Faseel e Ishq by Rimsha Hayat | Best Urdu Novels

Faseel e Ishq by Rimsha Hayat, Rimsha Hayat is one of the best famous Urdu novel writer. Faseel e Ishq by Rimsha Hayat is the latest novel . Although it is much the latest, even though it is getting very much fame. Every novel reader wants to be in touch with this novel. Faseel e Ishq by Rimsha Hayat is a very special novel based on our society and love.

Faseel e Ishq by Rimsha Hayat

Faseel e Ishq by Rimsha Hayat

Rimsha Hayat has written many famous novels that her readers always liked. Now she is trying to instill a new thing in the minds of the readers. She always tries to give a lesson to her readers, so that a piece of writing read by a person, and his time, of course, must not get wasted.

Faseel e Ishq by Rimsha Hayat | Rude Hero Based Novel

Faseel e Ishq by Rimsha Hayat Urdu Novel Read Online & Free Download, in this novels, fight, love, romance everything included by the writer. There are also sad moments because happiness in life is not always there. So this novel is a lesson for us if you want to free download Faseel e Ishq by Rimsha Hayat to click on the link given below,

↓ Download  link: ↓

If the link doesn’t work then please refresh the page.

Faseel e Ishq by Rimsha Hayat Ep 1 to 7 PDF

 

Read Online Faseel e Ishq by Rimsha Hayat:

