Yeh Dil Ashiqana by Tania Tahir | Best Urdu Novels

Yeh Dil Ashiqana by Tania Tahir is the best novel ever. Novel readers liked this novel from the bottom of their hearts. Beautiful wording has been used in this novel. You will love to read this one. Yeh Dil Ashiqana by Tania Tahir is very romantic novel, if you love to read romantic novels then you must read Yeh Dil Ashiqana by Tania Tahir.

This novel by Tania Tahir is a special novel, many social evils has been represented in this novel. Different things that destroy today’s youth are shown in this novel. All type of people are tried to show in this novel.

Yeh Dil Ashiqana by Tania Tahir

Tania Tahir has written many novels, which her readers always liked. She tries to instill new and positive thoughts in young minds through her novels. She writes best. 

Yeh Dil Ashiqana by Tania Tahir

If you want to download this novel, you can download it from here:

↓ Download  link: ↓

Note!  If the link doesn’t work please refresh the page

Yeh Dil Ashiqana by Tania Tahir PDF Ep 1 to Last

 

 

 

Read Online Yeh Dil Ashiqana by Tania Tahir:

داود اٹھ جاو.    "اسنے اپنے بیٹے کے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرہ….

اور اسکی چمکتی رنگت…. کو.. غور سے.. دیکھ کر مسکرائ… 

وہ سوتے میں اچھا خاصا معصوم لگتا تھا.. مگر حقیقت میں.. وہ فساد تھا…..

داود نے…  ماں کے کہنے پر انکھ نہیں.. کھولی….

وہ شاید گھیری نیند میں تھا…..

عابیر…  اسکو یوں ہی چھوڑ کر.. اسکے کمرے کو دیکھنے لگی… 

یہ چھوٹا سا کمرہ.. کافی بے ترتیبی کا شکار تھا… 

اسکی شرٹس….

اسکے پینٹس اسکی سوکس….. سب…  ادھر ادھر پڑیں تھیں…

حتئ.. کہ ٹاول.. اسکے پاوں کے نیچے تھا….

اور اندھا سو رہا تھا..

نا جانے کہاں سے اس میں یہ عادت ائ تھی.. اندھا سونے کی..

اب بھلا انسان.. اندھا اخر کب تک سو سکتا ہے.. مگر…  وہ…  ایک ہی اینگل میں سوتا.. اور اٹھتا تھا…..

کوئ لحاظ نہیں ہے کہیں سے لگتا ہی نہیں.. اس گھر کے بڑے ہو تم "عابیر بڑبڑا رہی تھی جبکہ اسی بربڑاہٹ میں اسکی انکھ کھلی… 

اور پنکھے کی گرم ہوا…. سے غلے میں خشکی محسوس کر کے.. اسکا پہلے سے گھما گھمایا میٹر مزید گھوم گیا…

کیا مصیبت ہے یہ" وہ چیخا جبکہ اسکے.. ماتھے پر ائے بالوں کے نیچے پسینے کی بوندیں اکھٹی ہو چکیں تھیں……

جنھیں اسنے ہتھیلی سے صاف کیا.. اور تکیہ اٹھا کر جھلے میں زمین پر دے مارا…

عابیر نے اسکیطرف دیکھا….

گرمی سے اسکے شفاف چہرے پر سرخی ائ ہوئ تھی..

تمھیں کس نے کہا تھا اے سی سے…  باہر نکلو…  اور ادھر ا کر سو جاو…. "عابیر جانتی تھی وہ اسی بات پر چیڑہ تھا… 

واہ کیا بات ہے

. اس اے سی والے کمرے میں پوری قوم سوتی ہے.. اور میں بھی.. وہیں

. زمینوں کی نظر ہو جاو.. اتنا سٹنڈرڈ نہیں گیرہ میرا" اسنے تڑخ کر جواب دیا تو عابیر مسکرا کر…  اسکے نزدیک ائ… 

اب تمھارے بابا کی کمائ سے ایک ہی اے سی ا سکتا تھا… 

اور سب اڈجسٹ کرتے ہیں.. تمھیں بھی تھوڑی اڈجیسٹمنٹ کرنی چاہیے…. اور ایک اور بات جیسے تم نے پیسے جمع کر کے.. ہیوی بائیک لی ہے ویسے ہی تم…  اے سی بھی لے لو اور اپنے روم میں لگوا لو سیمپل"اسنے اسے سمھجایا….

تو اسنے ماں کو دیکھا….

اپ کو بھی بس…. معاذ صاحب ہی ملے تھے شادی کرنے کو…  کسی…  بینکر.. انجینیر.. یا سیاستدان سے شادی کر لیتیں .. تو اج اپ کے بیٹے کے پاس ہر سہولت ہوتی.. اسے.. ہر آسائش کے لیے پیسے جمع نہ کرنے پڑتے یہ بھی ٹھیک ہے.. دل کی خواہش… کو…  زبان پر لانے سے پہلے ہزار بار سوچو…  کہ اگر یہ.. خواہش پوری کی تو…  گھر کیسے چلے گا…  حد ہو گئ… "وہ.. غصے سے کھولتا ہوا….

ادھر ادھر چیزیں پٹخ کر…  واشروم میں چلا گیا جبکہ عابیر…  ایک لمہے کو سن کھڑی رہی..

اسنے خواب میں بھی کبھی اسکو   نہیں سوچا تھا…. جبکہ اج دواد کے منہ سے…  سن کر.. وہ.. اپنا ذہن جھٹک گئ..

وہ تو ایسا ہی تھا…..

مما…. پانی بھی نہیں ہے… "واشروم سے.. ہی اسکے دھاڑنے پر وہ اچھل اٹھی…

اف یہ لڑکا…" اسنے.. سر پر ہاتھ مارا اور موٹر چلانے باہر نکل گئ….

باہر معاذ ناشتہ کر رہا تھا….

جبکہ اسکے ساتھ ہی روشنی  بیٹھی.. ناشتہ کر رہی تھی….

اور دوسری طرف…  فیزہ بھی ناشتہ کر رہی تھی اسکا اج انڑویو.. تھا… 

ماں باپ کے انتقال کے بعد.. وہ…  معاذ کے پاس.. ا گئ تھی..

وہ تینوں چپ چاپ ناشتہ کر رہے تھے..

جبکہ عابیر نے نئے سرے سے ناشتہ بنانا شروع کر دیا تھا… 

وہ.. کبھی بھی چائے پراٹھا نہیں کھاتا.. تبھی وہ اسکے لیے خصوصی… 

بریڈ انڈے کے ساتھ شیک کا انتظام  کر رہی تھی…..

وائٹ شرٹ…  اور بلیو جینز میں… وہ.. جوگرز ہاتھ میں لے کر باہر ایا.. اور…  چئیر کھینچ کر.. بیٹھ گیا.. جبکہ…  دوسرے ہاتھ سے.. جوگرز پہن کر وہ یوں ہی ماتھے پر بل سجائے اسنے ہاتھ دھوے اور دوبارہ بیٹھ گیا… 

روشنی اسکے ساتھ بیٹھی…  تھی جبکہ فیزہ اور معاذ سامنے… 

ایک پرائیویٹ کالج میں…  بات چلوائ ہے میں نے تمھاری اپنے دوست سے کہہ کر…. چلے جانا اج.. انٹرویو ہے تمھارا "معاذ نے.. ناشتہ ختم کرتے ہوئے کہا.. تو اسنے گھیری سانس لی..

مجھے نہیں پڑھانا پڑھونا….

میں جس چیز کی تیاری کر رہا ہوں… بس…. وہی کام کرو گا…"

وہ سی ایس ایس کی تیاری کر رہا تھا….

اور اسے.. ان چھوٹی چھوٹی نوکریوں میں ہرگیز بھی دلچسپی نہیں تھی وہ.. اپنی زندگی اپنے انداز اپنا لائف سٹائل.. بدلنا چاہتا تھا… 

جس.. لڑکے نے میٹرک میں…  تین سپلیاں اور ایف ایس سی…  میں دو سپلیاں کھائی ہوں…. اسے سی ایس ایس کی تیاری کرتے ہوئے شرم انی چاہیے "معاذ نے.. اسے.. شدید تانا دیا… 

اپ بھول رہے ہیں…. بی بی اے بھی کیا تھا.. جس میں ٹاپ کیا تھا…" اسنے.. چیڑتے ہوے بتایا… 

ہاں تب شاید تمھاری قسمت اچھی تھی اور پھر دوبارہ سی ایس ایس کی دو اٹمنٹ میں فیل ہونے کا تمغا سجا لیا "معاذ نے شانے اچکائے.. فیزہ اور روشنی دونوں ان دونوں کی تکرار کو روز کیطرح سن رہے تھے… 

قسمت کا تو پتا نہیں ہاں جن دنوں کا اپ تانا مار رہے ہیں.. تب مجھے ہوش نہیں تھا کہ میں نہایت غریب ہوں "اسنے…  غصے سے کہا… 

یہ فضول کی ناشکریاں میرے سامنے مت کیا کرو

تمیز سے جو کہا گیا ہے وہ کرو…." معاذ اسے گھورتا ہوا…  اٹھ گیا….

جبکہ وہ بھی ناشتہ چھوڑ کر معاز کو گھورے جا رہا تھا….

داود…. میری جان اتنی سختی اچھی نہیں ہوتی.. جو اپکے بابا کہہ رہے ہیں.. وہ بات مان لیں" عابیر جانتی تھی وہ ایسے زیر نہیں ہو گا….

تبھی نرمی سے اسے رام کرنا چاہا… 

اسنے.. بغیر جواب دیے.. اپنی بائیک کی چابی اٹھائ…  اور بلیک گاگلز ناک کی چونچ…  پر سجا کر.. وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا باہر نکل گیا… 

جبکہ معاذ کا اسپر ہر وقت خون کھولتا تھا… 

اسکی حرکتیں واضح تھیں… 

وہ کن دو لوگوں کا ملاپ تھا…  عابیر اور معاذ دونوں کو یہ بات نظر اتی تھی… 

اور معاذ اکثر اسی بنا پر اس سے چیڑ کھا کر…  اولاد والی نرمی بھلا دیتا تھا… 

جاو بیٹا…  تم دونوں… "روشنی اور فیزا کو…. خدا حافظ کہہ کر وہ باہر تک چھوڑ کر….

کمرے میں ائ جہاں معاز گھڑی پہن رہا تھا… 

انکی چھوٹی سی گاڑی تھی جسے وہ افس کے لیے یوز کرتا تھا… 

چھوٹا سا…  خوبصورت…  پانچ کمروں کا یہ گھر تھا جس میں…  دو کمرے تو.. داود نواب کے تھے.. باقی ایک فیزا.. کا جبکہ.. ایک سٹور روم تھا.. روشنی ابھی میٹرک کی سٹوڈنٹ تھی.. اور.. ماں باپ کی لاڈلی.. تبھی.. وہ انکے ساتھ ہی روم شئیر کرتی تھی… 

جینے کے لیے وہ سب خوشیاں میسر تھیں…ہاں یہ بھی حقیقت تھی.. کہ…  یہاں اسائشوں کی مقدار کم تھی….

مگر آسائشیں تھیں تو سہی….. پھر بھی اس گھر میں.. روز.. داود اور معاز کی لڑائ.. ہونی ضروری تھی…  

وہ بڑا ہو چکا ہے…. تم اس سے بحث مت کیا کرو "عابیر نے اسکے ہاتھ سے گھڑی لے کر خود پہناتے ہوئے کہا… 

یار تم حد کرتی ہو…  میں بحث کرتا ہوں.. دو بار کی اٹمنٹ میں فیل ہو چکا ہے وہ… 

ستائیس سال کے بیٹے.. کو گھر میں بیٹھا کر میں پالو….

باپ کا سہارا بننے کے بجائے وہ.. ہر چیز کی ناشکری لیے بیٹھا ہے… 

یہ سامنے…  ریاض…. جانتی ہی ہو نہ….

ہڈ. حرام انسان…. اج تک.. اپنا گھر نہیں دے سکا بیوی بچوں کو…  سب تو ہے ہمارے پاس کس چیز کی کمی ہے… 

اسکا بیٹا.. جوتیاں چٹخا رہا ہے نوکریاں کر رہا ہے.. اور یہاں داود.. نواب….

خود کو…. توپ چیز سمجھے بیٹھے ہیں… 

ٹیسا ہے کہ نیچے ہی نہیں.. اترتا…..

بلکل تم پر گیا ہے.. بلکل…  "وہ چیڑ کر بولا..

عابیر نے اسکی جانب دیکھا…

ہاں.. تو میرا بیٹا ہے مجھ پر ہی جاے گا" وہ مسکرا کر اسکی ٹائ ٹھیک کرنے لگی..

معاذ میں جانتی ہوں تم نے کوئ کمی نہیں چھوڑی ہمیں پرسکون زندگی دینے کے لیے… 

مگر ٹھیک ہے.. وہ بہت بدتمیز ہے… 

نہیں اتا وہ اسطرح قابو مگر وہ اسطرح بھی نہیں ائے گا جس طرح تم اسے کرنا چاہ رہے ہو

…تم باپ ہو اسکے

 دوستوں  کی طرح.. ٹریٹ کیا کرو "

مطلب باپ ہی جھکے اولاد…  سر پر ناچے" وہ کافی غصے سے بولا…  اور.. اس سے الگ ہوا…

میں بتا رہا ہوں اگر…  یہ کالج میں انٹرویو دینے نہ گیا تو میرے گھر کی روٹی.. نہیں ملے گی اسے "وہ.. انگلی اٹھا کر غصے سے بولا…  اور باہر نکلتا کہ…  سرخ چہرہ لیا داود کو کھڑا دیکھا…

وہ اپنا والٹ لینے ایا تھا.. اور معاذ کی ساری گفتگو سن چکا تھا…

باپ کو…  کھولتی نظروں سے دیکھ کر.. وہ اندر چلا گیا جبکہ معاذ پرواہ کیے بغیر باہر.. نکل گیا.. عابیر نے گھیرہ سانس بھرا…

اور صحن میں ا گئ…

صحن میں دوسری طرف بڑے سارے پنجرے میں بند عقاب کو دیکھ کر وہ اکثر ڈر جاتی تھی…

یہ شوق.. بھی داود کا تھا.. جس پر معاذ نے.. تقریبا.. گھر سر پر اٹھا لیا تھا.. مگر داود کے سامنے…  وہ اپنی منوا نہیں سکا… 

وہ حد سے کچھ زیادہ ہی بدتمیز تھا.. اپنی مرضی اپنی بات اپنے فیصلے پر.. ایسے اڑ جاتا تھا.. جیسے…  اگر وہ اس سے اگے ایک قدم بھی چلا تو… نہ جانے کیا ہو جائے.. میٹرک کے بعد وہ یہ لایا.. تھا اب تو تقریبا سب کو عادت ہو گئ تھی.. اور وہ بھی سدھایا ہوا تھا تبھی اج تک کسی کو نقصان نہیں دیا مگر جیسے…  وہ گھورتا تھا سب ہی ڈر جاتے تھے سواے اسکے.. وہ اپنے کمرے سے باہر نکلا…  اور پنجرے کے سامنے ا کھڑا.. ہوا…

اسکا دوست…  پنجرے کی زمین پر بیٹھا…  اوپر اسی کی جانب دیکھ رہا تھا…  داود بھی نیچے بیٹھ گیا… 

اسکی جانب دیکھتا رہا…

جبکہ…  عقاب نے.. اپنے پروں کو ہلکی سے جنبش دی… 

اس سڑیل کے لب مسکراے…

اور دیکھتے ہی دیکھتے..

اس عقاب نے…  ہوا میں بڑی جوشیلی اڑان بھری… 

داود…. ایکدم اٹھا…

جبکہ اب عقاب.. پنجرے کی اوپری سطح پر بیٹھا تھا…

عابیر چپ چاپ یہ منظر دیکھ رہی تھی…

داود نے ماں کی جانب دیکھا….

شاید تمھارے دوست نے بھی تمھیں تمھارے بابا کی بات ماننے کے لیے کہا ہے "عابیر نے…  کہا.. تو…  وہ مسکرایا….

معمولی سا….

جو اس نے کہا…  وہ میں سمھجہ گیا…." اسنے…  کہا…  اور….

ماں کا ہاتھ اگے بڑھ کر چوما.. اور… 

باہر نکل گیا.. جبکہ عابیر…  نے سرد سانس کھینچ کر اسکے لیے دعا کی….

…………………..

بیٹھو میں تمھیں چھوڑ دیتا ہوں… "اپنی ہیوی بائیک پر…  اول تو وہ کسی کو بھی بیٹھاتا نہیں.. تھا.. مگر.. فیزا کو…  دھوپ میں.. روڈ کراس کرتے اس بڑی ساری بیلڈینگ کیطرف جاتا دیکھ کر اسنے معمولی سی ہمدردی دیکھائ..

فیزا اسے یہاں دیکھ کر حیران ہوئ….

میں…  چلی جاو گی وہ سامنے ہی ہے.." فیزا نے کہا تو داود نے گھورا… 

فضول نہ ہانکو مجھ سے" اسنے تیور بگاڑے…  جبکہ فیزا…  جلدی سے.. اسکی بائیک پر بیٹھ گی… 

اور کچھ ہی فاصلے پر موجود بڑی ساری بیلڈینگ.. کے سامنے.. اسنے بائیک روکی…  تو

فیزا کو لگا.. اتنی سی دیر میں…  ساری لو اسکے منہ پر اکھٹی ہو گئ ہو.. اتنی ہی تیز بائیک اسنے چلائ تھی..

اترو بھی" وہ بولا…  تو وہ اتر گئ..

ابھی وہ بائیک گھماتا کہ.. پیچھے سے تیز پراڈو کے ہارن پر اسنے بس سر گھما کر دیکھا….

بلیک پراڈو چمچما رہی تھی… 

اسنے بائیک نہیں ہٹائ..

کیا تمھیں نظر نہیں ا رہا یہاں پارک کرنی ہے مجھے گاڑی" گاڑی کا شیشہ کھلا.. اور ایک شخص کی غصیلی اواز سنائ دی تو…  وہ.. تو جیسے ہر کسی سے بھیڑنے کو تیار رہتا تھا… 

بائیک سے اترا…  فیزا کو یہ سب خطرے کا الارم لگ رہا تھا..

داود…" اسنے اسے پکارنا چاہا.. مگر مجال ہے جو وہ سنے… 

تجھے نظر نہیں ا رہا میری بائیک کھڑی ہے" وہ.. بھی اسی انداز میں بولا…

موبائیل میں مگن ایک اور لڑکے نے بھی گاڑی میں سے.. اس لڑکے کی جانب دیکھا… 

جو

.. اس تڑپتی دھوپ میں بھی دودھ کی مانند باکمال لگ رہا تھا..

مگر ناک پر نکھرا واضح نظر ا رہا تھا..

کیا بکواس ہے ہٹا اپنی بائیک" مراد کے پتنگے لگے… 

اس سمیت….

سارگل نے بھی اس کی بےتکان ضد پر ماتھے پر بل ڈالے… 

بکواس میں نہیں تو کر رہا.. ہے.. یہ ڈبا گاڑی لے کر…  تو نے یہ سمھجھ لیا یہ پارکینگ تیرے باپ کی ہے.. اور روڈ تیرے دادا کا…"

داود…. چھیگاڑہ.. سارگل…  گاڑی کا دروازہ کھول کر.. باہر نکلا جبکہ دروازہ اسنے پیچھے پٹخا.. تو دھڑ سے دروازہ بند ہوا… 

فیزا.. داود کو روکنا چاہتی.. تھی…  مگر.. داود.. اسے ہاتھ سے پرے کر کے تن کر کھڑا تھا… 

ہاں یہ روڈ…  میرے دادا کا ہے

. اور یہ پارکینگ میرے باپ کی….

اب تو بتا تیرا کیا ہے جس کی اکڑ.. تجھ میں گھس رہی ہے "سارگل…  نے…  اسکو گھورا…  جبکہ مراد بھی پیچھے ا چکا تھا..

بس ایک نظر اس لڑکی کو دیکھا..  جو سہم رہی تھی ادھر ادھر دیکھ رہی تھی… 

یہ جو تیری اکڑ ہے

. ایک منٹ میں تیرے اس باپ کے روڈ پر ہی نکال دوں گا…. سائیڈ پر ہو" داود…. نے دانت پیس کر کہا… 

اور.. سارگل کو پرے دھکیلا… 

کہ

سارگل…  کا دماغ

. اوٹ ہوا.. اس سے پہلے. وہ اسکے منہ پر جڑتا… 

دواد  بیچ میں ہی اسکا.. ہاتھ روک چکا تھا… 

اج تک کسی کا ہاتھ…  مجھ تک نہیں پہنچا… 

تو تو کیا ہے" اسنے.. سارگل کا ہاتھ موڑتے ہوئے اسے پیچھے دھکیلا…

جبکہ مراد.. بھی غصے میں اسکی بائیک تک پہنچ چکا تھا… 

اور کھینچ کر لات ماری اسکی ہیوی بائیک زمین پر جا گیری.

داود.. داود پلیز چھوڑیں" فیزا نے ایک بار پھر اسے روکا.. جبکہ دواد کو.. لگا…  اسکا دماغ اب اسکے قابو میں نہیں ہے

. وہ شیر کیطرح.. مراد پر جھپٹ پڑا.. جبکہ.. مراد.. چاہ کر بھی اس سر پھیرے کا مقابلہ نہیں کر پا رہا تھا.. تبھی سارگل کو بھی بیچ میں کودنا پڑا.. اور.. ان دونوں نے بھی داود.. کو مارا… 

یہ سب کیا ہو رہا ہے"اس سے پہلے وہ تینوں ایک دوسرے کا سر پھاڑتے..

پیچھے سے

. مراد کو اپنے باپ کی اواز سنائ دی…

مگر داود کو کیا سنائی دے رہا تھا.. اسے فیزا کی چیخیں سنائ نہیں دے رہی تھی.. پھر معاویہ کی اواز کیسے سنائ دیتی… 

وہ.. سارگل کا منہ اس سے پہلے سجا دیتا… 

معاویہ نے اسے پیچھے دھکیلا… 

جبکہ وہ بری طرح اسکا ہاتھ جھٹک کر.. اپنی بائیک کے پاس.. پہنچا تھا..

اسکی بائیک کو شکر تھا کوئ نقصان نہیں ہوا تھا.. مگر.. وہ ان دونوں لڑکوں کا کافی نقصان کر چکا تھا..

فیزا.. نے.. دیکھا اسکے  ہاتھوں پر چوٹیں ائ تھیں… 

یہ کیا کیا اپ نے"فیزا نے اسکا ہاتھ تھامنا چاہا..

چھوڑو مجھے" وہ چنگھاڑا… 

اور دوبارہ مراد اور سارگل کو گھورا… 

کون ہو تم کیوں لڑ رہے تھے "معاویہ نے…  پوچھا…  تو.. وہ معاویہ کو گھور کر… 

اپنی باییک پر بیٹھا اور وہاں سے نکل گیا.. جبکہ فیزا

. کو لگا.. اب اسے.. یہاں کون جوب دے گا.. تبھی وہ پلٹنے لگی کہ

. روکی..

روک جائیں…  میرے خیال سے اپ.. جاب کے لیے ائ ہیں" معاویہ نے کہا تو وہ کچھ خوف زدہ سی.. سر ہاں میں ہلا گی..

تو اندر جائیں باہر کیوں کھڑی ہیں" اسنے کہا.. تو وہ حیران ضرور ہوئ مگر.. اندر چلی گئ..

جبکہ مراد اور سارگل.. اب ایک دوسرے کو کوس رہے تھے کہ وہ اسکا مقابلہ نہیں کر سکے…

تم دونوں اندر چلو بتاتا ہوں تم دونوں کو" معایہ نے غصے سے کہا.. تو وہ دونوں…  غصے سے کھولتے.. اندر ہو لیے…

……

…………….

ساری دنیا مل کر میرے پیچھے پڑ چکی ہے" بائیک کی سپیڈ تیز کرتے ہوئے اسنے چیڑ کر سوچا.. جبکہ وہ بھول گیا.. وہ بلاوجہ دنیا کے پیچھے پڑا تھا… 

بائیک کو.. گھما پھیرہ کر

. وہ…  ایک کالج کے سامنے لے ایا… وہ نہیں جانتا تھا یہ وہی کالج ہے جس کا معاز نے ذکر کیا تھا مگر.. اسے لگا یہ وہی کالج ہے

 غصے سے.. اسنے…  باپ کے بات مان ہی لی.. کہ.. وہ خاموشی سے اپنی تیاری کرے گا تب تک معاز کا منہ بند رہے گا جب تک وہ نوکری کرے گا.. اور ابھی تو.. اسے 9 ماہ تھے.. پیپر دینے میں تبھی.. وہ.. کالج ا گیا… 

یہ گلز کالج تھا…  اور بے شمار لڑکیوں نے اس ہینڈسم کو… دیکھا.. تھا..

اف پرسنلٹی ہے یار"اسنے فقرہ سنا.. مگر…  کچھ بھی بولے بغیر.. وہ.. ہیڈ افس کی جانب چلنے لگا..

اپنے اندازے سے وہ.. درست جگہ پہنچ گیا تھا… 

افس کے باہر پی این کو جاب کا کہا…  اور. وہ.. اندر ا گیا… 

پرنسپل نے. اسکی جانب دیکھا.. لڑکے کے ماتھے پر بل دیکھ کر وہ مسکراے… 

جوانی اور جوانی کا غصہ برحال سی وی دیکھائیں  "وہ مدھم سا بولے… 

جبکہ.. اسکے پاس.. سی وی نہیں تھی.. اسے اب اپنے اوپر غصہ انے لگا… 

عجیب ادمی تھا.. بس ہر حالت میں غصہ کرنا تھا… 

سی وی نہیں ہے بھول گیا" اسنے شانے اچکا کر کہا.. اور اٹھنے لگا.. کہ پرنسپل نے ہاتھ کے اشارے سے بیٹھنے کو کہا..

کس سبجیکٹ میں انٹرسٹ ہے" انھوں نے.. پوچھا… 

کسی میں بھی نہیں "اسنے…  تڑخ کر کہا.. پرنسپل نے حیرت سے اسکیطرف دیکھا…

کون سا سبجیکٹ پڑھا لو گے" انھوں نے پھر سے پوچھا..

کوئ بھی" مختصر جواب ایا… 

انگلش پڑھا لو  گے"انھوں نے صبر سے پوچھا.. یہ لڑکا.. کسی کو.. بھی غصہ دلانے کے لیے زبردست تھا… 

جب میرے پاس سی وی ہی نہیں تو اپ مجھے جاب پر کیسے رکھیں گے" اسنے.. ٹیبل…  پر دونوں ہاتھ ٹیکا کر.. پوچھا تو…  پرنسپل نے…  اسکے ہاتھ پر چوٹ دیکھی..

یہ اپکے ہاتھ سے خون نکل رہا تھا.." انھوں نے اسکی توجہ.. دلائ… 

تو وہ…  نفی میں سر ہلا گیا… 

شکریہ"وہ اٹھتا.. کہ پرنسپل جو اسکی پرسنلٹی سے کافی ایمپریس…  ہو رہا تھا..

اسکو جاب دے گیا… 

ہمیں انگلیش کے ٹیچر کی ضرورت ہے… 

کل یہ اج.. اپ جاب  سٹارٹ کر لیں "اسنے کہا…

تو داود اسے…  عقابی نظروں سے ہی گھورنے لگا….

پرنسپل مسکرا رہے تھے….

اپ اج سے جوائن کر لیں ہمارا انگلش کا لیکچر ابھی ہونا ہے…" انھوں نے کہا…  تو…  وہ…  سر ہلا گیا… 

سیلری"اسنے انکی طرف دیکھا جو ضرورت سے زیادہ شفیق ہورہا تھا اسکے ساتھ… 

یہ ایک بڑا کالج ہے…. اور یہاں کی سیلری پیکج.. بہت شاندار ہے… 

اپکو نا امیدی نہیں ہو گی "پرنسپل پھر مسکرایا…  تو اسے اسکے فالتو مسکرانے سے بھی چیڑ ہوئ….

کہہ تو اپ ایسے رہے ہیں جیسے گھر اور گاڑی میرے ہاتھ میں تھما دیں گے برحال….

اگر سیلری پیکج اچھا نہ ہوا تو میں پھر کام نہیں کر سکتا معزرت" اسنے اٹھتے ہوئے کہا..

برخوردار بیٹھ جاو….

چھوٹی چھوٹی باتوں پر چیڑ جاتے ہو" پرنسپل کو اس ٹھڑی ہڈی پر حیرت ہی ہو رہی تھی… 

داود نے اسکی جانب دیکھا… 

یہاں کے اونر احمر خان ہیں….

جلد ہی…  تمھاری سیلری…  اور کالج کے پیچھے….

ہاسٹل…  روم تمھیں دے دیا جائے گا…  اور باقی رہی گاڑی کی بات تو اسکے لیے تمھیں کچھ وقت درکار ہے" اسنے سہولت سے بتایا…  تو… 

وہ…  سر ہلا گیا…

اسے بلکل بھی امید نہیں تھی کہ.. اسے جاب ملے گی اور یہاں بیٹھ کر.. اور انکی لگزریز سن کر اسے اندازا ہو گیا تھا کہ یہ وہ کالج نہیں جس کی بات معاذ کر رہا تھا.. کیونکہ یہ شہر کی سطح سے تھوڑا دور…  تھا….

مزید ایک دو رسمی سی باتیں کر کے.. وہ وہاں سے اٹھا…  اور…  کسی دوسرے سینیر پرفیسر کے ساتھ اسے.. اسکے روم کی جانب بھیجوا دیا….

وہ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اپنی مخصوص چال.. چل رہا تھا…  جبکہ.. ناک پر گاگلز.. اب بھی رکھے تھے.. اور بال… بھی ماتھے پر بکھر رہے تھے.. وائٹ شرٹ میں.. وہ.. کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا..

وہاں لڑکیاں اسکو.

 کافی شدت سے دیکھ رہیں تھیں مگر اسے ایک میں بھی انٹرسٹ نہیں تھا…

تبھی اسے.. وہ پروفیسر.. روم کے اندر لے ایا بے شمار لڑکیوں کی آوازیں…  خاموشی میں بدل گئیں….

وہ سب.. اسے.. گھور رہیں تھیں…

اسکا دل کیا اپنا سر پھاڑ لے..

وہ کیوں ایا یہاں..

سو گرلز یہ اپکے نیو پرفیسر ہیں پروفیسر داود… 

انگلش ٹیچر ہیں…. "سینیر پروفیسر نے.. اسکا تعارف کرایا.. تو… 

سب لڑکیوں میں سے شوخ لڑکیوں نے اسے.. زور دار ہیلو کیا.. جس کا جواب دینا اسنے ضروری نہیں سمھجا… 

وہ یوں ہی گاگلز کے پیچھے سے.. سب کو دیکھتا رہا… 

کلاس میں چیماگویاں ہونے لگیں تو سر نے ڈسک بجایا… 

سائیلینس….

اپ لوگ.. اپنی سٹیڈی پر فوکس کریں باتوں کے لیے عمر پڑی ہے "سر نے کہا.. تو سب ہنسنے لگی.. داود کی برداشت پر بات بن رہی تھی..

وہ سر بھی ہنس کر.. اسے گڈ لک کہہ کر باہر نکل گئے… 

بہت سی لڑکیاں اب بھی باتوں میں مشغول تھیں اور…  ٹوپک.. اسی کا وجود تھا… 

جس نے بولنا ہے یہ میرے بارے میں قصیدے کرنے ہیں باہر جا سکتا ہے" وہ سنجیدگی سے بولا..

کلاس میں خاموشی چھا گئ… 

داود…  نے…  ان سب کو خاموش دیکھ کر ریجیسٹر کھولا….

اور.. نیم کال کرنے لگا.. سب تمیز سے…  جواب دیتے رہے.. تبھی

 دروازہ بجا… 

اسنے یس کہا…

اور…. سفید ملائم ہاتھ جس میں…  گھڑی کی پیچھے.. بینڈز تھے.. اس ہاتھ نے دروازہ کھولا…  اور…  وہ نازک سی.. لڑکی روم میں داخل ہوئ..

جبکہ داود کو دیکھ کر ٹھٹکی… 

بلیک جینز پر…  بلیک ہی ہاف بازو کا اور گھیرے گلے کا  ٹاپ پہنے وہ لازمی غضب ڈھا رہی تھی.. جبکہ کھلے بال بنا پرواہ کے پڑے تھے… 

شانے پر بیگ.. تھا تو ہاتھ میں سیل… 

مے ائ کم ان "عینہ نے پوچھا.. اسکی اواز بھی نرم تھی..

داود کے ماتھے پر بل ڈلے.. وہ کس خوشی میں اتنی توجہ دے رہا تھا… 

نو" اسنے سرد مہری سے کہا… 

عینہ کی بڑی بڑی ہیزل براون آنکھوں نے اسکو دیکھا…

کس خوشی میں محترمہ لیٹ ہیں….

اپکے فادر کا کالج ہے.. جو.. اپ کسی بھی وقت منہ اٹھا کر بغیر یونیفارم کے.. پہنچ جائیں گی" وہ اصل روپ میں ا گیا..

اور دنیا بھر کے لوگوں کے باپ کے پیچھے پڑا رہتا تھا… 

تو عینہ کا باپ کیسے بچ سکتا تھا…

عینہ اسی کیطرف دیکھ رہی تھی….. وہ کتنی بدتمیزی سے بولا تھا….

جی" اسنے مدھم اواز میں جواب دیا… 

داود نے.. آنکھیں چھوٹی کر کے…  اسکیطرف دیکھا

یہ جی سے کیا مراد ہے.. تمیز ہے اپکو اپنے بڑوں سے بات کرنے کی…" وہ ریجیسٹر پر پین پھینکتا.. چیخا.. عینہ سمیت ساری لڑکیاں اچھل پڑیں

کوئ اس سے پوچھتا…  کہ وہ اپنے بڑوں کی کتنی عزت کرتا ہے جو.. اسے سنا رہا تھا..

اسکی آنکھوں میں انسو اترنے لگے….

تبھی اپنی انگلیاں مڑوڑتی…  وہ…  کنفیوز سی دیکھی….

سر…. وہ سچ کہہ رہی ہے.. یہ کالج عینہ کے ہی فادر کہ ہے… 

ائ مین…  "

دوسری رو سے ایک لڑکی.. اٹھ کر ایکسپلین کرنے لگی… 

کہ اسنے…  انگلی کے اشارے سے اسے دفع ہو جانے کو کہا… 

اس لڑکی.. کا منہ ہی اتر گیا…

عینہ کو.. شدید رونا ایا… 

اج تو دن ہی نہیں اچھا… 

اس لڑکی کے ساتھ ساتھ وہ بھی باہر نکلتی… 

کہ… 

اپکو کسی نے کہا ہے اپنے قدموں کو زہمت دیں"ایک اور طنز.. اڑتا اڑتا.. عینہ تک پہنچا… 

وہ روک گئ… 

اج سے پہلے اسکی کبھی اتنی بیستی نہیں ہوئ..

تھی سب ہی…  اسکی حساس مگر شوخ…  طبعیت سے واقف تھے..

جہاں وہ جلد…. گھبرا جاتی تھی وہیں….

زیادہ بول بول کر سب کو پکانا….

ہر وقت گنگنانا…..

اور رومنٹک مویز.. دیکھنا….

اسکی شخصیت کا حصہ تھا….

اور یہیں عینہ اس ادمی کو نکلوانے کی ٹھان چکی تھی….

اج کے بعد اپ میری کلاس میں لیٹ آئیں…  تو مجھ سے برا کوئ نہیں ہو گا..

باپ کا کالج ہے تو…  سر پر سوار ہو گئ مطلب محترمہ"وہ گھور کر بولا…

عینہ نے اسکو دیکھ کر.. قدم اپنی.. چئیر کیطرف بڑاھاے.. کہ داود کی پھر سے اواز ائ… 

محترمہ…  اج کی سزا اپکی یہ ہے.. کہ اپ. پورے 50 منٹ کھڑی ہو گئیں وہ بھی پیچھے…  تاکہ اپ سمیت سب کو احساس ہو.. کہ میں پاگل نہیں ہو جو.. اپ لوگوں.. کوپڑھانے کے لیے.. ا رہا ہوں "اسنے…. تیور ہمیشہ کی طرح بگاڑ کر کہا…  اور ایک لڑکی سے

. بک مانگی جس کی تو باچھیں کھلیں ہوئ تھیں..

عینہ تو پورے کالج کی فیورٹ تھی.. حالانکہ.. کبھی اسنے…. بہت شاندار نمبر نہیں لیے پھر بھی لڑکیاں اسکی گلکاری.. اسکے سٹائل

.. اور سب سے بڑھ کر…  کالج کے اونر کی فیملی سے ریلیٹیڈ ہونے کی وجہ سے اسے سر پر اٹھائے پھیرتیں تھیں.. اور یہ بات… 

منشا کو.. بہت زہر لگتی تھی. وہ ٹوپر تھی.. پھر بھی….

اسے کوئ نہیں پوچھتا تھا..

جبکہ اس کالج کے ساتھ ہی بلکل بوائز برانچ تھی…

اور…  فنکشنز پر ہی دونوں…  کمبائن ہوتیں تھیں….

اور وہاں بھی عینہ عینہ.. ہر لڑکے کی زبان پر تھا…

غرض منشا عینہ سے کافی جیلس تھی.. اور اج ایک…  غضب کے ہینڈسم بندے نے اسکی عزت کی تھی.. وہ تو خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی… 

اسنے جلدی سے اگے بڑھ کر.. داود کے ہاتھ میں بک دی… 

جبکہ

. داود نے ایک نظر عینہ کو دیکھا… 

فضول میں.. اس چٹخنی جتنی لڑکی کی آنکھیں اتنی بڑی بڑی ہیں…  "اسنے دل میں سوچا اور ایک بار پھر غصے کا گراف بھڑ گیا….

وہ نا چاہتے ہوئے بھی اسکی وجہ سے.. بک پر فوکس نہیں کر پا رہا تھا وہ بھی اسکی سرخ آنکھوں کی وجہ سے.. جو وہ بلاجواز اسے گھورنے میں صرف کر رہی….

اور اب اسکی برداشت سے باہر ہو چکا تھا..

یو گیٹ اوٹ" اچانک ہی وہ بک ٹیبل پر پٹخ کر…  چیخا…  تو وہ سب اچھل پڑیں… 

جبکہ عینہ نے منہ پر ہاتھ رکھا.. اور وہ.. بھاگتی ہوئ وہاں سے نکل گئ… 

داود نے اسکی جانب دیکھا سب ہی لڑکیاں داود کو افسوس سے دیکھ رہیں تھیں.. وہ حد سے زیادہ ہی اسکی انسلٹ کر چکا تھا.. جبکہ منشا بے حد خوش تھی…..

اسنے بک کو ٹیبل پر پٹخا…..

اور خود بھی کلاس سے باہر نکل گیا… 

موڈ شدید بگڑ چکا.. تھا… 

اور ابھی وہ کالج سے باہر نکلتا کہ واچمین اسکے پیچھے پیچھے دوڑتا ہوا ایا….

اسے یقین ہی نہیں ا رہا تھا اسے نوکری مل چکی ہے خوشی بہت تھی البتہ.. کیونکہ وہ اپنے مامو (معاز) کا سہارا بننا چاہتی تھی.. اور سیلری پیکج بھی کافی اچھا…  تھا… 

مگر اسکا باس بلکل اچھا نہیں تھا… اسے سمھجہ نہیں ایا…  وہ اتنا کھڑوس کیوں ہے.. ہاں اس سے بیر ڈالنا تو خیر جائز بھی تھا…  کیونکہ…  داود نے کس بری طرح ان دونوں کو پیٹا تھا….

وہ مسلسل اسے کھا جانے والی نظروں سے.. نفرت  سے دیکھتا رہا تھا.

دن مشکل سے گزرا تھا کیونکہ…  یہ بات عجیب ہی لگتی ہے کہ باس نئ انے والی ایمپالائر جو باس کو جانتی بھی نہیں اسکو سالم نگلنے…  کا ارادہ کرے…

اللہ اللہ کر کے دن گزر گیا… 

اور وہ

. جلدی سے سب سے پہلے.. وہاں سے نکلی.. خوشی یہ تھی کہ گھر جا کر سب کو یہ خوشخبری دینی تھی… 

مگر.. سارے راستے.. وہ مراد سر.. کا رویہ بھی سوچتی ائ تھی… 

انکے والد نے اسے رکھ تو لیا تھا.. مگر اگے کیا ہونے والا تھا.. وہ نہیں جانتی تھی….

وہ گھر پہنچی تو اسی وقت داود کی بائیک بھی اسکے ساتھ ہی دروازے پر ا رکی… 

گاگلز.. اسنے ڈھلتی شام میں بھی لگائے ہوئے تھے جبکہ موسم قدرے بہتر تھا مگر خیر اسکی مرضی….

فیزا نے اسکیطرف دیکھا.. جس کے ماتھے پر بل ڈلنا شروع ہونے لگے کیونکہ وہ اسے گھور رہی تھی اور اس سے پہلے وہ چیختا.. اور گھر بھر میں نئے طریقے سے فساد اٹھاتا…  وہ اندر گھس گئ…

داود بھی بڑبڑاتا ہوا اندر ایا…

پوری دنیا نے بیر ڈالا ہوا ہے مجھ سے "وہ بائیک سے اترا… 

عابیر نے مسکرا کر اسکیطرف دیکھا…  داود نے گھیری سانس بھری… 

اور.

وہ مسکرایا تو نہیں…  کیونکہ کافی رینٹ ا جاتا.. ہاں البتہ.. ماتھے کے بل کم ہو گئے تھے….

پہلے فریش ہو جاو.. پھر کھانا کھاو.. پھر تم سے پوچھو گی.. کہ اج.. میرے بیٹے… نے کس کا سر پھاڑا…. اپس.

میرا مطلب…  داوود احمد.. کے پیچھے اس دنیا کہ معصوم لوگ جو پڑ گئے ہیں… 

اب پوچھناتو بنتا ہے.. نہ.. تاکہ اپکے.. بابا…

کہ پاس.. کوئ خبر ائے اور مجھے پتا نہ ہو "وہ نرمی سے ہنستی ہوئ اس سے کہہ رہی تھی وہ بچپن سے ہی ایسا تھا… 

جب گھر سے باہر نکلتا ضرور ایسا کام کرتا کہ لوگ اسکی شکایتیں لے کر اتے اور پھر گھر میں ایک محاز کھڑا ہو جاتا…

داود…  عابیر کی بات پر ہلکا سا مسکرایا

.. بڑا جانتی ہیں اپ مجھے مائے بیسٹ لیڈی" اسنے ماں کو کہا تو.. ہنس دی..

اخر کو دل جان سے فدا تھی اپنے بیٹے پر.. حالانکہ وہ جانتی تھی اس میں لاکھ برائیاں ہیں….

داود اپنے روم میں ایا… ڈریس لیا اور شاور لینے چلا گیا….

تقریبا بیس منٹ بعد وہ اپنے روم سے باہر ایا.. تو سامنے ٹیبل پر سب کھانا کھا رہے تھے جبکہ… 

وہ بھی فیزا کے ساتھ چئیر کھینچ کر بیٹھ گیا….

اور خاموشی سے…  کھانا کھانے لگا…  کیونکہ عابیر نے اسکے سامنے کھانا چن دیا تھا… 

مامو.. سیلری پیکج بہت اچھا

.. ہے… "فیزا کی اواز ابھری….

اچھی بات ہے بیٹا…. بس…  لڑکی ذات ہو…. دھیان اور توجہ سے رہنا" معاذ نے نرمی سے کہا…  داود نے گھور کر باپ کو دیکھا.. اس سے بات کرتے ہوئے سارے کریلے.. اس ادمی کے منہ میں بھرے ہوتے ہیں… 

برحال وہ کھانا کھاتا رہا….

جی مامو…  "فیزا نے اثبات میں سر ہلایا… 

تو معاذ کا رخ داود کیطرف ہوا… 

تمھیں تو نوکری نہیں ملی ہو گی….

جا کہ ہیڈ ماسٹر کا ہی سر پھاڑا ہو گا تم نے" اسنے ہمیشہ کیطرح طنز کیا….

ہاں جی پھاڑ دیا تھا…. "اسنے منہ میں لقمہ رکھتے ہوئے فٹ جواب دیا… 

معاذ نے اسکو گھورا…

داود جان.. بابا کو ٹھیک بات بتاو "عابیر.. نے.. نرمی سے پوچھا… 

انھوں نے جیسا سوال کیا تھا ویسا جواب ملا ہے…  اور میں کچھ نہیں بتا رہا جب انھیں یقین ہے کہ مجھے نوکری  نہیں ملی"اسنے سنجیدگی سے کہا… 

تو عابیر کے دل کو کچھ… 

نہیں داود.. مجھے پتا ہے

. اپکو جاب مل چکی ہے… "وہ اٹھ کر بیٹے کی سائیڈ پر ا گئ..

داود نے کوئ جواب نہیں دیا….

بس جا بے جا اسکی حمایت کے علاوہ.. تمھیں کچھ بھی نہیں اتا"معاذ نے.. سختی سے کہا…

پلیز معاذ" عابیر.. نے.. اسکی جانب دیکھا….

وہ اکثر.. داود کو اسی طرح ہرٹ کر دیتا تھا.. جبکہ اس چیز کا احساس بھی اسے نہیں ہوتا تھا… 

اول تو یہ وہاں گیا ہی نہیں…  اور دوسرا.. وہ اسے جاب دینا بھی نہیں چاہتے.. جتنے اسنے سی وی پر تمغے چیپکا رکھے ہیں….

نوکریاں بھی شعور والے.

اور لائق لوگوں کی لگتی ہیں "معاذ.. کہاں باز اتا….

جبکہ داود نے کانٹا.. پلیٹ پر پٹخا….

روشنی اور فیزا.. دونوں بھی کھانا چھوڑ چکیں تھیں….

مل چکی ہے مجھے جاب…. اور  سیلری پیکج… اپ کی سیلری سے کئ گناہ زیادہ ہے…..

جبکہ…  گھر گاڑی بھی ملے گی.. کیونکہ شہر کا مشہور کالج ہے……..

اور بغیر سی وی اور بغیر وہ تمغے دیکھے ملی ہے….

لائق لوگوں کو ملتی ہیں"وہ غصے سے دھاڑتا…  وہاں سے نکل گیا..

جبکہ عابیر.. نے.. معاذ کی جانب دیکھا..

تمیز سیکھاو اسکو…. انھیں کا پیٹ اکیلا  بھر رہا ہوں…  جو.. تانا دے کر گیا ہے کہ.. میری تنخا سے زیادہ ہے.. باپ کا مقابلہ…  کبھی نہیں کر سکتا" معاذ.. اسکو گھور کر بلند اواز میں بولا

. جو.. صحن میں لگے واشبیسن میں ہاتھ دھو رہا تھا… 

باپ کا مقابلہ کرنا بھی نہیں مجھے…. پیٹ.. پیٹ… 

اتنا بھی.. کیا کھا لیا.. جو ہر وقت ایک ہی بات ہے میرا پیٹ بھرا ہے اپ نے…." داود نے بھی بدمزاجی سے پوچھا…  جبکہ معاذ… غصے سے…  چیل اٹھا گیا.. اور اس سے پہلے وہ چپل.. اسکو لگتی وہ.. ماں باپ کے کمرے میں گھس گیا.. اور دروازہ بھی لاک کر لیا… 

اور اندر وہ شطانی مسکراہٹ لیے…  دروازے کو دیکھتا رہا.. اب تو یہ دروازہ صبح ہی کھلنا تھا اچھا تھا.. اج سب گرمی میں سڑتے…

جان بوجھ کر گیا ہے یہ "معاذ نے عابیر کیطرف دیکھا… 

بہت بدل گئے ہو معاز تم.. کھانا بھی حرام کر دیا ہے تم نے" عابیر بھی غصے سے کہتی.. وہاں سے اٹھ گئ..

معاذ.. نے ان دونوں کو دیکھا… 

کھانا کھاو بیٹا…  کھا لیں گے دونوں جب بھوک لگے گی… 

چلو ایک تو اچھی بات ہوئ… 

اسنے اگل دیا کہ نوکری لگ گئ.. ورنہ کبھی نہ بتاتا" معاذ.. نے کہا.. تو.. فیزا اور روشنی ایک دوسرے کا منہ دیکھ کر رہ گئیں..

………………

حالانکہ وہ نوکری چھوڑ ایا تھا….

اس سے زیادہ اوور ایکٹینگ کر لیتے

.. داود صاحب…" اسنے.. موبائل پٹخ کر.. سوچا….

دو گھنٹے سے وہ  یہ ہی سوچ رہا تھا…

پرنسپل نے اسے اپنا نمبر دیا تھا کہ اگر دوبارہ مائنڈ بنے تو. وہ اسے بس کال کر دے… 

جبکہ داود کی انا پر کاری ضرب لگ رہی تھی.. کہہ تو دیا تھا.. اب کرنا کیا تھا معلوم نہیں….

اسنے موبائل اٹھایا.. وقت دیکھا…

10 بج رہے تھے….

ہمت کر کے.. اسنے.. پرنسپل کو کال کر لی….. پہلی بار باپ کی وجہ سے اسکی انا کی دیوار گیری تھی…

…………….

اپنے ہی افس کے سامنے… دونوں پٹ رہے تھے.. بزدل کہیں کے "معاویہ نے کہا.. تو سارگل اور مراد…  نے…  ضبط سے اسکیطرف دیکھا… 

جو اب مزے سے مسکرا رہا تھا… 

تم لڑے ہو" باپ کی اواز پر سارگل نے.. بہرام کیطرف دیکھا… 

نہیں بھائ یہ پیٹا ہے "معاویہ نے پھر لقمہ دیا… 

سارگل" بہرام کی گھوری خطرناک تھی.. جبکہ عینہ…. ایشا

کی کھی کھی الگ ہی تھی… 

گھر بھر میں بس وہ دو ہی لڑکیاں تھیں جبکہ.. باقی سب.. لڑکے تھے… 

ڈیڈ.. اس بددماغ ادمی نے لڑائ شروع کی تھی "سارگل نے.. اسے بتایا… 

تو بہرام…  نے اپنے لبوں میں ہی مسکراہٹ روکی… 

اور تم پٹ لیے مطلب سارگل بہرام خان اتنا بڑا وکیل ہو کر بھی…  کسی نے دیکھا تو نہیں  عزت کا سوال ہے.. جگر" اسکی بات پر.. دونوں کو پتنگے لگے

 کب سے اپ لوگ لگے ہوئے ہیں.. مزاق بنانے میں "ارمیش…  نے.. دونوں کو گھورا…  جبکہ معاویہ سمیت بہرام کا بھی قہقہ.. بلند ہوا.. سارگل اور مراد جو.. بہرام اور معاویہ کی کاپی تھے

دونوں سڑ بھن گئے تھے….

انوشے.. نے معاویہ کو پیچھے سے ٹھونگا مارا… 

ڈارلنگ یہ رومینس کا وقت نہیں ہے " معاویہ نے مدھم اواز میں کہا.. تو وہ سٹپٹا گئ..

شرم کریں.. ایک تو میرے بیٹے کے پیچھے پڑیں ہیں دوسرا… 

اب میرے پیچھے پڑنا چاہا رہے ہیں" وہ بڑبڑاتی ہوئ

. مراد کے پاس ا گئ.. جہاں. ارمیش سارگل کے پاس پہلے سے کھڑی تھی… 

میرا بیٹا کھانا کھاو کسی کی بات پر توجہ نہ دو "ارمیش نے…  پیار سے پچکارہ.. تو… سامنے…  ہی.. بیٹھے حیدر کی نگاہ.. اسپر اٹھی..

اسکا جوان.. بیٹا.. تھا….

اور کتنے اعتماد سے

 وہ اپنے شوہر کے سامنے بیٹے کو ڈیفینڈ کر رہی تھی… 

مگر زیادہ دیر.. وہ نہیں دیکھ سکا.. تبھی نگاہ کا زاویہ بدل لیا… 

بہرام

 اب بس کریں… وہ ناشتہ نہیں کر کے گیا تھا  شاید اسی لیے اس کی انرجی کم ہو گئ تھی"ارمیش نے اپنی جانب سے بڑی سمھجداری کا مظاہرہ کیا جبکہ بہرام معاویہ سمیت اب سب ٹیبل پر کھانا چھوڑے ہنس رہے تھے

مما یار یہ کیا بات ہوئی" سارگل نے تو سر تھام لیا.. جبکہ.. بہرام اور معاویہ.. مزید

. ہنسی کے فوارے چھوڑنے لگے….

اپس "ارمیش.. نے مسکراہٹ دبائ… 

اچھا.. ڈیڈ میں پیٹا ہیپی" سارگل نے کہا…  تو مراد نے اسے چٹکی لی… 

تو مان لے.. تاکہ.. ساری زندگی.. یہ دونوں ادمی ہمیں یہ ہی تانا مارتے رہیں "وہ اسکے کان میں گھس کر بولا… 

جی بیٹا جی یہ ہی پوچھ رہا ہوں ناشتہ کیوں نہیں کیا تھا"

ایک بارپھر ہنسی کا فورا.. اٹھا…  تو ان دونوں نے ٹیبل ہی چھوڑ دی….

جبکہ ارمیش نے بہرام کو گھورا تھا… 

اب اگر اپ  نے میرے بیٹے کو بھڑکانے کی زرا سی بھی کوشش کی تو اپکو کھانا نہیں ملے گا.."

اپکو بھی"انوشے نے بھی انگلی اٹھائ.. تو ان دونوں نے سیلینڈر کیا… 

جبکہ سارگل اور مراد دوبارہ اکڑ کر بیٹھ گئے….

ٹیبل پر خاموشی سے.. ہلکی پھولکی باتوں کے دوران کھانا کھایا جا رہا تھا….

حویلی کا ماحول داجی کی وفات کے بعد ویسا نہیں رہا تھا… 

اور پھر بی جان.. اور یاور خان کے چلے جانے کے بعد تو سیرے سے ہی بدل گیا… 

دستار.. اب بھی معاویہ خان کے سر تھی مگر…  ان معملات میں بھی تبدیلی ا گئ تھی سارا دھیان اپنے بزنس کو دے کر ان لوگوں نے اپنی کدی کو بس نام کا ہی رہنے دیا تھا.. ہاں اب بھی کوئ اگر اپنا مسلہ لے اتا تو.. وہ سب ضرور فیصلوں میں شمولیت کرتے مگر.. وہ پہلے کی داجی کے دور کی سختی.. نہیں رہی تھی.. معاویہ اپنے  بیٹے کے ساتھ اپنا جہاں بیزنیس سمبھال رہا تھا.. وہیں…  بہرام…  اپنی سیاسی.. دنیا میں خوش تھا جبکہ.. بیٹا…  سارگل…  اپنی مرضی سے.. وکالت میں گیا…  تھا… 

وہ کافی مہنگا اور بڑا.. وکیل تھا….

اسکی نیچر.. بلکل باپ کے جیسی…  نہیں تھی… 

اپنے کمائے گائے.. پیسے سے.. جتنی سارگل بہرام خام.. کو محبت تھی.. اتنی تو شاید حویلی میں کسی کو.. کسی سے ہو گی….

پیسا کمانا اسکا شوق تھا….

بہرام اس بات کو جانتا تھا… 

اور اکثر وہ اسے…  اس بات پر ٹوک بھی دیتا.. کہ وہ.. کئ کئ دن…  گھر سے غائب اپنے کیسیز کی وجہ سے رہتا.. مگر یہ بات شاید مراد کے سوا کوئ نہیں جانتا تھا.. کہ وہ پیسے کی دھن میں ہر جائز نا جائز کیس لڑتا ہے….

اور کامیابی تو جیسے اسکا مقدر تھی….

جبکہ مراد کی شخصیت بھی معاویہ سے بلکل الگ.. تھی وہ.. اکثر اسے اپنی اولاد ماننے سے انکار کر دیتا تھا.. کہ.. اسکے بقول تو اسکے باپ دادا میں بھی کوئ اتنا سخت پیدا نہیں ہوا تھا… 

وہ ریزرو سا شخص تھا….

سارگل کے علاوہ…  کبھی کسی سے.. اسنے اپنی بات شئیر نہیں کی تھی…

طبعیتا وہ خاصا. روڈ تھا….

جبکہ….. ایک طرف اس حویلی میں ایک اور سپوت بھی تھا… 

جو کوئ مان ہی نہیں سکتا تھا.. احمر پر گیا ہے… 

صارم…. حویلی کا  کون سا انسان تھا جس سے.. وہ ڈانٹ نہیں کھاتا تھا…  بڑے چھوٹے…  سب.. اسے صلواتیں سناتے تھے.. کیونکہ…  وہ…. ڈاکٹر.  کم…  لطیفہ زیادہ لگتا تھا…..

زندگی میں کبھی سیریس ہونا.. اسنے نہیں سیکھا تھا…

جبکہ بڑوں کی مانے بغیر یہ کہے بغیر ہی اسنے ایشا کو اپنی منگیتر بنا لیا…  تھا….

جبکہ اس حویلی کی لاڈلی عینہ…. جو بہت حساس…  اور کچھ موڈی سی تھی…..

…………………..

باو چھوڑ ماں کو "وہ چیخی…. مگر اسکا باپ اسکی ماں کو بری طرح مار رہا تھا….

کہ اب اسکا سر پھٹ چکا تھا….

یہ سب تایا کی لگائ ہوئ اگ تھی… 

وہ ایک بے حد غریب اور شاید گندے گھرانے کی لڑکی تھی جہاں.. رشتوں کی تمیز.. نہیں تھی..

تایا.. اسکی ماں پر گندی نظر رکھتا تھا….

جبکہ.. اج جب.. رات کے وقت سب سونے کے لیے لیٹے…. اور اسکے لیے اور اسکی ماں کے لیے چارپائ نہ بچی…  تو.. وہ.. اپنی ماں کی اغوش میں لیٹ گئ..

زمین پر پیڑ کے نیچے….

کچھ دیر بعد جیسے اسے احساس ہوا…  کہ…  کوئ دبا دبا سا چیخ رہا ہے.. اور اسکی ماں کی گود اسکے سر سے جدا ہو رہی ہے.. اسکی انکھ کھل گئ… 

سیدھا نظر مچھلی کیطرح تڑپتی اپنی ماں پر گئ… 

جس کے منہ پر تایا ہاتھ رکھ کر.. اسے گھسیٹ رہا تھا….

وہ.. سترہ سال کی لڑکی… 

تیزی سے ماں کیطرف بڑھی…

اور پاس پڑی اینٹ…  اٹھا کر اسنے تایا کے شانے پر ماری.. تبھی تایا…  کی چیخ نکلی…  اور…  اسکی چیخ سے.. سارا گھر جاگ گیا..

تایا کی.. ناپاک چیخ سے تو گھر بھر جاگ گیا.. جبکہ اسکی ماں کی بے بسی.. پر کوئ نہیں جاگا تھا.. اسکی ماں نے.. جلدی سے.. روتے ہوئے اپنے سینے پر دوپٹہ پھیلایا…  جبکہ.

.. بیٹی.. کو.. بھی سینے سے لگا لیا… اور اسپر بھی اپنا دوپٹہ ڈالا

مشل سر سے پاوں تک بری طرح کانپ رہی تھی سب انھیں آنکھیں پھاڑے دیکھ رہے تھے… 

ستار اپنی اس نیچ بیوی…  کو لے کر یہاں سے نکل جا….

بدذات.. میری چارپائ…  پر میرے بستر میں گھس رہی تھی..

اور جب میں نے.. میں نے اسے دور کیا دھکیلا تو اسکی اس مہرانی نے اینٹ مجھے مار دی….

ایک ایک منٹ بھی تیرے…  گندے کنبے کو میں اپنے گھر میں برداشت نہیں کروں گا"تایا بلند اواز میں چیخا.. جبکہ ماں کی گرفت اسپر سخت ہو گئ..

اسکے کانوں نے…   ماں کے دل کی سسکیاں بھی سنیں تھیں..

باو تو جیسے اپے سے باہر ہو گیا.. سنتے ہی ماں کو بری طرح پیٹنے لگا.. وہ کماتا دھرتا نہیں.. تھا لوگوں سے بھیک مانگ کر گزارا کرتا تھا.. جبکہ… 

یہ چھت بھی تایا کی تھی….

اور اب اس چھت سے نکلنے کو سن کر.. وہ ماں کو مار دینا چاہتا تھا… 

باو چھوڑ دے.. تایا جھوٹ بول رہا ہے "وہ.. باو کا ہاتھ ہٹانے کی کوشش کرنے لگی.. مگر باو نے اسے بھی دھکا دیا.. وہ زمین پر جا پڑی… 

بھاگ جا مشل" ماں…  کی نہیف اواز سن کر.. اسکا بدن کانپ اٹھا….

