Hanam by Amraha Sheikh | Best Urdu Novels

Hanam by Amraha Sheikh Novel is the best novel ever. Novel readers liked this novel from the bottom of their heart. Beautiful wording has been used in this novel. You will love to read this one. 

Hanam by Amraha Sheikh Novel

Hanam by Amraha Sheikh is a special novel, many social evils has been represented in this novel. Different things that destroy today’s youth are shown in this novel. All type of people are tried to show in this novel.

Rude Hero Based Hanam by Amraha Sheikh Novel | Romantic Urdu Novels

Hanam by Amraha Sheikh

 

 

 

Amraha Sheikh has written many novels, which her readers always liked. She tries to instill new and positive thoughts in young minds through her novels. She writes best. 

If you want to download this novel, you can download it from here:

↓ Download  link: ↓

 

 

 

 

Note!  If the link doesn’t work please refresh the page

Hanam by Amraha Sheikh PDF EP 1 to Last

 

Read Online Haam by Amraha Sheikh:

رات کا دوسرا پہر چل رہا تھا ایسے میں ایک گھنٹے سے جو ہلکی ہلکی بوندا باندی نے موسم کو دلکش بنایا ہوا تھا یُکدم ہی تیز گرج چمک کے ساتھ بارش نے اسی موسم کو خوفناک کردیا تھا۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

"اللّه رحم۔۔۔۔۔۔۔لاہور کہ ایک پوش علاقے میں واقع یہ ایک سفید کوٹھی تھی جسکی دوسری منزل کے کمرے کی کھڑکی سے کچھ فاصلے پر پلنگ پر بیٹھی اپنے گٹھنوں تک آتے لمبے گھنے بالوں کی چٹیا بنانے کے ساتھ وہ گنگنانے میں بھی مگن تھی جب بادلوں کے گرجنے پر چونک کر آہستگی سے کہتی آخری بل دے کر اسنے چٹیا کو جھٹکا دیا پتلی نازک کمر پر اسکی لمبی سیاہ چٹیا لہرائی جبکہ اس سب سے بے خبر پلنگ سے ڈوپٹہ اوڑھ کر وہ کھڑکی تک آئی تھی۔۔۔

گرے خوبصورت رنگ کی نظریں اٹھا کر آسمان کی جانب دیکھتے اس نے اپنے سفید مومی ہاتھوں سے کھڑکی کے دونوں پٹ کھول کر مسکراتے ہوئے اپنی ہتھیلی کو پھیلایا تھا کے لمحوں میں اسکی مہندی سے سجی ہتھیلیاں بھیگ گئیں تھیں۔۔۔جبکہ مسکرانے سے اسکے بائیں رخسار پر گڑھا پڑا تھا۔۔۔۔

"اللّه تیری قدرت۔۔۔۔ماشاءالله۔۔۔۔۔دھیمی خوبصورت آواز میں بولتی وہ ایک بار پھر مسکرائی تھی بلاشبہ وہ ایک حسین دوشیزہ تھی جسکی ایک جھک کے لئے کتنے ہی دل بےتاب اپنی دولت اسکے قدموں میں رکھنے کو تیار رہتے تھے لیکن وہ تو جیسے ہر انسان سے بیزار تھی اسے انتظار تھا تو بس ایک چیز کا۔۔۔۔اور وہ ایک چیز "موت" تھی۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"بارششش۔۔نورین کی کان پھاڑ دینے والی آواز پر عائشہ جو اسکے پاس ہی صوفے پر نیم دراز تھی ڈر کر چیخ مارتے ہوۓ اٹھ بیٹھی جبکہ نورین جو اپنی جگہ سے اٹھ کر اپنے کمرے کی کھڑکی کی جانب بڑھی تھی گھور کر اسے دیکھنے کے بعد پھر آگے بڑھ کر کھڑکی کھول کر اس نے اپنی ہتھیلیوں کو پھیلایا تھا۔۔

"یار عائشہ دیکھو تو کتنی تیز بارش ہورہی ہے۔ ۔۔ ہائے اللّه۔۔۔۔

"بس بس مجھے بھی نظر آرہا ہے۔۔عجیب چڑیل قسم کی ہو ابھی میرا دل بند ہوجاتا تو۔۔۔عائشہ تو جیسے جل بھون گئی تھی۔۔

نورین نے اسکی بات پر پلٹ کر اسے دیکھا تو زور سے ہنستی ہوئی اسکی طرف آتے اپنے گیلے ہاتھ اسکے رخسار پر رکھ دیے۔۔

نورین کی حرکت پر عائشہ نے چیختے ہوۓ اسکے ہاتھوں کو جھٹکا تھا۔۔۔۔

جبکہ نورین ایک بار پھر قہقہ لگاتی کمرے سے باہر بھاگی تھی۔۔

"نورین امجد" ایک مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔۔۔فیملی میں امجد احمد خان(والد) نادیہ امجد (والدہ) ایک بڑی بہن جو دو سال بڑی تھی اس سے (عائشہ امجد) جبکہ ایک ہی بھائی جسکی عمر گیارہ سال تھی (فہیم امجد)۔۔۔

نورین فرسٹ ائیر کی طلبہ تھی ابھی چند ہی ہفتے ہوئے تھے اسے کالج جاتے جبکہ عائشہ سیکنڈ ائیر کی طلبہ تھی۔۔۔سولہ سال کی نورین گھر بھر میں سب کی لاڈلی تھی۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"روکو لڑکی کہاں بھاگے جا رہی ہو اتنی رات میں نادیہ بیگم جن کی آنکھ باہر ہوتی موسلادھار بارش کے شور سے کھلی تھی نورین کو دیکھتے ہی پوچھنے لگیں جبکہ نورین جو چھت پر جانے کا ارادہ رکھتی تھی سٹپٹا کر رہ گئی تھی۔۔

"وہ میں۔۔۔۔مجھے پیاس لگ رہی تھی امی۔۔۔نورین اٹک اٹک کر جواب دیتی اپنی گردن پر بھی ہاتھ رکھ کر یقین دلانے لگی۔۔۔

"میں اچھے سے جانتی ہوں تمہیں...خبردار اتنے خطرناک موسم میں چھت پر گئی وقت دیکھو تین بج رہے ہیں۔۔۔۔

"لیکن امی اتنی پیاری بارش ہو رہی ہے۔۔۔نورین نے یکدم نادیہ بیگم کی بات کو کاٹتے ہوئے کہا تھا کہ نادیہ نے آگے بڑھ کر اسکا کان مڑوڑا۔۔۔

"دماغ تو نہیں خراب ہوگیا ہے تمہارا کسی محلے والے نے دیکھ لیا تو مرچ مصالہ لگا کر خبرنامہ بنا دیں گے اور یہ کوئی وقت نہیں ہوتا چھتوں پر جانے کا اللّه ناں کرے کوئی ہوائی چیز چمڑ جاۓ۔۔۔چلو جاؤ کمرے میں شاباش۔۔۔نادیہ بیگم سمجھاتے ہوۓ اسکا کان چھوڑ چکی تھیں جبکہ نورین اپنی ماں کی پوری بات سن کر منہ لٹکا کر کمرے کی جانب بڑھ گئی پیچھے نادیہ بیگم منہ میں آیت الکرسی پڑھتے اپنے بچوں کا حصار کرتیں کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹھک ٹھک ٹھک!

دستک پر کھڑکی بند کر کے اس نے پلٹ کر دروازے کی سمت دیکھا تھا.۔۔

"آجاؤ.۔۔۔۔

اجازت ملتے ہی انیلا نے دروازہ کھول کر سر کہ اشارے سے سلام کرتے اسے دیکھا تھا۔

"ہانم باجی رئیس صاحب آئے ہیں۔۔۔انیلا ہچکچا کر بتاتی اپنے دائیں جانب دیکھنے لگی جب ایک وجیہہ ستائیس سالہ نوجوان دروازے پر نمودار ہوا ہانم نے اسے دیکھتے ہی سر پر ڈوپٹہ لیتے سلام کیا تھا۔۔۔رئیس علی کسرتی جسم کا مالک جس کا قد چھ فٹ تھا وہ واحد شخص تھا جو اس کوٹھے کا خوش نصیب شخص تھا۔۔جسے ہانم کی تنہائی کے چند لمحے میسر ہوئے تھے۔

رئیس نے اسکے سلام پر مسکرا کر سر کو جنبش دے کر اپنے پیچھے کھڑی انیلا کو دیکھا جو اسکا اشارہ سمجھتی دروازہ بند کر کے چلی گئی تھی.۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

"اتنے طوفان میں آنے کی کیا ضرورت تھی آپ کو رئیس۔۔۔۔ہانم اسکے ساتھ سے گزرتی ڈوپٹہ اتار کر سنگھار میز کے پاس جا کر اپنی چٹیا کھولنے لگی جبکہ رئیس نے مسکراتے ہوۓ اسے گہری نظروں سے سر تا پیر دیکھا۔۔۔

"آپ کے لئے تو میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔یہ تو پھر بارش ہے۔۔

"اچھا تو پھر ہمیں یہاں سے کب لے جائیں گے؟ ہانم نے اسکی بات پر مصروف سے انداز میں مسکراتے ہوۓ کہتے اپنے بالوں کو کھول کر ایک طرف سے آگے ڈالا پھر کاجل اٹھا کر آنکھوں میں لگانے لگی جبکہ رئیس کچھ دیر کہ لئے خاموش ہوگیا تھا۔۔

"خیر چھوڑیں رہنے دیتے ہیں اس بات کو۔۔۔آپ بتائیں بیوی بچے کیسے ہیں؟ ہانم نے تکلیف سے آنکھوں کو موند کر کھولتے ساتھ مسکراتے ہوۓ اسکی جانب رخ کر کے پوچھا تھا۔

"آہ! انھیں کیا ہونا ہے۔۔۔۔سب ٹھیک ہیں۔۔۔۔

"ہمم اور آپکا بیٹا؟ ہانم اسکی بیزاریت محسوس کرنے کہ باوجود پوچھنے لگی۔۔

"وہ بھی۔۔اب ذرا آپ ادھر آئیں۔۔۔۔ہم اب اپنی بات کرلیں۔۔۔رئیس لاپرواہی سے کہتا ہانم کا ہاتھ تھام کر اپنے نزدیک کرتے ہوۓ بولا۔۔۔

"آپ بےحس ہیں رئیس ہم نے آپکو سب سے الگ سمجھا تھا۔۔۔ہانم یُکدم ہی اس سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہتی گہری سانس لیتی دروازے تک پہنچ کر انیلا کو پکارنے کے بعد رئیس کی جانب پلٹی جس نے غصے میں لب بھینچ لئے تھے۔

"ہانم باجی آپ نے بلایا؟ انیلا اسکی آواز پر بھاگتی ہوئی وہاں حاضر ہوئی تھی۔

"ہاں۔۔رئیس صاحب جا رہے ہیں۔۔۔لیکن پھر بھی اگر یہ یہاں ٹھہرنا چاہتے ہیں تو حرا اماں سے کہہ دو کہ اپنے مہمان کی مہمان نوازی کسی اور سے کروا لیں ہانم کے پاس یہ دوسرا اور آخری مرد اب نہیں آنا چاہیے.۔۔۔۔سرد لہجے میں کہہ کر ہانم اسکے کمرے سے نکلنے کا انتظار کرنے لگی رئیس غصّے میں قہر آلود نظروں سے اسے دیکھتا وہاں سے تیزی سے نکلتا چلا گیا۔۔۔دونوں کے جاتے ہی ہانم نے گہری سانس لے کر کمرے کا دروازہ بند کرتے پشت دروازے سے ٹکالی۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"آرام سے کھاؤ لڑکی انڈا کہیں بھاگا نہیں جا رہا۔۔۔۔صبح کا وقت تھا جب گھر کے افراد دسترخوان کے گرد بیٹھے تھےنورین جو جلدی جلدی ناشتہ کر رہی تھی عائشہ کے ٹوکنے پر روکی۔

"انڈے کی امی آگئی تو اسے لئے جلدی جلدی کھا رہی ہوں چلو تم بھی کھاؤ۔۔۔نورین کی بات پر سب نے مسکرا کر نورین کو دیکھا تھا جبکہ عائشہ افسوس سے سر جھٹک کر ناشتے کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"نورین بیٹی یہ لو پیسے۔۔۔۔نادیہ بیگم کمرے میں آتے ہی اس کی طرف پیسے بڑھا کر بولیں جو کالج جانے کے لئے تیار اپنے بیگ کو کندھے پر لٹکا رہی تھی۔

"تھینک یو میری پیاری ماں۔.۔۔

"دیھان سے جانا نورین اور ہاں آج پکا بات کرلینا وین والے سے۔۔۔۔۔نادیہ بیگم متفکر سی ہوتی ہوئیں اسے ہدایت دے رہی تھیں گھر کی بیک سائٹ سے دو تین گلیاں چھوڑ کر اس کا کالج تھا وین ابھی نہیں لگوائی تھی کہ وہ پیدل چلی جاتی تھی جبکہ نادیہ بیگم کو اس کے پیدل جانے سے ڈر لگا رہتا تھا ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"آہ!!! سونیا کی چیخ بے ساختہ تھی جبکہ کمر پر زور سے ہنٹر پڑھنے پر ہانم کی آنکھوں میں پانی تیرنے لگا جبکہ اپنی آواز دبانے کہ لئے اس نے لبوں کو سختی سے بھینچ لیا تھا۔

حرا بائی جو اس کوٹھے کی مالک ہے غصّے سے پلٹ کر سونیا کو دیکھا تھا پھر گردن موڑ کر ہانم کی کمر کو دیکھا جہاں قمیض اٹھا کر اسکی برہانہ کمر پر وہ اپنا غصّہ اتار رہی تھی۔۔سفید کمر پر دو سے تین بلٹ سے نشان بنے تھے جس سے اب خون رس رہا تھا لیکن ہانم بالکل چپ کھڑی تھی ایسے جیسے اسے نہیں کسی اور کو مارا جا رہا ہو۔۔۔

"پتہ نہیں وہ کون سی منحوس گھڑی تھی جب تجھے سڑک سے اٹھا کر لائے تھے کہ چلو جوان ہوکر کما کر دے گی لیکن بیس سال کی ہوگئی ہے آج تک ناچنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کیا تو نے اور میں بھی زبردستی اس لئے نہیں کرتی کے چلو تیرے مجرے میں ہی اتنا پیسہ مل جاتا ہے لیکن آج جو تو نے کیا اس امیر زادے کے ساتھ جانتی ہے ایک رات۔۔۔

"بہت ہوچکا حرا اماں، میں اس سے زیادہ برداشت نہیں کر سکتی ہوں اگر میرے ساتھ زبردستی کی تو خود کو مار ڈالوں گی پھر جو مجرے پر پیسہ ملتا ہے وہ بھی نہیں رہے گا۔۔۔۔ہانم کے یکدم غصّے میں کہنے پر حرا بائی کہ ساتھ سونیا اور انیلا نے بھی آنکھوں کو حیرت سے پھیلا لیا تھا جبکہ ہانم قمیض سہی کر کہ ڈوپٹہ سر پر اوڑھ کر اپنے کمرے کی جانب چل دی تھی جیسے جیسے وہ دور جا رہی تھی پائل کی چھن چھن بھی دور ہوتی جا رہی تھی.۔۔۔۔۔

kaun kisko yaha bhala samajha

humne kya samajha tumne kya samajha

bewafa humne tumko samajha sanam

tumne humko hi bewafa samajha

jhute iljaam meri jaan lagaya na karo

jhute iljaam meri jaan lagaya na karo

dil hai nazuk isay tum aise dukhaya na karo

jhute iljaam meri jaan lagaya na karo

dil hai nazuk isay tum aise dukhaya na karo

jhute iljaam

meri aankho me jo ache nahi lagte aansu

meri aankho me jo ache nahi lagte aansu

toh jalaya na karo mujhko sataya na karo

toh jalaya na karo mujhko sataya na karo

dil hai nazuk isay tum aise dukhaya na karo

jhute iljaam.........

رات کے دو بجے کا وقت تھا ایسے میں سفید کوٹھی کو آج دلہن کی طرح سجایا گیا تھا۔۔۔۔بڑے سے حال کمرے میں امیر کبیر مرد حضرات گدیوں پر بیٹھے تھے سامنے ہی سب کہ اہتمام کے لئے پان اور مشروب کا انتظام بھی کیا گیا تھا ہر کسی کی نظر درمیان میں رقص کرتی دوشیزہ پر ٹکی تھی جسکا رقص لاہور کے اس علاقے میں بہت مشہور تھا کہ مرد رقص دیکھنے کہ لئے شام ہوتے ہی وہاں آجاتے تھے۔۔۔۔ ہر ایک کی آنکھ میں ہوس تھی جسے چھونے کی خواہش لئے وہ یہاں آتے تھے لیکن نامراد ہی واپس لوٹ جاتے تھے۔۔رئیس علی بھی انہیں میں سے ایک تھا لیکن جانے قسمت کیسے اس پر مہربان ہوئی کے ہانم کی آرام گاہ تک جانے کا اسے دو بار شرف حاصل ہوچکا تھا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

سیاہ مرسیڈیز سنسان سڑک پر فراٹے بھرتے جا رہی تھی گاڑی میں تیز میوزک نے ساتھ بیٹھے "بالاج طارق" پر کافی برا اثر ڈالا تھا۔۔۔بالاج طارق جو ایک اپر کلاس فیملی سے تعلق رکھنے والا نوجوان تھا جس کی عمر ابھی صرف چوبیس سال تھی دوستوں کے کہنے پر زبردستی پارٹی میں جا رہا تھا لیکن وہ اس بات سے انجان تھا کہ اس کے دوست اسے پارٹی کی بجائے حرا بائی کے کوٹھے پر لے جا رہے تھے۔۔۔

جیسے ہی گاڑی سفید کوٹھی پر آکر رکی بالاج نے تیوری چڑھا کر اپنے چاروں دوستوں کو گھورا تھا ایسا نہیں تھا کہ وہ اس جگہ کو جانتا نہیں تھا لیکن اسے اپنی زندگی میں استعمال شدہ چیزیں ہرگز پسند نہیں تھیں۔۔۔

"گھورنا بند کر بیٹا چل آجا۔۔۔ساجد آنکھ دبا کر گاڑی سے اترا تھا جبکہ پیچھے سے وہ تینوں بھی ہنستے ہوئے اتر کر بالاج کے اترنے کا انتظار کرنے لگے۔۔۔

"ابے آجا ناں یار۔۔سنا ہے ہماری ہانم داؤد کا مجرا ہے۔۔کبیر نے کہتے ساتھ آہ بھری تھی۔

"اب یہ کون بلا ہے سالوں۔۔۔۔اور تم لوگ اچھے سے جانتے ہو میں ان َعورتوں کو چھونا پسند نہیں کرتا۔۔۔۔بالاج کھڑکی پر بازو رکھ کر انھیں کہ کر دوبارہ سیدھا بیٹھ چکا تھا جب ساجد کی بات پر اس نے چونک کر اسے دیکھا تھا. ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈیفنس میں واقع گرے رنگ کے بنگلے کا بھاری گیٹ آہستہ سے کھلا تھا ایک گاڑی تیزی سے پورچ میں آکر رکی تھی۔۔۔۔۔

رئیس علی نےگاڑی سے اترتے ہی ملازم کو بیگ نکال کر رکھنے کا حکم دیا اور خود لمبے لمبے ڈگ بھرتا اندر بڑھ گیا.۔۔۔

رئیس نے جیسے ہی لاؤنج میں قدم رکھا اسکے چہرے کے تاثرات یکایک بدل گئے۔۔۔۔

گہری مسکراہٹ کے ساتھ اس نے باآواز بلند سلام کیا تھا یاسمین (رئیس کی بیوی) کے ساتھ تسنیم علی (رئیس کی بہن) نے مسکرا کر جواب دیا ساتھ ہی تسنیم اٹھ کر بھاگنے کے انداز میں اپنے اکلوتے بھائی کی طرف بڑھتی اسکے گلے لگی تھی۔۔۔

تسنیم علی اور رئیس علی اپنے والدین کی دو ہی اولادیں تھیں۔۔والد کے انتقال کے بعد سارا بزنس اسکی ذمہ داری تھی جسے بخوبی وہ نبھا رہا تھا۔۔۔انہیں دنوں اسے ایک لڑکی پسند آئی تھی جس سے شادی کا فیصلہ اسکا خود کا تھا۔۔۔یاسمین اور رئیس کی شادی کو دو سال کا عرصہ گزر چکا تھا اور اب ان دونوں کا ایک سال کا بیٹا تھا۔۔۔۔

تسنیم علی بیس سال کی تھی جو اپنی ماں کہ ساتھ اسلام آباد میں تعلیم حاصل کر رہی تھی.۔۔۔تسنیم ایک جرنلسٹ بننا چاہتی ہے جبکہ اسکے بھائی کو یہ بات ہمیشہ ناگوار گزرتی تھی جسکا علم اسے بھی تھا یہی وجہ تھی کہ وہ اپنی ماں کے ساتھ اسلام باد میں رہائش پذیر تھی لیکن یہ بھی رئیس کو پسند نہیں تھا وہ کئی بار اپنی ماں اور بہن کو لاہور شفٹ ہونے کا بول چکا تھا۔۔۔

"کیسی ہو؟

"اچھی ہوں۔۔۔۔آپ بتائیں روز اتنی دیر سے گھر آتے ہیں؟ تسنیم نے بتاتے ساتھ اس سے پوچھا تھا رئیس نے ایک نظر اپنی بیوی کو دیکھا پھر اسے دیکھ کر مسکرایا۔

"ارے نہیں وہ تو بس دوستوں کے ساتھ تھا۔۔اچھا سب چھوڑو یہ بتاؤ امی کیسی ہیں؟

"کل آرہی ہیں فلائٹ سے پھر خود ہی پوچھ لیجئے گا۔۔۔تسنیم کی بات پر رئیس کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔۔

"پہلے کیوں نہیں بتایا تم نے اور اگر آنا ہی تھا تو ساتھ کیوں نہیں آئیں؟

"وہ اس لئے کیونکہ امی اپنی سب دوستوں سے آخری بار مل کر آنا چاہتی ہیں تبھی میرے ساتھ نہیں آئیں اور میں تو آپ تینوں کو بہت مس کر رہی تھی مجھ سے صبر ہی نہیں ہورہا تھا اس لئے جھٹ پٹ آگئی۔۔۔۔تسنیم کی بات پر اسے واقعی خوشگوار حیرت ہوئی تھی وہ جانتا تھا کہ تسنیم نے یونیورسٹی میں ایڈمیشن لیا تھا۔۔

"لیکن تسنیم تمہاری پڑھائی۔۔۔

"بھائی وہ یہاں بھی تو ہوسکتی ہے، بس اب ہم اکیلے نہیں رہنا چاہتے بھائی۔۔۔تسنیم یکدم ہی سنجیدہ ہوئی تھی کہ رئیس نے آگے بڑھ کر اپنی لاڈلی بہن کو گلے سے لگایا تھا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"آئیے آئیے خوش آمدید۔۔۔۔حرا بائی کی نظر جیسے ہی اندر آتے لڑکوں پر پڑی تیزی سے آگے بڑھ کر پرجوش انداز میں کہتی ادا سے بالوں کو جھٹک کر انھیں لئے اندر کی جانب بڑھنے لگی۔۔

بالاج سخت تاثرات لئے چلتا ہوا وہاں موجود سجی سنوری لڑکیوں کو نظر انداز کرتا اندر بڑے سے حال میں آیا تھا جہاں انکی طرف پشت کیے گھونگھٹ میں لڑکی ایک بار پھر رقص شروع کر رہی تھی حرا بائی نے مسکراتے ہوۓ انھیں بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا

بالاج سرسری سی نظر درمیان میں موجود لڑکی پر ڈال کر بیٹھ گیا۔۔۔

۔۔۔۔۔

laakh iss dil ko humne samajhaya

dil yaha phir bhi humko le aaya salaam salaam

tumhari mehfil me aa gaye hain

tumhari mehfil me aa gaye hain, toh kyun naa hum yeh bhi kaam karlein

salaam karne ki aarzu hai

salaam karne ki aarzu hai, idhar jo dekho salaam karlein

tumhari mehfil me aa gaye hain, toh kyun na hum yeh bhi kaam karlein

salaam karne ki aarzu hai, idhar jo dekho salaam karlein

yeh dil hai jo aa gaya hai tum par, wagar naa sach yeh hai banda parwar

yeh dil hai jo aa gaya hai tum par, wagar naa sach yeh hai banda parwar

jise bhi hum dekh le palat kar

jise bhi hum dekh le palat kar, usi ko apna gulaam karlein

salaam karne ki aarzu hai, idhar jo dekho salaam karlein

bahot si baatein hai tumko kehni, bahot si baate hai humko kehni

bahot si baate hai tumko kehni, bahot si baate hai humko kehni

kabhi jo tanha milo kahi tum

kabhi jo tanha milo kahi tum, toh baate hum yeh tamaam karlein

salaam karne ki aarju hai, idhar jo dekho salaam karlein

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بالاج اکتاہٹ سے سامنے موجود رقص کرتی لڑکی کو دیکھ رہا تھا جس نے ابھی تک اپنا گھونگھٹ نہیں اٹھایا تھا پاس ہی اسکے دوست اس کے قدموں پر نوٹ نچھاوڑ کر رہے تھے بلکے وہ ہی نہیں محفل میں ہر ایک مرد یہی کر رہا تھا بالاج نے تیکھی مسکراہٹ سے اسے دیکھا تھا جو گھونگھٹ ہونے کہ باوجود ہر مرد کو دیوانہ کر رہی تھی۔۔۔۔۔

"یہ اپنا چہرہ نہیں دکھاتی کیا؟ بالاج نے یُکدم کبیر کا بازو جکڑ کر اسکے کان کے قریب جھک کر پوچھا تھا۔

"ہائے ایک جھلک دیکھنے کہ لئے ہی تو ہم یہاں حاضر ہوۓ ہیں۔۔۔بس ایک بار ہی اسکا دیدار ہوا تھا یہ اصول صرف اسی کہ لئے ہی بنا ہے کہ مجرا گھونگھٹ میں ہی کرتی ہے۔۔۔۔۔۔کبیر بتاتے ہوۓ ساتھ پیسے بھی اسکی جانب اچھال رہا تھا جبکہ بالاج اسے چھوڑ کر غور سے اسے دیکھنے لگا جسکا گھونگھٹ نیٹ کا تھا لیکن پھر بھی چہرہ واضح نہیں دیکھ رہا تھا بالاج کی نظریں اسکے چہرے سے ہوتیں پیروں پر پڑی تھی جسکی گوری پنڈلیاں نظر آرہی تھیں بالاج کا دل یکدم ہی اسے دیکھنے کے لئے مچلا تھا۔۔۔

انگلیوں میں دبائی سگریٹ کو مسل کر اس نے ایک جانب پھینکا تھا پھر جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھ کر وہاں موجود حرا بائی کو اشارہ کر کے وہاں سے چلتا چلا گیا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"ارے صاحب کیا ہوا یوں محفل ادھوری کیوں چھوڑ دی؟ حرا بائی اسکے پاس آکر تعجب سے پوچھنے لگی تھی۔۔

بالاج نے اسکی بات سنتے ہی پلٹ کر اسے دیکھا تھا جو خود ایک دعوت بنی ہوئی تھی۔۔

"مجھے ایک رات کے لئے تمہاری ہانم داؤد چاہیے۔۔بالاج کی بات سن کر حرا کی آنکھیں چمکیں بالاج طارق ایک بزنس ٹائیکون طارق سلیم کا اکلوتا وارث تھا اور یہ بات ساجد نے ہی اسے ایک رات بتائی تھی۔۔۔۔

۔۔۔۔

"کہاں کھو گئی؟ بالاج نے اسکے سامنے چٹکی بجاتے ہوۓ کہا کہ حرا بائی ہڑبڑا کر ہوش میں آئی تھی۔۔

"آ۔۔وہ تو ٹھیک ہے صاحب لیکن ہانم بہت ٹیڑھی ہے کبھی ہاتھ نہیں آئے گی۔۔

"ہنہہ!۔ایک طوائف کہ اتنے نخرے؟

"ارے نہیں بس کنواری ہے اور حسین بھی بہت ہے تبھی نخرہ کرتی ہے۔۔میں تو ایک بار اسکے کس بل نکال دوں لیکن ہاتھ نہیں آتی۔۔

بالاج سامنے کھڑی مکار عورت کی باتیں سن کر زور سے ہنسا تھا۔۔

"اب تو واقعی ہانم داؤد سے ملنا ہی پڑے گا۔۔۔بالاج ہنسی روک کر کہتا جھٹکے سے پلٹ کر کوٹھی سے نکالتا چلا گیا تھا۔۔۔

"کیا بات ہے یہ کہاں گیا؟ ساجد کی آواز پر حرا بائی نے پلٹ کر اسے دیکھا تو مسکرا کر چلتے ہوۓ اسکے نزدیک گئی۔

"تمھارے دوست کو ہانم چاہئے۔۔

"تو میری جان دے دو کیا مسلئہ ہے؟ ساجد خماری میں کہتا زور سے ہنسا تھا۔۔۔۔

"وہ نہیں مانے گی۔

"تو مناؤ ورنہ مجھے بتاؤ میں ٹھیک کرتا ہوں کمینی کو۔۔۔۔ساجد نحوست سے کہتا حرا بائی کا ہاتھ پکڑ کر کمرے کی جانب بڑھنے لگا۔۔۔

ساجد کا کام تھا کہ وہ امیر گھرانوں کہ لڑکوں سے دوستی کر کے انھیں زبردستی دو تین بار وہاں لاتا تھا کے بعد میں وہ خود ہی اس دلدل میں دھنستے چلے جاتے تھے۔۔۔

"کوئی ضرورت نہیں ہے تجھے جانے کی میں وہاں سب دیکھ رہی تھی کیسے پیسہ نچھاوڑ کر رہا تو اس پر اور مجھے ایک کوڑی نہیں دیتا۔۔۔حرا بائی نے منہ بنا کر کہتے الماری سے پیسے کی گڈی نکال کر اسکی طرف اچھالی تھی جسے کیچ کرتے ساجد نے گڈی کو سونگھنے کے بعد چوما تھا۔

"کیا بات ہے آج اتنی مہربانی؟ ساجد نے زیادہ نوٹ دیکھ کر اسے دیکھا۔۔

"ہاں لڑکا مالدار ہے۔۔۔تو نے جو اسے یہاں لانے کہ لئے کہا مجھے نہیں لگتا وہ اب پیچھے ہٹے گا ضدی مرد جب واقعی ضد پر آجائے تو وہ سب کر گزرتا ہے جو ہم کبھی گمان بھی نہیں کرتے۔۔۔۔۔بس ایک بار ہانم بیگم میری مٹھی میں آجائے۔۔۔۔پھر تو دیکھنا محفل میں آئے ہر ایک مرد کے بستر کی زینت بناؤں گی اسے۔۔۔...حرا بائی نفرت سے بول کر ہنسی تھی. ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"ہانم باجی ایک بات کہوں آپ سے؟ انیلا جو ہانم کے پیروں کو دبا رہی تھی ساتھ اسے بھی دیکھ رہی تھی جس نے۔ سر پر ڈوپٹہ لئے آنکھوں کو موند رکھا تھا۔

"ہمم کہو۔

"میں آپ کو باجی صرف کہتی نہیں مانتی بھی ہوں۔انیلا کی بات پر اس نے افسردگی سے مسکراتے ہوۓ آہستہ سے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا تھا۔۔

"آج پھر حرا اماں کی جاسوسی کی ہے تم نے؟ ہانم کی بات پر انیلا کا منہ حیرت سے کھول گیا۔۔۔

"آپ کو کیسے پتہ چلا؟

"یہ جو تمہارا چہرہ ہے نہ اس پر واضح لکھا ہے کہ آج پھر انیلا بیگم نے حرا اماں کی چوکیداری کی ہے۔۔۔ہانم آگے کو ہو کر اسکی تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھتے ہوئے بولی تھی۔۔

"پھر آپ تیار رہیں کبھی بھی وہ شخص آپ کے دروازے پر دستک دینے آسکتا ہے.۔۔انیلا نے خفگی سے کہتے سر نیچے کر لیا جبکہ ہاتھ ہنوز اسکے پیر دبانے میں مصروف تھے۔۔

"آجائے ہم دیکھ لیں گے اسے بھی۔۔۔۔

"اففف! ہانم باجی یہ سب بہت غلط ہورہا ہے۔۔۔

"غلط؟ کیا تم نے غلط کہا انیلا؟ ہانم نے چونک کر اسے دیکھا یکدم گرے انکھیں نم ہونے لگیں تھیں۔۔

"یہ غلط نہیں انیلا یہ گناہ ہورہا ہے اور ہم اس گناہ میں برابر کے شریک ہیں۔۔۔۔جانتی ہو جب ہم بھری محفل میں ناچتے ہیں تو کتنی گھن آتی ہے اپنے وجود سے۔۔۔اور یہ خوبصورتی کیا اتنی بے مول ہوتی ہے کے ہر شخص اسے غلیظ نظروں سے دیکھے،کبھی تو دل کرتا ہے کہ واقعی خود کو ختم کردیں لیکن ہم وہ بھی نہیں کر پاتے۔۔اس گناہ کہ دلدل میں ہم کچھ نہ کرتے ہوئے بھی گنہگار ٹھہرا دیے گئے ہیں۔۔۔۔ہم کتنی پاک دامن ہیں اسکا گواہ صرف اللّه ہے انیلا۔۔۔۔بولتے بولتے ہانم کی آواز روندھ گئی تھی جبکہ رونے سے ناک اور گال سرخ ہوگئے تھے جبکہ انیلا چپ سی اسے دیکھنے لگی۔۔

"آہ! جاؤ۔۔۔اب ہم آرام کرہں گے۔۔ہانم گہری سانس لیتے اپنے دونوں پیروں کو سمیٹ کر اسے کہتی دوبارہ آنکھوں کو موند چکی تھی جبکہ انیلا خاموشی سے اٹھ کر کمرے سے نکال گئی تھی۔۔

اتوار کا دن تھا ایسے میں نورین عائشہ اور پڑوس سے آئی اسکی دوست کنزا ساتھ بیٹھیں ٹی وی پر umrao jaan مووی دیکھ رہی تھیں۔۔۔ابھی مووی میں پہلا گانا ہی آیا تھا کے کنزا یکدم ہی کچھ یاد آنے پر پرجوش انداز میں انکی جانب گھومی تھی۔۔

"ارے یار تم لوگوں کو معلوم ہے پرسوں کالج سے واپسی پر میں نے ایک طوائف کو دیکھا تھا۔۔۔

کنزا کے پرجوش انداز پر دونوں جو اسی کی طرف متوجہ ہوئی تھیں حیرت سے پہلے اسے پھر ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں۔۔

"تمہیں کیسے معلوم کے وہ طوائف ہے؟ اور یہ فضول بات کرنے کا مقصد ہی کیا ہے آخر۔۔۔ابھی امی نے سن لیا نہ تو تم گھر سے باہر ہوگی۔۔۔۔عائشہ نے گھورتے ہوۓ اسے کہا تھا جس کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔۔

"اففف! ایک تو عائشہ آپا تم ڈرتی بہت ہو۔۔رہا سوال مجھے کیسے پتہ چلا تو وہ وین والے انکل ساتھ بیٹھے ہمارے اسکول کے لڑکے کو بتا رہے تھے۔۔

"ارے واہ۔۔۔کتنی عجیب بات ہے یہ وہ وین والا اسے کیوں بتا رہا تھا؟ عائشہ کو یہ بات سن کر کافی عجیب لگی تھی جبکہ نورین نے سنجیدگی سے ٹی وی کی جانب دیکھا تھا جہاں اتنے مردوں کے درمیان ہیروئین رقص کرنے کے ساتھ ہر مرد کے سامنے جا کر بیٹھ کر ادا دکھاتی پھر واپس گھوم جاتی۔۔۔

عائشہ اور کنزا ہنوز بحٹ میں لگ گئی تھیں۔۔

"کبھی پاس سے دیکھا ہے تم لوگوں نے ان عورتوں کو؟ نورین کی بات سنتے ہی عائشہ نے اپنی بہن کو گھور کر کانوں کو ہاتھ لگایا تھا۔۔۔۔جبکہ کنزا اسکی شامت آنے کے خیال سے ہی مسکرانے لگی تھی۔۔۔

یکدم ہی عائشہ نے اسکے سر پر ہاتھ جڑا تھا۔۔۔

"استغفرالله کرو لڑکی اللّه ایسی عورتوں اور ایسی جگاہوں سے محفوظ رکھے ہر لڑکی کو۔۔۔بیوقوف کہیں کی سوچ کر تو بولا کرو ابھی امی نے سنا ناں تو گھر سے نکلنا بند کردیں گی تمہارا۔۔۔۔عائشہ کو تو جیسے اسکی بات پر پتنگے لگ گئے تھے۔۔

نورین نے اپنا سر سہلاتے چہرہ پھیر لیا تھا۔۔

"میں تو بس ایک بات کر رہی تھی۔۔

"کوئی ضرورت نہیں ہے ایسی غلاظت بھری باتیں کرنے کی۔۔حد ہوگئی۔۔۔

"عائشہ ایسے تو مت کہو یہ سب بھی مجبوری میں۔۔۔

"تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہوگیا ہے؟ تم اب ایسی عورتوں کی وکالت کرو گی اپنی عمر دیکھو ایسی بکواس تمہیں زیب دیتی ہے۔۔۔عائشہ غصّے میں جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی کہ کنزا بھی ڈر کر وہاں سے جانے کے لئے پر تولنے لگی

"میں وکالت نہیں کر رہی ہوں عائشہ لیکن ہر روز کتنی ہی لڑکیوں کو اغوا کیا جاتا ہے بیچا جاتا ہے کون کہاں سے کہاں غائب ہوجاتی ہے کسے پتہ کہ وہ لڑکی کہاں جاتی ہے۔۔۔۔کتنی لڑکیاں عورتیں ان گندی جگاہوں میں بیچ دی جاتی ہونگی۔

"تمہارا سچ میں دماغ خراب ہوگیا ہے نورین۔۔عائشہ سختی سے کہتی آگے بڑھ کر ٹی وی بند کر چکی تھی۔۔

"آئیندہ ایسی مووہز دیکھنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے اور اب اس بارے میں کوئی بات نہیں ہوگی ورنہ میں امی کو جا کر ابھی بتا دوں گی سمجھی اور تم بھی کنزا اپنی پڑھائی پر توجہ دو ضروری نہیں ہے جو بھی سنو اسے آکر دوسروں کے سامنے چٹخارے لے کر بتاتی پھیرو۔۔۔۔استغفرالله اللّه کا شکر کرو کہ تم لوگ محظوظ اپنے والدین کے سائے تلے ہو۔۔۔۔۔۔عائشہ دونوں کا دماغ ٹھکانے لگا کر وہاں سے چل دی تھی۔

کنزا تو اپنی اتنی بے عزتی پر منہ پھولا کر وہاں سے اپنے گھر کی جانب روانہ ہوگئی جبکہ نورین اپنے کمرے کی جانب بڑھتی اسی منظر کو سوچتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی تھی ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"بھائی آپ کہیں جا رہے ہیں؟ تسنیم کندھے پر ہینڈ بیگ لٹکاتے ہوئے رئیس کے پیچھے آئی تھی۔۔

وہ جو آج جلدی کام نبٹا کر پھر حرا بائی کہ کوٹھے پر جانے کہ لئے نکل رہا تھا تسنیم کی آواز پر یُکدم روک کر پلٹا تھا۔۔۔

"ہاں ایک بزنس ڈنر ہے وہیں جا رہے ہیں۔۔۔۔تم بتاؤ یہ سواری کہاں جا رہی ہے ؟

"یہ سواری مارکٹ جا رہی ہے۔۔۔

"یاسمین اور امی۔۔۔۔۔

"نہیں وہ تو نہیں جا رہیں مجھے کچھ ضروری چیزیں لینی ہیں قریب ہی جا رہی ہوں۔۔۔۔تسنیم نے یکدم ہی رئیس کی بات کاٹ کر بتایا۔۔۔

"چلو ٹھیک ہے پھر خیال سے جانا۔۔۔اللّه حافظ۔۔۔

"ٹھیک ہے۔۔۔اللّه حافظ بھائی.۔۔۔تسنیم مسکرا کر آگے بڑھ کر رئیس کا گال چوم کر اس سے پہلے نکل گئی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"ہانم آپی۔۔۔۔انیلا کی آواز پر اس نے چونک کر اسے پلٹ کر دیکھا تھا۔۔۔

"کیا بات ہے انیلا؟ ہانم نے نماز کے اسٹائل میں بندھے ڈوپٹے کو کھولتے ہوۓ اسے دیکھ کر پوچھا

"نماز پڑھ رہی تھیں؟

"ہاں۔۔۔۔۔کیوں طوائف پر نماز فرض نہیں ہے؟ ہانم نے مسکرا کر اس سے سوال کیا تھا۔

"نہیں۔۔میرا مطلب ایسی کوئی بات نہیں ہے انسان اور اللّه کا تعلق اتنا کمزور بھی نہیں ہے۔۔۔میں تو بس آپکے پاس حرا اماں کا پیغام لائی تھی۔۔۔انیلا کی بات سن کر ہانم کی مسکراہٹ غائب ہوئی تھی۔۔

"بتاؤ ہم سن رہے ہیں۔۔۔

"تیار ہوجائیں کچھ دیر میں آپ کو بالاج صاحب کے فارم ہاؤس جانا ہے۔۔۔۔انیلا کے ہچکچا کر بتانے پر ہانم نے بے یقینی سے اسے دیکھا تھا ایسا پیغام پہلی بار اسے دیا گیا تھا یہ جاننے کے باوجود کے وہ کبھی کہیں نہیں جاۓ گی تو پھر کیونکر اسے یہ حکم دیا گیا تھا۔

ضبط سے ہانم کا چہرہ سرخ پڑ چکا تھا۔۔۔

"جا کر کہہ دو انھیں ہانم نہ کبھی کہیں گئی ہے نہ ہی جاۓ گی۔۔

"نہیں گئی تو آج جاؤ گی کافی بڑی قیمت ملی ہے تیری اسلئے نہ جانے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا انیلا وہ گرے ساڑی نکال کر دے اسے۔۔

کمرے میں حرا بائی کی آواز پر دونوں نے چوکھٹ پر کھڑی حرا بائی کو دیکھا تھا جو اسے کہہ کر انیلا سے بولی تھی

"آپ ایسے زبردستی نہیں کر سکتیں ہمارے ساتھ۔۔ہم کہیں نہیں جائیں گی سنا آپ نے ورنہ۔۔۔۔

"ورنہ کیا ہاں خود کو آگ لگائےگی یا زہر کھائے گی؟ ہانم بری طرح کانپنے کہ باوجود مضبوط لہجے میں کہہ رہی تھی جب اچانک حرا بائی کے عقب سے ساجد نے اندر آتے ہوۓ اسکی بات کاٹ کر کہا۔۔

انیلا جو الماری سے ساڑی نکال رہی تھی آواز پر سہم کر اس نے ساجد کو دیکھا تھا جس کہ ہاتھ میں چمڑے کی بیلٹ تھی۔۔

ّوہ حرا بائی کا خاص لڑکا تھا جو وہاں کی ہر لڑکی پر تشدد کر کے انھیں قابو کرتا تھا یہی نہیں کبیر بھی انہی کی گنگ کا حصّہ تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

"ہم آپ سے بات نہیں کر رہے ہیں تو بہتر ہے۔۔۔۔۔آآآآآا!! ہانم کی بات ابھی منہ میں ہی تھی کہ ساجد نے اسے بالوں سے جکڑ کر پوری قوت سے زمین پر پٹخا تھا۔

"ہانم آپی۔۔۔انیلا تیزی سے اسکی طرف بڑھی لیکن ساجد نے بیچ میں ہی کھینچ کر انیلا کو بیلٹ مار کر کمرے سے جانے کا کہا انیلا تڑپ کر پیچھے ہٹتے کمرے سے بھاگی تھی۔۔

"پانچ منٹ میں تیار ہوجاؤ اگر ایک منٹ بھی دیر ہوئی تو میں خود آؤں گا تیرے کپڑے بدلنے اور یہاں کسی کا باپ مجھے نہیں روک سکے گا۔۔۔سمجھی پانچ منٹ۔۔ ساجد پنجوں کہ بل بیٹھ کر سنگین لہجے میں حکم دے کر اٹھا۔۔

"تم جیسوں کی پکڑ بہت سخت ہوگی دیکھ۔۔۔چٹاخ!!

ہانم کی بات ادھوری رہ گئی تھی کے ساجد نے گُھما کر اسکے گال پر تھپڑ رسید کیا تھا کہ حرا بائی نے آگے بڑھ کر جلدی سے اسکا بازو پکڑا تھا

"پاگل ہوگیا ہے کیا چہرہ خراب کرے گا۔۔۔

"جتنا اکڑنا ہے ابھی اکڑ لے جہاں جا رہی ہے نہ وہ بندا تیری ساری اکڑ آج رات توڑ کر رکھ دے گا پھر دیکھتا ہوں تجھے۔۔۔۔۔۔ساجد غصّے میں کہتا کمرے سے چلا گیا حرا بائی نے آواز دے کر شمائلہ کو اندر بلا کر اسے تیار کرنے کا حکم دے کر تفاخر سے چلتی کمرے سے نکل گئی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"ارے رئیس صاحب آپ کب آئے؟ حرا بائی جیسے ہی حال کمرے میں آئی اسے دیکھتے ہی کھل اٹھی تھی۔۔

"کیا کریں ہمارا تو دن ہی اچھا نہیں گزرتا کتنے دنوں سے ہانم کو دیکھا جو نہیں۔۔۔رئیس اردگرد نظر دوڑاتے ہوئے بولا تھا کہ حرا بائی گہری مسکراہٹ سے سر کو ہلانے لگی۔۔۔

"ہماری ہانم ہے ہی ایسی کے کوئی بھی اسکا آثیر ہوجاۓ لیکن معاف کیجئے گا ابھی اس سے ملنا ممکن نہیں ہے۔۔

"پر کیوں؟ رئیس یکدم ہی بے چین ہو اٹھا تھا۔۔

"دراصل موسم اور پھر کل کی محفل کہ بعد طبیعت تھوڑی ناساز ہوگئی ہے بس اسی وجہ سے دوائی کھا کر آرام کر رہی ہے۔۔

"کیا میں دیکھ سکتا ہوں؟ رئیس کی بات پر حرا بائی لمحے بھر کہ لئے گھبرائی تھی لیکن وہ مکار عورت تھی۔۔۔

"معافی چاہتی ہوں وہ اندر سے دروازے کو کنڈی لگا کر سوتی ہے۔۔۔حرا بائی کی بات پر رئیس نے کوٹ کی جیب سے پیسے نکال کر سامنے رکھے تھے جسے مسکرا کر اس نے پکڑ لیے۔

"آج واقعی ممکن نہیں ہے پر ہاں کل آپ آجائیں بیشک ایک رات کہ لئے ساتھ بھی لے جائیے گا۔۔۔حرا بائی کے ذومعنی انداز پر رئیس کھل اٹھا تھا۔۔۔

"ٹھیک ہے پھر کل اسے ہم خود لینے آئیں گے خباثت سے کہتا وہ کرسی سے اٹھ کر وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا جب ہانم کے دل دہلا دینے والی چیخیں پوری کوٹھی میں گھونجی تھی۔۔۔۔۔

"ہائے اللّه یہ لڑکی کتنی ضدی ہے۔۔ ساجد چھوڑ اسے۔۔۔۔حرا بائی بڑبڑا کر چیختی ہوئی سیڑیوں کی طرف بھاگی تھی۔ ۔

"یار کہاں رہ گئی تھی کب سے انتظار کر رہا ہوں؟ تسنیم جیسے ہی ہوٹل میں داخل ہوئی مقابل نے گھور کر اسے دیکھا تھا۔۔تسنیم نے مسکرا کر اسکے دونوں گالوں کو بچوں کے انداز میں کھینچا تھا۔۔

"سوری بابا تم تو جانتے ہو بھائی کو بھی جواب دینا ہوتا ہے۔۔اچھا مان جاؤ نہ یار دیکھو تو میں تمھارے لئے کیا لائی ہوں۔۔تسنیم نے اسے کہتے ساتھ ہاتھ میں تھامے شوپنگ بیگ سے ٹی شرٹ نکالی تھی۔۔جسے احان دیکھتے ہی دھیرے سے مسکرایا تھا۔۔وہ اسکے چاچا کا بیٹا تھا احان کی فیملی بھی لاہور میں ہی رہائش پذیر تھی۔۔

"اچھا اچھا بس رہنے دو بہانے باز لڑکی سب جانتا ہوں مجھے منانے کے لئے تمہیں ان خریداری کی ضرورت نہیں ہے،چلو اب جلدی میرے پیٹ میں چوہے بھنگڑے ڈال رہے ہیں۔۔۔۔۔احان نے کہتے ساتھ اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا کے دونوں ساتھ ہنستے ہوۓ ٹیبل کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حرا بائی ہانپتی کانپی جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی ہانم کو دیکھ کر گنگ رہ گئی سب لڑکیاں وہاں موجود تھیں لیکن ساجد کے وحشیانہ سلوک کی وجہ سے کوئی بھی آگے بڑھ کر روکنے کی اسے ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔۔

"نکلو باہر سب۔۔۔۔۔ نکلو۔۔۔۔۔۔ساجد کی دھاڑ پر سب کمرے سے بھاگی تھیں جبکہ حرا بائی نے آگے بڑھ کر اسے پیچھے دکھیلا تھا۔۔

"کیا کر رہا ہے پاگل ہوگیا ہے۔۔۔یہ، یہ کیا حالت کردی تو نے،گاڑی لینے آنے والی ہوگی اسے۔۔۔۔اور تو نے اسے لہو لوہان کردیا۔۔۔۔حرا بائی ہانم کی حالت دیکھ کر تو جیسے پاگل ہوگئی تھی جبکہ ساجد کا غصہ کسی طور کم نہیں ہورہا تھا۔۔

"بھاڑ میں گیا سب۔۔۔چل نکل یہاں سے تو اسکی تو میں اکڑ نکالوں گا۔۔۔۔ساجد کی بات پر ہانم جس کے ماتھے سے خون نکل کر گال پر بہہ رہا تھا خوف سے کانپتی کھسک کر سامنے کھڑے سفاک شخص کی ٹانگ پکڑ کر سر کو نفی میں ہلانے لگی۔

"نہیں اللّه کے واسطے ایسا مت کریں۔۔۔آپ جو کہیں گے ہم کرنے کو تیار ہیں۔۔۔۔ہم۔۔۔۔ہم ابھی تیار۔۔۔آآآ

"ابے چل سالی بہت ہوگیا تیرا نخرہ۔۔۔ساجد غصّے سے اسکے کندھے پر لات مار کر کہتا حرا بائی کو زبردستی کمرے سے نکال کر کمرے کو لاک لگا چکا تھا جبکہ حرا بائی دروازہ پٹتی اسے روکنے لگی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ساجد دروازہ لاک کر کہ پلٹ کر اپنی شرٹ کے بٹن کھولنے کے ساتھ قدم قدم چلتا تھر تھر کانپتی ہانم کو پکڑ کر بیدردی سے پلنگ پر دکھیل چکا تھا۔۔

"ہانم داؤد کل کی صبح تمھارے لئے بہت خوبصورت ہونے والی ہے۔۔۔ساجد کہتے ساتھ چھت پھاڑ قہقہے لگانے لگا۔

ہانم کی ہمت اب ٹوٹ رہی تھی خون بہنے کے ساتھ جسم پر زخموں نے اسے نڈھال کر دیا تھے چت لیٹی وہ سامنے موجود شخص کو قریب آتے دیکھ رہی تھی آہستہ ہی آہستہ اسکی آنکھوں کہ سامنے اندھیرا چھا رہا تھا۔

ساجد نے جیسے ہی اسکی گردن کو چھوا ہانم کے جسم کو ساکت دیکھ کر تیزی سے پیچھے ہٹ کر شرٹ اٹھا کر دروازے کی طرف بھاگا۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"کیا بات ہے ابھی تک کیوں جاگ رہی ہو کل کالج نہیں جانا تمہیں؟

عائشہ نے اٹھ کر وقت دیکھا پھر اسے دیکھ کر بستر سے اتر کر اس تک آئی تھی جو کرسی پر بیٹھی سامنے میز پر رکھی اپنی ڈائری کو گھور رہی تھی۔۔۔عائشہ کی آواز پر چونک کر اسکی جانب دیکھنے لگی. ۔۔

"بس نیند نہیں آرہی تھی۔۔۔کھوئے کھوئے انداز میں بولتی وہ اپنی ڈائری کو گھورے لگی عائشہ نے گہری سانس لے کر اسکی کرسی کو گھمایا تھا کہ وہ چونک کر ہوش میں آئی تھی۔

"مجھے پتہ ہے تمہیں میرا ڈانٹنا اچھا نہیں لگا لیکن نورین ہم جس موضوع کو لے کر بحث کر رہے تھے وہ بالکل بھی درست نہیں تھا۔۔انکی دنیا بہت گندی ہے۔۔پنجوں کے بل بیٹھی وہ اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر سمجھا رہی تھی نورین نے اسکی بات سن کر سر کو اثباب میں ہلایا جس پر عائشہ یکدم مسکرائی تھی۔

"گڈ! اب دفع کرو ان باتوں کو ہمم چلو اٹھو اب سوجاؤ۔۔۔۔عائشہ اسے گال پر پیار کرتی اٹھ کر بیڈ کی طرف بڑھ گئی جبکہ نورین گہری سانس لے کر ڈائری کو دراز میں سب سے نیچے رکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

"ہاں بھئی آگئی عقل ٹھکانے تیری یا رات کو آؤں دوبارہ؟

انیلا اپنے ہاتھ سے ہانم کو سیب کھلا رہی تھی ایک طرف حرا بائی سر پکڑے بیٹھی تھی جب ساجد انگڑائی لیتا وہاں آتے ہوۓ بولا ہانم بنا اسکی طرف دیکھے سیب کھانے میں مگن تھی۔۔

"پڑھ گئی تیرے کلیجے کو ٹھنڈک۔۔حرا بائی غصّے سے چیخی تھی۔

"لو میں نے کیا کیا ہے۔

"کیا؟ تجھے نظر نہیں آرہا ہاں دیکھ اسکا چہرہ۔۔کیا حشر کیا ہے تو نے اسکا اوپر سے میرا نقصان کروا دیا،جانتا ہے ایک رات کے تیس ہزار دے رہا تھا اور اب لنگڑی کچھ دن ناچ بھی نہیں سکتی۔۔حرا بائی تو جیسے پھٹ پڑی تھی جبکہ ساجد اسکی بات پر اکتا کر صوفے پر نیم دراز ہوتا انیلا کو اپنے پاس آنے کا اشارہ کرنے لگا انیلا پلیٹ بستر پر رکھتی ڈرتے ڈرتے اس تک گئی تھی ہانم نے نظر اٹھا کر اسے نفرت سے دیکھا تھا لیکن اگلے ہی لمحے دوبارہ نظریں جھکا لیں۔۔

"میری جان فکر نہ کر اسے اچانک گھر جانا پڑھ گیا تھا۔ اب دیکھ کل کوئی گاڑی آئی؟ نہیں ناں۔۔۔ساجد انیلا کو اپنے نزدیک بیٹھا کر اسکے کھلے بالوں کو چَِھیڑتے ہوۓ بتانے لگا حرا بائی کے ماٹھے پر پڑے بل یکدم غائب ہوئے تھے۔

"ہاں یہ بھی پھر شکر ہے اللّه کا۔۔۔لیکن دیکھ ساجد آئیندہ تو اسے ہاتھ نہیں لگائے گا۔

"ٹھیک ہے نہیں مارتا۔۔۔۔چل اب بور مت کر،میں انیلا کو لے کر جا رہا ہوں شام تک واپس آجاؤں گا۔۔ساجد اسکی باتوں سے اکتا کر بولتا اٹھ کھڑا ہوا انیلا نے بےبسی سے ہانم کو دیکھا تھا جس نے اسے آنکھ کے اشارے سے تسلی دی تھی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

"بالاج۔۔۔۔شگفتہ بیگم کی آواز پر وہ جو فون پر بات کر رہا تھا جلدی سے بات کو سمیٹ کر موبائل کو سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اپنی ماں کی طرف متوجہ ہوا جو ساڑی میں ملبوس کہیں جانے کے لئے تیار تھیں۔۔۔

"جی مام؟

"میری جان۔۔۔شگفتہ بیگم قریب آکر اسکے گال کو پیار سے چھوتے ہوئے مسکرائیں۔

"تمہارے بیگز اور ریفریشمنٹ کے لئے ڈرنکس چپس بسکٹس چاکلیٹ سب پیک کروا دیا ہے راستے میں جب بھوک لگے تو کھا لینا

"تھینک یو سو مچ پر اس کی ضرورت نہیں تھی میں راستے سے خود خرید لیتا۔۔۔

"کوئی بات نہیں میری جان اپنے بیٹے کے لئے میں اتنا تو کر ہی سکتی ہوں۔۔۔۔اچھا چلو اب میں چلوں گی پہلے ہی لیٹ ہوگیا ہے مسز عمران ناراض ہوجائیں گی۔۔۔۔۔شگفتہ پیار سے اسے جواب دے کر کلائی پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھتیں اسے گلے لگا کر دروازے تک جا کر پلٹیں۔۔

"Take care...Have a safe trip my son....

بالاج انکی بات سن کر صرف دھیرے سے مسکرا دیا تھا۔ اسکی ماں کو ہمیشہ سے پارٹیز اور خاص کر اپنی آزادی پیاری تھی لیکن پھر بھی وہ اپنے شوہر اور بیٹے سے بہت محبت کرتی تھیں۔۔۔۔

بالاج بائے روڈ اسلام آباد جا رہا تھا اپنے بچپن کے دوست کے بھائی کی شادی میں۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

سفید کوٹھی کہ سامنے تیزی سے آکر گاڑی رکی تھی۔۔

"ڈیڈ میں آپ کو بعد میں فون کرتا ہوں۔۔۔جی میں ابھی گھر سے نکلا ہوں۔۔آہ! ٹھیک ہے۔۔۔اللّه حافظ۔۔۔بالاج سنجیدگی سے بات کرتا موبائل کان سے ہٹا کر بونٹ پر رکھ چکا تھا۔۔۔

"آہ! میں تو اسے بھول ہی گیا تھا۔۔۔۔بالاج خودکلامی کرتا گاڑی سے اتر کر اندر بڑھا تھا۔۔

بالاج کے اندر جاتے ہی ایک اور گاڑی آکر رکی تھی۔۔۔

رئیس گاڑی سے اتر کر اپنے کوٹ کا بٹن لگاتا مسکراتے ہوئے اندر بڑھا تھا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"ہانم آپی حرا اماں کہہ رہی ہیں کہ تیار ہوجائیں۔۔۔انیلا اسکے قریب آکر پیغام دے پلٹنے لگی جب ہانم نے اسکا ہاتھ پکڑ کر روکا تھا۔

"انیلا ہمیں بہت ڈر لگ رہا ہے.۔۔۔ہانم اسے دیکھ کر کہتی انیلا کہ گلے لگ گئی تھی ۔

"آپ بہت بہادر ہیں ہانم آپی ،مجھے آپ پر بھروسہ ہے آپ کا لباس میں نے نکال دیا ہے تیار ہوکر آجائیں۔۔۔ انیلا اسے کہہ کر الگ ہوتی اسکے ہاتھوں کی پشت چوم کر کمرے سے نکل گئی۔۔

اسکے جاتے ہی ہانم کی سسکی نکلی۔۔۔

"یا اللّه مجھے بچا لیں۔۔۔اللّه۔۔۔ہانم روتے ہوئے نیچے گرنے کے انداز میں بیٹھتی سامنے لٹکے گھیردار سیاہ فراک کو دیکھتی پھوٹ پھوٹ کر روتی چلی گئی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"معافی چاہتی ہوں بالاج صاحب لیکن ہانم تو چلی گئی ہے رئیس صاحب کہ ساتھ ۔۔۔حرا بائی صفائی سے جھوٹ بولتی افسوس کا اظہار کرنے لگی جبکہ بالاج نے اسکی بات پر تعجب سے سر کو ہلکے سے جھٹکا تھا۔۔

"کمال ہے حرا بائی تم نے تو کہا تھا کہ وہ کسی سے تنہا نہیں ملتی پھر چلی کیسے گئی؟

"ہاہاہا!!! ارے بالاج صاحب یہ کوٹھا ہے اور وہ ایک طوائف۔۔۔ہنہہ یہ تو بس شروع شروع کے نخرے ہوتے ہیں ان کے یہ صرف پیسے سے چلتی ہیں۔۔۔ویسے فکر مت کریں ساجد صاحب نے بتایا تھا کہ آپ جھوٹا نہیں چھوتے پر یہ ناچیز آپ کے لئے ہیرا نکال کر لائے گی تب تک انتظار کریں۔۔۔

حرا بائی خوش اخلاقی کا دکھاوا کرتے ہوۓ کہتی اسکے جانے کا انتظار کرنے لگی۔۔۔

اسے ساجد سے ہی معلوم چلا تھا کہ وہ یہاں سے جا رہا تھا پھر وہ اس کی وجہ سے رئیس سے کیسے ہاتھ دھو بیٹھتی اسے تو بس پیسے سے مطلب تھا چاہے بالاج سے ملے یا پھر رئیس سے۔۔۔

"اوکے۔۔۔۔۔بالاج کہتے ہی دروازے کی طرف بڑھ گیا دروازے سے نکلتے ہوے جہاں رئیس نے اسے دیکھ کر چہرہ پھیرا تھا وہیں بالاج سوٹ میں موجود اس شخص کو دیکھ کر سر جھٹک کر آگے بڑھ گیا تھا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میز کے گرد بیٹھیں وہ تینوں رات کا کھانا کھا رہی تھیں جب تسنیم نے اپنی بھابھی کو دیکھا۔

"کیا ہوا بھابھی؟ تسنیم کی بات پر اسکی ماں نے ان دونوں کو دیکھا تھا۔۔

"مجھے کیا ہونا ہے تسنیم۔۔۔۔میری حیثیت ہی کیا ہے اس طوائف کہ سامنے۔۔۔یاسمین نے اسکے پوچھتے ہی دکھ سے کہا کہ دونوں ماں بیٹی نے ایک دوسرے کو دیکھ کر نظریں چُرائیں۔۔۔

"ایسے مت کہیں بھابھی ایک طوائف کا آپ سے کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔۔۔دکھی مت ہوں میں سب ٹھیک کَردوں گی۔ ۔۔۔

"لیکن کب تسنیم ہاں کب ؟ جانتی بھی ہو کتنی اذیت ہوتی ہے مجھے جب وہ اس گھٹیا عورت کہ پاس جاتے ہیں لیکن وہ بہت مکار ہے رئیس کو تڑپا رہی ہے،آج پھر وہ وہاں گئے ہیں۔۔۔تم نے دیکھا نہیں آج کتنے خوش تھے ضرور وہ آج رات نہیں آئیں گے دیکھ لینا. ۔۔۔یاسمین بولتے بولتے زاروقتار رونے لگی جبکہ تسنیم کی نفرت کا گراف اس طوائف کہ لئے کچھ اور بڑھا تھا۔۔

"اللّه غرق کرے تمہیں۔۔۔۔تسنیم نے زہرخند لہجے میں کہتے ہاتھ میں پکڑی روٹی کو پلیٹ میں رکھا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"ہیلو مام۔۔۔جی میں ڈیڈ سے نکلتے وقت بات کر چکا ہوں.۔۔۔۔آہ آپ فکر مت کریں مجھے بھوک لگے گی تو کھا لوں گا۔۔۔بالاج پیٹرول پمپ پر روکا ہوا تھا ساتھ ہی اپنی امی سے بھی محو گفتگو تھا۔۔۔جب پٹرول فل ہوتے ہی اس نے جلدی سے بات ختم کرتے موبائل ڈیش بورڈ پر رکھا تھا۔۔پھر زن سے گاڑی مین روڈ پر لاتے ساتھ ہی ہاتھ بڑھا کر گانے کی آواز تیز کردی ۔۔۔

"اففف!! یا اللّه اسلام آباد پہنچنے تک تو یہ ہمیں بھہرا کر دیں گے۔۔۔۔۔ہانم نے روہانسی ہوتے اپنے دونوں کانوں پر ہاتھ رکھا کہ اچانک بالاج کا ہاتھ پیچھے اپنے بیگ پر آیا تھا ساتھ ہی وہ جو پچھلی سیٹ پر کالی چادر اور سامان کو اپنے اوپر خود ہی سیٹ کر کے چھپی ہوئی تھی دھک سے رہ گئی۔. ۔۔۔۔

"ہانم داؤد تم تو گئی۔۔۔۔۔۔خوف سے آنکھوں کو سختی سے میچ کر اس نے چادر میں چہرہ چھپایا تھا۔

بالاج نے کوک کا کین نکال کر ہاتھ وہاں سے ہٹا لیا تھا ہانم نے سکون بھرا سانس لے کر کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں جبکہ بالاج کوک کا کین پیتے ساتھ خود بھی گا رہا تھا۔۔۔

ہانم نے ڈبل آواز پر کانوں سے انگلیاں نکالی تو بے ساختہ مسکرا دی۔۔۔۔

"اتنی دیر ایک ہی زاویے پر پڑے پڑے ہم تو اکڑ جائیں گے۔۔۔اففف!! اللّه اب کیا کریں ہم ان کے سامنے آگئے تو یہ جانے کیا کریں گے۔۔۔سفر جاری تھا جب ہانم کو زخموں میں ٹیس اٹھنے پر اپنی حالت کا احساس ہوا تھا۔۔

اس سے قبل وہ کچھ اور سوچتی گاڑی یکدم رکی تھی ہانم نے ڈر کر جتنی بھی دعائیں آتی تھیں پڑھ کر خود پر حصار کرنا شروع کردیا جبکہ بالاج گاڑی سے اتر کر شاپ کی طرف بڑھتا اندر گھس گیا تھا ۔۔

بمشکل دو منٹ ہی گزرے تھے جب ہانم نے آہستگی سے چادر سے چہرہ نکال کر گاڑی میں نظر دوڑائی۔۔۔

پھر دھیرے دھیرے اٹھ کر باہر دیکھنے لگی وہاں اکا دکا ہی دکانیں تھیں اور اس وقت صرف ایک ہی کھولی تھی جبکہ وہاں گھروں کا نام و نشان نہیں تھا۔۔۔

"یہ۔۔یہ کس جگہ آگئے ہیں ہم.۔یہاں تو کوئی گھر بھی نہیں ہے اگر انہوں نے ہمیں دیکھ لیا تو کس سے مدد مانگیں گے۔۔۔ہانم کو ایک نیا ڈر لاہک ہوا تھا۔۔۔

"ہمیں تو راستے بھی نہیں معلوم.۔۔۔اب کیا کریں۔۔ہانم خود سے باتیں کرتے کرتے رونے لگی تھی جب نظر بالاج کہ بیگز پر پڑی اور اسے یاد آیا کہ اس نے شام سے کچھ نہیں کھایا تھا۔

"اس میں کچھ تو ہوگا کھانے کے لئے۔۔۔۔ہانم تیزی ہاتھ چلا کر بیگز کھول کر دیکھتی جو بھی ہاتھ آیا نکال کر واپس زب لگا کر ایک نظر دوبارہ شاپ پر ڈال کر لیٹ چکی تھی اسکے لیٹتے ہی بالاج شاپ سے نکل کر گاڑی کی جانب آتے موبائل پر کسی سے بات کر رہا تھا جب ٹھٹھک کر روک گیا۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"السلام علیکم بھائی۔۔تسنیم جو لاؤنج میں بیٹھی احان سے موبائل پر باتیں کر رہی تھی رئیس کو آتے دیکھ کر موبائل کان سے ہٹا کر خوشگوار حیرت سے بولی۔۔۔اسے خوشی تھی کہ وہ وہاں روکا نہیں تھا جبکہ رئیس بنا جواب دیے گیسٹ روم میں جا چکا تھا۔

"انہیں کیا ہوا؟ ضرور اس طوائف نے نکال باہر کیا ہے تبھی تو ایسی حالت ہوئی ہے،چلو اچھا ہی ہوا۔۔۔تسنیم خودکلامی کرتی مسکرا کر دوبارہ سے موبائل کان پر لگا چکی تھی۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دھاڑ سے کمرے کا دروازہ کھولتا وہ اندر بڑھ کر کمرے کی چیزوں کو تہس نہس کرنے لگا لیکن غصّہ تھا کہ کسی بھی طور کم نہیں ہورہا تھا۔۔

"نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔۔تم کیسے بھاگ سکتی ہو۔۔۔۔آآاا!! ہانم تم نے بھاگ کر اچھا نہیں کیا۔۔۔ایک بار صرف ایک بار مل جاؤ ہم تمہیں وہ سزا دیں گے کہ تمہاری روح تک کانپ اٹھے گی۔۔۔۔۔ہماری شرافت کا بہت ناجائز فائدہ اٹھایا ہے تم نے کتنا پیسہ دیا ہے اس عورت کو، بس ایک بار مل جاؤ سارے حساب سود سمیت لیں گے تم سے۔۔۔۔رئیس غصّے سے پاگل جنونی سا ہوگیا تھا۔۔۔کانپتے ہاتھوں سے اس نے کوئی نمبر ملایا تھا۔۔۔

"ریاض ہیلو ہاں ہم رئیس علی بات کر رہے ہیں، ہمیں تمھارے لڑکے چاہیے۔۔۔۔۔ٹھیک ہے پھر ہم وہاں آکر بتاتے ہیں۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"اے کون ہو تم دونوں۔۔۔۔۔بالاج زور سے چیختے ہوۓ گاڑی کی طرف بھاگا تھا کہ وہ دونوں اسے دیکھتے ہی تیزی سے وہاں سے غائب ہوۓ تھے اندر موجود ہانم آواز پر گھبرا کر بے اختیار اٹھ کر بیٹھی تھی کہ بالاج جو بھاگ کر اپنی گاڑی کے پاس آیا تھا پچھلی سیٹ پر کسی کا سایہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گیا گاڑی کے شیشے ہلکے کالے ہونے کی وجہ سے وہ جو بھی تھا واضح طور پر نظر نہیں آیا تھا بالاج نے سر گھوما کر اردگرد دیکھا دور دور تک سب سنسان تھا جبکہ آس پاس جھاڑیاں اور گھنے درخت تھے بالاج نے آگے بڑھ کر لاک کو پکڑ کر کھینچا تو وہ بند تھا جبکہ اندر بیٹھی ہانم جلدی سے واپس لیٹی تھی۔۔

"ابھی بتاتا ہوں۔۔۔یہ سوچ اسے آگ لگانے کے لئے کافی تھی کہ وہ جو بھی تھا اسکی گاڑی میں پہلے سے چھپا ہوا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔

"ارے تین گھنٹے بعد صبح ہوجاۓ گی ساجد لیکن اس حرام زادی کا ابھی تک کچھ معلوم نہیں ہوا۔۔۔۔ہائے کیسے بھاگ گئی وہ۔۔۔۔کس یار کے ساتھ بھاگی ہے پارسہ.۔۔۔. حرا بائی نے جیسے پوری کوٹھی کو سر پر اٹھایا ہوا تھا کبیر بھی وہاں ساجد اور چند اپنے ساتھیوں کہ ساتھ پورا علاقہ چھان کر واپس آچکے تھے انیلا اندر ہی اندر خوفزدہ ہورہی تھی لیکن اسے اس بات کی خوشی تھی کہ اس نے ہانم کو دس سال بعد ہی سہی لیکن اس دوزخ سے رہائی دلا دی تھی۔۔۔۔

ساجد کی نظر یُکدم ہی اس پر گئی تھی سب جانتے تھے ہانم کی ہمدرد اور چمچی اس کوٹھے میں صرف ایک وہی تھی۔۔۔

انیلا نے اسے خود کو دیکھتا پایا تو اسکی ٹانگیں کانپنے لگی تھی۔۔۔

"اس۔۔۔اس دوسری حرافہ سے پوچھا یہ تو ہر وقت اسی کے گرد منڈلاتی رہتی تھی نا؟ ساجد کہتے ساتھ بیلٹ نکالتا انیلا کے قریب ایا تھا پھر پوری قوت سے اسے بیلٹ سے ضرب لگائی تھی کے انیلا کی دل خراش چیخ پورے حال میں گونجی تھی۔

"مم میں نہیں جانتی۔۔۔مم م مجھے کچھ نہیں معلوم۔۔۔میں تو حرا اماں کے پاس تھی۔۔انیلا تڑپ کر اپنی صفائی پیش کرنے لگی جب حرا بائی ماتھے پر بل ڈالے ساجد کے ساتھ آکر کھڑی ہوئی۔۔

"ارے حرا اماں اسے تو آپ نے بھیجا نہیں تھا ہانم باجی کے لئے جوڑا دے کر۔۔۔۔سونیا جو ہانم اور انیلا دونوں سے جلتی تھی جھٹ یاد دلانے لگی۔۔انیلا کی آنکھیں دہشت سے پھیل گئیں زور زور سے نفی میں سر ہلاتے وہ پیچھے کی طرف کھسکنے لگی۔۔

"دیکھ انیلا بتا دے اس حرافہ کا۔۔۔۔میرا وعدہ ہے تجھے اپنی رانی بنا کر رکھوں گا۔۔۔

"مم میں قسم کھاتی ہوں ساجد مجھے نہیں پتہ ہانم باجی کہاں گئیں۔۔ ساجد تو یقین کر میرا۔۔۔تو۔۔۔آآآ! انیلا خوف کے مارے ہکلا رہی تھی یقین دلا رہی تھی لیکن وہاں موجود کسی بھی شخص کو اس پر یقین نہیں آرہا تھا ساجد نے زور سے اسکے پیٹ پر بوٹ سمیت لات ماری تھی کہ انیلا کو لگا اسکا اندر سب پھٹ گیا۔۔۔سانس لینے میں مشکل ہونے لگی ساجد اسکے سامنے بیٹھتا انیلا کو بالوں سے پکڑ کر کھینچتے ہوۓ کمرے کی طرف جانے لگا۔۔

"چھوڑ دے مجھے ساجد چھوڑ دے۔۔انیلا بلک بَلَک۔کر روتی اس سے بھیک مانگنے لگی مگر وہ بھول گئی تھی کہ یہاں انسان نہیں درندے بستے تھے جو عورت کہ جسم کو نوچ کر رکھ دیتے تھے۔۔۔

کمرے میں لاکر اس نے انیلا کو بیڈ پر پھینکا تھا جو درد کی شدت سے چیخ پڑی تھی۔۔۔

"عارف رسی لا....ساجد چیختے ہوۓ اس کی طرف دیکھ کر سر کو نفی میں ہلانے لگا انیلا نے رسی کا سنتے ہی تڑپ کر اسے دیکھا تھا چہرہ آنسوؤں سے تر ہوچکا تھا انیلا ہانم سے دو سال ہی بڑی تھی لیکن پھر بھی وہ ہانم کے رکھ رکھاؤ کی وجہ سے اسے باجی کہتی تھی۔۔

"سس ساجد تو۔۔تو شادی کرنے والا تھا نا مجھ سے۔۔۔

"ہاں پر کیا ہے نا ہمارے دھندھے میں ان سب کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔میں تو بس تیرے کہنے پر چند کَاغذوں پر سائن کر رہا تھا تاکہ اپنی بھی اولاد ہوکر میری نسل کو بڑھا سکے لیکن اب میرا ارادہ بدل چکا ہے۔۔۔

انیلا کی آنکھیں اسکی باتوں پر مزید پھیلیں تھیں۔

"تو نے تو اپنے ہونے والے شوہر کے ہی پیٹ پر لات ماردی ہے۔۔۔تجھ سے اولاد پیدا کروا کر تجھ جیسے غداروں کو پالوں تاکہ جوان ہوکر وہ مجھے ہی راستے سے ہٹا دیں،بالکل بھی نہیں۔۔ساجد نفی میں سر ہلا کر بستر پر پیر رکھ کر اسکی جانب جھکا تھا جب پیچھے عارف رسی لے کر آیا۔۔۔

"مجھے چھوڑ دو پلیز۔۔۔انیلا زور زور سے روتی ایک نظر رسی کو دیکھ کر ساجد کہ سامنے ہاتھ جوڑنے لگی لیکن اگلے ہی پل دونوں نے مل کر اسے قابو کرتے ہاتھوں اور پیروں کو پیڈ سے باندھ دیا۔۔۔۔

انیلا کا چیخ چیخ کر گلا بیٹھ چکا تھا۔۔

"جا تو اب۔۔۔۔ساجد اپنا کام ختم کرتا عارف سے بولا تھا۔۔اسکے جاتے ہی ساجد نے دروازہ اندر سے لاک کر دیا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"چھو چھوڑ دیں ہمیں۔یم کہیں نہیں جائیں گی۔.۔۔۔۔ہانم نے ڈوپٹے سے اپنا چہرہ چھپایا ہوا تھا جبکہ دوسرا ہاتھ بالاج کہ ہاتھ میں تھا۔۔۔۔

بالاج غصّے سے اسے گاڑی سے کھنچ کر باہر نکال رہا تھا لیکن ہانم تھی کہ اندر جپک کر رہ گئی تھی بالاج کو اسکی حرکت پر طیش چڑھ رہا تھا لیکن ہانم کسی قیمت پر گاڑی سے اترنے کا رسک نہیں لینا چاہتی تھی ۔

"میں نے کہا باہر نکلو ورنہ میں تمہیں یہیں پھینک کر چلا جاؤں گا۔۔

"نہیں نہیں اللّه کہ واسطے ہمیں گاڑی میں رہنے دیں۔۔۔

"تم.۔۔۔بالاج کو اسکی بات پر شدید حیرت ہوئی تھی کہ لمحے بھر کہ لئے وہ روک کر ڈوپٹے میں چھپی اس لڑکی کو دیکھنے لگا۔۔

"میں آخری بار کہہ رہا ہوں گاڑی سےاترو ورنہ تمہیں میں پولیس اسٹیشن لے جاؤں گا۔۔۔بالاج کی دھمکی سنتے ہی ہانم کے ہاتھ کپکپائے تھے جسے بالاج نے بھی محسوس کیا تھا۔۔

"دیکھو میں تمہیں یہاں نہیں چھوڑ کر بھاگوں گا۔۔بالاج کا لہجہ اس بار نرم تھا ہانم نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا بالاج دیکھنے میں کافی ہینڈسم تھا شاید وہ جم جانے کا شوق رکھتا تھا تبھی اپنی عمر سے وہ بڑا لگتا تھا۔۔۔

"وعدہ کریں ہمیں چھوڑیں گے نہیں۔۔ہانم کے اچانک کہنے پر وہ اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔

"ٹھیک ہے وعدہ میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا بس اب نیچے اترنے کی زحمت کر سکتی ہیں آپ پہلے ہی ہم کسی پارک میں نہیں شہر سے دور سنسان جنگل میں کھڑے ہیں۔.۔۔بالاج کی بیزاریت سے بتانے پر ہانم اس کے بیگز کو ہٹا کر آہستہ سے نیچے اتری تھی۔۔

بالاج اس سے پیچھے کھڑا سینے پر ہاتھ باندھ کر اسے دیکھنے لگا سامنے موجود لڑکی پانچ فٹ چار انچ کی تھی بالاج نے ابھی تک اسکا چہرہ نہیں دیکھا تھا ۔۔۔

ہانم نے گاڑی سے اتر کر جھک کر اپنے گٹھنوں پر ہاتھ رکھ کر جیسے ہی سر اٹھایا ہوا سے اسکا ڈوپٹہ سر سے ڈھلک گیا۔۔۔۔

بالاج کی آنکھوں کی پتلیاں سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ کر جیسے ساکت ہوگئی تھیں بلاشبہ وہ بہت حسین تھی لیکن بالاج جیسے دیکھ کر ساکت ہوا تھا وہ اسکے چہرے پر زخم تھے جبکہ ہانم نے اس بار ڈوپٹہ سر پر لیتے چہرہ نہیں چھپایا تھا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔

"کون ہو تم؟ اور یہ تم پر کس نے تشدد کیا ہے، دیکھو لڑکی مجھے سچ سچ بتاؤ ورنہ میں تمہیں یہیں چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔۔۔بالاج تیزی سے اسکے مقابل روک کر گھبرائے ہوۓ لہجے میں بول رہا تھا جبکہ ہانم جو پچھلے ایک ڈیڑھ گھنٹے سے اسے دیکھ کر پہچاننے کی کوشش کرنے کے بعد تنگ آکر سوچنا چھوڑ چکی تھی بالاج کے نزدیک آنے پر چھپاک سے اسکے ذھن میں وہ چہرہ گھوما تھا.۔۔۔۔

ناچتے ناچتے جب وہ اسکے سامنے بیٹھی تھی لیکن ساجد کے ہاتھ پکڑنے سے پہلے ہی وہ رقص کرتے ہوۓ پیچھے ہٹ گئی تھی۔۔

مطلب وہ ساجد کہ ساتھ آیا تھا اور اگر اسے معلوم ہوگیا تو۔۔۔ہانم سوچ کر ہی جھرجھری لے کر بنا اسکو جواب دیتی بالاج کو اچانک ہی زور سے دھکا دے کر پوری قوت سے بھاگی تھی جبکہ بالاج اس اچانک آفتاد پر لڑکھڑا کر زور سے زمین بوس ہوا تھا۔

"اسکی تو۔۔۔۔روک جاؤ۔۔۔۔میں نے کہا روکو۔۔۔۔۔بالاج غصّے سے چیختے ہوۓ کہتا اسکے پیچھے جاتے جاتے روک کر اردگرد دیکھتا دوبارہ اپنی گاڑی کی طرف بھاگا تھا۔۔

دوسری طرف ہانم تکلیف کی پرواہ کیے بغیر بھاگے چلی جا رہی تھی جب کسی پتھر سے پیر مڑنے پر وہ منہ کے بل گری تھی۔۔۔

"آآآآآ!!!! ہانم کے منہ سے نکلی چیخ خاموشی میں دور تک گئی تھی۔۔

"اللّه میرا پیر۔۔۔۔ہانم دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھ کر سہارے سے اٹھ کر بیٹھتی اپنے پیر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر دبانے لگی جب دور سے کتے کے بھونکنے کی آواز پر ہانم اپنا درد بھول کر اردگرد دیکھتی دھک سے رہ گئی۔

اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ بھاگتے بھاگتے وہ جنگل میں اتنا اندر پہنچ جاۓ گی۔

ڈر کے مارے اس نے ایک بار پھر شدّت سے رونا شروع کردیا تھا جب پتوں کی آواز پر ہانم نے اپنے لبوں پر سختی سے ہاتھ رکھ کر اپنی آواز کو دبایا لیکن شاید اسکی قسمت میں کچھ اور ہی لکھا تھا۔ ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"ارے کمبخت یہاں میرا سکون برباد ہوچکا ہے اور تو اندر اس کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہا ہے۔۔۔۔نکل باہر۔۔۔حرا بائی غصّے سے دروازے پر ہاتھ مارتے ہوۓ ساجد پر چلا رہی تھی۔۔۔

"بس کردے اپنا یہ سپیکر۔۔۔کیوں عذاب ڈالا ہوا ہے رات سے۔۔۔۔۔ساجد غصّے سے دروازہ کھول کر اس پر دھاڑتا شرٹ کے بٹن لگاتا حال کی طرف بڑھا تھا جبکہ حرا بائی غصّے سے اسکے پیچھے گئی تھی۔۔

اس سے قبل وہ اسے کچھ بولتی ساجد نے یکدم ہاتھ اٹھا کر اسے کچھ بھی بولنے سے روکا تھا۔۔۔

"دیکھ حرا بائی میری ماں نے مجھے یہیں پیدا کیا اور خود اللّه کو پیاری ہوگئی تب سے یہ میرا اپنا گھر ہے کوئی بھی پریشانی آئے گی ساتھ مل کر اسکا حل نکالیں گے سمجھی اسلئے ابھی جو بکواس کی تھی آئیندہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور ہاں یہ حرافہ جب تک اپنا منہ نہیں کھول لیتی اسے ہر طریقے سے تشدد کا نشانہ بنانا ہے سمجھی۔۔شیطانیت سے کہتا وہ عارف اور فیضان کی طرف متوجہ ہوا. ۔۔۔

"یہ کام تم دونوں کے حوالے کر رہا ہوں اس کے ساتھ جو کرنا چاہتے ہو کھلی اجازت ہے تم دونوں کو جو بھی کرنا چاہتے ہو کرو بس اس کا منہ کھلواؤ۔۔۔۔۔سفاکیت کی انتہا تھی جبکہ عارف اور کبیر خوشی سے نہال ہوتے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

"ابے دیکھ کیا ہی حسین لڑکی ہے۔۔۔دونوں ہانم کے سامنے کھڑے للچاتی نظروں سے اسے دیکھ کر بول رہے تھے یہ وہ ہی تھے جو بالاج کی گاڑی کا لاک کھول رہے تھے لیکن وقت پر بالاج کے دیکھ لینے پر وہ دونوں وہاں سے بھاگتے ہوۓ جنگلی کی طرف آگئے تھے۔۔

ہانم ان کی غلیظ نظریں اپنے وجود پر محسوس کرتے ڈوپٹے سے خود کو ڈھانپ کر اٹھنے کی کوشش کرنے لگی اس سے قبل وہ سہی طرح کھڑی ہوتی ایک آدمی نے آگے بڑھ کر اسکی ٹانگ میں ٹانگ اڑا کر اسے دوبارہ گرایا تھا۔۔

"آآ!!! نہیں پلیز مجھے جانے دو۔۔۔

"ہاہاہا۔۔!! دونوں نے اسکی بات پر اونچے اونچے قہقہے لگانے شروع کیے۔۔

ہانم کی ہچکی بندھ گئی تھی نیچے گرے ہی کھسک کر ان دونوں سے پیچھے ہٹنے لگی لیکن اگلے ہی لمحے ایک آدمی نیچے بٹھتا اسے پیروں سے پکڑ کر اپنی طرف کھنچ کر نیچے لیٹا چکا تھا۔۔

"نہیں۔۔۔۔نہیں اللّه میری مدد کریں۔۔۔۔

"ہاہاہا!! ہاہاہا!! مدد کو چھوڑ ہم تیری خدمت کر دیتے ہیں۔۔۔ہاہاہا۔۔آدمی اسکی بات پر ہنستے ہوۓ جواب دیتا ہانم پر جھکنے لگا جبکہ ہانم نے آنکھوں کو میچ کر چہرہ پھیر لیا تھا۔۔۔

"آہ! وہ جو اس پر جھکنے والا تھا آواز پر تیزی سے پلٹا تھا اسکا ساتھی اپنا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑے نیچے گرا تھا اس سے قبل وہ کچھ کر پاتا زوردار ڈنڈے کی ضرب لگنے سے وہ بھی چیختا ہوا زمین بوس ہوچکا تھا

ہانم نےجھٹ سے آنکھیں کھول کر سامنے دیکھا تھا جہاں بالاج اپنے دونوں بیگز کندھے پر ڈالے ہاتھ میں درخت کے ٹوٹے تنے کو پکڑے ہوۓ تھا غصّے سے اسکی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں۔۔

بالاج نے اسے دیکھ کر پاس ہی تڑپتے آدمی کو زور زور سے لاتیں مارنی شروع کردیں جبکہ ہانم اسکا جنون دیکھ کر سہم کر اٹھ کر بیٹھتی سر جھکا کر سوں سوں کرنے لگی جبکہ بالاج اپنا غصّہ اتار کر اسکے منہ کے سامنے پانی کی بوتل بڑھا چکا تھا۔۔

"لو پانی پیو۔۔۔۔۔۔

"نہیں، ہمیں۔۔۔۔

"اپنی بکواس بند رکھو اور پانی پی کر اٹھو اس سے پہلے کوئی اور یہاں آجائے۔۔۔بالاج نے بیچ میں ہی اسکی بات کاٹ کر چڑتے ہوۓ کہا تھا۔۔

ہانم کی آنکھوں میں پھر آنسوں جما ہونے لگے تھے آہستہ سے اسکے ہاتھ سے پانی کی بوتل لے کر گٹاگٹ پانی پی کر بوتل اسکی طرف بڑھا دی جس نے بوتل لینے کے بجائے اسکا بازو پکڑ کر کھڑا کیا تھا لیکن ہانم تڑپ کر واپس بیٹھ گئی تھی۔۔

"کیا مصیبت ہے تمھارے ساتھ ہاں۔۔پہلے میری گاڑی میں بیٹھ گئی پھر مجھ پر حملہ کرکے خود بھی مصیبت میں پھس گئی اور اب۔ ۔ بالاج نے غصّے میں اسے ڈپٹا کہ ہانم درمیان میں بول اٹھی

"سہی کہا ہم مصیبت ہیں۔۔۔کاش ہم اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی مر جاتیں تو اس دنیا سے ایک مصیبت کم ہو جاتی..یا کاش ہم کسی غریب کے ہاں پیدا ہوجَاتیں۔۔۔

"ہاں بالکل لیکن تم جہاں پیدا ہوتی ان بیچاروں کی مصیبتوں میں ایک اور کا اضافہ ہوجاتا۔بالاج اسکی باتوں پر بے اختیار مسکرا کر پَنجوں کے بل بیٹھ کر ہانم کی بات کا جواب دے کر مسکرایا تھا ہانم نے خفگی سے اسے دیکھا لیکن بالاج کے مسکرانے پر پلک جھپکانا بھول گئی۔۔۔اپنی زندگی میں اس نے پہلا ایسا مرد دیکھا تھا جس کی مسکراہٹ پر اسکا دل دھڑکا تھا۔۔۔

(تو ایک طوائف ہے ہانم داؤد جسے تاعمر مردوں کو خوش کرنے کے لئے اس کوٹھے میں بھیجا ہے نا کے نخرے دکھانے کے لئے) حرا بائی نے غصّے سے اسے کہا تھا۔۔۔

ہانم نے کرب سے اپنی آنکھوں کو بند کیا تھا اس بات سے انجان کے ہانم داؤد کی محبت کی داستان یکطرفہ نہیں تھی۔۔۔

بالاج جس کا دل کبھی کسی لڑکی کہ لئے نہیں دھڑکا تھا مقابل آنسوؤں سے تر چہرے والی لڑکی کے لئے دھڑک اٹھا تھا۔۔

