاس رکھنا چاہے گی وہ بےحد شرارت سے بولا لیکن چہرے پر کسی قسم کے کوئی تاثرات نہیں تھے

جیسے وہ کوئی بہت سیریس بات کر رہا ہو پازیب نے بس ایک نظر اس کا چہرہ دیکھا

گھنی مونچھوں تلے لبوں پر ہلکا سا تبسم تھا جیسے وہ اپنی ہنسی روکنے کی کوشش کر رہا ہو ۔ ۔

دوست کیا آپ بھی میری ماما ہو اپنے باپ کے منہ سے اس کے لئے دوست ماما الفاظ سن کر اسے حیرانگی کے ساتھ ساتھ خوشی بھی ہوئی تھی

ہاں بالکل ہادی کیا آپ کو یہ جان کر خوشی نہیں ہوئی کیا آپ کی دوست آپ کی ماما بھی ہے ہیں وہ ہادی کو اپنے بازوؤں میں اٹھائے اس سے پوچھنے لگا جبکہ یہ یہ ساری سچویشن پازیب کے لئے کافی مشکل تھی

ہاں لیکن وہ بے چینی سے ہادی کے جواب کا انتظار کر رہی تھی

واؤ بابا یہ تو بہت اچھی بات ہے اس کا مطلب ہے کہ آپ سے میری دو دو ماما ہیں ایک میرے لئے نوڈلز بنائی گئی اور دوسرے مجھے کہانی سنائی گئی اس کے جواب پر جہاں

زایار کا قہقہ بلند ہوا تھا وہی پازیب مسکرا کر نظر جھکا گئی

اس خاندان میں شاید ہی کوئی ایسا تھا جس نے اسے قبول نہیں کیا تھا وہ ان عنایتوں اور محبتوں کے قابل نہیں تھی جتنا اللہ نے اسے نواز دیا تھا

چلو ٹھیک ہے ہادی میری جان اب آپ اپنی چھوٹی ماں سے کہانی سنو جب تک آپ کے بابا اسٹڈی روم میں تھوڑا سا کام کرنے جاتے ہیں

آپ اپنی چھوٹی ماما کا خیال رکھنا اور آپ کی جھوٹی ماما آپ کا خیال رکھے گی اس نے محبت سے ہادی کو بیڈ پر لٹایا اور اپنی بت بنی بیوی کے پاس آیا

میرا ہادی کہتا ہےکہ تمہیں بہت اچھی کہانیاں آتی ہیں اچھی بات ہے تم اسے کوئی نئی کہانی سناؤ

اور یہاں کے تھوڑی دیر پہلے جو ہوا وہ میری اور تمہاری کہانی ہے جو ہم کچھ دنوں کے بعد یہیں سے شروع کریں گے تو اپنے آپ کو بالکل ٹھیک کرلو کیونکہ تمہاری یہ بیماری میں مزید افورڈ نہیں کر پا رہا

اور مجھ سے بھاگنا چھوڑ دو مجھے سچ میں یہ حرکت پسند نہیں آئی

صبح میں کچن میں آیا تو تم کیسے غائب ہوگئی

میں باہر لان میں گیا تو تم وہاں سے اپنے کمرے میں چلی گئی

میں گارڈن میں گیا تو تم وہاں سے بھی غائب ہو گئی یہ بہت غلط بات ہے مجھے چھپن چھپائی ہرگز پسند نہیں ہے پازیب میں برادشت نہیں کروں گا کہ میری بیوی مجھ سے دور رہے تو آئندہ خیال رکھنا

اپنا خیال رکھنا گڈنائٹ وہ بے حد نرمی سے کہتا اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھو کر چلا گیا

پازیب کے چہرے پر ایک پیاری سی مسکان میں جگہ بنائی تھی نظروں نے آئینہ دیکھنے سے انکار کردیا اس کے گالوں پر سرخی پھیلی ہوئی تھی

وہ اسے سوچنا نہیں چاہتی تھی اور نہ ہی وہ زایارکو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتی تھی اور نہ ہی خود اس کی طرف متوجہ ہونا چاہتی تھی

لیکن پھر بھی نکاح کے خوبصورت بندھن میں بندھنے کے بعد وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے بارے میں سوچنے لگی تھی

وہ بریرہ کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی نہیں چاہتی تھی۔اور وہ جانتی تھی کہ زا یار برری سے بے حد محبت کرتا ہے اور وہ اسے کبھی دھوکا نہیں دے گا تو ہو سکتا ہے کہشاید بریرہ نے ہی اسے یہاں بھیجا ہو

شاید بریرہ بیگم نہیں چاہتی تھی کہ اس کے ساتھ کسی بھی قسم کی ناانصافی ہو اور جب یہ شخص اس کے قریب آتا تھا اس کے اپنے دل میں بھی ہلچل سی مچ جاتی لیکن پھر بھی اسے اپنی اوقات یاد رکھنی تھی

وہ جانتی تھی کہ اس شہزادے کے نکاح میں آکر وہ کوئی شہزادی نہیں بنی اس شہزادے کی شہزادی بریرا ہے وہ اس پر کوئی حق نہیں رکھتی اور اب اس نے سوچ لیا تھا

کہ وہ خود ہی زایارسے دور رہے گی ایک ہفتے سے وہ ہر ممکن کوشش سے خود کو اس سے دور رکھے رہی تھی وہ چاہتی تھی کہ وہ اس کے سامنے ہی نہ آئے ایسا کرنے سے شاید وہ اسے یاد بھی نہیں کرے گا لیکن ایسا نہ ہوا

وہ خود ہی اس کے کمرے میں آ گیا

اب اسے بریرا بیگم نے بھیجا تھا یا وہ خود اپنی مرضی سے آیا تھا لیکن اس کا آنا پازیب کے چہرے پر کہیں حسین رنگ بکھیر گیا

اس کے چہرے پر پھیلے خوبصورت رنگوں نے شاید ساری رات ہی بسیرا کرنا تھا وہ آہستہ سے ہادی کے پاس آکر لیٹی جو اگلے ہی لمحے اس سے لپٹ کر پتا نہیں کون سی کہانی سننے کی فرمائش کرنے لگا

اس نے مسکرا کر اس پیارے سے گڈھے کو اب خود سے لیپٹااور پھر کوئی شہزادہ شہزادی کی کہانی بنانے لگی

°°°°

تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہوگیا میں کہاں سے لاکر دوں اتنے زیادہ پیسے میں تمہیں میں پہلے ہی بہت زیادہ پیسے دے چکی ہوں اور اب تمہاری مانگ بڑھتی جا رہی ہیں

اتنی بھی آگے مت جاؤ کہ تمہارے لئے مشکل پیدا ہو جائے اسے دانی کی نئی فرمائش پر بہت غصہ آیا تھا کبھی 5 کبھی 10 کبھی 15 تو کبھی 25 لاکھ تک وہ جاچکی تھی

کہ اچانک دانی نے اس سے دو کروڑ کی فرمائش کر ڈالی

ڈونیشن کے نام پر وہ سب سے ہی کچھ نہ کچھ نکلوا لیتی تھی لیکن اب تو دانی کی فرمائشں حد سے زیادہ بڑھ چکی تھی

ایک تو دانی کی وجہ سے وہ پہلے ہی زایار اور پازیب کے رشتے پر دھیان نہیں دے پا رہی تھی اسے بس پتا تھا کہ زایار آج شام اس کے کمرے میں گیا وہاں کیا ہوا کیا نہیں اسے کچھ پتہ نہیں بس وہ اپنا دل جلاتی رہی تھی کہ اب دانی کی نئی ڈیمانڈ پر اس کا سر گھوم گیا

تم مجھے پیسے دے رہی ہو بس اور تم پیسے کہاں سے لاؤگی یہ تمہاری ذمہ داری ہے میری نہیں لیکن اگر تم نے ایک ہفتے کے اندر مجھے دو کروڑ روپے نہیں دیے تو میں سب کو بتا دوں گی کہ کہ تمہارے ارادے کیا ہیں

اور یہ بھی کہ تمہارا بیٹا ہادی۔۔۔۔

چپ ایک دم چپ ایک لفظ مت بولنا ۔میں کرتی ہوں تمہارے پیسوں کا کچھ انتظام لیکن تم مجھے دھمکی دے کر ٹھیک نہیں کر رہی اس کا انجام بہت برا ہوگا

تم کچھ نہیں کر سکتی ڈیر بریرہ لیکن میں بہت کچھ کر سکتی ہوں اگر اپنی عزت اپنا گھر بچانا چاہتی ہوتو خاموشی سے مجھے میرے پیسے دے دو ورنہ میں تمہاری حقیقت جلد ہی تمہارے دیور کے سامنے بھی لے آؤں گی

اس کے بعد تم جانتی ہو کیا ہونے والا ہے وہ ہنستے ہوئے فون بند کر چکی تھی

جبکہ بریرہ خاموشی سے فون بند پر پھینک کر آئینے کے سامنے آئی اور اپنے ہاتھوں پیروں پر بیٹھ کر لوشن لگانے لگی

میری بلی مجھی سےمیاؤں تم نے شاید مجھے بہت ہلکے میں لے رکھا ہے ڈیئر دانی

میں کیا ہوں کیا نہیں یہ تو اس خاندان والے مجھے سات سال میں نہیں سمجھ پائے تو تم مجھے کیا سمجھو گی اس غلط فہمی کو بھی میں آج ہی دور کر دیتی ہوں

دو کروڑ ۔۔۔ہاہاہا ایک پھٹی کوڑی تک نہیں ملے گی تمہیں اب وہ بے فکر انداز میں نزاکت سے اپنا کام کر رہی تھی جیسے کوئی ٹینشن کوئی پریشانی نہ ہو

وہ شطرنج کی وہ کھلاڑی تھی جسے ہر مہرہ اپنے انداز اور اپنے مطابق چلانا آتا تھا دانی تو اس کے سامنے ایک بچی تھی جو اسے آج رات ہی پتہ چل جانا تھا

یہ تم کیا کہہ رہے ہو شیر کیا تم سیریس ہو میرا مطلب ہے لالی اور تم بابا کافی پریشان لگ رہے تھے شیر جیسا میچیور انسان اورلالی جیسے البیلی سی لڑکی ۔۔۔۔

اسے تو یہ بھی نہیں پتا تھا کہ پریشانی کس چیز کا نام ہے اپنی ہی موج میں مست لڑکی شیر جیسے لڑکے کے لیے کیا ٹھیک ہے گی ان کے دماغ میں یہی سوال اٹھ رہا تھا

یہ الگ بات ٹھیک ہے کہ ان کی اپنی خواہش تھی کہ لالی ان کی بہو بنے جس کا اظہار وہ چار سال پہلے سب کے سامنے کر چکے تھے جس کے جواب میں شیر نے بس اتنا ہی کہا تھا بابا

کیا وہ میرے ساتھ سوٹ کرے گی اور آج وہ خود ان سے لالی کومانگ رہا تھا

خیر یہ ساری بات چار سال پہلے چلی تھی لیکن اس کا لالی سے سات سال بڑے ہونا بھی ایک سوال تھا

اور اس کے بعد لالی کی البیلی طبیعت بھی بڑی پریشانی تھی لیکن سب نے یہی کہا تھا کہ آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جائے گی

اس کی کھیلنے کودنے والی عمر ہے اسے اس کے مطابق زندگی گزارنے دیں لیکن کون جانتا تھا کہ ان سب چیزوں کے بعد شیر کے دل میں کہیں نہ کہیں وہ پری چہرہ اپنا ایک الگ مقام بنا لے گی

اس گھرمیں میں سوائے زایار کے اور کوئی اس کے دل کے حالات سے واقف نہیں تھا اور نہ ہی وہ اپنا آپ کسی پر ظاہر ہونے دیتا تھا

جب کہ زایار صاف الفاظ میں کہتا تھا کہ لالی کی شادی میں تم سے کروں گا

کیونکہ اپنی لاڈلی بہن کے معاملے میں وہ کسی بھی اور پر یقین نہیں کر سکتا تھا

وہ پھر آہستہ آہستہ یہ بات گھر میں سب کے ذہن میں آئی تھی کوئی بھی نہیں چاہتا تھا کہ لالی گھر چھوڑ کر کہیں بھی جائے

ایک وقت تھا جب سنیہا کیلئے بھی شیر کا ہی انتخاب کیا گیا لیکن ایسا ممکن نہیں تھا کیونکہ سنیہا کسی اور کی امانت تھی کسی اور کی ملکیت تھی اور شاہ حویلی والے لوگ کبھی بھی اپنی ملکیت کو چھوڑتے نہیں تھے

وہ لوگ تو اپنی منگن نہیں چھوڑتے یہاں تو فیصلہ ملکیت کا تھا نکاح کا تھا وہ لوگ جب بھی سنیہاکے بارے میں کچھ سوچتے تو ان کی نظروں کے سامنے 10 سال کا وہ ضدی سا بچہ آ جاتا جس کی ضد اس خاندان میں سب کے لیے بہت اہمیت رکھتہ تھی

اور پھر لالی کے لیے سب ہی نے شیر کو ہی سوچا تھا ایک دن باتوں ہی باتوں میں بریرہ نے اس بات کا ذکر چھڑ دیا

تو شیر کے چہرے پر کسی بھی قسم کی ناراضگی اور غصہ نہ دیکھتے ہوئے سب نے ہی اندازہ لگا لیا تھا کہ بعد میں اسے اس رشتے سے کوئی اعتراض نہیں ہوگا

اور اب وہ خود چار سال کے بعد ان کے سامنے لالی کی فرمائش کر رہا تھا

میرے خیال میں لالی ابھی بچی ہے اس کے بارے میں ایسا نہیں سوچنا چاہیے بابا نے پریشانی سے کہا

آپ اگر نہیں سوچنا چاہتے تو مت سوچیں لیکن اس بچی کی شادی کی تائی امی کو بہت فکر ستانے لگی ہے

