Vampire Love by Rimsha Hayat | Best Urdu Novels

Vampire Love by Rimsha Hayat is the best novel ever. Novel readers liked this novel from the bottom of their hearts. Beautiful wording has been used in this novel. You will love to read this one. Vampire Love by Rimsha Hayat is very romantic novel, if you love to read romantic novels then you must read Vampire Love by Rimsha Hayat.

This novel is a special novel, many social evils has been represented in this novel. Different things that destroy today’s youth are shown in this novel. All type of people are tried to show in this novel.

Vampire Love by Rimsha Hayat

Vampire Love by Rimsha Hayat

She has written many novels, which her readers always liked. She tries to instill new and positive thoughts in young minds through her novels. She writes best. 

 

If you want to download this novel, you can download it from here:

↓ Download  link: ↓

Note!  If the link doesn’t work please refresh the page

Vampire Love by Rimsha Hayat PDF Ep 1 to Last

 

 

 

Read Online Vampire Love by Rimsha Hayat:

تمہیں کیا لگتا ہے؟
تم اس لڑکی کو مجھ سے بچا لو گے تو یہ تمہارے بہت بڑی بھول ہے ۔
مجھے جب کوئی چیز پسند آجائے تو وہ میری ہو جاتی ہے ۔
اور یہ لڑکی…
جیک نے لڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جو زمین پر بے ہوش پڑی تھی اور اس کے سر سے خون نکل رہا تھا۔
یہ تو میرے دل میں آ بسی ہے۔ اور اسے میں چھوڑ دوں یہ اب ناممکن ہے ۔
جیک نے قہقہہ لگا کر کہا اور اگلے ایک سیکنڈ میں وہاں سے غائب ہو گیا۔
……………….
ماما جلدی کریں مجھے دیر ہو رہی ہے۔
لیزا نے اپنی ماما کو آواز دیتے ہوئے کہا.
لیزا اور اس کی ماما دونوں اکیلی رہتی تھیں
۔یہ گھر لیزا کے والد نے بہت پیار سے اپنی بیٹی کے لیے بنایا تھا.
جب لیزا پیدا ہوئی تھی تو اس کے کچھ دن بعد لیزا کے پاپا کی ایک حادثے میں موت ہو گئی تھی۔
تب سے دونوں ماں بیٹی اکیلی رہتی تھیں ۔
بس بیٹا ہو گیا لیزا کی ماما نے ناشتہ لگاتے ہوئے کہا ۔
ماما مجھے آج دیر ہو جائے گی مجھے آیات کی طرف جانا ہےلیزا نے کہا۔
کیا ہوا ہے آیات کو وہ ٹھیک ہے؟ لیزا کی ماما نے فکرمندی سے پوچھا ۔
وہ ماما آیات دو دن سے بیمار ہے۔
لیزا نے جوس پیتے ہوئے کہا ۔
اووو اللہ اُسے صحت عطا کرے۔
لیزا کی ماما نے کہا۔
آمین.. لیزا نے کہا۔
ٹھیک ہے بیٹا دھیان سے جانا میری طرف سے بھی آیات سے اس کی خیریت پوچھ لینا اور جلدی واپس آنا۔
تمہیں معلوم ہے نہ میں گھر میں اکیلی ہوتی ہوں۔
لیزا کی ماما نے لیزا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
یس ماما میں جلدی آجاؤ گی۔
آپ ٹینشن نہ لیں لیزا نے اُٹھتے ہوئے کہا ۔
ناشتہ تو پورا کر لو لیزا کی ماما نے جب لیزا کو اُٹھتے ہوئے دیکھا تو کہا۔
بس ہوگیا ہے ماما اپنا خیال رکھیے گا ۔۔
اللہ حافظ لیزا کہتے ہی دروازے کی طرف بھاگی۔
۔………………….
ولی تم جانتے ہو تمہارے بھائی نے کتنے معصوموں کی جان لی ہے اور ابھی بھی اسے سکون نہیں مل رہا موسی نے غصے سے کہا ۔
جانتا ہو اور یہ بھی جانتا ہوں وہ معصوم تو بلکل بھی نہیں تھے اور ویسے بھی اسے ڈیڈ کی سپورٹ حاصل ہے ۔
ولی نے کہا ۔
لیکن ہم لوگ تو جانوروں کے خون سے بھی زندہ رہ سکتے ہیں پھر ولید انسانوں کا شکار کیوں کرتا ہے؟
چاہیے وہ معصوم ہوں یا نہ ہوں اگر وہ برے ہیں تو ان کو سزا اُن کا قانون دے گا اس سے ہمارا کیا لینا دینا موسی نے کہا ۔
لیکن یہ بات ولید نہیں سمجھتا اور
تم جانتے ہو نہ انسانوں کاخون کتنا لزیز ہوتا ہے۔
لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں میرا بھائی کبھی بھی کسی بےقصور کی جان نے لے گا ۔
ولی نے سامنے درخت پر بیٹھے طوطے کو دیکھ کر کہا۔
جو اسے کافی دور سے بھی صاف نظر آرہا تھا اور اس کی آواز بھی صاف سنائی دے رہی تھی ۔
ہمممم یہ تو ہے۔
تم اتنے غصے میں کیوں ہو ولی نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔
تم جانتے ہو موسی نے کہا تو ولی اس کی بات پر مسکرا پڑا۔
کیونکہ اکثر ولید dead bodies کو ٹھکانے لگانے کا کام موسی کو دیتا تھا ولید کا ماننا تھا کہ موسی باقی vampire کی نسبت زیادہ تیز اور عقلمند ہے اور موسی کی جان جاتی تھی اس کام کو کرتے ہوئے لیکن کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ احمد صاحب نے خود موسی سے درخواست کی تھی اس لیے سردار کی بات ماننا تو موسی کے لیے مجبوری تھی۔
چلو شکار کرنے چلے مجھے پیاس لگی ہے ولی نے موسی کا موڈ ٹھیک کرنے کے لئیے کہا.
پیاس تو موسی کو بھی لگی تھی۔
موسی کا جب غصہ ٹھنڈا ہوا تھا اسے بھی کا احساس ہوا ۔
چلو مجھے بھی لگی ہے موسی نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا ۔
پھر دونوں اگلے پل وہاں سے غائب تھے ۔
…………………
مسٹر احمد کے دو بیٹے تھے اور ایک بیٹی تھی مسٹر احمد vampire خاندان کے آخری چشمہ وچراغ تھے۔
جیتنے بھی Vampire تھے ان سب پر حکومت مسٹر احمد کی چلتی تھی۔
ولید اور ولی دونوں جڑواں تھے لیکن دونوں کی شکلوں کے ساتھ ساتھ عادتیں بھی الگ تھی…
ایک آسمان تھا تو دوسرا زمین…
دونوں کی کبھی بھی نہیں بنی تھی۔
ان کی بہن بیلا سوفٹ نیچر کی تھی ہر ایک کے ساتھ گل مل جاتی تھی ۔
ولی نے بہت پہلے انسانوں کا خون پینا چھوڑ دیا تھا اس نے اپنی پیاس پر قابو پانا سیکھ لیا تھا۔
لیکن ولید اپنی پیاس بجھانے کے لئے زیادہ تر لڑکیوں کا خون پیتا تھا لیکن انہیں مارتا نہیں تھا ۔
خون پینے کے بعد ان کی میموری remove کر دیتا تھا ۔ لیکن جو لوگ دوسرے لوگوں کے ساتھ غلط کرتے تھے ولید اپنے ہاتھوں سے اُن کی جان لینا اپنا فرض سمجھتا تھا۔
تینوں ایک ہی یونیورسٹی میں پڑھتے تھے۔
……………….
تینوں بہن بھائی خوبصورتی میں اپنی مثال خود تھے۔
یونیورسٹی کی ساری لڑکیاں دونوں بھائیوں پر مرتی تھی۔
ولی کچھ سنجیدہ مزاج کا تھا۔
اس کا ایک ہی دوست تھا موسی ۔
ولی صرف موسی سے بات کرتا تھا ۔
لیکن ولید لڑکیوں کے آگے پیچھے گھومتا تھا جو زیادہ پسند آجاتی اس کا خون ضرور taste کرتا۔
……………
لیزا کو پانچ دن ہوگے تھے یونی جاتے ہوئے آیات اس کی بسٹ فرینڈ تھی یہ دونوں سکول سے ایک ساتھ تھی ۔
کالج بھی اکٹھی گئ تھیں اور اب یونی بھی ایک ساتھ داخل ہوئی تھیں ۔
آیات کو پیچھلے دو دن سے بخار تھا اس لیے آج یونی سے واپسی پر لیزا نے آیات کی طرف جانا تھا
…………….
لیزا یونی میں داخل ہوئی تو ولی کو لیزا کےخون کی خوشبو آئ ۔
جو باقی خون سے الگ تھی ولی نے نظر چاروں طرف دورائ لیکن اب خوشبو آنا بند ہو گئی تھی۔
پتہ نہیں کیوں آج لیزا کو کچھ عجیب سا لگ رہا تھا۔جسے کوئی اس پر نظر رکھے ہوئے ہے ۔
لیزا جلدی یونی سے چلی گئی تھی۔
اسے آیات کی طرف جانا تھا۔
لیزا
آیات کے گھر پہنچی تو آیات میڈم باہر ہی لانچ میں بیٹھی ہوئی تھی۔
مجھے اتنا پریشان کرکے تم یہاں ٹی وی دیکھ رہی ہو لیزا نے آیات کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا۔
یار مجھے سچ میں دو دنوں سے بخار تھا لیکن آج میں تھوڑی ٹھیک ہو تو ماما نے کہا کہ کمرے سے باہر نکلو اس وجہ سے یہاں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی ہوں۔
کچھ اور کرنے کو تو تھا نہیں ۔آیات نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔
آیات شکل سے ہی کمزور لگ رہی تھی ۔
تمہیں معلوم ہے نہ تمہارے بغیر میں کتنی بور ہوتی ہوں یونیورسٹی میں تمہارے علاوہ میرا اور کوئی بھی فرینڈ نہیں ہے۔
لیزا نے منہ بناتے ہوئے آیات کو لیزا اس وقت بہت کیوٹ لگ رہی تھی۔
کوئی بات نہیں کل سے میں یونیورسٹی جاؤ گی تو تمہاری بوریت ختم ہو جائے گی آیات نے ہنستے ہوئے کہا۔
اچھا تم بیٹھو میں کچھ کھانے کے لیے لاتی ہوں ۔
نہیں یار رہنے دو مجھے کچھ نہیں کھانا لیزا نے کہا اچھ
چلو پھر کمرے میں چل کر باتیں کرتے ہیں آیات نے کہا۔
ہمم چلو آنٹی کہا ہے لیزا نے اٹھتے ہوئے پوچھا؟
وہ ساتھ والے گھر گئ ہیں ۔آیات نے جواب دیا اور پھر دونوں کمرے کی طرف چل پڑی۔
……………..
آیات بھی اکلوتی تھی آیات اور لیزا دونوں
فرینڈ سے زیادہ بہنیں بن کر رہتی تھی۔
دونوں اپنے مسائل ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتی تھیں۔
دونوں میں بہنوں جیسا پیار تھا ان دونوں کے ہوتے ہوئے ان کو کبھی بھی تیسرے کی کبھی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی۔
اگلے دن آیات اور لیزا دونوں اکٹھی یونیورسٹی گئ تھیں۔
ابھی کلاس شروع ہونے میں تھوڑا وقت تھا اس لئے دونوں ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئی تھیں ۔
تھوڑی دیر بعد ولید، ولی اور بیلا یونیورسٹی میں داخل ہوئے تھے ۔
سارے سٹوڈنٹ ان کو دیکھ کر کانوں میں سرگوشیاں کرنے لگے تھے۔
لیکن ان کو پروا نہیں تھی۔
ان تینوں کی رنگت بہت سفید تھی
آنکھوں کا کلر بھی بہت دلکش اور خوبصورت تھا دیکھنے والے ان کی خوبصورتی میں کھو سے جاتے تھے۔
آیات اور لیزا کی نظر ان کی طرف گئ تو لیزا کو ولی کی سرد آنکھیں دیکھ کر خوف سا محسوس ہوا ولی بھی لیزا کو ہی گھور رہا تھا۔
لیزا نے جلدی سے اپنی نظروں کا زاویہ تبدیل کر لیا
آیات نے بس ایک نظر دیکھ کر اپنا منہ نیچے کر لیا تھا۔
یہ دونوں ایسی ہی تھیں
یہ دونوں ہمیشہ کو ایجوکیشن میں پڑھیں تھیں لیکن آج تک ان کا کوئی لڑکا دوست نہیں تھا۔
شاید ان کو ضرورت نہیں تھی ۔ان دونوں کو اپنے علاوہ کسی اور کی ضرورت کبھی محسوس ہی نہیں ہوئ تھی۔
لیکن پتہ نہیں کیوں لیزا کو ولی سے خوف محسوس ہوا تھا۔
اس کی سنجیدہ سی آنکھیں لیزا کو ایسا لگ رہا تھا جیسے ولی لیزا کے جسم کے آر پار دیکھ رہا ہو۔
ولی کو وہی خوشبو پھر سے آئ تھی ولی نے اردگرد دیکھا تو اس کی نظر لیزا پر پڑی تھوڑی دیر اسے دیکھنے کے بعد تینوں وہاں سے گزر کر اپنی کلاس میں چلے گئے۔
لیزا اور آیات بھی اٹھ کر اپنی کلاس میں چلی گئیں اور اتفاق سے ان سب کی کلاس بھی ایک ہی تھی۔
لیزا اور آیات جب اندر داخل ہوئی تو ولی کو وہی خوشبو پھر سے آئی ولی نے دروازے کی طرف دیکھا تو دو لڑکیاں کھڑی تھیں ۔
دونوں ہی خوبصورت تھیں یہ وہی لڑکیاں تھیں جس کو ولی نے درخت کے نیچے بیٹھا ہوا دیکھا تھا۔
ولید کسی لڑکی سے بات کر رہا تھا جب اس نے بھی دروازے کی طرف دیکھا۔
تو اسے آیات میں ایک عجیب سی کشش محسوس ہوئی جو باقی لڑکیوں میں نہیں تھی ۔آیات کو دیکھ کر جو پہلا لفظ ولید جے زین میں آیا تھا وہ تھا
Tasty .
لیکن آیات نے ولید کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کیا اور یہ بات ولید کو بہت نا گوار گزری۔
ولید اور ولی یونیورسٹی کے ہینڈسم لڑکوں میں سے تھے ولی تو اپنے سنجیدہ مزاج کی وجہ سے کسی سے بات نہیں کرتا تھا لیکن ولید کے پیچھے تو ساری لڑکیاں پاگل تھی۔
اور آیات کا ولید کو اگنور کرنا ولید کو غصہ دلا گیا تھا۔
ولید نے آیات سے ملنے کا سوچا شاید وہ آیات کا بھی خون پینا چاہتا تھا۔
لیکن آگے کیا ہونے والا تھا یہ تو وقت ہی بتانے والا تھا۔
لیزا ولی کے پاس سے گزری تو ولی کو معلوم ہوگیا کہ یہ خوشبو اس کے خون کی ہے ۔
ولی نے بہت سے خون پیتے تھے لیکن اس خوشبو کی بات الگ ہی تھی۔
ولی نے لوگوں کا خون پینا چھوڑ دیا تھا لیکن اس لڑکی کے خون کی خوشبو ولی کو اس لڑکی کا خون پنے پر اکسا رہی تھی ۔
ولی نے اپنے آپ کو بہت مشکل سے روکا ہوا تھا اس وقت ولی کو اپنے آپ پر کنٹرول جرنا مشکل لگ رہا تھا
موسی نے جب ولی کی حالت دیکھی تو اس نے فکرمندی سے پوچھا ولی تم ٹھیک ہو؟
نہیں میں ٹھیک نہیں ہوں ولی نے کہا ۔
مجھے یہاں سے جانا ہے ولی نے آہستہ آواز میں کہا۔
لیزا کا خون ولی کو اپنی طرف attract کررہا تھا۔
اس کی آنکھوں کا رنگ بھی تبدیل ہونا شروع ہوگیا تھا ۔
موسی ولی کو کلاس سے لے گیا ابھی پروفیسر کلاس میں داخل نہیں ہوئے تھے۔
تھوڑی دیر بعد کلاس سٹارٹ ہو گی۔
اور سارے بچے اپنا اپنا کام کرنے لگے۔
……………..
کنٹین میں لیزا اور آیات دونوں بیٹھی باتیں کر رہی تھی جب ولید ان کے پاس آیا۔
ہیلو گرلز……
کیسی ہو تم دونوں؟
ولید نے کرسی پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
دونوں نے چہرے پر الجھن لیے ولید کی طرف دیکھا ۔
میں نے اپنا تعارف تو کروایا ہی نہیں
شاید تم دونوں یہاں نئی آئی ہو؟
اس لیے مجھے نہیں جانتی ولید نے جلدی سے کہا۔
لیکن ہم آپ کو جانے میں انٹرسٹڈ بھی نہیں ہیں آیات نے جواب دیا۔
Attitude interesting.. I like it….
ولید نے چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا۔
No problem
آپ انٹرسٹڈ نہیں ہے لیکن میں تو ہوں نا ولید نے ڈھیٹ پن کی انتہا کرتے ہوئے کہا۔
میں اپنا تعارف کرواتا ہوں۔
میرا نام ولید احمد ہے ۔
اور میں آپ لوگوں کا کلاس فیلو بھی ہو۔
ولید نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
آپ سے مل کر خوشی ہوئی ولید بھائی۔
لیزا نے مسکراتے ہوئے کہا لیزا ایسی ہی تھی نرم دل کی پیار سے بات کرنے والی
ولید کو لیزا کا بھائی کہنا برا نہیں لگا تھا
بلکہ اسے خوشی ہوئی تھی ۔
اتنے میں بیلا بھی ان لوگوں کے پاس آکر بیٹھ گئی تھی ۔
بیلا نے اپنا تعارف کروایا۔لیزا اور آیات بیلا سے بات کرنے میں بیزی ہوں گیں تھیں
لیزا اور آیات کو بیلا بہت اچھی لگی تھی۔
کیا آپ لوگ میری فرینڈ بننا پسند کرے گیں بیلا نے آنکھوں میں امید لیے پوچھا کیونکہ آج تک کوئی بھی لڑکی اس کی دوست نہیں بنی تھی ساری لڑکیاں بیلا سے دور بھاگتی تھیں ۔
بالکل کیوں نہیں
آیات نے فوراً جواب دیا تو لیزا بھی مسکرا پڑی۔
تو ٹھیک ہے آج سے ہم لوگ فرینڈ ہیں
بیلا نے ہاتھ آگے کرتے ہوئے خوشی سے کہا۔
جسے لیزا اور آیات نے خوشی سے تھام لیا۔
ہیلو گرلز….
میں بھی یہی بیٹھا ہوا ہوں ولید نے کہا
وہ کافی دیر سے ان کی باتیں سن رہا تھا جو ختم ہی نہیں ہو رہی تھیں۔
لوگ ٹھیک ہی کہتے ہیں جہاں پر لڑکیاں مل جائے پھر ان کو کسی چیز کی ہوش نہیں رہتی
اور اس وقت بھی یہی ہو رہا تھا ولید ایک سائیڈ پر بیٹھا ہوا تھا اور بیلا لیزا اور آیات تینوں باتوں میں مصروف تھیں ۔
اوووو ولید بھائی ہم آپ کو تو بھول ہی گئی تھیں
لیزا نے ولید کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
اسی لئے تو کہہ رہا ہوں بہنا میری طرف بھی کوئی توجہ فرمائے میں بھی ان کا ہی بھائی ہو ولید نے آیات کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
اس کی بات پر بیلا اور لیزا دونوں مسکرا پڑی لیکن آیات نے ولید کو گھور کر دیکھا آیات کو ولید کی نظریں کچھ عجیب سی لگ رہی تھیں۔
……………..
موسی ولی کو یونیورسٹی سے باہر لے آیا تھا
تم ٹھیک ہو تمہیں کیا ہوا تھا؟
موسی نے فکرمندی سے پوچھا
پتہ نہیں میں نہیں جانتا لیکن مجھے آج سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا۔
ولی نے کہا
اوکے گھر چلو کچھ دیر آرام کر لو موسی نے کہا
مجھے پیاس لگی ہے ولی نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا
پھر کسی جانور کا شکار کرتے ہیں موسی نے جھٹ سے کہا۔
نہیں مجھے اس کا خون چاہیے مجھے کسی جانور کا خون نہیں پینا مجھے اس کا خون پینا اس کے خون کی خوشبو بہت اچھی ہے مجھے اپنی طرف کھنچتی ہے میں بے بس محسوس کرن لگتا ہوں اپنے آپ کو ولی بے خودی کے عالم میں منہ میں بڑبڑاتے جارہا تھا۔
ولی گھر چلو مجھے تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی موسی نے کہا کیونکہ آج سے پہلے کبھی بھی ولی کے ساتھ ایسا نہیں ہوا تھا۔
مجھے اس کے خون کی خوشبو پاگل کر رہی تھی مجھے اس کا خون چاہیے تمہیں سمجھ کیوں نہیں آرہی
ولی دیوانہ وار اس بار اُنچی آواز میں چیخا اس کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں۔
موسی اس کے پاس آ کے بیٹھا
ولی کیا بول رہے ہو آج سے پہلے تو تمہیں انسانی خون کی اتنی زیادہ طلب نہیں ہوئ ۔
موسی نے ولی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
ولی ایک دم ہوش میں آیا چلو گھر چلیں ولی نے اٹھتے ہوئے کہا
موسی آج تک اس کو سمجھ نہیں پایا تھا پل میں تولہ اور پل میں ماشہ ہو جاتا تھا
اچھا ٹھیک ہے چلو موسی کو معلوم تھا ولی اب اس بارے میں مزید کوئی بات نہیں کرے گا۔
……………….
مسڑ احمد آپ کو اور کتنا وقت چاہیے ہمیں وہ لڑکی کسی بھی حال میں چاہئے ۔
آپ جانتے ہیں اگر وہ لڑکی بھیڑیوں کے ہاتھ لگ گئی تو کیا ہو سکتا ہے ۔
ہم سب تباہ ہو جائے گئے اس آدمی نے غصے سے کہا ۔
اس آدمی نے لمبا سا کالے رنگ کا گاؤن پہننا ہوا تھا اس کی شکل نظر نہیں آرہی تھی۔
تم فکر مت کرو میں بہت جلد اُسے ڈھونڈ لوں گا اور کب تک اس کا باب اپنا منہ بند رکھے گا۔
احمد صاحب نے طنزیہ ہنستے ہوئے کہا۔
ان کی ہنسی ایسی تھی کہ کوئی بھی عام انسان ڈر جاتا۔
