Meharman by Amraha Sheikh | Free Urdu Novels

Meharman by Amraha Sheikh Novel is the best novel ever. Novel readers liked this novel from the bottom of their heart. Beautiful wording has been used in this novel. You will love to read this one. 

Meharman by Amraha Sheikh Novel

Meharman by Amraha Sheikh is a special novel, many social evils has been represented in this novel. Different things that destroy today’s youth are shown in this novel. All type of people are tried to show in this novel.

Rude Hero Based Meharman by Amraha Sheikh Novel | Romantic Urdu Novels

Meharman by Amraha Sheikh

 

 

 

Amraha Sheikh has written many novels, which her readers always liked. She tries to instill new and positive thoughts in young minds through her novels. She writes best. 

If you want to download this novel, you can download it from here:

↓ Download  link: ↓

 

 

 

 

Note!  If the link doesn’t work please refresh the page

Meharman by Amraha Sheikh PDF EP 1

Meharman by Amraha Sheikh PDF EP 2 to 22

 

 

Read Online Meharman by Amraha Sheikh:

مہرماں

امرحہ شیخ

ہسپتال کے سرد کوریڈور میں بینچ پر بیٹھیں بی جان کی نظریں بند دروازے پر جمی تھیں ساتھ ہاتھ میں پکڑی تسبیح کہ دانے بھی تیزی سے آگے پیچھے ہورہے تھے۔۔۔۔

"اللّه سب بہتر کرے گا دراب فکر مت کرو۔۔۔۔دائم صاحب نے اپنے بھائی کہ کندھے پر ہاتھ رکھ کر انھیں حوصلہ دیا تھا لیکن کہیں نہ کہیں وہاں موجود تمام افراد ہی بے حد فکرمند تھے۔۔

"ان شاءلله۔۔۔۔بیک وقت سب کہ لبوں سے نکلا تھا ایک گھنٹہ ہونے کو آیا تھا آپریشن ہنوز جاری تھا۔...

"ہانیہ(دائم کی بیوی) بیٹی گھر پر منّت کو فون کر کہ ذرا بچوں کی خبر تو لو جانے یہاں ہمیں اور کتنا وقت لگ جاۓ۔۔۔

"جی میں نے ابھی پانچ منٹ پہلے ہی بات کی ہے۔۔۔کینیڈا سے بھی نور بھابھی(جیٹھانی) کا دو بار فون آچکا ہے منال(دیورانی) کی خیریت کا پوچھ رہی تھیں۔۔۔ہانیہ بیگم کی بات مکمل ہوتے ہی آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھلا تھا۔۔۔

دراب صاحب کہ دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔۔

"ڈاکٹر صاحبہ سب ٹھیک تو ہے؟ دائم صاحب نے آگے بڑھ کر دھڑکے دل سے پوچھا تھا۔

"الحمدلللہ اللّه نے بہت کرم کیا ہے ماں اور بچہ دونوں سہی ہیں ۔۔

"ؓمم مطلب بچہ۔۔ڈاکٹر کی بات سنتے ہی جیسے دراب صاحب جی اٹھے تھے۔۔

"مبارک ہو آپ کو بیٹی ہوئی ہے۔۔۔ڈاکٹر کہ پیشہ ورانہ انداز میں بتانے پر بی جان نے آگے بڑھ کر دراب صاحب کو گلے سے لگا لیا تھا۔۔۔

دائم اور ہانیہ نے بھی خوشی سے دراب کو دیکھا تھا۔۔۔

شادی کہ سات سال بعد بلآخر اللّه نے انھیں رحمت سے نوازا تھا۔ ۔۔

"مبارک ہو بیٹا اللّه تیرا شکر ہے ورنہ یہ بڑھیا اس بار کا غم برداشت نہ کر پاتی۔۔

"بی جان اللّه نہ کرے ایسی باتیں مت کریں۔۔۔ہانیہ نے آگے بڑھ کر مسکراتے ہوۓ کہا تھا جب ڈاکٹر کی آواز پر سب انکی جانب متوجہ ہوۓ تھے۔۔

"کیا بات ہے؟ سب ٹھیک تو ہے نہ؟ بی جان نے ڈاکٹر کو دیکھتے ہوۓ پوچھا جب نرس گود میں سفید کپڑے میں لپٹی بچی کو اٹھا کر وہاں آئی تھی۔

"دراصل ایک نہیں دو بچیوں کی پیدائش ہوئی ہے لیکن مجھے افسوس کہ ساتھ کہنا پڑے گا کہ آپکی پہلی بیٹی ماں کہ پیٹ سے ہی مردہ پیدا ہوئی ہے۔۔۔۔ڈاکٹر کی بات سنتے ہی سب کو سانپ سونگ گیا تھا بی جان نے یکدم ہی اپنے سینے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔

سات سال۔۔۔ہاں سات سال میں یہ انکی تیسری اولاد تھی جو دنیا میں آنے سے قبل ہی چلی گئی تھی۔۔۔

"ڈاکٹر دوسری بچی؟ دائم کانپتے ہاتھوں سے بچی لیتا ان سے پوچھنے لگا دراب صاحب میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ کھڑے بھی رہ سکیں۔۔

"وہ ٹھیک ہے پر کمزور ہے۔۔۔

"شکر ہے۔۔۔۔کیا ہم دیکھ سکتے ہیں؟

"تھوڑی دیر میں منال کو روم میں شفٹ کردیا جاۓ گا پھر آپ مل سکتے ہیں۔۔۔ڈاکٹر مسکرا کر کہتیں اپنے کیبن میں آکر بیٹھی ہی تھیں کہ نرس بھی پیچھے ہی اندر آئی تھی۔

"ڈاکٹر آپ نے انہیں بتایا کیوں نہیں کہ بچی غیر معمولی(abnormal) ہے

"تم نے مجھے اتنا سخت دل سمجھ رکھا ہے دیکھا نہیں تھا کیسی حالت ہوگئی ہے ویسے بھی بچی جسمانی طور پر بالکل ٹھیک ہے۔۔

"پر ڈاکٹر۔۔

"ڈاکٹر۔۔۔دائم کی آواز پر دونوں نے گھبرا کر دروازے کی سمت دیکھا تھا جہاں دونوں بھائی کھڑے تھے۔۔

یقیناً دونوں انکی باتیں سن چکے تھے۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کراچی شہر کے پوش علاقے میں واقعہ انکا اپنا ذاتی بڑا گھر تھا۔۔۔۔شہباز خان اور نائلہ خان دونوں کی پسند کی شادی تھی۔۔اللّه نے انھیں تین بیٹوں اور ایک بیٹی سے نوازا تھا۔۔۔۔

درانی شہباز جنھیں کینیڈا تعلیم حاصل کرنے کا ایسا شوق چڑھا کے تعلیم کہ بعد اپنی ہی کلاس فیلو سے شادی کر کہ کینیڈا میں ہی رہائش پذیر ہو گئے۔۔نور درانی پاکستانی تھیں جو پڑھنے کہ گرز سے ہی گئی تھیں۔۔۔درانی صاحب کے اس اقدام پر ایک سال شہباز صاحب نے اپنے بیٹے سے بات نہیں کی تھی لیکن کب تک آخر کو اولاد تھی وہ بھی پہلی۔۔درانی صاحب کے دو ہی بچے تھے "یزان درانی" دوسری بیٹی" ہالہ درانی"۔

درانی صاحب کہ بعد "دائم شہباز" تھے جنکی شادی اپنی ہی خالہ زاد سے ہوئی تھی....ہانیہ دائم۔۔۔۔انکے تین بیٹے جبکہ دو بیٹیاں تھیں۔۔۔

"بلال دائم، ہاشم دائم،داور دائم جبکہ دو بیٹیاں میرال دائم اور بسمہ دائم ہیں۔۔۔۔پھر تیسرے بیٹے "دراب شہباز ہیں بیوی "منال دراب" ہے۔۔۔دونوں نے کورٹ میرج کی تھی کیونکہ منال کہ گھر والے اس رشتے سے خوش نہیں تھے۔۔۔۔شادی کو سات سال ہوچکے تھے منال تین بار ماں بنیں لیکن ہر بار بچہ یا تو مردہ ہوتا یا چند سیکنڈ ہی زندہ رہتا۔۔۔۔

"نہیں دائم میں اب یہ سب برداشت نہیں کر سکتی نہیں دیکھ سکتی اپنے ہی جگر کہ ٹکڑوں کو بے جان۔۔۔۔۔منال کو جب سے پتہ چلا تھا کہ وہ ایک بار پھر ماں بننے والی ہیں تو زاروقطار رونے لگیں۔۔لیکن شاید اس بار تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔۔۔"منحہ دائم" جسکی باتیں اور شرارتیں والدین اور دادی دیکھ کر جتنا پسند کرتے تھے اتنا ہی گھر کے دوسرے بچوں کہ لئے وہ کسی چابی کی گڑیا جیسی تھی۔۔۔جیسے جیسے بچے جوان ہورہے تھے منحہ کا وجود انکے لئے شرمندگی تو کبھی مذاق کا باعث بنتا جا رہا تھا۔۔

سب سے چھوٹی بیٹی منت شہباز تھیں جنکے دو ہی بچے تھے۔۔۔

مومنہ علی، حمزہ علی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

دھپ۔۔۔۔۔زور سے اسکی کمر پر ہاتھ جڑتے16 سالہ میرال نے 12 سالہ منحہ کو بازو سے پکڑ کر صوفے سے اتار کر گھسیٹتے ہوئےکمرے کی طرف بڑھ رہی تھی کہ بسمہ جو 14 سال کی تھی زور زور سے ہسنے لگی ہاشم اور داور جو وہیں موجود تھے مسکرانے لگے۔۔۔

"ووووو جھولا۔۔منحہ جو ماربل کہ چکنے فرش پر گھسٹتی جا رہی تھی مزے لیتے ہوۓ کہتی میرال کو آگ لگا گئی جبکہ اسکی بات پر ان تینوں کا قہقہہ چھوٹ گیا تھا۔

"کیوں ہنس رہے ہو ہاں یہ تو پیدائشی پاگل ہے۔۔

"ہاہاہا یار میرال آپی غصّہ مت کریں اتنی پیاری ہے ہمارا موڈ اچھا کر دیتی ہے۔بسمہ نے ہنستے ہوۓ میرال سے کہا جب داور کی بات پر منحہ اسے دیکھنے لگی۔

"کیا دیکھ رہی ہو باولی میری بات دماغ کہ اینٹینے تک پہنچی؟ داور نے اٹھ کر اسکی کنپٹی پر انگلی بجاتے ہوۓ پوچھا تھا جو تیوری چڑھا کر اسے دیکھتے رہنے کہ بعد یکدم ہی داور کہ بال زور سے کھینچ کر بھاگی تھی کہ وہ چیخ اٹھا تھا۔۔

"منحہ کی بچی چھوڑوں گا نہیں تمہیں۔۔۔پاگل کہیں کی۔۔۔داور کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھ کر پیچھے بھاگا تھا جو سیدھا بی جان کہ کمرے میں جا کر گھسی تھی کہ داور کہ ساتھ میرال نے بھی مٹھیاں بھینچ لی تھیں کہ بی جان کی جان تھی منحہ۔۔

"داور بھائی۔۔۔منحہ کی آواز پر دونوں نے اسے دیکھا جو زبان چڑا کر دوبارہ اندر غائب ہوئی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شام کا وقت تھا منحہ کمرے میں بیٹھی اپنی گڑیا سے کھیلنے میں مگن تھی۔۔۔جب منال بیگم کمرے میں آتے ہی مسکرا کر اپنی بیٹی کہ ساتھ قالین پر بیٹھی تھیں۔۔۔

"ماما کی منحہ کیا کر رہی ہے

"منحہ گڑیا کو چھپا رہی ہے۔۔۔منحہ رازداری سے منال کہ کان میں بول کر دوبارہ اپنے کھیل میں لگ گئی تھی۔

"اور منحہ کس سے چھپا رہی ہے گڑیا کو؟ منال لب بھینچ کر منحہ کہ سر پر پیار سے ہاتھ رکھ کر پوچھنے لگیں۔۔۔

جب کمرے کا دروازہ کھلا تھا نور بیگم کمرے میں داخل ہوئی تھیں پیچھے ہی یزان اور ہالہ بھی تھے۔۔۔۔

"ماما منحہ کی گڑیا کو سب ڈانٹتے ہیں اور یوں یوں میرال آپی اسے مارتی ہے اور اور سب ہنستے ہیں۔۔کوئی بھی منحہ کی گڑیا کہ ساتھ نہیں کھیلتا۔۔۔منحہ بتانے کہ ساتھ ہاتھ میں پکڑی گڑیا کو مارنے کہ ساتھ پھینک کر بتا رہی تھی جبکہ منال بیگم سن بیٹھیں اپنی بیٹی کو دیکھ رہی تھیں

دروازے پر کھڑی نور بیگم نے دکھ سے اسے دیکھا تھا یقیناً یہ سب اسکے ساتھ ہو رہا تھا ۔

19 سالہ ہالہ اور 21 سالہ یزان نے حیرانگی سے اپنی کزن کو دیکھا تھا وہ لوگ پہلی بار پاکستان آئے تھے کہ درانی صاحب اور نور بیگم بھی خود تہواروں میں چار پانچ بار آچکے تھے بچوں کا رابطہ انٹرنیٹ کہ ذریعے تھا لیکن منحہ کی اپنی ہی پریوں کی کہانی جیسی دنیا تھی۔۔۔۔

اس بار بھی وہ اکیلے آتے لیکن بی جان کہ سختی سے حکم دینے پر درانی صاحب پوری فیملی کے ساتھ آج ہی آئے تھے لیکن در حقیقت نور بیگم اپنے بھائی سے رشتہ جوڑنے پاکستان آئی تھیں۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

منحہ کی نظر جیسے ہی ان تینوں نفوس پر پڑی تیزی سے اپنی ماں کہ ساتھ چپک کر سرگوشی میں انھیں بتانے لگی۔

"منحہ کی تائی امی ہیں یہ۔۔۔منال نے مسکراتے ہوۓ کہتے نور بیگم کو دیکھا تھا جو اپنے بچوں کہ ساتھ اندر بڑھی تھیں۔۔

"ارے یہ تو ہماری بہت ہی پیاری سی منحہ ہے۔۔۔نور بیگم اسکے سامنے بیٹھی تھیں کہ منحہ نے اپنی ماں کی طرف دیکھا تھا جیسے ان سے تائید چاہ رہی ہو۔۔۔

"برو یہ پاگل ہماری کزن ہے۔۔۔۔ہالہ یزان کے قریب جھک کر سرگوشی میں ناگواری سے بولی تھی جس بے اسکی بات پر کوئی ردِعمل نہیں دیا وہ تو اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا جو اپنی ماں کہ کچھ بولنے پر تیزی سے نور بیگم کے گلے سے لگی تھی۔۔

نور بیگم جو مصنوعی پیار جتا رہی تھیں بری طرح گھبرا گئیں۔۔

"منحہ گڑیا تائی امی کا گلہ چھوڑو۔۔۔منال نور کا سرخ ہوتا چہرہ دیکھ کر آگے بڑھی تھیں وہ جانتی تھیں منحہ کبھی بھی کسی کو تکلیف نہیں پہنچاتی تھی۔۔

"تائی امی۔۔۔منحہ پیچھے ہٹتی انھیں کہتی ہالہ اور یزان کو دیکھنے لگی۔۔

"مجھے لگتا ہے ہمیں اب نیچے چلنا چاہیے۔۔نور بیگم منحہ کا رخ اپنے بچوں کی طرف دیکھ کر تیزی سے کھڑی ہوتیں ہالہ کا ہاتھ تھام کر زبردستی مسکرا کر بولیں۔۔

"جی ٹھیک ہے چلئیے۔۔۔منحہ آپ کھیلو اور کمرے سے مت نکلنا میں آپ کا چاکلیٹ ملک شیک بنا کر ابھی لاتی ہوں ٹھیک ہے پھر ہم کل تایا ابّو سے ملیں گے۔۔۔

"ٹھیک ہے ماما منحہ کمرے میں ہی رہے گی۔۔

منال خود پر ضبط کرتیں پیار سے اسے کہتیں دروازے کی سمت بڑھ گئیں وہ نہیں چاہتی تھیں کہ انکی بیٹی کے ساتھ کوئی ایسا رویہ رکھے۔۔۔

منحہ کہ فرمابرداری سے سر کو زور و شور سے ہلا کر کہنے پر یزان درانی کہ لبوں پر تبسم بکھرا تھا۔۔

تینوں کہ جاتے ہی یزان اسکے سامنے پنجوں کہ بل بیٹھا تھا جو گڑیا کو اسکے بیڈ پر لیٹا رہی تھی۔۔

"السلام علیکم۔۔۔میرا نام یزان درانی ہے اس چھوٹی سی گڑیا کا کیا نام ہے؟ یزان کی بھاری سنجیدہ آواز پر منحہ نے نظریں اٹھا کر مقابل بیٹھے ہینڈسم شخص کو دیکھا تھا۔۔