"شاید ہمارے پیر میں موچ آگئی ہے۔۔۔ہانم کی آواز پر بالاج جو یک ٹک اسے دیکھنے میں محو تھا چونک کر اسے ناسمجھی سے دیکھنے لگا۔۔
"کیا؟ بالاج اسے دیکھنے میں اتنا غافل تھا کہ وہ اسکی بات نہیں سن سکا تھا۔۔
"آپ کو موچ کا نہیں معلوم؟ہانم نے حیرت سے آنکھیں پھیلا کر ایسے پوچھا کہ وہ شرمندہ ہونے کے ساتھ اس سے نظر چرانے لگا۔۔۔
"مجھے معلوم ہے موچ کا مطلب۔۔۔۔خیر اٹھنے کی کوشش کرو اس سے پہلے یہ دو موسٹنڈے اٹھ کر میری جان کو آجائیں۔۔۔۔بالاج کھڑا ہوتے ہوۓ اسے بولا جس نے پیر کو ہلکے سے جنبش دے کر بے بسی سے بالاج کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
"ہم میں اب ہمّت نہیں ہے۔۔۔۔
"ٹھیک ہے۔۔۔بالاج نے اسکی بات سن کر کندھے اچکائے ہانم کو یکدم وہ بے حس لگا تھا جسے کسی کے درد سے کوئی سروکار نہیں تھا اس وقت ہانم کو رئیس کا خیال آیا تھا وہ بھی تو ایسا ہی تھا ہاں شاید مرد ذات ۔۔۔اس سے قبل وہ مرد ذات سے ہی بدگمان ہوجاتی بالاج نے جھک کر اسے گود میں اٹھایا تھا کہ ہانم جو اس کے بارے میں غلط سوچ رہی تھی کہ شاید وہ جا رہا تھا شرمندگی کے مارے کچھ بول نہیں پا رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔
چلتے چلتے بالاج کو دس منٹ ہوچکے تھے لیکن روڈ کا ابھی تک کوئی نام و نشان نہیں دیکھا تھا۔۔صبح کی روشنی ہلکی ہلکی پھیل رہی تھی۔۔۔ہانم نے نظر اٹھا کر آسمان کی جانب دیکھا لیکن گھنے درختوں کی وجہ سے آسمان واضح نظر نہیں آرہا تھا۔
"ہمہیں اتار دیں۔۔۔۔ہانم نظریں جھکا کر اس سے بولی تھی جو کب سے اسے اٹھائے چل رہا تھا۔
"یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے ورنہ میں اب تک اسلام آباد میں ہوتا۔۔۔بالاج سامنے دیکھتے ہوۓ اسے کہتا چلتا چلا جا رہا تھا کہ ہانم اسکی بات پر اور شرمندہ ہونے لگی۔۔
"ہمیں معاف کردیں۔۔۔۔ہانم مَدہَم آواز میں کہتی نظر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی جس نے یکدم اسے دیکھا تھا ہانم نے گھبرا کر فوراً نظریں پھیریں تھیں۔۔
"ٹھیک ہے کر دیا۔۔۔بالاج اسے کہتا دھیرے سے مسکرا کر تیز تیز چلنے لگا کہ ہانم نے بے اختیار گرنے کے ڈر سے اسکے گلے میں باہیں ڈالیں تھی۔۔
"پہنچ گئے۔۔۔۔۔بالاج کی بات پر ہانم چونکی پھر سامنے دیکھا جہاں سڑک کے کنارے اسکی گاڑی کھڑی تھی..
تو مطلب ان کا سفر اتنا ہی تھا۔۔۔کتنی پاگل تھی وہ کیا کچھ سوچ رہی تھی لیکن وہ کیسے بھول گئی کہ وہ تو ایک طوائف ہے جسکے ساتھ رات تو گزاری جا سکتی ہے مگر گھر نہیں بسایا جا سکتا
"کاش یہ رات کبھی نہ گزرتی۔۔۔ہانم کو معلوم ہی نہ چلا کے وہ کیا بول چکی ہے۔۔
"ہاں کاش یہ رات اور یہ وقت یہیں ٹھہر جاتا۔۔۔۔۔بالاج کی بات پر اس نے جھٹکے سے اسے دیکھا تھا جو اسی کو دیکھ رہا تھا۔۔
کتنے ہی لمحے وہ ایک دوسرے کو دیکھتے رہے تھے۔
"ہم۔۔۔ہمیں اتار دیں۔۔۔
"چل سکتی ہو؟ بالاج کہ سوال پر اس نے لب کچلے۔۔
"جی میں چل لوں گی۔۔۔ہانم نے اس سے نظریں چرا کر کہا۔۔
بالاج نے آہستہ سے اسے نیچے اتارا تھا کے ہانم کا پیر زمین پر پڑتے ہی وہ لڑکھڑا کر گرنے لگی تھی بلاج نے تیزی سے اسے دوبارہ اٹھا کر گاڑی کی جانب قدم بڑھا دیے۔۔۔۔
ہانم نے دانتوں تلے زبان دبا کر اپنی مسکراہٹ چھپائی جبکہ بالاج کی مسکراہٹ گہری ہوتی چلی گئی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"آآآ!!!! ٹھنڈا یخ پانی اسکے منہ پر پھینکا گیا تھا کہ انیلا لمحے بھر کہ لئے سن ہو چکی تھی.۔
رات سے وہ ان دو وحشیوں کی درندگی برداشت کرتے کرتے ادھ موئی ہو چکی تھی لیکن انکی درندگی کو ابھی بھی تسکین نہیں ملی تھی۔۔
"ارے مہارانی صاحبہ اٹھ بھی جائیں۔۔۔آدھا گھنٹہ بہت ہے نیند کہ لئے۔۔۔کبیر کہتے ساتھ اسکے بالوں کو مٹھی میں لیتا اسے جھٹکا دے کر ہوش میں لانے لگا۔۔۔
"مجھے چھوڑ دو کبیر۔۔
"ایسے کیسے میری رانی ابھی تو تمہارا امتحان باقی ہے۔.۔۔۔کبیر نے کہتے ساتھ اسکے پیٹ پر زور سے چٹکی کاٹی کہ وہ بلبلا اٹھی تھی۔۔
"سونے کی نہیں ہورہی میری رانی۔۔چلو شاباش اب جلدی سے بتا دو ہانم کہاں ہے؟ کہیں کسی یار کے ساتھ تو نہیں بھاگی ہے؟ کبیر بولتے ساتھ جھک کر رازداری سے پوچھنے لگا۔۔
انیلا نیند سے پاگل ہورہی تھی لیکن وہ درندے اسے سونے نہیں دے رہے تھے۔۔
"مجھے نہیں پتہ۔۔۔۔مجھے نہیں پتہ کبیر اللّه کے واسطے مجھے چھوڑ دے۔۔۔بند آنکھوں کے ساتھ ہی وہ تڑپ رہی تھی لیکن وہ اس پر ذرا ترس نہیں کھا رہے تھے۔۔
عارف نے شیطانی مسکراہٹ سے کبیر کی جانب ماچس بڑھائی تھی۔۔
"ہائے کیوں اپنی جوانی ایک طوائف کے پیچھے ختم کروانا چاہتی ہے۔۔۔
تھو۔۔۔کبیر ابھی اسکی جانب جھکا بول ہی رہا تھا کہ انیلا نے یکدم اس پر تھوکا تھا۔۔
کبیر اچھل کر پیچھے ہٹا۔۔۔۔
انیلا نے بمشکل آنکھیں کھول کر سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔
"تو میری جان بھی نکال دے پھر بھی نہیں بتاؤں گی۔۔ہاہاہاہا۔۔۔۔ہاہاہاہا.۔۔۔انیلا بے خوف ہوکر بولتی پاگلوں کی طرح ہنسنے لگی۔۔وہ فیصلہ کر چکی تھی مر جاۓ گی لیکن انھیں کبھی نہیں بتائے گی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اگر انھیں ہانم مل گئی تو وہ اسے بھی ہانم کے ساتھ ہی ختم کردیں گے۔۔۔
"حرافہ۔۔۔۔۔۔چٹاخ!!! کبیر بے قابو ہوتا آگے بڑھ کر بنا رکے اسکے چہرے پر تھپڑ مارتا رہا یہاں تک کے اسکے ناک اور ہونٹ سے خون آنے لگا جبکہ گال سوج چکے تھے
"کیا کر رہا ہے چھوڑ کبیر اگر ابھی یہ مری تو ہمیں ہانم کا پتہ نہیں چلے گا۔۔چھوڑ۔۔۔عارف زبردستی اسے پیچھے کھینچتا چلا گیا جب انیلا نے اپنی پوری ہمّت متمجہ کر کے پھر ہنسی جیسے جیسے وہ ہنس رہی تھی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب امنڈ رہا تھا۔
"حرا بائی سے کہنا کہ ہانم داؤد ہی تم ناسوروں کو جہنم رسید کرے گی۔۔اپنی الٹی گنتی گننا شروع کردے۔۔۔۔ہاہاہاہا۔۔۔۔انیلا گہری گہری سانس کے دوران بولتی انھیں مزید طیش دلانے کے لئے ہنسے جارہی تھی۔
"سالی حرافہ۔۔۔.کبیر طیش میں اس تک آتا تکیہ اٹھا کر پوری طاقت سے اسکا منہ دبا چکا تھا۔
"ہمیں دھمکی دے گی دو ٹکے کی طوائف ہاں ایک بار وہ مل جاۓ ایسا حشر کروں گا اسکا کے دنیا کانپ اٹھے گی۔۔سالی ہمیں دھمکی دیتی ہے ۔۔۔کبیر غصّے سے بےقابو ہوتا اپنا پورا وزن اس پر ڈال چکا تھا جو تڑپ تڑپ کر مر چکی تھی لیکن وہ ہنوز اسے دبائے ہوۓ تھا۔۔۔۔عارف آنکھیں پھاڑے کبیر کو دیکھنے لگا۔۔
اس سے قبل وہ کچھ کرتا کمرے کا دروازہ کھول کر ساجد اندر آیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آہ!!!۔گاڑی اسلام آباد کی طرف گآمِز تھی جبکہ ہانم بالاج کے ساتھ آگے بیٹھی سورہی تھی بالاج ذرا کی ذرا نظر اٹھا کر اسے بھی دیکھ رہا تھا جب چونک کر نیند سے وہ جاگی تھی بالاج اس کی آواز پر ایک نظر اسے دیکھ کر مسکراتا سامنے سڑک پر دیکھنے لگا۔
"وقت کیا ہوا ہے؟
"صبح کے چھ بج کے پانچ منٹ۔۔بالاج نے وقت دیکھ کر اسے بتایا۔۔۔
ہانم اسکے بتانے پر انیلا کے بارے میں سوچنے لگی جانے اس بیچاری کے ساتھ ہانم کے غائب ہونے پر کیا سلوک کیا ہوگا ان لوگوں نے۔۔
"اللّه اسے اپنے حفظ و آمان میں رکھیے گا۔۔۔ہانم نے سیٹ پر سر گرا کر آنکھوں کو میچ کر دعا کرتے آنکھیں کھول کر گردن موڑ کر اسے دیکھنے لگی ہانم کی نگاہیں اسکے چہرے سے ہٹتیں اسکے کسرتی بازوؤں کا سفر کرتی مضبوط کلائیوں پر جا کر ٹھہر گئیں۔۔
"اگر اسے معلوم چلا کے میں ایک طوائف ہوں۔۔۔یہ سوچ آتے ہی ہانم نے نظریں پھیر کر گود سے ہاتھ ہٹا کر اپنے پہلو پر رکھا ہی تھا جب بالاج نے بھی اسی وقت اپنا ہاتھ ویاں رکھا۔۔۔ہانم کا دل اچھل کرحلق میں آگیا جبکہ دوسری طرف بالاج کی کیفیت بھی عجیب ہورہی تھی۔
بالاج نے تیزی سے واپس ہاتھ ہٹایا کہ ہانم نے رکی ہوئی سانس کھینچی۔۔
"تم نے بتایا نہیں کہ تم کب میری گاڑی میں آکر چھپی تھی کیونکہ مجھے یاد ہے میں گھر سے سیدھا۔۔۔۔بولتے بولتے بالاج ٹھٹھک کر روکا تھا۔۔ایک سوچ جو بہت تیزی سے اسکے دماغ میں آئی تھی۔
"نہیں ایسا نہیں ہوسکتا.۔ بالاج نے خود ہی اپنی سوچ کو رد کیا تھا جب ہانم کی بات پر بالاج نے یک دم بریک لگائی تھی۔
ہانم نے تیزی سے ہاتھ سامنے رکھ کر خود کو بچایا تھا۔۔۔
بالاج بنا کچھ بولے اسے دیکھ رہا تھا جبکہ ہانم بنا اس کی طرف دیکھے سمجھ گئی تھی کہ دیر سے ہی سہی پر وہ سمجھ چکا ہے۔۔
"ہم۔۔۔ہانم نے کہتے ہی رک کر اسے دیکھا۔۔۔
"ہم ہانم داؤد ہیں۔۔۔۔ حرا بائی کے کوٹھے کی سب سے حسین طوائف جسکے ساتھ رات گزارنے کی خواہش رکھنے والوں میں سے ایک شاید آپ بھی ہیں۔۔۔۔
"ارے بھائی اتنی بھی کیا بےصبری تھی کہ صبح ہی صبح ہمارے غریب خانے پر پہنچ گئے۔۔۔ریاض مسکراتے ہوۓ رئیس سے مل کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتا خود بھی صوفے پر پھیل کر بیٹھا تھا۔۔
"فضول باتوں کو چھوڑو ریاض مجھے ابھی تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔
"ٹھیک ہے یار ناراض کیوں ہوتے ہو۔۔۔پہلے بتاؤ کیا منگواؤں چائے کافی یا پھر۔۔۔
"کچھ نہیں چاہئے مجھے۔۔کیا تم واقعی میری مدد کر سکتے ہو یا میں اپنا وقت برباد کر رہا ہوں یہاں آکر۔۔یکدم ہی رئیس صوفے سے اٹھ کر کھڑا ہوتا غصّے میں بولا تھا کہ ریاض کہ آدمی چاروں طرف سے ہاتھوں میں اسلحہ سمیت نمودار ہوۓ تھے۔۔
ریاض لاہور کا جانا مانا بدمعاش تھا جو ہر برے اور غلط کاموں میں ملوث رہتا تھا یہی نہیں اپنے چاچا کی فیملی کو بھی قتل کر چکا تھا جسے بعد میں صفائی سے ایکسیڈنٹ کا نام دیا گیا تھا۔۔
ریاض کہ چہرے سے یکدم ہی مسکراہٹ غائب ہوکر سنجیدگی در آئی تھی۔۔ہاتھ اونچا کرتے اس نے اپنے آدمیوں کو جانے کا اشارہ کیا تھا۔۔
"آرام سے رئیس۔۔ہم بزنس بارٹنر ہونے کہ ساتھ اسکول کے زمانے سے دوست ہیں ورنہ اس طرح کوئی مجھ پر چلائے تو میں اسکا گلا کاٹنا اچھے سے جانتا ہوں ہممم،تو اس لیے آرام سے بیٹھ کر اپنا مسلئہ بتاؤ۔۔۔ریاض اپنی جگہ سے کھڑا ہوکر اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتا اسکے کندھے کو تھپتھپانے لگا رئیس کا سارا طنطنہ جیسے جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا۔۔۔کیونکہ وہ شیطان تھا جسے اپنے علاوہ کسی سے بھی پیار نہیں تھا حتیٰ کہ اپنی فیملی سے بھی نہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی میں چھایا سکوت ہانم کے گاڑی کے لاک کھولنے پر ٹوٹا تھا جبکہ بالاج ہنوز اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔رات کا ہر منظر جیسے فلم کی طرح اسکی نظروں کے سامنے چلنے لگا تھا۔۔۔۔
"کیا ہم پر ایک احسان کریں گے؟ ہانم گاڑی سے اترنے سے قبل اسے دیکھ کر بولی لیکن بالاج کے خاموش رہنے پر اسکے بازو پر ہاتھ رکھنے ہی لگی تھی کہ بالاج نے تیزی سے ہاتھ اٹھا کر اسے گھورا تھا ہانم کو اسکے اس طرح کرنے پر دکھ پہنچا تھا۔۔۔
"نہیں چھو رہے ہم آپکو۔۔بس ہم پر آخری بار احسان کردیں کہ اگر ساجد کا آپکو فون آئے تو ہمارا انہیں مت بتائیے گا ورنہ..
"ورنہ؟ بالاج نے یکدم اسکی بات کو اچکا تھا اسے کافی حیرت ہوئی تھی ساجد کا نام اسکے منہ سے سن کر کیونکہ بقول ساجد کہ وہ خود وہاں تین چار بار ہی گیا تھا۔۔تو کیا ساجد اس سے ملتا رہا تھا اور وہ رئیس۔۔کتنے ہی سوالوں نے اسکے ذہن میں سر اٹھایا تھا جس کا اسکے پاس ایک بھی جواب نہیں تھا۔۔۔
ہانم بالاج کے جواب کا انتظار کر رہی تھی جو جانے کن خیالوں میں گم تھا۔۔۔
"کیا ہم آپ سے آپ کا نام جان سکتے ہیں؟ ہانم اسے متوجہ کرنے کہ لئے نام پوچھنے لگی بالاج نے یُکدم سر جھٹک کر اسے دیکھا تھا۔۔
"بالاج طارق۔۔۔بالاج اپنا نام بتا کر سامنے دیکھنے لگا۔۔
"بالاج۔۔۔۔بے آواز اسکا نام لے کر وہ بے ساختہ مسکرائی تھی گرے کانچ سی آنکھیں میں جانے کہاں سے نمی اتری تھی.۔۔۔
"ہم نے آپ سے مدد مانگی ہے ہوسکتے تو کر دیجئے گا۔۔۔اللّه حافظ۔۔۔ ہانم ہنوز جواب کا انتظار کرتی خود ہی کہہ کر گاڑی سے اتر کر فٹ پات کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔۔کوٹھے سے بھاگتے وقت وہ اپنے دس سال سے جمع کیے سارے پیسے ساتھ لے آئی تھی ۔۔اسکے پاس اتنی رقم تھی کہ وہ کسی کرائے کے دو کمروں کے مکان میں رہ سکتی تھی۔۔۔۔
ہانم نے اپنی کمر کے ایک طرف ہاتھ رکھ کر ہلکے سے تھپتھپا کر چیک کیا تھا ہانم نے جان بوجھ کر وہ لباس پہنا تھا کہ اس قمیض میں جیب بنی ہوئی تھی۔۔۔۔
ہانم قدم اٹھا کر چلتی جا رہی تھی اسے احساس بھی نہیں ہوا کہ وہ رو رہی تھی۔۔
گاڑی ہنوز کھڑی تھی جبکہ بالاج چُپ بیٹھا ہانم کو خود سے دور جاتے دیکھ رہا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"یہ ہے وہ طوائف۔۔۔
"دلکش ہے۔۔۔۔کیا تم شادی کرنا چاہتے ہو اس سے؟ رئیس نے ایک دن سونیا کو پیسے دے کر رازداری سے ہانم کی تصویر منگوائی تھی ریاض نے تصویر دیکھتے ہی اپنی ہوس بھری نظروں سے اسے دیکھا تو اسے رئیس کی تڑپ کا اندازہ ہوا۔۔
"ہنہہ! دماغ خراب نہیں ہے میرا کے ایک طوائف سے شادی کروں۔۔۔الحمداللہ میری بیوی ہے بچہ ہے۔۔اس طوائف کا تو بس ایک بار غرور توڑنا ہے۔۔۔رئیس نے زہرخند لہجے میں بولا تو ریاض کا چھت پھاڑ قہقہ پورے لاؤنج میں گونجا۔۔
"ہاہاہا۔۔۔۔چلو پھر ٹھیک ہے۔۔۔۔چند دن عیش کرنا بعد میں یہ میری، کیا کہتے ہو۔۔ریاض خباثت سے بولتا ہانم کی تصویر میں اسکے لبوں کو انگوٹھے سے چھو رہا تھا۔۔۔
"تم ملو تو ایک بار میری جان تمہارے لئے تو میں ہزار رئیس قربان کَردوں۔۔۔ریاض اسکی تصویر کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر منصوبہ بنا رہا تھا۔۔۔
جبکہ رئیس ہانم کو کیسے ختم کرنا ہے سوچ رہا تھا دونوں ہی اپنی اپنی منصوبہ بندی کر رہے تھے لیکن وہ یہ بھول چکے تھے کہ اس سارے جہاں کا خالق و مالک صرف ایک ہے اور وہ ہے "اللّه " (بیشک)
۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سے قبل ہانم نظروں سے اوجھل ہوجاتی بالاج نے گاڑی اسٹارٹ کرتے زن سے آگے بڑھا دی۔۔
ہانم جو کبھی اسلام آباد نہیں آئی تھی راستوں سے انجان ہونے کہ باوجود اسے یہ شہر اپنا اپنا سا لگا تھا۔۔
"کہاں جائیں۔۔۔کیا کریں؟ ہانم اردگرد دیکھتی روہانسی ہو رہی تھی۔.۔۔
جانے یہ آنسوں کیوں روکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔۔
ہانم ایک جگہ کھڑی اپنے آنسوں صاف کرنے لگی جب دو آدمیوں کو چلتے ہوۓ اپنی طرف آتے دیکھ کر اسکی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑ گئی۔۔
دونوں آدمی عجیب انداز میں مسکراتے ہوۓ اسکے قریب پہنچنے والے تھے کہ ہانم نے اپنے ڈوپٹہ کے پلو کو مضبوطی سے جکڑ کر آنکھوں کو میچتے دعائیں پڑھنی شروع کردیں تھیں۔۔
کافی دیر گزر جانے کے بعد بھی جب کچھ نہیں ہوا تب ہانم نے دھیرے دھیرے اپنی آنکھیں کھولی تھیں لیکن مقابل شخص کو دیکھ کر ہانم بے اخیار اسکے چوڑے سینے میں جا سمائی تھی۔۔۔
بالاج نے ایک نفرت بھری نظر ان دونوں آدمیوں کی پشت پر ڈالی تھی جو اسے دیکھتے ہی وہیں سے پلٹ چکے تھے۔۔
۔۔۔۔،۔۔۔
تیز تیز زینہ اترتے نورین ہاتھ میں کپڑوں کا ٹوکرا اٹھائے نیچے لارہی تھی جب سامنے ہی صوفے پر موجود اپنی پھوپھو کو دیکھ کر ٹوکرا ایک طرف رکھتے انکے پاس آئی تھی۔۔۔
نورین کے ابّو کی دو ہی بہنیں تھی جو خوش قسمتی سے کھاتے پیتے بڑے گھروں میں بیاہی گئی تھیں۔۔۔
ثوبیہ بیگم کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی ایک بیٹا اور بیٹی شادی شدہ تھے جبکہ اب انکے دوسرے بیٹے کی شادی تھی۔۔۔۔
اتنے امیر گھرانے میں شادی ہونے کے باوجود وہ اپنے بھائی بھاپھی سے ہمیشہ خوش اخلاقی سے ملتیں تھیں یہی وجہ تھی کہ نورین کو اپنی دونوں پھوپھو بہت پسند تھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
ہانم اسکے سینے سے لگی زاروقطار رو رہی تھی ساتھ دونوں ہاتھوں سے اس نے بالاج کو مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے۔۔
بالاج نے گہری سانس لیتے اسکے گرد حصار باندھتے اسکے سر پر اپنی تھوڑی ٹکائی تھی۔۔
"ہَانم بس کرو یار، چپ ہوجاؤ وہ چلے گئے ہیں۔۔
"اور آپ،آپ بھی تو ابھی ہمیں چھوڑ کر چلے جائیں گے
بالاج کی بات سنتے ہی ہانم نے اس سے الگ ہوکر سینے پر ہاتھ مارا پھر ایک قدم پیچھے لیتے روتے ہوئے کہا۔۔۔
"ہاں ٹھیک ہے پر میں تمہیں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔بالاج کے لہجے میں بے بسی تھی پتہ نہیں کیوں وہ اسے چھوڑ کر جا نہیں پا رہا تھا۔۔۔۔
ہانم جو بار بار اپنی آنکھیں صاف کر رہی تھی بالاج کی بات سن کر رونا بھول کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔
"ایک طوائف کو ساتھ لے کر کہاں جائیں گے؟ ہم، ہم آپ کے ساتھ اور وقت گزار کر خود کو اذیت میں مبتلا نہیں کر سکتے پہلے ہی ہم اُس جہنم سے نکل کر آئے ہیں۔۔۔آپ پلیز چلے جائیں۔۔۔۔ہانم بیدردی سے اپنے آنسوں پوچھتی تیز تیز قدم اٹھا کر جانے لگی بالاج بھی تیزی سے اسکے پیچھے چلنے لگا۔۔۔اسے نہیں معلوم کہ وہ کیوں ہانم کی حقیقت جاننے کے باوجود اسکی طرف کھینچتا چلا جا رہا تھا لیکن یہ طہہ تھا کہ وہ اسے اکیلا نہیں چھوڑ سکتا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کافی دیر چلتے ہانم کو بیکری دیکھی تھی۔۔۔سر پر اچھے سے ڈوپٹہ سہی کرتے بالاج کو نظرانداز کیے وہ بیکری کے اندر چلی گئی تھی۔۔صبح صبح کا وقت تھا دکان والا سامان سہی کرنے میں مصروف تھا۔۔۔
"بھائی۔۔۔۔ہانم کی آواز پر لڑکے نے اسے دیکھ کر منہ ٹیڑھا کیا تھا شاید صبح صبح خوبصورت لڑکی کے منہ سے "بھائی" سننا اسے کافی ناگوار گزرا تھا۔
"جی۔تپے تپے انداز میں اس نے ہانم کو جواب دیا تھا جسے نظرانداز کرتے اس نے کھانے کے لئے سامان پیک کروایا تھا۔۔۔
"کتنے پیسے ہوۓ؟ ہانم شاپرز کاؤنٹر سے اٹھاتے ہوۓ مسکرا کر پوچھنے لگی اتنے سالوں بعد وہ آزاد تھی ایسا نہیں تھا کہ وہ کہیں جاتی نہیں تھی لیکن حرا بائی کو اس پر بھروسہ نہیں تھا تبھی کوئی نا کوئی اسکے ساتھ ہوتا تھا۔۔۔
"تین سو ہوگئے۔۔لڑکے کے کہتے ہی بالاج جو مسکراتے ہوۓ بچوں کی طرح خوشی سے چیزیں لیتی ہانم کو دیکھ رہا تھا پانچ سو کا نوٹ نکال کر اسکی طرف بڑھا چکا تھا لڑکے نے ایک نظر ہانم کو دیکھا پھر بالاج کو۔۔
ہانم لب کچلنے لگی اب اس لڑکے کے سامنے کیسے پیسے نکالے
"کیا دیکھ رہے ہو بیوی ہے میری۔۔بالاج کے گھورتے ہوۓ کہنے پر لڑکا گڑبڑا گیا جبکے ہانم کو سہی معنوں میں جھٹکا لگا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"آپ۔۔۔آپ ہمارے شوہر کب بنے۔۔۔ہانم بیکری سے نکلتے ہی حیرت سے بولی جو مسکرا کر اسے نظرانداز کرتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔
"ہاں تو میں نے کب ایسا کہا۔۔۔۔
"ابھی اندر اس لڑکے کو آپ نے ہی کہا ہے کہ ہم آپ کی بیوی ہیں۔۔۔ہانم خفگی سے اسے دیکھ کر بول رہی تھی جس کی مسکراہٹ گہری ہوگئی تھی۔۔
"ہاں تو تمہارا کیا خیال تھا اسے یہ کہتا کہ میری بہن ہے۔۔
"جی کہہ دیتے۔۔۔ہانم نے جھٹ سے جواب دیتے منہ پر ہاتھ رکھا
"استغفرالله۔۔۔بالاج نے گھورتے ہوئے کہہ کر گاڑی کا دروازہ کھولا تھا جبکہ ہانم نے بھی آہستہ سے استغفرالله کہہ کر نظریں چرائیں۔۔۔
"بیٹھو۔۔۔۔
"نہیں۔۔۔
"ہانم پلیز بیٹھو مجھے تم سے کچھ پوچھنا ہے۔۔۔ہانم کے انکار پر وہ گاڑی کا دروازہ پکڑے ہی بولا تھا
"کس بارے میں؟
"آہ! بیٹھو راستے میں بتاتا ہوں۔۔۔
"پر۔۔اچھا ٹھیک ہے۔۔۔۔ہانم کہتے کہتے رک کر مانتے ہوۓ بلآخر بیٹھ گئی تھی بالاج نے شکر کا سانس لیتے مسکراتے ہوۓ سر جھٹکا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
حال میں موجود وہ اپنے تخت پر سر پکڑ کر بیٹھی تھی سامنے ہی کبیر اور عارف سوجے ہوۓ چہروں کے ساتھ اسکے سامنے زمین پر بیٹھے تھے جبکہ انیلا کے جنازے کو تدفین کے لئے لے جایا جا چکا تھا۔۔۔
"حرا بائی بس غصّہ آگیا تھا جب اس نے کہا کے تم سب کو ہانم ہی۔۔۔
"اے بس کر کب سے ایک ہی بات رٹے جا رہا ہے کمبخت.۔۔۔۔ارے تم دو ہٹے کٹے مردوں کو چکمہ دے کر مری ہے اب کہاں سے ڈھونڈھے گا اس ڈائن کو، کیسے پتہ کریں گے کہ کس جگہ جا کر دفَن ہوئی ہے۔۔۔۔یکدم زور سے اسے لات مار کر خود سے پیچھے کرتے ہوۓ حرا بائی ایک بار پھر غصّے سے چیخ رہی تھی۔۔
ساجد جو اپنے آدمیوں کو قبرستان بھیج کر اندر آیا تھا حرا بائی کے چیخنے پر کوفت سے چلتا ہوا اسکے پاس آیا۔۔
"بس کردے جو ہونا تھا ہوگیا۔۔کیا ہوا اگر مرگئی۔۔
"کیا ہوا اگر مر گئی۔۔۔
"واہ! شاباش کتنی آسانی سے تو نے کہہ دیا کہ مر گئی۔۔۔۔اب کیا تیری ماں قبر سے نکل کر اس ہانم کا پتہ دے گی۔۔۔۔حرا بائی کا غصّہ کسی طور کم ہونے کو نہیں آرہا تھا جبکہ ساجد نے اسکی بات پر قہقہہ لگایا۔۔
"ارے میری شہزادی حرا بائی فکر کیوں کرتی ہے میں ہوں نا رات کو نکل رہا ہوں دوسرے شہر جانے کہ لئے تو بے فکر رہ اس حرافہ کو لے کر ہی واپس آؤں گا۔۔۔۔اور ہاں سونیا کو لے کر جا رہا ہوں ساتھ۔۔۔ساجد اسے بتاتا آخر میں کہتا سونیا کو آنکھ مار کر اٹھا جس کی خوشی دیدنی تھی۔۔
جبکہ حرا بائی پیشانی پر بل ڈالے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
"اسکی کیا ضرورت ہے؟
"اپنے لئے۔۔۔سمجھا کر بیچاری اس بہانے گھوم بھی لے گی۔۔۔ساجد کی بات پر حرا بائی نے نحوست سے ہنکار بھرا ۔۔۔
"کیا تجھے یقین ہے وہ شہر میں نہیں ہے ہوسکتا ہے یہیں کہیں چھپی ہو۔۔آہ پیسہ بھی تو لے گئی ساتھ۔۔
"ہاں تو اس کے لئے رئیس ہے نہ۔۔۔ساجد کی بات پر حرا بائی نے اسے دیکھا۔
"کیا مطلب ہے تیرا وہ کیا کرے گا۔۔
"ہاہاہا ارے اسکی مردانگی پر بات آگئی ہے دو تین بار اس کے پاس گیا لیکن پھر بھی کچھ نہیں کرسکا۔۔۔۔ہاہاہاہا! اب تڑپ رہا ہے۔۔ابھی اسی کا فون تھا کہ میں دوسرے شہر جا کر ڈھونڈ لوں پیسہ وہ دے گا۔۔۔ہاہاہا۔۔بیچارہ۔۔۔۔ساجد بتاتے ساتھ اسکا مذاق اڑاتے ہوۓ ہنس رہا تھا کہ وہاں موجود سب اسکی بات پر ہنسنے لگے۔۔وہاں کہ ماحول کو دیکھ کر کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ آج صبح ہی ایک جیتی جاگتی لڑکی کو رات سے اپنی درندگی کا نشانہ بنا کر تڑپا تڑپا کر مار دیا گیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
"یہ سب پیک کر دیا ہے میں نے اور کچھ رکھنا ہے تو بتاؤ بعد میں وہاں جا کر رونا مت کہ یہ رہ گیا وہ رہ گیا عائشہ جو اپنی اور نورین کی پیکنگ کر رہی تھی اسے دیکھ کر بولی جو فرینچ فرائز کھانے میں مصروف تھی۔۔
دونوں شادی کہ لئے پھوپھو کے گھر روکنے کہ لئے جا رہی تھیں جبکہ فہیم امتحانوں کی وجہ سے نہیں جا رہا تھا۔۔
"ارے ہاں یاد آیا میری وہ پازیب رکھی جو ہم کل لائے تھے۔
نورین سوچتے ہوۓ تیزی سے اسکی جانب گھوم کر پرجوش انداز میں پوچھنے لگی تھی جب نادیہ بیگم جو انھیں علی(پھوپھو کا بیٹا) کے آنے کا بتانے اندر آئی تھیں نورین کی بات سنتے ہی آگے بڑھ کر اسکے سر پر ہاتھ رسید کیا۔۔
"کوئی ضرورت نہیں ہے پازیب پہننے کی اور تم عائشہ،کیوں دلائی اسے ہاں ہر بات ماننا ضروری نہیں ہے۔۔مت بگاڑو اسے
"امی کیا ہوگیا ہے مجھے پسند ہے۔۔۔نورین منہ پھولا کر بولتی عائشہ کو اشارہ کرنے لگی جسے سمجھتے ہی عائشہ نے مسکرا کر آگے بڑھ کر نادیہ بیگم کو پیچھے سے اپنے حصار میں لیا۔
"اففف! امی اتنا غصّہ مت کریں۔۔۔آپ کو نہیں پسند تو نہیں پہنے گی وہ بس۔
"رہنے دو تم میں اچھی طرح جانتی ہوں تم دونوں کو۔۔۔
"امی ہم جا رہی ہیں اور آپ ایسے ہمیں الوداع کر رہی ہیں۔۔۔۔نورین نے مسکین شکل بناتے ہوۓ کہا کہ نادیہ بیگم نے اسکا کان مڑوڑ ڈالا۔۔۔
"صرف ایک ہفتہ محترمہ پھر ہم بھی وہیں آجائیں گے۔۔۔
"ایک ہفتہ امی جانتی بھی ہیں ایک ہفتے میں کیا کچھ ہو سکتا ہے اگر میں کھو گئی۔
"نورین کیا الٹا سیدھا بول رہی ہو۔۔۔۔یکدم ہی عائشہ اور نادیہ بیگم نے اسے ٹوکا تھا جانے کیوں اسکی بات پر دونوں ماں بیٹی کا دل کانپا تھا جبکہ نورین کو شدّت سے اپنی کہی بات پر افسوس ہوا تھا۔۔
"سوری وہ یونہی نکل گیا منہ سے۔۔۔سوری! نورین نادیہ بیگم کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں لے کر کہتی اٹھ کر انکے گلے سے لگی تھیں نادیہ بیگم نے مسکرا کر اسے خود میں بھینچ لیا تھا۔۔۔۔
کہتے ہیں نا قبولیت کا کوئی مخصوص وقت نہیں ہوتا۔۔۔۔ ہمارا کہا۔۔۔کب کہاں اور کیسے حقیقت کا روپ اختیار کر جاۓ کوئی نہیں جانتا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"آپ نے کیا پوچھنا تھا ہم سے؟ بالاج خاموشی سے گاڑی چلا رہا تھا جبکہ ہانم جوس کے ساتھ چکن پیٹیس کھانے میں مصروف بالاج کے بولنے کا انتظار کر رہی تھی جو جانے اسے لے کر کہاں جا رہا تھا۔۔
"ہممم۔۔۔ہاں پہلے کسی پارک جاتے ہیں وہاں آرام سے بات ہوجاۓ گی۔۔۔
"پارک۔۔۔۔ہانم نے اسکی بات پر بالاج کو دیکھا۔۔
"ہاں پارک اب اگر میں تمہیں کسی ہوٹل کا کہتا تو تم جو یہ جوس پی رہی ہو یقیناً میرے چہرے کی زینت بن جاتا.۔۔بالاج اسے دیکھتے ہوۓ بولا کہ ناچاہتے ہوۓ بھی ہانم ہنس پڑی تھی
جبکہ بالاج کو اس سے نظر چرانا مشکل ہوگیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔
پارک میں اس وقت زیادہ رش نہیں تھا دونوں چلتے ہوۓ ایک بینچ پر آکر بیٹھے تھے۔۔ہانم اردگرد دیکھنے میں مگن تھی اسے یہ جگہ کافی پسند آئی تھی جبکہ بالاج فرصت سے اسے بینچ سے ٹیک لگا کر دیکھ رہا تھا۔۔۔
جب اچانک اسکا موبائل بجا۔۔۔
دونوں اپنی اپنی جگہ چونکے تھے بالاج نے موبائل جیب سے نکال کر دیکھا تو شگفتہ بیگم کا نام جگمگا رہا تھا جسے دیکھ کر بلاج نے مسکراتے ہوۓ کال اٹھا کر موبائل کو کان سے لگایا تھا۔
ہانم جو یہاں آکر تھوڑی پرسکون ہوئی تھی ایک بار پھر پریشان ہوگئی تھی۔۔
پہلا خیال ہی اسے ساجد کا آیا تھا..
جب اچانک بالاج کہ منہ سے "مام" سن کر اس نے گہری سانس لی تھی بالاج نے اسے دیکھا تو مسکرا کر ہانم کو دیکھتے ہوۓ بات کرنے لگا۔۔
"میں پہنچ گیا ہوں۔۔۔۔جی زین کو میں میسج کر کے بتا چکا ہوں۔۔۔جی وہیں اسکے گھر پر ہی ٹھہروں گا۔۔۔اوکے اللّه حافظ۔۔۔بالاج ان سے بات ختم کرتا موبائل کو جیب میں رکھ کر اسے دیکھنے لگا جو نم ہوتی نگاہیں اسی پر جمائے ہوۓ تھی۔۔
بالاج نے گہری سانس لے کر اپنے اور اسکے درمیان فاصلے کو کم کیا۔۔۔
"کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟
"آپکی امی۔۔۔ہانم یکدم رکی۔۔۔
"ہاں میری مام کا فون تھا۔۔ خیریت پوچھنے کہ لئے فون کیا تھا۔۔۔۔
"بہت خوش قسمت ہیں آپ۔۔۔کتنی۔۔۔کتنی پیاری ہوتی ہیں نا مائیں بچہ جتنا بھی بڑا ہوجاۓ یا جتنا بھی دور ہو انکی دعائیں انکی فکر آپ کے ساتھ ہر وقت رہتی ہیں۔۔۔ہانم کے لب کانپ رہے تھے جبکہ آنسوں پلکوں کی باڑ توڑ کر گالوں پر پھسلتے چلے گئے تھے۔۔بالاج اسے دیکھتا رو گیا کہ اسکے پاس بولنے کو کچھ نہیں تھا۔۔۔۔
"ہم نے کبھی اپنی ماں کو نہیں دیکھا کبھی وہ لمس محسوس نہیں کر سکے۔۔۔ ہم نے یتیم خانے میں آنکھ کھولی تھی دس سال کی عمر تک ہم جیسے تیسے پلے تھے وہاں ہماری سہیلی بنی انیلا وہ ہم سے دو سال بڑی تھی اور ایک دن ہم اور انیلا گیٹ سے باہر آئیسکریم والے سے آئیسکریم خرید رہے تھے جب اچانک ایک بڑی گاڑی ہمارے قریب آکر رکی اس سے پہلے ہم کچھ کر پاتے دو موٹے آدمیوں نے ہمیں گاڑی میں کھینچ لیا۔۔۔ہم۔۔ہم نے بہت کوشش کی وہاں سے بھاگنے کی پر اس رات۔۔۔ہانم نے کہتے کہتے ہچکی لی۔۔۔بالاج نے آہستگی سے اسکے گرد بازو پھیلا کر اپنے ساتھ لگایا کہ ہانم اسکے سینے سے لگتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
"پانی۔۔۔بالاج نے بوتل کا ڈھکن کھول کر اسکی جانب بڑھایا جس نے اسے دیکھ کر دھیرے سے ہاتھ بڑھا کر بوتل کو لے کر منہ سے لگایا تھا۔۔
"اس رات کیا ہوا تھا ہانم۔۔۔ہانم نے جیسے ہی پانی پی کر بوتل بینچ پر رکھی بالاج اسکے ساتھ بیٹھتے ہوۓ بولا۔۔
"آپ کیا کریں گے جان کر؟
"پتہ نہیں لیکن میں سب جاننا چاہتا ہوں۔۔۔۔بالاج اسکے کہنے پر ہانم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوۓ بولا۔۔
"اس رات۔۔۔اس رات ہماری سہیلی ہماری انیلا کے ساتھ زبردستی زیادتی کی گئی اور ہم انھیں ان درندوں سے نہیں بچا سکے تھے لیکن حرا اماں نے ہماری خوبصورتی کی وجہ سے سب سے دور رکھا تاکہ جوان ہونے کہ بعد وہ ہماری ایک رات کی قیمت منہ مانگی لے سکیں پر ہم نے آج تک خود کو کیسے سمبھالا یہ ہم جانتے ہیں۔۔۔۔اس دلدل میں خوبصورت اور بدصورت میں صرف ایک چیز کا فرق ہے اور وہ ہے وقت کا۔۔۔۔آہ! ہمیں آج بھی اسی بات کا ملال ہے کہ ہم انیلا کو محفوظ نہیں کر سکے کاش ہم انھیں جان سے مار دیتے۔۔۔۔۔ہانم نے بولتے بولتے گیلی سانس اندر کھینچتے بالاج کو دیکھ کر اسکے ہاتھ کو تھاما تھا جس کی آنکھوں میں لالی در آئی تھی.۔۔
"ہماری انیلا بہت پیاری ہے آپ اسے دیکھیں گے تو آپکو ہماری بات پر یقین۔۔۔
"ہانم۔۔۔۔۔مجھے تمہاری ہر بات پر یقین ہے۔۔۔بالاج نے اچانک اسکی بات کاٹتے ہانم کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے اتنا قریب کیا کہ دونوں باآسانی ایک دوسرے کی آنکھوں میں تیرتے پانی کو دیکھ سکتے تھے۔۔
"مجھے یقین ہے ہانم۔۔۔جانتی ہو جب پہلی بار اس جگہ آیا تھا تب میں صرف ایک چیلنج کو پورا کرنے کے لئے اس کوٹھے کہ اندر گیا تھا تاکہ اس کوٹھے کی مغرور حسین طوائف کو زیر کرسکوں لیکن اسے گھونگھٹ میں دیکھ کر مجھے وہ اور زیادہ چیلینجنگ لگی تھی پر دیکھو قسمت کے کھیل کو کہ میں کل رات تمہارا چہرہ دیکھنے آیا پر اس عورت نے کہا کہ تم کسی رئیس نامی آدمی کہ ساتھ چلی گئی ہو. ۔۔میں تو مقابلے سے پہلے ہی جیت گیا تھا ہانم۔۔۔
(ٹھیک ہے اسکا مطلب میں یہ سمجھوں کہ بالاج طارق ذرا سے چیلنج سے ڈر کر بھاگ گیا؟
"میں بھاگنے والوں میں سے نہیں ہوں مسٹر ساجد۔۔۔۔بالاج گاڑی سے اتر کر ساجد کے مقابل کھڑا ہوتا آنکھوں میں آنکھیں گاڑے بولا تھا اور ساجد تو یہی چاہتا تھا)
پارک میں سکوت تھا جبکہ دونوں ہنوز اسی انداز میں بیٹھے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔۔
آپ جانتے ہیں ساجد اس کوٹھے کا دلال ہے بہت ہی بے حس،ظالم ، پتھر دل ہے وہ۔۔ہانم کے بتانے پر بالاج کے ہاتھ اسکے چہرے سے پھسلتے چلے گئے اسے یقین نہیں آرہا تھا جبکہ ہانم اسکی حالت دیکھ کر چہرے پر ہاتھ پھیرتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
"ہمیں بھاگنے میں مدد بھی انیلا نے کی ہے اور یہ سوچ سوچ کر ہمیں بہت ڈر لگ رہا ہے کہ وہ وہاں تنہا ہے اور وہ ظالم شیطان ہماری بہن جیسی سہیلی کے ساتھ جانے کیسا سلوک کر رہا ہوگا۔۔
"ہم کہاں جا رہے ہیں اب؟
"میرے ساتھ اور کہاں۔۔۔بالاج گاڑی چلاتے ہوۓ سکون سے بولا۔۔
"پر ہم وہاں نہیں جا سکتے۔۔۔ہانم نے گھبراتے ہوۓ اسے کہا۔۔
"پر کیوں؟ بالاج نے متفکر سے اسے دیکھا تھا وہ سب حقیقت جاننے کہ بعد کیسے اسے انجان شہر میں تنہا چھوڑ دیتا۔۔۔
"آپ بھول رہے ہیں کہ آپ ساجد سے اب بھی رابطے میں ہیں۔۔اگر اسے معلوم چل گیا تو وہ ہمیں نہیں چھوڑے گا۔۔۔ہانم نے ڈرتے ڈرتے اپنا خدشہ ظاہر کیا تھا کہ بالاج نے گہری سانس ہوا کہ سپرد کی۔۔۔
"تمہیں لگتا ہے حقیقت جاننے کہ بعد میں اس سے رابطہ رکھوں گا تو تم غلط ہو۔۔۔ہماری دوستی کو بمشکل ایک ہفتہ ہی ہوا ہے،ہم دونوں کی ملاقات ایک پارٹی میں ہوئی تھی۔۔۔
"لیکن آپ جہاں جا رہے ہیں۔۔۔۔وہاں کیا کہیں گے کون ہیں ہم؟ ہانم کے ایک اور سوال پر اس بار بالاج نے کچھ سوچتے ہوۓ مسکرا کر اپنا موبائل نکالا تھا۔۔۔
"یہ تو کوئی مسلئہ ہی نہیں ہے۔۔۔بالاج نے کہتے ساتھ گاڑی کی رفتار بڑھا دی۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوپہر کا وقت تھا جب انکی گاڑی ڈیفینس کہ ایک بنگے کے گیٹ سے اندر داخل ہو رہی تھی۔۔
ہانم پریشان سی اردگرد دیکھ رہی تھی جہاں ملازم اور مالی اپنے اپنے کاموں میں مشغول تھے۔۔
"آجاؤ۔۔۔بالاج کی آواز پر وہ چونکی تھی جو پہلے ہی گاڑی سے اتر چکا تھا۔۔۔
ہانم اچھے سے سر پر ڈوپٹہ لیتی گاڑی سے اتر کر اسے دیکھنے لگی. ۔۔۔
"پریشان ہو؟ بالاج کہ سوال پر اس نے سر جھکا کر نچلا لب کچلا۔۔
"تمہاری پریشانی کا حل ابھی آتا ہی ہوگا۔مطلب آتی ہونگی۔۔۔بالاج نے مسکراتے ہوۓ اسے کہا جب گھر کا اندرونی لکڑی کا دروازہ کھولتے ہی دو لڑکیاں مسکراتے ہوۓ تیز تیز چلتیں ان دونوں کے قریب آکر رکیں۔۔
"السلام علیکم! بالاج بھائی۔۔۔نورین نے پرجوش انداز میں اسے سلام کیا لیکن جیسے ہی ہانم پر نظر پڑھی لمحے بھر کے لئے ٹھٹکی تھی۔۔۔
"السلام علیکم۔۔۔۔میرا نام نورین امجد ہے اور یہ میری بہن عائشہ امجد۔۔۔۔نورین اپنا اور عائشہ کا تعارف کرواتی آگے بڑھ کر ہانم کے گلے لگی تھی کہ ہانم بوکھلا گئی جبکہ ہانم کہ تاثرات دیکھ کر بالاج اور عائشہ ہنس دیے تھے۔
"ماشاءالله آپ تو بہت خوبصورت ہیں۔۔۔کیوں عائشہ ٹھیک کہہ رہی ہوں نا؟
"ہاہاہا! ہاں واقعی ہے تو۔۔۔عائشہ کے بولنے سے قبل ہی بالاج نے آگے بڑھ کر نورین کے کندھے پر بازو پھیلا کر جواب دینے کہ ساتھ ہانم کو دیکھا کہ ہانم کا دل ایک بار پھر زوروں سے دھڑک اٹھا تھا۔
"بس بس آپ سے کس نے پوچھا ہے ہاں میں تو اپنی بہن سے پوچھ رہی تھی۔۔۔
"اوہ ٹھیک ہے میری غلطی ہے بس۔۔۔بالاج نے اسکے بال بگاڑتے ہوۓ کہا کہ نورین چیخ پڑی۔۔
ہانم حسرت سے ان لڑکیوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
"آپ مجھ سے تو ملی ہی نہیں۔۔۔عائشہ اسے خاموش دیکھ کر خود ہی آگے بڑھ کر بولی تھی کہ ہانم مسکرا کر اس سے گلے ملی۔۔
"آپ نے اپنا نام نہیں بتایا ابھی تک۔۔نورین کے پوچھنے پر وہ چونکی۔۔
"ہانم داؤد۔۔۔
"ارے واہ آپ کا نام بھی آپ کی طرح بہت خوبصورت ہے۔۔۔۔ویسے مجھے بہت پسند آیا آپ کا نام کاش میرا یہ نام ہوتا۔۔۔نورین کی بات پر ہانم کا دل کانپ اٹھا تھا۔۔
"اف بس کرو نورین یار۔۔۔ اور بالاج تم بتاؤ اب کیا کرنا ہے؟
عائشہ نے گھور کر اپنی بہن کو ٹوکا تھا پھر بالاج کو دیکھ کر پوچھا جس کی نظریں ہانم پر تھیں۔۔۔
اس سے پہلے وہ کچھ کہتا زین اپنے ایک سال کے بیٹے کو گود میں اٹھاۓ علی کہ ساتھ انکی طرف آیا تھا ہانم انھیں دیکھ کر بے اختیار بالاج کے نزدیک ہوئی تھی جسے بالاج سمیت سب نے بغور محسوس کیا تھا۔۔
وہ سب آپس میں کزنز تھے بالاج کی فیملی بھی کچھ مہینے پہلے ہی لاہور شفٹ ہوئی تھی کہ شگفتہ بیگم کا میکا لاہور میں تھا۔۔۔۔
لاہور جانے کا فیصلہ بھی شگفتہ بیگم کا تھا کیونکہ طارق صاحب زیادہ تر ملک سے باہر ہوتے تھے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
"السلام علیکم۔۔۔زین نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سلام کر کے نظر پھیر لی تھی جبکہ علی نے بھی سلام کے بعد بالاج کی جانب اپنا رخ کرلیا تھا۔۔
"ایسے بھی مرد ہوتے ہیں۔۔۔ہانم نے خود سے سوال کیا۔۔
"ہانم۔۔۔۔۔
بالاج کی آواز پر وہ جو سوچوں میں ڈوبی ہوئی تھی چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی تھی۔۔
"یہ میرے کزنز ہیں۔۔۔عائشہ اور نورین میری ماموں زاد ہیں اور یہ دونوں میرے خالہ زاد ہیں اور ہم سب اس کی شادی پر آئے ہیں
"کھانا پھوڑنے ہاہاہا ۔۔۔
بالاج بتاتے ہوئے علی کی طرف اشارہ کر کے مسکرایا تھا جب نورین کی بات پر سب ہنس دیے تھے جبکہ علی لڑکیوں کی طرح شرما کر زین سے اسکا بیٹا اٹھا کر بہانے سے وہاں سے گیا تھا
"شرما گئے ہمارے دولہے میاں۔۔۔
"توبہ توبہ علی کب تمہارا میاں بنا ذرا ہمیں بھی بتاؤ تاکہ مہر(علی کی دلہن) کو پہلے سے اطلاع کیا جا سکے کے شادی کرنے سے پہلے علی صاحب کی عائشہ بیگم سے تمہیں جنگ لڑنی پڑے گی پھر جاکے قبول ہے قبول ہے قبول ہے ہوسکتا ہے۔۔۔۔نورین نے کانوں کو ہاتھ لگاتے کھڑے کھڑے پوری کہانی بنا لی تھی جبکہ بالاج اور زین کہ ساتھ ہانم بھی ہنس دی تھی۔۔بالاج نے ہنستے ہوۓ اسے دیکھ کر ساتھ سے گزارتے ہوۓ آہستہ سے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام کر اندر کی جانب قدم بڑھا دیے جو اسکے ہاتھ میں اپنے ہاتھ کو دیکھ کر دھیرے سے مسکرائی تھی پیچھے عائشہ نے زور سے نورین کی کمر پر مکا مارا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
یاسمین کب سے رئیس کو کمرے میں اِدھر سے اُدھر چکر کاٹتے دیکھ رہی تھی۔اس سے قبل رئیس پلٹتا یاسمین جو سنگھار میز کے سامنے بیٹھی تھی تیزی سے اٹھ کر اسکے سامنے آئی کہ رئیس بروقت روکا۔
"کیا بیہودگی ہے؟
"کیسی لگ رہی ہوں؟ رئیس کے توہین آمیز لہجے کو نظرانداز کرتے یاسمین نے مسکرانے کی کوشش کرتے ہوۓ اسکی گَردن میں باہِیں ڈال کر پوچھا تھا کہ رئیس نے اسکی بات پر سر تا پیر اسے دیکھا جو اسے اپنی طرف مائل کرنے کہ لئے گہرے گلے کی چست شلوار قمیض پہنے ہوۓ تھے جبکہ ڈوپٹہ ایک طرف ڈالا ہوا تھا۔
"تم جو بھی پہن لو تم پر اچھا لگتا ہے لیکن پھر بھی تم ہانم کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔۔۔رئیس کی بات پر یاسمین کا چہرہ دھواں دھواں ہوگیا احساسِ توہین سے اس سے کچھ بولا نہیں جا رہا تھا۔۔
یاسمین نے پیچھے کی سمت قدموں کو گھسیٹا تھا اسے یقین نہیں آرہا تھا اسکا شوہر اس پر ایک طوائف کو فوقیت دے رہا تھا اپنے نفس کا وہ اتنا غلام بن چکا تھا کے حلال اور حرام تک کا فرق بھول گیا تھا۔۔
"کہاں جا رہی ہو اب؟ اسے دروازے کی طرف بڑھتے دیکھ کر رئیس نے روعب دار آواز میں پوچھا۔
"یہاں اب میرا کیا کام رئیس۔۔۔۔۔یاسمین نے آہستہ سے کہتے آنکھوں کو میچا تھا کہ آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب اُمنڈ آیا تھا۔۔۔
"پر مجھے ہے۔۔۔لائٹ بند کر کے ادھر آؤ۔۔رئیس کہتے ساتھ بستر کی طرف بڑھا تھا۔۔۔
یاسمین کو یکدم ہی رئیس پر طیش آیا تھا اس سے قبل وہ اسے کچھ بولتی اپنے بیٹے کا خیال آتے ہی مٹھیوں کو بھینچ کر بے بس سی ہوگئی ۔۔یاسمین غیرب گھرانے سے تعلق رکھتی تھی جن کہ حالات پہلے ہی سہی نہیں تھے ایک ماں اور ایک ہی بھائی تھا جس کی اب شادی ہوچکی تھی۔۔۔طلاق لے کر وہ کیسے اپنی اکیلی ماں کے سر پر بوجھ بنتی۔۔۔
بیدردی سے آنکھیں صاف کرتی وہ سوئچ بورڈ کی طرف بڑھی تھی۔۔
"کہاں مر گئی ہو، ٹانگیں ٹوٹ گئی ہِیں جلدی آؤ پھر مجھے جانا بھی ہے۔۔۔۔۔
"آ۔۔۔آرہی ہوں۔۔۔یاسمین خود کو بمشکل رونے سے روکتی اسے جواب دینے کہ بعد اندھیرا کر چکی تھی۔۔۔اپنی زندگی کی طرح.۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ماشاءالله لڑکی تو بہت ہی پیاری ہے۔۔کیا خیال ہے لگے ہاتھوں تمہاری بھی بات کروں طارق بھائی سے؟
سب لاؤنج میں بیٹھے خوش گَپِیوں میں مصروف تھے ہانم بھی وییں سب کے ساتھ موجود تھی۔کسی کو نہیں معلوم تھا کہ وہ بالاج کے ساتھ آئی ہے سوائے ان چاروں کے۔۔۔
"ماشاءالله لڑکی تو بہت ہی پیاری ہے۔۔کیا خیال ہے لگے ہاتھوں تمہاری بھی بات کروں طارق بھائی سے؟
سب لاؤنج میں بیٹھے خوش گَپِیوں میں مصروف تھے ہانم بھی وییں سب کے ساتھ موجود تھی۔کسی کو نہیں معلوم تھا کہ وہ بالاج کے ساتھ آئی ہے سوائے ان چاروں کے۔۔۔۔
"ہممم۔۔بس ٹھیک ہی ہے۔۔۔بالاج مصنوعی منہ بنا کر جواب دیتا اپنی خالہ کا چہرہ دیکھ کر ہنس دیا تھا۔۔۔
"ہٹ پگلا لڑکا اتنی پیاری ہے اگر میرے علی کی شادی نا ہوتی تو اس سے کروا کر واپس چلی جاتی کینیڈا۔ثوبیہ بیگم کی بات پر بالاج کو ٹھسکا لگا سب نے بیک وقت بالاج کی طرف دیکھا تھا۔۔۔ہانم نا چاہتے ہوئے بھی اٹھ کر اس تک نہیں جا سکتی تھی ثوبیہ بیگم نے ملازمہ کو آواز دے کر جلدی سے پانی لانے کا کہا۔۔
"کیا ہوگیا بھئی؟ مام کیا کہہ دیا ایسا بیچارے کو۔۔۔
"ہاہاہا ارے زین میں بتاتی ہوں۔انمول (ثوبیہ بیگم کی بیٹی) کی آواز پر سب نے اسے دیکھا تھا جو شرارت بھری نظروں سے اسی کو دیکھ رہی تھی۔۔انمول بھی اپنے بھائی کی شادی میں اپنی غیر شادی شدہ نند(عروج) کے ساتھ کل ہی آئی تھی۔۔۔انمول کی شادی میں ہی اسکی ساس کو بالاج اپنی عروج کے لئے پسند آیا تھا لیکن انمول چاہتی تھی کہ وہ پہلے خود ایک دوسرے سے اتفاقیہ مل لیں جسکے لئے یہ موقع بہت اچھا تھا۔۔عروج کی نظریں بھی اسی پر تھیں۔۔۔۔وہ ایک آزاد خیال سوچ کی ماڈرن اور کہیں حد تک نک چڑھی لڑکی تھی۔۔
بالاج نے پانی پیتے ہی دوبارہ انمول کو دیکھا تھا جبکہ ہانم پرسکون ہوگئی تھی۔۔۔
"جی تو انمول باجی اب بتائیں؟ بالاج نے مسکرا کر انمول کو دیکھ کر پوچھا تھا جس نے آنکھ سے عروج کی طرف اشارہ کیا تھا۔۔ارادہ اسے عروج سے تعارف کروانے کا تھا۔۔
ہانم ناسمجی سے انھیں دیکھ رہی تھی۔۔
"میں اب بھی نہیں سمجھا۔۔۔بالاج واقعی اسکا اشارہ نہیں سمجھ پایا تھا۔۔۔
"یار بالاج چھوڑو سب چلو اٹھو۔۔۔زین اپنی جگہ سے اٹھ کر بولا کہ بالاج کے ساتھ انمول بھی سر جھٹک گئی۔۔
"چلو پھر۔۔۔۔۔بالاج کندھے اُچکا کر جیسے ہی صوفے سے کھڑا ہوا ہانم بھی تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
"بیٹی کیا ہوا؟ ثوبیہ بیگم کے حیرت سے پوچھنے پر بالاج نے سامنے دیکھا تھا جو کھڑی اپنے ڈوپٹے کے کنارے کو انگلی پر لپیٹ رہی تھی۔
ثوبیہ بیگم کی بات پر انمول نے تعجب سے اسے دیکھا جبکہ عروج جو پہلے ہی اسے دیکھ کر جل گئی تھی پیشانی پر بل ڈالے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
"وہ۔۔۔وہ ہانم آپی کو میں اپنے ساتھ لے کر جا رہی ہوں ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ میں۔۔عائشہ اور ہانم آپی ساتھ رہیں گے۔۔کیوں۔۔۔کیوں عائشہ۔۔۔بتاؤ نا۔ ۔۔نورین تیزی سے بات بناتے ہوئے عائشہ کی طرف دیکھ کر آنکھ سے اشارہ کرنے لگی کہ اس کی ہاں میں ہاں ملائی جائے
عائشہ تو جیسے تیار تھی مسکراتے ہوۓ زور و شور سے سر کو اثباب میں ہلانے لگی۔۔۔۔
جبکہ علی انکی حالت سے لطف اندوز ہورہا تھا۔۔
"ارے ہاں دیکھو ذرا باتوں میں تو میں بھول ہی گئی تھی سفر سے آئی ہو تھک گئی ہوگی۔۔۔جاؤ بیٹی آرام کرلو۔۔۔ثوبیہ بیگم کی بات پر ہانم کا دل بھر آیا تھا۔۔
"جی۔۔۔سر آہستہ سے ہلا کر کہتی وہ نورین اور عائشہ کہ ساتھ کمرے کی جانب بڑھنے لگی پیچھے ہی زین اسے لئے علی کے کمرے کی طرف جانے لگا۔۔۔ہانم نے جاتے جاتے پلٹ کر اسے دیکھا تھا جو پہلے ہی بار بار اسے جاتے دیکھ رہا تھا ہانم کے دیکھنے پر بالاج نے مسکرا کر پلکون کو جھپک کر اسے تسلی دی تھی۔۔۔ہانم آہستگی سے مسکراتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔۔
"بھابھی آپ نے دیکھا دونوں کو۔۔۔ہنہہ مجھے نہیں لگتا یہ عائشہ کی دوست ہے ۔۔۔عروج جس کا سارا دیھان انہی پر تھا غصّے سے بولی۔۔۔
"فکر مت کرو اس سے زیادہ کیا کرلے گی شادی تو بالاج تم سے ہی کرے اس کےکپڑے دیکھو پینڈو اور ہاں میں شگفتہ خالہ کو بتا چکی ہوں۔۔۔انہوں نے کہا ہے اگر بالاج راضی ہوتا ہے تو انھیں کوئی مسلئہ نہیں ہے۔
"کیا واقعی؟
"ہاں میری جان بس اب تم اسکے آس پاس رہنا تاکہ اس لڑکی کو بالاج سے بات کرنے کا موقع ہی نہ مل سکے۔۔۔انمول مسکراتے ہوۓ اسکے ساتھ کھسر پھسر کرتی منصوبے بنا رہی تھی.
۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں اندھیرا چھایا ہوا تھا جبکہ اے سی کی ٹھنڈک میں وہ اوندھے منہ لیٹا دنیا جہاں سے غافل تھا۔
کوئی بہت دیر سے دروازے پر ہلکے ہلکے دستک دے رہا تھا جب بمشکل بالاج نے اپنے بھاری ہوتے پیوٹے کھول کر ہاتھ بڑھا کر موبائل چیک کیا تھا جہاں شام کہ چھ بج رہے تھے بالاج وقت دیکھتے ہی تیزی سے اٹھ کر بیگ کی طرف بھاگا تھا کہ نیند تو بھک سے اڑ گئی تھی ۔۔۔ جینز اور ٹی شرٹ کے ساتھ اپنی جیکٹ بھی نکال کر بیڈ پر رکھی ہی تھی کہ ایک بار پھر دروازہ ہلکی آواز میں بجنے لگا اور اسے یاد آیا کے وہ یہاں اکیلا تو ہرگز نہیں آیا تھا۔۔۔
بالوں میں انگلیاں چلاتا وہ دروازے تک گیا تھا پھر ایک نظر خود کو دیکھ کر دروازہ کھول دیا سامنے ہی ہانم سیاہ شلوار قمیض میں کھڑی رونے والی ہورہی تھی۔۔
بالاج نے ہانم کو دیکھ کر اسکے پیچھے جھانک کر اردگرد دیکھنے کے بعد بنا کچھ کہے ہانم کا ہاتھ پکڑ کر اندر کھینچ لیا اسکے دروازہ بند کرتے ہی عروج سیڑیاں چڑھتے ہوۓ اوپر آئی تھی تاکہ بالاج کو جگا سکے اسی بہانے ان دونوں میں بات کا آغاز تو ہوگا۔۔
۔۔۔۔۔۔
"سوری۔۔۔تھکن کی وجہ سے اتنا زیادہ سو گیا کہ وقت کا پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔بالاج بے اختیار اسکے نزدیک آتے ہوۓ بولا کہ ہانم نے نظریں جھکاتے ساتھ سر بھی جھکا لیا تھا۔۔۔۔بالاج جو قد میں اس سے کافی لمبا تھا جھک کر اسکا چہرہ دیکھنے کی کوشش کرنے لگا جس نے جھکی نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔۔۔آنکھوں میں ڈوب جانا کسے کہتے ہیں کوئی اس وقت بالاج سے پوچھتا۔۔۔
"تمہاری آنکھوں کا رنگ بہت خوبصورت ہے۔۔۔بالاج کے تعریف کرنے پر ہانم نے مسکرا کر نظریں جھکائی تھیں۔۔۔
"ہمیں آپ سے کچھ کہنا ہے۔۔ہانم نے اس بار سر اٹھا کر اسے دیکھ کر کہا جس نے ہلکے سے سر کو اثباب میں ہلایا تھا۔۔
"ہاں کہو۔۔
"وہ۔۔وہ دراصل ہم یہاں نہیں رہ سکتے۔۔۔
پر۔۔۔اس سے قبل وہ اسے کچھ کہتا یکدم کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی.۔۔
ہانم نے گھبرا کر بالاج کو دیکھا جو خود بھی چونک گیا تھا۔۔
"پریشان مت ہو۔۔ایسا کرو دروازہ کے پیچھے چھپ جاؤ۔۔بالاج سرگوشی میں اسے ہدایت دیتا ہانم کے دروازے کہ پیچھے کھڑے ہونے پر اسے ایک نظر دیکھ کر دروازہ کھول چکا تھا۔۔
سامنے ہی عروج ٹراؤزر اور گہرے گلے کی کرتی میں ملبوس اسے دیکھ کر مسکرائی جسے دیکھتے ہی بالاج کہ تاثرات سخت ہوۓ تھے۔۔۔انمول کی یہ نند اسے کبھی پسند نہیں آئی تھی۔۔
"کچھ کام تھا؟ بالاج سنجیدگی سے کہتا چور نظروں سے اسے دیکھ کر دوبارہ عروج کو دیکھنے لگا۔۔جبکہ ہانم عروج کی آواز سن کر سر جھکا گئی تھی۔۔۔
"ہاں جی۔۔۔میرا مطلب اگر آپ کی صبح ہوگئی ہو تو لان میں آجائِیں سب چائے پر آپکا انتظار کر رہے ہیں۔۔۔
"ٹھیک ہے آتا ہوں۔۔۔بالاج اسے جواب دے کر زبردستی مسکرایا جسے اسکا اس طرح بات کرنا کافی ناگوار گزرا تھا لیکن پھر بھی مسکرا کر پلٹ گئی تھی۔۔
اسکے جاتے ہی بالاج نے دروازہ بند کرتے ہانم کو دیکھا جو اس سے نظر نہیں ملا رہی تھی۔۔
"آپ آجائیں۔۔ہم بھی جا رہے ہیں۔۔۔۔ہانم اس کہ دیکھنے پر خود ہی کہہ کر پلٹ کر جانے لگی جب بالاج نے اسکا ہاتھ پکڑ کر آہستگی سے اسے اپنی جانب کھینچا تھا۔
"تمہیں برا لگا؟ بالاج اسکے کان کے نزدیک جھک کر بولا۔۔۔جس کا رخ دروازے کے ہی سمت تھا۔۔
"ہمیں کیوں برا لگے گا۔۔
"جھوٹ۔۔۔۔بالاج کے کہنے پر ہانم نے تیزی سے اسکی طرف رخ کرتے بالاج کو دیکھا جس نے مسکرا کر اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر پھر بات کو وہیں سے جوڑا تھا
"میں جانتا ہوں تم جھوٹ بول رہی ہو۔۔تمہیں برا لگا میرا اس سے بات کرنا۔۔۔
"ہم جب کہہ رہے ہیں کہ نہیں لگا تو مطلب نہیں لگا۔۔۔اور اگر لگا بھی ہے تو آپکو اس سے کوئی فرق نہیں پڑھنا چاہیے کیونکہ ہم اپنی اوقات اچھے سے جانتے ہیں ویسے بھی ہمارا اور انکا کوئی مقابلہ نہیں ہے کیونکہ وہ ایک خاندانی لڑکی ہیں جو اپنے گھر کی عزت ہیں اور ہم ایک طوائف جسے معاشرے میں غلاظت سے بھی جانا جاتا ہے طوائف خود ایک گالی ہے۔۔۔ جو پیسوں کے لئے سب سے پہلے اپنی عزت بیچتی ہے۔۔۔۔اگر آپ پھر بھی کبوتر کی طرح حقیقت کے سامنے آنکھیں بند کرلینا چاہتے ہیں تو یاد رکھیے گا جس راستے کو آپ ہمارے ساتھ چُنئیں گے منزل تک پہنچنے کہ لئے ثابت قدم اور ہم پر یقین کرنا لازم ہوگا ۔۔۔ بالاج کی بات پر ہانم اسکے دونوں ہاتھوں کو جھٹکے سے ہٹا کر بھیگے لہجے میں کہہ کر کمرے سے نکل گئی جبکہ اسکے جاتے ہی بالاج کتنی ہی دیر دروازے کو کھڑا دیکھتا رہا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
سوا نو کا وقت تھا جب ساجد اور سونیا ہوٹل کے کمرے میں داخل ہوۓ۔۔۔ساجد ہاتھ میں پکڑا بیگ ایک طرف رکھ کر موبائل نکال کر نمبر ملاتے ملاتے یکدم روک کر پلٹا تھا۔
"تم جاؤ تیار ہوجاؤ میں ذرا ایک فون کرلوں۔۔
"اف میں تو ابھی آرام کروں گی ڈارلنگ۔۔۔سونیا اسکے نزدیک جا کر اسکے گرد حصار باندھ کر لاڈ سے بولتی ساجد کہ بالوں میں انگلیاں چلانے لگی جب ساجد نے اسے خود سے دور کرتے کھینچ کر تھپڑ رسید کیا تھا کہ سونیا زور سے نیچے جا گری۔۔ یکدم ہی اسے انیلا کا مردہ وجود بستر پر رسیوں سے بندھا یاد آیا تو کانپ اٹھی جبکہ ساجد نے جھک کر اسکے بال مٹھی میں بھر کر اسے بیدردی سے کھڑا کیا کہ سونیا درد سے چیخ پڑی۔
"ساجد!!
"چپ کر حرافہ۔۔۔ تو کیا سمجھی تجھے یہاں گھمانے لایا ہوں۔۔۔ہاہاہا۔۔۔ساجد غرا کر اسے کہتا زور سے ہنسا تھا کہ سونیا نے جھٹکے سے اسے دیکھا تھا۔۔
"کک کیا مطلب ہے۔۔۔
"اب تجھے مطلب بھی میں ہی سمجھاؤں ہاں۔۔۔ دیکھ حرا بائی نے اس ذلیل عورت کو ڈھونڈنے پر لگا دیا ہے اور مجھے بس پیسہ چاہیے جو اسکی وجہ سے مل نہیں پا رہا اسلئے تجھے لایا ہوں۔۔،۔ میں اسے ڈھونڈھوں گا تب تک مجھے پیسہ کما کر خوش کر پھر اس حرافہ کہ ملتے ہی ہم شادی کرلیں گے۔۔۔۔۔چل اب شاباش جا کر تیار ہو مہمان آتا ہی ہوگا۔۔۔۔
ساجد اسے بہلا رہا تھا جبکہ سونیا کو ناچاہتے ہوۓ بھی اسکی بات ماننی پڑے گی کیونکہ وہ اسکے ساتھ اکیلی اسلام آباد میں تھی جہاں کوئی بھی اسے بچانے والا نہیں تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔
"ہیلو!
رئیس جو ہوٹل کے کمرے میں کسی کال گرل کے ساتھ موجود تھا موبائل پر ساجد کالنگ دیکھ کر اس لڑکی کو دور ہٹاتا تیزی سے کھڑا ہوا۔۔
"ہیلو ہاں۔۔۔کیا تم پہنچ گئے؟
"ہاں پہنچ گیا ہوں۔۔۔کھانا کھا کر نکلو گا تمہاری محبوبہ کو ڈھونڈنے۔۔۔ساجد کی بات پر اس نے زہرخند قہقہہ لگا کر پاس ہی موجود لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر کھینچ کر اپنے ساتھ لگایا۔۔
"ٹھیک ہے پھر تم اپنا کام کرو ہم یہاں اپنا کام کریں گے۔۔۔بس ایک بار وہ میرے ہاتھ لگ جاۓ۔۔
"ٹھیک ہے رکھتا ہوں۔۔۔ساجد نے اسکی بات سن کر کال کاٹ دی۔۔
۔۔۔۔۔۔
"کس کی کال تھی۔۔۔۔لڑکی نے رئیس کے چہرے پر انگلی پھیرتے ہوۓ کہا جب اچانک ہی اسے ہانم کا اسے ذلیل کر کے کمرے سے باہر نکالنا یاد آیا۔۔۔
"کہاں کھو گئے۔۔۔لڑکی اسکے تاثرات دیکھے بنا اسے خوش کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ اچانک ہی رئیںس نے اسکی صراحی دار گردن کو اپنے شکنجے میں لیتے زور سے بستر پر اچھالا تھا کہ وہ لڑکی اس سے ڈر کر دروازے کی طرف بھاگی ہی تھی کہ کمرے کا دروازہ جیسے ہی کھولا سامنے ریاض کو دیکھ کر رئیس ہنستے ہوۓ آگے بڑھا ۔
"کہاں جا رہی ہو میری جان۔۔۔ریاض شیطانی مسکراہٹ سے کہتا ساتھ ہی اس لڑکی کو رئیس کی طرف دھکا دے کر اندر آتے ہی دروازے کو لاک لگا چکا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈائننگ ٹیبل کے گرد گھر کہ سبھی افراد بیٹھے رات کا کھانا کھا رہے تھے
جبکہ ہانم زندگی میں پہلی بار ایک مکمل فیملی کہ ساتھ موجود تھی کہ اسے یقین نہیں آرہا تھا ۔۔۔ بالاج کھانا کھانے کے ساتھ اسے بھی دیکھ رہا جو سر جھکائے چاولوں میں صرف چمچ چلا رہی تھی۔۔
"بالاج یہ ٹیسٹ کریں۔۔۔عروج جو اپنا کھانا کھانے میں مصروف تھی انمول کے اسے کندھا مار کر ہلکی آواز میں کہنے پر اٹھ کر اسکے پاس کھڑی ہوکر مسکرا کر بولتی چکن کڑاہی کی ڈش اسکے منہ کے سامنے کنارے پر رکھی ہی تھی کے پوری ڈش بالاج پر الٹ گئی۔