باہر سے آتی عورتوں کی آوازیں اندر بیٹھے وجود کو پوری طرح پاگل کر چکی تھیں۔
وہ ایسی تو نہیں تھی لیکن اپنے کردار کے بارے میں جو باتیں ایک رات میں اسے سننے کو ملی تھیں وہ سن کر خود بھی دہل گئی تھی ۔
اپنے خیالوں میں کھوئی زری زور سے دروازہ کھلنے کی آواز پر چونکی تھی ۔
ایک عورت کمرے میں داخل ہوئی جو شاید لڑکی کی ماں تھی ۔
” اماں میری بات کا یقین کر تیری بیٹی ہوں میں تجھے زرا سا بھی بھروسہ نہیں ہے مجھ پر اللہ کا واسطہ ہے میرے ساتھ یہ ظلم مت کر۔“
زری نے اپنی ماں کے آگے ہاتھ جوڑتے بے بسی سے کہا۔جو سچائی جانتے ہوئے بھی اپنی بیٹی کے لیے کچھ نہیں کر پارہی تھی ۔
” آہستہ بول باہر لوگ بیٹھے ہیں میں تجھے عزت سے رخصت کرنا چاہتی ہوں ایک غلطی تو نے حویلی جا کر کی یہ تجھے اُسی کی سزا مل رہی ہے اب خاموشی سے تیار ہو جا
باہر مولوی صاحب آگئے ہیں۔“
رضیہ نے زری کی بات کو نظر انداز کرتے کہا
اماں میں چھوٹے صاحب سے نکاح نہیں کروں گی تو میرا گلہ دبا دے لیکن میں اُس نیچ اور گھٹیا انسان سے نکاح نہیں کروں گی
زری نے اپنی ماں کے قدموں میں بیٹھتے ہوئے کہا ۔
” میری دھی صبر رکھ کوئی تیرے ساتھ ہو یا نا ہو پاک پروردگار کی ذات ہمیشہ تیرے ساتھ رہے گی میں اکیلی عورت کچھ نہیں کر سکتی
گاؤں والے تیرے کردار پر انگلی اٹھا رہے ہیں
جانتی ہوں میری دھی رانی کا کوئی قصور نہیں ہے لیکن غلط ہمیشہ عورت ذات کو ہی سمجھا جاتا ہے مرد کا کیا ہے وہ تو گناہ کرکے بھی سینہ چوڑا کیے چلتا ہے لیکن عورت ہمیشہ بےبسی کا پتلا بن جاتی ہے۔“
زری کی ماں نے اپنی لاڈلی کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا ۔
لیکن اماں مجھے اُس جانور کے ساتھ نکاح نہیں کرنا میرا کیا قصور ہے؟ میں ہی کیوں قربانی دوں
وہ سب اُس کی چال تھی وہ میرے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کر رہا تھا اماں وہ جھوٹ بول رہا ہے آپ لوگوں کو کیوں نظر نہیں آرہا؟
زری نے روندی آواز میں بے بسی سے کہا ۔
دیکھ زری نکاح تیرا چھوٹے صاحب کے ساتھ ہی ہو گا چاہے تو راضی ہو یا نا ہو یہ بات تو بھی جانتی ہے ۔
اس لیے خاموشی سے تیار ہو کر باہر آجا اگر تیرا نکاح چھوٹے صاحب کے ساتھ نا ہوا تو وہ کیا کرے گا یہ بھی تو اچھے سے جانتی ہے تیری ماں تیرے آگے ہاتھ جوڑتی ہے اپنی ماں کو مزید رسوا نا کر اگر آج تیرا باپ زندہ ہوتا تو یہ سب کبھی نا ہونے دیتا ۔
رضیہ نے زری کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا
اپنی ماں کے جڑے ہاتھوں کو دیکھ کر زری نے اپنی ماں کو ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیا اور سر نیچے کیے اپنے آنسوؤں کو باہر نکلنے سے روکنے لگی ۔
میں نکاح کے لیے تیار ہوں کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد زری نے اپنی ماں کی طرف دیکھتے ہوئے پختہ لہجے میں کہا
جو تکلیف سے مسکرا پڑی تھیں ۔
Faseel e Ishq by Rimsha Hayat | Best Urdu NovelsFaseel e Ishq by Rimsha Hayat | Best Urdu NovelsFaseel e Ishq by Rimsha Hayat | Best Urdu NovelsFaseel e Ishq by Rimsha Hayat | Best Urdu NovelsFaseel e Ishq by Rimsha Hayat | Best Urdu NovelsFaseel e Ishq by Rimsha Hayat | Best Urdu Novels
کیسے صبر کر لوں یار کیسے؟