"وعلیکم السلام میری گڑیا کا نام گڑیا ہے۔۔۔

یہ تو بہت پیارا نام ہے اور آپ کا؟ اس سے قبل وہ کچھ بولتی میرال اندر آئی تھی۔۔۔

ؓمنحہ نے حیرت سے اسے دیکھا تھا جو آج اسکے کمرے میں پہلی بار آئی تھی۔

"یزان آپ اس کہ پاس۔۔۔میرا مطلب یہاں کیا کر رہے ہیں چلیں تائی جان بولا رہی ہیں۔۔۔میرال منہ بنا کر منحہ کو ایک نظر دیکھ کر شیرین لہجے میں یزان سے بولی تھی جو سرسری سی نظر اس پر ڈال کر دوبارہ منحہ کو دیکھنے لگا تھا۔۔۔۔
"آپ میرال آپی کے دوست بلی کہ گوشت ہیں۔منحہ نے خفگی بھرے لہجے میں اس سے پوچھا تھا۔۔یوں جیسے اسے یہ بات پسند نہیں آئی تھی۔۔
"نہیں میں تمہاری تائی امی کا پڑا بیٹا یعنی تمہارا کزن ہوں۔۔۔یزان مسکراتے لہجے میں اسے جواب دے رہا تھا میرال کو اپنا نظرانداز کیے جانا آگ بگولا کر گیا تھا۔۔۔
"اففف یہ کیا حالت کی ہوئی ہے تم نے کمرے کی پاگل لڑکی تھوڑی سی تو تمیز سیکھ لو اتنا گند تو بچے بھی نہیں کرتے ہیں۔۔۔۔میرال کہ یکدم ہی غصّے سے بولنے پر منحہ سہم کر اسے دیکھنے لگی تھی جو بولنے کہ ساتھ ہی چلتی ہوئی دونوں کے پاس آ کر رکی تھی۔۔
"یز۔۔۔
"اسٹاپ اٹ! مجھے ایک ہی بات بار بار سننے کی عادت نہیں ہے میرال تم نے کہہ دیا میں نے سن لیا بات ختم مطلب ختم۔۔۔...اب تم جا سکتی ہو۔۔۔۔۔میرال کی بات ابھی منہ میں ہی تھی کہ یزان جھٹکے سے اٹھتا سرد لہجے میں کہتا میرال کے تن بدن میں آگ بھڑکا گیا تھا اپنی اتنی بے عزتی وہ بھی اسکے سامنے جس سے وہ بلاوجہ ہی حسد کرتی تھی۔۔
توہین کہ احساس سے میرال کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا پیر کو زور سے زمین پر پٹختی وہ تیزی سے کمرے سے نکلتی چلی گئی تھی۔۔
یزان اسکے جاتے ہی دوبارہ منحہ کی طرف متوجہ ہوا تھا جو اپنی گڑیا کو خود سے لگائے کھڑی دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔
"وہ چلی گئی۔۔۔۔منحہ کے سامنے چٹکی بجاتے یزان نے اسے کہا جس نے سٹپٹا کر اسے دیکھا تھا۔۔
"آپ کو ڈر نہیں لگا؟
"کس سے؟
"میرال آپی سے۔۔۔۔منحہ کی بات پر یزان اسے دیکھنے لگا اتنی دیر میں منال ہاتھ میں ملک شیک سے بھرا مگ لے کر کمرے میں داخل ہوئی تھیں کہ یزان کو دیکھ کر چونکی پھر مسکرا کر اندر آگئیں۔۔
"بیٹا تم ابھی تک یہاں ہو۔۔۔
"چاچی منحہ اپنی گڑیا سے ملوا رہی تھی۔۔یزان نرم نظروں سے اسے گڑیا سے باتیں کرتا دیکھ کر منال سے بولا جو اسکی بات پر مسکرا کر اپنی بیٹی کو دیکھنے لگیں منحہ نے چاکلیٹ ملک شیک دیکھتے ہی گڑیا کو رکھ کر مگ پکڑا تھا۔۔۔منحہ کا وہ فیورٹ تھا۔۔۔
"آپ کو پینا ہے؟ منحہ ایک گھونٹ لینے کہ بعد یکدم ہی یزان کی طرف مگ بڑھاتے ہوۓ پوچھنے لگی منال نے محبت سے اپنی بیٹی کو دیکھا تھا۔۔
"نہیں لیکن تم جلدی سے اسے ختم کرو۔۔۔یزان جسے دودھ پسند نہیں تھا اسے کہتا جانے لگا کہ منحہ تیزی سے اسکے پیچھے بڑھی تھی۔۔
"منحہ کہاں جا رہی ہو بچے ماما نے منع کیا ہے نہ کمرے سے باہر نہیں جانا۔۔شاباش آجاؤ دیکھو گڑیا اکیلی ہے۔۔۔منال بیگم کی آواز پر دونوں نے پلٹ کر پیچھے دیکھا تھا منحہ کی نظر گڑیا کی طرف اٹھی تھی جبکہ یزان کی نظر منحہ پر۔۔۔
"چاچی۔۔۔آپ کیوں روک رہی ہیں اسے آنے دیں اس طرح بند کمرے میں اکیلے رہنے سے وہ تنہائی پسند ہونے کہ ساتھ اپنی خود اعتمادی کھو دے گی۔۔کیا آپ چاہتی ہیں وہ زندگی بھر کمرے میں بند ایک بے جان گڑیا سے کھیلتی رہے۔۔۔
"بیٹا ایسا کچھ نہیں ہے میری بچی بہت معصوم ہے بالکل بچہ دماغ ہے۔۔۔کمرے سے نکلتے ہی سارے گھر میں اچھلتی کھودتی رہتی ہے۔۔میں یہ بھی جانتی ہوں کوئی مار یا ڈانٹ بھی دے گا تو زبان چڑا کر کمرے میں آتے ہی سو جاتی ہے۔.۔۔منال دکھ سے کہتیں اپنی بیٹی کو دیکھ رہی تھیں جو گڑیا کو اٹھا کر بیڈ پر جا کر لیٹ گئی تھی۔۔
دروازے کی آواز پر منال بیگم نے پلٹ کر پیچھے دیکھا تھا۔۔یزان جا چکا تھا۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"میرال آپی کتنے ہینڈسم ہیں نہ یزان بھائی۔۔۔ڈائننگ ٹیبل کہ گرد بیٹھے سب کھانا کھا رہے تھے میرال اور بسمہ عین یزان کہ مقابل بیٹھی تھیں جب بسمہ نے اپنی بہن کہ کان میں سرگوشی کی تھی میرال نے ناک چڑھا کر جیسے ہی یزان کو دیکھا اسکی آنکھیں چمکی تھیں۔۔
"ہمم واقعی اس میں کوئی شک نہیں ہے لیکن بہت اکڑو ہے ۔۔
"آپ کو کیسے پتہ؟
"میرال بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے مسٹر جب سے آیا ہے سلام دعا کہ علاوہ کوئی بات ہی نہیں کی ہے ایک اس کی بہن ہے کیسے خوش اخلاقی سے مل رہی ہے۔۔ہوہنہہ یہ خود کو پتہ نہیں کیا سمجھ رہا ہے اس سے کہیں زیادہ ہینڈسم بندے میرے دوست ہیں۔۔
"جلنے کی بھی حد ہوتی ہے تمھارے دوستوں کو میں نے دیکھا ہے داور صاحب۔۔۔۔ہاشم اسکی بات اچکتا تپاتے ہوۓ بولا کہ داور نے گھورتے ہوئے چمچ اسکے ہاتھ پر مارا تھا۔۔
"کیا ہوگیا ہے داور؟ بی جان کی آواز پر سب نے انھیں دیکھا تھا جبکہ داور کی نظر یزان کی جانب اٹھی تھی جو ہنوز سنجیدگی سے کھانے میں مصروف تھا۔۔
۔۔۔۔۔
صبح کہ چھ بجے کا وقت تھا ایسے میں منحہ جمائی لیتی دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بنا کر آنکھوں پر مسلتی اٹھ کر باتھ روم کی سمت بڑھ گئی۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ ڈریسنگ ٹیبل کہ سامنے کھڑی اپنے بالوں میں برش کرنے کہ بعد ٹیڑی میڑی ڈھیلی سی پونی باندھ کر دوپٹے کو گلے میں ڈال کر اپنی ماں کو دیکھنے لگی جو دوسری طرف رخ کیے سو رہی تھیں منحہ آگے بڑھ کر مسکرا کر انکے چہرے کو دیکھتی تیزی سے کمرے سے نکلی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر بھر میں خاموشی کا راج تھا
منحہ اردگرد دیکھتی کچن میں داخل ہوتی برنر کہ پاس جا کر کھڑے ہوکر اسے دیکھتی لب کچلنے لگی پھر فریج کے پاس جا کر اسے کھول کر جائزہ لینے لگی سامنے ہی دودھ کی تھیلی دیکھ کر منحہ کا چہرہ کھل سا گیا تھا ۔۔۔ماما بھی ہمیشہ یہی تھیلی نکالتی تھیں۔۔۔
جلدی سے دونوں ہاتھوں سے تھیلی نکال کر اس نے دروازہ بند کیا ہی تھا کہ تھیلی اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر کِچن کہ فرش پر گرتے ہی پھٹ گئی تھی
"او۔۔۔۔منحہ نے صدمے سے فرش پر پھیلے دودھ کو دیکھتے جیسے ہی پنجوں کہ بل بیٹھ کر ہاتھ دودھ کی سمت بڑھایا کسی نے تیزی سے اسکے ہاتھ کو پکڑ کر روکا۔۔
"منحہ یہ کیا کر رہی ہو۔۔۔۔یزان کی آواز پر اس نے تیزی سے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔۔۔یزان صبح سویرے ہی اٹھ کر جوگنگ کرنے کا عادی تھا۔۔۔
دونوں کی نظریں ملتے ہی یزان نظریں چراتا اسے وہاں سے ہٹا کر کچن میں ہی رکھی میز کہ گرد کرسی پر بیٹھا کر فرش کو دیکھتا اطراف میں دیکھنے لگا۔۔
"یزان بھائی بھوک لگی ہے۔۔۔۔منحہ منہ پھولا کر اسے بتانے لگی جو فرش صاف کرنے کہ لئے کپڑا ڈھونڈ رہا تھا۔۔
منحہ اٹھ کر اسکے پیچھے پیچھے چلنے لگی۔۔
"منحہ واپس جا کر بیٹھو۔۔۔
"منحہ کو بھوک لگ رہی ہے یزان بھائی کیا میں یہ کھا لوں؟ منحہ کی بات پر وہ اسکی طرف متوجہ ہوا تھا جو ہاتھ میں انڈا اٹھا کر کھڑی تھی۔۔یزان نے تیزی سے اسکے ہاتھ سے انڈا جھپٹا تھا۔۔۔
منال روز ناشتے میں اسے یہی دیتی تھیں دونوں ماں بیٹی سب کہ اٹھنے سے پہلے ہی کچن میں ناشتہ کر لیتی تھیں۔۔
"واپس دیں۔۔۔
"میں بنا دیتا ہوں تم جاؤ شاباش کرسی پر بیٹھو۔۔۔
"نہیں وہ گندی ہے۔۔
"منحہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔۔۔جاکر بیٹھو۔۔۔یزان کہ سنجیدگی سے کہنے پر منحہ نظریں جھکا کر واپس کرسی پر بیٹھ کر یزان کو دیکھنے لگی۔۔۔
یزان درانی جو ہر جگ ہی اکڑو اور کھڑوس مشہور تھا خود سے نو سال چھوٹی منحہ دراب کہ ہاتھوں صبح ہی صبح گھن چکر بن گیا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"یزان بھائی میں بھی کروں۔۔۔۔منحہ کہتے ساتھ اٹھ کر برنر کہ پاس آئی تھی وہ جو فرش صاف کرنے کہ بعد اب انڈا بنانے کی تیاری کر رہا تھا آواز پر اسے دیکھنے لگا جو قد میں اسکے سینے تک بھی نہیں تھی ۔۔
"منحہ کی گڑیا کہاں ہے؟ یزان بہانے سے اسے وہاں سے ہٹانے کہ گرز سے پوچھنے لگا۔۔
"گڑیا کے سر میں درد ہے نہ اسلئے وہ ماما کہ ساتھ سو رہی ہے۔۔۔منحہ بار بار ایڑیاں اٹھا کر اونچی ہو کر یزان کو بتانے کہ ساتھ اسکے کندھے کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔۔
یزان جو اسی کو دیکھ رہا تھا منحہ کے بازو کو پکڑ کر اسے روکا۔۔
"منحہ کیا دیکھ رہی ہو؟
"کک کچھ بھی نہیں۔۔۔منحہ نے ایک بار پھر چور نظروں سے اسکے کندھے کو دیکھ کر سر نفی میں ہلایا تھا۔۔
"ٹھیک ہے مت بتاؤ پھر میں میرال سے دوستی کرلوں گا۔۔یزان نے جان بوجھ کر میرال کا نام لیا تھا لیکن وہ نہیں جانتا تھا کے انجانے میں کتنی سنگین غلطی کر چکا تھا اگلے ہی لمحے منحہ نے اسٹینڈ سے گلاس اٹھا کر زمین پر دے مارا تھا۔۔یزان ششدر سا اسے دیکھنے لگا جو بڑبڑانے کہ ساتھ ایک اور گلاس اٹھا کر نیچے پھینکنے والی تھی کہ منال جو اسے ڈھونڈھتی وہیں آرہی تھیں تیزی سے اسکی طرف بڑھی تھیں۔۔
"منحہ میری جان۔۔۔منحہ کیا ہوا۔۔۔منال نے جلدی سے اسے پکڑا تھا جو یزان کو خود سے ہٹاتی چیخنے کہ ساتھ زاروقطار رورہی تھی۔۔
"منحہ ۔۔یزان نے اسے ہاتھ لگانا چاہا جو بے قابو ہوتی اس سے پیچھے ہٹ رہی تھی۔
"یزان بیٹا تمھارے چاچو کمرے میں ہیں انھیں بلاؤ جا کر۔۔۔
ؓمنحہ کو زبردستی پکڑ کر وہ یزان سے بولیں جو تیزی سے وہاں سے گیا تھا۔۔
"منحہ ماما کی جان کیا ہوا۔۔۔منال اسے سینے سے لَگاتیں لاؤنج میں آئیں تھیں جو سینے سے لگی روتی ہوئی سرگوشی کر رہی تھی۔
"ماما یزان بھائی منحہ کے دوست ہیں ناں وہ میرال آپی کہ دوست نہیں ہیں وہ منحہ کے دوست ہِیں۔۔۔وہ منحہ کے ہیں۔
"ہاں میری جان یزان بھائی صرف منحہ کے دوست ہیں۔۔منال اسے ساتھ لگائے ہی سوفے پر بیٹھی تھیں کہ بی جان بھی وہاں آکر اس پر دم کرنے لگیں
دیکھتے ہی دیکھتے شور کی آواز پر سب وہیں آگئے تھے منال نے نم ہوتی آنکھوں سے یزان کی جانب دیکھا تھا جسکے پاس میرال آکر کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔
یزان کی نظریں منحہ پر تھیں جو روتے روتے سو گئی تھی لیکن نیند میں بھی وہ بڑبڑا رہی تھی۔۔
"پھر دورہ پڑا ہے اسے۔۔۔داور اپنی نیند خراب ہونے کی وجہ سے چڑ کر اسے دیکھتے ہوۓ بسمہ سے بولا۔۔
"کیا اسے دورے پڑتے ہیں؟ ہالہ نے حیرت سے اس سے پوچھا۔۔
"ہاں جب اسے کوئی بات شدید ناگوار گزرے یا پھر وہ جسے یہ اپنی ملکیت سمجھنے لگے۔۔
"بیچاری۔۔۔ویسے ابھی تو یہ چھوٹی ہے بڑی ہو کر کیا کرے گی۔۔ہالہ داور کی بات سن کر آنکھیں گھما کر بولی۔۔
"ہاہاہا! اگر ایسا ہی رہا تو پاگل خانے جاۓ گی اور کیا۔۔۔داور ہنستے ہوۓ کہتا اپنے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا۔۔
دراب صاحب نے آگے بڑھ کر اپنی بیٹی کو گود میں اٹھا لیا تھا۔
"معافی چاہتا ہوں آپ سب کی نیند خراب ہوگئی۔
"کیسی بات کر رہے ہو دراب۔۔یہ صرف تمہاری بچی نہیں ہے ہماری بھی کچھ ہے خبردار آئیندہ یہ بات کی تو۔۔۔درانی صاحب نے یکدم ہی انھیں جھڑکا تھا۔۔باقی سب جیسے بھی ہوں لیکن بھائیوں میں محبت مثالی تھی۔۔۔۔
دراب صاحب پھیکا سا مسکراتے منحہ کو اٹھائے منال کہ ساتھ کمرے کی طرف بڑھ گئے تھے۔۔
"منال اچانک ایسا کیا ہوا تھا جو منحہ اس قدر آپے سے باہر ہوگئی ۔۔دراب صاحب منحہ کہ پاس ہی بیٹھے پریشانی سے پوچھنے لگے۔۔
"بھوک کی وجہ سے شاید۔۔۔.
"یہ کیا کہہ رہی ہو؟ ہماری منحہ بھوک میں تو بالکل خاموش ہوجاتی ہے منال۔۔۔دراب صاحب کو انکی بات پر ذرا برابر یقین نہیں آیا تھا'یقین تو منال بیگم کو خود بھی نہیں تھا لیکن جس بات کا انھیں احساس ہوگیا تھا وہ سوائے یزان کہ کسی سے بھی اس بات کا ذکر نہیں کر سکتی تھیں ایک ہی دن میں اگر منحہ کی یہ حالت ہوسکتی ہے تو آگے۔۔۔۔نہیں آگے تو وہ سوچنا بھی نہیں چاہتی تھیں۔۔
"منحہ پاپا کی شہزادی۔۔۔۔منال جب تک میں گھر پر نہ ہوں تم پلیز اسکے ساتھ رہا کرو۔۔۔دراب صاحب نے اپنی بیٹی کو پیار کرتے بھاری ہوتی آواز میں انہیں کہا تھا۔
"آپ فکر مت کریں میں خیال رکھوں گی اسکا۔۔۔منال بیگم نے آگے بڑھ کر انکے مضبوط کندھے ہاتھ رکھا تھا جن کی نظریں اپنی بیٹی پر جمی تھیں جہاں سفید گالوں پر آنسوؤں کی لکیریں واضح تھیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
"یزان تم کہاں تھے جب یہ ہوا؟ نور بیگم اسکے پیچھے آتے ہوۓ پوچھنے لگیں کیونکہ وہ جب وہاں آئیں تھیں تو ان چاروں کہ علاوہ وہاں کوئی نہیں تھا۔۔
یزان نے انکی بات پر گہری سانس لی تھی۔۔
"امی مجھے نہیں پتہ۔۔۔۔
"یزان تم جھوٹ بول رہے ہو۔۔۔نور بیگم نے سخت لہجے میں اسکی پشت کو گھورتے ہوۓ کہا تھا۔۔
"اگر میں وہاں تھا بھی تو اس میں کون سی انہونی والی بات ہے امی؟ یزان سپاٹ لہجے میں کہتا کپڑے لے کر باتھروم چلا گیا تھا۔۔
"دیکھا تائی جان۔۔۔،میرال جو کمرے کہ باہر کھڑی تھی کمر پر ہاتھ رکھتی نور بیگم کے قریب آئی۔۔
"کل آپ کہ کہنے پر میں بلانے گئی تھی پہلی بار اس پاگل کہ کمرے میں لیکن الٹا مجھے ہی ڈانٹ دیا تھا۔۔۔میرال لاڈ سے نور بیگم کہ کندھے پر سر رکھتے ہوئے بولی
"ارے کوئی بات نہیں سویٹی اسکی بات کا برا مت ماننا یزان دل کا برا نہیں ہے بس ہر کسی سے بے تکلف ہونا پسند نہیں ہے اسے
"ہمم سمجھ گئی۔۔میرال مصنوعی مسکراہٹ سے کہہ کر انکے ساتھ ہی کمرے سے نکل گئی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
یزان نہا کر جینس اور ٹی شرٹ میں ملبوس بالوں کو سیٹ کرنے کہ بعد پرفیوم چھڑکتا پیروں میں شوز پہن کر کمرے سے نکل کر منحہ کے کمرے کی طرف بڑھنے لگا جب منال بیگم کی آواز پر چونک کر رکتا انھیں دیکھنے لگا۔۔۔
"بیٹا کہاں جا رہے ہو؟
"وہ منحہ۔۔۔
"منحہ کی جب بھی ایسی کنڈیشن ہوتی ہے بیٹا وہ تین چار گھنٹے سے پہلے نہیں جاگتی اور جاگنے کہ بعد وہ بالکل نارمل ہوجاتی ہے۔۔۔منال بیگم نے اسکی بات اچک کر سنجیدگی سے بتایا تھا۔
"ٹھیک ہے لیکن وہ بھوکی تھی چاچی۔۔۔کیا کبھی آپ نے اسے اٹھانے کی کوشش کی ہے؟ یزان کے سنجیدگی سے پوچھنے پر وہ اسے دیکھتی رہ گئیں۔۔۔دل انجانے ڈر سے دھڑکنے لگا۔۔یزان کی ہمدردی انکی بیٹی کی زندگی کو کوئی نقصان ناں پہنچا دے۔۔
یزان کوئی جواب نہ پا کر خود ہی آگے بڑھنے لگا کہ منال بیگم سر جھٹک کر تیزی سے اسکے پیچھے بڑھی تھیں۔۔۔
"یزان بیٹا اس سے مت ملو تو سب کہ لئے بہتر ہے اس سے بھی زیادہ منحہ کے لئے اچھا ہے ۔۔منال بیگم کی بات پر اسکے قدم رکے تھے۔۔۔
گردن موڑ کر اس نے تعجب سے انھیں دیکھا تھا جو اسکے مقابل آئیں تھی۔
"میری بیٹی نارمل نہیں ہے یزان وہ دوسرے بچوں جیسی نہیں ہے۔۔۔تم لوگ ایک ڈیڑھ مہینے کہ لئے پاکستان آئے ہو ایسے میں تمہارا بار بار ملنا۔۔۔تمہیں نہیں لیکن اسے عادی بنا دے گا۔۔۔جانتے ہو سینے سے لگی اپنے ہوش میں نہ ہوتے ہوۓ بھی وہ مجھ سے تمہاری شکایت لگا رہی تھی کہ یزان بھائی صرف اسکے دوست ہیں۔۔اس لئے بہتر ہے جب تک یہاں ہو اس سے مت ملو بیٹا پلیز۔۔۔۔منال یزان کہ بازو پر ہاتھ رکھ کر اسے بول کر وہاں سے چلی گئیں جبکہ یزان دم سادے جہاں تھا وہیں کھڑا رہ گیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
"یار یزان ہمارے ساتھ بھی بیٹھ کر باتیں کرلو یا پاکستان آنا پسند نہیں آیا تمہیں؟ شام کا وقت تھا ایسے میں سب گھر کہ چھوٹے سے لان میں موجود چائے سے لطف اندوز ہورہے تھے۔
داور کے طنز پر یزان نے اسے دیکھ کر دوبارہ کپ کو میز پر رکھا تھا جبکہ ہانیہ بیگم نے گھور کر اپنے بیٹے کو دیکھا تھا۔۔۔
"لگتا ہے تمہاری نظر خراب ہے ورنہ یزان درانی بلی کا بچہ ہرگز نہیں ہے کیوں بلال بھائی۔۔لطیف سا طنز کرتا وہ اسے لاجواب کر گیا تھا جبکہ اسکی بات پر سب کہ چہروں پر مسکراہٹ دوڑ گئی تھی۔۔۔
"رہا سوال پاکستان کے پسند کا تو میرا پہلا عشق پاکستان ہے بیشک کینیڈا میں رہا ہوں لیکن میری پیدائش اور پہچان پاکستان ہے۔۔۔مجھے فخر بھی ہے اور اللّه کا شکر بھی کہ میں ایک پاکستانی ہونے کہ ساتھ مسلمان اور نبی صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کا اُمتی ہوں شکر الحمدلللہ۔۔یزان بات مکمل کرتا دوبارہ کپ کو اٹھاتا لبوں سے لگا چکا تھا جبکہ داور لب کچلتا پہلو بدل کر رہ گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
"کیسی طبیعت ہے بچہ؟ بی جان منحہ کہ بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوۓ پوچھنے لگیں جو انکی گود میں سر رکھ کر لیٹی دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔
"دیکھو تو ماما منحہ کہ لیے فرنچ فرائز بنا کر لائی ہیں۔منحہ کو پسند ہے ناں
منال بیگم ہاتھ میں ٹرے پکڑے اندر داخل ہوتے ہوۓ بولیں تھی جو دروازہ کھلنے پر منال بیگم کہ پیچھے دیکھنے لگی شاید وہ آیا ہو لیکن منال بیگم کے اندر داخل ہوتے ہی دروازہ بند ہوچکا تھا۔۔
"ماما یزان بھائی؟ منحہ کی چہخنے سے آواز بیٹھ گئی تھی۔۔۔
منال بیگم نے ایک نظر بی جان کو دیکھا پھر اسے جسکی آنکھیں رونے سے سوجی ہوئی تھیں۔۔۔
"منحہ یزان بھائی کو اچانک گھر جانا پڑا اسلئے کینیڈا واپس چلے گئے ہیں۔۔منال بیگم نظریں چرا کر اس سے جھوٹ بولتیں سامنے آکر بیٹھی تھیں بی جان جنھیں منال نے اپنا خدشہ ظاہر کیا تھا اپنی بہو کو دیکھ کر رہ گئیں۔۔
منحہ کی آنکھیں لبالب نمکین پانی سے بھر گئی تھیں۔۔
منال بیگم نے تیزی سے اسے سینے سے لگا کر کمر سہلانا شروع کی تھی۔
"ماما و وہ منحہ سے ناراض ہوگئے۔۔منحہ نے ان پر غصہ کیا تھا اس اسلیے وہ چلے گئے۔۔منحہ اچھی نہیں ہے۔۔۔منحہ گندی ہے۔۔۔منحہ گندی ہے۔۔۔منال بیگم کے سینے سے لگی وہ ایک بار پھر رو رہی تھی منال بیگم نے زور سے اسے بھینج لیا تھا بے آواز آنسوں آنکھوں سے بہتے منحہ کے سر پر گر رہے تھے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"یزان۔۔۔۔۔۔میرال کی آواز پر وہ جو کمرے کی سمت بڑھ رہا تھا آواز پر اسکی جانب متوجہ ہوا جو نک سک سی تیار اسکے قریب آئی تھی یکدم یزان کی سماعتوں میں منحہ کا رونا تڑپنا گونجتے ہی اسکا اظراب بڑھنے لگا تھا صبح سے اس نے ایک بار بھی منحہ کو نہیں دیکھا تھا اور اب منال بیگم نے اس پر پابندی لگا دی تھی کہ وہ اسکے سامنے نہ آئے
"وہ میں آپ سے معافی مانگنے آئی تھی کل جو ہوا اسکے لئے۔۔میرال کی بات پر اس نے گہری سانس لے کر اسے دیکھا تھا ۔۔
"اوکے۔۔۔یزان کہتے ہی جانے لگا کہ میرال دوبارہ اسکے سامنے آئی تھی۔۔
"میں واقعی شرمندہ ہوں میں منحہ سے بھی معافی مانگ لوں گی۔۔۔میرال نے کہتے ساتھ اپنا ہاتھ اسکے سامنے بڑھایا تھا۔
"اگر معاف کردیا تو پھر دوستی کریں آخر کو ہم کزنز بھی ہیں۔۔میرال کی بات پر اس نے میرال کا ہاتھ دیکھا تھا۔۔
"ہم کزنز ہیں تو پھر دوستی کی کیا ضرورت ہے کزنز کا دوسرا نام دوست ہی تو ہے لیکن شاید تم ٹھیک ہو کیونکہ سب کہ کزنز کزنز ہونے کا فرض نہیں جانتے ہیں۔۔۔سرد مہری سے کہتا وہ آگے بڑھ گیا تھا جبکہ میرال غصّے سے اسے گھورتی چلی گئی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ درانی؟ ہرگز نہیں میں یہاں نہیں رہ سکتی۔۔
"اس میں قباحت ہی کیا ہے نور۔۔
"یہ پوچھیں کیا نہیں ہے۔۔نور بیگم نے گھورتے ہوۓ انھیں کہا۔۔۔
"اچھا کیا نہیں ہے؟
"دیکھیں میں قطعی مذاق کہ موڈ میں نہیں ہوں ناں ہی آپکی بات مانوں گی۔۔
"آہ۔۔۔۔نور ٹھنڈے دماغ سے سوچو میرے کاروبار میں نقصان ہورہا ہے بہت، اسلئے میں نے فیصلہ کیا ہے کینیڈا میں اپنا گھر بیچ کر ہم یہیں اپنے ملک اپنے شہرِ کراچی میں اچھا سا گھر لے لیں گے اس سے ہم اپنوں کہ قریب بھی رہیں گے پلیز میرے لئے۔۔۔درانی صاحب نے انکے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بے بسی سے کہا کہ وہ سوچ میں پڑھ گئیں۔
"آہ! آپ میری محبت کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔۔۔
"اسے فائدہ اٹھانا نہیں کہتے بیگم۔۔
"اففف۔۔۔ٹھیک ہے لیکن میں اپنے گھر جاؤں گی تب تک آپ بھی واپس آجائیے گا۔۔۔
"صحیح ہے پھر میں اگلے ہفتے ہی نکلتا ہوں۔۔تھنک یو۔۔۔درانی صاحب سر ہلا کر مسکراتے ہوۓ انھیں اپنے گلے سے لگا چکے تھے۔۔
"گڑیا تم بہت بری ہو۔۔۔۔تمہاری وجہ سے یزان بھائی چلے گئے۔۔۔منحہ کہ یزان بھائی چلے گئے۔۔۔۔رات کہ ڈیڑھ بجے کا وقت تھا جب منحہ دبے قدموں چلتی ہوئی الماری کا دروازہ کھول کر سب سے نیچے کہ خالی خانے میں جا کر ٹانگوں کو موڑ کر خود سے لگا کر بیٹھتے ہوۓ گڑیا سے کہہ رہی تھی۔
"اب منحہ بھی تم سے ہمیشہ کہ لئے ناراض ہے۔۔تم بہت بری ہو۔۔بہت گندی ہو۔۔۔منحہ نے کہتے ساتھ اسے توڑنا شروع کیا تھا۔۔گڑیا کی دونوں ٹانگیں اور ہاتھ توڑ کر الماری سے باہر پھینک کر گڑیا کے چہرے کو غور سے دیکھنے لگی۔۔
(ٹھیک ہے مت بتاؤ پھر میں میرال سے دوستی کرلوں گا) یزان کی بات یاد آتے ہی اسکی آنکھوں میں جنون اتر آیا منحہ نے گڑیا کی گردن کو توڑ کر پھینکنے کہ ساتھ دھڑ کو بھی باہر ہی پھینکتے دونوں گٹھنوں کو سینے سے لگا کر سمیٹ کر بیٹھتی اپنی گڑیا کے ہر حصے کو بکھرا دیکھتی رہی یہاں تک کہ آنسوں پلکوں کی باڑ توڑ کر رخساروں پر پھسلتے چلے گئے تھے۔۔۔۔۔
"تم بہت بری ہو گڑیا۔۔اب کون بات کرے گا مجھ سے۔۔منحہ نے کہتے ساتھ اپنے دونوں ہاتھوں سے آنسوں پونچھے تھے۔۔۔
"منحہ کے ساتھ کوئی بات نہیں کرتا۔۔منحہ کہتے ساتھ گیلی سانس اندر کھینچتے سر اپنے گھٹنوں میں رکھ کر بڑبڑائے جا رہی تھی یہاں تک کہ منحہ وہیں بیٹھے بیٹھے سو چکی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یزان ایک گھنٹے سے سونے کی کوشش کرتا کروٹ پے کروٹ بدل رہا تھا لیکن نیند تھی جو آنکھوں سے روٹھ چکی تھی۔۔
بے چینی جب حد سے سوا ہوئی تھی خود پر سے چادر اتار کر بیڈ سے اتر کر کمرے کا دروازہ کھول کر اطراف کا جائزہ لینے لگا۔۔پورے گھر میں سناتا پھیلا ہوا تھا سوائے لاؤنج کہ دروازے پے جہاں ایک بلب روشن تھا جو کچن تک ہلکی روشنی پھیلا رہا تھا۔۔۔
"کیا مصیبت ہے آخر کیوں اتنی بے چینی ہے۔۔۔۔یزان جھنجھلا کر اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتا کمرے کا دروازہ بند کر کے چھت کہ زینے کی جانب بڑھنے لگا جب دروازہ کھلنے اور قدموں کی آواز پر یزان نے پلٹ کر پیچھے دیکھا تھا جہاں سے منال بیگم بدحواس سی اردگرد دیکھتیں دوسرے کمرے کی جانب بڑھنے لگیں کہ یزان تیزی سے ان کی طرف بڑھا تھا۔۔
منال بیگم کا کمرہ کھولتا ہاتھ بیچ میں ہی رہ گیا تھا۔
"چاچی کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے؟ یزان کی آواز پر وہ جھٹکے سے اسکی طرف پلٹی تھیں۔۔
"وہ۔۔۔۔وہ بیٹا.۔۔
"منحہ ٹھیک ہے۔۔۔منال بیگم کہ ہچکچانے پر یزان نے کچھ جھجھک کر ان سے پوچھا تھا جو اسکے سوال پر گہری سانس لیتے سر کو نفی میں ہلانے لگیں۔۔۔
"میرے ساتھ ہی کافی گہری نیند میں سو رہی تھی وہ تو اچانک باتھروم جانے کہ لئے اٹھی تو بستر خالی تھا دیکھنے کہ لئے اٹھی تو اسکی گڑیا کہ حصے جگہ جگہ بکھرے تھے اور الماری کا دروازہ کھلا۔۔۔۔اسے بتاتے ہوۓ یکدم ٹھٹھک کر خاموش ہوئی تھیں۔۔دونوں ہی اپنی جگہ ایک جگہ آکر ٹھٹھک گئے تھے اور اگلے ہی لمحے یزان تیزی سے بھاگا تھا۔۔۔
"منحہ۔۔۔منال بیگم کہ رونگٹے کھڑے ہوگئے تھے۔۔۔۔جانے منحہ کب سے۔۔۔منال بیگم نے سر جھٹکا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
یزان کمرے میں آتے ہی الماری کے ہر پٹ کھولنے لگا جب تیسرے پٹ کے کھولتے ہی آواز پر نیچے جھکا تھا سامنے ہی وہ خود میں سمٹی بیٹھی تھی۔۔۔۔منحہ جو سوچکی تھی یکدم دروازہ کھلنے پر نیند میں ہی زور سے سانس لی تھی۔۔۔
"منحہ۔۔۔۔یزان حیرت زدہ سا اسے دیکھتا وہاں سے نکال کر بیڈ تک لایا تھا جبکہ منال بیگم ساکت کھڑی اپنی بیٹی کو دیکھ رہی تھیں۔۔۔پہلی بار انھیں منحہ سے خوف آیا تھا۔
۔۔
یزان نے اسے لٹاتے ہی منحہ کی پشانی کو چھوا تھا جو بخار کی وجہ سے تپ رہی تھی۔۔
"چاچی اسے تو بہت تیز بخار ہورہا ہے۔۔یزان کی آواز پر جیسے وہ ہوش میں آئی تھِیں۔۔
"منحہ یہ کیا کردیا بیٹی۔۔منال بیگم منحہ کے سرہانے بیٹھتے ہوۓ نڈھال آواز میں استفسار کرنے لگیں۔۔
"چاچی اگر آپ کہیں تو ہم ہسپتال چلتے ہیں۔۔
"نہیں میں ابھی دوائی دے دیتی ہوں ان شاءلله کل تک ٹھیک ہوجاۓ گی۔۔منال بیگم کہ قطعیت سے کہنے پر وہ لب بھینچ کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔
"تمہارا بہت شکریہ بیٹا۔۔۔یہ بھی اللّه کا شکر ہے کہ میں جاگ گئی تھی اگر سوتی رہتی تو۔۔
"چاچی جو نہیں ہوا اسے سوچ کر خود کو تکلیف دینے سے کیا فائدہ ہے؟ اگر دوائی سے فرق نہ پڑے تو ہم ہسپتال بھی جا سکتے ہیں۔۔آپ بے جھجھک مجھے آکر جگہ دیجئے گا ۔۔
"تمہارا بہت شکریہ بیٹا میں منحہ کے ابو کو جگادوں گی ویسے بھی پہلی بار پاکستان آئے ہو جگہوں سے ناواقف ہوگے۔۔منال بیگم کی بات پر یزان مدھم سا مسکرایا تھا۔۔
"ٹھیک ہے جیسے آپ کو بہتر لگے۔۔یزان انہیں یہ نہیں کہہ سکا کہ وہ گوگل میپ کہ ذریعے بآاسانی کہیں بھی جا سکتا تھا وہ سمجھ گیا تھا منال بیگم نہیں چاہتی تھیں کہ منحہ اسے دیکھ لے۔
یزان مسکرا کر ایک نظر دوبارہ اسے دیکھتا کمرے سے نکلتا چلا گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
دو دن گزر چکے تھے منحہ کی طبیعت اب جا کر سمبھلی تھی۔۔۔
یزان نے ابھی تک اسے نہیں دیکھا تھا ایسے میں میرال اس سے بات چیت کرنے میں کسی حد تک کامیاب ہوگئی تھی بسمہ اپنی بہن کو دیکھ کر حیران تھی وہ جو گھر کہ کسی کام کو ہاتھ نہیں لگاتی تھی کالج جا کر ہی سب پر احسان عظیم کرتی تھی اب بڑھ چڑھ کر کاموں میں ہاتھ بٹا رہی تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
ایک ہفتہ گرج چمک کہ ساتھ بارش کا امکان تھا یہی وجہ تھی کہ صبح سے ہی موسم بہت ہی ابرِ آلود تھا۔۔
لاؤنج میں ہی سب بیٹھے تھے جب یزان نے ہاشم کو منحہ کے کمرے کی طرف بڑھتے دیکھا۔۔۔
"یزان پکوڑے۔۔۔۔میرال کی آواز پر اس نے سر جھٹکا تھا۔۔
"شکریہ۔۔۔میرال کے ہاتھ سے پلیٹ لیتے اس نے دوبارہ ترچھی نظروں سے ادھر دیکھا تھا شاید منحہ کمرے سے باہر نکل آئے لیکن یہ اسکی بھول تھی۔۔
"ؓبرو کہیں گھومنے جانے کا پروگرام بنائیں؟
"مثلا کہاں؟ یزان نے ہالہ کی آواز پر چونک کر اسے دیکھ کر آبرو اچکائی۔۔۔
"بیچ پر چلتے ہیں؟
"کوئی ضرورت نہیں ہے میرا سارا رنگ جل جاۓ گا۔۔میرال نے یکدم ہی بسمہ کو ٹوکا تھا۔۔
"اچھا تو پھر مووی دیکھنے چلتے ہیں نیوپلیکس پھر وہاں سے ڈنر۔۔۔
"نہیں مجھے موویز باہر جا کر دیکھنا پسند نہیں ہے اگر تم لوگ دیکھنا چاہتے ہو تو جا سکتے ہو۔۔۔۔یزان نے یکدم ہی داور کی بات کو رد کیا تھا۔۔
"پہلی ہار سن رہا ہوں میں یہ عجیب بات ہے۔۔
"اس میں عجیب کیا ہے؟ بڑی سی اسکرین ،اے سی کی ٹھنڈک گہرا اندھیرا ہاتھ میں پاپ کارن اور ڈرنک؟ یہ ماحول تو گھر میں بھی ہوسکتا ہے۔۔یزان مزے سے کہتا کندھے اچکاتا پکوڑے کھانے لگا جبکہ سب اسے دیکھتے چلے گئے۔۔
"آدم بیزار شخص۔۔۔۔میرال سوچ کر رہ گئی۔۔
"ٹھیک ہے پھر ایک کام کرتے ہیں لونگ ڈرائیور پر چلتے ہیں ڈنر کہ بعد پھر آئسکریم۔۔۔کیا کہتے ہیں؟
میرال نے بتاتے ساتھ یزان کو دیکھا جو ہاشم کو آتے دیکھ کر پہلو بدل کر رہ گیا تھا۔۔
"یزان۔۔۔۔
"ہمم ہاں ٹھیک ہے۔۔۔۔یزان نے چونک کر اسے جواب دیا جسکی پیشانی پر بل نمودار ہوئے تھے۔۔
"کیا بات ہے یزان لگتا ہے آپ کا دیھان یہاں نہیں ہے۔۔۔
"نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔میں ذرا آتا ہوں۔۔۔یزان اسے جواب دے کر اٹھ کر کچن کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔
کچن کی دہلیز پر روکتے ہی وہ الٹے قدموں لمبے لمبے ڈگ بھرتا منحہ کے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ا
۔۔۔۔۔۔۔
یزان نے جیسے ہی ہینڈل پر ہاتھ رکھا یکدم ہی لائٹ چلی گئی تھی۔۔
"بوندا باندی شروع نہیں ہوئی اور لائٹ بند۔۔۔۔ہاشم کی جھنجھلائی ہوئی آواز یزان کہ کانوں میں پڑی۔۔
سر جھٹک کر کمرے کا دروازہ کھولتا وہ اندر داخل ہوا تھا کہ منحہ کی سہمی ہوئی آواز اسکی سماعت میں پڑی اس سے قبل وہ آگے بڑھتا دروازہ کھول کر منال بیگم اندر داخل ہوئیں تھیں کہ یزان اندھیرے کا فائدہ اٹھاتا جلدی سے پردے کے پیچھے چھپ گیا تھا۔۔۔اسے نہیں معلوم تھا کہ وہ ایسی بچکانہ حرکت کیوں کر رہا ہے وہ بس اتنا جانتا تھا کہ ایک بار وہ منحہ کو دیکھ لینا چاہتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منال بیگم نے جلدی سے آگے بڑھ کر دراز سے ایمرجنسی لائٹ نکال کر چلائی تھی کہ کمرہ روشن ہوگیا تھا یزان کی نظر بیڈ پر پڑی تھی جہاں منحہ لحاف میں دبک کر بیٹھی بے آواز آنسوں بہاتی بری طرح کانپ رہی تھی۔۔
"منحہ ماما کی جان ماما آپکے پاس ہیں۔۔۔
"ماما کہاں چلی گئی تھیں منحہ کو اندھیرے سے ڈر لگ رہا تھا۔۔۔
"ہاں میرا بچہ ماما کو معلوم ہے لیکن اب ماما پاس ہیں ناں آپکے پاس۔۔۔منال بیگم اسے خود سے لگائے ہوۓ تھیں جبکہ یزان یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا۔۔
"منال منحہ ٹھیک تو ہے؟ بی جان کی آواز پر منحہ نے انھیں دیکھا تھا جبکہ یزان لب بھینچ گیا۔۔
"منحہ کو باہر لے اؤ۔۔۔
"نہیں۔۔میرا مطلب میں ہوں اسکے پاس۔۔۔منال بیگم یکدم گڑبڑائی تھیں۔۔
"منال جو تم کر رہی ہو وہ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔
"بی جان یہی بہتر ہے۔۔۔منال نے نظر چراتے ہوۓ منحہ کو دیکھا جو خفگی سے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی۔۔
"دادی مجھے باہر جانا ہے۔۔۔منحہ نے منانا کر بی جان سے کہا۔۔
"ہاں کیوں نہیں میری جان آجاؤ باہر بارش بھی ہو رہی ہے۔۔
"سچی؟ منحہ بارش کا سنتے ہی بستر ہر کھڑی ہوئی تھی کہ یزان مسکرا دیا تھا۔۔
"بی جان ابھی ابھی تو بخار اترا ہے اسکا اللّه نہ کرے پھر چڑھ جاۓ گا۔۔
"منال کیا ہوگیا ہے تمہیں؟ بہت ہوچکا۔۔۔آجاؤ منحہ۔۔بی جان انکے بار بار انکار پر جلال میں آئیں تھیں کہ منحہ نے سہم کر اپنی ماں کو دیکھا تھا۔
"دادی میں نہیں جا رہی۔۔۔منحہ نے کہتے ساتھ اپنی ماں کی گود میں سر رکھا تھا کہ منال بیگم نے نم آنکھوں سے اپنی بیٹی کو دیکھا تھا۔۔
"منال تم خود اپنی بچی کہ ساتھ ظلم کر رہی ہو۔۔
"بی جان۔۔۔منال نے دکھ سے انھیں دیکھا تھا۔
"بس منال مجھ سے ایک ہی بات بار بار مت دوہراؤ کہ وہ عادی ہوجاۓ گی کیا اسی ایک ڈر کی وجہ سے اسے کمرے میں قید کر کے رکھو گی تاکہ اسے دوسری بیماریاں گھیر لیں۔۔حد ہوتی ہے منال جس سے تم اسے چھپا رہی ہو وہ اب ہمیشہ کہ لئے یہیں رہنے والا ہے سمجھی۔۔۔بی جان غصّے میں انہیں کہتیں کمرے سے نکل گئیں۔
یزان جو پردے کے پیچھے چھپا تھا گہری سانس لیتا وہیں نیچے بیٹھ گیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
"ماما۔۔۔دادی نے غصہ کیا آپ پر؟ منحہ نے سر اٹھا کر منال سے پوچھا۔۔
"نہیں میری جان۔۔۔۔وہ شاید ٹھیک ہیں۔۔۔منال بیگم نے رندھی ہوئی آواز میں کہتے جھک کر اسکے سر پر پیار کیا تھا کہ یکدم ہی لائٹ آنے پر کمرہ روشنی میں نہا گیا تھا۔۔
منحہ نے تیزی سے اٹھ کر خوشی کہ اظہار پر تالیاں بجائی تھیں کہ منال بیگم اسے دیکھ کر ہنستی ہوئی ایمرجنسی لائٹ کو بند کرتی دراز میں رکھ کر اسے دیکھنے لگیں۔۔۔
یزان مسکراتے ہوۓ آہستہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔
"منحہ کسی کو تنگ نہیں کرنا ٹھیک ہے ناں؟ منال بیگم نے پیار سے اسکے بالوں کو ٹھیک کرتے ہوۓ کہا جس نے زور و شور سے سر کو اثباب میں ہلایا تھا۔۔
"ٹھیک ہے ماما منحہ کسی کو تنگ نہیں کرے گی۔۔۔منحہ کہ کہتے ہی منال بیگم کمرے سے نکلی تھی جبکہ منحہ جو جلدی سے اتر کر کمرے کہ دروازے تک پہنچی ہی تھی کہ آواز پر ساکت ہوگئی۔۔
"منحہ۔۔
"یزان بھائی۔۔۔منحہ نے پلٹ کر حیرت سے اسے دیکھا تھا جو اسکے مقابل کھڑا مسکرا رہا تھا۔
"منحہ۔۔
"یزان بھائی۔۔۔منحہ نے پلٹ کر حیرت سے اسے دیکھا تھا جو اسکے مقابل کھڑا مسکرا رہا تھا..
"کیسی طبیعت ہے منحہ کی؟ یزان قدم قدم چلتا اسکے قریب آکر جھک کر منحہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ پوچھنے لگا جو ہنوز بنا پلک جھپکے اسے دیکھ رہی تھی۔۔یزان کہ سامنے کھڑی وہ بالکل بچی لگ رہی تھی۔۔
یزان نے ہاتھ بڑھا کر اسکا ادھ کھلا منہ بند کیا تھا جبکہ منحہ اسکے لمس سے جیسے ہوش میں آئی تھی۔۔۔
"یزان بھائی۔۔۔منحہ کی آواز کہ ساتھ ناک بھی سرخ ہونے لگی تھی کہ یزان کہ مسکراتے لب یکدم سکڑے تھے۔۔۔
"رونا مت۔۔۔
"نا نہیں رو رہی ۔۔منحہ نے روتے ہوۓ سر نفی میں ہلایا تھا۔۔
"سچ میں منحہ نہیں رو رہی ناں؟
"سچی مچی۔۔۔منحہ نے دونوں ہاتھوں سے آنسوں پونچھتے ہوۓ رندھی ہوئی آواز میں کہتے اسے دیکھا کہ پھر منحہ کی آنکھ سے آنسوں ٹوٹ کر گرا تھا جسے اس نے انگلی کے پوروں سے چنا تھا۔۔۔
"منحہ نے رونا بند نہیں کیا تو یزان ناراض ہوکر واپس چلا جاۓ گا۔۔۔۔یزان نے اسے دھمکی دی کہ منحہ نے سر کو زور زور سے نفی میں ہلاتے اسکے بازو کو جکڑ لیا تھا۔
"نہیں یزان بھائی۔۔۔میں نہیں رو رہی دیکھیں۔۔منحہ نے کہتے ساتھ ایک ہاتھ سے آنسوں پونچھے تھے۔
"منحہ کو چھوڑ کر مت جائِیں منحہ کا کوئی دوست نہیں ہے۔۔۔کوئی بھی نہیں کھیلاتا اور۔۔اور میرال آپی یوں بال کھینچتی ہیں ا اور بسمہ آپی میری چاکلیٹ چھین لیتی ہیں۔۔داور بھائی بھی ڈانٹتے رہتے ہیں اور ہاشم بھائی ڈراتے ہیں ا اور وہ بلال بھائی تو بات ہی نہیں کرتے۔۔ منحہ سب کا رویہ بتانے کے ساتھ اشارے کر کہ بھی سمجھا رہی تھی کہ یزان نے لبوں کو سختی سے بھینچ لیا۔
"ششش!! میں ہوں ناں منحہ کا دوست پھر دوسروں کی کیا ضرورت ہے۔۔۔شاباش اب رونا بند کرو۔۔۔۔یزان اسے بہلاتا کمرے سے باہر لے کر نکل گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
"ماما دیکھیں یزان بھائی آگئے۔۔۔۔۔منحہ کی چہکتی ہوئی آواز پر سب نے گردن موڑ کر اسے دیکھا تھا۔۔۔میرال کی نظر اسکے ہاتھ پر پڑی تھی جس سے یزان کہ بازو کو پکڑا ہوا تھا۔۔۔
نور بیگم کہ ساتھ ہالہ نے بھی ناگواری سے منحہ کو یزان کہ ساتھ دیکھا تھا
کہاں انکا اتنا قابل بیٹا اور کہاں یہ چھٹانگ بھر کی ذہنی مریضہ۔۔۔تفاخر سے سوچتیں وہ اسے نحوست سے دیکھنے لگیں جو کھلے ہوۓ چہرے کہ ساتھ یزان سے سب کو ملواتی "یہ میرے پکے والے دوست ہیں" کہتی میرال کو زبان چڑا کر یزان کو لے کر باہر نکلی تھی میرال خونخوار نظروں سے اسے دیکھ کر سر جھٹک کر اٹھ کر باہر نکلی تھی کہ پیچھے ہی بسمہ اور ہالہ بھی بڑھی تھیں۔۔
"ارے بارش رک گئی۔۔۔منحہ نے دکھ سے کہتے سر اٹھا کر آسمان کی جانب دیکھا تھا جبکہ یزان ہلکی سی مسکراہٹ کہ ساتھ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔چھوٹی سی معصوم چہرے والی منحہ میں جانے ایسا کیا تھا کہ وہ اسکی طرف کھچتا چلا جا رہا تھا۔۔۔۔
"یزان ہمیں اب چلنا چاہیے۔۔۔۔میرال کی آواز پر دونوں نے چونک کر پیچھے دیکھا تھا جہاں اسکی بہن بھی کھڑی تھی۔
"ٹھیک ہے داور اور ہاشم کو بھی بلوا لو میں تب تک کپڑے بدل کر آتا ہوں۔۔
منحہ ناسمجھی سے کھڑی ان سب کو دیکھ رہی تھی جب یزان اس سے مخاطب ہوا تھا۔
"منحہ چلو تم بھی جا کر دوسری چپل پہن کر آؤ۔۔۔یزان مسکرا کر اسے کہتا اندر بڑھا تھا کہ وہ بھی اندر جانے لگی کہ ہالہ کے روکنے پر اسے دیکھنے لگی۔
"کہاں جا رہی ہو؟
"چپل پہننے۔۔۔منحہ نے اپنے مخصوص انداز میں ایڑیاں اٹھاتے ہوۓ بتایا۔۔
"کیا تمہیں سیدھا نہیں کھڑا ہونا آتا ؟