ٹھیک ہے لیکن کوشش کرو کہ جلد از جلد اس لڑکی کو ڈھونڈ لو وہ آدمی کہتے ہی وہاں سے غائب ہو گیا۔۔
……………..
ولید اس وقت اس آیات کے کمرے میں موجود تھا.
ولید کے ہونٹوں کے ساتھ آنکھیں بھی مسکرا رہی تھیں آیات کو دیکھ کر ولید کی آنکھوں میں عجیب سی چمک آئ تھی۔
۔
ولید آہستہ سے چل کر آیات کی پاس جانے لگا۔
آیاتِ کے خون کی خوشبو اسے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔
ولید نے ایات کے پاس بیٹھتے ہوئے اس کے بال پیچھے کیے جو اس کے منہ پر آرہے تھے۔
جتنی تم خوبصورت ہو تمہارا خون بھی اتنا ہی لزیز ہوگا۔
ولید نے مسکراتے ہوئے کہا اور آیات کی گردن سے بال پیچھے کیے۔
اور اپنی انگوٹھے کی مدد سے اس کی گردن سے نس کو تلاشنے لگا جب اسے نس مل گئ تو
وہاں اپنے دانت گاڑھ دیے املی اچانک ہوئے اس حملے سے ترپنے لگی اور درد برداشت نہ کر سکی اور بیہوش ہو گئ۔
ولید نے خون پینے کی کوشش کی لیکن پیا نہیں گیا اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا۔
ولید جلدی سے پیچھے ہوگیا یہ مجھے کیا ہو رہا ہے ۔
ولید کو کبھی بھی کسی بھی لڑکی کا خون پیتے وقت ایسا محسوس نہیں ہوا تھا۔
جو اب ہو رہا تھا۔
ولید آیات سے پیچھے ہو کر کمرے میں چکر لگانے لگا ولید کی نظر دوبارہ آیات کی گردن ہر پڑی جہاں سے تھوڑا سا خون نکل رہا تھا ولید جلدی سے جلدی سے آیات کے پاس گیا اور
پیار سے دوبارہ اپنے ہونٹ آیات کی گردن پر رکھ دیے جہاں پر دو دانتوں کے نشان تھے اور ان میں سے تھوڑا تھوڑا خون بھی نکل رہا تھا۔
اس نے جب اپنے ہونٹ پیچھے کیے تو وہاں سے نشان غائب تھے۔
ولید خود نہیں جانتا تھا وہ یہ سب کیوں کر رہا ہے وہ تو یہاں آیات کا خون پینے آیا تھا ولید وہاں سے اُٹھا
اور غائب ہوگیا اسے اب کوئی اور شکار تلاش کر کے اپنی پیاس بجھانی تھی۔
…………..
اس دن کے بعد سے ولی نے لیزا کو بالکل ہی اگنور کرنا شروع کر دیا تھا
جہاں پر لیزا ہوتی اس سے دس قدم دور رہتا
ولی نہیں جانتا تھا کہ کیوں اس کے خون کی خوشبو اسے اتنا پکارتی ہے اور ولی معلوم تھا اگر یہ اپنے آپ پر کنٹرول کھو بیٹھا تو وہ لڑکی جان سے جائے گی
اور ولی کسی بے قصور کی جان نہیں لینا چاہتا تھا
لیزا کو بھی کو بھی ولی سے ڈر لگتا تھا اس کی طرف دیکھتی بھی نہیں تھی۔
لیکن جب اسے معلوم ہوا تھا کہ ولی اور ولید دونوں بھائی ہیں تو لیزا کو بہت حیرت ہوئی تھی
دونوں بھائی تھے اور اتنے مختلف تھے
بیلا بھی نیچر کی اچھی تھی لیکن ولی ان دونوں کی نسبت بہت کم گو اور مختلف تھا۔
ولید نے اس رات کے بعد آیات کا خون پینے کا ارادہ ترک کر دیا تھا۔
لیکن ولید کو اب آیات کے ساتھ وقت گزارنا اچھا لگتا تھا
اسی لیے کسی نہ کسی بہانے آیات کے پاس ہی پایا جاتا تھا
ولید خود بھی اپنے حالت پر حیران تھا اسے
کیا ہوتا جا رہا ہے۔
اگر کوئی آیات کی طرف دیکھتا تھا تو ولید کو اچھا نہیں لگتا تھا اس کا دل کرتا تھا آیات کو دیکھنے والے کی آنکھیں نکال لیں ولید اپنے آپ کو بڑی مشکل سے کنٹرول کرتا تھا۔
اور یہی بات ولید کو سمجھ نہیں آرہی تھی کی آخر آیات اسے اتنا attract کیوں کرتی ہے ۔
ولید جیتنا اس بارے میں سوچتا اتنا ہی الجھن جاتا اور جو اس کا دل کہہ ریا تھا وہ ولید ماننا نہیں چاہتا تھا ۔
پھر ولید نے بھی اس بارے میں سوچنا چھوڑ دیا تھا
جب سے ولید کی زندگی میں آیات آئ تھی ولید نے دوسری لڑکیوں کی طرف دیکھنا چھوڑ دیا تھا۔
یہ بات ولی نے بھی نوٹ کی تھی
ولید برا نہیں تھا ۔ لیکن احمد صاحب کے لاڈ پیار نے اسے بہت زیادہ بگاڑ دیا تھا ۔
اب وہ اپنی مرضی کرتا تھا کسی کی بات نہیں سنتا تھا جو دک میں آتا وہی کرتا تھا اسے روکنے والا بھی کوئی نہ تھا۔
لیکن آیات کے آنے کے بعد وہ کافی سدھر گیا تھا
…………..
ولی اور لیزا دونوں کوشش کرتے تھے کہ ایک دوسرے کے سامنے نہ آئے ولی خون کی خوشبو کی وجہ سے اور لیزا ڈر کی وجہ سے. اسی طرح یونیورسٹی میں ان سب کا ایک سمسٹر گزر گیا تھا۔
……….
لیزا آیات اور بیلا اس وقت کنٹین میں بیٹھی ہوئی تھیں ۔وقت کے ساتھ ساتھ اب ان کی دوستی بھی پکی ہوگئی تھی۔
لیزا کچھ کھانے کو لینے گئ تھی لیزا جب واپس آرہی تھی اس کے ہاتھ میں ٹرے تھی۔
اچانک ایک لڑکا اس سے ٹکرایا لیزا سے ساری چیزیں زمین پر گر گئ۔
آپ دیکھ کر نہیں چل سکتے لیزا نے غصے سے سامنے دیکھتے ہوئے کہا۔
وہ لڑکا معزرت کرنے کی بجائے کھڑا ڈھائی سے مسکرا رہا تھا۔
لیزا کو یہ لڑکا کچھ عجیب لگ ریا تھا ۔
سوری کرنے کی بجاۓ کھڑا مسکرا رہا تھا ۔
لیزا جلدی سے وہاں سے چلی گئی۔
لیزا بیلا اور آیات کے پاس پہنچی تو آیات نے پوچھا تم کچھ کھانے کو لینے گئ تھی نہ اور آئ خالی ہاتھ ہو۔
آیات نے لیزا کے ہاتھوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔
یار میں لارہی تھی لیکن راستے میں ایک پاگل ٹکرا گیا تھا اور ساری چیزیں نیچے گر گی لیزا نے افسردگی سے کہا۔
تو کوئی بات نہیں اور لے لیتی آیات نے کہا ۔
یار بریانی ختم ہو گی تھی دونوں دوستوں کو بریانی بہت پسند تھی۔
کون جاہل تھا جیسے نظر نہیں آیا اس بار آیات کو بھی بریانی جانے کا غم کھائ جارہا تھا اس لیے غصے سے بولی ۔
بیلا ان دونوں کی بات سن کر مسکرا پڑی۔
پتہ نہیں یار کون تھا پتہ ہے معزرت کرنے کی بجائے کھڑا مسکرا رہا تھا۔
لیزا نے کہا اچھا چھوڑوں اب بریانی کو کچھ اور کھا لیتے ہیں بیلا نے حل بتایا۔ورنہ ان دونوں نے تو بریانی کے غم میں کچھ بھی نہ کھانے کا سوچا تھا۔
ہمممم…..
آیا نے کہا۔
اتنے میں وہی لڑکا تین بریانی کی پلیٹ ان تینوں کے پاس لے آیا۔
تینوں نے چونک کر لڑکے کی طرف دیکھا۔
I am really sorry
میری وجہ سے آپ کا نقصان ہوگیا۔اُس لڑکے نے لیزا کے چہرے پر نظریں گھاڑتے ہوۓ کہا۔
کوئی بات نہیں لیزا نے کہا ۔
وہ لڑکا مسکرا پڑا
لیکن بیلا کو اس لڑکے میں کچھ عجیب لگ رہا تھا۔
بیلا کو اس لڑکے سے عجیب سی بو آرہی تھی ۔
اس لڑکے کا موبائل رنگ کیا تو وہ معزرت کرتے وہاں سے چلا گیا بیلا ابھی بھی اسی جگہ کو دیکھ رہی تھی ۔
تمہیں کیا ہوا بریانی کھاؤ آیات نے بیلا سے کہا تو بیلا ہاں میں سر ہلا کر بریانی کھانے لگی۔
اگلے دن لیزا آیات کے گھر سے واپس آ رہی تھی اسے واپس آتے ہوئے شام ہوگئی تھی۔
سورج ڈھل چکا تھا لیزا جلدی جلدی چل رہی تھی۔ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا اسے ڈر بھی لگ رہا تھا آس پاس بھی کوئی نہیں تھا۔
جب اچانک اسے جھاڑیوں سے آواز آئ اس نے جھاڑیوں کی طرف دیکھا تو وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔
لیزا نے پھر سے چلنا شروع کر دیا اسے پھر آواز آئی اب اسے ڈر لگنا شروع ہو گیا تھا۔
لیزہ نے بس جلدی سے گھر پہنچا تھا اس لیے جلدی جلدی چلنے لگی۔
اسے ایسا لگا جیسے کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہو اسے جتنی بھی آیات آتی تھی اس نے پڑھ لیں تھیں ۔
لیزہ نے پیچھے مڑ کے دیکھا لیکن پیچھے کوئی بھی نہ تھا ۔
لہذا لیزہ اللہ کا نام لے کر جلدی سے وہاں سے بھاگنے لگی کہ اچانک اس کے سامنے ایک بھیڑیا آیا لیزہ کے قدموں کو بریک لگی۔
وہ بھیڑیا کالے رنگ کا تھا اندھیرے میں اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں منہ سے خون نکل رہا تھا دو بڑے بڑے دانت باہر نکلے ہوئے تھے۔
لیزا نے جب اس بھیڑیے کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا تو اسے لگ رہا تھا آج تو پکا یہ جان سے جاۓ گی ۔اس اپنی روح پرواز ہوتی ہوئ محسوس ہورہی تھی۔ قدموں میں تو جان ہی محسن نہیں ہورہی تھی۔
لیزہ نے ایک ایک قدم پیچھے لینا شروع کر دیا یااللہ میں ایسے نہیں مرنا چایتی میری تو لاش بھی کسی کو نہیں ملے گی لیزا نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے کہا ۔
اور پھر وہاں سے پیچھے کو بھاگنے لگی لیزا کو لگا اگر اب رُک گئی تو آج اس بھیڑیے کی خوراک بن جائے گی اور یہاں پر تو کیسی کو معلوم بھی نہیں ہو گا ۔
بھاگتے بھاگتے لیزا ایک پتھر سے ٹکرایٔ اور زمین پر گر گئی اس کا سر بہت بری طرح زمین سے لگا تھا اور وہاں سے خون نکلنے لگا تھا ۔
لیزا کو ایسا لگا جیسے اب پیچھے کوئی نہیں ہے جو تھوڑی دیر پہلے بھیڑیے کی آوازیں آرہی تھیں اب آنا بند ہوگئی ہیں اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا
تو پیچھے ولی کھڑا خونخوار نظرو سے لیزا کو گھوررہا تھا۔
ولی کی آنکھیں اس وقت کالی ہورہی تھیں ۔
چہرہ بلکل سپاٹ تھا۔
لیزا کو پہلے ہی ولی سے ڈر لگتا تھا اور اس وقت بھیڑیے سے زیادہ اسے اب ولی سے ڈر لگ رہا تھا۔
تم….
لیزا نے کھڑے ہوتے ہوئے اپنے ڈر پر قابو پاتے ہوئے پوچھا جبکہ اندر سے دل بہت گھبرا رہا تھا۔
لیکن ولی نے کوئی جواب نہیں دیا ولی یہاں سے گزر رہا تھا تو اسے لیزا کے خون کی خوشبو آئ اسے پتہ چل گیا تھا کہ لیزا اس کے آس پاس ہی ہے۔
لیزا کے خون کی خوشبو کو تو وہ دور سے ہی پہچان سکتا تھا۔
اسنے بھیڑیے کو لیزا کے پیچھے بھاگتے ہوئے دیکھا تو بھیڑیے کے سامنے آگیا بھیڑیے نے ولی کو پہنچان لیا تھا اس لیے وہاں سے بھاگ گیا۔
ورنہ اس وقت بھیڑیے نے لیزا کے گوشت سے ڈنر کرتے ہونا تھا۔
ولی ہوا کی رفتار سے لیزا کے قریب آیا اور اس کے دونوں بازو پکڑ کر اپنے قریب کیا۔
اتنا قریب کہ دونوں کا چہروں کے درمیان ایک انگلی کا فاصلہ رہ گیا تھا۔
لیزا کے ماتھے سے خون بہہ رہا تھا جو ولی کو اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔
تم رات کے اس پہر یہاں کیا کر رہی ہو ولی نے غصے سے پوچھا۔
ولی نے اتنی زور سے لیزا کے بازوں کو پکڑا ہوا تھا لیزا کو لگ رہا تھا اس کے بازو کا گوشت پھٹ گیا ہو گا۔
لیزا جتنا اپنے آپ کو چھڑوانے کی کوشش کرتی اتنی ہی ولی کی گرفت مضبوط ہوتی جاتی
ڈر کے مارے لیزا سے بولا بھی نہیں جا رہا ہے۔
ولی کو اپنے آپ پر کنٹرول کرنا مشکل ہو رہا تھا اس نے نے لیزا کو مزید اپنے قریب کیا اس کی گردن سے بال پیچھے کیے اور وہاں اپنے دانت گاڑ دیے
لیزہ کی چیخ پورے جنگل میں گونجھی تھی۔ لیزا کو لگا جیسے کسی نے گرم گرم کوئلہ اس کی گردن پر رکھ دیا ہو لیزا تکلیف کے مارے تڑپنے لگی تھی ۔
ولی شاید اس وقت اپنے ہوش حواس میں نہیں تھا اور نہ ہی اسے لیزا کی تکلیف کا احساس ہو رہا تھا۔
لیزا یہ سب مزید برداشت نہ کر سکی اور ولی کی باہوں میں بے ہوش ہوگئی ولی ابھی بھی لیزا کا خون پی رہا تھا۔
جب اچانک موسی نے وہاں پر آکر لیزا کو ولی سے دور پھینکا ۔
لیزا ولی سے دور جا گری تھی۔
ولی بھی ہوش میں آیا تھا لیزا کا سارا جسم سفید پڑگیا تھا شاید ساراخون ولی پی چکا تھا
ولی یہ تم نے کیا کیا؟
تم نے تو انسانوں کا خون پینا چھوڑ دیا تھا پھر یہ؟
تم اس کی جان لینے والے تھے اگر میں تمہیں نہ روکتا
مزید میں دومنٹ بھی لیٹ ہو جاتا تو تم اسے جان سے مار چکے ہوتے موسی نے غصے سے کہا۔
ولی کو بھی جب ہوش آیا تو جلدی سے لیزا کے پاس آیا جو پوری سفید ہوئی پڑی تھی۔
موسی میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا مجھے نہیں معلوم یہ کیسے ہوگیا پتا نہیں کیوں جب یہ میرے قریب آتی ہے تو میں برداشت نہیں کرپاتا اس کے خون کی خوشبو کچھ الگ ہے مجھے اپنی طرف کھینچتی ہے میں ایسے تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا۔
ولی نے لیزا کا سر اپنی ٹانگ پر رکھتے ہوئے کہا
ولی جلدی کرو اسے ہوسپیٹل لے کے جاؤ ورنہ یہ مر بھی سکتی ہے موسی نے اب کی بار آرام سے کہا وہ ولی کی حالت کو سمجھ سکتا تھا۔
ولی لیزا کا سر اپنے ہاتھوں میں لے کر بیٹھا ہوا تھا
ہاں ہو ہسپٹل
ولی نے جلدی سے کہا اور لیزا کو باہوں میں اٹھاکر ا وہاں سے غائب ہوگیا …
………..
جیک وہ لڑکی انسان ہے تم اسے کیسے پسند کر سکتے ہو مالا نے جیک کو سمجھانے والے انداز میں کہا۔
میں اسے پسند نہیں کرتا مالا مجھے بس اس کے جون کی طلب ہے میں اُس کا خون پینا چاہتا ہوں ۔
اس کے خون میں نے ایک عجیب سی مہک محسوس کی ہے ۔
جو مجھے اپنی طرف کھینچتی ہے اور میں وہ خون پینا چاہتا ہوں۔
جیک نے تھوڑا غصے سے کہا
تو اس کے لئے تمہیں اتنی محنت کرنے کی کیا ضرورت ہے تم تو اس کا فون کسی بھی وقت بھی پی سکتے ہو۔
مالا نے جیک کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
مالا کو ایسا لگا تھا شاید جیک اُس لڑکی کو پسند کرنے لگا ہے مالا جیک کو پسند کرتی تھی وہ کیسے برداشت کرسکتی تھی جیک کا کسی اور لڑکی کو پسند کرنا۔
ہاں یہ تو ہے لیکن شکار کو تڑپانے میں زیادہ مزا آتا ہے
جیک نے ہنستے ہوئے کہا۔
اور تم جانتے ہو اُس یونیورسٹی میں کچھ vampire بھی ہیں میں نے محسوس کیا ہے۔
مالا نے کہا ہاں میں جانتا ہوں مجھے بھی محسوس ہوا تھا ان کو بھی مل ہوگیا ہوگا لیکن مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا
اور جس دن وہ میرے سامنے آگۓ ان کی جان لینے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگاؤں گا۔
جیک نے غصے سے کہا۔
وہ تو ٹھیک ہے لیکن پھر بھی تمہیں احتیاط کرنی چاہیے۔
کیونکہ تم ابھی جانتے نہیں ہو کہ وہ vampire کون ہیں ۔
ہممم جیک نے بھی بات کو سمجھتے ہوۓ کہا اسے مالا کی باٹ ٹھیک لگی تھی۔
تم ان سب باتوں کو چھوڑو اور مجھ پر دھیان دو جیک نے کہتے ہی مالا جو کو بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کیا۔
جیک مجھے ابھی بہت ضروری کام ہے مجھے جانا ہے مالا نے جلدی سے کہا اس کا جانا ضروری تھا ورنہ اپنے جیک کو چھوڑ کر کبھی جانے کا سوچتی بھی نہیں ۔
میں نے کہا نہ بعد میں چلی جانا ابھی میرے پاس رہو جیک نے مالا کے بالوں میں منہ چھپاتے ہوئے مدہوشی میں کہا۔مالا کی پہلے کبھی چلی تھی جو اب چلتی اس لے خاموش ہوگئی ۔
……..
ولی لیزا کو ہوسپیٹل لے آیا تھا اس وقت ولی کے چہرے سے پریشانی صاف نمایا ہورہی رہی تھی۔
ولی بار بار اپنا ماتھا مسل رہا تھا اسے اپنے کئے پر بہت دکھ بھی ہوریا تھا اگر لیزا کی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تب بھی اسے اتنا دکھ نہ ہورتا لیکن اس نے لیزا کو تکلیف پہنچائی تھی۔
اتنے میں ڈاکٹر باہر آیا۔
پیشنٹ کے ساتھ آپ ہیں؟
ڈاکٹر نے ولی سے پوچھا
جی ولی نے جواب دیا وہ آپ کی کیا لگتی ہیں؟
ڈاکٹر نے پھر سے سوال کیا۔
ولی کو سمجھ نہیں آرہی تھی کیا جواب دے وہ ولی کچھ کہنے ہی والا تھا جب موسی ولی کے پاس اکر جلدی سے بولا وہ ہماری کزن ہے موسی نے کہا۔
اووو آپ کی کزن اب ٹھیک ہیں لیکن ان میں خون کی کافی کمی ہوگئی ہے ایسا ہوتا تو نہیں ہے لیکن لگ تو ایسا ہی رہا ہے جیسے ان کے جسم سے کسی نے سارا خون نچوڑ لیا ہو ڈاکٹر نے دونوں کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
actually وہ کافی دن سے بیمار تھی اور کافی کمزور بھی ہوگئی تھی شاید اس لئے موسی نے بات کو سنبھالتے ہوۓ کہا۔
ہمممم آپ کل تک ان کو گھر لے جاسکتے ہیں ڈاکٹر کہہ کر وہاں سے چلا گیا۔
تم کہا جارہے ہو موسی نے ولی کو جاتے ہوۓ دیکھا تو جلدی پوچھا ۔
لیزا کے پاس ولی مختصر سا جواب دے کر لیزا کے کمرے کی طرف چل پڑا ۔
ولی کمرے میں داخل ہوا جہاں لیزا دنیا جہاں سے غافل بے ہوش پڑی ہوئ تھی۔
ولی لیزا کے پاس گیا اور اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر منہ میں کچھ پڑھنے لگا جیسے جیسے ولی پڑھتا جارہا تھا لیزا کی رنگت ٹھیک ہوتی جارہی تھی۔
ولی نے لیزا کی میموری بھی remove کر دی تھی ولی اب بیٹھا فرصت سے لیزا کو دیکھ رہا تھا لیزا کی لمبی پلکیں ولی کو پہلے دن ہی بہ attract کی تھیں اس کا دل کیا تھا ان لمبی پلکوں کو چھو کر دیکھے لیکن لیزا اس سے دور رہتی تھی اور ولی بھی اس سے دور رہتا تھا۔کبھی بھی ان کا سامنا نہیں ہوا تھا۔
ولی نے ابھی ہاتھ لیزا کے چہرے کی طرف بڑھایا ہی تھا جب موسی اندر داخل ہوا تو ولی نے جلدے سے ہاتھ پیچھے کرلیا۔
میں نے لیزا کے گھر فون کردیا ہے اُس کی ماما بس آتی ہی ہوں گیں موسی نے کہا۔
تم نے اس کی ماما کو کیا بتایا؟
ولی نے پوچھا لیکن نظریں لیزا کے چہرے پر ہی ٹکی ہوئ تھیں۔
accident کا کہا ہے کہ کسی گاڑی سے ٹکرا گئی تھی اور بے ہوش ہوگئی موسی نے مختصر سا بتایا۔
ہمم
ولی نے اتنا ہی کہا.
کیا ہوا ہے تم کچھ پریشان لگ رہے ہو موسی نے جب ولی کے چہرے پر پریشان دیکھی تو اس کے پاس بیٹھتے ہوۓ پوچھا۔
مجھے لیزا کا خون پی کر کچھ عجیب سا محسوس ہوا تھا کچھ مختلف لیکن میں کچھ سمجھ نہیں سکا ولی نے کہا۔
کیا مطلب؟
موسی نے ولی کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
ولی جواب دینے ہی والا تھا جب لیزا کی ماما روم میں داخل ہوئی۔
جو کچھ موسی نے ان کو بتایا تھا اُس کی بعد تو لیزا کی ماما دونوں کی مشکور ہوگئ تھیں۔
لیزا کو صبح ہوش آیا تھا اسے کچھ بھی یاد نہیں آرہا تھا۔
ماما مجھے کیا ہوا تھا؟
لیزا نے اپنی ماما سے پوچھا۔
پیٹا تم بے ہوش ہوگئی تھی وہ تو بھلا ہو تمھارے یونی فیلو کا جو تمھیں ہوسپیٹل لے آۓ تھے۔