"بالاج بیٹا تم ٹھیک تو ہو۔۔ثوبیہ بیگم گھبرا کر اسکے قریب آئیں جو تیزی سے کرسی سے کھڑا ہوا تھا۔۔
جبکہ باقی سب بھی پریشانی سے اٹھ کھڑے ہوۓ۔۔
"آ آئم سو سوری ڈش گرم ہو رہی تھی۔۔۔سوری بالاج سو سوری۔۔
"کوئی بات نہیں۔۔۔۔میں ٹھیک ہوں آپ سب بیٹھیں میں کپڑے بدل کر آتا ہوں۔۔ بالاج بنا اسے دیکھے سب سے کہتا کمرے کی طرف پلٹ گیا تھا۔۔
عروج سکون بھرا سانس لیتی دوبارہ اپنی کرسی پر جا کر بیٹھ گئی تھی ۔۔۔
"تم نے تو سب بگاڑ دیا۔۔۔انمول نے اسے دیکھ کر گھوری سے نوازتے ہوۓ کہا۔۔
جو ڈھٹائی سے دوبارہ اپنا کھانا شروع کر چکی تھی۔۔
"عجیب جاہل ہے عروج آپی کی یہ نند جب دیکھو کوئی نہ کوئی بھنڈ کرتی رہتی ہے.۔۔۔نورین نے علی کی طرف جھک کر رازداری سے کہا جو اسکی بات پر اپنا قہقہ بمشکل ضبط کر پایا تھا۔۔
"چپ کرو۔۔ابھی اگر اس نے سن لیا نا تو ایک اور تماشہ لگائے گی..عائشہ نے یُکدم اپنی بہن کو ڈپٹا تھا کہ علی ہنسی ضبط کرنے کہ چکّر میں کھانسنے لگا۔۔
"بہت زیادہ کھانسی ہو رہی ہے آئیں میں ابھی ٹھیک کر دیتی ہوں۔۔۔۔نورین کو تو جیسے موقع مل گیا تھا زور زور سے اسکی کمر پر چماٹ رسید کرنے لگی کے علی نے گھورتے ہوۓ اسے روکا تھا۔۔۔
زین اور دعا(زین کی بیوی) دونوں انہیں دیکھ کر مسکرانے لگے خاندان میں وہ دو ہی ایسے تھے جو ایک دوسرے کو چڑھانے کے بعد بھی کچھ ہی دیر میں سب بھلائے ایک ساتھ بیٹھے ہوتے تھے۔۔
ہانم کو انکی نوک جھونک دیکھ کر یُکدم اپنا بچپن یاد آیا تھا۔۔۔انیلا اور وہ کتنی شرارتی ہوا کرتی تھیں کوئی اگر پوچھے کہ زندگی کیا ہے تو وہ بے جھجھک کہے گی بچپن کے وہ "دس سال"
یکدم اسے بالاج کی فکر ہونے لگی تھی جانے وہ ٹھیک بھی تھا۔۔
"ہم کیسے جا سکتے ہیں۔۔۔ہانم خود ہی سوچ کر عائشہ کو دیکھنے لگی جس نے اسے دیکھ کر مسکراہٹ اچھالی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم۔۔۔کھانا لگا دوں؟ یاسمین رئیس کو آتا دیکھ کر پوچھنے لگی جو ابھی آفس سے آرہا تھا
"نہیں۔۔۔مجھے ابھی ایک پارٹی میں جانا ہے۔۔تسنیم کو جا کر کہو تیار ہے تو آجائے۔
"لیکن اسے کہاں لے کر جا رہے ہیں؟ یاسمین کہ حیرت سے پوچھنے پر رئیس قدم قدم چلتا اسکے سامنے آکر روکا پھر زور سے اسکا جھبڑا اپنی سخت گرفت میں لیتا چہرے پر جھک کر سیدھا ہوا۔۔۔
جبکہ یاسمین آنکھیں پھاڑے اس کی جرّت دیکھ کر رہ گئی۔۔یہ وہ رئیس تو ہرگز نہیں تھا۔۔۔
"میری جان وہ میری بہن ہے رئیس علی کی بہن مجھے اس کی شادی بھی کرنی ہے ایسے خاندان میں جہاں اسے کسی بھی چیز کی کمی نہ ہو اب خود کو دیکھو کہاں تھی اور اب کہاں کھڑی ہو۔۔۔رئیس مسکرا کر اسے اسکی اوقات یاد کرواتا کمرے کی طرف بڑھ گیا جبکہ وہ جو پہلے ہی اتنی مشکل سے اپنے ٹوٹے دل کی کرچیاں سمیٹ رہی تھی ایک بار پھر سب بکھرتا چلا گیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
"ساجد کچھ معلوم ہوا۔۔۔۔۔۔ساجد جیسے ہی کمرے میں آیا سونیا نے اس سے پوچھا۔۔
ساجد نے ایک نظر اسے دیکھا جو سج دھج کر اسکے سامنے کھڑی تھی۔۔
"نہیں لیکن بےفکر ہوجاؤ میں نے پولیس میں رپورٹ کروا دی ہے کہ ساجد کی حسین بہن گم گئی ہے۔۔ہاہاہا۔۔۔ساجد اسے کمر سے پکڑ کر بستر کی طرف بڑھتے ہوئے بتا کر ہنسا جس کا ساتھ سونیا نے بھی دیا۔۔
"کیا بات ہے تمہاری لیکن اگر وہ اس شہر ہی میں نہ ہوئی تو؟ سونیا اسکے پہلو میں لیٹتی سینے پر تھوڑی ٹکا کر پوچھنے لگی جو اسکے بالوں میں انگلی چلا رہا تھا۔۔
"پہلے تلاش تو شروع ہونے دو اگر نہ ہوئی تو لاہور میں ہی کہیں ہوگی لیکن یہ طہہ ہے ایک بار وہ مل گئی نا تو تم دیکھنا اسکی چمڑی پہلے میں ادھیڑوں گا۔۔کمینگی سے کہتا وہ سونیا کو اپنی حصار میں لیتا اسکے چہرے پر جھک گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔
"ہانم باجی کل ہم شاپنگ پر جا رہے ہیں کیا آپ چلیں گی ہمارے ساتھ۔۔۔
"کیوں کس لئے سب تو لے کر آئے ہیں نا تو پھر کیا ضرورت ہے۔۔اس سے قبل ہانم کچھ کہہ پاتی عائشہ جو کمرے میں داخل ہو رہی تھی اسکی بات سنتے ہی تڑخ سے بولی۔۔
"ہاں تو میں اپنے لئے تھوڑی نا کہہ رہی ہوں وہ تو دعا بھابھی کہ ساتھ جا رہی ہوں اور ویسے بھی ہانم آپی کہ پاس تو کپڑے بھی نہیں ہیں۔۔بالاج بھائی کو بھی خیال نہیں آیا کہ اپنی دوست کو پیکنگ کا موقع ہی دے دیتے۔۔۔اففف ! ہانم آپی آپ کی دوستی کیسے ہوگئی بالاج بھائی سے۔۔
"نورین بس کرو یار بولنے پر آتی ہو تو چپ ہی نہیں ہوتی ہو پٹر پٹر ہی لگ گئی ہو۔۔ہانم نورین کی باتیں سن کر مسکرا رہی تھی اسے وہ بہت پیاری لگی تھی جبکہ عائشہ تو اپنی بہن کہ اتنا زیادہ بولنے پر خود کو بولنے سے روک نہ سکی اور ہانم وہ تو بھول ہی گئی تھی بالاج سے پوچھنا کہ اس نے ان کو اس کے بارے میں کیا بتایا تھا۔ ۔
۔۔۔۔۔
"اچھا اب منہ بند رکھو اپنا۔۔۔طویل بحٹ کہ بعد عائشہ نے ہار مانتے ہوۓ اسے کہا پھر ہانم کو دیکھا جو ہنوز خاموش بیٹھی جانے کس دنیا میں کھوئی ہوئی تھی۔۔
"ہانم۔۔۔۔عائشہ کی آواز پر وہ چونکی۔۔
"ہاں۔۔۔ہانم کہ اسکی طرف متوجہ ہوتے ہی عائشہ اسکے قریب آکر بیٹھی پھر اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا نورین بھی مسکرا کر ہانم کے ساتھ آکر بیٹھی۔۔
"میں نے جب آپ کو بالاج کہ ساتھ کھڑے دیکھا تو مجھے پہلے تو یقین ہی نہیں آیا کہ بالاج واقعی اپنی کسی دوست کو ساتھ لا رہا ہے ورنہ آج تک اس نے کبھی بھی کسی فی میل فرینڈ سے ہمیں کیا اپنے مام ڈیڈ سے نہیں ملوایا۔۔۔
"ہمم عائشہ سہی کہہ رہی ہے ۔۔۔کچھ تو ہے جو بہت خاص ہے۔۔نورین جو خاموش رہ ہی نہیں سکتی تھی آنکھیں مٹکا کر کہتی ہانم کے گرد بازو پھیلا کر لاڈ سے اسکے گال سے گال مس کر کہ مسکرائی جبکہ ہانم انکی باتوں پر افسردگی سے مسکرا کر نظر گھوما کر نورین کو دیکھنے لگی یُکدم ہی اسے انیلا یاد آئی تھی جو اسی طرح اس سے لاڈ کیا کرتی تھی۔
"اللّه میری انیلا کو اپنے امان میں رکھیے گا۔۔۔۔ہانم نے سوچتے ہوۓ گہری سانس لیتے ان کی باتیں سننے لگی
۔۔۔۔۔۔
رات میں اچانک ہی تیز بارش شروع ہوگئی تھی سونیا تیار ہوئی صوفے پر بیٹھی ساجد کے آنے کا انتظار کر رہی تھی جو اسے باہر گھمانے لے جانے کا کہہ کر گیا تھا۔۔
سونیا بے تحاشا خوش تھی کہ آج وہ گھومنے جا رہے ہیں۔۔ابھی وہ یہ سب سوچ سوچ کر خوش ہی ہورہی تھی جب کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔
سونیا نے تیزی سے اٹھ کر شیشے میں اپنی تیاری دیکھ کر دروازے کے قریب پہنچ کر مسکرا کر دروازہ کھولا لیکن سامنے ہی ساجد کی بجائے بڑی عمر کے لمبے چوڑے موٹے آدمی کو دیکھ کر اسکی مسکراہٹ یکدم غائب ہوئی تھی۔۔
"ہیلو ڈارلنگ۔۔۔کمال لگ رہی ہو۔۔۔۔آدمی اسے سر تا پیر گہری نظروں سے دیکھتا خود ہی آگے بڑھ کر اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر کمرے میں داخل ہو کر سونیا کا حجاب جو اس نے اتنے سالوں بعد باندھا تھا اتارنے لگا کہ یکدم اسکا سکتا ٹوٹا تھا تیزی سے اس سے دور ہوکر وہ اس آدمی کو دیکھنے لگی۔۔۔
"کک کون ہو تم۔۔۔
"کیا ڈرامہ کر رہی ہو؟ سونیا کے پوچھنے پر وہ آدمی اچانک ہی غصّے میں آیا تھا جبکہ سونیا پوری آنکھیں پھیلائے اس آدمی کو دیکھنے لگی۔۔
آدمی نے اس بار آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ بیدردی سے پکڑا کے سونیا نے اسے زور سے پیچھے کی جانب دکھیلا تھا کہ وہ زور سے نیچے گرا تھا۔۔
"سالی روک۔۔۔آدمی طیش میں اٹھ کر زور سے اسکے گال پر تھپڑ رسید کرتے ہی بالوں سے تھام کر لگاتار مارتا چلا گیا پھر بالوں سے ہی پکڑ کر اسے بستر پر پٹخا سونیا زاروقطار روتی ہوئی اس سے دور ہونے لگی جس کا غصّہ بڑھتا ہی جارہا تھا۔۔۔
یکدم اس آدمی کا موبائل بجا تھا۔۔سونیا اسے موبائل کی طرف متوجہ ہوتے دیکھ کر تیزی سے اٹھ کر باتھروم میں چھپنے کہ لئے بھاگی ہی تھی جب اس آدمی کے منہ سے ساجد کا نام سن کر اسکے قدم وہیں برف ہوگئے تھے جبکہ وہ اسے گالی دے کر صبح تک پیسے واپس لینے کا بول رہا تھا۔۔۔
"اس کا مطلب ساجد تو۔۔۔آہ! کتنی بڑی بیوقوف ہے تو' تو کیسے بھول گئی کہ ایک طوائف کا گھر خود دلال کییے بسائے گا نہیں وہ تو بس اسکی قیمت لگانا جانتا ہے۔۔۔کتنی بڑی غلطی کردی۔۔میں۔۔۔میں ساتھ دے سکتی تھی انیلا کا ہاں لیکن نہیں میں تو ساجد سے شادی کے خواب دیکھ رہی تھی۔۔۔
"ٹھک"
آواز پر وہ جو خود سے باتیں کر رہی تھی ڈر کر پلٹی جہاں اب کوئی نہیں تھا اسکا مطلب وہ آدمی جا چکا تھا۔۔۔
"سس ساجد تو میری جان لے لے گا۔۔ا اب کیا کروں۔۔۔سونیا کا خوف سے حلق خشک ہوگیا جب عقب سے اسے انیلا کے چیخنے کی آوازوں پر سونیا نے پلٹ کر پیچھے دیکھا جہاں ساجد بے رحمی سے انیلا کو بالوں سے گھسٹ کر لے جا رہا تھا۔۔سونیا کا سارا وجود پسینے سے شرابور ہونے لگا۔۔
"نن۔نہیں۔۔۔نہیں میں۔۔۔میں مرنا نہیں چاہتی نہیں میں۔۔۔میں ساجد سے معافی مانگ۔۔۔نن۔۔۔نہیں وہ درندہ ہے۔۔۔وہ مجھے بھی مار دے گا۔۔۔مجھے مار دے گا۔۔۔۔سونیا خوف سے بری طرف کانپ رہی تھی۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ کوئی بھی فیصلہ لیتی کھلے دروازے سے عجیب حلیے میں موجود لڑکا اندر آیا۔۔جسکے بال گدی تک تھے جبکہ ہاتھ میں رنگ برنگی بینڈ ڈالے ہوۓ تھے سونیا نے قدموں کی آواز پر اسے دیکھا جس نے پیر کی مدد سے دروازے کو بند کیا تھا دروازہ آٹومیٹک ہونے کی وجہ سے بند ہوتے ہی لاک ہوچکا تھا۔۔۔
سونیا اسکے قریب آنے پر بھی ایک انج نہیں ہٹی تھی جبکہ اس نے سونیا کہ دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھ کر کندھے سے ہی قمیض کو پکڑ کر زور کا جھٹکا دیا کے وہ چر کی آواز کے ساتھ پھٹ گئی ۔۔
"بہت اکڑ آگئی ہے ہاں۔۔۔لڑکے نے بغور اسے دیکھ کر کہتے ہوۓ اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔۔سونیا سن ہوتے دماغ کہ ساتھ کھڑی تھی جبکہ وہ اسکی گردن پر جھکا تھا ساتھ ہی اپنی پینٹ کی جیب سے تیز دھار والا چھرا نکالا تھا۔۔
"آہ! میری جان کاش ساجد مجھے ایک رات اور دے دیتا پر وہ ٹھہرا (گالی)۔۔
سونیا کو جب تک اسکی بات سمجھ آئی تھی لڑکے نے چھرا اسکی کمر میں گھونپ دیا اس سے قبل سونیا کی چیخ باہر جاتی چھرے کو وہیں چھوڑ کر دونوں ہاتھوں سے اسکا لرزتا چہرہ تھام کر وہ اسکے چہرے پر جھک گیا۔۔۔
کمر سے خون پانی کی طرح بہہ رہا تھا جبکہ وہ شیطان خود کو سیراب کرنے میں مشغول تھا۔۔۔
دوسری طرف وہی آدمی جو سونیا کے پاس گیا تھا مسکرا کر ساجد سے پیسے کی گڈی تھام کر شکریہ کرتا وہاں سے چلا گیا اسکے جاتے ہی ساجد کا قہقہہ اسی ہوٹل کے دوسرے کمرے میں گونجا تھا۔۔۔۔۔
اونچے اونچے قہقہے لگاتا وہ فل سائز کے بیڈ پر گرنے کہ انداز میں لیٹتا دونوں ہاتھوں کا تکیہ بنا کر اپنے سر کے نیچے رکھ کر گہری سانس کھنچتا بائیں پیر زمین پر مار رہا تھا جب اچانک دروازے پر دستک ہوئی تھی۔۔ساجد آنکھیں کھولتا مسکرا کر اپنی جگہ سے اٹھتا دروازے تک پہنچا پھر ہاتھ بڑھا کر کھولا سامنے ہی ایک لڑکی پینٹ پر ٹاپ پہنے ہاتھ میں پھولوں کا گلدستہ پکڑے ہوۓ تھی۔۔
"ہیلو مسٹر ساجد۔۔۔لڑکی اسے دیکھتے ہی مسکرائی تھی۔۔۔
جبکہ ساجد کی نظر اسکے سرخ ہونٹوں سے ہوتی ہوئی صراحی دار گردن پر جا ٹکی تھی۔۔
"ہیلو! مس عروج وقار۔۔۔۔۔ساجد مسکرا کر اسے جواب دیتا ایک طرف ہوکر اسے اندر آنے کا راستہ دینے لگا عروج ہاتھ میں پھولوں کا گلدستہ لئے اندر آئی۔۔
"مجھے لگا نہیں تھا کہ تم آجاؤ گی.۔ساجد کا لہجہ اور انداز دونوں ہی بدلے ہوۓ تھے۔
"ہیپی برتھڈے ساجد۔۔۔کیسے نہیں آتی تم نے اتنے پیار سے مجھے دعوت دی تھی۔۔۔
عروج پھولوں کا گلدستہ اسے دیتے ہوۓ آگے بڑھ کر اس کے گال کو چوم کر پیچھے ہوتے ہوۓ مسکرائی تھی کہ ساجد شرمانے کی اداکاری کرتا "تھینکس" بول کر سائیڈ ٹیبل کی طرف بڑھ گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"سونیا اسکے شکنجے میں تڑپ رہی تھی جو درندگی پر اتر گیا تھا اسے کوئی پرواہ نہیں تھی کہ وہ کس حال میں ہے۔۔۔سونیا کی کمر سے چھرا واپس باہر نکالتے ساتھ اس نے پھرتی سے سونیا کہ منہ کو دبوچا تھا وہ جو بھی تھا اپنے کام میں ماہر لگتا تھا۔۔زور سے اسے نیچے گرا کر ایک بار پھر وہ اس پر حاوی ہوا تھا سونیا کی آنکھیں تکلیف کی شدّت سے پھٹ پڑی تھیں جبکہ آنکھیں سے آنسوؤں کا ریلا تھا جو روکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔۔۔آہستہ آہستہ اسکی ٹانگوں سے جان نکلنے لگی۔۔۔جب اچانک سے اس شخص کا موبائل بجنے لگا۔۔
"ہیلو۔۔۔۔بیدردی سے اسے روند کر کھڑا ہوتے اس نے سونیا کو لات ماری تھی کہ اسکے منہ سے ایک آخری ہچکی نکلی۔۔۔۔۔اور پھر ہر تکلیف و درد ختم ہو چکا تھا۔۔۔
"ہاں مر گئی ہے۔۔بڑی جان تھی سالی میں۔۔۔۔دوسری طرف کی بات سنتے ہی اس نے ایک نظر اسے دیکھ کر کہا۔۔
"ٹھیک ہے لاش کو لے کر وہاں سے نکلو پیسے مل گئے ہیں اور ہاں کمرا ہمارا بندا دیکھ لے گا۔۔۔
"چل ٹھیک ہے.۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ہیپی برتھڈے ٹو یو
ہیپی برتھڈے ٹو یو
ہیپی برتھڈے ٹو یو ڈئیر ساجد۔۔۔۔
عروج اسکے ساتھ بیٹھی تالی بجاتے ہوئے گا بھی رہی تھی جو مسکراتے ہوئے کیک کاٹ رہا تھا۔۔۔
ساجد نے کیک کاٹ کر اسکی طرف بڑھایا جسے مسکرا کر عروج نے اسکے ہاتھ سے کھایا پھر خود بھی اسے کیک کھلانے لگی جس نے کیک کے ساتھ اسکی انگلی بھی زور سے کاٹ لی تھی۔۔
عروج نے سی کرتے اپنا ہاتھ کھینچ کر اسے گھورا جو گھبرانے کی اداکاری کرنے لگا تھا ۔۔
"آئم سو سوری عروج وہ غلطی سے۔۔۔۔
"واٹ سوری۔۔اففف اتنی زور سے کاٹا ہے بدتمیز جا رہی ہوں میں۔۔۔۔عروج اسکی بات کاٹ کر اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھنے لگی جبکہ ساجد نے ضبط سے مٹھیاں بھینچ لیں تھیں۔۔
عروج نے جیسے ہی لاک پر ہاتھ رکھا سر گھما کر اسے دیکھنے لگی جس نے تیزی سے اپنے تاثرات بدلے تھے۔۔۔
"ہاہاہاہا۔۔۔۔او مائ گاڈ۔۔۔اپنی شکل دیکھو ذرا۔۔۔ہاہاہا۔۔۔عروج زور سے ہنستی ہوئی دوبارہ اسکے قریب جانے لگی جو اٹھ کر اسکے قریب آنے پر کمر سے تھام کر جھٹکے سے اسے اپنی طرف کھینچ چکا تھا عروج کی ہنسی اچانک تھمی تھی۔۔
"زخم میں نے دیا ہے اس حساب سے مرہم بھی میں ہی رکھو گا۔۔کیا خیال۔۔ساجد خماری میں کہتا عروج کا ہاتھ پکڑ کر انگلیوں کے پوروں کو لبوں سے چھونے لگا۔۔۔
"مم مجھے لگتا ہے اب چلنا چاہیے۔۔۔عروج دھک دھک کرتے دل سے ہکلا گئی۔۔
"آج میرا بہت خاص دن ہے عروج۔۔۔
"پر ساجد گھر میں کسی کو نہیں پتہ میں یہاں ہوں۔۔۔۔عروج پریشان ہوتے ہوۓ بولی کہ ساجد کی آنکھیں چمکنے لگی۔۔۔
"اب بھی کسی کو نہیں پتہ چلے گا۔۔۔پلیز یار ۔۔۔مسکین شکل بنا کر کہتا وہ اسے منانے لگا جو ڈرنے کے باوجود اسے انکار نہیں کر سکی تھی ۔۔
"اچھا ٹھیک ہے جیسا تم چاہو۔۔۔۔عروج مسکرا کر اسے دیکھنے لگی جس نے اسے گلے لگا کر گہری مسکراہٹ کہ ساتھ پردے کی جانب دیکھا تھا جہاں پہلے ہی وہ کیمرہ فٹ کرچکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
انمول جس کا سسرال لاہور میں ہی تھا۔۔۔ وہ جہاں رہتے تھے اسی علاقے میں ایک دن ساجد کسی سے ملنے گیا تھا اور وہیں ساجد کی نظر عروج پر پڑی تھی جو کافی بولڈ لگی تھی اسے۔۔۔۔ساجد نے لمحوں میں اسے اپنے کوٹھے کہ لئے چنا تھا اور اب اسے وہ چاہیے تھی تبھی وہ اسکا پیچھا کرتے ایک نائٹ کلب آیا تھا اسکے لئے عروج کو اپنے جال میں پھنسانا آسان تھا جبکہ عروج کو وہ پسند آیا تھا ساجد دیکھنے میں کافی گڈ لوکنگ تھا یہی وجہ تھی کہ عروج کو بھی وہ بھا گیا تھا ۔۔
اب جب بھی وہ ملتے نائٹ کلب میں ہی ملتے تھے۔۔۔اسے معلوم تھا عروج اپنی بھابھی کہ ساتھ اسلام آباد جا رہی ہے اور سونیا اس سے شادی کرنے کی ضد کر رہی تھی جو وہ ہرگز نہیں چاہتا تھا۔ ۔۔۔۔
سونیا کو راستے سے ہٹاتے ہی ساجد نے عروج کو کال کر کے اپنے یہاں آنے کا بتایا ساتھ ہی جھوٹی سالگرہ کا بھی جو وہ اسکے ساتھ منانا چاہتا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"اللّه یہ اندھیرا.۔۔۔ہائے اللّه بجلی والوں اللّه پوچھے تم لوگوں کو۔۔۔۔
"نورین پاگل تو نہیں ہوگئی ہو۔۔۔۔
"یار عائشہ لائٹ چلی گئی ناں۔۔۔دیکھو گھپ اندھیرا ہوگیا ہے مجھے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے بہت۔۔۔۔نورین عائشہ کی بات کو نظرانداز کرتے ہوۓ روہانسی ہوگئی تھی عائشہ نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا لیکن اندھیرے میں واقعی کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔
ہانم جو بے چینی سے کب سے کروٹیں بدل رہی تھی نورین کی آواز پر بستر سے اٹھ کر اندازے سے چل کر سنگل بیڈ کے پاس آئی۔۔
"نورین ہم یہیں ہیں تم لیٹ جاؤ۔۔۔ہانم کی آواز پر عائشہ نے دوبارہ تکیے پر سر گرا کر ہانم کو تھینکس کہا جبکہ نورین اسکی آواز پر تیزی سے ہانم کی گود میں سر رکھ کر اسکا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ چکی تھی۔۔
"ہانم آپی مجھے سچ میں اندھیرے سے خوف آتا ہے۔۔
"کوئی بات نہیں چندا ہم ہیں ناں تمھارے پاس جب تک روشنی نہیں ہوجاتی۔۔۔
"لیکن آپ کو نیند آرہی ہوگی۔۔۔آپ ایسا کریں میرے ساتھ یہیں لیٹ جائیں۔۔۔ہانم کے سر پے ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہنے پر نورین اسکے خیال کہ لئے بولی تھی۔۔
"پر۔۔۔
"پلیز ناں۔۔۔۔
"اچھا سہی ہے لیٹ جاؤ۔۔۔۔ہانم نے گہری سانس لے کر حامی بھرلی تھی جبکہ باہر لان میں چہل قدمی کرتا بالاج ہانم کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔
"آہ۔! بالاج کیا ضرورت تھی زیادہ رومانس جھاڑنے کی دیکھ لیا اسکا نتیجہ۔ایک بار بھی پوچھنے نہیں آئی کہ میں ٹھیک ہوں یا نہیں۔۔۔بالاج سخت چڑچڑا ہورہا تھا جبکہ اندر کمرے میں ہانم کا دل اسے دیکھنے کہ لئے مچل رہا تھا۔۔۔
"میں یہاں پاگلوں کی طرح اس کے بارے میں سوچے جا رہا ہوں اور وہ مزے سے اندر ان دو چھپکلیوں کے ساتھ گپپے مار رہی ہوگی۔۔۔
"نہیں تو۔۔۔آپ غلط سوچ رہے ہیں وہ تو لائٹ جانے کے باوجود سو گئی ہیں کمرے میں اے سی کی ٹھنڈک اتنی ہے۔۔۔بالاج جو بڑبڑائے جا رہا تھا آواز پر جھٹکے سے پلٹا تھا سامنے ہی وہ کھڑی اسے بتا رہی تھی۔
بالاج دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر اسے خفگی سے دیکھنے لگا۔۔
"آپ ایسے کیا دیکھ رہے ہیں؟ ہانم نے سر اٹھا کر اسے خود کو دیکھتا پایا تو سٹپٹا کر پوچھنے لگی۔۔
"مجھے لگتا ہے ہم دونوں کچھ وقت کہ لئے کہیں چلے جاتے ہیں ایسی جگہ جہاں صرف تم اور میں ہوں ویسے کیا خیال ہے وہی جنگل کیسا رہے گا؟
بالاج کہ شرارت بھرے لہجے میں کہنے پر ہانم مسکرا کر بنا کوئی جواب دئیے جانے لگی بالاج اسکے پیچھے بھاگا ہی تھا کہ آہٹ پر روک کر چاروں جانب دیکھنے لگا جبکہ ہانم نے کمرے میں جاکر ہی دم لیا تھا۔۔
اس سے قبل بالاج اندر جاتا یکدم اسکی نظر ہیولے پر پڑی تھی۔۔وہ جو بھی تھا لڑکھڑا کر چل رہا تھا لان کا وہ ایریا اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔
اس سے قبل وہ ہیولہ بالاج کو دیکھتا بالاج دبے قدموں وہاں سے اندر کی طرف بڑھ گیا تھا جب اسکے جانے کے تین منٹ بعد عروج اردگرد دیکھتی ہوئی اندر بھاگی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
میز کہ گرد بیٹھے سب ناشتہ کرنے میں مصروف تھے جب تسنیم کی آواز پر یاسمین نے سنجیدگی سے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا جو اپنے بھائی سے جوش و خروش میں کل کی پارٹی پر تبصرے کر رہی تھی۔۔۔
"بھابھی آپ کو بھی چلنا چاہیے تھا ہمھارے ساتھ۔۔اففف لڑکیاں کیا آنٹیاں بھی ایسے تیار ہوکر آئیں تھیں کہ بندا ایک بار دیکھے تو دیکھتا ہی رہ جائے۔۔
"یہ تو بالکل ٹھیک کہا تم نے تسنیم۔۔۔۔دو تین بچوں کی مائیں بھی ایسی اسمارٹ تھیں وہاں لیکن اپنی بھابھی کو لے جاکر تم نے اپنا مذاق بنوانا تھا۔۔۔رئیس کے تمسخرانہ لہجے پر یاسمین کا دل کٹ کر رہ گیا جبکہ تسنیم اور جویریہ بیگم(رئیس کی ماں) نے اسے حیرت سے دیکھا تھا۔۔۔
"بھائی۔۔۔
"کیا بھائی ٹھیک ہی تو کہہ رہا ہوں اتنا بھاری وجود کر لیا ہے کہ دل۔۔۔۔۔
اس سے آگے وہ لب بھینج گیا تھا جبکہ یاسمین اسکی آدھی ادھوری بات سمجھ کر ششدر سی اسے دیکھنے لگی جو اپنی ماں اور بہن کہ سامنے ہی وہ باتیں کر رہا تھا جو کوئی بھی عزت دار شریف مرد کرنے کی جرّت نہیں کرتا۔۔۔۔
"بھائی بہت بری بات ہے یہ اور اگر ایسی ہی بات ہے تو بھابھی کل سے جم جانا شروع کرتے ہیں کیا خیال ہے؟ تسنیم اسے کہہ کر یاسمین سے بولی جس کا ضبط اب جواب دے چکا تھا۔۔۔
جھٹکے سے کرسی سے کھڑی ہوتی وہ رئیس کو گھورنے لگی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
"بہت ہی اعلی قسم کی تقریر کرتے ہیں آپ مسٹر رئیس علی لیکن یاد رکھیے گا آپکی بہن ابھی بھی اپنے ہی بھائی کے گھر پر ہے۔۔۔
"یاسمین۔۔۔۔اپنی اوقات میں رہو۔۔۔۔یاسمین کی آخری بات پر جیسے رئیس بھڑک اٹھا تھا تسنیم اور جویریہ جو یاسمین کی ہمدرد بنی رہتی تھیں اسکی بات سنتے ہی دونوں کے تاثرات یکدم بدلے تھے۔۔
"جی بالکل جانتی ہوں اور ایسی اوقات پر میں ہزار بار لعنت بھیجتی ہوں کے تم جیسے حوس پرست مرد سے میں نے شادی کر کے اپنی زندگی دوزخ بنا لی ہے جو ہر رات کوٹھے میں گزارتا ہے ارے وہاں جانے کی کیا ضرورت ہے یہیں بلا لیا کریں کیونکہ آپکی اصلیت ہی یہی ہے کہ آپ ایک غلیظ مرد ان ہی جیسی غلیظ عورتوں کہ لل۔ ۔۔۔۔بولتے بولتے اس نے روک کر سانس کھینچی آنسوؤں کا گولہ جیسے حلق میں اٹک گیا تھا۔۔ دونوں ماں بیٹی لب بھینچے حیرت سے اسے دیکھ رہی تھیں جبکہ رئیس نے تیزی سے اسکے قریب آکر زوردار تھپڑ اسکے گال پر رسید کرنے کے بعد بالوں سے کھنچ کر باہر کی طرف اسے لے جانے لگا جب اپنے بیٹے کے رونے کی آواز پر یاسمین نے تڑپ کر کمرے کی طرف دیکھا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ارے بھائی کیا بات ہے آج تو آپ نے پی بھی نہیں ہے۔۔۔ریاض کہ خاص آدمی نے اسکے پاس کھڑے ہوتے ہوۓ کہا جو صوفے پر اپنے مخصوص انداز میں بیٹھا سر کو پیچھے گرائے کسی سوچ میں ڈوبا ہوا تھا ساتھ ہی انگلیوں میں دبے سگریٹ کے کش بھی لے رہا تھا۔۔
"ہائے کیا بتاؤں یار رمیز۔۔۔چلتا پھرتا دھماکہ تھی رئیس کی بہن۔۔۔
"ُپر آپ تو ابھی اس دوسری لڑکی کو ڈھنڈوا رہے ہیں نا۔۔ریاض کی بات سن کر اس نے کچھ جھجھک کر ریاض کو یاد دوہانی کروائی تھی جس نے آنکھیں کھول کر سیدھے ہوتے سگریٹ کو ایش ٹرے میں مسل کر اسے دیکھا تھا۔۔۔
"تم اچھی طرح جانتے ہو رمیز عورت ہمیشہ سے میری کمزوری رہی ہے پھر خوبصورت اور جوان ہو تو سونے پے سہاگا ہے۔۔۔آہ کمبخت آج تو لگتا ہے نیند مہربان نہیں ہوگی تم ایسا کرو اس طوائف کو تلاش کرنے کے لئے وجی سے کہہ دو۔۔اور تم کل ہی جا کر رئیس اور اسکی فیملی کی تفصیل لا کر مجھے دو۔۔۔
"لیکن اگر اسے خبر ہوگئی تو۔۔۔اور آپ تو دوست ہیں نا۔ رمیز کے دوبارہ سوال پر ریاض تپ کر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ رمیز ڈر کر ایک قدم پیچھے ہٹا تھا ۔۔۔
"ابے تو نے اتنا فارغ سمجھا ہے کہ اسکی ہر خبر رکھوں۔۔۔بس یہ پتہ ہے کے باپ مر گیا ہے۔۔اب دفع ہوجاؤ یہاں سے۔۔۔۔ریاض غصّے سے دھاڑتا اپنے کمرے کی طرف بڑھنے لگا جبکہ وہ تیزی سے وہاں سے غائب ہوا تھا۔
"اففف! مس تسنیم بہت رہ لی اپنے بھائی کہ گھر اب چند راتیں میرے نام کردو۔۔۔۔۔ریاض خودکلامی کرتے ہوئے اپنے کمرے میں گھس گیا تھا۔۔۔
کبھی سنا ہے مکافاتِ عمل کو؟ ہاں یہی تو ہے جس کا ابھی صرف آغاز ہے انجام کیا ہوگا یہ تو وقت بتائے گا ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"مم میرا بچہ۔۔۔رئیس چھوڑیں میرا بچہ رو رہا ہے۔۔رئیس۔۔آآآآآ!!! یاسمین اس کی گرفت میں بری طرح تڑپ رہی تھی جبکہ وہ ہنوز اسے گھسٹتا گاڑی کا دروازہ کھول کر اسے بے دردی سے اندر پھینک چکا تھا اسکے ایسا کرنے سے یاسمین کا سر دوسرے دروازے پر جا کر لگا تھا۔۔
"رئیس کہاں لے کر جا رہے ہو اسے؟ جویریہ بیگم نے سپاٹ چہرے کہ ساتھ اپنے بیٹے سے پوچھا تھا جبکہ ساتھ کھڑی تسنیم پلٹ کر اندر چلی گئی تھی
"جہاں اسے ہونا چاہیے۔۔۔
رئیس نے جواب دے کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی کو لاک لگایا۔
"رئیس میرا بچہ۔۔۔رئیس میرا بچہ رو رہا ہے۔۔پلیز دروازہ کھولو۔۔پلیز میرا بچہ بہت چھوٹا ہے،رئیس وہ بھوکا ہوگا۔۔۔خدا کا واسطہ رئیس میرا بچہ مجھے دے دو۔۔میرا بچہ ام! یاسمین بلک بلک کر روتی یکدم شیشے پر زور زور سے ہاتھ مارتے ہوۓ جویریہ بیگم سے منتیں کرنے لگی لیکن وہ تو جیسے وہاں تھی ہی نہیں اچانک تسنیم گود میں تیمور کو اٹھا کر باہر آئی جسے دیکھتے ہی یاسمین کی جان میں جان آئی تھی۔۔۔
"تسنیم میرا بیٹا دو۔۔۔لاؤ ادھر۔۔۔۔یاسمین حلق کہ بل چیختے ہوئے اسے کہہ رہی تھی جو اپنی ماں کہ قریب پہنچتے ہی روک کر مسکرائی تھی یاسمین بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی جو اسکے بچے کو اپنی ماں کو دے کر دوبارہ سے اندر چلی گئی تھی ۔۔
"تیمور!!!۔۔۔تیمور!!! آآآاا نہیں!! میرا بچہ۔۔۔۔گاڑی کے اسٹارٹ ہوتے ہی یاسمین پاگل سی ہوگئی جبکہ وہ شیطان صفت انسان جو انسان کہلانے کہ بھی لائق نہیں تھا سکون سے گاڑی چلا کر مین روڈ پے لاتے ہی رفتار تیز کر چکا تھا ۔۔۔
یاسمین نڈھال سی سیٹ سے سر ٹکا کر رونے کہ ساتھ تیمور کو پکارے جا رہی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
"تسنیم۔۔۔تسنیم۔۔۔۔
"جی امی۔۔تسنیم جویریہ بیگم کی آواز پر تیزی سے لاؤنج میں آئی تھی۔۔
"اسے سمبھالو۔۔تب تک میں دودھ منگواتی ہوں۔۔
"آپ کو بھابھی کو اسے دے دینا چاہیے تھا نا۔۔۔۔تسنیم نے تیوری چڑھاتے ہوئے اسے اٹھا کر اپنی ماں سے کہا۔۔۔
"دماغ خراب نہیں ہے میرا سمجھی میرے بیٹے کی نسل ہے یہ اسے دے کر کیا کرنا تھا ہوجائیں گے اس کے اور۔۔۔جویریہ بیگم ہاتھ جھلا کر بولتیں جانے لگیں۔۔۔جب اسکی بات پر چونک گئیں۔۔
"ہاں یہ بھی ہے لیکن رئیس راضی ہوگا دوسری شادی کہ لئے۔۔۔
"کیوں نہیں ہوں گے راضی ضرور ہوں گے۔۔۔اسے بھجوا دیں اسکی ماں کو میں تو بالکل اسکی آہا بن کر اپنا قیمتی وقت برباد کرسکتی ہنہہ ایک تو میں انکا ساتھ دینے کے لئے اس عورت کا معلوم کروا رہی تھی اور یہ ہیں کہ مجھے ہی بد دعا دے رہی تھیں اوپر سے میرے بھائی کو غلیظ کہا جیسے خود بہت پاک صاف ہوں اسے غلیظ کے ساتھ اب تک سوتی آرہی ہیں۔۔۔۔ویسے نا بہت اچھا ہوا جو ہوا عجیب گھر میں ہر وقت کی نحوست مچا کر رکھی تھی۔۔۔تسنیم اپنے اندر کا سارا زہر اگل کر تیمور کو واپس دے کر گھر سے ہی نکل گئی۔۔
پیچھے جویریہ بیگم نے اسے دیکھا جو اور اونچی آواز میں رونے لگا تھا۔۔
۔۔۔۔۔
گاڑی کھڑی کرتا وہ باہر نکل کر پچھلے دروازے کی سمت بڑھا پھر دروازہ کھول کر اسکا بازو سختی سے پکڑ کر کھینچا جو رونے کے ساتھ چیخ چیخ کر ہلکان ہوگئی تھی۔۔
رئیس کے کھینچنے پر وہ گرتی پڑتی اسکے ساتھ کھینچتی چلی جا رہی تھی جب اچانک ہی یاسمین نے رئیس کے بازو پر نوچا تھا۔۔۔
آہ! منہ سے کراہ نکلتے ہی اس نے پلٹتے ساتھ اسکے منہ پر تھپپڑ مارا تھا کہ وہ دوبارہ چیخنا چلانا شروع ہوگئی تھی۔۔
"مجھے میرا بیٹا لاکر دو۔۔۔دو میرا بچہ۔۔۔اللّه میرا بچہ ظالم آدمی اللّه کرے تم مر جاؤ۔۔۔۔۔اللّه کرے تم مر جاؤ ۔۔آآآآ۔ ۔۔اماں۔۔۔۔۔۔ہائے اماں مجھے اس جانور سے بچاؤ۔۔۔اماں۔۔ام۔۔۔رئیس اسکے دوبارہ چیخنے پر منہ دبا کر اسے لے جا کر بڑے سے حال میں موجود حرا بائی کی مخصوص جگہ جہاں وہ ابھی بھی موجود تھی گھسیٹ کر یاسمین کو اسکے سامنے پھینکا تھا۔۔
حرا بائی جو اپنے پیروں پر مہندی لگوا رہی تھی سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔
"بیوی ہے میری۔۔۔رئیس کے سخت لہجے پر جہاں یاسمین نے سر اٹھا کر سامنے موجود عورت کو دیکھا تھا وہیں حرا بائی نے ہاتھ اٹھا کر پیروں میں مہندی لگاتی لڑکی کو اشارے سے جانے کا کہا جو ایک نظر رئیس کو نفرت سے دیکھ کر یاسمین کے لئے افسوس کرتی اٹھ کر چلی گئی تھی۔
"پاگل تو نہیں ہوگیا ہے یا پھر کنگلا ہوگیا ہے جو بیوی کو اب دھندھے پر لگانے آیا ہے۔۔
آواز تھی یا موت کا پروان یاسمین کو لگا جیسے کسی نے اسکے کانوں میں پگلا ہوا سیسہ انڈیل دیا ہو۔۔۔۔
پھٹی آنکھوں سے وہ اس عورت کو دیکھ رہی تھی۔۔
"ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہے۔۔اسے اپنے پاس رکھ پیسہ بہت ہے میرے پاس۔۔۔
"ہا ہائے۔۔۔بڑا ہی بدنصیب ہے تو' تو خیر مجھے کیا ہے رکھ لیتی ہوں پر نخرے نہیں چلیں میں اب نخرا برداشت نہیں کروں گی۔۔۔حرا بائی حیران ہوکر کہتی کندھے اچکانے لگی۔۔
"ٹھیک ہے اب جو مرض کرو اسکے ساتھ ۔۔۔۔رئیس بنا یاسمین کو دیکھے کہہ کر جانے لگا جب حرا بائی کے روکنے پر اسے دیکھا۔۔
"نکاح میں ہے ابھی بھی؟
"ہاں۔۔۔رات کو لاتا ہوں کاغذات تب تک کرو اسے قابو.۔۔ہنہہ غلیظ عورت۔۔۔۔رئیس نفرت سے اسے دیکھ کر کہتا باہر نکلتا چلا گیا اسکے جاتے ہی یاسمین زمین بوس ہوگئی۔۔
"ارے کیا ہوگیا۔۔۔فائزہ، لائبہ رخسار جلدی آؤ..کہاں مر گئیں سب کی سب آئے ہائے بدنصیب مر تو نہیں گئی.۔۔۔حرا بائی زور زور سے چلانے میں لگی ہوئی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"کہاں جانے کی تیاری ہورہی ہے لڑکیوں؟ بالاج کمرے میں داخل ہوتا بولتے بولتے ہانم کہ ساتھ جا کر بیٹھ گیا جس نے اسے دیکھ کر آنکھیں دکھائیں تھیں۔۔۔
"ابھی تک ناراض ہو؟ ہانم کی گھوری کو نظرانداز کرتا وہ اسکی طرف جھک کر سرگوشی کرنے لگا۔۔
"نہیں۔۔۔ہانم کہتے ساتھ وہاں سے اٹھنے لگی جب بالاج نے مضبوطی سے اسکا ہاتھ تھام لیا کہ ناچار اسے دوبارہ بیٹھنا پڑگیا
"کیا کر رہے ہیں؟
"تصحیح کرلو محترمہ جب سے ملے ہیں بس تمہیں متاثر کرنے کی کوشش کہ علاوہ کچھ بھی نہیں کیا اور نا ہی کروں گا۔۔بالاج نے کہتے ساتھ اسے دیکھا جو بالاج کی بات پر ناسمجھی سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔
"تم۔۔۔
"اہم اہم! کیا ہورہا ہے یہاں۔۔ بالاج کی بات منہ میں ہی رہ گئی تھی کہ نورین ان دونوں کو دیکھ کر انکے پاس آگئی تھی۔۔
"بہت معذرت یہ ہماری ذاتی گفتگو چل رہی تھی۔اچھا ان باتوں کو چھوڑو میں یہ کہنے آیا تھا کہ ہانم کہیں نہیں جا رہی۔۔۔بالاج کی بات پر جو پہلے ہی منہ کھولے ہوۓ تھی ہانم کا منع کرنے پر منہ کہ ساتھ آنکھیں بھی پھیل گئیں۔۔۔جبکہ ہانم نے تشکر سے اسے دیکھا تھا۔۔
"پر کیوں بالاج بھائی؟
"میری مرضی۔۔۔آ ایک سیکنڈ بحث کر کے تم صرف وقت برباد کرو گی اسلئے کہہ رہا ہوں۔۔۔چلو اب جاؤ۔۔بالاج اسے بولنے کہ لیے منہ کھولتے دیکھ کر فورأ ٹوک چکا تھا۔
"ٹھیک ہے سر جیسے آپکی چاہت.۔۔۔نورین منہ پھولا کر کہتی ہانم کے گال کو چوم کر بھاگی تھی۔۔۔
"شکریہ.۔۔۔اس سے پہلے وہ کچھ بولتا ہانم نے مسکرا کر اسے کہا۔۔
"اس میں شکریہ کی کیا بات ہے۔۔ہم دونوں ہی جانتے ہیں تم کن حالات سے بچ کر یہاں تک آئی ہو اور اب یہ میری ذمہ داری ہے تمہیں تحفظ دینا۔۔۔۔۔۔بالاج کی بات سن کر وہ نم ہوتی آنکھوں سے مسکرائی تھی کہ بالاج بھی دھیرے سے مسکرا دیا۔
"آپ اچھے انسان ہیں۔۔۔
"نہیں ہانم۔۔۔میں اچھا نہیں ہوں اگر ہوتا تو۔۔۔
"تو ہم اس وقت آپ کے سامنے نہیں ہوتیں۔۔۔ہانم نے یکدم اسکی بات اچکی تھی کہ وہ اسے دیکھ کر رہ گیا تھا۔
"شاید ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنے کی ضرورت ہے ہانم ۔۔۔
"نہیں بالاج جو آپ چاہتے ہیں وہ کسی کہ لیے بھی بہتر نہیں ہے آپ اچھے سے جانتے ہیں ہم ایک طوائف ہیں بیشک اس جہنم سے نکل کر یہاں آگئے لیکن کبھی آپ نے سوچا ہے اگر یہ بات کسی ایک کو بھی پتہ چلی تو ہمیں اسی وقت دھکے دے کر نکال باہر کریں گے اور آپ ہمارے ساتھ زندگی گزارنے کی بات کر رہے ہیں۔۔۔۔۔ہانم ایک بار پھر اپنی بات مُکَمل کرتے بنا اسکی کوئی بات سنے وہاں سے چلی گئی تھی جبکہ بالاج گہری سانس لیتا گرنے کے انداز میں بستر پر بیٹھ گیا جبکہ کمرے کے باہر کھڑا ہیولہ وہاں سے تیزی سے غائب ہوا تھا۔۔
"ہاہاہا۔۔تم واقعی بہت مزاخیہ بندے ہو۔۔۔۔ہاہاہا۔۔۔تسنیم احان کہ ساتھ گاڑی میں موجود اسکی کسی بات پر ہنستے ہوئے بول رہی تھی جبکہ دونوں باتوں کہ ساتھ آئسکریم بھی کھانے میں مصروف تھے۔۔۔
"چلو جیسا بھی ہوں اس وقت تمہارے ساتھ ہوں.۔۔احان گہری نظروں سے اسے دیکھتے ہوۓ دھیرے سے مسکرا کر بولا تھا۔۔وہ اس سے شادی کرنے کا ارادہ رکھتا تھا اور آج وہ اسی لئے تسنیم کو شادی کہ لئے پروپوز کرنے لے جا رہا تھا۔۔۔
"کھا لیا ہو تو چلیں؟
"ہاں ہاں چلو۔۔۔۔تسنیم ٹشو کو لبوں پر تھپتھپاتے ہوۓ بولی کہ احان نے گاڑی آگے بڑھا دی۔۔۔گاڑی کے کچھ دور جاتے ہی سڑک کہ دوسری طرف سیاہ شیشوں والی گاڑی اسٹارٹ ہوتے ہی زن سے آگے بڑھ گئی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
پارکنگ لاٹ میں گاڑی پارک کرتے ہی دونوں ساتھ اتر کر ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر ہوٹل میں داخل ہوۓ تھے۔۔۔انکے ہوٹل میں جاتے ہی وہ گاڑی بھی آکر روک گئی۔۔۔
آدھے چہرے کو رومال سے باندھے وہ چمکتی آنکھوں سے ہوٹل کے دروازے کو دیکھنے لگا۔۔
"بھائی کیا کرنا ہے؟
"آہ ابھی تھوڑا انحوائے کرنے دو دونوں کو۔۔۔آخری بار
ریاض سرد آہ بھرتا آگے بڑھ گیا تھا۔
۔۔۔۔۔
"کیا بات ہے احان میں کب سے دیکھ رہی ہوں تم کچھ پریشان لگ رہے ہو؟ تسنیم کہ اچانک پوچھنے پر وہ جو آرڈر کروانے کہ بعد ٹیبل پر انگلی سے ہلکے ہلکے بجانے کہ ساتھ بے وجہ ہی اپنے سیٹ کیے بالوں پر ہاتھ پھیرے جا رہا تھا۔۔
"نہیں یار ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔دراصل۔۔۔احان کہتے کہتے روکا پھر ٹیبل پر رکھے اسکے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں تھام لیا دور بیٹھا ریاض جس نے صرف ڈرنک منگوائی تھی پینے کے ساتھ ان دونوں کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔
"بھائی۔۔۔رمیز اچانک ہی آتا جھک کر اسکے کان میں بولا۔۔
"کام ہوگیا؟ ریاض نے چونک کر اسے دیکھ کر پوچھا۔۔
"جی سب ہوچکا ہے۔۔۔
"بہت اچھے۔۔۔۔رمیز کہ مسکرا کر بتاتے ہی ریاض اسے شاباشی دینے کہ ساتھ ہزار کہ پانچ نوٹ تھما چکا تھا جو خوشی سے نوٹوں کو چوم کر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔
"کیا تم مجھ سے شادی کرو گی تسنیم علی؟ احان اسکے سامنے رنگ بڑھاتے ہوۓ بولا تھا تسنیم خوشگوار حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی جو اسکے جواب کا منتظر تھا۔
"احان یہ سب۔۔۔آہ ہا ہاں مجھے قبول ہے۔۔۔۔تسنیم اٹک اٹک کر کہتی مسکرا کر اپنا ہاتھ بڑھا چکی تھی جبکہ احان نے خوشی کہ مارے اسکے ہاتھ کو چوم لیا تھا۔۔۔
"میں کل ہی امی ابّو کو لے کر آؤں گا۔۔۔۔تھینک یو تھینک یو سو سو مچ تسنیم۔۔۔آئ لوو یو۔۔احان نے بے اختیار اسے وہ کہہ دیا جو وہ صرف سوچ ہی سکا تھا کہ وہ تسنیم کی طرح ہر بات بے دھڑک نہیں کرتا تھا۔۔ جبکہ تسنیم کو یاسمین کی بات یاد آئی تو تفاخر سے اس نے احان کو دیکھا تھا۔
"ہنہہ بیچاری مجھے بد دعا دے رہی تھی کاش تم اب بھی گھر پر ہوتی تو میں تمہیں خود یہ خوشخبری سناتی کہ ایک ہینڈسم مرد مجھ سے تسنیم علی سے شادی کرنے کہ لئے مرا جا رہا ہے۔۔
"تسنیم میں ذرا اپنی فرینڈ کو بتا دوں۔۔۔۔وہ سنے گی تو بہت خوش ہوگی۔۔۔احان مسکرا کر موبائل پر "عائشہ امجد"کا میسج پڑھ کر گہری مسکراہٹ سے تسنیم کو دیکھ کر بولا جس کی تیوری یکدم چڑھی تھی۔۔
"ایک تو یہ تمہاری چمپو دوست ہنہہ۔۔ذرا اچھی نہیں لگتی ہے مجھے پتہ نہیں تم نے کیوں اس سے دوستی کرلی ہے۔۔بچ کہ رہنا خاص کر اس غریب لڑکی سے۔ ۔
"ارے یار ناراض مت ہو اسی کی وجہ سے تو میں نے تم سے بات کرنے کی ہمت جٹائی ہے اور تم ایسے مت کہو پلیز ۔۔اچھا خیر اسے چھوڑو میں بس ابھی آتا ہوں۔۔احان کو تسنیم کی بات کافی ناگوار گزری تھی لیکن وہ ابھی کوئی بھی بات کر کہ سب خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔
تسنیم خفگی سے اسے دیکھ کر کندھے اچکا گئی جبکہ احان گہری سانس لے کر اٹھ کر وہاں سے آگے بڑھ گیا تھا۔۔.۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
"اکسکیوزمی میم۔۔۔۔
ابھی ایک منٹ ہی گزرا تھا جب ایک ویٹر اسکے پاس آیا۔۔
"یس؟
"یہ آپکے روم کی کیز مسٹر احان نے بھجوائی ہیں۔۔ویٹر اسکے سامنے چابی رکھتے ہوۓ بولا جو حیران ہونے کے ساتھ گھبرا بھی گئی تھی۔۔
"پر انہوں نے تو مجھے کچھ نہیں کہا ایسا۔۔۔
"میم سر نے ہی کہا تھا کہ جب وہ اٹھ کر جائیں تب یہ میں آپکو لاکر دوں۔۔۔
"آ ٹھیک ہے۔۔کس فلور پر؟ تسنیم اسکی بات سن کر مَدھم سا مسکرائی۔۔
"اچھا تو دوست کو کال کرنی ہے جھوٹا۔۔شرمیلا کہیں کا خود نہیں کہہ سکتا تھا کہ روم میں تمھارے لئے ایک اور سرپرائیز ہے میرے پاس۔۔۔تسنیم سوچتے ہوۓ کرسی سے کھڑی ہوتے ہوۓ پوچھنے لگی جو اسے لے کر آگے بڑھ گیا تھا۔۔۔
اسکے جاتے ہی احان مسکراتے ہوۓ وہاں آیا تھا لیکن اسے وہاں موجود نا پا کر اردگرد دیکھنے لگا جب ویٹر بل لے کر اسکے پاس آیا۔۔
"کیا آپ بتا سکتے ہیں یہاں جو لڑکی بیٹھی تھی وہ کہاں گئیں ہیں؟
"جی وہ تو چلی گئی ہیں۔۔۔ویٹر اسے جواب دے کر اپنا بل لے کر چلا گیا جبکہ احان پریشان ہوگیا۔۔
"چلی گئی پر کیوں اور مجھے اگر نہیں دیکھی تو وہ دو منٹ انتظار کر لیتی پر بتا کر تو جاسکتی تھی۔۔۔احان خود سے بڑبڑاتے ہوۓ موبائل پر نمبر ملانے لگا تسنیم کی اس حرکت پر وہ بہت ہرٹ ہوا تھا اس سے قبل وہ کال ملاتا کوئی زور سے اس سے آکر ٹکرایا کہ احان کا موبائل اچھل کر دور جا کر گرا تھا ٹائیلز پر گرتے ہی موبائل کی اسکرین بری طرح ٹوٹ گئی تھی کہ اسے استمعال نہیں کیا جا سکتا تھا۔۔
"شٹ۔۔۔ یہ تو برباد ہوگیا۔۔احان نے تیزی سے موبائل کو آگے بڑھ کر اٹھا کر دیکھا تو بڑبڑا کر موبائل سے سم نکال کر اپنے والٹ میں رکھنے لگا جبکہ رمیز مسکرا کر تیزی سے وہاں سے نکل گیا تھا بلآخر اسکا کام اب ختم ہوا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یاسمین ہوش میں آتے ہی دھاڑیں مار کر روتی ہوئی وہاں سے جانے کہ لئے حرا بائی سے منّتیں کر رہی تھی جب ایک لڑکی نے آکر حرا بائی کو کوئی پیپر لاکر دیا تھا. ۔۔۔
"لو بھئی آگیا تیری آزادی کا پروانہ۔۔۔۔حرا بائی نے کَاغذوں کو دیکھتے ہوۓ تلخی سے کہا تھا کہ اس کا شوہر خود ایک دلال تھا جس نے اسے حرا احسن سے حرا بائی بنایا تھا۔۔۔۔لیکن اب وہ اسی زندگی میں خوش تھی۔۔۔
"کک کیا؟ یاسمین جسکا حلیہ بگڑا ہوا تھا سوجی ہوئی آنسوؤں سے لبریز نگاہوں سے سرا اٹھا کر دیکھتی کھڑی ہو کر اس سے کاغذ جھپٹے۔
طلاق! یاسمین کہ منہ سے سرگوشی کی صورت نکلا تھا۔۔
"نہیں' نہیں میں اسے اتنی آسانی سے طلاق نہیں دوں گی۔۔۔حرا بائی اسکی بڑبڑاہٹ پر پیچھے کھڑی لڑکی کی جانب گھومی ۔
"وہ خود آیا ہے؟
"جی حرا اماں گود میں کوئی چھوٹا بچہ بھی ہے. ۔۔۔
مم میرا تیمور۔۔۔ہاں میرا تیمور ہے؟ یاسمین جھٹکے سے اس لڑکی کے مقابل آکر پوچھنے لگی۔۔
جس نے سر کو اثباب میں ہلایا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
تسنیم نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا ششدر رہ گئی۔۔۔۔ کمرے میں جا بجا کینڈلز جل رہی تھیں جبکہ گلاب کے پھولوں کی محسور کن خوشبو چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی کہ تسنیم نے سانس کو کھینچ کر خوشبو کو اپنے اندر اتارا تھا۔۔
یکدم ہی کمرے کا دروازہ بند ہوا تھا اس سے قبل وہ پلٹتی کسی نے پیچھے سے اسے اپنے حصار میں لیتے بالوں کو ایک طرف کرتے ہی اسکی گردن پر اپنے دہکتے لب رکھ دیے۔
"احان.۔۔۔
"میرا بیٹا۔۔۔میرا تیمور،ماما آگئیں۔۔۔۔ یاسمین بھاگتی ہوئی حال میں آئی تھی جسے اپنے بیٹے کہ علاوہ اور کوئی بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا نہ ہی وہ کسی کو اب دیکھنا چاہتی تھی۔۔
"تیمور۔۔۔۔آ۔
"وہیں روک جاؤ یاسمین۔۔۔رئیس کہ یکدم پیچھے ہٹنے پر اس نے سختی سے کہا تھا کہ یاسمین نے اسے حقارت سے دیکھا۔
"میرا بیٹا مجھے دو رئیس۔۔۔۔یاسمین نے غصّے سے چیختے ہوئے کہا۔۔
"اپنی اوقات میں رہو یاسمین میرے ساتھ تمیز سے پیش آؤ ورنہ ایسا نہ ہو کہ تم اپنے بیٹے کی آواز تک کو ترس جاؤ۔۔۔
"نن۔۔۔نہیں نہیں نہیں اللّه کہ واسطے میرا بیٹا مجھے دے دو پلیز میرا بیٹا مجھے دے دو مجھے اور کچھ نہیں چاہیے۔۔۔۔یاسمین اسکی دھمکی پر رئیس کے قدموں میں گر گئی تھی کہ حرا بائی نے آگے بڑھ کر اسکا بازو سختی سے پکڑ کر اسے اٹھا کر جھٹکے سے یاسمین کا رخ اپنے جانب گھمایا تھا۔۔
"پاگل تو نہیں ہوگئی ہے؟ ہاں ہوش کر کچھ دینے ہی آیا ہے تبھی تو لایا ہے اپنے ساتھ ورنہ عزت دار خاندان کے بچے اس جگہ کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے ہیں ہاں پر اندھیرے میں کون آتا ہے کون جاتا ہے یہ صرف اس کوٹھے کی چار دیواری جانتی ہے یا پھر ہم لیکن یہ شاید صرف تیری اولاد ہے تبھی تو آیا ہے لے کر ۔۔۔کیوں ٹھیک کہہ رہی ہوں نا۔۔۔حرا بائی دونوں ہاتھوں سے اسکے گالوں پر بہتے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوۓ کہتی رئیس کو دیکھ کر سوالیہ انداز میں آئبرو اچکائی تھی۔۔۔
"ہوں۔۔۔سمجھدار ہو۔۔خیر بہت وقت برباد ہوچکا ہے۔۔رئیس نے کہتے ساتھ کلائی پر بندھی گھڑی میں وقت دیکھا پھر سر اٹھا کر یاسمین کو دیکھا۔
"پیپرز پر دستخط کرو پھر ہی میں تمہیں اسے دوں گا ورنہ میں اسے ساتھ لے جاؤں گا اب فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔۔۔
"ٹھیک ہے۔۔۔یاسمین نے مقابل کھڑے بے ضمیر مردہ دل مرد کو دیکھ کر بیدردی سے آنکھیں صاف کریں پھر پین لینے کہ لئے ہاتھ بڑھایا جس نے سپاٹ چہرے کہ ساتھ اسے پین دیا تھا۔۔۔
یاسمین نے ایک نظر پیپرز کو دیکھا پھر اسے جسکے ساتھ نکاح کہ حللال رشتے میں اپنا سب چھوڑ کر وہ اسکے ساتھ آئی تھی لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ سفید کفن میں لپٹ کر قبرستان کہ بجائے اسکا ہمسفر اسے حرام کام کہ لئے ہر رات کسی کی دلہن بنانے کہ لئے زندہ دفن کر کہ جا رہا تھا۔۔کوئی دکھ کوئی پچھتاوا غور کرنے پر بھی اسے نظر نہیں آیا تھا اور پھر اس نے فیصلہ کر لیا تھا۔۔۔
گیلی سانس اندر کھینچتے اس نے گردن گھوما کر پیپرز پر پین گھسیٹا تھا۔۔.
۔۔۔۔۔۔۔۔
"احان۔۔۔تسنیم نے شرماتے ہوۓ اپنی آنکھوں کو بند کرلیا تھا۔۔۔
"ہممم۔۔۔۔۔ریاض نے اتنی آہستہ سے کہا کہ وہ آواز پہچان نہ سکی تھی۔۔
"احان یہ ٹھیک۔۔۔۔اس سے قبل وہ اپنی بات مُکَمل کرتی ریاض نے اسکے لبوں پر انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا تھا کہ وہ مسکرا دی تھی۔۔
چند لمحے گزرنے کہ بعد ریاض نے اسکا مفلر جسے ہی گلے سے نکال کر پھینکا تسنیم گھبرا گئی۔
"احان پلیز یہ سب سہی نہیں ہے۔.۔۔۔تسنیم کو اب ڈر لگنے لگا تھا۔۔جبکہ ریاض تو جیسے کچھ سننا ہی نہیں چاہتا تھا۔۔
"احان!!! پلیز چھوڑو تم پاگل ہوگئے ہو کہاں اتنا شرماتے ہو اور آ۔۔۔۔۔تسنیم نے یکدم ہی زور سے خود کو اسکی گرفت سے نکالا تھا لیکن اگلے ہی لمحے اسکا چہرہ دیکھ کر تسنیم کو لگا کمرے کی چھت اس پر آں گری ہو۔۔
"ر ریاض بھائی۔۔۔تسنیم کی آواز سرگوشی سے کم نہ تھی لیکن وہ پھر بھی سن چکا تھا۔۔۔
ریاض یکدم ہی بھڑک گیا تھا کہ اسکے چہرے پر پوری قوت سے تھپڑ مارا تھا کہ تسنیم منہ کہ بل زمین بوس ہوئی تھی ہونٹ کا کنارہ پھٹ چکا تھا جبکہ بھاری ہاتھ پڑنے پر تسنیم کی آنکھوں کہ سامنے اندھیرا چھا گیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
"عائشہ تم یہاں ہو اور میں تمہیں کمرے میں دیکھ کر آرہی ہوں بلکہ کمرا نہیں پورا گھر۔۔۔۔۔نورین جو اسے چھت پر ڈھونڈنے آئی تھی سامنے ہی اسے دیکھ کر شروع ہوچکی تھی جس نے نظریں آسمان سے ہٹا کر اسے دیکھا تھا۔۔
"کیا بات ہے ؟ عائشہ نے اسے دیکھ کر پوچھا جو کچھ بتاتے بتایا یکدم روک کر غور سے اسے دیکھنے لگی۔۔
"اب ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟
"نہیں میں دیکھ نہیں رہی کچھ سوچ رہی ہوں۔۔۔نورین کی بات پر عائشہ ہلکے سے مسکرائی۔۔
"ہمم تو ہماری چھوٹی بہن کیا سوچ رہی ہے؟
"یہی کے تمھارے موبائل سے احان بھائی کو کال کر کہ کہوں گی کہ روز ایک فون کردیا کریں میری بہن کو تاکہ وہ آپ کہ خیالوں میں کھو کر میری دادی اماں بننا بھول جاۓ گی۔۔۔ہاہاہا! نورین شرارت سے کہتے ہوۓ ہنستی ہوئی بھاگی کہ عائشہ اسے مارنے بھاگی ہی تھی کہ سیڑیوں کہ پاس آکر روک گئی۔۔
(عائشہ اس نے ہاں کر دیا یار۔۔۔احان نے پرجوش انداز میں بتایا تھا کہ عائشہ جن کی پہلی ملاقات فلمی انداز میں ہوئی تھی کہ عائشہ بھی ہیروئین بن کر اسے اپنا دل دے بیٹھی تھی جس کا اظہار اس نے آج تک نہیں کیا کہ جانے وہ کیا سوچے گا دونوں کی عمروں میں چھ سال کا فرق تھا احان 24 سال کا تھا تو عائشہ 18 کی تھی)
"عائشہ یار نیچے آؤ جلدی۔۔۔نورین کی آواز پر عائشہ چونک کر ہوش میں آتی نیچے بھاگی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آاآ!! وہ جو اس سے خوفزدہ ہوتی کھسک کر پیچھے جا رہی تھی ریاض کہ اچانک سے اسے دوبوچنے پر حلق کہ بل چیخی تھی کہ کوئی وہاں ہوتا تو بخوبی اسکی چیخ سن لیتا لیکن اس کے آس پاس کے کمروں میں اسکے آدمی موجود تھے۔۔
"نن نہیں۔۔۔ریاض بھائی مجھے جانے دیں۔۔۔ن نن نہیں!!!! تسبیم زاروقطار روتی ہوئی ریاض کو پیچھے کرنے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔۔۔۔۔
"بھائی نہیں ہوں میں!! بھائی نہیں ہوں۔۔ریاض اسکے بار بار بھائی کہنے پر اسکے دونوں ہاتھوں کی کلائیوں کو اتنی زور سے مڑوڑ چکا تھا کہ تسنیم تکلیف کی شدّت سے چیخیں مارنے لگی۔۔
"ششش! خاموش۔۔۔خاموش ہوجاؤ۔۔ششش!! تسنیم کے چہرے کو ہاتھوں میں تھام کر وہ اسے چپ کروانے لگا جس کا گلہ چیخیں مار مار کر بیٹھ گیا تھا۔۔
"پپ پلیز م۔۔۔
"کیسے میری جان۔۔۔۔کیسے میں نہیں چھوڑ سکتا تمہیں۔۔۔کانپتے لبوں سے کہتی وہ مسلسل درد سے رو رہی تھی جبکہ وہ اسے بےبسی سے جواب دیتا اسکے چہرے پر جھکا تھا کہ اب کی بار تسنیم نے آنکھوں کو میچ لیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
"ماشاءالله بہت ہی پیارا بیٹا ہے تمہارا تو۔۔۔فائزہ نے مسکراتے ہوۓ اسکی گود میں تیمور کو دیکھ کر کہا جو پچھلے ایک گھنٹے سے اپنے بچے کو سینے سے لگائے کبھی پیار کرتی تو کبھی رونا شروع کردیتی۔۔۔
"ہاں ماشاءالله۔۔۔اللّه میرے بیٹے کو اچھا انسان بنائے۔یاسمین اسے جواب دیتی ایک بار پھر اپنے بیٹے کو چوم کر سینے سے لگا کر رونے لگی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
"ساجد تم نے بتایا نہیں کہ تم یہاں کیوں آئے تھے؟ علی کی آج مہندی ہے جبکہ عروج پارلر کا بہانہ بنا کر ساجد سے ملنے آئی تھی۔۔عروج کی بات پر ساجد نے سینے سے لگی عروج کو دیکھا تو عجیب انداز میں مسکرایا۔
"تم سے ملنے کہ لئے۔۔۔ساجد کہتے ساتھ اسکا ہاتھ تھام کر اسے لیے صوفے پر بیٹھا۔۔
"جھوٹ۔۔۔۔
"سچ کہہ رہا ہوں یقین نہیں ہے مجھ پر؟ ساجد اسے اپنے نزدیک کرتے ہوۓ اسکے گال کو سہلانے لگا۔۔۔جس نے خفگی سے اسکا ہاتھ جھٹکا تھا۔۔
"مجھے ابھی جانا ہے۔۔۔تم آج واپس جا رہے ہو اسلئے آگئی ہوں۔۔۔اور یہ یقین کی کیا بات آگئی اس میں ہاں خیر اب ٹھیک ہے مت بتاؤ تم اور میں بھی نہیں بتاؤں تمہیں کہ میں نے کل کیا سنا ہے۔۔۔۔عروج منہ پھولا کر کہتی اپنی جگہ سے اٹھی تھی جو اب بیزار ہو رہا تھا لیکن ابھی وہ اسے ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا تبھی ہاتھ پکڑ کر کھینچتا اسے خود پر گرا چکا تھا جو گھورنے کہ بعد مسکرا کر اسکے کندھے پر سر رکھ چکی تھی۔۔
"ناراض ہوگئی؟ ناچار اسے پوچھنا پڑا تھا جو اسکے پوچھنے پر ہی کھل اٹھی تھی مسکرا کر سر اٹھاکے اس نے ساجد کا گال چوما ۔۔۔
"نہیں میری جان بھلا تم سے کیسے ناراض ہوسکتی ہوں.۔۔۔عروج اسے کہہ کر ساجد کو دیکھنے لگی۔۔
"تم کچھ بتا رہی تھی مجھے شاید۔۔عروج کہ سامنے چٹکی بجاتے ہوئے وہ بولا تھا کہ عروج مسکرانے لگی۔۔
"تم تو جانتے ہی ہو میں یہاں اپنی بھابھی کے ساتھ شادی میں شرکت کہ لئے آئی ہوں۔۔۔
"ہاں جانتا ہوں یہ بھی کوئی بات ہوئی میں تو گھبرا گیا تھا کہ کہیں تم نے اپنے رشتے کی بات نا سن لی ہو ابھی تو ہم نے زندگی کو ساتھ بہت انجوائے کرنا ہے۔ ساجد اسے کہتا دوبارہ اپنے قریب کرنے لگا جس نے ہنستے ہوۓ اسے پیچھے کیا تھا۔۔۔
"ہاہاہا ! یہ نہیں یار اس سے بھی دلچسپ بات ہے۔۔
"اچھا۔۔۔ساجد کو تعجب ہوا جبکہ وہ خود نہیں جانتا تھا کہ وہ کیوں اسکی بات سننے میں اتنی دلچسپی لے رہا تھا۔۔
"ہمارے گھر میں ایک طوائف رہ رہی ہے اور یہ بات کسی کو بھی نہیں معلوم سوائے بھابھی کی دو کزنوں کہ نورین اور عائشہ۔۔

مہندی کی تقریب رات گئے تک اختتام کو پہنچی تھی سب نے خوب رونق لگائے رکھی تھی کہ تقریب کہ ختم ہونے پر بھی سب لان میں ہی بیٹھے خوش گپیوں کہ ساتھ ساتھ تصویریں دیکھتے ہوئے تبصرے کر رہے تھے۔۔۔
جب بالاج نے اسے اشارہ کرتے ہی اندر کی جانب اپنے قدم بڑھائے تھے
"ہم آتی ہیں ابھی۔۔۔۔ہانم ساتھ بیٹھی دعا سے کہتے ہوۓ مسکرا کر اٹھتی اپنا شیفون کا پیلا ڈوپٹہ سر پے سہی کرتے ہوۓ اٹھ کر اندر کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ہانم جیسے ہی چھت پر آئی اردگرد نظر دوڑا کر بالاج کو تلاش کرنے لگی۔۔۔چھت پر ایک ہی بلب جل رہا تھا جبکہ دیواروں کے چاروں طرف لائٹوں سے سجایا گیا تھا۔۔۔
"بھوو!!! اچانک ہی بالاج نے اسکے پیچھے سے آکر اسے ڈرایا کہ وہ اچھل پڑی تھی۔۔
"ہاہاہا! کیا ہوا ڈر گئی؟ بالاج اسکی شکل دیکھ کر ہنستے ہوۓ بولا۔۔
"ظاہر سی بات ہے ڈر گئے۔۔ہماری جگہ کوئی بھی ہوتا تو ڈر جاتا.۔۔۔
"اچھا سوری میں تو بس مذاق کر رہا تھا۔بالاج اسکے روٹھنے پر اپنے کانوں کو پکڑ کر معافی مانگنے لگا تھا کہ ہانم دھیرے سے مسکرا دی۔
بالاج اسے مسکراتا دیکھ کر مسکرا کر اسے دیکھنے لگا تھا جس نے آج غرارا پہنا ہوا تھا جبکہ دونوں ہاتوں میں بھر پھر کر چوڑیوں کے ساتھ پھولوں کے کنگن سے کلائیاں سجی ہوئی تھیں۔
"بہت اچھی لگ رہی ہو۔۔۔بالاج نرمی سے اسکا ہاتھ پکڑ کر دباتے ہوۓ بولا کہ ہانم نے آہستگی سے شکریہ کہتے اپنا ہاتھ اس کہ ہاتھ سے نکالا تھا۔۔
"تو بتاؤ کیا سوچا تم نے؟ بالاج نے ایک نظر اپنے خالی ہاتھ کو دیکھ کر اسے دیکھا تھا۔۔
"کس بارے میں؟ ہانم نے ناسمجھی سے اسے دیکھ کر پوچھا۔۔
"تمھارے اور میرے بارے میں ہانم۔۔میں۔۔۔میں شادی کرنا چاہتا ہوں تم سے۔۔۔بالاج نے کچھ جھجھک کر اسے جواب دیا تھا جبکہ ہانم بالکل خاموش ہوگئی تھی۔۔
کیا کہتی کیا جواب دیتی اسکی حقیقت جاننے کہ باوجود وہ اس سے شادی کا خواہش مند تھا۔۔
"ہانم میں تمھارے جواب کا منتظر ہوں۔۔۔بالاج نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا۔۔
"یہ ممکن نہیں ہے۔۔ہم ہم کیسے آپ سے شادی کر سکتے ہیں۔۔نن نہیں یہ ہم نہیں کرسکتیں۔۔۔ہانم نے نفی میں سر ہلاتے ساتھ بالاج کا ہاتھ اپنے کندھے سے ہٹا کر اپنے قدم پیچھے بڑھائے تھے۔
"ہانم پلیز ہم۔۔۔ہم شادی کہ بعد یہاں سے چلے جائیں گے بہت دور جہاں کوئی بھی ہم دونوں کو نہیں جانتا ہوگا۔۔۔
"نہیں آپ سمجھ نہیں رہے ہیں،یہ کہنا آسان ہے لیکن حقیقت اس کہ برعکس ہے،ہمیں معاف کردیں ہم یہ نہیں کرسکتیں۔۔۔۔۔۔ہانم کہ آنسوں بے اختیار اسکے گالوں پر لڑیوں کی صورت بہتے چلے گئے۔۔
"ہمیں لگتا ہے ہمیں اب یہاں سے چلے جانا چاہیے ویسے بھی تین دن بعد شادی ہے اسکے بعد تو جانا ہی ہے تو آج ہی کیوں نہیں۔۔۔ہم کوئی بہانہ بنا کر چلی جائیں گی۔۔۔۔ہانم نے کھڑے کھڑے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ چلی جاۓ گی ۔۔
"ہانم۔۔۔میری بات سنو تم ایسے نہیں جا سکتی ہو مجھے چھوڑ کر۔۔۔۔بالاج نے تیزی سے اسکی کلائی دبوچ کر اپنے نزدیک کرتے ہوۓ کہا۔۔
"ہم ایسا کر سکتی ہیں بالاج۔۔۔یہ ہم دونوں کہ لئے ایک سہی فیصلہ ہے جسے آج نہیں تو کل لینا ہی ہوگا۔۔ہانم بھیگی آواز میں کہتی ہوئی اپنا ہاتھ چھڑوا کر دوبارہ جانے لگی تھی۔۔
"ہانم کسی دوسرے ملک چلے جائیں گے۔۔۔بالاج نے ایک بار پھر اسے روک کر اسکا رخ اپنی جانب کیا تھا۔۔
"پلیز ہانم تمہارے بغیر رہنا اب ممکن نہیں ہے۔۔۔بالاج نے بےبسی سے کہتے ہوۓ اسکے چہرے کو تھام لیا تھا۔۔
"پر بالاج یہ سب آسان نہیں ہے۔۔۔
"کچھ مت سوچو ہانم بس میرے اور اپنے بارے میں سوچو۔۔۔ہم نکاح کہ فوراً بعد ترکی کہ شہر استنبول چلے جائیں گے وہاں ہمارا چھوٹا مگر خوبصورت سا ہرٹ نما گھر ہوگا جہاں جا کر ہم اپنی زندگی کی نئی شروعات کریں گے...بالاج اسکی پیشانی سے پیشانی ٹکا کر ہانم کو حسین خواب دکھا رہا تھا جو بے آواز روتی اسکے سینے سے لگی تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"میں مام اور ڈیڈ سے کل ہی بات کرتا ہوں۔۔۔بالاج دیوار سے پشت ٹکا کر ہانم کا ہاتھ تھامے اسکی چوڑیوں کو چھیڑتے ہوۓ بولا تھا۔۔
ہانم جو چاند پر نظریں جمائے ہوئے تھی بالاج کی بات پر مسکرا کر اسے دیکھنے لگی۔۔
"آپ کہ والدین مان جائیں گے؟ اور جو انہوں نے ہمارے خاندان کا پوچھ لیا تو کیا جواب دیں گے؟ ہانم نے اپنا خدشہ ظاہر کیا کہ دل میں ایک بے چینی تھی جو وہ سمجھنے سے قاصر تھی۔۔۔۔
"وہ میں سمبھال لوں گا بس تم دلہن بننے کی تیاری کرو۔۔بالاج نے سنجیدگی سے کہتے آخر میں دھیرے سے مسکراتے ہوۓ اسکے ہاتھ کی پشت کو چوما تھا کہ ہانم کی آنکھوں میں نمی در آئی تھی۔۔۔
"ہم اکثر سوچتی تھیں کہ کیا ہم بھی کبھی کسی کی دلہن بنیں گی کسی کہ نام کی مہندی بھی ہمارے ہاتھوں کی زینت بنے گی، نکاح جیسا حلال رشتہ کوئی ہم سے بھی چوڑے گا یا ہماری زندگی اسی کوٹھے میں ناچتے ہوۓ گزر جائے گی، ہانم بات کرتے ہوۓ روک کر اسے دیکھنے لگی جو غور سے اسے سن رہا تھا۔۔
"ہم نے آج تک خود کو ایک امانت کی طرح سمبھالا ہے بالاج۔۔۔ہم آج خوش ہوکر بھی خوشی محسوس نہیں کر رہے شاید خود کو کبھی اتنا خوش قسمت تصور نہیں کیا۔۔۔ہانم افسردگی سے کہتے ہوۓ گہری سانس لیتے آسمان کی جانب دیکھنے لگی جبکہ بالاج ہنوز اسے دیکھ رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔
"رئیس کچھ معلوم چلا کہاں غائب ہے دو دن سے یہ لڑکی؟ جویریہ بیگم نے رئیس سے پوچھا جو خود پریشان لگ رہا تھا۔۔
"پتہ نہیں امی میں خود ابھی احان سے مل کر آرہا ہوں...
"احان؟ اپنا احان جویریہ بیگم نے تعجب سے پوچھا جس نے اثباب میں سر ہلایا تھا۔۔
"جی۔۔۔اسکا مجھے کل رات کو فون آیا تھا کہ تسنیم کا موبائل آف جا رہا ہے۔۔
"کیا وہ باہر ملتے رہتے ہیں؟ جویریہ بیگم نے حیرت سے پوچھا انھیں یہ جان کر خوشی ہوئی تھی کہ وہ امیر ہونے کہ باوجود قابل لڑکا تھا۔۔۔
"جی امی دو دن پہلے بھی وہ لوگ ہوٹل گئے تھے احان نے اسے شادی کہ لئے پرپوز کیا تھا وہ چاچو چاچی کہ ساتھ آنے والا تھا لیکن اب اس لڑکی کا کچھ پتہ نہیں ہے کہ کہاں چلی گئی ہے۔۔۔
"کیا یہ تو بہت زبردست بات بتائی ہے لیکن تسنیم کہاں چلی گئی ہے ہمیں تو یہاں مہینہ ہی ہوا ہے کہ کوئی دوست بھی نہیں بنی ہے اسکی کہ وہاں ہو۔۔۔۔جویریہ بیگم اسکے ساتھ بیٹھتے ہوۓ فکرمند ہونے لگیں۔۔جب رئیس نے انکے ہاتھ پکڑے
"بےفکر ہوجائیں احان نے بتایا ہے کہ وہ پانچ منٹ کہ لئے کال کرنے گیا تھا اور جب واپس آیا تو وہ اس سے پہلے وہاں سے چلی گئی تھی۔۔میں صبح جا رہا ہوں ہوٹل اگر کسی اور دوست کہ ساتھ گئی ہوگی تو سی سی ٹی کیمروں کے ذریعے معلوم چل جاۓ گا۔۔۔رئیس کی بات پر انہوں نے صرف سر ہلانے پر اکتفا کیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
"میری جان جلدی سے تیار ہوجاؤ۔۔۔ہم ابھی گھر کہ لئے نکل رہے ہیں۔۔۔ریاض بالوں کو سیٹ کرتے ہوۓ اسے بولا جو نیم دراز چھت کو گھورنے میں لگی ہوئی تھی۔۔
تسنیم نے ریاض کی آواز پر اسے دیکھا تھا جو نک سک تھا تیار تھا۔۔جبکہ تسنیم کی حالت ایسی تھی کہ کوئی بھی اسے دیکھے تو دنگ رہ جاۓ۔۔۔
کھلے بکھرے بال آنکھوں کہ نیچے ہلکے جبکہ گال پر نیل پھٹا ہونٹ جا بجا سگریٹ سے اسے جلا کر وہ تسکین بھی حاصل کرتا رہا تھا۔۔کسی کو نہیں معلوم تھا کہ اسکے ساتھ دو دن سے وہ شیطان درندہ اسے اپنی حوانیت کا نشانہ بنا رہا ہے۔۔
"تمھارے پاس ریولور ہے نا؟ تسنیم کہ پوچھنے پر وہ ہنسا تھا۔۔
"ہاں کیوں کہیں میرا خون کرنے کا ارادہ تو نہیں ہے؟ ریاض اسکا مذاق اڑاتے ہوۓ کہتا ہنسنے لگا۔۔تسنیم سپاٹ چہرے کہ ساتھ اسے دیکھ رہی تھی آنکھیں خشک تھیں جتنا رونا تھا وہ رو چکی تھی۔۔اب اور نہیں۔۔۔خود سے عہد کرتی وہ اٹھ کر قدم قدم چلتی ریاض کہ قریب آئی تھی۔۔
"تمہیں مار کر میری عزت واپس آجاتی تو میری ماں کی قسم تمہاری جان کل کی لے چکی ہوتی پر کیا ہے نا تمھارے خون سے میں اپنے ہاتھوں کو ناپاک نہیں کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔وہ جو تسنیم کی بات مسکراتے ہوۓ سن رہا تھا جھٹکے سے اسکے بالوں کو مٹھی میں لے کر زور سے اسے نیچے پھینکا تھا کہ تسنیم نے لبوں کو سختی سے بھینچ کر اپنی چیخ کو روکا تھا۔۔۔۔اسے ہرگز اس حیوان کہ سامنے کمزور نہیں پڑھنا تھا۔۔
"دو منٹ میں تیار ہوکر باہر نکلو اور ہاں زیادہ ہوشیاری کی تو یاد رکھنا مجھے تمھارے خون سے ہاتھ رنگنے میں ذرا دیر نہیں لگے گی۔۔ریاض عبایا اسکے اوپر پھینکتا دھمکی دیتے ہوۓ کمرے سے نکل گیا جبکہ تسنیم نے اسکے جاتے ہی عبایا جلدی جلدی پہن کر نقاب لگایا تھا۔۔
دوسری طرف ریاض لفٹ کی جانب بڑھ گیا تھا اسکے لفٹ کہ اندر جاتے ہی انکے سامنے والے کمرے سے ایک آدمی نکل کر ٹہلنے لگا۔۔۔
تسنیم نے آہستہ سے دروازہ کھول کر دائیں بائیں دیکھ کر جیسے ہی سامنے دیکھا مقابل موجود آدمی کو خود کو دیکھتا پا کر دھک سے رہ گئی۔۔
"آپ تو جلدی تیار ہوگَئیں ہیں۔۔۔چلیں پھر ۔۔۔آدمی اسے کہتے ساتھ ریاض کو فون کرنے لگا تھا جبکہ تسنیم نے آنکھوں کو سختی سے میچ لیا تھا۔
"نہیں تسنیم وہ جانور ہے اگر ابھی اسکے ساتھ چلی گئی تو وہ کھل کر اپنی حوانیت پر آجائے گا۔۔ن نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔۔اللّه میری مدد کریں۔۔تسنیم بے بسی کی انتہا پر تھی جب آدمی کی آواز پر تسنیم مرے مرے قدموں سے اسکے ساتھ چلنے لگی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"یاسمین باجی آپ کو حرا بائی بلا رہی ہیں۔۔۔۔فائزہ دروازے پر دستک دے کر اندر آتے ہوۓ اسے حرا بائی کا پیغام دینے لگی جو تیمور کو گود میں لئے مسکرا کر اسے دیکھنے میں مصروف تھی جو پرسکون سا اپنی ماں کی گود میں سو رہا تھا۔۔
"انھیں کہنا آتی ہوں۔۔۔۔یاسمین ہنوز تیمور کو دیکھتے ہوۓ جواب دے رہی تھی کہ فائزہ مسکرا کر پلٹ گئی تھی۔۔
"سدرہ اسکا دیھان رکھو گی میں بس ابھی آتی ہوں۔۔
"ٹھیک ہے آپ آرام سے جائیں۔۔۔۔۔سدرہ جو اسکے لئے کپڑے لے کر کمرے میں آئی تھی یاسمین کی بات پر مسکرا کر ہاتھ میں پکڑی گرے رنگ کی ساڑی دے کر بولی۔۔
"ساڑی؟
"حرا بائی نے کہا تھا۔۔۔۔تسنیم نے حیرت سے اسے دیکھ کر کہا کہ سدرہ اسے بتا کر کندھے اچکا گئی تھی۔
"ہمم۔۔۔سہی ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"آپ نے بلایا تھا۔۔۔۔یاسمین کی آواز پر حرا بائی نے اسے دیکھا تو چونک کر مسکرائی۔۔
یاسمین گرے ساڑی پہنے بالوں کی چٹیا بنائے میک اپ سے پاک چہرے کہ ساتھ سنجیدگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
"ہاں۔۔۔۔تمہاری ماں آئی ہے.....
۔۔۔....
"آپ نے بلایا تھا۔۔۔۔یاسمین کی آواز پر حرا بائی نے اسے دیکھا تو چونک کر مسکرائی۔۔
یاسمین گرے رنگ کی ساڑی پہنے بالوں کی چٹیا بنائے سنجیدگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
"ہاں۔۔۔۔تمہاری ماں آئی ہے۔۔۔۔حرا بائی کہ بتانے پر یاسمین کتنے ہی لمحے سن کھڑی رہی۔۔حرا بائی نے اسے دیکھا پھر نظر گھما کر فائزہ کو دیکھا جو اسکے سر کی مالش کر رہی تھی۔۔
"اے فائزہ جا اندر سے بچے کو یہاں لے کر آ۔ ۔
"جی اچھا۔۔۔فائزہ اسے ایک نظر دیکھ کر جانے لگی کہ ایک بار پھر حرا بائی نے اسے روکا تھا۔۔۔۔
"میری الماری کہ سب سے اوپر والے خانے میں نئی چادر پڑھی ہے گہرے سبز رنگ کی وہ بھی لاکر اسے دے۔ ۔۔
حرا بائی ایک اور حکم سنا کر اٹھ کر یاسمین کہ مقابل آئی تھی۔۔
"بہت پیاری ہے تو یقیناً مسکراتے ہوۓ بھی بہت اچھی لگتی ہوگی۔۔
"حرا اماں یہ لیں۔۔۔فائزہ کی آواز پر یاسمین نے بھی چونک کر اسے دیکھا تو جلدی سے آگے بڑھ کر اپنے بیٹے کو اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔۔اتنے میں فائزہ دوڑ کر چادر بھی لے آئی تھی.
"یہ اوڑھ کر اپنا چہرہ چھپا کر جانا۔۔۔حرا بائی اسے کہتی ہاتھ کہ اشارے سے فائزہ کو جانے کا کہا۔۔
"اب جاؤ اللّه حافظ اور ہاں۔اپنے بیٹے کو ایک اچھا اور نیک انسان بنانا۔۔۔۔حرا بائی کہتے ہوۓ آگے بڑھ کر ایک نظر تیمور کو دیکھ کر جانے لگی کہ یاسمین ناسمجھی سے حرا بائی کو دیکھ رہی تھی۔
"کیا امی لینے آئی ہیں مجھے؟
"یہ تمہاری ماں کی مرضی ہے باقی حرا بائی نے تمہیں آزاد کردیا۔۔۔یاسمین اسکی بات پر بے یقینی سے سامنے موجود عورت کو دیکھتی چلی گئی جو اسے جانے کا کہہ رہی تھی۔۔۔
"اب کھڑی کیا ہے جا۔۔
"لیکن آپ کیسے۔۔۔یاسمین بولتے بولتے روک گئی۔۔۔اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا جبکہ حرا بائی سمجھ گئی تھی کہ وہ کیا جاننا چاہ رہی ہے. ۔۔۔
"اتنی اچھی بھی نہیں ہے حرا بائی کہ اپنے ہی پیٹ پر لات مار دے پورے پچاس ہزار میں تجھے آزاد کر رہی ہوں وہ بھی اس لئے کیونکہ یہ جو تیری گود میں بچہ ہے اسے پالنا آسان نہیں ہے۔۔۔
"پپ پ پر کس نے دیے ہیں اتنے پیسے؟ کہیں۔۔یاسمین اسکی بات سن کر ششدر ہی تو رہ گئی تھی..
"ہونہہ! جس کا تو سوچ رہی ہے وہ نہیں ہے۔۔۔ایک لڑکا آیا تھا ارے ہاں اچھا یاد دلایا ورنہ میں تو بھول ہی جاتی ایک لفافہ بھی دے کر گیا تھا روکو ذرا۔۔۔حرا بائی یاد آنے پر تخت کہ ساتھ رکھے میز سے لفافہ اٹھا کر اسکی جانب بڑھا چکی تھی جس نے آہستہ سے ہاتھ بڑھا کر وہ لفافہ تھاما تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
"اماں۔۔ یاسمین جیسے ہی باہر آئی اپنی ماں اور بھائی کو دیکھ کر اسکا دل ڈوب سا گیا جبکہ دونوں ماں بیٹا اسے دیکھتے ہی اسکی طرف آئے تھے کہ یاسمین اپنی ماں کہ گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔
"میری بچی۔۔۔یہ کیا ظلم ہوگیا۔۔۔وہ کمبخت گھٹیا آدمی کیسے اس جگہ میری بچی کو چھوڑ گیا۔۔ اللّه غرق کرے اسے۔۔۔
"اماں بس کریں۔۔۔چلیں یہاں سے۔۔۔یاسر نے اپنی ماں کہ کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا کہ یاسمین نے اپنے بھائی کی جانب دیکھا تھا کتنے مہینے بعد وہ اپنوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
"یاسر۔۔۔
"آپی کچھ مت کہئے گا۔۔۔بس چلیں یہاں سے ورنہ آپکو اس جگہ دیکھ کر میں کوئی گناہ نا کر بیٹھوں۔۔۔
"نن نہیں تم غلط سوچ رہے ہو میں یہاں خود۔۔۔۔
یاسمین جو اسکی بات کا کچھ اور ہی مطلب نکال چکی تھی خوفزدہ لہجے میں بولنے لگی جب یاسر نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔۔یکدم ہی وہ ٹھہر گئی تھی ایک سکون تھا جو رگ و جان میں اترا تھا۔۔۔
"آپی سب معلوم ہے مجھے آپکو ہمیں کوئی صفائی پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔آج ہی بینش(یاسر کی بیوی) کو سسرال چھوڑ کر یہاں آئے ہیں ورنہ آپکو ہمارے ساتھ دیکھ کر سوال کرتی اور میں ہرگز یہ برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔یاسر کی بات سن کر یاسمین اپنے بھائی کہ سینے سے لگی روتی چلی گئی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کا وقت تھا ایسے میں نورین ڈریسنگ ٹیبل کہ سامنے کھڑی اپنے گیلے بالوں کو تولئے سے پوچھ رہی تھی جب بالکنی میں دھپ کی آواز پر نورین نے چونک کر دروازے کی سمت دیکھ کر کندھے اچکائے۔۔
"سجنا ہے مجھے سجنا کہ لئے سجنا ہے۔۔یکدم ہی اسکی گنگناہٹ دروازے کے ہینڈل کی آواز پر رکی تھی.۔۔
"ہائے کون ہے۔۔۔کہیں جن ون تو نہیں آگیا۔۔۔نورین نے آنکھوں کو پھیلا کر خودکلامی کرتے ہوۓ اپنے قدم بالکنی کی جانب بڑھائے تھے۔۔۔
"کون ہے یہاں؟ نورین ڈرتے ڈرتے دروازہ کھول کر ذرا سی گردن باہر نکال کر دیکھنے لگی لیکن بالکنی خالی تھی۔۔
"ہائے اللّه۔۔جن بھائی پلیز آپ چلیں جائیں مجھے آپ سے ڈر لگتا ہے۔۔۔
"نورین۔۔وہ جو سر نکال کر دوسری دنیا کی مَخلوقوں سے محو گفتگو تھی اپنے عقب سے آتی آواز پر اچھل کر چیخ پڑی تھی کہ عائشہ کہ ساتھ وہ جو بالکنی میں رکھی واشنگ مشین کہ پیچھے چھپا ہوا تھا دونوں ہاتھوں سے اپنے کان بند کر کہ لبوں کو بھینچ گیا تھا۔۔
"پاگل تو نہیں ہوگئی ہو کس سے باتیں کر رہی ہو؟
"جن بھائی سے۔۔۔عائشہ کہ پوچھنے پر اس نے معصومیت سے جواب دیا جبکہ عائشہ اپنا ماتھا پیٹ کر رہ گئی۔۔
"ہاں ہماری جننی کو جن ہی ملے گا اب تو۔۔بیوقوف چلو اب نیچے۔۔۔عائشہ جھڑک کر اسے بولتی واپس چلی گئی کہ نورین نے گھوم کر دوبارہ بالکنی میں دیکھا تھا ۔۔
"اففف اللّه نا کرے۔۔نورین جھرجھری لے کر بالکنی کا دروازہ بند کرتی وہاں سے چلی گئی تھی۔۔
اسکے جاتے ہی وہ اٹھ کر اردگرد دیکھتا آہستہ سے کمرے میں داخل ہوا تھا بالکنی گھر کہ پچھلی طرف بنی ہوئی تھی تبھی وہ نقاب میں باآسانی وہاں آیا تھا کہ سیکورٹی کہ نام پر سوائے بیرونی دروازہ پر ایک گارڈ کہ اور کوئی نہیں تھا۔
"عجیب پاگل لڑکی تھی.۔۔۔۔ساجد بڑبڑاتے ہوۓ کمرے کا جائزہ لینے لگا جہاں دو سنگل بیڈ اور ایک صوفہ رکھا ہوا تھا۔۔
"ایک بار تجھے اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں پھر دیکھنا ہانم کیا کرتا ہوں میں.۔۔۔ساجد بڑبڑا کر کہتا بستر کہ نیچے جا کر لیٹ گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"یہ ہے میرا گھر اور کچھ دنوں کہ لئے اسے اپنا سمجھو۔۔۔۔ریاض اسے گھر دکھاتا آخر میں اپنے حصار میں لیتے ہوۓ بولا تھا جبکہ تسنیم دونوں ہاتھوں کی مُٹھیاں بھینچے ساکت کھڑی تھی۔۔
"چلو تمہیں کمرا دکھاتا ہوں۔۔۔۔آخر رہنا تو تمہیں وہیں ہے۔۔۔ریاض اسکا ہاتھ پکڑ کر کمرے کی جانب بڑھنے لگا۔۔۔
جب لاؤنج میں رمیز بھاگتے ہوۓ وہاں آیا تھا۔۔
"کیا بات ہے رم۔۔۔اس سے قبل وہ اسے کچھ کہتا رئیس کو وہاں طیش میں آتا دیکھ کر جہاں تسنیم ساکت ہوئی تھی وہیں ریاض خباثت سے مسکراتے ہوۓ ریلنگ سے ٹیک لگا کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔
"بب بھائی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
گھر پہنچ کر جیسے ہی یاسمین نے صحن میں قدم رکھا اسکی آنکھیں ایک بار پھر آنسوؤں سے لبریز ہوگَِئیں۔۔۔
"یاسمین بیٹی جاؤ تھوڑا آرام کرلو۔۔۔
"اماں کاش آپ نے مجھے انٹرویو دینے سے منع کردیا ہوتا کاش میں اس شخص کہ ہاں نوکری نا کرتی ہوتی۔۔۔یاسمین روتے ہوۓ اپنی ماں کہ سینے سے لگی تھی جب یاسر نے اسے تیمور کو دیا۔۔
"دفع کریں ان باتوں کو اسے پکڑیں جا کر آرام کریں۔۔میں آتا ہوں بینش کو لے کر۔۔۔۔
"یاسر بینش کو کیا کہو گے؟
"اسے کیا کہنا ہے آپ اس گھر کی بیٹی ہیں۔اگر ابّو زندہ ہوتے تو وہ بھی یہی کرتے جو میں نے کیا ہے۔۔۔یاسر اسے دیکھ کر دکھ سے بولا تھا کہ یاسمین نے اپنے آنسوں صاف کیے۔
"ہانم باجی آپ نے لگوا لی مہندی؟ نورین اسکے پاس بیٹھتے ہوۓ ہانم کہ ہاتھوں کو دیکھنے لگی تھی۔۔
"یہ کیا اتنی سادی۔۔۔نورین نے اسکے ہاتھوں کو تھام کر پوچھا جس نے صرف انگلیوں پر پورے اور درمیان میں چاند بنوایا تھا۔۔نورین نے دیکھ کر حیرت سے پوچھا۔۔
"ہم ہمیشہ سے ایسی ہی لگواتی آرہی ہیں اور ہمیں یہ پسند بھی ہے۔۔۔ہانم نے مسکراتے ہوۓ اسے جواب دیا تھا کہ ثوبیہ بیگم کا بار بار اسے کہنا کہ تم بھی مہندی لگواؤ اچھا نہیں لگ رہا تھا جبکہ عروج جو وہیں تھی ہانم کی بات سن کر چلتی ہوئی اسکے قریب آں بیٹھی تھی۔۔۔
"چلیں کوئی بات نہیں آپ پر یہ بھی جچ رہی ہے۔۔۔نورین اسے مسکرا کر کہتی اٹھ کر خود مہندی لگوانے بیٹھ گئی۔۔
ہانم نے ایک نظر اسے دیکھا جو اسکے پاس جانے کیوں آکر بیٹھی تھی۔۔
"ہانم تم بتاؤ کہاں رہتی ہو؟ عروج یکدم ہی اسے دیکھ کر مصنوعی مسکراہٹ سے پوچھنے لگی۔۔۔
"جی وہ۔۔
"کیا ہوا نہیں جانتی؟ عروج کھسک کر اور نزدیک ہوئی تھی۔۔
"ایسی،ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ہانم کو اب گھبراہٹ ہونے لگی تھی کہ عروج بالوں کو جھٹکا دے کر اسکی طرف جھکی۔۔
"چلو چھوڑو یہ بتاؤ والدین کہ گھر میں رہتی ہو یا۔۔۔عروج کہتے کہتے رکی جبکہ ہانم سانس روکے اسے سن اور دیکھ رہی تھی۔۔
"یا کوٹھے پر؟ عروج کی بات پر ایک دھماکہ سا ہوا تھا ہانم پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
عروج کو اسکی حالت دیکھ کر لطف آرہا تھا جب یُکدم ہی عروج کی مسکراہٹ تھمی تھی۔۔۔
تیزی سے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوۓ وہ باتھروم کی جانب بھاگی تھی جبکہ یکدم ہی ہانم کا وہاں دم گھٹنے لگا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
"نورین کچن میں ابٹن بنا کر رکھا ہے لے کر آؤ جاؤ۔۔۔۔۔عائشہ جو مہندی لگوا رہی تھی انمول کہ کہنے پر نورین سے بولی تھی۔
"اب میرے مہندی لگ گئی ہے یار۔۔۔
"ہاں تو محترمہ ابھی صرف ایک ہی ہاتھ پر لگی ہے..انمول نے پلٹ کر اسے جواب دیا تو مجبوراً اسے اٹھنا پڑا تھا۔۔۔
لاؤنج میں تیز آواز میں ساتھ میوزک بھی چل رہا تھا جسے گنگناتے ہوۓ نورین کچن کہ دروازے تک پہنچی ہی تھی کہ اندر سے آتی ملازمہ جو جوس کا جگ لے کر تیزی سے آرہی تھی تصادم ہونے پر نورین کی قمیض پر چھلک گیا تھا یہ بھی شکر تھا کہ بروقت جگ کو مظبوطی سے تھامنے کی وجہ سے جگ زمین بوس نہیں ہوا تھا۔۔
"اللّه میرے کپڑے۔۔۔
"بہت معذرت باجی میں نے دیکھا نہیں نورین کے روہانسی ہونے پر ملازمہ گھبرا گئی تھی۔۔۔
"کوئی بات نہیں اب کیا کر سکتے ہیں۔۔نورین اسے کہتی جانے لگی پھر یکدم روک کر اس کی طرف گھومی۔۔
"کیا تم ابٹن کا باؤل لے جا کر انمول آپی کو دے دو گی؟
"جی میں ابھی دے آتی ہوں۔۔۔
"تھینک یو۔۔۔۔نورین مسکرا کر اسے کہتی کمرے کی جانب بڑھ گئی تھی. ۔۔۔
دوسری طرف ہانم سب کو مصروف دیکھ کر سن ہوتے دماغ کہ ساتھ سیڑیاں چڑھنے لگی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔
"بھائی۔۔۔۔تسنیم نے سرگوشی کرتے ہوۓ رئیس کی جانب قدم بڑھائے تھے لیکن پیچھے سے ریاض نے اسکا بازو پکڑ کر روکا تھا کہ رئیس یہ دیکھ کر طوفان بنا اس پر جھپٹ کر زور دار مکا اسکے منہ پر مارا کہ رمیز کہ چلانے پر ریاض کے آدمی تیزی سے وہاں آتے رئیس کو دبوچ چکے تھے۔۔
تسنیم کی بے ساختہ چیخ نکلی تھی کہ ریاض ہونٹ سے نکلتے خون کو صاف کرتا غصّے میں آگے بڑھ کر رئیس کو لگاتار تین چار مکے مارتا اسکی ناک پھاڑ چکا تھا جبکہ تسنیم چیختی ہوئی اپنے بھائی کو اس سے بچانے کہ لئے ریاض کو پیچھے کی جانب کھینچنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔
"نہیں چھوڑ دو ریاض چھوڑ دو میرے بھائی کو۔۔۔
"ہٹ سالی۔۔۔ریاض نے گھوم کر تسنیم کو زور دار تھپڑ رسید کیا تھا کہ رئیس تڑپ گیا۔۔
"(گالی) چھوڑ میری بہن کو۔۔۔۔۔
"ابھی پکڑا ہی کہاں ہے جو چھوڑ دوں اتنا نخرہ کرتی ہے۔۔۔۔۔ریاض مزے سے بولتا تسنیم کو بالوں سے پکڑ کر کھڑا کر چکا تھا جبکہ رئیس بے بسی سے صرف چیخنے کہ ساتھ اسے گالیاں دے رہا تھا جس سے ریاض کو اور زیادہ طیش آرہا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
رئیس نے ہوٹل پہنچ کر جیسے ہی سی سی ٹی وی کی مدد سے معلومات لیں ریاض اور اسکے آدمیوں کو دیکھ کر وہ دنگ رہ گیا تھا لیکن پیروں تلے زمین تب نکلی جب تسنیم کو اسی روم میں جاتے دیکھا جس میں وہ دس منٹ پہلے گیا تھا۔۔۔
غصّے سے رئیس کی آنکھیں سرخ ہونے لگی تھی۔۔
جھٹکے سے وہاں سے نکل کر وہ سیدھا ریاض کہ گھر پہنچا تھا جہاں اپنی بہن کی حالت دیکھ کر رئیس پاگل سا ہوگیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
"یاسمین۔۔۔
"جی اماں۔۔۔یاسمین جو تیمور کو سلا رہی تھی آواز پر اپنی ماں کو دیکھا جو مسکرا کر کمرے میں آتیں اسکے سامنے بیٹھی تھیں۔ ۔
یاسمین نے مسکرا کر آگے ہو کر انکے دونوں ہاتھوں کو تھام کر چوما۔۔
"بینش ان دنوں بہت چڑ چڑی سی ہوگئی ہے پھر تھوڑی نک چڑھی سی ہے کچھ کہہ دے تو ناراض مت ہونا۔۔
"اماں اتنی پریشان مت ہوں میں کچھ نہیں کہہ رہی آپکی بہو کو.۔۔یاسمین انھیں مسکرا کر کہتی تسلی دینے لگی جو مطمئن ہوکر کمرے سے نکل گئی تھیں۔۔
انکے جاتے ہی یاسمین گہری سانس لیتی ایک نظر اپنے بیٹے کو دیکھ کر الماری کی طرف بڑھی جب اسے اس خط کا خیال آیا تھا۔۔
"آخر کون تھا وہ۔۔۔۔یاسمین سوچتی ہوئی آگے بڑھ کر سائیڈ ٹیبل کے دراز سے اس خط کو نکال کر دیکھنے لگی جسے اس نے ابھی تک نہیں پڑھا تھا۔۔۔
الٹ پلٹ کر کہ دیکھتی وہ سوچتی ہوئی کمرے کا دروازہ بند کر کہ بیڈ پر آکر بیٹھتی اسے کھولنے لگی جب لفافے سے تصویر پھسل کر اسکی گود میں آکر گری تھی۔۔یاسمین نے حیرت سے اٹھا کر تصویر کو جیسے ہی سیدھا کیا تو ششدر رہ گئی۔۔۔تصویر میں کوئی اور نہیں وہ خود تھی لیکن وہ اکیلی نہیں تھی اسکے ساتھ "تسنیم علی" تھی ہاں تسنیم علی جس نے اپنی بہنوں جیسی بھابھی کی خاطر وہ سب چھوڑ چھاڑ کر لاہور آئی تھی۔۔
تصویر میں دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنس رہی تھیں یاسمین کی آنکھوں میں نمی در آئی تیزی سے تصویر کو رکھ کر اس نے لفافے میں دیکھا تو اسے ایک کاغذ نظر آیا جسے نکال کر اس نے کھولا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
"یار رئیس اتنا کیوں شور مچا رہا ہے۔۔۔۔بے فکر ہوجا جان سے نہیں ماروں گا تمہاری پیاری اکلوتی بہن کو بس دل بھر جانے کہ بعد پہنچا دوں گا واپس۔۔۔۔ریاض مزے سے کہتا صوفے پر پھیل کر بیٹھا جبکہ رئیس چیختے ہوۓ اسے مارنے کہ لئے اس تک پہنچنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔۔
"ہاہاہا! کیوں خود کو ہلکان کر رہے ہو یار۔۔۔۔
"میں تیرا خون پی جاؤں گا (گالی)
"پھر گالی دی۔۔۔۔ریاض نے اسکے بھڑکنے پر گردن پر ہاتھ رکھتے ہوۓ رمیز کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا کہ رمیز نے اسکا اشارہ سمجھتے ہی آگے بڑھ کر تسنیم کا ڈوپٹہ کھینچ کر اتارا تھا تسنیم کی دل خراش چیخ کہ ساتھ رئیس چیخنے ساتھ رونے لگا تھا کہ ریاض سگریٹ لبوں میں دبا کر مسکرا کر دونوں بھائی بہن کا تماشا دیکھتا محظوظ ہورہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے اپنا ڈوپٹہ اتار کر بیڈ پر رکھا تھا وہ جو ہانم کا انتظار کر رہا تھا چونک کر دیکھنے لگا۔۔
"یہ پھر کیا کرنے آئی ہے۔۔۔ساجد اسے ڈریسنگ ٹیبل کہ سامنے کھڑے دیکھ کر بڑبڑایا تھا نورین نے چونک کر اردگرد دیکھا۔۔
"چالاک لومڑی۔۔۔ساجد صرف سوچ کر رہ گیا تھا جبکہ نورین کندھے اچکا کر باتھروم میں گھس گئی تھی۔۔
نورین کہ جاتے ہی کمرے کا دروازہ ایک بار پھر کھولا تھا ساجد کی آنکھیں چمکیں۔۔۔
"ہانم۔۔۔۔سرگوشی کرتا وہ اسے دیکھ رہا تھا۔۔
"ارے ہانم باجی کیا ہوا؟ یکدم ہی نورین باتھروم سےنکلی تو اسے دیکھ کر پوچھنے لگی جس نے تیزی سے اپنے آنسوں صاف کیے تھے۔۔
"کچھ نہیں بس ذرا سر میں درد ہو رہا ہے۔۔۔
"اوہ! چلیں پھر آپ کو چائے بنا کر پلاتی ہوں.۔۔۔نورین کی بات پر ہانم نے اسے حیرت سے دیکھا۔۔۔
"کیا واقعی؟ تم ہمارے لیے چائے بناؤ گی ؟ ہانم کو واقعی جھٹکا لگا تھا جبکہ نورین نے خفگی سے منہ پھلایا۔۔
"کیوں میں نہیں بنا سکتی کیا اب اتنی بھی کام چور نہیں ہوں گھر میں بھی جب بھی امی یا عائشہ کہ سر میں درد ہوتا ہے تو میں ہی بنا کر دیتی ہوں اور یوں پیتے ہی چٹکیوں میں درد غائب۔۔۔نورین بولنے کہ ساتھ چٹکی بجاتے ہوۓ مسلسل بولے جا رہی تھی کہ ہانم مسکرا دی تھی جبکہ ساجد نے خونخار نظروں سے اس لڑکی کو دیکھا تھا۔۔
دونوں کہ کمرے سے جاتے ہی ساجد بیڈ کہ نیچے سے نکل کر دروازے کو گھورتا رہا پھر جیسے آیا تھا ویسے ہی چلا گیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یاسمین نے خط کھول کر ایک نظر تیمور کو دیکھا پھر اٹھ کر کرسی پر جا بیٹھی۔۔۔
خط :
"بھابھی۔۔۔جانتی ہوں آپ مجھ سے بہت خفا ہونگی، اور ہونا بھی چاہیے کیونکہ میں نے آپ کا ساتھ اس وقت چھوڑ دیا جب آپ کو میری سب سے زیادہ ضرورت تھی،اور مجھے زندگی بھر اس چیز کا افسوس رہے گا۔۔۔کہتے ہیں نا غصّہ حرام ہوتا ہے کیونکہ غصّے میں انسان وہ سب کر بیٹھتا ہے جو وہ کبھی تصور بھی نہیں کرنا چاہتا اور یہی غصّہ جس میں انسان سب بھول جاتا ہے حاوی رہتا ہے تو بس ایک غصّہ.۔۔میں نے بھی غصّے میں بھائی کو نہیں روکا کہ وہ آپ کو شاید آپکے گھر چھوڑنے جا رہے ہیں۔۔۔یاسمین نے یکدم پلکوں کو جھپک کر گیلی سانس اندر کھینچی تھی۔۔۔
"آپ کا تڑپنا تیمور کہ لئے مجھ سے برداشت نہیں ہورہا تھا پر جیسے ہی میں اسے لے کر آپکی طرف آنے لگی بھائی نے ہاتھ اٹھا کر مجھے وہیں روک جانے کا اشارہ کیا جس کہ بعد میں نے صرف بھائی کو دکھانے کہ لئے مسکرا کر اس ننھی سی جان کو امی کو دے کر پلٹ گئی تھی.۔۔۔
آپ دونوں کہ جانے کہ بعد مجھے اس کوٹھی میں کام کرنے والی ملازمہ سے معلوم چلا کہ وہ آپکو وہاں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔۔۔۔کتنے ہی لمحے میں سن کھڑی رہی تھی اس وقت مجھے اپنے ہی سگے بھائی سے نفرت محسوس ہوئی وہ ایسا کیسا کر سکتے تھے اپنی ہی عزت کو گندی جگہ لے گئے تھے میں نے سوچ لیا تھا آپ کو بھائی کی زندگی اور اس جگہ سے آزاد میں کرواؤں گی۔۔۔طلاق اور تیمور کو دینے کا مشورہ میں نے امی کو دیا مجھے یقین تھا وہ بھائی کو راضی کرلیں گی۔۔۔اور پھر میں احان۔۔۔احان آپ کو تو پتہ ہے نا وہ ہینڈسم چشمش۔۔۔
یاسمین پڑھتے پڑھتے مسکرائی تھی جبکہ آنسوں لڑیوں کی صورت اسکی آنکھوں سے جاری تھے۔۔
"اسی کہ ساتھ آپ کہ گھر جا کر سب بتایا
(احان تم یہیں روکو میں آتی ہوں۔۔۔تسنیم اسے کہہ کر خود اندر چلی گئی تھی)
ہوٹل جانے سے پہلے میں اسکے ساتھ بینک گئی تھی وہ حیرت سے مجھے دیکھ رہا تھا لیکن خاموش تھا۔۔اور پھر میں نے اسکا تجسس بھی ختم کردیا۔۔۔اسی کہ ہاتھ پچاس ہزار اس عورت کو بھجوا رہی ہوں۔۔۔
(پچاس ہزار؟ حرا بائی نے احان کو دیکھا جو سر پر کیپ لگائے سنجیدگی سے کھڑا تھا۔۔
"کیا آپکو اور رقم چاہیے؟
"دو لاکھ۔۔۔۔حرا بائی نے اسکے پوچھنے پر چیک اسکی طرف بڑھاتے ہوۓ کہا۔۔۔جسے احان نظرانداز کرتا باہر نکل گیا۔۔
"عجیب باولا ہے۔۔حرا بائی نے حیرت سے اسے جاتے دیکھ کر کہا پھر چیک کو ایک طرف رکھ کر ٹیک لگا کر بیٹھتی آنکھیں موند گئی جب تھوڑی دیر بعد قدموں کی آواز پر اس نے آنکھیں کھول کر سامنے دیکھا تھا۔۔
"یہ ڈیڑھ لاکھ کا چیک ہے لیکن اگر یاسمین بھابھی پوچھیں تو پچاس ہزار ہی بتائیے گا چلتا ہوں احان چیک دے کر نظریں جھکائے لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکلتا چلا گیا)
"ریاض تو یہ اچھا نہیں کر رہا۔۔۔۔چھوڑ دو میری بہن کو۔۔۔۔رئیس نے بے بسی سے سامنے سکون سے بیٹھے ریاض سے کہا لیکن وہ تو کچھ سن ہی نہیں رہا تھا۔۔
رمیز چیخے مارتی تسنیم کو زبردستی اپنے کندھے پر ڈال کر کمرے کی طرف بڑھنے لگا تسنیم کی چیخیں پورے مینشن میں گونج رہی تھی۔۔
"نہیں!!!!!!کہاں لے کر جا رہے ہو میری بہن کو۔۔۔تسنیم۔۔۔ریاض تمہیں اللّه کا واسطہ میری بہن کو چھوڑ دو۔۔۔۔رئیس کی آواز بھاری ہوچکی تھی ریاض سے منتیں کرتے کرتے کہ وہ زمین پر گر گیا تھا۔۔۔
جب ریاض اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔
"چلو ٹھیک ہے چھوڑ دیتا ہوں لیکن اس کہ بدلے تمہیں میرے لئے کام کرنا ہوگا۔۔۔
ریاض کی بات پر رئیس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
"کیسا کام؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یاسمین خط کو تہہ کرتے سینے سے لگآئے زاروقطار رونے لگی تھی جب اچانک کمرے کہ دروازے پر دستک ہوئی.۔۔۔
یاسمین نے جلدی سے اپنے آنسوں پونچھے
اتنے میں بینش نے دروازہ کھول کر اندر جھانکا۔۔۔
"َآپی اندر آجاؤں؟
"ہاں آؤ نا۔۔۔۔یاسمین مسکرا کر اپنی جگہ سے اٹھی کہ بینش اندر داخل ہوگئی
"دراصل آپی میں اور یاسر گھر جا رہے ہیں میرے بھائی کی تاریخ پکی ہورہی ہے آج۔۔
"یہ تو بہت اچھی بات ہے مبارک ہو تمہیں۔۔۔یاسمین نے جھت اسے مبارکباد دی۔۔
"خیر مبارک۔۔ہمیں آتے ہوۓ دیر ہوجاۓ گی اپنا اور امی کا کھانا بنا لیجئے گا اور پلیز دروازے کو لاک ہی رکھیے گا۔۔۔۔۔۔سمجھ رہی ہیں نا۔۔۔۔بینش ذومعنی لہجے میں کہتی اسے ساکت چھوڑ کر کمرے سے نکل گئی تھی جبکہ وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نا سکی تھی۔۔
"کیا اماں یا پھر یاسر نے اسے سب بتا دیا ؟ یاسمین سوچ کر رہ گئی پھر یکدم ہی اس نے وہ خط دیکھا تو تسنیم کو کال کرنے کا سوچتی موبائل کی طرف بڑھی تھی۔۔
"نمبر بند ہے۔۔۔۔یاسمین نے حیرت سے موبائل کان سے ہٹا کر خود کلامی کی اسے شدید جھٹکا لگا تھا کہ تسنیم کا نمبر کبھی بھی بند نہیں ہوتا ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے دس بجے کا وقت تھا جب رئیس تسنیم کہ ساتھ گھر میں داخل ہوا جویریہ بیگم اور احان جو لاؤنج میں ہی موجود رئیس کا انتظار کر رہے تھے قدموں کی آواز پر چونک کر تیزی سے انھیں دیکھ کے اپنی جگہ سے کھڑے ہوۓ تسنیم نے نظر اٹھا کر سامنے دیکھا تو کرب سے آنکھوں کو میچ گئی۔
"تسنیم میری بچی۔۔۔۔جویریہ بیگم دوڑتی ہوئیں اسکے قریب آتے ہی ٹھٹھک کر رکیں اس کی اجڑی حالت دیکھ کر انھیں لمحہ لگا تھا سب سجھنے میں۔۔ جبکہ احان کی نظریں تسنیم کہ چہرے پر جم گئیں۔۔
"مجھے آرام کرنا ہے۔۔۔تسنیم آہستہ سے کہتی نظریں جھکا کر اپنے کمرے کی جانب بڑھنے لگی جب احان کی آواز پر تسنیم کہ قدم رکے تھے۔۔
احان تیزی سے اسکے سامنے آیا تھا اس سے قبل وہ کچھ بولتا تسنیم نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔۔
"مجھے معاف کردینا احان میں تم سے شادی نہیں کر سکتی۔۔
"تسنیم۔۔۔احان کہ ساتھ ساتھ رئیس اور جویریہ نے بھی اسے دیکھ کر لب بھینچے تھے۔۔
"میں تمھارے قابل نہیں رہی احان۔۔مجھے میرے بھائی کہ کیے گناہوں کی سزا ملی ہے۔۔۔ایسا کیوں ہوتا ہے احان بتاؤ مجھے جو گناہ کرتا ہے اسے ہی سزا کیوں نہیں ملتی اگر اپنوں کی تکلیف سہی نہیں جاتی تو گناہ کرنے سے پہلے کیوں وہ اپنوں کو بھول جاتے ہیں کہ دنیا میں مکافاتِ عمل بھی وجود رکھتا ہے اور ان گناہوں کی سزائیں ہم سے ہوکر گزرتی ہیں ۔۔تسنیم بھیگی آواز میں کہتے کہتے رئیس کی طرف پلٹی تھی جس کی آنکھوں میں آنسوں تھے۔
"ایسا بھی کیا کہہ دیا تھا بھابھی نے کہ آپ انھیں وہاں لے گئے جہاں کوئی دشمن کی بیٹی کو بھی جانتے بوجھتے نا لے جاۓ اور آپ نے اپنی ہی عزت کو اس دلدل میں پھینک دیا۔۔۔کیسے بھائی کیسے کرلیا آپ نے یہ سب؟ کیا رات سکون کی نیند آگئ۔۔
"تسنیم بس کرو بیٹی۔۔۔جویریہ بیگم نے روتے ہوۓ آگے بڑھ کر اسے خاموش کروانا چاہا جو تیزی سے ان سے پیچھے ہوئی تھی۔۔
"نہیں بہت خاموش رہ چکی ، بہت برداشت کر چکی، اب اور نہیں امی۔۔مجھے خاموش کروانے سے پہلے اپنے عزت دار بیٹے سے پوچھئے گا کہ وہ اپنی عزت کا جنازہ کس جگہ دفنانے گئے تھے۔۔۔تسنیم روتے ہوۓ بلند آواز میں کہتی کمرے کی جانب بھاگ گئی تھی۔۔۔
جبکہ احان رئیس کو گھور کر وہاں سے چلا گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔
"ہانم ہانم۔۔۔۔۔بالاج مسکراتے ہوۓ پرجوش سا چھت پر آیا تھا جہاں ہانم سوچوں میں گم تھی۔۔بالاج کی آواز پر اسکی طرف پلٹی۔۔
"ہانم تمھارے لئے خوشخبری ہے میرے پاس۔۔بالاج قریب آتا اسکے دونوں ہاتھوں کو تھام کر بولا جو سنجیگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
"پوچھو گی نہیں؟ بالاج نے اسے خاموش دیکھ کر خود ہی پوچھ لیا۔۔
"جی بتائیں۔۔۔
"ؓمام اور ڈیڈ کل آرہے ہیں یہاں تم سے ملنے۔۔۔بالاج کی بات سن کر بھی وہ چپ سی کھڑی تھی کہ بالاج کی مسکراہٹ یکدم غائب ہوئی تھی۔۔۔
"کیا بات ہے تمہیں خوشی نہیں ہوئی؟
"ایسی کوئی بات نہیں ہے ہم خوش ہیں لیکن آپکو نہیں لگتا یہ سب بہت جلدی ہورہا ہے؟ بالاج کہ پوچھنے پر اس نے سر جھٹک کر پوچھا تھا۔۔۔
بالاج نے اسکی بات سن کر گہری سانس لی۔۔
"ہانم یہ تو اچھی بات ہے ہمارے لئے۔۔پھر مام ڈیڈ نے تو شادی میں آنا ہی تھا۔۔۔
"اوہ اچھا ٹھیک ہے۔۔۔بالاج کی بات سن کر اس نے سر ہلا کر نظریں جھکائیں تھیں کہ بالاج نے اسکے چہرے کو تھام کر اپنے قریب کیا تھا ہانم نے گھبرا کر اسے دیکھا جو ہانم کی آنکھوں میں جھانکتا جھک رہا تھا اچانک ہانم نے اپنا ہاتھ اسکے لبوں پر رکھا تھا کہ بالاج چونک کر پیچھے ہٹا۔۔
"ہانم ہماری شادی ہونے جا رہی ہے. ۔۔۔بالاج کا انداز عجیب سا تھا۔
"جی پر ابھی ہونی ہے۔۔ہوئی نہیں۔ ۔۔.ہانم اسے دیکھ کر بولی جس نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے سینے سے لگایا تھا جبکہ دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔۔
"اتنا تو چلتا ہے ہانم یا مجھ پر بھروسہ نہیں ہے تمہیں۔۔
"ہم بس اتنا جانتے ہیں کہ یہ گناہ ہے بالاج ۔
"تو پھر ہزار مردوں کہ سامنے ناچنا کیا ثواب کہ زمرے میں آتا ہے؟ بالاج کی بات سن کر ہانم نے شدید حیرت سے اسے دیکھا تھا جو اسکے دیکھنے پر لب بھینچ گیا تھا۔
"سوری ہانم مجھے تمہاری باتوں پر غصّہ آگیا تھا۔۔۔سوری۔۔۔۔بالاج بیچارگی سے کہتا اسکے چہرے کو تھام گیا تھا جبکہ ہانم بمشکل ضبط کرتے بولنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔
"نہیں آپ کی غلطی نہیں ہے،ہم جہاں سے آئی ہیں وہاں یہی سب ہوتا ہے۔۔۔
"یار سوری پتہ نہیں غصے میں منہ سے نکل گیا تھا۔۔۔بالاج شرمندہ ہونے لگا جبکہ ہانم اسکے اس طرح کہنے پر خاموش ہوکر سر کہ ساتھ نظریں جھکا گئی کہ بالاج نے ایک بار پھر اسکا چہرہ تھاما تھا۔۔
"سوری ہانم۔۔۔۔۔بالاج نرمی سے کہتا اسکے چہرے پر جھک گیا تھا کہ ہانم نے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچ لی تھیں جبکہ آنکھ سے آنسوں کا قطرہ ٹوٹ کر گرا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
ہانم آپی۔۔۔۔نورین کی آواز پر بالاج جو پوری طرح سیراب بھی نہیں ہوا تھا بدمزہ ہوتے ہانم کو چھوڑتا چھپنے کہ لئے وہاں سے بھاگا تھا جبکہ ہانم نے گہری گہری سانس لیتے ڈوپٹے سے چہرے کو پوچھا تھا۔۔
"نورین ہم یہاں ہیں۔۔۔۔ہانم جلدی سے اسے جواب دیتی خود ہی سیڑیاں اترنے لگی وہ جو اسکی آواز پر بھاگتی ہوئی آرہی تھی بروقت رکی۔۔۔
"افففف میں تو پریشان ہوگئی تھی ہانم آپی آپکو کمرے میں موجود نا۔۔نورین کی زبان کو یکدم بریک لگی تھی جب ہانم تشکر سے اسے دیکھتی نورین کہ گلے لگی تھی۔۔
"کیا ہوا ہانم آپی؟
"ہم ڈر گئی تھیں۔۔۔اچھا ہوا تم آگئی۔۔۔ہانم گرفت مضبوط کرتے ہوئے اسے بول رہی تھی جو اسکے ڈرنے والی بات پر اس سے الگ ہوئی تھی۔
"آپ اور ڈر رہی تھیں؟ ہانم آپی آپ تو بہت بہادر ہیں سچ کہہ رہی ہوں۔۔ ۔
"ہاں ہم بہادر ہیں۔۔۔۔نورین کہتے ساتھ دوبارہ اسکے گلے سے لگی تھی کہ ہانم نے بے آواز دوہرا کر اپنے لبوں کو زور سے رگڑا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
"ہیلو۔۔۔۔عروج نڈھال سی موبائل کان سے لگا کر بولی کہ صبح سے اسکی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔
"ہیلو میری جان کیا کر رہی ہو؟ ساجد بنگلے کہ باہر اندھیرے گوشے میں کھڑا تھا۔۔۔
"طبیعت عجیب ہورہی ہے شاید تمھارے جانے کا اثر ہوگیا ہے۔۔۔۔۔عروج نے شرارت سے کہا جب دوسری طرف کی بات سن کر عروج زور سے چیخ مارتی اٹھ کر بیٹھی
"کیا واقعی تم نہیں گئے؟
"نہیں میں جا ہی نہیں سکا۔۔۔ساجد نے مسکراتے ہوۓ اسے کہا۔
"اچھا تو ایسی بات ہے اور تم اب بتا رہے ہو۔۔عروج تکیہ اپنے گود میں رکھتے ہوۓ شرماتے ہوۓ بولی۔۔
"سرپرائز نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔۔
"یہ کیسا سرپرائز ہے رات کہ تین بجے؟ میں تو اب آ بھی نہیں سکتی۔۔۔عروج نے منہ بنا کر کہتے آنکھیں گھومائیں۔
"میں تو آ سکتا ہوں نا میری جان۔۔۔۔
"کیا مطلب؟
"مطلب میں گھر کہ پھچلی طرف گلی میں کھڑا ہوں.۔عروج اسکی بات سن کر تیزی سے بستر سے اتری۔۔
"ٹھیک ہے میں آتی ہوں تم وہیں روکنا۔۔
"چابی ہے تمھارے پاس؟ ساجد نے اسکی بات سن کر پوچھا۔۔
"نہیں لیکن تم فکر مت کرو میں آنٹی کہ کمرے سے لے لوں گی ویسے بھی سب سو رہے ہیں کسی کو بھی پتہ نہیں چلے گا۔۔۔عروج کی بات پر ساجد کی مسکراہٹ گہری ہوگئی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
عروج موبائل رکھ کر دبے قدموں چلتی ہوئی ثوبیہ بیگم کہ کمرے کہ دروازے تک ہی پہنچی تھی کہ اچانک اسے متلی ہونے لگی منہ پر ہاتھ رکھتے ہی وہ تیزی سے وہاں سے اپنے کمرے کی جانب بھاگی تھی جبکہ دوسری طرف ساجد جو عروج کہ آنے کا انتظار کر رہا تھا کچھ ہی دیر میں کال آنے پر چونکا اسکرین پر عروج نام پڑھ کر کال اٹھا کر کان سے لگایا۔۔
"ہیلو۔۔۔۔
"ساجد میں ابھی نہیں آ پاؤں گی۔۔عروج کی بات سن کر ساجد کی پیشانی پر بل نمودار ہوۓ۔۔
"لیکن کیوں ؟
"پلیز سمجھو میری طبیعت سہی نہیں ہے کل ہم پکا ملیں گا۔۔۔اچھا میں رکھتی ہوں۔۔۔بائے۔۔عروج تیزی سے بات مُکَمل کرتی دوبارہ سے باتھروم میں گھس گئی جبکہ دوسری طرف ساجد کا غصّے سے برا حال ہوگیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
نورین نے جیسے ہی کروٹ بدلی ہانم کو جاگتے دیکھ کر اٹھ کر بیٹھ گئی
"ہانم آپی؟ کیا بات ہے نیند نہیں آرہی ؟نورین کی آواز پر وہ جو سوچوں میں ڈوبی ہوئی تھی چونکی اس سے پہلے وہ جواب دیتی عائشہ نیند میں اسے خاموش رہنے کا بول کر دوبارہ سوگئی تھی۔۔۔
نورین ایک نظر اسے دیکھ کر اٹھ کر ہانم کو بالکنی میں چلنے کا اشارہ کرتی آگے بڑھ گئی جبکہ ہانم اسکی حرکت پر مسکرا کر اٹھتی اسکے پیچھے گئی تھی۔۔
"کیا ہوا اب بتائیں؟ نورین اسے دیکھ کر دوبارہ پوچھنے لگی۔۔جس نے سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا تھا۔
چاند کی روشنی نے اندھیرے میں چاندنی بکھیری ہوِئی تھی جبکہ ہلکی ہلکی ہوا ذہن کو سکون بخش رہی تھی۔۔
"ہم بہت پریشان ہیں نورین
"کیسی پریشانی۔۔۔نورین نے چونک کر اسے دیکھا جس نے گہری لمبی سانس کھینچی تھی۔۔
"ہم خوش و مطمئن ہونا چاہتی ہیں لیکن پھر بھی یہ دونوں چیزیں ہمارے دل تک رسائی حاصل نہیں کر سکیں۔۔۔۔بالاج ہم سے شادی کرنا چاہتے ہیں پر ہم چاہ کر بھی خوش نہیں ہو پا رہی ہیں ایسا کیوں ہے ہم نہیں جانتی. ۔۔۔ہانم کو معلوم ہی نہیں چلا کہ وہ کیا بول چکی ہے احساس تو اسے تب ہوا جب نورین نے حیران ہوتے ہوۓ پوچھا تھا۔۔
"کیا واقعی بالاج بھائی آپ سے شادی کرنا چاہتے ہیں؟
"کیا واقعی بالاج بھائی آپ سے شادی کرنا چاہتے ہیں ؟
ہانم نے اسے دیکھا جسکے چہرے پر صرف حیرت و بے یقینی کہ تاثرات تھے۔۔
"آ ہاں۔۔۔لیکن تم اتنا حیران کیوں ہورہی ہو؟ ہانم نے اسے بغور دیکھتے ہوۓ پوچھا تھا اسے دیکھ کر وہ یہ سوال نہیں کر سکی کہ تمہیں سن کر خوشی ہوئی۔۔۔
جبکہ ہانم کہ سوال پر نورین نے گہری سانس لی تھی۔۔
"وہ اس لئے کیونکہ بالاج بھائی شادی کہ نام سے دور بھاگتے ہیں اور پھر انکا خود یہ کہنا ہے ابھی انکی عمر نہیں ہے خیر ویسے سہی ہے چوبیس سال کہ تو ہیں۔۔۔نورین بتاتے ہوۓ آخر میں شریر ہوئی جبکہ ہانم کو جیسے جھٹکا لگا تھا۔۔۔۔
"حیرت ہے بالاج بھائی پر خیر انکا کوئی قصور بھی نہیں ہے آپ ہیں ہی اتنی پیاری کہ وہ آپ سے شادی کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔۔۔نورین اپنی ہی دھن میں باتیں کیے جا رہی تھی جبکہ ہانم کا دم گھٹنے لگا تھا ۔۔
"طوائف کوٹھے میں ہی اچھی لگتی ہے ہانم داؤد انکے ساتھ گھر کوئی نہیں بساتا ۔۔۔۔حرا بائی کی دل کو چیرتی آوازیں اسکی سماعتوں میں گھلنے لگی۔۔
"ہم کل ہی بالاج سے اس بارے میں بات کریں گے۔۔۔ہانم سوچتی ہوئی نورین کو دیکھنے لگی۔۔۔
"ہم پانی پی کر آتی ہیں.۔۔۔ہانم نورین کو کہتی ہوئی جانے لگی پھر یکدم روک کر اسکی جانب گھومی۔۔۔
"نورین گھر میں کسی کو ابھی مت بتانا پلیز۔۔۔
"ٹھیک ہے نہیں بتاؤں گی۔۔۔نورین اسے دیکھ کر مسکرا کر کہتی باہر دیکھنے لگی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ساجد جو ہنوز وہیں تھا اچانک ہی اسکی نظر بالکنی میں کھڑی ہانم اور نورین پر پڑی تھی دونوں باتیں کرنے میں مصروف تھیں یکدم ہی ساجد کی نظر نورین پر ٹکی تھی۔۔
ایک شیطانی مسکراہٹ نے اسکے چہرے کا طواف کیا تھا۔۔
ہاتھ میں پکڑے موبائل کو دیکھتے اس نے عروج کا نام دیکھا تھا جہاں کل ملنے کہ لئے وہ ہوٹل آنے والی تھی۔۔
"میری جان اب تم سے دل بھرنے لگا ہے چلو پھر ایک آخری ملاقات کرتے ہیں۔.۔۔۔ساجد بولنے کہ ساتھ موبائل کو جیب میں رکھتا دوبارہ نظر اٹھا کر اوپر دیکھنے لگا جہاں اب صرف نورین موجود تھی۔۔۔
"چالاک لومڑی تمہیں قابو کرنے میں مزہ آئے گا۔۔۔۔ساجد بڑبڑاتے ہوئے وہاں سے آگے بڑھ گیا جبکہ نورین بالکنی میں موجود جن بھائی کو پکارنے کہ بعد خود ہی ڈر کر اندر چلی گئی تھی اس بات سے انجان کہ ایک انسانی شیطان اسکی زندگی میں تہلکا مچانے والا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہانم پانی پینے کہ بعد کمرے کی طرف بڑھنے لگی جب اچانک بالاج نے پیچھے سے اکر اسکے لبوں پر ہاتھ رکھا تھا۔۔
"میں ہوں بالاج،چیخنا مت۔۔۔ہانم اسکی حرکت پر کانپ گئی تھی۔۔۔
"چلو میرے ساتھ۔۔۔۔بالاج اسکے کان میں کہتا ہانم کا ہاتھ پکڑ کر گیسٹ روم کی جانب بڑھنے لگا۔۔
"ہمارا ہاتھ چھوڑیں۔۔۔۔۔ہانم گھبرا کر کہنے لگی لیکن وہ تو جیسے سن ہی نہیں رہا تھا تیز تیز چلتا وہ اسے روم میں لایا تھا۔۔
"میں تمھارے پاس ہی آرہا تھا۔۔۔بالاج نے کہتے ساتھ دوبارہ اسے اپنے حصار میں لیا تھا جبکہ ہانم خوف سے آنکھیں پھیلائے سامنے موجود پھولوں سے سجے بستر کو دیکھ رہی تھی جہاں پھولوں سے درمیان میں دل بنایا گیا تھا جبکہ سائیڈ ٹیبل پر کینڈلز رکھی ہوئی تھیں..
ہانم کہ دل کی کیفیت جو کچھ دنوں سے عجیب سی ہورہی تھی ایک بے چینی تھی جو اسے سکون نہیں دے رہی تھی آج جیسے سب ساکت ہوچکی تھیں۔۔۔
بالاج نے اسکی مہندی سے رچی ہتھیلیوں پر اپنے دہکتے لب رکھے تھے۔۔کہ ہانم نے جھٹکے سے اسے خود سے پیچھے دھکا دیا تھا بالاج اس اچانک افتاد پر جیسے لڑکھڑا گیا۔۔
"کیا ہوگیا ہے ہانم؟
"یہی سوال ہم آپ سے پوچھیں کہ آپ کو اچانک کیا ہوگیا ہے یہ۔۔یہ سب کیا ہے؟ ہانم نے اپنی لرزتی آواز میں کہتے ہوۓ اپنے قدم پیچھے کی جانب بڑھائے تھے۔۔
"اففف! ہانم ہم شادی کرنے جا رہے ہیں کل میرے ماں باپ آرہے ہیں اور تم ہو کہ ایسے ڈر رہی ہو۔۔اتنا تو چلتا ہے یار میری گرل فرینڈ بھی اس طرح نہیں کرتی تھی جتنا تم نخرہ دکھا رہی ہو۔۔
"نن نہیں ہم آپ سے شادی نہیں کرنا چاہتا۔۔ہم چلے جائیں گے یہاں سے۔۔۔ہانم اسکی بات پر تکلیف سے کہتی ہوئی تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی تھی کہ بالاج جو اسکی بات پر اسے دیکھ رہا تھا ہانم کو کمر سے تھام کر اٹھا کر بستر پر پٹخ چکا تھا کہ ہانم کراہ کر رہ گئی پھٹی پھٹی آنکھیں سے وہ بالاج کہ نئے روپ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
"ٹھیک ہے چلی جانا۔۔۔مت کرنا شادی کوئی بات نہیں لیکن ایک رات تو میری ہو ہی سکتی ہو نا۔۔۔۔بالاج کہتے ساتھ اس کہ نزدیک آیا تھا جس کے کان سائیں سائیں کر رہے تھے بالاج کہ ساتھ گزارا ایک ایک لمحہ اسکی نظروں کہ سامنے گھومنے لگا تھا۔۔۔
بالاج اسے ساکت دیکھتا اسے دھکا دے کر بستر پر گراتا اس پر جھکا ہی تھا کہ ہانم یکدم ہوش میں آتے ہی اس نے بالاج کے چہرے کو نوچ ڈالا کہ بالاج بلبلا کر اس سے دور ہوا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کراچی کہ علاقے گلشن اقبال میں واقع وہ خوبصورت سا بنگلہ اپنی مثال آپ تھا۔۔رات کہ چار بجے کا وقت تھا جب گھر کا بیرونی گیٹ کھول کر ایک گاڑی اندر داخل ہوئی تھی.۔۔۔
لان میں موجود جہانزیب صاحب کی بیوی (سیرت جہانزیب) کرسی پر بیٹھیں اونگھ رہی تھی۔۔۔
جب گاڑی کا دروازہ کھول کر جہانزیب صاحب اور انکا سب سے بڑا بیٹا (جنید جہانزیب) گاڑی سے اتر کر لان میں موجود سیرت بیگم کو دیکھ کر مسکراتے ہوۓ انکی جانب بڑھا تھا۔۔
"السلام علیکم امی۔۔۔۔جنید انکے سامنے بیٹھتے ہوۓ مسکرا کر بولا تھا کہ سیرت بیگم نے مسکرا کر اسے دیکھا تھا پھر جہانزیب صاحب کو جو انھیں تھکے تھکے سے لگ رہے تھے۔
"مجھے لگا آپ لوگ اب صبح ہی پہنچیں گے۔۔سیرت بیگم اپنی جگہ سے اٹھتے ہوۓ بولیں تھی ۔۔۔
دونوں باپ بیٹا کام کہ سلسلے میں ترکی گئے ہوۓ تھے۔
"امی یہ پاپا کی وجہ سے دیر ہوئی ہے وہاں ائیرپورٹ پر انہیں بہت ہی پیاری سی لیڈی ملی تھیں۔۔۔جنید نے شرارت سے اپنے باپ کو دیکھتے ہوۓ اپنی ماں کو بتایا تھا کہ سیرت بیگم نے پلٹ کر جہانزیب صاحب کو گھورا تھا۔۔
"ارے نہیں بھئی وہ تو بیچاری پہلی بار سفر کر رہی تھی تو۔۔
"جی جی سب معلوم ہے مجھے رہنے ہی دیجئے آپ تو۔۔سیرت بیگم نے مسکراہٹ دباتے ہوۓ انھیں کہتے اپنے بیٹے کو دیکھا جو اپنے باپ کی شکل دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔۔
"اور تم کیوں اتنا مسکرا رہے ہو ہاں؟ نواب صاحب سے بات ہوئی کب آرہا ہے واپس؟ سیرت بیگم نے جنید کا کان پکڑتے ہوۓ اپنے دوسرے بیٹے کہ متعلق استفسار کیا تھا کہ اب کی بار جہانزیب صاحب مسکرا رہے تھے۔
"ہاں ہاں بتاؤ برخوردار کہاں ہیں ہمارے ھاد صاحب۔۔۔جہانزیب صاحب نے مزے سے پوچھا تھا اس سے قبل وہ کوئی جواب دیتا ہادی جہانزیب بھاگتے ہوۓ وہاں آیا تھا اور آتے ہی اپنے باپ سے ملا تھا کہ سیرت بیگم اسکی طرف متوجہ ہوئی تھیں جبکہ جنید نے شکر بھرا سانس لیتے اپنا کان سہلایا تھا ساتھ ہی موبائل پر ھاد کو میسج کرنے لگا جو اپنے دوستوں کہ گروپ کہ ساتھ اسلام آباد گیا ہوا تھا۔،