"سیدھی تو کھڑی ہوں۔۔۔منحہ نے اسکی بات پر اردگرد دیکھنے کے بعد کہا تھا کہ بسمہ ہنس پڑی تھی۔۔
"ہممم تو پھر یہ بندروں کی طرح اچھل کیوں رہی ہو؟ ہاں اور تم۔۔۔۔ابھی اسکا جملہ منہ میں ہی تھا کہ یزان بلیک شرٹ کے آستیں کہنیوں تک چڑھاتا وہاں آیا تھا۔۔
"چلیں؟ ارے منحہ چپل نہیں بدلی۔۔۔یزان نے کہتے ساتھ جیسے ہی اسے دیکھا پوچھنے لگا منحہ نے ہالہ کو دیکھا جو اسے آنکھیں دکھا رہی تھی۔۔۔
"آپی نے روکا مجھے۔۔۔منحہ نے کہتے ساتھ دوبارہ کھڑے کھڑے اچھلنا شروع کردیا۔
"ہالہ کیا بات ہے؟
"نہیں برو کچھ بھی نہیں وہ تو میں اسے کہہ رہی تھی کہ سیدھی کھڑی ہو دیکھیں ابھی بھی کیا کر رہی ہے۔۔۔
"یزان بھائی میں سیدھی کھڑی ہوں دیکھیں۔۔منحہ نے اسکی بات سن کر یزان کو یقین دلانا چاہا تھا جو اسے دیکھتے ہی مسکرانے لگا تھا۔۔
"ہاں بالکل منحہ ٹھیک کہہ رہی ہے چلو تم لوگ بیٹھو میں آتا ہوں۔۔چلو منحہ۔۔۔۔یزان انھیں کہتا منحہ کو لے کر اندر بڑھ گیا۔۔
"ہونہہ! پاگل لڑکی۔۔۔میرال تلملا کر رہ گئی تھی۔۔
"مما کو بتانا پڑے گا۔۔۔۔ہالہ پُرسوچ انداز میں غیر مرئی نقطے پر نظریں جمائے کہتے سر جھٹک کر گاڑی میں جا بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
یزان اس کے ساتھ کمرے میں آیا تھا منحہ چپل اتار کر دوسری چپل پہننے لگی جبکہ وہ کھڑا دونوں ہاتھ سینے پر باندھے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
منحہ چپل پہن کر ڈریسنگ ٹیبل پر دونوں ہتھیلیاں جماتی آئینے کہ بلکل نزدیک چہرہ لے جا کر دیکھنے لگی۔۔
"منحہ یہ کیا کر رہی ہو؟ یزان مسکراتے ہوۓ اسی کہ انداز میں کہنیاں ٹکا کر اسے دیکھنے لگا جس نے تیزی سے اسکی طرف چہرہ پھیرا تھا کہ وہ اسے اتنے نزدیک سے دیکھنے پر نظریں چرا گیا تھا۔
"آپی نے کہا میں بندر ہوں۔۔۔منحہ نے کہتے ساتھ دوبارہ آئینے میں دیکھتے ہوۓ اپنے چہرے کو چھوا تھا جبکہ یزان لب بھینچ گیا تھا۔۔۔
"منحہ ادھر دیکھو وہ مذاق کر رہی تھیں منحہ تو بہت پیاری ہے۔۔۔
"سچی۔۔۔منحہ اپنی تعریف سن کر دوبارہ اچھلتے ہوئے بولی تھی۔
"مچی۔۔۔۔چلو اب۔۔۔یزان اسکی ناک دباتا منحہ کو لے کر کمرے سے نکل گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
گھومنے پھرنے کے بعد وہ لوگ کولاچی(دو دریا) کھانا کھانے آئے تھے۔۔
ؓگاڑی سے اترتے ہی منحہ نے خوشی کہ اظہار پر اچھلتے ہوئے تالیاں پیٹنی شروع کردِیں تھی کے ہاشم نے آگے بڑھ کر اسکا بازو سختی سے پکڑ کر جھٹکا دیا تھا۔۔
"تمیز نہیں ہے جاہلوں والی حرکتیں مت کرو ورنہ گاڑی میں ہی بند کردوں گا۔۔
"یہ تو ہے ہی پاگل سب ہمیں ہی دیکھ رہے ہیں بے عزتی کروانے لے آئے ہیں اسے۔ داور نے بھی ناک چڑھا کر کہا تھا کہ وہ جسکا چہرہ یہاں آتے ہی کھل گیا گیا تھا بری طرح سہم گئی تھی۔۔
یزان جو بلال کہ ساتھ دونوں گاڑیاں پارک کرنے گیا تھا دور سے چلتے ہوئے انکے قریب آئے۔
"کیا بات ہے چلو اندر یا یہیں کھڑے رہنا ہے۔۔بلال کی بات پر وہ سب آگے پیچھے چلنے لگے منحہ سہم کر انھیں دیکھتی وہ اب آہستہ آہستہ سر جھکا کر چلنے لگی جب اپنے برابر میں کسی کی موجودگی کہ احساس پر اس نے سر اٹھا کر دیکھا تھا۔
"یزان بھائی۔۔۔یزان نے اسے دیکھا تھا۔۔
"تم ٹھیک ہو؟ کسی نے کچھ کہا ہے؟ یزان اسکی بھیگی پلکیں دیکھتا ٹھٹک گیا تھا۔۔
"نہیں 'نہیں تو۔۔۔۔منحہ نے ڈر کر تیزی سے سر نفی میں ہلایا تھا کہ وہ اسے دیکھتا رہ گیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔
میز کہ گرد بیٹھے سب باتوں میں مصروف تھے جب ہالہ بسمہ اور میرال کہ ساتھ اٹھ کھڑی ہوئیں۔
"ہالہ سیلفی لیتے ہیں ادھر کھڑے ہوکر۔۔۔
"ہاں یزان کو بھی بلا لو ویسے پھر پہلی بار آئے ہو۔۔۔بسمہ کی بات پر میرال نے بالوں کو آگے کرتے ہوۓ ہالہ سے کہا تھا۔۔
Bro plz come lets take a selfie...
ہالہ کی آواز پر وہ جو مینیو دیکھ رہا تھا چونک کر اسکی طرف متوجہ ہوا۔۔
"تم لوگ لو میں ذرا آرڈر کر دوں۔۔۔یزان کہتے ساتھ منحہ کی طرف گھوما تھا جو مسکرا کر کرسی پر ہی بیٹھی گردن اونچی کر کے پانی کو دیکھ رہی تھی۔۔
"منحہ کیا کھاؤ گی؟ یزان اسے جواب دیتا منحہ سے بولا جو کھانے کا سن کر آگے بڑھ کر اسکے ہاتھ میں پکڑے مینیو کارڈ پر دیکھنے لگی۔۔
میرال نے مٹھیاں بھینچ کر اسے دیکھا تھا جبکہ ہالہ نے بھی کافی ناگواری سے اسے دیکھا تھا یزان درانی جس پر گوریاں بھی اپنا دل ہار بیٹھتی تھیں جس سے بات کرنے کہ لئے وہ ہالہ سے دوستی کرتیں تھیں آج انہی کی بارہ سالہ دماغی مریضہ کزن کیسے اسکے ساتھ جڑ کر بیٹھی تھی اور اسکا بھائی۔۔۔
"جادوگرنی۔۔۔۔ہالہ سر جھٹک کر بڑبڑائی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
ہلکی پھلکی باتوں کے دوران سب کھانا کھا رہے تھے جبکہ منحہ جس نے یزان کی دیکھا دیکھی چکن منچورین ود رائس منگوا لیے تھے جسے وہ کھا کم چمچ سے شور زیادہ مچا رہی تھی۔۔
"منحہ تمیز سے نہیں کھا سکتی ہو۔۔میرال نے گھورتے ہوۓ اسے جھڑکا تھا۔۔
"آرام سے میرال۔۔۔۔یزان نے ہلکی آواز میں اسے کہا تھا۔۔
"یزان وہ ٹھیک کہہ رہی ہے۔۔محفل کہ کچھ آداب ہوتے ہیں اپنے کمرے میں نہیں ہے یہ۔۔۔داور نے بھی جھٹ اسے کہا تھا ماحول میں یکدم ہی بدمزگی پھیلنے لگی تھی منحہ ہاتھ روکے گہری سنجیدگی سے سب کو دیکھ رہی تھی۔۔
منحہ کا بچہ دماغ ضرور تھا لیکن وہ سمجھدار تھی ہر کسی کا رویہ سمجھتی تھی۔۔
"داور یہ۔۔۔
"پلیز یار اب تم لوگ بحث شروع مت کردینا کتنے لوگ ہیں آس پاس۔۔۔بلال نے یکدم ہی یزان کو ٹوکتے ہوۓ ان سب سے کہا تھا۔۔
"منحہ گڑیا کھاؤ لیکن چمچ پلیٹ میں زور سے نہیں مارنا بری بات ہوتی ہے۔۔۔۔بلال نے منحہ سے کہا تھا جس نے سر ہلا کر بہت آہستہ سے اس بار چمچ پلیٹ پر رکھا تھا۔۔
یزان کا دل یکدم ہی ہر چیز سے اچاٹ ہوا تھا۔۔
"تم لوگ کھاؤ۔۔۔
"یزان یار اب تو بات ختم ہوچکی ہے۔۔۔۔ہاشم نے اسے روکتے ہوۓ کہا تھا۔
"بالکل ہوچکی ہے لیکن میں نے جتنا کھانا تھا کھا لیا ہے تم لوگ بھی کھانا ختم کر کہ آجانا میں گاڑی میں ہوں۔۔۔یزان سنجیدگی سے کہتا آگے بڑھ گیا تھا کہ منحہ بھی اٹھ کر تیزی سے پیچھے گئی تھی۔۔
ریسٹورنٹ میں رش تھا اس سے قبل وہ اس تک پہنچتی کسی لڑکی سے ٹکرا گئی۔۔۔
"اندھی ہو۔۔۔۔مقابل نے غصے میں اسے دھکا دیا تھا کہ یزان نے بھی رک کر پیچھے دیکھا۔۔
"منحہ۔۔۔یزان تیزی سے اسکی طرف بڑھا جو اسکے دھکا دینے پر رونے والی ہوگئی تھی۔۔
"تم ہوگی اندھی بلبٹوری ناسہ چوڑی کہیں کی تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی ہماری کزن کو دھکا دینے کی۔۔۔بسمہ نے تڑاخ کر اسے دھکا دیتے ہوۓ کہا تھا کہ سب ہنسنے لگے تھے۔۔
"یو۔۔۔
"چل چل یو کی بچی۔۔۔چلو منحہ ہونہہ چلتا پھرتا لنڈا بازار۔۔۔بسمہ سر تا پیر اسے دیکھ کر کہتی منحہ کو لیے کر آگے بڑھنے لگی جب اس لڑکی کہ ساتھ آیا لڑکا ان سے لڑنے پہنچ گیا تھا یزان سب کو دیکھ کر نفی میں سر ہلاتا منحہ کا ہاتھ پکڑ کر صدر دروازے کی جانب بڑھ گیا تھا جبکہ منحہ ڈری سہمی یزان کہ ساتھ گاڑی تک پہنچی تھی ۔
"یزان بھائی۔۔منحہ کی سہمی ہوئی آواز پر اس نے مسکرا کر منحہ کو دیکھا تھا۔۔
"فکر مت کرو اپنی عزت انسان کے خود کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔۔اب دیکھ لو پڑھے لکھے جاہل بھی جنگ کہ میدان میں کھود کر صلح کروانے کے بجائے خود بھی تلواریں لئے پہنچ گئے۔۔۔
"کیا کہہ رہے ہیں یزان بھائی منحہ کو کچھ سمجھ نہیں آیا۔۔۔منحہ ہونکوں کی طرح پوچھنے لگی جسے اسکی بات کی زرا بھی سمجھ نہیں آئی تھی۔۔۔
یزان اسے دیکھ کر مسکرایا تھا۔۔
"کچھ نہیں پیاری آنکھوں والی۔۔۔یزان نے کہتے ساتھ گاڑی کا دروازہ کھولا تھا۔۔
منحہ کے بیٹھتے ہی سب بھی آچکے تھے میرال نے بیٹھتے ہی منحہ کے پیر پر اپنی سینڈل اسکے پیر پر رکھتے دباؤ دیا تھا کہ وہ تڑپ اٹھی تھی۔۔
"منحہ کیا ہوا۔۔یزان نے تیزی سے اسے دیکھ کر پوچھا تھا۔
"سوری سوری میرا پیر غلطی سے لگ گیا تھا۔۔اس سے قبل منحہ اسے دوبارہ ذلیل کرواتی میرال نے خود ہی بتا دیا تھا۔۔
گاڑی کے رکتے ہی سب اتر کر اندر بڑھنے لگے تھے منحہ جیسے ہی گاڑی سے اتر کر درد ہوتے پیر کہ ساتھ آگے بڑھی ہی تھی کے پلٹ کر یزان کو دیکھنے لگی جو میرال کے پاس کھڑا تھا۔۔
"یہاں کیوں کھڑی ہو چلو اندر۔۔داور کے قریب آکر کہنے پر وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی جس نے اسکے دیکھنے پر ایک قدم آگے لیا تھا۔
"جانتی ہو تمہیں چاچو چاچی کہ علاوہ کوئی باہر کیوں نہیں لے کر جاتا ہے؟ داور سخت نظروں سے اسے دیکھتا ہلکی آواز میں بولا تھا کہ منحہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا تھا۔
"باولی کہیں کی مجھ سے پوچھو کیوں۔۔بولو۔۔۔۔داور نے اس بار اسکی کلائی پکڑی تھی۔۔
"کیا؟
"کیا نہیں بولو کیوں۔۔
"کک کیوں؟ منحہ سہم کر اپنی کلائی اسکی گرفت سے چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی۔۔
"گڈ۔۔۔۔تو سنو منحہ دراب۔۔تم اس لائق نہیں ہو کہ تمہیں کہیں لے جایا جا سکے۔۔۔تم پاگل ہو سنا تم نے ایک پاگل،آج تمہاری وجہ سے کتنی بےعزتی ہوئی ہے ہم سب کی۔۔۔بہت شوق ہے تمہیں گھومنے کا ہاں۔۔۔۔
"کیا ہو رہا ہے وہاں۔۔یزان کی آواز پر وہ جو اسکی طرف جھک کر منحہ کے اندر تور پھوڑ کر چکا تھا منحہ کو چھوڑ کر اسکی طرف متوجہ ہوا جو سخت تاثرات لیے ان دونوں کے نزدیک آیا تھا۔۔
منحہ نے تیزی سے سر جھکایا تھا۔۔
"کچھ نہیں میں بس اس کا پیر دیکھ رہا تھا بیچاری کو درد ہورہا ہے۔۔۔داور اسے کہتا وہاں سے اندر بڑھ گیا تھا۔۔
اسکے جاتے ہی میرال بھی آندھی طوفان بنی منحہ کے پاس سے گزری تھی۔۔
"منحہ پیر دکھاؤ۔۔۔۔۔یزان کہتے ساتھ پنجوں کہ بل بیٹھتے اسکے پیر کو ہاتھ لگانے لگا جو اس سے تیزی سے پیچھے ہوئی تھی۔۔
"منحہ کیا ہوا دکھاؤ مجھے۔۔
"نہیں۔۔۔منحہ نے چیخ کر کہتے اندر کی جانب دوڑ لگادی تھی جبکہ یزان حیرت زدہ رہ گیا۔۔
۔۔۔۔۔
دس منٹ سے وہ کمرے میں ٹہل رہی تھی غصّہ تھا کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا۔۔
"اوہ فو کیا ہوگیا ہے میرال تم کیوں اس چھوٹی سی بچی کہ ساتھ اپنا مقابلہ کر رہی ہو یار۔۔۔۔
"نہیں ہالہ میں نے سوری بھی کہا تھا لیکن وہ مکار لڑکی جب سے تم لوگ آئے ہو مجھے ذلیل کروائے جا رہی ہے،مجھے تو ابھی بھی حیرت ہے یزان کیسے اسے ہمارے ساتھ لے کر گئے ہمارا اور اسکا کوئی مقابلہ نہیں ہے، ناں ہی اسے یوں کبھی چاچی کے بغیر کہیں لے کر جاتے ہیں۔۔۔میرال نے اسکی بات پر جھٹکے سے اسے دیکھ کر بتایا تھا۔۔
"یہ تو تم ٹھیک کہہ رہی ہو ایسے لوگوں کا تو کوئی بھروسہ بھی نہیں ہوتا۔۔
"وہی تو۔۔۔خیر میں نے سوچا ہے کل ہم شاپنگ پر چلیں؟
"ہاں کیوں نہیں مجھے تو بہت پسند ہے شاپنگ کرنا۔۔میرال کی بات پر ہالہ نے پرجوش انداز میں کہا تھا کہ وہ مسکرا کر یزان کے بارے میں سوچنے لگی۔۔
"یزان بہت کرچکے ذلیل اب تم دیکھنا کیسے میں تمہیں اس منحہ سے دور کر کے اپنی جگہ بناتی ہوں ۔۔۔میرال سوچتے ہوۓ مسکرا کر اپنے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
رات کے بارہ بجے کا وقت تھا منحہ جو چت لیٹی چھت پر نظریں مرکوز کیے ہوئے تھی بادلوں کی گڑگڑاہٹ پر تیزی سے اٹھ کر کمرے سے نکلی۔۔۔۔جب بسمہ کو چھت پر جاتا دیکھتی خود بھی اسکے پیچھے بھاگی تھی۔۔
"منحہ اوپر مت جاؤ۔۔۔منال بیگم کی آواز پر منحہ کہ قدم رکے تھے۔
"کیوں ماما؟
"طبیعت خراب ہوجاۓ گی آجاؤ ماما منحہ کو کہانی سناتی ہیں۔۔۔۔منال اسے بہلا کر اسے کمرے میں لے کر جانے لگی جو بار بار پلٹ کر سیڑیوں کی جانب دیکھ رہی تھی منال اسے لے کر کمرے میں چلی گئی دونوں کہ جاتے ہی نور بیگم نحوست سے سر جھٹک کر کمرے میں جانے لگیں۔۔
(منال مجھے کچھ بات کرنی ہے تم سے۔۔نور بیگم موقع ملتے ہی منال بیگم کہ پاس آئیں تھیں جو منحہ کے لیے ملک شیک بنائے کی تیاری کر رہی تھیں۔
"جی بھابھی کہیں نا؟
منال کے مسکرا کر کہنے پر نور بیگم نے دروازے کی طرف دیکھا تھا پھر چل کر انکے ساتھ آکر کھڑی ہوئیں۔
"دیکھو منال میری بات کو غلط مت سمجھنا۔۔۔منحہ بہت پیاری بچی ہے ابھی صرف بارہ سال کی ہے ایسے میں یزان اسے چھوٹے بچوں کی طرح ٹریٹ کر رہا ہے لیکن منحہ اس چیز کو کوئی اور رنگ نہ دے دے۔۔۔تم سمجھ رہی ہو ناں؟
"یہ کیا کہہ رہی ہیں بھابھی آپ؟ ایک طرف اسے آپ بچی کہہ رہی ہیں اور دوسری طرف۔۔۔منال بیگم کو بے وقت غصّہ اور رونا آنے لگا وہ کیسے انکی معصوم بچی کہ لئے ایسی باتیں کر سکتی تھیں۔۔
"آہ! منال تم مجھے غلط مت سمجھو لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم ایک مہینے تک یہاں سے شفٹ ہوجائیں گے اسکے بعد سوچا ہے کیا ہوگا؟ کیونکہ یہ تو تہہ ہے کہ یزان کہ لئے ہم نے ایک ایجوکیٹڈ لڑکی کا ہی تصور کیا ہے جو ہر طرح سے پرفیکٹ ہوگی باکل ایک محبوب بیوی کی طرح نہ کے کوئی بچی۔۔اسلئے بہتر ہے کہ منحہ کو تم خود اس سے دور رکھنے کی کوشش کرو۔۔۔آج ریسٹورنٹ میں بھی اسکی وجہ سے سب کو اتنی شرمندگی اٹھانی پڑی تھی،امید ہے تم سمجھ گئی ہوگی۔۔نور بیگم اپنی بات مکمل کرتیں کچن سے نکل گئیں تھیں۔یہ جانے بنا کہ انکی باتوں نے منال بیگم کہ دل کو کتنا زخمی کردیا تھا)
"ماما منحہ کو بارش پسند ہے۔۔۔۔
"ہاں میری جان ماما جانتی ہیں منحہ کو کل ماما پارک لے کر جائیں گی۔۔منال بیگم اسکے ساتھ لیٹتے ہوئے بولیں تھیں۔۔
"ماما جھولے پر بھی جائیں گے۔۔
"ہمم۔۔
"اور آئسکریم بھی کھائیں گے
"ہمم ٹھیک ہے۔۔۔منال دوبدو جواب دیتیں اسکی پیشانی چومنے لگیں
"ماما یزان بھائی بھی جائیں گے؟ منحہ کی بات پر منال بیگم اسے دیکھنے لگیں۔۔
"ماما بتائیں ناں۔۔۔
"منحہ سوجاؤ شاباش۔۔۔۔منال بیگم بنا کوئی جواب دیے اسکا سر دوبارہ اپنے بازو پر رکھتے ہوۓ بولیں تھیں کہ وہ معصومیت سے انھیں دیکھنے لگی۔۔
"آنکھیں بند کرو شاباش۔۔۔منال بیگم کہ دوبارہ کہنے پر منحہ نے آنکھوں کو تیزی سے بند کیا تھا کہ منال بیگم اسے دیکھتی چلی گئیں۔۔
۔۔۔۔۔۔
بارش سے لطف اندوز ہوتی میرال یزان کو ہاشم کہ ساتھ کھڑا دیکھ کر انکی جانب بڑھی تھی۔۔
"چلو میں جا رہا ہوں۔۔ہاشم کی بات پر میرال خوش ہوگئی تھی ہاشم کہ جاتے ہی یزان بھی جانے لگا کہ میرال نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا تھا یزان نے چونک کر اسے دیکھا تھا جو بری طرح بھیگی ہوئی تھی کہ شلوار قمیض اسکے جسم سے چپک گئے تھے۔۔۔
"یزان ناراض ہیں؟
"نہیں۔۔۔سنجیدگی سے کہتا وہ اپنا ہاتھ چھڑوا کر جانے لگا تھا کہ میرال ہلکی سی چیخ کہ ساتھ زمین بوس ہونے لگی تھی کہ یزان نے بے ساختہ اسے بچانے کے لئے میرال کو کمر سے پکڑ کر جھٹکا دیا تھا کہ وہ اسکے سینے سے ٹکرائی تھی۔۔
تیز بارش ہنوز برس رہی تھی چھت پر موجود واحد بلب بھی روشن تھا کہ یَکدم ہی لائٹ جانے پر اندھیرا بڑھ گیا۔۔۔۔۔
ایک طرف سب کزن شور کرنے کہ بعد دوبارہ ہنسی مذاق میں لگ گئے تھے یزان نے تیزی سے اسے پیچھے کیا تھا کہ میرال نے اسکی ٹی شرٹ پکڑ کر اپنی جانب کھینچا تھا۔۔
"کیا بدتمیزی ہے میرال۔۔۔یزان نے سب کی موجودگی کی وجہ سے دبی دبی آواز میں غصّے سے کہا تھا ورنہ تو دل کر رہا تھا اسکا منہ توڑ دے۔۔
"یزان کیا ہم دوست نہیں بن سکتے۔۔۔میرال کہتے ساتھ اسکے رخسار پر ہاتھ رکھ کر اپنا چہرہ اسکے نزدیک کرنے لگی کہ یزان کی گرم سانسیں اسکے چہرے پر پڑھتی میرال کو مدہوش کر رہی تھی۔۔
"یزان آئ آئ ریلیی لائک یو سو مچ پتہ نہیں لیکن یں آپکو بہت پسند کرنے لگی ہوں۔جانتی ہوں یہ ٹھیک نہیں ہے پر میں خود کو کہنے سے روک نہیں سکی ۔۔۔میرال کہتے ساتھ یزان کہ گال کو سہلاتی ہوئی نزدیک ہونے لگی۔۔
"میرال اپنی حد میں رہو۔۔
یزان نے زور سے اسکا ہاتھ پکڑ کر جھٹکا تھا۔۔
"میرال۔۔۔داور کی آواز پر وہ تیزی سے یزان سے دور ہوتی انکی جانب بڑھی تھی جبکہ یزان غصّے سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا سیڑیاں عبور کر چکا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"یزان یونیورسٹی میں ایڈمشن لینے کہ بارے میں کیا سوچا ہے؟
یزان جیسے ہی ناشتے کہ لئے کرسی کھینچ کر بیٹھا بلال کہ سوال پر چونکا۔۔
"یزان کل کینیڈا جا رہا ہے میرے ساتھ۔۔۔۔درانی صاحب کی بات پر سب نے حیرت سے انھیں دیکھا جبکہ یزان کی حالت بھی ان سے مختلف نہیں تھی جبکہ میرال جو وہیں آرہی تھی لڑکھڑا کر رہ گئی۔
"یزان چلا جاۓ گا۔۔۔۔میرال سوچ کر ہی لب بھینچ گئی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
"پاپا آپ نے تو اس بارے میں کوئی بات نہیں کی۔۔۔
"میں بات کرنے ہی والا تھا یزان ویسے بھی میں چاہتا ہوں تم وہیں سے اپنی تعلیم مکمل کرو۔
"درانی اگر ایسا ہے تو گھر کیوں بکوا رہے ہو؟ بی جان کی بات پر نور بیگم نے پہلو بدلہ تھا۔۔اسکا حل میں نے پہلے سے سوچ لیا ہے میرا ایک دوست ہے وہاں رہے گا یہ۔۔۔درانی صاحب اطمینان سے کہتے ناشتے کرنے لگے جبکہ یزان اٹھ کر وہاں سے چلا گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
"امی یہ سب کیا ہے؟ پاپا نے اچانک یہ فیصلہ کیوں کیا؟
"یزان اس میں برائی ہی کیا ہے بیٹا؟ نور بیگم نے اسے دیکھا جو بری طرح بے چین ہوگیا تھا۔۔
"پاپا اگر مجھ پر پیسہ لگا دیں گے تو گھر اور کاروبار کا کیا ہوگا امی کیا یہ سوچا ہے؟
"آہ! بس اتنی سی بات؟ ہم بے فیصلہ کیا ہے ہم یہیں رہیں گے۔۔۔نور بیگم کی بات پر یزان انھیں دیکھنے کہ بعد گہری سانس لے کر رہ گیا۔
"ٹھیک ہے۔۔یزان انھیں کہتا کمرے سے نکل گیا۔۔
"مما آپ کو لگتا ہے یہ فیصلہ ٹھیک ہے؟ برو کی پڑھائی جیسے ہی مکمل ہوگی وہ یہیں آئیں گے اسکے بعد؟
"ڈونٹ وری ہالہ یہ وقتی ہمدردیاں جلد ہی ختم ہوجاتی ہیں اور تمہیں کیا لگتا ہے وہ پڑھائی مکمل کر کے واپس آ بھی گیا تو اس پاگل کہ لئے پاگل ہوگا؟ ہرگز نہیں۔۔۔نور بیگم نے ناک چڑھا کر کہتے اپنی بیٹی کو دیکھا تھا جو مسکرا کر کمرے سے نکل گئی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح سے شام ہوگئی تھی اسے یزان کو دیکھے پارک میں بھی اسکا دل نہیں لگ رہا تھا۔۔۔
"ماما گھر چلیں۔۔۔منحہ اچھلتی کھودتی منال بیگم کہ پاس آئی تھی جو اپنی دوست سے باتیں کر رہی تھیں۔۔
"ٹھیک ہے ابھی چلتے ہیں۔۔آپ جب تک سفیان بھائی کے ساتھ کھیلو۔۔۔منال بیگم کی بات پر وہ دوبارہ سر ہلاتی سفیان کہ پاس پہنچی تھی وہ جو اس سے تین سال بڑا تھا منہ بنا کر اسے دیکھنے لگا۔۔
ؓمنحہ خوبصورت تھی لیکن اسکی حرکتوں سے وہ چڑتا منحہ کو کھیل کھیل میں ہی مارتا رہتا تھا۔ ۔
"سفیان بھائی میں بھی کھیلوں گی۔۔۔منحہ کی بات پر سفیان نے اپنے دوست کو دیکھا تھا۔۔
"ٹھیک ہے پھر اسے کھیچ کرو۔۔۔۔سفیان نے مسکراہٹ دباتے ساتھ اسکی جانب گیند اچھالی تھی جو سیدھا اسکی پیشانی پر جا کر لگی تھی کہ سفیان اور اسکے دوست نے ایک دوسرے کہ ہاتھ پر ہاتھ مار کر قہقہہ لگایا تھا۔۔
"ماما۔۔!! منحہ نے دونوں ہاتھوں سے اپنی پیشانی پر ہاتھ جمائے تھے سفیان اسکے چیخنے پر تیزی سے اسے خاموش کروانے کہ لئے آگے بڑھا تھا ورنہ اسکی شامت پکّی تھی۔۔
"یار منحہ کیچ کرتی نہ۔۔۔سفیان اسکے ہاتھ ہٹا کر پیشانی کو دبانے لگا جو زور زور سے رو رہی تھی۔۔
"منحہ کیا ہوا ماما کی جان۔۔
"آنٹی وہ ہم کیچ کیچ کھیل رہے تھے غلطی سے اسکے سر پر لگ گئی۔۔۔سفیان کہ دوست نے جلدی سے اپنے دوست کی گواہی دی تھی۔۔۔فاطمہ بیگم نے جانچتی نظروں سے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا تھا وہ جانتی تھیں سفیان کی حرکتیں۔۔۔
"ممی آپ ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں میں نے جان کر اسے چوٹ نہیں پہنچائی ہم تو دوست ہیں۔۔ہیں نا منحہ۔۔
"منحہ تمہاری دوست نہیں ہے۔۔۔منحہ روتے ہوۓ اپنی بہتی ہوئی ناک کو اسکی جیکٹ سے صاف کرتی اپنی ماں کہ ساتھ جانے لگی۔۔
"یک گندی۔۔۔۔سفیان چیخا تھا جو اسے زبان چڑا کر منال بیگم کہ ساتھ آگے بڑھ گئی تھی جبکہ منال بیگم نے اشارے سے ہی فاطمہ بیگم سے معذرت کی تھی جو اپنے بیٹے کی حرکت کی وجہ سے خود شرمندہ تھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یزان لان میں چہل قدمی کرتا منحہ کے آنے کا انتظار کر رہا تھا ہلکی ہلکی بوندا باندی جاری تھی۔۔صبح سے اس نے ایک بار بھی منحہ کو نہیں دیکھا تھا وہ اسکے لئے پریشان تھا آخر کیسے اسے بتاۓ گا کہ وہ کل جا رہا ہے اور وہ کیا اسے سمجھا سکے گا۔۔۔
"یزان ۔۔میرال کی آواز پر یَکدم ہی غصّے سے اسکی گردن کی رگیں تنی تھیں۔۔۔میرال کی حرکت معافی کے لائق نہیں تھی۔۔اسکی جگہ اگر وہ ایسی حرکت کرتا تو یقیناً اسکا اپنا ہی باپ اسے گھر سے بے دخل کردیتا۔۔
"یزان میں بہت شرمندہ ہوں۔۔۔میرال کہ یَکدم کہنے پر وہ طنزیہ مسکرایا تھا۔۔
"واقعی میرال؟ چلو فرض کرو اگر میں کل تمہاری حوصلہ افزائی کرتا پھر کیا کرتی تم؟
"یزان پلیز میں سچ میں تمہیں پسند کرتی ہوں۔۔۔میرال کی نظر گیٹ سے اندر آتی منال بیگم اور منحہ پر پڑی تھی کہ میرال نے آگے بڑھ کر یزان کا ہاتھ پکڑا تھا۔۔
منال بیگم انھیں دیکھتے ہی منحہ کو وہاں سے لے جانے لگی تھیں۔۔
"گیٹ لاسٹ۔۔۔۔یزان اسے کہتا جیسے ہی پلٹا تھا کہ منال بیگم اور منحہ کو جاتا دیکھ کر تیزی سے انکی طرف بڑھا تھا جو منحہ کو کمرے میں جاتے ہی لاک لگانے لگی تھیں کے یزان تیزی سے اندر داخل ہوا تھا ۔۔
"چاچی۔۔۔
"کیا بات ہے یزان بیٹا؟
"یزان بھائی۔۔۔منحہ اسے دیکھتے ہی تیزی سے قریب آکر سر اٹھا کر اپنی پیشانی دکھانے لگی جو تیزی سے پنجوں کہ بل بیٹھا تھا۔۔
"منحہ گڑیا یہ چوٹ کیسے لگی؟ یزان نے اسکی پیشانی دیکھتے ہوۓ پوچھا جہاں سفید پیشانی پر سرخ دائرہ بنا ہوا تھا۔
"یزان بیٹا کھیلتے ہوۓ بال لگ گئی تھی۔۔
"نہیں ماما سفیان بھائی نے مارا۔۔۔منحہ نے جھٹ سے نفی میں سر ہلاتے ہوۓ کہا تھا کے یزان منال بیگم کو دیکھنے لگا۔۔
"یزان کیا بات ہے؟ منال بیگم کے پوچھنے پر وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔
"چاچی دراصل کل میں جا رہا ہوں۔۔۔یزان کے بتانے پر دونوں نے اسے دیکھا تھا۔۔
"کہاں جا رہے ہو؟
"منحہ بھی جاٙئے گی۔۔۔۔منحہ نے خوشی سے اچھلتے ہوئے کہا۔۔۔
"نہیں منحہ نہیں جا سکتی۔۔۔یزان بھائی کو اکیلے جانا ہے۔۔۔یزان دوبارہ اسکے سامنے بیٹھتے ہوۓ بولا تھا کہ منحہ نے پلکیں جھپک کر اسے دیکھا۔۔
"یزان بھائی منحہ نہیں جائے گی؟ منحہ کے آہستگی سے کہنے پر یزان اٹھ کھڑا ہوا۔۔
"یزان۔۔منال بیگم نے آگے بڑھ کر منحہ کو اپنے ساتھ لگاتے ہوۓ اسے دیکھا تھا جو منحہ کو دیکھ رہا تھا۔۔
"چاچی کینیڈا جا رہا ہوں پاپا کے ساتھ۔۔
"اچھا چند دنوں کہ لئے جا رہے ہو۔۔۔منحہ یز۔۔۔
"نہیں میں چند سالوں کہ لئے جا رہا ہوں پتہ نہیں کب واپسی ہو۔۔۔منال بیگم جو سن کر منحہ کو تسلی دینے لگی تھیں یزان کہ یَکدم کہنے پر حیرت سے اسے دیکھنے لگیں جبکہ منحہ اپنی ماں کہ ساتھ لگی یزان کو دیکھ رہی تھی۔
"کل صبح جا رہا ہوں اسلئے ملنے آگیا۔۔۔آپ اسے پڑھائیں اور ہو سکے تو کمرے میں بند کرنے کی بجائے اسے جہاں مرضی جانا ہو جانے دیں۔۔۔یزان نے آگے بڑھ کر منحہ کہ سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے منال بیگم سے کہا تھا جو سر ہلا کر یزان کہ سر پر ہاتھ رکھتیں مسکرا کر اسے دیکھنے لَگِیں۔
"صبح کب تک جاؤ گے؟
"چھ بجے تک نکلوں گا۔۔۔
"چلو ٹھیک ہے۔۔خیر سے جاؤ بیٹا۔۔۔منال بیگم کی بات پر یزان مسکراتا ہوا کمرے سے نکلا تھا کہ منحہ بھی اسکے پیچھے جانے لگی۔۔
"منحہ رکو کہاں جا رہی ہو۔۔منال بیگم نے تیزی سے اسکا ہاتھ پکڑا تھا۔۔
"ماما یزان بھائی جا رہے ہیں؟ منحہ کی بات پر منال بیگم گہری سانس لیتیں اسکے سامنے بیٹھی تھیں۔۔
"ماما۔۔منال بیگم کو گہری نظروں سے خود کو دیکھتا پاتی وہ انہیں پکارنے لگی۔
"منحہ ماما کی جان لوگوں کی ذہانت بہت گندی ہے،میں جانتی ہوں میری بچی کتنی معصوم ہے۔۔۔آج سے آپکی دوست ماما ہیں۔۔۔منحہ ماما کہ ساتھ کھیلےگی جو بھی چاہیے ماما سے کہے گی۔۔۔۔منحہ ماما سے دوستی کرے گی ناں؟ منال بیگم کی آواز رندھ گئی تھی۔۔منحہ نے خوشی سے سر کو اثباب میں ہلایا تھا۔
"پاپا سے بھی کوئی دوستی کرلے۔۔۔دراب صاحب کی آواز پر منحہ نے پلٹ کر اپنے باپ کو دیکھا تھا جو مسکرا کر اسکے سامنے بیٹھے تھے کہ منحہ تیزی سے اپنے باپ کے سینے سے لگی تھی۔
"منحہ ماما پاپا دونوں کی دوست ہے۔۔۔۔۔منحہ نے چہکتے ہوۓ دراب صاحب کے گال پر پیار دیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"یار کیا ہے مجھ سے کیوں منہ بنایا ہوا ہے؟ بسمہ نے منہ بسورتے ہوۓ میرال کو دیکھا تھا جو اسکی بات پر گھور کر اسے دیکھتی سر جھٹک گئی تھی۔۔
"تمہیں کیا ہے اس سے ہاں تم جاؤ ناں اپنی چہیتی کزن کہ پاس بہت سائیڈ لی جا رہی تھی کل اسکی۔۔۔میرال نے گھورتے ہوۓ اسے کہا تھا جو اسکی بات پر حیرت زدہ رہ گئی تھی۔۔
"میرال آپی کیا ہوگیا ہے آپ کو؟ گھر میں سب سے چھوٹی ہونے کہ ساتھ وہ ہماری کزن ہے بہنوں کی طرح ہے ہاں وہ دماغی طور پر ہم جیسی نہیں ہے لیکن کسی انجان شخص کا کوئی حق نہیں ہماری کزن سے بدتمیزی کرے وہ تو مجھے روک لیا تھا ورنہ اس لنڈا بازار کو گنجا کر دیتی میں تو۔۔
"ہونہہ میری بلا سے۔۔میرال اسکی بات سن کر ہنکار بھرتی وہاں سے چل دی تھی۔
"بیچاری اتنی معصوم سی تو ہے اوفف میرال آپی بھی نا۔۔۔بسمہ خودکلامی کرتی اپنی کتاب کھول کر بیٹھ گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کا وقت تھا یزان بیگ کندھے پر ڈالے جیسے ہی کمرے کا دروازہ کھول کر لاؤنج میں آیا صوفے پر بی جان کو بیٹھا دیکھ کر ان سے ملنے لگا درانی صاحب بھی وہیں موجود تھے۔۔یزان ان سے ملتا باری باری سب سے ملنے لگا میرال کو دیکھتے ہی اسکے مسکراتے لب سکڑے تھے۔۔
"یزان پلیز۔۔۔میرال نے آہستہ سے اسے کہا جس نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔۔
"اللّه حافظ۔۔یزان کہتے ہی آگے بڑھا تھا کہ اسکے اس طرح کرنے پر میرال کو شرمندگی سے نظریں اٹھانا محال ہوگیا تھا۔۔۔
یزان سب سے ملنے کہ بعد کمرے کی جانب دیکھنے لگا۔۔
"یزان چلو بیٹا۔۔۔۔درانی صاحب کی آواز پر اس سے آخری بار بند دروازے پر ڈالی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
منحہ جو نیند میں کسمسائی تھی کروٹ لیتے یی یَکدم اٹھ کر بیٹھی تھی اپنی ماں کو کمرے میں نہ پا کر وہ پریشان ہوگئی تھی
"ماما۔۔۔منحہ آنکھوں کو مسلتی بیڈ سے اتر کر باتھروم کی جانب بڑھی تھی لیکن وہ وہاں بھی نہیں تھیں۔۔
"ماما۔۔۔منحہ روہانسی ہوتی تیزی سے کمرے سے نکل کر لاؤنج تک پہنچی تھی کہ میرال جو اندر آرہی تھی یَکدم ہی مسکرا کر منحہ کہ قریب آئی تھی۔۔
"ارے منحہ بہت جلدی اٹھ گئی؟ میرال کی آواز پر وہ اسکی جانب متوجہ ہوئی۔
"میرال آپی ماما کہاں ہیں؟
"وہ تو باہر ہیں یزان جا رہا ہے نا۔۔۔
"یزان بھائی چلے گئے؟ منحہ نے حیرت سے پوچھا تھا۔
"ہاں کیوں تم سے نہیں ملے؟
"ملے تھے ناں کل۔۔۔منحہ نے اسکی بات پر سر ہلایا تھا۔۔
"اچھا کل لیکن وہ تو ابھی ہم سے مل کر گئے ہیں۔۔۔میرال کی بات پر وہ اسے دیکھنے لگی کہ دوازے سے بی جان کہ ساتھ ہانیہ بیگم اور منال بیگم اندر آتی دکھائی دیں۔۔
"ماما۔۔۔۔یزان بھائی چلے گئے۔۔۔منحہ بھاگتی ہوئی ان سے لپٹ کر بولی تھی۔
"منحہ اٹھ گئی میری جان۔۔۔
"ماما یزان بھائی۔۔۔
"ارے منحہ یزان بھائی پڑھائی کہ لئے گئے ہیں۔۔۔ہانیہ بیگم نے مسکرا کر اسکےگال پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا تھا کہ انھیں دیکھتی چلی گئی تھی۔۔۔۔
"ہم کو خوشی ملی بھی تو کہاں رکھیں گے ہم"
"آنکھوں میں حسرتیں ہیں تو دِل میں کسی کا غم"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یزان کو کینیڈا گئے تین مہینے گزر چکے تھے ان تین مہینوں میں ایک دو بار ہی یزان کی کال آئی تھی۔۔
منحہ روز اپنی ماں سے یزان کا پوچھتی تھی اور وہ اسے دوسری باتوں میں الجھا دیتیں تھیں۔۔
ایسے ہی ایک دن منحہ نے نور بیگم کہ منہ سے یزان کا نام سنا تو تیزی سے انکے پیچھے کمرے میں داخل ہوئی تھی۔۔
"تائی امی۔۔۔
"کیا ہے؟ منحہ کی آواز پر پلٹ کر اسے دیکھتے ہی لٹھ مار جواب دیا تھا۔۔
"تائی امی یزان بھائی کہاں ہیں؟ منحہ نے انکی نظروں سے خائف ہوتے ہوۓ پوچھا..
"میری بات غور سے سنو لڑکی۔۔۔میرے بیٹے سے دور رہو سمجھی اب اگر تمھارے اس گندے منہ سے میں نے اپنے بیٹے کا نام بھی سنا ناں تو بہت برا پیش آؤں گی سمجھی دفع ہوجاؤ یہاں سے گندی لڑکی۔۔۔۔نور بیگم نے سختی سے اسکے دونوں بازؤں کو پکڑ کر جھٹکا دیتے ہوئے خود سے پیچھے کیا تھا کہ وہ ان سے بری طرح خوفزدہ ہوچکی تھی جبکہ وہ اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھیں منحہ کے کپڑے واٹرکلر اور چاکلیٹ سے گندے ہورہے تھا۔۔
منحہ کے ہاتھ سے سفید شیٹ چھوٹ گئی تھی تیزی سے بھاگتی وہ کمرے میں جاتے ہی الماری کو کھول کر آخری خانے سے سامان کو نکال کر خود بیٹھ گئی تھی۔۔
نور بیگم نے اسکے جاتے ہی آگے بڑھ کر اس شیٹ کو اٹھا کر پلٹا تھا۔۔
جس پر پینٹ سے بچوں کی طرح یزان کا نام لکھا گیا تھا۔۔
"YAZAN"
"ہونہہ...منال یہ ضرور تمہاری ہی حمایت ہے ورنہ جس بچی کو اپنے نام کی سپیلنگ نہیں معلوم وہ کیسے میرے بیٹے کا نام لکھ سکتی ہے۔۔
نور بیگم نے ہنکار بھرتے اس شیٹ کہ دو ٹکڑے کرتے ڈسٹ بن میں ڈال دیے تھے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کا وقت تھا ایسے میں بارش وقتاً فوقتاً کبھی تیز ہوجاتی تو کبھی ہلکی۔۔۔
جبکہ منحہ گھاس پر بیٹھی ہاتھ میں پکڑی اپنی نئی گڑیا سے باتیں کر رہی تھی جب اچانک بارش کہ دوبارہ تیز ہونے پر منحہ اچھلتی ہوئی بارش میں بھیگتی خوش ہورہی تھی۔۔
"امی میں آتا ہوں دوست کہ پاس جا رہا ہوں کمبائیں اسٹڈی کے لئے۔۔داور کہتے ساتھ جیسے ہی وہاں آیا منحہ کو دیکھ کر ٹھٹھکا ۔۔
یَکدم ہی اسکی پیشانی پر لاتعداد بل پڑے تھے بارش میں بھیگنے کی وجہ سے اسکے کپڑے جسم سے چپکے ہوۓ تھے۔۔
داور کی نظر ملازم کہ بیٹے کی جانب پڑی تھی جو منحہ کو ہی دیکھ رہا تھا غصّے سے وہ منحہ کے پاس گیا تھا جبکہ ملازم کا بیٹا داور کو دیکھتے ہی وہاں سے رفو چکر ہوا تھا۔
"منحہ چلو اندر۔۔۔۔داور نے کہتے ساتھ اسکا بازو پکڑ کر کھنچا تھا جو اچانک اسکے جھٹکا دینے پر اسکے سینے سر ٹکرائی تھی منحہ کا گداز وجود جیسے ہی اس سے ٹکرایا تھا داور کرنٹ کھا کر اس سے دور ہوا تھا۔۔۔۔داور منحہ سے چھ سال بڑا تھا۔۔۔
"داور بھائی۔۔۔منحہ نے سہم کر داور کو دیکھا تھا جو بنا کچھ کہے تیزی سے وہاں سے گیا تھا کہ منحہ اپنی گڑیا اٹھا تیزی سے اندر بھاگی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔
"یادوں کی کتاب اٹھا کر دیکھی تھی میں نے
پچھلے سال ان دنوں تم میرے تھے"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے دو بجے کا وقت تھا ایسے میں وہ اپنے اپپارٹمنٹ سے نکلتا دونوں ہاتھوں کو جیکٹ کی جیبوں میں پھنسائے چیونگم چباتا چلتا جا رہا تھا جب اچانک ہی سناتے میں چار ہیوی بائیکس رفتار میں اسکے عین سامنے آکر رکی تھیں کہ روشنی آنکھوں میں پڑھتے ہی اس نے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھا تھا کہ دوسری طرف سے فوراًِ ہی لائٹس بند کی گئی تھیں۔۔۔
"ہیلو گائیز۔۔۔۔۔۔۔اپنی بھاری اونچی آواز مِیں بولنے پر اسکے دوست مسکرا کر بائیکس سے اترتے اسکی طرف بڑھنے لگے جنکے پیچھے انکی گرل فرینڈز ہونے کہ ساتھ وہ بھی تھی۔۔۔"عنایہ سمیر" دودھ جیسی رنگت، پانچ فٹ سات انچ قد، اخروٹی رنگ کہ کندھوں تک آتے سلکی بال، بھوری آنکھیں۔پینٹ شرٹ پر اوور کوٹ پہنے وہ مسکرا کر نزدیک آتے ہی اسکے گلے لگی تھی جس نے دونوں ہاتھ اسکے گرد باندھتے اپنی گرفت مضبوط کی تھی۔۔
"آئی مس یو۔۔۔۔۔کان کہ نزدیک کہتی وہ مسکرائی تھی۔۔
"آئی مس یو ٹو۔۔۔یزان نے جواب دیتے ساتھ اسکے کان پر لب رکھے تھے۔۔
۔۔۔۔۔۔
"اہم اہم۔۔۔۔اگر ایک دوسرے سے مل چکے ہو تو ہم سے بھی مل لو۔۔۔۔احسن کی آواز پر دونوں ایک دوسرے سےالگ ہوتے انکی طرف متوجہ ہوۓ تھے وہ سب یونیورسٹی فیلو تھے جو یونیورسٹی ختم ہونے کہ بعد بھی ساتھ ہی تھے ۔
عنایا بھی پاکستان سے ہی تھی یزان کو وہ پہلی ملاقات میں ہی پسند آگئی تھی جو خوبصورت ہونے کہ ساتھ پُراعتماد زہین، بہاد اور میچیور بھی تھی۔۔وقت کے ساتھ دونوں کی دوستی محبت کا روپ اختیار کر چکی تھی لیکن ابھی تک دونوں نے نہ تو اظہار کیا تھا نہ ہی شادی کی کوئی بات۔۔۔
احسن کی بات پر وہ ہنستا ہوا اس سے ملا تھا۔۔
۔۔۔۔۔
سب کہ جاتے ہی یزان عنایہ کے ساتھ اپنے فلیٹ میں آیا تھا۔۔
"سو مسٹر یزان اب بتاؤ کیا سوچا ہے۔۔۔عنایا اسکے مقابل فلور کشن پر بیٹھتے ہوۓ بولی۔
"کس بارے میں؟
"پاکستان اپنے گھر جانے کہ بارے میں،چھ سال ہوچکے ہیں اب کیا زندگی بھر یہیں رہنے کا ارادہ ہے۔۔۔
"نہیں ایسا کچھ نہیں ہے سوچا تھا پڑھائی مکمل کرنے کہ بعد دو سال یہاں جاب کر کہ تجربہ حاصل کروں گا۔۔
"یعنی اب؟ عنایا اٹھ کر اسکے نزدیک بیٹھی تھی جو مسکرا کر آگے کو ہو کر اسکے دونوں ہاتھوں کو تھامتا اسکی آنکھوں میں جھانکنے لگا ۔۔
"یعنی کہ میں پاکستان اکیلے نہیں جاؤں گا۔یزان نے کہتے ہی جیکٹ کی اندرونی جیب سے چھوٹا سا باکس نکال کر کھولتے اس میں سے نازک سی ڈائمنڈ رنگ نکال کر عنایا کو دیکھا تھا جو ساکت سی بیٹھی تھی۔۔۔
"Miss Anaya Sameer Will you marry me?
یزان نے کہتے ساتھ اسے دیکھا تھا جس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔
"Yes...yes i"ll marry you...
عنایا مسکرا کر کہتی ہنسنے لگی اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ بن مانگے ہی اسے وہ مل جاۓ گا۔۔
یزان اسکے ہاں کہتے ہی اسے رنگ پہنانے لگا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"بی جان آپ نے بلایا؟ منال بیگم کی آواز پر بی جان نے سر گھما کر انھیں دیکھا تھا۔۔۔
"ہاں بیٹی کچھ ضروری بات کرنی تھی۔۔۔یہ منحہ کہاں ہے؟
"جی وہ لان میں ہے۔۔۔منال بیگم کہ جھجھک کر بتانے پر وہ خفیف سا مسکرائیں تھیں۔۔۔
"خیر فکر مت کرو اللّه سب بہتر کرے گا۔۔
"نہیں بی جان وقت کہ ساتھ بہتری آنے کی بجائے وہ بگڑتی جا رہی ہے۔۔۔۔سمجھ نہیں آرہا ایسا کیوں ہورہا ہے،کبھی کبھی تو ایسا لگتا ہے جیسے مجھے بددعائیں چمٹ گئی ہیں۔۔
"منال کیسی باتیں کر رہی ہو۔۔۔
"صحیح کہہ رہی ہوں بی جان آپ جانتی ہیں اس شادی سے میرے ماں باپ ہی خوش نہیں تھے لیکن میں آپکے بیٹے کے لئے جیسے دیوانی ہوگئی تھی کہ مجھے انکے علاوہ کوئی دوسرا نظر نہیں آرہا تھا اور شاید تبھی آج مجھے میری اولاد کی صورت سزا مل رہی ہے۔۔۔منال بیگم کہتے ساتھ بے آواز آنسوں بہانے لگیں۔۔۔
بی جان گہری سانس لیتیں انھیں دیکھنے لگیں۔
"جانتی ہو اولاد جتنی بھی بری ہو والدین کے لئے پھر بھی ان سے اچھا اور پیارا کوئی نہیں ہوتا،ہمیں لگتا ہے بد دعا دینے سے زیادہ اثر کرتی ہیں لیکن ایسا کچھ نہیں ہے بنا کچھ کہے بھی دلوں پر لگے زخموں کا درد عرش تک پہنچ جاتا ہے،بد دعا کے لئے زبان نہیں دل میں لگے زخموں کا ہونا لازمی ہے۔۔۔بی جان نے کہتے ساتھ انکے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔۔
"ویسے یہ لڑکی لان میں اکیلی ہے ؟
"نہیں منّت اور پڑوس کہ بچوں کے ساتھ کھیل رہی ہے۔۔۔منال بیگم کے مسکرا کر بتانے پر وہ بھی مسکرا دیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