تایا رک.. باو کو.. مار دے گا.. ماں کو "اسنے تایا کے پاوں پکڑے…  تو وہ ہنسنےلگا.. جبکہ تائ سسمیت اسکے بچے بھی…

جبکہ باو…  صحن میں لگی

. پانی کی ٹوٹی.. پر ماں کا سر.. مارے جا رہا تھا….

اسکے سر سے خون نکل رہا تھا..

مشل جیسے ہوا میں معلق ہو گئ….

باو ہٹ جا باو…" اسنے اپنے کمزور ہاتھوں سے باپ کی کمر پر مسلسل وار شروع کر دیے.. مگر نتیجہ کچھ نہ ہوا.. ماں خون میں لت پٹ زمین پر پڑی تھی جبکہ باو نے.. سیل اٹھا کر.. ماں کے سر پر دے ماری…

کھس کم جہاں پاک" ماں نے اخری سسکی بھری….

ماں"اسکی چیخ سے.. گھر… بھر جیسے دھل گیا..

اے ہاے مار دیا "تائ کی اواز ائ..

بہت اچھا کیا" تایا نے باو کے شانے تھپتھپائے… 

اسکی ماں اسکی جانب دیکھ رہی تھی…

جبکہ اب اسکے بدن میں جان باکی نہیں تھی…

اس کو بھی مار کر قصہ ختم کروں "باو.. اسکیطرف بڑھا….

اور اسکا گلہ دبا دیا… اسے کچھ محسوس نہیں ہوا… 

اوو پاگل.. اس کو کیوں مار رہا ہے.. اپنے قاصم کی دلہن ہے.. یہ…" تایا.. نے باو کا ہاتھ ہٹایا….

تو باو نے کھا جانے والی نظروں سے اسکیطرف دیکھا…

لے جا قاصم اسے…  "باو نے کہا.. تو قاسم.. کی باچھیں کھلیں..

بھاگ جا مشل"یہ اخری لفظ تھے اسکی ماں کے….

ابھی قاسم.. اسکیطرف بڑھتا…

کہ…  وہ…  بنا کچھ دیکھے اپنی ماں کا دوپٹہ.. جو.. اسنے اسکے سینے پر پھیلا دیا تھا.. سختی سے.. تھامے.. باہر

. بھاگ گئ… 

ابے پکڑ اسے"تایا سمیت باو بھی چنگھاڑا جبکہ قاسم اسکے پیچھے بھاگا…………..

صبح کمرے سے باہر نکلا تو…  وہ کافی بشاش سا تھا… 

مورنگ مام" لاڈ سے ماں کے گلے میں بازو ڈال کر…  اسنے کہا…

تو عابیر نے اسکے ہاتھ ہٹا دیے…

اپس"وہ ہنسا….

تم……. ناراض ہو…… " وہ مدھم سا گنگنایا…

کبھی کبھی ہی وہ گنگناتا تھا.. اور اسکی اواز بہت حسین تھی… 

کام کرنے دو داود مجھے" عابیر نے کوئ نوٹس نہیں لیا..

یار پلیز اس ادمی کی طرح سڑیل نہ بنیں اپ" اسنے کہا.. کیا پتا تھا معاذ پیچھے ہی کھڑا ہے.. پتہ تو تب چلا جب.. گدی پر معاذ کا ہاتھ پڑا….

وہ ایکدم پلٹا… 

بدتمیزوں کے بھی باپ ہو تم…. "اسنے کہا.. تو داود نے…  منہ بنایا… 

اویں مار دیا… "وہ پاس پلیٹ میں رکھے انڈے کو توڑتا بڑبڑایا…

عابیر نے دونوں کیطرف توجہ ہی نہیں دی..

ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا… 

یہ اپکی وجہ سے ہوا ہے میری لیڈی ناراض ہو گئ ہیں "داود نے ماتھے پر بل ڈالے..

تمھاری وجہ سے ہوا ہے… "معاذ نے بھی الزام اسپر ڈالا…

میں نے کیا کیا ہے"وہ دوبادو ہوا…

کیا کیا ہے…  جینا حرام..

بس کریں اپ دونوں" عابیر.. زور سے چلائ.. دونوں چپ ہو گئے. ناشتہ کرنا ہے تو ٹیبل پر جائیں اور اب مجھے اواز نہ ائے"اسنے چمٹا اٹھتے ہوے….

کہا ..

اپکو چمٹا دکھا رہیں ہیں…. ایک دو لگ ہی جانے چاہیے" دانت نکال کر کہتا.. وہ معاز کو کلسا کر باہر بھاگا جبکہ معاز نے بنا لحاظ کے سٹینڈ میں رکھی پیاز اسکی کمر میں دے ماری…  جس سے اسے فرق تو کوئ بھی نہیں پڑا…. البتہ ہنسا ضرور تھا

عابیر نے معاز کو گھورا..

دیکھا….

بلکل چپ ایک لفظ بھی نہیں سننا مجھے" عابیر بولی تو.. بیچارہ منہ دبا کر باہر نکل گیا… 

جبکہ اب کوئ ادھے گھنٹے بعد.. وہ دوبارہ ٹیبل پر ایا… 

بلیو ٹی شرٹ میں اسکی رنگت کمال لگ رہی تھی..

جبکہ ناک کی چونچ پر گاگلز.. سجاے وہ بائیک کی چابی اور والٹ.. جیب میں رکھ رہا تھا… 

اکثر وہ بلکل بہرام جیسا لگتا تھا… 

یہ.. گاگلز.. ہٹاو"وہ جھنجھلا کر بولا.. اسکا بیٹا اس پر ہی نہیں گیا تھا… 

سب سے زیادہ چیڑ اسے اس بات کی تھی… 

کیوں اپکی ناک پر تو نہیں رکھی" وہ کہاں لحاظ برت سکتا تھا… 

معاذ نے دانت کچکائے….

اگر اب.. داود تم ایک لفظ اور بولے تو…  پھر دیکھنا "عابیر نے.. کہا.. تو… مزید اکھا ہوا…

لیں ایک اور اپکا وٹر آ گیا "اسنے معاز کو کہا… 

اور.. عابیر پر ایک نظر ڈال کر بنا ناشتے کے گھر سے نکل گیا..

عابیر اسکے پیچھے بھی گئ

. مگر وہ الریڈی نکل چکا تھا… 

مامو میں بھی چلتی ہوں "فیزا نے کچھ جھجھک کر کہا…

ناشتہ نہیں کیا تم نے.. "عابیر نے پوچھا..

مامی.. افس میں کر لوں گی" اسنے کہا. اور وہاں سے وہ بھی نکل گئ… 

……………………..

اسکے پاس پیسے تھے…  مگر…  پھر بھی اسنے پیدل ہی چلنے کو اہمیت دی.. اور  بیلڈینگ میں داخل ہوئ… 

جبکہ…  وہ اتنی سوستی سے چل رہی تھی کے پیچھے چلتے مراد کا ضبط جواب دے گیا.. اسنے اسکے شانے پر سختی سے ہاتھ رکھا.. اور گھما کر اسکو پیچھے کر دیا..

فیزا تو جیسے پوری حل گئ… 

جبکہ مراد اندھی طوفان کیطرح.. لیفٹ میں سوار ہوا….

فیزا کو بھی اسی لیفٹ میں جانا تھا.. مگر مراد کو دور سے دیکھ کر.. ہی اسکا دم خشک ہونے لگا کجا کہ. وہ اسکے ساتھ اس لفٹ میں سوار ہوتی….

لیفٹ…  کا ابھی اسنے بٹن پش نہیں کیا تھا.. فیزا مرتےقدموں سے لیفٹ کے قریب ا رہی تھی جبکہ مراد پیٹھ موڑے سارگل سے بات کر رہا تھا..

جو اسے اپنے دوسرے شہر جانے کی اطلاع دے رہا تھا…

یار مسلہ کیا ہے تیرے ساتھ… 

تو جانتا ہے وہ لڑکی بے قصور ہے پھر بھی اپوزیشن میں کیس لڑ رہا ہے "مراد کو غصہ ہی ایا…

مراد.. خان…  سارگل خان نے انات حاشرم نہیں کھولا.. وہ لڑکی.. پہلے مجھے ہائیر کر سکتی تھی.. برحال… 

دو دن بعد ملیں گے" اسنے لاپرواہی سے کہا

تو یہ کیس ہارے گا" مراد نے جیسے تنبہی کی… 

کبھی نہیں…  کڑوڑوں کا سوال ہے.. برو…  ہاں اگر وقت پر وہ لڑکی.. کوئ سٹیپ لیتی ہے.. تو.. فائدے میں رہے گی" وہ ہنسا جبکہ مراد نے جل کر فون بند کر دیا….

ابھی وہ بٹن پوش کرتا ہی کہ.. فیزا.. اسکے سامنے. سر جھکائے کھڑی تھی لفٹ کے باہر… 

پہلے ہی سارگل کی وجہ سے.. اسکا.. موڈ.. بری طرح سلگا ہوا تھا.. اور اب یہ… 

اسنے.. پاکٹ میں موبائل ڈالا…  

اور فورتھ فلور پر پش کیا….

فیزا نے کنپتی پلکیں اٹھائیں وہ اسے ہی گھور رہا تھا….

ہمت کر کے.. اسنے…  قدم اندر رکھا.. جبکہ لفٹ کا دروازہ بند ہونے لگا… 

دروازہ اسکے قریب ا گیا تھا کہ.. وہ ادھی اندر ادھی باہر رہ گئ..

اسکی کمر سے.. دروازہ لگ.. کر ٹک کی اواز سے ایک بار پھر کھلا..

اسکی کمر میں کافی زور سے دروازہ لگا تھا.. کہ اسکی پلکیں بھیگ گئیں.

کتنا برا انسان تھا یہ شخص..

کچھ دیر تو.. مراد یہ ڈرامہ دیکھتا رہا.. اور جب دوبارہ لفٹ کا دروازہ بند ہونے لگا جبکہ وہ اب بھی وہیں کھڑی تھی اسنے اکتا کر.. اسکو اندر کھینچ لیا.. اور دروازہ بند ہو گیا… 

مراد کے کھینچنے کی وجہ سے.. فیزا.کی پشت. اسکے سینے سے جا لگی….

جبکہ منہ کھلا رہ گیا..

فائلز ہاتھوں سے چھوٹ گئ… 

جبکہ.. مراد کی نگاہ…  اسکے کان کے پیچھے سے.. .. گردن پر رینگتی ہوی نیچے جاتی پسینے کی لڑی پر تھی…

جبکہ سماعت.. اسکے دل کی تیز دھڑکنوں پر….

وہ اسکے کافی قریب تھی اور اب بھی ساکت لیفٹ کے دروازے کو دیکھ رہی تھی..

جبکہ مراد اسکی صاف شفاف گردن.. کو دیکھ رہا تھا..

تقریبا.. ایک منٹ.. وہ دونوں یوں ہی رہے اور پھر فیزا  کو اپنے  گرد.. مہنگے کلون کی خوشبو محسوس ہوئ وہ.. ہڑبڑا گئ..

وہ جھٹکا کہا کر اس سے الگ ہوئ.. اور سامنے دیوار کو چیپک گئ..

رو روکیں اس لیفٹ کو "وہ رو دینے کو ہوئ…

ایک لفٹ میں. ایک غیر مرد کے ساتھ تھی وہ.. اب اسے شدت سے احساس ہوا… 

مراد نے تیوری چڑھا کر اسکیطرف دیکھا….

کس خوشی میں" اسنے پوچھا

. تو فیزا کے پاس کوی جواب نا بنا… 

مج.. مجھے سیڑھیوں سے جانا ہے "اسنے کہا…. سر جھکا ہوا تھا..

اپنی فائلز کو دیکھ رہا تھا  جو بکھری پڑیں تھیں….

مراد نے گھور کر اسکی جانب دیکھا…

اوکے "اسنے لفٹ کو دوبارہ فرسٹ فلور پر…  کر دیا.. جبکہ فیز اجلدی جلدی فائلز سمیٹنے لگی.. فائلز سمیٹنے میں اسکے بوٹ سے بھی ایک بار اسکی انگلی چھو گی.. جسے وہ فورا کھینچ گئ.. مراد یہ سب تماشہ دیکھ کر خون کے گھونٹ بھر کر رہ گیا..

تب تک لفٹ فرسٹ فلور پر تھی..

ٹک کی اواز سے.. لفٹ کھلی..

فیزا باہر نکلی.. وہ.. تھرڈ فلور پر بھی روک سکتا تھا.. لفٹ کو.. مگر وہ جان بوجھ کر.. فرسٹ فلور پر لے ایا… 

مگر فیزا کو غرض نہیں تھی..

ویٹ.. "فیزا اس سے پہلے غائب ہوتی اسکی اواز پر روکی..

یہاں سے سیدھا…  10 فلور پر ملیں مجھے مس فیزا" اسنے جیسے ایک ایک لفظ کو چبا چبا کر کہا… 

فیزا نے پلٹ کر اسکی جانب دیکھا… 

رونا تو اسے خوب ایا.. کہ اسکی ٹانگیں ٹانگیں نہیں تھیں کہ وہ سب سے.. اوپر اسے بلا رہا تھا.. اور خود لفٹ میں جاتا… 

مگر کچھ بھی بولے بغیر.. وہ.. چل پڑی…

جبکہ مراد نے پھر فورتھ فلور پر پریس کیا… 

اسے اکونٹینٹ سے ملنا تھا.. جبکہ اسکے بعد وہ.. 8 فلور جہاں اسکا کیبن تھا وہاں جاتا….

اسے لگا اج اسکی ٹانگیں ٹوٹ جائیں گیں….

3 فلور پر ہی اسکے سانس بری طرح پھول گئے کے وہ سیڑھیوں میں بیٹھ گئ..

جبکہ آنکھوں سے انسو رواں دواں تھے..

وٹ ہیپینڈ مس فیزا.. "فائق جو وہیں سے گزر رہا تھا اسے روتے دیکھ.. اسکی جانب ایا.. وہ.. فورتھ فلور پر.. اسی کے انڈر کام کرتی تھی… 

فیزا نے سرخ آنکھیں اٹھائیں.. … 

پلیز.  پانی…" وہ بس اتنا بولی.. کہ فائق نے سر ہلا کر اسکیطرف ہاتھ بڑھایا.

. اپ اٹھیں…"  تقریبا فورتھ فلور پر تو وہ ا گئ تھی…

فیزا نے اسکا ہاتھ تھام لیا..

اور وہیں لیفٹ کی جانب اتے.. اکاونٹینٹ کے ساتھ.. مراد نے.. فائق اور فیزا کو دیکھا… 

اسکے ماتھے پر پڑے بلوں کی تعداد میں بیش بھا اضافہ ہوا..

مسٹر فائق "وہ دھاڑا.. فائق نے فیزا کا ہاتھ چھوڑ دیا..

فیزا کی ٹانگیں اتنی کانپ رہیں تھیں کہ.. وہ دوبارہ زمین پر پڑی… 

تینوں نے اسکیطرف دیکھا.. مگر مراد نے اگنور کر دیا… 

اپکے پاس کوئ اور کام نہیں ہمدردی کے سوا" وہ غصے سے بولا..

وہ سر مس فیزا کی طبعیت "

شیٹ اپ" اسنے جھاڑ دیا.. فائق.. سر جھکا کر وہاں سے چلا گیا..

واٹر بوٹل.." اسنے.. اکونٹینٹ کے پیچھے اتی اپنی سیکڑی سے کہا.. جس نے اسکی پرسنل بوٹل حیرت سے.. اسکی جانب دیکھتے.. اسے تھما دی..

جائیں اپ دونوں "اسنے دونوں کو کہا تو وہ دونوں بھی چلے گئے..

فیزا بے اواز رو رہی تھی..

پانی "اسنے بوتل کھول کر اسکی طرف بڑھائ… 

جبکہ.. وہ گٹھنوں کے بل بیٹھا تھا..

فیزا کو اسکیطرف دیکھ کر غصہ انے لگا..

چھوٹی سی ناک پھلا کر اسنے چہرہ موڑ لیا..

نو تھینکس "پھولتے سانسوں میں اسنے جواب دیا.. مراد نے…  غصے سے بوتل.. اسپر پھینک دی…

فائق کا ہاتھ تھام رہی تھی جبکہ اس سے.. بوتل پکڑتے ہوئے اس معمولی سی لڑکی کے نکھرے دیکھو…

اسکی ساری فائلز سمیت کپڑے بھی گیلے ہو گئے..

مراد نے تمسخر سے اسکی جانب دیکھا.. اور وہاں سے چلا گیا.. جبکہ اسکی سیکٹری نے بھی.. اس شو کو انجوائے کیا تھا.. وہ اتنی خوبصورت تھی اب تک مراد نے اسے گھانس نہیں ڈالی تھی کجا کہ یہ لڑکی…

…………………

ہیوی بائیک پارکینگ میں روک کر وہ اندر ایا.. وہ لیٹ تھا… 

مگر…. پھر بھی.. وہ اپنے روم کی جانب چل دیا..

10 بجنے میں پانچ منٹ تھے.. وہ…  کلاس میں داخل ہوا.. تو.. جیسے سب لڑکیوں نے سرد آہیں بھریں..

کیا تھا.. وہ.. اتنا خوبصورت…  اتنا ڈیشینگ باکمال.. اور اوپر سے بے نیازی… 

غضب تھی… 

لاشعوری طورپر…  داود کی نظر کلاس میں گھومی مگر وہ وہاں.. نہیں… تھی… 

اسکے ماتھے پر بل پڑے…

اور اسنے ریجیسٹر اوپن کر کے…  رولنمبر بولنا شروع کیے.. سب انس کرتے رہے مگر کچھ لڑکیاں تھیں جو غائب تھیں… 

اسنے.. گاگلز اتار کر…  شرٹ میں اٹکائے.. اور اپنے سفید بازوں ڈائس پر رکھ کر.. اسنے سب پر نگاہ گھمائ… 

جو سٹوڈنٹس اپسینٹ ہیں وہ واقعی اپسینٹ ہیں یہ اس لیکچر سے فرار ہیں "اسنے…  سرد سے لہجے میں پوچھا… 

تو سب سے پہلے منشانے ہاتھ اٹھایا..

سر عینہ پریزینٹ ہے….

اور اسکی دو دوستیں بھی.. باقی دو لڑکیاں اپسینٹ ہیں" اسنے فرمابرداری سے کہا… 

تو

. دواد نے…. سر ہلایا….

اوکے…  لے کر آئیں مس عینہ اور انکی فرینڈز کو "داود نے ارڈر دیا تو منشا سر ہلا کر باہر نکل گئ جبکہ پیچھے سے.. وہ اپنا غصہ ضبط کرتے.. ہوئے اب بک میں سے سب کو پڑھا رہا تھا….

تقریبا لیکچر گزر گیا جبکہ.. نہ ہی منشا کی واپسی ہوئ.. اور نہ عینہ سمیت باقی لڑکیوں کی… 

لیکچر اف ہو گیا تو.. وہ روم سے باہر نکل گیا… 

تو سامنے سے منشا اتی دیکھائ دی..

سر…  وہ عینہ اور اسکی فرینڈز نہیں ا رہیں انھوں نے کہہ دیا ہے کہ جب تک اپ انکا لیکچر لیں گے وہ کلاس ہی اٹینڈ نہیں کریں گیں…

اور وہ یہ بھی کہہ رہی تھیں کہ وہ اپکو نکلوا کر ہی چھوڑیں گی"منشا نے.. پٹ پٹ سب بتایا.. تو.. ہمیشہ کی طرح داود بھڑک گیا.. بغیر منشا کو جواب دیے وہ اگے چل دیا جبکہ منشا پیچھے سے مسکرائ تھی… 

اسنے… پورے گراونڈ میں نگاہ گھمائ اسے وہ کہیں نہ دیکھی…

تم…  دو چھٹانک کی لڑکی مجھے نکلواو گی" اسنے تیور بگاڑ کر سوچا.. اور کالج کی طرف سے دیے گئے.. روم کو دیکھنے کا سوچتے ہوئے.. وہ سٹاف حال کی جانب بڑھا….

کہ پیچھے کے گراونڈ سے گزرتے ہوئے اسے عینہ.. نظر ا گئ….

وہ کافی ساری لڑکیوں کے جھمگٹے میں تھی جبکہ…  لڑکیاں تالیاں بجا رہیں تھیں اور وہ مزے سے کوئ انگریزی رومانوی دھن گنگا رہی تھی.. اور یہیں شاید عینہ کی قسمت میں…  اج عزت افزائ لکھی تھی..

داود دندناتا ہوا اس تک پہنچا….

کیپ کوائٹ"وہ ایکدم دھاڑا.. تو جیسے سب کی.. جان ہوا ہوئ تھی…

یہ درس گاہ ہے یہ…  کوئ سرکس….

جہاں اپ سب ان کے تماشے پر تالیاں پیٹ رہیں ہیں…

وہاں اپ سب کے لیچرز ہیں… اور اپ لوگ بنک کر کے.. یہ فضول سا گانا انجوائے کر رہیں ہیں ہاو شیم فل….

شرم انی چاہیے اپ سسب کو کہ اپکے پروفیسرز کتنی محنت سے.. اپکو کسی قابل کرناچاہتے ہیں اور اپ لوگ. اپنا قیمتی وقت..فضول کی شوغل بازی میں ضائع کر رہیں ہیں "وہ.. غصے سے بلند اواز سے ان سب کو ڈانٹ رہا تھا… 

عینہ جو اج پنک ٹی شرٹ.  اور سیاہ  جینز میں…  اپنے حسن سے کسی کو بھی چندھیا دینے کی صلاحیت رکھتی تھی.. اپنی اسقدر بے عزتی پر اس کی انکھ سے انسو روک نہ سکے… 

داود کی ڈانٹ پر سب رفتہ رفتہ سوری سر کہہ کر وہاں. سے غائب ہو گئیں..

اپ دونوں کو کلاس سے سٹک اف کر دیا گیا ہے.. جب تک اپ کے پیرنٹس نہیں آئیں گے اپ ریاینٹر نہیں ہو سکتیں جائیں اب یہاں سے "اسنے عینہ کی دنوں دوستوں کو کہا تو اب دونوں کے رنگ اچانک ہی اڑے اور وہ گھبرا کر وہاں سے ہٹیں.. جبکہ داود نے اب.. عینہ کی طرف دیکھا… 

ان کے ارد گرد اب کوئ نہیں تھا….

وہ خوبصورت شعلہ صفت.. چھوٹی سی لڑکی.. اسے نکلواتی اسے تو یہ بات ہضم ہی نہیں ہو رہی تھی….

عینہ نے اپنی انکھ سے بہتے انسو کو صاف کیا.. اور ابھی وہ اسکے پاس سے گزرتی…  داود نے اچانک ہی لاشعوری طور پر اسکا ہاتھ تھام لیا….

وہ نہیں جانتا تھا کیسے.. مگر وہ اسکا ہاتھ پکڑ چکا تھا….

عینہ نے جھٹکا کہا کر اسکیطرف دیکھا… 

تو اپ مجھے نکلوا دیں گی.. رائٹ….

یہ کالج…  اوہ یہاں کی مالکن تو اپ ہیں…  یہاں تو سب اپکی مرضی سے ہو گا.. کالج میں کوئ لڑکی ود اوٹ یونیفارم نہیں ہوتی اپکے سوا….

اپ تو ٹھیک اپنی امارت کا ناجائز فائدہ اٹھا رہیں ہیں "اسنے طنز کے تیر اچھالے.. عینہ.. نے نہ سمھجی سے اسکیطرف دیکھا.. اول تو اسنے یہ سوچا ضرور تھا.. مگر وہ گھر جا کر بھول چکی تھی کہ کوئ داود نامی شخص بھی انکے کالج میں ایا ہے….

اور دوسرا اسکو یہ بات کیسے پتہ چلی.. جبکہ اسنے تو کسی سے ایسا نہیں کہا… 

اور جب تک میں رہو گا تب تک اپ کلاس اٹینڈ نہیں کریں.. گی.. مطلب واو…  اتنی اکڑ…  کیا اپ بھول چکیں ہیں کہ پروفیسر ہوں میں اپکا "اسنے اسکے ہاتھ پر گرفت سخت کرتے اسکی انجان آنکھوں میں دیکھا… 

ہاتھ چھوڑیں سر میرا" عینہ کو.. درد ہوا…  وہ انسان بلاوجہ اسکے پیچھے پڑ گیا تھا..

اگر کل اپ کلاس میں نہ ہوئی.. تو اپ اپنے لیے کافی برا کرا لیں گی "وہ اسکا ہاتھ چھوڑتا وارن کرنے لگا… 

جبکہ عینہ.. نے اپنی کلائ پر اسکی چھپی ہوئ انگلیاں دیکھیں..

اسنے سرخ آنکھیں اٹھائیں…… 

جبکہ منہ سے چاہتے ہوئے بھی وہ کچھ نہیں کہہ سکی….

اور.. وہ خاموشی سے وہاں سے چلی گئ… 

داود.. جبکہ وہیں ان سرخ آنکھوں کے سحر میں کھڑا رہ گیا….

اچھی بات یہ تھی وہ چھوٹی سی لڑکی اسکے سامنے بولتی نہیں تھی اور روتی ہوئ بھی کافی اچھی لگتی تھی.

اسکی آنکھیں حد سے زیادہ خوبصورت تھیں.. داود اسکے چلے جانے کے بعد بھی اسکی آنکھوں کے نشے میں محو رہا..

اور جب اسے اپنی اس نادانی کا احساس ہوا تو اسکے ماتھے پر بل ائے… 

مگر زیادہ دیر نہیں.. اسنے.. سر اٹھا کر دیکھا.. عینہ اس سے کافی دور جا چکی تھی.. وہ وہیں سے اسکی جانب دیکھتا رہا..

دو بار اس لڑکی کی آنکھوں میں انسووں کا وہ سبب بنا تھا مگر اسکے بقول وہ رائٹ پر تھا….

عینہ کلاس لینے کے بجائے مین گیٹ کیطرف جا رہی تھی جہاں سے.. کوئ اندر داخل ہوا… 

اور وہ اس شخص کے سینے سے لگ گئ….

داود…  کے ماتھے پر بل ایک بار پھر نمایاں ہوئے..

اس لڑکے کی پشت تھی اسکی جانب تبھی وہ سمھجہ نہیں سکا وہ کون ہے.. مگر وہ بلکل نہیں جانتا تھا کہ اسے کیوں نہیں اچھا لگ رہا.. کہ وہ کسی لڑکے کے گلے لگی ہوئ ہے..

اور ایسے کیسے وہ کسی بھی لڑکے کے گلے لگ سکتی ہے..

وہ لڑکا اسکے سر پر ہاتھ پھیر کر اس سے سوال کر رہا تھا… 

اگر داود مزید کچھ دیر وہاں ٹھرتا.. تو ضرور.. توپ بن کر اس لڑکے پر پھٹتا.. مگر.. وہ وہاں سے ہٹ گیا… 

مگر یہ بھی حقیقت تھی کہ اسے.. بلکل اچھا نہیں لگ رہا تھا..

کیوں معلوم نہیں…..

……………………..

پورے ایک دن.. سے وہ سڑکوں پر.. بغیر کچھ کھایے پیے… ماری ماری پھیر رہی تھی..

اسے تو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ…  پولیس سٹیشن کہاں ہوتا ہے… 

پہلے تو وہ قاصم کے خوف.. سے.. درختوں کے پیچھے چھی رہی… 

اور پھر جب وہ.. نکلی تو شام ہو چکی تھی اور اسے بہت وقت گزر چکا تھا.. اسکی ماں مر گئ تھی..

زندگی میں اسکا واحد اور ایک سہارا… 

اب وہ کیا تھی کہاں جانا تھا کیا کرنا تھا.. کچھ نہیں پتہ تھا..

مگر.. وہ. ان سب کو سزا دلانا چاہتی تھی جو اسکی ماں کے قاتل تھے… 

وہ اس فضا میں سکون کی سانس کبھی نہیں لے سکتے اسنے سوچا.. اور ایک نئے سرے سے اسکے وجود میں طاقت بھر گئ…

اور یوں ہی..وہ لوگوں سے پوچھتے.. پوچھتے پولیس سٹیشن تک پہنچی.. تو اسے وہاں لوگوں کی نظروں سے وحشت ہوئ سب.. اسے کھا جانے والی نظروں..

سے دیکھ رہے تھے.. اسکا دل بری طرح دھڑک رہا تھا… 

مگر ہمت کر کے ابھی وہ اگے بڑھتی کے سامنے روم سے ایک ادمی باہر نکلا.. اور اسکی جانب دیکھ کر ٹھٹکا… 

جبکہ کچھ دیر بعد اسنے باقی سب کو گھورا… 

سب دوبارہ اپنے کاموں میں مگن ہو گئے.. جبکہ وہ ادمی اسکیطرف ایا..

کیا کام ہے بیٹا اپ یہاں کیوں ائ ہو"اس ادمی کے پوچھنے کی دیر تھی مشل کی آنکھیں انسو سے لبالب بھر گئیں… 

اپ اندر جاو میں اتا ہوں" وہ ادمی اسے کہ کر باہر چلا گیا جبکہ وہ اسکے روم میں ا کر چییر پر بیٹھ گئ.. بس دس منٹ بعد وہ واپس ایا تھا…

مشل نے اسکے کچھ پوچھنے سے پہلے آنسوں کے درمیان اپنے باپ اور تایا کے ظلم کی دستان سنا دی….

جبکہ انسپیکٹر ایکدم الرٹ ہوا… 

کب کا واقع ہے یہ" اسنے پوچھا.. تو مشل کی جیسے ہمت بھال ہوئ… 

کل.. کلبرات" اسنے انسو صاف کر کے بتایا انسپیکٹر نے سر ہلا کر فون اٹھایا اور اڈرز دیے…  اور اسے اپنے ساتھ چلنے کو کہا.. وہ جانتی تھی بس اب وہ سن گرفتار ہوں گے اور پھر پھانسی پر چڑھ جائیں گے اسکی معصوم ماں کو مارنے کا انجام اس سے بھی برا ہونا چاہیے تھا ویسے…. کچھ ہی دیر میں.. وہ دوبارہ اپنی ماں کے قاتلوں کے گھر کے سامنے تھی…..

انسپیکٹر صاحب سمیت وہ اندر گئ… 

تو اب وہاں اسکی ماں نہیں تھی جبکہ سب صحن میں ہی بیٹھے تھے.. اور وہاں پولیس کی نفری دیکھ کر.. اچانک اٹھ پڑے… 

کس نے مارا ہے اس لڑکی کی ماں کو "انسپیکٹر نے گھور کر سب کو دیکھا.. تو سب کے وہاں رنگ اڑ گئے… 

جبکہ تایا اگے ایا… 

صاحب جی…  وہ عورت خود مری ہے.. جی….

نہایت کوئ گندی عورت تھی.. کبھی جو.. غیر مردوں سے جی اسنے تعلق ختم کیا ہو… 

بدزات نے تو مجھ پر بھی گندی انکھ ٹکائ ہوئ تھی… 

پانی بھر رہی تھی جی…  پھر…  پاو پھیسلا اور.. ٹوٹی پر جا پڑی…  اور بس جی.. ختم ہو گئ..

ہم تع جی اہنی دھی رانی کو بھی کب سے ڈھعنڈ رہے ہیں مگر یہ بھی بھاگ گئ"تایا نے بڑی معصومیت سے بتایا… 

جبکہ مشل کا رو رو کر برا حال تھا..

صاحب یہ جھوٹ بول رہا یہ سب جھوٹ بول رہے ہیں" اسنے کہا.. تو انسپیکٹر نے.. تایا.. کے بازوں پر ڈانڈا.. مارا… 

تم سب کے نام کا پرچہ کٹ چکا ہے.. اب عدالت. میں یہ طوطے کیطرح زبان چلا لینا "انسپیکٹر نے سنجیدگی سے کہا… 

اور سب کو اریسٹ کرنے کا حکم دیا.. تائ.. اور قاصم نے خوب واویلا مچایا…  مگر.. تایا اور ابا کو اریسٹ کر لیا گیا تھا.. ابا اسے بری طرح جبکہ.. تایا اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا.. اسکے دل پر ڈھنڈی پھوار پڑی.. اسسکی ماں کو انصاف.. ملنا چاہیے تھا… 

…………….     ……..

دو.. دن بعد.. وہ پاکستان کی عدالت کا انصاف دیکھ کر…. رہ گئ.. صرف دو دن میں تایا اور ابا.. باہر نکل ایے تھے… 

قاصم نے وکیل ہائیر کر لیا تھا.. جبکہ.. اسکے ساتھ تو کوئ بھی نہیں تھا.. نہ پیسے تھے نہ وکیل.. نہ کوئ سر برا… 

تایا.. اور ابا.. اسکے سامنے.. پوری عزت اور شان سے.. چلے گئے جبکہ…  تایا.. اسکے کان میں کہہ کر گزرا…

تجھے میں نہیں تو یہ زمانہ.. ضرور کچل دے گا "وہ ہنسا.. جبکہ ابا.. نے تو بات بھی ضروری نہیں سمھجی… 

مشل کا دل کیا یہیں دھاڑے مار مار کر رو دے.. مگر بے سود…  امڈ امڈ انے والے آنسوں کو اسنے بہنے دیا… 

انسپیکٹر شفی.. نے اسکی حالت دیکھی.. انھیں اسپر خوب ترس ا رہا تھا… 

مگر وہ کر بھی کیا سکتے تھے.. وہ اسکا کیس عدالت تک لے ائے تھے.. اگے شاید وہ اسکی مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے… 

مشل نے انکی جانب دیکھا… 

انکو پھانسی کیوں نہیں ہوئ.. انھوں نے قتل کیا یے"وہ اپنی عمر اور معصومیت کے حساب سے بولی..

تو انھوں نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا… 

بیٹا.. یہ اندھا قانون ہے.. پیسے کی زبان بولتا ہے…..

مگر.. میں تمھیں ایک انسان کا پتہ دے سکتا ہوں… جو شاید تمھاری ماں کے قاتلوں کو سولی پر لٹکا دے…" انکی بات سنتے ہی وہ.. ایکدم چوکنا ہوئ..

کو.. کون ہے وہ.." اسنے پوچھا… 

سارگل بہرام خان…. اس وقت کا سب سے بڑا لائیر ہے….

مگر افسوس وہ پیسے کے بغیر کام نہیں کرتا.. مگر اگر تم کوشش کرو…  تو شاید کچھ بات بن جائے "انھوں نے کہا.. تو.. وہ جیسے دوبارہ جی اٹھی.. وہ نہیں جانتی تھی وہ.. اندھرے میں تیر چلانے دوڑ پڑی تھی.. انسے پتہ لے کر…  وہ.. سارگل خان کیطرف…  چل دی… 

سارگل کے ساتھ وہ گھر ا گئ تھی مگر… اب بھی اسکی سو سو جاری تھی…

ہنی کیا تم مجھے یہ بتانا پسند کرو گی کہ ہوا کیا ہے جو تم مسلسل روے جا رہی ہو "سارگل نے اب تپ کر پوچھا.. گاڑی حویلی کی جانب چل رہی تھی… 

لالا کچھ نہیں ہوا.. میری طبعیت نہیں ٹھیک بس" اسنے.. کہا. اور اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے بھائ کو دیکھا…  وہ صرف بیس سال کی تھی.. جب کہ وہ اس سے.. پورے 8 سال بڑا تھا….

اور…  وہ جانتاتھا وہ کتنی حساس ہے….

ٹھیک ہے پھر ڈیڈ ہی تم سے پوچھیں گے… 

اور…. تم نے مجھے پرنسپل سے بات بھی نہیں کرنے دی" وہ گھور کر بولا…  تو. عینہ نے…  کوئ جواب نہیں دیا…

وہ کیا بتاتی…  ایک انسان جو دو دن پہلے ایا تھا.. اسکی عزت افزائ کرنے میں ایک لمہہ نہیں چھوڑتا تھا…

وہ چاہتی تو.. وہ.. شکایت کر سکتی تھی… مگر.. اسنے ایسا کچھ نہیں کیا تھا…. اگلا راستہ یوں ہی کٹ گیا.. اور عینہ.. جلدی سے.. گاڑی سے نکل کر اپنے روم کی جانب چلی گئ… 

ارمیش.. نے اسے روکنا چاہا مگر وہ نہیں روکی…  جبکہ اب اسنے سارگل کیطرف دیکھا جو اوپر جاتی.. عینہ کو ہی دیکھ رہا تھا…

کیا یوا ہے…  عینہ کو…  اور.. اپ لے کر آئیں ہیں.. اسکی اپنی گاڑی کہاں ہے "ارمیش نے پریشانی سے پوچھا.. تو سارگل نے اسکے… شانے پر ہاتھ ٹکایا… 

کچھ نہیں ہوا…  اسکی طبعیت ٹھیک نہیں تھی… 

اسی لیے وہ. میرے ساتھ ا گئ..

اور مجھے احمر انکل سے کام تھا مجھے لگا وہ کالج میں ہوں گے.. مگر پھوپھو سائیں نے بعد میں فون کر کے بتا دیا تھا وہ کراچی گئے ہوئے ہیں.. بس "اسنے تفصیلی جواب دے کر.. ماں کو مطمئین کیا..

نہ جانے اب کیا ہوا ہے صبح تک تو ٹھیک تھیں… " مگر ارمیش کو عینہ کی فکر کھائے جا رہی تھی..

اپ جانتی ہیں نہ ہمارے گھر میں دو پارٹیز ہیں….

اسکو ڈیڈ ہینڈل کر لیں گے.. اپ ٹنشن نہ لیں.. مجھ پر فوکس کرئیں.. "اسنے.. پیار سے کہا تو ارمیش مسکرا دی..

یہ پارٹیز بھی اپکے ڈیڈ کی بنائ ہوئ ہیں.. ورنہ مجھے تو اپ دونوں ہی عزیز ہو…" اسکے.. بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اسنے اپنے بیٹے.. کے خوبرو چہرے کو چاہ سے دیکھا.. تو سارگل بھی مسکرا دیا… 

ارمیش.. کچن کیطرف بڑھ گئ.. تاکہ اسکے لیے کھانے کا انتظام کرے.. جبکہ سارگل…  نے ایل ائ ڈی کھول لی..

اپکے کیس کا کیا ہو اسارگل…. پہلی بار.. میں نے.. اپکو…  اس کیس پر تھوڑی سی محنت کرتے دیکھا تھا "ارمیش نے اسکے سامنے کھانا رکھتے ہوئے پوچھا جبکہ اسنے.. شانے اچکا کر.. ایل ای ڈی کیطرف اشارہ کیا..

جہاں…  ایک طرف نیوز میں اسکے باپ کی ہیڈلائن چل رہی تھی تو.. اوپر کیطرف.. اسکے ایک پولیٹیشن کے بیٹے کو بازیاب کرانے کی خبر نشر تھی…." ارمیش.. جو ہر بات سے انجان تھی فخر سے اسکیطرف دیکھا…

اللہ میری چھوٹی سی فیملی کو نظر بد سے بچائے" اسنے…  دل سے دعا کی… 

جبکہ یہ بات تو سارگل ہی جانتا تھا کہ وہ کیس کس طرح جیتا… 

مگر اس میں اسکا کوئ قصور نہیں تھا.. وہ لڑکی بھی ایک اچھی سٹرونگ فیملی سے تعلق رکھتی تھی مگر اسنے جب.. اسکی بات کو اہمیت نہیں دی تو…   وہ کسی کو کیوں دیتا… 

دنیا پیسے کی تھی…. اور…  اسکے نزدیک.. پیسہ…  ہر چیز کو خرید سکتا ہے…..

اور اسکا پیشہ ایساتھا کہ اسنے.. پیسے سے جزابات بھی خریدتے دیکھے تھے….

اکثر.. جب بہرام اسے اس بات پر ٹوکتا….

تو وہ بس اسے ایک ہی بات کہتا…

Dad father's money makes him a minister while his money only gives him a kingdom

(ڈیڈ باپ کا پیسہ وزیر بناتا ہے… 

جبکہ اپنے پیسے سے صرف بادشاہی ملتی ہے…)

……………………

اپنی ہیوی بائیک گھر کے سامنے روک کر.. وہ باہر نکلا…  تو اسکے دماغ میں سارے راستے صرف عینہ کی آنکھیں رہیں.. اسکی سفید بے داغ کلائ پر اپنی انگلیوں کے ناشانات دیکھے.. جبکہ… 

دماغ صرف ایک ہی بات سوچ رہا تھا

کہ وہ اتنی بھی بری نہیں جتنا.. وہ اسے سمھجہ رہا تھا.. اور اسکے علاوہ.. وہ   خوبصورت اور معصوم ہے…  شاید اسکی سوچ سے زیادہ….

وہ اندر داخل ہوا تو.. روشنی کو.. اپنے ایگل کے پاس پایا… 

روشنی یہ تمھیں چوٹ پہنچا سکتا ہے "اسنے بہن کی محویت کو توڑا… 

بھیا یہ کتنا.. گندا ہے.. دیکھنے میں" روشنی نے منہ بنایا

داود کی ائبرو اچکی..

تم سے زیادہ پیارا ہے.. "اسنے منہ بنا کر کہا… 

جبکہ روشنی کا منہ کھل گیا… 

اپ.. اپنی چھوٹی سی بہن کا مقابلہ اس گندے مارے ایگل سے کر رہیں ہیں"

چھوٹی سی بہن نہیں ہے پورا ڈبہ ہے جو.. بابا کے سامنے میری شکایتوں کے لیے بجتا رہتا ہے…  جو ہر وقت مجھ سے پیسے مانگنے کے لیے بجتا ہے…  "اسنے آنکھیں دیکھائ… 

تو روشنی نے منہ بسورا… 

مگر اگلے کو پرواہ کب تھی… 

بھاگو یہاں سے مجھے اسکو باہر نکلنا ہے کبھی بلاوجہ چیخیں مارو" اسنے کہا.. تو روشنی نے اسکیطرف دیکھا..

اللہ کرے اڑ جاے یہ منحوس"وہ کہہ کر بھاگی جبکہ داود نے کھا جانے والی نظروں سے اسکیطرف دیکھا… 

اور پھر اپنے پسندیدہ پرندے کو…  اسنے اپنے بازو پر بیٹھا لیا…  

یار اسکی آنکھیں بہت پیاری ہیں.. "اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے وہ مدھم سا بولا…  جبکہ.. اسکا دوست.. خاموش بیٹھا اردگرد دیکھ رہا تھا..

داود بھی مدھم سا مسکرا کر خاموش ہو گیا… 

تبھی عابیر اسکے نزدیک ائ… 

ناراض ہے میرا بیٹا" عابیر…  کو اس پرندے سے کچھ گھبراہٹ تو ہوئ مگر.. وہ دوسری طرف سے.. داود کے پاس ائ… 

داودنے چہرہ موڑ لیا… 

انکو کہہ دو…. میرا ان سے تعلق ختم.. بیٹے کو چھوڑ کر.. یہ اپنے شوہر سے محبت کر رہیں ہیں" اسنے کہا اور چئیر پر بیٹھ گیا..

ایگل اب بھی اسکے بازو پر تھا.. جبکہ وہ.. اسکے پر دیکھ رہا تھا… 

عابیر کو ہنسی ا گئ… 

پوری دنیا کے سامنے بھی کہہ سکتی ہوں مجھے میرے بیٹے سے زیادہ کیسی سے محبت نہیں…." اسنے پیار سے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرہ…

داود نے.. اسکیطرف دیکھا.. اسکی آنکھوں میں شرارت ناچی تھی.. بھلہ کبھی وہ سیدھی طرح مان سکتا تھا..

ٹھیک ہے پھر ایگل کو تھوڑی دیر اپنے شولڈر پر بیٹھائیں.. میں فریش ہو کر اتا ہوں" اسنے کہا.. اور ماں کیطرف کیا ہی تھا.. عابیر کی بری طرح چیخ نکلی… 

داود" اسکی آنکھیں پھٹیں….

جبکہ داود کا قہقہ.. نکلا..

اہ.. مما اب بہت ڈرپوک ہیں.وہ کب سے ہمارے ساتھ ہے وہ کچھ نہیں کہے گا اپ فیملی سمھجیں"اسنے پھر کوشش کی.. مگر عابیر بھاگ.. اٹھی… 

اتنی خطرناک فیملی… "اسنے کچن.. میں سے جھانک کر دیکھا دل کی دھڑکن کی سپیڈ الگ ہی تھی

 داود ہنس دیا…  اور اسے دوبارہ سے پنجرے میں بند کرنے چلا گیا… 

اسے.. اب کچھ وقت اپنی بوکس کو دینا تھا… 

ورنہ وہ گھنٹے بھی.. اسکے ساتھ ضائع کر سکتا تھا…

مگر ایک چیز تھی جو.. مسلسل اسکے ساتھ تھی…  وہ خوبصورت مگر سرخ آنکھیں تھیں…

……………

ایکسکیوز می سر.. یہ فائل.. مراد سر کے پاس بھجوانی ہے.. مرزا صاحب کی طبعیت ٹھیک نہیں تھی انھوں نے مجھے کہا کہ.. میں یہ فائل انھیں دے دو مگر دیر ہو گی ہے مجھے گھر جانا ہے تو پلیز یہ فائل اپ پہنچا دیں "اس وقت تقریبا افس خالی ہو چکا تھا اسنے فائق کو کہا جو خود کافی عجلت میں تھا..

مس فیزا…  میری بیٹی ہوئ ہے.. اور میرا ابھی اپنی بیوی کے پاس ہونا بہت ضروری ہے اگر ضروری کام نہ ہوتا تو یقیناً میں اپکا کام ضرور کر دیتا معافی چاہتا ہوں" اسنے کہا تو فیزا نے حلق تر کیا..

اپکو بہت مبارک ہو" اسنے رسمی سا کہا.. یہ جانے بغیر کے.. کیمروں میں کوئ. انھیں ہی دیکھ رہا ہے..

فائق نے.. خوشدلی سے مبارک بعد وصول کی.. اور سامان اٹھا کر نکل گیا… 

جبکہ…  فیزا.. نے پہلے تو سوچا وہ بھی یہ فائل ادھر ہی چھوڑ کر نکل جائے پھر مرزا صاحب کی بات یاد ا گئ کہ یہ فائل بہت قیمتی ہے… 

تو. نہ چاہتے ہوئے بھی وہ لیفٹ میں سوار ہو گئ

.

8 فلور.. پر بس کچھ ہی لوگ نظر ا رہے تھے اسنے سوکھ کا سانس لیا..

اسے.. مراد کی سیکٹری نظر ا گئ تھی..

وہ اسکے پاس گئ… 

ایکسکیوز می اسنے کہا تو.. لیلا نے اسکی جانب دیکھا… 

کیا مسلہ ہے "وہ تڑخ کر بولی… 

فیزا نے کچھ عجیب سی نظروں سے اسکابدتمیزانہ رویہ دیکھا.. اور پھر فائل اسکی طرف کی..

 یہ فائل مراد سر کو دے دو…  مرزا صاحب کی ہے" اسنے کہا.. تو لیلا نے کھا جانے والی نظروں سے اسکیطرف دیکھا..

نہیں تمھیں یہ دیکھتا ہے میں تمھاری نوکر ہوں…. "وہ.. غصے سے بولی تو فیزا نے حیرت سے اسکیطرف دیکھا..

وہ رہا مراد سر کا روم.. جاو.. اور خود دو… "اسنے اشارے سے کہا.. اور.. اپنا بیگ اٹھا کر.. لیفٹ کی جانب چل دی…

گراونڈ فلور کا بٹن پش کرتے ہی اسے.. احساس ہوا وہ غلط کر چکی ہے.. یہ وہ پہلی لڑکی تھی جس کے ساتھ مراد سر نے ہمدردی دیکھائ تھی..

اسنے فورا.. 6 فلور سے.. 8 فلور پر بٹن پش کیے..

جب تک وہ پہنچی تو باہر کوئ نہیں تھی..

فیزا.. جا چکی تھی.. اسنے دروازہ بجایا.. تو یس کی اواز ای..

وہ سوچ چکی تھی وہ اسکی جانب دیکھے بغیر.. فورا وہاں سے فائل دے کر نکل جاے گی تبھی ہمت کر کے.. اسنے دروازہ بجایا.. اور. یس پاتے ہی وہ اندر داجل ہوئ..

کمرہ تھا یہ محل وہ تو.. اس روم کی چکاچوند کو ایک پل کو دیکھتی رہ گئ..

جبکہ مراد اسی کیطرف دیکھ رہا تھا.. چیئر کی بیک سے ٹیک لگائے…

وہ ارد گرد دیکھتی اسکیطرف ائ..  فائل ٹیبل پر رکھ کر.. وہ.. اسکی چییر کے پیچھے خوبصورت منظر کو دیکھنے لگی..

جہاں سے رات کی تاریکی میں. دور لائٹس.. جگنو کی مانند لگ رہیں تھیں…

اہممم"مراد کھنکھارا.. تو اسکی محویت ٹوٹی اور بس.. شرمندگی سے اسکا سر جھک گیا… 

کیا مسلہ ہے مس اپکا" وہ چیڑ کر بولا… 

وہ.. س… سر…  یہ فائل.. م مرزا صاحب نے ک.. کہا تھا.. اپ.  اپکو دے.. د.. د. دے دو.. "اسنے فائل بڑھا کر بمشکل بات مکمل کی.. مراد نے گھڑی کیطرف دیکھا.

. پورے.. 15 سیکینڈ اپ نے میرے قیمتی وقت میں سے ضائع کر دیے وہ بھی یہ فضول سی بات کہنے کے لیے" اسنے سنجیدگی سے کہا.. فیزا.. کا چہرہ.. اس عزت افزائ پر سرخ ہو گیا… 

مرزا صاحب کے ہاتھ ٹوٹ گئے تھے جو انھوں نے اپکو زحمت دی" فون اٹھاتے ہوے … 

وہ غصے سے بولا..

فیزا نے اوپر سر اٹھایا..

پ..پلیز اپ فون مت کریں.. وہ بزرگ ہیں انکی طبعیت کافی خراب تھی "وہ بولی.. تو مراد.. کا ہاتھ رک گیا..

اوہہہ. مطلب بزرگو کی ڈانٹ اپ کھاتی ہیں.. اسی لیے.. اپکو ہائیر کیا گیا ہے.. "وہ گھور کر بولا… 

فیزا.. کے ماتھے پر بل ڈلے..

کتنا بدتمیز انسان تھا یہ…

اسکا ایک نہایت بدتمیز سے پالا پڑا ہوا تھا.. وہ صرف داود کی بدتمیزی افورڈ کر سکتی تھی

اور بدتمیز وہ. افورڈ نہیں کر سکتی تھی… 

سر یہ فائل میں نے اپ تک پہنچا دی ہے…  باقی اپ مرزا صاحب کے ساتھ کچھ بھی کریں" وہ تڑخ کر کہتی.. باہر نکلتی.. کہ مراد کی اواز پر رکی..

کس طرح بات کر رہیں ہیں اپ.. تمیزتہزیب کچھ نہیں ہے" اسنے آنکھیں نکالیں اور اپنی جگہ سے اٹھا..

مجھے تو ہے مگر اپکو نہیں ہے.. افس ٹائم ختم ہو چکا ہے اب میں اپکی ایمپلائیر نہیں ہوں جو اپ مجھے باتیں سنا رہے ہیں" فیزا.. نے بھی دو بادو جواب دیا..

 رئیلی… "اسنے.. دانت پیس کر دیکھا… 

یس رئیلی.. اور اپ میرے سر نہیں ہیں.. میرے سر فائق صاحب ہیں.."وہ کہہ.. کر…  ابھی وہاں سے نکلتی.. کہ.. مراد نے اسکا ہاتھ جکڑ لیا..

بہت نہیں زبان چل رہی تمھاری.. تم میری نوکر ہو.. فائق بھی میرا نوکر ہے.. سمھجی تم"مراد کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا اور وہ.. نہیں جانتا تھا وہ.. کیا کہہ رہا ہے..

ہاتھ چھوڑیں میرا…

اپنے مال پر اتنا ہی تکبر  ہے تو.. سارے نوکروں کو فارغ کر کے خود کیوں نہیں ہر کام کر لیتے.. یہاں تو اپکا پین اٹھانے کے لیے بھی.. وہ بدتمیز لڑکی موجود ہے" اسنے ہاتھ چھڑایا… 

مراد.. کو حیرت بھی ہوئ.. مگر غصہ شدید تھا… 

تمیز سے بات کرو" اسنے انگلی اٹھا کر وارن کیا

.. جو خود تمیز نہیں جانتے دوسروں سے بھی امید نہ رکھیں… 

اور چھوڑ دی میں نے اپکی نوکری…  نہیں ہوں اب میں اپکی نوکر سمھجے اپ "بلند اواز میں کہتی.. وہ غصے سے باہر نکل گی..

باہر ہی لیلا دروازے سے کان لگاے کھڑی تھی..

فیزا نے اسے بھی غصے سے دیکھا..

اور.. لیفٹ میں سوار ہو گئ..

جبکہ لیلا نے.. پیچھے سے.. مراد کے روم کی ٹیبل پر پڑا اسکا افیورٹ اور مہنگا واس ہوا میں.. اچھلتا دیوار کی جانب جاتا دیکھا..

8 فلور پر چھناکے کی اواز گونجی..

جبکہ وہ مسکرا دی..

………..

میری میٹھی کیسے بیمار ہو گی ہے ہمم"بہرام.. نے.. اسکے شالڈر پر بازو رکھ کر خود سے قریب کیا..

عینہ نے.. سرخ آنکھوں سے باپ کیطرف دیکھا.. اسکی آنکھیں بری طرح جل رہیں تھیں وہ ااتنی ہی حساس تھی..

دوائ کھائ ہے.." اسنے پوچھا جبکہ عینہ نے برا سا منہ بنایا…

پلیز ڈیڈ.. میڈیسن.. بہت کڑوی ہوتی ہے "وہ نقاہت سے بولی.. اور دوبارہ بستر میں گھسنے لگی کی.. بہرام.. نے کمبل ہٹا دیا..

نو..  مجھے اپنی چڑیا بلکل ٹھیک چاہیے ورنہ میرا دلبر بھی پریشان پریشان پھیرتا ہے"اسنے ارمیش کیطرف دیکھ کر انکھ دبائ.. جبکہ ارمیش کی تو آنکھیں ہی پھیل گئیں..

عینہ مدھم سا مسکرائ… 

اسکا باپ اسکا ائیڈیل تھا.. وہ ایک پرفیکٹ مین تھے.. اسنے کبھی اپنے باپ کو سختی برتے نہیں دیکھا… 

میں سب دیکھ رہا ہوں" سارگل…  جو ابھی ابھی روم میں ایا تھا بولا.. اور عینہ کیطرف بڑھا..

کیسی ہو ہنی" ہر کوئ اسکو.. الگ الگ ناموں سے پکارتا تھا… 

میں ٹھیک ہوں لالا"وہ سب کی فکر پر نازاں تھی…. سب اس سے کتنی محبت کرتے تھے..

اسنے پیار سے بہن کے سر پر ہاتھ رکھا اور باپ کو دیکھا..

ڈیڈ اپ اپنی پروپرٹی تک محدود کیوں نہیں رہتے.. اپکو پتہ ہونا چاہیے مام میری پروپرٹی ہیں.. پھر بھی آنکھیں مارتے ہیں" اسنے ماں کے شانے پر ہاتھ رکھ کر بے باکی سے کہا…  تو بہرام سمیت عینہ کا بھی قہقہ نکلا جبکہ ارمیش ان بے ہودہ لوگوں میں سرخ سی شرمندہ ہو گئ…

سارگل" اسنے بیٹے…  کو گھورا..

ڈارلنگ یہ اپکا بندہ بہت خراب ہے…  بتا رہا ہوں…  "اسنے لاڈ سے ماں.. کو کہا.. تو بہرام نے اسکو گھورا… 

یہ باپ کے بارے میں نادر خیالات ہیں تمھارے بیٹے کے"اسنے ارمیش کیطرف دیکھا…

اپکا ہی بگاڑا ہوا ہے یہ.. لڑکا…" اسنے صاف ہری جھنڈی دیکھائ..

ارمیش سائیں.. بیٹے کے پروں پر.. زیادہ مت پھیلو.. جانا اپکو میرے ساتھ میرے کمرے میں ہی ہے"اسنے آنکھیں دیکھائ.. ارمیش کے ایکدم رنگ اڑے.. جبکہ بہرام.. سنجیدہ تھا… 

سارگل تو منہ ہر ہاتھ رکھ کر ہنسی دبا رہا تھا.. جبکہ عینہ کا بھی یہ ہی حال تھا.. وہ اپنے ماں باپ کو اسی طرح دیکھتے ائے تھے انکی ماں.. اتنی ہی شرمیلی سی تھی… 

اپکو بلکل کوئ لحاظ نہیں ہے"ارمیش پاوں پٹخ کر باہر نکل گی.. جبکہ جاتے جاتے عینہ کا گال بھی چوما تھا.. اخر کو بیٹی کی فکر بھی تھی… 

جبکہ سارگل.. بھی.. باپ کیطرف ایا..

گڈ لک ڈیڈ" اسنے بہرام کا شانا تھپتھپایا… 

اور اس سے پہلے بہرام کوئ ایکشن لیتا.. سارگل فرار ہو چکا تھا..

بہرام نے عینہ کیطرف دیکھا جو مسکرا کر اسی کیطرف دیکھ رہی تھی..

اسنے عینہ پر بلنکیٹ درست کیا.. اور اسکے پاس ہی بیٹھ گیا…

کوئ بات ہے.. کسی نے کچھ کہا ہے…  ایسے تو.. میں جانتا ہوں اچھے سے.. میری چڑیا…  بیمار نہیں ہو سکتی"اسکا ہاتھ تھام کر.. وہ اسے گھیری نظروں سے دیکھ رہا تھا… 

عینہ کی آنکھوں میں بس ایک پل کو داود ایا… 

کچھ بھی نہیں ہے ڈیڈ…  شاید گرمی زیادہ تھی.. اج" اسنے بہانا بنایا..

تو جان بہرام.. گراونڈ میں کیوں بیٹھی کلاس روم میں بیٹھتی نہ"وہ فکر سے بولا… 

ڈیڈ.." اسنے راز سے کہا اور.. باپ کی بریڈز میں ہاتھ پھیرہ جیسے وہ بچپن میں پھیرتی تھی..

بہرام اسکی جانب جھکا.. جبکہ لب مسکرائے تھے..

بنک کیا تھا نہ لیکچر اسی لیے "وہ کھلکھلائ.. بہرام بھی ہنسا…

تو…  چڑیا…  دھڑلے سے لیکچر بنک کرنا تھا نہ…. گراونڈ میں کیوں چھپی اج کے بعد اپ نے.. گراونڈ میں نہیں چھپنا" اسنے تنبھی کی..

اپ جانتے ہیں نہ.. مما.. کتنی کونشیس ہیں.. میرے بار بار..  نمبر کم انے پر وہ بہت کونشیس ہو جاتی ہیں بس اسی لیے.. کہ شکایت نہ ا جائے چھپنا پڑتا ہے دوست سمھجا کرو" وہ.. بولی تو بہرام نے سر ہلایا..

یہ تو ہے.. اب کیا کر سکتے ہیں.. اپکی مما.. کا" اسنے شانے اچکائے.. اور دونوں ہنس دیے..

بہرام نےا گے بڑھ کر.. اسکا ماتھا چوما..

کوئ بھی بات ہو.. کبھی مجھ سے کچھ مت چھپانا.. اوکے"اسنے پیار سے کہا تو عینہ نے سر ہلایا..

اور بہرام اسکو زبردستی میڈیسن دے کر… 

باہر نکل گیا… 

جبکہ عینہ.. کی سوچ کے دھاگے نہ چاہتے ہوئے بھی داود کی جانب چلے گئے..

………………

صاحب.. ایک بچی ہے وہ.. کل دو دن سے جی اپکے افس کے باہر بیٹھی ہے کہتی ہے اپ سے ملنا ہے… "بلاخر تیسرے دن.. اختر جھنجھلایا سا.. سارگل کے کیبن میں ا  ہی گیا وہ جانتا تھا.. وہ چڑچڑا انسان ہے.. تبھی زرا سمبھل کر بولا..

سارگل جو بہت اہم فائل.. دیکھ رہا تھا اس ڈیسٹربینس پر.. غصے سے اسکی جانب دیکھنے لگا

میں تمھیں کوئ چیپ ہیرو یہ جوکر دیکھ رہا ہوں جو بچے بچیاں مجھ سے ملنے ائیں گے…  "؟ وہ تڑخ کر بولا..

اختر نے…  جلدی سے نفی میں سر ہلایا..

اور وہاں سے نکلتا کہ سارگل کی بات پر روکا..

یہ پیسے دو اور فارغ کرو اسے" اسنے.. 500 کا نوٹ اسکیطرف بڑھایا… 

اختر نے وہ نوٹ تھام لیا.. اور باہر ا گیا.. جہاں مشل بڑی اس سے اختر کو دیکھ رہی تھی..