وہ تو آج صبح ہی کہہ رہیں تھیں کہ لالی کو گھر کے کاموں پر دھیان دینا چاہیے کیونکہ اب جلد ہی اس کی شادی کر دیں گے

لالی کے لیے ہمارے ہی گاؤں سے دو بہترین رشتے آئے ہیں جن پر تایا ابو کو کوئی اعتراض نہیں جبکہ ایک رشتہ تو لندن سے آیا ہے ان کے عزیزوں جان دوست کی طرف سے

بابا یہ نہ ہو کہ آپ اس بچی کے بڑے ہونے کا انتظار کرتے رہے اور وہ دلہن بن کر کسی اور کے آنگن میں بہار لے آئے

اگر ایسا ہوا نہ تو یاد رکھئے گا زندگی بھر شادی نہیں کروں گا اب اس دل کی سلطنت پر ملکہ بن کر صرف لالی ہی راج کرے گی

اگر مجھے لالی نہیں ملی تو مجھے کوئی اور بھی نہیں چاہیے وہ مضبوط لہجے میں کہتا ہے ان کے قریب سے اٹھا ہی تھا کہ بابا نے اس کا ہاتھ تھام لیا

شیر تمہیں اتنی محبت کب ہوئی اس سے بابا حیرانگی سے پوچھ رہے تھے

اگر مجھے پتا ہوتا تو آپ کو ضرور بتاتا لیکن مجھے خود ہی نہیں پتہ کہ یہ دل کب اس اسٹوپڈ بے وقوف نالائق لڑکی کے نام پر دھڑکنے لگا وہ انہیں دیکھتے ہوئے گہرے لہجے میں بولا

بابا کتنی ہی دیر اسے دیکھتے اور اس کے الفاظ پر غور کرتے رہے پھر بے اختیار مسکرا کر نفی میں سر ہلایا

شرم تو نہیں آتی ہوگی باپ کے سامنے عاشقی جھاڑتے ہوئے اس کے بے باک لہجے پر بابا نے شرم دلانے کی کوشش کی

ارے شرم تو پھر آپ کو آنی چاہیے بیٹے سے بار بار عاشقی کے سوال پوچھتے ہوئے

جوان بیٹے کے سامنے ایسی باتیں آپ ہی کر رہے ہیں وہ بے باک لہجے میں بولا اس کے انداز پربابا نے قہقہ لگایا

ہنسیں مت جاکر تایا ابوسے رشتے کی بات کریں یہ نہ ہو کہ وہ اپنے عزیزو جان دوست کے لئے اپنی بیٹی کا رشتہ پکا کر دیں وہ بے حد پریشان لہجے میں بولا تھا تو بابا ہنس دیے

فکر مت کرو میرے شیر پتر دوست کتنا ہی عزیز کیوں نہ ہو بھائی سے زیادہ نہیں ہے وہ اٹھ کر اس کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے بولے تو شیر مسکرا دیا

جبکہ اس کے مسکرانے پر بابا نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا

یہی تو تھا ان کا کُل سرمایہ ان کی اکلوتی اولاد جسے وہ بے پناہ چاہتے تھے ان کی عزیز و جان بیوی اس کی پیدائش پر ہی انہیں چھوڑ کر چلی گئیں

لیکن شاہ زار صاحب میں نے کبھی اسے ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی وہ اپنے بیٹے کے لئے ماں اور باپ دونوں بن گئے

یہی وجہ تھی کہ شیر کو جب بھی کوئی مسئلہ ہوتا ہے وہ سب سے پہلے انہیں کے پاس آتا ۔

کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کے ہر مسئلے کا حل ان کے پاس ضرور ملے گا اور اگر حل نہیں ملا تو وہ اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش ضرور کریں گے اپنے بیٹے کو ہر مصیبت سے بچانے کے لیے

°°°°°°

ادا صاحب میں بہت ضروری کام سے آپ کے پاس آیا ہوں وہ تہمید باندھتےہوئے بولے تو سکندر شاہ انہیںدیکھنے لگے

صفدرشاوہیں پر موجود تھے اور صفیہ بیگم بھی

ہاں کہو اس طرح سے اجازت کیوں مانگ رہے ہو بتاؤ میں تمہارے لئے کیا کر سکتا ہوں سکندر شاہ نے خوشی سے کہا اس نے کبھی ان سے کچھ نہیں مانگا تھا

ادا صاحب میں اپنے بیٹے شیر زار شاہ کے لئے آپ کی بیٹی لالہ رخ کا ہاتھ مانگنا چاہتا ہوں میں مانتا ہوں یہ کوئی طریقہ نہیں ہے بات کرنے کا

لیکن میں زیادہ دیر تک کوئی بھی بات اپنے دل میں نہیں رکھ سکتا شیر نے مجھے یہ بات کرنے کے لئے آپ لوگوں کے پاس بھیجا ہے

یہ سراسر اس کا ذاتی فیصلہ ہے اور مجھے یقین ہے کہ آپ میرے بیٹے کو مایوس نہیں ہونے دیں گے

یہ تم کیا کہہ رہے ہو زار کیا تم سیریز ہو۔۔۔۔۔

یہ تو بہت خوشی کی بات ہے یقین کرو آج تم نے میرا سینہ فخر سے چوڑا کر دیا

تم میری پگلی سی بیٹی کیلئے اپنے اتنے قابل کے بیٹے کا رشتہ مانگ رہے ہو یہ تو میرے

لئے خوش قسمتی ہے کہ وہ میرا داماد بنے گا کیوں صفیہ بیگم کیا خیال ہے ۔۔۔؟

کیا آپ اپنی بیٹی کا رشتہ میرے بھائی کے بیٹے کو دیں گیں سکندر شاہ نے مسکراتے ہوئے یقین سے پوچھا تو صفیہ بیگم اٹھ کھڑی ہوئیں

میں ابھی مٹھائی لے کے آتی ہوں اور سب کا منہ میٹھا کرتی ہوں

وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگیں جب کہ سب ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے تھے

یہ تو بے حد خوشی کی بات ہے سارے رشتے گھر میں ہی طے ہوگئے بس مجھے سنیہا کی پریشانی ہے

اللہ کریم میری بیٹی کے ہر مسئلے کو اس سے پہلے میں حل کر لوں وہ کہتی ہے کہ میرے بابا میرے ہیرو ہیں وہ کبھی کوئی مصیبت مجھ تک نہیں آنے دیں گے

لیکن اس مصیبت کا کیا کروں جو وہ یہاں لے کر آئی ہے تراب حیدر کو دو تین بار دیکھا ہے میں نے بہت مغرور قسم کا انسان ہے

اور اس کا بات کرنے کا انداز مجھے سوتیلے سسر صاحب کہہ کر بلاتا ہے

بدتمیز انسان مینرز نام کی کوئی چیز نہیں ہے اس میں

میں اپنی بیٹی کی زندگی اس شخص کے ساتھ برباد تو کبھی نہیں ہونے دوں گا صفدر شاہ بہت سوچ کر بول رہے تھے

تم بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو صفدر یہ بات فی الحال کسی کو نہیں پتا تم کسی طرح اس سے طلاق کے کاغذات سائن کروا لو

اور سنیہا کو اس نکاح کے بارے میں پتہ چلنے سے پہلے ہی اس رشتے کو ختم کر دو

ہماری بچی کبھی اس گھر میں سکون کا سانس نہیں لے پائے گی اور مجھے یقین ہے کہ پاکیزہ بھی کبھی اس چیز کی اجازت نہیں دے گی

اور آج تو بریرہ سنیہا کا ایڈمیشن کروانے یونیورسٹی گئی ہوئی ہے اور وہ کیا نام ہے زیار کی بیوی کا ہاں پازیب اس کا بھی چیک کروانا تھا ویسے اب پہلے سے بہتر ہے لیکن بریرہ کہہ رہی تھی کہ ایک بار اس کا پر چیک اپ ہو جائے

ماشاءاللہ سے کافی پیاری بچی ہے بس نصیب میں ہی رسوائی لکھی تھی بریرہ نے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے

کہ اس نے وقت رہتے اپنی غلطی کو سدھار لیا۔

اور زایار بھی اس شادی سے کافی مطمئن ہے بس وہ دونوں بیویوں میں انصاف کر سکے

ان شاء اللہ بھائی صاحب آپ پریشان نہ ہوں زایار سمجھ دار انسان ہے اسے پتہ ہونا چاہیے کہ اگر اس نے دوسری شادی کا فیصلہ کیا ہے تو دونوں بیویوں کو برابر کے حقوق دینا بھی اس کا فرض ہے

بریرہ کے ساتھ ماشاءاللہ سے اس کی زندگی اچھی گزر رہی تھی پھر اس نے اس طرح کا کوئی فیصلہ کیا ہے تو بہت سوچ سمجھ کر کیا ہوگا

صفدر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا تو سکندر صاحب نے ہاں میں سر ہلا دیا

ان میں سے کسی کو بھی زایار کی دوسری بیوی ہونے پر کوئی اعتراض نہیں تھا زیار ایک قابل اور خودمختار انسان تھا وہ دو بیویوں کا بوجھ اٹھا سکتا تھا

اور یہ سراسر اس کا ذاتی فیصلہ تھا جس پر کسی کو بھی اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں تھا

سکندر شاہ کے ذہن میں بس یہ سوچ تھی کہ ہو ہو سکتا ہے کہ اس فیصلے سے بریرہ کی زندگی پر کوئی برا اثر ہو

لیکن ایسا نہیں ہوا تھا بریرہ نے کھلے دل سے زایار کی دوسری بیوی کو قبول کر لیا تھا

صفیہ بیگم مٹھائی لے کر آئیں خوشی ان کے چہرے سے جھلک رہی تھی سب نے منہ میٹھا کیا جبکہ پاکیزہ بیگم یہاں پر نہیں تھیں وہ تینوں بچیوں کے ساتھ شہر گئیں ہوئیں تھیں

پہلے سنیہا کے ساتھ یونیورسٹی میں ایڈمیشن کروانا تھا اور پھر پازیب کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس جانا تھا

جبکہ لالی سب کو بھج کر خود فنگر چپس اور کوک کے مزے لوٹ کر آرام سے سو چکی تھی

اس کا آگے پڑھنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور ویسے بھی سپلی والوں کو یونیورسٹی میں ایڈمیشن نہیں مل سکتا

اردو میں ہی سہی لیکن سپلی تو آئی تھی اسی لئے وہ بالکل بے فکر ہو چکی تھی ورنہ اسے یقین تھا کہ امی اسے زبردستی سنیہا کے ساتھ بھیج دیتیں

اور اس کے بعد روحان اداسے جو باتیں اس نے ہوسٹل کی بورنگ روٹین کے بارے میں سنی تھی اس کا تو دل ہی خراب ہوگیا کسی ہوسٹل یایونیورسٹی میں جانے کا

وہ گھر میں ہی بے حد خوش تھی جب دل ہوتا تھا کالج جاتی تھی جب نہیں ہوتا نہیں جاتی تھی کوئی زور زبردستی تو تھی ہی نہیں تو اس کا دماغ خراب تھا جو اتنی آزادی کا اپنے ہاتھوں سے گلا دباتی

وہ اپنی بے فکر زندگی گزار رہی تھی جبکہ اس کی یہی بے فکری صفیہ بیگم کو دن با دن پریشان کرتی جا رہی تھی

°°°°°

سنیہا اور پاکیزہ کو یونیورسٹی بھیجنے کے بعد وہ ہسپتال آ گئیں تھیں ڈاکٹر نے اس کا چیک کیا یہ وہ ہسپتال نہیں تھا جہاں وہ پہلے آئی تھی ویسے تو وہ اب بالکل ٹھیک تھی لیکن زایار کے حکم پر اسے آج ہسپتال آنا ہی تھا

کل رات ہی وہ اس کے کمرے کے باہر رک کر کہہ چکا تھا کہ صبح چاچی تمہیں اپنے ساتھ ہسپتال لے کر جائیں گیں تاکہ تمہارا پروپر چیک اپ ہو سکے اس نے جواب میں کچھ نہیں کہا تو صبح بریرہ تیار کھڑی تھی اسے اپنے ساتھ لے جانے کے لیے

صبح وہ سب ڈرائیور کے ساتھ شہر آ گئیں تھیں۔ پاکیزہ بیگم اور سنیہا یونیورسٹی جا چکی تھیں جب کہ ڈرائیورانہیں ہسپتال لے آیا تھا

ڈاکٹر صائمہ نے اس کا چیک اپ کیا اور کہا کہ وہ بالکل ٹھیک ہے ۔

بریرہ نے اس سے وقت زایار کو فون کرکے اس کی کنڈیشن کے بارے میں بتا دیا تھا جو زایار کا حکم تھا

زایارکواپنی پرواہ کرتے دیکھ وہ بے حد خوش تھی لیکن اپنی اس خوشی کو اس نے بریرہ بیگم کے سامنے محسوس نہیں ہونے دیا تھا

وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی وجہ سے بریرہ بیگم کو کسی بھی قسم کی کوئی تکلیف ہو ۔لیکن یہاں آتے ہوئے بریرہ بیگم نے اس سے کہا تھا

کہ جب زایار اس سے بات کرتا ہے تو وہ منظر سے ہٹانے کی کوشش کرتی ہے تاکہ وہ منظر اس کے سامنے ہی نہ آئے جس سے اس کا دل دکھتا ہے تب اس کو پتہ چلا تھا کہ وہ عورت اس وقت کیا سوچتی ہوگی

جب اس کا شوہر محبت بھری نظروں سے کسی اور کو دیکھتا ہے

اور یہی ساری باتیں اسے مایوس کر رہی تھی وہ زایار کی زندگی پر کوئی حق نہیں جتانا چاہتی تھی لیکن زایارکا حق جتاتا لہجہ اسے بہت شدت سے محسوس ہوتا

°°°°°

اپنا چیک اپ کروا کر وہ ابھی ہسپتال کے روم سے باہر نکلی تھیں کہ سامنے ایک پیاری سی لڑکی بے حد پریشانی سے ادھر ادھر گھوم کر سارے ڈسکس کے نیچے کچھ ڈھونڈ رہی تھی