لیزا کی ماما نے پیار سے لیزا کے ماتھے سے بالوں کو پیچھے کرتے ہوۓ کہا۔
کون ماما..
لیزا نے حیرانگی سے پوچھا۔
اُس کا نام ولی تھا ہاں ولی اور موسی تمہیں ہوسپیٹل لاۓ تھے۔
لیزا کی ماما نے کہا
لیزا یہ بات سن کر حیران ہوئ تھی۔
اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ کھڑوس کسی کی مدد بھی کرسکتا ہے۔
ہوسکتا ہے اس کے دوست نے زور دیا ہو لیزا خود ہی اپنے سوال کا جواب دے کر مطمئن ہوگئ تھی ۔
ماما مجھے گھر جانا ہے لیزا نے کہا بیٹا میں ڈاکٹر سے بات کرکے آتی ہوں لیزا کی ماما نے اُٹھتے ہوۓ کہا۔
اتنے میں آیات اور بیلا لیزا سے ملنے آگئی تھیں ۔
لیزا اُن کے ساتھ باتوں میں مصروف ہوگئی تھی۔
………..
احمد صاحب نے اپنے دونوں بیٹوں کو اپنے پاس بلایا تھا۔
ڈیڈ ہمیں کیوں بلایا ہے آپ نے ولید نے اپنے باپ کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا ۔
جو چہرے پر سنجیدگی لۓ اپنے دونوں خوبرو بیٹوں کو دیکھ رہے تھے۔
تم دونوں جانتے ہو مجھے ایک لڑکی کی تلاش ہے جو ہماری نسل کے لۓ بہت ضروری ہے اگر ہمیں وہ لڑکی نہیں ملی تو ہمارا نام و نشاں اس دنیا سے مٹ جاۓ گا اور اگر وہ لڑکی بھیڑیوں کے ہاتھ لگ گئ تو ہمارا ان سے بچنا مشکل ہو جاۓ گا۔
احمد صاحب نے سنجیدگی سے کہا۔
اب آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں ولی نے اپنے باپ کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا۔
میں چاہتا ہوں تم لوگ اُس لڑکی کو ڈھونڈو جیتنا جلدی ہوسکتا ہے اسے ڈھونڈو اس سے پہلے وہ بھیڑیوں کے ہاتھ لگ جاۓ۔احمد صاحب نے کہا ۔
اس لڑکی کی کوئ خاص نشانی جس سے ہم اسے ڈھونڈ سکے ولید نے پوچھا۔
وہ بھی ادھی vampire ہے اور آدھی انسان ہے اسے یہ بات معلوم نہیں ہے کہ اس کا باپ ایک vampire تھا لیکن وہ ہم سب سے زیادہ طاقتور ہے۔
آج وہ بیس کی ہوچکی ہے اب جب بھی وہ خون کو دیکھے گئ تو اپنے آپ پر قابو نہیں کر پاۓ گئ اور دوسری بات احمد صاحب نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا اُس کی گردن کے پیچھے ایک چھوٹے سے بچھو کا نشان بنا ہوا ہے۔
اس سے زیادہ میں بھی نہیں جانتا احمد صاحب نے اپنی بات کو ختم کرتے ہوۓ کہا۔
ڈیڈ ہم پوری کوشش کرے گۓ آپ کو مایوس نہ کریں۔
ولید نے فرمانبرداری سے کہا ۔
مجھ تم دونوں سے یہی امید تھی احمد صاحب نے خوشی سے کہا۔
لیکن ان کو ولی کی نظریں کچھ عجیب لگ رہی تھی۔
…………
بہت جلد تمھاری بیٹی ہمارے پاس ہوگئی احمد صاحب نے قہقہہ لگاتے ہوئے اپنے سامنے بندھے Vampire کو کہا ۔
تم کبھی بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتے تم vampire کے ے نام پر دھبہ ہو.اور جس دن تمھارے بیٹوں کو تمھاری سچائ کا معلوم ہوگیا وہ تمہیں نہیں چھوڑے گۓ..
سامنے بندھے vampire نے چنگارتے ہوۓ کہا۔
یہ تو وقت بتاۓ گا احمد صاحب نے کہا ان کو غصہ تو بہت آیا تھا لیکن ابھی کچھ کر نہیں سکتے تھے۔
………….
لیزا اب کافی بہتر محسوس کررہی تھی۔
لیزا یونی جانے کی ضد کررہی تھی۔
اس کی ماما نے اسے بہت روکا لیکن لیزا نہیں روکی اس کا کہنا تھا یونی جاکر زیادہ بہتر محسوس کرے گئ۔
اس لیے اس کی ماما نے بھی لیزا جو یونی جانے کی اجازت دے دی تھی۔
ان کو لیزا کی بات بھی ٹھیک لگی تھی۔
………
لیزا یونی میں داخل ہوئ تو اسے سامنے ہی آیات اور بیلا نظر آگئ تھیں۔
تمہیں آرام کرنا چاہیے تھا ابھی کل ہی تو تم ہوسپیٹل سے واپس آئ ہو تمھیں آج گھر ہونا چاہیے تھا اور تم یہاں کیا کررہی ہو آیات نے گھورتے ہوۓ پوچھا۔
یار گھر میں میں نے بور ہو جانا تھا اس لیے سوچا یونی ہی آجاتی ہوں۔
لیزا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
یہ تو تم نے بہت اچھا کیا آج ہم باہر گھومنے کا سوچ رہی تھیں لیکن تم نہیں تھی تو ہم نے planکو postpone کردیا تھا بیلا نے کہا۔
اووو یہ تو اچھی بات ہے میرا بھی mind fresh ہو جاۓ گا لیزا نے خوشی سے کہا۔
ابھی چلو کلاس کا وقت ہورہا ہے بعد میں سوچتے ہیں کہا جانا ہے آیات نے کہا تو تینوں نے کلاس طرف دوڑ لگائی ۔
………..
کیا سوچ رہے ہو؟
موسی نے ولی کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا۔
جو گہری سوچ میں لگ رہا تھا۔
ولی نے احمد صاحب کی ساری بات موسی کو بتا دی ۔
تو یار اُس لڑکی کو تلاش کرتے ہیں اس میں اتنا پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے۔
موسی نے عام سے لہجے میں کہا۔
نہیں موسی مجھے کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے ڈیڈ نے ہمیں اصل بات نہیں بتائ ڈیڈ ہم سے کچھ چھپارہے ہیں ۔
لیکن وہ کیا چھپا رہے ہیں یہ سمجھ نہیں آرہا۔
لیکن میں بہت جلد پتہ لگا لوں گا ولی نے کہا۔
یار یہ تمھارا وہم بھی تو ہوسکتا ہے موسی نے کہا نہیں یہ میرا وہم نہیں ہے ڈیڈ کا مجھ سے نظریں چرانا مجھے ٹھیک نہیں لگا ۔
چل ٹھیک ہے تو جو بھی کرے گا میں ہمیشہ تیرے ساتھ ہوں موسی نے ولی کا کاندھا تھپتھپاتے ہوۓ کہا ۔
ولی اس کی بات پر مسکرا پڑا۔
جانتا ہوں ولی نے کہا۔
اوو ہاں لیزا اب کیسی ہے ولی بنا سوچے سمجھے موسی سے پوچھ بیٹھا۔
کیا بات ہے ولی آج ایک لڑکی کی خیریت معلوم کررہا ہے کہی میں خواب تو نہیں دیکھ رہا موسی نے ہنستے ہوئے کہا۔
ولی کو جب اپنی جلد بازی کا احساس ہوا تو جلدی بولا ایسی بات نہیں ہے وہ میری وجہ سے ہوسپیٹل گئ تھی اس لیے پوچھ لیا ۔
ولی نے اتنی لمبی چوڑی وضاحت دیتے ہوئے کہا۔
اوو ولی احمد کب سے اپنی بات کی وضاحت دینے لگا موسی نے سوچنے والے انداز میں کہا۔
موسی اب اگر تو نے فضول بکواس کی تو بہت برا حال کروں گا ولی نے دھمکاتے ہوۓ کہا اور اس کی دھمکی کا اثر بھی ہوا موسی سنجیدہ ہوگیا تھا۔
وہ اب ٹھیک ہے اور یونی بھی آئ ہے ایک اور بات موسی نے کچھ یاد آنے پر کہا۔
کل مجھے اپنے آس پاس بھیڑیوں کی موجودگی کا احساس ہوا تھا موسی نے کہا۔
ہمممم مجھ بھی ایسا لگا تھا ولی نے بھی کہا ۔
یونی میں اں کا آنے کا کیا مقصد ہوسکتا ہے؟
موسی نے پوچھا۔
اگر یونی میں بھیڑیے موجود ہے تو اس کا مطلب وہ کسی ایسی چیز کے پیچھے ہے جو ان کے لیے بہت قیمتی ہے ولی نے کہا۔
ہممممم مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے موسی نے بھی ہاں میں ہاں ملاتے ہوۓ کہا
………..
اگر تم مجھے یاسر کے ساتھ دوبارہ نظر آئ تو بہت برا پیش آؤں گا۔ولید نے غصے سے آیات کو کہا۔
آیات تو ولی کی بات سن کر بھڑک اُٹھی تھی۔
تم ہوتے کون ہو مجھے روکنے والے میرے دل میں جو آۓ گا میں وہ کروں گئ سمجھے تم
آیات غصے سے کہہ کر وہاں سے چلی گئی
ولید اپنے غصے کو کنٹرول کرنے کے لئے لمبے لمبے سانس لینے لگا۔
تو تمہیں بتانا پڑے گا میں کون ہوتا ہوں تمہیں روکنے والا ولید نے کہا تو اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔
……….
یاسر بھی ان کا کلاس فیلو تھا آیات سے اس نے سرسری سی بات کی تھی جو ولید سے بلکل بھی برداشت نہیں ہوا تھا.
………
کیزا کی سالگرہ تھی آیات اور بیلا نے celebrate کرنے کا سوچا تھا…
لیزا تو بلکل ہل اپنی سالگرہ کو بھول گئ تھی۔
تینوں لڑکیاں بیٹھی باتیں کرہی تھی جب وہی لڑکا ان کے پاس آیا ۔
جو لیزا سے ٹکرایا تھا۔
ہیلو گرلز کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں لڑکے نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
جی ضرور لیزا نے جلدی سے کہا ۔
بیلا کو پھر سے اس لڑکے سے عجیب سی سمیل آرہی تھی۔
میرا نام جاسم ہے میں اس دن کے لیے شرمندہ ہوں جاسم نے شرمندگی سے دوبارہ معزرت کرتے ہوئے کہا۔
it's ok
آپ اس دن بھی معزرت کر چکے تھے آیات نے مسکراتے ہوۓ کہا تو جاسم بھی مسکرا پڑا۔
لیزا کا مسکرا مسکرا کر جاسم سے باتیں کرنا ولی کو پتہ نہیں کیوں غصہ دلا رہا تھا۔
ولی تو یہاں لیزا کو دیکھنے آیا تھا ولی اپنے کیے پر شرمندہ تھا۔
اس نے بیلا کو کال کی تو بیلا وہاں سے excuse کرتی ہوئ وہاں سے اُٹھ کر ولی کے پاس آگئ۔
وہ لڑکا کون ہے؟
ولی نے جاسم پر نظریں گاڑھے پوچھا بھائی نیو سٹوڈنٹ ہے لیزا سے اس کی کافی اچھی دوستی ہوگئی ہے لیکن آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟
بیلا نے ولی سے پوچھا جو ابھی بھی جاسم کو ہی گھورنے میں بزی تھا۔
جیسے ابھی اپنی نظروں سے نگل جاۓ گا.
مجھے یہ لڑکا کچھ عجیب لگ رہا ہے ولی نے بات کو سنبھالتے ہوۓ کہا۔
ہمممم عجیب تو مجھے بھی لگا ہے بیلا نے کہا۔
تم اس پر نظر رکھنا آیات اور لیزا کو اس کے ساتھ اکیلا مت چھوڑنا مجھے اس کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے۔
ولی نے بیلا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
اوکے آپ کہاں جارہے ہیں بیلا نے ولی سے پوچھا۔
اس لڑکے کے بارے میں معلوم کرنے تم دونوں کے پاس جاؤ ۔ولی نے کہا۔
ٹھیک ہے ویسے بھی ہم لوگ نکلنے ہی لگے تھے بیلا نے سرسری سا کہا۔
کیا مطلب ولی نے جلدی سے پوچھا۔
وہ آج بیلا کی سالگرہ ہے تو ہم اسے surprise دینا چاہتے ہیں بیلا کہہ کر وہاں سے چلی گئ اور پیچھے ولی کو سوچ میں ڈال گئ۔
اس کے باپ نے بھی تو یہی کہا تھا وہ لڑکی آج بیس کی ہوچکی ہے یہ میں کیا سوچ رہا ہوں ہزاروں لڑکیوں کی سالگرہ ہوگی آج وہ لڑکی لیزا نہیں ہوسکتی ولی نے اپنی ہی سوچ کی نفی کرتے ہوئے کہا
اور وہاں سے غائب ہوگیا.
……….
ہم لوگ کہاں جارہے ہیں اور یہ پیٹی کیوں باندھی ہے میری آنکھوں پر لیزا نے جھنجھلا تے ہوئے پوچھا؟
تقریباً اسے آدھا گھنٹہ ہوگیا تھا بیلا گاڑی چلا رہی تھی اور آیات لیزا کے ساتھ بیٹھی ہوئ تھی اور دونوں ہی کچھ نہیں بتا رہی تھی۔
بس آگیا بیلا نے کہتے ہی گاڑی روکی تو آیات نے لیزا کو باہر نکالا۔
تھورا سا چلنے کے بعد آیات نے لیزا کی آنکھوں سے پیٹی کو کھول دیا لیزا تو سامنے کے منظر کو دیکھ کر شوکڈ ہوگئ تھی۔
سامنے سمندر تھا اور اس کے پاس والی جگہ کو بہت ہی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا اور بڑے بڑے لفظوں میں لکھا ہوا تھا۔
happy birthday liza
لیزا کی آنکھوں میں پانی آگیا تھا۔
اگر تم اس طرح رو دو گئ تو ہم یہی سمجھے گۓ یہ سب تمہیں پسند نہیں آیا بیلا نے لیزا کی آنکھوں میں پانی دیکھا تو جلدی سے بولی۔
نہیں مجھے بہت پسند آیا۔
thank you soo much
لیزا نے دونوں کے گلے لگتے ہوۓ کہا ۔
ویسے تمہیں سچ میں یاد نہیں تھا؟
آیات نے لیزا سے پوچھا۔
نہیں مجھے تو بلکل ہی بھول گیا تھا لیزا نے کہا ۔
اچھا چلو کیک کاٹو بیلا نے ماحول کی آسودگی کو ختم کرتے ہوئے کہا۔
پھر لیزا نے کیک کاٹا اور ان لوگوں نے کھانا کھایا اور خوب انجوائے کرکے اپنے اپنے گھر چلی گئ تھیں۔
لیزا آج بہت خوش تھی لیزا جب گھر آئی تو اس کی ماما نے بھی گھر کو بہت اچھی طرح decorate کیا ہوا تھا لیزا نے اپنے ماما کے سا تھ مل کر کیک کاٹا۔اس کی ماما اسی طرح اس کی سالگرہ مناتی تھی ۔
میری دعا ہے اللہ تمہیں لمبی زندگی عطا کرے اور تم اسی طرح اپنی سالگرہ مناتی رہو لیزا کی ماما نے لیزا کا ماتھا چومتے ہوۓ کہا
اور میری ہر سالگِرہ پر آپ بھی ہمیشہ میرے ساتھ رہیں۔
لیزا نے بھی مسکراتے ہوئے کہا تو اس کی ماما بھی مسکرا پڑی۔
تم کھانا کھاؤ گئ۔
لیزا کی ماما نے پوچھا ۔
جی بلکل لیزا نے جلدی سے کہا۔
لیزا کھانا کھا کر آئ تھی لیکن اسے معلوم تھا اس کی ماں نے اس کے بغیر ایک نوالہ بھی نہیں کھایا ہوگا ۔
……
لیزا جب کمرے میں آئ تو اس کے بیڈ پر ایک گفٹ پڑا ہوا تھا۔
یہ گفٹ کس نے بھیجا ہے؟ اس کا آیات اور بیلا کے علاوہ کوئی اور دوست بھی نہیں تھا۔
ماما نے تو مجھے کچھ نہیں بتایا۔
صبح پوچھ لوں گی لیزا نے خود سے کہا اور گفٹ کو الماری کے اندر رکھ دیا اور خود سونے کے لیے لیٹ گئ.
………
لیزا کا خون پینے کے بعد ولی میں اور زیادہ طاقت آگئ تھی لیکن وہ یہ سمجھ نہیں پا رہا تھا یہ سب ہوا کیسے ہیں؟
………
ولید نے آیات کو اپنے قابو میں کر کے اسے اپنے پاس بلایا تھا۔
آیات نے نائٹ ڈریس پہنا ہوا تھا اس کے بال بہت ہی خوبصورت کٹنگ میں کٹے ہوئے تھے جو آیات پر بہت سوٹ کرتے تھے آیات کو لمبے بال پسند نہیں تھے ۔
ولید آیات کے پاس گیا اور اسے کھنچ کر اپنے قریب کیا آیات کٹی ہوئ پتنگ کی طرف ولید کی باہوں میں آگئ.
میں نہیں جانتا جب میں تمھیں کسی اور لڑکے کےساتھ دیکھتا ہوں تو مجھے کیا ہوجاتا ہے مجھے بس برا لگتا ہے۔
تمہارا کسی اور سے بات کرنا اس لئے میں نے سوچ لیا ہے میں تمھیں Vampire بناؤ گا پھر ہم دونوں ہمیشہ ایک ساتھ رہے گۓ ولید نے آیات کے گال پر بوسہ دیتے ہوئے کہا ۔
ولید نے بہت پیار سے آیات کی گردن کو پہلے چوما پھر اس میں اپنے دانت گاڑھ دیے آیات تکلیف سے تڑپنے لگی تھی۔
ولید جب پیچھے ہوا تو آیات بے ہوش ہوچکی تھی ولید نے اپنا خون آیا میں منتقل کیا تھا۔
خون کی حدت کو آیات برداشت نہیں کرسکی تھی اور بے ہوش ہوگئی تھی۔
مجھے معلوم ہے تمہیں تھوڑی تکلیف ہوگئی لیکن میں تمہیں زیادہ تکلیف نہیں دوں گا۔
ولید نے کہا اور وہاں سے غائب ہوگیا۔
………
ولید جانتا تھا اگر اس نے آیات کے بارے میں احمد صاحب سے بات کی تو وہ کبھی بھی نہیں مانے گۓ وہ ایک انسان سے اپنے بیٹے کی شادی کبھی بھی نہیں کرے گۓ۔
اس لئے ولید نے اپنے دل کی سنی اور آیات کو vampire بنانے کا سوچا۔
ولید جانتا تھا جب آیات کو یہ سب معلوم ہوگا تو وہ بہت غصہ کرے گئ۔
لیکن ولید اسے منا لے گا ایسا ولید کو لگتا تھا۔
ولید بھی کیا کرتا اسے ڈر تھا کہی وہ آیات کو کھو نہ دے ۔
چاہے کوئ انسان ہو یا vampire وہ اپنی قیمتی چیز کو سنبھال کر رکھتا ہے اور کھونے سے ڈرتا ہے ولید بھی آیات کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتا تھا۔
…………..
ولی اسی کشمش میں تھا کہ کیا واقعی لیزا وہی لڑکی ہے جو ڈیڈ کو چاہیے اور اگر لیزا وہی لڑکی ہوئ تو ڈیڈ اس کی جان لے لیں گئے۔
لیکن اس طرح کسی کی جان لے کر خود زندہ رکھنا یہ کہاں کا انصاف ہے۔
ایسا کیسے ہوسکتا ہے اگر وہ لڑکی ہمیں نہیں ملی تو ہم مر جاۓ گۓ۔ولی نے دل میں سوچا ۔
کچھ تو ہے جو ڈیڈ ہم سے چھپارہے ہیں ولی انہی سوچوں میں گم تھا جب اسے بھیڑیوں کی آواز اپنے اردگرد سنائ دی۔
اس کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
چلو اب کچھ ٹینشن دور ہوجاۓ گئ۔
رات کا وقت تھا ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا ولی نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہاں کالے رنگ کے تین بھیڑیے کھڑے تھے ۔
ان کے منہ سے خون نکل رہا تھا آنکھیں لال رنگ کی تھی۔
وہ بھیڑیے کافی بڑے تھے اور شاید یہاں وہ ولی کو نہیں جانتے تھے۔
اور ولی کے سامنے آکر اپنی موت کو دعوت دی تھی۔
ولی ابھی بھی اپنی پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر کھڑا ہوا تھا۔
میں بھاگنے کا کسی کسی کو موقع دیتا اگر تمہیں اپنی جان پیاری ہے تو یہاں سے چلے جاؤ ورنہ بہت بری موت مرو گۓ۔
ولی نے پرسکون آواز میں کہا۔
لیکن لگتا تھا بھیڑیے آج اپنی موت لکھوا کر آۓ تھے۔
بھیڑیے آہستہ آہستہ ولی کی طرف آنے لگے
Intresting
ولی نے مسکراتے ہوئے کہا اور ایک ہی منٹ کے اندر تینوں کے سر دھڑ سے الگ کردیئے۔
اُف ابھی تو میں شاور لے کر باہر آیا تھا اور میرے کپڑے بھی سارے خراب ہوگئے۔
ولی نے اپنے کپڑوں کی طرف دیکھتے ہوئے افسوس سے کہا۔
اگر تم سب میری بات مان لیتے تو یہ حال نہ ہوتا ولی کہتا ہی وہاں سے غائب ہو گیا ۔
اگلے دن آیات کی طبیعت عجیب سی ہورہی تھی اس کا سر بار بار گھوم رہا تھا اس نے آج یونی نہ جانے کا فیصلہ کیا تھا۔
………….
ولید کو معلوم تھا آج آیات یونی نہیں آۓ گئ اور وہی ہوا لیزا اکیلی یونی آئ تھی۔
ولید لیز کا ہی انتظار کررہا تھا جب لیزا گیٹ سے اندر داخل ہوئ تو ولید جلدی سے لیزا کے پاس پہنچا۔
ہاۓ بہنا کیسی ہو؟
ولید نے مسکراتے ہوئے پوچھا
میں ٹھیک ہوں بھائ آپ کیسے ہیں کافی دنوں بعد یونی آۓ ہیں۔
لیزا نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
ہاں یار کچھ کام تھا تمھاری دوست نہیں آئ ولید نے باتوں میں پوچھا نہیں اس کی طبیعت کچھ خراب تھی اس لیے وہ نہیں آئ لیزا نے کہا۔
اووو ولید نے کہا اور سامنے دیکھنے لگا
اور بیلا مجھے نظر نہیں آرہی وہ بھی نہیں آئ لیزا نے پریشانی سے پوچھا یار اسے خالہ کی طرف جانا پڑ گیا تھا۔
ولید نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا
اُف اب میں اکیلی بور ہوجاؤں گئ لیزا نے پریشانی سے کہا۔
ولید کچھ کہنے ہی والا تھا جب جاسم نے لیزا کے قریب آتے ہوۓ کہا۔
میرے ہوتے ہوۓ تم بور کیسے ہوسکتی ہو۔
جاسم نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اوو تو تم آۓ ہو شکر ہے لیزا نے مسکراتے ہوئے کہا اس کی جاسم کے ساتھ اچھی دوستی ہوگئ تھی۔
ولید کو جاسم سے خطرے کی بو آرہی تھی۔
ولید یہ ہے جاسم اور جاسم یہ ہیں ولید بھائ لیزا نے مسکراتے ہوۓ تعارف کروایا۔
جاسم نے ولید کو ہیلو کہا لیکن اس نے ہاتھ ملانے کی کوشش نہیں کی تھی۔