ہانم تیزی سے دروازے کی جانب بھاگی تھی کہ بالاج گال پر ہاتھ رکھے غصّے میں اٹھ کر کھینچ کر اس نے اسکی ٹانگ پر اپنی ٹانگ ماری تھی کہ ہانم دھڑام سے نیچے گری تھی کہ پاس ہی موجود گول میز کا کنارہ اسکے ماتھے پر زور سے لگتے ہی خون بہنے لگا تھا
"چھوڑ دیں مجھے۔۔۔۔۔چھوڑ۔۔۔ہانم تڑپ کر اپنے ماتھے کو دبا کر کراہی اس سے قبل اس کی آواز باہر جاتی بالاج نے اسکا منہ ہانم کہ ہی ڈوپٹے سے باندھنا شروع کردیا ہانم روتی ہوئی اس سے خود کو بچا رہی تھی لیکن بالاج جنونی سا اسکا منہ باندھ کر اسے اٹھا کر دوبارہ بستر پر اچھال چکا تھا۔۔۔
"بہت برداشت کرلیا تمہارا نخرہ اب اور نہیں سمجھی۔۔۔۔وہ نامرد تھے جو تجھے ہاتھ بھی نہیں لگا سکے تھے۔۔۔۔
بالاج کہتے ہوۓ اپنی ٹی شرٹ اتار کر اسکی طرف بڑھنے لگا تھا کہ ہانم کا خون اسکی پلکوں سے ہوتا گال سے نیچے اسکی گردن تک جانے لگا تھا۔۔۔
سامنے موجود شخص جو اس سے محبت کا دعویدار بنا ہوا تھا اپنے اصلی روپ میں آتے ہی درندگی پر اتر آیا تھا۔۔
"کہا تھا نا بہت چیلنجنگ لگی تھی تم مجھے۔۔۔بالاج کی بات پر ہانم کی آنکھیں پھیلیں۔
"اور بالاج طارق کو چیلنج بہت پسند ہیں۔۔ویسے تم ہو ہی کیا اپنی اوقات جانتی ہو دو ٹکے کی طوائف ہو تم اور یہ ہے تمہاری اوقات جو مرتے دم تک تمھارے ساتھ رہے گی۔۔۔۔بالاج بولتے ساتھ بستر پر گٹھنا رکھتے ہوۓ ہنسا تھا کہ ہانم نے تیزی سے اپنے لبوں سے کپڑا کھولنے کہ لئے ہاتھ بڑھائے تھے اور یہیں وہ غلطی کر بیٹھی تھی۔۔۔
بالاج ایک ہی جست میں اس پر حاوی ہوتے دونوں ہاتھوں کو پیچھے ہی موڑ کر ہانم کی گردن پر جھکا تھا ہانم بری طرح بَلَک رہی تھی۔۔۔بولنے کی کوشش میں اسکے ماتھے سے اور زیادہ خون بہہ رہا تھا۔۔۔۔
حد تو تب ہوئی جب بالاج نے اسکی آستین کو زور سے کھینچ کر پھاڑا تھا کہ ہانم اپنی پوری جان لگا کر ہاتھوں کو آزاد کرواتی بالاج کو دونوں ہاتھوں سے مارنے لگی تھی کہ بالاج کی آنکھ میں اسکی انگلی زور سے لگنے پر وہ تڑپ گیا تھا جبکہ ہانم لمحہ ضائع کیے بغیر سائیڈ ٹیبل پر رکھے لیمپ کو اٹھ کر اسکے سر پر مار چکی تھی کہ وہ یکدم ہی چیخا تھا۔۔۔
اس سے قبل ہانم باہر نکلتی سامنے ہی نورین کو دیکھ کر وہ کانپ گئی نورین جو اسکے ابھی تک نا آنے پر ڈھونڈھنے نکلی تھی چیخ کی آواز پر اس طرف آئی تھی لیکن سامنے کا منظر دیکھ کر وہ بے یقینی سے کبھی اسے تو کبھی اندر موجود بالاج کو دیکھ رہی تھی جو اپنا سر تھامے ہوۓ تھا۔۔
"نو۔۔۔۔ ہانم نے کچھ بولنا چاہا ہی تھا کہ نورین نے تیزی سے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ پکڑا لیا۔
"چلیں یہاں سے۔۔۔نورین کہتے ساتھ اسے لے کر اِدھر اُدھر دیکھ کر دروازے کی کنڈی کھول کر ہانم کو لیتے باہر نکل گئی۔۔۔پیچھے بالاج اپنا سر پکڑے کمرے سے نکلا تھا۔۔
۔۔۔۔۔
"نورین ہم۔۔۔۔
"ہانم آپی کچھ مت کہئے گا پہلے یہاں سے نکلیں۔۔۔۔نورین آہستہ آواز میں کہتی اسے گھر سے باہر نکال کر تیزی سے اسکے گلے سے لگی تھی۔۔
"مجھے نہیں معلوم تھا بالاج بھائی اس قدر گھٹیا نکلیں گے۔۔۔۔آپ یہیں باہر روکیں میں عائشہ کو بلاتی ہوں۔۔۔نورین اسے بولتی اندر جانے لگی جب ہانم نے اسکا ہاتھ پکڑ کر روکا تھا۔۔
"کیوں؟ ہانم ماتھے کو دباتے ہوۓ پوچھنے لگی۔
"کیونکہ ہم یہاں نہیں ٹھہر سکتیں میری امی نے سیکھایا ہے کہ جہاں ایسے درندے موجود ہوں وہاں سے بھاگ نکلو اس لئے میں آپکو اور اپنی بہن کو یہاں نہیں رہنے دے سکتی بس آپ ایسا کریں مین روڈ تک چلیں میں آرہی ہوں۔۔
نورین روانی سے اپنی بات مُکَمل کرتی اندر بھاگی تھی جبکہ ہانم کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا۔۔
"ہماری عزت کو بچایا ہے تم نے اور یہ ہانم داؤد تمہارا احسان مرتے دم تک نہیں بھولے گی۔۔۔
ہانم بڑبڑاتے ہوۓ گلے میں جھولتے ڈوپٹے کو سر پر اوڑھتی چلنے لگی بالاج کہ لات مارنے کی وجہ سے اسکی ٹانگوں میں تکلیف ہورہی تھی جبکہ ایک ہاتھ سے پیشانی دبائے وہ چلتی جا رہی تھی ہر طرف ہو کا عالم تھا۔۔۔ایک دو مرتبہ ہانم کو خوف آیا لیکن اپنی عزت سے بڑھ کر اسکے لیے کچھ نہیں تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
نورین جیسے ہی اندر داخل ہوئی بالاج کو دیکھ کر تیزی سے چھپ گئی۔۔۔
"اب کیا کروں؟ اللّه مدد فرمائیں۔۔۔نورین اسے دیکھتے ہوۓ دل ہی دل میں دعائیں کر رہی تھی جب بالاج نے تکلیف سے اپنے سر کو دبایا۔۔
"آہ۔۔۔بھاڑ میں جاۓ طوائف کہیں کی۔۔ویسے بھی میرا کچھ نہیں اکھاڑ سکتی۔۔۔۔بالاج غصّے میں کہتا کمرے کی طرف بڑھ گیا لیکن پلر کہ پیچھے چھپی نورین کو لگا جیسے کسی نے اسکے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ انڈیل دیا ہو۔۔
(تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہوگیا ہے اب تم ایسی عورتوں کی وکالت کرو گی) عائشہ کی غصّے سے بھری آواز گونجی کہ نورین تیزی سے کمرے کی طرف بھاگی تھی۔۔۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی نورین نے اسکا پرس جو وہ اسکے لئے لائی تھی کھول کر دیکھنے لگی جب عائشہ کی آواز پر نورین نے اسے دیکھا تھا۔
"نورین کیا کر رہی ہو؟ عائشہ نے حیرت سے نیند کی وجہ سے بھاری ہوتی آواز میں پوچھا تھا کہ نورین اسے دیکھتے رہنے کہ بعد گہری سانس لے کر وہیں بیٹھ گئی۔۔۔
"وہ ہانم آپی کی امی کا فون آیا تھا تو وہ چلی گئی ہیں پر اپنا پرس بھول گئیں۔۔۔
"کیا؟ مجھے تو اٹھا دیتی۔۔۔عائشہ کی نیند جیسے ہانم کہ جانے پر اڑ گئی تھی۔
"کوئی بات نہیں عائشہ میں ان سے مل کر دے دوں گی۔ ۔
"کیا تمہیں معلوم ہے اسکا ایڈریس؟
"نہیں تو پر میں ابھی آتی ہوں۔۔۔نورین تیزی سے پرس لے کر وہاں سے بھاگی تھی جبکہ عائشہ ماتھا پیٹ کر اٹھ کر دروازہ بند کر کہ باتھروم کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہانم درخت کہ ساتھ کھڑی رو دینے کو ہو رہی تھی جب سنسان سڑک پر بھاگنے کی آواز پر ہانم نے پلٹ کر دیکھا تھا دور سے نورین اردگرد اسے ڈھونڈھتے ہوۓ آرہی تھی۔۔
ہانم سکون بھرا سانس لیتی اسکی جانب بھاگی تھی کہ نورین نے بھی اسے دیکھ لیا تھا۔۔
نورین یُکدم رکی تھی جبکہ ہانم تیزی سے اسکی طرف آرہی تھی۔۔
(کبھی دیکھا ہےانہیں) اپنی ہی بات یاد آنے پر نورین مدھم سا مسکراتے ہوۓ اسکے قریب آتے ہی ہانم کا ہاتھ تھام کر پرس اسکے حوالے کر چکی تھی جبکہ پرس دیکھ کر ہانم کو یاد آیا تھا کہ پرس میں اس نے اپنے سارے پیسے رکھے تھے۔۔
ایک اور احسان۔۔۔۔ہانم بس سوچ کر رہ گئی۔۔
"ہانم آپی یہاں سے آپ کہاں جَائیں گی؟
"ہم ہم گھر۔۔۔ہانم بری طرح ہچکائی تھی جب نورین کی بات پر ہانم نے کرب نے آنکھیں میچی تھیں۔.
"آپ سوچ رہی ہوں گی کہ میں کیسے جانتی ہوں تو ابھی میں بالاج بھائی کی بڑبڑاہٹ سن کر آرہی ہوں۔۔۔۔نورین کہ بتانے پر ہانم نے آسمان کی جانب دیکھا تھا۔۔
"ہانم آپی آپ یہاں سے چلی جائیں۔۔۔
"کہاں جائیں نورین ہم اس پوری دنیا میں تنہا ہیں جہاں بھی چلے جائیں ہماری منحوس حقیقت پہلے وہاں چلی جاتی ہے۔۔۔ہانم نے ٹوٹے پھوٹے لہجے میں اسے کہا تھا جو دکھ سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
یکدم بادلوں کی گرج پر دونوں چونکی تھیں۔۔
"مجھے اب جانا چاہیے۔۔۔ورنہ عائشہ بہت پریشان ہوگی۔۔۔نورین بے بسی سے اسے دیکھ کر بولی تھی وہ جانتی تھی کہ ہانم کو اکیلا چھوڑنا ٹھیک نہیں ہے لیکن وہ مجبور تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ کسی کو ہانم کی سچائی معلوم ہو۔۔۔۔
"ت تم۔۔
"میں نہیں جا سکتی ہانم آپی لیکن میں کل ہی کسی بہانے سے عائشہ کہ ساتھ واپس لاہور چلی جاؤں گی،آپ یہ میرا کوٹ رکھیں.۔۔۔نورین اپنے ہاتھ میں پکڑے لانگ کوٹ کو اسے دینے لگی جو وہ آتے وقت لائی تھی۔۔۔
"چلتی ہوں آپ اپنا خیال رکھیے گا اور ہاں کوٹ کی جیب میں چھوٹی سی ڈائری ہے اس میں میرا عائشہ ابو امی سب کا نمبر نام کہ ساتھ محفوظ ہے۔۔۔مجھے آپ کال کر سکتی ہیں۔۔۔نورین کی بات پر ہانم نے کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا تو واقعی اس میں چھوٹی سی ڈائری تھی۔۔
نورین اسکے ہاتھ میں اپنی ڈائری دیکھ کر جھینپ گئی۔۔
"دراصل بادام کم کھائے ہیں نا تبھی یہ کرنا پڑا نورین کی بات پر ہانم ہنسی تھی کہ ساتھ ہی آنکھوں سے آنسوں جاری ہوگئے تھے نورین نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا تھا پھر الگ ہوتی پلٹ کر بھاگنے کہ انداز میں گیٹ تک پہنچ کر ایک نظر پلٹ کر دکھ سے اسے دیکھتی اندر چلی گئی۔۔
جبکہ ہانم اسکے جاتے ہی مرے مرے قدموں سے دوبارہ چلنے لگی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر جھکائے وہ چلتی جا رہی تھی وہ نہیں جانتی تھی کہ آگے راستہ اسے کس منزل تک لے جاۓ گا۔۔۔پیشانی سے خون رسنا اب بند ہوچکا تھا جبکہ سردی سے اسکے گال اور ناک سرخ ہوچکے تھے۔۔
"ہم کیسے اسکے فریب میں پھنس گئے۔۔۔۔کتنی ہی بار وہ یہ سوال خود سے پوچھ چکی تھی۔۔
ہانم اپنی سوچوں میں اس قدر غرق تھی کہ بائیک کہ روکنے کی آواز اسے سنائی ہی نہیں دی ہوش تو تب آیا جب آدمی نے اسکی کلائی جکڑی تھی۔۔ ہانم نے جھٹکے سے سامنے موجود مرد کو دیکھ کر وہ بری طرح ڈر گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ہاہاہا کیا ہوا بیٹا؟ عاشر نے تابش کو دیکھتے ہوۓ یکدم ہنستے ہوۓ چھیڑا تھا۔
"تم سے مطلب؟ تابش جو پہلے ہی منہ لٹکا کر گاڑی چلاتے ھاد کو گھور رہا تھا اسکی بات پر چڑھ کر بولا کہ دانش اور منان کہ ساتھ ھاد بھی ہنسنے لگا۔۔۔۔تابش ھاد کہ ہنسنے پر جل گیا۔
"زیادہ ہنسنے کی ضرورت نہیں ہے سمجھے تم لوگ۔۔۔کیا ہوجاتا اگر میری منگنی تک تم چاروں روک جاتے تو پر نہیں بھئی بہت ہی مشہور شخصیتں جو بن گئے ہیں آپ سب۔۔
"کوئی شک۔۔.ھاد اپنی دھیمی بھاری آواز میں بولتا دھیرے سے مسکرایا تھا۔۔
ھاد جہانزیب عمر ستائیس سال ، اونچا لمبا قد، کسرتی جسم ،گہری بھوری آنکھیں ہونٹ کہ اوپر ننھا سا تل چہرے پر ہلکی ہلکی موچھیں اور داڑھی اس پر خوب جچتی تھی۔۔۔۔ھاد کو سنگنگ کا شوق بچپن سے تھا اور آج وہ اپنے ہی میوزک بینڈ کا لیڈر تھا، کتنی ہی لڑکیاں اسکی دیوانی تھیں۔۔۔ھاد اپنی تعلیم کہ ساتھ اپنے اس بینڈ کو بھی بھرپور وقت دیتا تھا یہی وجہ تھی کہ کم ہی وقت میں انہوں نے اپنا ایک نام بنا لیا تھا اسلام آباد بھی وہ ایک کانسرٹ کہ لئے ہی آئے تھے جو ہمیشہ کی طرح کامیاب رہا تھا۔۔۔
"ہاں تو جب پتہ ہے تو چپ رہو نا۔۔۔۔منان نے مسکراتے ہوۓ اسے کہا تھا کہ تابش سیٹ سے اٹھ کر پیچھے اسکے بالوں کو پکڑ کر کھینچنے لگا گاڑی میں ایک بار پھر سب ہنسے تھے لیکن تابش تو جیسے چھوڑنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔
"یار ھاد روک اسے بھائی. ۔۔۔منان کی دوہائی دینے پر ھاد نے ایک ہاتھ تابش کہ کندھے پر رکھ کر اسے دیکھا ہی تھا جب اچانک ہی عاشر کی نظر سامنے گئی تھی
"ھاد سامنے دیکھ۔۔۔۔عاشر کے چلانے پر ھاد نے تیزی سے سامنے دیکھا تھا لیکن مقابل ہانم نے گاڑی آتے دیکھ کر آنکھوں کو میچ کر مٹھیاں بھینچی تھیں جبکہ وہ شخص تیزی سے بائیک پر بیٹھتا وہاں سے بھاگ نکلا
اس سے قبل گاڑی ہانم کو ہٹ کرتی ھاد اسے بچانے کہ چکر میں گاڑی آدھی فٹ پات پر چڑھا چکا تھا۔
"کیا ہم بچ گئے ہیں؟ تابش نے گھبراتے ساتھ اردگرد دیکھتے ہوۓ پوچھا تھا۔۔
"نہیں ہم اس چڑیل کی وجہ سے پھنس گئے ہیں۔۔۔۔منان نے دانت پیستے ہوۓ دانش کو جواب دیا تھا۔۔۔
منان کی بات سنتے ہی ان چاروں نے بیک وقت پلٹ کر سڑک پر دیکھا تھا جہاں بقول منان کہ چڑیل وہیں موجود تھی۔۔
"بال دیکھو اسکے۔۔۔عاشر کھڑکی سے جھانکتے ہوئے بولا۔۔
"بیوقوف بال نہیں پیروں کو دیکھو الٹے تو نہیں ہیں کہیں ۔۔عاشر کہ سر پر ہاتھ مارتے دانش نے آہستہ سے کہا۔۔
ھاد ان سب کو افسوس سے سن رہا تھا جو اپنی حالت بھولے "چڑیل"پر تبصرہ کرنے میں مصروف تھے۔
"دانش دیکھ کر آؤ اسے...اور تم لوگ اتر کر دھکّا لگاؤ۔۔ھاد کی بات پر سب نے دانش کو دیکھا تھا کیونکہ گروپ میں ایک وہی تھا جو ڈرپوک سا تھا۔۔
"میں،میں کیوں جاؤں تم جاکر دیکھ لو۔۔۔۔میں گاڑی کو اتارنے میں مدد کر دیتا ہوں۔۔۔
دانش کی بات پر سب نے ہنستے ہوئے ھاد کو دیکھا تھا جس نے مڑ کر دانش کو سنجیدگی سے دیکھا تھا
"پلیز میرے اچھے بھائی ہم یہ کرلیتے ہیں تم دیکھ لو اس چڑیل مم مطلب جو بھی ہے۔۔۔دانش نے مسکین سی شکل بنا کر کہتے منت کی تھی کہ ھاد مسکرا کر گاڑی سے اتر کر سڑک پر دیکھنے لگا وہ جو بھی تھی آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی جبکہ ھاد کی نظر اسکی لمبی چٹیا میں الجھ کر رہ گئی تھی لیکن جلد ہی سر جھٹک وہ اسکی طرف بڑھا تھا۔۔۔
"روکو۔۔۔۔مردانہ بھاری آواز پر وہ جو تکلیف سے پیشانی کو آہستہ آہستہ دباتے ہوۓ آگے بڑھ رہی تھی رات سے یہ وقت ہوگیا تھا اسے ایک لمحہ بھی سکون کا میسر نا ہوا تھا اور اب بھی یکدم آواز پر ٹھٹھک کر رکی تھی دل زوروں سے دھڑکا تھا۔۔
"یا اللّه مد کریں۔۔ ہانم نے خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیرتے ہوۓ کہا۔۔۔
ھاد جو اسکے مڑنے کا انتظار کر رہا تھا بیزار ہوتے خود ہی چلتا ہوا اسکے سامنے آیا تھا جس نے سر جھکا لیا تھا۔
ھاد نے بغور اسے دیکھا تھا جس کی پیشانی زخمی تھی جبکہ سر چھکا ہونے کی وجہ سے وہ اسکا چہرہ نہیں دیکھ سکا تھا۔۔
"کون ہیں آپ؟ ھاد کہ سوال پر ہانم نے لب دبائے تھے اس سے قبل وہ پھر کچھ بولتا گاڑی کو فٹ پات سے اتار کر گاڑی لیے وہ لوگ ان دونوں کی جانب آئے تھے کہ ہانم نے خوف سے اپنے برابر گاڑی روکنے پر گھبرا کر کچھ قدم پیچھے ہٹی تھی۔۔جبکہ وہ چاروں گاڑی سے اتر کر اسکی طرف متوجہ ہوۓ تھے۔
"نن۔ نہیں اللّه کہ واسطے ہمیں جانے دیں۔۔۔ہمیں جانے دیں۔۔۔ہانم خوف سے پوری کانپ رہی تھی جبکہ ہانم کا چہرہ دیکھ کر سب بنا پلک جھپکائے اسے دیکھنے لگے۔
سب سے پہلے ھاد کو ہوش آیا تھا بلاشبہ سامنے موجود لڑکی بہت خوبصورت تھی لیکن انھیں اسکی خوبصورتی نے نہیں بلکہ چہرے پر موجود زخموں نے ساکت کیا تھا۔۔۔
"ہم کچھ نہیں کر رہے ہیں بہنا پر یہ آپ کہ حرام موت مرنے کہ چکر میں ابھی ہماری حلال موت ہوسکتی تھی۔۔۔۔منان نے آگے بڑھ کر اسے کہا جو ہنوز ان پانچ ہٹے کٹے لڑکوں سے خوفزدہ تھی۔
"ہم۔۔۔
"ایک سیکنڈ یہ حالت آپ کی کس خبیث نے کی ہے بتائیں مجھے۔۔۔
"جی جی بتائیں بہت ہی بڑا فائٹر ہے یہ ایک مار کر آتا ہے لیکن چھ کھا کر بھی آتا ہے۔۔دانش کی بات پر عاشر نے بھی اپنا حصّہ ڈالنا ضروری سمجھا جبکہ ہانم ان سے فاصلے پر کھڑی پرس کو دبوچے خوف سے انکی باتیں سن رہی تھی جبکہ ھاد خاموش کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
"ابھی اگر میں دیکھتا نہیں تو جانتی ہیں ابھی آپ ہسپتال میں ہوتیں یا شاید اس کی بھی نوبت نا آتی اور آپ کی اس بیوقوفی کی وجہ سے ہمارا اپنا کریر برباد ہوسکتا تھا۔۔۔ھاد نے اچانک ہی اسے ڈانٹا تھا کہ وہ بھی چپ ہوگئے تھے۔
"سہی بات ہے۔۔عاشر نے بولنا ضروری سمجھا تھا ۔
"اب خاموش کیوں کھڑی ہیں آپ؟ کہاں ہے گھر آپ کا بتائیں۔۔ھاد کو جانے کیوں غصّہ آرہا تھا۔۔
"جی جی بتائیں کہاں رہتی ہیں؟ تابش ھاد کو آنکھیں دکھا کر اسے پوچھنے لگا جس کی سسکی نکلی تھی۔۔
"کاش آپ ہمیں مار ہی دیتے تو ہمیں سکون آجاتا پر ہماری قسمت۔۔۔ہانم نے بولتے بولتے روک کر سانس لی..
"ہمیں معاف کردیں۔۔۔ہانم یکدم ان سب سے کہتی ہوئی جانے لگی جب ھاد اسکے سامنے آیا ہانم نے سر اٹھا کر آنکھیں پھیلائیں۔۔
"آپ کا گھر کہاں ہے ؟ صبح کی نیلی روشنی ہر سو پھیلنے لگی تھی۔۔۔۔ھاد کہ سوال پر بھی ہانم نے کوئی جواب نہیں دیا تھا جب یکدم ہی عقب سے "ہانم داؤد" کہ نام کی پکار پر سب نے چونک کر اسے دیکھا تھا جبکہ ہانم نے جھٹکے سے پلٹ کر دیکھا تو پتھر ہوگئی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
"فجر کی نماز اور قران کی تلاوت کرنے کہ بعد وہ کمرے سے نکل کر لان میں چہل قدمی کر رہی تھی چہروں پر زخموں کہ نشان مندمل ہوچکے تھے لیکن روح پر لگے گھاؤ شاید ہی وہ کبھی مندمل ہوسکیں۔۔
ایک گھنٹہ گزر چکا تھا اسے وہاں چہل قدمی کرتے جبکہ وہ تھی جو اپنی ہی سوچوں میں غرق تھی اچانک ہی بیرونی گیٹ کا دروازہ کھلا تھا ساتھ ہی پرواڈو اندر داخل ہوتے پتھریلی روش پر آکر رکی تھی۔
تسنیم نے چونک کر روش پر دیکھا تھا اسے حیرت کا جھٹکا لگا تھا اپنے چاچا چاچی کو دیکھ کر جبکہ احان بھی مسکراتے ہوۓ گاڑی سے اتر کر مٹھائی اور پھلوں کہ ٹوکرے گاڑی سے اتارنے لگا۔۔۔
تسنیم نے آگے بڑھ کر انھیں سلام کیا تھا۔۔۔
"وعلیکم السلام میری جان کیسی ہو؟ احان کی ماں نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا کر پیار کیا تھا جبکہ اصغر صاحب نے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر اسکی طبیعت کہ بارے میں پوچھا تھا۔۔
"چچی جان اتنی صبح صبح۔۔۔۔
"اس گدھے نے کل ہی بتایا تھا کہ تم سیڑیوں سے گر گئی تھی ہم تو رات کو ہی آجاتے پر اسی نے روک دیا۔۔۔
آرزو بیگم نے مسکراتے ہوۓ اسے دیکھ کر بتایا تھا جس نے انکی بات پر احان کو دیکھا تھا۔
"آں ہاں جی وہ پتہ نہیں چلا کیسے پھسل گئی لیکن آئیندہ سمبھل کر ہر قدم اٹھاؤں گی تاکہ کوئی بھی چیز مجھے تکلیف نہ پہنچا سکے۔۔تسنیم نے کرب سے کہا تھا کہ احان نے دکھ سے اسے دیکھ کر گہری سانس لی تھی۔۔
"امی ابّو آپ دونوں چلیں میں آتا ہوں۔۔۔احان انھیں بولا جو مسکرا کر اندر بڑھ گئے تھے جبکہ احان نے گارڈ کو ملازم کو بلانے بھیجا تھا۔۔۔
دونوں کہ جاتے ہی وہاں سکوت چھا گیا تھا۔۔۔
احان نے دو بار اسے مخاطب کرنا چاہا جو اسے نہیں اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی۔۔
"کیا ہم بات کر۔۔۔۔
"نہیں احان ہم بات نہیں کر سکتے اور یہ سب کیا ہے ہاں۔۔۔۔تسنیم نے بھینچی ہوئی آواز میں خود پر ضبط کرتے ہوۓ اسکی بات کاٹ کر ٹوکروں کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ پوچھا تھا جب ملازم کی آواز پر تسنیم نے رخ موڑ لیا جبکہ احان اسکی طرف متوجہ ہوا۔۔
"جی صاحب۔۔۔
"یہ سب اندر لے جاؤ۔۔۔احان اسے کہتا تسنیم کا ہاتھ نرمی سے پکڑ کر آگے بڑھ گیا۔۔
"احان۔۔۔
"ششش!! چپ رہو بالکل سمجھی۔۔۔۔احان نے یکدم اسکے لبوں پر انگلی رکھ کر ڈپٹا تھا۔۔
"ادھر بیٹھو۔۔۔آؤ شاباش۔۔۔احان اسے خود ہی کرسی پر بٹھاتا اسکے سامنے پنجوں کہ بل بیٹھتا تسنیم کہ ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لے کر اسے دیکھنے لگا۔۔
"تم نے کل کہا تھا مجھے کہ احان میں تمھارے قابل نہیں رہی ہوں۔۔۔اور تم نے یہ بھی پوچھا تھا کہ تمھارے بھائی کہ گناہوں کی سزا مجھے کیوں ملی ہے اور میں آج انہی سوالوں کا جواب تم سے تمہیں مانگنے کی صورت میں دینے آیا ہوں۔۔۔۔تسنیم کی آنکھیں بھیگ گئیں تھی احان نے اسے منہ کھولتا دیکھ کر ہاتھ اٹھا کر روکا تھا۔۔
"تم پر ترس نہیں کھا رہا نا ہی اپنی محبت کا دعویدار بن کر یہ سب کر رہا ہوں تسنیم کیونکہ جو تمھارے ساتھ ہوا وہ کہیں بار آپ کا ساتھ نبھانے کا وعدہ کرنے والے بھی وقت آنے پر چھوڑ جاتے ہیں۔۔میں بس تمہیں زندگی بھر اپنی آنکھوں کہ سامنے دیکھنا چاہتا ہوں بس۔۔۔احان بات مُکَمل کرتا جیکٹ سے چاکلیٹ نکال کر اسکی جانب بڑھاتے ہوۓ مسکرایا تھا۔۔
"تسنیم علی کیا اپنے اس چشمش کزن سے شادی کرو گی؟
تسنیم نے اسکے اظہار پر بھیگی آنکھوں، مسکراتے لبوں سے اسکے ہاتھ سے چاکلیٹ پکڑی تھی کہ احان نے اپنی پکڑ مضبوط کرلی تھی۔۔
تسنیم نےچونک کر اسے دیکھا۔۔
"بھول گئی آدھی میری ہوتی ہے؟ احان کی بات پر وہ ہنستے ہوۓ اسکا حصّہ کرنے لگی جس نے چاکلیٹ اس کے حوالے کردی تھی احان اسکی بھیگی پلکیں دیکھتا بے ساختہ ہاتھ بڑھا کر اسکے آنسوں صاف کرنے لگا۔۔۔
تسنیم نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔۔۔
"پلیز تم روتی ہوئی بہت بری لگ رہی ہو۔۔۔۔احان گڑبڑا کر شرارت سے کہتا اردگرد دیکھنے لگا کہ تسنیم نے مسکرا کر اپنے آنسوں صاف کیے تھے اس سے قبل انکے درمیان اور کوئی بات ہوتی ملازمہ کہ آنے پر دونوں اسکی طرف متوجہ ہوۓ تھے جو انھیں بلانے آئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ایسے کیا دیکھ رہے ہو تم سب؟ اس کا نام "ہانم داؤد" ہے۔۔ساجد مزے سے بولتے ساتھ ہانم کہ سامنے آکر روکا تھا۔۔
سب نے اسے دیکھنے کہ بعد ھاد کو دیکھا تھا اسکے دوست جانتے تھے ھاد جہانزیب کا غصّہ کافی خطرناک ہوتا تھا۔۔۔۔
ہانم ہنوز پتھرائی ہوئی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
"تم ہو کون؟ کیا آپ نے بلایا ہے؟ عاشر نے ساجد کو دیکھ کر پوچھا پھر مسکرا کر اسے دیکھا تھا۔۔
"جی ہاں بالکل دراصل میں اس کا منگیتر ہوں۔۔ہانم کہ کال کرنے پر ہی میں یہاں آیا ہوں ہانم کی دونوں بہنیں بھی میرے ساتھ ہی ہیں، ہم سب واپس لاہور جا رہے ہیں۔۔۔ساجد کی بات پر ہانم نے وین کی جانب دیکھا تھا۔۔
جبکہ سب نے ایک دوسرے سے نظروں کا تبادلہ کیا تھا آیا وہ ٹھیک کہہ بھی رہا ہے یا نہیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بالاج غصّے میں کمرے میں آتا ساجد کو کال کر کہ ہانم کہ یہاں تک پہنچنے کا سارا قصہ بتانے لگا اور یہ بھی کہ وہ سب جان چکا ہے۔۔۔
وہ جو ہوٹل پہنچنے والا تھا بیچ راستے ہی روک گیا تھا۔۔
"ٹھیک ہے میں ابھی آتا ہوں۔۔۔اور ہاں دس لاکھ کا انتظام کر کہ رکھنا آخر کو تم ہمارے کوٹھے کی حسین طوائف کو بھگا کر لے کر گئے ہو۔۔۔۔ساجد کی بات سن کر وہ اپنا سارا درد بھول چکا تھا۔۔
"میں۔۔۔میں نے نہیں بھگایا وہ خود بھاگی تھی۔۔
"یہ میرا مسئلہ نہیں ہے دس لاکھ نہیں تو حرا بائی خود آئے گی پھر یہ بات تمھارے خاندان میں پھیل سکتی ہے سوچو۔۔۔ساجد مسکراتے ہوۓ اسے ڈرا رہا تھا بالاج کی پیشانی پر پسینے کہ ننھے ننھے قطرے نمودار ہونے لگے تھے۔۔۔
اگر کسی کو بھنک بھی پڑھ گئی تو۔۔۔اس سے آگے وہ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا۔۔
"اففف میرے پاس نہیں ہیں اتنے پیسے۔۔۔بالاج نے جھنجھلا کر اسے کہا دوسری طرف ساجد کی آنکھیں چمکیں۔۔۔۔
"میرے پاس ایک اور آفر ہے تمھارے لئے۔۔۔۔ساجد کے کہتے ہی بالاج نے تیزی سے اس سے پوچھا تھا۔۔
"آکر میں خود ہی لے لیتا ہوں امید ہے تم میرے ساتھ گھاٹے کا سودا کبھی نہیں کرنا چاہو گے۔۔۔۔ساجد کی بات پر "ٹھیک ہے" کہتے وہ سوچ میں پڑھ گیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ہانم چلو میری جان۔۔ہمیں دیر ہورہی ہے۔۔۔۔ساجد نے آگے بڑھ کر اس کہ کندھے پر بازو پھیلا کر مضبوطی سے ایک جھٹکا دیا تھا کہ ہانم کی کراہ نکل گئی تھی۔۔
"ایک سیکنڈ۔۔ ھاد ساجد کو ہاتھ اٹھ کر روکتا ہانم کہ سامنے آیا تھا ساجد نے سامنے کھڑے لمبے چوڑے شخص کو ذرا سی گردن اٹھا کر دیکھا تھا کہ ساجد اس سے قد میں چھوٹا تھا۔۔
"کیا آپ ان کو جانتی ہیں؟ ھاد کہ سوال پر ہانم نے آنسوؤں سے لبریز نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تھا کہ لمحے بھر کہ لئے وہ اسکی آنکھوں میں ہی ڈوب گیا تھا۔۔۔
جبکہ ساجد اسکے کندھے سے نامحسوس طریقے سے ہاتھ ہٹا کر اپنی جیب تک لے کر گیا تھا۔۔
اس سے قبل وہ کچھ کہتی ساجد نے چاکو نکال کر اسکی نوک زور سے ہانم کی کمر پر چبھائی تھی کہ ہانم نے سختی سے لب بھینچ لیے تھے وہ نہیں چاہتی تھی اسکی وجہ سے ان لڑکوں کو کوئی نقصان ہو۔۔۔
"بتاؤ ہانم۔۔۔ساجد نے کہتے ساتھ اس بار اتنی زور سے چاکو اسکی کمر میں چبھایا کہ وہاں سے خون رسنے لگا تھا۔۔
ہانم کی حالت خراب ہونے لگی تھی۔۔
"جج جی یہ ہمارے منگیتر ہیں ہم انہی کا انتظار کر رہی تھی آپ لوگ جائیں یہاں سے۔۔۔۔ہانم ہمّت متمجہ کرتے ہوۓ ھاد کو ایک نظر دیکھ کر ساجد کو دیکھنے لگی جس نے چاکو کو اسکی کمر میں گھوماتے ہوۓ نکال کر جیب میں رکھا تھا جبکہ اس کہ اس طرح کرنے پر ہانم کا پورا جسم کانپنے لگا تھا جبکہ خون تیزی سے بہتا زمین کو سرخ کرنے لگا تھا۔۔
"ہوگئی تسلی۔۔۔چلو ہانم۔۔۔۔۔ساجد اسے گھور کر کہتا ہانم کو لے کر وین کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔
"خون۔۔۔.۔۔دانش کی تیز آواز پر وہ جو سب ہانم کو بغور دیکھ رہے تھے۔۔آواز پر زمین پر دیکھا۔۔جبکہ دانش کی آواز پر ساجد اور ہانم نے بھی انھیں دیکھا تھا۔۔۔
"میرا شک سہی تھا۔۔۔۔ھاد غصّے سے مٹھیاں بھینج کر ساجد کو پکڑنے بھاگا تھا۔۔۔
"نہیں۔۔۔ہانم نے چیخ کر اسے روکنا چاہا تھا جب ساجد نے اچانک ہی جیب سے ریولور نکال کر اسکے کندھے پر فائر کیا تھا۔۔۔۔
یکدم ہی فضا گولی اور چیخوں کی آوازوں سے گونج اٹھا تھا
ہانم پھٹی پھٹی آنکھوں سے ھاد کو دیکھ رہی تھی جو کندھے پر ہاتھ رکھے درد کی شدّت سے زمین بوس ہوگیا تھا۔۔
"ھاد!!!!!!!
ھاد!!!!
چاروں یک زبان زور سے چیختے ہوۓ اسکے قریب آکر ھاد کو دیکھنے لگے۔۔۔
"ھاد تم۔۔
"میں ٹھیک ہوں اسے پکڑو۔۔۔۔۔ھاد ضبط کرتے ہوۓ تابش سے بولا تھا جو اسکی بات پر ساجد کی طرف بھاگا ہی تھا کہ ہانم چیختی ہوئی ساجد کے پیروں میں گر گئی تھی۔۔
"نہیں۔۔۔نہیں ساجد انھیں جانے دو۔۔۔ہم ہم چلیں گی تمھارے ساتھ۔۔۔ہم۔۔۔آآآآا! ہانم جو اسکے سامنے گڑگڑا رہی تھی ساجد کہ جھک کر بیدردی سے بالوں کو پکڑ کر اٹھانے پر چیخ اٹھی جبکہ ساجد کی حرکت پر ھاد درد بھولے طیش میں تابش کو ایک طرف کرتا آتے ساتھ ہی ساجد کہ منہ پر مکا جڑ چکا تھا کہ وہ زور سے زمین بوس ہوا تھا عاشر ،تابش ،دانش اور منان نے آگے بڑھ کر اسے لاتوں سے دھلائی شروع کردی تھی کہ وہ کچھ بھی نہیں کر پا رہا تھا۔۔
دوسری طرف ہانم زاروقطار روتی ہوئی ھاد کہ کندھے سے بہتے خون کو دیکھ رہی تھی جبکہ ھاد اسے یوں دیکھ کر مسکرا دیا تھا ایسی حالت میں بھی وہ آرام سے کھڑا مسکرا رہا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ساجد کو اچھی طرح مار کر وہ لوگ ھاد کی طرف آئے تھے جو ہانم سے چند قدموں کہ فاصلے پر وین سے ٹیک لگا کر کھڑا خون بہنے کی وجہ سے نڈھال ہورہا تھا۔۔
"اسے پولیس کہ حوالے کرتے ہیں۔۔۔
"نہیں پہلے ہسپتال چلو۔۔۔۔عاشر نے ھاد کو دیکھ کر منان کو جواب دیا پھر اسکے زخم کو دیکھا تھا۔۔۔روشنی ہوچکی تھی جبکہ وہ لوگ سنسان سڑک پر موجود تھے جہاں سے ابھی تک کسی کا گزر نہیں ہوا تھا۔۔۔۔
جبکہ ہانم بری طرح نیند اور تکلیف کی وجہ سے زمین پر بیٹھی ہوئی تھی جبکہ تھوڑی ہی دور ساجد پڑا تھا جانے وہ بیہوش تھا یا پھر کوئی ناٹک کر رہا تھا۔۔
"ھاد چلو۔۔۔عاشر کی آواز پر بھی ہانم نے ان سب کو نہیں دیکھا تھا وہ تو سامنے موجود اس درندے کو دیکھ رہی تھی اور سوچ رہی تھی کہ اگر مرد اتنا مضبوط ہو تو عورت کی طرف کوئی آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی بھی جرّت نہ کرے لیکن اگر ساجد رئیس ریاض اور بالاج جیسے مرد دنیا میں بڑھ جائِیں تو وہ وقت دور نہیں کہ اسکی طرح ہر عورت ان جیسے درندوں کی تسکین کا سامان بننے لگیں
ھاد عاشر کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھنے لگا تھا کہ یُکدم روک کر پلٹا تھا سامنے ہی وہ زمین پر بیٹھی تھی۔۔
"ہانم۔۔۔۔ھاد کی پکار پر ہانم چونکی تھی پہلی بار اپنا نام کسی مرد کہ منہ سے سن کر اسے عجیب سا سکون محسوس ہوا تھا۔
"چلیں آجائیں۔۔۔۔ھاد اسکے متوجہ ہونے پر بولا تھا جب ساجد نے ایک آنکھ کھولی۔۔
"کہاں؟ ہانم کا گلا بیٹھ چکا تھا۔۔۔پوچھتے ساتھ اس نے اپنا پرس زمین سے اٹھا کر سینے سے لگایا تھا۔
"آپ کا گھر کس شہر میں ہے؟ ھاد نے ایک اور سوال پوچھا۔۔۔جبکہ عاشر کہ اشارہ کرنے پر تابش گاڑی کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔
"ہمارا تو کوئی گھر ہی نہیں ہے۔۔۔جانے کس کے گناہ کی سزا ہیں ہم۔۔آپ لوگ چلے جائیں۔۔۔ ہانم ساجد پر نظر جمائے ہی بول رہی تھی۔۔
"مجھے نہیں لگتا کہ آپ کو یہاں روکنا چاہیے۔۔۔۔دانش نے آگے بڑھ کر اسکے سامنے ہاتھ بڑھایا تھا جس نے اسکے ہاتھ کو دیکھنے کہ بعد ھاد کو دیکھا تھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
"ہم چلے جائیں گے۔۔۔۔شکریہ آپ سب کا۔۔۔۔،ہانم دانش کہ ہاتھ کو نظرانداز کرتی اٹھتے ساتھ کراہ کر رہ گئی تھی۔
"آپ زخمی ہیں چلیں ہسپتال چلتے ہیں۔۔۔۔ھاد نے ایک بار پھر اسے کہا تھا جو انکی کوئی بات ماننے کو تیار نہیں تھی.
"اللّه حافظ۔۔۔۔ہانم ھاد کی بات کو نظرانداز کرتی خود کو گھسیٹتی آگے بڑھتی جا رہی تھی جبکہ وہ پانچوں اسے خود سے دور جاتا دیکھ رہے تھے
"ھاد ہمیں بھی چلنا چاہیے۔۔۔۔
"لیکن۔۔۔ھاد نے کچھ پریشانی سے عاشر کو دیکھا تھا۔۔
"تم بھول رہے ہو کہ تم اچھے خاصے زخمی ہوچکے ہو اس لئے چلو۔۔۔ہوسکتا ہے یہ یہیں کہیں رہتی ہوں بس ہمیں نہ بتانا چاہتی ہوں۔۔۔چلو۔۔۔دانش اسے بولتا گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھ چکا تھا جبکہ ھاد نے ایک نظر ہانم کو دور جاتے دیکھ کر نظر گھما کر زمین پر اوندھے منہ گرے ساجد کو دیکھا تھا جب آواز پر وہ چونک کر گاڑی میں بیٹھا تھا۔
گاڑی کہ اسٹارٹ ہوتے ہی ساجد نے اپنی دونوں آنکھیں کھولیں تھیں جبکہ ہانم نے بھی روک کر پیچھے دیکھا تھا۔۔۔
یکدم اسے اپنے تنہا ہونے کا احساس شدّت سے ہوا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساجد جیسے ہی وہاں پہنچا بالاج کی حالت دیکھ کر وہ تمسخرانہ مسکراہٹ سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔
"بہت ٹیڑی ہے سالی کسی کہ ہاتھ نہیں آتی۔۔ساجد کہتے ہوۓ ہنسا تھا۔۔
"ہونہہ! بس ایک غلطی ہوگئی تھی اسکی انگلی آنکھ میں لگ گئی ورنہ وہ ہے کیا ایک کمزور سی لڑکی۔۔
"اب جو بھی کہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑھتا خیر کام کی بات پر آتے ہیں کیونکہ مجھے یقین ہے وہ زیادہ دور نہیں گئی ہوگی۔۔۔
"میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔۔
"یہ تم کہہ رہے ہو؟ بالاج کی بات پر ساجد نے اسے کہا دونوں سرگوشی میں باتیں کر رہے تھے۔۔
"دیکھو میں اسکے لئے ایک پیسہ نہیں دے سکتا میرا کوئی بھی فائدہ نہیں ہوا۔۔ایک سیکنڈ تم نے مجھے دوسری آفر کا کہا تھا میں نے اس بارے میں سوچا ہے۔۔۔۔بالاج کی بات پر ساجد نے اسے شاباشی دی تھی۔۔
"لیکن اس بارے میں کسی کو معلوم نہیں چلنا چاہیے۔۔۔
"فکر ہی مت کرو۔۔۔۔ساجد نے چمکتی آنکھوں سے اسے کہا۔۔۔
دونوں اردگرد دیکھتے احتیاط سے کمرے کی طرف بڑھے تھے۔۔
"یہ تو لاک ہے۔۔۔ساجد نے چونک کر اسے کہا
"میں کچھ کرتا ہوں۔۔۔تم چھپ جاؤ۔۔۔ساجد کہ بولنے پر بالاج سوچتے ہوۓ اسے ہدایت دیتا خود دروازے پر دستک دینے لگا عائشہ جو نماز پڑھ کر دوبارہ لیٹنے کی تیاری کر رہی تھی چونک گئی جبکہ نورین کو سوئے کچھ دیر ہی ہوئی تھی۔۔۔دروازہ کھولتے ہی بالاج مسکراتے ہوۓ بہانے سے اندر آیا تھا۔۔
بالاج ہانم کہ متعلق اس سے باتیں کرنے لگا جب ساجد نے اندر آتے ہی مسکرا کر اسے سر تا پیر دیکھا۔۔۔
"بالاج کک کون۔۔۔۔اس سے قبل عائشہ کچھ بولتی ساجد نے پھرتی سے اسکی ناک پر رومال رکھا تھا یہ کام تو وہ سالوں سے کرتا آرہا تھا ساجد عائشہ کو بیہوش کر کہ اٹھانے لگا جب نورین نے مندی مندی آنکھوں سے اسے آواز دی تھی۔
"ی یہ جاگ گئی تو۔۔۔بالاج کا چہرہ گھبراہٹ کہ مارے فق پڑھ چکا تھا جبکہ ساجد نے اسے دیکھا پھر مسکرا کر نورین کی طرف جھکا۔
"ہائے یہ معصومیت۔۔۔۔۔نورین کہ چہرے کو دیکھتا وہ کمینگی سے بولا تھا جبکہ نورین کی آنکھیں دہشت سے پوری کھول گئی تھیں۔۔۔
"تت۔۔۔۔۔ساجد نے جلدی سے اسکے ناک پر رومال رکھ کر دبایا تھا جو ہاتھ پیر چلانے کہ بعد بیہوش ہوچکی تھی۔۔
"گھبراؤ مت۔۔۔بس اب یہاں سے نکلنا پڑے گا وہ بھی جلدی۔۔ساجد اسے کہتا عائشہ کو نیچے سے اٹھا کر نورین کہ ساتھ لٹا کر چادر کو لپیٹنے لگا۔۔۔دونوں نازک تھی کہ ساجد باآسانی انھیں کندھے پر پوٹلے کی طرح اٹھا چکا تھا۔۔
"کوئی مسئلہ تو نہیں ہوجاۓ گا۔۔۔۔
"کچھ نہیں ہوگا یہ سیدھا لاہور حرا بائی کہ کوٹھے پر جائیں گی۔۔۔ساجد مکرو مسکراہٹ سے اسے کہتا کمرے سے نکلنے لگا جب ثوبیہ بیگم کو دیکھ کر دونوں چھپ گئے۔۔
"یہ کہا سے آگئیں۔۔بالاج گھبرا کر بڑبڑانے لگا۔۔
"لگتا ہے سب جاگ گئے ہیں ایسے میں یہاں سے نکلنا آسان نہیں ہے ایسا کر بالکنی سے اتارنے میں مدد کر میری۔۔۔۔ساجد اپنا شیطانی دماغ چلاتے ہوۓ بولا کہ دونوں بالکنی کی طرف بڑھ گئے تھے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ہم تھک گئی ہیں بہت۔۔۔۔ہانم خود سے بول کر رکی تھی کہ کسی نے تیزی سے اسکے منہ کو دبوچ کر اسے قابو کیا تھا ہانم کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں تھیں۔۔۔۔آنکھوں سے َآنسوں بھی رواں ہوچکے تھے جب ساجد کی آواز اسکے کان میں سور پھونک گئی۔۔۔
"کہاں جا رہی ہو اپنی سہیلیوں سے نہیں ملو گی۔۔۔۔ساجد نے کہتے ساتھ اسے گھسیٹ کر وین کا دروازہ کھول کر بیدردی سے اندر دکھیل کر خود بھی اندر آکر دروازہ بند کیا تھا۔۔۔
"کک۔۔۔کیا۔۔۔۔ہانم نے لرزتی آواز میں اس سے پوچھا تھا جس نے انکے چہروں سے چادر کھینچی تھی۔۔۔
ہانم کو لگا کسی نے اس پر کھولتا ہوا پانی انڈیل دیا ہو کتنے ہی لمحے وہ ان دونوں کو دیکھتی رہی تھی یکدم ہی ہانم نے گھوم کر پوری قوت سے اسکے منہ پر تھپڑ رسید کیا تھا کہ وہ پیچھے دروازے سے ٹکراتا ششدر سا اسے دیکھنے لگا جس نے چیختے ساتھ اس کہ بالوں کو اپنی مٹھی میں جکڑا تھا۔۔۔زندگی میں پہلی بار ہانم کو اس قدر غصّہ آیا تھا۔۔
"وحشی درندے ہم تمہیں جان سے ماردیں گے۔۔۔ہانم غصّے سے اسے مارتی جا رہی تھی جب ساجد نے اسکے سر کو پکڑ کر زور سے پیچھے دکھیلا تھا۔۔
"سالی کتیا مجھ پر ہاتھ اٹھاۓ گی بدکردار فحاش۔۔۔۔ ساجد غصّے سے پاگل ہوتا اسے گھونسے مارنے کہ ساتھ کوٹ کو کھنچ کر پھاڑنے لگا۔۔
ہانم بری طرح تڑپ رہی تھی۔۔۔
یکدم ہی ساجد نے چاکو نکال کر اسکی تانگ کہ پچھلے حصے میں گھونپ کر فوراً ہی کھنچ کر باہر نکالا تھا کہ ہانم کہ منہ سے دل دہلا دینے والی چیخوں پر ساجد اسے یونہی چھوڑ کر ڈرائیونگ سیٹ پر جا کر بیٹھتا تیزی سے وہاں سے نکلا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ھاد ہم بس پہنچنے والے ہیں۔۔۔۔تابش گاڑی چلاتے ہوۓ بولا تھا سب چپ تھے جبکہ ھاد سیٹ پر سر ٹکائے آنکھوں کو موندے ہانم کہ بارے میں سوچ رہا تھا ایسا نہیں تھا کہ اسے اس نے پہلی نظر کی محبت ہوگئی تھی یا وہ دل پھینک قسم کا مرد تھا۔۔۔اسے بس اسکی فکر تھی اگر اسے کچھ ہوگیا۔۔۔آخر کون تھا وہ کیا چاہتا تھا اس سے۔۔
"ھاد۔۔۔
"تابش گاڑی واپس گھماؤ۔۔ھاد کی بات پر سب نے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔
"ہم ہسپتال پہنچ چکے ہیں۔۔۔۔تابش گاڑی روک کر بولا تھا کہ ھاد نے چونک کر ہسپتال کی بلڈنگ کو دیکھا تھا کیا وہ اتنا بےخبر تھا۔
"عاشر گاڑی اسٹارٹ کرو مجھے کچھ سہی نہیں لگ رہا ہے ہمیں اسے وہاں نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔۔۔۔
"ھاد پہلے ڈاکٹر کو دکھا دو پھر جہاں جانا ہو چل لینا۔۔۔ھاد کی بات پر عاشر نے پلٹ کر اسے جواب دیا تھا
"ھاد ٹھیک کہہ رہا ہے ہم نے غلطی کردی ہے۔۔۔۔دانش نے بھی فکرمندی سے کہا تھا کہ اتنے میں تابش نے گاڑی کا دروازہ کھول دیا تھا۔
"ھاد ایمرجنسی میں دکھا دو پھر میں تمہیں اڑا کر وہاں تک لے جاؤں گا۔۔۔تابش کی بات پر اس نے گہری سانس لی ۔۔
"ٹھیک ہے۔۔۔ھاد کہتا ہوۓ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اندر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہانم اپنی ٹانگ کو تھامے ہوۓ کراہنے کہ ساتھ زاروقطار رو رہی تھی جبکہ ساجد خاموشی سے گاڑی چلا رہا تھا۔
ہانم کہ دونوں ہاتھ خون سے بھر چکے تھے جبکہ خون تھا کہ روکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔۔
"سس ساجد۔۔۔ہم مرجائیں گے۔۔ساجد۔۔۔سس۔۔۔ساجد۔۔۔ہانم روتے ہوۓ اسے آوازیں دے رہی تھی جس نے میوزک لگا کر آواز تیز کردی تھی۔۔
ہانم نے تڑپتے ہوئے نورین اور عائشہ کو دیکھا تھا جو ہنوز بیہوش تھیں۔۔۔
"نو نورین۔۔۔عائشہ۔۔۔نورین۔۔ہماری مدد کرو۔۔۔۔ہانم دونوں کو آوازیں دیتی کھسک کر چادر کو مٹھی میں لے کر کھینچنے لگی۔۔۔
"پاپا آپ کب آئیں گے
"پاپا کی جان ہم کچھ دیر میں آجائیں گے آپ دادو کہ ساتھ کھانا کھا لیں۔۔۔پھر ہم گھر آکر آپکے ساتھ مووی دیکھیں گے۔۔۔
"ٹھیک ہے پاپا جلدی آجائیں آئ مس یو۔۔۔۔۔۔۔ حفصہ نے کہتے ساتھ فون بند کر دیا تھا دوسری طرف گھنی مونچھوں تلے "عرصم داؤد" کہ عنابی لب آج کتنے ہی سالوں بعد مسکراۓ تھے۔۔
ڈرائیور نے بھی شدید حیرت سے اپنے مالک کو دیکھا تھا۔۔
"یہ زمان صاحب کا گھر یہیں ہے نا؟
"جی سر پتہ تو یہیں کا بتایا تھا۔۔۔ڈرائیور گڑبڑا کر سامنے دیکھتے ہوۓ بولا تھا کہ عرصم سر کو جنبش دے کر اپنے والٹ کو کھول کر دیکھنے لگا۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے اسکی آنکھوں کہ گوشے بھیگنے لگے تھے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"سنو مجھے واشروم جانا ہے۔۔۔۔نورین اٹھ کر ساجد کہ پیچھے جا کر بولی تھی جبکہ ساجد تو اسے اپنے قریب دیکھتے ہی گاڑی کو سڑک کنارے روک چکا تھا۔۔
ہانم اور عائشہ نے مضبوطی سے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑا جبکہ زبان مسلسل ورد کر رہی تھی۔۔
ساجد کمینگی سے اسے دیکھنے لگا۔۔جو نڈر سی اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہوۓ تھی
"معصوم تتلی اس جنگل میں واشروم ملنا ممکن نہیں ہے ہاں اگر چاہو تو میں تمہیں آگے جھاڑیوں میں لے چلتا ہوں،کیا خیال ہے۔۔۔۔ساجد بغور اسے دیکھتے ہوۓ بولا جس نے جھٹ کندھے اچکائے۔۔
"ٹھیک ہے چلو جلدی۔۔۔نورین کی بات پر ساجد تو جیسے کھل اٹھا تھا۔۔
"تم تیار ہو ؟ عائشہ نے ہانم کو دیکھ کر پوچھا جس نے تیزی سے سر ہلایا تھا۔۔
"نورین۔۔۔
"فکر مت کریں۔۔۔ابھی نہیں تو پھر کبھی نہیں۔۔۔نورین دونوں سے کہتی وین سے نیچے اتری تھی کہ ساجد اسکے نزدیک آکر اسے دیکھنے لگا۔۔
چلیں جلدی اففف اللّه جی میرا پیٹ۔۔۔!! اچانک ہی نورین پیٹ کو دبا کر کہتی تیزی سے بھاگی تھی کہ ساجد کی ساری مستی اڑن چھو ہوئی تھی۔۔
"اوئے کہاں بھاگ رہی ہو۔۔۔۔رکو!! ساجد چیختا ہوا دونوں جیبوں کو ٹٹولتا چاکو نکال کر نورین کہ پیچھے بھاگا تھا کہ اندر دونوں تیزی سے لمحے بھر کہ لئے اسے جاتا دیکھ کر وین سے اتر کر بھاگنے لگیں تھیں۔۔۔۔
دوسری طرف نورین تیزی سے بھاگ کر درخت کہ تنے کہ پیچھے جا کر رکی تھی کہ ساجد غصّے سے اسے کھنچ کر تھپڑ مارنے ہی والا تھا کہ نورین حلق کہ بل چیختی نیچے بیٹھی تھی ۔۔
"مجھے مت ماریں پلیز۔۔۔میں تو جلدی کہ چکر میں بھاگی تھی۔۔نورین نے تیزی سے کہا تھا کہ وہ روک گیا تھا۔۔
"دوبارہ ایسا کیا نہ تو بہت برا کروں گا تمھارے ساتھ چالاک لومڑی۔۔۔۔ساجد اسے سخت لہجے میں کہتا گھورنے لگا جو منہ بنا کر اٹھ کر درخت کہ پیچھے گئی تھی۔۔
"آپ تھوڑا دور جا کر کھڑے ہوجائیں گے۔۔۔۔
"منہ بند رکھو سمجھی اور جلدی کرو۔۔۔نورین کی بات پر ساجد نے تپ کر اسے کہا تھا۔۔۔
"پلیز سمجھا کریں۔۔۔اگر آپ میری جگہ ہوتے تو کیسا لگتا۔۔۔نورین نظروں سے بھاگنے کا راستہ تلاشتے ہوۓ اسے بولی کہ ساجد سوچتے ہی لبوں کو بھینچ گیا۔۔
"ٹھیک ہے میں جاتا ہوں لیکن کوئی ہوشیاری مت کرنا ورنہ تمھارے ساتھ وہ دونوں بھی ماری جائیں گی۔۔۔ساجد اسے دھمکی دیتا ہوا آگے بڑھ گیا تھا کہ نورین نے آہستہ سے جھانک کر اسے جاتے ہوۓ دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"سر یہاں تو بہت بھیڑ جما ہے۔۔۔ڈرائیور نے گردن موڑ کر عرصم کو بتایا تھا جس نے آنکھوں کو مسل کر اسے دیکھا تھا پھر ایک نظر باہر دیکھا لیکن اگلے ہی پل عرصم گاڑی سے اترا تھا کہ ڈرائیور بھی بوکھلا کر اسکے ساتھ ہی اتر گیا
"چل نکل یہاں سے۔۔۔نکل۔۔۔۔عورت یاسمین کو کھنچ رہی تھی جبکہ یاسمین خود کو اسکے شکنجے سے نکال کر اندر بھاگی تھی۔۔۔
"یہ سب کیا ہورہا ہے۔۔۔عرصم نے حیرت سے پوچھا تھا۔۔
"ارے گندی غلیظ کوٹھے سے اٹھ کر واپس محلّے میں آگئی شوہر نے تو طلاق دے دی ساتھ بچہ بھی ہے اب کون جانے وہ بھی کس کا ہو۔۔۔بڑی عمر کی عورت چھالیا چباتے ساتھ ہاتھ نچاتے ہوۓ بولی کہ عرصم نے قہر آلود نظروں سے اس عورت کو دیکھا تھا۔۔
"سر.۔۔سر۔۔۔۔ڈرائیور یُکدم بھاگتا ہوا اسکے پاس آیا تھا جس نے پلٹ کر اسے دیکھا تھا۔۔
"کیا بات ہے ؟
"وہ سر آصف صاحب کا گھر اس گلی میں نہیں ہے۔۔آپ چلیں۔۔۔ڈرائیور کی بات سن کر اس نے پیشانی مسلی پھر پلٹ کر کھلے گیٹ کی طرف دیکھا جہاں سب جما تھے۔
"ُتم جا کر گاڑی میں بیٹھو ہم ابھی آتے ہیں۔۔۔عرصم اسے ہدایت دیتا مظبوط قدموں سے چلتا سب کو ہٹاتا صحن میں داخل ہوا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"چھوڑ دو مجھے۔۔۔۔۔۔یاسمین نے زور سے اس عورت کو پیچھے دکھیل کر تیمور کو اٹھایا تھا۔۔
"ارے بلاؤ ذرا عالیہ اور یاسر کو ۔۔۔عورت دروازے کہ پاس کھڑے مجمے سے کہتی دوبارہ اسکی طرف بڑھنے لگی تھی جب عرصم کی روعب دار آواز پر یکدم سکوت چھایا تھا۔۔۔
عرصم کی آواز پر سب کہ ساتھ یاسمین نے بھی چونک کر سامنے کھڑے دراز قد مرد کو دیکھا تھا عرصم کی شخصیت اور گرے رنگ کی خوبصورت آنکھیں دیکھ کر وہاں تماشائی بنی لڑکیوں میں چہ میگیاں شروع ہوچکی تھیں۔۔۔
"کون ہو تم؟
"ہم آپ کو بتانا پسند نہیں کرتے دوسری بات یہ کون سا طریقہ ہے کسی کہ گھر میں گھس کہ اسی کو نکالنے کا کیا آپ لوگ جانتے نہیں ہیں کہ یہ جرم ہے۔۔
"ہمیں بتانے کی ضرورت نہیں ہے سمجھے اور تم ہوتے کون ہو بولنے والے۔۔۔عرصم کی بات پر اس نے پھر اپنی ترش آواز میں پوچھا تھا جب بھیڑ میں سے آواز آئی۔
"یار ہوگا۔۔۔عرصم اور یاسمین دونوں نے اسے دیکھا تھا اسے افسوس ہوا تھا لوگوں کی سوچ پر۔۔
"سہی کہہ رہی ہو تبھی اتنی مرچیں لگ رہی ہیں۔۔۔۔میں تو کہتی ہوں بلاؤ اسکی ماں اور بھائی کو جو اسے یہاں لے آئے ہیں اور مہارانی صاحبہ امیر مردوں کو انکے جاتے ہی۔۔۔
"یہ کیا تماشا مچایا ہوا ہے۔۔۔۔۔اس سے قبل عرصم اس کو کوئی جواب دیتا یاسر کی آواز پر سب نے مڑ کر اسے دیکھا تھا جبکہ یاسمین نے اذیت سے آنکھوں کو میچ لیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
دونوں بنا رکے سنسان سڑک پر بھاگتی جا رہی تھیں۔۔۔۔ہانم کی حالت اب غیر ہو رہی تھی لیکن پھر بھی وہ آج اپنی ہمّت کو آزمانا چاہتی تھی۔۔۔۔
اآآ! ۔۔۔۔،اچانک ہی ہانم کا پیر بری طرح مڑا تھا کہ وہ اوندھے منہ سڑک پر گری تھی۔۔۔
"ہانم۔۔۔۔عائشہ نے پلٹ کر اسے دیکھا تو بھاگتی ہوئی ہانم کہ قریب آں بیٹھی تھی۔ ۔
"ہانم تم ٹھیک ہو۔۔۔ہانم۔۔
"ہمارا پیر مڑ گیا ہے۔۔ہم اور نہیں بھاگ سکتیں۔.۔۔۔ہانم شدید تکلیف سے اسے کہہ رہی تھی جو خود تھک چکی تھی۔۔۔
"ایسا کرتے ہیں کچھ دیر یہیں چھپ جاتے ہیں۔۔
"ٹھیک ہے پر نورین پتہ نہیں کہاں ہے۔۔ہمیں اس کی بہت فکر ہورہی ہے۔۔۔،عائشہ کی بات پر اسے نورین کی فکر ستانے لگی تھی۔۔۔
"فکر مت کرو محترمہ چکمہ دینے میں ماہر ہے۔۔۔عائشہ نے مسکرا کر اسے تسلی دینی چاہی لیکن کہیں نا کہیں اسے بھی نورین کی فکر ہورہی تھی۔وہ جیسی بھی تھی،تھی تو وہ چھوٹی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ھاد یار کیا ہوگیا ہے تمہیں اتنے خاموش تو نہیں رہتے تم۔۔۔
"ہیں ہیں منان بیٹا تصحیح کرلو ہمارے ھاد صاحب ایسے ہی خاموش رہ کر اپنی نظروں سے گھورتے ہیں بس۔۔۔دانش نے ڈرامائی انداز میں اسکی بات کا جواب دیا تھا جس پر وہ اسے گھور کر رہ گیا تھا جبکہ ھاد کی سوچوں کا بھنور ہانم میں ہی الجھ کر رہ گیا تھا۔۔۔
اس سے قبل وہ کوئی اور بات کرتے یکدم ہی ھاد چیخا تھا۔۔۔
گاڑی روکو۔۔۔روکو۔۔۔۔۔!!! ھاد کے چیخنے پر عاشر نے بروقت بریک لگائی تھی سڑک کنارے وہی وین دیکھ کر سب نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا اگلے لمحے وہ لوگ گاڑی سے باہر تھے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟ نکاح خواں کی آواز پر وہ جو پتھر بنی بیٹھی تھی اپنی ماں کہ لرزتے ہاتھ کو کندھے پر محسوس کرتے ہی اسکے جسم میں جنبش ہوئی تھی۔۔۔
"قبول ہے۔۔۔
(ارے پوچھو کون ہے یہ مرد جسے بلایا تھا۔۔۔ہماری عزت کا جنازہ نکال دیا آپکی بہن نے۔۔۔۔بینش نے تڑاخ کر پوچھا تھا جبکہ وہ تو بس اسے دیکھ کر رہ گئی تھی۔۔۔
"کیا ہوا کیوں خاموش ہیں ؟ یہ تو اچھا ہوا کہ درد معمولی تھا ورنہ ہمیں تو معلوم ہی نہ چلتا کہ پیٹھ پیچھے یہ گل کھلائے جا رہے ہیں۔۔۔
"بہت ہوگیا بینش بس کرو۔ میں اپنی آپی کہ خلاف اور برداشت نہیں کر سکتا۔۔یاسر نے سخت لہجے میں اسے کہا تھا جبکہ عالیہ بیگم نے روتے ہوۓ اپنی بیٹی کو دیکھا تھا۔۔۔
"یاسمین کون ہے یہ؟ بتاؤ مجھے؟ کب سے جانتی ہو اسے؟ عالیہ بیگم کی بات پر یاسمین اور یاسر کہ ساتھ عرصم نے ؑبھی بے یقینی سے عالیہ بیگم کو دیکھا تھا جبکہ یاسمین کہ دیکھنے پر انہوں نے روتے ہوۓ نظریں جھکائیں تھیں۔۔۔
"آپکو لگتا ہے اماں؟ اذیت سی اذیت تھی اسکے لہجے میں جس پر عالیہ بیگم نے تڑپ کر اپنی بیٹی کو دیکھا تھا۔۔
"ہونہہ! سب ڈرامہ ہے ..بینش نے ہنکار بھرا تھا۔
"بینش خاموش رہو۔۔۔اس سے قبل یاسر کا ہاتھ اٹھتا یاسمین نے تیزی سے آگے بڑھ کر یاسر کا ہاتھ پکڑا تھا۔۔
"اگر ایسا ہے تو ایسا ہی سہی.۔۔یاسمین اپنے بھائی کو دیکھ کر بولتی بینش کو دیکھنے لگی۔۔
"مجھے یہی سب کرنا ہوتا تو کبھی یہاں نہیں آتی۔۔۔
"رہنے دو بی بی اس سے کوئی فرق نہیں پڑھتا ہماری بدنامی تو کروادی کسی کو منہ دکھانے کہ قابل نہیں چھوڑا۔۔۔سسرال سے نہیں ایک کوٹھے سے لائے ہیں آپ کو۔۔میں بتا رہی ہوں اماں یا تو اپنی بیٹی کو رکھیں یا مجھے کیونکہ میں یہاں انکے ساتھ ایک ہی چھت کہ نیچے نہیں رہ سکتی۔۔۔بینش کی بات پر یاسمین نے لب بھینچ کر یاسر کہ ہاتھ پر دباؤ دیا تھا کہ وہ روک کر اسے دیکھنے لگا۔۔
اچانک ہی خاموشی میں عرصم کا موبائل بجا تھا جسے جیب سے نکال کر اس نے سائلنٹ کیا تھا۔۔۔
یاسمین نے پلٹ کر عرصم کو دیکھا تھا جانے وہ کون تھا کہاں سے آیا تھا وہ کچھ بھی تو نہیں جانتی تھی اسکے بارے میں لیکن پھر بھی وہ اس کہ لئے لوگوں کی لعن طعن طعنے سننے کہ باوجود وہیں موجود تھا۔۔
یاسمین یاسر کا ہاتھ چھوڑتی تیمور کو اٹھائے ہی عرصم کہ مقابل آکر رکی تھی۔۔۔
"مجھ سے نکاح کریں گے۔۔۔یاسمین نے اسے پوچھتے ہی کرب سے آنکھیں کو موندا تھا اس نے کب سوچا تھا کہ یہ وقت بھی اسکی زندگی میں آئے گا جب وہ سب کہ سامنے کسی غیر مرد سے یہ سب کہے گی۔
وہاں کھڑی عورتوں نے منہ پر ہاتھ رکھ لئے جبکہ بینش نے گردن کڑا کر اسی عورت کو دیکھا تھا جس کی وجہ سے یہ تماشا شروع ہوا تھا۔۔
یہ دنیا ہے منافقوں کی،
یہ دنیا ہے تماشائیوں کی،
پھونک پھونک کر رکھنا اپنا ہر قدم "کیونکہ"
یہ دنیا ہے منافقوں کی ۔۔۔۔یہ دنیا ہے تماشائیوں کی! (امرحہ شیخ)
"میں جانتی ہوں یہ بہت مشکل۔۔۔یاسمین نے سر جھکا کر کہنا ہی شروع کیا تھا جب یکدم اپنے سر پر ایک مظبوط ہاتھ پر آہستگی سے آنکھیں کھول کر سر اٹھا کر عرصم کو دیکھا تھا۔۔
"ہم تیار ہیں۔۔۔۔)
"قبول ہے۔۔۔
"قبول ہے۔۔۔۔یاسمین نے کہتے ساتھ اس شخص کو دیکھا تھا جس کی گود میں تیمور پُرسکون بیٹھا عرصم کی کلائی پر بندھی گھڑی کو ہاتھ میں لینے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساجد جو اسکے آنے کا انتظار کر رہا تھا کسی گڑبڑ کہ احساس ہونے پر تیزی سے بھاگا تھا۔۔۔
اگلے ہی پل اسکا شک یقین میں بدل چکا تھا کیونکہ نورین وہاں نہیں تھیں۔۔۔ساجد تو جیسے پاگل سا ہوگیا تھا طیش میں وہ اپنی وین کی طرف بھاگا تھا جب کسی کہ کراہ پر وہ بروقت روکا تھا اپنے دائیں طرف دیکھتے اس نے دوبارہ چاکو نکال کر اس سمت دوڑ لگائی تھی جہاں سے آواز آئی تھی دوسری طرف نورین جو وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو ہی چکی تھی پتھر سے ٹکرانے پر زور سے گری تھی کہ ہاتھ میں کانٹیں چبھنے پر وہ تڑپ کر لبوں کو بھینچ گئی۔۔۔
اس سے قبل وہ اٹھتی کسی کہ جاگرز میں مقید پیر دیکھتے ہی نورین نے گھبرا کر سر اٹھایا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
وین خالی تھی جبکہ اردگرد بھی کوئی نہیں تھا ھاد کہ دل میں انجانا سا خوف لاحق ہوا اس سے قبل وہ لوگ آگے بڑھتے جھاڑیوں سے کسی نسوانی آواز پر ھاد چونکنا ہوگیا تھا۔۔
"تم لوگ گاڑی اسٹارٹ رکھو میں آتا ہوں۔۔۔
"ھاد میں بھی ساتھ چلتا ہوں۔۔عاشر نے اسے کہا
"نہیں تم لوگ بیٹھو جا کر میں آتا ہوں۔۔۔۔ھاد سختی سے انھیں منع کرتا خود آگے بڑھ گیا تھا۔۔۔ موبائل کی فلیش لائٹ کی مدد سے چند قدم ہی آگے بڑھا ہوگا جب کوئی لڑکی اسے زمین پر گری نظر آئی۔۔۔
"یہ ہانم تو نہیں ہے۔۔۔ھاد بڑبڑاتے ہوۓ تیزی سے اسکے سامنے جا کر روکا تھا جس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔۔۔