وہ تین دن میں زمانے کی دھول چاٹ کر اس بری طرح کمالائ کہ اسکا ملائ سا حسن بھی مانند پڑ گیا..

منہ نہ دھونے کی وجہ سے.. سارا گرد اسکے منہ اور ہاتھوں پر چیپکا تھا… 

یہ لو لڑکی اور جاو یہاں سے صاحب مصروف ہیں "اختر نے اسکے ہاتھ میں پیسے دیے… 

مشل کا دل ڈوب سا گیا..

میں بھکاری نہیں ہوں" گلے میں اسکے گٹھلی پھنس گئ تھی… 

اختر.. نے افسوس سے اس لڑکی کو دیکھا..

مگر وہ کیا کر سکتا تھا…

خدارا ایک بار ملنے دیں بس ایک بار "اسنے اختر کے اگے ہاتھ جوڑے… 

اختر نے نا چاہتے ہوئے بھی اسکے گڑگڑانے پر… 

اسے اندر جانے دیا… 

کیونکہ اگر وہ دوبارہ اجازت لیتا تب بھی اسے اجازت نہیں ملنی تھی تو.. وہ.. اس لڑکی کی وجہ سے ڈانٹ ہی کھا سکتا تھا اب… 

مشل کو تو جیسے زندگی مل گئ تھی.. وہ اندر.. بغیر دروازہ بجائے داخل ہوئ… 

تو اسے لگا.. وہ کسی شہزادے کے محل میں ا گئ ہے..

جیسے.. بلیو آنکھوں والا شہزادہ…  اپنی سلطنت میں مگن تھا… 

وہ ایک ٹیک اسکی جانب دیکھے گئ…

سارگل نے.. انکھ اوپر اٹھا کر دیکھا تو اپنے سامنے. ایک میلی سی لڑکی کو پایا..

اسکے ماتھے پر کئ بل پڑے..

اختر "وہ ایکدم فائل پٹخ کر دھاڑا…  تو مشل اپنی جگہ پر اچھل اٹھی… 

مگر اختر اندر نہیں ایا…

صاحب…" مشل کو رونا ایا…  اسے لگا ہاں یہ شخص اسکی ماں کے خون کا بدلہ لے سکتا ہے.. یہ تو شہزادہ ہے.. شہزادے تو کچھ بھی کر سکتے ہیں..

اسنے اسکے اگے ہاتھ جوڑ دیے.. سارگل نے تیوری چڑھائ.. جبکہ مشل اسے روتے روتے سب بتاتی چلی گئ… 

اور.. اس دوران وہ اسکے قدموں میں ا بیٹھی تھی سارگل نے تھوڑی سی چئیر پیچھے کی..

اور جب اسکی کہانی سن لی تو اسے.. باخوبی اندازا ہو گیا کہ وہ کیوں اس سے ملنا چاہتی تھی…

کس نے پتہ دیا ہے تمھیں میرا "اسنے سختی سے پوچھا… 

مشل کو ڈر بھی لگا..

وہ جی…  وہ پولیس والے نے دیا تھا…" وہ ناک اپنے دوپٹے سے صاف کرتی بولی… 

کتنی جاہل ہو تم"اسنے برا سا منہ بنایا…  مشل شرمندہ ہوئ… 

10 لاکھ.. ایک ہیرینگ کے.. دے دو گی" اسنے.. زرا اسکیطرف جھک کر تیوری چڑھائے ہی تمسخر سے کہا… 

مشل کے تو کھاک بھی پلے نہ پڑی… 

میری فیس…  10 لاکھ.. ایک پیشی کی ہے.. "اسنے اب صاف لفظوں میں کہا.. مشل کا تو تھوک ہی اٹک گیا.. وہ آنکھیں پھاڑے اسکی جانب دیکھ رہی تھی..

صاحب مگر میرے پاس تو پیسے نہیں ہیں." وہ معصومیت سے بولی..

بیبی یہ انات حاشرم نہیں ہے… 

تمھاری ماں.. بے قصور ہے…  یہ تبھی ثابت ہو گا.. جب.. مجھے میرا پیسہ ملے گا…  ورنہ.. ساری زندگی کے لیے یہ بات مان لو.. کہ تمھاری ماں بھی اس گند میں شامل تھی.. ٹھیک ہے.. اب جاو" اسنے ٹکا سا جواب دیا… 

اور.. ابھی چئیر کا رخ موڑتا ہی کہ…  اسکا فون بجنے لگا… 

مراد کا تھا..

ہاں مراد بولو" اسنے کہا..

اچھا.. یار پہنچتا ہوں میں تو پارٹی کے بارے میں بھول گیا تھا.. اچھا میں پہنچتا ہوں "وہ بڑی عجلت میں لگا اتنی کہ ایک وجود اسکے قدموں میں بیٹھا تھا وہ یہ بھول گیا.. اور. وہاں سے نکل گیا..

جبکہ مشل.. اس جھومتی چییر کو دیکھ رہی تھی..

اسکا کوئ نہیں تھا.. اسکی ماں کو کبھی انصاف نہیں مل سکتا تھا وہ بھری دنیا میں تنہا تھی..

بس سوچتے ہی وہ بلک بلک کر رو دی.. اب وہ کہاں جائے گی کس سے انصاف مانگے گی..

یہ وہ شہزادہ نہیں تھا جو.. سب کچھ کر جائے….

وہ برئ طرح ہچکیوں سے رو رہی…  تھی..

اسے دس منٹ گزر گئے تھے آنکھوں کے پپوٹے پھول گئے تھے.. زمانے کی سرد گرم سہتے سہتے بھوک الگ لگی تھی… 

اسنے آنکھیں صاف کیں اور اٹھی اب کیا کام تھا بھلہ اسکا یہاں.. اور اس سے پہلے وہ باہر نکلتی اسے ایک ٹیبل پر کھانے پینے کا سامان نظر ایا.. وہ بس اسکیطرف کھنچتی چلی گئ.. اور بے اوسان ہو کر کھانے لگی… 

کچھ ہی دیر میں اسے اس سنگین غلطی کا احساس ہوا… 

اگر یہاں وہ چوکیدار ا جاتا تو… 

اور یہ سب… 

وہ پریشانی کے عالم میں بھاگنے کا سوچنے لگی..

لیکن. رات ہونے کو ائ تھی اگر.. وہ یہاں سے بھی چلی جاتی تو کہاں جاتی..

اگر وہ یہیں کہیں چھپ جائے.. اور کل ایک بار پھر.. اس شہزادے کو رام کرنے کی کوشش کرے.. اسے ہار نہیں ماننی چاہیے تھی..

کھانا کھاتے ہی دماغ نے کام کرنا شروع کیا تو.. وہ بھاگ کر.. واشروم میں چھپ گئ..

اسکی قسمت اچھی تھی تبھی اختر نے دروازہ کھول کر چیک کیا تھا.. سارگل کی ڈانٹ سے بچنے کے لیے وہ…  کچھ دیر کے لیے وہاں سے ہٹ گیا تھا.. اور اب واپس ایا تو.. سارگل بھی نہیں تھا اور نہ ہی وہ لڑکی..

افسوس "اسنے لڑکی کے بارے میں سوچا.. کھانے کی ٹیبل پر اسکی نگاہ گئ ہی نہیں.. اور اسنے دروازے کو تالا لگا دیا

..

مشل کو جب اطمینان ہوا کہ اب باہر کوئ نہیں تو اسنے.. سکون کا سانس لیا کھانے نے اسکے اندر توانائیاں بھر دیں تھیں اسنے ائینے میں خود کو دیکھا تو ڈر ہی گئ..

اسکا چہرہ میل سے بھرا ہوا تھا.. جبکہ میل کے اندر سے اسکا…  چمکتا رنگ جھلک رہا تھا..

اسنے خود کو اچھے سے صاف کیا.. وہاں موجود صابن شیمپو کا.. بے ڈھنگے طریقے سے استعمال کیا… 

اور نہا دھو کر…  باہر ا گئ… 

اسے خود میں سے بہت اچھی خوشبو ا رہی تھی… 

مگر ڈر بھی الگ لگ رہا تھا…

لمبے بالوں کو یوں ہی الجھا بکھرا چھوڑ کر…  وہ.. ٹیبل کے نیچے چھپ گئ..

زمین پر سونے کی تو پہلے بھی عادت تھی..

وہ.. سارگل کی.. ٹیبل کے نیچے… سکڑ کر بیٹھ گئ.. جبکہ پیٹ بھرنے کی وجہ سے جلد ہی اسے نیند نے جا لیا…

ایک دن بعد وہ کالج ائ تھی اور دعا یہ ہی تھی کہ اسکا داود سے تو بلکل بھی سامنا نہ ہو… 

وہ اپنے اپشنل لیکچر لے کر…  فری ہوئ تو.. انگلش کا لیکچر ہو گیا..

جبکہ…  ابھی وہ روم میں جاتی کہ سیاہ قمیض شلوار.. میں.. اسی طرح گاگلز لگائے وہ روم کیطرف ا رہا تھا… وہ حد سے زیادہ ہی ہینڈسم تھا… 

اس میں کوئ شک نہیں تھا..

تین دنوں میں ہی ہر لڑکی کے منہ پر اسکانام تھا…وہ اسکو پاگلوں کیطرح دیکھتی رہی حتی کہ داود اسکے نزدیک ا گیا… 

اور اسنے اسکے سامنے چوٹکی بجائ..

عینہ کو شدت سے اپنی کوتاہی کا احساس ہوا.. اور اسنے شرمندگی سے.. ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا..

داود کے اندر تو.. اس دن سے عجیب احساسات جنم لے رہے تھے…

اور کل کی اسکی چھٹی نے.. اسے احساس دلایا تھا.. کہ اسکے اندر ان احساسات کی ادھم.. کیا حشر مچا گئ ہے… 

مس عینہ…  اپکا ہی ہوں.. ساری عمر دیکھیے گا.. ابھی کلاس لیں"وہ کہہ کر دوبارہ گاگلز لگا کر اندر چلا گیا جبکہ عینہ کو لگا اسکی سماعتوں نے غلط سن لیا..

اسکے ہاتھ پاوں کانپ اٹھے اسکا پرفیسر.. اسے ایسی بات کہہ گیا.. نچریلی.. اسکے احساسات تھے کچھ ڈر خوف کے کچھ عجیب سے… 

اسکے اندر ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی کہ وہ کلاس کے اندر جائے..

جبکہ داود روم میں اسکے اندر انے کا انتظار کر رہا تھا..

اور پھر وہ تو تھا ہی صدا کا جزباتی کہاں انتظار کر سکتا تھا..

 منشا  عینہ یہیں باہر بت بن گئیں ہیں انھیں اندر لے کر ائیں.. "اسنے کہا.. منشا.. کو تو اگ ہی لگی وہ اسکی نوکر تھی جو اسکو لے کر اتی.. مگر کچھ کہے بغیر وہ باہر نکلی اور ابھی عینہ کچھ کہتی وہ گھسیٹ کر اسے اندر لے ائ… 

عینہ تزبزب کا شکار تھی….

اج سے پہلے وہ اتنا نروس کبھی نہیں ہوئ تھی.. کالج یونیفارم میں پونی ٹیل کیے.. رنگ برنگا بیگ ڈالے وہ بلا کی حسین لگ رہی تھی اوپر سے اسکا اسکی اتنی سی بات سے ڈر جانا.. داود کے احساسات کو مزید گدگدا گیا…

مس عینہ جگہ پر بیٹھ جائیں یہ وہ کام بھی کوئ اور کرے "اسنے بلاخر طنز کر ہی دیا..

عینہ نے.. اسکی جانب دیکھا.. اور.. اپنی جگہ پر بیٹھ گئ..

لیکچر شروع ہوا.. اور…  عینہ.. نے محسوس کیا.. وہ اسکے ڈیسک کے گرد ہی منڈلا رہا تھا..

اسے نہیں معلوم تھا یہ سب کیا ہو رہا ہے اخر…

………………..

لیکچر اف ہوا تو وہ سب سے پہلے وہاں سے نکلی… 

جبکہ…  اسے اپنی فرینڈز مل گئیں… 

جو اسے ویلکم پارٹی کے بارے میں بتا رہیں تھیں… 

جو کچھ دنوں میں ہی ہونے والی تھی… 

عینہ کو خوشی ہوئ… 

مزاہ انے والا ہے"اسنے کچھ ایکسائٹیڈ ہو کر کہا..

ہاں اور تمھیں پتہ ہے ویلکم پارٹی ہمیشہ کمبائن ہوتی ہے..

یار مزاہ دوبالا ہونے والا ہے" فریہ نے کہا.. تو عینہ ہنس دی..

جبکہ نوشی بھی ہنسی… 

داود نے بھی انکی باتیں سن لیں تھیں… 

نوشی اور فریہ کی نظر داود پر گئ.. جو کڑے تیوروں میں انھیں گھور رہا تھا… 

اپ دونوں ہیڈ افس جائیں.. کچھ ہی دیر میں اپ سے وہاں ملاقات کرتا ہوں میں" اسنے سنجیدگی سے کہا تو.. وہ دونوں.. وہاں سے چلیں گئیں غلطی انکی ہی تھی تین دن سے وہ سٹک اف تھیں مگر اپنی مستی میں مگن تھیں… 

عینہ نے.. بھی وہاں سے جانا چاہا.. مگر داود.. کچھ ترچھا ہو کر اسکے اگے ا گیا… 

ایسے کے اس کوریڈور میں کسی کو بھی ایسا محسوس نہ ہو کہ.. وہ اس سے مخاطب ہونے والا ہے..

میرے کیبن میں او…  "وہ کہہ کر اگے چلا گیا… جبکہ عینہ وہیں کھڑی تھی…

اب کہ اسے غصہ انے لگا تھا… 

سمھجتا کیا ہے یہ شخص خود کو…  وہ بغیر نوٹس لیے… 

نوشی اور فریہ کی طرف تیزی سے بڑھی..

کہیں نہیں جا رہی ہو تم دونوں.. انھیں یاد بھی نہیں رہے گا.. ہم.. بڑے ہال کیطرف چلتے ہیں…  یار گانے کی ریہرسل کریں گے "عینہ کافی پر جوش لگ رہی تھی

یار عینہ ہیڈ افس… نہ گئے تو کل…  وہ شخص ہمیں باہر نکلوا دے گا…" نوشی نے منہ بسورا… 

یار…  سائیکو سا انسان ہے…  مجھے تو بلکل سمھجہ نہیں اتی… "عینہ نے بلاخر تجزیہ کر ہی دیا… 

واو سن لیا نہ.. تو سائیکو…  تیرا حولیہ بگاڑ دے گا" فریہ نے ہنس کر کہا..

اور.. اسکے بعد اسکا کیا ہو گا" عینہ نے سوالیہ نظروں سے دنوں کو دیکھا.. اور تینوں کھلکھلا دیں… 

اور بڑے ہال کیطرف چلیں گئیں… 

جہاں.. ایک دنیا ادھم مچا رہی تھی…

بہت ساری لڑکیوں سے بڑا حال بھرا ہوا تھا جبکہ سٹیج پر کوئ نہیں تھا… 

وہ پرجوش سی سٹیج پر چڑھ گئ…

عینہ عینہ…" پورا کالج ہی جانتا تھا وہ کتنا اچھا گاتی ہے.. اور پیچھلے دو سالوں سے وہ.. ہر ویلکم پارٹی اینول فنکشن…  یہ کوئ بھی ایوینٹ ہو.. اس میں لازمی…  وہ پرفوم کرتی تھی جبکہ…  بوائز برانچ سے…  افنان…  جو اسکا کومپیٹیٹر بھی تھا…. 

اور.. بہرام کے دوست کا بیٹا بھی….

جس کی وجہ سے دونوں کی اپس میں.. اچھی بات چیت تھی… 

مائک ہاتھ میں لے کر.. عینہ…  بنا میوزک کے…  انگریزی دھن…  گنگناے لگی….

وہ اتنی خوبصورتی سے گا رہی تھی کہ.. اسکا لہجہ.. اور انگریزی دھن…. بلکل… بھی الگ الگ نہیں لگ رہے تھے..

حال میں اسکی اواز کا ایک سرور سا چھا گیا….

جبکہ عینہ خود مدہوش سی تھی….

اسکے خاموش ہوتے ہی حال تالیوں سے گونج اٹھا… 

…………………..

 وہ کافی دیر اسکا اپنے کیبن میں انتظار کرتا رہا جبکہ اس سے پہلے وہ ہیڈ افس بھی گیا تھا جہاں.. کوئ بھی نہیں تھا… 

مطلب تینوں لڑکیوں نے اسکی بات نہیں مانی تھی..

اسکا میٹر بری طرح گھما.. جبکہ.. اسے صاف صاف لگا وہ تینوں اسکو بے عزت کر کے نکل چکیں ہیں… 

اسنے  ٹیبل پر رکھا نوٹ پیڈ اٹھا کر… 

دور پھینک دیا… 

دل تو کیا پہنچ جائے…  اسکے پاس اور دو چانٹیں لگا دے کہ.. اسکی بات نہ ماننے کی ہمت بھی کیسے ہوئ…

مگر.. وہ اسپر کون سا ایسا اختیار رکھتا تھا جو.. اسطرح اپنا حق جیتاتا… 

بہت جلد…  میری ہر بات پر سر خم کرنے کی تمھیں عادت ہو جائے گی… "اسنے.. سوچا…  اور.. بائیک کی کیز اٹھا کر وہ وہاں سے نکل گیا… 

……………..

وہ بڑی عجلت میں اپنے کیبن میں داخل ہوا.. اسکے پیچھے ہمدانی انڈسٹریز کے چئیر مین تھے… 

ہمدانی صاحب اپکا کیس نہایت ڈیفیکلٹ ہے" اسنے کہا اور چئیر کھینچ کر بیٹھا.. ہی تھا.. کہ اسکا بوٹ.. نرم چیز سے ٹکرایا.. اسنے ترچھی نگاہ کر کے دیکھا….

اور ایک لمہے کے لیے تو اسکا دماغ اڑا تھا… 

سر جی اپ سے رابطہ بھی تو اسی لیے کیا ہے.." ہمدانی چاپ لوسی کرتا ہوا.. اسکے سامنے چئیر کھینچ کر بیٹھا.. جبکہ سارگل نے چونک کر اوپر دیکھا… 

ایک کروڑ" اسنے سنجیدگی سے ہمدانی کیطرف دیکھا.. وہ اپنے دوست کو.. پھنسا کر کمپنی ہتھیانہ چاہتا تھا… 

سر جی "ہمدانی کا تو دم خشک ہوا.. جبکہ.. اسنے کوئ تاثر نہیں دیا اسکے دماغ کے دھاگے..  اپنی ٹیبل کے نیچے تھے… 

سوچ لو…  پھر ا جانا یاد رکھنا.. تمھارا وہ دوست بھی مجھ تک پہنچ سکتا ہے… " اسنے کہا…  اور..  اسے انگلی کے اشارے سے چلے جانا کا کہا.. تو ہمدانی کچھ سوچتے ہوئے اٹھ کر چلا گیا.. وہ جانتا تھا وہ ایک لالچی انسان ہے دوبارہ کبھی نہیں ائے گا.. جبکہ.. اسکا دوست الریڈی اس سے کنٹیکٹ میں تھا… 

اسنے ہمدانی کے نکلتے ہی ٹیبل سے اپنی چئیر دور کی.. اور.. اس لڑکی کی جانب دیکھا… 

جو… پرانے سے کپڑوں میں…  اپنے بے پناہ حسن سے بے پرواہ آنکھیں موندے ہوئے تھی… 

کسی سوچ کے تحت.. اسنے.. اپنی دوسری ٹیبل کیطرف دیکھا..

جہاں.. فروٹس.. کو بڑی بری طرح کھایا گیا تھا… 

اسنے دوبارہ لڑکی کیطرف دیکھا… 

ملائم کریم کی مانند.. رنگ.. تیکھے نقوش…  جبکہ بلا کی معصومیت لیے…  وہ سونے کا شغل فرما رہی تھی… 

اسنے.. ایک ہاتھ بڑھایا.. اور اسکے چمکتے گال…  پر انگلی.. رکھی…  جبکہ.. اسکی انگلی کی حرکت اسکے گال پر سستی سے بڑھتی گئ.. یہاں تک کہ. اسکے گلابی لبوں پر ٹھر گئ… 

اچانک اسکے دماغ میں کل انے والی لڑکی یاد ائ..

اور وہ گھیرہ سانس بھر کر پیچھے ہو گیا….

رولنگ چئیر پر ریلکس ہو کر بیٹھے وہ اسے ہی گھور رہا تھا.. جبکہ.. چئیر زور زور سے ہل رہی تھی… 

مشل کو خود پر کسی کی جھلستی نگاہیں محسوس ہوئیں تو وہ ایک جھٹکے سے اٹھی سر اٹھایا.. جو ٹیبل کے نوکڑ پر بہت زور سے لگا..

وہ منہ کھولے سر تھام گئ.. دن میں تارے التے نظر ائے..

جانتی ہو…  ایک لائیر کے کمرے میں.. چھپ کر اسکی چیزیں چوری کرنے پر تمھیں کم از کم بھی دس پندرہ سال کی قید ہو سکتی ہے"وہ سنجیدگی سے بولا…  اب بھی چئیر جھول رہی تھی مشل نے بڑی بڑی گرے آنکھوں سے.. اس شہزادے کو دیکھا جس کی آنکھوں میں زرا بھی کوئ تاثر نہیں تھا…

مشل کو شرمندگی بھی ہوئ اور اسنے باہر نکلنا چاہا مگر سارگل نے اپنا بوٹ.. پھنسا کر چئیر کو مزید قریب کر لیا

..

کہ اسپر جھکنے سے.. وہ اسے اسانی سے چھو سکتا تھا..

مشل…  کا دل بری طرح دھڑکا… 

یہاں تک کہ اس سے نگاہ اٹھا کر دیکھا بھی نہیں گیا….

مگ

.. مگر میں نے کچھ چوری نہیں کیا صاحب"اسنے ہمت کر کے بولنا چاہا…  مگر.. اسے محسوس ہوا.. اسکی ٹانک…  کے پاس.. سارگل کا بوٹ حرکت کر رہا ہے….

اب.. حقیقی معنوں میں اسے اس اجنبی سے خوف محسوس ہوا تھا.. وہ بھی تو مرد تھا. وہ کس اس کس بھروسے پر یہاں تھی…

مگر کیس بنانے میں کتنا وقت لگتا ہے.. وہ بھی میرے جیسے بندے کے لیے "وہ تیوری چڑھائے.. سنجیدگی سے بولا.. مشل کو رونا انے لگا…  وہ مزید پھنس گئ تھی..

صاحب.. م معاف کر دیں…. بس میری ماں کو انصاف دلا دیں 2ہ بے قصور تھیں.. انکا قتل کر دیا… 

مجھے دربدر کر دیا… 

پھر بھری دنیا کے سامنے میری ماں کی پاک روح کو.. ناپاک بنا دیا..

میں اپکے اگے ہاتھ جوڑتی ہوں.. مجھے انصاف دلا دیں میرا پاس پیسہ نہیں ہے.. مگر.. میں پھر بھی اپ سے التجا کرتی ہوں… "وہ رونے کے دوران.. سسکتی ہوئ بولی…  سارگل نے مدھم سا مسکرا کر چئیر دور کی..

باہر او" اسنے کہا.. تو.. مشل نے اسکی جانب دیکھا.. اور پھر وہی دوپٹے سے ناک صاف کر کے.. وہ… باہر نکل ائ اور اس سے کافی فاصلے پر کھڑی ہو گئ..

سارگل اسے اوپر سے نیچے تک گھورتا رہا… 

وہ ایک کم عمر.. مگر بلا کی حسین لڑکی تھی… 

8 لاکھ" چئیر پر کھونی ٹکا کر.. اپنی تھوڑی کے نیچے ہاتھ سجائے وہ اسے گھورتے ہوئے پیسے کچھ کم کر گیا…

مشل نے اسکی جانب دیکھا..

کیا یہ بہت بڑا احسان تھا.. کہ اسنے دو لاکھ کم کر دیے تھے مگر اسکے پاس تو ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں تھی… 

یہاں مزید کھڑا ہونا اسے بے کار لگا.. اوپر سے اسکی آنکھیں جن نظروں دے اسے دیکھ رہیں تھیں اسے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا.. تبھی وہ خاموشی سے پلٹ کر باہر نکلنے لگی.. کہ سارگل نے پیپر ویٹ بجایا… 

ایکا اوپشن ہے…. اگر چاہو تو….

اسکے بعد.. تمھارا کام اسان ہو جائے گا. اور تمھاری ماں کے قاتل تمھارے سامنے.. سولی پر لٹکیں گے"وہ سکون سے بولا.. مشل نہ چاہتے ہویے بھی پلٹ کر اسکیطرف دیلھنے لگی اسکے دیکھنے میں ایک جوش تھا… 

جیسے وہ اسکی مدد کو مان گیا ہو..

سارگل نے بھی اسکی آنکھوں میں دیکھا..

دو راتیں میرے ساتھ گزار لو….سیمپل…" سکون سے کہہ کر اسنے…  چئیر کی بیک سے ٹیک لگا لی.. جبکہ.. مشل کا دل ڈوب سا گیا..

وہ حیران رہ گئ..

اسکے نزدیک پڑھے لکھے لوگ ایسے نہیں ہوتے..

جبکہا سکا تایا یہ قاسم یہ اسکا باپ خود انپڑ جاہل تھا تبھی بس یہ سوچ رکھتا تھا..

عزت تقدس پامال صرف جاہل کرتیں ہیں.. مگر وہ بھول گئ تھی امیروں میں تو سودا بازی چلتی ہے… 

وہ.. ساکت کھڑی تھی جبکہ سارگل اپنی جگہ بیٹھا چئیر پر جھلنے لگا… 

اسکے اندر اب کہ غصہ بھرنے لگا….

میری طرف سے انکار ہے.. اپکی اس مدد کی ضرورت نہیں مجھے "سمبھل کر…  وہ مظبوط لہجے میں بولتی اپنی عمر سے کافی بڑی ہی لگی… 

جبکہ سارگل مسکرایا…

مشل نے اسکی زہریلی مسکراہٹ کو دیکھا… 

اب وہ اسے شہزادہ تو بلکل نہیں لگ رہا تھا… 

دیکھو…  میری نہ دماغ کی ایک رگ فالتو ہے… 

جس چیز کی مجھے ضد چڑھ جائے تو چڑھ جاتی ہے… 

تمھیں میری بات مان لینی چاہیے مجھے لگتا ہے اس میں تمھارا فائدہ ہے.. اسکے بعد تمھارے پاس لازمی اتنا پیسہ ہو گا کہ تم یوں دربدر نہ پھیرو"وہ.. اپنی عقل سے اسے ٹریپ کرنے لگا.. اخر کو ایک کامیاب وکیل تھا جو صرف…  اپنی بات سے.. دوسرے کو رام کر سکتا تھا… 

ن.. نہیں" اسکے نزدیک اتے ہی مشل کا سارا کنفیڈینس ہوا ہو گیا جبکہ وخف ایک ابر پھر تاری ہو گیا… 

سوچ لو… "اسنے ہاتھ اٹھا کر.. اسکے لمبے الجھے ہوئے بالوں.. کی لٹ کو پیچھے کرنا چاہا.. جبکہ مشل اس سے بہت دور جا کھڑی ہوئ..

اور دروازہ کھولنے لگی جو کہ لاک تھا…

اسے لگا.. اسک ادم نکل جائے گا.. چڑیا سا دل پھڑپھڑا اٹھا..

فکر نہ کرو…. مجھے زبردستی کی بیماری نہیں..

مگر تمھیں میری بات ہر ھال میں ماننی چاہیے.. کیونکہ.. اگر تم نے نہ مانا تو تم جیل جاو گی.. اور جیل جا کر بھی تو وہاں کسی نہ کسی کا لقمہ بنو گی "وہ سکون سے بولتا.. اسکے قریب ا گیا..

مشل کا دل کیا.. زمین…  پھٹے اور وہ اس میں سما جائے. کاش کاش اسکی ماں اسے بھی ساتھ لے جاتی….

سارگل اسکی انکھ کے موتی تیزی سے ٹپکتے ہوئے دیکھ رہا تھا… 

اسکے وجود کی جانب اسکا دما~ بری طرح کھنچ رہا تھا… 

مشل نے.. پھر سے دروازہ کھولنے کی کوشش کی.. جو ناکام ہی ہوئ… 

سارگل نے اسکی جانب ہاتھ بڑھایا. …

جبکہ وہ چیخ مار کر…  اس سے دور ہوی… 

سارگل کو یہ سرا سر ڈرامی ہی لگا..

غریب لڑکی تھی اپنا مقصد نکلوا سکتی تھی.. شاید… 

مگر.. نہیں لڑکیاں اور ان کے ڈرامے..

اسنے تیوری چڑھا.. کر.. اسکی جانب.. قدم بڑھایے..

اور.. ایک پل میں وہ اسکے نزدیک تھا.. جبکہ شل نے چیخوپکار مچا دی.. سارگل نے اسکے لبوں پر ہاتھ رکھ کر اسکی اواز دبا دی..

مشل کو لگا. وہ مر جائے گی.. ہاں ایک عزت اسکے پاس تھی اگر وہ بھی یہ شخص لے لیتا تو ضرور.. اسکے لیے صرف موت رہ جاتی… 

اسے کچھ سمھجہ نہیں ا رہا تھا.. اسنے دنیا کا یہ روپ دیکھا تھا.. مگر.. وہ تو پڑھے لکھے لوگوں کو بہت اچھا تصور کرتی ائ تھی.. مگر یہ وقت گم منانے کا نہیں تھا کیونکہ اسکے سامنے ایک خوبصورت چہرہ.. شیطانیت سجایے.. اسکے ساتھ کچھ بھی کر دینے کے در پر تھا….

ام.. ام… اسنے ضرور ضرو سے.. اپنا منہ اس سے چھڑانا چاہا… 

سارگل نے ہاتھ ہٹایا… 

ہاں. سن رہا ہوں.. بتاو. منظور ہے تمھیں ڈیل کیوں کہ ایسے میں تمھارے قریب نہیں. اسکتا تم کتنے گندے لباس میں ہو "اسنے منہ بنایا اور دور ہوا..

اسکے نخرے اور اپنی حالت.. بلکہ وہ ہر شے پر حیران تھی… 

اپ….. اپ..

پلیز میں…  مجھ سے شادی کر لیں" وہ اسکے قدموں میں بیٹھتی.. بولی….

کیونکہ اس وقت اسے کوئ ہل نہیں نظرا یا تھا سوائے اسکے.. سارگل نے چونک کر اسکی جانب دیکھا… 

اور کمرے کی فضا میں.. قہقہ گونج اٹھا..

شکل دیکھی ہے تم نے اپنی" وہ ہنسا…  دل کھول کر اور ہنستا ہنستا دوبارہ چئیر پر ڈھیر ہو گیا… 

وہ ڈرنک نہیں تھا.. بس.. اس لرکا کا وجود.. اسکے لیے اٹریکشن کا باعث تھا.. اج سے پہلے بھیا سنے ایس اکچھ نہیں کیا تھا.. نہ وہ ان چیزوں کا عادی تھا.. ایک انجانی سی کشش. اور اس لڑکی کی بے بسی.. سب مل کر اسکے دماع کو.. بھکا چکیں تھیں.. مگر شادی..

ناممکن "

وہ ہنستا رہا..

مشل.. مٹھیوں سے آنکھیں چھپائے روتی رہی… 

تبھی مراد کالینگ اپنے فون پر دیکھ کر…

اسنے ہنسی روکی… 

ہاں یار بولو" ہنستے ہوئے پوچھا..

کافی خوش ہو "مراد.. نے کہا..

اااا.. خوش تو میں ہر وقت رہتا ہوں مگر فلحال ایک زبردست جوک سنا ہے اسپر ہنس رہا ہوں "وہ پھر سے ہنسا..

اچھا ایسا بھی کیا سن لیا..  مراد نے پوچھا.. تو.. وہ جو ایک بات بھی اس سے نہیں چھپاتا تھا سب بتاتا چلا گیا.. جبکہ دوسری طرف مراد اپنی چئیر ایلدم چھوڑ کر اٹھ چکا تھا..

کتنے سال کی ہے وہ لڑکی.." اسے اس وقت سارگل پر.. اتنا غصہ تھا کہ وہ اسکے سامنے ہوتا تو لازمی دو تین تھپڑ کھا چکا ہوتا…

امم ہو گی.. 17 18 سال کی" وہ نارملی بولا..

خیر.. "ابھی سارگل فون بند کرتا.. کہ مراد بولا… 

سارگل…  تم اسے کچھ نہیں کہو گے… " مراد نے تنبھی کی..

سارگل زور سے ہنسا

معلوم نہیں" اور فون بند کر دیا..

جبکہ مراد ایک لمہے میں افس سے.. نکلا تھا. وہ نہیں چاہتا تھا کسی کے ساتھ ظلم ہو.. تبھی. اسنے سارگل کے افس کیطرف.. گاڑی دوڑائ..

……………….

عینہ حویلی ائ.. تو کافی تھکی ہوی تھی جبکہ اسکی اواز بھی بیٹھی ہوی تھی..

اسے مام کہیں نظر نہیں ائ.. وہ وہیں سے بولنے لگی..

مام "بھوک بھی کافی لگی تھی..

اہ ڈیڈی کیوں چیخ رہی ہو" صارم جو ابھی کچھ دیر پہلے.. اپنی نائٹ ڈیوٹی سے واپس ایا تھا اسکے چیجنے پر منہ بنا کر بولا..

کیا ہے اپکو میرا نام عینہ ہے"عینہ چیڑ کر بولی..

نہیں مجھے تو تم. وہ جو جھند میں کالی کالی اڑتی ہیں نہ.. وہ ٹیڈی لگتی ہو"صارم کو اسکو تپانے کا موقع مل گیا..

عینہ نے غصے سے پاوں پٹخا… 

اللہ کرے اپ گنجے ہو جائیں "وہ غصے سے بولی..

اللہ اللہ.. ایشا کا کیا ہو گا پھر.." اسنے اہنے بالوں میں ہاتھ چلایا.. اور سامنے.. دیکھا جہاں ایشا ابھی انسیٹیوٹ سے ائ تھی.. بے ایے کے بعد وہ.. کوکینگ کورس کر رہی تھی صارم کی بات پر مسکرا دی.. وہ دونوں ہی ایک دوسرے وک پسند کرتے تھے اور سب جانتے تھے یہ بات… 

بہت کوئ بدقسمت ہے ایشا.. جو اپکے پلے پڑے گی.. ایسے خوفناک نام رکھتے ہیں اپ"عینہ نے بیگ صوفےپر پھینکا جبکہ صارم بھی دوسرے صوفے پر لیت گیا.. اور ایشانے بھی اپنی دش جو وہ بنا کر لای تھی تیبل پر رکھی.. صارم اور عینہ بیقوقت اسپر ٹوٹے تھے..

مجھے بھی کھانا ہے لالا" عینہ چیخی.. ارمیش بھی انکی اواز سن کر ا گئ…

اور نفی میں سر ہلا کر.. وہ کچن کی جانب چل دیا..

ایشا تو بس منہ کھول کر ان دونوں کو دیکھ رہی تھی جو ایک دوسرے سے چھین کا.. سوئیٹ ڈش کا کام تمام کر چکے تھے..

اس میں میرا بھی حصہ تھا شاید" ایشا نے خفگی سے ان دونوں کو دیکھا..

بے بی ڈول میں ہوں نہ پورا پورا سالم

تمھارے حصے میں اور ویسے بھی یہ.. ڈیڈی زیادہ کھا گئ.." اسنے صاف الزام عینہ پر ڈالا.. عینہ نے اسپر کوشن اچھالا… 

احمر بابا.. آئیں گے تو.. اپکی.. مار پروا کر سکون ملے گا مجھے "وہ کہتی.. نخرہ دیکھتی وہاں سے اٹھی… 

ایشا بھی خفگی سے جانے لگی.. کہ صارم نے اسک اہاتھ پکڑ لیا.. اور ادھر ادھر دیکھا. کہیں اسکی ماں تو نہیں اریب قریب..

تم کہاں جا رہی ہو..  پاس بیٹھو" اسنے پیار سے کہا..

جا رہی ہوں میں "ایشا نے منہ بنایا اور ہاتھ چھڑا کر بھاگ گئ..

عجیب بس.. بندہ رومینس بھی نہیں جھاڑ سکتا "صارم.. بڑبڑایا..

…………………

گرمی بہت شدید تھی جبکہ.. اسکا اور معاز کا شدید جھگڑا ہوا تھا… اور غصے میں وہ.. اوپر چھت پر ا گیا تھا… 

اب گرمی اسے اتنی لگ رہی تھی کہ.. بیٹھنا مشکل تھا..

جبکہ اسک اباپ اسے کمرے سے نکال کر.. خود اے سی میں سو رہا تھا.. وہی عام سی چھوٹی سی بات.. کہ داود نے ہمیشہ کیطرحا ہنے کمرے میں سیپرٹ اے سی لگوانے کی ضد لگای ہوئ تھی اور دوسرے طرف وہ بھی ضد پر تھا..

دونوں کا جھگڑا بھڑتا گیا.. وہ غصے میں روم سے باہر نکل گیا. اور معاذ نے کمرہ ہی لاک کر لیا..

عابیر…  جو کہ فیزا کے ساتھ اسکی فرینڈ کے ہاں گئ تھی… 

اب تک نہیں ائ تھی.. یہ اگر ا بھی گئ تھی تو.. اسکے باپ نے ضرور بڑھا چڑھا کر بتا دیا ہو گا..

داود"اسنے… اسکے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرہ..

مجھے اج تک یہ سمھجہ نہیں ایا انھیں میرے ساتھ پروبلم کیا ہے.. مجھے یاد ہے میری ہر خواہش پر یہ مجھے  اسطرح جھڑک دیتے تھے جیسے میں انکا نہیں پڑوسیوں کا بچہ ہوں… " وہ سنجیدگی سے بولا.. عابیر.. نے اسکی پیشانی چوم لی..

وہ چیڑ چیڑے ہو گئے ہیں.. سچ بتاو وہ کبھی ایسا نہیں تھا… 

بہت فرینڈلی تھا.." اسنے کہا. تو داود نے ماں کیطرف دیکھا..

یہ بات میں بہت اچھے سے جانتا ہوں وہ بہت فرینڈلی ہیں… 

فیزا اور روشنی کے ساتھ انکا رویہ.. مجھے دیکھتا ہے.. جبکہ میرے ساتھ…  انکا رویہ… " وہ چپ ہو گیا..

اپ بھی تو ہر بات پر اڑ جاتے ہو "عابیر نے.. پیار سے پچکارہ.. کیا بتاتی وہ اسے.. کہ اسکا حسین چہرہ جس شخص سے ملتا تھا.. وہ معاذ کو کبھی بھی برداشت نہیں ہوا تھا..

داود کی پیدائش کے بعد سے ہی وہ بہت.. بدل گیا تھا جبکہ داود کے ساتھ کبھی اسکا رویہ درست نہیں رہا.. پھر جیسے جیسے وی جوان ہوتا گیا… 

اسکی حرکتیں بھی.. اس شخص میں ملنے لگیں جس.. کا نام لینا بھی وہ دونوں پسند نہیں کرتے تھے…

اڑ جاتا.. ہوں… 

بس میرا اڑنا دیکھتا ہے…  اپکو…  رگیں فالتو ہیں نہ میرے پاس…  جتنے وہ سخت اہنی جان میں بننے کی کوشش کرتے ہیں نہ وہ جانتے نہیں ہیں…  میں پھر کیا ہوں دیکھتی جایین اب اپ "اسنے کہا.. اور بس اسکے دماغ نے سپیڈ سے حرکت کی تھی..

وہ نیچے دھرا دھڑ.. اترا.. اور.. مین سوئچ.. بند کر دیا.. پورا گھر اندھیرے میں ڈوب گیا.. عابیر نے سر تھام لیا..

داود.." اسنے گھورا..

مجھ سے پنگے کا انجام یہ ہی ہے…  "اسنے شانے اچکائے..

اگر اپ نے کھولا. تو.. پھر میری اپکی ختم"اسنے صاف کہا.. تو. عابیر ہنس دی… 

ٹھیک ہے.. او کچھ کھاتے ہیں.." اسنے.. بیتے کا ہاتھ تھامہ.. اور ادھی رات کو دونوں مان بیٹے.. بریانی سے انصاف کر رہے تھے..

مما ایک بات کہو" اچانک اسکے دماغ میں عینہ ای..

ہاں کہو" عابیر نے.. اسکی جانب دیکھا… 

یہ عینہ نام کیساہے" اسنے.. لاپرواہی سے پوچھا.. عابیر.. نے چمچ منہ.. میں بھرہ اور اسکیطرف دیکھا… 

بہت پیارا نام ہے.. نازک سا.. جیسے جس بھی لڑکی کا ہو.. وہ کوئ پری.. یہ.. کسی کے خوابوں کی فیری ہو گی "اسنے تفصیلاً جواب دیا..

داود نے سر ہلا.. وہ زرا بھی کوئ تاثر دیتا تو عابیر کو شک ہو جاتا.. اور وہ اسکے پیچھے پڑ جاتی..

تم نے کیوں پوچھا.." عابیر نے کچھ مشکوک نظروں سے اسکیطرف دیکھا..

ایسے ہی.. "وہ جلدی سے بولا

. یہ. سلاد پاس کریں" اسنے کہا. تو عابیر نے اسکی جانب سلاد بڑھایا.. اور.. ابھی بجلی بند کیے ہوئے.. ایک گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ. وہ سب.. جو اے سی کے مزے لے رہے تھے رفتہ رفتہ باہر نکلنے لگے..

مما یہ لائٹ کب ائے گی"روشنی تو عابیر کے کندھے پر جھولی..

عابیر نے داود  کی جانب دیکھا..

کبھی نہیں" دانت نکلتا. وہ چھت پر چلا گیا… 

جبکہ عابیر.. نے روشنی کو.. سمھجایا..

معاز خود.. ہاتھ میں پنکھا تھامیں.. بجلی والوں کو کوس رہا تھا.. جبکہ وہ.. چھت پر صرف عینہ کو سوچ رہا تھا..