ولید کچھ کام کا کہہ کر وہاں سے چلا گیا تھا اسے جاسم کے بارے میں معلوم کرنا تھا۔
اور دور کھڑے ولی کا یہاں آکر صبر جواب دے گیا تھا ۔
جاسم کا موبائل رنگ کیا تھا جاسم کال attend کرنے چلا گیا تھا۔
لیزا کو اس نے کہا تھا تم کلاس میں چلو میں آتا ہوں۔
لیزا اپنے دھیاں اپنی کلاس کی طرف جارہی تھی جب اچانک ایک کلاس روم کا دروازہ کھولا اور کسی نے اسے بازو سے کھنچ کر کلاس کا دروازہ بند کیا۔
لیزا اس حملے کے لۓ تیار نہیں تھی اس لۓ ایک دم گھبرا گئ تھی۔
کلاس ساری خالی تھی اور آندھیرا بھی چھایا ہوا تھا۔
ولی بہت غور سے لیزا کے چہرے کو دیکھ رہا تھا لیزا کی نظر جب ولی کے چہرے پر ہڑی تو اس کے ڈر میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔
ولی اس کے چہرے پر خوف صاف محسوس کرسکتا تھا اسے لیزا کے چہرے کا خوف اچھا لگ رہا تھا۔
تم آج کے بعد مجھے جاسم کے ساتھ نظر نہیں آؤ گئ ولی نے سنجیدگی حکم سنایا۔
لیزا کو تو اس کی بات بر ایک دم غصہ آیا تھا۔
میں کیوں تمہاری بات مانو لیزا نے کہہ تو دیا لیکن جب ولی کی سرخ آنکھوں کو دیکھا تو اپنے بولنے پر پچھتاوا ہوا۔
ولی نے لیزا کو گھوما کر دیوار کے ساتھ لگایا لیزا کا چہرہ اب دیوار کے ساتھ لگا ہوا تھا اور دونوں بازو ولی کی قید میں تھے۔
مجھے ایسے انسان بلکل بھی پسند نہیں ہیں جو میری بات ن مانتے ولی نے لیزا کے کان کے قریب سرگوشی کرتے ہوئے کہا۔
ولی کی اس قدر قربت پر لیزا کو اپنی جان نکلتی ہوئ محسوس ہورہی تھی۔
لیزا نے بے آواز رونا شروع کردیا تھا ولی کی گرفت سے اسے تکلیف ہورہی تھی۔
لیزا کے خون کی خوشبو ولی کو مدہوش کررہی تھی اس نے بے خودی کے عالم میں لیزا کے بال پیچھے کرکے وہاں اپنے ہونٹ رکھ دیے تھے۔
لیزا کو لگا اب یہ سانس نے لے سکے گئ۔
لیزا نے جب ولی سے پیچھے ہونا چاہا تو ولی ہوش میں آیا۔
ولی پیچھے ہونے ہی ولا تھا جب اس کی نظر لیزا کی گردن کے نشان پر پڑی۔
ولی ایک جھٹکے سے پیچھے ہوا تھا لیزا نے ولی کی طرف چہرہ کیا جو آنسوؤں سے تر تھا۔
لیکن ولی اس وقت لیزا کے نشان کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
لیزا کی کلائیاں سرخ ہورہی تھیں۔
یہ تمھاری گردن پر نشان کیسا ہے؟
ولی نے سنبھلتے ہوۓ پوچھا ولی کے سوال پر لیزا نے ولی کی طرف پ دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
پیدائشی ہے
لیزا نے تھوڑا گھبراتے ہوۓ کہا۔
ولی ایک دم لیزا کے قریب آیا۔
تم سیدھا اپنے گھر جاؤ گئ کیونکہ تمھاری طبیعت خراب ہے ولی نے لیزا کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ کہا تو لیزا بھی ولی کی بات کو دہرانے لگی۔
گڈ اب گھر جاؤ ولی نے کہا اور اس کا سٹولر اس کے گلے میں ڈالا جو زمین پر گر گیا تھا۔
لیزا وہاں سے چلی گئ تھی
ولی کو معلوم ہوگیا تھا کہ جاسم ایک بھیڑیا ہے ولی لیزا کو جاسم سے دور رکھنا چاہتا تھا۔
اس لیے اس نے لیزا کو تھوڑا ڈرایا تھا تاکہ وہ ولی کی بات مان جاۓ۔
لیکن ولی کو معلوم نہیں تھا کہ اسے یہ بھی معلوم ہوجاۓ گا کہ لیزا ہی وہی لڑکی ہے جس کی تلاش ولی کے باپ کو ہے۔
لیکن ولی ایک بار لیزا کو آزمانا چاہتا تھا تاکہ بعد میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہ رہے۔
لیزا گھر پہنچی تو اسے یاد نہیں تھا کہ وہ گھر کیسے آئ تھی.
اسے یاد تھا جاسم نے اسے کلاس میں جانے کا کہا تھا اور پھر ولی نے اسے کلاس روم میں کھنچا تھا۔
اسے ولی کی باتیں اور حرکتیں یاد آئ تو ایک بار پھر سے کانپ گئ تھی۔
میں کیوں ولی کی بات مانو اور میں کروں گی جاسم سے بات چاہے کچھ بھی ہو جاۓ ۔
لیزا کی جاسم سے اچھی دوستی ہوگئ تھی اسے جاسم میں کوئ برائ نظر نہیں آئ تھی لیکن اسے ولی خطرناک لگا تھا۔
…….
تمہیں معلوم ہے جاسم کون ہے؟
ولید نے ولی سے پوچھا۔
یہ دونوں اس وقت گھر پر موجود تھے۔
مجھے معلوم ہے وہ ایک بھیڑیا ہے ولی نے عام سے لہجے میں کہا۔
تو پھر تمہیں یہ بھی معلوم ہوگا کہ وہ لیزا کے پیچھے پڑا ہے ولید نے ولی کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
ہاں یہ بھی معلوم ہے لیکن تمہیں یہ معلوم ہے کہ وہ لیزا کے پیچھے کیوں پڑا ہے ولی نے جانچتی ہوئ نظروں سے ولید کی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا؟
نہیں یہ بات تو مجھے بھی معلوم نہیں ہے لیزا تو ایک عام سی لڑکی ہے ایک بھیڑیے کو ایک عام سے لڑکی سے کیا لینا دینا سواۓ خون پینے کے ولید نے کہا۔
ولی نے ولید کو لیزا کے بارے میں ابھی کچھ بھی نہیں بتایا تھا وہ پہلے خود کنفرم کرنا چاہتا تھا۔
لیکن میں بہت جلد پتہ لگا لوں گا ولید کہتے ہی وہاں سے غائب ہوگیا تھا۔
……….
ولید سیدھا آیات کے گھر آیا تھا آیات سورہی تھی اسے ابھی بھی بخار تھا۔
ولید نے آیات کے ماتھے پر ہاتھ رکھا جو گرم تھا لیکن ولید نے اپنا خون آیات کے اندر منتقل کرنا تھا اور یہ عمل ولید نے تین دن کرنا تھا اس کے بعد آیات نے vampire بن جانا تھا اگر ولید درمیان میں رک جاتا تو آیات کی جان بھی جاسکتی تھی ۔
اس لیے ولید نے آیات کی تکلیف کو نظر انداز کر کے آیات کی بازو میں اپنے دانت گاڑھ دیے۔
آیات بیہوش لیٹی ہوئ تھی اسے درد کا احساس بھی نہیں ہو رہا تھا۔
آیات کی سکن مزید سفید رنگ کی ہوتی جارہی تھی ۔
ولید جب اپبے کام سے فارغ ہوا تو آیات کے سر پر ہاتھ رکھ کر کچھ پڑھنے لگا تھا۔اور پھر دوبارہ آیات کے بازو پر اپنے ہونٹ رکھ کر نشان کو غائب کردیا تھا۔
بس ایک دن اور پھر تمہیں اس تکلیف سے نجات مل جاۓ گی ولید نے آیات کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا ۔
آیات کا بخار تھوڑا کم ہوگیا تھا ۔
ولید آیات کو انسان سے vampire بنا رہا تھا اور جو انسان سے vampire بنتا ہے وہ باقی vampiresسے طاقتور ہوتا ہے ۔اور اب آیات نے ایک طاقتور vampire بننا تھا ۔
ولید آیات کے ساتھ ہی لیٹ گیا تھا۔
…………
ولی نے لیزا کو جادو کرکے جنگل میں بلایا تھا لیزا کو جنگل میں پہنچتے ہی ہوش آگیا تھا ۔
یہ میں کہاں آگئ ہوں میں تو اپنے کمرے میں سورہی تھی۔ لیزا نے دل میں سوچا اتنے میں ولی کی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔
ہیلو۔
sweet girl
ولی نے ایک درخت کے پیچھے سے باہر آتے ہوۓ لیزا کو کہا۔
لیزا ولی کو دیکھ کر ڈر گئ تھی۔
میں یہاں کیسے آئ لیزا نے ڈرتے ہوۓ پوچھا۔
میرے بلانے پر ڈارلنگ میں نے تمہیں یہاں بلایا ہے تمھارے لیے ایک تحفہ ہے وہ دیکھو ولی نے سامنے اشارہ کیا۔
جہاں ایک آدمی زمین پر گرا پڑا تھا اس کا سر خون سے لت پت ہوا تھا۔
جاؤ دیکھو جا کر ولی نے اُس آدمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
تو لیزا چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی اُس آدمی کے پاس جانے لگی جیسے جیسے لیزا آدمی کے پاس جارہی تھی اسے خون کی خوشبو اپنی طرف کھینچ رہی تھی ۔
لیزا کی نظر سب سے پہلے آدمی کے خون پر پڑی تھی لیزا کو عجیب سا محسوس ہورہا تھا۔
وہ یہاں سے جانا چاہتی تھی لیکن اپنے قدم واپس موڑ نہیں پارہی تھی۔
جب اس سے مزید برداشت نہیں ہوا تو ایک سیکنڈ میں اس آدمی کے پاس پہنچی اور اس آدمی کی گردن سے خون پینے لگی۔اس کے دو نوکیلے دانت باہر آگۓ تھے آنکھیں سڑخ ہوگئی تھیں ۔
ولی لیزا کی ایک ایک حرکت کو نوٹ کررہا تھا لیکن جب لیزا آدمی کا خون پینے لگی تھی تو ولی جلدی سے لیزا کے پاس آیا تھا کیونکہ لیزا نے اُس آدمی کی گردن کو اتنی زور سے پکڑا تھا اگر ولی اسے پیچھے نہ کرتا تو لیزا اس آدمی کی گردن الگ کر چکی ہوتی۔
آدمی زندہ تھا ولی نے اسے بیہوش کیا تھا۔
ولی نے لیزا کو جب اپنے سامنے کھڑا کیا تو لیزا ولی کی باہوں میں جھول گئ تھی۔
اس کے منہ سے خون نکل رہا تھا اور ہونٹوں سے نیچے گردن تک جارہا تھا جو ولی نے اپنے ہونٹوں سے صاف کیا تھا۔
لیزا ہی وہی لڑکی ہے جو ڈیڈ کو چاہیے
اس لیے جاسم بھی اس کے پیچھے پڑا ہوا ہے لیکن جاسم کو ابھی معلوم نہیں ہوگا کہ لیزا کون ہے۔
ولی دل میں یہ سب سوچ رہا تھا۔
لیزا کو خود معلوم نہیں تھا کہ وہ کتنی طاقتور ہے
……..
ولی نے ساری بات موسی کو بتادی تھی تو تم اب لیزا کو اپنے ڈیڈ کے حوالے کر دو گۓ؟
موسی نے ولی سے پوچھا۔
نہیں میں بلکل بھی ایسا نہیں کروں گا وہ بہت معصوم ہے ولی نے کہا۔
لیکن اگر وہ تمھارے ڈیڈ کو نہ ملی تو ہم سب مر سکتے ہیں۔
موسی نے فکر مندی سے کہا۔
What rubbish
ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ لیزا نے اگر اپنی جان ڈیڈ کے حوالے نہ کی تو ہم مر جائیں گۓ مجھے تو یہ صرف ایک سٹوری لگتی ہے اور میں بات کی طے تک جاکر رہوں گا۔
اگر یہ سچ بھی ہوا تو اپنی زندگی بچانے کے لیے میں کسی معصوم کی جان کسی کو بھی لینے نہیں دوں گا۔
اور لیزا کی حفاظت کرنے کے لئے مجھے کسی کی جان لینی پڑی یا دینی پڑی میں پیچھے نہیں ہٹوں گا ولی نے کہا۔
تم کچھ زیادہ ہی intrest نہیں لے رہے لیزا میں موسی نے ولی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
ہاں مجھے وہ اچھی لگتی ہے میں اس کے ساتھ جب کسی اور کو دیکھتا ہوں تو میں برداشت نہیں کر پاتا
ولی نے صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔
اور موسی ولی کے منہ سے اس قسم کے اظہار کی توقع بلکل بھی نہیں کررہا تھا۔
موسی کو لگا تھا ولی بات کو ٹال دے گا یا منع کر دے گا لیکن ولی نے سچ بول کر سب کچھ کلیر کر دیا تھا۔
موسی ولی کی طرف دیکھ کر ہنس پڑا تھا۔
……….
جاسم کو معلوم نہیں تھا کہ لیزا ہی وہ لڑکی ہے جیسے وہ ڈھونڈ رہا ہے ۔
لیکن اسے لیزا کی عادت ہوتی جارہی تھی۔
لیزا کی اچھائ اسے اپنی طرف کھینچ رہی تھی جاسم کی زندگی میں بہت سی لڑکیاں آئ تھیں لیکن لیزا ان سب سے مختلف تھی نرم دل دوسرے کا احساس کرنے والی۔
جاسم یونی میں کسی اور مقصد کے تحت آیا تھا لیکن جب لیزا سے ملا تو اسے لیزا کا خون پینے کا دل کیا تھا۔
لیکن آہستہ آہستہ اسے لیزا اچھی لگنے لگی تھی جاسم لءزا کو اپنے قریب رکھنا چاہتا تھا۔
اب لیزا کس کے نصیب میں آنی تھی یہ تو وقت نے ہی بتانا تھا۔
تم دونوں کے ذمے میں نے ایک کام لگایا تھا اور ابھی تک تم لوگ اس لڑکی کو میرے پاس نہیں لاۓ۔
احمد صاحب نے غصے سے اپنے دونوں بیٹوں کو گھورتے ہوئے کہا۔
ڈیڈ ہم لوگ کوشش کرہے ہیں بہت جلد ہمیں وہ لڑکی مل جاۓ گئ ولید نے کہا۔
کچھ بھی کرو تم لوگ مجھے وہ لڑکی ایک ہفتے تک چاہیے احمد صاحب نے کہا اور وہاں سے چلے گۓ۔
………..
میری بیٹی میرے پاس آؤ ایک آدمی لیزا کو اپنے پاس بلارہا تھا اس آدمی کا چہرہ دھندلا سا نظر آرہا تھا لیزا آہستہ آہستہ چل کر اس آدمی کے پاس جارہی تھی وہ آدمی بہت تکلیف میں تھا اس کی آواز میں بھی بہت درد تھا لیزا یہ درد اپنے دل پر محسوس کررہی تھی۔ ہر طرف سفید روشنی تھی لیزا نے خود بھی سفید رنگ کا گاؤن پہنا ہوا تھا۔
لیزا اُس آدمی کے پاس پہنچے ہی والی تھی جب اس کی آنکھ کسی کے ہاتھوں کے لمس سے کھل گئ۔
لیزا جلدی سے اُٹھ کر بیٹھ گئ تھی اور لمبے لمبے سانس لینے لگی تھی ۔
لیزا کا چہرہ پورا پسنے سے بھیگا ہوا تھا۔
یہ کیسا خواب تھا؟ وہ انسان ابھی لیزا یہ سوچ ہی رہی تھی جب اس کی نظر ولی پر پڑی جو اس کی ایک ایک حرکت کو نوٹ کررہا تھا۔
ولی کو دیکھ کر لیزا کی آنکھوں میں پھر سے خوف آگیا تھا۔
لیزا بیڈ سے اُٹھ کر باہر بھاگنے لگی تھی جب ولی ایک سیکنڈ میں لیزا تک پہنچا اور لیزا کے دونوں بازوں کو بیڈ کے ساتھ لگایا۔
ولی کا چہرہ لیزا کے چہرے کے اتنا قریب تھا کہ لیزا کو ولی کی گرم گرم سانسوں کے تھپڑ اپنے چہرے ہر پڑتے ہوۓ محسوس ہورہے تھے۔
تمہیں منع کیا تھا کہ تم مجھے جاسم کے ساتھ نظر نہ آؤ لیکن تم نے میری بات نہیں مانی اب سزا تو ملے گئ نہ ڈارلنگ ولی نے مسکراتے ہوئے لیزا کے کپکپاتے ہوۓ ہونٹوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
لیزا کو لگ رہا تھا اگر ولی تھوڑی دیر اور اس کے قریب رہا تو اس کی جان نکل جاۓ گی۔
لیزا نے اپنی آنکھیں بند کر لیں تھیں ولی لیزا کے آنکھیں بند کرنے پر مسکرا پڑا تھا۔
لیزا آنکھیں بند کیے یہی سوچ رہی تھی کہ ولی اسے کون سی سزا دے گا جب ولی کی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔
ابھی میرا موڈ نہیں ہے ایک حسین لڑکی کو سزا دینے کا اس لۓ تم آنکھیں کھول سکتی ہو ولی کی آواز لیزا کے کانوں میں پڑی تو لیزا نے جھٹ سے آنکھیں کھول لیں۔
تو ولی لیزا سے تھوڑا دور فاصلے پر کھڑا مسکرا رہا تھا۔
لیزا ولی کو پہلی بار مسکراتے ہوئے دیکھ رہی تھی
کیا ہوا نظر لگانی ہے مجھے ولی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
لیزا نے اپنے آپ کو چٹکی کاٹی اسے لگ رہا تھا یہ سب خواب ہے۔بھلا کھڑوس کیسے ہنس سکتا ہے ۔
ولی نے لیزا کی حرکت کو نوٹ کیا تھا اور اس بار کھل کر ہنسا تھا۔
میں خواب نہیں حقیقت میں یہاں ہوں ولی نے کہا۔
میں تمھیں کچھ بتانا چاہتا ہوں جو تمھاری حقیقت ہے ولی نے اس بار سنجیدگی سے کہا۔
حقیقت کیا مطلب کون سی حقیقت لیزا نے اس بار حیرانگی سے پوچھا ۔
چلو میرے ساتھ ولی نے لیزا کو کہا اور اس کا ہاتھ پکڑا کر وہاں سے غائب ہوگیا
……….
ولی نے احمد صاحب کو ایک خفیہ کمرے میں جاتے ہوۓ دیکھ لیا تھا اور اس کمرے کے بارے میں ولی کو بھی معلوم نہیں تھا,
ولی اپنے باپ کا پیچھا کرتے ہوئے وہاں پہنچا تھا تو اس نے دیکھا ایک vampire زنجیروں سے بندھا ہوا تھا ۔
اس کی حالت قابلِ رحم تھی ۔
بہت جلد میرے بیٹے تمھاری بیٹی کو میرے سامنے لے آۓ گۓ احمد صاحب نے قہقہہ لگاتے ہوۓ کہا۔
احمد صاحب کی بات ہر ولی بھی شوکڈ ہوگیا تھا اس کا مطلب جو vampire سامنے بندھا ہوا تھا وہ لیزا کے پاپا تھے۔
ولی نے دل میں سوچا۔
اسے بس یہی معلوم کرنا تھا کہ اس کے باپ کو لیزا کیوں چاہیے۔
لیزا کے پاپا ولی کو دیکھ چکے تھے اس لئے وہ چاہتے تھے ولی کو معلوم ہوجاۓ کہ اس کا باپ کتنا خودغرض ہے۔
تم میری بیٹی کے ساتھ کیا کرو گۓ تم سب سے زیادہ طاقتور ہو اور کیا چاہتے ہو؟
لیزا کے والد نے بےبسی سے کہا۔
میں سب سے زیادہ طاقتور بنانا چاہتا ہوں اور تمہارے بیٹی مجھ سے زیادہ طاقتور ہے میں اس کا ج
خون حاصل کرکے سب سے زیادہ طاقتور بنو گا
احمد نے کہا۔
طاقتور تو تمھارے بیٹے بھی ہے تو کیا اُن کی بھی جان لے لو گۓ؟
لیزا کے پاپا نے غصے سے کہا۔
اگر مجھے طاقتور بنبے کے لیے اپنے بیٹوں کی بھی جان لینی پڑی تو بھی میں پیچھے نہیں ہٹوں گا اس بار احمد صاحب نے غصے سے کہا تھا۔
اور اس سے زیادہ ولی میں سننے کی سکت نہیں تھی اس لیے وہاں سے باہر آگیا تھا۔
ولی رونا نہیں چاہتا تھا لیکن اپنے باپ کی باتیں سن کر اس کے آنکھوں سے خون کے آنسو نکلنا شروع ہوگۓ تھے۔ولی کو نہیں معلوم تھا اس کا باب اتنا خودغرض ہوسکتا ہے ۔
ولی سکون چاہتا تھا اسے نہیں معلوم یہ لیزا کے کمرے میں کیوں آیا تھا اور کیسے آیا لیکن لیزا کو دیکھ کر اس کی ٹینشن تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی لیکن دور ہوگئ تھی۔
ولی لیزا کے پاس بیٹھ کر اس کے بال سہلانے لگا تھا جب لیزا اپنی آنکھیں کھولنے لگی تو ولی لیزا سے دور جاکر کھڑا ہوگیا تھا۔
لیزا کو دیکھ کر ولی نے اپنی ساری ٹینشن کو بھولا دیا تھا ولی نے سوچ لیا تھا اب اسے آگے کیا کرنا ہے ۔
……….
بیلا چاۓ پی رہی تھی جب موسی اس کے پیچھے آ کر کھڑا ہوگیا تھا۔
موسم کافی اچھا ہورہا تھا
بیلا کو معلوم ہوگیا تھا کہ موسی اسکے پیچھے کھڑا ہے بیلا کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
بیلا موسی کو بچپن سے پسند کرتی تھی یہ بات موسی بھی جاتا تھا لیکن اس نے کبھی بھی بیلا سے اس بارے میں کبھی کوئ بات نہیں کی تھی
موسی بیلا کو کسی قسم کی کوئ امید نہیں دلانا چایتا تھا. کیونکہ موسی جانتا تھا احمد صاحب کبھی بھی اپنی بیٹی کی شادی اس سے نہیں کرۓ گۓ۔
آج کیسے ہم غریب آپ کو یاد آگۓ بیلا نے مسکراتے ہوئے کہا لیکن چہرہ ابھی بھی سامنے ہی تھا موسی اس کی بات پر مسکرا پرا تھا۔
میری کچھ دن بعد منگنی ہے تم ضرور آنا میری منگنی پر مجھے خوشی ہوگئ ۔
بیلا نے مسکراتے ہوۓ کہا لیکن بیلا کی بات سن کر موسی کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئ تھی۔
موسی نے بیلا کی طرف دیکھا تھا کیا کچھ نہیں تھا اس کی آنکھوں میں بےبسی، محبت کے کھو جانے کا غم، شکوہ موسی زیادہ دیر تک بیلا کی آنکھوں میں دیکھ نہیں پایا تھا۔
اس لیے نظروں کا زاویہ تبدیل کرگیا تھا۔
بہت مبارک ہو تمہیں اور میں ضرور آؤ گا موسی کہہ کر وہاں سے چلا گیا تھا۔
مزید اس کے لۓ یہاں کھڑا رہنا مشکل تھا موسی کے جانے کے بعد بہت سے موتی بیلا کی آنکھوں سے نکل کر ضائع ہوگۓ تھے ۔
کاش تم بھی اتنا ہہ تڑپو موسی جتنا مجھے تم نے تڑپایا ہے بیلا نے بےبسی سے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوۓ کہا۔
لیکن بیلا نہیں جانتی تھی جو بات اس نے موسی کو بتائ تھی اب وہ پل پل اس بات کو سوچ کر تڑپے گا۔