نورین نے جیسے ہی سر اٹھا کر مقابل شخص کو دیکھا تو گہرا سانس بھرتی لڑکھرتے ہوۓ اٹھ کر اپنے کپڑے جھاڑنے لگی جبکہ ھاد اسے بغور دیکھ رہا تھا یکدم ہی اسکے دماغ میں جھپاکا ہوا۔۔۔
"ہانم۔۔۔۔ھاد کی سرگوشی پر نورین نے جھٹکے سے اسے دیکھا تھا۔۔۔
"آپ۔آپ ہانم آپی کو کیسے جانتے ہیں؟نورین اس سے خوفزدہ ہوتے ہوۓ بولی تھی اسے محسوس ہوا کہ وہ اب اس سے ڈر رہی تھی۔۔
"پہلے پُرسکون ہوجاؤ۔۔۔دیکھو وہ مجھے صبح اتفاق سے ملی تھیں سڑک پر جب ایک آدمی وہاں آیا تھا وین میں وہ کہہ رہا تھا وہ انکا منگیتر ہے اور۔۔۔۔
"نہیں ایسا کچھ نہیں ہے وہ۔۔۔وہ ہانم آپی کو اغوا۔۔۔
یکدم ہی کسی کہ بھاگنے کی آواز پر نورین نے ھاد کا بازو سختی سے پکڑ لیا۔۔
"چلیں وہ یہیں ہے۔۔۔۔
"نہیں میں ہانم کو لئے نہیں جاؤں گا۔۔۔ھاد نے سخت لہجے میں اسے کہا تھا۔۔
"ارے ہانم آپی اور عائشہ اب تک تو کافی دور جا چکی ہونگی میں تو اسے چکمہ دینے کہ بہانے سے یہاں تک لائی تھی اب بھاگیں۔۔ نورین تیز تیز کہتی ھاد کا بازو کھینچ کر لے جانے لگی جو اسکی بات پر حیرت سے اس دھان پان سی لڑکی کو دیکھتا بھاگا تھا لیکن نورین کو لڑکھڑاتا دیکھ کر روک کر اسکے سامنے بیٹھا۔۔
"گڑیا آجاؤ پیٹھ پر۔۔۔
"نہیں میں کوئی بچی تھوڑی ہوں۔۔۔نورین نے منہ پھولا کہ ھاد مسکرا کر اٹھ کر اسے گود میں اٹھا کر بھاگا تھا نورین نے جلدی سے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا ورنہ کوئی بعید نہیں تھا کہ وہ چیخ کر ساجد کو بتا دیتی جو آوازوں پر پیچھے آیا تھا۔۔۔ دونوں بھاگتے ہوۓ سڑک کنارے پہنچے تھے عاشر جو بے چینی سے ھاد کا انتظار کر رہا تھا جلدی سے گاڑی اسٹارٹ کرتا نزدیک لایا تھا۔۔
"بیٹھو جلدی۔۔
"پر ہانم آپی۔۔۔نورین نے پریشانی سے کہا
"زیادہ دور نہیں گئی ہونگی۔۔۔۔فکر مت کرو،بیٹھو۔۔۔ھاد اسے تسلی دیتے ہوۓ بولا جب یکدم ہی عاشر چیخا تھا کہ ھاد جھٹکے سے گھوما تھا اس سے قبل ساجد چاکو اسکے سینے کہ آر پار کر دیتا ھاد نے زور سے اسکے ہاتھ پر لات ماری تھی کہ ساجد کہ ہاتھ سے چاکو جھاڑیوں میں جا گرا تھا۔۔
"بھاگو۔۔۔۔ھاد پوری قوت سے اسکے ناک پر مکا جڑ کر عاشر سے بولا۔۔ ساجد اپنا منہ پکڑے نیچے گرا تھا کہ ھاد تیزی سے گاڑی میں بیٹھا اسکے بیٹھتے ہی گاڑی زن سے آگے بڑھی تھی جبکہ ساجد ہنوز زمین پر گرا کراہ رہا تھا۔۔۔
"چھوڑوں گا نہیں تم لوگوں کو جان سے مار دوں گا ابھی مجھے جانتے نہیں ہو.۔۔۔سب سے پہلے میرے ہاتھوں سے وہ حرفہ ہانم مرے گی۔۔۔ساجد اٹھتے ہوۓ زہر اُگلتا وین میں بیٹھ کر یونہی پڑا رہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دونوں بہت دیر سے ایک ہی جگہ پر چُھپی ہوئیں تھیں جبکہ نظریں سڑک پر ہی ٹکی تھیں ابھی تک نورین کا کچھ معلوم نہیں چلا تھا۔۔۔
"ہانم میں ذرا دیکھ کر آتی ہوں ہوسکتا ہے وہ ہمیں ڈھونڈ۔۔۔۔عائشہ یکدم ہی رکی، ہانم کو دیکھا تو مزید گھبرا گئی۔۔۔
"ہانم،ہانم اٹھو، الللہ یہ کیا ہوگیا اب میں کیا کرو۔۔۔۔عائشہ اسکا گال تھپتھپاتے ہوۓ ہانم کو وہیں چھوڑ کر اٹھ کر نورین کو ڈھونڈھنے نکلی ہی تھی کہ دور سے گاڑی دیکھ کر عائشہ نے بے اختیار آسمان کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
"اللّه تو واقعی رحیم ہے۔۔۔عائشہ کہتی ہوئی دونوں ہاتھوں کو ہلا کر گاڑی روکنے کا اشارہ کرنے لگی تھی جب گاڑی روکتے ہی" عائشہ" کہتی نورین گاڑی سے اتر کر بھاگ کر اسکے سینے سے لگی تھی کہ عائشہ پہلے حیران ہوئی پھر نورین کہ گرد حصار باندھ لیا۔۔
"نورین تم ٹھیک تو ہو نا؟ عائشہ اس سے الگ ہوکر چہرہ تھام کر پوچھنے لگی جس نے مسکرا سر کو اثباب میں ہلایا تھا۔۔
"ہانم۔۔۔۔ھاد کی آواز پر عائشہ کہ ساتھ نورین نے بھی ھاد کو دیکھا تھا جس کی نگاہیں بےچینی سے اسی کو ڈھونڈھ رہی تھیں۔۔۔
"عائشہ ہانم آپی کہاں ہیں؟
"چلیں میرے ساتھ۔۔۔عائشہ تیزی سے بھاگی تھی کہ وہ بھی اسکے پیچھے بھاگا تھا جبکہ عاشر منان اور دانش نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔
"یہ بھائی صاحب تو گئے۔۔۔۔منان نے معنی خیز لہجے میں کہا کہ دونوں مسکرا دیے۔۔
"دروازہ کھولو جلدی ۔۔ھاد زور سے بولتا ہوا ہانم کو اٹھائے تیزی سے گاڑی کی طرف آیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی اپنی منزل کی جانب گآمِذ تھی۔۔۔۔عرصم خاموش بیٹھا باہر دیکھ رہا تھا اس سے فاصلے پر یاسمین سر جھکا کر بیٹھی تیمور کو ہلکے ہلکے تھپتھپا رہی تھی۔۔
"فیصل کسی اچھے سے ریسٹورانٹ پر گاڑی روکیے گا۔۔
"جی ٹھیک ہے۔۔۔ڈرائیور نے گاڑی چلاتے ہوۓ سر ہلایا کہ یاسمین کا ہاتھ یکدم رک گیا تھا۔۔
"کیا ہم گھر نہیں جا سکتے۔۔۔۔یاسمین نے نظریں جھکائے ہی آہستہ سے پوچھا تھا۔۔
"ہم اس شہر کہ نہیں ہیں یہاں ہم اپنی اکلوتی بیٹی کہ ساتھ کام کہ سلسلے میں آئے ہیں کل صبح ہم بائے روڈ ہی کراچی جائِیں گے۔۔۔۔۔عرصم کی بات پر یاسمین نے جھٹکے سے اسے دیکھا تھا۔۔۔
عرصم جانتا تھا اسکا ردِعمل یہی ہوگا۔۔۔
"بے فکر رہیں ہم نے آپکے بھائی کو بتا دیا ہے.۔۔عرصم اسکی نظروں کو خود پر محسوس کرتے ہوۓ پھر بولا تھا کہ یاسمین نے دوبارہ نظریں جھکا لیں تھیں۔
"آپ کس۔۔۔
"ہم ریسٹورانٹ پہنچ کر تفصیل سے ایک دوسرے کا انٹرویو کر سکتے ہیں۔دراصل ہم نے شام کی ایک کپ چائے ہی ہوئی ہے۔۔۔عرصم نے ایک بار پھر اسکی بات کاٹی تھی کہ وہ بس سر ہلانے پر ہی اکتفا کر سکی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تسنیم لاؤنج میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی جب ملازمہ نے آکر اسے ریاض کہ آنے کا بتایا تھا۔۔
تسنیم کہ ہاتھ سے ریموٹ چھوٹ کر زمین بوس ہوا تھا کہ رئیس جو نیچے آرہا تھا تیزی سے تسنیم کہ پاس آیا۔۔
"تسنیم۔۔۔
"کتنا اور گریں گے مسٹر رئیس۔۔۔۔ہاں۔۔۔تسنیم یکدم ہی اٹھ کر غصّے سے چیخی تھی کہ رئیس نے ملازمہ کی طرف دیکھا۔۔ اسکا اشارہ سمجھتے ہی ملازمہ وہاں سے گئی تھی۔۔۔
"یہ کس لہجے میں بات کر رہی ہو؟ ساری تمیز بھول گئی ہو کہ اپنے بڑوں سے کس طرح بات کی جاتی ہے۔۔۔رئیس کہ کہنے پر اسکی آنکھوں کہ گوشے بھیگنے لگے۔۔۔
"اچھا کون ہے یہاں بڑا؟ آپ؟ آپ بڑے ہیں اگر آپ بڑے ہیں تو میں لعنت بھیجتی ہوں ایسے۔۔۔۔تڑاخ!! یکدم ہی رئیس کا ہاتھ اٹھا تھا کہ جویریہ بیگم جو وہیں آرہی تھیں ٹھٹھک گئیں۔۔۔
"بس یہی تو ایک کام آتا ہے آپ کو۔۔۔ہے نا
"تسنیم۔۔۔۔۔اپنی زبان کو لگام دو۔۔۔رئیس قہر آلود نظروں سے اسے دیکھتے ہوۓ دھاڑا تھا۔
"ورنہ کیا؟ کیا ہاں کیا کریں گے وہیں چھوڑ کر آئیں گے جہاں بھابھی اور اپنی ہی اولاد کو بھیج دیا تھا۔۔ہاں۔۔۔
"دفع ہوجاؤ۔۔۔نکل جاؤ۔۔۔۔جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔۔رئیس زور زور سے چیختے ہوۓ بول رہا تھا دونوں آمنے سامنے کھڑے تھے جویریہ بیگم تیزی سے دونوں کہ درمیاں آئیں تھیں۔۔
"بے فکر رہیں میں بھی چلی جاؤں گی پھر آپ تنہا رہیے گا اپنے اس عالیشان محل میں جہاں ریاض جیسے بھیڑے اور ناپاک عورتیں آپکا دل بھیلانے کا سامان بنئیں گی لیکن جب آپکا یہ نشہ اترے گا نہ تب آپکو احساس ہوگا کہ آپ نے کیا کھویا ہے،سہی کہتے ہیں اپنوں کی قدر انکے چلے جانے کہ بعد ہی ہوتی ہے۔۔۔۔
"احان کو فون کر کہ ابھی بلائیں۔۔۔۔رئیس نے ایک بار پھر بات کاٹ کر جویریہ بیگم سے کہا۔۔
"پر کس لئے۔۔۔جویریہ بیگم نے تعجب سے پوچھا۔
"نکاح کہ لئے۔۔۔میں آتا ہوں مولوی صاحب کو لے کر آپ چچی جان سے بات کر کہ کوئی بھی بہانا بنائیں میں اب کس کی بدتمیزی برداشت نہیں کروں گا۔۔۔رئیس بے حسی سے کہتا تسنیم کو دیکھنے لگا۔۔۔
"جاؤ جاکر تیاری کرو سسرال جانے کی۔۔۔جو لیکر جانا چاہتی ہو لے جاؤ۔۔
"تھوکتی ہوں میں۔۔آآآ!! اچانک ہی رئیس نے اسکا جبڑا دبوچا تھا۔۔
پھر جھٹکے سے چھوڑتا باہر نکل گیا پیچھے وہ روتی ہوئی زمین پر بیٹھ گئی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہسپتال کہ کوریڈور میں خاموشی تھی نورین عائشہ کہ ساتھ بیٹھی تھی جبکہ نرس اسکی چوٹ پر پٹی کر رہی تھی۔۔
"ھاد کافی۔۔۔دانش نے اسکے پاس آکر کافی دی پھر ان دونوں کو سینڈوچز اور کافی دے کر واپس پلٹ گیا۔۔
"ہانم آپی بیچاری کتنا خون بہہ گیا تھا اس گھٹیا انسان نے کس بے رحمی سے چاکو گھونپا ہوگا۔۔اففف! نورین عائشہ کو بتاتے ساتھ جھرجھری لے کر رہ گئی جب "آہ" پر دونوں نے ھاد کو دیکھا تھا۔۔
"ارے ہاتھ تو نہیں جل گیا۔۔۔عائشہ اٹھ کر ھاد کہ پاس آئی تھی جو اپنے ہاتھ کو جھٹک کر نفی میں سر ہلا رہا تھا۔۔
"میں ٹھیک ہوں۔۔۔کیا تم دونوں بتا سکتی ہو یہ آدمی کیوں ہانم کہ پیچھے پڑا ہے؟ھاد کہ پوچھنے پر دونوں بہنوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔۔
"مجھ پر پورا نہیں تو تھوڑا سا بھروسہ کر ہی سکتی ہو میں ہانم کو نہیں بتاؤں گا۔۔۔۔۔ھاد دونوں کو کشمش میں دیکھتا نرمی سے بولا تھا کہ نورین اٹھ کر اسکے پاس آئی تھی۔۔
"ٹھیک ہے ہم بتاتی ہیں پر یہاں نہیں۔۔
"چلو کیفے ٹیریا جا کر بات کرتے ہیں پھر ۔۔۔۔ھاد نورین کو جواب دے کر اپنے دوستوں کہ پاس گیا تھا۔۔
"ہم آتے ہیں تم لوگ دیھان رکھنا۔۔ھاد کہتا ہوا نورین اور عائشہ کہ ساتھ آگے بڑھ گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"زین کچھ معلوم چلا کہاں چلی گئی ہیں تینوں؟ علی اور زین جیسے ہی لاؤنج میں داخل ہوۓ انمول نے جلدی سے ان سے پوچھا۔
"نہیں کچھ بھی معلوم نہیں چلا خالہ کو بھی بتا دیا ہے وہ لوگ بھی پریشان ہوگئے ہیں۔۔۔زین گرنے کہ انداز میں صوفے پر بیٹھا تھا۔ ۔
"لاؤ میری بات کرواؤ ذرا نادیہ سے یہ کیا تربیت کی ہے لڑکیوں کی کہ بنا بتائے مری گھومنے نکل پڑی ہیں ثوبیہ بیگم بالاج کہ ساتھ آتے ہوۓ بولیں تھیں جبکہ ہاتھ میں کاغذ تھاما ہوا تھا۔۔
"کیا مطلب ہے؟
"مطلب کو چھوڑو پڑھو یہ۔۔اور تم فون ملاؤ.۔۔۔ثوبیہ بیگم کاغذ انمول کو تھما کر علی سے فون ملوانے لگی۔
"ہونہہ! حد ہی ہوگئی ہے یہ تو، ویسے تو غربت کا رونا روتے ہیں اور اب دیکھو ذرا بیٹیاں عیاشی کرنے نکل پڑی ہیں وہ بھی بنا بتائے ہو نہ ہو ضرور لڑکوں کہ چکر ہونگے۔۔۔انمول بولنے پر آئی تو اپنے ذہن کا سارا گند دوسروں کہ ذہنوں میں بھرنے لگی۔۔جبکہ عروج پریشان سی بار بار ساجد کا نمبر ملا رہی تھی جو مسلسل بند جا رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"السلام علیکم۔۔۔۔کیا بات ہے بھئی آج صبح رشتہ تہہ ہوا ہے اور اب یہ نکاح سب خیریت تو ہے۔۔۔۔
آرزو بیگم صوفے پر بیٹھتے ہوئے استفسار کرنے لگیں۔
"ہاں وہ کل رئیس لندن جا رہا ہے کچھ عرصے کہ لئے تبھی وہ چاہتا ہے کہ تسنیم کی رخصتی کردیں۔۔۔
"اور آپ؟ احان سنجیدگی سے دیکھتے ہوۓ بولا تھا۔
"میں بھی ساتھ ہی جا رہی ہوں۔۔۔
"صبح کیوں نہیں بتایا پھر؟ احان نے پھر سوال کیا تھا کہ رئیس مولوی صاحب کو ساتھ لیے اندر آیا تھا۔۔
"السلام علیکم۔۔۔امی تسنیم کو لے آئیں۔۔۔
"وعلیکم السلام۔۔۔برخوردار اتنی جلدی کیا ہے پھر بچوں کہ اور ہمارے بھی کچھ ارمان ہیں۔۔۔اصغر صاحب نے جواب دیتے ہوۓ اس سے پوچھا۔
"جی تو ٹھیک ہے آپ لوگ دھوم دھام سے کیجئے شادی امی آپ بھی اگر روکنا چاہتی ہیں تو روک جائیں میں آپ کہ اکاؤنٹ میں پیسے ٹرانسفر کروا دیتا ہوں.۔۔
"ہاں یہ ٹھیک رہے گا۔۔
"پیسوں کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔احان کی سرد آواز پر سب نے اسے دیکھا تھا۔۔
"مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے سادگی سے نکاح کر کہ لے جانے میں رہی بات تقریبات کی تو وہ بھی ہو جائیں گی نکاح کہ بعد میں اپنا فرض پورا نبھاوں گا آپ آرام سے جائیں لندن۔۔ ۔۔۔۔احان سخت نظروں سے اسے دیکھتے ہوۓ جواب دے کر اپنے ماں باپ کو دیکھنے لگا جو اپنے بیٹے کی بات پر مسکرا رہے تھے۔
"چلیں پھر آپ لوگ ڈرائنگ روم میں چلیں،۔'میں تسنیم کو لے کر آتی ہوں۔۔۔۔جویریہ بیگم مسکراتے ہوئے بول کر تسنیم کہ کمرے کی جانب بڑھ گئیں تھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریسٹورانٹ میں اس وقت زیادہ رش نہیں تھا۔۔یاسمین نظریں پلیٹ پر جما کر بیٹھی تھی جبکہ عرصم کھانا کھانے کہ ساتھ اسے بھی دیکھ رہا تھا جو کھانے کہ بجائے کھانے کو گھور رہی تھی۔۔
"آپ کو کچھ اور کھانا ہے تو ہمیں بتا دیں۔۔عرصم اسے دیکھتے ہوۓ بولا جس نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔
"نہیں میں یہ کھا رہی ہوں شکریہ۔۔۔
"ہمم وہ تو ہمیں نظر آرہا ہے آپ کتنا کھا رہی ہیں۔۔۔عرصم اسکی ہچکچاہٹ دور کرنے کہ لئے ہلکے پھلے انداز میں کہتا ہکلا سا مسکرایا تھا کہ وہ اسے دیکھ کر رہ گئی۔۔۔بلاشبہ سامنے موجود شخص ہر لڑکی کی خواہش رہا ہوگا۔۔۔
"آپ کی بیوی۔۔۔۔
"نہیں ہیں۔۔۔۔عرصم نے جھٹ سے سنجیدگی سے جواب دیا تھا کہ وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی۔۔
"ہماری شادی ہماری خالہ کی پسند سے ہوئی تھی چھ سال پہلے لیکن شاید ہماری قسمت میں اپنوں کا ساتھ کبھی لکھا ہی نہیں ہے یا شاید انکی زندگی ہی اتنی لکھی تھی۔۔ہماری بیٹی کو اس دنیا میں لانے کا سبب بنیں اور خود اس دنیا سے رخصت ہوگَِئیں۔۔۔
"آپ نے دوبارہ شادی کیوں نہیں کی یا شاید آپکی ضرورتیں۔۔۔یاسمین یُکدم ہی تلخ ہوئی تھی کہ لب بھینچ کر اس نے خود کو روکا تھا جبکہ عرصم اسکی آدھی ادھوری بات سمجھتا اسے دیکھنے لگا۔۔
"تجربے انسان کو زندگی میں بہت کچھ سیکھاتے ہیں لیکن ایسا کہاں لکھا ہے کہ آپکو ہر ایک شخص سے ایک ہی تجربہ ملے گا؟
"انسان کی فطرت ہی اگر ایسی ہو تو پھر کیا کہیں گے؟
"آپ انسان کی بجائے ایک مرد کہتیں تو ہمیں زیادہ خوشی ہوتی کیونکہ آپ جس تجربے کی بنا پر یہ بات کر رہی ہیں وہ اپکی زندگی کا ایک واحد مرد تھا صرف ایک مرد ہر ایک مرد نہیں ورنہ معذرت کہ ساتھ باپ،بھائی ، بیٹا وہ بھی مردوں میں شمار ہوتے ہیں ۔۔ یاسمین کی بات پر عرصم نے بھی اسے ترقی با ترقی جواب دئیے جس نے اس سے نظریں چرائی تھیں۔۔
"آپ شاید ہماری بات کا برا مان گئیں۔۔
"نہیں ایسا کچھ نہیں ہے لیکن دھوکہ بھی "مرد" ہی دیتا ہے۔۔
"غلط۔۔۔مرد نہیں انسان کی "تربیت" اور "نسل" ہے جو ایسے فریب دیتی ہیں۔۔۔۔رہا ہماری ضرورت کا سوال تو ہمارے خون میں ایسا نہیں ہے کہ ہم اپنے نفس کہ ہاتھوں خود کو اپنے ضمیر کہ سامنے شرمندہ کریں۔۔۔ہماری بیٹی پانچ سال کی ہے اور وہی ہماری زندگی ہے دوسری شادی کر کہ ہم اپنی بیٹی کو خود سے دور نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن آپ سے شادی کا فیصلہ آپکی وجہ سے نہیں تیمور کہ لئے کیا ہے۔۔۔۔یاسمین چپ سی بیٹھی اسے سن رہی تھی اندر کی کڑواہٹ جو وہ اس پر انڈیلنے لگی تھی مرد کہ اس نئے روپ سے آشنا ہوتی کچھ اور بولنے کی ہمت نہ کر پاٙئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کہ دس بجے کا وقت تھا جب انکی گاڑی گیٹ سے اندر داخل ہورہی تھی۔۔
احان نے سرخ ڈوپٹے میں اسے دیکھا جو سپاٹ تاثرات کہ ساتھ بیٹھی تھی۔۔
آرزو بیگم اصغر صاحب کہ ساتھ گاڑی سے اتریں کہ احان نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔۔
"آحان۔۔۔
"تسنیم ہم کمرے میں چل کر بات کریں گے ابھی اترو۔۔۔احان نے اسے ٹوکتے ہوۓ کہا کہ تسنیم گہری سانس لے کر سر ہلا کر دروازہ کھول کر نیچے اتری۔۔۔
"تم دونوں ابھی جا کر آرام کرو۔۔۔۔۔جاؤ تسنیم۔۔۔۔آرزو بیگم دونوں کو دیکھتی ہوئیں بولیں کہ احان سر ہلا کر اسے لئے سیڑیوں کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
تسنیم نے نظر جھکا کر اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں دیکھا پھر نظر اٹھا کر احان کو دیکھنے لگی یکدم ہی اسکی آنکھوں میں آنسوں بھر گئے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ھاد۔۔۔۔دانش ڈھونڈھتا ہوا اسے ہسپتال کہ لان میں آیا تھا جہاں ھاد بینچ پر بیٹھا دونوں ہاتھوں کی کہنیاں گٹھنوں پر ٹکائے ہاتھوں کو ساتھ جوڑے لبوں پر رکھے ہوۓ تھا کہ دانش کی آواز پر بھی وہ ہنوز اسی انداز میں بیٹھا رہا۔۔
"یار ھاد کیا ہوگیا بھائی؟ ڈاکٹر نے کہا ہے کل صبح تک وہ بالکل ٹھیک ہوجائیں گیں۔ ۔۔۔دانش پرجوش سا اسے بتاتے ساتھ بیٹھا تھا۔۔
"کیا ہوا ھاد؟ دانش نے ایک بات پھر پوچھنے کہ ساتھ ھاد کہ کندھے پر ہاتھ رکھا تھا کہ ھاد چونک کر تیزی سے دانش کہ گلے لگا تھا۔۔
"ھاد۔۔۔کیا ہوا یار تم مجھے پریشان کر رہے ہو۔۔۔دانش اس سے الگ ہوتے ہوۓ بولا جس نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا تھا۔۔
"کچھ نہیں میں ٹھیک ہوں۔۔۔ایسا کرو تم لوگ پاس ہی کوئی اچھا سا ہوٹل دیکھ کر چلے جاؤ میں یہاں ہوں۔۔
"ٹھیک ہے۔۔۔کیا ان دونوں کو بھی لے کر جائیں۔۔۔دانش کندھے اچکا کر عائشہ اور نورین کہ متعلق پوچھنے لگا جس نے سر کو نفی میں ہلایا تھا۔۔
"نہیں تم لوگ جاؤ صبح جلدی آجانا۔۔
"ٹھیک ہے لیکن انکا کیا سوچا ہے انکو انکے گھر چھوڑنا ہے؟
"نہیں یہ ہمارے ساتھ کراچی جائیں گی۔۔۔ھاد کہ سنجیدگی سے کہنے پر دانش اسے دیکھتا کچھ کہے بنا ہی اٹھ کر چلا گیا۔۔اسکے جاتے ہی ھاد نے بینچ سے ٹیک لگا کر سر آسمان کی جانب کرتے آنکھوں کو موندا تھا کہ آنکھ سے آنسوں ٹوٹ کر نیچے گرا تھا۔
شب خوابی کا لباس زیب تن کیے بالوں کا ڈھیلا جوڑا بنائے بالکنی میں موجود وہ باسکٹ کے گول جھولے میں بیٹھی دور خلاء میں نظریں مرکوز کیے سوچوں میں گم تھی جب احان ٹراؤزر اور ٹی شرٹ میں ملبوس وہاں آیا ہاتھ سے اپنے نم بالوں میں انگلیاں چلاتا تسنیم کو دیکھنے لگا.۔۔
"اہم اہم!! کیا میں بھی بیٹھ سکتا ہوں۔۔۔احان کہ گلا کھنکھار کر کہنے پر تسنیم چونکی پھر اسے دیکھا۔۔
"کیا؟ سوری میں کچھ سوچ رہی تھی۔۔تسنیم معذرت کرتی شرمندہ ہونے لگی...کون کہہ سکتا تھا آج انکی شادی کی پہلی رات ہے۔۔۔۔
احان نے اسکی بات پر گہری سانس لی۔۔۔
"کچھ نہیں۔۔چائے پیو گی؟
"ن!
"میں بول دیتا ہوں صباء (ملازمہ) بنا دے گی۔۔۔تسنیم کو بولنے کا موقع دیے بغیر ہی وہ کہتا جانے لگا تھا جب تسنیم نے اسکا ہاتھ پکڑ کر روکا تھا۔۔احان نے چونک کر سنجیدگی سے اسے دیکھا تھا۔۔۔کب سوچا تھا کہ اپنی محبت اسے ان حالاتوں میں ملے گی کتنی خواہش تھی اسے تسنیم کو پہلی بار اپنے کمرے میں دلہن کہ روپ میں دیکھنے کی۔۔۔
"مجھے کچھ نہیں چاہیے بس مجھے ابھی تمہاری ضرورت ہے۔۔۔تسنیم کی آواز بھیگ گئی تھی احان کو کہتے اس نے اسے بیٹھنے کی جگہ دی تھی جو مسکرا کر بیٹھتا ایک ہاتھ سے اسکے گرد حصار باندھتا پیشانی پر لب رکھ چکا تھا۔۔۔تنسنیم آنکھوں کو موند کر اسکے سینے پر سر رکھے بیٹھی رہی۔۔۔
(ریاض بھائی چھوڑ دیں مجھے۔۔جانے دیں مجھے۔۔۔چھو۔۔۔چوڑ دیں۔۔۔کوئی بچاؤ۔۔۔بچاؤ مجھے۔۔۔بھائی۔۔بھائی۔۔۔امی بچائیں۔۔۔چھوڑو مجھے۔۔اللّه کا واسطہ تمہیں چھوڑ دو.) ۔۔
احان جو آنکھیں موندے اسے محسوس کر رہا تھا بری طرح ٹھٹھک گیا۔۔۔تسنیم بری طرح کانپ رہی تھی جبکہ ہاتھ کی گرفت اسکی ٹی شرٹ پر مضبوط ہوتی جا رہی تھی۔۔
"ششش!! ریلیکس تسنیم میں تمھارے پاس ہوں۔۔۔احان اسکے سر کو آہستہ آہستہ سہلاتے ہوۓ اسکے کان میں بول رہا تھا کہ تسنیم نے پٹ سے آنکھیں کھول کر سر اٹھا کر احان کو دیکھا تھا۔۔جبکہ احان اسکی آنکھوں میں خوف و اذیت دیکھتا لب بھینچ کر خود پر ضبط کرنے لگا۔۔
"ا احان کا کاش۔۔۔۔تسنیم بری طرح ہکلاتے ہوئے لمبی لمبی سانس لینے لگی جبکہ آنکھوں سے آنسوں لڑکتے گالوں پر پھسلتے چلے گئے کہ احان نے اسے اپنے گلے سے لگا کر بھینچ لیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"آجائیں۔۔۔۔گاڑی سے اترتا گھوم کر وہ دوسری جانب آیا تھا جو گاڑی کا دروازہ کھول کر اسے دیکھ کر ٹھہر گئی تھی کہ عرصم اسے کہتا یُکدم جھکا تھا
یاسمین جو تیمور کو کندھے سے لگانے لگی تھی عرصم کہ ہاتھ بڑھا کر تیمور کو لینے پر نظریں جھکا کر اترنے لگی۔۔۔
"گھبرائیں مت ہماری خالہ آپ سے مل کر خوش ہوں گی۔۔۔عرصم اسکے انگلیاں مڑوڑنے پر کہتا آگے بڑھ گیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
"السلام علیکم۔۔۔۔خالہ، عرصم کی آواز پر وہ جو صوفے پر بیٹھی ہوئی اسی کا انتظار کر رہی تھیں مسکرا کر اپنی جگہ سے اٹھی تھیں۔۔
"وعلیکم السلام۔۔۔کہاں رہ گئے تھے عرصم میں تو گھبرا ہی گئی تھی۔۔۔۔اقصیٰ بیگم نرم و دھیمے مزاج کی خاتون تھیں۔۔جن کی صرف دو ہی بیٹیاں ہیں اور دونوں ہی شادی شدہ بال بچوں والی ہیں جبکہ شوہر کی وفات کہ بعد سے اب ان تینوں کہ علاوہ عرصم کے منہ بولے ماموں ہیں جن سے عرصم بہت کم ہی ملتا تھا۔۔
اقصیٰ بیگم یکدم ہی ٹھٹھکی تھیں۔۔
عرصم نے انکی نظروں کہ تعاقب میں ساتھ کھڑی یاسمین کو دیکھا۔
"یاسمین یہ ہیں ہماری خالہ۔۔
"السلام علیکم۔۔۔۔یاسمین اسکے بتانے پر ہلکا سا مسکرا کر بولی۔۔
"وعلیکم السلام۔۔۔عرصم کون ہے یہ؟ اقصیٰ بیگم نے اسے جواب دیتے ساتھ عرصم سے پوچھا۔۔
"ہم آپ کو سب بتاتے ہیں آکر۔۔۔چلیں۔۔۔،عرصم انھیں جواب دیتا یاسمین کو ساتھ لئے کمرے کی جانب بڑھ گیا یاسمین سر جھکا کر خاموشی سے اسکے پیچھے چلنے لگی جبکہ اقصیٰ بیگم سمجھ گئیں تھیں کہ وہ کون تھی لیکن اچانک یہ سب انھیں الجھا رہا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی عرصم کی نظر سیدھا اپنی بیٹی پر پڑی تھی جو اسی کا انتظار کرتے کرتے سو گئی تھی۔۔
عرصم نے آگے بڑھ کر احتیاط سے تیمور کو لٹایا جبکہ یاسمین اس بچی کو دیکھ رہی تھی۔۔
"ماشاءالله یہ تو بہت ہی پیاری ہے بالکل آپکی کاپی۔۔۔یاسمین بے ساختہ بولتی یُکدم ہی دانتوں تلے زبان دبا گئی جبکہ عرصم چونک کر اسے سنجیدگی سے دیکھتا رہا۔۔
یاسمین نے خاموشی محسوس کرتے نظر اٹھائی تو ہنوز اسے خود کو تکتے پایا
"سوائے آنکھوں کہ۔۔۔ہماری بیٹی کی آنکھوں کا رنگ انکی ماما پر گیا ہے ڈارک براؤن۔۔عرصم قدم قدم چلتا اسکے مقابل آکر روکا تھا جبکہ یاسمین کو ناجانے کیوں اسکا اچانک ذکر کرنا کچھ خاص پسند نہیں آیا تھا۔۔
شاید وہ چہرے پڑھنے کا ہنر رکھتا تھا تبھی ایک قدم اور نزدیک آیا تھا۔
"ہماری بیوی اگر حیات ہوتیں تو ہم آپ سے شادی کر کہ خود کو اور آپ دونوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا نہیں کرتے لیکن ہم آپ کو مصیبت میں بھی چھوڑ کر نہیں جاتے۔۔
"پھر،پھر کیا کرتے آپ؟ یاسمین نے حیرت سے اسکی بات سن کر پوچھا تھا
"ہم نہیں جانتے لیکن جو بھی ہوا ہماری قسمت میں پہلے سے لکھا جا چکا تھا تو ان سوالوں کو ذہن میں لا کر کیوں پریشان ہورہی ہیں آپ؟ خیر آپ آرام کریں ہم خالہ سے بات کر کہ آتے ہیں۔۔۔عرصم اسے جواب دیتا کمرے سے نکل چکا تھا جبکہ یاسمین اسکے جاتے ہی آگے بڑھ کر بیڈ پر بیٹھتی گردن گھما کر حفصہ کو دیکھنے لگی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کہ سوا چھ کا وقت تھا جب ھاد ہسپتال کہ کمرے میں داخل ہوا سامنے ہی ہانم آنکھیں موندے لیٹی تھی جبکہ سرخ و سفید چہرہ اس وقت زرد پڑا ہوا تھا۔۔
نورین اور عائشہ دونوں صوفے پر ہی بیٹھیں سو رہی تھیں ھاد دروازے پے ہلکے سے دستک دے کر چلتا ہوا ہانم کہ پاس آکر روکا تھا ۔۔
"ھاد بھائی۔۔۔۔۔نورین کی آواز پر ھاد نے چونک کر نورین کو دیکھا تھا جو اٹھ کر تیزی سے اسکے پاس آئی تھی۔۔
"ہانم آپی ابھی تک ہوش میں کیوں نہیں آرہیں؟اب تو صبح بھی ہوچکی ہے؟ نورین کی آنکھوں کہ کنارے بھیگنے لگے تھے دونوں بہنیں رات سے کتنی ہی بار ہانم کو اٹھ اٹھ کر دیکھ رہی تھیں۔
"انشاءلله آجائے گا ہوش۔۔۔ تمہاری ہانم آپی بہت مضبوط ہیں۔۔۔ھاد نورین کو مسکرا کر کہتا ہانم کو دیکھنے لگا جب اسے ہانم کی پلکوں میں جنبش ہوتے دیکھی تو بے اختیار ہانم کی طرف جھکا تھا۔
"ھاد بھائی کیا ہوا؟ نورین نے آگے بڑھ کر تیزی سے پوچھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا یکدم ہانم نے بند آنکھوں کو آہستہ آہستہ کھولا تھا کہ نورین ہانم کہ ہوش میں آنے پر عائشہ کی طرف بھاگی تھی۔۔
ہانم نے جیسے ہی آنکھیں کھولیں تو دوبارہ جھپک کر ھاد کی آنکھوں میں دیکھا دونوں کی نگاہیں ملتے ہی ھاد دھیرے سے مسکرایا تھا۔۔
"شکر ہے آپ ہوش میں تو آئیں۔۔۔ھاد بولتے ساتھ پیچھے ہٹا تھا کہ ہانم نے نظروں کا زاویہ بدل کر طائرانہ نظر کمرے میں ڈالی تھی۔۔
"ہانم کیسا محسوس کر رہی ہو؟ عائشہ نے اسکے دیکھنے پر آگے آکر اسکی پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہوۓ پوچھا جس نے آہستہ سے گردن ہلا کر دوبارہ ھاد کو دیکھا تھا جو اسی کو دیکھ رہا تھا۔
"السلام علیکم۔۔۔۔عاشر کی آواز پر سب نے چونک کر دروازے کی سمت دیکھا تھا۔۔
"وعلیکم السلام۔۔بہت اچھے وقت پر آئے ہو۔۔۔ابھی ابھی نیند سے جاگی ہیں۔۔۔ھاد اسکے قریب جاتے ہوۓ بتانے لگا جبکہ نورین ہانم کہ پاس بیٹھ کر اس کا ہاتھ تھام کر اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔
"شکر ہے چلو کل سے کچھ تو اچھا ہوا۔۔۔۔عاشر نے شکر کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
"ایک بار ڈاکٹر سے مل کر پھر ہم لوگ ڈسچارج کہ پیپرز بنوا کر لاتے ہیں۔۔۔ھاد انھیں بولتا عاشر کہ ساتھ باہر نکل گیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فہیم یونیفارم میں ملبوس جیسے ہی کچن میں داخل ہوتے وہیں موجود گول چھوٹی میز کہ گرد رکھی کرسی پر بیٹھا ہی تھا کہ اپنی ماں کو دیکھ کر یُکدم اٹھ کر انکے پاس گیا تھا جو نماز کہ انداز میں ڈوپٹہ لپیٹے ستے ہوۓ چہرے کے ساتھ روٹی بیل رہی تھیں۔۔۔
"امی کیا ہوا آپ کل سے اتنی خاموش کیوں ہیں؟
"امی مجھے تو پتائیں۔۔۔اپنے سوال پر کوئی ردِعمل نہ دیکھ کر فہیم نے اس بار انکے کندھے کو ہلا کر پوچھا تھا کہ نادیہ بیگم نے جھٹکے سے سر گھما کر اسے گھورا تھا ضبط سے سرخ نم ہوتی آنکھیں انکے بہت زیادہ رونے کو چگلی کھا رہا تھا۔۔
"کیا کرو گے جان کر ہاں؟جا کر بیٹھو۔۔۔نادیہ بیگم جھڑک کر کہتیں تیز تیز ہاتھ چلانے لگیں جبکہ فہیم ہنوز وہیں کھڑا رہا۔۔
نادیہ بیگم نے ہاتھ روک کر اسے دیکھا جس نے انکے دیکھنے پر نظروں کہ ساتھ سر کو بھی جھکایا تھا۔۔
"میں اپنی اولاد کو بہت اچھے سے جانتی ہوں۔۔۔نادیہ بیگم آہستہ سے کہتیں دوبارہ روٹی بیلنے لگی۔۔
"مانتی ہوں میری نورین لاپرواہ سی ہے لیکن وہ اچھے برے کی تمیز اچھے سے جانتی ہے اور میری عائشہ سلجھی ہوئی سمجھدار بچی ہے۔۔مجھے اپنی تربیت پر پورا بھروسہ ہے،ثوبیہ کیسے میری بیٹیوں پر تہمت لگا سکتی ہے کہ وہ لڑکوں۔۔
"امی کیا ابّو وہاں جا رہے ہیں؟ فہیم انھیں روتے ہوۓ دیکھتا افسردگی سے پوچھنے لگا۔۔
"نہیں انھیں دفتر سے ابھی چھٹی نہیں مل رہی پر زین سے بات ہوئی ہے وہ پتہ لگوا رہا ہے۔۔۔اللّه بس میری بچیاں جہاں بھی ہوں سہی سلامت اپنے گھر واپس آجائیں۔۔۔۔۔نادیہ بیگم ہاتھ کی پشت سے آنسوں پونچھتِیں پراٹھا سیکھنے لگیں جبکہ فہیم دکھ سے خالی کرسیوں کو تکنے لگا۔۔۔
جہاں وہ تینوں بہن بھائی نوک جھونک کہ دوران ناشتہ کرتے تھے لیکن آج وہ ساتھ نہیں تھیں۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی اس وقت تیز رفتار سے اپنی منزل کی جانب گامز تھی ھاد گاڑی چلا رہا تھا جبکہ آگے ہانم بیٹھی تھی عائشہ اور نورین پیچھے تھے جبکہ عاشر، دانش ،منان تینوں فلائٹ کہ ذریعے کراچی جانے کا فیصلہ کرتے رات کی فلائٹ سے جانے والے تھے۔۔۔۔۔
ہانم سیٹ سے سر ٹکا کر آنکھوں کو موندے ہوۓ تھی ھاد نے ایک نظر اسے دیکھا پھر پیچھے ان دونوں کو جو دوبارہ سو چکی تھیں۔
'آہ! نورین کیا تم جاگ رہی ہو ؟ ھاد گہری سانس لیتا ہانم کو چور نظروں سے دیکھتے ہوۓ بولا کہ نورین تو نہیں لیکن ہانم جو بس آنکھیں موندے بیٹھی تھی آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگی پھر گردن گھما کر پیچھے دیکھا تو دونوں کو سوتے پایا۔
"وہ سو رہی ہے۔۔۔آپکو کچھ پوچھنا ہے؟ ہم اٹھا دیں اسے؟ ہانم نے سامنے دیکھتے ہوۓ اس سے پوچھا۔۔
"ارے نہیں ابھی اتنی ضرورت نہیں ہے ایک گھنٹہ تو گزرا ہے ابھی تین ساڑے تین گھنٹے لگیں گے ایک بار پہنچ جائیں تو گھر کا ایڈریس پوچھ لوں گا ویسے آپ کا گھر کہاں ہے؟ ھاد اسے کہتا جان کر ہانم سے اسکے گھر کہ متعلق پوچھنے لگا۔۔۔
(ہم ہانم ہانم داؤد حرا بائی کہ کوٹھے کی حسین طوائف)۔
"ہانم۔۔۔ھاد کی آواز پر ہانم نے کرب سے اسے دیکھا تھا جس نے اسکی آنکھوں میں آئی نمی دیکھ کر لب بھینچے تھے۔۔۔
"ہم نورین اور عائشہ کہ علاقے میں ہی رہتے ہیں۔
"کیا سچ میں لیکن اس بارے میں تو دونوں نے نہیں بتایا مجھے۔۔۔ہانم کہ ہچکچا کر بولنے پر ھاد نے حیرت کا اظہار کیا تھا کہ ہانم اسے دیکھتے رہنے کہ بعد نچلا لب دانتوں تلے کچلنے لگی۔۔
"چلیں چھوڑیں۔۔۔ویسے کچھ کھانا ہو تو بیگ سے نکال لیں۔۔۔
"نہیں شکریہ۔۔۔ہانم اسے جواب دے کر سر جھکا کر اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"پاپا۔۔۔۔حفصہ جیسے ہی عرصم کو آواز دیتی بھاگتی ہوئی کمرے سے نکل کر لاؤنج میں آئی اقصیٰ بیگم کہ ساتھ یاسمین کو دیکھ کر ٹھٹھک کر رکی تھی۔
"السلام علیکم! آنٹی ہمارا نام حفصہ عرصم ہے۔۔، حفصہ سلام کرتی اپنا تعارف کروا کر یاسمین کہ قریب آئی تھی جبکہ یاسمین بے اختیار ہی مسکرا اٹھی تھی۔۔
"وعلیکم السلام۔۔۔آپ تو بہت ہی پیاری ہیں۔۔۔۔یاسمین نے مسکرا کر اسکے سر پر ہاتھ رکھا تھا جو اسکی گود میں موجود تیمور کو دیکھ رہی تھی۔۔
"کیا ہم اسے لے سکتے ہیں؟ حفصہ نے مسکرا کر اس سے پوچھا تھا کہ اقصیٰ اور یاسمین دونوں ہی مسکرا دیے تھے۔۔
"ضرور لو لیکن یہاں بیٹھ جاؤ۔۔۔یاسمین اپنے پاس ہی اسے بیٹھنے کو کہتی تیمور کو اسکی چھوٹی سے گود میں بیٹھانے لگی عرصم جو ابھی ڈرائیور کو چلنے کہ لئے کہہ کر آیا تھا انھیں دیکھ کر مسکراتا حفصہ کہ ساتھ آکر بیٹھا تھا کہ تیمور اسے دیکھتے ہی عرصم کی جانب دیکھ کر مسکرانے لگا عرصم نے بے ساختہ جھک کر تیمور کو پیار کرتے حفصہ کو دیکھا جو اپنے باپ کو ہی دیکھ رہی تھی۔
"پاپا کی جان نے ناشتہ کیا؟ عرصم اسکی پیشانی چوم کر بولا جس نے تیمور کو یاسمین کی جانب بڑھایا تھا پھر خود اٹھ کر اپنے باپ کی گود میں بیٹھ کر نفی میں سر ہلا کر عرصم کہ کان کہ نزدیک سرگوشی کرنے لگی۔۔
"پاپا یہ کون ہیں؟ ہم ان آنٹی سے بےبی کو لے لیتے ہیں دیکھیں کتنا پیارا ہے۔۔
"آپکو آنٹی پسند نہیں آئیں؟ عرصم نے اس سے رازداری میں پوچھا جس نے اپنے باپ کی بات سن کر یاسمین کو دیکھا تھا جو انھیں ہی دیکھ رہی تھی۔
"پیاری ہیں لیکن ماما تو نہیں ہیں۔۔۔حفصہ کا لہجہ افسردہ ہوگیا تھا۔۔۔۔عرصم نے اسکی بات پر یاسمین کو دیکھا تھا جو حفصہ کی بات سن چکی تھی اقصیٰ نے آنکھ میں آئی نمی کو ڈوپٹے کہ کنارے سے صاف کیا تھا۔۔
یاسمین نے تیمور کو اقصیٰ بیگم کو دے کر حفصہ کو اپنے پاس آنے کو کہا۔۔جو اپنے باپ کو دیکھ کر اٹھ کر یاسمین کہ سامنے آکر کھڑی ہوئی تھی۔۔
"ماما ایک ہی ہوتی ہیں نا ؟
"آپکی ماما ہیں؟ یاسمین کی بات پر حفصہ نے حیرت سے پوچھا۔۔
"ہاں ہیں۔۔۔یاسمین نے اسے اپنی گود میں بیٹھاتے ہوئے بتایا۔۔
"لیکن ہماری ماما نہیں ہیں۔۔۔وہ اللہ پاک کہ پاس کیوں چلی گئی ہیں۔۔۔حفصہ بغور اسکی بات سنتی روہانسی ہو کر کہتی یاسمین کو دیکھنے لگی آنکھیں یُکدم ہی آنسوؤں سے لبالب بھر گئیں تھیں۔۔
عرصم نے لب بھینچ کر ضبط کیا یہ وہ سوال تھا جو وہ عرصم سے روز ہی کیا کرتی تھی۔۔۔
"ارے میرا بچہ ایسے نہیں روتے جانتی ہو آپکی ماما نے ہی مجھے بھیجا ہے تاکہ میں حفصہ کہ ساتھ رہوں اسکا خیال رکھوں۔۔۔
"سچ میں آپ ہمارے ساتھ رہیں گی؟ حفصہ حیرت سے پوچھنے لگی جس نے مسکرا کر سر کو اثباب میں ہلایا تھا۔۔
حفصہ اسکے سر ہلانے پر اپنے باپ کو دیکھ کر یاسمین کی طرف جھکی تھی کہ عرصم نے مصنوعی خفگی سے اپنی بیٹی کو دیکھا تھا۔۔
"پھر میں بےبی کہ ساتھ بھی کھیل سکوں گی؟
"ہاں ضرور کھیلنا۔۔یاسمین کی بات پر حفصہ خوشی سے اس کی گود سے اتر کر تیمور کہ سامنے بیٹھی تھی۔
"بےبی اب ہم ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔۔۔ٹھیک کہا نا پاپا؟
حفصہ اسے بتا کر عرصم کو دیکھ کر پوچھ رہی تھی جس نے مسکرا کر سر ہلاتے یاسمین کو دیکھا تھا۔۔
"شکریہ۔۔۔۔ عرصم آہستہ سے کہہ کر مسکرایا تھا جو خود بھی دھیرے سے مسکرا کر ان دونوں کی طرف متوجہ ہوگئی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
"انمول بھابھی مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی۔۔عروج گھبراتے ہوۓ انمول کو لئے کمرے میں داخل ہوئی تھی۔۔۔طبیعت زیادہ بگڑنے پر اسے کسی گڑبڑاکا احساس ہوا تو چیک اپ کہ لیے بہانے سے نکل گئی تھی۔
(آپ شادی شدہ ہیں؟ لیڈی ڈاکٹر نے اسے دیکھتے ہوۓ سنجیدگی سے پوچھا تھا۔۔
"نہیں ڈاکٹر پر ہو جاۓ گی۔۔۔انمول نے کچھ ہچکچا کر ڈاکٹر کو بتایا تھا۔
"ہممم۔۔۔۔آج کل کی نوجوان نسل۔۔۔آہ خیر آپ جس سے بھی شادی کرنے والی ہیں انھیں کہیں جتنی جلدی ہو کرلیں۔۔۔ڈاکٹر یکدم ہی کرخت آواز میں بولی تھی کہ وہ سوچ میں پڑھ گئی تھی۔۔
"ڈاکٹر ہوا کیا ہے؟
"مس عروج آپ ماں بننے والی ہیں۔۔ڈاکٹر کی بات سنتے ہی اس کہ پیروں تلے زمین کھسک گئی۔۔۔)
عروج کہ انکشاف پر انمول کا چہرہ فق پڑھ چکا تھا..۔۔۔
"ہوش میں تو ہو جانتی بھی ہو کیا کہہ رہی ہو؟ کک کون ہے وہ کب سے مل رہی ہو؟ اوفف! انمول نے دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا تھا۔۔۔
"وہ لاہور میں رہتا ہے۔۔۔عروج کہ بتانے پر انمول نے جھٹکے سے عروج کو دیکھا تھا۔۔
"کیا تم نے تو کبھی بھی کسی لڑکے کا ذکر نہیں کیا عروج تم تو یہاں خود بالاج کہ لئے آئی تھی۔۔آہ! مجھے بتاؤ کون ہے وہ شخص اسے فون کرو اور بتاؤ۔۔انمول بری طرح پریشان ہوچکی تھی کیونکہ وہ اسکی زمہ داری تھی۔۔۔
عروج لب کچلتی اسے دیکھنے لگی جب ساجد کہ نمبر سے میسج آیا تھا۔۔
"میں آتی ہوں۔۔
"کہاں جا ری ہو ہاں؟ مجھے پہلے جواب دے کر جاؤ آخر کون ہے اس کا باپ چھپ چھپ کر کس کہ ساتھ وقت گزارتی آرہی ہو عروج؟انمول اسکے دونوں بازو سختی سے پکڑ کر جھنجھوڑنے لگی تھی لہ عروج نے جھٹکے سے انمول کہ دونوں ہاتھوں کو جھٹکا تھا
"بہت ہوچکا انمول بھابھی آپ کیوں تماشا کر رہی ہیں۔میں آپکو آکر بتاتی ہوں سب جب تک انتظار کریں۔۔۔عروج جھنجھلا کر انمول سے بولتی کمرے سے نکل گئی جبکہ پیچھے انمول کو اپنی پریشانی لاحق ہوگئی تھی اگر اسکے سسرال میں معلوم چلا تو وہ الزام بھی لگا سکتے ہیں ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"احان کیا سوچا ہے بیٹا تم دونوں نے؟ آرزو بیگم صوفے پر بیٹھتے ہوۓ ان دونوں کو دیکھتے ہوۓ پوچھنے لگیں۔۔
"کس بارے میں؟ احان کہ ناسمجھی سے پوچھنے پر آرزو بیگم نے اسے گھورا تھا۔۔
"میں فنکشنز کہ متعلق پوچھ رہی ہوں شادی جن بھی حالت میں ہوئی سو ہوئی پر میں اپنے بچوں کہ ارمانوں کا گلا نہیں گھونٹ سکتی یہ تو رئیس نے اتنی جلدی مچا دی ورنہ کبھی سنا ہے صبح رشتہ تہہ ہوا اور رات کو نکاح کر کہ گھر لے آئے۔۔۔آرزو بیگم تو جیسے بھری بیٹھیں تھیں۔۔
"ام۔۔۔
"امی ٹھیک کہہ رہی ہیں۔۔۔۔میرے بھائی کی وجہ سے ہم کیوں یہ قیمتی وقت ایسے ہی جانے دیں شادی ایک بار ہی ہوتی ہے اسے بھی اگر یادگار نا بنائی جاۓ تو یہ حسین وقت بھی عمر کہ ساتھ دھندلے پڑھ جاتے ہیں۔تسنیم نے یکدم ہی احان کا ہاتھ پکڑ کر دبایا تھا کہ وہ چپ ہو کر اسے دیکھنے لگا جو آرزو بیگم سے بات کر رہی تھی۔۔
"بالکل ٹھیک کہا میری بیٹی نے وقت اچھا برا گزر ہی جاتا ہے لیکن انکی یادیں اگر آپکے پاس محفوظ نا ہوں تو دھندھلاہٹ دل دکھانے کا سبب بن جاتی ہیں اس لئے انہیں اچھے سے گزارو بنا کسی فکر کہ۔۔آرزو بیگم نے مسکرا کر کہا کہ احان تسنیم کو دیکھتا مسکرایا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ھاد بھائی یہ ہے سفید گیٹ والا ہمارا گھر۔۔۔۔۔نورین نے خوشی سے آگے ہوکر ہاتھ کے اشارے سے بتایا تھا کہ ہانم نے جو باہر دیکھ رہی تھی چونک کر سامنے دیکھنے لگی۔۔
ھاد نے کنکھیوں سے اسکی بے چینی دیکھی۔
گاڑی گیٹ کہ سامنے رکتے ہی نورین اور عائشہ بے تابی سے گاڑی سے اتریں تھیں ھاد ایک نظر اسے دیکھ کر خود بھی گاڑی سے اترا تھا۔۔
"ہانم آپی چلیں آپکو امی سے ملواتے ہیں۔۔نورین اسکے پاس آکر بولی جو بالکل چپ تھی۔۔
عائشہ کہ بیل بجاتے ہی کچھ ہی لمحوں میں گیٹ کھول کر فہیم اپنی بہنوں کو دیکھ کر چیخا تھا کہ نادیہ بیگم اور امجد صاحب جو لاؤنج میں ہی موجود تھے فہیم کہ "آپی" کی صدا پر دونوں اٹھ کر تیزی سے دروازے کی سمت آئے تھے کہ اپنی بیٹیوں کو دیکھ کر نادیہ بیگم نے آگے بڑھ کر عائشہ کو بے تابی سے گلے سے لگایا تھا۔۔
"میری بچیاں۔۔۔کہاں چلی گئی تھیں تم لوگ؟ پھوپھو نے بتایا کہ تم دونوں اپنی سہیلی کہ ساتھ گھومنے نکل گئی ہو؟ عائشہ نورین تم دونوں کی کون سی ایسی سہیلی آگئی بیٹا۔۔
"نادیہ پہلے بچیوں کو اندر تو آنے دو تم نے تو آتے ہی سوالوں کی بوچھاڑ کر دی ہے۔امجد صاحب نے یکدم انھیں ٹوکا تھا جب نظر ھاد اور ہانم پر پڑی تھی۔۔
"یہ کون ہیں؟ نادیہ بیگم نے بغور اپنی بیٹیوں کو دیکھ کر پوچھا تھا۔
کہ ہانم انکے گھر کی دہلیز سے باہر ہی کھڑی تھی۔
"امی میں سب بتاتی ہوں۔۔۔
"لیکن عائشہ یہ لڑکا کون ہے؟ کیا تم دونوں واقعی کسی لڑکے کہ ساتھ۔۔امجد صاحب نے سخت لہجے میں پوچھتے یُکدم خاموشی اختیار کی
"نہیں ابّو ایسا کچھ نہیں ہے ہمارا یقین کریں۔۔نورین نے آگے بڑھ کر باپ کا ہاتھ پکڑا تھا۔۔
"بیٹا یہ یقین ہی ہے کہ تم دونوں گھر میں کھڑی ہو اپنی اولاد کہ ساتھ دوستوں کی طرح رہے ہیں لیکن خاندان میں ہر کوئی اپنی سوچ کہ مطابق کہانی بنا کر دوسروں کو سنا رہا ہے۔۔امجد صاحب نے نورین سے کہتے ھاد کی جانب دیکھا تھا۔۔
جبکہ ہانم ہنوز اسی طرح کھڑی تھی۔۔
"ہمیں بیٹھ کر بات کر لینی چاہیے انکل۔۔۔ھاد امجد صاحب کو دیکھ کر بولا جو سر ہلا کر اندر بڑھے تھے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ھاداور عائشہ کہ جاتے ہی نورین ہانم کا ہاتھ تھام کر نادیہ بیگم کہ مقابل لائی تھی جو اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔۔۔
"ماشاءالله بہت پیاری ہو بیٹی۔۔۔۔نادیہ بیگم نے مسکرا کر اسے دیکھ کر کہا تھا۔۔
ہانم نے تڑپ کر انھیں دیکھا تھا دل زوروں سے دھڑکا تھا پہلی بار اسے کسی نے بیٹی کہا تھا۔۔
(کیا ہی حسین طواف ہے۔۔۔۔۔
"بہت خوبصورت ہو۔۔
"ہانم داؤد ایک خوبصورت طوائف ہے
"حرا بائی ایک رات کہ لئے دے دے محفل میں موجود کسی نے کہا تھا۔
"بہت نخرہ ہے اس حرفہ میں۔۔۔ساجد نے زور سے اسکے بال جکڑ کر کہتے زور سے دھکا دیا کہ انیلا نے آگے بڑھ کر اسے تھاما تھا۔۔)
"ہانم آپی۔۔۔نورین کی آواز پر وہ حال میں آئی تھی۔۔
"یہ چوٹِیں کیسے لَگیں تمہیں؟ نادیہ بیگم نے سوال کیا ہی تھا جب فہیم انھیں بلانے آیا تھا۔۔
"ہاں چلو۔۔آجاؤ تم دونوں بھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عروج جیسے ہی ہوٹل پہنچی کمرے میں جاتے ہی ساجد سے لپٹ گئی۔۔
"کہاں تھے تم ساجد جانتے ہو کتنا پریشان ہوگئی تھی۔۔عروج اس سے علیحدہ ہوتے ہی خفگی سے کہنے لگی جب اسکے چہرے پر نیل دیکھ کر ششدر رہ گئی۔
"ساجد یہ یہ کیا ہوا؟ کس نے کیا؟
"یار پریشان مت ہو بس یونہی کسی سے لڑائی ہوگئی تھی۔۔۔میں ٹھیک ہوں۔ ساجد کوفت سے کہتا اسے کمر سے کھینچ کر چہرے پر جھکا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔
"ساجد۔۔۔۔ساجد مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔۔۔عروج اسکی شرٹ کہ بٹن سے کھیلتے ہوۓ بولی۔
"ہم بعد میں بھی بات کر سکتے ہیں یار۔۔ ساجد اسے کہتا بیڈ کی طرف بڑھنے لگا تھا۔۔
"نہیں ساجد یہ بات ابھی کرنا بہت ضروری ہے۔۔عروج اسے روک کر بولی کہ ساجد گہری سانس بھرتا جھٹکے سے اسے نزدیک کر کہ گردن میں چہرہ چھپا گیا۔۔
"ساجد تم سمجھ کیوں نہیں رہے میں تم سے بہت ضروری بات کرنے آئی ہوں.۔۔۔عروج نے جھنجھلا کر اسے پیچھے کی جانب ھکا دیا تھا کہ وہ مُٹھیاں بھینچ گیا۔
"کیا تکلیف ہے تمہیں ہاں کیوں نخرہ دکھا رہی ہو۔۔ساجد نے غصّے سے اسے گھورتے ہوۓ پوچھا تھا۔۔
"مجھے بہت ضروری بات کرنی ہے تم سے لیکن تم ہو کہ۔۔خیر میں صبح ڈاکٹر کہ پاس گئی تھی۔۔
"تو میں کیا کروں؟ ساجد نے رکھائی سے اسے جواب دیا تھا کہ وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
"کیا مطلب ہے اس بات کا ساجد ہاں؟ جانتے بھی ہو ڈاکٹر نے مجھے کیا بتایا ہے۔۔عروج نے گھورتے ہوئے اسے کہا تھا جس نے اسکی بات پر چونک کر اسے دیکھ کر قدم اسکی جانب بڑھائے تھے۔۔
"کیا ؟ ساجد کا لہجہ یکدم ہی سرد ہوا تھا۔۔
"میں ماں بننے والی ہوں ساجد۔۔۔عروج نے انکشاف کرتے روتے ہوۓ اسکے سینے پر پیشانی ٹکائی تھی جبکہ ساجد ہنوز سپاٹ چہرے کہ ساتھ کھڑا تھا یکدم ہی ساجد نے اسے بازوں سے پکڑ کر پیچھے دکھیلا تھا جیسے وہ کوئی اچھوت ہو۔۔۔
عروج نے آنکھیں پھیلا کر لڑکھڑاتے ہوئے اسے دیکھا۔۔
"میرے علاوہ بھی کسی کہ ساتھ "وقت" گزارتی رہی ہو؟
ساجد کی بات پر عروج دنگ رہ گئی تھی۔۔
"سس ساجد یہ یہ کیا۔۔
"بکواس بند کر حرافہ تو کیا ساجد کو پاگل سمجھ رہی ہے جو تیری اس بات پر یقین کرلوں۔۔۔ساجد نے آگے بڑھ کر اسکی گردن دبوچی تھی کہ وہ کانپ گئی تھی آنکھوں سے آنسوں رخساروں پر بہتے چلے جا رہے تھے جبکہ ساجد گردن دبوچے یکدم ہی قہقہہ لگاتا چہرے کو نزدیک کرتا ایک بار پھر جھکا تھا۔۔۔
اگلے ہی پل عروج کو اس نے دھکا دیا تھا۔۔
عروج کی چیخ نکل گئی تھی نچلے لب سے خون بہتا تھوڑی پر آنے لگا۔۔
ساجد جیسے ہی پَنجوں کہ بل اسکے سامنے بیٹھا عروج خوف سے اس سے پیچھے کھسکنے لگی۔۔
ساجد عروج کی آنکھوں میں خوف دیکھ کر دوبارہ قہقہہ لگانے لگا۔۔۔
"ہاہاہاہا۔۔۔۔مجھے افسوس ہے کہ تمہارا اور میرا ساتھ یہیں تک کا تھا۔۔۔۔ساجد افسوس کرتا چاکو نکال کر آگے کو جھک کر اسکے چہرے پر آہستہ آہستہ پھیرتا گردن تک لایا تھا جو خوف سے آواز کہ ساتھ روتی خوف کہ مارے پسینے سے شرابور ہو رہی تھی۔۔
"نن۔۔ نہیں مم مجھے مجھے مت مارو مے۔۔۔
"ہمارا بچہ۔۔۔ساجد اسے دیکھتے ہوۓ پاگلوں کہ انداز میں کہتا چاکو کو پیٹ پر پھیرتا اسکے منہ کو ہاتھ سے بند کرتا زمین پر گرا کر اس پر اپنا وزن ڈال چکا تھا کہ عروج کی حالت غیر ہونے لگی تھی ساجد مسکرا کر اسکے کان کہ نزدیک جھکا تھا۔۔
"میں اپنی اولاد کو کیسے مار سکتا ہوں۔۔ہاں بس تم ابھی سیدھا ہسپتال جا کر اسے ختم کرواؤ گی اور اگر میرا نام لیا تو یاد رکھنا اتنی بھیانک موت دوں گا کہ تم خود مجھے کہو گی کہ ساجد پلیز مجھے مار دو۔۔ساجد اسے کہتا آخر میں نقل اتراتے ہوۓ بولتا اٹھ کھڑا ہوا تھا جو روئے جا رہی تھی۔
"چلو جاؤ اب۔۔۔ساجد اسے کہتا پلٹ کر کھڑکی تک آیا تھا جبکہ عروج کانپتی ٹانگوں کہ ساتھ ڈوپٹے سے چہرہ چھپا کر بھاگی تھی کہ وہ اپنی اور اس ننھی سی جان کو خطرے میں نہیں ڈال سکتی تھی۔۔
دروازے کہ بند ہونے کی آواز پر ساجد مسکرانے لگا۔۔
"مجھے معاف کردینا عروج لیکن اب میں نے ارادہ کر لیا ہے میرے بچے کی ماں "ہانم داؤد" بنے گی۔۔۔ہاہاہاہا ۔۔۔ساجد کہتے ساتھ مکرو قہقہے لگانےلگا۔ ۔۔
لاؤنج میں اس وقت سکوت چھایا ہوا تھا امجد صاحب دونوں ہاتھوں کی مُٹھیاں بھینچے خود پر ضبط کر رہے تھے جبکہ ہانم آنسوؤں سے تر چہرے کہ ساتھ آنکھوں کو سختی سے میچے ہوئے تھی۔۔۔
(کتنی بدنصیب ہے ہانم۔۔۔۔ہانم اپنی اصلیت بتاتے ساتھ خود کو کہتی زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی ھاد لبوں کو بھینچے خود پر ضبط کر رہا تھا نورین نے روتے ہوۓ اپنی ماں کی جانب دیکھا تھا اسے ڈر تھا کہ ساری حقیقتیں جاننے کہ بعد اسکی ماں کیا کرے گی۔۔۔
سب کہ درمیاں زمین پر گٹھنوں کہ بل بیٹھی ہانم نے سر جھکایا ہوا تھا۔۔
کتنی اذیت دیتی ہیں وہ حقیقتیں جن میں دکھ و تکلیف کہ سوا کچھ نہ ملا ہو۔۔۔بچپن سے رشتوں کو ترسی اپنی عزت کو محفوظ کیے وہ کہاں سے کہاں آ پہنچی تھی لیکن کون جانے آگے اور کتنی آزمائشوں سے گزرنہ تھا ہانم نے۔۔۔۔
نادیہ بیگم اٹھ کر قدم قدم چل کر اسکے سامنے بیٹھیں تھیں عائشہ اور نورین سانس روکے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھیں جانے وہ کیا کریں گی
ہانم نے آنسوؤں سے تر چہرہ اٹھا کر انھیں دیکھا جو ہلکے سے مسکرائیں تھیں۔۔۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( إِنَّ عِظَمَ الْجَزَائِ مَعَ عِظَمِ الْبَـلَائِ، وَإِنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا اِبْتَـلَاھُمْ، فَمَنْ رَضِيَ فَلَہُ الرِّضٰی، وَمَنْ سَخِطَ فَلَہُ السُّخْطُ۔ ))1
'' بڑا ثواب، بڑی آزمائش کے ساتھ ہے، بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو ان کو کسی آزمائش میں ڈال دیتا ہے، جو اس آزمائش پر راضی ہوا (اللہ تعالیٰ کے بارے میں غلط گمان نہ رکھا) تو اس کے لیے رضا ہے اور جو آزمائش پر ناراض ہو (صبر کی بجائے غلط شکوے اور گمان کیے) تو اس کے لیے ناراضی ہے۔ ''
تشریح...: وہ انسان مراد ہے جسے اللہ تعالیٰ مختلف مصائب اور آزمائش میں مبتلا کرے لیکن وہ انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھتا ہے اور صبر سے کام لیتا ہے اور آزمائش کے باوجود اللہ تعالیٰ کے متعلق گمان اچھا ہی رکھتا ہے چنانچہ خوشنودی اور مصیبت کے مطابق ثواب کا مستحق ٹھہرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر آزمائش ناراضی کی وجہ سے نہیں ڈالتا بلکہ یا تو مکروہ چیز کو دور کرنے کے لیے یا گناہوں کے کفارے کے لیے اور یا مرتبہ بلند کرنے کے لیے آزماتا ہے اور بندہ جب خوشی خوشی اسے قبول کرلیتا ہے تو یہ مقصد حاصل ہوجاتا ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 صحیح سنن الترمذي، رقم: ۱۹۵۴۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نادیہ بیگم چپ ہوئیں تو ہانم نے اپنے آنسوؤں کو پونچھا۔۔
"ہم کبھی بھی اللّه سے شکوہ نہیں کریں گی بلکہ ہم حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گی پھر چاہے مر بھی جائیں ہم اب اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کا حساب ظالم سے لیں گے اگر اب اس نے ہمیں تکلیف پہنچانے کی کوشش کی تو ہم اسکی سزا کا خود انتخاب کریں گی ۔۔۔۔ان شاءلله۔۔۔۔ہانم کہتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی ڈوپٹے کو سر پر سہی کرتے اس نے ھاد کو دیکھا تھا جس کی نظروں میں اسے اپنے لئے رشک و احترام دکھا تھا۔۔۔تیزی سے نظروں کا زاویہ بدلتے اس نے امجد صاحب کو دیکھا تو چل کر ان سے فاصلے پر روک کر نظریں جھکا گئی۔۔
"ہم نے کبھی اپنے باپ کو نہیں دیکھا لیکن آپکو دیکھ کر ہمارے دل میں یہ خواہش ضرور جاگی کہ ایک بار اپنے باپ کا چہرہ دیکھا ہوتا پر ہم نے جب سے ہوش سمبھالا سوائے انیلا اور اجنبیوں کی بھیڑ کہ کچھ نہیں پایا۔۔۔ان اَجنَبِیوں کہ بیچ ہی رہ کر ہم نے اپنے بیس سال گزار دیے۔۔ہانم نے روک کر گیلی سانس اندر کھینچی کہ نورین نے اٹھ کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔
"ہانم۔۔امجد صاحب اٹھ کر اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر بولے۔۔ہانم نے کرب سے نظر اٹھا کر انھیں دیکھا تھا۔
"رشتہ کوئی بھی ہو کیسا بھی ہو اگر اس میں بھروسہ اور تفہیم (understanding) نہیں ہے تو وہ کھوکھلا ہوتا جاتا ہے اور پھر رشتوں میں دوریاں اور غلط فہمیاں انھیں جھنجھوڑ کر کمزور کرتی جاتی ہیں اور بلآخر وہ کمزور رشتے ٹوٹ جاتے ہیں.۔۔۔میں نے کبھی اپنی بیٹیوں کو کسی دوسرے کی نظر سے نہیں دیکھا نا ہی کسی کی سمجھ سے سمجھا ہے اور نا ہی کسی سنی سنائی باتوں کو سن کر اپنی تربیت پر انگلی اٹھائی ہے، میری بیٹیاں جانتی ہیں اس معاشرے میں سب سے زیادہ قیمتی چیز "عزت" ہے اور جو انسان اپنی عزت سے محبت کرتا ہے وہ کبھی رسوا نہیں ہوتا لیکن جو انسان دولت اور نفس کا غلام بن کر اپنی عزت سے زیادہ ان دو چیزوں کو ترجیع دے کر ہر وہ کام کرے جو گناہ کہ زمرے میں آتا ہو تو اس نے خود کو دنیا ہ آخرت میں بھی رسوا کیا۔۔ اگر آپ خود اپنی عزت محفوظ نہیں کرنا جانتے تو آپ سے بڑا بدنصیب کوئی نہیں ہے اور ہانم داؤد کیسے خود کو بدنصیب کہہ سکتی ہے۔۔مجھے فخر ہے تم پر میری بچی اور تم دونوں بھی میری بات ہمیشہ یاد رکھنا ظلم کرنے والا اگر ظالم ہے تو ظلم سہنے والا اس سے بڑا ظالم جس نے ایسے شیطانوں اور بھیڑیوں کو شیر بنایا۔۔گناہ کو گناہ کہنا غلط نہیں ہے میری بچیوں لیکن اگر کوئی گناہ کو ثواب کہہ رہا ہے تو یہ گناہِ کبیرہ ہے۔۔۔امجد صاحب تینوں کو سمجھائے ہوۓ نادیہ بیگم کو دیکھنے لگے جو مسکرا رہی تھیں۔۔۔
"آپ واقعی بہت انمول ہیں۔۔ نادیہ بیگم انھیں دیکھتے ہوۓ بولیں کہ عائشہ اور نورین کہ ساتھ فہیم بھی شور مچاتا اپنے والدین سے جا کر لپٹا تھا۔۔
ہانم نے پلٹ کر سامنے کا منظر دیکھا تو "ماشاءالله" کہتی نظریں جھکا گئی۔۔
ھاد جو بہت دیر سے خاموش تھا اٹھ کر چلتے ہوۓ ہانم کہ مقابل آیا تھا۔۔
"میں جا رہا ہوں۔۔۔ھاد بغور اسے دیکھتے ہوۓ بولا تھا شاید وہ چاہتا تھا ہانم اس سے اسکے متعلق پوچھے۔۔
"ٹھیک ہے پر آپ کا احسان ہم کبھی نہیں بھولیں گے۔۔آپ نے ہمارے ساتھ نورین اور عائشہ کو بھی بچایا ہے۔۔
"اوں ہوں۔۔ میں نے نہیں بچایا نورین اور عائشہ کو آپ نے بچایا ہے میں نے تو بس گھر تک پہنچایا ہے۔۔۔ھاد اسکی بات پر کہتا مسکرایا تھا لیکن ہانم نے ایک نظر اسے دیکھ کر نظریں پھیر لی تھیں ایک بار دھوکہ کھا چکی تھی اب دوبارہ سے اسی فریب میں نہیں پڑھنا چاہتی تھی۔۔۔
ھاد کہ مسکراتے لب یکدم سکڑے تھے۔۔دکھ سے اسے دیکھتا وہ "اللّه حافظ"کہتا امجد صاحب کی فیملی کی طرف بڑھا تھا کہ ہانم کہ ساتھ ساتھ ھاد کا دل بھی زوروں سے دھڑکا تھا۔۔
ھاد نے سر جھکا کر اپنے ہاتھ کو دیکھا جہاں ہانم کی استیں ھاد کی کلائی میں بندھی گھڑی سے اٹکی تھی کہ دونوں کہ ہاتھ ایک دوسرے سے مس ہو رہے تھے ھاد سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگا جس نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا ایک بار پھر دونوں کی نظریں ملی تھیں جبکہ ھاد دوسرے ہاتھ سے آستیں کو گھڑی سے نکال کر بنا کچھ کہے آگے بڑھ گیا تھا۔۔۔
"ہانم آپی ابو نے کہا ہے آج سے آپ ہمارے ساتھ اسی گھر میں رہیں گی۔۔نورین اچانک ہی اسکے پاس آتی اس سے لپٹ کر بتانے لگی جس نے ہاتھ کی مٹھی بنا لی تھی ۔۔
"بیٹا کھانے تک روک جاتے۔۔۔۔
"بہت شکریہ انکل پر مجھے کراچی پہنچنا ہے اور ایک دن نہیں پہنچا تو امی پریشان ہوجائیں گی۔۔ھاد انھیں کہتا بنا اسے دیکھے باہر نکلتا چلا گیا تھا کہ ہانم نادیہ بیگم کو کچن میں جاتے دیکھ کر اسکے قدم آپ ہی آپ باہر کی جانب اٹھے تھے۔ ۔
ہانم دروازے سے باہر آتے سیڑی پر ہی ٹھٹھک کر روک گئی تھی کہ سامنے ہی ھاد گاڑی میں بیٹھا دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔
ہانم بری طرح شرمندہ ہونے لگی جانے وہ اسکے بارے میں کیا سوچ رہا ہوگا ہانم نے دوبارہ اسے دیکھا تو وہ مسکرا کر گاڑی سٹارٹ کرتا آگے بڑھ گیا تھا
ہانم بے اختیار آنکھوں کو موند کر اس پر حصار کرنے لگی جو سائیڈ مرر سے اسے دیکھتا اپنے ہاتھ کو لبوں سے لگا چکا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
"آپ کو پسند آیا اپنا گھر؟ انھیں کراچی واپسی آئے ایک گھنٹہ ہی ہوا تھا عرصم کا چھوٹا لیکن خوبصورت بنگلا اسے پسند آیا تھا گھر کہ اندر ہی باغیچہ تھا وہیں ایک طرف سیفد بڑا سا جھولا بھی رکھوایا گیا تھا۔۔۔
یاسمین بچوں کو کھانا کھلا کر دوبارہ وہاں آکر جھولے پر بیٹھی ہوئی تھی جب عرصم سیاہ شلوار قمیض میں ملبوس وہاں آتے ہوۓ ایک ہاتھ سے آستینوں کو کہنیوں تک چڑھا رہا تھا۔
یاسمین چونک کر کھڑی ہوئی تھی جب عرصم نے آگے بڑھ کر یاسمین کہ کندھوں پر ہاتھ رکھتے آہستہ سے اسے اپنے نزدیک کیا تھا۔
"آپ ہم سے گھبرانا بند کردیں یاسمین ہمیں ایسا لگ رہا ہے جیسے ہم آپ کو زبردستی اٹھا کر لے آئے ہیں۔۔
عرصم اسے کہتا ہاتھ ہٹا کر پیچھے ہوا تھا۔۔
"ایسی کوئی بات نہیں ہے میں بھلا آپ سے کیوں گھبرانے لگی۔۔۔یاسمین انگلیاں مڑوڑتے ہوۓ بولی۔۔
"ٹھیک ہے مان لیتے ہیں۔۔۔
"میں آتی ہوں۔۔
"آپ ہم سے بھاگ رہی ہیں۔۔۔عرصم نے کہتے ساتھ اسکا ہاتھ پکڑا تھا۔
"نہیں میں خود سے بھاگ رہی ہوں۔۔
"تو ٹھیک ہے بھاگیں جتنا مرضی چاہے لیکن جب تھک جائیں تو ہمارے پاس آجائیے گا۔۔۔۔۔عرصم نے کہتے ساتھ اسکا ہاتھ چھوڑ کر گردن موڑی تھی کہ وہ اسے دیکھتے رہنے کہ بعد شرما کر تیزی سے جانے لگی تھی جب عرصم کی آواز پر بروقت رکی۔۔
"ایک کپ چائے بنوا دیں۔۔ہم یہیں ہیں۔۔۔عرصم نے کہتے ساتھ ایک نظر اسے دیکھا تھا۔۔
"ٹھیک ہے۔۔۔یاسمین آہستہ سے کہتی مسکرا کر آگے بڑھ گئی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احان اور اصغر صاحب جیسے ہی حال میں داخل ہوۓ سامنے ہی صوفوں پر آرزو بیگم اور تسنیم کو ڈھیر شاپنگ بیگز کہ ساتھ دیکھا تو مسکراتے ہوۓ انکی جانب آئے۔۔
"السلام علیکم۔۔۔کیا بات ہے ماشاءالله تیاریاں ہورہی ہیں۔۔۔۔اصغر صاحب کی آواز پر دونوں نے انھیں دیکھا تھا جبکہ تسنیم اٹھ کر کچن کی جانب بڑھی تھی۔ ۔۔
احان کی نظریں اسکے ساتھ ہی سفر کر رہی تھیں جس نے پلٹ کر اسے دیکھا تو اٹھ کر اسکے پیچھے بڑھ گیا۔۔
جبکہ آرزو بیگم اصغر صاحب کو اپنی شاپنگ دکھا رہی تھیں۔۔
احان جیسے ہی کچن کی چوکھٹ پر آیا ملازمہ کو دیکھ کر روک گیا تسنیم لب دبائے اپنی مسکراہٹ چھپاتی گلاس میں پانی انڈیل کر چھوٹی ٹرے میں گلاس رکھ کر احان سے نظر چرا کر آگے بڑھنے لگی کہ احان تیزی سے آگے بڑھا تھا۔
"صباء۔۔۔یہ پانی بڑے صاحب کو دے آؤ۔۔احان اسے گھورتا ملازمہ سے کہتا تسنیم کہ ہاتھ سے ٹرے جھپٹکے کہ انداز میں لیتا قریب آتی ملازمہ کو پکڑا چکا تھا۔۔
اس کہ جاتے ہی احان نے تسنیم کو اپنے حصار میں لیا تھا۔۔
"بہت غلط بات ہے احان کیا سوچیں گے وہ ۔
"یہی کہ ہماری بہو کتنی کیئرنگ ہے کتنا خیال ہے اسے شوہر کہ موڈ کا۔۔۔احان شرارت سے کہتا اسے اپنے اور نزدیک کرنے لگا جس نے ہنس کر دونوں ہاتھ اسکے سینے پر رکھے اسکی شرٹ کہ بٹن کو چھیڑنے لگی۔۔
"خیریت ہے میری عزت لوٹنے کا موڈ تو نہیں ہے؟ احان کا اشارہ اسکے بٹن چھیڑنے کی طرف تھا جبکہ تسنیم کہیں اور ہی پہنچ گئی تھی۔۔
(ریاض بھائی۔۔چھوڑ دیں۔۔۔آآآآ۔۔۔ نہیں نہیں۔۔۔یا اللّه میری مدد کریں۔)
"تسنیم۔۔۔احان اسکے چہرے کہ تاثرات دیکھ کر زور سے اسے پکارتا یُکدم تسنیم کہ چہرے پر جھکا تھا کہ تسنیم ہوش میں آئی تھی۔۔۔
تیزی سے احان کو پیچھے دکھیل کر وہ گہرے گہرے سانس لیتی اسے دیکھنے لگی جو اسکے شدید ردِعمل پر گنگ سا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
اس سے قبل تسنیم کچھ کہتی قدموں کی آواز پر احان تیزی سے وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا جبکہ تسنیم اپنے لبوں پر ہاتھ رکھتے آنسوؤں سے لبریز نظریں جھکا کر سلیپ کی طرف گھومی تھی۔
"یہ میں نے کیا کر دیا۔۔مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا پہلی بار وہ میرے قریب آیا تھا اور میں۔۔۔تسنیم کہتی ہوئی تیزی سے اپنے کمرے کی جانب بڑھی تھی۔۔
۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"عروج ہو آئی۔۔۔۔۔یہ سب کیا ہے؟ انمول کمرے میں آتے ہوۓ پوچھتی اسے پیکنگ کرتا دیکھ کر گھبرا گئی جس نے سنجیدگی سے اسے دیکھا تھا لیکن اگلے ہی پل انمول ٹھٹھک گئی
"یہ چہرے پر کیا ہوا ہے۔ کیا اس نے تم پر ہاتھ اٹھایا ہے؟
"نہیں اس نے نہیں یہ مجھے قدرت کی طرف سے تماچہ پڑا ہے۔۔۔عروج کہتے ساتھ ہینڈ بیگ کو کندھے پر ڈال کر جانے لگی کہ انمول نے اسے روکا۔۔
"اب کہاں جا رہی ہو؟ انمول نے گھبراتے ہوۓ اس کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا۔۔
"گھر۔۔۔عروج کہ بتاتے ہی انمول نے اسکے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کی تھی۔۔