اسنے گھر میں کسی کو نہیں بتایا تھا کہ وہ نوکری چھوڑ ائ ہے…
کیا فائدہ تھا وجہ کیا بتاتی کہ ایک مغرور بدماغ ادمی تھا اسکا بوس… وہ چپ چاپ دوبارہ سے اپنی جاب ڈھونڈ رہی تھی…
عابیر کے ساتھ کچن میں ہیلپ کراتے ہوئے وہ اسی بارے میں سوچ رہی تھی کہ اخر… اب کیا کرے.. کسی دوسری کمپنی میں اسے اتنی سیلری نہیں مل رہی تھی….
اسکے دماغ کے دھاگے.. مکمل طور پر.. افس کیطرف تھے..
کل بھی تم نے چھٹی کر لی تھی اج بھی خیریت ہے"عابیر نے اسے مگن انداز میں سیلڈ کاٹتے دیکھا تو پوچھا..
نہیں… کوئ مسلہ نہیں.. بس… ایسے ہی" اسنے بات ٹالی..
دیکھو بیٹا ویسے تمھیں نوکری کی ضرورت نہیں… مگر جب تم ایک شعبے سے جڑ گئ ہو.. تو تمھیں اسکے حقوق اچھے سے ادا کرنے چاہیے..
نوکری کرنے کا مزاح بھی اپ کو تبھی اتا ہے جب اپ اپنے کام کے ساتھ سنسیر ہوں….
باقی اوچ نیچ تو ہوتی رہتی ہے" اخر کو اسنے بھی ایک عرصہ نوکری کی تھی…
پیار سے اسے سمھجاتی ہوئ بولی..
جی" فیزا نے بس مسکرا کر اتنا ہی کہا…
عابیر بھی مسکرا دی…
اج داود نے نہیں جانا کیا"اسنے اچانک ہی پوچھا تو عابیر سر پر ہاتھ مار کر رہ گئ..
اوہ خدایا…
اب اتنا چیخے گا کے گھر سر پرا اٹھا لے گا.. یہ تو شکر ہے بیٹا تمھارے مامو نہیں ہیں….
جاتی ہوں میں تم زرا… نہاری دیکھ لو" اسنے عجلت میں کہا اور باہر نکل گئ جبکہ فیزا مدھم سا مسکرائ…
تبھی اسکے فون کی بیل بجی..
افس سے فون تھا اسنے اگنور کر دیا.. وہ کیوں اٹھاتی جب وہ نوکری چھوڑ ائ تھی..
مگر فون مسلسل.. ا رہا تھا.. بلاخر اسنے چیڑ کر فون اٹھا لیا..
مگر بولی کچھ نہیں….
مس فیزا… فورا افس پہنچیں "اس سڑیل کی اواز سن کر اسکا حلق کڑوا ہو گیا..
اور وہ کس لیے جب میں نوکری چھوڑ چکیں ہوں " اسنے چھری پٹختے ہوئے پوچھا…
پروفیشنل بنیں مس فیزا… یہ ان پرفیسشنلیزم مجھے بلکل پسند نہیں
. کم از کم بھی اپکو ایک ماہ پہلے انفارم کرنا تھا کہ.. اپ چھوڑ رہیں ہیں تا کہ ہم الٹرنیٹ ڈھونڈتے … " اسنے تڑخ کر کہا.. تو فیزا نے دانت پیسے…
میں اپکی کمپنی پولیسیسز فولو نہیں کرتی" وہ غصے سے بولی…
ٹھیک ہے پھر.. پولیس اپ سے پوچھے گی"اسنے کہہ کر فون پٹاخ بند کیا.. جبکہ فیزا کا منہ کھل گیا….
اسنے دل میں.. اسے.. بہت ساری گالیاں دیں.. اور پھر شرمندگی خودی ہوئ..
کم از کم گالیاں تو نہ دیتی وہ اسے…
مگر فکر.. نے اسکو گھیر لیا تھا…
چار نچار.. اسے افس دوبارہ جانے کا سوچنا ہی پڑا.. کیونکہ. وہ… پولیس… اور ان معملات سے خوف ذدہ ہو گئ تھی…
اور اس شخص سے کوئ بعید نہیں تھی.. وہ کچھ بھی کر سکتا تھا….
غصے سے سامان پٹخ کر… وہ ابھی باہر نکلتی کہ داود کچن میں ا گیا…
یہ تمھارا منہ کیوں من بھر کا ہو رہا ہے"وہ لاپرواہی سے… پوچھنے لگا…
جبکہ فیزا نے نفی میں سر ہلایا….
اور پھر سے باہر نکلنے لگی..
کیا بھاگی جا رہی ہو.. ناشتہ بناو… میں فریش ہو کر اتا ہوں" اسنے ایک بار پھر کہا..
وہ مامی بنا دیں گی مجھے افس جانا ہے.. الریڈی لیٹ ہو گئ ہوں "اسنے کچھ جھجھکتے ہوے کہا…
میڈیم التمس کی رانی"وہ پانی کا گلاس… سائیڈ پر رکھتا اسکیطرف بڑھا.. جبکہ فیزا شرمندہ ہو گئ…
ناشتہ بناو.. مما.. میرا ڈریس پریس کر رہیں ہیں.. میں چھوڑ دوں گا تمھیں "دو ٹوک لہجے میں کہہ کر وہ باہر نکل گیا.. جبکہ فیزا… ناشتہ بنانے لگی…
حکم جمانا تو کوئ اس سے سیکھتا…
…………….
مجھے یہ سمھجہ نہیں آ رہا…. کہ تم اس لڑکی کا اچار ڈالنے والے ہو" وہ غصے سے بولا…
شرم کرو سارگل کسی کی بے بسی کو… اسطرح تم… کیش کرو گے.. "مراد نے… فائل سائیڈ پر رکھتے ہوئے…کہا..
اس دن مراد اگر اس لڑکی کو پروٹیکٹ نہ کرتا تو ضرور اسکے اندر کا شیطان اس سے کوئ غلط قدم اٹھوا دیتا…
مگر مراد نے… سارگل کو ایسا نہیں کرنے… دیا..
اور مشل کی ہیلپ کر کے.. وہ مشل.. کی نظر میں ایک عظیم انسان بن گیا تھا…
سارگل کے ہی افس… کے سیکنڈ فلور پر… ایک چھوٹا سا اپارٹمنٹ تھا…
جو اسنے اس لڑکی کو دے دیا تھا…
مراد کو اس لڑکی کی کہانی سن کر کافی ترس ایا تھا.. جبکہ.. وہ اکثر.. ایسے فلاحی کام کرتا تھا.. تبھی.. سارگل کو… زیادہ محسوس تو نہیں ہو امگر چیڑ ضرور ہوئ.. کہ وہ بلاوجہ اسے پروٹکٹ کر رہا تھا…
ہمم اس لڑکی کو شرم ا رہی تھی جب وہ میرے روم میں چھپی بیٹھی تھی… "اسنے.. پیپر ویٹ گھماتے ہوئے.. مشل کو سوچا…
تم سے بحث بےکار ہے….. اپنا کام کرو جا کر کیوں میرا سر کھا رہے ہو" مراد نے.. اسکیطرف دیکھا.. تو وہ گھور کر اٹھا…
کب تک چھپاتے پھیرو گے اسے… تم صرف ضد چڑھوا رہے ہو مجھے"وہ.. انگلی اٹھا کر بولا…. تو مراد نے.. سر جھٹکا…
میں.. انکل کو بتا دوں گا… "اسنے. اسے ڈرانا چاہا…
بتا دو…. ان کی. جوانی کے قصے سن چکا ہوں.. یہ تو میری عادت نہیں جگہ جگہ منہ مارنے کی "وہ.. مڑا اور اسکی ٹیبل کے اگے چہل قدمی کرنے لگا..
سارگل صاحب اتنے ہی جزبات تڑپ رہے ہیں تو شادی کر لو "مراد.. نے ایک بار پھر فائل کھولی…
وہ تو کروں گا… مگر.. یہ لڑکی چاہیے"وہ ضدی بچے کیطرح بولا…
زیادہ بکواس نہیں" مراد نے گھورا…
یار تمھاری بہن تو نہیں لگتی جو… تم اسکے بھائ بن رہےہو" وہ چیڑ کر اسکی ٹیبل پر جھک کر بولا…
سارگل اپنی لیمٹس کروس نہیں کرو" مراد نے فائل پٹخی…
تم اس فلیٹ کی چابی دو "سارگل بغیر نوٹس لیے بولا…
مراد نے گھیرہ سانس بھرہ…
شادی کر لو اس سے.. پھر کچھ بھی کرنا" اسنے… کہا.. تو سارگل ہنس دیا…
بیٹے میرا سٹینڈر گیرا نہیں ہے ابھی" وہ طنزیہ بولا…
تو
. گناہ کر کے سٹینڈر نہیں گیرے گا تمھارا" مراد کو تپ چڑھی..
سب ہی کرتے ہیں…. دنیا میں کون ہے جو نہیں کرتا" وہ ارام سے بولا…
سارگل… اب میرا سر کھانا بند کرو جب تم جانتے ہو کہ میں وہ چابی نہیں دو گا" مراد سختی سے بولا…
اور تم جانتے ہو… تم یہ حرکت کر کے مجھے اکسا رہے ہو صرف" وہ بھی سنجیدگی سے بولا…
جو کر سکتے ہو کر لو" وہ بولا.. آنکھوں میں چیلینج تھا…
اوکے" اسنے.. کہا… اور ابھی وہ وہاں سے نکلتا کہ کسی سے بڑی زور سے ٹکرایا..
مراد بھی دیکھ چکا تھا کیونکہ فیزا.. اندر… داخل ہو رہی تھی..
شاید بغیر دیکھے..
اندھی ہو" سارگل جو پہلے سے تپا ہوا تھا چلایا…
جبکہ مراد اٹھ کھڑا ہو گیا…
اپکو دیکھای نہیں دیتا مسٹر"فیزا.. بھی دوبادو بولی…
جبکہ اس سے پہلے سارگل کچھ کہتا.. مراد نے اسکا بازو پکڑا…
مس فیزا.. اپ باہر جائیں "اسنے کہا… تو فیزا.. سارگل کو گھور کر.. باہر نکل گئ جبکہ سارگل نے اپنا ہاتھ چھڑوایا..
اپنے جیسے ہی ایپلوئیر رکھے ہوئے ہیں "وہ گھور کر کہتا.. نکلتا چلا گیا.. جبکہ اسکے جانے کے بعد.. اسنے فیزا کو اندر بلا لیا…
……………….
وہ خاموشی سے اسکیطرف دیکھ رہا تھا….
جبکہ فیزا بھی خاموش کھڑی تھی..
کیا اپ میرا ٹائم ضائع کرنے ای ہیں" وہ بولا…
جی نہیں.. یہ. اپ نے لیلا کو ہٹا کر مجھے اپنی سیکڑی کیوں ہائیر کیا ہے اسکا جواب چاہتی ہوں" اسنے.. پوچھا جبکہ مراد نے اثبات میں سر ہلایا…
اپ میری ملازم ہیں یہ میں اپکا جو اپ جواب طلبی کرنے ائ ہیں "اسنے سنجیدگی سے پوچھا…
مجھے نوکری نہیں کرنی" وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی…
مرادنے گھیرہ سانس بھرہ..
مس فیزہ میرا دماغ اتنا اوٹ ہوا ہواہے.. کہ میں اپ سے ابھی بات نہیں کرنا چاہتا.. یہ فائلز پکڑیں.. اور ساری لسٹ… ای میل کر دیں…. فائق کو "اسنے مصروف سے انداز میں کہا جبکہ وہ منہ کھول کر رہ گئ وہ کیا کہہ رہی تھی جبکہ وہ کیا… کہہ رہا تھا…
اسنے دانت پیس کر.. اس سے.. فائلز کھینچی….
اور پاوں پٹخاتی وہاں سے نکل گئ.. جبکہ مراد نے.. وہیں پین پھیکا اور.. چئیر کی بیک سے.. ٹیک لگا دی…
اول تو سارگل اسکی سمھجہ میں نہیں ا رہا تھا.. وہ کیا فضول ضد لگائے بیٹھا تھا وہ بھی ایک بے بس لڑکی کے ساتھ..
جس کے اگے پیچھے بھی کوئ نہیں تھا اور وہ عمر میں کتنا چھٹی تھی..
سارگل کی سوچ پر اسے غصے کے ساتھ اب گھن بھی ائ…
مگر وہ اسے اسکے ارادوں میں کامیاب نہیں ہونے دے گا یہ تو طے تھا..
جبکہ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ وہ ضرور کوئ نہ کوئ.. قدم اٹھائے گا..
اور اسکو نیچا دیکھانے کی ضرور کوشش کرے گا..
جبکہ دوسری طرف.. یہ لڑکی.. اسے دیکھتے ہی اس لڑکی پر غصہ اتا تھا…
اج تک اسکے افس میں اس سے کسی نے بدتمیزی نہیں کی تھی.. جبکہ وہ لڑکی جو شکل سے کتنی معصوم دیکھتی تھی
اسکی زبان کتنی تیز تھی…
غصے سے کھولتے دماغ کو سکون دینے کے لیے اسنے…
فون اٹھایا…
اسکی سیکڑی
. جو وہ اب بدل چکا تھا وہ بھی فیزا کی اس بات پر کہ وہ اسکی نہیں فائق کی ملازم تھی کیونکہ وہ اسکے انڈر کام کرتی تھی تبھی.. اپنی برتری واضح کرنے کو… اسنے اسے اپنے انڈر لے لیا تھا.. جبکہ لیلہ پیچو تاب کھا رہی تھی…
کیونکہ اسکی ولیو جو مراد نے فیزا کے سامنے گیرہ دی تھی..
جب دوسری جانب سے فون نہیں اٹھایا گیا تو.. اسنے جھلے میں فون ہی پٹخ دیا..
عجیب مصیبت ہے. "
……………………….
کالج میں ویلکم پارٹی کی تیاری پورے زورو شور پر تھی اکثر سٹوڈنٹ لیکچر بنک کر رہے تھے…
جبکہ داود تو ایا ہی کافی لیٹ تھا…
گراونڈ میں ایک ادھم مچا ہوا تھا.. وہ لڑکیوں کو ایک نظر دیکھ کر اگے بڑھ گیا جبکہ.. بہت ساری لڑکیاں اسکو دیکھ کر اپنی جگہ ٹھر گئ تھیں…
وہ تھا ہی اتناہینڈسم.. پینٹ.. شرٹ میں وہ بہت ڈیشنگ لگ رہا تھا.. جبکہ گاگلز.. ناک کی چونچ پر ویسے ہی رکھے تھے..
اندر جاتے… ہوئے جب وہ سٹاف روم میں جانے لگا.. اسکی نگاہ…
عینہ پر گئ.. وہ.. کلاس روم کے اگے کھڑی تھی..
اکیلی تھی جبکہ.. ہاتھ میں سیل لیے وہ کسی سے شاید کنٹینکٹ کرنا چاہ رہی تھی…
اور اس وقت.. وہ کافی بولڈ ڈریس میں تھھی یہ شاید یہ تو اج کل کا فیشن تھا…
مگر داود کو بلکل بھی پسند نہیں ایا تھا..
ریڈ.. سلیو لیس شرٹ.. اور بروان پینٹ میں.. بال کھولے.. وہ.. حسن کا عالی شہکار ضرور لگی مگر.. اسے یہ ڈریس نہیں پہنا چاہیے تھا.. یہاں بہت مرد تھے.. اور سب کی نگاہ کا مرکز.. اسکے علاوہ اور کون ہو سکتا تھا…
وہ اسکیطرف بڑھا…
مگر.. اسکے متوجہ ہونے سے پہلے دوسرے کلاس روم میں چلا گیا.. جبکہ پیچھے کے ڈور سے.. وہ اس کلاس روم میں ا گیا جس کے باہر عینہ کھڑی تھی…
اور.. اچانک.. عینہ کو لگا.. اسکا نازک ہاتھ.. کسی دیو کے ہاتھ میں. اگیا ہو…
ہاں اتنی ہی سختی.. تھی اسکے ہاتھ میں…
وہ تو حونک رہ گئ.. جبکہ.. داود نے… پاوں مار کر دروازہ بند کیا..
عینہ آنکھیں پھاڑے اسکے گاگلز کو دیکھ رہی تھی…
جبکہ روم. میں اور کوی نہیں تھا…
یہ ڈریس خوبصورت.. ہے.. عینہ…
اور تم اس میں.. کافی خوبصورت لگتی.. تب.. جب یہ صرف میرے سامنے پہنتی.. ابھی تم اس میں بلکل اچھی نہیں لگ رہی "اسنے اسکو گھورتے ہوے کہا..
عینہ کا دم خشک ہونے لگا…
سر چھوڑیں" اسکی آنکھوں میں انسو کا ایک ریلہ ا گیا…
پتہ نہیں کیسے گزارا ہو گا… اتنی تو تم
. نازک ہو "اسنے اسکے انسو صاف کرنا چاہے.. عینہ اس سے دور ہوی..
داود مدھم سا مسکرا کر ہاتھ اٹھا گیا..
اوکے… مجھے.. کچھ چیزیں تم پر کلیر کرنی ہے..
دیکھو.. میں. داود احمد… ایک سٹریٹ فاروڈ انسان ہوں
باتوں کو گھما.. پھیرانا مجھے نہیں اتا.. میں ڈائریکٹ بات کرنے کا عادی ہو.. اور ابھی بھی مجھے نہیں پتہ تمھیں کس طرح بتاو…
مجھے تم اچھی لگتی ہو..
تم خوامخواہ.. مجھ پر سوار ہو گئ.. ہو… جیسے کوئی .. جن پیچھے پڑ جائے.. جسٹ لائک.. ڈونٹ مائنڈ.. ائندہ نہیں کہوں گا…
مگر مجھے ایساہی لگا….
میرے اعصاب.. تمھیں سوچ سوچ کر تھک چکے تھے
. اور اس سے پہلے سٹریس میں جاتا.. تو میں نے سوچا.. تمھیں بتا دوں تاکہ تمھیں بھی پتہ چل جائے کہ.. اب تم… کس کی ہو.. "اسنے شانے اچکائے.. عینہ کے لیے یہ سب غیر متوقع تھا…
وہ دیوار کے ساتھ.. چیپکی کھڑی تھی جبکہ ہارٹ بیٹ بری طرح الجھ چکی تھی…
مگر تم نے کل میری بات نہیں مانی.. تم نے مجھے ایک دن کا مزید سٹریس دیا اگر کل تم ا جاتی تو… میں تمھیں یہ سب کل ہی بتا دیتا…
عینہ میری بات نہ ماننے کا سوال اب اپنی زندگی سے نکال دو "اچانک ہی وہ اسکے نزدیک ہوا… جبکہ… اسکاہاتھ پکڑ لیا.. خوف سے عینہ کا چہرہ سرد پڑ چکا تھا…
داود مسکرایا…
ڈر گئ ہو…" اسنے اسکے گال پر چٹکی لی..
نو عینہ.. ڈرنے کی بات نہیں ہے.. ویسے جانتی ہو سب سے.. پہلے.. مجھے تمھارا نام بہت پسند ایا تھا.. سوئٹ سیمپل…
مجھے لگا اس نام کے پیچھے صرف میرا نام اچھا لگے گا" وہ مدھم سے مسکرا دیا.. جبکہ وہ اب بھی ساکت بت بنی کھڑی تھی..
جانتا ہوں تمھارے لیے.. یہ بات قابل قبول نہیں ہو گی.. مگر کیا کر سکتے ہیں قبول کرنا پڑے گا تمھیں… " اسکے بالوں میں اہستگی سے ہاتھ پھیرنے کی گستاخی کرتے ہوئے.. اسکے اندر.. ایک حسین خوشگوار احساس ہو ا.. جبکہ مقابل.. بے ہوش ہونے کے قریب تھا…
کچھ دیر بعد ملتا ہوں… تم سے.. پرنسپل سے ایک بات کرنی ہے ضروری ہے.. اوکے" وہ
.. اسے ایسے کہہ رہا تھا جیسے.. ان دونوں کی عاشقی تو بہت پرانی تھی.. عینہ یوں ہی چیپکی ہوئ تھی..
جبکہ داود.. مسکرا کر
. دروازہ کھول کر باہر نکل گیا.. عینہ کے ہاتھ سے.. بیگ چھوٹ گیا…
اسے لگا
. اسکا دماغ پھٹ جائے گا…
جبکہ خوف سے اسکا دل شاید باہر ا جاتا…
سوچنے کے صلاحیت.. اسکے اندر نہیں رہی تھی وہ بس بھاگ جانا چاہتی تھی.. تبھی.. وہ.. الٹے قدموں وہاں سے دوڑی..
اور اپنی گاڑی کے قریب جا کر سانس لیا…
گاڑی میں بیٹھنے تک… اسکے… ہاتھ.. بری طرح کانپ رہے تھے.. اس وقت اسپر صرف ایک خوف تھا…
عجیب سا…
احساسات عجیب تھے…
ایک لفظ.. اسکو سمھجہ نہیں. ارہا تھا.. نہ اپنے دل کی.. تیز دھڑکن… اور نہ… داود کی باتیں…
…………. …………
گٹھنوں میں سر دیے.. وہ.. رو رو کر تھک چکی تھی…
تبھی.. بس اب سسک رہی تھی….
اسے کسی پر بھی یقین نہیں تھا کچھ بھی کبھی بھی ہو سکتا تھا وہ کب کہاں کہاں اپنی عزت بچاتی.. لوگ تو صرف ایک.. چیز کے پیچھے پڑے تھے اور اگر ایک ہمدرد شخص نے اسکی مدد کی بھی تو…
کیا.. تھا.. وہ کیا کر سکتی تھی.. اگر کوئ اس فلیٹ میں. اجاتا…
ماں کو یاد کر کے وہ.. بہت رو چکی تھی..
معافیاں بھی مانگیں کے وہ اسکو انصاف نہیں دلا سکی.. وہ کمزور تھی جبکہ دنیا بہت طاقت ور….
وہ.. یوں ہی خلا میں گھورتی رہی…
کہ دروازہ بجا.. اور اسکی چیخ نکل گئ…
دروازے پر کون ہو سکتا تھا…
اسے تو بتایا گیا تھا.. کہ بس.. نیچے والے فلور پر…
سارگل کا افس ہے اور اوپر اپارٹمنٹ میں وہ.. جبکہ کوئ نہیں جانتا تھا وہ یہاں ہے پھر بھلہ کون ہو سکتا تھا….
ایک بار پھر دروازہ بجا… مشل.. کا کھڑا ہونا مشکل ہو گیا.. ایک بار پھر انسو امڈ ائے…
دروازہ بجتا رہا… مگر اسنے نہیں کھولا.. اس کے اندر ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی کہ وہ دروازے کے قریب جاتی کجا کہ اسکو کھولنا…
یہ عمل اسکے لیے مشکل ترین تھا.. ایک بار پھر دروازہ بجا اور اب.. اتنی زور سے بجا تھا کہ اسے اٹھنا ہی پڑا…
ایک کمرے سے نکل کر.. وہ چھوٹے سے لاونج میں ائ.. اور دروازے کے نزدیک گئ…
اسکے نزدیک جاتے ہی پھر بج اٹھا…
اسنے دروازہ پکڑ لیا…
لڑکی دروازہ کھولو"مراد نے اب کہ چیڑ کر کہا…
جیسے ہی مشل نے اواز پہچانی…
اسنے جلدی سے دروازہ کھول دیا….
مراد سامنے کھڑا تھا.. جبکہ.. اس سے پیچھے دیوار سے ٹیک لگائے وہ بھی تھا…. کوٹ اسنے… ہاتھ کی انگلیوں میں اٹکا کر.. کاندھے پر ڈالا ہوا تھا..
وہ دونوں کو ہی دیکھ کر بری طرح گھبرائ تھی…
ہمارے فلیٹ میں رہتی ہو.. اور ہم سے ہی اکڑ… کچھ عجیب نہیں لگتا… "اسنے کہا.. اور اندر ا گیا.. مراد نے اسکو گھورا…
اندر جانے کا ذکر نہیں ہوا تھا.. مگر وہ کیسے بھول گیا…
وہ ایک شکاری کو اپنے ساتھ لایا تھا.. فلحال وہ اسکا دوست تو بلکل نہیں تھا…
مراد بھی اندر ا گیا.. جبکہ.. مشل کا دل کیا.. وہ یہاں سے بھاگ جائے..
وہ شخص اتنا خطرناک دیکھتا نہیں تھا جتنے.. شیطانی ارادے رکھتا تھا…
وہ دروازے کو تھامے یوں ہی کھڑی رہی..
مراد اسکی گھبراہٹ سمھجہ رہا تھا.. جبکہ سارگل سکون سے صوفے پر بیٹھا.. جوتا جھلا رہا تھا.. نگاہیں اسپر ہی تھیں.. جس کا بس چلتا تو دروازے کے اندر ہی گھس جاتی….
مراد کھانے پینے کا سامان لایا تھا..
کیونکہ یہ اپارٹمنٹ پرانا تھا اور کسی کے استعمال میں بھی نہیں تھا.. تبھی یہاں کچھ بھی نہیں تھا.. سوائے فرنیچر کے…
اور مجبوری یہ تھی.. کہ اوپر انے کا دوسرا کوئ راستہ نہیں تھا.. اور… اس اپارٹمنٹ کی چابی.. وہ اپنے افس میں بھول ایا تھا.. تبھی اتنی دیر لگی تھی ورنہ.. وہ خود ہی دروازہ کھول لیتا…
مگر اسنے یہ بات سارگل کو نہیں بتائ تھی.. کیونکہ اس پر یہ عجیب دورہ پڑا.. تھا….
وہ اس لڑکی کو.. صرف پانا چاہتا تھا…
اور اسکے بعد… اس لڑکی کی اسکی نظر میں کوئ ولیو نہیں تھی…
مراد نے اس عجیب.. ماحول سے مشل کو نکلنا چاہا تبھی اسکے نزدیک گیا.. تو وہ مزید د ڈر گئ.. جبکہ سارگل ہنسنے لگا…
گڑیا.. ریلکس ہو جاو… میرے ہوتے ہویے تمھیں کوئ کچھ نہیں کہے گا.. اور نہ کر سکتا.. تم میری زمہ داری ہو…..
جانتی ہو میری بھی ایک بہن.. ہے تم سے بڑی ہے… تم مجھے اہنا بھائ سمھج سکتی ہو.. اور یقین مانو.. یہ ادمی تمھیں میرے ہوتے ہوئے کوئ نقصان نہیں پہنچا سکتا.. "اسنے مشل کے سر پر ہاتھ رکھ کر نپے تلے لفظوں میں اسکو سمھجایا.. سارگل.. یہ سب. بھائ چارہ سن کر منہ بنا کر رہ گیا…
یہ حقیقت تھی.. جب تک وہ مراد کی سیکیورٹی میں تھی وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا…
سارگل باخوبی جانتا تھا.. وہ ایک نہایت.. شاطر ادمی ہے…
مشل نے اسکی بات سنی تو اسکادل مزید بھر ایا…
ہاں اگر اسکا بھی کوئ بھائ ہوتا تو اسے دربادر نہ ہونے دیتا…
وہ.. اپنے انسو صاف کرنے لگی تو.. مراد نے اسکے سر سے ہاتھ ہٹا لیا..
ہم چلتے ہیں.. یہ سب فاسٹ فوڈ ہے… ایک ہفتے بعد میں تمھیں پھر لا دو گا.. اسکے علاوہ تمھیں جس چیز کی ضرورت ہو… تم مجھے ارام سے بتا سکتی ہو.. بھائ سمھجہ کر"وہ ریلکس سا بولا..
مشل اسکو تشکر بھری نظروں سے دیکھنے لگی..
بھائ جان… لڑکیوں کی کچھ پرائویسی بھی ہوتی ہے.. جو اپکے جیسے عظیم بھائیوں کو نہیں بتائ جا سکتی.. ہاں.. شوہر یہ بوائے فرینڈ "
ہو گئ بکواس… "مراد نے گھورا….
تو وہ دانت نکالنے لگا…
گڈ تم نے اچھی بات بتائ ہے.. اور کھڑے کھڑے میں نےا یک ڈیسیجن لیا ہے "مراد پلٹا.. اور سارگل کی آنکھوں میں تیوری چڑھا کر دیکھا…
مشل تو شرم سے گڑھ رہی تھی وہ اتنی بےباکی سے.. کیسے بول گیا تھا…
کیسا ڈیسیجن… "سارگل کچھ سمھجا نہیں…
وہ یہ کہ میں مشل کو حویلی لے کر جا رہا ہوں.. وہاں.. یہ زیادہ محفوظ بھی رہے گی…
اور… سارے مسلے بھی حل ہو جائیں گے" مراد نے کہا.. تو سارگل ہنسنے لگا..
اوکے تو… تم یہ کام کرو.. اور میں پوری حویلی سمیت.. تمھاری… اس کچھ کچھ لگتی.. سگتی..
انجلین کو بتا دوں گا.. کہ یہ … تمھاری… گرل فرینڈ ہے سب سے پہلے تو… معاویہ انکل تمھیں ختم کریں گے بیٹا… اور پھر رفتہ رفتہ.. سب.. اور انجلین. بلاسٹ بھی کر سکتی ہے تم پر… اچھا چھوڑو سب کو.. پاک پارسا.. مراد خان.. کی ایمیج…
"وہ طنزیہ ہنسا.. جبکہ مراد کا دل کیا اسکا منہ توڑ دے…
بیٹے وکیلوں سے وکیلی نہیں کرتے…. وٹ ایور…
تم میرے حوالے کیوں نہیں کر دیتے" وہ سرا سر اسکو چیڑا رہا تھا..
مراد… برداشت کے سوا کچھ نہیں کر سکتا تھا.. کیونکہ وہ جانتا تھا.. یہ کمینا انسان اسکا دوست تھا بھائ تھا
باہر چلو.. تم" مراد.. نے.. اسکا ہاتھ تھاما…
جبکہ.. سارگل نے.. غور سے مشل کو دیکھا.. وہ ڈری سہمی نظروں سے اسکیطرف دیکھ رہی تھی..
سارگل نے اسکو آنکھوں سے گھوری لگائ.. تو وہ گھبرا گئ…
اسے کافی مزاہ ایا…
پھر ملتے ہیں… قریب سے محترمہ" جاتے جاتے بھی وہ شغوفہ چھوڑ گیا تھا..
مراد نے اسکو باہر دھکا دیا.. تو سارگل کا.. قہقہ گونج اٹھا…
ٹیک کئیر پریشان مت ہونا" مراد اپنی طرف سے اسے اخری تسلی دے گیا.. تھا..
مشل نے جلدی سے اگے بڑھ کر.. تالا لگایا…
سارگل.. کی بات سوچ کر.. اسپر گڑھوں پانی پڑا تھا…
……………….
وہ کافی دیر سے.. اپنی کتابوں میں.. بری طرح مگن تھا…
اج اسے پرنسپل نے.. اپنے ایک ریلیٹیو کے بارے میں بتایا تھا…
جو ڈیپٹی کمشنر تھا.. اور وہ.. داود.. کو… اسکی منزل تک لے جا سکتا تھا…
داود اول تو پرنسپل کی ان مہربانیوں پر حیران رہ گیا.. اخر یہ کیا گیم تھی..
پہلے بنا کسی حوالے کے اسے جاب پر ہائیر کر لیا.. پھر.. گاڑی کو چھوڑ کر اسے تمام فیسلیٹیز دی.. اور اب.. اسکے ہلکے پھلکے سے ذکر.. پر.. اسے.. ایک راستہ دیکھایا.. جہاں سے وہ.. اپنی منزل قریب سے دیکھ سکتا تھا…
کچھ ہی وقت میں اسکے پیپرز ہو جاتے.. تو اسے یقین تھا کہ وہ اس بار کلئیر کر لے گا…
اب تک پرنسپل کی مہربانی اسکی سمھجہ سے باہر تھی…
برھال اسنے تمام سوچوں کو پس پشت دالا اور.. پھر سے.. اپنا کام کرنے لگا کہ.. عینہ.. میڈیم دندناتی ہوئ اسکی سوچوں میں ا گئی.. وہ سوچنے لگا.. کیسے اسکے رنگ فق ہو گئے تھے جب اسنے.. اپنے بھونڈے سے طریقے سے.. اظہار کیا کہ وہ اسے اچھی لگتی ہے..
یار داود تمھیں تو… کچھ بھی نہیں اتا… لڑکی کو ایسے.. کون بتاتا ہے.. جیسے پیچھے ٹرین لگی ہو… "وہ… خود سے.. باتیں کرنے لگا… ابھی کچھ دیر پہلے… ہی بارش ہوئ تھی..
اور فضا خوشگوار تھی
. تبھی اسکے والد محترم نے پنکھے میں رہنے کا فیصلہ کیا تھا.. اور وہ بغیر بحث کے… چھت پر ا گیا تھا…
مگر عینہ اسے پڑھنے نہیں دے رہی تھی…
وہ پڑھتا بھی کیسے.. اسکی خوبصورت آنکھیں.. نازک.. کانپتے ہونٹ.. اور.. ڈرا سہما انداز…. وہ مسکرا دیا…
بیوٹی "اسنے ایک لفظ میں بات ختم کی… اور اب سنجیدگی سے پڑھنے لگا…
کوئ فائدہ نہیں ہے.. جب اچھی نوکری مل گئ ہے.. تو.. توجہ سے بس اپنی نوکری کرو. شادی کرو… " معاذ کی اواز پر اسنے سر اٹھایا…
اور کس سے کروں شادی میں.. "اسنے.. ہیڈ فری.. جو ایک کان میں لگائ ہوئ تھی ہٹائ..
شاباش بیٹے اچھا طریقہ ہے پڑھنے کا "معاذ نے اسکو گھورا…
کہ وہ گانے سن رہا تھا..
داود کچھ نہیں بولا.. جبکہ معاذ اسکے سامنے چییر پر بیٹھ گیا..
فیزا اچھی لڑکی ہے گھر کی بچی ہے….
اور میں نے اسکو تمھارے لیے سوچا ہوا ہے" معاذ نے اسکو ا گاہ کیا…
براووو"اسنے ناگواری سے کہا..
معاذ کو برا لگا…
اس گھر کی بچی… کے لیے میں رہ گیا ہوں "اسنے.. پین پٹختے ہوے کہا..
داود… تمیز… سے… " معاذ نے انگلی اٹھائ..
نہیں مجھے ایک بات بتا دیں.. اپنے فیصلے تھوپنے کے علاوہ اپ کو.. کیا اتا ہے. اور وہ بھی صرف مجھ پر اپنے فیصلے.. تھوپتے ہیں کس لیے"وہ اچانک ہی ہائیپر ہو گیا تھا…
معاذ… نے اپنے 28 سالہ بیٹے کو دیکھا… جو کبھی کسی کے قابو میں نہیں ایا تھا…
ماں باپ کے فیصلے ہی بہترین فیصلے ہوتے ہیں سمھجے تم…
ورنہ انسان خوار ہی ہوتا ہے" اسنے بھی اٹھتے ہویے.. اسکی آنکھوں میں دیکھا…
میں اپنے فیصلے خود لے سکتا ہوں.. اور شادی مجھے نہیں کرنی وہ بھی فیزا سے سوال ہی پیدا نہی ہو سکتا" وہ.. غصے سے بولا…
چلو ٹھیک ہے میں بھی دیکھتا ہوں تم کیا کر لو.. گے….
کرنی تو تمھیں فیزا سے ہی ہے.. شادی… اور یہ اخری بات ہے داود احمد اس سے اگے یہ پیچھے ایک لفظ بھی نہیں" دو ٹوک لہجے میں اسنے… کہا.. جبکہ داود دھاڑا تھا..
یہ کیا تماشہ ہے "وہ.. سیڑھیوں سے نیچے اترا.. معاذ بھی نیچے ایا…
جبکہ.. فیزا.. سیڑھیوں کے پاس کھڑی… سب سن چکی تھی..
مما.. کیا مسلہ ہے ان کے ساتھ پوچھ لیں ان سے "اسنے عابیر کیطرف دیکھا..
جبکہ عابیر نے معاذ کی جانب..
داود ارام سے بات کریں… "اسنے کہا.. تو وہ. جو ہاتھوں باتوں سے باہر تھا…
ایکدم بولا…
میں.. فلحال تو کسی سے شادی نہیں کرنا چاہتا.. اور فیزا سے ناممکن ہے.. بتا دیں اپ انکو. ورنہ یہ گھر چھوڑ دوں گا میں" وہ.. بولا.. یہ جانے بغیر کے.. کسی کا دل کس طرح وہ توڑ رہا تھا.. یہ نہیں تھا اسے داود میں دلچسپی تھی.. مگر.. وہ اسکی بے عزتی کر رہا تھا…
معاذ نے فیزا کی نم آنکھیں دیکھیں تو.. وہ غصے سے دواد کیطرف بڑھا.. جبکہ داود.. وہاں سے نکل گیا.. عابیر منہ کھولے.. دونوں کیطرف دیکھتی رہ گئ…
ایسی اولاد کو جنم دینے سے بہتر تھا.. تم مجھے اولاد ہی نہ دیتی..
معااذ"عابیر کی اواز کانپ اٹھی..
سمھجا دو اپنے بیٹے کو.. جب تک فیزا سے معافی نہیں مانگے گا اس گھر میں نہیں اے گا.." معاذ بلند آواز میں بولا..
اور.. اپنے روم میں چلا گیا.. جبکہ عابیر
.. منہ کھولے.. کھڑی تھی فیزا… چپ چاپ وہاں سے نکل گئ..
…………………
عجیب تماشہ ہے عجیب ڈارامے بازی ہے زندگی میری ہے فیصلے انکے چلیں گے.. چلو اچھا سپنا دیکھا ہے میرے والد نے بھی" وہ روڈ پر چلتا… کڑھ رہا تھا….
سڑک سون سان تھی… بارش کے باعث جگہ جگہ پانی کے چھوٹے چھوٹے تالاب بنے ہوئے تھے….
جن سے بچتا وہ فٹ پاتھ پر چلے جا رہا تھا…
اسنے غصے سے فون نکالا…
اور.. بغیر سوچے سمھجے اسنے اپنی پرائیویٹ لیسٹ میں موجود ایک ہی نمبر کو ڈائل کیا….
بیل جا رہی تھی… مگر فون پیک نہیں ہو ا…
اسکے غصے کا گراف بڑھنے لگا مگر ڈھٹائ سے بار بار بار بار وہ نمبر ملاتا رہا یہ دیکھے بغیر کے رات کے دو بج رہے ہیں…
بلاخر.. فون اٹھا لیا گیا…
کسی کے نازک مگر چڑچڑیی سی اواز فون پر ابھری..
کون ہے "نیندوں میں.. وہ بس اتنا ہی بولی..
داود احمد.." اسنے سنجیدگی سے کہا.. جبکہ عینہ.. ایسے اٹھی جیسے اسے.. کرنٹ لگا ہو.. جبکہ موبائل… بھی اسکے.. ہاتھ سے چھوٹ گیا…
بات سنو میری… "اسکی اواز دوبارہ ائیر پیس میں ابھری..
عینہ.. جو.. اسی کو سوچتے سوچتے سوئ تھی..
اسے یہ خواب ہی لگا…
اگر تم نے مجھ سے بات نہ کی تو.. تم مجھے ابھی جانتی نہیں میں تمھارے گھر بھی پہنچ سکتا ہوں" اسنے دھمکی دی جبکہ عینہ.. ہوش میں ائ.. وہ ھیران تھی اسکے پاس اسکا نمبر بھی تھا…
اپ.. سر اپ… مجھے.. کیوں تنگ کر رہے ہیں" بلاخر.. وہ گھبراتی ہوی بولی..
لو میں نے ابھی.. تنگ کب کیا… تم جانتی بھی ہو تنگ کسے کہتے ہیں "داود نے آنکھیں گھمائ.. عینہ.. کے ہاتھ پاوں کانپ اٹھے…
خیر.. بات کرو مجھ سے… "اسنے.. ایسے کہا جیسے وہ تو ہمیشہ سے ایک دوسرے سے بات کرتے اے ہیں…
عینہ کے پلے یہ ادمی بلکل نہیں پڑا
میں اپ سے کیا بات کروں "اسنے کچھ جھجھکتے ہوے کہا.. عجیب سا احساس تھا.. مگر ڈر بھی تھا..
کوئ بھی… کچھ بھی.. "داود.. کا لہجہ.. دھیما ہوا.. جبکہ.. اسنے.. پیڑ سے ٹیک لگا لی…
میں میں بند کر رہی ہوں.. "
کافی اچھی بات تھی اسکے علاوہ کوئ بات کرو" اسنے ارام سے کہا.. عینہ تو.. انگلیاں دانتوں سے کاٹنے لگی…
دل کی دھڑکن.. اتنی تیز تھی.. کہ اسے کانوں میں سنائ دے رہی تھی…
داود کچھ دیر اسکی خاموشی سنتا رہا.. تیز ہوا.. رات کی تنہائی من پسند شخص….
سون سان سڑک….
اور جھومتے درخت…
وہ اعصابی طور پر پرسکون ہو گیا…
سرور سا پورے وجود میں دوڑا…
تمھارے ساتھ اور کون ہے"بلاخر داود ہی بولا….
عینہ کو لگا وہ اج اپنی ساری انگلیاں کھا جایے گی….
ک.. کوئ بھی نہیں" اسنے بتایا… اسے حیرت خود پر ہوئ کہ.. وہ کہہ ضرور رہی تھی مگر فون بند نہیں کیا…
جبکہ دل تھا کہ سمبھلنے کے لیے تیار نہیں تھا…
گڈ…. اچھی بات ہے… کسی کے ساتھ سونا بھی نہیں چاہیے تمھیں" اسنے.. کہا.. جبکہ عینہ کچھ نہیں بولی…
اوہ مجھے یاد ایا.. کل تم بھاگ گئ تھی.. میری بات کیوں نہیں مانتی تم" وہ.. زرا.. اکڑ کر بولا…
عینہ.. نے ایک نظر سکرین کی جانب دیکھا…
اسے سمھجہ نہیں ایا کیا جواب دے…
م. مجھے گھر جانا تھا.. میں چلی گئ پھر"وہ مدھم اواز میں بولی..
حالانکہ میں تمھیں کہہ کر گیا تھا نہیں جانا. "وہ اہنی بات ہر قائم تھا.. عینہ کچھ نہیں بولی…
س. سونا ہے مجھے "بس اتنا ہی کہا..
اتنی حسین رات میں کون سوتا ہے.." داود نے شانے اچکائے..
مطلب"وہ اچانک جلدی سے بولی…
اسے حسین رات کی کچھ سمھجہ نہیں ائ..
ہممم… "داود نے سانس کھینچا..
اچھا ایک کام کرو" اسکی آنکھوں میں شرارت ناچ اٹھی…
ج.. جی" وہ کچھ اٹک کر بولی…
تمھارے پاس پیلو ہے" اسنے پوچھا.. عینہ نے اہنے گرد تکیوں کی جانب دیکھا…
جی" اسنے جواب دیا…
اوکے.. ان میں سے کسی بھی ایک تکیے کو زور سے ہگ کر کے.. جلدی سے سو جاو.. کم اون فاسٹ اور یاد رکھنا…
تمھارے دماغ میں میرے علاوہ اور کوئ نہ ہو…
تم تکیے کی جگہ مجھے تصور کرو… "اسنے.. کہا.. عینہ کو لگا…
اسکی ہتھیلی سے پسینے چھوٹ اٹھے ہوں جیسے…
اسنے جلدی سے
. موبائل… بند کر دیا…
اور تکیوں کی جانب دیکھا…
تو اسے ڈھیروں شرم ائ.. خود پر حیرت بھی ہوئ وہ مسکرا رہی تھی…
جبکہ دوسری طرف داود کا منہ بنا..
سیلی گرل" اسنے کہا.. اور…
گھر جانے کا سوچا… گھر کے قریب.. اکر…
اسنے دروازہ پش کیا.. تو اسے اپنے باپ کی کروائ منہ چڑاتی دیکھی.. دروازہ بند تھا..
اسکا بس نہیں چلا کہ وہ دروازہ ہی توڑ ڈالے…
اسنے دروازہ بجایا.. تمام خوشگوار موڈ.. غارت ہو گیا…
کچھ ہی دیر میں دروازہ کھل گیا جبکہ اسکا ارادہ تھا.. دروازہ.. اتنی زور سے بجائے کے معاذ صاحب خود.. دروازے پر تشریف لائیں..
دروازہ فیزا نے کھولا.. تھا…
اسنے فیزا کو دیکھا دروازہ بند کیا..
تم جاگ کیوں رہی ہو "داود نے نارملی پوچھا..
ایسے ہی" فیزا نے.. کہا.. اور اندر جانے لگی..
روکو.. "داود نے ہھر پکارہ تو وہ رک گئ..
سوری کہنا پڑے گا مجھے تمھیں" وہ زرا الجھ کر بولا.. اسکا ناداز ایسا تھا.. کہ.. فیزا.. کو ہنسی ائ…
نہیں "وہ پلٹ کر مسکرائ..
ایکچلی یار میں نے تمھارے بارے میں کبھی ایسا نہیں سوچا" داود
. نارمل ہو گیا..
میں نے بھی. "فیزا نے بھی کہا..
یہ تو اچھا ہو گیا..
اب.. دیکھتی جاو تمھارے ماما کے ساتھ کرتا کیا ہوں میں" وہ ہنسا.. اور ایگل کے پنجرے کے پاس ا گیا..
اپکے فادر ہیں داود وہ" فیزا کو برا لگا..
ہاں وپ تو مجھے پتہ ہے اس میں نئ بات کیا ہے" اسنے شانے اچکاے تو فیزا نفی میں سر ہلا کر رہ گئ…
کچھ نہیں ہو سکتا تھا اسکا..
صبح وہ وقت سے پہلے ہی اٹھ چکا تھا.. عابیر تو اسکیطرف دیکھ کر حیران رہ گئ.. جو رف سی ٹروزر شرٹ میں.. اپنے فیورٹ چیز کے سامنے بیٹھا… تھا…
اج جلدی اٹھ گئے" عابیر نے اسکے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرہ…
اپکے گھر کی شاندار چھت پر دھوپ جلدی ا گئ تھی اٹھنا ہی تھا پھر میں نے" اسنے ہمیشہ کیطرح طنز کا تیر اچھالا…
داود "عابیر اسکے ساتھ ہی بیٹھ گئ…
داود بغیر ریسپونس کے.. ایگل کے سر پر ہاتھ پھیرتا رہا..
بچے نہیں ہو داود…. کیوں ضد کرتے ہو….
اتنے بڑے ہو گئے ہو…. پھر بھی ہر بات پر اڑ جاتے ہو ضد لگا لیتے ہو… برا بھلہ کہتے ہو.. یہ جانے بغیر کے کسی کا دل.. ٹوٹ جائے" وہ تحمل سے سمھجانے لگی..
اگر تو اپ فیزا کے دل کی بات کر رہیں ہیں تو.. اس کے دل میں میں دور دور تک بھی نہیں ہوں.. اول تو.. اور دوسرہ اگر ہوتا بھی تو یہ میرا کنسرن نہیں تھا.. مام… اپکا.. صرف اپکا شوہر مجھے بدتمیزی پر اکساتا ہے" وہ تیوری چڑھائے بولا…
باپ ہیں وہ اپکے.." عابیر نے ٹوکا…
تو….. کبھی باپ بننا پسند کیا انھوں نے….
کبھی…. بھی.. وہ بچپن سے.. مجھ سے اسی طرح اکھڑتے ہیں اور جس دور میں مجھے انکی ضرورت تھی میں اس دور سے نکل ایا ہوں.. اب مجھے انکی ضرورت نہیں… "اسنے صاف جواب دیا….
ٹھیک ہے مجھے پتا ہے معاز غلط ہے تو کبھی اپ نے ڈھلنے کی کوشش کی…
اپ نے یہ سوچا اگر بابا کو..میرا یہ سن گلاسز پہنا نہیں پسند تو میں نہیں پہنتا…" اسنے.. کہا تو.. داود اسکی صورت تکنے لگا…
کل کو اپکے شوہر کہہ دیں مجھے تمھاری شکل نہیں پسند اور میں مان لوں گا یہ بات پھر" وہ بولا تو اسکے اعصاب کھنچنے لگے…
وہ کمرہ دیکھ رہیں ہیں اپ.. وہیں سے نکل کرا ئ ہیں نہ.. ساری رات… بیٹا کہاں تھا.. انھیں اس چیز کا احساس ہوا….
وہ مان چکے ہیں میں.. اب انکے اختیار میں نہیں ہوں.. تو اپ بھی مان لیں اور پلیز اب ہم یہ موضوع نہیں چھڑیں گے… اپ مجھے زبردست سا ناشتہ دیں.. کالج جانا ہے.. "اسنے کہا اور ہاتھ جھڑتا اٹھا.. اسی دوارن وہ ایگل کو بند کر چکا تھا…
عابیر بھی اٹھی..
داود احمد" اسنے پکارہ.. پکار میں مسکراہٹ تھی…
داود بھی مسکرایا…
یس مدر"وہ اسکے نزدیک ایا…
میں اپ سے بہت پیار کرتی ہوں.. اپ جانتے ہیں میں نے کبھی کسی سے محبت نہیں. کی… ہوئ بھی نہیں کبھی…
مگر جب… میرا داود میری گود میں ایا… تو مجھے لگا…
اج میں مکمل ہو گئ….." وہ چاہت سے اسکی. پیشانی سے بال ہٹانے لگی…
داود نے اسکا ہاتھ تھام کر چوم لیا…
اپکی وجہ سے تو اپکے شوہر کو برداشت کرتا ہوں" اسنے کہا.. تو عابیر نے آنکھیں دیکھائیں جبکہ وہ ہنسا…
اپ ناشتہ ریڈی کریں میں اتا ہوں.. "کہہ کر وہ وہاں سے چلا گی اجبکہ.. عابیر بھی مسکرا کر کچن میں ا گئ..
پندرہ منٹ میں وہ دوبارہ اسکے پاس تھا…
براون شرٹ میں اور وائٹ پینٹ پر.. گیلس لگائے.. اور.. شاندار بال بنائے… ناک کی چونچ پر گاگلز رکھے… بے حد ہینڈسم لگ رہا تھا.. جبکہ اسکے کلون کی خوشبو کچن میں پھیلی ہوئ تھی…
وہ ماں سے لاڈ کر رہا.. تھا جبکہ عابیر اسکے.. اوپر فدا ہو رہی تھی…
پیچھے سے اتے معاذ نے یہ منظر دیکھا…
اور کچن میں داخل ہوا…
گڈ مورنیگ.. "عابیر.. نے دیکھ کر سمائل کی تو.. معاذ نے بھی سمائل دی.. جبکہ داود.. یوں ہی کھڑا انڈا توڑ توڑ کر کھاتا رہا..
داود.." عابیر نے مدھم اواز میں اسکوٹوکا.. اسنے ماں کیطرف دیکھا…
اسکا بلکل بھی دل نہیں تھا مگر وہ جانتا تھا عابیر اس سے لازمی کرائے گی.. وہ اکثر زبردستی.. اس سے معاذ کو گڈ مارنیگ کراتی تھی..
گڈ مورنگ. ڈیڈ" نپے تلے لفظوں میں لٹھ مار کہہ کر پھر سے وہ اپنے کام میں مگن ہو گیا.. معاذ نے اسکی جانب دیکھا..
جو… باکمال تھا…
سر سے پاوں تک…. اسکے… سفید.. رنگ.. اور بڑی بڑی آنکھیں گھنے بال اور پھر سٹائل…
وہ اسکی اولاد حقیقت تھا کہیں سے بھی نہیں لگتا تھا…
تم کس کی اجازت سے دوبارہ داخل ہوئے ہو"معاذ نے جواب دینے کے بجائے سوال کیا…
داود.. نے انڈا پلیٹ میں چھوڑا….
خود اپنی اجازت سے" آنکھوں میں سرد تاثر لیے بولا…
تمیز.. سے رہنا"معاذ… نے انگلی اٹھا کر وارن کیا…
داود نے عابیر کیطرف دیکھا.. جو اسے کچھ بھی بولنے سے روک رہی تھی…
یہ جو اگلا جمعہ ا رہا ہے… اس میں تمھاری منگنی ہے… تیار رہنا "معاز نے اسے مطلاع کیا.. جبکہ داود… کو لگا.. اسکے اندراگ بھڑکا دی گئ ہو…
اسنے وہی انڈے کی پلیٹ اٹھا.. کر دیوار میں دے ماری.. چھناکے سے پلیٹ کے کئ ٹکڑے ہو گئے.. عابیر.. نے منہ پر جہاں ہاتھ رکھا…
وہیں.. معاذ نے اپنا غصہ ضبط کیا..
کہا تھا میں نے اپکو.. مجھے جلدی ناشتہ دے دیں.. اس تماشے کے لے روکا تھا اپ نے مجھے…. "وہ دھاڑا….
عابیر.. کی آنکھیں بھیگی…
داود نے باپ کو گھور کر دیکھا..
یہ اپکی سوچ ہے کہ.. میں وہ کروں گا جو اپ چاہتے ہیں.. بلکے میں وہ کروں گا.. جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا" کہہ کر.. وہ کچن سے نکلا..
ہاں کسی بگڑی اوارہ لڑکی کو بھگا کر لے انا.. باپ کی برسو کی عزت پر خاک ڈال دینا.. تمھاری جیسی اولاد… کو پیدا ہی نہیں ہونا چاہیے.. تھا…" معاذ چلایا.. جبکہ وہ.. ہاتھ ہلا کر گھر سے نکل گیا…
…………………..
بائیک کی سپیڈ حد سے زیادہ ہی تیز تھی….
جبکہ.. اسکا دماغ اتنا ماوف تھا کہ.. اسے سمھجہ نہیں ایا.. کہ وہ کس طرح ٹریفک کراس کر رہا ہے…
ادھے گھنٹے کا راستہ پندرہ منٹ میں طے کر کے.. وہ کالج کے اندر داخل ہوا.. تو… اسنے ہمیشہ کیطرح ایک نظر گراونڈ میں گھمائ…
جس کی تلاش نظر کو تھی.. وہ اسے دیکھای نہیں دی..
نو عینہ… "اسے لگا وہ چھٹی کر چکی ہے… کیونکہ جب جب اس سے اسکا سامنا ہوا تھا وہ اگلے دن غیر حاضر ہوتی تھی…
وہ سٹاف روم میں.. بیٹھ گیا.. کیونکہ ویلکم پارٹی کی وجہ سے.. سب ہی سٹوڈنٹ کلاس بنک کر رہے تھے.. تبھی اسنے کلاس نہیں لی.. اور سٹاف روم میں بیٹھ گیا…
پورا ایک گھنٹہ اسنے گزار دیا جبکہ نگاہ.. ایک طرف کوریڈور میں تھی اور دوسری طرف گراونڈ پر…
وہ اسے کہیں دیکھائ نہیں دی رہی تھی…
اسنے کلای میں بندھی ریسٹ واچ کو دیکھتے دیکھتے.. مزید ڈیڈ گھنٹا گزار دیا…
اب تو صبر ہی جواب دے گیا تھا…
وہ اٹھا…
اور سٹاف روم سے باہر نکلنے لگا…
کیسے ہیں داود صاحب اپ "شجاع.. نے اسکیطرف مسکرا کر ہاتھ بڑھایا.. تقریبا وہ اسکی ہی عمر کا تھا…
داود نے کوئ ریسپونس نہیں دیا.. رسمی سا ہاتھ ملا کر وہ دوبارہ نکلنے لگا…
ارے کہاں کی عجلت ہے.. بیٹھیں" اسنے کہا.. جبکہ.. داود نے.. گھورا…
میں ڈھائ گھنٹے یہاں بیٹھ کر ضائع کر چکا ہوں" اسنے بغیر لحاظ کے کہا.. تو شجاع… ہنس دیا….
اور. پاکٹ سے سیگریٹ نکال کر لبوں میں دبا لی..
داود کو عجیب سا لگا.. تبھی.. اسنے.. اسکیطرف دیکھا..
کالج میں شاید یہ الاوڈ نہیں.." اسنے ایسے ہی کہا..
داود صاحب لگتا تو نہیں.. اپ رولز فولو کرنے والوں میں سے ہیں" شجاع پھر ہنسا…
داود چییر کھینچ کر بیٹھ گیا..
ہاں میں رولز فولو نہیں کرتا.. مگر.. یہ چیزیں بھی پسند نہیں… "اسنے کہا..
جبکہ شجاع نے سیگریٹ کا دھواں فضا میں چھوڑا..
اپ کیا جانیں داود صاحب اسکا لطف….
یہ تکلیف میں سکون ہے…
غصے کی دوا ہے..
محبت.. کا مرہم ہے…. اور عشق کی عادت…" شجاع نے کہا تو داود کو ہنسی ا گئ..
کافی شاعرانہ تھا یہ سب… "
ہاں لاپرواہ لوگ کہہ سکتے ہیں "شجاع نے کہا.. تو داود نے اسکیطرف دیکھا..
کسی محبت وحبت کے عادی لگتے ہو… یہ ہارے ہوئے" اسنے کہا…
تو شجاع نے اسکی جانب دیکھا…
محبت کا جوش تو تمھاری آنکھوں میں بھی ہے.." شجاع نے کہا. تو وہ پہلی بار سٹپٹایا…
جبکہ شجاع زور سے ہنسا…
شادی ہو گی اسکی….
کیونکہ میں نے دیر کر دی… "شجاع نے مختصر بتایا..
داود اسکیطرف دیکھنے لگا..
اب تم بتاو" اسنے پوچھا.. تو داود نے آنکھیں گھمائ..
مجھے ہار پسند نہیں… تم مجھے ان لوگوں میں سمھجہ لو.. جو چھین لیتے ہیں توڑ دیتے ہیں….
مگر کسی کا ہونے نہیں دیتے"داود نے اٹھتے ہوئے حتمی لہجے میں کہا..
محبت کو توڑا نہیں جا سکتا.. "شجاع بھی اٹھا…
میرا نہ ہونے کی صورت توڑ بھی سکتا ہوں… "
خود ٹوٹ جاو گے" دونوں ایک ساتھ باہر نکلے…
پھر.. تمھارے ساتھ… ضرور گولڈ لیف… پیوں گا.. "وہ ہنسا… جبکہ شجاع بھی ہنسا…
میں… انتظار کرو گا.. "اسنے کہا.. جبکہ داود نے… دو انگلیاں سر پر لے جا کر.. الودع کہا.. اور.. گراونڈ میں. اگیا..
لڑکیاں اسکیطرف.. دیکھ کر آہیں بھر رہیں تھیں..
وہ سیدھا چلتا گیا.. اور کالج کے پیچھے کیطرف ایا.. جہاں بڑے حال میں بھی کافی رش تھا…
اور شور بھی بہت تھا..
اسے.. حال کی پیچھلی دیوار سے..
مدھم سی جانی پہچانی اواز ائ…
اور اسکے قدم اس جانب اٹھنے لگے…
دیوار کے پیچھے جھانکا تو وہ فون پر کسی سے بات کر رہی تھی..
اج وائٹ قمیض ٹروازر میں وہ کوئ گڑیا لگ رہی تھی…
شور کی وجہ سے شاید وہ یہاں پیچھے فون پر بات کرنے ائ تھی..
داود.. بنا لحاظ کے.. اس تک پہنچا… یہاں پر کوی نہیں تھا.. سب فرنٹ کیطرف تھے…
داود نے.. اسکا فون والا.. ہاتھ تھاما.. موبائل پر.. ڈیڈ.. لکھا تھا.. کال ڈسکنیکٹ کر کے.. اسنے.. اسے مزید ایک دیوار.. پر پیچھے کی جانب لگایا.. اور.. دونوں ہاتھ ارد گرد رکھ کر.. وہ.. اسکو غور سے دیکھنے لگا..
عینہ.. شاکڈ رہ گئ.. داود کے ہاتھ میں اسکا سیل تھا جبکہ دوبارہ ڈیڈ کالینگ بلینک کر رہا تھا…
عینہ پھر کہاں حسین لمہات میں جا سکتی تھی..
سر پلیز میرا سیل دیں.. ڈیڈ کا فون ہے "وہ.. اسکے ہاتھ سے موبائل لینے لگی…
ام ہو.." داود نے.. موبائل.. اپنی پاکٹ میں ڈال لیا.. فون اب بھی بج رہا تھا..
سر.. "عینہ کی آنکھیں کھل گئیں…. جبکہ دل کارگو کی سپیڈ سے دوڑ رہا تھا…
سب سے پہلے یہ بتاو… اتنی دیر سے نظر کیوں ائ ہو" اسنے پوچھا…
عینہ… سے جواب نہ بن پڑا.. اسکی ساری توجہ فون کی جانب تھی مگر کہاں سے حمت لاتی کہ اسکی جیب سے فون نکال سکتی اور شاید یہ بات داود بھی جانتا تھا تبھی مطمئین کھڑا تھا…
سر پلیز سیل دے دیں" اسکی آنکھیں بھیگنے لگی..
فون بند نہیں ہو رہا تھا.. بار بار بج رہا تھا.. داود نے.. عینہ کو گھور کر.. سیل فون نکالا..
بہت ڈہیٹ ادمی ہے تمھارا ا باپ تو" اسنے.. کال پھر سے ڈسکنکٹ کی.. جبکہ عینہ نے اچک کر فون چھینا…
داود نے.. اگلے ہی لمہے.. اسکا وہ ہاتھ دیوار سے لگا دیا..
چہرے پر بلا کی سختی ا گئ.. عینہ خوف سے اسکی جانب دھڑکتے دل سے دیکھنے لگی..
اسکی بڑی بڑی گھورتی آنکھیں دیکھ اسے رونا ا رہا تھا…
توڑ دوں یہ ہاتھ"اسنے سنجیدگی سے پوچھا…
سر…" عینہ نے مدھم سی سسکی لی..
داود… "داود نے گھور کر کہا.. عینہ سے کچھ نہیں بولا گیا جبکہ داود نے اسکے ہاتھ پر گرفت سخت کی..
سی.." عینہ.. کو اسکی سخت انگلیوں نے.. کافی ہرٹ کیا.. سرخ آنکھیں لیے وہ.. سر جھکائے کھری رہی…
کہو داود" وہ زور سے بولا…
د… داود… پلیز چھوڑ دیں" اسنے بے بسی سے کہا تو داود نے اسکا ہاتھ چھوڑ دیا.. فون انا بند ہو چکا تھا…
وہ مسکرا رہا تھا…
عینہ کسی تعلق کے بغیر بھی اسے خفگی سے گھور رہی تھی…
یقین مانو.. اتنا خوبصورت تو کبھی اپنا نام لگا ہی نہیں "اسنے.. پیار سے اسکے چہرے کا ایک ایک نقش دیکھا..
میں جاو" عینہ نے کہا.. تو.. داود نے نفی کی..
اتنا روڈ کیوں ہو رہی.. ہو… جب میں تم سے پیار کرتا ہوں تو تمھیں بھی.. کرنا چاہیے.. اور اب.. ایسے نہیں چلے گا.. اوکے… رات میں فون کروں گا… "اسنے اسکا راستہ چھوڑتے ہوئے اپنی ہی ہانکی..
اسکا عجیب دھونسس بھرا لہجہ عینہ.. کے دل.. کو عجیب ہی لے پر دھڑکا رہا تھا..
اپ.. اپ تو سر ہیں…" اسنے اچانک ہی کہا..
تمھارے پاس اپنا سر نہیں ہے جو بار بار ایک ہی گردان کہے جا رہی ہو "وہ چیڑ کر بولا.. تو عینہ نے دل میں اسے بدتمیز کہنا ضروری سمھجا…
بغیر جواب دیے وہ جانے لگی….
داود نے اچانک اسکا ہاتھ پکڑا..
عینہ وہیں تھم گئ..
داود کو اسکا کپکپاتا ہاتھ… مزاہ دے گیا…
ڈرتی ہوئ بہت اچھی لگتی ہو.." اسکے کان میں مدھم سا کہہ کر وہ.. اسے وہیں چھوڑ کر ہوا کیطرح غائب ہو گیا..
کہ جب عینہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا.. تو وہ اکیلی تھی…
چہرے پر دلنشیں مسکراہٹ…
اسکی چال میں مستی سی بھر گئ…
…………………