یہ مجھے تم کہاں لے آۓ ہو اور ہم یہاں کیسے آۓ؟ابھی تو ہم گھر پر تھے۔
لیزا نے ڈرتے ہوۓ ولی سے پوچھا جس کے چہرے پر سکون تھا جیسے وہ لیزا کے ڈر سے محفوظ ہورہا ہو۔
تمہیں میں ایک سچ بتانا چاہتا ہو جو تمہارے لیے جاننا بہت اہم ہے ولی نے سنجیدگی سے کہا۔
سچ کیسا سچ؟ لیزا نے ناسمجھی سے پوچھا
تمھارے ڈیڈ زندہ ہے ولی نے لیزا کے سر بر بم پھوڑا
لیزا کو تو ولی کی بات پر یقین نہیں آرہا تھا۔
یہ کیسا مزاخ ہے لیزا نے سنبھلتے ہوۓ کہا
میں کوئ مزاخ نہیں کررہا سچ کہہ رہا ہو میں انہیں دیکھ چکا ہوں ولی نے لیزا کےچہرے پر نظریں جماۓ کہا۔
لیکن ان کا تو ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا لیزا کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ولی کی بات پر یقین کرے یا نہ کرے۔
میں کیسے مان لوں تم سچ بول رہے ہو لیزا نے ولی کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
تو ولی لیزا کے قریب آیا تم نے اپنے ڈیڈ کی تصویر دیکھی ہوئ ہے؟
ولی نے پوچھا تو لیزا بے ہاں میں سر ہلایا تو ولی نے لیزا کی دونوں کنپٹی پر اپنی انگلیاں رکھ دی اور اپنی آنکھیں بند کر لیں۔اور کچھ پڑھنے لگا ۔
آنکھیں بند کرو ولی نے کہا تو لیزا نے اپنی آنکھیں بند کرلیں لیزا نے دیکھا ایک آدمی زنجیروں سے بندھا ہوا ہے اور جب لیزا نے شکل پر غور کیا تو وہ لیزا کے ڈیڈ ہی تھے۔
وہ بہت بری حالت میں تھے۔
لیزا نے ایک دم آنکھیں کھول لیں تھیں اس کی آنکھوں سے آنسو خود ہی باہر آتے جاریے تھے۔
ولی کو لیزا کے آنسوؤں سے تکلیف ہورہی تھی لیکن وہ بےبس تھا ابھی کچھ بھی نہیں کرسکتا تھا۔
یہ تو ڈیڈ تھے وہ کہاں ہے لیزانے ولی سے پوچھا وہ تو میں بھی نہیں جانتا ولی نے کہتے ہی لیزا سے نظریں چرائی تھیں۔
ولی میں ہمت نہیں تھی کہ بتا سکے یہ سب اس کے باپ نے کیا ہے ۔
تم کون ہو لیزا نے ایک دم پیچھے ہوتے ہوئے پوچھا
میں ایک vampire ہوں ولی نے کہا۔
Vampire
کیا مزاخ ہے وہ صرف movies میں ہوتے ہیں لیزا بے طنزیہ کہا تو ولی اس کی بات پر مسکرا پڑا ۔
ولی لیزا کے زہن سے جنگل والا واقعہ مٹا چکا تھا
تمھارے ڈیڈ بھی ایک vampire ہے اور تمھاری ماما ایک انسان اس لیے تم بھی آدھی انسان اور آدھی Vampire ہو اور تمھاری ماما یہ بات نہیں جانتی کہ ان کا شوہر ایک vampire ہے۔
تمھارے ڈیڈ تمھاری حفاظت کے لیے تم سے دور ہوۓ تھے کیونکہ تم زیادہ طاقتور ہو اور کچھ vampire اور wolf تمھاری تلاش میں ہے وہ تمھیں مار کر خود طاقتور بننا چاہتے ہیں۔
ولی نے ساری بات لیزا کو بتائ۔
اور دنیا میں بہت سی مخلوق ہے جن کے بارے میں تم نہیں جانتی ۔ولی نے کہا۔
یااللہ یہ سب کیا ہورہا ہے؟
بھیڑیے vampire یہ سب ایک خواب ہے یہ حقیقت نہیں ہے لیزا نے آنکھیں بند کرکے اپنے آپ کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا۔
ولی لیزا کی اس معصوم سی حرکت پر مسکرا پڑا تھا۔
ولی لیزا کے پاس آیا اور اسے جنگل والا واقعہ یاد کروایا ۔
جس میں لیزا نے خون پیا تھا ۔
نہیں یہ میں نہیں ہوسکتی میں کیسے کسی کا خون پی سکتی ہوں لیزا نے کانپتے ہاتھوں سے اپنے منہ کو چھپاتے ہوۓ کہا۔
اس کا جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔
ولی نے جلدی سے لیزا کا ہاتھ پکڑا ورنہ لیزا زمین بوس ہوچکی ہوتی۔
تھوڑی دیر بعد ہی لیزا ولی کی باہوں میں جھول گئ تھی۔
ولی نے افسوس سے لیزا کی طرف دیکھا
دشمن اس کے خون کے پیاسے بیٹھے ہوئے ہیں اور یہ میڈم بار بار بے ہوش رہی ہیں ۔
ولی نے دل میں سوچا اور لیزا کو وہاں سے لے کر غائب ہوگیا اس معلوم تھا لیزا کو یہ سب قبول کرنے میں وقت لگے گا۔
…………..
آج تیسرا اور آخری دن تھا اس کے بعد آیات نے بھی vampire بن جانا تھا۔
آیات بہت کمزور ہوگئ تھی ۔
آیات کو ولید اپنے دوسرے گھر لے آیا تھا
ولی نے آیات کے ماتھے پر لب رکھے اور تھوڑی دیر بعد پیچھے ہوگیا۔
ولید جانتا تھا کہ اس بار آیات کو تکلیف زیادہ ہوگی
ولید نے آیات کی گردن سے بال پیچھے کر کے وہاں اپنے دانت گاڑھ دیے تھے۔
آیات تڑپنے لگے تھی لیکن اس بار آیات بےہوش نہیں ہوئ تھی۔
دس منٹ بعد ولید آیات سے پیچھے ہٹا تھا لیکن آیات ابھی بھی ویسے ہی تڑپ رہی تھی۔
ولید نے آیات کے سر پر ہاتھ رکھا اور اس کی تکلیف کو کم کرنے لگا۔
آیات آہستہ آہستہ پرسکون ہوتی جارہی تھی۔
خوش آمدید میری جان میری دنیا میں ولید نے کہا اور آیات کے ساتھ ہی لیٹ گیا تھا۔
اب اسے صبح کا انتظار تھا۔
………….
موسی کھڑا بیلا کو دیکھ رہا تھا جو کسی گہری سوچ میں گم تھی۔
موسی اپنے آپ کو روک نہیں پایا اور بیلا کے ساتھ جاکر کھڑا ہوگیا تھا۔
تم خوش ہو؟
موسی نے بیلا سے پوچھا چہرہ ابھی بھی سامنے تھا
بہت زیادہ بیلا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
تو موسی نے بیلا کی بات پر اپنے ہاتھوں کی مٹھی بنا کر اپنے غصے کو کنٹرول کیا۔
بیلا نے موسی کی طرف دیکھا جس کا چہرہ غصہ کنٹرول کرنے کے چکر میں سرخ ہورہا تھا۔
تم منع کر دو موسی نے بیلا کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔
کیوں بیلا نے موسی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا
اور اس کیوں کا جواب تو موسی کے پاس بھی نہیں تھا۔
موسی کی خاموشی پر بیلا طنزیہ ہنس پڑی تھی
تم میں ہمت ہی نہیں ہے فیصلہ لینے کی بیلا کہہ رکی نہیں تھی اور وہاں سے چلی گئ تھی۔
اور موسی کو لگ رہا تھا بیلا اسے جلتے انگاروں پر چھوڑ کر چلی گئ ہے۔
موسی اپنے آپ کو اس وقت بہت بے بس محسوس کررہا تھا
…………
آیات کی صبح آنکھ کھلی تو اسے عجیب سا محسوس ہوریا تھا اسے پرندوں تک کی آوازیں صاف سنائی دے رہی تھیں ۔
آیات نے کمرے کی طرف غور کیا تو اسے معلوم ہوا یہ اس کا کمرہ نہیں تھا۔
اور ولید اس کے ساتھ ہی سویا ہوا تھا آیات ایک دم گھبرا کر اُٹھ بیٹھی تھی۔
آیات کے اُٹھنے سے ولید کی آنکھ بھی کھل گئ تھی
Good morning
ولید نے مسکراتے ہوئے کہا
میں یہاں کیسے آئ آیات نے گھبراتے ہوۓ پوچھا۔
یار میں لایا ہوں ولید نے عام سے لہجے میں کہا۔
ویسے تم اب اور بھی زیادہ خوبصورت ہوگئ ہو ولید نے آیات کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
تم مجھے یہاں کیوں لاۓ ہو آیات نے ولید کی بات کو اگنور کرتے دانت پیستے ہوئے کہا ۔
تو ولید نے اپنے دماغ کے ذریعے سب کچھ آیات کو بتا دیا کہ وہ خود ایک vampire ہے اور اس نے آیات کو بھی vampire بنادیا ہے۔
آیات کو تو یقین نہیں آرہا تھا۔
تم آئینے میں اپنے آپ دیکھ سکتی ہو ولید بے آئینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
تو آیات نے جب اپنے آپ کو آئینے میں دیکھا تو اس کی رنگت مزید سفید ہوگئ تھی کالی آنکھوں کا رنگ بھی تھوڑی تھوڑی دیر بعد تبدیل ہورہا تھا۔
یہ کیسے ہوسکتا ہے آیات نے کہا اسے یقین نہیں آرہا تھا۔
تو ولید نے پاس پڑا چاقو پکڑا اور اپنے بازو ہر گہرا کٹ لگا خون زمین پر گرنے لگا تھا ۔
آیات کو ولید کے خون کی خوشبو اپنی طرف بلارہی تھی۔ خون کو دیکھ کر آیات کی عجیب سی حالت ہورہی تھی۔
آیات نے خون کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھیں سرخ ہوگئ تھیں آیات نے ایک بھی سیکنڈ ضائع کیے بغیر ولید کے پاس پہنچی اور اپنے دانت ولید کے بازو میں گاڑھ کر خون پینے لگی۔
ولید آرام سے کھڑا تھا تھوڑی دیر بعد اس نے آیات کو پیچھے کیا تو وہ ایک دم ہوش میں آئ۔
تم نے مجھے کیا بنا دیا ہے آیات نے ولید سے پیچھے ہوتے ہوۓ کہا۔
میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں جو vampire بنے بغیر ممکن نہیں تھا اور میں تمھیں کھونا نہیں چاہتا تھا۔
ولید نے کہا تم نے مجھے ایک درندہ بنا دیا ہے اور تمہیں لگتا ہے میں تم سے شادی کروں گی۔
آیات نے غصے میں چیختے ہوۓ کہا
ولید ہوا کے جھونکے کی طرح آیات کے پاس پہنچا تھا اس اسے کمر سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا۔
آیات نے ولید کو پیچھے دھکیلنا چاہا لیکن ولید اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہیں ہلا ۔
تمہیں میں نے vampire بنایا ہے جانم اور تم مجھ سے زیادہ طاقتور نہیں ہوسکتی اس بات کو اپنے زہن میں بیٹھا لینا۔
ایسا نہ ہو بعد میں پچھتانا پڑے اور شادی تو تم مجھ سے ہی کرو گی ولید نے آیات کو پیچھے دھکا دیتے ہوۓ کہا۔
آیات آنکھیں پھاڑے ولید کو دیکھ رہی تھی کہ ایک رات میں وہ کیا سے کیا بن گئ تھی اسے ولید سے خوف محسوس ہورہا تھا ۔
مجھے وہ لڑکی مل گئ ہے ولید نے ولی سے کہا جو ٹی-وی دیکھ رہا تھا۔
ولید کی بات پر ولی نے ایک دم ولید کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
کون ہے وہ لڑکی ولی نے جلدی سے پوچھا۔
لیزا……
ولید نے عام سے لہجے میں کہا۔
تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ لیزا ہی وہی لڑکی ہے ولی نے ولید کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ پوچھا ۔
مجھے تو بہت پہلے ہی معلوم ہو گیا تھا کہ لیزا ہی وہی لڑکی ہے ۔
میں نے لیزا کی آنکھوں کا رنگ تبدیل ہوتے ہوۓ دیکھا تھا اور یہ بات لیز اکو بھی معلوم نہیں ہے۔
پھر میں نے لیزا کے بارے میں پتہ کروایا تھا اور وہ نشان دیکھنے کے بعد تو میرا شک یقین میں بدل گیا تھا ولید نے کہا۔
اگر تمہیں معلوم تھا کہ لیزا ہی وہی لڑکی ہے تو تم نے اسے مسٹر احمد کے حوالے کیوں نہیں کیا؟
کیونکہ جو تم نے دیکھا تھا وہ میں نے بھی تھا ۔
ولید نے کہا ۔
کیا مطلب ولی نے ناسمجھی سے پوچھا جب تم نے لیزا کے ڈیڈ کو دیکھا تھا اور جو باتیں مسٹر احمد نے کہی تھیں وہ سب میں نے سن لی تھیں ۔
You know
ہم دونوں جڑواں ہیں اور کچھ باتیں ہم لوگ ایک دوسرے کے دماغ سے پڑھ سکتے ہیں دیکھ بھی سکتے ہیں ۔
ولید نے مسکراتے ہوئے کہا۔
لیکن اس کی مسکراہٹ میں بھی درد تھا ۔
ولید شروع سے احمد صاحب کے قریب رہا تھا اور پھر احمد صاحب کے خیالات کا سن کر ولید کو بہت دکھ یوا تھا ۔
اس نے سوچ لیا تھا کہ کبھی بھی لیزا کو اپنے خودغرض باپ کے حوالے نہیں کرے گا۔
اب آگے کیا کرنا ہے ولید نے ولی سے پوچھا۔
پہلے تو بیلا کی منگنی کے بارے میں سوچتے ہیں اس کے بعد دیکھے گۓ اور ویسے بھی لیزا بہت طاقتور ہے اپنی حفاظت خود کرسکتی ہے ولی نے کہا۔
بیلا سے تم نے بات کی وہ خوش ہے اس رشتے سے ولید نے ولی سے پوچھا۔
نہیں میری ابھی اس سے کوئ بات نہیں ہوئی ولی نے کہا۔
لیکن مجھے لگتا ہے وہ ہوش ہوگئ
ولی نے اپنی راۓ دیتے ہوۓ کہا۔
ولید اس کی بات پر مسکرا پڑا۔
وہ خوش نہیں ہے وہ کسی اور کو پسند کرتی ہے ولید نے کہا۔
پسند کیا مطلب؟
اس کے ساتھ زبردستی تو کوئ بھی نہیں کررہا اگر وہ خوش نہ ہوتی تو کھبی بھی اس رشتے کے لۓ ہاں نا کرتی ۔ولی نے حیرانگی سے کہا۔
تمہیں کس نے کہا کہ وہ سب اپنی خوشی سے کررہی ہے ڈیڈ نے زبردستی اس کی منگنی کروا رہے ہیں ۔
اس سب میں بھی ان کا کوئ فائدہ ہے
ولید نے ولی کو کہا،
کون ہے وہ جیسے وہ پسند کرتی ہے ولی نے غصے سے پوچھا ۔
یہ تو تم اپنے دوست سے پوچھو ولید کہتے ہی وہاں سے غائب ہوگیا تھا ۔
اس نے محسوس کرلیا تھا کہ آیات جاگ چکی ہے اس لۓ اس کے پاس چلا گیا تھا ۔
میرا دوست تو موسی ہے ولی نے دل میں سوچا
اووووو تو موسی ہے جیسے بیلا پسند کرتی ہے
ولی کو اب موسی پر غصہ آرہا تھا۔
کم از کم مجھے تو بتا دیتا اسے تو میں چھوڑوں گا نہیں ولی کہتے ہی وہاں سے غائب ہوگا اور اگلے ہی پل موسی کے پاس موجود تھا ۔
موسی کسی گہری سوچ میں گم تھا
ولی نے آتے ہی موسی کے منہ پر ایک زور سے مکا مارا تھا ۔
موسی اس سب کے لۓ تیار نہیں تھا اس لیے لڑکھڑا گیا تھا۔
جب اس نے اپنے سامنے ولی کو غصے میں کھڑا دیکھا تو اس کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔
ولی یہ کیا تھا موسی نے سنبھلتے ہوۓ کہا
میرا تو دل کررہا ہے تیری جان لے لوں
ولی نے گھورتے ہوئے کہا۔
میں نے کیا کیا موسی نے معصومیت سے کہا تو اتنی serious سچویشن میں بھی ولی کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
اگر پیار کرتے ہوتو بولنے کی بھی ہمت اپنے اندر پیدا کرو۔
ولی نے گھورتے ہوۓ موسی سے کہا۔
موسی نے ایک لمبا سانس فضا میں خارج کیا جیسے صدیوں کا تھکا ہوا ہو ۔ اور اب تھوڑا سکون ملا ہو ۔
تمہیں کیا لگتا ہے میں نے کوشش نہیں کی ہوگئ میں نے بہت کوشش کی لیکن ناکام رہا موسی نے اداسی سے مسکراتے ہوۓ کہا ۔
تم مجھے تو ایک بار بتاتے ولی نے موسی سے کہا تمہیں کیا بتاتا جب تمھارے ڈیڈ نے ہی منع کردیا تھا موسی نے ولی کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
ڈیڈ کیوں منع کرے گۓ ولی نے ناسمجھی سے پوچھا کیونکہ کے میں ان کے ایک ملازم کا بیٹا ہوں تو انہوں نے ایک ملازم کو اپنی بیٹی دینے سے انکار کردیا تھا موسی نے اس بار تلخی سے کہا۔
Shutup
تم میرے بھائ ہو اور خبردار تم نے آیندہ ایسا کچھ کہا تو اور میں وعدہ کرتا ہون خود تمھاری شادی بیلا سے کرواؤں گا ولی نے موسی کو کہا ۔
اسے اپنے باپ کی سوچ پر بہت افسوس ہوا تھا
اب بہت دیر ہوچکی ہے بیلا مجھ سے بہت زیادہ بدگمان ہوچکی ہے۔
اب تو وہ ضد میں یہ شادی کررہی ہے اسے لگتا ہے میں نے کبھی کوشش نہیں کی کبھی اسے امید نہیں دلائی۔
لیکن وہ یہ بات نہیں سمجھ سکتی میری تو خود کی امید ختم ہوگئ تھی میں کیسے اسے امید دلاتا موسی ولی کو کہہ رہا تھا۔
اس کی آنکھوں میں پانی آگیا تھا جو ولی کے کۓ برداشت کرنا بہت مشکل تھا۔
ولی نے موسی کو گلے لگایا تھا میں نے تم سے وعدہ کیا ہے اب سب کچھ تم مجھ پر چھوڑ دو ولی نے کہا
……………
آیات کی آنکھ کھولی تو ولید اس کے سامنے بیٹھا مسکرا رہا تھا۔
آیات جلدی سے اٹھ ر بیٹھ گئ تھی۔
تم یہاں کیا کررہے ہو؟
آیات نے گھورتے ہوۓ ولید سے پوچھا؟
یار اپنی شیرنی کو دیکھنے آیا تھا ولید نے مسکراتے ہوۓ کہا ۔
دفع ہو جاؤ یہاں سے خون پی جاؤ گئ تمھارا آیات نے چلاتے ہوۓ کہا۔
اف یار تمھارے لۓ تو پورے کا پورا طندہ حاضر ہے خون کیا چیز ہے ولید نے ڈھیٹ پن سے مسکراتے ہوئے کہا ۔
آیات اا
س دن کو کوس رہی تھی جس دن یہ ولید سے ملی تھی ۔
اب کیا فائدہ اب تو تم مجھے مل چکی ہو ولید نے ہنستے ہوئے کہا.
آیات کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا اسے کیسے معلوم ہوا کہ میں کیا سوچ رہی ہوں،
بےبی میں ایک vampire ہوں بھول گئ ولید نے آیات کو یاد کرواتے ہوئے کہا۔
ایک اور بات آج میرے ڈیڈ میرا رشتہ لے کر آۓ گۓ اور اگر تم نے منع کیا تو تم جانتی ہو تمھارے پاس صرف تمھاری ماں ہی ہے ولید نے ڈھکے چھپے لفظوں میں آیات کو دھمکی دی تھی جو وہ اچھی طرح سمجھ گئ تھی۔
ولید یہ کہتے ہی وہاں سے غائب ہوگیا تھا
آیات پیچھے اپنے ہاتھوں میں منہ چھپا کر رونے لگی تھی۔
مجھے ولی سے ملنا ہوگا پھر ہی میں اپبے ڈیڈ کا پتہ لگوا سکتی ہوں۔
لیکن مجھے تو معلوم ہی نہیں ولی اس وقت کہاں ہوگا۔لیزا انہی سوچوں میں غرق تھی جب ولی کی آئ۔
مجھے یاد کیا اور میں حاضر ولی کی آواز لیزا کے کان کے پاس سنائ دی تو ایک دم ڈر سے اُچھل پڑی تھی ۔
تم کبھی انسانوں کی طرح نہیں آسکتے لیزا نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا۔
ولی اس کی بات پر ہنس پڑا۔
ویسے یار تمھارے جیسی ڈرپوک vampire میں نے آج تک نہیں دیکھی ولی نے ہنستے ہوئے کہا ۔
میں vampire نہیں ہوں لیزا نے غصے سے کہا
تو پھر کیا ہو ولی نے لیزا جے مزید قریب آتے ہوۓ پوچھا۔
ولی کے قریب آنے سے لیزا کے دل نے ایک بیٹ مس کی تھی.
پتہ نہیں..
اور پیچھے ہوکر بات کیا کرو۔
لیزا نے ولی کو پیچھے کرتے ہوۓ کہا۔
اسے اب ولی سے ڈر نہیں لگ رہا تھا
میرے ڈیڈ کہاں ہیں؟
لیزا نے ولی سے پوچھا تو ولی بھی لیزا کی بات سن کر سیریس ہوگیا تھا ۔وہ جس بات سے بھاگ رہا تھا لیزا وہی بات بار بار کر رہی تھی۔