"انمول بھابھی ہاتھ چھوڑ دیں پلیز.۔۔۔
"نہیں عروج تم ایسی حالت میں نہیں جا سکتی گھر والے کیا سوچیں گے تم میری ذمہ داری تھی انمول اب اگر اس طرح چلی گئی تو مجھے یہاں بھی جواب دینا پڑے گا اور اگر وہاں کسی کو حقیقت کا علم ہوگیا تو سب سے پہلے وقاص (شوہر) کو مجھے جواب دینا پڑے گا۔۔۔تم جانتی ہو اپنے بھائی کو ان معاملوں میں کتنے سخت ہیں۔۔۔تم مجھے بتاؤ وہ شخص کہاں ہے میں اس سے بات کرتی ہوں۔۔تم۔۔۔
"انمول بھابھی چپ کر جائیں پلیز۔۔۔عروج نے زور سے دونوں ہاتھوں کو اسکے سامنے جوڑے تھے کہ وہ جو بوکھلاہٹ کا شکار گئی تھی یکدم ہی چپ ہوگئی۔
"عروج۔۔انمول نے بےبسی سے اس کہ کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔
"مانتی ہوں بہت بڑی غلطی ہوئی ہے مجھ سے لیکن میں اب اس ننھی سی جان کو ختم کر کہ گناہوں میں اضافہ نہیں کرنا چاہتی اس لئے میں واپس لاہور جا رہی ہوں۔۔آپ فکر مت کریں میں کسی سے کچھ نہیں کہوں گی۔۔۔شادی انجوائے کریں۔۔۔اللّه حافظ۔۔۔۔عروج روتے ہوۓ اسے بول کر آنسوں صاف کرتی کمرے سے نکل گئی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تسنیم کمرے میں داخل ہوتے ہی اطراف میں دیکھنے کہ بعد اس نے باتھروم کا دروازہ چیک کیا پھر چلتی ہوئی بالکنی میں جیسے ہی آئی احان کو جھولے پر نیم دراز آنکھوں کو موندے دیکھ کر دبے قدموں چلتی خالی جگہ پر بیٹھتے اسکے سینے پر سر رکھ کر اسی کہ انداز میں نیم دراز ہوئی۔۔۔جھولا بڑا تھا کہ اس میں دو بندے باآسانی بیٹھ اور نیم دراز ہوسکتے تھے ۔۔
"احان ناراض ہو؟
"نہیں۔۔بس تھک گیا ہوں۔۔احان جو جاگا ہوا تھا آنکھیں موندے ہی بولا۔۔
تسنیم نے اسکی بات پر سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔
"پھر ایسے یہاں کیوں لیٹے ہو؟
"سکون کہ لئے لیکن اب زیادہ سکون ہے۔۔۔احان نے آہستگی سے آنکھیں کھول کر گردن موڑ کر اسکی آنکھوں میں جھانکا تھا تسنیم کہ غور کرنے پر بھی اسے کوئی شکوہ نہیں دکھا تھا جبکہ احان تو جیسے اس میں کھو سا گیا۔۔ہاتھ بڑھا کر اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے اس نے اپنے لب اسکی پیشانی پر رکھے تھے کہ تسنیم کو خود میں سکون اترتا محسوس ہوا۔۔
"مجھے بس کچھ وقت چاہیے احان۔۔
"میں نہیں دے سکتا تسنیم۔۔۔تسنیم کی بات پر احان نے اسے بغور دیکھتے ہوئے کہا کہ تسنیم کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی جسے نظر انداز کرتا وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔
"احان۔۔
"ششش! تسنیم وقت وہاں مانگا جاتا ہے جہاں امید ہو کہ سب سہی ہوجاۓ گا لیکن جو تمھارے ساتھ ہوا اگر میں تمہاری جگہ ہوتا تو شاید میں بھی ایسا ہی کرتا یا شاید شادی ہی نہیں کرتا۔۔۔میں نہیں چاہتا کہ یہ وقت گزر جائے وہ بھی ایک ریپسٹ کی وجہ سے۔۔۔احان اسے سمجھاتے ہوۓ تسنیم کہ ہاتھ تھام کر اسے اپنے ساتھ کھڑا کرتے تسنیم کو اپنے نزدیک کر چکا تھا جس نے کرب سے اپنی آنکھوں کو میچا تھا۔۔
"میں چاہتا ہوں تم خود اس اذیت سے لڑو تسنیم۔۔وہ آدمی تمھارے بھائی کہ ساتھ آج بھی مجھے دکھا تھا۔۔۔احان کی بات پر وہ اسے دیکھنے لگی۔۔رئیس اور جویریہ بیگم کہ جھوٹ بولنے سے قبل ہی وہ احان کو فون کر کہ سب بتا چکی تھی۔۔۔۔
"میں کیا کروں احان میں جب جب وہ دن سوچتی ہوں تو خود سے کراہیت آتی ہے اس نے مجھے ناپاک کر دیا۔ا احان کی تسنیم کو ناپاک کردیا۔۔۔۔مجھے سکون نہیں ملتا۔۔۔م۔!!
"ایسا مت سوچو تم آج بھی پاک ہو بالکل ویسی جیسے پہلے تھی شیشے کی طرح شفاف ، احان کی پاکیزہ محبت کی طرح۔۔۔تسنیم کی روتے روتے ہچکی بندھ گئی تھی کہ احان اسکی بات کاٹ کر کہتا اسے اپنے ساتھ لگائے کمرے میں آیا تھا جو مسلسل رو رہی تھی۔۔۔
"بیٹھو یہاں۔۔۔احان اسے بیڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا کہ تسنیم نے اپنی گرفت اس پر اور مضبوط کی تھی۔
"مجھے چھوڑ کر مت جانا احان۔۔۔مجھے کبھی بھی اکیلا مت چھوڑنا۔۔۔۔
"نہیں چھوڑ رہا جانِ احان۔۔تم بیٹھو شاباش میں پانی لاتا ہوں۔۔۔تسنیم کو بچوں کی طرح پچکارتا وہ اسے بیٹھا کر کمرے سے نکل گیا۔۔
"میں تمہیں اپنے ساتھ ہوۓ ظلم کی سزا ضرور دلواؤں گی۔۔۔تسنیم خود سے بڑبڑا کر لیٹ کر احان کا تکیہ اٹھا کر سینے سے لگا کر ایک بار پھر رونے میں مشغول ہوگئی تھی۔۔۔
احان جیسے ہی پانی لے کر آیا اسے ہنوز روتے دیکھ کر لب دبا گیا لیکن اگلے ہی لمحے وہ اپنا تکیہ اسکے بازؤں میں دیکھ کر دھیرے سے مسکراتا دروازہ بند کرتے تسنیم کی طرف بڑھا تھا جس نے قدموں کی آواز پر اسے دیکھا تھا احان اسکی سرخ آنکھوں کو دیکھ کر اسے تنگ کرنے کا ارادہ ترک کرتا مسکرا کر پانی کا گلاس اسکی جانب بڑھانے لگا جو اپنے چہرے پے ہاتھ پھیر کر اٹھ کر بیٹھی تھی جبکہ احان کا تکیہ ہنوز اسکی گود میں تھا۔۔
احان گلاس دے کر اسکے سامنے بیٹھا تھا۔جو پانی پی کر گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر آگے بڑھ کر اسکے سینے سے لگ گئی تھی۔۔
"تم ٹھیک ہو؟
"ہمم اب میں بہتر ہوں۔۔۔میں نے سوچ لیا ہے میں ریاض کہ خلاف ایف آئ آر کٹواؤں گی۔۔۔۔۔تسنیم نے کہتے ساتھ اسے دیکھا تھا ۔۔
"تمہیں لگتا ہے اسکے بعد اسے سزا ہو جاۓ گی؟
"ہاں۔۔تسنیم کی آواز بھیگی تھی۔۔
"نہیں تسنیم میں اپنی عزت کو ایک غلیظ شخص کی وجہ سے دنیا کہ سامنے لاکر یہ ظلم نہیں کر سکتا اگر یہ بات سامنے آئی تو لوگ تم پر بھی انگلی اٹھا سکتے ہیں میں یہ ہرگز ہرگز نہیں چاہوں گا۔۔۔
"ایک عصمت دری کرنے والا (Rapist) بدکردار آدمی کو ایسے کیسے جانے دوں تاکہ وہ اور شیر ہوجاۓ میری طرح کسی اور لڑکی کی عزت تار تار کردے۔۔۔تسنیم نفرت سے احان سے کہہ رہی تھی جو بغور اسے دیکھ رہا تھا۔۔
"میں مانتا ہوں تم ٹھیک ہو اسے سزا بالکل ملنی چاہیے لیکن ایسے نہیں۔۔۔۔احان کہتے ساتھ ذومعنی انداز میں مسکرایا تھا کہ تسنیم اسے دیکھتے رہنے کہ بعد احان کہ نزدیک آئی تھی جو اسکے چہرے پر جھکتا اسے اپنے حصار میں لے چکا تھا لیکن اس بار تسنیم نے اسے خود سے دور نہیں کیا تھا.۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ھاد۔۔۔جنید کمرے میں جھانکتا ھاد کو آواز دیتا اندر داخل ہوا جب باتھروم سے پانی گرنے کی آواز پر وہ قریب گیا تھا..ھاد تھوڑی دیر پہلے ہی گھر پہنچا تھا جنید جو گھر پر موجود نہیں تھا ھاد کہ انے کا سن کر اسکے کمرے میں آیا تھا۔۔
"ھاد میں یہیں ہوں۔۔۔جنید مسکرا کر ھاد کا گٹار پکڑ کر فلور کشن پر گرنے کہ انداز میں بیٹھتا بجانے لگا جب یُکدم ہی ھاد کا موبائل بجا تھا۔۔
جنید نے چونک کر موبائل کو دیکھا جو ھاد ڈریسنگ پر رکھ کر گیا تھا۔۔
"ھاد تمہارا فون آرہا ہے۔۔۔
"اٹھا لو شاید کوئی ضروری کال ہو.۔۔۔جنید کی آواز پر اس بے اندر سے ہی اسے کہا جو اٹھ کر ڈریسنگ ٹیبل تک آتا کال پک کرتا موبائل کان سے لگا چکا تھا۔۔
"السلام علیکم۔۔
"وعلیکم السلام ۔۔ھاد بھائی آپ پہنچ گئے کراچی؟ عائشہ نے سلام کا جواب دیتے جلدی سے پوچھا۔۔
"ہا ہاں میں پہنچ گیا ہوں۔۔۔جنید مسکراہٹ دباتے ہوۓ بولا کہ دوسری طرف شکر کیا گیا تھا۔
"ویسے کون بات کر رہی ہیں جان سکتا ہوں؟ جنید بات کو طویل کرنے کہ لئے پوچھتا چلتے ہوۓ دوبارہ فلور کشن پر بیٹھا تھا۔۔
"ارے میں عائشہ ہوں اتنی جلدی بھول گئے۔۔
"نہیں بھولا تو نہیں ہوں۔۔
"تو پھر کیوں پوچھا ایک سیکنڈ آپ کو نمبر دیا تھا نا میں نے سیو نہیں کیا ابھی تک ؟
"کیا واقعی۔۔جنید اسکی بات پر چونکا پھر موبائل کان سے ہٹا کر دیکھا جہاں "عائشہ" لکھا تھا۔
"اوہ سوری سوری میں نے دیکھا نہیں تھا۔۔جنید نے جلدی سے معذرت کی وہ بھی کیا سوچ رہی ہوگی۔۔۔
یکدم ہی باتھروم کا دروازہ کھول کر گیلے بال ماتھے پر گرے تھے وہ بنا شرٹ کہ باہر آیا تھا
"کس کا فون ہے؟ ھاد اسکے قریب آتا مسکرا کر پوچھنے لگا۔
"عائشہ۔۔۔۔جنید نے اسے نام بتایا کہ ھاد نے جلدی سے اسکے ہاتھ سے موبائل لیا تھا جبکہ عائشہ جو ہانم کو وہاں آتا دیکھ کر اسے ہاتھ کہ اشارے سے قریب بولا رہی تھی موبائل اسے تھما چکی تھی۔
"ھاد بھائی ہیں۔۔۔پوچھو کہ پہنچ گئے۔۔۔
"ل لیکن۔۔
"اففف! ہماری جان بچائی ہے انہوں نے زخمی بھی ہوۓ ہیں اب ہمارا اتنا فرض تو بنتا ہے۔۔۔عائشہ اسے سمجھاتی ہوئی وہاں سے چل دی تھی جبکہ ہانم کی نظروں کہ سامنے وہ منظر گھوم گیا جب اسے گولی لگی تھی۔۔۔
"عائشہ۔۔۔ہیلو عائشہ۔۔۔ھاد عائشہ عائشہ کر رہا تھا جب ہانم نے آنکھوں کو بند کرتے کھولی تھیں
"السلام علیکم۔۔ہم ہانم بول رہی ہیں۔۔۔ہانم کی آواز پر ایک پل کہ لئے ھاد روکا تھا نظر گھما کر جنید کو دیکھا جو اسی کو دیکھ رہا تھا۔
"وعلیکم السلام ہانم کیسی ہیں آپ؟ ھاد ایک نظر جنید کو دیکھ کر کھڑکی کی جانب بڑھا تھا جبکہ جنید نے چونک کر مشکوک نظروں سے اسکی پشت دیکھی تھی ھاد کی گھمبیر آواز پر ہانم کی پلکیں لرزنے لگیں ایسے جیسے وہ سامنے ہی موجود ہو۔۔
"ہم ٹھیک ہیں۔۔آپ کیسے ہیں؟
"اچھا ہوں۔۔۔ھاد مسکرا کر کہتا اپنے ہاتھ کو دیکھنے لگا جبکہ جنید تو دم بخود سا بیٹھا اپنے بھائی کو سن رہا تھا ھاد جہانزیب کا یہ کون سا روپ تھا کہ وہ کسی "لڑکی" سے اتنی دیر بات کر رہا تھا وہ بھی ایسا نرم لہجہ کہ اگر ہادی بھی اسے ابھی دیکھ لے تو اپنے کانوں پر یقین نہ کرسکے۔۔ایسا نہیں تھا کہ وہ مغرور یا اس میں کوئی گھمنڈ تھا لیکن لڑکیوں کہ ساتھ وقت گزاری کرنے سے زیادہ وہ اپنی منزل کو حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا تھا۔۔
"آپ کا زخم اب کیسا ہے؟ ہانم نے اسکے جواب پر لب کاٹتے ہوئے پوچھا تھا۔۔
"اب بہتر ہے۔۔۔۔ آپ کو میری فکر ہے یہ جان کر اچھا لگا۔۔ھاد نے شریر لہجے میں اسے کہا تھا کہ وہ سٹپٹا گئی تھی۔
"نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے۔۔۔ہانم کہ تیزی سے کہنے پر ھاد کی مسکراتے غائب ہوئی تھی۔۔
"ہمم یہ بھی ٹھیک ہے اگر آپ کو غلط نہ لگے تو میری ایک بات مانیں گی۔۔۔۔ھاد کی بات پر وہ ایک لمحے کہ لئے سوچ میں پڑ گئی آیا وہ ہاں کرے یا نہیں جبکہ جنید کہ کان کھڑے ہوگئے تھے آخر کون تھی وہ جس سے ھاد اپنی بات منوانے کہ لئے پہلے اجازت مانگ رہا تھا۔۔۔
"ہانم میں منتظر ہوں۔۔۔
"جج جی کیا ؟ ہم ہمارا مطلب جی مانیں گے۔۔بالآخر اس نے ھاد کو اجازت دی تھی۔۔۔
"کوئی بھی مسلئہ یا پریشانی ہو تو مجھے بلاجھجھک فون کر دیجئے گا۔۔میں آجاؤں گا۔۔۔۔ھاد کہ کہتے ہی جہاں ہانم کا دل دھڑکا تھا وہیں جنید کہ صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تھا۔۔۔
لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہ اسکے قریب آکر اسے گھور رہا تھا جس نے اسے دیکھ کر مسکراہٹ اچھالی تھی۔
"ہوسکے تو میرا نمبر اپنے موبائل میں بھی محفوظ کرلیجئے گا۔۔۔رکھتا ہوں اپنا خیال رکھیے گا۔۔۔اللّه حافظ۔۔۔ھاد اسے کہتا کال کاٹ چکا تھا جبکہ ہانم اسے یہ نہیں کہہ سکی تھی کہ میرے پاس موبائل نہیں ہے۔۔۔یکدم ہی وہ موبائل ہاتھ میں دبائے ہانم نے اپنے کمرے کی جانب دوڑ لگائی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"چھوڑو مجھے کون ہو تم۔۔۔چھوڑ دو مجھے۔۔۔چھوڑ دو اٹھارہ انیس سالہ لڑکی چیختی تڑپتی خود کو عارف اور کبیر سے چھڑوانے کی کوشش کرنے میں نڈھال ہوچکی تھی سامنے اپنے تخت پر حرا بائی نیم دراز کہنی کہ بل لیٹی بیس منٹ سے اسکا تماشا دیکھ رہی تھی۔۔
"اے بس کر چیخنا چلانا جسکے ساتھ بھاگ کر نکاح کیا تھا وہ خود تجھے چالیس ہزار میں بیچ کر گیا ہے سمجھی۔۔۔حرا بائی یکدم ہی اٹھ کر اسکے پاس جا کر لڑکی کا جبڑا سختی سے دبوچ کر بتاتی اسکے پیروں تلے سے زمین کھینچ چکی تھی۔۔۔
"لے کر جاؤ اسے اب یہاں سے اور تو لائبہ ہیرا سے کہہ اسے تیار کرے۔۔۔اب اتنے پیسے دے کر لی ہے تو اسکا بھی فرض بنتا ہے مجرا کر کہ اس کوٹھی کو دگنا کما کر ہمیں خوش کرے۔۔۔حرا بائی دونوں کو حکم سناتی وہاں سے اپنے کمرے کی طرف چل دی تھی جبکہ شانزا بے جان وجود کہ ساتھ انکے ساتھ کھینچتی چلی جا رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
"آؤ بھئی رئیس میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا۔۔ریاض اسے دیکھتے ہی چہکا تھا۔۔۔
"مجھے رات کو بلانے کی وجہ جان سکتا ہوں۔۔۔رئیس نے ناگواری سے اسے دیکھتے ہوۓ پوچھا جس کہ چہرے پر شیطانی مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی۔۔۔
"کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جنھیں رات کہ اندھیرے میں ہی کیا جاۓ تو ہمارے لئے فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں ویسے بہن کی شادی کردی مجھے تو بلا لیتے۔۔۔
"ریاض میری بہن کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ورنہ جو ڈرگز تم میرے ذریعے سپلائے کروا رہے ہو انھیں میں خود پولیس کہ حوالے کردوں گا۔۔۔رئیس جھٹکے سے اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا غرایا تھا کہ ریاض نے اسکے پیٹ پر لات رسید کی تھی کہ وہ پیچھے جا کر گرا تھا اس سے قبل رئیس جوابی حملہ کرتا ریاض کے آدمی اسلحہ سمیت اسکے سر پر آ کھڑے ہوئے تھے۔۔
رئیس قہرآلود نظروں سے اسے دیکھتا اٹھ کر کھڑا ہوتا اپنا غصّہ ضبط کرنے لگا۔۔
"پانی پیو۔۔۔پھر کام کی بات کرتے ہیں۔۔۔۔ریاض اپنے مخصوص انداز میں ٹانگ پر ٹانگ رکھتا صوفے پر پھیل کہ بیٹھتے ہوۓ بول کر سگریٹ پینے میں مشغول ہوگیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"مجھے بچا لیں پلیز۔۔۔مجھ سے غلطی ہوگئی ہے میں اسکی باتوں میں آکر اسکی محبت میں بہک گئی تھی پلیز مجھے جانے دیں یہاں سے ورنہ میں مر جاؤں گی۔۔۔۔
"ارے اب کیوں ماتم کر رہی ہے۔۔۔۔غلطی نہیں گناہ کیا ہے تو نے جو ماں باپ کہ سر میں خاک ڈال کر ایک شیطان کہ ساتھ بھاگ کر اسکے ساتھ جھوٹا نکاح کر کہ خود کو آگ میں جھونک دیا اب مزہ لے اس جہنم کا۔۔۔۔۔ہونہہ! جانتی ہے زندگی گزر جاتی ہے عزت کمانے میں لیکن تم جیسی ہی لڑکیاں ہیں جو ایک جھٹکے میں تا عمر انکی پیشانی پر ذلّت لکھوا دیتی ہیں اور لعنت ہے ایسے لڑکوں پر جو انسائی شکل میں فرعون کہ چیلے ہیں جنھیں لگتا ہے وہ جو مرضی کرتے پھیریں گے انکا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا لیکن انسان بھول گیا ہے کہ اللّه کی پکڑ بڑی سخت ہے۔۔اب تو جتنا مرضی رولے پیٹ لے یہاں سے نہیں نکل سکتی بالفرض اگر نکل گئی تو کہاں جاۓ گی؟ انہی کہ پاس جن کو زندہ درگور کر آئی۔۔شانزا کہ رونے منّت سماجی کرنے پر یکدم ہی ہیرا کو غصّہ آیا تھا شانزا تو جیسے سر اٹھانے کہ قابل نہیں رہی تھی۔۔
"لے نہا کر یہ لہنگا پہن کر آ۔۔۔۔۔ہیرا اس کی گود میں لہنگا پھنک کر کمرے سے نکل گئی تھی جبکہ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یاسمین ہاتھ میں ٹرے لئے کمرے میں داخل ہوئی تھی بیڈ پر ہی دونوں باپ بیٹی ٹی وی دیکھنے میں محو تھے جبکہ تیمور عرصم کی گود میں بیٹھا چاکلیٹ کو کھولنے کی جدو جہد کر رہا تھا۔۔۔
یاسمین نے مسکرا کر بیڈ پر ٹرے رکھا تھا جس میں فرنچ فرائز ،نگیٹس، اور دوکپ چائے کہ رکھے ہوۓ تھے۔۔رات کہ گیارہ بج رہے تھے۔۔
"حفصہ بیٹا چلو پہلے کھا لو۔۔۔۔یاسمین کی آواز پر دونوں باپ بیٹی نے چونک کر اسے دیکھا تھا حفصہ تیزی سے اسکے پاس آئی تھی جبکہ تیمور بھی اپنی ماں کی آواز پر عرصم کی گود سے اتر رہا تھا جسے عرصم نے اٹھا لیا تھا۔۔
"کہاں شہزادے. ۔۔۔
"ہاہاہا پاپا اسے بھی بھوک لگ رہی ہوگی۔۔یہ لو تیمور۔۔۔حفصہ ہنستے ہوۓ اسکے ہاتھ میں چپس پکڑانے لگی یاسمین مسکرا کر گھوم کر عرصم کی طرف آئی تھی۔
"اسے مجھے دے دیں۔۔
"نہیں یہ ہمارے پاس ہے آپ بھی بیٹھیں میرے پاس، آجائیں۔۔۔ عرصم منع کرتا اپنے پاس ہی جگہ دینے لگا وہ جو اپنی جگہ پر جانے کا ارادہ کر رہی تھی عرصم کہ کہنے پر مسکرا کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
(یہ لیں آپ کی چائے۔۔۔ یاسمین سائیڈ ٹیبل پر کپ رکھتی اپنا کپ اٹھا کر اسکے پاس آکر بیٹھی ہی تھی کہ رئیس نے ناگواری سے اسے دیکھا۔۔
"دور رہ کر بیٹھ سکتی ہو دیکھ نہیں رہی فائلز پڑھی ہیں۔اسکے جھڑکنے پر یاسمین لب دبا کر اٹھی ہی تھی کہ ہاتھ میں پکڑے چائے کہ کپ سے چائے چھلک کر کاغذ پر گری تھی وہ جو بستر پر فائلز پھیلائے آفس کا کام کر رہا تھا جھٹکے سے اٹھ کر اسکی جانب بڑھا تھا جو کپ کو سائیڈ ٹیبل پر رکھتی گھبراہٹ میں کاغذ کو ڈوپٹے سے صاف کرنا شروع ہوچکی تھی جب اچانک ہی رئیس اسے کھینچ کر باتھروم میں داخل ہوا تھا۔
"رئیس سوری میں نے جان پوچھ کر نہیں گرائی رئیس۔ یاسمین اس سے معافیاں مانگ رہی تھی جب رئیس نے اسکا ہاتھ چھوڑ کر کلائی پکڑتے ساتھ گرم چائے اسکے ہاتھ پر انڈیلی تھی کہ وہ کانپ گئی تھی۔۔۔ماں!!!!! )
"رئیس سوری میں نے جان پوچھ کر نہیں گرائی رئیس۔ یاسمین اس سے معافیاں مانگ رہی تھی جب رئیس نے اسکا ہاتھ چھوڑ کر کلائی پکڑتے ساتھ گرم چائے اسکے ہاتھ پر انڈیلی تھی کہ وہ کانپ گئی تھی۔۔۔ماں!!!!! )
"آ۔۔یاسمین نے چونک کر اپنے ہاتھ کو دیکھا تھا جسے عرصم نے تھاما ہوا تھا یاسمین نے نظر اٹھ کر اسے دیکھا جو اسی کی طرف متوجہ تھا۔۔
"کہاں کھو جاتی ہیں آپ؟ ہم تو آپ کہ پاس ہیں۔۔۔۔عرصم شرارت سے اسے چھیڑ رہا تھا جس نے آنکھوں میں نمی لئیے اسے دیکھا تھا۔۔۔
عرصم یکدم سنجیدہ ہوا تھا لیکن اگلے ہی پل وہ ساکت رہ گیا۔۔۔
یاسمین اسکے کندھے پر سر رکھے آنکھوں کو موندے ایک ہاتھ اسکے بازو کہ گرد حمائل کر کہ بیٹھی رہی۔۔۔
"میں تھک گئی ہوں عرصم ، ماضی کہ کرب ناک وقت کو میں بھول جانا چاہتی ہوں۔۔۔یاسمین کی آواز بھیگ گئی تھی عرصم گردن موڑے اسے ہی دیکھ رہا تھا جو شادی کہ بعد پہلی بار اس کہ نزدیک آِئی تھی۔
"ہم آپ کی مدد کریں گے یاسمین لیکن کچھ ماضی بھولائے نہیں بھولتے مگر ہم اپنی نہیں تو آپکی مدد ضرور کریں گے یہ ہمارا وعدہ ہے آپ سے۔۔۔عرصم کہ چہرے پر اذیت در آئی تھی یاسمین نے اسکی بات پر چونک کر سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔ ۔۔
"کیا آپ محبت کرتے تھے اپنی بیوی سے؟ یاسمین کہ سوال پر وہ افسردگی سے مسکرایا تھا۔۔۔
"محبت نہیں احترام تھا اگر آج وہ ہوتیں تو شاید وہ بھی ہو ہی جاتی لیکن محبت نہیں ہمیں عشق ہے اپنے والدین اور اپنی بہن سے جنہیں تین دن ہی ہوئے تھے دنیا میں آئے اور ہمیں تنہا چھوڑ کر تینوں دنیا سے رخصت ہوگئے کتنا عرصہ ہم ان سے ناراض رہے کہ وہ ہمیں کیوں ساتھ لے کر نہیں گئے۔ ہمیں انکی کمی آج بھی شدّت سے محسوس ہوتی ہے یاسمین اس وقت ہماری عمر صرف سات سال ہی تو تھی اتنے بڑے نہیں تھے لیکن جیسے جیسے جوان ہوتے گئے زخم تو بھرنے لگے تھے لیکن اس تکلیف کی شدّت آج بھی ہمارے دل میں جوں کی توں ہے.۔۔۔جانتی ہیں ہم نے اپنی شہزادی کا نام خود رکھا تھا یوں لگتا تھا جیسے کوئی سچ کی شہزادی بھٹک کر ہمارے گھر آ پہنچی ہو اگر وہ ہوتی تو آپ بھی ہماری بات کا یقین کرتیں۔۔۔عرصم کو معلوم ہی نہیں چلا کہ وہ رو رہا تھا یاسمین بغور اسے دیکھ رہی تھی۔۔
"ہم ہماری "ہانم داؤد" ہماری شہزادی بہن کاش ہم اسے روک لیتے نا دینے کی ضد کرتے۔۔۔عرصم نے کہتے ساتھ آنکھوں کو میچ کر گہری سانس خارج کرتے گردن گھوما کر اسے دیکھا تھا۔۔۔
"پاپا کیا ہوا؟ حفصہ کی آواز پر عرصم آنسوں پونچھ کر اپنی بیٹی کی جانب متوجہ ہوا تھا جبکہ یاسمین لب دبا کر اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"کیا مسئلہ ہے آپ سب ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں مجھے ؟ ھاد نے جھنجھلا کر چمچے کو پلیٹ میں رکھ کر ان سب کو دیکھا تھا۔۔۔
"ہمیں تو کچھ بھی نہیں ہوا لیکن ہمارے ھاد صاحب کو ضرور کچھ ہوگیا ہے،سچ بتاؤ کسی نے جادو وادو تو نہیں کر دیا ہے ۔۔ہم نے تو اپنے لڑکیوں سے دور رہنے والے بھائی کو بھیجا تھا یہ تو دو ہی دن میں آخر کس کی زلف کہ اسیر ہوگئے جو اتنے سالوں سے نہیں ہوا تھا وہ اب ہونے جا رہا ہے جنید آگے کو ہوکر معنی خیز لہجے میں پوچھنے لگا جس کی آنکھوں کہ سامنے چھم سے ہانم کا روتا ہوا چہرہ آیا تھا کہ وہ دھیرے سے مسکرا اٹھا تھا لیکن اگلے ہی پل وہ بھونچکا رہ گیا جنید نے زور سے میز پر ہاتھ مار کر باپ بھائی اور اپنی ماں کو دیکھا تھا۔
"دیکھا پاپا میں نے کہا تھا نا گڑبڑ ہوچکی ہے۔۔۔ہمارے مشہور ہر دل عزیز ھاد جہانزیب کسی "ہانم" نامی کہ زلف کہ اسیر ہو چکے ہیں لیکن میں پہلے ہی سب کو بتادوں سب سے پہلے شادی میں کروں گا۔۔۔جنید تو جیسے سب سوچ کر بیٹھا تھا۔۔ھاد نے سٹپٹا کر اپنی ماں کو دیکھا تھا جو مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھیں۔۔
"ھاد یہ ہانم کون ہے؟ سیرت بیگم کی آواز پر ھاد نے انھیں دیکھا تھا
"امی وہ۔۔۔وہ
"برخوردار کیا وہ وہ لگایا ہوا ہے اگر ایسی کوئی بات ہے تو بلاجھجھک بتا دو ورنہ کہیں ایسا نا ہو تمہاری ماں کا ارادہ بدل جاۓ۔۔جہانزیب صاحب نے دونوں ہاتھ اٹھا کر اسے وارن کرنے کہ انداز میں کہا تھا کہ سب ہنس دیے تھے جبکہ ھاد اپنی ماں کو دیکھنے لگا۔۔
"امی اگر آپ لوگوں کو حقیقت بتائی تو۔۔آہ نہیں۔۔۔ھاد سوچتے ہوۓ سر جھٹک گیا۔۔
"ھاد بھائی بتا بھی دیں ہماری ہونے والی بھابھی کہ بارے میں؟ ہادی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے کہا تو اس نے گہری سانس لی۔۔
"ہانم وہ مجھے روڈ پر ملی تھیں میرا مطلب ہے کہ سڑک پار کر رہی تھیں کہ اچانک ہماری گاڑی سے ٹکر ہونے والی تھی۔۔
"اوئے ہوئے بالکل فلمی انداز۔۔۔جنید نے سیٹی بجاتے ہوۓ خود سے ایک سال چھوٹے بھائی کو چھیڑا تھا کہ وہ سر کو نفی میں ہلاتا سب بتاتا چلا گیا سوائے اس کے' کہ وہ کون ہے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔
"ارے میری جان آگیا۔۔۔۔حرا بائی کی نظر جیسے ہی اندر آتے ساجد پر پڑی اٹھ کر باہیں پھیلا کر آگے بڑھ کر اس سے گلے لگی تھی۔۔
"مل گئی؟
"ملی تھی لیکن یار کہ ساتھ بھاگ نکلی۔۔۔۔حرا بائی اس سے الگ ہوکر پوچھنے لگی جس نے نفرت سے جواب دیا تھا۔
"کیا مطلب ہے ؟ اور وہ دوسری کہاں ہے۔۔حرا بائی ناسمجھی سے پوچھتی سونیا کا پوچھنے لگی۔
"مطلب کو چھوڑ اور اس دوسری کو مروانا پڑا سر پر چڑھ گئی تھی۔
"لے تو میری لڑکیاں ختم کرنے میں لگا ہے،بھجوا دیتا واپس میں سمبھال لیتی۔
"چل چھوڑ نا۔۔۔
"حرا اماں۔۔۔ ساجد کی بات مکمل ہوتے ہی ہیرا وہاں آئی تھی کہ ساجد اسے دیکھ کر مسکرایا تھا۔۔
"کیسی ہے ہیرا۔۔۔۔ساجد نے قریب جاتے ہوۓ پوچھا کہ حرا بائی نے اسے پیچھے کیا۔۔
"ہٹ اسکے پاس سے بعد میں تجھے بری لگے گی۔۔تیری وجہ سے رشوت دے کر منہ بند کروانا پڑھتا ہے اور تو۔
"ارے بس بھی کر نہیں دیکھ رہا تیری لڑکیوں کو۔۔۔آتے ہی دماغ کھا رہی ہے۔۔۔ساجد چڑ کر اسے کہتا وہیں تخت پر جا کر نیم دراز ہوا تھا
"تو اب کیوں کھڑی ہے ہاں جا۔۔حرا بائی نے اس کا غصّہ ہیرا پر نکالا۔۔
"میں تو یہ بتانے آئی تھی کہ وہ نئی لڑکی باہر آنے کو تیار نہیں ہے۔
"کپڑے نہیں بدلے؟ حرا بائی نے اسکی بات پر سخت لہجے میں پوچھا ساجد جو انکی باتیں سن رہا تھا اٹھ کر دونوں کہ قریب آیا۔۔
"کیا ہوا کون ہے؟
"ہونہہ! ہے ایک بدبخت یار کہ ساتھ بھاگ کر نکاح کر کہ دو دن رہی پھر اسی (گالی) نے یہاں بیچ دیا، میں آتی ہوں تم جاؤ تازہ دم ہو لو۔۔۔حرا بائی کہتے ساتھ آگے بڑھنے لگی کہ ساجد نے اسے روک لیا۔۔
"اسے میرے حوالے کردے۔۔۔کچھ ہی دن میں دماغ ٹھکانے آجائے گا۔۔
"کوئی ضرورت نہیں ہے بیٹھو آرام سے میرے کوٹھے کی کوئی لڑکی اب مرنی نہیں چاہیے۔۔۔حرا بائی نے یکدم ہی غصّے میں اسے جھڑکا تھا جس نے اسکی بات ان سنی کردی تھی۔۔
"صرف کچھ دن جب تک اس ہانم کا معلوم نہیں چل جاتا۔۔ساجد بنا پلٹے بولتے ساتھ کمرے کی طرف بڑھا گیا تھا جبکہ حرا بائی اپنا ماتھ پیٹ کر رہ گئی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
شام کا وقت تھا ایسے میں ہانم کچن کی چوکھٹ پر کھڑی نادیہ بیگم کو آٹا گوندھتے ہوۓ دیکھ رہی تھی کہ نادیہ بیگم نے کسی احساس کہ تحت پلٹ کر دروازے کی سمت دیکھا تو اسے دیکھ کر مسکرائیں۔۔
"آؤ نا ہانم۔۔۔۔نادیہ بیگم نے اسے اندر آنے کو کہا جو اچانک ہی گھبرا گئی تھی۔
"نہیں ہم بس آپ کو دیکھ رہی تھیں ماشاءالله آپ بہت اچھا آٹا گوندھ رہی ہیں۔۔ہانم کی بات پر نادیہ بیگم مسکرائیں پھر کچھ سوچ کر اسے مخاطب کیا۔۔
"ہانم تمہیں کھانا بنانا آتا ہے؟ نادیہ بیگم کہ پوچھتے ہی اس نے شرمندگی سے نظریں جھکا کر لب چباتے ہوۓ نفی میں سر ہلایا۔۔۔
"کوئی بات نہیں میں سیکھا دوں گی.۔۔۔سیکھنا چاہو گی ؟ نادیہ بیگم کی بات پر ہانم نے نم ہوتی نگاہیں اٹھا کر انھیں دیکھ کر زور و شور سے سر کو اثباب میں ہلایا تھا۔۔
"جی ضرور ہم سیکھیں گے.۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ہممم تو تم ہو۔۔۔اچھی لگی مجھے۔۔۔ساجد شانزا کو سر تا پیر گہری نظروں سے دیکھتا قدم قدم چلتا اس تک آیا تھا جو دیوار کہ ساتھ لگی کھڑی روئے جا رہی تھی۔۔
"نن۔ نہیں مجھے جانے دو۔۔
"معافی چاہتا ہوں میری جان۔۔۔اگر تمہیں جانے دیا تو میں کس کھلونے کہ ساتھ کھیلوں گا ہاں بتاؤ۔۔۔
"ن نن نہیں۔۔۔۔شانزا خوف سے بری طرح ہکلاتے ہوۓ ایک طرف سے بھاگنے لگی تھی کہ ساجد نے درمیاں میں تانگ آڑا کر اسے منہ کہ بل گراتے قہقہہ لگایا تھا۔۔۔
"جانے دو مجھے جانے دو۔۔۔۔جانے دو۔۔۔۔جانے دو۔۔۔الله!!!۔۔حلق کہ بل چیختی وہ اس سے دور ہوئی تھی جو کھڑا اس کا تماشا دیکھ رہا تھا۔۔
"چیخو جتنا مرضی چاہے کوئی نہیں آئے گا۔۔۔۔ساجد سرد لہجے میں کہتا نفرت سے اسے دیکھ کر آگے بڑھ کر اسکے ہاتھ کو اپنے بوٹ سے مسلنے لگا کہ وہ تڑپتی ہوئی چیخ رہی تھی
"چیخ اور زور سے چیخ۔۔۔۔چیخ!!!!! ساجد دھاڑ رہا تھا بیک وقت دونوں کی آوازیں کمرے میں گونج رہی تھیں شانزا کہ ہاتھ کی پشت سے خون نکلتے ہاتھ سے بہنے لگا بری طرح کانپتی وہ اسکی تانگ کو ہٹانے کی کوشش کر رہی تھی جبکہ ساجد "چیخ چیخ" کی گرداں کرتے ساتھ اسکا ہاتھ مسل کر پیر ہٹا کر اسے کمر سے اٹھا کر زور سے زمین پر پٹخ چکا تھا کہ اسے لگا اسکے جسم کی ہر ہڈی چٹخ گئی ہو۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ہانم آپی۔۔۔ آپ۔۔۔۔ارے یہ کیا آٹا گوندا جا رہا ہے۔۔نورین ہاتھ میں موبائل پکڑے ڈھونڈھتی ہوئی اسے وہاں آئی تھی لیکن اسے دیکھ کر خوشگوار حیرت سے پوچھنے لگی۔۔ ہانم کہ ماتھے اور گال پر آٹا لگا ہوا تھا جبکہ وہ خود روہانسی ہو رہی تھی۔۔۔نادیہ بیگم اسے بتا کر واشروم گئیں تھیں۔۔۔
"ویسے ہانم آپی یہ اتنا پتلا کیوں ہورہا ہے؟ نورین جسے خود ابھی آٹا گوندنا نہیں آتا تھا صرف عائشہ تھی جسے کھانا بنانے کا شوق تھا تبھی نادیہ بیگم کہ ساتھ اکثر وہ کِچن میں پائی جاتی تھی۔۔
"پانی کی وجہ سے۔۔۔
"ہاں تو سہی ہے نا اس میں تو پانی ہی ڈلتا ہے۔۔نورین نے کندھے اچکا کر اسے کہا جو گومگو کی کیفیت میں اسے دیکھ رہی تھی۔
"اوفو اسے ڈھک کر رکھ دیں اور چلیں میرے ساتھ
"لیکن۔۔۔ہانم کو اب بھی تسلی نہیں ہوئی تھی۔
"ارے میں نے امی کو دیکھا ہے وہ آٹا گوندھ کر یونہی ڈھک کر رکھتی ہیں اب چلیں آپ میرے ساتھ جلدی سے۔۔
نورین سمجھاتے ہوۓ پرات پر بڑا ڈھکن رکھتی ہانم کو کچھ بھی کہنے کا موقع دئیے بغیر کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔
ہانم اور وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئیں عائشہ ہانم کو دیکھ کر ہنستی ہوئی لیپ ٹاپ اٹھا کر اسکے پاس آئی تھی۔۔
"ہانم دیکھو تو ابّو لائے ہیں ابھی۔۔۔عائشہ اسے دکھاتے ہوئے بولی جو لیپ ٹاپ کو ناسمجھی سے دیکھ رہی تھی۔۔
"کیا ہے یہ؟ ہانم کی بات پر دونوں بہنوں کو سہی معنوں کا جھٹکا لگا تھا۔۔
"لیپ ٹاپ۔۔۔۔۔کیا آپ کو نہیں معلوم؟ نورین نے حیرت سے اس سے استفسار کیا تھا۔۔۔
"نن نہیں کبھی دیکھا ہی نہیں ہاں کمپیوٹر اور موبائل کا معلوم ہے وہ اس سس۔۔۔۔بولتے بولتے ہانم اٹکی تھی۔۔
"سمجھ گئیں اس شخص کا نام لینے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔عائشہ نے سنجیدگی سے اسے جواب دیا تھا۔۔
"ہاں بالکل ٹھیک کہہ رہی ہوں ویسے بھی سنا نہیں ہے ایسی مخلوقوں کا ذکر کرنے سے وہ حاضر ہوجاتے ہیں۔۔
"استغفرالله اللّه نہ کرے لڑکی۔۔تم تو مت ہی کچھ کہا کرو چلو اب۔۔۔۔عائشہ نے دہل کر اسے گھوری سے نوازتے ہوۓ نورین کو کہا تھا جبکہ ہانم کا دل یکدم ہی کانپ گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیرا جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی سامنے کا منظر دیکھ کر کانپ گئی۔۔
شانزا رسیوں سے بندھی زخمی حالت میں سپاٹ چہرے کہ ساتھ بیٹھی تھی چہرے اور بازؤں پر نیل بنے ہوۓ تھے جابجا زخموں سے خون رس رہا تھا یُکدم ہی اسے ساجد سے خوف محسوس ہونے لگا تھا۔۔۔
"ہیرا۔۔۔۔۔ساجد کی آواز پر وہ جو شانزا کو دکھ سے دیکھ رہی تھی اچھل پڑی تھی ساجد جو نک سک سا تیار خشبوؤں میں بسا اندر آیا تھا شانزا کو دیکھ کر مسکراتے ہوۓ ہیرا کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔
"جی جی۔۔
"ارے کیا ہوا گھبرا کیوں رہی ہو یار۔۔تمہیں کچھ نہیں کر رہا۔۔۔ساجد اسکے چہرے پر خوف دیکھ کر کمر سے تھام کا اسے نزدیک کرتا اسکے لبوں پر انگوٹھا پھیرنے لگا۔۔
شنزا ہنوز ساکت بیٹھی تھی یوں جیسے وہاں وہ اکیلی ہی ہو۔۔۔
"مم۔۔
"ابھی مجھے کام ہے رات کو آتا ہوں حرا بائی کو مت بتانا۔۔ہمم۔۔۔۔ساجد اسے اور نزدیک کرتا سرگوشی کر کہ کہتا گردن کو لبوں سے چھوتا پیچھے ہٹ کر شانزا کو دیکھنے لگا۔۔
"ہیرا اسے اچھے سے تیار کر دینا۔۔۔۔ساجد اسے کہتا کمرے سے نکل گیا تھا اسکے جاتے ہی ہیرا نے زور سے اپنی گردن کو ڈوپٹے سے رگڑا تھا۔۔
شانزا نے اسکی حرکت پر تلخی سے مسکراتے ہوۓ اسے دیکھا تھا ہیرا نے اسکے مسکرانے پر سوالیہ انداز میں آئبرو اچکائی
"کیوں مسکرا رہی ہے؟
"ایک طوائف ہو کر ایسی حرکت تمہیں زیب نہیں دیتی۔۔شانزا تکلیف ہونے کہ باوجود بول رہی تھی۔۔۔
"زیادہ زبان چلانے کی ضرورت نہیں ہے تجھے سمجھی اپنی خیر منا ایک ہی رات میں کیا حشر کردیا ہے اس جانور نے تیرا۔
"کیا کرے گا سوائے اس کہ مجھے جان سے مار دے گا تو مار دے۔۔۔چھین لے یہ سانسیں بھی کردے ختم تاکہ میرے ماں باپ کی تکلیف میں تھوڑا افاقہ ہوسکے۔۔میں نے جو کیا اسکی اگر یہی سزا ہے تو ٹھیک ہے مار دے۔
"ہونہہ! یہ صرف سوچ ہے تیری نہ تو تیرے مرنے سے وہ ذلّت دھلے گی نہ ہی تیرے مر جانے کا کسی کو افسوس ہوگا۔۔۔رہا مرنا تو اتنی آسانی سے یہ شیطان بھی تجھے نہیں مارے گا۔۔۔اس کوٹھے کی لڑکیاں ہانم نامی بلا کی وجہ سے مر رہی ہیں جس کا غصّہ و درندگی وہ ہم پر نکال کر تسکین حاصل کرنے کی کوشش میں جنونی ہو چکا ہے۔۔۔ہیرا اسکے سامنے بیٹھتے ہوۓ بتا رہی تھی۔۔
"مم مطلب کون ہے وہ اور اتنا کچھ تمہیں کیسے پتہ چلا؟ شانزا حیرت زدہ سی اس سے پوچھنے لگی ۔
"حرا اماں سے دراصل وہ میری حقیقی "ماں" ہے لیکن یہ بات یہاں رہنے والی کسی لڑکی،عورت کو معلوم نہیں ہے تو بھی اب اپنا منہ بند رکھنا۔۔۔۔چل اٹھ کپڑے بدل تب تک میں مرہم لاتی ہوں۔۔۔ ہیرا اسے حیران چھوڑتی کمرے سے نکل گئی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احان جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا تسنیم کو دیکھ کر ٹھٹھک گیا وہ جو گھیردار گہرے ہرے رنگ کا فراک پہنے میک اپ کیے ہاتھوں میں سونے کے کڑے ڈالے اپنے کھلے بالوں کو ایک طرف سے آگے کئے بالوں کو سلجھا رہی تھی آئینے میں احان کا عکس دیکھ کر شرما کر نظریں جھکا گئی۔۔
"بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔۔احان قریب آکر پیچھے سے اسے اپنے حصار میں لیتے ہوۓ سرگوشی میں کہتا تسنیم کو گھما کر اسکی لرزتی پلکوں کو دیکھتا جھک کر باری باری آنکھوں کو نرمی سے چوم کر پیچھے ہوا تھا پھر کرتے کی جیب سے مخملی ڈبیا نکال کر اسکے سامنے کی جس نے مسکرا کر لیتے اسے کھولا تو مسکراہٹ گہری ہوگئی۔۔
"پسند آئی؟
"ہاں بالکل یہ بہت خوبصورت ہے۔۔
"تمہاری منہ دکھائی کا تحفہ ہے۔۔۔احان نے مسکراتے ہوۓ اسے بتایا ۔۔
"لیکن وہ تو اس دن دے دیا تھا۔۔۔تسنیم نے حیرت سے اسے دکھتے ہوئے ہوۓ کہا۔
"ہاں دے دیا تھا لیکن وہ مام ڈیڈ کی طرف سے تھا۔۔خیر چھوڑو ان باتوں کو۔۔۔کیا میں پہناؤں۔۔۔احان اسکی بات پر کندھے اچکا کر بولا جس نے جھٹ اسکی ہتھیلی پر ڈبیا رکھی تھی۔۔
احان نے اسکی مخروطی انگلی میں ڈائمنڈ کی نازک رنگ پہنا کر ہاتھ کو لبوں سے لگایا تھا کہ تسنیم شرما کر اسی کہ سینے میں چہرہ چھپا گئی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"مجھے کچھ آدمی چاہیے ہیں۔۔ساتھ اسلحہ بھی۔
"مل جاۓ گا آگے بولو۔۔۔ریاض نے سگریٹ کا کش لگاتے ہوۓ سامنے موجود ساجد سے کہا رئیس بھی وہیں موجود تھا تینوں اس وقت ریاض کہ خفیہ اڈے پر موجود تھے۔۔۔
"پولیس کا کھپیڑا نہیں چاہیے۔۔۔۔
"ہوجاۓ گا۔۔۔۔ریاض سکون سے اسے بولا جب ساجد مسکرایا۔۔
"ہانم کہ ساتھ مجھے وہ دونوں لڑکیاں اور وہ لڑکا بھی چاہیے مجھے انکی معلومات صبح تک چاہیے۔۔۔
"یہ کام تو تم خود کیوں نہیں کرتے سب اگر مجھے ہی کرنا ہے تو۔۔۔ریاض نے اس بار پیشانی پر بل ڈال کر کہا کہ ساجد اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔
"کرنے کو تو میں کرلوں لیکن اب میں اور انتظار نہیں کر سکتا۔۔۔اس (گالی) نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا ہے اسکی جان میں اپنے ہاتھوں سے لوں گا۔۔۔۔ساجد غصّے سے کہتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ہانم آپی آپ تیار ہوگئیں؟ نورین کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ بولی تھی وہ جو اپنا سفید اور گولڈن کامینیشن کا سوٹ پہنے بالوں کی چٹیا بنائے ڈپٹہ سیٹ کر رہی تھی چونک کر اسکی طرف متوجہ ہوئی۔۔
"ماشاءالله بہت پیاری لگ رہی ہیں آپ۔۔
"شکریہ۔۔تم بھی کچھ کم نہیں لگ رہی آج۔۔۔ہانم نے مسکرا کر اسے کہا جب نادیہ بیگم وہاں آئیں۔۔
"ماشاءالله اللّه ہر بری نظر سے تمہیں محفوظ رکھے۔۔چلو اب جلدی ہمیں پہنچنے میں بھی وقت لگے گا۔۔۔نادیہ بیگم نے اسے کہتے ہوۓ جلدی جلدی کی رٹ لگائی تھی دونوں انکے پیچھے ہی کمرے سے نکلیں جب ہانم نے نورین کہ کان میں پوچھا۔
"نورین ہم جا کہاں رہے ہیں؟
"لو آپکو معلوم ہی نہیں ہے ابّو کہ بوس کے اکلوتے بیٹے کی مہندی ہے۔۔۔
"لیکن ہم وہاں کیسے جا سکتے ہیں؟ اگر وہاں کسی نے ہمیں پہچان لیا
"کون پہچانے گا؟ آپ نے بتایا تھا کہ آپ گھونگھٹ کرتی تھیں۔۔۔نورین نے کچھ جھجھک کر بات ادھوری چھوڑی کہ ہانم نے گہری سانس لیتے سر کو اثباب میں ہلانے پر ہی اکتفا کیا تھا وہ اسے کیسے سمجھاتی دس سال کی عمر سے وہ اسی دوزخ میں پلی ہے اگر محفل میں کسی نے اسکا چہرہ نہیں دیکھا تو اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہاں کہ لوگوں سے وہ شرعی پردہ کرتی تھی۔۔۔بالفرض اگر کرنا چاہتی بھی تو تب بھی وہاں کہ ظالم اسے سکون سے جینے نہیں دیتے نا ہی مرنے دیتے۔۔۔۔
یکدم ہی اسے انیلا کی یاد نے بے چین کر دیا تھا جانے اس شیطان نے اس کا کیا حال کیا ہوگا۔۔۔یہی سب سوچتی وہ گاڑی میں بیٹھ چکی تھی سب کہ بیٹھتے ہی گاڑی اپنی منزل کی جانب گامز تھی۔۔۔۔جانے اس سفر کی منزل کہاں لے جانے والی تھی ہانم کو۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"میڈم وہ صاحب کہ دوست آگئے ہیں۔۔۔۔ملازمہ دروازے پر دستک دے کر بتانے کہ بعد واپس چلی گئی جبکہ یاسمین جو جلدی جلدی حفصہ کہ بال بنا رہی تھی وہ 'ھاد چاچو" کا نعرہ لگاتے ہوۓ بھاگی تھی کہ یاسمین مسکرا کر اپنی تیاری کا جائزہ لے کر کمرے سے نکل گئی تھی۔۔۔
عرصم نے آج اپنے دوستوں کو دعوت پر بلایا تھا بلانا تو اسے اپنے ولیمے پر تھا لیکن جنید اور اسکی فیملی سے اسکے پرانے تعلقات تھے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یاسمین کو دیکھتے ہی عرصم کہ ساتھ جنید،ھاد، عاشر،دانش اور منان اپنی جگہ سے احتراماً کھڑے ہوۓ تھے۔۔۔
"السلام علیکم بھابھی۔۔بیک وقت ان سب نے یاسمین کو سلام کیا تھا
"وعلیکم السلام۔۔۔۔بیٹھیں آپ لوگ یاسمین جواب دیتی ایک نظر عرصم کو دیکھ کر مسکرائی۔۔
"آجائیں بیٹھیں۔۔۔عرصم اسے کہتا خود بھی بیٹھ گیا تھا۔۔
"اہم۔۔۔۔یاسمین یہ ہمارے دوست ہیں۔۔۔یہ جنید ہے ہمارے برابر والا بنگلہ انہی کا ہے یہ ھاد ہے جنید کا چھوٹا بھائی اور یہ عاشر دانش منان ان سے ہماری دوستی ھاد کی وجہ سے ہوئی تھی۔۔کیا آپ نے ان کہ بینڈ کا نام سنا ہے۔عرصم اسے بتاتے بتاتے یکدم پوچھنے لگا جس نے نفی میں سر ہلایا تھا کہ وہاں موجود سب نے یاسمین کو حیرت سے دیکھا تھا۔
"واقعی بھابھی؟ منان تو جیسے صدمے میں چلا گیا تھا۔۔
"نہیں مجھے کبھی موقع ہی نہیں ملا۔۔۔یاسمین اسکے انداز پر گڑبڑا گئی تھی کہ دانش نے منان کو کہنی ماری تھی۔
""کیا ہے؟ منان نے جیسے ہی دانش کو دیکھا دانش کہ ساتھ سب کو گھورتا پا کر کان کی لو مسلنے لگا۔۔
"چلیں کوئی بات نہیں ھاد آپ کو لائیو سنگنگ کر کہ سنائے گا۔کیوں ھاد۔۔۔
"یہ تو زبردست ہوجاۓ گا ھاد اس بہانے ہمیں بھی سننے کا موقع ملے گا۔۔منان کی بات پر عرصم نے بھی اسے کہا تھا وہ جو منع کرنے والا تھا صرف مسکرا دیا۔
"ٹھیک ہے لیکن میرا گٹار گھر پر ہے۔۔
"کوئی بات نہیں ہم ابھی کسی کو بھیج کر منگوا دیتے ہیں۔۔
"میرا خیال ہے پہلے کھانا کھا لیا جاۓ ...یاسمین کی اچانک مداخلت پر عرصم نے اسے دیکھا جو اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
"میں کھانا لگواتی ہوں۔۔۔یاسمین آہستہ سے عرصم سے کہتی باہر نکل گئی تھی اسکے جاتے ہی ھاد نے اٹھ کر منان کہ سر پر ہاتھ مارا تھا کہ سب ہنس دیے تھے۔۔
"ھاد کہ بچے۔۔۔۔منان نے اٹھ کر جوابی حملہ کرتے جیسے ہی اسکے کندھے پر مکہ جڑا ھاد کہ کراہنے پر جنید اور عرصم دونوں چونکے تھے۔۔
"کیا ہوا ھاد؟ جنید نے اٹھ کر اسکے کندھے کو چھوا تو اسے وہاں کسی چیز کا احساس ہوا تھا۔۔
"کچھ نہیں ہے یار اس کا ہاتھ ہی اتنا بھاری ہے۔۔
"اوہ ہیلو کہاں سے بھاری ہے تمہیں تو گولی۔۔۔۔جذبات میں بولتے بولتے اس نے دانتوں تلے زبان دبائی تھی لیکن اب تو جو ہونا تھا ہوچکا تھا عرصم بھی تیزی سے اٹھ کر ھاد کہ پاس آیا تھا۔۔
"ھاد کون سی گولی؟ کیا تمہیں گولی لگی ہے ؟ آخر تم لوگ بتاؤ گے ہوا کیا ہے؟ سوال در سوال کرتے دونوں ہی گھبرا چکے تھے کہ ھاد نے لب دبا کر آنکھوں کو موندا تھا کہ چھم سے ہانم کا چہرہ اسکی آنکھوں کہ سامنے آیا تھا جب سے وہ کراچی واپس آیا تھا وہ یونہی اسکے دل و دماغ پر حاوی ہوتی جا رہی تھی۔۔
"ہانم۔۔۔۔ھاد کہ کہتے ہی عرصم نے جھٹکے سے اسے دیکھا تھا دل کی دھڑکن یُکدم ہی بڑھی تھی۔۔۔
"ہانم؟ جنید نے ناسمجھی سے نام دوہرایا جبکہ عرصم کہ دل کی کیفیت ہانم نام سن کر عجیب ہورہی تھی۔۔
جنید کی آواز پر ھاد نے آنکھیں کھول کر گہری سانس لی۔۔
"ہاں اسکا نام ہانم داؤد ہے۔۔۔
"ہا۔۔۔نم۔۔۔عرصم کی آواز پر ان سب سے عرصم کو دیکھا تھا۔
ھاد قدم قدم چلتا اسکے سامنے آیا تھا پھر عرصم کہ کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔
"آپکی ہانم نہیں میری ہانم ۔۔۔۔ھاد کہتے ہوۓ مسکرایا تھا کہ اسے خود کو بھی معلوم نہیں چلا تھا کہ وہ کیا بول چُکا ہے۔۔
"اہم اہم۔.۔۔میری۔۔۔ہممم۔ سن رہے ہیں جنید بھائی.۔۔دانش نے گلا کھنکھار کر جنید کو مخاطب کرتے ہوۓ کہا تھا کہ ھاد چونک گیا تھا۔۔
"کیا اتفاق ہے ویسے۔۔آہ۔۔۔۔خیر یہ کیا معملہ ہے تفصیل سے بتاؤ گے؟ عرصم سر جھٹک کر کہتا مسکرایا تھا۔۔
"ایک شرط پر اگر جنید اور آپ وعدہ کرتے ہیں کہ یہ بات کسی کو بھی نہیں بتائیں گے۔۔۔کرتے ہیں وعدہ؟ ھاد نے کہتے ساتھ اپنی ہتھیلی پھلائی تھی کہ دونوں سوچنے کہ بعد اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ چکے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہندی کی پُررونق تقریب جاری تھی جب انکی گاڑی گیٹ کہ سامنے آکر رکی۔ہانم جھجھکتی ہوئی انکے ساتھ چلتی ہوئی اندر بڑھنے لگی۔
لان کو مہندی کی نسبت سے سجوایا گیا تھا۔۔۔
ہانم سب کو دیکھ کر بری طرح گھبراہٹ کا شکار ہورہی تھی. ۔۔
ٹیبلز کی جانب بڑھتے ہوۓ یکدم ہی نادیہ بیگم روکیں تھیں کہ ساتھ ان تینوں کو بھی روکنا پڑا تھا۔
"السلام علیکم۔۔میں مسز اصغر ہوں۔۔۔۔آرزو بیگم مسکرا کر کہتیں ان سے ملی تھیں۔۔
"وعلیکم السلام۔۔یہ میری بیٹیاں ہیں۔۔۔نادیہ بیگم نے انکا تعارف کروایا تھا کہ ہانم نے انھیں محبت سے دیکھا تھا کتنی آسانی سے کوٹھے میں مجرا کرنے والی ایک طوائف زادی کو انہوں نے اپنی بیٹی بنایا تھا جبکہ آرزو بیگم کہ تاثرات سے لگ رہا تھا کہ وہ جانتی ہیں کہ انکے کتنے بچے ہیں۔۔۔
"ماشاءالله ماشاءالله بہت ہی پیاری ہیں تینوں۔۔۔۔آپ لوگ تشریف رکھیں۔۔۔آرزو بیگم کہتی ہوئی اسٹیج کی طرف بڑھی تھیں جہاں احان اور تسنیم بیٹھے تھے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
"یار میں تو اب بیزار ہو رہی ہوں جلدی سے کھانا کھلے میں کھاؤں اور پھر گھر جاؤں اور لمبی تان کر سو جاؤں ہائے۔۔۔۔۔۔نورین نے منہ بنا کر دہائی دی تھی۔۔۔۔
"ہاں میں بھی۔۔۔چلو خیر سیلفی لیتے ہیں۔۔۔عائشہ اسکی بات سے ہاں میں ہاں ملاتی جلدی سے کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
"جا رہی ہو تو دولہا دلہن کی تصویر بھی بنا لینا۔۔نادیہ بیگم انھیں اٹھتا دیکھ کر بولیں تھیں نورین نے سر ہلا کر ہانم کا ہاتھ پکڑا۔۔
"کیا ہوا اٹھیں۔۔۔نورین نے ہانم کا تھاما ہوا ہاتھ ہلا کر کہا۔۔
"نہیں ہم یہاں ٹھیک ہیں۔۔۔
"پر۔۔
"ہانم بیٹی چلی جاؤ یہاں سب امیر کبیر لوگ ہیں انہیں خود سے فرصت نہیں ملتی ہے۔۔۔۔۔
"اللّه امی کیا ہوگیا لوگ سن رہے ہیں۔۔۔عائشہ نے ماتھا پیٹ لیا جبکہ ہانم گہری سانس لیتے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
"بس بس پتہ ہے مجھے میں کوئی برائی تھوڑی کر رہی ہوں۔۔نادیہ بیگم کہ خفگی سے کہنے پر تینوں مسکرائیں تھیں۔۔۔
"چلو۔۔۔عائشہ سے کہتی وہ دونوں اسٹیج کی جانب بڑھی تھیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
"احان۔۔۔۔مجھے واش روم جانا ہے۔۔۔
"چلو۔۔۔احان سب کو مصروف دیکھ کر اٹھا تھا ساتھ ہی تسنیم بھی اپنی جگہ سے کھڑی ہوتی احان کہ ساتھ وہاں سے جانے لگی کہ نورین کہ روکنے پر وہ دونوں چونکے تھے۔۔۔
"السلام علیکم۔۔میرا نام نورین امجد ہے۔۔۔نورین دونوں کو سلام کرتی احان سے بولی تھی جو سوچنے کہ بعد سر کو اثباب میں ہلانے لگا۔۔
"سہی۔۔
"آپ نے یقیناً ابھی بھی نہیں پہچانا ہوگا دراصل میرے ابو نے ایک مہینہ پہلے ہی جوائن کیا ہے مسٹر احان۔۔۔۔
عائشہ کی آواز پر اس نے جیسے ہی اسکو دیکھا تو بے یقینی سے عائشہ کو دیکھنے لگا۔۔
"عائشہ تم۔۔۔۔احان کی حیرت زدہ آواز پر نورین نے حیرت سے اسے دیکھا جبکہ تسنیم عائشہ نام سنتے ہی دھک سے رہ گئی احان کہ ہاتھ پر گرفت اسکی اور مظبوط ہوئی تھی کہ احان نے چونک کر تسنیم کو دیکھا تو گہری سانس لیتا عائشہ اور نورین کو دیکھ کر دھیرے سے مسکرایا۔۔
"آپ احان ہِیں؟ نورین کی بے یقینی ہنوز برقرار تھی چونکہ دونوں کی دوستی فون تک ہی محدود تھی نورین نے کبھی احان کو دیکھا نہیں تھا نہ ہی کبھی عائشہ نے اسے دکھایا تھا۔۔
عائشہ کہ دل کی حالت عجیب ہوگئی تھی اسے معلوم ہی نہیں تھا کہ جس سے وہ مجبت کرنے لگی تھی وہ تو کب کا۔ کسی اور کا ہوچکا ہے.
"عائشہ یہ تسنیم ہے۔۔۔احان نے مسکراتے ہوۓ اسے تسنیم سے ملوایا تھا نورین اپنی بہن کو دکھ سے دیکھنے لگی۔۔
"السلام علیکم۔۔۔آپ سے مل کر اچھا لگا۔۔۔۔ماشاءالله اللّه آپ دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے۔۔۔آ عجیب اتفاق ہوگیا ورنہ مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا۔۔۔عائشہ مسکرا کر دونوں سے کہتی لب کاٹنے لگی تسنیم اسے دیکھتے ہی بے چین سی ہوگئی تھی
"اوکے ہم چلتے ہیں۔۔۔۔عائشہ نورین کا ہاتھ پکڑ کر انھیں کہتی پلٹ گئی تھی۔۔
"میں آتی ہوں۔۔۔تسنیم آہستہ سے کہتے احان کا ہاتھ چھوڑ کر جانے لگی جس نے جلدی سے اسکا ہاتھ تھاما تھا۔۔
"تسنیم غلط فہمیاں رشتے کو کھوکلا کردیتی ہیں دل میں اگر ایسی کوئی بات ہے تو بلاجھجھک کہہ دو۔۔۔
"ایسا کچھ بھی نہیں ہے مجھے واش روم جانا ہے۔۔۔تسنیم کہتی ہوئی اندر کی جانب بڑھنے لگی کہ احان اسکے پیچھے گیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ہانم مجھے واش روم جانا ہے چلو گی میرے ساتھ۔۔۔۔عائشہ جسے رونا آرہا تھا یکدم ہی ہانم سے بولی۔۔۔وہ جو پیچھے ہی روک گئی تھی عائشہ کہ کہنے پر سر ہلانے لگی۔۔
"تم ٹھیک ہو نہ عائشہ؟ نورین متفکر ہوئی تھی۔۔
"ہاں یار میں ٹھیک ہوں ویسے بھی اب اسکی شادی ہوچکی ہے تم نے سنا نہیں تھا انکل بے بتایا تھا نکاح پہلے ہی ہوچکا ہے میں کسی کی زندگی میں زبردستی شامل ہونے کی قائل نہیں ہوں نا ہی میں اس لڑکی کی خوشیوں کی قاتل بننا چاہتی ہوں جس نے ابھی اسکی زندگی میں قدم ہی رکھا ہو۔۔۔
"عائشہ تم اسے پسند۔۔۔۔
"نورین چپ رہو بیوقوف۔۔۔وہ اس سے محبت کرتا ہے سمجھی نہ تو زبردستی آپ کسی سے محبت کروا سکتے ہیں نہ ہی زبردستی رشتہ جوڑ سکتے ہیں ورنہ جو تھوڑا بہت تعلق ہے وہ بھی ختم ہوجاتا ہے۔۔۔عائشہ درمیان میں ہی اسکی بات کاٹ کر جھڑکتی ہوئی آگے بڑھ گئی جبکہ ہانم بہت دیر سے کسی کی نظروں کو خود پر محسوس کر رہی تھی۔۔۔
"آجاؤ ہانم۔۔۔عائشہ کی آواز پر وہ لب کاٹتی اسکے پیچھے چل دی۔۔۔اس بات سے انجان کہ کوئی اور بھی تھا جو انکے ساتھ ہی اندر کی جانب بڑھا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈرائنگ روم میں اس وقت سکوت چھایا ہوا تھا ھاد کہ خاموش ہونے پر بھی وہ سکوت قائم ہی تھا۔۔۔
یکدم ہی دروازہ دیوار پر لگنے سے آواز پیدا ہوئی تھی کہ ان سب نے چونک کر دروازے کی سمت دیکھا تھا یاسمین جانے کب سے وہاں کھڑی تھی۔۔۔
عرصم اسے دیکھتا تیزی سے کھڑا ہوا تھا جو عرصم کو دیکھتی قدم قدم چلتی اسکے نزدیک آئی تھی۔
"ہانم داؤد وہی طوائف۔۔۔۔یاسمین کی بات پر ھاد نے ناگواری سے یاسمین کو دیکھا تھا جبکہ عرصم سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
"یاسمین کیا کہنا چاہتی ہو؟
"عرصم۔۔۔۔رئیس نے جس طوائف کہ لئے میرے ساتھ ظلم کیا وہ کوئی اور نہیں یہی ہانم داؤد ہے۔۔جانتے ہیں وہ اپنی خوبصورتی کی وجہ سے مشہور ہے میرے سابقہ شوہر سے ناجائز۔۔۔
"بھابھی۔۔۔۔ھاد جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھا تھا وہ سب بھی تیزی سے اٹھ کھڑے ہوۓ تھے۔۔
"عرصم بھائی وہ پاک دامن ہے۔۔۔ھاد نے بمشکل اپنا غصّہ ضبط کرتے ہوۓ عرصم سے کہا تھا کہ عرصم نے لب بھینچ لئے۔۔
"جھوٹ۔۔۔سب جھوٹ ہے غلط ہے اس نے خود کو دنیا والوں کہ سامنے معصوم ثابت کرنے کہ لیے ایک جھوٹی کہانی سنائی ہے اب تم بھی اسکے فریب میں پھنس رہے ہو۔۔۔
یاسمین کی آنکھوں سے آنسوں لڑیوں کی صورت بہہ رہے تھے عرصم نے آگے بڑھ کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔
"ھاد۔۔۔تم نے جو بھی بتایا اگر واقعی ایسا ہے تو ہمیں افسوس ہے لیکن یاسمین کہ ساتھ جو ہوا اسکے پیچھے بھی ایسی ہی عورت کا ہاتھ تھا۔۔۔ہمیں یاسمین نے نام نہیں بتایا تھا اور اب اگر یہ سچ ہے تو ایسی عورتوں کی باتوں پر یقین نہیں کرنا چاہیے ...
"سہی کہہ رہے ہیں شاید مجھے بتانا ہی نہیں چاہیے تھا۔۔۔مجھ سے غلطی ہوگئی۔۔۔ھاد مُٹھیاں بھینچے دکھ سے کہہ رہا تھا۔۔
"ھاد یہ وقتی جذبات۔۔
"نہیں جنید میرے جذبات وقتی نہیں ہوسکتے۔۔۔اگر میری بات پر یقین نہیں ہے تو چلیں میرے ساتھ لاہور مل لیں اس سے۔۔۔دیکھیں کتنی تکلیفوں میں ہے وہ۔۔۔۔ھاد نے جنید کی بات کاٹتے ہوئے عرصم اور یاسمین سے کہا تھا کہ یاسمین نے ہنکار بھرا۔۔
"مجھے ایک طوائف کی پاک دامنی سے کوئی سروکار نہیں ہے لیکن میں ایک بار اس عورت سے ضرور ملنا چاہوں گی جو دوسروں کی زندگیوں کو تباہ کرتی پھر رہی ہے۔۔۔یاسمین سختی سے کہتی عرصم کو دیکھنے لگی جبکہ ھاد ہی جانتا تھا کہ وہ اسکے لئے طوائف لفظ کیسے برداشت کر رہا تھا۔۔
"ٹھیک ہے اگر ایسا ہے تو ایسا ہی سہی۔۔میں چلتا ہوں کل ہی نکلتے ہیں۔۔اللّه حافظ۔۔۔ھاد کہتا ہوا تیزی سے وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا۔۔
"جنید تم بھی ہمارے ساتھ چلو۔۔۔ عرصم نے اسے کہا جس نے سر ہلا کر دروازے کی سمت دیکھا تھا جہاں سے ھاد تیزی سے گیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عائشہ کہ واش روم جاتے ہی ہانم سر پر دوپٹہ سہی کرتے کمرے کا جائزہ لے رہی تھی جب دروازہ کھول کر کوئی بچی اندر آئی تھی۔۔۔
ہانم نے اسکے دیکھتے ہی مسکراہٹ اچھالی تھی۔۔
"آپ کو کوئی آنٹی بلا رہی ہیں۔۔۔۔بچی مسکرا کر اسے کہتی جیسے آئی تھی ویسے ہی چلی گئی تھی جبکہ ہانم پریشان ہوگئی تھی۔۔۔
"ہمیں کون بلا رہی ہیں۔۔۔کہیں دولہے کی والدہ تو نہیں۔۔۔ہانم بڑبڑاتے ہوۓ واش روم کہ دروازے کہ قریب آئی پھر ہلکے سے دستک دے کر اس نے عائشہ کو بتایا جو اندر نل کھولے رونے میں مصروف تھی۔۔ہانم کی َآواز پر اس نے آنسوں پونچھتے ہوۓ ہانم کو "ٹھیک ہے" کہا تھا کہ وہ کمرے سے نکل گئی تھی۔۔
"تم ایک مضبوط لڑکی ہو عائشہ امجد اپنے باپ کا غرور ہو جو چلا گیا سو چلا گیا شاید وہ تمہارا نصیب نہیں تھا۔۔اپنے نصیب سے لڑنے سے بہتر ہے اللّه کی رضا میں راضی ہوجاؤ۔۔عائشہ خود سے کہتی خود کو پرسکون کرنے لگی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ہانم چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی سیڑیوں کی جانب بڑھ رہی تھی لان میں تقریب ہونے کی وجہ سے گھر خالی تھی۔۔۔باہر سے تیز میوزک چلنے کی آواز اندر تک آرہی تھی۔۔
ہانم چلتے چلتے ٹھٹھکی تھی یُکدم ہی اسکے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی تھی اس سے قبل وہ پلٹتی کسی نے اسکے منہ کو دوبچتے کمر سے اٹھا کر اسے گھسیٹ کر کمرے میں دکھیلا تھا ساتھ ہی دروازے کو بند کر دیا تھا۔۔ دروازہ بند ہوتے ہی عائشہ دوسرے کمرے سے نکلتے ہی ٹھٹھکی تھی۔۔۔
"یہ کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ھاد کمرے میں آتا ہر چیز غصّے میں زمین بوس کر رہا تھا کہ ہادی جو کمرے کہ باہر سے گزر رہا تھا تیزی سے اندر آیا تھا۔۔
"ھاد بھائی۔۔۔ھاد بھائی یہ کیا کر رہے ہیں۔۔کیا ہوا ہے؟
"ہادی چلے جاؤ یہاں سے مجھے کسی سے بات نہیں کرنی ہے پلیز اکیلا چھوڑ دو مجھے۔۔۔ھاد نے غصّے سے اسے دروازے کی سمت دکھیلتے ہوۓ کہا تھا سیرت بیگم جو ھاد کہ پاس ہی آرہی تھیں اندر کا منظر دیکھ کر کمرے میں داخل ہوئیں تھیں۔۔
"ھاد بیٹا کیا ہوا ؟ اتنا غصّہ۔۔۔۔ سیرت بیگم نے گھبرا کر اسے دیکھا تھا وہ بہت کم غصّے میں آتا تھا لیکن جب بھی اسے غصّہ آتا تھا سیرت بیگم کو انجانا سا خوف گھیر لیتا تھا۔۔
"امی میں ابھی اکیلا رہنا چاہتا ہوں پلیز۔۔۔۔ھاد بےبسی سے بولا تھا کہ سیرت بیگم ہادی کو اشارہ کرتیں خاموشی سے کمرے سے نکل نکل گئیں ۔۔۔
"ہانم میں کروں گا سب کو غلط ثابت۔۔۔میں کروں گا۔۔۔۔ھاد بڑبڑاتے ہوۓ واش روم میں داخل ہوتا شاور کھول کر کپڑوں سمت بھیگتا چلا گیا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہانم بری طرح اسکے شکنجے میں پھڑپھڑا رہی تھی وہ جو بھی تھا بہت مظبوط تھا۔۔۔ہانم کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ رہا تھا۔۔
"ارے میری جان مجھے تو یقین ہی نہیں ہورہا میری باہوں میں ہانم داؤد ہے۔۔۔لاہور کی وہ طوائف جسے اپنے حسن پر اتنا گھمنڈ ہے کہ ہاتھ بھی نہیں پکڑنے دیتی تھی۔۔اس شخص نے کہتے ساتھ اسے بیڈ پر پھنک کر اپنی شرٹ کہ بٹن کھولنے شروع کیے لمحوں میں ہانم کی حالت خراب ہوچکی تھی ہانم اسے دکھاتے ہی اردگرد مارنے کہ لئے کوئی چیز تلاش کرنے لگی تھی وہ جو بھی تھا ضرور اس نے ہانم کو کوٹھے پر دیکھا ہوگا ۔۔۔دیکھنے میں وہ کوئی امیر گھرانے کا لگ رہا تھا۔۔
"پپ پاس مت آنا۔۔۔۔ہانم سختی سے کہتی پیچھے ہونے لگی کہ اس نے ہانم کہ دونوں پیروں کو ہاتھ میں لے کر اپنے ہاتھوں کو اسکی ٹانگوں تک لے جانے لگا کہ ہانم نے پوری قوت سے اپنی ٹانگوں کو حرکت دیتے دونوں پیر اسکے پیٹ پر رسید کیے تھے۔ ۔
"عائشہ ہانم کہاں ہے؟ تمھارے ساتھ گئی تھی نہ؟ نادیہ بیگم اسکے قریب آتے ہی متفکر سی پوچھنے لگیں کہ عائشہ کہ ساتھ نورین نے بھی گھبرا کر اردگرد دیکھا تھا لیکن انھیں ہانم کہیں نظر نہیں آئی تھی۔۔۔
"وہ تو کہہ رہی تھی کہ کوئی آنٹی بلا رہی ہیں۔۔۔
"کیا؟ کون سی آنٹی یہاں تو لوگ ہمیں نہیں جانتے پھر ہانم۔۔۔نورین نے گھبرا کر عائشہ سے کہا تھا جو خود بھی بری طرح گھبرا رہی تھی یکدم ہی عائشہ ٹھٹھکی۔
(یہ کیا تھا۔۔۔دروازے کی زوردار آواز پر وہ چونکی تھی)
"ہانم امی ہانم۔۔۔۔عائشہ بری طرف خوفزدہ ہوئی تھی کہ دونوں کہ ساتھ امجد صاحب جو اصغر صاحب کہ ساتھ وہاں آرہے تھے پریشانی سے انکے قریب آئے تھے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ہانم کہ اچانک زوردار لات مارنے پر وہ زور سے نیچے گرا تھا کہ ہانم بنا وقت ضائع کیے اٹھ کر دروازے کی طرف بھاگی تھی کہ اس شخص نے اٹھ ہانم کی چٹیا کو پکڑ کر زور سے اپنی طرف کھینچا تھا۔۔
"مجھ پر ہاتھ اٹھاتی ہے۔۔۔۔سالی آج تو گئی۔۔۔۔ہانم کہ کان میں پھنکارتے اس نے شیشے کی میز پر اسے دکھیلا تھا اس سے قبل وہ شیشے پر گرتی کسی نے پھرتی سے اسے پکڑا تھا۔۔
وہ آدمی بری طرح گھبرایا تھا جبکہ احان نے جلدی سے ہانم کو سہارا دیا تھا۔۔
"آ یہ۔۔۔اس سے پہلے وہ آدمی اپنی صفائی میں کچھ کہتا احان نے آگے بڑھ کر طیش میں پوری قوت سے اسکی ناک پر مکہ جڑا تھا ہانم دوپٹے سے خود کو پوری طرح چھپاتی زاروقطار روتی وہاں سے بھاگتی ہوئی نیچے جانے لگی کہ آخری سیڑی پر لڑکھڑا کر روکتی سب کو دیکھنے لگے تسنیم صوفے پر بیٹھی اسے دیکھتی ہوئی کھڑی ہوئی۔۔
جب احان اس آدمی کو مارتا ہوا نیچے لارہا تھا۔۔۔
(ارے کیا بات ہے آپ سب اندر کیوں آرہے ہیں ؟ احان اور تسبیم اپنے والدین اور عائشہ کی فیملی کو آتا دیکھ کر پوچھنے لگا۔۔
"ہانم نہیں مل رہی۔۔۔ابھی وہ بتا ہی رہے تھے کہ چیخنے کی آواز پر سب نے جھٹکے سے اوپر دیکھا تھا۔۔
"میں دیکھتا ہوں۔۔۔احان کہتے ساتھ تیزی سے بھاگا تھا)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"رئیس کیا بات ہے کچھ پریشان لگ رہے ہو؟ جویریہ بیگم اسے بے چینی سے چہل قدمی کرتے دیکھ کر پوچھنے لگیں
"چاچو کی کال آئی تھی تسنیم نے انھیں بتایا ہے کہ میں ابھی تک لاہور میں ہی ہوں۔۔۔۔
"کیا۔۔۔اب ؟ جویریہ بیگم پریشان ہوئیں۔۔
"اب یہ کہ میں بھی چل رہا ہوں آپ کہ ساتھ۔۔۔۔۔رئیس کہتا ہوا لاؤنج سے نکل گیا تھا کہ جویریہ بیگم بھی تیزی سے اسکے پیچھے گئیں تھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہانم سب کو دیکھتی ہوئی سنجیدگی سے چلتی آخری سیڑی بھی اتر کر آگے بڑھی تھی کہ اس آدمی کی بیوی اسے ڈھونڈھتی ہوئی وہاں آئی تھی لیکن اپنے شوہر کی حالت دیکھ کر چیختے ہوۓ اسکے پاس گئی تھی جو زمین پر گرا کراہ رہا تھا۔
"یہ یہ کیا درندگی ہے آپ لوگوں میں انسانیت نہیں ہے کوئی ایسے مہمانوں کہ ساتھ سلوک کرتا ہے بہت بڑے آدمی کہتے ہیں خود کو اور حرکتیں جانوروں والی ہیں عورت چیخ چیخ کر سب کو وہاں جما کر رہی تھی لاؤنج کا بڑا دروازہ کھلا ہونے کی وجہ سے عورت کی چیخیں اور لوگوں کہ تجسس پر میوزک بھی کسی مہمان نے بند کروایا تھا۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے ہر کوئی تماشائی بنا تھا۔۔۔
"صفورا ان لوگوں کو غلط فہمی ہوگئی ہے کہ میں اس۔۔آہ۔۔۔آدمی اداکاری کرتے ہوئے اچانک کراہیا تھا۔
"بکواس بند کرو اپنی سمجھے۔۔۔۔تمہاری ہمّت بھی کیسے ہوئی ہمارے ہی گھر میں ہماری مہمان کہ ساتھ ایسا کرنے کی۔۔۔شرم نہیں آئی اپنی بھی جوان بہنیں ہیں۔۔۔اصغر صاحب نے غصّے سے اسے کہا جو اپنی فیملی اور لوگوں کو دیکھ کر بری طرح پھنسا تھا لیکن اگلے ہی پل اس نے ہانم کو دیکھا تو اسکی آنکھیں چمکیں۔۔۔
"ہونہہ!! کون سے شریف لوگ؟ ہاں یہ یہ شریف زادی کہاں سے ہے؟ اس شخص نے ہانم کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہا جس نے نظریں جھکائی ہوئی تھی آنکھیں خشک لب خاموش تھے۔۔
"میں کہہ رہا ہوں اپنی حد میں رہو یہ نہ ہو کہ چلنے پھرنے کہ قابل بھی نہ بچو۔۔احان زور سے چیخا تھا تسنیم جو ہانم سے چند ہی قدم دور تھی نامحسوس انداز میں چلتی ہانم کہ پاس آ کر رکی۔۔
"تم وہی ہو نہ جس پے میرا بھائی "رئیس علی" دل ہار بیٹھا ہے۔۔تسنیم نے اب اسے دیکھا تو پہنچان گئی تھی جبکہ ہانم نے جھٹکے سے اسے دیکھا تھا بے یقینی سی بے یقینی تھی کہ تسنیم دھیرے سے مسکرائی۔۔
"دیکھو وہ آرہے ہیں۔۔۔تسنیم نے کہتے ساتھ آنکھ سے اشارہ کیا تھا جہاں رئیس ساکت کھڑا اپنی بہن کہ ساتھ اسے دیکھ رہا تھا جسے ڈھونڈھنے کہ لئے ریاض کہ آدمی شہر شہر کھنگال رہے تھے۔۔۔
جویریہ بیگم شرمندہ سی چلتی ہوئیں آرزو بیگم کہ پاس آئیں تھیں۔۔
"احان چھوڑو اسے میں بھی تو سنوں خود کو سچا ثابت کرنے کہ لئے کس حد تک جاتا ہے۔۔۔اصغر صاحب احان کو روکتے ہوئے اس شخص کو غصّے سے دیکھتے ہوۓ بولے تھے۔۔۔
"میں جھوٹ نہیں بول رہا نہ ہی بولوں گا یہ جسے آپ لوگ پارسہ سمجھ رہے ہیں ایک۔۔۔۔
"ایک طوائف زادی ہے۔۔۔آدمی کی بات اچکتے ہوۓ ہانم نے بات کو مکمل کیا تھا کہ مہمانوں سے بھرے لاؤنج میں موت کا سا سناتا پھیلا تھا نورین تیزی سے عائشہ کہ گلے لگی تھی جبکہ نادیہ بیگم اور امجد صاحب نے اذیت سے آنکھوں کو میچا تھا۔۔۔
تسنیم نے اپنے ہاتھ کو ہانم کہ ہاتھ میں دے کر دبایا تھا کہ ہانم نے گہری سانس لے کر قدم لاؤنج کہ درمیان آکر روکے تھے ایک تلخ مسکراہٹ نے اسکے لبوں کو چھوا تھا ہانم کی نظر رئیس کی جانب اٹھی تھی جو ہنوز بے یقینی سے کھڑا تھا۔
"طوائف۔۔۔۔ایک ط۔۔و۔۔ا۔۔۔۔ئ۔۔۔ف۔۔۔۔طوائف۔۔۔ہانم داؤد ایک طوائف ہے۔۔۔طوائف۔۔۔۔۔مضبوط لہجے میں کہتی وہ سب کو دیکھتی نظر دوبارہ رئیس پر ٹکائی تھی۔۔
"ہم ایک طوائف ہیں۔۔۔کیا آپ نے سنا۔۔۔کیا ہماری آواز آپ تک پہنچی ہے؟ ہم ایک۔۔۔
"ہانم بیٹی۔نن نہیں۔۔۔۔نادیہ بیگم اسکے چیچنے پر تڑپ کر آگے بڑھی تھیں۔۔
"نہیں آنٹی یہ حقیقت ہے ہم۔۔۔ہم ہیں ط۔ ۔
"ہانم آپی نہیں ایسے مت کہیں۔۔۔نورین نے روتے ہوئے اسے روکا تھا۔۔
"کیوں نہیں ہاں کیوں نہیں کہیں ہم۔۔۔بچپن سے ہر ایک کہ منہ سے یہی تو سنتی آرہی ہیں کہ ہانم داؤد ایک طوائف ہے۔۔۔ ہانم داؤد ایک طوائف ہے۔۔۔۔۔پھر کیوں نہ کہیں کہ ہاں ہیں ہم۔۔۔۔ل لیکن ہمارا اللّه گواہ ہے کہ ہم نے اس جہنم میں اپنی عزت کو کیسے کیسے حیوانوں سے محفوظ کیا اور آج جو ہم یہاں ہیں۔۔۔۔ہانم بولنے کہ ساتھ چلتے چلتے رئیس کہ مقابل آکر رکی تھی جو گھبرا کر بھرے مجمعے کو دیکھتا اسے دیکھنے لگا ۔
"رئیس علی تمہاری وجہ سے۔۔۔۔ہم جو آج یہاں ہیں تمہاری وجہ سے۔۔۔۔۔ہانم نے اچانک ہی اسکا گیریبان پکڑ کر اسے اپنی پوری طاقت سے جھٹکے دیتے ہوۓ تڑپ کر کہا تھا کہ جویریہ بیگم جو اسے ہی دیکھ رہی تھیں اپنے بیٹے کی جانب آتے ہی ہانم کو اس سے پیچھے کرتے دھکا دیا تھا۔۔
"غلیظ لڑکی پیچھے ہٹ میرے بیٹے سے۔۔۔
"غلیظ ہم نہیں آپکا بیٹا ہے جسے ہماری قربت کی چاہ نے ہمیں آج دنیا کہ سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ جس ہانم کا چہرہ کبھی محفل میں کسی نے نہیں دیکھا تھا آج سر سے ہماری چادر تک چھین لی۔۔.۔۔۔
"سب جانتی ہوں میں میرے بیٹے کو خود بلاتی رہی ہے اب پارسائی کا دکھاوا کر رہی ہے۔۔۔جویریہ بیگم نے طیش میں آگے بڑھ کر اسکا منہ دبوچ کر کہا کہ تسنیم کہ ساتھ احان کی فیملی نے بھی انھیں حیرت سے دیکھا تھا یہ کیسا لب و لہجہ تھا۔۔۔
رئیس کی پیشانی عرق آلود ہوگئی تھی۔۔۔کسی سے بھی نظر ملائے بغیر وہ وہاں سے جانے لگا جب ہانم نے جویریہ بیگم کا ہاتھ جھٹک کر ہٹاتے دوبارہ رئیس کا راستہ روکا تھا۔۔
"پلیز ہانم تماشا مت کرو میری عزت ہے۔۔۔۔رئیس نے دانت پیستے ہوۓ اسے کہا تھا۔۔
"وہی عزت جو ہر عورت کہ بستر کی زینت بناتے ہو؟ ہانم اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اونچی آواز میں بولی تھی کہ تسنیم یکدم ہنسنے لگی سب نے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔۔
"تسنیم پاگل ہوگئی ہو یہاں یہ بدکردار میرے بیٹے کی عزت اچھال رہی ہے اور تم ہو کہ ہنس رہی ہو.۔۔۔۔جویریہ بیگم نے غصّے سے اپنی بیٹی کو دیکھا تھا جو اپنی ہنسی کو روکتی ہوئی احان کو ایک نظر دیکھ کر اپنے بھائی کو دیکھنے لگی۔۔
"بھائی۔۔۔آپ نے سب۔۔۔سب برباد کردیا..بھابھی۔۔۔کو۔۔۔۔بیٹے۔۔۔کو۔۔۔۔اپنی۔۔بہن کو۔۔۔سس۔۔۔سب ختم کردیا آپ نے۔۔۔جس دن اپنی معصوم بیوی بیٹے کو کوٹھے چھوڑ کر آئے تھے اس ہی دن سے ہماری بربادی کا آغاز شروع ہوا تھا۔۔۔رئیس سن سا اسے دیکھنے لگا جبکہ اصغر صاحب اور باقی سب اس بھیانک انکشاف پر ششدر تھے۔۔ہانم آنکھیں پھیلائے تسنیم کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
"استغفرالله یہ کیا کردیا۔۔۔آرزو بیگم کی آواز پر رئیس کی نظریں اور سر جھک گیے تھے۔۔محفل میں چہ مگیاں ہونے لگیں کہ رئیس سے وہاں کھڑا ہونا محال ہوچکا تھا۔۔
"لعنت ہے تیرے مرد ہونے پر رئیس۔۔۔لعنت ہے۔۔۔چھی! میرے بھائی کی اولاد اتنی غلیظ نکلے گی کہ اپنی ہی عزت۔۔۔۔۔۔کیسے کیا ایسا نیچ کام رئیس ارے تو رئیس نہیں دنیا کا سب سے بڑا کنگھلا بدنصیب شخص نکلا۔