میری بیوی مارکیٹ جاتی ہے اور واپس نہیں آتی ہر جگہ میں نے اسے تلاش کر لیا دن سے رات ہو گئی لیکن اقرا کا کچھ بھی پتہ نہیں
کیسے میں صبر کر لوں؟
عباس نے سرخ آنکھیں عمر کے سنجیدہ چہرے پر گاڑھتے ہوئے کہا۔
عمر جانتا تھا اس وقت عباس کس قدر غصے میں ہے وہ یہ بھی جانتا تھا اس وقت عباس جتنا بھی باہر سے مضبوط نظر آنے کی کوشش کر رہا ہو اندر سے اتنا ہی اس ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا ہے۔
عباس ہمیں پولیس کی مدد لینی چاہیے وہ ہماری مدد ضرور کریں گی ۔
عمر نے عباس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا جس نے عمر کا ہاتھ زور سے جھٹک دیا تھا۔
پولیس والے ہماری مدد کریں گئے اتنا یقین کیوں ہیں تمہیں؟
عباس نے تمسخرانہ انداز میں عمر کو دیکھتے ہوئے پوچھا جو عباس کی بات سن کر خاموش بو گیا تھا ۔مزید کیا کہتا کچھ پرانی تکلیف دہ یادوں نے زبان ہر قفل باندھ دیا تھا ۔
دونوں میں کچھ دیر خاموش چھائی رہی۔ ۔نہیں چھوڑوں گا جس نے بھی میری بیوی کو اغوا کیا ہے عمر اُسے اتنی آسانی سے میں نہیں چھوڑوں گا ۔
عباس تم اُسے ڈھونڈ چکے ہو اور میری نظر میں ایسا کوئی انسان نہیں ہے یہاں جو تم سے بہتر ہو اس معاملے میں اگر بھابھی تمہیں نہیں ملی تو کسی اور انسان کا کیا کہہ سکتے ہیں؟
عمر نے ڈھکے چھپے الفاظ میں عباس کو بہت کچھ باور کروا دیا تھا ۔جس نے بےبسی سے اپنے ہاتھ کا مکا بنا کر دیوار ر دے مارا ۔
عباس نے اتنی شدت سے دیوار پر مکا مارا کہ اس کے ہاتھ سے خون نکلنے لگا تھا ۔
عمر نے سنجیدگی سے عباس کو دیکھا جو بےبسی کا پتلا بنا کھڑا تھا ۔
عباس دو انسان ہماری مدد کر سکتے ہیں ایک پاشا اور دوسرا شیرو عمر نے گہرا سانس لیتے ہوئے کہا ۔
اُس انسان سے میں کبھی مدد نہیں لوں گا اور میں قسم نہیں توڑنا چاہتا ۔
عباس نے سرد لہجے میں کہا
تمھارے پاس اگر دوسرا راستہ ہے تو بتا دو اور اس وقت یہ سوچو کہ بھابھی کس حالت میں ہوں گی ایک بار وہ مل جائے تو پھر اپنی مرضی کرنا ۔ شیرو کو بے شک چھوڑ دو لیکن اس وقت ہمیں پاشا کی ضرورت ہے۔ ہم اُس سے مدد لے سکتے ہیں اس سے تمھاری قسم بھی نہیں ٹوٹے گی ۔اور پاشا بھابھی کو جلدی تلاش کر لے گا۔عمر نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔
عباس نے گہرا سانس لیا ۔
بےشک عمر ٹھیک کہہ رہا تھا ۔
ٹھیک ہے اقرا کے لیے میں کچھ بھی کر سکتا ہوں ۔عباس نے پختہ لہجے میں کہا ۔
لیکن وہ نہیں جانتا تھا پاشا کے پاس واپس جا کر وہ کتنی بڑی غلطی کرنے والا ہے ۔
Faseel e Ishq by Rimsha Hayat | Best Urdu NovelsFaseel e Ishq by Rimsha Hayat | Best Urdu NovelsFaseel e Ishq by Rimsha Hayat | Best Urdu Novels
Faseel e Ishq by Rimsha Hayat | Best Urdu NovelsFaseel e Ishq by Rimsha Hayat | Best Urdu NovelsFaseel e Ishq by Rimsha Hayat | Best Urdu Novels
شاہ میر کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا جیسا وہ چاہتا تھا وہ ہو گیا تھا جیسے چاہا اُس کے ساتھ نکاح ہو گیا ۔سفید شلوار قمیض میں اپنی لمبی مونچھوں کو تاؤ دیتے ٹانگ ہر ٹانگ رکھے وہ سامنے صوفے پر براجمان تھا ۔
پتر اب تو خوش ہے نا؟ فضیل اعوان نے اپنے بیٹے کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر پوچھا۔
