Intezar Krti Nam Ankhain by Sidra Sheikh | Best Urdu Novels

Intezar Krti Nam Ankhain by Sidra Sheikh Novel is the best novel ever. Novel readers liked this novel from the bottom of their heart. Beautiful wording has been used in this novel. You will love to read this one. 

Intezar Krti Nam Ankhain by Sidra Sheikh Novel

Intezar Krti Nam Ankhain by Sidra Sheikh is a special novel, many social evils has been represented in this novel. Different things that destroy today’s youth are shown in this novel. All type of people are tried to show in this novel.

Rude Hero Based Intezar Krti Nam Ankhain by Sidra Sheikh Novel | Romantic Urdu Novels

Intezar Krti Nam Ankhain by Sidra Sheikh

 

 

 

Sidra Sheikh has written many novels, which her readers always liked. She tries to instill new and positive thoughts in young minds through her novels. She writes best. 

If you want to download this novel, you can download it from here:

↓ Download  link: ↓

 

 

 

 

Note!  If the link doesn’t work please refresh the page

Intezar Krti Nam Ankhain by Sidra Sheikh PDF  Ep 1 to 11

 

 

 

Read Online Intezar Krti Nam Ankhain by Sidra Sheikh:

"شہر سے دور ایک بہت مشہور گاؤں تھا جو اپنی ثقافت اور وہاں کے لوگوں کی قابلیت کی وجہ سے بہت مشہور تھا۔۔۔
وہاں کے دیہاتی لوگوں کی ایک خاصیت تھی وہ اپنے بچوں کو ہر ممکن کوشش کرکے اعلی تعلیم دلواتے تھے
یہ رسم وہاں ایک تہزیب یافتہ گھرانے سے شروع ہوئی تھی اور پورے گاؤں میں پھیل چکی تھی
گاؤں کے کسان اپنے بچوں کو شہر پڑھنے بھیج دیتے اور وہی بچے وہاں نام بنا کر اپنے ماں باپ اور گاؤں کا نام روشن کرتے۔۔۔۔
آج اتنے سالوں کے بعد بھی یہ کام جاری و ساری تھا۔۔۔۔
اب تو گاؤں بھی بس نام کا گاؤں رہ گیا تھا۔۔۔وہاں کے لوگوں نے اتنے ترقیاتی کام کروا کر اسے تقریبا گاؤں بنا دیا تھا۔۔۔
ہاں البتہ اب اس گھرانے کی جگہ وہاں اور بہت سے گھرانوں کا نام بڑا تھا جو جاگیردار تھے گاؤں کے۔۔۔۔اور ان کی حکومت اب وہاں راج کررہی تھی
۔
"خوشحال نگر گاؤں میں آپ سب کا سواغت ہے تو جناب بتائے کہاں لے کر چلوں آپ کو۔۔۔۔"
ٹانگے والے نے نہایت ادب سے پوچھا تھا۔۔۔
"ہمیں شام نگر حیدر صاحب کی حویلی کے پاس اتار دیجئے گا۔۔۔"
"آپ بڑے مالک کے مہمان ہیں ۔۔؟؟ خوش آمدید۔۔۔۔"
"چلو بچوں بیٹھ جاؤ۔۔۔ بیگم بیٹھ جائیں۔۔۔بس منزل اب پاس ہی ہے۔۔"
"وہ اپنی فیملی کے ساتھ ٹانگے پر بیٹھ گئے تھے
"صاحب آپ نے اپنا نام تو بتایا ہی نہیں۔۔۔"
"چچا آپ صاحب صاحب نہ کہیں آپ بڑے ہیں میرا نام مرتضی جہانگیر ہے۔۔ میں حیدر صاحب کا مہمان نہیں ہوں۔۔۔
انکی حویلی کے ساتھ والی جگہ میرے والد صاحب کی ہے بس وہیں رہنے آئے ہیں۔۔۔"
"کیا۔۔۔؟؟ آپ وہ لوگ ہیں جو کیس جیت گئے تھے اس جائیداد کا۔۔۔؟؟
معاف کرنا صاحب میں آپ کو وہاں سے تھوڑا دور ہی اتاروں گا۔۔۔ اور آپ بھی کسی کو میرا نہ بتائیے گا۔۔۔"
وہ ڈرتے ڈرتے بولا تھا۔۔
"ہاہاہا ارے آپ گھبرا کیوں رہے ہیں۔۔؟؟ حیدر صاحب میرے والد کے بہت اچھے دوست رہ چکے ہیں۔۔ وہ لوگ اپنے ہی ہیں ہمارے۔۔۔"
مگر مرتضی صاحب کی یقین دہانی پر بھی ٹانگے والے کے لب کھلے نہیں تھے اور ٹھیک زبان کے مطابق اس نے کچھ دور اتار دیا تھا۔۔۔
"کتنا بدل گیا ہے نہ اپنا گاؤں۔۔۔؟؟"
اپنی بیوی سے مخاطب ہوئے تھے وہ۔۔۔
"چلو ازلان بیٹا میں آج بچپن کی جگہ دیکھاتا ہوں جہاں میں بڑا ہوا۔۔۔"
اپنے 7 سالہ بیٹے کا ہاتھ پکڑے وہ آگے آگے چل دئیے تھے۔۔۔
پر حویلی کے آگے کا منظر ہی کچھ اور تھا۔۔
وہ اب مٹی اور اینٹوں کی نہیں مہنگے ترین پتھر کی امارت بن گئی تھی جیسے کسی بادشاہ کا محل۔۔۔
"گاؤں نے تو بہت ترقی کرلی ہے آپ سہی کہہ رہے ہیں۔۔۔"
مرتضی صاحب میں ہمت نہیں ہوئی تھی کہ وہ حویلی میں جاکر شروعات کریں اس نئی زندگی کی
وہ اس اینٹوں کے پرانے گھر میں چلے گئے تھے جو بہت سالوں سے بند تھا
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"ہاہاہا ابا جی بس پھر کیا وہ پلانٹ یہی لگے گا ہمارے گاؤں میں۔۔۔ رمیز کو ہی ٹھیکہ لے کر دوں گا۔۔۔"
"یہ ہوئی نہ بات دلاور بھائی جان۔۔۔ بہت بہت شکریہ۔۔۔"
"اب کھانا شروع کردیں۔۔۔ حیدر صاحب اپنے بیٹوں کو سمجھا دیا کریں کے کھانے کے وقت بھی باتیں۔۔۔"
"ہاہاہاہا ابا جی۔۔۔بھڑک گئیں ہیں ماں جی۔۔۔"
"ہاہاہاہا۔۔۔ ارے بیگم صبح سے اب تو میرے شیر اکٹھے ہوتے ہیں۔۔۔"
حیدر صاحب کی بات سن کر سب ہنس دئیے تھے۔۔۔
کہ ایک خاص ملازم اندر آیا تھا بڑے سے ہال میں۔۔۔
"بڑے صاحب۔۔۔ جہانگیر صاحب کے گھر میں کوئی آگیا ہے رہنے کے لیے"
"کون آگیا۔۔؟؟ کیا انہیں پتہ نہیں ہم نے اس جائیداد کو۔۔۔"
"ایک منٹ دلاور۔۔۔ہاں تم بتاؤ کون آیا ہے۔۔؟؟ "
حیدر صاحب نے اپنے بیٹے کو خاموش کروا دیا تھا
"مرتضی جہانگیر۔۔۔ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ۔۔۔۔
"مرتضی۔۔۔؟؟"
دلاور صاحب سب سے زیادہ شاکڈ ہوئے تھے۔۔۔
"تم نے بتایا نہیں میں اسے ملنے۔۔۔"
"ابا جی۔۔۔ اب وہ پہلے والے وقت نہیں رہے کہ آپ خود ملنے جائیں۔۔۔
شمشیر تم جاؤ اور انہیں کہو کہ ہم سے ملنے آئے ۔۔۔"
"دلاور۔۔۔"
پر حیدر صاحب سے پہلے وہ ملازم چلا گیا تھا پیغام لیکر۔۔۔
اور کچھ ہی دیر میں وہاں مرتضی صاحب اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ آگئے تھے۔۔۔
"السلام علیکم۔۔۔ انک۔۔۔بڑے مالک۔۔۔"
حیدر صاحب کو جھک کر سلا م کیا تھا
"مرتضی وہاں کیا کھڑے ہو۔۔۔یہاں آؤ۔۔۔ گلے لگ کر ملو۔۔۔ تم تو جہانگیر کی کاپی بن گئے ہو۔۔۔"
کھلے بازؤں سے گلے لگایا تھا انہوں نے مرتضی صاحب کو۔۔۔
"دلاور۔۔۔"
"مرتضی بچپن کے دوست کے گلے نہیں لگو گے۔۔؟؟"
دلاور صاحب کا نر لہجہ دیکھ کر گھر والے بھی حیران ہوئے تھے۔۔۔
"اور یہ تمہارا بیٹا ہے۔۔؟؟ ادھر آؤ نام کیا ہے تمہارا۔۔۔"
"ازلان مرتضی سر۔۔۔"
"ارے واہ۔۔۔۔"
حیدر صاحب نے جھک کر ازلان کو اپنے گلے سے لگایا تھا۔۔۔
"مرتضی جب گئے تھے تو بچے تھے اب آئے ہو تو بچے ساتھ لائے ہو۔۔۔
آؤ کھانا کھاؤ ہمارے ساتھ۔۔۔"
"نہیں۔۔ دراصل آج ہی شفٹ ہوئے ہیں گھر کی صفائی وغیرہ میں مصروف تھے۔۔۔"
ویسے مرتضی فائدہ کیا ہے وہ جائیداد تو ہم نے لے لینی ہے ہمار ی بات۔۔۔"
"نہیں دلاور۔۔۔ وہ گھر میرا ہے میرے نام ہوچکا ہے۔۔ میرا بھائی فراڈ سے بیچنا چاہتا تھا آپ لوگوں کو۔۔ میں نے عدالت سے پیپرز بنوا لئیے تھے۔۔۔ اب یہ میرے نام ہے۔۔۔
اچھا حیدر انکل میں چلتا ہوں۔۔۔"
اور ایک بار وہ سب اور ششدر رہ گئے تھے مرتضی صاحب کے بلنٹ جواب پر۔۔۔
"اس کی جرات کیسے ہوئی منہ پر جواب دینے کی۔۔"
بس رمیز۔۔۔ وہ ہمارے رشتے دار ہی ہیں بیٹا کوئی بھی ایسی حرکت نہیں ہونی چاہیے۔۔۔
بڑی بہو۔۔۔ بیٹا کچھ کھانا بھجوا دو شمشیر کے ہاتھوں ان کے گھر۔۔۔"
والدہ نے للکار کر کہا تھا اور تمام مرد چپ ہوگئے تھے اس وقت۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"خیریت تھی اس وقت بلایا تھا وہاں آپ کو۔۔؟؟
کیا ہم نے کوئی غلطی تو نہیں کردی واپس آکر مرتضی۔۔؟؟"
"نہیں تبسم ایسی کوئی بات نہیں وہ لوگ اپنے ہیں ہمارے۔۔۔بس یہ جائیداد کا مسئلہ پہلے روز سے ہے اس لیے۔۔۔"
کچھ دیر میں گھر کے دروازے پر دستک ہوئی تھی
"میں دیکھتا ہوں ابو۔۔۔"
"ہاہاہا ابھی اتنے بڑے بھی نہیں ہوئے۔۔۔ میں نے کیا کہا تھا کہ گھر کا دروازہ بچے نہیں کھولتے۔۔۔"
"پر ابو میں تو بڑا ہوگیا ہوں۔۔۔"
"نہیں جی بس قد کاٹھ میں بڑے ہوئے ہو عقل میں تو نہیں۔۔۔"
"امی آپ بھی۔۔۔"
"ہاہاہاہا ہاں جی میں بھی۔۔۔ بچے دروازہ نہیں کھولتے۔۔۔"
مرتضی صاحب دیکھنے گئے تھے۔۔۔اور واپسی پر کھانے کی ٹرے پکڑ کر اندر لے آئے تھے
"یہ کیا ہے مرتضی۔۔؟؟"
"کہا تھا نہ اپنے ہی ہیں وہ تبسم۔۔۔"
۔
اور شروع ہوئی تھی ایک داستان اس امیر اور غریب گھرانے کے درمیان۔۔۔
"یہ گاؤں کا پرائیویٹ سکول ہے مہنگا والا سکول تبسم میں نے تینوں بچوں کا ایڈمشن یہاں کروا دیا ہے۔۔"
"پر یہاں کی فیس اور باقی کے خرچے مرتضی آپ جانتے ہیں ہمارے ساتھ اپ کے چھوٹے بھائیوں نے کیا کیا ہم تو خالی ہاتھ ہیں۔۔۔"
"میں پڑھا لکھا ہوں کوئی نوکری گاؤں میں مل جائے گی آسانی سے۔۔۔
میں کرلوں گا سب بیلنس۔۔۔ حیدر صاحب نے بھی بلایا ہے بیٹھک میں۔۔۔شاید کوئی بات بن جائے۔۔ورنہ یہ کھیت کھلیان تو ہے ہی۔۔"
سر سبز کھیتوں میں چلتے چلتے وہ اپنی بیوی کو بتا رہے تھے جو زمین انکے ہی والد کی تھی
"وہ لوگ کیوں آپ کو بلا رہے ہیں بار بار وہ بڑے لوگ ہیں مرتضی ان سے بچ کر رہیں آپ۔۔۔"
"ہاہاہاہا بےفکر رہو کچھ نہیں ہوتا۔۔۔۔"
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"تم میری چئیر پر بیٹھے ہو اٹھو میری جگہ سے۔۔"
اس چھوٹی سی بچی کی لاؤڈ آواز نے ٹیچر کو بھی بلیک بورڈ پر لکھنے سے روک دیا تھا
"پر جب میں بیٹھا تھا یہاں کسی کا نام نہیں تھا تمہاری چئیر کیسے ہوگئی گھر سے لائی تھی۔۔؟؟"
ازلان کی بات پر سب بچے ہنس دئیے تھے
"یو۔۔۔میرے ڈیڈی اس سکول کے۔۔۔"
"روحین بیٹا آپ آج کسی اور جگہ۔۔۔"
"نووو۔۔۔۔ یہ میری چئیر ہے۔۔۔ اور تم نہیں جانتے میں کون ہوں میرے ڈیڈ تمہیں۔۔"
"کیا تمہارے ڈیڈ یہاں کے۔۔۔"
"دلاور حیدر کی بیٹی ہوں میں وہ تمہیں۔۔۔"
اور یہ نام سننے کی دیر تھی ازلان اپنی کرسی سے اٹھ گیا تھا۔۔۔
اور اب روحین ہنسی تھی۔۔۔
"ڈر گئے۔۔؟؟"
پر ازلان دوسری سیٹ پر خاموشی سے بیٹھ گیا تھا۔۔۔ اسکی نظریں بار بار روحین پر جارہی تھیں جو بہت غرور سے ماتھے سے بال ہٹائے اپنی چئیر پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔
"روحین دلاور۔۔۔۔"
ازلان نے سرگوشی کی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"ارے میری پرنسز کو اتنا غصہ۔۔۔؟"
"یس ڈیڈی۔۔۔ آپ اسے ابھی سکول سے باہر نکلوا دیں۔۔۔اسکی ہمت کیسے ہوئی میری انسلٹ کرنے کی۔۔۔"
"روحین بیٹا رومیسہ بتا رہی تھی آپ نے بھی جواب دہ دیا تھا تو بات کلاس میں ختم ہوگئی نہ بیٹا اب بس کھانا کھاؤ۔۔۔"
"نہیں بلکل نہیں ڈیڈی آپ ازلان مرتضی کو نکالیں سکول سے۔۔۔"
"ازلان۔۔؟؟ وہ لوگوں کو آئے دو دن نہیں ہوئے اور رنگ دیکھانا شروع کردئیے۔۔۔"
"دلاور۔۔۔بس بیٹا۔۔روحین جاؤ آپ کپڑے چینج کرکے جلدی سے آجاؤ۔۔۔"
والدہ نے بیٹے کو خاموش کروادیا تھا
"ماں جی مجھے بچوں کے سامنے چپ مت کروایا کریں آپ۔۔"
وہ اپنی ہی والدہ پر بھڑک گئے تھے اور گھر سے چلے گئے تھے غصے سے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
یہ وقت بہت کٹھن تھا اور بہت پپرسکون بھی۔۔۔ مرتضی صاحب باہر کام کرتے تھے اور انکی بیوی گھر میں سلائی کٹائی کرنا شروع ہوگئیں تھیں گاؤں کے بچے پڑھانے لگ گئیں تھیں۔۔۔
گاؤں میں انکی فیملی کی امیج بہت اچھی بن گئی تھی۔۔۔
" بیگم میں آج حیدر صاحب کے ساتھ شہر جارہا ہوں۔۔۔ انہی کی گاڑی میں۔۔۔ وہ کچھ کاغذی معاملات میں۔۔"
وہ ابھی بات کررہے تھے کہ گاؤں کے کچھ کسان بےہوش ازلان کو اٹھا کر اندر لے آئے تھے اور بہت شور شرابہ ہونا شروع ہوگیا تھا وہاں۔۔۔
"مرتضی چاچا۔۔۔ازلان بھیا کو سانپ نے کاٹ لیا ہے۔۔۔"
"یا اللہ خیر۔۔۔"
تبسم بیگم برتین چھوڑ باہر بھاگی تھی جہاں رش لگ گیا تھا لوگوں کا۔۔۔
"کیا ہوا ہے ازلان کو۔۔۔کسی نے ڈاکٹر کو بلایا یہ وہاں کیسے چلا گیا تھا۔۔"
"بھابھی حکیم صاحب آرہے ہیں وہ سانپ کا زہر نکالنے میں ماہر ہے۔۔۔ آپ بس اسے لٹا کر پیچھے ہوجائیں۔۔۔"
گاؤں کے ضعیف حکیم جیسے ہی وہاں آئے تھے سب خواتین سر ڈھانپ کر پیچھے ہوگئی تھیں۔۔۔
"حکیم صاحب میرے بیٹے کو بچا لیں۔۔۔اسے۔۔۔"
"بس مرتضی۔۔۔ پیچھے ہوجاؤ میں دیکھ لوں گا کچھ نہیں ہوگا دعا کرو۔۔۔"
۔
انکی بیوی اور بیٹیاں دوسرے کمرے میں چلی گئی تھی روتے ہوئے۔۔۔ وہ خاموش بیٹے کو تک رہے تھے جس کا جسم نیلا پڑ رہا تھا۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"السلام علیکم بیٹا کیا ہم اندر آسکتے ہیں۔۔؟؟"
"جی ضرور آئے اندر آپ کا اپنا گھر ہے۔۔۔"
تبسم بیگم گھبرا گئی تھی گاؤں کے بڑے شخص کو دیکھ کر۔۔۔
"شکریہ بیٹا آؤ بیگم اندر۔۔۔۔ یہ مرتضی کی بیوی ہیں۔۔"
حیدر صاحب نے تبسم کے سر پر ہاتھ رکھ کر پیار دیا تھا اور حیران رہ گئی تھیں وہ۔۔۔
انکے پیچھے انکی بیوی روشان بیگم پھر انکا بیٹا دلاور اور انکی بیوی افشاں تھی
اور پھر انکی بیٹی تھی پیچھے روحین۔۔۔
"آپ لوگ مجھے پیغام پہنچا دیا ہوتا میں آجاتا۔۔۔"
مرتضی صاحب نے سر جھکا کر کہا تھا