"ہانم تم ٹھیک ہو بیٹی؟ اصغر صاحب نے آگے بڑھ کر اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوۓ پوچھا تھا جو سوچوں میں غرق تھی۔۔
لاؤنج میں اس وقت اصغر صاحب اور امجد صاحب کی فیملی کہ علاوہ اور کوئی موجود نہیں تھا
"ہانم۔۔۔کوئی جواب نہ پا کر نادیہ بیگم نے پاس بیٹھتے ہوۓ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے مخاطب کیا
ہانم نے نظر اٹھا کر انھیں دیکھا۔۔۔
"آپ کو گھن نہیں آرہی ہم سے؟ ہانم بھیگی آواز میں پوچھتی نادیہ بیگم کو رلا گئی تھی جبکہ اسکی بات پر وہاں سب کی انکھوں میں آنسوں آگئے تھے۔۔
"نن نہیں میری بچی مجھے کوئی گھن نہیں آرہی بلکہ مجھے تو بہت پیار آتا ہے تم پر...نادیہ بیگم نے کہتے ساتھ اسکے چہرے کو تھاما تھا۔۔
"یہ شفاف معصوم آنکھیں گواہ ہیں کہ ہماری ہانم داؤد معصوم شہزادی جس نے تکلیفوں میں رہ کر ان سے لڑنا سیکھا ہے۔۔ایک مضبوط اعصاب کی مالک۔۔۔۔مجھے فخر ہے بیٹی تم پر۔۔۔۔خود کو کبھی کمزور مت ہونے دینا ورنہ یہ دنیا کہ لوگ نوچ ڈالیں گے۔۔۔۔۔نادیہ بیگم کی بات سنتے ہی وہ انکے سینے سے لگتی شدّت سے رونے لگی تھی کہ تسنیم لب دبا کر خود پر ضبط کرنے لگی۔۔۔۔۔
"کیسے ظالم ماں باپ تھے جو تمہیں لاوارث چھوڑ کر چلے گئے ۔۔آرزو بیگم نے افسوس کا اظہار کیا تھا کہ ہانم نے تڑپ کر انھیں دیکھا۔۔
"ایسے مت کہیں ہمیں ان سے کوئی شکاہت نہیں ہے وہ تو ہمیں ہم جیسے ہی بچوں میں چھوڑ کر گئے تھے۔۔۔ہانم کی بات پر سب نے دکھ سے اسے دیکھا تھا۔۔۔
"میرا خیال ہے رونا دھونا بہت ہوگیا ہے اب ذرا کھانے پینے کا انتظام کیا جاۓ۔۔۔۔احان ماحول کی فضا کو خوشگوار کرنے کہ لئے ہلکے پھلکے انداز میں کہتا ہانم کہ سامنے بیٹھا تھا۔۔
جو اسے دیکھ کر جھجھک سی گئی تھی۔۔۔
"کسی بھی بات کی ٹینشن نہیں لینی ہے نہ ہی آئیندہ
کسی سے اس بات کا ذکر کرنا ہے کہ میں۔۔۔۔۔احان کہتے کہتے روکا پھر اسکے سر پر رکھ کر کھڑا ہوگیا۔
تسنیم نے محبت سے احان کو دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔
"میں کھانا لگواتی ہوں۔۔آرزو بیگم مسکرا کر کہتی ہوئیں کچن کی طرف بڑھ گئیں تھیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"مجھے تو تسنیم پر حیرت ہے کیسے اس نے ایک غلیظ عورت کہ ساتھ مل کر اپنے ہی سگے بھائی کو سب کہ سامنے زلیل کروایا ہے۔۔۔لوگ تھو تھو کر رہے تھے ہم پر۔۔جویریہ بیگم غصّے سے بولے جا رہی تھیں جبکہ رئیس سنجیدگی سے گاڑی چلا رہا تھا ۔۔
ہر ایک منظر کسی فلم کی طرح چل رہا تھا اسکے دماغ میں
لبوں کو سختی سے بھینچتے اس نے گاڑی کی رفتار اور تیز کی تھی کہ جویریہ بیگم نے گھبرا کر اسے دیکھا تو خاموش ہوگئیں۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"کیا تم اب بھی ناراض ہو مجھ سے؟ احان تسنیم کہ ہاتھ کی انگلیاں اپنی انگلیوں میں پھنساتے ہوۓ پوچھتا ہاتھ کو لبوں سے لگا چکا تھا۔۔۔
وہ جو اسکے سینے پر سر رکھے لیٹی تھی اٹھ کر اسکے برابر آتی احان کو بغور دیکھنے لگی کہ احان نے ہاتھ سے ہی اسے اپنے اور نزدیک کیا تھا اتنا کہ دونوں ک درمیان ایک بال کی مسافت جتنا فاصلہ رہ گیا تھا۔۔
"تم سہی ہو میں زیادہ ہی سوچ رہی تھی۔۔۔اگر ایسا کچھ ہوتا تو تمھارے پاس ایک پختہ وجہ تھی کہ تم شادی سے انکار کر دیتے۔تسنیم اسے کہتی ہوئی مسکرائی تھی کہ احان نے اسکی پوری بات سنتے اسکے سر کہ پیچھے ہاتھ رکھتے وہ تھوڑا فاصلہ بھی مٹا دیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن۔۔
شام کا وقت تھا ایسے میں ہانم صحن میں بیٹھی اپنی ہی سوچوں میں گم تھی عائشہ فاصلے پر کھڑی پودوں کو پانی دینے کہ ساتھ گنگنا بھی رہی تھی جب یکدم ہی گھر کی بیل بجی تھی کہ دونوں چونک گئیں تھیں۔۔۔
"ہم دیکھتے ہیں۔۔۔۔ہانم اسے دیکھ کر کہتی اٹھ کر دروازے تک گئی تھی جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا مقابل شخص کو دیکھ کر ساکت ہوگئی تھی۔۔۔جبکہ مقابل آنکھوں میں چمک لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
"ہانم کون ہے۔۔۔کل کہ بعد سے جو ہوا اس سے سب ہی محتط ہوگئے تھے تبھی وہ جلدی سے وہاں آئی تھی لیکن سامنے موجود ھاد کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئی۔
"السلام علیکم۔۔۔۔۔۔جنید کی آواز پر تینوں جیسے ہوش میں آئے تھے۔۔
"وعلیکم َالسلام۔۔۔۔ھاد بھائی آپ یہاں؟ عائشہ اسے جواب دیتی ھاد سے پوچھنے لگی جبکہ جنید اسے گھورنے کہ بعد ہانم کو دیکھنے لگا ۔۔جب ھاد نے اسے کہنی مار کر گھورا تھا۔۔۔
"ہاں وہ کچھ کام کہ سلسلے میں اچانک آنا پڑھ گیا پھر سوچا کہ تم لوگوں سے بھی مل لیا جاۓ اور آپ ہانم کیسی ہیں؟ ھاد اسے جواب دیتا ہانم سے مخاطب ہوا تھا جو اسے دیکھ کر اپنی انگلیاں موڑ رہی تھی۔۔
"ہم ٹھیک ہیں۔۔آپ کیسے ہیں؟ ہانم آہستہ سے پوچھتی نظریں جھکا گئی جب کسی عورت کی آواز پر ہانم نے سر اٹھایا تھا ۔۔۔
"تم ہانم داؤد ہو؟ یاسمین نے الجھ کر اس سے پوچھا تھا کہ وہ اسے کافی کم عمر لگ رہی تھی۔۔
"جی ہم ہانم داؤد ہیں۔۔۔۔عرصم جو حفصہ اور تیمور کو لئے وہیں آرہا تھا آواز پر اسکے قدم لمحے بھر کہ لئے رکے تھے۔۔۔
"آہ نہیں۔۔۔مرے ہوۓ لوگ کب واپس آتے ہیں۔۔۔۔عرصم سر جھٹکتا جیسے ہی وہاں پہنچا ہانم کو دیکھ کر اسکے دل کی کیفیت عجیب ہونے لگی تھی وہی آنکھیں ویسا ہی گال پر گڑھا۔۔
"عرصم چلو اندر۔۔۔۔جنید کی آواز پر وہ بری طرح چونکا تھا ہانم نے نظر اٹھا کر دیکھا تو لمحے بھر کہ لئے وہ اسے دیکھتی رہ گئی پھر سر جھٹک کر اندر بڑھی جبکہ عرصم ایک نظر جنید کو دیکھ کر اپنے قدم اندر بڑھا لیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماضی۔۔۔۔۔۔
داؤد ابراھیم اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے۔۔نرم خو ٹھنڈے مزاج کہ اپنے والدین کی زندگی۔۔۔۔۔اکلوتے ہونے کہ باوجود ان میں نہ کوئی اکڑ تھی نہ ہی ضدی تھے پیسے کی بھی کوئی کمی نہیں تھی۔۔۔
اپنے ہی پاکستان میں تعلیم حاصل کی 26 سال کی عمر میں اپنے باپ کی چچا زاد بیٹی سے پسند کی شادی کی۔ابراھیم صاحب اور احتشام صاحب بھی اپنے والدین کی دو ہی اولادیں تھیں۔۔
شادی کہ دو سال بعد اللّه نے انھیں بیٹے سے نوازا تھا جس کا نام داؤد صاحب نے اپنی پسند سے عرصم رکھا تھا۔۔۔داؤد ابراھیم کی بیوی جن کا نام دانی احتشام تھا انکا ایک ہی بھائی تھا لیکن وہ سگے نہیں تھے بیٹے کی کمی کی وجہ سے فہد اکرم کو گود لیا گیا تھا یوں انھیں ایک بیٹا اور دانی کو انکا بھائی مل گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔
"فہد۔۔۔ تڑاخ! دانی نے کھینچ کر اسکے منہ پر تھپڑ رسید کیا تھا کہ وہ جو نشے میں تھا پلٹ کر اسے مارنے لگا۔۔
"مجھ پر ہاتھ اٹھائے گی۔۔۔مجھ پر۔۔۔۔۔فہد غصّے میں اسے مارتا بستر پر دکھیل چکا تھا۔۔۔
وہ جو ایک بار پھر ماں بننے والی تھیں خوفزدہ ہوتیں اسے ہٹانے لگیں۔۔۔
(دانی اپنے میکے اپنے سات سالہ بیٹے کہ ساتھ روکنے آئی ہوئی تھیں
رات کا جانے کون سا پہر تھا جب پیاس کی شدّت سے وہ ایک نظر سوئے ہوۓ عرصم کو پیار کرتی اٹھ کر کچن کی طرف بڑھنے لگیں جب اپنے بھائی کو لڑکھڑاتے ہوۓ کمرے میں جاتا دیکھ کر وہ گھبرا گئیں تھیں۔۔۔فہد کی پشت ہونے کی وجہ سے انہیں معلوم ہی نہیں چلا کہ وہ نشے میں ہے نہ ہی کسی کو اس بات کا علم تھا۔
"فہد تم ٹھیک ہو؟ کیا ہوا ہے؟ دانی متفکر سی کہتی ہوئیں اندر بڑھی تھیں۔۔۔فہد جو اپنی شرٹ کہ بٹن کھول رہا تھا گردن موڑ کر انھیں دیکھنے لگا۔۔
"ارے دانی تم سے تو ملاقات ہی نہیں ہوتی میری پیاری بہن۔۔۔فہد اسے بولتے چلتا ہوا قریب آیا پھر دانی کا ہاتھ پکڑ کر کمرے میں لایا تھا جو اسکے انداز اور منہ سے آتی بدبو پر ناک پر ہاتھ رکھتی ناگواری سے اسے دیکھ رہی تھیں۔
"تم نشہ کرتے ہو امی ابّو کو معلوم ہے؟
"نہیں میری پیاری بہن اور اب تم مت بتا دینا۔۔۔۔فہد ہوس بھری نظروں سے اسکے وجود کو دیکھتا قریب آنے لگا کہ دانی گھبرا کہ اپنے قدموں کو پیچھے کرنے لگی۔۔
"فہد ابھی تم ہوش میں نہیں ہو ہم کل بات کرتے ہیں۔۔۔دانی اس سے خوفزدہ ہوتی پیچھے ہونے لگی جس نے مسکرا کر دونوں ہاتھ اسکی کمر پر رکھتے ہاتھ کو پشت کی جانب لے جانے لگا کہ بے ساختہ دانی کا ہاتھ اٹھا تھا)
" فہد۔۔۔۔دانی نے چیختے ہوۓ اسے پیچھے کرنا چاہا جو اس کہ بھرے بھرے وجود کو چھوتے ہی پاگل سا ہونے لگا تھا وہ بھول چکا تھا کہ مقابل اسکی بہن ہے جسکے ماں باپ نے اسے اپنا نام دیا اپنی پہچان دی تھی۔۔۔۔
دانی چیخ رہی تھی کہ فہد نے تیزی سے اسکا منہ اسی کہ ڈوپٹے سے باندھا تھا۔۔دانی خود کو اسکے شکنجے سے آزاد کروانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی تھی جسکی گستاخیاں بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔
آنکھوں سے آنسوں تسلسل سے بہہ رہے تھے ہمّت تھی کہ دھیرے دھیرے ختم ہورہی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
فجر کا وقت تھا جب کمرے کا دروازہ کھول کر دانی بکھری حالت میں ڈوپٹے سے بےنیاز چلتی ہوئی باہر نکلی تھی اندر وہ شیطان اپنی حیوانیت پوری کرتا گہری نیند سو رہا تھا جبکہ دانی چلتی ہوئی اپنے کمرے کی چوکھٹ تک آئی تھی ایک نظر اپنے بیٹے کو دیکھتے ہی وہ زمین بوس ہوئی کہ عرصم دھپ کی آواز پر جاگ گیا تھا۔
"امی۔۔۔۔عرصم نے اپنے پاس دیکھا جہاں کوئی نہیں تھا پھر اٹھ کر اپنی ماں کو ڈھونڈھتا وہ جیسے ہی کمرے کہ دروازے تک پہنچا کسی چیز سے ٹکرا کر گرنے لگا۔۔
گھبرا کر کمرے کی لائٹ جلا کر اس نے جیسے ہی نیچے دیکھا اپنی ماں کو دیکھ کر چیخے مارتا اپنی ماں کو جھنجھوڑنے لگا۔۔
ہسپتال کہ کوریڈور میں اس وقت احتشام صاحب اور انکی بیگم پریشانی سے ٹہل رہے تھے داؤد اور اسکے گھر والوں کو بھی فون کر دیا گیا تھا۔۔۔آدھا گھنٹہ ہی گزرا تھا جب داؤد اپنے والد کہ ساتھ وہاں آئے تھے چونکہ والدہ کا کچھ عرصہ قبل ہی انتقال ہوا تھا۔۔
دونوں جیسے ہی نزدیک پہنچے نرس اندر سے نکل کر تیزی سے جانے لگی کہ داؤد نے اسے روکا تھا۔۔
"ہماری بیوی اور بچہ ٹھیک تو ہے۔۔۔داؤد کہ پوچھنے پر نرس نے ترحم بھری نظروں سے سامنے کھڑے وجاہت سے بھرپور مرد کو دیکھا تھا۔۔
"دیکھئے میں کچھ نہیں کہہ سکتی لیکن ہمیں ابھی آپریشن کرنا پڑے گا باقی دعا کیجئے کہ کوئی موجزہ ہوجاۓ۔۔۔۔نرس کہتے ہی وہاں سے آگے بڑھ گئی تھی اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ انھیں یہ بتاتی کہ اس حالت میں کسی ظالم نے اس کا ریپ کیا ہے۔۔۔
"داؤد سمبھالو خود کو ان شاءلله سب بہتر ہوگا۔۔۔ابراھیم صاحب نے اسکے کندھے کو تھپتھپاتے ہوۓ دلاسہ دینے کی کوشش کی تھی کہ وہ بس سر کو ہی جنبش دے سکے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایکسکیوز می آپ میں سے پیشنٹ کہ ہسبنڈ کون ہیں ؟
"ج جی ہم ہیں۔۔۔نرس کہ آ کر پوچھنے پر داؤد جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھ کر نرس کی طرف بڑھے تھے۔
"ٹھیک ہے۔۔آجائیں۔۔۔
"لیکن وہ۔۔
"دیکھئے وہ آپ سے بات کرنا چاہتی ہیں۔۔نرس نے یُکدم ہی اسے کہا تھا کہ وہاں موجود سبھی نے ایک دوسرے کو پریشانی سے دیکھا تھا۔۔۔
داؤد جیسے ہی اندر آیا دانی کو دیکھ کر تیزی سے قریب گیا تھا لیکن اگلے ہی پل دانی کہ چہرے پر نیل دیکھ کر اسکا ہاتھ دانی کی طرف بڑھتا وہیں روک گیا تھا۔۔
"دانی۔۔۔ہم ہماری دانی کو کیا ہوا ہے۔۔ہم۔۔۔
"سمبھالیے خود کو پلیز ڈاکٹر نے اسے روکنا چاہا تھا جب دانی نے نیم دا آنکھوں سے اسے دیکھا تھا داؤد تیزی سے دانی کی طرف جھکا تھا جس کی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہی آنسوں رواں ہوگئے تھے ۔۔۔بیڈ پر رکھا ہاتھ اس نے اٹھانے کی کوشش کی تھی تاکہ آخری بار وہ اسے چھو سکے۔۔محسوس کر سکے۔
"دانی ۔۔ہماری دانی ہماری زندگی یہ کیا ہوگیا۔۔۔ہمیں بتاؤ کس نے تمہاری یہ حالت کی ہے۔۔ہم۔۔ ہم اسے جان سے مار دیں گے۔۔۔یا اللّه کس ظالم نے ہماری دانی کی یہ حالت کردی۔۔۔۔۔روتے ہوۓ کہتے اسکے لب اور ہاتھ بری طرح کانپ رہے تھے۔۔۔
"ف۔۔۔فف! دانی کہ اتنا کہتے ہی دانی کی سانس پھولنے لگی تھی۔۔داؤد نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر دبایا تھا کہ اتنی تکلیف کہ باوجود دانی مسکرائی تھی۔۔۔
"پلیز پیچھے ہٹیں ہمیں ابھی آپریش شروع کرنا ہے ورنہ بچے کی بھی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔۔۔
"کک کیوں ہم ہماری دانی ۔۔داؤد اسکے "بھی"پر کانپ گیا تھا دانی جو اسے ہی دیکھ رہی تھی دوبارہ کچھ بولنے کی کوشش کرنے لگی۔۔
"فف فہ۔۔۔۔۔فہہ۔۔۔۔فہد
"فہد؟ فہد کیا دانی۔۔۔۔بلآخر اس نے اپنے مجرم کا نام لیا تھا داؤد بےیقینی سے دوہراتا اس سے جاننے کی کوشش کر رہا تھا جب اسے باہر نکلنے کا حکم دیا گیا۔۔
"فہد۔۔۔فہد۔۔۔دانی۔۔۔
"پلیز شور مت کریں باہر نکلیں۔۔۔۔نرس نے اس بار سختی سے اسے کہا کہ وہ تیزی سے باہر نکلتا دیوار کہ ساتھ لگ کر کھڑا ہوگیا۔۔
ابراھیم صاحب اور احتشام صاحب تیزی سے نزدیک آئے تھے جو بار بار فہد کا نام دوہرا رہا تھا جب وہی نرس جو ان سے پہلے ملی تھی انکے پاس آئی تھی۔۔
"کیا آپ سے بات ہوسکتی ہے؟ نرس کی آواز پر ناچار داؤد کو اسکے ساتھ جانا پڑھا تھا جو ایک تنہا گوشے میں جا کر رکی تھی۔۔
"مجھے بہت افسوس ہے آپ کی بیوی کہ لئے۔۔۔ہماری کوشش ہے کہ ہم کسی ایک کو بھی بچانے میں کامیاب ہوجائیں۔۔۔
"ہماری دانی پر تشدد کیا گیا ہے نرس۔۔۔۔داؤد اسکی بات سن کر ضبط سے بولا تھا۔۔۔
"نہیں۔۔۔صرف تشدد نہیں آپکی بیوی کا رپپ ہوا ہے....نرس کہ انکشاف پر اسے اپنی ٹانگوں سے جان جاتی محسوس ہوئی تھی۔۔۔جبکہ نرس اسے بتا کر وہاں سے چلی گئی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"چاچو گھر میں کوئی چور آیا تھا؟ آدھا گھنٹہ جی بھر کہ رونے کہ بعد وہ وہاں آیا تھا اور آتے ساتھ ہی سنجیدگی سے پوچھنے لگا۔۔
"نہیں بیٹا ہم تو عرصم کی چیخوں سے جاگے تھے عرصم کو لانا ٹھیک نہیں لگا تو اقصیٰ کو فون کر کہ بلاوا لیا ہے جب تک ملازمہ کہ حوالے کر کہ آئے ہیں۔۔۔احتشام صاحب نے جلدی سے اسے بتایا جو سرد لہجے میں تفتیش کر رہا تھا۔۔
"اور فہد وہ گھر پر نہیں ہے ؟
"وہ تو گھر پر بی ہوتا ہے۔۔۔روز ہی دیر سے آتا ہے عجیب ہی حرکتیں ہوگئی ہیں اس کی تو۔۔۔۔عروسہ بیگم نے ناک چڑھا کر اپنے بیٹے کی شکایت آج لگا ہی دی تھی ہر بار وہ اسکی حرکتوں پر پردہ ڈالتی آرہی تھیں کہیں بار ملازمہ نے بھی اسکی شکایت لگائی تھی کہ وہ آتے جاتے اس کا راستہ روکتا اسے طرح طرح کی آفر دیتا تھا۔۔۔۔۔۔
عروسہ بیگم کی بات پر داؤد نے انھیں دیکھا تھا۔۔
(ف فہ فہد۔۔۔۔دانی نے غیر ہوتی حالت میں اپنے محبوب شوہر اپنے محرم کو بتایا تھا )
"ہم اسے زندہ نہیں چھوڑیں گے۔۔۔دونوں ہاتھوں کی مُٹھائیاں بھینجتے وہ سلگتے لہجے میں کہتا جانے لگا جب نرس کی آواز پر اسکے قدم زنجیر ہوۓ تھے۔۔۔آنسوؤں سے لبریز آنکھوں سے اس نے گردن موڑ کر دیکھا تھا کمبل میں لپٹا وہ ننھا سا وجود۔۔۔۔
داؤد کی نظریں جیسے وہیں ساکت ہوگئیں تھی جب ڈاکٹر کی آواز نے اسکے پیروں تلے زمین کھنچی تھی ۔۔
"یہ موجزہ ہے کہ اتنا کچھ ہونے پر بھی بچی بچ گئی ہے ورنہ بہت کم ایسے کیسسز میں یہ ہوتا ہے وہ بھی ایک یا دو لیکن ہمیں افسوس ہے اللّه آپ سب کو صبر دے آمین ثم آمین لیڈی ڈاکٹر کہتی ہوئی وہاں سے آگے بڑھ گئی تھی جبکہ داؤد نے آگے بڑھ کر کانپتے ہاتھوں سے اپنی بیٹی کو نرس کی گود سے اٹھایا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انگڑائی لیتا وہ جیسے ہی اٹھا بیڈ پر دانی کا ڈوپٹہ اٹھا کر خباثت سے سونگھتا اٹھ کر واش روم کی جانب بڑھنے لگا لیکن اگلے ہی پل وہ ٹھٹھکا تھا تیزی سے ڈوپٹہ اٹھا کر وہ کمرے سے نکلا تھا لیکن لاؤنج کہ دروازے سے سب کو اندر آتے دیکھ کر ڈوپٹہ چھپاتا وہ داؤد کی گود میں بچہ دیکھ کر گھبرایا عروسہ بیگم پر غشی طاری ہورہی تھی اقصیٰ بیگم رونے کی آواز پر وہاں آئیں تھیں۔۔
"ہائے میری بیٹی۔۔۔احتشام میری بیٹی مجھے لا دو۔۔۔میری دانی مجھے لا دو۔۔۔میری دانی۔۔۔اقصیٰ بیگم نے سینے پر ہاتھ رکھا جبکہ فہد دانی کی موت کا سن کر گھبراتا تیزی سے اپنے کمرے میں گھس گیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
"پاپا یہ تو بالکل شہزادی ہے۔۔۔۔۔عرصم محبت سے سوئی ہوئی ننھی سی ہانم کہ نرم گالوں کو انگلی سے چھوتے ہوۓ بولا تھا۔۔
"عرصم یہ آپکی شہزادی ہے اسکا ہمیشہ خیال رکھنا کسی دوسرے کو اسکے نزدیک مت آنے دینا۔۔داؤد ضبط سے اسے سمجھاتا ہانم کو گود میں اٹھا کر اپنے سینے سے لگاتا رونے لگا کہ عرصم نے گھبرا کر اپنے باپ کو دیکھا تھا۔۔
"آپ رو کیوں رہے ہیں پاپا؟
"ہم جا رہے ہیں تمہاری امی انتظار کر رہی ہونگی۔۔۔۔اسے اپنے پاس رکھو ۔۔۔داؤد بے دردی سے آنسوں پونچھتا ہانم کو اسکے قریب لیٹا کر باری باری دونوں کی پیشانی چوم کر کمرے سے نکل گیا تھا جبکہ عرصم جس نے کل سے اپنی ماں کو نہیں دیکھا تھا اسکے باپ نے بتایا تھا کہ طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے وہ ابھی تک ہسپتال میں ہے۔۔۔عرصم اپنی ماں کو یاد کرتا اداس ہوگیا تھا لیکن ہانم کہ چہرے پر نظر پڑھتے ہی وہ مسکرایا تھا پھر جھک کر باپ کی طرح ہی اسکی ننھی سی پیشانی پر بوسہ دیا تھا ۔
"ہم ہیں تمھارے ساتھ ڈرنا مت۔۔آ۔۔۔ عرصم یکدم ہی روک کر سوچ میں پڑھ گیا تھا آخر اسکا نام تو رکھا ہی نہیں تھا۔۔
"فکر مت کرو شہزادی تمہارا نام ہم رکھیں گے۔۔۔ اممم۔۔۔۔ہانم۔۔۔۔۔عرصم سوچنے کہ انداز میں گال پر انگلی رکھتے ہوۓ آخرکار نام سوچ چکا تھا۔۔
"ہاں ہانم داؤد۔۔۔ہماری ہانم داؤد۔۔۔۔

"خالہ آپ گھر پر ہی رہیے گا۔۔۔
"داؤد بیٹا اب کہاں جا رہے ہو سب ہسپتال میں تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔۔۔دانی کو لے اؤ تاکہ جلد از جلد اسے اسکی آخری آرام گاہ تک پہنچا دیا جائے ۔۔۔
اقصیٰ بیگم نے دکھ سے داؤد کو دیکھ کر کہا تھا کہ صبح سے اسکی باڈی کو گھر نہیں لایا گیا تھا۔۔
"ہم پولیس سٹیشن جا رہے ہیں خالہ پھر وہاں۔۔۔
"داؤد کیوں وقت ضائع کر رہے ہو احتشام بھائی بہت پریشان ہیں انکا دو بار فون آچکا ہے۔۔۔
"آہ۔۔۔ہم کیا کریں خالہ بتائیں ہم کیا کریں وہ خبیث شخص گھر سے فرار ہوگیا صرف و صرف ہمارے کمزور پڑھنے سے۔۔۔داؤد اپنے بالوں کو دونوں ہاتھ سے جاکڑ کر ہاتھوں کو جھٹک کر ضبط سے کہتا سسک پڑا تھا کہ اقصیٰ بیگم بھی رونے لگیں تھیں کتنی مشکل سےسمبھالا تھا انہوں نے اپنے آپ کو۔۔۔
"داؤد بیٹا وہ تکلیف میں ہوگی۔۔۔۔اقصیٰ بیگم کی بات پر داؤد کہ دل پر آری چلی تھی۔۔۔دانی کی تکلیف کا سوچتے ہی وہ تیزی سے حال سے نکلا تھا جبکہ اقصیٰ بیگم نے روتے ہوۓ دعا کے لئے ہاتھ اٹھا لئے تھے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"فہد میاں کام تو ہوجاۓ گا لیکن پیسہ زیادہ لگے گا۔۔۔۔سامنے بیٹھے غنڈے نے مزے سے اسے کہا۔۔
"مل جاۓ گا لیکن کام پورا ہونا چاہیے۔۔۔۔فہد اسے کہتے ہوۓ کھڑا ہوا۔۔۔
"ٹھیک ہے جگہ اور گاڑی کی ساری ڈیٹیلز میرے آدمی کو لکھوا دو۔۔۔فہد سے کہتا وہ پاس ہی بیٹھی لڑکی کو لئے آگے بڑھ گیا تھا۔۔۔فہد نے اپنے دوست کو دیکھا جس نے اسکے بچنے کا ایک ہی راستہ نکالا تھا۔۔۔۔۔
"وقاص تجھے لگتا ہے یہ کرلیں گے؟ فہد نے سرگوشی میں اس سے پوچھا جو مسکرا رہا تھا۔۔
"بالکل میرے یار یہ غنڈے ماہر ہیں ایسے حادثے کرنے میں کہ سب کو لگتا ہے واقعی ایکسیڈنٹ ہے.۔۔چل تو اب مزے کر۔۔وقاص مکرو مسکراہٹ سے بولتا اسے لئے آگے بڑھ گیا۔
۔۔۔۔
پورے گھر میں سناٹے کا راج تھا دوپہر سے شام ہونے کو آئی تھی لیکن ہسپتال سے ابھی تک نہ کوئی آیا نہ ہی کسی کا نمبر مل رہا تھا اقصیٰ بیگم عصر کی نماز پڑھنے کہ بعد حال ہی میں چاندنی پر بیٹھیں صوفے سے پشت ٹکائے یٰسین شریف پڑھ رہی تھیں جب عرصم ہانم کو گود میں اٹھاۓ وہاں آیا تھا اقصیٰ بیگم چونکی تھیں ہانم کی باریک سی آواز پر عرصم اسے ہلاتے ہوۓ چپ کروانے کی ناکام کوشش میں خود بھی روہانسی ہورہا تھا جبکہ اس طرح کرنے پر بچی اور زور و شور سے رو رہی تھی۔۔
"خالہ ہانم کو بھوک لگ رہی ہے۔۔۔دیکھیں۔۔۔عرصم انہیں بتاتے ساتھ اپنی انگلی اس کہ منہ میں ڈال کر بھی دکھانے لگا کہ وہ یُکدم ہی خاموش ہوئی تھی۔
"اللّه یہ کیسی آزمائش ہے۔۔۔اقصیٰ بیگم نے اٹھ کر عرصم سے اسے لیے لان میں نکلی تھیں جہاں ملازم اپنے کام میں مصروف تھے۔۔
"خالہ ہماری ہانم بھوکی ہے کچھ کریں۔۔
"ہاں میری جان اسکے لئے ہی دودھ منگوا رہی ہوں.۔۔ابھی آجاتا ہے۔۔۔اقصیٰ بیگم بھاری آواز میں اسے کہتیں ملازم کو بھیج کر اندر بڑھ گئیں تھیں۔۔
"چپ ہوجاؤ نہ ہانم ہمیں آپکا رونا برداشت نہیں ہورہا۔۔۔عرصم اقصیٰ بیگم کہ ساتھ ساتھ اِدھر سے اُدھر چلتے ہوۓ ہانم سے کہہ رہا تھا جو بھوک کی شدّت سے روۓ جا رہی تھی جبکہ عرصم بری طرح پریشان ہو رہا تھا ننھی سی بہن کا یوں بھوک سے رونا اس سے برداشت نہیں ہورہا تھا۔
ملازم کہ آتے ہی اقصیٰ بیگم نے شکر کیا تھا کہ بچی کا رونا انہیں خون کہ آنسوں رلا رہا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آٹھ بجے کا وقت تھا یا شاید قیامت کا سا منظر۔۔۔۔اقصیٰ بیگم پتھرائی ہوئی نظروں سے روش پر رکھے اپنوں کہ جنازوں کو دیکھ رہی تھیں۔۔محلے والے دوست احباب کہ ساتھ نیوز چینلز والے بھی اتنے بڑے حادثے کی کوریج کہ لئے آئے تھے۔
"اللّه کیا قیامت ٹوٹی ہے۔۔۔
"سنا ہے گاڑی سیدھا ٹرک میں گھسی تھی۔۔
"ہاں بیچاروں کو مہلت ہی نہیں ملی،ٹی وی میں دیکھا گاڑی کا حشر استغفرالله اللّه ہر کسی کو ایسی حادثاتی موت سے بچائے۔۔
"آمین ثم آمین۔کتنی ہی آوازیں تھیں جو گڑمڑ ہورہی تھیں۔۔۔اقصیٰ بیگم آگے بڑھتی ہوئی دو جنازوں کہ پاس آ کر رکی تھیں۔۔۔،جنھیں ساتھ رکھا ہوا تھا۔
عرصم جو ہانم کو اٹھائے سب دیکھتا ہوا پیچھے ہی آرہا تھا اقصیٰ بیگم کہ ساتھ آکر بیٹھا تھا
"خالہ۔۔۔۔۔عرصم خوفزدہ سا سب دیکھ رہا تھا اقصیٰ بیگم نے کرب سے آنکھوں کو میچا تھا۔۔
"ایک بار بیٹے کو والدین کا چہرہ دکھا دیں.۔۔کسی بزرگ کی آواز پر عرصم کی گرفت کمزور ہوئی تھی۔۔ جب دونوں کہ چہرے سے چادر کو کسی نے ہٹایا تھا۔۔۔عرصم چیختا ہوا اپنے ماں باپ کو دیکھتے ہی دھاڑے مار کر رو لگا عرصم کہ رونے میں اتنی تڑپ تھی کہ ہر آنکھ اشک بار ہوئی تھی سوائے اسکے جو سب سے چھپ کر کھڑا آنکھوں میں چمک لئے اس بنگلے کو دیکھ رہا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کا جانے کون سا پہر تھا جب عجیب سے احساس پر عرصم کی آنکھ کھلی تھی تیزی سے اس نے اپنے برار میں دیکھا جہاں اس نے ہانم کو لٹایا تھا مگر وہ وہاں موجود نہیں تھی خوف سے آنکھیں پھیلائے وہ اردگرد دیکھنے لگا اسکی ماں بھی تو ایسے ہی چلی گئی تھی۔۔۔
یہ خیال آتے ہی عرصم تیزی سے اٹھ کر کمرے سے نکل کر اقصیٰ بیگم کہ کمرے کی جانب بڑھا تھا اسے اپنی کوئی فکر نہیں تھی کہ وہ بخار کی شدت سے تپ رہا تھا۔۔
ابھی وہ اقصیٰ بیگم کہ کمرے کی چوکھٹ پر ہی تھا جب اقصیٰ بیگم کے رونے کی آواز پر وہ تیزی سے اندر بڑھا تھا۔۔۔لیکن سامنے کا منظر دیکھتے ہی یکدم وہ زمین بوس ہوگیا تھا۔۔۔
اقصیٰ بیگم چیختی ہوئی اسکی جانب بھاگی ہی تھیں کہ راستے میں ہی وقاص نے انھیں پکڑ لیا تھا جبکہ فہد جو قدموں کی آواز پر چھپ گیا تھا شیطانی مسکراہٹ سے چلتا ہوا بچی کہ چہرے سے کپڑا ہٹا کر بغور اس کہ چہرے کو دیکھتے ہوۓ اسے اٹھا چکا تھا۔۔
"نہیں فہد بچی کو چھوڑ دو۔۔۔۔ایسا مت کرو۔۔۔
"جوان ہو کر قیامت خیز نکلے گی یہ تو اپنی ماں سے بھی زیادہ۔۔۔۔۔۔۔۔فہد اسے دیکھتے ہوۓ جھک کر بچی کہ ہونٹ کو نرمی سے چوم کر مسکرایا۔۔
"فہد اللہ سے ڈرو۔۔۔ایسا مت کرو بچی میرے حوالے کردو۔۔
"ارے بس کر خالہ کیوں اس کہ پیچھے اپنی جوانی خراب کر رہی ہے۔۔۔زیادہ ہمدرد مت بن ورنہ جانتا ہوں ہماری چھوٹی سی کزن کس اسکول میں ہے.۔۔۔۔میں اسے لے کر جا رہا ہوں اور خبردار اپنا منہ کھولا تو اپنی بیٹی کہ کفن کی تیاری رکھنا۔ ۔فہد کہتا ہوا وقاص کہ ساتھ جانے لگا جس نے جاتے جاتے اقصیٰ بیگم کہ کان میں سرگوشی کی تھی کہ وہ سر تا پیر لرز گئیں تھیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو دن بعد:
صبح کہ پانچ ساڑے پانچ کا وقت تھا جب کچرا اٹھانے والی گاڑی یتیم خانے کہ باہر آکر رکی تھی ایک آدمی تیزی سے اتر کر دیوار کہ ساتھ ہی رکھے کچرے کہ بڑے بڑے ڈسٹ بن کہ نزدیک آیا جب یکدم ہی اسے کسی بچی کہ رونے کی آواز آئی۔۔
"بابو بھائی کسی بچی کہ رونے کی آواز آرہی ہے۔۔۔۔لڑکے نے اپنے سے بڑی عمر کہ آدمی سے کہا کہ وہ بھی تیزی سے وہاں آیا تھا بچی کہ رونے کی آواز مسلسل آرہی تھی جب آدمی نے ایک ڈسٹ بن کہ ڈھکن کو اٹھایا تھا۔۔
"اللّه اکبر۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
"یہ آپ کو کہاں سے ملی ہے؟ دونوں اندر آفس میں موجود تھے۔۔
"ہم تو کچرا اٹھانے آئے تھے میڈیم جی یہ کچرے کہ ڈھیر میں ملی ہے جی۔۔۔۔آدمی نے گھبرا کر جلدی جلدی انھیں بتایا تھا کہ کہیں وہ ان پر ہی شک نہ کرنے لگے.
"افف کیسے بے ضمیر لوگ ہیں۔۔۔کتنی پیاری بچی ہے۔۔ عورت نے افسوس کا اظہار کرتے پاس ہی کھڑی دوسری عورت کو بچی ان سے لینے کو کہا۔۔۔
"بچی کو صاف ستھرا کر کہ دودھ دو ،چیک کرو کہیں کوئی ایسی چیز ہو جس سے بچی کی شناخت ہوجاۓ۔۔
"ٹھیک ہے۔۔۔بچی ان سے لے کر وہ دفتر سے نکل گئی تھی۔۔۔
"آپ لوگ جا سکتے ہیں۔۔اللّه نے آپ لوگوں کو وسیلہ بنایا تھا اگر وہاں کوئی نہ ہوتا تو شاید دم گھٹنے سے ایک معصوم پھول مرجھا جاتا۔۔۔
دونوں مردوں کہ جاتے ہی وہ عورت تیزی سے اندر آئی تھی۔۔۔
"میڈیم۔۔۔۔بچی کہ پاس سے یہ کاغذ نکلا ہے۔۔۔شاید بچی کا نام ہے۔۔۔عورت نے تیزی سے میز پر وہ کاغذ کا ٹکڑا رکھتے ہوۓ یتیم خانے کی اونر سے کہا جس نے چشمہ لگاتے وہ کاغذ کھولا تھا۔۔
"ہانم داؤد۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو دن سے اقصیٰ بیگم ہسپتال میں عرصم کہ ساتھ موجود تھیں جو گنودگی میں بھی "ہانم" کو پکار رہا تھا۔۔۔
"خالہ ہماری ہانم۔۔۔ہماری شہزادی کہاں ہے۔۔۔ہمیں اسکے پاس لے چلیں۔۔ہمارے پاپا نے اسے ہمیں دیا تھا کہ ہم اسکا خیال رکھیں۔۔۔ہماری بہن کہاں ہے خالہ۔۔۔روتے ہوۓ کہتا وہ ان سے ہانم کے بارے میں استفسار کر رہا تھا نظروں کہ سامنے چادر سے ڈھکا وہ ننھا سا وجود اسے ایک لمحہ بھی چین نہیں لینے دے رہا تھا۔۔۔۔۔۔
اقصیٰ بیگم کچھ سوچتے ہوۓ عرصم کو خود سے لپٹا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگیں کہ اپنی اکلوتی بیٹی کو وہ کھونا نہیں چاہتی تھیں۔۔
۔۔۔۔۔۔
وہیل چیئر پر کمزور سا عرصم سوجی آنکھوں سے بے حس و حکت بیٹھا اس مٹی کہ چھوٹے سے ڈھیر کو دیکھ رہا تھا کہ اقصیٰ بیگم نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔
"نن۔۔نہیں یہ ہماری ہانم نہیں ہے۔۔۔نن۔ وہ ہمیں کیسے چھوڑ کر جا سکتی ہے۔۔وہ تو۔۔۔
"سمبھالو میرا بچہ خود کو۔۔۔اقصیٰ بیگم نے اسے پکڑنا چاہا جو وہیل چیئر سے اتر کر نیچے بیٹھ کر مٹی پر ہاتھ پھیرنے لگا وہاں کہ گورکن نے دکھ سے اسے دیکھا تھا
وہ کسی چھوٹی بچی کی قبر تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
"ہماری ہانم۔۔۔۔ہماری ہانم۔۔۔خالہ ہماری ہانم۔۔۔۔عرصم تڑپ تڑپ کر دوہائی دیتا قبر کو چھوٹا تو کبھی چومتا جاتا ۔۔۔اقصیٰ بیگم منہ پر ہاتھ رکھے خود پر ضبط کیے بے جان ہوتے وجود کہ ساتھ عرصم کہ ساتھ بیٹھی تھیں جسکی رو رو کہ ہچکی بندھ گئی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حال ۔۔۔
حال۔۔۔۔
لاؤنج میں اس وقت گھر کہ تمام افراد موجود تھے ھاد سب سے انکا تعارف کروا رہا تھا۔۔۔جبکہ نظر بھٹک بھٹک کر ہانم کی جانب اٹھ رہی تھیں جنید مسکراہٹ ضبط کیے اپنے بھائی کو پہلی بار ایسی حرکتیں کرتا دیکھ کر محظوظ ہورہا تھا۔۔
جبکہ یاسمین کی نظریں ہانم کہ چہرے پر ہی ٹکی ہوئی تھی۔۔
"آپ لوگ یہاں کہاں ٹھہرے ہیں؟ امجد صاحب نے عرصم کو دیکھ کر پوچھا جو ہانم کو دیکھ رہا تھا۔۔
انکی آواز پر چونک کر امجد صاحب کو دیکھنے لگا۔۔
"جی وہ ہوٹل میں ہی رکے ہیں۔۔۔
"اچھا اچھا۔۔۔لاہور پہلی بار آئے ہو بیٹا؟
"نہیں کام کہ سلسلے میں ایک دو بار آیا ہوں۔۔ہماری وائف کا میکا بھی یہیں ہے۔۔۔۔عرصم نے یاسمین کی طرف دیکھتے ہوۓ بتایا تھا۔۔
"یہ تو بہت ہی اچھی بات ہے۔۔۔نادیہ مہمان آئے ہیں کھانے کا اہتمام کرو۔۔۔
"انکل اسکی کوئی ضرورت نہیں ہے پہلے ہی بنا بتائے آگئے ہم۔۔۔
ھاد نے جلدی سے انھیں روکا تھا جو اسکی بات رد کرتے نادیہ بیگم کو دوبارہ بولے تھے کہ وہ مسکراتی ہوئیں کِچن کی طرف بڑھ گئیں تھیں عائشہ بھی مسکرا کر اپنی ماں کہ پیچھے گئی تھی جبکہ ہانم نورین کہ ساتھ نظریں جھکا کر بیٹھی اپنی ہی سوچوں میں غرق تھی جب یاسمین نے اسے مخاطب کیا۔۔
جواب نہ پا کر یاسمین کو شرمندگی ہونے لگی ۔۔
"ہانم آپی آپ کو بلا رہی ہیں۔.۔۔۔نورین کہ کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہنے پر ہانم چونکی تھی۔۔
خالی خالی نظروں سے وہ انھیں دیکھنے لگی جو اسی کو دیکھ رہے تھے۔۔
"ھاد نے بتایا تھا کہ اس نے تم تیوں لڑکیوں کو بچایا تھا آخر کون تھا وہ پولیس میں کمپلِین نہیں کروائی؟ عرصم نے اسے روکنا چاہا تھا جو جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھتی چلتی ہوئی ہانم کی طرف بڑھی تھی کہ وہاں موجود سبھی نفوس اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوۓ تھے۔۔۔
"بھابھی۔۔۔۔عرصم بھائی۔۔۔ھاد نے بھینچی ہوئی آواز میں عرصم کو دیکھا تھا تاکہ وہ اسے روکِیں۔۔
عائشہ جو نورین کو بلانے آرہی تھی ٹھٹھک کر پیچھے ہی روک گئی۔۔
"نہیں ہم۔۔۔
"انکل بہت معذرت پر میں اس سے جاننا چاہوں گی آخر کو وہ شخص اسی کہ پیچھے تو ہے۔۔۔۔کیوں ہانم آخر کیوں اغوا کر رہا تھا وہ تمہیں۔۔۔
"بس بہت ہوچکا ایک ہی سوال بار بار پوچھنے کا مقصد کیا ہے آخر۔۔۔امجد صاحب کہ صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تھا لیکن یاسمین کو اس سب سے کوئی سروکار نہیں تھا وہ تو آئی ہی اس لئے تھی تاکہ ایک بار اپنے دل کی بھڑاس نکال سکے۔۔۔۔نہ ہی اب اسے رئیس سے کوئی لینا دینا تھا نا ہی سامنے کھڑی لڑکی سے مگر وہ اسکی وجہ سے وہاں پہنچائی گئی تھی جہاں کبھی کوئی عورت جانے کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ٹھک ٹھک ٹھک! دستک پر وہ جو صوفے پر بیٹھی چائے کہ چھوٹے چھوٹے سپ لے رہی تھی چونک گئی۔۔۔
جب عروج کی ماں نک سک سی تیار اندر آئی تھی۔
"عروج میری جان تم یہاں ہو اور میں نے تمہیں سارے گھر میں تلاش کر ڈالا۔۔۔عروج کی ماں عدن بیگم اندر آتے ہوۓ بولیں ۔۔
"کیوں؟ میرا مطلب ایسی بھی کیا بات ہے جو آپ مجھے ڈھونڈ رہی تھیں۔۔
"بات ہی ایسی ہے کہ اگر تم بھی سنو گی تو خوشی سے جھوم اٹھو گی۔. میک اپ سے لتھڑا چہرہ سلولیس اور گہرے بلاؤز میں سلک کی ساڑی میں اپنی ماں کو دیکھ کر اسے عجیب سا محسوس ہوا تھا وہ بھی تو بالکل اپنی ماں ہی جیسی تھی بے دھڑک، لاپرواہ ،مغرور، بولڈ۔۔۔۔گھر میں واحد اسکا دوسرے نمبر والا بھائی وقاص تھا جو ان کو ٹوکتا تھا جبکہ پاپا تو بہت کم ہی گھر پر موجود ہوتے تھے۔۔۔
"عروج کیا ہوا میری جان۔۔میں دیکھ رہی ہوں جب سے اسلام آباد سے آِئی ہو کمرے میں ہی رہتی ہو۔۔۔نہ کوئی پارٹی نہ ہی کوئی فرمائش۔۔۔
"نہیں مما ایسا کچھ بھی نہیں ہے بس آنا جانا اور وہاں پر تیاریاں اتنا کچھ تھا کہ کچھ دن آرام کرنا چاہتی تھی خیر آپ بتائیں کیا بات کرنے آئیں تھیں؟ عروج گول مول سا جواب دیتی انھیں دیکھنے لگی جو اسکی بات سن کر ایک بار پھر پرجوش ہوئیں تھیں۔۔۔
"ارے ہاں میں تو بھول ہی گئی تھی۔۔۔انمول کا فون آیا تھا علی کہ ولیمے کہ بعد واپس آرہی ہے بالاج بھی ساتھ ہی آرہا ہے۔۔۔۔
"اس میں کون سی بڑی بات ہے انمول بھابھی کا کزن ہے آسکتا ہے۔۔۔عروج نے منہ بنا کر انھیں کہا کہ اب اسے کوئی فرق نہیں پڑھنا تھا اس نے سوچ لیا تھا چاہے کچھ بھی ہوجاۓ وہ بچے کو ضائع نہیں کرے گی۔۔۔
"اففف لڑکی اسکے والدین بھی آرہے ہیں ساتھ۔۔۔عدن بیگم کی بات پر وہ بری طرح چونکی تھی
""کس لئے؟
"تمھارے اور بالاج کہ رشتے کہ لئے بیوقوف لڑکی۔۔۔عدن بیگم کی بات مکمل ہوتے ہی عروج کو سب گھومتا ہوا محسوس ہونے لگا۔۔۔
"مجھے معلوم ہے تم سوچ رہی ہوگی کہ اچانک سے یہ سب کیسے ہوگیا تو میری بہو کو شاباشی دو جس نے یہ سب کیا ہے۔۔چلو میں ابھی جا رہی ہوں۔۔۔مجھے دیر ہوجاۓ گی وقاص اگر پوچھے تو کہہ دینا خالہ کہ گھر گئی ہوئی ہیں باقی میں خود سمبھال لوں گی۔۔۔عدن بیگم اسکے گال کو چومتیں کمرے سے نکل گئیں۔۔۔
عروج نے انکے جاتے ہی اٹھ کر کھڑکی کا پردہ ہٹایا تھا جہاں گیٹ کہ باہر سیاہ گاڑی کھڑی تھی ۔۔کچھ ہی دیر میں عدن بیگم اسے گیٹ سے باہر نکلتیں گاڑی کی جانب بڑھتے ہوۓ دیکھیں جسکی ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھول کر ایک دراز قد مرد باہر نکل کر مسکرا کر عدن سے گلے لگ کر الگ ہوا دونوں کہ ملنے کہ انداز سے صاف معلوم چل رہا تھا کہ انکے درمیان کیسا تعلق تھا۔۔۔عروج نے جھٹکے سے پردہ بند کیا تھا۔۔
لمحوں میں اسکی آنکھیں بھیگ گئی تھیں۔۔۔آہستہ آہستہ نیچے بیٹھتے اس نے دیوار سے سر ٹکا لیا تھا۔۔
وقت جیسا بھی ہو گزر ہی جاتا ہے لیکن پچھتاوے زندگی بھر ضمیر پر کاری ضرب کی مانند ہوتے ہیں۔۔۔ایسا ضرب جس سے وقتاً فوقتاً خون رستا ہے ۔۔
آج اسے خود سے شرم آرہی تھی اپنے ہی وجود سے گھن آرہی تھی اگر اسکے وجود میں ایک اور زندگی نہ سانس لے رہی ہوتی تو وہ اسی دن خود کو ختم کر لیتی جب ساجد نے اسے دھوکہ دیا تھا۔۔کس سے شکوہ کرتی کسے الزام دیتی وہ تو اپنی مرضی سے جاتی رہی ہے اسکے پاس۔
یکدم ہی کسی کہ ہنسنے کی آواز پر عروج نے بری طرح چونک کر بستر کی جانب دیکھا تھا نازیبا لباس میں ملبوس وہ خود کو ساجد کی باہوں میں دیکھ رہی تھی ساجد نے اسکے کان میں کچھ کہا تھا کہ وہ کھلکھلانے لگی۔۔۔ عروج کا وجود پسیبے سے شرابور ہورہا تھا جبکہ آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہونے لگیں تھیں ہر منظر دھندھلا ہوتا جا رہا تھا یکدم ہی دھیرے دھیرے اسکی آنکھوں کہ سامنے اندھیرا بڑھتا چلا گیا تھا۔۔۔۔
(ہوٹل کہ روم میں ساجد کہ اتنے اصرار پر آج وہ اسکی سالگرہ منانے پہنچی تھی۔۔۔کیک اور گفت کہ بعد وہ جیسے ہی جانے لگی ساجد نے کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے نزدیک کر لیا۔۔
"ساجد یہ سب ٹھیک نہیں ہے۔۔
"آج میرا خاص دن ہے عروج پلیز۔۔۔ساجد کہتے ہی اسکے چہرے پر جھکا تھا۔۔۔لمحہ با لمحہ گزرتا جا رہا تھا عروج کہ اعتراضات اسکی بڑھتی جسارتوں نے بلآخر دم توڑ دئیے تھے۔ ۔۔۔۔حرام شہہ کی لذت نے دنیا تو دنیا آخرت میں بھی ذلت و رسوائیاں لکھوا دیں۔۔۔۔۔۔
"یہ سب نہیں ہونا چاہئیے تھا ساجد۔۔۔
"آہ میری جان جو ہونا تھا ہوگیا ہے اب تمھارے پچھتانے سے سب پہلے جیسا نہیں ہوجاۓ گا اس لئے افسوس کرنا چھوڑو۔۔۔ہمم۔۔۔۔ساجد اسے کہتا دوبارہ عروج کہ نزدیک ہونے لگا جس نے زور سے اسے پیچھے دکھیلا تھا۔۔
"نہیں۔۔۔نہیں ساجد یہ ٹھیک نہیں ہوا۔۔۔میں۔۔میں کیسے بہک گئی۔۔۔۔عروج روتے ہوۓ اپنے بالوں کو نوچ کر جانے لگی کہ ساجد نے طیش میں اٹھ کر اسکا راستہ روکا تھا۔۔
"کہاں جا رہی ہو۔۔۔۔۔
"مجھے جانے دو ساجد میں تم سے اب نہیں ملوں گی۔۔۔عروج روتے ہوۓ کہتی آگے بڑھنے لگی جب ساجد نے اسے اپنے حصار میں لیا تھا۔۔
"نا نا نا میری جان تم ایسے نہیں جا سکتی جب تک میں یہاں ہوں تمہیں میرا اچھے سے خیال رکھنا ہے ورنہ۔۔۔ساجد دھمکیوں پر اتر آیا تھا جو خود کو اس سے چھڑوانے کی کوشش میں ناکام ہو رہی تھی۔۔
"چھوڑ دو پلیز۔۔۔۔۔عروج تھک کر روتے ہوۓ بےبسی سے بولی کہ ساجد نے اسے یکدم چھوڑ دیا عروج نے حیرت سے اسے دیکھا جس نے آسانی سے اسے چھوڑ دیا تھا۔۔عروج جلدی جلدی اپنا دوپٹہ لیتی بالوں اور چہرے کو سہی کرنے لگی جب اپنی اور ساجد کی گھنٹہ بھر پہلے کی باتوں پر جھٹکے سے اس نے ساجد کو دیکھا تھا۔۔۔
"کمال کی فلم بنی ہے ۔۔۔دیکھو گی ؟ ساجد خباثت سے کہتا ہینڈی کیم کیمرے کو اسکی جانب بڑھانے لگا پیروں تلے زمین کھینچنا کسے کہتے ہیں آج کوئی عروج سے پوچھتا
"تم اتنے گھٹیا۔۔
"میں بہت گھٹیا ہوں۔۔۔۔جانتا ہوں۔۔۔۔عروج کی بات کاٹتا وہ دوبارہ اسکے نزدیک آیا تھا کہ عروج سسک پڑی تھی لیکن وہ انجان تھی اس انسان نما درندے سے جو لڑکیوں کو کھلونا سمجھ کر ان سے کھیلتا تھا۔۔۔
"اچھا رو مت ایک ڈیل کرلیتے ہیں۔۔جب تک میں یہاں ہوں مجھے خوش کرتی رہو۔۔۔بعد میں یہ تمہارے حوالے۔۔۔ساجد مزے سے کہتا اسے دیکھنے لگا جس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔۔
"اگر میں ایسا نہ کروں۔۔۔
"ہونہہ کیوں معصوم بن رہی ہو ابھی جو کچھ ہوا اس میں تم برابر کی شریک تھی پورا ثبوت ہے اس میں اب کیوں یہ دکھاوا کر رہی ہو۔۔۔۔ساجد کی بات پر وہ دوبارہ رونے لگی تھی۔۔
"جلدی فیصلہ کرو میرے پاس وقت نہیں ہے۔۔۔ساجد کوفت زدہ ہوتا صوفے کی جانب بڑھتے ہوۓ بولا کہ عروج روتے روتے گٹھنوں کہ بل بیٹھ گئی تھی۔۔۔کاش وہ یہاں نہ آتی۔۔۔
وقت کچھ اور سرکا تھا جب ساجد کی آواز پر اس نے اپنے آنسوں صاف کیے تھے۔۔
"ٹھیک ہے لیکن اسکے بعد یہ مجھے دے دو گے۔۔۔
عروج کی بات پر ساجد کہ چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی۔۔
"ڈن۔۔۔۔۔لیکن تم جب بھی آؤ گی تمھارے چہرے پر مجھے مسکراہٹ نظر آئے۔۔۔ساجد نے ایک آخری شرط رکھی تھی کہ عروج نے تھکے ہوۓ انداز میں سر کو اثباب میں ہلایا تھا۔۔۔
"اب تم جا سکتی ہوں۔۔۔۔ساجد اسکے مان جانے پر کہتا اٹھ کر اس تک آتا اسکی جانب جھکا تھا کہ عروج نے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بنا کر بھینچ لی تھیں)
کھڑکی کہ پاس ہی زمین پر گرے عروج نے ہچکی لی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"یاسمین۔۔۔
"عرصم پلیز آج مت روکیے گا۔۔۔عرصم کہ بلانے پر یاسمین نے پلٹ کر اسے کہا تھا امجد صاحب کہ ساتھ نورین اور عائشہ نے بھی ناسمجھی سے یاسمین کی بات پر اسے دیکھا جبکہ ہانم بت بنی کھڑی تھی
یاسمین نے ہانم کی طرف ایک اور قدم بڑھایا تھا۔۔
"ہانم داؤد ،رئیس علی کو جانتی ہو؟ جو حرا بائی کہ کوٹھے پر صرف تمھارے لئے آتا رہا ہے۔۔جس نے تمھارے لئے اپنی ہی بیوی کو طلاق دے کر وہیں پہنچایا تھا جہاں تم اسکی راتیں۔۔۔۔
"تڑاخ!! اس سے قبل وہ کچھ اور کہتی بے اختیار ہانم کا ہاتھ اٹھا تھا جو سیدھا یاسمین کہ گال پر رسید ہوا تھا۔۔۔ہر ایک اپنی جگہ سن ہوگیا تھا جبکہ ہانم سرد نظریں بھینچے لبوں سے مقابل کو دیکھ رہی تھی۔۔۔یاسمین بے یقینی سے اپنے سامنے کھڑی اس لڑکی کو دیکھنے لگی جو نڈر اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی تھی جبکہ احان اور تسنیم جو ابھی دروازہ کھولا ہونے پر صحن سے ہوتے ہوۓ دروازے تک ہی پہنچے تھے اندر کا منظر اور ہانم کا تھپڑ مارنا دیکھ کر بے یقینی سے دوسرا قدم اٹھانا بھول گئے تھے۔۔
"چلو آؤ لڑکی کھانا کھا لو آکر۔۔۔۔لاریب کمرے میں آتی ہوئی اسے بولی تھی جو چست شلوار قمیض میں سنگھار میز کہ سامنے بیٹھی اپنے زخموں کو میک اپ کی تہہ میں چھپا رہی تھی۔۔۔
"اے سنائی نہیں دے رہا ؟ لاریب جواب نہ ملنے پر تیوری چڑھا کر بولی تھی کہ شانزا نے روک کر اسے دیکھا۔۔
"بہت اچھی لگ رہی ہو۔۔شانزا سنجیدگی سے جواب دیتی دوبارہ لپسٹک لگانے لگی ایسے جیسے اس سے یہی پوچھا گیا تھا۔۔
"ہونہہ! کہاں کی اچھی لگ رہی ہو ، اچھی لگتی تو آج ساجد تیرے ساتھ نہیں ہوتا۔۔بھاڑ میں جا آنا ہے تو آجانا میری بلا سے۔۔۔۔اپنے دل کی بھڑاس نکال کر لاریب کمرے سے نکل گئی تھی۔۔
شانزا اسکی بات پر مسکرائی تو ساتھ آنکھوں سے آنسوں بھی گالوں پر لڑکھ گئے جسے جلدی جلدی پف سے خشک کرنے لگی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر ایک نفوس اپنی جگہ جامد تھا نورین نے باقاعدہ ہانم کہ ہاتھ کو اپنے سامنے کرتے ہوۓ دیکھا تھا آیا یہ ہانم ہی تھی۔۔
"تمہاری جرّت کیسے ہوئی مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی۔۔یاسمین ہوش میں آتے ہی چیخی تھی ساتھ ہی ہانم کو مارنے کہ لئے ہاتھ اٹھایا جسے ہانم نے راستے میں ہی پکڑ لیا تھا۔۔۔
"ہم اتنی فالتو نہیں ہیں کہ جب دیکھو جسے دیکھو آکر ہمیں ذلیل کرتا رہے اور ہم خاموشی سے خود پر غلیظ الزامات برداشت کرتی رہیں۔۔اب بس بہت ہوچکا۔۔ہاں ہیں ہم اسی کوٹھے میں رہنے والی،ہیں ہم وہی طوائف جس کی ایک جھلک کہ لئے مرد اپنی دولت تک ہمارے قدموں میں نچھاور کرنے کو ہر دم تیار رہتے ہیں۔۔۔۔انہی میں وہ گھٹیا شخص بھی شامل تھا جس کی وجہ سے ہمیں اپنی عزت۔۔۔ہانم یکدم رکی پھر ہنکار بھرتے دونوں ہاتھوں سے اپنے آنسوؤں کو صاف کیا تھا عرصم جو اسے ہی دیکھ رہا تھا ہانم کو روتا دیکھ کر بے چین ہونے لگا۔۔
"عزت نہیں۔۔۔۔عزت دار تو آپ ہیں۔۔۔ہم تو دنیا جہاں میں صرف ایک پہنچان رکھتی آرہی ہیں۔۔۔ہانم داؤد تم ایک طوائف ہو حرا بائی کہ کوٹھے کی حسین طوائف اسکے علاوہ تمہاری کوئی پہچان نہ ہے نہ ہوگی تم نے اسی پہچان کہ ساتھ قبر میں اترنا ہے ۔عزت کی باتیں تمہیں زیب نہیں دیتیں۔نہیں دیتیں بل۔۔۔۔بولتے بولتے ہانم کی ہچکی بندھ گئی تھی ھاد نے سختی سے آنکھوں کو میچا تھا عرصم نے پہلی بار اپنی بیوی کو شدید ناگواری سے دیکھا تھا اسے خود نہیں معلوم تھا کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے لیکن سامنے کھڑی لڑکی کہ آنسوں اس سے برداشت نہیں ہورہے تھے۔۔۔نامحسوس انداز میں عرصم نے اپنی آنکھ کہ کنارے کو پونچھا تھا۔۔
یاسمین یک ٹک ہانم کو پھوٹ پھوٹ کر روتا دیکھتی بے اختیار نیچے بیٹھی تھی جو آج دوسری بار اس طرح سب کہ درمیان بے بس و لاچار زمین پر بیٹھی تھی
یاسمین کہ بیٹھتے ہی ہانم نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا ہانم کہ دیکھنے پر یاسمین نے روتے ہوۓ اسکے ہاتھوں کو تھاما۔۔
"مجھے معاف کرنا شاید میں بہت زیادہ بول گئی ہوں۔۔
"ہاں۔۔۔آپ واقعی آج بہت بول گئیں ہیں کاش اسی طرح میرے بھائی کہ سامنے تب بولتیں جب پہلی بار انہوں نے آپکو دھوکہ دیا تھا ..تسنیم کی آواز پر یاسمین نے جھٹکے سے اسے دیکھا تھا جو دروازہ کہ پاس کھڑی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
تسنیم کو وہاں دیکھ کر یاسمین نے ہانم کہ ہاتھ چھوڑے تھے۔۔۔
"تسنیم تم یہاں؟ یاسمین کہتی ہوئی اسکی جانب بڑھی تھی جبکہ عائشہ اور نورین نے آگے بڑھ کر ہانم کہ گرد اپنا حصار باندھا تھا کہ امجد صاحب نے مسکرا کر اپنی بیٹیوں کو دیکھا تھا۔۔۔
"اتفاق کہہ لیں یا ہانم کی گواہ۔۔
ہانم نے تیزی سے تنسیم کو دیکھا تھا۔۔۔
"بہت بڑی بات کہہ دی تم نے تسنیم۔۔یاسمین کی بات پر تسنیم مسکرائی تھی نظر گھما کر اس نے ہانم کی طرف دیکھا جو تشکر سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
"ہاں بہت بڑی اور زمہ داری والی بات ہے کہ میں اس لڑکی کی گواہ بنی ہوں جس کی وجہ سے ہماری ذِندَگِیوں میں بہت کچھ ایسا ہوتا چلا گیا جو نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن یہ ہانم نہیں میرے اپنے بھائی کی بدولت ہوا ہے۔۔۔۔عزت کا ڈھونگ کرنے والے اپنی ہی عزتوں کو جب سرِبازار اچھالتے ہیں تو خاندان کہ خاندان برباد ہوجاتے ہیں۔۔۔میرے بھائی نے جو آپ کہ ساتھ کیا اسکا کیا بھی مجھے۔۔
"تسنیم۔۔۔احان نے یکدم اسے روکا تھا جس نے کرب سے آنکھوں کو بند کر کہ کھولا تھا۔۔
"آہ! خیر دفن کریں ان زخموں کو جنھیں دیکھنے سے ہی تکلیف پہلے سے بڑھ کر ہوتی ہے۔۔آئیں آپکو ہانم سے ملواتی ہوں۔۔۔۔۔تسنیم آنسوں پونچھتی یاسمین سے کہتی ہانم کی طرف بڑھنے لگی کہ احان نے خفگی سے اسکی پشت کو گھورا۔۔
"یہ سہی ہے شوہر کی عزت ہی نہیں ہے۔۔۔
"واقعی تم شوہر ہو انکے ؟ جنید احان کی اونچی بڑبڑاہٹ پر احان کے پاس آکر بولا تھا۔۔
"جی ہاں وہ بھی اکلوتا اور خالص۔۔۔احان کی بات پر جنید بے اپنے قہقہے کو ضبط کرتے کندھے کو تھپتھپا کر اسے تسلی دی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"دلکش۔۔۔۔۔تمہیں دیکھ کر میرا دل کر رہا ہے کہ اپنی باہوں میں بھر لوں۔۔۔۔ساجد اسے اپنے نزدیک کرتا جھک کر کان میں سرگوشی میں کہتا یکدم ہی شانزا کو گود میں اٹھاتا گول گول گھمانے لگا جو خوف سے زرد پڑھتی اسکی شرٹ کو مضبوطی سے جکڑ چکی تھی چوتھا دن تھا آج اسے اس قید اور اس درندے کی درندگی و حیوانیت سہتے ہوۓ جو روز اسے ذہنی اور جسمانی اذیت دیتا تھا.۔۔
گول گول گھماتے ساجد نے یکدم ہی اسے چھوڑا تھا کہ شانزا زور سے دور جا کر گری تھی۔۔شانزا کی دل خراش چیخ پر اس نے قہقہہ لگایا تھا۔۔
پھر اپنے قہقہے روکتا وہ پنجوں کہ بل اسکے مقابل بیٹھتا شانزا کہ چہرے کو چھونے لگا۔۔
"نن نہیں۔۔۔شانزا اسکا ارادہ سمجھتے ہی کراہ کر منّت کرنے لگی۔۔۔
"آں ہاں کچھ نہیں کر رہا یار۔۔۔۔آج تو تمہاری آزادی کا دن ہے۔۔۔۔ساجد کہتے ساتھ بیدردی سے اسکے چہرے کو دبوچتا بغور اسکی خوف اور آنسوؤں سے بھیگی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔۔۔
بڑی بڑی گرے رنگ کی آنکھیں۔۔۔ ۔ساجد نے آگے بڑھ کر اسکی آنکھوں کو لبوں سے چھوا تھا کہ شانزا کہ رونے میں شدت آئی تھی آنکھوں کو چومتا وہ پیچھے ہٹا تھا۔۔
"ارے رو کیوں رہی ہو۔۔۔افف کہا نہ کچھ نہیں کروں گا اب کیونکہ ہانم کا پتا چل چکا ہے۔۔۔چلو اب ان حسین لبوں سے مسکراؤ۔۔۔۔ساجد نرمی سے اسے چھوتے ہوۓ بچوں کی طرح پچکارنے لگا۔۔۔
ساجد کہ کہنے پر وہ اور شدت سے رونے لگی تھی کہ وہ یکدم دھاڑا تھا ۔۔
"مسکراؤ ۔۔۔۔۔۔شانزا اس سے خوف کھاتی زبردستی مسکرانے کی کوشش کرنے لگی کہ ساجد نے اسے گردن سے جکڑ کر زور سے اسکا سر دیوار پر مارتے اٹھ کھڑا ہوا۔۔
"آاااا!! شانزا نے چیخ مارتے اپنے سر کو تھاما تھا جب اپنے ہاتھ پر گیلا گیلا محسوس ہونے پر اپنا ہاتھ سامنے کیا سفید ہاتھ اپنے ہی خون سے بھر چکا تھا۔۔
"عارب۔۔۔ساجد کی دھاڑ پر وہ جو اسی کہ انتظار میں تھا تیزی سے اندر آیا تھا۔
"جی؟
"حرا بائی کو دے آ اسے اب اس کی ضرورت نہیں ہے مجھے۔۔کرخت لہجے میں کہتا وہ باہر نکل گیا تھا پیچھے عارب حوس بھری نظروں سے اسے دیکھتا اسے لے جانے کہ بجائے دروازہ اندر سے بند کر چکا تھا۔۔۔
"میرا سر پھٹ گیا ہے پلیز پہلے میری مدد کردو پھر جو کہو گے کروں گی۔۔۔۔شانزا نے بے بسی سے اسے کہا جو یُکدم روکا تھا۔
"ٹھیک ہے میں ابھی آتا ہوں۔۔۔۔۔عارب سوچنے کہ بعد کہتا کمرے سے نکل گیا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خوشگوار ماحول میں کھانا کھانے کہ بعد تسنیم اور احان جاتے وقت اپنے اور احان کہ ولیمے کی دعوت دے کر چلے گئے تھے جبکہ ھاد وغیرہ صحن میں ہی موجود تھے جب عرصم نے بھی جانے کی اجازت مانگی تھی۔۔
"انشاءلله پھر ملاقات ہوگی انکل ابھی ہم کچھ دن ہیں یہیں۔۔۔عرصم کی بات پر ہانم نے چونک کر اسے دیکھا تھا۔۔۔
ھاد نے بے چینی سے ہانم کو دیکھا جس نے ایک بار بھی نظر اٹھا کر اسے نہیں دیکھا۔۔
یقیناً آج جو کچھ بھی ہوا اسی کی وجہ سے ہوا تھا۔۔۔
"ہمیں کچھ کہنا ہے آپ سے ۔۔۔ہانم یاسمین اور عرصم کہ پاس آتے ہوۓ بولی۔۔۔جو امجد صاحب کی طرف ہی متوجہ تھے
"کیا بات ہے ہانم۔۔۔یاسمین جو پہلے سے ہی اپنے کیے پر شرمندہ تھی جھینپتے ہوۓ پوچھنے لگی۔۔
"ہم نے آپ پر ہاتھ اٹھایا ہم شرمندہ ہیں۔۔۔اس سے قبل یاسمین کوئی جواب دیتی عرصم نے یکدم ہی اسکے سر پر ہاتھ رکھا تھاکہ ہانم نے چونک کر نظر اٹھائی تھی۔۔
"غلطی تمہاری نہیں ہے گڑیا بلکہ ہمیں تو خوشی ہے کہ تم نے اپنے حق میں آواز اٹھائی ہے آج ہمیں تمہیں جان کر رشک آیا ہے کہ ہم ایک مضبوط لڑکی کہ روبرو ہیں۔۔۔عرصم نے کہتے ساتھ ہاتھ ہٹایا تھا جبکہ ہانم پہلی بار مسکرائی تھی کہ عرصم بھی اسے مسکراتے ہوئے دیکھتا مسکرا دیا تھا۔۔
"واہ کیا کہنے جناب یہاں دیکھنا گوارا نہیں وہاں مسکرایا جا رہا ہے۔۔۔جنید ھاد کو تپانے کہ لئے بولا جس نے گھور کر اپنے بھائی کو دیکھا پھر ہانم کو۔۔۔۔
"میں منا لوں گا۔۔۔۔ھاد خود سے کہتا گیٹ سے باہر نکل گیا تھا کہ ہانم نے چونک کر جاتے ہوۓ ھاد کو دیکھا تھا۔۔
۔۔۔۔
ہوٹل کہ روم میں اس وقت نیم اندھیرا تھا یاسمین حفصہ اور تیمور پر کمبل ٹھیک کرتی اے سی کو کم کر کہ ڈریسنگ ٹیبل کہ سامنے جا کھڑی ہوئی۔۔
جب واش روم کا دروازہ کھول کر عرصم اپنے گیلے بالوں کو تولئے سے خشک کرتا سنجیدگی سے اسے دیکھتا یاسمین کی جانب بڑھا تھا۔۔
"ہم نے بات کرلی ہے کل شام تک گیسٹ ہاؤس شفٹ ہوجائِیں گے۔۔۔آپ سامان پیک رکھیے گا۔۔۔یاسمین سے کہتا وہ اسکے پیچھے آ کھڑا ہوا تھا۔۔۔۔
"مطلب ہم تسنیم کہ ولیمے تک روک رہے ہیں۔۔یاسمین نے مسکراتے ہوۓ برش کو رکھتے پلٹ کر اسے دیکھا تھا جو اسے ضرورت سے زیادہ سنجیدہ لگا تھا۔۔
"ہممم۔۔۔ہمہیں آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔۔عرصم اسے کہتا یاسمین کہ قریب آیا تھا کہ عرصم کی قربت کا سوچتے ہی اسکا دل زوروں سے دھڑکنے لگا تھا عرصم بغور اسے دیکھ رہا تھا جو اس سے شرما رہی تھی۔عرصم نے نرمی سے اسے کمر سے تھام کر اپنے نزدیک کیا تھا کہ یاسمین نے تیز ہوتی دھڑکن سے عرصم کی آنکھوں میں جھانکا تھا اچانک ہی اسے ہانم یاد آئی تھی کیا کسی کی آنکھیں اس قدر کسی سے مشاہبت بھی رکھتی ہیں۔۔۔
عرصم نے ہاتھ بڑھا کر اسکے چہرے پر جھولتی لٹ کو آہستہ سے ہٹایا تھا کہ یاسمین نے آنکھوں کو موند کر گہری سانس لی تھی
عرصم گہری نظروں سے اسے دیکھتا نرمی سے اسکے چہرے پر انگلیاں پھیرتا اچانک سے اسے چھوڑ کر پیچھے ہٹا تھا کہ یاسمین پٹ سے آنکھیں کھول کر عرصم کو دیکھنے لگی۔۔
"آج جو ہوا ہمیں اچھا نہیں لگا۔۔آپ اب ہمارے نکاح میں ہیں آپ کہ نام کہ ساتھ ہمارا نام جڑ چکا ہے "عرصم داؤد" کا۔۔۔جتنی جلدی آپ اسے حفظ کرلیں گی زندگی جینا آسان ہوجاۓ گا۔۔۔۔۔آئندہ ہم اس شخص کا نام آپکی زبان سے نہ سنیں۔۔۔یاسمین عرصم۔۔۔۔۔عرصم نرمی سے اسے سمجھاتا ایک بار پھر اسے اپنے نزدیک کر چکا تھا جو اس بار یک تک عرصم کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
"ہماری قربت اتنی سستی نہیں ہے کہ ہماری باہوں میں ہونے کہ باوجود آپ کی سوچوں میں کوئی اور ہو۔۔ہم انتظار کریں گے تب تک جب تک ہم آپکی ان آنکھوں اور سوچوں پر حاوی نہیں ہوجاتے یاسمین۔۔۔۔ماضی میں جینے سے بہتر ہے آپ اپنے آج کو بھرپور طریقے سے جیئیں۔۔۔ہم نے اپنوں کو کھویا ہے وہ وقت بہت مشکل تھا ہمارے لیے ۔۔۔ہم اپنے پاپا امی جان اور اپنی شہزادی سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔۔جس اذیت سے ہم گزر رہے تھے۔دو بار خود کو مارنے کا ارادہ بھی کرلیا تھا لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا کہ خود کو مارنا حرام ہے۔۔۔حرام موت مرنا فخر نہیں ذلت ہے دنیا و آخرت دونوں جہاں میں بس اللّه کہ ڈر سے ہم نے ایسا سوچنا بند کردیا تھا اور پھر تعلیم کہ بعد اپنے پاپا اور نانا کہ کاروبار کو سمبھالنے لگے آپکو بتانے کا مقصد بس اتنا ہے، کیا ماں باپ سے زیادہ تکلیف دا بھی کچھ ہے دنیا میں ۔۔۔آہ خیر رات کافی ہوگئی ہے میرا خیال ہے سو جانا چاہیے۔۔۔۔۔ عرصم مدھم آواز میں بات مکمل کرتا بستر کی جانب بڑھ گیا دونوں بچے درمیان میں سو رہے تھے عرصم حفصہ کہ برابر میں لیٹتا اسے دیکھنے لگا پھر کروٹ لے کر آنکھیں موند گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
صحن میں چارپائی پر لیٹی وہ آسمان پر نظریں مرکوز کیے ہوئے سوچوں میں غرق تھی جب نورین اسے ڈھونڈھتی ہوئی وہاں آئی تھی۔۔چوکھٹ پر روک کر وہ اسے دیکھنے لگی پھر آہستگی سے مسکرا کر اسکی نظروں کہ تعاقب میں دیکھنے لگی۔۔
"ہانم آپی۔۔۔۔اندھیرے سے ڈر نہیں لگتا ؟ نورین کی آواز پر وہ چونکی تھی پھر اٹھ کر بیٹھتی وہ نورین کو دیکھ کر مسکرائی۔۔
"نہیں۔۔۔۔ یہ تو قدرت ہے اللّه کی۔۔۔۔ہاں پر انسان کافی ہیں ڈرانے کہ لئے۔۔۔
"واقعی؟ مجھے تو لگتا ہے. ۔۔۔نورین نے حیرت سے اسے دیکھ کر کہتے ہانم کی جانب قدم بڑھائے پھر اسکے پاس بیٹھتی ہانم کی گود میں سر رکھ کر اس کاہاتھ پکڑ کر ہانم کو دیکھنے لگی۔
"جھوٹ۔۔۔ہم نہیں مانتے۔۔۔اگر ڈرتی تو آج ہم یہاں نہیں ہوتے۔۔۔ہانم نے اسکی ناک کو ہلکے سے چَھیڑتے ہوۓ کہا کہ وہ مسکرا کر اٹھتی لاڈ سے ہانم کہ سینے سے لگ کر بیٹھ گئی۔۔
"تمہیں نیند نہیں آرہی۔۔۔
"کیا آپ کو آرہی ہے؟ نورین نے سر اٹھا کر اس سے پوچھا۔۔
"نہیں۔۔۔۔ہانم کھوئے کھوئے انداز میں بولی کہ نورین اسے گہری نظروں سے دیکھتی مسکرا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔
"اب کہاں جا رہی ہو؟
"میگی بنانے۔۔۔آپ کھائیں گی؟ نورین کہ پوچھنے پر اس نے نفی میں سر ہلایا۔۔
"نہیں ہم اب سونے جائیں گے تم بھی کھا کر سیدھا سونے جانا۔۔۔
"اہاں ٹھیک ہے۔۔۔ویسے ایک بات کہوں۔ ۔۔
"ہمم۔۔۔۔ہانم نے اسے دیکھا جو شریر نظروں سے اسی کو دیکھ رہی تھی۔
"ھاد بھائی مجھے اور عائشہ کو پسند آئے ہیں اور یقیناً وہ آپ کہ لئے ہی دوبارہ لاہور آئے ہونگے۔
"نہیں ایسا کچھ نہیں ہے انہوں نے ہماری حقیقت۔۔۔اچانک ہانم بولتے بولتے خاموش ہوئی تھی کچھ تھا جو اسے نہیں معلوم تھا۔۔۔۔نورین اسکے اچانک چپ ہونے پر گھبرائی تھی۔۔
اس سے قبل ہانم کوئی سوال کرتی نورین نے دونوں ہاتھوں سے کان پکڑ کر آنکھیں میچیں۔۔۔
"سوری سوری سوری ہانم آپی میرا کوئی قصور نہیں ہے وہ تو جب آپ ہسپتال میں تھیں تب ھاد بھائی کہ بہت زیادہ بہت ہی زیادہ اصرار پر میں کیا کرتی معصوم سی نورین کو سب بتانا ہی پڑا تھا۔۔۔سچی میرا کوئی قصور نہیں ہے۔۔۔۔آنکھوں کو سختی سے میچے وہ جلدی جلدی بتا کر معافی مانگنے لگی جو آنکھیں پھیلائے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
"وہ سب پہلے سے جانتے تھے؟ ہانم خود سے کہتی اپنے ہاتھ کو چھونے لگی جہاں ھاد کا لمس اسے آج بھی محسوس ہوتا تھا۔۔۔
نورین کسی قسم کا ردِعمل نہ پا کر آنکھیں کھول چکی تھی کہ سامنے ہی ہانم سر جھکا کر اپنے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی۔۔
"ہانم آپی پلیز مجھے معاف کردیں۔۔۔نورین کی آواز پر ہانم تیزی سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
"نورین کم از کم ہمیں تو بتا دیتی کہ تم نے انھیں سب بتا دیا تھا۔۔۔جانے وہ کیا سوچ رہے ہونگے۔۔۔ہانم کو اپنا ھاد کہ پیچھے گھر کہ دروازے تک جانا بار بار یاد آرہا تھا۔۔
"کچھ غلط سوچنا ہوتا تو کب کا سوچ چکے تھے اب آپ سوچ کر کیوں پریشان ہورہی ہیں۔۔نورین اپنے قَدموں کو پیچھے کرتے ہوۓ بولی تھی۔
"ہم تمہیں چھوڑیں گے نہیں نورین۔۔۔ہانم نے اسکی بات سنتے ہی گھورتے ساتھ اسکی طرف قدم اٹھایا ہی تھا کہ نورین وہاں سے بھاگی تھی کہ ہانم نے بھی اسکے پیچھے دوڑ لگا۔ دی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"السلام علیکم۔۔۔خالہ کیسی ہیں؟
"وعلیکم السلام میری جان میں بالکل ٹھیک ہوں یاسمین اور بچے ٹھیک ہیں؟
"جی سب ٹھیک ہیں۔۔۔اچھا ہم آپ سے بعد میں بات کرتے ہیں۔۔۔۔عرصم ھاد اور جنید کو آتا دیکھ کر جلدی سے بات مکمل کرتا کال کاٹ چکا تھا۔۔۔
"چلیں۔۔۔۔جنید قریب آتے ہوۓ بولا وہ لوگ ایک ہی گیسٹ ہاؤس میں رہنے والے تھے۔۔۔
"ہاں تم دونوں چلو ہم یاسمین اور بچوں کو لے کر آتے ہیں۔۔۔عرصم انھیں کہتا وہاں سے آگے بڑھ گیا تھا کہ جنید نے ھاد کو دیکھا جو کسی سوچ میں غرق تھا۔
"ھاد کیا ہوگیا ہے یار یہ تم مجنوؤں کی طرح کہاں کھوئے رہتے ہو۔۔۔جنید کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا تھا کہ وہ چونک گیا تھا۔
"نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔
"بیٹا بھائی ہوں میں تمہارا رگ رگ سے واقف ہوں اگر یہ وقتی جذبات ہیں تو اپنے قدموں کو یہیں روک لو ورنہ بعد میں اگر اسے تمہاری ضرورت پڑی اور تم ہی اسے میسر نہ ہوۓ تو اس دلال میں اور تم میں کوئی فرق نہیں رہے گا۔۔۔ھاد کہ ٹالنے والے انداز میں جنید اسے سمجھاتے ہوۓ کندھا تھپتھپا کر آگے بڑھ گیا کہ ھاد نے َگہری سانس لیتے آنکھوں کو موندا ہی تھا کہ چھم سے وہی چہرہ وہی آنکھیں جو اسکے زخم کو دیکھ کر زاروقطار رو رہی تھی ھاد نے بے بسی سے آنکھیں کھولیں تو خود کو کوریڈور میں تنہا پایا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقصیٰ بیگم موبائل رکھ کر مسکراتی ہوئیں جیسے ہی کچن کی طرف بڑھنے لگیں حال میں صوفے پر شاہانہ انداز میں بیٹھے شخص کو دیکھ کر انہوں سے نفرت سے اسے دیکھا تھا جو انہیں دیکھتے ہی کمینگی سے مسکراتا اٹھ کر اقصیٰ بیگم کہ نزدیک آتا انکے گلے لگا تھا۔۔۔۔
"کیسی ہو خالہ۔۔۔فہد مسکرا کر پوچھنے لگا جنہوں نے پہلو میں گرے ہاتھوں کو اسکے گرد باندھا تھا۔۔چند لمحہ پہلے جہاں نفرت جھلک رہی تھی وہیں آنکھوں میں چمک لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی. ۔۔
"فہد میری جان تمہاری خالہ نے تمہیں بہت مس کیا ہے.۔۔۔۔اقصیٰ بیگم الگ ہوتے ہوۓ بولَِیں کہ فہد انہیں دیکھتے ہی زور سے ہنستا لاڈ سے انکے گال پر بوسہ دینے لگا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گیسٹ ہاؤس میں سامان رکھ کر ھاد نے نورین کو میسج کرنے کہ لئے جیسے ہی موبائل کا لاک کھولا انجانے نمبر سے آئے میسج کو دیکھ کر جیسے ہی کھولا ھاد کہ لبوں پر خوبصورت سی مسکراہٹ رینگی
"السلام علیکم۔۔۔ہم ہانم ہیں یہ ہمارا نمبر ہے۔۔
نورین نے میسج لکھ کر سینڈ کرتے شرارت سے ہانم کو دیکھ کر موبائل اس کہ حوالے کیا جو ھاد کہ نمبر سیو کرنے والی بات پر نئے موبائل کہ لیے اس نے اپنے پیسوں کو زبردستی امجد صاحب کو دے کر منگوایا تھا۔۔۔ہانم کو کال سننے اور کرنے تک ہی موبائل استعمال کرنا آتا تھا تبھی اس نے نورین کو رازدار بنا کر ھاد کو میسج کروایا تھا.
"وعلیکم السلام۔۔۔۔میں ھاد ہوں یہ میرا نمبر ہے۔۔مسکراہٹ ضبط کرتے اس نے اسی کہ انداز میں ہانم کو جواب لکھ کر بھیجتے موبائل کو اپنے دل کہ مقام پر رکھا تھا۔ ۔۔
۔۔۔۔