ابا جان یہ سب آپ کی وجہ سے ممکن ہوا ہے اور میں آج بہت خوش ہوں ۔
شامیر نے چہرے پر شاطر مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا ۔
ابا جان میں اپنی محبت سے کب مل سکتا ہوں؟ شاہ میر نے بے تابی سے پوچھا ۔
پتر یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے وہ اب تیری بیوی ہے کسی بھی وقت تو اُس سے مل سکتا ہے جا میرا پتر
فضیل اعوان نے اپنے بیٹے کو دیکھتے ہوئے فخریہ انداز میں کہا ۔
ابا جان کیا رخصتی آج نہیں ہو سکتی؟ شاہ میر نے صوفے سے اٹھتے ہوئے اپنے باپ سے پوچھا ۔
ایک مہینے کی بات ہے فضیل نکاح تو تیرا ہو گیا تھوڑا اور صبر کر لے
فضیل اعوان کی گرجدار آواز شاہ میر کے لبو پر مسکراہٹ لے آئی تھی وہ جانتا تھا جب اس کا باپ اس کا نام لیتا تو معاملہ سنجیدہ ہوتا تھا ۔
جی ابا جی جیسی آپ کی مرضی
شاہ میر نے فرمانبرداری سے کہا اور کمرے سے نکل گیا ۔
کمرے سے باہر نکلتے ہی اس نے رانی کو دیکھا جس کی سوجی ہوئی آنکھیں کھلی کتاب کی طرح سب بیان کر رہی تھیں ۔لیکن مقابل کو پرواہ کہاں تھی ۔
کیا ہے؟ شاہ میر نے ماتھے پر بل ڈالے کرخت لہجے میں پوچھا ۔
وہ میں ابا جان کے لیے لسی لے کر جا رہی تھی ۔رانی نے ڈرتے ہوئے جلدی سےکہا ۔
تو جاؤ اندر یہاں کھڑی میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو؟ شاہ میر نے گھورتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا رانی نے اپنے آنسوؤں کو باہر نکلنے سے روکا تھا یہ تکلیف اور بے رخی تو اسے اب پوری زندگی برداشت کرنی تھی ۔
رانی بوجھل قدموں کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئی سامنے ہی فضیل اعوان حقہ پی رہا تھا ۔
آؤ بہو رانی تمھارا ہی انتظار کر رہا تھا ۔
فضیل اعوان نے آنکھوں میں خباثت لیے رانی کو سر سے پاؤں تک گھورتے ہوئے کہا۔جس نے بڑی سی کالی چادر سے خود کو ڈھانپا ہوا تھا۔
ابا جی آپ کی لسی
رانی نے فضیل اعوان کے پاس لسی رکھتے ہوئے کہا ۔اور وہاں سے جانے کے لیے مڑ گئی بہو رانی….
فضیل نے رانی کو آواز دی جس کے قدم تھمے ضرور تھے لیکن اس نے مڑ کر نہیں دیکھا ۔
شاہ میر تو اپنی دوسری بیوی کے پاس گیا ہے تم تھوڑی دیر اپنے سسر کے پاس بیٹھ جاؤ
فضیل اعوان نے حقے کا کش لیتے کہا ۔
ابا جی مجھے کچن میں کام ہے اگر آپ نے باتیں کرنی ہے تو میں کسی ملازم کو آپ کے پاس بھیج دیتی ہوں رانی نے دوٹوک انداز میں کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
پیچھے فضیل نے غصے سے حقے کو زمین پر پھینک دیا تھا
دیکھ لوں گا تجھے بھی
فضیل اعوان نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا ۔
Faseel e Ishq by Rimsha Hayat | Best Urdu NovelsFaseel e Ishq by Rimsha Hayat | Best Urdu NovelsFaseel e Ishq by Rimsha Hayat | Best Urdu NovelsFaseel e Ishq by Rimsha Hayat | Best Urdu Novels
زری بیڈ کی دائیں جانب بیٹھی تھی بے تاثر نظروں سے اپنے ہاتھ کی لکیروں کو دیکھ رہی تھی کتنی خوش تھی جب وہ اپنی ماں کے گاؤں آئی تھی ۔کاش وہ یہاں نا آتی ۔
زری اپنے خیالوں میں اس قدر کوئی ہوئی تھی کہ اسے شاہ میر کا کمرے میں داخل ہونا بھی اسے معلوم نہیں ہوا ۔
شاہ میر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا جو ہوش میں آتے ہی ایک دم شاہ میر سے کچھ فاصلے ہر جا کھڑی ہوئی تھی ۔