"ہم ازلان کی خیریت دریافت کرنے آئے ہیں کہاں ہے وہ۔۔؟؟"
"اندر کمرے میں حکیم صاحب ابھی ابھی گئے ہیں اب خطرے سے باہر ہے ورنہ ہسپتال لے جانا پڑ جاتا۔۔۔"
وہ سب انکے پیچھے کمرے میں چلے گئے تھے جہاں اور دو چھوٹی بچیاں بستر پر بھائی کے پاس بیٹھی آبدیدہ ہورہی تھیں۔۔۔
"آج تمہارے بیٹے نے جو کیا ہے وہ ہمیں احسان کے نیچے دبا گیا ہے مرتضی جو ہم کبھی چکا نہیں پائیں گے۔۔"
"کونسا احسان دلاور۔۔؟؟"
مرتضی صاحب نے حیران ہو کر پوچھا تھا
"میری بیٹی روحین کو بچاتے بچاتے یہ سب ہوا۔۔۔ وہ سانپ تو روحین کے ہاتھ پر کاٹنے لگا تھا۔۔۔ روحین کو اگر وہ کاٹ لیتا تو شاید وہ بچ نہ پاتی۔۔ اور میں۔۔۔ تمہارے بیٹے نے احسان کردیا مجھ پر مرتضی۔۔۔"
دلاور صاحب نے جھک کے ازلان کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا اور وہاں بستر پر بیٹھ گئے تھے اور دوسری طرف روحین بیٹھ گئی تھی جس کی آنکھیں بھی بھر گئی تھی ازلان کی یہ حالت دیکھ کر۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"مجھ سے دوستی کرو گے۔۔۔؟؟"
"نہیں۔۔۔مجھے نہیں کرنی تم ہر روز میری بےعزتی کرتی ہو سب کے سامنے۔۔"
"اچھا کان پکڑ کر سوری پلیز اب نہیں کروں گی۔۔۔ ازلان۔۔۔"
"ایک شرط پر دوستی کروں گا۔۔۔۔"
روحین کے کانوں سے اسکے ہاتھ ہٹا کر کہا تھا ازلان نے۔۔۔
"کیا شرت۔۔۔؟؟ آج ہی ڈیڈی سے کہہ کر تمہاری ہر شرط پوری کروا دوں،،،"
"سٹوپڈ لڑکی ہر شرط پیسوں پر نہیں ہوتی۔۔۔"
"تو پھر۔۔۔؟؟"
روحین نے بہت معصومیت سے پوچھا تھا۔۔۔
"تمہاری فرنٹ سیٹ کلاس والی مجھے چاہیے پھر دوستی پکی۔۔"
"پھر نہیں چاہیے دوستی۔۔۔"
"ہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔اوکے۔۔۔۔۔میں چلتا ہوں۔۔۔۔"
"اوے۔۔۔۔ اچھا سنو۔۔۔ لے لو۔۔۔ ہماری دوستی پر میری طرف سے پہلا گفٹ۔۔"
"نہیں میڈم۔۔۔ پہلا گفٹ تو میں نے دیا نہ تمہاری جان بچا کر۔۔۔"
روحین کے چہرے سے ہنسی چلی گئی تھی۔۔۔
"اب تم ٹھیک ہو۔۔؟؟ ہاتھ میں زیادہ درد تو نہیں ہوتی نہ۔۔؟؟"
"اب ٹھیک ہوں۔۔۔۔"
"سوو فرینڈز۔۔۔؟؟؟"
یس لٹل ڈول فرینڈز۔۔۔۔۔"
۔
اور ایک خوبصورت پرخلوص دوستی کا آغاز ہوچکا تھا انکے درمیان۔۔۔۔۔۔۔۔
"ازلان۔۔۔جانا ضروری ہے۔۔؟؟ رک جاؤ پلیز۔۔۔"
"روحین۔۔۔ جانا ہی تو ضروری ہے۔۔۔جاؤں گا نہیں تو واپس آکر بات کیسے کروں گا تمہارے بابا سے۔۔؟؟"
ازلان نے روحین کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئیے تو روحین شرما گئی تھی
"ازلان۔۔۔"
"مجھے میری حدود پتہ ہے چندا کچھ نہیں کررہا بس ہاتھ پکڑ رہا ہوں تم تو ایسے شرما رہی جیسے۔۔"
روحین نے ہاتھ چھڑا کرازلان کے منہ پر رکھ دیا تھا اسے کچھ اور بولنے سے روک دیا تھا۔۔۔ سفید کلائی میں وہ رنگ برنگی چوڑیاں ازلان کو پاگل کررہی تھی ااور وہ حسین چہرے پر بلا کی شرم جس کا دیوانہ ہوچکا تھا وہ۔۔۔
"ازلان مت جاؤ۔۔۔۔"
"روحین۔۔۔ میں یہاں گاؤں رہ کر محنت کرکے بھی وہ سب حاصل نہیں کرسکتا جو شہر میں ایک دو سال میں بنا لوں گا۔۔۔
مجھے اب اور انتظار نہیں کرنا تمہارے رشتے کی بات کرنی ہے ۔۔۔"
"ابھی چلتے ہیں نہ ڈیڈ سے بات کرتے ہیں وہ مان جائیں گے۔۔۔"
"وہ دلاور شہروز حیدر ہیں۔۔۔وہ نہیں مانیں گے۔۔۔وہ نہیں سمجھیں گے۔۔۔
پر میں ایک بات ضرور سمجھ گیا ہوں۔۔۔"
اسکا سنجیدہ لہجہ جیسے ایک ہلکی مسکان میں تبدیل ہوگیا تھا
"کیا سمجھ گئے ہو۔۔؟؟"
"یہی کہ اب ان نرم ملائم خوبصورت کلائیوں میں بس سرخ رنگ کی چوڑیوں کی کمی ہے۔۔۔
انشاللہ جب میں واپس آؤں گا تو پہلا تحفہ یہی دوں گا ہماری منگنی والے دن تم وہ پہنو گی۔۔۔"
"ازلان۔۔۔۔ اتنی آگے کی سوچ۔۔۔؟؟؟"
"تم ساتھ ہو تو سوچ حال سے آگے مستقبل تک نظر آرہی ہے اور پھر میری آخری سانسوں ۔۔۔"
"بس۔۔۔۔"
آنکھیں بھیگ چکی تھی روحین کی۔۔۔وہ لمحات اذیت ناک تھے ان دونوں کے لیے۔۔۔
۔
"تم۔۔۔تم واپس تو آؤ گے نہ۔۔۔؟؟"
"تمہارے لیے واپس آؤں گا میں روحین یہ تمہارے ازلان کا وعدہ ہے۔۔۔"
۔
"بےتاب دل ہے دھڑکنوں کی قسم
نہ رہ سکیں گے اب جُدا ہوکے ہم۔۔۔"
"پکا وعدہ۔۔۔؟؟"
"پکا وعدہ۔۔۔۔"
۔
"وعدہ کرو تم۔۔۔ جانے سے پہلے۔۔۔
پھر ملیں گے۔۔۔صنم۔۔۔۔"
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"چلو بیٹا گاڑی آگئی ہے۔۔۔ پہنچ کرفون کردینا۔۔۔ دل لگا کر محنت کر ازلان۔۔۔
بہت امیدیں وابسطہ ہے تم سے۔۔۔"
۔
"جی ابو آپ فکر نہ کریں آپ کو کبھی مایوس نہیں ہونے دوں گا۔۔۔"
ازلان سب گھر والوں کو الوداع کہہ کر گھر کے باہر آیا تھا روحن دور کھڑی تھی اپنی کزن کے ساتھ جو چھپ کر دیکھ رہی تھی بھیگی ہوئی آنکھوں سے۔۔۔
"آئی لوو یووو۔۔۔۔"
ازلان نے لب ہلائے تھے سب کی نظروں سے اوجھل ہونے کے بعد۔۔۔۔
"خدا کی امان میں جاؤ اور واپس آؤ ازلان۔۔۔ آئی لوو یو ٹو۔۔۔۔۔"
۔
۔
وہ ایک گاڑی جیسے ہی اس گاؤں سے باہر گئی تھی اسی وقت ایک دوسری گاڑی اس گاؤں میں داخل ہوئی تھی۔۔۔۔
۔
اور شروع ہوا تھا ان کی کہانی کا ایک نیا پہلو۔۔۔
ایک امتحان۔۔۔ ایک آزمائش۔۔۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
"روحین میڈم آپ کو نیچے بڑے صاحب بلا رہے ہیں۔۔۔"
ملازمہ کی آواز سنتے ہی روحین نے ازلان کی تصویر تکیے کے نیچے چھپا دی تھی
"پر کیوں۔۔۔؟؟"
"وہ۔۔ انکے خاص مہمان آئے ہیں۔۔۔"
"تو میں کیا کروں۔۔؟؟ آپ انہیں کہہ دیں کہ میں نہیں آسکتی۔۔۔
مجھے رات کے ڈنر پر بھی بلانے مت آئیے گا میں سر درد کی دوا کھا کر سونے لگی ہوں۔۔"
روحین نے اپنا سیل فون ایک بار پھر سے دیکھا تھا کوئی کال کوئی میسج نہیں ملا تو وہ بھی غصے سے موبائل بند کرکے لیٹ گئی تھی
"اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہو مسٹر ازلان۔۔۔ کہہ کر گئے تھے جاتے ہی فون کروں گا آج دوسرا دن ہوگیا ہے۔۔۔ آنے دو زرا فون پھر کلاس لوں گی۔۔۔
تصویر پر غصہ دیکھاتے ہی آنکھیں بند کرکے وہ گہری نیند سو گئی تھی۔۔۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
اگلی صبح۔۔۔ جب روحین نیچے ہال میں پہنچی تو ہر طرف ہنسی اور شور تھا بہت سی نئی آوازیں سننے کو ملی تھی اسے اس وقت۔۔۔
"لوو آگئی ہماری حویلی کی رونق۔۔۔۔"
حیدر صاحب نے اپنی پوتی کو اپنے گلے لگاتے ہوئے کہا تھا
"روحین بیٹا۔۔۔۔ میٹ مائی فرینڈ مٹر شہریار عاظم اینڈ ہز سن معاذ شہریار۔۔۔"
"روحین بیٹا ماشاللہ بڑی ہوکر اور خوبصورت ہوگئی ہے۔۔۔"
شہریار صاحب نے روحین کے سر پر پیار دیا تھا
"ہائے مس روحین۔۔"
معاذ نے ہاتھ آگے بڑھایا تھا۔۔۔
"السلام علیکم۔۔۔آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔۔۔ ڈیڈی مجھے یونیورسٹی جانا ہے رومیسہ کے ساتھ۔۔۔ میں چلی جاؤں۔۔۔؟؟؟"
معاذ کا ہاتھ وہیں رہ گیا تھا جہاں اس نے بڑھایا تھا۔۔۔ اسکے چہرے پر غصہ نہیں تھا
روحین کا ایٹیٹیوڈ دیکھ کر حیرانگی عیاں تھی۔۔۔
وہ تو سمجھا تھا دلاور صاحب کی بیٹی پوری دیہاتی اور ان پڑھ ہوگی۔۔۔
اور اسے کوئی مشکل نہیں ہوگی اپنے والد صاحب کو 'انکار' کرنے میں۔۔
پر روحین کا مغرور لہجہ اور یہ بلا کی خوبصورتی دیکھ کر معاذ نے اپنے ارادے تھوڑے تھوڑے بدل دئیے تھے۔۔۔
۔
"اف یو ڈونٹ مائینڈ۔۔۔ میں ڈراپ کردوں آپ کو۔۔؟ میں بھی اسی لوکیشن پر جا رہا ہوں۔۔۔"
"نو تھنکس۔۔۔ ڈرائیور ہے۔۔۔"
سب باتیں کرتے کرتے خاموش ہوگئے تھے۔۔۔
"ہاہاہاہا۔۔۔ دلاور کیا اس رشتے کے لیے روحین تیار بھی ہے۔۔؟؟"
"اس لیے تو پہلے بلایا ہے۔۔۔ اب یہ معاذ پر منحصر کرتا ہے وہ میری بیٹی کر دل میں اپنے جگہ کیسے بناتا ہے۔۔۔"
دلاور صاحب اور انکے پرانے جگری یار کی باتیں سن کر گھر والوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا۔۔۔
اور پھر دادا جان کی طرف۔۔۔جو خود بھی خاموش تھےاس پل۔۔۔
۔
"ڈونٹ ورری انکل۔۔۔ اگر آپ اور میرے گھر والے ہمیں ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں تو میں پوری کوشش کروں گا۔۔۔"
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"مجھے تم سے بات نہیں کرنی تمہیں وہاں پہنچے ہوئے بھی ایک مہینہ ہوگیا اور تم اب کال کررہے ہو ازلان۔۔۔"
وہ موبائل سائید پر لے گئی تھی اور رومیسہ کو چھوڑ دیا تھا نگرانی کے لیے
"روحین۔۔۔ میری جان۔۔ ای سو سوری۔۔۔ یہاں جب سے آیا ہو در بدر پھر رہا ہوں۔۔۔ میری سکالرشپ کو لیکر ایک مسئلہ ہوگیا تھا اور اسکی وجہ سے اس کمپنی میں میری نوکری نہ ہو پائی۔۔۔ میں فون کرنا چاہتا تھا پر ایک ناکامی کے ساتھ بات کرتا۔۔؟؟"
ازلان کے سوال اور جسٹیفیکیشن پر روحین کی ناراضگی تو ختم ہوگئی تھی پر آنکھوں کے آنسو نہیں۔۔۔
۔
"تمہاری بہت یاد آتی ہے۔۔۔"
"مجھے بھی۔۔۔کیسے بتاؤں میں نے اپنی غریبی پر کبھی دل برا نہیں کیا تھا۔۔
پر تم سے جدائی پر میں کوستا ہوں اپنی غریبی کو۔۔۔"
"ازلان۔۔۔"
"ہممم میری زندگی۔۔۔"
"ڈیڈی کے دوست ۔۔۔"
"روحین چلو۔۔۔ رمیز چچا یہیں آرہے۔۔۔"
"روحین۔۔۔"
"بائے ازلان۔۔۔آئی۔۔۔۔"
"بول دو۔۔۔ وہ لفظ جو میں ہمیشہ سے سننا چاہتا تھا تمہارے منہ سے۔۔"
"آئی ۔۔۔ مس یو۔۔۔"
وہ ہنس دی تھی اور فون بند کردیا تھا۔۔۔وہ دونوں لڑکیاں ہنستے ہنستے بھاگی تھی۔۔۔
اور عین حویلی کے سامنے روحین کی ٹکر ہوگئی تھی معاذ سے۔۔ جس نے اسکی ویسٹ پر ہاتھ رکھے اسے گرنے سے بچایا تھا۔۔۔
"مجھے نہیں پتا تھا آپ ٹکرانے کے بعد اس طرح سے گر جاتی ہیں۔۔۔ ورنہ آپ کو تھامنے کی غرض سے میں صبح شام ٹکراتا آپ سے۔۔۔"
"ہاہاہاہاہ۔۔۔۔"
معاذ کی فلرٹی لائنز اور روحین کے سرخ گال دیکھ کر رومیسہ بےساختہ ہنس دی تھی۔۔۔
۔
روحین اسے پیچھے دھکا دئیے اندر بھاگ گئی تھی۔۔۔
"یہ کیا تھا روحین۔۔۔؟؟"
"شٹ اپ۔۔۔"
"بٹ سیریسلی۔۔۔؟؟ ہی از سووو ہوٹ یار۔۔۔۔"
"تو ۔۔؟؟ تم لے لو۔۔۔۔"
"پر فدا تو تم پر ہے نہ۔۔۔"
"پر میں نہیں ہوں۔۔۔۔۔"
"تو ہوجاؤ۔۔۔۔ویسے بھی ازلان اب واپس تو آنے والا ہے نہیں۔۔۔
اور تم جانتی ہو شہر جانے والے لوگ کیسے بدل جاتے ہیں چیٹ کرتے ہیں
یہ گولڈن چانس ہے معاذ۔۔۔۔"
"اننف رومیسہ۔۔۔ میں کبھی ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔"
۔
۔
پر کسی پتہ تھا آنے والا وقت کیسا ہونے والا تھا۔۔۔۔
"راستہ چھوڑ دیں معاذ دوبارہ میرا رستۃ کاٹا تو۔۔۔"
"میں کوئی آوارہ سرپھرا نہیں ہوں جو راستے کاٹتا رہوں روحین۔۔۔ میں تم سے تمہیں مانگنے آیا ہوں۔۔ حویلی میں تو تم بات سنتی نہیں ہو کم سے کم یونیورسٹی میں۔۔۔"
"آپ کو یہاں بھی انکار ہی ملے گا چلے جائیے گاؤں سے۔۔۔"
"چلا جاؤں گا روحین۔۔۔ پر آپ کو اپنی بیوی بنا کر اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔۔۔
فلحال یہ جوتی پہن لیجئے۔۔۔ آپ ننگے پاؤں چلتی ہوئی اچھی نہیں لگ رہی۔۔۔"
وہ جوتی جھک کر معاذ نے روحین کے پاؤں کے پاس رکھی تھی اور پھر اپنی گلاسز لگا کر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
روحین کے دل کے کسی ایک کونے میں اپنی ایک ہلکی سی چھاپ چھوڑ کر۔۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"کچھ ماہ بعد۔۔۔۔"
۔
۔
"تم ازلان کے لیے اپنا وقت ضائع مت کرو روحین۔۔۔ معاذ تمہارا روشن مستقبل ہے۔۔
سب کچھ تو ہے اس میں کمی کیا ہے۔۔؟؟
دوسری جگہ ازلان ہے جس کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے کہ تم فون کرسکے۔۔
جس کے پاس اتنا وقت نہیں کہ یہاں آکر چکر لگا لے۔۔؟؟
آج تو ازلان کی کزن بتا رہی تھی وہ شہر میں اپنی چچا زاد لڑکی کے ساتھ ہی سکالرشپ مکمل کررہا اور بہت کلوز ہوگئے ہیں وہ دونوں۔۔۔"
"کیا۔۔۔؟؟؟"
روحین کی آنکھیں بھر گئیں تھیں۔۔۔
۔
"ازلان۔۔۔پلیز واپس آکر سب کی باتوں کو جھٹلا دو پلیز واپس آجاؤ۔۔۔"
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"میری بھولی بھالی کزن روحین میڈم۔۔۔۔ تمہارے لیے معاذ آگیا ہے نہ تو تم میرے ازلان کا پیچھا چھوڑ دو۔۔۔وہ بس میرا ہے۔۔۔۔
جب سے ہوش سنبھالا پیار محبت کی سمجھ آئی تب سے ازلان پر میری نظر تھی۔۔
پر تم۔۔۔تم نے درمیان میں آکر سب کام خراب کردیا۔۔۔ اب اور نہیں روحین۔۔۔"
روحین کے تکیے کے نیچے سے وہ تصویر اٹھا کر اپنی مٹھی میں جکڑ لی تھی رومیسہ نے۔۔۔
"میں تمہاری زندگی سے نکال چکی ہوں ازلان کو بس کچھ دن اور تم خود معاذ کو موقع دو گی ۔۔۔
اور گھر والے تمہیں وداع کردیں گے معاذ کے ساتھ۔۔۔
۔
میں جدا کردو گی۔۔۔
روحین کی جان ازلان کو الگ۔۔۔"
اس تصویر کو دو حصوں میں پھاڑ دیا تھا رومیسہ نے۔۔۔اور وہ وہاں سے چلی گئی تھی۔۔
۔
"ہاہاہاہاہا۔۔۔۔بیوقوف لڑکی۔۔۔۔تم کچے وعدوں سے پکی محبت نبھا نہیں سکتی ازلان کے ساتھ۔۔۔
وہ صرف میرا ہے بس میرا۔۔۔۔"
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"پیار سے کہہ رہا ہوں مان جاؤ ردا۔۔۔"