"تم جب تک فریش ہوجاؤ میں تب تک تمھارے لئے کھانا لگواتی ہوں۔۔
"اوکے۔۔۔اقصیٰ بیگم سے کہتا وہ کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا۔۔۔فہد کہ جاتے ہی اقصیٰ بیگم نے کچن کی جانب قدم بڑھائے تھے۔۔۔
اقصیٰ بیگم کچن میں داخل ہوئیں جہاں پہلے ہی ملازمہ کھڑی برتن دھو رہی تھی ۔
"شازیہ تمہیں چھٹی چاہیے تھی نہ۔۔۔اقصیٰ بیگم کی آواز پر اس نے پلٹ کر انھیں دیکھا تو خوشی سے سر ہلانے لگی ۔۔
"ٹھیک ہے پھر ایک ہفتے تک میں یہ سب خود کرلوں گی تم جاؤ پہلے ہی پانچوا مہینہ چل رہا ہے تمہارا۔۔۔
"آپ بہت اچھی ہیں۔۔۔شکریہ بہت بہت۔۔۔جلدی سے دوپٹہ اٹھا کر سر پر اوڑھتی اللّه حافظ کر کہ وہ کچن سے نکل گئی تھی پہلے ہی وہ آدھے سے زیادہ کام نبٹا چکی تھی۔۔
اقصیٰ بیگم گہری سانس لیتیں کچن کہ دروازے کو ایک نظر دیکھتیں دیوار پر ہر سائز کی چھریوں کو دیکھتیں سب سے بڑے سائز کہ چھرے کو اتار کر چوکنا سی اردگرد دیکھتیں چھرے کو اپنے دوپٹے میں چھپا کر جلدی جلدی کھانا گرم کرنے لگیں۔۔۔۔
("تم۔۔۔۔اب یہاں کیا کرنے آئے ہو؟ اقصیٰ بیگم رات کہ وقت اپنے کمرے میں اسے دیکھ کر سختی سے بولیں جو مزے سے بستر پر پھیل کر لیٹا تھا..
"ملنے آیا ہوں تم سے خالہ۔۔۔۔فہد کمینگی سے کہتا اٹھ کر اقصیٰ بیگم کہ سامنے آکر روکا تھا۔۔
"میں تمہاری خالہ نہیں ہوں سمجھے میں صرف دانی اور داؤد کی خالہ ہوں بہتر ہے مجھ سے رشتہ جوڑنے کی کوشش مت کرو۔۔۔۔اقصیٰ بیگم نے ترش لہجے میں اسے کہا تھا جب فہد تلخی سے مسکرا کر ایک قدم اور آگے بڑھا ۔۔
"دانی بہن تھی میری۔۔۔سگی سوتیلی نہ سہی لیکن ہم بچپن سے ساتھ تھے ۔۔
"کون سا بھائی ہاں تو ایک زانی ہے۔۔۔زانی۔..ارے جس کہ ماں باپ نے تجھے اپنی اولاد کی طرح رکھا جس کی بیٹی نے تجھے اپنے سگے بھائیوں کی طرح سمجھا اسی کی عزت کہ ساتھ کھیل گیا انہیں ہی برباد کر دیا۔۔۔۔اقصیٰ بیگم نے نفرت سے اسے دیکھتے ہوۓ کہا جو غصّے سے کانپنے لگا تھا۔۔
"تیری بک بک سننے نہیں آیا ہوں میں یہاں تیرے لئے آفر ہے قبول کرے گی تو فائدے میں رہے گی ورنہ میں یہاں اور وقاص وہاں تیری بیٹی کہ پاس آگے تو سمجھدار ہے۔۔۔فہد کی بات پر اقصیٰ بیگم سر تا پیر لرز گئی تھیں۔۔
فہد صاف انکے چہرے پر خوف کو دیکھ سکتا تھا۔۔
اقصیٰ بیگم دانی کی ماں عروسہ بیگم کی کزن تھیں جن کہ والدین کی وفات کہ بعد وہ تنہا اپنی دادی کہ ساتھ رہتی تھیں۔۔۔عروسہ بیگم اقصیٰ بیگم سے گیارہ سال بڑی تھیں۔۔۔
دانی کی دیکھا دیکھی داؤد بھی انھیں خالہ کہتا تھا جبکہ َچھوٹی سی عمر میں عرصم نے بھی سب کو انھیں خالہ کہتے سنتا تو خود بھی خالہ کہتا۔۔۔یوں آج بھی وہ انھیں دادی کی بجائے خالہ کہتا تھا۔۔
"تم ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔
"ہاہاہا۔۔۔ارے خالہ میں بہت کچھ کر سکتا ہوں اتنا کچھ ہونے کہ باوجود بھی یہ سوال کافی مضحکہ خیز ہے۔۔۔
"میں سب کو بتا دوں گی۔۔۔۔اقصیٰ بیگم کا کہنا تھا کہ فہد انھیں بالوں سے جکڑ کر بستر پر گراتا گلہ دبانے لگا۔۔اقصیٰ بیگم بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھیں۔
"تجھے عزت راس نہیں ہے ہاں یہاں میں تیرے ساتھ ڈیل کرنے آیا تھا اور تو۔۔۔فہد غصّے سے کہتا گرفت اور مظبوط کرنے لگا کے اقصیٰ بیگم بولنے کی کوشش کرنے لگیں۔۔
"ٹ ٹھ۔۔۔ٹھیک۔۔
"کیا کہا ٹھیک ہے۔۔۔مطلب ہاں۔۔۔فہد جھک کر اپنا کان انکے منہ کہ نزدیک کر کہ کہتا مسکرا کر انکی گردن چھوڑ چکا تھا جو زاروقطار روتی گلہ پکڑے بری طرح کھانس رہی تھیں۔۔
جبکہ فہد گندی نظروں سے انکے وجود کو دیکھ رہا تھا یکدم چہرے پر مکرو مسکراہٹ نے اسکے چہرے کا احطہ کیا تھا)
وہ جو سوچوں میں ڈوبی ہوئی تھیں کسی کہ یکدم انھیں اپنے حصار میں لینے پر وہ بری طرح چونکی تھی تیزی سے آنکھیں صاف کرتیں اسی کی باہوں میں گھومی تھیں چند لمحے پہلے جہاں اذیتوں کا جہاں آباد تھا وہاں سوائے مسکراہٹ کہ کچھ نا تھا۔۔
"کھانے کو چھوڑو میری جان۔۔چلو میرے ساتھ تمہیں خوشخبری دینی ہے۔۔۔فہد انھیں لے کر کچن سے نکل کر کمرے کی جانب بڑھنے لگا۔۔
(میری بیٹی کو کچھ مت کرنا وہ بہت چھوٹی ہے میں وعدہ کرتی ہوں کسی کو نہیں بتاؤں گی۔۔۔گڑگڑا کر کہتیں وہ اسکے پیروں میں گر گئیں۔۔۔
"تو ٹھیک ہے کل سے نیوز والے انٹرویو کہ لئے آ سکتے ہیں انکے سامنے اگر کوئی چالاکی کرنے کی کوشش کی تو یاد رکھنا اگلے ہی دن تیری بیٹی کی فلم بنا کر ایک ہی رات میں مشہور کروا دوں گا۔۔۔سنگین لہجے میں کہتا وہ انھیں اپنے پیروں سے اٹھا کر کندھے سے ڈوپٹہ کھینچ چکا تھا )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کا وقت تھا ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا نے اسکی طبیعت پر کافی اچھا اثر ڈالا تھا کہ اپنا گٹار جسے وہ ہمیشہ ساتھ ہی رکھتا تھا لان میں گھاس پر بیٹھا آہستہ آہستہ بجانے لگا۔۔
"اہم اہم کیا بات ہے آج ھاد صاحب کا موڈ بہت اچھا ہے۔۔جنید عرصم کہ ساتھ وہیں آتے ہوۓ بولا جبکہ یاسمین بھی حفصہ اور تیمور کہ ساتھ انکے پیچھے ہی تھی۔۔
جنید کی بات پر ھاد نے چونک کر سر اٹھایا پھر مسکرا کر دوبارہ گٹار بجانے کہ ساتھ گنگنانے لگا ھاد کی آواز اور انداز پر ہی کتنی لڑکیاں اس پر دل ہار بیٹھی تھی جبکہ اسکا دل صرف ایک لڑکی کہ کے دھڑکا تھا اور وہ تھی"ہانم داؤد"
("کیسی ہیں آپ؟ ھاد کہ میسج کو بغور دیکھتی وہ روہانسی ہوئی تھی بھلا اب یہ کیا لکھا تھا۔۔ہانم نے اٹھ کر کمرے سے جھانک کر لاؤنج میں دیکھا لیکن وہاں بھی کوئی موجود نہیں تھا۔۔ہانم تیزی سے کمرے سے نکل کر کچن کی طرف بڑھی جہاں عائشہ کھڑی کوئی نئی ڈش بنانے کہ لئے یوٹیوب پر ویڈیو دیکھنے میں مگن تھی کہ ہانم لب کچلتی دوبارہ کمرے کی طرف چل دی تھی۔۔
بیڈ پر افسردگی سے بیٹھتے اس نے دوبارہ میسج کھولا تھا۔۔
"K...ka matlb ka...kais.kais....
اففف اللّه کتنی جاہل ہیں ہم۔۔۔یہ تو بچے تک کو آتا ہوگا۔۔۔کیا کریں ہم وہ انتظار کر رہے ہوں گے۔۔۔ہانم جھنجھلا کر خود کو کوستی ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رونے لگی تھی جب اچانک ہی موبائل پر رنگنگ ہونے لگی۔۔۔۔ہانم نے تیزی سے آنسوں پونچھتے سکرین کو دیکھا جہاں "ھاد کالنگ" چمک رہا تھا۔۔
اس سے قبل کال کٹ جاتی ہانم نے لب کچلتے جلدی سے موبائل کان سے لگا لیا۔۔
"السلام علیکم۔۔۔ھاد کی آواز پر ہانم کی نظریں حیا سے جھکیں۔۔۔
"وعلیکم السلام۔۔۔۔
"آپ نے میسج کا جواب نہیں دیا تو سوچا فون کر کہ ہی پوچھ لوں۔۔ھاد مسکراتے ہوۓ اسے بولا کہ کچھ ہی لمحوں میں دوسری طرف سے سوں سوں کی آواز پر گھبرا کر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔
"ہانم۔۔۔کیا ہوا۔۔آپ رو رہی ہیں۔۔۔۔ھاد بے چین ہوگیا تھا جبکہ ہانم کی سوں سوں میں شدت آئی تھی۔۔
"میں ۔۔۔میں آرہا ہوں۔۔۔
"نن نہیں۔۔۔نہیں کک کسی نے کچھ نہیں کہا۔۔۔۔ھاد کہ کہتے ہی ہانم بمشکل خود پر ضبط کرتے ہوۓ بولی کہ ھاد سے کوئی بعید نہیں تھا جو کراچی سے اسکے لئے لاہور آسکتا تھا اسکے لئے بیس منٹ کا راستہ تہہ کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔
ہانم کی بات پر اسے ابھی بھی تسلی نہیں ہوئی تھی۔۔
"ہانم پلیز تم مجھے پریشان کر رہی ہو۔۔۔ھاد لمحوں میں آپ سے تم تک آیا تھا کہ ہانم کی آنکھوں میں ایک بار پھر آنسوں چمکنے لگے تھے کتنا اپنا اپنا سا لگا تھا وہ اسے اس وقت کہ ہانم جو بتاتے ہوۓ شرمندگی محسوس کر رہی تھی بے ساختہ روتے ہوۓ بتا گئی جبکہ ھاد بے یقینی سے اسکی بات پر غور کرتا رہا۔۔ مطلب وہ اتنی دیر سے اس لئے رو رہی تھی کہ اسے میسج پڑھنا نہیں آتا. ۔۔
"قسم سے ہانم تم پاگل ہو۔۔۔اتنی سی بات کہ لئے تم کب سے خود کو اذیت دے رہی ہو۔۔۔ھاد کو بیک وقت ہنسی اور ٹوٹ کر اس پر پیار آیا تھا۔۔
ہانم نے اسکی بات پر اپنے لب کچل ڈالے۔۔۔
"آپ پلیز یہ بات کسی کو مت بتائیے گا۔۔۔
"نہیں بتا رہا۔۔۔ھاد اسکی بات پر مسکراتے ہوۓ نرمی سے بولا ہی تھا کہ اچانک اسے ہانم کا میسج یاد آیا۔۔
"ہانم اس سے پہلے کس نے میسج کیا تھا؟
"جی وہ۔۔۔وہ نورین نے کیا تھا۔۔لیکن۔۔۔
"لیکن وہ ابھی پاس نہیں ہے؟ ہے نا؟ ھاد نے یکدم اسکی بات اچکی تھی کہ ہانم گھبراہٹ میں کمرے میں ہی ٹہلنے لگی۔
"ہمیں نہیں آتا یہ سب۔۔۔۔
"کوئی بات نہیں میں سیکھا دوں گا۔۔۔۔تب تک ہم ایسے بات کرسکتے ہیں۔۔۔ھاد نے مسکرا کر اسے کہا جو سوچ میں پڑھ گئی تھی۔
"ہم بس آپ کو نمبر دے رہے تھے۔۔۔۔۔ہانم کہ افسردگی سے کہنے پر ھاد کی مسکراہٹ سمٹی۔
"ٹھیک ہے لیکن اگر کوئی بھی بات ہو تم مجھے کال کرسکتی ہو۔۔۔۔
"ہم رکھتے ہیں اب۔۔ہانم نظریں جھکا کر بولی تھی کہ دوسری طرف ھاد ایک بار پھر مسکرایا تھا۔۔
"اپنا خیال رکھنا پیاری لڑکی۔۔۔۔۔۔
"اللّه حافظ۔۔۔ھاد کی گھمبیر آواز پر ہانم اپنے دھڑکتے دل پر ہاتھ رکھتے شرما کر کہتے موبائل جلدی سے اپنے سینے پر رکھتے مسکرائی دوسری طرف ھاد نے موبائل کان سے ہٹاتے ہی لبوں سے لگایا تھا)
"ھاد۔۔۔۔عرصم کی آواز پر وہ جو سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا چونک کر ہوش میں آتا انھیں دیکھنے لگا۔۔۔
"ھاد چاچو ہمیں اور مَاما کو گانا سننا ہے۔۔۔۔حفصہ نے ھاد کو دیکھ کر کہا جس نے یاسمین کو کی طرف دیکھا تھا۔۔

ھاد نے یاسمین کو دیکھا۔۔۔
"ہاں میں بھی سننا چاہوں گی ھاد۔۔۔۔یاسمین جھینپی جھینپی مسکراہٹ سے اسے دیکھتے ہوۓ بولی تھی.۔۔
"ضرور بھابھی۔۔۔۔ھاد سنجیدگی سے کہتے ساتھ گٹار بجانے لگا۔۔۔۔
یاسمین کو شدّت سے احساس ہوا تھا کہ عرصم ہی نہیں تھا جسے اس کا رویہ پسند نہیں آیا تھا بلکہ وہاں سب ہی اس سے نالاں تھے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکی آنکھ سر میں اٹھتی تکلیف کہ باعث کھلی تھی۔۔۔
ہاتھ کو سر کہ پیچھے رکھتے وہ کراہ کر اٹھ کر بیٹھی ہی تھی جب نظر اپنے برابر میں موجود سوئے ہوئے عارب پر گئی تھی.۔۔۔
( "یہ لو۔۔۔۔عارب پایوڈین اور روئی شانزا کہ سامنے رکھتا خود گرنے کہ انداز میں شانزا کہ نزدیک بیٹھا اسے دیکھنے لگا جو ہاتھ سے چھو کر زخم کا انداز کر رہی تھی کہ یکدم عارب نے اسکا وہی ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔
"رہنے دو تم.۔۔۔میں کر دیتا ہوں۔۔۔۔۔ اس سے قبل وہ منّت کرتی کہ اسکا ہاتھ چھوڑے عارب کی بات سن کر تشکر سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
"خون روک گیا ہے.۔۔۔کل پھر سے یہ لگا لینا زیادہ گہرا زخم نہیں ہے ۔۔عارب اسے بولتا اٹھ کر باتھروم کی طرف بڑھنے لگا جب شانزا نے اسکا ہاتھ پکڑا تھا۔۔
"تھینک یو۔۔۔۔تم یہاں پہلے شخص ہو جس نے زخم دینے کی بجائے مرہم رکھا ہے۔۔شانزا اسے دیکھتے بوے کہہ رہی تھی جس نے اپنے لبوں کو بھینچ لیا تھا۔۔
"یہ مرہم بھی میں نے اپنے ہی مفاد کہ لئے رکھا ہے۔۔۔۔
"ہمم۔۔ شانزا بس اسے دیکھتی رہ گئی جو اپنا ہاتھ کھنچ کر آگے بڑھ کر باتھروم میں گھس گیا تھا۔۔۔
"تم سے کچھ پوچھ سکتی ہوں۔۔۔۔شانزا اسکے واپس آنے پر اٹھ کر سہارے سے کھڑی ہوئی تھی کہ گرنے سے اسکا پیر بھی مڑا تھا۔
"عارب اسکی بات سن کر شانزا کو اپنے نزدیک کرتا بغور اسکی آنکھوں میں دیکھتے لگا۔۔
"ساجد فہد احتشام" عارب نے اسکی بات پر کہا تھا کہ شانزا نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔
"مطلب؟
"کیا تم ابھی تک ناواقف ہو اس شخص کہ نام سے جس کہ ساتھ پانچ دن سے وقت گزار رہی ہو؟ عارب نے تعجب کا اظہار کیا جبکہ شانزا نے اسکی بات سن کر اذیت سے آنکھوں کو موند کر کھولا تھا۔۔
"درندہ اپنی درندگی اور بدکار، زانی شخص زناکاری سے توبہ کرنے کہ لیے اللہ کہ سامنے ہاتھ ہی اٹھاۓ گا نا تو اسے نظر آئے گا کہ اسکے ہاتھ،اسکا وجود کتنا غلیظ اور بدبودار ہوچکا ہے جس شخص کو ہاتھ اٹھانے تک کی توفیق نہیں تمہیں لگتا ہے میں اس جیسے شخص کہ بارے میں جاننا چاہوں گی۔۔۔۔۔۔شانزا کی بات پر عارب اسے چھوڑ کر پیچھے ہٹا تھا۔۔۔
"کیا ہوا ؟ روک کیوں گئے کرو جو کرنا چاہتے ہو۔۔۔۔۔
"بکواس بند کرو اپنی سمجھی اگر خود اتنی ہی تم نیک ہوتی تو کبھی اپنے یار کہ ساتھ بھاگتی نہیں، اب جو تمھارے ساتھ ہورہا ہے ان سب کا قصور یہ آنکھیں ہیں۔۔۔یہ آنکھیں۔۔۔وہی رنگ ویسی ہی بڑی بڑی گرے رنگ کی آنکھیں "ہانم داؤد" کی آنکھیں، جس کہ پیچھے ساجد بھوکے بھیڑیے کی طرح پڑا ہے۔۔ ۔۔۔۔عارب آگ بگولہ ہوتا شانزا کا جبڑا دبوچ کر اسے گھورتے ہوئے ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولے جا رہا تھا جو بے خوف اسکی آنکھوں میں دیکھتی گنگ رہ گئی تھی۔۔
"سوچو اس جیسی آنکھوں والی کا جب وہ یہ حال کر سکتا ہے تو ہانم داؤد کا کیا حشر کرے گا۔۔ہونہہ۔۔شکر مناؤ کہ تمہیں اس نے زندہ بھی چھوڑ دیا ہے۔۔۔عارب ہنکار بھرتا بستر کی جانب بڑھ گیا تھا)
"آہ! ہانم داؤد۔۔۔شانزا سر جھٹک کر ایک نظر دوبارہ عارب کو دیکھتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
"ایک خوشخبری ہے میرے پاس تمھارے لئے۔۔۔فہد دونوں ہاتھ اقصیٰ بیگم کہ کندھے پر رکھتے ہوۓ بولا ۔۔
"کیا؟ اقصیٰ بیگم نے کرخت لہجے میں پوچھا؟ فہد انکا لہجہ اور آنکھوں میں اپنے لئے نفرت محسوس کرتا زور سے ہنسا تھا اسی طرح جیسے پہلے ہنستا تھا
"اپنا موڈ ٹھیک کریں خالہ جان پھر ہی بتانے میں مزہ آئے گا۔۔۔
"ٹھیک ہے مت بتاؤ پھر۔۔۔کیونکہ تمہیں دیکھتے ہی اس نفرت میں کئی گنا اضافہ ہوتا ہے۔۔ اقصیٰ بیگم اسکے ہاتھ جھٹک کر پیچھے ہٹی تھیں کہ وہ ایک بار پھر مکرو قہقہے لگانے لگا تھا۔۔
"ہاہاہاہا۔۔۔فہد قہقہے لگاتا اقصیٰ بیگم کہ مقابل آکر روکا تھا
"اور اگر بات عرصم کی شہزادی بہن ہانم داؤد اور میری حسین بھانجی کی ہو تو کیا تب بھی نہیں؟ فہد کی بات پر اقصیٰ بیگم نے جھٹکے سے اسے دیکھا تھا۔۔
"ہ ہانم۔۔۔۔
"ہاں ہانم۔داؤد اور دانی کی بیٹی۔۔۔۔فہد نے مزے سے نام دوہرایا۔۔
"ہانم میری بچی۔۔۔۔فہد ہ ہانم کہاں ہے؟ کہاں ہے ہانم۔بتاؤ داؤد کی بیٹی کہاں، کہاں ہے۔۔۔۔اقصیٰ بیگم نے یکدم ہی اسکا گریبان جکڑ کر جھنجھوڑتے ہوۓ پوچھا تھا کہ فہد نے زور سے انہیں پیچھے دکھیلا تھا۔۔۔
"تمیز سے رہو خالہ دوبارہ ہاتھ اٹھا تو کاٹ دوں گا اور سب ڈھونڈھتے رہ جائیں گے۔۔۔۔فہد نے غصّے سے گھورتے ہوۓ انھیں دھمکی دی کہ اقصیٰ بیگم نے گہری گہری سانس لیتے اپنے غصّے کو ضبط کیا تھا۔۔
"پلیز فہد ہانم سے ایک بار ملوا دو۔. ۔۔۔اقصیٰ بیگم نے بے بسی کی انتہا پر جاکر اسکے سامنے ہاتھ جوڑ کر منّت بھرے انداز میں کہا
"ہائے ایسے ہاتھ تو مت جوڑ خالہ۔۔۔۔میں بتاتا ہوں نا کہاں ہے۔۔فہد اداکاری کرتے ہوۓ بول کر مسکرانے لگا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"ہم انتظار کریں گے آپ سب کا۔۔اوکے اوکے۔۔۔اللّه حافظ۔۔۔۔تسنیم بالکنی میں کھڑی یاسمین سے فون پر کل کی دعوت دے رہی تھی۔۔۔
جب احان مسکراہٹ دباتے ہوۓ وہاں آتا تسنیم کو اپنی باہوں میں بھر چکا تھا
"احان چھوڑیں مجھے ابھی نادیہ آنٹی سے بات کرنی ہے۔۔۔
"ہاں تو کرو نہ میں نے منع کیا ہے.۔۔احان پیچھے ہٹتا تسنیم کو کندھوں سے تھام کر کمرے میں جاتے ہوۓ بولا جو اسے گھورنے کہ باوجود مسکرائی تھی کہ احان اسے مسکراتے دیکھ کر تسنیم کہ ہاتھ سے موبائل لے کر اسے اپنے نزدیک کر چکا تھا۔۔۔۔
"مجھے کچھ کہنا ہے تم سے کل کہہ ہی نہیں سکا تھا۔۔
"کیا؟ دونوں یک ٹک ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانک رہے تھے جب احان نے اسکے لبوں کو نظروں کی قید میں لیتے ہوئے کہا۔
"آج مجھے اپنی قسمت پر رشک آرہا ہے کہ اللّه نے میرے نصیب میں تم جیسی عورت لکھی۔۔۔تسنیم حقیقت کو قبول کرنا بہت ہمت کی بات ہے جو ہر کسی کہ بس کی بات نہیں ہے سب جاننے کہ باوجود تم نے ہانم کا جس طرح ساتھ دیا اسکے لئے تھینک یو سو مچ کہ تم نے سچائی کا ساتھ دیا اور آج شاید محبت تم سے شدّت اختیار کر گئی ہے۔۔۔۔۔احان فخر سے اسے دیکھتے ہوۓ کہتا تسنیم کی پیشانی پر لب رکھ چکا تھا کہ تسنیم نے مسکرا کر اسکے سینے پر سر رکھا تھا۔۔احان نے مسکرا کر اپنی گرفت مظبوط کی تھی۔۔۔
"I love you Ahan....
"I love you too Ahan ki jaan...
۔۔۔۔۔۔
ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھا وہ سامنے زمین پر بکھری حالت میں بیٹھی اقصیٰ بیگم کو دیکھ کر آنکھوں میں فاتحانہ چمک لیے انہیں دیکھ رہا تھا جبکہ اقصیٰ بیگم دنگ سی بیٹھی تھیں ۔۔۔۔
ماضی۔۔۔۔
گاڑی کہ روکتے ہی 10 اور 12 سالہ ہانم اور انیلا کو لیٙے وہ دو ہٹے کٹے آدمی کوٹھی میں داخل ہوۓ تھے جہاں اپنے تخت پر بیٹھی حرا بائی چست اور آگے اور پیچھے سے گہرے گلے کہ لہنگے میں ملبوس میک اپ سے لتھڑے چہرے،کھلے بالوں میں فہد کہ نزدیک تر بیٹھی باتوں کہ ساتھ اسکی شرٹ کہ بٹن کے ساتھ کھیل رہی تھی جب انھیں آتے دیکھ کر دونِوں چونکے۔۔
فہد کی نظریں ہانم پر جیسے جم سی گئی تھیں یکدم ہی اسے حرا بائی زہر لگی تھی۔۔
جبکہ دونوں بچیاں ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے خوفزدہ ہورہی تھیں۔۔
فہد اٹھ کر قدم قدم چلتا ہانم کہ سامنے آکر روکا۔۔۔جو خوف سے کانپتی اسے دیکھ رہی تھی۔۔
"قیامت ہے یہ تو۔۔۔۔فہد سرگوشی میں کہتے ہی ہانم کا بازو سختی سے جکڑ کر کمرے کی طرف بڑھنے لگا۔۔
"نہیں چھوڑیں ہمیں۔۔۔چھوڑ دیں ہمیں۔۔ انیلا بچاؤ۔۔۔اللّه ہمیں بچائیں۔۔۔۔چھوڑیں ہمیں۔۔۔۔۔،ہانم خوف سے چیختی خود کو چھڑوانے کی کوشش کرتی زاروقطار رونے لگی تھی انیلا بھی اسکے پیچھے بھاگی ہی تھی کہ آدمی نے انیلا کو مضبوطی سے پکڑ لیا تھا۔۔
فہد نے کمرے میں داخل ہوتے ہی ہانم کی نازک گردن جکڑ کر چہرے پر جھکا تھا۔۔۔ہانم کا وجود بری طرح لرز رہا تھا کہ فہد نے اسے اٹھا کر زور سے بستر پر اچھالا تھا دس سالہ ہانم کہ لبوں کہ کنارے سے خون کی لکیر بہتی ہوئی سفید بے داغ گردن تک جانے لگی
اس سے قبل وہ دروازہ لاک کرتا حرا بائی تیزی سے اندر داخل ہوئی۔۔
"کیا کر رہا ہے فہد۔۔۔۔سونے کی چڑیا اپنے ہی ہاتھوں برباد کرنے چلا ہے۔۔۔۔۔
"کہنا کیا چاہتی ہے؟
"یہی کہ ابھی اسے جوان ہونے دے حسین ہے سہی دام پر بک سکتی ہے۔۔۔حرا بائی اسے سمجھاتی ہوئی فہد کہ نزدیک آئی تھی جبکہ ہانم خوف سے زرد پڑھتی سمٹ کر بیٹھی بار بار اپنے دوپٹے سے لبوں کو رگڑتی جا رہی تھی یکدم ہی اسے ابکائی آئی تھی کہ اس نے وہیں الٹی کردی تھی..
جبکہ حرا بائی جو اسے سمجھا رہی تھی چونک کر اسے دیکھا۔۔۔
"ٹھیک ہے لیکن اس کہ جوان ہوتے ہی سب سے پہلا گاہک میں ہونگا یاد رکھنا تب تک اسے قابو کرو۔۔۔حرا بائی اسکی بات پر مسکرائی تھی۔۔۔
فہد کہتے ہی کمرے سے نکل گیا تھا کہ حرا بائی نے ہانم کو دیکھ کر نفرت سے ہنکار بھرا۔۔
"ہونہہ! میرے ساتھ اس چھوٹی سی لڑکی کا کیا مقابلہ فہد۔۔۔ اسکے جوان ہوتے ہی اچھی خاصی رقم میں بیچے گی یہ حرا بائی اور تجھے خبر بھی نہیں ہونے دے گی۔۔۔غصّہ سے بڑبڑاتی اس نے چمڑے کی بیلٹ منگوائی تھی وہ جس کی رو رو کر ہچکی بندھ گئی تھی حرا بائی کہ قریب انے پر بستر سے اتر کر بھاگنے لگی کہ حرا بائی نے تیزی سے اسکی کمر پر بیلٹ ماری تھی کہ ہانم کی دل خراش چیخ سے پورا کمرہ گونج اٹھا تھا ۔۔۔۔۔۔
حرا بائی اچھے سے دل کی بھڑاس نکال کر کمرے سے نکل گئی تھی جبکہ ہانم زمین پر غنودگی میں گری تھی پشت سے جابجا قمیض پر خون کہ دھبے تھے کانپتا وجود اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ شدید تکلیف سے دوچار رونے میں مشغول تھی ایک گھنٹہ ہونے کو آیا تھا لیکن ہانم تکلیف کہ باعث وہیں روتے روتے سو گئی تھی آنکھ تو جب کھلی جب ایک عورت نے بےدردی سے لاکر انیلا کو بستر پر پھینکا تھا پھر ایک نظر اسے دیکھ کر ہانم کی پسلی پر زوردار لات ماری۔۔
"اٹھ جا کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔اتنی جلدی نہیں مرے گی۔۔۔عورت تلخی سے کہتی اسکے پاس بیٹھ کر جیسے ہی ہانم کہ بالوں کو آگے سے مٹھی میں بھرتے سر کو اونچا کیا چند لمحوں کہ لیے مبہوت رو گئی تھی۔۔۔ہانم جو اسکی حرکت پر جاگ چکی تھی آنکھیں کھول کر دیکھنے لگی کہ اس عورت نے جھک کر اسکی تھوڑی کو چوما تھا۔۔۔
"بہت ہی پیاری ہے تو۔۔۔۔
"نن۔۔۔۔۔نہیں۔۔ہانم اسکی حرکت پر خوفزدہ ہوئی کہ عورت زور سے ہنسی۔۔
"ہاہاہا۔۔ارے پگلی ڈر مت بس پیار آگیا تھا اس پری پر۔۔چل اٹھ جا میں کپڑے لاتی ہوں دوسرے۔۔عورت ہنس کر کہتی اٹھ کر کمرے سے نکل گئی تھی کہ ہانم درد کہ مارے آواز کہ ساتھ رونے لگی حب اپنی آواز میں ایک اور آواز پر ہانم نے بستر کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
"انیلا۔۔۔انیلا ہماری بہن۔۔۔ہانم اپنی تکلیف بھلائے تیزی سے اٹھ کر انیلا کہ پاس گئی تھی جس کہ چہرے پر نیل لبوں اور ناک سے خون بہہ رہا تھا ہانم کی چیخیں، دھاڑیں مار کر رونا کمرے سے باہر تک جا رہا تھا۔۔۔۔
دوسری طرف فہد گیلے بالوں میں انگلیاں چلاتا مسکرا کر حرا بائی کو دیکھ رہا تھا جو اسے غصّے سے گھور رہی تھی۔۔
"ایسے کیا دیکھ رہی ہے اسکے جوان ہونے کا انتظار نہیں کر سکتا تھا۔۔فہد شیطانیت سے کہتا خود پر پرفیوم چھڑکتا جانے کہ لئے کمرے سے نکل گیا۔۔حرا بائی نے گردن موڑ کر زمین پر دیکھا جہاں چھوٹی چھوٹی کانچ کی چوڑیاں ٹوٹ کر بکھری ہوئی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
حال ۔۔۔۔
"کتنا ظالم ہے تو، کتنا ظالم ہے۔۔۔۔۔اقصیٰ بیگم نے نفرت سے اسے کہا جو مسکرا کر انکے سامنے آکر بیٹھا تھا۔۔
"یہ تو کچھ نہیں ہے خالہ۔۔۔ظلم تو اب شروع ہوگا جب میرا بیٹا "ساجد فہد احتشام" اس ہانم بائی کو میرے پاس لائے گا۔۔۔فہد کہ انکشاف پر اقصیٰ بیگم کی آنکھیں پھت پڑی تھیں۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
"نورین پلیز ہمیں کچھ بتاؤ ہم کیا پہنیں کل کی دعوت میں؟ ہانم پریشانی سے نورین کہ پاس آکر بولی جو عائشہ کی کلینسنگ کر رہی تھی ہانم کی بات پر دونوں نے شرارت سے اسے دیکھا جو انکے دیکھنے پر گڑبڑا گئی تھی۔
"ہانم آپی آپ کچھ بھی پہن لیں ھاد بھائی کو پھر بھی اچھی ہی لگیں گی۔۔
"بےشرم ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔ہانم اسکی بات پر شرمائی تھی کہ دونوں ہنسنے لگیں۔۔۔
ہانم دونوں کو خفگی سے دیکھتی کمرے سے نکل گئی۔۔
"نورین۔ جلدی سے ھاد کو میسج کرو.۔۔۔عائشہ شرارت سے نورین سے بولی تھی۔۔
دوسری طرف ھاد جو مارکیٹ آیا ہوا تھا موبائل کی بپ پر چونکا۔۔۔
جیب سے موبائل نکال کر جیسے ہی نورین کا میسج پڑھا بے ساختہ مسکرا دیا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
ہانم کمرے میں آتے ہی سینے پر ہاتھ رکھ کر مسکرائے جا رہی تھی جب نورین کی بات سماعتوں میں پڑھتے ہی وہ آئینے کہ سامنے جا کھڑی ہوئی تھی خود کو بغور دیکھتے ایک بار پھر وہ شرمائی تھی کہ یکدم اسکا موبائل بجا تھا۔۔۔
"ھاد کالنگ "پر مسکراتے ہوئے ہانم نے کال اٹھا کر موبائل کان سے لگایا تھا۔۔
"میرے بارے میں سوچ رہی تھی؟ ھاد کی آواز اور سوال پر ہانم کی نظریں جھکی تھی۔۔
"ہاں۔۔۔

"ہاں۔۔۔نن نہیں ہمارا مطلب ہم کچھ بھی نہیں سوچ رہی تھیں۔۔۔ہانم کہ گڑبڑانے پر ھاد ہنسا تھا۔۔۔
"بیوقوف۔۔۔۔۔آہستہ سے خود کو کہتے ہانم نے اپنے ہی سر پر چپت لگائی تھی۔۔
"آپ نے فون کیوں کیا تھا ؟ ہانم نے جلدی سے بات بدلی تھی۔۔
"دراصل میں شاپنگ کرنے آیا تھا اب مجھے سمجھ نہیں آرہا کل دعوت میں پہننے کہ لئے کیا لوں۔۔۔۔
"وہ تو ہمیں بھی۔۔۔۔ہانم کہتے کہتے یکدم رکی تھی کہ ھاد کی مسکراہٹ گہری ہوئی وہ یہی تو چاہتا تھا کہ اپنی پریشانی وہ اس سے بانٹے۔۔۔
"ہمیں بھی کیا؟
"نہیں کچھ نہیں وہ تو ایسے ہی منہ سے نکل گیا ۔۔
"ہانم جو باتیں آپکے دل و دماغ میں ہوں وہ یونہی جانے انجانے میں آپکے منہ سے نکل جایا کرتی ہیں اب بتاؤ کیا مسئلہ ہے؟ ھاد نرمی سے اسے سمجھاتے ہوۓ بولا کہ ہانم نے گہری سانس لے کر اپنا مسئلہ بیان کیا تھا۔
"یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے ایسا کرو تم تینوں تیار ہوجاؤ میں آرہا ہوں۔.۔۔ھاد اسے ہدایت دیتا مال سے پارکنگ ایریا کی جانب آیا تھا۔۔
"پپ پر کس لئے اور انکل آنٹی ہمیں کبھی اجازت نہیں دینگے۔۔۔ہانم اچانک ہی بوکھلا گئی تھی جبکہ ھاد اسکی بات ان سنی کرتا کال کاٹ کر نورین کو کال کرنے لگا تاکہ امجد صاحب سے خود اجازت لے سکے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
"عرصم یہ کیسا ہے۔۔۔۔۔وہ جو بیڈ پر نیم دراز تیمور کو کھیلتے دیکھ رہا تھا ساتھ ٹی وی پر چلتی خبروں کی ہیڈلائنز پر بھی ڈال لیتا تھا یاسمین کی آواز پر اسکی جانب متوجہ ہوا جو ہاتھ میں پرپل رنگ کا سوٹ پکڑے اسکے پاس آکر کھڑی تھی۔۔
"پہننا آپ نے ہے اس لیے جو آپکو پسند ہو پہن لیں۔۔عرصم سنجیدگی سے کہتا سامنے چلتی سکرین کو دیکھنے لگا۔۔۔
"آپ ناراض ہیں۔۔۔
"نہیں۔۔ہمارا ایسا کونسا تعلق ہے کہ ہم آپ سے ناراض ہوں۔۔۔عرصم کہتے ہی اٹھ کر جانے لگا جبکہ یاسمین اسکی بات پر ساکت ہوگئی تھی۔۔
"بہت گہرا تعلق ہے ہمارے درمیان عرصم آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟ یاسمین کی بات پر عرصم کہ قدم تھمے تھے۔۔۔گَردن موڑ کر اسے دیکھا جو سوٹ بیٹھ پر رکھتی عرصم کہ نزدیک آئی تھی۔
"بیوی ہوں میں آپکی عرصم۔۔۔۔جانتی ہوں خفا ہیں آپ مجھ سے لیکن میں اپنی غلطی سدھارنا چاہتی ہوں عرصم میں اپنے ماضی کو بھلا کر آ۔۔۔۔۔اس سے قبل وہ اپنی بات مُکَمل کرتی دروازے پر دستک ہوئی۔۔
"آجاؤ۔۔۔۔یاسمین کی آواز پر ھاد دروازہ کھول کر اندر آیا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
ہانم بے چینی سے کمرے میں اِدھر سے اُدھر ٹہل رہی تھی جب کمرے میں آندھی طوفان کی طرح نورین آئی تھی
"کک کیا ہوگیا؟
"چلیں ہانم آپی جلدی۔۔۔۔۔نورین اسے کہتی ہوئی ہاتھ کھینچ کر کمرے سے نکل کر جیسے ہی لاؤنج میں آئی سامنے ہی ھاد کو دیکھ کر دھک سے رہ گئی لیکن اگلے ہی لمحے اسکی نظر عرصم یاسمین اور جنید پر پڑی تو جیسے جان میں جان آئی تھی۔
"السلام علیکم۔۔سر پر دوپٹہ سہی کرتے وہ مشترکہ سلام کرتی دھیرے سے مسکرائی تھی کہ عرصم اسے دیکھتے ہی بے چین سا ہوگیا تھا۔۔۔۔جانے ایسا کیا تھا اس میں کہ اسے دیکھتے ہی وہ اپنی اپنی سی لگتی تھی اسے۔۔جبکہ ھاد گہری نظروں سے اس کہ چہرے کو دیکھ رہا تھا۔۔
"ہمیں اب چلنا چاہیے آپ فکر مت کیجئے گا ڈنر ہم باہر ہی کر لیں گے۔۔۔۔عرصم کی بات پر ہانم نے چونک کر اسے دیکھا پھر ایک نظر ھاد پر ڈالی جو اسکے دیکھنے پر شرارت سے مسکرا رہا تھا۔۔۔یعنی وہ اسے ساتھ لے جانے کہ لئے زبردستی سب کو گھسیٹ لایا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مال میں داخل ہوتے ہی ہانم حیرت سے ہر چیز کو دیکھ رہی تھی۔۔۔کب دیکھے تھے اس نے ایسے مہنگے اور خوبصورت شاپنگ مالز
ہانم کی آنکھوں میں یکدم آنسوں چمکے تھے کہ ہانم نے چونک کر اپنے دائیں جانب دیکھا تھا۔۔۔
"ہانم باجی کتنی خواہش تھی نہ ان جگہوں کو اندر سے دیکھنے کی. ۔۔۔۔ہانم خالی خالی نظروں سے اپنے ساتھ چلتی انیلا کو دیکھ رہی تھی دونوں کی نظریں ملتے ہی انیلا کا عکس ہوا میں تحلیل ہوگیا تھا ساتھ ہی ہانم کا اٹھتا قدم بھی جیسے روک گیا تھا ھاد جو اسکے پیچھے ہی تھا ہانم کہ ساتھ آکر روکا ہانم نے تیزی سے آنکھ میں آئی نمی صاف کی تھی جبکہ ھاد جو بغور اسے دیکھ رہا تھا ہانم کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھتے رکھتے روکا تھا۔
"تم ٹھیک ہو۔۔۔ہاتھ کی مٹھی بنا کر پہلو میں گراتے ھاد نے اس سے پوچھا جس نے لب بھینچ کر سر کو اثباب میں ہلایا تھا۔۔ ۔
۔۔۔۔۔۔
"پاپا ہم تیمور کہ لئے بھی بہت سارے کپڑے لیں گے۔۔۔چلیں۔۔۔۔حفصہ عرصم سے کہتی ہوئی اسے لیکر شاپ میں گھسی تھی ہانم جو نورین اور عائشہ کہ ساتھ کھڑی تھی حفصہ کی آواز پر بے اختیار دوکان اندر سے دیکھنے کہ لئے انکے پیچھے چل دی جبکہ یاسمین تیمور کو گود میں اٹھائے عائشہ کہ ساتھ اسے ڈریس بسند کروانے میں مصروف تھی۔۔
ہانم اردگرد ہر چیز کو دیکھتی عرصم اور حفصہ سے چند قدم کی دوری پر انکے پیچھے ہی آرہی تھی۔۔
"امی یہ لے لیں گڑیا کہ لئے ۔۔۔۔۔ہانم نے آواز پر سامنے دیکھا جہاں بارہ تیرا سال کی بچی ہاتھ میں چھوٹا سا فراک اپنی ماں کو دکھا رہی تھی۔۔
یکدم ہی اسے انیلا کا بکھرا ٹوٹا وجود یاد آیا تو لبوں کو سختی سے بھینچ گئی۔۔
(ہانم باجی وہ آدمی بہت گندا تھا.۔۔آپ اسے چھوڑنا مت۔۔۔۔انیلا اسکی گود میں سر رکھے کہہ رہی تھی وہ جانتی تھی ہانم داؤد بچپن سے ہی مضبوط اور نڈر تھی۔۔۔لیکن کہتے ہیں نہ انسان جتنا بھی نڈر و مضبوط ہو اپنوں کی تکلیفیں انھیں اندر سے توڑ دیتی ہیں یہی ہانم داؤد کہ ساتھ ہوا تھا انیلا کہ بکھرے زخموں سے چور وجود نے ہانم اندر سے توڑ پھوڑ کا شکار ہوگئی تھی
"ہانم آپی وہ بہت گندا تھا بہت گندا تھا۔۔۔۔انیلا زاروقطار روتی دوبارہ ایک ہی بات دوہراتی سو گئی تھی۔۔۔)
"ہم تمہارا بدلا ضرور لیں گی انیلا۔۔۔ہم اسے ایسی ہی اذیت دیں گی جیسے اس نے تمہیں دی تھی یہ وعدہ ہے ہانم داؤد کا۔۔۔ایک بار صرف ایک بار وہ ہمارے سامنے آجائے۔۔۔۔بے دردی سے آنسوں پونچھتی وہ اسی بچی کو دیکھنے لگی جو آگے بڑھ گئی تھی۔۔۔آج کتنے سالوں بعد "ہانم داؤد" وہی مضبوط اور نڈر "ہانم داؤد" کی طرح خود سے عہد کر رہی تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"تیمور کہ لئے فراک لے رہے ہیں عرصم بھائی؟ ہانم کی آواز پر وہ چونکا تھا نظر اٹھا کر اسے دیکھا جو ایک بار پھر چہرے پر مسکراہٹ سجائے کھڑی تھی لیکن اگلے ہی پل اسکی سرخ بھیگی نگاہوں پر نظر پڑھتے ہی ہانم کی مسکراہٹ سمٹی تھی۔۔
"آپ ٹھیک ہیں؟ بے اختیار ہانم نے آگے بڑھ کر عرصم کہ بازو پر ہاتھ رکھا تھا کہ عرصم اسے دیکھنے لگا جانے کیا ہورہا تھا اسے۔۔۔۔
"ہمم ہاں ہم ٹھیک ہیں۔۔ خود پر ضبط کرتے عرصم نے گہری سانس لے کر ہانم کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھا تھا۔۔
دونوں سانس روکے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے یوں لگتا تھا جیسے اپنی ہی آنکھوں میں جھانک رہے ہوں۔۔۔
"سوری بچہ۔۔۔۔عرصم نے جلدی سے ہاتھ ہٹاتے نظریں بھی پھیری تھیں۔۔۔
"کوئی بات نہیں عرصم بھائی۔۔۔ہانم کی آواز یکدم بھیگی تھی۔
"ہانم۔۔۔۔
"آہ نہیں بس وہ آپ نے بچہ کہا ہمیں اچھا لگا۔۔۔ہانم نے جلدی سے اپنی صفائی پیش کی تھی کہ عرصم نے مسکراتے ہوئے ہانم کہ سر پر ہاتھ رکھتے لاڈ سے اسکے سر کو ہلایا تھا۔۔۔
"یہ وہاں کیا ہو رہا ہے؟ جنید نے ھاد سے پوچھا جو خود بھی باہر کھڑا انہی دونِوں کو دیکھ رہا تھا۔۔
"باتیں۔۔۔۔ھاد نے سنجیدگی سے کہتے منہ بنایا تھا کہ جنید اسکے تاثرات دیکھ کر ہنس دیا تھا۔۔۔
ہانم عرصم سے بات ختم کرتی جیسے ہی باہر نکلی فاصلے پر ہی ھاد کو دو لڑکیوں کہ ساتھ دیکھ کر وہ وہیں روک گئی۔ دونوں لڑکیاں ھاد کہ ساتھ سیلفی بنا رہی تھیں جب اچانک ہی لڑکے لڑکیوں کا گروپ بھی ھاد کہ گرد آتے ہی پرجوش انداز میں اس سے ملنے لگا۔ ۔ہانم کی نظر ھاد کہ ہاتھ پر تھی جو کسی لڑکی کہ ہاتھ کو پکڑ کر ہتھیلی پر پیں گھسیٹ رہا تھا۔۔
"ہونہہ شوخی لڑکیاں۔۔۔نورین کی آواز پر اس نے ناگواری سے اس لڑکی کو دیکھ کر سر ہلایا جو بالوں کو ایک ادا سے جھٹکتی ھاد سے باتیں کر رہی تھی۔۔
"فین ہونگی ضرور۔۔یاسمین کی بات پر دونوں نے یاسمین کو دیکھا تھا۔۔
"کیا مطلب؟ عائشہ نے ناسمجھی سے پوچھا۔۔۔
"تم لوگوں کو نہیں پتہ ھاد جہانزیب سنگر ہے اسکا اپنا بینڈ ہے ھاد کہ وہ دوست جو اس دن ساتھ تھے وہ اسی کا گروپ ہے۔۔۔یاسمین حیرت سے انھیں دیکھتی ہوئی بتانے لگی تھی ہانم کہ ساتھ دونوں بھی لمحے بھر کو سن رہ گئی تھیں۔۔۔
ھاد نے نظر گھما کر ہانم کو دیکھ کر مسکراہٹ اچھالی تھی کہ ہانم خفگی سے چہرہ پھیر گئی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"کیا بات ہے رئیس اتنی کب سے پینے لگا؟ تیز میوزک ڈم ڈسکو لائٹ میں تھرکتے لڑکے لڑکیاں ہاتھوں میں ڈرنکس پکڑے ایک دوسرے کی باہوں میں باہِیں ڈالے ناچ رہے تھے رئیس اور ریاض بار کاؤنٹر کہ گرد رکھی کرسیوں پر موجود تھے جبکہ ریاض کی گود میں نازک سی گولڈن بالوں والی لڑکی بیٹھی مسکرا رہی تھی دونوں اس وقت تھائی لینڈ کہ شہر بینگ کاک کہ نائٹ کلب میں موجود تھے۔۔۔۔ریاض چند دنوں کہ لئے چھٹیاں گزارنے رئیس کہ ساتھ آیا تھا۔۔۔
رئیس اپنی عزت کی دھجیاں اڑتا نہیں سہہ پا رہا تھا مہندی میں جو اسکے ساتھ ہوا تھا اسکے بعد وہ جہاں جا رہا تھا لوگ اس پر تھو تھو کر رہے تھے تبھی کچھ دنوں کہ لیے وہ منظر سے غائب ہونے کہ لئے ریاض کہ ساتھ آگیا تھا
ریاض کی بات پر رئیس حرام شہہ کو حلق میں انڈیل کر کھڑا ہوتا بنا ریاض کو جواب دیے کلب سے جانے لگا۔۔
"رئیس کہاں جا رہا ہے۔۔ریاض اسکے اٹھنے پر رئیس کہ پیچھے گیا تھا جو لڑکھراتے قدموں سے چلتا جا رہا تھا۔۔
"ہوٹل۔۔۔۔۔
"ابے حالت دیکھ چلا تک تو جا نہیں رہا سہی سے۔۔۔
"میں نے کہا نہ چلا جاؤں گا۔۔۔رئیس ترش لہجے میں اسے جواب دیتا شیشے کا دروازہ کھول کر باہر نکلا کہ ریاض لب دباتا اسکے پیچھے گیا تھا۔۔۔
"رئیس پاگل مت بن...
"نہیں جانا مجھے کہیں سمجھا تو۔۔۔تو دفع ہوجا سالے ریسٹ....رئیس کہ یکدم دھاڑنے پر ریاض نے اردگرد دیکھا تھا کلب کہ باہر لڑکے لڑکیاں آ جا رہے تھے رئیس کہ چیخنے پر سب نے چونک کر انھیں دیکھا تھا۔۔
"رئیس حد میں رہ اپنی جانتا ہے کس سے کیا بکواس کر رہا ہے۔۔۔
"ہاں جانتا ہوں ایک بدمعاش، ایک قاتل، ایک رپسٹ، ایک ڈریگز ڈیلر سے بات کر رہا ہوں جس نے میری بہن کو بھی نہیں چھوڑا۔۔۔ک کاش۔۔کاش ریاض تیری بھی کوئی بہن ہوتی تو تیری بہن کا وہ حشر کرتا کہ تو اسے دیکھ کر موت کی بھیک مانگتا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"عورت۔۔۔۔
ماں ہو، بہن ہو، بیٹی ہو، بہو ہو یا پھر بیوی۔۔۔۔کیوں ہر بار وہ مرد کہ کیے کی سزا اپنے وجود سے "مکافاتِ عمل" کہ نام پر سہتی رہے گی میں مکافاتِ عمل سے انکاری نہیں ہوں لیکن کب تک ؟
"نورین سوجاؤ بیٹی ۔۔۔نادیہ بیگم کی آواز پر وہ چونکی تھی تیزی سے قلم رکھ کر ڈائری کو دارز میں رکھ کر اٹھی۔۔
"جی امی بس سونے ہی جارہی ہوں۔۔۔نورین نے مسکرا کر انھیں دیکھا جو سر ہلا کر پلٹ گئی تھیں۔۔۔
"تیری جرّت کیسے ہوئی" ریاض وقار" سے یہ سب بکواس کرنے کی ہاں ۔۔۔۔۔رئیس کی باتیں اسکا خون کھولا گئی تھیں شدید طیش میں ریاض نے جیکٹ کی اندرونی جیب سے گن نکالنے کہ لئے ہاتھ اندر ڈالا ہی تھا کہ رئیس بجلی کی سی تیزی سے ریاض کہ نزدیک بڑھا تھا اس سے قبل وہ ہاتھ باہر نکالتا رئیس نے پینٹ کی جیب سے بلیڈ نکال کر اسکے اسی ہاتھ کو جو جیکٹ میں تھا ریاض کہ سینے پر دباتا بلیڈ کو کلائی پر بے دردی سے چلاتے اس نے ریاض کو پیچھے کی جانب دکھیلا تھا وہ جسے گمان بھی نہیں تھا کہ اتنے نشے میں ہونے کہ باوجود وہ اس پر حملہ کرے گا زور سے نیچے گرتا پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے کہ ساتھ اپنی کلائی کو بھی دبانے لگا۔۔۔۔۔کلائی گہرائی سے کٹنے کہ باعث خون تیزی سے زمین پر گر رہا تھا۔۔
"یہ ہے میری جرّت۔۔۔اور دیکھنا چاہے گا۔۔۔ششدر سا اسے دیکھتا وہ کچھ بھی بولنے کی ہمّت نہیں کر پا رہا تھا رئیس کو دیکھ کر یوں لگتا تھا جیسے کبھی وہ نشے میں تھا ہی نہیں لیکن اسے نہیں معلوم تھا کہ رئیس عادی تھا کبھی بھی اس نے نشے میں اپنا آپ نہیں کھویا تھا۔۔۔۔
"آہ تجھے تو میں جان سے ماردوں گا۔۔۔ریاض درد اورخون بہنے سے کمزور پڑھ رہا تھا ریاض اسکی بات پر قہقہے لگانے لگا پھر اچانک ہی اس نے ریاض کہ سینے پر لات ماری جس نے دوسرے ہاتھ سے گن نکال کر اس پر تانی ہی تھی کہ اچانک زور سے گرنے سے اسکے ہاتھ سے گن چھوٹ کر زمین پر دور جا گری تھی کہ رئیس نے آگے بڑھ کر جھک کر گن اٹھاتے بنا وقت ضائع کیے ریاض پر گولی چلا دی تھی۔۔۔
کلب سے باہر آتے کپل کی جیسے ہی ان پر نظر پڑھی لڑکی چیخ مارتی تیزی سے لڑکے کہ ساتھ اندر بھاگی تھی
"ت تو۔۔۔۔سینے پر ہاتھ رکھے ریاض کی آنکھیں رئیس کی جانب اٹھی تھیں جو سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا۔۔۔
"چچ۔۔بہت کچھ کہنا تھا تم سے آخری بار لیکن وہ کیا ہے نہ کبھی بھی پولیس یہاں آسکتی ہے اور میں ہرگز یہ نہیں چاہوں گا کہ......رئیس کہتے کہتے چپ ہوتے ساتھ گن کو اسکی پسلی پر ٹکا چکا تھا۔۔۔
"،تم زندہ بچو۔۔۔۔۔کبھی نہیں۔۔۔۔میں یہ کبھی نہیں ہونے دوں گا۔۔۔۔۔۔رئیس نے بات مُکَمل کرتے ہی جتنی گولیاں باقی تھیں اسکی پسلی میں اتار دی تھیں وہ جو بند کمرے میں ایک نازک سی لڑکی کو منصوبہ بندی کر کہ کمرے میں بلا کر زیادتی کا نشانہ بناتا خود کو شیر سمجھ بیٹھا تھا۔۔موت کو اپنے قریب تر دیکھ کر بھی اسے نہ تو چیخنےکی مہلت ملی نہ ہی ہاتھ اٹھانے کی جن ہاتھوں کو وہ اپنی طاقت کہتا آرہا تھا جن سے لڑکیوں کی عزتوں کو تار تار کرتا آرہا تھا لمحوں میں وہ سرد پڑھ چکے تھے۔
جبکہ رئیس گن وہیں پھینکتا زور زور اسکے ہاتھ پر پیر مارنے کہ ساتھ روتا جا رہا تھا۔۔۔
اچانک ہی پولیس کی گاڑیوں نے اسے گھیرے میں لیا تھا جو بنا کسی کی پرواہ کیئے ریاض کی لاش کو لاتیں مارتا بڑبڑائے جا رہا تھا کہ ایک پولیس والے نے رئیس کی ٹانگ پر گولی چلائی تھی دل خراش چیخ کہ ساتھ وہ گٹھنوں کہ بل گرتا زمین پر لیٹ گیا تھا کہ پولیس نے اسکے گرد گھیرا بنا کر بندوکیں اس پر تان دی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"رئیس علی۔۔۔۔میرا نام رئیس علی ہے۔۔میری ماں جوپریہ علی اور ایک لاڈلی بہن تسنیم علی ۔۔۔۔۔باپ کہ دنیا سے چلے جانے کہ بعد میں نے ہی اپنے پاپا کا سارا کاروبار سمبھالا تھا۔۔۔میری زندگی گھر سے آفس،آفس سے گھر کہ گرد گھومتی رہی کہ ایک دن میری زندگی میں میرے دوست ریاض وقار نے قدم رکھا اور ایسا رکھا کہ میں بھی اسکی رنگین زندگی میں کھو سا گیا یوں جیسے کوئی نشہ ہو۔۔۔۔پہلی بار عورت کہ لمس سے آشنا کروانے والا میرا وہ دوست تھا۔۔ ریاض وقار پیسوں کہ لئے کچھ بھی کرنے کو تیار رہتا تھا عورت اسکی کمزوری تھی اور اسکی کمزوری میرا نشہ۔۔انہی دنوں میری ملاقات یاسمین سے ہوئی وہ میرے ہی دفتر میں کام کرتی تھی۔۔۔وقت گزرتا رہا اور ایک دن میں نے اسے اپنی زندگی میں شامل کرنے کا فیصلہ کرلیا لیکن میرا نشہ کم ہوتے کی بجائے بڑھتا گیا اور تب ایک دن مجھے وہ پری پیکر ملی جسکے ساتھ ایک رات گزارنے کی خواہش نے سوچنے سمجھنے کی حس کو بے حس کردیا تھا۔۔۔ہانم داؤد۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"بھائی۔۔۔تسنیم چیخ مارتی جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی احان نے گھبرا کر لیمپ جلا کر اسے دیکھا جو گہرے گہرے سانس لیتی اردگرد دیکھ کر اپنی کنپٹیاں دبانے لگی۔۔
"تسنیم کیا ہوا؟
"آہ کچھ نہیں شاید کوئی برا خواب تھا۔۔ تسنیم نے چونک کر احان کو دیکھ کر کہتے اسکے سینے پر سر رکھ دیا تھا
"پانی پیو گی۔۔۔
"ہاں دے دیں۔۔۔تسنیم سر اٹھا کر بولی کہ احان اسے دیکھ کر سائیڈ ٹیبل پر رکھے جگ سے پانی گلاس میں انڈیل کر اسکی طرف بڑھاتا بغور یاسمین کہ چہرے کو دیکھنے لگا۔۔
"تھینکس۔۔۔گلاس واپس دیتے تسنیم اسے کہتی مسکرا کر دوبارہ اسکے سینے پر سر رکھ کر لپٹ گئی تھی جو اسی طرح تسنیم کو لیے لیٹ گیا تھا۔۔
"تسنیم ٹھیک ہو نہ۔۔۔بالوں میں نرمی سے انگلیاں چلاتے احان نے اس سے پوچھا جس نے سر اونچا کرتے مسکرا کر احان کو دیکھا تھا۔۔
"میں ٹھیک ہوں احان بھلا تمھارے ہوتے ہوۓ بھی مجھے کچھ ہوسکتا ہے۔۔۔۔تسنیم نے کہتے ساتھ احان کہ گال پر لب رکھے تھے کہ احان نے اسکے گرد حصار مظبوط کرتے بالوں میں چہرہ چھپایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"مجھے ایک کال کرنی ہے پلیز۔۔۔رئیس سپاٹ چہرے کہ ساتھ انسپکٹر سے بولا جو اسے اجازت نہیں دے رہا تھا۔۔۔
"پلیز میری فیملی پاکستان میں ہے ایک بار انھیں بتا دینے دیں پلیز۔۔۔رئیس جارحانہ انداز میں کہتا یکدم بےبس ہوا تھا کہ انسپکٹر نے اسے دیکھتے رہنے کہ بعداجازت دے دی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"شام کا وقت تھا ایسے میں احان لان میں رکھی کریسیوں پر سب کہ ساتھ بیٹھا خوش گپیوں میں مصروف تھا امجد صاحب اصغر صاحب کہ ساتھ بیٹھے تھے جبکہ گھر کی خواتین اندر تھیں۔۔۔تسنیم چاروں کو ساتھ لئے اپنے کمرے میں موجود تھی۔۔ہانم خاموش بیٹھی سب کو مسکرا کر دیکھ رہی تھی۔۔
جب حفصہ کمرے میں داخل ہوئی تھی۔۔
"آنٹی آپ کو ھاد چاچو۔۔اوپس۔۔۔حفصہ نے یکدم ہی لبوں پر ہاتھ رکھا تھا وہ جو دروازے کہ پاس ہی موجود تھا ماتھا پیٹ کر رہ گیا
جبکہ حفصہ کی بات پر سب نے ہانم کو دیکھ کر قہقہے لگائے تھے جو بری طرح شرما گئی تھی ۔۔
"حفصہ بیٹا ھاد چاچو کیا؟
"نہیں ھاد چاچو نہیں وہ ہم کہہ رہی تھیں کہ ہمیں ھاد چاچو نے کہا ہے کہ آنٹی کو پاپا بلا رہے ہیں۔۔۔
"چلاکو ماسی۔۔۔کیسے اپنے ھاد چاچو کو بچانے کہ لئے کہانی بنا رہی ہے۔۔عائشہ نے ہنستے ہوۓ کہا۔
"ہم آتے ہیں شاید عرصم بھائی ہی بلا رہے ہوں۔۔۔ہانم کی آواز پر ھاد بے ساختہ مسکرایا تھا۔۔۔
"ہاں ہاں جاؤ جاؤ کیا پتہ واقعی عرصم بھائی ہی بلا رہے ہوں۔۔۔تسنیم نے آنکھیں مٹکا کر شرارت سے اسے کہا جو مسکرا کر دروازے کی طرف بڑھ گئی تھی۔۔
"میں تم لوگوں کو کل کہ ولیمے کا لہنگا دکھاتی ہوں۔۔۔تسنیم کہتی ہوئی بیڈ سے اتر کر وارڈروب کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ہانم قدم اٹھاتی جیسے ہی چند قدم چلی اپنے دوپٹے کہ اٹکنے پر یکدم رکی تھی۔۔۔
آہستہ سے گردن موڑ کر اس نے پیچھے دیکھا جہاں ھاد اسکے دوپٹے کا کنارہ تھامے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
"چھوڑیں.۔۔۔۔ہانم نے اپنے دوپٹے کو پکڑتے ہوۓ دھیرے سے کہا جس نے دوپٹے کو اپنی طرف کھنچا تھا کہ ہانم بھی دوپٹہ کندھے سے پھسلنے کہ ڈر سے اسکے نزدیک آئی تھی۔۔۔
دونوں یک ٹک ایک دوسرے کو دیکھنے لگے کہ هاد نے دوپٹے کو آہستہ آہستہ اس انداز میں اپنی جانب کھنچا کہ دونوں کہ ہاتھ ایک بار پھر مس ہوۓ تھے۔۔ہانم کہ دل کی دھڑکن بڑھنے لگی تھی۔۔
"بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔۔ھاد دھیرے سے اسکے کان کہ نزیک جھک کر سرگوشی میں بولا تھا کہ ہانم نے تیزی سے آنکھوں کو موندا تھا اگلے ہی پل ھاد نے دوپٹہ چھوڑتے ہانم کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھا تھا کہ ہانم نے گھبرا کر دوپٹہ چھوڑا تھا۔۔
"ھ ھاد۔۔۔
"جانِ ھاد۔۔۔۔ھاد کہ بے خودی میں کہتے ہی ہانم نے پٹ سے آنکھیں کھولتے حیرت سے اسے دیکھا تھا دونوں اتنے نزدیک تھے کہ ایک دوسرے کی سانسیں تک چہرے پر محسوس کر سکتے تھے۔۔۔
ہانم کہ گال شرم سے سرخ پڑھتے دیکھ ھاد کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی ہانم کی مخروطی انگلیوں کو اپنی انگلیوں میں پھنساتے اس نے ہانم کو اپنے اور نزدیک کیا تھا۔۔۔۔
"ہانم داؤد میرے ساتھ چلو گی ہمیشہ کہ لئے؟ ھاد کہ کہتے ہی ہانم کی سماعتوں میں بالاج کی زہریلی باتیں گونجنے لگیں تھی وہ بھی تو اس سے شادی کا خواہش مند تھا۔۔۔
"ہمیں چھونا چاہتے ہیں ۔۔۔ہانم نے کہتے ساتھ اپنا چہرہ اسکے نزدیک تر کیا تھا جبکہ ھاد اسکے لہجے پر تیزی سے پیچھے ہٹا تھا ہانم نے اذیت سے اپنے خالی ہاتھ کو دیکھا تھا۔۔۔
"ھاد ہمیں ما۔۔۔۔۔
ہانم کی بات مُکَمل ہونے سے قبل ہی وہ وہاں سے تیزی سے زینہ اتر کر لاؤنج عبور کرتا باہر نکل گیا تھا جبکہ ہانم نے لب بھینچ کر اپنے ہاتھ کو دیکھتی مٹھی بنا کر سینے پر رکھتے کرب سے آنکھوں کو میچا تھا۔۔۔
کیا جینا اتنا آسان ہوتا ہے۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
کچن میں کھڑیں وہ چائے بنا رہی تھیں جب فہد وہاں آیا تھا۔۔
"ارے خالہ جلدی سے ناشتہ دو پھر چلنے کی تیاری کرو۔۔۔۔
"میں کہیں نہیں جا رہی تمھارے ساتھ سمجھے۔۔۔اقصیٰ بیگم نے تڑاخ سے اسے جواب دیا تھا جو انکی بات پر مسکراتے ہوۓ انکے نزدیک آیا تھا۔۔
"کیوں ہر بات پر نخرہ دکھاتی ہے جب معلوم ہے جو میں چاہتا ہوں وہ تجھے کرنا ہی کرنا ہے۔۔۔۔فہد مزے سے کہتا انہیں مزید طیش دلا گیا تھا کہ اقصیٰ بیگم نے جو ابھی ہی چائے کہ لئے پانی رکھا تھا اٹھا کر اسکے چہرے پر پھینکا تھا کہ یکدم ہی وہ اچھل کر پیچھے ہٹا تھا۔۔
"میں بہت کچھ کر سکتی ہوں سمجھا۔۔۔دفع ہوجا یہاں سے ورنہ اگلی بار ٹھنڈا نہیں ابلتا پانی تیرے اس غلیظ وجود پر انڈیل کر جلا کر راکھ کردوں گی۔۔۔اقصیٰ بیگم غصّے سے کہتیں کِچن سے نکل گئیں تھیں جبکہ فہد نے اپنے کھولتے دماغ کو بمشکل ٹھنڈا کیا تھا کہ اسے ائیرپورٹ کہ لیے نکلنا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"تو تم یہاں ہو لڑکی....بالاج عروج کو پول میں تَانگیں ڈالے بیٹھا دیکھ کر مسکرا کر کہتا ایک انچ کہ فاصلے پر بیٹھا عروج کہ رکھے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اسے دیکھنے لگا۔۔
"آپ شادی کیوں کرنا چاہتے ہیں مجھ سے؟ عروج نے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ کہ نیچے سے نکالتے ہوۓ سنجیدگی سے پوچھا تھا۔۔
"یہ کیسا سوال ہے عروج۔۔تم اچھی لگی ہو مجھے۔۔بالاج نے الجھ کر اسے جواب دیا تھا جو اسکی بات سن کر استہزاء مسکراہٹ سے اسے دیکھنے لگی تھی۔۔
"اور ہانم اسکا کیا؟
رات کا اندھیرا چار سو پھیل گیا تھا کھانا کھا کر وہ لوگ چائے سے لطف اندوز ہوتے لان میں نیچے گول دائرے کی شکل میں بیٹھے تھے۔۔ھاد ہانم کہ سامنے بیٹھا تھا ہانم کی نظریں بھٹک بھٹک کر ھاد کی جانب اٹھ رہی تھیں جس نے ایک بار بھی اس کی طرف نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔۔وہ تو ایسے انجان بنا بیٹھا تھا جیسے ہانم کو جانتا تک نہ ہو۔۔۔۔
"ہانم آپی آپ دونوں کہ بیچ کچھ ہوا ہے کیا؟ نورین کہ اچانک پوچھنے پر ہانم نے چونک کر اسے دیکھتے نفی میں سر ہلایا تھا.
"اچھا۔۔پر مجھے کیوں ایسا لگ رہا ہے۔۔۔
"ہمیں کیا پتہ تم کچھ زیادہ ہی سوچ رہی ہو،ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔
"ہمم ہوسکتا ہے لیکن یہ اچانک ھاد بھائی کو کیا ہوا؟ میں شام سے دیکھ رہی تھی کہ انکی نظریں ہی کسی پر سے نہیں ہٹ رہی تھیں اور اب اچانک سے کسی اور کی نظریں نہیں ہٹ رہی ہیں نورین نے شرارت سے آنکھیں مٹکا کر کہتے ہانم کہ گال پر پیار کیا تھا کہ وہ جو کب سے خود پر جبر کیے بیٹھا تھا نظر اٹھا کر اسے دیکھنے لگا جس کا چہرہ شرم سے سرخ ہوگیا تھا۔۔۔
لبوں کو سختی سے بھینچتے وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ ہانم جو نورین کی اس حرکت پر اسے گھور رہی تھی ھاد کہ نام پر اسے دیکھنے لگی۔۔
"ہمیں اب چلنا چاہیے کل ویسے ہی تقریب ہے...ھاد اسکے دیکھنے پر نظر پھیر کر اصغر صاحب سے بولا تھا جنہوں نے اسکی بات پر سر ہلایا تھا۔۔۔۔
"ہمیں بھی اب نکلنا چاہیے۔۔۔امجد صاحب بھی اٹھتے ہوئے بولے تھے کہ ہانم نے بے چینی سے ھاد کو دیکھا تھا۔
"اچھا ہانم اپنا خیال رکھنا عرصم نے یکدم ہانم کہ سر پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا تھا ہانم نے چونک کر عرصم کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔
"آپ بھی اپنا خیال رکھیے گا۔۔۔۔ہانم نے مسکرا کر عرصم سے کہا جس نے اچانک ہی اس سے نظریں ہٹا کر اپنے والٹ کو نکال کر ہانم کی بچپن کی تصویر کو دیکھا تھا ہانم کی واحد ایک وہی تصویر تھی اس کہ پاس جسے موبائل کہ ساتھ اس نے نکلوا کر والٹ میں بھی سمبھال کر رکھی تھی۔۔
عرصم تصور کو ایک نظر دیکھ کر ہانم کو دیکھنے لگا پھر مسکرا کر آگے بڑھ گیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عروج کہ سوال پر بالاج اسے دیکھتا رہا پھر سر جھٹک کر تیکھا سا مسکرایا۔۔
"تمہیں ایک کہانی سناؤں؟ ابالکل سچ؟
"کیا؟ عروج نے اسے دیکھتے ہوۓ سوالیہ انداز میں آئبرو اچکائی تھی کہ بالاج نے گہری سانس لیتے اسے کوٹھے سے لے کر اسلام آباد آنے تک کی کہانی سنا ڈالی سواۓ اسکے کہ ہانم اور اپنی ہی دونوں کزنوں کو اس نے اپنے آپ کو بچانے کی خاطر ساجد کہ حوالے کیا تھا..
بالاج کو ابھی تک عائشہ اور نورین کہ گھر واپس آنے کا معلوم نہیں چلا تھا نہ ہی ساجد نے اس سے کوئی رابطہ کیا تھا۔۔
بالاج خاموش ہوا تو عروج جو دنگ بیٹھی تھی جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھی تھی۔۔
"عروج دیکھو اگر تمہیں یہ لگ رہا ہے کہ ہمارے بیچ کچھ ہوا ہوگا تو میں قسم تک کھانے کہ لئے تیار ہوں یار وہ طوائف ہونے کہ باوجود آج تک کسی کہ قابو نہیں آئی۔۔۔۔بالاج نے جلدی سے اسکا ہاتھ پکڑ کر روکتے ساتھ روانی میں کہتا کہتا خود ہی ٹھٹھک گیا تھا جانے انجانے میں وہ یہ کیا بول چکا تھا عروج نے اسکی بات سنتے ہی بالاج کا ہاتھ جھٹکا تھا۔
"انسان کی زبان جتنا بھی شہد اُگلے جب تک اسکی نیت اچھی اور صاف نہیں ہوگی زبان سے نکلا ایک ایک لفظ اسکے منافق ہونے کی دلیل ہے۔۔
"عروج پلیز میں سچ کہہ رہا ہوں ہاں وہ خوبصورت تھی مانتا ہوں لیکن طوائفوں سے شادی نہیں کی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔بالاج نے کہتے ساتھ اسے کمر سے تھام کر جھٹکا دیا تھا کہ وہ اسکے سینے سے ٹکرائی تھی۔۔۔
"میں آپ سے شادی پھر بھی نہیں کر سکتی اچھا ہوگا آپ کل خود ہی سب کو منع کردیں۔۔۔۔عروج نے تیزی سے خود کو اسکے حصار سے نکالا تھا جو اسے اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کرنے کہ ساتھ جان کر عروج کو چھو رہا تھا اسے معلوم تھا وہ اسے پسند کرتی ہے اور ایسا کرنے سے وہ نرم پڑھ جاۓ گی۔۔۔
لیکن سب اسکے برعکس ہورہا تھا۔۔۔
"یہ کیا کہہ رہی ہو ہوش میں تو ہو تم کل اتنے بڑے پیمانے پر ہم دونوں کا نکاح ہونے والا ہے اور تم یہ سب۔۔۔آہ دیکھو عروج میں سچ کہہ رہا ہوں میرے اور اس ہانم کہ بیچ کچھ نہیں ہوا ہے ڈیم اٹ۔۔۔
"ہاں تو ٹھیک ہے لیکن میں پھر بھی یہ شادی نہیں کر سکتی۔۔۔عروج نے اس سے زیادہ سخت لہجے میں کہتے قدم آگے بڑھائے تھے کہ بالاج نے جارحانہ طریقے سے اسکا بازو اپنی گرفت میں لیتے تیزی سے کچھ فاصلے پر پلر کہ ساتھ لگا کر اسکی آنکھوں میں جھانکا تھا۔۔۔
"مجھے اتنی آسانی سے ریجیکٹ نہیں کر سکتی ہو تم عروج۔۔غصّے سے بولتا وہ اسکا دوسرا بازو بھی جکڑ کر فاصلے کو کم کرنے لگا تھا کہ عروج نے تیزی سے چہرہ پھیر کر بالاج کہ سینے پر ہاتھ رکھ کر خود سے پیچھے کیا تھا کہ وہ مٹھیاں بھینجتے اپنے اشتعال پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگا۔
"شادی کوئی گڈے گڑیا کا کھیل نہیں ہے بالاج میرے نزدیک آنے کی کوشش مت کریں ورنہ بہت مہنگا پڑھ جاۓ گا۔۔۔انگلی اٹھا کر کہتی وہ پوری کانپ رہی تھی۔۔۔
"مہنگا تو تمہیں پڑھے گا عروج بی بی اگر کل کوئی بھی تماشا کیا تو یاد رکھتا سب کہ سامنے زبردستی نکاح کر کہ اٹھا کر لے جاؤں گا۔۔۔بالاج طیش میں اسے دھمکی دیتا تیزی سے وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا جبکہ عروج کانپتی ٹانگوں کہ ساتھ نیچے بیٹھتی چلی گئی تھی۔۔۔
اگر کل جو اس نے زبردستی نکاح کرنا چاہا تو وہ کیا کرے گی کیسے حقیقت کا سامنا کرے گی اور سب اسکے ماں بننے کی حقیقت جان کر کیا کریں گے۔۔۔
"اللّه تعالیٰ میں کیا کروں۔۔۔میرے گناہ مجھے رسوا کرنے جا رہے ہیں میں کیسے سب کو بتاؤں گی کہ میرے وجود میں ایک اور وجود سانس لے رہا ہے میرے ناجائز تعلقات کا ایسا انجام کہ میں پھنس کر رہ گئی ہوں۔۔۔۔۔۔۔مجھے معاف کردیں۔۔ مجھے۔۔۔۔ عروج ہچکیوں سے روتی خود کلامی کر رہی تھی کہ بالاج جو جانے کہ بجائے وہیں روک کر سگریٹ سلگانے لگا تھا عروج کی اونچی بڑبڑاہٹ سنتا اپنی جگہ ساکت رہ گیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کہ ڈھائی بجے کا وقت تھا یاسمین بے چینی سے کروٹ پے کروٹ بدل رہی تھی عرصم جو خود بھی دوسری طرف کروٹ کہ بل لیٹا تھا بیڈ کہ بار بار ہلنے سے تنگ ہونے لگا اسے چڑ تھی اس چیز سے کچھ دیر یونہی برداشت کرتا رہا کہ یاسمین نے اٹھ کر بیٹھتے وہیں سے عرصم کو دیکھنے کی ناکام کوشش کی جب عرصم کے ہاتھ کو مٹھی بنا کر کھولتے دیکھ کر مسکراہٹ دبائی۔۔
"یہاں میری نیندیں اڑا کر خود مزے سے سو رہے ہیں۔۔۔کیا ہوجاتا تھوڑی باتیں کر لیتے پر نہیں آتے ساتھ سونے لیٹ گئے۔۔۔۔افف! جان بوجھ کر اونچی آواز میں کہتی وہ بیڈ سے اتر کر تکیے کو تیمور کہ ساتھ رکھ کر صوفے پر جا کر بیٹھ گئی۔۔عرصم نے نظریں گھما کر اسے دیکھا جو صوفے پر کسی روٹھے بچے کی طرح بیٹھی اپنے کھلے بالوں سے کھیل رہی تھی۔۔
عرصم گہری سانس لیکر اٹھ کر خاموشی سے اس کہ ساتھ آکر بیٹھتا یاسمین کا ہاتھ کھینچ کر پکڑتا اسے دیکھنے لگا جس نے خفگی سے عرصم کی طرف دیکھا تھا۔۔
"آپ کل کچھ کہہ رہی تھیں۔۔
"جی نہیں کچھ نہیں کہہ رہی تھی آپ جائیں سو جائیں نہیں تو اپنے دوستوں کہ ساتھ جا کر بیٹھ جائیں۔۔۔یاسمین بیڈ کی طرف دیکھتی ہوئی منہ پھلا کر بولتی اپنا ہاتھ چھڑوا کر اٹھنے ہی لگی تھی کہ عرصم نے جھٹکے سے اسے اپنی جانب کھینچا تھا وہ جو پہلے ہی صوفے پر اسی کی طرف رخ کر کہ نیم دراز انداز میں بیٹھا تھا یاسمین کہ گرتے ہی اسکے گرد حصار باندھتا گہری نظروں سے اسے دیکھنے لگا جو اسے سینے سے لگی یکدم ہی سرخ ہوئی تھی۔۔۔عرصم خاموشی سے یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا۔۔
"چھوڑیں مجھے میں ناراض ہوں ابھی آپ سے یاسمین اسکے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہتی اٹھنے کی کوشش کرنے لگی کہ عرصم نے گرفت کو مضبوط کرتے اس بار کمر سے جھٹکا دیتے اسے اپنے اوپر گرایا تھا۔۔
"ناراض تو ہمیں آپ سے ہونا چاہیے ہے لیکن ہم اتنے برے بھی نہیں ہیں کہ آپ کی آدھی ادھوری بات کو سمجھ نہ سکیں،لیکن پھر بھی ہم آپ سے اس آدھی ادھوری بات کو مُکَمل سننا چاہیں گے۔۔۔سادگی سے کہتا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا جو نظریں جھکا کر مسکرا رہی تھی۔
"ہم انتظار کر رہے ہیں۔۔۔عرصم نے اسے خاموش دیکھ کر کہتے یاسمین کی پیشانی سے اپنی پیشانی ٹکرائی کہ یاسمین نے گھور کر اسے دیکھ کر نظروں کا زاویہ بیڈ کی سمت کرلیا تھا۔۔
"میں ماضی کو بھول کر آگے بڑھنا چاہتی ہوں۔۔آپکے ساتھ۔۔
"ہمم آگے
"آگے کیا؟ یاسمین الجھی۔
"آگے کچھ نہیں کہیں گی۔۔۔عرصم نے مسکراہٹ دبا کر پوچھا۔۔
"اچھا کیا کہنا چاہیے؟
"یہی کہ آج سے، ابھی سے آپ صرف ہمارے بارے میں سوچیں گیں۔۔۔عرصم اسکے چہرے سے بال پیچھے کرتے ہوۓ شرارت سے بولا تھا۔۔
"نہیں۔
"کیا نہیں یاسمین؟ عرصم اسکی بات مُکَمل ہونے سے قبل ہی یاسمین کا چہرہ سختی سے پکڑ کر قریب لاتے ہوۓ پوچھنے لگا یاسمین نے گھبرا کر عرصم کو دیکھا تھا وہ ایسا ہی تھا اپنوں کہ لئے۔۔۔
"مم مطلب ہمارے دو بچے بھی ہیں انکا بھی خیال میں نے ہی تو کرنا ہے۔۔۔
یاسمین کی بات سنتے ہی عرصم کی پکڑ نرم پڑھی تھی آہستگی سے اسے نزدیک کرتے ایک ہاتھ سر کہ پیچھے لے جا کر اس نے دونوں کہ درمیان کا فاصلہ مٹا دیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ولیمے کی پررونق تقریب جاری تھی احان اور تسنیم ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے سب سے مل رہے تھے جب عرصم اور یاسمین کہ ساتھ ھاد اور جنید وہاں آئے تھے۔۔۔
"السلام علیکم۔۔۔ماشاءالله بہت پیارے لگ رہے ہو دونوں یاسمین نے مسکرا کر تسنیم اور احان کو دیکھ کر کہا تھا جبکہ خود وہ گولڈن اور بلیک ساڑی میں ملبوس تھی۔۔
عرصم کی گہری نظریں آج اسی پر ٹکی تھیں۔۔
"ہینڈسم کیسے ہو؟ احان ھاد کو دیکھتے ہوۓ بولا جو دھیرے سے مسکرا دیا تھا۔۔
"تم بھی کچھ کم نہیں لگ ہے۔۔ھاد نے مسکرا کر اسے کہا جو خود بھی تھری پیس سوٹ میں تھا۔۔۔
"میں آتا ہوں۔...ھاد اچانک انھیں کہتا دروازے کی طرف بڑھا تھا رات بھر جاگ کر پہلی بار اس نے سگریٹ کو منہ لگایا تھا کہ صبح سے اسکی طبیعت ناساز تھی۔۔۔
سست قدموں سے چلتا وہ کھلی فضا میں بینچ پر آ کر بیٹھا چہرہ آسمان کی جانب کرتا آنکھوں کو موند گیا تھا کہ چھم سے اسی پری پیکر کا چہرہ آتے ہی ھاد نے تیزی سے آنکھیں کھول کر گہری سانس بھری تھی۔۔۔
"ڈیڈ سے بات کرتا ہوں۔۔۔ھاد بےبسی سے بڑبڑا کر موبائل نکل کر تنہا گوشے کی جانب بڑھتا نمبر ملا ہی رہا تھا جب عقب سے چوڑیوں کی کھنک پر اس نے پلٹ کر دیکھا تھا سامنے ہی ہانم پیچ رنگ کی گھیردار فراک میں ملبوس بالوں کا اونچا جوڑا بنائے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
نورین نے دور سے ہی شرارت سے پلٹ کر ان دونوں کو دیکھا تھا پھر تیزی سے عائشہ کہ ساتھ آگے بڑھ گئی تھی۔۔
دونوں یک ٹک اسے دیکھ رہے تھے۔۔ھاد کو لگا شاید وہ اسکا وہم ہے۔۔
ہانم انگلیاں مڑوڑتی دھیرے دھیرے اسکے نزدیک بڑھتی ھاد کہ قریب آکر رکتی سر اٹھا کر اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔۔
"آہ محبت ہوگئی ہے یار کیا کروں۔۔۔روہانسی ہوتا وہ بے بسی کی انتہا پر اسی سے پوچھ رہا تھا۔
ہانم جو کل کہ لئے اس سے معافی مانگنا چاہتی تھی ھاد کی بات پر آنکھوں میں نمی لیے اسے دیکھنے لگی۔۔۔تیز ہوا سے اسکا فراک ہلکے ہلکے اڑ ریا تھا۔۔۔
"ھاد۔۔۔ہانم نے کہتے ساتھ اپنا ہاتھ اسکے گال پر رکھا تھا کہ ھاد نے تیزی سے اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے اسکی ہتھیلی پر شدت سے اپنے دہکتے لب رکھے تھے۔۔
"ہانم میں نہیں رہ سکتا تمہارے بنا پلیز میرے ساتھ ایسا مت کرو یار ۔۔۔۔ھاد نے آگے بڑھ کر ہانم کی پیشانی سے پیشانی ٹکا کر آنکھوں کو میچ کر جنونی انداز میں کہا تھا کہ ہانم کی آنکھیں بھیگنے لگی تھیں یکدم اسے احساس ہوا تھا کہ ھاد کا جسم جل رہا ہے۔۔
"ھاد...ھاد۔۔۔ہانم نے گھبرا کر زور سے اسے پکارا تھا۔۔
ھاد جیسے اسکی آواز پر ہوش میں آیا تھا۔۔
ہوش میں آتے ہی وہ اسے دیکھنے لگا وہ جو اسے اپنا وہم سمجھ رہا تھا وہ کوئی وہم نہیں حقیقت تھی۔۔۔۔
یکدم ہی ھاد نے اسکے ناراض ہونے کہ ڈر سے اسے چھوڑ کر اپنے قدم پیچھے لئے تھے یہ دیکھے بنا کہ ہانم نے اتنے ہی قدم اسکی جانب بڑھائے تھے۔۔
"سوری میں پتہ نہیں کیا کیا کہہ گیا۔۔ھاد اس سے نظریں چرا کر کہتا رخ پھیر کر آنکھوں اور لبوں کو بھینچ گیا تھا جب ہانم چل کر اسکے سامنے آتی بغور اسے دیکھنے لگی۔۔۔
وہ رو رہا تھا ایک طوائف کہ لئے۔۔۔"ھاد جہانزیب" جو ہر کسی کہ دل میں بستہ تھا وہ "ہانم داؤد' کہ لئے رو رہا تھا۔۔۔۔
ہانم نے آگے بڑھ کر ھاد کا ہاتھ تھام کر اسی کہ انداز میں ھاد کی ہتھیلی پر لب رکھے تھے کہ مقابل بے یقینی سے ساکت نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا جس کہ آنسوں پلکوں کی باڑ توڑ کر رخسار پر پھسلتے چلے گئے تھے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔

"رات کہ تاریخی میں چاند کی چاندی پھیلی تھی۔۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا وجود میں سرعت کرتی سکون دیتی اسکے آنچل سے اٹھکلیاں کر رہی تھی ہانم نے نظریں جھکا کر اپنے ہاتھ کو ھاد کہ ہاتھ میں دبا دیکھا تو دھیرے سے مسکرا دی۔۔۔۔
دونوں خاموشی سے چلتے ہوٹل کہ پول سائیڈ پر آئے تھے جہاں اس وقت ان دونوں کہ علاوہ کوئی بھی موجود نہیں تھا۔۔
ھاد رک کر پاس ہی پلر سے پشت ٹکا کر اسے دیکھنے لگا پھر آہستگی سے اسے اپنے ن