اس پیاری سی لڑکی کو اس طرح پریشان دیکھ کر پازیب نے ایک نظر بریرہ جانب دیکھا جو اسی لڑکی کو دیکھ رہی تھی

وہ کافی بےچین لگ رہی تھی جب بریرہ اس کے پاس جا کر رکی

کیا ہوا پیاری تم کیا ڈھونڈ رہی ہو اس قدر پریشان کیوں ہو ۔۔۔وہ اس سے پوچھنے لگی

اس پریشان لڑکی نے ایک نظر اس کی جانب دیکھ

ا

میں نے یہاں اپنا بیگ رکھا تھا پتا نہیں کہاں گم ہو گیا میرے چاچو کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے میڈیسن کی ضرورت ہے

میں اپنا موبائل فون بھی گھر چھوڑ آئی ہوں پریشانی کی وجہ سے کسی کو گھر پہ فون کرکے بتا بھی نہیں سکتی

اور کاؤنٹر پر ابھی پیسے جمع کروانا بہت ضروری ہے ورنہ ڈاکٹر میرے چاچو کو چیک نہیں کریں گے اندر جاتے ہوئے ہم یہاں پر بیٹھے تھے اور میں نے اپنا بیگ یہی پر رکھا تھا لیکن اب وہ کھو گیا

وہ لڑکی بے حد پریشانی سے اسے بتا رہی تھی پازیب کو تو اس کی حالت پر بہت ترس آیا اگر اس کے پاس پیسے ہوتے تو وہ اس معصوم لڑکی کی مدد ضرور کرتی

تم گھبراؤ مت بتاؤ مجھے تمہیں کتنے پیسوں کی ضرورت ہے میں تمہاری مدد کرتی ہوں بریرہ نے اس کی پریشانی دور کرتے ہوئے کہا

شاید یہ بھی ایک ذریعہ تھا پازیب کی نظروں میں اچھا بننے کا

مجھے تین ہزار کی ضرورت ہے باقی پیسے چاچو کے پاس ہے اگر آپ مجھے دے سکتیں ہیں تو پلیز دے دیں میں آپ کو پیسے واپس کر دوں گی

بلکہ یہ پیسے میں آج شام کو کیا آپ کو لوٹا دوں گی گھر جاتے ہی آپ مجھے بس اپنا اکاؤنٹ نمبر بتا دیجئے گا

امید کی ایک کرن نظر آتے ہی وہ اس سے کہنے لگی

کیوں نہیں میری جان میں تمہاری مدد ضرور کروں گی اور تمہیں یہ پیسے لوٹآنے کی ضرورت ہر گز نہیں ہے وہ پیسے اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی

یہ تو زیادہ ہی مجھے صرف تین ہزار چاہئیں اس نے پیسے تھامنے سے پہلے کہا

نہیں تمہیں ضرورت پڑ سکتی ہے تم رکھ لو بریرہ نے پانچ ہزار کا نوٹ اس کی مٹھی میں دبایا

آپ کا بہت بہت شکریہ پلیز مجھے اپنا نمبر دیں میں رات کو ہی آپ کے پیسے واپس سینڈ کر دوں گی شاید کوہ لڑکی احسان لینا نہیں چاہتی تھی

میں نے کہا نہ اس کی ضرورت نہیں ہے بریرہ نے مسکرا کر اس کا گال تھپتھپایا

ایسے کیسے ضرورت نہیں ہے میں آپ کے پیسے آپ کو ضرور واپس کروں گی تاکہ آپ وقت آنے پر کسی اور کی مدد کر سکیں آپ پلیز مجھے اپنا نمبر دے دیں

وہ جلدی سے اس نے پن اور کاغذنرس سے لیتے ہوئے اس کے حوالے کرنے لگی تو بریرہ کو مجبور ہو کر اپنا نمبر اس پیج پر لکھنا پڑا

تم بھی مجھے اپنا نام بتا دو تا کہ پتا تو چلے کہ میں نے کس پیاری سی لڑکی کی مدد کی ہے

وہ اپنا موبائل اس کے سامنے کرتے ہوئے بولی وہ لڑکی فورا سمجھ گئی تھی کہ وہ اس کا نمبر مانگ رہی ہے

اس نے فوراً فون تھام لیا اپنے مسیحا کو بعد میں فون کرکے بتانے کے لئے کہ اس نے اس کی رقم اسے واپس کر دی ہے

میرا نام دانین ہے لیکن چھوٹے بڑے سب مجھے دانی کہہ کر بلاتے ہیں اس نے مسکراتے ہوئے اپنا نام بتایا اوراس کا فون اس کے حوالے کر دیا

ہم بھی تمہیں دانی ہی کہیں گے بریرہ نے مسکراتے ہوئے اس کے نمبر پر اس کا نام دانی لکھا ۔

اورپازیب کو چلنے کا اشارہ کیا پازیب نے بھی مسکراتے ہوئے اس لڑکی کو خدا حافظ کہا آج اس کے دل میں بریرہ کے لئے عزت مزید بڑھ گئی تھی وہ ضرورت مندوں کی مدد بھی کرتی تھی

بریرہ بیگم کا دل بہت بڑا تھا وہ ان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھی

°°°°°

یونیورسٹی میں اس کا ایڈمیشن ہو چکا تھا جسے لے کر کو بے حد خوش تھی

لیکن گھر آتے ہی جو خبر نہیں ملی تھی اس نے تو سب کے ہوش اڑا دیے تھے

اس مہینے کی ١٨ تاریخ کو لالی کا نکاح تھا وہ بھی شیر کے ساتھ

یہ خبر نے تھوڑی دیر پہلے تائی امی کے منہ سے سنی تھی وہ پاکیزہ بیگم کو مٹھائیاں کھلاتے ہوئے خوشخبری سنا رہی تھیں

اور اب ان کے جاتے ہی وہ پاکیزہ بیگم کے سر پر سوار ہوئی تھی

امی کیا سچ میں لالی کی شادی ہو رہی ہے کیالالی کو اس بارے میں پتہ ہے کہ شیر اداسے کی شادی کی جا رہی ہے

وہ شاکڈاور خوشی کی ملی جلی کیفیت میں کچھ بھی سیدھا نہیں بول پا رہی تھی

نہیں ان میڈم کی ابھی تک آنکھ نہیں کھلی اچھی خاصی کچن کی تباہ نکال کر میڈم سوئی تھی اور ابھی تک جاگی نہیں یہ دھماکہ تو تب ہوگا جب ان کی آنکھ کھلے گی پاکیزہ بیگم نے تائی امی کی بتائیں ساری باتیں اسے بتائیں

ہائے اللہ لالی کی شادی شیرادا کے ساتھ کتنی خوشی کی بات ہے کچھ ہی دنوں میں نکاح ہے مجھے کتنی تیاریاں کرنی ہیں

یا اللہ مجھے ابھی شوپنگ کے لئے نکلنا ہوگا زایاراسا کہاں ہیں وہ بھاگتی ہوئی کبھی ایک کمرے میں تو کبھی دوسرے کمرے میں جا رہی تھی

جبکہ پاکیزہ اور صفیہ بیگم تو اس کی دوڑیں دیکھ کر پریشان ہو گئیں تھیں اس گھر میں اس شادی سے سب سے زیادہ خوشی اسی کو مل رہی تھی

کیونکہ ہر وقت اس کے اتنے پیارے ور ہنڈسم سے ادا کو مونچھڑ کہنے والی انہی کے ہاتھ چڑنے جا رہی تھی

آٹھ جا لالی کب تک سوئے گی ۔۔۔۔۔!

یہاں تیری زندگی کا فیصلہ ہو رہا ہے اور تو آنکھیں ہی نہیں کھول رہی۔ ۔۔

سنیہا اس پر سوار مسلسل اسے جگانے کی کوشش کر رہی تھی ۔

کیا ہے کمینی میری نیند کی دشمن کیوں میرے خوابوں کو آخری منزل تک نہیں پہنچنے دیتی وہ بے حد غصے سے بولی

اسے کچی نیند سے جگایا جائیں یہ اسے بالکل پسند نہیں تھا

نیند کے دشمن تو میرے شیر ادا بنیں گے میں کہاں معصوم کسی کی نیند کی دشمن بن سکتی ہوں وہ بے حد معصومیت سے کہہ رہی تھی جبکہ لالی کو تو اس کی بات بالکل سمجھ نہیں آئی ہے

کیوں کہیں اس مونچھڑ نے مجھے تیری والی یونیورسٹی میں ایڈمیشن تو نہیں دلوا دیا میں پہلے کہہ رہی ہوں کہ مجھے نہیں پڑھنا بس تعلیم ختم جان چھوڑ گئی ہے میری اب خبردار جو کسی نے مجھے پھنسانے کی کوشش کی

میں ان پڑھ گوار بن کے ساری زندگی گزارلوں گی لیکن اس مونچھڑ کے پاس پڑھنے کے لیے کبھی نہیں جاؤں گی مجھے تو ان کے بارے میں بات ہی نہیں کرنی ایسے ہوتے ہیں بھائی سیکھے کچھ جا کے میرے زایار ادا سے کہ۔ ۔۔ وہ منہ بنا کر بولی تو سنیہانے اچانک اس کے لبوں پر اپنا ہاتھ جما دیا

خبردار جو اب سے تم نے انہیں ادا کہا رشتہ بدلنے والا ہے تم لوگوں کا وہ بھی کل صبح سویرے اور اب سے ادا تمہیں یہ سبق نہیں پڑھائیں گے اب تو وہ تمہیں اپنے پیار کا سبق پڑھآئیں گے

وہ بھی بے حد پیار سے تاکہ تم اس سبق کو اچھے سے سیکھ جاؤ وہ اپنا دوپٹہ ہاتھ میں مروڑ تے نہ جانے اسے کیا سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی

کیا مطلب ہے تمہارا اور تم یہ دوپٹہ کیوں خراب کر رہی ہو۔ ۔۔بھولو مت کتنی مشکل سے صبح میں نے استری کرکے دیا تھاوہ اپنا صبح والااحسان دوبارہ یاد کرواتے ہوئے بولی

اف اللہ جی چھوٹے لوگ چھوٹی سوچ یہاں میں زندگی بھر کے بارے میں بات کررہی ہوں اسے اپنے استری کردہ دوپٹے کی پڑی ہے سنیہا نے منہ بنا کر کہا

ہاں تو تم اتنا الجھا کیوں رہی ہو صاف صاف بتاؤ نہ کیا بات ہے اس طرح سے تو مجھے کبھی تمہاری بات سمجھ میں نہیں آئے گی وہ بھی اٹھ کر بیٹھ گئی نیند تو ویسے بھی سنیہا نے تباہ کر دی تھی

میں تمہیں بتاؤں گی نہیں لیکن آئیڈیا دونگی تم خود گیس کر لوتاکہ مجھے بتانے اور تمہیں سننے میں مزاآ ئے سنیہا نےگیم کھیلنا چاہی تو لالی نے فوراً ہاں میں سر ہلا دیااسے اس طرح کے کھیل بےحد پسند تھے

چلو شروع کرو وہ الٹی پلٹی بناکر بیٹھی

گیم کا سب سے پہلا اصول ہے کہ میرے سارےگیسز شیر ادا کی جانب ہوں گے اور تمہیں جواب بھی انہیں کو ذہن میں رکھ کر دینا ہوگا اس نے شرط رکھتے ہوئے کہا تو اس نے فوراً ہاں میں سر ہلایا اور کھیل کی شروعات ہوئی

اب سے تمہیں روز وہ کام کرنا ہے جو تمہیں بالکل پسند نہیں سنیہا نے کہا

ارے یار نہیں مجھ سے نہیں بنائی جاتی روز مونچھڑ کے لیےچائے اور ایک اور بات وہ روز تو مجھ سے چائے نہیں بنواتے بلکہ صبح صبح تو وہ میرے اٹھنے سے پہلے ہی چلے جاتے ہیں اپنے کام پر وہ منہ بنا کر بولی توسنیہا کا اچھا خاصہ موڈ خراب ہوگیا

یار حد ہے تمہاری سوچ کیا گھر کے کاموں سے باہر نکل سکتی ہے ایک چائے بنانے آتی ہے اس پر بھی ہزار نخرے چلواب آگےبھرو اس نےاپنی دونوں انگلیاں سامنے کی مطلب ہے دوسرا گیس دی رہی ہے

وہ کام جو تم زندگی میں کبھی نہیں کر سکتی سنیہا بہت سوچتے سمجھتے شرارت سے اپنے لب دباتے ہوئے پوچھا اور اسے یقین تھا ایک یہی کام وہ زندگی میں نہیں کرسکتی شیر سے شادی کرنا اس کے بس سے باہر تھا

مجھے پڑھائی نہیں کرنی لیکن بابا کہتے ہیں کہ وہ آگے بھی میرا ایڈمیشن کروائیں گے اب میں پڑھائی نہیں کر سکتی بس میری پڑھائی سے جان چھوٹ جائے یا اللہ سب کو سمجھا دیں میں نہیں کرسکتی پڑھائی بس لالی ہاتھ اوپرکرتے دعامانگنے لگی جبکہ سنیہا کا دل چاہا کہ کوئی بھاری چیز اٹھا کر اس کے سر پر دے مارے ہیں ایک تو چائے سے اس کی جان نہیں چھوٹتی تھی اور دوسرا پڑھائی سے

بس بہت ہوا آخری گیس وہ کون سا کام ہے تم زندگی میں کرنا چاہتی ہو تمہاری خواہش کیا ہے بس یہ بتا دو سنیہا نے ہمت ہار تے ہوئے کہا کہ کیونکہ اس کا کوئی گیس نشانے پر نہیں لگ رہا تھا لیکن اسے پتہ تھا کہ لالی کی خواہش ہے کہ وہ دلہن بنے ہو سکتا ہے یہی سے اسے پتہ چل جائے گا اور اس کی سوچ شادی تک پہنچ جائے