میں تمھیں پہلے بھی بتا چکا ہوں مجھے معلوم نہیں ہے لیکن میں بہت جلد ان کو ڈھونڈ لوں گا
ولی نے آرام سے کہا۔
لیزا ولی کی بات سن کر اداس ہوگئ تھی
ایک اور بات تم اپنی گردن کے پیچھے والے نشان کو چھپا کر رکھو گئ۔
کسی کو بھی تمھارے نشان کے بارے میں معلوم نہیں ہونا چاہیے ولی نے کہا۔
لیزا نے ہاں میں سر ہلایا دیا۔
اس کے دماغ میں یہ بات نہیں آئ کہ نشان کے بارے میں ولی کو کیسے معلوم ہوا ۔
اگر تم vampire ہو تو اس کا مطلب بیلا اور ولید بھائ بھی vampire ہیں لیزا نے حیرانگی سے پوچھا تھوڑی دیر پہلے والی اداسی اب غائب تھی۔
بلکل وہ دونوں بھی vampire ہیں اور موسی بھی vampire ہے ولی نے مزے سے کہا
لیزا حیرانگی سے ولی کو دیکھ رہی تھی اسے تو ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ خود بھی ایک vampire ہے ۔
تم چلو میرے ساتھ تمہیں practice کروانی ہے تاکہ تم اپنی حفاظت خود کرسکو ولی نے لیزا کا ہاتھ پکڑتے ہوئےکہا
اور پھر دونوں وہاں سے غائب ہوگۓ۔
…………
ولید اس وقت اپنے ڈیڈ کے ساتھ آیات کے گھر موجود تھا ۔
آیات کی ماما کو ولید کافی اچھ لگا تھا آیات کی ماما نے آیات سے پوچھا تھا تو آیات نے کہا تھا وہ ولید کو پسند کرتی ہے اور یہ سب ولید نے ہی آیات کو کہنے کے لئے کہا تھا ۔
احمد صاحب نے کہا تھا کہ وہ کل ملک سے باہر جارہے ہے پھر ان کی واپسی کا کچھ کہا نہیں جاسکتا اس لیے آج ہی وہ دونوں کا نکاح کرنا چاہتے ہیں ۔
احمد صاحب کو ولید نے بتا دیا تھا کہ آیات بھی ایک vampire ہے لیکن اس نے یہ نہیں بتایا تھا کہ اسے Vampire ولید نے بنایا ہے۔
احمد صاحب کو کوئ اعتراض نہیں تھا اور جلدی نکاح کی ضد ولید نے کی تھی کہ اس کا نکاح آج ہی ہوگا ۔
آیات کی ماما کو پہلے عجیب لگ رہا تھا اتنی جلدی نکاح کرنا لیکن آیات سے بات کرنے کے بعد وہ مطمئن ہوگئ تھیں ۔
اور شام کو ان دونوں کا نکاح طے پایا گیا تھا۔
………….
ولی لیزا کو ایک جنگل میں لے آیا تھا لیزا کو ہر ایک جانور کی آوازیں سنائ دے رہی تھیں اسے اچھا لگ رہا تھا ۔
ولی اسے بتا رہا تھا کس طرح لیزا اپنی طاقتوں کا استعمال کرسکتی ہے۔
ولی نے یہ بھی بتایا تھا کہ کسی بھی انسان کے دماغ کے خیالات کو بھی لیزا آسانی سے پڑھ سکتی ہے ۔
لیزا نے ولی کے خیالات کو پڑھنے کی کوشش کی تو ناکام رہی۔
ولی کو معلوم ہوگیا تھا کہ لیزا کیا کرنے کی کوشش کررہی ہے.
ولی لیزا کے قریب آیا
میں نے کہا تھا تم کسی بھی انسان کے خیالات پڑھ سکتی ہو میرے نہیں ولی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
تم میرے خیالات کو پھر کیسے پڑھ لیتے ہو لیزا نے حیرانگی سے پوچھا۔
کیونکہ میں نے تمھارا خون پیا ہے ولی نے لیزا کے جان کے پاس سرگوشی کرتے ہوۓ کہا۔
ولی کی بات پر لیزا ایک جھٹکے سے ولی سے دور ہوئی تھی۔
کیا مطلب لیزا نے کپکپاتے ہوۓ لبوں سےپوچھا ۔
مطلب یہ ولی نے کہتے ہی لیزا کی گردن میں اپنے دانت گاڑھ دیے
اس بار لیزا کو تکلیف بہت کم ہوئ تھی۔
لیزا اپنے حواس آہستہ آہستہ کھو رہی تھی لیکن اسے یاد بھی آرہا تھا کس طرح اس رات ولی نے اس کا خون پیا تھا ۔
ولی جب پیچھے ہوا تو لیزا ہوش میں آئ۔
لیزا کا خون ابھی بھی ولی کے ہونٹوں پر لگا ہوا تھا لیزا کچھ کہنے ہی والی تھی جب اس کی نظر خون پر پڑی۔
لیزا کتنی بھی طاقتور کیوں نہ ہو اس کی کمزوری خون تھی۔
خون کو دیکھتے ہی اسے بس ایک ہی چیز کی طلب ہوتی تھی اور وہ تھا خون
لیزا نے اپنی نظریں ہٹانے چاہی لیکن ایسا نہیں کرسکی۔
ولی بھی سمجھنے سے قاصر تھا اس ہو کیا رہا ہے
لیزا ولی کے پاس پہنچی اور جو خون ولی کے ہونٹوں پر لگا ہو تھا اسے پینے لگی یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ ولی بھی کچھ سمجھ نہیں سکا۔
ولی نے لیزا کو کمر سے پکڑ کر مزید اپبے قریب کر لیا تھا۔
دونوں ایک دوسرے میں کھوۓ ہوۓ تھے جب ولی کا موبائل رنگ کیا۔
لیزا ہوش میں آئی اور ولی سے پیچھے ہونے لگی جب ولی نے اسے پیچھے نہیں ہونے دیا ۔
میں تمہارے قریب نہیں آیا تھا تم خود میرے قریب آئ ہو۔
ولی نے لیزا کے ہونٹوں کو فوکس کرتے ہوۓ کہا ۔
مجھے نہیں معلوم مجھے خون دیکھ کر کیا ہو گیا تھا سوری لیزا نے شرمندگی سے کہا۔
سوری کی ضرورت نہیں ہے Infact مجھے بہت اچھا لگا ولی نے ایک آنکھ دباتے ہوۓ بےباکی سے کہا۔
ولی کی بات پر لیزا کا چہرہ شرمندگی سے لال ہوگیا تھا ۔
ولی کا فون پھر سے رنگ ہوا تھا ولی نے فون attend کیا تو ولید نے اسے اپنے نکاح کا بتایا اور ساری کہانی کا خلاصہ ولی کو بتایا ۔
اوکے ہم پہنچ جاۓ گۓ ولی نے کہتے ہی فون بند کردیا
چلو ولی نے لیزا کو کہا.
کہاں…
لیزا نے پوچھا.
تمھاری دوست کا نکاح ہے
تو کیا اپنی دوست کے نکاح میں شامل نہیں ہوگی ولی نے کہا۔
میری دوست لیزا نے ناسمجھی سے پوچھا ۔
آیات کا نکاح ہے ولی نے کہا ۔
آیات کس سے نکاح کررہی ہے اس نے تو کبھی ایسی کوئ بات نہیں کی لیزا کے پریشانی سے کہا۔
خود ہی پوچھ لینا ابھی چلو اسے تمھاری ضرورت ہے ولی نے کہا تو لیزا ولی کے ساتھ چل پڑی ۔
……….
لیزا آیات کے پاس پینچی تو اسے معلوم ہوا کہ آیات کا نکاح ولید کے ساتھ ہورہا ہے۔
لیزا کو ولید میں کوئ برائ نظر نہیں آئ تھی لیکن وہ ایک vampire تھا ۔
لیکن جب آیات نے کہا کہ وہ ولید کو پسند کرتی ہے تو لیزا بھی خاموش ہوگئ تھی اسے آیات کی خوشی زیادہ عزیز تھی اس لیے اپنی دوست کی خوشی میں. خوش تھی۔
شام میں دونوں کا نکاح ہوچکا تھا
ولید جتنا خوش تھا اتنی ہی نفرت آیات کو ولید سے ہورہی تھی،
ولید آیات سے نہیں ملا تھا وہ نہیں چاہتا تھا اپنی شیرنی کے ہاتھوں شکار بنے اس لئے آیات کو ملے بغیر ہی چلا گیا تھا۔
………….
آج پھر وہ گاؤن والا آدمی احمد صاحب کے پاس موجود تھا.
تم فکر مت کرو مجھے اپنے بیٹوں پر پورا بھروسہ ہے وہ اس لڑکی کو میرے پاس لے آۓ گۓ احمد صاحب نے ہنستے ہوئے کہا ۔
تمھارے بیٹوں کو اس لڑکی کا معلوم ہوگیا ہے لیکن حیرت کی بات ہے ابھی تک وہ اس لڑکی کو تمھارے پاس لے کر نہیں آۓ۔
اس آدمی نے طنز کرتے ہوئے کہا.
کیا مطلب احمد صاحب نے غصے سے دھاڑتے ہوۓ پوچھا ۔
وہ جانتے ہیں وہ لڑکی کون ہے؟
اور کہا ہے؟
تم جلدی سے اس لڑکی کا پتہ کرو اس آدمی نے کہا اور وہاں سے غائب ہوگیا ۔
کہاں ہے وہ لڑکی؟
احمد صاحب نے دھاڑتے ہوۓ ولی اور ولید سے پوچھا وہ دونوں پریشان تھے آخر ڈیڈ کو کس نے بتایا۔
ڈیڈ ہمیں ابھی وہ لڑکی نہیں ملی لیکن ہم کوشش کررہے ہے ہمیں بہت جلد وہ لڑکی مل جاۓ گی۔
ولید نے تحمل سے جواب دیا
اب تم دونوں اپنے باپ سے جھوٹ بھی بولو گۓ
احمد صاحب نے غصے سے کہا۔
ڈیڈ ولید نے کہا نا ابھی ہمیں وہ لڑکی نہیں ملی تو آپ کو ہماری بات پر یقین کیوں نہیں آرہا اس بار ولی نے بھی غصے سے کہا ۔
کیونکہ تم لوگ مجھ سے جھوٹ بول رہے ہو احمد صاحب نے ولی کے سامنے آتے ہوۓ کہا۔
نہیں دے گۓ ہم آپ کو وہ لڑکی آپ کو جو کرنا ہے کرلیں ولید نے غصے سے کہا اور ولی کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے غائب ہوگیا.
اووو تو تم دونوں اب اپنے باپ سے بغاوت کرو گۓ تو ٹھیک ہے اب دیکھو تم دونوں کا باپ کیا کرتا ہے
احمد صاحب نے نفرت سے سوچتے ہوۓ کہا۔
………
وہ اب آرام سے نہیں بیٹھے گۓ ولی نے ٹہلتے ہوۓ کہا اس وقت یہ دونوں موسی کے گھر پر موجود تھے
جانتا ہوں لیکن لیزا کو تو میں کبھی بھی ان کے حوالے نہیں کروں گا چاہے کچھ بھی ہوجاۓ ولید نے کہا ۔
کچھ سوچنا پڑے گا ولی نے کہا
موسی بیٹھا یہی سوچ رہا تھا ایک باپ طاقت کے کۓ اتنا خود غرض کیسے ہوسکتا ہے ۔
……………
جاؤ جاکر ختم کر دو دونوں کو احمد صاحب نے اپنے سامنے کھڑے بھیڑیوں کو کہا۔
بھیڑیے گنتی میں پانچ تھے۔
احمد صاحب کا حکم سن کر وہاں سے چلے گۓ تھے۔
احمد صاحب نے کچھ بھیڑیوں پر جادو کرکے ان کو اپنا غلام بنایا ہوا تھا ۔
……………
ولی اور ولید ابھی بات ہی کررہے تھے جب ولید کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔
ولید ایک دم کھڑا ہوگیا تھا۔
کیا ہوا ولی نے ولید سے پوچھا موسی بھی ولید کو ہی دیکھ رہا تھا۔
آیات خطرے میں ہے ولید کہتے ہی وہاں سے غائب ہوگیا تھا موسی اور ولی بھی ولید کے پیچھے گۓ تھے ۔
…………..
آیات کب سے اپنے کمرےمیں بند تھی جب اس کی ماما نے اسے باہر آنے کا کہا۔
آیات کا دل کچھ بھی کھانے کو نہیں کررہ تھا اسے خون کی طلب ہورہی تھی۔
لیکن آیات نے سوچ لیا تھا کہ وہ خون نہیں پیے گئ دونوں ماں بیٹی بیٹھی باتیں کررہی تھیں جب دروازہ توڑ کر کچھ بھیڑیے گھر میں داخل ہوۓ۔
بھیڑیے کالے رنگ کے تھے آنکھیں لال تھیں دانت بڑے بڑے تھے جن سے خون نکل رہا تھا۔
آیات کی ماما بھیڑیوں کو دیکھ کر وہی پر بے ہوش ہوگئ تھیں ۔
آیات کا بھی ہی حال تھا بےشک وہ خود اب ایکvampire تھی لیکن اسے اپنی طاقت کے بارے میں بلکل بھی معلوم نہیں تھا۔
ایک بھیڑیا آیات کی ماما کے پاس آیا اور ان کو چیر پھاڑ کرنے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگایا تھا۔
آیات آنکھوں میں وحشت لیے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی۔
آیات نے غصے میں اُسی بھیڑیے کی گردن توڑ دی تھی
دوسرے کا حال بھی کچھ ایسا ہی کیا تھا۔
اس کی آنکھوں کا رنگ کالا ہوگیا تھا دانت باہر آگۓ تھے لیکن اکیلی کب تک لڑتی۔
اس نے دل میں ولید کو پکارا تھا شاید اس وقت اسے اپنا شوہر ہی محافظ لگا تھا۔جو اس کی حفاظت کر سکے ۔
ایک بھیڑیے نے اپنا پنجا آیات کے دل کے آر پار کر دیا تھا۔
آیات وہی پر گر گئ تھی۔
ولید بھی آگیا تھا اس کے پیچھے ہی موسی اور ولی بھی تھے تینوں نے ایک ہی سیکنڈ میں تینوں بھیڑیوں کی گردنیں اڑا دی تھیں ۔
ولی جلدی سے آیات کے پاس آیا تھا
جو لمبے لمبے سانس لے رہی تھی
خون سارا زمین کو رنگین کررہا تھا ۔
ولی آیات کی ماما کے پاس گیا جہاں ان کے جسم کے حصے الگ پڑے ہوۓ تھے موسی نے ان پر چادر ڈال دی تھی۔
مجھے معاف کر دو میری جان مجھے تمہیں اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔
ولید نے آیات کو اپنی باہوں میں بھرتے ہوۓ کہا اور وہاں سے آیات کو لے کر غائب ہوگیا تھا۔
……………..
احمد صاحب کو خبر مل گئ تھی کہ آیات بہت زخمی ہے اور اس کی ماں مر چکی ہے۔
اب احمد صاحب نے دوسرا طریقہ آزمانا تھا اور ان کو پورا یقین تھا یہ ضرور کام آۓ گا۔
یہ سوچتے ہی احمد صاحب کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ آگئی تھی ۔
ولید آیات کے پاس بیٹھا ہوا تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کس طرح آیات کا خون روکے ولید نے آیات کے زخم پر ہاتھ رکھ کر منہ میں کچھ پڑھنے لگا تھا ۔
آیات کا خون تو نکلنا بند ہوگیا تھا لیکن زخم ابھی بھی ویسا ہی تھا ۔
کیا کروں یہ زخم تو ٹھیک نہیں ہورہا ولید نے آیات کے چہرے پر نظریں گاڑھے دل میں سوچا ۔
اتنے میں ولی کمرے میں داخل ہوا جو چہرے سے کافی پریشان لگ رہا تھا۔
سب ٹھیک ہے؟ ولی نے ولید سے پوچھا
ہاں سب ٹھیک ہے لیکن آیات کا زخم ٹھیک نہیں ہورہا ولید نے پریشانی سے کہا۔
تم نے سچ میں آیات کو vampire بنایا ہے؟
ولی نے الٹا ولید سے سوال کیا ۔
ولید نے ہاں میں سر ہلایا
تو پھر اس کے ہوش میں آنے کے بعد زخم خودبخود ہی ٹھیک ہوجاۓ گا اور مجھے کچھ ضروری بات کرنی ہے چلو میرے ساتھ ولی نے کہا۔
لیکن آیات ولید نے کچھ کہنا چاہا جب ولی نے اسے ٹوک دیا اس کے پاس لیزا رک جاۓ گی تم ٹینشن نہ لو۔
کیا ہوا ہے سب ٹھیک ہے ولید نے ولی کے ساتھ باہر جاتے ہوۓ پوچھا۔
بیلا غائب ہے اور پتہ نہیں کہا ہے میں نے بہت کوشش کی معلوم کر سکو لیکن مجھے کوئ سوراخ نہیں مل رہا ولی نے سنجیدگی سے کہا ۔
کہا جاسکتی ہے ہوسکتا ہے وہ کسی کام سے گئ ہو ولید نے کہا ۔
ہممم ہوسکتا تھا اگر وہ میری باتوں کا جواب دیتی تمھیں معلوم ہے ہم دونوں ایک دوسرے سے بات کرسکتے ہیں چاہے کتنے ہی ایک دوسرے سے دور کیوں نا ہوں ۔
لیکن وہ اب کوئ جواب نہیں دے رہی اور اس نے بتایا بھی نہیں کہ اس نے کہی جانا ہے۔
ولی نے کہا پھر ایک ہی vampire ہمیں بتا سکتا ہے کہ بیلا کہا ہے ولید نے کہا ۔
کون…
ولی نے پوچھا
مسٹر احمد ولید نے سپاٹ چہرے سے جواب دیا ۔
اوکے چلو پھر ولی نے کہا اور پھر دونوں وہاں سے غائب ہوگۓ۔
…………….
آیات کو ہوش آگیا تھا اور ہوش میں آتے ہی روئ جارہی تھی لیزا اسے بہت مشکل سے سنبھال رہی تھی ۔
لیزا میری ماما اُن کو دفنا ہے آیات نے سرخ آنکھیں سے بھرائی ہوئ آواز میں کہا
آیات ولی لوگ ان کو دفنا چکے ہیں ان کی بوڈی رکھنے کے قابل نہیں تھی لیزا نے کہا
ولی لیزا کو پہلے ہی سب بتا چکا تھا لیزا کو بہت دکھ ہوا تھا لیکن ایک بات کی تسلی بھی تھی کہ آیات اکیلی نہیں ہے اس کےساتھ اب ولید بھی ہے ۔
آیات نے پھر سے رونا شروع کر دیا تھا
اور روتے روتے آیات پھر سے غنودگی میں چلی گئ تھی۔
…………
تم اس لڑکی کو پسند کرنے لگے ہو مالا نے غصے سے جاسم سے پوچھا جو دیوار پر لگی تصویر دیکھ رہا تھا ۔
اف مالا تم ہمیشہ میری مدر کرتی ہو اور اب بھی تم نے میری سب سے بڑی پرابلم سولو کر دی ہے
جاسم نے مسکراتے ہوۓ مالا کو کہا مالا ناسمجھی سے جاسم کو دیکھ رہی تھی
وہ بات کچھ اور کررہی تھی اور جاسم کچھ اور کہہ رہا تھا
کیا مطلب مالا نے ناسمجھی سے پوچھا
یار میں یہی سوچ رہا تھا ایسا کیا ہے لیزا میں کہ جب میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں تو مجھے بہت اچھا لگتا ہے میرا دل کرتا ہے وہ ہمیشہ میرے ساتھ رہے ایسی کون سی چیز ہے جو مجھے اس کی طرف کھنچتی ہے اور اب مجھے سمجھ آیا میں اسے پسند کرنے لگا ہوں جاسم نے مسکراتے ہوئے کہا
وہ ایک انسان ہے مالا نے غصے سے کہا
تو کیا ہوا مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا جاسم نے لاپروائی سے کہا
سردار کبھی بھی نہیں مانے گۓ مالا نے ایک اور کوشش کرتے ہوئے کہا
مجھ پرواہ نہیں ہے اور جو میرے اور میری پسند کے درمیاں آیا اس کی جان لے لوں گا جاسم نے مالا کی آنکھوں میں دیکھ کر سفاکی سے کہا۔
مالا جاسم کے قریب آنے پر ڈر کر تھوڑا پیچھے ہوگئ تھی۔
جاسم کا اصل نام جیک تھا یونی کے لیے اس نے اپنا نام جاسم رکھا تھا۔
………….
موسی بہت پریشان تھا جہاں تک ہوسکتا تھاوہ بیلا کو تلاش کر چکا تھا لیکن بیلا کی کوئ خبر نہیں تھی۔
………
ڈیڈ بیلا نہیں مل رہی ولی نے سپاٹ لہجے میں احمد صاحب کو بتایا ولی کی بات سن کر احمد صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی۔
تو تم مجھ سے کیا چاہتے ہو احمد صاحب نے پوچھا
آپ کیسی باتیں کررہے ہیں بیلا آپ کی بیٹی ہے اور وہ غائب ہے آپ پتہ لگاۓ وہ کہاں ہے ہوسکتا ہے وہ کسی مصبیت میں ہو ۔
ولید نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے تحمل سے کہا ۔
ایک شرط پر تم دونوں کو بیلا کے بارے میں بتا سکتا ہوں۔
بولو منظور ہے احمد صاحب نے دونوں کے قریب آتے ہوۓ کہا
اب آپ اپنی بیٹی کو دھونڈنے کے لیے شرط رکھے گۓ ولید نے تکلیف سے پوچھا اسے اپنے باپ کی باتیں سن کر بہت دکھ یورہا تھا۔
بیلا میری بیٹی نہیں ہے اسے میری بیٹی کہنا بند کرو اور تم دونوں بھی میرے بیٹے نہیں ہو احمد صاحب نے غصے سے کہا
ولی اور ولید احمد صاحب کی بات سن کر شاکڈ کھڑے تھے
کیا مطلب سب سے پہلے ولی کو ہوش آیا تھا
تم تینوں سعید کے بچے ہو سعید احمد کا بڑا بھائ تھا
جیسے احمد نے ہی مارا تھا کیونکہ سعید احمد سے زیادہ طاقتور تھا
اس وقت تینوں بہت چھوٹے تھے احمد صاحب نے تینوں بچوں کو یہی بتایا تھا کہ وہ ہی ان کا باپ ہے
ولی اور ولید بھی اپنے باپ کی طرح طاقتور تھے اس لۓ احمد نے سوچا کہ وقت آنے پر یہ دونوں احمد کے کام آۓ گۓ۔
لیکن جب احمد نے دونوں کو لڑکی لانے کا کہا تو ان دونوں نے لڑکی احمد صاحب کو دینے سے منع کردیا
