Umeed e Wafa Novel by Zeeniya Sharjeel | Best Urdu Novels

Umeed e Wafa Novel by Zeenia Sharjeel is the best novel ever. Novel readers liked this novel from the bottom of their hearts. Beautiful wording has been used in this novel. You will love to read this one. Umeed e Wafa Novel by Zeenia Sharjeel is very romantic novel, if you love to read romantic novels then you must read Umeed e Wafa Novel by zeenia sharjeel. 

This novel by Zeenia Sharjeel is a special novel, many social evils has been represented in this novel. Different things that destroy today’s youth are shown in this novel. All type of people are tried to show in this novel.

Umeed e Wafa Novel by Zeenia Sharjeel

Zeenia Sharjeel has written many novels, which her readers always liked. She tries to instill new and positive thoughts in young minds through her novels. She writes best. 

Umeed e Wafa Novel

If you want to download this novel, you can download it from here:

↓ Download  link: ↓

Note!  If the link doesn’t work please refresh the page

Umeed e Wafa Novel by Zeenia Sharjeel Complete PDF

 

 

 

"صبح بخیر ڈاکٹر ماہین"
55 سالہ نرس زلیخا ڈاکٹر ماہین کے کمرے میں آتی ہوئی بولی، ڈاکٹر ماہین تھوڑی دیر پہلے اسپتال میں آئی تھی
"آپ کی تو کل رات کی ڈیوٹی تھی ابھی تک آپ یہی موجود ہیں، گھر نہیں گئیں اپنے"
ڈاکٹر ماہین زلیخا کی عمر کی وجہ سے ہمیشہ اسے عزت سے بات کرتی تھی، ساتھ ہی وہ اپنا کوٹ بھی پہننے لگی تاکہ وارڈ کا چکر لگا سکے تب زلیخا اسے بتانے لگی
"کل رات ایمرجنسی میں ایک بچی کو لایا گیا تھا جس کی وجہ سے ڈاکٹر ہدایت نے مجھے آن ڈیوٹی رہنے کو کہا"
زلیخا اس معصوم بچی کا تصور ذہن میں لا کر افسردگی سے ماہین کو بتانے لگی
"کیوں کیا کوئی زیادہ ہی اسپیشل کیس تھا جو آپ کو ہدایت صاحب نے یہاں رکنے کی ہدایت دی"
ماہین اپنا موبائل اٹھا کر مسکراتی ہوئی زلیخا سے پوچھنے لگی
"صرف 9 سال کی عمر ہے اُس بچی کی جس کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا پھر اُس کا گلا دبا کر اُس کو مارنے کی کوشش کی گئی۔۔۔ خوف کے مارے وہ بچی کل بری طرح چیخ رہی تھی۔۔۔۔ اُس بچی کے ساتھ زیادتی کرنے والا شاید کوئی جانور ہی ہوگا جس نے بڑی بےدردی سے اس کم سن بچی کے ساتھ،،، چیخیں نہیں سنی جارہی تھی مجھ سے اس بچی کی، کل رات بہت مشکل ہے اسے کنٹرول میں کرکے نیند کا انجکشن دیا گیا تھا"
زلیخا کی بات سن کر ڈاکٹر ماہین کا دل افسردہ ہونے لگا ایسا نہیں تھا کہ زندگی میں پہلا ایسا کیس اُس کے سامنے آیا تھا مگر جب بھی زیادتی کی ہوئی عورت یا بچی کو اسپتال میں لایا جاتا ہے وہ یونہی افسردہ ہو جاتی
"خدا غارت کرے ایسے درندوں کو جو معصوم بچیوں تک کو اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہوئے ایک بار بھی نہیں سوچتے کہ یہی عمل کل کو اُن کی بہنوں بیٹیوں کے ساتھ کوئی دوسرا کرے تو وہ خود کیسا محسوس کریں گے۔۔۔ اور دوسرا ہمارا قانونی نظام،، ایسے بھیڑیوں کی تو کوئی پکڑائی نہیں ہوتی کھلے عام دندناتے پھرتے ہیں"
ڈاکٹر ماہین سر جھٹک کر بولی اور ٹیبل پر رکھی ہوئی فائل دیکھنے لگی جو کہ روم نمبر 11 کی پیشنٹ کی تھی جس کو کل رات اسپتال میں بری حالت میں لایا گیا تھا
"مگر اِس موقع واردات پر اُس لڑکے کو پکڑ لیا گیا ہے جس نے اُس بچی کے ساتھ اتنا بےرحمانہ سلوک کیا تھا، ظفر بتا رہا تھا وہ خود بھی زیادہ بڑا نہیں ہے کم عمر ہے اس لڑکے کی"
زلیخا کی بات سن کر ڈاکٹر ماہین نے فائل سے سر اٹھا کر زلیخا کو دیکھا
"کم عمر ہو یا زیادہ عمر ہو، وہ مرد ہو یا پھر لڑکا ایسے ذلیل انسان کو سولی پر لٹکا دینا چاہیے"
ڈاکٹر ماہین فائل کو ٹیبل پر رکھ کر زلیخا کو دیکھتی ہوئی بولی ویسے ہی روم کا دروازہ کھلا وارڈ بوائے روم کے اندر داخل ہوتا ہوا بولا
"روم نمبر 11 کے پیشنٹ کی حالت بگڑ رہی ہے ڈاکٹر ہدایت نے فوری طور پر آپ کو روم نمبر 11 میں آنے کو کہا ہے"
جیسے ہی وارڈ بوائے نے ڈاکٹر ہدایت کا پیغام ڈاکٹر ماہین کو دیا ویسے ہی ڈاکٹر ماہین اور زلیخا دونوں روم نمبر 11 میں جانے کے لیے تیار ہوگئیں
****
"چھوڑ دو پلیز مجھے چھوڑ دو،، میں نہیں بولوں گی کسی کو کچھ نہیں بتاو گی، مجھے مت مارنا مجھے درد ہو رہا ہے بہت درد ہو رہا ہے"
نو سالہ بچی جوکہ اس وقت دو نرسیز اور ایک وارڈ بوائے کے قابو میں نہیں آرہی تھی اور ہذیانی انداز میں چیختی ہوئی وہ اسپتال کے کمرے کی کھلی کھڑکی کو مسلسل دیکھ رہی تھی، اُس وقت ڈاکٹر ماہین اور زلیخا بھی روم میں پہنچ گئی تھی
"یااللہ میری بچی۔۔۔۔ دیکھیں کیا حشر کر دیا اُس ظالم نے میری چھوٹی سی معصوم بچی کا"
زار و قطار ہوئی عورت پر ڈاکٹر ماہین کی نظر پڑی اُس عورت کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو اور آہیں بتارہے تھے کہ وہ عورت اُس بچی کی ماں تھی اُس کے ساتھ ہی ڈھلکے ہوئے شانوں اور شکستہ انداز میں اُس عورت کو تسلی دیتا ہوا شخص یقیناً اس بچی کا باپ ہوگا جس بچی کو کل رات زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جبکہ کمرے کے ایک کونے میں 17 سے 18 سال کا لڑکا بھی موجود تھا جو اپنے آنسوؤں کو ضبط کیا ہوا اور دونوں مٹھیوں کو بھیجے ہوئے روتی ہوئی اُس بچی کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ دونوں کی شکلوں میں مماثلت سے ڈاکٹر ماہین نے اندازہ لگایا کہ وہ اُس بچی کا بھائی ہوگا جو ایک دم سے کمرے سے باہر نکل گیا
"پلیز آپ دونوں بھی روم سے باہر جائے پیشنٹ کو ہم سنبھالیں گے"
ڈاکٹر ماہین ان دونوں کے پاس آتی ہوئی آہستہ سے بولی جبکہ زلیخا سرنچ میں انجکشن بھر رہی تھی۔۔۔ ڈاکٹر ماہین کے بولنے پر وہ آدمی روتی ہوئی اپنی بیوی کو لےکر کمرے سے باہر نکل گیا
****
"اور کتنا راستہ رہتا ہے عباد"
ڈیڑھ گھنٹہ کی فلائٹ کے بعد مسلسل پانچ گھنٹے سے گاڑی کا سفر کرتی ہوئی نازنین اب تھک چکی تھی تبھی بےذار ہوتی ہوئی ڈرائیور کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھے ہوئے اپنے شوہر سے پوچھنے لگی
"یہ بات تم تین بار پوچھ چکی ہو نازنین ابھی بتایا تو ہے کہ مزید ایک گھنٹہ لگے گا۔۔۔ کرنا کیا ہے تمہیں بنگلے میں پہنچ کر آرام ہی کروں گی، اصل خواری تو میری ہے جسے اس لمبے سفر کے بعد مین ہیڈ کوارٹر میں جاکر آج ہی جوائننگ دینا ہے"
عباد خود بھی اس طویل سفر سے بیزار ہوچکا تھا اس لئے چڑتا ہوا نازنین سے بولا
"معلوم نہیں آرام کرنا ہے کہ گھر کی صفائی کروانی ہے، پتہ نہیں گھر صاف ستھرا ملے گا بھی یا نہیں"
نازنین جو کافی صفائی پسند واقع تھی آہستہ سے بڑبڑاتی ہوئی بولی مگر اس کی بڑبڑاہٹ عباد سن کر کار ڈرائیو کرتے ہوئے قیوم سے پوچھنے لگا
"ہاں بھئی کیا نام ہے تمہارا گھر کی صفائی وغیرہ کروائی تھی، شاید میری فون پر تمہی سے بات ہوئی تھی پرسوں"
عباد اکیس گریڈ کا افسر تھا اس کی پوسٹنگ چند دنوں پہلے ہارڈ ایریا میں ہوچکی تھی آج ہی وہ بائی آئیر گلگت پہنچا تھا اور آج ہی اسے ڈیوٹی جوائن کرنا تھی کیونکہ گورنمنٹ کی طرف سے اُسے رہائش کے لیے سرکاری بنگلہ ملا تھا اسی لیے وہ اپنے ہمراہ نازنین اور دونوں بچوں کو بھی ساتھ لےکر آیا تھا
"جی صاحب پرسوں صفدر صاحب نے میری ہی آپ سے بات کروائی تھی۔۔۔ قیوم نام ہے میرا صاحب، میری گھر والی نے خادمہ سے کہہ کر رات میں ہی بنگلے کی صفائی ستھرائی کروا دی تھی۔۔۔ بستر پر صاف ستھری چادر اُس نے خود ہی بچھادی تھی، کھانے کا آپ جب بھی بولیں گے وہ میں اپنی گھر والی سے بنوا دوں گا"
قیوم کی ڈیوٹی اس سرکاری بنگلے میں پوسٹنگ ہونے والے افسران کی ڈرائیوری کے ساتھ چھوٹے موٹے کام انجام دینا تھی۔۔۔ وہ عباد کو پوری تفصیل سے مکمل بات بتانے کے ساتھ ساتھ اپنا نام بھی یاد دلاتا ہوا بولا جو شاید اس کے برابر میں بیٹھا ہوا یہ مغرور 21 گریڈ کا افسر دو بار پوچھنے کے بعد بھی بھول چکا تھا
"تو تم شادی شدہ ہو بچے وغیرہ ہیں تمہارے قیوم۔۔۔ میں تمہاری بیوی سے ملنا چاہوں گی ویسے کوارٹر کہاں پر ہے تمہارا"
نازنین بور ہونے کی وجہ سے ڈرائیونگ کرتے ہوئے قیوم سے پوچھنے لگی جس پر عباد نے باقاعدہ مڑ کر اس کو آنکھیں دکھائی جبکہ ڈرائیو کرتا ہوا قیوم مہذب انداز میں نازنین کو اپنی فیملی کے بارے میں بتانے لگا
"جی بیگم صاحبہ میں شادی شدہ ہوں ماشاءاللہ میرے بھی دو بچے ہیں، رخشی کو میں شام میں آپ کے پاس بھیج دوں گا اور میرا سرونٹ کوارٹر آپ کے بنگلے کی دیوار کے ساتھ ہی موجود ہے"
قیوم جس نے عباد کے چہرے پر چھائی ناگواری کا نوٹس نہیں لیا تھا ڈرائیونگ کرتا ہوا سادگی سے اپنے صاحب کی بیوی کو بتانے لگا
"کتنی بار کہا ہے نوکروں سے یوں فضول قسم کے سوالات مت پوچھا کرو"
قیوم کی بات مکمل ہونے پر عباد انگریزی میں نازنین کو ڈانٹتا ہوا بولا جس پر وہ خاموش ہوگئی قیوم کو انگریزی تو نہیں آتی تھی مگر وہ سمجھ گیا تھا کہ اس کا صاحب اپنی بیوی سے غصے میں مخاطب تھا اس لئے وہ خود بھی خاموشی سے ڈرائیونگ کرنے لگا جبکہ عباد کے تیز لہجے کی وجہ سے اس سفر کو انجوائے کرتی ہوئی 9 سال کی بیلا عباد کو دیکھنے لگی
"پلیز بابا ڈونٹ ڈو ڈیٹ آپ مما پر غصہ مت کریں"
سنہری بالوں میں دو پونیاں باندھے، ٹیڈی بیئر کو اپنی گود میں بٹھائے بیلا عباد کو دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔ گھر میں وہ سب سے چھوٹی تھی عباد ،نازنین، افراہیم سمیت سب کی لاڈلی بھی۔۔۔ جو پورے راستے اپنے ٹیڈی بیئر کے ساتھ سفر انجوائے کرتی ہوئی آرہی تھی
"نو ڈارلنگ یور بابا واث ناٹ گیٹنگ ایگری ہی واس ایکسپلینگ ٹو مما (نو ڈارلنگ آپ کے بابا غصہ نہیں کررہے تھے مما کو سمجھا رہے تھے")
عباد فوراً نرم لہجے میں اپنی نو سالہ بیٹی کو دیکھتا ہوا بولا۔۔ ایک نظر نازنین کو دیکھ کر ونڈوں سے باہر دیکھنے لگا۔۔۔ ویسے تو وہ اپنی بیوی سے بہت پیار کرتا تھا مگر اسے اپنی بیوی کی بےجا رحم دلی اور ملازموں سے ہمدردی کرنے والی عادت سے سخت چڑ تھی
"کتنا زیادہ بول رہے ہیں آپ سب لوگ، انسان سکون سے سو بھی نہیں سکتا"
افراہیم جو سارے راستے سوتا ہوا آیا تھا نیند میں خلل ہونے کے باعث بیزار ہوتا ہوا بولا
"افی اب جاگ جاؤ آدھے گھنٹے بعد ہم پہنچنے والے ہیں"
نازنین اور بیلا کے ساتھ پیچھے بیٹھے ہوئے 17 سالہ بیٹے کی بیزاری کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے عباد اس سے بولا تو افراہیم مکمل بیدار ہوتا ہوا سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔۔۔ اب گاڑی میں موجود تمام افراد خاموشی سے سرکاری بنگلے میں پہنچنے کا انتظار کر رہے تھے
*****
"تمہیں کتنی بار کہا ہے گل کے میرے کمرے میں آکر میری کتابوں کو ہاتھ مت لگایا کرو، سمجھ میں نہیں آتا تمہیں"
ازلان جیسے ہی اپنے کمرے میں داخل ہوا میز پر رکھی ہوئی اپنی کتابوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتی ہوئی اپنی چچازاد پر بگڑتا ہوا بولا
"ارے بھئی ان کتابوں میں کونسا خزانے کا نقشہ چھپا ہوا ہے جو تم یوں منہ بگاڑ رہے ہو باگڑ بلے"
گُل میز سے دوسری کتاب اٹھا کر پلنگ پر بیٹھتی ہوئی بولی، اُسے اپنے اس نک چڑے کزن کو عجیب ناموں سے پکارنے میں بڑا مزا آتا تھا
"یہ تم جیسے اٙن پڑھ لوگوں کی سوچ ہے جو کتابوں میں علم کی بجائے خزانے ڈھونڈتے ہیں،، واپس رکھو میری کتاب اور خبردار جو تم نے آئندہ مجھے الٹے سیدھے نام سے پکارا"
ازلان گُل کی بات کے جواب میں طنز کرتا ہوا بولا کیونکہ وہ 7جماعتں پڑھنے کے بعد تعلیم کو خیرباد کہہ چکی تھی ساتھ ہی ازلان کو گُل کا یوں بےتکلف ہونا زہر لگتا تھا جو یوں بےدھڑک ہوکر اس کے کمرے میں آکر اُس کی چیزوں میں گھستی تھی
"ہا، بات تو تم ایسے کر رہے ہو جیسے اتنا پڑھ لکھ کر تمہیں کہیں کا افسر لگنا ہے، ہمارے باپ دادا نے ساری زندگی اِن افسران کی چاکری میں گزار دی ہے تمہیں بھی زیادہ اونچی اڑان اڑنے کی ضرورت نہیں ہے، کل کلاں کو تمہیں بھی وہی سب کچھ کرنا ہے جو ہمارے بڑوں نے کیا ہے"
گل ازلان کے طنز کر جلتی ہوئی بولی اور اس کی کتاب کو پلنگ پر پٹختی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی
"اس میں اونچی اڑان اڑنے والی کونسی بات ہے، جو جیسی سوچ رکھتا ہے جس کا جیسا معیار ہوتا ہے وہ ویسے ہی خواب دیکھتا ہے مگر تم نہیں سمجھو گی کیونکہ تعلیم بھی اُسی انسان کو سنوارتی ہے جو اس کی اہمیت کو جانتا ہو"
اذلان گُل سے بولتا ہوا پلنگ پر رکھی ہوئی اپنی کتاب اٹھا کر واپس میز پر رکھنے لگا۔۔۔۔ وہ بچپن سے ہی الگ طبیعت کا مالک تھا الگ سوچ رکھنے والا، 17 سالہ اذلان فرسٹ ایئر کا اسٹوڈنٹ تھا
"خواب دیکھنے پر پابندی نہیں ہوتی ہے باگڑ بلے، سیدھی سی بات ہے ہم غریب لوگ تو اپنے لیول کے خواب دیکھتے ہیں تم اپنا لیول اونچا کرکے زیادہ مہنگے خواب دیکھ لو مگر ان مہنگے خوابوں کو دیکھنے کے لیئے سونا تمہیں اِس بوسیدہ پلنگ پر ہی پڑے گا"
گل گہرا طنز کرتی ہوئی ازلان کو دیکھ کر ہنستی ہوئی بولی
"جو اپنی خواہشات کی تکمیل کرنا جانتے ہوں اور جن کو اپنے اوپر مکمل بھروسا ہو وہ اپنے خوابوں کو حاصل کرنے کے لیے کانٹوں سے گزر کر اپنی منزل پر پہنچنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔۔۔۔ اب تم میرا زیادہ دماغ مت کھاؤ تمہیں چچی بلارہی ہیں، جاؤ جاکر بکریوں کو چارہ ڈالو"
ازلان ابھی خود بھی مارکیٹ سے جاکر کھانے پینے کا کافی سامان لےکر آیا تھا کیوکہ آج رات رخشی کو کھانا صاحب لوگوں کی فرمائش کے مطابق بنانا تھا۔۔۔ گُل اذلان کی باتیں سن کر چھوٹی چھوٹی آنکھیں گھماتی ہوئی اُس کے کمرے سے نکل گئی جبکے ازلان اپنے سیلن ذدہ کمرے کا دروازہ بند کرنے لگا کیونکہ اُسے اپنے کل کے ٹیسٹ کی تیاری کرنا تھی
****
"کھانا بھجوا دیا تھا عباد صاحب کے بنگلے پر"
قیوم تھوڑی دیر پہلے گھر میں داخل ہوا تھا ہاتھ منہ دھو کر کمرے میں بچھے دسترخوان پر بیٹھتا ہوا رخشی سے پوچھنے لگا
"ہاں نثار دے آیا تھا، بتارہا تھا کہ نیا افسر اپنی بیوی بچوں کے ساتھ آیا ہے ویسے کیسی ہے نئے افسر کی بیوی اور بچے کتنے بڑے ہیں ان لوگوں کے"
ْقیوم کے پوچھنے پر ٹرے میں کھانا لاتی ہوئی رخشی اپنے شوہر سے عباد کی بیوی اور بچوں کے بارے میں پوچھنے لگی
"کیسا ہونا ہے افسر کی بیوی کو، جیسے صاحب لوگوں کی بیویاں ہوتی ہیں پڑھی لکھی اور خوبصورت ویسی ہی ہے۔۔۔ اتفاق سے عباد صاحب کے بچے اپنے ازلان اور نوف کہ ہی ہم عمر ہیں۔۔۔۔ خیر ہمیں کیا لینا دینا ان لوگوں سے یا اُن کے بچوں سے۔۔۔۔ بس نثار کو اچھی طرح سمجھا دینا کہ عباد صاحب کو کوئی شکایت کا موقع نہ دے بہت مشکل سے اسکے لیے صفدر صاحب کی منت سماجت کرنے کے بعد اس نوکری کا بندوبست کیا ہے"
قیوم چنگیر سے روٹی نکالتا ہوا سامنے بیٹھی اپنی بیوی سے بولنے لگا جو پلاسٹک کے جگ سے اسٹیل کے گلاس میں اس کے لیے پانی بھر رہی تھی
"شکایت کا موقع نہ دے نثار، اچھا لطیفہ سنایا تم نے۔۔۔۔ تمہارا چھوٹا بھائی کوئی ایک جگہ ٹک کر نوکری کرلے تو بڑی بات ہے آج بھی میں نے ازلان کو مارکیٹ بھیج کر گوشت اور سبزی منگوائی تاکہ رات میں افسر لوگوں کا کھانا تیار ہوسکے کیونکہ تمہارا بھائی تو تھڑے پر بیٹھا ہوا اپنے ناکارہ دوستوں کے ساتھ پتے کھیلنے میں مصروف تھا۔۔۔ اور اُس کی بیوی کو اس عمر میں بھی سُرخی پاؤڈر لگا کر آئینے کے سامنے کھڑے رہنے سے فرصت ہی کہاں ملتی ہے جو عدنان اور گُل پر نظر رکھ سکے"
رخشی سر جھٹک کر اپنے دیور کے ساتھ ساتھ اُس کی بیوی غزل کے بھی کرتوت اپنے شوہر کو بتانے لگی جسے سن کر قیوم کے ماتھے پر بل پڑے
"تمہیں نثار اور غزل کے بچوں میں کون سے گُھن نظر آنے لگے اِس سے بہتر یہ ہے کہ تم اپنے بچوں پر نظر رکھو"
نثار اور غزل کی لاابالی طبیعت کو نظر انداز کرکے قیوم الٹا رخشی سے بولا تو رخشی کھانے سے ہاتھ روک کر شوہر کو جتاتی ہوئی بولی
"قیوم صاحب تمہیں اپنے بچوں میں کون سے گُھن نظر آنے لگے ہیں جو تم اپنے چھوٹے بھائی کے بچوں کا میرے بچوں سے مقابلہ کررہے ہو۔۔۔ عدنان کو دیکھا ہے بالکل اپنے باپ کے نقش قدم پر چل رہا ہے کس طرح کے لڑکوں میں اٹھنا بیٹھنا شروع کردیا ہے اس نے اور وہ گُل کتنی کم عمری میں کیسے فراٹے بھر کے زبان چلاتی پھرتی ہے،، نہ اسے بڑوں کا ادب کرنا آتا ہے نہ ہی کسی کا لحاظ کرتی ہے۔۔۔ میری نوف اس سے عمر میں دو سال چھوٹی ہونے کے باوجود کیسے سیدھی سادی سی ہے اور میرا ازلان وہ تو اپنی کتابوں سے مجال ہے جو نظریں اٹھاکر کسی کو دیکھ لے"
رخشی آخر میں فخریہ انداز میں گردن اکڑا کر اپنے بچوں کی تعریف کرنے کے بعد آرام سے کھانا کھانے لگی جبکہ قیوم اپنا کھانا چھوڑ کر سامنے بیٹھی ہوئی بیوی کو گھورتا ہوا بولا
"اری نیک بخت مان لیا اس پورے علاقے میں تمہارے بچوں کے جیسے کسی دوسرے کی اولاد نہیں ہے، جاؤ اب بادام کا حلوہ لے آؤ جو تم نے صبح بنایا تھا"
قیوم اپنی بیوی کے سامنے ہار مانتا ہوا بولا کیونکہ وہ جانتا تھا اس کی بیوی اپنے اولاد کے بارے میں بالکل سچ بول رہی ہے
"دوپہر میں کھالیا تھا تم نے وہ حلوہ میں نے ازلاان کے لیے بچا کر رکھا ہے"
رخشی کھانے کے جھوٹے برتن اٹھا کر کچن کا رخ کرتی ہوئی بولی
"یہ بھی صحیح ہے بادام کا شربت بھی روز روز بیٹے کو بناکر دو اور حلوہ بھی بیٹا ہی کھائے"
قیوم شکر ادا کرنے کے بعد دسترخوان سے اٹھ کر بڑبڑاتا ہوا بولا
"تو پڑھ لکھ کر بڑا افسر بھی اسی کو بننا ہے"
کچن سے آتی ہوئی رخشی کی آواز پر قیوم ہنستا ہوا بستر پر سونے کے غرض سے لیٹ گیا کیونکہ صبح آٹھ بجے اسے عباد کو افس چھوڑ کر آنا تھا
"کیا ہوا یہاں سے بھاگنے کے بارے میں سوچ رہی ہو، تھوڑا مشکل ہے یہاں سے فرار ہونا"
وہ بالکنی میں کھڑی وہاں سے چھلانگ لگانے کے بارے میں سوچ رہی تھی ایک دم کمرے میں سے آتی مردانہ آواز پر مڑتی ہوئی خوف کے مارے اسے دیکھنے لگی۔۔۔ 30 سال کی عمر کے لگ بھگ سوٹ بوٹ پہنا ہوا آدمی یقیناً روحیل چغتائی تھا۔۔۔ جس کے لئے آج اس کو یوں سجایا سنوارا گیا تھا، روحیل نے کمرے میں آنے کے ساتھ ہی کمرے کا دروازہ بند کر دیا تو وہ اپنا کندھے سے ڈھلکا ہوا دوپٹہ جلدی سے ٹھیک کرنے لگی
"دیکھئے میں ویسی لڑکی نہیں ہوں جیسا آپ سمجھ رہے ہیں میں ایک شریف گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں۔۔۔ روبی نے مجھے زبردستی میری مرضی کے خلاف مجھے یہاں آپ کے پاس بھیجا ہے پلیز مجھے یہاں سے جانے دیں"
وہ بالکنی سے کمرے میں آتی ہوئی روحیل کو دیکھ کر بولی۔۔۔ روحیل اسے حلیے اور لب و لہجے سے پڑھا لکھا لگ رہا تھا۔۔۔ اسے لگا روحیل اس کی مجبوری سمجھے گا اور ترس کھاکر اسے یہاں سے جانے بھی دے گا
"میں بھی ویسا آدمی نہیں ہوں جیسا تم مجھے سمجھ رہی ہو میں بھی ایک شریف گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔۔۔ ایک خوبصورت بیوی اور دو بچے ہیں میرے، ہر قسم کی لڑکی کے ساتھ رات گزانا مجھے پسند نہیں ہے اور نہ ہی یہ سب میرا مشغلہ ہے بس مہینے دو مہینے میں ایک آدھ بار ہی۔۔۔۔ یو نو،،، روبی کو میرا مزاج اور اسٹینڈرڈ معلوم ہے اُسی کو مدنظر رکھتے ہوئے روبی نے تمہیں آج رات میرے لئے سلیکٹ کیا ہے اور ماننا پڑے گا اُس کا منتخب کردہ آج رات کا یہ سرپرائز،، تمہارا مدھوش کرنے والا یہ حُسن واقعی اِس قابل ہے کہ اس کو بہت نزدیک سے دیکھا جائے اس لیے وقت ضائع کئے بغیر یہاں میرے پاس آجاؤ،، نخرے مجھے بالکل بھی پسند نہیں ہیں اور صبح مجھے میٹنگ بھی اٹینڈ کرنا ہے"
روحیل اس سے بات کرنے کے ساتھ ہی شراب کی بوتل اور ایک گلاس سامنے میز پر رکھتا ہوا خود صوفے پر بیٹھ چکا تھا۔۔۔ وہ آنسو بہاتی ہوئی روحیل کو دیکھنے لگی
"تم ابھی تک وہی کھڑی ہو دیکھو میں جانتا ہوں یہ سب جو آج تمہارے ساتھ ہوگا وہ تمہارا پہلا تجربہ ہوگا۔۔۔ روبی کے پاس جتنی بھی نئی لڑکیاں آتی ہیں وہ پہلی دفعہ میں ایسے ہی ڈری سہمی ہوتی ہیں پھر آہستہ آہستہ انہیں اِس کام کی عادت ہوجاتی ہے تمہیں بھی ہوجائے گی۔۔۔ یوں رونا دھونا مچا کر تم کچھ ایکسڑا ہی کررہی ہو،، میں آج رات تمہارے ساتھ گزارنے کی ایک اچھی اماؤنٹ روبی کو دے چکا ہوں اس لیے میرا ٹائم ویسٹ نہیں کرو"
روحیل اس کو روتا ہوا دیکھ کر بہت آرام سے سمجھانے لگا
"بغیر رشتے کے اس طرح کیسے،، پلیز آپ مجھ سے شادی کرلیں"
وہ اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی روحیل سے بولی جس پر وہ قہقہہ مار کر ہنسا
"شادی کرلو تم سے،، وہ کیوں بھئی۔۔۔ تم میری تعریف کو غلط انداز میں لے رہی ہو میری بیوی بھی بہت خوبصورت ہے اور میں اپنی لائف میں اس کے ساتھ بہت خوش ہوں، تمہیں بتایا تو ہے یہ سب میرا مشغلہ نہیں ہے۔۔۔ کبھی کبھار روٹین لائف سے ہٹ کر یا تھوڑا سا ذائقہ بدلنے کے لیے میں روبی سے کانٹیکٹ کرلیتا ہوں اب تم میرا کافی وقت لے چکی ہو۔۔۔ جاؤ جاکر بیڈ پر لیٹ جاؤ"
روحیل شراب کا گلاس خالی کرچکا تھا۔۔۔ وہ خالی گلاس کو دوبارہ شراب سے بھرتا ہوا اس سے بولا۔۔۔ ایک بار پھر آنکھوں سے اُمڈ آنے والے آنسوؤں کو صاف کرتی ہوئی وہ بیڈ کی طرف دیکھنے لگی جس کی طرف قدم بڑھانا اسے دشوار لگ رہا تھا۔۔۔ اِس سے پہلے روحیل صوفے سے اٹھ کر اُس کے پاس آتا ہے نہ جانے کس خیال کے تحت وہ بیڈ کے برابر میں موجود کمرے کا دروازہ کھول کر تیزی سے اندر چلی گئی اور دروازہ اندر سے بند کر لیا
*****
"او شٹ نونونو"
بیلا بنگلے میں موجود لان میں سائیکلنگ کررہی تھی بروقت بریک نہ لگنے کی وجہ سے سائیکل لان کے پاس پڑے گندے پانی کو اڑاتی ہوئی گیٹ سے اندر آنے والے لڑکے کے کپڑوں کو اچھا خاصہ خراب کرچکی تھی، جس پر وہ لڑکا اپنے کپڑوں کے بعد بیلا کو غصے میں گھورنے لگا
"آئی ایم ویری سوری یور ڈریس از اسٹینڈ میرا مطلب ہے میں معافی چاہتی ہوں میری وجہ سے تمہارے کپڑے داغدار ہوگئے"
بیلا اُس انجانے غصے میں گھورتے ہوئے لڑکے کو دیکھ کر شرمندہ ہوتی ہوئی بولی
"It's not your matter... Can you tell me about Mrs. Ibaat"
آزلان کو اپنے کپڑوں کے اوپر کیچڑ کے داغ دیکھ کر غصہ تو شدید آیا تھا مگر وہ اس چھوٹی سی سنہری بالوں والی گڑیا جیسی لڑکی کے معافی مانگنے پر اور شرمندہ ہونے پر نرم پڑتا ہوا اس سے بولا
"ارے تم تو پڑھے لکھے ہو میرا مطلب ہے تم پڑھتے ہو نا"
بیلا اپنی سائیکل سے اترتی ہوئی اذلان سے پوچھنے لگی کیونکہ بیلا نے اُس کے عام حلیے اور کپڑوں سے یہی اندازہ لگایا تھا کہ انگریزی میں کی گئی اُس کی معذرت یہ انجام لڑکا سمجھ نہیں پائے گا جبھی اس نے اپنی معذرت کا ترجمہ بھی ساتھ کیا تھا
"یہ ایک چھوٹا سا ٹاؤن ہے مگر یہاں کے اسکولز اور ٹیچرز کافی اچھے ہیں"
ازلان اس چھوٹی سی لڑکی کو سادہ سے انداز میں بتانے لگا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ چھوٹی سی لڑکی اس کے عام سے کپڑوں کو دیکھ کر اسے اٙن پڑھ سمجھ رہی ہوگی جبھی وہ بیلا کو انگریزی میں بتانے لگا
"کیا تم ازلان ہو تمہیں نثار نے بھیجا ہے"
نسوانی آواز پر ازلان نازنین کو دیکھنے لگا جو اس کے کیچڑ زدہ کپڑوں کو دیکھ کر اس سے سوال کررہی تھی
"جی میرا نام ازلان ہے، نثار میرے چچا جان ہیں انہوں نے مجھے یہاں بھیجا ہے۔۔۔ مسسز عباد کو کوئی کام تھا"
ازلان اپنی توجہ اس چوٹی سی لڑکی سے اب نازنین کی طرف مرکوز کرتا ہوا اعتماد سے بولا
"میں ہی مسسز عباد ہوں ازلان کیا تم مجھے قریبی مارکیٹ تک لے جاسکتے ہو دراصل میں اس جگہ سے بالکل ناواقف ہوں اور پینٹنگ میرا شوق ہے، مجھے افسوس کے ساتھ یہ بتانا پڑ رہا ہے کہ میں اپنے کینوس اور برش نہ جانے کہاں رکھ کر بھول گئی ہو دراصل صبح میں نے نثار کو اپنا مسئلہ بیان کیا تھا مگر اسے خود اپنی طبیعت خرابی کی وجہ سے اسپتال جانا تھا اس لیے اس نے کہا کہ آپ کو میرا بھتیجا ازلان مارکیٹ تک لے جائے گا ویسے اب کیسی طبیعت ہے نثار کی"
نازنین ازلان کو اپنا مسئلہ بتانے کے ساتھ ساتھ نثار کی طبیعت پوچھنے لگی جو اسے طبیعت خرابی کا بول کر چھٹی لےکر چلا گیا تھا
"جی اب کافی بہتر ہے ان کی طبیعت، کیا میں اپنا لباس تبدیل کرنے کے بعد آپ کو مارکیٹ لے جاؤ اگر آپ لیٹ نہیں ہورہی ہو تو"
اب ازلان اپنے چچا نثار کی سست طبعیت کے بارے میں نازنین کو کیا بتاتا جو اس وقت اسپتال کا بہانہ بنا کر تھڑے پر بیٹھا ہوا اپنے فارغ دوستوں کے ساتھ سُٹے لگا کر مہنگائی اور غربت کا رونا رو رہا تھا۔۔۔ ازلان نازنین کو مارکٹ لے جانے پر آمادہ ہوچکا تھا
"بالکل تم اپنا لباس تبدیل کرکے آجاؤ، بیلا کیا تم نے اپنی غلطی کی ازلان سے معافی مانگی"
نازنین ازلان کو اجازت دیتی ہوئی ساتھ ہی اپنی بیٹی سے پوچھنے لگی کیونکہ وہ دور سے ہی بیلا کا کیچڑ اڑانے والا کارنامہ دیکھ چکی تھی
"شیور مما آپ ازلان سے پوچھ سکتی ہیں میں اس سے اپنی غلطی کی معافی مانگ چکی ہوں، ناصرف یہ مجھے معاف کرچکا ہے بلکہ ہم دونوں اچھے دوست بھی بن چکے ہیں ہے ناں ازلان"
خاموش کھڑی ہوئی بیلا ایک دم سے بولی اس کی بات پر نازنین کے ساتھ ازلان کے ہونٹوں کو بھی مسکراہٹ نے چھوا وہ اپنا لباس تبدیل کرنے کے غرض سے برابر میں بنے کواٹر میں چلا گیا
****
"اے نوف رک کہاں جارہی ہے"
عدنان اپنے اوباش دوستوں کے ساتھ چائے کے ہوٹل پر بیٹھا ہوا تھا وہاں سے نوف کو گزرتا ہوا دیکھ کر اس کے پیچھے آکر نوف کو پکارنے لگا جس کی وجہ سے نوف کو رکنا پڑا
"یہی قریب پنسار کی دکان تک امی نے بھیجا تھا کچھ سامان چاہیے تھا ان کو"
نوف اپنے سے بڑے چچا زاد کو بتانے لگی، ایک سرسری نظر ڈالنے کے بعد مشکل سے ہی وہ عدنان کا چہرہ دیکھتی تھی کیوکہ عدنان اس کو دیکھنے کی بجائے عجیب طریقے سے گھورتا تھا کم عمر اور نہ سمجھ ہونے کے باوجود نوف کو عدنان سے بات کرنے میں اور اس کے دیکھنے کے انداز سے کوفت محسوس ہوتی تھی
"تائی کی عقل کیا گھاس چرنے چلی گئی ہے جو اس کرمو کی دکان پر اس وقت تجھے بھیج رہی ہے نشہ کرکے بیٹھا ہوگا وہ سالا"
بیس سالہ عدنان اپنی تایازاد کی چمکتی دمکتی رنگت کو گھورتا ہوا اس سے بولا عدنان کو پورا یقین تھا اس کی تایاذاد جوان ہوکر اور بھی زیادہ غضب ڈھانے والی ہے
"امی کے گھٹنوں میں درد ہورہا تھا اور بھائی اس وقت ٹیوشن دینے گئے ہیں اس لئے میں نے سوچا میں سامان لے آتی ہوں"
نوف کو جواب دیتے ہوئے عجیب ابقائی سی آنے لگی عدنان اس سے پانچ قدم کے فاصلے پر کھڑا ہوا تھا اس کے باوجود اس کے پاس سے اٹھتی ہوئی تیل اور پسینے کی مکس بدبو سے نوف کا دل چاہا کہ وہ وہاں سے بھاگ جائے
"تائی کا تو ہر وقت کا یہی رونا ہے معلوم نہیں اس کا کوئی پرزہ سلامت بھی ہے کہ نہیں اور وہ سالا پڑھاکو تیرا بھائی یا تو خود پڑھایاں کرتا رہتا ہے یا دوسروں کو درس دینے نکلا ہوتا ہے ایک تیرے اور تایا کے علاوہ گھر میں کوئی ڈھنگ کا بندہ نہیں ہے چل یہ پیسے مجھے دے دے اور یہاں سے سیدھی گھر چلی جا۔۔۔ پنسار کی دکان سے سارا سامان میں تجھے لاکر دے دوں گا"
عدنان نوف کی مٹھی میں دبے ہوئے پیسوں کو دیکھ کر اس سے ہمدردی کرتا ہوا بولا۔۔۔۔ نوف نے ایک نظر اس کے اوباش دوستوں پر ڈالی جو ان دونوں کو ہی دیکھ رہے تھے
"میں خود لے آؤں گی عدنان بھائی دوکان یہی دو قدم پر ہی ہے"
نوف کو پورا یقین تھا اگر اس نے عدنان کو پیسے دے دیے تو آج عدنان اپنے اوباش دوستوں کو چائے ان پیسوں سے ہی پلائے گا اس لئے نوف آئستہ آواز میں منمنائی
"کیا بولا تو نے مجھے بھائی، تیرا دماغ تو خراب نہیں ہے منگیتر ہے تو میری، تیرے جوان ہونے کا انتیظار کررہا ہو پھر بیاہ رچاؤ گا تیرے ساتھ۔۔۔ ایسے دیدے پھاڑ کر کیا دیکھ رہی جیسے کچھ معلوم نہیں تجھے لا یہ پیسے مجھے دے"
نوف کے بھائی بولنے پر وہ بدمزا ہوا تھا اس لیے بچپن کی مگنی یاد دلانے کے ساتھ آگے بڑھ کر عدنان نے نوف کی کلائی پکڑ کر اس کی مٹھی میں دبے ہوئے نوٹ لےکر اپنی جیب میں رکھ لیے ساتھ ہی وہ اپنے میلے کچیلے ہاتھ میں نوف کی اجلی کلائی کو دیکھتا ہوا بولا
"چوڑیاں شوڑیاں پہننے کا شوق نہیں ہے تجھے، ایسے خوبصورت ہاتھوں کو یونہی خالی چھوڑا ہوا ہے تو نے"
نوف نے اپنا ہاتھ چھڑوانا چاہا جو عدنان کے ہاتھ میں تھا، نوف کا روہانسی چہرا دیکھ کر بےڈھانگہ سا قہقہہ لگا کر عدنان نے اس کا ہاتھ چھوڑا
"پریشان کیو ہو رہی ہے کھا تھوڑی جاؤ گا تجھے، منگیتر تو ایسی چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں باؤلی۔۔۔۔ اب میری بات غور سے سن اسکول جاکر اپنے بھائی کی طرح پڑھائی کرنا بند کر دے تیرا بارہوہ سال چھڑھنے کی دیر ہے ابا سے بات کرکے تجھے بیوی بنالو گا اپنی"
نوف عدنان کی واہیات نظروں سے بچنے کے لیے اپنا چہرا مکمل طور پر نیچے جھکا چکی تھی عدنان کی باتیں سن کر اسے رونا آنے لگا
"نوف"
ازلان کی آواز پر نوف نے مڑ کر پیچھے دیکھا۔۔۔ ازلان ان دونوں کے قریب آرہا تھا نوف نے خدا کا شکر ادا کیا
"ابے یار کچھ خیال کیا کر، کرمو کی دکان پر تائی نے اس کو اکیلے بھیج دیا۔۔۔ جانتا نہیں ہے اسے نشے کی عادت پڑگئی ہے دن میں بھی افہیم چھڑائے بیٹھا ہوتا ہے سالا۔۔۔۔ میں راستے میں نہیں ملتا تو یہ کرمو کی دکان پر جانے والی تھی، سامان میں لاکر دے دو گا تائی کو"
ازلان کو قریب آتا دیکھ کر عدنان دوستانہ لہجے میں ازلان سے بولا
"گھر جاؤ نوف"
عدنان کی بات کا جواب دینے کی بجائے ازلان نوف کا اترا ہوا چہرا دیکھ کر بولا نوف فوراً وہاں سے چلی گئی
"لاؤ عدنان وہ پیسے واپس دے دو جو تم نے نوف سے لیے تھے سامان میں خود لے آؤ گا"
ازلان کوئی فالتو بات کیے بغیر عدنان کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہوا بولا تو عدنان نے منہ بناکر پیسے اس کے ہاتھ پر رکھ دیئے۔۔۔ ازلان وہاں سے جاتا ہوا اپنے باپ کے کیے گئے اس فیصلے کے بارے میں سوچنے لگا جس میں نہ صرف اس کی معصوم بہن کا رشتہ قیوم نے اپنے بھائی کی محبت میں آکر اُس کے آوارہ بیٹے سے جوڑ دیا تھا بلکہ گل کے ساتھ بھی اُس کا رشتہ بچپن میں طے پا گیا تھا
****
"ّواہ بھئی تمہارے ہاتھ میں تو کافی صفائی ہے بہت پیاری کڑھائی کی ہے تم نے اس قمیض پر۔۔۔ اگر یہ قمیض شہر میں سیل ہوگی تو اس پر اچھے خاصے پیسے کما سکتی ہو تم"
لان میں چیئر پر بیٹھی ہوئی نازنین رخشی کی کڑھائی کے ڈیزائن پر تعریف کرنے کے ساتھ اس کو مشورہ دیتی ہوئی بولی
"بس جی یہ کام تو میں نے شوقیہ سیکھا ہے اگر آپ کو میرے ہاتھ کا کام پسند آیا ہے تو میں آپ کے لئے بھی ایک قمیض تیار کرو گی"
رخشی خوش ہوکر بولتی ہوئی قمیض کے سیمپل کو واپس شاپر میں رکھنے لگی
"بہت بہت شکریہ رخشی تم بہت اچھی ہو، خوشی ہوئی مجھے تم سے مل کر اور تمہارا بیٹا ازلان بھی بہت پیارا اور سمجھدار بچہ ہے۔۔۔ مجھے اچھا لگا یہ جان کر کے تم اور قیوم اپنے بیٹے کو پڑھا لکھا رہے ہو"
نازنین اپنے سامنے بیٹھی ہوئی رخشی سے بولتی ہوئی سوچ رہی تھی کہ وہ اپنے کزن جس کا شہر میں بوتیک ہے اس کے پاس رخشی کے ہاتھ کے تیار کردہ کچھ سیمپل بھیج دیں تاکہ رخشی کی محنت وصول ہوجائے
"ازلان کے علاوہ میری ایک بیٹی بھی ہے وہ بھی ماشاء اللہ سے اسکول جاتی ہے میرا تو خواب ہے میرے دونوں بچے پڑھ لکھ کر باشعور انسان بن جائے"
رخشی خوشی خوشی نوف کے بارے میں نازنین کو بتانے لگی
"ہاں قیوم نے ذکر تو کیا تھا لیکن کبھی تمہاری بیٹی کو دیکھا نہیں میں نے"
نازنین رخشی سے نوف کے بارے میں پوچھنے لگی ازلان نازنین کے کہنے پر مارکیٹ گیا ہوا تھا اسے کچھ چیزوں کی ضرورت تھی ویسے تو یہ سارے کام نثار کے تھے مگر وہ بہت کم ہی یہاں پر ٹکتا تھا اکثر کاموں کے لیے ازلان کو نازنین کے پاس بھیج دیتا تھا
"بس جی بہت سیدھی اور شرملی سی ہے میری بیٹی اسکول سے گھر آتی ہے تو باہر نہیں نکلتی لیکن آپ سے ملوانے کے لیے لےکر آؤں گی اپنی نوف کو"
رخشی خوش ہوکر نازنین کو بتا رہی تھی تب نازنین کی نظر کار سے اترتے ہوئے عباد پر پڑی جو دور سے ہی نازنین کو قیوم کی بیوی کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھ چکا تھا
"تم نے یہاں آکر بھی وہی پرانے کام شروع کردیے نازنین مجھے تو سمجھ میں نہیں آتا آخر کیو تمہیں ایسے لوگوں کو دیکھ کر ہمدردی کرنے کا بخار چڑھ جاتا ہے تم ہر وقت مدرٹریسا کیوں بنی رہتی ہو"
عباد نازنین کے پاس آکر قیوم کی بیوی کا لحاظ کئے بنا بولا
"عباد پلیز"
رخشی کے سامنے اس طرح عباد کے بولنے پر نازنین شرمندہ ہوتی ہوئی عباد سے بولی
"کیا یار اگر تم بور ہوتی ہو تو تو اپنے لئے کوئی دوسری ایکٹیویٹی ڈھونڈو، یوں کام کرنے والے نوکروں کو اپنے ساتھ بٹھانے سے مجھے تو سمجھ میں نہیں آتا تمہیں کون سا سکون ملتا ہے"
نازنین کے آنکھوں ہی آنکھوں میں منع کرنے کے باوجود عباد بنا لحاظ کیے ہوئے دوبارہ بولا جس پر رخشی شرمندہ ہوتی ہوئی کرسی سے اٹھی
"اچھا بیگم صاحبہ اب اجازت دیں میں چلتی ہوں"
رخشی اپنا سا منہ لےکر بولی اور ٹیبل پر رکھا شاپر اٹھاتی ہوئی وہاں سے جانے لگی جس پر نازنین افسوس کرتی ہوئی عباد کو دیکھنے لگی
"صرف کام کرنے کے اوقات میں یہاں آیا کرو فضول میں یہاں رش لگانے کی ضرورت نہیں ہے"
عباد کی آواز پر صرف ایک لمحے کے لئے رخشی کے قدم رکے پھر وہ تیز قدم تیز قدم اٹھاتی ہوئی وہاں سے چلی گئی
"انف عباد"
نازنین کے بولنے پر عباد نازنین کو گھورتا ہوا بولا
"شٹ اپ روم میں چلو"
عباد وہاں سے گھر کے اندر جا چکا تھا نازنین افسوس کرتی ہوئی عباد کے پیچھے جانے لگی
"ویسے بہت افسوس کی بات ہے عباد جو آپ نے قیوم کی بیوی کے سامنے بی ہیو کیا ہے وہ بہت ہی برا تھا نہ جانے وہ کیا سوچے گی اپنے گھر جاکر"
کمرے میں آنے کے ساتھ ہی نازنین عباد سے شکوہ کرتی ہوئی بولی تو عباد کا ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا ہوا ہاتھ رکا وہ چلتا ہوا نازنین کے پاس آیا
"تمیہں ابھی بھی قیوم کی بیوی کی فکر ہے کہ وہ کیا سوچے گی، تمہیں یہ پروا ہونا چاہیے کہ تمہارا شوہر کیا بکواس کرتا رہتا ہے۔۔۔۔ سمجھ میں کیو نہیں آتا تمہیں نازنین کہ ان چھوٹے لوگوں کو ان کی اوقات میں رکھنا چاہیے ورنہ یہ لوگ اپنی اوقات دکھانے میں دیر نہیں لگاتے"
عباد نازنین کو سمجھاتا ہوا بولا
"مجھے قیوم کی بیوی کی فکر اسی لیے ہے کیوکہ اس کا دل آپکی باتوں کی وجہ سے دکھا ہے اور اوقات کی بات بیچ میں کہاں سے آگئی عباد، اوپر والے کے نزدیک تو آپ کی، میری اور قیوم کی بیوی کی اوقات برابر ہی ہے، غریبوں کو پیدا کرنے والی ذات کوئی الگ تو نہیں ہے، انسان کو اتنا غرور بھی نہیں کرنا چاہیے"
نازنین کی بات پر عباد ایک دم تیز آواز میں بولا
"بحث مت کیا کرو نازنین میرے سامنے بلاوجہ کی تمہیں اگر اپنے اسٹینڈرڈ کا خیال نہیں ہے تو میرے اسٹینڈرڈ کا خیال کیا کرو آئندہ میں تمہیں ان چھوٹے لوگوں کو منہ لگاتا ہوا نہ دیکھو"
عباد غصے میں ٹائی صوفے پر پھینکتا ہوا واشروم میں چلاگیا نازنین کمرے سے باہر نکلنے لگی تو کمرے سے باہر ازلان کو کھڑا دیکھ کر ٹھٹھک گئی نازنین کا منگایا ہوا سامان اس کے ہاتھ میں موجود تھا وہ بالکل خاموس کھڑا نازنین کو دیکھ رہا تھا، نازنین کو ڈھیروں شرمندگی نے آگھیرا۔۔۔۔ ازلان کا خجالت سے سرخ چہرا صاف بتارہا تھا وہ عباد کی ساری باتیں سن چکا تھا وہ نازنین نے کو کچھ بولے بغیر اس کا سامان ٹیبل پر رکھ کر وہاں سے چلا گیا
*****
وہ فائیو اسٹار ہوٹل میں بیٹھا ہوا پچھلے ایک گھنٹے سے تاشفہ کا انتظار کر رہا تھا تاشفہ سے اس کی چھ ماہ قبل معیز (دوست) کے توسط سے ملاقات ہوئی تھی بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ معیز نے خود اس کی تاشفہ سے ملاقات کروائی تھی، تاشفہ معیز کی کزن تھی جو ایک سال پہلے امریکہ سے پاکستان شفٹ ہوئی تھی۔۔۔ خوبصورت ماڈرن اور بولڈ سی تاشفہ جو کافی حد تک موڈی طبعیت رکھتی تھی مگر اس کو اچھی لگی تھی
لیکن جیسے جیسے اس کی اور تاشفہ کی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا اس کو تاشفہ کے خیالات جان کر مایوسی ہوئی تھی بقول معیز کے اس نے اپنی آدھی لائف مللب جوانی کے وہ دن جب لڑکے انجوئمینٹ میں گرل فرینڈ بناتے ہیں اس نے وہ عمر اپنی فیملی اور گھریلو مسئلوں کے نظر کردی، اب اٹھائس سال کی عمر میں اس کو اپنے متعلق سوچنا چاہیے تھا۔۔۔۔ اکثر وہ خود بھی کبھی کبھار اپنے ارد گرد جمع پریشانیوں سے گھبرا کر خواہش کرتا کہ کوئی ایک ایسا وجود ہو جس کے سامنے وہ اپنا آپ کھول دے کوئی اس کے اکیلے پن کا ساتھی ہو جس کے وجود میں کھو کر وہ تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی اپنی پریشانیوں سے جان چھڑا لے۔۔۔۔ لیکن جس طرح تاشفہ کی نیچر تھی اس سے ایسی امید لگانا بےکار تھی
"سوری ڈارلنگ تمہیں ویٹ کرنا پڑا دراصل آج جیمی کی ویکسین کروانا تھی اس کے بعد بیوٹی سلون میں میرا آپینٹمنیٹ تھا سو لیٹ ہوگئی، اینی ویز ہاؤ آر یو ہم پورے دو ماہ بعد مل رہے ہیں تم نے مجھے مس تو بہت کیا ہوگا ان دو ماہ میں"
ماڈرن سی تاشفہ بےباک سے لباس میں اس کے سامنے کرسی پر بیٹھی ہوئی اس دے کونفیڈینس سے پوچھ رہی تھی۔۔۔ جیمی تاشفہ کی پرشین بلی تھی جس نے اس کی طرح تاشفہ کی زندگی میں چند ماہ سے کافی اہمیت حاصل کرلی تھی۔۔۔ تاشفہ دو ماہ قبل پاکستان ٹور پر گئی تھی تاشفہ نے پوری کوشش کی تھی وہ بھی اسکے ہمراہ اس سفر کو انجوئے کرتا۔۔۔ مگر وہ اپنی ذمہ داریوں سے جان چھڑا کر بھاگ نہیں سکتا تھا
"ویٹ تو میں شروع سے ہی تمہارا کرتا آیا ہوں، جب بھی ہمارے ملنے کا ڈیسائیڈ ہوتا ہے مجھے نہیں یاد پڑتا کبھی تم ٹائم پر آئی ہو خیر یہ بتاؤ تمہارا ٹرپ کیسا رہا مجھے تو بالکل یاد نہیں کیا ہوگا تم نے"
آج صبح ضروری میٹینگ اٹینڈ کرنے کے چکر اس نے ناشتہ بھی ڈھنگ سے نہیں کیا تھا اس لیے مینو کارڈ اٹھا کر تاشفہ کی بات کا جواب دیتا ہوا بولا جس پر تاشفہ خوبصورتی سے مسکرائی
"سچ بتاؤ تو میں نے تمہیں بالکل مس نہیں کیا، جب میں پاکستان آئی تھی تو مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا یہاں اتنے خوبصورت اور حسین جگہیں ہوگیں یہ ٹرپ ایک خوشگوار اور یادگار ٹرپ رہے گا میرے لیے، میں امید کرو گی اگلا ایسا ہی ٹرپ ہم دونوں اکھٹے انجوۓ کریں"
تاشفہ اس کو دیکھ کر مسکراتی ہوئی ایک ادا سے بولی وہ تاشفہ کا خوبصورت چہرا دیکھنے لگا جو خوبصورت ہونے کے باوجود اسے اکثر بناوٹی اور ارٹیفشل سا محسوس ہوتا تھا اور ایسے ہی تاشفہ کی فیلگیز کا حال تھا جس میں خالص پن ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا اس نے تاشفہ کی بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھا بلکے اسے یہاں بلوانے کی اصل وجہ پر آیا
"تاشفہ میں نے تمہیں یہاں پر آج بہت خاص بات کرنے کے لئے بلایا ہے، یو روز روز ہوٹلنگ کرنا مجھے پسند نہیں اور نہ ہی میرے پاس اتنا ٹائم ہے کہ میں ان خرافات کے لیے وقت نکال سکوں۔۔۔ چھ ماہ سے ہم دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہیں میرے خیال میں اب ہم دونوں کو سیریس ہو کر کوئی اسٹیپ لینا چاہیے شادی کے متعلق"
وہ تاشفہ کو دیکھ کر نہایت سنجیدگی سے بولا جس طرح اس وقت اس کے گھر کی صورتحال تھی اسے لگا تھا کہ اب اس کو شادی کرلینا چاہیے مگر تاشفہ اس کی بات سن کر پہلے تو سیریس ہوکر اسے دیکھنے لگی لیکن اچانک ہی اس نے زوردار قہقہہ لگایا جیسے تاشفہ نے اس کی بات کو انجوائے کیا ہو
"اچھا سوری"
تاشفہ نے محسوس کیا جیسے اس کے ہنسنے پر اسے برا لگا ہو جبھی تاشفہ اس سے معذرت کرتی ہوئی اپنی ہنسی کو کنٹرول کرنے لگی
"مجھے نہیں معلوم تھا ڈارلنگ میرے میری دو ماہ کی جدائی تم پر اتنا اثر کرے گی یہ تم ڈائریکٹ مجھے شادی کی آفر کر دو گے"
تاشفہ سیریس ہوکر بولی مگر ایک بار پھر ہنسنے لگی تو اب اسے غصہ آنے لگا
"تاشفہ بی سیریس"
اس کے تاثرات دیکھ کر تاشفہ کو اب کی بار واقعی سیریس ہونا پڑا
"دیکھو ہمارے ریلیشن کو مشکل سے ہی 6 ماہ ہوئے ہیں پورا سال بھی نہیں گزرا جو شادی جیسا بولڈ اسٹیٹ مجھے نہیں لگتا ہمیں اس کے بارے میں ابھی سے سوچنا چاہیے لیکن اگر تم جلدی شادی شادی چاہتے ہو تو اس سے پہلے تمہیں ایسا نہیں لگتا کہ ہم دونوں کو ایک دوسرے کو بےحد قریب سے دیکھ لینا چاہیے"
تاشفہ کی بات پر وہ تھوڑا عجیب انداز میں اس کو دیکھنے لگا جس پر تاشفہ دوبارہ بولی
"میرا مطلب ہے ہمیں کم از کم ایک ماہ کے لئے کوئی گھر یا اپارٹمنٹ شئیر کرنا چاہیے جب ہم دونوں ایک دوسرے کو قریب سے دیکھیں گے ایک دوسرے کی اچھی بری عادتوں سے، مزاج سے واقف ہوگے تب ہی ہم شادی جیسا اسٹیپ لے سکتے ہیں"
تاشفہ اب کی بار سیریس ہوکر اس کو بولی۔۔۔ وہ سمجھ گیا تھا ایک دوسرے کو قریب سے دیکھنے کا کیا مطلب ہے اسے تاشفہ کے مذید خیالات کو جان کر اور بھی زیادہ مایوسی ہوئی
"اور ایک ماہ بعد تمہیں لگا کے ہمارے مزاج اور عادتیں ایک دوسرے سے نہیں ملتی تو میرا راستہ الگ اور تمہارا راستہ الگ رائٹ"
وہ تاشقہ کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا اچانک اس کی بھوک مر گئی تھی۔۔۔ آرڈر لینے کے لیے پاس آتے ہوئے ویٹر کو اس نے دور سے ہی اشارہ کرکے روکا
"مجھے ہی کیوں ایک ماہ بعد تمہیں بھی ایسا لگ سکتا ہے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ زندگی بھر کے لیے ایڈجست نہیں کر سکتے"
تاشفہ کندھے اچکا کر اس سے بولی چھ ماہ کے ریلیشن میں اسے اپنے سامنے بیٹھا یہ مرد کافی ان رومانٹک روکھا پیکھا سا لگا تھا
"ایک ماہ بعد نہیں مجھے ایسا ابھی سے لگتا ہے ہم دونوں زندگی بھر واقعی ایک دوسرے کے ساتھ آگے نہیں چل سکتے، یوں چند دنوں کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ رہ کر قریب سے دیکھنے والی فارملٹی کو رہنے دینا چاہیے۔۔۔ جس دن تم نے مجھ سے یہ بات بولی تھی کہ شادی کے کم از کم چھ سال تک تمہیں کوئی بچہ نہیں چاہیے کیوکہ اس سے تمہارا فگر کا شیپ خراب ہوگا اگر تبھی تم اپارٹمنٹ شیئر کرنے والے اپنے خیالات کا بھی اظہار کرتی تو شاید ہمارا ریلیشن چھ ماہ بھی مشکل سے قائم رہتا کیونکہ میرے نزدیک کم از کم ایک لڑکی کو اتنا گیا گزرا نہیں ہونا چاہیے کہ وہ مرد کے آگے چادر کی طرح بجھ جائے"
وہ تاشفہ پر اپنے خیالات کا اظہار کرکے اٹھ کر وہاں سے چلا گیا اسے نہیں لگتا کہ اب تاشفہ اس سے دوبارہ رابطہ کرے گی اور وہ خود بھی یہی چاہتا تھا
"نفسیاتی مرد"
تاشفہ بڑبڑاتی ہوئی مینیو کارڈ اٹھا کر اپنے لئے آرڈر کرنے لگی
*****
"تو کیا ہر وقت آئینے کے سامنے کھڑی اپنا گول مٹول سا چہرہ دیکھ کر بلاوجہ خوش ہوتی رہتی ہے جا جاکر چائے بنا کر لا میرے لئے"
نثار کے بولنے پر آئینے کے سامنے کھڑی غزل نے مڑ کر خونخوار نظروں سے اپنے شوہر کو دیکھا
"دیکھ نثار میرے حسن سے جل کر میرے منہ نہ لگ میں بتا رہی ہوں اب کی بار اگر میں تیرا گھر چھوڑ کر میکے جا بیٹھی تو تو لاکھ اپنی ناک رگڑ لے میں واپس نہیں آؤں گی بتا رہی ہوں تجھے"
غزل کے دھمکی دینے پر نثار نے اس کے بےڈول سراپے اور سانولے رنگ میں حسن جیسی چیز ڈھونڈنے کی کوشش کی اور پھر زور سے ہنستا ہوا اس کی دھمکی پر غور کرنے لگا
"بھینس جیسی جسامت رکھ کر تیری عقل بھی اپنی جسامت سے میل کھانے لگی ہے ارے بیوقوف سمجھا ہوا ہے مجھے تو نے جو میں تیرے میکے جانے کے بعد تجھے واپس اپنے گھر میں اپنا سکون برباد کرنے کے لیے لاؤ گا، اللہ بھلا کرے میرے بھائی کا جو ہر بار بیچ جھگڑے میں پڑ کر تجھے میکے سے واپس لے آتا ہے،، ہر وقت آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر اپنے منہ پر پاؤڈر ملنے کی بجائے اپنی اولادوں پر دھیان دے۔۔۔۔ بیٹے نے ماشاللہ 4 جماعتیں فیل ہونے کے بعد موالی قسم کے لڑکوں میں اٹھنا بیٹھنا شروع کر دیا ہے اور وہ گل محلے کی رکھو خالہ بن کر ہر گھر کی سن گن رکھنے لگی ہے بچیوں والی تو اس میں کوئی بات ہی نظر نہیں آتی چوٹی عمر میں ہی عورت بن گئی ہے پوری"
نثار اپنے بچوں کی طرف سے فکر مند ہوتا ہوا غزل کا دھیان بچوں کی طرف دلانے لگا
"تو جیسا باپ ویسی اولاد، تو نے کون سے تیر مار لیے دنیا میں آکر،، بوجھ کی طرح ہماری زندگیوں پر مسلط ہی رہا ہے تو ہمیشہ۔۔۔۔ اب تک کوئی پچیس نوکریوں پر تیرا بھائی تجھے لگا چکا ہے، مجال ہے جو کہیں پر بھی مستقبل مراجی سے ٹک کر کام کیا ہو تو نے،، اگر تیرا بھائی تیرے لیے فکر مند نہ ہوتا، تو نے تو ہم کو سڑکوں پر بٹھا دیا ہوتا۔۔۔۔ وہ تو شکر ہے عدی اور گل کے لیے مستقبل کے لیے مجھے ذلیل نہیں ہونا پڑے گا ارے اصل زندگی تو میری برباد ہوچکی ہے تجھ جیسے نکھٹو آدمی سے شادی کر کے، حسن برقرار ہے مگر قسمت دیکھو میری"
غزل اپنے حسن کی ناقدری پر آنسو بہاتی ہوئی کچن میں نثار کے لئے چائے بنانے چلی گئی جبکہ نثار اپنے لیے توہین آمیز گفتگو سن کر وہی سے چیخ کر بولا
"یہ سالا کونسا حسن ہے جو مجھ آندھے کو نظر نہیں آیا، دو بچے پیدا کرنے کے بعد تیرے جسم پر چربی نے تیرے حسن کو اور چار چاند لگا دیے ہیں۔۔۔ نام بھی دیکھو ماں باپ میں چن کر رکھا ہے غزل۔۔۔ ارے تو تو شاعر کی وہ غزل محسوس ہوتی ہے جو اس نے منہ سے بیان نہ کی ہو بلکہ منہ پر دے ماری ہو"
نثار زور زور سے بولتا ہوا گھر کا بجھتا ہوا دروازہ کھولنے چلا گیا
****
لان میں موجود جھولے پر ٹیڈی بیئر کو گود میں لیے بیٹھی بیلا کی نظریں مین گیٹ سے اندر آتے ہوئے ازلان پر گئی جو پورے ایک ہفتے بعد اس کو اپنے گھر میں آتا ہوا دکھائی دیا تھا بیلا گود میں بیٹھے ٹیڈی کو جھولے پر بٹھا کر دوڑتی ہوئی ازلان کے پاس چلی آئی
"رکو، ارے سنو۔۔۔ میں تم سے بول رہی ہوں ازلان"
اپنی پشت سے آتی بیلا کی آواز کو نظر انداز کر کے وہ گھر کے اندر نثار کے بلانے پر آیا تھا مگر جب بیلا نے اس کو نام سے پکارا تو ازلان کو رکنا پڑا
"کوئی کام تھا کیا تمہیں مجھ سے"
ازلان کے رکنے پر بھاگ کر اس کے پاس آتے ہوئی بیلا کا سانس پھول چکا تھا وہ رک کر ازلان کو دیکھنے لگی تو ازلان بیلا سے پوچھنے لگا
"اتنے دنوں سے تم کہاں غائب تھے چکر کیوں نہیں لگایا تم نے ہماری طرف"
بیلا ازلان کو دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
"میں یہاں مسسز عباد کے کام سے آتا ہوں، ویسے تو مسسز عباد کا یا پھر اس بنگلے میں رہنے والے کسی بھی فرد کا کام کرنا میری ڈیوٹی میں شامل نہیں ہے لیکن چچا جان میرے بڑے ہیں انہیں میں کسی کام کا بھی ٹال نہیں سکتا تو مروتا مجھے وہ کام کرنا پڑتا ہے، تمہیں اگر مجھ سے کوئی کام ہو تو مجھے مخاطب کیا کرو"
ازلان عباد کی باتیں یاد کرتا ہوا روکھے لہجے میں بیلا سے بول کر وہاں سے جانے لگا
"تو تم نے اس دن والی بات پر میری سوری ابھی تک ایکسپٹ نہیں کی جبکہ اس دن تمہارے کپڑے میں نے جان بوجھ کر خراب نہیں کیے تھے"
بیلا ازلان کو جاتا ہوا دیکھ کر معصومیت سے بولی جس پر ازلان کو رکنا پڑا
"تم جیسے بڑے لوگ تو ہمارے کپڑے دس بار خراب کر کے بھی سوری نہ بولو تو ہم تمہارا کیا بگاڑ سکتے ہیں تم ایک سوری کے لئے پریشان ہو رہی ہو"
ازلان مسکرا کر سر جھٹکتا ہوا بولا
"یہ ہم دونوں کی دوستی کے بیچ میں چھوٹے بڑے لوگ کیسے آگۓ ازلان"
بیلا حیرت سے ازلان کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
"تم سے میری دوستی کب ہوئی ایسا تو مجھے کچھ یاد نہیں پڑتا"
ازلان غور سے بیلا کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر پوچھنے لگا
"تو اس کا مطلب ہے تم نے اس دن میری دوستی کو ایکسپیٹ نہیں کیا تھا"
بیلا افسوس کرتی ہوئی ازلان سے پوچھنے لگی تو ازلان کو بیلا کے بولے ہوئے جملے یاد آئے جب وہ نازنین کو بتا رہی تھی کہ ازلان اس کی سوری بھی ایکسیپ کرچکا ہے اور اس کا دوست بھی بن چکا ہے
"تمہیں کم ازکم دوست بنانے سے پہلے اپنے فادر سے پرمیشن لینا چاہیے شاید انہیں تمہارا مجھ سے دوستی کرنا پسند نہیں آئے گا"
ازلان اس سنہری بالوں والی سفید گڑیا کا دل نہیں توڑنا چاہتا تھا اس لیے اس کو سمجھاتا ہوا بولا دوسرا وہ ہفتے بھر پہلے عباد کے خیالات بھی جان چکا تھا
"میں نے شروع سے ہی بہت کم دوست بنائے ہیں اور میرے کسی بھی فرینڈ سے میرے بابا کو کوئی پرابلم نہیں ہوئی ہے وہ تم کو بھی پسند کریں گے جب میں ان کو بتاؤں گی کہ تم میرے فرینڈ ہو"
بیلا اعتماد سے ازلان کو دیکھ کر بولی
"مگر تم مجھ سے دوستی کرنے پر بضد کیوں ہو جب کہ میں تم سے اچھا خاصا بڑا ہو"
ازلان کنفیوز ہوکر بیلا سے سوال کرنے لگا دوسرا اس نے پہلے کبھی کسی لڑکی سے دوستی بھی نہیں کی تھی
"اچھے خاصے بڑے تو نہیں ہو زیادہ سے زیادہ بھائی کے برابر ہوگے ناں۔۔ دوستی میں یہ بات تھوڑی نہ میٹر کرتی ہے کہ ایج زیادہ ہو یا پھر کم اور میں تمہیں اپنا دوست اس لیے بنانا چاہتی ہوں کیوکہ تم ایک اچھے لڑکے ہو"
بیلا نے جواز پیش کرنے کے ساتھ ہی ازلان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا جسے دیکھ کر کچھ سوچتے ہوئے ازلان نے تھوڑا جھجھک کر تھام لیا کیونکہ وہ جس کلاس سے تعلق رکھتا ہے یہاں لڑکے لڑکیوں کی دوستی کو کسی اور معنی میں لیا جاتا تھا جبکہ اس کو اندازہ تھا بیلا کو ایجوکیشن میں پڑھتی ہوگی اس کے نزدیک ایک لڑکا اور لڑکی کی دوستی کا مطلب صرف دوستی ہی ہے
"تمہارے ہاتھ حد سے زیادہ ٹھنڈے ہیں کیا تم نے ایسا سنا ہے جن کے ہاتھ ٹھنڈے ہو ان کے خون میں وفا نہیں ہوتی"
بیلا ازلان کے سرد ہاتھ کی ٹھنڈک محسوس کرکے اس سے بولی
"یہ سب فضول کی باتیں ہیں موسم کا درجہ حرارت جب انسان کی باڈی پر اثر انداز ہوتا ہے تو اس کے مطابق انسان کی باڈی کا درجہ حرارت بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔۔۔ لیکن اگر تم وفا کی بات کر رہی ہو تو آگے جاکر تمہیں اعتبار ہوجائے گا کہ دوستی میں آخری حد تک وفا کون نبھاتا ہے"
ازلان نے بولتے ہوۓ بیلا کا ہاتھ چھوڑا تو وہ اسمائل دے کر ازلان کو دیکھنے لگی بیلا کو اسکی بات تو سمجھ نہیں آئی تھی مگر اسے ازلان کو دوست بنانے کی خوشی تھی جبکہ ازلان گھر کے اندر نثار کے پاس چلا گیا
****
"ارے واہ تم سب تو بہت جلدی بڑے ہوگئے ہو لگتا ہے پانی وانی ٹائم پر مل رہا تم سب کو"
نوف سرونٹ کواٹر سے باہر نکلی تو برابر میں بنگلے کا دروازہ کھلا دیکھ کر لان میں آگئی، دو ماہ سے اس نے اس جگہ کا رخ نہیں کیا تھا لیکن آج قیوم کے لگاۓ ہوۓ پودوں کو دیکھ کر اس کا دل چاہا وہ قریب سے ان میں لگے پھولوں کو دیکھے تو انکے پاس چلی آئی۔۔۔ اس وقت وہ پودوں کے ساتھ باتیں کرنے میں مگن تھی جب اپنے کمرے کی کھڑکی سے افراہیم کی نظر ایک اجنبی لڑکی پر پڑی جو بےدھڑک اس کے گھر میں داخل ہوکر پودوں کے پاس کھڑی تھی افراہیم کمرے سے باہر نکل کر لان میں آنے لگا
"ننھی کلی تم بہت جلد ایک پیارے سے پھول کی شکل اختیار کر لوں گی، مجھے انتظار رہے گا اس دن کا"
نوف پودوں کے پاس کھڑی ہوئی ان سے باتیں کرنے میں اتنی مشخول تھی کہ اسے احساس ہی نہیں ہوا کوئی اس کے تعاقب میں اس کے پاس آ رہا ہے
"خبردار جو تم نے اس پھول کو توڑنے کی کوشش کی تو"
افراہیم اس کے پاس آتا ہوا روعب دار لہجے میں نوف سے بولا تو وہ ایک دم شاخ سے اپنا ہاتھ ہٹا کر جلدی سے مڑی جہاں افراہیم کھڑا نوف کو گھور رہا تھا
"میں اسے توڑ نہیں رہی تھی بلکہ قریب سے دیکھ رہی تھی"
نوف غصے میں بھرے اس لڑکے کو دیکھ کر آئستہ آواز میں اپنی صفائی دیتی ہوئی بولی اور اپنا سر جھکا لیا
"کیا یہ پودے تمہارے باپ نے لگائے ہیں جو تم انہیں قریب سے دیکھ رہی تھی"
افراہیم اپنے سامنے مجرموں کی طرح سر جھکائے اس لڑکی کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا تو نوف ہلکا سا سر اٹھا کر غصہ کرنے والے اس لڑکے کو دیکھنے لگی جو مغرور نقش کے ساتھ اسے طبیعت کا بھی مغرور لگا تھا
"جی یہ پودے میرے ابو جی نے ہی یہاں لگائے ہیں"
نوف آہستہ سے بولتی ہوئی وہاں سے جانے لگی
"اے رکو،، کیا بکواس کر کے جا رہی ہو تم۔۔۔ ہمت کیسے کی تم نے مجھے جواب دینے کی۔۔۔ ایک تو تم اس بنگلے میں چوری کرنے کی نیت سے اندر آئی اور جب پکڑی گئی تو الٹا زبان چلا رہی ہو میرے آگے"
افرائیم کے کرخت لہجے اور چوری کے الزام پر نوف کی آنکھیں لبالب آنسوؤں سے بھر گئیں
"نہ ہی میں نے آپ سے زبان چلائی ہے نہ ہی کوئی جھوٹ بولا ہے۔۔۔ میں سچ بول رہی ہو یہاں پودے میرے ابو جی نے ہی لگائے ہیں"
وہ زور سے اپنی ہتھیلی کو آنکھوں پر رگڑتی ہوئی بولی تب افراہیم کو سمجھ میں آیا کہ وہ لڑکی کون ہو سکتی ہے
"اچھا تو تم نثار کی بیٹی ہو۔۔۔ ایک نمبر کا کاہل، سُست، نکما، کم چور انسان ہے تمہارا باپ۔۔۔ جو ذرا ذرا سے کاموں پر بہانہ بناکر ہمہیں ٹوپی کرواتا ہوا یہاں سے فرار ہو جاتا ہے اور بدلے میں سارے کام اپنے بھتیجے سے کرواتا ہے"
کیونکہ نثار نے دو سے تین بار اس کو بھی ٹوپی کروائی تھی اس لیے افرائیم نے اپنے سامنے کھڑی اس دبو سی لڑکی کو اس کے باپ کی اصلیت بتانا ضروری سمجھا
"نثار میرے چچا جان ہیں۔۔۔ ابو جی کا نام تو قیوم ہے جو یہاں پر ڈرائیور ہیں"
وہ چچا جان کے بارے میں جو الفاظ استعمال کر رہا تھا نوف کو ذرا بھی اچھا نہیں لگا مگر ازلی بزدلی کی وجہ سے وہ افراہیم کو کچھ بھی نہیں بولی صرف صحیح رشتہ بتا کر اس کی غلط فہمی دور کی
"باپ چچا بھائی ماشاء اللہ سے پورا خاندان غلام ہے"
افراہیم کا اندازہ مذاق اڑانے والا تھا جس پر نوف سر اٹھا کر سرخ آنکھوں سے اس مغرور لڑکے کو دیکھنے لگی رونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں بھی سرخ ہو چکی تھی
"گھور کر کیا دیکھ رہی ہو مجھے، کون سی غلط بات بولی ہے واپس جھکاؤ اپنا سر اور خبردار جو آئندہ تم نے میرے سامنے سر اٹھا کر مجھے جواب دیا تو"
افرائیم کو اب اس دبو سی لڑکی پر روعب جما کر مزہ آ رہا تھا جبھی وہ تیز لہجے میں بولا جس پر نوف نے جلدی سے واپس سر جھکا لیا
"ہمہیں تو یہاں آۓ دو ماہ ہوچکے ہیں پہلے تو کبھی نظر نہیں آئی تم"
افراہیم نوف کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر تجسس سے سوال کرنے لگا کیونکہ اس نے آج سے پہلے اس لڑکی کو یہاں پر کبھی بھی نہیں دیکھا تھا
"گھر میں ہی گزرتا ہے میرا زیادہ تر وقت امی کے ساتھ گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے ہوئے"
نوف اس کو یہ نہیں بتا سکی کہ وہ روز شام کو اس کو ٹریک سوٹ میں جاگنگ کرتا ہوا اپنے کمرے کی کھڑکی سے دیکھتی تھی بس سادگی سے اپنے بارے میں بتانے لگی
"شکل ہے کہاں تمہارے پاس باہر نکلنے والی، اس شکل کو لےکر گھر سے باہر نکلنے سے بہتر ہے کہ گھر میں ہی رہو تم"
افراہیم اس کی اچھی خاصی شکل و صورت پر ٹونٹ کرتا ہوا بولا تو احساس توہین سے نوف سے ذرا سا سر اٹھا کر اس مغرور لڑکے کو دیکھا۔۔۔۔ کیوکہ بچپن سے اب تک اپنے ماں باپ کے علاوہ بھی محلے کی خواتین اور دوستوں سے اپنی صورت کو لے کر ہمیشہ تعریفیں ہی سنی تھی
"تم نے پھر اپنا سر اٹھایا میرے سامنے واپس جگاؤ اپنا سر"
نوف کے سر اٹھانے پر افراہیم اس کو ڈانٹتا ہوا بولا جس پر نوف جلدی سے اپنا سر جھگا گئی اس کی حرکت پر افراہیم کے ہونٹوں کو مسکراہٹ نے چھوا افراہیم کو نوف کو ایسے ڈرانے میں مزا آنے لگا
"میں گھر جانا چاہتی ہوں"
یوں سر جھکائے وہ اپنے سامنے اس کو نہ جانے کب تک کھڑا رکھتا اس لیے نوف آہستہ آواز میں افراہیم سے بولی
"کیوں جانا ہے تمہیں اپنے گھر"
افراہیم روعب دار لہجے میں اس کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر پوچھنے لگا
"امی انتظار کر رہی ہوگیں"
نوف نے اس مغرور لڑکے کے سامنے اب بھی سر اٹھانے کی کوشش نہیں کی تھی
"اور کل میں تمہارا انتظار کروں گا کل تم اسی ٹائم پر مجھے اسی جگہ لان میں نظر آؤ گی۔۔۔۔ تمہارے چچا جان کو تو کچھ آتا نہیں ہے کل تم یہاں آکر پورے لان کی صفائی کرو گی سنا تم نے"
افراہیم نوف پر حکم صادر کرتا ہوا بولا جس پر نوف کے پاس اقرار میں اپنا جھگا ہوا سر ہلانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا
"اب یوں بے وقوفوں کی طرح کیوں کھڑی ہو جاؤ اپنے گھر"
افراہیم کے بولنے کی دیر تھی نوف وہاں سے بھاگتی ہوئی گیٹ سے باہر نکل گئی اور ساتھ ہی اس نے تہیہ کرلیا تھا کہ وہ اب یہاں کبھی بھی نہیں آئے گی
روحیل کو جب ہوش آیا تو اس نے اپنے آپ کو ایک خالی کمرے میں موجود پایا جہاں میز کے سامنے خالی کرسی موجود تھی جبکہ دوسری کرسی پر وہ خود بیٹھا ہوا تھا اور اس کے دونوں ہاتھوں کو رسی سے مضبوطی سے باندھا گیا تھا اسے یاد پڑتا تھا کہ وہ آج صبح ائیرپورٹ جانے کے لیے اپنی گاڑی میں گھر سے باہر نکلا تھا... مگر گاڑی راستے میں خراب ہونے کی وجہ سے اسے ٹیکسی کرنا پڑی اور اچانک بیچ راستے میں ٹیکسی رکی اور ایک اجنبی شخص اس ٹیکسی میں بیٹھا اس سے پہلے روحیل اس شخص سے کوئی بات کرتا اس شخص نے روحیل کی گردن میں ایک انجکشن گھونپ دیا جس کے بعد روحیل کو اب ہوش آیا تھا
"کک۔۔۔ کون ہو تم مجھے یہاں کیوں لائے ہو"
روحیل ہوش میں آنے کے بعد ستائیس اٹھائیس سالہ اس شخص سے پوچھنے لگا جو ابھی کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔وہ شخص چلتا ہوا روحیل کے پاس آیا اور اس کی کرسی کا رخ اپنی سمت کرتا ہوا اپنی پاکٹ سے موبائل نکالنے لگا
"یہ لڑکی اس وقت کہاں موجود ہے"
وہ شخص اپنے موبائل کی اسکرین روحیل کے سامنے کرتا ہوا اس سے پوچھنے لگا۔۔۔روحیل اس لڑکی کو پہچان چکا تھا جو چند دن پہلے روبی نے اس کے فلیٹ پر بھیجی تھی، مگر وہ انجان بنتا ہوا اس شخص سے بولا
"کون ہے یہ لڑکی مجھے کیا معلوم میں اسے پہلی بار دیکھ رہا ہوں"
روحیل کی بات سن کر اس شخص نے موبائل ٹیبل پر رکھا اور اچانک ہی روحیل کے منہ پر زور دار تھپڑ مارا۔۔۔۔ منہ پر پڑنے والے تھپڑ کی شدت سے نہ صرف روحیل بلبلا اٹھا بلکہ اس کی کرسی کا بھی توازن برقرار نہیں رہ سکا کرسی سے ہاتھ باندھے ہونے کی وجہ سے روحیل کرسی سمیت زمین پر گر گیا
"تمہارا جواب آپ بھی یہی ہے کیا تم واقعی اس لڑکی کو نہیں جانتے"
وہ شخص جھک کر روحیل کے بالوں کو پکڑتا ہوا اس کا چہرہ اوپر کر کے ایک بار پھر پوچھنے لگا
"مم، میں سچ بول رہا ہوں میں واقعی اس لڑکی کو نہیں جانتا"
روحیل کا جواب سن کر اس شخص نے روحیل کے بالوں کو یونہی اپنے ہاتھ کی مٹھی میں جکڑ کر، بالوں کے زور سے کرسی کو اٹھایا اور واپس اسی جگہ پر کھڑا کیا جس سے روحیل کے منہ سے دردناک چیخیں نکل پڑی
"میری معلومات کے مطابق تم نے اس لڑکی کو ایک رات کے لیے ہائیر کیا تھا اس کے بعد سے یہ لڑکی کہیں بھی نہیں دیکھی گئی ہے، اس لڑکی کو تم نے جہاں کہیں بھی چھپایا ہوا ہے اگر تم نے مجھے نہیں بتایا تو روحیل میں تمہارے ساتھ کیا کرسکتا ہوں اگر تمہیں معلوم ہوجائے تو تم اس اذیت کو سہنے سے بہتر مرنا پسند کرو گے جواب دو کہاں ہے یہ لڑکی اس وقت"
وہ شخص غصے میں روحیل کو دیکھتا ہوا ایک بار پھر پوچھنے لگا، اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ کہا جائے، کیا کرے، کیسے اس کو کہیں سے ڈھونڈ نکالے، اس وقت اس کی بےبسی آسمانوں کو چھو رہی تھی۔۔۔۔ روحیل کے خاموش رہنے پر اس شخص نے ایک بار پھر روحیل کے منہ پر پوری طاقت سے طمانچہ مارا، روحیل ایک بار پھر کرسی سمیت زمین پر جاگرا
"پلیز مجھے چھوڑ دو، میں واقعی اس لڑکی کو نہیں جانتا"
اب کی بار والا تھپڑ پہلے سے بھی زیادہ شدت کا تھا جس سے روحیل کے گال کے ساتھ اس کا کان بھی سرخ ہوگیا اور ناک سے خون بہنے لگا
"اس لڑکی کو اور ان دو بچوں کو تم جانتے ہو ناں"
وہ شخص ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھا کر ایک بار پھر جھک کر روحیل کے چہرے کے آگے موبائل کی اسکرین کرتا ہوا اس سے پوچھنے لگا۔۔۔ روحیل نے اب کی بار اسکرین کی طرف دیکھا
"حرا"
بے ساختہ اس کے منہ سے اپنی بیوی کا نام نکلا وہ تصویر اس کی بیوی اور دونوں بچوں کی تھی
"چند دنوں پہلے روبی نے اس لڑکی کو میرے فلیٹ پر بھیجا تھا میں نے اس لڑکی کے لیے روبی کو پانچ لاکھ روپے ایک رات کے لیے دیئے تھے۔۔۔ مگر یہ لڑکی اس رات میرے فلیٹ سے فرار ہوگئی تھی روبی خود بھی اس لڑکی کی تلاش میں ہے۔۔۔ میں اپنے بچوں کی قسم کھا کر کہہ رہا ہوں میں نے اس رات اس لڑکی کے ساتھ کچھ غلط نہیں کیا تھا اور نہ ہی یہ جانتا ہو کہ یہ لڑکی اور اس وقت آپ کہاں پر ہے، میرا یقین کرو میں اب کی بار بالکل سچ بول رہا ہوں پلیز میری بیوی اور بچوں کو کچھ مت کرنا"
روحیل بولتا ہوا بےبسی سے دھاڑے مار کر زوروں سے رو پڑا تو وہ شخص کمرے سے باہر نکل کر دوسرے کمرے میں آگیا
اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھامے صوفے پر بیٹھا ہوا اس کا اپنا بھی دل کیا کہ وہ روحیل کی طرح دھاڑے مار کر زور زور سے روئے نجانے وہ اس وقت کہاں تھی، کس حال میں تھی۔۔۔
جب اس کو معلوم ہوا تھا کہ وہ روبی کے ہاتھ لگ گئی ہے جو سوسائٹی میں ایک نائیکہ کی حیثی رکھتی ہے تو ایک پل کے لئے اسے محسوس ہوا تھا جیسے اس کے جسم سے روح کھینچ لی گئی ہو۔۔۔ روبی کے ٹھکانے پر پہنچ کر اس نے ایک ایک لڑکی میں اس کو تلاشا مگر وہ ان لڑکیوں میں موجود نہیں تھی تب اسے روحیل کا معلوم ہوا مگر یہاں بھی اس کا پتہ نہیں چل سکا۔۔۔ وہ اس بھری دنیا میں بالکل اکیلا ہوگیا تھا ان دنوں وہ جس اذیت سے گزر رہا تھا اس کا اندازہ کوئی بھی نہیں لگا سکتا تھا مگر اسے ہمت سے کام لینا تھا اپنی آنکھوں میں آنسوؤں کو گالوں پر اترنے سے پہلے صاف کرتا ہوا وہ صوفے سے اٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا
****
"اے باگڑ بلے یہ جلدی جلدی میں کہاں جا رہے ہو ذرا میری کچھ مدد ہی کر دو"
ازلان اپنی دھن میں ٹیوشن پڑھانے کے بعد گھر کی طرف جا رہا تھا گل کی آواز سن کر پلٹ کر اسے دیکھنے لگا جو بہت سارے شاپرز ہاتھ میں پکڑی مشکلوں سے ہی خود کو سنبھال پا رہی تھی ازلان نے آگے بڑھ کر سارے شاپرز اس کے ہاتھ سے لے لئے
"ارے سارے شاپرز کہا سنبھالو گے دو تین مجھے بھی پکڑا دو"
غزل نے آج اس سے پورے ماہ کا راشن منگوا لیا تھا اس لئے وہ کافی دور سے پیدل اتنا وزن اٹھاۓ ہانپتی ہوئی آرہی تھی مگر ازلان کو سارے شوپرز پکڑتا ہوا دیکھ کر گل ایک دم سے بولی
"تم اپنا دوپٹہ اور بالوں کی اڑتی ہوئی لٹو کو سنبھال لو یہی کافی ہے تمہارے لیے۔۔۔ ویسے چچی جان یہ کام عدنان سے بھی کہہ سکتی تھیں کیا چچا جان بھی گھر پر موجود نہیں تھے"
ازلان اس کے گلے میں پڑے دوپٹے اور بالوں کو ہوا میں اڑتے ہوئے دیکھ کر گل کے ساتھ چلتا ہوا اس سے عدنان اور نثار کا پوچھنے لگا
"عدی سے اس کام کے کہنے کا مطلب ہے ان پیسوں سے ہاتھ دھونا اور ابا کو تو تم بھی اچھی طرح جانتے ہو۔۔۔ ویسے آج کل تم خود کہاں ہواؤں میں اڑے اڑے پھر رہے ہو اب مجھ کو ابا کی طرح ٹوپیاں کروانے نہ بیٹھ جانا تمہارے اوپر پوری نظر رکھی ہوئی ہے میں نے"
گل اپنی چھوٹی چھوٹی سی آنکھوں کو مزید چھوٹا کرتی ہوئی مشکوک نظروں سے ازلان کو دیکھ کر پوچھنے لگی
"دماغ تو خراب نہیں ہوگیا ہے تمہارا کچھ بھی بولے جا رہی ہو تم۔۔۔۔ گل وہ چھوٹی بچی ہے نوف کے برابر، یہاں اس کا کوئی دوست نہیں ہے اس لیے وہ مجھ سے تھوڑا سا ٹائم مانگتی ہے مگر جو بات تم سوچ رہی ہو مجھے تمہاری سوچ جان کر کافی افسوس ہوا ہے"
ازلان اچھی طرح جانتا گل کا اشارہ بیلا کی طرف تھا کل جب وہ بیلا کے ساتھ قریبی پارک میں واک کر رہا تھا تب گل جس طرح سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی ازلان سمجھ گیا وہ پورے محلے میں بلاوجہ کی بات پھیلا کر صرف بات کا بتنگڑ بنائے گی اس وجہ سے نہ چاہتے ہوئے بھی وہ گل کو وضاحت دیتا ہوا بولا
"نوف کے برابر ہونے کی وجہ سے وہ تمہاری بہن نہیں لگی، چھوٹی ہے تو کیا ہوا نوف بھی تو عدی سے پورے نو سال چھوٹی ہے۔۔۔ مجھے تو پوری فتنہ ہی لگتی ہے وہ سنہری بالوں والی، اے باگڑ بلے بات اگر دل لگی تک ہے پھر تو ٹھیک ہے مگر اس فتنے کو دل سے لگا کر مت بیٹھ جانا ورنہ میں تمہیں اس کے لیے کبھی معاف نہیں کرو گی"
گل ازلان پر پورا حق جتاتی ہوئی بولی اس کی بات سن کر ازلان گھر کے پاس رکتا ہوا غصے میں گل کو دیکھنے لگا
"گل میں تمہیں پہلے بھی صاف لفظوں میں بول چکا ہو ہمارے بڑوں میں جو بھی بات ہمیں لے کر بچپن میں طے ہو چکی ہے، میں اس بات کو رتی برابر بھی سنجیدہ نہیں لیتا۔۔۔ نہ اپنے لیے نہ ہی اپنی بہن کے لیے اور تمہارے لئے بھی یہی بہتر ہے کہ تم بلاوجہ کا فتور اپنے دماغ میں مت پالو"
کئی دفعہ پہلے بھی بولی ہوئی بات ازلان آج ایک بار پھر گل کو بولتا ہوا سارے شاپرز اس کو پکڑا چکا تھا کیونکہ اب ان دونوں کا کوارٹر آچکا تھا جبکہ ازلان کی توجہ کوارٹر کی دیوار کے ساتھ بنے بنگلے پر تھی جہاں گیٹ پر بیلا کھڑی ہوئی خاموشی سے گل اور ازلان کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ ازلان بیلا کو دیکھ کر اس کی طرف جانے لگا،، گل ازلان کو بیلا کی طرف متوجہ دیکھ کر اندر ہی اندر بری طرح جل گئی
"تم اپنے اور میرے رشتے کو سنجیدہ لو یا نہ لو،،، بڑوں کے آگے کونسی تمہاری چلنے والی ہے اور اپنے علاوہ میں تمہیں کسی دوسرے کا خود بھی نہیں ہونے دوں گی"
گل دل ہی دل میں ازلان سے مخاطب ہوکر سارے شاپرز لیے اپنے کوارٹر کی طرف بڑھ گئی
جبکہ دوسری طرف بیلا نے ازلان کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھا تو وہ ناراضگی کا اظہار کیے گیٹ سے اندر چلی گئی۔۔۔۔ ازلان کو بیلا کے رویۓ پر حیرت ہوئی مگر وہ اس کے پیچھے جانے کی بجائے اپنے کوارٹر کی طرف چلا گیا کیونکہ عباد کے آنے کا ٹائم ہو چکا تھا
****
"رکو، سنو۔۔۔ ارے میں تم سے بات کر رہا ہوں بیلا"
ازلان جیسے ہی بنگلے کے اندر داخل ہوا لان میں کرسی پر بیٹھی ہوئی بیلا ازلان کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھ کر اندر جانے لگی تبھی ازلان اس کے سامنے آتا ہوا اس کا راستہ روک کر کھڑا ہو گیا
"کوئی کام تھا کیا تمہیں مجھ سے"
بیلا ازلان کو دیکھ کر اس سے پوچھنے لگی تو بےساختہ اس کے انداز پر ازلان کو ہنسی آگئی
"مجھے کم سے کم یہ معلوم ہونا چاہیے کے تم مجھ سے خفا کس بات پر ہوں"
ازلان اپنے دونوں ہاتھ باندھے ہوئے دھوپ میں بیلا کی چمکتی ہوئی رنگت کو دیکھ کر پوچھنے لگا۔۔۔ اگر اس کے ذہن میں کیوٹ لفظ آتا تو خودبخود سنہری بالوں والی چھوٹی سی اس لڑکی کی شبیہہ سامنے آجاتی
"کون تھی وہ لڑکی جس کا سامان اٹھائے بڑے مزے سے اس سے باتیں کرتے ہوئے کل شام میں نظر آرہے تھے"
بیلا نے جس انداز میں اس سے پوچھا اب کی بار ازلان نے اس کی بات پر قہقہہ لگایا
"گل کی بات کر رہی ہوں کزن ہے وہ میری، چچا جان کی بیٹی۔۔۔ بیچاری دکان سے سودا لےکر خود ہی گھر کی طرف جارہی تھی تو میں نے اس کی مدد کر دی اس میں خفا ہونے والی کیا بات ہے"
ازلان آنکھیں سکھیڑ کر بیلا کو دیکھتا ہوا اسے پوچھنے لگا لیکن اب وہ ہنس نہیں رہا تھا بلکہ امڈ آنے والی ہنسی کو روکے ہوئے تھا
"خیر بیچاری تو کہیں سے نہیں لگ رہی تھی وہ"
بیلا سر جھکٹ کر بولی۔۔۔ جس طرح گل ازلان کے ساتھ چلتی ہوئی فری ہوکر اس سے بات کر رہی تھی بیلا کو وہ عجیب سی لڑکی ذرا بھی اچھی نہیں لگی تھی جس کا اظہار اس نے ازلان کے سامنے کر دیا
"اس نے کیا بگاڑ دیا ہے تمہارا جو وہ تمہیں پہلی نظر میں بری لگنے لگی، ہاں تھوڑی باتونی ٹائپ کی ہے مگر دل کی بری نہیں ہے وہ"
ازلان ابھی بھی اپنی مسکراہٹ چھپا کر بیلا سے بولنے لگا۔۔۔ بیلا کے یوں بےسبب جیلس ہونے پر ازلان کو ہنسی آرہی تھی چھوٹی عمر میں اکثر بچے اپنے پیرنٹس یا دوستوں کو اپنے علاوہ کسی دوسرے کے ساتھ انوالو دیکھ کر حساس ہو جایا کرتے تھے
"میرا کیا بگاڑ سکتی ہے تمہاری کزن مجھے اس کا یوں بےتکلف ہوکر تم سے بات کرنا بالکل بھی پسند نہیں آیا اور یہ کیا بات ہوئی کہ وہ دل کی بری نہیں ہے۔۔۔ ازلان سچ بتاؤ کیا وہ تمہیں اچھی لگتی ہے"
بیلا حیرت زدہ ہوکر اس سے پوچھنے لگی
"بیلا گل میرے چچا کی بیٹی ہے ہم آپس میں کزن ہیں تو وہ مجھ سے فری ہوکر بات کر سکتی ہے لیکن اس بات کو لےکر تم اتنا خفا کیوں ہو رہی ہو سیریسلی مجھے بالکل بھی سمجھ میں نہیں آ رہا"
ازلان اب بالکل سنجیدہ ہوکر بیلا کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔ اسے اس حد تک بیلا کا گل کو لے کر بحث کرنا اب واقعی سمجھ میں نہیں آرہا تھا
"سچی سچی بتاؤ وہ تم کو معلوم نہیں کیسے اسمائل دے کر دیکھ رہ تھی اور باتیں کر رہی تھی مجھے بالکل اچھا محسوس نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔ تم میرے دوست ہوں مجھے اچھا لگتا ہے جب میں اور تم ایک دوسرے سے فرینک ہوکر بات کرتے ہیں، کوئی دوسرا تم سے فرینک ہوکر بات کرے یا تم کسی دوسرے سے فرینک ہوکر بات کرو تو مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگے گا"
بیلا کی معصوم سی لاجک سن کر ازلان مسکرایا
"پاگل ہو تم بالکل، دوستی میں ایسا تھوڑی ہوتا ہے"
ازلان بیلا کے سر پر آہستہ سے چپت لگاکر لان میں آگے بڑھتا ہوا بولا تو بیلا بھی اس کے ساتھ چلتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
"کیوں،،، کیوں نہیں ہوسکتا ایسا دوستی میں، ہم دونوں اپنی دوستی ایسے ہی رکھیں گے میرے علاوہ تم کوئی بھی دوست مت بنانا اور نہ میں تمہارے علاوہ کوئی دوست بناؤں گی۔۔۔۔ ہم دونوں اپنی ساری باتیں ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیا کریں گے۔۔۔ میں تمہیں ہمیشہ اپنے ساتھ دیکھنا چاہتی ہوں ازلان"
وہ دونوں لان میں چہل قدمی کر رہے تھے تب بیلا کی آخری بات پر ازلان نے قدم روک کر غور سے اس کو دیکھا تو بیلا بھی رک گئی
"ایسے کیا دیکھ رہے ہو کیا تمہیں برا لگا میرا ایسا بولنا یہ تم مجھ سے ایسی دوستی نہیں چاہتے"
بیلا ازلان کو دیکھ کر افسوس سے پوچھنے لگی
"جیسے تم دوستی سمجھ رہی ہو وہ دوستی نہیں ہوتی۔۔۔ وہ دوستی سے بڑھ کر شاید کوئی آگے کی منزل ہوتی ہے"
ازلان سنجیدگی سے بولتا ہوا دوبارہ چہل قدمی کرنے لگا کیوکہ اس کے نزدیک ایک لڑکا اور لڑکی کے بیچ ایک حد تک دوستی قائم رہ سکتی تھی
"آگے کی منزل؟؟ اس کا کیا مطلب ہوا"
بیلا خود بھی ازلان کے ساتھ اس کے ہم قدم چلتی ہوئی ازلان سے پوچھنے لگی۔۔۔ ازلان اس کا پہلا ایسا دوست جو اس کو اچھا لگا تھا جس میں خلوص تھا، وہ دوسرے لڑکوں کے جیسا نہیں تھا اس لیے بیلا چاہتی تھی کہ اس کی اور اذلان کی دوستی ہمیشہ قائم رہ سکے
"اس کا مطلب تم ابھی نہیں سمجھو گی کیونکہ یہ بات سمجھنے کی تمہاری ابھی عمر نہیں ہے۔۔۔۔ جب تم بڑی ہوجاؤ گی تو شاید پھر تمہیں اپنی اس بچکانہ بات کو یاد کر کے خود ہنسی آجائے۔۔۔۔ ابھی تم صرف اس لئے مجھ سے ٹچی ہو رہی ہوں کیونکہ یہاں تمہارا کوئی دوسرا فرینڈ موجود نہیں ہے جب تم یہاں سے چلی جاؤ گی تو شاید تمہیں کوئی ازلان یاد بھی نہیں رہے"
ازلان بیلا کو دیکھ کر مسکراتا ہوا بولا تو بیلا نے ایک دم ازلان کا ہاتھ پکڑا جس پر ازلان رک کر ایک بار پھر بیلا کو دیکھنے لگا
"تم ایسا سمجھتے ہو کے میں یہاں سے جانے کے بعد تمہیں بھول جاؤ گی، میں نے تم سے دوستی کی ہے تمہیں اپنا بیسٹ فرینڈ بنایا ہے ایسا نہیں ہوسکتا کہ میں تمہیں بھول جاؤں"
بیلا اس کا ہاتھ تھامے اسے اپنی دوستی کا یقین دلانے لگی
"مگر یہ تمہارے ہاتھ کا سرد پن تو مجھے کچھ اور ہی بتا رہا ہے۔۔۔۔ رشتہ کوئی بھی ہو اس میں اعتبار اور وفا کا ہونا شرط اول ہے آگے جاکر تمہاری مجھ سے وفا کا بھی معلوم ہوجاۓ گا اور تم آگے زندگی میں میرا اعتبار بھی دیکھ لو گی"
ازلان بیلا کا ہاتھ تھام کر اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا
"تم یہ کیا کر رہے ہو چھوڑو میری بیٹی کا ہاتھ"
ازلان کو اپنی پشت سے آواز سنائی دی جس پر وہ مڑ کر لان میں آتے ہوۓ عباد کو دیکھنے لگا بیلا بھی عباد کو دیکھ چکی تھی وہ ازلان کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑا کر عباد کے پاس جانے لگی
"ہمت کیسے ہوئی تمہاری کے تم میری بیٹی کا ہاتھ پکڑو، چار جماعتیں پڑھنے سے تمہاری اوقات نہیں بدلے گی نہ ہی تمہیں اپنی اوقات بھولنا چاہیے۔۔۔ تمہارا باپ ڈرائیور ہے میرا،،، تمہارا چچا یہاں میرے گھر ملازم ہے تمہاری حیثیت تو ہمارے سامنے سر اٹھانے کی نہیں ہے اور تم میری چھوٹی سی بیٹی کا ہاتھ پکڑے اسے نہ جانے کونسی سبق پڑھا رہے ہو خبردار جو آئندہ تم مجھے اس بنگلے کے اندر نظر آئے"
عباد اپنے پاس آتی ہوئی بیلا کو نظرانداز کرتا ہوا ازلان کے پاس آتا ہوا حقارت سے بولا عباد کی بات سن کر ازلان کا چہرہ توہین اور شرمندگی سے سرخ ہونے لگا
"بابا کیا ہوگیا ہے آپ کو، یہ میرا فرینڈ ہے آپ اس کی اس طرح انسلٹ نہیں کرسکتے"
بیلا کو عباد کے بولے ہوئے لفظوں پر انتہائی افسوس ہوا وہ ازلان کا چہرہ دیکھنے کے بعد عباد سے ناراضگی سے بولی
"فرینڈ شپ اپنی حیثیت اور برابری کے لوگوں میں کی جاتی ہے یہ بات نہ تمہاری ماں کو سمجھ میں آئی ہے اور نہ تمہیں چلو اندر"
عباد غصے میں بیلا کو ڈانٹتا ہوا بولا اور ساتھ ہی اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے گھر کے اندر لے گیا۔۔۔۔۔ ازلان خاموشی سے گیٹ سے نکل کر اپنے کواٹر کی طرف جانے لگا گیٹ سے اندر آتے نثار پر اس کی نظر پڑی جو اپنی دھن میں گنگناتا ہوا آرہا تھا
"ارے میرے بچے تیرا منہ کیوں اترا ہوا ہے خیریت تو ہے ناں"
نثار ازلان کا اترا ہوا چہرا دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
"ہاں خیریت ہے مگر آپ یہاں کیا کر رہے ہیں آپ نے تو مجھ سے کہا تھا کہ آپ نوف کو اسکی دوست کے گھر سے لے کر آ جائیں گے"
ازلان اپنی تھوڑی دیر پہلے ہوئے بےعزتی کو بھول کر نثار سے پوچھنے لگا کیوکہ نثار نے دوپہر کو ازلان کو اپنے کام کے سلسلے میں باہر بھیجا ہوا تھا اور بدلے میں اسے یقین دلایا تھا کہ شام کو وہ خود نوف کو اس کی سہیلی کے گھر سے لے آئے گا
"ہاں بس نوف کو ہی تو لینے جا رہا تھا میں، تو گھر پہنچ نوف کو ابھی لے کر آتا ہوں"
نثار جلدی سے بولا تو ازلان نثار کی بات پر خاموشی سے اسے دیکھنے لگا
"ارے ایسے کیا شک بھری نظروں سے دیکھ رہا ہے میرے لال، تجھے تھوڑی ٹوپی کراؤ گا تجھ پر تو یہ نثار دل و جان سے نثار ہے۔۔۔۔ گھر پہنچ بس تھوڑی دیر میں نوف کو لےکر آتا ہوں"
ازلان نثار کی بات پر اعتبار کرتا ہوا وہاں سے چلا گیا یہ جانے بنا کے اس کا چچا دنیا میں آنے سے پہلے پیدائش کی تاریخ سے دس دن لیٹ دنیا میں آکر اپنے ہی ماں باپ کو ٹوپی کروا چکا تھا
"نوف کو باہر بھیج جلدی سے اسے بول کے تجھے عدنان لینے آیا ہے"
ببلی کے چھوٹے بھائی نے گھر کا دروازہ کھولا تو عدنان اسے دیکھ کر بولا۔۔۔۔
راستے میں اس کا ٹکڑاؤ نثار سے ہوگیا تھا نثار نے نوف کو اس کی سہیلی کے گھر سے لانے کی ذمہ داری اپنے نالائق بیٹے عدنان کو سونپ اور وہی سے بنگلے میں واپس چلا گیا کیونکہ عباد کا موڈ کافی زیادہ خراب تھا
"بھائی نہیں آئے مجھے لینے کے لیے"
نوف گھر کے دروازے سے نکل کر چاروں طرف نظریں دوڑاتی کر ازلان کو تلاش کرتی ہوئی آہستہ آواز میں عدنان سے پوچھنے لگی
"تو میں کون سا تجھے کھا جاؤں گا جو مجھے ایسے ڈر پر دیکھ رہی ہے۔۔۔ چل آجا شاباش پیدل پیدل گھر کو چلتے ہیں"
عدنان اپنے گلے میں ڈالا ہوا مفلر دونوں ہاتھوں سے پکڑا ہوا سفید کپڑوں میں خوفزدہ کھڑی نوف کو دیکھ کر بولا جو بےبسی سے عدنان کو دیکھنے لگی اس کا دل چاہا وہ واپس گھر کے اندر ببلی کے پاس چلی جائے اور کال کرکے ازلان کو بلا لے مگر وہ ببلی کو خدا حافظ کہہ کر گھر سے باہر نکل چکی تھی
"یہاں کھڑی کھڑی کیا سوچ رہی ہے میری رس ملائی، اب چل رہی ہے یا تجھے گود میں اٹھا کر گھر لے جاؤ"
عدنان للچائی ہوئی نظروں سے نوف کو دیکھ کر بولا عدنان کی بات سن کر نوف بےدلی اور خاموشی سے سرجھکا عدنان کے ساتھ چلنے لگی آج اتنے دنوں بعد وہ ببلی کے بلانے پر اس کے گھر آئی تھی ورنہ زیادہ تر ببلی خود ہی اس کے پاس آ جایا کرتی تھی
"اگر زیادہ ہی تیرا باہر نکلنے کا موڈ ہو رہا ہے تو مجھے بول دیتی میں تجھے کوئی فلم شلم دکھانے سینما لے چلتا اسی بہانے دونوں مل کر تھوڑی موج مستیاں ہی کرلیتے"
عدنان زیادہ دیر تک خاموش نہیں رہ سکتا تھا وہ نوف کو نیچے سر جھکا کر خاموشی سے چلتا ہوا دیکھ کر اس سے بولا
"مجھے فلمیں دیکھنے کا شوق نہیں ہے"
نوف یونہی سر جھکائے چلتی ہوئی عدنان سے بولی اور اس کے دوسرے جملے کو نوف نے بالکل نظر انداز کر دیا
"ارے میری جان من فلم میں دیکھ لیتا تو مجھ پر غور کرلیتی ویسے بھی اب تجھے میرے بارے میں سوچنا اور غور و فکر کرنا شروع کردینا چاہیے،، جیسے جیسے تو جوان ہورہی ہے میری بےچینی دن بدن بڑھتی جارہی ہے اور آج تو تو ان سفید کپڑوں میں بالکل ڈری سہمی کبوتری کی طرح میرے دل پر قیامت ڈھا رہی ہے، میرا تو ابھی سے ایمان خراب ہورہا ہے تجھے دیکھ کر کیا بتاؤں۔۔۔ چل تھوڑی دیر کے لئے اس درخت کی آڑھ میں چلتے ہیں اس کے بعد گھر چلے جاتے ہیں"
سنسان گلی کو دیکھ کر بولتے بولتے عدنان کے جذبات بےلگام ہونے لگے وہ نوف کی کلائی کو پکڑتا ہؤا بولا تو خوف کے مارے نوف عدنان کو دیکھنے لگی
"یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں میں آپ کی عزت کرتی ہوں عدنان بھائی پلیز میرا ہاتھ چھوڑ دیں"
نوف اس سے اپنا ہاتھ چھڑواتی ہوئی بولی اس سے پہلے عدنان کی حرکت پر اسے رونا آتا عدنان کا ہاتھ نوف کے گال پر نشان چھوڑ گیا وہ مذید خوف ذدہ ہوکر سہمی ہوئی عدنان کو دیکھنے لگی
"نخرے کس بات کے لئے دکھا رہی ہے بے منگیتر ہے تو میری اور یہ کتنی بار بولا ہے مجھے بھائی مت بولا کر سمجھ میں نہیں آتا تجھے۔۔۔۔ کتنے پیار سے لے کر جارہا تھا مگر نہیں جی تجھے تو چانٹا کھا کر جانا تھا۔۔۔۔ ڈر ایسی رہی ہے مجھ سے جیسے ابھی تجھے اپنے کمرے میں لے کر جارہا ہوں زیادہ ٹائم نہیں لگاؤں گا چل جلدی سے آجا شاباش"
عدنان بولتا ہوا نوف کے سسکنے کی پرواہ کئے بغیر اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے لے جانے لگا اور نوف روتی ہوئی ناچاہتے ہوئے بھی اس کے ساتھ چلنے پر مجبور تھی
"ابے رو کیوں رہی ہے پیار کرنے کے لیے لے جارہا ہوں تیرا گلا گھوٹنے کے لئے نہیں"
عدنان اس کو مسلسل روتا ہوا دیکھ کر بولا اور درخت کے پیچھے لے جانے لگا
"اے کہاں لے جارہے ہو اسے ہاتھ چھوڑو فورا اس کا"
افراہیم دور سے پیدل چلتا ہوا گھر کی طرف آرہا تھا دور سے ہی وہ سارا سین دیکھ کر کچھ کچھ ماجرہ سمجھ گیا تھا اور ساتھ ہی ان دونوں کو بھی پہچان گیا تھا جبھی بیچ میں مداخلت کرتا ہوا بولا
"چھوٹے صاحب یہ لڑکی میری ہونے والی"
اس وقت عدنان افراہیم کو دیکھ کر ناخوش ہوا تھا وہ اس نئے افسر کے بدمزاج بیٹے کو جانتا تھا اس لیے نوف کا ہاتھ چھوڑے بغیر عاجزی سے بولنے لگا
"شٹ اپ سنائی نہیں دیا تمہیں میں کہہ رہا ہوں ہاتھ چھوڑو اس کا"
افراہیم نے نوف کی آنکھوں میں اس وقت آنسو دیکھے جو خاموشی میں بھی اس کو بہت کچھ کہہ گئے تھے، اس لیے اب کی بار افراہیم نے عدنان کو غصے کرتے ہوۓ سخت لہجے میں ہاتھ چھوڑنے کا بولا تو عدنان کو نوف کا ہاتھ چھوڑنا پڑا
"ویسے تم اس کو اپنے ساتھ کہاں پر لےکر جا رہے تھے گھر تو تمہارا اس سائیڈ پر ہے ناں"
افراہیم چلتا ہوا عدنان کے پاس آیا اور عدنان سے سوال کرنے لگا وہ عمر میں عدنان سے ایک یا دو سال چھوٹا تھا لیکن اس روعب اور دبدبے کی وجہ اس کے باپ کا افسر ہونا تھا عدنان کو معلوم تھا بڑے لوگوں سے بگاڑ کر اس کی اپنی مٹی پلید ہونا تھی، ورنہ یہ سوال افراہیم کی جگہ کوئی دوسرا اس سے کرتا تو وہ بہت اچھی طرح اسے بتاتا
"وہ جی اسے آئسکریم کھانے کا دل چاہ رہا تھا وہی لےکر جا رہا تھا اسے۔۔۔۔ تو خاموش کیو کھڑی ہے بتا ناں ہمارے چھوٹے صاحب کو"
عدنان سے کوئی بات نہیں بن پائی تو وہ برابر میں کھڑی نوف سے دانت پیستا ہوا بولا
"جی یہ صحیح کہہ رہے ہیں"
نوف نے اپنا سر جھکا کر بہت آہستہ سے جواب دیا جسکو افراہیم نظر انداز کرتا ہوا اور غصے میں عدنان کو دیکھنے لگا
"کیا سمجھا ہوا ہے تم نے مجھے، کیا میں بیوقوف نظر آتا ہوں تمہیں۔۔۔۔ اس کا آئسکریم کھانے کا دل چاہ رہا تھا اور یہ آئسکریم کھانے کے لئے بری طرح رو رہی تھی اور تم اس کو گھسیٹ کر مارتے ہوئے آئسکریم کھلانے لے جارہے تھے"
افراہیم کے غصے میں بولنے پر عدنان چور سا بن گیا اور اس کی بات کو جھٹلاتا ہوا بولا
"نہ جی میں اس کو کیسے مار سکتا ہوں،، عورت پر ہاتھ اٹھانا تو بہت بڑا گناہ ہے۔۔۔ وہ تو جی میں نے اس کو ہلکا سا ہاتھ لگایا تھا"
عدنان کے جھوٹ بولنے پر افرائیم غصے میں مزید عدنان کے قریب آیا اور زور دار تھپڑ اس نے عدنان کے منہ پر مارا۔۔۔۔ اس کے تھپڑ مارنے پر ناصرف عدنان ہکا بکا ہوکر افراہیم کو دیکھنے لگا بلکہ برابر میں کھڑی نوف بھی ڈر کے مارے اچھل پڑی
"اتنے ہلکے سے ہاتھ لگایا تھا تم نے اسے یا پھر اس سے بھی زیادہ ہلکا ہاتھ لگایا تھا"
افراہیم عدنان سے پوچھنے لگا۔۔۔ اس کے ہاتھ کی پانچوں انگلیاں عدنان کے گال کو ویسے ہی سرخ کرچکی تھی جیسے تھوڑی دیر پہلے عدنان نے نوف کے گال کو سرخ کیا تھا
"یہ تھپڑ تو میں نے تمہیں تمہارے جھوٹ بولنے پر مارا ہے۔۔۔ اب جو تپھڑ تم نے اس لڑکی کے گال پر مارا تھا اس کی سزا کے لئے تیار ہو جاؤ"
افراہیم عدنان سے بولتا ہوا نوف کی طرف دیکھنے لگا
"تم نیچے زمین پر کیا تلاش کررہی ہو یہاں دیکھو اس کے گال کی طرف اور اس کے دوسرے گال پر ایسا ہی تھپڑ مارو،، یاد رہے تھپڑ ایسا ہونا چاہیے کہ تمہارے ہاتھ کی انگلیوں کے نشانات اس کے گال پر نظر آئے مجھے"
افراہیم کی بات سن کر جہاں نوف گھبراتی ہوئی اسے دیکھنے لگی وہی عدنان بھی جبڑے زور سے بھینچ کر اپنا غصہ ضبط کرنے لگا
"مجھے مت دیکھو یوں بےوقوفوں کی طرح جو کہا ہے وہ کرو ورنہ خود بھی سزا کے لیے تیار ہوجاؤ"
نوف کے گھبرا کر دیکھنے پر افراہیم سخت لہجے میں بولا جس پر نوف عدنان کا سرخ گال دیکھنے لگی جو افراہیم کے ہاتھ کا پڑا ہوا تازے تھپڑ کی کہانی بیان کررہا تھا۔۔۔ اب نہ جانے وہ سرپھرا سا مغرور لڑکا نوف کے ساتھ کیا کرتا۔۔۔ نوف نے ڈرتے ہوئے کانپتا ہوا ہاتھ اٹھا کر عدنان کے گال پر مارا اور شرمندہ ہونے لگی
"جان نہیں ہے تمہارے ہاتھ میں، ایسے مارا تھا اس نے تمہارے گال پر تھپڑ یا اب تمہارے دوسرے گال پر تھپڑ میں لگا کر دکھاؤ"
افراہیم تیز آواز میں ڈانٹتا ہوا نوف کو بولا تو نوف حیرت سے اسے دیکھنے لگی
"مجھ سے نہیں مارا جائے گا آپ پلیز انہیں معاف کر دیں"
نوف افراہیم کے غصے سے گھبراتی ہوئی سر جھکا کر بولی جبکہ عدنان سرخ گال لیے خاموش کھڑا اپنے آپ کو تماشا بنے دیکھ رہا تھا۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے کی اسکی ساری شوخی افراہیم کے مارے ہوئے تھپڑ سے ہوا ہوچکی تھی
"کیوں نہیں مارا جائے گا یہ سوچ کر اس کے گال پر تھپڑ ٹکاؤ کہ اگر میں یہاں سے نہیں گزرتا تو یہ تمہارے ساتھ کیا کر سکتا تھا"
افراہیم نوف کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر بولا۔۔۔ وہ بےشک چھوٹی عمر کی لڑکی تھی مگر اس کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو اور بےبسی افراہیم کو سمجھا چکی تھی کہ وہ وقت سے پہلے باشعور ہوچکی ہے اور اپنی عمر کی لڑکی سے زیادہ سمجھ بوجھ رکھتی ہے۔۔۔ افراہیم کی بات کا تصور کرتے ہوئے نوف کو جھرجھری سی آئی۔۔۔ ناجانے کیسے اس کا ہاتھ اٹھا اور عدنان کا دوسرا گال بھی لال کرگیا جس کے بعد وہ خود اپنے چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا کر رونے لگی جبکہ عدنان دونوں سرخ گالوں کے ساتھ زمین میں اپنے آپ کو گڑھتا ہوا محسوس کرنے لگا مگر وہ دل ہی دل میں طے کرچکا تھا کہ اس تھپڑ کا وہ افراہیم سے ایسا بدلہ لےگا کہ افراہیم کی روح تک کر تڑپ کر رہ جائے گی
"یہ میری اسپورٹس بائیک کی چابی ہے جو پیچھے بیچ راستے میں خراب ہوچکی ہے جاؤ اسے بنوا کر گھر لے آؤ"
افراہیم عدنان کی طرف اپنی بائیک کی چابی اچھالتا ہوا حاکمانہ لہجے میں بولا تو عدنان چابی لے کر وہاں سے چلا گیا
"بیچ روڈ پر سنسان جگہ پر یہ بے وقوفوں کی طرح رونا بند کرو چلو میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑ دیتا ہوں"
اس کی بات سن کر نوف اپنے چہرے سے دونوں ہاتھ ہٹا کر افراہیم کو دیکھنے لگی مگر نوف کو چلنے کا کہہ کر وہ اس کے انتظار میں رکا نہیں تھا بلکہ آگے قدم بڑھا چکا تھا نوف کو بھی اس کے ساتھ چلنے کے لیے اپنے قدم بڑھانا پڑے
"تو یہ اسی سست نکمے ٹوپی باز نثار کی اولاد ہے دیکھنے میں بھی عجیب واہیات سا لڑکا لگتا ہے شاید نثار نے اس کی تربیت اچھے سے نہیں کی، ویسے تم اس کے ساتھ باہر کیوں نکلی ہوئی تھی"
نوف سر جھکائے افراہیم کے ساتھ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا رہی تھی افراہیم کے سوال پر جواب سے پہلے اس نے اپنے دوپٹے سے نکلتی ہوئی ناک صاف کی جو بہت زیادہ رونے کی وجہ سے بہنے لگی تھی
"یخ۔۔ِ۔۔ اسٹوپڈ گرل اپنے کپڑوں سے کون نوز صاف کرتا ہے عجیب گوار اور مینرلیس لوگ ہوتے ہو تم لوگ بھی، یہ ٹشو پکڑو"
افراہیم نوف کی اس حرکت پر کراہیت محسوس کرتا ہوا اپنی پاکٹ سے ٹشو نکال کر اسکی طرف بڑھا کر تیز آواز میں بولا نوف نے شرمندہ ہوتے ہوئے افراہیم کے ہاتھ سے ٹشو لیا مگر وہ بھی کیا کرتی نوز تو ہر عام انسان کی بہتی ہے اب اس کے پاس نوز صاف کرنے کے لیے کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا تو بھلا وہ کیا کرتی۔۔۔ مگر یہ بات وہ افراہیم کو بتانے کی بجائے اپنے باہر نکلنے کی وجہ بتانے لگی
"میں عدنان بھائی کے ساتھ باہر نہیں نکلی تھی بلکہ اپنے بھائی کے ساتھ ببلی کے گھر سے آئی تھی، عدنان بھائی تو مجھے ببلی کے گھر سے واپس لینے آئے تھے"
اب ببلی کون تھی یہ افراہیم کو کیا معلوم تھا وہ سر جھٹک کر اپنے ساتھ چلتی ہوئی نوف کو دیکھنے لگا جو آہستہ آواز میں بولتی ہوئی سر جھکاۓ اس کے ہم قدم چل رہی تھی۔۔۔ کچھ یاد آنے پر افراہیم غصہ کرتا ہوا ایک دم نوف سے بولا
"میں نے تم سے 15 دن پہلے کیا بولا تھا کہ تم اگلے دن اگر پورے لان کی صفائی کروں گی اور تم نے فرمانبرداری سے میرے سامنے سر ہلایا تھا، اپنے چچا کی طرح ٹوپی کروائی تم نے مجھے"
افراہیم تو لان کی صفائی کا کہہ کر اس بات کو خود بھی فراموش کرچکا تھا مگر نوف کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر اچانک اسے یہ بات یاد آگئی جس پر وہ نوف کو مصنوعی غصہ دکھا کر روعب جماتا ہوا پوچھنے لگا
"میں نے آپکو ٹوپی نہیں کروائی تھی اگلے دن میرے امتحانات شروع ہوگئے تھے تو میں پڑھنے میں مصروف ہوگئی تھی"
ویسے تو نوف نے پندرہ دن پہلے سوچ لیا تھا وہ اب اس بنگلے کا رخ نہیں کرے گی مگر یہ بھی سچ تھا کہ وہ پرسوں ہی اپنے پیپرز سے فارغ ہوئی تھی اور دوسرا اسے ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ یو اچانک افراہیم سے اس کا ٹکراؤ ہوجاۓ گا
"ٹھیک ہے لیکن اب تم کل صبح ہی بنگلے کے اندر موجود ہوگی اور میرے وارڈروب میں موجود سارے کپڑے پریس کرو گی"
گھر نزدیک آچکا تھا تب افراہیم نوف کے جھکے سر کو دیکھ کر حاکیمانہ لہجے میں بولا
"صبح تو مجھے اسکول کے لیے نکلنا ہوگا"
نوف جھکے سر کے ساتھ اپنے سامنے کھڑے مغرور اور بددماغ لڑکے کو آہستہ آواز میں بتانے لگی
"پڑھ لکھ کر کیا کروں گی تم، ملنا تو تمہیں وہی ہے مامے یا چچا کا بیٹا"
افراہیم کا انداز مذاق اڑانے والا تھا مگر سر اٹھا کر جن نظروں سے نوف نے اسے دیکھا تو افراہیم ایک دم سنبھل کر دوبارہ بولا
"صبح کا مطلب ہے بارہ بجے میری صبح بارہ بجے ہوتی ہے جب تک تمہارا اسکول آف ہوچکا ہوگا اپنا بیگ رکھ کر سیدھی تم میرے کمرے میں آؤں گی سمجھ میں آرہا ہے تمہیں"
افراہیم ایک بار پھر وہ روعب جمانے والے انداز میں بولا جس پر ناچار نوف کو آہستہ سے اقرار میں سر ہلانا پڑا
"جاؤ میں یہی کھڑا ہوں یہاں سے سیدھا اپنے گھر چلی جاؤ" افراہیم نوف کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر بولا تو نوف خاموشی سے اپنے کوارٹر کی طرف جانے لگی افراہیم کو اس لڑکی کو حکم دینے میں مزہ بھی اس لئے آتا تھا کیونکہ وہ تابعداری سے سر جھکاۓ اس کی ہر بات مانتی تھی۔۔۔۔ نوف نے گھر کا دروازہ کھول کر گھر میں داخل ہونے سے پہلے ایک نظر سامنے دیکھا افراہیم وہی پر موجود اسی کو دیکھ رہا تھا نوف نے جلدی سے دروازہ بند کردیا
"اسٹوپڈ گرل"
افراہیم زیر لب بڑبڑا کر بنگلے کے کھلے گیٹ سے اندر جانے لگا