میری تو بس ایک ہی تازی تازی خواہش ہے کہ شیر ادا کی شادی ہو اور میں ان سے بہت سارے پیسے نکلوا وں اور پھر ان پیسوں کے ساتھ ترکی گھومنے نکل جاؤں وہاں سے کوئی اچھا سا ہینڈسم سابندہ پکڑ وں اور ۔۔۔۔۔

بس بہت ہوا اپنی سوچوں کو زیادہ دور لے جانے کی ضرورت نہیں ہے تمہاری شادی شیرادا کے ساتھ ہے وہ بھی اس مہینہ کی اٹھارہ تاریخ کو

اور یہی حقیقت میں تمہارے ساتھ یہ کھیل کھیل کر میں تمہارا جھٹکا کم کرنا چاہتی تھی لیکن تم ڈیزرو یہی کرتی ہو کہ تمہیں زندگی کی ہر خبر جھٹکے کے ساتھ دی جائے تو مبارک ہو بہت جلدی تم شیر ادا کی دلہن بننے والی ہو

تمہاری سوچ اور تمہارے خواب پتہ نہیں کون کون سی دنیا کے مسافر ہیں زمین سے آجاؤ میڈم 18 تاریخ کو تمہاری شادی ہے اور کل صبح تمہاری منگنی ہے اسے خوابوں کی لمبی لسٹ بناتے دیکھ سنیہا اٹھ کھڑی ہوئی اور لگے ہاتھ اسے ساری حقیقت بھی بتا دی

جب کہ وہ تو بے یقینی سے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی

۔۔۔ش۔ شیر۔۔۔ ادا۔۔۔۔۔۔اس نے کھینچ کھینچ کر الفاظ ادا کیے

جی۔ ۔۔شیر ادا ۔۔۔۔سنیہا نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا لیکن اگلے ہی لمحے اس کے ہاتھ پاؤں پھول چکے تھے کیونکہ لالی اس جھٹکے سے بے ہوش ہو گئی تھی

°°°°°°°

سنیہا بیٹا گھبراؤ نہیں بتاؤ تو سہی آخر ہوا کیا ہے سکندر صاحب نے پریشانی سے پوچھا مجھے نہیں پتا تایا ابو میں تو بس اس کی منگنی کی خوشخبری دے رہی تھی لیکن شیر ادا کانام سنتے ہی یہ بے ہوش ہوگئی

سنیہا نے تفصیل سے بتایا ہے تو زایار کے ساتھ ساتھ سکندر صاحب کے چہرے پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی لیکن شیر خاموش کھڑا اس کے بے ہوش وجود کو دیکھ رہا تھا اس کے بات پر بس ان سب کے چہرے کو دیکھ کر رہ گیا

کیا بات ہے بچی بڑی ڈرا کے رکھی ہے زاہد نے اس کے کان میں سرگوشی کی

بکواس نہ کر اپنا کام کر اور نکل یہاں سے اس کی سرگوشی پر وہ اسے گھور کر ڈانٹنے لگا جبکہ زایار اور سکندر شاہ کی مسکراہٹ اب بھی برقرار تھی

ہاں لیکن اس کی بے ہوش کی خبر سن کر گھر کے سب لوگ جہاں بھی تھے واپس آ چکے تھے لالی میں تو اس پورے خاندان کی جانب بسی تھی کوئی بھی اس کی چھوٹی سی تکلیف بھی کوئی برداشت نہیں کر سکتا تھا

ادا صاحب کیا ہوا میری بچی کو شاہ زار صاحب جو ابھی ابھی کمرے میں داخل ہوئے تھے پریشانی سے لالی کو دیکھ رہے تھے

کچھ نہیں ہوا زار بس شیر اکثر اسے ڈاٹتا رہتا ہے نہ بس شادی کی بات سن کر گھبرا گئی ہے سکندر صاحب نے مسکراتے ہوئے بات کو ٹالنا چاہا تو شاہ زار صاحب نے بھی مسکرا کر اپنے بیٹے کی جانب دیکھا

جو اس سب ماحول میں کافی زیادہ انکنفرٹیبل محسوس کر رہا تھا اس نے تو سوچا بھی نہیں تھا کہ بات کہاں سے کہاں تک پہنچ جائے گی

تو ادا صاحب میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ منگنی چھوڑیں فی الحال شادی بھی رہنے دیں بعد میں سکون سے جب تک لالی کا ذہن اس کو قبول نہیں کر لیتا تب تک ہم کوئی بات ہی نہیں کرتے شاہزارصاحب نے شرارتی نظروں سے اپنے بیٹے کی جانب دیکھ کر سکندر صاحب کو مخاطب کیا

نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے جھٹکا تو ویسے بھی اس کو لگ گیا ہے اور پتہ بھی چل چکا ہے تو ذہن آہستہ آہستہ قبول کر لے گا اور ایسی نازک لڑکیوں کے ذہن کو بار بار زیادہ جھٹکے نہیں لگنے چاہیے شیر نے فورا سے کہا تو سب کا قہقہ بلند ہوا

اب میں کیا کہوں شاہزار میرے خیال میں بچے ہم سے زیادہ بہتر جانتے ہیں سکندر صاحب کا لہجہ بھی شرارت سے بھرپور تھا

بس ٹھیک ہے نا چاچو مجھے بھی یہی لگتا ہے کہ لالی کے ذہن کے لیے ایک ہی جھٹکا کافی ہے زایار نے بھرپور طریقے سے اپنے دوست کا ساتھ دیا

جب کہ شیر مسکرا کر زاہد کو دروازے تک چھوڑنے جا چکا تھا

مجھے تو لگا کے بچی کو کوئی بہت بڑا جھٹکا لگا ہے لیکن اس جھٹکے کا نام سید شیرزارشاہ بھی ہو سکتا ہے سوچا نہیں تھا۔

تو مجھے سیدھی طرح بھی تو کہہ سکتا ہے کہ مجھے دھکے مار کے نکال شیر عزت مجھے راس نہیں آتی مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا تجھے دھکے دے کر نکالنے میں لیکن یوں اس طرح سے فضول بکواس کرنے کی کیا ضرورت ہے

رحیم اکبر صاحب کو دھکے دے کر گھر سے باہر نکالو یہ جناب عزت سے جانا نہیں چاہتے شیر نے باہر کھڑے ملازموں کو آواز دی جو خود بھی ان کے انداز پر مسکرا دئیے زاہد کوئی پہلی بار ان کی حویلی میں نہیں آیا تھا

ان کا بچپن کا دوست ہونے کی وجہ سے وہ اکثر ہی یہاں پایا جاتا تھا جس کی وجہ سے سب ملازم بھی اسےاچھے سے جانتے تھے

ارے یار شیر شرما کیوں رہا ہے میں کوئی غیر تھوڑی ہوں مجھے تو بتا ہی سکتا ہے ویسے تیری شرم و حیابتا رہی تھی کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے لڑکی بے گناہ ہےبس اس کے معاملے میں یہ انتہائی شریف انسان موالی ہے

وہ اپنے ہی دھن میں بول رہا تھا جب دو ملازمین ان کے قریب آگئے

اسے اٹھا کر باہر پھینکو اس کے حکم پر دونوں ملازمین نے اس کے حکم کی تکمیل کرتے ہوئے زاہد کو اپنی باہوں میں اٹھایا

اور بے حد احترام سے اسے گاڑی میں بٹھا آئے جبکہ زاہد اب بھی باز نہیں آیا تھا جاتے جاتے بھی جتنا ہو سکے وہ اسے زچ کر گیا تھا

اس کی باتوں پر ہنستے ہوئے وہ واپس لالی کے کمرے میں آیا جہاں وہ ابھی تک بے ہوش پڑی تھی اسے خود بھی سمجھ نہیں آیا تھا جبکہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ یہ جھٹکا اتنا شدید بھی ہو سکتا ہے

نہ جانے لالی نے اپنے ذہن میں اپنے مونچھڑکے لیے کونسا نقشہ کھینچ رکھا تھا خیر وہ تو اب اسے نکاح کے بعد ہی پتہ چل رہا تھا جس کا اسے شدت سے انتظار تھا

°°°°

بابا میں شیر ادا سے شادی نہیں کروں گی ۔۔۔وہ دوپٹہ ہاتھوں میں مڑورتی ہوئی بولی

تو کس سے کروگی۔دوسری طرف سے سوال آیا۔

کسی سے بھی کرلوں گی آپ جہاں کہیں گے وہی کر لوں گی لیکن شیر ادا نہیں آپ بے شک میری شادی کسی غریب ترین انسان سے کر دیں کسی رکشہ ڈرائیور سے کروادیں اس نے فوراً جواب دیا

سامنے والے نے چشمہ اپنی آنکھوں پر سیٹ کرتے ہوئے اسے دیکھا

وہ گاوں کا عابد کیسا ہے ۔سوال پوچھا گیا

کون عابد میں تو کسی عابد کو نہیں جانتی اس نے تھوڑی کے نیچے ہاتھ جمایا

وہ فضیلہ کا بھائی ہماری ملازمہ ہے نا اس کا بھائی آتا ہے نہ صبح صبح کچن میں دودھ رکھنے کے لیےتم کل صبح اسے غور سے دیکھ لینا پھر اسی کے ساتھ ہم تمہارے رشتے کی بات چلائیں گے دوسری طرف سے بے حد سفاکی دکھائی گئی

میں نے تو کبھی زندگی میں عابد کو نہیں دیکھا پتہ نہیں وہ کیسے دیکھتے ہیں بس فضیلہ آپا ہی بتاتیں ہیں کہ ان کا بھائی لاکھوں میں ایک ہیرا ہے ہیرا

جبکہ وہ بیچاری تو جانتیں ہی نہیں کہ ہر انسان ایک ہی ہوتا ہے لاکھوں میں نہیں کڑوروں عربوں میں بلکہ پوری دنیا میں ایک ہی ہوتا ہے اور انسان کبھی ہیرا نہیں ہوسکتا ہیرا ہیرا ہوتا ہے اور انسان انسان ہوتا ہے لیکن آپا کا وہ ہیرا ہے ہاہاہاہا لالی اپنی سوچوں میں گم عابد کا نقشہ یاد کرنے کی کوشش کرتے اپنی ہی دھن میں بولی

ہاں وہی ہیرا ہم تمہیں دینا چاہتے ہیں اگر شیر نہیں تو عابد سے ہی سہی وہ بنا سوچے سمجھے بول رہے تھے لالی تو اپنے بابا کی اس بے رحمی پر انہیں دیکھ کر رہ گئی مطلب اپنی سب سے لاڈلی سب سے پیاری بیٹی کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے تھے اب وہ اس کی شادی ایک دودھ والے سے کریں گے

وہ بھی وہ دودھ والا جو صرف صبح دودھ کچن میں رکھنے کے لئے آتا تھا ورنہ تو اس کے پاس اپنی کوئی گائے بھینس بھی نہیں تھے لالی کے ترکی جانے کے خواب ہی ادھورے رہ جاتے جو اس نے ناول پڑھ کر تازہ تازہ سجائے تھے

کوئی اور آپشن ہے اس نے ہمت کرتے ہوئے پوچھا

دوسرا آپشن شیر زار ہے جس سے تمہیں انکار ہے سامنے والے نے اپنی آنکھوں پر چشمہ چڑھایا جوکہ روبدار پرسنیلٹی بناتے ہوئے دوبارہ گر کر اس کی گردن کرا چکا تھا

بس بہت ہوا بابا مجھے نہیں کرنی شیرزار سے شادی آپ بار بار مجھے فورس کیوں کر رہے ہیں وہ غصے سے اٹھ کھڑی ہوئی جب کہ سامنے والے نے اس کی ہمت کو داد دیتے ہوئے تالی بجائی تھی

بس ایسے ہی جا کر تایاابو کو بول دو لالی بے کار میں اتنی پریکٹس کرنے کی ضرورت نہیں ہے

سینہا نے چشمہ سامنے میز پر پھینکتے ہوئے ہوئے کہا جبکہ اگلے ہی لمحے ملازمہ اسے سکندر شاہ کے بلاوے کا حکم دے چکی تھی

جاولالی تایا ابو بلا رہے ہیں جا کر بول دو کہ تم نے نہیں کرنی شیرزاراداسے شادی وہ زبردستی اسے دروازے تک لے کر آئی جبکہ اب تو لالی کی حالت بہت نازک ہوچکی تھی وہ کانپتےپیروں کے ساتھ اپنے بابا کے روم میں جا پہنچی

°°°°°°°

وہ اپنی تمام تر ہمت جمع کرکے ان کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ میں رکھے وہ بے حد کنفیوز تھی بابا جان چشمے کے پیچھے سے کتاب کی طرف کم اس کی طرف زیادہ متوجہ تھے

آپ یہاں کسی اہم کام کے لیے آئی تھی ۔وہ گلا کھنکار کر اسے اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے بولے

بابا ۔۔وہ۔۔۔جی وہ در اصل میں۔۔۔۔می۔۔میں وہ در اصل میں ۔۔۔۔۔۔وہ میں آپ سے میں

آپ کی یہ اہم ترین بات اس کی تاریخ میں ختم ہوگی وہ ایک نظر کتاب سے ہٹا کر اس کی جانب دیکھتے ہوئے بولے تو وہ مزید گھبرا گئی ۔

جی ۔۔۔بابا۔۔۔جی میں بولنے والی ہوں ۔وہ جلدی سے بولتے ہوئے پھر خاموش ہوگئی

سکندر صاحب نے ایک نظر اس کے چہرے پر دیکھا اور پھر اپنی کتاب کی طرف متوجہ ہوں گے جیسے اس سے کسی اچھی بات کی امید ہی نہ ہو

بابا . وہ۔۔۔۔۔میں شیر زار ۔۔۔ادا۔۔ سے شادی نہیں کر سکتی ۔وہ آنکھیں بند کیے دل کو دھڑکنے سے روکے ایک ہی سانس میں بول گئی