"ورنہ کیا عاقب صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ آپ کے خاندان کی وجہ سے آپ کی بدتمیزیاں میں نے گھر میں نہیں بتائی
ورنہ میرے بابا اسی وقت آپ کے دادا کو شکایت لگاتے۔۔۔"
"ہاہاہا ملازم کی بیٹی ہوکر اتنا نخرا۔۔؟؟"
عاقب کے ساتھ اسی کے جیسے اوباش لڑکے نے قہقہ لگاتے ہوئے طنز کیا تھا
"ردا انکے منہ نہ لگو۔۔۔"
ردا کی دوست نے اسکا ہاتھ کھینچ کر لے جانے کی کوشش کی تھی
"ایک منٹ سنبل۔۔۔یہ مرد بنے پھرتے ہیں گاؤں کی نہتی لڑکیوں کا راستہ روک کر تم مرد نہیں بن رہے عاقب اپنی باپ دادا کا نام خراب کررہے ہو۔۔۔
اسے میری آخری وارننگ سمجھنا ورنہ تمہارے ابو رمیز حیدر کو دس لوگوں میں بٹھا کر بات کریں گے میرے والد۔۔۔"
انگلی دیکھا کر وہ وارننگ دے کر چلی گئی تھی وہاں سے اپنی دوست کے ساتھ
"یہ تتلیاں کچھ لمبی اوڑان نہیں اڑھ رہی۔۔؟؟"
"ابھی ان کا وقت چل رہا ہے دادا جی کے بہت قریب ہے اسکا باپ اسی لیے۔۔۔
مگر کوئی نہیں۔۔۔ پر کاٹنے آتے ہیں۔۔ ایک موقع مل جائے وہ سبق سیکھاؤں گا کہ یاد رکھیں گے۔۔۔"
اپنی مونچھوں کو تاؤ دی کر اس نے اپنی جیپ سٹارٹ کی تھی اور واپس حویلی کی طرف موڑ دی تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"ابو نوکری مل گئی ہے میں بہت جلدی چکر لگاؤں گا۔۔۔ کنسٹرکشن کمپنی کو میرے آئیڈیاز بہت پسند آئے ہیں۔۔۔"
ازلان کی پرجوش آواز نے مرتضی صاحب کو اور خوش کردیا تھا۔۔۔
"یہ تو بہت خوشی کی بات ہے بیٹا۔۔۔ ہمارے گاؤں میں بھی بہت بڑے بڑے منصوبے بننا شروع ہوگئے ہیں شہر سے جو انجینئرز یہاں آئے ہیں دلاور صاحب کے دوست ہیں وہ
اور بہت بڑے پروجیکٹس شروع ہوگئے ہیں۔۔۔"
"ابو وہ سب چھوڑیں۔۔۔گھر میں سب کیسے ہیں۔۔۔؟؟ امی ردا وردا۔۔؟؟
روحین بڑی حویلی والے سب۔۔؟؟"
"سب ٹھیک ٹھاک ہیں بیٹا۔۔۔ روحین بیٹی کا۔۔۔"
"ہیلو۔۔۔۔ہیلو۔۔۔۔"
مرتضی صاحب سے موبائل چھین کر بند کردیا تھا تبسم بیگم نے۔۔۔
"آپ کیا بتانے جارہے تھے زالان کو۔۔۔؟؟ روحین اور معاذ کی بڑھتی دوستیاں
یا انکی محبت کا۔۔۔۔۔؟؟"
"پر بیگم۔۔۔"
"آپ کا بیٹا یہ گاؤں چھوڑ کر کچھ بڑا کرنے گیا ہے تو وجہ روحین ہے محبت کرتا ہے وہ روحین سے۔۔۔"
"کیا۔۔۔؟؟ خاموش ہوجاؤ بیگم کوئی سن لے گا تو قیامت آجائے گی۔۔۔"
"آنے دیں قیامت۔۔۔میں تو اس دن کے نہ آنے کی دعائیں مانگ رہی ہوں مرتضی جس دن میرے بیٹے کو پتہ چلے گا روحین کا۔۔۔۔"
۔
"یہ کیا بتا دیا تم نے مجھے تبسم۔۔۔۔ ازلان اور روحین۔۔۔؟؟ یہ زمین آسمان جتنا فرق ہے وہ لوگ کاٹ دیں گے ازلان کو۔۔۔"
"وہ ازلان کی پسند ہے اس خاندان کے پیچھےآپ نے اور ازلان نے آدھی زندگی برباد کردی اب ان لوگوں کا فرض ہے آپ کی یہ بات کو ماننا اس سے پہلے دیر ہوجائے۔۔۔"
۔
"تبسم۔۔۔میں ازلان کے آنے پر ہی کوئی فیصلہ کروں گا۔۔۔خدا کرے ازلان انکار کردے۔۔۔"
"پر مرتضی۔۔۔"
"پر ور نہیں تبسم ازلان نے اچھا نہیں کیا اتنے اونچے خاندا ن میں نظر اٹھا کر۔۔۔
مجھے اپنے خون سے یہ امید نہیں تھی۔۔۔"
"سر میں نے جی جان لگا کر یہ بلڈنگ کے ڈیزائن بنائے آپ نے یہ صلہ دیا میری انتھک محنت کا۔۔؟؟ مجھے میری ہی پوسٹ سے ہٹا دیا۔۔۔؟؟"
ازلان بنا ناک کئیے 'سی-ای-او' کے کیبن میں داخل ہوا تھا
"اوکے جنٹل مین یہ ہے وہ ہارڈورکنگ سٹوڈنٹ جو یہاں سکالرشپ پر آئے تھے اور یہ سب انکے ہی ڈیزائن ہیں۔۔۔ اور مجھے بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ اب سے یہ اس کمپنی کے ہیڈ آف ڈیزائنر ہیں۔۔۔"
ازلان کے کندھے کو تھپ تھپاتے ہوئے انہوں نے باقی بورڈ آف ڈائیریکٹرز سے انٹرڈیوس کروایا تھا۔۔۔
ازلان کے خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا ایک روشنی کی کرن اسے نظر آئی تھی اتنی محنت کے بعد۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"ازلان۔۔۔۔"
روحین۔۔۔۔میں آگیا ہوں بس اب جلدی سے شادی کی بات کریں گے تمہارے گھر والوں سے۔۔۔"
"میں جارہی ہوں ازلان۔۔۔تم نے بہت دیر کردی۔۔۔"
"دیر۔۔۔؟؟ نہیں روحین ابھی تو ایک سال مکمل ہونے میں بھی کچھ دن ہیں ہماری ڈیل ہوئی تھی ہماری بات۔۔۔"
"زندگی ڈیلز پر نہیں چلتی خاص کر رشتے۔۔۔"
"روحین رکو تو سہی۔۔۔۔"
پر وہ چلتی جارہی تھی اور ازلان اسکے پیچھے بھاگ رہا تھا۔۔۔
"روحین میری مجبوریاں سمجھو ۔۔میں اب واپس آگیا ہوں۔۔۔تم ناراض۔۔"
دیکھتے ہی دیکھتے روحین روڈ پر چلنا شروع ہوگئی تھی
"روحین۔۔۔۔"
"روحین۔۔۔۔۔"
ازلان کی آنکھ کھل گئی تھی۔۔۔ بیڈ سے جیسے ہی اٹھا تھا اس کا روم میٹ بھی اسکی آواز سن کر اٹھ گیا تھا نیند سے
"ازلان کیا ہوا یار۔۔۔؟؟ کوئی برا خواب دیکھا۔۔؟؟"
"پتہ نہیں۔۔۔ ایاز۔۔۔خواب۔۔۔"
اور فجر کی اذان کی آواز جیسے ہی کان میں پڑی تھی ازلان کا وجاد کانپ اٹھا تھا
صبح کا خواب۔۔۔؟؟ مجھے واپس جانا ہوگا روحین ضرور کسی مشکل میں ہے"
وہ اپنے بستر سے اٹھ کر کمرے سے باہر بھاگا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"ازلان ابھی تمہیں آئے ہوئے ایک گھنٹہ بھی نہیں ہوا اور تم یہ خواہش ظاہر کررہے ہو۔۔؟؟ وہ لوگ کیسے ہیں تم نہیں جانتے۔۔۔"
"ابو آپ روحین کو نہیں جانتے کیا۔۔؟؟ وہ میرا ساتھ دے گی۔۔۔ وہ تو مجھے جانے سے پہلے بات کرنے کا کہہ رہی تھی میں ہی تھا جس نے بات کو ٹال دیا اب ابو ایک عجیب سا ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ یہ دیکھیں میری نوکری۔۔۔ اتنی اچھی پوسٹ ملی ہے۔۔۔
میں روحین کو آپ سب کو ایک اچھی زندگی دینے کے لیے دن رات محنت کروں گا۔۔
بس ایک بار بات کرلیں ان لوگوں سے۔۔۔"
ازلان کے ماتھے سے پسینہ بہہ رہا تھا والد کی خاموشی دیکھ کر۔۔۔
التجائی آنکھوں سے وہ کبھی اپنی دونوں بہنوں کو دیکھ رہا تھا تو کبھی والدہ کو۔۔۔
"مرتضی آپ ایک بار بات کریں۔۔۔۔ آپ جانتے ہیں آپ رتبے میں ان کی برابری نہیں کرسکتے پر عزت میں آپ کا رتبہ ان لوگوں سے زیادہ ہے اس گاؤں میں۔۔۔"
"جی ابو۔۔۔ پلیز مجھے روحین بہت پسند ہے۔۔۔"
"ابو مجھے بھی وہ دل کی بہت اچھی اور بہت صاف ہے۔۔۔"
ازلان کی خوشی کا سما نہیں رہا تھا جب اسکی زندگی کی تین اہم لوگوں نے اسکی خوشی پر اپنی خوشی عیاں کی تھی۔۔۔
اور پھر گہرا سانس بھرا تھا مرتضی صاحب نے۔۔۔۔"
۔
"ٹھیک ہے۔۔۔۔ہم آج شام چلیں گے۔۔۔۔"
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"کیا کہا مرتضی۔۔۔؟؟ میری بیٹی کا نام لیا تم نے۔۔؟؟ ازلان کے لیے رشتہ لیکر آئے ہو۔۔؟؟ یہ سر پر پگڑی پہن کر ہماری برابری کرنے آئے ہو۔۔؟؟"
"دلاور۔۔۔۔"
ر وہ پہلے ہی ان کا گریبان پکڑ چُکے تھے جن کی پگڑی سر سے نیچے گر چکی تھی۔۔۔
"دلاور انکل۔۔۔"
ازلان نے اپنے والد کا گریبان چھڑوایا تھا بہت احرام سے اپنے غصے پہ قابو کئیے۔۔۔
"دلاور انکل نہیں دلاور صاحب۔۔۔ تمہارے باپ دادا ملازم تھے ہمارے۔۔۔"
"بس دلاور۔۔۔۔"
انکے والد نے اپنے بیٹے کو کندھے سے پکڑ کر پیچھے کیا تھا
"مرتضی تم بھی میرے بچوں جیسے ہو۔۔۔ پر یہ رشتہ۔۔؟؟
روحین اور ازلان۔۔؟ تمہیں نہیں لگتا یہ زمین آسمان جتنا فرق ہے ۔۔۔؟"
انہوں نے مرتضی صاحب کو بہت پیار سے سمجھایا تھا۔۔۔
"آپ ایک بار روحین بیٹی سے پوچھ لیجئے۔۔۔ ازلان کو شہر میں بہت اچھی نوکری ملی ہے۔۔۔ اپنی یونیورسٹی میں اس نے ٹاپ کیا ہے۔۔۔ روحین بیٹی کو ہم اپنے سر آنکھوں پہ۔۔"
"بس ایک بار اور میری بیٹی کا نام اپنے اس نکمے آوارہ لڑکے کے ساتھ لیا تو میں ہماری دوستی کو بھول جاؤں گا مرتضی۔۔۔۔ جاؤ اپنے بیٹی کو لیکر نکل جاؤ حویلی سے۔۔۔"
انہوں نے انہیں جیسے ہی دھیکیلا تھا ازلان نے اپنے والد کو آگے بڑھ کر سہارا دیا تھا۔۔۔
"ازلان۔۔۔۔"
"ایک منٹ ابو۔۔۔۔آپ لوگ ایک بار روحین سے پوچھ لیجئے وہ مجھے پسند۔۔۔۔"
دلاور صاحب کے پیچھے سے کوئی آگے بڑھا تھا اور ایک زور دار مکا مارا تھا ازلان کے منہ پر۔۔۔
"وہ میری منگیتر ہے ۔۔۔ ہونے والی بیوی ہے جس کا نام تو بار بار اپنی زبان سے لے رہا ہے۔۔۔"
"بس معاذ بیٹا۔۔۔ دلاور روحین کو آواز دو۔۔۔"
"کیا۔۔؟؟ ابا جی آپ چاہتے ہیں یہ دوٹکے کے لوگوں کے سامنے پیش ہو میری بیٹی۔۔؟؟
کبھی نہیں۔۔۔"
"انکل ایک منٹ۔۔۔ روحین کا آج جواب دینا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہماری شادی شدہ زندگی میں پھر کوئی اس جیسا فٹیچر دخل اندازی نہ کرسکے۔۔۔
روحین۔۔۔۔ روحین۔۔۔۔"
"ارے بابا آرہی ہوں۔۔۔ کیا شور مچایا ہوا ہے معاذ۔۔۔"
وہ ہنستے ہوئے سیڑھیوں سے اتری تھی۔۔۔ معاذ کو دیکھتے ہی اسکی آنکھوں میں ایک الگ چمک دیکھی تھی سامنے کھڑے اس شخص نے جس کے ہونٹوں سے خون نکل رہا تھا۔۔۔
"روحین۔۔۔ کیا تم جانتی ہو اسے۔۔۔؟؟"
معاذ نے جیسے ہی پوچھا تھا روحین کے چہرے سے مسکان چلی گئی تھی۔۔۔
"جی۔۔۔ جانتی ہوں۔۔۔"
"یا اللہ۔۔۔تیرا شکر ہے۔۔۔"
ازلان نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا تھا۔۔۔
"کیا تم اس سے محبت کرتی ہو۔۔؟؟ یہ آج اپنے باپ کے ساتھ تمہارا ہاتھ مانگنے آیا ہے۔۔۔"
"وٹ۔۔۔؟؟ ہاہاہاہا محبت۔۔؟؟ سیریسلی۔۔۔؟؟ ہم ایک ساتھ سکول پڑھے ہیں کالج پڑھیں ہیں پر محبت۔۔۔؟؟
ازلان تم تو چلے گئے تھے اپنی تعلیم مکمل کرنے پھر کیا ہوا۔۔۔؟؟"
روحین نے بہت اونچی سب باتیں کی تھی۔۔اور اس وقت مرتضی صاحب وہاں سے اٹھ گئے تھے جانے کے لیے۔۔۔
"روحین۔۔۔۔"
"ازلان ہم میں دوستی رہی پر محبت اور شادی۔۔۔؟؟ تم نے سوچ بھی کیسے لیا۔۔۔؟؟
کیا فرق نظر نہیں آرہا تمہیں۔۔۔؟؟
یا میرے ترس اور ہمدردی کو تم نے کچھ اور نام دہ دیا۔۔۔؟؟"
روحین کی بےرخی نے ازلان کو سر جھکانے پر مجبور کردیا تھا۔۔۔
"کیا میں ایک بار روحین سے اکیلے میں بات کرسکتا ہوں۔۔۔؟؟ اسکے بعد آپ لوگ میری شکل کبھی نہیں دیکھیں گے۔۔۔"
"وٹ تیری اتنی ہمت میری منگیتر۔۔۔"
"معاذ۔۔۔۔ بس وہ دونوں دوست بھی رہ چکے ہیں۔۔۔۔ دلاور معاذ کو لیکر جاؤ یہاں سے۔۔۔"
والد صاحب کو غصے سے دیکھنے کے بعد وہ دونوں چلے گئے تھے وہاں سے۔۔۔۔
"ازلان۔۔۔۔ روحین۔۔۔۔ بیٹا ازلان نے جو آج کہا مجھے اس پر ش نہیں یہ اگر کہہ رہا ہے تو تمہیں خوش رکھے گا۔۔۔
تم اپنے باپ بھائی منگیتر کسی کی فکر نہ کرو۔۔۔ میں خود شادی کرواؤں گا آج ہی۔۔۔
مجھے بتاؤ اپنے دل کی بات۔۔۔"
روحین کے دادا نے اسکے سر پر ہاتھ رکھ ر بہت پیار سے پوچھا تھا
"بڑے ابو۔۔۔میں۔۔اور معاذ ۔۔۔ ہم ایک دوسرے سے بہت پیار رتے ہیں۔۔۔ ہماری منگنی کے بعد سے۔۔۔ میں کیسے معاذ کو چھوڑ کر اپنا سکتی ہوں اسے۔۔۔؟؟
ازلان۔۔۔"
"بس ۔۔۔"
ازلان واپس جانے لگا تھا جب دادا جی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
"تم نے جو آخری بات کہنی ہے وہ تم کہہ سکتے بیٹا میں سامنے والےکمرے میں ہوں۔۔۔"
وہ ان دونوں کو وہاں اکیلا چھوڑ کر چلے گئے تھے۔۔۔۔
"روحین۔۔۔ میرے جانے سے پہلے تمہاری پسند میں تھا۔۔۔
تہہ ہوا تھا جب میں واپس آؤں گا ہم رشتے کی بات کریں گے گھر والوں سے۔۔۔روحین۔۔۔
پھر کیا ہوا اس ایک سال میں۔۔۔؟؟ تمہاری پسند تو میں تھا نہ۔۔؟؟ "
ازلان نے جیسے ہی ہاتھ آگے بڑھایا تھا روحین کچھ قدم پیچھے ہوگئی تھی
"اس ایک سال میں محبت ہوگئی معاذ سے۔۔۔ ازلان تم میری پسند تھے۔۔۔پر معاذ
وہ میری محبت ہے۔۔۔ اس ایک سال میں اتنا سمجھ گئی ہوں کے میں چاہ کر بھی تمہارے لائف سٹائل میں ایڈجسٹ نہیں کرسکتی تھی۔۔۔۔ ایم سوری۔۔۔"
"یہ سرخ چوڑیاں۔۔۔ میری پہلی تنخواہ سےخریدی تھیں۔۔۔"
بند ہتھیلی کو جیسے ہی کھولا تھا اس نے روحین نے انہیں پکڑنے کی کوشش کی تھی پر اتنی ہی تیزی سے ازلان نے مٹھی بند کرلی تھی اپنی
"میری محبت اور تمہاری پسند کی کشمکش نے یہی حال کردیا میرے دل کا جو آج ان کانچ کی چوڑیوں کا ہوا ہے۔۔۔"
اپنی مٹھی کو زور سے بند کیا تو وہ سب ٹوٹ گئیں تھی ہاتھ سے نکلنے والے خون سے زیادہ اسے اپنے دل کے ٹوٹ جانے پہ درد ہورہا تھا
"ازلان۔۔۔۔"
"دعا کرنا کہ پھر ہمارا سامنا نہ ہو روحین۔۔۔۔ ورنہ خود کو میری جگہ۔۔ اور مجھے تمہاری جگہ کھڑا پاؤ گی۔۔۔
یہ وعدہ ہے ازلان مرتضی کا۔۔۔۔"
۔
۔
"دل ٹوٹا لیکن،،، مُسکرا کے چلنا سیکھا دیا
دھوکے نےتیرے،،، ہمیں سنبھلنا سیکھادیا۔۔۔"
۔۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"میں اسے جان سے مار دوں گا۔۔۔"
"بس عاقب۔۔۔ اتنا غصہ مجھے مت دیکھاؤ۔۔۔ انہوں نے رشتے کی بات کی ہم نے انکار کردیا بات ختم ہوگئی اب یہ لڑائی مار پیٹ کی بات میرے سامنے مت کرنا۔۔۔"
حیدر صاحب اپنی کرسی سے اٹھ گئے تھے۔۔۔۔
"دادا جی۔۔۔ جو بھی تماشہ لگا میرا بیٹا میری بیوی اب اور دیر نہیں کرنا چاہتے ہمیں اسی ہفتے نکاح کردینا چاہیے۔۔۔"
"اتنی جلدی۔۔؟؟"
دادی جان نے اعتراض کیا تھا
"مجھے کوئی اعتراض نہیں ہےابا جان ۔۔۔۔ ماں جی روحین اور معاذ کا نکاح اسی ہفتے ہوگا۔۔۔"