"کیا تمہیں کوئی افسوس نہیں ہوا یہ سن کر کہ عدنان نے نوف پر ہاتھ اٹھایا ہے، میری معصوم بچی نہ کسی کے برے میں نہ اچھے میں، کچھ منہ سے بولتی تک نہیں ہے وہ اس کو بلاوجہ میں مارتے ہوئے عدنان کو شرم نہیں آئی، میں کل ہی جاکر نثار اور غزل کے بات کرتی ہوں"
رخشی نوف کا سرخ گال دیکھ کر پریشان ہوئی تھی نوف نے سارا قصہ سنانے کے بجائے اسے صرف یہی بتایا تھا کہ عدنان نے اسے اس بات پر مارا ہے وہ گھر سے باہر نکلی تھی
"ارے آئستہ تو بولو ابھی ازلان کے کانوں میں یہ بات پڑگئی تو اور ذرا سی دیر میں غصے میں آجائے گا، لڑکے تو اپنی منگیتر اور گھر والی پر روعب ڈالنے کے لئے ایسی حرکتیں کرتے ہی ہیں،، لگا دیا ہوگا اس نے نوف کو ڈرانے کے لئے ہلکا پھلکا سا ہاتھ۔۔۔ میں خود سمجھاؤں گا عدنان کو تمہیں نثار یا پھر غزل سے بات کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے"
قیوم کو خود بھی عدنان کی اس حرکت پر کافی دکھ ہوا تھا لیکن وہ رخشی کے سامنے اس کا اظہار کرکے بات نہیں بڑھانا چاہتا تھا اس لیے رخشی کو سمجھاتا ہوا بولا
"ذرا سا ہاتھ لگایا ہے اس نے جاکر دیکھو اپنی بچی کا سوجھا ہوا گال"
نوف اسی کمرے میں سر تک لحاف اوڑھے سوتی ہوئی بنی لیٹی تھی مگر وہ قیوم اور رخشی کی ساری باتیں سن رہی تھی
"کیا کر رہی ہے نیک بخت کیوں بات کو بڑھا رہی ہے بول تو دیا ہے سمجھاؤ گا میں عدنان کو، اب چپ کر جا تیری آواز سن کر کہیں ازلان ہی نہ یہاں آجائے"
قیوم رخشی کو آہستہ آواز میں ڈانٹتا ہوا بولا وہ بالکل بھی نہیں چاہتا تھا اس قصے کی ذرا سی بھی بھنک ازلان کو پڑے
"میں تمہیں بتا رہی ہو قیوم، تمہیں اپنے بھائی سے محبت ہے تو وہ اپنی جگہ لیکن اس چکر میں، میں اپنے دونوں بچوں کی قربانی نہیں دے سکتی ہوں۔۔۔ نہ ہی میں اپنی نوف کی شادی عدنان جیسے مفت خورے کے ساتھ ہونے دو گی اور نہ ہی وہ چھوٹی سی بچی نما عورت میرے ازلان کی دلہن بن کر اس گھر میں آئے گی"
رخشی انگلی اٹھاکر تنبہی کرتی ہوئی بولی کیوکہ نثار اور غزل کی دونوں ہی اولاد جس راہ پر چل نکلی تھی رخشی ان کی وجہ سے اپنے دونوں بچوں کا مستقبل داؤ پر نہیں لگا سکتی تھی
"دیکھ رخشی اب تو بہت زیادہ بول رہی ہے ہمارے بچوں کے بچپن میں جو بات طے ہوچکی تھی وہ تو اب ہوکر رہے گی میں اب اپنی زبان سے ہرگز نہیں مکرو گا اور نہ ہی کوئی دوسرا ان رشتوں کو ختم کرسکتا ہے میرے جیتے جی۔۔۔ اگر تو نے بیچ میں پڑ کر ان رشتوں کو خراب کرنا چاہتا تو میں تجھے ضرور فارغ کردو گا اس لئے میں تجھے پیار سے سمجھا رہا ہوں کہ آئندہ ان کے رشتوں کو ختم کرنے والی بات اپنی زبان پر یہ مت لانا"
قیوم رخشی کو بولتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا جبکہ رخشی چپ کرکے چارپائی پر بیٹھ گئی۔۔۔ لحاف کے اندر لیٹی ہوئی نوف کو اپنی زندگی عذاب سی لگنے لگی کیونکہ آج عدنان کی حرکت سے اسے عدنان اور اپنی زندگی سے نفرت ہو چلی تھی
****
"کیسے ہو ازلان"
وہ کل شام عباد کی باتیں سننے کے بعد سے اپنے کمرے کا دروازہ بند کیے ہوئے بیٹھا تھا، تھوڑی دیر پہلے رخشی اسے ناشتہ دے کر گھر کے کاموں میں مصروف ہوچکی تھی تب اسے اپنے کمرے میں بیلا کی آواز سنائی دی
"تم یہاں ہمارے کوارٹر میں کیا کر رہی ہو"
بیلا کو اپنے کمرے کے دروازے پر کھڑا دیکھ کر ازلان کرسی سے اٹھتا ہوا اس کے پاس آکر پوچھنے لگا
"تم سے سوری کرنے آئی تھی بابا نے کل غصے میں بہت غلط کیا انہیں وہ سب باتیں تم سے نہیں کہنی چاہیے تھی"
بیلا کمرے کے اندر آتی ہوئی ازلان سے بولی
"وہ سب جو تمہارے بابا نے مجھ سے کہا اس کے لیے تمہیں سوری کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس میں تمہاری غلطی نہیں ہے اب تم یہاں سے چلی جاؤ بیلا"
ازلان کا انداز بالکل سنجیدہ تھا بیلا اسے خاموشی سے دیکھنے لگی
"تم مجھے اپنے گھر سے جانے کے لیے بول رہے ہو اس کا مطلب یہ ہوا تم ابھی تک مجھ سے ناراض ہو" بیلا افسوس کرتی ہوئی ازلان کو دیکھ کر بولی تو ازلان لمبا سانس کھینچ کر بیلا کو دیکھتا ہوا بولا
"میں تم سے ناراض نہیں ہوں بیلا مگر تمہیں کسی بھی انسان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانے سے پہلے اپنے فادر کی نیچر کو ذہن میں رکھنا چاہیے کیونکہ دوسرا بےشک غریب انسان ہو مگر اس کی بھی کوئی سلف رسپکٹ ہوتی ہے یہ نہیں کہ کوئی بھی اونچا بڑا آدمی اپنا روعب اور بلند مرتبہ دکھاکر اس چھوٹے انسان کی انسلٹ کرتا رہے۔۔۔۔ دیکھو بیلا میں اور میری فیملی ایک مڈل کلاس فیملی سے بھی کم حیثیت رکھتی ہے یہ دو کمروں کا کوارٹر بھی ہمارا اپنا نہیں ہمیں گورنمنٹ کی طرف سے ملا ہے میری ماں اور باپ ہم دونوں بہن بھائیوں کو بہت محنت کرکے پڑھا رہے ہیں تاکہ جو وقت ان لوگوں نے فیس کیا ہے وہ ہم دونوں بہن بھائی فیس نہیں کر سکے، جس طرح تم لوگوں کا رہن سہن اور طور طریقے ہیں وہ مجھ سے میری فیملی سے بالکل مختلف ہیں اور مسٹر عباد کا یہ کہنا ایک طرح سے مناسب ہے دوستی ہمیشہ اپنے لیول کے لوگوں میں کرنی چاہیے۔۔۔ جتنے بھی وقت ہم دونوں کی ایک ساتھ دوستی رہی بہت اچھی رہی لیکن اب اس دوستی کو یہی ختم کردو اور اپنے گھر جاؤ"
ازلان بولتا ہوا اپنے کمرے سے جانے لگا تبھی بیلا نے اس کا ہاتھ پکڑا
"تم میرے ساتھ ایسے کیسے اپنی دوستی ختم کرسکتے ہو ازلان، تمہیں یاد ہے نا میں نے تمہیں فرینڈشپ بینڈ باندھا تھا اپنا سب سے پکا والا دوست بنایا تمہیں۔۔۔ تمہاری دوستی ختم کرنے والی بات مجھے بہت بری لگی ہے پلیز مجھ سے دوستی مت ختم کرنا"
وہ کم عمر تھی اس لیے ازلان کی باتوں کو سمجھنے کی بجائے اس کے دوستی ختم کرنے والی بات پر جذباتی ہوکر ازلان سے بولی جس پر ازلان نے غصے میں بیلا کا ہاتھ زور سے جھٹکا
"کیا چاہتی ہو تم، تم سے دوستی برقرار رکھنے کے لئے آۓ دن میں اپنے آپ کو تمہارے باپ کے سامنے ذلیل کرواتا رہو تم لوگوں کی نظر میں ہماری کوئی حیثیت کوئی ویلیو کوئی عزت نہیں ہے مگر یہ سوچ غلط ہے بیلا۔۔۔ ہم لوگ بےشک غریب ہیں لیکن ہماری بھی کوئی عزت ہے اور تمہارے باپ کو یا کسی دوسرے کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ ہمیں یوں زلیل کرے"
ازلان غصے میں چیخ کر بولا جس سے بیلا رونے لگی جبکہ ازلان کے چیخنے پر رخشی ایک دم کمرے میں آگئی
"ارے بیٹا آپ رو کیوں رہی ہو اور ازلان یہ کیا طریقہ ہے اپنی دوست سے بات کرنے کا۔۔۔۔ کل عباد صاحب غصے میں ہوگے اگر انہوں نے کچھ کہہ دیا تو اس میں بیلا بیٹی کا کیا قصور ہے"
رخشی بیلا کے آنسو صاف کرتی ہوئی ازلان کو سمجھانے لگی جس پر ازلان کو مزید چڑ گیا
"امی یہ چھوٹی ہے کم عقل ہے آپ اس کو سمجھانے کی بجائے اس کا دل بہلانے کے لئے مجھے سمجھا رہی ہیں۔۔۔۔ آپ اس کو بتائیں کہ مسٹر عباد کے سامنے ہم جیسے چھوٹے اور غریب لوگوں کی حیثیت کسی کچرے کے ڈھیر اور کیڑے مکوڑوں سے کم نہیں ہے۔۔۔ سمجھ میں آرہا ہے تمہیں تمہارے باپ کے آگے میری یا میرے گھر والوں کی اوقات اس دھول مٹی جیسی ہے، جسے تمہارا باپ خود جھک کر اپنے جوتوں سے ہٹانا بھی پسند نہیں کرتا اور میں ایسے مغرور اور دولت کے نشے میں چور انسان کی بیٹی کو اپنے منہ لگانا پسند نہیں کرتا اس لیے چلی جاؤ یہاں سے"
اب کی بار ازلان پہلے سے بھی زیادہ زور سے چیخ کر بولا تو روتی ہوئی بیلا وہاں سے چلی گئی
****
"ابے وہاں دیکھ کیا مال ہے یار، اب بتا مجھے سالا کون الو کا پٹھا اس کے جوان ہونے کا انتظار کرے گا"
بیلا روتی ہوئی سرونٹ کوارٹر سے باہر نکل رہی تھی تب گلی کے کونے میں عدنان کے ساتھ بیٹھا ہوا اسرار عدنان سے بولا تو عدنان بھی بیلا کو گیٹ سے اندر اپنے بنگلے میں جاتا ہوا دیکھنے لگا
"یہ خوبصورت لڑکیوں کے ماں باپ ہی سالے پاگل کے بچے ہوتے ہیں، جو پہلے ان ننھی کلیوں کی حفاظت نہیں کرتے ہیں بعد میں جب ہم جیسا کوئی انہیں مسل دیتا ہے تو رونے پیٹے اور ماتم کرنے لگ جاتے ہیں"
عدنان خود بھی اسرار کے سامنے اپنے دماغ کی غلاظت کو ظاہر کرتا ہوا بولا
"ابے سالے یہ اسی افسر کی بیٹی ہے ہم جیسے تو اس پری کے حسن رکھنے والی کو دور سے ہی دیکھ سکتے ہیں یا پھر خیالوں میں ہی سوچ سکتے ہیں اس کے بارے میں، اگر کچھ الٹا سیدھا کرنے پر پکڑ ہوگئی تو واٹ لگا دے گا اس باپ ہماری"
اسرار ٹھنڈی آہ بھرتا ہوا بولا اور بعد کے نتائج عدنان کو بتانے لگا
"جب رات کے اندھیرے میں بختو کی بیٹی کو خالی پلاٹ پر لےکر گئے تھے تو کونسی پکڑ ہوگئی تھی، کام کرنے کے بعد گلا گھونٹ کر لاش کو نالے میں پھینک دینا ہے، سمجھو ہمیشہ کے لئے قصہ اور ثبوت دونوں ختم،، ابے ایسا مال ہم جیسے غریبوں کو زندگی بھر کے لئے تو نہیں مل سکتا چند گھنٹے کے لئے مزا لینے میں کیا حرج ہے پھر"
عدنان آنکھ دباتا ہوا اسرار سے بولا تو اسرار خباثت سے اس کی بات پر ہنسنے لگا
"چھوٹے صاحب جی اب باری میری ہے یہ وہ تھپڑ ہوگا تیرے گال پر جس سے تیری روح اندر تک کانپ جائے گی تڑپ اٹھے گا تو بری طرح"
عدنان دل ہی دل میں افراہیم کو مخاطب کرتا ہوا بولا
****
"ارے میری سوہنی تو یہاں کیا کر رہی ہے"
نوف اگلے دن اسکول کا بیگ رکھنے کے ساتھ کپڑے تبدیل کر کے بغیر کچھ کھائے بناء سرونٹ کوارٹر سے نکل کر برابر بنگلے میں چلی آئی تو نثار اس کو وہاں دیکھ کر پوچھنے لگا
"کل افراہیم صاحب نے آنے کا بولا تھا انہیں اپنے کپڑے استری کروانے تھے"
نوف اپنے چچا کو دیکھ کر بتانے لگی ساتھ ہی چاروں بیڈ رومز کو دیکھ کر سوچنے لگی ناجانے اس میں سے افراہیم کا کونسا بیڈروم ہے
"ان بڑے افسروں نے تو ہمارے پورے خاندان کو ہی غلام سمجھ لیا ہے اب ان کے آگے کچھ بولنے کی جرات کرکے ان سے بگاڑ بھی نہیں سکتے چل ٹھیک ہے تو اس نک چڑے افی بابا کے کمرے میں جاکر اس کے کپڑے استری کر دے اچھا ہے تیرے چچا جان کا ہی بوجھ ہلکا ہوگا جب تک میں بیگم صاحبہ اور بیلا بٹیا کو بازار کا چکر لگوا لاتا ہو، وہ دونوں گاڑی میں بیٹھی میرا انتظار کر رہی ہوگیں"
نثار کی کل ہی عباد نے اچھی طرح خبر لی تھی جبھی وہ آج صبح سے ہی اپنی نوکری کے صحیح طریقے سے فرائض انجام دے رہا تھا۔۔۔ آج پہلی بار ایسا ہوا تھا جب نثار نے ازلان کو نازنین اور بیلا کو بازار لے جانے کا بولا مگر اس نے نثار کے کام کو ٹال دیا لیکن اس کے بدلے نوف یہاں آگئی تھی ورنہ اس کے صاحب کا بیٹا بھی اپنے باپ سے کم نہیں تھا لازمی وہ نثار سے کام لے کر اسکی ناکارہ ہڈیاں گھیسانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا
نثار کے جانے کے بعد نوف کو افسوس ہونے لگا وہ کم ازکم اس سے افراہیم کا کمرہ ہی پوچھ لیتی اب اس کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ کون سے والے بیڈروم کا دروازہ بجاۓ،،،، تین سے چار بار دستک دینے کے بعد جب اندر کمرے سے کوئی آواز نہیں آئی تو نوف نے کوفت بھرے انداز میں روم کا دروازہ کھولا خالی کمرہ اس کو منہ چڑا رہا تھا وہ بےزار سی دوسرے بیڈروم کا بند دروازے بجانے لگی، مگر نتیجہ وہی نکلا وہ بیڈروم بھی خالی تھا۔۔۔۔ اس کے بعد نوف نے اپنی ہی دھن میں تیسرے بیڈروم کا دروازہ بنا دستک کے کھول دیا اور اندر چلی آئی
"آآآآ۔۔۔۔آآآ"
سامنے کا منظز دیکھ کر دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپائے وہ زور دار انداز میں چیخنے لگی کیوکہ سامنے ہی افراہیم کمر سے خطرناک حد تک نیچے تولیہ لپیٹے آئینہ کے سامنے کھڑا اپنے بالوں میں برش پھیر رہا تھا
"اسٹوپڈ، جاہل لڑکی اس طرح کسی کے بیڈروم میں آیا جاتا ہے ایک سیکنڈ کے اندر یہاں سے غائب ہوجاؤ ورنہ میں تمہیں اس دنیا سے غائب کردو گا" افراہیم خود بھی ایک سیکنڈ کے لئے نوف کو اپنے کمرے میں دیکھ کر ہڑبڑا اٹھا تھا کیوکہ اس کے کمرے میں بغیر ناک کیے سرونٹ تو کیا نازنین یا بیلا بھی داخل نہیں ہوتی تھی، افراہیم کی چنگاڑتی ہوئی آواز سن کر نوف جلدی سے اس کے کمرے سے نکل کر باہر کمرے کی دیوار سے کمر ٹکاۓ گہری سانسیں لینے لگی، زندگی میں پہلی بار اس نے اپنے سامنے کسی لڑکے کو بغیر شرٹ کے تولیہ لپیٹے ہوۓ دیکھا تھا شرم کے مارے اس کے کان کی لوحیں سرخ ہونے لگی
"اب کیا باہر کھڑی کھڑی فوت ہوچکی ہو کمرے میں آؤ"
ایک بار پھر کانوں کا پردہ پھاڑ کر افراہیم کی تیز آواز نوف کو سنائی دی تو وہ دھڑکتے دل کے ساتھ کمرے میں جانے لگی
ہر بار کی طرح نوف نے ویسے ہی سر جھکایا ہوا تھا، سر اٹھائے بغیر۔۔۔ اپنی انکھیں اٹھاتی ہوئی وہ صوفے پر بیٹھے افراہیم کو دیکھنے لگی جو جینز شرٹ پہنے بالوں کو جیل سے سیٹ کیے، جوگرز میں پاؤں ڈالے ایک ٹانگ پر دوسری ٹانگ رکھے غصے میں نوف کو گھور رہا تھا
"ابھی جو تم روم میں آئی ہو، آنے سے پہلے دروازہ ناک کیا تم نے"
افراہیم کے سوال کرنے پر نوف سر اٹھا کر اس کو دیکھنے لگی
"میں تو آپکی پرمیشن ملنے پر ہی کمرے کے اندر آئی ہوں"
نوف آہستہ آواز میں افراہیم کو دیکھتی ہوئی بولی جس پر صوفے پر بیٹھے ہوئے افراہیم نے مزید اپنی آنکھوں کو پھیلا کر نوف کو گھورا
"بکواس نہیں کرو میرے سامنے جو میں نے پوچھا ہے اس کا جواب دو ہاں یا نہیں میں۔۔۔ اور یہ نظریں تم نے کس خوشی میں اٹھائی ہیں واپس نیچے کرو اپنی نظریں"
وہ تو افراہیم کے بڑی بڑی آنکھیں پھیلانے پر ہی اپنی نظریں ڈر کے مارے نیچے کرچکی تھی مگر افراہیم کے بولنے پر نوف نے اپنا سر بھی غلاموں کی طرح نیچے جھکالیا،،، اس کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر افراہیم کے ہونٹوں نے مسکراہٹ کو چھوا پھر ایک دم اپنا لہجہ سخت کرتا ہوا دوبارہ بولا
"کھڑی کھڑی سوگئی ہو کیا، کیا پوچھا ہے میں نے تم سے ابھی کمرے میں آنے سے پہلے تم نے دروازہ ناک کیا تھا یا نہیں"
کرخت لہجے افراہیم نے اپنے سوال دوبارہ دہرایا جس پر نوف نے شرمندہ ہوتے ہوئے نفی میں سر ہلایا
"اب دوبارہ روم سے باہر جاؤ اور ناک کرکے واپس کمرے میں آؤ"
افراہیم نوف کو سخت لہجے میں آرڈر دیتا ہوا بولا تو نوف سست قدم اٹھاتی ہوئی واپس کمرے سے باہر چلی گئی اور دروازہ ناک کرنے لگی سات سے آٹھ بار دروازے پر دستک دینے کے بعد جب نوف کو یقین ہوگیا کہ اندر کمرے میں بیٹھا ہوا شخص اب فوت ہوچکا ہے تب وہ دروازہ کا ہینڈل گھما کر خود کمرے میں آگئی
"میں نے تمہیں اندر آنے کی پرمیشن دی، واپس کمرے سے باہر جاؤ اور جب تک میں کمرے میں آنے کا نہ کہو تب تک کمرے کے اندر مت آنا"
افراہیم کی بات سن کر نوف دل چاہا کے وہ اس پر دونوں ہاتھوں سے لعنت بھیج کر اپنے گھر چلی جائے لیکن وہ ایسا کام تصور میں بھی کرنے سے ڈرتی تھی اس لیے دوبارہ افراہیم کے کمرے سے باہر نکل گئی اور دروازے پر دستک دینے لگی
"آجاؤ اندر"
15 سے 20 بار دستک دینے کے بعد جب اسے افراہیم کی آواز آئی تو نوف نے شکر کا کلمہ ادا کیا اور کمرے کے اندر آگئی
"وارڈروب میں موجود میری ساری شرٹس باہر نکالو اور ایک ایک کرکے انہیں آئرن کرو، جلدی سے شروع ہوجاؤ چلو"
افراہیم نوف کو ابھی اور زیادہ خوار کرنے کا ارادہ رکھتا تھا مگر اس کی رونے والی شکل دیکھ کر رحم کرتا ہوا اسے کام بتانے لگا۔۔۔ اور خود ٹی وی آن کرکے اسپورٹس چینل دیکھنے لگا مگر تبھی اس کے روم میں رکھا ہوا کارلیس بجا
"سنائی نہیں دے رہا تمہیں کارلیس اٹھا کر دو مجھے فٹافٹ یہاں آکر"
افراہیم ریموٹ سے ٹی وی بند کرتا ہوا کمرے میں موجود نوف سے بولا جو آئرن اسٹینڈ کے پاس کھڑی ہوئی اس کی ایک کے بعد ایک شرٹ پریس کر رہی تھی
افراہیم کی آواز سن کر نوف اسے کارلیس تھمانے لگی جو افراہیم کے پاس ہی رکھا ہوا تھا۔۔۔ نوف سے کارلیس لینے کے بعد افراہیم نے اسے اپنے جوگرز کے لیس کی طرف اشارہ کیا جو کھلی ہوئی تھی صرف ایک نظر نوف نے اس مغرور لڑکے پر ڈالی پھر نیچے جھک کر اس کے جوگر کی لیسس بند کرنے لگی
"ہاں یار اصفر بھائی آجاۓ یہاں قسم سے مزہ آجائے گا آپ کے یہاں آنے سے، نہیں یار بابا کی تو وہی ضد ہے انہیں پورا ٹینور اس جگہ پر ہی کمپلیٹ کرنا ہے، میں اور مما یہاں اچھے خاصے بور ہو چکے ہیں۔۔۔۔ ہاہاہا بیلا اس کا تو آپکو معلوم ہے شی از ڈارلنگ کہیں بھی ایڈجسٹ کر جاتی ہے۔۔۔۔ بس آپ یہاں پر آرہے ہیں اور یہ نیوز میں مما اور بابا کو ڈنر پر سنا رہا ہوں"
افراہیم ابھی کال پر بات کر رہا تھا ایک دم نوف کے فرش پر گرنے سے وہ صوفے سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا
"کیا ہوا تمہیں" افراہیم کال کاٹ کر نوف کے پاس آتا ہوا اس سے پوچھنے لگا جو نیچے فرش پر بیٹھی اپنا پیٹ دبائے رو رہی تھی
"اے لڑکی میں تم سے پوچھ رہا ہوں رو کیوں رہی ہو تم"
افرائیم کو اس کا نام نہیں معلوم تھا اس لیے نوف کو لڑکی کہہ کر مخاطب کرنے لگا ویسے بھی اس کے نزدیک اس لڑکی کی اتنی حیثیت نہیں تھی کہ وہ اس کا نام جاننے کی کوشش کرتا
"معدہ بہت دیر خالی رہے تو پیٹ میں درد شروع ہوجاتا ہے، بہت زیادہ درد ہورہا ہے اس وقت"
نوف روتی ہوئی اس بےرحم لڑکے کو بتانے لگی جس کے خوف کی وجہ سے وہ دوپہر کا کھانا کھائے بغیر یہاں آچکی تھی اور مستقل اس کی شرٹس آئرن کیے جارہی تھی
"اٹھو نیچے سے اور ڈائننگ ہال میں جاکر بیٹھو"
یہ شاید نوف کے رونے کا اثر تھا وہ لہجے میں نرمی لاتا ہوا اس سے بولا اور خود اپنے کمرے سے کچن میں چلا گیا۔۔۔ نوف کے ساتھ یہ بچپن سے مسئلہ تھا کہ وہ زیادہ دیر بھوک نہیں برداشت کرسکتی تھی جبھی رخشی اپنی دھان پان سی نوف کے کھانے کا خیال رکھتی تھی۔۔۔ وہ ڈائننگ ہال میں جاکر خاموش بیٹھی ہوئی اپنا درد برداشت کرنے کے ساتھ کچن کے اندر کھڑے افراہیم کو بھی دیکھ رہی تھی جو مسلسل کچھ بناتا ہوا بڑبڑائے جا رہا تھا
"اف یہ نثار کتنا ڈفر آدمی ہے، کس ترتیب سے اس نے برتن کیبنٹ میں کھساۓ ہوۓ ہیں، مما تو اس کو کچھ کہتی ہی نہیں ہیں،، آجائے آج یہ اس کی ساری سستی اور کاہلی دور کروں گا"
افراہیم زور سے بولتا ہوا پاستا سے بھری پلیٹ نوف کے سامنے رکھ چکا تھا، نوف ایسے شرمندہ ہوئی جیسے وہ یہ باتیں نثار کو نہیں اس کو سنا رہا تھا
"او بی بی یہ تمہیں میں اپنے ہاتھوں سے نہیں کھلاؤں گا، تمہیں خود یہ اپنے ہاتھ سے کھانا ہے چلو فٹافٹ شروع ہوجاؤ اب"
افراہیم اس کو بولتا ہوا دوسری پاستا سے بھری پلیٹ لے کر ڈائیننگ ٹیبل کی بجائے تھوڑی دور صوفے پر بیٹھ کر خود بھی پاستا سے انصاف کرنے لگا کیونکہ وہ ملازموں کو لمٹ میں رکھتا تھا ان کے ساتھ بیٹھ کر کچھ کھانا پینا اس کی عادت نہیں تھی
"اچھا کیا جو تم یہاں چلے آئے تمہیں اتنے سالوں بعد پاکستان میں دیکھ کر بہت خوشی ہورہی ہے، اگر تم ہم سے ملے بغیر واپس شارجہ چلے جاتے تو پھر میں تم سے بہت خفا ہوتی"
نازنین سامنے صوفے پر بیٹھے ہوئے اپنی نند کے بیٹے سے بولی جو آج کل شارجہ سے پاکستان آیا ہوا تھا اور یہاں گلگت میں خاص طور پر ان سے ملنے کے لیے ان کے پاس آیا تھا
"ایسا ہوسکتا ہے ممانی کے میں پاکستان آؤ، آپ سے اور عباد ماموں سے ملے بغیر چلا جاؤ۔۔۔ مجھے تو خود آپ سب کو دیکھ کر اتنی خوشی ہو رہی ہے خاص کر بیلا کو دیکھ کر پورے چار سال بعد دیکھ رہا ہوں کتنی بڑی ہوگئی ہے یہ ماشاللہ"
چھٹی کی وجہ سے ہال میں عباد نازنین افراہیم اور بیلا سب ہی موجود تھے، اصفر تھوڑی دیر پہلے ہی گلگت پہنچا تھا بیلا کو دیکھ کر آخری جملہ بولا سب کے ساتھ وہ بھی اصفر کو اسمائل دے کر خاموش ہوگئی،، جب سے ازلان نے اس سے دوستی ختم کی تھی وہ بالکل خاموش سی ہوگئی تھی
"فہمیدہ اور ذاکر بھائی کا آنا نہیں ہوا پاکستان کافی سالوں سے، دو سال پہلے جب میں شارجہ آیا تھا تب فہمیدہ بول رہی تھی کہ وہ جلد پاکستان چکر لگائے گی"
عباد اپنے بھانجے کی آمد کی وجہ سے اچھے موڈ میں تھا تبھی اس سے اپنی بہن کے بارے میں پوچھنے لگا
"امی کا تو دو سالوں سے پاکستان آنے کا پروگرام بن رہا تھا مگر ڈیڈی کی وجہ سے ہر بار پوسٹ بانڈ ہوجاتا ہے کیوکہ ڈیڈی اپنا سارا بزنس وہی شارجہ میں سیٹل کرچکے ہیں اور امی کے کے بغیر اکیلے ان کا گزارا نہیں ہوتا"
اصفر کی بات سن کر وہاں موجود افراد مسکرا دیئے
"مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ تم چھوٹی عمر سے ذاکر بھائی کا بزنس کو سنبھالنے میں ان کا بازو بنے رہے جو اولاد اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتی ہے وہی آگے زندگی میں کامیاب رہتی ہے کاش کے یہ بات ہمارا بیٹا افی بھی سمجھ جائے"
عباد کے بولنے پر جہاں اس کی بات پر اصفر اور نازنین مسکرائے تھے وہی افراہیم کے منہ کا زاویہ بگڑ گیا تھا۔۔۔ عباد کی خواہش تھی کہ وہ اپنے بیٹے کو اسکے مستقبل میں اپنی طرف بڑا افسر بنا دیکھے جبکہ افراہیم کا انٹرسٹ جاب کی بجائے بزنس میں تھا
"ارے بیلا تم کہاں جارہی ہو"
بیلا کو وہاں سے جاتا ہوا دیکھ کر اصفر اس سے پوچھنے لگا
"بیٹا آپ کے اصفر بھائی آپ سے ملنے آئے ہیں اور آپ ایسے ہی یہاں سے جارہی ہیں"
عباد بھی نرمی سے بیلا کو ٹوکتا ہوا بولا اس نے بھی محسوس کیا تھا پورے ہفتے سے بیلا خاموش خاموش تھی، جس کی وجہ عباد اچھی طرح جانتا تھا مگر عباد نہیں چاہتا تھا اس کی بیٹی قیوم کے بیٹے سے دوستی رکھے اور ان چھوٹے لوگوں کو منہ لگائے اس لیے اس نے بیلا کو اس رات کافی زیادہ ڈانٹا تھا
"پلیز آپ سب میرے یہاں سے اٹھنے کا مائند مت کریں میرا یہاں بیٹھنے کا دل نہیں چاہ رہا"
بیلا ان سب کی طرف دیکھ کر بولتی ہوئی اپنے کمرے میں جاچکی تھی اصفر اور افراہیم اپنی باتوں میں مشغول ہوگئے مگر عباد بیلا کے رویے کو محسوس کرکے شکایتی نظروں سے نازنین کو دیکھنے لگا کیوکہ کہیں نہ کہیں اس کی بیٹی میں بالکل نازنین جیسی عادتیں پیدا ہورہی تھی جو اسے سخت ناپسند تھی
"آپ سب لوگ چائے پیئے میں نثار کو رات کے کھانے کا مینو بتا دیتی ہوں"
نازنین عباد سے نظریں چرا کر اصفر کو دیکھ کر مسکراتی ہوئی بولی اور اٹھ کر کچن میں چلی گئی
****
پورا ہفتہ گزر چکا تھا اسے بیلا سے بات کیے ہوئے بیلا سے بات نہ کرکے وہ خود بھی اچھا محسوس نہیں کررہا تھا شاید سنہری بالوں والی اس چھوٹی سی لڑکی کا دل دکھا کر ازلان اب خود بھی پچھتا رہا تھا جب بیلا ازلان کو منانے دوسرے دن اس کے چھوٹے سے کواٹر میں آئی تب ازلان کو اسے اپنے گھر میں دیکھر کر بہت حیرت ہوئی تھی شاید دو ماہ کی ازلان سے دوستی میں وہ اس سے کافی اٹیچ ہوچکی تھی جبھی وہ عباد کے رویہ کی اس سے معافی چاہتی تھی مگر اس وقت ازلان بھی کیا کرتا وہ خود عباد کے ہتک امیز رویہ کی وجہ سے کافی غصے میں تھا جبھی بیلا کو ڈاٹتا ہوا اسے اپنے کوارٹر سے نکل جانے کو کہہ چکا تھا مگر اب وہ اندر ہی اندر خود بھی برا محسوس کررہا تھا اسے یوں بیلا کا معصوم سا ننھا سا دل نہیں توڑنا چاہیے تھا
"میں نوٹ کررہی ہو باگڑ بلے تم چند دنوں سے کافی خاموش خاموش سے ہو،، کیا میں تمہاری اس خاموشی کی وجہ پوچھ سکتی ہو"
گل ازلان کے کمرے میں آتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
"وجہ جان کر تمہیں کیا کرنا ہے، پورے محلے میں ڈھنڈورا پیٹنے کے علاوہ۔۔۔ اپنا کام کرو گل جاؤ میرے کمرے سے"
ازلان کو اس کی ٹوہ لینے کی عادت سے سخت چڑ تھی جبھی وہ اکتاۓ ہوئے انداز میں بولتا ہوا پلنگ سے اٹھا
"اگر میں تمہارے کمرے سے چلی گئی تو پھر تمہاری اس خاموشی کا علاج کون کرے گا میں جانتی ہوں تمہارا یہ دل یوں بےسبب اداس نہیں ہے"
گل ازلان کے سامنے آکر اپنی چھوٹی آنکھوں سے اس کی آنکھوں میں جھانکتی ہوئی بولی
"میری خاموشی کا، میری اداسی کا یا پھر میری کسی بھی کیفیت کا علاج تم نہیں کرسکتی،، یہ بات ہمیشہ کے لیے اپنے دماغ میں فیڈ کرلو"
ازلان چڑتا ہوا گل کا چہرہ دیکھ کر بولا جس پر گل بغیر برا مانے زور سے ہنس پڑی
"باگڑ بلے تم جتنا بھی چڑ لو خار کھاؤ یا غصہ کرلو، لوٹ کر تمہیں میرے پاس ہی آنا ہے میں نے پہلے ہی کہا تھا۔۔۔ بات اگر دل لگی کی ہے تو ٹھیک ہے مگر اس کو اپنے دل سے مت لگانا اب دیکھو ناں چند دنوں میں ہی وہ فتنہ تمہیں بھول کر اپنے نئے آنے والے کزن کے ساتھ مصروف ہوگئی ہے۔۔۔ اونچے اونچے طرز کے خواب دیکھو ضرور مگر اڑنے کی کوشش بےکار ہے"
گل کی باتوں کا مفہوم سمجھ کر ازلان نے گل کو غصے میں دیکھر کر اپنے دانت پیسے
"تم جب بھی منہ کھولتی ہو صرف اور صرف بکواس ہی کرتی ہو گل۔۔۔ میں صرف اور صرف تمہارا وجود اس گھر میں ابو کی وجہ سے برداشت کرتا ہوں اور جو تم نے ہمارے مستقبل کو لےکر سوچ لیا ہے یا جن باتوں پر تم خوش ہوتی ہو تو سن لو میں ایسا کچھ نہیں چاہتا نہ ایسا کبھی ہوگا، کھلی آنکھوں سے جو تم اپنے اور میرے بارے میں خواب دیکھ رہی ہو تو میں ایسا نہیں ہونے دو گا اس لیے خود بھی ہوش کے ناخن لو۔۔۔ اور آخری بات میں نے کس سے دل لگایا ہے یا کس نے مجھ سے دل لگی کی ہے اس کا تعلق تمہاری ذات سے نہیں ہے اس لیے تم ان باتوں کی ٹوہ لینا بند کرو اور اپنے کام سے کام رکھو"
ازلان اس کو غصے میں اچھی طرح سناتا ہوا اپنے کمرے سے نکل گیا
"وہ لڑکی نہیں ایک فتنہ ہے اور میں کبھی بھی اس کو تمہارے ساتھ نہیں دیکھ سکتی"
گل جان بوجھ کر تیز آواز میں بولی تاکہ ازلان تک اس کی آواز چلی جاۓ، اسے پروا نہیں تھی کہ رخشی اس کے بارے میں کیا سوچے گی
****
تھوڑی دیر پہلے رخشی گھر کا سودا لینے کے لیے باہر نکلی تھی باہر کا دروازہ ابھی تک کھلا ہوا تھا جبکہ نوف صحن میں کھڑی ہوئی دھلے ہوۓ کپڑے تار سے اتار کر انہیں تہہ کرتی ہوئی تخت پر رکھ رہی تھی تب اس کی نظر باہر سامنے سے آتے افراہیم پر پڑی جس کو دیکھ کر نوف بےساختہ پلکیں جھکا گئی یقینا وہ اپنے گھر کی طرف جارہا تھا نوف نے ذرا سی نظریں اٹھاکر دیکھا وہ نوف کی طرف دیکھے بغیر مین گیٹ سے اپنے گھر کے اندر داخل ہوچکا تھا شاید اس نے دور سے کواٹر میں کھڑی نوف پر نظر ڈالنا بھی ضروری نہیں سمجھا تھا
نوف کا دل شدت سے چاہا افراہیم اس کو دیکھے اس سے بات کرے اس سے دوستی کرلے جیسے اور لوگوں کو وہ اچھی لگتی ہے ایسے وہ افراہیم کو بھی اچھی لگنے لگ جاۓ۔۔۔۔ اپنی اس مانگی ہوئی دعا پر وہ خود ہی ہنس دی بھلا ایسا کہاں ممکن ہوسکتا تھا وہ ایک مغرور طبعیت کا لڑکا بھلا کہاں اس کو دیکھنا پسند کرے گا دوستی کرنا تو دور کی بات۔۔۔۔ نوف اپنی سوچوں میں گم سارے کپڑے تہہ کرچکی تھی تبھی دروازے کا دوسرا پٹ کھلا اور عدنان گھر کے اندر داخل ہوا
"کیا بات ہے میری گلابو بڑی دلجمی سے کپڑوں کی تہہ لگا رہی ہے"
عدنان کی آواز پر نوف ایک دم ہوش میں آئی وہ اس کے گلابی رنگ کی قمیض پر جملا کستا ہوا گھر میں آکر اندر سے گھر کا دروازہ بند کرچکا تھا جس پر نوف کا رنگ فق ہوا وہ اپنا تخت پر پڑا ہوا دوپٹہ پھیلا کر اوڑھنے لگی
"ارے میری ننھی سی جان اس چھوٹی سی عمر میں یہ دوپٹہ لینے کا تکلف کیو کرتی ہے تو، ابھی تو تجھے اس کی صحیح سے ضرورت بھی نہیں ہے"
عدنان نوف کے پاس آکر اس کا دوپٹہ کھینچتا ہوا بولا ساتھ ہی وہ اس کے سراپے کو غلیظ نگاہوں سے دیکھنے لگا
"پلیز مجھے میرا دوپٹہ دے دیں عدنان بھائی"
اسے قران کی تعلیم لینے کے ساتھ ہی دوپٹہ لینے کی عادت ہوگئی تھی اور اس وقت تو اسکو عدنان کی گندی نگاہیں اپنے جسم پر چبھتی ہوئی محسوس ہورہی تھی نوف بےبسی سے عدنان سے فریاد کرتی ہوئی بولی
"بھائی نہیں پگلی سائیں، تیرے سر کا سائیں"
عدنان باقاعدہ نوف کے قریب آکر اس کا منہ دبوچتا ہوا بولا جس پر نوف ڈر کے مارے رونے لگی اور عدنان اس کو روتا ہوا دیکھ کر زور سے ہنسنے لگا
"ارے ارے میری ننھی سی گڑیا دیکھو تو کیسے ڈر رہی ہے اپنے ہونے والے خصم سے، چل چپ ہوجا شاباش ابھی تو میں تجھے صرف یہ بتانے آیا ہو جب تک میں اس حرا** سے اپنے منہ پر پڑنے والے تپھر کا بدلہ نہ لےلو تب تک میں تیرے ساتھ۔۔۔ ہاں، ہاں سمجھ رہی ہے ناں میری بات، اس سالے کتے سے بدلہ لینے کے بعد ہی میں تیرے ساتھ"
عدنان نوف کا منہ دبوچے ہوۓ غلیظ گفتگو کرکے اپنی بات ادھوری چھوڑ کر پاگلوں کی طرح زور سے ہنسنے لگا اس کے شکنجے میں روتی ہوئی نوف عدنان سے بری طرح خوفزدہ ہوچکی تھی تب عدنان اس کو چھوڑتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا جس کے بعد نوف زمین پر بیٹھ کر زور سے رونے لگی جبڑے کی طرف سے اس کا منہ بری طرح سرخ ہوچکا تھا۔۔۔ یہ انتخاب تھا اسکے ابو جی کا اس کے لیے جس کی شکل دیکھ کر نوف کو ابھی سے اس سے کراہیت محسوس ہوتی تھی
****
"بیلا مجھے تم سے بات کرنا تھی"
ازلان ٹیوشن دینے کے بعد اپنے کسی کام سے مارکیٹ آیا تھا تب اسے ایک بیکری پر بیلا دکھائی دی ازلان بیکری کے اندر آتا ہوا بیلا سے بولا، اس وقت بیلا اکیلی نہیں تھی اس کے ساتھ ایک چوبیس سالہ لڑکا بھی موجودہ جسے ازلان بیلا کے ساتھ پہلے بھی تین سے چار مرتبہ دیکھ چکا تھا۔۔۔۔ بیلا کے ساتھ وہ لڑکا بھی ازلان کی طرف متوجہ ہو کر غور سے اس کو دیکھنے لگا
"اب کیا بات کرنا ہے تمہیں مجھ سے دوستی تو تم ختم کر چکے ہو اسی دن"
بیلا ناراض لہجے میں ازلان کو دیکھتی ہوئی بولی اس سے پہلے ازلان کچھ بولتا اصفر ایک دم بول پڑا
"سوئیٹی بات تو سن لو اس کی وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے"
اصفر بیلا کو غصے کرتا دیکھر کر بولا تو ازلان چونک کر اسے دیکھنے لگا
"ہاۓ میرا نام اصفر ہے میں بیلا کا فرسٹ کزن ہو اور بیلا مجھے تمہاری اور اپنی فرینڈ شپ کے بارے میں بتاچکی ہے"
اصفر اپنا تعارف کروانے کے ساتھ مصحافہ کرتا ہوا ازلان سے بولا
"اس دن میں غصے میں تھا اس لئے زیادہ ہی بول گیا میں اپنے روئیے کی معافی چاہتا ہوں تم سے"
اصفر سے ہاتھ ملانے کے بعد ازلان بیلا کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔ ازلان کو محسوس ہورہا تھا اس کے اندر ہفتے بھر سے اداسی اور بےچینی بیلا سے دوستی کرکے ختم ہوجاۓ گی اس نیت سے اس کے قدم بیلا کی طرف اٹھے تھے
"میرے ساتھ ہر کوئی ایسا کرتا ہے اصفر بھائی میں نے آپ کو فلزا کا بھی بتایا تھا ناں وہ جو میری اسکول کی فرینڈ تھی،، اس نے خود پہلے مجھے اتنا بیسٹ فرینڈ بنایا اور چند دنوں بعد اس نے مجھ سے فرینڈ شپ ختم کرکے پھر دانین کو اپنا بیسٹ فرینڈ بنالیا اس کے بعد یشعر میرا فرینڈ بنا پر اس نے بھی اپنا اسکول چینج کرلیا۔۔۔ پھر میں نے سوچا میں اپنی ایج اے بڑا کوئی فرینڈ بناؤ گی جو فرینڈ شپ کا مطلب سمجھے میں نے تبھی اسے اپنا فرینڈ بنایا لیکن آپ کو معلوم ہے اس دن اس نے مجھے کتنا ہرٹ کیا میں تو بابا کی رویہ کی معافی مانگنے اس کے پاس گئی تھی"
بیلا اپنی ساری دل کی بھڑاس نکالتی ہوئی اصفر کو بتارہی تھی ازلان خاموشی سے بیلا کو دیکھ رہا تھا اسے اندازہ نہیں تھا یہ چھوتی سی لڑکی اس کی دوستی کو لے کر کس قدر حساس ہوچکی ہے
"ارے سوئٹی چھوڑو تم فلزا اور یشعر کو، جو لوٹ کے تمہارے پاس واپس نہیں آسکتے وہ تمہارے بیسٹ فرینڈ کبھی بھی نہیں بن سکتے لیکن ازلان کو تمہاری دوستی کی قدر تھی جبھی وہ تمہارے پاس آیا ہے لیکن اس نے جو تم پر غصہ کیا ہے اس کی سزا ہم دونوں مل کر اس کو دیں گے لیکن اس سے پہلے میں ازلان کی کھچائی کرلیتا ہوں کیونکہ اس نے میری پیاری سی کزن کو ہرٹ کیا ہے"
اصفر بیلا سے بولتا ہوا خاموش کھڑے ازلان کو دیکھتا ہوا بولا
"دکھنے میں تو تم اچھے خاصے سمجھدار لڑکے لگتے ہو، کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ گرلز پر غصہ نہیں کیا جاتا اور پھر اگر گرل بیلا کے جیسی پیاری اور کیوٹ سی ہو تب تو اس پر غصہ کرنا بالکل غلط ہے میری کزن کو ہرٹ کرکے غلطی تو تم کرچکے ہو اب تمہیں پینلٹی کے طور پر ہم دونوں کو آئس کریم کھلانے پڑے گی"
اصفر اپنی مسکراہٹ چھپاتا ہوا مصنوعی غصہ دکھا کر ازلان کو ڈانٹ رہا تھا اس کی آخری بات پر ازلان مسکرایا
"میں آپ کی ساری باتوں سے ایگری کرتا ہوں اور آخری والی بات کو بھی ہرجانے کے طور پر ماننے کے لئے تیار ہوں لیکن میں بیلا کے منہ سے سننا چاہوں گا کے وہ مجھ سے خفا نہیں ہے"
وہ اصفر کو بولتا ہوا آخری جملہ بیلا کو دیکھ کر بولا
"میں تم سے خفا نہیں ہوں لیکن آج کے بعد اگر تم مجھے فلزا یا یعشر کی طرح بھولے تو میں تم سے بہت برا خفا ہوگی" بیلا کی بات پر ازلان مسکرایا اور سچے دل سے وعدہ کیا کہ وہ اس کو اور اسکی دوستی کو تاعمر یاد رکھے گا
اگلے ہفتے بیلا کی برتھ ڈے تھی اور دو دن پہلے وہ اصفر کے ساتھ اپنے کیک کا آرڈر دے کر آئی تھی تبھی اس کی اور ازلان کی دوبارہ دوستی ہوگئی تھی بیلا اس بات سے بےحد خوش تھی۔۔۔ اس دن صرف ازلان نے اسے آیسکریم ہی نہیں کھلائی تھی بلکہ ایک شاپ سے اس کو پسند آیا ہوا سلور کلر کا کراؤن بھی خرید کر دیا تھا جو بیلا کے برتھڈے والے ڈریس پر کافی سوٹ کررہا تھا،، اپنے کمرے میں فراک پہنے سنہری بالوں کو کھلا چھوڑ کر ان میں کراؤن فٹ کیے، خود کو آئینے میں دیکھ کر وہ خوش ہورہی تھی
"یہ کیا بیلا تم نے برتھڈے والا فراک ابھی سے پہن لیا فورا اتارو اسے"
نازنین بیلا کے کمرے میں آکر اس کو نئے فراک میں دیکھ کر بےساختہ بولی
"نئے ڈریس میں دیکھکر آپ مجھے ہمیشہ ماشاءاللہ بولتی ہیں یا میری نظر آتارتی ہیں اور اس وقت جب میں خود کو اتنی پیاری لگ رہی ہوں آپ مجھے ماشاءاللہ بولنے کی بجاۓ مجھے ڈانٹ رہی ہیں"
بیلا نازنین کو دیکھ کر شکایتی انداز میں بولی نازنین اس کی بات پر دھیان دیئے بغیر اس کے بالوں میں سجے کراؤن کو دیکھنے لگی
"یہ کراؤن کہا سے آیا تمہارے پاس"
نازنین کراؤن دیکھ کر بیلا سے سوال کرنے لگی جس پر بیلا مسکرائی
"یہ مجھے ازلان نے دیا ہے میری برتھ ڈے کا پریزنٹ، آپ کو معلوم ہے پرسوں جب میں اصفر بھائی کے ساتھ اپنے کیک کا آرڈر دینے کے لیے گئی تھی اس دن اصفر بھائی میری اور ازلان کی دوبارہ دوستی کروا چکے ہیں"
بیلا خوش ہوکر نازنین کو بتانے لگی نازنین اپنی بیٹی کا مسکراتا ہوا معصوم چہرہ دیکھنے لگی
"تمہیں معلوم ہے ناں بیلا، بابا ازلان کو ناپسند کرتے ہیں پھر بیٹا کیوں تم نے اس سے دوبارہ دوستی کی، جب وہ تمہاری برتھڈے پر آئے گا اس کو دیکھ کر تمہارے بابا کتنا ناراض ہوگے"
نازنین نرمی سے بیلا کو سمجھاتی ہوئی بولی کیوکہ ازلان سے بیلا کی دوستی پر شروع میں تو نازنین کو اعتراض نہیں ہوا تھا مگر جس طرح بیلا ازلان کہ غصہ کرنے پر گھر آکر رو رہی تھی اور اب جس طرح وہ ازلان سے دوبارہ دوستی ہونے پر خوش تھی نازنین کچھ سوچتے ہوئے بیلا کو سمجھانے لگی
"بابا میری برتھ ڈے والے دن مجھ پر کبھی بھی غصہ نہیں کریں گے اور نہ ہی مجھ سے خفا ہوگے پلیز مما میں ازلان کو اپنا پہنا ہوا ڈریس اور اس کا دیا ہوا کراؤن دکھا کر آجاؤ" بیلا کی اچانک فرمائش پر نازنین اس کو آنکھیں دکھاتی ہوئے دوبارہ ڈپٹ کر بولی
"دماغ درست ہے تمہارا گھڑی میں ٹائم دیکھو رات کے نو بج رہے ہیں اگر تمہارے بابا کو خبر ہوگئی تو وہ تمہارے ساتھ میری بھی شامت لے کر آئیں گے"
نازنین کے ڈانٹنے پر بیلا کا منہ اترگیا
"بابا کو کیسے خبر ہوگی ہمارے گھر کی برابر والی دیوار کے ساتھ ہی تو ازلان کا گھر ہے،، میں بس فورا جاؤ گی اور جلدی سے آجاؤ گی میری پیاری مما جان پلیز مان جائیں ناں"
بیلا لاڈ کرتی ہوئی ضد کرنے لگی جس پر نازنین کو ہار ماننا پڑی
"پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں تم واپس اپنے روم میں موجود ہوگی اور فوراً ڈریس چینج کرکے اس فراک کو وارڈروب میں ہینگ کرو گی"
نازنین اس کو اجازت دیتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی یہ جانے بغیر آج وہ بیلا کو باہر جانے کی اجازت دے کر زندگی کی کتنی سنگین غلطی کرچکی تھی جس کے لیے اب اس کو ساری عمر پچھتانا تھا
****
"واؤ بیوٹیفل گرل یوں تیار ہوکر کہاں جانے کی تیاری ہے" بیلا کو تیار دیکھ کر گیٹ سے اندر داخل ہوتا ہوا اصفر ایک دم ٹھٹکا اور حیرت سے بیلا سے پوچھنے لگا
"مما سے پانچ منٹ کی پرمیشن لی ہے صرف اور صرف ازلان کو اپنا ڈریس اور اس کا دیا ہوا کراؤن دکھانے کے لئے،، میں پانچ منٹ میں واپس آتی ہوں"
بیلا ایکسائٹڈ ہوکر اصفر کو بتانے لگی
"اچھا دھیان سے جاؤ"
اصفر بیلا کو دیکھتا ہوا بولا وہ گیٹ سے نکلنے لگی تو اصفر کو کچھ یاد آیا وہ دوبارہ پلٹا
"بیلا"
اس کے پکارنے پر بیلا دوبارہ اصفر کے پاس آئی تو وہ بیلا کے کان میں اپنی بات بولنے لگا
"سچ"
بیلا مسکراتی ہوئی بولی
"جلدی واپس آؤ"
اصفر اس سے بولتا ہوا گھر کے اندر چلا گیا جبکہ بیلا برابر والا گیٹ بجانے لگی
****
"ارے آج تو یہاں کا راستہ کیسے بھول گیا سب خیریت تو ہے ناں"
عدنان ازلان کو اپنے گھر کے دروازے پر دیکھ کر اسے اپنے کمرے میں لاتا ہوا پوچھنے لگا،، ٹی وی سے آتی ہوئی لڑکے اور لڑکی کی عجیب سی آواز پر اور عدنان کے کمرے میں موجود اس کے دوست کو دیکھ کر ازلان کے قدم وہی رکے،، ازلان سمجھ گیا کہ اندر ٹی وی کی اسکرین پر کیا شغل چل رہا ہے جس سے عدنان اور اس کا دوست لطف اندوز ہورہے تھے
"میں ٹیوشن دے کر تھوڑی دیر پہلے گھر پہنچا تھا، امی بتارہی تھی کہ چچی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے انہی کا پوچھنے آیا تھا"
ازلان اپنی آمد کی اصل وجہ بیان کرتا ہوا عدنان سے بولا
"ہونا کیا ہے اماں کے پیٹ میں مروڑ ہورہی تھی، زیادہ ہی ہاۓ ہاۓ کررہی تھی تو ابا اس کو حکیم کے پاس لےگیا۔۔۔ چل اب تو آ ہی گیا ہے تو تھوڑی دیر بیٹھ جا، یہ اسرار سالا ایسی فلم لایا ہے شرطیہ بولتا ہو پوری فلم دیکھے بغیر اٹھ کر واپس نہیں جائے گا"
عدنان آنکھ مارتا ہوا ازلان سے بولا تو ازلان کو عدنان کی گھٹیا بات پر افسوس ہونے لگا، گھر پر جوان بہن کی موجودگی میں وہ اپنے اوباش دوست کو گھر بلا کر کس قسم کی فحش فلمیں دیکھ رہا تھا
"تم انجوائے کرو فلم مجھے دوسرا ضروری کام ہے"
ازلان نے اس سے زیادہ بات کرنا ضروری نہیں سمجھا عدنان کو بولتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا
"میسنہ ہے سالا اس افسر کی بیٹی سے خوب دوستی گاڑھی ہوئی ہے اوپر سے شریف بنتا ہے، اندر سے پورا ہوگا۔۔۔۔ اوۓ بند کر اس آ،، آوئی کو آج صرف دیکھنے کا موڈ نہیں ہو رہا"
عدنان بگڑے ہوۓ موڈ سے کمرے میں آتا ہوا اسرار سے بولا
"مطلب"
اسرار معنی خیز نگاہوں سے اس کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
"مطلب کیا تجھے بول کر سمجھاؤں چل باہر کہیں شکار ڈھونڈتے ہیں نہیں تو چاندنی بائی کے کھوٹھے پر"
عدنان کے بولنے پر اسرار کو پلنگ سے اٹھنا پڑا وہ دونوں ہی گھر سے باہر نکل گئے
****
جب بیلا کو معلوم ہوا ازلان گھر پر موجود نہیں ہے تب اسے بڑی مایوسی ہوئی وہ رخشی سے ازلان کو یہاں آنے کا کہہ کر خود اپنے گھر کے پچھلے حصے کی طرف آگئی تھی جہاں ایک طرف سرونٹ کوارٹر کا دروازہ اس بنگلے کے پچھلے حصے میں کھلتا تھا۔۔۔ وہ اپنا کرؤن ٹھیک کرتی ہوئی ازلان کا انتظار کررہی تھی تب اسے اپنے پیچھے کسی کی موجودگی کا احساس ہوا،، اس سے پہلے بیلا آنے والے کو پلٹ کر دیکھتی اس نے بیلا کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر اس کا منہ بند کر دیا، جس پر بیلا گھبراتی ہوئی ہاتھ پیر چلا کر اس سے اپنا آپ چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی مگر وہ بیلا کو گھر کے اس کچے حصے میں سے گھسیٹ کر وہی موجود اسٹور روم میں لے جانے لگا
"کک کون ہو تم"
جب اس نے بیلا کو اسٹوروم میں لاکر دھکا دیا تب بیلا زمین پر گرتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی کیونکہ اندھیرے میں صحیح سے وہ اس کو پہچان نہیں پائی تھی،، وہ اسٹوروم کا دروازہ بند کرکے بیلا کی طرف تیزی سے بڑھا
"نہیں"
بیلا کی خوفزدہ سی آواز نکلی، قریب آتا ہوا شخص مہلت دیئے بغیر بیلا کو اپنے شکنجے میں جکڑ چکا تھا
"کیا کر رہے ہو تم، کون ہو چھوڑ دو مجھے"
جب وہ بیلا کو زمین پر دھکیل کر اس کے اوپر جھکا تو بیلا روتی ہوئی بولی ایک بار پھر وہ بیلا کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ کر اس کا منہ بند کر چکا تھا۔۔۔
جو عمل وہ بیلا کے ساتھ کر رہا تھا اس کا ننھا سا ذہن اس عمل کو سمجھنے سے قاصر تھا مگر وہ یہ جانتی تھی اس کے ساتھ بہت کچھ غلط ہو رہا ہے۔۔۔ بیلا روتی ہوئی اس سے اپنا چھڑوانے کی کوشش میں ہلکان ہو چلی تھی مگر وہ بیلا سے دگنی طاقت رکھتا تھا۔۔۔ بیلا خوف کے مارے نفی میں سر ہلاتی ہوئی چیخنے کی کوشش کرنے لگی مگر اس شخص کا مضبوط ہاتھ اس کی چیخوں کی آواز کو دبائے ہوئے تھا۔۔۔ وہ چاہ کر بھی اپنے منہ سے اس کا ہاتھ ہٹا نہیں پا رہی تھی،، تکلیف کی شدت ایسی تھی کہ اس کو لگ رہا تھا اس کی آنکھیں باہر ابل پڑے گی۔۔۔ یہ سب کرنے والا اس کو انسان نہیں کوئی وحشی جانور محسوس ہورہا تھا جو اس کو تکلیف دے کر خود تسکین محسوس کر رہا تھا
اس کے کمزور وجود میں اب طاقت نہیں بچی تھی کہ وہ اپنے ہاتھ پاؤں چلا سکے، پورے جسم میں اٹھنے والے درد نے اس کو پوری طرح نڈھال کردیا تھا۔۔۔ بغیر کسی مزاحمت کے وہ زمین پر لیٹی ہوئی بےجان ہوتے ہوئے وجود کے ساتھ انتظار کرنے لگی،، کب وہ انسان اس کے ساتھ جاری اس عمل کو بند کرتا ہے
موبائل کی رنگ ٹون کی آواز پر بیلا کا غشی میں جاتا ہوا ذہن ایک دم بیدار ہوا جس پر وہ شخص جلدی سے اپنی جیب سے موبائل نکالتا ہوا اس کو بند کر چکا تھا۔۔۔ منہ پر سے ہاتھ ہٹنے کی وجہ سے وہ درد بھری آواز میں زور سے چیخی، ایک بار پھر وہ بیلا کا منہ بند کر چکا تھا مگر ساتھ ہی اس کا دوسرا ہاتھ بیلا کی گردن پر تھا، شاید وہ اپنے گناہ کو چھپانے کے لئے بیلا کا منہ ہمیشہ کے لئے بند کرنا چاہتا تھا۔۔۔ ایک بار پھر بیلا تکلیف سے مچلنے لگی، اب کی بار تکلیف دوسری قسم کی تھی وہ شخص اس سے اس کی بچی ہوئی سانسیں چھین رہا تھا۔۔۔ ایک مرتبہ پھر تکلیف کی شدت سے بیلا کی آنکھیں ابل کر باہر آنے لگی
"بیلا کہاں ہو یار تم"
ازلان کی باہر سے آتی ہوئی آواز پر اس نے ایک دم بیلا کی گردن سے اپنا ہاتھ ہٹایا اور اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔۔۔ اسے اطمینان ہوگیا تھا کہ بیلا کی بچی ہوئی سانسیں اب تھوڑی دیر کی مہمان ہیں وہ کمرے میں موجود بڑی سی کھڑکی کے راستے سے باہر نکلنے کا سوچنے لگا کوئی چیز اس کے جوتے کے نیچے آکر کچلی، جسے دیکھے بنا وہ کھڑکی سے باہر نکل گیا
"یہ تم اسٹور روم میں کیا کر رہی ہو" اسٹوروم سے آتی ہوئی بیلا کی چیخ کی آواز پر ازلان چونکا،، رات کے وقت بیلا کی عجیب و غریب حرکت پر ازلان تعجب کرتا ہوا اسٹور روم کا دروازہ کھول چکا تھا،، اندھیرے کے باعث اسے کچھ دکھائی نہیں دیا دیوار پر لگے سوئچ بورڈ کو ٹٹولنے کے بعد کمرہ ایک دم روشن ہوگیا لیکن سامنے کا ہولناک منظر دیکھ کر ایک پل کے لیے ازلان کا دل کانپ اٹھا
"بیلا"
اس کا نام پکارتا ہوا وہ تیزی سے بیلا کی طرف لپکا، اس کے ہاتھ باقاعدہ کانپنے لگے بیلا کی فراک درست کرتے ہوۓ
"بیلا آنکھیں کھولو کس نے کیا یہ سب تمھارے ساتھ، مجھے بتاؤ"
بےجان وجود اور اس کی درد ناک حالت پر ازلان کی اپنی آنکھوں سے خود بھی آنسو رواں ہونے لگے تھے،،
"بیلا۔۔۔ بیلا"
اپنا دیا گیا کچلا ہوا کراؤن دیکھ کر وہ بیلا کے قریب بیٹھا اس کا گال تھپتھپاتا ہوا بیلا کا نام پکانے لگا جس پر بیلا نے ہلکی سے آنکھیں کھولی
"کون تھا وہ بیلا نام بتاؤ مجھے اس کا"
ازلان بیلا کی گردن پر انگلیوں کے سرخ نشانات دیکھتا ہوا ایک بار پھر بیلا سے اس حیوان کا نام پوچھنے لگا جس نے اس معصوم بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا چھوڑا تھا
"از۔۔۔لا وہ"
بیلا نے کمرے میں موجود کھڑکی کی طرف لرزتے ہوۓ ہاتھ سے اشارہ کیا پھر وہ ایک دم بےہوش ہوگئی
"بیلا"
ازلان اس کا نام پکارتا ہوا جھک کر اس کی سانسیں محسوس کرنے لگا جس کی رفتار بہت دھیمی چل رہی تھی
"اے کیا کر رہے ہو تم میری بیٹی کے ساتھ" عباد کی غصے میں آتی ہوئی آواز پر ازلان ایک دم دروازے کی طرف دیکھنے لگا
"بیلا"
نازنین چیخ مار کر بھاگ کر بیلا کے پاس آئی تو ازلان ایک دم کھڑا ہوگیا
"سر بیلا کے ساتھ کسی نے بہت غلط"
اپنی طرف تیزی سے بڑھتے ہوۓ عباد سے ازلان اس سے پہلے کچھ بولتا عباد نے ازلان کا گریبان پکڑ کر زور دار تپھڑ اس کے منہ پر مارا
****
"کل جب وہ اپنے آپ کو برتھ ڈے والی فراک میں دیکھ کر خوش ہورہی تھی تب میں اس کی نظر اتارنا بھول گئی۔۔۔ اس نے مجھے یاد بھی دلایا مما آپ نے ماشاللہ نہیں کہا تب بھی میں نے اس کی بات پر دھیان نہیں دیا دیکھیں کیسی نظر لگ گئی ہماری بیٹی کو عباد۔۔۔ آخر کیوں میں نے اسے رات کے وقت گھر سے نکلنے کی ازلان سے ملنے کی اجازت دے دی یہ مجھ سے کیا ہوگیا عباد۔۔۔ کیا کردیا میں نے اپنی معصوم بچی کے ساتھ"
بیلا کے بری طرح چیخنے چلانے پر ڈاکٹر ہدایت اور ماہین، عباد اور نازنین کو کمرے سے باہر نکال چکے تھے جبکہ افرائیم ہسپتال سے نہ جانے کہاں چلاگیا تھا۔۔۔ اس وقت وہ دونوں ویٹنگ روم میں چیئرز پر بیٹھے ہوئے تھے نازنین کل رات سے اسی طرح روۓ جارہی تھی اسکے برابر میں بیٹھا ہوا عباد بھی اسی کی طرح غم میں نڈھال تھا
"میں تمہیں ہمیشہ بولتا رہتا تھا ان چھوٹے لوگوں کو منہ لگانا ٹھیک نہیں ہے، نیچ اور گھٹیا ذہنیت کے حامل ہوتے ہیں یہ لوگ، موقع دیکھ کر نقصان پہنچانے والے۔۔۔ میں اس لیے غصہ کرتا تھا بیلا کی اور اس لڑکے کی دوستی پر"
عباد روتی ہوئی نازنین کو دیکھ کر بولا جس پر نازنین اور زیادہ رونے لگی اصفر ان دونوں کو ویٹینگ روم میں بیٹھا ہوا دیکھ کر ان دونوں کے پاس آیا
"ماموں کیسی ہے بیلا اب،،، کیا اس کو ہوش آگیا"
وہ اس وقت پولیس اسٹیشن سے ازلان کے خلاف ایف آئی آر کٹوا کر آرہا تھا۔۔۔ آتے کے ساتھ ہی عباد سے بیلا کے بارے میں پوچھنے لگا تو عباد کچھ بولے بغیر مایوسی سے اپنے بھانجے کو دیکھنے لگا
"ممانی خدارا آپ یوں مت روۓ، وہ ٹھیک ہوجائے گی۔۔۔ ماموں آپ ممانی کو گھر لے کر چلے جائیں میں یہاں پر سب سنبھال لوگا"
عباد کی خاموش نگاہوں کو دیکھ کر اور نازنین کے مسلسل رونے پر اصفر عباد سے بولا۔۔۔ کل رات میں ہی عباد نے ازلان کو لوک اپ میں بند کروا دیا تھا اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو افراہیم غصے میں شاید اذلان کی جان لے لیتا۔۔۔ آج صبح ازلان کے خلاف پرچہ کٹوا دیا گیا تھا،، کل رات سے ہی مکمل بھاگ دوڑ اصفر نے سنبھالی ہوئی تھی ابھی بھی اسی کو ڈاکٹر کے کمرے میں جاکر بیلا کی کنڈیشن کے ساتھ ساتھ ڈی این اے ٹیسٹ کا بھی معلوم کرنا تھا
"کل نہ صرف عباد کے گھر میں اچانک طوفان آیا تھا جس کی وجہ سے عباد نازنین اور افراہیم ماتم کناں تھے بلکہ قیوم کا گھر بھی اس طوفان کی لپیٹ میں آیا تھا پولیس کل رات ہی ازلان کو گرفتار کرکے لے جاچکی تھی، نوف کا بری طرح رونا، رخشی کی آہ و پکار، قیوم کا پولیس والوں کے سامنے گڑگڑانا سب رائیگاہ ثابت ہوا تھا، محلے کے ہر فرد نے وہ منظر دیکھا تھا جب پولیس قیوم کے گھر میں داخل ہوکر ازلان کو ہتھکڑی لگاتی ہوئی پولیس وین میں بٹھا کر لے جارہی تھی محلے والوں کی زبان پر ایک ہی قصہ تھا ازلان نے افسر کی بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنایا
نوف کی پہلے ہی سے طبیعت ناساز تھی لیکن کل والے واقعے نے اس کو اور بھی زیادہ اندر سے توڑ کر رکھ دیا تھا اپنے باپ کی بےبسی اور ماں کے آنسو اس سے برداشت نہیں ہو رہے تھے نہ اسے یقین تھا کہ اس کا بھائی اتنا گھٹیا قدم اٹھا سکتا ہے صبح سے ہی قیوم اور رخشی دونوں نثار کے جاننے والے وکیل کے پاس نکلے ہوئے تھے تاکہ ازلان کے ضمانت کی کوئی سبیل نکل آۓ، نوف کو ہوا کل رات کا بخار اس وقت شدت اختیار کرگیا تھا وہ گھر میں اکیلی اپنے پلنگ پر لیٹی ہوئی تھی، جب زور سے کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا نوف اپنے لاغر سے وجود کو لےکر دروازے تک پہنچی۔۔۔۔ دروازہ کھولنے پر اس کا جس چہرے نے استقبال کیا وہ اس کی توقع نہیں کر رہی تھی آج اس نے اپنے سامنے افراہیم کو کھڑا دیکھ کر سر نہیں جھکایا تھا وہ غور سے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی نوف کو محسوس ہوا جیسے وہ یہاں آنے سے پہلے ڈھیر سارا رویا تھا
"آپ یہاں"
نوف افراہیم کو دیکھتی ہوئی آہستہ سے بولی وہ بنا کچھ کہے اس وقت گھر کے اندر داخل ہوکر دروازہ بند کرچکا تھا
"پوچھو گی نہیں اس وقت میری بہن کی کیا حالت ہے"
افراہیم سرخ آنکھوں سے نوف کو دیکھ کر سوال کرنے لگا تو نوف فوراً بول اٹھی
"بھائی ایسے نہیں کرسکتے آپ کی بہن کے ساتھ، بلکہ وہ کسی بھی لڑکی کے ساتھ کچھ غلط نہیں کرسکتے"
نوف نے افراہیم کو ازلان کی بےگناہی کا یقین دلانا چاہا تو افراہیم چلتا ہوا نوف کے قریب آیا اور اس کا زرد چہرہ دیکھتا ہوا بولا
"ہر کسی کو اپنا آپ اور اپنے سے جڑے رشتہ صحیح لگتے ہیں۔۔۔ کل تک مجھے بھی لگتا تھا کہ میں کسی لڑکی کے ساتھ وحشیانہ سلوک نہیں کرسکتا لیکن آج سوچ کر آیا ہوں جس نے میری بہن کی عزت کی دھجیاں بکھیر دی جب اسے اپنی بہن کی عزت لٹنے کا معلوم ہوگا تب اسے پتہ چلے گا اذیت سے گزرنا کسے کہتے ہیں۔۔۔ آج جب تمہارے ماں باپ تمہیں اجڑی ہوئی حالت میں دیکھیں گے تب انہیں معلوم ہوگا کہ اس وقت میرے ماں باپ کون سے کرب سے گزر رہے ہیں،، آج تمہیں اپنا حشر دیکھ کر خود اندازہ ہوگا کہ جسم سے روح کھینچی جاۓ تو کس قدر تکلیف محسوس ہوتی ہے اور وہ تکلیف میری بہن برداشت کرچکی ہے تمہارے بھائی کی بدولت"
افراہیم کی بات سن کر نوف سکتے کی حالت میں اس کو دیکھنے لگی اس وقت افراہیم کے چہرے کے تاثرات سخت اور پتھریلے تھے اس نے آگے بڑھ کر نوف کا دوپٹہ کھینچا تو وہ ڈر کے مارے کمرے کی طرف بھاگنے لگی مگر اس سے پہلے افراہیم اس کے بالوں کو مٹھی میں بھرتا ہوا صحن میں موجود تخت پر اسے دھکا دے چکا تھا
"آپ میرے ساتھ ایسا کیسے کرسکتے"
نوف صدمے کی کیفیت میں روتی ہوئی زور سے چیخی افراہیم غصے میں اس کے قریب آتا ہوا نوف کا چہرہ زور دار تھپڑ مار کر سرخ کرچکا تھا
"کل رات میری بہن بھی ایسے ہی روئی ہوگی تمہارے ذلیل بھائی کے آگے" افراہیم غصے میں دوسرا تھپڑ اس کے گال پر مارتا ہوا بولا اور ساتھ ہی اس نے نوف کی آستین بازو سے پھاڑ دی
"نہیں مجھے معاف کردیں مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے آپ سے"
نوف افراہیم کے سامنے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر اس سے التجا کرتی ہوئی بولی جس پر وہ نوف کے بالوں کو دوبارہ مٹھی سے پکڑتے ہوا اسے اٹھا کر دیوار پر دھکا دے چکا تھا جس سے نوف کے سر پر چوٹ آئی اور خون بہنے لگا
"میری معصوم بہن کو بخشا تھا تمہارے بھائی نے جو میں تمہیں معاف کردو بولو"
افراہیم غصے کی شدت سے چیختا ہوا اس کے گال پر ایک کے بعد ایک تھپڑ مارتا گیا نوف کو اپنے دونوں گال جلتے ہوئے محسوس ہوئے
بخار کی وجہ سے وہ پہلے ہی نڈھال تھی نوف کو لگا کے اب وہ نیچے گرجائے گی مگر جیسے ہی افراہیم نے چاک سے اس کی قمیض کھینچی تو نوف روتی ہوئی افراہیم کو پیچھے ہٹاکر اندر کمرے میں بھاگی۔۔۔ وہ روتی ہوئی اپنے لیے جائے پناہ تلاش کرنے لگی مگر اس سے پہلے ہی افراہیم کمرے میں آنے کے ساتھ ایک بار پھر اس کا چہرہ طماچوں سے لال کرنے لگا۔۔ نہ صرف نوف کا منہ پوری طرح سوجھ چکا تھا بلکہ سر کے ساتھ ساتھ ہونٹ سے بھی اس کے خون بہنے لگا تھا
وہ روتی ہوئی اللہ سے دعا کرنے لگی اس بےرحم لڑکے کے دل میں اس کے لئے رحم ڈال دے مگر افراہیم اس کا منہ بری طرح سجھانے کے بعد گلے سے اس کی قمیض چاک کرچکا تھا وہ افراہیم کے تھپڑوں کی تاب نہ لاتی ہوئی زمین پر گرچکی تھی۔۔۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا ایک بار اسی لڑکے نے عدنان سے اس کو بچایا تھا اور آج وہ خود اس کے ساتھ۔۔۔۔ افراہیم ابھی بھی غصے میں نوف کے روتے بلکتے وجود کو زمیں پر گرا ہوا دیکھ رہا تھا۔۔۔ نوف کو آنے والے وقت سے خوف آرہا تھا اسی لیے وہ رونے کے ساتھ کانپ بھی رہی تھی اس کی قمیض کا سرا کاندے سے ٹکا ہوا تھا دوسرا سرا اس نے خود پکڑ کر کاندھے سے ٹکایا ہوا تھا مگر اس کے جسم میں ہمت نہیں بچی تھی افراہیم سے مزاہمت کرتی
افراہیم نے ویسے ہی ایک بار پھر اسکے بالوں کو مٹھی میں بھر کر زمین سے اٹھایا۔۔۔ نوف کا رخ کمرے میں موجود آئینے کی طرف کرتا ہوا خود اس کی پشت پر کھڑا ہوا
"تمھاری ہی ہم عمر ہے میری بہن، کل رات تمھارے بھائی نے جس کی معصومیت چھین لی، چھوٹی سی عمر میں جس کا بچپن اس سے چھین لیا۔۔۔ اس کی زندگی برباد کر ڈالی اسے ان باتوں کی آگاہی دے دی جو باتیں اس کے سمجھنے کی نہیں تھی۔۔۔ میرا باپ بالکل ٹھیک کہتا ہے تم جیسے چھوٹی ذات کے لوگ ہوتے ہی گھٹیا ذہنیت کے ہو،، میرا بس نہیں چل رہا کہیں سے تمہارا بھائی میرے سامنے آجاۓ اور میں اس کے جسم کی بوٹی بوٹی کر ڈالوں یا پھر تمہارے ساتھ بھی ویسے ہی وحشیانہ سلوک کرو جو کل رات تمہارا بھائی میری معصوم بہن کے ساتھ کرچکا ہے مگر میں تمہارے بھائی کی طرح کم ذات نہیں ہو"
افراہیم اپنی مٹھی میں سے اس کے بال آزاد کرتا ہوا وہاں سے چلا گیا اور نوف زمیں پر گر کر وہی بےہوش ہوگئی
****
"میں نے اس کے ساتھ کچھ نہیں کیا میں بےقصور ہوں"
ازلان سلاخوں کے پیچھے موجود اپنے سامنے کھڑے قیوم کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولا وہ ہفتے بھر سے سب کے سامنے بس ایک اسی جملے کی گردان کررہا تھا یہاں تک کہ جب اس کو ریمانڈ میں لیا گیا اور پیروں پر ڈنڈے مار مار کر اسے کھڑا ہونے کے قابل نہیں چھوڑا گیا تب بھی وہ بےہوش ہونے سے پہلے یہی جملہ بول رہا تھا
"عباد کی بیٹی کو ہوش آچکا ہے اس نے مکمل حواسوں میں پولیس کو بیان دیتے ہوۓ تمہارا نام لیا ہے۔۔۔ میں نے جیسے تیسے پیسے اکٹھے کر کے وکیل کیا ہے تمہیں اس وکیل کے سامنے اس رات کے تمام حالات اور واقعات بالکل سچ بتانا ہوگے"
قیوم کی بات سن کر وہ حیرت سے اپنے باپ کو دیکھنے لگا تھا دکھ اسے اس بات کا بھی تھا کہ بیلا نے اسے اپنا مجرم قرار دے دیا تھا مگر ساتھ ہی اسے اپنے باپ کی بھی بےاعتباری پر افسوس ہونے لگا
"میں نے اس کے ساتھ کچھ نہیں کیا میں بےقصور ہوں"
اب کی بار ازلان نے دوبارہ سے وہی جملہ دہرایا تو چند سیکنڈ قیوم خاموشی سے ازلان کو دیکھنے لگا پھر بولا
"آج ہی ڈی این اے کی رپورٹ آئی ہے تمہارا ڈی این اے اس بچی کے مجرم کے ڈی این اے سے میچ کررہا ہے"
قیوم کی بات سن کر ازلان کو شدید غصہ آنے لگا وہ غصے کی شدت سے زوردار آواز میں دھاڑا
"میں نے اس کے ساتھ کچھ نہیں کیا میں بےقصور ہوں"
ازلان کے بری طرح چیخنے پر قیوم ایک بار پھر خاموشی سے ازلان کو دیکھنے لگا پھر بنا کچھ بولے تھکے ہوئے قدموں سے وہاں سے چلا گیا
ایک ہفتے میں قیوم کیا کچھ برداشت کرچکا تھا وہ چاہ کر بھی ازلان کو بتا نہیں پایا۔۔۔ سڑک پر پیدل چلتا ہوا قیوم اس دن کے بارے میں سوچنے لگا جب وہ اور رخشی وکیل سے بات کرکے واپس گھر لوٹے تھے۔۔۔ نوف کی اجڑی ہوئی حالت اسے کچھ اور ہی کہانی سنا رہی تھی جسے دیکھ کر اسے اندرونی طور پر بہت بڑا دھچکا لگا تھا۔۔۔ نوف کی پٹھے ہوۓ کپڑے اجڑی ہوئی حالت دیکھ کر رخشی نے یا پھر اس نے اپنی بیٹی سے کچھ بھی پوچھنے کی ہمت نہیں کی تھی۔۔۔ شام تک محلے میں چہ میگویاں ہونے لگی تھی تب اس کے کانوں میں یہ خبر پڑی تھی کہ اس کے پیچھے عباد کا بیٹا اس کے گھر آیا تھا۔۔۔ محلے کے لوگوں نے گھر کے اندر سے نوف کی چیخ و پکار کی آوازیں سنی تھی اور عباد کے بیٹے کو گھر سے نکلتے ہوئے دیکھا تھا
وہ عباد کی طرح اثر و رسوخ نہیں رکھتا تھا کہ اس کے بیٹے کو اپنی کم عمر بیٹی کے ساتھ کیے گئے بےرحمانہ سلوک کے جرم میں اندر کروا دیتا۔۔۔ اس کے پاس جو تھوڑی بہت رقم تھی اس میں تھوڑے بہت پیسے نثار میں ملاکر ازلان کے لئے وکیل کیا تھا۔۔۔ ابھی وہ اس صدمے سے ہی باہر نہیں نکلا تھا کہ اگلے دن اس کو لیٹر ملا جس میں اس کو نوکری سے نکال دیا گیا تھا اس کے دو دن بعد ہی قیوم سے سرکاری کوارٹر بھی چھین لیا گیا۔۔۔ رہنے کے لیے جب کوئی چھت نہ بچی تو نثار قیوم کے ساتھ رخشی اور نوف کو اپنے گھر لے آیا
ہفتے بھر سے نوف کا بخار اترنے کا نام نہیں لے رہا تھا،، غزل کا ان لوگوں کی اپنے گھر آمد پر اچھا خاصا منہ بنا ہوا تھا
غزل کا اپنی بیوی اور بچی سے رویہ دیکھ کر، اپنے جوان بیٹے کو سلاخوں کے پیچھے دیکھ کر، ہر پل رخشی کی نم آنکھیں دیکھ کر، اپنی کم عمر بچی کی اجاڑ اور ویران حالت دیکھ کر وہ صحیح معنوں میں اندر سے ٹوٹ چکا تھا،، عباد نے گلگت جانے سے پہلے ازلان پر کافی مضبوط کیس بنایا تھا جس کی وجہ سے ازلان کی ضمانت نہیں ہو پارہی تھی، وہ عباد کے جانے سے پہلے اس سے معافی مانگنے بھی گیا تھا اس نے درخواست کی تھی کہ عباد کی توسط سے اس کی نوکری دوبارہ بحال ہوجائے مگر عباد نے اسے ذلیل کرکے نکال دیا۔۔۔ غزل طعنے دیتی ہوئی آج صبح ہی رخشی سے بول چکی تھی کہ وہ عزت لٹی ہوئی اسکی بیٹی کو اپنی بہو نہیں بناسکتی ساتھ ہی غزل نے ان دونوں میاں بیوی کو اپنے کہیں اور رہنے کا بھی بول دیا تھا کیوکہ ان کا اپنا گزارا مشکل سے ہورہا تھا۔۔۔ ان سب باتوں کو سوچتا ہوا قیوم روڈ کراس کر رہا تھا تب ایک گاڑی اس کو ٹکر مارتی ہوئی چلی گئی
*****
"بیلا کیا کررہی ہو میری جان"
وہ روز معمول کی طرح اپنے کاپی کے ورق کو بار بار ایک ہی لفظ "سوری" لکھ لکھ کر بھر رہی تھی تب نازنین بیلا کے کمرے میں آتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی جس پر بیلا نے جلدی سے کاپی بند کردی اور نازنین کو دیکھتی ہوئی بولی
"آپ کیوں آگئی ہیں میرے کمرے میں کیا کام ہے آپ کو مجھ سے"
بیلا کرسی سے اٹھ کر کھڑی ہوتی ہوئی نازنین سے پوچھنے لگی گلگت سے واپس آئے ہوئے انہیں مہینہ بھر ہوچکا تھا عباد نے اپنا ٹرانسفر واپس اپنے شہر میں کروا لیا تھا
"تم نیو سائیکل لینے کی ضد کررہی تھی ناں، کل افی تمہارے لئے نئی سائیکل لےکر آیا ہے جاؤ اپنی سائیکل دیکھو اور لان میں چکر لگاکر آؤ"
نازنین پیار سے بیلا کو دیکھتی ہوئی اس سے بولی اس واقعہ کے بعد سے اس نے اپنے کمرے سے باہر نکلنا اور اسکول جانا بالکل چھوڑ دیا تھا۔۔۔ عباد یا نازنین اس کو اسکول جانے کا کہتے تو وہ رونا شروع کردیتی۔۔۔۔ نازنین چاہتی تھی کہ پہلے وہ اپنے کمرے سے باہر نکلے اس لیے افراہیم اس کے لئے سائیکل لے کر آیا تھا ویسے بھی افراہیم اس کو سائیکل اس کی برتھ ڈے گفٹ میں دینا چاہ رہا تھا
"سائیکل کا تو میں نے بہت پہلے کہا تھا بھائی سے، اب میرا دل نہیں چاہتا سائیکلینگ کرنے کا بلکہ کچھ بھی کرنے کا۔۔۔۔ اب آپ بھی اپنے کمرے میں جائیں"
بیلا نازنین کو دیکھتی ہوئی بولی تو وہ بیلا سے پوچھنے لگی
"مگر کیوں بیٹا مما کو دل چاہ رہا ہے تم سے بات کرنے کا،، کیا تمہارا دل نہیں چاہ رہا اپنی مما سے بات کرنے کا"
نازنین بیلا کو دیکھ کر پیار سے پوچھنے لگی تو بیلا بولی
"آپ تھوڑی دیر باتیں کرنے کے بعد مجھے کمرے سے باہر نکلنے کے لیے فورس کرے گی اور میرا کمرے سے باہر نکلنے کا دل نہیں چاہتا اب"
بیلا کی بات سن کر نازنین خاموشی سے اسے دیکھنے لگی اب نہ جانے کب اس کی بیٹی نارمل ہوگی گزرے دنوں کے ساتھ نازنین اچھے کی امید ہی چھوڑے دی رہی تھی
"تمہیں باہر جانا پسند نہیں ہے تو ہم دونوں باہر نہیں جائیں گے۔۔۔ بلکہ یہی بیٹھ کر باتیں کریں گے، چلو یہ بتاؤ تم اپنی کاپی پر روز کیا لکھتی ہو"
نازنین کے پوچھنے پر بیلا کے چہرے کے تاثرات یکدم تبدیل ہوئے وہ ٹیبل پر رکھی ہوئی کاپی کو جلدی سے دراز میں رکھتی ہوئی نازنین سے بولی
"مما آپ جائیے اپنے کمرے میں، پلیز چلی جائے یہاں سے اور شام میں بھائی کو منع کردیئے گا کہ وہ میرے کمرے میں نہ آیں اور نہ ہی بابا کو میرے کمرے میں آنے کی ضرورت ہے۔۔۔ مجھے اب کسی سے بھی بات کرنا اچھا نہیں لگتا آپ کھڑی کیوں ہیں پلیز چلی جائے یہاں سے"
بیلا زور سے چیخ کر بولی۔۔۔ نازنین جانتی تھی اگر وہ بیلا کے کمرے سے نہیں گئی تو بیلا رونا شروع کردے گی پھر اس کو چپ کروانا مشکل ہو جائے گا، وہ خاموشی سے بیلا کے کمرے سے نکل گئی ایسا نہیں تھا کہ وہ لاعلم تھی کہ بیلا کاپی میں کیا لکھتی رہتی ہے مگر وہ سوری کیوں اور کس کو لکھتی ہے نازنین یہ جاننا چاہتی تھی
"ارے میری رانی دلبر جانی آج پھر اپنے عدی کے ہاتھ لگ ہی گئی"
نثار اور غزل اس وقت گھر پر موجود نہیں تھے رخشی تھوڑی دیر پہلے ہی سوئی تھی نوف ابھی اسکول سے گھر آئی تھی اور صحن میں تخت پر بیٹھی ہوئی کھانا کھا رہی تھی دو دن سے اس کا معدہ اپ سیٹ تھا الٹیوں کا سلسسلہ آج ہی رکا تھا۔۔۔ تب عدنان دوسرے کمرے سے نکلتا ہوا اس سے بولا نوف عدنان کو دیکھ کر کھانے کے برتن اٹھاتی ہوئی خاموشی سے وہاں سے جانے لگی تب عدنان نے اس کا ہاتھ پکڑا
"جا کہاں رہی ہے جانے سے پہلے اتنا تو بتادے اپنے عدی کا دل کب خوش کرے گی،، وہ افسر کا بیٹا تو جاتے جاتے تجھ سے کھیل ہی چکا ہے اب اپنے عدی کو بھی موقع دے دے تاکہ وہ غریب بھی تھوڑا بہت اپنا دل بہلا سکے"
عدنان کمینگی کی حدیں پار کرتا ہوا نوف سے بولا جس پر نوف ملامت بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگی عدنان اس سے کس قدر واہیات باتیں کررہا تھا اسے اب یہ ساری باتیں سمجھ آنے لگی تھی
"میرے ابو جی آپ کے تایا تھے ابھی دو دن پہلے پہ ان کا چالیسوں ہوا ہے آپکو شرم نہیں آرہی اس قدر غلیظ اور گھٹیا بات کرتے ہوۓ اسی تایا کی بیٹی سے"
نوف عدنان کے سامنے جرت کرتی ہوئی بولی جس دن قیوم ازلان سے مل کر آرہا تھا اس دن گاڑی کے ایکسیڈینٹ سے قیوم اپنی زندگی کی بازی ہار گیا تھا جو پیسے اس نے ازلان کے وکیل کے لیے جمع کیے تھے وہ اسی کے کفن دفن میں استعمال ہوگئے تھے
"تیرے بھائی کو شرم آئی اس افسر کی بیٹی کی عزت لوٹتے ہوئے، سالا پڑھاکو شرافت کے آڑھ میں جانے کہاں کہاں منہ مارتا رہا جس کے بدلے میں اس افسر کے بیٹے نے تجھے بھی رگڑ ڈالا اور میں سالا الو کا پٹھہ خالی ہاتھ ملتا رہ گیا"
عدنان غصہ میں بولا تو نوف اسکا ہاتھ جھٹک کر احتجاجا چیخ اٹھی
"میرے بھائی نے کچھ نہیں کیا بےگناہ ہے وہ"
نوف کا اپنا بھی دامن داغدار نہیں تھا اور یہ بات وہ رخشی کو بتاچکی تھی اسے کوئی لینا دینا نہیں تھا جو کوئی بھی اس کے بارے میں کچھ بھی سوچتا مگر ازلان کے بارے میں ایسی باتیں اس سے برداشت کرنا مشکل ہوجاتا۔۔۔ نوف کے غصہ کرنے پر عدنان نے اس کے بالوں سے پکڑا
"میرے آگے تیری چیوٹی کی اوقات ہے لیکن اب تیرے پر نکلنے لگے ہیں، چھوٹی سی عمر میں اپنا سب کچھ لٹاکر بھی میری نظروں میں نظریں ڈالے گی کہاں سے آرہی ہے تجھ میں اتنی ہمت بتا مجھے۔۔۔ کل سے تو اسکول نہیں جاۓ گی اب تیری پڑھائی کا سلسلہ بند"
عدنان نوف کے بالوں کو جھٹکا دیتا ہوا غصے میں چیخا
"عدنان چھوڑ اس کو، تو ہوتا کون ہے اس کو پڑھنے سے روکنے والا"
نثار گھر کے اندر داخل ہوتا ہوا عدنان سے غصے میں بولا تو نثار کے پیچھے آتی ہوئی غزل بھی بول اٹھی
"صحیح تو کہہ رہا ہے عدی، یہاں پر کھانے کے لالے پڑ رہے ہیں گھر میں دو افراد کے بڑھنے سے کتنی تنگی ہوگئی ہے اور یہ لڑکی تو اپنی عزت بھی گنوا چکی ہے پھر پڑھ لکھ کر اس کو کون سا تمغہ جرت لینا ہے"
غزل حقارت سے نوف کو دیکھتی ہوئی بولی، رخشی بھی سر پر چادر اوڑھ کر شور و غل کی آواز پر کمرے سے باہر آکر خاموشی سے تماشہ دیکھنے لگی
"تو نے کب سے آئینے سے اپنی نظریں ہٹاکر گھر داری کرنا شروع کردی جو تجھے معلوم ہو چلا ہے گھر میں کھانے کے لالے پڑ رہے ہیں،، کان کھول کر سن لو تم دونوں ماں بیٹے۔۔۔ بھابھی اور نوف سے تم لوگوں میں سے جس کسی کو تکلیف ہوئی تو وہ بےشک گھر چھوڑ کر چلا جاۓ۔۔ یہ پڑھے گی اور اس کو میں پڑھاؤں گا چاہے اس کے لیے مجھے دو کی بجائے تین تین نوکریاں کرنا پڑے۔۔۔ میرا بھائی زندہ نہیں رہا مگر اس کی بیوی اور بیٹی کو دربدر نہیں ہونے دوں گا میں۔۔۔ اور گل گھر پر آئے تو اس کو بھی سمجھا دینا محلے میں جاکر الٹی سیدھی باتیں کرنا بند کردے ورنہ مجیدے کے بیٹے سے کل ہی اس کا نکاح پڑھوا کر اس گھر سے رخصت کروں گا اس کو بھی"
نثار غزل اور عدنان کو تنبہیی کرتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا قیوم کے مرنے کے بعد وہ مستکل مزاجی سے ٹک کر ایک کی بجاۓ دو دو نوکریاں کررہا تھا اور نوف کی پڑھائی کا سلسلہ بھی اسی نے جاری رکھا تھا بس ازلان کے لیے وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پایا تھا
"مجیدے کے اس اپاہج بیٹے سے میری گل کی شادی کرواۓ گا، کیڑے پڑے ایسے باپ کو۔۔۔ ارے ایسا کیا غلط بول دیا اس نے رفیعہ کو جاکر یہی تو بولا ہے گھر آکر میری تایازاد کا چیک اپ کرلو نہ جانے کون سا مہینہ ہے کیسے بھر بھر کے الٹیاں کر رہی ہے۔۔۔ اب افسروں کی ناجائز اولاد بھی ہم ہی پالیں"
غزل زور زور سے بول کر دل کی بھڑاس نکالتی ہوئی کمرے میں چلی گئی جبکہ نوف خاموش کھڑی رخشی کو دیکھنے لگی۔۔۔ اسے جی بھر کر افراہیم سے نفرت ہو چلی تھی جس کے غصے اور انتقام نے اس کو کہیں کا نہیں چھوڑا تھا سب کو ہی اس کی پاکدامنی پر شک تھا وہ اوپر والے سے دعا کرنے لگی کہ آگے زندگی میں کبھی بھی اس مغرور اور ظالم لڑکے سے اس کا سامنا نہ ہو
****
یوم آزادی کے دن سینٹرل جیل میں منعقد کردہ تقریب کی وجہ سے جشن کا سماں تھا ملی نغموں کی آوازیں جیل کی چاردیواری میں گونج رہی تھی تبھی سپاہی وہاں موجود سارے قیدیوں سے بلند آواز میں بولا
"اوئے چلو سب قطار کی صورت بیٹھ جاؤ کمشنر صاحب تقریر کرنے آرہے ہیں تھوڑی دیر میں"
سارے قیدیوں کے ساتھ ازلان بھی تیسری قطار میں بیٹھ گیا کمشنر امان اللہ کے آنے پر حمد و ثنا کا آغاز ہوا، تب کمشنر امان اللہ کی نظر تیسری لائن میں بیٹھے اس لڑکے پر پڑی جو کافی دیر سے بغیر پلکیں جھپکائے اسے دیکھ رہا تھا اس کی نگاہوں میں ایسا کچھ تھا کہ کمشنر امان للہ نے اپنی پشت پر کھڑے سب انسپکٹر کو اشارہ کرکے بلایا
"اوۓ تو کیا ہیرو بنا ہوا دور سے کمشنر صاحب کو تاڑ رہا ہے اپنی آنکھیں نیچی کر لے ورنہ پھور ڈالوں گا تیرے ان دیدوں کو"
انسپکٹر آفاق ازلان کے پاس آکر سرگوشی میں دانت پیس کر اس سے بولا
"مجھے کمشنر صاحب سے اکیلے میں ضروری بات کرنا ہے کچھ بتانا ہے انہیں"
ازلان انسپکٹر آفاق کو اس کے جواب میں بولا
"ابے اوۓ آج کمشنر صاحب مشکل سے دس منٹ کے لئے اپنا قیمتی ٹائم نکال کر آئے ہیں تو ان کا انٹرویو لینا چاہ رہا ہے، دیکھ میں بتا رہا ہوں اب آنکھیں نیچے کرکے بیٹھ ورنہ تیری چمڑی ادھیڑ ڈالوں گا"
انسپکٹر آفاق غصے میں ازلان کو جھاڑتا ہوا بولا اور دوبارہ اسٹیج پر چلاگیا ازلان نے اس کی بات کا اثر لیے بنا دوبارہ کمشنر امان اللہ کی طرف خاموشی سے دیکھنا شروع کر دیا
"کیا کہہ رہا ہے وہ لڑکا"
ازلان کے دوبارہ دیکھنے پر کمشنر امان اللہ بھی ازلان کو دیکھتا انسپکٹر آفاق سے پوچھنے لگا
"کمشنر صاحب شاید اس لڑکے کی کھال مصالا مانگ رہی ہے بول رہا ہے اکیلے میں بات کرنا ہے آپ سے"
انسپکٹر آفاق ازلان کا پیغام دیتا ہوا بولا آفاق جانتا تھا محدود ٹائم کی وجہ سے کمشنر صاحب اس لڑکے کی عرضی رد کردیں گے مگر اسے حیرت تب ہوئی جب کمشنر امان اللہ نے ازلان کو اکیلے میں حاضر ہونے کا پیغام بھجوایا
****
"بولو کیا کہنا چاہ رہے تھے تم"
ازلان کمرے میں اجازت لےکر اندر آیا سلام کے جواب کے بعد کمشنر امان اللہ ازلان سے بولا اور اسے اپنے سامنے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا
"میں جانتا ہوں آپ کا وقت بہت قیمتی ہے اس لیے بغیر وقت ضائع کئے میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں جس ٹرک میں قیدیوں کے لئے مہینے بھر کا راشن یہاں آتا ہے کل صبح پانچ بجے اس ٹرک میں شرفو، کالیہ، امجد اور نیاز فرار ہونے والے ہیں۔۔۔ ان چاروں کی ٹرک ڈرائیور سے ڈیلنگ ہوچکی ہے"
ازلان کی دی گئی انفارمیشن پر کمشنر کچھ سوچتا ہوا ازلان سے بولا
"اگر یہ معلومات تم مجھے فراہم کرنے کی بجاۓ ان چاروں کو اعتماد میں لےکر اپنے فرار ہونے کی بھی ڈیلینگ کرلیتے تو وہ لوگ ممکن تھا تمہیں بھی اپنے ساتھ شامل کرکے جیل سے بھگا لیتے،، کیا تمہارے دل میں ایسا خیال نہیں آیا"
کمشنر اس لڑکے کو دیکھ کر سوال کرنے لگا جو عمر میں زیادہ بڑا نہیں صرف اٹھارہ سال کا دکھتا تھا
"سب سے پہلے یہی خیال آیا تھا لیکن پھر بعد میں نے سوچا میرے جیل سے فرار ہونے سے بہتر ہے ان چاروں کا اس چار دیواری کے اندر رہنا اور اپنی سزا مکمل کرنا۔۔۔ کیوکہ ان چاروں کے جرم اتنے چھوٹے نہیں ہیں کہ وہ چاروں اپنی سزا پوری کیے بناء جیل سے فرار ہوجاۓ"
ازلان کمشنر کو ان چاروں قیدیوں کے جرم بتانے لگا جس کے جرم میں وہ سزا کاٹ رہے تھے
"اور تم یہاں پر کس جرم کی قید میں سزا کاٹ رہے ہو"
کمشنر ازلان کے بات بہت غور سے سننے کے بعد اس سے سوال کرنے لگا
"نو سال کی بچی کا ریپ کرنے کا کیس مجھ پر بنایا گیا ہے"
ازلان کمشنر کو دیکھ کر سنجیدگی سے بتانے لگا
"کیا تم نے اس بچی کے ساتھ زیادتی کی تھی"
کمشنر غور سے ازلان کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
"ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ کو کون چیلنج کرسکتا ہے ان رپورٹس سے یہ ثابت کردیا گیا تھا کہ اس لڑکی کے ساتھ زیادتی کرنے والا لڑکا میں ہی ہوں"
ازلان تلخی سے بولا تو کمشنر نے ایک ایک کرکے ازلان سے کئی سوالات پوچھے جن کا جواب ازلان اسے دیتا گیا جس سے کمشنر نے اندازہ لگایا کہ سامنے بیٹھے اس لڑکے کو ریپ کے کیس میں پھنسایا گیا تھا کیونکہ جس لیبٹری سے ڈی این اے ٹیسٹ کیا گیا تھا،، دو نمبر اور جعلی رپورٹ تیار کرنے کی وجہ سے وہ لیبٹری ایک ماہ پہلے ہی سیل کردی گئی تھی
"ازلان کیا تم اب بھی آگے اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھنا چاہو گے"
کمشنر امان اللہ ازلان کے بارے میں تفصیل سے جاننے کے بعد اس سے پوچھنے لگا تو ازلان تعجب سے اسے دیکھنے لگا
"میری تعلیم آپ کو کیا فائدہ پہنچا سکتی ہے"
ازلان اپنے دماغ میں اٹھتا ہوا سوال زبان پر لایا تو کمشنر مسکرا کر اس سے بولا
"مجھے نہیں مگر اس ملک کو تو فائدہ دے سکتی ہے، تم جیسے نوجوان اس ملک کا مستقبل ہو اگر آج میں نے تمہیں یہاں رلتا ہوا چھوڑ دیا تو میرا ضمیر مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔۔۔ اتفاق سے میرا بیٹا تمہارے ہی برابر ہے آج میں اس کے لئے یہ ایڈمیشن فارم لےکر گھر جانے والا تھا اگر تم خود کو اس کا اہل سمجھتے ہو تو اس فارم کو فل کرسکتے ہو"
کمشنر امان اللہ کے بڑھائے ہوئے ایڈمیشن فارم کو ازلان نے کھول کر دیکھا تو وہ آرمی آف کیدٹ کالج کا فارم تھا۔۔۔ ازلان نے نظر اٹھاکر کمشنر کو دوبارہ دیکھا تو وہ ازلان کے چہرے کے تاثرات ہی جانچ رہا تھا۔۔۔ ازلان وقت ضائع کئے بنا ٹیبل پر رکھے ہوئے قلم سے فارم فل کرنے لگا
"جو راہ تم نے اپنے لیے منتخب کی ہے اس کی منزل کا حصول اتنا آسان نہیں ہے لیکن میں تم سے امید رکھتا ہوں کہ تم آنے والی ہر مشکلات کو فیس کرلو گے بس اپنے ارادے میں ہمیشہ پختگی رکھنا۔۔۔ مجھے یقین ہے کرنل صفدر کے تعاون، کیپٹن شبیر کی رہنمائی اور پانچ سال کی تمہاری ٹریننگ رائیگاں نہیں جائے گی بلکہ وہ تمہیں اندر تک تراش دے گی اور آنے والی زندگی میں تمھیں اپنے مقاصد کا خود بتا دے گی"
کمشنر امان اللہ بولتا ہوا کمرے سے نکل گیا اسے ازلان کی آنکھوں میں سچائی دکھی تھی وہ چاہتا تو خود بھی ان قیدیوں کے ساتھ فرار ہوسکتا تھا مگر اس کی سوچ جاننے کے بعد کمشنر امان اللہ نے فیصلہ کرلیا کہ وہ اس لڑکے کو تراش خراش کر مزید اسے اچھا انسان بناۓ گا۔۔۔۔ ازلان فل کیے ہوئے کیڈٹ کالج کے فارم کو دیکھنے لگا،، جسکی یہ برانچ مری میں موجود تھی یعنی اسے اس جگہ کو چھوڑ کر مری شفٹ کیا جاۓ گا۔۔۔ جیل میں گزرے ہوۓ ان چھ ماہ میں پہلی بار اس کے ساتھ کچھ اچھا ہوا تھا،
اسے ایک امید کی جھلک نظر آئی
****
"چھوڑ دیں بابا پلیز مجھے چھوڑ دیں"
عباد بیلا کو بازو سے پکڑ کر اس کی فریاد سنے بغیر ڈائیننگ ہال سے باہر لے جارہا تھا بیلا مسلسل روتی ہوئی عباد سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش میں لگی ہوئی تھی
"کیا ہوگیا ہے عباد آپ کو رحم کرے اس پر وہ ہماری بیٹی ہے"
نازنین خود بھی روتی ہوئی عباد کے پیچھے پیچھے آتی ہوئی بولی تو عباد غصے میں اس کی طرف مڑا
"بیٹی ہے تو کیا یہ جان لے لے گی ہماری، دیکھا نہیں تم نے دن بدن اس کی حرکتیں پاگلوں کی طرح ہوتی جارہی ہیں،،، اس سے پوچھو یہ کب تک اپنا منہ چھپا کر بند کمرے میں چھپی رہے گی۔۔۔۔ سال بھر گزر چکا ہے یہ نارمل کب ہوگی اب لوگ نوٹ کرنے لگے ہیں جن کو نہیں معلوم ان کو بھی معلوم ہوجائے گا کہ کس طرح کی ذلت ہمارے مقدر میں لکھی جاچکی ہے۔۔۔ اب میں مزید اسے اس گھر میں نہیں رکھوں گا، یہ بورڈنگ جارہی ہے اب یہ وہی رہے گی اور وہی پڑھے گی"
عباد غصے میں چیختا ہوا بولا بیلا اور نازنین دونوں ہی کھڑی ہوئی رو رہی تھی تب ہال میں افراہیم داخل ہوا وہ عباد کی باتیں سن چکا تھا
"بیلا کہیں نہیں جائے گی بابا یہ گھر میں ہی رہے گی اپنی فیملی کے ساتھ"
افراہیم روتی ہوئی بیلا کو دیکھنے کے بعد عباد کو دیکھتا ہوا بولا
"تم بیچ میں مت بولو افراہیم اور اپنی اسٹیڈیز پر توجہ دو"
عباد کو افراہیم کا اس معاملے میں مداخلت کرنا پسند نہیں آیا جبھی وہ افراہیم کو ٹوکتا ہوا بولا
"میں اپنی اسٹڈیز پر ہی توجہ دے رہا تھا اس بات کو فراموش کرکے میری بہن کو میری توجہ کی ضرورت ہے، سال بھر پہلے جو اس کے ساتھ ہوا وہ آپ بھول سکتے ہیں مگر وہ سب کچھ اس نے سہا ہے برداشت کیا ہے۔۔ وہ سب کچھ یہ اتنی آسانی سے نہیں بھول سکتی، آپ اسے ہم سے دور کرکے بالکل اکیلا کردیں گے بابا اس طرح یہ کبھی نارمل نہیں ہوپائے گی، میں آپ سے پرامس کرتا ہوں آج کے بعد یہ اپنے کمرے میں چھپ کر نہیں بیٹھے گی اور یہ اپنی اسٹڈیز بھی کنٹینیو کرے گی اور اب یہ پہلے کی طرح نارمل لائف گزارے گی میں اسے دوبارہ زندگی کی طرف لےکر آؤں گا لیکن اس کے لیے کچھ وقت لگے گا۔۔۔ یہ بالکل پہلے جیسی ہوجائے گی آئی پرامس"
افراہیم بیلا کے پاس کھڑا ہوکر عباد سے بولا افراہیم عباد کی بےبسی بھی محسوس کرسکتا تھا یقینا اسے بیلا کو اس حال میں دیکھ کر تکلیف ہوتی تھی جبھی وہ اسے خود سے اس گھر سے دور کرنے کا سوچ رہا تھا۔۔۔ عباد افراہیم کی بات سن کر اپنے کمرے میں چلاگیا
"میں مما اور بابا تم سے بہت پیار کرتے ہیں بیلا، کیا تم ہماری محبتوں کے بدلے ہماری خوشی کے لئے خود میں بدلاؤ نہیں لا سکتی،، تمہیں اس طرح دیکھ کر بابا کو مما کو مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے پلیز ہماری خاطر خود کو بدلنے کی کوشش کرو پہلے جیسی ہوجاؤ ہنسو کھیلو خوش رہو"
افراہیم بیلا کے آنسو صاف کرتا ہوا بولا تو وہ افراہیم کے کندھے پر سر رکھ کر رونے لگی
"میرا کسی سے بھی بات کرنے کا دل نہیں چاہتا اب، نہ ہی دوست بنانے کا دل چاہتا ہے، مجھے نہیں لگتا بھائی کہ میں اب آگے پڑھ سکو گی، مجھے ایسا لگتا ہے میں باہر نکلو گی تو سب لوگ مجھے دیکھیں گے مجھ پر ہنسے گے، میرے متعلق باتیں کریں گے"
بیلا افراہیم کے کندھے پر سر رکھ کر روتی ہوئی بولی نازنین صوفے پر بیٹھی بیلا کی باتیں سن کر زار و قطار رونے لگی۔۔۔۔ یہ واقعہ اس کے دماغ پر بری طرح اثر انداز ہوچکا تھا، نازنین کو محسوس ہوا وہ بیلا کو نارمل کرتے کرتے شاید خود نارمل نہیں رہ سکے گی
"تم کسی کو بھی اپنا دوست نہیں بناؤ صرف اپنے بھائی کو اپنا دوست سمجھو، اپنی ساری باتیں مجھ سے شیئر کرو جو دل میں ہو وہ مجھ سے کہو۔۔۔ میں تمھاری ساری باتیں سنو گا، میں دوست بنو گا اپنی پیاری سی بہن کا،، اپنے بھائی کی خاطر اپنی اسٹڈیز پر توجہ دینے کی کوشش کرو، اپنے ذہن سے یہ بات نکال دو کہ کوئی تمہیں دیکھے گا یا تمہارے متعلق کچھ بات کرے گا۔۔۔۔ بتاؤ بیلا اپنے بھائی کی خاطر اپنی اسٹڈیز دوبارہ کنٹینیو کروں گی ناں، مانو گی اپنے بھائی کی باتیں"
افراہیم بیلا کو بہلاتا ہوا دوبارہ اس کے آنسو صاف کرتا ہوا اس سے پوچھنے لگا جس پر بیلا نے اقرار میں سر ہلایا نازنین خاموشی سے اپنے آنسو پونچھ کر اپنے دونوں بچوں کو دیکھنے لگی افراہیم کو محسوس ہورہا تھا بیلا کو تھوڑا زیادہ وقت اور توجہ دے کر وہ اس کو نارمل لائف میں لاسکتا ہے