"بھاگو بھاگو بھاگو۔۔۔اور تیز۔۔یس یس۔۔۔رانیہ رانیہ۔۔۔18 سالہ منحہ زور و شور سے تالیاں بجاتی چیخنے کہ ساتھ اچھل رہی تھی جبکہ رانیہ ،الماس اور اسد تینوں بہن بھائی کہ بیچ ریسنگ کا مقابلہ ہو رہا تھا۔۔
"میں جیت گئی۔۔۔۔میں جیت گئی۔۔۔۔الماس کہ خوشی سے پرجوش نعرہ لگانے پر منحہ ٹھٹھک کر رکتی اسے دیکھنے لگی جبکہ رانیہ نے منہ لٹکا کر منحہ کو دیکھا تھا اگلے ہی لمحے منحہ خوشی سے دوبارہ تالیاں بجاتی الماس کی جانب بڑھی تھی۔۔
"الماس۔۔۔۔ الماس۔۔۔۔منحہ کہتے ساتھ اس کے قریب آتی خوشی کا اظہار کر رہی تھی جبکہ رانیہ صدمے سے اسے دیکھتی چلی۔ ۔۔
"ہاہاہا۔۔۔۔رانیہ یہ کیا ہوا تمھارے ساتھ منحہ آپی نے تو ٹیم ہی بدل لی۔۔۔مومنہ پیٹ پر ہاتھ رکھے ہنستے ہوۓ اسے چڑانے لگی جو منہ بنا کر کرسی پر جا کر بیٹھ گئی تھی۔۔
"چلو اب تم تینوں کی باری۔۔۔۔اسد کے کہتے ہی منحہ دوپٹے کو کمر پر کس کر باندھ کر اندر جانے لگی۔۔
"کہاں بھاگ رہی ہو اب غدار لڑکی رانیہ کی آواز پر منحہ نے اسے دیکھا۔۔
"پانی پی کر آتی ہوں۔۔۔۔
"میرے لئے بھی ایک گلاس۔۔۔۔حمزہ کی آواز پر منحہ سر ہلا کر اندر بھاگی تھی۔۔۔
اسکے جاتے ہی بیرونی گیٹ کھلتے ہی سیاہ گاڑی اندر داخل ہوئی تھی جس کی ڈرائیونگ سیٹ پر بلال اور ساتھ داور بیٹھا تھا
دونوں کہ مسکرا کر اترتے ہی پچھلی طرف کا دروازہ کھولتے یزان درانی اپنی بھرپور وجاہت کے ساتھ اتر کر اطراف میں دیکھنے لگا چھ سال میں پہلی بار وہ اپنے ملک اپنے گھر آیا تھا۔۔یزان کے اترتے ہی اسکے پیچھے عنایہ اور ہالہ بھی اتری تھی۔۔۔۔
"تو یہ ہے یزان صاحب آپ کا گھر۔۔۔۔عنایہ کہ مسکرا کر پوچھنے پر یزان نے اسے دیکھتے ہوۓ اثباب میں سر ہلاتے قدم اندر بڑھائے تھے
"دونوں ساتھ کتنے پرفیکٹ لگ رہے ہیں۔۔۔بلال کی بات پر داور اور ہالہ نے بھی اسکی تائد کی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
"یہ کون ہیں؟ مومنہ نے حمزہ سے پوچھا جو خود کندھے اچکا کر رہ گیا تھا کہ یزان کو ان دونوں نے اپنے بچپن میں ہی دیکھا تھا تبھی پہنچان نہیں پائے تھے۔۔
یزان جیسے ہی لاؤنج کہ دروازے تک پہنچا کسی کہ آندھی طوفان کی طرح آنے پر زور سے دونوں کا تصادم ہوا تھا کہ منحہ کے ہاتھ میں موجود پانی سے بھرے گلاس سے پانی یزان کی شرٹ پر چھلکنے کے ساتھ ہی گلاس زمین بوس ہوتے ہی چکنا چور ہوا تھا منحہ جو ایک ہاتھ سے سر جھکا کر چلتی قدموں کو گننتی کرتی جا رہی تھی اچانک ہوئی افتاد پر بری طرح گھبرا گئی تھی۔۔
کانچ ٹوٹنے کی آواز پر وہ جو پہلے ہی یزان کی آمد سے باخبر تھے تیزی سے کمرے سے نکلتے وہاں پہنچے تھے۔۔
"اللّه گلاس ٹوٹ گیا۔۔۔منحہ نے کہتے ساتھ جھک کر کانچ کو اٹھا کر ہتھیلی پر رکھنا شروع ہی کیا تھا کے منال بیگم نے تیزی سے اسے روکتے اسے وہاں سے اٹھایا تھا۔۔
"منحہ چوٹ لگ جاۓ گی بیٹی۔۔۔
"ماما گلاس ٹوٹ گیا حمزہ کو پانی پینا تھا۔۔۔منحہ نے روہانسی ہوتے ہوۓ کہا جبکہ یزان حیرت سے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔۔
"بس تماشا شروع۔۔۔۔نور بیگم حقارت سے منحہ کو دیکھتیں تیزی سے آگے آئیں تھیں۔۔
"یزان میری جان۔۔۔۔نور بیگم پرجوش انداز میں اپنے بیٹے کےگلے لگیں تھیں جس کی نظر بے ساختہ منحہ کی جانب اٹھی تھی کیا وہ اسے پہچان گئی ہوگی لیکن یہ اسکی خام خیالی ہی تھی منحہ کا سارا دھیان گلاس کی طرف تھا۔۔
آخر اسکا دوست پانی گرنے پر پیاسا جو رہ جانے والا تھا۔۔۔
"منحہ کوئی بات نہیں آجاؤ ماما دوسرا گلاس دے دیتی ہیں۔۔۔منحہ کو بہلاتیں وہ کچن کی جانب بڑھنے لگیں تھیں یزان کی نظر منحہ کی کمر پر لہراتی چاٹیا پر تھی۔۔۔
"منحہ۔۔۔یزان کہ منہ سے یَکدم اسکا نام پھسلا تھا کہ عنایا نے سنجیدگی سے اسے دیکھا تھا۔۔۔
"گنوار نے آتے ہی میرے بچے کہ کپڑے خراب کر دیے۔۔۔نور بیگم نے منہ بناتے ہوۓ کہا تھا۔۔
"امی کیا ہوگیا ہے پانی ہی تو ہے۔۔یزان کو انکا یہ لب و لہجہ ناگوار گزارا تھا جو اسکی بات پر سر جھٹک کر عنایا سے ملنے لگیں تھیں۔
بی جان نے یزان کہ ساتھ کھڑی لڑکی کو دیکھ کر گہری سانس لی تھی۔۔
"السلام علیکم! دادی کیسی ہیں آپ؟
"وعلیکم السلام۔۔۔یاد آگئے ہم؟ بی جان نے شکوہ کناں نظروں سے یزان کو دیکھا تھا جو مسکرا کر انکے گلے لگا تھا۔۔
"یاد کرنے کے لئے بھولنا پڑھتا ہے اور میں کبھی بھی آپ کو نہیں بھول سکتا۔
"تبھی ایک بار بھی اس بچی کی خبر نہیں لی جو یزان بھائی کرتے نہیں تھکتی تھی۔۔بی جان نے ہلکی آواز میں اسے لتاڑا تھا۔۔
"سراسر الزام ہے یہ آپ جانتی ہیں امی اور چاچی کبھی بھی کسی نے اس سے بات نہیں کرنے دی چاچو کو جب بھی کال کرو وہ باہر ہوتے تھے ویسے آپکی پوتی صاحبہ نے پہنچانا نہیں اس کہ بارے میں کیا کہیں گی آپ؟ یزان نے آبرو اچکا کر انھیں دیکھا تھا۔۔منحہ کا نظرانداز کیے جانا کہیں نہ کہیں اسے بھی اچھا نہیں لگا تھا۔
"بہت سخت ناراض ہے، مجھے کہہ دیا تھا کہ دادی منحہ اب کبھی بھی یزان بھائی سے بات نہیں کرے گی لو دیکھ لو میری پوتی اپنی بات پر قائم رہی ہے۔۔۔بی جان نے تفاخر سے یزان سے کہا تھا جو انکی باتوں سے لطف اندوز ہورہا تھا۔۔
"کیا کھسر پھسر ہورہی ہے دادی پوتے میں؟ نور بیگم عنایہ کو ساتھ لگائے مسکرا کر پوچھنے لگیں آج وہ بے تحاشا خوش تھیں بلآخر جس بات کا انھیں خطرہ لاحق تھا وہ آج عنایا کو دیکھ کر ختم ہوچکا تھا۔۔
عنایا کو ساتھ لانے کا مشورہ بھی انہی کا تھا۔۔۔
"بی جان یہ ہے عناہا بتایا تھا نہ آپ کو بہت ہی قابل بچی ہے۔۔۔۔۔نور بیگم فخر سے اس کا تعارف کروا رہی تھیں۔۔۔منحہ جو گلاس پکڑے منال بیگم کہ ساتھ آرہی تھی نور بیگم کی بات پر عنایا کو گھورنے لگی۔
"چڑیل آنٹی۔۔۔منہ ہی منہ میں بڑبڑا کر اس نے عنایا کو پھر یزان کو دیکھا تھا دیکھتے ہی دیکھتے اسکی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں کہ منال بیگم کو گلاس پکڑا کر تیزی سے اپنے کمرے میں جا کر اپنی مخصوص الماری کہ نچلے خانے میں جا کر بیٹھ گئی الماری کے خانے بڑے بڑے تھے یہی وجہ تھی وہ بآاسانی وہاں چھپ جاتی تھی اور اب اسکی یہ عادت منال بیگم بھی اچھے سے جانتی تھیں تبھی اس الماری کا لاک انہوں سے نکلوا دیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
"میں کبھی بھی ان سے بات نہیں کروں گی،وہ چڑیل آنٹی منحہ کو بالکل بھی اچھی نہیں لگی،تم بھی اس سے بات مت کرنا ٹھیک ہے۔۔۔منحہ ہلکی آواز میں گڑیا سے باتیں کر رہی تھی۔۔۔جب حمزہ کی آواز پر خاموش ہوئی۔۔
"منحہ۔۔۔۔حمزہ اسے آوازیں دیتا الماری کہ سامنے آکر جھکا تھا۔۔
"کس نےڈانٹا؟ میرال آپی نے؟ حمزہ کی بات پر اس نے اندر ہی بیٹھے بیٹھے رخ پھیر لیا تھا۔
"حمزہ بھائی یہ کیا کر رہے ہیں منحہ آپی کہاں ہیں۔۔یکدم مومنہ نے اندر آتے ہوۓ پوچھا۔۔
"اپنے بل میں۔۔۔حمزہ کہ کہتے ہی مومنہ بھی حمزہ کہ ساتھ آکر بیٹھی تھی جبکہ منحہ نے منہ بسورتے ہوۓ ان دونوں کو دیکھا تھا۔
"میں بھی آجاؤں۔۔
"نہیں یہ صرف منحہ کی جگہ ہے۔۔۔مومنہ کہ خوشی سے پوچھنے پر اس نے جلدی سے ہاتھ رکھ کر روکا تھا۔۔
"اچھا ٹھیک ہے پر چلیں رانیہ وغیرہ انتظار کر رہے ہیں ریسنگ کرنی ہے نا۔۔۔مومنہ کی بات پر اس نے حمزہ کی۔ طرف دیکھا تھا حمزہ منحہ کا ہی ہم عمر تھا۔۔۔
منّت کا سسرال حیدرآباد میں تھا اب بھی وہ لوگ بلال کی شادی کہ لیے روکنے آئے ہوۓ تھے۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
"چلو۔۔۔۔دوستوں کا خیال آتے ہی وہ سب بھول بھال کر تیزی سے باہر نکل کر کمرے سے نکلتی یَکدم رکی تھی۔۔۔
"رکو رکو رکو۔۔۔ہم یہاں سے ریسنگ لگاتے ہیں۔ ۔۔
"ہاں یہ ٹھیک ہے لیکن باہر جاتے ہی گاڑی کو ہاتھ لگانا ہے۔۔۔
"ڈن۔۔۔،مومنہ کی بات پر حمزہ نے بھی پرجوش انداز میں کہا تھا۔۔۔اگلے ہی لمحے تینوں آگے پیچھے تیزی سے بھاگتے ہوۓ لاؤنج عبور کرتے گاڑی تک پہنچنے ہی والے تھے کہ یزان اور میرال کو دیکھ کر وہ وہیں روک گئی تھی جبکہ دونوں مسکراتے ہوئےآگے بڑھ گئے تھے۔
تینوں کہ آتے ہی میرال جس کی منگنی دائم صاحب نے اپنے دوست کے بیٹے سے کردی تھی منحہ کو ترحم بھری نگاہوں سے دیکھتی اندر کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔
"منحہ۔۔۔۔یزان مسکرا کر کہتا جیسے ہی آگے بڑھنے لگا منحہ نے حمزہ کہ قریب آتے ہی اسکا ہاتھ پکڑ کر لان کی طرف کھینچا تھا جو گرتے گرتے بچا تھا۔
"اوئے منحہ کی بچی۔
"چلو ہم کھیل رہے تھے۔۔۔۔منحہ منہ بنا کر اسے کہتی ان تینوں کی جانب بڑھی تھی جبکہ یزان لب بھینچے کھڑا اسے دیکھنے لگا جو سب کے ساتھ باتیں کر رہی تھی جبکہ ہاتھ ہنوز حمزہ کہ ہاتھ میں تھا۔۔
"برو آپ کو مما اندر بلا رہی ہیں۔۔۔۔ہالہ کہ آنے پر وہ چونکا۔۔
"ہالہ یہ پھوپھو کہ بچے ہیں ؟ وہ کب آئیں؟
"جی حمزہ اور مومنہ۔۔۔دو دن ہی ہوۓ ہیں آئے افف شام ہوتی نہیں اور یہ میڈم دوستوں اور دونوں کو ساتھ لئے ہنگامہ مچا کر رکھتی ہے،دادی کی لاڈلی ہے نہ تبھی کوئی کچھ کہتا نہیں ہے۔۔۔دیکھیں ذرا یہ عمر ہے اس کی۔۔۔
"بس کرو ہالہ میں نے صرف تم سے پھوپھو کا پوچھا تھا تم تو پورا شجرہ کھول کر بیٹھ گئی ہو۔۔۔۔۔یزان اسے ٹوکتا تیزی سے اندر کی جانب بڑھا تھا جانے کیوں لیکن منحہ کے خلاف وہ چھ سال پہلے بھی نہیں سن پاتا تھا نا ہی آج سن پایا تھا۔۔
"ہاں تو وہی تو بتا رہی تھی۔۔برو بھی نہ۔۔۔خیر مجھے کیا۔۔۔ہالہ اسکے ڈپٹنے پر بڑبڑا کر کندھے اُچکاتی اندر بڑھ گئی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مغرب کی اذان ہوتے ہی منحہ بی جان کہ کمرے میں داخل ہوئی تھی جو اسے دیکھتے ہی مسکرائِںں تھیں جبکہ یزان اور عنایا کو دیکھ کر وہ دروازے پر ہی ٹک گئی تھی۔۔
"اچھا دادی ان شاءلله پھر ملاقات ہوگی۔۔۔عنایا مسکرا کر کہتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
"ٹھیک ہے بیٹی اللّه حافظ۔۔۔۔
بی جان سے ملتی وہ یزان کہ ساتھ چلتی ہوئی جیسے ہی دروازے کہ نزدیک آنے لگی منحہ تیزی سے ایک طرف ہوتی اپنے دوپٹے سے کھیلنے لگی۔۔
"یزان سب سے تو ملوا دیا لیکن اس سے ملاقات نہیں ہوئی۔۔۔عنایا کی بات پر منحہ نے اسے دیکھا تھا۔۔
"تم منحہ ہو نا؟ یزان بہت ذکر کرتا ہے تمہارا۔۔
"دادی اذان ہوگئی ہے۔۔۔منحہ عنایا کی بات پر لب کچل کر صرف سر ہلانے پر اکتفا کرتی تیزی سے بی جان کی طرف بڑھی تھی جبکہ عنایا کا مسکراتا چہرہ توہین کہ احساس سے سرخ ہوا تھا۔۔زندگی میں پہلی بار کسی نے اسے یوں نظرانداز کیا تھا جبکہ یزان کان کی لو مسلتا دھیرے سے مسکرایا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر کہ تمام نفوس بیٹھے کھانا کھا رہے تھے یزان بھی ابھی آکر بیٹھا تھا۔۔
"ماما بھوک لگ رہی ہے۔۔۔منحہ کی آواز پر یزان نے اسے دیکھا تھا۔
"ہاں تو آجاؤ کھانا کھاؤ۔۔۔۔منال بیگم نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوۓ کہا جس نے زور زور سے نفی میں سر ہلانا شروع کردیا تھا۔۔
"نہیں منحہ کو ملک شیک اور فرنچ فرائز کھانے ہیں۔۔۔
"ضد مت کرو منحہ شاباش بیٹھو یہاں خاموشی سے۔۔
"نہیں ماما منحہ کو یہ نہیں کھانا۔۔۔
"منال بیٹی بنا دو نا جو اسے چاہیے۔۔۔دل نہیں چاہ رہا ہوگا۔۔بی جان نے یَکدم ہی سر اٹھا کر انھیں کہا تھا۔۔
دراب صاحب کھانا بھولے اپنی بیگم کو دیکھ رہے تھے وہ جو منحہ کہ کہنے پر آدھی رات کو اٹھ کر بھی اسکی فرمائش پوری کرتی تھیں آج اچانک ایسا کیا ہوا تھا کہ منحہ کے اتنا ضد کرنے پر بھی وہ اپنی جگہ سے ایک انچ نہیں ہلی تھیں۔۔
"منال میں کیا کہہ رہی ہوں۔۔
"منحہ بیٹھو۔۔۔منال بیگم منحہ پر نظر جمائے بی جان کی بات کو نظر انداز کر گئیں تھیں۔۔
"ماما منحہ کو یہ اچھا نہیں لگتا۔۔
"اوفف ہر وقت کا تماشا لگا رہتا ہے اس گھر میں تو اب تو بندا سکون سے کھانا بھی نہیں کھا سکتا ہے۔۔۔منحہ نے اس بار منمنا کر کہا تھا کہ نور بیگم کی اونچی بڑبڑاہٹ پر منال بیگم کا ضبط ٹوٹا تھا جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھ کر سختی سے منحہ کا بازو جکڑ کر اسے جھٹکا دیا تھا۔۔
"ایک بار کی بات سنائی نہیں دیتی تمہیں۔۔بیٹھو یہاں اور جو بھی ہے کھاؤ۔۔زور سے جھٹکا دیتیں وہ اسے کرسی پر بیٹھاتیں پلیٹ میں کھانا ڈالنے لگیں میز پر سکوت چاہ گیا تھا منحہ سختی سے لبوں کو بھینچے روۓ جا رہی تھی۔۔
"کھانا شروع کرو فوراً۔۔۔۔سختی سے کہتیں وہ اسکے پاس ہی بیٹھ گئیں تھیں۔
"آہ!! منہ کھولو،تم ایسے نہیں مانوں گی۔۔اسے یونہی بیٹھا دیکھ کر وہ خود ہی نوالہ بنا کر اسکے منہ کہ قریب لائیں تھیں۔
"منال بہت۔۔۔۔
"رہنے دو دراب۔۔۔بی جان نے یَکدم ہاتھ اٹھا کر انھیں روکا تھا۔۔
یزان کی نظر اسی پر تھی جو بری طرح ڈری ہوئی تھی۔
"منحہ۔ ۔۔منال بیگم کی آواز پر اس نے سوں سوں کرتے منہ کھولا تھا۔۔
"مرچی ہے ماما۔۔۔۔منحہ بھرائی ہوئی آواز میں کہتی کھانسی تھی کہ یزان نے تیزی سے پانی کا گلاس اسکے سامنے رکھا تھا۔۔
"مجھے نہیں کھانا۔۔۔۔یزان کہ گلاس رکھتے ہی وہ اونچی آواز میں کہتی تیزی سے اٹھ کر بھاگی تھی۔۔
"منال کیا ہوگیا ہے؟
"کچھ نہیں۔۔آپ سب کھانا کھائیں۔۔۔منال بیگم ہانیہ بیگم کو جواب دیتیں خود بھی اٹھ کر وہاں سے نکلتی چلی گئی تھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
"کہاں جا رہے ہو؟
"پیٹ بھر گیا۔۔۔یزان سپاٹ لہجے میں کہتا اٹھ کر لاؤنج عبور کر گیا تھا کہ نور بیگم خالی کرسی کو دیکھتی چلی گئیں۔۔۔
"معاف کرنا دراب لیکن گھر میں روز کوئی نہ کوئی نیا ڈرامہ کھڑا کیا ہوتا ہے اس لڑکی نے ہوسکے تو رشتہ کرو اس کا کیا معلوم شادی کہ بعد تھوڑا سدھار آجائے۔۔۔اگر تم کہو تو ایک رشتہ ہے میری نظر میں کھاتے پیتے گھر کا خوش شکل لڑکا ہے عمر بھی یہی کوئی تیس بتیس سال ہوگی۔۔۔۔
"نور خاموش رہو۔۔۔۔ہماری بچی نا تو ہم پر بوجھ ہے نا ہی اپنے باپ پر،بی جان یَکدم ہی جلال میں آئیں تھیں درانی صاحب نے سخت گھوری سے اپنی بیگم کو نوازا تھا۔۔۔
"میں تو اچھے کہ لئے کہہ رہی تھی باقی مرضی ہے ویسے بھی سب کو معلوم ہے منحہ نارمل نہیں ہے ایسے میں کوئی اسے قبول کرلے وہی بہت بڑی بات ہے ورنہ تو آج کل لوگ لڑکی کہ قد کہ ساتھ عمر رنگ وزن جانے کتنی مین میخ نکالتے ہیں۔۔۔ہم تو بس کہہ ہی سکتے ہیں۔۔۔نور بیگم کہتی ہوئیں اٹھ کر چلی گئی تھیں ماحول میں کافی بدمزگی کی فضا قائم ہوگئی تھی۔۔
رات کہ اس پہر جہاں ہر طرف خاموشی کا راج تھا ایسے میں جانے اسے کتنا وقت گزر چکا تھا۔۔
ؐلان میں رکھی کرسی پر بیٹھے اسکی نظر سیاہ بادلوں کی اوٹ سے جھانکتے چاند پر ٹکی تھی جس کی آنکھ مچولی عجیب لطف دے رہی تھی۔۔ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا ذہن کو پرسکون کر رہی تھی لیکن اسکے باوجود بھی وہ بے چین سا ہو رہا تھا۔۔۔۔
"یزان بھائی۔۔۔۔۔سکوت کو توڑتی بسمہ کی آواز پر چونک کر اسے دیکھا تھا 20 سالہ بسمہ اسکے دیکھنے پر مسکراتی ہوئی پاس رکھی کرسی پر بیٹھی تھی۔۔
یزان اسکے بیٹھتے ہی دوبارہ سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھنے لگا جبکہ بسمہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
ایک بار پھر وہاں خاموشی چاہ گئی تھی جسے بسمہ کی آواز نے توڑا تھا۔
"یزان بھائی آپ پریشان ہیں؟
"ہاں۔۔۔
"کس کے لئے؟ بسمہ کہ سوال پر اسکے چہرے پر تبسم بکھرا تھا۔۔
"منحہ کے لیے۔۔۔۔
"تعجب ہے آپ آج بھی اس کے لئے پریشان ہیں۔۔۔
"آج بھی سے کیا مراد ہے؟ میں پہلے تو کبھی پریشان نہیں رہا ہاں لیکن پہلی بار جب میں نے منحہ کو دیکھا تو مجھے بہت دکھ پہنچا تھا دوسرا سب کا اسکے ساتھ رویہ مجھے بہت ناگوار گزرتا تھا اور آج جو ہوا اسکے بعد ہاں تم کہہ سکتی ہو کہ میں اسکے لئے پریشان ہورہا ہوں۔۔یزان بے بات مکمل کرتے اسے دیکھا تھا جو مسکرا رہی تھی۔۔
"آپ سہی کہہ رہے ہیں ایک وقت تھا جب میں بھی میرال آپی کہ ساتھ مل کر اسکی حرکتوں پر مذاق بناتی تھی لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا مجھ میں، آپ میں، ہم سب میں بہت کچھ بدلہ ہے لیکن منحہ کا صرف ظاہر بدلہ ہے،ورنہ آج بھی وہ وہی منحہ ہے۔۔ماما کی منحہ ،گڑیا سے باتیں کرنے والی، یزان بھائی کی دوست جس سے وہ بہت سخت خفا ہے کیوں وہ اسے اکیلا چھوڑ گئے تھے۔۔۔۔یزان مسلمل اسکی باتیں سن کر مسکرائے جا رہا تھا۔۔
بسمہ کہ خاموش ہوتے ہی وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔
"میں منالوں گا اسے۔
"اور اگر وہ پھر بھی نا مانی؟ بسمہ بھی مسکرا کر کھڑی ہوئی۔
"کیوں نہیں مانے گی؟
"کیونکہ یزان بھائی کی زندگی میں کوئی اور آچکی ہے اسلیے اور جتنا میں اسے جانتی ہوں اسے اپنی پسندیدہ چیزیں کسی کے ساتھ بانٹا پسند نہیں ہے پھر آپ تو اسکی زندگی میں شامل ہونے والے پہلے شخص تھے جس نے اس سے دوستی کہ ساتھ اسے اہمیت دی،اہمیت جو وہ ہم سب سے چاہتی تھی۔۔
"بہت زیادہ نہیں سمجھنے لگی ہو اسے؟ بسمہ کہ کندھے اچکا کر کہنے پر یزان متاثر ہوتے ہوۓ پوچھنے لگا کہ وہ ہنس دی تھی۔
"ظاہر ہے آپکے جانے کے بعد منحہ کی دوست ایک اور کزن بنی تھی اور وہ کزن میں ہوں۔۔بسمہ کہ بتاتے ہی یزان گہری سانس لیتا مسکرایا تھا۔۔
"ہممم۔۔۔تو چلو پھر دوست میری مدد کرو۔۔۔۔یزان کہتے ہوۓ اندر کی جانب بڑھا گیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"یزان بھائی کیا کرنے والے ہیں؟ دونوں جیسے ہی کچن میں داخل ہوۓ بسمہ نے حیرت سے اس سے سوال کیا جو چاکلیٹ ملک شیک کے لئے دودھ کا ڈبہ نکال رہا تھا۔۔
"اپنی ناراض دوست کو منانے کی چھوٹی سی کوشش۔۔
"ہاہاہا۔۔۔ٹھیک ہے یہ بھی کر کہ دیکھ لیں۔۔
"اس میں ہنسنے والی کیا بات ہے؟ یزان نے پلٹ کر اسے مصنوعی گھوری سے نوازتے ہوۓ پوچھا۔۔
"بس ایسے ہی۔۔۔میں پھر آلو چھیل دیتی ہوں۔۔۔بسمہ مسکراہٹ ضبط کرتی ٹوکری سے آلو نکالتے ہوئے بولی جبکہ وہ سر ہلا کر کبنٹ کھنگالنے لگا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
"منال کیا میں پوچھ سکتی ہوں کھانے پر آخر وہ سب کیا تھا؟ منال بیگم بی جان کہ کمرے میں موجود تھیں جو غصے سے ان سے استفسار کر رہی تھیں جبکہ منال بیگم لبوں کو سئیے سر جھکا کر بیٹھی تھیں۔
"منال جواب دو؟ نور کا غصّہ کیوں تم نے بچی پر اتارا،آہ! دیکھو منال میرے یا تمھارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوگا بیٹی سوچا تھا درانی سے بات کروں گی لیکن میرے پوتے نے تو موقع ہی نہیں دیا۔۔داور اور ہالہ کا بھی رشتہ جوڑ رکھا ہے دونوں بچے بھی اس فیصلے پر خوش ہیں یہ بات اچھے جانتی ہو تم رہے ہاشم اور حمزہ تو ہاشم دفتر میں ہی کسی کو پسندکرتا ہے ہانیہ نے بتایا تھا کہ بلال کی شادی پر بھی بلاوا دیا ہے اور حمزہ وہ تو خود ابھی چھوٹا ہے ایسے میں بیٹی کسی کے ساتھ کوئی زور زبردستی نہیں کی جاسکتی ہے۔۔۔۔بھلا رشتے بھی کبھی زبردستی سے جڑے ہیں، چلو میرے کہنے پر مان بھی گئے تو کیا اس بات کی ضمانت تم یا میں دے سکتی ہیں کے اسے وہی مان وہی محبت، بیوی جیسا رتبہ دیا جاۓ گا؟ بی جان کی باتوں کو سنتیں وہ رونے لگی تھیں۔۔
"آپ ہی بتائیں بی جان میں کیا کروں۔۔۔
"حوصلہ اور صبر رکھو منال اللّه نے اگر اسے ایسی زندگی دی ہے تو ہر انسان کی طرح اسکا بھی نصیب لکھ دیا گیا ہے بنا نصیب کے کوئی دنیا میں نہیں آیا ہے۔۔ویسے بھی کون سی عمر گزر رہی ہے اسکی،ان فکروں کو رفع کرو۔۔۔
"آپ صحیح کہہ رہی ہیں بی جان لیکن میں چاہتی تھی کے میری بیٹی میری آنکھوں کہ سامنے رہے یزان مجھے میری بچی کہ لئے بہت اچھا لگا تھا۔۔منال بیگم نے گیلی سانس اندر کھینچتے ہوۓ انھیں کہا تھا۔
"بچے اسکی ماں اور بہن دونوں کا رویہ ہم سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، جاؤ میری پوتی کو جو چاہیے بنا کر دو خبردار میری پوتی بھوکی سوئی تو۔۔
"ٹھیک ہے پوتی کی دادی جی۔۔۔۔۔منال بیگم مسکرا کر کہتیں کمرے سے نکل کر جیسے ہی کچن کی دہلیز تک پہنچی سامنے ہی یزان اور بسمہ کو دیکھ کر ٹھٹھک گئیں۔۔
یزان جو ٹرے سیٹ کر رہا تھا منال بیگم کو دیکھ کر خفیف سا مسکرایا تھا۔
"چاچی آئیں نا۔ ۔
"یہ سب کیا ہورہا ہے؟
"چاچی وہ منحہ۔۔۔
"بسمہ میں بنانے آ ہی رہی تھی تم نے کیوں اتنی زحمت کی۔۔۔۔بسمہ کو ٹوکتیں وہ سپاٹ لہجے میں کہتی سرسری سی نظر یزان پر ڈال کر بسمہ کہ پاس جا کر رکی تھیں۔۔
"نہیں میں۔۔۔۔
اچانک یزان نے اسے نا بتانے کا اشارہ کیا تھا۔
"میرا مطلب زحمت کیسی بہن ہے میری۔۔۔
"خوش رہو۔۔۔جاؤ پھر لے جاؤ باقی میں تل دیتی ہوں،جاگ رہی ہے۔۔۔منال بیگم نے مسکرا کر اسکے گال پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا کہ ایک بار پھر بسمہ نے یزان کو دیکھا تو جو مسکرا کر سوری والا کاغذ اٹھا کر آنکھ سے اسے تسلی دیتا باہر نکل گیا تھا۔
بسمہ کے جاتے ہی منال بیگم نے پلٹ کر دروازے کی سمت دیکھا تھا۔۔۔
"میں جانتی ہوں یزان یہ تم ہی ہو لیکن میں اپنی بیٹی پر اب کوئی تہمت برداشت نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔منال بیگم دکھ سے سوچتیں دوبارہ رخ موڑ چکی تھیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کا وقت تھا یزان ہمیشہ کی طرح جاگنگ کر کہ جیسے ہی گیٹ سے اندر داخل ہوا منحہ کو دیکھ کر مسکراتے ہوۓ اسکی جانب بڑھنے لگا سیاہ ٹی شرٹ میں اسکے کسرتی بازو نمایاں تھا۔۔
"منحہ صبح بخیر! وہ جو پہلے ہی اسکی موجودگی محسوس کر چکی تھی گردن موڑ کر اسے دیکھنے لگی اس سے قبل وہ جاتی حمزہ اور مومنہ دونوں جَمائیاں روکتے ہوئے انکے قریب آئے تھے۔۔
"صبح بخیر یزان بھائی۔۔۔
"صبح بخیر۔۔۔تم دونوں بھی اتنی جلدی اٹھ جاتے ہو۔۔
"ارے نہیں یہ منحہ کی بچی ہماری نیند کی دشمن بنی ہے ورنہ میں تو ابھی بھی جا کر سو سکتا ہوں۔۔۔یزان کی بات پر حمزہ نے بیچارگی سے اسے بتایا تھا کہ منحہ نے اسکے سر پر چپت لگائی تھی
یزان نے بغور ان کی بے تکلفی دیکھی تھی۔۔
"منحہ ناراض ہو؟ یزان کے پوچھنے پر منحہ لب کچلتے اپنے پیروں کی طرف دیکھنے لگی۔۔
یزان اسکے جواب کا منتظر تھا جو اس سے بات کیا یزان کی جانب دیکھ بھی نہیں رہی تھی۔۔
یزان نے حمزہ اور مومنہ کو دیکھا جو خود اسکے جواب کے منتظر تھے۔۔
"کوئی بات نہیں۔۔۔۔یزان گہری سانس لیتا اسے کہتے ہوۓ جانے لگا تھا کہ اسکا موبائل بجنے لگا۔۔
ٹراؤزر کی جیب سے موبائل نکال کر جیسے ہی اس نے اسکرین دیکھی "عنایا کالنگ* دیکھ کر کال پک کرتا کان سے لگایا تھا۔
"کیا کروں۔۔۔۔منحہ خود سے سوال کر رہی تھی جب یزان کہ منہ سے عنایا سن کر منہ بنا کر رہ گئی۔
"چڑیل آنٹی میرے دوست کو چھین لیا ۔۔
"اوے منحہ بت بن کر کیوں کھڑی ہو چلو اب۔۔۔حمزہ کی آواز پر وہ چونک کر انکی جانب متوجہ ہوئی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
"یزان موم ڈیڈ ملنا چاہتے ہیں تم سے۔۔
"کس لئے؟ یزان الماری سے کپڑے نکلتے ہوۓ چونک کر بولا۔۔
"کیا مطلب ہے اس بات کا یزان ہماری شادی کے سلسلے میں۔۔عنایا کی بات پر اس نے اپنی پیشانی پر ہاتھ مارا تھا۔۔
"ہا ہاں ٹھیک ہے پھر میں بات کر کے امی سے بات کرواتا ہوں۔۔۔
"گریٹ.۔۔۔ویسے آج کا کیا پروگرام ہے کہیں چلتے ہیں۔۔
"عنایا آج تو ممکن نہیں ہے پاپا کہ ساتھ دفتر جا رہا ہوں پھر شام میں بلال کے ساتھ جانا ہے۔۔
"مطلب ہم نہیں مل سکتے۔۔۔عنایا نے منہ بناتے ہوئے کہتے ساتھ جیسے ہی دروازے کی طرف دیکھا اپنی بھابھی کہ بھائی کو دیکھ کر مسکرائی تھی۔
"ایسا ہی ہے۔۔چلو پھر بات ہوتی ہے اللّه حافظ۔۔یزان کہ کہتے ہی دوسری طرف سے کال کاٹ دی گئی تھی۔۔
یزان نے جیسے ہی موبائل رکھا آوازوں پر کھڑکی کی جانب بڑھ کر اسے کھولا تھا لان کی گھاس پر بیٹھے وہ تینوں پینٹنگ کر رہے تھے یزان کی نظر منحہ کے کھلکھلاتے چہرے کی طرف اٹھی تھی کہ بے ساختہ اسکے چہرے پر بھی مسکراہٹ رینگی تھی۔۔۔۔
"بسمہ تم نے منحہ کی زندگی کا پہلا شخص تو بتا دیا لیکن کوئی یہ نہیں جانتا کہ یزان درانی کی زندگی میں یہ پہلی لڑکی تھی جو اسکی دوست بنی تھی۔۔۔۔یزان نے خودکلامی کرتے آسمان کی طرف دیکھا تھا جبکہ منحہ جو کسی بات پر ہنس رہی تھی بے اختار اسکی نظر یزان پر پڑی تھی کہ وہ اسے دیکھتی چلی گئی لیکن جیسے ہی یزان نے سر جھکایا منحہ نے تیزی سے نظریں جھکا لیں۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہٹا رہے ہیں پردہ, سر عام چپکے چپکے,
میں نظارہ کر رہا ہوں, سر شام چپکے چپکے.
یہ جھکی جھکی نگاہیں, یہ حسیں حسیں اشارے,
مجھے دے رہے ہیں شاید, یہ پیام چپکے چپکے.
نہ دکھاؤ چلتے چلتے, یوں قدم قدم پہ شوخی,
کوئ قتل ہو رہا ہے, سرعام چپکے چپکے.
کبھی شوخیاں دکھانا, کبھی ان کا مسکرانا,
یہ ادائیں کر نہ جائیں میرا کام چپکے چپکے.
یہ جو ہچکیاں مسلسل مجھے آ رہی ہیں اعظم,
کوئ لے رہا ہے شاید میرا نام چپکے چپکے.
"شام کا وقت تھا گھر بھر میں زور و شور سے شادی کی شاپنگ کرنے کے لیے ہانیہ بیگم نور بیگم اور منّت بیگم اپنی بیٹیوں کہ ساتھ بازار جا رہی تھیں جبکہ منال بیگم نے جانے سے منع کر دیا تھا۔۔
"کیا ہوا ہے منال شادی میں دس دن رہ گئے ہیں کپڑے درزی کو بھی دینے ہیں سو کام ہیں ۔۔۔۔پھر داور اور ہالہ کا نکاح بھی ہے ایک دن کی اور تقریب ہے۔۔
"سب ہوجاۓ گا ہانیہ بھابھی میں دراب کے ساتھ کر آؤں گی آپ لوگ جائیں، بی جان بھی گھر میں اکیلی ہیں۔۔۔
"منال۔۔۔
"امی چلیں بلال بھائی بلا رہے ہیں۔۔۔میرال کہ اچانک آنے پر ہانیہ بیگم کہ باقی کہ جملے منہ میں ہی رہ گئے تھے۔۔
"ٹھیک ہے چلو۔۔۔۔ہانیہ بیگم سپاٹ لہجے میں کہتیں تیزی سے باہر نکلی تھیں۔
"آپ نہیں چل رہیں؟
"نہیں میرال بیٹی دراصل منحہ اور بی جان اکیلی ہوں گی گھر پر ایسے میں وہ انھیں تنگ نہ کرے۔۔
"ہمم صحیحی کہا۔۔اوکے اللّه حافظ۔۔۔میرال انکے بتانے پر تیکھی مسکراہٹ کے ساتھ کندھے اچکا کر وہاں سے چلی گئی تھی جبکہ منال بیگم گہری سانس لیتیں دوبارہ الماری میں کپڑے ترتیب دینے لگیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"مومنہ،حمزہ چلو آجاؤ جلدی۔۔۔منّت بیگم کی آواز پر وہ جو منحہ کہ ساتھ ہی کھڑے تھے تیزی سے انکی جانب بڑھے ۔۔
"ممی منحہ کو بھی ساتھ لے چلیں۔۔۔
"ہم شوپنگ کرنے جا رہے ہیں نا کہ سرکس۔۔۔نور بیگم کی بات پر سب نے ایک دوسرے سے نظروں کا تبادلہ کیا تھا۔۔
"ممانی ایسے۔۔۔
"حمزہ خاموش رہو۔۔۔منحہ نہیں جا سکتی ہمارے ساتھ کیونکہ اسکی ماما بھی گھر میں ہی ہیں۔۔۔۔
"کیا ماما نہیں جا رہیں۔۔۔منّت بیگم کی بات پر منحہ نے حیرت سے کہہ کر اندر کی جانب دوڑ لگائی تھی جبکہ حمزہ منہ پھولا کر دوسری گاڑی کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔
"منّت میری مانوں تو تم بھی دور کرو اپنے بچوں کو اس باولی سے خاص طور پر اپنے بیٹے کو، یہ حسین معصوم چہرہ آسیب بن سکتا ہے دوسرا بی جان کی لاڈلی ہے آگے تم خود سمجھدار ہو۔۔۔۔نور بیگم انھیں ورغلا کر گاڑی میں بیٹھ چکی تھیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ماما۔۔۔۔۔ماما ہم کیوں نہیں جا رہے سب کے ساتھ؟ منحہ دھڑام سے دروازہ کھولتی بھاگتی ہوئی اندر آکر منال بیگم سے سوال کرنے لَگِی۔
"منحہ دادی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اگر سب چلے جائیں گے تو دادی کی دیکھ بھال کون کرے گا؟
"کیا دادی بیمار ہیں؟
"ہاں صبح سے انھیں بخار ہو رہا ہے۔۔۔۔۔ منحہ کے حیرت سے پوچھنے پر منال بیگم بے ہاتھ میں پکڑا سوٹ اندر رکھتے ہوۓ بتا کر جیسے ہی رخ پھیرا منحہ کمرے سے غائب ہوچکی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔
"آہ!! منحہ جیسے ہی بی جان کہ کمرے میں داخل ہوئی باہر آتے یزان سے زور کا تصادم ہوتے ہی منحہ کا سر گھوم کر رہ گیا تھا اس سے قبل وہ پیچھے گرتی یزان نے تیزی سے اسکے بازو کو پکڑ کر کھینچا تھا۔۔
"سمبھل کر۔۔۔۔یزان کی آواز وہ بھی اتنے نزدیک سے سن کر اس نے گھبرا کر سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
"منحہ کیا ہوا؟ بی جان کی آواز پر اس نے یزان کے پیچھے سے جھانکا تھا۔۔
"دادی منحہ یزان بھائی سے ناراض ہے آپ کہہ دیں منحہ اب کبھی بات نہیں کرے گی۔۔۔منحہ کی بات پر بے ساختہ یزان جی جان سے مسکرایا تھا جبکہ اندر بیڈ پر نیم دراز بیٹھیں بی جان نے مسکراتے ہوۓ اپنے سر پر ہاتھ مارا تھا۔
"دادی آخر یزان نے کیا کیا ہے منحہ سے پوچھیں۔۔۔یزان نے بھی مسکراہٹ ضبط کرتے چہرہ پیچھے کرتے اونچی آواز میں پوچھا تھا۔۔
"دادی یزان بھائی منحہ کو چھوڑ کر چلے گئے تھے۔۔منحہ خفگی سے کہتی اپنا بازو چھڑوا کر دوپٹے سے کھیلنے لگی جبکہ یزان کہ چہرے سے مسکراہٹ سمٹ گئی تھی۔۔
"واپس آ گیا ہوں اب کبھی نہیں جاؤں گا۔۔۔۔یزان اسے دیکھتے ہوۓ بولا تھا جس کا دوپٹے سے کھیلتا ہاتھ اسکی بات پر روکا تھا دوسری طرف بی جن مسکراتی ہوئیں بیڈ سے اتر کر وہاں آئیں تھیں۔
"منحہ۔۔بی جان کی آواز پر منحہ نے نظر اٹھا کر انھیں دیکھا تھا
"آپ چڑیل آنٹی کہ ساتھ آئے ہیں منحہ کو وہ نہیں پسند۔۔
"آہ! منحہ بری بات بیٹی وہ یزان بھائی کی ہونے والی بیوی ہے۔۔۔بی جان نے دکھ سے اسے دیکھتے ہوۓ بتایا تھا منحہ اپنی معصومیت میں جو دل میں تھا بول چکی تھی جبکہ یزان کی سماعتوں میں بسمہ کی باتیں گونجنے لگی ہاں اتنی ناراضگی کی وجہ وہ نہیں اسکے ساتھ آئی عنایا تھی۔۔۔
"منحہ تم ملی ہی نہیں ہو اس۔۔۔
"مل چکی ہوں۔۔۔وہ مجھے نہیں پسند۔۔۔یزان کی بات درمیان میں ہی کاٹ کر منحہ اونچی آواز میں کہتی تیزی سے بھاگی تھی۔۔
یزان ششدر رہ گیا تھا اتنا غصہ۔۔۔
"یزان میرا خیال ہے اسے اسکے حال پر چھوڑ دو پہلے ہی میری بچی سے سب کی ازلی دشمنی ہے۔۔۔۔بی جان کہتے ہوۓ اندر چلی گئی تھیں جبکہ یزان لب بھینچے تیزی سے وہاں سے گیا تھا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
"یزان بیٹا کہاں جا رہے ہو؟ منال بیگم جو لاؤنج میں صوفے پر بیٹھیں جاول چن رہی تھیں اسے دیکھتے ہوۓ پوچھنے لگیں۔۔
"چاچی باہر جا رہا ہوں آپ کو کچھ منگوانا ہے؟
"نہیں میں بس یونہی پوچھ رہی تھی۔۔منال بیگم کی ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہنے پر وہ لاؤنج عبور کر گیا لیکن جیسے ہی وہ بائیک کی طرف بڑھنے لگا اچانک ہی اسکی نظر لان کی طرف اٹھی تھی۔
یزان ٹھٹکا منحہ کرسی پر بیٹھی گڑیا سے باتیں کرنے میں مگن تھی منحہ کو دیکھ کر جانے کیوں سینے میں درد کی لہر اٹھی تھی۔۔سب کہ ہونے کے باوجود بھی آج بھی وہ اکیلی تھی اسکی چھوٹی معصوم سی گڑیا تنہا تھی۔۔۔۔
اس سے قبل وہ اسکی جانب قدم بڑھاتا ندیم(ملازم کا بیٹا) کو اسکی طرف جاتے دیکھ کر یزان کی رگیں تن گئی تھیں آخر اس وقت اس کا یہاں کیا کام تھا۔۔
اس سے قبل وہ آگے بڑھتا بپ کی آواز پر چونکا موبائل نکال کر دیکھا جہاں عنایا کا میسج آیا ہوا تھا۔۔
"یزان باہر ہو؟
"ہاں۔۔۔ایک نظر دوبارہ سامنے کا منظر دیکھ کر اس نے جلدی سے لکھ کر سینڈ کرتے موبائل جیب میں رکھ کر تیزی سے انکی جانب قدم بڑھائے تھے۔۔
"مجھے نہیں چاہیے۔۔۔۔منحہ کے کہتے ہی اس نے دوبارہ منحہ کو چاکلیٹ دینے کی کوشش کی تھی۔۔
یزان نے نزدیک آتے ہی اسکا رخ اپنے سامنے کرتے اسکا گریبان جکڑا تھا کہ وہ بری طرح گھبرا گیا تھا۔
"کیا کر رہا ہے اس وقت یہاں ہاں۔۔۔۔۔
"ص صاحب جی وہ باجی نے یہ منگوائی تھی میں تو بس دے رہا تھا لیکن اب منع کر رہی ہیں۔۔۔ندیم کے سفید جھوٹ پر منحہ حیرت سے اسے دیکھتی اپنی جگہ سے اٹھی تھی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی۔
"نہیں۔۔۔جھوٹ یزان بھائی۔۔۔میرے پاس تو پیسے بھی نہیں ہیں۔۔۔ہیں نہ گڑیا تم بتاؤ۔۔۔منحہ نے کہتے ساتھ اپنی سچائی ثابت کرنے کہ لئے گڑیا سے گواہی دلوانی چاہی تھی اتنے گمبھیر ماحول میں بھی یزان نے لبوں کو سختی سے بھینچ کر اپنی امنڈ آنے والی مسکراہٹ دبائی تھی۔۔
"نہیں صاحب یہ جھوٹ ہے۔
"منحہ جھوٹ نہیں بولتی سمجھا۔۔۔اس سے پہلے میں تیری ہڈیاں توڑ دوں دفع ہوجا یہاں سے ورنہ وہ حشر کروں گا کہ بولنے کہ قبل بھی نہیں رہےگا۔۔۔ہٹ! یزان غصّے سے کہتے اسے دھکا دے چکا تھا۔۔
یزان کے چھوڑتے ہی وہ دم دبا کر بھاگا تھا ورنہ کوئی بعید نہیں تھا کہ یزان واقعی اسکی ہٹڈیاں توڑ دیتا۔۔
ندیم کہ وہاں سے جاتے ہی یزان نے منحہ کی جانب رخ کیا تھا جو گڑیا کو سینے سے لگائے اپنے سامنے لمبے چوڑے یزان کہ مقابل چھوٹی سی گڑیا ہی لگ رہی تھی۔
"منحہ جب کوئی گھر میں نا ہو تو اکیلے مت رہا کرو ۔
"تو کیوں سب اکیلا چھوڑ کر جاتے ہیں؟ تائی امی بھی غصّے سے دیکھتی ہیں منحہ کو تبھی کوئی بھی ساتھ لے کر نہیں جاتا۔۔۔۔منحہ نے منہ بناتے ہوۓ شکایت لگائی تھی۔۔
یزان نے اسکی بات پر گہری سانس لیتے منحہ کہ ہاتھ سے گڑیا چھینی تھی کہ منحہ نے تیزی سے اس سے واپس کھینچنی چاہی تھی ۔
"دیں میری گڑیا۔۔۔۔منحہ نے اچھلتے ہوئے اس سے گڑیا لینی چاہی جس نے اپنا ہاتھ اونچا کر لیا تھا۔۔
"پہلے مجھے میری گڑیا واپس کرو۔۔۔۔یزان اسکے چہرے پر نظر جمائے بولا تھا۔۔
"میرے پاس نہیں ہے۔۔
"بالکل ہے۔۔۔
"اللّه کا پکّا وعدہ منحہ کے پاس ایک ہی گڑیا ہے۔۔۔منحہ نے اسے یقین دلانا چاہا تھا۔
"اللّه کا پکّا وعدہ میری گڑیا تمھارے پاس ہی ہے۔۔۔یزان نے بھی اسی کہ انداز میں کہا۔۔
ؓمنحہ نے اسکی بات پر لب کچلنا شروع کردیے تھے یزان اسکی کیفیت سمجھتے ہی مسکرا کر اسکی ناک کو آہستہ سے چھو کر مسکرایا۔۔
"یہ۔۔۔ یزان کا اشارہ اسکی طرف تھا لیکن منحہ کہ جواب پر اسکا دماغ بھک سے اڑا تھا۔۔
"یہ تو ناک ہے میری۔۔۔۔۔منحہ اپنی ناک کو چھوتے ہوۓ بولی اسے حیرت تھی اتنے بڑے ہو کر بھی اسے ناک اور گڑیا کا فرق نہیں معلوم تھا۔۔
"آہ! ٹھیک ہے پھر یہ۔۔ یزان نے کہتے ساتھ اسکے مومی ہاتھ تھامے تھے۔۔
"یزان بھائی یہ ہاتھ ہے آپ کو اسکول میں نہیں پڑھایا۔۔۔
"کیا واقعی اسے ہاتھ کہتے ہیں؟ یزان لب دبا کر مسکراہٹ چھپاتے ہوۓ پوچھنے لگا اپنی حیرانگی میں وہ بھول گئی تھی کہ یزان سے وہ سخت ناراض تھی۔۔
"جی یہ ہاتھ ہے۔۔
"اور اسے کیا کہتے ہیں؟ یزان نے اسکی چٹیا پکڑ کر پوچھا۔۔
"اسے بال کہتے ہیں ہاہاہاہا یزان بھائی کڑھ مغز۔۔۔منحہ نے بتاتے ساتھ قہقہہ لگاتے ہوۓ اسے کہا تھا کہ یزان اسکے ہنسنے پر کھل کر مسکرایا تھا۔۔
"منحہ کی بچی مجھےکڑھ مغز کہا ہاں۔۔۔۔مصنوعی گھوری سے اسے دیکھتا وہ منحہ کہ پیچھے بھاگا تھا دونوں لان میں آگے پیچھے بھاگ رہے تھے منحہ اور یزان دونوں کہ کھلکھلانے کی آوازیں وہاں گونج رہی تھیں۔۔آوازوں پر منال بیگم نے کھڑکی سے جھانکا تو حیران رہ گئیں۔۔۔ستائیس سالہ یزان درانی اس وقت کہیں سے بھی بڑا نہیں لگ رہا تھا۔۔
دونوں کہ چہرے ہنسنے اور بھاگنے سے سرخ ہوچکے تھے۔
دونوں ایک دوسرے میں اتنے مگن تھے کہ گیٹ سے اندر بڑھتی گاڑی کا بھی معلوم نہیں چل سکا منال بیگم نے چونک کر روش پر دیکھا تھا جہاں عنایا اپنی فیملی کہ ساتھ موجود تھی۔۔
"یہ یزان ہے نا؟ عنایا کی بہن نے طنزیہ لہجے میں پوچھا تھا جو دنگ کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔۔یزان نے منحہ کو پکڑتے ہی کیاریوں سے ہی پھلانگ کر اندر کی جانب قدم بڑھائے تھے۔۔
عنایا کی آنکھوں کہ سامنے کینیڈا کے مناظر گھومنے لگے جہاں وہ اکثر لڑکوں کہ چیلنج کرنے پر ریسلنگ کیا کرتا تھا۔۔۔۔ہر کوئی اس سے متاثر تھا۔۔۔
"لو عنایا تم یہاں اسے سرپرائز دینے آئی تھی لیکن یہاں تو کوئی اور ہی نظارے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔۔۔عنایا کی بھابھی نے بھی کندھے اچکائے تھے۔۔
عنایا یزان کو سرپرائز دینے کہ لئے اپنی بہن بھابھی کہ ساتھ آئی تھی تاکہ جب یزان گھر پہچے تو اسے دیکھ کر خوش ہوجاۓ۔۔۔۔