ہمممم۔ ۔۔۔۔بند آنکھوں کے پیچھے باباکے چہرے کے ایکسپریشن تو نظر نہیں آئے لیکن ان کی یہ آواز آئی تھی

بس یہی بات تھی ۔بابا کی آواز سنائی دی لالی نے آنکھیں کھول کر دیکھا وہ اب بھی اپنی کتاب کی طرف متوجہ تھے مطلب اتنی اہم بات کی ان کی نظروں میں کوئی اہمیت ہی نہیں تھی

(لالی بیٹا تیرے نصیب اس(جنگل کے بادشاہ)شیرزار کے ساتھ ہی پھٹنے ہیں ۔)وہ دل ہی دل میں سوچتی ہمت کرکے بولی

میں بہت سیریس ہوں باب وقت وہ اپنے چہرے پر جتنی مسکینی سجا سکتی تھی اس نے سجا لی تھی

بابا نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا آنکھوں سے چشمہ ہٹاتے ہوئے ٹیبل پر رکھا ۔

کوئی خاص وجہ۔۔۔؟ اب وہ پوری طرح اس کی طرف متوجہ تھے

ایک وجہ ہزار وجہ ہیں بابا۔وہ جوش سے بولی

آپ بس کوئی ایک ہی وجہ بتا دیں اگر آپ کی وجہ اس قابل ہوئی کہ میں آپ کی شادی شیرزار سے توڑ دوں ۔تو میں اس رشتے سے انکار کرنے میں ایک سیکنڈ نہیں لگاؤں گا

ہاں تو وجہ میں بتاتی ہوں نہ ۔وہ فورا سے اپنے دماغ کے گھوڑے دوڑانے لگی

بابا پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوئے

بابا سب سے پہلے تو ان کا نام دیکھیں شیر زار شاہ شیر نام انسانوں کا تھوڑی نہ ہوتا ہے اس نے سب سے بڑی وجہ بتائی

تو بیٹا یہ تو اس کے والدین کی غلطی ہے جنہوں نے یہ نام رکھا ہے وہ چشمہ صاف کرتے ہوئے ایک بار پھر سے پہننے لگے

چلیں یہ تو آپ نے ٹھیک کہا بابا بالکل یہ تو چاچو کی غلطی ہے وہ فورا مان گئی تھی

ظا ہر ہے بابا کو غصہ دلانے کا رسک تو نہیں لے سکتی تھی پھر کچھ سوچتے ہوئے بولی

چلیں نام کو چھوڑیں بابا ان کا قد ان کے سامنے میں چھوٹی بچی لگتی ہوں۔

(اب اس کا قد چھوٹا تھا اس میں اس کا کیا قصور تھا یہ تو قدرت کا نظام تھا لیکن شیر زار کو اپنا قد اتنا بڑھانے کی ضرورت کیا تھی )

بیٹا جی میرے خیال میں یہ قدرت کا نظام ہے وہ بےزار سے انداز میں بولے اس کی وجہ بابا کوقابل غور ہرگز نہیں لگ رہی تھی

بابا ان کی مونچھیں۔۔۔وہ وہ مین وجہ پر آئی تھی

اب اس کی مونچھوں سے بھی مسئلہ ہے وہ اسے دیکھتے ہوئے بولے

جی ہے کیسے حولداروں کی طرح مونچھیں رکھی ہوئی ہیں۔ لالی نے ایک اور کوشش کی جب بابا نے اپنی مونچھوں کو تاؤ دیا مطلب سمجھ کر لالی نظریں جھکا گئی

بیٹا جی ہمارا تعلق شاہ خاندان سے ہے ۔اوریہاں مونچھیں مرد کی شان ہیں ۔اور کوئی وجہ ہے تو وہ بھی بتا دیں

وہ اسے گھورتے ہوئے بولے

بابا وہ ہر بات میں مجھے ڈانٹتے ہیں ہمیشہ مجھ پے غصہ کرتے رہتے ہیں ہر وقت سخت نظروں سے گھورتے رہتے ہیں اب وہ جذباتی ہوئی

پھر بیٹا آپ کو شادی سے انکار کرنے کی بجائے اپنی حرکتوں پر غور فرمانا چاہیے ۔بابا بے حد نرمی سے بہت صاف انداز میں بولے ۔

لالی کا منہ بن چکا تھا

جائیں اب جاکر اپنی منگنی کا ڈریس دیکھیں کل صبح آپ کی منگنی ہے وہ اسے جانے کا کہتے ہوئے اپنی کتاب کی طرف متوجہ ہوگئے جب کہ لالی کتنی دیر میں دیکھتی رہی اور پھر اٹھ کر پیر پٹکتی اپنے کمرے میں آگئی

جہاں سنیہا پہلے ہی بڑے مزے سے بیٹھی کل کی ڈریس دیکھ رہی تھی جس میں اس نے اپنی پسند سے لالی کے لیے ڈریس لی تھی اور اب اپنے لئے سلیکٹ کر رہی تھی

سکندر صاحب اپنے کمرے سے باہر نکلے تو دیکھا ان کی حویلی دلہن کی طرح سجائی جا رہی ہے

وہ بے حد خوشی سے یہ سب کچھ دیکھنے لگے تھے ان کی اکلوتی لاڈلی بیٹی لالا رخ کی صبح منگنی ہونے جا رہی تھی

زایار کے بعد ان کے ہاں گیارہ سال تک کوئی اولاد نہ ہوئے تو وہ بیٹی کی رحمت سے مایوس ہو گئے تھے

لیکن جب گیارہ سال بعد اللہ نے تحفے کی صورت میں انہیں لالہ رخ سے نوازا تو ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی

لالہ رخ اس کے خاندان کی وہ پہلی بچی تھی جس کی پیدائش پر پورے گاؤں کو صدقہ و خیرات دیئے گئے

کہنے کو تو بریرہ بھی بے حد عزیز تھی لیکن بریرہ کی پیدائش غیر ملک میں ہوئی اور اس کے ساتھ جوڑی ساری خوشیاں بھی غیر ملک میں ہی منائیں گئی

بریرہ کی پیدائش پر ہی سکندر شاہ نے لندن جاکر اس کی چھوٹی سی انگلی پر اپنے بیٹے زایار شاہ کے نام کی انگوٹھی پہنائی تھی اور اپنے بھائی سے وعدہ کیا تھا کہ اس کی بیٹی ان کے خاندان کی بہو بنے گی

لیکن ان کو اس کا انداز اس کی آزاد خیالی کبھی بھی پسند نہیں تھی

وہ جب بیس سال کی عمر میں پاکستان آئی تو اپنے بابا کے فیصلے پر سر جھکا گئی وہ لاکھ غیر ملکی سہی لیکن تہذیب اور تربیت سے بالکل پاکستانی تھی

۔

پر سکندر شاہ کو اپنی یہ بھتیجی اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھی

کیونکہ وہ خاندان بھر میں پیدا ہوئے پہلی بچی تھی جو سب کی نظروں کا مرکز بنی

زایار کے اس سے شادی کے انکار پر سکندر شاہ نے بہت ولوالہ مچایااوراسے اپنی پگڑی کی قسم دے کر اسے بریرہ سے شادی کرنے پر مجبور کر دیا

اور پھر جب ان کے چھوٹے بھائی کو ایک رات اچانک ہارٹ اٹیک ہوا سکندر صاحب نے اس کے سامنے اپنی ولدیت کی شرط رکھ دی ان کا کہنا تھا کہ وہ اسے کبھی معاف نہیں کریں گے اگر آج ان کا بھائی اپنی بیٹی کی خوشی دیکھے بنا مر گیا یہ زبردستی کا رشتہ زایار نے باندھ تو لیا لیکن اس کو نبھانا ایک بے حد مشکل کام تھا

شادی کے بعد اکثر دونوں میں لڑائی جھگڑے رہتے سب کچھ ان کے سامنے تھا بریرہ ہرممکن طریقے سے اس رشتے کو نبھانے کی کوشش کر رہی تھی جب کہ زایار کا موڈ آف ہی رہتا

اس نے کبھی بھی بریرہ میں دلچسپی لی ہی نہیں تھی

شادی کے ایک ماہ بعد جب انہیں بریرہ کی طرف سے خوشخبری ملی تو انہیں لگا کے سب کچھ ٹھیک ہو چکا ہے بریرہ اور زایار کامیاب زندگی کی طرف جا رہے ہیں

لیکن زایار کا رویہ پھر بھی نہ بدلا بند کمرے میں ان کی گھنٹوں لڑآئیاں ہوتی ایسے میں صفیہ بیگم کا بس اتنا ہی کہنا تھا کہ سکندر صاحب نے ان کے بیٹے کی زندگی خراب کردی انہیں اکثر پریشان کر دیتا تھا

پہلے لگاکے ہادی کی پیدائش پر سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا لیکن ایسا بھی نہ ہوا ہادی بھی ان دونوں کے بیچ موجود دوریوں کو کم نہ کر سکا ۔کیونکہ ہادی کی پیدائش کے بعد کی زایار کے روٹین میں کسی قسم کا کوئی بدلوو نہیں آیا تھا

وہ بریرہ کو اتنا ناپسند کرتا تھا کہ اکثر اس پر الٹے سیڈھے الزامات لگا دیتا جس پر سکندر شاہ کو یقین نہ تھا

بریرہ کو کمرے کے اندر تو خاک کی عزت ملتی وہ کمرے کے باہر بھی اسے کھڑی کھڑی سنا دیتا ۔سکندر صاحب سے تو اس نے اس دن ہی بات کرنا چھوڑ دیا تھا جب انہوں نے اسے اپنی پگڑی کی قسم دے کر بریرہ اس کا نکا ح کروایا ۔

ایسے میں انہوں نے صفدر شاہ کے ذریعے یہ بات اس تک پہنچائی کی گھر میں موجود بچیاں اب بڑی ہو رہی ہیں ان کی لڑائیاں جھگڑے دیکھ کر ان کے ذہن پر برا اثر پڑ رہا ہے اور صفدر شاہ کے انداز پر وہ یہ بات سمجھ گیا تھا پھر ان کی لڑائی جھگڑے ایک کمرے تک محدود ہوگئیں

آواز کمرے سے باہر آنا بند ہو گئی سکندر شاہ کو لگا کے فاصلے سمٹ چکے ہیں اب وہ کامیاب زندگی گزار رہے ہیں بریرہ بے حد مطمئن اورپرسکون زندگی گزار رہی تھی اس کے ہر انداز میں زایار کے لیے بے پناہ محبت تھی جسے دیکھ کر سکندر شاہ دل ہی دل میں خوش ہو جاتے

لیکن دوسری طرف انہیں کبھی بھی زایار کے چہرے پر خوشی کا کوئی رنگ نظر نہیں آیا ان سات سالوں میں انہوں نے کبھی بھی زایار کو کھل کر مسکراتے نہیں دیکھا تھا

وہ یہی سوچتے تھے کہ سب کچھ ٹھیک ہے لیکن پھر بھی زایار کے چہرے پروہ خوشی کہیں سے نہیں آتی تھی جو وہ بریرہ کے چہرے پر دیکھتے تھے

ان سب کے باوجود اگر انہیں کوئی چیز سمجھ میں آتی تو وہ یہ تھی کہ زایار اپنی زندگی میں خوش نہیں ہے لیکن سات سال کے بعد آج وہ اسے کھل کر ہنستے دیکھ رہے تھے نہ جانے کس بات پر شیر کے ساتھ کھڑا کھل کر ہنس رہا تھا

جب سے اس کی شادی پازیب کے ساتھ ہوئی تھی تب سے اس کے چہرے پر ایک الگ ہی رونق تھی سب کچھ پا لینے کا اس رنگ الگ انداز میں اس کے چہرے پر جھلک رہا تھا ۔

وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ بریرہ کے ساتھ وہ خوش ہے یا نہیں لیکن پازیب شاید اس کی خوشی بن کر آئی تھی

وہ مسکراتے ہوئے لان میں شیر کے سامنے آ بیٹھے ان کی باتیں بدل چکی تھی شیر جو نہ جانے کس بات پر زایار کو گھور رہا تھا اب خاموشی سے سکندر صاحب سے بزنس کے کسی ٹوپک پر ڈسکس کرنے لگا

جبکہ انہیں لان میں بیٹھا دیکھ کربریرہ ان کے لیے چائے لے کر آئی تھی ان کی بیٹی سمجھتی تھی کہ انہیں کس چیز کی ضرورت ہے بریرہ کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھ کر انہوں نے چائے کا کپ اٹھا لیا

جبکہ بریرہ ان کے پاس ہی بیٹھی ان سے باتیں کرنے میں مصروف ہو گئی جب اچانک ہی سکندر صاحب نے شیر کو مخاطب کیا

شیر 18 تاریخ کو شادی ہے اور 21 تاریخ تک تم لوگ کہیں گھومنے پھرنے نکل جانا شادی کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنا اور تم بھی زایار انہوں نے ایک نظر شیر کو دیکھ کر زایار کو مخاطب کیا تو وہ انہیں دیکھنے لگا جب کہ بریرہ کے چہرے پر ایک مسکراہٹ کھل گئی تھی

ہاں میں سوچ رہا تھا کہ وہ بچی پازیب کیسے بولائی بولائی پوری حویلی میں پھرتی ہے لے کر جاؤ اسے اپنے ساتھ اور اب وقت گزارو اس کے ساتھ تاکہ اسے بھی پتہ چلے کہ وہ تمہاری زندگی میں کیا ہے

اب وہ بیوی ہے تمہاری اس کا خیال رکھنا فرض ہے تمہارا نکاح کر کے اسے الگ کمرے میں رکھ دینا یہ انصاف نہیں اسے لے کر جاؤ اس ماحول سے باہر نکالو تاکہ اس کا ذہن کھلے اس حادثے کو بھول کر اپنی نئی زندگی کی شروعات کرے