ہر سال کی طرح اس سال بھی ہوۓ (paces)پیسز کے کمیٹیشن میں اس سال اس نے بھی شمولیت اختیار کی تھی، جہاں مختلف ممالک کے فوجیوں نے حصہ لیا تھا وہاں اس نے بھی اس کمیٹیشن کو بہت کم وقت میں باخوبی سرانجام دیا تھا
"مجھے پوری امید تھی کہ اس سال کے کمپیٹیشن کو آپ بالکل بھی مس نہیں کریں گے، آپ کو یہاں دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے"
وہ مقابلے کے اختتام پر کمشنر امان اللہ کے پاس آکر ان کو دیکھتا ہوا بولا۔۔۔ آج پورے چھ سال کے بعد ایک بار پھر وہ کمشنر امان اللہ کے سامنے روبرو کھڑا تھا
"اور تمہیں اس مقابلے میں جیت اپنے نام کرتا ہوا دیکھ کر مجھے تم سے زیادہ خوشی ہورہی ہے۔۔۔ دو منٹ میں 67 پل اپس، 30 منٹ میں دوہزار سٹ اپس،، 30 منٹ میں 13022 پش اپس۔۔۔ ویل ڈن مائے بؤاۓ"
کمشنر امان اللہ ازلان کا کندھا تپھتپھا کر فخریا انداز میں بولا۔۔۔ چھ سال پہلے 18 سال کا لڑکا اس وقت چوبیس سال کا لیفٹیننٹ (lieutenant)
تھا۔۔۔ یہ آزلان ہی جانتا تھا اس مقام تک پہنچنے میں اس نے کیا کچھ برداشت نہیں کیا تھا،، ذہنی اور جسمانی صحت کو برقرار رکھنے کے لئے مشکل ترین مشقتیں اور تعلیم کے ساتھ پانچ سالہ سخت ٹریننگ نے اس کو جسمانی طور پر کسی فولاد کی مانند سخت بنادیا تھا لیکن سینے کے اندر دھڑکتا ہوا اس کا دل آج بھی اس سنگ دل کے نام پر اکثر شور مچا اٹھتا جس کے جھوٹے الزام پر کتنے ماہ تک وہ ذہنی اذیت میں مبتلا رہا تھا،، بیلا کی حرکت کے بعد اب ازلان کو اس سے وفا کی امید یا توقع ہرگز نہیں تھی لیکن پھر بھی اس نے سوچ رکھا تھا وہ بہت جلد اس کے روبرو ہوکر اپنے ماہ و سال کی گزاری ہوئی اذیت کا حساب ضرور لے گا لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا اس سے پہلے اس کو چار سال کے لیے ایک مشن پر بھیج دیا جائے گا
****
"آگئی میری بیٹی"
نوف کے گھر لوٹنے پر رخشی اس کو دیکھ کر مسکراتی ہوئی پوچھنے لگی،، انگوری رنگ کے کپڑوں میں اس کی چمکتی ہوئی رنگت باہر تیز دھوپ کی تمازت سے اس وقت سرخ ہورہی تھی
"جی امی آگئی اسکول سے مگر باقی سب لوگ کہاں پر ہیں"
نوف چادر اتار کر تہہ کرتی ہوئی خالی گھر کو دیکھ کر رخشی سے پوچھنے لگی۔۔۔ایف اے کلیئر کرنے کے بعد اس نے گھر کے قریب ہی اسکول میں جاب کرلی تھی
"غزل گل کو لےکر اپنے میکے گئی ہے عدنان کا تو معلوم ہے،، کئی کئی دن گھر کا چکر نہیں لگاتا اور تمہارے چچا جان کو ابھی دوائی دی ہے تو وہ سو رہا ہے۔۔۔ تم بیٹھو میں تمہارے لیے کھانا لےکر آتی ہوں" رخشی اس کو سب کا بتاتی ہوئی تخت سے اٹھنے لگی کیونکہ وہ جانتی تھی اس کی بیٹی سے زیادہ دیر تک بھوک برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے
"چچا جان کی طبیعت کیسی ہے اب"
صبح جب وہ اسکول جارہی تھی تب نثار کی طبیعت کافی خراب تھی ویسے بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ کافی بوڑھا اور کمزور ہوچکا تھا۔۔۔ نوف صحن میں بچھے ہوئے تخت پر آکر بیٹھتی ہوئی رخشی سے نثار کا پوچھنے لگی
"صبح کی بانسبت کافی بہتر ہے یہ بتاؤ آج تاریخ کیا ہوگئی ہے"
رخشی صحن میں تخت پر نوف کے سامنے کھانے کی ٹرے رکھتی ہوئی معمول کی طرح اس سے تاریخ پوچھنے لگی جس پر نوف کے چہرے پر مسکراہٹ آئی
"بھائی کے واپس آنے میں ابھی بھی ہفتہ بھر باقی ہیں امی"
نوف کے مسکرا کر بولنے پر رخشی گھر کی در و دیوار کی طرف دیکھنے لگی جیسے کسی نے نوف کی بات نہ سن لی ہو اور ساتھ ہی نوف کو گھورنے لگی
"ابھی گھر پر کوئی بھی نہیں ہے امی اتنا بھی کیا ڈرنا"
نوف بولتی ہوئی کھانا کھانے لگی جیسے جیسے اس کی عمر بڑھتی جارہی تھی ویسے ویسے اس میں خود اعتمادی آتی جارہی تھی رخشی اس کے پاس تخت پر ہی بیٹھ گئی
"وہ واپس آئے گا تو پورے چار سال بعد دیکھوں گی اپنے بیٹے کو"
چار سال قبل وہ اپنے مشن پر جانے سے پہلے رخشی اور نوف سے ملنے آیا تھا،، پورے گھر میں صرف رخشی اور نوف ہی اس کی اصل جاب کے متعلق علم رکھے ہوۓ تھے
"تو اس میں اتنا اداس ہونے والی کونسی بات ہے امی، یہ تو خوشی کی بات ہے ہمارا مشکل وقت اب بہت جلد ختم ہونے والا ہے۔۔۔ یاد نہیں ہے آپ کو بھائی نے کیا کہا تھا واپس لوٹنے کے بعد ان کی پوسٹنگ جہاں بھی ہوگی وہ فوری طور پر ہم دونوں کو اپنے ساتھ لے جائیں گے۔۔۔ میں نے تو یہ چار سال اس امید پر صبر سے گزارے ہیں کہ ہم دونوں کا مشکل وقت ختم ہونے میں زیادہ دن نہیں بچے ہیں،، اس پل کا میں بےچینی سے انتظار کررہی ہو جب بھائی ہمیں یہاں سے لےکر جائیں گے۔۔۔ میں، آپ اور بھائی پھر ہم تینوں ایک ساتھ رہے گے"
جس طرح دس سال کا عرصہ رخشی اور نوف نے اس گھر میں گزارا تھا وہ کسی امتحان سے کم نہیں تھا غزل کی کڑوی کسیلی بات برداشت کرنا، گل کی عجیب دھوپ چھاؤں سی طبیعت، عدنان کا بدتمیزی کرتا ہوا گستخ لہجہ اور نوف پر پڑنے والی اس کی گندی نظریں۔۔۔۔ یہ تو اچھا ہی تھا عدنان کئی کئی دنوں تک گھر نہیں آتا لیکن وہ جب بھی گھر میں موجود ہوتا تو نوف کے ساتھ ساتھ رخشی بھی اس سے محتاط رہتی اور نوف کو اپنے ساتھ چپکاۓ رکھتی۔۔۔ رخشی اور نوف کو چھوڑ کر گھر کے باقی سب افراد کو یہی معلوم تھا کہ ازلان ان چار سالوں میں سزا کاٹنے کے بعد بیرون ملک جاب کے سلسلے میں گیا ہوا ہے جس پر غزل نے دوبارہ نوف کو اپنی بہو بنانے کا فیصلہ کیا تھا مگر اس شرط پر کہ واپس آکر ازلان اس کی گل سے شادی کرے گا
"تو پھر کب آرہا ہے وہ پڑھاکو تجھے اور اس بڑھیا کو واپس لے جانے کے لیے۔۔۔ اگر تو یہاں سے بھاگنے کا سوچ رہی ہے تو کان کھول کر سن لے نوف اس بھگوڑے کے ساتھ میں تجھے کہیں بھی نہیں جانے دوں گا اس بوڑھیا کو وہ بےشک یہاں سے لے جائے مگر تو خوش ہونا بند کردے،، تو اب کہیں نہیں جاۓ گی"
ناجانے عدنان کب گھر آیا تھا وہ ان دونوں کی کیا باتیں سن چکا تھا صحن میں داخل ہوتا ہوا وہ بدتمیزی سے نوف کے سامنے آکر بولا
"منہ سنبھال کر تمیز سے بات کرو عدنان یہ نہ ہو میرا بھائی واپس آکر تمہاری حرکتیں دیکھ کر تمہارے منہ کا نقشہ ہی بگاڑ ڈالے"
وقت گزرنے کے ساتھ نوف نے عدنان کو بھائی کہنا اور اس کی عزت کرنا چھوڑ چکی تھی۔۔۔ ویسے بھی وہ نوف سے جس قسم کی واہیات باتیں کرتا تھا وہ بھائی کہلانے کے لائق نہیں تھا۔۔۔ اب وہ کافی حد تک نڈر ہوچکی تھی ویسے تو نوف عدنان کے منہ کم ہی لگتی تھی نثار کے ہوتے ہوئے عدنان کی بھی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ وہ نوف سے بدتمیزی سے پیش آئے لیکن اس وقت عدنان جس لینگویج میں بات کررہا تھا نوف اسے غصے میں لتاڑتی ہوئی بولی جس پر عدنان ایک پل کے لئے چونکا اور رخشی ڈر گئی
"نوف خاموش کر جاؤ،، کھانا کھالیا ہے تو کمرے میں جاؤ اور خبردار جو تم نے اب زبان چلائی تو"
رخشی عدنان کے ماتھے پر بل دیکھ کر نوف کو ڈانٹتی ہوئی بولی وہ نہیں چاہتی تھی بات زیادہ بڑھے اس لیے اس نے نوف کو کمرے میں جانے کے لیے کہا
"کمرے میں یہ نہیں کمرے میں تو اب تو جائے گی بڑھیا،، اور میں نکالوں گا آج اس سالی کا سارا نخرا۔۔۔ پھر دیکھتا ہوں کون کس کا نقشہ بگاڑتا ہے وہ پڑھاکو یہاں آکر میرا یا پھر میں اس کا"
عدنان اچانک رخشی کو بازو سے کھینچ کر اسے کمرے میں بند کرنے کے لئے لے جانے لگا
"عدنان چھوڑو امی کو"
نوف عدنان کا ہاتھ رخشی کے بازو سے ہٹاتی ہوئی غصے میں چیخی جس پر عدنان نے رخشی کو چھوڑ کر نوف کو اونچا گود میں اٹھالیا
"عدنان کیا کررہے ہو چھوڑ دو اس کو تمہیں خدا کا واسطہ ہے"
جہاں نوف عدنان کے کندھے پر ہاتھ مارتی ہوئی اپنا آپ اسے چھڑوانے لگی وہی رخشی روتی ہوئی عدنان کے آگے آکر اس سے بولی
"آج نہیں چھوڑو گا اس پاکولا کی بوتل کو تو آج میں ایک ہی سانس میں پورا چڑھا جاؤ گا اسے مگر پہلے تجھے ہٹاکر راستہ صاف کرلو"
عدنان نوف کو صحن میں تخت پر پھینکنے کے بعد دوبارہ رخشی کو پکڑ کر کمرے کی طرف کھینچتا ہوا لےگیا جہاں سے شور کی آواز پر نثار کمرے سے باہر نکل رہا تھا۔۔۔۔ عدنان نے نثار کو واپس کمرے میں دھکا دیا اور رخشی کو بھی اسی کمرے میں دھکا دے کر باہر سے کمرے کی کنڈی بند کردی
"نوف بھاگ جلدی سے"
کسی خدشے کے تحت رخشی روتی ہوئی بند کمرے کی کھڑکی سے چیخ کر بولی جبکہ نثار کھانستا ہوا عدنان کو گالیاں دینے لگا۔۔۔ اس سے پہلے عدنان اس کی طرف بڑھتا نوف کو اپنی عزت بچانے کے لیے یہی ٹھیک لگا وہ تخت پر پڑی چادر اپنے گرد لپیٹ کر گھر کا دروازہ کھول کر تیزی سے بھاگنے لگی
****
وہ فائیو اسٹار ہوٹل میں بیٹھا ہوا پچھلے ایک گھنٹے سے تاشفہ کا انتظار کررہا تھا تاشفہ سے اس کی چھ ماہ قبل معیز (دوست) کے توسط سے ملاقات ہوئی تھی بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ معیز نے خود اس کی تاشفہ سے ملاقات کروائی تھی، تاشفہ معیز کی کزن تھی جو ایک سال پہلے امریکہ سے پاکستان شفٹ ہوئی تھی۔۔۔۔ خوبصورت ماڈرن اور بولڈ سی تاشفہ جو کافی حد تک موڈی طبعیت رکھتی تھی مگر اس کو اچھی لگی تھی
لیکن جیسے جیسے اس کی اور تاشفہ کی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا اس کو تاشفہ کے خیالات جان کر مایوسی ہوئی تھی بقول معیز کے اس نے اپنی آدھی لائف مللب جوانی کے وہ دن جب لڑکے انجوئیمنٹ میں گرل فرینڈ بناتے ہیں اس نے وہ عمر اپنی فیملی اور گھریلو مسئلوں کے نظر کردی، اب اٹھائس سال کی عمر میں اس کو اپنے متعلق سوچنا چاہیے تھا۔۔۔۔ اکثر وہ خود بھی کبھی کبھار اپنے ارد گرد جمع پریشانیوں سے گھبرا کر خواہش کرتا کہ کوئی ایک ایسا ہو جس کی سامنے وہ اپنا آپ کھول دے کوئی اس کے اکیلے پن کا ساتھی ہو جس کے وجود میں کھو کر وہ تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی اپنی پریشانیوں سے جان چھڑالے۔۔۔۔ لیکن جس طرح تاشفہ کی نیچر تھی اس سے ایسی امید لگانا بےکار تھی
"سوری ڈارلنگ تمہیں ویٹ کرنا پڑا دراصل آج جیمی کی ویکسین کروانا تھی اس کے بعد بیوٹی سلون میں میرا آپینٹمنیٹ تھا سو لیٹ ہوگئی، اینی ویز ہاؤ آر یو ہم پورے دو ماہ بعد مل رہے ہیں تم نے مجھے مس تو بہت کیا ہوگا ان دو ماہ میں"
ماڈرن سی تاشفہ بےباک سے لباس میں افراہیم کے سامنے کرسی پر بیٹھی ہوئی کانفیڈنس سے اس پوچھ رہی تھی۔۔۔ جیمی تاشفہ کی پرشین بلی تھی جس نے افراہیم کی طرح تاشفہ کی زندگی میں چند ماہ سے کافی اہمیت حاصل کرلی تھی۔۔۔ تاشفہ دو ماہ قبل پاکستان ٹور پر گئی تھی تاشفہ نے پوری کوشش کی تھی افراہیم بھی اسکے ہمراہ اس ٹرپ کو انجوئے کرتا۔۔۔ مگر وہ اپنی ذمہ داریوں سے جان چھڑا کر بھاگ نہیں سکتا تھا
"ویٹ تو میں شروع سے ہی تمہارا کرتا آیا ہوں، جب بھی ہمارے ملنے کا ڈیسائیڈ ہوتا ہے، مجھے نہیں یاد پڑتا کبھی تم ٹائم پر آئی ہو خیر یہ بتاؤ تمہارا ٹرپ کیسا رہا مجھے تو بالکل یاد نہیں کیا ہوگا تم نے"
آج صبح ضروری میٹینگ اٹینڈ کرنے کے چکر افراہیم نے ناشتہ بھی ڈھنگ سے نہیں کیا تھا اس لیے وہ مینو کارڈ اٹھاکر تاشفہ کی بات کا جواب دیتا ہوا بولا جس پر تاشفہ خوبصورتی سے مسکرائی
"سچ بتاؤ تو میں نے تمہیں بالکل مس نہیں کیا، جب میں پاکستان آئی تھی تو مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا یہاں اتنے خوبصورت اور حسین جگہیں ہوگیں یہ ٹرپ ایک خوشگوار اور یادگار ٹرپ رہے گا میرے لیے، میں امید کرو گی اگلا ایسا ہی ٹرپ ہم دونوں اکھٹے انجوۓ کریں"
تاشفہ افراہیم کو دیکھ کر مسکراتی ہوئی ایک ادا سے بولی تو افراہیم تاشفہ کا خوبصورت چہرا دیکھنے لگا جو خوبصورت ہونے کے باوجود اسے اکثر بناوٹی اور ارٹیفشل سا محسوس ہوتا تھا اور یہی تاشفہ کی فیلگیز کا حال تھا جس میں خالص پن ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا افراہیم نے تاشفہ کی بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھا بلکہ اسے یہاں بلوانے کی اصل وجہ پر آیا
"تاشفہ میں نے تمہیں یہاں پر آج بہت خاص بات کرنے کے لئے بلایا ہے، یو روز روز ہوٹلنگ کرنا میرے نزدیک ٹائم کو ویسٹ کرنا ہے اور سچ بولوں تو نہ ہی میرے پاس اتنا ٹائم ہوتا ہے کہ میں ان فضول کاموں کے لیے وقت نکال سکوں۔۔۔۔ چھ ماہ سے ہم دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہیں میرے خیال میں اب ہم دونوں کو سیریس ہوکر کوئی اسٹیپ لینا چاہیے شادی کے متعلق"
افراہیم تاشفہ کو دیکھ کر نہایت سنجیدگی سے بولا جس طرح اس وقت اس کے گھر کی صورتحال تھی افراہیم کو لگا تھا کہ اب اس کو شادی کرلینا چاہیے مگر تاشفہ اس کی بات سن کر پہلے تو سیریس ہوکر افراہیم کو دیکھنے لگی لیکن اچانک ہی اس نے زوردار قہقہہ لگایا جیسے تاشفہ نے افراہیم کی بات کو انجوائے کیا ہو
"اچھا سوری"
تاشفہ نے محسوس کیا جیسے اس کے ہنسنے پر افراہیم کو برا لگا ہو جبھی تاشفہ اس سے معذرت کرتی ہوئی اپنی ہنسی کو کنٹرول کرنے لگی
"مجھے نہیں معلوم تھا ڈارلنگ میری دو ماہ کی جدائی تم پر اتنا اثر کرے گی کہ تم ڈائریکٹ مجھے شادی کی آفر کردو گے"
تاشفہ سیریس ہوکر بولی مگر ایک بار پھر ہنسنے لگی تو اب افراہیم کو غصہ آنے لگا
"تاشفہ بی سیریس"
افراہیم کے تاثرات دیکھ کر تاشفہ کو اب کی بار واقعی سیریس ہونا پڑا
"دیکھو ہمارے ریلیشن کو مشکل سے ہی 6 ماہ ہوئے ہیں پورا سال بھی نہیں گزرا جو شادی جیسا بولڈ اسٹیٹ مجھے نہیں لگتا ہمیں اس کے بارے میں ابھی سے سوچنا چاہیے لیکن اگر تم جلدی شادی چاہتے ہو تو اس سے پہلے تمہیں ایسا نہیں لگتا کہ ہم دونوں کو ایک دوسرے کو بےحد قریب سے دیکھ لینا چاہیے"
تاشفہ کی بات پر افراہیم تھوڑا عجیب انداز میں اس کو دیکھنے لگا جس پر تاشفہ دوبارہ بولی
"میرا مطلب ہے ہمیں کم از کم ایک ماہ کے لئے کوئی گھر یا اپارٹمنٹ شئیر کرنا چاہیے جب ہم دونوں ایک دوسرے کو قریب سے دیکھیں گے ایک دوسرے کی اچھی بری عادتوں سے، مزاج سے واقف ہوگے تب ہی ہم شادی جیسا اسٹیپ لے سکتے ہیں"
تاشفہ اب کی بار سیریس ہوکر اس کو بولی افراہیم سمجھ گیا ایک دوسرے کو قریب سے دیکھنے کا کیا مطلب ہے وہ لیونگ ریلیشن شپ چاہتی تھی اسے تاشفہ کے مذید خیالات کو جان کر اور بھی زیادہ مایوسی ہوئی
"اور ایک ماہ بعد تمہیں لگا کہ ہمارے مزاج اور عادتیں ایک دوسرے سے نہیں ملتی تو میرا راستہ الگ اور تمہارا راستہ الگ رائٹ"
افراہیم تاشقہ کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا اچانک اس کی بھوک مر گئی تھی۔۔۔۔ آرڈر لینے کے لیے پاس آتے ہوئے ویٹر کو افراہیم نے دور سے ہی اشارہ کرکے روکا
"مجھے ہی کیوں ایک ماہ بعد تمہیں بھی ایسا لگ سکتا ہے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ زندگی بھر کے لیے ایڈجست نہیں کر سکتے"
تاشفہ کندھے اچکا کر افراہیم سے بولی چھ ماہ کے ریلیشن میں اسے اپنے سامنے بیٹھا یہ مرد کافی ان رومانٹک روکھا پیکھا سا لگا تھا
"ایک ماہ بعد نہیں مجھے ایسا ابھی لگتا ہے ہم دونوں زندگی بھر واقعی ایک دوسرے کے ساتھ آگے نہیں چل سکتے، یوں چند دنوں کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ رہ کر دیکھنے والی فارملٹی کو رہنے دینا چاہیے۔۔۔ جس دن تم نے مجھ سے یہ بات بولی تھی کہ شادی کے کم از کم چھ سال تک تمہیں کوئی بچہ نہیں چاہیے کیوکہ اس سے تمہارا فگر کا شیپ خراب ہوگا اگر تبھی تم اپارٹمنٹ شیئر کرنے والے اپنے خیالات کا بھی اظہار کرتی تو شاید ہمارا ریلیشن چھ ماہ بھی مشکل سے قائم رہتا کیونکہ میرے نزدیک کم از کم ایک لڑکی کو اتنا گیا گزرا نہیں ہونا چاہیے کہ وہ مرد کے آگے چادر کی طرح بجھ جائے"
افراہیم تاشفہ پر اپنے خیالات کا اظہار کرکے اٹھ کر وہاں سے چلاگیا اسے نہیں لگتا کہ اب تاشفہ اس سے دوبارہ رابطہ کرے گی اور وہ خود بھی یہی چاہتا تھا
"نفسیاتی مرد"
تاشفہ بڑبڑاتی ہوئی مینیو کارڈ اٹھا کر اپنے لئے آرڈر کرنے لگی
*****
"نوری تم آج بھی اپنی پوتی کو اپنے ساتھ نہیں لےکر آئی میں نے تم سے کل کہا تھا ناں مومنہ کو اپنے ساتھ لے آنا تھوڑی دیر کے لئے دل بہل جاتا ہے اس کو دیکھ کر میرا"
نازنین ڈائننگ ہال میں آتی ہوئی نوری کو دیکھ کر اداسی سے بولی،، اور اپنا کمزور ناتواں وجود لےکر کرسی پر بیٹھ گئی گزرے ہوئے دس سالوں نے اس کے اوپر وقت سے پہلے ہی بڑھاپے کی چھاپ چھوڑ ڈالی تھی، نازنین کو اس وقت دیکھ کر کوئی بھی نہیں بول سکتا تھا یہ وہی عورت تھی جس نے دو بچوں کے بعد بھی اپنی خوبصورت کو برقرار رکھا ہوا تھا لیکن اب ایک دم اس پر بڑھاپا آچکا تھا
"بیگم صاحبہ اب میں کیا بتاؤ آپ کو، میری بہو کے مزاج سے آپ واقف تو ہیں،،، مومنہ کو میں اپنے ساتھ لانا چاہ رہی تھی اور وہ معصوم بچی بھی میرے ساتھ آپ کے پاس آنے کے لیے راضی تھی مگر اللہ بھلا کرے میری بہو کا، جو اس نے مومنہ کو آپ سے ملنے کے لئے یہاں آنے دیا ہو عجیب چڑچڑی اور جھگڑالو طبیعت اور مزاج رکھتی ہے میری بہو آپ کو تو میں سب اپنے گھر کی کہانی بتاچکی ہوں"
نوری نازنین کو دیکھ کر بولنے لگی مگر وہ یہ بتاکر نازنین کا دل نہیں توڑنا چاہتی تھی کہ اس کی بہو نے مومنہ کو کیوں نازنین کے پاس جانے سے روکا تھا۔۔۔ دو سالوں سے نازنین پر پڑنے والے دوروں سے اس کی بہو کو ڈر تھا کہ نازنین اس کی چھوٹی سی بیٹی کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے
"آپ اداس کیوں ہورہی ہیں جی میں نے آپ سے بولا تھا آپ جلدی سے افراہیم صاحب کی شادی کروا دیں، جب افراہیم صاحب کے بچوں کی گلکاریاں پورے گھر میں گونجے گی تب اس گھر کی در و دیوار سے اداسی خود بخود چھٹ جائے گی اور گھر میں بہو کے آنے سے آپ کی طبیعت بھی بہل جائے گی۔۔۔۔ بس جی افراہیم صاحب کی بیوی آپ بہت دیکھ بھال کر اچھی طرح پرکھ کر لائیے گا کیونکہ افراہیم صاحب آپ کے اکلوتے بیٹے ہیں اور آپ میری بہو کے قصے مجھ سے روز ہی سنتی ہیں"
نوری نازنین کے چہرے پر اداسی دیکھ کر اسے مشورہ دیتی ہوئی بولی
"ایک ماہ ہوچکا ہے افی سے بولتے ہوئے کہ شادی کرلے نہ جانے اس لڑکے نے شادی کرنی بھی ہے یا نہیں۔۔۔۔ اب تو مجھے بہت فکر رہنے لگی ہے افی کی"
دو دن سے نازنین مکمل ہوش و حواس میں موجود تھی اس لیے وہ فکر مند لہجے میں نوری سے بولی
"اور جی آپ نے اپنی بیلا بی بی کے لیے کیا سوچا ہے وہ بھی تو ماشاء اللہ کی شادی کے لائق ہوگئی ہیں۔۔۔ اور جو پرسوں ان کے لئے رشتہ آیا تھا اس رشتے کا کیا بنا"
نوری افراہیم سے اس کا دھیان ہٹاکر بیلا کی طرف لگاتی ہوئی نازنین سے پوچھنے لگی کیونکہ پرسوں بیلا کے لیے رشتہ آنا تھا اور نوری یہاں پر موجود نہیں تھی
"ہاں بیلا کا تو رشتہ آنا تھا اور میں نے بیلا کو بہت پیار سے سمجھایا بھی تھا کہ شادی تو ہر لڑکی کو ایک نہ ایک دن کرنا ہوتی ہے وہ ان رشتے والوں کے سامنے بغیر ضد کیے یا روۓ تھوڑی دیر کے لئے آکر بیٹھ جائے میری خاطر، افی کی خاطر۔۔۔۔ پر مجھے یاد کیوں نہیں آرہا پرسوں کیا ہوا تھا بیلا کے رشتے والوں نے کیا کہا"
نازنین خود سے بولتی ہوئی اپنے دماغ پر زور ڈالنے لگی
"اچھا اچھا بیگم صاحبہ کوئی بات نہیں اگر یاد نہیں آرہا پریشان مت ہو،، میں آپ کے لئے سبز چاۓ بناکر لاتی ہوں"
نوری جلدی سے بولتی ہوئی کچن میں چلی گئی کیونکہ افراہیم ڈائننگ ہال میں آچکا تھا
"خاموش کیو بیٹھی ہیں اس طرح، کیا سوچ رہی ہیں مجھے نہیں بتائے گیں"
افراہیم نازنین کے پاس آکر خود بھی کرسی کھسکاتا ہوا بیٹھا مگر نازنین کو دماغی طور پر غائب دیکھ کر اس کا ہاتھ پکڑتا ہوا نازنین سے پوچھنے لگا۔۔۔۔ وہ افرائیم کے ہاتھ کا لمس محسوس کرکے چونکی اور افراہیم کو دیکھنے لگی
"پرسوں بیلا کا رشتہ آنے والا تھا ناں افی، تو پھر مجھے یاد کیو نہیں آرہا پرسوں رشتے والے کب آئے اور پھر بیلا ان کے سامنے آکر بیٹھی تھی کہ نہیں۔۔۔۔ انہوں نے ہماری بیلا کو پسند کیا یا نہیں، کیا ہوا تھا پرسوں افی"
نازنین پریشان ہوکر افراہیم سے پوچھنے لگی جس پر افراہیم نازنین کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھامتا ہوا بولا
"اس میں اتنا پریشان ہونے والی کیا بات ہے مما جو لوگ ہماری بیلا کو پرسوں دیکھنے کے لیے آنے والے تھے اپنے ایک ضروری کام کی وجہ سے انہوں نے کال کرکے اپنے آنے کا پروگرام کینسل کردیا تھا، اب وہ لوگ کل آئیں گے ہماری بیلا کو دیکھنے اور بیلا ان کے سامنے آجائے گی اس نے خود کہا ہے آپ ٹینشن نہ لیں"
یہ بھی سچ ہی تھا جو لوگ بیلا کو دیکھنے کے لئے آنے والے تھے وہ نہیں آسکے تھے وجہ نازنین کی بگڑتی ہوئی حالت تھی جو پرسوں اچانک خراب ہوگئی اس وجہ سے افراہیم نے ان کو کال کرکے آنے کا منع کردیا تھا
"ٹینشن کیسے نہیں لیا کرو میں بالکل اکیلی ہوچکی ہوں تم سے کب سے بول رہی ہو شادی کرلو، اگر ڈھیڑ دو سال پہلے تمہاری شادی ہوچکی ہوتی تو اب تک میں دادی بھی بن چکی ہوتی اپنی ماں کو کوئی احساس نہیں ہے تمہیں"
نازنین خفا ہوکر اس سے اپنا ہاتھ چھڑواتی ہوئی بولی تو افراہیم نازنین کو گھورنے لگا
"تو آپ مجھے شادی کے لیے اس لیے فورس کررہی ہیں کیونکہ آپ کو دادی بننے کی جلدی ہے۔۔۔ آپ مجھے پہلے ہی یہ بات بول دیتی تو میں آپ کو بےبی سینٹر سے ایک کی بجائے دو کیوٹ سے بےبیز لاکر دے دیتا تاکہ آپ کا ان کے ساتھ اچھا وقت گزر سکے"
افراہیم کی بات سن کر اب نازنیں اسے گھورنے لگی
"پورے بدھو ہو افی تم تو۔۔۔ ارے مجھے کسی دوسرے کا بچہ نہیں چاہیے تمہاری اولاد کے ساتھ وقت بتانا چاہتی ہوں میں۔۔۔۔ کیوکہ عباد وہاں جاکر بہت اکیلے ہوچکے ہیں اکثر بلاتے ہیں وہ مجھے اپنے پاس مگر میں ان سے کہہ دیتی ہوں کہ پہلے بیلا کی شادی ہوجائے، افی کے بچوں کو دیکھ لو پھر آؤں گی میں آپ کے پاس"
نازنین کی بات سن کر افراہیم تڑپ اٹھا وہ دوبارہ نازنین کا ہاتھ پکڑتا ہؤا بولا
"ایسی باتیں مت کیا کریں مما مجھے تکلیف ہوتی ہے"
چار سال قبل اچانک ہی عباد کی موت نے ان تینوں کی زندگی کا رخ بدل دیا تھا۔۔۔ جہاں افراہیم کی کوششوں سے بیلا میں آہستہ آہستہ مثبت تبدیلیاں آرہی تھی وہی اچانک عباد کے دنیا سے چلے جانے پر ان کی زندگیوں نے نیا رخ لے لیا تھا، جس کا سب سے زیادہ اثر نازنین نے لیا تھا۔۔۔۔ دو سال سے وہ ذہنی طور پر اس قدر کمزور ہوچکی تھی اچانک بیٹھے بیٹھے کہیں کھو جاتی اور 24 گھنٹے خاموش رہتی یا تو ماضی کی پرانی یادوں میں چلی جاتی ہے یا پھر اچانک اس کی طبیعت بگڑ جاتی اس کی پل پل بدلتی ہوئی کیفیت نے افراہیم اور بیلا دونوں کو ہی ڈرا کر رکھ دیا تھا
"صحیح ہے میں ایسی بات نہیں کروں گی مگر تمہیں میری بات کو بھی اہمیت دینا ہوگی،، مجھے جلد سے جلد اس گھر میں بہو چاہیے جو خوبصورت سیدھی سادی ہونے کے ساتھ ساتھ حساس طبیعت کی مالک ہو۔۔۔۔ کیونکہ نوری کی بہو جیسی لڑکی ایڈجسٹ نہیں کرسکے گی تمہارے ساتھ۔۔۔۔ اس لیے ایسی لڑکی کی تلاش کرو جو تمہیں اور ہمارے اس گھر کو سنبھال سکے مجھے پرامس کرو افی تم جلد سے جلد ایسی لڑکی کو ڈھونڈ کر اس سے شادی کرو گے"
نازنین کے کہنے پر افراہیم اس سے پرامس تو کرچکا تھا مگر اس کو معلوم نہیں تھا کہ ایسی لڑکی کہاں سے ملے گی جو خوبصورت اور سیدھی سادی ہو۔۔۔ وہ اپنا بزنس کو چھوڑ کر ایسی لڑکی تو تلاش کرنے سے رہا جو نوری کی بہو جیسی نہ ہو
طویل مسافت طے کرنے کے بعد اب اس کے پاؤں بری طرح دکھنے لگے تھے۔۔۔ نوف کو محسوس ہوا وہ تھوڑی دیر تک اور یونہی چلتی رہی تو شاید گر جاۓ گی اس لیے سنسان روڈ کی فٹ پاتھ پر بیٹھنے کے بعد اس کی آنکھیں آنسو بہاتی ہوئی پرسوں کا دن یاد کرنے لگی۔۔۔ جب عدنان اس کا پیچھا کرتا ہوا ریلوے اسٹیشن تک پہنچ گیا اور وہ اپنی عزت بچانے اور عدنان کی نظروں سے بچنے کی خاطر پٹری پر رینگتی ہوئی ٹرین میں چڑھ گئی تھی۔۔۔۔ جو چند سیکنڈ بعد دوسرے شہر جانے کے لیے تیزی پکڑ چکی تھی۔۔۔ نوف چاہ کر بھی اگلے اسٹیشن پر اتر نہیں پائی تھی
دس سالوں میں ایسا پہلی بار ہوا تھا جب عدنان نے اسے اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کی خاطر اپنے بڑھے باپ تک کی پرواہ نہیں کی تھی وہ کسی جنگلی جانور کی طرح بےخوف ہوکر اس کی عزت پر حملہ کرنے والا تھا۔۔۔ ٹرین میں سوار ہونے کے بعد نوف کو واپس گھر جانے کا سوچ کر خوف آنے لگا تھا۔۔۔ ٹرین میں موجود ایک شفیق عمردار جاتون کی ہمراہ وہ سفر کرتی ہوئی ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچ چکی تھی۔۔۔ بیچ سفر میں نوف نے دو سے تین مرتبہ اسی عورت کے موبائل سے رخشی کے نمبر پر کال ملائی تھی مگر ہر مرتبہ اس کی کال عدنان ہی اٹھاتا۔۔۔ وہ پریشان تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا آگے کیا کرے،، کہا جاۓ۔۔۔ شام سے پیدل چلتے ہوئے اب اس کے پاؤں بری طرح دکھنے لگے تھے بلکہ بھوک کے مارے اس کے پیٹ میں بھی درد ہونا شروع ہوگیا تھا۔۔۔۔ تب اچانک سنسان روڈ پر ایک گاڑی تیزی سے اس کے پاس سے گزرتی ہوئی چلی گئی مگر تھوڑی دیر بعد وہی گاڑی واپس آکر اس کے پاس رکی۔۔۔ نوف آنسو صاف کرتی ہوئی گاڑی میں سے اترنے والی اس ماڈرن سی عورت کو دیکھنے لگی
"تم اتنی رات میں اس طرح اکیلی اس سنسان سڑک پر بیٹھی ہو، یہ تمہارے لیے خطرے سے خالی نہیں ہے،، اگر تمہارے ساتھ کوئی مسلہ ہے تو مجھے بتاؤ شاید میں تمہارے کام آجاؤ"
وہ عورت نوف کو دیکھتی ہوئی بولی تو نوف اس ماڈرن عورت کو بھی ٹرین والی اس عورت کی طرح مہربان سمجھنے لگی جس نے نوف کے ساتھ اپنا کھانا بھی شئیر کیا تھا
"یہ شہر میرے لیے نیا ہے میں یہاں کے راستوں سے بالکل واقف نہیں ہو آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔۔۔ اگر آپ مجھے کسی دارلامان تک چھوڑ دیں تو میں ایک محفوظ جگہ پر پہنچ کر اپنے گھر والوں سے رابطہ کرلوں گی"
نوف کی بات سن کر وہ عورت غور سے نوف کو دیکھنے لگی
"اوہو تو تم اس شہر میں بالکل اجنبی ہو،،، کہاں کی رہنے والی اور یہاں تک کیسے پہنچی۔۔۔۔ یہ سب میں تم سے بعد میں پوچھوں گی ابھی تم میرے ساتھ میری گاڑی میں بیٹھ جاؤ کیونکہ یہاں زیادہ دیر کھڑے رہنا ہم دونوں کے لیے خطرے سے خالی نہیں"
اس عورت کی بات مانتے ہوئے نوف اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی چوائس بھی نہیں تھی۔۔۔۔ نوف کی داستان سننے کے بعد روبی نوف کو اپنے محل نما کوٹھی میں لے آئی اور نوف کو یقین دلایا کہ وہ صبح ہونے کے ساتھ ہی اس کے گھر والوں سے اس کا رابطہ کروا دے گی۔۔۔ اچھے سے کھانے کے بعد روبی نے اسکو سونے لیے کمرہ دکھایا۔۔۔ نوف اس کمرے کا دروازہ لاک کرکے سونے کے لیے لیٹ گئی یہ سوچے بغیر اگلی صبح اس کے لیے کتنی بھیانک ہوگی
*****
وہ اپنے کمرے میں پچھلے ایک گھنٹے سے مسلسل ٹہلے جارہی تھی،، اپنی زندگی میں درپیش چھوٹے چھوٹے مسائل کو لے کر وہ بہت جلدی پریشان ہوجایا کرتی تھی۔۔۔ اس وقت وہ اپنے آنے والے اس رشتے کے بارے میں سوچ رہی تھی جو افراہیم کے دوست کی توسط سے اسے دیکھنے کے لئے آنے والے تھے۔۔۔۔ گزرے ہوئے دس سالوں میں افراہیم کی اتنی محنت رنگ لائی تھی کہ اس نے اپنی پڑھائی کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا تھا وہ اب یونیورسٹی میں پہنچ چکی تھی مگر پڑھائی میں اس کی پہلے کی طرح توجہ نہیں رہی تھی بس وہ جیسے تیسے امتحانات پاس کرکے اگلی کلاس میں پہنچ جایا کرتی تھی۔۔۔ دوست اس کی کوئی بھی نہیں تھی نہ ہی اس نے خود سے کسی کو دوست بنایا تھا۔۔۔ صرف ایک عون ہی تھا جو کسی جونک کی مانند اس سے چپک گیا تھا۔۔۔ اس کے لاکھ نظرانداز کرنے اور غصہ کرنے پر بھی وہ بیلا سے دوستی کا خواہشمند تھا بیلا نے عون سے دوستی اسی شرط پر کی تھی کہ جب بیلا کا دل چاہے گا وہ اسے تب بات کرے گی ورنہ عون کو اس سے بات کرنے کی اجازت نہیں تھی
وہ بیلا کے سرکل سے تعلق نہیں رکھتا تھا نہ ہی اس کا کلاس میٹ تھا بلکہ چار سال قبل عباد کی ڈیتھ کے چھ ماہ بعد ایف بی کے تھرو اس کی عون سے رسمی بات چیت ہوئی تھی۔۔۔ موبائل کی بجنے والی گھنٹی بیلا کو اپنی طرف متوجہ کرچکی تھی اسکرین پر چمکتا ہوا عون کا نام دیکھ کر بیلا اس کی کال ریسیو کرتی ہوئی ٹیرس پر آکر جھولے پر بیٹھ گئی
"کال کررہی تھی تم، خیریت ہے ناں"
بیلا کو عون کی آواز سنائی دی۔۔۔ آج ان دونوں کی پورے دو ماہ بعد بات ہورہی تھی
"تمہیں معلوم ہے ناں میں تم سے کب بات کرتی ہو، جب میرا دل بہت زیادہ گھبراتا ہے یا پھر میں بہت زیادہ پریشان ہوتی ہوں"
بیلا اصطرابی کیفیت میں سیدھے ہاتھ کے ناخن منہ سے چباتی ہوئی عون سے بولی
"اور تمہاری آواز اور لہجہ دونوں یہ بتا رہے ہیں تم اس وقت پریشان بھی ہو اور گھبرائی ہوئی بھی ہو۔۔۔ کیا ہوا ہے کیا محسوس کررہی ہو مجھے تفصیل سے بتاؤ"
بیلا کو معلوم تھا ان چار سالوں میں عون اس کے ہر انداز سے خود اندازہ لگا لیتا تھا کہ وہ گھبرائی ہوئی ہے یا پھر پریشان ہے۔۔۔ کبھی کبھی بیلا کو محسوس ہوتا کہ عون اس کو بہت اچھی طرح سے جانتا ہے اس کی نیچر اس کے مزاج سے واقف ہے لیکن اس وقت بیلا بھی اس کے لب و لہجے پر چونکی تھی
"نہیں پہلے تم مجھے بتاؤ تمہیں کیا ہوا ہے تم بھی مجھے کچھ ڈسٹرب لگ رہے ہو"
بیلا کو آج اس کی آواز پہلے کی طرح ہشاش بشاش نہیں لگ رہی تھی اس لیے بیلا عون سے پوچھنے لگی
"تو آج آخرکار بیلا عباد کو محسوس ہو ہی گیا کہ اس کا دوست بھی ڈسٹرب ہوسکتا ہے"
عون کے الٹے جواب پر بیلا چڑ گئی
"تم میرے دوست نہیں ہو، کوئی بھی میرا دوست نہیں ہے۔۔۔ میں تمہیں پہلے ہی بتاچکی ہوں تم صرف ایک نیڈ (need) ہو۔۔۔ میں تمہیں اپنی ضرورت کے وقت یاد کرتی ہوں اور بس۔۔ تم میری اس خود غرضی کو دوستی سمجھو تو وہ ایک الگ بات ہے"
بیلا عون کو باور کرواتی ہوئی بولی اور یہ کافی حد تک یہ سوچ بھی تھا عون خود بھی جانتا تھا
"اس میں کوئی شک نہیں کہ تم دل دکھانے والا سچ بولتی ہوں مگر اچھی بات ہے تم سچ بولتی ہو،، تو مس بیلا تم اس بات کو چھوڑ دو کہ میں کیوں ڈسٹرب ہوں،، وجہ تم بتاؤ کے تم کیوں پریشان ہو"
عون کی بات سن کر وہ ایک پل کے لئے خاموش ہوئی مگر پھر اسے اپنا مسئلہ بتانے لگی
"آج مجھے دیکھنے کے لیے کچھ لوگ آرہے ہیں بھائی اور مما چاہتے ہیں کہ میں ان لوگوں کے سامنے جاکر بیٹھو،، پر میں نے تمہیں پہلے بھی بتایا تھا کہ یہ سب حرکتیں کرنا مجھے سخت زہر لگتی ہیں۔۔۔ پچھلی بار والی حرکت کرکے میں بھائی اور مما کو ناراض نہیں کرسکتی ہو اس لئے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کیا کرو"
بیلا عون سے اپنی پرابلم شیئر کرتی ہوئی بولی
"پچھلی بار والی بیوقوفی کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے یہ کوئی عقلمندی نہیں ہوتی کہ کوئی تمہیں دیکھنے آرہا ہو اور تم راہ فرار کے لئے سلیپنگ پلس کا سہارا لے لو۔۔۔ اس سے بہتر یہ ہے کہ تم سیدھا سیدھا اپنے گھر والوں کو منع کر دو یا پھر ان لوگوں کے سامنے جاکر رشتے سے انکار دو"
عون کی بات سن کر بیلا کو اپنا سر پیٹ لینے کو دل چاہا
"تم جانتے ہو میں بھائی مما یا پھر کسی دوسروں کے سامنے کچھ بھی نہیں بول سکتی"
بیلا اپنے لہجے میں بےبسی ظاہر کرتی ہوئی عون سے بولی
"جب تم خود اپنے لئے کچھ بھی بولنے کی ہمت نہیں رکھتی تو وہی کرو جو تمہاری مدر اور بھائی چاہتے ہیں۔۔۔ ویسے بھی وہ دونوں تمہارا اچھا ہی سوچ رہے ہوگے"
عون کی بات سن کر بیلا کو غصہ آنے لگا
"مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی کہ میرے مشکل وقت میں تم مجھے یوں الٹے سیدھے مشورہ دو"
بیلا عون کی بات سن کر اپنے غصے کا اظہار کرتی ہوئی اس سے بولی
"ٹھیک ہے پھر تمہارے مسئلے کا حل ہم دونوں ایسے نکال لیتے ہیں کے میں تمہارے بھائی سے مل کر بات کرلیتا ہوں اسے بتاتا ہوں کے میں تمہاری بہن کو پسند کرتا ہوں اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ تم مجھ سے شادی کرلو، اس طرح سے آنے والے ہر رشتے سے تمہاری ہمیشہ کے لیے جان چھوٹ جائے گی۔۔۔ شادی کے بعد تم مجھے اپنی نیڈ کے وقت یاد کرلینا اور میں تم سے اپنی نیڈ کا شکوہ بھی نہیں کروں گا"
عون نے جو بیلا کے مسئلہ کا حل نکالا تھا بیلا کا دل چاہا کہ وہ عون کو شوٹ کر ڈالے
"شٹ اپ عون، جسٹ شٹ اپ"
بیلا غصے میں بولتی ہوئی کال ڈسکنیکٹ کرچکی تھی۔۔ عون کے دوبارہ کال کرنے پر اس نے عون کی کال کو اگنور کردیا کیوکہ آج سے پہلے عون نے اس سے اس طرح کی فضول گوئی پہلے کبھی نہیں کی تھی
"بیلا بی بی آپ کو سیٹنگ روم میں بڑی بیگم صاحبہ بلا رہی ہیں گیسٹ آچکے ہیں آپ ان سے آکر مل لیں"
نوری اسے پیغام دیکھ کر جاچکی تھی بیلا اپنی آنکھیں بند کئے خود کو سیٹنگ آئیریا میں جانے کے لیے تیار کرنے لگی
*****
رات کو وہ سکون کی نیند سوگئی تھی صبح اسے کسی طرح دوبارہ رخشی سے رابطہ کرنا تھا مگر رخشی کے نمبر پر وہ عدنان کے ڈر سے دوبارہ کال نہیں کرنا چاہتی تھی، اسے افسوس اس بات کا ہورہا تھا اسے رخشی کے علاوہ صرف اپنی سہیلی بسمہ کا نمبر زبانی یاد تھا کاش کہ ازلان کا نمبر بھی اس کے دماغ میں محفوظ ہوتا۔۔۔ نوف بسمہ کا نمبر زہن میں سوچتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی،، دوسرے کمرے میں اسے روبی دو مردوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی نظر آئی جس کو دیکھ کر نوف کے قدم وہی رک گئے
"ارے وہی کیوں رک گئی ہو یہاں آؤ میرے پاس"
روبی نوف کو دیکھ کر اپنائیت بھرے لہجے میں بولی اس کے پاس بیٹھے ہوئے دونوں آدمی نوف کو دیکھنے لگے،، ان دونوں کے دیکھنے کے انداز سے نوف کو عجیب سا محسوس ہونے لگا وہ خاموشی سے چلتی ہوئی روبی کے برابر میں جا بیٹھی
"کہاں سے ملی"
سامنے بیٹھا ہوا آدمی اس کا مکمل جائزہ لیتا ہوا روبی سے پوچھنے لگا
"نوف نام ہے اس کا، اپنی ماں سے بچھڑ گئی ہے بےچاری کل رات میں اس کو اپنے ساتھ لے آئی تھی"
روبی اس آدمی کو بتانے لگی اور ساتھ میں آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ اشارہ بھی کیا تو وہ آدمی خاموش ہوگیا روبی مسکرا کر نوف کو دیکھنے لگی
"نوف تم ایسا کرو اس کمرے سے سیدھا جاکر لفٹ مڑ جاؤ وہاں پر کچن میں سلمہ ہے وہ تمہارے لئے ناشتہ بنادے گی، اس کے بعد ماہ رخ تمہیں اچھا سا ہیر کٹ دے کر تمہارا فیشل کردے گی،، تھوڑی بہت تمہاری گرومنگ سے تمہارے حسن کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہوجائے گا"
روبی کی بات نوف کے سر پر سے گزر چکی تھی بھلا اس کو کیا ضرورت تھی اپنے اچھے خاصے لمبے بالوں کو کٹوانے کی یا فیشل لینے کی مگر نوف کچھ بولے بغیر کمرے سے باہر نکل گئی کیوکہ اسے روبی کے ساتھ بیٹھے ہوئے دونوں آدمیوں کو دیکھ کر گھبراہٹ ہورہی تھی
ناشتہ کرنے کے دوران نوف کی چھٹی حس اسے مسلسل کوئی خطرے کا الارم دے رہی تھی۔۔۔ روبی کے گھر میں نہ جانے کتنے لوگ موجود تھے یہاں کے مرد ہی نہیں بلکہ عورتیں بھی اس کو عجیب طریقے سے دیکھ رہی تھی۔۔۔ ابھی وہ ناشتہ کررہی تھی جب اچانک ایک کمرے کا دروازہ کھلا جس میں سے ایک آدمی باہر نکلا،، اس کے پیچھے ایک لڑکی بےہودہ سی نائٹی پہننے کمرے سے باہر آئی جسے دیکھ کر نوف کا منہ حیرت سے کھلا۔۔۔ وہ لڑکی ہوکر اتنے چھوٹے اور کھلے کپڑوں میں ایسے ہی باہر نکل آئی تھی نوف صحیح سے اپنی حیرت کا اظہار بھی نہیں کرپائی تھی کیونکہ وہ آدمی باہر جانے سے پہلے اس نائٹی والی لڑکی کو اپنی باہوں میں جگڑتا ہوا اس کے ہونٹوں پر جھکا نوف نے گھبرا کر شرمندگی کے مارے جلدی سے اپنا سر نیچے جھکالیا ایسا فلمی سین سرعام دیکھ کر اسے شرمندگی سی ہونے لگی
"بیوٹی فل"
اب وہ آدمی نوف پر کمنٹس پاس کرکے باہر جاچکا تھا
"سلمہ جلدی سے میرے لیے ایک کپ اسٹرونگ سی چائے لےکر آؤ،، پورا جسم دکھ رہا ہے روبی کو بول دینا شام سے پہلے میرے کمرے میں کسی دوسرے کو نہ بھیجے آرام کرو گی میں اب تھوڑا"
نائٹی والی لڑکی سلمہ کو بول کر دوبارہ اپنے کمرے میں جاچکی تھی نوف ناشتہ چھوڑ کر خوف کے مارے کرسی سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی
"ناشتہ کرلیا تم نے تو میرے ساتھ کمرے میں چلو روبی بول رہی تھی کہ آج رات کے لیے تمہیں ریڈی کرنا ہے"
وہ شاید ماہ رخ نامی لڑکی تھی جو نوف کے ناشتہ کرنے کے انتظار میں کھڑی تھی
"مجھے ایک ضروری کال کرنا ہے"
نوف گھبراتی ہوئی اس لڑکی کو دیکھ کر بولی
"کس کو کال کرنا ہے"
روبی اب وہاں آچکی تھی اس کے ساتھ دونوں آدمیوں میں سے ایک آدمی بھی موجود تھا
"آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا صبح ہونے کے ساتھ ہی آپ مجھ سے میری امی کی بات کروا دیں گی"
نوف روبی کے بدلے ہوئے تیور دیکھ کر اسے کل رات کا کیا ہوا وعدہ یاد دلانے لگی جس پر روبی قہقہہ مار کر زور سے ہنسی
"بہت بھولی بھالی ہو تم لڑکی، وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوجائے۔۔۔ تم اب ایسی جگہ پر آچکی ہو جہاں سے واپسی ناممکن ہے اپنے سارے رشتے ناتوں کو سب کو بھول جاؤ بالکل ان لڑکیوں کی طرح جو یہاں پر میرے پاس موجود ہیں"
روبی نوف کو دیکھتی ہوئی کہنے لگی
"نہیں مجھے یہاں نہیں رہنا ہے۔۔۔ مجھے واپس جانا ہے"
نوف بولنے کے ساتھ باہر کے دروازے کی طرف جانے لگی تبھی روبی کے ہاتھ کا زناٹے دار تھپڑ اس کے منہ پر لگا وہ میز سے ٹکرا کر نیچے گر پڑی
"ارے یہ کیا کر رہی ہو روبی چہرہ تو مت بگاڑو اس بےچاری کا،، روحیل کی کال آرہی ہے کل سے وہ بےچین ہے کسی لڑکی کے لیے، میں تو کہتا ہوں آج رات روحیل کے فلیٹ پر اسی کو بھیج دو،، کم عمر اور خوبصورت مال کو دیکھ کر خوش ہوجائے گا مگر روحیل سے پہلے ذرا میں بھی اس حسین پری کا قریب سے دیدار کرلو ساتھ ہی اس کا سارا خوف بھی نکال دو گا"
وہ کالا سا لمبا تڑنگا آدمی بولتا ہوا نوف کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔ نوف شاید خوف سے بےہوش ہوجاتی مگر اس سے پہلے روبی اس آدمی کا ہاتھ پکڑ کر بول پڑی
"ابھی نہیں پہلے روحیل کو اپنی رات رنگین کرنے دو، کیونکہ کم عمر اور خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ یہ کنواری بھی ہے، دگنی قیمت وصول کروں گی روحیل سے اس کی۔۔۔۔ ماہ زخ اسے اپنے ساتھ لے جاؤ اور اس کا حلیہ بالکل تبدیل کرکے اسے شہزادی کی طرح سجادو۔۔۔ مگر اس سے پہلے اس کو دیبا اور روشنی کی حالت دکھا دینا تاکہ اس کو معلوم ہوجائے گی یہاں سے بھاگنے کی صورت میں اس کا کیا حشر کیا جائے گا"
روبی سخت دلی سے بولتی ہوئی نوف پر نظر ڈال کر وہاں سے چلی گئی
"یہ جو روبی ہے ناں بہت پاگل قسم کی عورت ہے،، مار مار کر اس لڑکی کی چمڑی ادھیڑ ڈالتی ہے جو کوئی اس کے مزاج سے ہٹ کر کام کرے مگر تم تو ایک نازک سی تتلی ہو جو اس محبوب خان کے دل کو بہاچکی ہو۔۔۔ آج رات روحیل کو خوش کرکے آجاؤ اس کے بعد پورے ہفتے کے لیے تمہیں اپنے بستر کی زینت بناکر رکھوں گا"
وہ آدمی نوف کے قریب آکر بولا تو نوف اس کی باتیں سن کر ڈر کے مارے رونے لگی وہ آدمی نوف کو روتا ہوا دیکھ کر ہنستا ہوا وہاں سے چلا گیا
"چلو بھئی اب جلدی سے اٹھ جاؤ ابھی تم پر کافی محنت کرنی ہے پھر رات کے لیے تمہیں تیار بھی کرنا ہوگا"
ماہ رخ نوف کو روتا ہوا دیکھ کر کوفت بھرے لہجے میں بولی اور نوف کو دوسرے کمرے میں لے جانے لگی
وہ آفس سے واپس گھر لوٹا تو اسے لان میں بیلا نظر آئی جو کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ افراہیم کار پارک کرتا ہوا بیلا کے پاس چلا آیا وہ جانتا تھا اس وقت بیلا کیا سوچ رہی ہوگی، اب اسے بیلا کو سمجھانا تھا اسے اس رشتے کے لیے منانا تھا جو کل اس کو پسند کرکے جاچکے تھے
"پریشان ہوں"
افراہیم کرسی پر بیٹھتا ہوا بیلا سے پوچھنے لگا تو بیلا ناراض نظروں سے افراہیم کی طرف دیکھنے لگی
"آپ اور مما چاہتے ہی کب ہیں کہ میں سکون سے رہ سکوں"
بیلا سر جھٹک کر شکوہ کرتی ہوئی افراہیم سے بولی
"میں اور مما ہم دونوں ہی تمہیں تمہاری آنے والی زندگی میں خوش دیکھنا چاہتے ہیں"
افراہیم بیلا کو دیکھتا ہوا بولا وہ ان دس سالوں میں جتنا بیلا پر توجہ دے سکتا تھا اس نے دی تھی مگر اس کے باوجود وہ کبھی کبھی مایوس ہوجاتا کیونکہ اس کی بہن دوسرے اجنبی لوگوں میں جھجھک محسوس کرتی تھی اس کی یونیورسٹی میں ابھی تک کوئی دوست نہیں تھی،، نارمل لائف گزارنے کے باوجود وہ اپنی ہی ایک الگ دنیا بنائی ہوئی تھی جس میں وہ کسی اسٹرینج کی مداخلت نہیں چاہتی تھی
"تو آپ دونوں نے میرے خوش رہنے کا حل یہ نکالا ہے کہ میری شادی کردی جائے، بھائی میں اپنی زندگی میں خوش ہوں کیسے یقین دلاؤں آپ کو اور مما کو"
بیلا دبے دبے غصے میں افراہیم کے سامنے بولی تو افراہیم نے بیلا کا گود میں رکھا ہوا ہاتھ نرمی سے اپنے ہاتھ میں تھاما
"شادی تو ہر لڑکی کو ایک نہ ایک دن کرنا ہوتی ہے، تم شادی کیوں نہیں کرنا چاہتی ہو"
وہ بیلا کو ناراض دیکھ کر پیار سے پوچھنے لگا
"آپ وجہ اچھی طرح جانتے ہیں تو پھر کیوں پوچھ رہے ہیں" بیلا نظریں چرا کر لان میں موجود پھولوں کو دیکھتی ہوئی بولی جو چند دن پہلے افراہیم کے کہنے پر گارڈنر نے لان میں لگائے تھے
"کیا تم عون کو پسند کرتی ہوں"
افراہیم وجہ اچھی طرح جاننے کے باوجود عون کا ذکر چھڑ چکا تھا جس پر حیرت سے بیلا نے افراہیم کو دیکھا
"بھائی کیا ہوگیا ہے آپ کو۔۔۔۔ عون کے بارے میں آپ کو بتانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ آپ اس کو لےکر بالکل ہی غلط رائے قائم کرلے وہ تو میری مرضی کے بغیر کبھی مجھ سے بات بھی نہیں کرتا،، نہ ہی میں نے کبھی اس کو دیکھا ہے۔۔۔ نہ ہی اس نے کبھی مجھے دیکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے پھر آپ کیسے سوچ سکتے ہیں میرے بارے میں ایسا کہ میں اس کو پسند کرتی ہوں"
بیلا افراہیم سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر ناراض لہجے میں بولی اور کرسی سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی
"اچھا جا کہا رہی ہو، میں نے تو یونہی ایک بات کہہ دی تھی بیٹھو واپس"
افراہیم اس کی ناراضگی محسوس کرتا ہوا بیلا کا ہاتھ پکڑ کر واپس کرسی پر بٹھا چکا تھا
"اگر تم عون کو پسند بھی کرتی تو مجھے یا مما کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا خیر اس کی بات کو چھوڑ کر اب ہم دونوں عمیر کی بات کرتے ہیں۔۔۔ عمیر بہت اچھا لڑکا ہے تم سے عمر میں چار یا پانچ سال بڑا ہوگا کافی سمجھدار اور سلجھا ہوا ہے اس نے جب کل تمہیں دیکھ کر اس رشتے میں حامی بھرلی تو میں نے تبھی اس کے سامنے ساری حقیقت رکھ دی تھی"
بیلا جانتی تھی افراہیم کس حقیقت کی بات کر رہا ہے وہ زخمی نظریں اٹھا کر افراہیم کو دیکھنے لگی مگر اب افراہیم اس کی بجاۓ لان میں لگے ہوئے پھولوں کو دیکھ رہا تھا پھر بولا
"کسی کو اندھیرے میں رکھ کر رشتے کی بنیاد قائم کرنا میری نظر میں اس کے ساتھ دھوکا کرنے کے برابر ہے مگر مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ حقیقت جاننے کے باوجود عمیر کو اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، وہ تم سے پہلے گھر میں آکر بات کرنا چاہتا تھا مگر میں جانتا ہوں تم فوری طور پر اس کے لیے تیار نہیں ہوگی اس لئے وہ تمہیں کال کرے تو پلیز میری خاطر اس سے بات کرلینا" افراہیم کی بات پر بیلا خاموش رہی اسے اپنے بھائی کا مان رکھنے کے لیے عمیر سے بات کرنا تھی دل کے نہ ماننے کے باوجود اسے اس رشتے کو قبول کرنا تھا اچانک سے اسے ڈھیر ساری اداسی نے آگھیرا۔۔۔ بھولا بسرا سا ایک چہرا اس کو یاد آیا،، بیلا اب اس کو یاد نہیں کرنا چاہتی تھی مگر وہ اس کو بھول بھی تو نہیں پائی تھی۔۔۔ وہ خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں جانے لگی
****
روبی کے کہنے پر ماہ رخ نے واقعی اسے شہزادی کی طرح سجا ڈالا تھا آج سے پہلے اس نے کبھی ہاتھ پاؤں پر ویکس کا استعمال نہیں کیا تھا نہ ہی کبھی اپنی آئی بروز کو چھیڑا تھا۔۔۔ فیشل مساج کے بعد وہ اپنے لمبے بالوں کو کٹا ہوا دیکھ کر بہت روئی تھی۔۔۔ ماہ رخ کے دئیے گئے مکمل ٹریٹمنٹ نے اس کا لک کافی حد تک پہلے والے روپ سے چیلنج کردیا تھا۔۔ پھر رات کے لیے اس کو جو لباس زیب تن کرنے کے لیے کہا گیا، اس لباس کو دیکھنے کے بعد نوف کا دل کیا کہ وہ اس لباس کو پہننے سے انکار کر ڈالے مگر پھر اسے دیبا اور روشنی کے تشدد زدہ وجود یاد آنے لگے
سلیولیس شرٹ اور گہرے گلے میں اسے اپنا آپ عریاں محسوس ہورہا تھا شرم کے مارے وہ بار بار دوپٹے سے اپنے آپ کو چھپانے کی کوشش کر رہی تھی مگر شفون کے دوپٹے کے بار بار پھسلنے سے یہ کوشش ناکام ہورہی تھی،، ماہ رخ نے اس کا زبردست میک اپ کرنے کے بعد اس کو ہلکی پھلکی سی جیولری بھی پہنائی تھی
"ماہ رخ اگر میک اپ کرنے کا تکلف نہ بھی کرتی تم بھی کام چل جانا تھا لیکن اس روپ میں تم اور بھی زیادہ غضب ڈھا رہی ہو، آج رات روحیل کا دل خوش کردینا اس کو کوئی تکلیف کا موقع نہیں دینا"
روبی نوف کو روحیل کے فلیٹ میں بھیجنے سے پہلے بولی اور ساتھ ہی اس کو کسی قسم کی ہوشیاری نہ دکھانے کی بھی تنبیہہ کرنے لگی
"اور اس کے بعد پھر پورا ایک ہفتہ میں اس تتلی کو اپنے پاس رکھوں گا اپنی رانی بناکر"
محبوب نوف کو للچائی ہوئی اور ہوس بھری نظروں سے دیکھ کر بولا جس پر روبی ایک ادا سے مسکرائی۔۔۔ جبکہ نوف مسلسل راہ فرار کے بارے میں یا پھر اپنی جان لینے کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔۔ دس منٹ پہلے اس کو روحیل کی فلائٹ میں لایا گیا تھا نوف نے ہر ممکن کوشش کی تھی کہ وہ یہاں سے باہر نکل سکے مگر اس کو محسوس ہو رہا تھا شاید آج اس کی قسمت ساتھ نہیں دے گی وہ پانچ منزلہ فلیٹ کی بالکونی پر کھڑی نیچے دیکھ رہی تھی اور دل میں یہی سوچ رہی تھی کاش کے وہ بالکونی پوری طرح جالی سے کور نہیں ہوتی وہ یہاں سے چھلانگ لگاکر اگر اپنی جان نہ بھی دے سکے مگر اپنی عزت تو بچا سکتی تھی
"کیا ہوا یہاں سے بھاگنے کے بارے میں سوچ رہی ہو، تھوڑا مشکل ہے یہاں سے فرار ہونا"
وہ جو بالکنی میں کھڑی اپنی سوچوں میں گم تھی ایک دم کمرے میں سے آتی مردانہ آواز پر مڑتی ہوئی خوف کے مارے دیکھنے لگی۔۔۔ 30 سال کی عمر کے لگ بھگ سوٹ بوٹ پہنا ہوا آدمی یقیناً روحیل چختائی تھا۔۔۔ جس کے لئے آج اس کو یوں سجایا سنوارا گیا تھا، روحیل نے کمرے میں آنے کے ساتھ ہی کمرے کا دروازہ بند کردیا تو نوف اپنا کندھے سے ڈھلکا ہوا دوپٹہ جلدی سے ٹھیک کرنے لگی
"دیکھئے میں ویسی لڑکی نہیں ہوں جیسا آپ سمجھ رہے ہیں میں ایک شریف گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں۔۔۔ روبی نے مجھے زبردستی میری مرضی کے بغیر یہاں آپ کے پاس بھیجا ہے پلیز مجھے یہاں سے جانے دیں"
نوف بالکنی سے کمرے میں آتی ہوئی روحیل کو دیکھ کر بولی۔۔۔ روحیل اسے حلیے اور لب و لہجے سے پڑھا لکھا لگ رہا تھا۔۔۔ اسے لگا روحیل اس کی مجبوری سمجھے گا اور ترس کھاکر اسے یہاں سے جانے بھی دے گا
"میں بھی ویسا آدمی نہیں ہوں جیسا تم مجھے سمجھ رہی ہو میں بھی ایک شریف گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں۔۔۔ ایک عدد خوبصورت بیوی اور دو بچے ہیں میرے، ہر قسم کی لڑکی کے ساتھ رات گزانا مجھے پسند نہیں ہے اور نہ ہی یہ سب میرا مشغلہ ہے بس مہینے دو مہینے میں ایک آدھ بار ہی۔۔۔۔ یو نو،،، روبی کو میرا مزاج اور اسٹینڈرڈ معلوم ہے اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے روبی نے تمہیں آج رات میرے لئے سلیکٹ کیا ہے اور ماننا پڑے گا اس کا منتخب کردہ آج رات کا یہ سرپرائز،، تمہارا مدھوش کرنے والا یہ حُسن واقعی اس قابل ہے کہ اس کو بہت نزدیک سے دیکھا جائے اس لیے وقت ضائع کئے بغیر یہاں میرے پاس آجاؤ،، نخرے مجھے بالکل بھی پسند نہیں ہیں اور صبح مجھے میٹنگ بھی اٹینڈ کرنا ہے"
روحیل نوف سے بات کرنے کے ساتھ ہی شراب کی بوتل اور ایک گلاس سامنے میز پر رکھتا ہوا خود صوفے پر بیٹھ چکا تھا۔۔۔ نوف آنسو بہاتی ہوئی روحیل کو دیکھنے لگی
"تم ابھی تک وہی کھڑی ہو دیکھو میں جانتا ہوں یہ سب جو آج تمہارے ساتھ ہوگا وہ تمہارا پہلا تجربہ ہوگا۔۔۔ روبی کے پاس جتنی بھی نئی لڑکیاں آتی ہیں وہ پہلی دفعہ میں ایسے ہی ڈری سہمی ہوتی ہیں پھر آہستہ آہستہ انہیں اس کام کی عادت ہوجاتی ہے تمہیں بھی ہوجائے گی۔۔۔ یوں رونا دھونا مچا کر تم کچھ ایکسڑا ہی کررہی ہو،، میں آج رات تمہارے ساتھ گزارنے کی ایک اچھی اماؤنٹ روبی کو دے چکا ہوں اس لیے میرا ٹائم ویسٹ نہیں کرو"
روحیل نوف کو روتا ہوا دیکھ کر بہت آرام سے سمجھانے لگا
"بغیر رشتے کے اس طرح کیسے،، پلیز آپ مجھ سے شادی کرلیں"
نوف اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی روحیل سے بولی جس پر وہ قہقہہ مار کر ہنسا
"شادی کرلو تم سے،، وہ کیوں بھئی۔۔۔ تم میری تعریف کو غلط انداز میں لے رہی ہو میری بیوی بھی بہت خوبصورت ہے اور میں اپنی لائف میں اس کے ساتھ بہت خوش ہوں تمہیں بتایا تو ہے یہ سب میرا مشغلہ نہیں ہے۔۔۔ کبھی کبھار روٹین لائف سے ہٹ کر یا تھوڑا سا ذائقہ بدلنے کے لیے میں روبی سے کانٹیکٹ کرلیتا ہوں اب تم میرا کافی وقت لے چکی ہو۔۔۔ جاؤ جاکر بیڈ پر لیٹ جاؤ"
روحیل شراب کا گلاس خالی کرچکا تھا۔۔۔ وہ خالی گلاس کو دوبارہ شراب سے بھرتا ہوا نوف سے بولا۔۔۔ ایک بار پھر آنکھوں سے امڈ آنے والے آنسوؤں کو صاف کرتی ہوئی نوف بیڈ کی طرف دیکھنے لگی جس کی طرف قدم بڑھانا اسے دشوار لگ رہے تھے۔۔ اس سے پہلے روحیل صوفے سے اٹھ کر نوف کر پاس آتا نہ جانے کس خیال کے تحت وہ بیڈ کے برابر میں موجود دروازہ کھول کر تیزی سے اندر چلی گئی اور دروازہ اندر سے بند کرلیا
"دروازہ کھولو دیکھو میں ابھی تک تمہارے ساتھ بہت نرمی سے پیش آرہا ہوں، میں نہیں چاہتا کہ میں روبی کو کال کرکے تمہاری کمپلین کرو اور وہ یہاں آکر تمہارے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کرے۔۔۔ میں تمہارے باہر آنے کا صرف بیس منٹ تک ویٹ کروں گا اس کے بعد میں روبی کو یہاں بلا لوں گا"
نوف کو ڈریسنگ روم کے اندر جاکر دروازہ بند کرتا ہوا دیکھ کر روحیل نوف سے بولا۔۔۔ اور صوفے پر بیٹھ کر شراب سے اپنا دل بہلانے لگا
****
عمیر کی باتیں سننے کے بعد وہ شاکنگ انداز میں موبائل ہاتھ میں پکڑے چند سیکنڈ تک بیٹھی رہی پھر اپنا غصہ دباتی ہوئی عون کا نمبر ڈائل کرنے لگی،، کافی دیر بیل جاتی رہی اس کے بعد دوسری طرف سے کال ریسیو کی گئی
"تو پورے دن کے 24 گھنٹے مجھے اگنور کرنے کے بعد آخر کار رات میں تمہیں میری ضرورت پڑ ہی گئی"
عون کی طرف سے بولا گیا جملہ مزاق میں یا طنز میں ہرگز نہیں تھا بیلا کو محسوس ہوا جیسے وہ خود بھی دلبرداشتہ یا پریشان ہو مگر اس کی بات کا مفہوم ایسا تھا کہ بیلا نظر انداز نہیں کر سکی
"شٹ اپ عون تمہاری فضولیات سننے کے لیے کال نہیں کی ہے میں نے تمہیں"
عون کی ڈبل میننگ بات پر بیلا اسے ٹوکتی ہوئی بولی تو عون فورا بولا
"اوکے پھر مجھے بتاؤ کہ کیا مسئلہ درپیش آگیا ہے تمہیں"
بولتے ہوئے اس نے کوشش کی تھی کہ اپنی آواز کے بھاری پن کو اعتدال میں رکھ کر بات کرسکے مگر بیلا اس کی آواز پر چونکی
"کیا ہوا ہے تمہیں تم مجھے کچھ پریشان لگ رہے ہو"
عون کے لب و لہجے پر وہ بھول چکی تھی کہ اس نے عون کو غصے میں کال ملائی تھی
"پریشان نہیں بالکل اکیلا ہوگیا ہوں میں،، تکلیف کے احساس سے محسوس ہورہا ہے سینے میں موجود یہ دل باہر آجاۓ گا میرا، مگر جانے دو تم اپنا مسلئہ بتاؤ کیا ہوا ہے"
وہ شروع دن سے اپنے مسلئے مسائل بیلا سے شئیر نہیں کرتا تھا۔۔۔ صرف بیلا کی پریشانیاں اس سے سنتا تھا، عون کی بات سن کر بیلا پل بھر کے لیے خاموش ہوئی ایک پل کے لیے اس کا دل کیا عون سے اس کی پریشانی کے بارے میں پوچھے مگر وہ عون کی نیڈ نہیں بننا چاہتی تھی وہ صرف اپنے مسلے اس سے شیئر کرتی آئی تھی اسی شرط پر وہ اس سے بات کرتی تھی
"عمیر کو تم نے کال کرکے کہا ہے کہ وہ خود میرے بھائی کے سامنے اس رشتے سے انکار کردے ورنہ سنگین نتائج کا وہ خود ذمہ دار ہوگا"
بیلا مطلب کی بات پر آئی اور عون سے پوچھنے لگی
"تم خود بھی اس رشتے کے چکر سے نجات چاہتی تھی، میں نے تمہاری مدد کی ہے"
عون آرام سے بولا
"کیا میں نے تم سے کہا تھا تم میری اسطرح سے مدد کرو"
بیلا خود بھی یہی چاہتی تھی مگر اب نہ جانے وہ کیوں عون پر غصہ کررہی تھی
"ٹھیک ہے میں دوبارہ عمیر کو کال کرکے اس سے ایکیوز کرلیتا ہوں اور کہہ دیتا ہوں کہ وہ کل پھر تمہارے گھر پر دوبارہ اپنا رشتہ لےکر آجائے"
عون کا نرم لہجہ اور انداز اس کو مزید سلگا گیا
"تم حد سے زیادہ بڑھ رہے ہو عون اگر میں تم سے اپنی پرابلمز شیئر کرتی ہوں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ جو تمہارے دل میں آئے یا جو تمہیں صحیح لگے، تم کسی سے کچھ بھی بولتے رہو۔۔۔ تمہیں یہ حق حاصل نہیں ہے کہ تم کسی کو بھی بول دو کہ میں اور تم ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔۔۔ ویسے عمیر کے بارے میں معلومات کہاں سے حاصل کی تم نے، میں نے تو تمہیں اس کے نام کے علاوہ کچھ بھی نہیں بتایا تھا اس کا فون نمبر اور باقی دوسری معلومات کہاں سے حاصل کی تم نے،، تمہارا ارادہ کیا ہے عون، تم چاہتے کیا ہو"
بیلا سخت لہجے میں عون سے پوچھنے لگی وہ جو خاموشی سے بیلا کی بات سن رہا تھا تھوڑی دیر بعد بولا
"تم خود کیا چاہتی ہوں بیلا، یہ مجھے مت بتاؤ بلکہ اپنے کمرے میں موجود آئینے کے سامنے کھڑی ہوکر خود سے پوچھو"
عون بیلا کو بولتا ہوا کال کاٹ چکا تھا کیوکہ اس کے پاس موجود اس کے مسلے مسائل بیلا کے مسائل سے بڑے اور قابل غور تھے جبکہ دوسری طرف بیلا واقعی سوچ میں پڑگئی کہ وہ کیا چاہتی ہے اس سے پہلے کہ وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہوکر خود سے سوال کرتی بادل کی گرج دار آواز پر وہ صوفے سے اٹھ کر کھڑکی بند کرنے لگی
*****
"ارے بدبخت چھوڑ دے میرے لال کو، مار مار کے تو نے اس کا بھرتا بنا ڈالا ہے۔۔ اب کیا جان لے گا میرے بچے کی،، ارے احسان فراموش تیری ماں اور بہن دس سالوں تک اس چھت کے نیچے رہی ہیں یہ صلہ دے رہا ہے تو ہمارے احسانوں کا۔۔۔ میں کہتی ہو چھوڑ میرے عدی کو"
وہ شاید آج سچ میں عدنان کا گلا دبا کر اس کی جان لے لیتا غزل دہائیاں دینے کے ساتھ ازلان کو پیچھے ہٹاتی ہوئی بولی جبکہ گل سکتے کی کیفیت میں خاموش کھڑی کافی دیر سے عدنان کو بری طریقے سے ازلان کے ہاتھوں مار کھاتا ہوا دیکھ رہی تھی
"مار ڈالوں گا میں اسے۔۔۔ سچ میں جان لےلو گا میں آج اس ذلیل انسان کی اپنے ہاتھوں سے، اگر مجھے میری بہن نہیں ملی تو۔۔۔ اس گھٹیا انسان کی وجہ سے میری بہن اپنی عزت بچانے کے لئے یہاں سے بھاگ گئی تھی،، چچا جان اور میری امی اس کمینے کی کمینگی کو دیکھ کر صدمہ برداشت نہیں کر پائے اور دنیا سے چل بسے آپ کو تو خود چاہیے کہ ایسی بدکردار اولاد کو خود اپنے ہاتھوں سے مار ڈالیں"
ازلان غصے میں غزل کو بولتا ہوا ایک بار پھر عدنان کو مارنا شروع کرچکا تھا
"جو خود دوسری لڑکیوں کی عزت اچھالتے ہیں پھر انکی اپنی بہنوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے"
گل کی بات سن کر ازلان عدنان کو چھوڑتا ہوا تیزی سے اس کی طرف بڑھا
"ایک بھی لفظ اگر تم نے اپنے منہ سے دوبارہ نکالا تو میں بھول جاؤں گا کہ تم لڑکی ذات ہو"
ازلان غصے میں انگلی اٹھا کر گل کو وارننگ دیتا ہوا بولا اتنے میں عدنان موقع دیکھ کر گھر سے نکل کر باہر بھاگ گیا اس سے پہلے ازلان اس کے پیچھے بھاگتا غزل اس کے آگے دیوار بن کر کھڑی ہوگئی جبکہ گل ازلان کا بازو پکڑتی ہوئی بولی
"عدی کو مارنے سے کوئی فائدہ نہیں، ببلی کے بھائی نے نوف کو اس دن ریلوے اسٹیشن میں کسی چلتی ٹرین میں دیکھا تھا وہ اس شہر اس علاقے میں موجود ہو ایسا ممکن نہیں"
گل کی بات سن کر ازلان حیرت سے اسے دیکھنے لگا پھر تھکے قدموں سے چلتا ہوا پلنگ پر بیٹھ گیا
وہ خوش تھا اور بےتاب بھی پورے چار سال بعد اپنے بتاۓ ہوۓ آمد کے دن سے پہلے وہ رخشی اور نوف کو آکر سرپرائیز دے گا مگر جو حقیقت لیے رخشی اس کا انتظار کررہی تھی وہ سن کر ازلان کے پیروں تلے زمین نکل چکی تھی، اس کی بہن نہ جانے کہاں چلی گئی تھی۔۔۔ عدنان کی گری ہوئی حرکت پر نثار نے صدمہ لےکر اسی وقت اپنی جان دے دی تھی جبکہ رخشی ازلان کو عدنان کے نیچ حرکت کے بارے میں بتانے کے لیے اب تک سانسیں لے رہی تھی۔۔۔ آج صبح ہی اس نے ازلان کے سامنے دم توڑ دیا تھا، اس کی بہن کہاں تھی کس حال میں تھی ازلان کو کچھ خبر نہیں تھی۔۔۔ مگر اسے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھنا تھا اپنی بہن کو ڈھونڈنا تھا
"مما کیا ہوا ہے آپ کو"
تھوڑی دیر پہلے نوری نے افراہیم کے کمرے میں آکر اس کو نازنین کی طبیعت خرابی کا بتایا تھا افراہیم فورا نازنین کے کمرے میں آتا ہوا نازنین سے پوچھنے لگا
"تم نے میری بات نہیں مانی نہ تمہارا گھر اپنی آنکھوں کے سامنے بستا ہوا دیکھ لیتی تو سکون آجاتا مگر اب وقت نہیں بچا میرے پاس، عباد کے پاس جانا ہے مجھے"
موسلا دھار بارش ہونے کی وجہ سے اچھی خاصی ٹھنڈک ہوچکی تھی مگر نازنین بیڈ پر پسینوں میں بھری لیٹی ہوئی افراہیم کو دیکھتی ہوئی بولی
"آپ پھر وہی باتیں کررہی ہیں جو مجھے ہرٹ کریں اچھا اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کریں"
افراہیم نازنین کو سہارا دیتا ہوا اسے بیڈ پر بٹھانے لگا وہ شروع سے ہی بہت نازک دل کی تھی ذرا سی طبیعت خراب ہونے پر بالکل ہی ہمت چھوڑ دیتی تھی اس وقت وہ یقینا گھبراہٹ محسوس کررہی تھی ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا افراہیم اس کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے کا ارادہ رکھتا تھا
"میری بیلا کا بہت زیادہ خیال رکھنا"
نازنین بولتی ہوئی بند آنکھیں کھول کر افراہیم کو دیکھنے لگی اس وقت گھڑی رات کے تین بجا رہی تھی بیلا سوچکی تھی افراہیم نوری کو آواز دینے لگا تاکہ گلاب خان سے مین گیٹ کھولنے کا بول سکے
*****
"جو کچھ ہوچکا ہے اس کے بارے میں اگر تم نے کسی سے بھی بات کی تو میں تمہارے ساتھ بار بار وہی کرو گا"
اپنے خواب میں بیلا کو وہی بھیانک آواز سنائی دی، ساتھ ہی دس سال پہلے والا منظر یاد آیا جب وہ اسے ہسپتال کے کمرے میں آکر دھمکا رہا تھا کہ اگر بیلا نے کسی کے سامنے اس کا نام لیا تو وہ بیلا کے ساتھ وہی سب کچھ دوبارہ کرے گا۔۔۔ اس وقت وہ ڈر گئی تھی تھوڑا بہت نہیں، بلکہ بہت زیادہ ڈر گئی تھی۔۔۔ اس تکلیف دہ عمل سے جو اس رات اس کے ساتھ کیا گیا تھا
"چھوڑ دو، چھوڑ دو مجھے میں نہیں بولو گے کسی سے کچھ بھی نہیں بولوں گی۔۔۔ پرامس نہیں بولوں گی مجھ سے دور رہو مجھے درد ہورہا ہے"
بیلا نیند سے جاگ کر بیڈ پر بیٹھتی ہوئی اس طرح چیخنے لگی جیسے وہ اس دن ہسپتال میں چیخ رہی تھی
"بھائی۔۔۔۔ بھائی پلیز مجھے بچالیں،، میرے پاس آجائیں۔۔۔۔ مما مما مما"
بیلا کے زور زور سے چیخنے پر جب اس کے پاس کوئی بھی نہیں آیا تو وہ ضرورت پڑنے پر عون کو کال ملانے لگی
"کیا ہوا بیلا تم ٹھیک ہو ناں"
پہلی ہی بیل پر کال ریسیو کرلی گئی تھی شاید عون پہلے سے ہی جاگا ہوا تھا
"ڈر لگ رہا ہے مجھے عون بہت زیادہ ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ بھائی اور مما میرے پاس میرے کمرے میں نہیں آرہے ہیں۔۔۔ وہ آجائے گا دوبارہ،،،، مم۔۔۔ مار ڈالے گا مجھے گلا دبا کر"
بیلا موبائل کان سے لگائے ہوئے عون سے بولتی ہوئی باقاعدہ ڈر کے مارے کانپ رہی تھی۔۔۔ سالوں بعد آج پھر اس پر وہی کیفیت طاری ہو چلی تھی
"بیلا میری بات غور سے سنو تمہیں کوئی کچھ نہیں کہے گا،، نہ ہی تمہیں کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے۔۔۔ بالکل ریلیکس ہوجاؤ اور میری بات پر بھروسہ کرو میں تمہیں کچھ بھی نہیں ہونے دوں گا آئی پرامس"
عون اس کی آواز سے اندازہ لگا سکتا تھا وہ اس وقت بری طرح ڈری ہوئی تھی جبھی وہ اپنی پریشانی تھوڑی دیر کے لئے فراموش کرتا ہوا بیلا کو یقین دہانی کرواتا ہوا بولا
"تم ایسے کیسے بول سکتے ہو، تم اس کو نہیں جانتے تم کچھ بھی نہیں کرسکتے۔۔۔ کوئی بھی کچھ بھی نہیں کرسکتا۔۔۔ وہ بہت ظالم ہے اسے مجھ پر ترس نہیں آیا تھا، اسے مجھ پر بالکل بھی ترس نہیں آیا تھا اس رات"
بیلا روتی ہوئی بولی عون اس کی باتیں سن کر بالکل خاموش ہوگیا وہ شاید اس وقت اپنے حواسوں میں موجود نہیں تھی اسے کیا بولنا چاہیے تھا کیا نہیں اسے خود بھی احساس نہیں تھا
وہ رات کے اس پہر بیلا کی روتی ہوئی آواز سن رہا تھا ساتھ ہی ڈرائیونگ بھی کر رہا تھا۔۔۔ عون نے اس کو رونے دیا تھا جب بیلا رو رو کر ہلکان ہوکر چپ ہوگئی تب عون اس سے بولا
"تمہیں میری ضرورت محسوس ہو یا نہ ہو میں پھر بھی تمہیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑوں گا، میں نے تم سے وعدہ کیا ہے تمہیں میرے وعدے پر یقین کرنا پڑے گا پلیز آپ مزید رو رو کر خود کو ہلکان نہیں کرو اور سونے کی کوشش کرو"
عون نرمی سے بیلا کو سمجھاتا ہوا بولا
"اب نیند نہیں آئے گی مجھے"
بیلا کھوئے کھوئے لہجے میں حقیقت بیان کرتی ہوئی بولی۔۔۔ اب وہ آہستہ آہستہ تھوڑی دیر پہلے طاری اپنی کیفیت سے باہر نکل کر نارمل ہورہی تھی
"بےشک مت سوؤں مگر اپنی آنکھیں بند کر لو۔۔۔ ذہن سے ساری فضول سوچیں نکال کر اپنے مائنڈ کو ریلیکس کرو"
عون کار ڈرائیونگ کے دوران بیلا سے بولا
"یقینا تم کال رکھنا چاہتے ہوگے تاکہ سکون سے اپنی منزل تک پہنچ سکو"
بیلا اندازہ لگاچکی تھی وہ اس وقت کار ڈرائیو کررہا تھا مگر وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس وقت عون رابطہ منقطعہ کرے کیوکہ اس وقت بیلا کو عون کی ضرورت تھی
"میں تم سے بات کرنے کے ساتھ بھی اپنی منزل تک پہنچ سکتا ہوں، تم جب تک چاہو مجھ سے بات کرسکتی ہو"
عون بیلا سے بولا تو وہ ایک پل کے لیے خاموش ہوگئی دوسری طرف عون بھی خاموش تھا وہ بیلا کے بولنے کا انتظار کرنے لگا ورنہ اکثر باتوں کا سلسلہ ختم ہونے پر وہی نئی بات کا آغاز کیا کرتا تھا
"تم اتنی رات میں ڈرائیو کیو کررہے ہو میرا مطلب ہے تم کہاں جارہے ہو"
بیلا عون سے سوال کرتی ہوئی پوچھنے لگی موبائل کو کان پر لگائے وہ دوبارہ بیڈ پر لیٹ چکی تھی
"کہو تو تمہارے پاس آجاؤ،، اگر تم ایسا چاہو گی تو میں ایسا کرنے کے لئے تیار ہوں"
عون کے سنجیدگی سے بولنے پر بیلا کے ماتھے پر شکنیں پڑی
"شٹ اپ عون ہر وقت مذاق مت کیا کرو"
بیلا جانتی تھی وہ اس کے شہر کا رہنے والا نہیں ہے۔۔۔ وہ صرف مزاق میں ایسے بول رہا تھا اس لیے بیلا اس کو ٹوکتی ہوئی بولی
"تم میری ہر بات کو مذاق میں لیتی ہو تو اب کیا کیا جاسکتا ہے جبکہ میں نے تم سے بالکل بھی مذاق میں ایسا نہیں بولا"
عون بیلا سے بولا تو وہ اس کی بات سن کر چپ رہی
"کیا ہوا میری کسی بات کو برا لگ گیا"
جب بیلا کچھ بھی نہیں بولی تو تھوڑے وقفے کے بعد ڈرائیونگ کرتا ہوا وہ بیلا سے پوچھنے لگا
"ڈرائیونگ کا اصول یہ ہے کہ ڈرائیونگ خاموش رہ کر اور توجہ سے کرنی چاہیے چپ رہ کر کار ڈرائیو کرو"
بیلا کے ڈانٹنے والے انداز پر اس کے ہونٹوں کو مسکراہٹ نے چھوا
"ڈرائیونگ کے دوران تو موبائل بھی یوز نہیں کرنا چاہیے مجھے یاد پڑتا ہے میں نے ایسا اصول بھی پڑا ہے"
عون کل لہجہ بالکل سنجیدہ تھا وہ بیلا سے پوچھنے لگا
"اگر تم نے اس وقت میری کال کاٹی تو پھر آئندہ کبھی اپنا موبائل مجھے کال ملانے کے لیے یوز مت کرنا"
بیلا نے بہت سیریس ہوکر اس کو دھمکی دی
"شکریہ"
عون کے شکریہ بولنے پر بیلا پہلے کنفیوز ہوئی پھر اس سے پوچھنے لگی
"کس بات کا"
بیلا ناسمجھنے والے انداز میں عون سے پوچھنے لگی
"اس وقت مجھے اپنی ضرورت سمجھنے کے لئے۔۔۔ تم نہیں جانتی اس وقت میں خود کو کتنا اکیلا محسوس کررہا تھا، بالکل اکیلا ہوچکا ہوں میں بہت اکیلا"
اس کی آواز میں درد ہے جو بیلا محسوس کرسکتی تھی،، آج اس نے عون کو اپنی ضرورت نہیں بنایا تھا بلکہ خود اس کی ضرورت بن گئی تھی
****
افراہیم کار ڈرائیو کرتا ہوا نازنین کو واپس گھر لارہا تھا لیکن اس وقت نازنین کسی بت کی مانند خاموش فرنٹ سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھی وہ اس وقت مکمل طور پر (inxiety) میں چلی گئی تھی افراہیم جانتا تھا کہ یہ کیفیت نازنین پر چند گھنٹے یا پورے دن تک طاری رہے گی۔۔۔ پہلے یہ کیفیت مہینے دو مہینے بعد اس پر حملہ آور ہوتی تھی مگر اب کی بار ہفتے بعد ہی نازنین کی یہ کیفیت دیکھ کر افراہیم نازنین کے لیے مزید فکرمند ہوگیا تھا
وہ محسوس کررہا تھا کہ نازنین کے لئے مستقل طور پر ایک نرس یا پھر کیئر ٹیکر ہونی چاہیے جو ہر وقت اس کے ساتھ موجود ہو اور نازنین کی اچھے طریقے سے دیکھ بھال کرسکے کیونکہ نوری کا روز روز اپنے گھر سے یہاں آکر ٹہرنا مشکل تھا اور دوسرا نوری کی اپنی عمر ایسی نہیں تھی جو وہ نازنین کو اچھی طرح سنبھال پاتی۔۔۔ رہا بیلا کا سوال تو نازنین کی بگڑتی حالت دیکھ کر بیلا کی اپنی حالت خراب ہوجاتی۔۔۔ افراہیم نے کار ڈرائیو کرتے ہوۓ نازنین کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا وہ نہ ہی چونکی تھی نہ ہی اس نے افراہیم کی طرف دیکھا۔۔۔ افراہیم لمبی سانس کھینچ کر دوبارہ ڈرائیونگ کی طرف متوجہ ہوا
"کب سے ہارن پر ہارن دئیے جارہا ہوں تم سوگئے تھے کیا"
گلاب خان جیسے ہی گیٹ کھولنے کے لئے آیا تو افراہیم اس کو جھڑکتا ہوا بولا
"سو نہیں رہا تھا صاحب جی بس ایک مسئلہ آگیا تھا معافی چاہتا ہوں آپ کو انتظار کرنا پڑا"
گلاب خان معذرت خواہ انداز میں افراہیم سے بولا وہ جانتا تھا تھوڑی دیر پہلے جو بےوقوفی اس سے سرزد ہوئی تھی افراہیم سے اس کی شامت یقینی ہے۔۔۔۔ افراہیم کے اپنے مسائل بہت تھے اسلئے اسے گلاب خان کے مسئلے میں ذرا سی بھی دلچسپی نہیں لی تھی۔۔
افراہیم گیٹ سے اندر کی طرف کار لاچکا تھا مگر گھر کی دیوار کے پاس شیلٹر کے نیچے پیچ کلر کے کپڑوں میں ایک نسوانی وجود جو دروازے کے پاس بیٹھا ہوا تھا، افراہیم اسے دیکھ کر بری طرح چونکا، کار پارک کرتا ہوا وہ نازنین کو کار میں بیٹھا چھوڑ کر باہر نکلا اور چلتا ہوا اس لڑکی کے پاس آیا جو اس کے گھر کے دروازے کے پاس نیچے فرش پر گھٹنوں میں اپنا سر رکھ کر بیٹھی ہوئی تھی
"کون ہے یہ لڑکی اور اندر کیسے آئی"
گلاب خان کو اپنے پیچھے آتا ہوا دیکھ کر افراہیم کڑے تیوروں سے گلاب خان کو گھورتا ہوا اس سے سوال پوچھنے لگا
"صاحب یہ بچی کسی سے بہت زیادہ ڈری ہوئی تھی،، روتی ہوئی مجھ سے اس نے تھوڑی دیر کے لئے پناہ مانگی تھی۔۔۔ میرے آگے ہاتھ بھی جوڑ رہی تھی تو میں نے اس کو تھوڑی دیر کے لئے اندر آنے کی اجازت دے دی۔۔۔۔ اس وقت بارش بھی کافی تیز ہورہی تھی جس سے بچنے کے لئے بےچاری یہاں بیٹھ گئی"
گلاب خان افراہیم کو بتاتا ہوا اب اپنی آنے والی شامت کا انتظار کرنے لگا
"تمہاری تو میں ساری خدا ترسی ابھی اچھی طرح سے نکالتا ہوں پہلے ذرا اس لڑکی کی خبر لےلو" افراہیم گلاب خان کو جھڑکتا ہوا دوبارہ اس لڑکی کی طرف بڑھا جو ابھی بھی گھٹنوں میں سر رکھے اسی پوزیشن میں بیٹھی ہوئی تھی
"اے لڑکی تم جو بھی کوئی ہو اب بارش تھم چکی ہے اس لیے فورا نکلو یہاں سے، یہ میرا گھر ہے کوئی پناہ گاہ نہیں۔۔۔۔ کیا تم بیٹھے سوگئی ہو سنائی نہیں دے رہا تمہیں میں کیا بک رہا ہوں"
وہ لڑکی جب اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہوئی تب افراہیم نے آخری جملہ بڑے غصے میں تیز آواز میں بولا۔۔۔ ڈرتا ہوا گلاب خان ایک بار پھر گویا ہوا
"یہ بچی بےہوش ہوچکی ہے صاحب جی"
گلاب خان کی بات سن کر افراہیم حیرت سے دوبارہ گلاب خان کو دیکھنے لگا اور گلاب خان سر جھکاتا ہوا افراہیم سے بولا
"اس کو اپنے گھر پر کال کرنا تھی اپنی خیریت بتانے کے لئے تو میں نے اس کو اپنا موبائل دے دیا جس کے بعد یہ بچی امی امی بولتی ہوئی زور زور سے رونے لگی اور پھر بےہوش ہوگئی"
گلاب خان اسے مکمل بات بتاتا ہوا دوبارہ خاموش ہوچکا تھا وہ ایسے ہی افراہیم کے سامنے سر جھکائے ہوئے اپنی ڈانٹ پڑنے کا انتظار کرنے لگا
"تمہارا دماغ تو نہیں چل گیا ہے گلاب خان میرے پیچھے تم میرے گھر میں کیا تماشے کرتے پھر رہے ہو، کسی انجان لڑکی کو گھر میں داخل کرکے اس کو اپنے ہی موبائل سے کال کرنے دے رہے ہو تاکہ وہ یہاں اپنے ساتھیوں کو بلاکر پورے گھر کا صفایا کر ڈالے،، تمہیں اپنی نوکری سے پیار ہے کہ نہیں"
افراہیم غصے میں گلاب خان کو کھری کھری سناتا ہوا بولا کیونکہ اس طرح کی واردات عام ہوچکی تھی۔۔ یہ لڑکی جس کا چہرہ اس نے ابھی تک نہیں دیکھا تھا افراہیم کو کوئی مشکوک ہی لگ رہی تھی وہ گلاب خان کو اس کی بیوقوفی پر اسی وقت نوکری سے نکال دیتا مگر جانتا تھا نازنین بعد میں اس سے اس بات پر خفا ہوگی اور گلاب خان کے گھر کی مجبوریاں سناکر اسے دوبارہ نوکری پر رکھ لے گی
"تم ابھی تک یہاں پر بیٹھی ہوئی کیا کررہی ہو سنا نہیں تم نے، ڈرامہ بند کرو اور نکلو یہاں سے"
افراہیم نے صرف بولا ہی نہیں تھا بلکہ بازو سے پکڑ کر اس لڑکی کو کھڑا کرنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں وہ لڑکی فرش پر ایک طرف ڈھلک گئی،، وہ لڑکی ڈرامہ نہیں کررہی تھی بلکہ سچ میں بےہوش تھی افراہیم غور سے اس کا چہرہ دیکھنے لگا جو اس کو کچھ کچھ مانوس سا لگا
"کیا مصیبت ہے یار گلاب خان کس نمبر پر اس لڑکی نے کال ملائی تھی ملا کردو مجھے"
افراہیم بےہوش پڑے وجود پر بیزار سی نظر ڈالتا ہوا جھنجھنلا کر بولا، جس پر گلاب خان جلدی سے وہی نمبر ڈائل کرنے لگا جس پر تھوڑی دیر پہلے اس لڑکی کی بات ہوئی تھی
"میں نے تمہیں خالہ کے انتقال کی خبر اس لیے نہیں بتائی تھی کہ تم وہاں اکیلی پریشان ہوجاؤ،، تمہارا بھائی یہاں سے جاچکا ہے کاش کہ تم مجھ سے دوپہر میں رابطہ کرلیتی،، مگر اب کیا ہوسکتا ہے۔۔۔ اور وہ تمہارا لفنگا چچا زاد تمہارے یہاں واپس آنے پر تم ہرگز نہیں چھوڑے گا،، میری مانو تو تم جہاں پر ہو چند دنوں کے لیے وہی قیام کرلو تمہارے یہاں آنے پر تمہاری عزت بالکل محفوظ نہیں رہے گی ویسے بھی اب بچا ہی کیا ہے تمہارا یہاں پر"
کال ریسیو ہوتے ہی ایک لڑکی نے بولنا شروع کردیا جس کے بعد افراہیم نے بنا کچھ بولے کال کاٹ دی۔۔۔ وہ دوبارہ بےہوش ہوئی اس لڑکی کو دیکھنے لگا
کال والی لڑکی کی باتوں سے اسے کچھ کچھ قصہ سمجھ آرہا تھا۔۔۔ چند منٹ پہلے افراہیم کو وہ لڑکی مصیبت محسوس ہورہی تھی لیکن شاید وہ خود کسی مصیبت کا شکار تھی اور اس لڑکی کی ماں اب اس دنیا میں نہیں رہی تھی اور یہ لڑکی اسی غم میں بےہوش ہوچکی تھی
"اسے اٹھاکر گیسٹ روم میں لے آؤں"
افراہیم گلاب خان سے بولتا ہوا نازنین کے پاس چلا آیا جو ابھی تک کار میں خاموش بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ نازنین کو اس کے کمرے میں لٹانے کے بعد وہ دوبارہ باہر آیا تو گلاب خان ابھی بھی اس لڑکی کو ہوش میں لانے کی کوشش کررہا تھا
"اگر یہ اپنے حواسوں میں نہیں آرہی ہے تو اسے اٹھا کر گیسٹ روم میں لے جاؤ۔۔۔ کیا تم صبح تک یہاں کھڑے اس کا بازو ہلاتے رہوگے"
افراہیم گلاب خان کی حرکت پر چڑتا ہوا بولا
"اس بچی کو میں کیسے اٹھاسکتا ہوں صاحب جی"
گلاب خان کی بات سن کر افراہیم اس کو آنکھیں دکھاتا ہوا پوچھنے لگا
"تو کیا میں گود میں اٹھا کر گیسٹ روم میں لےکر جاؤ اس بچی کو"
افراہیم کی بات پر گلاب خان شرمندہ ہوا افراہیم بیزار ہوتا ہوا اس لڑکی کے معصوم چہرے کو دیکھنے لگا آخر کون تھی یہ؟؟
"آپ اٹھالیں گے تو مہربانی ہوگی صاحب جی۔۔۔ میرا مطلب ہے میرا دائیاں بازو بڑا درد کررہا ہے شام سے ہی، آپ اٹھالیں میں بھی مدد کیے دیتا ہو تھوڑی سی آپکی"
گلاب خان افراہیم کے چہرے پر بےزار تاثرات دیکھتا ہوا بولا
"اپنی مدد آپ اپنے پاس رکھو اور گیٹ پر جاؤ"
افراہیم گلاب خان سے کرخت لہجے میں بولتا ہوا اس کے بےہوش وجود کی طرف بڑھا جس کے کپڑے گیلے ہوکر بدن سے چپک چکے تھے
"مصیبت"
افراہیم بڑبڑاتا ہوا اس کے پھول جیسے نازک وجود کو بازوؤں میں اٹھاچکا تھا
ایک بار پھر وہ اس لڑکی کا چہرہ غور سے دیکھنے لگا جو کہ شناسا لگنے کے باوجود اس کو یاد نہیں پڑ رہا تھا کہ اس لڑکی کو پہلے کہاں دیکھا ہے۔۔۔ جب افراہیم نے اس کو بیڈ پر لٹایا تو افراہیم کی نظریں اس لڑکی کے خوبصورت سراپے پر پڑی،، شکل اور عمر سے وہ کم عمر اور ماڈرن لڑکی لگتی تھی۔۔۔ بغیر آستین کے اس کے سفید بازو اور گہرے گلے سے نظر آتے اس کے خوبصورت خدوخال اس کے حسن کو اور بھی زیادہ واضح کر رہے تھے افراہیم اس لڑکی کا چہرا دیکھتا ہوا کمرے کا دروازہ بند کرکے اپنے کمرے کی طرف چلاگیا
جب ڈریسنگ روم کے اندر نوف کو بیٹھے ہوئے دو گھنٹے گزر گئے اور باہر سے اس کو روحیل کی کوئی آواز سنائی نہیں دی تو وہ دل مضبوط کرکے، آیتوں کا ورد کرتی ہوئی ڈریسنگ روم کا دروازہ کھول کر باہر نکلی۔۔۔ سامنے صوفے پر روحیل نشے میں غرق بےسدھ پڑا ہوا تھا۔۔۔ نوف آہستہ سے بیڈروم کا دروازہ کھولنے کے بعد فلیٹ سے باہر نکل گئی اور شکر ادا کرنے لگی کہ اس کی عزت بچ گئی،، فلیٹ سے باہر نکل کر جب وہ سڑک پر آئی تو اچانک ہی بارش شروع ہوچکی ہوگئی جس کی وجہ سے اس کے سارے کپڑے اچھے خاصے بھیگ گئے۔۔۔ وہ پریشان ہونے لگی کہ کسی محفوظ جگہ پر بارش سے بچنے کے لیے ایک جگہ کھڑی ہوجاۓ، تبھی دو لڑکے آپس میں باتیں کرتے ہوئے اس کے قریب آنے لگے،، وہ دونوں ہی نوف کو دیکھ کر اس کی طرف متوجہ ہوچکے تھے کیونکہ رات کے اس پہر اکیلی لڑکی کو دیکھ کر ہر کسی کے دماغ میں بے شمار سوالات ابھرتے۔۔۔ نوف نے ان دونوں لڑکوں کو دیکھ کر گھبراتے ہوئے تیز تیز چلنا شروع کردیا وہ دونوں لڑکے بھی اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگے،، تب نوف کو سامنے ایک بنگلہ دکھائی دیا،، جہاں موجود پہرے دار نے اس کی مدد کی،، کیونکہ وہ ان دونوں لڑکوں کو نوف کا پیچھا کرتے ہوئے دیکھ چکا تھا۔۔۔ نوف کو پریشان دیکھ کر گلاب خان نے نوف کو اپنا موبائل دیا جس سے نوف نے اپنی دوست بسمہ کا نمبر ملایا مگر بسمہ کے منہ سے رخشی کی موت کی خبر سن کر وہ صدمے سے بےہوش ہوچکی تھی،، آج صبح ہی اس کی ماں اسے اکیلا اس دنیا میں چھوڑ کر جاچکی تھی
"امی"
آہستہ آواز میں بولتے ہوئے نوف نے اپنی آنکھیں کھولیں تو خود کو ایک کمرے میں موجود پایا۔۔۔ وہ جلدی سے اٹھ کر بیٹھی ویسے ہی کمرے کا دروازہ کھلا اور اندر آنے والے شخص کو دیکھ کر اس کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئی۔۔۔ یہ وہ چہرہ تھا جسے وہ دوبارہ کبھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی،، لازمی یہ گھر بھی اسی مغرور انسان کا تھا جہاں اس نے چھپنے کے لئے پناہ مانگی تھی
"دو بار چکر لگاکر دیکھ چکا ہوں کہ تمہیں ہوش آیا کہ نہیں"
افراہیم کمرے میں داخل ہوکر دروازہ بند کرتا ہوا بیڈ پر بیٹھی ہوئی اس لڑکی سے بولا جو مسلسل ٹکٹکی باندھ کر اس کو دیکھ رہی تھی، وہ خود بھی صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے پیچھے ٹیک لگاکر بیٹھتا ہوا نوف کو دیکھنے لگا
"کیا؟"
نوف کے مسلسل دیکھنے پر افراہیم اس کو دیکھ کر بولا تو نوف نفی میں سر ہلانے لگی
"اپنے بارے میں اب کچھ بتاؤں گی یا پھر یونہی آنکھیں پھاڑ کر دیکھتی رہو گی مجھے"
افراہیم نوف کے مسلسل دیکھنے پر اس کو ٹوکتا ہوا بولا جس پر نوف نے فورا اپنی نظریں نیچے کرلی تبھی اس کی نظر بیڈ پر پڑے اپنے دوپٹے پر پڑی وہ اپنی بےپرواہی پر ملامت کرتی ہوئی جلدی سے بیڈ پر پڑا ہوا اپنا دوپٹہ پھیلا کر اوڑھنے لگی
"شکر ہے تمہیں اب تم مکمل ہوش و حواس میں آچکی ہو،، تو پھر جلدی سے اپنے بارے میں بتاؤ مجھے"
نوف کے دوپٹہ لینے پر وہ طنز کرتا ہوا بولا اور دوبارہ نوف سے اس کے بارے میں پوچھنے لگا
"کیا آپ جانتے نہیں ہیں مجھے"
نوف آئستہ آواز میں ہمیشہ کی طرح سر جھکاۓ اس کے سامنے بولی
"کیو تم کسی منسٹر کی اولاد لگی ہو جو میں تمہیں پہلے سے جانتا ہوگا"
افراہیم اس کے سکون سے بولنے پر دوبارہ طنز کرتا ہوا پوچھنے لگا تو نوف پلکیں اٹھا کر اس مغرور اور بدتمیز انسان کو دیکھنے لگی۔۔۔ جو بالکل بھی عادتا اور شکلا اور مزاجا نہیں بدلا تھا مگر وہ افراہیم کی آنکھوں میں اپنے لیے اجنبیت دیکھ کر سمجھ چکی تھی وہ مغرور انسان اس کو نہیں پہچان پایا تھا۔۔۔ ویسے بھی وہ اور اس کا خاندان اس مغرور انسان کے سامنے حقیر اور فقیر ہی تھے جنھیں یہ بڑے لوگ مشکل سے اپنی یاداشت میں محفوظ رکھ سکتے تھے۔۔ مگر نوف کو اپنے منہ پر پڑنے والے تپھڑ آج بھی یاد تھے جو اس بےحس اور سنگ دل انسان نے اس کے منہ پر لگاۓ تھے،، جن کے نشانات چار دنوں تک اس کے چہرے سے نہیں مٹے تھے
"کیا جاننا چاہتے ہیں آپ میرے بارے میں پوچھیں"
نوف آئستہ آواز میں افراہیم کو دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
"نام کیا ہے تمہارا"
افراہیم غور سے نوف کا چہرہ دیکھتا ہوا اس سے اس کا نام پوچھتا ہوا سوچنے لگا۔۔۔ یہ لڑکی بھلا کون ہوسکتی تھی جسے اس کا ذہن چاہنے کے باوجود نہ تو صحیح سے یاد کر پارہا تھا نہ ہی اس کا چہرہ بھلا پارہا تھا
"یمنہ"
نوف کو پہلے بھی اندازہ تھا کہ وہ اس کا اصلی نام بھی شاید ہی جانتا ہو کیونکہ اس نے کبھی نوف سے اس کا نام پوچھا ہی نہیں تھا،، نوف پہلے دن سے اس مغرور انسان کے لیے "اے لڑکی" رہی تھی۔۔۔ ایک عام سی حقیقر سی لڑکی
"یمنہ یمنہ یمنہ۔۔۔ نہیں ایسا تو کوئی نام یاد نہیں آرہا مجھے"
افراہیم اپنے ذہن پر زور ڈالتا ہوا اس کا بتایا ہوا نام بار بار دہراتا ہوا نوف کو یاد کرنے کی کوشش کرنے لگا اور نوف چپ چاپ افراہیم کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ اس کو اپنی صحیح پہچان نہیں بتانا چاہتی تھی اچھا ہی تھا کہ یہ مغرور شخص اس کو پہچان نہیں پارہا تھا اگر جان جاتا تو شاید اب کی بار اس کی جان لے لیتا۔۔ نوف نہیں چاہتی تھی ایک بار پھر افراہیم اس کا برا حشر کرے یا اس کے بھائی کو قصور وار ٹھہرا کر ازلان کی سزا اس کو دے
"کیا ہم دونوں پہلے بھی کبھی ملے ہیں یمنہ"
افراہیم اپنی الجھن دور کرنے کے لیے نوف سے خود پوچھنے لگا
"گھسا پٹا طریقہ ہے یہ جان پہچان بڑھانے کا"
نوف بہت آرام سے افراہیم کو سلگاتی ہوئی بیڈ سے اٹھی
"اے سمجھ کیا رکھا ہے تم نے مجھے،، شکل سے میں تمہیں کوئی لوفر نظر آرہا ہوں جو تم سے جان پہچان بنانے کے لیے بہانے تلاشو گا،، بس اوپر والا اچھی شکل کیا دے دیتا ہے تم جیسی لڑکیاں خود کو حور پری تصور کرنے لگتی ہو، آسمان سے نیچے اتر آؤ اور میں تمہیں یاد دلاتا چلو تم اس وقت میرے گھر کی چھت کے نیچے کھڑی ہو، ساری ہمدردی ایک سائیڈ میں رکھ کر دھکے دے کر باہر کرو گا ابھی"
افراہیم خود بھی غصے میں بولتا ہوا صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا،، اب وہ لعنت بھیج چکا تھا اپنی یاداشت پر۔۔۔۔ نوف افسوس سے اسے دیکھنے لگی وہ ہمیشہ سے ہی اس کا نازک دل دکھاتا آیا تھا ابھی بھی افراہیم کے الفاظ اس کو تکلیف دے گئے تھے نوف چند سیکنڈ خاموش کھڑی اس کو دیکھتی رہی پھر بولی
"مجھے اپنی شکل پر غرور کبھی بھی نہیں رہا یہ اچھی شکل کا نتیجہ ہے جو میں در در بھٹک رہی ہوں، اسی شکل کی بدولت اپنے اوپر اٹھنے والی گندی نظروں سے بچنے کے لئے، اپنی عزت بچانے کی خاطر میں اس دوراہے پر کھڑی ہو کہ میرے اپنے مجھ سے بچھڑ گئے ہیں۔۔۔ آپ نے مجھے اپنے اس بڑے سے عالیشان گھر میں چند گھنٹے کے لئے پناہ دی میں آپ کی احسان مند رہوں گی اب چلتی ہوں"
نوف افراہیم سے بولتی ہوئے دروازے کی طرف بڑھنے لگی تب افراہیم کی آواز نے اس کے قدم روک لئے
"وہی رک جاؤ خبردار جو تم نے دروازہ کھولا چپ کر کے یہاں کاؤچ پر بیٹھو"
افراہیم کی روعب دار آواز پر نوف پلٹ کر حیرت سے اس کو دیکھنے لگی جو ماتھے پر بل لئے اسی کو حکم دے رہا تھا جوکہ اس کی پرانی عادت تھی اور دس سالوں میں بھی یہ عادت نہیں بدلی تھی
"کیا بکواس کررہا ہوں میں جاکر کاؤچ پر بیٹھو"
نوف کے دیکھنے پر افراہیم اس کے قریب آتا وہ دوبارہ روعب دار لہجے میں بولا تو وہ چپ چاپ صوفے پر بیٹھ گئی
"میں تمہاری پوری کہانی تمہارے منہ زبانی سننا چاہوں گا اس کے بعد تم یہاں سے جاسکتی ہو"
افراہیم صوفے پر بیٹھی ہوئی لڑکی کو دیکھ کر بولا جس کے بارے میں وہ کل رات موبائل کال والی لڑکی سے تھوڑا بہت پہلے ہی جان چکا تھا
"گھسی پٹی کہانی لگے گی آپ کو، شاید ہی یقین کریں آپ میری بات کا"
نوف سر جھکائے افراہیم سے بولی
"میں تمہارے بولنے کا انتظار کررہا ہوں شروع ہوجاؤ"
افراہیم دیوار سے ٹیک لگائے نوف کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر دوبارہ بولا
"میرا چچاذاد مجھ سے بچپن سے ہی منسوب تھا، ابو جی کے انتقال کے بعد امی اور مجھے انہی کے گھر پر رہنا پڑا مگر چند دنوں پہلے اس نے مجھ سے زبردستی کرنی چاہی۔۔۔ میں اپنی عزت بچانے کی خاطر گھر چھوڑ کر بھاگ نکلی تو پیچھے میری امی یہ دنیا چھوڑ کر چلی گئی"
نوف نے ازلان کا ذکر بالکل فراموش کرتے ہوئے افراہیم کو اصل حقیقت بتائی مگر ایک بار پھر وہ رخشی کو یاد کرکے آخر میں رو پڑی تو افرائیم اس کو خاموشی سے روتا ہوا دیکھنے لگا پھر چلتا ہوا اس کے پاس آیا اور میز پر رکھے ہوئے ٹشو باکس سے ٹشو نکال کر افراہیم نے نوف کی طرف بڑھائے۔۔۔۔ نوف افراہیم سے ٹشو لیتی ہوئی نم آنکھوں سے افراہیم کو دیکھنے لگی کوئی دھندلا سا منظر ایک دم اس کے ذہن پر حملہ آور ہوا
"یخ،، اسٹوپڈ گرل،، اپنے کپڑوں سے کون نوز صاف کرتا ہے عجیب گنوار اور مینرلیس ہوتے ہو تم لوگ یہ ٹشو پکڑو"
نوف اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی اس کے بولے ہوئے جملے یاد کررہی تھی جبکہ افرائیم روتی ہوئی اس لڑکی کو آنسو صاف کرتا ہوا غور سے دیکھ رہا تھا نہ جانے کیوں وہ لڑکی پل بھر میں ہی افراہیم کے دل میں نرم گوشہ پیدا کرنے میں کامیاب ہوچکی تھی
"بھائی کہا ہوتا ہے تمہارا"
افراہیم نوف کا چہرہ دیکھتا ہو اس سے اگلا سوال کرنے لگا جس پر پہلے نوف ٹٹکی، پھر بغیر گھبراۓ بولی
"وہ پاکستان میں نہیں ہوتے ہیں اور مسئلہ یہ ہے کہ مجھے ان کا نمبر زبانی یاد نہیں ہے لیکن مجھے پورا یقین ہے بھائی مجھے کیسے بھی ہو، کسی بھی طرح ڈھونڈ لیں گے وہ جلد پتہ لگالیں گے میرا، آپ کی مہربانی ہوگی اگر آپ مجھے دارلامان بھجوا دیں میں یہاں کے راستوں سے لاعلم ہوں"
مجبوری ہی تھی جو نوف کو اس سے مدد لینا پڑی تھی نہ جانے اب وہ اس کی مزید مدد کرتا یا پھر اس کی بات کو نظرانداز کردیتا، مگر وہ اب کسی محفوظ جگہ پر پہنچنا چاہتی تھی جہاں اس کی عزت کو کوئی خطرہ نہ ہو
"جاب کرنا چاہو گی یہی اس گھر میں رہ کر"
افراہیم نوف کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا جس پر وہ کنفیوز ہوکر اسے دیکھنے لگی،، اس کی کنفیوژن دور کرنے کے لیے افراہیم دوبارہ بولا
"بابا کی ڈیتھ کے بعد اب میری مدر کافی بیمار رہنے لگی ہیں، میں ان کے لیے ایک ایسی لیڈی کا ایڈ دینے والا تھا جو میری مدر کی پراپر اور اچھے طریقے سے دیکھ بھال کرسکتی ہو۔۔۔ اگر تمہیں لگتا ہت تم مما کی اچھی طرح دیکھ بھال کرلو گی تو میں تمہیں اس کام کی اچھی سیلری بھی دونگا اور تم یہاں بغیر کسی پریشانی کے آرام سے رہ سکتی ہو لیکن اپنے کام سے لاپرواہی برتنے والوں کو میں ہرگز پسند نہیں کرتا۔۔ اگر تم اس جاب میں انٹرسٹڈ ہو تو میں تمہیں اپنی مما سے ملوا دیتا ہوں ورنہ میرا ڈرائیور تمہیں کسی دارالامان یا جہاں تم کہو گی وہی چھوڑ آئے گا"
افراہیم نے اس کے سامنے چوائس رکھی اور خاموشی سے اس کے جواب کا انتظار کرنے لگا۔۔ نوف تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بولی
"میں آپ کی مدر سے ملنا چاہوں گی"
نوف کو نہیں معلوم تھا جو اس نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ کتنا ٹھیک ہے۔۔۔ اسے یہاں رہنا چاہیے تھا کہ نہیں مگر وہ فیصلہ لے چکی تھی،، افراہیم اس کی بات پر سر کو ہلکا سا خم کرتا ہوا کمرے سے باہر نکلنے لگا تو نوف بھی اس کے پیچھے چل دی
****
بیدار ہونے کے بعد وہ کافی دیر تک بیڈ پر لیٹی رہی اس کو معلوم نہیں تھا کہ کل رات عون سے بات کرتے کرتے کب اس کی آنکھ لگ گئی،،، اب وہ رات والی ساری باتوں کو یاد کر کے افسوس کررہی تھی وہ نہ جانے عون سے اپنے ڈر کی کیفیت میں کیا کچھ کہہ چکی تھی، نہ جانے عون اس کے بارے میں کیا سوچ رہا ہوگا موبائل کی رنگ ٹون بجنے پر بیلا موبائل کی طرف متوجہ ہوئی آگے ہاتھ بڑھا کر اس نے سائیڈ ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھایا
"کل رات کو تمہیں میری ضرورت پڑی مگر تمہیں اندازہ ہی نہیں ہوا کیسے میں تمہیں اپنی ضرورت بنا گیا۔۔۔ کل رات میں خود کو بہت تنہا محسوس کررہا تھا،، تمہاری موجودگی کے احساس نے میرے اکیلے پن کو دور کردیا۔۔۔ کل رات اگر تم میری تنہائی کی ساتھی نہیں بنتی تو نہ جانے میں اپنے ساتھ کیا کر بیٹھتا۔۔۔ بیلا میں چاہتا ہوں مجھے جب تمہاری ضرورت پڑے تم بالکل کل رات کی طرح مجھ سے جڑی رہو،، مجھ سے ڈھیروں باتیں کرو۔۔۔ کیا میں بھی تمہیں اپنی ضرورت کے وقت یاد کرسکتا ہوں"
عون کی آواز اس کو موبائل میں سنائی دی بیلا کو محسوس ہوا شاید وہ اب بھی اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے بیلا سے بات کررہا تھا مگر وہ ایسا نہیں کرسکتی وہ بھلا کیسے کسی کی ضرورت بن سکتی تھی
"نہیں تمہیں ایسا کوئی حق حاصل نہیں ہے،، آج کے بعد مجھے دوبارہ کبھی کال کرنا کی یا مجھ سے کانٹیکٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ میری اور تمہاری ضرورتوں کا سفر یہی تک تھا امید ہے اب تم مجھے دوبارہ کال کرکے پریشان نہیں کرو گے"
بیلا عون سے بولتی ہوئی کال رکھ چکی تھی اس طرح باتوں کا طویل سلسلہ شروع کرکے وہ اسے آہستہ آہستہ اپنا عادی بنارہا تھا اور بیلا نہیں چاہتی کہ وہ عون کی یا پھر کسی دوسرے کی عادی بنے۔۔۔ وہ اپنے دل کے بند دروازے کسی دوسرے کے لیے نہیں کھول سکتی تھی،، نہ ہی کسی دوسرے کو اپنے اندر جھانکنے کی اجازت دے سکتی تھی وہ جس کو دل میں بساۓ بیٹھی تھی،، زندگی میں اس سے دوبارہ ملنا شاید ممکن نہیں تھا،، لیکن اس نے سوچ لیا تھا وہ اب کبھی بھی عون سے بات نہیں کرے گی چاہے کچھ بھی ہوجاۓ۔۔۔ کل تک اس کا یونیورسٹی جانے کا ارادہ تھا لیکن اس وقت اس کی طبعیت پر عجیب بےزاری کی کیفیت طاری ہوچکی تھی وہ اپنے کمرے سے باہر نکلنے کا بھی ارادہ ملتوی کرکے بیڈ پر لیٹی رہی
****
ہفتہ بھر گزر چکا تھا اسے افراہیم کے گھر رہ کر جاب کرتے ہوۓ۔۔۔ وہ افراہیم کو شکایت کا موقع دیے بغیر نازنین کا بہت اچھے طریقے سے خیال رکھ رہی تھی اس کے کھانے پینے سے لےکر نازنین کو مقرر وقت پر اس کی میڈیسن دینا،، ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق تھراپی کروانے سے لےکر اس کے کپڑے اپنے سامنے پریس کروانا۔۔۔ وہ ہر کام نازنین کے یا کسی دوسرے کے بولنے سے پہلے خود کرلیتی
نوف کو اچھی طرح اندازہ تھا کہ نازنین یا بیلا میں سے کوئی بھی اس کو پہچان نہیں سکتی کیونکہ ان دونوں نے نوف کو پہلے نہیں دیکھا تھا وہ الگ بات تھی جس نے دیکھا بھی تھا وہ اس کے ذہن میں بھی محفوظ نہیں تھی،، نوف کی بیلا سے اسی دن ملاقات ہوچکی تھی۔۔۔۔ وہ نوف کو اپنے آپ میں رہنے والی لڑکی لگی تھی نوف سے وہ اچھے طریقے سے ملی تھی۔۔۔ نہ جانے کیوں بیلا نے اس کے بھائی کو اپنا مجرم ٹھہرایا تھا وہ چاہ کر بھی بیلا سے یہ سوال نہیں پوچھ سکتی تھی اور نازنین کے اخلاق کی تعاریفیں تو بچپن میں وہ رخشی اور ازلان دونوں کے منہ سے سنتی آئی تھی بلکہ اس نے جتنا کچھ سنا تھا نازنین کو اس سے بڑھ کر پایا تھا وہ نوف کو بہت اچھی اور بااخلاق خاتون لگی تھی
"یمنہ بیٹا تم بھی ہمارے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کرو ناں،، میں نے کل بھی تم سے کہا تھا"
صبح ناشتے کے وقت جب نوف کارن فلیکس سے بھرا باؤل نازنین کے سامنے رکھ رہی تھی تب روز معمول کی طرح نازنین نوف سے بولی تو میز پر موجود بیلا اور افراہیم کی نظریں نوف پر گئی
"آنٹی مجھے بہت جلدی ناشتہ کرنے کی عادت نہیں ہے آپ آرام سے ناشتہ کریں میں تھوڑی دیر بعد ناشتہ کرلوں گی"
نوف ایک نظر افراہیم پر ڈال کر نازنین کو خوبصورتی سے ٹالتی ہوئی بولی وہ اپنی حیثیت اچھی طرح جانتی تھی وہ ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ وہ اچھی طرح جانتی تھی نازنین کا اسے ناشتے کا کہنا، خود اس کے بیٹے کو اپنی ماں کی یہ بات بالکل پسند نہیں آئی ہوگی جبھی وہ خاموش نظروں سے نازنین کو بنا کچھ بولے صرف دیکھ رہا تھا نوف کو وہاں سے کچن کا رخ کرنا مناسب لگا
"تم مجھے ایسے کیوں گھور رہے ہو"
نوف کے جانے کے بعد نازنین افراہیم کے گھورنے پر اس کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی تو بیلا بھی افراہیم کو دیکھنے لگی
"کیا ضرورت ہے آپ کو اس سے روز روز ناشتے اور کھانے پر دعوت دینے کی" افراہیم چڑ کر نازنین سے پوچھنے لگا یہ یمنہ نام کی لڑکی تو اس کو اچھی خاصی مغرور سی محسوس ہورہی تھی جو اس کے سامنے بہت لیے دیے انداز میں رہتی تھی، نہ ہی وہ افراہیم سے زیادہ بات کرتی تھی بلکہ افراہیم نے اس کو ہنستے مسکراتے بھی نہیں دیکھا تھا اور افراہیم نے یہ بھی محسوس کیا جہاں وہ موجود ہوتا یہ لڑکی وہاں سے غائب ہوجاتی۔۔۔ نازنین روز ہی اسے ناشتے اور کھانے کے وقت بلاتی تو وہ کوئی نہ کوئی بہانہ بناکر منع کر دیتی۔۔۔ ہفتے بھر میں اس نے خود سے افراہیم کو صرف ایک بار مخاطب کیا تھا وہ بھی نازنین کے کسی کام سے،، جب شام میں یا رات میں افراہیم نازنین کے کمرے میں جاتا تو وہ کمرے سے باہر نکل جاتی
"ایسا کیا ہوگیا اگر میں نے اس سے کھانے کا پوچھ لیا وہ بچی میرا کتنا خیال رکھتی ہے رات کو سونے سے پہلے، اپنے کمرے میں جانے سے پہلے میری سلیپرز تک اس ڈائریکشن میں رکھتی ہے کہ اگر میں صبح اٹھو تو مجھے سلیپرز پہننے کے لیے دشواری نہ ہو"
نازنین ابھی نوف کی اور بھی خصوصیات گنواتی مگر اس سے پہلے افراہیم بول اٹھا
"مفت میں نہیں کررہی ہے وہ یہ سب سیلری دوں گا میں اس کو ان سب کاموں کی"
افراہیم کو اندازہ نہیں ہوا تھا اس کی باتیں سے کچن میں کھڑی نوف کو اپنا آپ اور زیادہ چھوٹا محسوس ہورہا تھا نوف کچن کے دوسرے دروازے سے اپنے کمرے میں چلی گئی
"بھائی میں نے بھی نوٹ کیا ہے وہ مما کا خیال رکھنے کے علاوہ ان کے بہت سے چھوٹے موٹے کام بنا کسی کے بولے کردیا کرتی ہے، دیکھا جائے تو یمنہ ایک اچھی لڑکی ہے"
بیلا نے جو محسوس کیا وہ افراہیم کو بتانے لگی
"نوٹ تو میں بھی بہت کچھ کررہا ہوں تم نے یونیورسٹی جانا کیوں بند کیا ہوا ہے ایک ہفتے سے"
افراہیم الٹا بیلا کو دیکھ کر اس سے پوچھنے لگا۔۔۔ عمیر نے نہ جانے کس وجہ سے پرپوزل کے لیے منع کردیا تھا افراہیم نہیں جانتا تھا بیلا اور عمیر کی آپس میں کیا بات ہوئی تھی یا پھر عمیر نے ایسا بیلا کے کہنے پر کیا تھا
"کل سے دوبارہ جانا اسٹارٹ کرو گی بھائی"
بیلا بےدلی سے ناشتہ کرتی ہوئی افراہیم سے بولی پورا ہفتہ گزر گیا تھا بیلا کے منع کرنے کے بعد عون نے بھی اس کو کال نہیں کی تھی جو کچھ ہوا تھا شاید اچھا ہی ہوا تھا بیلا ناشتہ کرتی ہوئی سوچنے لگی، تب افراہیم اس کو دیکھ کر بولا
"بیلا مجھے کل یونیورسٹی کا دوبارہ نہ بولنا پڑے تم کل سے یونیورسٹی جارہی ہو سمجھ آرہی ہے تمہیں میری بات"
افراہیم بیلا کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر بولا وہ نہیں چاہتا تھا بیلا یونیورسٹی جانا چھوڑ دے اور دوبارہ سے اپنے کمرے میں قید ہوکر رہ جائے بیلا نے افراہیم کی بات پر اثبات میں سر ہلایا او ناشتہ کرنے لگی
"اب آپ کو کیا ہو گیا ہے جو ایسے دیکھ رہی ہیں مجھے"
اپنے اوپر نازنین کی نظریں محسوس کرکے افراہیم نازنین سے پوچھنے لگا
"ایک ہفتہ ہے تمہارے پاس،، اس ایک ہفتے میں تم مجھ سے اس لڑکی سے ملواؤ گے جس سے تم شادی کرنا چاہتے ہو۔۔۔ نہیں تو ایک ہفتے بعد میں خود اپنی پسند کی لڑکی سے تمہاری شادی کروا دوں گی"
نازنین کی بات سن کر افراہیم سمیت بیلا بھی نازنین کو دیکھنے لگی