مس فیزا اپکا ہر کام اتنی سستی لیے ہوئے کیوں ہوتا ہے" مراد نے.. چیڑ کر کہا…
فیزا دل ہی دل میں کھل کر ہنسی تھی…
اخر کو اس ادمی کو وہ اچھی طرح زیچ کر دینا چاہتی تھی…
وہ سر جھکائے کھڑی رہی..
اب بت بنی کیا کھڑیں ہیں… جائیں.. کافی لائیں…" اسنے کہا… تو فیزا کا دل کیا.. جتنا وہ کافی پیتا ہے.. کاش وہ کالا سیاہ ہو جائے جل جائے… اسکا رنگ مگر افسوس.. وہ اتنا ہی گورا تھا..
وہ اسے گھور کر ابھی باہر نکلتی کی..
اندر اتی کسی لڑکی سے بری طرح ٹکرائ..
اوہ" اس لڑکی نے بڑی نزاکت سے.. کہا…
ایم سوری" لڑکی نے معزرت کی…
فیزا نے اسکو گھورا….
اٹس اوکے بدلنخواستہ کہہ کر.. وہ باہر نکل گئ..
جبکہ انجلین مسکراتی ہوئ.. مراد کیطرف بڑھی..
کیسے ہو… "اسنے کہا…
میں ٹھیک تم کیسی ہو.. پاکستان.. کب ائ" مراد نے پوچھا…
جبکہ.. وہ دنوں ہی نہیں جانتے تھے کہ باہر.. فیزا ان دونوں کو… اگ بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی..
گلاس ونڈو سے…
امم پرسو… تمھیں کال کی تھی بٹ تم نے پیک نہیں کی"انجلین نے.. کہا تو مراد نے سر ہلایا..
انجلین معاویہ کے دوست کی بیٹی تھی…
جسے.. ساری فیملی پسند کرتی تھی.. اور بقائدہ نہ سہی.. مگر.. دل ہی دل میں سب ان دونوں کی جوڑی کو پسند کرتے تھے…
کیا پیو گی" مراد نے پوچھا….
جو تم پیو گے"انجلین نے ہنس کر کہا تو مراد بھی ہنس دیا…
اسنے فون اٹھایا…
مس فیزا دو کپ بلیک کافی… "اسنے ارڈر دیا..
ہم… غلام لگی ہوں اسکی میں.. افس کا کام لینے کے بجائے…
ذاتی کام کراتا ہے.." اسنے دانت پیسے…
اور اٹھاا پٹخ کے ساتھ شاندار بلیک کافی لے کر وہ.. روم میں داخل ہوئ تو وہ دونوں ایسے ہنس رہے تھے.. جیسے بہت لطیفے سن رہے ہوں…
اسنے پہلے مراد کے اگے کافی رکھی.. پھر انجلین کے اگے…
کیا نام ہے تمھارا" انجلین نے مسکرا کر پوچھا
فیزا… نے پہلے مراد کیطرف.. اور پھر انجلین کیطرف دیکھا…
فیزا…" ایک لفظی جواب دے کر.. وہ مڑی..
تمھارا سٹاف بہت خوبصورت ہے مراد.. "انجلین نے مسکرا کر… کافی کا گھونٹ بھرا….
تو اسے اچھو لگ گیا..
بلا کی کڑوی تھی بلیک کافی…
فیزا کو دکھ ہوا.. وہ تو ایک اچھی لڑکی تھی بلاوجہ اسنے اسے اتنا کڑوا.. کالا پانی پلا دیا…
اپس… اپ یہ لے لیں" اسنے شرمندگی مٹانے کو… ٹشو اگے کیا..
اوو تھینک یو…" اسنے کہا…
مگر تمھیں بلیک کافی بنانی نہیں اتی"اسنے… کہا.. تو فیزا.. کو رج کر شرمندگی ہوئ.. مراد یہ سب تماشہ دیکھ رہا تھا
ایکسکیوز می" اجلین نے کہا.. کیونکہ کافی اسکے کپڑوں پر بھی گیری تھی مراد نے سر ہلایا.. اور انجلین اٹھ کر واشروم چلی گئ..
جبکہ فیزا.. نے دبے پاوں… نکالنا چاہا..
ویٹ"مراد کہاں اسے چھوڑنے والا تھا..
فیزا نے ھلق تر کیا.
یہ کافی اٹھاو پیو اسے "اسنے اپنا کپ فیزا کے اگے کیا..
س.. سوری بٹ میں بلیک کافی نہیں پیتی "اسنے تحمل سے ہمت کر کے جواب دیا…
مس فیزا ایسی کافی تو شاید کوی بھی نہیں پیتا" اسنے.. گھور کر کہا..
فیزا کا سر شرمندگی سے جھک گیا..
تبھی انجلین باہر ا گئ…
اپ سے میں بعد میں اچھے سے پوچھو گا.. جا سکتی ہیں اپ"اسنے.. کہا تو انجلین بھی انکے قریب ا گی..
فیزا کیا آنکھیں بھیگ گئیں کیا ضرورت تھی اسے اس اوور ایکٹینگ کی.. اب تو پکا اسکی نوکری گئ..
وہ جاموشی سے نکلنے لگی… کہ انجلین نے روک لیا..
تم میں یہ بہت بری عادت ہے مراد خوبصورت لڑکیوں کا دل توڑ دیتے ہو.." اسنے منہ بنا کر کہا..
تو.. جن نظروں.. سے.. فیزانے.. مراد کو دیکھا..
اسکے دل میں عجیب سی حرکت ہوی..
مگر اگلے ہی لمہے.. وہ.. سختی سے جھٹک گیا..
ملازم کو ملازم ہی رکھنا چاہیے انجلین ورنہ سر پر چڑھ جاتے ہیں" اسنے.. کہا.. فیزا.. نے.. اسکی جانب دیکھا…
انجلین.. نے بھی خفت سے اسکیطرف دیکھا..
فیزا.. ایک پل میں وہاں سے غائب ہو گئ…
بہت بری بات ہے.. مراد" انجلین کو برا لگا..
وٹ ایور"اسنے چییر جھولاتے ہوئے کہا..
جبکہ فیزا…
کی سسکیاں بندھ گئیں تھیں..
……………………
اسے مراد نے کچھ پیسے دیے تھے.. جبکہ کپڑے.. اور دوسرا ضروری سامان بھی لا دیا تھا.. مشل کی اس سامان کو دیکھنے کی ہمت نہ ہوئ…
اور… جو.. فاسٹ فوڈ وہ لایا تھا.. وہ تین ہفتوں میں کھا کھا کر پک گی تھی.. تبھی تھوڑی سی ہمت کر کے.. اسنے مین ڈور کھولا…
باہر جھانکا.. کوئ نہیں تھا…
دوپٹے کو سختی سے تھام کر… اسنے سیڑھیوں سے نیچے دیکھا.. وہاں بھی کوی نہیں تھا.. اسکے چھوٹے سے ذہن کو.. لگا کہ اب وہاں کوئ نہیں ہے…
تبھی وہ سیڑھیوں سے نیچے اتری….
اور بغیر سارگل کے کیبن کیطرف دیکھے وہ جلدی سے باہر نکل گی.. مگر شکاری اسے دیکھ چکا تھا…
اور اپنی شیطانیت.. بھرا پلین.. بھی.. بنا چکا تھا…
کیبن کھول کر وہ.. سیڑھیاں چڑھ گیا…
بیس پچیس منٹ بعد.. وہ دوبارہ جلدی سے سیڑھیاں چڑھ گی.. اسے خوشی ہوئ.. تھی وہ.. خود.. اپنے لیے کھانے پینے کا سامان لائ تھی جبکہ سارگل کی نگاہ سے بھی بچ گئ تھی…
فلیٹ میں داخل ہو کر اسنے.. دروازہ اچھی طرح..لاک کیا… اور وہ مڑی.. کہ سامنے… وہ.. سکون سے صوفے پر بیٹھا تھا…
جوتا جھولاتے ہوے.. وہ.. دل جلا دینے والی مسکراہٹ اسکیطرف اچھال کر.. ہاتھ ویو کر رہا تھا..
کیسی ہو… بلبل.. اج تو.. خود.. پھنس گئ.. "وہ ہنسا….
نہ جانے کیا بات تھی اسکی.. گیرے آنکھوں میں.. مشل کو.. اس وقت اس سے خوف محسوس نہیں ہوا….
وہ یوں ہی کھڑی.. اسکی شخصیت کے سحر میں کھوئ رہی…
سارگل نے.. اسکی جانب دیکھا.. وہ تو اسے ڈرا ڈرا کر ختم کرنے کا ارادہ کرچکا تھا..
وہ اپنی جگہ سے اٹھا…
اور اسکی انکھ کے اگے چٹکی بجای..
ہیلو میڈیم سو گی ہو کیا کھڑے کھڑے "وہ بولا…
تو مشل… ہوش میں ائ.. اور اتنی زور سے چیخی کے سارگل.. بھی بری طرح ڈرا…
اپ اپ… اپ یہاں.. کیوں ایے ہیں.. جائیں یہاں سے… " وہ.. اس سے دور بھاگی…
سارگل نے غور سے اسکیطرف دیکھا..
وہ ان چند دنوں میں مزید پیاری ہو گی تھی.. اوپر سے.. کپڑے بھی اچھے پہنے ہویے تھے..
اسپر ایک بار پھر وہی بھوت سوار ہوا.. جبکہ وہ اس ارادے سے اسکے پاس نہیں ایا تھا…
تو تم نے اتنے دنوں میں کیا سوچا…
تمھیں میری ڈیل منظور نہیں "اسنے… اپنے سے کافی دور کھڑی مشل کی جانب دیکھ کر کہا..
بہت گندے انسان ہیں اپ" مشل.. کو رونا ایا…
ہاں جب پتہ چل گیا ہے تو شرمانا کیسا.. "وہ اسکیطرف بڑھنے لگا..
مشل کا دم خشک ہو گیا…
پلیز… اپ.. صاحب.." اسکے ہاتھوں کی جیسے جان ختم ہو گئ.. یہاں تک کے سارگل اسکے نزدیک ا گیا.. اور وہ کچھ نہ کر سکی…
سارگل کی آنکھوں میں عجیب خمار بھرنے لگا..
تم سچ میں بیوٹی ہو.. کوی بھی تمھیں دیکھ کر ایمان خراب کر سکتا ہے" وہ.. ایک سحر میں بولا…
مشل.. نے اسکا بڑھا ہاتھ.. خود سے دور کرنا چاہا…
کہ.. سارگل نے اسکی دونوں کلائیاں سختی سے پکڑ لیں..
تو وہ گھڑی ا گئ تھی.. جس میں اسکا سب لوٹنے والا تھا..
مشل بری طرح رونے لگی..
اپنا ہاتھ چھوڑانے لگی..
مگر سارگل بن پیے ہی بھک رہا تھا..
اس سے پہلے.. وہ اسکی گردن پر جھکتا…
مشل زور سے چیخی…
اپ..مجھ سے نکاح کر لیں…
مگر ایسے مجھے رسوا نہ کریں… "
سارگل.. ایک پل کے لیے وہیں تھم گیا….
.. سارگل نے اسکی دونوں کلائیاں سختی سے پکر لیں..
تو وہ گھڑی ا گئ تھی.. جس میں اسکا سب لوٹنے والا تھا..
مشل بری طرح رونے لگی..
اپنا ہاتھ چھوڑانے لگی..
مگر سارگل بن پیے ہی بھک رہا تھا..
اس سے پہلے.. وہ اسکی گردن پر جھکتا…
مشل زور سے چیخی…
اپ..مجھ سے نکاح کر لیں…
مگر ایسے مجھے رسوا نہ کریں… "
سارگل.. ایک پل کے لیے وہیں تھم گیا….
نکاح" اسکے منہ سے مدھم سا نکلا…. مشل نے انسو صاف کیے جبکہ…
سارگل.. نے تپ کر اسکا چہرہ جکڑ لیا
یہ کیا بکواس رٹ ہے "وہ چلایا… مشل… نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا….
اپکو شرم انی چاہیے….. اپ کس قدر غلط کام کی خواہش کر رہے ہیں "نہ جانے اس میں اتنی طاقت کہاں سے ا گئ تھی….
بہت نہیں بول رہی ہو.. یاد کرو وہ دن پاوں میں پڑی تھی "سارگل نے اسکا منہ جکڑا.. جبکہ اسکے تن سے دوپٹہ جدا.. کیا..
مشل… کا دم خشک ہو گیا…
سارگل کا اپنی جانب بڑھتا ہاتھ جو اسکی ابرو.. اس سے چھین لیتا… اس ہاتھ پر اچانک ہی مشل نے اپنے دانت گاڑے…
اور اس شدت سے کے.. اسے صرف اپنی عزت کی پرواہ.. تھی…
سارگل اس سے دور ہوا…
اور اپنا ہاتھ جھٹکنے لگا….
اسکے ہاتھ پر سرخ دانتوں کے نشان تھے….
جبکہ اسے کافی تکلیف ہوئ تھی….
مشل
. دروازے کیطرف دوڑی… دوپٹے کو اسنے سختی سے جکڑا تھا.. جبکہ. آنکھوں میں لاتعداد انسو تھے…
دروازہ بھکلاہٹ میں اس سے کھل ہی نہیں رہا تھا…
تبھی وہ دروازہ بجانے لگی جبکہ سارگل.. دانت بھینچے اسکیطرف بڑھنے لگا…..
ٹھیک ہے میں تم سے نکاح کرو گا… "سارگل کی اواز پر… اسکے دروازہ پیٹتے ہاتھ رک گئے..
یعنی وہ اپنے نفس کا اتنا مارا ہوا تھا…
اسنے زخمی نظروں سے مڑ کر دیکھا…
ہٹو یہاں سے" اسکا ہاتھ.. پکڑ کر اسنے اسے دروازے سے دور جھٹکا.. مشل اپنے قدموں پر نہ کھڑی ہو سکی….
اور زمین پر گیر گئ….
اسکی آنکھیں کھلی رہ گئیں تھیں..
جبکہ سارگل جا چکا تھا….
وہ ویسے ہی بیٹھی رہی… سارگل… کے الفاظ کانوں میں گونجنے لگے…
کیا اسے یہاں سے بھاگ جانا چاہیے تھا.. "اچانک اسکے دماغ میں کھٹکا سا ہوا….
اسنے سر اٹھا.. کر دیکھا…
وہاں کوئ نہیں تھا.. اسکے.. اور اسکی بے بسی کے سوا….
وہ جا سکتی تھی… مگر پھیرہ تو.. اسنے لگایا ہوا تھا…
وہ کہاں بھاگ سکتی تھی.. اسکے علاوہ….
اسے اس وقت اپنی ماں کی شدت سے یاد ائ… اور ابھی وہ مزہد کچھ سوچتی کے وہ.. اندر داخل ہوا… دو اور لوگ بھی تھے.. جن میں سے ایک تو… باہر ہر وقت کھڑا ہونے والا چوکیدار تھا.. مشل ان سب کو دیکھ رہی تھی.. جن کے بیچ میں وہ کروفر سے چلتا ا رہا تھا
مشل کو ایک ہاتھ سے تھام کر… وہ تقریبا اسے اپنے ایک بازو پر اٹھا کر… صوفے پر پٹخ چکا تھا….
مشل کسی گڑیا کیطرح.. صوفے پر جا پڑی…
پیپرز.. اسکے سامنے رکھ کر.. وہ سکون سے بیٹھ گیا..
وہ نہیں جانتی تھی اس وقت اسکے دماغ میں کیا چل رہا ہے…
جبکہ دوسری طرف سارگل.. کے وجود میں کوئ جزبہ نہیں تھا سوائے اسکے کے وہ اس پر دسترس پا لے…
کچھ ہی دیر میں.. اسنے ایک بزرگ مولوی کو اتے دیکھا.. ان کے ساتھ دو اور لوگ بھی تھے..
مشل شدت سے رو رہی تھی.. مگر مقابل کو کوئ فرق ہی نہیں پڑتا تھا…
مولوی نے نکاح شروع کیا….
اور سارگل سے.. پوچھا تو.. وہ.. ایک لمہہ لگائے بغیر بھی اسے اپنی زوجیت میں قبول کر چکا تھا جبکہ جب مشل سے پوچھا گیا تو.. اسے لگا. سب لفظ اسکے حلق میں پھنس گئے ہوں.. مگر وہ پھر بھی.. اسے قبول کر چکی تھی..
بیٹا لڑکی پر زبردستی کر کے نکاح میں نہیں لیا جاتا "مولوی صاحب اٹھتے ہوئے سارگل کو دیکھ کر بولے…
انکل جی.. اسکی زبان کو پکڑ کر تو قبول ہے نہیں کہلوایا… اور ویسے بھی ہماری لو میرج ہے…" اسنے شانے اچکائے…
گھر سے بھگایا ہے میں نے… "اٹھتے ہوئے.. مولوی کی آنکھوں میں گھورتے وہ اپنی ہی ہانکے گیا.. کہ.. مولوی اس سے دو قدم دور ہوا…
چل. چلتا ہوں "وہ بولا.. اور جلدی سے اپنا رجیسٹر اٹھا… کر وہاں سے فرار ہوا.. کہ… باقی.. لوگ بھی وہاں سے.. نکلے….
مشل… نے سارگل کی پشت کی جانب دیکھا.. اس سے پہلے وہ اسکیطرف مڑتا.. اسکا فون بجنے لگا…
مشل کے لیے یہ لمہہ شکر کا تھا….
وہ.. دبے پاوں اٹھی…
اور.. . بھاگ کر وہ سامنے کمرے میں بند ہو جانا چاہتی تھی کہ.. سخت گرفت میں اسکا ہاتھ جکڑا گیا..
دل تھا کہ اس ہاتھ کی حدف میں ہی ٹھر گیا…
میرے اج کے سب.. امپورٹینٹ کالز… کو اف کر دو "ہلکی سی.. جنبش.اسکی سخت انگلیوں کی. جو وہ اپنی نازک کلائ پرمحسوس کر سکتی تھی.. اس کے ساتھ ہی اسے یہ الفاظ بھی سنائ دیے…
مشل کو لگا… اس کا دل ان انگلیوں کی حرکت میں ہی دھڑک رہا ہے….
سارگل نے کال ڈسکنکٹ کی… اور.. جھٹکے سے اسے اپنی جانب کھینچ لیا کہ وہ ٹوٹی ڈال کیطرح اسکے وجود کا حصہ بنی….
مشل کے لیے یہ سب ناقابل برداشت سا تھا… کہ اسکی انگلیاں اب.. اسکی کمر پر حرکت کر رہیں تھیں..
چھوڑیں.. چھوڑیں مجھے"وہ بھکلا کر بولی.. سارگل جس کی آنکھوں میں ہی عجیب خمار تھا.. ماتھے پر بل ڈال کر اسکی جانب دیکھنے لگا…
مجھے.. مجھ سے دور رہیں… مجھے نہیں سمھجہ ا رہا اپ کیا چاہتے ہیں" وہ اڑے اڑے رنگ.. کے ساتھ بولی
تو.. میں نے تم سے نکاح جھک مارنے کے لیے کیا تھا…
تمھاری محبت میں مفلوج ہو گیا تھا کیا… یہ.. میرے سر پر تمھارے عشق کا دورہ پڑا تھا…." اچانک ہی وہ.. غصے سے بولا..
جو میں چاہتا ہوں.. وہ کرنے دو… اور ایک بات….
تم سے نکاح کی وجہ تم باخوبی جانتی ہو… مراد یہاں اتا رہے گا… غلطی سے بھی تم نے… اسے یہ بات بتائ.. تو میں تمھارا وہ حشر کروں گا یاد رکھو گی"... مشل کو صوفے پر دھکیل کر… وہ اسپر حاوی.. ہوتا.. بولا…
مشل کو لگا.. اسکا دم گھوٹ جائے… گا.. اسکی باتیں.. اسے..مزید خوف زدہ کر رہیں تھیں….
اسنے اس سے دور ہونے کی پھر سے کوشش کی.. مگر سارگل کو شاید منظور نہیں تھا….
اسنے مشل کو.. صوفے پر سے کھینچ کر اٹھایا…
اور… اسکی ٹانگوں کے گرد ہاتھ ڈال کر وہ اسے اپنے شانے پر اٹھا چکا تھا…
یہ سارے ڈرامے کچھ ہی لمہوں میں دھرے کے دھرے رہ جائیں گے"وہ… بولتا.. اسے.. کمرے میں.. لے ایا….
اور بیڈ پر پھینک.. کر.. سارگل خان ایک معمولی.. سی لڑکی… پر.. اپنی عجب… دیوانگی لوٹانے لگا…
جس میں محبت نہیں تھی.. انسیت نہیں تھی…
کچھ تکلیف دہ… کچھ انوکھی سی قربت.. میں.. مشل.. بری طرح بھکالا رہی تھی…
مگر سارگل خان.. جلد ہی اسکے زرا زرا سے… احتجاج پر بند باندھ گیا.. کہ وہ پوری طرح اسکے بس میں. اگئ…..
سارگل خان کے ہر.. عمل میں خوشی اور جوش بھرا.. تھا…
جو چاہا اسنے پا لیا….
…………………………….
اسکے لیے.. مراد کا سامنا ایک مشکل عمل تھا… وہ خاموشی سے.. جو وہ کہہ رہا تھا.. کر کے اسطرح سائیڈ پر ہو جاتی جیسے روبرٹ ہو….
جبکہ.. مراد کو.. نہ چاہتے ہوئے بھی.. اس کی ہر حرکت محسوس ہو رہی تھی.. اوپر سے.. فلو اور بخار.. اسے نڈھال کر رہا تھا…
مس فیزا افس میں آئیں.. "زکام میں وہ بولا…
تو فیزا خاموشی سے اٹھ گئ.. اور.. اسیطرح اسکے سامنے جا ٹھری..
فیزا نے انکھ اٹھا کر اسکیطرف دیکھنا پسند نہیں کیا تھا.. وہ بس اسکا کام کر کے وہاں سے.. چلی جانا چاہتی تھی..
مراد نے اسکی جانب دیکھا جو.. سر جھکائے کھڑی تھی..
اگر اپ نے اتنا سر جھکایا.. تو شاید سر ٹوٹ جائے اپکا"وہ.. بولا. اور اسکی جانب فائل بڑھائ…
میں کچھ دیر ارام کروں گا اور اسکے بعد ایک ضروری میٹینگ میں جانا… ہے… تب تک اپ یہ فائل… کمپیوٹر ڈیٹا.. میں ایڈ کریں" اسکا کوئ ریسپونس نہ پا کر.. وہ.. فائل اسکیطرف بڑھا کر.. سر کو ہاتھ سے دباتا بولا..
جی سر"اسنے کہا…
اور پلٹ گئ…
وہ اس کی طبعیت پوچھ سکتی تھی..
مراد کو.. انوکھا ہی خیال ایا…
مگر.. زیادہ دیر تک نہ رہا…
اور وہ.. اپنے افس کے اندر ہی بنے ایک پرائیویٹ روم میں.. چلا گیا.. جہاں ہر چیز موجود.. تھی غرض وہ اسکا زاتی بیڈروم لگتا تھا…
جبکہ فیزا… بغیر کسی تاثر کے تیزی سے.. فائل کو کمپیوٹر ڈیڈا میں ایڈ کر رہی تھی.. فائل بڑی تھی تبھی اسے ایک گھنٹہ گزر گیا اور ارد گرد کی ہوش نہ رہی.. مگر اس فائل میں دو سال پہلے کا بھی ڈیڈا تھا جبکہ وہ کرنٹ ڈیٹا.. ایڈ کر رہی تھی.. اب نا جانے یہ کرنا بھی تھا یہ نہیں…
اسنے پوچھ لینا پہلے ضروری سمھجا… تبھی… وہ دوبارہ مراد کے افس میں ائ تو.. افس میں کوئ بھی نہیں تھا….
تبھی اسے خیال ایا… کہ وہ.. تو اپنے پرائیویٹ روم میں گیا تھا… فیزا نے گھیرہ سانس بھرا.. اور… پرائیویٹ روم کی جانب بڑھ گئ….
دروازہ ہلکا سا نوک کر کے اسنے دروازہ کھولا.. تو سامنے کا منظر دیکھ کر اسکے ہاتھ سے فائل چھٹی اور دو قدم دور ہوئ….
جبکہ منہ سے بے ساختہ چیخ نکلی تھی.. اسکی چیخ سے.. مراد کا ماوف زہن بھی ایکدم جھٹپٹایا… اور اسنے.. اپنے اوپر لیٹی لیلا کو دھکا دیا….
مراد کی سیدھی نگاہ اسکی.. نگاہ کیطرف اٹھی جن میں گھن تھی…
وہ.. اگلے لمہے وہاں سے نکلی…..
خوف سے اسکی آنکھوں میں انسو ا گئے تھے.. وہ اسے ایک بدتمیز انسان ضرور سمھجتی تھی مگر.. اتنا نیچ نہیں.. کہ.. وہ اپنی ہی سیکڑی کے ساتھ رنگرلیاں بناتا پھیرے.. وہ جیسے ہی.. دروازے پر سے ہٹی مراد نے لیلا.. کی جانب دیکھا..
کیا کر رہی تھی تم یہاں "وہ دھاڑا..
س.. سر وہ اپ کا تکیہ خراب ہو گیا تھا بس وہ ہی ٹھیک کر رہی تھی.." لیلا گھگھیایائ.. جبکہ وہ جان بوجھ کر مراد کے کلوز ہوئ تھی..
یو فول…. میرا کچھ بھی خراب تھا کیا میں نے تمھیں مدد کے لیے بلایا تھا"وہ… غضب ناک ہوا جبکہ لیلا نے سر جھکا لیا.. مراد نے.. اپنی طبعیت پر لعنت بھیجی اور اٹھ کھڑا ہوا…
اسکا ایمیج ایک انسان کی نظر میں خراب ہو چکا تھا اسے تو یہ بات ہی ہضم نہیں ہوئ تھی…
وہ باہر… افس میں ایا…
تو.. فیزا وہاں نہیں تھی..
دفع ہو جاو یہاں سے" اسنے چلا کر کہا.. اور لیلا.. سر جھکاے نکل گئ
. جبکہ.. وہ چہرے پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا..
اسے.. سکون نہیں مل رہا تھا.. تبھی وہ باہر نکلا.. تو… فیزا کو سامنے ایک ایمپلئیر کے سامنے کھڑا پایا…
مس فیزا.. بات سنیں میری" اسنے کہا.. تو فیزا نے نخوت سے اسکی جانب دیکھا.. اسے اس انسان سے بلکل بات نہیں کرنی تھی.. مگر مجبوری تھی تبھی وہ اسکے پیچھے ہو لی…
اور خاموشی سے کھڑی ہو گئ.. جبکہ وہ بے چینی سے ادھر ادھر.. چکر لگا رہا تھا.. یہ منظر لیلا نے بھی دیکھا جبکہ اسے اگ ہی لگ گئ…
جو اپ نے دیکھا ویسا کچھ نہیں ہے"اسنے بلاخر بات شروع کی..
میں نے اپ سے پوچھا.." فیزا تڑخ کر بولی…
مراد نے اسکی جانب دیکھا..
میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں… کہ اپ کو غلط لگا ہے… میں "
اپ کس خوشی میں مجھے صفائیاں دے رہے ہیں… کیا لگتی ہوں میں اپکی.. ملازموں کو سر ملازم ہی بنا کر رکھیں زیادہ سر پر نہ چڑھائیں اور اپ جیسے لوگوں سے تو.. شریف ملازموں کو دور ہی رہنا چاہیے کیونکہ اپ کے ساتھ اپ جیسے لوگ ہی جچتے ہیں" وہ.. دوٹوک بات بنا لحاظ کے کہتی.. پلٹنے لگی.. کہ مراد نے غصے سے اسکا ہاتھ پکڑ لیا…
اور اس سے پہلے وہ کچھ بولتا.. فیزا.. کا ہاتھ اٹھا.. اور اسکے گال پر پڑا..
مراد وہی تھم گیا… جبکہ ہاتھ پر اسکی گرفت ڈھیلی ہو گئ…
فیزا کی آنکھوں میں انسو بھر ائے…
اپکی ہمت کیسے ہوئ مجھے چھونے کی"وہ زور سے چیخی…
جبکہ مراد تو اپنے منہ پر پڑنے والے تھپڑ پر ہی.. حیران تھا.. پہلی بار اسے کسی نے تھپڑ مارا تھا…
اسکا بس نہیں چلا.. فیزا کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے…
یو" وہ.. اسکی جانب بڑھا…
اپنی حد میں رہیں مسٹر مراد "فیزا نے انگلی اٹھائ….
لعنت بھیجتی ہوں میں اپکی نوکری پر اور اپ جیسے انسان پر جو.. کمزور لڑکیوں کی مجبوری کا فائدہ… "
شٹ اپ شٹ اپ" وہ زور سے دھاڑا کے.. فیزا.. پیچھے ہوتی.. دیوار سے لگ گئ.. مراد اسکے سامنے کھڑا تھا..
جب کچھ معلوم نہ ہو تو اتنا اونچا اونچا بول کر اپنے پاوں پر کلہاڑی.. نہیں مارنی چاہیے"وہ جیسے وارن کرنے لگا..
سب پتا چل گیا ہے مجھے.. سمھجے اپ.." فیزا کو اس سے بلکل بھی خوف نہیں ا رہا اتھا.. الٹا.. وہ اسکی دھجیاں بکھیر دینا چاہتی تھی..
نکلو یہاں سے"وہ.. چیخا…
فیزا نے.. دانت پیسے اور.. وہاں سے نکل گئ جبکہ.. مراد نے.. دیوار پر لگا تار.. تین مکے برسائے تھے…
یہ اسکی زندگی کا بدترین دن تھا…
……………………
دن نکل ایا.. تھا….
وہ سو نہیں سکی تھی… اس نے سونے ہی نہیں دیا تھا…
جبکہ وہ خود سکون سے سو رہا تھا..
بے چینیاں تو اسکے دامن میں چبھ رہیں تھیں…
وہ سکڑ سمٹ کر زمین پر بیٹھی..
اس شخص کی صرف.. خواہش… پوری کے کے اپنی تمام متاں لٹا چکی تھی…
اسکی آنکھیں سوجی ہوئ تھیں…
جبکہ سرخی.. اور پوری رات جاگنے کا.. خمار الگ ہی تھا…
اسکی سسکیاں کمرے کی دیواروں میں گونج گونج کر ٹوٹ رہیں تھیں…
سارگل کے کانوں میں سسکیاں.. پڑیں.. وہ ایک جھٹکے سے اٹھا…اور سیدھی نگاہ مشل پر گئ.. جو.. خود.. کو.. خود میں ہی سمیٹ رہی تھی…
اس وقت اسکے دماغ میں سب سے پہلا خیال جو تھا وہ بہرام کا تھا…
اور دوسرا مراد کا..
اگر بہرام کو یہ بات پتہ چل جاتی.. تو لازمی.. اسکا کچھ نہ بچتا..
جزبات میں.. وہ ایک فضول قدم اٹھا چکا تھا…
اور جب سارا خمار ہوا ہوا… تو جیسے.. ہوش میں اتے ہی… اپنی غلطی کا احساس خود میں چبھنے لگا.. وہ بغیر اسکی جانب دیکھے… واشروم میں بند ہو گیا.. جب وہ باہر نکلا تو.. کافی فریش تھا.. جبکہ وہ اب تک یوں ہی بیٹھی تھی..
اے لڑکی"وہ.. صاف ستھرا ہو کر اسکے نزدیک ایا…
مشل نے.. بھاری ہوتا سر اوپر اٹھایا..
یہ پیسے لو.. اور یہاں سے دور چلی جاو" اسنے. اسکی جانب نہ جانے کتنے نوٹ اچھالے تھے.. وہ نہیں جانتی تھی مگر.. وہ.. اسے.. ایسے دیکھ رہی تھی جیسے.. کوئ انسان. اپنی آنکھوں کے سامنے.. اہنی ہار دیکھتا ہو….
کیا دیکھ رہی ہو.. بس ہو گیا جو ہونا تھا.. بھول جاو.. اور باہر نکل کر کسی کو بتانے کی یہ میڈیا میں پھیلانے کی کوشش کی تو اچھا نہیں ہو گا… "اسنے انگلی اٹھا کر وارن کیا….
خدا کرے اپکی بہن.. کے ساتھ ایسا ہی ہو" وہ.. بولی… تو.. اسکا لہجہ صاف ٹوٹا بکھرا سا تھا..
بکواس بند کرو اپنی… تم کیا اور میری بہن کیا… ہممم.. دیکھو خود کو…. ائینے میں… شکر کرو.. نکاح کیا تھا تم سے " اسکے مال کا غرور اسکے لہجے میں چیخ رہا تھا…
کمزوروں.. کو لوٹ کر اپنی خوشیاں منا نہیں سکتے سارگل خان…" وہ اپنی عمر سے.. کافی بڑی لگ رہی تھی.. اتنی سی عمر میں اتنے تجربات.. اسے سیکھا گئے تھے…
کہ سب لوٹتے ہیں.. شہزادے بھی…
لوٹ گھسوٹ کر.. پھینک.. دینا.. دنیا کا رواج ہے…
زیادہ.. بی.. اماں مت بنو. سمھجی.. ناجائز کچھ نہیں کیا میں نے تمھارے ساتھ" وہ لاپرواہی سے بول کر.. اپنا موبایل اور سامان اٹھانے لگا…
کیوں.. کیوں کیا ملا میرے ساتھ یہ سب کر کے.. کیوں مجھے میری نظروں میں گیرایا…" وہ.. اچانک ہی اٹھی اور اسپر جھپٹا مار کر چیخی .. سارگل نے غصے سے اسکو دور جھٹکا..
اوقات میں رہو اپنی.. "وہ پھر سے آنکھیں نکال کر بولا..
دو دن میں اس فلیٹ سے نکل جانا.. "وہ.. بولا… اور مشل.. کا حولیہ.. دیکھا…
اسکی جنونیت کے نشان.. اسکے وجود پر رقم تھے جبکہ رنگ زردی مائل.. اور کل کی نصبت وہ اج بہت اجنبی لگ رہی تھی…
کہاں جاو گی میں "مشل.. پھوٹ پھوٹ کر رو.. دی"
یہ ڈھکوسلے بند کرو.. اور دو دن میں اپنے نکلنے کا انتظام کرو.. مراد کے یہاں انے سے پہلے پہلے.. اور یہ لو"اسنے بیس ہزار روپے نکال کرا سکی جانب اچھال دیے..
حالانکہ جو بھی میں نے کیا سب جائز تھا.. مگر ہھر بھی تمھارے کام ایے گا.. معاوضہ سمھجہ لو "کہتے ساتھ ہی.. وہ وہاں سے نکلا…
مشل… اپنے منہ پر پڑنے والے پیسوں کو.. دیکھتی رہ گئ….
اسے لگا.. اب وہ مر جائے گی….
……………………….
مراد…. بیٹا کھانا نہیں کھاو گے..طبعیت کیسی ہے" انوشے نے اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھا..
مما پلیز بچہ نہیں ہوں"وہ ایک دم چیڑہ.. انوشے اسکی جانب حیرت سے دیکھنے لگی..
مراد"معاویہ کی کڑک اواز ابھری.. اسنے سر تھام لیا…
جبکہ انوشے کی آنکھوں میں نمی بھر گی..
اسے نہیں سمھجہ ا رہا تھا کیا ہو رہا ہے اسکے ساتھ.. وہ چاہتا تھا. فیزا وہ نہ سمھجے جو. وہ دیکھ چکی ہے.. اور ایسا کیوں تھا.. وہ نہیں سمھجہ پا رہا تھا.. پورا دن گزر گیا تھا.. وہ افس بھی نہیں گیا تھا.. جبکہ فیزا کی آنکھوں کی نفرت اسکے لیے ناقابل برداشت تھی…
سوری ڈیڈ"اسنے اہستگی سے کہا.. ایشا بھی وہیں بیٹھی تھی..
سوری… یہ تمھارا رویہ ہے ماں سے ایسے بات کرو گے…" وہ غصے سے بولا.. مراد خاموش ہو گیا..
اب کیا بت بن گئے ہو… اولاد بڑی ہو جایے اسکا مطلب یہ نہیں ماں باپ اور دوستوں کو ایک ڈنڈے سے ہانکے گی.. سمھجے تم اپنی ماں کے ساتھ بدتمیزی کرنے سے پہلے ہزار بار سوچ لیا کرو.. کہ یہ وہ عورت ہے جس نے تمھیں تکلیفوں سے جنم دیا ہے.. اور اس کا قرض تم مر کر بھی اتار نہیں سکتے کجا کے تم اپنی جاہلیت دیکھاو گے"معاویہ.. نے اسکو کہری کہری سنا دی…
تبھی وہاں سب اکھٹے ہونے لگے…
معاویہ رہنے دیں اسکی طبعیت نہیں ٹھیک" انوشے.. نے معاویہ کا ہاتھ تھامہ…
بھاڑ میں جائے.. ایسی طبعیت میری جانب سے.. …
جہاں یہ ماں کا لحاظ بھول جائے.. "اسنے.. کہا.. تو مراد اٹھ گیا..
ٹیبل چھوڑ کر. وہ وہاں سے.. نکلنے لگا.. کہ سارگل سے ٹکرایا جو.. اندر ا رہا تھا..
کیا ہوا.. "سارگل نے اسکا سرخ چہرہ دیکھا.. مگر وہ کچھ نہیں بولا.. سارگل نے. اندر دیکھا سب تھے سوائے اسکے باپ کے..
وہ جانتا تھا وہ کہاں ہو گئے..
یہ تو عینہ کے کمرے میں.. یہ پھر.. اپنی.. ڈیوٹی پر اچھا ہی تھا وہ نہیں تھا.. ورنہ انکا سامنا کرتے ہوے اسے عجیب سا لگتا….
وہ.. مراد کے پیچھے دوڑا…
کیا ہوا ہے یار.. بتاو گے "سارگل نے اسکا شانہ تھامہ…
کچھ نہیں مما کے ساتھ بدتمیزی کی ہے" اسنے سیدھی سی بات کی..
تو اس میں پریشان ہونے کی کیا بات ہے.. سوری کر لو "وہ سکون سے بولا..
اسنے اسکی جانب دیکھا..
یہ تم اتنے عجیب کیوں لگ رہے ہو" وہ بولا.. تو.. سارگل.. نے گور سے اسکیطرف دیکھا. اور چہرے پر ہاتھ پھیرہ..
کیا مطلب ہے اس بات کا.." سارگل نے نگاہ چرائ.
. کچھ نہیں… " مراد نے کہا.. دونوں اپنے اپنے دل میں.. عجیب. چور چھپا رہے تھے..
ہیلو.. بروز" پیچھے سے اتی اواز پر دونوں پلٹے..
یار بڈھوں.. شادی کر لو" صارم نے منہ بنا کر کہا…
بڈھا کس کو بولا.. "سارگل نے آنکھیں نکالیں…
جبکہ مراد نے بھی تیوری چڑھای..
نہیں میں… میں.." صارم نے تھوک نگلا..
بکرے تو رک یہیں "سارگل چیخا. اور دونوں اسکے پیچھے دوڑے…
جبکہ صارم ائ اوی کرتا.. پورے لون میں گھوم رہا تھا..
اور وہ دونوں اسکے پیچھے پیچھے تھے…
چند دنوں میں داود نے اسکے دل میں خاص مقام بنا لیا تھا….
اسنے کبھی وہ جزبے محسوس نہیں کیے…. جو.. داود کو لے کر اسکے دل میں اٹھتے تھے..
وہ ایک عجیب شخص تھا…
کچھ دھوپ سا سخت.. کچھ چھاو سا نرم…..
من مانی کرنے والا… ضدی سا….
وہ اسے اپنی محبت میں ضد کر کے گرفتار کر چکا تھا.. اور پھر بار بار.. اسکے گالوں کو چھونا…
یہ سب عینہ کے لیے نیا تھا.. حسین تھا دلکش تھا کیا کیا نہیں تھا…
عمر کے اس دور میں اسے ایک بے حد ہینڈسم.. شخص ملا تھا جس کا تصور بھی اسنے نہیں کیا تھا….
وہ جانتی تھی اس وقت داود احمد کالج کی ہر لڑکی کا پہلا کرش تھا…
مگر بعض اوقات وہ اس بات کو سوچ کر مغرور ہو جاتی کہ.. وہ اتنا سب میں پاپولر .. صرف اسکے پیچھے پاگل تھا..
اور دن گزرتے ساتھ اسکا دیوانہ پن مزید بڑھ رہا تھا.. کہ وہ اسے ایک پل کو بھی خود سے اگنور ہونے نہیں دیتا تھا…
عینہ اٹھتے بیٹھتے… کھاتے پیتے غرض ہر وقت اس سے.. میسجیز… پر بات کرتی تھی..
گھر والوں نے نوٹ کیا تھا یہ نہیں کیا تھا وہ نہیں جانتی تھی…
بس وہ اس شخص کیطرف اپنے کھینچتے ہوئے دل کو روک نہیں پاتی تھی…
وہ کالج میں اینٹر ہوئ تو.. اسکے.. گفٹ کیے ہوئے.. بلیو ڈریس میں تھی…
جو بلکل پلین تھا… جبکہ اسکا دوپٹہ جو عینہ سے بمشکل ہی سمبھل رہا تھا.. ریڈ تھا… اور.. شانے پر اسنے اپنا بیگ ڈالا ہوا تھا جبکہ بال کھلے تھے…
اور ٹھیڑی مانگ نکال کر.. وہ.. کچھ کچھ لمبے ہوتے بالوں.. کو ایسے ہی چھوڑے . دلکش پرفیوم کی مہک میں رچی بسی…
وہ.. اپنا اردو کا لیکچر لینے جا رہی تھی جبکہ گلے میں.. ایک گولڈ چین تھی… جو شاید ابھی داود کی نظر میں نہیں ائ تھی.. وہ اسے بہرام نے دی. تھی..
اور.. میکپ .. میں اسنے صرف.. براون گلوز.. لگایا ہوا تھا.. وہ اسقدر حسین لگ رہی تھی کہ.. سب نے مڑ مڑ کر اسکو تکا تھا..
عینہ کا موبائل رینگ ہوا…
اسکے لب مسکرائے.. اسکا میسج ا گیا تھا.. مگر اسے تھوڑا افسوس ہوا.. وہ میسج اسکا نہیں تھا اسکی دوست کا تھا.. مگر اسنے پڑھنا ضروری نہیں سمھجا اور.. داود کے نمبر پر.. ابھی وہ میسیج کرتی.. کہ.. بری طرح جھٹکا… لگا.. اور اسکی کلائ کھینچتی.. چلی گئ..
وہ جانتی تھی وہ کس کا ہاتھ تھا.. پتہ نہیں اسے ڈر کیوں نہیں لگتا تھا.. ہر معملے میں بے باک تھا….
اپ.. "اسکے منہ سے بس اتنا نکلا.. وہ اسے کھینچ کر سٹور روم میں لے ایا..
کیا مارنا چاہتی ہو.." معمولی سے بل ڈالے.. وہ بولا… اور گھیری سانس بھری اسکی خوشبو وہ خود میں اتار کر بولا.. عینہ شرما سی گئ…
داود… بہت رش ہے باہر کوئ ا جائے گا… "عینہ نے ادھر ادھر دیکھا….
انے دو… "داود کو کہاں فرق پڑنا تھا.. اسنے عینہ کا ہاتھ تھاما جس میں دو تین رینگز تھیں.. داود ان رینگ کو دیکھتا.. رہا… عینہ داود کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی.. دونوں جانب خاموشی تھی….
کس کے ساتھ ائ ہو "اسنے پوچھا جبکہ اب.. نگاہ گلے میں موجود باریک سی چین پر تھی….
میں تو اکیلی اتی ہوں.." اسنے بتایا…
داود نے… اسکی باریک سی.. چین پر.. انگلی رکھی.. عینہ نے اسکی آنکھوں میں عجیب تاثر دیکھا.. یہ پہلی بار تھا.. وہ سمھجہ نہیں پائ..
داود کیا ہوا ہے… مجھ سے کوئ غلطی ہو گئ ہے کیا" وہ جھجھکتے ہوئے.. تھوڑی سی سہمی نظروں سے اسے دیکھنے لگی…
یہ چین کس نے دی ہے" وہ.. بغیر مسکراے بولا…. عینہ اس سے.. تھوڑا سا.. ڈر رہی تھی…
مگر.اگنور کر کے. مدھم سا مسکرائ..
یہ.. یہ میرے ڈیڈ نے…
یو نو.. وہ مجھے چڑیا کہتے ہیں… گولڈ سپیرو…. "وہ محبت سے چین… کو چھوتے ہوئے بولی… داود کی انگلی اب بھی چین پر تھی…
گولڈ سپیرو "اسنے دھرایا…
نئس نیم"وہ عجیب سا مسکرایا… اور انگلی جو چین پر رکھی تھی.. ووہ چین کے اندر ڈال کر اسنے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سونے کی قیمتی چین کو… پل میں.. ایک جھٹکے سے توڑ ڈالا…
چین عینہ کی گردن سے پھیسل کر… داود کے ہاتھ میں. ا گئ…
عینہ کی.. بڑی بڑی آنکھیں.. ایکدم پھیلی…
داود… نے.. بھنووں کو معملوی جنبش دی.. عینہ کو لگا اسکی دھڑکن کی رفتار.. مدھم پڑی ہو.. یہ چین اسکے لیے بہت قیمتی تھی بچپن سے اسکی گردن کی زینت تھی انسیت بھی بہت تھی…
کیا.. مجھ سے زیادہ قیمتی ہے" اسکی دھڑکنیں وہ سن سکتا تھا.. مگر پھر بھی بے حسی سے بولا…
عینہ.. کی آنکھوں کی نمی واضح تھی…
نہ.. نہیں…." وہ ہلکی سی مسکرائ…
بس میں یہ ہی چاہتا ہوں تمھارے لیے.. ہر بات سے زیادہ
. داود احمد قیمتی ہو…. "اسکی انکھ سے پھیسلتا انسو.. بڑی چاہت سے…. اپنے انگوٹھے سے صاف کر کے.. وہ بولا.. اور اسکے گال پر چٹکی لی…
عینہ بھی مسکرائ… نظر.. اس چین پر تھی.. جسے داود اسکی ہتھیلی پر رکھ چکا تھا… اب اسکی نظر ان رینگز پر گئ..
یہ میں.. میں اتار دیتی ہوں" اسنے جلدی سے.. کہا…
داود مسکرایا…
ڈر رہی ہو عینہ" وہ اسکے نزدیک ہوا… کے عینہ… دیوار کو لگی….
پھر نفی میں سر ہلایا…
نہیں… بس… میں چاہتی ہو ں اپ غصہ نہ ہوں "وہ مدھم اواز میں بولتی اس وقت داود کو کتنی پیاری لگ رہی تھی.. کوئ نہیں جانتا تھا
تم میری عینہ ہو…. "اسنے پیار سے کہا… تو عینہ نے سر ہلایا..
اب جاوں. "عینہ نے پوچھا…
ہمم جاو.. لیکچر لینے او.. گا.. اسکے بعد.. تمھارے ہاتھ سے لنچ کرو گا.. ڈن" اسنے.. ریلکس انداز میں کہا…
ڈن" عینہ نے بھی کہا.. اور وہاں سے.. اٹھی.. داود وہیں کھڑا تھا..
جائیں بھی"وہ ہنسی… داود ایسے ہی دیکھتا رہا…
یار.. کھا جاو تم کو… "وہ.. خمار الود نظروں سے اسے دیکھنے لگا..
عینہ.. خفیف سی ہوئ.. اور داود ہنستا ہوا.. باہر نکل گیا..
اسکے.. نکلتے ہی.. عینہ کی مسکراہٹ جو اسکے سامنے تھی.. مدھم ہوتی چلی گئ…
اسنے اپنی ہتھیلی میں دبی چین کو دیکھا…
اسے بہت دکھ ہوا….
یہ چین اسے بہت پسند تھی…
کیا داود سے زیادہ….
اسکے دل نے پوچھا…
………………………..
سارا دن بہت اچھا گزرا تھا.. بہت خوش باش….
مگر دل کے کسی کونے میں بار بار چین کا خیال تھا…
پھر بھی اسکا دن بہت اچھا تھا.. بار بار داود کا.. اسکو دیکھنا.. بار بار.. اسکی تعریف کرنا.. وہ آسمانوں پر اڑنے لگی تھی جیسے…
چھٹی کا وقت ہوا.. اسکا بلکل دل نہیں کیا وہ جائے مگر جانا تھا.. ابھی وہ.. داود کو میسیج کا جواب دیتی ہی کہ اسے مین گیٹ سے مراد اندر اتا دیکھا….
اسے حیرت ہوئ وہ بہت کم یہاں اتا تھا…
میسیج کا جواب دیے بغیر وہ.. مراد کی جانب بڑھ گئ….
جبکہ مراد بھی اسے دیکھ چکا تھا…
اسنے ہاتھ ہلایا . عینہ جلدی سے اس تک پہنچی یہ جانے بغیر.. وہ کتنی بری غلطی کر رہی ہے..
بھیا اپ یہاں "اسنے.. پوچھا.. مراد نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا..
ہاں مجھے تم سے کسی کو ملوانا ہے سوچا.. تمھیں.. کالج سے پیک کر لو" وہ.. مسکرا کر بولا.. تو عینہ کی آنکھیں گھمیں.
ہممم کس سے ملوانا ہے بھئ"وہ.. مشکوک سی ہوئ جبکہ لبوں پر بڑی گھیری مسکراہٹ تھی..
مراد دل کھول کر ہنس ا..
نہیں وہ وہ نہیں جو تم سمھج رہی ہو…
تمھاری.. جیسی ہی چھوٹی سی.. بہن یے میری..
اسکو حویلی لے کر جانا.. ہے.. باقی باتیں راستے میں بتاو گا.. ابھی او جلدی سے" اسنے.. کہا تو.. عینہ بھی ہنسی مگر تجسس بھی ہوا..
اوکے" وہ.. ابھی چلتی کہ اسکی کال انے لگی..
داود کا نام دیکھ کر.. اسنے کال پیک کی..
مراد اس سے دو قدم اگے تھا…
وہ وہیں رک گی.
جی"وہ.. پیار سے بولی..
یہ کون ہے" سرد اواز ابھری…
عینہ ٹھٹک کر روک گئ..
وہ…." ابھی وہ کچھ کہتی ہی کہ داود بول اٹھا…
روم میں او میرے" اسنے کہہ کر.. کال بند کر دی…
عینہ.. نے مراد کیطرف دیکھا.. جو اسی کیطرف دیکھ رہا تھا..
ٹھیک ہو.. عینہ"اسنے پوچھا..
جی جی.. بھیا.. بس وہ میرا.. میں.. مجھے اپنی دوست کو ایک میسج دینا ہے کیا میں دے دوں "وہ معصومیت سے اپنی بھکلاہٹ چھپاتی بولی.. مراد نے.. زرا.. مشکوک ہو کر اسکو دیکھا ضرور کیونکہ اسکے چہرے کی ہوائیاں ار رہیں تھیں..
اوکے جاو.. اور جلدی انا میں ویٹ کر رہا ہوں"
مراد کہہ کر وہاں سے مین گیٹ کی جانب چلا گیا جبکہ عینہ الٹے قدموں.. داود کے روم کیطرف بھاگی…
وہ سٹاف… رومز کیطرف آئ تو وہاں کافی سناٹا تھا.. وہ چلتی گی اور داود کے روم کا دروازہ کھولا…
داود… سنگل بیڈ پر بیٹھا… تھا…
جبکہ عینہ کو
. غصے سے گھور رہا تھا..
عینہ.. کا چہرہ پسینے سے بھر گیا تھا.. جبکہ بال بھی.. اب اسکی گردن سے چیپکے تھے.. اور وہ کافی… بھکلای ہوئ لگ رہی تھی
..داود. "وہ اسکی جانب ائ.. کہ داود اٹھا..
اور.. اسکی ایک کلائ تھام.. کر.. اسنے.. دوسرے ہاتھ سے اسکی گردن.. تھام کر اسے دیوار پر لگا دیا..
آنکھوں میں جیسے خون اتر ایا تھا…
عینہ کا.. منہ کھل گیا.. جبکہ داود.. اسکے ہونٹوں کے قریب انے لگا..
عینہ کا دل.. چڑیا کی مانند پھڑپھڑا اٹھا..
نہ نہیں داود"وہ.. آنکھیں میچ کر بولی…
میں تو تم سے محبت کرتا ہوں…. دیوانہ ہوں تمھارا…
مگر تم کسی اور مرد سے کیسے بات کر سکتی ہو.." وہ پھنکارہ…
بھیا ہیں وہ میرے"وہ.. منمنائ…
داود.. کو لگا جیسے اسپر ٹھنڈا پانی ڈال دیا گیا ہو…
اسکی گرفت عینہ پر ڈھیلی ہوئ..
تو میسیج پر بتا دیتی "وہ.. نارمی سے بولا.. عینہ اسکی جانب. دیکھنے لگی..
داود اسکی.. آنکھوں پر پھونک مار کر مسکرایا….
وہ.. مجھے غصہ جلدی ا جاتا ہے عینہ.. میں اس چیز کو.."
اپ نے مجھ پر بھروسہ نہیں کیا. "وہ… رونے لگی..
عینہ" داود کو خود پر ہی غصہ ایا…
جانیں دیں داود مجھے… " اسنےا سکے ہاتھ ہٹائے
. داود نے اسکی کلای تھامنی چاہی مگر.. وہ… ہاتھ چھڑا کر.. باہر بھاگ گئ..
عینہ رکو.. "وہ پیچھے سے بولا.. مگر عینہ بھاگتی چلی گئ..
داود کے غصے سے اسے ڈر لگنے لگا تھا….
اور چھوٹی چھوٹی بات پراسے غصہ اتا تھا..
اسے لگا وہ اسکے پیچھے ا رہا تھا…
مگر عینہ روکے بغیر مین گیٹ سے نکل گئ جبکہ داود نے.. ہاتھ پر مکہ مارا..
شیٹ شیٹ داود…
وہ ایک نازک سی لڑکی ہے"وہ خود سے باتیں کرنے لگا…
جبکہ عینہ وہاں سے جا چکی تھی…
………………….
عینہ کو رونا تو بہت ایا.. وہ ایک حساس لڑکی تھی..
پہلی بار محبت کی بھٹی میں قدم رکھا تھا.. ابھی تو قدم جلنے تھے…
مراد نے عینہ کی جانب دیکھا..
تمھیں ہوا کیا ہے اچانک" اسنے پوچھا…
کچھ نہیں بھیا… وہ.. فریحہ.. پر غصہ ا گیا تھا" اسنے کہا..
تو دفع کرو ایسی دوست کو "اسنے کہا. اور گاڑی چلا دی..
عینہ ہنس دی..
دفع نہیں کر سکتی" اسنے داود کو سوچ کر کہا..
وہ سب اسکے لیے.. بہت کنسرن رکھتے تھے.. خاص کر بہرام مگر.. فلحال.. وہ… اپنے کچھ معملات میں مصروف تھا…
اچھا بھئ… اپنا موڈ تو ٹھیک کرو… چلو ائس کریم لے لیتے ہیں.. عینہ بھی خوش اور مجھے یقین ہے.. جس کے پاس میں تمھیں لے جا رہا ہوں وہ بھی خوش ہو جائے گی"اسنے کہا.. تو عینہ نے سر ہلایا..
اف بھیا بتایئں تو. وہ ہے کون" اب وہ اسکے دماع سے.. اپنی روتی صورت نکالنے کو جلدی سے بولی..
صبر.. سوئیٹی… صبر"مراد نے کہا تو.. عینہ نے منہ بنایا.. داود کی کالز ا رہیں تھیں…
اسکادل کیا اٹھا لے.. مگر.. پھر اسنے فون سائلینٹ پر کیا.. اور.. مراد کی باتوں کا جواب دینے لگی…
………………
اسے خود پر جتنا بھی غصہ اتا کم تھا…
فل سپیڈ میں بائیک دوڑا کر وہ گھر پہنچا…
تو فیزا نے دروازہ کھولا..
افس نہیں گئ تم"داود نے اچانک ہی پوچھا تو فیزا نے نفی کی..
خیریت" داود.. ماتھے پر بل ڈالے پوچھ رہا تھا..
فیزا.. کو سب یاد انے لگا.. تو.. اسے غصہ سا ا گیا..
کچھ نہیں.. ایسے ہی چھٹی کر لی.. تمھیں کھانا دو "اسنے پوچھا..
مما کہاں ہیں" داود نے.. ہاتھ دھوتے ہوئے پوچھا..
مامی کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے.. وہ لیٹی ہوئ ہیں.." فیزا نے جواب دیا اور کچن میں چلی گئ داود بار بار عینہ کو میسیج کر رہا تھا.. مگر وہ تھی.. کہ ایکدم ہی اپنا غصہ دیکھا رہی تھی.. وہ مدھم سا ہنسا…
اور.. مما کے کمرے میں. اگیا…
کمرے میں اچھی خاصی گرمی تھی..
بندی.. شوہر کا کچھ کچھ خرچہ کرا لیتا ہے انسان" اسنے اے سی کھولتے ہوے کہا..
اوہو داود رہنے دو… بل پہلے ہی زیادہ ایا ہے.. بس معاز اے گا تب چل جاے گا.."
اچھا کتنا ایا ہے"اسکے اندر موجود شیطان نے پنگا لیا…
عابیر نفی میں سر ہلا کر رہ گئ…
بتا بھی دیں" وہ دانت نکالتے ہوئے پوچھنے لگا…
اتنا ضرور ہے کہ اپکے بابا… غصے میں ہیں" عابیر ہلکا سا مسکرائ…
ان سے کہیں غصہ بندہ صحت دیکھ کر کرے اویں غصے کی شدت سے لڑک جائیں" وہ لاپرواہی سے بولا..
اللہ داود… " عابیر نے گھورا.. تو وہ ہنس دیا…
بیماری میں بھی شوہر نہیں بھولا… " اسنے کہا.. تو.. عابیر خاموش رہی
اچھا.. بھئ.. یہ بیل میں بھر دوں گا.. اچھا ہے اپکے شوہر پر بھی تھوڑا بہت احسان ہو جائے گا" داود نے عینہ کو پھر سے میسیج کرتے ہوے کہا…
شرم کریں اولاد ماں باپ کا احسان نہیں چکا سکتی "
ماں کا… ماں کا تو مر کر بھی نہیں اتار سکتا " اسنے کہا…
تو عابیر اسے دیکھ کر نڈھال سا سر.. تکیے پر رکھ گئ..
اسنے کبھی نہیں سوچ اتھا.. اسکی زندگی ایسی ہو گی…
پہلے.. اسکے ساتھ… حادثات ہوتے رہے جنھیں دھرا کر بھی یاد نہیں کرنا چاہتی تھی.. اور اب.. اسکی قیمتی اولاد.. کی اسکے اپنے ہی باپ سے نہیں بنتی..
مگر وہ جانتی تھی معاذ اسکے ساتھ نا انصافی کرتا ہے..
مام طبعیت خراب ہے ہم چلتے ہیں.. ڈاکٹر پر"وہ ایکدم اٹھ کر بولا..
نہیں داود… میری فکر دور کر دیں پلیز… معاذ سے ٹھیک ہو جائیں" اسنے کہا.. تو داود تیوری چڑھایے ایک لمہے دیکھتا رہا..
اچھا.. ٹھیک ہے.. اپ تو اٹھیں… پہلے ڈاکٹر کے پاس.. فیور.. تیز ہو رہا ہے"وہ بولا.. تو عابیر اٹھ گئ.. اور.. پندرہ منٹ میں.. وہ. ایک اچھے ہسپیٹل کے باہر تھے..
داود… بلاوجہ یہاں لے ائے ہو.. وہاں محلے میں… بھی ڈاکٹر تو تھا ہی" وہ بولتی گئ داود ہنسنے لگا…
ڈارلنگ ہم امیر ہو گے تو.. پھر بھی محلے کے ڈاکٹر کے پاس جائیں گی "
وہ دونوں باتیں کر رہے تھے… جبکہ.. عابیر.. کو.. ایک لمہے کے لیے جیسے برسو پرانی خوشبو اپنے اطراف میں محسوس ہوئ..
وہ خوشبو جو ایک وقت میں اسکے اردگرد رہتی تھی…
نہ محسوس انداز میں.. اسنے ارد گرد دیکھا…
اور.. اپنے پیچھے سے.. نکلتے ہوئے بہرام کو… وہ… آنکھیں پھیلاے دیکھنے لگی..
وہ پہلے سے زیادہ.. دلکش لگ رہا تھا.. جبکہ لبوں پر مسکان تھی.. اور اسکے ارد گرد گارڈز.. تھے اور کتنے ہی ڈاکٹرز.. اسکے سامنے کھڑے تھے..
اسنےا سکی جانب نہیں دیکھا تھا.. سب پیشنٹس وہیں رک گیے.. وہ شاید وہاں ڈونیشین… کے لیے ایا تھا…
عابیر نا محسوس طریقے سے.. داود کے پیچھے ہوتی چلی گئ..
دس از دا لائف"داود چمک بھری آنکھوں سےا سے دیکھنے لگا…
عابیر… داود کی بات سن کر سن کھڑی رہ گی..
وہ نہیں جانتی تھی.. کہ اسکا بیٹا اس شخص کو پسند کرے گا… جس کے ساتھ وہ تعلق نہیں رکھنا چاہتی تھی..
بہرام.. دس منٹ میں ہی وہاں سے چلا گیا.. جبکہ سب پھر سے ویسے ہی ہو گیے.. مگر.. چیماگویاں شروع ہو گئیں. تھیں اسکے متعلق…
داود بھی مسلسل اسکے بارے میں بات کر رہا تھا..
داود "عابیر نے اسکو ٹوکا..
داود نے حیرت سے اسکیطرف دیکھا…
ہم باہر چلتے ہیں" اسنے کہا تو.. وہ.. اسے باہر لے ایا پوچھنے کے باوجود عابیر نے اسے کچھ نہیں بتایا.. اور.. بغیر دوائ لیے.. وہ اسے اسکی ضد پر گھر لے ایا…
……………..
عینہ… کبھی مراد کی جانب تو کبھی اس لڑکی کی جانب دیکھ رہی تھی.. جس کی حالت کافی بری تھی
بھیا یہ" عینہ… فق چہرے کے ساتھ مراد کو دیکھ رہی تھی جس کا چہرہ بری طرح سرخ تھا..
جبکہ مشل.. ساکت بیٹھی تھی.. اسکے وجود میں زرا بھی جنبش نہیں تھی
مشل نے انکھ اٹھا.. کر مراد کی جانب دیکھا…
اسکے گرد.. پیسے پڑے تھے… مراد… کا خون.. کھول اٹھا..
اسنے بنا کچھ سوچے بہرام کو کال ملا دی… اور.. اسے فورا اڈریس سمھجا کر.. وہ چہرے پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا…
اس وقت اگر سارگل اسکے سامنے ہوتا تو وہ ضرور اسکا حشر بگاڑ دیتا…
عینہ… مراد کو باہر جاتا دیکھ.. عینہ ہمت کر کے اس لڑکی کیطرف بڑھی…
اور اسکے شانے پر ہاتھ رکھا…
یہ.. سب تمھارے ساتھ کس نے کیا"وہ.. نم آنکھوں سے پوچھنے لگی..
سارگل.. خان نے" مشل کی جانب سے سپاٹ جواب ایا..
جبکہ عینہ کا.. ہاتھ اسکے پہلو میں گیر گیا…