۔
"تم سے تو جان چھوٹی ازلان کی تمہارے نکاح کے بعد ازلان بس میرا ہوگا روحین میڈم۔۔۔"
رومیسہ شیطانی مسکان چھپائے اوپر روحین کے کمرے میں چلی گئی تھی جو چھٹ پر کھڑی اسی گھر کی طرف دیکھ رہی تھی جہاں صرف خاموشی تھی۔۔۔
۔
روحین۔۔۔۔روحین۔۔۔ تمہیں پتہ ہے میں کیا خوش خبری لائی ہوں۔۔۔"
روحین جلدی سے پیچھے ہوگئی تھی۔۔۔
"کیا ہوا۔۔؟؟"
نیچے تمہارے اور معاذ کی نکاح کی بات پکی ہوگئی ہے۔۔۔ اسی ہفتے۔۔۔ آخر تمہیں تمہاری پسند اور محبت مل ہی گئی۔۔۔۔"
بےساختہ اسکی نظریں اس گھر کی طرف گئی تھی جہاں ابھی ابھی ازلان طیش سے باہر نکلا تھا بائیک پر بیٹھ کر فل سپیڈ میں چلا گیا تھا وہاں سے۔۔۔
"روحین۔۔۔ ابھی بھی تم اس کیطرف مائل۔۔۔وہ تمہیں پھر سے ورغلا رہا ہے۔۔۔ جسے پچھلے ایک سال سے تمہاری پرواہ نہیں تھی اب اسکی محبت جاگ گئی معاذ کے ساتھ تمہیں خوش دیکھ کر۔۔؟؟"
وہ باتیں کئیے جارہی تھی اور روحین سنتی جارہی تھی۔۔۔
سرمئی شام میں کچھ دیر میں اس حویلی کا نقشہ بدل دیا تھا ہر طرف لائٹنگ کردی گئی تھی اس طرح سے سجا دیا تھا اسے اور وہاں۔۔۔۔ ازلان۔۔۔۔ اس جگہ سے دور ایک درخت کے گھنے سائے میں بیٹھ گیا تھا۔۔۔
ہتھیلی پر جما ہوا خون اسے بتا رہا تھا وہ سب خواب نہیں حقیقت ہے۔۔۔
"روحین۔۔۔۔"
آنکھیں پتھر ہوگئی تھیں اسکی کوئی آنسو نہیں۔۔۔۔۔۔د تھا اور مرد نہیں روتا۔۔۔
اسکی آنکھوں میں بھی کوئی آنسو نہیں تھا
پر دل میں بہت شکوے تھے اتنے زیادہ کہ سانس لینا مشکل ہورہا تھا
۔
"کوئی اور کہتا کہ وعدے وفا سے مکر جاؤ گی تو یہ دل یہ دماغ نہ مانتا۔۔۔ پر تم۔۔۔ تم نے تو منہ پر ہر ایک بات کو جھٹلا دیا روحین۔۔۔۔
میری روحین۔۔۔۔ کاش اس دن تمہاری بات سن لیتا اور تمہارا ہاتھ پکڑے چلتا حویلی۔۔۔
مگر۔۔۔۔سوال وہی ہے۔۔۔ ایک سال۔۔۔ ایک سال انتظار نہ کرسکی۔۔۔اور
کسی کی ہوگئی۔۔۔۔"
۔
۔
""مجھے دُکھ نہیں کسی بات کا۔۔۔تیری بےرُخی ستائے
جو کہے سبھی۔۔۔تیرے لفظ تھے۔۔۔تو نے کس طرح بھلائے۔۔۔"
۔
"آئی سٹل لووو یو روحین۔۔۔مر جاؤں گا تمہارے بغیر۔۔۔"
۔
""مجھے چھوڑ کے دل توڑ کے۔۔۔ تجھے کیا ملا ہے بتا دے۔۔۔
نہیں مل رہا مجھے میں کہیں۔۔۔ مجھے خود سے تو ملا دے۔۔۔"
"آپ یہاں بیٹھے ہیں۔۔۔؟؟ بھائی یہ آج آخری موقع ہے کوشش کرنے کا۔۔۔
جائیں اور منا لیں۔۔۔"
"ردا وہ ناراض ہوتی تو منا بھی لیتا۔۔۔ وہ لاتعلق ہوگئی ہے۔۔۔"
"تو بھائی غلطی آپ کی بھی ہے لڑکیاں شورٹی مانگتی ہیں آپ بھی تو شہر جا کر لاتعلق ہوگئے تھے نہ پتہ وہ غلط فہمی کا شکار ہوگئی ہوں۔۔۔ ایسے انکی تصویر دیکھ کر لاچار ثابت نہ کریں خود کو۔۔۔
آج نکاح ہونے سے پہلے جائیں یا تو پوری طرح کوشش کریں یا لا تعلقی ایسے کریں دلبر سے کہ اسکے دل میں پچھتاوا رہ جائے۔۔۔۔
ورنہ آپ پچھتاتے رہ جائیں گے۔۔۔۔ نکال آئے بھڑاس دل کی۔۔۔۔"
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"یا اللہ۔۔۔"
اسکے بازع پر کوئی زور دار چیز چبھ گئی تھی جب وہ اس لاسٹ روم کی ونڈو تک پہنچا تھا چھپتے چھپاتے ۔۔۔اور ایگزیکٹ روحین کے کمرے میں آگیا تھا۔۔۔
بالکونی میں آتے ہی خود کو چھپا لیا تھا اس نے پردے کے پیچھے
اندر ہر طرف شور شرابہ تھا خوشیاں چھلک رہی تھی لوگوں کے چہروں سے
رشتے دار کی آوازیں اوپر تک سنائی دے رہی تھی
اور وہ کمرہ بھرا ہوا تھا روحین کی کزنز اور فیملی ممبرز سے جو سب ہی روحین کو بہت چاؤ سے تیار کررہی تھی۔۔۔
اور ان سب میں کسی گلاب کے پھول کی طرح وہ کھلکھلا رہی تھی
"روحین۔۔۔"
ایک گھنٹہ انتظار کے بعد جب سب چلے گئے تھے بارات آنے پر روحین کے چہرے پر ایک الگ مسکان دیکھی تھی ازلان نے جس مسکان نے اسےواپس جانے پر مجبور کردیا تھا
پر کسی نے پیچھے سے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے روک دیا تھا
"وہ۔۔۔"
"بیٹا تم اسے جو کہنے آئے ہو کہہ سکتے ہو۔۔۔اندر کوئی نہیں آئے گا۔۔۔سب جارہے ہیں۔۔۔
اسے منا سکو تو ٹھیک ورنہ تم خاموشی سے چلے جاؤ گے۔۔۔"
انہوں نے ہاتھ جوڑے تھے
"آپ فکر نہ کریں جتنی خاموں سے آیا تھا اتنی خاموشی سے واپس چلا جاؤں گا۔۔۔"
یہ وہی جانتا تھا کس اذیت سے اس نے یہ الفاظ ادا کئیے تھے
۔
"روحین۔۔۔"
روحین اٹھ گئی تھی ایک جھٹکے سے جب کھڑکی سے کوئی اندر آیا تھا
"ازلان۔۔۔"
اسکے چہرے پر ایک ڈر تھا ایک گھبراہٹ۔۔
"ڈر کیوں رہی ہو۔۔؟؟ میں ناکام عاشق ہو نامرد نہیں جو تمہیں کوئی نقصان پہنچاؤ گا۔۔۔
محبت میں ناکام ہوکر کسی کو نقصان نامرد پہنچاتے ہیں
"پھر کیوں آئے ہو یہاں۔۔۔؟؟"
وہ پلٹ کر شیشے کی طرف دیکھنے لگی اپنے میک اپ کو اپنے آپ کو۔۔۔ ایک چمک تھی اسکی آنکھوں میں معاذ کا سوچ کر۔۔۔ یہ جانے بغیر کے جو پیچھے کھڑا ہے اسکے دل پر کتنی چھریاں چلا دی تھی آج اسکی مسکان نے جو راحت بخشتی تھی ازلان کو۔۔۔
۔
"روحین۔۔۔ یہ نکاح مت کرو۔۔۔ایک موقع دو مجھے
میں دن رات ایک کردوں گا اتنا محنت کروں گا۔۔۔ تم جانتی ہو میں نے تم سے محبت کی ہمیشہ۔۔۔
تمہارے اس خوبصورت چہرے سے زیادہ تمہاری خوب سیرت شخصیت سے پیار کی ہے میں نے روحین۔۔۔"
سر پر وہ دوپٹہ ٹھیک سے اوڑھا دیا تھا اس نے بات کرتے کرتے
"ازلان۔۔۔جاؤ یہاں سے۔۔۔آج میرا نکاح ہے پلیز کوئی تماشہ نہیں کرنا آج کے دن"
"تماشہ۔۔۔؟ تماشہ تو ہماری محبت کا بنا تھا نہ۔۔؟؟ میں محبت میں ناکام عاشق آج کوئی تماشہ لگا کر میری محبت کو رسوا کرنے نہیں ایک آخری کوشش کرنے آیا ہوں۔۔۔
میں نے تم سے بہت پیار کیا ہے۔۔۔ مجھے تمہاری اس خوبصورتی تمہاری دولت شہرت سے کوئی غرض نہیں وللہ میری حسرتیں تم سے شروع ہوکر تم پر ختم ہوتی ہیں۔۔۔"
"ازلان۔۔۔"
"کیا تم خوش رہ لو گی میرے بغیر۔۔۔؟؟"
"کیا تمہیں میرے چہرے پہ کوئی اداسی نظر آرہی ہے ازلان۔۔؟؟ معاذ کے نام کی مہندی کتنا گہرا رنگ چھوڑ گئی ہے میرے ہاتھوں پر یہ دیکھو۔۔۔۔"
اپنی دونوں ہتھیلیاں کھول کر اسکے سامنے جیسے ہی روحین نے کی تھی اس گہرے رنگ پر نظر نہیں گئی تھی ازلان کی اس نام پر گئی تھی۔۔۔
معاذ
"ہممم۔۔۔۔میں سمجھ گیا۔۔۔روحین۔۔۔میرے دل کو سمجھانے آیا تھا۔۔
یہ دل پاگل دل بار بار پکار رہا تھا مجھے کہہ رہا تھا تم اس طرح نہیں کرسکتی ضرور تم مجبور ہوگی پر۔۔۔"
وہ چند قدم پیچھے ہوا تھا۔۔۔
ازلان نے سر جھکا لیا تھا ایک دم سے آگے کی زندگی کی ساری پلاننگ اسے بیکار نظر آنے لگی تھی
"میں نے کبھی تمہیں مجبور نہیں کیا تھا تم اپنی مرضی سے ملتی تھی۔۔۔ اگر میرا سٹیٹس میرا سٹینڈرڈ اتنا لازم تھا تو کیوں میرے دل میں محبت کا بیج بو دیا تھا تم نے۔۔۔؟؟"
اس نے سر اٹھایا تو آنکھوں میں آنسو تھے
وہ آنسو جو اب تک نہیں بہے تھے اسکی آنکھوں سے
روحین اتنی شاکڈ ہوگئی تھی ازلان کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر کہ اس سے کچھ بھی بولا نہیں گیا تھا وہ جیسے اپنی جگہ پر ساکن کھڑی ہوگئی تھی
"روحین بیٹا۔۔۔"
والدہ جیسےہی اندر آئی تھی روحین ڈر گئی تھی انکے ری ایکشن سے۔۔۔
"وہ۔۔۔ امی ازلان مجھے شادی کی مبارک باد دینے آیا ہے۔۔۔"
"میں جانتی ہوں بیٹا۔۔۔ نیچے چلیں۔۔؟؟ مولوی صاحب آگئے ہیں سب انتظار کررہے ہیں۔۔۔"
وہ روحین کو جیسے ہی دروازے تک لے جارہی تھی ازلان راستے سے پیچھے ہٹ گیا تھا
"شادی۔۔۔۔شادی بہت بہت مبارک ہو روحین۔۔۔۔اللہ تمہیں خوش رکھے۔۔۔"
اور وہ بالکونی کی طرف واپس چلاگیا تھا۔۔۔۔
بالکونی سے نیچے واپ جانے لگا تھا پر وہ ٹیریس پر چلا گیا تھا اور جب اس نے نیچے ہال میں دیکھا تھا وہ ایک لفظ گونج رہا تھا
"قبول ہے۔۔۔"
رئیلنگ کو مظبوطی سے پکڑے وہ خود کو سہارا دے رہا تھا آنسو تھے کہ بے تحاشہ نکل رہے تھے
نیچے وہ سٹیج پر اس خوبصورت لڑکی کو دلہن کے جوڑے میں دیکھ رہا تھا جو اب کسی اور کی محرم بن چکی تھی
"اووہ۔۔۔۔۔روحین۔۔۔ایک سال پہلے ری جیکٹ کردیتی تو شاید اتنی تکلیف نہ ہوتی مجھے۔۔۔"
وہ کتنے منٹ کتنے گھنٹے وہاں کھڑا رہا اسے خبر نہیں تھی اسی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر وہ زمین پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔وہ ازلان مرتضی آج تک کسی کے لیے نہیں رویا تھا۔۔۔
اور آج رویا تو اتنا رویا کہ اب اس میں ہمت نہیں تھی وہ کسی اور کی محرم کا نام بھی لے اپنے منہ سے۔۔۔
۔
خاموشی ہوگئی تھی رخصتی ہوگئی تھی وہ چلی گئی تھی۔۔۔
اب اسکے جانے کا بھی وقت ہوگیا تھا۔۔۔
وہ اسی راستے سے جیسے ہی اپنے گھر کی طرف بڑھ رہا گھر کو آگ کی لپیٹ مین دیکھ کر جسم سے جیسے جان نکل گئی تھی اسکی۔۔۔
"ابو امی۔۔۔ ردا۔۔۔وردا۔۔۔"
وہ چلاتے ہوئے اندر بھاگا تھا آگ میں لپٹے دروازے کو توڑ کر۔۔۔
اندر جو منظر تھا آنکھوں میں خون اتر آیا تھا جب حویلی کے امیر زادے کو اپنی بہن کے اتنے پاس دیکھا تھا۔۔۔
"بھائی۔۔۔ان لوگو ں نے امی ابو۔۔ کو کمرے میں بند کرکے آگ۔۔۔"
تم دونوں انکے پاس جاؤ۔۔۔"
ازلان کے پاس بہت سے غنڈے آگئے تھے جو عاقب کے دوست تھے
"تجھے کیا لگا تھا تو ہمارے گھر کی عزت پر نظر رکھے گا اور ہم تجھے ایسے ہی چھوڑ دیں گے۔۔؟؟
تیری سوچ ہےبچے۔۔۔ تیری یہ بہن تو ہم۔۔۔"
ازلان نے آگے بڑھ کر ایک مکا مارا تھا عاقب کے منہ پر جو پیچھے جا کر گرا تھا۔۔۔
ردا کا ہاتھ چھڑا لیا تھا اس نے جاؤ سب کو یہاں سے لیکر ردا۔۔۔
ردا کچھ قدم پیچھے ہوئی تھی جب ازلان پر سب نے اٹیک کردیا تھا۔۔۔
جو وار پیچھے سے سر پر ہوا تھا اس نے ہواس چھین لئیے تھے ازلان جیسے ہی زمین پر گرا تھا
"ردا۔۔۔ جاؤ سب کو لیکر بھاگ،،،بھاگ جاؤ۔۔۔"
"ہاہاہاہا۔۔۔"
"تیری بہن اب میرے ساتھ ہی بھاگے گی۔۔۔۔"
ازلان کو ان لوگوں نے جیسے ہی مارنا شروع کیا تھا عاقب ردا کا ہاتھ پکڑ کر اسے گھر سے باہر گھسیٹتے ہوئے لے جانا شروع ہوگیا تھا۔۔۔
"ازلان بھائی۔۔۔۔"
"ردا۔۔۔۔"
ازلان نے بہن کی آنکھوں میں لاچاری دیکھی تو ایک بار پھر سے اٹھا تھا
"باسٹرڈ۔۔۔"
اسکے سامنے جو آتا رہا تھا وہ اسے مارتے ہوئے عاقب کے پیچھے گیا تھا
وردا۔۔۔وردا امی ابو کو گھر سے باہر لے جاؤ میں ردا کو۔۔۔ ردا کو لیکر آیا۔۔۔"
ایک آخری غنڈے کو بھی زخمی کرکے ازلان باہر بھاگا تھا۔۔۔
"اووہ۔۔۔ بھیا آگئے۔۔۔کیسے بچائے گا۔۔؟؟"
اس نے ازلان کی ٹانگ پر گولی ماری تھی۔۔۔
"بھائی۔۔۔"
دور دور تک کوئی نظر نہیں آرہا تھا سوائے اس ریلوے اسٹیشن کے۔۔۔ یا پھر
حویلی والوں کے ڈر سے کوئی انکی مدد کو باہر نہیں نکلا تھا۔۔۔
"ردا بھاگ جاؤ۔۔۔۔۔"
ردا نے عاقب کے سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا تھا۔۔
"ایک قدم آگے بڑھایا تو میں گولی مار دوں گا تمہیں ردا۔۔۔"
پر ردا نہیں رکی تھی اور اتنی دیر میں ازلان نے عاقب پر حملہ کردیا تھا۔۔۔
"یہاں عاقب کی گن سے گولی چلی تھی وہاں ردا کے قدم عین ٹریک پر جاکر رکے تھے جب اس نے اپنے بڑے بھائی کو زمین پر گرتے دیکھا تھا۔۔۔
"ازلان۔۔۔۔بھائی۔۔۔"
اور پیچھے سے آتی ٹرین نے ایک جھٹکے سے اسے بھی اس ٹریک سے پیچھے پھینک دیا تھا۔۔۔
۔
"مر گئی میرا بھلا کرجاتی بچ۔۔۔"
دور جاتی ٹرین کو دیکھ کر اس نے ازلان کی باڈی کو گھسیٹنا شروع کردیا تھا وہاں سے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"آؤچ۔۔۔۔"
گاڑی سے اترتے ہوئے ہاتھ کی چوڑی ٹوٹ کرجیسے ہی ہی اسکی کلائی پر چبھی تھی معاذ ایک ہی پل میں اسکی جانب بڑھا تھا
"تم ٹھیک ہو۔۔؟؟"
"ہاں میں ٹھیک ہوں۔۔۔ماشاللہ۔۔۔"
گاؤں سے کب وہ اس خوبصورت شہر اور پھر اس خوبصورت گھر کے سامنے کھڑے تھے روحین نے معاذ کی نظروں میں دیکھا تھا
"ماشاللہ معاذ بیٹا بہت خوبصورت بیوی ہے تمہاری تو۔۔۔"
معاذ نے روحین کا ہاتھ بہت فخر سے اپنے ہاتھ میں لیا تھا اور اندر لے گیا۔۔۔
بہت رشتے داروں میں بہت عزت احترام کے ساتھ ویلکم کیا گیا تھا روحین کا۔۔۔
۔
"چلیں مسز معاذ۔۔۔؟؟"
روحین نے شرما کر سر ہاں میں ہلادیا تھا۔۔۔۔
۔
یہاں شروعات ہوئی تھی ایک خوبصورت سفر کے بھیانک انجام کی۔۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"دادا جی۔۔۔"
"بکواس بند کرو بےغیرت۔۔۔تمہارے ہمت کیسے ہوئی کسی کے گھر جاکر گھر کی عزت پر ہاتھ ڈالنے کی۔۔۔"
"پر دادا جی۔۔۔"
ایک اور تھپڑ مارا تھا حیدر صاحب نے اپنے پوتے کو۔۔۔
"رمیز اپنی اس غلطی کو میرے سامنے سے لے جاؤ خدا کی قسم اسکو یہیں گولی مار دوں گا میں۔۔۔"
انکی آواز سے سب ڈر گئے تھے یہاں تک کے دلاور صاحب بھی جو کچھ دیر پہلے بھتیجے کے کارنامے پر خوش ہورہے تھے۔۔۔
۔
"دفعہ ہوجاؤ تم سب اپنی بیویوں کو بھی لے جاؤ مرتضی کی فیملی سہی سلامت جب تک نہیں مل جاتی کوئی میرے سامنے نہ آئے۔۔۔"
"پر دادا جی وہ سب تو جل کر مر گئے ہیں"
انکے پوتے نے سرگوشی کی تھی