روحیل کو جب ہوش آیا تو اس نے اپنے آپ کو ایک خالی کمرے میں موجود پایا جہاں میز کے سامنے خالی کرسی موجود تھی جبکہ دوسری کرسی پر وہ خود بیٹھا ہوا تھا اور اس کے دونوں ہاتھوں کو رسی سے مضبوطی سے باندھا گیا تھا اسے یاد پڑتا تھا کہ وہ آج صبح ائیرپورٹ جانے کے لیے اپنی گاڑی میں گھر سے باہر نکلا تھا مگر گاڑی راستے میں خراب ہونے کی وجہ سے اسے ٹیکسی کرنا پڑی اور اچانک بیچ راستے میں ٹیکسی رکی اور ایک اجنبی شخص اس ٹیکسی میں بیٹھا اس سے پہلے روحیل اس شخص سے کوئی بات کرتا اس شخص نے روحیل کی گردن میں ایک انجکشن گھونپ دیا جس کے بعد روحیل کو اب ہوش آیا تھا
"کک۔۔۔ کون ہو تم مجھے یہاں کیوں لائے ہو"
روحیل ہوش میں آنے کے بعد ستائیس اٹھائیس سالہ اس شخص سے پوچھنے لگا جو ابھی کمرے میں داخل ہوا تھا۔۔۔ ازلان چلتا ہوا روحیل کے پاس آیا اور اس کی کرسی کا رخ اپنی سمت کرتا ہوا اپنی پاکٹ سے موبائل نکالنے لگا
"یہ لڑکی اس وقت کہاں موجود ہے"
ازلان اپنے موبائل کی اسکرین روحیل کے سامنے کرتا ہوا اس سے پوچھنے لگا۔۔۔۔ روحیل اس لڑکی کو پہچان چکا تھا جو چند دن پہلے روبی نے اس کے فلیٹ پر بھیجی تھی، مگر وہ انجان بنتا ہوا ازلان سے بولا
"کون ہے یہ لڑکی مجھے کیا معلوم میں اسے پہلی بار دیکھ رہا ہوں"
روحیل کی بات سن کر ازلان نے موبائل ٹیبل پر رکھا اور اچانک ہی روحیل کے منہ پر زور دار تھپڑ مارا۔۔۔۔ منہ پر پڑنے والے تھپڑ کی شدت سے نہ صرف روحیل بلبلا اٹھا بلکہ اس کی کرسی کا بھی توازن برقرار نہیں رہ سکا کرسی سے ہاتھ باندھے ہونے کی وجہ سے وہ کرسی سمیت زمین پر گر گیا
"تمہارا جواب اب بھی یہی ہے کیا تم واقعی اس لڑکی کو نہیں جانتے"
ازلان جھک کر روحیل کے بالوں کو پکڑتا ہوا اس کا چہرہ اوپر کر کے ایک بار پھر اس سے پوچھنے لگا
"مم میں سچ بول رہا ہوں میں واقعی اس لڑکی کو نہیں جانتا"
روحیل کا جواب سن کر ازلان نے روحیل کے بالوں کو یونہی اپنے ہاتھ کی مٹھی میں جکڑ کر، بالوں کے زور سے کرسی کو اٹھایا اور واپس اسی جگہ پر کھڑا کیا جس سے روحیل کے منہ سے دردناک چیخیں نکل پڑی
"میری اطلاع کے مطابق تم نے اس لڑکی کو ایک رات کے لیے ہائیر کیا تھا اس کے بعد سے یہ لڑکی کہیں بھی نہیں دیکھی گئی ہے، اس لڑکی کو تم نے جہاں کہیں بھی چھپایا ہوا ہے اگر تم نے مجھے نہیں بتایا تو روحیل میں تمہارے ساتھ کیا کرسکتا ہوں اگر تمہیں معلوم ہوجائے تو تم اس اذیت کو سہنے سے بہتر مرنا پسند کرو گے جواب دو کہاں ہے یہ لڑکی اس وقت"
ازلان غصے میں روحیل کو دیکھتا ہوا ایک بار پھر پوچھنے لگا، اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ کہا جائے، کیا کرے، کیسے اپنی بہن کو کہیں سے ڈھونڈ نکالے، اس وقت اس کی بےبسی آسمانوں کو چھو رہی تھی۔۔۔۔ روحیل کے خاموش رہنے پر ازلان نے ایک بار پھر روحیل کے منہ پر زور دار طمانچہ مارا، روحیل ایک بار پھر کرسی سمیت زمین پر جاگرا
"پلیز مجھے چھوڑ دو، میں واقعی اس لڑکی کو نہیں جانتا"
اب کی بار والا تھپڑ پہلے سے بھی زیادہ شدت کا تھا جس سے روحیل کے گال کے ساتھ اس کا کان بھی سرخ ہوگیا اور ناک سے خون بہنے لگا
"اس لڑکی کو اور ان دو بچوں کو تم جانتے ہو ناں"
ازلان ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھاکر ایک بار پھر جھک کر روحیل کے چہرے کے آگے موبائل کی اسکرین کرتا ہوا اس سے پوچھنے لگا، روحیل نے اب کی بار اسکرین کی طرف دیکھا
"حرا"
بےساختہ اس کے منہ سے اپنی بیوی کا نام نکلا وہ تصویر اس کی بیوی اور دونوں بچوں کی تھی
"چند دنوں پہلے روبی نے اس لڑکی کو میرے فلیٹ پر بھیجا تھا میں نے اس لڑکی کے باقاعدہ روبی کو پانچ لاکھ روپے ایک رات کے لیے دیئے تھے۔۔۔ مگر یہ لڑکی اس رات میرے فلیٹ سے فرار ہوگئی تھی روبی خود بھی اس لڑکی کی تلاش میں ہے۔۔۔ میں اپنے بچوں کی قسم کھا کر کہہ رہا ہوں میں نے اس رات اس لڑکی کے ساتھ کچھ غلط نہیں کیا تھا اور نہ ہی یہ جانتا ہو کہ یہ لڑکی اب اس وقت کہاں پر ہے، میرا یقین کرو میں اب کی بار بالکل سچ بول رہا ہوں پلیز میری بیوی اور بچوں کو کچھ مت کرنا"
روحیل بولتا ہوا بےبسی سے دھاڑے مار کر زوروں سے رو پڑا تو ازلان کمرے سے باہر نکل کر دوسرے کمرے میں آگیا
اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھامے صوفے پر بیٹھا ہوا اس کا اپنا بھی دل کیا کہ وہ روحیل کی طرح دھاڑے مار کر زور زور سے روئے نجانے نوف اس وقت کہاں تھی، کس حال میں تھی
جب اس کو معلوم ہوا تھا کہ وہ روبی کے ہاتھ لگ گئی ہے جو سوسائیٹی میں ایک نائیکہ کی حیثیت رکھتی ہے تب ایک پل کے لئے ازلان کو محسوس ہوا تھا جیسے اس کے جسم سے روح کھینچ لی گئی ہو۔۔۔۔ روبی کے ٹھکانے پر پہنچ کر اس نے ایک ایک لڑکی میں نوف کو تلاشا مگر وہ ان لڑکیوں میں موجود نہیں تھی تب ازلان کو روحیل کا معلوم ہوا مگر یہاں بھی نوف کا پتہ نہیں چل سکا۔۔۔ وہ اس بھری دنیا میں بالکل اکیلا ہوگیا تھا ان دنوں وہ جس اذیت سے گزر رہا تھا اس کا اندازہ کوئی بھی نہیں لگا سکتا تھا مگر اسے ہمت سے کام لینا تھا اپنی آنکھوں کے آنسوؤں کو گالوں پر اترنے سے پہلے صاف کرتا ہوا وہ صوفے سے اٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا
****
پورے ہفتے کے بعد آج اس کا یونیورسٹی میں آنا ہوا تھا انگلش کی کلاس لینے کے بعد اسے اندازہ ہوا کہ پچھلا گزرا ہوا ہفتہ غیر حاضر ہونے کی وجہ سے اس کی اسٹڈیز کا کافی لاز ہوچکا ہے۔۔۔ پندرہ منٹ کے بعد سر عتیق کی کلاس تھی جو اس کے فزکس کے ٹیچر تھے بیلا کو آج ہی معلوم ہوا تھا تین دن پہلے اپنی کچھ ذاتی پرابلمز کی وجہ سے ان کا یونیورسٹی آنا نہیں ہورہا تھا بلکہ سر عتیق کی جگہ آبان نام کے ٹیچر فزکس کی کلاس لے رہے تھے
"سر آگئے"
اسٹوڈنٹ کی آواز کلاس روم میں گونجی تو کلاس کے ماحول میں ایک دم نظم و ضبط کی فضا بحال ہوگئی،، ٹیچر کی آمد سے پہلے ہی سارے اسٹوڈنٹس اپنی کرسی پر براجمان ہوچکے تھے
بلیک ڈریس پینٹ کے اوپر وائٹ کلر شرٹ پہنے، بالوں کو ترتیب سے بنائے ہوئے چہرے پر ہلکی داڑھی مونچھوں کے ساتھ پروقار چال چلتا ہوا وہ کلاس کے اندر آیا تو بیلا کی آنکھیں بےیقینی سے کھلی کی کھلی رہ گئی جبکہ دل کی دھڑکنیں ایک دم سے تیز ہونے لگیں۔۔۔ یہ اس کی کلاس میں کیا کررہا تھا یہ آبان کیسے ہوسکتا تھا اس کا ٹیچر،، اس کا نام آبان نہیں تھا بیلا اس کو پہلی نظر میں دیکھ کر پہچان گئی تھی،، آخر وہ اس چہرے کو کیسے نہیں پہچانتی۔۔۔ وہ کون سا دن کون سا لمحہ نہ تھا جب اس کے دل نے اس چہرے کو یاد نہ کیا ہو، بات دوستی تک محدود نہیں رہی تھی بلکہ وہ دوستی کی منزل سے بات بہت آگے نکل چکی تھی اور ایسا کب ہوا یہ بیلا کو یاد نہیں تھا بیلا سانس روکے اسی کو دیکھ رہی تھی
ازلان، دس سال پہلے جسے سب کے سامنے اس نے اپنا مجرم ٹھہرایا تھا، دس سال کے عرصے کے بعد آج اسے اپنے سامنے دیکھ کر بیلا کی آنکھیں لبالب آنسوؤں سے بھرنے لگی اور ہونٹ لرزنے لگے
"کلاس میں جتنے نئے چہرے نظر آرہے ہیں ایک ایک کرکے کھڑے ہوتے جائیں اور اپنے آپ کو متعارف کروائیں،، باقی سارے اسٹوڈنٹس بورڈ پر دیے گئے نمریکلز سولو کریں"
وہ بیلا کو بنا دیکھے مارکر اٹھا کر وائٹ بورڈ کی طرف بڑھا۔۔۔ وہ اسٹوڈنٹ جو آج پہلی بار اس کی کلاس اٹینڈ کررہے تھے ایک ایک کرکے کھڑے ہوکر اپنا انٹروڈکشن کروانے لگے جبکہ باقی کے اسٹوڈنٹس بورڈ کی طرف متوجہ تھے
"تمہیں انٹروڈکشن کے لئے اسپیشل بولنا پڑے گا"
اب کی بار ازلان کی نظریں بیلا کی طرف اٹھی تو سارے اسٹوڈنٹ سر اٹھاکر بیلا کی طرف دیکھنے لگے جہاں ازلان کے دیکھنے پر اس کا دل تھم سا گیا تھا وہی سارے اسٹوڈنٹس کو اپنی طرف متوجہ پاکر وہ اور بھی زیادہ گھبرا گئی تھی
"اب جس کا بھی سر ورک شیٹ سے اٹھا تو وہ سیدھا کلاس سے باہر جائے گا خاموشی سے سب اپنا کام کریں اور تم کھڑی ہوجاؤ"
ازلان کی وارننگ پر سب اسٹوڈنٹس دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہوگئے وہی بیلا کرسی سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی نہ صرف بیلا اس کو دیکھ رہی تھی بلکہ اذلان بھی اس کو خاموش کھڑا دیکھ رہا تھا، ازلان کی نظریں بیلا کو یہ بتانے کے لیے کافی تھی کہ وہ خود بھی اس کو پہچان گیا تھا شرمندگی کے مارے بیلا کی نظریں جھک گئیں
"نام بتانا پسند کریں گیں آپ اپنا"
ازلان کا طنزیہ لہجہ اس کے کانوں سے ٹکرایا تو بیلا پلکیں جھپکاتی ہوئی اسے دیکھ کر آہستہ آواز میں "بیلا" اپنا نام بتانے لگی۔۔۔ آواز اتنی مدھم تھی کہ بمشکل وہ خود ہی اپنی آواز سن پائی ہوگی
"ناشتہ نہیں کرکے آئی ہو یا زبان گھر پر بھول کر آگئی ہو زور سے بولو"
ازلان کے سخت لہجے پر بیلا اس کا چہرہ دیکھنے لگی جس کے چہرے کے تاثرات اس کے لہجے سے بھی زیادہ سخت تھے
"بیلا"
اب کی بار بیلا لڑکھڑاتی ہوئی آواز میں مگر ذرا تیز آواز میں اسے اپنا نام بتانے لگی
"بیلا کیا تم یہاں میرے پاس تشریف لانا پسند کروگی"
بیلا سے بولتے ہوئے ازلان نے ہاتھ میں موجود مارکر کھینچ کر اس لڑکے کے سر پر مارا جو سر اٹھا کر سامنے دیکھنے کی کوشش کررہا تھا
"نکلو کلاس روم سے باہر"
ازلان کی دھاڑ پر جہاں بیلا سہم گئی تھی وہی اس لڑکا کی سوری کو ایکسپٹ نہ کرتے ہوۓ ازلان نے اسے کلاس روم سے باہر نکال دیا
"پورا نام کیا ہے تمہارا مس بیلا"
بیلا کے اپنے پاس آنے پر ازلان اس کا سرخ پڑتا چہرہ دیکھ کر دوبارہ بولا
"بیلا عباد"
بیلا کو محسوس ہورہا تھا جیسے اس کا نیا امتحان شروع ہوچکا ہے وہ ازلان کو دیکھے بناء اسے اپنا نام بتانے لگی
"تو بیلا عباد اب بھی شوق رکھتی ہو تم دوستی کے نام پر اپنے دوست کو رسوا کرنے کا یا پھر اب اپنے شوق بدل لیے ہیں تم نے"
ازلان کی آواز اتنی ہی آہستہ تھی کے اسے صرف بیلا ہی سن سکتی تھی وہ تڑپ کر نظریں اٹھاتی ہوئی ازلان کے سپاٹ چہرے کو دیکھنے لگی جو اسی کے چہرے پر اپنی نظریں گاڑھے کھڑا تھا بیلا شرم سے دوبارہ سر جھکا گئی
"تکلیف ہوئی میرے سوال پر، کوئی بات نہیں اس سے زیادہ تکلیف تم مجھے دے چکی ہو جو میں سہہ بھی چکا ہوں۔۔۔ چلو یہ بتادو ان دس سالوں میں کتنی بار تمہارے ضمیر نے تم پر ملامت کی ہے کہ تم نے کسی بےگناہ پر جھوٹا الزام لگایا تھا"
ازلان دبے ہوئے غصے میں بیلا کا چہرہ دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا لیکن اس وقت بیلا کی زبان تالو سے چپک چکی تھی، صرف اس کی آنکھیں اشک بہارہی تھی اور وہ خود مسلسل نیچی نظریں جھکاۓ ہوئی تھی
"بہت مشکل لگ رہا ہوگا میرے سوالوں کا جواب دینا اور مجھ سے نظریں ملانا، یقینا تمہارے لیے مشکل ہورہا ہوگا چلو اب آسان سوال پوچھ لیتا ہوں یہ بورڈ پر جو نمیرکلز موجود ہیں انہیں سولو کرسکتی ہو"
اب ازلان کے چہرے کے تاثرات بالکل مختلف تھے، وہ ایک ٹیچر کی طرح اپنے اسٹوڈنٹ سے سوال کرنے لگا تو بیلا بورڈ کی طرف دیکھ کر شرمندگی سے ایک بار پھر نفی میں سر ہلانے لگی
"ٹیبل سے ورک شیٹ اٹھاؤ اور اپنی سیٹ پر بیٹھ کر انہیں سولو کرو"
ازلان بولتا ہوا باقی اسٹوڈنٹس کی طرف متوجہ ہوا اور باآواز سب سے بولا
"جو اسٹوڈینٹس اس ٹیسٹ کو کلیئر نہیں کر پائیں گے یاد رکھیں انہیں فزکس کے مڈٹرم میں بیٹھنے کی پرمیشن نہیں ملے گی"
ازلان کی بات سن کر بیلا سر اٹھاتی ہوئی اسے دیکھنے لگی کیونکہ مڈ ٹرم کے نمبر سمسٹر میں انکلیوڈ ہونے تھے بیلا کو سمجھ آرہا تھا اب وہ کس کس طریقے سے اس سے بدلہ لے گا
"اب اگر تمہارا بھی سر اٹھا تو کلاس روم سے باہر کر دوں گا میں تمھیں"
ازلان کے وارننگ دینے پر وہ ورک شیٹ پر سر جھکا گئی،،، مشکل سے دس منٹ ہی گزرے تھے تب ازلان اس سے شیٹ کھنچ کر اپنے ہاتھ میں لیتا ہوا دیکھنے لگا،، جس پر آنسوؤں کے نشانات کے ساتھ ساتھ پوری شیٹ پر صرف ایک ہی لفظ "سوری" بار بار لکھا ہوا تھا
"کل شام پورے پانچ بجے تم اس ایڈریس پر آؤں گی بالکل اکیلی"
ازلان نے دھمے لہجے میں بولنے کے ساتھ ہی اپنے ہاتھ میں موجود مارکر سے بیلا کے ہاتھ پر ایڈریس لکھا دوسرے اسٹوڈنٹس سے ورک شیٹ کلیکٹ کرتا ہوا وہ کلاس روم سے باہر نکل گیا
****
افراہیم آفس سے گھر آیا تو اس نے نازنین کو لان میں کرسی پر بیٹھا ہوا پایا وہ کار کی فرنٹ سیٹ سے تین سے چار شاپنگ اٹھاتا ہوا لان میں آیا کیونکہ نوف بھی وہی موجود تھی جو گھاس پر چہل قدمی کرنے کے ساتھ ساتھ بلند آواز میں نازنین کو کچھ بتارہی تھی کیونکہ اس وقت نوف کی پشت افراہیم اور نازنین کی طرف تھی اس لئے وہ افراہیم کو دیکھ نہیں پائی تھی۔۔۔ افراہیم نازنین کو اشارے سے سلام کرتا ہوا سارے شاپرز ٹیبل پر رکھ کر وہی کرسی پر بیٹھ کر نوف کی باتیں سننے لگا جو اس کے سامنے تو براہ نام ہی کچھ بولتی تھی مگر اس وقت نان اسٹاپ شروع تھی
"اور پھر اچانک یوں ہوا کہ خود بخود منظر تبدیل ہوگیا اور میں نے اپنے آپ کو ایک صحرا کی بجاۓ سبز باغ میں بالکل تنہا پایا میں اس وقت اتنا زیادہ ڈر گئی تھی کہ آیت الکرسی کا ورد کرنے لگی۔۔۔ پھر تھوڑی دیر گزرنے پر وہاں پر ایک بزرگ آئے انہوں نے مجھے میرے گھر کا راستہ بتایا اور اس کے بعد میں گھر پہنچ گئی"
شاید وہ رات کو دیکھا ہوا اپنا خواب نازنین کو سنارہی تھی جس پر نازنین خاموشی سے مسکرا کر افراہیم کو دیکھنے لگی وہ خود بھی اپنی مسکراہٹ چھپاکر خاموش بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔ نوف نے ابھی بھی پلٹ کر نہیں دیکھا تھا وہ اب کیاریوں میں لگے ہوئے پھولوں کی طرف متوجہ تھی تو نازنین نوف سے پوچھنے لگی
"یمنہ پرسوں جو تم نے خواب دیکھا تھا اس میں لڑکے کی شکل میرے افی سے ملتی تھی ناں"
نازنین اپنی مسکراہٹ ضبط کرتی ہوئی نوف سے اس کا پرسوں والا خواب پوچھنے لگی شاید وہ چاہتی تھی نوف اپنا پرسوں والا خواب افراہیم کے سامنے پھر سنائے
"جی شکل بالکل آپ کے بیٹے کی طرح تھی اور تھا بھی ایک دم خرانٹ ٹائپ کا جیسے ہمارے پرانے محلے میں منگت کا جنگلی بیل ہوا کرتا تھا بڑے بڑے سینگ والا، میرے ہی خواب میں آکر مجھ پر ایسے روعب جمارہا تھا اور پھر اسٹائل ایسے مار رہا تھا جیسے کہ کوئی ہیرو ہو۔۔۔ میں پرسوں والا خواب آپ کو بتانا تو نہیں چاہتی تھی کہ کہیں آپ کو برا نہ لگے مگر میں نے آپ کو بتایا ناں صبح اٹھ کر روز اپنے خواب سنانا میری بچپن کی عادت ہے میں امی کو روز اپنے خواب سنایا کرتی تھی"
نوف ایک ایک کر کے موتیے کے سارے پھول توڑتی ہوئی اپنے دوپٹے میں بھر کر نازنین کو بتانے لگی۔۔۔ افراہیم اپنے بارے میں اس لڑکی کے خیالات جاننے لگا جو اس کو بڑے سینگ والے جنگلی بیل سے تشبیہ دے کر اسی کے لگوائے ہوئے پھول مزے سے توڑ کر اپنی جھولی میں بھررہی تھی
"تمہیں معلوم ہے ناں یمنہ مجھے تمہاری کوئی بھی بات بری نہیں لگتی ہے جو بھی بات ہوا کرے مجھ سے بے دھڑک بول دیا کرو اور جو بھی خواب دیکھو وہ مجھے سنایا کرو،، ویسے اگر وہ خواب والا لڑکا ہیرو بننے کی کوشش کررہا تھا تو اتنا بھی غلط نہیں تھا افی بھی دکھنے میں ہیرو ہی لگتا ہے۔۔۔ ہاں وہ الگ بات ہے کہ اس خواب والے لڑکے کو تم پر روعب نہیں جھاڑنا چاہیے تھا اور نہ ہی تمہارے سامنے اسٹائل مارنے چاہیے تھے کیوکہ بھئی خواب تو تمہارا تھا ناں"
نازنین مزے سے بولنے لگی تو افراہیم نے سنجیدہ نظر نازنین پر ڈالی پھر دوبارہ اس لڑکی کو دیکھنے لگا جو اسے کافی ریزرو سی لگتی تھی لیکن اس وقت وہ اس کی ماں کے سامنے کتنا فری ہوکر اس سے باتیں کررہی تھی
"آنٹی اب آپ میری بات کا برا نہیں مانیئے گا میں تو آپ کو سچی بتارہی ہوں اپنا بیٹا تو ہر ماں کو ہی ہیرو لگتا ہے یہ تو کوئی دوسرا سچ بتاسکتا ہے کہ وہ ہیرو ہے یا پھر زیرو۔۔۔ اور ویسے بھی آج کل کی لڑکیاں ایسے لڑکوں کو تو بالکل ہیرو نہیں سمجھتی جو بلاوجہ کا روعب جھاڑ کر اپنی دہشت پھیلاتے ہو یا پھر فالتو کے اسٹائل دکھا کر بھرم مارتے ہو"
نوف مصروف انداز میں بولتی ہوئی جیسے ہی پلٹی سامنے کرسی پر افراہیم کو بیٹھا ہوا دیکھ کر ایک دم اس کو کرنٹ لگا
"ہائے اللہ جی"
ایک دم گھبرا کر اس نے اپنے منہ پر دونوں ہاتھ رکھے سارے چنے ہوئے پھول دوپٹے سے نیچے گرے پڑے،، وہ شکوہ بھری نگاہوں سے نازنین کو دیکھنے لگی جس نے اسے اپنے بیٹے کی آمد کے بارے میں آگاہ نہیں کیا تھا،،، جبکہ نازنین نے اپنی ہنسی کو کافی دیر سے روکا ہوا تھا اب وہ باقاعدہ زور سے ہنس رہی تھی۔۔۔ افراہیم کو دیکھنے کی بجائے نوف نے شرمندگی سے اپنی نظریں جھکالی وہ تھوڑی دیر پہلے جانے کیا کیا افراہیم کو بول چکی تھی،، افراہیم کرسی سے اٹھ کر چلتا ہوا نوف کے پاس آکر کھڑا ہوا
"مجھے تو کچھ ایسا یاد نہیں پڑتا مس یمنہ کے میں نے آپ پر کبھی روعب جھاڑا ہو یا پھر اسٹائل دکھا کر بھرم مارے ہو"
افراہیم نوف کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر اس سے پوچھنے لگا
"میں نے آپ کی بات نہیں کی تھی ویسی ہی ایک عام سی بات بولی تھی"
نوف ہمت کرکے اپنا جھکا ہوا سر اٹھا کر افراہیم کو دیکھتی ہوئی بولی
"تو پھر آپ بتانا پسند کریں گیں کہ افراہیم عباد ہیرو ہے یا پھر زیرو"
وہ غور سے نوف کا چہرہ دیکھتا ہوا اس سے سوال پوچھنے لگا، جس پر نوف نے بنا کچھ بولے دوبارہ سر جھکالیا کیوکہ اس وقت وہ مغرور انسان اس کے قریب کھڑا بہت غور سے اس کا چہرا دیکھ رہا تھا
"افی تم یمنہ کو پریشان مت کرو ورنہ وہ تم سے ڈر جائے گی"
نازنین کرسی پر بیٹھی ہوئی نوف کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر افراہیم کو ٹوکتی ہوئی بولی
"ڈرنا بھی چاہیے مما،، کیونکہ مجھے ہیرو بننے کا کوئی خاص شوق نہیں ہے اور ویسے بھی جنگلی اور خرانٹ بیل سے کوئی بعید نہیں وہ ناجانے کب بدک جائے"
افراہیم نوف کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر تیز آواز میں نازنین سے بولا تو نوف سر اٹھاکر افراہیم کو دیکھنے لگی۔۔۔ وہ اب بھی نوف کو ہی غور سے دیکھ رہا تھا
"سر جھکاکر یوں مجرموں کی طرح مت کھڑی رہا کرو،، بالکل اچھا نہیں لگتا لڑکیوں پر یہ اسٹائل۔۔۔ جھکا ہوا سر صرف غلطی کرنے والے کا اچھا لگتا ہے۔۔۔ اینی ویز یہاں آؤ میں تمہارے لیے کچھ لایا ہوں"
افراہیم اس سے بولتا ہوا واپس چند قدم کے فاصلے پر بیٹھی ہوئی نازنین کے پاس آیا جو ان دونوں کو بہت غور سے اور دلچپسی سے دیکھ رہی تھی۔۔۔ افراہیم نے ٹیبل پر رکھے ہوئے شاپرز اٹھائے اور اپنے قریب آتی ہوئی نوف کی طرف بڑھاۓ
"اس میں چند ڈریسز ہیں اور یہ میں تمہارے لئے لایا ہوں"
افراہیم کے بولنے پر نوف ان شاپرز کو دیکھنے لگی
وہ جب سے یہاں آئی تھی افراہیم اس کو ایک ہی لباس میں دیکھ رہا تھا جو وہ یہاں پہن کر آئی تھی بےشک اس کا پہنا ہوا لباس ابھی بھی صاف ستھرا تھا یقینا وہ اس لباس کو واش کرکے دوبارہ زیب تن کرلیا کرتی
"سوری مگر میں یہ ڈریسز میں قبول نہیں کرسکتی"
نوف افراہیم کے بڑھے ہوئے ہاتھ میں موجود شاپرز کو دیکھ کر معذرت کرتی ہوئی بولی۔۔۔ نوف کو اپنے گھر میں پناہ دے کر اور جاب دے کر افراہیم اس پر دو احسانات کرچکا تھا مگر وہ مزید تیسرا احسان اس سے لینے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی۔۔۔۔ نوف کی بات سن کر افراہیم کے ماتھے پر بل پڑنے لگے
"یمنہ بیٹا اگر کوئی تمہیں تحفہ دے تو اس طرح اسے منع نہیں کرنا چاہیے۔۔۔۔ افی تمہارے لئے یہ سارے ڈریس خلوص دل سے لےکر آیا ہے شاباش لے لو"
نوف کے انکار کرنے اور افراہیم کی پیشانی پر بل دیکھ کر نازنین بیچ میں مداخلت کرتی ہوئی بولی مگر نازنین کی بات پر افراہیم ایک دم بولا
"جی نہیں مما مجھے کسی کو بھی بلاوجہ میں تحفے تحائف دینے کا کوئی خاص شوق نہیں ہے،، اور مس یمنہ یہ ڈریسز آپ کی جاب کی ریکوائرمنٹ ہے، آپ کو 24 گھنٹے مما کے ساتھ گذارنے ہوتے ہیں تو آپ کو صاف ستھرا ہونے کے ساتھ ویل ڈریس نظر آنا چاہیے اور دوسرا یہ کہ ان ڈریسز کی اماؤنٹ آپ کی سیلری سے لیس ہوگی تو یہ ڈریسز آپ رکھ لیجئے"
افراہیم سنجیدہ لہجے میں اس کو اس کے فرائض اور جاب کا بتاتا ہوا بولا تو نوف کو افراہیم کے ہاتھ سے سارے شوپرز لینا پڑے اس کے بعد افراہیم وہاں نہیں رکا۔۔۔ افراہیم کو اس لڑکی پر غصہ آیا تھا کیونکہ وہ لڑکی کچھ زیادہ ہی ایٹیٹیوڈ رکھتی تھی،، دو دن پہلے بیلا نے بھی اس کو دو ڈریس استعمال کرنے کو دیے تھے جس پر وہ مسکرا کر بیلا کو بھی انکار کرچکی تھی،، افراہیم جانتا تھا بیلا نے جو اس کو کپڑے دیے تھے وہ بیلا نے خود استعمال نہیں کیے تھے بلکہ وہ نئے ڈریس تھے مگر شاید وہ لڑکی یہ بات نہیں جانتی تھی جبھی آج افراہیم اس کے لیے یہ ڈریسز خرید کر لایا تھا
"بی بی جی یہی وہ اپارٹمنٹ ہے جس کا آپ نے ایڈریس بتایا تھا"
بیلا کے بتائے ہوئے ایڈریس پر ڈرائیور کار روکتا ہوا اس سے بولا تو بیلا آٹھ منزلہ عمارتوں کو دیکھنے لگی جو اس کے دائیں اور بائیں جانب بنی ہوئی تھی یہ وہی اپارٹمنٹ تھا جس کا ایڈریس ازلان نے اس کے ہاتھ پر لکھا تھا مگر آگے بیلا کو علم نہیں تھا کہ اسے کہاں جانا تھا۔۔۔ وہ ازلان کے کہنے کے مطابق دوسرے دن شام میں یہاں پہنچ چکی تھی اس سے پہلے وہ ڈرائیور کو آبان نامی شخص کے بارے میں معلوم کرنے کا کہتی اس کا موبائل بجنے لگا جس پر انجان نمبر سے کال آرہی تھی
"جب میں نے تم سے اکیلے آنے کو کہا تھا تو اس دم چلھے کو ساتھ لے کر کیوں آئی ہو"
موبائل کا نمبر بےشک انجانا تھا مگر یہ آواز بالکل انجانی نہیں تھی ازلان خفا ہوتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
"کہیں بھی جانا ہو میں شروع سے ہی ڈرائیور کے ساتھ آتی جاتی ہو، بھائی مجھے اکیلا کہیں بھی جانے کی پرمیشن نہیں دیتے"
بیلا گاڑی میں بیٹھی ہوئی تھی ہلکی سی آواز میں ازلان کو بتانے لگی ساتھ ہی وہ اپنے دائیں اور بائیں جانب بنی عمارتوں کو ایک بار پھر غور سے دیکھنے لگی ناجانے وہ اس وقت اسے کہاں سے دیکھ رہا تھا
"ٹھیک ہے اسے دو گھنٹے بعد آنے کا کہہ کر گاڑی سے باہر نکل آؤ"
ڈرائیور کو انفرم کرکے بیلا ازلان کی بات کی پیروی کرتی ہوئی گاڑی سے باہر نکل آئی۔۔ وہ نازنین اور افراہیم سے یونیورسٹی فیلو کے گھر جانے کا کہہ کر یہاں آئی تھی وہ دونوں ہی حیرت زدہ تھے مگر خوش بھی تھے لیکن بیلا ان دونوں سے جھوٹ بول کر اچھی خاصی شرمندہ تھی
"اب رائیڈ سائیڈ پر ٹرن ہوجاؤ سامنے بی بلاک ہے۔۔۔ لفٹ سے فورتھ فلور پر آجاؤ"
بیلا اپنا موبائل کان سے لگائے ہوئے تھی جیسے جیسے ازلان بولتا گیا ویسے ویسے وہ فلیٹ نمبر 504 میں پہنچ گئی جہاں اذلان کے مطابق،، فلیٹ کا دروازہ پہلے سے ہی کھلا ہوا تھا۔۔۔ دھڑکتے دل کے ساتھ بیلا فلیٹ میں جیسے ہی داخل ہوئی تو فلیٹ کا دروازہ ایک دم سے بند کردیا گیا۔۔۔ بیلا ایک دم مڑی تو اس نے اپنی پشت پر ازلان کو موجود پایا۔۔۔ فلیٹ کا دروازہ بند کرنے کے بعد وہ بیلا کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ سنہری بالوں کو جوڑھے کی شکل میں لپیٹے سادہ سے قمیض شلوار میں وہ اسے آج بھی پہلے کی طرح کوئی مومی گڑیا لگی تھی۔۔۔ ازلان کے اتنے غور سے دیکھنے پر بیلا کو اپنا دل اور زور سے دھڑکتا ہوا محسوس ہوا
"پورے 15 منٹ لیٹ ہو تم اس وقت 05:15 ہورہے ہیں"
وہ چلتا ہوا بیلا کے مزید پاس آکر اس سے بولا
"ایڈریس ڈھونڈنے میں ٹائم لگ گیا تھا"
بیلا بہت قریب سے اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی وہ ازلان کی آنکھوں میں جھانکتی ہوئی بولی۔۔۔ کل کی بانسبت وہ آج اس سے دوستانہ لہجے میں بات کررہا تھا بس اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں تھی۔۔۔ ازلان کے چہرے کے تاثرات سے وہ اندازہ لگاسکتی تھی کہ اس کی شخصیت میں کافی بدلاؤ آچکا ہے
"اگلی بار ایسا نہیں ہونا چاہیے، میں جو بھی ٹائم دوں گا تمہیں ہمیشہ اسی ٹائم پر یہاں پہنچنا ہوگا رائٹ"
وہ ابھی بھی سنجیدہ تاثرات لیے بیلا کو دیکھتا ہوا بولا تو بےساختہ بیلا کے منہ سے نکلا
"مگر میں یہاں پر اگلی بار کیوں آؤ گیں"
بیلا کی بات پر ازلان کے چہرے پر مدھم سی طنزیہ مسکراہٹ ابھری
"تم یہاں ابھی بھی کیوں آئی ہو؟؟ میرے بلانے پر ہی ناں، تو نیکسٹ ٹائم بھی جب میں تمہیں یہاں بلاؤ گا تو تمہیں میرے پاس آنا پڑے گا"
طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ ازلان طنز کرتا ہوا بیلا سے بولنے لگا جس پر بیلا سے کوئی جواب بن نہیں پڑا وہ خاموشی ہی رہی
"آؤ روم میں چلتے ہیں"
ازلان اس سے بولتا ہوا اندر کی طرف روم میں جانے کے لیے مڑا تو بیلا اس کمرے کو دیکھنے لگی جہاں وہ کھڑی تھی
یہ بڑا سا ہال نما کمرہ تھا جس میں صوفے موجود تھے اور ایک سائیڈ پر میز کے ساتھ چار کرسیاں بھی موجود تھی۔۔۔ بیلا ازلان کے پیچھے چلنے لگی،،، ازلان جس کمرے میں داخل ہوا وہ بیڈ روم تھا جو زیادہ بڑا نہ تھا
"کھڑی کیوں ہو بیٹھو"
بیلا کمرے کا جائزہ لے رہی تھی تب ازلان کی آواز پر چونکی وہ اسے ٹو سٹر صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کررہا تھا جو بیڈ کے دائیں جانب موجود تھا
بیلا صوفے پر بیٹھنے لگی تو ازلان نے روم کا دروازہ بند کردیا،، بیڈروم کا دروازے بند کرنے کی لاجک بیلا کو سمجھ نہیں آئی تھی مگر ازلان کو اسپلٹ آن کرتا دیکھ کر بیلا کو اطمینان محسوس ہوا مگر یہ اطمینان اس وقت رخصت ہوگیا جب ازلان اس کے بےحد پاس صوفے پر آکر بیٹھا تو وہ صوفے پر اپنی جگہ سمٹ سی گئی
"فزکس کی بک لائی ہو ناں"
اذلان کے سوال پر وہ ہونق بنی ازلان کو دیکھنے لگی۔۔۔ ازلان سنجیدگی سے اس کو دیکھتا ہوا پوچھ رہا تھا
"مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ تم نے مجھے یہاں پڑھانے کے لئے بلایا ہے"
بیلا کو اپنی بات بولتے ہوئے خود بہت عجیب سا محسوس ہوا کہ وہ یہ کیا بول رہی ہے
"تو پھر میں نے تمہیں یہاں پر پھر کس لیے بلایا ہے ذرا مجھے بھی تو بتاؤ"
اذلان بیلا کے چہرے پر آئی بالوں کی لٹوں کو پیھے کرتا ہوا پوچھنے لگا جس پر بیلا مزید شرمندہ ہوگئی مگر دوسرے ہی پل ازلان نے اس کا ہاتھ پکڑا تو بیلا حیرت سے ازلان کو دیکھنے لگی، ازلان اپنے ہاتھ میں بیلا کا نازک ہاتھ پکڑے کچھ سوچتا ہوا اس سے بولا
"اس وقت روم کے ٹمپریچر کے حساب سے تمہارے ہاتھ ٹھنڈے ہورہے ہیں لیکن اگر میں اس کمرے کی ٹھنڈک میں اپنی باڈی کو وارم اپ کرنا چاہو تو مجھے کیا کرنا چاہیے ایکسپلین کرو"
ازلان کے عجیب سے سوال پر وہ ہونق بنی اسے دیکھنے لگی، آئستہ سے اس نے ازلان کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا مگر ناکام رہی
"مم۔۔۔۔ مجھے کیسے معلوم ہوسکتا ہے میں پچھلے دنوں غیر حاضر ہونے کی وجہ سے کلاسس نہیں لےسکی تھی،، مجھے گھر جانا ہے اب"
یہ سوال بہت عجیب سا تھا نہ جانے سلیبس میں یہ سوال تھا بھی کے نہیں۔۔۔ بیلا نے بولنے کے ساتھ ایک بار پھر ازلان کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا مگر ازلان اس کا ہاتھ چھوڑے بغیر صوفے سے اٹھا تو اس کی وجہ سے بیلا کو بھی اٹھنا پڑا
"اس سوال کا جواب دیے بغیر تو تم اس بیڈروم سے باہر نہیں جاسکتی واپس اپنے گھر جانے کا تصور تو آج بھول ہی جاؤ"
ازلان بولنے کے ساتھ بیلا کا ہاتھ پکڑ کر اسے بیڈ تک لایا
"مجھے نہیں معلوم ازلان تم کیا پوچھ رہے ہو پلیز مجھے اپنے گھر جانا ہے"
ازلان کا یہ ردعمل اس کی طبیعت سے بالکل میل نہیں کھا رہا تھا بیلا کو اب اس سے گھبراہٹ ہونے لگی وہ ازلان سے درخواست کرتی ہوئی بولی
"تمہیں اس سوال کا جواب نہیں معلوم تو اس میں اتنا گھبرانے کی کیا بات ہے میں تمہیں آج مثال دے کر سب سمجھا دیتا ہوں"
ازلان نے بولنے کے ساتھ ہی بیلا کو بیڈ پر دھکا دیا اس سے پہلے وہ بیڈ سے اٹھتی ازلان نے اس پر جھکتے ہوۓ بیلا کی دونوں کلائیوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں جکڑلیا۔۔۔ وہ چاہ کر بھی نہ اپنے پاؤں چلا پائی تھی نہ ہی ازلان سے اپنے ہاتھوں کو چھڑا پائی تھی
"ازلان نہیں۔۔۔ میں مر جاؤں گی اب کے بار،،، تمہیں خدا کا واسطہ ہے،، میرے ساتھ کچھ برا مت کرنا"
بیلا خوف کے مارے بری طرح سے چیختی ہوئی ازلان سے بولی،، اس کی چھٹی حس نے اس کو یہاں آنے سے پہلے ایسا کوئی الارم نہیں دیا تھا جو ازلان اس کے ساتھ کررہا تھا،، وہ تو ازلان کو لےکر ایسا کچھ بھی نہیں سوچ سکتی تھی
"کیوں سب کے سامنے نام لیا تم نے میرا جواب دو، کیوں دنیا کے سامنے ذلیل اور رسوا کرکے رکھ دیا تم نے مجھے، بتاؤ۔۔۔ تمہاری وجہ سے میری ہستی، میری فیملی سب برباد ہوگئی، تمہیں معلوم ہے تم سے دوستی کی کتنی بڑی قیمت چکائی ہے میں نے میرا باپ اس دنیا سے چلاگیا میری ماں بہن کے سر سے چھت چھن گئی، میرے زندہ ہوتے ہوۓ میری ماں بہن رل کر رہ گئیں، جانتی ہو جیل کی چار دیواری میں کیا کیا اذیتیں سہی ہیں میں نے کیسے کیسے دن دیکھنا پڑے ہیں مجھے"
ازلان غصے سے بھری آواز میں اسی کی طرح چیختا ہوا بیلا سے بولا
بیلا اس کی گرفت میں موجود روتی ہوئی ازلان سے معافی مانگنے لگی۔۔۔ ساتھ ہی ازلان کی گرفت میں بیلا کی حالت غیر ہونے لگی اس کی آنکھیں بند ہونے لگی اور جسم کانپنے لگا،، بیلا کی بگڑتی ہوئی حالت اور اس کیفیت کو دیکھ کر ازلان اپنے غصہ کو ضبط کرتا ہوا حواسوں میں آیا اور بیڈ سے اٹھ کر صوفے پر اپنے دونوں ہاتھوں میں سر تھام کر بیٹھ گیا
بیلا کافی دیر تک بیڈ پر لیٹی ہوئی روتی رہی۔۔۔ تھوڑی دیر بعد ازلان کو اپنے کندھے پر بیلا کے ہاتھ کا لمس محسوس ہوا تو وہ سر اٹھا کر بیلا کو دیکھنے لگا جو روئی ہوئی آنکھوں کے ساتھ صوفے پر بیٹھی ہوئی اذلان کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ بیلا نے ازلان کے کندھے پر سر رکھ کر ایک بار پھر رونا شروع کردیا
"میں اس وقت بہت زیادہ ڈر گئی تھی اگر میں اس کا نام بتادیتی تو وہ دوبارہ سے میرے ساتھ وہی سب کرتا۔۔۔۔ میں دوبارہ سے وہ سب برداشت نہیں کرپاتی ازلان۔۔۔ اس لئے بابا کے پوچھنے پر میں نے تمہارا نام لےلیا مجھے معاف کردو"
بیلا کے باآواز رونے سے ازلان اس کے اندر کا چھپا ہوا درد اور کرب صاف محسوس کرسکتا تھا جو وہ پچھلے دس سالوں سے محسوس کرتی آئی تھی
"کون تھا وہ"
اذلان اس کے سنہری بالوں پر ہاتھ رکھتا ہوا پوچھنے لگا تو بیلا ازلان کے کندھے پر رکھا ہوا سر ہٹا کر اسے دیکھنے لگی
"کیا فائدہ بتانے کا"
بیلا سیدھی ہوکر بیٹھی نظریں چراتی ہوئی اپنے آنسو صاف کرنے لگی تو ازلان نے بیلا کا رخ دوبارہ اپنی جانب کیا
"کیسے فائدہ نہیں ہے بتانے کا، بیلا مجھے اس کا نام جاننا ہے، کون تھا وہ شخص جس نے اس رات تمہیں ساتھ وحشیانہ سلوک کیا تھا جس کی سزا میں نے کاٹی اور وہ اب تک آزاد گھوم رہا ہے بتاؤ مجھے کون تھا وہ"
ازلان غصے میں بیلا سے بولا بےشک جیل میں اس کی سزا معاف ہوچکی تھی مگر یہ اذیت کم نہیں تھی کہ اس کی فیملی بکھر چکی تھی،، اس کا باپ اسے قصوروار سمجھ کر اس دنیا سے جاچکا تھا۔۔ اس کی ماں اور بہن نے اس واقعہ کے بعد کیسا دور برداشت کیا تھا
"اصفر بھائی۔۔۔۔ ازلان میں نے انہیں افراہیم بھائی کی طرح اپنا بھائی سمجھا اور انہوں نے اس رات میرے ساتھ"
بیلا اپنا چہرہ اپنے ہاتھوں میں چھپاکر روتی ہوئی بولی اپنے اندر چھپے ہوئے دکھ کو آج وہ دوبارہ آنسوؤں میں بہا رہی تھی۔۔۔
اس رات گھر کے پچھلے حصے پر اصفر نے ہی بیلا کو آنے کا کہا تھا بقول اصفر کے کہ وہ بیلا کو وہاں اس کا گفٹ دیکھانا چاہتا ہے
اصفر کا نام سن کر ازلان غصے سے اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کرنے لگا۔۔۔ اگر اس وقت اصفر اس کے سامنے ہوتا تو ازلان اس کے پراخچے ہوا میں اڑا دیتا اتنے میں اذلان کا موبائل بجنے لگا
"ہاں ٹھیک ہے تم یہاں پر فیضی اور ندیم کو لےکر آجاؤ میں ویٹ کررہا ہوں"
بیلا اپنے چہرے سے ہاتھوں کو ہٹاکر ازلان کو دیکھنے لگی جو موبائل پر کسی سے بات کررہا تھا،، رابطہ منقطع کرنے کے بعد ازلان بیلا کے آنسو صاف کرتا ہوا اس کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا
"دس منٹ کے بعد میرے چار دوست اور نکاح خواں یہاں پر آئیں گے جن کی موجودگی میں ہمارا نکاح ہوگا اس کے بعد تم اپنے ڈرائیور کو کال کرکے واپس اپنے گھر جانے کے لیے بلاسکتی ہو"
ازلان بیلا کے سر پر اس کے دوپٹے کو اسکاف کے اسٹائل میں باندھتا ہوا اس کے سر پر بم پھوڑ چکا تھا بیلا حیرت زدہ ہوکر ازلان کا چہرہ دیکھنے لگی
"ہم دونوں کا نکاح، کیا مطلب ہے کیوں ہورہا ہے ہمارا نکاح"
ازلان بڑی فرصت سے بیلا کا اسکارف سیٹ کررہا تھا۔۔۔۔ بیلا کی بات سن کر اس کا ہاتھ رکا وہ خفا ہونے والے انداز میں بیلا کو دیکھتا ہوا اس سے بولا
"ٹھیک ہے میں منع کردیتا ہوں فیضی کو کہ وہ یہاں پر کسی کو مت لےکر آئے۔۔۔۔ تمہیں اعتراض ہے تو تم کال کرکے اپنے ڈرائیور کو بلالو اور چلی جاؤ واپس اپنے گھر"
ازلان نے بولنے کے ساتھ ہی اپنی پاکٹ سے موبائل نکالا اور کال کرنے لگا
"پر میں نے اعتراض کب کیا ہے میں تو بس یونہی سوال کر رہی تھی تم سے"
بیلا جلدی سے ازلان کے ہاتھ سے موبائل چھین کر بولی اس کی بات سن کر ازلان جس طرح زور سے ہنسا تو بیلا اچھی خاصی شرمندہ ہوگئی۔۔۔ ازلان بیلا سے اپنا موبائل لےکر اسکارف میں اس کی تصویر لینے لگا
"اچھی لگ رہی ہو"
ازلان بیلا کو دیکھ کر مسکراتا ہوا بولا اور کمرے سے باہر نکل گیا
تھوڑی دیر بعد بیلا کی حیرت کی انتہا نہیں رہی جب بطور وکیل اس سے نکاح نامہ پر سائن کروانے کے لئے فیضی آیا یہ اس کا کلاس میٹ تھا بیلا کو اندازہ نہیں تھا ازلان اس سے اس فیضی کا ذکر کر رہا تھا۔۔۔ تھوڑی دیر بعد وہ بیلا عباد سے بیلا ازلان بن چکی تھی
****
افراہیم اپنے گھر کمرے کی کھڑکی کے پردے برابر کررہا تھا تب اس کی نظر گیٹ کے پاس کھڑی نوف پر پڑی جو گلاب خان سے بات کررہی تھی، کچھ تھا جو افراہیم کو محسوس ہوا آج اس نے افراہیم کا دیا ہوا پینک کلر کا ڈریس پہنا تھا جس میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی نہ چاہتے ہوئے بھی افراہیم کی نظریں بار بار اس کی طرف اٹھ رہی تھی تھوڑی دیر پہلے رات کے کھانے کے بعد جب وہ نازنین کے کمرے میں آیا تو اتفاق سے نوف وہی عشاء کی نماز پڑھ رہی تھی افراہیم کتنی دیر تک اس کے چہرے کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھتا رہا تھا اس بات کا نوٹس لیے بغیر کہ نازنین افراہیم کی حرکت پر اس کو گھور رہی تھی مگر اس وقت افراہیم کو جیسے کسی بات کی پرواہ نہیں تھی
نوف نماز ادا کرنے کے بعد فورا وہاں سے چلی گئی تھی،، نوف کے کمرے سے جانے کے بعد نازنین نے افراہیم سے جو بات کہی، اس بات کو سن کر وہ ایک پل کے لیے خاموش ہوگیا تھا،، نازنین چاہتی تھی کہ وہ یمنہ سے شادی کرلے
اپنی ماں کی اس بات پر شاید اس کو برا ماننا چاہیے تھا جس لڑکی کی فیملی کا کچھ اتا پتہ نہیں تھا جس کا بیک گراؤنڈ وہ نہیں جانتا تھا جس کو یہاں آۓ جمعہ جمعہ آٹھ دن گزرے تھے،،، اس کی ماں اس انجان لڑکی کے بارے میں اتنی بڑی بات کیسے کہہ سکتی تھی۔۔۔ لیکن نازنین سے زیادہ اسے اپنے اوپر حیرت ہورہی تھی کیوکہ ایسی بات سن کر اسے غصہ آنا تو دور برا بھی نہیں لگا تھا مگر وہ فوری طور پر نازنین کے سامنے کچھ بھی اظہار نہیں کر پایا اور اس کے کمرے سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا آیا لیکن رات کے اس پہر نوف کا گلاب خان سے بات کرنا اسے اچھا نہیں لگا اس لئے وہ اپنے کمرے سے نکلتا ہوا باہر کی جانب جانے لگا
آج اتفاق سے ایسا پہلی بار ہوا تھا وہ عشاء کی نماز اپنے کمرے میں ادا کرنے کی بجائے نازنین کے کمرے میں پڑھ رہی تھی تب مسلسل اسے محسوس ہورہا تھا کہ وہ کسی کی نظروں کے حصار میں تھی جب سے وہ یہاں آئی تھی اس کی کوشش رہی تھی کہ افراہیم سے اس کا سامنا کم ہو، وہ افراہیم کو صرف ضرورت کے وقت مخاطب کیا کرتی۔۔۔ آج اس نے افراہیم کے لائے ہوئے ڈریسز میں سے ایک ڈریس پہنا تھا یہ ڈریس بھی سلیولیس اور کافی اسٹائلش تھا۔۔۔ اسے اس طرح کے ڈریسنگ کرنے کی بالکل عادت نہیں تھی، جس میں بےپردگی کا احساس ہو اور اپنے بازوں کو بار بار چھپانا پڑے۔۔ مگر وہ جانتی تھی اس میں افراہیم کا بھی قصور نہیں تھا وہ اس کے لئے ویسے ہی کپڑے لےکر آیا تھا جیسے کپڑے میں وہ اسے اتنے دن سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ لیکن آج جن نظروں سے افراہیم اس کی طرف دیکھ رہا تھا نوف کو اپنے اوپر اٹھتی اس کی نظریں کافی محسوس ہورہی تھی۔۔۔ نماز ادا کرنے کے بعد وہ نازنین کے کمرے سے اپنے کمرے میں چلی آئی تھی۔۔۔
تھوڑی دیر گزرنے کے بعد وہ گلاب خان سے اس کی بیٹی کی طبیعت کا پوچھنے گیٹ تک آئی تھی کیوکہ دوپہر میں گلاب خان کی بیٹی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی جس کی وجہ سے وہ نازنین سے آدھے دن کی چھٹی لے کر اپنی بیٹی کو اسپتال دکھانے گیا تھا ابھی وہ اپنے کمرے میں جانے کا ارادہ رکھتی تھی مگر اس سے پہلے وہاں افراہیم آگیا
"کیا ہوا سب ٹھیک ہے ناں"
افراہیم نے آنے کے ساتھ ہی نوف کو مخاطب کیا جس کی وجہ سے اس کو رکنا پڑا وہ افراہیم کو حیرت سے دیکھنے لگی
"جی سب ٹھیک ہے"
نوف افراہیم کو جواب دیتی ہوئی گھر کے اندر جانے لگی تو افراہیم دوبارہ بول پڑا
"گلاب خان سے کیا کہنے آئی تھی"
افراہیم کی بات سن کر نوف خاموشی سے دوبارہ اسے دیکھنے لگی بھلا وہ کون ہوتا ہے اس سے سوال کرنے والا
"گلاب خان کی بیٹی کی طبعیت ٹھیک نہیں تھی اسی کا پوچھنے آئی تھی"
نوف ضبط کرتی ہوئی افراہیم کو بتانے لگی وہ نازنین کو دوا دینے کے بعد اپنے کمرے میں جانا چاہتی تھی نہ جانے یہ انسان کیوں اس وقت یہاں آپہنچا تھا
"تمہارے پوچھنے سے گلاب خان کی بیٹی کی طبیعت ٹھیک ہوجائے گی"
افراہیم اس کے اکتائے ہوئے لہجے اور بیزار سے انداز کو دیکھ کر مذید جراح پر اتر آیا کیوکہ افراہیم نے محسوس کیا تھا وہ صرف اسی سے بات کرنے سے کتراتی تھی، اس کی بیلا سے بھی اچھی دوستی ہوچکی تھی۔۔۔ آج شام میں وہ بیلا کے ساتھ کچن میں موجود کوکنگ کرتی ہوئی باقاعدہ بیلا کو کچھ بنانا سکھارہی تھی اور نازنین سے اسکی انڈر اسٹینڈنگ کو تو کوئی غیر بھی اچھی طرح محسوس کرسکتا تھا
"مجھے نہیں لگتا کہ غریب لوگوں سے بات کرنے میں کوئی قباحت ہے،، نہ ہی مجھے ان سے بات کرنے میں اپنی توہین محسوس ہوتی ہے"
آخر وہ کون ہوتا تھا اس پر اپنی مرضی چلانے والا وہ جس سے دل چاہے اس سے بات کرے، نہ جانے کیوں اس انسان کو اسکے گلاب خان سے بات کرنے پر تکلیف ہورہی تھی۔۔۔ نوف اسے جواب دے کر اندر جانے لگی مگر اس سے پہلے افراہیم سامنے دیوار بن کر کھڑا ہوچکا تھا کیوکہ اسے اس لڑکی کی اپنے سامنے زبان درازی بالکل پسند نہیں آئی تھی
"تو پھر پیسے والے سے بات کرنے میں کیا قباحت ہے،، مجھے تو ایسا لگتا ہے مجھ سے بات کرنے میں نہ صرف تمہیں اپنی توہین محسوس ہوتی ہے بلکہ میری کسی بات کا جواب دینے میں تمہاری شان بھی گھٹتی ہے"
افراہیم سنجیدہ تاثرات لیے بول کر خود بھی سلگا تھا اور اسے بھی سلگا چکا تھا
"مجھے یہاں جاب پر آپ نے اپنی مدر کی دیکھ بھال کے لئے رکھا ہے نہ کہ اپنے آپ سے باتیں بنانے کے لئے،، بہتر یہی ہے کہ آپ مجھے میرا کام کرنے دیں اور آپ خود اپنے کام سے مطلب رکھیں"
پہلی بار ایسا ہوا تھا جب وہ افراہیم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے جواب دے رہی تھی وہ بیشک یہاں پر جاب کررہی تھی مگر اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں تھا کہ وہ افراہیم کی مرضی سے ہر کام کرے،، افراہیم کو اپنے سامنے کھڑی اس لڑکی کا گستاخ بھرا لہجہ بالکل پسند نہیں آیا تھا،، سر اٹھا کر بات کرنے کا مشورہ افراہیم نے ہی اس کو دیا تھا مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ وہ افراہیم سے ہی بدتمیزی کرے۔۔۔ نوف کو وہاں سے جانے کے لیے پر تولتا دیکھ کر افراہیم اس کی کلائی پکڑ چکا تھا
"یہ کیا حرکت ہے ہاتھ چھوڑیں میرا"
نوف پہلے تو آنکھیں کھول کر حیرت سے افراہیم کا چہرہ دیکھنے لگی جو ایک دم غصے اور ضبط سے سرخ ہوچکا تھا پھر وہ اپنے ہاتھ کی طرف اشارہ کرتی ہوئی افراہیم سے بولی
"سمجھتی کیا ہو تم خود کو،، یہ ہاتھ تو میں اب نہیں چھوڑنے والا اگر تم میں ہمت ہے تو چھڑوا کر دکھاؤ"
افراہیم نے غصے میں بولتے ہوئے اس کی کلائی پر اپنی گرفت اور بھی زیادہ سخت کردی نوف جانتی تھی وہ جتنی زور آزمائی کرلے طاقت میں اپنے سامنے کھڑے شخص کا مقابلہ نہیں کرسکتی
"مرد ہیں نان آپ تو پلیز ذرا مردانگی کا ثبوت دیں، یہ سب حرکتیں کم ازکم اس آدمی پر زیب نہیں دیتی جس کے اپنے گھر میں ماں بہن موجود ہو، یہاں جاب میں صرف اور صرف مجبوری کے تحت کررہی ہوں ورنہ آپ کی اس حرکت پر مار ڈالتی میں آپ کو جان سے"
بولتے ہوئے نوف کی آنکھ سے بےبسی کے مارے ایک آنسو لڑھک کر گال پر آگرا۔۔۔ گرنے والے اس آنسو کا اثر تھا کہ لفظوں کا افراہیم نے اپنے ہاتھ کی گرفت جیسے ہی ڈھیلی کی نوف فورا اپنا ہاتھ چھڑوا کر گھر کے اندر چلی گئی
"آج تو سچ میں جان لے مس یمنہ تم نے افراہیم عباد کو"
افراہیم آہستہ آواز میں بولتا ہوا نازنین کے کمرے میں جانے لگا کیونکہ نوف بھی اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی سیدھے نازنین کے کمرے میں گئی تھی
"اوہو یمنہ بتاؤ تو سہی اس طرح رو کیوں رہی ہو مجھے پریشانی ہورہی ہے کچھ بولو تو سہی کیا ہوا ہے"
نازنین نوف کے رونے سے پریشان ہوتی ہوئی بولی پھر اپنے پاس بیٹھی ہوئی بیلا کو دیکھنے لگی بیلا خود بھی اس کے رونے پر حیرت زدہ تھی جبھی نوف کے پاس آکر پوچھنے لگی
"کیا تمہیں کسی کی بات بری لگی ہے یا تمہیں کسی نے کچھ کہہ دیا ہے پلیز یمنہ بولو مما پریشان ہورہی ہیں تمہارے اس طرح رونے سے"
بیلا نوف سے پوچھ رہی تھی کہ افراہیم کمرے میں آگیا
"افی دیکھو ناں کس طرح رو رہی ہے تم پوچھو اس سے کیا ہوا ہے،، مجھے تو گھبراہٹ ہورہی ہے اس کے اس طرح رونے سے"
نازنین افراہیم کو اپنے کمرے میں آتا ہوا دیکھ کر بولی تو نوف سر اٹھاکر ناراضگی سے افراہیم کی طرف دیکھنے لگی
"ہونا کیا ہے میں نے اس کو چند منٹ پہلے پرپوز کیا تھا بس اسی بات پر رونے لگ گئی اور یہاں آپ کے پاس آگئی" افراہیم کے بولنے پر کمرے میں موجود تینوں خواتین کا منہ حیرت سے کھل گیا اور تینوں ہی حیرت سے افراہیم کو دیکھنے لگیں
"بس بہت ہوگیا، سمجھ کیا رکھا ہے آپ نے مجھ کو، آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ آپ میرے بارے میں کچھ بھی کہہ ڈالے اور میں خاموشی سے برداشت کرلوں"
نوف افراہیم کو دیکھ کر غصے میں بولتی ہوئی صوفے سے اٹھ گئی تو اس کے برابر میں بیٹھی ہوئی بیلا بھی اٹھ گئی
"بیٹا اس میں اتنا برا ماننے والی کیا بات ہے چند دن پہلے تم ہی نے تو کہا تھا کہ تم میری خدمت کسی غرض یا صلے کے بدلے میں نہیں کرتی ہو بلکہ مجھے اپنی ماں کی جگہ تصور کرکے کرتی ہو، ایسے ہی ان دو ہفتوں میں تم مجھے بھی بیلا کی طرح عزیز ہوچکی ہو آج میں نے اپنی اس خواہش کا اظہار افی سے کردیا تھا اور اس نے تمہیں پروپوز کر ڈالا"
نوف کو غصے میں روتا ہوا دیکھ کر نازنین پیار سے اسے سمجھانے لگی مگر نازنین کی بات مکمل ہونے پر وہ کمرے سے باہر نکل گئی، افراہیم نازنین اور بیلا پر نظر ڈال کر خود بھی کمرے سے باہر چلا آیا
"کہاں جارہی ہو یمنہ رکو"
افراہیم نوف کو گھر سے باہر جاتا ہوا دیکھ کر اس کے پیچھے آتا ہوا بولا تو نوف رک کر اسے بولنے لگی
"نہیں رہنا مجھے یہاں پر میں یہ جاب چھوڑ کر جارہی ہوں"
نوف افراہیم کو بولتی ہوئی وہاں سے جانے لگی تبھی افراہیم نے غصے میں نوف کا بازو پکڑا
"دماغ تو خراب نہیں ہوگیا ہے تمہارا، ایسا کیا برا لگ گیا تمہیں جو تم یہ گھر چھوڑ کر جارہی ہو، پرپوز والی بات مذاق میں نہیں بولی تھی میں نے،، میں واقعی میں تم سے شادی"
افراہیم کے کچھ بولنے سے پہلے نوف اس کا ہاتھ اپنے بازو سے ہٹاتی ہوئی بولی
"آگے ایک لفظ بھی مت بھولیے گا افراہیم مجھے نہیں رہنا یہاں،، جانا چاہتی ہوں میں اس گھر سے"
اگر نازنین اور افراہیم سچ میں ایسا چاہتے تھے تو نوف کو لگا کہ اسے پہلی فرصت میں یہاں سے چلے جانا چاہیے مگر نوف کی بات سن کر غصے میں دوبارہ افراہیم نے نوف کا بازو سختی سے پکڑا
"تم یہ صلہ دے رہی ہو مما کی محبت اور خلوص کا۔۔۔ جاکر دکھاؤ تم اس گھر سے میں تمہاری ٹانگیں توڑ ڈالوں گا"
افراہیم کو واقعی اس پر شدید غصہ آیا تھا جبھی وہ نوف کو دھمکی دیتا ہوا بولا
"میں آپ کے گھر میں جاب کرتی ہوں آپ کی خریدی ہوئی کوئی غلام نہیں ہوں جو آپ میری ٹانگیں توڑ ڈالیں گے،،، پلیز اب مجھے مت روکیے گا اور نہ ہی میرے راستے میں آئیے گا"
نوف افراہیم کو بولتی ہوئی گھر سے باہر نکل گئی
"بھائی یمنہ تو چلی گئی اب کیا ہوگا"
بیلا ہال میں آکر پریشان ہوتی ہوئی بولی تو افراہیم کو نوف کی حرکت پر غصہ آنے لگا وہ خاموشی سے ٹراؤزر کی پاکٹ سے اپنا موبائل نکال کر میسج ٹائپ کرنے لگا جبکہ بیلا افراہیم کے اتنے آرام سے کھڑے رہنے پر حیرت زدہ ہوکر اس کو دیکھتی ہوئی دوبارہ بولی
"بھائی آپ یمنہ میں واقعی انٹرسٹڈ ہیں یا صرف مما کے کہنے پر اس کو پرپوز کردیا آپ نے"
بیلا کے پوچھنے پر افراہیم اسکرین سے نظر ہٹاکر اس کی طرف متوجہ ہوکر بولا
"عجیب ایٹیٹیوڈ والی بندی ہے یار مگر ناٹ بیڈ، گزارہ ہوجائے گا میرا اس کے ساتھ ویسے تم بتاؤ اگر تمہیں بھابھی کے طور پر وہ قبول نہیں ہے تو میں ارادہ بدل دیتا ہوں اپنا"
افراہیم اپنے موبائل پر آنے والے میسج کو پڑھ کر اطمینان کرتا ہوا بولا
"کوئی ایٹیٹیوڈ والی بندی نہیں ہے کم ازکم اس تاشفہ سے تو لاکھ درجے بہتر ہے جس کی تصویر میں نے آپ کے موبائل میں دیکھی تھی مگر اب کیا ہوگا یمنہ تو یہاں سے گھر چھوڑ کر چلی گئی"