سکندر صاحب بے حد سیریس انداز میں بول رہے تھے جبکہ بریرا کے چہرے پر ہوائیاں اڑ چکیں تھیں وہ بے حد غصے سے سکندر صاحب کو گھور رہی تھی جس کا وہ نوٹس نہیں لے پائے جبکہ زایار کے چہرے بے حد نرم مسکراہٹ تھی

اس نے کچھ کہا تو نہیں لیکن صرف ہاں میں سر ہلا دیا جبکہ سکندر صاحب انتظامات دیکھنے کے لیے وہاں سے اٹھ کر باہر چلے گئے

بریرہ کے چہرے پر غصہ اور نفرت دیکھ کر زایار کو الگ ہی سکون ملا تھا ۔جب کہ شیر اپنے موبائل میں مصروف نہ جانے کیا کر رہا تھا

°°°°°°

برخودار لالی نے تو رشتے سے انکار کردیا شاہ زار صاحب نے کمرے میں قدم رکھتے ہوئے اسے جھٹکا دیا تھا

کیا مطلب ہے آپ کا وہ ایسے کیسے انکار کر سکتی ہے کوئی انکار نہیں ہے میں نہیں مانتا کسی انکار کو ضدی لہجے میں بولا

تمہارے ماننے یا نہ ماننے سے کیا ہوگا لڑکی کی بھی کوئی مرضی ہوتی ہے وہ تم سے شادی نہیں کرنا چاہتی اس کے پاس تم سے شادی نہ کرنے کی بہت ساری وجوہات ہیں جو ادا صاحب نے مجھے بتائیں ہیں

کون سی وجوہات بتائیں زرامجھے میں خود اس کی وجوہات کو جڑ سے مٹا دوں گاوہ اپنے کالر فولڈ کرتے ہوئے بولا چہرے پر غصہ صاف جھلک رہا تھا مطلب اسے لالی کی یہ بات ہر گز پسند نہیں آئی تھی

وجہ مٹانے کے لیے تمہیں کلین شیو ہونا پڑے گا اور مونچھوں کے بغیر تم بہت کوجے لگے شاہ زار صاحب نے سوچتے ہوئے کہا

ایسا ممکن نہیں ہے بتا دیں اسے اگر وہ میری پہلی محبت ہے تو یہ مونچھ میری دوسری محبت ہے اور میں پہلی محبت کے لئے دوسری محبت کو قربان نہیں کروں گا وہ مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے بولا

مطلب کے تم لالی کو شادی کے تحفے میں یہ مونچھیں سوتن کے روپ میں دو گے بابا کا انداز بے حد دوستانہ اور شرارتی تھا

وہ جیسے بھی قبول کرے قبول تو اسے کرنا ہی ہوگا خیر آپ پریشان نہ ہوں دوسری وجہ بتائیں وہ ان کے سامنے بیٹھا پھر سے پوچھنے لگا

میرے سننے میں آیا ہے کہ تو اسے بہت ڈانٹتے ہو۔اگر ایسا ہے تو کان کھول کر سن لو کہ تمہاری ڈانٹ سے ڈر کر وہ کل بے ہوش ہوئی تھی اور آج وہ تم سے شادی سے بھی انکاری ہے

میری ڈانٹ نظر آتی ہے اپنی حرکتیں نظر نہیں آتی محترمہ کو خیر وہ بھی شادی کے بعد کم کر دوں گا کچھ نہ کچھ تو برداشت کرنا ہی پڑے گا اس کی پنگے بازی ہی برداشت کر لوں گا لیکن مجھ سے زیادہ کی امید مت رکھیے گا

کیونکہ وہ لڑکی سدھر نہیں سکتی اور اسے سدھارنے کے لیے ڈانٹنا ضروری ہے وہ ایک نظر اس کے پچھلے تمام ریکارڈ پر غور کرتے ہوئے بولا ایسا کوئی مقام اس کی زندگی سے نہیں گزرا تھا جس میں اسے لالی کو ڈانٹنے کی ضرورت محسوس نہ ہوئی ہو

لالی کی تمام حرکتوں پر غور کرتے ہوئے وہ اس طرح کا کوئی وعدہ نہیں کر سکتا تھا

خیر اگلی وجہ بتائیں وہ پھر سے پوچھنے لگا

اسے تمہارے نام شیر سے بھی خاصا مسئلہ ہے اسے لگتا ہے کہ انسانوں کا نام شیر نہیں ہونا چاہیے بابا نے ایک اور وجہ بیان کی

جبکہ اس وجہ پر وہ انہیں گھورنے لگا جنہوں نے بیٹے کی پیدائش کی خوشی میں اس کا نام ہی شیر رکھ ڈالا تھا

اب 28 سال کا ہو چکا ہوں نام چینج نہیں ہو سکتا اس نے جیسے بات ختم کرنا چاہیی

بابا خاموشی سے اٹھ کھڑے ہوئے

مطلب کے بس یہی وجوہات تھیں ہیں یہ وجوہات تو قبول کرنے لائق ہی نہیں تو کیا میں منگنی کی تیاری کروں وہ بیڈ پر پڑی اپنی شروانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا

تو شاہ زار صاحب نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے مسکرا کر اسے دیکھا

بابا اگر ان وجوہات پر لالی نے شادی سے انکار کر دیا ہے نا تو قسم سے گن پوائنٹ پر نکاح کر لوں گا وہ ضدی انداز میں بولا تو بابا نے قہقہ لگایا

پریشان مت ہو برخودار اداصاحب نے بھی ان وجوہات کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے کل منگنی ہے تم تیاری کرو وہ مسکرا کر کہتے کمرے سے باہر نکل گئے تھے جب کہ شیر ایک ٹھنڈی سانس بھر تا اپنی شیروانی دیکھنے لگا

°°°°°°

امی نہیں کریں یار ایک دلہا اس مونچھر کو بنا دیا کم ازکم ڈریس تو میری پسند کی لینے دیں

میں کل یہ پہنوں گی گلابی رنگ کا بے حد خوبصورت ستاروں سے سجا ڈریس اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بولی ۔ٹھیک ہے دلہا اس کی پسند کا نہیں تھا لیکن اپنی شادی کا اہم ترین دن وہ برباد بھی نہیں کر سکتی تھی

لالی چھوڑ دو یہ فضول حرکتیں میں کہہ رہی ہوں نہ منگنی پہ اتنا شوکنگ کلر کوئی نہیں پہنتا امی نے ڈریس سے دور کرتے ہوئے کہا

ہاں تو کیا سفید پہن کر بیٹھ جاؤں مجھے نہیں پہننا سفید مجھے بالکل پسند نہیں ہے اور اوپر سے یہ آسمانی رنگ کا دوپٹہ پتا نہیں کس پاگل نے یہ منگوایا ہے بے حد ناپسند ہے مجھے زیرو نمبر میں اتنے لائٹ کلر کبھی نہیں پہنوں گی اور اپنی منگنی پر تو ہرگز نہیں یہ میرا اسپیشل ڈے ہے

وہ امی کاپسند کیا ہوا ڈریس ایک طرف رکھ چکی تھی اسے یہ ڈریس بالکل پسند نہیں آیا تھا جبکہ صفیہ بیگم تو چاہتیں تھیں کہ وہ یہی ڈریس پہنے کیونکہ منگنی کے دن کی مناسبت سے ایک تو یہ ڈریس بہت خوبصورت ہے دوسرے یہ شیر خود اپنی پسند سے آیا تھا

ابھی ان دونوں کی یہی بحث جاری تھی جب اچانک شیر دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا

ٹائی امی نے ایک مسکین سی نظر اس پر ڈالی جس پر وہ مسکراتے ہوئے ان کے قریب آیا جب کہ وہ لالی کی طرف اشارہ کر رہی تھی جو اسے دروازے پر دیکھتے ہی چہرہ پھیر کر ڈریس دیکھنے لگی

لالی یہ بہت فضول ڈریس ہے کیا منگنی والے دن یہ سفید لباس پہنو گی کتنا برا لگے گا منگنی اسپیشل ڈے ہے اس پر شوکنگ کلر پہننا چاہیے اور اس پر یہ سکائی بلو دوپٹہ کتنا خراب لگ رہا ہے مجھے بالکل پسند نہیں ہے یہ ڈریس خبردار جو تم نے پہنا وہ حکم جھاڑتے ہوئے بولا تو لالی اسے گھورنے لگی

آپ ڈیسائیڈ نہیں کر سکتے کہ میں کیا پہنوں گی اور کیا نہیں اور میں یہ ڈریس پسند کر چکی ہوں میں کل یہی پہننے والی ہوں اب کسی کو اچھا لگے یا برا مجھے بالکل فرق نہیں پڑتا اہم بات یہ ہے کہ مجھے پسند ہے

اور میں کل اسی ڈریس میں منگنی کروں گی اگر کسی کو پسند نہیں ہے تو وہ مجھ سے منگنی نہ کرے

وہ ناک کے نتھنیں پھلا کر کہتی بے حد معصوم لگ رہی تھی

اس کی چالاکی پر جہاں صفیہ بیگم مسکرا کر اٹھ کھڑی ہوئیں وہیں شیر نے اسے غصے سے گھورا

بہت غلط بات ہے لالی تمہیں میری بات ماننی چاہیے وہ جتاتے ہوئے بولا

امی اس کے ساتھ جوتے کون سے ہیں دکھائے مجھے وہ اس کی بات نظرانداز کرتے ہوئے اپنے جوتے دیکھنے لگی

اسے یہ سوچ سوچ کر مزا آ رہا تھا کہ یہ ڈریس شیر کو بالکل پسند نہیں ہے اور وہ اسے تنگ کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے ۔اس نے سوچ لیا تھا کہ شادی سے پہلے پہلے وہ اسے اس حد تک تنگ کرے گی کہ وہ شادی سے انکار کردے گا لیکن وہ معصوم اس کے دماغ کی چالاکیاں نہیں سمجھ سکتی تھی

وہ جس طرح سے آیا تھا اسی طرح ایک نظر صفیہ بیگم کی طرف دیکھ کر مسکراتا باہر نکل گیا جبکہ صفیہ بیگم تو اپنی بے وقوف بیٹی کو دیکھ رہی تھی کہ یہ سوچ کر خوش ہوگئی تھی کہ اس نے پہلی بار ہی سہی لیکن شیر کی بات نہیں مانی

°°°°°°

زایار کی نظریں اسے بےحد پریشان کر رہی تھی وہ جہاں جاتی اسے اپنے ساتھ ہی پاتی لیکن بریرہ بیگم کی کھلے الفاظ میں اظہار محبت پر اب وہ اس سے دور بھاگنے لگی تھی

وہ اس سے چھپنے اور بھاگنے کی کوشش میں ہلکان ہو چکی تھی لیکن پھر بھی وہ خویلی میں کہیں نہ کہیں نظر آ ہی جاتا

وہ اس کے لیے کس قسم کے جذبات رکھتا تھا وہ نہیں جانتی تھی اور نہ ہی جاننے کی خواہش تھی

پازیب تو اس کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی لیکن نکاح میں ہونے کے بعد یہ ممکن نہیں تھا اور اب وہ اپنے جذبات سے بھی انجان نہیں تھی۔کیونکہ نکاح کے بعد تو محبت ہو ہی جاتی ہے

وہ اسی سوچ میں گم باہر لان کی سائیڈ آ گئی کہ پیچھے سے گلا کھنکھارنے کی آواز پر وہ گھبرا کر پیچھے مڑی۔ سامنے ہی وہ پرشوق نگاہیں پازیب پر جمائے ہاتھ میں سگریٹ پکڑے دلچسپی سے اسے دیکھ رہا تھا۔

وہ اکثررات اس طرف سگریٹ کی طلب پوری کرنے آتا تھا

وہ شخص ایک عرصے سے مسکرانا بھول گیا تھا لیکن یہ چھوٹی سی لڑکی اسے یہ کام کرنے پر مجبور کر دیتی اس کا انداز اس کا یہ بےجا ڈر زایار سکندر شاہ کے لیے کافی دلچسب تھا

اور اب بھی اسے سامنے دیکھتے ہی وہ اس سے چھپنے کا راستہ تلاش کرنے لگی

کیا کر رہی ہو تم رات کے اس وقت یہاں۔ ۔۔زایار نے نرمی سے پوچھا۔

کچھ۔ ۔۔نہیں جارہی ہوں اندر اس نے بھاگنا چاہا۔اور اس کا ارادہ بھانپ کر زایار نے اس کی نازک کلائی تھامی۔پازیب کی جان پہلے ہی اٹکی ہوئی تھی بلکل نکالنے والی ہوگئی

اتنی جلدی جانے کی ہے یا مجھ سے چھپنے کی۔وہ اپنے ازلی کھڑوس انداز میں بولا تو پازیب کولگا کہ وہ کھڑی کھڑی بےہوش ہو جائے گی

شاہ صاحب چھوڑیں مجھے وہ بری طرح مچلی۔

زایار نام ہے میرا لڑکی اگر شوہر کو نام سے بلاتے شرم آتی ہے تو جانم یا ہونے والے بچوں کے بابا جان کہہ کر بلا لیا کرو ۔

اس کی بات پر پہلے تو پازیب کی پوری آنکھیں کھل گئی لیکن اس کی پرشوق نگاہوں کے سامنے پلکوں کے پردے نے آنکھوں کو چھپا لیا اس کی یہ شرم و حیا تو زایار سکندر شاہ کا چین و قرار پہلی نظر میں ہی لوٹ گئی

وہ بے خود سا ہو کر ایک جھٹکے سے کھینچ کر اسے سینے سے لگا چکا تھا۔ کمر کے گرد بازوں مضبوطی سے حائل ہوئےوہ اسے حد درجہ نزدیک کر گیا

۔ وہ تڑپنے لگی مگر اس آہنی گرفت سے نکلنا اس کے بس کی بات نہیں تھی ۔ رات کے دس بجے کو ئی اس طرف نکل آتا تو وہ صرف سوچ کر ہی مچلنے لگی