"ہاہاہا۔۔یزان بھائی چھوڑیں۔۔۔منحہ کہ کھلکھلانے کی آواز لاؤنج میں گونج رہی تھی کہ وہاں تیزی سے منال بیگم آئیں تھیں۔
"یزان۔۔۔منال ببگم تیز تیز قدم اٹھاتیں اسکے نزدیک آنے لگئیں جس نے جلدی سے منحہ کو چھوڑا تھا۔۔
"چاچی۔۔۔
"یزان۔۔۔ عنایا کی آواز پر جھٹکے سے یزان اور منحہ نے دروازے کی سمت دیکھا تھا یزان حیرت زدہ سا عنایا کو دیکھ رہا تھا اس سے قبل کوئی کچھ کہتا منحہ نے تیوری چڑھاتے ہوۓ یزان کے بازو کو دونوں ہاتھوں سے پکڑا تھا منال بیگم گھبرا کر منحہ کو دیکھ کر اس تک پہنچی تھیں..
"عنایا تم۔۔۔یزان نے کہتے ساتھ منحہ کو دیکھا تھا جسکی گرفت اسکے بازو پر اتنی سخت ہوگئی تھی کہ ہاتھ کی نسیں ابھرنے لگیں تھیں
"لگتا ہے ہم غلط وقت پر آگئے ہیں۔۔۔عنایا نے منحہ کہ ہاتھ کی طرف دیکھتے ہوۓ طنز کا تیر چلایا تھا۔
"ایسا کچھ نہیں ہے عنایا تم نے بتایا نہیں تم اپنے گھر والوں کہ ساتھ آرہی ہو۔۔پلیز آپ لوگ آئیں نا۔۔۔یزان نے کہتے ساتھ اسکی بہن اور بھابھی کو دیکھ کر مسکراتے ہوۓ کہا تھا۔۔
"یزان تم تو گھر پر نہیں تھے ناں؟ عنایا اسکی بات کو نظرانداز کئیے یزان کہ مقابل آکر بولی تھی کہ عنایا کہ قریب آتے ہی منحہ نے یزان کا بازو چھوڑ کر اپنے قدم پیچھے کی طرف بڑھائے تھے ایک بار پھر اسے اپنی ناراضگی یاد آئی تھی وہ اسکا یزان نہیں تھا وہ تو سامنے کھڑی اس چڑیل کا تھا جو اسے بالکل بھی پسند نہیں تھی۔۔منحہ کے پیچھے ہوتے ہی یزان نے بے اختیار منحہ کو دیکھا تھا اور یہی چیز عنایا کو مزید سلگا گئی تھی ماحول میں عجیب سا تناؤ بڑھ رہا تھا۔۔
"عنایا بیٹی باتیں تو ہوتی رہیں گی پہلے بیٹھ جاؤ۔۔،
"پلیز آپ سے بات نہیں کر رہی ہوں میں اسلئے بہتر ہوگا کے ہمارے معملے میں نہ بولیں۔۔۔۔
عنایا کے بدتمیزی کرنے پر وہ حیران ہونے کہ ساتھ شرمندہ ہوگئی تھیں۔۔۔حیران تو یزان بھی تھا اسے عنایا سے ہرگز اس بدتمیزی کی امید نہیں تھی۔
"عنایا تمیز سے جانتی بھی ہو کس نے کیا کہہ رہی ہو؟
"ہاں جانتی ہوں ایک ایسی عورت سے بات کر رہی ہوں جس نے اپنی باولی بیٹی کو تمھارے پیچھے لگا دیا ہے،ہونہہ مجھے نہیں معلوم تھا تم ایک حسن پرست مرد ہو۔۔۔
"بس بہت ہوچکا عنایا اپنی زبان کو لگام دو ورنہ۔۔
"ورنہ کیا ہاں؟ تم ایک حسن پرست جھوٹے مرد ہو مجھے تو بہت پہلے ہی سمجھ جانا چاہیے تھا جب تم اس لڑکی کا ذکر کیا کرتے تھے
یزان سے بھی اونچی آواز میں دوبدو جواب دیتی وہ اسے گھورنے لگی منال بیگم نے جلدی سے منحہ کو اپنے ساتھ لگایا تھا جو بری طرح ڈر کرکانپ رہی ھی۔۔
"اچھا تو تم بھی واقعی ایک حسین عورت ہو؟ یزان نے تلخی سے اس سے پوچھا تھا کہ وہ سر تا پیر سلگ کر رہ گئی تھی۔۔۔۔
اس سے قبل وہ کوئی جواب دیتی قدموں اور باتوں کی آوازوں کے ساتھ گھر کہ تمام افراد جیسے ہی اندر داخل ہوۓ اندر کا ماحول دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے۔
"ارے عنایا تم کب آئی؟ نور بیگم اسکی بہن اور بھابھی کو دیکھتیں اسکے قریب آئیں تھیں۔
"عنایا کیا بات ہے۔۔کچھ ہوا ہے؟ نور بیگم نے منحہ کو دیکھ کر ناگواری سے پوچھتے عنایا کہ کندھے پر ہاتھ رکھا تھا کہ اس نے زور سے انکا ہاتھ جھٹکا تھا۔۔
"پلیز یہ جھوٹے ڈرامے میرے ساتھ مت کریں آنٹی۔۔۔
"عنایا۔۔۔یزان کا ہاتھ اٹھا تھا جسے خود ہی اس بے مٹھی بنا کر روکا تھا۔۔
سب ششدر تھے۔۔۔منحہ آنکھیں پھاڑے یزان کو دیکھنے لگی آج پہلی بار سب نے یزان کو اتنے غصّے میں دیکھا تھا۔۔
بی جان جو کب سے دروازے کہ پاس خاموش تماشائی بنی کھری تھیں ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ منحہ کو دیکھنے لگیں۔۔
جس کی نظریں یزان پر ہی جمی تھیں۔۔
"عنایا چلو یہاں سے بہت بے عزتی کروالی۔۔۔عنایا کی بھابھی نے منہ بناتے ہوۓ عنایا کو کہا تھا ہر کوئی اپنی جگہ خاموش تھا کل تک تو سب ٹھیک تھا اچانک ایسا کیا ہوا تھا کے بات اتنی آگے بڑھ گئی تھی۔۔۔
"کون سی بے عزتی ہو رہی ہے آپ کی یہاں الٹا یہ میرے گھر والوں سے بدتمیزی کر رہی ہے کیا یہ نظر نہیں آرہا ہے آپ کو، اچھا ہوا تم نے وقت سے پہلے اپنا اصل چہرہ دکھا دیا۔۔یزان کے غصّے سے کہنے پر نور بیگم کا سر چکرا کر رہ گیا تھا جبکہ عنایا کہ ساتھ بہن اور بھابھی دونوں کو پتنگے لگ گئے تھے۔۔۔
"تم کیا میرا اصل چہرہ دیکھو گے یزان درانی جو ایک پاگل لڑکی کے پیچھے پاگل ہوگیا ہے۔۔۔
"یزان یہ کیا کہہ رہی ہے۔۔۔عنایا نے نور بیگم کے سر پر دھماکہ ہی تو کیا تھا۔۔۔
"صحیح کہہ رہی ہوں مجھ سے جھوٹ بولا گیا کے گھر میں نہیں ہوں اور یہاں آپکا بیٹا اس پاگل کے ساتھ عیاشی۔۔۔۔
"تڑاخ!! بی جان کہ زور دار تھپڑ رسید کرنے پر سب کو سانپ سونگ گیا تھا منال بیگم منحہ کو ساتھ لگائے رونے لگی تھیں جو مزید ڈر گئی تھی۔
"خبردار لڑکی جو میری پوتی کے لئے ایسی گھٹیا بات زبان سے نکالی بھی تو زبان کھینچ لوں گی تمہاری، بڑوں سے کس طرح بات کی جاتی ہے تمھارے والدین نے نہیں سکھایا لیکن یہ بچی جسے تم یہاں منہ پھاڑ کر پاگل کہہ رہی ہو وہ اچھی طرح سمجھتی ہے بڑے چھوٹے کا لحاظ باہر کہ ملکوں سے پڑھ کر آجانے سے تہذیب نہیں آجاتی ہے یہ تربیت گھر اور خون میں شامل ہوتی ہے۔۔۔۔بی جان غصّے سے اسے دیکھ رہی تھیں جو گال پر ہاتھ رکھے غصے سے سرخ ہوگئی تھی۔۔
"تو پھر ٹھیک ہے۔۔۔عنایا کہتے ہی یزان کہ قریب جا کر رکی تھی جو لب بھینچے کھڑا تھا۔۔
"میں ایک جھوٹے مرد کے ساتھ اپنی زندگی برباد نہیں کرسکتی ہوں یزان درانی،تم جیسے مرد اس جیسی ہی ذہنی مریضاؤں کے مستحق ہوتے ہیں،یہ لو یہ بھی اسے ہی دے دو۔۔۔۔عنایا نے زہرخند لہجے میں کہتے انگلی سے انگوٹھی نکال کر یزان کے سینے پر ماری تھی جو یزان کے سینے سے ٹکرا کر قدموں کہ پاس گری تھی۔۔۔نور بیگم بالکل سن کھڑی سب دیکھ رہی تھیں شروع دن سے انہیں جس بات کا ڈر تھا آج وہی ہونے جا رہا تھا۔۔
"اور ہاں اپنی شادی پر ضرور بلانا مجھے۔۔۔عنایا نے جاتے جاتے بھی پلٹ کر کہتے باہر کی جانب قدم بڑھا دیے تھے۔۔
یزان نے نظریں جھکا کر اپنے قدموں میں پڑی انگوٹھی کو جھک کر اٹھایا تھا۔۔
تمام گھر والوں کہ ہوتے ہوۓ بھی وہاں پن ڈراپ جیسی خاموشی تھی۔۔۔
منال بیگم نے منحہ سے الگ ہوتے اسکا ٹھنڈا ہاتھ پکڑا تھا جسکی نظریں یزان پر ہی تھیں۔۔
منال بیگم نے وہاں سے منحہ کو لے جانا ہی بہتر سمجھا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
"یہ سب کیا ہوگیا میرے اللّه،یزان بیٹا تم نے اس باولی۔۔۔
"نور بھابھی بہت ہوچکا میری بیٹی بہت معصوم ہے میں اس کے خلاف اور کوئی بات برداشت نہیں کروں گا۔۔۔۔۔نور بیگم کی آواز نے جہاں خاموش فضا میں ارتعاش پیدا کیا تھا وہیں انکی بات نے دراب صاحب کو بولنے پر مجبور کردیا تھا۔۔
"ہونہہ کون سی معصوم ہاں ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہوں آخر اس کی ذمہ دار تمہاری ہی بیٹی ہے آخر کیوں وہ میرے بیٹے کے پیچھے پڑی ہے۔۔
"امی بس بہت ہوچکا کیا بولے جا رہی ہیں آپ؟ اس کی وجہ سے کچھ بھی نہیں ہوا ہے وہ میرے پیچھے نہیں ہمیشہ سے میں اسکے پیچھے رہا ہوں۔۔۔۔یزان ضبط سے انھیں کہتا وہاں سے باہر نکلتا چلا گیا تھا غصّے میں اسے معلوم ہی نہیں چلا تھا کہ وہ کیا بول گیا ہے یزان کہ جاتے ہی بلال بھی اسکے پیچھے ہی باہر نکلا تھا۔۔
"ہم اب یہاں نہیں رہ سکتے یا تو درانی گھر لیں یا اس گھر کہ حصے کریں کیونکہ میں اب اور یہ سب برداشت نہیں کر سکتی ہوں۔۔
"نور بات کو طول دینے کی ضرورت نہیں ہے تم ایک ایسی لڑکی کہ پیچھے لڑ رہی ہو جو ذلیل کر کے منہ پر رشتہ ٹھکرا کر چلی گئی ہے۔۔۔
"اتنی آسانی سے بات ختم نہیں ہوسکتی،اگر آپ کو یہیں رہنا ہے تو رہیں لیکن میں اب یہاں نہیں رہ سکتی ہوں۔۔نور بیگم دوبدو جواب دیتیں تیزی سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئیں تھیں ہالہ بھی سنجیدگی سے اپنی ماں کے پیچھے گئی تھی۔۔جبکہ دائم صاحب کہ اشارے پر ہانیہ بیگم اور باقی سب بھی اپنے کمروں کی جانب چل دئیے تھے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
"عنایا یہ سب کیا تھا تمہیں نہیں لگتا تم بہت زیادہ ریکٹ کر گئی ہو؟ عنایا کی بہن نے الجھ کر اس سے سوال کیا تھا۔۔
"ہاں میں بھی یہی سوال کرنے والی تھی آخر تمہیں اس پاگل سے کون سا خطرہ تھا
"مجھے کوئی بھی خطرہ نہیں تھا اس سے دیکھا نہیں تھا کیسے کھڑی کانپ رہی تھی۔۔
"پھر کیا مسئلہ تھا؟ اس بار عنایا کی بھابھی نے اس سے پوچھا تھا۔
"میں جوائنٹ فیملی میں نہیں رہ سکتی ہوں اور یہ مشرقی مرد ہمیشہ اپنی فیملی کو ترجیح دیتے ہیں پھر آپکے بھائی نے مجھے ماڈلنگ کی آفر کی ہے میں اتنا اچھا موقع نہیں گنوا سکتی اس لیے یہ سب کیا اگر یزان سے ذکر کرتی تو وہ آسانی سے میری جان نہیں چھوڑتا۔۔۔عنایا بالوں کو ایک ادا سے جھٹک کر بولی تھی۔
"تم محبت نہیں کرتی تھی؟
"کرتی ہوں بہت ہینڈسم ہے یزان کینیڈا میں بھی کتنی لڑکیوں کا کرش تھا لیکن کوئی طوفانی محبت نہیں ہے۔۔۔عنایا سنگ دلی سے کہتی کندھے اچکا کر موبائل پر جھک گئی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"یزان تم ٹھیک ہو؟ بلال کہ کندھے پر ہاتھ رکھنے پر وہ جو انگوٹھی کو دیکھ رہا تھا چونکا۔۔۔دونوں گھر کہ قریب ہی پارک کہ باہر موجود تھے۔۔۔
"ہاں میں ٹھیک ہوں۔
"لگ تو نہیں رہے۔۔بلال کہتے ساتھ اسکے برابر فٹ پات پر بیٹھا تھا ۔۔
"نہیں میں ٹھیک ہوں،بس ہمیں جس چیز کی امید نہ ہو وہ ہوجاۓ تو اسے قبول کرنے میں تھوڑا وقت درکار ہوتا ہے۔۔۔
"ہمم۔۔کیا بہت پیار کرتے تھے؟
"پیار؟ پتہ نہیں لیکن میں نے اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہا تھا پر نہیں جو ابھی سے میرے اپنوں سے اس طرح پیش آرہی تھی وہ کل کو کیا کرتی۔۔یزان نے کہتے ساتھ ہاتھ کی مٹھی بند کرتے لبوں کو بھینچا تھا۔۔۔
"اب کیا کرو گے؟ جو کچھ بھی ہوا تائی امی اسکا زمہ دار اس معصوم لڑکی کو ٹھہرا رہی ہونگی کیا اس بارے میں سوچا ہے پہلے ہی وہ اسے پسند نہیں کرتیں۔۔
"آہ! فکر مت کرو میں سب سمبھال لوں گا۔۔یزان گہری سانس لے کر کہتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
"منحہ ماما کی جان ایسے کیوں دیکھ رہی ہو؟ منال بیگم اسے پوری آنکھیں کھولے دروازے کی طرف دیکھتا پا کر پوچھنے لگیں۔۔
"ماما س سب لڑائی کر رہے تھے،مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔۔
"اس میں ڈرنے والی کیا بات ہے،منحہ تو اتنی اچھی ہے وہ تو گندی تھی تبھی اس سے لڑائی کر رہے تھے۔۔
"لیکن تائی امی مجھے غصّے سے دیکھ رہی تھی اگر وہ آگئیں۔۔۔
"ششش! خاموش منحہ ابھی تمہاری ماما زندہ ہے سمجھی اس طرح ڈرنا اچھی بات نہیں ہے منحہ کو بہت بہادر ہونا چاہیے نا۔۔غور سے منال بیگم کو دیکھتی وہ انکی باتیں سن رہی تھی منال بیگم کی بات پر اس نے سر کو اثباب میں ہلایا تھا۔
"شاباش میری جان۔۔۔منحہ ملک شیک پئیے گی؟
منال بیگم کہ پیشانی چوم کر پوچھنے پر اس نے مسکرا کر سر ہلایا تھا۔۔
منال بیگم کے جاتے ہی منحہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
یزان اور بلال جیسے ہی گھر میں داخل ہوئے گھر بھر میں خاموشی پھیلی دیکھ کر کمروں کی جانب بڑھنے لگے جبکہ یزان کہ قدم منحہ کے کمرے کی جانب اٹھے تھے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یزان اور بلال جیسے ہی گھر میں داخل ہوئے گھر بھر میں خاموشی پھیلی دیکھ کر کمروں کی جانب بڑھنے لگے جبکہ یزان کہ قدم منحہ کے کمرے کی جانب اٹھے تھے۔۔۔
دروازہ کھولتے ہی اس نے اندر قدم رکھا تھا خالی کمرہ دیکھ کر جیسے ہی دوبارہ باہر نکلنے لگا الماری کہ ذرا سے کھلے پٹ کو دیکھ کر چونکتا مسکرا کر دبے قدموں چلتا پٹ کو کھول کر نیچے بیٹھا تھا۔۔
"میاؤں۔۔۔۔یزان کی آواز پر اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔۔
"یزان بھائی۔۔...
"آج بھی عادت نہیں گئی اس میاؤں کی ہمم چلو شاباش باہر نکلو۔۔۔یزان نے مسکراتے ہوۓ کہتے اپنا ہاتھ اسکی طرف بڑھایا تھا جس نے چونک کر اسکے ہاتھ کی طرف دیکھ کر سر کو نفی میں ہلا کر سر جھکایا تھا۔۔
"میں آپ سے ناراض ہوں۔۔۔۔منحہ نے منمناتے ہوۓ کہا
"کیا؟ ناراضگی ختم نہیں ہوئی تھی؟
"نہیں۔۔منحہ نے منہ پھولا کر اسکے حیرت سے پوچھنے پر کہا تھا۔۔
"ٹھیک ہے پھر جب تک دوبارہ دوستی نہیں کرو گی میں بھی یہیں بیٹھ جاؤں گا۔۔ یزان نے کہتے ہی اپنا ہاتھ اندر رکھا تھا کہ منحہ اسکے سر جھکا کر اندر آنے کی کوشش پر کھلکھلائی تھی۔
"ہاہاہا آپ بہت بڑے ہیں اندر نہیں آسکتے۔۔۔
"آہ! ہاں واقعی لیکن تم آج بھی میاؤں ہو وہ بھی موٹو سی۔۔۔یزان نے گہری سانس لے کر کہتے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا کہ منحہ نے آگے ہو کر نظر اٹھانے کے ساتھ سر اونچا کر کے اسے دیکھا تھا۔
"آجاؤ دوست پھر سے دوستی کرلیتے ہیں۔۔۔یزان اسی کو دیکھتا دوبارہ سے ہاتھ بڑھا چکا تھا کے منحہ اپنے بڑے بڑے گول شیپ کے چشمے کو ناک پر جماتی اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ میں دیتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
"پہلے وعدہ کریں اس چڑیل سے بات نہیں کریں گے۔۔منحہ نے کہتے ساتھ اسے دیکھا تھا۔۔
"منظور ہے۔۔۔دھیرے سے مسکرا کر اس نے کہا تھا منحہ نے خوشی کہ اظہار پر اچھلنا شروع کردیا تھا کہ یَکدم کمرے کا دروازہ کھول کر نور بیگم اندر آئیں تھیں لیکن جیسے ہی انکی نظر اپنے بیٹے سے ہوتی ہاتھ کی جانب گئی تھی جارحانہ انداز میں منحہ کے قریب آتی ہاتھ بلند کیا تھا کہ منحہ سکتے میں انھیں دیکھنے لگی لمحوں کا کھیل تھا تھپڑ کی گونج نے اندر آتیں منال بیگم کو بھی ساکت کر دیا تھا جبکہ نور بیگم خود ششدر سی اچانک منحہ کے آگے آنے پر اپنے بیٹے کو دیکھنے لگیں جن کا تھپڑ منحہ تو نہیں یزان کہ گال پر اپنا نشان چھوڑ گیا تھا۔۔
منحہ نے یزان کی شرٹ کو مضبوطی سے جکڑا ہوا تھا۔۔
"یزان بیٹا تم۔۔
"امی منحہ میری زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہے جتنی جلدی ہو آپ اسے تسلیم کرلیں۔۔یزان نے انکے سر پر ایک اور دھماکہ کیا تھا۔۔
"یہ کیا کہہ رہے ہو یزان ہوش میں تو ہو،کیسے مرد ہو۔۔۔
"کیا مطلب ہے آپ کا امی؟ وہ ٹھیک تھی جس نے سب کے سامنے آپ کا ہاتھ جھٹکا جس نے چاچی سے بدتمیزی کی؟ صرف اسلئے کے وہ ہر طرح سے پرفیکٹ ہے لیکن معاف کیجئے گا آج مجھے اپنی ہی پسند پر شرمندگی ہوئی ہے۔۔۔یزان نے بھرائی ہوئی آواز میں انھیں کہا تھا جو آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھیں۔۔۔
"نہیں یزان ابھی تم ہوش میں نہیں ہو بیٹا،ٹھیک ہے اگر عنایا نہیں تو میں اپنے بیٹے کے لئے اچھی سی لڑکی ڈھونڈوں گی ٹھیک ہے نا؟ نور بیگم نے آگے بڑھ کر اسکا چہرہ ہاتھوں کہ پیالے میں بھرتے ہوۓ کہا تھا۔
"نہیں امی مجھے ابھی شادی نہیں کرنی ہے۔۔یزان نے انکا ہاتھ ہٹاتے ہوۓ دو ٹوک لہجے میں کہا تھا کہ وہ اسے دیکھتے رہنے کے بعد تیزی سے کمرے سے نکلنے لگیں کے منال بیگم کو دیکھ کر رکیں۔۔
"یہ جو ہورہا ہے ٹھیک نہیں ہو رہا ہے منال اسکا انجام بہت بھیانک ہوسکتا ہے۔۔۔نور بیگم کہتے ہی وہاں سے نکلتی چلی گئیں تھیں۔۔
یزان نے اپنی پشت پر منحہ کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ محسوس کرتے ہی پلٹ کر اسے دیکھا تھا جو زاروقطار روتی ہوئی اسے دیکھ رہی تھی۔
"منحہ سب ٹھیک ہے۔۔۔
"نن تائی امی نے آ آپکو مارا۔۔۔منحہ نے روتے ہوۓ اپنا ہاتھ اسکے گال پر رکھا تھا وہ اپنے لئے نہیں اسکے لئے رو رہی تھی جس نے اسکو پڑنے والا تھپڑ خود پر کھایا تھا۔۔۔
"کچھ نہیں ہوا دیکھو میں رو رہا ہوں کیا؟ یزان نے اسکا ہاتھ پکڑ کر سمجھایا۔۔۔
منال بیگم لبوں کو بھینچے خاموشی سے کھڑی ان دونوں کو دیکھ رہی تھیں ایک اسکی ڈھال بن جاتا تھا تو دوسری اسکے لئے آنسوں بہاتی تھی۔۔
جانے انکے درمیان ایسا کیا رشتہ تھا کہ وہ خود ابھی تک نہیں سمجھ سکے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ
ﯾﮧ ﻏﻠﻄﯽ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﮐﺮ ﻟﯿﻨﺎ
ﭼﻠﻮ ﺗﻢ ﺳﮯ ﮨﯽ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ
ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﮐﺮ ﻟﯿﻨﺎ
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮨﻢ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺗﻮ ﺍﭼﮭﺎ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ
ﻣﺤﺒﺖ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﺮﻧﯽ ﮨﮯ
ﺳﻨﻮ! ﮨﻢ ﺳﮯ ﮨﯽ ﮐﺮ ﻟﯿﻨﺎ💕
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن ناشتے کی میز پر گھر کہ تمام افراد موجود تھے جب ہانیہ بیگم نے خاموشی کو توڑتے ہوۓ بات کا آغاز کیا تھا۔۔
"بی جان میں کیا سوچ رہی ہوں کل گھر میں ڈھولکی رکھی جائے ماشاءالله دو دو شادیاں ہیں تھوڑی رونق لگ جاۓ گی۔۔۔
"بالکل ہانیہ بھابھی آپ صحیح کہہ رہی ہیں اب آگے دن ہی کتنے رہ گئے ہیں۔۔۔منال بیگم نے بھی انکی بات پر مسکرا کر کہا تھا۔۔
ہالہ نے اپنی ماں کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھا تھا یہ اشارہ تھا کہ وہ بھی اپنی رائے دیں۔۔
"ہاں یہ تو بہت اچھی بات ہے ویسے بھی شادی والا گھر ہے جو ہونا تھا وہ تو ہوگیا ہے حاسدوں کی حسد لگنی تھی لگ چکی ہے۔۔۔نور بیگم نے کہتے ساتھ منال بیگم کو دیکھا تھا جو انکے دیکھنے پر خفیف سا مسکرائی تھیں۔۔۔
نور بیگم کی بات پر بی جان نے صبر کا گھونٹ لیا تھا۔۔۔۔
"چلیں پھر جیسا آپ سب کو بہتر لگے۔۔۔دائم صاحب کی بات مسکراتے ہوۓ ناشتے کی جانب متوجہ ہوۓ تھے۔۔
۔۔۔۔۔۔
ناشتے کے بعد تمام کزنز لاؤنج میں ہی بیٹھ گئے تھے۔۔
"بھئی داور بھائی ڈھول اور ڈانڈیاں کل تک آجانی چاہیے یہ آپ کی زمہ داری ہے۔۔۔
"حمزہ لا دے گا۔۔۔داور نے اسے اٹھتا دیکھ کر آرام سے کہا۔۔
"میں کیوں؟ آپ خود لے کر آئیں نا۔۔حمزہ کہتے ہی آگے بڑھ گیا تھا کہ داور کا رخ اب ہاشم کی جانب تھا۔
"یار ہاشم یہ کام تم کرلو۔۔۔
"کیوں بھئی تمہیں کیا مسئلہ ہے؟ بلال نے بیٹھتے ہوۓ پوچھا جو اپنا کام سب پر ڈال رہا تھا
"یار سمجھا کریں میری بھی شادی ہے۔۔۔
"ہاں تو کوئی انوکھا کام نہیں کر رہے ہو دولہے ہی ہو اللّه معاف کرے کوئی اچھوت کی بیماری لاحق تو نہیں ہوئی کہ تم کسی چیز کو ہاتھ نہیں لگا سکتے۔۔۔
"استغفرالله بھائی،اللّه نا کرے۔۔۔ٹھیک ہے میں لے آؤں گا اب خوش۔۔۔داور نے جھرجھری لیتے ہوۓ حامی بھری تھی۔۔
ہالہ نے نظر گھما کر منحہ کو دیکھا تھا اپنے مخصوص بوریوں جتنے ڈھیلے ڈھالے شلوار قمیض ساتھ خود سے بڑا دوپٹہ بالوں کی چٹیا بنائے زینہ پھلانگتی نیچے آرہی تھی۔۔۔
"لو آگئی ۔۔ہالہ کی اونچی بڑبڑاہٹ پر سب نے اسکی نظروں کہ تعاقب میں دیکھا تھا۔
گڈ مارننگ! منحہ کہتے ہی وہاں سے آگے بڑھ گئی تھی جبکہ حمزہ اور مومنہ نے ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھا تھا کل انکی ماں نے انھیں منحہ کے ساتھ کھیلنے سے منع کیا تھا انھیں لگ رہا تھا منحہ ضد کرے گی لیکن سب انکے برعکس ہورہا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
"یزان بھائی۔۔۔۔منحہ نے دروازے پر دستک دے کر اندر جھانکا تھا یزان جو کمرے سے منسلک دوسرے کمرے میں تھا آواز پر مسکراتے ہوۓ وہاں آیا تھا جس نے اسے دیکھتے ہی اندر قدم رکھا۔
"اہمم۔۔آج یہ کون آیا ہے۔۔۔
"منحہ اور گڑیا آئی ہے۔۔
"ارے واہ تو آپ ہیں وہ منحہ چھوٹی سی پیاری سی یزان کی دوست؟ یزان نے آگے بڑھ کر اسکی ناک کو چھیڑٹے ہوۓ پوچھا تھا جس نے ناک کو اوپر سے رگڑتے ہوۓ اسے دیکھا تھا۔
"جی میں ہوں۔۔۔منحہ نے فخر سے اسے جواب دیا تھا جو اسکے انداز میں کھل کر مسکرا دیا تھا۔۔
"میں آپ کو لینے آئی ہوں چلیں ہم آنکھ مچولی کھیلیں گے۔۔۔۔
"ابھی؟
"جی ابھی۔۔۔منحہ نے تیزی سے سر ہلایا تھا۔
"منحہ ابھی تو مجھے جانا ہے۔۔۔
"کہاں جا رہے ہیں میں بھی جھولوں پر جاؤں گی ۔۔
"جھولوں پر؟ یزان بے حیرت سے اسکی بات دوہرائی تو سمجھ کر خود ہی مسکرانے لگا۔۔
"ارے میری میاؤں میں جھولوں پر نہیں جا رہا میں کسی کام سے جا رہا ہوں۔
"پاپا کی طرح؟
"ہمم ہاں۔۔منحہ کہ کہنے پر اس نے ہاں کہنا ہی فالحال بہتر سمجھا تھا کے وہ نور بیگم اور ہانیہ بیگم کہ ساتھ اپنے ننھیال جا رہا تھا شادی کے کارڈ دینے۔۔۔
"اچھا پھر آپ جائیں۔۔منحہ یَکدم ہی بوجھ گئی تھی، پہلے ہی وہ اتنا دور رہا تھا اور اب جب وہ دوبارہ دوست بن گئے ہیں تو وہ پھر اسے اکیلا چھوڑ کر جا رہا تھا۔۔۔
"ناراض تو نہیں ہوگی نا؟
"نہیں یزان بھائی۔۔۔یزان نے جھک کر اسکے چہرے کو دیکھتے ہوۓ پوچھا تھا کہ منحہ نے تیزی سے سر کو اثباب میں ہلاتے اسے یقین دلایا تھا۔۔
"میں جلدی آجاؤں گا۔۔۔۔بس یوں گیا اور یوں واپس۔۔۔۔یزان نے چٹکی بجاتے ہوۓ اسے ہنسانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ بھول گیا تھا کے منحہ کچھ زیادہ ہی زہین تھی. ۔۔
"آبرہ کا ڈابرہ جادو۔۔۔۔منحہ نے پرجوش انداز میں کہا تھا کے اگلے ہی لمحے یزان کا قہقہ چھوٹ گیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
عشق___کب دعاؤں کا محتاج ہوتا ہے
عشق تو لا علاج ہوتا ہے
عشق کے اپنے اصول ہوتے ہیں
عشق کا اپنا رواج ہوتا ہے____
عشق کے عین سے عبادت ہے
عشق روح کا اناج ہوتا ہے_____
عشق جسموں کو سر نہیں کرتا
عشق کا ذہنوں پر راج ہوتا ہے___
عشق میں شاہ فقیر ہوتے ہیں
عشق کانٹوں کا تاج ہوتا ہے____
عشق میں کوئی حد نہیں ہوتی
عشق میں نہ کل نہ آج ہوتا ہے___
عشق خود ہی ظلم کرتا ہے
عشق خود ہی احتجاج ہوتا ہے___❤
" بسمہ تم لوگ کیا کر رہے ہو؟ عشاء کی نماز کہ بعد وہ جیسے ہی لاؤنج میں آئی سیڑیوں پر رک کر یزان کے بند دروازے کو دیکھنے لگی۔۔
"یزان بھائی گھر پر نہیں ہیں۔۔بسمہ کی آواز پر چونک کر وہ سیدھی ہوئی تھی کے اسکے ہاتھ میں ڈانڈیا دیکھ کر پوچھنے لگی۔۔
"بلال بھائی اور ہالہ آپی کی شادی ہے نا ہم لوگ انکی مہندی میں کرنے کے لئے سیکھ رہے ہیں۔۔
"واؤ! میں بھی کروں ۔۔
"میں کچھ نہیں کہہ سکتی تم ہالہ آپی سے پوچھ لو کیونکہ وہی سیکھا رہی ہیں۔۔۔بسمہ نے کندھے اچکا کر اسے بتایا تھا جس کی نظر لاؤنج میں سب پر جمی تھی۔
"میں پوچھ کر آتی ہوں۔۔۔منحہ کہتے ساتھ تیزی سے ہالہ کی طرف بڑھی تھی میرال بھی اسی کہ پاس کھڑی تھیں جب منحہ انکے نزدیک جا کر رکی۔۔
"منحہ اچھا ہوا آگئی دیکھو ہم سب ڈانڈیا کر رہے ہیں تم بھی سیکھو۔۔بسمہ کی دوست جو وہیں موجود تھی اسے دیکھتے ہی بولی۔
"کوئی ضرورت نہیں ہے مذاق بنوانا ہے کیا سب کے سامنے۔۔۔میرال ناگواری سے اسے دیکھتے ہوۓ بولی تھی جس کا خوشی سے دمکتا چہرہ یَکدم ہی بجھ گیا تھا جبکہ نظریں رنگ برنگی ڈانڈیوں پر تھیں۔
"آپ تو ایسے کہہ رہی ہیں کہ یہاں سب ماہر ہیں ہالہ آپی بھی یوٹیوب دیکھ کر ہی سیکھا رہی ہیں ناں؟
"بسمہ ہمارا اور اسکا کوئی مقابلہ نہیں ہے سمجھی۔۔۔
"میرال اور بسمہ بس کرو تم دونوں اور منحہ تم یہ لو۔۔۔منحہ جو انکی تکرار سن کر سہم گئی تھی ہالہ کے کہنے پر ایک بار پھر کھلکھلائی تھی۔۔
"میں ماما کو دکھا کر آتی ہوں۔۔۔۔منحہ چہک کر کہتی تیزی سے وہاں سے گئی تھی۔۔
بسمہ کہ وہاں سے ہٹتے ہی میرال نے ہالہ کو دیکھا تھا۔
"تھوڑا فن بھی کر لینا چاہیے۔۔۔ہالہ آنکھ مار کر کہتی ہنسی تھی کہ میرال اسکا اشارہ سمجھ کر بالوں کو جھٹک کر مسکرانے لگی
۔۔۔۔۔۔۔
ہالہ ڈیگ میں سونگ لگا کر اسٹیپ سمجھا رہی تھی جبکہ منحہ خوشی کے اظہار پر کھڑے کھڑے ہی ایڑیوں پر اونچی ہورہی تھی۔۔
"چلیں سب شروع کریں۔۔۔ہالہ نے سمجھاتے ہی گول دائرہ بنوایا تھا۔۔
بسمہ منحہ کو دیکھ کر مسکرائی تھی جبکہ سب اپنے اپنے اسٹیپ ایک دوسرے کو دوبارہ سے بتا رہی تھیں۔۔۔ہالہ میرال اور بسمہ سب کی دوستیں بھی موجود تھیں۔۔
منحہ مسکراتی ہوئی سب کو دیکھتی اپنے ہاتھوں کو حرکت دے رہی تھی۔۔
"ارے منحہ سمجھ گئی نہ؟
"جی ہالہ آپی لیکن میں کس کے ساتھ کھیلوں؟ منحہ کہ پوچھنے پر اس نے پلٹ کر سب پر ایک طائرانہ نظر ڈالی تھی۔۔۔
"اوہ منحہ سب کہ پارٹنر تو بن چکے ہیں۔۔۔ہالہ نے افسوس کا اظہار کرتے اسے دیکھا تھا۔۔
"میری دوست ہے نہ رانیہ میں اسے بلاؤں؟ یَکدم ہی اسے رانیہ کا خیال آیا تھا۔
"وہ تو گھر پر نہیں ہیں۔۔ہالہ اپنا منصوبہ بگڑنے پر جلدی سے جھوٹ بولنے لگی۔۔
"کیا وہ کہاں گئی ہیں؟
"شاید اپنی نانی کے گھر گئی ہیں۔۔ہالہ نے اسکے حیرت سے پوچھنے پر نظر چراتے ہوۓ کہا۔۔
"منحہ کو بھی کھیلنا ہے۔۔۔منحہ نے امید بھری نظروں سے ہالہ کو دیکھا تھا۔۔
"ٹھیک ہے پھر ایک کام کرتے ہیں میں تمہیں دوسری طرح سیکھاتی ہوں سب سے اچھا۔۔۔ہالہ نے رازداری سے اپنی مسکراہٹ ضبط کرتے اسے کہا جس کی آنکھیں چمک گئی تھیں۔
"ٹھیک ہے ہالہ آپی۔۔۔منحہ کہ کہتے ہی ہالہ سب کو جاری رکھنے کا کہتی منحہ کو سیکھانے لگی
"آہ!! منحہ کہ ہاتھ پر زور سے لکڑی لگنے پر اسکے ہاتھ سے اپنی ڈانڈیا چھوٹ گئی تھی جبکہ تکلیف سے منحہ کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہو گئیں۔ ۔۔۔
"سوری، سوری منحہ زور سے لگ گئی کیا دکھاؤ مجھے
"ہاں۔۔۔منحہ نے بھرائی ہوئی آواز میں کہتے اپنے ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے دبایا تھا
"اسکا مطلب اب تم کھیل نہیں سکو گی۔۔۔
"نہیں ہالہ آپی ٹھیک ہوگیا۔۔۔۔منحہ نے اسکی بات پر جلدی سے اپنی تکلیف سے کانپتی انگلی دکھائی تھی۔۔
"آہ چلو پھر دوبارہ سے کرتے ہیں۔۔۔ہالہ کہ کہتے ہی اس نے دوبارہ سے ڈانڈیا اٹھائی تھی کے ہالہ نے پلٹ کر میرال کو دیکھا تھا جو لطف اندوز ہورہی تھی۔۔
ایک بار پھر کھیلتے کھیلتے منحہ کہ ہاتھ سے ڈانڈیا ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا گری تھی لیکن اس بار اسکے ہاتھ پر چوٹ نہیں لگی تھی۔۔
منحہ نے تیزی سے جا کر جیسے ہی زمین سے ڈانڈیا اٹھائی مقابل نے اسکی کلائی پکڑ لی ۔
"ہاتھ ٹوٹ گیے ہیں تمھارے ابھی میرے سر پر لگ جاتی پھر؟ منحہ جو پہلے ہی اسکے ہاتھ پکڑنے پر حیران ہوئی تھی اسکے چیخنے پر گھبرا گئی تھی لاؤنج میں یَکدم خاموشی چھائی تھی۔
"سدرہ آپی اس میں اتنا ہنگامہ کرنے کی کیا ضرورت ہے لگ جاتی ناں لگی تو نہیں۔۔۔بسمہ نے یَکدم ہی آکر منحہ کا ہاتھ چھڑوا کر تیوری چڑھا کر اسے بولا تھا۔۔
"کیا مطلب ہے تمہارا ہاں؟ دیکھ رہی ہو میرال اپنی بہن کو کیسے زبان چلا رہی ہے۔۔۔۔سدرہ جو میرال کی دوست تھی بھنا کر بولی۔
سدرہ کی بلند ہوتی آواز پر نور بیگم وہاں آئیں تھی جبکہ منال بیگم جو بی جان کے کمرے میں تھیں گھبرا کر کمرے سے نکلی تھیں۔
"کیا ہوگیا ہے بچیوں کس بات پر ہنگامہ ہورہا ہے۔۔۔
"آنٹی ابھی میرا سر پھٹنے والا تھا اوپر سے اسے کچھ کہنے پر بسمہ مجھ سے بدتمیزی کر رہی ہے سدرا کے بتانے پر نور بیگم نے منحہ کی طرف دیکھا تھا اس سے قبل وہ اپنے دل کی بھڑاس نکالتیں منال بیگم تیزی سے اپنی بیٹی کہ پاس آئیں تھی۔۔
"اس نے جان بوجھ کر تمہیں مارنے کی کوشش نہیں کی ہوگی بالفرض اگر کرتی تو نشانہ چکتا نہیں پھر بھی اگر تکلیف پہنچی تو منحہ آپ معافی مانگ لو۔۔منال بیگم نے سرد لہجے میں کہتے منحہ سے کہا۔
"ماما منحہ نے کچھ نہیں کیا۔۔
"میں جانتی ہوں اپنی بیٹی کو لیکن اگر معافی مانگنے سے معاملہ سلجھ جاتا ہے تو ٹھیک ہے۔۔۔منال بیگم کی بات پر سدرہ حجل سی ہوگئی۔
"سوری۔۔۔۔منحہ کے کہتے ہی منال بیگم اسے لے کر وہاں سے چلی گئیں تھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے گیارہ بجے کا وقت تھا ایسے میں منحہ کمرے کی بالکنی میں کھڑی تھوڑی تھوڑی دیر میں نیچے جھانک رہی تھی جہاں ایک دن بعد ہونے والی مہندی کہ لئے لائٹنگ کی جارہی تھی
منحہ کی نظریں یزان کہ ساتھ ساتھ ہی سفر کر رہی تھیں۔۔
"منحہ۔۔
"جی ماما۔۔۔منال بیگم کے اچانک آنے پر وہ گھبرا کر انکی طرف متوجہ ہوئی تھی یوں جیسے کوئی چوری پکڑلی گئی ہو۔۔
"یہاں کیا کر رہی ہو؟
"وہ ماما نیچے لائٹس لگ رہی ہیں ناں وہ ہی دیکھ رہی ہوں دیکھیں کتنی اچھی لگ رہی ہیں؟ منحہ نے پلٹ کر انکا دھیان سجاوٹ پر کروایا تھا کہ خود بھی ٹھٹھک گئی تیزی سے پورے لان میں نظر دوڑانے لگی لیکن یزان اسے کہیں نہیں دکھا تھا۔۔۔
منال بیگم نے کنکھیوں سے اسکی بے چینی دیکھی تھی۔۔
"بہت پیارا لگ رہا ہے۔۔۔اچھا چلو میں نیچے منحہ کے پاپا کے پاس جا رہی ہوں تم بھی آجاؤ کھانا کھانے۔۔
"ماما بھوک نہیں ہے۔۔
"کیوں صبح سے کیا کھالیا ہے جو بھوک نہیں ہے؟
"ماما پلیز۔۔۔منحہ نے مسکین سی شکل بناتے ہوۓ کہا وہ جو پہلے ہی کیوٹ لگتی تھی ایسا کرنے پر انھیں ٹوٹ کر اپنی بیٹی پر پیار آتا تھا۔۔۔
"اچھا ٹھیک ہے جب بھوک لگے تو بتا دینا۔۔۔
"ٹھیک ہے ماما۔۔۔۔منال بیگم کے مسکرا کر کہنے پر اس نے سر ہلایا تھا۔۔
منال بیگم کے جاتے ہی اس نے دوبارہ نیچے جھانکا تھا لیکن یزان کو نا پا کر کمرے میں آگئی تھی۔۔
ابھی وہ آکر بیٹھی ہی تھی کے دروازے پر دستک ہوئی۔
"کون ہے آجائیں۔۔۔منحہ کے اجازت دیتے ہی یزان مسکراتے ہوۓ دروازہ کھول کر اندر آیا تھا وہ جو بیزار ہورہی تھی یزان کو دیکھتے ہی کھل اٹھی۔۔
"یزان بھائی آپ کہاں تھے؟ منحہ نے کہتے ہی اسکی جانب قدم بڑھائے تھے۔۔۔
"نیچے تھا۔۔۔اچھا چلو جلدی سے ہاتھ دھو کر آؤ۔۔
"میرے ہاتھ پر چوٹ لگی ہے۔۔۔۔یزان کے کہنے پر منحہ نے اپنا ہاتھ دیکھتے ہوۓ بتایا تھا وہ جو شاپنگ بیگ رکھ رہا تھا چونک کر تیزی سے اس کے قریب آیا۔۔
"دکھاؤ کیا ہوا؟ یزان یَکدم ہی پریشان ہوگیا تھا منحہ نے بنا کسی جھجھک کے جھٹ سے اپنا ہاتھ اسکے سامنے کیا تھا۔۔
ہاتھ کی انگلی سوجی ہوئی تھی۔۔۔یزان نے نرمی سے اسکی انگلی کو چھوا تھا۔
"کیسے لگی؟
"امم میں دکھاتی ہوں۔۔۔منحہ نے اسکی بات پر پُرسوچ نظروں سے اسے کہتے ہی کمرے سے باہر بھاگی تھی پیچھے وہ اپنی پیشانی پر ہاتھ مار کر رہ گیا ۔۔۔
۔۔۔
"یہ۔۔۔یزان کی نظروں کہ سامنے ڈانڈیا کرتے اس نے بتایا تھا۔
یزان چونکا یہ وہی تو داور کہ ساتھ جا کر لایا تھا۔۔
"ہمم تو منحہ کس کہ ساتھ کھیل رہی تھی؟
"ہالہ آپی نے سکھایا۔۔ہم بھی کھیلیں؟ یزان یَکدم ہی سنجیدہ ہوا تھا جبکہ منحہ بتانے کہ بعد اس سے پوچھنے لگی جس نے جلدی سے انھیں لے کر اپنے پاس رکھا تھا۔
"نہیں۔۔۔تم یہاں بیٹھو میں نے کچھ منگوایا ہے میاؤں کے لئے۔۔
"کیا ہے؟ منحہ نے تجسس سے پوچھا۔۔
"خود دیکھ لو۔۔۔۔یزان نے مسکراتے ہوۓ اسکے سامنے شاپنگ بیگ رکھا تھا۔۔
"کیا ہے؟ منحہ نے چشمہ ناک پر جماتے ہوئے دوبارہ پوچھا۔۔
"دیکھو جلدی سے۔۔۔۔یزان کے کہتے ہی اس نے جلدی جلدی سب نکالا تھا چکن برگر،نگیٹس، فرینچ فرائز،پیپسی دیکھ کر بے اختیار منحہ آگے بڑھ کر یزان کے گلے لگنے لگی تھی کے بروقت یزان نے اسکی دونوں کلائیاں پکڑتے پیچھے ہوا تھا۔۔
"میاؤں بری بات ایسے نہیں کرتے۔۔۔یزان نے اسے دیکھتے ہوۓ کہا جو اسکے روکنے پر منہ پھلا کر یزان کو دیکھنے لگی۔
"ٹھیک ہے لیکن منحہ کو یزان بھائی بہت اچھے لگتے ہیں۔۔۔منحہ نے بتاتے ساتھ مسکرا کر اسکے ہاتھ پر پیشانی رکھ کر اٹھائی تھی جو اسکے اس انداز پر مسکرا دیا تھا۔۔۔
"بہت باتیں کرنی آگئی ہیں چلو کھانا شروع کرو۔۔یزان اسکی کلائیاں چھوڑتا برگر نکال کر دینے لگا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"منحہ ہم آگئیں۔۔۔گھر میں ڈھولکی تھی لڑکیاں اور پڑوس سے آئیں عورتیں بھی موجود تھیں منحہ اپنے مخصوص حلیے میں جیسے ہی سب کو دیکھتی لان کی طرف بڑھی تھی رانیہ اور الماس کو دیکھ کر منہ بنا کر لان میں چلی گئی جبکہ دونوں نے الجھ کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا۔۔
"اسے کیا ہوا؟
"پتہ نہیں چلو چل کر دیکھتے ہیں۔۔۔رانیہ کی بات پر الماس نے کندھے اچکائے۔۔
منحہ جیسے ہی لان میں آئی سر اٹھا کر اشتیاق سے جلتخی لائٹوں کو دیکھنے لگی۔
"منحہ کیا ہوا ہے بتاؤ تو۔۔۔رانیہ کی آواز پر اس نے پلٹ کر انھیں دیکھ کر دوبارہ ناک چڑھا کر رخ پھیر لیا یزان جو بلال ہاشم اور دراب صاحب کہ ساتھ کھڑا تھا منحہ کو دیکھ کر اسکی جانب آرہا تھا منحہ کی حرکت پر اسکی مسکراہٹ گہری ہوگئی تھی ۔
"یار منحہ تم۔۔۔
منحہ۔۔۔۔یزان کی آواز پر تینوں بیک وقت گھومی تھیں۔۔
"السلام علیکم۔۔۔رانیہ اور الماس پہلی بار یزان کو دیکھ رہی تھیں۔۔
"یزان بھائی۔۔۔۔منحہ کہتے ہی اسکی طرف بڑھی تھی جبکہ منحہ کے منہ سے یزان بھائی سن کر انھیں سہی معنوں میں جھٹکا لگا تھا۔
"اففف اتنے ہنڈسم بندے کو یہ بھائی کہہ رہی ہے۔۔۔الماس نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوۓ سرگوشی کی تھی۔۔۔۔
"وعلیکم السلام۔۔۔یزان جواب دے کر منحہ کی طرف متوجہ ہوا تھا۔
"یہ کون ہیں؟
"دوست ہیں پر اب ان سے کٹی۔۔۔
"ارے کیوں بھئی؟ یزان کو حیرانگی ہوئی تھی۔۔
"انکی وجہ سے منحہ کا کوئی پارٹنر نہیں بنا یزان بھائی۔۔منحہ روٹھتے ہوۓ کہتی سر جھکا کر کھڑی کھڑی ایڑیاں اٹھا رہی تھی کے یزان نے اسکے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھ کر ایسا کرنے سے روکا۔۔
"سیدھی کھڑی ہو۔۔۔اب بتاؤ مجھے سمجھ نہیں آئی تمہاری بات۔۔۔یزان کے سنجیدگی سے کہنے پر منحہ ہالہ سے لے کر سدرہ کہ ڈانٹنے تک کا اپنے مخصوس انداز میں بتاتی چلی گئی جبکہ یزان نے غصّے سے مٹھیاں بھینچ لیں تھیں۔۔
"آہ! کیا کرتے پھر رہے ہیں سب۔۔۔یزان ضبط کرتا منحہ کی ان سے دوستی کرواتا تیزی سے وہاں سے گیا تھا۔۔۔
جانے انجانے میں وہ ان دونوں کو اور نزدیک کر رہے تھے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
یزان کہ جاتے ہی تینوں دوبارہ سے ساتھ چہل قدمی کرنے کے ساتھ باتیں کر رہی تھیں منحہ جس کی باتیں ہمیشہ سے یزان سے شروع یزان پر ہی جا کر ختم ہوتی تھیں آج بھی وہی تھیں لیکن آج کی باتوں میں انکا گزارا آج تھا۔۔۔
رانیہ اور الماس حیرت سے اسکی باتیں سن رہی تھیں۔۔
"منحہ تم یزان بھائی کو بہت پسند کرتی ہو؟
"ہاں بہت بہت بہت۔۔۔۔منحہ نے کہتے ساتھ دونوں ہاتھوں کو پھیلایا تھا۔
"کیا وہ بھی تمہیں پسند کرتے ہیں؟ الماس کے سوال پر اس نے تفاخر سے سر اٹھا کر ہاں کہا۔۔
"ہممم۔۔۔ویسے منحہ وہ تمھارے دوست ہیں نا؟
"ہاں۔۔۔وہ منحہ کے دوست ہیں کتنی بار بتاؤں؟ رانیہ کہ سوال پر منحہ یَکدم ہی چڑی تھی کے دونوں بہنیں گھبرا گئی تھیں۔۔
"ارے نہیں میرا مطلب وہ نہیں تھا میں تو یہ کہہ رہی ہوں اگر دوست ہیں تو تم انھیں یزان بھائی کیوں کہتی ہو؟
"کیا؟ منحہ بری طرح الجھی تھی۔۔۔
"یار منحہ جیسے اسد تمہارا دوست ہے کیا تم اسے بھائی کہتی ہو؟ نہیں نا، ایسے ہی یزان بھائی ہیں جو تمھارے دوست ہیں اگر وہ میرے دوست ہوتے تو میں انکا نام ہی لیتی۔۔الماس تفصیل سے اسے سمجھا رہی تھی جو غور سے اسکی بات سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔
"وہ بڑے ہیں اور اسد بڑا تھوڑی ہے، ماما نے کہا تھا سب بھائی ہیں۔۔
"اففف کس دیوار سے ٹکر مار رہی ہو رکو میں سمجھاتی تھی۔۔رانیہ نے پیشانی پر ہاتھ مارتے الماس کو خاموش کروایا تھا۔۔
دونوں بہنیں دائیں بائیں اسکے ساتھ دوبارہ چلنے لَگِیں جبکہ رانیہ کی سرگوشیاں جاری تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن مہندی کی تقریب تھی چونکہ ہالہ اور داور کا صرف نکاح ہونا تھا تبھی سب اپنی اپنی تیاریوں میں مصروف تھے۔۔
منحہ اپنے کمرے میں موجود ٹی وی پر اپنی پسندیدہ سنڈریلا مووی دیکھ رہی تھی جب دروازہ کھول کر منال بیگم مہندی کی نسبت تیار ہوکر اندر آئیں۔
"ارے منحہ ابھی تک نہائی نہیں ہو؟
"ماما سنڈریلا دیکھ رہی ہوں۔۔منحہ بنا انھیں دیکھے بولی۔۔
"آہ!! کیا کروں میں اس لڑکی کا۔۔۔۔
"چاچی اتنی پیاری لڑکی کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے؟ یزان کی آواز پر منال بیگم پلٹیں تھیں سامنے ہی وہ سیاہ شلوار قمیض گلے میں اجرک،مضبوط کلائی میں قیمتی گھڑی باندھے جبکہ پیروں میں پشاوری چپل پہنے اپنی بھرپور مردانہ وجاہت کے ساتھ منحہ کو دیکھ رہا تھا جو اسکی آواز پر چونکی تھی۔
بے ساختہ انکے منہ سے "ماشاءالله" نکلا تھا۔
"میاؤں کیا دیکھ رہی ہو؟ یزان پوچھتے ہوۓ اسکے پاس جا کر بیٹھا تھا۔۔
"یہ سنڈریلا ہے اسکی ماما اس سے پیار نہیں کرتیں۔۔۔
"اوہ! بہت افسوس ہوا سن کر اب یہ کیا کرے گی۔۔منحہ کی بات سنتے ہی اس نے بے حد غمگین لہجے میں پوچھا تھا کہ منال بیگم مسکرا کر استری شدہ لائٹ پنک غرارہ اسکے سامنے لائیں تھیں۔۔۔
"ماما یہ میرا ہے نہ۔۔
"بالکل، اب چلو اٹھو جلدی سے۔۔۔منال بیگم کہ مسکرانے پر منحہ تیزی سے ریموٹ چھوڑتی انکے ہاتھ سے جوڑا پکڑ کر اپنے ساتھ لگا کر یزان کو دکھانے لگی جو مسکرائے جا رہا تھا۔۔۔
"یزان یہ ماما اور پاپا لائے ہیں میرے لئے پیارا ہے نا؟ ۔۔۔منحہ کہ منہ سے صرف "یزان" سن کر وہ بری طرح چونکی تھیں جبکہ یزان ہنس کر سر جھٹک گیا۔۔
"ہاں بالکل تمہاری طرح بہت ہی پیارا ہے منحہ تو اس میں سنڈریلا لگے گی۔
"سنڈریلا کے پاس ایسا نہیں ہے یزان۔۔۔ منحہ کو سنڈیلا والا چاہیے۔۔
یزان کی بات پر اس نے اپنا جوڑا بیڈ پر رکھتے ہوۓ منہ بنایا تھا کے منال بیگم ماتھا پیٹ کر رہ گئیں تھیں۔
"منحہ سنڈریلا والا کوئی ڈریس نہیں ہے ابھی۔۔
"ماما مجھے وہ چاہئے۔۔منحہ کے ضد کرنے پر منال بیگم نے لبوں کو بھینچ کر یزان کی جانب دیکھا تھا۔
"آپ فکر مت کریں میں سمجھاتا ہوں۔۔۔یزان انھیں تسلی دیتا منحہ کے غرارے کا دوپٹہ نکال کر دیکھنے لگا۔
"کتنا پیارا ہے یہ،چاچی میں منحہ کی جگہ ہوتا نہ تو جلدی سے پہن لیتا۔۔۔یزان کی بات کو بغور سنتے اس نے لب کچلنا شروع کردئیے تھے
"منحہ کو سنڈریلا بننا ہے یزان۔۔۔منحہ نے مدھم آواز میں کہتے سر جھکایا تھا کہ منال بیگم نے تیزی سے اسکا بازو جکڑا تھا۔
"منحہ یہ کس طرح سے مخاطب ہورہی ہو تم یزان بھائی بڑے ہیں نا۔۔
"ماما وہ یزان دوست ہیں۔۔۔
"ہاں کیوں نہیں ہم واقعی دوست ہیں۔۔منحہ کے منمنانے پر جہاں منال بیگم کو جھٹکا لگا تھا وہیں یزان اپنی ہنسی دباتا اسکی تائد کرنے لگا۔۔۔
یزان کی بات پر اس نے مسکرا کر اسے دیکھا تھا۔
"یزان بیٹا یہ ٹھیک نہیں ہے،لوگ باتیں بنائیں گے۔۔
"لوگوں کی خیر ہے چاچی ہاں اگر آپ امی یا گھر کہ کسی دوسرے فرد کی وجہ سے کہہ رہی ہیں تو انکو میں خود جواب دوں گا پلیز ہر بات پر پریشان ہونا چھوڑ دیں آپ،منحہ چلو شاباش جلدی سے جا کر تیار ہو ورنہ میں ناراض ہوجاؤں گا۔یزان انھیں کہتا منحہ سے بولا تھا جو اسکی ناراضگی کا سنتے ہی باتھروم کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔
"منحہ بہت معصوم ہے چاچی بالکل ایک بچے کی طرح،بہت حساس ہے لیکن ہر اچھے برے رویے کو بہت ہی اچھے طریقے سے سمجھتی ہے۔۔۔
"ماشاءالله،مجھے خوشی ہوئی کہ ہمارے بعد کوئی تو ہوگا جو اسے سمجھے گا،خوش رہو ہمیشہ۔یزان کے خاموش ہوتے ہی منال بیگم نے بے ساختہ آگے بڑھ کر یزان کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
"ماما۔۔۔۔منحہ کی آواز پر دونوں چونکے تھے یزان اسے دیکھتے ہی تیزی سے دوبارہ گھومتا کمرے سے ہی نکلتا چلا گیا۔۔
"استغفرالله لڑکی دوپٹہ کہاں ہے تمہارا، تولیہ مانگ لیتی ایسے ہی گیلی باہر آگئی ہو۔۔۔منال بیگم ڈپٹ کر اسے بیٹھا کر بال سکھانے لگیں۔۔
"ماما یہ مجھے بھی چاہیے۔۔۔گیندے اور موتیے کے کنگن پر نظر پڑھتے ہی اس نے نئی فرمائش کی تھی۔۔
"پہلے تیار ہوجاؤ ورنہ ٹوٹ جائیں گے۔۔۔
"آااہ،اتنی اچھی خوشبو ہے ماما آپ کو کس نے دئیے؟ منحہ نے لمبی سانس کھینچتے خوشبو کو شدت سے محسوس کرتے ہوئے سوال کیا تھا۔۔
"میرے شوہر نے دئیے ہیں۔۔۔۔منال بیگم مسکراہٹ ضبط کرتے ہوۓ بتا کر اسے دیکھنے لگیں۔۔
"میرے پاس تو شوہر نہیں ہیں ماما۔۔
"ہاہاہا۔۔۔میری بچی،ماما کے شوہر یعنی منحہ کے پاپا۔منال بیگم نے ہنستے ہوۓ اسکی پیشانی چوم کر بتایا تھا جس نے تیزی سے اپنے سر پر ہاتھ مارا تھا۔۔