"جل کر مرگئے یا جلا کر مار دئیے گئے۔۔؟؟ اگر ان میں سے ایک بھی زندہ نہ ہوا تو تمہارے دلاور تایا رمیز چچا تمہارے باپ ان سب قاتلوں کو میں خود سزا دوں گا۔۔۔
جاؤ دفعہ ہوجاؤ میری نظروں سے۔۔۔"
سب ایک ایک کرکے وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔
"شہروز۔۔۔"
روشان بیگم نے حیدر نام بلانے کے بجائے وہ بلایا تھا جو جسے سن کر حیدر صاحب کا غصہ ہمیشہ ٹھنڈا ہوتا تھا پر آج وہ اور غصہ کررہے تھے
"حیدر صاحب"
"مرتضی اسکی بیوی اسکی بیٹیاں۔۔۔یہاں تک کہ ازلان۔۔۔ وہ سب لوگ یہ سلوک کے مستحق نہیں تھے۔۔۔ وہ حقدار نہیں تھے جو انکے ساتھ کیا گیا۔۔۔
میں جانتا ہوں اس لڑکے کو۔۔۔ ہماری برابری کا نہیں تھا۔۔۔پر روحین کو بہت خوش رکھنا تھا اس نے۔۔۔"
"حیدر۔۔۔ یہاں میں آپ سے اتفاق نہیں کرتی ہوں۔۔۔ مرتضی کو میں بھی جانتی ہوں ازلان بھی یہیں پلا بڑا ہے۔۔۔ پر آپ کو روحین کی خوشیوں کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔۔۔
ایک رشتہ آیا ہم نے دیکھا انکار کردیا۔۔۔ پھر ان سب میں روحین کی کیا غلطی ہوئی۔۔؟؟"
"روحین کی غلطی تھی تو وہ لوگ رشتے تک پہنچے ہیں۔۔۔اور اب ان لوگوں نے اپنی غلطی کو چھپانے کے لیے ان غریب سفید پوش لوگوں کو رسوا کردیا۔۔۔ جلا کر خاک کردیا انکا آشیانہ۔۔۔؟؟
بس ایک دعا کرو تم بھی میرے ساتھ۔۔۔ روحین کا گھر آباد رہے۔۔۔
ورنہ مجھے دور دور۔۔۔"
"بس کرجائیں شہروز کچھ نہیں ہوگا۔۔۔ معاذ بہت اچھا لڑکا ہے بہت خوش رکھے گا اب جائیں آپ دیکھیں پتہ کروائیں ان لوگوں کا۔۔۔ مجھے پتہ ہے اب وہ لوگ اپنے کمروں سے نکل کر باہر نہیں آنے والے۔۔۔"
۔
حیدر صاحب اپنی چھڑی کو وہاں پھینک کر باہر چلے گئے تھے اور انکے پیچھے انکے انکے دو سیکیورٹی گارڈ۔۔۔
کچھ ہی پل میں وہ اس گھر کے سامنے کھڑے تھے جو مکمل جل کر راکھ بن چکا تھا۔۔۔
رات گہری ہوگئی تھی ۔۔۔۔پر سکون ایک طوفان جو آیا اور اپنے ساتھ لے گیا تھا ان لوگوں کی خوشیاں جو سب کو خوشیاں دیتے آئے تھے۔۔۔
مرتضی۔۔۔"
حیدر صاحب نے اپنی آنکھیں صاف کرلی تھی ۔۔۔پر وہی کھڑے رہے تھے وہ جیسے انہوں نے انسب کی موت کا سچ تسلیم کرلیا تھا۔۔۔جیسے وہ معافی مانگ رہے تھے اپنے بچوں اور پھر بچوں کے بچوں کے گناہوں کی انکی غلطیوں کی۔۔۔
جن میں
روحین اور عاقب سرِ فہرست شامل تھے۔۔۔
۔
"ازلان مرتضی کا گھر کہاں ہے۔۔؟؟ ہم اس کی کمپنی سے آئے ہیں وہ واپس نہیں آیا چھٹی ایک ہفتے کی لے کر گیا تھا۔۔۔"
"صاحب وہ گھر جو جل کر راکھ ہوگیا ہے وہ ازلان مرتضی کا گھر ہے۔۔۔
گھر والوں کا کوئی نام و نشان نہیں ملا نہ ہی کسی کی کوئی لاش۔۔۔
ایک قیامت آئی تھی کچھ دن پہلے بہن اپنی عزت بچاتے ہوئے ٹرین کے نیچے آکر مر گئی اور۔۔۔ ازلان۔۔۔"
گاؤں کے لوگ کہتے ہوئے چپ ہوگئے تھے
"ازلان۔۔؟؟"
"سنا ہے اسے گاؤں میں ہی کہیں مار کر پھینک دیا گیا۔۔۔کام ہی ایسا کیا تھا اس نے خود تو مرگیا
گھر والوں کو بھی برباد کردیا ۔۔۔ورنہ مرتضی تو بہت اچھا غیرت مند آدمی تھا"
"آپ سیدھی طرح بتائیں کیا کام۔۔؟ ازلان اس طرح کا نہیں کہ کوئی غیر۔۔۔"
"گاؤں کے سب سے عزت دار گھر کی عزت پر نظر ڈالی تھی
دلاور شہروز حیدر کی اکلوتی بیٹی سے عشق کربیٹھے تھا۔۔۔
بہت بُرا کیا اس نے۔۔۔"
"پر اسکے ساتھ بھی تو بہت برا کیا نہ دلاور کی بیٹی نے پہلے اسے محبت کے دعوے کرتی رہی اور پھر مکر گئی۔۔۔"
وہ لوگوں کی آپس میں بحث شروع ہوگئی تھی اور وہ آفس کے لوگوں نے اس گھر کو دیکھا تھا جو مکمل راکھ بن چکا تھا۔۔۔۔
"وہ مجنوں بنا ہوا تھا کسی نے ہنس کر بات کرلی تو محبت سمجھ بیٹھا۔۔۔ زمین آسمان کا فرق تھا
ازلان مرتضی اور روحین دلاور میں۔۔۔۔"
۔
"چل راشد کیا سوچ میں پڑ گیا۔۔؟؟"
"سوچ رہا ہوں ازلان کی وہ چمکتی آنکھیں جو اس سوچ پر ہی جی اٹھی تھی جب اس نے آفس سے چھٹیاں لی تھی یہاں شادی کے لیے بات کرنے کو آنے والا تھا
جب وہ آنکھوں کی روشنی بجھی ہوگی تو آخری کیا سوچ ہوگی اس دیوانے کی۔۔؟؟"
۔
"اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا۔۔۔۔"
"اب چلتے ہیں راشد واپس سر کو جا کر بتانا ہوگا۔۔۔"
"دل نہیں مان رہا ۔۔ وہ ہمارا دوست تھا اسے ڈھونڈنا چاہیے پولیس میں 'ایف آئی آر' درج کرواتے ہیں۔۔۔"
وہ کچھ دور پارک اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہے تھے جب ایک بچہ چھپتے ہوئے انکے پاس آیا تھا۔۔۔
"آپ میرے ساتھ چلیں مجھے پتہ ہے وہ لوگ کہاں ہیں۔۔۔"
"کون لوگ۔۔؟؟"
"ازلان بھائی۔۔۔"
۔
وہ دونوں دوست اس بچے کے پیچھے چل دئیے تھے جو اس گاؤں سے باہر لے چلا تھا ایک دوسرے گاؤں چلتے چلتے۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"وہ میرا تھا صرف میرا مار دیا اسے چھین لیا مجھ سے سے مجھے بھی مار دیں۔۔۔۔"
"رومیسہ۔۔۔میری بچی۔۔۔۔"
والدہ نے بچی کا ہاتھ پکڑ لیا تھا جس سے بےتحاشہ خون نکل رہا تھا
"یہ کیا شور آرہا ہے کوئی سن لے گا تو رومیسہ کیوں چلا رہی ہو۔۔۔"
رمیز صاحب کی آواز جیسے بند ہوگئی تھی جوان بیٹی کو جب انہوں نے زمین پر بیٹھے دیکھا تھا اتنے خون میں لت پت۔۔۔"
"رومیسہ۔۔۔"
اور عاقب بھی اندر کمرے میں آگیا تھا
"آگئے آپ ٹھنڈ پڑ گئی اسے مار کر۔۔۔؟ مجھے بھی مار دیں بھائی میرے پیار کا تو گلہ گھونٹ دیا۔۔۔"
"یہ۔۔۔یہ کیا کردیا تم نے رومیسہ کیا بکواس کررہی ہو کسے مار دیا۔۔؟
کون۔۔۔؟"
"ازلان۔۔۔ ہمیشہ سے اسے محبت کی اسے روحین سے الگ کردیا اتنے جتن کئیے اب جب اس نے میرا ہونا تھا مار دیا اسے۔۔۔ میں بھی زندہ نہیں رہوں گی۔۔۔اپ"
وہ بےہوش ہوگئی تھی۔۔۔۔
دونوں باپ بھائی کی وہ لاڈلی تھی عاقب جلدی سے آگے بڑھا تھا
"رومیسہ۔۔۔ ایک بار بتایا ہوتا مجھے میں اسے۔۔۔۔"
پر دیر ہوگئی تھی اب وہ کہاں سے ازلان مرتضی کو زندہ لاتے۔۔۔؟
کسی کا بھی نام و نشان نہیں مل رہا تھا۔۔۔
رومیسہ کو جیسے ہی کمرے سے اس حالت میں لیکر گئے تھے سب گھر والے پریشانی کے عالم میں اٹھ گئے تھے پر رمیز صاحب انکی بیوی میں ہمت نہیں تھی کہ سچ بتا سکیں اپنی بیٹی کی خود خوشی کا۔۔۔۔
"رمیز کیا ہوا ہے۔۔۔؟"
"ابا جی پیپر میں نمبر کم آگئے تو یہ کام کرلیا اس پاگل لڑکی نے۔۔۔
آپ سب گھر رہیں میرے عاقب ہے پلیز۔۔۔۔ سب جائیں گے تو گاؤں والوں کو شک ہوگا طرح طرح کی باتیں بنیں گی۔۔۔۔"
باتوں کو گھما پھرا کر وہ اپنی فیملی کے ساتھ چلے گئے تھے وہاں سے۔۔۔
گاؤں سے ہسپتال تک وہ اپنے بیٹے عاقب کو کوستے ہی رہے تھے
آج انہیں ازلان کے سٹیٹس سے زیادہ اپنی بیٹی کی پسند اوپر نظر آرہی تھی۔۔۔
مگر وہ وقت واپس نہیں لا سکتے تھے اب۔۔۔۔۔
۔
"بس کر جائیں رمیز صاحب عاقب بھی آپ کے نقش قدم پر چل رہا تھا۔۔"
"تو مجھے رومیسہ نے کب بتایا تھا بتایا ہوتا تو آج ازلان کے ساتھ نکاح پڑھوا دیتا
میری اکلوتی بیٹی ہے اس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔۔۔ عاقب ایک بار پھر یاد کرو کہاں پھینکا تھا ازلان کو۔۔۔؟؟ تم نے سچ میں اس مار دیا تھا۔۔؟؟"
"ابو اسے مارنا نہیں تھا میں تو اسکے بہن کے پیچھے تھا کمبخت نے جان دہ۔۔۔"
رمیز صاحب نے اسے زور دار تھپڑ مارا تھا۔۔۔
"خبردار جو گاڑی روکی ہسپتال جا کر رکے گاڑی ورنہ اسی گاڑی کے نیچے تمہیں کچل دوں گا "
۔
اپنے بیٹے کو طیش سے دیکھا تھا انہوں نے ۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"ایک سال بعد۔۔۔۔۔"
"لیں ڈیڈ آپ کے فیورٹ بہو اور بیٹا آگئے۔۔۔۔"
بڑے بھائی نے معاذ اور روحین کو سیڑھیوں سے آتے دیکھ کر کہا تھا
ڈائننگ ٹیبل کے پاس پہنچتے ہی معاذ نے چئیر پیچھے کی تھی روحین کے لیے ایک سال ہوگیا تھا
معاذ کی محبت ایسے ہی دن بہ دن بڑھتی جا رہی تھی روحین کے لیے جو سب کو ہی نظر آرہی تھی
سب بہت خوش بھی تھے سب سے زیادہ شہریار صاحب اپنے دونوں بیٹوں کے لیے بہت خوش تھے
"اب بچوں کب خوش خبری سنا رہے ہو۔۔؟؟"
ساس کی آواز پر روحین نے شرما کر سر جھکا لیا تھا۔۔۔
"ہاہاہا اپنی بہو سے پوچھیں میں تو ہر وقت تیار۔۔۔"
"معاذ۔۔۔"
روحین نے لاؤڈلی کہا تھا
"ہاہاہاہا تو بہو سے پوچھ لیتے ہیں کیوں بیٹا۔۔۔؟؟"
" ابو آپ بھی۔۔۔؟؟"
وہ شرم سے پانی پانی ہو رہی تھی
"ارے کہاں بھاگی رہی ہیں محترمہ ناشتہ ختم کرکے جائیں۔۔۔
اور ڈیڈ ہمیں ابھی وقت چاہیے۔۔۔ ابھی تو نئی نئی شادی ہوئی ہے۔۔۔"
معاذ نے روحین کا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا۔۔۔
سب ہنس دئیے تھے۔۔۔ یہی روز مرہ کی زندگی تھی انکی۔۔
اور روحین بہت خوش تھی۔۔۔
اس ایک سال میں اسے گاؤں کی یاد آتی تھی سب کی یاد آتی تھی پر جب سے وہ معاذ کے نکاح میں آئی تھی ازلان کا نام لینا اسے یاد کرنا بھی وہ گناہ سمجھنے لگی تھی۔۔۔
وہ خوش تھی اپنی زندگی سے۔۔۔
پر کوئی اور خوش نہیں تھا اسکی زندگی سے۔۔۔۔وہ کون تھا جو روحین کی زندگی کو تباہ کرنے والا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
اور تم وہاں روحین کے پاس کیوں جانا چاہتی ہو۔۔؟؟"
کیونکہ مجھے اب اس گاؤں میں نہیں رہنا ڈیڈ۔۔۔۔"
"یا اللہ تم پاگل ہوگئی ہو۔۔؟؟ تم روحین کے سسرال جا کر بیٹھنا چاہتی ہو کیوں۔۔؟؟"
"کیونکہ اسے برباد کرنا ہے مجھے تباہ کرنا ہے وہ سب کرنا ہے جو میرے ساتھ ہوا ہے۔۔۔"
وہ چلائی تھی تو ماں نے بھی اس پر ہاتھ اٹھا دیا تھا
"رومیسہ۔۔۔؟؟ اس قدر گھٹیا گری ہوئی سوچ۔۔؟؟ وہ خون ہے تمہارا۔۔۔"
"نہیں ہے وہ۔۔۔اسے بچپن سے پتہ تھا میں ازلان کو لائک کرتی آئی ہوں وہ پھر بھی مجھے ڈبل کراس کرگئی ہر جگہ حویلی میں سب میں وہی وہ رہی۔۔۔ ڈیڈ آپ کی بھی تو لاڈلی تھی نہ وہ۔۔۔ اور میں۔۔۔میری حالت پر ترس نہیں آتا۔۔؟؟ میں جب تک اسے تکلیف میں نہیں دیکھ لیتی میں بھی سکون کا سانس نہیں لوں گی۔۔۔کچھ نہیں کھاؤں گی۔۔
یہاں بٹھا کر میری موت کا تماشہ دیکھیں۔۔۔"
کھانے کی ٹرے نیچے پھینک دی تھی اس نے۔۔۔
یہ بات سچ تھی اس نے اپنی حالت اتنی بری کرلی تھی کہ دونوں ماں باپ پریشان ہوگئے تھے
وہ اپنی بیٹی کو کھونا بھی نہیں چاہتے تھے پر وہ جو اب مانگ رہی تھی وہ اسے دے بھی نہیں سکتے تھے
"دلاور بھائی کو نہیں جانتے اگر تمہاری یا کسی کی وجہ سے بھی روحین کو کچھ ہوا تو وہ زمین آسمان ایک کردیں گے۔۔۔"
"ڈیڈ۔۔۔ آپ کو نہیں لگتا اب ان لوگوں کی حکومت ختم ہوجانی چاہیے اس حویلی میں۔۔۔؟؟"
اور عاقب کے چہرے میں ایک الگ ہنسی چھا گئی تھی
"واااوووو اب میں سمجھ گیا۔۔۔ کب جانا ہے تمہیں روحین کے۔۔۔؟؟
ڈیڈ۔۔۔اب ہمیں ان لوگوں کی غلامی سے آزاد ہوجانا چاہیے
میں ساتھ ہوں اپنی بہن کے۔۔۔"
۔
رمیز صاحب نے گہرا سانس بھرا تھا۔۔۔ ایک طرف بڑا بھائی تھا فیملی تھی دوسری طرف انکے بچے۔۔۔
وہ کشمکش میں پھنس گئے تھے۔۔۔پر وہ بھی اب غلامی کی زندگی گزارنا نہیں چاہتے تھے۔۔۔
انہوں نے ہاں میں سر ہلایا تھا اور اس کمرے سے باہر چلے گئے تھے۔۔۔
۔
"میں تمہیں تباہ کرنے آرہی ہوں روحین۔۔۔ تمہاری محبت کو تم سے ویسے ہی چھین لوں گی جیسے تم نے ازلان کو چھین لیا تھا مجھ سے۔۔۔ تم دیکھ لینا وہ حشر کروں گی کہ تم یاد رکھو گی۔۔۔"
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"انہیں ہوش آرہا ہے آپ ڈاکٹر کو بلا لائیں سسٹر جلدی سے۔۔۔"
"پئشنٹ 91 کو ہوش آگیا ہے ڈاکٹر مگر انکی ہارٹ بیٹ ابھی بھی تیز ہے انہیں پھر سے بےہوش کرنے سے رسک ہوگا یہ واپس پھر کومہ میں جاسکتے ہیں۔۔۔"
"آپ انہیں انجیکٹ کردیں ابھی انکی ہارٹ بیٹ کو سلو ڈاون نہ کیا گیا تو انہیں ہارٹ اٹیک ہوسکتا ہے دونوں طرف رسک ہے آپ انہیں لگا دیجئے۔۔۔"
دونوں ڈاکٹرز روم میں داخل ہوگئے تھے ایک سال تین ماہ بعد یہ پئشنٹ کو ہوش آیا تھا
جب نرس نے انجیکشن لگانے کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا تو مریض نے آنکھیں کھول لی تھی اور نرس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔۔۔
"مجھے۔۔۔اب کوئی بےہوشی کی دوا نہیں دے گا۔۔۔ٹھیک ہے دل کی دھڑکن۔۔۔"
آکسیجن ماسک اتار کر اس نے آنکھیں بند کرلی تھی اور اس چند سیکنڈ میں اپنی دل کی دھڑکن کو بھی پرسکون کردیا تھا اس نے۔۔۔
ماتھے پر شکن پر شکن پڑ رہے تھے اور ہاتھوں کی مٹھی بند ہورہی تھی
وہ دھڑکن کو آہستہ کررہا تھا اور اس کے جسم میں بھر رہا غصہ زیادہ۔۔۔
"آپ کا نام کیا ہے۔۔؟ آپ کی فیملی کوئی نمبر۔۔۔"
"ازلان مرتضی۔۔۔"
مانیٹر کی بیپ جیسے ہی تیز ہوئی تھی ڈاکٹر نے نرس کو اشارہ کردیا تھا انجیکٹ کرنے کا۔۔۔
اور موقع نہیں ملا تھا اس مریض کو کچھ بھی کہنے کا۔۔۔۔
وہ جسم جس میں ابھی غصے کی انتہا ہو رہی تھی اب وہ پرسکون تھا
پر کب تک۔۔۔؟؟ اس لاوے نے اور جوش سے باہر نکلنا تھا اور جلا دینا تھا ان سب کو جو سب قصوروار تھے اسکے۔۔۔