اور اگر بریرہ بیگم ۔۔۔۔وہ بری طرح مذاحمت کرنے لگی لیکن اس کی مذاحمت کا زایار پر الٹا اثر ہوا

زایار کے منہ زور جزبات بے لگام ہونے لگے اس ملگجے اندھیرے میں بانہوں میں ایک نرم و نازک وجود،اور پھر جائز رشتہ محسوس ہوتے ہی زایار کے تمام سوئے جزبات انگڑائیاں لے کر بیدار ہوئے تھے۔ ۔

زایار کی نگاہ اس کے نازک سراپے سے ہٹ نہیں رہی تھی۔ اسے اپنی پناہوں میں لیے وہ بےخود سا ہونے لگا ۔ جھک کر اس کے ماتھے پر محبت کی مہر ثبت کی تو پازیب اس سے دور ہونے کی کوشش میں ناکام ہوتی مزید خوفذدا ہونے لگی نگاہیں باربار بڑے دروازے کی سیمت اٹھنے لگی۔

چھو۔۔۔۔ چھوڑیں مجھے،، وہ پھر سے بےبسی سے بولی ۔اس کے ڈر کو شرم سمجھ کر وہ دلکشی سےمسکرایا۔

اس کی حالت کی پروا کیے بغیر وہ پھر سے اس کے چہرے پر جھکا اور اس کی نم ہوتی آنکھوں کو اپنے لبوں سے چھونے لگا اس کی نگاہیں اٹھ نہیں پا رہی تھی۔

اور زایارکو اس مشرقی حیسن نے اپنا دیوانہ بنا تھا ایک ہاتھ اس کے بالوں میں پھنسا کر اس کے چہرے کو اوپر کیا اور اس کے گداز لب اپنے ہونٹوں کی شدت بھری گرفت میں لیے تھے۔

پازیب نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے دور دھکیلنے کی کوشش اورساتھ ہی اپنا آپ چھڑانا چاہا رہی تھی مگر وہ ایسا نہ کر سکی۔ بلکہ اب اس کے عمل میں شدت ہی آئی تھی۔ اتنی شدت کے پازیب کو لگا وہ اس کی جان لینے کے در پہ ہے۔ اج شاید ہی وہ اس کی شدت میں دوسری سانس لے سکے گی ۔اس شدت پر پازیب کی مذاحمت بےبس ہو گئی

پھر وہ اسے آزاد چھوڑ کے اس کا حیسن چہرہ دیکھنے لگا

کل سے تم میرے ساتھ میرے کمرے میں رہوگی ویسے ہی جیسے ایک بیوی اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہے

اور بریرہ آج سے تمہارے کمرے میں ۔میں اس سے بات کر چکا ہوں ۔

وہ سخت لہجے میں کہتا ایک بار پھر اسے اپنے قریب کر گیااور اس کا نازک سا وجود اپنے سینے سے لگایا ۔

اتنی چاہت اتنے مان سے وہ لایا اسے اس حویلی میں وہ اس کے سامنے بےبس ہونے لگی ۔لیکن بریرہ بیگم اس کی بند آنکھوں میں ایک حیسن چہرا آیا اور پھر معصوم سا ہادی اس نے ایک جھٹکے سے اپنا آپ چھڑایا تھا۔ اور اسے نگاہ اٹھاکر دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی۔ نم آنکھیں صاف کرتی بھاگتی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔

ہاں اسے زایار سکندر شاہ سے محبت ہوگئی تھی ہار گئی تھی وہ اس شخص کے سامنے لیکن وہ کیسے بھول جاتی کہ وہ اس سے پہلے کسی اور کا شوہر ہے کسی کا باپ ہے

ہاں وہ خودغرض نہیں تھی اپنی خوشیوں کے لیے کسی اور کا گھر برباد نہیں کرسکتی تھی ۔وہ بُری طرح سے مچل رہی تھی تڑپ رہی تھی یہ جانے بغیر کہ جس گھر کو وہ اجڑنے سے بچانے کےلیے اپنا سب کچھ اجاڑ رہی ہے وہ تو کبھی بسا ہی نہیں

°°°°°°

صبح ہوتے ہی حویلی میں ہلچل مچ گئی تھی ہر کوئی اپنی اپنی تیاری کے پیچھے لگا تھا ویسے تو ساری تیاری مکمل تھی بس سب کا اپنا اپنا تیار ہونا باقی تھا جب پازیب کو اپنے کمرے میں ایک بے حد خوبصورت ڈریس بیڈ پر پڑا ہوا ملا

اس کے اوپر چھوٹی سی چیٹ میں لکھا تھا کہ آج رات میں اس ڈریس میں تمہارا اپنے کمرے میں انتظار کروں گا ۔اس کا دل جو زور سے دھڑکنے لگا

کیا لکھا تھا اس کے نصیب میں زایار کو خود کے پاس آنے سے وہ روک نہیں سکتی تھی

اور نہ ہی اسے اس کے حق سے محروم کرسکتی تھیں لیکن بریرہ بیگم ۔۔۔۔؟

کل کی ساری رات اس کی اسی بے چینی میں گزری تھی زایار کا اس کی طرف متوجہ ہونا کوئی چھوٹی سی بات ہرگز نہیں تھی پتا نہیں آگے کیا ہونے والا تھا

°°°°°°

سب لوگ اس وقت حال میں جمع تھے لالی بہت خوبصورت لگ رہی تھی ایک تو ویسے ہی وہ بے حد خوبصورت تھی اور اوپر سے یہ سنگارا سے آسمان سے اتری کوئی پری بنا چکا تھا

شیر کا بس چلتا تو اس سے کبھی اپنی نظریں ہٹاتا

شیر کے ایک طرف زایار جبکہ لالی کے ساتھ سنیہا کھڑی تھی

لالی بار بار منہ بنا کر سکندر صاحب کو دیکھتی اور یہ بتانے کی کوشش کر رہی تھی کہ وہ اس منگنی سے بالکل خوش نہیں ہے

لیکن سکندر صاحب تو اسے اس طرح سے نظر انداز کر رہے تھے جیسے وہ ان کی سوتیلی بیٹی ہوئی یا اسے کچرے کے ڈھیر سے اٹھا کر لایا گیا ہو

تالیوں کی بھرپور گونج کے بیچ شیر نے اسے انگوٹھی پہنائی پہلے تو لالی بالکل نارمل تھی لیکن جب شیر نے اس کا ہاتھ نرمی سے تھام کر اس کے ہاتھ میں اپنے نام کی انگوٹھی پہنائی تو اس کا دل زور زور سے دھڑکا تھا

ایک نظر شیر کو دیکھ تو نظرجھکا گئی جبکہ اس کا یہ شرماتا گھبراتا انداز شیر کے دل پر بجلیاں گرا رہا تھا

لالی وہ دیکھ باہر عابد بھائی فضیلہ آپا کے بھائی اس کے ہاتھ میں انگوٹھی پکڑاتے سنیہا نے باہر کی طرف اشارہ کیا جہاں دروازے پر کھڑا عابد کوئی کام کر رہا تھا

اس کے دو دانت منہ سے باہر آ رہے تھے سر کے بیچوں بیچ ٹنڈ بنی ہوئی تھی

لالی کو تو اسے دیکھ کر رونا آگیا مطلب اگر شیر نہیں تو اسے یہ ملنا تھا

نو مونچھ نو ٹینشن بلکہ یہاں تو سر پر بھی بال نہیں ہیں پھر کیا خیال ہے فضیلہ آپا کا ہیراچلے گا یا ہیرے کی انگوٹھی اس نے اس کے ہاتھ میں موجود انگوٹھی کی طرف اشارہ کیا جبکہ لالی کا تو سارا دھیان باہر کی جانب تھا جہاں اب پتا نہیں عابد کیا کام کر رہا تھا اور اس کے ہاتھ میں موجود انگوٹھی شیر کے منہ میں جا رہی تھی

لالی بیوقوف لڑکی انگوٹھی میرے ہاتھ میں پہنانی ہے میری گردن میں نہیں وہ الفاظ چھپا چھپا کر غصے سے بولا

جبکہ اس کے ڈانٹنے پر لالی بوکھلا کر منہ بنایا گئی اور انگوٹھی اس کے ہاتھ میں پہنائی اس دوران اس کا ہاتھ بالکل بھی شیر کے ہاتھ سے ٹچ نہیں ہوا تھا

انگوٹھی پہناتے ہی ہر طرف مبارکباد کا شور شرابہ شروع ہوگیا پہلے تو سب سے آخر میں نکاح کی رسم ہونی تھی کیونکہ نکاح 18 تاریخ کو ہی رکھا گیا تھا

لیکن شیر کی فرمائش پر نکاح پہلے کرنے کا فیصلہ کر دیا گیا تھا

سنیہا لالی کو تھام کر کمرے میں لے آئی ۔جہاں آتے ہی اسے اپنے کل کے ڈریس کی فکر لاحق ہو گئی تھی اب جو بھی تھا ٹنڈ کلونی دال سلونی سے تو مونچھڑ ہی بہتر تھا

اس وقت اس کے سامنے ایک بےحد خوبصورت وائٹ کلر کا ڈریس تھا جو ایک بہت مشہور ڈریس ڈائزنر کی بہت خوبصورت تحلیق تھی۔یہ ڈریس اتنا خوبصورت تھا کہ اسے دیکھتے ہی سنیہا نے اس کی بھرپور تعریف کی

جبکہ یہ سوچ کر کہ یہ ڈریس وہ خود پہلے کی لالی تو آسمان میں اڑنے لگی ۔اس کے بھائی نے اس کے لئے اتنی خوبصورت ڈریس پسند کی تھی کہ اس کا دل چاہا کے زایار کے دونوں گالوں کو چوم کر اس کا شکریہ ادا کرے

ایک دماغ پر وہ مونچھر سوار تھا تو دوسری طرف اپنی شادی کی تیاریاں دیکھ کر وہ بہت خوش تھی ۔آج کل امی اسے ڈانٹنے کے بجائے ہر تھوڑی دیر کے بعد پیار کر رہیں تھیں اسے تو پتا ہی نہیں تھی کہ دلہن بننے والی لڑکی کو وی آئی پی ٹریٹمنٹ بھی ملتا ہے

ویسے تو وہ عمر میں سنیہا سے چار ماہ چھوٹی تھی لیکن آج کل وہ اس سے بڑی بنی ہوئی تھی وہ اسے کو چھوٹی سے چھوٹی سے لے کر بڑی سے بڑی بات سمجھا رہی تھی کہ کس طرح سے اپنے شیر ادا کو لوٹنا ہے

وہ اسے بہت سارے چھوٹی بڑی باتیں سمجھارہی تھی تاکہ سینہا کوئی بھی غلطی نہ کرے اور ان دونوں میں یہ ڈیل بھی ہو چکی تھی کی شادی کے بعد جتنے بھی پیسے ملیں گے وہ دونوں آدھا آدھا کریں گی

شروع میں تو سنیہا کو یہ شرط بالکل پسند نہیں آئی کیونکہ اسے لگتا تھا کے شیر ادا سے نکلوائے جانے والے سارے پیسوں پر صرف اس کا حق ہوگا اور اب یہ لالی بھی حق دار بن گئی تھی

لیکن لالی کی ٹپس اس کے لئے فائدہ مند ثابت ہو رہی تھی وہ اسے بہت ساری رسم بتا رہی تھی جس میں بہت سارے پیسے ملنے کے بھی چانس تھے ۔اس لئے آج کل وہ وہی کر رہی تھی جو لالی اسے کرنے کا کہہ رہی تھی

ویسے تو اس کی خواہش تھی کہ شیر کی شادی میں وہ بہت سارے پیسے جمع کرے گی اور ترکی جا کر وہ اپنے لیے دولہا ڈھونڈے گی جب کہ اب شیر خود اس کا دلہا بن گیا تھا تو اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ ترکی نہیں جائے گی

یہ تو اس کا خواب تھا ترکی تو اسے ہر حال میں جانا تھا اور شیر سے اگلے پچھلے سارے بدلے لینے تھے اس نے سوچ لیا تھا جتنا شیر نے اسے ڈانٹا ہے وہ ایک ایک بات کا چن چن کر حساب لے گی

اور سب سے پہلے تو اس نے اپنی کتابیں جلا لنی تھی وہ بھی شیر کے سامنے بیٹھ کر تاکہ اسے پتہ چل جائے کہ لالی آگے پڑھائی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ۔

اور اب تو اس کے پاس بہانے بھی بہت تھے جیسے ایک شادی شدہ لڑکی کو بہت سارے کام ہوتے ہیں اس پر بہت ساری ذمہ داری ہوتی ہیں گھر بار سنبھالنا ہوتا ہے ایسے میں وہ اپنی پڑھائی پر دھیان نہیں دے سکتی

اسے یقین تھا کہ شیر اسے پڑھنے کے لئے ضرور فورس کرے گا لیکن وہ بھی ایک اچھی خاصی لمبی تقریر تیار کر چکی تھی جسے وہ شیر کے سامنے کرنے والی تھی زیادہ نہ بھی ہو تو بھی اس پے تھوڑا بہت ان اثر ہو ہی جاتا

اور اب تو اس نے سوچ لیا تھا کہ شیر نے آ کر اسے ذرا سا بھی ڈانٹ یا غصہ کیا تق وہ اپنے بابا کو بتائے گی نہیں تو وہ چاچو سے شکایت کرے گی اب وہ اپنی معصوم جان پر شیر کا ظلم بالکل بھی برداشت نہیں کرنے والی تھی

وہ شیر کی بیوی بن ضرور رہی تھی لیکن اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ زندگی اپنی مرضی سے گزارے گی اور شیر کی کوئی بھی ناجائز( پڑھائی والی) بات بالکل نہیں مانے گی

°°°°

کہنے کو تو سب سیٹ ہو چکا تھا کل اس کا نکاح بھی تھا سب بہت خوش تھے لیکن جانے کیوں بار بارامی اور بابا کی آنکھیں بھیگ رہی تھی وہ کہہ رہی تھی کہ کون سا وہ کہیں باہر جارہی ہے جو سب رو رہے ہیں