"یہ تو ماما مجھے پتہ تھا۔۔
"ہممم! آخر منحہ دراب ہے اپنے باپ کی بیٹی ہاہایا۔۔۔منال بیگم اسکی باتوں سے لطف اندوز ہوتیں ہنس رہی تھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہندی کی پُررونق تقریب اپنے عروج پر تھیں بلال کی رسم جاری تھی مووی میکر اور ڈی جے سسٹم ہر کوئی مصروف تھا۔۔۔سب لڑکیوں نے تھیم بنا کر پیلے اور نارنجی رنگ کا غرارہ زیب تن کیا ہوا تھا۔۔۔
تمام لڑکیاں گول دائرہ بنا کر کھڑی تھیں درمیاں میں کھڑی تھیں جب صدف(دوست) تیزی سے انکے قریب آئی تھی۔۔
"ٙیار ڈانڈیا نہیں مل رہیں۔۔
"کیا؟ وہیں تو رکھیں تھیں تم نے ٹھیک سے دیکھا ہے؟ میرال نے حیرت سے اسے دیکھ کر پوچھا تھا جبکہ ہالہ نے اطراف میں نظر گھمائی جہاں سب انہیں کی جانب متوجہ تھے۔
"یار سچ کہہ رہی ہوں وہاں نہیں ہے،میں نے پورے کمرے میں دیکھ لیا ہے۔۔
"آااہ اب کیا کریں۔۔سب ہمیں ہی دیکھ رہے ہیں۔۔۔صدف کی بات پر سدرہ نے پریشانی سے پوچھا تھا۔۔
"میں دیکھ کر آتی ہوں ہوسکتا ہے کسی اور کمرے میں ہو۔۔۔بسمہ کہتے ہی وہاں سے تیزی سے نکلی تھی۔
دس منٹ گزر چکے تھے جب بسمہ واپس آئی تھی۔۔
"ہر جگہ دیکھ لیا کہیں بھی نہیں ہے۔۔بسمہ ہانپتی ہوئی تیزی سے وہاں آئی تھی۔۔
"کہاں جا سکتی ہیں آخر اب کیا کریں ہاں؟ لوگوں کہ سامنے مذاق بن رہا ہے۔۔۔میرال غصّے میں اونچا بولنے لگی تھی۔
"لڑکیوں یہ کیا تماشا لگا رکھا ہے تم سب نے؟ بی جان کی آواز پر سب نے شرمندگی سے انھیں دیکھا تھا۔۔
"وہ بی جان ڈنڈیاں نہیں مل رہیں ہر جگہ دیکھ لیا ہے۔۔
"کہاں گئیں؟ ہالہ کی بات پر نور بیگم نے اپنی بیٹی کو دیکھتے ہوۓ پوچھا۔۔
"پتہ نہیں باہر آنے سے پہلے صوفے پر ہی رکھی ہوئی تھیں۔۔
"اتنا مسئلہ کیوں بنایا ہوا ہے چھوڑدو اب اگر مل ہی نہیں رہیں تو وقت کیوں برباد کر رہی ہو تم سب ایسے ہی رقص کرلو نہیں تو لڈی ڈال لو۔۔بلال کی ساس جو وہیں موجود تھیں انھیں دیکھ کر مشورہ دینے لگیں۔۔
"ہم نے پریکٹس کی تھی آنٹی۔۔
"چلو کوئی بات نہیں اتنا کوئی اہم نہیں تھا بچیوں کون سا ہم یہاں انعام دینے بیٹھیپ ہیں ہاہاہا۔۔۔اپنی بات کو مذاق کا رنگ دیتیں وہ ہنسنے لگیں کہ زبردستی ہالہ بھی جواباً مسکرا کر اشارے سے سب کو وہاں سے ہٹنے کا کہتی خود وہاں سے آگے بڑھ گئی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
مہندی کی تقریب ہنوز جاری تھی جب منحہ تیزی سے نیچے اترتی منال بیگم کو ڈھونڈھتی ہوئی لان میں آئی تھی
"واؤ۔۔۔سجاوٹ اور رونق دیکھ کر اسکی آنکھیں چمک اٹھی تھیں زور سے اچھلتے منحہ نے جیسے ہی دوبارہ زمین پر قدم رکھا یَکدم پیر مڑنے پر گرنے لگی اس سے قبل وہ زمین بوس ہوتی کسی نے تیزی سے اسے تھاما تھا۔۔
"کون ہو تم۔۔۔منحہ نے اسے دیکھنے ہی پوچھا تھا جو اسے دیکھتا ہی چلا گیا۔۔
"قیامت ہو تم تو۔۔ہاتھ کو حرکت دیتے اس نے منحہ کی کمر پر دباؤ دیا تھا۔۔
"چھوڑو اسے۔۔۔۔۔یزان کی سرد آواز پر وہ گھبرا گیا تھا۔۔
"جی وہ ابھی گرنے والی تھی یہ۔۔۔۔اسے چھوڑتے ارون( بلال کا سالہ) جلدی سے صفائی پیش کرنے لگا۔۔
"چلو تم یہاں سے۔۔۔یزان بنا اسے جواب دیتا منحہ کو لے کر آگے بڑھ گیا جبکہ ارون نے نچلے لب دانتوں تلے دباتے اسے جاتا دیکھتا رہا کہ یَکدم عقب سے اپنی چھ سالہ بیٹی کی آواز پر چونک کر اسکی طرف پلٹا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
"ہم تجھے دیکھتے تو رہتے ہیں مگر ہم سے
تجھے دیکھنے والے دیکھے نہیں جاتے _💕
۔۔۔۔۔۔
یزان دوسرے دروازے سے اندر آتا منحہ کو لے کر صوفے پر بیٹھا تھا۔۔
"منحہ درد تو نہیں ہو رہا؟
"نہیں۔۔۔منحہ کے بتانے پر وہ مسکرا کر اٹھ کھڑا ہوا تھا کے منحہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روکا۔۔۔
میرال جو نور بیگم کے ساتھ اندر آرہی تھی ٹھٹھک کر رکیں۔
"یزان میں کیسی لگ رہی ہوں۔۔۔منحہ نے کھڑے ہوتے ہوۓ اس سے پوچھا تھا جس نے اسکی بات پر سر تا پیر اسے دیکھتے ہی جیب سے چاکلیٹ نکال کر اسکی جانب بڑھائی تھی۔۔
"بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔منحہ نے مسکرا کر چاکلیٹ کو پکڑا تھا جبکہ یزان نے ہنوز چاکلیٹ کو دوسری طرف سے چھوڑا نہیں تھا دونوں یک ٹک مسکراتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے منحہ منتظر تھی کب یزان چاکلیٹ کو چھوڑتا ہے...
"یزان۔۔۔۔نور بیگم کی دھاڑ پر دونوں ہڑبڑا گئے تھے جبکہ منحہ تیزی سے یزان کے پیچھے جا کر چھپی تھی۔۔
"امی کیا ہوا ہے؟
"یہ تو مجھے تم سے پوچھنا چاہیے تھا آخر یہ سب کیا ہورہا ہے یہاں ہاں؟ آخر تم کیوں ہر وقت اس پاگل بیمار لڑکی کے ساتھ ہوتے ہو،دل بہلانے کے لئے اپنے میعار کے مطابق تو لڑکی چنو یزان درانی۔۔۔نور بیگم کی سنگ دلی میں کہی گئی بات پر وہ ساکت رہ گیا تھا۔۔
"آپ۔۔۔آپ کو لگتا ہے میں منحہ کے ساتھ اپنا دل بہلا رہا ہوں امی؟ کیا اتنا بے غیرت سمجھا ہے یزان درانی کو آپ نے۔۔۔۔یزان کرب سے کہتے غصّے سے مٹھیاں بھینچ گیا تھا۔۔۔یزان کی دھاڑ پر منحہ نے ڈر کر اسی کی قمیض کو اور مضبوطی سے جکڑا تھا۔
"لڑ لڑائی مت کریں منحہ کو ڈر لگتا ہے۔۔۔لڑائی۔۔
"منحہ۔۔۔یزان تیزی سے اسکی طرف گھوما تھا جو بری طرح کانپ رہی تھی۔۔
یزان نے تیزی سے اسکے چہرے کو ہاتھوں کے پیالے میں بھرا تھا۔
"تم ڈرپوک نہیں ہو منحہ،تم بہادر ہو سمجھی،سمجھ رہی ہو میری بات۔۔۔
"یزان دیکھ لیا اسے کیسے کانپ رہی ہے اور تم ایسی لڑکی کے مستحق نہیں ہو بیٹا۔۔نور بیگم نے گہری سانس لیتے گردن اکڑا کر کہا تھا جو اسکا چہرہ تھامے کھڑا تھا۔
"کیا ہو رہا ہے یہاں؟ یزان؟ بی جان کے ساتھ ہی منال بیگم درانی صاحب اور دراب صاحب وہاں آتےانھیں دیکھ کر حیران رہ گئے۔
"نور تم بتاؤ آخر کیا ہورہا ہے یہ سب۔۔۔بی جان کی بات پر منال بیگم نے منحہ کی جانب قدم اٹھایا ہی تھا کہ یزان منحہ کا چہرہ چھوڑ کر اسکا ہاتھ تھام کر بی جان کہ مقابل آیا تھا۔
"دادی ہمیشہ سے ہر فیصلہ آپ کا چلتا آیا ہے تو آج میں یزان درانی۔۔۔یزان رکا تھا ایک نظر اپنی ماں کو دیکھ کر دوبارہ بی جان کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔۔
"فیصلہ میرا لیکن حکم آپ کا دادی، میں اپنے پورے ہوش و حواس میں آپ سے آپ کی پوتی سے شادی کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔۔بلآخر یزان نے اپنی بات مکمل کی تھی۔۔
ہر کوئی اپنی جگہ ساکت تھا ہالہ داور، بسمہ بھی ششدر تھے جبکہ نور بیگم کو لگا کسی نے ابلتا ہوا پانی ان پر انڈیل دیا ہو۔۔۔
"میں یزان درانی منحہ دراب سے شادی کرنا چاہتا ہوں دادی کیا آپ کو منظور ہے؟
۔۔۔۔۔۔
مِیرا یہ عشق سلامت رہے گا وعدہ رہا
تمہارا حُسن بھلے دلنشیں رہے، نہ رہے!
"یزان یہ کیسا فیصلہ ہے۔
"کیوں پاپا،اس فیصلے میں آخر ایسا کیا انوکھا ہے؟ درانی صاحب کی بات پر یزان نے جھٹکے سے اپنے باپ کی طرف دیکھتے ہوۓ سوال کیا۔۔
منال بیگم اور دراب صاحب نم آنکھوں سے یزان کو دیکھ رہے تھے بلاشبہ وہ ایک شاندار مرد تھا لیکن اس سے بھی کہیں زیادہ اسکا دل خوبصورت تھا۔
"نہیں،نہیں،نہیں ہرگز نہیں میں ایک پاگل لڑکی سے اپنے بیٹے کی شادی نہیں ہونے دوں گی میں' میں اس لڑکی کی جان لے لوں گی تاکہ ساری پریشانی ہی ختم ہوجاۓ۔
"تائی جان ہوش سے کام لیں کسی نے اگر سن لیا تو ایک نیا ہنگامہ کھڑا ہوجاۓ گا۔۔۔میرال نے انکے کندھے پر ہاتھ کا دباؤ ڈالتے ہوۓ کہتی قہر برساتی نظروں سے منحہ کو دیکھ رہی تھی۔۔
"دراب میرے بھائی تم اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہو کے منحہ بیٹی پیدائشی ایسی ہے وہ کبھی ٹھیک نہیں ہوسکتی ہے شادی کے بعد زندگی اور رشتے بدل جاتے ہیں۔۔درانی صاحب نے اپنے بھائی کو دیکھتے ہوۓ کہا جبکہ بی جان نے یزان کی طرف دیکھا تھا جو لب بھینچے اپنے باپ کی گفتگو سن رہا تھا۔
"آپ سب یہاں کیا کر رہے ہیں چلیں کھانا کھل گیا ہے،داور آجاؤ۔۔ہانیہ بیگم نے اندر آتے ہوۓ عجلت میں کہتے سب کو دیکھا تھا۔۔
"کچھ ہوا ہے؟ ہانیہ بیگم ماحول کی سنگینی دیکھ کر پوچھنے لگیں۔۔
"یزان اچانک یہ فیصلہ کیونکر کیا ہے تم نے،مجھے کوئی ایسی ٹھوس وجہ دو کے مجھے فیصلہ کرنے میں مشکل درپیش نا آئے؟ ہانیہ بیگم کی بات کو نظرانداز کئیے بی جان نے یزان کو دیکھ کر پوچھا تھا۔۔
سب کی نظریں یزان پر اٹھی تھیں جبکہ منحہ ہنوز یزان کو ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔
"دادی میں نہ تو کوئی ہمدردی نہ ہی کوئی جذباتی فیصلے کرنے کا قائل ہوں،دیکھیں اسے کیا کمی ہے اس میں سوائے اسکے کہ اسکا دماغ آج بھی بچوں جیسا ہے جیسے کوئی معصوم چھوٹا سا بچہ ہوتا ہے، بچہ بھی وقت کہ ساتھ بڑا اور اتنا سمجھدار ہوجاتا ہے کے ہر شخص کو اپنے سامنے کمتر سمجھنے لگتا ہے جن کا اندر باہر ایک سا نہیں رہتا،لیکن منحہ کا اندر باہر ایک سا ہے جو چھوٹی چھوٹی چیزوں کے ملنے پر خوش ہوجاتی ہے، منحہ کی دنیا بہتے پانی کی طرح شفاف اور پُرسکون ہے اور میں اسکی دنیا میں خود کو خوش اور پُِرسکون محسوس کرتا ہوں دادی، اتنا عرصہ کینیڈا میں تنہا رہا ہوں عنایا سے شادی کا فیصلہ کر بیٹھا تھا پھر بھی عجیب بے چینی میں مبتلا رہا ہوں لیکن آج یہ بے چینی نہیں ہے دادی۔۔۔یزان کی بات مکمل ہوتے ہی بی جان مسکرائی تھیں۔
"یزان تم ایسا نہیں کر سکتے اگر تم نے ایسا کیا تو یہاں سے نکل جاؤ مجھے ایسے نافرمان بیٹے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔نور بیگم نے آگے بڑھ کر یزان کو گھورتے ہوۓ کہا تھا غصے سے وہ بری طرح کانپ رہی تھیں۔
منال بیگم تیزی سے منحہ کے پاس آکر کھڑی ہوئی تھیں۔۔۔
"نور تماشا مت کرو۔۔۔
"کیوں نہ کروں ہاں، میرا اکلوتا بیٹا اپنی زندگی برباد کرنے جا رہا ہے اور میں اسے روکوں بھی نہیں،ضرور' ضرور اس نے میرے بیٹے پر کالا عمل کروایا ہے ورنہ وہ تو عنایا سے شادی کرنے والا تھا کہاں وہ اور کہاں یہ جسے اپنا ہی ہوش نہیں میرے بیٹے کی نسل۔۔
"نور!!! یَکدم بی جان کے جلال میں آنے پر وہ رکی تھیں منال بیگم نے لبوں کو سختی سے بھینچ لیا
"بہت ہوچکا میں اپنی بیٹی کہ لئے اب کوئی بکواس برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔۔منال منحہ کو لے کر جاؤ'رہا شادی کا فیصلہ تو اب بی جان نہیں میں کروں گا۔۔دراب صاحب ضبط کرتے ہوۓ ہر لفظ چبا چبا کر چلتے ہوۓ یزان کے سامنے آکر رکے تھے۔
"بہت ظرف چاہیے ہوتا ہے ایسے فیصلوں کے لئے جو بخوبی صرف تم میں ہے، میں اپنی بیٹی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا پہلے ہی سب کا رویہ مجھ سے چھپا نہیں ہے یزان بیٹا۔۔۔
"چاچو ۔۔
"نہیں یزان میں اپنی بیٹی کو ایسی جگہ نہیں جھونک سکتا جہاں ہر کوئی اسکا دشمن ہو اور تم ہر وقت تو اسکے ساتھ نہیں رہو گے۔۔۔دراب صاحب افسردگی سے کہتے ہوۓ اپنی بیوی اور بیٹی کو لے کر آگے بڑھ گئے تھے۔۔
دراب صاحب نے منحہ کے گرد اپنا بازو پھیلایا تھا۔
"پاپا یزان۔۔۔۔منحہ کے کہتے ہی سب نے اسے حیرت سے دیکھا تھا..
"منحہ پاپا کی گڑیا چلو یہاں سے۔۔۔دراب صاحب دکھ سے اپنی بیٹی کو دیکھ کر کہتے آگے بڑھ گئے۔۔
یزان ہنوز ساکت کھڑا تھا۔۔
نور بیگم نے پرسکون سانس لیتے میرال کو دیکھا تھا جو مسکرا رہی تھی۔۔
"آپ سب کو باہر بلا رہے ہیں۔۔۔یَکدم بچے نے اکر کہا تھا کے سب دھیرے دھیرے باہر نکلتے چلے گئے تھے جبکہ یزان اور بی جان ہنوز آمنے سامنے کھڑے تھے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ماما مجھے یزان کے پاس جانا ہے۔۔۔منحہ نے سینے سے سر اٹھا کر منال بیگم سے کہا تھا جو مسلسل روئے جا رہی تھیں۔۔۔
"منحہ ماما کی جان کو بھوک لگی ہے۔۔۔
"نہیں ماما مجھے یزان کے پاس جانا ہے سب انھیں ڈانٹ رہے تھے منحہ کو بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا،ماما یزان کے پاس جانے دیں۔۔۔ ضدی لہجے میں کہتی وہ سر کو زور زور سے نفی میں ہلا رہی تھی۔۔
"منال ذرا آنا۔۔۔دراب صاحب کے اچانک آنے پر دونوں انکی جانب متوجہ ہوۓ تھے جو کہتے ہی واپس چلے گئے تھے۔۔
"منحہ آپ یہیں رہنا ماما ابھی آتی ہیں۔۔
"نہیں ماما میں یزان کے پاس جا رہی ہوں۔۔منحہ نفی میں سر ہلاتی بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔
"تمہیں ایک دفعہ میں کہی گئی بات سمجھ نہیں آتی ہاں، خبردار جو کمرے سے قدم باہر نکالا تو۔۔۔منال بیگم نے سختی سے اسکے بازو جکڑ کر ڈپٹا تھا کہ یکایک اسکی آنکھیں نمکین پانی سے لبریز ہوئی تھیں جن سے نظر چرا کر وہ کمرے سے نکل گئی تھیں۔۔
انکے جاتے ہی منحہ تیزی سے بستر پر اوندھے منہ گرتی روتی چلی گئی تھی۔۔آج پھر سے اسے یزان سے دور کر دیا گیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کا تیسرا پہر تھا تھکن کی وجہ سے سب اپنے اپنے کمروں میں تھے۔۔
جب اچانک ہی وہ اپنے کمرے سے نکل کر دبے قدموں چلتا ہوا منحہ کہ کمرے کے سامنے آکر روکا تھا آہستہ سے کمرے کا دروازہ کھول کر وہ اندر بڑھا تھا کمرے میں نیلا نائٹ بلب جل رہا تھا۔۔
یزان جو سیاہ شلوار قمیض میں ملبوس تھا دبے قدموں چلتا منحہ کہ قریب آیا تھا پھر جھک کر اسکا چہرہ دیکھتے ہی اس نے لبوں کو بھینچا تھا نرم و ملائم گالوں پر آنسوؤں کی لکیریں واضح تھیں۔۔
یزان نے فاصلہ مٹاتے اسکے کان میں سرگوشیاں شروع کردیں تھیں
"منحہ میرے ساتھ چلو گی،منحہ۔یزان کی سرگوشیاں جاری تھیں کے اچانک منحہ اسکی گردن کے گرد بازو حمائل کرتی نیند میں ہی مسکرائی تھی۔
"منحہ کو یزان کے ساتھ جانا ہے ،ماما یزان کے پاس جانے دیں۔۔منحہ کی بڑبڑآہٹ پر وہ مسکرا کر اسے اپنے کندھے پر ڈالتا کمرے سے نکلنے لگا کے اچانک پلٹا تھا۔
"چاچی۔۔۔۔یزان کے کہتے ہی وہ اٹھ کر قدم قدم چلتں یزان کے قریب آکر رکی تھیں۔
"میری بیٹی کا خیال رکھنا۔۔منال بیگم نے کہتے ساتھ ہاتھ سے کڑا اتار کر منحہ کو پہنایا تھا۔
"فکر مت کریں چاچی آج سے یہ میری زمہ داری ہے۔یزان کہتے ہی کمرے سے نکلتا چلا گیا تھا۔۔
"ہم ایک ساتھ سجتے ہیں
ہم ایک تصویر بنوائیں گے
تم تھام کے رکھنا میرا ہاتھ
ہم ایک سنگ مسکرائیں گے"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"کک کون ہیں آپ۔۔۔منحہ کو ماما کے پاس جانا ہے۔۔۔۔منحہ نے نیند سے بیدار ہوتے ہی آنکھیں مسل کر جیسے ہی سامنے دیکھا تھا ایک انجان عورت کو سامنے دیکھ کر سہم گئی۔۔
صبح کہ آٹھ بجے کا وقت تھا اس سے قبل وہ منحہ کو کوئی جواب دیتی کمرے کا دروازہ کھول کر یزان ہشاش بشاش سا ہاتھ میں ٹرے پکڑے اندر آیا تھا منحہ یزان کو دیکھتے ہی تیزی سے بستر سے اتر کر اسکی طرف بڑھی تھی۔۔
"یزان۔۔۔۔
"صبح بخیر میاؤں۔۔۔نیند تو اچھے سے آئی؟ یزان ٹرے کو میز پر رکھتا مسکرا کر اس سے پوچھنے لگا ایک انجان جگہ انجان کمرہ منحہ کو الجھن میں مبتلا کر رہا تھا۔۔۔۔یزان نے اپنے نم ہوتے بالوں میں ہاتھ پھیرتے مسکرا کر اسے دیکھا پھر سامنے کھڑی ملازمہ کو جو اسی کہ کہنے پر منحہ کو جگانے آئی تھی۔
"آپ جا سکتی ہیں اب۔۔۔یزان کہ کہتے ہی ملازمہ سر ہلا کر کمرے سے نکل گئی تھی..
"منحہ وہ چلی گئی ہے۔۔۔یزان اسے دروازے کو تکتا پا کر بولا کہ منحہ نے چونک کر یزان کی طرف دیکھا تھا۔۔
"یزان یہ کون تھی،اور ہم کہاں ہیں،ماما کہاں ہیں؟
"آہ! شام تک آجائیں گی۔۔تم آؤ بیٹھو ناشتہ کرو۔۔۔۔یزان سکون سے کہتا صوفے پر بیٹھا تھا۔۔
"شام کو کیوں،ہم کہاں ہیں؟
"ارے ارے حوصلہ رکھو یار سب بتاتا ہوں پہلے ناشتہ کرو،آج میں نے منحہ کی پسند کا ناشتہ بنایا ہے۔۔۔یزان اسے بہلاتے ہوۓ بولا تھا۔۔
"میں منہ دھو کر آتی ہوں۔۔۔
"ہمم۔۔۔وہ رہا باتھروم۔۔۔منحہ کی بات پر یزان نے چائے کا ایک گھونٹ لیتے ہوۓ اسے بتایا تھا جو سر ہلا کر آگے بڑھ گئی تھی۔۔
منحہ کے جاتے ہی یزان نے موبائل نکال کر اپنے باپ کا نمبر ملایا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
"گڈ مارننگ۔۔۔۔۔ نور بیگم باآواز بلند کہتیں مسکرا کر کرسی پر بیٹھی تھیں۔۔
"آج تو واقعی مارننگ گڈ لگ رہی ہے آپ کی۔۔میرال نے مسکرا کر نور بیگم سے کہا جو اسکی بات سن کر ہنسی تھیں کہ سب نے انھیں دیکھا تھا
"ہاں بھئی آج تو میں بہت خوش ہوں بلآخر منحہ نامی بلا سے جان چھوٹ گئی ہے آہ! شام کو جا رہی ہوں اپنی بہن کی طرف رشتے کی بات کرنے،تم بھی ساتھ چلنا۔۔۔نور بیگم کی بات پر میرال زبردستی مسکراٙئی تھی یزان کو دیکھ کر اسکے سینے میں سانپ لوٹ رہے تھے کاش اسکی منگنی نا کی گئی ہوتی۔۔
۔۔۔۔۔
نور بیگم جو سرشار سی بیٹھیں ناشتہ کر رہی تھیں یَکدم ہی انھیں یزان کی غیر موجودگی کا احساس ہوا تھا ایک نظر بی جان کو دیکھتیں وہ اٹھنے لگیں تھیں جب ہالہ جسے بی جان نے اسے بلوانے بھیجا تھا تیزی سے وہاں آئی تھی۔۔۔
"مما برو۔۔ہالہ کے گھبرانے پر سب نے اسے دیکھا تھا۔۔
"ہالہ کیا ہوا ہے میرے بیٹے کو۔۔۔نور بیگم بے گھبرا کر اپنے سینے پر ہاتھ رکھا تھا جبکہ بی جان نے چور نظروں سے اپنے دونوں بیٹوں کی طرف دیکھا تھا۔۔
"میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو یزان کہاں ہے؟
"وہ،انکے کمرے سے یہ ملا ہے۔۔۔ہالہ نے گھبرا کر انکی طرف ایک کاغذ بڑھایا تھا جسے جھپٹنے کہ انداز میں لیا۔۔۔
جیسے جیسے وہ پڑھ رہی تھیں انکے چہرے کا رنگ فق ہوتا جا رہا تھا۔۔۔
"تائی امی کیا ہوا ہے؟بلال نے آگے بڑھ کر انکے کندھے پر ہاتھ رکھا تھ۔۔
"نہیں یزان ایسا نہیں کر سکتا نہیں۔۔۔نور بیگم بے یقینی سے سر کو نفی میں ہلاتیں جا رہی تھیں۔۔
"ؑبی جان منحہ کل رات آپ کہ کمرے میں سوئی تھی اب کہاں ہے؟ منال بیگم کی آواز پر نور بیگم نے گھبرا کر اس خط کو اپنی پشت پر چھپایا تھا۔۔
"میں جب اٹھی تھی تب تو نہیں تھی مجھے لگا شاید کمرے میں چلی گئی ہوگی
بی جان کی بات پر منال بیگم نے اپنی پیشانی چھوئی تھی۔
"نہیں بی جان منحہ کمرے میں نہیں ہے۔۔۔دراب منحہ تو جیسے ہی جاگتی ہے مجھے اٹھاتی ہے۔۔
"منحہ کہاں چلی گئی ہے؟ بسمہ اپنی جگہ سے اٹھ کر گھبراتے ہوۓ پوچھنے لگی جبکہ نور بیگم دل ہی دل میں اپنے بیٹے کو کوستِیں درانی صاحب کی جانب بڑھی تھیں۔
"نور کیا ہوا ہے؟
"وہ یزان..۔۔نور بیگم نے کہتے ساتھ انھیں وہ خط دیا تھا جسے لیتے ہی وہ انکی نظریں ساکت ہوئی تھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
صوفے پر آرام دہ انداز میں بیٹھا چائے پینے کہ ساتھ وہ اسے بھی دیکھ رہا تھا جو خاموشی سے ناشتہ کر رہی تھی جب ہاتھ سے سلائس واپس پلیٹ میں رکھتے وہ اسکی طرف دیکھنے لگی۔
"یزان ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟ منحہ کے سوال پر وہ دھیرے سے مسکراتا کپ کو میز پر رکھ کر اسکے ہاتھوں کو تھام چکا تھا
"منحہ امی چاہتی ہیں میں اس عنایا سے شادی کرلوں لیکن میں نہیں کرنا چاہتا۔۔۔
"گڈ۔۔۔۔یزان کی آخری بات پر منحہ نے چہک کر اسے شاباشی دی تھی۔۔
"میں منحہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں تاکہ ہم ہمیشہ ساتھ رہیں۔۔۔
یزان کی بات پر منحہ نے چونک کر اسے دیکھا۔۔
"کیا مجھ سے شادی کریں گے؟ یزان کی بات پر منحہ نے نچلا لب کچلا۔
"یزان شادی کیسے ہوتی ہے؟ پریشانی سے سوال کرتی وہ اسے دیکھنے لگی جو اسکے سوال پر منحہ کو دیکھ کر مسکرایا تھا
"شادی جیسے بلال کی ہورہی ہے بالکل ویسے ہی ہم دونوں شادی کریں گے میں دولہا اور تم میری پیاری سی دلہن بنو گی۔۔۔یزان نے مسکراتے ہوۓ اسکی ناک دبائی تھی۔۔
"دلہن میں دلہن بنوں گی۔۔۔۔منحہ نے شرماتے ہوۓ اس سے پوچھا تھا جو اسکے شرم سے تمتماتے رخساروں کو دیکھ کر ہنس دیا تھا۔۔
"لیکن یزان بلال بھائی کی دلہن کل نہیں آئی تھیں،کیا وہ کٹی ہیں۔۔۔منحہ کے معصومیت پر وہ گڑبڑا گیا تھا
"آاا منحہ انھیں چھوڑو تم بتاؤ میری دلہن بنو گی۔۔۔گدی پے ہاتھ پھیرتا وہ اسکے سوال کو گول کر چکا تھا۔۔
"ٹھیک ہے پر ہم تو دوست ہیں۔۔۔ایک اور سوال اٹھایا گیا تھا۔۔
"تو میری معصوم میاؤں یہ کس نے کہا کہ دوستوں کی شادی نہیں ہوسکتی۔۔
"اسکا مطلب اسد بھی میرا دوست ہے۔۔۔
"نہیں اس سے شادی نہیں ہوسکتی شادی صرف ایک بار اور ایک ہی دوست سے ہوسکتی ہے سمجھی۔۔۔۔۔منحہ کی بات پر یزان کا دماغ بھک سے اڑا تھا جبکہ یزان کہ کہنے کہ انداز پر منحہ نے سر جھکا لیا تھا اس سے قبل وہ پھر کوئی انوکھا سوال اٹھاتی یزان صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا ساتھ ہی اسے بھی اٹھایا۔۔
"چلو میرے ساتھ میں تمہیں سمجھاتا ہوں۔۔۔۔یزان اسے لیتے کمرے سے باہر نکل کر ٹی وی لاؤنج میں آیا تھا۔۔منحہ کی نظر چاروں طرف گھوم تھی یہ چار کمروں پر مشتمل فل فرنیشڈ فلیٹ تھا۔۔
یزان اسے لے کر صوفے پر بیٹھا تھا سامنے ہی بتیس انچ کی ایل ای ڈی لگی تھی۔۔
یزان نے ریموٹ سے اسے چلا کر منحہ کی طرف دیکھا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔
"یزان سے ہرگز یہ امید نہیں تھی،وہ ایسا کیسے کر سکتا ہے۔۔۔درانی صاحب غصّے سے دھاڑ رہے تھے منال بیگم نے سر جھکا کر لبوں کو بھینچ۔رکھا تھا جبکہ سب حیرت زدہ سے باری باری وہ خط پڑھ رہے تھے جس میں یزان نے گھر چھوڑنے اور منحہ کو اغوا کا لکھا تھا۔۔۔
"بس کیجئے میرا بیٹا ایسا نہیں ہے ضرور اس پاگل لڑکی نے اسے ورغلایہ ہوگا۔۔۔
"نور اللّہ کا خوف کھاؤ اتنا کچھ ہونے کے باوجود تم میری معصوم پوتی کو قصوارٹھہرا رہی ہو
"نور اللّه کا خوف کھاؤ اتنا کچھ ہوجانے کے باوجود تم میری معصوم پوتی کو قصور وار ٹھہرا رہی ہو یاد رکھو یہ جو سب ہوا ہے اس میں میرا پوتا برابر کا شریک ہے،ارے شریک کیا کمبخت بچی کو اٹھا کر لے گیا،ذرا حیا نہیں آئی کھلے سانڈ کی طرح بچی کو لے گیا،یہ سب تمھاری وجہ سے ہوا ہے اگر میری پوتی کو کچھ بھی ہوا نا تو یاد رکھنا میں بھول جاؤں گی کہ وہ میرا پوتا ہے۔۔۔بی جان غصّے میں نور بیگم کو دھمکیاں دے رہی تھیں جو انکی باتوں پر روتے ہوۓ آگے بڑھ بی جان کے دونوں ہاتھ تھام گئی تھیں۔۔
"بی جان ایسے مت کہیں،پلیز یزان کا معلوم کر کہ آپ اسے سمجھائیں وہ آپ کی بات سمجھے گا۔۔
"اب کوئی فائدہ نہیں ہے، یزان میری بچی کو اغوا کر کہ لے گیا ہے، اگر اسے کچھ ہوا تو انجام بہت برا ہوگا۔۔۔دراب صاحب نے نفی میں سر ہلاتے ہوا انھیں کہا تھا۔۔۔
"مما اب کیا ہوگا،کچھ کریں نہ پاپا۔۔۔ہالہ نے روہانسی ہوتے ہوئے کہا تھا جو خاموش کھڑے تھے۔
"لوگوں کو پتہ چل گیا تو دراب، کون کرے گا ہماری بچی سے شادی۔۔یزان نے اچھا نہیں کیا، میری بچی جانے کس حال میں ہوگی...
"چاچی فکر مت کریں یزان بھائی اگر منحہ کو اغوا کر کہ لے کر گئے ہیں تو ضرور اسکے پیچھے ایک ہی مقصد ہوگا منحہ سے نکاح۔۔۔بسمہ کی بات پر نور بیگم نے تڑپ کر اسے دیکھا تھا۔
"نہیں ہرگز نہیں وہ ایسا نہیں کر سکتا اگر جو اس نے ایسا کیا تو اپنی ماں کو بھول جاۓ۔۔۔
"کیسی ماں ہو تم یہاں بچے غائب ہوگئے ہیں اور تم ہو کہ تمہاری ضد ختم نہیں ہورہی ہے..
بی جان انکی بات سن کر چڑ کر بولیں تھیں جو کسی طور اپنی ضد سے پیچھے نہیں ہٹ رہی تھیں۔۔۔
"میں اپنی اولاد کے لئے ایسی ہی ہوں بی جان اللّه نہ کرتا لیکن اگر آپ کے بیٹے کسی ایسی لڑکی سے شادی کرنے کی خواہش کرتے توکیا آپ انکی خواہش کا احترام کرتیں قبول کرتیں اسے۔۔۔۔نور بیگم کہ سوال پر لمحے بھر کے لئے لاجواب ہوئیں تھیں جبکہ منال بیگم نے اذیت سے سینے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔
"یا اللہ یہ کس امتحان میں ڈال دیا۔۔کربناک لہجے میں کہتیں وہ ڈھ سی گئیں تھیں۔۔۔
"یہ تو آعلیٰ ظرف والوں کا کمال ہوتا ہے بیٹی، اللّه جسے چاہے اس قیمتی تحفے سے نواز دے تو منحہ جیسے بہت سے لوگوں کی زندگیاں مکمل ہوجائیں،دوسروں میں عیب نکالنا دنیا کا سب سے آسان کام ہے لیکن اس سے بھی مشکل ترین کام کسی کی ایک خوبی کو قبول کرنا ہوتا ہے مگر افسوس انسان آسان کام کرنے کا عادی ہوچکا ہے بی جان نے کہتے ساتھ درانی صاحب کی جانب دیکھا تھا۔۔
"یزان کا معلوم کرواؤ کہاں لے گیا ہے میری پوتی کو۔۔۔
"آہ۔۔۔میں نے کال کرنے کی کوشش کی تھی لیکن نمبر بند ہے۔۔۔
درانی صاحب نے بتاتے ساتھ نور بیگم کو دیکھا تھا جو غصّے سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئیں تھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔
"پسند آیا گھر؟
"بہت اچھا ہے۔۔کس کا گھر ہے یہ؟ یزان کے پوچھنے پر منحہ نے مسکراتے ہوۓ پوچھا تھا۔۔
"پاپا کہ دوست کا۔۔یزان کہ بتانے پر منحہ نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔
"وہ کہاں ہیں،؟
"وہ اپنے دوسرے گھر میں ہیں منحہ
"منحہ کو ماما کی یاد آرہی ہے۔۔۔۔منحہ نے اسکے جواب پر یَکدم کہا تھا کہ یزان نے اسے دیکھ کر گہری سانس لی تھی۔
"شام میں ہم چلیں گے واپس پہلے نکاح ہوجاۓ۔
"ابھی کرلیں پھر ہم ماما کے پاس چلیں گے۔۔منحہ نے منہ پھولاتے ہوئے کہا جسے گھر جانے کی جلدی تھی۔۔۔
"آہ ماما کی بچی کو اب ماما ہی سمجھائیں گی۔۔۔یزان جو کھل کر ابھی اسے سمجھا نہِیں پا رہا تھا اسے اب شام کا انتظار تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کا وقت تھا ایسے میں منحہ جو سرخ ڈوپٹہ سر پر اوڑھ منال بیگم اور بی جان کی باتوں کو بغور سن رہی تھی سمجھداری سے سر ہلانے لگی۔۔۔
"میری پیاری بیٹی۔۔۔منال بیگم نے آگے بڑھ کر اسکی پیشانی چومی تھی۔۔۔
جب دروازہ کھول کر درانی صاحب اور دراب صاحب کہ ساتھ مولوی صاحب اور انکے دو دوست اندر داخل ہوۓ تھے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
"آپ کو بھی انکے ساتھ جانا چاہیے تھا تائی جان۔۔۔گھر کے تمام افراد لاؤنج میں ہی موجود تھے نور بیگم بے چینی سے ٹہل رہی تھیں۔۔۔
یزان نے خود رابطہ کر کے انھیں بلایا تھا۔۔
"ویسے مجھے تو سب کی ملی بھگت لگتی ہے۔۔۔ہانیہ بیگم نے بھی اپنی رائے دی تھی۔
"اسکا مطلب میرا اندازہ ٹھیک تھا یزان بھائی اس سے شادی کر رہے ہیں بالکل ناولز کی طرح۔ ۔۔بسمہ پرجوش ہوئی تھی کے نور بیگم نے آگ بگولہ ہوتے بسمہ کی جانب دیکھا تھا۔۔
"اگر جو اس نے ایسا کیا تو سن لو سب اپنے بیٹے کو کبھی معاف نہیں کروں گی وہ ایسا کیسے کر سکتا ہے ایک پاگل لڑکی کے لئے اپنی ہی ماں کہ ساتھ یہ سب کیسے کر سکتا ہے وہ۔۔۔
"غلطی آپ کی ہے امی۔۔۔یزان کی آواز پر نور بیگم نے پلٹ کر دروازے کی سمت دیکھا تھا۔۔۔
سب تیزی سے اپنی جگہ سے کھڑے ہوۓ تھے جبکہ نظریں یزان کے ساتھ سرخ دوپٹے میں ملبوس یزان کا ہاتھ تھامے کھڑی ایڑیوں پر اونچی ہوتے سب کو مسکرا کر دیکھتی منحہ پر تھی۔
نور بیگم کی نظریں دونوں سے ہوتیں بی جان کی طرف اٹھی تھیں جو پرسکون سی کھڑی تھیں۔۔
یزان نے ایک نظر منحہ کو دیکھ کر گرفت مضبوط کرتے قدم نور بیگم کی جانب بڑھائے تھے میرال نے لبوں کو بھینچتے ہالہ کی طرف دیکھا تھا۔۔
"امی،آپ نے مجھے مجبور کیا کے میں یہ قدم اٹھا سکوں۔۔
"دور رہو اس سے سمجھے،چھوڑو میرے بیٹے کا ہاتھ لڑکی۔۔۔نور بیگم نے کہتے ساتھ اپنا ہاتھ بڑھایا تھا کہ یزان نے تیزی سے اسے اپنے پیچھے چھپایا تھا۔
"امی بس کیجئے،کسی نے بھی اسے تکلیف پہنچانے کی کوشش کی تو یاد رکھئیے گا کہ اس نے مجھے تکلیف پہنچانے کی کوشش کی ہے۔۔
"کیا کہہ رہے ہو یزان۔۔۔بلال کی بات پر یزان نے اسے دیکھا تھا۔۔
"میں نے نکاح کیا ہے منحہ سے اب سے یہ میری بیوی۔۔۔
"تڑاخ!!
یزان جو بلال کو بتا رہا تھا یَکدم نور بیگم کے تھپڑ مارنے پر سب ششدر رہ گئے۔۔
"نور یہ،یہ کیا طریقہ ہے سب کہ سامنے جوان بیٹے پر ہاتھ اٹھانا تمہیں زیب نہیں دیتا.
بی جان کے ضبط سے کہنے پر نور بیگم نے انھیں دیکھا تھا۔۔
"سمجھ گئی،یہ سب آپ سب کی ملی بھگت تھی، جھوٹ بولا گیا سازش کی گئی، دھوکہ دیا ،درانی آپ نے بھی مجھے دھوکہ دیا جانتے بوجھتے اپنے بھائی کی محبت میں اتنے اندھے ہوگئے کہ اپنے بیٹے کی زندگی برباد۔۔
"کون سی زندگی برباد ہوئی ہے نور بتاؤ مجھے کیا کردیا اس بچی نے جو تمہیں اپنے بیٹے کی زندگی میں سوائے بربادیوں کے کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا،
"درانی۔۔۔۔
"نہیں دائم آج نہیں بہت سن چکا اب برداشت ختم ہوچکی ہے درانی صاحب نے ہاتھ اٹھا کر انہیں روکا تھا۔۔
"نور بیگم بہت سوال کرتی ہو تو اب میرے ایک سوال کا جواب دو،اللّه نہ کرتا تمہاری اکلوتی اولاد منحہ کی طرح ہوتی تب کیا کرتی جب سب اسی طرح تمہاری اولاد کو تمھارے ہی منہ پر پاگل باولی کہتے تو کیسا لگتا تمہیں؟ جواب دو مجھے۔۔درانی صاحب کی روعب دار آواز گونج رہی تھی سب اپنی جگہ چپ سے ہوگئے تھے۔۔
"ہونہہ نہیں ہے جواب،یہ سوچ ہی کتنی جان لیوا لگ رہی ہے نا؟
"یزان نیند آرہی ہے۔۔۔یزان جو اپنے باپ کی بات پر اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا یَکدم اپنی نئی نویلی دلہن صاحبہ کی بات پر دھیرے سے مسکرایا۔۔
"بسمہ منحہ کو نیند آرہی ہے اسے اس کے کمرے میں لے جاؤ۔یزان کی بات پر بسمہ نے آگے بڑھ کر منحہ کا ہاتھ پکڑا تھا جو جاتے جاتے یَکدم روک کر پلٹتی مسکرا کر آگے بڑھ گئی تھی۔۔۔
"مجھے ان باتوں سے کوئی سروکار نہیں ہے درانی جو چیز ہے ہی نہیں اسے تصور ہی کیوں کروں میں۔۔۔
"استغفرالله،اپنی زبان کو قابو میں رکھو نور بہت بڑی بڑی باتیں کر جاتی ہو تم، اللّه سے ڈرو کیونکہ وہ ہر چیز پے قادر ہے، میری بات ذہن نشین کرلو نور بیگم، یہ دنیا مکافاتِ عمل کے گرد گھومتی ہے۔۔۔
"آپ مجھے بد دعا دے رہی ہیں اپنی ہی اولاد کی اولاد کو، سن رہے ہیں درانی آپ۔۔۔نور بیگم نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوۓ درانی صاحب کو بتایا تھا۔۔
"ہر بات کا غلط مطلب کیسے نکالا جاتا ہے آج اندازہ ہوگیا ہے نور، میں نے تو کبھی اپنی اولاد کو بد دعا نہیں دی،یہ تو پھر یہ سب تو میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں۔۔
"بی جان ہم جانتے ہیں،بی جان کی بھرائی ہوئی آواز پر درانی صاحب نے آگے بڑھ کر انکے ہاتھ پکڑ کر پشت پر بوسہ دیا تھا۔۔
"کل شادی ہے گھر میں ایسا ہی چلتا رہا تو لوگوں کو باتیں کرنے کا موقع مل جاۓ گا۔۔۔ہانیہ بیگم کی آواز پر سب انکی جانب متوجہ ہوۓ تھے۔۔
"فکر مت کرو انشاءلله سب خیر خیریت سے ہوجاۓ گا،منال مجھے اب آرام کرنا ہے۔۔بی جان کہتی ہوئیں تھکے تھکے انداز میں منال بیگم کہ ساتھ کمرے کی جانب بڑھ گئیں۔۔۔
انکے جاتے ہی یزان بھی وہاں سے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
"کتنے شاطر ہوتے ہیں لوگ دیکھا مما کیسے اپنی بیٹی کے لئے برو کو اپنے جال میں پھنسایا ہے اور وہ کتنے آرام سے پھنس گئے۔۔
"مجھے تو لگتا ہے کوئی کالا عمل کروایا ہے ورنہ کہاں یزان کہاں وہ پاگل۔۔۔میرال نے بھی اپنے دل کی بھڑاس نکالی تھی اسے تو یقین ہی نہیں آرہا تھا ایک شاندار مرد ایسی لڑکی کو کیسے اپنی زندگی میں شامل کر سکتا ہے۔۔۔
نور بیگم سر پر دوپٹہ باندھے نیم دراز بیٹھی دونوں کی باتیں سن رہی تھیں۔۔
"میں اسے اتنی آسانی سے اپنے بیٹے کی زندگی میں شامل نہیں ہونے دونگی۔۔۔نور بیگم کی بات پر دونوں نے نظروں کا تبادلہ کیا تھا۔۔
"کیا کرنے کا سوچ رہی ہیں؟
"دیکھتی جاؤ میں کیا کرتی ہوں ہالہ ابھی منالینے دو خوشیاں جتنی مننانی ہیں، کیا تم دونوں دو گی میرا ساتھ؟ نور بیگم نے کہتے ساتھ ان دونوں سے پوچھا تھا جو مسکرائیں تھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"مبارک ہو بہت بہت۔۔ہاشم کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ بولا اسکے پیچھے ہی بلال اور داور بھی مسکراتے ہوۓ اندر داخل ہوئے تھے وہ جو کھڑکی کھولے کھڑا سوچوں میں گم تھا چونک کر انکی جانب متوجہ ہوا تھا۔
"خیر مبارک۔۔۔کیا تم لوگ واقعی میرے فیصلے پر خوش ہو؟
"یزان بھائی کیسی باتیں کر رہے ہیں ہم کیوں بھلا خوش نہیں ہونگے،میں تو بے حد خوش ہوں کہ آپ نے وہ کیا ہے جو میں بھی نہیں کرتا۔۔داور کی بات پر یزان نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔۔
"سچ کہہ رہا ہوں۔۔
"ہا!! منحہ کو تنگ کرنے کی فہرست میں تم بھی شامل ہو۔۔ یزان بتاتے ہوۓ مسکرایا تھا۔۔
"ہاہاہا۔۔۔جانتا ہوں لیکن میں غلط تھا ہم اس سے مقابلہ کرنے چلے تھے جیسے محبتوں کہ علاوہ کسی سے کوئی سروکار نہیں ہے یزان بھائی۔۔۔۔داور مسکرا کر اسے بتا رہا تھا جب بلال نے اپنے بھائی کہ کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔
"تم واقعی بڑے ہو رہے ہو داور۔۔۔
"پہلے نہیں تھا؟
"ہاں تھے لیکن کم مقدار میں،سمجھدار ہونے کہ لئے عمر نہیں احساس و انسانیت کا ہونا ضروری ہے اور جن میں یہ نہیں وہ سمجھدار نہیں ہوتے انکے دل بنجر ہوتے ہیں۔۔۔بلال نے مسکرا کر داور کا کندھا تھپتھپایا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
"السلام علیکم۔۔۔صبح بخیر!
"وعلیکم السلام۔۔۔صبح بخیر آجاؤ بچے ناشتہ کرلو۔۔۔بی جان نے مسکرا کر اسے دیکھا۔۔صبح کہ آٹھ بجے کا وقت تھا گھر بھر میں رونق لگی ہوئی تھی۔
"چاچی منحہ کہاں ہے؟ ہانیہ بیگم کو آتا دیکھ کر وہ ان سے پوچھنے لگا یزان کے سوال پر نور بیگم جو وہاں سے گزر رہی تھیں غصّے سے اپنے بیٹے کو دیکھنے لگیں۔۔۔
جو انکی بات سن کر مسکرا کر ناشتے کی جانب متوجہ ہوا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔
"دھیان سے منحہ مہندی خراب ہوجاۓ گی ورنہ۔۔منال بیگم اسے اٹھتا دیکھ کر بولیں باقی لڑکیاں بھی وہیں موجود مہندی لگوا رہی تھیں کے کل وقت نہیں مل سکا تھا۔۔
"ہونہہ۔۔اب ہر چیز میں ہم سے اس پاگل کا مقابلہ کیا جاۓ گا۔۔۔میرال نے سدرہ سے کہا جو خود بھی مہندی کہ لئے آئی انکے گھر آئی ہوئی تھی۔
"دفع کرو یار تم کیوں اس چھٹانگ بھر کی لڑکی کے لئے خود کو جلاتی رہتی ہو۔۔
"کون چھٹانگ سدرہ تم ابھی جانتی نہیں ہو بہت تیز ہے یہ اور ہماری چاچی صاحبہ بھی ،خیر جہنم میں جاۓ یہ۔۔۔میرال نے چڑ کر کہتے سر جھٹکا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
"آپ کا بے بی ہے یہ؟ منحہ جو وہیں بیٹھی مہندی سوکھنے کا انتظار کر رہی تھی چار سال کے بچے کو دیکھ کر پوچھنے لگی جو اپنی ماں کہ پاس ہی بیٹھا بسکٹ کھا رہا تھا۔
"ہاں۔۔۔
"میں اسے لے جاؤں باہر کھیلنے کے لئے؟ منحہ کے پوچھنے پر عورت نے اسے دیکھا تھا جو مومنہ کو مہندی لگا رہی تھی۔۔
"مہندی ابھی گیلی ہوگی ایسے خراب ہوسکتی ہے۔...عورت نے کچھ ہچکچا کر اسے کہا تھا وہاں موجود لڑکیوں سے ہی اسے معلوم چلا تھا کے وہ باولی ہے۔۔۔
عورت کی بات پر منحہ نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا پھر تیزی سے اٹھ کر بھاگی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔
منحہ بھاگتے ہوۓ کمرے کہ سامنے آکر رکی تھی۔
"یزان۔۔۔یزان دروازہ کھولیں میں منحہ ہوں۔۔۔منحہ کی آواز پر یَکدم دروازہ کھلا تھا سامنے ہی یزان کھڑا مسکرا رہا تھا۔۔
"صبح بخیر کہاں تھی صبح سے میاؤں؟
"میں نے مہندی لگوائی ہے دیکھیں کیسی ہے؟ یزان کہ سوال پر وہ جس مقصد کے لئے آئی تھی سب بھول بھال کر اپنی مہندی دکھانے لگی جو اسے لے کر کمرے میں آگیا تھا۔۔
"بہت خوبصورت لگ رہی ہے بالکل منحہ کی طرح۔۔یزان بغور اسکے ہاتھوں کو دیکھتے ہوۓ محبت سے کہہ رہا تھا جس کی نظریں ٹکٹکی باندھے اسی کو دیکھ رہی تھیں۔
"او چھوئیں مت ابھی مہندی گیلی ہے۔۔۔
"کیا سچ میں دکھاؤ ذرا۔۔یزان نے اسکے ہاتھ پیچھے کرنے پر مسکرا کر اسکے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سے پکڑ کر قریب کیا تھا۔۔
"کیا دیکھ رہے ہیں ؟
"کچھ ڈھونڈھ رہا ہوں۔۔یزان مسکرا کر کہتا اسکی مہندی چھو کر دیکھ رہا تھا جو سوکھ چکی تھی۔۔
"کیا ڈھونڈھ رہے ہیں مجھے بھی بتائیں میں بھی ڈھونڈھوں گی۔۔۔
"اپنا نام ڈھونڈ رہا ہوں کیا تم نے لکھوایا ہے؟یزان نے پوچھتے ساتھ اسے دیکھا تھا جسکی پیشانی پر لکیر بنی تھی۔۔۔
"آپکا نام تو نہیں لکھوایا۔
"کیا!! اچانک یزان نے ڈرامائی انداز میں اسے کہا تھا جو مزید پریشان ہوگئی تھی۔۔
"سچی یزان ،میں ابھی آنٹی سے کہتی ہوں۔۔۔منحہ اپنا ہاتھ چھڑوا کر اسے کہتی جانے لگی کہ یزان نے تیزی سے اسکا راستہ روکا تھا۔۔
تم ایسا کرو جاکر ان آنٹی سے مہندی کی کون لے کر اؤ نام میں لکھ دیتا ہوں۔۔۔
"آپ کو آتا ہے لکھنا میری اسپیلنگ پتہ ہے۔۔منحہ وچ حیرانگی سے پوچھنے لگی جو اسکی بات پر اسے گھورنے لگا تھا
"کیا مطلب ہے تم نے اپنے اکلوتے شوہر کو ان پڑھ سمجھ رکھا ہے،چلو جاؤ اب جلدی سے۔۔۔۔یزان راستے سے ہٹتا اسے جانے کا کہنے لگا جو تیزی سے کمرے سے نکلتی لاؤنج عبور کرتی ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی تھی۔۔
"لو پھر آگئی،ایک کام کرلو اسکے پیروں میں بھی مہندی لگوا دو تاکہ ایک جگہ سے اٹھ ہی نہ سکے اگر اٹھی تو مہندی خراب ہوسکتی ہے نا۔۔۔
"ہاہاہا! آئیڈیا اچھا ہے،رکو ذرا میں اپنی بھابھی جان سے کہہ کر آتی ہوں۔۔۔میرال کے چڑ کر کہنے پر ہالہ ہنستی ہوئی وہاں سے اٹھتی اسکی جانب بڑھ گئی جو آنٹی سے مہندی مانگ رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔
"میرال برا مت ماننا مگر تمھارے کزن نے اپنے پیر پر کلہاڑی مارلی ہے۔۔
"ہاں،کیا کر سکتے ہیں جب انسان پر زوال آتا ہے تو وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے پھر اسکے بعد وہ اسی طرح احمق فیصلے کرتا ہے۔۔خیر دفع کرو دیکھ لینا ایک وقت آئے گا جب یزان درانی کو اپنے فیصلے پر افسوس ہونے کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا۔۔۔میرال نے سدرہ کی بات پر کہتے ساتھ کندھے اچکائے تھے جب اسکا موبائل بجنے لگا میرال نے چونک کر موبائل دیکھا جہاں "نعمان کالنگ" جگمگا رہا تھا۔۔
"اہم اہم لگتا ہے ہمارے جیجو اپنی ہونے والی بیگم کو مس کر رہے ہیں۔۔سدرہ کے ذومعنی انداز میں کہنے پر میرال نے مسکرا کر اسکے کندھے پر ہاتھ جڑا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح سے شام ہو چکی تھی یزان اسکا انتظار کرتا دوسروں کاموں میں الجھ گیا تھا۔۔۔
گھر آتے ہی وہ بلال کے کمرے میں موجود تھا جہاں کزنز اور دوست بلال کے ساتھ ہنسی مذاق کر رہے تھے۔۔
"کہاں کھوۓ ہوۓ ہیں یزان بھائی؟ داور کے شریر لہجے پر وہ چونکا تھا جبکہ اسکی آواز پر سب نے پلٹ کر اسے دیکھا تھا۔۔
"محترم اب کھوئے کھوٙئے ہی نظر آئیں گے ویسے نکاح کر ہی لیا تھا تو رخصتی بھی کل ہی کروا لیتے۔۔۔افنان(بلال کا دوست) جو خود بھی شادی شدہ ایک بچی کا باپ تھا یزان سے بولا جو اسکی بات پر کچھ سوچ کر مسکرایا تھا۔
(میں دلہن بنوں گی رانیہ کی کزن کی طرح۔۔منحہ نے شرماتے ہوۓ پوچھا تھا وہ جو اسے سمجھانے بیٹھا تھا سر کو اثباب میں ہلانے لگا۔۔
"ہمم تو رانیہ کی کزن کیسی دلہن بنی تھی ؟
"سرخ شرارہ،ہاتھوں میں مہندی ،پھول بہت سارے زیور،یزان منحہ کو بھی انکی طرح دلہن بننا ہے۔۔۔سوچ سوچ کر بتاتی وہ اسے دیکھنے لگی تھی جس کی مسکراہٹ گہری ہوتی چلی گئی تھی۔۔
"تو ڈن ہے۔۔۔یزان کی منحہ دلہن کے روپ میں یزان کی زندگی میں شامل ہوگی۔۔)
"یزان۔۔۔بلال کی آواز پر وہ خیالوں کی دنیا سے باہر آیا تھا۔۔
"میں آتا ہوں۔۔۔یزان اٹھتے ہوۓ کہتا بنا کسی کا جواب سنے کمرے سے نکلتا منحہ کے کمرے کی طرف جانے لگا جب منال بیگم کو ڈرائنگ روم سے باہر آتے دیکھ کر انکی جانب بڑھا تھا۔
"چاچی خیریت تو ہے؟
"آہ! دو گھنٹے بعد نکلنا ہے اور یہ لڑکی ڈرائنگ روم میں سو رہی ہے۔۔
"سو رہی ہے۔۔۔یزان بے حیرانگی سے انھیں دیکھا تھا۔
"ہاں پتہ نہیں کس کہ کہنے پر پیروں میں مہندی لگوائی ہے اب بیٹھے بیٹھے سو رہی ہے اٹھا بھی رہی ہوں تو نہیں اٹھ رہی۔۔
"آپ پریشان مت ہوں میں دیکھتا ہوں۔۔۔یزان انھیں کہتا ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گیا جبکہ منال بیگم لبوں کو دباتیں خود پر ضبط کرتیں کمرے کی جانب بڑھ گئیں تھیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