"تم پاگل ہوگئی ہو رومیسہ۔۔؟؟ یہاں ہوٹل میں رہ رہی ہو اتنا بڑا گھر ہے ہمارا ہمارے ساتھ رہو نہ۔۔
آپ ہی کہیں نہ معاذ۔۔۔"
"جی بلکل رومیسہ آپ رہیں جب تک رہنا چاہیں۔۔۔پلیز۔۔۔اپنا ہی گھر سمجھیں۔۔۔
اب میں آفس جاؤں جان لیٹ ہورہا ہوں۔۔۔"
"ہمم پہنچ کر فون کردینا۔۔۔"
روحین کے ماتھے پر بوسہ دے کر معاذ بیڈروم سے چلا گیا تھا۔۔۔
"یہاں عیاشی کررہی ہو وہاں کسی کی موت کا سبب بن گئی میری محبت کو مار کر اپنی محبت کو سینے سے لگائے بیٹھی ہو مس۔۔۔"
"رومیسہ۔۔۔کہاں کھو گئی۔۔۔"
رومیسہ نے ماتھے سے پسینہ صاف کیا تھا
"کہیں نہیں تم بتاؤ نہ میں کیسے رہ سکتی ہوں یہاں۔۔؟؟ تمہارا سسرال ہے یہ روحین میرا سمسٹر تو ابھی لونگ چلے گا۔۔۔"
رومیسہ نے معصومیت سے پوچھا تھا
"تو چلنے دو لونگ پاگل تم یہیں رہو گی تمہاری بہن کا گھر ہے مطلب تمہارا بھی ہے یہ گھر سمجھی تم۔۔۔
"اففف پاگل تم رہ سکتی ہو ڈونٹ ورری بہت مزے کریں گے گھومیں گے پھیریں گے۔۔۔۔
معاذ نے کہہ دیا نہ تمہیں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے"
"پکا نہ روحین۔۔۔؟؟؟"
بظاہر رومیسہ اس لاچاری والا منہ بنا کر دیکھا رہی تھی مگر دل ہی دل میں اسکی خوشی کی انتہا نہیں رہی تھی
یہ اسکی جیت کی طرف پہلا قدم تھا۔۔۔۔
"ہاں پکا میری چھوٹی بہن چلو ہوٹل کا ایڈریس دو میں ڈرائیور سے کہہ کر تمہارا سامان تو منگوا لوں۔۔۔۔"
"تھینک یو یوو مچ روحین۔۔۔ آج کا دن مجھے ہمیشہ یاد رہےگا۔۔۔اور تمہیں بھی میرح جان۔۔۔۔"
رومیسہ نے گرم جوشی سے روحین کو اپنے گلے سے لگایا تھا۔۔۔
"اچھا تمہارا کمرہ بھی تیار کروا دیتی ہوں۔۔۔ تم بلکل ساتھ والے کمرے میں رہو گی۔۔۔۔"
روحین ایکسائیٹڈ ہوکر چلی گئی تھی وہاں سے پیچھے اپنی کزن کے چہرے پر وہ مکرو مسکان بھی دیکھ نہ پائی تھی وہ۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"ڈاکٹر نیہا۔۔۔آپ اپنا وقت ضائع کررہی ہیں وہ پئشنٹ ایک لوسٹ کیس ہے وہ چل نہیں سکتا اور جو فٹز ہر روز انہیں آنا شروع ہوگئے ہیں آپ مینیج نہیں کرسکتی۔۔۔"
"اس لیے میں انہیں اپنے ساتھ لے جانا چاہتی ہوں ڈاکٹر فرخ میں وہاں جاکر اپنے ہوسپٹل میں انکا ٹریٹمنٹ کروانا چاہتی ہوں"
"آر یو شئور۔۔؟؟ "
"یس ڈاکٹر۔۔۔ ایک سال اتنی محنت کے بعد اب میں مایوس ہوکر ایسے انہیں چھوڑ کر نہیں جا سکتی۔۔۔"
"اگر یہ ٹھیک نہ ہوئے تو۔۔انکی میڈیکل ہسٹری آپ جانتی ہیں یہ چل نہیں سکتے دو بون بری طرح سے ڈیمیج ہوگئی ہیں۔۔۔ مینٹلی یہ ڈسٹرب ہیں۔۔۔ ہمیں سینئرز کہہ رہے ہیں انہیں دماغی یونٹ میں شفٹ کردیا جائے۔۔"
"ازلان مرتضی پاگل نہیں ہے ڈاکٹر۔۔۔"
ڈاکٹر نیہا اپنی کرسی سے اٹھ گئیں تھیں۔۔۔
"آئی کین انڈرسٹینڈ ایک سال میں پئشنٹ سے اٹیچمنٹ ہوجاتی ہے۔۔۔ مگر آپ سچ سے منہ نہیں موڑ سکتی۔۔۔ آپ اپنے کیرئیر کی ہائٹ پر ہیں اس طرح کا کیس آپکی پروفائل کو لوو کردے گا۔۔۔"
"ایم سوری۔۔۔ رسک تو میں لے چکی ہوں۔۔۔ اس ایک سال میں ازلان نے جتنی امپرومنٹ کی ہے میں جانتی ہوں۔۔۔
میں جانتی وہ وہ مکمل ٹھیک ہوجائے گا ۔۔۔"
وہ جیسے ہی اپنے پیشنٹ کے بیڈ کے قریب آئی تھی اپنی انگلیاں اس ہتھیلی پر رکھی تھی ہی تھی تو اس بےہوش جسم کے اس اس ہاتھ نے ان انگلیوں کو اپنی مٹھی میں بند کرلیا تھا
"وااااوووو۔۔۔۔۔ اٹس امیزنگ۔۔۔۔"
سینئیر ڈاکٹر بھی یہ دیکھ کر حیران رہ گئے تھے اور ڈاکٹر نیہا کی خوشی کی انتہا نہیں رہی تھی۔۔۔
"ازلان مرتضی آپ ٹھیک ہوجائیں گے۔۔۔ بلکل پہلے جیسے۔۔۔"
اس ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لیکر ڈاکٹر نیہا نے سرگوشی کی تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
دل عبادت کررہا ہے۔۔۔ڈھڑکنیں میری سن...
تجھ کو میں کرلوں حاصل۔۔۔۔ لگی ہے یہی دھن۔۔۔"
۔
"معاذ۔۔۔۔۔"
"ہیپی برتھ ڈے ٹو یووووو۔۔۔۔ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو سویٹ ہارٹ۔۔۔۔"
روحین کا ہاتھ پکڑے معاذ سجے ہوئے ٹیبل کے پاس لے آیا تھا جہاں سینٹر میں کیک رکھا ہوا تھا۔۔۔۔۔
"تمہیں یاد تھا۔۔۔؟؟؟ مجھے لگا بھول گئے۔۔۔۔"
"کبھی نہیں کیسے بھول سکتا ہوں۔۔۔؟ میری جان اس دنیا میں آئی تھی کم پہلے کیک کاٹتے ہیں۔۔۔۔"
روحین کی آنکھیں اپنی انگلیوں سے صاف کرکے نائف پکڑایا تھا معاذ نے۔۔۔۔
"بانہوں میں دے بس جانے۔۔
سینے میں دے چھپ جانے
تجھ بن میں جاؤں تو کہاں۔۔۔۔
تجھ سے ہے مجھ کو پانے۔۔۔۔
یادوں کے وہ نظرانے اک جن پہ حق ہو بس میرا۔۔۔۔۔"
۔
"مسٹر معاذ کیا بات ہے ایک ساتھ اتنے سرپرائز۔۔۔۔"
معاذ نے ریڈ باکس کو جیسے ہی کھول کر سامنے رکھا تھا خوبصورت ڈائمنڈ سیٹ دیکھ کر روحین نے پوچھا تھا۔۔۔۔
۔
"تم جانتے ہو معاذ مجھے ان چیزوں سے فرق نہیں پڑتا تم نے یہ سب پلان کیا مجھے سرپرائز دیا میرے لیے بہت ہے۔۔۔۔"
روحین نے کیک کا پیس معاذ کو کھلانے کی کوشش کی تھی جب معاذ نے پہلے روحین کو کیک کی بائٹ کھلائی تھی
"روحین۔۔۔۔ مجھے تمہاری یہ ادا ہمیشہ ہی بھاتی آئی ہے تم نے کبھی ان بناوٹی چیزوں کو اہمیت نہیں دی تمہاری اس سادگی نے مجھے ہمیشہ تسکین بخشی ہے۔۔۔۔"
روحین معاذ کے سینے پر سر رکھے وہیں کھڑی تھی اسکی تیز دھڑکنیں پرسکون ہورہی تھی ۔۔۔۔
یہ لمحات خوبصورت لمحات۔۔۔۔۔
کسے پتہ تھا انکے ایک ساتھ آخری لمحات تھے۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"بڑے مالک آپ کیوں آئے ہمیں بلا لیتے بڑی مالکن آپ بھی آئی ہیں ہمارے تو نصیب جاگ گئے۔۔۔"
وہ ضعیف خاتوں دروازے پر گاؤں کے بڑے لوگوں کو دیکھ کر حیران رہ گئی تھی۔۔۔
اسکے بچے بھی ادب میں کھڑے ہوگئے تھے جب وہ دونوں اندر داخل ہوئے تھے
"شمشاد ہم نہیں چاہتے تھے کسی کو کانوں کان خبر ہو۔۔۔تم بھی احتیاط کرنا بہت یقین کیا ہے تم پر۔۔۔"
روشان بیگم نے اس خاتون کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا اور حیدر صاحب اس کمرے کی طرف لے گئے تھے جہاں وہ پچھلے دو ماہ سے چکر لگا رہے تھے۔۔۔ روزانہ رات کو پر آج دن کی روشنی میں آئے تھے اپنی بیوی کو لیکر۔۔۔
دو سٹوری گھر تھا جس کے دوسرے پورشن میں وہ روشان بیگم کا ہاتھ پکڑ کر لے گئے تھے۔۔۔
جہاں روشنی صرف کھڑکی سے آرہی تھی باقی سب اندھیرا تھا۔۔۔
کھڑکی کے سامنے دو بیساکھیاں لئیے ایک لڑکی کھڑی تھی جس سے ٹھیک سے کھڑا بھی نہیں ہوا جارہا تھا
وہ پیچھے گرنے لگی تھی جب روشان بیگم بڑھی تھی اور اس بچی کو سہارا دیا تھا
"ردا۔۔۔۔؟؟؟"
وہ پوری طرح شاکڈ ہوگئی تھی اور پھر اپنے شوہر کی طرف دیکھا تھا جن کا سر آج تک جھکا نہیں تھا اس وقت سر نیچے کرلیا تھا انہوں نے
"حیدر صاحب۔۔۔؟؟؟ مرتضی کی بیٹی۔۔۔"
"اوووہ۔۔۔ آپ کو یاد ہیں ہم۔۔۔؟؟ آپ لوگ کیا کرنے آئے ہیں۔۔؟؟ واپس لے جانے آئے ہیں۔۔؟ مجھے اپنے پوتے کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں تاکہ جو کام وہ میرے ساتھ اس رات کو نہ کرسکا آج کرلے۔۔۔؟؟ آپ اسے ہی یہاں لے آئے یہ جگہ دور ہے نہ لوگوں کے ہجوم سے۔۔۔"
"بس بیٹا۔۔۔۔ خدا کے لیے چپ ہوجاؤ،،،،"
حیدر صاحب اب کھڑکی سامنے کھڑے ہوگئے تھے جب روشان بیگم نے ردا کو سہارا دے کر بستر پر بٹھا دیا تھا۔۔۔۔
انکی چھڑی پاس رکھ دی تھی جہاں وہ کھڑے تھے دونوں ہاتھ پیچھے باندھے گہری سوچ میں ڈال دیا تھا ردا کی باتوں نے انہیں۔۔۔
"بیٹا مرتضی ہم دونوں کے لیے بیٹے جیسا تھا اور تم بچے روحین کی طرح"
"بیٹے جیسے تھے بیٹے تو نہیں نہ۔۔۔؟؟ بڑی مالکن میری امی ہمیشہ ابو کو منع کرتی آئی تھیں کہ حویلی والوں سے اتنی دوستیاں نہ بڑھاؤ یہ امیر لوگ غریب کو اپنے مطلب کے لیے استعمال کرتے ہیں اور پھر پھینک دیتے ہیں۔۔
ابو ہمیشہ ہنسی میں ٹال دیتے تھے کہتے تھے حیدر صاحب تو انکے والد کی جگہ ہیں اور آپ انکی والدہ کی جگہ۔۔۔
میرے ابو کو میری امی کی باتیں نہ سمجھا سکیں۔۔وہ وقت نے سمجھا دیا۔۔۔ آپ لوگوں کی اصلیت سامنے آگئی۔۔۔"
وہ کہتے کہتے آبدیدہ ہوئی تھی بیساکھیوں کو سائیڈ پر رکھ کر اس نے کھڑکی طرف اشارہ کیا تھا
"مار دیا سب کو۔۔۔ مجھے کیوں بچایا حیدر صاحب آپ نے۔۔؟؟ میرے دیکھ بھال کے لیے یہ پورا گھر وقف کردیا اور یہ لوگ بھی۔۔۔ جو ملازموں کی طرح میری حفاظت کرتے ہیں۔۔ کیوں۔۔؟ کیا مفاد ہے اب آپ کو۔۔؟؟ اگر روحین کی بدنامی کا ڈر ہے تو مت ڈریں۔۔۔
آپ کے پوتے نے میرے بھائی کو مار دیا تھا میری آنکھوں کے سامنے
دو گولیاں ماری تھی۔۔۔"
روشان بیگم سے اور برداشت نہیں ہورہا تھا وہ اٹھ کر باہر جانے لگی تھی جب انکا ہاتھ ردا نے پکڑا تھا
"آپ کے گھر میں عورتیں نہیں ہیں۔۔؟؟ بہن بیٹیاں۔۔؟؟ آپ گھر میں مردوں کو کیا تربیت دیتی آئی ہیں۔۔؟؟ کہ جاؤ دوسری کی بیٹیوں کی عزتیں لوٹو۔۔۔؟؟
عاقب کو بھی یہی تربیت دی آپ نے۔۔۔
اس رات میں نے اصلیت دیکھی آپ امیر لوگوں کی تربیت اور میری غریب ماں کی تربیت کی میرا بھائی میری عزت بچاتے ہوئے اپنی جان کی بازی لگا گیا۔۔۔
اور آپ کا پوتا۔۔۔دہتکار ہے آپ لوگوں پر اور آپ کی تربیت پر۔۔۔"
۔
وہ دونوں میاں بیوی خاموش سن رہے تھے ردا کی سب باتیں
"ردا بیٹا میں پوری کوشش کررہا ہوں تمہاری فیملی کو ڈھونڈنے کی وہ سب جلدی ہی مل جائیں گے۔۔۔۔"
وہ بس اتنا ہی کہہ کر جانے لگے تھے جب ردا نے انہیں پھر سے روکا تھا
"اور میرا بھائی۔۔؟؟ اسے کون ڈھونڈے گا۔۔۔؟ وہ سچ میں ۔۔؟؟ مار دیا گیا اسے۔۔؟؟
آپ کی پوتی کی وجہ سے سب کچھ ہوا۔۔۔ میری بددعا ہے وہ بھی کبھی خوش نہیں رہ پائے گی۔۔۔
آپ کی حویلی آپ کے بچوں کی خوشیاں نہیں بربادیاں دیکھے گی یاد رکھئیے گا آپ۔۔۔"
۔
"رومیسہ آپ۔۔۔؟؟"
"کیوں میں نہیں آسکتی آپ کے آفس میں معاذ۔۔۔۔؟؟؟"
"بھائی سے سیدھا معاذ۔۔۔؟؟"
معاذ کا لہجہ سخت ہوا تھا
"اووہ ایم سوو سوری میں سر کہنا بھول گئی۔۔۔ دراصل میں اپنی سی وی لیکر آئی تھی روحین نے کہا کہ آپ میرے لیے کوئی پوسٹ ڈھونڈ دیں گے۔۔"
معاذ اپنی کرسی پر بیٹھ گیا تھا اور ومیسہ کو بھی سامنے والی چئیر پر بیٹھے کا کہا تھا
"کیا واپس گھر والوں ک پاس جانے کا ارادہ نہیں ہے۔۔۔؟؟"
ان نے مذاق میں پوچھا تھا پر رومیسہ کو یہ طنز محسوس ہوا تھا اس وقت
"آپ کو برا لگتا ہے میرا آپ کے گھر رہنا تو میں رینٹ پر کوئی کمرہ ڈھونڈ لوں گی۔۔۔"
"ہاہاہاہا ایم جس جوکنگ۔۔۔ اپنی فائل دیکھاؤ کس پوسٹ کے لیے اپلائی کرنےکا سوچا ہے۔۔؟؟"
"آپ کی پرسنل سیکریٹری۔۔۔۔"
اسکی بلنٹ جواب نے معاذ کو ایک سیکنڈ کے لیے شاکڈ کردیا تھا۔۔۔
۔
"اوو آئی سی۔۔۔۔۔۔"
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"میں شہر جانا چاہتا ہوں۔۔۔۔"
"کیا کہا دلاورر پھر سے کہو۔۔۔۔۔"
حیدر صاحب نے للکار کر پوچھا تھا اپنے بڑے بیٹے سے
"ابا جان آپ بھی ساتھ چلیں ہمارے ہمیں اب اس گاؤں کے ماحول سے آگے بڑھنا چاہیے ہمارا بزنس شہر میں اتنی ترقی کرگیا ہے کہ پوچھیں مت۔۔۔۔"
"روشان بیگم اسے کہو چلا جائے یہاں سے۔۔۔"
حیدر صاحب حیران رہ گئے تھے والد کے سخت لہجے پر
"ابا جان بات سن لیں میری۔۔۔ اس گاؤں کے لیے جتنا کرنا تھا کرلیا اب ہم لکیر کےفقیر بن کر نہیں بیٹھ سکتے شہر میں بڑا بنگلہ لیا ہے میں نے آپ چلیں میری ساتھ باقی دونوں بھائیوں نے بھی حامی بھر لی ہے جانے کی۔۔۔"
حیدر صاحب کو بیٹے کی فیصلہ نے اتنا شاکڈ نہیں کیا تھا جتنے باقی بیٹوں کی رضا مندی نے کردیا تھا
"اووہ پہلے ہی فیصلہ کرلیا ہے بچوں نے روشان بیگم دیکھ رہی ہو۔۔؟؟"
بیگم نے بیٹے کو دیکھا اور منہ پھیر لیا تھا
"حیدر صاحب جانے دیں اگر یہ لوگ فیصلہ کر چکے ہیں حویلی چھوڑنے کا تو جانے دیجئے۔۔۔
ہم دونوں رہ لیں گے انکے بغیر۔۔۔"
حیدر صاحب نے بیوی کی دکھ سے بھری آواز سن کر گہرا سانس لیا تھا اور بیٹے کو دیکھا تھا
"تم لوگ جا سکتے ہیں مگر میری جائیداد اور حویلی سے ایک پھوٹی کوڑی کسی کو نہیں ملے گی۔۔۔"
"ابا جی جائیداد کی لالچ ہمیں پہلے بھی نہیں تھی ماشاللہ بزنس بہت اچھا جارہا ہے ہمارا ہم چکر لگاتے رہیں گے۔۔۔ اور آپ دونوں کا انتظار بھی کرتے رہے گے۔۔۔"
والد کے ہاتھوں کو چوم کر حیدر صاحب والدہ کے گلے لگے تھے۔۔۔ اور پھر چلے گئے تھے وہاں سے۔۔۔
"یہ بچے ماں باپ کو ہمیشہ حیران کردیتے ہیں نہ۔۔؟ یہاں میں سوچ رہا تھا کہ انہیں ڈانٹوں گا سزا دوں گا جو ان لوگوں نے مرتضی کی فیملی کے ساتھ کیا۔۔۔ دھمکی دوں گا گھر سے نکالنے کی۔۔۔ مگر یہاں تو سب الگ ہی کردیا ان لوگوں نے۔۔۔"
وہ بیٹھ گئے تھے بیڈ پر۔۔۔
"ہم رہ لیں گے ان کے بغیر حیدر۔۔۔آہ دیکھ لیجئے گا یہ لوگ الٹے پاؤں واپس آئیں گے۔۔۔"
حیدر صاحب کے کندھے پر سر رکھ کر وہ اشکبار ہوگئی تھیں۔۔۔
دونوں اطراف خاموشی تھی باہر کمرے کے انہیں شور شرابہ سنائی دے رہا تھا بچوں کے بچے سوال جواب کررہے تھے کمروں کے دروازے کھل اور بند ہورہے تھے حویلی میں شور برپا تھا۔۔۔
وہ دونوں سمجھ گئے تھے بیٹے زور و شور سےتیاریاں کررہے تھے حویلی سے جانے کی
حیدر صاحب بیگم کی خاموشی دیکھ کر سیدھے ہوئے تھے اور جلدی سے اپنی آنکھیں صاف کی تھی انہوں نے
"ویسے اچھا ہی ہے وہ لوگ جارہے کم سے کم ہم دونوں کو تو وقت ملے گا ساتھ گزارنے کے لیے۔۔۔ وہ جوانی کے دن جیسے پوری حویلی میں ہم دونوں اکیلے ہوں گے کیا خیال ہے بیگم۔۔۔؟؟"
انہوں نے آنکھ مار کر پوچھا تھا ایک ہلکی سی کوشش کی تھی روشان بیگم کو ہنسانے کی
"ہاہاہاہا کچھ شرم کریں۔۔ عمر دیکھیں۔۔ اور شوق ۔۔۔"
"ہاہاہاہا ابھی تو میں جوان ہوں۔۔۔۔ بیگم۔۔۔"
وہ دونوں ہنس دئیے تھے۔۔۔
"تم میرے ساتھ ہو مجھے کسی کی پرواہ نہیں ہے بیگم۔۔۔ وقت بتائے گا ہمیں اولاد کی نہیں اولاد کو ہماری ضرورت محسوس ہوگی۔۔۔"
"ہممم۔۔۔۔۔"
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"رومیسہ کیا آپ کو ابھی جانا ہے شاپنگ پر۔۔؟ میں آگے ہی لیٹ ہوگیا ہوں روحین گھر انتظار کررہی ہوگی۔۔۔"
"وہ دراصل روحین نے ہی کہا تھا کہ میں اپنے لیے کپڑے خرید لوں۔۔۔"
"تو آپ اسکے ساتھ شاپنگ پر چلی جائیے گا۔۔۔"
"پلیز معاذ مجھے دن میں وقت نہیں ملتا آفس کے کام ہی آپ اتنا دے دیتے ہیں۔۔۔پلیز ابھی چلیں۔۔۔"
معاذ کا ہاتھ جیسے ہی پکڑا تھا کیبن کا دروازہ کھل گیا تھا اور سامنے شہریار صاحب کھڑے تھے۔۔۔
معاذ نے اپنا ہاتھ چھڑا لیا تھا جلدی میں
"کیا ہورہا تھا۔۔؟؟"
انہوں نے سختی سے پوچھا تھا
"کچھ نہیں ابو مس رومیسہ آپ گاڑی میں چلیے ہم گھر جانے سے پہلے شاپنگ پر چلیں گے۔۔۔"رومیسہ جیسے ہی گئی تھی شہریار صاحب نے بیٹے کو اپنی طرف کیا تھا
"روحین میری بہو نہیں بیٹی بھی ہے معاذ یہ جو چل رہا ہے ایسے ہونا نہیں چاہیے ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔"
"اففف اللہ۔۔۔ڈیڈ روحین میری محبت ہے میری بیوی بننے سے پہلے وہ میری چاہت تھی۔۔۔
دراصل رومیسہ ریکویسٹ کررہی تھی گھر جانے سے پہلے اسے کچھ کپڑے خریدنے تھے اس لیے آپ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں کہ میں ایسا کچھ کروں گا۔۔۔؟؟"
معاذ ہرٹ ہوکر پوچھتا ہے والد سے
"اوہ۔۔۔ایم سو سوری بیٹا۔۔۔بس جانے انجانے میں بھی کبھی کچھ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔۔۔"
"ایسا کبھی نہیں ہوگا۔۔۔وہ میری زندگی ہے۔۔۔روحین میری پہلی اور آخری محبت ہے ڈیڈ۔۔۔"
۔
ان دونوں کو خبر نہیں تھی کھلے دروازے سے باہر کھڑی رومیسہ سب باتیں سن رہی تھی ان دونوں کی۔۔۔
۔
"ہاہاہاہا پہلی محبت ہوسکتی ہے پر تمہاری آخری محبت روحین نہیں میں ہوں گی معاذ۔۔۔
تمہارے دل میں اپنے لیے محبت کی چنگاری بھڑک اٹھے گی میرے لیے بہت جلدی۔۔۔۔
اور آج سے شروعات ہوگی دیکھ لینا۔۔۔۔"
۔
اس نے مکمل تیاری کر رکھی تھی۔۔۔۔
۔