ابھی ابھی وہ ان کے کمرے میں آئی تھی جہاں بابا اداس اور ماماکو آنسو بہاتے دیکھ کر وہ بھی اداس ہو گئی

پلیز بابا ماما سے کہں نا اس طرح سے روئیں نہیں میرا تو دلہا پسند کا بھی نہیں ہے لیکن دیکھیں میں پھر بھی کیسے مسکرا رہی ہوں

وہ بے حد معصومیت سے ان کو سمجھارہی تھی صفیہ بیگم کا دل چاہا کہ اپنی رکھ کے کان کے نیچے لگا کر اس کی عقل ٹھکانے لگائے لیکن یہ سوچ کر خاموش ہو گئیں کہ کل وہ دلہن بننے والی ہے

بیٹا آپ یہ باتیں نہیں سمجھ سکتی کل آپ ہم سے دور تو نہیں ہوگی کہ لیکن ہمارا نام آپ سے جدا ہو جائے گا کل سے آپ شیر کی ہوجاوگی اور پھر ایک اچھی بیوی بننے کے لیے آپ کو اس کی ساری باتیں ماننی ہوگی

ہمیں یقین ہے کہ ہماری بیٹی بہت سمجھدار ہے اور ہمیں شکایت کا موقع کم ہی دے گی تمہیں پتا ہے لائیں جب ایک میں اپنی بیٹی کی شادی کرتا ہے نہ تو صرف ایک شادی نہیں ہوتی

بلکہ وہ اپنی عزت کو بیٹی کے حوالے کر دیتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ جاؤ بیٹا میری عزت کی حفاظت تم کروگے تاریخ حسن اخلاق سے اپنی تربیت سے جب ایک بیٹی اپنے باپ کا گھر چھوڑ کر دوسرے گھر جاتی ہے صبح اپنے ساتھ اپنے پہلو میں اپنے باپ کی عزت باندھ کر جاتے ہیں

جس کی حفاظت کرنا اس پر فرض ہوتا ہے تم کہیں دور تو نہیں جا رہی لیکن میں پھر بھی اپنی عزت تمہارے پہلو میں ڈال رہا ہے تم ہی اس کی حفاظت کرنی ہوگی اپنے ماں کی اعلی تربیت سے اپنے باپ کا سر ہمیشہ بلند رکھنا ہوگا

وہ اسے اپنے سینے سے لگائے سمجھا رہے تھے جبکہ لالی خاموشی سے ان کی باتیں سن رہی تھی

آپ فکر نہ کریں بابا میں آپ کو شرمندہ نہیں ہونے دوں گی کافی دیر خاموش رہنے کے بعد وہ بولی تو سکندر شاہ کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی

مجھے یقین ہے میری لاڈلی بیٹی بہت سمجھدار ہے

بیگم آپ تو ایسے ہی کہتیں ہیں کے پتا نہیں اس بے وقوف اور کام چور کا کیا ہوگا بابا شرارتی نظروں سے اپنی بیگم کو دیکھتے ہوئے کہا تو لالی شاکڈ کی کیفیت میں اپنی ماں کو دیکھنے لگی

بابا ماما نے مجھے کام چھوڑ اور بے وقوف کہااسے کا کافی بڑا جھٹکا لگا تھا

نہیں نہیں میری لاڈو ان سب باتوں کے لئے تھوڑی نہ کہا تھا آپ بھی کمال کرتے ہیں شاہ صاحب بیٹی کو حیران اور پریشان خود دیکھتے پاکر صفیہ بیگم ہربڑاگئیں

بس بہت ہوا ہر کوئی مجھے کام چور اور بے وقوف سمجھتا ہے بس آپ میری رخصتی کریں مجھے واپس مائیکے آنا ہی نہیں ہے وہ جھوٹے آنسوبہاتے ہوئے بولی

ارے نہیں نہیں میری چندا تم تو بہت سمجھدار ہو ہماری ہر بات سمجھتی ہو تم کہاں بے وقوف ہو امی اسے پچکارتے ہوئے کہنے لگیں تو اس لالی نے بھی مسکرا کر ناراضگی ختم کر لی ۔جو بھی تھا وہ ان دونوں کی اداسی ختم کرنے میں کامیاب ہو چکی تھی

°°°°°

اس نے کچن میں قدم رکھا تو بریرہ کشن میں کچھ کر رہہ تھی

لیکن پازیب نے نوٹ کیا کہ وہ رو رہی ہے

کیا ہوا بریرہ بیگم آپ اس طرح سے رو کیوں رہی ہیں وہ بے حد پریشانی سے اس کے پاس آئی تھی

کچھ نہیں کچھ بھی تو نہیں بس ایسے ہی آنکھ میں کچھ چلا گیا تھا خیر میں تمہیں بتا دوں کل سے اوپر والے کمرے میں سونے والی ہو ۔

میں نے زایار کو سمجھا دیا ہے کہ جو بھی ہے جیسا بھی ہے اب تم ان کی بیوی اور ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ تمہارے سارے حقوق پورے کریں

اسی لیے کل صبح ملازمہ تمہارا سارا سامان اوپر والے کمرے میں شفٹ کر دے گی اور میں تمہارے کمرے میں آ رہی ہوں

وہ اسے دیکھ کر کہتی ہوئی اپنے آنسو چھپاتی کام میں مصروف ہوگئی

اس سب کی ضرورت نہیں ہے بریرہ بیگم آپ نے جیتے احسان کیے ہیں اتنا کافی ہیں مجھے اتنا بھی احسانوں کے بوجھ تلے نہ دبائیں کہ میں اٹھ بھی نہ سکوں

ہر چیز اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے لیکن میں آپ کے کمرے میں نہیں جانا چاہتی پلیز سمجھنے کی کوشش کریں

زایار صاحب نے مجھے عزت دی اپنا نام دیا میرے لئے اتنا ہی کافی ہے مجھے اور کچھ بھی نہیں چاہیے

بس آپ زایار صاحب کو سمجھا دیں کہ میں ان سے کچھ نہیں مانگتی وہ اس رشتے کو بے شک نہ نبھائیں میرے لئے انہوں نے جو کیا ہے وہی بہت ہے

ایسے کسے بہت ہے تم ان کے نکاح میں ہو اور جو ان کے فرائض ہیں وہ تو وہ ضرور پورے کریں گے ۔لیکن اگر فلحال تم ان کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں رکھنا چاہتیں

تو خود ان سے کہہ دو

تم بس انہیں یہ کہہ دو کہ جن حالات میں تمہاری ان کے ساتھ شادی ہوئی ہے وہ تم قبول نہیں کر پا رہی اور بھی تمہیں وقت کی ضرورت ہے

پرانے رشتوں کو بلا کر آگے بڑھنا اتنا آسان نہیں ہوتا لیکن جس شخص کے ساتھ تمہاری منگنی ہوئی تھی وہ بھی تمہارے لئے اہمیت رکھتا ہوگا اس کو ایسے دیکھ کر کہنے لگی جب کہ وہ اس کی چالاکی سمجھے بغیر بولی

نہیں بریرا بیگم وہ شخص میرے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتا جس کی نظروں میں میری کوئی عزت ہی نہیں بلا تو میرے لئے اہم کیسے ہو سکتا ہے

لیکن آپ میرے لیے اہمیت رکھتی ہیں آپ نے میری عزت بچائی مجھے دنیا کے سامنے سر اٹھا کر جینے کا حق دیا اپ میں آپ کا حق نہیں چھین سکتی میں خود زایار صاحب سے بات کروں گی

زایار صاحب پر صرف آپ کا حق ہے صرف آپ ہی ان کی بیوی بن کر رہیں گی اور اس کے دونوں ہاتھ تھامتے ہوئے بولی تو اپنے پلان کی کامیابی پر وہ اسے اپنے گلے سے لگا کر آنسو بہانے لگی

یہ تو وہ جانتی تھی کہ زایار کو اپنی عزت اپنی غیرت بے حد پیاری ہے اور زبردستی کا قائل نہیں اگر اس کی بیوی اس کے ساتھ رشتہ نہیں نبھانا چاہے گی تو اس کے ساتھ زبردستی ہرگز نہیں کرے گا

میرے لیے یہ سب کچھ بہت مشکل ہے پازیب میں یہ سب کچھ ہینڈل نہیں کر پا رہی میں تمہیں یہاں تو لے آئی اپنی جگہ اپنے مقام پر لیکن اب زایار کو تمہارے ساتھ بانٹنا میرے لئے بہت مشکل ہے

پلیز میری سچویشن کو سمجھنے کی کوشش کرو مجھے غلط مت سمجھنا ہر عورت کی طرح میں بھی اپنے شوہر کو بے پناہ چاہتی ہوں اور انہیں کسی کے ساتھ باندھنا میرے بس کی بات نہیں ہے وہ آنسو بہاتے ہوئے بولی

آپ ناروئیں بریرہ بیگم میں آپ کی کنڈیشن سمجھ سکتی ہوں آپ کو میری طرف سے شکایت کا کوئی موقع نہیں ملے گا آپ نے جتنا بڑا دل دکھایا ہے اس کے بعد اگر میں آپ کے لئے کچھ کر سکوں تو یہ میرے لئے بہت خوشی کی بات ہوگی

وہ بے حد نرمی سے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی جب کہ دروازے کے باہرسینہا اور لالی نے ان کی ساری باتیں سن لی تھی لیکن اندر نہیں گئی شاید یہاں ان کے اندر جانے کا کوئی مطلب نہیں بنتا تھا

وہ جانتی تھی ان کی بھابھی بہت اچھی ہے لیکن ان کے بھائی کو بانٹنا تو ان کی بھابھی کے بس کی بات بھی نہیں تھی

وہ خاموشی سے پلٹ گئی ۔

°°°°°

لالہ رخ بنت سکندر شاہ کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے ّوائٹ ڈریس میں سرخ رنگ کا گھونگھٹ میں گواہان کی موجودگی میں وہ اس نکاح کو قبول کر رہی تھی

وہ جو خود کو بہت مضبوط ظاہر کر رہی تھی سوچ رہی تھی کہ یہ سچویشن اتنی مشکل نہیں ہوگی یہاں آ کر اس کا دل چاہا کہ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے

اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ہر طرف شور شرابہ ہونے کے باوجود بھی اسے سناٹا ہی لگ رہا تھا آج اس کے باپ کا نام اس کے نام سے الگ کیا جا رہا تھا نہ جانے کیوں بے اختیار اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اس کے ہاتھوں بری طرح سے کانپ رہے تھے

بابا نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا تو اس کا دل چاہا کہ ان کے سینے سے لگ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے

آنسو بے اختیار ہی پلکوں سے چھوٹ کر گالوں پہ آ گئے تھے

بابا نے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے اس کے سر پر بوسہ دیا جبکہ دوسری طرف زایار نے اسی مولوی صاحب کی طرف دھیان دینے کا کہا ۔

اس کا دل چاہا کہ وہ یہاں سے بھاگ جائے گا کون لڑکی اپنے باپ کا نام خود سے الگ کرنا چاہے گی

بابا کے محبت برے لمس اور بھائی کی ٹھنڈی چھاؤں میں اس نے نکاح نامہ پر دستخط کر دیے ہر طرف مبارک باد کی گونج شروع ہو چکی تھی ۔

لالی سے نکاح قبول کروانے کے بعد سب لوگ باہر چلے گئے جبکہ لالی اپنی ماں کے سینے سے لگا کر رونے لگی اس کے اس طرح سے رونی پرسینہا کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے

ماما میں شادی نہیں کروں گی اور نکاح تو بالکل نہیں کروں گی سنیہا پاکیزہ بیگم کے سینے سے لگتے ہوئے بولی تو پاکیزہ بیگم پریشان ہو گئیں لیکن اس کی نصیب کے لیے دعائیں ضرور مانگیں

نہ جانے ان کی بیٹی کے نصیب میں کیا لکھا تھا

تھوڑی ہی دیر میں باہر سے بھی شورشرابے کی آواز آنے لگی نکاح کی رسم مکمل ادا ہو چکی تھی آج لالارخ سکندر شاہ سے لالہ رخ شیرزارشاہ بن چکی تھی

°°°°°

تھوڑی دیر بعد ان دونوں کو باہر حال میں ایک ہی اسٹیج پر بٹھا دیا گیا

وہ شہزادوں کی ان بان رکھنے والا شخص آج بھی کسی شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا

وہ آہستہ سے آکر اس کے پہلو میں بیٹھا تو لالی نے بے اختیار ہی ذرا سا فاصلہ بنانے کی کوشش کی جو اس کا ہاتھ تھام کر نا کام کر گیا

بڑا شوق ہو رہا ہے مجھ سے دور بھاگنے کا مجھے یہ حرکت بالکل پسند نہیں اور اندر اتنا رونا دھونا کیوں مچا رکھا تھا انسان سے شادی ہوئی ہے کسی جن سے نہیں ۔

اس کا لہجہ کافی سخت تھا شاید وہ ناراضگی کا اظہار کر رہا تھا

لیکن لالی کو تو لگ رہا تھا کہ یہاں پر بھی وہی اس پر غصہ ہو رہا ہے اسے ڈانٹ رہا ہے

بس بہت ہوا اگر آپ نے مجھے ڈانٹا نہ تو میں سچ کہہ رہی ہوں میں سب کو بتا دوں گی چلا چلا کر کون اپنی اتنی پیاری دلہن کو نکاح والے دن ڈانتا ہے

وہ منہ بناتے ہوئے بولی تو شیر ایک نظر اس کے ناک پے رکھی بڑی نتھ کو دیکھا تھا

جب کہ اس کے نتھ کا موتی بار بار اس کے لبوں کو چھو کر اسے بے چین کر رہا تھا

بیوقوف لڑکی میں نے کب ڈانٹا میں تو صرف ایک بات بتا رہ