یزان جیسے ہی ڈرائنگ روم میں داخل ہوا منحہ کو نیچے بیٹھے دیکھا یزان کی نظریں اسکے چہرے سے ہوتیں اسکے ہاتھ پر گئی تھی جس میں کون ہاتھ سے لڑکھ کر وہیں پاس پڑی تھی یزان قدم اٹھاتا اسکے قریب آیا تھا آہستہ سے پنجوں کے بل بیٹھتے اس نے منحہ کہ پیروں کو دیکھا تھا خوبصورت سرخ و سفید چھوٹے پیروں پر مہندی لگائی گئی تھی یزان نے ہاتھ بڑھا کر اسکے دونوں پیروں کو باری باری چھوا تھا کہ اسکے ہاتھوں کے لمس سے وہ کسمسائی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
"منحہ،ہے میاؤں اٹھو،یزان اسکا گال آہستگی سے تھپتھپاتے ہوۓ پکار رہا تھا جب منحہ نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں، اس پر نظر پڑھتےہی وہ مسکرائی تھی۔۔
"یزان۔۔
"یہیں سو گئی تھی میں نے کچھ منگوایا تھا نہ تم سے۔۔۔یزان نے مسکراتے ہوۓ اسکے گال کو آہستہ سے سہلایا تھا کے منحہ نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے گہری سانس لی تھی۔۔
"وہ تو۔۔۔یَکدم ہی اسے یاد آیا تھا کے ہالہ کے کہنے پر مہندی لگاوا کر وہ وہیں بیٹھی رہی تھی جانے کب اسکی آنکھ لگ گئی۔۔
"میری مہندی ہٹیں میری مہندی لگی ہے۔۔
"اففف!! حد ہے لڑکی تمہاری مہندی کی ایسی کی تیسی۔۔۔یزان اسکے پیچھے ہٹانے پر گھور کر کہتا اسکے دونوں پیروں کو ہاتھ میں لے چکا تھا۔۔
منحہ تو جیسے صدمے سے چیخ بھی نہیں سکی تھی۔۔
"ہوگئی خراب دیکھو۔۔۔یزان کہتے ساتھ اسکا پیر چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا منحہ جو رونے والی ہوگئی تھی مہندی کو جوں کا توں دیکھ کر جیسے اسکی سانس میں سانس آئی تھی۔۔
"ہاہاہا۔۔۔ڈرپوک۔۔۔یزان ہنستا ہوا اسے اسی کہ انداز میں زبان چڑھاتا بھاگا تھا جو خود بھی اسکے پیچھے بھاگی تھی۔۔
۔......
"بارات کے پہنچتے ہی ان سب کا پرتپاک استقبال کیا گیا تھا۔۔۔
بلال کہ اسٹیج پر جاتے ہی کچھ دیر میں دلہن(ایمن) کو لایا گیا تھا۔۔منحہ جو پیازی رنگ کی میکسی میں بالوں کو پشت پر پھہلائے، لائٹ سے میک اپ کانوں میں چھوٹے چھوٹے ٹاپس، گلے میں چین،مہندی سے سجے ہاتھوں میں بھر بھر کر چوڑیاں پہنے دلہن کو دیکھنے میں محو تھی کسی کہ کمر پر ہاتھ رکھنے پر اچھل پڑی لیکن جیسے ہی منحہ کی نظر دلہن کہ بھائی پر پڑی تیوری چڑھا کر اسے دھکا دیا تھا اچانک ہوئی افتاد پر وہ لڑکھڑاتے ہوۓ زمین بوس ہوا تھا۔۔
یزان جس کی نظریں اسی پر تھیں کہ آج جانے کیوں اس سے نظریں ہٹنا مشکل ہورہا تھا اس شخص کو منحہ کہ نزدیک دیکھتے ہی وہ اسکی طرف جارحانہ انداز میں بڑھا تھا لیکن اگلے ہی پل منحہ کے دھکّا دینے پر بے ساختہ وہ مسکرایا تھا۔۔
ارون کی بیٹی جو باپ کے پیچھے ہی تھی گرنے پر تیزی سے اپنی ماں کو بتانے بھاگی تھی جبکہ وہ اردگرد موجود لوگوں کو ہنستا دیکھ کر بری طرح شرمندہ ہوگیا تھا۔۔
"منحہ۔۔
"یزان۔۔یزان کی آواز پر منحہ تیزی سے اسکے قریب گئی تھی جس نے اسکے کندھے پر بازو پھیلایا تھا ۔۔
"یزان اس نے میری کمر پر چٹکی کاٹی۔ ۔منحہ کی اونچی آواز پر وہ بوکھلا گیا تھا یزان کو بھی منحہ سے امید نہیں تھی کے وہ یوں سب کہ سامنے ہی شکایت لگا دے گی جبکہ ارون کی بیوی جو وہیں آرہی تھی غصّے سے اپنے ٹھرکی شوہر کو دیکھنے لگی۔۔
"بیہودہ شخص،شرم تو بالکل مرچکی ہے دو بچوں کے باپ ہیں پتہ نہیں کب سدھریں گے۔
"امی کیا کہہ رہی ہیں؟ صباء کی بڑبڑاہٹ پر انکی بیٹی ناسمجھی سے پوچھنے لگی جو انکی بڑبڑاہٹ نہیں سن سکی تھی۔۔
"کچھ نہیں تم جاؤ اپنے بھائی کو دیکھو کہاں ہے۔۔بیٹی سے کہتیں وہ انکی طرف بڑھی تھیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ارے کیا بول رہی ہو بچے میں ایسا۔۔۔
اس سے قبل وہ اپنی بات مکمل کرتا یزان نے آگے بڑھ کر زور سے اسکے سینے پر ہاتھ مار کر کرتے کو سینے سے ہی جکڑا تھا۔۔۔۔
"میری بیوی جھوٹ نہیں بولتی سمجھے،ابھی اسی وقت میری نظروں سے دور دفع ہوجاؤ ورنہ میں بھول جاؤں گا کے تم بلال کے سالے ہو۔۔۔یزان جو کینیڈا میں ایک بہتریں فائٹر مشہور تھا اسکا ہاتھ زور سے مارنا ہی کافی تھا۔۔منال بیگم جو منحہ کو ہی ڈھونڈھ رہی تھیں تیزی سے وہاں آئیں تھیں۔۔۔
"کیا ہورہا ہے یہاں؟
"ماما یہ
"منحہ۔۔۔۔یزان نے یَکدم پلٹ کر اسے ٹوکا تھا جبکہ منال بیگم نے مشکوک نظروں سے ان تینوں کو دیکھا تھا۔۔
"یزان کیا بات ہے بیٹا؟ کوئی بات ہوئی ہے؟
"کچھ بھی نہیں ہوا ہم تو بس باتیں کر رہے تھے۔۔
"اچھا اچھا،منحہ بیٹی آجاؤ پاپا بلا رہے ہیں منحہ کو۔۔۔منال بیگم سر ہلاتیں منحہ سے بولیں تھی جو یزان کہ سر کو نفی میں ہلانے پر خاموش ہوگئی تھی۔۔
دونوں کہ آگے بڑھتے ہی ارون کی بیگم وہاں آئی تھی۔۔
یزان انھیں دیکھتے ہی ارون کی کہ کان کی جانب جھکا تھا۔۔
"اگر تم بلال کہ سالے نہیں ہوتے تو یوں اپنے پیروں پر سلامت نہیں رہتے۔۔یزان دھمکی آمیز لہجے میں کہتا زور سے اسکا کندھا تھپتھپا کر آگے بڑھ گیا تھا جبکہ وہ دانت کچکچاتا اسکی پشت کو گھور رہا تھا.
"پیروں پر تو' تو نہیں رہے گا بیٹا اس بے عزتی کا بدلہ سود سمیت لوں گا،ابھی جانتا نہیں ہے مجھے۔۔۔ارون غصّے میں خودکلامی کرتا اپنی بیوی کو دیکھنے لگا جو غصے میں اسے ہی گھور رہی تھی۔
۔.....
"نور سنا ہے تمھارے بیٹے کا نکاح ہوگیا ہے۔۔ہمیں بھی تو ملواؤ اپنی بہو سے ہم بھی تو دیکھیں کون سا ہیرا لائی ہو۔۔نور بیگم جو سب سے ملتی ملاتیں دوستوں کے پاس آئیں تھیں انکی بات پر لبوں کو بھینچ گئیں جبکہ بسمہ جو پاس سے گزر رہی تھی انکی باتیں سن کر مسکراتی ہوئی انکی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔
"ارے آنٹی ہیرا نہیں قیمتی ہیرا کہیں آخر کو میری کزن اور یزان بھائی کی محبوب منکوحہ ہیں۔۔
"ہمم اسکا مطلب لوو میریج کی ہے تمھارے بیٹے نے افسوس اکلوتا بیٹا وہ بھی ہاتھ سے گیا،کیوں شمائلہ ٹھیک کہا نا جیسے تمہارا بیٹا بیوی کا دُم چھلا بن گیا ہے۔۔
بسمہ کی بات سنتے ہی انہوں نے چٹخارہ لیتے طنز کرتے ساتھ کھڑی دوسری دوست پر بھی طنز کیا تھا۔۔
"ایسا کچھ بھی نہیں ہے فرح میرے بیٹے نے اپنی پسند سے شادی ضرور کی ہے لیکن وہ ماں کی بھی بہت عزت کرتا ہے رہا میری بہو کا تو کوئی اٹھائی گری نہیں ہے لیکن تم یہ کیسے جانوں گی تمہاری تو بہو تو بہو اولادوں کی بھی گز بھر کی زبانیں ہیں،نور تم اسکی فضول باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دو کیونکہ یہ ہمیشہ زہر ہی اگلتی ہے،دوسروں پر تنقید کرنے سے قبل ایک بار آئینے میں ضرور دیکھ کر آیا کرو تاکہ بات کرنے سے پہلے سو بار سوچ لو ہونہہ اب جہنم میں جائے تمہاری دوستی۔۔شمائلہ بیگم غصے میں اچھی خاصی کلاس لے کر وہاں سے تیزی سے آگے بڑھ گئیں تھیں۔۔جبکہ فرح بیگم اپنی اتنی عزت افزائی پر بنا کچھ کہے وہاں سے چل دی تھیں۔۔
"ہاہاہا۔۔۔کیا تھا یہ اففف!! بسمہ جو منہ کھولے ایک دوسرے پر گولے برساتے دیکھ رہی تھی گہری سانس لے کر ہنسنے لگی کہ نور بیگم نے سختی سے اسکا بازو پکڑ کر جھٹکا دیا تھا۔۔
"بسمہ تمہیں اس پاگل لڑکی کی زیادہ حمایت کرنے کی ضرورت نہیں ہے ہونہہ انمول ہیرا نہیں ہے وہ سمجھی وہ ایک کیچڑ میں گرا پتھر ہے جسے میرے بے وقوف بیٹے نے اٹھا کر اپنے سر پر بیٹھا لیا ہے،یاد رکھنا وہ رخصتی بھی کرلے تب بھی انھیں ایک نہیں ہونے دوں گی کبھی نہیں۔۔۔نور بیگم غصّے میں جو منہ میں آرہا تھا اپنی بھڑاس نکال کر جھٹکے سے اسے چھوڑتیں چلی گئیں۔۔۔جبکہ بسمہ گنگ سی انھیں جاتا دیکھتی جیسے ہی تنہا گوشے کی جانب بڑھی یَکدم ٹھٹھک کر رکی۔۔۔
یزان اور منحہ دونوں نزدیک کھڑے تھے جبکہ یزان منحہ کے کہنے پر اسکے بالوں میں ہلکا سا جھکتا اصلی گلاب کی کلی جو وہ سجاوٹ کے لیے رکھے گلدستوں سے نکال کر لائی تھی بال پن کی مدد سے لگا رہا تھا۔۔
بسمہ دونوں کو دیکھتی نم ہوتی آنکھوں سے مسکرائی تھی۔۔۔
"أه! اللّه حاسدوں کی نظروں سے آپ کے رشتے کو محفوظ رکھے۔ آمین۔۔۔دکھ سے کہتی وہ واپس پلٹ گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"آوں ہوں ہلو مت میاؤں...
"یزان آپ نے اسے ڈانٹا تھا؟
"ہاں میں نے اسے اچھے سے ڈانٹا ہے اب نہیں کرے گا ہمم اور ہاں منحہ کوئی بھی اگر ایسے قریب آنے کی کوشش کرے تو زور سے چیخنا۔۔۔۔
آآآاا ایسے۔۔۔،وہ جو چیخ کر بتارہی تھی یزان نے گھبرا کر اسکے لبوں پر ہاتھ رکھا تھا۔
"ہاہاہا۔۔حد ہے یار۔۔
"اچھا لگ رہا ہے۔۔۔منحہ نے اسے ہنستا دیکھ کر نرمی سے اپنے بالوں کو چھوتے ہوۓ خوشی کہ اظہار پر اپنے مخصوص انداز میں اچھالتے ہوۓ پوچھا تھا۔
"منحہ اب دلہن بننے والی ہو دلہنیں ایسے نہیں اچھلتیں۔۔یزان نے یکدم اسکے دنوں کندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوۓ اسے ایسا کرنے پر روکا تھا۔
"ابھی تو میں نہیں بنی دلہن؟ منحہ کے سوال پر یزان نے گہری سانس لی۔۔
"منحہ بیٹھو یہاں۔۔۔یزان کرسی پر اسے بیٹھنے کا کہتا خود بھی اسکے مقابل بیٹھا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
لے کے ارمان کا اک سادہ ورق ہم نے ہمسفراں ،
تمہیں اپنی حیات کا حسین پل لکھا دیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن ولیمہ تھا صبح سے ہی گھر میں افرا تفری کا عالم تھا ایمن میرال اور بلال کے ساتھ پارلر کہ لئے چلی گئی تھی.۔۔۔
منال بیگم کچن میں کھڑی منحہ کہ کیے فریش جوس تیار کر رہی تھیں جب نور بیگم کی آواز پر چونکی۔۔۔
"منال مجھے تم سے کچھ کام تھا۔۔۔منال بیگم نے حیرت سے انھیں مسکراتے ہوۓ دیکھا تھا وہ جو دو دن سے انھیں اگنور کر رہی تھیں اچانک مسکرا کر خود سے آکر بات کرنے پر حیران ہوئی تھیں۔
"جی بھابھی کہیں۔۔۔
"آ دیکھو جو بھی ہوا منال شاید اسی طرح ہونا تھا لیکن کوئی بھی ماں اپنی اولاد کہ لئے ہمیشہ بہترین سوچے گی،میری جگہ اگر تم بھی ہوتیں تو ایسا ہی کرتی، میں نے بہت سوچا ہے اس بارے میں شاید تقدیر میں یہی لکھا تھا ہماری۔۔نور بیگم ٹھہر ٹھہر کر کہتیں انھیں حیرتوں کہ سمندر میں غوطے لگوا رہی تھیں۔۔
"آہ! جو بھی ہوا مشکل سے ہی لیکن میں قبول کرنے کو تیار ہوں منال۔۔۔۔نور بیگم نے کہتے ساتھ مسکرا کر انکے ہاتھوں کو تھاما تھا۔
"بھابھی،آپ نہیں جانتی یہ بات کر کے آپ نے میرے دل کا بوجھ کتنا کم کردیا ہے، میری منحہ بہت معصوم ہے بھابھی آپ اسے جتنا پیار دیں گی وہ آپ کی اتنی ہی وفادار ہوجاۓ گی اسے جیسا سکھائیں گی سیکھ جاۓ گی چاہے وہ گھر کا کام ہو یا کھانا۔۔شروع میں تو غلطیاں ہو جاتی ہیں۔۔۔
"میں سمجھ سکتی ہوں منال۔۔۔
"بھابھی بہت شکریہ۔۔منال بیگم نے روتے ہوۓ انھیں دیکھا تھا جو انکا ہاتھ تھپتھپا کر مسکرائے جا رہی تھیں۔۔۔
"میں ذرا دراب کو بتا کر آتی ہوں۔۔خوشی میں اپنے آنسوں صاف کَرتیں وہ تیزی سے کچن سے نکل گئی تھیں۔۔
۔۔۔۔۔
"منحہ آپی یہ لیں آپ کا جوس۔۔۔مومنہ سائیڈ ٹیبل پر گلاس رکھ کر مسکرا کر کمرے سے نکل گئی جبکہ وہ جو اس سے پوچھنا چاہتی تھی کہ کیوں اس نے اور حمزہ نے اس کے ساتھ کھیلنا بند کردیا تھا بند دروازے کو دیکھ کر رہ گئی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
سات بجے کا وقت تھا جب یزان منحہ کے کمرے میں داخل ہوا تھا لیکن سامنے ہی منحہ کو بستر پر نڈھال حالت میں دیکھ کر اسکا دل دھک سے رہ گیا۔۔
"منحہ۔۔۔۔منحہ چچی کیا ہوا ہے منحہ کو۔۔۔
"بیٹا گھبراؤ مت بخار چڑھ گیا ہے پتہ نہیں صبح تک ٹھیک تھی۔۔
"صبح سے اسکی یہ حالت ہے اور کسی نے مجھے بتایا بھی نہیں۔۔۔یزان انکی بات سن کر کہتا تیزی سے اسے اٹھانے جھکا تھا کہ بی جان جو تسبیح پکڑے اسکے سرہانے ہی بیٹھی تھیں یَکدم اسے روکا۔
"ڈاکٹر دیکھ چکا ہے آکر کچھ غلط کھانے سے فوڈ پوائزنگ ہوگئی ہے فکر مت کرو انشاءلله ٹھیک ہوجاۓ گی،تم کہاں تھے صبح سے ایک بار بھی گھر میں نظر نہیں آئے۔۔بی جان کے بتانے پر وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر وہیں بیٹھ گیا تھا بی جان کہ سوال پر چونکا۔۔
"امی نے اپنی ٹیبلیٹس مَنگوائیں تھیں یہاں سے نہیں ملیں تھی ہسپتال جانا پڑا۔۔۔
"ہمم ٹھیک ہے ویسے جانتے ہو تمہاری ماں نے ہماری منحہ کو بہو قبول کر لیا ہے؟ بی جان کے بتانے پر اسے خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔۔۔
"واقعی دادی۔۔۔مجھے تو یقین نہیں آرہا۔۔
"یقین تو مجھے بھی نہیں آرہا ٹیڑھی دم کو کبھی دیکھا ہے سیدھی ہوتے۔۔بی جان کی اونچی بڑبڑاہٹ پر یزان اور منال بیگم کہ ساتھ اندر آتے دراب صاحب بھی مسکرائے تھے جبکہ انکے پیچھے آتیں نور بیگم نے غصّے سے لبوں کو بھینچا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
"امی۔۔۔یزان کی نظر جیسے ہی ان پر پڑی تیزی سے اٹھ کر آگے بڑھ کر انکے گلے لگا تھا۔۔
نور بیگم نے پرسکون ہوتے آنکھیں بند کر کہ کھولتے منحہ کو دیکھا تھا چند گھنٹوں میں ہی پیٹ کے درد اور بخار کی وجہ سے مرجھا چکی تھی۔۔
"امی میں بہت خوش ہوں آپ کہ فیصلے سے۔۔۔یزان نے اکے ہاتھ کی ہتھیلی کو چومتے ہوئے کہا جو اسی کو دیکھ رہی تھیں۔۔
"اور تمہیں خوش دیکھ کر میں اس سے بھی زیادہ خوش ہوں بیٹا۔۔
"منحہ بہت اچھی ہے امی۔۔۔یزان کہ کہنے پر نور بیگم نے گہری سانس لے کر مسکرا کر سر کو اثباب میں ہلایا تھا اس سے قبل وہ کچھ کہتیں دائم صاحب کمرے میں داخل ہوۓ۔
۔۔۔۔۔۔
"اب کیسی طبیعت ہے منحہ کی؟ دائم صاحب نے اندر آتے ہوۓ پوچھا تھا۔
"دوائی کے زیرِ اثر سو رہی ہے اٹھے گی تو ان شاءلله ٹھیک ہوجاۓ گی۔۔۔
"ان شاءلله بی جان۔۔۔آپ لوگ تیار ہوجائیں ہمیں بنقیوٹ بھی پہنچنا ہے۔ساڑے سات ہورہے ہیں۔
"آپ لوگ جائیں میں یہیں رہوں گی۔۔۔منال بیگم کی بات سن کر جہاں بی جان اور یزان نے پریشانی سے انھیں دیکھا تھا وہیں نور بیگم کی آنکھوں کی چمک بڑھی تھی وہ جو چاہتی تھی بلآخر اس مقصد میں کامیاب ہوئی تھیں۔۔
"چاچی میں بھی یہیں رک جاتا ہوں۔۔
"نہیں یزان اسکی ضرورت نہیں ہے میں ہوں یہاں چند گھنٹوں کی ہی تو بات ہے۔...نور بیگم نے غصّے سے اپنے بیٹے کو دیکھا تھا کہ منال بیگم کی بات سن کر سکون بھرا سانس لیا۔۔
"لیکن چاچی۔۔۔
"یزان فکر مت کرو سب ٹھیک ہے اگر کوئی مسئلہ ہوا تو سب سے پہلے تمہیں اطلاع کروں گی۔۔۔منال بیگم نے مسکراتے ہوئے جانے کہ لئے قائل کیا تھا جو منحہ کو دیکھتا کمرے سے نکل گیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ولیمے کی پُررونق تقریب عروج پر تھی ایسے میں یزان لڑکوں کے درمیان موجود تھا۔۔۔
"آج تو رونق ہی الگ ہے کیوں میرال۔۔۔نور بیگم کا اشارہ سمجھتے ہی میرال نے ہنستے ہوۓ سر ہلایا تھا جب عقب سے آواز پر دونوں نے پلٹ کر آنے والے کو دیکھا تھا۔۔
"مہک۔۔۔۔نور بیگم نے پرجوش انداز میں آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا تھا۔۔جبکہ میرال نے سر تا پیر آنے والی کو دیکھا بلاشبہ وہ ایک دراز قد خوبصورت لڑکی تھی۔۔
"السلام علیکم ممانی کیسی ہیں آپ؟
"وعلیکم السلام۔۔تمہیں یہاں دیکھ کر میں بہت خوش ہوں،اؤ تمہیں سب سے ملواتی ہوں۔۔نور بیگم اس سے ملتیں میرال سے اسکا تعارف کروانے لَگِیں جب ہالہ بھی وہاں آئی تھی۔۔
مہک نے اسے ناگواری سے دیکھا تھا جبکہ ہالہ اس سے کافی خوش اخلاقی سے ملی تھی۔۔۔
مہک کو وہ پسند نہیں تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم۔۔یزان کیسے ہیں آپ؟ یزان جو بینقیوٹ کے صدر دروازے کی سمت بڑھتا منال بیگم کو کال کر رہا تھا آواز پر چونکا تھا۔۔
"وعلیکم السلام کیسی ہو مہک؟
"بہت اچھی ہوں،خیریت تو ہے کہاں جا رہے تھے؟ بالوں کو ایک ادا سے چھوتے ہوۓ اس نے پوچھا۔۔مہک جو اسکے کندھے تک آتی تھی یزان کو پہلی بار اپنے گھر میں دیکھتے ہی اس پر دل ہار بیٹھی تھی اور یہی بات نور بیگم کو معلوم چل گئی تھی۔۔۔
"گھر جا رہا ہوں
"لیکن ابھی تو تقریب شروع ہوئی ہے یزان بلال کیا سوچیں گے ۔
"میں بتا چکا ہوں اسے مہک تم فکر مت کرو۔۔۔
"ٹھیک ہے لیکن جانا ضروری ہے؟ مہک نے کہتے ساتھ ایک قدم آگے لیا تھا۔۔۔
"میری بیوی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔
"اوہ تو یہ بات ہے۔۔۔یزان کے تیور دیکھ کر مہک نامحسوس انداز میں اس سے دور ہوئی تھی۔۔
"ہاں یہی بات ہے،اللّه حافظ۔۔یزان سپاٹ لہجے میں کہتا تیزی سے وہاں سے آگے بڑھتا چلا گیا تھا جبکہ مہک غصّے سے زمین میں پیر پٹخ کر اندر کی جانب چل دی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
"ماما۔۔۔منحہ کی مدھم آواز پر وہ جو اسی کے سرہانے بیٹھیں کسی کتاب کا مطالعہ کر رہی تھیں آواز پر تیزی سے اٹھ کر اسکے قریب جھکی تھیں۔
"ؓماما کی جان کچھ چاہیے؟ منال بیگم کے پوچھنے پر اس نے متلاشی نظروں سے کمرے کا جائزہ لیا تھا۔
"ماما۔۔پاپا اور یزان۔۔
"ماما کی جان پاپا اور یزان بلال بھائی کے ولیمے میں گئے ہیں نا۔۔
"مجھے بھی جانا تھا۔۔۔منال بیگم کی بات پر وہ جلدی سے اٹھ کر بیٹھتی اپنا سر دبانے لگی۔
"آہ ماما درد ہورہا ہے۔۔
"منحہ لیٹ جاؤ بیٹی ابھی طبیعت ٹھیک نہیں ہوئی ہے۔۔ پاپا اور یزان آجائیں گے۔۔
"اہم چاچی السلام علیکم۔۔۔۔اچانک یزان کے گلہ کھنکھار کر کہنے پر دونوں نے بیک وقت اسے دیکھا تھا جو منحہ کو دیکھتے ہی تیزی سے اسکے پاس آیا تھا۔۔
"یزان۔۔منحہ نے اسکے قریب آتے ہی اپنا ہاتھ بڑھایا تھا جسے اس نے فوراً تھاما تھا۔۔۔
"کیسی طبیعت ہے؟
"ٹھیک ہوں لیکن مجھے بھوک لگ رہی ہے۔۔۔منحہ نے جواب دیتے پیٹ پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بتایا۔
"میں نے سوپ بنایا ہے ابھی لاتی ہوں۔۔۔منال بیگم کہتے ہوۓ اٹھ کر جانے لگیں جبکہ یزان نے مسکرا کر منحہ کو دیکھا جو سوپ کے نام پر منہ بنا رہی تھی۔۔
"کیا ہو ریا ہے یہ؟ یزان نے پوچھتے ساتھ اسکے دونوں گالوں کو پکڑا تھا۔۔
"مجھے کل والی بریانی اور آئسکریم کھانی ہے۔۔
"ابھی نہیں کھا سکتی منحہ ورنہ پیٹ میں پھر درد ہوگیا تو کل ہالہ کہ نکاح پر کیسے جاؤ گی۔۔۔
"کچھ نہیں ہوگا میں ٹھیک ہوگٙئی دیکھیں۔۔۔
"آہ۔۔کہا نہ نہیں جب تک پوری طرح ٹھیک نہیں ہوجاتی تب تک یہی ملے گا۔۔یزان نے گہری سانس لیتے اسے ڈپتا تھا جو اسکے ڈانٹنے پر آنکھوں میں آنسوں لئے رخ پھیر کر بیٹھ گئی تھی۔
یزان اسکے رخ پھیرنے پر مسکراتے ہوۓ اسکی طرف جھک کر چہرہ دیکھنے لگا جس نے چہرے کو اپنے دائیں جانب پھیر لیا تھا منال بیگم جو اندر آرہی تھیں وہیں رک گئیں تھیں۔
"من او میری من روٹھ گئی۔۔۔یزان نرمی سے اسے نئے نام سے پکار کر پوچھنے لگا جس نے بنا اسے دیکھے سر کو ہلایا تھا۔
"آہ! میں نہیں چاہتا تم دوبارہ بیمار ہوکر یوں مجھے تنہا چھوڑ دو۔۔یزان کی بات پر جہاں منحہ نے چونک کر اسے دیکھا تھا وہیں منال بیگم نے نم ہوتی آنکھوں سے ان دونوں کو دیکھتے ہی آگے بڑھ کر ٹرے کو بناآواز پیدا کیے میز پر رکھتیں کمرے سے نکل گئیں تھیں۔۔
یزان نے ہاتھ بڑھا کر اسکا چشمہ اتار کر رکھا تھا۔۔
"رو رہی ہو؟
"نہیں تو۔۔منحہ نے خفگی سے کہتے آنکھوں کو مسلا تھا۔
"ہمم تو مطلب من نہیں رو رہی ہاں۔۔۔یزان نے کہتے ساتھ اسکی ناک دبائی تھی کہ وہ یَکدم چھینکی تھی۔۔
"ہاہاہا۔۔یزان نے ہنستے ہوۓ اس بار اسکے پھولے پھولے گالوں کو نرمی سے کیھنچا تھا۔۔یزان کی حرکت پر اسکے گال سرخ ہوگئے تھے یکدم یزان اس سے نظریں چراتا جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ پھول، یہ خوشبو، یہ نگر ذہن میں رکھنا،
گـر ساتھ چلـے ہو تو سفـر ذہن میں رکھنا،
جی بھـر کے فلک بوس عمـارات میں ٹھہـرو!
اس شہر میں میرا بھی ہے گھر ذہن میں رکھنا،
تُـم مـوم کا اک محــل بنانـے تـو لگـے ہـو،
سورج بھی نکلتا ہے ادھر ذہن میں رکھنا،
ہـر رنگ بَھـری چیـز کا انجــام یہـی ہـے،
تتلــی کا یـہ ٹوٹا ہوا پَر ذہـن میـں رکھنـا،
کئـی رنگ بدلتا ہـے بھـروسـہ نہیں اس کا،
فی الحال وہ مخلص ہے مگر ذہن میں رکھنا 💕
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"یزان کل اچانک تقریب سے کہاں چلے گئے تھے تم؟ اگر کوئی اس وقت پوچھ لیتا تو کتنی شرمندگی ہوتی مجھے۔۔۔گھر کہ تمام افراد ناشتہ کر رہے تھے جب نور بیگم نے یزان کو منحہ کے ساتھ بیٹھتے ہی ضبط کرتے ہوۓ پوچھا پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ منحہ سب کے درمیان بیٹھ کر ناشتہ کر رہی تھی ورنہ رات کے کھانے پر بھی منال بیگم اسے بہت کم لاتی تھیں۔۔
نور بیگم کے سوال پر منحہ نے تیزی سے یزان کے بازو پر ہاتھ رکھا تھا کہ سب بے ساختہ مسکرا دیے تھے سوائے تین نفوسوں کے۔۔
"منحہ فکر مت کرو تمہارے یزان کو کوئی نہیں ڈانٹ رہا۔۔۔بسمہ کے شرارت بھرے انداز پر منحہ نے آہستہ سے یزان کا بازو چھوڑا تھا۔۔
"امی چاچو اور بلال کو میں بتا چکا تھا اور اگر کوئی پوچھ بھی لیتا تو آپ بہانہ بھی بنا سکتی تھیں کون سا کوئی چاہنے والا میرے دیدار کو ترس رہا تھا۔۔۔یزان کی بات پر بی جان کا قہقہہ سب سے اونچا تھا نور بیگم پہلو بدل کر رہ گئیں۔۔۔
"ّاوں ہوں پراٹھا نہیں یہ بریڈ لو۔۔یزان نے منحہ کے آگے سے پلیٹ کھینچ کر اپنے آگے کرتے سلائس اسے دیا تھا جو منہ بنا کر کھانے لگی نور بیگم اپنے بیٹے کی حرکت پر جل بھون گئی تھیں۔۔
"درانی اور دراب میں چاہتی ہوں ان آنکھوں کے بند ہونے سے قبل میں اپنی منحہ کو دلہن بنتے دیکھوں،کیا میری یہ خواہش پوری ہوسکتی ہے؟ یزان اور منحہ کو دیکھتے ہی بی جان نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا بی جان کی بات پر سب نے خوشی کا اظہار کیا تھا نور بیگم کہ ساتھ میرال اور ہالہ تینوں نے نظروں کا تبادلہ کیا تھا۔
"یہ تو آپ نے میرے دل کی بات کہہ دی بی جان میں بھی چاہتی ہوں جتنی جلدی ہو دونوں کی رخصتی کر دی جاۓ کیوں درانی؟ نور بیگم مصنوعی مسکراہٹ سے بولیں تھیں کے بی جان نے سر ہلاتے ہوئے منال بیگم کی جانب دیکھا تھا ۔
"تم کیا کہتی ہو منال؟
"بی جان جو آپ بہتر سمجھیں ایک ماں کے لئے اس سے زیادہ خوشی کی بات کیا ہوگی کے اپنی بیٹی کو دلہن کے روپ میں دیکھیں۔۔منال بیگم کی بات پر بی جان مسکرائیں جبکہ نور بیگم نے آنکھیں گھمائی تھیں۔۔
یزان جو مسلسل مسکرائے جا رہا تھا منحہ کو دیکھنے لگا۔۔
"منحہ۔۔وہ جو بڑے غور سے سب کی باتیں سن رہی تھی یزان کی آواز پر چونکی۔۔
"دلہنیا،دلہن بننے کی تیاری شروع کردو۔۔یزان نے اسکی جانب جھک کر کہا کہ منحہ شرمانے لگی۔۔
۔۔۔۔۔
"تو پھر ٹھیک ہے اگر تم سب راضی ہو تو ہالہ کے ساتھ ہی منحہ کی بھی رخصتی کرلیتے ہیں۔۔۔بی جان کی بات سنتے ہی ہالہ تلملا کر رہ گئی تھی اس سے قبل وہ کچھ کہتی نور بیگم نے اسکے ہاتھ کو پکڑ کر دبایا تھا۔۔
"اتنی جلدی سب کیسے ہوگا بی جان ہالہ بیٹی کی تو تیاریاں تو بلال کہ ساتھ ہی شروع ہوگئیں تھی مہندی مایوں برات اور بھی بہتسے کام ہیں۔۔۔
"اففف توبہ ہے منال سب ہوجاۓ گا ان شاءلله پہلے سے ہی اتنا کچھ سر پر سوار کرو گی تو بوکھلاہٹ میں بہت سے کام بگڑ جاتے ہیں۔۔۔اللّه کا نام لے کر بسم اللّه کرو بیٹی نصیب کا کوئی نہیں چھین سکتا دو دن ہیں مہندی میں'،سب ہوجاۓ گا۔۔بی جان بے گھورتے ہوۓ منال بیگم کو دیکھا تھا جو متفکر سی جلدی سے اپنی کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔
"لو اب کیا ہوگیا تمہیں۔۔
"وہ بی جان تیاریاں ابھی سے شروع کرنی ہیں وقت کہاں ہے۔۔منال بیگم کی بات پر سب نے منہ پر ہاتھ رکھتے اپنی ہنسی دبائی تھی کہ یزان نے اٹھ کر ایک ہاتھ انکے کندھے کے گرد حمائل کیا تھا۔۔
"آپ تحمل سے شاپنگ کریں چاچی سب ہوجائے گا۔۔ان شاءلله
"ان شاءلله بیٹا۔۔۔منال بیگم نے گہری سانس لیتے یزان کو دیکھ کر کہا۔۔
ہالہ تیزی سے وہاں سے اٹھ کر کمرے کی جانب بڑھی تھی۔۔
"میں دیکھتی ہوں تائی امی۔۔۔
"ہمم ٹھیک ہے اسے سمجھاؤ جاکر تب تک میں آتی ہوں۔۔۔نور بیگم آہستہ سے میرال سے کہتیں مصنوعی مسکراہٹ سے منال بیگم سے ملنے آگے بڑھی تھیں جو نم ہوتی آنکھوں سے منحہ کو دیکھ رہی تھیں جبکہ منحہ دلہن بننے کے خیال سے ہی شرمانے میں مشغول تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
"ہالہ بس بہت ہوچکا کیوں کھیل بگاڑ رہی ہو ہاں،ایسا کرنے سے تم سب کہ دلوں میں اسکے لئے ہمدردی اور اپنے لئے بدگمانی کو جنم دوگی یاد رکھنا اور تمہارا باپ اور بھائی وہ بھی انہی میں شامل ہوگا،بہتر یہی ہے جوش سے نہیں ہوش سے کام لو۔۔۔نور بیگم نے اندر آتےہی جلدی سے دروازہ بند کرتے اسکے ہاتھوں کو قابو میں کیا تھا جو غصّے سے کمرے کی چیزوں کو زمین بوس کر رہی تھی۔
"کیسے مما کیسے،آپ نے کیوں نہیں منع کیا انھیں،اگر میرا بھائی اپنی ہی جیسی لڑکی سے شادی کرتے تو میں باخوشی یہ سب قبول کرتی لیکن میرے برابر ایک باولی ہے مما تقریب میں جانے کیا کیا تماشے کر سکتی ہے آپ کو اندازہ بھی ہے،ہر لڑکی کی خواہش ہوتی ہے کے جب وہ دلہن بنے تو سب اسے ہی سراہیں ،پوری محفل میں منفرید نظر آئے لیکن اس باولی کے ہوتے ہوئے اب یہ ممکن نہیں ہوگا ۔
"ہالہ وہ اتنی خوبصورت نہیں ہے جو تم اتنی سی بات کے لئے اپنا خون جلا رہی ہو۔۔۔میرال نے اسکی بات پر ناگواری سے کہا تھا جبکہ نور بیگم اسکے ہاتھوں کو چھوڑتیں بیڈ پر بیٹھی تھیں۔
"یہ اتنی سی بات نہیں ہے میں اسے اپنے برابر نہیں دیکھنا چاہتی۔۔۔
"شادی ساتھ ہی ہوگی ہالہ۔۔نور بیگم کی بات پر دونوں نے جھٹکے سے انھیں دیکھا تھا۔
"مما۔۔
"پہلے میری پوری بات سنو ہالہ،شادی ساتھ ہوگی رہی برابری تو وہ چاہ کر بھی نہیں ہوگی تم بس دیکھتی جاؤ اور بےفکر ہوکر اپنی شادی انجوائے کرو پارلر جاؤ پرسکون رہو۔۔۔نور بیگم ہاتھ اٹھا کر اسے روکتیں مکرو مسکراہٹ سے کہتیں ان دونوں کو دیکھنے لَگیں۔۔۔
وہ اپنے دکھ کو ہمیشہ چھپاتا رہتا ہے
عجیب شخص ہے بس مسکراتا رہتا ہے
ہنر کا رنگ چڑھاتا ہے میرے عیبوں پر
وہ مجھ کو مجھ سے ہمیشہ چھپاتا رہتا ہے
وہ اپنے دکھ کو ہمیشہ چھپاتا رہتا ہے
عجیب شخص ہے بس مسکراتا رہتا ہے
ہنر کا رنگ چڑھاتا ہے میرے عیبوں پر
وہ مجھ کو مجھ سے ہمیشہ چھپاتا رہتا ہے!!
۔......
شام کا پہر تھا ایسے میں ہالہ اور داور کہ نکاح کی سنّت ادا ہو رہی تھی۔۔
نکاح گھر کے لاؤنج میں ہی ہورہا تھا جسے نکاح کی نسبت سے سجوایا گیا تھا نور بیگم کے گھر والے اور رشتے دار بھی موجود تھے۔۔۔
کچھ ہی دیر میں ایجاب و قبول کے بعد مبارک سلامت کا شور بلند ہوا تھا۔۔۔یزان درانی صاحب کہ ساتھ ہی کھڑا تھا جبکہ نظریں منحہ پر جمی تھیں جسے مسکراہٹ دبائے وہ اسکی حرکتوں سے محظوظ ہورہا تھا جبکہ منحہ وہیں سفید اور گولڈن رنگ گا سوٹ زیب تن کیے زینے کی ریلنگ پر لگے گلاب اور موتیے کی لڑیوں کو جھک کر انکی محسور کن خوشبو کو محسوس کر رہی تھی جب نظر یزان کے ہاتھ میں پکڑے تھیلے کو دیکھا۔۔
"یہ کیا ہے؟ منحہ اسے چھوٹی چھوٹی رنگ برنگی تھلیاں سب میں بانٹتا دیکھ کر بڑبڑاتی ہوئی یزان کہ پیچھے بڑھی تھی وہ جو آگے بڑھتا جا رہا تھا یَکدم مہک کے مقابل آنے پر رکا۔۔
"السلام علیکم۔۔۔آپ سے تو ملاقات ہی نہیں ہوئی،بہت مبارک ہو آپ کو۔۔مہک نے مسکراتے ساتھ اپنا ہاتھ بڑھایا تھا۔
"وعلیکم اسلام۔۔خیر مبارک۔۔۔یزان نے جواب دیتے جیسے ہی اسکی جانب تھیلی بڑھائی کسی نے جھپٹ کر اسکے ہاتھ سے کھینچی۔
یزان کہ ساتھ مہک بھی بری طرح چونکی تھی جبکہ منحہ ناگواری سے مہک کو گھور رہی تھی ۔۔
"منحہ۔۔
"یہ میری ہے اور یہ بھی۔۔۔یزان سے کہتی وہ سب اسکے ہاتھ سے لے چکی تھی مہک نے تیوری چڑھا کر اسے دیکھا تھا جبکہ یزان بے ساختہ مسکرایا تھا۔
"کون ہے یہ بدتہذیب بچی۔۔۔مہک کی بات پر یزان کی مسکراہٹ غائب ہوئی تھی جبکہ منحہ سب واپس کرتی مہک کے قریب بڑھی تھی۔
"میں یزان کی دلہن ہوں،آپ کون ہیں بھوکی آنٹی۔منحہ کی بات سنتے ہی یزان نے اپنے امنڈ آنے والے قہقہے گلہ بمشکل گھونٹا تھا۔۔
"حد میں رہو تم ورنہ۔۔۔
"مہک تمیز سے، یزان کے یَکدم کہنے پر وہ جو طیش میں اسے دیکھ رہی تھی یزان کی جانب متوجہ ہوئی۔۔
"میں نے کون سی بدتمیزی کی ہے یزان آپ نے خود دیکھا ہے اس نے کیا حرکت کی ہے۔۔۔
"کیا بات ہے مہک،کیا ہوا ہے؟ مہک کی ماں نے قریب آکر پوچھا جو غصّے سے منحہ کو دیکھ رہی تھی۔۔
"بات کو بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے مہک۔۔یزان نے گھورتے ہوۓ مہک سے کہا تھا جبکہ مہک کی ماں کو دیکھتے ہی منحہ نے یزان کا ہاتھ پکڑا تھا۔۔
"کیا؟ میں بڑھا رہی ہوں یا یہ آپ کی بدتہذیب بیوی۔۔۔
"آواز نیچی رکھو مہک۔۔
"یزان یہ کس لہجے میں بات کر رہے ہو بیٹا۔۔۔۔لبنیٰ بیگم نے ناگواری سے منحہ کو دیکھتے ہوۓ یزان سے کہا تھا۔۔لبنیٰ بیگم کی اونچی آواز پر بیک وقت سب نے مڑ کر انھیں دیکھا تھا۔۔
"لو تماشے کا آغاز شروع ہوگیا مما،دیکھا میں نے کہا تھا آپ سے کے روز بروز یہ تماشہ لگے گا۔۔۔
"ہالہ پرسکون رہو،میں دیکھتی ہوں۔۔۔نور بیگم کندھا تھپتھپاتیں آگے بڑھنے ہی لگی تھیں کہ یزان کو وہاں سے منحہ کے ساتھ جاتے دیکھ کر رک گئیں۔
"کیا ہوا ہے مہک؟
"نور تمہارا بیٹا میری بیٹی کو سب کہ سامنے ذلیل کر کے گیا ہے وہ بھی اپنی اس چھٹانگ بھر کی لڑکی کہ لئے ۔۔مہک کی ماں نے غصّے سے نور بیگم کو کہا۔
وہ جو درانی صاحب کے رشتے کہ کزن کی بیوی اور بیٹی تھیں بھڑک اٹھی تھیں۔۔
"لبنیٰ میرا بیٹا ایسا نہیں کر سکتا تم بچپن سے جانتی ہو وہ ایسا کیوں کرے گا.
"نور بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے لبنیٰ بہن رہا میری بہو کا تو سب جانتے ہیں اسے ۔۔
"جی درانی بھائی آپ نے بالکل صحیح کہا لیکن معذرت کہ ساتھ آپ نے خسارے کا سودا کیا ہے اپنے اکلوتے بیٹے کے لیے خیر ہم تو بس اب بول ہی سکتے ہیں۔۔چلو مہک ہمیں اب چلنا چاہیے ۔۔لبنیٰ بیگم کہتے ہی مہک سے کہتیں جانے لَگِیں کے درانی صاحب لب بھینچ کر وہاں سے پلٹ گئے تھے جبکہ نور بیگم تیزی سے انکے پیچھے گئی تھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔
"منحہ یہ کیا حرکت تھی۔۔یزان اسے لے کر اسکے کمرے میں آیا تھا جو اب گڑیا کو اپنی گود میں رکھے سر جھکا کر اسکی چٹیا سے چھیڑ چھاڑ کر رہی تھی۔۔
"وہ کیوں بات کر رہی تھی آپ سے،آپ میرے ہیں اسکے تو نہیں پھر وہ کون ہوتی ہے آپ سے کچھ لینے والی۔۔۔منحہ نے منمناتے ہوئے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔
"اچھا تو یہ بات ہے،تمہیں برا لگا؟ یزان کو اسکی بات سن کر انجانی سی خوشی ہوئی تھی وہ آج بھی اسے کسی دوسری لڑکی کے ساتھ برداشت نہیں پا رہی تھی منحہ کی حرکت پر اسے وہی منحہ یاد آئی تھی جس نے میرال کی دوستی کرنے پر کتنا ہنگامہ کیا تھا۔۔وہ اسکے لئے پوزیسیو تھی لیکن وہ خود اس بات سے انجان تھا کے آگے جاکر وہ اس سے زیادہ پوزیسیو ثابت ہونے والا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
ایک آس ، ایک احسـاس ، میـری ســوچ
اور بس تُـــــــم...
ایک ســـوال ، ایک مـجـال ، تُمھاراخیال
اور بس تُـــــــم...
ایک بات ، ایک شام ، تُمھارا ســــاتھ
اور بس تُــــــــم...
ایک دُعا ، ایک فریاد ، تُمھـاری یـاد
اور بس تُـــــــــم...
میرا جنون ، میرا سُـکـون بس تُم
اور بس تُــــــم..❤
۔۔۔۔۔۔۔۔
"یزان بھائی آپ کو باہر بلا رہے ہیں۔۔۔بسمہ کی اچانک آمد پر دونوں نے اسے دیکھا تھا جو کہہ کر واپس پلٹ گئی تھی۔۔
"میں آتا ہوں بے فکر رہو میں اس سے نہیں مل رہا۔۔۔منحہ کو ساتھ کھڑا ہوتے دیکھ کر اس نے مسکرا کر منحہ کے چہرے پر جھولتی لٹ کو آہستہ سے کھینچتے ہوئے کہتے کمرے سے نکلتا چلا گیا تھا اسکے جاتے ہی منحہ نے اپنی گڑیا کو دیکھا تھا..
"تم نے نہیں دیکھا نا اس بھوکی آنٹی کو یخ بہت بری ہیں۔۔منحہ اسے کہتی دروازہ کھلنے کی آواز پر چونکی تھی۔۔
"منحہ چلو بیٹی جلدی سے ہم بازار جا رہے ہیں۔۔۔منال بیگم اندر آتے ہوۓ کہتیں عبایہ پہننے لگیں۔۔
"ماما میں بھی نئے کپڑے لوں گی۔۔
"ہاں ضرور لینا۔۔
منال بیگم نے مسکراتے ہوۓ اسے کہا تھا جو اپنے مخصوص انداز میں خوشی کا اظہار کرتی اپنی ماں کہ نزدیک گئی تھی۔۔
"ماما میں وہ ایمن بھابھی جیسا شرارہ بھی لوں گی۔۔منحہ جھجھک کر بتاتی انہیں بہت پیاری لگی تھی بے ساختہ منال بیگم نے اسے اپنے گلے لگایا تھا۔
"ماما کی جان ہم تمہاری ہی شاپنگ کے لئے جا رہے ہیں۔۔
"سچی ماما۔۔سنا گڑیا منحہ دلہن بنے گی۔۔۔منال بیگم اسکی معصومیت پر اسے مسکرا کر دیکھنے لَگِیں جس کا چہرہ خوشی سے دَمَک رہا تھا۔۔
"اللّه میری بچی کو ہمیشہ ایسے ہی ہنستا مسکراتا رکھے آمین۔۔منال بیگم نے آگے بڑھ کر اسکی پیشانی چومی تھی۔۔
"آمین، آمین۔۔۔منحہ نے زور و شور سے سر ہلاتے ہوۓ کہا کہ وہ ہنس پڑیں۔
۔۔۔۔۔۔
"ہونہہ دیکھا مما نکاح ہوتے ہی کیسے شاپنگ کے لئے نکل گئیں ہیں۔۔
"ہالہ آہستہ بولو،کرنے دو شاپنگ یہ تو حق ہے انکا۔۔نور بیگم جو اسی کہ پاس بیٹھی تھیں چُپ کرواتے ہوۓ بولیں کے ہالہ کے ساتھ میرال نے بھی انھیں حیرت سے دیکھا تھا۔۔
"کیا یہ آپ کہہ رہی ہیں تائی جان، پہلے ہی بیچاری کی شادی ایسی ہو رہی ہے۔۔۔میرال کی بات پر ہالہ نے اسے دیکھا تھا
میرال ہی تھی جس نے یزان کی وجہ سے اسے منحہ سے بدظن کر دیا تھا۔۔
"ہاں میں ہی کہہ رہی ہوں تم دونوں اگر اسی طرح کرتی رہیں تو بہت مشکل ہے کے کوئی مجھ پر ھروسہ کرے کے میں نے منحہ کو قبول کر لیا ہے اسلئے خاموش رہ کر انتظار کرو وہ وقت بہت جلد آئے گا جب یزان خود اس لڑکی کو اپنی زندگی سے نکال باہر کرے گا۔۔
"ان شاءلله تائی جان۔۔۔میرال کے کہتے ہی ہالہ نے چونک کر اسے دیکھا تھا چاہنے کہ باوجود وہ یہ نہیں کہہ سکی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
رات گئے تک انکی واپسی ہوئی تھی منحہ تھکن کہ باوجود یزان کے کمرے کی جانب بڑھی تھی وہ جو پہلے ہی انکی گاڑی دیکھ چکا تھا مسکراتے ہوۓ سینے پر ہاتھ باندھ کر اسکا انتظار کرنے لگا۔۔
یَکدم دروازے پر دستک ہونے کہ ساتھ منحہ اندر داخل ہوئی تھی۔۔
"السلام علیکم۔۔۔۔
"وعلیکم السلام، منحہ نے کرلی شاپنگ۔۔۔یزان مسکراتے ہوۓ اسکی جانب بڑھتے ہوئے استفسار کرنے لگا۔۔
"ماما نے کہا ہے کل ہم دوبارہ جائیں گے لیکن منحہ چاہتی ہے آپ بھی ساتھ جائیں۔۔۔
"جو حکم محترمہ اور کچھ۔۔۔ایک ہاتھ سینے پر رکھتے اس نے سر کو خم دیا تھا کہ منحہ اس کے انداز پر مسکرائی تھی۔۔
تیرے ہاتھ پر میرے ہاتھ کا ہونا
بڑے حاسد بنائے گا ، بڑے دل جلائے گا! 💞
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یزان دیکھیں کیسا ہے، میں پرسوں پہنوں گی یہ۔۔۔منحہ جو شاپنگ بیگ اٹھا لائی تھی یزان کو مہندی کا جوڑا دکھاتے ہوۓ بولی جو مسکرا کر دیکھتا اسکا زرد اور ہرے رنگ کا نیٹ کا خوبصورت دوپٹہ دیکھنے لگا۔۔
اس سے قبل وہ سارا سامان پھیلا دیتی منال بیگم ڈھونڈتی ہوئی وہاں آئیں تھیں
"اففف اللّه کیا لڑکی ہے یہ۔۔۔۔بے ساختہ ماتھا پیٹتے انہوں نے جیسے ہی منہ کھولا تھا یزان کہ اسے سر پر دوپٹہ اوڑھانے پر مسکرانے لگیں۔۔
دوسری طرف منحہ کی زبان کو بریک لگی تھی حیرت سے یزان کی طرف دیکھنے لگی جو یک ٹک اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
"ماشاءالله اللّه تمہیں ہر بری نظر سے محفوظ رکھے منحہ تمہاری اسی معصومیت نے یزان درانی کے دل کو کب اپنا آسیر کیا ہے میں آج بھی اس بات سے لاعلم ہوں۔۔۔۔۔بے خیالی میں اسے دیکھتا وہ اپنے دل کا حال بیان کر گیا تھا۔۔
منال بیگم نے آنکھوں کو میچ کر کھولتے ہی مسکرا کر گلا کھنکھارا تھا۔۔
"السلام علیکم چاچی۔۔۔
"وعلیکم السلام۔۔۔منحہ یہ کیا ہورہا ہے؟ منال بیگم نے مسکراہٹ ضبط کرتے منحہ کو دیکھا تھا جو سر جھکا کر دوپٹہ سر سے اتار کر رخ موڑے موڑے ہی یزان کو دوپٹہ تھما کر سر جھکا کر کھڑی ہوگئی تھی
"پہلی دلہن دیکھی ہے جو اس طرح شاپنگ لا کر دولہے کو دکھا رہی ہے۔۔
"ماما نہیں وہ تو پہلے سے ہی سب یہاں رکھا ہوا تھا۔۔
"اچھا ان میں پیر لگے ہیں جو چل کر یہاں تک پہنچ گئے۔۔۔
"ہیں؟ کیا ماما ان کے پیر بھی ہیں۔۔۔منال بیگم کی بات پر حیرت سے سر اٹھا کر اس نے پوچھا کہ منال بیگم کے ساتھ یزان بھی مسکرا دیا۔۔
"باتیں بنوا لو بس اس لڑکی سے چلو اب کمرے میں۔۔۔
"پر مجھے ابھی یزان سے باتیں کرنی ہیں ماما ۔۔
"منحہ ہم کل باتیں کرلیں گے ابھی سو جاؤ جاکر۔۔منحہ کے انکار پر یزان نے اسے سمجھایا جس نے خفگی سے یزان کی جانب دیکھا تھا۔۔
"کل تو میں بازار چلی جاؤں گی۔۔
"میں وہیں آجاؤں گا منحہ کے پاس، اب ٹھیک ہے؟ یزان کی بات پر منحہ نے خوشی سے سر ہلایا جبکہ منال بیگم نفی میں سر ہلاتیں دونوں کو دیکھ کر رہ گئیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن ناشتے کے فوراً بعد ہی منال بیگم بازار روانہ ہوگئی تھیں۔۔۔
کل کی تقریب کے لئے مہندی کا انتظام باہر لان میں ہی تھا۔۔
ہر کوئی اپنی تیاری میں مصروف تھا ہالہ میرال اور بسمہ کہ ساتھ پارلر جا چکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔
"ہاشم بیٹا یزان کہاں ہے؟
"وہ تو گئے ہوۓ ہیں تائی امی۔۔۔ہاشم جو پھولوں کا ٹوکرا اٹھائے اندر آرہا تھا نور بیگم کی بات پر کہتا انھیں دیکھنے لگا۔
"کتنی دیر ہوئی ہے۔۔
"یہی کوئی ایک ڈیڑھ گھنٹہ تو ہوچکا ہے،آپکو کوئی کام تھا تو مجھے بول دیں۔۔۔
"السلام علیکم۔ممانی کیسی ہیں آپ؟ یَکدم مہک کی آواز پر وہ چونکے تھے جبکہ ہاشم اسے دیکھتے ہی مسکرایا تھا۔۔
"وعلیکم السلام۔۔کیسی ہو مہک
"میں ٹھیک ہوں، ہمیں چلنا چاہئے پہلے ہی کافی وقت ہوگیا ہے۔مہک متلاشی نظروں سے اردگرد یزان کو ڈھونڈھ رہی تھی جبکہ ہاشم کی نظریں اسی پر تھیں۔
"آ ٹھیک ہے پر یزان گھر پر موجود نہیں ہے میں نے سوچا تھا اسکے ساتھ چلیں گے۔۔۔نور بیگم کی بات پر مہک نے انھیں دیکھ کر لب بھینچے تھے آخر وہ خود چاہتی تھیں کہ انکے بیٹے سے وہ تعلق قائم کرے تاکہ یزان منحہ سے بیزار ہو جاۓ اور اب وہ اسکی غیر موجودگی کی خبر دے رہی تھیں۔۔
"تائی امی میں لے چلتا ہوں آپ دونوں کو، ویسے بھی ابھی کوئی کام نہیں ہے۔۔
"کیا واقعی لگ تو نہیں رہا۔۔ہاشم کی بات پر مہک نے مسکرا کر اسکے ہاتھ میں ٹوکرا دیکھا تھا۔۔
"جی بالکل میڈم۔۔۔۔ہاشم نے کہتے ساتھ ہاتھ سے ٹوکرا ایک طرف رکھتے اپنے بالوں کو ہاتھ سے سیٹ کیا تھا۔۔
"ٹھیک ہے پھر تم لے چلو۔۔۔نور بیگم کہتی ہوئیں مہک کو لے کر باہر کی جانب بڑھیں جبکہ ہاشم بے آواز یس کرتا انکے پیچھے بڑھا تھا۔۔
۔۔۔۔۔
"ایسے کیا دیکھ رہے ہیں چاچو؟ یزان اور دراب صاحب کھڑے منال بیگم اور منحہ کو زیور پسند کرتے ہوۓ دیکھ رہے تھے۔۔
یزان مسکراتے ہوۓ اسے دیکھ رہا تھا جو بار بار پلٹ کر اسے بھی دکھاتی جبکہ دراب صاحب بہت دیر سے اپنی بیٹی اور داماد کو دیکھ رہے تھے جو اردگرد سے لاتعلق ایک دوسرے میں ہی مصروف تھے۔۔
منال بیگم بھی اسے مسکرا کر دیکھنے کہ بعد منحہ سے پسند پوچھ کر ایک طرف رکھ رہی تھیں۔۔
دراب صاحب کی آواز پر وہ چونک کر انکی طرف متوجہ ہوا تھا۔۔
جو بنا کچھ بولے اسے ہی دیکھے جا رہے تھے۔۔
"یہی کے کاش تم جیسا ظرف ہر کسی کے اندر ہوتا تو زندگی کچھ الگ ہوتی۔۔
"چاچو ہم اگر اچھے ہیں تو دوسروں میں بھی اپنا عکس تلاش کرنا حماقت ہے، سب کو لگتا ہے منحہ سے شادی کرنا ظرف ہے تو وہ غلطی پر ہیں۔۔۔
وہ جو یزان کی بات بڑے غور سے سن رہے تھے حیرت زدہ رہ گئے۔۔
"یزان یہ کیا کہہ رہے ہو بیٹا۔۔
"ٹھیک کہہ رہا ہوں چاچو۔۔۔آج بھی جب منحہ کو دیکھتا ہوں تو میرے سامنے وہی منحہ نظروں کے سامنے چھم سے آجاتی ہے جسے کمرے میں قید کر کہ رکھا ہوا تھا معصوم آنکھوں والی منحہ جسے والدین کہ ساتھ گھر کے تمام افرادوں سے محبت کہ علاوہ کچھ نہیں چاہیے تھا لیکن انہی لوگوں کی وجہ سے اسے کمرے میں بند ایک گڑیا کے ساتھ روکا جاتا رہا جسے صبح سویرے کوئی ناخشگوار واقع در پیش نہ ہوجائے اسلئے اسے کچن میں ہی ناشتہ دیا جاتا تھا۔۔آہ۔! چاچو میں منحہ کی شرارتوں سے کبھی تنگ نہیں ہوتا تھا نہ ہی ہونگا۔۔۔