بیلا کو نوف کے گھر سے نکلنے پر پریشانی لاحق ہوچکی تھی بیلا کا بولا ہوا آخری جملہ کمرے سے باہر آتی ہوئی نازنین کے کانوں میں پڑ گیا
"افی یمنہ گھر چھوڑ کر چلی گئی اور تم نے اسے جانے دیا اسے تو راستوں کو بھی صحیح سے معلوم نہیں ہے پلیز اسے جاکر لے آؤ"
نازنین بھی نوف کے جانے سے پریشان ہوچکی تھی تبھی وہ افراہیم سے بولی
"دماغ خراب ہوگیا ہے میرا جو میں اس کو جاکر لے آؤ،، خود ہی گئی ہے تو پھر خود ہی واپس آجائے گی۔۔۔ آپ دونوں کو بھی ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے جاکر اپنے اپنے کمروں میں آرام کریں"
افراہیم بگڑے ہوئے موڈ کے ساتھ بولتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا جبکہ نازنین پریشان ہوکر بیلا کو دیکھتی ہوئی بولی
"میں جاکر گلاب خان کو بولتی ہو وہ واپس لےکر آجائے گا یمنہ کو"
نازنین باہر جانے لگی تو بیلا اس کو روکتی ہوئی بولی
"مما رہنے دیں آپ ٹینشن فری ہوکر اپنے کمرے میں جاکر ریسٹ کریں،، اگر یہ کوئی ٹینشن والی بات ہوتی تو اس وقت بھائی اپنے کمرے میں جانے کی بجاۓ یمنہ کے پیچھے اس کو لینے چلے گئے ہوتے اگر بھائی کو کوئی ٹینشن نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے یمنہ واقعی خود آجاۓ گی"
بیلا نازنین سے بولتی اسے اس کے کمرے میں لے جانے لگی
****
وہ سڑک پر بےمقصد پیدل چل رہی تھی،، افراہیم پر غصہ کرتی ہوئی وہ گھر سے باہر نکل تو آئی تھی مگر اب اس کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ کس سے مدد لے اور کہاں جاۓ۔۔۔ ماں سے جدائی اور بھائی سے دوری کا غم بےشک اس کے دل میں موجود تھا مگر ان چند دنوں میں اسے اپنی عزت کی طرف سے کوئی دھڑکا نہیں لگا رہتا تھا جو پچھلے دس سالوں سے اسے اپنے سگے چچا کے گھر میں عدنان کی وجہ سے ہر وقت لگا رہتا تھا۔۔ ابھی وہ صحیح طور پر فیصلہ نہیں کرپائی تھی کہ کس سے مدد لے نوف کو کسی کی موجودگی کا احساس ہوا اس نے پلٹ کر دیکھا تو دو پندرہ پندرہ سال کے بچے اس کے پیچھے پیچھے آرہے تھے
"ہم بھی اکیلے تم بھی اکیلے مزا آرہا ہے قسم سے"
ان میں سے ایک لڑکا نوف کو دیکھ کر بےسری آواز میں ہانکا نوف جلدی سے مڑی اور واپس گھر کی طرف چلتی ہوئی اس نے اپنی اسپیڈ بڑھادی۔۔۔۔ جب نوف گیٹ کے اندر گھر میں داخل ہوئی تو اس کی سانسیں بحال ہوئی مگر وہاں افراہیم کھڑا تھا جسے دیکھ کر بےبسی سے نوف کی آنکھیں آنسوؤں سے بھرنے لگی۔۔۔ افراہیم نوف کا ہاتھ پکڑ کر اسے اس کے کمرے میں لے آیا۔۔۔ نوف نے اب کی بار افراہیم کے ہاتھ پکڑنے پر کوئی احتجاج نہیں کیا وہ خاموشی سے افراہیم کے ساتھ کمرے میں چلی آئی
"گھر سے باہر نکلنے کا شوق پورا ہوگیا تو اب آگے کا ارادہ بتادو پھر کیا سوچا ہے تم نے"
افراہیم اس کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر بالکل نرم لہجے سے پوچھنے لگا
"اگر آپ آنٹی کے کہنے پر مجھے اپنانا چاہتے ہیں اور آنٹی ہم دونوں کو ایک ساتھ دیکھنا چاہتی ہیں تو ٹھیک ہے مگر میری ایک شرط ہے شادی کے بعد آپ میرے بالکل بھی قریب نہیں آئیں گے"
نوف جلدی جلدی بول کر خاموش ہوگئی اور ساتھ ہی شرم کے مارے اپنا سرجھکا گئی جبکہ افراہیم اپنے سامنے کھڑی ملکہ عالیہ کی شرط سن کر اندر تک بری طرح جل اٹھا۔۔۔ وہ چلتا ہوا نوف کے قریب آیا جس پر نوف دو قدم پیچھے ہوئی اور سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگی
"کیا ہو تم ہاں، سمجھتی کیا ہو آخر خود کو۔۔۔۔ مجھے لڑکیوں کی کمی ہے یا میں مرا جارہا ہوں تم سے شادی کرنے کے لئے۔۔۔ اگر میں تم سے شادی کروں گا تو صرف مما کی وجہ سے کیونکہ میں ان کی خواہش کو رد نہیں کرسکتا ورنہ میں تمہارے جیسی نخرے والی لڑکی کو منہ لگانا پسند نہ کرو"
افراہیم غصے میں نوف کو بولتا ہوا اس کے کمرے سے باہر نکل گیا تبھی اس کے موبائل پر میسج ٹون بجی
"افراہیم بھائی سسٹر کو باعزت طریقے سے واپس آپکے گھر پہنچا دیا ہے"
****
بیلا اپنا تیار کردہ فزکس کے اسائنمنٹ پر آخری نظر ڈالتی ہوئی اسے سبمٹ کروانے کے لیے اسٹاف روم میں پہنچی جہاں اتفاق سے ازلان کے علاوہ کوئی دوسرا ٹیچر موجود نہیں تھا اور ازلان خود بھی کسی سے موبائل پر بات کررہا تھا،، کل شام اس نے اپنے دوستوں کی موجودگی میں بیلا سے نکاح کیا تھا مگر اس کے فورا بعد ڈرائیور کے آنے کی وجہ سے بیلا کو واپس اپنے گھر جانا پڑا۔۔۔۔ غیر محسوس طریقے سے کل رات بیلا اس کی کال کا انتظار کرنے لگی مگر ازلان کی طرف سے کوئی کال نہیں آئی
اپنے اور اذلان کے نکاح والے پورے منظر کی فلم یاد کر کے وہ رات میں سوچکی تھی اور اب جب وہ صبح یونیورسٹی آئی تھی تو ازلان ازلان نہیں تھا،، بلکہ ایک سخت گیر ٹیچر آبان بنا ہوا تھا۔۔۔ جس نے فزکس کے پیریڈ میں سارے اسٹوڈنٹس کے ساتھ اس کا بھی خون خشک کیا ہوا تھا بلکہ سب اسٹوڈنٹس کی موجودگی میں اسائنمنٹ ٹائم پر سبمٹ نہیں کروانے پر ایک گھنٹے پہلے اس نے بیلا کو اچھا خاصا ڈانٹا بھی تھا
"مے آئی کم ان"
بیلا نے پھولے ہوئے منہ کے ساتھ اذلان سے اندر آنے کی اجازت مانگی جس پر ازلان موبائل پر بات کرتا ہوا آنکھوں سے اشارہ کرکے اسے اندر آنے کی اجازت دے چکا تھا
"نہیں اتنا تو مجھے اندازہ ہے کہ وہ اسی شہر میں موجود ہے لیکن حیرت اس بات کی ہے کہ پچھلے کئی دنوں سے اسے کہیں پر بھی دیکھا نہیں گیا ہے، اس کے باوجود میں ناامید نہیں ہوں بس مجھے آپ کے تعاون کی ضرورت ہے"
ازلان کو موبائل میں بات کرتا ہوا دیکھ کر وہ اپنا اسائنمنٹ ٹیبل پر رکھ کر جانے کے لیے مڑنے لگی تبھی ازلان نے بیلا کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔۔۔ بیلا نے ازلان کی طرف دیکھا وہ ابھی بھی اپنے موبائل پر بزی تھا
"نہیں اس معاملے کا بھی ابھی کچھ نہیں بنا، سمجھیں وہ معاملہ بھی فل الحال ٹھنڈہ ہے"
ازلان بیلا کے چہرے پر نظر ڈالتا ہوا موبائل پر بات کررہا تھا اس کے ہاتھ کے نیچے ابھی تک بیلا کا ہاتھ دبا ہوا تھا، اس وجہ سے وہ ازلان کے قریب ہی کھڑی ہوئی تھی
"بیٹھو"
چند منٹ بعد کال رکھنے کے ساتھ ہی ازلان نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ ہٹایا اور کرسی کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا تو بیلا خاموشی سے کرسی پر بیٹھ گئی
"کیسی ہو"
ازلان بیلا کے ناراض چہرے پر نظر ڈال کر اس کا حال پوچھنے لگا
"بہت بری، جبھی تو تم نے تھوڑی دیر پہلے دوسرے اسٹوڈینٹس کے سامنے مجھے ڈانٹ دیا"
بیلا منہ بناتی ہوئی ازلان سے بولی،، ازلان نے بیلا کی تیز آواز پر باقاعدہ اس کو آنکھیں دکھائی جس پر بیلا سنبھل گئی بےشک اس وقت اسٹاف روم میں کوئی موجود نہیں تھا مگر بیلا جانتی تھی اس کو دھیمے لہجے میں ازلان پر غصہ کرنا چاہیے تھا
"صرف تمہیں نہیں ڈانٹا تھا میں نے، رابیل اور عثمان کو بھی ڈانٹا تھا کیوکہ ان دونوں نے بھی وقت پر اسائنمنٹ جمع نہیں کروایا تھا"
ازلان بیلا کا اسائنمنٹ چیک کرتا ہوا اسے آئستہ آواز میں بتانے لگا تو بیلا اس کو گھورتی ہوئی کرسی سے اٹھنے لگی کیوکہ عثمان اور رابیل اس کی بیوی نہیں تھے بیلا کے خیال میں ازلان کو اسے تو تھوڑی بہت رعایت دینی چاہیے تھی
"کہاں جارہی ہو"
ازلان بیلا کو اٹھتا ہوا دیکھ کر پوچھنے لگا
"اس فضول اسائنٹمنٹ کو مکمل کرنے کے چکر میں، میں نے لنچ نہیں کیا وہی کرنے جارہی ہوں"
بیلا روٹھے ہوۓ لہجے میں ازلان کو جتاتی ہوئی بولی تاکہ ازلان کو احساس ہو وہ اس کے ڈانٹنے کی وجہ سے اب تک بھوکی بیٹھی اسائنمینٹ مکمل کررہی تھی
"اگر دوسرے اسٹوڈینٹس کی طرح تم بھی وقت پر اسائینمنٹ سبمٹ کروا دیتی تو تمہیں بھوکے رہنے کی خواری برداشت نہیں کرنا پڑتی،، جاؤ جاکر کچھ کھالو اور کل کی طرح آج شام بھی پانچ بجے پہنچ جانا"
بیلا کو ازلان کے انداز پر اور بھی غصہ آنے لگا یعنی اسے سرے سے ہی احساس نہیں تھا کہ وہ دو گھنٹے سے خالی پیٹ ہے اور اس کی وجہ سے کتابوں میں سر مار رہی تھی۔۔۔ اور وہ اس پر احسان کرتا ہوا اسے کھانے کا کہہ رہا تھا وہ بھی فضول قسم کی نصیحتوں کے ساتھ
"اور آج میرے تمہارے اپارٹمنٹ میں آنے پر کیا ہوگا"
بیلا ٹیبل پر کہنی ٹکا کر اپنی تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھتی ہوئی طنزیہ انداز میں اذلان سے پوچھنے لگی۔۔۔ اگر کوئی دوسرا شخص یا اسٹوڈنٹ اسے یوں کلاس ٹیچر سے فری ہوکر بات کرتا ہوا دیکھ لیتا تو حیرت ہی کرتا
"ہوسکتا ہے کچھ ہو ہی جائے۔۔۔ آجانا میں انتظار کروں گا"
ازلان بھی اپنی کہنی ٹیبل پر ٹکاۓ اپنے گال پر ہاتھ رکھتا ہوا بیلا کو غور سے دیکھ کر اسی کے انداز میں بولا مگر اس کی بات پر بیلا سمٹ کر رہ گئی اور ٹیبل سے اپنی کہنی ہٹاکر سیدھی ہوکر بیٹھی
"آج شام بھائی کا نکاح ہے تو میں بزی ہوگیں میرا آنا ممکن نہیں ہوگا"
بیلا ازلان کے دیکھنے پر اس سے نظریں ملاۓ بغیر اسے افراہیم کے نکاح کے بارے میں بتانے لگی جو آج شام میں طے پایا گیا تھا
"واہ بھئی تو سالے صاحب بھی بہنوئی کے نقشے قدم پر چل نکلے۔۔۔ شام کا پروگرام پھر کینسل کردیتے ہیں میں تمہارا پھر رات میں ویٹ کروں گا"
ازلان پرسکون لہجے میں بولا تو بیلا حیرت سے اسے دیکھنے لگی
"اور تمہیں یقین ہے میں رات میں تمھارے پاس آجاؤ گی"
وہ کتنا آسان سمجھ رہا تھا بیلا کا اس کے پاس آنا، یہ بیلا ہی جانتی تھی وہ کل کس طرح اس کے اپارٹمنٹ میں آئی تھی
"نہیں مجھے تم پر یقین نہیں لیکن اپنے اوپر پورا یقین ہے اگر تم میرے پاس نہیں آئی تو آج رات میں ضرور تمہارے گھر پر تمہارے پاس آ جاؤں گا"
ازلان آئستہ آواز کے ساتھ شریفانہ انداز میں مسکراتا ہوا بیلا کو دیکھ کر بولا کیوکہ دو ٹیچرز کلاس روم میں داخل ہوچکے تھے
"کل رات میں ایک کال تک تو تم سے کی نہیں،، مطلب ایک انسان نے نکاح کیا ہے تو اس خوبصورت رشتے کی خاطر کوئی پیار بھرا سا جملہ بول دے، نئے رشتے کو لےکر اپنے پاٹنر سے اپنی فیلیگز شیئر کردے۔۔۔ کوئی احساس ہی بےدار کردے بندہ نئے رشتے کو لےکر اور تم آج رات میری فیملی کی موجودگی میں میرے گھر آنے کی بات کررہے ہو کاش کہ میں اس سڑے ہوۓ جوک پر زبردستی ہنس سکتی"
بیلا نرم لہجے میں اس پر گہرے گہرے طنز کرتی ہوئی کرسی سے اٹھ گئی کیونکہ وہ جانتی تھی ازلان نے اس کے گھر آنے والی بات ایسے ہی بولی ہوگی
****
صبح سے ہی گھر میں عجیب افراتفری کا سماں تھا ملازم یہاں سے وہاں دوڑ لگاتے ہوئے نظر آرہے تھے،، کہنے کو تو نکاح کی تقریب گھر میں سادگی سے رکھی گئی تھی لیکن نازنین کے ارمانوں نے اس تقریب کو سادہ ہرگز نہیں رہنے دیا تھا۔۔۔۔ وہ صبح سے ہی کچھ نہ کچھ منگوانے کے لیے ڈرائیور کے باہر کے دس چکر لگوا چکی تھی۔۔
شام میں ہونے والی نکاح کی تقریب میں افراہیم اور نازنین کے دوستوں کے علاوہ چند دو تین رشتہ دار بھی شامل تھے۔۔۔ نازنین کو آج کے دن ناصرف بیلا کے یونیورسٹی اور افراہیم کے آفس جانے پر غصہ تھا بلکہ وہ نوف کے پارلر نہ جانے پر بھی اس سے خفا تھی مگر نوف بھی کیا کرتی، اب اسے گھر سے باہر قدم نکالنے پر خوف آنے لگا تھا۔۔۔ نازنین کی ناراضگی کو دیکھکر اس نے نازنین کو بیوٹیشن کو گھر بلوانے کا مشورہ دے تو دیا تھا مگر تھوڑی دیر پہلے بیوٹیشن نے جو سروس کے نام پر نوف کے ہاتھ پاؤں پر ویکس کے بعد فیشل کرنا شروع کیا تھا وہ بری طرح اکتا چکی تھی، ابھی بھی اس کی اکتاہٹ ختم نہیں ہو پائی تھی کہ نازنین کے کہنے پر بیوٹیشن نے اس کے ہاتھ پاؤں کو مہندی کے ڈیزائن سے بھرنا شروع کردیا
کمرے سے باہر نازنین کی صلواتیں سنانے سے وہ اندازہ لگا چکی تھی کہ افراہیم آفس سے گھر آچکا تھا، بیوٹیشن تھوڑی دیر پہلے ہی مہندی سے اس کے ہاتھ پاؤں پر نقش و نگار بناکر جاچکی تھی چند گھنٹے بعد ہی دوسری بیوٹیشن کو آجانا تھا اس کو شام کی تقریب کے لیے تیار کرنے کے لیے، لیکن اس وقت شدید بھوک لگنے کی وجہ سے نوف کو رونا آنے لگا تھا۔۔۔ اس نے ٹینشن اور افراتفری میں صبح سے ہی کچھ نہیں کھایا تھا اور اب اس نے اپنا خالی کمرہ دیکھ کر رونا شروع کردیا تھا
"تمہیں کیا ہوگیا ہے رو کیوں رہی ہو تم"
ابھی روتے ہوئے اس کو چند سیکنڈ ہی گزرے تھے کہ افراہیم اس کے کمرے میں آتا ہوا نوف کو دیکھ کر پوچھنے لگا۔۔۔ افراہیم کو اپنے سامنے دیکھ کر نوف نے مزید بلک بلک کر رونا شروع کردیا
"یمنہ مجھے کچھ بتاؤں گی کہ تمہیں کیا ہوا ہے"
افراہیم نوف کے رونے پر بیڈ پر اس کے قریب بیٹھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا تو نوف کو احساس ہوا اس کا دوپٹہ بیڈ پر رکھا ہوا تھا۔۔۔ نوف نے دوپٹہ اٹھانے کے لئے آگے ہاتھ بڑھایا اس سے پہلے افراہیم نے اس کا بازو پکڑا
"کیا کررہی ہو سارا ڈیزائن خراب ہوجائے گا مہندی کا"
افراہیم نے بولنے کے ساتھ احتیاط سے اس کے کندھے پر دوپٹہ رکھا
"اب مجھے بتاؤ کہ رو کیوں رہی ہو اس طرح"
افراہیم نے دوپٹہ اس کے کندھے پر ڈالنے کے ساتھ نوف سے اس کے رونے کی وجہ پوچھی
"مجھے بھوک لگ رہی تھی بہت زیادہ"
نوف افراہیم کو دیکھ کر اپنے رونے کی وجہ بتانے لگی
"او گاڈ کوئی بھوک لگنے پر اس طرح روتا ہے، حیرت ہورہی ہے مجھے۔۔۔ رکو میں کچھ بندوبست کرتا ہوں تمہاری بھوک کا"
افراہیم مسکراتا ہوا بیڈ سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا تو نوف کو عجیب افسردگی نے آگھیرا۔۔۔۔ کیا وہ اس کو ذرا سی بھی یاد نہیں تھی بےشک دس سال پہلے ان دونوں کی اتنی زیادہ ملاقات نہیں ہوئی تھی لیکن کیا وہ اتنی بھی اس قابل نہیں تھی کہ افراہیم اس کو اپنی یاداشت میں محفوظ رکھ سکتا۔۔۔ آج نکاح کے وقت وہ ولدیت میں اس کے باپ کا نام دیکھ کر بھی وہ اس کو نہیں پہچانے گا اور اگر افراہیم اس کو آج یا پھر بعد میں جان جاتا تب افراہیم کا کیا ردعمل ہوگا
"اب یہ کھاؤ گی کیسے سارا تمہارے ہاتھوں کا ڈیزائن خراب ہوجائے گا چلو میں اپنے ہاتھ سے کھلا دیتا ہوں تمہیں"
افراہیم واپس کمرے میں آکر نوف کے ہاتھوں کو دیکھنے کے بعد خود سلوشن نکالتا ہوا بولا اور ہاتھ میں اسپگیٹی سے بھری ہوئی پلیٹ بیڈ پر نوف کے سامنے ہی رکھ کر بیٹھ گیا
"جی نہیں میں کوئی بچی نہیں ہوں جو آپ مجھے آپنے ہاتھ سے کھلاۓ گے میں خود اپنے ہاتھ سے کھالو گی"
نوف اسکو فری ہوتا دیکھ کر بولی تو افراہیم کو اس کی اکھڑ دکھانے پر غصہ آنے لگا لیکن آج کے دن وہ اس لڑکی سے نیا رشتہ قائم کرنے جارہا تھا تو اس پر غصہ نہیں کرسکتا تھا
"اگر یہ مہندی کا ڈیزائن ذرا سا بھی خراب ہوگیا تو مما کو ٹینشن شروع ہوجائے گی،، آج کے دن انہیں اپنے افی کی دلہن بالکل پرفیکٹ نظر آنی چاہیے کیونکہ مرگز نگاہ تم ہوگی،، صبح سے ہی انہیں کاموں کی وجہ سے اتنا ڈپریشن ہے ابھی انہیں نیند کی ٹیبلٹ دے کر آرہا ہو تاکہ وہ تھوڑی دیر ریسٹ کرلیں،، اب نخرے دکھائے بغیر جلدی سے منہ کھولو پھر مجھے بھی دوسرے کام نمٹانے ہیں"
افراہیم اسے آرام سے سمجھاتا ہوا اسپیگیٹی سے بھرا چمچہ اس کے منہ کے قریب لایا تو نوف کو ناچاہتے ہوئے بھی منہ کھولنا پڑا
" مگر مجھے مرکز نگاہ بننے کا شوق نہیں ہے، نہ ہی مجھے سج سنور کر لوگوں کو اپنا آپ دکھانا ہے،، مجھے اس مہندی سے بھی بہت الجھن ہورہی ہے۔۔۔ میں اس طرح بالکل کمفرٹیبل فیل نہیں کررہی ہو"
افراہیم کی نگاہیں اپنے چہرے پر محسوس کرکے نوف جان بوجھ کر اکتائے ہوئے لہجے میں بولی، تو افراہیم دوسرا چمچہ بھر کر، اس کے منہ کے قریب لے جاتا ہوا بولا
"مجھے بھی شوق نہیں ہے اپنی چیز کو مرکز نگاہ بنانے کا، آج کے دن تمہارا سجا سنورا روپ میرے علاوہ کوئی نہیں دیکھے گا میں مما کو خاص طور پر یہ بات بول دو گا۔۔۔ تھوڑی دیر بعد اپنے ہاتھ پاؤں واش کرلینا آج کے دن مہندی کا رنگ ہاتھوں پر گہرا چڑھے یہ ضروری نہیں،، محبت کا رنگ ایسا ہونا چاہیے جو تاعمر اپنی گہری چھاپ قائم رکھ سکے"
افراہیم جذبے لٹاتی نظروں سے نوف کو دیکھ کر بولا تو نوف کا دل زور سے دھڑکنے لگا، وہ خاموشی سے افراہیم کو دیکھنے لگی
"منہ تو کھولو یار کہاں کھو گئی"
افراہیم کے بولنے پر نوف نے ذرا سا منہ کھولا تو افراہیم اس کو پھر سے اسپیگیٹی کھلانے لگا۔۔۔ نوف کو گھبراہٹ ہونے لگی وہ اس سے ایسی باتیں کیوں کررہا تھا جبکہ وہ اپنی شرط اسے بتا چکی تھی۔۔۔ افراہیم اس کی جھکی ہوئی پلکیں دیکھ کر اس کا چہرہ غور سے دیکھنے لگا، ناجانے ایسی کون سی کشش تھی جس سے وہ بار بار اس لڑکی کی طرف کھچا چلا آتا تھا۔۔۔ اس کے اتنا نظرانداز کرنے کے باوجود افراہیم اس سے اپنا مضبوط بندھن باندھ رہا تھا تاکہ وہ اس کے پاس کبھی بھی نہیں جاسکے
****
آج سے پہلے وہ اتنا زیادہ تیار پہلے کبھی بھی نہیں ہوئی تھی۔۔۔ ایسا نہیں تھا کہ اسے اپنے بھائی کی شادی کی خوشی نہیں تھی وہ افراہیم کی شادی سے بہت زیادہ خوش تھی مگر اس طرح سے خود کو تیار کرنے کا اس نے پہلے کبھی تصور نہیں کیا تھا۔۔۔ آج اس کا دل چاہا کہ وہ اپنے آپ کو سنوارے شاید کہیں غیر شعور میں وہ یہ بات محفوظ کر چکی تھی کے ازلان نے اسے رات میں آنے کا کہا تھا،، جو کوئی بھی آج اس کو دیکھ رہا تھا وہ سراہا رہا تھا۔ِ۔ نازنین نے تو باقاعدہ اس کی نظر اتاری تھی،، ہر کسی کو بس ایک ہی شکایت تھی۔۔۔ اور وہ یہ کہ دلہن کا گھونگھٹ اتنا زیادہ نکالا ہوا تھا کہ افراہیم کی دلہن کا چہرہ کوئی بھی نہیں دیکھ پا رہا تھا، نہ ہی کسی کو دیکھنے کی اجازت تھی۔۔۔ بیلا نے ابھی جود بھی نوف کو دلہن کے روپ میں نہیں دیکھا تھا کیوکہ افراہیم کی عجیب منطق تھی کہ اس سے پہلے اس کی دلہن کا سجا ہوا روپ اور کوئی نہیں دیکھے گا نازنین تو افراہیم کی عجیب وغریب منطق پر پریشان تھی اور اپنی دوستوں اور رشتہ داروں سے معذرت کررہی تھی۔۔۔ اس عجیب منطق کی وجہ سے اسے سب کو صبح دوبارہ گھر آنے کی دعوت دینا پڑی تھی تاکہ نوف کا چہرہ دکھا کر منہ دکھائی کی رسم کی جاسکے
"بیلا شارجہ سے تمہاری فہمیدہ پھپھو کی کال آئی ہے۔۔۔ وہ تم سے بات کرنا چاہ رہی ہیں"
نازنین بیلا کے پاس آکر اس سے بولی تو بیلا نازنین کو خاموشی سے دیکھنے لگی
"میری جان صرف پھپھو ہیں ویڈیو کال پر پلیز بات کرلو ان سے"
نازنین بیلا کے تاثرات دیکھ کر اسے اپنا موبائل پکڑاتی ہوئی پیار سے بولی۔۔۔ نازنین کے پاس اس کی دوست آکر اس سے باتوں میں لگ گئی
"کیسی ہیں پھپھو آپ"
بیلا سلام کرنے کے بعد صوفے پر بیٹھتی ہوئی ویڈیو کال پر اپنی پھوپھو کا چہرہ دیکھتی ہوئی بولی، وہ بہت ہی کم نازنین کے بہت زیادہ اسرار کرنے پر فہمیدہ سے بات کیا کرتی تھی
"ماشاءاللہ ماشاءاللہ میری بیٹی کتنی بڑی ہوگئی ہے اور کتنی خوبصورت بھی"
فہمیدہ خوش ہوکر موبائل کی اسکرین پر بیلا کا چہرہ دیکھ کر اس سے بولی تو اچانک فہمیدہ سے موبائل اصفر نے لے لیا۔۔۔ اتنے سالوں بعد اصفر کا چہرہ اسکرین پر دیکھ کر بیلا ایک دم خوفزہ ہوگئی
"واقعی تم تو بڑی ہوکر اور بھی زیادہ خوبصورت ہوگئی ہو۔۔۔ لگتا ہے اب دوبارہ پاکستان آنا پڑے گا بیلا ڈارلنگ اور یقین جانو اب کی بار پہلے سے بھی زیادہ مزہ آئے گا"
اصفر کی بات سن کر بیلا نے خوف کے مارے موبائل کو یوں دور پھینکا جیسے اصفر موبائل سے نکل کر اس کے پاس آجائے گا۔۔۔ لوگوں کے ہجوم میں اس کی حالت غیر ہونے لگی،، آنسوؤں کی صورت آنکھوں سے پانی بہنے لگا اور خوف سے اس کے ہونٹ کانپنے لگے
وہ کتنی بےدردی سے برے طریقے سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھے اسے روندتا جارہا تھا،،، بیلا نے بچپن کا وہ منظر یاد کرتے ہوئے اپنے ہونٹوں پر زور سے ہاتھ رکھا ورنہ اس کے چیخنے پر سب اس کی طرف متوجہ ہوجاتے۔۔۔ چند قدم کے فاصلے پر کھڑی ہوئی نازنین مہمانوں میں مصروف ہوچکی تھی،، دور کھڑے افراہیم پر بیلا کی نظریں گئی،، آج اسے اپنے بھائی کے چہرے پر خوشی اور اطمینان نظر آیا تھا وہ نہیں چاہتی تھی کہ یہ خوشی اور اطمینان آج اس کے بھائی کے چہرے سے رخصت ہوجائے یا نازنین اس کو ڈسٹرب دیکھ کر خود بھی پریشان ہوجائے،، بیلا وہاں سے بھاگ کر اپنے کمرے میں چلی آئی اور دروازہ بند کر لیا
"لگتا ہے اب دوبارہ پاکستان آنا پڑے گا بیلا ڈارلنگ یقین جانو اب کی بار پہلے سے زیادہ مزہ آئے گا"
اصفر کی آواز اس کے کانوں میں ایک بار پھر گونجی
"نہیں نہیں پلیز نہیں"
بیلا اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر روتی ہوئی اپنی چیخوں کو دبانے لگی
"نہیں میں مرجاؤ گی پلیز"
وہ روتی ہوئی ٹیبل کی طرف بڑھی اور اپنا موبائل اٹھاکر ازلان کا نمبر ملانے لگی
"پک اپ مائی کال ازلان پلیز"
بیل جا رہی تھی، کان پر موبائل لگاۓ بیلا روتی ہوئی بڑبڑانے لگی
"آئی نیڈ یو ازلان"
جب کوئی جواب موصول نہیں ہوا تو بیلا روتی ہوئی ازلان کو میسج ٹائپ کرنے لگی۔۔۔ اس کے بعد بیلا نے اپنے موبائل پر دیکھا جہاں پہلے سے عون کی کال آئی ہوئی تھی۔۔۔ کیا عون کو پہلے سے معلوم ہوچکا تھا کہ اسے کسی کے سہارے کی ضرورت پڑنے والی ہے،، وہ اپنا سیل آف کرکے بیڈ پر اوندھے منہ لیٹ گئی
اس کی ذات کی تذلیل کرنے والا، اس کو دنیا کے سامنے تماشا بنانے والا، آج بھی خوش باش مطمئن ہوکر اپنی زندگی جی رہا تھا اور وہ پچھلے دس سالوں سے کیسی اذیت میں مبتلا تھی،، گزرا ہوا وقت یاد کرکے وہ آج بھی کیسی تکلیف محسوس کرتی تھی یہ اس کا دل ہی جانتا تھا
آج پھر اس کے روپ کو سجا سنوار کر اسے شہزادی کی طرح تیار کیا گیا تھا مگر اب کی بار کسی نامحرم کے لئے نہیں بلکہ اسے اپنے محرم کے لیے سجایا گیا تھا،، بیوٹیشن نے جب نوف کو مکمل تیار کردیا تو گھونگھٹ ڈالنے سے پہلے وہ خاموشی سے اپنے سجے ہوئے روپ کو آئینے میں دیکھنے لگی۔۔۔ اتنی محنت اور مہارت سے میک اپ کرنے کے بعد بیوٹیشن کو سختی سے تاکید کی گئی تھی کہ وہ برائیٹ کا چہرہ مکمل طور پر گھونگھٹ کی نظر کردے اور یہ تاکید کرنے والا کوئی دوسرا نہیں بلکہ افراہیم تھا جو آج قانونی اور شرعی طور پر اس کا حق دار بن چکا تھا
چند دن پہلے جب اسے روحیل کے لئے تیار کیا جارہا تھا تب نوف کو اپنا آپ کسی لاش کی مانند محسوس ہورہا تھا،، اب کی بار اس کے کیا محسوسات تھے وہ اپنی فیلیگز سے یکسر انجان تھی بس وہ خاموش بیٹھی ہوئی اپنے آس پاس لوگوں کی فرمائشیں سن رہی تھی جو اس کو دیکھنے کے طلبگار تھے مگر نازنین خوبصورتی سے ہر ایک کو ٹال رہی تھی،، جب نکاح نامہ اس کے سامنے رکھا گیا تب نکاح نامے پر سائن کرتے ہوئے وہ رخشی، قیوم اور ازلان کو یاد کر کے بےتحاشہ روئی تھی اپنی زندگی کی ڈور کسی دوسرے کے ہاتھوں میں دیتے ہوئے اس کی سسکیاں نکلنے لگی تھی لیکن یہ فیصلہ اس نے بھوکے بھیڑیوں سے اپنی عزت محفوظ رکھنے کے لئے کیا تھا۔۔۔
نوف کے بہت زیادہ رونے پر نازنین اسے افراہیم کے کمرے میں بٹھاکر جاچکی تھی۔۔۔ اب اس کو اپنے گھونگھٹ سے الجھن ہونے لگی تھی اس کا پورا وجود بیٹھے بیٹھے دکھنے لگا تھا اس لئے وہ دوپٹے کو اپنے چہرے سے اوپر کرکے بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگا کر آرام دہ انداز میں بیٹھ گئی۔۔۔ نہ جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی نوف کو احساس بھی نہیں ہوا۔۔۔
جب اسے اپنے ہاتھ پر کسی مردانہ ہاتھ کا لمس محسوس ہوا تو اچانک نوف کی آنکھ کھلی افراہیم کو اپنے بےحد قریب بیٹھا دیکھ کر وہ جلدی سے اٹھ بیٹھی،، افراہیم مہبوت سا، پلکیں جھپکائے بنا یک ٹک اسے دیکھے جارہا تھا جس کی وجہ سے نوف مزید سمٹ کر بیٹھ گئی۔۔۔ افراہیم کی نظروں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس کرکے نوف نے دوبارہ اپنے چہرے کو دوپٹے سے چھپانا چاہا تو افراہیم نے نوف کو ایسا کرنے سے روک دیا
"مجھ سے پردہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے آج کے دن تمہیں میرے لیے ہی سجایا گیا ہے اور میں مکمل حق رکھتا ہوں تمہارے اس روپ کو دیکھنے کا"
وہ نوف کے دونوں ہاتھ پکڑ دوپٹے سے ہٹا کر نیچے کرتا ہوا بولا۔۔۔ افراہیم کی نظریں ابھی بھی اس کے چہرے کا مکمل طواف کررہی تھی جس کی وجہ سے نوف کو اپنی پلکیں اٹھانا مشکل مرحلہ لگنے لگا۔۔۔ افراہیم اس کی تھوڑی کے نیچے انگلی رکھ کر اس کا چہرہ اوپر کرتا ہوا دوبارہ بولا
"میرا دل گواہی دے رہا ہے کہ تم بہت خوبصورت ہو،، اور آج تمہارے چہرے سے نظریں ہٹانا مشکل مرحلہ لگ رہا ہے، میں وہ لفظ تلاش نہیں کر پارہا جس سے تمہارے اس روپ کی تعریف کرسکوں،، میری طرف سے یہ محبت کا خراج قبول کرو"
جذبوں سے گوندھی ہوئی افراہیم کی آواز نوف کے کانوں سے ٹکرائی جس کے بعد افراہیم نے نوف کی پیشانی پر اپنے ہونٹ رکھے تو وہ اپنی پوری جان سے لرز اٹھی۔۔۔ احتجاجا نوف نے افراہیم کے سینے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے ہٹانا چاہا مگر افراہیم اس کے احتجاج کی پرواہ کیے بغیر نوف کی کمر پر اپنے دونوں بازوؤں کو لپیٹ کر نوف کے اوپر جھکتا ہوا اسے بیڈ پر لٹا چکا تھا
"افرا۔۔۔۔
نوف افراہیم کی حرکت پر ڈرتی ہوئی اسے پکرانے لگی مگر اس سے پہلے افراہیم اس کے ہونٹوں پر اپنی انگلی رکھ کر نوف کو چپ کروا چکا تھا
"تم چند گھنٹے پہلے اپنے جملہ حقوق میرے نام کرچکی ہوں، اب تمہاری نہیں چلے گی اور آج تو بالکل بھی نہیں"
افراہیم نے نوف کو باور کرواتے ہوئے اس کے گلے سے نگینوں سے جڑا نیکلیس اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا ساتھ ہی وہ نوف کی گردن پر جھ چکا تھا
افراہیم کے ہونٹوں کا محبت کا بھرا لمس اپنی گردن پر جگہ جگہ محسوس کرکے نوف کا دل بری طرح کانپنے لگا،، اس کی کمر پر لپٹا ہوا افراہیم کا ہاتھ اب نوف کے پیٹ پر سراہیت کررہا تھا۔۔۔ آہستہ سے نوف کے منہ سے سسکی نکلی تو،، افراہیم اٹھ کر نوف کا چہرہ دیکھنے لگا۔۔۔ نوف افراہیم کو دیکھ کر گھبراہٹ کے مارے نفی میں سر ہلانے لگی
"یمنہ افراہیم آج افراہیم عباد تم پر اپنا رنگ چڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے مطلب محبت کا رنگ۔۔۔ اور تم بالکل بھی اعتراض نہیں کرو گی"
افراہیم کا لہجہ نرم ہونے کے باوجود اس کا انداز ایسا تھا نوف اسے کچھ بھی بول نہیں پائی
افراہیم اس کی تھوڑی پر اپنے ہونٹ رکھتا ہوا سر پر ٹکا ہوا نوف کا دوپٹہ اتار چکا تھا۔۔۔۔ نوف بےبسی کے عالم میں اپنی آنکھیں بند کرچکی تھی وہی افراہیم مدہوشی کے عالم میں نوف کے ہونٹوں پر اپنا انگوٹھا رگڑ کر اس کی لپ اسٹک صاف کرتا ہوا، باری باری اس کے دونوں گالوں کو چومنے لگا تب نوف کو اپنے دونوں گال جلتے ہوئے محسوس ہوئے
دس سال پہلے یہ مغرور شخص بہت بےدردی سے اسکے انہی گالوں پر جابجا تپھڑ مار کر انہیں سرخ کرچکا تھا۔۔۔ تب نوف نے اس شخص کی بےحسی کی انتہا دیکھی تھی اور آج یہی شخص اپنی دیوانگی کی انتہا دکھا رہا تھا تو نوف سے برداشت کرنا مشکل ہوگیا
"افراہیم ہٹ جائے میں کہتی ہوں پیچھے ہٹ جاۓ"
نوف تڑپ کر تیز آواز میں بولی تو افراہیم کو پیچھے ہٹنا پڑا۔۔۔ ایک سحر کی سی کیفیت جو افراہیم کے اوپر طاری تھی وہ نوف کے آنسو دیکھ کر کہیں غائب ہوچکی تھی۔۔۔ نوف اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی اٹھ کر بیڈ پر بیٹھی تو افراہیم بیڈ سے اٹھتا ہوا بولا
"واٹ ربش،، تم رو کیوں رہی ہو،،، ظاہر کیا کرنا چاہتی ہو تم مجھ پر۔۔۔۔ شادی ہوئی ہے ناں آج ہماری یا پھر میں یوں ہی بناء شادی کے زبردستی تمہارے ساتھ۔۔۔۔
افراہیم کو اس وقت نوف کا رونا انتہائی برا لگا تھا وہ بگڑے ہوئے موڈ کے ساتھ نوف سے پوچھنے لگا
"اور اس شادی سے پہلے ایک شرط رکھی تھی میں نے،،، آپ وہ کیوں بھول رہے ہیں"
نوف بولتی ہوئی خود بھی بیڈ سے اٹھ کر گھڑی ہوگئی اس کی بات سن کر افراہیم کو ہنسی آنے لگی
"تم کیا بچی ہو جو ایسی شرط رکھ کر یہ توقع کررہی ہو کہ میں اس فضول سی شرط کو سیریس لےکر تمہارے پاس نہیں آؤں گا،، شادی کی ہے میں نے تم سے کوئی مذاق نہیں ہوتا ہے کسی سے رشتہ جوڑنا،، اب آگے سے میرے سامنے کوئی بھی بےوقوفی والی بات مت کرنا،، میں آج کا دن بلکل بھی برباد نہیں کرنا چاہتا تمہاری کسی بےوقوفی کی باتوں کی وجہ سے"
افراہیم نے بولتے ہوئے دوبارہ نوف کی جانب اپنے قدم بڑھائے تو نوف تیزی سے پیچھے ہوئی
"وہی رک جائیں افراہیم اگر آپ میرے قریب آئے تو اچھا نہیں ہوگا آپ سے شادی میں نے صرف آنٹی کی وجہ سے کی ہے اور ایک محفوظ پناہ گاہ کی وجہ سے۔۔۔ اگر آپ میرے لئے اس گھر کو محفوظ نہیں رہنے دیں گے تو پھر میرے یہاں رہنے کا کوئی جواز نہیں بنتا اگر آپ نے میرے ساتھ زبردستی کی تھی تو میں اسی وقت یہاں سے چلی جاؤ گی۔۔۔ اگر آپ کو اپنی ویڈینگ نائٹ انجوائے کرنا ہے تو میری طرف سے اجازت ہے آپ شوق سے دوسری شادی کرسکتے ہیں"
نوف افراہیم کو بولتی ہوئی رکی نہیں تھی بلکہ کمرے سے باہر نکل گئی یہ دیکھے بغیر کہ افراہیم کو اس کی بات سن کر کتنا غصہ آیا تھا
*****
ڈائیننگ ہال مکمل طور پر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا مہمان کافی دیر پہلے جاچکے تھے۔۔۔ نازنین اور بیلا اپنے اپنے کمروں میں موجود تھیں،، نوف افراہیم کے کمرے سے نکل کر اپنے کمرے میں جانے کا ارادہ کررہی تھی تب اچانک ہی گپ اندھیرا چھا گیا گھر کی ساری لائٹس بند ہونے کی وجہ سے اسے کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا لیکن کوریڈور میں موجود لمبے چوڑے ہیولے کو دیکھ کر نوف ڈر گئی۔۔۔ افراہیم کا قد بھی اچھا نکلتا ہوا تھا مگر یہ افراہیم ہرگز نہیں تھا اس سے پہلے نوف کچھ بولتی وہ آگے بڑھ کر جلدی سے نوف کا منہ بند کرچکا تھا۔۔۔ ازلان اس وقت اندھیرے کی وجہ سے اس لڑکی کو پہچان نہیں پایا تھا مگر اسے اتنا اندازہ تھا کہ یہ بیلا ہرگز نہیں ہے۔۔۔ اس سے پہلے وہ لڑکی شور مچاتی ازلان اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کا منہ بند کرچکا تھا،، اس کے مچلتے ہوۓ وجود کو بےہوش کرنا اس لیے ضروری ہوگیا تھا کہ اچانک ایک کمرے کا دروازہ کھلا
"یمنہ یہ کیا حرکت ہے فورا روم میں واپس آؤ"
افراہیم کی آواز سن کر ازلان اس یمنہ نامی لڑکی کے بےہوش وجود کو اٹھائیں دائیں جانب کمرے میں چلا آیا، افراہیم کے قدموں کی چاپ اسے اسی کمرے میں آنے کا پتہ دے رہی تھی ازلان نے بےہوش وجود کو جلدی سے بیڈ پر ڈال کر،، افراہیم کے دروازہ کھولنے سے پہلے خود بیڈ کے نیچے چھپ گیا تب تک لائٹ بھی آچکی تھی جو اس کے کہنے پر چند سیکنڈ کے لیے بند کی تھی لیکن بےحد غلط ٹائم پر
"اس طرح اگر تمہیں مما نے یا پھر بیلا نے اس کمرے میں دیکھا تو وہ دونوں کیا سوچیں گے،، یہ بچگانہ حرکتیں بند کرو اور واپس اپنے کمرے میں چلو۔۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں تم سو نہیں رہی ہو بلکہ جاگ رہی ہو"
بیڈ کے نیچے چھپے ہوئے ازلان کو افراہیم کی آواز سنائی دی ساتھ ہی وہ بولتا ہوا بیڈ کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔۔ افراہیم کی آواز ازلان پہلے ہی پہچان چکا تھا اور یمنہ نامی یہ لڑکی یقینا اس کی بیوی تھی جس سے آج افراہیم کی شادی ہوئی تھی آج دوپہر والی بیلا کی بات ازلان کو یاد آئی
"یمنہ سنا نہیں تم نے، میں کیا بکواس کررہا ہو اٹھو فورا یا پھر میں تمہیں اٹھاکر واپس کمرے میں لے جاؤ"
افراہیم کو اس وقت اپنی بیوی کی ہٹ دھرمی پر بے تحاشا غصہ آرہا تھا مگر وہ ضبط کرتا ہوا بولا،، وہ افراہیم کو دیکھ کر سوتی ہوئی بن گئی تھی مگر افراہیم جانتا تھا کہ وہ جاگی ہوئی ہے جبھی افراہیم نے اس کو خود اٹھانے کی دھمکی دی تھی۔۔۔ اور چند سیکنڈ ہی افراہیم نے اس کے اٹھنے کا انتظار کیا تھا اور پھر خود اسے اپنے بازوؤں میں اٹھا کر اپنے کمرے میں لے جاچکا تھا
ازلان لمبی سانس خارج کرتا ہوا بیڈ کے نیچے سے باہر نکلا، آج کا دن اس کے لئے ذرا اچھا ثابت نہیں ہوا تھا کیونکہ چند گھنٹے پہلے وہ کس کرب سے گزرا تھا یہ وہی جانتا تھا۔۔ شام میں جب وہ اپنے اپارٹمنٹ میں موجود اپنے لیپ ٹاپ پر ورک کررہا تھا تب اس کے پاس مبشر کا فون آیا۔۔۔ کمشنر امان اللہ کے کہنے پر مبشر نے نوف کو ڈھونڈنے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔۔۔ بقول مبشر کے آج ایک انیس سال کی لڑکی کی لاوارث لاش ملی ہے جس کا آدھا چہرہ بری طرح جھلسا ہوا تھا کیوکہ اس لڑکی کے نقش کافی حد تک نوف کی تصویر سے ملتے ہیں اسلیے شناخت کے لیے ازلان کو آنے کے لیے کہا گیا تھا
اس خبر کے سنتے ہی ازلان کو لگا اس کے ادھے جسم سے جان نکل چکی ہے،،، نوف کو لےکر وہ ایسی خبر کی توقع تو کر ہی نہیں سکتا تھا،، نہ ہی اپنی بہن کے لیے ایسا برا سوچ سکتا تھا۔۔۔ اسے معلوم نہیں کیسے وہ کار ڈرائیو کرتا ہوا سرد خانے تک پہنچا تھا
اس کے لیے کتنا مشکل عمل تھا،، اس لڑکی کی مسخ شدہ لاش کو دیکھنا۔۔۔ مضبوط دل رکھنے کے باوجود اس وقت ازلان کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔۔۔ مبشر نے اس کو حوصلہ دیا تو وہ خدا کا شکر ادا کرکے، نوف کی سلامتی کی دعا کرنے لگا
واپس گھر پہنچا تو ایک عجیب بےنام سی اداسی نے اس کو گھیرے میں لیا۔۔۔ اس کا دل ہر چیز سے اوچاٹ ہونے لگا۔۔ تب اس نے بیلا کو کال ملائی،، دنیا میں اس کے پاس کون رشتہ بچا تھا ایک بہن جو نہ جانے اس وقت کہاں تھی۔۔ ایک بیلا جس سے ازلان نے اپنے دل کی پوری رضامندی سے رشتہ بنایا تھا شاید اس کے فوری طور پر مگر خفیہ نکاح کرنے کی وجہ یہی تھی وہ اپنے اور بیلا کے رشتے میں کسی قسم کی روک ٹوک یا بدمزگی نہیں چاہتا تھا۔۔۔ مگر اس وقت شاید بیلا بزی تھی جبھی اس کی کال ریسیو نہیں کررہی تھی لیکن جب بیلا کی اس کے پاس کال آنے لگی تو وہ فوری طور پر کال ریسیو نہیں کرسکا۔۔۔ بیلا کا میسج پڑھ کر ازلان کو اندازہ ہوگیا کہ صرف اسے ہی نہیں اس وقت بیلا کو بھی اس کی ضرورت تھی۔۔۔ ازلان نے دو سے تین بار اس کا نمبر ٹرائی کیا تھا جو کہ مسلسل بند تھا،، جانا تو اسے آج ویسے بھی بیلا کے پاس تھا کیوکہ اپنے دوسرے کاموں کی وجہ سے وہ بیلا سے صحیح سے بات چیت نہیں کر پارہا تھا۔۔۔ اس لیے وہ یہاں چلا آیا
*****
"بیلا اٹھو دیکھو تمہیں ضرورت تھی ناں میری۔۔۔ میں آگیا ہوں تمہارے پاس آنکھیں کھولو"
اس وقت وہ کافی ہیوی کپڑے پہنے اور میک اپ کیے بےخبر سو رہی تھی ازلان اس کے گال پر ہاتھ رکھتا ہوا آہستہ آواز میں بولا
"ازلان"
بیلا نے آنکھیں کھولیں تو اپنے قریب ازلان کو بیڈ پر بیٹھے دیکھا۔۔۔ بیلا نے فورا اٹھ کر ازلان کے سینے میں منہ چھپا کر رونا شروع کردیا
"شش خاموش ہوجاؤ بیلا،، میں آگیا ہوں ناں تمہارے پاس، مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے"
بیلا کا میسج پڑھتے ہی وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ ذہنی طور پر ڈسٹرب ہے۔۔۔ اس لیے ازلان اس کے رونے پر حیرت زدہ یا پریشان نہیں ہوا وہ اپنا ایک ہاتھ بیلا کے سر پر رکھے دوسرے ہاتھ سے اس کے گرد حصار باندھ کر اپنائیت بھرے لہجے میں پوچھنے لگا۔۔۔ بیلا آنسوؤں سے تر چہرہ لئے ازلان کو دیکھتی ہوئی بولی
"وہ مجھے بول رہا تھا وہ دوبارہ پاکستان آۓ گا،،، وہ پھر سے میرے ساتھ وہی سب کچھ۔۔۔
بیلا روتی ہوئی ازلان کو بتانے لگی ہے اس کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ ازلان نے سختی سے اس کو جھنجھوڑا
"اب تمہارے ساتھ کوئی بھی کچھ غلط نہیں کرسکتا،، کچھ کرنا تو دور کوئی چھو نہیں سکتا کوئی تمہیں۔۔۔ تمہاری طرف جس کی بھی بری نظر اٹھی تو میں آنکھیں نکال ڈالوں گا اس کی"
ازلان جان چکا تھا بیلا کس کی بات کررہی تھی۔۔۔ اسے اصفر نامی بےغیرت انسان پر شدید غصہ آنے لگا تھا۔۔۔۔ ازلان بیلا کو ایک بار پھر اپنے حصار میں لےچکا تھا
"مجھے جب جب وہ منظر آج بھی یاد آتا ہے تو میں رات میں سو نہیں پاتی ہوں،، اگر سو جاؤ تو وہ سب خواب میں نظر آتا ہے۔۔۔ مم مجھے بہت تکلیف ہوئی تھی اس وقت۔۔۔ ابھی بھی بہت تکلیف ہوتی ہے وہ سب کچھ سوچتے ہوئے ازلان اس نے میرے ساتھ بہت برا کیا"
بیلا روتی ہوئی ازلان سے وہ باتیں شیئر کرنے لگی جو اس نے آج تک کبھی کسی سے شیئر نہیں کی تھی۔۔۔ ازلان کا چہرہ ضبط سے سرخ ہوچکا تھا وہ بیلا کے سنہری بالوں پر ہونٹ رکھتا ہوا اس کی کمر سہلانے لگا
"وہ سب ایک بھیانک خواب تھا،، مت ذہن میں لایا کرو ان باتوں کو جو صرف تمہیں اذیت میں مبتلا کرے۔۔۔۔ صرف اور صرف میرے اور اپنے متعلق سوچا کرو ہمارے نئے رشتے کے بارے میں، ایک شوہر کے لیے یہ احساس بہت اطمینان بخش ہوتا ہے کہ اس کی بیوی اس کی غیرموجودگی میں بھی اپنے محرم کو یاد کرے اسی کو سوچے"
ازلان اسے اپنے حصار میں لیے آہستہ آواز میں بولا تو بیلا حیرت سے ازلان کے سینے سے سر اٹھاکر اسے دیکھنے لگی
"تم۔۔۔۔ اس وقت سچ میں میرے کمرے میں موجود ہو، مطلب تم یہاں تک آۓ کیسے وہ بھی اتنی رات میں"
ازلان کی باتیں سن کر وہ مکمل اپنے حواسوں میں آتی ہوئی ازلان کو اپنے کمرے میں دیکھ کر شدید قسم کی حیرت میں مبتلا تھی اسکے حیران کن فیس ایکسپریشن دیکھ کر ازلان مسکرایا
"بہت جلدی خیال آگیا تمہیں کہ میں اس وقت تمہارے کمرے میں موجود ہو۔۔۔ ویسے بھی آج آنا تو مجھے لازمی تھا، میری نئی نویلی بیوی آج دوپہر میں مجھ سے شکوہ جو کرکے گئی تھی کہ کل رات میں نے اس کو کال نہیں کی، اس سے خوبصورت رشتہ بنایا تو کوئی پیار بھرا جملہ نہیں بولا۔۔۔ نہ ہی نئے رشتے کو لےکر اپنی فیلیگز شئیر کی۔۔۔ اور مجھے تمہارے اندر اس رشتے کو لےکر کچھ احساس تو لازمی بیدار کرنے چاہیے۔۔۔ سمجھو میں آج رات یہ سارے شکوے دور کرنے کے لئے آیا ہوں"
ازلان بولتا ہوا بیلا کو اپنے حصار میں لےکر بیڈ پر لیٹ گیا تو بیلا ازلان کی بےباکی پر ایک دم ہڑبڑا اٹھی۔۔۔ ازلان بیڈ پر لیٹا ہوا اپنے سینے پر جھکی ہوئی بیلا کا چہرا غور سے دیکھنے لگا
"وہ سب کچھ تو آج دوپہر میں میرے منہ سے ایسے ہی نکل گیا تھا تم نے بلاوجہ میں اتنا سیریس لےلیا میری باتوں کو"
بیلا ازلان کے خاموشی سے دیکھنے پر کنفیوز ہوکر بولتی ہوئی اس کے اوپر سے اٹھنے لگی تو ازلان نے فورا اس کا بازو پکڑا
"اس وقت تمہاری خود کی بھی بھلائی اسی میں ہے کے تم بھی مجھے اس وقت سیریس لو اور اسی طرح میرے قریب رہو، اب دوبارہ اٹھنے کی ضرورت نہیں ہے"
ازلان سنجیدگی سے بیلا کا چہرہ دیکھتا ہوا اس سے بولا تو بیلا نے دوبارہ اس کے سینے سے اٹھنے کا ارادہ ترک کردیا
"ہمارے نکاح کے فورا بعد اتنی جلدی کیوں چلی گئی تھی مجھے واپس تو کمرے میں آنے دیتی"
ازلان بیلا کے چہرے کے ایک ایک نقش کو انگلیوں سے چھوکر محسوس کرنے کے ساتھ غور سے اس کا چہرہ دیکھتا ہوا بیلا سے پوچھنے لگا
"فورا واپس نہیں گئی تھی پورے آدھے گھنٹے تمہارا ویٹ کیا تھا مگر تم دوسرے روم میں آدھے گھنٹے سے اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے باتوں میں مصروف تھے"
بیلا ازلان کے شکوے پر اس کو جتاتی ہوئی بولی جس پر ازلان اپنی مسکراہٹ روکتا ہوا بولا
"ہاں یہ بات بھی صحیح ہے مجھے اپنے دوستوں سے معذرت کرتے ہوۓ اسی وقت ان کے پاس سے اٹھ جانا چاہیے تھا،، کہ یار میرا ابھی ابھی نکاح ہوا ہے تو ذرا میں اپنی بیوی کو دو تین پیار بھرے جملے بول کر، ساتھ ہی اس کی ڈھیر ساری تعریف کرکے تم لوگوں کے پاس آتا ہوں"
ازلان کے بولنے پر بیلا آنکھیں دکھاتی ہوئی اسے گھور کر بولی
"اف کتنا بےتکا بول رہے ہو تم ازلان خاموش ہوجاؤ"
بیلا کے ٹوکنے پر ازلان نے اپنے کندھے پر رکھا ہوا بیلا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام لیا
"کل اچانک تم نے مجھ سے نکاح کرنے کا فیصلہ کرلیا مجھے ابھی تک حیرت ہورہی ہے تمہارے اس جلد بازی والے اقدام پر"
بیلا ازلان کو دیکھتی ہوئی وہی بولنے لگی جو وہ کل سے سوچ رہی تھی
"یہ فیصلہ اتنا اچانک بھی نہیں کیا ایسا کرنے کا تو پہلے سے ہی سوچا ہوا تھا۔۔۔ ایک لڑکی سے دس سال پہلے وعدہ جو کیا تھا ہمیشہ اس کا ساتھ نبھانے کا"
ازلان دھیمے لہجے میں بیلا کو دیکھتا ہوا بولا تو بیلا خاموشی سے ازلان کو دیکھنے لگی
"بس میرا دل کل خوش اس بات پر ہوا جب تم نے فٹافٹ بغیر کوئی ڈرامے کیے نکاح کرنے پر راضی ہوگئی"
ازلان نے اس کا تھاما ہوا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگایا تو بیلا ایک دم جھینپ گئی اور اپنا ہاتھ چھڑواتی ہوئی اٹھ بیٹھی پھر ایک دم بولی
"اور اگر میں کل نکاح سے انکار کردیتی تو"
وہ ازلان سے یونہی پوچھ بیٹھی، لیکن وہ انکار کر بھی کیسے سکتی تھی ایک پل کے لیے اس کا دل نہیں مانا کہ وہ اپنے لیے کسی غلط شخص کا انتخاب کررہی ہے۔۔۔ بس اسے گلٹ اس بات کا تھا کہ یہ نکاح اس نے افراہیم اور نازنین کی غیر موجودگی میں انہیں بتائے بغیر کیا ہے مگر اسے اندازہ تھا کہ نازنین اس کے اس انتخاب پر بالکل خفا نہیں ہوگی
"تو مجھے ایک خوبصورت لڑکی کے ہاتھ سے نکلنے کا غم کئی سال تک رہتا ہے"
ازلان خود بھی بیڈ پر بیٹھ کر اسے جواب دیتا ہوا بولا۔۔۔ بیلا کو اپنے حصار میں لےکر بیڈ پر لٹایا اور اس پر جھکتا ہوا بیلا کو سنجیدگی سے دیکھنے لگا جس پر بیلا کا دل بہت زور سے ڈھڑکنے لگا
"تمہیں کل اس لیے کال نہیں کرسکا تھا کیوکہ میں کل بہت زیادہ بزی تھا ویسے بھی بیچ میں کئی دن ایسے آتے ہیں کہ جب میرے اوپر کام کا لوڈ زیادہ ہوجاتا ہے پھر میں اپنے خود کے لئے بھی وقت نہیں نکال پاتا۔۔۔ یہ بات تمہیں آج اس لئے بتارہا ہوں تاکہ تم آئندہ مجھے کال نہ کرنے کا طعنے نہیں دے سکو اور اب باری ہے تم سے ہمارے نکاح کی فیلیگز شیئر کرنے کی، میں تم سے نکاح کرکے نہ صرف بہت زیادہ خوش ہوں بلکہ بےحد مطمئن بھی ہوں کیوکہ مجھے ایسا لگتا ہے میں نے تم سے رشتہ جوڑ کر اپنے لئے درست فیصلہ کیا ہے،، تم سے زیادہ اچھی لڑکی میری زندگی میں اب تک نہیں آئی اور نہ ہی آئے گی تم ایک ایسی لڑکی ہو جس کے ساتھ میں اپنی آنے والی زندگی خوش اور مطمئن ہوکر گزاروں گا اس بات کا مجھے پورا یقین ہے"
ازلان نے بولتے ہوئے نہ صرف اس کو اپنی فیلیگز بتائی بلکہ اس کی پیشانی پر محبت کی مہر ثبت کرکے اسے پیار بھرا مان بھی بخشا،، بیلا سانس روکے نہ صرف اس کو اپنے اتنے قریب دیکھ رہی تھی بلکہ اپنے لیے اس کی فیلیگز بھی سن رہی تھی
"مجھے میری ہی نظروں میں اتنی ویلیو دینے کے لیے شکریہ"
بیلا آئستہ آواز میں ازلان کو دیکھتی ہوئی بولی تو وہ مسکرا کر بیلا کے بالوں میں انگلیاں پھنساتا ہوا بولا
"تمہیں کال نہ کرنے کی وجہ بتادی، اپنے اور تمہارے رشتے کو لےکر اپنی فیلیگز تم سے شئیر کرلیں۔۔ اب میں یہاں سے جانے سے پہلے تمہارے اندر ہمارے قائم ہونے والے رشتے کو لےکر کچھ احساسات جگانا چاہتا ہو"
ازلان بیلا کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا سنجیدگی سے بولا پھر اس کے ہونٹوں کی طرف جھکنے لگا ویسے ہی بیلا اپنے چہرے کا رخ دوسری سمت کرتی ہوئی بولی
"بدتمیزی مت کرو ازلان فورا پیچھے ہٹ جاؤ،،، جب سے تم آئے ہو کسی نہ کسی طریقے سے احساسات ہی جگا رہے ہو اب بس کرو پلیز"
جو وہ کرنے والا تھا بیلا کو سوچ کر گھبراہٹ ہونے لگی اس لئے اپنے چہرے کا رخ پھیرتی ہوئی اذلان سے بولی
"بیلا میری جان ذرا آہستہ بولو،، تیز آواز میں بات کرکے کیوں اپنے بھائی کے خوبصورت لمحات میں خلل پیدا کررہی ہو،، ویسے ہی اس بے چارے کی بیوی پہلے ہی اس سے روٹھی ہوئی ہے"
ازلان بیلا کو ٹوکتا ہوا شرافت کا مظاہرہ کرکے خود بھی اٹھ چکا تھا
"کیا کیا کیا یمنہ خفا ہے بھائی سے مگر کیوں اور یہ تمہیں کیسے معلوم"
بیلا بھی اس کی بات سن کر آئستہ آواز میں بولتی ہوئی بیڈ سے اٹھ کر بیٹھ گئی
"اب اس کے خفا ہونے کی وجہ تو نہیں معلوم البتہ تمہارا بھائی اپنی شریک حیات کو مناتا ہوا واپس کمرے میں لےگیا تھا تھوڑی دیر پہلے، خیر چھوڑو یہ تو ان دونوں میاں بیوی کی آپس کی بات ہے۔۔ تم یہ رکھو اپنے پاس یہ میرے اپارٹمنٹ کی ڈوبلیکیٹ چابی ہے اب تم سو جاؤ میں چلتا ہوں"
ازلان بیلا کو چابی تھماتا ہوا کلائی پر بنی ہوئی واچ میں ٹائم دیکھنے لگا
"اور یہ ازلان سے آبان بننے کا کیا چکر ہے وہ تو بتاتے جاؤ"
سب سے اہم سوال جو بیلا کے دماغ میں شروع دن سے گلبلا رہا تھا وہ یہ بات پوچھنا ہی بھول گئی تھی۔۔۔ بیلا کی بات سن کر ازلان بیلا کے شولڈرز پر اپنے دونوں ہاتھ ٹکا کر بیلا سے خود پوچھے لگا
"تمہیں کیا لگتا ہے ایسا کیوں کروں گا میں"
وہ بیلا سے پوچھنے کے ساتھ ہی اسے جانچتی ہوئی نظروں سے دیکھنے لگا
"اگر تم میرے لیے یونیورسٹی میں سر عتیق کی جگہ آئے ہو تو نام بدلنے کی کیا وجہ تھی"
بیلا ناسمجھنے والے انداز میں ازلان کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
"یا اللہ میری بیوی کو ساری زندگی ایسے ہی خوش فہم رکھنا،، بہت ہی زیادہ کوئی فارغ انسان سمجھ لیا ہے تم نے مجھے جو میں صرف تمہارے لئے یونیورسٹی اپنا نام بدل کر آؤں گا"
ازلان اس کے سر پر پیار سے چپت لگاتا ہوا باہر کی طرف جانے لگا مگر پلٹ کر دیکھا تو بیلا غصے میں ازلان کو گھور رہی تھی
"مذاق کررہا ہوں یار،، تمہارے لیے ہی تمہاری یونیورسٹی آیا ہوں اب اتنی محبت سے میری طرف مت دیکھو مجھے واپس جانا ہے، اگر گلاب خان جاگ گیا تو مسئلہ ہوجائے گا۔۔۔ اب جاکر بیڈ پر لیٹو اور اپنی آنکھیں بند کرلو تمہیں اب سونے سے پہلے صرف میرے بارے میں سوچنا ہے یاد ہے ناں"
وہ یہاں سے جاتے وقت اپنی بیوی کو ناراض بھی نہیں کرسکتا تھا اس لئے یونیورسٹی والی بات بیلا کا دل رکھنے کے لیے بولتا ہوا اس کے کمرے سے باہر نکل گیا
"یہ گلاب خان کتنا بدتمیز آدمی ہے ڈیوٹی کے ٹائم پر سو رہا ہے کل کو کوئی اور چلا آئے ہمارے گھر پر، میں بھائی کو بتاؤں گی صبح"
بیلا خود سے بولتی ہوئی واپس بیڈ پر لیٹ گئی وہ جانتی تھی ازلان اس کو کچھ نہیں بھی بول کر جاتا وہ سونے سے پہلے وہ اسی کو سوچتی مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی اس کا شوہر بچارے گلاب خان کو یہاں آنے سے پہلے ایسا گلاب سونگا چکا ہے جس کی وجہ سے گلاب خان تھوڑی دیر کے لئے دنیا کے غم و فکر سے بیگانہ ہوکر سوچکا تھا