شاہ میر گہری نظروں سے زری کو دیکھ رہا تھا ۔جو سرخ رنگ کے سوٹ میں بنا میک اپ کے بہت خوبصورت لگ رہی تھی ۔آنکھیں رونے کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھیں ۔
مجھے نہیں معلوم تھا برسات کے بعد کا موسم اس قدر دلکش ہوتا ہے شاہ میر نے زری کی نم آنکھوں کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا ۔
جو اب اپنا رخ موڑ کر کھڑی ہو گئی تھی ۔
شاہ میر نے زری کو بازو سے پکڑا اور ا سکا رخ خود کی طرف کیا یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ زری کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا۔
شاہ میر نے زری کی کمر پر گرفت مضبوط کرتے اسے خود کے بےحد قریب کیا جو خود کو آذاد کرنے کی ناکام سی کوشش کر رہی تھی ۔
شاہ میر تو زری کے چہرے میں کہی کھو سا گیا تھا اس کی آنکھوں سے نکلتے آنسوؤں کو اس نے اپنے انگوٹھے سے صاف کیا ۔
زری نے نظریں اٹھا کر شاہ میر کی طرف دیکھا جو دلچسپی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
چھوڑو مجھے زری نے اپنا پورا زور لگاتے ہوئے شاہ میر کو پیچھے دھکا دیا ۔
جو ایک دم ہوش میں آیا تھا اور اسے زری کی یہ حرکت بہت بری لگی تھی ۔
اس نے زری کو بالوں سے پکڑا جس کے منہ سے درد کے مارے سسکی نکلی تھی ۔
” تمھیں پسند ضرور کرتا ہوں لیکن اتنا بھی نہیں کرتا کہ تم مجھے نخرے دکھاؤ
ایک بات یاد رکھنا تم اب میری بیوی ہو اگر پیار سے رہو گی میری ساری باتیں مانو گی تو میں بھی تمہیں پیار سے رکھوں گا۔
اور اگر تم نے مجھے اپنے قریب آنے سے روکا تو میں زبردستی بھی کر سکتا ہوں یہ بات تو تم. اچھےسے جانتی ہو ۔
اگر شاہ میر زرتشہ پر الزام لگا کر اس سے نکاح کر سکتا ہے سب کی ہمدردی لے سکتا ہے تو وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔
میری اس بات کو اپنے دماغ میں اچھے سے بیٹھا لینا تمھارے پاس صرف ایک مہینہ ہے اُس کے بعد تم میرے پاس آجاؤ گی تو خود کو تیار کر کے آنا۔اور ہاں وہ تھپڑ میں بھولا نہیں ہوں اُس تھپڑ کی سزا کے لیے بھی تیار رہنا۔“
شاہ میر نے زری کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا جو بے آواز رو رہی تھی ۔جھٹکے سے اسکے بالوں کو چھوڑا جو اپنا توازن برقرار نہیں رکھ سکی اور زمین پر جا گری ۔
رانی کی طرح تیری اوقات بھی یہی ہے اگر تو نے اُس دن مجھے تھپڑ نا مارا بوتا تو آج شاہ تجھے سر آنکھوں پر بیٹھا کر رکھتا
شاہ میر نے زمین پر گری اپنی قسمت پر آنسو بہاتی زری کو دیکھتے ہوئے حقارت سے کہا
اور کمرے سے نکل گیا۔
تھوڑی دیر بعد ہی رضیہ کمرے میں داخل ہوئی اور اپنی بیٹی کی حالت دیکھ تڑپ گئی تھی۔
زری میری دھی تو ٹھیک ہے؟ چل گھر چلتے ہیں رضیہ نے زری کا ڈوپٹہ ٹھیک کرتے اسے کھڑے کرتے کہا جو بت بنی اپنی ماں کے ساتھ چل پڑی تھی آج سے پورے ایک ماہ بعد اس نے اس جہنم میں دوبارہ آنا تھا ۔ویسے تو حویلی کے پیچھے بنے کمرے میں ہی جا رہی تھی لیکن اس نے سوچ لیا تھا اب اسے کیا کرنا ہے ۔
Faseel e Ishq by Rimsha Hayat | Best Urdu NovelsFaseel e Ishq by Rimsha Hayat | Best Urdu NovelsFaseel e Ishq by Rimsha Hayat | Best Urdu NovelsFaseel e Ishq by Rimsha Hayat | Best Urdu NovelsFaseel e Ishq by Rimsha Hayat | Best Urdu Novels