وہ لڑکی اگر احمد صاحب کو مل جاتی تو وہ سب سے زیادہ طاقتور بن سکتے تھے اور کوئ بھی پھر احمد کو مار نہیں سکتا تھا ۔
آپ نے ہم سے جھوٹ بولا ولی نے سنبھلتے ہوۓ پوچھا میں طاقت کو حاصل کرنے کے لۓ کچھ بھی کرسکتا ہوں اور یہ جھوٹ تو بہت چھوٹی سی چیز ہے احمد صاحب نے شیطانی مسکراہٹ چہرے پر لۓ ولی کو کہا ولید ابھی تک سن کھڑا تھا۔
تم لوگوں کے پاس آج کا سارا دن ہے سوچ لو بیلا کی جان پیاری ہے یا اس لڑکی کی احمد صاحب کہہ کر وہاں سے غائب ہوگۓ
…….
ولی دوبارہ ولید کو موسی کے گھر لے آیا تھا جو خود بےچینی سے ٹھل رہا تھا
اس کا مطلب ہے بیلا مسٹر احمد کے پاس ہے اور جہاں تک مجھے لگتا ہے آیات کے گھر پر حملہ بھی مسٹر احمد نے کروایا تھا ولی نے سوچتے ہوئے کہا
مجھے یقیں ہے یہ ان کا ہی کام ہے ولید نے کہا اس کی آنکھیں سرخ ہورہی تھی ۔
اب کیا کرنا ہے موسی نے جلدی سے پوچھا
ہم بیلا کو ڈھونڈ نکالے گئے اور لیزا کبھی بھی مسٹر احمد کے حوالے نہیں کرے گۓ ولید نے کھڑے ہوتے ہوۓ کہا
لیکن اس سے پہلے ہمیں لیزا کے پاپا کو آزاد کروانا ہو گا
وہ ہماری مدد کرسکتے ہیں ولی نے سوچتے ہوئے کہا۔
ہمممم ٹھیک ہے موسی اور ولید دونوں نے کہا اور یہ کام ہمیں ابھی کرنا ہے کیونکہ مسٹر احمد نے ہمیں آج کا دن دیا ہے
اس سے پہلے ہمیں بیلا کو تلاش کرنا ہوگا ورنہ مسٹر احمد اسے نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں.
ولی نے کہا
تم ٹھیک کہہ رہے ہوپھر چلتے ہیں ہم لوگ ہمیں وقت برباد نہیں کرنا چاہیے موسی نے کہا
اور پھر تینوں وہاں سے غائب ہوگۓ
ولی نے اس جگہ کو دیکھا تھا اور اس وقت مسٹر احمد بھی گھر پر نہیں تھے تو یہ لوگ لیزا کے پاپا کو آسانی سے نکال سکتے تھے۔
………..
لیزا آیات کے پاس بیٹھی اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر رہی تھی
آیات سوئ ہوئ تھی لیزا کا دھیان بار بار بھٹک کر ولی کی طرف جارہا تھا
لیزا نے اس دن کے بارے میں سوچنے لگی تھی جب ولی نے اسے پہلی بار دیکھا تھا
اور اب والے ولی میں کتنا فرق تھا
ولی نے اسے بتایا تھا کہ کچھ Vampire اور بھیڑیے اس کے پیچھے پڑے ہیں لیکن ولی ان vampire کی طرح نہیں تھا
وہ ایک اچھا vampire ہے دل کے ایک کونے سے آواز آئ تھی
وہ مطلبی نہیں ہے اور بنا کسی غرض جے میری مدد بھی کررہا ہے لیزا کی یہ سب سوچتے ہوۓ آنکھ لگ گئ تھی
اس کے دل میں ولی کے لیے نرم گوشہ پیدا ہوگیا تھا۔
…………
تینوں اس وقت لیزا کے والد کے سامنے موجود تھے ان کے لیے اندر آنا بلکل بھی مشکل نہیں تھا۔
لیزا کے پاپا بہت ہی کمزور ہوگۓ تھے
موسی نے جلدی سے ان کو کھولا اور وہاں سے غائب ہوگۓ ۔
گھر آکر تینوں بے اپنی طاقتوں کی مدد سے لیزا کے والد کے زخم بڑھنے چاہے زخم سارے تو ٹھیک نہیں ہوۓ تھے لیکن لیزا کے والد پہلے کی نسبت کافی بہتر تھے۔
موسی جاؤ کہی سے خون لے کر آؤ
ولی نے موسی کو کہا۔
نہیں مجھے میری بیٹی کا خون ہی ٹھیک کرسکتا ہے یہ زخم بھر سکتا ہے لیزا کے والد نے با مشکل اپنی آنکھیں کھولتے ہوئے کہا
موسی اور ولید دونوں نے ولی کی طرف دیکھا تھا اوکے میں کوشش کرتا ہوں ولی ان دونوں کی نظروں کا مفہوم سمجھ کر وہاں سے غائب ہوگیا ۔
…………
لیزا کی ابھی آنکھ لگی تھی جب اسے اپنے چہرے پر کسی کی گرم سانسوں کی حدت محسوس ہوئی لیزا نے جھٹ سے اپنی آنکھیں کھول لیں تھیں سامنے ولی بیٹھا مسکرا رہا تھا۔
ولی جب یہاں آیا تھا تو لیزا سیدھی لیٹی ہوئ تھی آیات اس سے کچھ فاصلے پر لیٹی ہوئ تھی ۔
چاند کی روشنی کھڑکی سے اندر آرہی تھی جو لیزا کے حسین چہرے کو مزید روشن کررہی تھی ۔
ولی چلتا ہوا لیزا کے قریب آیااور لیزا کے چہرے کے بلکل قریب جاکر اس کے چہرے کےایک ایک نقش کو دیکھنے لگا
لیکن تھوڑی دیر بعد ہی لیزا کی پلکوں میں ہلکی سی حرکت ہوئ تھی
لیزا نے اپنی آنکھیں کھول لیں تھیں ۔
تم….
لیزا نے اٹھتے ہوۓ کہا
ہاں میں ولی نے کہا
بیلا مل گئ ہے لیزا نے جلدی سے پوچھا
بہت جلد مل جاۓ گئ لیکن ابھی مجھے تمھاری کچھ مدد چاہیے ولی نے لیزا کے چہرے پر نظریں گاڑھے کہا
ولی کے دیکھنے کا انداز لیزا کے دل کی دھڑکنے تیز کررہا تھا ۔
کیسی مدد لیزا نے نظریں جھکا کر پوچھا
تمھارا خون چاہیے تمہارے ڈیڈ مل گۓ ہے لیکن ان کے زخم صرف تمھارے خون سے ہی بھر سکتے ہیں ولی نے کہا
لیزا تو اپنے باپ کے بارے میں سن کر خوش یوگئ تھی
مجھے ان سے ملنا ہے لیزا نے جلدی سے کہا ابھی تم ان سے نہیں مل سکتی تم دونوں کی جان خطرے میں ہے.
صحیح وقت پر میں تمھیں تمھارے ڈیڈ سے ملا دوں گا یقین رکھو ولی نے لیزا کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
اوکے تم لے لو خون تمہیں جتنا چاہیے
لیزا نے اپنی گردن سے بال پیچھے کرتے ہوئے کہا
ولی لیزا کی بال ہٹانے پر ہنس پڑا تھا
ولی نے لیزا کے قریب جاکر لیزا کی گرد پر بہت پیار سے بوسہ دیا اور پیچھے ہوگیا
لیزا آنکھیں پھاڑے ولی کو دیکھ رہی تھی یہ اس نے کیا کیا
یہ کیا تھا؟ لیزا نے حیرانگی سے پوچھا kiss
ولی نے مزے سے کہا
ولی کی بات پر لیزا کے گال گلابی ہوگۓ تھے
یار میں یہاں سے خون لوں گا ولی نے لیزا کے چہرے سے نظریں ہٹا کر لیزا کے بازو کی طرف شارہ کرتے ہوئے کہا
اوووو لیزا نے کہا
ولی نے لیزا کے بازو پر ایک کٹ لگایا اور اس میں سے خون نکلنے لگا ولی نے خون کے نیچے ایک چھوٹی سی بوتل رکھ دی تھی خون اس میں جا رہا تھا۔
لیزا نے زور سے اپنی آنکھیں بند کی ہوئی تھیں
ولی نے بھی بہت مشکل سے اپنے آپ پر کنٹرول کیا ہوا تھا کیونکہ لیزا کا خون اسے بے خود سا کردیتا تھا۔
ولی نے خون لینے کے بعد کٹ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا ہاتھ ہٹانے ہر کٹ غائب ہوگیا تھا
لیزا نے آنکھیں کھولی تو کٹ وہاں سے غائب تھا اور اب اسے درد بھی نہیں ہورہا تھا
اوکے اب میں چلتا ہوں اپنا اور آیات کا خیال رکھنا ولی کہہ کر وہاں سے غائب ہوگیا ۔
………..
ولی نے جلدی سے خون لیزا کے والد کو پلایا تھا اور ان کے سارے زخم ٹھیک ہوگۓ تھے ۔
اور اب وہ اٹھ کر بیٹھ گۓ تھے ۔
تم دونوں سعید کے بیٹے ہو لیزا کے والد نے ولی اور ولید کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
جی آپ جو کیسے معلوم ہوا ولید نے حیرانگی سے پوچھا
میں اور سعید بہت اچھے دوست تھے سعید سب سے زیادہ طاقتور vampire تھا اور یہ بات احمد کو بلکل بھی پسند نہیں تھی وہ شروع سے سعید سے خار کھاتا تھا۔
مجھے ایک انسانی لڑکی سے محبت ہوگئ تھی اور سعید نے میرا پورا ساتھ دیا تھا۔
میری شادی سے پہلے سعید کی شادی ہوچکی تھی اور تم دونوں تب دو سال کے تھے۔
بیلا کی پیدائش کے بعد احمد نے کچھ بھیڑیوں کے ساتھ مل کر تمھارے باپ اور ماں کو مار دیا تھا ۔
جس دن سعید کا قتل ہوا مجھے اللہ نے ایک بیٹی سے نوازہ تھا میری بیٹی کوئ عام لڑکی نہیں تھی۔
اس میں بہت طاقت تھی کیونکہ وہ ایک vampire اور انسان کا ملاپ تھی۔
سعید کے مرنے کے بعد احمد نے تم دونوں کی یادداشت میں سے تمھارے ماں باپ کی یادوں کو ختم کردیا تھا۔
لیزا کے پاپا کہہ کر خاموش ہوگۓ تھے.
اور آپ کو کیوں قید کیا وا تھا ۔
موسی نے پوچھا
کیونکہ میری بیٹی کے بارے میں احمد کو معلوم ہوگیا تھا لیکن جب مجھے معلوم ہوا تو میں نے اپنی بیوی اور بیٹی دونوں کو غائب کردیا تھا اور ویسے بھی میری بیٹی میں طاقتیں بیس سال کی ہونے کے بعد آنی تھی اور میں نے اپنی موت کا جھوٹ بولا تھا۔
اور پھر مجھے احمد نے پکڑ لیا تھا کیونکہ لیزا کہاں ہے صرف میں جانتا ہوں
لیزا کے والد نے کہا ۔
آپ کو معلوم ہے آپ کی بیٹی کا نام لیزا ہے ولید نے حیرانگی سے پوچھا
مجھے اپنی بیوی اور بیٹی کی پل پل کی خبر رہتی تھی تو نام کیسے مجھے معلوم نہیں ہوگا لیزا کے والد نے کہا ۔
ولی اور ولید کے سامنے آج سارے سچ آگۓ تھے جن کو وہ اپنا باپ مانتے تھے وہی ان کا بہت بڑا دشمن تھا۔
نہیں چھوڑے گۓ اپنے ماں باپ کے قاتل کو ولی نے سرخ آنکھوں سے سرد آواز میں کہا
لیکن ابھی بیلا کا پتہ معلوم کرنا زیادہ ضروری ہے ولید نے کہا
انکل کیا آپ ہمیں بتا سکتے ہیں مسٹر احمد نے ہماری بہن بیلا کو کہاں رکھا ہوا ہے ولید نے لیزا کے پاپا سے پوچھا تو لیزا کے والد آنکھیں بند کرکے کچھ پڑھنے لگے۔
جب انہوں نے آنکھیں کھولی تو تینوں ان کے جواب کے منتظر کھڑے تھے۔
لیزا کے والد نے ان کو بتا دیا تھا کہ بیلا کہاں ہے اور یہ بھی بتایا تھا کہ جلدی جاؤ احمد گھر آنے والا ہے۔
لیزا کے والد نے کہا۔
تو تینوں وہاں سے غائب ہوگۓ
…………
احمد صاحب سب سے پہلے لیزا کے پاپا کے پاس آۓ تھے لیکن جب انہوں نے اپنے Vampire جن کو رکھوالی کرنے کا کہا تھا ان کی گردنیں الگ دیکھی تو جلدی سے اند گۓ لیکن وہاں لیزا کے والد نہیں تھے اب ان کا رخ اس طرف تھا جہاں بیلا کو رکھا ہوا تھا
احمد صاحب کمرے میں پہنچے تو بیلا بھی وہاں سے غائب تھی
نہیں چھوڑوں گا میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا احمد صاحب نے غصے سے کرسی کو ٹھوکر مارتے ہوۓ کہا
…………..
احمد صاحب کے پہنچنے سے پہلے ہی ولی لوگ وہاں پر پہنچ چکے تھے
احمد صاحب نے بیلا کو بے ہوش رکھا ہوا تھا۔
تینوں بیلا کو وہاں سے لے گۓ تھے
…………
آیات کو ہوش آیا تو اس کے پاس ولید بیٹھا ہوا تھا ولید نے آیات کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔
ایک دن کے اند ہی آیات بہت کمزور ہوگئی تھی
آیات نے اٹھنے کی کوشش کی تو ولید نے اس کی مدد کی آیات نے بیڈ کے ساتھ ٹیک لگالی تھی۔
ایم سوری کافی دیر دونوں میں خاموشی رہی پھر ولید کی آواز آیات کے کانوں میں پڑی تو آیات نے ولید کی طرف دیکھا
جس کی نظریں جھکی ہوئ تھیں
آیات کو ولید کا نظریں جھکانا بلکل بھی اچھا نہیں لگا تھا
اس میں آپ کی کیا غلطی ہے
اور وہ بھیڑیے کون تھے ۔
آیات نے پوچھا
ولید کو لگا آیات کو اب سارا سچ معلوم ہوجانا چاہیے
اس لئے ولید آیات کو سارا سچ بتانے لگا
جیسے جیسے ولید آیات کو بتا رہا تھا آیات کی آنکھوں میں پانی آگیا تھا۔
اسے اس بات کا بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ لیزا بھی vampire ہے
لیکن اب سب ٹھیک ہے بیلا اور لیزا کے پاپا دونوں محفوظ ہیں ولید نے کہا
آیات نے ہاں میں سر ہلایا ۔
آیات یار سوری مجھے تم سے پوچھ کر تمہیں vampire بنانا چاہیے تھا۔
لیکن میں اپنے پیار کے معاملے میں خودغرض ہوگیا تھا
مجھے ڈر تھا کوئ تمہیں نقصان نا پہنچا دے اور ڈیڈ میرا مطلب ہے مسٹر احمد وہ بھی کبھی نا مانتے اس لۓ میں نے تمہیں vampire بنایا تھا۔
ولید نے چہرے پر شرمندگی لۓ آیات کو کہا
میں نے تمہیں معاف کردیا تھا جب میری ماما نے مجھے سمجھایا تھا ۔
لیکن مجھے مسئلہ صرف Vampire بننے سے تھا میں خون نہیں پینا چاہتی آیات نے رونے والی شکل بنا کر کہا اور ولید کا قہقہہ پورے کمرے میں گھونجا
تھا۔
خون تو پینا پڑے گا یار بہت مزے کا ہوتا ہے
ولید نے مزے سے کہا
تم آیات نے کچھ کہنا چاہا جب ولید بولا تم نہیں یار آپ بولو شوہر ہوں تمھارا تھوڑی عزت ہی کر لو ولید نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا
آیات ولید کے بات پر مسکرا پڑی تھی اور ولید یہی تو چاہتا تھا کہ آیات اس حادثے کو جلد بھول جاۓ
…………….
بیلا کو ہوش آیا تو اس کی نظر موسی پر پڑی جو بیلا کو ہی دیکھ رہا تھا۔
مجھے کس نے قید کیا تھا بیلا نے اٹھتے ہی پوچھا
موسی نے اپنے دماغ کے ذریعے بیلا کو سب بتا دیا تھا بیلا رونے لگی تھی
بیلا تم اس انسان کے لیے رو رہی ہو جس نے تمھارے ماں باپ کو مارا تھا موسی نے بیلا کے پاس آتے ہوۓ کہا
لیکن انہوں نے ہمیں اپنے بچوں کی طرح پالا تھا بیلا نے روتے ہوۓ کہا
ہاں لیکن اپنے مقصد کے لئے موسی نے کہا
بھائ کہاں ہیں
بیلا نے ولی اور ولید کے بارے میں پوچھا
ان کو کچھ کام تھا تھوڑی دیر تک آجاۓ گۓ موسی نے کہا
کیا تم ابھی بھی اس vampire سے شادی کرو گی جس کے ساتھ مسٹر احمد نے کہا تھا موسی نے بیلا سے پوچھا
نہیں میں اس سے شادی نہیں کروں گی بیلا نے کہا موسی بیلا کی بات سن کر خوش ہوگیا تھا
لیکن بیلا کی اگلی بات نے اس کی خوشی ختم کر دی تھی
میں اب کبھی بھی کسی سے بھی شادی نہیں کروں گی۔
بیلا کہہ کر وہاں سے چلی گی تھی موسی ابھی بھی اسی جگہ کو دیکھ رہا تھا جہاں سے بیلا گئ تھی
…………..
دن گزر رہے تھے احمد صاحب ابھی تک خاموش تھے
آیات بھی کافی حد تک سنبھل گئ تھی
یہ لوگ آج کافی دنوں بعد یونی آۓ تھے
جاسم نے جب لیزا کو دیکھا تو اس کے پا س آیا تھا
ہیلو لیزا جاسم نے لیزا کے پاس آتے ہوۓ کہا
ہیلو جاسم کیسے ہو تم؟
لیزا نے خوشی سے پوچھا
میں ٹھیک ہوں تم کہاں تھی یونی کیوں نہیں آرہی تھی
جاسم نے پوچھا وہ میری ماما کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی لیزا نے جلدی سے کہا
اوووو اب کیسی ہے جاسم نے پوچھا
اب تو وہ کافی حد تک ٹھیک ہیں لیزا نے مسکراتے ہوئے کہا
لیزا میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں جاسم نے کہا بیلا اور آیات کھڑی دونوں کی باتیں سن رہی تھی ۔
ہاں کہو لیزا نے کہا
جاسم نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر لیزا کا ہاتھ پکڑا اور کہا
لیزا کیا تم مجھ سے شادی کرنا چاہو گی
جاسم نے پوچھا لیزا آنکھیں پھاڑے ایک ہاتھ اپنے منہ پر رکھ کر جاسم کو دیکھ رہی تھی
آیات اور بیلا کا بھی یہی حال تھا کچھ فاصلے پر ولی لوگ کھڑے تھے ولی نے جب ھاسم کو دیکھا تو جاسم کے پاس جانے لگا
جب موسی نے اسے روکا
لیزا نے سامنے دیکھا تو ولی دونوں کو خونخوار نظروں سے دیکھ رہا تھا
مالا
جیک آج کل کیا کررہا ہے سردار نے مالا سے پوچھا جو سر جھکاۓ کھڑی تھی
سردار وہ اس لڑکی کو تلاش کررہا ہے جس کا آپ نے کہا تھا۔
مالا نے کہا
جو بھی تھا چاہے جیک اسے پسند نہیں کرتا تھا لیکن مالا تو جیک کو پسند کرتی تھی اور پیار میں تو محبوب کی ہر ایک چیز اچھی لگتی ہے پھر چاہے وہ کسی اور کو ہی کیوں نا پسند کرتا ہو
اور اب مالا کو وہ لڑکی بھی عزیز تھی جو جیک کو پسند تھی
کیونکہ مالا کو جیک بھی عزیز تھا
اس نے لیزا کے بارے میں سردار کو نہیں بتایا تھا
ہہہہمم تم جاسکتی ہو
سردار نے کہا اور مالا وہاں سے چلی گئ ۔
مالا کے جانے کے بعد ایک اور بھیڑیا آیا تھا
مجھے جیک کی پل پل کی خبر چاہیے سردار نے سامنے کھڑے بھیڑیے کو کہا
اور پھر وہ بھیڑیا بھی وہاں سے چلا گیا تھا ۔
……………
جیک میں تمہیں صرف دوست مانتی ہوں تم میرے بہت اچھے دوست ہو میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں لیزا نے نظریں جھکا کر کہا تھا ۔
جیک بنا کچھ بولے ءونی سے ہی چلا گیا تھا
ولی کو یہ سب سن کر اندر تک سکون مل گیا تھا۔
جاسم بہت اچھا تھا لیزا کو اس میں آج تک کوئ برائی نظر نہیں آئ تھی
لیکن وہ ولی کو پسند کرتی تھی اور اسے جیک کا دل دکھا کر بھی برا لگ رہا تھا ۔
لیزا بھی اپنے گھر چلی گئ تھی اسے اس وقت تنہائی چاہیے تھی جو یہاں نہیں مل سکتی تھی ۔
…………
جیک نے لیزا کو گردن سے پکڑا ہوا تھا لیزا تقریباً بیہوش تھی ۔
اگر تمہیں لگتا ہے کہ تم لیز اکو مجھ سے دور کر دو گۓ تو یہ تمھاری بھول ہے
جیک نے لیزا کو زور سے دھکا دیا اور وہ سیدھی درخت کے ساتھ جا لگی تھی
اور اس ے سر سے خون نکلنے لگا تھا
لیزا صرف میری ہے جیک کہہ وہاں سے غائب ہوگیا تھا ولی جلدی سے لیزا کے پاس آیا تھا
لیزا لیزا کہتا ولی نیند سے ہڑبڑا کرجاگا تھا
ولی نے اپنے ماتھے سے پسینہ صاف کیا
یہ خواب تھا ولی نے خود سے سوال کیا۔
اگر سچ میں جیک نے لیزا کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو کیونکہ وہ جیک کو شادی کے لۓ منع کر چکی ہے
اگر ایسا ہوا تو میں جیک کو زندہ نہیں چھوڑوں گا ولی نے دل میں سوچا ۔