کھانے کا آرڈر دینے کے بعد یزان نے اسے دیکھا تھا جو اردگرد دیکھنے میں مصروف تھی۔۔۔

منال بیگم اور دراب صاحب یزان سے ہلکی پھلکی باتیں کر رہے تھے جو چور نظروں سے اسے دیکھنے کہ ساتھ جواب بھی دے رہا تھا۔۔

منحہ کی نظر جو اپنی میز کی بجائے پورے ریسٹورانٹ کی میزون پر تھی ننھے سے بچے کو دیکھ کر بے اختیار اٹھ کر اس جانب بڑھی تھی۔

"منحہ کہاں جا رہی ہو۔۔۔

"آپ بیٹھیں میں دیکھتا ہوں۔۔۔منال بیگم سے کہتا وہ تیزی سے اس کہ پیچھے گیا تھا جو شیشے کے پار قریب ہی لگی میز پر بیٹھے بچے کو دیکھ کر ہاتھ ہلانے لگی۔۔

"منحہ

"یزان دیکھیں کتنا پیارا بچہ ہے۔۔۔منحہ کی بات پر اس نے بچے کو دیکھا تھا کہ اچانک اس کی نظر دوسری میز پر گئی جہاں بیس بائیس سال کے پانچ چھ لڑکے موجود تھے۔

منحہ بچے کے دیکھنے پر مسکرا کر اسے ہنسانے کی کوشش کر رہی تھی کے یزان کی نظر ایک بار پھر ان لڑکوں کی جانب اٹھی تھی۔۔

اگلے ہی لمحے یزان دروازہ کھول کر ان تک پہنچا تھا جہاں ایک لڑکے کے ہاتھ میں جو بے خوف مِنَحہ کی ویڈیو بنا رہا تھا یزان کو دیکھتے ہی وہ سب ہڑبڑا گئے تھے اس سے قبل ویڈیو بنانے والا لڑکا اٹھتا یزان نے اسکے دونوں کندھوں پر ہاتھ کا دباؤ ڈالا تھا کہ وہ ہل بھی نہیں پا رہا تھا۔۔

"بہت شوق ہے دوسروں کی بہن بیٹیوں کی ویڈیو بنانے کا۔۔

"یہ کیا بکواس کر رہے ہو۔۔میں تو اپنا موبائل استعمال کر رہا تھا۔۔لڑکے نے گھبراتے ہوئے اسے اپنی صفائی پیش کرنی چاہیے۔۔

"ہاں بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے یہ۔۔دوسرے لڑکے نے بھی جلدی سے اپنے دوست کی گواہی دی۔

منحہ جسکا دھیان بچے سے ہٹ کر یزان کی جانب گیا تھا تیزی سے اسکی جانب بڑھنے لگی اس سے قبل وہ اس تک پہنچتی یژان کہ اس لڑکے کو مکا جڑنے پر بری طرح گھبرا کر میز کی طرف بھاگی تھی۔'

"اللہ رحم منحہ کیا ہوا؟

"ّوہ،وہ ماما یزان سے وہ لڑائی کر رہے ہیں ۔۔۔منحہ کہ بتانے پر دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھنے کہ بعد دوڑ لگادی تھی لیکن جیسے ہی وہ وہاں پہنچے یزان سکون سے چلتے ہوۓ شیشے کا دروازہ کھول کر انکی جانب آتا دکھا

منال بیگم نے گھبرا کر اسکے پیچھے دیکھا تھا جہاں چھ لڑکے زمین پر گرے کراہ رہے تھے ۔۔

"یزان یہ سب کیا کیا بیٹا۔۔

"منحہ کی ویڈیو بنا رہے تھے انہیں تو شکر کرنا چاہیے کے زندہ چھوڑ دیا میں نے۔۔۔یزان سپاٹ لہجے میں کہتا آگے بڑھ گیا تھا

جبکہ دونوں میاں بیوی نے ایک دوسرے کو حیرانگی سے دیکھا تھا یہ سب کہاں دیکھا تھا انہوں نے۔۔۔منال بیگم نے ایک بار پھر انھیں دیکھا تھا جو لڑکھڑاتے ہوۓ زمین سے اٹھ رہے تھے۔۔

"مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا یزان کا غصّہ اتنا شدید بھی ہوسکتا ہے۔۔۔

"ہمم اگر میں اسکی جگہ ہوتا تو شاید میں بھی ایسا ہی کچھ کرتا لیکن ہاں خود بھی یہیں پڑا ہوتا۔۔۔دراب صاحب کے شرارت بھرے انداز پر منال بیگم نے مسکرا کر انھیں دیکھا تھا۔۔۔

"آپ بھی نہ اگر ایسا ہوتا تو پہلے ہی میں آپ کو بچا کر لے جاتی۔۔۔

"ہاہاہا اب اتنا بھی کمزور نہیں ہوں اپنی عزت کو تحفظ نہ دے سکا تو لعنت ہے ایسی مردانگی پر۔۔دراب صاحب نے ہنستے ہوۓ انکے ساتھ اپنے قدم باہر کی جانب بڑھائے تھے جبکہ دوسری طرف منحہ یزان کہ ساتھ قدم سے قدم ملانے کہ چکر میں ہلکان ہوگئی تھی۔

"اففف رک بھی جائیں اتنا تیز کون چلتا ہے۔۔۔بلآخر اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تھا

یزان جو خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہا تھا آواز پر یکدم روکا تھا غصّے میں اسے معلوم ہی نہیں چلا کہ منحہ بھی اسکے پیچھے ہی آرہی تھی۔۔

"یزان کیا ہوا آپ کو؟ منحہ کو بھوک لگی ہے۔۔۔

"آہ!! ہم کہیں اور چلتے ہیں یہ جگہ اچھی نہیں ہے۔۔

"اچھی تو ہے۔۔منحہ نے بھولپن سے کہتے ہوۓ اسے دیکھا تھا جس کا چہرہ غصّے کی شدّت سے سرخ ہورہا تھا۔

"منحہ یزان ٹھیک کہہ رہا ہے ہم پارسل کروا کر گھر جا کر کھائیں گے۔۔

"چاچی اسکی کوئی ضرورت نہیں ہے ہم کسی دوسری جگہ چلتے ہیں۔ ۔

"نہیں بیٹا صبح سے بازاروں میں پھر پھر کر تھکن ہوگئی ہے ہم گھر جا کر سکون سے کھا لیں گے کیوں دراب۔۔منال بیگم اسکی بات رد کرتے ہوۓ کہتیں دراب صاحب کو دیکھنے لگیں۔

"جی بلکل بیگم صاحبہ آپ کبھی غلط ہوسکتی ہیں،یزان ویسے تمہاری ساسو ماں ڈر گئی ہیں کہیں میں بھی غصّے میں کسی کا سر نہ کھول دوں

"جی جی بالکل آپ نے کسی کا سر کھول دیا اور ہم نے دیکھ لیا۔۔منال بیگم نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا

"ہاہاہاہا۔۔۔

"پاپا میں بھی آپ کے ساتھ مل کر سر کھولوں گی۔۔۔منحہ دراب صاحب اور یزان کو ہنستا دیکھ کر چہک کر بولی تھی ۔

"بالکل ماما کی جان تم بھی انکے ساتھ مل کر یہی سب کرنا۔۔تینوں مل کر لوگوں کہ سر کھولتے پھرنا اور اپنی ماں کو زندہ درگور کر دینا

"ارے بیگم صاحبہ کیوں ایسی باتیں کر رہی ہیں اللہ نہ کرے ہم تو خالص شریف لوگ ہیں کیوں یزان بیٹا۔۔۔دراب صاحب نے مسکرا کر اسے دیکھا جو ان کی نوک جھونک سے محظوظ ہورہا تھا جبکہ منحہ یزان کے چلتے ہی اسکے پیچھے چلنے لگی یہ عادت بچپن سے تھی جو آج بھی برقرار تھی یزان درانی واحد تھا جس کہ پیچھے منحہ دراب چل پڑتی تھی۔۔

۔۔۔۔

تاریکی کا نقش مٹایا جا سکتا ہے

سورج بن کر رات کو کھایا جا سکتا ہے

عاشق ہجر کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں

یعنی غم کا بوجھ اٹھایا جا سکتا ہے

ان آنکھوں نے عکس تمہارا دیکھا ہے

ان آنکھوں کو رقص میں لایا جا سکتا ہے

یادوں سے بھی زخم کریدیں جا سکتے ہیں

باتوں سے بھی تیر چلایا جا سکتا ہے

ان آنکھوں کے بند دریچے میں یاسر

خاموشی سے شور مچایا جا سکتا ہے

یاسر گمان

۔۔۔۔۔۔

اگلے دن مہندی تھی اسکے بعد ایک دن مایوں بیٹھنے کے بعد برات پھر ولیمے کا فنکشن تھا۔

صبح سے گھر میں رونق کا سماں تھا۔۔۔

منال بیگم مِنَحہ کے کمرے میں موجود منحہ کا مہندی کا جوڑا استری کر رہی تھیں جبکہ منحہ پاس ہی کھڑی غور سے انکے ہاتھوں کی جانب دیکھ رہی تھی۔

"ماما میں بھی کروں؟ منحہ کے اچانک پوچھنے پر انہوں نے مسکرا کر اسے دیکھا۔۔۔

"نہیں میری جان ابھی آپ کو ٹھیک سے نہیں آتا اللہ نہ کرے جل نہ جائے۔۔۔

"نہیں جلے گا ماما سچی۔۔۔۔

"نہیں منحہ بحث مت کرو بچے جاؤ نہا کر کپڑے بدلو،۔۔مِنحہ کے دوبارہ بولنے پر وہ جھنجلائی تھیں۔۔

"ماما مجھے بھی سیکھنا ہے تائی امی نے کہا تھا کے اپنے کام خود کرنا ہے پھر یزان کے بھی سارے کام منحہ کرے گی لائیں دیں نہ۔۔۔منحہ کی بات پر انکا ہاتھ ساکت ہوا تھا آنکھوں کہ کنارے بھیگنے لگے تھے جبکہ منحہ انتظار میں کھڑی تھی۔

"منحہ ماما کی جان، ماما اپنی جان کو سیکھا دیں گی سب لیکن ابھی آپ جاؤ۔۔ہمم۔۔منال بیگم نے محبت سے اسکے چہرے کو ہاتھوں کہ پیالے میں بھرتے ہوۓ کہا تھا۔۔

"ماما پکا؟

"ہاں پکا۔۔۔منال بیگم کہ کہتے ہی وہ مسکرا کر بیڈ پر رکھا لباس اٹھا کر باتھروم چلی گئی تھی۔۔

منال بیگم کتنی ہی دیر بند دروازے کو تکتیں رہیں پھر سرجھٹک کر مہندی کہ جوڑے کی قمیض استری کرنے لگیں جب میرال مسکراتی ہوئی اندر داخل ہوئی تھی۔

"چاچی آپ کو تائی جان بلا رہی ہیں انھیں کوئی کام ہے شاید آپ سے۔۔۔

"ٹھیک ہے میں ابھی آتی ہوں۔۔منال بیگم آنکھیں رگڑتے ہوئے بولیں کہ میرال کی بات پر اسے دیکھنے لگیں۔۔

"کوئی ضروری کام ہے انھیں کہہ رہی تھیں کہ فوراً آئیں۔۔۔

"اچھا۔۔۔ٹھیک ہے پھر چلو۔۔۔منال بیگم کہتی ہوئی استری کا پلگ بند کرتیں قمیض کو ایک طرف کر کہ اسکے ساتھ ہی کمرے سے نکل گئیں۔۔

منال جیسے ہی نور بیگم کہ کمرے میں داخل ہوئیں میرال مسکراتی ہوئی اردگرد دیکھتی تیزی سے دوبارہ کمرے میں آئی باتھروم سے پانی گرنے کی آواز پر اس نے گہری سانس لی اب اس کا رخ استری اسٹینڈ کی جانب تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔،

یہ بہار کا زمانہ ، یہ حسیں گلوں کے سائے

مجھے ڈر ہے باغباں کو ، کہیں نیند آ نہ جائے

تیرے وعدوں پر کہاں تک میرا دل فریب کھائے

کوئی ایسا کر بہانہ میری آس ٹوٹ جائے

تیری سازش توجہ ، یہ نہیں تو اور کیا ہے

میں جہاں چلا سنبھل کر وہیں پاؤں ڈگمگائے

کھلے ارض گلستاں میں گل نامراد ایسے

نہ بہار ہی نے پوچھا نہ خزاں کے کام آئے

میرے ضبطِ غم کی عظمت کوئی ان کے دل سے پوچھے

میرا امتحان لے کر کوئی ان کو آزمائے۔۔

۔۔۔۔۔

"ماشاءالله اللہ میرے بچوں کو حاسدوں کی نظروں سے محفوظ رکھیں۔۔۔نور بیگم جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئیں یزان اور ہالہ کو دیکھ کر وار صدقے جانے لگیں جو مہندی کی نسبت تیار بی جان سے ملنے آئے تھے۔۔

یزان بادامی رنگ کے شلوار قمیض میں ہمیشہ کی طرح شاندار لگ رہا تھا جبکہ ہالہ ہرے اور پیلے رنگ کے لہنگے میں پیاری لگ رہی تھی۔۔

آمین تائی جان۔۔۔میرال کی آواز پر ہالہ کو دیکھتے ہی وہ آگے بڑھ کر اسکے گلے لگی تھی۔۔۔

میرال ہرے رنگ کہ غرارے میں ملبوس جھمکیاں اور ٹیکا لگائے ہوئے تھی اتنے میں بسمہ اور مومنہ بھی وہیں آگئیں دونوں نے میرال جیسا بی غرارا اور جیولری پہنی ہوئی تھی۔۔

"ارے واہ تھیم بنائی ہے تم تینوں نے۔۔

"جی بالکل ویسے آپ اور منحہ آپی بھی ایک جیسا بنواتیں تو کتنا اچھا لگتا۔۔ہالہ کی بات پر مومنہ نے مسکراتے ہوئے کہا مِنَحہ کے ذکر پر یزان مسکرایا تھا جبکہ ہالہ نے اپنی ماں کی جانب دیکھ کر گہری سانس لی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

شام ڈھلتے ہی مہمانوں کی آمد درآمد شروع ہوچکی تھی ایسے میں ڈی جے نے فل والیم میں میوزک لگا دیا تھا گھر بھر میں رونق تھی۔۔

یزان جو نظر بچا کر منحہ کے کمرے میں داخل ہوا تھا سامنے کا منظر دیکھ کر ساکت رہ گیا

"چاچی یہ۔۔حیرت سے وہ انھیں دیکھ رہا تھا جو غم و غصّے کی حالت میں بستر پر پڑے مہندی کہ جوڑے کو دیکھ رہی تھیں پاس ہی زمین پر کھلے بالوں میں خود میں سمٹی منحہ ہلکے ہلکے کانپ رہی تھی جبکہ چہرہ آنسوؤں سے تر تھا یزان کی آواز پر منحہ اسے دیکھتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی جس نے جلدی سے دروازہ بند کیا تھا۔

"منحہ ششش کیا ہوا ہے ہاں ،بتاؤ مجھے۔۔۔

"یزان۔۔۔یزان کہ اسکے سامنے بیٹھ کر پوچھنے پر منحہ تڑپ کر کہتی آگے بڑھ کر اسکے گلے لگی تھی کہ چند لمحوں کہ لئے وہ سن ہوگیا تھا۔۔۔

"مم منحہ کیا ہوا ہے۔۔۔یزان اسکے ہچکولے لیتے وجود کو محسوس کرتا کَندھوں سے اسے پیچھے کرتے ہوۓ پوچھنے لگا منال بیگم کی موجودگی میں منحہ کی بے اختیاری پر وہ جھینپ گیا تھا۔۔

"ی یزان اللہ،اللہ کا پکا وعدہ مم میں نے نہیں جلایا مم۔۔۔ہچکیوں کے درمیان اسے یقین دلاتی وہ منال بیگم کو رلا گئی تھی منحہ کی بات پر یزان نے منال بیگم کو دیکھا۔

"چاچی کیا جلا ہے۔۔۔یزان کے پوچھنے پر منال بیگم نے قمیض اٹھا کر اسے دکھائی تھی جو آگے پیچھے سے بری طرح جلی ہوئی تھی۔

"میں نے منع بھی کیا تھا اسے کے یہ نہیں کر سکتی ہو لیکن میرے منع کرنے کہ باوجود اس نے وہی کام کیا، دیکھا اپنی ضد کا نتیجہ اپنی ہی مہندی کا جوڑا جلا کر بیٹھ گئی ہو۔۔

"نہیں ماما منحہ نے نہیں کیا۔۔۔۔یز یزان منحہ نے نہیں کیا۔۔سر کو نفی میں ہلاتی وہ دونوں کو یقین دلا رہی تھی۔۔۔

"میں جانتا ہوں منحہ نے نہیں کیا، مجھے یقین ہے اپنی مان پر وہ تو بہت پیاری ہے،ہے نا ۔۔۔یزان اسکے گالوں پر ہاتھ رکھے کہنے لگا جس نے سر کو زور شور سے ہلایا تھا۔۔منال بیگم سر پکڑے دھپ سے بستر پر بیٹھی تھیں۔۔

"اب کہاں سے لاؤں رسموں کہ لئے باہر بلایا جائے گا،کیا جواب دونگی سب کو جتنے منہ اتنی باتیں ہوں گی۔۔

"چاچی فکر مت کریں اسکا حل ابھی ہوجاتا ہے، یزان انکی بات پر تسلی دیتا اٹھ کھڑا ہوا منحہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔۔۔

"میں باہر ہوں آپ اسے پچھلے دروازے سے لے آئِںں آنلائن آرڈر بھی ابھی نہیں کرسکتا۔۔۔

"یزان بیٹا گھر میں مہمان اور رشتے دار بھرے ہیں ایسے کیسے جا سکتے ہیں،پہلے ہی بھابھی کو کام تھا تبھی درمیان میں کپڑے چھوڑ کر گئی تھی۔۔منال بیگم کے گھبرا کر بتانے پر یزان چونکا تھا۔۔

"امی نے کسی کو بھیجا تھا؟

"ہاں میرال آئی تھی لیکن تم کیوں۔۔۔یکدم ہی وہ رکی تھیں۔۔

"میرال۔۔یزان نام دہراتے ہوۓ لب بھینچے ٹہلنے لگا۔۔

"نہیں یزان جو تم سوچ ربے ہو وہ ایسا نہیں کر سکتی۔،

"چاچی میں تو اسکے بارے میں سوچ بھی نہیں رہا۔۔.

یزان کہ اچانک کہنے پر وہ گڑبڑا گئی تھیں۔۔اپنی بیٹی کے ساتھ ہر ایک کا رویہ وہ بہت اچھے سے جانتی تھیں۔۔

"اگر آپ کا شک صحیح ہوا تو میں۔۔

"یزان نہیں بیٹا ایسی باتیں مت کرو جو ہونا تھا ہوچکا ہے۔۔

"تو پھر آپ منحہ کے لئے اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتی ہیں کے اس نے جلایا ہے؟

"بیٹا یہ ضد کر رہی تھی پھر میرال میرے ساتھ ہی کمرے سے نک۔۔۔۔ ۔

"ماما میں نے نہیں جلایا۔۔۔منحہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوتی سر جھکا کر بولی تھی اسے کسی بات سے گرز نہیں تھا سوائے اس کے کہ اسے کسی اور کے کئیے کا الزام دیا جا رہا تھا۔۔اچانک منحہ کی آواز پر وہ اسکی جانب متوجہ ہوئی تھیں۔۔۔

"آہ! مجھے معاف کردو میری بچی غصّے میں اتنا ڈانٹ دیا۔۔منال بیگم نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا تھا۔۔۔یزان انھیں دیکھتا دھیرے سے مسکرایا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

"ہاشم بیٹا مووی میکر آگئے ہیں۔۔دراب صاحب ہاشم کو روکتے ہوۓ بولے جو سر ہلا کر لان کی جانب چل دیا تھا۔۔

دراب صاحب نے جیسے ہی کمرے کی جانب قدم بڑھائے موبائل پر یزان کی کال آنے پر انھیں شدید حیرت ہوئی بھلا گھر میں موجود ہونے کہ باوجود کال کیوں کر رہا تھا۔۔۔

"ہیلو۔۔۔۔

"السلام علیکم چاچو۔۔

"وعلیکم السلام،یزان بیٹا کہاں ہو تم؟ دراب صاحب تعجب سے اس سے پوچھنے لگے جو تیز رفتاری میں گاڑی چلا رہا تھا۔

"جی دراصل۔۔۔۔۔یزان ہر بات انھیں بتا کر کال کاٹ چکا تھا دراب صاحب پیشانی مسلتے ہوۓ منحہ کے کمرے کی جانب بڑھنے سے قبل بسمہ کو اشارے سے اپنے ساتھ کمرے میں داخل ہوۓ تھے جو خالی کمرہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئی تھی۔

Mehndi Hai Rachnewaali, Haathon Mein Gehri Laali

Kahe Sakhiyaan, Ab Kaliyaan

Haathon Mein Khilnewaali Hain

Tere Mann Ko, Jeevan Ko

Nayi Khushiyaan Milnewaali Hai

O Hariyali Banno

Le Jaana Tujhko Guiyyaan Aane Waale Hai Saiyyaan

Thaamenge Aake Baiyyaan, Goonjegi Shehnaayi

Angnaayi, Angnaayi

Mehndi Hai Rachnewaali, Haathon Mein Gehri Laali

Kahe Sakhiyaan, Ab Kaliyaan

Haathon Mein Khilnewaali Hain

Tere Mann Ko, Jeevan Ko

Nayi Khushiyaan Milnewaali Hai

تیز آواز میں میوزک نے شور برپا کیا ہوا تھا لان میں ہی نیچے گول دائرہ بنائے لڑکیاں ڈھول رکھے بیٹھیں ہنسی مذاق کرنے میں مصروف دلہنوں کہ آنے کا انتظار کر رہی تھیں وہیں قریب فلور اسٹیج پر دونوں جوڑیوں کہ بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا۔۔

"میرال کام ہوگیا؟

"جی ہاں۔۔۔

"زبردست۔۔۔چلو اب دیر کس بات کی رسموں کا وقت ہورہا ہے۔۔۔نور بیگم میرال سے کہتیں اندر کی جانب بڑھ گئی تھیں۔۔

میرال نے مسکرا کر ایک نظر اطراف میں دیکھا تھا لیکن جیسے ہی پلٹنے لگی اپنے سسرال والوں کو آتا دیکھ کر وہیں روک گئی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

"ہمیں اب بچوں کو باہر لے چلنا چاہیے وقت تو ہوگیا ہے۔۔۔نور بیگم بی جان کہ کمریے میں آکر کہنے لگیں جہاں ہالہ انہی کہ پاس موجود تھی۔۔

"چلو پھر لیکن یہ منال کہاں ہے نہ ہی ابھی تک منحہ کو لے کر آئی۔۔۔

"پتہ نہیں کمرے میں ہوگی میں دیکھ لیتی ہوں۔۔۔نور بیگم دونوں ماں بیٹی کے ذلیل ہونے کا سوچ کر ہی خوشی ضبط کرتیں جیسے ہی دروازے کی سمت مڑِیں کمرے کا دروازہ کھول کر منال بیگم منحہ کو لیے اندر داخل ہورہی تھیں نور بیگم ششدر سی کھڑیں منحہ کو دیکھنے لگیں جس نے فل زرد رنگ کا خوبصورت لہنگا زیب تن کیا تھا ہوا ہاتھوں میں ہم رنگ چوڑیاں پھولوں کا زیور پہنے لبوں پر لائٹ لپسٹک آنکھوں میں کاجل لائینز لگائے حسین لگ رہی تھی ایک پل کہ لئے وہ اسے پہچان نہیں سکی تھیں۔۔۔منال بیگم بھی تیار کھڑی مسکرا کر بی جان کی جانب بڑھی تھیں جبکہ نور بیگم کی زبان تآلو سے چپک کر رہ گئی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

"ماشاءالله ماشاءالله یہ اتنی دلکش پری کون ہے؟

"دادی میں منحہ ہوں۔۔۔بی جان اسے دیکھتے ہی مسکرا کر پوچھنے لگیں ہمیشہ عجیب و غریب حلیے میں رہنے والی منحہ کا روپ دیکھنے والوں کو حیران کر رہا تھا ہالہ جو وہیں تھی پہلی بار اسے وہ اچھی لگی تھی۔۔

"ہاہاہا۔۔۔ارے بھئی واقعی یہ تو ہماری منحہ ہی ہے۔۔ماشاءالله بہت ہی پیاری لگ رہی ہے دادی کی جان اللہ ہر بری نظر سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔۔آمین۔۔۔چلو اب لڑکیوں کو بلاؤ آکر بچیوں کو باہر لے کر چلیں۔۔۔بی جان کے کہتے ہی نور بیگم سر جھٹک کر غصّے میں باہر نکلی تھیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

یزان اور داور اسٹیج پر موجود تھے جب دونوں دلہنوں کو لا کر انکے ساتھ بیٹھایا گیا تھا منحہ شرمیلی مسکراہٹ سے اسے دیکھ رہی تھی جبکہ یزان جو پہلے ہی اسے دیکھ کر نظر نہیں ہٹا پا رہا تھا اب بھی بمشکل نظر پھیر کر بیٹھا تھا دونوں جوڑیوں کہ آتے ہی رسموں کا سلسلہ شروع ہوا تھا گھر میں سب سے بڑی اور بزرگ ہونے کی وجہ سے بی جان نے پہلے ہالہ پھر منحہ کہ پاس رسم کرنے بیٹھِیں تھیں۔۔

بی جان نے جیسے ہی اسکی ہتھیلی پر پان کا پتا رکھ کر مہندی لگائی منحہ یزان کے قریب ہوئی جس نے گڑبڑا کر سب کو دیکھا تھا جبکہ میرال نے غصّے سے مٹھیاں بھینچی تھی وہ تو اپنا کام مکمل کر کہ آئی تھی پھر اچانک اتنا قیمتی اور خوبصورت لہنگا کہاں سے نمودار ہوا تھا۔۔

"یزان دادی میرے ہاتھ پر پان کیوں بنا رہی ہیں؟ منحہ کی بات پر وہ بہ ساختہ ہنسا تھا۔۔

"پان بنتے دیکھا ہے کبھی تم نے مان؟یزان نے بھی اسی کہ انداز میں سرگوشی کی۔۔

"جی ایک بار میں بسمہ کہ ساتھ گئی تھی نہ املی لینے وہیں برابر میں دکان تھی وہاں یہ سب بنتا ہے۔۔

"کیا تم لڑکیاں وہاں گئی تھیں؟ یزان حیرت زدہ سا اسے دیکھنے لگا منال بیگم نے مسکرا کر دراب صاحب کو دیکھا تھا۔۔

"نہیں میں وہاں نہیں گئی تھی وہ تو انکل بنا رہے تھے میں نے دور سے دیکھا تھا۔

"منحہ بیٹی کیا کر رہی ہو ابھی گرجاتا۔۔۔بی جان نے یکدم اسکا ہاتھ پکڑا تھا جو اپنی باتوں میں سب بھول گئی تھی

"دادی یہ پان کیوں بنا رہی ہیں،میرے کپڑوں پر گر جاۓ گا یزان نے اپنی پسند سے لیا ہے خراب ہوگیا پھر۔۔۔منحہ ہاتھ سے پان کا پتا انکے حوالے کرنے لگی تھی کہ بی جان نے اپنا ماتھا پیٹ لیا جبکہ منحہ کی بات پر سب ہنس دیے تھے۔

"اوہ تو یہ یزان کا کام تھا۔۔میرال کلس کر رہ گئی تھی نور بیگم نے بھی لب بھینچ کر اپنے بیٹے کو دیکھا تھا۔۔۔

"منحہ یہ رسم ہے دیکھو یزان کہ ہاتھ پر بھی رکھا گیا ہے۔۔۔بی جان نے کہتے ساتھ یزان کہ ہاتھ کی جانب متوجہ کروایا تھا۔

"یہ مہندی ہے مان۔۔۔یزان نے اسکے دیکھنے پر مسکرا کر بتایا جس نے سنتے ہی خفگی سے یزان کو دیکھا تھا۔

"پہلے بتاتے نہ۔۔

"آہ۔۔۔کوئی بات نہیں اب تو پتہ چل گیا ہے نہ اور ہاں اب جو بھی رسم ہوگی چاچی سب بتا دیں گی،ہتھیلی کو ہلانا مت ہمم۔۔

"ٹھیک ہے منحہ سمجھ گئی۔۔۔۔منحہ غور سے اسکی بات سمجھ کر فرمابرداری سے سر ہلانے لگی۔۔۔

"افسوس ایسا لگ رہا ہے بیوی نہیں کوئی بچی گود لے لی ہے تمھارے بیٹے نے،پڑھے لکھے جاہلوں کا تو سنا تھا لیکن اب یقین بھی ہوگیا ہے۔۔۔نور بیگم کہ پاس کھڑی انکی جل ککڑی دوست (فرح) نے منہ بنا کر کہا اور آگے بڑھ گئی۔ ۔۔

۔۔۔۔۔۔

"مہندی کی تقریب رات گئے تک جاری تھی منحہ یزان کہ ساتھ تصویریں بنوانے کہ بعد یزان اور اپنی ماں کہ ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے کہ بعد اب نیند سے جمائیاں روک رہی تھی یزان اسے دیکھ کر مسکرایا جو اسی کہ ساتھ موجود خاموش بیٹھی تھی۔۔۔کہیں سے بھی نہیں لگ رہا تھا کے وہ سب کو تنگ کرتی ہوگی۔۔

"نیند آرہی ہے مان؟

"ہمم بہت ساری۔۔۔یزان کہ پوچھتے ہی اس نے بے بسی سے اسے دیکھتے ہوۓ کہا تھا۔۔

"ٹھیک ہے پھر میں چاچی کو بلاتا ہوں۔۔۔۔یزان کہتے ہی اٹھ کر منال بیگم کی جانب بڑھا تھا اسکے جاتے ہی رانیہ اور الماس اسکے پاس آکر بیٹھی تھیں۔۔

"الماس اٹھو یہاں سے۔۔۔۔منحہ اسکے بیٹھتے ہی گھورتے ہوئے بولی۔۔

"واہ واہ میڈم بڑی تیز ہو ہاں ہم نے تو بھائی کہنے سے منع کیا تھا لیکن یہاں تو سیدھا شوہر بنا لیا گیا ہے۔۔۔رانیہ اسکی بات کو نظرانداز کرتے ہوۓ شرارت سے بولی تھی جبکہ منحہ کی تیوری چڑھ گئی تھی۔۔

"الماس اٹھو سنا نہیں تم نے یہ یزان کی جگہ ہے۔۔۔منحہ کی تیز آواز پر ہالہ اور داور دونوں کے دوستوں نے بھی انھیں دیکھا تھا۔

"ہالہ کیا سوچ کر اس باولی سے تمہارے بھائی نے شادی کی ہے ہاہاہا جب سے آئی ہوں اس کی حرکتوں پر ہنسی آرہی ہے۔۔

"تو پھر ہنستی رہو۔۔داور کہ یکدم ناگواری سے کہنے پر اسکی ہنسی تھمی تھی ہالہ نے بھی چونک کر داور کو دیکھا تھا جسے اس نے پہلی بار منحہ کی حمایت کی تھی۔۔

"داور بھائی میں تو۔۔۔

"بس بہت ہوچکا منحہ ہمارے گھر کا فرد ہے آئیندہ کسی نے کچھ بھی الٹا سیدھا کہا تو یاد رکھے اس گھر میں دوبارہ آنے کی زحمت نہ کرے۔۔۔داور غصّے سے کہتا اٹھ کھڑا ہوا تھا ہالہ سمیت سب کو سانپ سونگھ گیا تھا۔۔

سامنے کھڑی لڑکی اپنی توہین پر پیر پٹخ کر وہاں سے گئی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

"منحہ دماغ تو درست ہے کیا ہوگیا ہے یزان بھائی ابھی کہاں ہیں۔۔الماس گڑبڑا کر جلدی سے کھڑی ہوتے ہوۓ بولی یزان جو منال بیگم کے ساتھ قریب آرہا تھا مسکرانے لگا۔۔

"وہ آجائیں گے خبردار جو انکی جگہ پر بیٹھی تو۔۔۔منحہ نے کہتے ساتھ اپنا ہاتھ جگہ پر رکھا تھا جب یزان کی آواز پر رانیہ بھی اٹھ کر ان سے ملتی الماس کے ساتھ وہاں سے چلی گئی تھی۔

"مان یہ کیا حرکت تھی وہ دوستیں تھیں نا تمہاری کتنا برا لگا ہوگا انھیں۔۔۔۔۔

"وہ آپ کی جگہ پر کیوں بیٹھی تھی،اور آپ انکی سائٹ نہیں لیں۔۔۔یزان کی بات سنتے ہی اس نے منمناتے ہوۓ کہا تھا یزان کا انکی طرفداری کرنا اسے قطعی اچھا نہیں لگا تھا۔

"اچھا خیر چھوڑو، منحہ چلو کمرے میں نیند آرہی ہے نہ۔۔۔

"نہیں ماما اب نیند نہیں آرہی۔ میں یزان کہ ساتھ ہوں۔۔

See also  Hakoomat Urdu Romantic Novel

 

Another Novels by Amraha Sheikh Are:

 

 

 

 

ابھی پل سٹور سے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور پائیں منتھلی ڈائیجیسٹ، اردو ناولز اور بہت کچھ

Install Now

 

 

 

 

♥ Download More:

 Areej Shah Novels

 Zeenia Sharjeel Novels

  Sidra Shiekh Novels

 Famous Urdu novel List

 Romantic Novels List

 Cousin Rude Hero Based romantic  novels

آپ ہمیں اپنی پسند کے بارے میں بتائیں ہم آپ کے لیے اردو ڈائجیسٹ، ناولز، افسانہ، مختصر کہانیاں، ، مضحکہ خیز کتابیں،آپ کی پسند کو دیکھتے ہوے اپنی ویب سائٹ پر شائع کریں  گے

 

 

 

 

Copyright Disclaimer:

We Shaheen eBooks only share links to PDF Books and do not host or upload any file to any server whatsoever including torrent files as we gather links from the internet searched through world’s famous search engines like Google, Bing etc. If any publisher or writer finds his / her book here should ask the uploader to remove the book consequently links here would automatically be deleted.

Leave a Comment

close