اسے یقین ہی نہیں ایا… کہ اسنے اسکے بھائ کا نام لیا ہے اسک ابھائ جو.. اس سے کتنی محبت رکھتا تھا.. اسے کیسے ہتھیلی کا چھالہ بنا کر رکھتا تھا.. وہ اتنا سفاک ہو سکتا ہے.. اس سے بھی چھوٹی لڑکی کے ساتھ.. اتنا ظلم…
عینہ… کی آنکھیں.. بھیگ گئیں…. جبکہ مشل… نے اب ان پیسوں کیطرف دیکھا.. مراد بھی وہیں کھڑا تھا.. وہ بہرام.. کے سامنے لائے بغیر ایک لفظ بھی بولنا نہیں چاہتا تھا وہ چاہتا تھا.. یہ سب اسی طرح بہرام دیکھے…
یہ قیمت تھی میری"پیسوں کو چھوتے ہوے مشل مدہم اواز میں بولی…
مراد نے گھیرہ سانس لیا جبکہ عینہ تو رونے لگی تھی…
تبھی مراد کے سیل پر بہرام کی کال انے لگی..
مراد وہاں سے پلٹ گیا…
مشل.. بھی عینہ کے رونے پر رونے لگی تھی…
اپنی قسمت پر بھی رونا ا رہا تھا….
تم مت رو" عینہ نے.. اسکے شانے پر ہاتھ رکھا…
میں لاوارث تھی…. میں لاوارث ہوں کیوں.. اسنے مجھے میری نظروں میں گیرہ دیا" وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی جبکہ.. تب تک مراد بہرام.. بھی پہنچ گئے تھے بہرام… نے تیوری چڑھا کر.. مراد کی جانب دیکھا..
کیا ہے یہ سب"سخت اواز میں بولا…
عینہ عینہ جان اٹھو یہاں سے…. کیوں رو رہی ہو تم"بہرام فورا بیٹی کے نزدیک گیا…
جبکہ مشل کی حالت دیکھ کر سمھجہ تو سب ا رہا تھا.. مگر وہ پہچان نہ سکا.. کہ ماجرا کیا ہے اور… مراد نے کیوں بلایا ہے…
ڈیڈ… ڈیڈ.. لالا.. نے.. لالا نے.. وہ تو بہت چھوٹی سی ہے" عینہ.. بری طرح رونے لگی.. جبکہ بہرام کے سینے سے لگ گی….
بہرام نے مراد کی جانب دیکھا.. اسکا دماغ غصے سے پھٹنے لگا..
کچھ بکو گے تم زبان سے" وہ چیخا..
سارگل نے مشل کے ساتھ زیادتی کی ہے…. "مراد… بولا تو… بہرام کی گرفت عینہ پر ڈھیلی پڑ گئ..
فضول بکواس مت کرو"وہ دھاڑا… مشل سہمی.. جبکہ عینہ.. مشل کے پاس چلی گئ…
اسے معلوم نہیں مشل سے.. شدید انسیت ہو رہی تھی اور اسکی تکلیف بھی محسوس ہو رہی تھی…
کہ اسکے ساتھ کتنا غلط ہوا وہ بھی اسکے بھائ نے…
یہ بکواس نہیں ہے…." مراد بھی آنکھیں نکال. کر بولا.. اور پھر.. رفتہ رفتہ اسے سب بتاتا چلا گیا…
جبکہ بہرام.. بس ایک لمہے کے لیے.. فق ہوا تھا…
اسے وہ دن یاد ائے جب وہ بھی
.. شبنم کے ساتھ…
مگر کبھی اسنے کسی پر زبردستی نہیں کی تھی….
اور اس طرح اسکے سامنے ایا تھا…
بہرام نے مشل کی جانب دیکھا.. اسکے گرد ہزار ہزار کے نوٹ بکھرے ہوئے تھے..
جبکہ وہ اسکی بیٹی کے سینے سے چیپکی ہوئ تھی…
بہرام دو قدم بڑھا.. کر.. مشل کی جانب چلا گیا.. جبکہ مراد کو ہاتھ اٹھا.. کر اسنے سارگل کو بولناے کا کہا…
مشل.. خوف سے.. بہرام کی جانب دیکھ رہی تھی..
بہرام کو.. اسکے چہرے اور گردن پر.. نشان.. صاف بتا رہے تھے کہ یہ تماشہ نہیں ہے یہ سب حقیقت ہے…
کس نے کیا ہے یہ سب تمھارے ساتھ… "وہ سرد لہجے میں بولا…
ڈیڈ میں نے بتایا تو ہے…
عینہ… چڑیا… اپ دو منٹ خاموش رہو… " اسنے پیار سے بیٹی کو ٹوکا.. تو وہ خاموش ہو گئ جبکہ مشل کا ہاتھ تھام رکھا تھا…
س… سارگل نے… "مشل بمشکل بولی..
کیسے جانتی ہو تم اسے…" بہرام نے تیوری چڑھا کر پوچھا ا.. تو مشل اسے سب بتاتی چلی گئ…
بہرام. نے مٹھیاں بھینچ.. لیں..
کب مر رہا ہے وہ یہاں" وہ غضب ناک ہوا… مراد نے اسکی جانب دیکھا..
وہ فون نہیں اٹھا رہا" مراد نے کہا.. تو بہرام نے.. اپنے سیل سے اسے کال کی…
اور ایک منٹ میں کال ریسیو کر لی گئ..
یس ڈیڈ"وہ.. چھک کر بولا….
کہاں ہو" بہرام سے غصہ ضبط کرنا بہت مشکل ہو گیا….
کوٹ سے نکل رہا ہوں.." سارگل کو اسکے لہجے کی سختی محسوس تو ہوئ مگر.. اگنور کر کے بولا…
جیت گئے" سرد سے لہجے میں پوچھا..
ہار سکتا ہوں؟ "اسنے مسکرا کر سوال کیا..
ہمممم گڈ.. زرا اپنے افس.. پہنچو.. میں نے ملنا ہے"اسنے کہا اور فون بند کر دیا.. سارگل.. فون کو دیکھتا رہا..
کہیں "اسکے دماغ میں کلک ہوا..
اوہ نو.. نو نو.. شیٹ… "وہ خود کو کوستا.. کوٹ سے بھاگتا ہوا نکلا تھا…
بہرام.. نے چہرے پر ہاتھ پھیرہ… اور پھر سے مشل کو دیکھا.. اور اسکے سر پر ہاتھ رکھا…
اب تمھیں رونے کی ضرورت نہیں….
تمھارے.. مجرم…کا میں گلہ دبا دوں گا… "سختی سے کہتے ہی.. وہ اٹھ گیا.. جبکہ مراد کے دل کو سکون ملا وہ جانتا تھا.. بہرام ہی وہ شخص ہے جس سے سارگل کو ڈر لگتا تھا.. ورنہ… وہ کسی کے قابو انے کی چیز نہیں تھی…
مشل اور عینہ اب بھی رو رہیں تھیں..
پندرہ منٹ کے اندر اندر.. سارگل.. اپنے افس کے باہر تھا.. باہر مراد اور بہرام کی گاڑی دیکھ کر انھونی کا احساس اسے ہو گیا…
تم نہیں بچتی مجھ سے مشل "وہ.. کچکچا کر بولا.. اور جلدی سے اندر داخل ہوا.. اور اسکی توقع کے عین مطابق تھا. سب سیڑھیوں پر ہی مراد اسے دیکھا.. جس نے اس سے منہ موڑ لیا…
اسکے دل کو کچھ ہوا… بچپن سے وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے ہمیشہ کھڑے رہتے تھے…
جبکہ اسکے قدم بھاری ہونے لگے.. کیونکہ اوپر اپنا باپ اسے نظر ا رہا تھا.. جو صوفے پر بیٹھا تھا…
وہ اوپر ایا.. اور عینہ کو مشل کے ساتھ دیکھ کر اسکا دماغ اوٹ ہوا
ہنی… ہٹو یہاں سے "وہ. دھاڑا.. جبکہ بہرام نے
. بیچ میں ہی اسکا.. منہ جکڑ لیا… …
سارگل نے باپ کی جانب دیکھا..
کیوں کیوں اٹھے.. تمھارا مکافات تو تمھاری بہن کے سامنے ائے گا.. پھر.. تمھارے کیے گئے گناہ کے ساتھ وہ پہلے ہی بیٹھ جائے.. سارگل خان… اتنا کمزور نفس تھا تمھارا" وہ دھاڑا.. اور کھینچ کر.. اسکے منہ پر تھپڑ مارا.. تھپڑ اتنا تیز تھا…
کہ سارگل کا ہونٹ پھٹ گیا..
سارگل کی نگاہ مشل پر تھی دانت پر دانت رکھے وہ بس مشل کو دیکھ رہا تھا…
جبکہ مشل جو اسکے دیکھنے سے ڈر لگنے لگا..
عینہ نے بھی اس سے منہ پھیر لیا….
سارگل منہ سے ایک لفظ نہیں بولا.. جبکہ.. بہرام اسکے منہ پر پے در پے تھپڑ مار رہا تھا…
اگر میری بیٹی کے ساتھ کچھ ہو ا.. سارگل خان تو.. میں بھول جاو گا میری اولاد ہو تم"اسنے اسے دھکا.. دیا…
سارگل دیوار سے جا ٹکرایا اور زمین پر بیٹھتا چلا گیا.. بلیک پینٹ کوٹ میں.. اور.. سرخی میں نیلاہٹ لیے.. چہرے پر.. خون کے قطرے لیے بیٹھا.. مشل کو دیکھ رہا تھا…
کیا دیکھ رہے ہو ادھر.. اسکے ساتھ زیادتی کر کے تمھیں زرا بھی شرم نہیں ائ….
ہاں زرا بھی پیسے دے کر.. کیا ثابت کر رہے تھے"بہرام نے اسکا گریبان جکڑا.. سارگل پھر بھی کچھ نہیں بولا..
تایا سائیں… اسکو مارنے سے بہتر ہے اپ سزا سنائیں.." مراد نے کہا.. سارگل اب بھی مشل کو گھور رہا تھا..
بلاو اسکی ماں کو ایک نظر وہ بھی اپنے ہونہار بیٹے کے کرتوت دیکھ لے…
تبھی سزا.. منطخب کروں گا "بہرام ناگواری سے بولا.. جبکہ مراد نے بہرام کیطرف دیکھا.. کون نہیں جانتا تھا. وہ ارمیش کے لیے کتنا حساس تھا…
میں نے کہا بلاو…" بہرام چیخا…
مراد نے بہرام کا بازو پکڑا جو دو تھپڑ مزید.. سارگل کو رخ چکا تھا…
تایا سائیں… انٹی.. بہت ڈس ہارٹ ہوں گی.. اسنے سب کو ڈس ہارٹ کیا ہے… مگر سب سے زیادہ مشل کو تکلیف دی ہے.. اپ.. کوئ مثبت فیصلہ کریں" مراد جو کہنا چاہ رہا تھا بہرام سمیت سب سمھجہ رہے تھے سارگل نے منہ سے ایک لفظ نہیں نکالا.. ہونٹوں سے پھوٹتی خون کی لکیر….
اب اسکی وائٹ شرٹ.. پر جا رہی تھی…
جبکہ نگاہ اب بھی عینہ میں چھپی مشل پر تھی…
شادی کرے گا… یہ ابھی اور اسی وقت…" بہرام نے کہا تو اب پہلی بار.. سارگل نے باپ کیطرف دیکھا…
مدھم سا مسکرایا
نہ ممکن.." اسنے اتنا کہا.. اور کھڑا ہو گیا.. اسنے بتانا ضروری نہیں سمھجا کہ.. مشل اسکے نکاح میں ہے…
کیا بکواس کر رہے ہو تم"وہ.. چیخا.. جبکہ چہرہ شدید سرخ تھا…
یہ ہی کہ میں شادی نہیں کروں گا "اسنے پھر سے کہا..
سارگل.. ہوش میں تو ہو." مراد چنگھاڑا…
جبکہ سارگل بغیر کسی کیطرف دیکھے وہاں سے نکل گیا…
…………………
بہرام شدید غصے میں تھا… وہ مشل کو حویلی میں لے ائے تھے
جبکہ بہرام نے پہلی بار.. ارمیش کو تانا مارا تھا.. ارمیش تو خود ساکت رہ گئ تھی بہرام کو سمھجہ نہیں ایا اپنا غصہ کس طرح ختم کرے جبکہ معاویہ اور احمر دونوں اسے کنٹرول کرنا چاہ رہے تھے…
مجھے پہلی بار افسوس ہو رہا ہے اس عورت کی تربیت پر"بہرام نے ارمیش کو گھورا….
جبکہ ارمیش اب رونے لگی تھی.. عینہ بھی وہیں کھڑی تھی.. اسے بھی رونا. ارہا تھا..
بکواس کرنا بند کرو" معاویہ نے اب کے غصے سے کہا…
یہ وہی سب ہے جو تم نے کیا دوسروں کے ساتھ "وہ بولا تو بہرام نےا سے جھٹکا..
کیا کیا ہے میں نے… کیا میں نے کبھی اتنی چھوٹی لڑکی کو زیادتی کا شکار بنایا ہے…
کیا میں نے کبھی کسی کی مرضی کے بغیر اس سے زبردستی کی… اور جو تم بات کر رہے ہو وہ میری غلطی تھی جس پر مجھے پشتاوا ہے… مگر… وہ.. اسے پشتاوا ہے.. کوئ.
وہ اس سے شادی کرنے کے لیے تیار نہیں ہے"وہ غصے سے چیخ رہا تھا… جبکہ… عینہ وہاں سے باہر نکل گئ…
اسے بہت رونا. ارہا تھا تبھی اسکا موبائل بلینک ہوا.. داود کا نمبر دیکھ کر اسنے کال اٹھا لی.. اور رونے لگی..
عینہ" داود کی پریشان اواز ابھری…
رو کیوں رہی ہو.. "اسنے اسکی خاموشی پر پھر سے سوال کیا…
عینہ اسے سب بتاتی گی…
حیرت تو اسے تب ہوئ جب اسے داود کے ہنسنے کی اواز ائ..
اپ اپ ہنس رہے ہیں داود"اسے برا لگا…
یار کوئ محبت وحبت کا کیس ہو گا… تم ایسے ہی اپنے قیمتی انسو ضائع کر رہی ہو… "وہ ریلکس سا بولا.. اسنے فون اٹھایا تھا… اس سے بڑی بات تو کوئ نہیں تھی…
داود…. وہ میرے لالا ہیں اور.. انانھیں محبت نہیں ہے مشل سے.. وہ تو "وہ رک گئ شرم سی ائ..
کیا وہ تو "داود نے مسکراہٹ روکی..
وہ تو وہ.. نہ" وہ جھنجھلائ…
اچھا یار کیا وہ تو وہ تو لگا رکھا ہے… کوئ اور بات کرو" داود نے اکتا کر کہا.. تو عینہ نے منہ بنایا..
اپ کتنے مین ہیں میں رو رہی تھی "وہ بولی جبکہ وہ یہ بھی بھول چکی تھی کہ وہ اس سے ناراض ہے
داود ہنسا…
یو نو عینہ.. You are exactly what I want"وہ بولا تو عینہ..مسکرائ.
اور اچانک اسے اپنی ناراضگی یاد ا گئ..
میں اپ سے ناراض تھی"عینہ نے.. زرا گھور کر کہا.. .
مگر مجھے لگا.. اب تم مان گئ ہو…" اسنے کہا.. تو عینہ خاموش ہو گئ..
عینہ بور کر رہی ہو… بس چھوڑو ناراضگی… باتیں کرو
مجھ سے "اسنے کہا تو عینہ.. نے ایک نظر موبائل کیطرف دیکھا… وہ ایسا ہی تھا.. وہ
ان چند دنوں میں یہ بات جان گئ تھی…
تبھی وہ اسکی مرضی کے مطابق.. باتیں کرنے لگی…
………………..
عینہ سے بات کرنے کے بعد وہ
مسکرا رہا تھا.. سیل اف کر کے وہ پلٹا کہ معاذ کو پیچھے پایا.. اسنے ایک نظر باپ کو دیکھا
کون ہے یہ لڑکی"وہ سختی سے پوچھنے لگا…
عینہ" وہ بغیر جھجھکے جواب د کر وہاں سے ہٹنے لگا کہ.. معاذ نے اسکا شانہ تھامہ..
جب میں کہہ چکا ہوں کہ تمھاری شادی فیزا سے ہو گی تو تمھیں یہ بات سمھجہ کیوں نہیں اتی "
معاذ غصے سے بولا..
اور جب میں کہہ چکا ہوں کہ میں ایسا کچھ نہیں کروں گا تو اپکی سمھجہ میں کیوں نہیں اتا" وہ بھی دو بادو بولا…
کہ معاز کا ہاتھ اٹھ گیا…
زہر لگتے ہو تم مجھے زبان چلاتے ہوے "یہ پہلی بار تھا جو اسنے اسپر ہاتھ اٹھایا.. داود.. ھونک اسکی صورت دیکھنے لگا…
فیزا کے علاوہ کسی کو سوچنا بھی مت"وہ اسے وارن کر کے ابھی جاتا ہی داود کے بولنے پر پلٹا…
اگر میں اپکی بات اپنی اس زندگی میں مان لوں تو.. اپ کہنا کہ کوئ اپ کے جیسا ہی اپ نے پیدا کیا تھا…"
سپاٹ انداز میں بولا…
دکھ تو یہ ہی ہے "اسنے.. کہا اور چلا گیا… جبکہ داود اسکے ان لفظوں پر… بس اپنے باپ کی پشت دیکھ کر رہ گیا…
ائ ہیٹ یو"اسنے اپنی کتابیں دور اچھالتے ہویے تپ کر کہا… ……………..
حویلی کا ماحول کافی سخت تھا….
جبکہ سارگل تین دن سے حویلی نہیں ایا تھا….
بہرام… نے خاموشی اڑھ لی تھی جبکہ بلاوجہ ارمیش سے ناراض تھا.. ارمیش خود غم زدہ تھی.. وہ سارگل سے یہ عمل کبھی ایکسپیکٹ نہیں کر سکتی تھی جبکہ عینہ بھی بھائ کے عمل سے کافی رنجیدہ تھی مگر وہ ہر ممکن طریقے سے مشل کا خیال رکھ رہی تھی…
جبکہ کوئ اور بھی تھا جو مشل کا بہت دل سے خیال رکھ رہا تھا
اور وہ تھی حور جو… مشل کی ایک ماں کیطرح دیکھ بھال کر رہی تھی…
جبکہ مشل ان سب لوگوں میں ا کر…. شرمندگی کا شکار تھی…
وہ سب کو بتا سکتی تھی کہ وہ اسکے نکاح میں ہے مگر نا جانے کیوں حمت ہی نہیں بنتی تھی…
خاموشی کا قفل ڈالے.. وہ بس اپنی ماں کو مس کرتی تھی
ارمیش.. نے حور کو اور عینہ کو مشل کے پاس دیکھا.. اور.. وہاں سے ہٹ کر بہرام کے پاس ا گئ.. وہ اس سے ناراض تھا.. ارمیش کو بلکل اچھا نہیں لگ رہا تھا….
اسنے کبھی.. بھی بہرام کا غصہ یہ ناراضگی نہیں دیکھی تھی.. وہ اس کی بہت کئیر کرتا تھا…
پہلے تو.. اسکا رویہ… کھل کر سامنے نہیں. اتا تھا.. مگر سارگل کے ہونے کے بعد… وہ بہت بدل گیا تھا.. خوش رہنے لگا تھا…
اور.. اسکا ہر انداز ارمیش پر فدا ہونے والا ہوتا تھا…
اور اب اسکی ناراضگی سے ارمیش کی جان پر بن ائ تھی.. وہ.. روم کا دروازہ بند کر کے اسکے پاس ائ.. جو… بیڈ پر… کرون سے ٹیک لگائے.. لیٹا ہوا تھا… جبکہ ہاتھ میں ایک بک تھی اسنے ارمیش کیطرف نہیں دیکھا.. ارمیش کو رونا ایا…
وہ اسکے پاس جا کر بیٹھ گئ…
سر جھکا ہوا تھا.. بہرام نےا سکی جانب دیکھا…
بہرام اس سب میں میرا قصور بتائیں… اپ کیوں میرے ساتھ اسطرح کر رہے ہیں "اسنے بلاخر بات خودی شروع کی…
ارمیش میں تمھیں الزام نہیں دے رہا..
بس مجھے غصہ ہے… اور… داجی اج زندہ ہوتے تو تمھیں بتاتے.. بہرام خان جب جب ناراض ہوتا… ہے.. تو اسے صرف ایک شخص منا سکتا ہے.. اور وہ.. جانتی ہو کون ہے…" اسنے بک سائیڈ پر رکھ کر ارمیش کے گال پر ہاتھ رکھا…
ارمیش نے اسکی آنکھوں میں دیکھا.. جو نم تھیں.. اسنے پہلی بار اسے.. روتے دیکھا تھا… منہ پر جبکہ کوئ تاثر نہیں تھا…
اور انکھ سے ایک انسو گیر گیا..
ارمیش نے اثبات میں سر ہلایا..
جانتی ہوں…. وہ داجی کے سوا کوئ نہیں…. "اسنے بھی بہرام کے گال پر ہاتھ رکھا…
بہت مس کر رہا ہوں میں انھیں… اج مجھے اندازا ہو رہا.. کسی انسان کو.. کسی انسان سے قریب نہیں ہونا چاہیے… " گھیرہ سانس لیتا… وہ ہتھیلی سے انسو پونچھتا… دور ہو گیا…
ارمیش.. کو بے چینی سی ہوئ…
بہرام… "اسنے پکارہ..
جبکہ بہرام نےا سکی جانب دیکھا…
سارگل.. سے میں بات… کرو گی….
اسکی غلطی ہے..
م مگر… وہ ہماری اولاد ہے…. ہم.. "
بہرام کے گھورنے پر وہ جو اٹک اٹک کر بول رہی تھی رک گئ…
پھر.. ماتھے پر بل ڈال کر.. اسکی جانب دیکھنے لگی…
اپ مجھے گھور کر ڈرائیں مت…
کالام میں کون نہیں ہے جو یہ بات نہیں جانتا.. کہ.." وہ پھر رک گئ.. کیونکہ اب بہرام.. اسے مزید گھور رہا تھا..
ہاں کہ میں کتنا بڑا لوفر تھا.. رائٹ.. تو.. ارمیش بی بی.. مجھے اپنی غلطیوں پر پشتاوا ہے…
جبکہ اس نانجھار کو پشتاوے نام کی کوئ چیز نہیں….
اگر اسکی آنکھوں میں ندامت ہوتی تو.. ضرور مجھے اپنی اولاد سے زیادہ قیمتی کچھ نہیں…
مگر دیکھو اس بچی کو.. ہماری عینہ سے بھی چھوٹی ہے کیا یہ زیادتی ڈیزرو کرتی تھی"اسنے کہا.. تو ارمیش.. نے شرمندگی سے سر نفی میں ہلایا…
اب خوامخواہ رونے کی ضرورت نہیں… اینڈ سوری میں نے سب کے سامنے. تمھیں ڈانٹا تھا.. مگر یہ بات اپنے دماغ سے نکال دو تمھارے بیٹے کو کوئ رعایت ملے گی…" اسنے وارن کیا.. اور… اٹھ کر واشروم میں چلا گیا جبکہ ارمیش تمھارے بیٹے…
اس لفظ پر منہ بنا گئ..
اولاد غلطی کرے تو. وہ ساری کی ساری بیوی کی ہو گئ.."
اسنے سوچا.. اور. مغرب کی نماز کے لیے وہ بھی اٹھ گئ..
مگر سارگل کا خیال.. دماغ میں مسلسل تھا…
تین دن سے آنکھوں سے دور تھا.. یاد شدید ا رہی تھی…
…………………
اپ چپ چپ ہیں بہت دنوں سے خیریت.." داود.. نے کھیرہ اٹھا کر منہ میں ڈالا.. وہ ابھی چھت پر سے اترا تھا..
جبکہ.. اسنے ایک سرد نظر اپنے باپ پر بھی ڈالی.. جو مین گیٹ سے.. اپنی چھوٹی سی گاڑی.. اندر.. لا رہا تھا…
نہیں میں کیوں چپ ہوں گی" عابیر مسکرائ…
اچھا مجھے لگا "اسنے پھر سے کھیرہ اٹھایا…
داود.. عینہ کون ہے"عابیر نے پوچھا.. تو داود… ڈھیٹائ سے مسکرایا
اپکی بہو.. مائے لیڈی…" اسنے.. پیار سے کہا.. تو عابیر نے چھری پلیٹ میں رکھی
..
مگر اپ جانتے ہیں.. فیزا کے لیے..
یار. مما اپ تو اس قسم کی باتیں نہ کریں" داود چیڑہ..
داود گھر کی بچی کو.. غیر کے ہاتھ میں دے دیں.. "عابیر کی بات پر داود نے سر تھام لیا
میں کیا کروں اس بارے میں یہ بتائیں اپ…
بلکہ مجھے تو لگ رہا ہے… کہ یہ بات اب تول پکڑ رہی ہے…
اپنے کریر سے پہلے ہی مجھے شادی کر لینی چاہیے"اسکی بات پر عابیر نے داود کا ہاتھ پکڑا.. جس میں سختی تھی..
اپکے بابا کبھی نہیں مانیں گے.. اور نہایت الٹے طریقے سے بات کرتے ہیں اپ…" عابیر نے گھورا تو. وہ کچھ نہیں بولا…
میں فیزا سے شادی نہیں کروں گا.. اور نہ میں اسے خوش رکھ سکتا.. ٹرائے ٹو انڈرسٹینڈ مام.. میرے لیے یہ ممکن نہیں.. عینہ کے علاوہ کوئ نہیں. ہو سکتی… پلیز بات سمھجیں" وہ منت پر اترا.. کہ بھگا کر تو شادی نہیں کرنی تھی رشتہ لے کر جاتے.. ماں باپ..
عابیر نے بیٹے کی آنکھوں میں دیکھا…
وہ داود جو.. کبھی کسی. کے سامنے اپنی بات نہ دھراے وہ. منت کر رہا تھا…
بیٹے کی آنکھوں میں ادھرا پن تو وہ کبھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی تبھی رام ہو گئ..
میں کرتی ہوں معاذ سے بات… "اسنے کہا تو داود نے ایک دم.. اسکو گلے سے لگا لیا.. عابیر ہنس دی.. جبکہ معاز فریش ہو کر ا گیا….
داود احمد.. لاڈ اٹھائیں کسی کے ضرور کوئ بڑی ہی بات منوانی ہو گی" اسنے ہمیشہ کیطرح سرد اواز میں کہا…
داود.. کی مسکراہٹ سیمٹی…
عابیر نے اسکا ہاتھ دبا کر بولنے سے روکا….
معاز بیٹا ہے ہمارا.. اپنی بات بھی منواے گا..
لاڈ بھی اٹھاے گا.." عابیر نے مسکرا کر کہا…
تو معاز نے پانی کا گلاس ساییڈ پر رکھ کر اسکی جانب دیکھ کر سر ہلایا..
روشنی اور فیزا.. بھی وہیں ا گئیں تھی..
ہاں کیوں نہیں ایسی اولاد.. ہے خیر سے.. جو دلوں میں ڈھنڈک نہیں ڈال سکتی.. بس کانٹے کیطرح چبھنا کام ہے" داود نے ضبط سے ماں کیطرف دیکھا…
مامو میں…
وہ داود سے شادی… نہیں"
فیزا بیٹا.. اپ جاو یہاں سے… اور اپکو تسلی ہونی چاہیے اپ کے لیے میں کبھی غلط فیصلہ نہیں لوں گا "معملات تو وہ کافی دنوں سے دیکھ رہی تھی.. تبھی اسنے داود کی مشکل اسان کرنا چاہی.. کہ وہ خودکب اس سر پھیرے سے شادی کرنا چاہتی تجی لیکن معاز نے اسکو ٹوکا.. تو وہ اور روشنی وہاں سے اٹھ گئے..
معاز کیوں زبردستی کر رہے ہو بچوں پر" عابیر نے کہا تو معاز نے نفی کی…
عابیر میرا فیصلہ اخری ہے…" اسنے ہتمی لہجے میں کہا…
کبھی اولاد نہیں بنا یہ میرا باپ بن کر بس سر پر ناچا ہے…
محلے میں نکلو… تو ایک ایک ادمی اسکی شکایتوں کا امبار لیے ہوے ہے….
گھر پر.. باپ کے ساتھ دو بول بول کر یہ خوش نہیں.. اب کسی اوارہ غیر لڑکی کو سر پر لا کر بیٹھا دے…
بس… "اسکی دھاڑ پر.. معاز. روکا.. عابیر جبکہ اسکے کھڑے ہونے پر خود بھی کھڑی ہو گئ..
کیوں ہیں اپ میرے باپ…" اسکا لہجہ بھیگا تھا….
بس ایک سوال.. معاز کے تن بدن میں چنگاریاں بھر گیا..
بتاتا ہوں کیوں ہوں میں تمھارا باپ "اسنے اپنے پاوں کی چپل نکالی.. اور داود… کے شانے پربری طرح ماری…
معاذ"عابیر چیخی….
ہاں بتائیں مجھے بچپن سے اپکا یہ ہی رویہ دیکھا ہے.. اور اج بھی اپ میری پسند کے خلاف ہیں.. "وہ بولا.. بڑی بڑی آنکھیں سرخ ہو رہیں تھیں….
ہاں ہوں گا تمھاری پسندکے خلاف کیوں کہ.. میں تمھارے لیے فیزا کو پہلے ہی پسند کر چکا ہوں مگر نہیں تمھیں یہ بات سمھجہ نہیں اے گی الٹا تم میرا خون پینے کو ہو گے ہو پیدا" معاز.. نے ایک لمہے میں اسے.. بری طرح جوتی سے مارا تھا.. جبکہ عابیر کو داود خود پیچھے کر چکا تھا….
تو ٹھیک ہے.. ضد کا جواب ضد ہی ہے.. عینہ کے علاوہ کوئ میری بیوی نہیں بنے گی… اپکی بھانجی کا تو سوال ہی پیدا نہینں ہوتا" داود بھی چیخا مگر معاز کا ہاتھ نہیں روکا…
معاز… نے دانت بھینچ کر اسکیطرف دیکھا…
میں بھی دیکھ لوں گا تمھارے جیسے نکارہ انسان کو کون بیٹی دے گا…." معاز انگلی اٹھا کر کہتا…. کمرے میں چلا گیا..
فیزا کو بری طرح رونا. ارہا تھا.. جبکہ عابیر نے داود کو چھت پر جاتے دیکھا….
سر تھام کر وہ وہیں بیٹھ کر رونے لگی…..
معاز کا دل داود کیطرف سے اس حد تک سخت تھا.. اسے بلکل اندازا نہیں تھا…
………………………
کیا کرتی وہ…. بامجبوری اسے دوبارہ گھر سے نکلنا.. پڑا.. اسی جگہ.. جہاں وہ کبھی جانا پسند نہ کرے.. کیا مامو کو اسکی عزت کا خیال نہیں تھا….
اپنے بیٹے کے منہ سے بار بار انکار سننے کے بعد بھی انکی ایک ہی رٹ تھی…
وہ کافی دلبرداشتہ ہو رہی تھی جبکہ ساری رات سو بھی نہیں سکی…
اور بغیر کسی کی جانب دیکھے وہ صبح گھر سے نکل گئ…
افس میں داخل ہوئ.. اور 8 فلور پر اپنی سیٹ پر جا کر بیٹھ گئ..
وہ خاموشی سے کمپیوٹر کی بند سکرین کو دیکھ رہی تھی…
جبکہ انکھ میں بار بار نمی جمع ہو رہی تھی…
اسنے انسو صاف کیے… اور سر اٹھایا.. تو اپنے سامنے.. مراد کو پایا..
مراد اسے سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا….
اسکے انسو بھی دیکھ چکا تھا…
میں اپکا شیڈیول چیک کر کے… اپ کو اگاہ کرتی ہوں سر"اسنے مدھم اواز میں کہا.. جب گھر میں اسکی کوئ عزت نہیں تھی تو باہر والوں سے.. کیا.. اکڑ دیکھا کر ثابت کرتی.. تبھی اپنی انا.. اپنی سیلف ریسپیکٹ.. کو جوتے تلے رکھ کر اسنے کہا…
مراد اسکی جانب یوں ہی دیکھتا رہا.. جبکہ فیزا نے توجہ نہیں دی اور. نوت پیڈ اٹھا کر.. وہ.. اج کی ڈیٹ کا شیڈول دیکھنے لگی کہ اسے اچانک مراد کی کافی کا خیال ایا.. اور.. وہ مراد کو دیکھے بغیر… کافی لینے چلی گئ..
جبکہ مراد.. ماتھے پر بل ڈالے.. اپنے افس میں ا گیا..
اسنے اس لڑکی کو. ایسے نہیں پایا تھا جتنا وہ اج ٹوٹی بکھری سی لگ رہی تھی..
اخر کیا وجہ ہو سکتی ہے.. وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر سوچنے لگا…
دس منٹ میں فیزا.. اسکے سامنے کافی کپ رکھ رہی تھی..
سر.. اج رات.. ایک پارٹی ہے.. بیزنیس پارٹی اس کا اٹینڈ کرنا بہت ضروری ہے.. ہمدانی لیدرز کے ساتھ "اسنے کہا…
مراد نے.. فیزا کی جانب دیکھا..
اور اس پارٹی میں اپ میرے ساتھ چل رہی ہیں.." اسنے جان بوجھ کر ایسی بات کی کہ
وہ.. اپنی اصلیت پر اترے مگر فیزا نے انکھ اٹھا کر اسکی طرف نہیں دیکھا…
وہ اپنی عزت نفس مار کر یہاں ائ تھی..
بار بار آنکھیں بھر رہیں تھیں..
جی بہتر سر" اسنے کہا.. تو مراد جو پہلے ریلکس ہو کر بیٹھا تھا ایکدم سیدھا ہوا..
وٹ ہیپینڈمس فیزا" بلاخر اسنے پوچھا…
فیزا نےا سکی جانب دیکھا..
کچھ بھی نہیں. "اسکا دل کیا پھوٹ پھوٹ کر رو دے.. مگر اس انسان کے سامنے… کبھی نہیں.. وہ اچھا انسان نہیں تھا وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی تھی…
پھر اپ… غلبا یہ افس چھوڑ چکیں تھیں…
فیزا نے سرخ.. انسو بھری آنکھوں سے مراد کیطرف دیکھا..
نہیں میرا مطلب یہ نہیں کہ میں اپ پر ٹونٹ کر رہا ہوں کہ اپ دوبارہ یہاں ا گئ…
سر.. گیارہ بجے.. رضا گیلانی اپ سے ملنے آئیں گے… اسکے علاوہ اج کے دن اپکا کوئ اہم کام نہیں…. "اسنے بھیگی اواز میں کہا.. اور وہاں سے نکلنے لگی.. مراد.. نے اسکا ہاتھ تھام لیا…
فیزا نے حیرت سے مڑ کر دیکھا…
انکھ سےانسو اسی وقت ٹوٹ کر گالوں پر بکھر رہا تھا…
اپ ہر بار غلط کیوں سمھجتی ہیں.."
ہاتھ چھوڑیں سر میرا"فیزا نے کہا.. تو اسکے لہجے میں سختی تھی…
مراد نے اسکا ہاتھ چھوڑ دیا.. جبکہ فیزا بغیر کچھ کہے باہر نکل گئ..
مراد نے دانت بھینچے….
…………
وہ کلاس لے کر باہر نکلا… تو عینہ نے اسکی جانب دیکھا. وہ اسکیطرف نہیں دیکھ رہا تھا.. مسکرایا بھی نہیں تھا کیا ہوا تھا.. اسکی آنکھوں میں عجیب سی بات تھی…
عینہ کو شدید بے چینی سی ہوئ..
یہ کیسی بات تھی کہ… وہ… خوش نہیں تھا جبکہ وہ موجود تھی..
لوگوں کی نظروں سے بچ کر… وہ.. سٹاف رومز کی جانب چل دی.. چھٹی ہونے میں ابھی ایک گھنٹہ تھا…
شکر تھا.. اس طرف کوئ نہیں تھا… وہ داود کے روم میں. اگئ.
وہ روم میں نہیں تھا.. مگر وہ جانتی تھی وہ جلد یہیں ائے گا…
اور اسکا انتظار تمام ہوا. جب وہ دس منٹ میں روم میں داخل ہوا…
عینہ کو بیڈ پر دیکھ کر.. وہ چونکا نہیں… اسکے ساتھ جا کر بیٹھ گیا….
داود "عینہ نے.. اسکو پکارہ..
نکاح کرو گی… مجھ سے" وہ بولا عینہ کی آنکھیں پھیلیں جبکہ.. اسکا منہ بھی کھل گیا…
د.. داود.. کیسی بات کر رہیں ہیں… "وہ سمھجہ نہیں سکی…
نکاح کرو گی" اسنے پھر اسکی جانب دیکھا….
مرہم چاہتا تم سے…. نکاح کر لو مجھ سے.. مجبور ہوں میں تمھاری محبت میں.. " سرخ گیلی آنکھوں سے وہ مضطرب لگ رہا تھا….
جبکہ لہجے کی کڑک… بلکل مدعوم تھی…
داود میں… مجھے ڈر لگ رہا ہے" عینہ کو رونا ایا….
داود… چند لمہے اسکی طرف دیکھتا رہا.. نظریں عجیب تھیں… بہت ٹوٹی سی…
عینہ نے بے بسی سے اسکی جانب دیکھا…
جبکہ داود نے گھیرہ سانس لیا..
جاو" وہ اہستگی سے بولا…
داود"وہ رونے لگی…
جاو عینہ میں خود کو سمبھال لوں… پھر تم سے بات کروں گا.. "اسنے پیار سے کہا….
مگر اپ.. اپ ایسے کیوں ہو رہے ہیں.. مجھے.. مجھ سے بات کریں.. نکاح. میں.. ہم کیسے اپنے گھر والوں کو بتایے بغیر"
عینہ…. "داود نے.. اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام لیا…
میں تمھیں فورس نہیں کر رہا….
مگر میں اکیلا رہنا چاہتا ہوں…. جب میں ٹھیک ہو جاو گا تم سے ہی تو بات کرو گا.. "اسنے پیار سے اسکا گال تھپتھپایا….
عینہ اسکیطرف دیکھتی رہی.. اور کچھ دیر میں اٹھی جبکہ داود سر ہاتھوں میں تھامے بیٹھا تھا…
عینہ اس سے پہلے نکلتی… کہ اسکی نگاہ… داود کے کالر.. کے نیچے پڑی.. جہاں سرخ نشان تھا
یہ کیا ہوا داود" وہ ایک دم اسکے پاس جا کر بیٹھی..
عینہ… میں اس وقت بلکل ٹھیک کنڈیشن میں نہیں ہوں.. میں نہیں چاہتا تم پر چیخو.. پلیز جاو.. " اب کی بار وہ زرا سختی سے بولا…
عینہ.. کے انسو.. اسکے سر پر گیرتے رہے وہ یوں ہی سر جھکائے بیٹھا رہا…
جب. وہ کچھ نہیں بولا تو عینہ.. بھاگتی ہوی وہاں سے نکل گئ…
………………..
حویلی میں رات اتر ائ تھی…
سارگل نے… لون میں جیمپ لگائ.. اور…
اندر کی جانب چلنے لگا.. ادھی رات کا سما تھا.. حویلی کے مردان خانے میں یہ زنان خانے میں بھی کوئ نہیں تھا…
تبھی اسکے پیچھے… منیب کا بیٹا ا کھڑا ہوا…
اسنے اسکی جانب دیکھا..
سر یہ کمرہ ہے "اسنے بتایا.. تو سارگل نے سر ہلایا..
جاو تم" اسنے کہا.. تو وہ وہاں سے چلا گیا جبکہ سارگل کے ہاتھ میں ایک چابی بھی تھما گیا جو یقیناً اسی کمرے کی تھی…
اسنے.. گھیرہ سانس لیا.. اور… چہرے پر باندھا رومال کمرے میں داخل ہوتے ہی کھول دیا…
بیڈ پر کوئ وجود سکڑا سیمٹا لیٹا.. تھا.. جبکہ کمرے میں پوری روشنی تھی..
چونٹی میں دم ہے نہیں اور.. پنگا اس نے سارگل خان سے لیا ہے"اسنے کڑے تیوروں میں گھورا…
اور کمرے کی ساری لائٹیں بند کر دیں…
اب اسکے قدم رفتہ رفتہ بیڈ کی جانب بڑھ رہے تھے…
……………
اسے نیندوں میں محسوس ہوا.. کہ اسپر.. جیسے وزن سا ہو…
اسنے ہلنا چاہا مگر وہ ہل نہیں سکی..
اوپن یور ائز ڈالنگ"
مدھم اواز کانوں میں پڑی.. جبکہ اسے کسی کے نرم ہونٹ بھی کانوں پر محسوس ہوے.. وہ یہ اواز پہچانتی تھی.. ہزار آوازوں میں بھی پہچان سکتی تھی….
س. سارگل" اسنے ایکدم آنکھیں کھولیں….
کمرے میں اندھیرا تھا جبکہ.. اب اسے کسی کے ہنسنے کی اواز ائ.. وہ یہ ہنسی بھی خوب جانتی تھی… اور پھر اسے خود سے وہ وزن دور ہوتا محسوس ہوا…
اور ایک کلک کے ساتھ کمرے کی لائٹ چلی.. اور کمرے میں روشنی پھیل گئ….
اس سے پہلے وہ چیخ مار کر اٹھتی…. اسنے محسوس کیا اسکے ہاتھ پاوں بندھے ہوئے ہیں.. جبکہ وہ وائٹ رف سی شرٹ.. اوربلیک پینٹ میں.. بڑھی ہوئ بریڈز کے ساتھ… طنزیا مسکرا رہا تھا….
کھولیں مجھے"وہ خود کو چھڑانیں کی کوشش کرتی بولی….
کیوں… عزت لوٹی تھی میں نے تمھاری….
اور جو عزت لوٹتے ہیں… وہ کہاں بے چارے بے کسوں مظلوموں کی فرید سنتے ہیں…." اسنے شانے اچکائے…. اور اسکے وجود کی جانب دیکھا… جو دوپٹے کے بغیر تھا.. مشل اسکی آنکھوں کی حرکت سے ہی زمین میں گڑنے والی ہو رہی تھی…
چھوڑ دیں مجھے پلیز کیوں میرے پیچھے پڑ گئے ہیں" مشل کو اپنی بے بسی پر رونا ہی تو ایا…
آ آ…ابھی. رونا نہیں بیبی.. ساری رات پڑی ہے اچھے سے رولاوں گا…. ابھی رو کر… انسو ضایع مت کرو…" سارگل اسکے چہرے کی جانب دیکھنے لگا.. پنک لب… پتے کی مانند پھڑ پھڑا رہے تھے….
اسنے.. چند لمہے یہ منظر دیکھا.. اور پھر اچانک ہی وہ جھکا…..
اسکے عمل. میں شدت تھی.. مشل کا دم گھوٹنے لگا….
جبکہ سارگل اسکے معمولی سے احتجاج کی پرواہ کیے بغیر اپنی مرضی سے جو چاہتا تھا کرتا رہا.. اور جب وہ پیچھے ہٹا… تو..
نڈھال سی مشل کی صورت دیکھ کر ہنسا…
مجھے یقین ہے تم نے گھر میں ہمارے نکاح کے بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتایا رائٹ"اسکے چہرے پر جھکے ہی.. وہ نرم اواز میں بولا جبکہ انگلی نے اسکے چہرے کے ہر نقش کو چھوا تھا….
جلدی بتاو.." مشل کے چپ رہنے پر اسنے ماتھے پر بل ڈال کر پوچھا….
مشل نے بہتے انسو میں اثبات میں سر ہلایا..
ویلڈن… اور تم بتاو گی بھی نہیں.. اگر تم نے بتانے کی زرا بھی کوشش کی… تو.. تم مجھے جانتی نہیں…." وہ آنکھیں نکال کر اسکو وارن کرنے لگا….
مشل سہمی سہمی نظروں سے اسکی جانب دیکھتی رہی..
صرف تمھاری وجہ سے میرے ماں باپ مجھ سے خفا ہیں.. پوری حویلی میں میری عزت دو کڑی کی کر دی.. میرا باپ مجھے مار رہا تھا…. اور تم… تمھیں کیا لگتا ہے.. میں تمھیں اتنے سکون کی سانسیں بھرنے دوں گا مشل بیبی میری بات نہ مان کر اپنے پاوں پر کلہاڑی ماری ہے.. تم نے…. اچھا ہے میری عزت دو کڑی کی کی ہے نہ تم نے.. اب میں انھیں لوگوں میں تمھاری عزت بھی دو کڑی کی کر دوں گا…. جب… تم.. میرے بچے کی ماں بنو گی.. مگر جب سارگل خان حویلی ایا ہی نہیں تو یہ بچہ کس کا.. چیختی رہنا… پھر دیتی رہنا صفائیاں… "اسنے سفاکیت سے.. کہا…. اور… اسکے ہونک چہرے.. کیطرف دیکھا…
جبکہ اپنے وجود پر اسکے ہاتھ کی حرکت.. اسکی باتوں سے مشل کے لیے بے ضرر ہو گئ…
نہیں اپ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے…" مشل مدھم اواز میں بولی..
کیوں تمھارے عشق میں دیوانہ ہوں کیا.. "وہ ہنسا.. جبکہ مشل کی گردن میں پھنسے بال ہٹا کر… اسکا اگلا ڈارگٹ… یہ تھا.. مشل بقائدہ اواز سے رو رہی تھی..
میں میں سب کو بتا دوں گی.. کل ہی بتا دوں گی اپ… اپ کے ناپاک ارادے "وہ روتی ہوئ بولی…
اچھا.. بتا دینا "اسنے لاپرواہی سے کہا.. اور ایک پل کے لیے دور ہوا…
جبکہ مشل نے آنکھیں بھینچ لیں کاش وہ کبھی بھی یہ منظر نہ دیکھے…
سارگل کا کوئ عمل نہ پا کر اسنے انکھیوں کھول دیں تو اسے شرٹ لیس پایا.. اسکی شرٹ اسکے دوپٹے کے ساتھ زمین پر پڑی تھی…
سارگل پلیز پلیز ایسے مت کریں میرے ساتھ… میں سب کو ہمارے نکاح کے بارے میں بتا دوں گی پھر سب ٹھیک ہو جائے گا…"وہ بولی جبکہ سارگل
.. کوئ رد عمل دیے بغییر.. اپنی من مانیاں کرنے لگا….
مشل کی جان پر بن ائ تھی….
اسنے ایسانہیں سوچا تھا ایک جاں پناہ ملی تھی اس میں بھی.. اسکے ہی شوہر کا یہ عمل اسے کس حد تک رسوا کر سکتا ہے.. وہ یہ سمھجہ نہیں رہا تھا..
مدہوش تھا وہ
…. سارگل… "مشل بری طرح رونے لگی..
جی جان سارگل… بھول جائیں یہ بات کہ.. سارگل خان شادی نہیں کرے گا… شادی بھی کرے گا.. اور من پسند بیوی بھی لائے گا.." وہ
اسکے کانوں میں زہر انڈیلنے لگا..
م… میں کون ہوں پھر… "وہ بولی تو سارگل ہنسا….
میرا فیورٹ کھلونا" اسنے کہا… اور مشل کے انسو.. کی پرواہ کیا بغیر وہ اسپر اچانک ہی شدت سے حاوی ہو گیا.. کہ وہ دم بھی نہ مار سکی…
صبح اسکی انکھ کھلی تو.. اج کہانی کا رخ زرا مختلف تھا….
اج سارگل جاگ رہا تھا.. وہ صوفے پر بیٹھا تھا جبکہ سر… اسنے صوفے کی پشت سے ٹکایا ہوا تھا…
مشل اپنی جگہ سے اٹھی…
اسے عجیب سا لگا….
اج سے تین چار دن پہلے جب وہ شخص اسکے قریب ایا تھا.. تو اگلی صبح اسکے لیے تکلیف دہ تھی.. مگر گزری رات نے اسپر ایسا کوئ تاثر نہیں چھوڑا جس سے اسے تکلیف ہو….
وہ حیران سی ہوئ کہ اسے سارگل کو اپنے سامنے دیکھ کر کیوں اچھا لگ رہا تھا….
اسنے آنکھیں جھکا دی شرم سی ائ.. جھجک محسوس ہوئ… مگر اسکے ارادے جیسے ہی یاد ائے.. اسے کافی برا لگا..
کتنا اچھا ہو.. کہ اپ بس میرے ہو کر رہیں… "اسنے سارگل کی بند آنکھوں کی جانب دیکھتے ہوئے سوچا….
مگر وہ شادی کرے گا وہ کہہ چکا تھا….
اسکا دل جو کسی کلی کی مانند کھلا تھا مرجھا گیا….
سارگل کو شاید خود پر نظروں کی تپش محسوس ہو چکی تھی تبھی اسنے سر اٹھا کرانکھیں کھولیں..
کیا دیکھ رہی ہو.." اسنے اچانک ہی سختی سے سوال کیا….
مشل نے نفی میں سر ہلایا.. اور اٹھ کر واشروم میں بند ہوگئ…
سارگل کو تپ ہی چڑھی..
یہ لڑکی جو.. کچھ نہیں وہ گھر والوں کے نزدیک کتنی ولیو رکھتی تھی کہ… اس گھر میں ازادی سے رہ رہی تھی جبکہ وہ.. جو اس گھر کا بیٹا ہے.. وہ چوروں کیطرح چھپا ہوا تھا…
اسنے غصے سے دروازے کی جانب دیکھا… جہاں سے دس منٹ میں مشل فریش ہو کر نکلی تھی..
وہ نکھری نکھری.. صاف ستھرے کپڑوں میں بہت پیاری لگ رہی تھی مگر سارگل کو اس وقت ایک انکھ بھی نہ بھائ…
تمھاری وجہ سے میں اپنے گھر والوں سے چھپا بیٹھا ہوں اور تم کتنے مزے میں ہو براووو… "وہ چیڑ کر بولا…
تو اپ.. بتا دیں اپ یہاں ہیں… اگر اپ نہیں بتا رہے.. میں بتا دیتی ہوں" مشل کو اسکا چھپنا سمھجہ نہیں ایا.. تبھی باہر نکلنے لگی کہ سارگل نے جھپٹ کر اسکو اپنی جانب کھیینچا..
اے بیوقوف اتما….
میرا باپ مجھے مار دینا چاہتا ہے اور تم.. جا کر سب کو یہ بتاو گی کہ جس کی تمھیں تلاش ہے وہ شہکار تو میرے کمرے میں ہے فولش" وہ مزید چڑ گیا…
مشل دن دھاڑے اسکی اتنی قربت میں.. سمٹ سی گئ اور دور ہو گئ..
میری اماں کہتی تھیں چوری نہیں کرتے" مشل نے کچھ جھجھکتے ہوئے کہا…
تو میں نے کیا چرایا ہے تمھارا"سارگل نے.. انکھ اٹھا کر اسکی جانب دیکھا..
وہ اپ یہاں چوری سے بیٹھے ہیں" اسنے… جیسے اطلاع دی.. سارگل کا دل کیا.. تالیاں بجایے..
واہ کیا دماغ پایا.. تھا..
بیٹے یہ میرا گھر ہے.." اسنے کچھ اکڑ کر کہا..
مشل نے منہ بنایا…
میں اپکی بیٹی نہیں ہوں"
واہ مطلب کی بات میں بس عقل استعمال کی یے ویسے اتنی دیر سے میرا بھیجا کہا رہی ہو" وہ گھور کر بولا… تو مشل خاموش ہو گئ…
ناشتہ نہیں کیا میں نے.. مما کو نہیں دیکھا… واٹ ربش…." اسنے جھنجھلا کر.. سر.. دونوں ہاتھوں میں گیرا لیا…
مشل نے دیکھا.. وہ اکیلا رہنے والا انسان نہیں تھا…. لوگوں کے درمیان خوش رہتا تھا…
مگر اسنے غلط کیا تھا..
اچھا ہو رہا ہے پھر اسکے ساتھ.." اسنے دل میں سوچا… زبان سے کہتی تو.. ضرور وہ شوٹ کر دیتا…
میں انٹی کو بلا لاتی ہوں اپ کیوں چھپ رہیں ہیں سب سے…. میں ان سے بات کرتیں ہوں…. وہ…"
مشل چپ سی ہو گئ.. اسنے گھورا ہی ایسے تھا…
میں.. میں پاگل ہوں.. میں پاگل تھا… "وہ ضبط سے بولا….
مشل کو خاک بھی سمھجہ نہ ائ..
ایسے نہیں کہتے خود کو "وہ سر جھکائے مدھم اواز میں بولی…
تیری" ایکدم وہ.. اسپر جھپٹتا.. مشل.. دوڑ کر اس سے دور ہوئ..
اب یہ زبان چلی تو نکال دوں گا باہر… سمھجی…" وہ چلایا… مشل کا دل زوروں سے کانوں میں بجنے لگا..
وہ بلکل اچھا نہیں تھا.. یہ بات طے تھی…
مما کو بلا کر لاو… انکے بغیر نہیں رہ سکتا میں… "اسنے کہا.. تو مشل نے سر. ہلایا….
اور ابھی وہ جاتی کہ سارگل کے پھر سے پکارنے پر رک گئ…
اب پورے گھر والوں میں ڈھنڈورا مت پیٹنا صرف مما کو اپنے روم میں بلاو.. بس.. اس سے زیادہ ایک لفظ بھی ایکسڑا مت کہنا.." اسنے سختی سے وارن… کیا…
مشل نے سر ہلایا اور باہر نکل گئ…
یہ ضرورت سے زیادہ ہی.. چھوٹی ہے…
یہ کم عقل" اسنے ایک لمہے کو سوچا… اور خود کو.. لعنت ملامت کی….
تقریبا… ادھے گھنٹے بعد وہ کمرے میں ائ تو اکیلی تھی جبکہ سارگل مما کو دیکھنے کے لیے اپنی جگہ سے اٹھا تو اسے اکیلی کو دیکھ کر.. اسنے ماتھے پر بل چڑھائے…
وہ.. انٹی… روم سے باہر نہیں آئیں تھیں شاید… تو وہ مجھے ملی نہیں… "اسنے شرمندگی سے کہا..
تو منیب کو کہنا تھا نہ" وہ چلایا…
م.. منیب کون ہے"اسنے.. پوچھا تو.. سارگل کا دل کیا اپنے بال نوچ لے..
یہ… یہ اچھا طریقہ تھا… مجھ سے بدلہ لینے کا" اسنے… چیڑ کر کہا.. اور کمرے سے باہر نکل گیا…. جبکہ مشل پیچھے.. منہ بنانے لگی… تبھی وہاں حور ا گئ.. جس کو دیکھ کر مشل مسکرائ…
اج تو میری بیٹی خوش دکھ رہی ہے" اسنے.. کہا.. اور مشل کے سر پر پیار کیا….
مشل کچھ شرما سی گئ…
انٹی.. یہ منیب کون ہے"اسنے پوچھا تو.. حور نے اسکی جانب دیکھا.
وہ بہرام بھائ کا ملازم ہے جس کو کام ہوتا ہے وہ پہلے منیب کو ہی کہتا ہے.. خیر.
مشل ایک بات کہو.. اگر تمھیں برا لگے تو بے شک.. تم میرے منہ پر کہہ دینا… "حور نے.. کہا تو.. مشل چونک کر اسکی جانب دیکھنے لگی…
اگر تمھیں برا نہ لگے تو… تو کیا تم مجھے.. میرا مطلب.. میں.. میری کوئ اولاد نہیں….
حیدر کو کبھی میں نے یہ خوشی نہیں دی…
میں نے… اتنے لوگوں کی راہ میں بیج بوے.. کہ اج… میری اپنی زمین بنجر.. رہ گئ….
ک.. کیا تم… مجھے… ایک ماں کی حثیت.. سے قبول کرو گی.. اگر تم مجھے انٹی نہیں مما کہو.. اور حیدر کو بابا.. دیکھو اگر تمھیں برا لگے تو میں تمھیں فورس نہیں کروں گی…. "وہ کہہ کر چپ ہو گئ جبکہ مشل کی آنکھوں میں انسو تیر گئے…