یہاں یہ شاپنگ پر جا رہی تھی وہاں وہ بیوی کھانے کے ٹیبل پر معاذ کا انتظار کررہی تھی۔۔۔۔۔
۔
شروعات تو ہونا شروع ہوگئی تھی غلط فہمیوں کی۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"یہاں میں ڈنر پر انتظار کررہی تھی اور آپ جناب نے بتانا ضروری نہیں سمجھا اگر رومیسہ کو شاپنگ پر لے جانا تھا تو۔۔۔"
روحین نے معاذ کا کوٹ اتار کر کپبرڈ میں رکھا تھا لہجے میں شکایت تھی پر سختی بلکل نہیں
"تم نے ہی تو کہا تھا اسے شاپنگ کا۔۔۔ اب میں جان کیسے چھڑاتا۔۔۔؟؟"
"چلیں فریش ہوجائیں میں کھانا گرم کردیتی ہوں۔۔"
"نہیں روحین،،،، میں نے ڈنر کرلیا تھا تمہاری کزن نے ضد پکڑی ہوئی تھی۔۔۔
میں بتا رہا ہوں یہ آخری بار اسے لے کر گیا ہوں کہیں پر۔۔"
اپنے کپڑے لئیے معاذ باتھروم میں چلا گیا تھا روحین کو شاکڈ چھوڑ کر۔۔۔
"رومیسہ۔۔۔کو میں نے کہا تھا اسے شاپنگ پر میں لے جاؤں گی پھر وہ کیوں گئی معاذ کے ساتھ۔۔؟؟"
۔
روحین کے دماغ میں وہ شک تو پیدا ہوگیا تھا مگر کچھ دیر کے لیے۔۔۔
"ایم سو سوری میری جان آج پہلی اور آخری بار ہوا جو میں نے تمہارے بغیر ڈنر کیا آج کے بعد ایسا نہیں ہوگا۔۔۔میرا وعدہ ہے تم سے۔۔۔"
"اٹس اوکے معاذ میں ناراض نہیں ہوں میں سمجھ سکتی ہوں۔۔۔"
"سب کچھ سمجھ جاتی ہو میرے ایکسپلین کئیے بغیر۔۔۔ اتنا خوش نصیب کیسے ہوگیا میں جو اتنی انڈرسٹینڈنگ والی لائف پارٹنر ملی ہے مجھے۔۔۔؟؟"
معاذ نے روحین کو اپنی بانہوں میں اٹھا کر بیڈ پر لٹا دیا تھا اور خود بھی لیٹ گیا تھا ساتھ۔۔۔
"خوش قسمت تو میں ہوں معاذ جو آپ کا ساتھ ملا۔۔۔ یقین نہیں آرہا اپنے اچھے نصیبوں پہ۔۔۔۔"
اسکی آنکھیں اشکبار ہوئی تو معاذ نے اپنے حصار میں بھر لیا تھا اسے۔۔۔
"بس پھر کبھی نہ رونا میرے سامنے مجھے تکلیف ہوتی ہے روحین۔۔۔بہت تکلیف ہوتی ہے جب تمہاری آنکھوں میں آنسو دیکھتا ہوں تو۔۔۔۔"
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"آپ لوگ یہاں شفٹ ہوگئے ہیں۔۔؟؟ پر ڈیڈ دادا جان اور دادی۔۔؟؟"
"وہ بھی بہت جلدی یہاں آجائیں گے بیٹا۔۔۔"
رمیز چچا نے روحین کے سر پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی تھی
"مجھے تو یقین نہیں آرہا کہ آپ لوگ ہمارے پاس آگئے ہیں۔۔۔اب دیکھئے گا ہمارے بزنس کو میں کتنی اونچائیوں تک لے جاؤں گا انکل ۔۔۔"
معاذ کی بات سن کر حیدر صاحب خود اپنی جگہ سے اٹھے تھے اور اپنے داماد کو گرم جوشی کے ساتھ اپنے گلے سے لگایا تھا انہوں نے۔۔۔
"یہ ہوئی نہ بات معاذ بیٹا۔۔۔ مجھے پورا یقین ہے ہم لوگ بزنس کو بہت آگے لے جائیں گے۔۔"
"روحین بیٹا تم خوش ہو نہ معاذ کے ساتھ۔۔؟؟"
پاس بیٹھی والدہ نے آہستہ آواز میں روحین سے پوچھا تھا
"جی۔۔۔ امی میں بہت خوش ہوں۔۔۔معاذ نے بہت خوش رکھا ہے مجھے میں بتا نہیں سکتی۔۔۔"
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"ازلان۔۔۔۔"
"ڈاکٹر نیہا۔۔۔؟؟"
ازلان کے ماتھے کی پٹی بدلتے ہوئے ڈاکٹر نیہا نے نام سے پکارا تھا
"ابھی تک نام کنفرم نہیں ہوا میرا۔۔۔؟؟ اتنا چونک گئے ہیں آپ۔۔"
"اپنے ہوش و ہواس میں کبھی اتنے قریب سے دیکھا نہیں تھا آپ کو اس لیے۔۔"
ازلان نے منہ دوسری طرف کرلیا تھا پر ڈاکٹر نیہا نے ازلان کے چہرے کو واپس اپنی طرف کیا تھا
"یہ کیس وہ واحد کیس تھا جو سب نے مجھے لینے سے منع کردیا تھا کیونکہ یہ کیس وہ کیس تھا جو کبھی حل نہ ہوپاتا یا آپ ٹھیک نہ ہو پاتے۔۔۔۔
پر یہاں آنے کے بعد آپ نے اتنی جلدی ریکوری کی ہے اور آگے بھی اتنی فاسٹ ریکوری۔۔؟؟
میں حیرا ن ہوگئی ہوں ازلان۔۔۔ بہت جلدی ہے مجھ سے پیچھا چھڑانے کی۔۔؟"
اتنی سیریس بات کو کرتے کرتے آخر میں مذاق کردیا تھا انہوں نے۔۔۔
"آپ کی محنت یقین نے مجھے واپس اس قابل بنایا ہے کہ اپنے قدموں پہ کھڑا ہوسکوں میں۔۔تھینک یو۔۔۔"
ڈاکٹر نیہا کا ہاتھ پکڑ کر ازلان نے شکریہ ادا کیا تھا
وہ بس یہاں سے جانا چاہتا تھا اپنے ماں باپ بہنوں کو ڈھونڈنا تھا اس نے۔۔۔
۔
"ازلان۔۔۔"
"میں بس واپس جانا چاہتا ہوں۔۔۔میری فیملی کو میری ضرورت ہے انہیں ڈھونڈ۔۔۔ڈھونڈنا ہے میں نے۔۔۔بس مجھے جلدی سے ٹھیک کردیں۔۔۔"
نڈھال آنکھیں بھر آئیں تھیں تو ڈاکٹر نیہا نے اپنی انگلیوں سے آنسو صاف کئیے تھے
"ازلان۔۔۔"
"بس مجھے واپس جانا ہے پلیز جلدی ٹھیک کردیں مجھے۔۔۔۔"
۔
ازلان کی گرفت مظبوط ہوگئی تھی ڈاکٹر نیہا کے ہاتھوں پر اور آنکھیں بند ہوگئی تھیں اسکی۔۔۔
لبوں پر ایک ہی بات تھی وہ جو دہرا رہا تھا
"میں واپس ضرور جاؤں گا۔۔۔ میرا بدلہ لینے واپس ضرور جاؤں گا۔۔۔"
۔
"روحین۔۔۔"
معاذ کچن میں داخل ہوا تھا۔۔۔
"ارے بابا کیا جلدی ہے۔۔۔ باہر ہی آرہی ہوں۔۔۔"
"نہیں سب چھوڑو ابھی باہر چلو۔۔۔ روحین۔۔"
معاذ سب کے سامنے روحین کو لے آیا تھا۔۔۔
"معاذ بیٹا کیا ہوا ہے۔۔۔"
"موم ڈیڈ۔۔۔ آپ سب ابھی چل رہے ہیں۔۔۔ حیدر مینشن میں۔۔۔"
"معاذ۔۔ سب ٹھیک ہے آپ اتنا گھبرا کیوں رہے ہیں۔؟؟"
"روحین۔۔۔ابھی فون آیا تھا تمہارے ڈیڈ کا۔۔۔ رمیز چچا اور چچی کراچی سے واپس آرہے تھے جب۔۔۔ انکی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا۔۔۔"
"یا اللہ۔۔۔ چلیں ہوسپٹل۔۔۔ آپ۔۔"
روحین نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تھا۔۔۔
"روحین۔۔۔وہ دونوں کی دیتھ ہوچکی ہے۔۔۔ تم۔۔۔رومیسہ کو بتاؤ۔۔۔"
اور پیچھے کھڑی رومیسہ یہ خبر سن کر وہیں گر گئی تھی۔۔۔
"معاذ تم نے غلط سنا ہوگا بیٹا ایسے کیسے ہوسکتا ہے۔۔؟؟"
"ڈیڈ۔۔۔ پلیز ملازمہ کو بلائیں وہ رومیسہ کو اٹھا کر لے جائیں کمرے میں۔۔"
"آپ اٹھا نہیں سکتے معاذ پلیز اٹھا کر ہمارے کمرے میں لے جائیں۔۔"
روحین نے ڈانٹ دیا تھا معاذ کو۔۔۔ معاذ نے ہچکچاتے ہوئے رومیسہ کو اٹھا لیا تھا اور اوپر اپنے بیڈروم میں لے گیا تھا۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"کچھ ہفتے بعد۔۔۔"
۔
روحین۔۔۔"
روحین چائے کا کپ رکھ کر معاذ کے پاس بیٹھ گئے تھی باہر لان میں صبح کے وقت وہ دونوں ایسے ہی وقت دیتے تھے ایک دوسرے کو باقی پورا دن مصروفیات میں گزر جاتا تھا روحین کا۔۔
رومیسہ کے لیے وہ اپنا آپ بھلا بیٹھی تھی پچھلے کچھ دنوں سے۔۔۔
۔
"رمیز چچا اور چچی کے جانے کے بعد کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہا معاذ۔۔"
"روحین جانے والوں کو کوئی نہیں روک سکتا۔۔۔پر کیا تم ایگری کرتی ہو جو فیصلہ تمہارا دادا جان نے لیا۔۔؟؟"
چائے کا کپ روحین سے لیکر ٹیبل پر رکھ دیا تھا معاذ نے اور اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر پوچھا تھا
"کیسا فیصلہ معاذ۔۔۔؟؟ ایم سوری میں کچھ زیادہ دھیان نہیں دے پارہی ہوں کچھ چیزوں پر۔۔۔"
"ہممم۔۔۔ تمہارے دادا جان نے سب پراپرٹی رومیسہ اور عاقب کے نام کردی ہے انکے والدین کے انتقال کے بعد۔۔۔۔ تم اور تمہارے باقی کزنز کا کیا۔۔؟؟
تم تو لاڈلی ہو نہ انکی۔۔؟؟"
معاذ کے چہرے پر نفرت سی ابھری تھی کچھ لمحے کو
"معاذ دادا جان کو میں جانتی ہوں ماں باپ کے جانے کے بعد وہ نہیں چاہتے کہ رومیسہ کو کوئی بھی غیر سمجھے۔۔۔ اب پراپرٹی اسکے نام پر چلی گئی ہے تو سب ہی عزت دیں گے چچا چچی والا مقام دیں گے۔۔۔ اور ویسے بھی مجھے جائیداد دولت روپے کی کیا ضرورت میرے پاس تم ہو نہ۔۔۔"
روحین نے اسکے گال پر بوسہ دے کر بہت محبت سے کہا تھا
۔
"ایسے کیا دیکھ رہے ہیں ۔۔۔؟؟"
"دیکھ رہا ہوں ہر معاملے میں تم پوزیٹو دیکھتی ہو حالانکہ یہ سب باتیں اتنی پوزیٹو نہیں تھی روحین تمہارا بھی حصہ ہے۔۔۔جو تمہارا حق تھا میں خود بات کروں گا۔۔۔"
"نہیں آپ کسی سے بات نہیں کریں گے۔۔۔ میرے پاس آپ ہیں تو سب کچھ ہیں معاذ۔۔۔"
۔
ہاتھوں میں ہاتھ لئیے وہ دونوں وہاں گھنٹوں بیٹھ کر باتیں کرتے رہے تھے بہت دنوں کے بعد۔۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"یو فوول اس نے منع کیا اور تم ہوگئے۔۔؟؟ تم سچ میں اتنے بیوقوف ہو معاذ۔۔؟؟"
"میں کچھ سمجھا نہیں ڈیڈ۔۔۔"
شہریار صاحب نے دونوں ہاتھ آفس ڈیسک پر مارے تھے
"روحین کے ساتھ شادی کا فیصلہ میں نے اس لیے لیا تھا کیونکہ شہرورز حیدر نے اپنی وصیت میں جائیداد کا 70 فیصد حصہ روحین کے نام کیا ہوا تھااور اب ایک دم سے سب کچھ کسی اور پوتی کے نام کردیا۔۔؟؟"
"پر ڈیڈ وہ بچی بھی تو یتیم ہوگئی ہے اور میں اس سب میں کیا کرسکتا ہوں۔۔؟؟ روحین نے منع کردیا ہے"
"وہ تو منع کرے گی ہی پاگ ہورہی ہے اس لڑکی کے پیچھے۔۔۔ کاش میں نے روحین کی جگہ اس لڑکی سے تمہاری شادی کردی ہوتی۔۔۔
معاذ تم جانتے ہو انکی جائیداد کتنی ہے۔۔؟؟ کتنی مالیت کی ہے۔۔۔"
معاذ تو والد کی بات سن کر حیران پریشان ہوگیا تھا
"کیا دیکھ رہے ہو۔۔؟؟ یو ایڈیٹ۔۔۔ جاؤ اپنی بیوی کو راضی کرو کہ وہ اپنا حصہ لے۔۔۔بلکہ 70 فیصد حصہ لے۔۔۔ معاذ روحین سونے کی چڑیا تھی اب اسکا حق اسکی کزن کو مل رہا یقین کرو میں پچھتانے پر مجبور ہورہا ہوں۔۔ کہیں یہ نہ ہو میرے غصے کا عذاب تمہاری بیوی کو دیکھنا پڑ جائے جاؤ اور مناؤ اسکو۔۔۔"
۔
"ڈیڈ۔۔۔؟؟ آپ تو روحین کو اپنی بیٹی مانتے تھے پھر اچانک سے۔۔۔؟؟"
"اچانک سے کچھ نہیں روحین کی پراپرٹی کی وجہ سے میں نے اتنی پروجیکٹ لے لئیے تھے آگے فیوچر پلاننگ کی ہوئی تھی بزنس پارٹنرشپ دلاور سے تھی اب وہ کیا دے گا پروفٹ میں۔۔؟؟
اس سے اچھا تھا تمہاری شادی رومیسہ سے ہوجاتی۔۔"
وہ اپنی فائل اٹھا کر اپنے کیبن سے چلے گئے تھے۔۔۔
۔
"فکر نہ کریں انکل۔۔۔ بہت جلدی آپ کے بیٹے کی شادی مجھ سے ہوگی۔۔۔"
رومیسہ جہاں چھپی ہوئی تھی وہاں سے نکل کر واپس اپنے کیبن میں چلی گئی تھی جلدی سے۔۔۔
۔
"روحین۔۔۔ اس سے کیسے بات کروں گا۔۔؟؟ کیا سمجھے گی وہ مجھے۔۔؟؟
کیا میری بات مان لے گی۔۔؟؟"
۔
وہ رومیسہ کو آفس کے اور کام دے کر گھر چلا گیا تھا بیوی سے بات کرنے۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"ایک پاؤں آگے کرنا ہے اس پر وزن زیادہ نہیں ڈالنا۔۔۔کچھ سیکنڈ کے بعد رائٹ والا
اوکے کم لیٹس سٹارٹ۔۔۔"
ڈاکٹر نیہا نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تھا
"میں۔۔۔میں خود سے کوشش کرنا چاہتا ہوں بنا کسی کا سہارا لئیے۔۔۔"
اسکے لہجے میں سختی انتہا کی تھی اس وقت
"کسی کا سہارا۔۔؟؟ ایم یور ڈاکٹر مسٹر ازلان۔۔۔ آپ سوفٹ لہجے میں بھی بات کرسکتے ہیں مجھے پسند نہیں ہے یہ سخت لہجے۔۔۔"
وہ بھی غصے سے کہہ کر جانے لگی تھی جب ازلان نے ہاتھ پکڑا تھا
"پلیز۔۔۔ نیہا۔۔۔ میں خود سے کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔"
"ہممم۔۔۔اوکے۔۔۔"
گہرا سانس بھر کے آہستہ سے کہا تھا انہوں نے۔۔۔
۔
اور ازلان نے پہلے دونوں ٹانگیں بیڈ سے نیچے رکھی تھی ابھی بھی وہ ہسپتال کے اس سپیشل وارڈ میں تھا
"سلولی سلولی زیادہ پریشر نہیں ڈالنا۔۔۔"
وہ دور کھڑی انسٹرکٹ کررہی تھی ازلان کو جو اپنی دونوں ٹانگوں پر کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔اور آہستہ آہستہ چلنا شروع ہوا تھا۔۔۔
مگر کچھ ہی سیکنڈ میں وہ نیچے گرگیا تھا جب لیفٹ ٹانگ پر تکلیف کیشدت زیادہ ہوئی تھی۔۔
"مجھ۔۔۔ مجھ سے نہیں ہوپارہا۔۔۔"
ڈاکٹر نیہا نے اسکے کندھے سے پکڑ کر سہارا دیا تھا اور وارڈ بوائے کو اندر بلایا تھا جلدی سے جنہوں نے ازلان کو واپس لٹا دیا تھا
"مجھ سے نہیں ہو پارہا۔۔۔"
وہ مایوس ہوگیا تھا ٹانگ پر لگے سٹیچز سے خون نکلتے دیکھ کر
"آپ دونوں جائیں یہا ں سے ضرورت ہوئی تو میں پھر بلا لوں گی۔۔"
وارڈ بوائز کو بھیج دیا تھا روم سے اور ازلان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر واپس بیڈ پر لٹا دیا تھا
"ازلان۔۔۔"
"میں کچھ وقت اکیلا رہنا چاہتا ہوں۔۔۔"
"زخموں سے خون نکل رہا ہے انہیں صاف کئیے بغیر میں کہیں نہیں جاؤں گی مسٹر۔۔۔"
وہ پاس بیٹھ گئیں تھیں ازلان کی ٹانگ کی پٹی کھولنے کے بعد بلڈ صاف کرتے ہوئے ازلان کی طرف دیکھا تھا
"تم نے کہا تھا تم نے پاکستان واپس جانا ہے اپنی فیملی کو ملنا ہے انہیں دیکھنا ہے اور شاید کسی سے بدلہ بھی لینا ہے۔۔۔ کیسے لو گے بدلہ جب تم خود چل نہیں پا رہے۔۔۔"
"کوشش کررہا ہوں۔۔۔ آپ کے سامنے کوشش کی ۔۔۔"
وہ بھی غصے سے چلایا تھا
"کوشش کررہے ہو ایک بار کوشش کی اور مایوس ہوگئے۔۔؟؟ یہ کیسی کوشش ہے ازلان۔۔؟؟ جو مایوس ہوتے ہیں وہ کبھی کوشش نہیں کرتے۔۔
اور جو کوشش کرتے ہیں مایوسی انکے پاس بھی نہیں بھٹکتی۔۔۔ تم کیسی کوشش کررہے ہو۔۔؟؟
بہنوں سے ملنے نہیں جانا۔۔۔؟؟ اپنے موم ڈیڈ سے ملنا چاہتے ہو تو مایوسی کو چھوڑ دو۔۔۔ آج پٹی کررہی ہوں اس لیے تمہیں یہ کوشش بھی اب کچھ دن بعد کرنی ہوگی تاکہ زخم نہ کھل جائیں۔۔۔یہ کچھ دن ہیں جن میں تم نے ڈیسائیڈ کرنا ہے ازلان مرتضی۔۔۔"
وہ وہاں سے چلی گئیں تھیں ازلان کو اکیلا چھوڑ کر۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"آپ کے سب فیصلے ہمیشہ سر آنکھوں پر رکھے میں نے مگر یہ فیصلہ مجھے اچھا نہیں لگا حیدر صاحب"
ملازمہ دودھ کا گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر کمرے سے جیسے ہی باہر گئی تھی روشان بیگم نے اپنی بات مکمل کی تھی
"ہاہاہا اتنی ناراضگی۔۔؟؟ اور کونسا فیصلہ۔۔؟؟"
"ساری پراپرٹی فیکڑیز کارخانے سب کچھ رومیسہ اور عاقب کے نام کردیا۔۔؟؟
دلاور کو چھوڑیں پر اسکے بچے۔۔۔؟؟ روحین کا کیا۔۔۔؟"
"روحین کا سوچنے کے لیے اسکا باپ زندہ ہے اسکے سر پر باپ اور شوہر دونوں ہیں پر رومیسہ۔۔
اسکا باپ دنیا سے چلا گیا ہے بیگم۔۔۔"
انہوں نے تلخی سے کہا تھا
"مجھے کیوں لگتا ہے آپ نے روحین کو معاف نہیں کیا۔۔۔ یہ فیصلہ بھی ایک سزا کے تحت لیا آپ نے روحین کو دینے کے لیے۔۔۔"
بیگم کی بات پر حیدر صاحب نے اپنا چشمہ اتار کر انہیں دیکھا تھا
"اور میں اسے کیوں سزا دوں گا۔۔؟؟ وہ بھی میرا خون ہے میری لاڈلی ہے وہ۔۔۔"
"ازلان کا کوئی آتا پتہ نہیں آپ روحین پر غصہ نکالنا چاہتے ہیں حیدر میں جانتی ہوں آپ کو۔۔۔
مگر جو فیصلہ آپ نے غصے میں لیا ہے اسکے نتائج کہیں روحین کو بھگتنے نہ پڑ جائیں اگر کل کو اسے کہیں ضرورت پڑ گئی تو وہ کس کا منہ دیکھے گی۔۔؟؟"
"اسکا شوہر باپ سسر سب ہی بزنس مین ہیں روشان بیگم بس اب رومیسہ کے بارے میں سوچیں روحین اتنی سمجھدار ہے اگر اپنے فیصلے خود کرسکتی ہے تو اپنا اچھا بُرا بھی سوچا ہوگا اس نے ۔۔۔"
"اور آپ کہہ رہے تھے وہ لاڈلی ہے۔۔؟؟ اور یہ سخت رویہ اسکے لیے جو لاڈلی ہے۔۔؟؟
شہروز حیدر صاحب،،، آپ کے انصاف میں بہت تضاد دیکھائی دے رہا ہے مجھے،،،
میری دعا ہے آپ مستقبل میں کہیں پچھتائیں نہ اپنے اس فیصلے پر۔۔۔"
حیدر صاحب اپنی بیگم کو دیکھتے رہ گئے تھے وہ اس کمرے سے باہر چلی گئیں تھیں بات کرکے،،،
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"رومیسہ آفس جانا کوئی ضروری ہے تم آرام کرو کل سے آفس جانا بند۔۔۔"
"میں پاگل ہوجاؤں گی روحین گھر بیٹھے بیٹھے۔۔آفس اور معاذ۔۔۔میرا مطلب ہے آفس وہ واحد جگہ ہے جہاں کچھ گھنٹوں کے لیے سب بھول جاتی ہوں۔۔۔
امی ابو کا چہرے۔۔۔ میری آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوتا۔۔۔
وہ اتنی جلدی چلے گئے چھوڑ کر۔۔۔"
رومیسہ رونا شروع ہوگئی تھی
"رومیسہ۔۔۔ایم سووو سوری اگر یہی تمہاری مرضی ہے تو تم جاری رکھو آفس۔۔۔
رو رو کر تم نے کیا حال کرلیا ہے اپنا۔۔۔"
روحین خود بھی آبدیدہ تھی مگر رومیسہ کو چپ کروا رہی ھی اس سے دیکھا نہیں جارہا تھا رومیسہ کا یوں ٹوٹ کر بکھر جانا۔۔۔
"روحین میرا کوئی نہیں رہا امی ابو چلے گئے سب چلے گئے ایسا لگتا ہے سب کچھ ختم ہوگیا ہے۔۔۔"