وہ گہری نیند میں سو رہی تھی تب اسے ایک دم نیند میں محسوس ہوا کے کوئی چیز اس کے سینے پر آکر گری ہو۔۔۔ جس سے نوف کی آنکھ اچانک کھل گئی،،، کمرے کی سجاوٹ دیکھ کر اسے یاد آیا یہ کمرہ افراہیم کا تھا سب سے پہلے نوف نے لیٹے رہنے کے ساتھ ہی اپنا سر نیچے کر کے اپنے اوپر گرنے والی چیز کو دیکھا پھر حیرت سے اس کی آنکھیں پھٹ گئی
افراہیم کو کل رات اپنی بیوی کی حرکت پر شدید غصہ آیا تھا ایک تو اس نے افراہیم کا سارا رومانٹک موڈ غارت کیا تھا اوپر سے وہ اس کے کمرے سے بھی باہر چلی گئی تھی اور اپنے کمرے میں جاکر سوتی ہوئی بن گئی تھی
غصے میں افراہیم اس کو اٹھا کر اپنے کمرے میں لےکر تو آگیا مگر سوتی ہوئی اپنی بیوی کو مسلسل آدھے گھنٹے تک گھورتا رہا وہ اتنی جلدی آخر کیسے سو سکتی تھی اور اگر وہ واقعی جاگ رہی تھی اور سونے کی صرف ایکٹنگ کررہی تھی تو پھر اتنی پرفیکٹ ایکٹینگ کیسے کرسکتی تھی کے نہ تو اس میں کوئی ہل جھل ہورہی تھی نہ ہی اس کی پلکیں جھپک رہی تھی۔۔۔ افراہیم نے کل رات اپنی بیوی کو آزمانے کے لیے کہ وہ واقعی جاگ رہی ہے اس کے کان کے قریب اپنا منہ لاتے ہوئے اسے شدید قسم کی بےباک دھمکی دے ڈالی تھی، اگر وہ واقعی جاگ رہی ہوتی تو افراہیم کو پیچھے ہٹاکر غصے میں اٹھ کر دوبارہ افراہیم کے کمرے سے باہر نکل جاتی مگر وہ ویسے ہی سوتی رہی۔۔۔ تب افراہیم کو یقین ہوگیا کہ اس کی بیوی اس وقت سچ میں سو رہی تھی۔۔۔۔ افراہیم خود بھی اس کے برابر میں لیٹ گیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا
اس وقت افراہیم پر شدید قسم کی نیند کا غلبہ طاری تھا کروٹ لینے کے ساتھ اس نے دائیاں بازو پھلا کر بیڈ پر رکھا مگر یہ نرم گداذ سا لمس، اس کا ماؤف ذہن سمجھنے سے قاصر تھا یہ نیند میں اس کا ہاتھ کہاں جا پہنچا تھا، اسکا ذہن بیدار ہونے لگا۔۔۔ افراہیم کی نیند ٹوٹی تو آنکھ کھلنے پر اس نے اپنے برابر میں لیٹی ہوئی اپنی بیوی کو دیکھا جو بالکل سیدھی لیٹی ہوئی شاید رو دینے والی تھی،، پھر اس کی نظروں کا زاویہ نوف کہ گردن سے تھوڑا نیچے اپنے ہاتھ کی طرف گیا۔۔۔ ایک جھٹکے سے اس نے نوف کے اوپر رکھا ہوا اپنا ہاتھ ہٹایا اور چور نظروں سے نوف کو دیکھنے لگا جو اسکے ہاتھ ہٹاتے ہی فورا اٹھ کر بیٹھ گئی تھی اور افراہیم کو شرمندہ کرنے کے لئے بری طرح اسے گھورنے لگی
"کیا ہوا"
مگر افراہیم بھی کہا شرمندہ ہونے والا تھا نوف کو دیکھتا ہوا چہرے کے تاثرات ایک دم سنجیدہ کرتا ہوا الٹا اسی سے پوچھنے لگا
"شرم نام کی کوئی چیز ہے آپ میں"
نوف تھوڑا غصے سے تھوڑا شرمندگی سے سرخ ہوتی ہوئی بیڈ پر لیٹے ہوئے افراہیم کو دیکھ کر پوچھنے لگی
"میں نیند میں تھا اگر تمہیں اتنا برا لگ رہا تھا تو تم لیٹی ہوئی انجوائے کیوں کررہی تھی، میرا ہاتھ تم خود بھی اپنے اوپر سے ہٹاسکتی تھی"
افراہیم اس کا غصے اور شرم سے سرخ چہرہ دیکھ کر مزید اس کو سلگاتا ہوا بیڈ سے اٹھ کر واش روم میں جانے لگا
"استغفراللہ۔۔۔ میں انجوائے کررہی تھی، یہ کیا بول رہے ہیں آپ۔۔ آپ کی ہمت کیسے ہوئی مجھ سے ایسی بیہودہ بات کرنے کی،، کس قسم کی لڑکی لگتی ہوں میں آپ کو جو آپ کی ان فضول حرکتوں کو انجوائے کرو گی جواب دیں آپ مجھے"
افراہیم کی بات نے اسے صحیح معنوں میں پتنگے لگا دئیے تھے وہ بیڈ سے اٹھ کر افراہیم کا راستے میں آکر اس کا راستہ روکتی ہوئی غصے میں بولی
"صبح ہی صبح میرے منہ لگنے کی ضرورت نہیں ہے، اگر میں تمہارے منہ لگ گیا ناں، تو اتنے برے طریقے سے لگوں گا کہ تم رو پڑوں گی مجھے پیچھے ہٹاتے ہوئے۔۔۔ اس لیے فورا میرے راستے سے ہٹ جاؤ"
افراہیم اس کے غصے کی پروا کیے بغیر دھمکی دیتا ہوا بولا جو کارآمد ثابت ہوئی وہ سنگین نتائج کا سوچتی ہوئی خاموشی سے افراہیم کے راستے سے ہٹ گئی تو افراہیم واش روم چلا گیا
واش روم میں پانی گرنے کی آواز آرہی تھی اور وہ بیڈ پر بیٹھی ہوئی افراہیم کی حرکت یاد کرکے خجالت سے سرخ ہوۓ جارہی تھی
"ٹاول پکڑاؤ مجھے جلدی سے"
افراہیم کی آواز پر وہ واش روم کی طرف دیکھنے لگی پھر اٹھ کر وارڈروب میں ٹاول ٹٹولنے لگی۔۔۔۔ ڈرتے ہوئے نوف نے افراہیم کو ٹاول دیا کہ کہیں وہ اس کو ہی واش روم میں نہ کھینچ لے۔۔۔ اب وہ افراہیم سے کسی بھی قسم کی بدتمیزی کی توقع رکھ سکتی تھی
نوف خود بھی چینج کرنے کا سوچ رہی تھی تب افراہیم اپنی کمر پر ٹاول لپیٹ کر روم میں آیا،، اس کو دیکھنے کے بعد نوف کو فورا اپنی نظریں جھکانا پڑی۔۔۔۔ ساتھ ہی اس کو دس سال پہلے کا منظر یاد آیا جب افراہیم اسی حالت میں اپنے کمرے میں موجود تھا اور وہ غلطی سے دروازہ کھول چکی تھی،، تب وہ اس پر کتنا غصہ ہوا تھا اور کل رات سے تو جیسے اس نے ساری شرم بیچ ہی ڈالی تھی،، نوف ذرا سی نظر اٹھاکر چور نظروں سے اس بدتمیز مغرور انسان کو دیکھنے لگی جو اب اس کا شوہر بن چکا تھا
"یوں چوری چوری میری طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنے میں وقت برباد مت کرو،، جاکر خود بھی شاور لو اور ڈھنگ کے کپڑے پہنو۔۔۔ مما نے بتایا نہیں تمہیں ان کی ساری فرینڈ آنے والی ہیں صبح"
افراہیم کی نظروں سے نوف کا چور نظروں سے اس کی طرف دیکھنا چھپ نہیں سکا تھا تبھی وہ تاک کر نشانہ لیتے ہوۓ طنز کرتا بولا
"بڑے شہزادہ گلفام ہیں جیسے، جو میں چوری چوری للچائی ہوئی نظروں سے دیکھو گی"
نوف کو معلوم تھا افراہیم اپنی شرٹ کے بٹن بند کرتا ہوا اسی کو دیکھ رہا تھا نوف آئستہ آواز میں بڑبڑا کر واش روم جانے لگی تبھی افراہیم نے اس کا بازو پکڑا
"اپنی چوری پکڑے جانے پر انسان کو شرمندہ ہونا چاہیے یوں منہ ہی منہ میں بڑبڑانا نہیں چاہیے اور میری بات کان کھول کر سن لو۔۔۔۔ یمنہ میں تم سے کچھ بکواس کررہا ہوں تم سن رہی ہو ناں"
افراہیم جو اس سے کوئی بات بول رہا تھا مگر نوف کو غائب دماغ دیکھ کر ایک دم اس کے پکڑے ہوئے بازو پر دباؤ ڈالتا ہوا بولا تو نوف جیسے ہوش میں آئی اور جلدی سے بولی
"جی کیجئے بکواس۔۔۔۔ اوہ سوری میرا مطلب ہے میں سن رہی ہوں آپ پلیز بولیں"
افراہیم کی غصے میں بڑی بڑی آنکھیں دیکھ کر وہ اپنا جملہ جلدی سے درست کرتی ہوئی بولی
"ہمارے کمرے کی بات ہمارے ہی درمیان رہے گی،، مما بیلا یا پھر دوسرے لوگوں کے سامنے ہم سویٹ اینڈ ہیپی کپل کی طرح ہیں، سمجھ رہی ہو تم"
افراہیم کی بات پر وہ اثبات میں سر ہلاکر واشروم میں چلی گئی
مگر اب اس کو یاد آرہا تھا رات میں کوئی گھر میں موجود تھا جس نے اس کو پکڑا، اس کا منہ بند کیا اور وہ کب کیسے نیند میں گئی کب افراہیم کے کمرے میں آئی یہ سب کچھ اسے بالکل بھی یاد نہیں تھا۔۔۔ صبح بیدار ہونے کے ساتھ ہی افراہیم کی بدتمیزی والی حرکت نے اس کے دماغ سے کل رات والی یہ ساری بات نکال دی تھی
"کون ہوسکتا تھا وہ"
نوف پانی کا نلکا کھولتی ہوئی سوچنے لگی کیونکہ اس سے پہلے تو اس نے اس گھر میں ایسا کچھ نہیں دیکھا تھا،، اسے یہ افراہیم کو بتانا چاہیے تھا مگر وہ تو اس وقت اس سے سیدھے منہ بات بھی نہیں کررہا تھا نوف سوچتی ہوئی اچھی خاصی پریشان ہوچکی تھی
****
اس وقت بیلا کو ازلان پر شدید قسم کا غصہ آیا ہوا تھا۔۔۔ آج صبح یونیورسٹی آنے پر نازنین نے کتنی ساری باتیں اس کو سنائی تھی کیوکہ گھر میں گیسٹ آنے والے تھے مگر وہ یونیورسٹی صرف اس بدتمیز انسان کی وجہ سے آئی تھی،، جس نے فزکس کے ٹیسٹ میں اسے پاسنگ مارکس دینے کے بعد پوری کلاس کے سامنے کتنے برے طریقے سے اسے شرمندہ کیا تھا
کل رات وہ اس کے گھر آیا تھا،، اس کے بیڈ روم میں بےحد قریب آکر کیسی پیار بھری باتیں کررہا تھا مگر آج صبح وہ ایک جلاد نما ٹیچر بنا ہوا اس کی بےعزتی کررہا تھا
"روم نمبر 403 میں آجاؤ"
بیلا نے اپنے موبائل میں ازلان کا میسج پڑھا تو بیلا کو اس پر اور بھی شدید غصہ آیا اتنا ڈانٹنے کے بعد وہ اس کو کیسے کلاس روم میں آنے کا آرڈر دے رہا تھا
"بھاڑ میں جاؤ تم"
بیلا نے اس کے میسج کا رپلائی کیا۔۔۔ اس کا باقی کی کلاس لینے کا ارادہ نہیں تھا ڈرائیور اس کو تھوڑی دیر میں لینے کے لئے آجاتا تو واپس گھر چلی جاتی
"سوچ لو میں پیپر میں بیٹھنے نہیں دوں گا تمھیں"
اب کی بار بیلا کو اس کی طرف سے دھمکی بھرا میسج موصول ہوا
"میرا اس سال پیپر دینے کا ارادہ ہی نہیں ہے"
بیلا اس کی دھمکی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ٹائپ کرنے لگی
"پیار سے بول رہا ہوں آجاؤ ورنہ ناراض ہوجاؤ گا میں تم سے"
ازلان کا دوسرا دھمکی بھرا میسج پڑھ کر بیلا دوبارہ میسج ٹائپ کرنے لگی
"پیار سے کیا تم اگر مجھے غصے میں بلاؤ گے میں تب بھی نہیں آؤں گی اور اگر ناراض ہونا ہے تو ذرا اچھے سے ہونا"
ازلان کو میسج سینڈ کرکے وہ پارکنگ لاٹ میں آکر اپنی گاڑی میں بیٹھ گئی ایک بار پھر اس کا موبائل بجنے لگا مگر یہ نمبر نازنین کا تھا
"جی مما"
بیلا اس کی کال ریسیو کرتی ہوئی بولی
"کہاں رہ گئی ہو بیلا حد کرتی ہو تم بھی تنزیلہ کب سے یہاں بیٹھی ہوئی تمہارا ویٹ کررہی ہے بیٹا"
نازنین بیلا کی آواز سن کر اس سے فوراً بولی تو بیلا برے طریقے سے چڑ گئی
"مما تنزیلہ آنٹی میرا ویٹ کیو کررہی ہیں آپ کی ساری فرینڈز کو تو بھابھی کو دیکھنے کے لیے آنا تھا"
بیلا اکتائے ہوئے لہجے میں بولتی ہوئی ڈرائیور کو گھر کی طرف چلنے کا اشارہ کرنے لگی تو اس نے گاڑی اسٹارٹ کردی
"ہاں میری ساری فرینڈز یمنہ کو دیکھنے آئی ہیں مگر تنزیلہ تو تمہیں دیکھنے کے لیے آئی ہے اپنے راغب کے لیے بس تم جلدی سے گھر آجاؤ"
نازنین پیار بھرے لہجے میں بولی تو بیلا کو تنزیلہ آنٹی سے چڑ ہونے لگی
"بہت ضروری اسائینمنٹ ملا ہے مجھے مما میں اس وقت لائبریری جارہی ہوں آج تو جلدی گھر بالکل بھی نہیں آسکوں گی۔۔۔ آپ تنزیل آنٹی سے معذرت کرلیے گا اور پلیز پریشان مت ہوئیے گا، میں کال رکھ رہی ہوں"
اسے فرار ہونے کا بس ایک یہی بہانہ ملا تو وہ کال کاٹ کر سوچ میں پڑگئی کہ اب کیا کرے
"نہیں گھر نہیں گاڑی رائٹ سائیڈ پر موڑ لو اپنی دوست سے نوٹس لینے ہیں مجھے اور تھوڑی دیر اس کے پاس بیٹھنا ہے، دو گھنٹے بعد آکر مجھے پک کرلینا"
بیلا ڈرائیور کو بولتی ہوئی گاڑی میں اطمینان سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی
*****
اپنے فلیٹ میں پہلا قدم رکھتے ہی اسے محسوس ہوگیا کہ فلیٹ میں پہلے سے ہی کوئی موجود ہے وہ یونیورسٹی سے سیدھا اپنے اپارٹمنٹ میں آیا تھا اور تھوڑی دیر بعد اسے ضروری کام سے دوبارہ باہر نکلنا تھا،، بغیر آواز کیے وہ آئستہ قدم اٹھاتا ہوا کچن کے دروازے پر پہنچا جہاں بیلا چولہے کے سامنے کھڑی ہوئی اپنے لیے لیے فرائس بنارہی تھی۔۔۔۔ اپنے فلیٹ کے کچن میں بیلا کو یوں کام کرتا ہوا دیکھ کر اسے خوشگوار حیرت ہوئی تھی اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے ازلان نے اپنا گلا کھنگارا جس پر بیلا نے پلٹ کر دروازے پر کھڑے ازلان کو دیکھا۔۔۔ اس کے دیکھنے پر ازلان نے بیلا کو اسمائل دی جس پر بیلا کوئی تاثر دیے بغیر دوبارہ پلٹ کر اپنے کام میں مشغول ہوگئی۔۔۔ بیلا کے اس انداز پر ازلان کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی وہ چلتا ہوا کچن میں آیا اور بیلا کی پشت پر کھڑا ہوکر اس کو دونوں شانے پکڑتا ہوا بولا
"چند گھنٹے پہلے مجھے محسوس ہوا کہ شاید تمہیں مجھ پر غصہ ہو مگر تمہارا یہ سرپرائز دینے کا انداز مجھے بےحد پسند آیا آئی ریئلی لائک اٹ"
ازلان بولنے کے ساتھ اس کے سنہری بالوں پر اپنے ہونٹ رکھتا ہوا کچن کی شیلف پر بیلا کے سامنے جا بیٹھا
"یااللہ میرے شوہر کو ساری زندگی ایسے ہی خوش فہم رکھنا۔۔۔ اگر تمہیں یہ لگ رہا ہے کہ میں تمہیں یہاں سرپرائز کرنے کے لیے یا خوش کرنے کے لیے آئی ہوں یا پھر میں تم پر غصہ نہیں ہو تو اپنی خوش فہمی دور کرلو"
بیلا سارے فرائس پلیٹ میں نکالتی ہوئی ازلان سے بولی۔۔۔ فرائس سے بھری پلیٹ شیلف پر رکھنے کے بعد وہ دوسرے چولہے پر رکھے ہری مرچ قیمے کی آنچ دھمیی کرنے لگی۔۔۔ ہری مرچ قیمہ ازلان کو بہت پسند تھا یہ بات بیلا کو اپنے بچپن سے معلوم تھی چند دنوں پہلے اس نے ہری مرچ قیمہ نوف سے بنانا سیکھا تھا۔۔۔۔ یونیورسٹی سے یہاں آئے ہوئے اسے گھنٹہ ہونے کو آیا تھا۔۔۔ کیبنٹ میں سارے مصالحہ جات کھنگالتے ہوئے آج اس نے ازلان کے لیے اس کا من پسند کھانا بنانے کا فیصلہ کیا تھا
"لیکن مجھے تمہارے غصے کی وجہ بھی تو معلوم ہو آخر تمہیں مجھ پر غصہ کس بات پر ہے"
ازلان پلیٹ میں سے فرائس اٹھاتا ہوا بیلا سے پوچھنے لگا، ابھی وہ فرائس اپنے منہ میں ڈالنے والا تھا بیلا نے اس سے فرائس چھین کر واپس پلیٹ میں رکھا
"خبردار تم نے ان میں سے ایک بھی فرائس اٹھایا تو یہ میں نے اپنے لئے بناۓ ہیں، تم مجھے پوری کلاس کے سامنے ڈانٹو اور میں تم پر غصہ بھی نہ کرو، اور کس کی مثال دے رہے تھے تم پوری کلاس کے سامنے مجھے اس مدیحہ کی۔۔۔ جو تمہیں دیکھ کر صرف کھی کھی کر کے ہنستی ہوئی اسٹائل ہی مارتی رہتی ہے ایک نمبر کی چھچھوری لڑکی ہے وہ جو تمہارے سامنے اچھا بننے کی کوشش کرتی ہے آئندہ اگر تم نے نصیحت کرتے ہوئے اس چھچھوری کا نام لیا یا پھر اس کی مثال دی تو پھر تم دیکھنا میں کیا کرتی ہوں ساری کلاس کے سامنے تمہارے ساتھ"
بیلا اپنی ساری بھڑاس نکال کر فرائس سے بھری پلیٹ لےکر ڈرائنگ روم میں چلی گئی جبکہ ازلان پوری آنکھیں کھولے بیلا کی جیلسی اور ایک ایک انداز کو نوٹ کرتا ہوا اپنی ہنسی کنٹرول کرنے کے ساتھ فریج سے کیچپ کی بوتل نکال کر فرائس کی پلیٹ کے سامنے رکھتا ہوا خود صوفے پر بیلا کے قریب آکر بیٹھ گیا
"صرف تمہیں اکیلی کو تو نہیں ڈانٹا تھا میں نے،، بلکہ سارے ہی تمہاری طرح کے نکمے اسٹوڈنٹ کو ڈانٹا تھا،، اب مدیحہ بےشک اسٹائل مارے یا وہ چھچھوری ہو اپنے لائق اسٹوڈنٹ کی مثال تو ہر استاد ہی نالائق اسٹوڈنٹ کو دیتا ہے، اس میں اتنا برا ماننے والی کیا بات ہے"
بیلا کو محسوس ہوا ازلان اس کو سمجھانے کی آڑھ میں نالائق بول کر تپا رہا ہے اس لیے وہ غصے میں اسے گھورنے لگی
"بہت لائق ہے وہ، معلوم ہے کتنے بڑے بڑے سائز کے پھرے کیسی کیسی جگہوں پر چھپا کر لاتی ہے وہ،، جہاں صرف تمہاری نظریں جاسکتی ہیں مگر تم چاہ کر بھی اس کی تلاشی نہیں لے سکتے۔۔۔ ایسی بدتمیز لڑکی سے تو ہم نالائق اسٹوڈنٹ ہی بھلے ہیں جو کم از کم عزت سے پاسنگ مارکس لیتے ہیں مگر چیٹینگ نہیں کرتے"
بیلا کی بات سن کر ازلان نے اب کی بار زوردار قہقہہ لگایا
"پھر تو ماننا پڑے گا مدیحہ کو، وہ واقعی اسمارٹ گرل ہے، میری نظروں سے بچ کر جس مہارت سے اس نے خطرناک جگہوں سے پھرے نکال کر چیٹینگ کی ہوگی یہ بھی ایک ٹیلینٹ ہے،، میں تو کہتا ہو تم ایک دو ٹرک مدیحہ سے سیکھ لو، کلاس میں سب کے سامنے چاہ کر بھی میں تمہاری تلاشی نہیں لے سکو گا"
خطرناک جگہوں کا حوالہ دینے کے ساتھ ازلان نے معنی خیز نظروں سے بیلا کو دیکھا تو بیلا اپنا دوپٹہ صحیح کرتی ہوئی ازلان کو گھورنے لگی
"میں تمہیں اس چھچھوری کی اصل حقیقت بتارہی ہو اور تم مجھے الٹا اسی کے نقش قدم پر چلنے کا مشورہ دے رہے ہو تم جیسے اساتذہ ہو تو سنور گیا بچوں کا مستقبل"
بیلا غصے میں بولتی ہوئی صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئی تو ازلان نے فورا اس کی کلائی پکڑی
"بیلا میری جان میرا مطلب تھا نقل کے لیے عقل کی ضرورت ہوتی ہے جو مدیحہ نے استعمال کی اور وہ کامیاب ہوگئی خیر تم غصہ نہیں کھاؤ یہ فرائس کھاؤ جو تم نے صرف اپنے کھانے کے لیے بناۓ ہیں"
ازلان بیلا کو واپس بٹھاتا ہوا پیار بھرے لہجے میں بولا
"یہ فرائس تم اسی کو کھلاؤ جس کی تم بات بات پر تعریف کر رہے ہو"
بیلا اپنے لہجے میں ناراضگی ظاہر کرتی ہوئی بولی ازلان اپنی مسکراہٹ روکے بیلا کا چہرا دیکھتا ہوا بولا
"تعریف میں صرف اس کی ذہانت کی کررہا ہوں مگر تمہارا یہ ٹیچر اپنی اس نکمی اسٹوڈنٹ پر دل و جان سے فدا ہے اس بات کا تمہیں علم ہونا چاہیے"
ازلان نے بولنے کے ساتھ ہی بیلا کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگایا جس پر بیلا ایک دم جھینپ کر اپنا ہاتھ پیچھے کرتی ہوئی سر جھکا گئی تو ازلان اسمائل دے کر بیلا کو دیکھنے لگا
"کیوں بلا رہے تھے مجھے کلاس 403 میں"
بیلا یاد آنے پر ازلان سے پوچھنے لگی جو فرائس کے اوپر کیچپ ڈال رہا تھا
"تمہاری غصے اور شکوؤں کے چکر میں، میں سب سے اہم بات تو بھول ہی گیا۔۔۔ یہ پرمیشن لیٹر ہے اس پر تمہیں آنٹی یا پھر افراہیم کے سائن لینے ہیں تاکہ انہیں معلوم ہوجاۓ کہ تم یونیورسٹی کی طرف سے دوسرے اسٹودنٹس کے ساتھ مری کے ٹرپ پر جارہی ہو"
ازلان فرائس کھاتا ہوا بیلا سے بولا تو وہ کنفیوز ہوکر اسے دیکھنے لگی
"مگر یونیورسٹی کی طرف سے تو ایسا کوئی نوٹیفیکیشن سامنے نہیں آیا یا پھر کسی دوسرے اسٹوڈنٹ سے بھی میں نے ایسا کچھ نہیں سنا"
بیلا ازلان کو دیکھ کر پوچھنے لگی
"وہ اس لیے کیوکہ کل صرف ہم دونوں کو مری کے لئے نکلنا ہے یہ لیٹر صرف آنٹی اور افراہیم کی تسلی کے لیے ہے"
ازلان بیلا کو بتانے لگا تو وہ خاموشی سے اسے دیکھنے لگی پھر اٹھ کر کچن میں چلی آئی۔۔۔ قیمہ بالکل تیار ہوچکا تھا وہ چولہا بند کرکے پلٹی تو ازلان کو کچن میں ہی اپنے قریب پایا
"میں لیٹر تمہاری فائل میں رکھ چکا ہوں آج رات ہی گھر میں بتا دینا، کل صبح میں تمہارا ویٹ کروں گا تم ٹھیک نو بجے یہاں پہنچ جانا"
ازلان بیلا کے قریب کھڑا اس کے تاثرات غور سے دیکھتا ہوا اسے کل کا پلان بتانے لگا
"مجھے ٹھیک نہیں لگ رہا ازلان یہ بالکل مناسب نہیں ہے"
بیلا اس سے بولتی ہوئی کچن سے باہر نکلنے لگی تو ازلان نے اس کا ہاتھ پکڑا
"کیا مناسب نہیں ہے، تمہارا مجھ سے نکاح کرنے کا فیصلہ مناسب ہے تو پھر اس میں کیا برائی ہے بتاؤ مجھے"
ازلان سنجیدگی سے بیلا کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
"نکاح کرنے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ میں مما اور بھائی کو بتائے بغیر تمہارے ساتھ مری کا ٹرپ انجوۓ کرو میں ایسا کچھ بھی نہیں کرنے والی"
بیلا ازلان کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر کچن سے باہر نکلی تو ازلان بیلا کے پیچھے آتا ہوا اس کا بازو پکڑ کر اپنی طرف رخ کرتا ہوا بولا
"ہنی مون بنانے کے لیے نہیں لےکر جارہا ہوں تمہیں اپنے ساتھ، کل اپنی فیملی سے پرمیشن لینے کے بعد تم صبح نو بجے تک یہاں پہنچ رہی ہو اور میں تمہارے منہ سے انکار نہیں سنو گا"
ازلان بالکل سنجیدہ لہجے میں بیلا کو دیکھتا ہوا بولا ٹیبل پر رکھا ہوا بیلا کا موبائل بجنے لگا اس کا ڈرائیور بیلا کو لینے کے لئے آچکا تھا
"اور اگر میں نہیں آئی تو"
بیلا ازلان کو دیکھ کر اس سے پوچھنے لگی
"تو میں سمجھوں گا تم نے مجھ سے صرف رشتہ جوڑا ہے مگر تمہیں مجھ پر رتی برابر بھی اعتبار نہیں ہے"
ازلان بیلا کو بولتا ہوا بیڈ روم میں چلاگیا جبکہ بیلا اپنا بیگ اور فائل اٹھاتی ہوئی فلیٹ سے باہر نکل گئی
"یہ کیا کیا ہے تم دونوں نے مل کر میرے ساتھ، میں پوچھتی ہوں تیری ہمت کیسے ہوئی عدی کے تو اس کلیم کے ساتھ میرا رشتہ جوڑ آیا، جو پہلے سے ہی اپنی دو بیویاں کھا چکا ہے۔۔۔ بتا کتنے پیسے مانگے اس سے تو نے میرے بدلے"
غزل اور عدنان دونوں صحن میں بیٹھے ہوۓ تھے تب گل ان دونوں کے پاس آتی ہوئی غصے میں بولی
"دیکھ رہی ہو اماں کیسے گز بھر کی زبان چل رہی ہے اس کی، ابے کیا تجھے بیاہ نہیں رچانا کسی سے یا پھر اسی دہلیز پر بڑھیا ہوکر ساری زندگی ہمارا خون چوستی رہے گی تو"
عدنان غزل سے گل کی شکایت کرتا ہوا خود بھی گل پر غصے نکلاتا ہوا بولا
"اس کلیم سے بیاہ نہیں رچانا ہے مجھے، جو پہلے ہی دو بیویاں ڈکار چکا ہے اور تجھے کب سے میرے بیاہ کی فکر ہونے لگی کبھی تو نے یہ بھی خیال کیا ہے جو تو صبح شام ڈنگروں کی طرح یہاں بیٹھ کر کھانا ٹھونستا ہے یہ پیسا کہاں سے آتے ہیں"
گل غصے میں بھری ہوئی دانت پیس کر عدنان سے بولی جسے گھر بار کی سرے سے ہی فکر نہیں تھی۔۔ اپنے جواری نشئی دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد وہ دو دو دنوں بعد گھر آکر غزل کو اپنی شکل دکھاتا تھا
"توبہ میرے مالک دو پیسے کیا کماکر لانے لگی کیسے منہ بھر کر طعنے نکال رہی ہے میرے عدی پر،، اری اگر تیرے بھائی نے تیرے بیاہ کا سوچا ہے تو بھلا ہی سوچا ہوگا کلیم کے علاوہ کون تجھ جیسی چلتی پھرتی قینچی کو منہ لگاۓ گا"
غزل سے گل کی زبان برداشت نہیں ہوئی تو وہ بھی اس پر چڑھائی کرتی ہوئی بولی
"بس اماں تمہارے ہی منہ کھولنے کی کمی رہ گئی تھی اگر تم نے اس ذلیل انسان کا ساتھ دیا ناں تو سن لو کان کھول کر،، بھاگ جاؤ گی میں اس گھر سے اور تم دونوں میری فکر کرنا چھوڑ دو جس سے میرا باپ مجھے منسوب کر کے گیا تھا وہی اپنائے گا مجھے"
گل باری باری ان دونوں کو دیکھتی ہوئی بولی
"ہاہاہا دیکھو تو بلی کو خواب میں کیسے چھچھڑے نظر آرہے ہیں اماں۔۔۔ ارے اس پڑھاکو نے پہلے کبھی تجھے منہ نہیں لگایا وہ اب تجھے کیا اپنائے گا۔۔۔ اگر تو اس ازلان سے امید لگا کر کلیم سے انکار کرے گی تو یاد رکھ۔۔ نہ تو ادھر کی رہے گی نہ ہی ادھر کی"
عدنان ہنستا ہوا گل کی ساری خوش فہمیاں دور کرتا ہوا اس سے بولا تو غزل بھی تنک کر بولی
"اری منحوس ماری تو اب بھی اس مجرم کے خواب دیکھ رہی ہے جو سزا کاٹ کر آیا اور کیسے اس نے ہمارے ہی سامنے عدی کو روئی کی طرح دھوند کر رکھ دیا تھا۔۔۔ دیکھ گل اس ازلان کا خیال اپنے دل و دماغ سے نکال دے اور کلیم کے لیے ہامی بھرلے کیوکہ میں تیری شادی اس اذلان سے تو ہرگز نہیں ہونے دوں گی"
غزل گل کو دیکھ کر اپنا فیصلہ سناتی ہوئی بولی
"تم دونوں بھی میری ایک بات یاد رکھنا اگر تم دونوں نے مجھے کلیم سے شادی کرنے پر مجبور کیا تو میں سچ میں یہ گھر چھوڑ کر بھاگ جاؤں گی"
گل ان دونوں ماں بیٹے کو دھمکی دیتی ہوئے خود کمرے میں چلی گئی
"دیکھ رہی ہو اماں کیسے بار بار گھر چھوڑ کر بھاگنے کی دھمکی دے رہی ہے وہ بھی ہمارے منہ پر، اس کا پہلی فرصت میں فیکٹری جانا بند کرو اور ہفتے بھر میں اسے کلیم کے ساتھ رخصت کرو اس سے پہلے یہ واقعی گھر چھوڑ کر بھاگ جائے اور ہماری بچی کچی عزت مٹی میں ملادے"
عدنان آہستہ آواز میں غزل سے بولتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا تاکہ کلیم کو ہفتے بعد برات لے کر آنے کا بول سکے۔۔۔ جوا کھیلتے ہوئے وہ جتنی بڑی رقم ہار چکا تھا گل کا کلیم کے ہاتھوں سودا کرنے کے سوا اور کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا ورنہ کلیم جیسا آدمی جو اپنی دو بیویوں کو جان سے مار چکا تھا ناجانے عدنان کا کیا حشر کرتا
*****
"تم بھی سوچ رہی ہوگی آؤٹ سائیڈر جتنے بھی لوگ آئے سبھی تمہیں منہ دکھائی دے کر چلے گئے اور سسرال کے سربراہ نے ابھی تک خالی خولی تعریفوں پر ہی ٹرخایا ہوا ہے" رات کے ڈنر کے بعد جب افراہیم نوف اور بیلا نازنین کے کمرے میں موجود تھے۔۔ نازنین لاکر میں سے ایک ڈائمنڈ کا سیٹ نکال کر نوف کے پاس آتی ہوئی اس سے مخاطب ہوئی
"میں ایسا کچھ بھی نہیں سوچ رہی ہوں آپ کے خلوص اور محبت کے آگے تو باقی تمام یہ دنیاوی چیزوں بےمعنی لگتی ہیں مجھے"
نوف نازنین کو دیکھتی ہوئی بولی وہ کل سے ہی نازنین کو بہت خوش اور مطمئن دیکھ رہی تھی جو چھوٹی چھوٹی باتوں کا اس سے پوچھ رہی تھی اور اس کا خیال رکھ رہی تھی
"اور میرے خلوص اور محبت کی تو کل رات سے ہی ایسی کی تیسی ہورہی ہے"
اپنے بےحد قریب صوفے پر بیٹھے ہوئے افراہیم کا جملہ نوف کے کانوں سے ٹکرایا۔۔۔ وہ آج سارا دن ہی نوف کو نظر نہیں آیا تھا، تھوڑی دیر پہلے کھانے کی ٹیبل پر نوف نے اس کو دیکھا تھا اور جب وہ نازنین کے کمرے میں آکر صوفے پر بیٹھی تو افراہیم بھی اس کے ساتھ صوفے پر بالکل قریب جڑ کر بیٹھ گیا بالکل ایسے کہ نوف کا بازو افراہیم کے بازو کو چھونے لگا۔۔۔ نوف غیر محسوس طریقے سے افراہیم سے تھوڑا دور ہوئی تو افراہیم مزید پھیل کر بیٹھ گیا،، اب افراہیم کی تھائی نوف کی تھائی سے مسلسل ٹچ ہورہی تھی
"تم کیا آئستہ آواز میں اپنی بیوی سے سرگوشیاں کررہے ہو سائیڈ میں ہوکر بیٹھو ذرا"
نازنین نوف کے پاس آتی ہوئی افراہیم سے بولی
"جو حکم آپ کا"
افراہیم نازنین کو بولتا ہوا شرافت سے تھوڑا دور سرک کر بیٹھ گیا تاکہ نوف کے برابر میں نازنین بھی بیٹھ سکے جبکہ بیلا اس وقت کمرے میں موجود ہوکر بھی ذہنی طور پر وہاں نہیں تھی وہ عجیب سی کشمکش میں مبتلا تھی اسے اذلان کی بات ماننی چاہیے تھی یا کہ رد کردینی چاہیے تھی کیونکہ آخر میں ازلان نے اعتبار والی بات بولی تھی
"آنٹی یہ تو بہت قیمتی لگ رہا ہے میں اسے کیسے قبول کرسکتی ہوں"
نازنین نے ڈبہ کھول کر نوف کی طرف بڑھایا اس میں جگمگاتا ہوا ہیرے کا ہار دیکھ کر نوف ایک دم بولی
"یہ کیا بات کردی بیٹا تم نے، میری افی کی دلہن ہو تم مطلب اس گھر کی بہو۔۔۔۔ جو تمہاری اس گھر میں اہمیت ہے اس کے آگے یہ تحفہ بہت حقیر ہے۔۔۔ یہ نیکلیس اگر تم ابھی پہنوں گی تو میں سمجھوں گی تم نے میرے دیا ہوا تحفہ دل سے قبول کیا"
نازنین نے بڑے پیار سے اور مان سے نوف کو دیکھ کر کہا تو نوف نے آگے ہاتھ بڑھا کر ڈبے میں سے نیکلس نکال لیا
"کیا میں کچھ ہیلپ کردو تمہاری"
افراہیم نوف کے ہاتھ سے نیکلس لیتا ہوا بولا تو نوف کی پلکیں خود بخود جھک گئی وہ نوف کو نیکلس پہنانے لگا تو نازنین کے ہونٹوں پر مسکراہٹ در آئی،، نوف کے چہرے کا رخ نازنین کی طرف تھا جبکہ اس کی پشت افراہیم کی طرف تھی جو نیکلس کا لاک بند کرنے کے ساتھ مسلسل اپنی انگلیوں سے اس کی گردن کو چھو رہا تھا
"کیا آپ نے لاک چیک نہیں کیا تھا مما یہ لاک تو لگ ہی نہیں رہا اور تم یہ لمبی لمبی زلفیں تو سائیڈ میں کرو اپنی"
افراہیم بولتا ہوا نوف کے بالوں کو کندھے سے آگے کرنے لگا اب افراہیم کے ایک ہاتھ کی انگلیاں آئستہ آئستہ نوف کی کمر کو چھونے لگیں افراہیم کی طرف پشت کیے وہ سانس روکے ہوۓ بالکل سیدھی ہوکر بیٹھی ہوئی ضبط کرنے کے علاوہ وہ کچھ کر بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔ وہ نازنین کی موجودگی کا احساس کرتی ہوئی خاموش تھی
"ماشاءاللہ ماشاءاللہ دیکھو کتنی پیاری لگ رہی ہے میری بہو"
نازنین اپنا خریدا ہوا نیکلس نوف کے گلے میں دیکھ کر خوشی سے بولی اور نوف کا ماتھا چومنے لگی
"کہیں بہو آنے کی خوشی میں آپ کو اپنا بیٹا تو پرانا نہیں لگنے لگا"
نوف کا رخ ابھی تک نازنین کی طرف رخ تھا اسے اپنی پشت سے افراہیم کی آواز سنائی دی
"ایسا ہوسکتا ہے بھلا میرے بیٹے میں تو میری جان بستی ہے"
نازنین نوف کے پیچھے بیٹھے ہوئے افراہیم سے بولی۔۔ اس سے پہلے نوف سیدھی ہوکر بیٹھتی اچانک افراہیم کا سینہ مکمل طور پر نوف کو اپنی کمر پر جھکتا ہوا محسوس ہوا
"پھر جلدی سے مجھے بھی ویسے ہی پیار کریں جیسے آپ نے اپنی بہو کو کیا تھا"
آفراہیم نوف کو درمیان سے ہٹائے بغیر نازنین کے قریب اپنا چہرہ لے آیا تو نازنین اس کی بچوں جیسی فرمائش پر ہنستی ہوئی افراہیم کے ماتھے پر بھی بوسہ دینے لگی۔۔۔ نوف افراہیم کی حرکتوں پر اندر ہی اندر غصہ آرہا تھا وہ کافی دیر سے بہانے بہانے سے اس کو ٹچ کیے جارہا تھا افراہیم سیدھا ہوکر بیٹھ گیا تو نوف خود بھی سیدھی ہوتی ہوئی غصے بھری نظروں سے افراہیم کو دیکھنے لگی مگر افراہیم کے چہرے کے تاثرات بتارہے تھے نوف کے غصے کی پروا کسے تھی
"میں کل سے تم دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر بہت خوش ہوں اللہ پاک تم دونوں کی جوڑی ہمیشہ سلامت رکھے"
نازنین افراہیم اور نوف کو ایک ساتھ بیٹھا دیکھ کر دعا دینے لگی
"آپ نے یمنہ کو تحفہ دیا اور پیار بھی دیا اور دعا بھی دی،، بھئی یمنہ اب تمہاری باری ہے تمہیں بھی کچھ اسپیشل سے مما کو دینا چاہیے جس سے مما بھی خوش ہو جائیں"
افراہیم کے یوں اچانک بولنے پر نوف ایک دم گھبرا گئی
"جی کیوں نہیں جو آنٹی بولیں"
نوف کو کچھ سمجھ میں نہیں آیا وہ کیا بولے،، اس کے پاس ایسا نازنین کو یا کسی کو بھی دینے کے لیے کیا تھا مگر نازنین کے خلوص کو دیکھتی ہوئی وہ ایک دم بول گئی
"مجھے بھلا اپنے بچوں سے کیا چائیے ہوگا میں تو تم تینوں کو خوش دیکھ کر خوش ہوں، بس اوپر والے سے میری دعا ہے جیسے اس نے مجھے اتنی پیاری سی بہو دی ہے ویسے ہی جلدی سے مجھے دادی بھی بنادے"
نازنین کی بات ختم ہوتے ہی نوف کو اتنی زور کا پھندہ لگا جس سے وہ بری طرح کھانسنے لگی نوف کے کھانسنے پر بیڈ پر بیلا بھی ہوش کی دنیا میں آئی
"ارے یمنہ بیٹا یہ کیا ہوگیا اچانک"
نازنین نوف کو دیکھ کر پریشانی سے پوچھنے لگی
"لگتا ہے زور کا جھٹکا کافی زور سے لگ گیا ہے"
افراہیم کھانستی ہوئی نوف کی کمر سہلاتا ہوا بولا
"میں پانی لےکر آتی ہوں بھابھی آپ کے لئے"
بیلا ایک دم بیڈ سے اٹھتی ہوئی بولی تو نوف نفی میں سر ہلا کر کھانستی ہوئی صوفے سے اٹھ کر روم سے باہر نکل گئی
"یہ بھابھی کہاں چلی گئیں"
بیلا افراہیم کو دیکھ کر پوچھنے لگی
"شرما گئی ہوگی بےچاری مما کی دعا سن کر"
افراہیم کے شرارت سے بولنے پر پاس بیٹھی نازنین نے زور سے افراہیم کے بازو پر اپنا ہاتھ مارا
"جیسے میں جانتی نہیں ہوں تم کیا بلاوانا چاہ رہے تھے مجھ سے"
نازنین کے بولنے پر افراہیم مسکرا کر بیلا کو اشارے سے اپنے پاس بلانے لگا
"خاموش کیو بیٹھی ہوئی تھی اتنی دیر سے، کیا سوچ رہی ہو"
بیلا نوف کی جگہ پر آکر بیٹھی تو افراہیم بیلا سے پوچھنے لگا وہ اتنی دیر سے بیلا کی غائب دماغی کو نوٹ کرچکا تھا
"سمجھ میں نہیں آرہا ہے جو سوچ رہی ہو آپ دونوں سے شئیر کرو کہ نہیں"
بیلا کا دل چاہا وہ نازنین اور افراہیم کے سامنے اپنے اور ازلان کے نکاح کا بتادے
"بیٹا ایسی کیا بات ہے بولو ناں"
قریب بیٹھی ہوئی نازنین پیار سے بیلا سے پوچھنے لگی جبکہ افراہیم اس کے بولنے کا انتظار کرنے لگا
"کل یونیورسٹی کے سارے اسٹوڈنٹس مری کے ٹرپ پر جارہے ہیں تو میں نے سوچا اگر میں بھی ان سب کے ساتھ چلی جاتی" ابھی بیلا کا بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کے نازنین بول پڑی
"ارے نہیں بیٹا تم پہلے کبھی اکیلی کہیں نہیں گئں تو اب کیسے جاؤں گی"
نازنین پریشان ہوکر بیلا کو سمجھانے لگی تو افراہیم بول پڑا
"ایک منٹ مما مجھے بات کرنے دیں، بیلا کیا تم جانا چاہتی ہو"
افراہیم بیلا کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا تو بیلا نے اثبات میں سر ہلا کر فورا جھکالیا
"ٹھیک ہے تم چلی جاؤ ساتھ ہی اپنا خیال رکھنا اور ڈھیر سارا انجواۓ کرنا"
نازنین کے کچھ بولنے پر افراہیم اس کو آنکھوں کے اشارے سے روکتا ہوا بیلا سے بولا تو بیلا سر اٹھا کر افراہیم کو دیکھنے لگی
"تھینک یو بھائی"
وہ بغیر مسکراۓ افراہیم کو دیکھ کر بولی کیونکہ اسے اندر سے ایسے جھوٹ بول کر کوئی خوشی نہیں ہوئی تھی نازنین کو شب بخیر کہتی ہوئی بیلا وہاں سے چلی گئی
"وہ کیسے رہے گی افی ہم دونوں سے دور وہ تو پہلے کبھی بھی اس طرح کہیں نہیں گئی"
نازنین افراہیم کے اجازت دینے پر پریشان ہوتی ہوئی بولی تو اس افراہیم نازنین کا ہاتھ تھام کر بولا
"ہم سے دور جاکر وہ کیوں نہیں رہ سکتی مما، اسی کے گروپ کی دوسری لڑکیاں بھی ہوگیں بیلا کے ساتھ۔۔۔ آپ بھی تو چاہتی ہیں کہ وہ دوسری لڑکیوں کی طرح سب میں گھلے ملے تو پھر اس کو جانے دیں اور آپ بھی ریسٹ کریں میں چلتا ہوں اب"
افراہیم نازنین کو بولتا ہوا اپنے روم میں جانے کے لئے اٹھ گیا
****
"شرم تو بالکل نہیں آتی آپ کو اپنی مما کے سامنے ایسی فضول حرکتیں کرتے ہوئے"
افراہیم کے کمرے میں آتے ہی نوف اس کو دیکھ کر بیڈ سے اٹھتی ہوئی بولی
"ایک پرسنٹ بھی نہیں آتی اور اب تم اچھی طرح یہ بات سمجھ جاؤ کہ میں کتنا بےشرم آدمی ہوں، میرے ساتھ اگر رہنا ہے تو سیدھے طریقے سے رہنا پڑے گا"
افراہیم نوف کو جواب دیتا ہوا وارڈروب سے اپنے کپڑے نکالنے لگا تب نوف کو ڈنر والا سین یاد آیا
آج ڈنر کے وقت افراہیم نے اسے اپنے برابر والی کرسی اس کے بیٹھنے کے لیے کھسکائی تھی مگر نوف جان بوجھ کر دوسری کرسی پر جاکر بیٹھی یہ بات اور تو کسی نے محسوس نہیں کی تھی مگر افراہیم سوچ چکا تھا وہ اس کا بدلہ کمرے میں نہیں بلکہ سب کے سامنے لے گا
"کہاں جارہی ہو"
نوف کو کمرے سے جاتا ہوا دیکھ کر افراہیم اس سے پوچھنے لگا
"آنٹی کو میڈیسن دینے ان کے سونے کے بعد ہی میں سوتی ہوں"
نوف افراہیم کو دیکھتی ہوئی بتانے لگی بےشک اب اس کی حیثیت اس گھر میں پہلی والی نہیں تھی مگر نازنین کے کاموں کو اس نے اپنی ذمہ داری سمجھ لیا تھا
"مما کو میڈیسن میں دے چکا ہوں اور وہ سونے کے لئے لیٹ چکی ہیں، تم بھی ڈریس چینج کرو اور سونے کی تیاری کرو"
افراہیم نوف کو دیکھتا ہوا بولا تو نوف چینج کرنے سے پہلے آئینے کے سامنے کھڑی ہوکر اپنے گلے میں پہنا ہوا نیکلس اتارنے لگی جس کا لاک اس سے نہیں کھل رہا تھا افراہیم نوف کے پاس آنے لگا
"مجھے آپ کی مدد کی ضرورت نہیں ہے پلیز افراہیم"
نوف آئینے میں سے افراہیم کو دیکھتی ہوئی بولی تب بھی افراہیم اس کی بات کو نظر انداز کرتا ہوا نوف کے قریب آکر اسکو دونوں بازوؤں سے پکڑ کر نوف کا رخ اپنی طرف کر چکا تھا
"کیا وجہ ہے تمہارے اس بی ہیویئر کی بتاؤ مجھے"
افراہیم غصہ کنٹرول کرتا ہوا نوف سے پوچھنے لگا اس کے چہرے کے تاثرات بالکل سیریس تھے
"آپ بات کو بلاوجہ میں بڑھا رہے ہیں"
نوف افراہیم کے ماتھے پر شکنیں دیکھ کر اس سے بولی
"غلط، بات کو میں نہیں بڑھا رہا بلکہ تمہارا یہ رویہ ہمارے اس نئے رشتے کو خراب کررہا ہے۔۔۔ میں وجہ جاننا چاہتا ہوں تم مجھے ناپسند کرتی ہو تو کیو؟؟ ہمارا رشتہ جڑنے کے باوجود تم خوش نہیں،، کیا وجہ ہے جواب دو مجھے یمنہ"
افراہیم بغیر اس کا بازو چھوڑے دوبارہ نوف سے بولا اب کی بار اس کا لہجہ تھوڑا سخت تھا وہ خاموشی سے افراہیم کا چہرہ دیکھنے لگی وہ اسے کیا بتاتی۔۔۔۔ بچپن سے وہ اس کے ساتھ کیا سلوک کرتا آیا تھا اگر وہ جان جاتا ہے کہ اس کی بیوی اس کے ملازم کی بیٹی ہے تب افراہیم کا اس کے ساتھ کیسا سلوک ہوتا
"میں آپ کو ناپسند نہیں کرتی ہوں بس یوں اچانک سے ہمارا رشتہ جڑ گیا ہے تو یہ سب کچھ میں فوری طور پر قبول نہیں کر پارہی ہو، یہ بات آپ کو بھی سمجھنا چاہیے پلیز مجھے تھوڑا سا ٹائم دیں"
افراہیم کو غصے میں دیکھ کر نوف نرم پڑتی ہوئی بات بناکر بولی
"یہی وجہ ہے یا پھر کچھ اور،،، مجھے بالکل سچ سننا ہے"
افراہیم کے ہاتھوں کی گرفت اس کے بازو پر ہلکی ہوئی تھی مگر لہجہ اب بھی ویسا ہی تھا
"اور بھلا کیا وجہ ہو سکتی ہے پلیز افراہیم مجھے نیند آرہی ہے اور چینج بھی کرنا ہے"
نوف اس کی باتوں سے بچنے کی خاطر خود بھی نظریں چراتی ہوئی بولی تو افراہیم نوف کا رخ موڑ کر اس کی پشت اپنی طرف کرتا ہوا نیکلس کا لاک کھولنے لگا۔۔۔
نوف آئینے سے افراہیم کا چہرہ دیکھنے لگی جو ابھی بھی سنجیدہ تھا، اس کے بعد نوف چینج کرنے چلی گئی واپس آئی تو افراہیم لائٹ بند کرکے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔۔۔ نوف کو اس کی صبح والی حرکت یاد آئی تو نوف کو افراہیم کے پاس لیٹتے ہوئے ڈر لگنے لگا وہ تکیہ اٹھا کر صوفے پر آگئی
"جس طرح تم وہاں گئی ہو اسی طرح شرافت سے واپس بیڈ پر آکر لیٹو"
ابھی نوف نے صوفے پر تکیہ اور اپنا دوپٹہ رکھا ہی تھا اسے افراہیم کی آواز سنائی دی
"افراہیم آپ کو نیند میں ہوش نہیں ہوتا کہ آپ کے ہاتھ کہاں جارہے ہیں پلیز میں بغیر کسی ٹینشن کی سکون سے سونا چاہتی ہوں"
نوف جھنجھنلاتی ہوئی بولی وہ سارے دن سے ایک بار بھی کمر سیدھی کرنے کے لیے نہیں لیٹی تھی اور اب وہ سکون سے سونا چاہتی تھی
"تم واپس بیڈ پر آرہی ہو یا چاہتی ہو کہ ابھی کوئی بہت بڑا ہنگامہ ہوجائے"
افراہیم اس کی بات کو اگنور کرتا ہوا سخت لہجے میں پوچھنے لگا جس پر نوف کو رونا آنے لگا وہ تکیے اور دوپٹے کو ہاتھ میں دباتی ہوئی بیڈ کے پاس آئی اور زور سے تکیہ کو بیڈ پر پٹختی ہوئی دوپٹہ سائیڈ پر رکھ کر غصے میں بیڈ پر لیٹ گئی
"غصہ اور دھمکی دونوں اپنی صحت کے مطابق کرنا اور دینا چاہیے۔۔۔ ورنہ نتائج خطرناک نکل سکتے ہیں"
نوف کو افراہیم کی آواز سنائی دی مگر اب کی بار اس کی آواز میں سختی نہیں تھی
"آپ مجھے سونے دیں گے یا نہیں"
افراہیم کی بات پر نوف بےبسی سے بولی جیسے اس نے اپنے آپ کو رونے سے باز رکھا ہو
"سو جاؤ ڈیئر وائف لیکن اپنے ذہن میں یہ بات بٹھا کر کے میں آدمی ہوں تھوڑا سرپھرا قسم کا۔۔۔ شادی کے بعد یہ ٹائم دینے والی لاجک میری سمجھ سے بالاتر ہے اس لئے جلد سے جلد اپنے دماغ میں یہ بات بٹھالو کہ ہماری شادی ہوچکی ہے اور شادی کے بعد جو ہونا ہے وہ تو تمھارے ٹائم لینے کے بعد بھی ہونا ہے،، اس بات کے لئے میں تمہارا ایٹیٹیوڈ بالکل بھی برداشت نہیں کروں گا اور ہاں میں نیند میں اپنے ہاتھوں پاؤں کی کچھ خاص گرانٹی نہیں دے سکتا کیونکہ اب تم میری بیوی بن چکی ہو تو اپنا بچاؤ تمہیں خود کرنا پڑے گا گڈ نائٹ"
افراہیم نوف کو بولتا ہوا سونے کی کوشش کرنے لگا مگر اس کی باتیں سن کر نوف کو معلوم تھا اب اس کی نائٹ گڈ نہیں ہوسکتی اور مشکل ہی تھا کہ اب افراہیم کے برابر میں لیٹ کر اس کو نیند آجاۓ
شام کو بیلا نے یونیورسٹی سے واپس آکر اس کے زہن سے یہ وہم دور کردیا تھا کہ کل رات گھر میں کو کوئی دوسرا موجود تھا بیلا نے اسے یقین دلایا تھا کہ وہ سب اس کا وہم تھا،، گلاب خان کے ہوتے ہوئے گھر میں کوئی نہیں آسکتا مگر تب بھی نوف اندر ہی اندر ڈر گئی تھی نہیں تو وہ اس وقت لازمی افراہیم کے سونے کے بعد اپنے کمرے میں چلی جاتی
افراہیم اور نوف سو رہے تھے ان دونوں کو جگانا بیلا کو مناسب نہیں لگا اس لیے وہ نازنین سے مل کر دعائیں لیتی ہوئی صبح نو بجے کے ٹائم ازلان کے اپارٹمنٹ میں موجود تھی۔۔۔۔ جب ازلان نے اپنے فلیٹ کے دروازے پر بیلا کو ہینڈ کیری کے ساتھ موجود کھڑا پایا تو اس نے فوری طور پر کوئی تاثر نہیں دیا تھا مگر بیلا اس کے چہرے سے اندازہ لگا چکی تھی کہ وہ اس کی آمد پر اندر سے خوش تھا بیلا اپنا ہینڈ کیری وہی چھوڑ کر فلیٹ کے اندر داخل ہوگئی جبکہ ازلان اس کا بیگ اٹھاکر اندر لاتا ہوا فلیٹ کا دروازہ بند کرچکا تھا
"بیٹھنے کا وقت نہیں ہے بیلا جلدی سے اٹھو اور یہ پہنوں"
بیلا کے صوفے پر آرام سے بیٹھنے پر ازلان عجلت بھرے انداز میں بولا اور بیڈروم سے اس کے لیے عبایا لےکر آیا۔۔۔ وہ بیڈ روم لاک کررہا تھا تو بیلا اسے حیرت سے دیکھنے لگی
"مگر یہ عبایا کیوں میں نے تو پہلے کبھی نہیں لیا یہ"
بیلا عبایا ہاتھ میں پکڑے ازلان کو دیکھتی ہوئی بولی
"اب تم فضول کی باتوں میں وقت ضائع کرو گی جلدی سے پہنوں اسے"
ازلان اسے دوبارہ ٹوکتا ہوا اپنا بیگ، پاسپورٹ اور کچھ ڈاکومنٹس دوسرے بیڈروم سے لاکر ٹیبل پر رکھتا ہوا دوسرا بیڈروم بھی لاک کرنے لگا۔۔۔ عبایا لینے کے بعد بیلا کی نظریں ٹیبل پر رکھے ڈاکومنٹس اور پاسپورٹ پر پڑی تو وہ پاسپورٹ اٹھاکر دیکھنے لگی جبکہ ازلان موبائل کان سے لگائے ٹہلتا ہوا کال پک کرنے کا ویٹ کررہا تھا
"یہ پاسپورٹ پر میری تصویر کے ساتھ نام مرجینا کیوں لکھا ہوا ہے اور لوکل فلائٹ کے لئے پاسپورٹ کی کیا ضرورت ہے"
بیلا حیرت سے پاسپورٹ پر اپنی تصویر دیکھنے لگی جو ان دونوں کے نکاح کے وقت ازلان نے اپنے موبائل سے کھینچی تھی
"یار تم اس وقت چھان بین میں لگی ہوئی ہو ادھر فیضی کال پک نہیں کررہا ہے ادھر دو یہ پاسپورٹ" ازلان جھنجھلاہٹ میں اپنا موبائل پاکٹ میں رکھتا ہوا بیلا سے پاسپورٹ لےکر واپس ٹیبل پر رکھکر اسکے سر پر اسکارف باندھنے لگا۔۔۔ بیلا کو اس کی ساری حرکتیں مشکوک لگ رہی تھی گھر سے باہر نکلنے سے لےکر ٹیکسی میں بیٹھنے تک، نہ صرف ازلان کا ہیئر اسٹائل بالکل چینج ہوا تھا بلکہ آنکھوں کا رنگ بھی تبدیل ہوچکا تھا اور چہرے پر داڑھی اگ آئی تھی۔۔۔ بیلا کو حیرت کا دوسرا جھٹکا تب لگا جب ایئرپورٹ پہنچ کر اسے معلوم ہوا کہ ان دونوں کی شارجہ کی فلائٹ ہے تب بیلا نے حیرت زدہ ہوکر ازلان سے کچھ پوچھنا چاہا تو ازلان نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا
"ہم لوگ شارجہ کیوں جارہے ہیں"
پلین میں بیٹھنے کے بعد بیلا گھبراتی ہوئی ازلان سے پوچھنے لگی، شارجہ میں فہمیدہ پھپھو تھی اور اصفر بھائی جس کے بارے میں وہ کچھ بھی سوچنا نہیں چاہتی تھی
"ہنی مون منانے کے لیے نہیں جارہے میری جان ریلکس ہوجاؤ"
ازلان اپنا موبائل یوز کرتا ہوا بولا تو بیلا خاموشی سے ازلان کا چہرہ دیکھنے لگی
"کبھی تو اچھی لگنا بند کردیا کرو یار اس طرح دیکھو گی تو مسلئہ ہوجاۓ گا پلین میں بیٹھے بیٹھے میرے لیے"
بیلا بلکل خاموشی سے اس کو دیکھ رہی تھی تو ازلان اس پر مصنوعی غصہ کرتا ہوا بولا۔۔۔ مگر بیلا کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا وہ بناء کچھ بولے ازلان کا بازو پکڑ کر اس کے کندھے پر اپنا سر رکھ چکی تھی تاکہ اسے تحفظ کا احساس رہے مگر چند سیکنڈ گزرنے کے بعد بیلا کی نظریں ایک شناسا چہرے پر پڑی تو وہ ازلان کے شولڈر سے سر اٹھاتی ہوئی اسے دیکھنے لگی
"اذلان وہ دیکھو آگے والی دو سیٹوں کو چھوڑ کر تیسری سیٹ پر فیضی بیٹھا ہوا ہے کیا وہ بھی ہمارے ساتھ جارہا ہے تم نے بتایا نہیں مجھے"
بیلا کی نظر فیضی پر پڑی جو اپنا بیگ کیبنٹ میں رکھ رہا تھا وہ خود بھی بیلا کو دیکھ چکا تھا،، مگر بیلا کے مسکرانے پر وہ اسے اجنبی سا تاثر دے کر اپنی سیٹ پر بیٹھ چکا تھا جس پر بیلا ازلان سے حیرت ذدہ ہوکر سوال کرنے لگی
"وہ فیضی نہیں ہے اور نہ ہی میں ازلان ہوں میری خاطر تھوڑی دیر خاموش ہوکر بیٹھ جاؤ"
ازلان اب بالکل سنجیدہ ہوکر بیلا سے بولنے لگا تو بیلا کو ازلان پر غصہ آنے لگا مگر وہ چپ بیٹھی رہی ناجانے اس کے اور کتنے نام تھے
"مسٹر غضنفر کیا اب ہم دونوں تھوڑی دیر کے لیے کچھ بات کرسکتے ہیں"
پلین کے ٹیک آف کرنے پر بیلا اس کے پاسپورٹ میں موجود نام کال کرتی ہوئی ازلان سے بولی
"بالکل بھی نہیں کر سکتے"
ازلان کی طرف سے نہ صرف بےمروتی والا جواب آیا بلکہ وہ اپنا لیپ ٹاپ آن کرکے ایسے مصروف ہوگیا جیسے بیلا کو جانتا ہی نہ ہو۔۔۔ بیلا کو اس کے اس رویہ پر شدید قسم کا غصہ آنے
پلین لینڈ کرنے کے بعد سے لیکر کیپ میں بیٹھ کر ہوٹل پہنچنے تک کا سفر بیلا نے بالکل خاموشی سے کیا، نہ ہی ازلان نے اس سے کوئی بات کی ہوٹل کے روم میں پہنچ کر دروازہ لاک کرنے کے بعد ازلان اپنے اصل حلیے میں آنے کے بعد بیلا کے پاس آیا اور اسے اپنے حصار میں لینا چاہا
"مجھ سے زیادہ فری ہونے کی کوشش مت کرنا اب دوبارہ"
بیلا ازلان کے دونوں ہاتھوں کو اپنے گرد سے ہٹاکر دور جھٹکتی ہوئی بولی
"زیادہ فری نہیں ہونے والا تھا، بس تمہیں اپنے قریب کر کے تین سے چار کس کرتا"
ازلان بیلا کو سنجیدگی سے اپنا ارادہ بتانے لگا
"ہم یہاں ہنی مون منانے نہیں آۓ ہیں"
بیلا ازلان کو اسی کا بولا ہوا جملا یاد کرواتی ہوئی بولی جس پر ازلان مسکرایا
"جبھی تو صرف کس پر گزارا کررہا ہو، اچھا بتاؤ شرافت سے کس دے رہی ہو یا نہیں"
ازلان کا انداز ایسا تھا جیسے کہ وہ بہت جلدی میں ہو بیلا اس کو گھورنے لگی
"دو گھنٹے پہلے تو بات کرنا دور کی بات منہ نہیں لگارہے تھے تم مجھے۔۔۔۔ اب خالی کمرہ دیکھ کر مجھ سے فری ہونے کی کوشش کررہے ہو"
بیلا غصے میں بولنے کے ساتھ ہی سر پر موجود اسکارف اتارنے لگی تو اذلان اس کے ہاتھ سے اسکارف کھینچ کر دوبارہ سے اسے اپنے حصار میں لیتا ہوا دیوار کے ساتھ بیلا کے نازک وجود کو لگائے اس کے دائیں بائیں جانب دیوار پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا
"دو گھنٹے سے تمہیں اپنے منہ اس لئے نہیں لگایا تھا کیوکہ ہجوم میں مجھے بیوی کو منہ لگانا کچھ خاص پسند نہیں، اب غصہ تھوک دو اور تیار ہوجاؤ میرے منہ لگنے کو"
ازلان بیلا کے ہونٹوں کو فوکس کرتا ہوا اس پر جھکنے لگا مگر اس سے پہلے بیلا اس کا ارادہ جان پر اپنے چہرے کا رخ دوسری سمت کرتی ہوئی بولی
"ازلان اگر تم نے میرے ساتھ کوئی بھی الٹی سیدھی حرکت کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا"
ازلان کی حرکت پر اب بیلا کو غصے سے زیادہ اس سے ڈر لگ رہا تھا جبھی وہ اس کو وارننگ دیتی ہوئی بولی
"الٹی سیدھی کوئی حرکت نہیں کررہا ہوں سیدھی سیدھی ایک پیاری سی کس دے دو پھر مجھے باہر ایک ضروری کام سے جانا ہے اور اگر تم نے مجھے کس نہیں دی تو مجھے واقعی لگے گا کہ تم سے برا کوئی بھی نہیں ہے دنیا میں"
ازلان نے بولنے کے بعد کس لینے کے ارادے سے بیلا کے چہرے کا رخ اپنے چہرے کی طرف کیا تو بیلا نے اپنے دونوں ہونٹوں کو منہ کے اندر دبالیا
ازلان بیلا کی حرکت پر پہلے تو اس کو گھور کر دیکھنے لگا بیلا نے زور سے نفی میں سر ہلایا تو ازلان ناراض نظر بیلا کے چہرے پر ڈالتا ہوا دیوار سے اپنے دونوں ہاتھ ہٹاکر خود بھی پیچھے ہٹنے لگا۔۔۔ جس پر بیلا نے شکر ادا کرتے ہوئے ہونٹوں کا زاویہ درست کیا اور گہرا سانس منہ سے خارج کرنا چاہا ویسے ہی ازلان نے اسکا چہرہ تھام کر بیلا کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹوں سے مجبت بھری مہر لگانے لگا
بیلا نے اس کے مضبوط بازوؤں اور سینے پر مکے مارنا شروع کیے تب ازلان اسے آزاد کرتا ہوا پیچھے ہٹا۔۔۔ بیلا کا چہرہ شرم سے سرخ ہوا لیکن ازلان کا موڈ ایک دم خوشگوار ہوچکا ہوگیا،، وہ ازلان سے نظریں چرا کر واش روم جانے لگی تو ازلان نے اسے اپنے حصار میں لیا جس پر بیلا اسے بولی
"کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم ایک بیہودہ انسان ہو"
اس کی نظریں ازلان سے نہ مل پائے بیلا ازلان کے سینے میں اپنا منہ چھپاکر آنکھیں بند کرتی ہوئی بولی
"پہلے مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا لیکن اب لگ رہا ہے کہ تم میرے بارے میں بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو، مگر حیرت مجھے اس بات کی ہے کہ یہ بےہودہ حرکت کرتے ہوئے مجھے ذرا سی بھی شرمندگی نہیں ہوئی"
ازلان نے بولتے ہوئے بیلا کے بالوں پر اپنے ہونٹ رکھے تو بیلا نے زور دار مکا اس کے سینے پر مارا اور پیچھے ہوئی جس پر ازلان ہنس پڑا
"میرا اب شام میں ہی واپس آنا ہوگا تمہارے لیے لنچ آرڈر کردیتا ہوں روم سے باہر نکلنے کی ضرورت نہیں ہے ڈنر انشاءاللہ ساتھ کریں گے"
ازلان بیلا کا خوبصورت چہرہ اپنی آنکھوں میں سماکر اس سے بولتا ہوا کمرے سے باہر جانے لگا تو بیلا نے اس کا ہاتھ پکڑا
"کیا تمہیں لگ رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ یہاں پر آجاؤں گی"
بیلا کے بولنے پر وہ دوبارہ اس کے قریب آیا
"مجھے پورا یقین تھا، اور تم نے یہاں آکر میرے یقین پر اپنے اعتبار کی مہر لگا دی تھینک یو سو مچ"
ازلان بولتا ہوا اس کے ماتھے پر محبت بھرا لمس چھوڑ کر کمرے سے باہر نکل گیا
****
صبح کافی دیر بعد اس کی آنکھ کھلی تو اسے افسوس ہوا بیلا یقینا گھر سے نکل چکی تھی وہ تھوڑی دیر بعد بیلا سے موبائل پر رابطہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا،، یونہی لیٹے لیٹے افراہیم کی نظر اپنے برابر میں بےخبر سوتی ہوئی اپنی بیوی پر پڑی تو افراہیم اس کا چہرہ غور سے دیکھنے لگا اس وقت وہ سوئی ہوئی بہت معصوم لگ رہی تھی۔۔۔ تھی تو ویسے بھی وہ معصوم ہی لیکن انتہا کی نک چڑی۔۔۔۔ افراہیم اپنی سوچ پر اور اپنی بیوی کو نیا نام دے کر خود ہی مسکرانے پر مجبور ہوگیا۔۔۔۔
ناجانے وہ کیوں اپنی اس نک چڑی بیوی سے اپنے لیے توجہ کا طلبگار تھا اور پرسوں سے ہی وہ اس کو نظر انداز کررہی تھی،، تب افراہیم کا دل کیا کہ وہ جان بوجھ کر اس کے سامنے وہ حرکتیں کرے جس پر وہ بری طرح چڑ جائے،، اب بھی وہ نوف کا چہرہ غور سے دیکھ رہا تھا تب اسے محسوس ہوا جیسے نوف بیدار ہونے والی ہے۔۔۔ نوف کے آنکھیں کھولنے سے پہلے ہی افراہیم نے اپنی آنکھیں بند کرلی اور خود سوتا ہوا بن کر اپنا ہاتھ اس نے نوف کے ہاتھ پر رکھ دیا جو بیڈ پر رکھا ہوا تھا
آنکھ کھلتے ہی جو اس کے زہن نے سب سے پہلے محسوس کیا وہ کسی وزن تلے دبا ہوا اپنا ہاتھ تھا۔۔۔ نوف کی نظریں بیڈ پر رکھے اپنے ہاتھ پر پڑی جو افراہیم کے بھاری ہاتھ کے نیچے دبا ہوا تھا۔۔۔ وہ ماتھے پر شکن ڈالتی ہوئی اپنے برابر میں لیٹے ہوئے افراہیم کو دیکھنے لگی جو اس کو نیند میں بھی تنگ کرنے سے باز نہیں آرہا تھا۔۔۔ نوف نے بالکل آہستہ سے افراہیم کی کلائی پکڑ کر اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ کے نیچے سے نکالا اور افراہیم کا ہاتھ بےحد آہستگی سے اسی کے سینے پر رکھتی ہوئی،،، وہ ابھی بیڈ سے نیچے اترنے کی کوشش میں مخالف سمت میں کروٹ لینے لگی تھی کہ افراہیم نے نیند میں اپنا ہاتھ اس کے پیٹ پر رکھ دیا
نوف نے گھور کر سوتے ہوئے افراہیم کو دیکھا اور اپنے پیٹ پر رکھا ہوا افراہیم کا ہاتھ ہٹانے لگی۔۔۔ نوف نے جیسے ہی اپنے اوپر سے افراہیم کا ہاتھ ہٹایا تو افراہیم نیند میں اس کے اوپر اپنی ٹانگ رکھ چکا تھا
"یا میرے مالک یہ کوئی آدمی ہے یا پھر کوئی ایلفی"
نوف پریشان ہوکر دل ہی دل میں بولتی ہوئی سوئے ہوئے افراہیم کو دیکھنے لگی۔۔۔
وہ بڑی مشکل سے اٹھ کر بیٹھ پائی تھی اپنے آدھے دھڑ سے افراہیم کی ٹانگ ہٹانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔ جس میں وہ بہت مشکل سے کامیاب ہوئی شکر کا سانس لینے کے بعد وہ بیڈ سے اٹھنے لگی تو نوف کی نظریں اپنے دوپٹے پر پڑی جو آدھے سے زیادہ افراہیم کے نیچے دبا ہوا تھا۔۔۔ بےبسی والی نظر اس بےخبر سوئے ہوئے وجود پر ڈال کر اپنے دوپٹے کا سرا پکڑ کر دوپٹے کو اپنی طرف کھینچنے لگی جس کے چکر میں اسے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ وہ پوری کی پوری افراہیم کے اوپر جھک چکی تھی کیوکہ دوپٹے کا دوسرا سرا نہ جانے افراہیم کے نیچے کہاں دبا ہوا تھا
وہ افراہیم کے نیچے دبا ہوا اپنا دوپٹہ تو کیا ہی نکال پاتی، افراہیم کے اچانک کروٹ لینے پر نوف کا سر اپنی تکیہ پر جالگا اور وہ پوری کی پوری بیڈ پر دوبارہ لیٹ گئی اب حالت یہ تھی کہ نوف بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی، افراہیم کا ہاتھ نوف کے اوپر سے ہوتا ہوا بیڈ پر رکھا ہوا تھا جبکہ افراہیم کا سر نوف کے سینے پر موجود تھا۔۔۔ افراہیم کی سانسوں کی گرمائش نوف کے سینے کو ہی نہیں اس کے پورے بدن کو جھلسانے لگی
"یہ آدمی آخر اسی جگہ آکر کیو ٹھہر جاتا ہے"
وہ تکیے پر لیٹی ہوئی رو دینے کو تھی سب سے پہلے اس نے افراہیم کے بالوں کو مٹھی میں بھر کر اس کا سر اپنے سینے سے ہٹاکر دور کیا۔۔۔ پھر افراہیم کا ہاتھ اپنے اوپر سے ہٹانے کے لیے اس نے افراہیم کے ہاتھوں کو انگلیوں سے پکڑا تو افراہیم نے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں میں نوف کے ہاتھوں کی انگلیاں پھنسالی۔۔۔ اور کروٹ لیتے ہوۓ سیدھا ہوکر لیٹ گیا۔۔۔ جان بوجھ کر افراہیم نے اپنے ہاتھ کو، جس میں نوف کا ہاتھ تھا بیڈ کے دوسری طرف مخالف سمت پر کیا نوف کا سر افراہیم کی تھوڑی پر جا لگا
"شرم نہیں آرہی تمہیں کیوں مستیاں کررہی ہو یار اتنی دیر سے، سونے دو مجھ بےچارے کو"
افراہیم کی نیند میں ڈوبی ہوئی آواز نوف کے کانوں سے ٹکرائی تو نوف کو غصہ آنے لگا اس نے اپنا چہرہ اوپر کرکے افراہیم کے چہرے پر نظر ڈالی تو افراہیم کی آنکھیں ابھی بھی بند تھی۔۔۔
نوف نے اپنے ہاتھ کی پھسی ہوئی انگلیاں افراہیم کے انگلیوں سے آزاد کرنا چاہی تو افراہیم نے اپنی انگلیوں سے نوف کی انگلیوں کو مزید گرفت میں لے لیا
"نہیں میں نہیں مان سکتی کہ اتنا چھچھور پن کوئی نیند میں بھی کرسکتا ہے افراہیم چھوڑ دیں میرا ہاتھ"
نوف غصے میں افراہیم کا چہرہ دیکھتی ہوئی بولی جو اس وقت اس کے بےحد قریب تھا، مگر افراہیم نے اس کی بات کا کوئی رسپونس نہیں دیا اور سویا بنا رہا
"افراہیم"
نوف نے غصے میں زور سے اس کا نام پکارا تو افراہیم نے اس کا ہاتھ چھوڑے بغیر اپنی آنکھیں کھولیں
"کیوں تم صبح صبح میرے اوپر چڑھی ہوئی میرے کانوں کے پردے پھاڑ رہی ہو"
افراہیم مصنوعی غصہ کرتا ہوا نوف کو دیکھ کر بولا
"زیادہ بننے کی ضرورت نہیں ہے میرے سامنے، میں جانتی ہوں آپ جاگ رہے ہیں میرا ہاتھ چھوڑیں"
نوف کو ابھی بھی اس پر شدید غصہ آرہا تھا مگر اب وہ تیز آواز کی بجائے نارمل آواز میں بولی
"اوہو تو میں نے نیند میں تمہارا ہاتھ پکڑا ہوا تھا جبھی تم میرے اتنے قریب تھی اور میں سمجھا کہ شاید صبح صبح مجھے سوتا ہوا دیکھ کر تمہاری نیت خراب ہورہی ہوگی اور تمہارا دل کیا ہوگا کہ تم مجھ پر اس وقت ٹوٹ پڑو"
افراہیم نوف کی جاگنے والی بات کو نظرانداز کرتا ہوا اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ سے آزاد کرکے معصوم بن کر بولا تو نوف اس سے دور ہوئی اور مزید غصہ بھی ہوئی
"کس قدر فضول باتیں کررہے ہیں آپ۔۔۔ اتنی دیر سے سونے کی ایکٹنگ کرکے جان بوجھ کر مجھے تنگ کررہے ہیں اور الٹا میرے بارے میں کس قدر چھچھوری باتیں کررہے ہیں میری نیت خراب ہوگی آپ پر، کوئی گلاب جامن ہیں آپ۔۔۔۔ اور میری ایک بات یاد رکھیں میں کوئی چھچھوری آوارہ قسم کی لڑکی نہیں ہوں جو بہانہ بناکر، آپ کو سوتا ہوا دیکھ کر آپ پر ٹوٹ پڑو یعنی بندہ نہیں ہوگیا کوئی بریانی کی پلیٹ ہوگئی"
نوف غصے میں افراہیم کو باتیں سنانے کے ساتھ اپنا دوپٹہ اس کے نیچے سے کھینچ کر نکلتی ہوئی بیڈ سے اترنے لگی تو افراہیم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور خود بھی اٹھ کر بیٹھ گیا
"خبردار جو تم نے میرے آگے یوں فرفر زبان چلائی، مجھے غصہ دیکھایا یا پھر مجھے باتیں سنائی،، بندہ اپنی بیوی سے فضول باتیں نہیں کرے گا تو اور کس کی بیوی سے کرے گا، وہ لڑکیاں چھچوری اور آوارہ ہرگز نہیں ہوتی جو اپنے شوہر کو پیار دیتی ہیں شوہر بھی انہی بیویوں سے خوش رہتے ہیں جو انہیں خوب پیار دیں، جب میں تمہیں ڈھیر سارا پیار دوں گا تو بدلے میں تم سے بھی ڈھیر سارا پیار لوں گا۔ِ۔۔۔ یہاں پر بھی، یہاں پر بھی اور یہاں پر بھی"
افراہیم نوف کو بولتا ہوا اپنی انگلی نوف کے ماتھے پر رکھ کر پیار کی جگہ بتاتا ہوا نوف کے ہونٹوں تک لایا اور پھر گردن سے نیچے لےگیا
"افراہیم"
نوف اس کی انگلی اپنے سینے سے ہٹاکر غصے سے ہلکی آواز میں چیخی
"شٹ اپ افراہیم کی جان، اس طرح تمہیں دو دنوں سے غصے میں دیکھ کر معلوم ہے میرا دل چاہتا ہے تمہیں باہوں میں بھر کر اتنا پیار کرو کہ تمہیں تڑپا ڈالو،، جس طرح تم نے مجھے شادی والی رات سے ترسایا ہوا ہے کاش کہ میں کوئی گلاب جامن یا بریانی کی پلیٹ ہوتا کسی نہ کسی بہانے ہی سہی تم مجھے اپنے منہ سے تو لگاتی یا تمہاری نیت ہی خراب ہوتی مجھ پر"
افراہیم کا آخری جملہ جو اس نے بولا مذاق میں تھا پر نوف کے دل کو کچھ ہوا، وہ اس کا شوہر تھا اس پر مکمل حق بھی رکھتا تھا اس کے باوجود اس نے اپنے شوہر کو اس کے حق سے محروم رکھا ہوا تھا
نوف افراہیم کی باتیں سن کر خاموشی سے اپنا سر جھکا گئی، افراہیم نوف کو خاموش اور پگھلتا ہوا دیکھ کر اس کے قریب آیا، اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ تھام کر اوپر کیا نوف کی نگاہیں افراہیم کی نظروں کو دیکھ کر بےساختہ جھک گئی اور دل کافی زور سے دھڑکنے لگا۔۔۔ افراہیم نے نوف کے گلابی ہونٹوں کو صرف اپنے ہونٹوں سے چھوا ہی تھا۔۔۔ نوف بدک کر ایسے پیچھے ہٹی جیسے اسے 440 والڈ کا کرنٹ لگا ہو
"کیا لڑکی ہو یار تم، ایسے ڈر رہی ہو جیسے کھا جاؤ کا تمہارے ہونٹوں کو یہاں آؤ"
نوف کی حرکت پر افراہیم اسے آنکھیں دکھاتا ہوا بولا اور اس کا آنکھیں دکھانا کام آگیا نوف بناء کچھ بولے افراہیم کے قریب آئی
افراہیم نے ایک بار پھر اس کا چہرہ تھام کر اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ چکا تھا جس پر نوف نے اس کی شرٹ کو سختی سے پکڑلیا۔۔۔ ایسے ہی سختی اچانک افراہیم کے جذبات میں بھی در آئی تھی اپنے ہونٹوں سے نوف کے ہونٹوں پر گرفت جماۓ وہ نوف کی قربت کو محسوس کرتا ہوا مدہوش ہونے لگا۔۔۔ اپنے دونوں ہاتھوں سے نوف کی کمر کو تھامے۔۔۔۔ اپنے ہونٹوں کو اس کے ہونٹوں سے جدا کئے بغیر نوف کو بیڈ پر لٹانے کے بعد مکمل نوف کے وجود پر جھک گیا
افراہیم کی بڑھتی ہوئی شدت نوف کو خطرے کا الارم دینے لگی،، جب تک وہ افراہیم کو اپنے حقیقت نہیں بتا دیتی وہ نہیں چاہتی تھی کہ افراہیم اس سے مکمل حق حاصل کرے اس لیے نوف افراہیم کو پیچھے ہٹانے لگی مگر وہ نوف کی ماننے کے موڈ میں نہیں تھا،،، نوف کے ہاتھوں کی انگلیوں کو اپنے ہاتھوں کی انگلیوں میں قید کرتا ہوا۔۔۔ وہ نوف کی تھوڑی کو چوم کر اس کی گردن پر جھک گیا اور اپنی سانسوں کی گرمائش چھوڑتا ہوا نوف کی شہہ رگ پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا
"بس افراہیم اب پلیز پیچھے ہٹ جائیں ناں"
نوف اس کو مزید مدھوش دیکھ کر التجا کرتی ہوئی بولی،، وہ مکمل طور پر اس پر قابض تھا جس پر نوف اس سے منت ہی کرسکتی تھی
"مجھے معلوم تھا تم مجھے مکمل طور پر خوش کبھی بھی نہیں دیکھ سکتی"
افراہیم بولتا ہوا توقع کے برخلاف اس کے اوپر سے اٹھا ساتھ ہی نوف بھی بیڈ سے اٹھ گئی۔۔۔ آج نوف کو صحیح معنوں میں معلوم ہوا تھا کہ دن میں تارے دیکھنا کیا ہوتا ہے جو آج اسے افراہیم شوہر کے روپ میں دکھا چکا تھا۔۔۔ اس وقت افراہیم سے نظریں ملانا اسقدر مشکل ہورہی تھی کہ نوف کمرے سے باہر جانے لگی مگر افراہیم نے اس کا ہاتھ پکڑا
"ایسے کیسے کمرے سے باہر جارہی ہو حالت دیکھی ہے تم نے اپنی اس وقت پوری ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں تمہاری۔۔۔ باہر مما ہوگیں گھر کے ملازم ہوگے جاؤ پہلے شاور لےکر آؤ اور ڈریس چینج کرو پھر کمرے سے باہر نکلنا"
افراہیم اس کے جھکے ہوئے چہرے پر شرم و حیا کے رنگ دیکھکر اس کی شہہ رگ کے پاس اپنے ہونٹوں کے نشان دیکھتا ہوا نوف سے بولا۔۔۔ افراہیم کی بات سن کر اس کا سر مزید جھک گیا وہ وارڈروب کی طرف جاکر وہ اپنے کپڑے نکالنے لگی
"یہ والا نہیں پنک کلر کا ڈریس پہنوں" افراہیم کی فرمائش پر نوف نے ایک نظر اس کو دیکھا پھر اپنی نظریں جھکاتی ہوئی بولی
"اس ڈریس کا گلا کافی بڑا ہے مجھے الجھن ہوتی ہے ایسے کپڑے پہن کر"
نوف آئستہ آواز میں منمناتی ہوئی بولی افراہیم اس کے لیے جو چار پانچ ڈریس لےکر آیا تھا وہ انہی میں سے کوئی نہ کوئی ریپیٹ کررہی تھی،، افراہیم کے ذمے یہ بھی ایک کام آچکا تھا کہ وہ اپنی بیوی کے لئے پراپر کپڑے اور دوسری چیزیں لےکر آتا
"اگر پنک والے ڈریس کا گلہ بڑا ہے تو تم نے کونسا مجھے اس میں جھانکے دینا ہے۔۔۔ ہر وقت دوپٹے کو اچھی طرح لپیٹ کے تو رکھتی ہو تم خود سے۔۔۔ وہی ڈریس پہنوں جو میں بول رہا ہوں"
افراہیم چاہتا تھا اس کی پیاری سی نک چڑی بیوی اس کی بات مانے۔۔۔ وہ نوف کے ہاتھ میں موجود ڈریس کو دوبارہ ہینگ کرکے پنک کلر کا ڈریس نکالتا ہوا بولا تو نوف ساری شرم و حیا بھلا کر شکوہ بھری نظروں سے افراہیم کو دیکھنے لگی
"کیو ضد کررہے ہیں آپ کہ میں یہی کپڑے پہنو، کیا وجہ ہے اس کے پیچھے بتانا پسند کریں گے آپ"
نوف کو واقعی تجسس ہونے لگا آخر کیا وجہ ہوسکتی جو افراہیم اس کو وہی ڈریس پہننے کا اصرار کررہا تھا
"کیونکہ پنک کلر میں ہر لڑکی اچھی لگتی ہے چاہے وہ اچھی نہ ہو تب بھی لیکن تمہارے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ تم پہلے سے ہی سے خوبصورت ہو اس لئے پنک کلر میں اور بھی زیادہ اچھی لگو گی۔۔۔ تمہیں یاد ہے جب میں تمہارے لئے سارے ڈریسز لےکر آیا تھا اس دن تم نے پیک کلر کا یہی والا ڈریس پہنا تھا جب تمہیں اس کلر میں پہلی بار میں نے دیکھا تو میرا دل چاہا کہ میں تمہیں کس کر ڈالو۔۔۔ بلیومی پہلی پہلی بار میں نے ایسا کسی لڑکی کے بارے میں سوچا، ورنہ تاشفہ نے تو مجھے فل گرین سگنل دیا ہوا تھا مگر پھر بھی میں نے اس کو اس کی لمٹ میں رکھ کر خود اپنی لمٹ میں رہا لیکن آج جب تم یہ ڈریس پہنوں گی تو میں اپنی اس دن والی وش پوری کرو گا"
افراہیم نوف کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ کر تفصیل سے اسے بتانے لگا مگر نوف کا دماغ ایک نام تاشفہ پر اٹک گیا، اب نہ جانے یہ کون سی بلا تھی مگر نوف اس کے بارے میں پوچھنے کی بجائے افراہیم کی دوسری بات پر اس سے بولی
"بہت ہی فضول ٹائپ کا چھچھورا دل ہے آپ کا، جو ہمیشہ الٹے سیدھے کاموں کا سوچتا رہتا ہے۔۔۔۔ جو آپ تھوڑی دیر پہلے میرے ساتھ کرچکے ہیں وہ کافی ہے اگر آپ نے دوبارہ کچھ بھی کیا ہے تو میں آپ سے بالکل بھی بات نہیں کروں گی اور نہ ہی آپ کے ساتھ آپ کے اس کمرے میں رہو گی"
نوف وارننگ دیتی ہوئی افراہیم کا منتخب کردہ لباس لےکر واش روم جانے لگی تب اسے افراہیم کی آواز اپنی پشت سے سنائی دی
"میں نے کل رات کیا سمجھایا تھا تمہیں غصہ اور دھمکی اپنی صحت کے مطابق کرنا چاہیے۔۔۔ آج رات میں تمہیں کس نہیں کروں گا بلکہ تم مجھے کرو گی اور وہ بھی یہاں پر"
افراہیم نوف کے پاس آکر اپنی انگلی اس کے ہونٹوں پر رکھ کر چیلنج کرنے والے انداز میں نوف سے بولا اور مسکراتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا
ازلان دن میں اس کو ہوٹل کے روم میں چھوڑ کر گیا تھا اور اب رات ہونے کو آئی تھی مگر ازلان ابھی تک لوٹ کر واپس نہیں آیا تھا، بیلا کو ازلان پر غصہ آنے لگا تھا آخر وہ اسے اپنے ساتھ یہاں لایا ہی کیوں تھا۔۔ وہ ازلان کے کہنے پر ہوٹل کے کمرے سے باہر نہیں نکلی تھی مگر اب وہ ٹی وی دیکھتے دیکھتے بور ہوچکی تھی اپنا موبائل استعمال کرکے اکتا چکی تھی تبھی کمرے کا دروازہ کھلا
"یہ کوئی ٹائم ہے تمہارے واپس آنے کا ازلان حد ہوتی ہے کہاں تھے تم اتنی دیر سے"
ازلان کے کمرے میں داخل ہوتے ہی بیلا اس پر چڑھ دوڑی جس پر ازلان کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی کیوکہ اس کا انداز بالکل بیویوں والا تھا
"بیلا میری جان، میں نے تمہیں بتایا تھا ناں مجھے واپس لوٹتے ہوۓ شام ہوجائے گی"
بیلا کا موڈ دیکھ کر وہ اندازہ لگا چکا کہ لازمی وہ اس وقت شدید قسم کی بوریت کا شکار ہورہی تھی جبھی ازلان بیلا کو دیکھ کر بڑے پیار سے بولا اور ہاتھ میں موجود لیپ ٹاپ اس نے ٹیبل پر رکھ دیا۔۔۔ بیلا نے نوٹ کیا یہ وہ لیپ ٹاپ نہیں تھا جو ازلان پلین میں یوز کررہا تھا بلکے ہوٹل کے کمرے سے باہر نکلتے وقت اس کے ہاتھ بالکل خالی تھے
"شام کا مطلب یہ نہیں ہوتا تم رات کے دس بجے واپس آرہے ہو، ویسے تم تھے کہاں پر اتنی دیر سے"
بیلا کمر پر اپنے دونوں ہاتھ رکھتی ہوئی ازلان کے سامنے کھڑی ہوکر اس سے سوال کرنے لگی تو ازلان نے بیلا کی کمر سے اس کے دونوں ہاتھ اٹھا کر اپنے ہاتھ رکھتے ہوئے بیلا کو خود سے قریب کیا
"ضروری کام تھا نائٹ کلب میں وہی پر موجود تھا میں، جیسے ہی فارغ ہوا فوراً تمہارے پاس آگیا"
ازلان جتنے پیار بھرے انداز میں بیلا کو بنانے لگا وہ مشکوک بھری نظروں سے ازلان کو دیکھنے لگی
"تم پاکستانی مردوں کے ساتھ یہی مسلئہ ہے کہیں دوسرے ملک میں جاکر ایسی جگہیں دیکھتے ہو فورا منہ اٹھا کر وہی پہنچ جاتے ہو لازمی تم بھی فحاش قسم کا بیلی ڈانس دیکھ کر آرہے ہوگے۔۔۔۔ آخر ملتا کیا ہے تم مردوں کو یوں کسی غیر لڑکی کی عریاں کمر کو دیکھ کر"
بیلا غصے میں ازلان کے ہاتھ اپنی کمر سے ہٹاتی ہوئی بولی، وہ نہ جانے بات کو کہاں سے کہاں لے جاچکی تھی مگر ازلان کو بیلا کی بات نے غصہ نہیں دلایا وہ زور سے ہنس پڑا
"مردوں کو دوسری لڑکیوں کی عریاں کمر کو دیکھ کر وہ سکھ ملتا ہے جو اپنی خود کی بیوی کی کمر دیکھ کر بےچارے مرد کو نصیب نہیں ہوتا کیوکہ شادی کہ چند ماہ بعد ہی بیوی کی کمر، کمر کی بجاۓ کمرا بن جاتی ہے، اب مرد بےچارہ کیا کرے۔۔۔ ویسے اگر تم بےلی ڈانس سیکھ لو اور اپنی کمر کا سائز بالکل اسی طرح فٹ رکھو تو میں وعدہ کرتا ہو ساری زندگی تمھارا ہی بیلی ڈانس دیکھو گا"
ازلان نے بولتے ہوۓ دوبارہ بیلا کو کمر سے پکڑا، وہ شرارت سے بولتا ہوا بیلا کے غصے والے تاثرات کو انجوۓ کرنے لگا
"میرا بیلی ڈانس دیکھنا ہے تمہیں۔۔ ٹہرو تم ابھی تمہیں اپنا ڈانس انجوۓ کرواتی ہو"
بیلا نے اپنے دونوں نازک ہاتھوں سے ازلان کی گردن زور سے دبائی تو ازلان بیلا کو مضبوطی سے کمر سے پکڑ کر خود سے مذید قریب کرلی
"بیوہ ہونے کا شوق چڑھا ہوا ہے، یار کیا کررہی ہو مار ڈالو گی کیا"
وہ بیلا کو کمر کو پکڑتا ہوا جان بوجھ کر پیچھے صوفے پر گرا تو بیلا بھی اس کے ساتھ ازلان کے اوپر جاگری
"میرے علاوہ کسی دوسری لڑکی پر نظر ڈالو گے تو میں واقعی مار ڈالو گی تمہیں"
بیلا اس کی گردن سے اپنے ہاتھ ہٹاتی ہوئی اٹھنے لگی تو ازلان نے اسکی کمر پر اپنے دونوں بازو لپیٹے اسے اٹھنے نہیں دیا
"کیا تمہیں لگتا ہے میں تمہارے علاوہ کسی دوسری لڑکی کی طرف مائل ہوسکتا ہوں، ایسی سوچ بھی اپنے دماغ میں کبھی مت لانا کیونکہ ازلان کو اس کی زندگی میں صرف ایک ہی لڑکی اپنی طرف متوجہ کرسکی ہے جسے ازلان نے اتنے سالوں بعد ڈھونڈا اور فورا ہی اسے اپنا بنالیا۔۔۔۔ مجھے نہیں معلوم تمہیں مجھ سے کتنی وفا کی امید ہے لیکن یہ میرا وعدہ ہے کہ جب تک اللہ پاک نے میری زندگی رکھی ہے تب تک میں تم سے وفا نبھاؤں گا"
ازلان بیلا کو دیکھتا ہوا سنجیدگی سے بولا تو بیلا کو فورا اس کی بات پر یقین آگیا جس کا ثبوت دیتے ہوئے وہ اپنا سر ازلان کے سینے پر رکھ چکی تھی ازلان نے عادت کے مطابق اس کی سنہری بالوں پر اپنے ہونٹ رکھے
"اتنا بڑا وعدہ دیا ہے تمہیں، اب تو میری خاطر بیلی ڈانس سیکھو گی ناں میرا بڑا ارمان ہے بیلا کا بیلی ڈانس دیکھنے کا"
بیلا سکون سے اس کے سینے پر سر رکھی ہوئی تھی ازلان کی بات سن کر وہ اپنا سر ازلان کے سینے سے اٹھا کر اس کو گھورنے لگی جو بیلا کو ہی دیکھ کر شرارت سے مسکرا رہا تھا
"بس بےشرموں والی حرکتیں کرنا، شوہروں والی حرکتیں نہیں آتی تمہیں"
بیلا گھورتی ہوئی ازلان سے بولی شوہروں والی حرکتوں سے مراد بیلا نے عباد کا خاکہ ذہن میں لیا تھا وہ نازنین سے مزاق کے وقت مزاق کرتا تھا ورنہ مبحت میں کی شکل میں بھی سنجیدگی طاری رہتی
"شوہر والی حرکتوں پر آگیا تو تم اوپر سے نیچے تک سرخ ہوجاؤ گی، ویسے تمہیں اتنے قریب دیکھ کر سوچ رہا ہوں شوہر والے روپ کی ایک جھلک دکھا ہی دو" ازلان بولتا ہوا بیلا کے بالوں میں انگلیاں پھنسا کر اس کے ہونٹوں کے قریب اپنے ہونٹ لایا تبھی دروازہ بجنے لگا
"شٹ یار اس ویٹر کو ابھی کھانا لے کر آنا تھا"
ازلان نے بولتے ہوئے اپنی گرفت سے بیلا کو آزاد کیا تو بیلا جلدی سے ازلان کے اوپر سے اٹھی اور شکر کا سانس لینے لگی، وہ شوہر والی حرکتوں سے مراد نہ جانے کیا سوچے بیٹھا تھا
ازلان صوفے سے اٹھ کر کمرے کا دروازہ کھولنے لگا تو کمرے کا دروازہ کھلتے ہی زوردار مکا ازلان کے منہ پر آنے والے نے اچانک مارا۔۔۔ جس سے ازلان پیچھے کمرے کی طرف گر پڑا،، بیلا روم کے اندر آنے والے لمبے چوڑے اور کالے سے آدمی کو دیکھ کر ڈر گئی جوکہ مزید ازلان کو مارنے کے لیے اس پر جھپٹنے لگا تھا مگر ازلان ذہنی طور پر مکمل تیار ہوچکا تھا،، اس لیے اپنی طرف بڑھتے ہوۓ آدمی کو دیکھ کر زوردار لات اس کے منہ پر مار کر خود بھی فارم میں آگیا اور کھڑا ہوکر مکمل داؤ پیچ آزماتا ہوا اس کا مقابلہ کرنے لگا بلکہ اس آدمی کو مارنے کے ساتھ وہ مسلسل بیلا کو کمرے سے باہر جانے کا کہہ رہا تھا
مگر بیلا خوف کے مارے وہی کھڑی ہوئی ازلان کو اپنا بچاؤ کرتے ہوئے اس آدمی کے ساتھ مقابلہ کرتے دیکھ رہی تھی،، ازلان اس طرح اس آدمی کے ساتھ مقابلہ کررہا تھا جیسے اس نے مار پیٹ کی مکمل ٹریننگ حاصل کی ہو۔۔۔۔ مگر بیلا کی سانس ایک پل کے لیے تب رکی جب اس آدمی نے نہ جانے کہاں سے چاقو نکال کر ازلان پر وار کرنا چاہا مگر دو بار وار خالی جانے کے بعد تیسری بار ازلان نے اس کے ہاتھ پر لات مارتا ہوا چاقو دور پھینک چکا تھا
ازلان کے مکا مارنے پر وہ آدمی شیشے کی ٹیبل کے پاس آکر گرا، اور ٹیبل پر رکھے ہوئے لیپ ٹاپ کی طرف لپکا،، اس سے پہلے وہ آدمی لیپ ٹاپ کھڑکی سے باہر پھینکتا ازلان نے پھرتی سے لیپ ٹاپ اس سے چھین کر اپنی لات اونچی کر کے ہوا میں گھمائی جو اس آدمی کے سر پر لگی اور وہ آدمی دور جاگرا
"بیلا کمرے سے باہر نکل جاؤ سمجھ میں نہیں آرہا تمہیں"
وہ لیپ ٹاپ بیڈ پر اچھل کر غصے میں چیختا ہوا بیلا سے مخاطب ہوا مگر اس کی نظریں بیلا کی بجائے اس آدمی پر جمی ہوئی تھی جو اچھی خاصی مار کھانے کے باوجود بھی ڈھیٹ بنا ہوا ایک بار پھر لیپ ٹاپ کی طرف بڑھنے لگا
"بیلا کمرے سے باہر جاؤ"
وہ ایک بار پھر اس آدمی کو قابو کرتے ہوئے بیلا سے چیخ کر بولا لیکن بیلا خاموش وہی کھڑی ہوئی اس آدمی کو دیکھنے لگی جو بیڈ پر پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا جبکہ اس کے دونوں ہاتھ پیچھے کمر پر ازلان نے اپنے گھٹنے کے نیچے دبائے ہوئے تھے۔۔۔ ازلان نے ایک ہاتھ سے اس کے بال پکڑے ہوئے تھے جبکے دوسرا ہاتھ سے اس آدمی کی تھوڑی کے نیچے والے حصے کو مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا
"ازلان چھوڑ دو اس کو"
بیلا خوفزدہ ہوکر اس آدمی کو دیکھتی ہوئی ازلان سے بولی
"جاؤ یہاں سے"
ازلان ایک بار پھر غصے کی شدت سے چیختا ہوا بولا جس پر بیلا نفی میں سر ہلانے لگی۔۔۔
ازلان نے اس آدمی کو مہلت ہی بیلا کی وجہ سے دی ہوئی تھی مگر اب اور نہیں دے سکتا تھا، اس لئے اس کی گردن موڑنے پر جہاں ازلان نے اس آدمی کی بےجان ٹوٹی ہوئی گردن چھوڑی وہی بیلا نے زور سے چیخ مار کر دونوں ہاتھوں میں اپنا چہرہ چھپالیا
ازلان غصے میں بیڈ سے اٹھ کر بیلا کی طرف بڑھا اس کے چہرے سے دونوں ہاتھ ہٹاکر مزید غصے میں چیختا ہوا بولا
"میں بار بار تمہیں عربی یا فارسی زبان میں کمرے سے جانے کے لئے کہہ رہا تھا بات کیوں نہیں مان رہی تھی تم میری۔۔۔ جانتی ہو اگر آج یہ آدمی اس لیپ ٹاپ کو توڑ دیتا یا ضائع کر دیتا تو میری کہی دنوں کی محنت پر پانی پھر جاتا۔۔۔۔ جانتی ہو تمہاری وجہ سے میرا کتنا بڑا لاس ہوجاتا کچھ اندازہ ہے تمہیں"
ازلان غصے میں بیلا کو اور بھی باتیں سناتا مگر اس کو شاکڈ کی کیفیت میں دیکھ کر خاموش ہوگیا
"وہ مر چکا ہے ازلان۔۔۔ اس کو مار دیا تم نے،، بیچارے کی گردن ہی توڑ ڈالی وہ صرف تم سے لیپ ٹاپ ہی تو حاصل کرنا چاہتا تھا جو تمہارا اپنا تھا بھی نہیں۔۔۔ دے دیتے تم اس کو یہ لیپ ٹاپ تمہارے پاس اپنا لیپ ٹاپ بھی تو تھا۔۔۔۔ یااللہ اب کیا ہوگا یہ تو مرڈر ہوچکا ہے تم سے، اب ہم دونوں کیا کریں گے"
بیلا بری طرح گھبرائی ہوئی تھی ازلان کے غصے اور ساری باتوں کو نظرانداز کرتی ہوئی اس سے بولی
"تمہیں اب کچھ نہیں کرنا صرف اپنا منہ بند کرکے صوفے پر بیٹھ جانا ہے۔۔۔ بالکل نارمل ہوجاؤ میں تھوڑی دیر میں سب کلیئر کر دیتا ہوں اوکے"
ازلان بیلا کی گھبرائی ہوئی حالت کو دیکھ کر اس پر غصہ بھلائے نارمل لہجے میں بولا
"نارمل ہو جاؤں۔۔۔۔ کیسے؟؟ کسی کا مرڈر کرکے تم نارمل رہ سکتے ہو میں ہرگز نہیں۔۔۔ ہم تو اس وقت پاکستان میں بھی موجود نہیں ہیں اور یہاں کا قانون بہت سخت ہے تم جانتے ہو ناں۔۔۔ ایسا کرتے ہیں ہم پولیس کو خود انفارم کرکے سچ بتا دیتے ہیں کہ یہ موٹے کالے سے بھائی صاحب ہمارے روم میں گُھس کر بلاوجہ میں مار پیٹ کر رہے تھے بس ہم نے اپنے بچاؤ کے لئے ان کی ذرا سی گردن پکڑی تھی جو ناجانے کیسے خود بخود ٹوٹ گئی"
بیلا بولتی ہوئی بیڈ پر پڑی ہوئی اس آدمی کی لاش کو دیکھنے لگی اور ساتھ ہی اس کی شکل رونے والی ہوگئی۔۔۔ بیلا کی بات سن کر ازلان کا دل چاہا کے وہ اپنا سر پیٹ لے اس سے پہلے وہ بیلا کو کچھ سمجھاتا وہ دوبارہ بول اٹھی
"اچھا دوسرا آئیڈیا بھی ہے میرے پاس ازلان، میں نے ایک فلم میں دیکھا تھا ہم ایسا کرتے ہیں ان بھائی صاحب کی لاش کو اس کمفرٹر میں لپیٹ کر اس کو بوری بند لاش جیسا بنا دیتے ہیں اور پھر آدھی رات کو اس کو ہم کسی ندی یا نالے میں پھینک آئیں گے مگر یہ تو پاکستان بھی نہیں ہے یہاں پر ندی نالہ کہاں سے لائیں گے۔۔۔ ہاں ایسا کرتے ہیں اس لاش کے ہم چھوٹے چھوٹے سے ٹکڑے کرکے اس کو فریج میں ڈال دیتے ہیں اور پھر۔۔۔"
وہ اپنی آنکھوں کے سامنے لاش دیکھ کر بری طرح گھبرائی ہوئی تھی کہ کچھ بھی بولے جارہی تھی اس کو چپ کروانے کے لیے ازلان نے ہلکی سی چیت اس کے گال پر لگائی
"کیا فضول بولے جارہی ہو اتنی دیر سے۔۔۔ لاش کو یہ کردیں گے وہ کردیں گے۔۔۔ آخر چل کیا رہا ہے یہ سب تمہارے دماغ میں"
ازلان کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ بیلا اس کے سینے سے لگ کر رونے لگی
"تو پھر ہم اللہ تعالیٰ سے سوری بھی کرلیں گے ناں۔۔۔ میں تمہیں دوبارہ جیل میں جاتا ہوا نہیں دیکھ سکتی ابھی تو ہم دونوں ملے تھے۔۔۔ ان تھوڑے سے دنوں میں کتنے پیارے لگنے لگو ہو تم مجھے اگر تم جیل چلے گئے تو میں کیسے رہوں گی تمہارے بغیر"
وہ ازلان کی بات پر روتی ہوئی بولی اس کی آخری بات پر ازلان کو ہنسی کے ساتھ ساتھ اس پر پیار بھی آنے لگا وہ بیلا کی کمر کے گرد اپنے دونوں بازو باندھتا ہوا بولا
"میں اب کہیں نہیں جاؤ گا تمہیں چھوڑ کر، پریشان مت ہو ایک جگہ پر بیٹھ جاؤ میں اس لاش کا کچھ انتظام کرتا ہوں"
ازلان پیار سے سمجھاتا ہوا اسے ایسے تسلی دینے لگا جیسے کہ وہ ہمیشہ سے لاشوں کو انتظام کرتا آیا ہو۔۔۔ اسے فیضی کو کال کرکے ساری صورتحال بتانا تھی ازلان جانتا تھا کہ فیضی یہ سارا کام خود سنبھالے گا
"نہیں پلیز مجھے ایسے ہی کھڑے رہنے دو اور تم بھی کہیں مت جاؤ میرے پاس سے۔۔۔ اس لاش کی پوری آنکھیں کُھلی ہوئی ہے اور وہ لاش مجھے گھور رہی ہے مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے اس سے"
بیلا روتی ہوئی ازلان سے بولی تو اذلان مڑ کر اس آدمی کو دیکھنے لگا جس کی گردن مڑی ہوئی تھی وہ اوندھے منہ بیڈ پر پڑا ہوا تھا اور اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھی۔۔۔ ازلان جبھی چاہ رہا تھا کہ بیلا کمرے سے باہر چلی جائے وہ یہ سب دیکھ کر لازمی ڈر گئی تھی
****
وہ اپنے شوہر کو خوبصورت لگتی تھی ایسا آج صبح افراہیم نے اس سے کہا تھا کیا وہ دس سال پہلے خوبصورت نہیں تھی یا پھر دس سال پہلے ایک نوکر کی بیٹی کی حیثیت سے افراہیم کو اس کی خوبصورتی نظر نہیں آتی تھی یا شاید دس سال پہلے افراہیم نے کبھی اس کو غور سے دیکھا ہی نہ ہو۔۔۔ نوف اپنی سوچی ہوئی باتوں سے خود ہی اتفاق کرنے لگی، افراہیم کو جس دن اس کی اصل حیثیت معلوم ہوجائے گی تب افراہیم کا ردعمل کیا ہوگا نوف سوچ رہی تھی تب کمرے میں افراہیم چلا آیا
افراہیم کو کمرے دیکھ کر اور اپنے کپڑوں کا رنگ دیکھ کر اسے افراہیم کی صبح والی بات یاد آگئی، نوف بیڈ سے اٹھ کر کمرے سے باہر جانے لگی
"میری صبح والی بات کو یاد کرکے اگر تم کمرے سے باہر جارہی ہو تو بے فکر رہو میں تمہیں تنگ نہیں کروں گا"
افراہیم نوف کو کمرے سے باہر نکلتا ہوا دیکھ کر بولا اور خود صوفے پر جاکر بیٹھ گیا۔۔۔ ویسے بھی صبح والی طبیعت کے برعکس اس وقت وہ کافی خاموش اور سنجیدہ لگ رہا تھا، نوف اس کی خاموشی اور سنجیدگی کی وجہ جانتی تھی اس لئے کمرے سے نکلنے کی بجائے صوفے کے برابر میں موجود کھڑکی کے سامنے کھڑی ہوگئی
"آنٹی کی وجہ سے اداس ہیں آپ یا پھر بیلا کو مس کررہے ہیں"
وہ کھڑکی سے باہر دیکھتی ہوئی افراہیم سے پوچھنے لگی۔۔۔ آج شام میں نازنین پر خاموشی کی کیفیت طاری ہوگئی تھی۔۔ نہ ہی وہ کسی بات کا جواب دے رہی تھی نہ ہی کسی بات پر کوئی ری ایکٹ کررہی تھی افراہیم تھوڑی دیر پہلے آفس سے لوٹ کر گھر آیا تھا مگر اس سے پہلے نوف نازنیں کو میڈیسن دے چکی تھی جسے لینے کے بعد وہ اس وقت سو رہی تھی
"میری ماں اور میری بہن دونوں ہی میری لائف میں بہت اہمیت رکھتی ہیں میں ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا، تم اس بات سے شاید واقف نہ ہو کہ میں چند سال پہلے بیلا کو بہت مشکلوں سے واپس زندگی کی طرف لایا تھا۔۔۔۔ جب وہ 9 سال کی تھی تو ایک بھیانک حادثے نے اس کو زندگی سے بہت دور کردیا تھا، میں اپنی بہن کی حالت دیکھ کر اندر ہی اندر روتا مگر اوپر سے کسی پر کچھ ظاہر نہیں ہونے دیتا۔۔۔ جب وہ آہستہ آہستہ واپس زندگی کی طرف لوٹنے لگی تو ایک دن اچانک بابا کی ہارٹ فیل کی وجہ سے ڈیتھ ہوگئی۔۔۔ ان کے غم سے ہم دونوں بہن بھائی نکل نہیں پائے تھے کہ مما نے بابا کے جانے کا اتنا زیادہ اثر لیا کہ وہ خود بیمار رہنے لگیں۔۔۔ اکثر ایسا ہوتا ہے مما تھوڑی دیر کے لئے مجھے اور بیلا کو پہچان نہیں پاتی ہیں،، ہم دونوں کو اجنبی نظروں سے دیکھتی ہیں،، جب وہ ایسا کرتی ہیں تو مجھے بیلا کو دیکھ کر خود کو مضبوط کرنا پڑتا ہے مگر اندر کہیں یہ خوف طاری رہتا ہے کہ اگر کسی دن مما ہمیشہ کے لئے ہم دونوں کو بھول گئی تو میں کیا کروں گا"
افراہیم اداسی سے اپنے دل کی ساری باتیں نوف سے شئیر کررہا تھا، نوف افراہیم کو اس وقت بالکل مختلف روپ میں دیکھ رہی تھی ایک ایسا مرد جس نے کم عمر سے سفر کیا تھا۔۔۔ اس واقعے سے صرف اس کی اپنی فیملی برباد نہیں ہوتی بلکہ اس بھیانک حادثے کے اثرات یہاں بسنے والے مکینوں نے بھی اپنے اوپر جھیلے تھے
افراہیم کی باتیں سن کر نوف کو عجیب اداسی نے آ گھیرا۔۔۔ وہ صوفے پر بیٹھے ہوئے اس شخص کے لئے اداس تھی جس سے وہ ایک خاص قسم کی چڑ رکھنے لگی تھی۔۔۔۔ نوف کو افراہیم کی باتیں سن کر اپنا دل پگھلتا ہوا محسوس ہوا بےخودی کے عالم میں وہ چلتی ہوئی افراہیم کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی۔۔۔ افراہیم نوف کو دیکھ کر خود بھی صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔ نوف افراہیم کا چہرہ اپنے نازک ہاتھوں میں تھام کر بولی
"آپ نے مجھے اپنے راز میں شریک ٹھہرا لیا ہے تو میرا دل کررہا ہے میں آپ کے سارے دکھ درد اور تکلیفوں کو اپنے اندر سمیٹ لو آپ کی یہ اداسی میرے دل کو اداس کررہی ہے افرہیم۔۔۔۔ میں آپ کو اداس نہیں دیکھ سکتی، آپ اپنے دکھ درد اور تکلیفیں مجھے دے دیں"
نوف کو معلوم ہی نہیں ہوا وہ بےخودی کے عالم میں کیا کچھ بول گئی ہے یہ بھی ایک غیر ارادی عمل تھا جب اس نے اپنے پنجوں کے بل اونچا ہوکر افراہیم کی پیشانی پر اپنے ہونٹ رکھے ایک پل کے لیے افراہیم بھی حیرت زدہ ہوا مگر دوسرے ہی پل افراہیم نے نوف کے نازک وجود کو خود میں چھپالیا
"شریک حیات کا مطلب جانتی ہو کیا ہوتا ہے جس کے ساتھ زندگی کا سفر طے کیا جائے میں نے تمہیں اپنا شریک سفر ٹھہرایا ہے۔۔ میں خواب میں بھی کوئی دکھ درد یا تکلیف تمہیں نہیں سونپ سکتا۔۔۔ تمہارا یہ وجود میرے لیے اس ٹھنڈی چھاؤں کی مانند ہے جس میں کھو کر میں کچھ پل کے لیے اپنے سارے دکھ درد تکلیف بھول کر سکون حاصل کرسکتا ہوں۔۔۔ اپنے اندر کی تنہائی سے لڑتے لڑتے تھک چکا ہوں،، میں کچھ پل تمہاری قربت میں سکون کے چاہتا ہوں مجھے اپنے اندر سمیٹ لو اور مکمل طور پر میری ہوجاؤ"
افراہیم نوف کے وجود کو خود میں سمائے بےخود سا ہوکر بولا تو نوف اس سے الگ ہوکر افراہیم کا چہرہ دیکھنے لگی
ایک عجیب سحر پورے ماحول پر طاری ہوچکا تھا۔۔۔ افراہیم نوف کا چہرہ تھام کر اپنے چہرے کے قریب کرتا ہوا بےخود سا اس کے ہونٹوں کو کسی پیاسے صحرا کے مانند دیکھے گیا،، نوف کی اپنی نظریں بھی افراہیم کے چہرے پر ٹکی ہوئی تھی۔۔۔ یہی وہ پل تھا جب نوف کے دل نے ناجانے کب اس کو دغا دے ڈالی اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے نوف نے بہت آہستگی سے اپنے ہونٹوں سے افراہیم کے گال پر رکھے،، وہ اپنے باغی ہوتے دل کی لگامیں تھام نہیں پائی تھی مگر دوسرے ہی پل کسی نے اندر سے بری طرح اسے سرزش کی تو نوف افراہیم سے دور ہونے لگی مگر افراہیم کا دل سرکشی پر اترا آیا۔۔۔ اس نے نوف کو اپنے وجود سے دور ہوتا دیکھ کر،، نوف کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لےلیا
"اس طرح دور جاکر تم میرے اوپر یوں ظلم نہیں کرسکتی آج۔۔۔ یمنہٰ پلیز"
یمنہٰ نام پر نوف فوراً اپنے حواسوں میں لوٹ آئی یہ نام اس کی اصلی پہچان نہیں تھا۔۔۔ مگر افراہیم کے دل کو تو آج اس نے خود ہی اکسایا تھا وہ چاہ کر بھی افراہیم کی گرفت سے خود کو آزاد نہیں کروا سکی۔۔۔ افراہیم نوف کو گرفت میں لےکر اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھتا ہوا اپنی تشنگی مٹانے لگا
افراہیم کی سانسوں کی گرمائش نوف کے اندر اترتی ہوئی اس کو پورا پورا اندر تک جھلسانے لگی۔۔۔ وہ افراہیم کے دل کے تاروں کو چھیڑ کر اپنے ساتھ غلط کر بیٹھی تھی جس کا خمیازے میں اب اس کی اپنی سانسیں بند ہونے لگی تھی،، اس سے پہلے افراہیم کی شدت مزید بڑھتی اور نوف کا ضبط جواب دینے لگتا۔۔۔ اچانک ہی کمرے کا دروازہ زور سے بجنے لگا
"افراہیم بیٹا دروازہ کھولیں بیگم صاحبہ کی طبیعت بگڑ رہی ہے"
کمرے کے اندر آتی نوری کی آواز سے افراہیم ایک دم حواسوں کی دنیا میں لوٹ آیا،، نوف سے دور ہوتا ہوا وہ فوراً دروازے کی طرف بڑھا
"تم سوئی نہیں ابھی تک"
یہ دوسرے ہوٹل کا الگ کمرہ تھا جہاں ازلان بیلا کو اپنے ساتھ لے آیا تھا، ڈنر سے فارغ ہونے بعد بیلا بیڈ پر لیٹ گئی تھی جبکہ وہ خود پچھلے دو گھنٹے سے صوفے پر بیٹھا ہوا لیپ ٹاپ میں موجود پاسورڈ کو کھولنے کی جدوجہد میں مصروف تھا، وہ چاہ رہا تھا صبح تک ساری انفارمیشن آگے تک پہنچا دے۔۔۔ تب بیلا بیڈ سے اٹھ کر اس کے پاس آئی تو ازلان اس سے پوچھنے لگا
"بہت بےچینی محسوس کررہی ہوں، یہ نئی اور انجان جگہ ہے مجھے نیند نہیں آرہی ہے"
بیلا اس وقت ازلان کو بےچین اور گھبرائی ہوئی لگی شاید وہ تھوڑی دیر پہلے ہوۓ واقعہ کو اپنے دماغ سے فراموش نہیں کر پا رئی تھی۔۔۔ ازلان کو ہی اس طرف سے اس کا دماغ ہٹانا تھا وہ لیپ ٹاپ بند کرتا ہوا بولا
"چلو میں تمھارے پاس لیٹ جاتا ہوں شاید مجھ سے باتیں کرتے کرتے تمہیں نیند آجاۓ"
وہ صوفے سے اٹھ کر بیلا کے سامنے کھڑا ہوکر بولا
"تت، تم میرے پاس لیٹو گے"
بیلا ازلان کے اتنے نارمل انداز میں کہنے پر حیرت ذدہ سی پوچھنے لگی
"اس میں اتنا تعجب کرنے کی کیا بات ہے کیا میں تمہارے پاس نہیں لیٹ سکتا، کیا برائی ہے میرے تمہارے ساتھ لیٹنے میں"
اس سے پہلے بیلا اسے کچھ کہتی ازلان اسے اپنے بازؤوں میں اٹھا چکا تھا
بیلا کو بیڈ پر لٹانے کے بعد ازلان اس کے برابر میں تکیہ پر اپنی کہنی ٹکا کر نیم دارز ہوگیا۔۔۔ اس کا جھکاؤ بیلا کے حسین چہرے پر تھا وہ بیلا کے سنہری بالوں میں انگلیاں پھیرتا ہوا وہ اسی کو دیکھ رہا تھا بیلا خود بھی خاموشی سے ازلان کو دیکھنے لگی
"جو کچھ سوالات تمہارے ذہن میں چل رہے ہیں، تم انہیں مجھ سے پوچھ سکتی ہو، پھر شاید تمہیں نیند آجاۓ"
ازلان بیلا کے بالوں میں انگلیاں پھیرتا ہوا اس سے بولا
"تھوڑی دیر پہلے تم سے ایک قتل ہوا،، انجانے میں نہیں جان بوجھ کر تم ایک آدمی کی جان لے چکے ہو، مجھے سمجھ نہیں آرہا تم ایک مرڈر کرنے کے بعد اتنے ریلکس کیسے ہوسکتے ہو"
بیلا ازلان کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔۔۔ پہلے وہ ایک سیدھا سادھا سا لڑکا ہوا کرتا تھا مگر اب اسکی طبعیت میں کافی بدلاؤ آچکا تھا بیلا ان چند ملاقاتوں میں اندازہ لگا چکی تھی
"وہ آدمی اس ہوٹل کے روم میں ہمارے ساتھ ڈنر انجواۓ کرنے نہیں آیا تھا بیلا، اگر میں اسکو نہیں مارتا تو وہ میری جان لے لیتا، میں جبھی تم سے بار بار کمرے سے باہر جانے کا کہہ رہا تھا اب اسکی موت کو لےکر پریشان مت ہو بلکہ آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرو"
ازلان نرم لہجے میں ساری بات بیان کررہا تھا جیسے کسی چھوٹے بچے کو سمجھا رہا ہو ساتھ ہی اس کی انگلیاں بیلا کے بالوں کو ابھی تک رینگ رہی تھی
"ناجانے مجھے کیوں محسوس ہورہا ہے جیسے تم ہماری یونیورسٹی کے لیکچرار نہیں ہو"
بیلا اپنے دل میں آیا ہوا خیال ازلان پر ظاہر کرتی ہوئی بولی جس پر ازلان کے لبوں کو پراسرار سی مسکراہٹ نے چھوا
"اچھا اگر میں تمہاری یونیورسٹی کا ایک لیکچرار نہیں ہوں تو پھر کیا ہوں"
اب ازلان کے ہاتھوں کی انگلیاں بیلا کے گال کی نرمی کو محسوس کررہی تھیں جبکہ اس کی نظریں بیلا کے چہرے پر ٹکی ہوئی تھی
"کوئی بہروپیہ"
بیلا اپنے چہرے کے بالکل قریب ازلان کا چہرہ دیکھ کر بولی بیلا کی بات سن کر ازلان کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی
"اسمارٹ گرل، صحیح جج کیا تم نے میرے بارے میں۔۔۔ میرا کوئی ایک روپ نہیں ہے میں اپنے کاموں کے لئے اکثر کئی دوسرے روپ بدلتا رہتا ہوں"
اُسے اندازہ تھا آج نہیں تو کل بیلا کے دماغ میں یہ سارے سوالات آئے گیں اور اُس کے دماغ کو الجھائے گے اس لئے آج وہ بیلا پر اپنا آپ کھولنے لگا اُس کی بات سن کر بیلا خاموشی سے اپنے اوپر جھکے ازلان کو دیکھنے لگی
"کون کون سے روپ بدلے ہیں اب تک تم نے"
بیلا کو ازلان کے بارے میں جاننے کا مزید تجسس ہوا تو وہ بیڈ پر لیٹی ہوئی اس سے پوچھ بیٹھی، ازلان ایک بار پھر بیلا کے سنہری بالوں میں انگلیاں پھیرتا ہوا اُس سے بولا
"یہ تو مجھے بھی خود صحیح سے یاد نہیں کہ میں کتنے روپ بدل چکا ہوں،، بس لاسٹ ٹائم مجھے اسٹیفنی کے بیڈ روم تک جانے کے لئے اُس کے ہسبنڈ کا گیٹ اپ اپنانا پڑا تھا"
ازلان کے بالکل سنجیدگی سے بولنے پر بیلا نے اُس کے چہرے پر اُمڈتی ہوئی شرارت محسوس نہیں کی بلکہ فوراً اُس کا ہاتھ اپنے بالوں سے ہٹاتی ہوئی اٹھ کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔۔ اب ازلان تکیہ پر سر رکھے خود آرام سے لیٹتا ہوا بیلا کے چہرے کے تاثرات دیکھ رہا تھا جو اُس کے سامنے بیٹھی ہوئی اُسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھی
"اِس میں اتنا گھور کر دیکھنے والی کیا بات ہے۔۔۔ اِس کام کے لیے مجھے اسپیشل ہائر کیا گیا تھا کیوکہ ہنری کا قد کاٹھ ڈیل ڈول اور چہرے کے نقش کافی حد تک مجھ سے مشابہت رکھتے تھے۔۔۔ اسٹیفنی سے ساری معلومات حاصل کرتے ہوئے اُس کو ذرا بھی شک نہیں گزرا کہ وہ یہ ساری سیکرٹ انفارمیشن اپنے ہسبنڈ کی بجائے کسی دوسرے کو دے رہی ہے"
ازلان لیٹا ہوا مزے سے بیلا کو بتارہا تھا اور ساتھ ہی اُس کے چہرے کے تاثرات کو بھی انجوائے کررہا تھا
"تو ساری انفرمیشن تم نے اسٹیفنی کے بیڈروم میں اُس کے کتنے قریب بیٹھ کر لی"
بیلا کو نہ جانے کیو غصہ آنے لگا تھا اور بیلا کی بات سن کر ازلان نے بہت مشکل سے اپنی ہنسی کو کنٹرول کر کے خود کو حتی الامکان سیریس رکھا ہوا تھا
"انفرمیشن بیٹھ کر نہیں لی بلکہ لیٹ کرلی، بالکل اِسی پوزیشن میں جیسے میں ابھی لیٹا ہوا ہوں تمہارے سامنے"
ازلان جتنی سنجیدگی سے بیلا کو بتارہا تھا اُس کا دل چاہا وہ ازلان کی گردن بالکل ویسے ہی مروڑ ڈالے جیسے اِس بدتمیز نے تھوڑی دیر پہلے کسی دوسرے آدمی کی گردن مروڑ ڈالی تھی
"اور اسٹیفنی، وہ کہاں تھی اُس وقت"
بیلا اپنے غصے کو ضبط کرتی ہوئی ازلان سے پوچھنے لگی اُس نے اسٹیفنی کو کوئی برا لفظ بولنے سے خود کو مشکل سے باز رکھا ہوا تھا
"وہ بےچاری تو بیٹھی ہوئی تھی میرے پاس مگر تمھاری طرح نہیں بلکے اِس پوزیشن میں"
ازلان نے بولتے ہوئے اچانک بیلا کو کمر سے پکڑ کر پورا اپنے اوپر بٹھالیا۔۔۔ بیلا اُسکی حرکت پر اچانک بوکھلا سی گئی مگر اپنے آپ کو ازلان کو اوپر بیٹھا دیکھکر غصے میں تین سے چار زور دار مُکے اُس نے ازلان کے سینے پر جڑے۔۔۔ بیلا اُس کے اوپر سے اُٹھنے لگی تو ازلان نے بیلا کی دونوں کلائیوں کو قابو کر کے اُسے اپنے اوپر گرا لیا
"تم بہت زیادہ بدتمیز ہوچکے اور پہلے سے کافی زیادہ بدل چکے ہو"
بیلا اب اس کے چہرے کے تاثرات سے اندازہ لگاتی ہوئی سمجھ چکی تھی ازلان اسے چڑا رہا تھا وہ خفا ہوتی ہوئی ایک بار پھر ازلان کے اوپر سے اٹھنے لگی مگر بیلا کے اٹھنے سے پہلے ازلان اس کو بیڈ پر لٹا کر اس پر مکمل طور پر جھکتا ہوا بولا
"تم بھی پہلے سے بہت زیادہ بدل چکی ہو اور مزید خوبصورت ہوچکی ہو،، اتنی خوبصورت کے معلوم ہے میرا اس وقت دل کیا چاہ رہا ہے"
بیلا کو محسوس ہورہا تھا جیسے ازلان بولنے کے ساتھ اپنی آنکھوں سے ہی اس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو چوم رہا ہو۔۔۔ ازلان کا بہکا ہوا لہجا بیلا کا دل مزید زور سے دھڑکنے لگا
"مم، مجھے نہیں معلوم کرنا کہ تمہارا دل کیا چاہ رہا ہے، تت تم ہٹو میرے اوپر سے"
بیلا اس کے بہکے ہوۓ لہجے اور بدلے ہوۓ انداز پر گھبراتی ہوئی بولی
"بیلا میری جان معلوم ہے ناں میں کون ہوں، تمہارا محرم تمہارا شوہر"
ازلان اسے نروس دیکھ کر اپنا اور اس کا رشتہ یاد دلانے لگا ساتھ ہی ازلان اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے بیلا کے ہونٹوں کو چھونے لگا
"شوہر ہو تو اس کا مطلب تم یہ سب کرو گے میرے ساتھ"
بیلا ازلان کی بہکی ہوئی نظریں اپنے اوپر دیکھ کر، اپنے ہونٹوں پر اسکی انگلیوں کی حرکت دیکھ کر اپنی گھبراہٹ پر قابو کیے اس سے پوچھنے لگی
"کیا۔۔۔۔ کیا کررہا ہوں میں"
ازلان انجان بنا ہوا الٹا بیلا سے سوال کرنے لگا ساتھ ہی اپنی انگلیاں اس کی گردن پر پھیرنے لگا بیلا اس کی نظروں سے دوبارہ نروس ہونے لگی یا وہ جان بوجھ کر اپنی نظریں بیلا کے چہرے پر گاڑھے خود اس کو نروس کررہا تھا
"تمہیں اب اپنے کام پر دھیان دینا چاہیے جسے چھوڑ کر تم یہاں آگئے ہو میرے پاس"
بیلا ازلان کی توجہ دوبارہ لیپ ٹاپ کی طرف دلانے لگی ساتھ ہی اس کی اپنی توجہ ازلان کے ہاتھوں کی انگلیوں پر تھی جو آئستگی سے اس کی گردن کی سرحد عبور کررہی تھی جس سے بیلا کی ہارٹ بیٹ تیز ہونے لگی
"میرا دھیان اپنے کام پر بھی ہے اور اپنی جان پر بھی، جس کی اس وقت خود جان پر بنی ہوئی ہے"
ازلان بولتا ہوا بیلا کے ہونٹوں پر مکمل جھگ گیا جبکہ بیلا نے اس کی کلائی مضبوطی سے پکڑی جو اس کے سینے کی حدود کو چھونے لگی تھی
وہ بیلا کے ہاتھوں کی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنساۓ اپنے ہونٹوں کو اسکے ہونٹوں پر رکھے خود کو سیراب کررہا تھا جبکہ بیلا اس کی قربت سے نڈھال ہونے لگی ساتھ ہی اچانک بیلا کی آنکھوں سے اشک رواں ہوۓ جنھیں محسوس کرکے ازلان پیچھے ہٹا
"کیا ہوا کچھ غلط کیا ہے میں نے"
ازلان بیلا کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر کوئی نتیجہ اخذ نہیں کر پایا تو بیلا سے پوچھنے لگا بیلا اٹھ کر بیڈ پر بیٹھتی ہوئی بولی
"آئی ایم ناٹ ورجن، اپنی نسوانیت تو میں بچپن میں ہی کھو چکی ہوں، تم مجھ جیسی ادھوری ذات کی لڑکی کے ساتھ اپنی پوری زندگی گزاو لوگے"
بیلا اپنے دل میں موجود احساس کمتری کو چھپاۓ بغیر اشک بہاتی ہوئی ازلان سے پوچھنے لگی
"پڑگیا تمہیں احساس کمتری کا دورا، ہوگئی تمہاری بکواس مکمل تو اب غور سے میری بات سنو"
ازلان بیلا کی بات سن کر برہم ہوتا ہوا اس کا چہرا تھام کر بولا
"میں کوئی جذباتی قسم کا مرد نہیں ہوں، جس نے جذبات میں آکر یوں اچانک تم سے نکاح کا فیصلہ کیا ہو، مکمل ذات صرف اوپر والے کے علاوہ کسی کی بھی نہیں ہے۔۔۔ ہر انسان میں کوئی نہ کوئی کمی یا خامی ہوتی ہے اور جس کمی کی تم بات کررہی ہو وہ تمہاری خود کی پیدا کردہ نہیں ہے، وہ ایک حادثہ تھا بیلا جو کسی کے بھی ساتھ ہوسکتا ہے آج کے بعد تم فضول کی سوچوں کو اپنے ذہن میں نہیں لاؤ گی اور میری یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا تم میرے لیے بہت انمول، پاکیزہ اور قیمتی متاع کی حیثیت رکھتی ہو جو مجھے اپنی زندگی میں بہت عزیز ہے"
ازلان بیلا کا چہرا تھامے اسے بتانے لگا تو بیلا نے ازلان کے سینے پر سر رکھ دیا اس کے دل میں اطمینان اترنے لگا
"اب تم اپنے اس والے کام پر دھیان دو مجھے اب بہت اچھی نیند آۓ گی سیریسلی"
بیلا ٹیبل پر رکھے لیپ ٹاپ کی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی تو ازلان آئستہ سے مسکرا دیا بیلا اس کو بیڈ سے اٹھتا ہوا دیکھ کر آنکھیں بند کرکے سکون سے بیڈ پر لیٹ گئی
****
وہ اپنے کل والے عمل کے بارے میں سوچ کر کافی زیادہ شرمندہ تھی، اتنی زیادہ کہ نوف سے خود سے نظریں ملانا مشکل ہورہا تھا۔۔۔ جو کام اس نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا وہ کل رات حقیقت میں کر بیٹھی تھی نوف کو کل رات والا منظر ایک بار پھر یاد آیا جب اس نے افراہیم کے قریب آکر اس کو چھونے کی جسارت کی تھی بےساختہ نوف نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپالیا۔۔۔ نہ جانے افراہیم اس کے بارے میں کیا سوچ رہا ہوگا کل رات سے نوف یہی سوچ سوچ کر شرمندہ ہورہی تھی اور ساتھ ہی شکر ادا کررہی تھی کہ اس کا کل رات کے اس واقعے کے بعد سے ابھی تک افراہیم کے سامنے نہیں ہوا تھا۔۔۔ نوف نے اپنے چہرے سے دونوں ہاتھوں کو ہٹاکر سامنے بیڈ پر سوئے ہوئے بوڑھے وجود کو دیکھا
نازنین کو سوئے ہوئے ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کل رات جو اس کی اچانک طبیعت بگڑی کی تو افراہیم کو اسے ہسپتال لے جانا پڑا تھا، دو گھنٹے گزرنے کے بعد اس نے نوف کو گھر کے نمبر پر کال کر کے بتایا کہ نازنین کی طبیعت میں اب بہتری آچکی ہے اس کو واپس گھر آتے ہوۓ مزید ایک سے دو گھنٹے لگ جائیں گے، نازنین کے بارے میں سن کر نوف کو اطمینان ہوا پھر جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی وہ اتنی گہری نیند سوئی کے صبح جب اس کی آنکھ کھلی تب تک افراہیم آفس جاچکا تھا
نازنین کل رات کی طرح صبح سے ہی خاموش تھی نوف نے خود اسے اپنے ہاتھ سے ناشتہ کروایا اس کے کپڑے چینج کرکے اس کے بال بنائے۔۔۔ وہ جانتی تھی نازنین اس کی کسی بات کا جواب نہیں دے گی نوف پھر بھی اس سے چھوٹی چھوٹی باتیں کرتی رہی، اسے اپنا خواب سنانے لگی نازنین خاموش اور خالی نظروں سے نوف کو دیکھ رہی تھی تھوڑی دیر کے لئے نوف اسے گھر کے بنے ہوئے لان میں لے آئی جہاں اس نے موتیے کے پھول جمع کرکے نازنین کے لئے گجرے بنائے اور اس کے ہاتھ میں ڈال دیئے۔۔۔ شام کے وقت جب نازنین کی آنکھیں تھکن سے جھکنے لگی تب نوف نے اسے بیڈ پر لٹا دیا تھوڑی ہی دیر میں نازنین سوچکی تھی
تب نوف اپنے کمرے میں جانے کی بجاۓ نازنین کا پرہیزی کھانا بناکر دوبارہ نازنین کے کمرے میں آگئی، وہ صبح سے ہی نازنین کے پاس موجود تھی۔۔۔ نوف کو محسوس ہوا جیسے نازنین نیند میں بےچین ہو نوف صوفے سے اٹھ کر اس کے ہاتھوں کے گجرے اتارنے لگی تبھی کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز پر نوف مڑ کر دیکھنے لگی۔۔۔۔ افراہیم کو کمرے میں آتا ہوا دیکھ کر نوف کی نظریں بےاختیار نیچے جھک گئی
"کیسی ہے اب مما کی طبیعت"
نازنین کو سوتا ہوا دیکھ کر افراہیم نوف کے پاس آکر آہستہ آواز میں اس سے پوچھنے لگا۔۔۔۔ ویسے تو وہ آفس سے دو بار گھر پر کال کر چکا تھا اور نوری اسے بتاچکی تھی کہ نوف مسلسل نازنین کے پاس ہی موجود ہے اس لئے افراہیم آفس میں مطمئن تھا
"سیم کل جیسی کنڈیشن لگ رہی ہے"
نوف نظریں اٹھاۓ بغیر افراہیم کو بتانے لگی، وہ افراہیم کو اپنے سے کچھ جھجھکتی ہوئی مگر نازنین کے لیے فکر مند لگی تبھی افراہیم اس سے بولا
"فوری طور پر مما نارمل کنڈیشن میں نہیں آتیں ہیں ڈونٹ وری رات تک انشاللہ ٹھیک ہوجاۓ گیں"
افراہیم نوف کو دیکھ کر بالکل نارمل انداز میں بات کررہا تھا مگر اس نے محسوس کیا وہ افراہیم کی باتوں کا جواب نظریں اٹھاۓ بغیر دے رہی تھی۔۔۔ وہ نوف سے بولتا ہوا نازنین کے پاس آکر اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر نازنین کا چہرہ دیکھنے لگا تو نوف آئستہ سے پلکیں اٹھاکر افراہیم کو دیکھ کر کمرے سے باہر جانے لگی
"نوری کو چائے کا بول کر کمرے میں آجاؤ"
افراہیم کی آواز پر نوف نے پلٹ کر اسے دیکھا افراہیم اس کو بولتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا
پانچ منٹ کے بعد جب نوف کمرے میں آئی تو افراہیم کل کی طرح صوفے پر بیٹھا ہوا تھا کمرے کا دروازہ بند کرکے نوف کے قدموں وہی تھم گئے اور سر خود بجود جھگ گیا۔۔۔ افراہیم نے ابھی تک کپڑے چینج نہیں کیے تھے وہ شاید نوف کے کمرے میں آنے کا انتظار کررہا تھا،، نوف کو دیکھ کر وہ صوفے سے اٹھکر چلتا ہوا نوف کے پاس آیا
"کب تک نہیں دیکھوں گی میری طرف، یوں مجھ سے نظریں چرانے کی کوئی خاص وجہ"
افراہِیم نوف کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر اس سے پوچھنے لگا
"آپ نے کہا تھا جھکا ہوا سر غلطی کرنے والا پر اچھا لگتا ہے کل جو بھی کچھ ہوا وہ مجھ سے بالکل ہی۔۔۔۔
نوف ہمت کرتی ہوئی اس سے بولنے لگی تو افرائیم نے اپنے انگلی اس کے ہونٹوں پر رکھ دی
"تمہارا میرے قریب آنا غلطی تھی، یمنہ یو آر مائی وائف، میں کوئی نامحرم نہیں ہو تمہارے لیے۔۔۔ جس طرح میں تم پر حق رکھتا ہوں اسی طرح تم بھی مجھ پر حق رکھتی ہو، کل تمہارا کوئی بھی ایک ایکٹ ایسا نہیں تھا جس پر تم یوں مجھے دیکھنے سے گریز کرو۔۔۔ اگر یہ گرہیز شرم کی وجہ سے ہے تو الگ بات ہے، اگر تمہیں کسی قسم کا گلٹ ہے تو بالکل فضول ہے"
افراہیم کی بات پر نوف نظریں اٹھاکر اسے دیکھنے لگی جو اسی کی جانب دیکھ رہا تھا
"اس کا مطلب میں یہ سمجھو کہ آپ کو اس معاملے میں بولڈ لڑکیاں پسند ہیں جو خود سے ہی شروع ہوجاۓ"
نوف کے اسطرح بےدھڑک پوچھنے پر افراہیم ایک دم زور سے قہقہہ مار کر ہنسا
"مگر تم تو بولڈ نہیں ہوں مجھے یاد پڑتا ہے کل رات تم میدان چھوڑ کر بھاگ رہی تھی وہ تو میں نے تمہیں جانے نہیں دیا تھا"
افراہیم کی بات سن کر نوف اسے گھور کر سائیڈ سے نکلنے لگی مگر افراہیم نے اس کا ہاتھ پکڑلیا
"یار انسان کو اگر غصہ آۓ وہ مختلف ردعمل سے اپنے غصے کا اظہار کرتا ہے، ایسے ہی اگر کوئی خوش ہو تو مختلف طریقے سے اپنی خوشی کو سلیبریٹ کرتا ہے بالکل ایسے ہی اگر کوئی انسان کسی سے محبت کرنے لگ جاۓ تو اس کے محبت کے اظہار کرنے میں پھر کیا پرابلم ہے"
افراہیم کی بات سن کر نوف خاموشی سے اسے دیکھنے لگی، تو کیا وہ اس سے محبت کرنے لگی تھی۔۔۔۔ افراہیم نے نوف کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر اسے اپنے سے قریب کیا
"کل مجھے یہ جان کر بےحد خوشی ہوئی کہ میری وائف میرے لیے اپنے دل میں فیلینگز رکھتی ہے، اسے میری اداسی کی پرواہ ہے، وہ میری ساری پریشانیوں کو سمیٹنا چاہتی ہے۔۔۔ میرے دل میں کل بہت خوبصورت احساسات پیدا ہوئے جب تم خود سے میرے قریب آئی۔۔۔ مجھے اپنی لائف کلرفل محسوس ہوئی جب تم نے خود سے مجھے۔۔۔
افراہیم اپنی بات ادھوری چھوڑ کر نوف کو دیکھنے لگا
"کیا میں آج بھی امید کرسکتا ہوں کہ تم میری بچی کچی اداسی بھی ختم کردو"
وہ نوف کے مزید قریب آکر اس سے سوال کرنے لگا تو نوف کی نظر بےساختہ اس کے ہونٹوں پر گئی
"زیادہ اترانے کی ضرورت نہیں ہے آپ کو، جو ہوگیا سو ہوگیا اب ایسا ہر بار نہیں چلے گا"
نوف افراہیم کے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ چھڑوا کر سائیڈ سے نکلنے لگی مگر اس سے پہلے ہی افراہیم نے نوف کا چہرہ تھاما اور اس کے ہونٹوں کو چومتا ہوا پیچھے ہوا
"مگر ایسا تو اب بار بار چلے گا۔۔ اب زیادہ گھورو مت مجھے، 15 منٹ میں تیار ہوجاؤ تمہیں شاپنگ کروانا ہے چار سے پانچ کپڑوں میں تو گزارا نہیں ہوگا تمہارا،، اور بھی کپڑوں کے علاوہ جو بھی لینا ہے وہ لے لینا"
آج اس نے آفس میں ہی سوچ لیا تھا کہ وہ نوف کو اس کی پسند کے مطابق شاپنگ کروائے گا
"مگر آنٹی"
نوف کو خود بھی اندازہ تھا کہ صرف کپڑوں کی ضرورت نہیں ہوتی اسے دوسری بھی بہت سی ضرورت کی چیزیں چاہیے تھی مگر وہ یہ بات یہاں پر کس سے بولتی۔۔۔ جبھی افراہیم کے خود سے بولنے پر اس نے انکار بھی نہیں کیا مگر اسے نازنین کی بھی فکر تھی
"مما دو گھنٹے سے پہلے نہیں جاگے گیں، اور ہم بھی زیادہ دور نہیں جائیں گے میں نوری کو سمجھا کر جاؤنگا ڈونٹ وری"
افراہیم بولتا ہوا کمرے کا دروازہ کھولنے چلا گیا کیونکہ نوری اس کے لئے چائے لے آئی تھی جبکہ نوف نے صبح سے ہی لباس تبدیل نہیں کیا تھا وہ چینج کرنے چلی گئی
*****
"بہت ہی کوئی فضول قسم کی حرکتیں کرتے ہیں آپ افراہیم، کسی سیلز گرل سے اتنا کھلا ہوکر بات کی جاتی ہے"
نوف شاپ سے باہر نکلی تو شرم کے باوجود افراہیم کو ٹوکے بغیر نہیں رہ سکی
"جب تم ایک لڑکی ہو کر دوسری لڑکی سے شرما رہی ہو وہ بھی اپنی خود کی چیزیں لینے میں تو پھر مجھے ہی مداخلت کرنا تھی نہ بیچ میں اور ایسا کھلا ہوکر کیا بات کردی میں نے"
نوف کو کپڑے دلوانے کے بعد وہ دونوں مخصوص لیڈیز شاپ میں داخل ہوئے تھے جہاں نوف مسلسل ہچکچاتی ہوئی بہت آہستہ آواز میں سیلز گرل کو کچھ بول رہی تھی، اس کی آواز اتنی آئستہ تھی کے سیلز گرل کو تو کیا برابر میں کھڑے افراہیم کو بھی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا، کیوکہ اس شاپنگ کا اس کا یہ پہلا تجربہ تھا اس سے پہلے یہ ساری چیزیں اس کے لیے رخشی لےکر آتی تھی۔۔۔ جب سیلز گرل کنفیوز ہوکر افراہیم کو دیکھنے لگی تب افراہیم نے ایک ایک کرکے نوف کے لیے سیلز گرل سے ساری چیزیں نکلوائی
"اس ڈیزائن میں دکھاۓ۔۔ نہیں نیٹ کے اسٹف میں، یہ والا سائز صحیح رہے گا مگر کلر وہ والا نکال دیں۔۔۔ یہ سب باتیں کی جاتی ہیں اور اندر کلر اور ڈیزائن کون دیکھ رہا ہوتا ہے"
نوف غصے کے باوجود دبی ہوئی آواز میں افراہیم کی نقل اتارتی ہوئی اس کے کارنامے یاد دلانے لگی، جبکہ ساتھ چلتا ہوا افراہیم شاپنگ بیگز پکڑے نوف کی باتیں سنتا ہوا آخری بات پر بولا
"میں دیکھوں ناں یار"
افراہیم کی آواز پر نوف کے قدموں کو بریک لگی ہے وہ رک کر افراہیم کو گھور کر دیکھنے لگی
"اچھا یہاں تو مت گھورو لوگ کیا سوچیں گے بیوی نے مکمل طور پر روعب میں رکھا ہوا ہے بچارے کو،، یہ بتاؤ آلویز والا معاملہ ابھی فورا کا تو نہیں ہے ناں"
افراہیم اپنی ہنسی کنٹرول کرتا ہوا نوف سے پوچھنے لگا۔۔۔ جس پر نوف شرم سے سرخ ہوگئی اور مال سے باہر کا رخ کرنے لگی
"ارے ابھی کہاں جارہی ہو ابھی شوز، کاسمیٹک اور بھی بہت سے سامان باقی ہے"
"مجھے اور کچھ نہیں لینا، نہ ہی میں دوبارہ کبھی آپ کے ساتھ آؤگی کتنا فضول بولے جارہے ہیں آپ"
نوف ناراض لہجے میں شکوہ کرتی ہوئی بولی
"فضول تھوڑی کام کی بات پوچھ رہا ہوں اچھا سوری۔۔۔ یہاں دیکھو یمنہ پلیز شاپنگ تو کمپلیٹ کرلو باقی کا گھر چل کر ناراض ہوجانا"
افراہیم نوف کو مناتا ہوا شوز کی شاپ میں لے آیا جہاں نوف نے ایک سلیپر نکلوا کر چیک کی
"لائیے میم اسٹیٹ میں بند کردیتا ہوں" سیلزمین کے بولنے پر نوف نے اس کو انکار کردیا کیونکہ شوز اور چوڑیاں وہ کسی دوسرے سے نہیں پہنتی تھی نوف شو کے اسٹیپ بند کرنے کے لئے خود ہی جھکنے لگی
"ایک منٹ رکو"
افراہیم نوف کو بولتا ہوا سارے شاپرز ایک جگہ پر رکھ کر، خود جھک کر اس خیال سے اس کے شو کے اسٹیپ بند کرنے لگا کیوکہ نوف کو جھکنے سے پہلے اپنا دوپٹہ درست کرنا پڑتا۔۔۔ نوف غور سے افراہیم کو دیکھنے لگی جو نیچے جھکا ہوا اسی کے شو کے اسٹیپ بند کررہا تھا،، اسے دس سال پہلے وہ منظر یاد آیا جب افراہیم فون پر بات کرتا ہوا اپنے جوتوں کی طرف اشارہ کر کے نوف سے لیس بند کروا رہا تھا۔۔۔ دس سال پہلے والا مغرور لڑکا جو اپنے خود کے جوتوں کے لیس بند کرنا اپنی توہین سمجھ رہا تھا آج اسی کے جوتے کے اسٹیپ بند کررہا تھا
"لیجئے میم بند ہوگئے اسٹیپ اور خوش ہوجائیے کہ اپنی لائف میں فرسٹ ٹائم کسی لڑکی کے آگے جھکا ہے افراہیم عباد"
افراہیم کھڑا ہوکر نوف کو جتانے والے انداز میں بولا
"اور یوں حساب برابر ہوا"
نوف بہت آہستہ آواز میں بولی مگر افراہیم اس کا جملہ سن چکا تھا
"کون سا حساب"
افراہیم ناسمجھنے والے انداز میں نوف سے پوچھنے لگا تو وہ ایک دم گڑبڑا گئی
"بل پے کردیں شاپرز کافی جمع ہوگئے ہیں میرے خیال میں ہمیں واپسی کرنی چاہیے"
نوف بات بناتی ہوئی بولی گھر سے نکلے ہوئے ان لوگوں کو پورے دو گھنٹے گزر چکے تھے
"تم وہ سامنے والی شاپ پر جاؤ میں یہ سارے شاپرز رکھ کر بس آتا ہوں تھوڑی دیر میں"
افراہیم نوف سے بولتا ہوا سارے شاپرز لےکر شاپ سے باہر نکل گیا
نوف کو لگا شاید افراہیم کو اپنے لئے کوئی چیز لینا ہوگی مگر اس شاپ میں لیڈیز کی بےشمار بیگز کاسمیٹک اور دیگر چیزیں موجود تھیں۔۔۔ کاسمیٹک سے تو اس کو کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی وہ اپنے لئے پرفیومز دیکھنے لگی
"نوف"
اپنے اصلی نام کی پکار سن کر وہ ایک دم چونکی اور پکارنے والے شخص کو حیرت سے دیکھنے لگی جس کو وہ آج پہلی بار دیکھ رہی تھی
آج صبح بیدار ہونے کے بعد اسے ازلان کی بات پر غصہ آیا تھا جب ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد اس نے باہر جانے کے لیے پر تولے تھے اور ساتھ ہی بیلا سے عجیب و غریب فرمائش بھی کی
"کیا مطلب ہے تمہاری بات کا، مجھے تو تمہاری بات سرے سے ہی سمجھ نہیں آئی ازلان یعنی تم یہاں خود اکیلے گھومنے کے لیے اور مجھے یہاں فیضی کے ساتھ گھومانے کے لیے لاۓ ہو"
بیلا ازلان کی بات سن کر بگڑتی ہوئی بولی
"کیا فضول بول رہی ہو تم، مجھے یہاں گھومنے پھرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا ہے بلکہ کسی اسائینمنٹ کے لیے بھیجا گیا ہے بتایا تو تھا میں نے کل رات تمہیں"
ازلان بیلا کی بات پر اس کو تحمل سے سمجھاتا ہوا بولا
"ہاں تو تم اپنا اسائینمنٹ مکمل کرو ناں اس میں مجھے کیوں گھسیٹ رہے ہو بس مجھے کہیں نہیں جانا فیضی کے ساتھ"
بیلا ازلان کو بولتی ہوئی صوفے پر جا بیٹھی ازلان چلتا ہوا اس کے پاس آیا
"اب میری بات کو غور سے سنو بیلا۔۔۔ جیسا میں نے تمہیں بولا ہے تم بالکل ویسا کرو گی ٹھیک شام کے 5 بجے تم ہوٹل کے روم سے باہر نکل کر ہوٹل کے سامنے کافی شاپ پر پہنچوں گی،، جہاں فیضی پہلے سے موجود ہوگا یا تھوڑی دیر بعد وہ اس کافی شاپ پر پہنچے گا،، تم اس سے کوئی بھی سوال جواب نہیں کروں گی وہ جیسا بولے گا تم ویسے ہی کروں گی اوکے"
ازلان ایک بار پھر بیلا کو سب کچھ سمجھاتا ہوا بولا اور ہوٹل کے کمرے سے باہر نکل گیا
وہ اس وقت ہوٹل کے سامنے چھوٹے سے کافی شاپ میں بیٹھی ہوئی فیضی کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔ ایسے ہی فضول میں بیٹھ کر اسے اسے فیضی کا انتظار کرنا عجیب لگ رہا تھا تب ہی اس نے اپنے لیے کافی منگوالی، کافی پیتے ہوۓ وہ کل رات والا واقعہ سوچنے لگی
جب اچانک ہوٹل کے روم کے دروازے پر دستک سے وہ خوفزدہ ہوگئی تھی کیوکہ پچھلے بیس منٹ سے اس آدمی کی لاش ویسے ہی بیڈ پر پڑی ہوئی تھی
ازلان کے دروازہ کھولنے پر فیضی کے ساتھ ایک اور لڑکا وہیل چئیر لے کر کمرے میں داخل ہوا۔۔۔ یونیفارم سے وہ لڑکا اسی ہوٹل کا ویٹر لگ رہا تھا جو بیڈ پر موجود لاش کو اس نے وہیل چیئر پر بٹھا رہا تھا جبکہ ازلان فیضی کے ساتھ کمرے کے کونے میں کھڑا ہلکی آواز میں اسے کچھ بتارہا تھا
بیلا صوفے کے اوپر دونوں پاؤں جوڑے بیٹھی ساری کاروائی خاموشی سے دیکھ رہی تھی۔۔۔ تھوڑی دیر بعد جب وہ ویٹر اور فیضی اس آدمی کی لاش کو کمرے سے لے کر چلے گئے، تب ازلان نے صوفے پر بیٹھتے ہوۓ اسے بتایا کہ وہ دونوں تھوڑی دیر میں اس ہوٹل کے روم سے چیک آؤٹ کرنے والے ہیں۔۔۔ اس وقت ازلان بیلا کو کسی چھوٹے بچے کی طرح ٹریٹ کررہا تھا کیوکہ وہ کافی زیادہ خوفزدہ تھی۔۔۔ تب ازلان اپنا اور بیلا کا سارا سامان بیگ میں ڈال کر اس ہوٹل سے دوسرے ہوٹل میں شفٹ ہوگیا تھا
"چلئے میم، ازلان سر آپ کا ویٹ کررہے ہیں"
بیلا اپنے خیالات سے نکل کر اپنے آپ سے مخاطب ہونے والے انسان کو دیکھنے لگی
فیضی انجان بنا ہوا اس کے ٹیبل کے پاس کھڑا ہوا بیلا سے بولا، بیلا اسے کوئی جواب دئیے بناء کرسی سے اٹھ گئی۔۔۔ فیضی کافی شاپ سے باہر نکل کر گاڑی میں بیٹھا تو بیلا کو بھی اس کی دیکھا دیکھی اسی گاڑی میں بیٹھنا پڑا مگر وہ فرنٹ سیٹ کی بجائے بیک سیٹ پر بیٹھ گئی تو فیضی نے کار اسٹارٹ کردی
پچھلے ڈیڑھ گھنٹے کے بعد گاڑی ایک سنسان جگہ پر رکی جہاں دور دور تک آبادی کا نام و نشان نہیں تھا ایک گنجان علاقے میں صرف ایک بلڈنگ موجود تھی، کار کے رکنے پر بیلا فیضی کو دیکھنے لگی جو کار سے نیچے اتر کر بیلا کی طرف کا سائیڈ ڈور کھولتا ہوا اسے بلڈنگ کی طرف چلنے کا اشارہ کرنے لگا۔۔۔
یہ بلڈنگ کیونکہ انڈر کنسٹرکشن تھی اس لیے سیڑھیوں پر کافی اندھیرا تھا فلیش لائٹ کی مدد سے بیلا فیضی کے پیچھے سیڑھیاں چڑھ رہی تھی مگر اندر ہی اندر کہیں اسے انجانے خوف نے گھیرا ہوا تھا آجر ازلان نے اسے ایسی عجیب و غریب جگہ پر کیو بلوایا تھا
"مجھے آپ کو یہاں تک پہنچانے کا آرڈر ملا ہے، اس دروازے سے اندر آپ کو خود جانا ہوگا"
فیضی کی بات سن کر بیلا کنفیوز ہوکر اس بند دروازے کو دیکھنے لگی نیچے والے فلور کے برعکس بلڈنگ کا یہ حصہ روشن تھا اور دیکھنے میں محسوس ہورہا تھا کہ یہ حصہ زیر استعمال بھی ہے۔۔۔ بیلا نے دروازہ کھول کر اندر قدم رکھا جو بڑا سا ہال نما سا کمرا تھا
"کک کون ہے وہاں۔۔۔ ازلان"
سامنے بڑے سے ٹیبل کے ساتھ چیئر پر کوئی بیٹھا ہوا تھا مگر اس چیئر کا رخ اس کے مخالف سمت دیوار کی طرف تھا بیلا کو صرف کرسی پر بیٹھے ہوئے شخص کے بال نظر آرہے تھے ہوئی۔۔۔۔ جواب نہ ملنے کی صورت میں بیلا کو چل کر اس کرسی کے پاس آنا پڑا
"بی لا"
کرسی پر بیٹھے ہوئے شخص کو دیکھ کر پہلے تو اس کی آنکھیں خوف کے مارے بری طرح پھیلی۔۔۔ اصفر نے ٹوٹے ہوئے لفظوں کے ساتھ اس کا نام پکار کر اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھانا چاہا تو بیلا دہشت کے مارے زور سے چیخ مارتی ہوئی حواس باختہ ہوکر دروازے کی طرف بھاگی
****
اپنے سامنے کھڑے شخص کو وہ بالکل بھی نہیں جانتی تھی مگر کسی اجنبی کے منہ سے اپنا اصلی نام سننا اس کے لئے خطرے کی علامت ثابت ہوسکتا تھا کیونکہ نوف جہاں سے فرار ہوکر آئی تھی یعنی روبی اس کا اصلی نام جانتی تھی۔۔۔ نوف کی قسمت اچھی تھی اس شخص نے جیسے ہی نوف کو اس کے اصلی نام سے پکارا ویسے ہی اس شاپ میں موجود دوسرا کسٹمر اس شخص سے بری طرح ٹکرا گیا۔۔۔ جس کے نتیجے میں اس کسٹمر کے ہاتھ میں موجود سامان نیچے فرش پر گر گیا۔۔۔ اس شخص کی توجہ نوف کی جانب سے جیسے ہی ہٹی، تو نوف نے اس بات کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں سے فرار ہونے کی ٹھانی
اس شخص نے نوف کو تیزی سے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر فلور پر جاتا ہوا دیکھا تو وہ خود بھی نوف کے پیچھے بھاگا
نوف گھبراہٹ میں مال سے باہر نکلنے کی بجائے سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اوپر فلور پر پہنچی،، نوف نے اس شخص کو بھی اپنے پیچھے آتا ہوا دیکھ لیا تھا۔۔۔ نہ جانے افراہیم اس کو کیوں اکیلا چھوڑ کر چلا گیا تھا اوپر فلور بالکل سنسان تھا وہاں موجود تمام شاپ کے شرٹس بند تھے نوف کو رونا آنے لگا
"نوف میری بات سنو"
وہ شخص نوف کے قریب آتا ہوا اسے بولا
"دیکھو میرے قریب مت آنا مجھے یہاں سے جانے دو"
نوف اس شخص کو اپنی جانب بڑھتے ہوئے دیکھ کر گھبراتی ہوئی بولی
"تم پریشان مت ہو نہ ہی تمہیں مجھ سے ڈرنے کی ضرورت ہے۔۔۔ میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤ گا بلکہ میں تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں"
وہ شخص بولتا ہوا نوف کے قریب بڑھ رہا تھا ساتھ ہی اس نے اپنی پاکٹ کی طرف ہاتھ بڑھا کر کچھ نکلنا چاہا
"میں کہتی ہوں وہی رک جاؤ ورنہ میں نیچے چھلانگ لگا دو گی"
وہ شخص نوف کو کوئی پراسرار لگا جبھی نوف اسے دھمکی دیتی ہوئی بولی مگر اس لمحے اس کی جان میں جان آگئی جب نوف نے سامنے سے افراہیم کو آتا ہوا دیکھا، وہ اس شخص کی توجہ افراہیم کی طرف نہیں دلانا چاہتی تھی اس لئے اس نے اپنے چہرے کے تاثرات ویسے ہی رکھے
"تمہارے یہاں سے چھلانگ لگانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، میں تمہیں تمہارے۔۔۔۔
اس سے پہلے وہ شخص اپنا جملا مکمل کرتا افراہیم نے ہاتھ میں موجود روڈ اس کے سر پر ماری۔۔۔ وہ شخص پلٹ کر افراہیم کو دیکھ بھی نہیں پایا، آنکھوں کے آگے چھاۓ اندھیرے کی وجہ سے وہ بےہوش ہوکر زمین پر گر پڑا
"افراہیم"
نوف روتی ہوئی افراہیم کے سینے سے لگی،،، آج اگر افراہیم وقت پر نہ آتا تو وہ نہ جانے کہاں ہوتی نوف خوف سے سوچنے لگی
"کون ہے یہ اور تم اس سے اتنا ڈر کیو رہی تھی"
افراہیم نوف کو پریشان دیکھ کر اس سے پوچھنے لگا،، جب وہ سارے شاپرز گاڑی میں رکھ کر نوف کے پاس شاپ پر پہنچا تو افراہیم کو شاپ کیپر سے معلوم ہوا اس نے نوف کو سیڑھیوں سے اوپر جاتا دیکھا تھا، اسی شاپ کیپر نے افراہیم کو بتایا اسی لڑکی کے پیچھے ایک لڑکا بھی سیڑھوں سے اوپر گیا تھا۔۔۔ افراہیم وقت ضائع کیے بغیر سیڑھیوں سے اوپر پہنچا سیڑھی پر موجود سریوں میں سے ایک سریہ اٹھایا۔۔۔ اس آدمی کو نوف کے قریب آتا دیکھ کر اور نوف کو گھبراتا ہوا دیکھ کر افراہیم نے بناء کوئی اس آدمی سے بات کیے اس کے سر پر وار کردیا
"میں نہیں جانتی اسے، لیکن اگر آپ یہاں پر نہیں پہنچتے تو یہ آدمی مجھے اپنے ساتھ لے جاتا"
نوف ڈرتی ہوئی افراہیم سے بولی،، افراہیم نے اس کے گرد بازوؤں کا گھیرا مضبوط کیا
"افراہیم عباد کی بیوی ہو تم، سڑک پر پڑا ہوا کوئی مفت کا مال نہیں جو ایسے ہی تمہیں کوئی اپنے ساتھ اٹھاکر لے جاۓ گا۔۔۔ چلو یہاں سے باقی کی شاپنگ بعد میں کرلیں گے نوری کی کال آگئی ہے مما جاگ چکی ہیں پہلے سے اب بہتر ہے ان کی طبیعت"
افراہیم نوف کو بولتا ہوا بےہوش پڑے اس آدمی پر نظر ڈال کر نوف کو وہاں سے لےکر جانے لگا
نوف افراہیم کا بازو مضبوطی سے پکڑے ایسے اس کے ساتھ چل رہی تھی جیسے کوئی اس کو تنہا یا مجبور لڑکی سمجھ کر دوبارہ اس کے پاس نہ آجائے،،، وہ اس وقت مال میں موجود ہر فرد پر یہ ظاہر کرنا چاہتی تھی وہ اکیلی ہرگز نہیں تھی اس کا محافظ اس کے ساتھ تھا
"ریلکس ہو جاؤ یمنہ اب ہم اپنے گھر جارہے ہیں"
وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ چکے تھے مگر اس کے باوجود نوف کے چہرے پر خوف کی پرچھائیاں رقصاں تھی تبھی افراہیم گاڑی ڈرائیو کرتا ہوا اسے دیکھ کر بولا
"میں نے بہت بڑی غلطی کردی آج گھر سے باہر نکل کر اب میں کبھی بھی کہیں نہیں جاؤں گی، افراہیم پلیز آپ مجھے اب کبھی بھی کہیں مت لےکر جائیے گا"
وہ اس وقت بےحد ڈری ہوئی تھی،، آج کتنے دن گزرنے کے بعد وہ گھر سے باہر نکلی تھی اور ویسے ہی اس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا،، اب تو گھر سے باہر نکلنے سے اسے ڈر لگنے لگا تھا۔۔۔ اگر اس کے ساتھ کچھ ہوجاتا اگر افراہیم بروقت اس کے پاس نہیں پہنچتا تو وہ کیا کرتی۔۔۔ افراہیم کا گھر ہی اس کی اصل پناہ گاہ تھی جہاں وہ سکون سے محفوظ رہ سکتی تھی
"کیا ہوگیا ہے یار ایسا تو ممکن نہیں ہے کہ ہم دونوں ایک ساتھ کہیں گھر سے باہر ہی نہ نکلیں۔۔۔ اس دنیا میں گھٹیا قسم کے لوگ ہر جگہ پائے جاتے ہیں جو لڑکیوں کو اکیلا دیکھ کر اپنی اوقات دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ تم اپنے آپ کو گھر میں قید کرلو۔۔۔ میں ہوں ناں تمہارے ساتھ تمہیں کیا لگتا ہے میرے ہوتے ہوئے کوئی تمہارے ساتھ کچھ بھی غلط کرسکتا ہے"
افراہیم نوف کو سمجھاتا ہوا بولا تو وہ خاموش رہی
ایک بار وہ گھر سے بھاگی تھی تب اس کو ازلان کا موبائل نمبر زبانی یاد نہیں تھا جس کا خمیازہ اس نے کیسے برداشت کیا تھا وہ اب تک اپنے بھائی کی صورت نہیں دیکھ پائی تھی۔۔۔۔ شاید اب اس کو افراہیم کا نمبر زبانی یاد کرلینا چاہیے تھا بےشک افراہیم کہہ رہا تھا کہ وہ اس کے ساتھ ہے مگر برے وقت کا کچھ بھروسہ نہیں ہوتا،، وہ اپنی سوچوں میں جانے کہاں سے کہاں نکل گئی تھی یہاں تک کہ افراہیم کے ہاتھ کا لمس وہ اپنے ہاتھ پر محسوس بھی نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔ افراہیم اس کے خوف کو سمجھ گیا تھا اسے معلوم تھا اب جب تک گھر نہیں آجاتا وہ اسی طرح بےچین اور پریشان رہے گی
*****
اصفر کو اپنے سامنے دیکھ کر وہ اتنی بری طرح خوفزدہ تھی کہ چیختی ہوئی دروازے کی جانب بھاگی مگر اس کمرے سے باہر نکلنے سے پہلے دروازے کے سامنے کھڑے شخص سے وہ بری طرح ٹکرائی
"بیلا سنبھالو خود کو میں یہی ہوں تمہارے پاس"
بیلا کا پورا وجود خوف سے بری طرح کانپ رہا تھا ازلان سے اپنے حصار میں لیتا ہوا بیلا سے بولا
"ازلان وہ بھی یہی موجود ہے پلیز مجھے یہاں سے لے چلو"
بیلا نے اصفر کو دوبارہ پلٹ کر نہیں دیکھا وہ خوف کے مارے ازلان کے سینے میں چہرہ چھپاتی ہوئی بولی تو ازلان نے اس کا چہرا تھام کر اونچا کیا جو اس وقت پسینے سے شرابور ہوچکا تھا
"میں نے تم سے کہاں تھا ناں تمہارے ساتھ اب کوئی بھی شخص کچھ غلط نہیں کرسکتا، میرے ہوتے ہوئے کوئی تم پر بری نظر نہیں رکھ سکتا"
وہ بیلا کا خوف سے زرد پڑتا چہرہ دیکھ کر دوبارہ بولا پھر ایک نظر اس نے اصفر پر ڈالی جو اپنے وجود کو ہاتھوں کی مدد سے زمین پر گھسیٹتا ہوا انہی کے پاس آرہا تھا کیونکہ ازلان نے اس کے دونوں پاؤں کو اس قابل نہیں چھوڑا تھا کہ وہ زمین پر اپنے پیروں سے چل پاتا
"کیوں بلایا ہے تم نے مجھے یہاں پر"
بیلا ڈر کے مارے اس وقت ازلان سے چپک کر کھڑی تھی ازلان نے اسے مکمل اپنے حصار میں لیا ہوا تھا وہ ازلان کو دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی
"تاکہ آج تم اپنی آنکھوں کے سامنے اس غلیظ آدمی کا انجام دیکھ سکو، جس نے دس سال پہلے تمہیں اذیت پہنچائی تھی جس کی وجہ سے تم آج بھی وہ سب یاد کرکے تکلیف میں مبتلا ہوجاتی ہو"
ازلان کے بولنے پر بیلا ہمت کرتی ہوئی اصفر کو دیکھنے لگی جو زمین پر رینگتا ہوا اسی کی جانب آرہا تھا وہ ایک بار پھر ازلان کے سینے سے لگ کر رونے لگی
"مجھے کچھ نہیں دیکھنا ازلان، اس وقت میری حالت کو سمجھو۔۔۔ میں واپس جانا چاہتی ہوں پلیز مجھے یہاں سے لے چلو"
بیلا روتی ہوئی ازلان سے بولنے لگی
"بےلا۔۔۔ مم مجھے ما۔۔۔ معاف کر دو"
بیلا کو اپنے قریب سے اس اصفر کی آواز سنائی دی ساتھ ہی وہ تکلیف سے کراہ بھی رہا تھا۔۔۔ اس کے پیروں سے بہتے ہوئے خون کی وجہ سے زمین پر خون سے ایک لمبی لکیر سی بن گئی تھی
"تم مجھے معاف نہیں کرو گی تو یہ مجھے مار ڈالے گا، اس نے میرے دونوں پاؤں بےکار کر ڈالے ہیں پلیز میری حالت دیکھو ترس کھاؤ مجھ پر"
اصفر نے معافی مانگتے ہوئے بیلا کے پاؤں پکڑنے چاہے تو وہ ڈر کے مارے تیزی سے پیچھے ہوئی جبکہ ازلان نے جھک کر اصفر کا سر بالوں سے پکڑ کر چہرہ اونچا کیا
"تمہیں اس وقت 9 سال کی بچی پر ترس آیا تھا جب تم جانور بنے ہوئے بےرحمی کے ساتھ اس کے ساتھ جانوروں سے بھی برا سلوک کررہے تھے،، اپنی حوس کا نشانہ بناتے وقت اس کی حالت پر رحم آیا تھا تمہیں بلکہ تم نے اس کی جان لینی چاہی تاکہ یہ تمہارا غلیظ اور مکروہ چہرا دنیا کو نہ دکھا سکے۔۔۔ تم تو اسی قابل ہو کہ تم سے جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جائے"
ازلان نے بولتے ہوئے زور سے اس کا سر زمین پر مارا اور خود ٹیبل کی طرف بڑھا جبکہ بیلا ایک طرف پلر کے ساتھ کھڑی ہوئی سسک رہی تھی
"بیلا تم اسے کہہ دو یہ مجھے چھوڑ دے،، ورنہ یہ مار ڈالے گا مجھے۔۔۔ اس نے مجھ سے کہا تھا اگر بیلا نے تمہیں معاف کردیا تو یہ میری جان بخش دے گا تم خدارا مجھے معاف کردو"
ازلان رسی کی مدد سے اصفر کے ہاتھ پاؤں باندھنے کے بعد اب رسی اس کے گلے میں ڈال رہا تھا تب اصفر بیلا کو دیکھ کر گڑگڑاتا ہوا بولا
"اس کو چھوڑ دو ازلان یہ اپنے گناہ پر نادم ہے"
اصفر کو روتا گڑگڑاتا ہوا دیکھ کر اور ازلان کو غصے میں دیکھ کر بیلا ازلان سے بولی تو ازلان بیلا کو غصے سے دیکھنے لگا
"بھول گئی ہو اس اذیت کو جو اس نے تمہیں پہنچائی تھی،، اتنی آسانی سے معاف کردو گی تم اس بےغیرت آدمی کو"
ازلان بیلا کی بات سن کر غصے میں اس سے پوچھنے لگا۔۔۔ بیلا کی بات سن کر شاید اب اسے بیلا پر بھی غصہ آرہا تھا۔۔۔
بیلا ازلان کی بات پر خاموش رہی تو وہ اصفر کو رسی کی مدد سے کسی جانور کی طرح کھینچتا ہوا اس دیوار تک لایا جس دیوار پر ایک نوکدار سریا باہر کی طرف نکلا ہوا تھا ازلان اصفر کے گلے میں بندھی ہوئی رسی اس سریہ سے سے باندھنے لگا
"مجھے معاف کردو بیلا اسے کہہ دو یہ مجھے چھوڑ دے میں مر جاؤں گا"
اصفر نے روتے ہوئے زور زور سے چیخنا شروع کردیا
"ازلان میں نے اس کو معاف کردیا ہے چھوڑ دو اس کو پلیز"
بیلا خود بھی گھبراتی ہوئی ڈرتی ہوئی ازلان سے بولی
"تم نے اس کو معاف کردیا مگر میں نے اس کو معاف نہیں کیا۔۔۔ اس نے ڈی این اے کی جعلی رپورٹ بنوائی اس رات ذلیل حرکت اس نے کی، جس کا الزام میرے اوپر آیا میرا باپ یہی سمجھ کے مر گیا کہ اس کا بیٹا زانی ہے اس کی وجہ سے مجھے چند ماہ جیل میں کس اذیت سے گزرنا پڑا یہ صرف ہی جانتا ہوں۔۔۔ آج اگر میں اپنی ماں اور بہن کے پاس ہوتا تو میری ماں یوں صدمے سے نہ مرتی، میری بہن اپنی عزت بچانے کی خاطر جانے کہاں در در بھٹک رہی ہوگی۔۔۔ اس کی جھوٹی بنائی گئی رپورٹ سے میرے اوپر الزام سچ ثابت ہوگیا۔۔ اس کی وجہ سے میرے گھر کا شیرازہ بکھر گیا اس کو میں قیامت کے دن بھی نہیں بخشوں گا"
ازلان نے جنونی انداز میں بولتے ہوئے اصفر کے گلے میں ڈالی ہوئی رسی اس سریے سے زیادہ اونچی نہیں باندھی تھی اصفر کے دونوں پاؤں زمین کو چھو رہے تھے۔۔۔ ازلان نے ٹیبل کے نیچے سے وہی لکڑی کا موٹا سا ڈنڈا اٹھایا جس پر چاروں طرف نوک دار کیلے لگی ہوئی تھی اسی ڈنڈے سے اس نے تھوڑی دیر پہلے اصفر کے دونوں پاؤں بری طرح زخمی کیے تھے۔۔۔ وہ ڈنڈا دوبارہ ازلان کے ہاتھ میں دیکھ کر اصفر خوفزدہ ہوکر مذید بری طرح رونے لگا
"اب اگر تمہارے دونوں پاؤں اس زمین پر ٹچ ہوئے تو میں تمہارا بہت برا حشر کروں گا"
ازلان نے ہاتھ میں لکڑی کا ڈنڈا پکڑے ہوۓ اصفر کو دھمکی دی لیکن اگر وہ اپنے پاؤں اوپر کرتا تو رسی سے باندھا ہوا اس کا گلا گھٹنے لگتا پاؤں نیچے کرنے کی صورت میں ازلان نے اس کے دونوں پاؤں پر ڈنڈے برسانا شروع کردیے جس سے اصفر کی دردناک چیخیں پوری عمارت میں گونجنے لگی
وہ درد سے تڑپتا ہوا ازلان سے معافی مانگ رہا تھا لیکن اس وقت ازلان بےرحم بنا ہوا اس کے دونوں پاؤں پر ڈنڈے مار رہا تھا۔۔۔ اصفر کی چیخوں کے ساتھ بیلا کے رونے کی آواز بھی کمرے میں گونج رہی تھی۔۔۔ وہ دونوں ہاتھوں میں اپنا چہرہ چھپاکر بری طرح رو رہی تھی۔۔۔ اصفر زیادہ دیر تک تکلیف برداشت نہیں کر پایا تھا اس کی گردن آگے کی طرف مکمل طور پر جھک چکی تھی اور جسم بےجان ہوچکا تھا اب کمرے میں صرف بیلا کے رونے کی آواز گونج رہی تھی