…………….
جیک خاموش بیٹھا ہوا تھا جب مالا اس کے پاس آئ تم ٹھیک ہو؟
مالا نے جیک کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ پوچھا؟
کیا تم مجھ سے شادی کرو گی جیک نے مالا سے پوچھا چہرہ ابھی بھی سامنے تھا مالا تو جیک کی بات سن کر حیران ہوگئ تھی
لیکن تم تو اس لڑکی کو پسند کرتے ہو نا مالا نے کہا
وہ کسی اور کو پسند کرتی ہے اور اب مجھے محسوس ہورہا ہے جب میں تمہیں دھتکارتا تھا تو تمہیں کیسے محسوس ہوتا ہوگا ۔
مجھے معاف کردو جیک نے کہا
جیک یہ تم کیسی باتیں کررہے ہو اگر تم اس سے پیار کرتے ہو تو زبردستی بھی اس سے شادی کرسکتے ہو
مالا نے کہا
وہ جیک کو پسند کرتی تھی اور اس کی خوشی بھی اسے بہت عزیز تھی
میں اس سے پیار نہیں کرتا بس مجھے وہ پسند تھی
اور اگر میں اس سے زبردستی شادی کر بھی لو تو پیار تو وہ مجھ سے کبھی بھی نہیں کرسکے گی الٹا مجھ سے نفرت کرے گی
وہ میری بہت اچھی دوست ہے اور ہمیشہ رہے گی۔میں اپ ی دوستی نہیں کھونا چاہتا
جیک نے کہا
تم اپنی ساری زندگی میرے ساتھ گزارنا چاہو گی
جیک نے پھر سے مالا سے پوچھا۔
مالا کی آنکھوں میں پانی آگیا تھا
تم چاہو تو انکار بھی کرسکتی ہو جیک نے مالا سے کہا ۔
نہیں
میں تم سے محبت کرتی ہوں میں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہو گی مالا نے کہا
لیکن پھر ہم یہاں نہیں رہے گۓ ہم یہاں سے دور چلے جاۓ مالا نے اپنی شرط رکھی
اوکے
جیک نے مسکراتے ہوئے کہا
زندگی میں کھبی بھی اسے انسان کو کھونا نہیں چاہیے جو اپ سے پیار کرتا ہو چاہے وہ انسان ہو یا Vampire ہو جیک نے بھی یہی یہی تھا
پر سردار نے جس لڑکی کا کہا تھا وہ مالا نے بات ادھوری چھوڑتے ہوئے کہا
وہ لڑکی مجھے مل گئ ہے لیکن اسے میں سردار کے حوالے نہیں کروں گا
جیک نے کہا
کون ہے وہ لڑکی اور تم کیوں اسے سردار کے حوالے نہیں کرو گۓ مالا نے پوچھا
وہ لڑکی لیزا ہے اور سردار اپنے مطلب کے لۓ اسے حاصل کربا چاہتے ہے جیک نے کہا
لیزا ہے وہ لڑکی مالا نے حیرانگی سے پوچھا
ہاں میں کبھی بھی اپنی دوست سردار کے حوالے نہیں کروں گا۔
جیک نے کہا
تم رات کو تیار رہنا ہم آج رات ہی یہاں سے بہت دور چلے جاۓ گۓ
اور اس سے پہلے مجھے ایک کام کرنا ہے میں وہ کر کے آتا ہوں۔
جیک نے کہا اور وہاں سے چلا گیا
مالا بہت خوش تھی آخر آج اسے اس کا پیار مل گیا تھا۔
…………
جیک لیزا کے گھر گیا تھا
لیزا صبح کے لیے میں تم سے معافی چاہتا ہوں
اور میں یہاں سے ہمیشہ کے لیے جارہا ہوں امید کرتا ہوں ہم ابھی بھی دوست ہیں
جیک نے امید بھری نظروں سے لیزا کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
بلکل ہم ہمیشہ اچھے دوست رہے گۓ
مجھے لگا تھا میں نے اپنے دوست کو کھو دیا ہے
لیزا نے مسکراتے ہوۓ کہا
مجھے بھی ایسا ہی لگا تھا جیک نے کہا
اور پھر دونوں ہنس پڑے
لیزا میں تمہیں کچھ بتانا چایتا ہوں مجھے نہیں معلوم تمہیں اپنی اصلیت کا پتہ ہے کہ نہیں لیکن میں بس تمہیں اتنا بتانا چاہتا ہوں میں ایک بھیڑیا ہوں اور ہمارا سردار تمہاری تلاش میں ہے
اس نے میرے ذمہ تمہیں ڈھونڈنے کا کام لگایا تھا
اور اب میں یہاں سے جارہا ہو تو وہ کسی اور بھیڑیے کو تمھارے پیچھے لگاۓ گا
اس لیے اپنی حفاظت کرنا
تم بہت طاقتور ہو
جیک نے کہا
لیزا کو یہ سن کر حیرانگی ہوئ تھی کہ جاسم ایک بھیڑیا ہے
اگر تمہیں معلوم ہے کہ میں ہی وہی لڑکی ہوں جسے تمھارا سردار ڈھونڈ رہا ہے تو تم نے مجھے ان کے حوالے کیوں نہیں کیا لیزا نے پوچھا
کیونکہ تم میری دوست ہو اور میں اپنی دوست کے ساتھ کبھی غلط نہیں کرسکتا
جیک نے مسکراتے ہوۓ کہا
اوکے اب میں چلتا ہوں اپنا خیال رکھنا
جیک نے کہا
تم بھی اپنا خیال رکھنا لیزا نے مسکراتے ہوئے کہا
جیک وہاں سے جارہا تھا جب ولی وہاں آیا
یہ یہاں کیا کررہا تھا؟
ولی نے غصے سے پوچھا؟
گڈ باۓ بولنے آیا تھا اور کچھ بتانے بھی لیزا نے کہا
کیا مطلب ولی نے پوچھا
جاسم ایک بھیڑیا ہے اور وہ یہاں سے ہمیشہ کے لۓ جارہا ہے
اور اس کے سردار کو میری تلاش ہے اور جاسم مجھے کہنے آیا تھا کہ اپنی حفاظت کرنا لیزا نے عام سے لہجے میں کہا
تمہیں حیرت نہیں ہوئ کہ جاسم ایک بھیڑیا ہے ولی نے حیرانگی سے پوچھا
جاسم کے جانے کا سن کر ولی کو سکون مل گیا تھا
میری زندگی میں جو کچھ ہورہا ہے میں نے اب حیران ہونا چھوڑدیا ہے لیزا نے کہا
ہممممم یہ بھی ٹھیک ہے ۔
ولی نے دل میں کہا۔
………….
جیک کے جانے کے بعد سردار نے مالا کو بلایا تھا
مالا اس وقت سردار کے سامنے موجود تھی
تم نے کل مجھ سے جھوٹ بولا تھا
سردار بے دہاڑتے ہوۓ پوچھا
کون سا جھوٹ مالا نے ڈرتے ہوۓ پوچھا
جیک کسی انسانی لڑکی کو پسند کرتا ہے یہ بات تم جانتی تھی تو مجھے کیوں نہیں بتائ سردار نے غصے سے پوچھا
وہ..
مالا کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا جواب دے لیکن جیک کی آواز کے نے اسے پرسکون کر دیا تھا
آپ کو جس نے بھی یہ معلومات دی ہے وہ غلط ہے سچ تو یہ ہے کہ میں مالا سے پیار کرتا ہوں اور ہم دونوں بہت جلد شادی کرنے والے ہیں
جیک نے کہا
سردار یہ سن کر خوش ہوگیا تھا
یہ تو بہت اچھی خبر ہے سردار نے خوشی سے کہا
…………….
بیلا پلیز ایک بار میری بات سن لو پھر تمھارا جو بھی فیصلہ ہوگیا مجھے منظور ہوگا
موسی کب سے بیلا کو منارہا تھا لیکن بیلا موسی کی بات نہیں سن رہی تھی،
ولی روم میں داخل ہوا تو اسے اپنے دوست کی حالت پر رحم آگیا تھا
ولی نے موسی کو کہا تم جاؤ میں بات کرتا ہوں موسی باہر چلا گیا تھا۔
بیلا پہلے تحمل سے میری بات سن لو اس کے بعد سب کچھ تمھاری مرضی سے ہو گا
ولی نے بیلا کے پاس بیٹھتے ہوۓ کہا
بیلا ولی کے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی
ولی نے سب کچھ بیلا کو بتا دیا
اور پھر بیلا کے جواب کا انتظار کرنے لگا
لیکن بھائ اسے مجھ سے بات تو کرنی چاہئیے تھی میں تو ہمیشہ اسے ہی غلط سمجھتی آئ ہوں
بیلا نے پریشانی سے کہا
یار تم اسے بولنے کا موقع جو نہیں دیتی تھی
ولی نے بات کا رخ مزاخ کی طرف موڑتے ہوۓ کہا
بیلا ولی کی بات پر ہنس پڑی اب تو تمہیں کوئ مسئلہ نہیں ہے نہ موسی سے شادی کرنے میں ولی نے بیلا سے پوچھا
بیلا نے ناں میں سر ہلایا تھا
اس کے دل میں موسی کے لئے جو بھی خدشات تھے وہ ولی نے دور کر دیے تھے ۔
………….
جیک اور مالا رات کو یہاں سے بہت دور چلے گۓ تھے اور جیک جانے سے پہلے سردار کے لئے ایک لیٹر چھوڑ گیا تھا۔
جیک کہاں ہے؟
سردار نے اپنے وفادار سے پوچھا
سردار جیک اور مالا رات سے غائب ہیں۔
ہمیں ان کے گھر سے یہ خط ملا ہے
اس بھیڑیے نے کہا
کیا لکھا ہے اس خط میں؟ سردار نے غصے سے پوچھا سردار اس میں لکھا ہوا ہے میں اور مالا ہمیشہ کے لۓ یہاں سے جارہے ہیں کیونکہ میں یہاں رک کر مزید لوگوں کی جانیں نہیں لے سکتا اور جہاں تک بات ہے لڑکی کی تو وہ لڑکی مجھے مل گئ تھی لیکن میں نہیں چاہتا تھا اس معصوم کی جان آپ لے
شکریہ
بھیڑیے کے خاموش ہونے پر سردار کی آواز پھر سے گونجی تھی
پتہ لگاؤ جیک کس لڑکی کے ساتھ زیادہ رہتا تھا یقیناً وہی لڑکی ہوگی
سردار نے حکم صادر کیا
اور وہ بھیڑیا وہاں سے چلا گیا
بہت غلط کیا تم نے جیک تمہیں میں نے اپنے بیٹے کی طرح پالا تھا لیکن پتہ نہیں تم میں یہ اچھائ کا کیڑا کہاں سے آگیا
سردار نے غصے میں سوچا
………
موسی اور بیلا کا آج نکاح تھا موسی بہت خوش تھا
اس کی محبت ہمیشہ کے لیے اس کی ہونے والی تھی
آیات اور لیزا بیلا کے پاس تھیں دونوں بیلا کو تیار کررہی تھیں ۔
بیلا نے پارلر جانے سے انکار کردیا تھا
گھر میں چھوٹی سی تقریب رکھی گئ تھی جس میں گھر کے لوگ شامل تھے
باہر سے کسی کو بھی نہیں بلایا تھا۔
سب کی موجودگی میں موسی کا نکاح ہوا تھاسب بہت خوش تھے.
………….
اگلے دن جب لیزا اپنے گھر جارہی تھی تو اس کے سامنے سردار آکر کھڑا ہو گیا تھا
لیزا سردار کو اپنے سامنے دیکھ کر ڈر گئ تھی سردار اپنی اصل حالت میں تھا اور باقی بھیڑیوں کی نسبت کافی بڑابھی تھا۔
لیزا ابھی اس بھیڑیے کو دیکھ رہی تھی جب ایک آواز اسے سنائی دی
اس لڑکی سے دور رہو احمد صاحب نے سردار کو کہا
سردار اب خونخوار نظروں سے احمد کو گھور رہا تھا۔
سردار اب انسانی روپ میں آگیا تھا
یہ لڑکی میری ہے اور اسے میں اپنے ساتھ لے کر جاؤ گا سردار نے دھاڑتے ہوۓ کہا
تو ٹھیک ہے ہم مقابلہ کر لیتے ہیں جو جیتا لڑکی اس کی ہوگی احمد صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا
سردار بھی اپنی اصل حالت میں واپس آگیا تھا
احمد صاحب کے بھی لمبے دانت نکل آۓ تھے آنکھیں سرخ ہوگئ تھیں ۔
دونوں ایک دوسرے کو مارنے کی کوشش کررہے تھے
لیزا شوکڈ کھڑی دونوں کو دیکھ رہی تھی جو اس کے لئے لڑ رہے تھے
سردار کی نسبت احمد صاحب زیادہ طاقتور تھے اس لۓ انہوں نے سردار کا دل نکال لیا تھا
سردار وہی پر گر گیا تھا اور تھوڑی دیر بعد ہی مر گیا تھا۔
سردار کا دل احمد کے ہاتھ میں تھا احمد نے دل دور پھینک دیا تھا
احمد صاحب لیزا کے پاس آۓ جو ابھی بھی سردار کی طرف دیکھ رہی تھی
احمد صاحب جانتے تھے کہ لیزا کو زبردستی لے کر نہیں جاسکتے تھے اس لۓ انہوں نے لیزا سے جھوٹ بولا.
بیٹا میں ولی کا فادر ہوں چلو میرے ساتھ احمد صاحب نے پیار سے کہا
لیزا ولی کا سن کر احمد صاحب کے ساتھ چل پڑی تھی۔
ولی نے احمد صاحب کا لیزا کو تو بتایا ہی نہیں تھا
اگر بتایا ہوتا تو وہ کبھی بھی ان کے ساتھ نا جاتی ۔
……………
کیا ہوا انکل سب ٹھیک ہے آپ نے ہمیں کیوں بلایا ہے ولی نے لیزا کے پاپا سے پوچھا
لیزا احمد کے پاس ہے لیزا کے والد نے کہا
کیا؟
لیکن کیسے وہ کیسے ان کے پاس جاسکتی ہے وہ ان سے زیادہ طاقتور ہے ولید نے ولی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
میں نے اسے مسٹر احمد کی سچائی نہیں بتائ تھی ولی نے جواب دیا
کیا تم نے لیزا کو بتایا کیوں نہیں ولید نے حیرانگی سے پوچھا
ولی خاموش رہا اس کے پاس جواب نہیں تھا
اب تم دونوں یہ باتیں بند کرو اور کچھ سوچو کہ لیزا کو واپس کیسے لانا ہے۔
موسی نے دونوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
ہاں چلو ولی نے کہا
………….
انکل ولی کہاں ہے لیزا نے احمد صاحب سے پوچھا
وہ تو اُسی دن مجھے چھوڑ کر چلے گۓ تھے جس دن ان کو میری سچا معلوم ہوئ تھی احمد صاحب نے مسکراتے ہوۓ کہا
کیا مطلب؟
لیزا نے حیرانگی سے پوچھا اسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہورہا تھا اسے احمد کے ساتھ نہیں آنا چاہیے تھا۔
لیکن اب تو کافی دیر ہوچکی تھی
تم سب باتوں کو چھوڑوں آج میں بہت جوش ہوں جو مجھے چاہیے تھا وہ مجھے آج مل گیا ہے میں تمھارا خون پی کر دنیا کا طاقتور vampire بن جاؤ گا ۔
احمد نے ہنستے ہوئے کہا
آپ بھی لیزا نے حیرانگی سے کہا
خاموش لڑکی یہاں لیٹ جاؤ مجھے تمھارا خون چاہیے اس کے بعد تمہیں بہت آرام سے موت دوں گا
احمد صاحب نے کہا ۔
اگر آپ کو معلوم ہے میں وہی لڑکی ہوں تو آپ کو میری طاقتوں کا بھی پتہ ہوگا لیزا نے طنزیہ کہا
ہاں جانتا ہوں لیکن یہاں تمھاری کوئی طاقت کام نہیں کرے گی
اس جگہ پر کسی قسم کا جادو نہیں چلتا احمد صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا
بھول ہے آپ کی افسوس ہورہا مجھے آپ کی سوچ پر کاش آپ نے میری طاقتوں کے بارے میں تھوڑا اور معلوم کروایا ہوتا لیزا نے ہنستے ہوئے کہا
اس کی شکل بلکل ہی تبدیل ہوگئ تھی لمبے دانت کالی آنکھیں یہ خوبصورت لیزا تو کہی سے بھی نہیں لگ رہی تھی
لیزا نے احمد کو گردن سے پکڑا اور دیوار میں دے مارا
احمد صاحب اپنی طاقت کو یہاں استعمال نہیں کرسکتے تھے
لیزا نے احمد کو پکڑا اور پھر ایک ہی جھٹکے سے احمد کی گرد توڑ دی اور سر دھر سے الگ کردیا
اور سر کو دروازے کی طرف پھینکا جہاں سے موسی لوگ اندر آرہے تھے
احمد صاحب کے خون کو لیزا نے ضائع نہیں ہونے دیا تھا لیزا نے سارا خون پی لیا تھا
تینوں کھڑے لیزا کو دیکھ رہے تھے لیزا کو جب ہوش آیا تو احمد صاحب سے ایک دم پیچھے ہوئ اور پھر خود بھی بیہوش ہوکر زمین پر گر گئ تھی۔
ولی نے لیزا کو اٹھایا اور وہاں سے لے گیا
ولید نے نفرت سے احمد صاحب کی باڈی کی طرف دیکھا اور پھر اسے آگ لگا کر وہاں سے چلا گیا
…………..
لیزا کو جب ہوش آیا تو اس نے ولی کو اپنے قریب بیٹھا ہوا دیکھا
ولی میں نے تمھارے بابا کو مار دیا لیزا نے روتے ہوئے کہا وہ…… لیزالیزا نے کچھ کہنا چاہا جب ولی نے لیزا کے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر چپ کروایا تم نے کچھ غلط نہیں کیا۔
پھر ولی نے احمد صاحب کے بارے میں سب کچھ لیزا کو بتادیا
تم اپنے ڈیڈ سے ملنا چاہو گی ولی نے مسکراتے ہوئے پوچھا
ہاں لیزا نے جلدی سے کہا
چلو میرے ساتھ
ولی نے کہا اور لیزا کو اس کے والد کے پاس لے گیا تھا۔
لیزا کی ماما بھی وہی موجود تھی ان کو اپنے شوہر کو زندہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئ تھی
اور ان کو ساری سچائ کا بھی معلوم ہوگیا تھا
پہلے تو ان کو vampire والی کہانی پر یقین نہیں آرہا تھا لیکن پھر جب ان کے شوہر نے vampire بن کر دیکھا یا پھر ان کو یقین آیا تھا
لیز ااپنے والد کو دیکھ کر بہت تھی۔
………….
آیات اپنی زندگی میں بہت خوش تھی ولید اس کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھتا تھا
وہ اللہ کی شکرگزار تھی جس نے اسے اتنا اچھا شوہر دیا تھا
…………
موسی مجھے معاف کر دو
بیلا نے موسی سے کہا
معاف کیا مطلب؟
موسی نے حیرانگی سے اپنی بیوی کی طرف دیکھا جو نکاح کے بعد اب اس کے سامنے آئ تھی۔
وی مجھے تمھاری بات سن لینی چاہیے تھی بیلانے کہا
کوئ بات نہیں موسی نے مسکراتے ہوئے کہا اور بیلا کو گلے لگایا۔
بیلا بھی موسی کے گلے لگنے پر مسکرا پڑی تھی ۔
……..
کچھ دنوں بعد ولی اور لیزا کا نکاح تھا
اور آخر کار آج وہ دن آگیا تھا
جب لیزا ولی کے روم میں اس کی دلہن بنی ہوئ بیٹھی ہوئی تھی۔
ولی اند آیا تو لیزا کو دیکھ کر مبہوت سا ہو گیا تھا لیز الگ ہی اتنی خوبصورت رہی تھی ۔
ولی چلتا ہوا لیزا کے پاس آیا
اور اسے دیکھنے لگا ۔
لیزا نے نظریں جھکائ ہوئ تھیں
ولی نے لیزا کا ہاتھ پکڑا اور اس میں ایک خوبصورت سی انگوٹھی پہنائی۔
تھینک یو میری زندگی کو خوبصورت بنانے کے لیے ولی نے کہتے ہی لیزا کے ماتھے پر اپنے لب رکھ دیے تھے۔لیزا نے مسکرا کر اپنی آنکھیں بند کر لیں تھیں ۔
دونوں جانتے تھے کہ وہ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں ۔لیکن اظہار آج تک کسی نے نہیں کیا تھا
۔کبھی کبھی کہنا ہی سب کچھ نہیں ہوتا۔
اب ان کی زندگی میں کوئی پریشانی نہیں تھی بس خوشیاں ہی خوشیاں تھیں ۔

 

See also  Haalim Novel by Nimra Ahmed | Best Urdu Novels

 

 Novel by Zeenia Sharjeel:

 

 

♥ Download More:

Areej Shah Novels

Zeenia Sharjeel Novels

Sidra Shiekh Novels

Famous Urdu novel List

Romantic Novels List

Cousin Rude Hero Based romantic  novels

 

 

آپ ہمیں اپنی پسند کے بارے میں بتائیں ہم آپ کے لیے اردو ڈائجیسٹ، ناولز، افسانہ، مختصر کہانیاں، ، مضحکہ خیز کتابیں،آپ کی پسند کو دیکھتے ہوے اپنی ویب سائٹ پر شائع کریں  گے

 

 

Copyright Disclaimer:

We Shaheen eBooks only share links to PDF Books and do not host or upload any file to any server whatsoever including torrent files as we gather links from the internet searched through world’s famous search engines like Google, Bing etc. If any publisher or writer finds his / her book here should ask the uploader to remove the book consequently links here would automatically be deleted.

Leave a Comment

close