میں اپنی ماں کو تو نہیں بھول سکتی.." اسنے معصومیت سے کہا.. تو حور… مدھم سا مسکرائ.. عزیت سے بھرپور مسکراہٹ تھی..
کل سے وہ ھیدر سے اسی موضوع پر بات کر رہی تھی کہ.. وہ اور ھیدر مشل کو اڈوپٹ کر لیں جبکہ حیدر اسے اسکی بیوقوفی سمھجہ رہا تھا….
اور اس وقت اسے محسوس ہو گیا کہ یہ اسکی بیوقوفی ہی تھی..
وہ مشل کے سر پر ہاتھ رکھ کر اٹھی…
وقت سے پہلے ہی وہ کافی بوڑھی دیکھنے لگی تھی…
جیسا تم چاہو"اسنے کہا اور اس سے پہلے وہ باہر نکلتی…
کہ مشل نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا…
مگر میں نے باپ کی شفقت کبھی محسوس نہیں کی.." اسنے کہا.. تو حور… مسکرا دی….
تشکر سے اسکی آنکھوں سے لاتعداد انسو گیر گئے..
بس اب فکر مت کرنا.. تمھارے ماں باپ موجود ہیں یہاں.. سارگل کو اسکے انجام تک پہنچایا جایے گا.." اسکی پیشانی چوم کر اسنے کہا.. تو مشل… مسکرا نہ سکی…
……………………..
تم… تم یہاں کیا کر رہے ہو" سارگل کو ارمیش کے گلے لگے دیکھ.. بہرام دور سے ہی چیخا تھا….
عینہ جو مشل سے مل کر یونی جاتی… باپ کی دھاڑ پر.. وہ کمرے میں داخل ہوئ تو.. ماں کو اپنے بھائ کے سینے سے لگے روتے ہوئے پایا..
ڈیڈ" سارگل سے پہلے کچھ کہتا… کہ بہرام نے اسے ارمیش سے جدا کیا..
باہر نکلو باہر نکلو یہاں سے…" اسنے.. اسے دور دھکیلا…
جب تک ان آنکھوں میں.. ندامت نہیں ہو گی میرے سامنے بھی مت انا…. "اسنے انگلی اٹھا کر کہا….
تو سارگل خاموش رہا…
جبکہ ارمیش نے بہرام کا بازو تھامہ..
اسے کچھ بولنے تو دیں "ارمیش کے کہنے کی دیر تھی.. بہرام.. نے اسے سخت نظروں سے دیکھا..
دیکھو اسے کیسے تن کر کھڑا ہے….
اور کیا کہے گا یہ.. نفس کا مارا ہوا.. انسان"بہرام نے ناگواریت سے کہا…
تو.. سارگل نے.. ضبط سے باپ کیطرف دیکھا.. مگر اسکی اتنی مجال نہیں تھی کہ وہ.. بہرام کے سامنے بول کر اس سے بدتمیزی کرتا….
جو وہ پہلے بدتمیزی کر چکا تھا.. یہ اسی کا اثر تھا.. کہ وہ… اتنا کڑوا ہو رہا تھا…
ڈیڈ… وہ… "
چپ ہو جاو سارگل…. مزید ایک بھی لفظ نہیں….
میں نہیں چاہتا.. وہ بچی تمھاری شکل دیکھ کر خود عزیتی کا شکار ہو.. تو نکل جاو یہاں سے" اسنے صاف لفظوں میں کہا.. ارمیش کا دم خشک ہو گیا….
یہ غلط ہے…. بہرام ایسا مت کریں بیٹا ہے ہمارا…. میں سمھجاو گی وہ مشل سے شادی کرے گا ہر حال میں کرے گا اس معصوم کا تو کوئ قصور بھی نہیں.. اگر.. اپ نے سارگل کو نکال دیا تو مشل کو کون قبول کرے.. گا….
پلیز بہرام ایسامت کریں "ارمیش نے.. اسکی منت کی.. سارگل سر جھکائے کھڑا تھا..
مشل پر رج رج کے غصہ ایا.. نہ وہ لڑکی اسکے پاس اتی.. نہ یہ فساد شروع ہوتا… بہرام نے کوئ جواب دیے بغہر عینہ کیطرف دیکھا.. جو اپنے گالوں پر لڑھکنے والوں انسو کو.. رگڑ رگڑ کر صاف کر رہی تھی..
چڑیا تم کیوں رو رہی ہو… "بہرام اسکے نزدیک ایا…
ڈیڈ.. اپ لالا کو.. مت جانے دیں وہ برے نہیں ہیں" عینہ کی بات پر سارگل نے اسکی جانب دیکھا…
شرمندگی سی تھی.. اسکی اس بات پر…
بہرام نے گھور کر سارگل کو دیکھا..
اپنی شکل اپنے کمرے میں دفع کر لو.. مگر رعایت تمھیں کوئ نہیں ہے…. شادی تمھیں ہر صورت کرنی ہے مشل سے" بہرام نے کہا.. تو.. سارگل کمرے سے نکل گیا….
شادی تو وہ کسی صورت نہیں کرنے والا تھا.. مگر شاید وہ بھول چکا تھا…
بہرام کیا.. ہے..
………………..
کل سے عینہ اسے میسیجیز کیے جا رہی تھی… جبکہ وہ..
ہم ہاں کام کی کوئ بات ہے…
اس سے زیادہ جواب نہیں دے رہا تھا.. اوراج اسکا انگلش کا ٹیسٹ تھا..
جبکہ اسنے ایک لفظ نہیں پڑھا تھا صرف داود کی وجہ سے.. اسکے پاس سے دماغ ہی نہ ہلا تو.. وہ پڑھتی کیا…
پیپر وہ ڈسٹریبیوٹ کر چکا تھا جبکہ چہرے پر حد سے زیادہ ہی سنجیدگی تھی…
اور.. بلکل وائٹ قمیض شلوار میں وہ ہر لڑکی کی نگاہ کا مرکز تھا…
جبکہ عینہ.. نے اب تک.. پین بھی نہیں کھولا.. تھا…
وہ مسلسل داود کو دیکھے جا رہی تھی…
داود کی بھی ایک دو بار نظر اسپر گئ…
اور جب ڈیڈ گھنٹہ گزرنے کے بعد بھی اسنے ایک لفظ بھی نہیں پڑھا تو داود.. اسکے پاس پہنچ گیا…
وٹ ہیپینڈ مس.. عینہ اپ لکھ نہیں رہیں "اسنے پرفیشنلی پوچھا.. عینہ بلکل لاسٹ میں بیٹھی تھی تبھی کسی کی بھی نگاہ.. انپر پیچھے نہیں موڑی اور جو موڑتا.. داود اسے بری طرح گھوراتا..
کام کریں اپ سب اپنا" اسکے یہ الفاظ سب کو سیدھا کر گئے..
داود.. اپ مجھ سے بات کیوں نہیں کر رہے"عینہ نے اسکا ہاتھ تھامنا چاہا مگر داود نے دور کر لیا..
عینہ کو چبھ سی گئ یہ بات…
مس عینہ پرسنلز باہر رکھیں فلحال ٹیسٹ پر توجہ دیں "اسنے سرد لہجے میں کہا.. اور گزر گیا..
جبکہ عینہ نے.. غصے سے پین پھینکا… اور.. پیپر اٹھا کرا سکے سامنے دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا.. اسے نہیں پتا تھا اس وقت اسے کیا ہو گیا تھا
سب سمیت داود بھی حونک تھا… جبکہ عینہ کی سرخ بے چین آنکھیں اسکے دل میں ڈوب سی گئیں..
یہ کیا حرکت ہے" وہ زرا غصے سے بولا.. جبکہ عینہ نے بغیر جواب دیے.. ہاتھ کی پشت سے.. انسو صاف کیے.. بالوں کو کانوں کے پیچھے اڑیسا.. اور سامان اٹھا کر باہر نکل گئ…..
ساری کلاس حونک تھی.. داود کو شدت سے اپنی بےعزتی محسوس ہوئ..
کام کریں سب اپنا" اسنے.. غصے سے.. عینہ کا پیپر اٹھا کر سب کے سامنے اسپر فیل لکھا.. اور دوبارہ اپنی ڈیوٹی کرنے لگا…
………………….
اسے بہت رونا. ارہا تھا دل کر رہا تھا اس پورے گراونڈ کو اگ لگا دے اسے ایسا غصہ کبھی نہیں ایا تھا….
وہ نہیں جانتی تھی اچانک اسے کیا ہو گیا… اسنے غصے سے بوتل دور اچھال دی…
کیسی ہو عینی"یہ افنان تھا مگر وہ یہاں کیسے ایا..
وہ جھٹکا کہا کر پلٹی…
مگر اسکو مسکراتا دیکھ کر اور پھر پیچھے دیوار کو دیکھ کر.. اسنے.. بس فرمیلٹی نبھائ…
ہم اچھی ہوں" اسنے اتنا کہا..
اچھی نہیں بے حد خوبصورت.. ٹیسٹ کیسا ہوا.. "افنان نے تعریف کرتے ساتھ پوچھا..
میں نے نہیں دیا"عینہ نے صاف جواب دیا..
اچھا.. میں نے بھی" وہ ہنسا….
جانتی ہو کیوں.. کیونکہ مجھے شدید غصہ تھا..
ویلکم پارٹی کینسل کر کے بےکار سے پیپر شروع کر دیے" اسنے منہ بنا کر کہا..
میرے ساتھ ایسامسلہ نہیں….
مجھے اتا نہیں تھا" اسنے کہا تو افنان ہنس دیا..
تمھاری خوبصورتی تمھیں… تمھارے نکمے ہونے کے بعد بھی نمایاں کرتی ہے… "افنان نے.. اسکے ہاتھ پر.. ہاتھ پھیرہ..
ملائم سفید ہاتھ… بے حد خوبصورت تھا..
عینہ نے تپ کر اسکیطرف دیکھا..
وہ جانتی تھی وہ فلرٹ ہے.. مگر اسنے کبھی عینہ کے ساتھ ایسانہیں کیا تھا…
دور رہو" عینہ نے کہا.. اور وہاں سے اٹھتی کے افنان نے.. اسکو.. جکڑ لیا..
یہ سب اچانک ہوا تھا.. افنان پر چھایا شیطان.. عینہ کا دم خشک کر گیا..
انتھا کی حسین لگ رہی.. ہو" اس سے پہلے وہ اپنے ناپاک چہرے کو.. اسکے چہرے سے.. ٹکراتا..
زوردار مکہ اسکی ناک پر پڑا.. "
کہ اسکی ناک سے خون نکل ایا..
اور اسکے بعد.. بس عینہ نے.. داود کو.. اس پر حملہ کرتے دیکھا تھا..
ہاتھوں سے جوتے سے… مکووں سے اسنے اسکا… قیمہ ضرور بنا دیا تھا….
داود داود رک جائیں" عینہ کو جب اسکا جنون کم ہوتا نہیں دیکھا تو… وہ اسکا ہاتھ پکڑنے لگی..
ہٹ جاو پیچھے" وہ دھاڑا…
اور.. افنان کے ہاتھ موڑ دیے..
اسکے اندر.. جیسے جانور کی روح سما گئ.. تھی.. کہ عینہ کو بمشکل ہی سہی… دوسروں کو ہیلپ کے لیے بلوانا پڑا..
اور یہ شاید.. اسکی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی…
پرفیسر پرنسپل… دوڑتے ہوئے داود تک پہنچے.. عینہ بری طرح رو رہی تھی…
مگر داود کسی کے قابو میں نہیں. ارہا تھا . وہ مسلسل اسے گالیاں دیے جا رہا تھا جبکہ افنان میں دم خم سب ختم ہو گیا تھا…
………………..
حالانکہ وہ پرفیسر تھا.. بچہ نہیں… مگر پھر بھی معاز کو بلایا گیا.. تبھی وہ قابو میں ایا…
جبکہ عینہ ایکطرف کھڑی تھر تھر کانپتی رہی داود کا بس نہیں چلا عینہ کے بھی دو چار لگا دے..
کس نے کہا تھا پورا کالج جمع کرے…
پرنسپل کی بات معاز ضبط سے سن رہا تھا.. جبکہ عابیر عینہ کو دیکھ رہی تھی بہت غور سے…
اور تبھی وہاں…. ایکدم دھڑ سے دروازہ کھلا.. اور بہرام تڑپ کر اندر داخل ہوا.. اسنے کچھ نہیں دیکھا. سواے.. اپنی عینہ کے…
جبکہ عینہ باپ کو دیکھ کر.. اسکے وجود
میں سما گئ…
ڈیڈ"وہ بری طرح رو رہی تھی.. جبکہ پرنسپل.. صاحب سب سے پہلے اٹھے.. یہاں پر بہرام کم ہی اتا تھا…
مگر سب اس سے واقف تھے
.. چڑیا بس چپ… اب نہیں رونا" بہرام اسکے سر پر ہاتھ پھیرتا رہا..
معاز اور عابیر بھی فق کھڑے تھے…..
جبکہ داود کا بھی منہ کھل گیا.. اسکے فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی.. عینہ اتنے بڑے پولیٹیشن کی بیٹی ہے..
پرنسپل کہاں ہے وہ لڑکا" اسکی دھاڑ.. کمرے میں گونجی اور وہ ایڑیوں کے بل پلٹا تھا..
اور اپنے سامنے عابیر کو دیکھ کر.. جیسے وہیں رک گیا…..
وہ حیرانگی سے دیکھ رہا تھا.. جبکہ عابیر سمیت معاز بھی اسکیطرف دیکھ رہا تھا….
س.. سر.. وہ افنان.. کے فادر کو بلایا ہے.. ہم نے.. وہ کافی انجرڈ تھا.. تو اسے.. ریسکیو کیا گیا ہے..
یہ سر داود کے پرینٹس ہیں….
اور یہ ہمارے پروفیسر مسٹر داود احمد…
بہت قابل انسان ہیں اور عینہ کو بچایا بھی انھوں نے ہے… "پرنسپل جلدی جلدی بولنے لگا….
بہرام کو چند منٹ لگے.. اسنے پلٹ کر داود کیطرف دیکھا. جو سنجیدہ.. کھڑا تھا..
یہ دوسرا جھٹکا تھا..
اسے لگا. وہ اپنا عکس دیکھ رہا ہو….
اسنے دوبارہ.. عابیر کی جانب دیکھا. اور طنزیہ مسکرایا…
افنان.. کے فادر کو. حویلی بھیج دینا افنان سمیت…
اسنے کہا. اور کسی کو کچھ بھی کہے بغیر وہ عینہ کو تھام کر وہاں سے نکل گیا…
جبکہ. عینہ نے مڑ کر داود کو دیکھا تھا…
ڈیڈ میں شادی کرنا چاہتا ہوں "معاویہ نے اسکی جانب دیکھا…
اسکے چہرے کی سنجیدگی اور بات سن کر اسے ایکدم ہنسی ا گئ جبکہ مراد نے اپنا سر تھام لیا.. اسکے والد صاحب کبھی سنجیدہ نہیں ہو سکتے تھے..
بیٹے کون پھنسا تمھارے جال میں" معاویہ نے فائل ایکطرف رکھ کر پوچھا….
پھنسنے کی بات تو نہیں کی.. بس میں. شادی کرنا چاہتا ہوں.." اسنے پھر سے کہا تو معاویہ نے سر ہلایا.. جبکہ انوشے.. نے اگے بڑھ کر خوشی سے اسکا ماتھا چوما تو وہ بھی مسکرا دیا…
اوکے تو انجلین کو ڈن کرو"معاویہ نے… بھی مسکرا کر کہا مگر مراد سر نفی میں ہلا گیا..
نہیں انجلین نہیں "اسنے.. صاف جواب دیا….
میری سیکڑی ہے….
فیزا…. "اسنے بتایا تو دونوں اسکی شکل دیکھنے لگے….
میرے خیال سے ایسی لڑکیاں گھر نہیں بسا سکتیں" معاویہ کو کچھ ناگوار گزری..
اپ سمھجے نہیں ڈیڈ
شادی میں کرنا چاہتا ہوں وہ نہیں…" اسنے تفصیل دی.. تو.. معاویہ.. خاموش ہو گیا..
مجھے تمھارے لیے انجلین اچھی لگی تھی تمھاری اسکے ساتھ کافی انڈرسڈینڈیگ بھی ہے وہ تمھارے مجاز سے بھی واقف ہے.. تو مجھے لگا.. تم اسکے لیے فیصلہ کرو گے"
نہیں.. وہ میری صرف دوست ہے.. پسند اپ لوگوں کی ہے"مراد نے تصیحی کی تو معاویہ نے سر ہلایا.. انوشے خاموشی سے دونوں کو دیکھ رہی تھی…
ٹھیک ہے.. بھلہ کیا زبردستی کروں میں تم پر پہلے ہی.. تم اور شادی بیڈ سا کمبینیشن ہے… اگے بس اس لڑکی کے لیے دعا گو ہوں "اسنے سنجیدگی سے کہ کر افسوس کا اظہار کیا جبکہ مراد.. اور انوشے اسے گھورنے لگے…
کیا ہو رہا ہے" ایشا بھی وہیں ا گئ…
تمھارے بھائ کو گھوڑی چڑھا رہے ہیں "معاویہ نے جیسے ہی اطلاع دی.. ایشا تو اپنی جگہ اچھل ہی پڑی..
سچ کہہ رہے ہیں.. لالا اور شادی… کچھ عجیب نہیں لگتا ڈیڈ اپ کو "ایشا نے بھی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے چھیڑہ.. تو
معاویہ زور سے ہنسا…. جبکہ انوشے نے.. ایشا کو ایک چپت لگائ…
مراد کچھ دیر وہاں بیٹھا رہا.. اور پھر وہاں سے اٹھ گیا…
وہ نہیں جانتا تھا.اسنے ایسا کیوں کہا… مگر….
اس لڑکی کی آنکھوں میں درد.. اسے.. اچھا نہ لگا….
پھر دل نے اسے اپنے قریب.. چاہنے کی ضد سی لگا لی….
……………
تو یہ ہے عینہ" معاز نے تالیاں بجائیں… عابیر کا تو جیسے دل و دماغ ہی سن ہو گیا تھا….
اسکی حسات ہی… جواب دے گئیں تھیں.. طنز بھرا انداز… وہ داود کو دیکھنے لگی..
اس میں ایسے عمل کی کیا بات ہے.. ہاں وہ ہے عینہ میری محبت ہے.. اور صرف میری ہے" داود… نے صاف لفظوں میں کہا تو.. معاز نے سر ہلایا.. اور اسکے نزدیک ا گیا…
تو بیٹے سن لو…..
تم مر بھی گئے نہ تب بھی.. اس ادمی کے پاس.. تمھارا رشتہ لے کر تو کبھی نہیں جاو گا.." سفاکیت سے کہتا… وہ جیسے داود کو حیران کر گیا.
اسکے اندر جیسے ایک اگ جھلس رہی تھی داود اور بہرام کو.. دیکھ کر.. وہ دونوں… جیسے دن رات تھے…
داود دن تھا… جو… ابھر رہا تھا… اور نقشہ بلکل ویسا ہی کھینچا تھا….
وہی خواہش وہی کریر…. وہ سٹائل.. وہی جنون…..
جبکہ بہرام رات کی مانند ڈھلا ضرور تھا… مگر اس رات میں.. دن کی جیسی کشش… تھی…. جو کسی کو بھی اس عمر میں اپنی جانب کھینچ لے… اور جہاں تک معاز کی بات کی جائے تو وہ حالات اور گھر کو بھرتے بھرتے.. بوڑھا دیکھتا تھا….
مسلہ کیا ہے اپکے ساتھ صرف یہ بتا دیں مجھے اگر تو مسلہ فیزا ہے تو "اسنے ارد گرد دیکھا.. اور… ایک کمرے کی جانب بڑھ گیا… جہاں روشی اور فضا اج ایک اور محاز سے خوفذدہ تھیں…
داود دندناتا ہوا اندر داخل ہوا…. اور فیزا کا ہاتھ تھام کر اسے.. کھینچتا ہوا باہر لے ایا.. فیزا کو شدید رونا ایا….
اپنی بےعزتی سے وہ زمین میں گڑھے جا رہی تھی.. اج شدت سے اپنے ماں باپ کی یاد ائ تھی..
بتاو فیزا تم مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہو"اسنے سنجیدگی سے پوچھا.. معاز بھی فیزا کی جانب دیکھ رہا تھا…
فیزا کے انسو گالوں پر لڑھکے…
وہ سمھجہ نہ سکی وہ چراہے پر کیا جواب دے جہاں اسے گھسیٹ کر لایا گیا تھا…
عابیر نے.. دونوں باپ بیٹوں کے بیچ فیزا کو دیکھا… اور بس گویا پہلے والا غصہ.. جو اسکی شخصیت کا خاصا تھا.. عود کر ایا…
بس بہت ہو چکی ہے َ"وہ دور سے چلائ…
اور ایک لمہے میں فیزا کے قریب پہنچ گئ.. داود نے حیرت سے ماں کی جانب دیکھا….
بہت کر لیا تم نے تماشہ….. اور بہت دیکھ لیا ہم نے…
اپکو ایک بات سمھجہ نہیں اتی نہیں ہو سکتی اپ کی اس لڑکی سے شادی تو نہیں ہو سکتی.. اور یاد رکھیے گا. فیزا کی بھی کوئ سیلف ریسپیکٹ ہے جیسے اپ دونوں روز کچوکے لگاتے ہیں… سمھجے صرف اپنی انا.. اپنی بات کی ضد بار بار بار بار اسے… گھسیٹا جاتا ہے…
نہیں سمھج اتی تمھیں معاز وہ کہہ چکی یے وہ تمھارے بیٹے سے شادی نہیں کرنا چاہتی…
تمھارا بیٹا اس سے شادی نہیں کرنا چاہتا… تمھاری.. وہی ضد… وہی ضد….
ایک بات ایک رٹ….
میں یہ بات کہہ رہی ہوں.. کہ فیزا.. اپنی مرضی سے شادی کرے گی اور جو اس فیصلے کے خلاف گیا.. تو…. اس گھر سے چلا جائے….
اور اپ….. بھول جائیں کہ میں….. اپکی شادی وہاں.. کرانے کے لیے راضی ہوں گی..
کوئ بھی مگر عینہ بہرام کبھی نہیں.. "اسنے انگلی اٹھا کر سختی سے وارن کیا.. جبکہ داود بس اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا…
معاز نے عابیر کے شانے پر ہاتھ رکھا…. عابیر کی آنکھیں بھیگ سی گئیں یہ پہلی بار تھا جو اسنے داود سے سختی سے بات کی تھی اور اج داود کچھ بولنے قابل نہیں رہا تھا….
………………..
ڈ…. ڈیڈ"اسنے جھجھکتے ہوئے بہرام کیطرف دیکھا.. جو لیپٹاپ پر کچھ لکھنے میں مصروف تھا… اور اسکے پکارنے پر اسکی جانب ایک نظر دیکھا.. اور پھر لیپ ٹاپ سائیڈ پر کر دیا..
اسنے افنان کو کالج سے نکلوا دیا تھا.. بلکہ وہ مزید چار پانچ سال اب کسی بھی طرح اپنی پڑھائ جاری نہیں کر سکتا تھا..
جبکہ سارگل کو جب یہ بات پتہ چلی تو اسنے… افان کو اچھا خاصا پیٹا جبکہ.. بہرام خاموشی سے دیکھتا رہا….
عینہ اب رات گئے اسکے پاس ائ تھی.. ارمیش بھی بہرام کے کپڑے سمیٹ رہی تھی جبکہ توجہ ساری عینہ پر تھی…
ہاں بولو"بہرام نے مسکرا کر… اسکے گل پر ہاتھ
رکھا…
ڈیڈ وہ میں" عینہ کو سمھجہ نہیں ایا وہ اپنے باپ سے کیسے.. داود کے متعلق بات کرے جبکہ اسکے ہچکچانے پر بہرام کے ماتھے پرتیوری چڑھے
چندا
مجھ سے بات کرتے ہوئے کبھی ہچکچائ ہو"اسنے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو عینہ نے نم آنکھوں سے نفی کی…
ڈیڈ… وہ داود
وہ داود میں…. داودداود.ہم.. ہم
ڈیڈ ہم" اسنے حلق سے آنسوں کی گٹھلی نیچے اتاری… بہرام نے.. سنجیدگی سے اسکی طرف دیکھا….
پسند کرتی ہو… "بہرام نے صاف لفظوں میں پوچھا….
عینہ کو شدید شرمندگی ہوئ… ایک لڑکی کبھی بھی اپنے باپ کے سامنے…. کھلکھلا کراظہار کر ہی نہیں سکتی شاید… عینہ نے سر جھکا لیا جبکہ….
اسکے آنسوں بہرام کے ہاتھوں پر گیر رہے تھے ارمیش کپڑے چھوڑے حیرت سے یہ منظر دیکھ رہی تھی….
وہ جانتی تھی عینہ بچپن سے ہی اپنے باپ کے قریب تھی….
کیا کرتا ہے"بہرام نے پوچھا.. چہرے پر زرا بھی لچک نہیں تھی جبکہ عینہ کا دل سہم رہا تھا….
پرفیسر ہی… ہیں کالج میں"
اسنے مدھم اواز میں کہا…
وہ کالج جو تمھارے باپ کی چیرٹی سے چلتا ہے… "بہرام کے لہجے میں سختی نہیں تھی.. مگر اسکے لفظ عینہ نے انکھ اٹھا کر اسکی جانب دیکھا…
اسکے ہاتھ بری طرح کانپ رہے تھے..
بہرام "ارمیش نے ٹوکا… تو بہرام….
نے اسکی جانب دیکھا…..
بیٹی ہے اپکی اور شاید اپ سے بہتر کوئ نہیں جانتا.. کس حد تک خوف زدہ ہو جاتی ہے" ارمیش نے جیسے اسے بتانا ضروری سمھجا… جبکہ عینہ ہچکیوں کے ساتھ رو دی….
ارمیش اسکے نزدیک ائ تو وہ اسکے سینے سے لگ گئ…
عینہ ایک کہانی سنو گی…" بہرام نے سنجیدگی کے ساتھ بیٹی کا ہاتھ تھاما.. اور اسکی سرخ آنکھوں میں وہی محبت پائ.. جو کبھی اسکی آنکھوں میں ہوا کرتی تھی…. وہ اپنی مٹھیاں بھینچ گیا….
عینہ نے اثبات میں سر ہلایا تو بہرام نے اسکا سر اپنے سینے پر رکھ لیا… جبکہ ارمیش کو تو سمھجہ ہی نہیں. ارہا تھا وہ کیا کرنا چاہ رہا ہے… مگر اسنے وہیں بیٹھنا ضروری سمھجا….
جبکہ عینہ بہرام کے سینے پر سر رکھے بیٹھی تھی.. بہرام نے بیڈ کروان سے ٹیک لگا لی….
اپنی پسند کی شادی کی تھی میں نے…..
سب سے لڑ کر پروٹیکٹ کیا تھا……. عشق تھا کے سر پر سوار ہو گیا تھا…… سب چیز سمھجہ سے باہر تھی….. وہ جو کرتی… کچھ برا نہی لگتا تھا…. جو وہ کہتی حرف اخر لگتا تھا…..
جو اسنے چاہا وہی سب کرتا گیا… ہاں شادی زبردستی کی… سو میں ہزار میں معافی مانگتا رہا….. اسنے میڈیا پرا کر.. میری دھجیاں اڑا دیں میرے دل سے مگر وہ نکلی نہیں… پھنس بن گئ…. وہ لڑکی جو کہنے کو… میری پہلی بیوی تھی…. مگر اسکے اندر کی نفرت مجھ سے جدا ہو کر بھی ختم نہیں ہوئ "
وہ روکا… ارمیش… عجیب نظروں سے بہرام کی جانب دیکھنے لگی….. اتنے سالوں بعد اسکے منہ سے عابیر کا زکر سنا تھا…..
دل تھا کے ڈوب رہا تھا….
جبکہ عینہ تو وہیں تھم گئ…
اسکی ماں سے پہلے اسکے باپ کی کسی اور سے شادی ہوئ تھی.. یہ تو اسے کبھی بتایا ہی نہیں گیا تھا… ان دونوں کا کپل تو بہت محبت بھرا تھا…. اسنے باپ کی سینے سے سر اٹھایا اور حیرت سے.. سننے لگی جبکہ بہرام نہ جانے کس چیز کو گھور رہا تھا…
جانتی ہو وہ کون لڑکی تھی "اسنے ایک نظر ارمیش کی بے چین آنکھوں میں ڈال کر… عینہ کیطرف دیکھا.. عینہ نے نفی کی…
داود احمد کی ماں….
میری ایکس وائیف" سنجیدگی سے وہ عینہ پر بم گیرا گیا….
عینہ کے چہرے کے رنگ اڑ سے گئے…
کبھی اسنے تمھیں یہ کہانی بتائ.. "بہرام سیدھا ہوا.. عینہ نے نفی کی…..
کیوں نہیں بتائ.. بچہ نہیں ہے…. ہو گا 27 28 سال کا…. سب بتا رکھا ہو گا اسکی ماں نے اسے.. کیونکہ اس عورت کو تسکین ملتی ہے… تمھارے باپ کو زلیل کرنے میں…… "
وہ پھر روکا… ارمیش کی نم آنکھیں دیکھیں..
پھر سے عینہ کیطرف دیکھا…..
عینہ وہ لڑکا فراڈ.. ہے… وہ صرف… تم سے.. میرا بدلہ لینا اچاہتا ہے… میں نے اسکی ماں سے زبردستی.. شادی کی تھی.. اور مجھے لگتا ہے اسنے بھی تم پر نکاح… یہ کورٹ میریج کا دباو ڈالا ہو گا… "اسنے اپنے اندازے سے بات پوری کی.. تو عینہ کو.. یاد ایا.. تین چار دن سے انکی لڑائ ہی اسی بات پر تھی کہ.. وہ نکاح کرنا چاہتا تھا….
اسکا سر اچانک ہی اثبات میں ہلا.. تو بہرام… نے ضبط سے اسکی جانب دیکھا…..
تمھارا استعمال کر کے… وہ صرف مجھے زک پہنچائے گا….
یہ محبت وحبت سب ڈھونگ….. ہے…. سب……
میں کبھی… اپنی چڑیا کے جزبات… کو کسی کے انتقام کی بھینٹ نہیں بنانا چاہتا….. تم سمھجہ رہی ہو "اسنے.. اخر میں پھر… عینہ کا ہاتھ تھاما جو بلکل ڈھنڈا ہو چکا تھا…
داود اسکے ساتھ اتنی بڑی گیم کھیل رہا تھا….
اسے لگا.. وہ تپتی دھوپ میں کھڑی جھلس رہی ہو….
اگر… اس لڑکے کے علاوہ تم کسی…. کا میرے سامنے لا کھڑا کرتی تو…. بیٹے باپ ہوں تمھارا.. تشویش کا حق ہے… دل ہو تم میرا……. ایسے ہی میں کسی کو اپنا دل نہیں تھما سکتا مگر یہ بھی حقیقت ہے.. میں انکار نہیں کرتا……
میں تمھاری شادی اسی سے کراتا کیونکہ ہر چیز پر اہم میری بیٹی کی خوشی ہے. مگر یہاں بات کچھ اور ہے….
کیا تم چاہو گی…. تمھارے باپ کا سر جھکے….. "اسنے سوال کیا.. عینہ نے نفی کی….
اسی طرح میں بھی نہیں چاہتا.. میری بیٹی کے جزبات…. ایک ایسے انسان پر ضایع ہو جائیں… جو صرف.. انتقام لے رہا ہو…
اپنی ماں کا.." اسنے… سرد نظروں سے… عینہ کو دیکھا….
عینہ جان… "عینہ کو سر جھکائے دیکھ اسے بلکل اچھا نہیں لگا….
تبھی پکارہ…
جی ڈیڈ"وہ… اسکی جانب دیکھنےلگی….
اگر تم ایسا چاہتی ہو.. تو بتاو مجھے….. میں جو تم چاہو گی کرنے کو تیار ہوں" اسنے.. اسکی سرخ ضبط بھری آنکھوں کو دیکھا…
ا ائ ٹرسٹ یو…" وہ مدھم اواز میں بولی….
گڈ میرا بیٹا….. اب موڈ درست کرو….. اور اس سب کو برا خواب سمھجو…" اسنے اسکے ماتھے پر پیار دیا….
تو عینہ نے گھیرا سانس بھرا… جبکہ دل تھا کہ.. ابھی رک جاتا…
کل ہم ہفتے دو ہفتے کے لیے.. چھوٹی سی سیر پرنکلتے ہیں.. تاکہ میری عینہ فریش ہو.. ہمممم ہنستی کھیلتی اچھی لگتی ہے" وہ مسکرا کر بولا..
عینہ بھی مسکرا دی… اسکی مسکراہٹ کی عزیت… سے بہرام نے نگاہ چرائ..
چلو جاو… اب سو جاو…" اسنے.. شانا تھپتھپایا..
عینہ وہاں سے اٹھ گئ…
سنو… "بہرام نے پھر پکارہ..
جی ڈیڈ" وہ مڑی..
کل کالج مت جانا "اسنے کہا تو.. عینہ… نے ایک نظر باپ کو دیکھا.. اور سر ہلا کر باہر نکل گئ…
………………………..
یہ سب کیا تھا بہرام"ارمیش نے.. انسو بھری آنکھوں سے اسکی طرف دیکھا…..
بہرام.. مدھم سا مسکرایا..
کیوں اتنی انسکیور ہو… ہمم" وہ اسکے نزدیک ایا… اور.. اسکی پیشانی پر پیار کیا…
یہاں سجا ہوا ہے
. میرا نام تمھارے…. اور جانتی ہو تمھارا کہاں ہے…. میری سانسو میں… میں تمھیں دل جان نہیں کہو گا.. سانسوں سے تعلق ہے تمھارا…..
اگر مجھے وہ نہ ملی.. تو زندہ نہیں رہو گا….." اسکو.. محبت بھرا مان دے کر
. اسنے اب کے اسکی ہتھیلی پر پیار کیا..
کیا اپ…. اب.. اب بھی اس سے محبت" وہ رک گئ رونا ہء بہت ایا…
جب تم نے سارگل خان کو جنم دیا تھا..
میری اولاد… کی وجہ سے تکلیفیں اٹھائیں تھیں.. اس دن.. عابیر.. نامی لڑکی کو… میں ایسے بھول گیا تھا جیسے وہ کبھی تھی ہی نہیں….
مجھے صرف میری بیوی… سے محبت ہے…. ہممم صرف.. تم سے…" اسنے.. اسکی آنکھوں میں دیکھا.. ارمیش.. اسکے پہلی بار اظہار کرنے پر شرما سی گئ….
جبکہ بہرام ہلکا پھلکا سا ہو گیا….
اسکے لب مسکراہٹ میں ڈھلے..
………………..
اگر یہ تکلیف…. تھی تو اس سے برداشت نہ ہو رہی تھی… لگ رہا تھا.. دل دکھ رہا ہے… سب یاد ایا.. اسکا رویہ اسکی من مانی.. اسکا نکاح پر فورس… وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی..
کیا لڑکیاں پاگل ہوتیں ہیں… ہر انسان پر انکھ بندکر کے.. بیلیو کر لیتی ہیں…..
اسکا بس نہیں چلا.. پہنچ جائے اسکے پاس.. اور کرے سوال..
کیوں میرے ہی جزبات سے کھیلا…. میرا… قصور ہی کیا تھا.. "اسبے فون پر اتی داود کی کال دیکھی جو… شام سے.. شاید 200 بار ا چکی تھی.. نہ جانے کتنے میسیجیز تھے….
مگر وہ… اس دھوکے میں پڑ کر تباہ نہیں ہونا چاہتی تھی.. تبھی غصے سے موبائل اٹھا کر دیوار میں دے مارا.. جیسے اسکی محبت نے اخری سانسیں بھریں تھیں ویسے موبائل کی ٹعن بھی ایک دم مدھم ہوتی گئ..
جبکہ کمرے میں عینہ کی ہچکیاں گونج رہیں تھیں….
………….
مشل کو تو جیسے نئ زندگی ملی تھی….
حور اور حیدر ادے سر پر اٹھائے پھیر رہے تھے… جبکہ وہ سب کو یہ بات بتا چکے تھے اور کسی کو بھی کوئ اعتراض نہیں تھا سب ہی خوش تھے… اور ایک پیکنیک پر جانے کی تیاریاں ہو رہیں تھیں…
مشل اپ ڈریسیز خرید او… "حیدر نے اسکے ہاتھ میں پیے رکھے…
بابا… میں کیسے جاو" انھوں نے اسکا ایک اچھے سکول میں داخلہ کرا دیا تھا جہاں وہ میڑک کے امتحان.. دینے والی تھی…
وہ گھبرا کر بولی..
اس میں کیا بڑی بات ہے… ایشا کے ساتھ چلی جاو. عینہ کو تو فیور یے ورنہ وہ چلی جاتی"حیدر نے مسکرا کر کہا.. تو مشل… نے پیسے پکڑ لیے.. اسے خوشی سی… ہوئ..
تھینکیو بابا" اسنے.. جھجھکتے ہویے کہا.. تو حءدر نے اسکے سر پر پیار کیا…
حور بھی پیچھے کھڑی مسکرا رہی تھی..
ان دونوں کو تو زندگی ملی تھی..
اب جاو شاباش "حور نے کہا تو.. مشل… نے سر ہلایا..
ایشا… اور اسکی اچھی بول چال ہو گئ.. تھی یہاں تک کے وہ ہی اسے پڑھاتی تھی…
وہ ایشا کے روم میں ائ.. تو…. مراد بھی تھا وہاں
اسلام علیکم" مشل نے مراد سے سلام کیا….. تو وہ مدھم سا مسکرایا
کیسی ہو "اسنے پوچھا وہ پیچھلے دنوں سے بہتر لگ رہی تھی…..
مشل نے سر ہلایا… اور ایشا کیطرف دیکھا…
بابا نے کہا ہے اپ اور میں شاپینگ پر جائیں "وہ کچھ کنفیوز سی بولی…
تو ایشا مسکرا دی..
اوکے بئ ڈرنے والی کیا بات ہے اس میں "اسنے کہا تو مشل مسکرا دی….
جبکہ.. پیچھے مڑی تو… تو کسی سے شانہ ٹکرایا.. ..
اسنے پیچھے مڑ کر دیکھا تو.. اسے بلکل پاس پایا…
وہ سنجیدگی سے اسکی جانب دیکھ رہا تھا…
مشل… پیچھے ہٹ گئ.. ہر وقت آنکھیں نکالتا تھا یہ شخص اس پر.
مراد کب تک یوں ہی رہنا ہے تم نے"وہ غصے سے بولا
مراد نے نگاہ پھیر لی جبکہ بہرام کے دل میں چبھی…
تم جاو یہاں سے بات نہیں کرنا چاہتا میں تم سے" اسنے صاف لفظوں میں کہا.. سارگل نے اسکا شانا پکڑ کر رخ اپنی جانب کیا…
اور خاموشی سے اسکیطرف دیکھنے لگا….
مراد نے بھی اسکو گھورا… سارگل… تو بہت قیمتی تھا اسکے لیے مگر اسکی حرکت قابل معافی بلکل نہیں تھی…
ایسے مجھے گھورنے کی ضرورت نہیں ہے.. کسی پر ظلم کر کے کتنے ارام سے تم اس گھر میں دندناتے پھیر رہے ہو.. یہ تو بہت اچھا ہوا.. تایا سائیں نے اسکو اپنی سر پرستی میں لے لیا ورنہ تم… تمھارے جیسا.. انسان شاید اب اس حویلی میں رہنے لائق نہیں…ہو بہنے بھی ہیں ہماری . "
مراد سختی سے چلایا… تو سارگل کا ضبط جواب دے گیا…
نکاح میں ہے وہ میرے… " وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا….
میں اس حویلی میں رہنے قابل نہیں ہوں…..
میری ہی بہنیں مجھ سے انسکیور ہیں.. ڈوب مرو یہ بکواس کرتے ہوئے…. "وہ دھاڑا.. جبکہ مراد سمیت.. ایشا بھی دنگ رہ گئ…
لالا سچ کہہ رہے ہیں "ایشا نے ہوش میں اتے ہی مشل کا شانا ہلایا…
تو اسنے اثبات میں سر ہلایا..
تم نے ہمیں بتایا کیوں نہیں… "ایشا کو حیرت ہوئ…
ج.. جب.. میں بتانے لگی.. انھوں نے.. من.. منع کر دیا تھا" وہ انسو پیتی بولی…
سارگل اور مراد ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے..
سارگل.. اگلا لفظ بولے بغیر وہاں سے نکل گیا.... جبکہ مراد اسکے پیچھے لپکا… تھا….
اسنے ایک بار بھی اس سے بات نہیں کی تھی اور.. بہنوں کے مطعلق وہ کافی بڑی بات کر گیا تھا… مگر وہ بھی کیا کرتا.. جو وہ دیکھ رہا تھا.. بات اسی کے متعلق کی تھی اب اندر کیا سچائ تھی اسے یہ تو معلوم نہیں تھا….
………………..
اپ کمزور اس وقت ہوتے ہو.. جب اپکی طاقت اپکو کمزور کر دے…..
وہ سب سے لڑ سکتا تھا.. سواے دو لوگوں کے……
اسے لگتا تھا.. بھلے پوری دنیا.. ساتھ چھوڑ دے.. مگر.. یہ دو لوگ کبھی ساتھ نہیں چھوڑ سکتے..
اور وہ عابیر اور عینہ تھیں….
عینہ فون نہیں اٹھا رہی تھی…
وہ بدگمان نہیں ہوا تھا….
ہو سکتا ہے کوئ وجہ ہو.. ہو سکتا ہے اسنے کوئ بات کی ہو…
مگر.. بار بار.. دماغ الجھ رہا تھا….
کچھ بھی سوچا نہیں جا رہا تھا.. سوچتا بھی کیا…..
عینہ تو بہت معصوم ہے.. "اسنے… اپنی سرخ آنکھوں کو ائینے کی جانب اٹھایا..
بکھرے بال.. بھڑی ہوئ بریڈز… جو وہ کافی دنوں سے بنا نہیں رہا تھا.. مگر اج وہ کافی.. بڑھی ہوئ لگ رہیں.. تھیں… آنکھوں کی سرخی…
رات بھر جاگنے. کا تاثر…. کمرے کی ابتر حالت.. اور بے بسی….
مگر وہ بے بس نہیں ہو سکتا تھا.. ہونا چاہتا ہی نہیں تھا… مگر یہ بھی حقیقت تھی وہ اپنا جنون نہیں مار سکتا تھا….
اور اسکا جنون عینہ تھی…
وہ اسے مل جائے.. وہ شانت ہو جائے گا.. لیکن وہ نہیں ملی تو… اسکا دماغ مفلوج ہو جائے گا….
ہاتھ میں چھری تھامے وہ اگلے لائحہ عمل کو سوچ رہا تھا…
ایسے نہیں تو ویسے سہی… وہ
کبھی ایساقدم نہیں اٹھاتا مگر… افسوس ہے.. کہ.. اگر یہ نہیں اٹھایا تو.. اسکے ماں باپ کبھی راضی نہیں ہوں گے… پورے ایک دن میں اسنے بس یہ ایک چیپ عمل سوچا تھا.. مگر وہ کاریگر ثابت ہو گا.. اسے یہ یقین تھا..
اپنی مظبوط کلائ کی رگیں دیکھ کر…. اسکے دماغ میں اسوقت صرف عینہ تھی.. اگر اس معصوم کو پتہ چل جائے.. کہ اس تک پہنچنے کے لیے.. داود احمد.. کن کن حدوں کو پار کر رہا ہے.. تو ڈر ہی جائے…
دماغ عینہ سے ہٹتا تو وہ یہ سوچتا کہ اسکے ماں باپ کو.. عینہ یہ عینہ کے باپ سے مسلہ کیا ہے.. اسنے جاننے کی زحمت ہی نہیں کی پہلی بار تھا ایک دن گزر گیا تھا… عابیر اسکے پاس نہیں ائ تھی.. ماں کا رویہ چبھ رہا تھا.. مگر اس وقت اپنی بات منوانا مقصود تھا. اسنے اپنی ہتھیلی پر تیز دھار چھری رکھی…..
اور.. عینہ کی تصویر کی جانب دیکھ کر اسنے آنکھیں بند کیں… اور.. چھری سے اپنی کلائ کو چیرنے لگا.. اسنے تکلیف کی شدت کو محسوس کیا یہاں تک کہ اسکی.. آنکھوں سے انسو نکل ائے…
اسنے آنکھیں کھول کر دونوں کلایاں دیکھیں خون سیلاب کی مانند نکلنے لگا تھا…
دم تھا کہ حلق میں ا رہا تھا.. وہ قدموں پر زور دیتا اٹھا…
ہاتھ کو مڑنا چاہا تو ہاتھ مڑنے سےقاصر ہو گیا..
اسے رونا نہیں. ارہا تھا. مگر انسو خود با خود اس کے گالوں پر لڑھک رہے تھے خون کے قطرے اسکی سفید ایک دن پرانی شکینوں والی شرٹ…. اور ٹریک ٹراوزر کو بری طرح داغ دار کر رہے تھے.. اسکی آنکھوں کے اگے اندھیرا سا انے لگا…
مگر وہ سیڑھیاں اتر گیا….
جبکہ صحن میں اپنے ایگل کے پنجرے کے پاس…. عابیر نے. اپنے جوان بیٹے کو خون میں لت پت گیرتا دیکھا تھا…
داود"وہ حلق کے بل چلائ.. داود.. نے ڈانگوں کو فولڈ کر کے ہاتھ کو سہارا دے کر.. اوپر ہونا چاہا مگر خون بہنے سے اسکی ساری پاور ختم ہو رہی تھی..
اسکی چیخ پر فیزا روشنی بھی باہر ائے.. جبکہ گیٹ سے داخل ہوتے معاذ نے بھی یہ منظر دیکھا…
جیسے سب چھوڑ چھاڑ وہ دونوں اسکیطرف دوڑے تھے.. داود کو لگا چاروں طرف سناٹا چھا گیا ہو..
رات کی سی گھیری خاموشی… ماں کو اسنے قریب اتے دیکھا..
پہلی بار.. باپ کے چہرے پر تکلیف دیکھی…
داود"اسنے اسکا نام پکارہ تھا.. کاش وہ… یہ منظر مزید دیکھ پاتا.. اسنے آنکھیں کھولنا چاہیں.. اسکے باپ کا لمس اپنے گالوں پر محسوس ہوا…
وہ چیخ رہے تھے مگر.. اسے.. کچھ سنائ نہیں دے رہا تھا..
اسے لگا اس سناٹے میں اسنے ایک نام پکارہ…
عینہ" اور بس…
اسکی آنکھیں بند ہو گئیں…
معاز میرا بیٹا" عابیر… چلائ.. جبکہ معاز الٹے قدموں گاڑی کیطرف بھاگا تھا..
نہیں داود.. نہیں ایسا نہیں کرنا… میں کراوں گی تمھاری شادی..
داود میرے بچے اٹھو…
داود اپنی ماں کو اتنی بڑی سزا مت دو… داود" وہ رو رہی تھی چلا رہی تھی.. اپنے دوپٹے سے اسکاخون روکنا چاہ رہی تھی جبکہ روشنی دور کھڑی رو رہی تھی.. فیزا بھی روتے ہوئے دوسرے ہاتھ پر اپنا دوپٹہ باندھ کر خون روکنا چاہ رہی تھی..
جبکہ معاز کو لگا وہ پل میں بہت بوڑھا ہو گیا ہو اسنےبہت مشکل سے گاڑی گیٹ سے باہر نکالی انکی چیخوں پکار سے.. محلے کے لوگ اکھٹے ہونا شروع ہو گے داود کے محلے کے دوستوں نے.. اسکو.. گاڑی میں ڈالا… جبکہ ان میں سے ایک نے معاز کو پیچھے بیٹھنے کا کہہ کر خود گاڑی پسپیٹل کی جانب دوڑا دی..
…………….
کیا ہوا "ارمیش نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرہ….
اپ ڈیڈ کو کہیں مجھے کہیں نہیں جانا… وہ بس مجھے اکیلی کو کیوں بھیج رہے ہیں" عینہ نے کہا… تو.. ارمیش کو اپنی بیٹی.. پر ترس سا ایا…
اسکی آنکھیں اسکا لہجہ کچھ بھی تو ساتھ نہیں دے رہا تھا.. کل سے وہ معمولی سی بات پر بھی دل ہلکا کر رہی تھی..
اوکے اپ یہ سامان رکھ دو… کچھ کھایا ہے" ارمیش نے پوچھا تو اسنے نفی کی..
دل گھبرا رہا ہے.. دل نہیں کر رہا" اسنے کہا چہرے پر عجب پریشانی تھی….
ہمم بخار سے اٹھی ہو ابھی.. اسی لیے ہو رہا ہے ایسا… "ارمیش اسکے ساتھ بیٹھ گئ جبکہ اسنے ارمیش کی گود میں سر رکھ لیا…
اسکے انسو گیرنے لگے ارمیش بے چین ہوگئ..
عین.. کیوں رو رہی ہو جان "اسنے پیار سے پوچھا..
ایسے ہی" اسنے ہچکی لی…
عجیب سا لگ رہا ہے.. دل بیٹھ رہا ہے.. میری طبعیت نہیں ٹھیک شاید" وہ کہتے ساتھ اور رونے لگی…
ارمیش پرشانی سے… سیل فون اٹھا کر سارگل کو کال ملانے لگی…
کہاں ہو بیٹا" وہ جانتی تھی یہ ناممکن ہے کہ وہ اسکی کال نہ اٹھائے..
کہیں نہیں بس… پیچھلے والے لون میں ہوں… "اسنے سنجیدگی سے کہا..
بہن کی طبعیت خراب ہو رہی ہے.. او یہاں پر "اسکی پریشان اواز پر.. سارگل ایکدم اٹھا..
کیا ہوا ہے ہنی کو" وہ تیز تیز چلتا پوچھنے لگا کہ سامنے سے اتے مراد سے ٹکرایا…
سارگل میں تجھے ڈھونڈ رہا" اسکی بات وہیں رک گئ..
سارگل نے جواب نہیں دیا اور دوڑتا ہوا.. عینہ کے روم کیطرف ایا.. جبکہ.. مراد بھی اسکے پیچھے لپکا…
وہ کچھ ہی منٹو میں عینہ کے روم میں تھے.
ہنی.. "عینہ کو روتا دیکھا.. سارگل اسکے نزدیک گیا…
مراد صارم کو بلانا "اسنے بہن.. کو گلے سے لگا کر.. مراد کو کہا جس نے سیل فون سر ہلا کر نکالا…
بخار چڑھ رہا ہے.. مجھے لگتا ہے "سارگل پریشانی سے بولا..
کیوں ہو رہی ہے یہ اتنی بیمار کیا ہوا ہے اسے" سارگل نے ماں کی جانب دیکھ کر پوچھا…
ارمیش چپ سی ہو گئ….
جبکہ صارم بھی گھر پر تھا قسمت سے فورا وہاں پہنچا…
اور عینہ کی ٹریٹمنٹ شروع کر دی..
انٹی خیال کریں.. ابھی بخار اترا تھا. پھر چڑھ گیا.." اسنے کہا. تو ارمیش نے سر ہلایا…
جبکہ اسنے ڈیوٹی پر جانا تھا باہر نکل گیا مراد کو بھی ایک کال اگئ تھی وہ وہ سننے گیا تھا…
عیینہ کو سکون اور انجیکشن لگا دیا گیا تھا تبھی وہ… شاید غنودگی میں تھی..
کیا ہوا ہے پریشان لگ رہیں ہی" سارگل نے پوچھا..
اپ اپنی پریشانی سے مجھے نکالیں گے تو میں کچھ اور سوچوں گی" ارمیش پھٹ پڑی..
اف ہو کون سی میری پریشانی"سارگل نے جھنجھلا کر کہا..
اور معصوم بن جاو" ارمیش چیڑی سارگل ہنس دیا..
اوکے اپ.. اسی چوہیا. مشل سے پوچھ لینا.. سچ اور راز.. بتا دے گی" اسنے کہا تو ارمیش نے گھورا..
تمیز نام کی چیز نہیں ہے"ارمیش.. غصہ کرتی اٹھ گئ..
مجھے بات تو بتا دیں "وہ پیچھے پیچھے ہوا..
اپنے باپ سے پوچھ لو "اسنے بھی ٹکا سا جواب دیا… جبکہ سارگل ایک بار خود کو جوتوں سے پیٹنے کے لیے ریڈی کر رہا تھا..
بیٹا جب سے یہ تیری قسمت میں ائ ہے جوتے ہی نصیب ہو رہے ہیں." اسنے خود کو کہا..
………………………….
ڈاکٹر صارم ایمرجنسی کیس ہے…
پیشنٹ نے خود کشی کی کوشش کی ہے… اس وقت سب نائٹ ڈیوٹی اف کر کے دو گھنٹے کی بریک پر ہیں پلیز اپ کچھ کریں" ایک نرس جلدی جلدی بولی. تو صارم. اسکے بتائے گئے راستے.. پر تیز تیز چلنے لگا..
پیشنٹ کا خون بہت بہہ گیا ہے اپ سب باہر جائیں" اسنے جلدی سے کہا..
تو سب باہر ا گئے..
عابیر تو گڑگڑا گڑگڑا کر اپنے بیٹے کی سلامتی مانگ رہی تھی معاز خود حونک کھڑا تھا..
تقریبا.. ڈیڈ گھنٹہ مشقت امیز انتظار میں گزار کر.. صارم نے جیسے زندگی دی تھی.. انھیں.
خون کی بے حد کمی ہو گئ ہے… انھیں کئیر کی ضرورت ہے.. چونکہ یہ پولیس کیس بنتا تھا.. مگر.. میں نے پھر بھی پولیس کو انولو نہیں کیا.. "
بہت شکریا.. اپکا" معاذ نے کہا…
تو عابیر نے اسکی جانب دیکھا..
کیا میں مل سکتی ہوں..
ہاں شیور.. کچھ دیر میں ہوش ا جائے گا "اسنے کہا اور اگے نکل گیا جبکہ عابیر اور معاز اندر داخل ہوے وہ.
بےسود خاموش پڑا تھا.. جبکہ دونوں ہاتھوں میں پٹیاں بندھی تھیں عابیر اسکی جانب دیکھ کر.. رو دی.. جبکہ معاز… بھی کمزور سا بیٹھ گیا…
کچھ ہی دیر میں داود کو ہوش ا گیا…
میں زندہ ہوں" اسکے منہ سے نکلنے والا پہلا لفظ تھا..
اسکے جاگتے ہی معاز کو تپ چڑھی..
نہیں مر چکے ہو.."
نہیں ملکول. موت اپکی شکل میں نہیں اے گی.. زندہ ہوں ابھی میں "اسنے سکون سے کہا..
داود ایسا کیوں کیا تم نے" عابیر.. نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا..
عینہ… عینہ صرف عینہ… اپ رشتہ لے جائیں اسکے گھر" وہ ضدی لہجے میں بولا..
پلیز ڈیڈ.. کبھی کچھ نہیں مانگو گا اپ سے….
پلیز. ایک بار بس" وہ منت پر اتر ایا..
ان دونوں نےا یک دوسرے کو دیکھا..
ٹھیک ہے" دونوں نے ایک زبان ہو کر کہا…
ٹھیک ہو جاو پھر چلیں گے" معاز نے کہا..
نہیں کل چلتے ہیں.. میں تو فٹ ہو زندگی بھر دی اپ نے مجھ میں" اسنے خوش ہوتے ہوے کہا…
زیادہ نہ اچھلو پر کاٹنے اتے ہیں مجھے" معاز. بولا.. اور باہر چلا گیا..
عجیب شوہر ہے اپکا بھی"اسنے عابیر کو دیکھا.. جو روتے میں مسکرا دی…