"اب میں ایک تھپڑ ماروں گی پاگل۔۔۔ ہم سب تمہارے اپنے ہی ہیں معاذ میں یہاں سب لوگ اور موم ڈیڈ دادا جان دادی ماں۔۔۔سب لوگ۔۔۔"
اس نے رومیسہ کو اپنے گلے سے لگا کر ہر طرح کا دلاسہ دیا تھا تسلی دی تھی اسے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"ڈاکٹر نیہا آپ کا شک ٹھیک تھا کوئی ہے جو فالو کررہا ہے جو نظر رکھے ہوئے ہے آپ لوگوں پر۔۔۔
اس لیے آپ کے لیے سیف نہیں ہے یہاں اس ہسپتال میں رہنا آپ پرائیویٹ اپنے اپارٹمنٹ میں رہ سکتی ہیں جہاں سیکیورٹی چوبیس گھنٹے حفاظت کرے گی آپ کی۔۔۔"
"میں اپنے پئشنٹ کو چھوڑ کر نہیں جاسکتی۔۔۔آپ پتا لگائیے کون ہے وہ۔۔۔؟؟
میں نہیں چاہتی کے میری وجہ سے میرے کسی مریض کی زندگی خطرے میں پڑے۔۔"
"ہم وہی کوشش کررہے ہیں آپ فکر نہیں کریں۔۔ آج شام تک آپ کو کچھ گارڈز بھی دہ دئیے جائیں گے ۔۔"
آفیسرز وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔
اپنا لیب کوٹ پہن کر ڈاکٹر نیہا بھی اپنے روم سے باہر آگئی تھیں اور سیدھا ازلان کے روم میں گئی تھی۔۔۔
جہاں کے منظر نے انکی دھڑکنیں روک دی تھی
گن مین ازلان پر پسٹل تانےکھڑا تھا۔۔۔
"جو کام گاؤں میں پورا نہیں ہوسکا وہ یہاں پورا کردیتے ہیں اب دلاور صاحب کا حکم ٹال بھی نہیں سکتے۔۔۔"
وہ فائر کرنے لگا تھا جب ڈاکٹر نیہا آگئی تھی اندر۔۔۔
"ڈاکٹر نیہا۔۔۔ ابھی باہر جاؤ۔۔۔آؤٹ۔۔۔"
ازلان جو ابھی تک رہ ایکٹ نہیں کررہا تھا اب ڈر سا گیا تھا جب اس گن مین نے پستول کا رخ ڈاکٹر نیہا کی طرف کردیا تھا
"کون ہو تم۔۔۔یہاں کیا کررہے ہو۔۔؟؟ازلان تم ٹھیک ہو۔۔؟"
وہ باہر جانے کے بجائے ازلان کی طرف بڑھی تھی
"نیہا باہر جاؤ تم ان سب میں نہ پڑو۔۔۔"
"ہاہاہاہاہا روحین کی محبت اتنی جلدی بھول گیا ناکام عاشق۔۔۔؟؟ نئی محبوبہ بنا لی۔۔؟؟ وہ بھی ڈاکٹر۔۔؟؟ ہوٹ ہے ویسے۔۔۔؟؟"
اس نے ڈاکٹر نیہا کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا اور ازلان اپنی جگہ سے اٹھ نہیں پایا تھا
"ہاتھ چھوڑ اسکا گھٹیا۔۔۔"
ازلان چلایا تھا وہ اتنی تکلیف میں بھی بار بار اٹھنے کی کوشش کررہا تھا
"تیرا وقت ختم ہوگیا ہے۔۔۔"
اس نے فائر کرنے کی کوشش کی تھی جب نیہا نے اسے پیچھے دھکا دہ دیا تھا اور ازلان کو سہارا دیا تھا۔۔۔
"چل پہلے یہ ڈاکٹر ہی سہی۔۔۔"
اس نے جیسے ہی فائر کی تھی ازلان نےنیہا کو پیچھے کرنے کی کوشش کی تھی پر گولی لگ گئی تھی اسکو۔۔۔
"نیہا۔۔۔"
ازلان چلایا تھا نیہا کے زمین پر گرتے وجود کو دیکھ کر۔۔۔
"وہ بھی نیہا کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔
"یہ ایک ہی تھا جسے اپنا سمجھنے لگا تھا اسے بھی چھین لیا۔۔۔
دلاور شہروز حیدر۔۔۔۔ میرا قہر قیامت بن کر ٹوٹے گا تم لوگوں پر۔۔۔ کسی ایک کو بھی نہیں بخشوں گا میں۔۔۔"
"نیہا۔۔۔"
اس ہسپتال کے کمرے کو آگ لگا دی تھی اس گن مین نے اور کھڑکی سے باہر بھاگ گیا تھا۔۔۔۔۔
"نیہا۔۔۔"
"ازلان۔۔۔ چلے جاؤ یہاں سے۔۔۔تم۔۔۔"
۔
نیہا کی آنکھیں جیسے ہی بند ہوئی تھیں ازلان نے اپنی پوری کوشش پوری ہمت سے نیہا کو اٹھا لیا تھا اپنی بانہوں میں اور آگ سے بچتے بچاتے باہر لے گیا تھا۔۔۔جہاں ہسپتال کا سٹاف اور سیکیورٹی کھڑی آگ بھجا رہی تھی
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"تمہیں آج کا دن ہی ملا تھا یہ سب کہنے کے لیے معاذ۔۔۔؟؟ اس لیے نہیں آئی تھی میں یہاں تمہارے آفس۔۔۔"
"تمہیں اب میری باتیں فالتو لگ رہی ہیں۔۔؟؟"
"تمہیں بھی تو آج کا دن فالتو ہی لگا نہ ڈیم اٹ ویڈنگ اینیورسری ہے آج ہماری۔۔
اور تم میری جائیداد جانے کے سوگ میں بیٹھے ہو۔۔۔"
"واچ یور ماؤتھ روحین۔۔۔ شوہر ہوں تمہارا کس لہجے میں بات کررہی ہو۔۔۔"
"یو نو وٹ معاذمیں ہی غلط ہوں جو یہاں تک چل کر آئی۔۔۔ تم سے بات کرنا ہی فضول ہے۔۔۔"
وہ چلائی تھی اور کیبن کے دروازے تک پہنچی تھی جب معاذ نے اسکا ہاتھ پکڑا تھا
"فضول ہاں۔۔؟؟ فضول۔۔۔ تم کیا ہو۔۔؟؟ ایک اینیورسری بھولا ہوں اور تم نے مجھے میری اوقات دیکھا دی۔۔؟؟ مر نہیں گیا تھا وش کرنے ہی والا تھا پر تم ٹپیکل وائف کی طرح آفس تک آگئی۔۔؟؟ یو جسٹ۔۔۔"
جسٹ وٹ۔۔؟؟ عزت خراب ہوگئی ہے۔۔؟؟ ایم سوری مسٹر معاذ غلطی ہوگئی۔۔۔"
"تم نے مجھے بہت دس اپاؤنٹ کیا ہے روحین۔۔۔"
معاذ نمے سرگوشی کی تھی
"جیسے تم نے مجھے کیا معاذ۔۔۔۔۔"
۔
وہ آنسو صاف کرکے وہاں سے چلی گئی تھی۔۔۔۔
۔
۔
گاڑی فل سپیڈ میں چلاتے ہوئے وہ ہر سگنل کراس کرگئی تھی۔۔۔۔
اور اچانک سے ایک فلیش بیک اسے دیکھائی دیا تھا اتنے مہینوں۔۔۔ ہفتوں۔۔اتنے دنوں کے بعد وہ چہرہ اسے دیکھائی دیا تھا۔۔۔۔
۔
۔
"شادی ہوجانے دو ہر دن خاص بنا دوں گا میری جنت۔۔۔۔ تمہاری سالگرہ سے لیکر ہماری ویڈنگ اینیورسری تک ہر ایک خاص دن بہت خاص طریقے سے منایا کریں گے۔۔۔
اس طرح کہ تم ناز کرو گی مجھ سے شادی کے فیصلے کو روحین۔۔۔۔"
"مجھے نہیں پتہ تھا مسٹر ازلان مرتضی آپ اتنے رومینٹک بھی ہیں۔۔۔"
"ابھی آپ ٹھیک سے جانی نہیں ہیں مجھے محترمہ۔۔۔آپ۔۔۔"
۔
۔
روحین کی گاڑی کو سامنے سے آتی گاڑی کی ٹکر لگنے پر وہ اپنی کھوئی دنیا سے واپس آئی تھی۔۔۔
گاڑی لین سے نیچے اتر گئی تھی۔۔۔ وہ کچھ دیر میں پٹرول لیک ہونے پر گاڑ ی میں آگ لگ گئی تھی۔۔۔
۔
"ازلان۔۔۔۔مرتضی۔۔۔۔"
۔
وہ نام اسکے لبوں سے ایک تکلیف دہ آہ کی صورت میں نکلا تھا۔۔۔
۔
"ڈاکٹر۔۔۔ڈاکٹر میری بیوی روحین ۔۔وہ یہیں اسی۔۔۔"
"آپ 'آئی-سی-یو' چلے جائیں سیدھا جا کر لیفٹ سائیڈ۔۔۔انکی حالت کافی کریٹیکل ہے۔۔۔"
معاذ اسی سمت بھاگا تھا اور اسکے پیچھے اسکی فیملی کے لوگ۔۔۔
وہ وہاں آئی سی یو کے باہر جاکر ایسے ہی سب سے پوچھ رہا تھا
"سر انکا آپریشن چل رہا ہے۔۔۔آپ انتظار کیجیے۔۔۔ بلڈ کافی بہہ گیاہے آپ لوگ بلڈ بھی ارینج کیجئے۔۔۔"
وہ روم سے باہر آتے ہی ہدایت دے کر چلے گئے تھے۔۔۔
"روحین۔۔۔ڈیڈ۔۔۔پلیز بلڈ کا ارینج کروا دیں۔۔۔"
"اسکی ضرورت نہیں میرے خون کا آخری قطرہ بھی میری بیٹی کو دیا جائے۔۔۔"
دلاور صاحب بھی آگئے تھے وہاں۔۔۔
"بڑے ابو۔۔۔"
رومیسہ روتے ہوئے دلاور صاحب کے گلے لگی تھی جو ابھی تک بلکل چپ چاپ تھی جو دل ہی دل میں جشن منا رہی تھی۔۔۔وہ تو چاہتی تھی روحین مر جائے۔۔۔چلی جائے سب چھوڑ چھاڑ کر۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"حیدر صاحب ابھی لے چلیں مجھے روحین کے پاس۔۔۔ یا اللہ رحم کرے کیا ہوگیا ہے ہمارے خاندان کو اتنی آفتیں۔۔۔پہلے رمیز چلا گیا ہمیں چھوڑ کر اب روحین کا ایکسیڈنٹ،،،"
دادا ماں روتے ہوئے دعائیں کررہی تھی
وہ دونوں بھی گاؤں سے چل پڑے تھے شہر کے لیے کچھ دیر پہلے ہی فون آیا تھا
گاڑی جیسے ہی سٹارٹ ہوئی تھی حیدر صاحب نے مرتضی صاحب کے گھر کی طرف دیکھا تھا جہاں انکے لگائے ہوئے ملازم گھر کو پہلے جیسا بنا رہے تھے۔۔۔
انہوں نے سرد آہ بھری تھی ازلان اور روحین دونوں کے چہرے انکی آنکھوں کے سامنے گھوم رہے تھے۔۔۔۔
"یا اللہ رحم کرنا میری بچی پر۔۔۔وہ بہت معصوم ہے۔۔۔"
حیدر صاحب نے سرگوشی کی تھی۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"یہ ایکسیڈنٹ نہیں سوچی سمجھی سازش تھی کسی نے آپ کی بہو کو مارنے کے لیے ہائر کیا تھا اسے۔۔۔"
"کیا بکواس کررہے ہو۔۔؟؟ کون ہے وہ میں اسے زندی گاڑھ دوں گا۔۔۔"
دلاور صاحب آگے بڑھے تھے غصے سے ایک تو انکی بیٹی کو ہوش نہیں آرہا تھااوپر سے یہ سچ جاننے کے بعد انکا خون خول رہا تھا
"وہ جس نے یہ ایکسیڈنٹ کروایا اسکا سراغ تو ابھی تک نہیں مل سکا۔۔۔ پر جس سے ایکسیڈنٹ کروایا اسے بھی موقع پر مار دیا گیا۔۔۔اسکی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی گئی ہے۔۔۔ فون ری کور کرلئیے گئے ہیں ہم جلدی ہی رپورٹ تیار کرلیں گے۔۔۔
آپ کی بیٹی کو جیسے ہی ہوش آئے گا ان سے کسی کو بھی ملنے کی اجازت نہیں ہوگی جب تک پولیس انکا سٹیٹ منٹ ریکارڈ نہ کرلے۔۔۔"
وہ آفیسرز وہاں سے چلے گئے تھےان سب کو شاکڈ چھوڑ کر۔۔۔
"میری بچی۔۔۔ کس نے ایسا کیا میری بیٹی کے ساتھ دلاور پلیز ابا جان کو فون کریں وہ اس مجرم کو ڈھونڈ نکالیں گے۔۔۔انہیں اطلاع دیں۔۔۔"
معاذ واپس شیشے کے پاس کر کھڑا ہوگیا تھا جہاں سے اسے روحین پٹیوں میں بندھی ہوئی مشینوں میں گھری ہوئی دیکھائی دے رہی تھی۔۔۔
۔
"روحین ایم سوری۔۔۔پلیز معاف کردو پھر کبھی نہیں بھولوں گا ہماری اینیورسری۔۔۔
تمہاری سالگرہ۔۔۔ پھر کچھ نہیں بھولوں گا۔۔۔"
آنکھوں سے بےتحاشہ آنسو بہہ رہے تھے جب روحین کے والدہ نے معاذ کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
"وہ ٹھیک ہوجائے گی بیٹا بس دعا کرو۔۔۔پلیز۔۔۔"
۔
۔
کچھ گھنٹے صدیوں کے جیسے گزرے تھے بہت سے رشتے دار آئے اور چلے گئے تھے
سب روحین کا پوچھ رہے تھے پر اسے تو ہوش آہی نہیں رہا تھا۔۔۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جارہا تھا ڈاکٹرز ایک ہی جواب دے رہے تھے کومے میں جانے کا۔۔۔
یہ جواب اور پریشان کررہے تھے گھر والوں کو۔۔۔
معاذ نے خود کو ایک کارنر پر جیسے اس روم کے سامنے جکڑ لیا تھا وہ کسی سے بات نہیں کررہا تھا کسی کا جواب نہیں دے رہا تھا۔۔۔وہ خاموش ہوگیا تھا پوری طرح سے۔۔۔
بار بار روحین کا نام لیکر معافی مانگ رہا تھا اور کچھ نہیں۔۔۔
۔
پئشنٹ کو ہوش آگیا ہے۔۔۔۔"
۔
ڈاکٹر کی آواز نے جیسے معاذ کو ایک نئی زندگی بخشی تھی۔۔۔سب سے پہلے وہ اندر جانے لگا تھا جب پولیس آفیسر نے اسکا راستہ روک دیا تھا
"پہلے ہم سٹیٹ منٹ لیں گے سر۔۔۔"
اور وہ لوگ اندر چلے گئے تھے۔۔۔۔
۔
"دیکھیں میڈم کچھ یاد کرنے کی کوشش کیجئے آپ کے سامنے کوئی ایسا چہرہ یا کوئی شخص جسے آپ نہ جانتی ہوں کوئی تو۔۔۔"
پر روحین نے آنکھیں بند کرلی تھی ایکسیڈنٹ سے پہلے اسے ایک ہی چہرہ دیکھائی دے رہا تھا
جو اسکا ماضی تھا جسے وہ چاہ کر بھی یاد نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔
۔
"نہیں آفیسر۔۔۔ آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی میری تو دشمنی بھی نہیں کسی کے ساتھ۔۔پلیز میں اب اور کسی سوال کا جواب نہیں دینا چاہتی۔۔۔"
"اوکے میم۔۔۔اگر آپ کو کوئی بھی ایسی بات محسوس ہو جو خطرے کا باعث ہو آپ ہمیں ان نمبرز پر کال کرکے بتاسکتی ہیں۔۔۔"
سائیڈ ٹیبل پر وہ اپنا کارڈ رکھ کر چلے گئے تھے
۔
"ہم نے ان کا سٹیٹ منٹ تو لے لیا ہے۔۔۔مگر آپ سب سے یہی کہیں گے کہ آپ اپنی آنکھیں کھلی رکھیں جنہوں نے ایک بار حملہ کیا وہ دوبارہ بھی کرسکتے ہیں۔۔۔"معاذ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر انہیں نے سب باتیں کی تھی اسے مخاطب کرکے اور وہاں سے چلے گئے تھے۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"معاذ سنبھالیں خود کو اگر آپ ہمت ہار جائیں گے تو روحین کو کون سنبھالے گا۔۔؟"
"مجھ میں ہمت نہیں کہ ایک نظر اس چہرے کو دیکھ سکوں تو روحین کیسے برداشت کرے گی جب وہ اپنی آنکھیں کھولے گی۔۔۔ کہاں جاؤں میں۔۔۔کیسے کروں اسکا سامنا۔۔؟؟"
سب کے سامنے رومیسہ نے معاذ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا تھا اور کسی کو زرا فرق نہیں پڑا رہا تھا سب ہی اتنے پریشان ہوگئے تھے روحین کا چہرہ دیکھ کر سب کو اسکی ری ایکشن نے اور غمزدہ کردیا تھا۔۔
۔
"معاذ بیٹا بتانا تو پڑے گا کچھ دیر تک ہوش آجائے گا اسے۔۔۔ میری بیٹی سہی سلامت ہے مجھے اس بات کی خوشی ہے۔۔۔"
۔
وہ لوگ کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگئے تھے پھر نرس روحین کے روم سے باہر آئی تھی جلدی میں۔۔
"پئشنٹ کو ہوش آگیا ہے۔۔ میں ڈاکٹر صاحب کو بلا کر لائی آپ لوگ انکی اجازت کے بعد مل سکتے ہیں۔۔۔"
۔
۔
"دیکھیں انہیں دوسری بار ہوش آیا ہے۔۔۔ پولیس اپنا سٹیٹمنٹ لے گئی ہے آپ لوگوں سے ریکوئسٹ ہے کوئی بھی ایسی بات نہ کیجئے گا کہ انہیں پریشانی ہو کوئی بھی۔۔۔"
ڈاکٹر باہر آگئے تھے اور کسی میں ہمت نہیں تھی سب نے معاذ کو اندر جانے کا کہا تھا
جو خود بہت کترا رہا تھا۔۔۔
وہ بنا شور کئیے اندر داخل ہوا تھا روحین کے ماتھے پر جیسے ہی بوسہ دیا تھا لیفٹ سائیڈ پر لگی پٹی نے اسے اشکبار کردیا تھا
"ہیے جان۔۔۔ آج تو جان ہی نکال دی تھی تم نے۔۔۔"
"معاذ۔۔۔۔"
بیڈ پر اپنے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا اس نے۔۔۔
"معاذ میں۔۔۔"
"ایم سوری روحین میں نے لڑائی کی تھی غصہ کیا تھا۔۔۔اب پھر کبھی نہیں کروں گا۔۔۔
ایم سوری۔۔۔"معاذ روحین کے کندھے پر سر رکھے رونا شروع ہوگیا تھا۔۔۔
جس نے روحین کو اتنا شاکڈ کردیا تھا اس لمحے۔۔۔
"معاذ۔۔۔"
"سب کچھ میری وجہ سے ہوا۔۔اگر آفس سے اس وقت تمہیں جانے نہ دیتا تو تم آک سہی ہوتی ۔۔"
"معاذ میں ٹھیک ہوں۔۔۔مجھے کیا ہوگا۔۔۔"
"بات کرتے کرتے روحین کا ہاتھ اسکے ماتھے سے ہٹ کر اسکے گال کی طرف چلا گیا تھا جہاں بہت موٹی بینڈایج بندھی تھی۔۔۔
"معاذ یہ۔۔۔"
"ابھی نہیں۔۔۔پلیز ابھی زخم بھرنے دو۔۔۔ ہم بہت بڑے ڈاکٹرز کودیکھائیں گے یہ نشان بھی چلے جائیں گے۔۔"
وہ روحین کو چہرے کو چومتے ہوئے دلاسے دے رہا تھا اب یہ نہیں پتہ تھا اسے دے رہا تھا یا خود کو۔۔۔
۔
۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
۔
۔
"کچھ ہفتے بعد۔۔۔۔"
۔
"تم نے کہا تھا ہم ڈاکٹر کے جائیں گے۔۔۔تو یہ داغ ختم کیوں نہیں ہورہا۔۔۔"
روحین نے اپنے بیڈروم کے شیشے پر گلدان اٹھا کر مارا تھا
"روحین۔۔۔پاگل ہوگئی ہو۔۔۔ تمہیں لگ بھی سکتا ہے کانچ وہیں کھڑی رہو۔۔۔جوتا پہنو کہیں قدم نہ رکھنا زخمی ہوجاؤ گی۔۔۔"
پر وہ اپنی جگہ سے ہل گئی تھی پاؤں پر کانچ چبھ گیا تھا مگر اسے تکلیف نہ ہوئی اس نے آج اپنا آپ دیکھا تھا شیشے میں۔۔۔وہ نیچے بیٹھ گئی تھی ٹوٹے ہوئے شیشے کو اٹھا کر خود کو دیکھا تھا اور پھر معاذ کو۔۔۔
"تم کیسے برداشت کرتے رہے مجھے۔۔۔؟؟ معاذ مجھ سے تو میرا اپنا وجود برداشت نہیں ہوپارہا۔۔۔کیا بن گئی ہوں میں۔۔۔۔"
۔
پورے کمرے کی چیزیں برباد کردی تھی اس نے۔۔۔ معاذ اسے بچا رہا تھا اور وہ ہاتھ پاؤں مار کر اسکی گرفت سے خود کو چھڑا رہی تھی۔۔۔
"چھوڑ دو مجھے۔۔۔ معاذ۔۔۔ میں کیا سے کیا بن گئی۔۔۔"
معاذ کے سینے میں سر چھپائے پوری طرح بریک ڈاؤن ہوچکی تھی اسکی ہستی۔۔۔۔
۔
"بس روحین بس۔۔۔میری جان بس ۔۔۔"
وہ خود بھی آبدیدہ تھا روحین کا درد اسے اندر تک گھائل کررہا تھا

 

See also  Haalim Episode 18

 

Another Novels by Sidra Sheikh Are:

 

 

 

 

ابھی پل سٹور سے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور پائیں منتھلی ڈائیجیسٹ، اردو ناولز اور بہت کچھ

Install Now

 

 

 

 

♥ Download More:

 Areej Shah Novels

 Zeenia Sharjeel Novels

  Sidra Shiekh Novels

 Famous Urdu novel List

 Romantic Novels List

 Cousin Rude Hero Based romantic  novels

آپ ہمیں اپنی پسند کے بارے میں بتائیں ہم آپ کے لیے اردو ڈائجیسٹ، ناولز، افسانہ، مختصر کہانیاں، ، مضحکہ خیز کتابیں،آپ کی پسند کو دیکھتے ہوے اپنی ویب سائٹ پر شائع کریں  گے

 

 

 

 

Copyright Disclaimer:

We Shaheen eBooks only share links to PDF Books and do not host or upload any file to any server whatsoever including torrent files as we gather links from the internet searched through world’s famous search engines like Google, Bing etc. If any publisher or writer finds his / her book here should ask the uploader to remove the book consequently links here would automatically be deleted.

Leave a Comment

close