دور کہیں سے آتی فجر کی اذان کی آواز پر اس کا ذہن بیدار ہونا شروع ہوا رات بھر ایک ہی پوزیشن میں لیٹنے کی وجہ سے اس کا جسم درد کرنے لگا تھا سیدھے لیٹنے کی کوشش میں جسم کے اندر درد کی لہر ابھری تو وہ دانتوں تلے نچلا ہونٹ دبا کر منہ سے نکلنے والی سسکی کو روکنے لگی، ساتھ ہی اس نے برابر میں لیٹے گہری نیند میں سوئے ہوئے اپنے شوہر پر افسوس بھری نظر ڈالی جو بنا شرٹ کے دوسری جانب رخ کیے لیٹا ہوا یقینا پرسکون نیند کے مزے لے رہا تھا کیونکہ وہ کل رات اپنی ساری تھکن اس کے اندر منتقل کرچکا تھا
"آئستہ آئستہ کل رات والا منظر کسی فلم کی طرح اس کے ذہن کے پردے پر چلنا شروع ہوا،، کل رات نیند میں وہ خواب میں بری طرح ڈر گئی تھی کیونکہ کل رات اس نے اپنے خواب میں عدنان، روبی اور روحیل کو اپنے پیچھے بھاگتے ہوئے دیکھا، وہ ان تینوں سے بچنے کے لئے دیوانہ وار کسی جنگل میں بھاگ رہی تھی اور وہ تینوں انسانی روپ سے بھیڑیے کی شکل اختیار کرتے ہوئے اس کا پیچھا کررہے تھے
"یمنہ کیا ہوا"
نوف کے نیند میں بری طرح چیخنے پر برابر میں لیٹا ہوا افراہیم نہ صرف نیند سے بےدار ہوا تھا بلکہ اٹھ کر بیٹھتا ہوا وہ نوف سے اس کے چیخنے کی وجہ پوچھنے لگا
"افراہیم وہ لوگ میرا پیچھا کررہے تھے، میں بھاگتے بھاگتے گر گئی تھی وہ تینوں مجھے گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ لے جارہے تھے، مجھے کہیں نہیں جانا افراہیم۔۔۔ مجھے اب آپ کے پاس سے کہیں بھی نہیں جانا"
نوف خود بھی اٹھ کر بیٹھ چکی تھی اور بری طرح گھبرائی ہوئی افراہیم کو اپنا خواب سنانے لگی تو افراہیم نے اس کے سہمے ہوۓ وجود کو اپنے اندر چھپالیا
"یار آج ایک چھوٹا سا واقعہ کیا ہوگیا تم نے اس کو اپنے ذہن پر سوار کرلیا تمہیں ایسا لگ رہا ہے کہ میں ایسا کسی کو ایسا کرنے دوں گا یا میں تمہیں خود سے دور جانے دوں گا"
افراہیم جانتا تھا وہ آج شام مال میں ہوۓ واقعہ سے بری طرح ڈر گئی تھی اس لیے وہ اپنی بیوی کو اپنی پناہوں میں محفوظ کرتا ہوا اسے اپنے ساتھ کا یقین دلانے لگا
"افراہیم آپ مجھ سے وعدہ کریں، میرا ساتھ کبھی نہیں چھوڑیں گے یا مجھے کبھی خود سے جدا نہیں کریں گے۔۔۔ چاہے زندگی میں ایسا کوئی بھی موڑ آۓ، کسی بھی طرح کا آپ پر انکشاف ہو پلیز آپ مجھے خود سے کبھی بھی جدا مت کریئے گا"
نوف افراہیم کی پناہوں میں اپنے آپ کو محفوظ تصور کرکے خود بھی اپنے بازو افراہیم کے گرد لپیٹتی ہوئی اس سے بولی
"ایسا خیال کیوں آیا تمہارے دل میں کہ میں تمہارا ساتھ چھوڑ دوں گا۔۔۔ میں نے تم سے رشتہ اس لیے نہیں جوڑا ہے کہ تمہیں خود سے دور کردو،، ہم دونوں کا رشتہ اتنا کچا ہرگز نہیں ہے کہ کسی بھی نازک موڑ پر کمزور پڑجائے، یہ سارے وہم اور خیالات آج اپنے دل سے نکال دو کہ میں تمہیں کبھی خود سے جدا کرو گا"
افراہیم نوف سے بولتا ہوا اسے اپنی پناہوں سے آزاد کئے بغیر بیڈ پر لیٹ چکا تھا
"مجھے آج ہم دونوں کے اس رشتے کو وہ مان بخشنے دو جس پر تم نے شادی کے پہلے دن سے مجھ سے بلاوجہ کا گریز برتا ہوا ہے"
افراہیم بولتا ہوا نوف کی گردن پر جھک کر اپنے پیار کی مہر ثبت کرتا چلاگیا
"افراہیم نہیں پلیز"
نوف نے بولنے کے ساتھ افراہیم کو خود سے دور کرنے کی کوشش کی تو افراہیم اس کی کمر کے گرد سے اپنے لپٹے ہوئے بازو نکال کر اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو نوف کے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں پھنساتا ہوا بولا
"یمنہ پلیز آج منع مت کرنا مجھے"
آج وہ خود سے افراہیم کے پاس آکر اس کے جذبات کو بری طرح جگا چکی تھی پھر بھلا وہ کیوں اپنے جائز حق کو اپنانے سے پیچھے ہٹتا
افراہیم نوف کے اعتراض کرنے پر اس کو ٹوکتا ہوا اس کے ہونٹوں پر جھک گیا، اپنی سانسیں اس کی سانسوں میں منتقل کرنے لگا۔۔۔ نوف میں بنا کچھ بولے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو اس کے ہاتھوں کی انگلیوں سے نکالنا چاہا جس میں وہ کامیاب نہیں ہوسکی، نوف کی مزاہمت کی پرواہ کیے بغیر وہ ایک کے بعد ایک من مانیوں کرتا ہوا اس پر مکمل قابض ہوچکا تھا۔۔۔ شرم کے سارے پررے ہٹتے گئے تو نوف نے مزاہمت ترک کرکے اپنے آپ کو افراہیم کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔۔۔ آہستہ سے وہ نوف کی روح تک سرائیت کرتا ہوا اس کو چاروں خانے چت کر چکا تھا۔۔۔ نوف کے سارے الفاظ زبان پر آنے سے پہلے ختم ہوگئے اس کے سارے اعتراضات دھرے کے دھرے رہ گئے۔۔۔ وہ اپنی مرضی چلا کر نوف اور اپنے رشتے کو اس کا اصل مقام دے چکا تھا جس کے بعد نوف اپنے سارے آنسو اپنے اندر اتار کر دوسری طرف کروٹ لےکر لیٹ گئی
"یمنہ یہاں دیکھو میری بات سنو"
مدہوشی کا دور اختتام پذیر ہوا تو افراہیم چادر نوف کے کندھے تک ڈالتا ہوا اسے نرمی سے اپنی طرف کھینچتا ہوا بولا
"افراہیم اب سونے دیں مجھے پلیز"
نوف اپنے کندھے سے افراہیم کا ہاتھ ہٹاتی ہوئی بولی
رات والا منظر یاد کرکے نوف ناراض نظر افراہیم پر ڈال کر بیڈ سے اٹھتی ہوئی واش روم کا رخ کرنے لگی
*****
"اب کیسا محسوس کررہی ہیں آپ" افراہیم آج آفس جانے سے کے لئے تیار ہونے سے پہلے صبح کے وقت ڈائیننگ روم میں ناشتہ کرتا ہوا نازنین کو دیکھ کر پوچھنے لگا
"جس کا بیٹا اپنی ماں کا اتنا خیال رکھتا ہو اور اس کو بہو بھی اتنا خیال رکھنے والی ملی ہو وہ کیسا محسوس کرسکتی ہے"
نازنین محبت بھری نظروں سے کرسی پر بیٹھے افراہیم کو دیکھنے کے بعد ٹیبل پر ناشتہ سرو کرتی ہوئی نوف کو دیکھ کر بولی۔۔ افراہیم مسکرا کر نازنین کو دیکھنے کے بعد اپنے پاس کھڑی نوف کو دیکھنے لگا، جو بیدار ہوتے ہی اسکو اپنی خواب گاہ میں نظر نہیں آرہی تھی
افراہیم کی ہر تھوڑی دیر بعد نظر اٹھتی اور نوف کے چہرے کا طواف کرتی لیکن نوف نے ایک بار بھی افراہیم کی طرف نہیں دیکھا تھا۔۔۔ افراہیم نے ایک دو بار اس سے سرسری انداز میں بات کرنی چاہیے تو وہ بناء اس کی طرف دیکھیں اس کی باتوں کا جواب دیتی ہوئی اپنے آپ کو کاموں میں مصروف ظاہر کرنے لگی
"کہاں جارہی ہو یمنہ ناشتہ نہیں کرو گی"
افراہیم نوف کو وہاں سے جاتا ہوا دیکھ کر دوستانہ لہجے میں ایک دم اس سے بولا
"اپ ناشتہ شروع کریں میں آنٹی کی میڈیسن لےکر آرہی ہوں"
ابھی بات کرتے وقت نوف کی نظریں نازنین کے کمرے کے دروازے پر تھی وہ میڈیسن لینے چلی گئی تو افراہیم خاموشی سے ناشتہ کرنے لگا کل شام نوف کے ساتھ مال سے واپس گھر آنے کے بعد اس نے نازنین کو بالکل نارمل حالت میں دیکھ کر شکر ادا کیا تھا
"بیلا سے بات ہوئی تمہاری کب واپس آرہی ہے وہ"
نوف نازنین کی میڈیسن لےکر آئی تو نازنین افراہیم سے پوچھنے لگی
"ایک دو دن میں واپسی ہوجائے گی اس کی، آپ اس کی طرف سے مطمئن ہوجائیں"
افراہیم نہیں چاہتا تھا نازنین کسی بھی بات کو زیادہ سوچے، نوف افراہیم کے برابر میں کرسی پر بیٹھ گئی
"ناشتہ کرنے کے بعد فورا روم میں آجاؤ"
بریڈ کا پیس منہ میں جاتے ہوئے نوف کا ہاتھ رکا افراہیم کی سرگوشی میں کی ہوئی بات پر اس نے پہلے نازنین کو دیکھا جو بناء ان دونوں کو دیکھے اپنے ناشتے کی طرف متوجہ تھی، پھر اس نے افراہیم کو دیکھا جو بالکل سنجیدہ تھا اور اسی کو دیکھ رہا ہے
"کس لئے"
نوف بھی اتنی ہی سنجیدگی سے افراہیم کو دیکھتی ہوئی اس سے پوچھنے لگی
"کمرے میں چل رہی ہو یا نہیں"
افراہیم سنجیدگی سے سیدھے انداز میں نوف سے اس کا ارادہ پوچھنے لگا، وہ نوف کی ناراضگی کو محسوس کرچکا تھا۔۔ کل رات جو بھی کچھ ان دونوں کے درمیان ہوا افراہیم کو نہیں لگتا کہ کچھ غلط ہوا تھا جس پر وہ اس طرح سے منہ پھلائے بیٹھی تھی
"نہیں"
اپنی بات پر ٹکا سا جواب سن کر وہ نوف کو گھورنے لگا جبکہ نوف اپنا ناشتہ کرنے لگی
"آپ ناشتہ کرتی ہوئی کیا سوچ کر مسکرا رہی ہیں"
افراہیم نوف سے نظریں ہٹاکر نازنین کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا جو تصور میں ناشتہ کرتی ہوئی مسکرا رہی تھی۔۔۔ افراہیم کی بات سن کر نوف بھی نازنین کی طرف متوجہ ہوئی
"میں سوچ رہی تھی کافی دن ہوگئے یمنہ نے اس دن کے بعد مجھے اپنا کوئی خواب نہیں سنایا۔۔۔ اور اتفاق سے کل رات میں نے بھی ایک خواب دیکھا بس اسی کے بارے میں سوچ کر چہرے پر مسکراہٹ آگئی"
نازنین مسکراتی ہوئی ان دونوں کو دیکھ کر بتانے لگی
"آپ کو یمنہ نے کوئی خواب اسی لیے نہیں سنایا کیوکہ شادی کے بعد وہ اپنا ہر خواب مجھے سنادیتی ہے ویسے آپ نے کل کیا دیکھ لیا خواب میں جس پر آپ یوں مسکرا رہی ہیں"
افراہیم نے نازنین کے مسکرانے کی اصل وجہ جاننی چاہیے، نوف خود بھی ناشتہ کرنے کے