واہ میرے شیر آج تجھے کیسے میری یاد آگئی یا کوئی مجبوری تمہیں میری طرف کھینچ لائی ہے؟
پاشا نے وائن کا گلاس لبوں سے لگاتے ہوئے عباس کو دیکھ کر کہا ۔جو چہرے پر سرد تاثرات لیے بیٹھا تھا ۔
مجھے تمھاری مدد چاہیے عباس نے سیدھے مدعے کی بات پر آتے ہوئے کہا ۔
شیرو پاشا سے مدد مانگ رہا ہے؟ پاشا نے حیرانگی سے پوچھا اس کے ارد گرد کھڑے گارڈ بھی عباس کی بات سن کر حیران بوئے تھے ۔
میرا نام عباس ہے اگر میں شیرو ہوتا تو تم سے مدد مانگنے کبھی نا آتا ۔شیرو مر چکا ہے ۔
عباس نے سرد لہجے میں کہا ۔
تم میرے لیے ہمیشہ سے شیرو تھے اور شیرو ہی رہو گے ۔اور یہ بات بھی سچ ہے شیرو اکیلا ہی کافی ہے اُسے پاشا کی مدد کی ضرورت نہیں ہے لیکن میں عباس کی مدد کیوں کروں؟
پاشا نے تھوڑا آگے جھکتے ہوئے پوچھا ۔
پاشا جو کچھ بھی کرتا پیسے کے لیے کرتا میں بھی تمہیں منہ مانگی قیمت دوں گا۔
عباس نے پاشا کی براؤن آنکھوں میں اپنی کالی آنکھیں گاڑھتے ہوئے کہا ۔
ٹھیک ہے بولو کیسی مدد چاہیے تمہیں؟
پاشا نے سگار کو جلاتے ہوئے پوچھا ۔
میں اپنی بیوی کو صبح سے تلاش کر رہا ہوں لیکن وہ مجھے کہی نہیں ملی میں چاہتا ہوں تم اسے تلاش کرو اور کل تک مجھے اپنی بیوی چاہیے ۔
عباس نے بے تاثر لہجے میں کہا ۔
اوو تو بیوی کی محبت تمہیں دوبارہ یہاں تک کھینچ لائی
ہوجائے گا تمھارا کام اور تم سے پیسے میں کام ہونے کے بعد لوں گا
پاشا نے سگریٹ کا گہرا کش لیتے ہوئے کہا ۔
” ٹھیک ہے جیسی تمھاری مرضی “
عباس نے کہا اور وہاں سے اٹھ کر جانے کے لیے مڑ گیا لیکن پھر رکا اور چلتا ہوا پاشا کے پاس آیا۔
دعا کرنا شیرو کبھی واپس نا آئے ورنہ پاشا کا پھر کوئی وجود نہیں رہے گا ۔عباس نے ہلکا سا مسکرا کر کہا اور لمبے لمبے ڈاگ بھرتا وہاں سے چلا گیا۔
تمہاری یہی باتیں تو مجھے متاثر کرتی ہیں شیرو
آئی لائیک اٹ پاشا نے مسکراتے ہوئے خود سے کہا ۔
” کل صبح شیرو کی بیوی کی لاش اس کے گھر میں پہنچ جانی چاہیے اور سارے ثبوت مٹا دینا ۔“
پاشا نے سنجیدگی سے اپنے آدمیوں کو کہا اور اپنے کوٹ کا بٹن بند کرتے وہاں سے چلا گیا ۔
Faseel e Ishq by Rimsha Hayat | Best Urdu NovelsFaseel e Ishq by Rimsha Hayat | Best Urdu NovelsFaseel e Ishq by Rimsha Hayat | Best Urdu NovelsFaseel e Ishq by Rimsha Hayat | Best Urdu NovelsFaseel e Ishq by Rimsha Hayat | Best Urdu NovelsFaseel e Ishq by Rimsha Hayat | Best Urdu Novels
رضیہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتی تھی اس کی دو بیٹیاں تھیں ۔بڑی زرتشہ جسے بچپن سے اس کی خالہ اپنے ساتھ لے گئی تھی اس کی خالہ کی کوئی اولاد نہیں تھی اس لیے زری کو اپنی بیٹی بنایا ہوا تھا ۔
رضیہ کے شوہر کا انتقام ہو چکا تھا وہ فضیل اعوان کا خاص ملازم تھا اور جب فضیل کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی تو اسے بچانے کے چکر میں گولی اس کے دل پر جا لگی تھیاور اُسی وقت اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا ۔
رضیہ حویلی میں ملازمت کرنے لگی تھی۔اور فضیل اعوان نے اسے حویلی کی پیچھلی سائیڈ پر ایک چھوٹا سا کمرہ دیا تھا جہاں رضیہ اپنی چھوٹی بیٹی کے ساتھ رہتی تھی ۔
Faseel e Ishq by Rimsha Hayat | Best Urdu Novels