حویلی میں سارگل اور مشل کا نکاح اگ کی مانند پھیلا تھا…
بہرام.. کے تو تلوں پر لگی اور سر پر بھجی تھی..
جبکہ وہ سکون سے کھڑا تھا…
یہ بتاتے ہوئے زبان ٹوٹ رہی تھی تمھاری" وہ غصے سے بولا..
ڈیڈ.. میں شادی اب بھی نہیں کرنا چاہتا" سارگل نے پھر سے جواب دیا تو.. حید نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا…
ٹھیک ہے.. تو طلاق دے دو اسے.. ویسے بھی تم میری بیٹی کے قابل نہیں "وہ سنجیدگی سے بولا…
مشل کا دم نکلنے لگا….
سارگل نے مشل کی جانب دیکھا….
طلاق بھی نہیں دوں گا "دو لفظی جواب دے کر… وہ وہاں سے.. چلا گیا.. جبکہ مراد اسکء پیچھے ایا..
کیا چاہ رہے ہو.. "اسنے اسکو غصے سے کہا..
ابھی معلوم نہیں.." سارگل نے سنجیدگی سے جواب دیا..
مجھے اکیلا چھوڑ دو" اسنے کہا تو مراد.. اسکو دیکھ کر مڑ گیا…
وہ اندر ایا.. تو شدید بحث و مبحاثہ جاری تھا..
اپ لوگ شادی کی ڈیٹ فائنل کریں" اسنے کہا.. تو سب اسکی جانب دیکھنے لگے..
اسکو میں دیکھ لوں گا… مگر ایک شرط ہے"
اسنے کہا.. اور سب بڑوں کے نزدیک ہو گیا..
………………..
وہ پرجوش تھا.. بے انتھا بے پناہ خوش… کون کہہ سکتا تھا یہ داود. چیڑ چیڑا سا انسان ہے جس کے اج قہقے نہیں رک رہے..
اسنے سب کو ڈریس گفٹ کیے تھے.. سب چیز بھول گیا تھا. وہ.. یہ بھی کہ اسنے.. کل خودکشی کی کوشش کی تھی… اڑا اڑا پھیر رہا تھا..
عابیر اور معاز کو اپنی اپنی جگہ چپ سی لگی ہوئ تھی..
وہ دونوں ایک دوسرے کی جانب بھی نہیں دیکھ رہے تھے..
چلیں. مما"داود کو سیاہ کرتا شلوار میں دیکھ کر عابیر کا دل کیا اسکی نظر اتار لے.. اگے بڑھ کر اسکی پیشانی چوم کر.. اسنے سر ہلایا.
داود نے معاز کیطرف دیکھا.. جس کے تیور بلکل ٹھیک نہیں تھے مگر اپنی خوشی میں اسےکچھ بھی نہیں سوج رہا تھا..
اور بس میں محبت اور تم…" اسنے عینہ کو تصور کر کے سوچا…
اور.. سب بڑی گاڑی میں سوار ہو گئے…
جو کہ داود نے منگوائ تھی کچھ انکے سٹیٹس کا بھی.. بڑا بھرم بنا تھا اسپر…
گاڑی منزل کیطرف رواں دواں تھی کوئ نہیں جانتا تھا… اس منزل سے.. جتنی تلخ اور نفرت بھری یادیں اسکی.. جڑیں تھیں…
جبکہ معاز خود اپنی سوچوں میں مگن تھا….
حویلی قریب ا رہی تھی..
دور سے ہی عابیر کو گزرے دن یاد انے لگے.. اسنے سختی سے آنکھیں میچی اور پھر اپنے بیٹے کے خوشی سے تمتماتے چہرے کو دیکھا….
اور زبردستی مسکرا دی…
حویلی کا دروازہ کھلا… داود.. کو لگا اسکا دل تیزی سے دھڑک رہا ہو…
عینہ اسکے اس قدم سے کتنا خوش ہو گی…
یہ سوچ کر ہی… اسے مزاہ ا رہا تھا…
وہ گاڑی سے اترے…
تو ملازم نے انسے پوچھ گوچھ کی..
عابیر اور معاز چپ ہی رہے… شام گھیری ہوتی حویلی پر اتر رہی تھی…
جبکہ کھٹا کھٹ حویلی کی لائٹیں جلیں تو فیزا روشنی اور معاز بس منہ کھول کر رہ گئے بہت خوبصورت حویلی تھی بلکل اسکی عینہ کیطرح…
ملازم انھیں گیسٹ روم میں بیٹھا کر.. اندر چلا گیا…
جبکہ.. وہ گیسٹ روم میں انتظار کرنے لگے…
بہرام کو میسیج گیا تو… منیب سب سے پہلے دیکھنے ایا…
اور سامنے عابیر کو دیکھ کر اسے جھٹکا لگا…
وہیں دروازے کے باہر ہی رک گیا.. عابیر بھی اسکیطرف دیکھ چکی تھی…
مگر کوئ ریسپونس نہیں دیا…
جبکہ منیب پلٹ گیا…
منیب. کی خبر.. ارمیش پر بم بن کر گیری.. تھی.. سارگل نے حیرت سے ماں کے پھیکے پڑتے چہرے کی جانب دیکھا…
اپنے صاحب کو بتا دو… انکی ایکس وائف آئیں ہیں "شاید یہ بات زندگی میں ارمیش کی پہلی تلخ بات تھی..
سارگل.. کے ہاتھ سے ماں کا ہاتھ چھوٹ گیا…
اسنے دو قدم پیچھے لیے…
جبکہ ارمیش نے انسو بھری آنکھیں بیٹے پر گاڑ دیں..
بہرام اسی وقت طوفان کیطرح کمرے سے نکلا…
جبکہ.. منیب معاویہ کو بھی بتا چکا تھا.. حویلی میں ہل چل مچ چکی تھی.. سب بہرام کی جانب دیکھ رہے تھے رفتہ رفتہ سب کو معلوم ہو چکا تھا….
کوئ بھی گیسٹ روم کی جانب نہیں گیا…
جبکہ وہاں انتظار کی مدت بڑھتی جا رہی تھی
…. ایک صرف عینہ تھی جسے اب تک معلوم نہیں تھا…
کیوں ائ ہے وہ عورت یہاں… اور پہلے ہمیں کیوں نہیں بتایا اس بارے میں "سارگل ماں کے لیے باپ کے سامنے تن گیا…
تھم جاو سارگل" معاویہ نے ٹوکا..
معلوم کرو پہلے یہاں انے کی وجہ"یہ حیدر تھا…
بہرام.. نے گیسٹ روم کی جانب قدم بڑھا دیے…
نظر عابیر پر گاڑے… وہ.. اسکےسامنے صوفے پر جا کر بیٹھ گیا…
جبکہ اسی وقت معاویہ حیدر سارگل.. بھی داخل ہوے…
گڈ ایونیگ سر"داود نے ہاتھ اگے بڑھایا.. مگر بہرام نے ہاتھ نہیں ملایا..
داود کا منہ سا اتر گیا.. مگر جیسے ہی سارگل اور داود کی نگاہ ملی…
دونوں ایک دوسرے کو گھور کر رہ گئے…
کیونکہ سارگل کا ہاتھ مراد نے سختی سے جکڑا تھا..
سچویشن ایسی تھی کہ کچھ ابھی نہیں بولا جا سکتا تھا.. جبکہ وہ خود فیزا کو انکے ساتھ دیکھ کر خود الجھا ہوا تھا.. فیزا نے بھی اسکیطرف دیکھا مگر سب اس عجیب سچویشن میں دوسری کوئ بات نہیں سوچ پا رہے تھے…
خیریت سے ائے "بہرام نے معاز کیطرف دیکھا
داود نے الجھ کر باپ کو دیکھا.. یہ کیا.. وہ کیسے بات کر رہے تھے جیسے جان پہچان ہو.
معاز کے لیے یہ گھڑیاں دنیا کی مشکل ترین گھڑیاں تھیں.. پھر بھی اسنے گھیرہ سانس بھرا
بیٹی…
تمھاری……
عینہ… ماشاءاللہ"
اسکا نام مت لینا… " بہرام نے ہاتھ اٹھا کر ٹوکا… معاز چپ ہو گیا… داود نے… حیرت سے.. بہرام کی جانب دیکھا.. وہ سب کیسا عجیب و غریب ریایکشن دے رہے تھے کم از کم کسی محمان کے ساتھ ایسا تو نہیں ہوتا
رشتہ لے کر ائے ہیں ہم تمھاری بیٹی کا.. اپنے بیٹے کے لیے… "یہ عابیر تھی..
شاید وہ خاموش اپنے اندر ہمتیں مجتمع کرنے کے لیے تھی اور جب ہوں گئیں تو وہ ہمیشہ کیطرح کنفیڈینٹ بولی..
یہ سب گفتگو جبکہ داود کے سر پر سے گزر رہی تھی..
کیا بکواس ہے یہ" یہ سارگل تھا جس سے.. مزید برداشت نہیں ہوا..
بہرام نے سارگل کو ہاتھ ا ٹھا کر روکا….
میری طرف سے انکار ہے" صاف جواب دیا گیا..
سر… اپ ایک بار اپنی بیٹی کو بھی بلا لیں اسکی.. پسندبھی"
شیٹ اپ" بہرام دھاڑا. تھا…
ابھی منع کیا ہے میری بیٹی کا نام اپنے منہ سے مت لینا…
داود کے ماتھے پر بل ڈلے…
وہ مسلسل ان سب کی بے عزتی کیے جا رہے تھے…
کیا کماتے ہو" بہرام نے.. پھر سے سوال داغا..
چلو داود یہاں سے" عابیر اپنی جگہ سے اٹھی مزید اس سے کچھ بھی برداشت نہیں ہورہا تھا.. جبکہ بہرام کی طنزیہ مسکراہٹ کا منہ نوچنے کا دل کر رہا تھا اسوقت
داود نے ماں کی بات کا جواب نہیں دیا..
کالج میں پروفیسر ہوں اور ابھی سی"
اسکی بات پوری نہیں ہوئ…
بہرام ہنسا… داود.. کا چہرہ سرخ ہو گیا..
جتنا تم کماتے ہو.. اس سے زیادہ تنخواہ تو میرے ملازم کی ہے.." اسنے شانے اچکائے…
تمیز سے بات کریں مسٹر بہرام "داود… تو پھر داود تھا..
ابے اوے… توتمیز سے بات کر" سارگل اگے بڑھا.. جبکہ بہرام نے اسکو گھورا…
میں.. چھلکوں سے بات کرنے نہیں ایا" اسنےاپنا گریبان چھڑوایا…
جبکہ ان سب کو چیرتی ہوئ.. عینہ اس کمرے میں داخل ہوئ..
داود نےعینہ کی جانب دیکھا…
عینہ کے پیچھے ارمیش بھی تھی دونوں کی نگاہ ٹکرائ عابیر نے نگاہ پھیر لی….
عینہ بیٹا.. جاو اپ" بہرام کو ناگوار گزرا اسکا انا..
عین…. میں تمھیں لینے.. ایا ہوں" داود عینہ کی جانب دیکھ کر… بولا… اسکے چہرے پر مسکراہٹ تھی مگر عینہ کا چہرہ بے لچک کیوں تھا….
سارگل نے… داود کے کھینچ کر پنچ مارا… داود صوفے پر جا گیرہ..
بکواس کر رہا ہے میری بہن سے.. ہاں.. تیری آنکھیں نکال لوں گا" وہ چلایا…
معاز اور عابیر کو.. لگا… وہ دونوں زمین میں گڑ جائیں گے انکا بیٹا اتنا کمزور ہو گیا تھا….
مگر زیادہ دیر نہیں.. داود نے.. ایک سیکنڈ میں سارگل کے منہ پر اوپر تل تین پنچ مارے.. جبکہ.. اسکو زور سے پیچھے دھکا دیا..
اور ابھی اس سے پہلے وہ اسکا سر دیوار میں مارتا….
وہاں وہ ہوا جو کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا..
عینہ… نے داود کے ہاتھوں کو.. اپنے بھائ پر سے دور کیا.. اور زور سے تھپڑ.. اسکے منہ پر دے مارا
اگر کوئ کہتا داود کے لیے دنیا اور وقت رک گیا تھا تو غلط نہیں تھا وہ حیرت بھری آنکھوں سے اسکی جانب دیکھنے لگا.. جبکہ عینہ… نے اسکو ایک اور دھکا دیا.. سارگل سمیت بہرام کے لب بھی مسکرایے تھے اسنے عابیر کیطرف دیکھا…
وہ اپنے بیٹے کو دیکھ رہی تھی….
چھوڑیں میرے لالا کو…
اپ کی حمت کیسے ہوئ یہاں انے کی.. سمھجتے کیا ہیں خود کو.. ایک دھوکے باز.. کمزور.. انسان… ہیں اپ"وہ اسکو.. مکے مارتی چلا رہی تھی…
معاز نے اسی لمہے عابیر کا ہاتھ تھاما. اور روشی اور فیزا کو اشارہ کیا.. اور وہاں سے وہ ان سب کو لے جر نکل گیا… ایک لمہے وہ مڑا تھا…
اج کے بعد… میرے گھر میں داخل مت ہونا…." معاز نے.. مظبوط اواز میں کہا.. اور وہاں سے نکل گیا.. جبکہ عابیر… جیسے ایک روبوٹ کی مانند اسکے ساتھ کھینچ رہی تھی…
داود.. وہ تنہا تھا.. شاید وہ ہمیشہ سے تنہا ہی تھا…
عینہ.. میں تمھاری محبت ہوں" وہ.. مدھم اواز میں بولا….
سارگل نے مٹھیاں بھینچی…..
مراد کا بھی کچھ یہ ہی حال تھا…
اور میری بیٹی تمھارے جیسے گھٹیا دو ٹکے کے ملازم.. پر تھوکنا بھی پسند نہیں کرتی…
اج کے بعد اس حویلی.. میرے کالج… یہ اسکے ارد گرد بھی نظر ائے تو ٹانگیں توڑ دوں گا.." بہرام نے انگلی اٹھا کر وارن کیا….
عینہ نے داود کے ہاتھ سے رستے خون کی جانب دیکھا…
اسنے.. ایک لمہے کو نگاہ اٹھائ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا…
نہیں عینہ.. مجھ سے محبت کرتے ہوئے تم نے یہ نہیں کہا تھا کہ تم میری حثیت سے محبت.. کرتی ہو… عینہ میں سب سمبھال لوں گا میرا ساتھ مت چھوڑو.. دیکھو تم ناراض یو مجھ سے ائ نو…
میں اب تم پر غصہ نہیں کروں گا کبھی بھی نہیں.. تمھیں ڈانٹوں گا بھی نہیں… میں سچ کہہ رہا ہوں عینہ.. یوں مت چھوڑو مجھے اس راہ پر بس ایک بار میرا
.. "سارگل نے کھینچ کر اسکے منہ پر تھپڑ مارا… داود نے دو قدم پیچھے لیے… مگر اسنے کوئ ایکشن نہیں لیا..
عینہ اسکی آنکھوں کی تڑپ پر… بے چین ہو رہی تھی..
عینہ میرا یقین کروں میں تمھیں ساری خوشیاں دوں گا" مراد نے بھی اسکے پنچ مارا…. وہ.. گیست روم سے باہر. جا گیرا
. مگر کوئ ایکشن نہیں لیا….
چلیں جائیں یہاں سے" اسے یاد ایا.. وہ صرفا پنی ماں کا نتقام لینے کے لیے اتنی تگ و دو کر رہا تھا…
داود.. نے عینہ کیطرف ہاتھ بڑھانا چاہا.. مگر.. سارگل اور مراد اسپر بری طرھ حاوی ہو گیے جبکہ.. عینہ سے یہ سب نہیں دیکھا گیا… وہ روتی ہوئ اندر بھاگ گئ…
حیدر حور انوشے… ارمیش نین احمر… بہرام کو دیکھ رہے تھے.. میں نے اپنی بیٹی کے لیے درست فیصلہ لیا یے "اسنے کہا اور سب سے نگاہ چراتا.. وہاں سے وہ بھی نکل گیا.. جبکہ…
سارگل اور مراد نہ جانے کہاں داود کو لے گئے تھے..
داود کی دنیا تو ویسے بھی تباہ ہو ہی گئ تھی.. محبت عشق جنون جیسے جزبوں سے.. اسکا اعتبار… اٹھ سا گیا.. پھر یہ.. گھوسے لاتیں گالیاں کیا معنی رکھتی تھیں.. تقریبا دس منٹ میں ان دونوں نے اسکا ھولیا بگاڑ دیا جبکہ حویلی کے باہر پھیکوا کر… وہ دونوں اندر چلے گئے…
……………………..
داود کی آنکھوں کے اگے… اندھیرہ تھا رات کی تاریکی میں اسکا اپنا اپ بھی تاریک ہو گیا…
ماں باپ اسے چھوڑ کر چلے گئے..
اسکی ماں… جو یہ دعوا کرتیں تھیں کہ وہ اسکی پہلی محبت ہے وہ بھی چلی گئ…
اسکی محبت….
سب ہی تو… پیچھے رہ گئے تھے..
ہاں اب اس سے اسکی سانسیں چھن بھی جاتی کیا افسوس تھا بھلہ…
درد اسکے انگ انگ کے ساتھ ساتھ دل میں بھی اٹھ رہا تھا.. ایسا لگ رہا تھا.. وجد سے سانسوں کا ناتا ٹوٹ رہا ہے.. اور ناتا ٹوٹے ہوئے اسنے صرف.. اپنے گرد گاڑی کے چرچراتے ٹائروں کی اواز سنی تھی.. اور بس دماغ مفلوج ہو گیا..
صاحب.. یہاں کوئ پڑا ہے "ملازم کی اواز سن کر ملک ہارون نے… گاڑی کا دروازہ کھولا….
سفید کڑکڑاتی شلوار قمیض میں ملبوس ملک ہارون اس بے جان سے پڑے وجود کے قریب انے لگا..
وہ ایک پاوں فولڈ کر کے.. اس کے قریب بیٹھ گیا….
لگتا ہے…. عاشق تھا.." ملک ہارون کا قہقہ اس تاریکی میں گونجا.. سیگار سے اسنے دو کش بھرے..
سانسیں ہیں" اسنے ملازم سے پوچھا…
جی صاحب"ملازم نے کہا.. تو چند منٹ کے توقف کے بعد ملک ہارون کی اواز گونجی…
ڈالو اسے گاڑی میں.."
دو دن گزر گئے تھے…
ارمیش سے یہ سب برداشت نہیں ہو رہا تھا.. اسکی بیٹی کا بخار نہیں اتر رہا تھا جبکہ… وہ اس لڑکے کے لیے… بہت برا محسوس کر رہی تھی….
وہ دو دن سے سارگل سے بھی نہیں بولی.. تھی…
یہ اپکی کافی" ارمیش نے بہرام کے سامنے کپ رکھا… بہرام سب نوٹس تو کر رہا تھا.. اور اب اسنے اس سے پوچھنے کی ٹھان لی..
کیا مسلہ ہے ارمیش دو دن سے بات نہیں کر رہی تم.. عینہ کے روم میں سو رہی ہو" وہ سوالیہ نظروں سے اسکی جانب دیکھنے لگا..
مجھے حیرت ہو رہی ہے اپ پر….
اپ نے جو کیا اپکو زرا بھی اسپر شرمندگی نہیں میں حیران ہوں بہرام…. نہ جانے اپ نے اپنے اندرچھپے کس جزبے کو تسکین دی ہے یہ حرکت کر کے….
جائیں دیکھیں اپنی بیٹی کو مر رہی ہے.. وہ. مگر اپکی بیٹی ہے.. نہ…
اسنے دیکھا ہی نہیں اس لڑکے کی انکھ میں سچے جزبوں کو.. بس وہی کیا جو باپ نے کہہ دیا… "
وہ پھٹ پڑی..
دماغ ٹھیک ہے تمھارا" بہرام نے تیوری چڑھا کر دیکھا
بلکل ٹھیک ہے.. میرا دماغ…
جھوٹ بولا اپ نے اپنی بیٹی سے یک طرفہ بات بتائ…..
کیا اپکو نہیں معلوم اس لڑکے کی آنکھیں چیخ چیخ کر بتا رہیں تھیں کہ وہ کچھ نہیں جانتا….
اور اپ.. اپ نے اپنی بیٹی کو جو کہانی بتائ اپ نے یہ بتایا.. اپ نے کیا کیا اس لڑکی کے ساتھ.. اپ نے اسے رسوا کیا….
اپ نے اسے بدنام کیا…..
یہ بھی بتاتے… مگر نہیں اپ نے یہ نہیں بتایا کیونکہ اپ اس وقت ایک باپ تھے.. کیسے اپنی بیٹی کی نظر میں اپنا اپ گیرہ دیتے جبکہ اپ نے اسکے دل میں اس لڑکے کے لیے زہر بھر دیا…..
اپ نے نہیں کرنا تھا رشتہ.. تو.. اپ صاف کہتے…
یوں دوغلے"
شیٹ اپ" بہرام کا ہاتھ اٹھا مگر ارمیش کے گال پر لگنے سے پہلے ہی رک گیا….
جو مجھے ٹھیک لگا میں نے کیا…
سمھجی تم… میں اپنی بیٹی کو اس عورت کے بیٹے کے حوالے کبھی نہیں کروں گا کبھی بھی نہیں "بہرام غصے سے بولا…
اچھا یعنی اسکے لیے اب بھی کوئ نہ کوئ جزبہ ہے اپ کے دل میں" ارمیش نے زخمی نظروں سے بہرام کو دیکھا..
ایسا کچھ نہیں ہے "اسنے نفی کی ارمیش طنزیہ مسکرائ….
اور نفی میں سر ہلاتی باہر نکل گی جبکہ بہرام.. نے غصے سے ٹیبل پر پڑا مگ پھینک ڈالا.. اور سر تھام لیا…
کیا کچھ غلط ہو گیا تھا.. پرواہ اسے کسی کی نہیں تھی سواے عینہ کے.
…………..
معاز داود گھر نہیں ایا" بلاخر وہ چیخی.. اول تو وہ اپنے بیٹے کو چھوڑ ائ تھی…
وہاں اکیلے یہ احساس ہی اسے مار رہا تھا.. وہ جانتی تھی معاز تو پہلے ہی اسکیطرف نہیں تھا پھر وہ کیسے اسکو اکیلا چھوڑ سکتی تھی.. رو رو کر اسنے… اپنی آنکھیں سجا لیں تھیں دو دن سے وہ معاز کو بار بار کہہ رہی تھی داود نہیں اے گا.. داود نہیں ایا جبکہ وہ.. صرف ایک بات کہہ رہا تھا بچہ نہیں ہے.. اسکایہ ہی ٹھکانہ ہے ا جایے گا.. جبکہ وہ اپنی بےعزتی پر… کافی تلملایا ہو اتھا اور عابیر سب بھول بھال گئ تھی کیا بےعزتی کیسی بےعزتی… اسے صرف اسکا داود چاہیے تھا. وہ معافی مانگ لیتی اس سے اور دوبارہ کبھی اسکا ساتھ نہ چھورتی..
فیزا اسے مسلسل سمبھال رہی تھی جبکہ روشی گھر کے ماحول سے گھبراہ کر بیمار پڑ گئ تھی…
تو میں کیا کروں "معاز بھی چیخا…
دیکھا نہیں تم نے کتنی عزت کرائ ہے اسنے ہماری اور خود اپنی.. اور دو سال کا بچہ ہے جو… گم ہو جائے گا غائب ہو جائے گا…" وہ پیپرز پھینکتا بولا….
ماموں یہ وقت نہیں ہے یہ سب باتیں کرنے کا.. ہم اسے وہاں تنہا چھوڑ اے.. نہ جانے ان لوگوں نے اسکے ساتھ کیا سلوک کیا ہوا…
پلیز اپ کچھ کریں شام ڈھلنے والی ہے وہ کبھی اس حد تک لاپرواہی نہیں کرتا" بلاخر فیزا کو بولنا پڑا…
معاز نے فیزا کو گھور کر دیکھا.
جبکہ اب اسکے دل میں بھی حول اٹھنے لگے تھے…
پوچھو اسکے دوستوں سے… کسی کے گھر پڑا ہو گا.. اور اگر وہ اپنے کسی دوست کے گھر ہوا.. تو میرے ہاتھوں مارا جایے گا" معاز نے.. انگلی اٹھا کر کہا…
جبکہ.. عابیر نے. ان سب پر لعنت بھیج دی..
اسے داود چاہیے تھا بس.. کسی بھی طرح کسی بھی حال میں اپنے پاس…
دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ وہ بنا چادر کے جس حولیے میں تھی گھر سے نکل گئ…
عابیر" معاز چلایا.. مگر وہ سن کب رہی تھی..
مجھے معاف کر داود.. معاف کر دو اپنی ماں کو…" وہ دل میں اس سے معافی مانگتی ورد کرتی وہ.. تیزی سے بھاگنے لگی.. اج وہ کوئ دیوانی لگ رہی تھی جس کے بال بکھرے ہوئے تھے دھن جیسے صرف ایک تھی….
پاگل ہو گئ ہو"معاز حقیقی معنوں میں پریشان ہو اٹھا..
میرا داود کہاں ہے… معاز مجھے میرا داود چاہیے.. معاز چلو. وہ وہیں ہو گا.. وہ وہاں سے نہیں ایا.. چلو معاز" وہ.. رو رہی تھی…
معاز نے اسکے سر پر چادر ڈالی…
جبکہ.. اپنی گاڑی.. گھر سے نکالی.. محلے والے.. یہ تماشہ دیکھ رہے تھے..
نہ جانے کس کی نظر لگ گئ اس ہستے بستے گھر کو" ایک عورت نے کہا اور افسوس سے عابیر کو دیکھا….
معاز گاڑی لے ایا… جبکہ فیزا اور روشی گھر پر ہی تھے…
گاڑی… تقریبا… بیس منٹ میں حویلی پہنچی اور ابھی روکتی ہی کہ.. عابیر گاڑی سے اتری اور بھاگتی ہوئ اندر جانے لگی.. معاز کو بھی گاڑی کو وہیں چھوڑنا پڑا…
پوچھو پوچھو اس سے میرا بیٹا کہاں ہے.. میرا بیٹا لوٹا دو مجھے میں دوبارہ کبھی نہیں او گی میرا داود کہاں ہے"اسے سب سے پہلے منیب نظر ایا.. اور اسکا گریبان تھام کر وہ چلانے لگی.. جبکہ مسلسل رو بھی رہی تھی….
منیب کو اج شرید ترس ایا….
عابیر پر…
میم اپ رکیں میں بلاتا"
نہیں… "وہ اندر بھاگی…
داود داود" چیجنے لگی..
عابیر… رک جاو. "معاز…. کے سانس پھولنے لگے….
…………
وہ جو سر تھامے بیٹھا تھا.. اسکی اواز سن کر… وہ کمرے سے باہر نکلا تو… اسکی حالت دیکھ کر.. بہرام کا دل ڈوب گیا.. عابیر بھی اسے دیکھ چکی تھی….
میرا بیٹا… کہاں ہے وہ وہ یہیں تھا.. نہ وہ نہیں ایامیرے پاس…." وہ رونے لگی… جبکہ معاز نے… اسکا بازو تھام لیا…
داود گھر نہیں ایا… دو دن گزر گئے" معاز نے بہرام کی جانب دیکھا.. جبکہ بہرام کو لگ رہا تھا.. اہستہ اہستہ اسکے قدموں سے زمین نکل رہی ہے.. اسنے اس لڑکی کو کبھی ایسی ھالت میں نہیں دیکھا تھا…
یہ کیوں ایے ہیں یہاں… انکے بیٹے کو تو مار کر پھیکوا دیا اب انکو بھی… جان سے مار دوں گا میں" سارگل کے چھنگاڑنے سے… جیسے وہاں بت بنے سب لوگ ہوش. میں ائے…
عابیر تو اسکی بات سن کر.. اپنے قدموں پر گیر گئ..
اسکی جوان اولاد… کو مروا دیا…"
داود "دل کی دھک دھک جیسے مدھم پڑ گئ..
یہ.. یہ کیا کہ رہا ہے تمھارا بیٹا" معاز… کی آنکھیں سرخ ہوئیں..
ارمیش نے سب کو چھوڑا اور عابیر کے پاس ا گئ…
سمبھالو خود کو مل جائے گا داود"
اسے بہت رونا ا رہا تھا…
جبکہ نین انوشے کا بھی یہ ہی ھال تھا.. اسکے علاہ ایشا اور مشل بھی انسو بھا رہیں تھیں عابیر کی حالت سب کو ہی رلا رہی تھی معاویہ اور بہرام نے ایک دوسرے کو دیکھا..
کہاں ہے داود "بہرام نے چہرے پر ہاتھ پھیر کر اپنے بیٹے کو دیکھا…
سارگل نے باپ کے کڑے تیور دیکھے.. اسے ھیرت تو ہوئ مگر صاف بول دیا.. کیوں چھپاتا کیا وہاں کھڑے لوگوں نے نہیں دیکھا تھا وہ دونوں. اسے مار رہے تھے..
مار پیٹ کر حویلی کے باہر پھیکوا دیا تھا" وہ بولا…
اسکا تو کوی قصور نہیں تھا.. اسے کیوں مارا.. وہ کچھ نہیں جانتا.. وہ نہیں جانتا کچھ….
میرا بیٹا کہاں چلا گیا…
معاز.. معاز.. میرا بیٹا ڈھونڈو.. معاز وہ خفا ہو گیا ہے وہ چھپ گیا ہے…." عابیر کے حالت بگڑتی جا رہی تھی…
معاز کے گرد پشتاوے… گردش کرنے لگے…
جبکہ.. بہرام نے… خود سر تھام لیا…
مراد کو بھی اپنے فیل پر شرمندگی ہوئ…
بہرام نے پلٹ.. کر عابیر کی جانب دیکھا.. تو عینہ کو خود کو دیکھتا پایا…. اور وہیں جیسے بہرام کا دم نکلا..
……………………..
اسکی حالت دن با دن بگڑ رہی تھی پانچ دن گزر گئے…..
مگر داود کو پتہ نہ چل سکا… بہرام نے اپنے سارے سورسیز… داود کوو ڈھونڈنے میں لگا دیے مگر ایسالگا جیسے.. داود کو اسمان نگل گیا یہ زمین کہا گئ…
داود کہیں بھی نہ ملا…..
عینہ خاموش ہو کر رہ گئ….
جبکہ وہ کسی سے بات نہیں کر رہی تھی…
دل میں لگا جیسے کسی نے پھانس چبھو دی ہو.. اور وہ رفتہ رفتہ اسے ہر پل عزیت دے رہی ہو….
مگر اسے کھل کر عزیت نہیں مل رہی تھی….وہ سوچ رہی تھی وہ تو بے شمار عزیت کی مستحق تھی..
معاز… پانچ دن بیٹے کو سامنے نہ پا کر خود بھی بیمار پڑ گیا….
جبکہ فیزا.. ان سب کو سمبھال رہی تھی سارھ ساتھ اسنے جاب بھی جاری رکھی..
کہ معاز اپنی جاب پر نہیں جا رہا تھا.. جبکہ ان دونوں میں اسکا سامنا مراد سے نہیں ہوا ہوتا بھی تو.. وہ اس سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی...
مزید دن… گزرتے گئے… وقت.. عزیت ناک تھا. مسلسل گزر رہا تھا….
بہرام.. نہ جانے شرمندہ تھا… یہ اسے اپنے کیے گیے عمل پر پشتاوا تھا اسنے…. ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی داود کی ڈھونڈ بند نہ کی ارمیش اسکی عینہ کوئ اس سے بات نہیں کر رہا تھا.. جبکہ سارگل سے بھی وہ دونوں بات نہیں کر رہیں تھیں…
سارگل تھک چکا تھا اپنی ماں کو مناتے مناتے..
کیا ہو گیا ہے اپکو. وہ ہمارا سگا تو نہیں لگ رہا تھا جو…. اپ اسکی وجہ سے اپنے بیٹے سے نہیں بول رہیں.. َ"
بس اسکے یہ بولنے کی دیر تھی پیچھے سے اتی مشل کے سامنے.. ارمیش نے سارگل کے منہ پر تھپڑ دے مارا.
اگر اپ… ایک دن میری نظروں سے دور رہیں.. تو میں اگلی سانس نہ لے سکوں…
میرے وجود کا حصہ ہیں اپ… راتوں کو جاگ جاگ کر.. اپنا لہو اپنا پسینہ دے دے کر اپکو پالا ہے…
اپکی تکلیف پر خود تکلیف ہوتی تھی….
یہ جزبات ہوتے ہیں ایک ماں کے…
اور اپ یہ سوچ رہے ہیں کہ…. وہ ماں جس کا بچہ.. ایک ماہ سے اپ کی وجہ سے.. اور اپکے باپ کے نام نهاد.. غرور انا….
اور غلط تجزیے کی وجہ سے.. ایک ماں سے اسکی اولاد جدا ہو گئ..
حالت دیکھی اپ نے.. وہ تڑپ کیسے رہیں تھیں….
اپکے باپ کا قصور برابر تھا سارگل اگر اسکا بھی قصور تھا تو.
اپکے فادر دودھ کے دھلے نہیں تھے…
بہت عزت اور غیرت ہے اپ سب میں.. جائیں اوپر دیکھیں بہن کو… زندہ لاش بن گئ ہے…
یہ غیرت ہے اپکی.. کہ بہن کسی غیر مرد کا روگ لگائے بیٹھی ہے.. "وہ بولی تو بولتی چلی گئ…
ڈھونڈیں داود کو…. اسکی ماں کا کلیجہ ڈھنڈا کریں پہلے پھر بات کیجیے گا مجھ سے" وہ کہہ کر وہاں سے چلی گئ جبکہ سارگل نے لب بھینچے اور مشل کی جانب دیکھا…
ادھر انا زرا… چھپ کر باتیں سن رہیں تھیں تم"اسنے آنکھیں نکالیں جبکہ مشل تو پل میں غائب ہوئ…
ابھی تو اسے وہ خبر نہیں تھی… جو جلد.. ہونے پر اسکے تاثرات.. سب دیکھنا چاہتے تھے. اور ان سب میں سر فہرست مشل تھی
…………………
ایک مہینہ ہو گیا صاحب.. زخم نہیں بھرے اسکے.. جبکہ بولتا بھی کچھ نہیں" ملازم نے ملک ہارون کی جانب دیکھا….
ہممم کچھ نہیں ہوتا….. بھرو اسکے ظاہری زخم… باقی اندرونی.. پہلے میں کریدوں گا… بھرے گا وہ خود.. اور ایسا کندن بنے گا پھر.. جسے کوئ ہرا نہیں سکتا.. یہ ٹوٹے پھوٹے لوگ… بڑے کام کے ہوتے ہیں… ماجد تو نہیں جانتا" اسنے.. ویسکی پیتے ہوئے کہا..
مگر صاحب منہ سے کچھ تو بولے" ماجد کو اسکے بولنے کی زیادہ فجر تھی..
بولے گا…. "ہارون نے مسکرا کر کہا…
کل خود جاو گا میں… اسکے پاس" اسنے کہا تو ملازم نے سر ہلایا…
اگر خواب احساس جزبے… ٹوٹ جائیں تو انھیں کون جوڑ سکتا ہے
سوناں سوناں سا تھا سب گرد….
نہ بولنے کو دل کرے.. نہ شاید آنکھیں کھولنے کو….
کس سے بولے… کس کو دیکھیں آنکھیں…..
جن چہروں کو اپنا سمھجہ لیا تھا… وہ چہرے اب تصور کی دنیا میں بھی کوسوں دور دیکھائ دے رہے تھے….
چھت کو یوں ہی گھورتے گھورتے… روز گزر جاتا تھا وقت….
لمحہ بھی جدائ نہ برداشت کرنے والا شخص ایک ماہ سے تنہا تھا…
اس وقت بھی…. وہ بیڈ پر لیٹا… کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا…
سفیدے کا بڑا سارا دخت.. ہوا سے جھول رہا تھا…
اور اسکی کچھ شاخیں اسکی کھڑکی کے اندر بھی ا رہیں تھیں…
دروازہ بغیر بجے کھلا….
اسنے کوئ حرکت نہیں کی…
جو بھی تھا…. اسے کون سا کسی کا انتظار تھا….
ملک ہارون اسکے تسلسل سے کھڑکی سے باہر دیکھنے پر مسکرایا.. اور.. اسکے اور کھڑکی کے درمیان ا کھڑا ہوا….
داود نے اسکی جانب نگاہ گھمائ…
تو ملک ہارون مسکرایا…
داود اٹھ کر بیٹھ گیا..
اسکے ہاتھ میں فریکچر ابھی بھی ٹھیک نہیں ہوا تھا جبکہ باقی زخم بھی اہستہ اہستہ بھر رہے تھے…
کون سی دشمنی تھی تمھاری جو. تم زبردست طریقے سے دھولے ہو کسی سے"اسنے چئیر کھینچ کر بیٹھتے ہوئے… کمال کا وار کیا..
داود نے سرخ نگاہ اٹھائ…
وہ داود سے.. 4 5 سال ہی بڑا لگ رہا تھا….
جانتے ہو مجھے ایسے لوگوں کے زخموں کو چیرنے میں بڑا مزاہ اتا ہے.. جو… یو نو ٹوٹ چکے ہیں… " اسنے سگار سلگاتے ہوئے اپنی عادت سے اشنا کیا….
مجھ پر اتنی مہربانی کی وجہ" داود نے مہینے بعد ہی خود کی اواز سنی…..
اچھا بول لیتے ہو.. پھر بولنے میں دقت کیوں محسوس کرتے ہو "ملک ہارون بولا.. تو داود نے… اسکو گھورا…
صرف اتنا پوچھا ہے.. مجھ پر کیوں مہربانی کر رہے ہو… "وہ ہمیشہ کیطرح بھڑکا…
اوپس.. ریلکس ریلکس.. بھئ…. تمھاری ہڈی ہڈی… میری مہربانی کے لیے چیخ رہی تھی تو میں نے سن لی فرید بس"اسنے شانے اچکائے…
داود نے دانت پیسے…
اپنے پاس رکھو… یہ ہمدردی.. "اسے بلاوجہ.. ہارون کا ہنسنا.. زہر ہی لگ رہا تھا….
ٹھیک ہے.. تو تمھاری ویسی ہی حالت کر کے… روڈ پر پھینک دیتا ہوں.. کیونکہ جانی کچھ بھی ہے.. میں اپنا نقصان نہیں کرتا.. ہزاروں الگا دیے… تم پر
. اور بے فائدہ… " اسنے.. سنجیدگی سے.. کہا تو.. داود.. ایک جھٹکے سے.. بیڈ سے… اٹھا مگر اگلے ہی پل.. اسے دوبارہ بیٹھنا پڑا.. کیونکہ..
اسکے زخم.. اسکے وجود کو تڑپا گئے…
چچ چچ چچ…. کافی کمزور ہو… تبھی تو پیٹے ہو…
مجھے ویسے لڑکی کا معملہ لگتا ہے…" اسنے داود کے… شانے پر ہاتھ رکھا.. جبکہ داود نے ہاتھ جھٹک دیا…
ااتنی اکڑ اچھی نہیں داود صاحب….
پولیٹیشن کی بیٹی پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا نہ.. کہ تمھاریا ور.. اسکی اوقات میں فرق کتنا ہے.. اور پھر ظلم پر ظلم.. واللہ ستم یہ ہوا کہ.. ماں کا… سابقہ شوہر نکل ایا…
کیا بکواس ہے یہ "داود دھاڑا….
تمھیں کیا لگتا ہے.. ایک ماہ… کسی بھی چھاچھوندر کو.. اپنے گلے کی گھنٹی بنا کر رکھو.. گا میں.." ہارون نے اسکا گریبان پکڑا.. داود اسکو گھورنے لگا…
ہارون کے لبوں پر اچانک مسکان ا گئ…
تمھارا مسلہ پتا کیا ہے.. بہت جزباتی ہو.. حد سے شیادہ.. کرتے پہلے ہو سوچتے بعد میں ہو… بیڈ کمبینیشن" اسنے اسکا کالر درست کرتے ہوئے… ابھی دور ہی ہوتا.. کہ داود کے سہدھے ہاتھ کا مکہ.. اسکے.. منہ پر پڑتا… کہ. اسنے وہی ہاتھ پکڑ لیا…
اور ایسا موڑا… کہ داود.. کے چہرے کے زاویے بدلے ضرور.. مگر وہ اپنے ہاتھ میں اٹھنے والی تکلیف پی گیا…
میرے باپ نے نشے میں.. میری بہن کے ساتھ زیادتی کی…..
میں نے اپنے باپ کو مار دیا…..
کام ختم…. میری بہن نے خودکشی کر لی….
ماں…. بیمار ہو کر بستر سے لگ گئ…..
اسکے علاج کے لیے پیسے نہیں تھے…
تو اسان لگا خود کو بیچ دوں… ماں تو بچے گی….
بیچ دیا سالہ خود کو… جس نے جو کہا وہ کیا……
رات رات بھر…. زہنی مریض لوگوں کی مار کھا کھا کر.. انکے زہن کو سکون دیا جبکہ خود.. عزیت کی انتہاوں کو چھوتا رہا….
14 سال کا لڑکا…. کوڑے دانوں میں سے.. لوگوں کا گلہ سڑا کھانا نکال کر.. اپنے پیٹ بھرتا ہے.. تو ماں کی بیماری… کیسے… ساتھ لے کر چلتا..
خودی مر گئ ماں…
اور اچھا ہوا….. خود مر گئ… مگر یہ احساس تب نہیں ہوا..
تب بہت تکلیف ہوئ.. ہارون ہارون اکیلا رہ گیا..
اس دنیا میں.. کیا کرے گا… کیا….
رونے لگا…
انسو پوچھنے والا کوئ نہیں تھا…..
پھر سوچا میں بھی مر جاتا ہوں…….
گاڑی کے نیچے انے کے لیے ہائ وے… پر سے گزرنے لگا…
مگر… ملک اسفند نے قبضے میں کر لیا…
زندگی بدل گئ…
بہت مارتا تھا وہ کمینا…..
مگر کھانے کو پورا دیتا تھا…..
اسنے.. لوگوں کے.. یہ معمولی وار… "اسنے داود کا مکہ جھٹکا..
سہنا سکھا دیے…
بڑا ہو گیا… وہ ٹرین کرتا رہا… زنگ آلود لوہے سے.. کندن بنا دیا….. اسنے.. کہ میں اسکا کتا بن گیا….
وہ جس پر کہتا تھا. میں اسپر بھوگتا. تھا…. اسکو چیر پھاڑ دیتا تھا….
پھر… پھر کیا ہوا…
ایک دن.. اسکے کمرے سے.. آوازیں انے لگیں.. چیخو پکار کی…
میں پیچھے چلا گیا… جیسے.. بہت پیچھے..
اپنی بہن کی اہیں سنائ دینے لگیں…..
دروازہ توڑ دیا.. برداشت نہیں ہوا….
اسنے 20 سال کی نازک سی لڑکی گردن.. پکڑ رکھی تھی..
مار رہا تھا اسے….
مجھے دیکھ کر غصہ ہونے لگا.. گالیاں دینے لگا…
میں نے لمہہ ضایع کیے بغیر
. اپنی بندوق نکالی اور اسکے سینے میں 25 گولیاں گاڑ دیں….
اس لڑکی کو جانے دیا..
کیونکہ مجھے لڑکیاں زیر لگتیں ہیں…
بھا بھا. بس… " اسنے منہ بگاڑا…
داود پہلی بار کسی کو حیرت سے سن رہا تھا….
اسکے بعد….
میں ملک ہارون.. بن گیا….
سب کو قابو میں کر لیا…
پاور… یہاں.. اسنے دل پر ہاتھ مارا…
یہاں ٹھنڈ ڈال گئ….
دوبارہ گمگین ہونے کا موقع خود کو نہ دیا نہ ملا…
کیا سمھجے"
وہ زور سے ہنسا.. داود نے… اپنا سر جھٹکا…
مجھے یہ سب کیوں بتا رہے ہو…. " اسکی اواز.. میں پہلے کا سا چیڑچیڑا پن ختم ہو گیا تھا…
اس لیے کہ کہانی سب کی ہوتی ہے.. منہ سے بتائے بغیر کسی کو سنائ نہیں دیتی…
کہانی کو اپنے اندر دبا کر…. اس کنویں میں پھینک دوں جہاں سے نکالنا بھی چھاو تو دوبارہ تم. نکالو دنیا نہیں…
دنیا کو کھیلنے کا موقع.. نہ دو…
مل گیا.. تو بس ایک بار…. طاقت بنو… کمزوری نہیں…
جیتنا… تمھارے زمہ ہے… یہ محبت وحبت کچھ نہیں.. دنیا سے نفرت کرو….
زندگی کا لطف لو.. "اسنے کہا… اور اسکے اگے.. ویسکی کا گلاس کیا…
نہیں…" داود نے منع کیا.. ہارون نے ہنس کر شانے اچکا دیے…
میرا کام… سیاست میں نہیں…. تھا…
مگر لگتا ہے.. تمھارا میرا دشمن ایک نکل ایا….
میرے خاص بندے… کو.. تمھاری ماں کے ایکس شوہر…
داود اسپر جھپٹا.. اور کھینچ کھینچ کر دو مکے مار دیے…
اج کے بعد اگر دوبارہ ایسا کچھ کہا. تو یہیں دفنا دوں گا "وہ چیخا.. تو.. ہارون… لبوں سے نکلتا خون صاف کرتا ہنسا…
مطلب.. بہرام خان…. کو نے اسکی سیاست.. کا بیڑا غرک کر دیا.. جبکہ سارے… میرے دھندے رک گئے…..
پیچھلے تین ماہ سے… میرا کوئ کام نہیں چل رہا مقصد یہ نہیں. کہ میں خود کچھ نہیں کر سکتا….
وہ مجھے جانتا ہے.. مگر مجھ پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا….
کیونکہ میرے سارے ریکارڈ فارغ ہیں…
اب سالہ.. مجھے اندر کرانا چاہتا ہے.. جبکہ میں معصوم تو.. بس ہیرئن کوکین بیچتا ہوں… "اسنے ہنستے ہوئے…
آنکھیں گھمائ.. داود کے ماتھے پر بل ڈلے..
عجیب سا انسان تھا یہ شخص…
مجھ سے کیا چاہتے ہو.." اسنے بلاخر پوچھ ہی لیا…
اسکی سیاست کا زوال…. "ہارون نے سنجیدگی سے کہا…
جبکہ داود نے… سر میں ہاتھ پھیرہ….
دو ماہ بعد کالام میں الیکشنز ہوں گے یہاں کے لوگ اسکے عاشق ہیں…
یہاں پر سب سے پہلے اسے ہرانہ ہے.. "ہارون نے مزید تفصیل بتائ..
اور صوفے پر بیٹھ گیا..
داود بھی بیڈ پر ٹک گیا….
اور جوتے کو گھورنے لگا…
ہارون اسکو.. ہی دیکھ رہا تھا…
دونوں کے درمیان طویل خاموشی ائ.. دونوں کچھ نہیں بولے…
داود کے کانوں میں بہرام خان کا رویہ اسکی باتیں اسکی بیٹی کی بیوفائ.. اسکے بیٹے… کا غرور… سب جیسے لاوے کی مانند اسکی رگوں میں جوش مار رہا تھا…
دو سال بعد… "وہ بولا… تو ہارون نے ویسکی کا گلاس سائیڈ پر رکھا…
دو سال بعد…. بہرام خان… داود احمد کے زندہ ہونے پر پشتاے گا…. "
اسنے کہا… جبکہ ہارون مسکرا دیا..
یہ زیادہ وقت نہیں "
داود خاموش رہا…
خیر…. مجھے اچھی لگی تمھارے اندر کی اگ….
اور میں چاہتا ہوں اس اگ سے تم دنیا کو جلا دو…
مگر سب سے پہلے… تمھیں خود جلنا ہے… "اسنے مسکرا کر کہا…
اور داود کے کسی بھی… عمل سے پہلے.. اسنے.. اسکے پیٹ میں لات.. ماری…
لے جاو اسے…
اور اتنا مارنا… کہ.. زندہ بچ جائے بس.." کہہ کر.. وہ اس کمرے سے نکل گیا.. جبکہ داود… ان آدمیوں سے. خود کو چھڑوانے کے لیے چیختا رہا….
………………………
وقت گزر رہا تھا رفتہ رفتہ….
بہرام کی ہر کوشش بیکار جا رہی تھی…
اور پھر اسنے…. مزیدڈھونڈ پڑتال ترک کر دی..
ان سب سے اسکے گھر کا ماحول بد. سے بدتر ہوتا جا رہا تھا..
اسکی بیوی اس سے دور ہو رہی تھی جبکہ اپنی بیٹی.. کو تو جیسے اسنے دیکھا نہیں تھا..
جب وہ اسکے پاس جاتا کمرہ بند ہوتا…
سارگل.. کہاں ہوتا تھا کیا کر رہا تھا..
جیسے ہر چیز پس پشت جا رہی تھی..
تبھی وہ جیسے ہوش میں ایا…
اور اسنے سب کچھ ترق کر دیا…
اور مراد کی بات پر عمل کرتے ہوئے اسنے سب سے پہلے گھر میں مراد کی شادی کا شوشہ چھوڑا…
کافی دنوں بعد حویلی کے سب لوگ اکھتے ہوئے تھے جن میں عینہ بھی تھی..
بہرام نے کافی سختی کر کے اسے.. کمرے سے باہر نکال لیا تھا…
وہ جانتا تھا.. کچھ دنوں میں وہ اپنی بیٹی کو ٹھیک کر لے گا…
میں چاہتا ہوں.. مراد کی شادی کر دی جائے"بہرام بولا تو معاویہ بھی ماحول کو خوشگوار کرنے کو بولا….
بھائ تیرے سے پہلے وہ شادی کے لیے بے چین ہے" تو سب مسکرا دیے جبکہ سارگل نے.. بھی مراد کو چھیڑنا شروع کر دیا یہ جانے بغیر کے کچھ ہی دیر میں اسکے نکلتے دانت کس طرح اندر جائیں گے..
میں پسند کرتا ہوں… تایا سائیں. اسے.. اور جب میں پسند کرتا ہوں تو میں زیادہ دن یہ سب برداشت نہیں کر سکتا"
مراد نے سارگل کو اگنور کرتے ہوئے.. بنایے گئے ین پر عمل شروع کیا…
بہرام نے سر ہلایا..
سارگل.." یہ حیدر تھا جو کہ اس ساری گیم میں شامل تھا..
جی تایا سائیں "اسنے کچھ الجھتے ہوئے سب کے چہرے دیکھے اور.. حیدر کیطرف دیکھا.
وکیل ہو.. تمھارے لیے یہ بہت اسان ہے.. جلد از جلد.. میری بیٹی کو اپنی بندش سے ازاد کرو.. ہم مراد سے اپنی بیٹی کی شادی کرنا چاہتے ہیں" حیدر کے کہنے کی دیر تھی وہ سب سمھجتے ہوئے ایکدم اٹھ کھڑا ہوا…
یہ سب کیا بکواس ہے" سارگل مراد پر چلایا…
وہ نہیں جانتا تھا.. اس بات سے اچانک ہی اسکا دل جیسے ڈوب کر ابھرا تھا…
بکواس کی کیا بات ہے تم شادی نہیں کرنا چاہتے اس لڑکی سے تو کیا ساری زندگی اپنے ساتھ لٹکا کر رکھو گے" بہرام نے زرا غصے سے کہا….
ہاں میں شادی نہیں کرنا چاہتا.. مگر یہ کیوں کرے گا اس سے شادی.." سارگل بولا
. تو سب کو اسپر کافی غصہ ایا.. جبکہ کمرے کے دروازے کی اوٹ سے دیکھتی مشل نے… اپنے انسو ضبط کیے..
تمھیں کیا مسلہ ہے پسند کرتا ہوں میں اسے… جب تم.. اس میں انڑسٹیڈ نہیں ہو تو… کیوں.. نہیں ازاد کر دیتے" مراد نے تیوری چڑھا کر کہا..
سارگل کو مشل کے ساتھ گزرے تنہائ کے لمہے یاد ا گئے..
تم جانتے ہو وہ لڑکی میری. یو
شیٹ اپ.." مراد دھاڑا..
تم نیچ اور گھٹیا ہو سسکتے ہو میں نہیں.. "اسنے آنکھیں نکالیں..
جب تم اسکے ساتھ انصاف نہیں کر سکتے تو چھوڑ دو" بہرام نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا…
سارگل کو محسوس ہوا.. جیسے اسکی عقل مفلوج ہو رہی ہو..
ٹھیک ہے" کچھ توقف کے بعد وہ وہاں سب کو حیران کرتا نکل گیا…
سب ایک دوسرے کی شکلیں دیکھ رہے تھے جبکہ اندر مشل ایشا کے گلے لگ کر رونے لگی…
وہ نہیں دے… "بہرام نے… حیدر کیطرف دیکھا….
مزید وار کی ضرورت ہے"مراد نے… دل میں غصے سے سوچا…
……………….
گھر… وہ پہلے سا لگتا ہی نہیں تھا..
داود کیا گیا….
اسکے پسندیدہ پرندہ بھی بیمار پڑ گی ا.. جیسے اسے نہ دیکھ کر اسکی حالت بھی غیر ہو گئ تھی…
فیزا کے لیے سب سمبھالنا بہت مشکل ہو گیا تھا..
کہاں چلے گئے ہو… داود…. "اسنے تھک کر سوچا…
اور.. عابیر کو داوئ دینے کے لیے اٹھی..
تو.. اسے جائے نماز پر روتا پا کر
. اسکے خود بھی انسو نکل ائے..
مامی وہ ا جائے گا.." فیزا نے.. اسکو سینے سے لگا لیا.. جبکہ سفید دوپٹے کے حالے میں وہ دعا کی کیفیت میں ہاتھ اٹھائے بری طرح رو رہی تھی…
کب ائے گا… کب ائے گا.." عابیر.. نے.. فیزا کی جانب دیکھا…
بہت جلد میں کہہ رہی ہو.. اپ کو یاد نہیں .. وہ جتنا بھی اپ سے ناراض ہو جائے.. اپ کو پھر بھی اکیلا نہیں چھوڑتا تھا…
ایک بار اپ نے اسے مارا تھا… یاد ہے اپکو" فیزا نے اسکے انسو پوچھے..
میں کیا کرتی فیزا… وہ اس دنیا میں مججے سب سے زیادہ عزیز ہے.. مگر وہ بھی شرارتی بھی تو تھا… " وہ مدھم سا گزرا وقت یاد کر کے مسکرائ…
فیزا بھی مسکرا دی..
اور پھر اپکے ہاتھ پر چوٹ لگی.. تو وہ مامو سے پہلے اپکے پاس تھا.. موجود… منہ پھلا رکھا تھا.. مگر.. اپکا ساتھ نہیں چھوڑا…
وہ ائے گا.. اور مجھے تو لگتا ہے ہم سب کو چھوڑ کر اپ کو لے جاے گا" فیزا نے.. کہا تو عابیر بچوں کیطرح خوش ہو گئ…
ہان میرا بیٹا ہے.. بس مجھے لینے ایے گا.."
اسنے کہا.. تو فیزا ہنس دی.. پھر عابیر تا دیر اس سے.. داود کی باتیں کرتی رہی جبکہ معاز بھی وہ سب باتیں سن کر اپنا رویہ داود کے ساتھ… محسو سکر رہا تھا کیسے کیسے کب کب.. اسنے… اسکے ساتھ ناانصافی کی تھی…
……..
ایک اور وجد تھا.. جو جائے نماز پر بیٹھا.. اسپر اپنی انگلی سے داود کا نام لکھتا اور کبھی مٹا دیتا…
ارمیش نے بیٹی کی حالت دیکھی…
تو اسکا دل کٹ گیا…
بہرام… نے اسپر سختی کی تھی.. وہ نازک سی لڑکی تھی سہم تو گئ تھی.. مگر اسے بھلا نہیں رہی تھی…
عینہ"ارمیش نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرہ..
مام وہ ائے گے.. اپ دیکھنا وہ مجھ سے بدلہ لینے آئیں گے…" اسنے انسو صاف کرتے ہوئے کچھ سوچتے ہوئے کہا…
تم مت رو… "ارمیش نے.. اسکو گلے سے لگایا…
مجھے لگتا ہے.. میں مر رہیں ہوں… وہ کتنے قیمتی تھے میرے لیے.. اور میں نے… میں نے.. انکے ساتھ کیا کیا..
لالا مار رہے تھے انھیں مام میں اتنی بے حس ہوں "وہ پھر سے رو دی..
جبکہ.. ارمیش.. نے گھءرہ سانس لیا..
بہرام.. کبھی نہیں کرائیں گے تمھاری ان سے شادی" ارمیش نے برحال.. حقیقت بتائ..
ہمم.. اب میں انکے قابل بھی نہیں.. مام… میری سزا ان سے دوری ہی ہے.. مگر وہ باخیریت مل تو جائیں "آنکھیں پھر سے بھیگی…
مل جائے گا… تم سمبھالو خود کو.. باپ ہے بیٹا وہ.. زیادہ دن برداشت نہیں کرے گا…
کوئ سخت قدم اٹھا لیں اس سے بہتر ہے. خود کو.. نارمل کرو" ارمیش نے.. کہا.. تو وہ اسکے گلے لگ کر زور زور سے رونے لگی.. اسنے بھی رونے دیا…
After 2 years.
کمرے میں رولینگ چئیر کی اواز… سے ایک شور سا پیدا ہو رہا تھا..
جھولنے والے کی انداز میں زرا بھی اضطرابی کیفیت نہیں تھی..
جبکہ اطمینان قابل دید تھا…
مدھم مدھم سی چرچرانے کی اواز…. اور گلاس وال سے اندر اتی سورج کی ہلکی ہلکی کرنیں….
کافی خوبصورت لگی….
کرسی کے چرچرانے کی اواز رکی… اور… نائٹ گاون کی ڈوریاں بند کرتا وہ واشروم میں چلا گیا….
باہر ایا… تو اسکے گرد ملازم تھے….
اسنے ہاتھ سے سب کو روکا… اور خود… اپنی ڈریسینگ نکالی یہ سب کھیل اور چونچلے… ہارون کے تھے.. اسکے نہیں..
تمام ملازم سمھجہ گئے اور وہاں سے باہر نکل گئے..
ڈریسیپ ہو کر وہ بال بنارہا تھا تبھی ہارون کمرے میں داخل ہوا…
پیچھلے دو سالوں میں سیاہی مقامات پر دس بڑے ریسٹورنٹ….
اور انکے اکیلے مالک بن کر بھی تمھیں سکون نہیں ایا.. جو اب ایک اور بنوانے جا رہے ہو… …. خوب میرے دوست.. میری بلیک منی کو… اچھے سے وائٹ کر رہے ہو.. "وہ ہنسا تو داود نے کوئ ریسپونس نہیں دیا….
یار.. دو سالوں میں میں نے تمھیں اپنا پکا دوست مان لیا ہے..
تم نے.. جو کہا وہ پورا کیا….
میرے رکے ہوے دھندے دوبارہ چل پڑے.. میرا پیسہ بھی وائٹ ہو رہا ہے دنیا کے سامنے… مگر…
تمھاری ناراضگی نہ گئ.." اسنے… کہا تو داود نے اسکی جانب دیکھا..
اور ڈارک گرین کلر کا کوٹ وائٹ شرٹ پر پہنا..
کیسی ناراضگی.." اسنے پوچھا… تو.. ہارون
. نے سگار سلگائ…
حالانکہ اس دن تم نے میرے آدمیوں کو اپنے جنون میں بری طرح پیٹا تھا پھر بھی تم خفا خفا رہتے ہو.. کہ میں نے تمھیں جان بوجھ کر پیٹوایا تھا…"
ہارون نے دو سال پہلے.. کی وہ بات یاد دلائ…
تو داود مسکرا دیا…
جو گزر گیا.. اسے بھول جا…
جو اج ہے.. اسے یاد رکھ" اسنے کہا.. اور سگار کی ڈبی سے..ایک نکال کر اپنے منہ میں رکھ لی..
جب جب وہ یہ پیتا تھا اسے شجاع یاد اتا تھا…
اف شاعرانہ… انداز…
ویسے ایک بات ہے" ہارون…. کے کہنے پر اسکے چلتے قدم رکے شاید وہ جانتا تھا.. وہ کیا کہنا چاہتا ہے..
تم نے ایک کام ان دو سالوں میں نہیں کیا جبکہ یہ بات میں تمھیں بارہیہ کہہ چکا ہوں.."
اسکا اشارہ بہرام خان کیطرف تھا.. مگر داود انجان بن گیا…
کیسا کام"داود نے سوالیہ نظروں سے دیکھا..
اسکی شخصیت میں ایک ٹھیراو ا گیا تھا.. پہلے کا سا جزباتی پن اب کہیں نہیں دیکھتا تھا…
بہرام خان کی سیاست پر حملہ کرنا تھا… اور مجھے لگا.. کہ اسکے لیے تم سیاست میں جاو گے.. مگر تمھاری پلینگز.. کچھ اور ہی ہیں.. سمھجہ نہیں. ا رہیں.."
ہارون ہمیشہ کیطرح الجھ رہا تھا..
تم چاہتے تھے… تمھارا پیسہ دنیا کی نظر میں کلیر ہو… وہ کام تمھارا ہو رہا ہے… کالام یہ ارد گرد کے کسی سیاہی مقام پر.. ایساے کامیاب ہوٹلز نہیں… اور ہاں…
مفت میں میں کیوں کسی چھچھوندر پر اپنا زہن.. اور جان ہلکان کرتا…. تو وہ میں نے اپنے طریقے سے کر دیا…" اسنے مسکرا کر.. دو سال پہلے کی اسکی ہی کہی ہوئ بات اسے لوٹا دی…
اور رہی بہرام خان کی بات….. وہ ہنسا
تو….. جلدی کیا ہے" … اور باہر نکل گیا.. جبکہ ہارون پیچھے پرسوچ نظروں سے.. اسکی پشت دیکھ رہا تھا…
جتنی داود کے بارے میں تحقیق اسنے نکلوائ تھی دو سال اسکے ساتھ گزار کر… اسنے اسے بلکل الٹ پایا تھا.. اور پھر سال پہلے اسکا بیزنیس کے لیے بات کرنا..
پھر اسکے فائدے میں بھی تھا…
اسے بیزنیس سے دلچسپی نہیں تھی..
بس دنیا کی نظر میں اسکا پیسہ وائٹ ہو رہا تھا..
بہرام کی وجہ سے اسکے جو دھندے رکے تھے…
جس کے بعد.. پیسے کی امدن کا شورٹیج ایکدم ہوا تھا.. اب وہ مسلے بھی دور ہو گئے تھے جبکہ.. داود نے اپنے ذہن کی قیمت ہر ہوٹل میں ففٹی پرسنٹ شئیر.. مانگا تھا…
جو اسنے اسے دے بھی دیا.. تھا..
مگر بہرام خان کی بات.. وہ یوں ہی ٹال رہا تھا.. کیوں وہ نہیں جانتا تھا…
مگر ایک بات تو طے تھی…
وہ کوئ بڑا پلین بنائے بیٹھا تھا..
اور ایک چال سے.. سارے گھوڑے گیرنے والے تھے…
……………………
ان دو سالوں میں حویلی میں بہت کچھ بدل گیا تھا……
سارگل کے کوئ ایکشن نہ لینے پر سب جیسے ہار مان گئے تھے….
مراد کی جان توڑ محنت پر بھی… سارگل نے مشل کو ازاد نہیں کیا.. اور نہ ہی رخصتی کے لیے.. مانا جبکہ… اپنے منہ سے وہ دھڑلے سے اپنی دوسری شادی کی باتیں بھی کرتا رہا تھا…
اسکی ڈھٹائ پر بہرام کا بری طرح خون کھولتا تھا…
حویلی میں تناو سا. اگیا تھا.. سارگل کے اس عمل سے…
تبھی مشل کو اپنے اپ کے لیے خود سٹینڈ لینا پڑا….
وہ ایک ایسے شخص کی محبت میں گرفتار ہوئ تھی… جس کی شخصیت میں کوئ توازن نہیں تھا…..
وہ اسے.. ساتھ رکھنا چاہتا تھا… جیسے باندی بنا کر…. اور شادی کسی اور سے کرنا چاہتا تھا…
چاہ کر بھی وہ اس سے خود کو ازاد نہیں کرا سکتی تھی تبھی… اسنے.. وہاں سے دور جانے کا فیصلہ کیا..
اور پھر ایک دن وہ بڑی خاموشی سے وہاں سے چلی گئ…
وہ کہاں گئ تھی…
سب جانتے تھے سوائے سارگل کے….
حیدر اور حور اکثر اس سے ملنے جاتے تھے….
جبکہ بعض اوقات حور اسکے پاس بھی ٹھرتی تھی..
اسنے ساری توجہ اپنی پڑھائ پر کر لی تھی…
وہ اسے سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی.. جس کی نظر میں اسکی کوئ اہمیت ہی نہیں تھی….
حالانکہ عینہ کو شہر کی جانب روزانہ گاڑی یونیورسٹی چھوڑنے جاتی تھی..
مگر مشل اپنی ضد پر حیدر کے فلیٹ میں شفٹ ہو گئ تھی…
اسے اکثر یہ سب عجیب بھی لگتا مگر وہ ان لوگوں کو چھوڑ کر نہیں جا سکتی تھی..
وہ اسکے محسن تھے.. اور اس بھری دنیا میں اکیلے رہنے کے بعد واحد سہارا….
جبکہ دوسری طرف… مراد فیزا کے دماغ سے…. اج تک وہ شق نہیں نکال سکا..
وہ اس سے بات ہی بہت کم کرتی تھی….
اور جب.. ایک دن اسنے اپنی ایڈوانس سیلری مانگی.. کہ معاز اپنی بیماری کے باعث.. کام پر نہیں جاتا تھا…
اور معاز کی حالتیں دیکھ کر عابیر کو بھی حمت پکڑنا پڑی تھی…
تو.. مراد زبردستی.. اسکے ساتھ.. اسکے گھر ا گیا تھا.. جبکہ فیزا کو یہ سب کافی عجیب لگ رہا تھا…
اسنے اسے روکا بھی مگر.. مراد.. بغیر اسکی بات پر توجہ دیے…
ااسکی سیلری بھی بڑھا گیا تھا جبکہ انکے گھر کی ضروریات بھی پوری… کرتا رہا تھا.. اور جب ایک دن فیزا.. اس بات پر پھٹ پڑی.. تو جس تسلی سے.. اسنے.. اپنی پوشیدہ محبت کا اقرار کیا… وہ حونک رہ گئ….
جبکہ اگلے اسکے لفظ مراد کو شدت سے چبھے تھے
میری مجبوریاں بہت ہیں اسکا مطلب یہ ہر گیز نہیں کہ اپ مجھے لیلا سمھجہ لیں گے.. اور اپ لوگوں نے ہمارے ساتھ جو کچھ کیا ہے… وہ بھلونے قابل بلکل نہیں ہے.. "
اسکا طنز.. اور داود کی گمشدگی کو اسکے ساتھ جوڑنا…
مراد… چاہ کر بھی اب تک اسکے دل کو اپنی جانب ست صاف نہیں کر سکا.. جبکہ عابیر اور معاز اس مشکل وقت میں اسکے کافی مشکور رہے تھے…
شروع شروع میں عابیر اسکے ساتھ اکھڑتی تھی مگر مراد نے انکے گھر انا جانا نہیں چھوڑا….
تو اسکی ڈھٹائ کی شاید ان سب کو عادت ہو گئ….
………………
وہ سائٹ سے ہو کر… واپس ایا… تو لنچ کا ٹائم تھا.. تبھی اسنے لنچ کرنے کا ارادہ کیا…
اور ہمیشہ کیطرح.. ناک کی چونچ پر گاگلز لگائے… وہ وائٹ اور ڈارک گرین ڈریسینگ میں شاندار لگ رہا تھا کہ وہاں بیٹھے لوگوں نے اسکی جانب پلٹ پلٹ کر ضرور دیکھا…
مگر پہلے جو وہ یہ سب نوٹس کر کے چیڑ سا جاتا تھا….
اب بے ضرر سمھجتا.. وہ اپنی مخصوص ٹیبل پر بیٹھ گیا..
اسکے داخل ہوتے ہی… مینیجر اسکے پاس ایا..
سر اپ کیا لینا پسند کریں گے… "اسنے کہا تو.. داود نے اسے منیو بتایا…
اور سیل فون نکال کر… ہارون کو نمبر ملایا…
اسوقت کہیں سے نہیں لگ رہا تھا یہ وہی داود ہے جو غصے میں.. سب کچھ دھرم بھرم کر دیتا تھا…
تمھیں کہا.. تھا…. پیسے بھیجوا دینا تا کہ ہوٹل کی تعمیر کا کام شروع ہو…" اسنے ایک ایک لفظ پر زور دے کر… سنجیدگی سے کہا….
جبکہ یہ اواز سن کر.. فوک منہ کیطرف لے کر جاتی لڑکی کا ہاتھ کانپ اٹھا…
وہ جھٹکے سے پلٹی…..
کیا ہوا عینہ" فریحہ نے پوچھا.. جبکہ اسکی آنکھیں بھیگنے لگیں….
کیا وہ وہی تھا یہ اسے وہم ہوا…
اسکا دل اج سے پہلے اتنی تیزی سے کبھی نہیں دھڑکا تھا…
عینہ بات سنو" فریحہ.. نے اسے روکنا چاہا جو چئیر چھوڑ کر….
اس ٹیبل کی جانب بڑھنے لگی جہاں ویٹر مختلف ڈیشیز سجا رہا تھا…
عینہ نے اپنی.. مٹھی کو سختی سے بند کر دیا…
اسکے ہاتھ پاوں لرز رہے تھے….
دل کی دھڑکن سمیت وجود میں گردش کرتا خون بھی بس ایک ہی بات کہہ رہا تھا کہ یہ ویٹر سامنے سے ہٹے اور پیچھے وہ ہو…
اور اگر وہ ہوا تو وہ دوبارہ اسے کہیں نہیں جانے دے گی..
اور بالخر ویٹر.. اگے سے ہٹا
.. تو وہ اپنی بے پناہ وجاہت لیے….. اسکے سامنے تھا..
عینہ جیسے وہیں تھم گئ…
رک گئ…
وہ فوک سے سر جھکائے.. سی فوڈ کھا رہا تھا…..
عینہ کی ہچکی سی بندھ گئ…
فریحہ بھی سر داود کو دیکھ رہی تھی…
برحال وہ لوگ اچھے سے جانتیں تھیں کہ عینہ اور سر کے بارے میں بلکہ تقریبا کالج ہی….
فریحہ کو مزید وہاں کھڑا ہونا.. مناسب نہیں لگا تبھی ہٹ گئ
.
جبکہ عینہ اس انجان کو… اپنی تڑپتی ہوئ نظروں سے دیکھ رہی تھی..
کہنے کو دو سال گزرے تھے مگر.. لمحہ لمحہ گنا تھا عینہ نے…
داود نے فوک سائیڈ پر رکھ کر سر اٹھایا تو… سامنے عینہ کو دیکھ کر…. اسکے چہرے کے تاثرات میں معمولی سی بھی تبدیلی نہیں ائ….
وہ عینہ کو دیکھ رہا تھا جبکہ عینہ اسکی جانب…..
چند لمحے مزید گزرے.. اور.. داود نے پھر سے اپنے کھانے پر توجہ کر لی.. وہ اسی اطمینان سے کھانا کھا رہا تھا…
عینہ نے بھی انسو صاف کیے.. اور… اپنے کانپتے قدموں کو اسکی جانب اٹھایا…
کتنا دور دور لگا.. وہ اسے پہلے سے جیسے بلکل الگ….
اسکے چہرے پر… سیدھے گال کیطرف ایک نشان بھی دیکھا…
وہ جیسے چوٹ کا تھا.. مگر اسکی شخصیت… اسکی وجاہت کے اگے.. کچھ بھی نہیں تھا.. فلحال عینہ کو تو.. اپنے اپ.. بس ایسا ہی لگا کہ وہ داود کے قدموں میں خود کو وار دے..
مٹ جائے اسکے لیے…
اسنے کانپتی انگلیوں سے چئیر کھینچی….
اور اسکے سامنے بیٹھ گئ..
داود نے ایک بار پھر اسکی جانب دیکھا…
خوبصورت آنکھوں کے گرد ہلکے اور اترا اترا چہرہ اور اسپر.. لگاتار بہتے انسو…..
داود نے سائیڈ سے ٹشو اٹھا کر اسکی جانب بڑھا دیا…
مگر کھانا کھانا نہیں روکا.. وہ اسی اطمینان سے کھانا کھاتا رہا… جبکہ ایک دو بار ارد گرد بھی نظر گھمائ…
عینہ اسکی بے گانگی… پر مزید بکھر رہی تھی…
اسے بلکل سمھجہ نہیں ایا… کہ وہ کیا کرے.. کیا بات شروع کرے.. کیا یہ بتائے کہ اسکے بغیر گزرے یہ دن… اسے روز… عزیت دیتے تھے..
اسکے دو سال پہلے بھیجے گئے میسیجیز.. وہ دن میں ہزار بار پڑھ کر مسکراتی تھی….
داود کھانا.. کھا چکا تھا…
ویٹر ایا… تو داود نے… اپنے ہوٹل ہونے کے باوجود اسکو بل پے کیا…
ویٹر نے حیرت سے عینہ کو دیکھا….
اور.. وہاں سے چلا گیا.. جبکہ داود نے چئیر پیچھے.. کی…. دو قدم چلا… اور اسکے نزدیک ا گیا….
عینہ چہرہ اٹھائے اسکی جانب دیلھنے لگی..
بھیگے گال.. کانپتے ہونٹ.. بے ترتیب بالوں کی لٹیں….
داود.. نے ٹشو بکس سے… ٹشو.. نکالا…
اور.. عینہ کے.. گال پر پھیلی نمی.. کو اس سے صاف کیا…
عینہ.. کا دل اچھل کر مانو حلق میں ا گیا….
اسکے لیے یہ سب غیر متوقع ہی تو تھا..
داود.. داود احمد ایسا تو بلکل نہیں تھا..
اسکے اندر چلتا ہر اموشن اسکے چہرے پر نظر اتا تھا.. مگر یہاں تو وہ.. گاگلز سے آنکھیں ڈھانپے…
اسکے گال کی نمی.. صاف کر کے.. ایک قدم دور ہوا.. اور
. اسی ٹشو سے.. اپنے ہونٹ صاف کیے…
اسنے ٹشو
. ڈسبین میں اچھال دیا…
اور.. اپنی پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالے.. وہ وہاں سے
. مڑ کر باہر کی جانب چل دیا…
عینہ کو چند منٹ لگے.. سب سمھجنے میں آنکھیں ایک بار پھیر بھیگیں…
اور وہ اسکے پیچھے دوڑی…
وہ نہیں جانتی تھی.. لوگ اسے دیکھ رہیں ہیں..
کون نہیں تھا.. جو بہرا. خان کو نہیں جانتا تھا..
کون نہیں تھا.. جو عینہ بہرام خان کو نہیں جانتا تھا..
مگر اسے کسی کی پرواہ نہ تھی..
وہ بڑی ساری گاڑی میں بیٹھ رہا تھا….
اور اس سے پہلے وہ دروازہ بند کرتا.. عینہ نے دروازہ پکڑ لیا..
پلیز نہیں… "وہ لمبے لمبے سانس لیتی..
التجا کرنے لگی..
داود نے اسے سنجیدگی سے ~ور سے اسکی جانب دیکھا….
پلیز اب مجھے چھوڑ کر مت جائیں" عینہ ایک بار پھر سسکنے لگی…
بیٹھو.. "داود نے ایک لفظی جواب دیا…
وہ اپنا بیگ اپنا موبائل.. سب.. اسے نہیں پتہ تھا.. کہاں چھوڑ ائ.. تھی… بس داود نے کہہ دیا وہ..
سب چیز پس پشت ڈالے.. اسکے ساتھ گاڑی میں سوار ہو گئ…
داود.. نے آنکھوں پر سے گاگلز نہیں اتارے.. وہ. ڈرائیو کر رہا تھا.. جبکہ عینہ اسے دیکھ کر جیسے آنکھوں کو سکون بخش رہی تھی..
وہ کتنا بدل گیا تھا…
جیسے گلیشیر بن گیا ہو.. سرد سا جس کے ایموشنز سمھجہ نہیں اتے ہوں..
وہ مسلسل اسکی طرف دیکھ رہی تھی..
کہ جھٹکے سے گاڑی روکی.. اور عینہ کا سر ڈش بورڈ پر پڑا… کیونکہ اسنے سیٹ بیلٹ نہیں باندھی تھی..
اہ "سر پر ہاتھ رکھے… اسنے تکلیف کو دبایا.. جبکہ داود دروازہ کھول کر باہر نکل گیا تھا…
اسنے اپنے سر کو چھوڑا اور.. اسکے پیچھے نکلی… تو وہ شاندار گھر… دیکھ کر حیران رہ گئ…
گارڈن کے ایک طرف.. کافی بڑی گلاس وال تھی… جس کے.. گلاس ڈور.. داود نے اوپن کیے.. وہ اسکاروم تھا…
وہ حیران ہی تو رہ گئ..
کیونکہ اندر… داخل ہوتے ہی… سیٹینگ روم تھا.. جبکہ.. خوبصورت پردے ہٹاتے ہی بیڈ روم نظر ایا….
اسنے لائٹس اون کر دی..
تمھیں ڈر نہیں لگ رہا.. ایک اجنبی کے ساتھ.. اسکے کمرے میں کھڑی ہو"عینہ پلٹی.. وہ چئیر پر بیٹھا.. اسی کی جانب دیکھ رہا تھا…
اپ اجنبی نہیں ہیں" عینہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی.. اسکے پاس ا گئ…
داود.. نے مسکرا کر.. سر ہلایا…
اپ اجنبی نہیں ہیں" عینہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی.. اسکے پاس ا گئ…
داود.. نے مسکرا کر.. سر ہلایا…
داود…. "وہ جھجکی.. اسکے انداز.. عینہ کو اسکے روعب میں ڈال رہے تھے..
داود اپ.. اپ ناراض ہیں
. میں… م میں جانتی ہو.. وہ سب میں.. ڈیڈ نے "عینہ اپنی ہی بے ربط بات سے الجھتی رو دی…
جبکہ روتے روتے.. وہ اسکے قدموں میں بیٹھ گئ…
داود جو ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا تھا..
ٹانگیں سیدھی لر کے.. اسکے چہرے کیطرف جھکا. اور اسکی بھیگی پلکیں دیکھنے لگا…
You don't look like my taste
اسنے.. عینہ کے چہرے پر پھونک ماری… عینہ انسو صاف کرتی.. اسکی صورت دیکھنے لگی..
داود نے مسکرا کر.. ہاتھ میں پھینی ریسٹ واچ میں ٹائم دیکھا…
گویا کہ وہ بہت مصروف ہو.. اور عینہ اسکا صرف وقت زایعہ کر رہی ہو…
عینہ.. اسکے اس عمل پر خفت زدہ سی ہو گئ…
جبکہ انسو بھی صاف کیے…
م… مجھے بھوک لگی ہے "اسنے کچھ توقف کے بعد.. کہا… ہزار سوال تھے. دل میں اسکی عمارت اسکی شان و شوکت کو دیکھ کر.. اسکی شخصیت کی تبدیلی کو دیکھ کر.. اسکا اسکے ساتھ اتنا نارمل ہونے کو لے کر.. دو سال.. اسنے یہ نہیں سوچا تھا کہ جب وہ واپس لوٹے گا تو.. ایسا ہو گا…
وہ جانتی تھی.. وہ یقیناً غصے سے اسکی گردن دبا دے گا….
مگر یہ داود…. اسکی سوچ سے بلکل برعکس تھا…
داود نے کوئ جواب نہیں دیا….
کل. رات.. 8 بجے… ساتھ ڈنر کریں گے….
میرے روم میں… "وہ اٹھتے ہوئے بولا…
عینہ بھی اٹھی.. ہونٹ کاٹنے لگی…
جبکہ سر جھکا سا لیا…
وہ بہت بڑا لگ رہا تھا… جس کے اگے عینہ کو مودب ہونا ہی تھا…
داود نے.. عینہ کو ہونٹ کاٹتے دیکھا…
تو اچانک…. عینہ کی کمر میں ہاتھ ڈال کر.. اسکو… اپنے نزدیک کر لیا…
عینہ کی آنکھیں پھٹ سی گئیں…
دل کی دھڑکنیں.. کانوں میں سنائ دینے لگیں….
داود نے.. انگوٹھے کی مدد سے.. اسکا ہونٹ.. اسکے دانتوں سے ازاد کیا….
ابھی انھیں ازاد ہی رہنے دو… جلد یہ صرف میری غلامی میں آئیں گے…. "انگوٹھے کی حرکت… اسکے لبوں پر کرتے ہوے.. وہ سنجیدگی سے بولتا.. اسے اتنی ہی تیزی سے خود سے جدا کر گیا..کہ عینہ خقد کو سمبھال نہ سکی اور زمین پر گیری…
داود کے لب مسکراے…
وہ یوں ہی.. اسکودیکھتا رہا….
عینہ کو اسکی بے گانگی کاٹنے لگی…
وہ بدلہ لیتا اس سے مگر… ایس کیوں ہو گیا تھا…
وہ رونے لگی…
باہر جا کر رونا… "اسنے.. کڑک سی اواز میں کہا.. عینہ نے سر گھمایا..
وہ مسکرا رہا تھا….
یعنی وہ شخص جو ایک لمہہ بھی اسے خود سے دور نہ کرے وہ ااسے نکال رہا تھا….
عینہ کو اج سے پہلی کبھی اپنی بےعزتی کا احساس نہیں ہوا… ہمیشہ وہ ہی اسکو بےعزت کرتا تھا…
وہ باہر نکلنے لگی…
رات اٹھ بجے… "گھمبیر مدھم سی اواز… اسکے کانوں میں سنائ دی…
اسکے ہاتھ پاوں پھولنے لگے…
وہ وہ داود نہیں تھا….
وہ وہاں سے.. بھاگ گئ… جبکہ داود نے اسکو لون سے.. بھاگتے ہوئے تسلی سے دیکھا تھا…
پھر سر جھٹک کر.. اپنی میٹینگ.. کے لیے نکل گیا..
……………………….
اسکا ریزلٹ ا گیا تھا… ایف ایس سی میں ٹاپ کرنے والی وہ پہلی سٹوڈنٹ تھی..
سب سے پہلے.. وہ اپنی ماں کی تصویر کے پاس ائ..
جس کو وہ اج تک انصاف نہیں دلا سکی.. تھی..
اسنے بھیگی آنکھوں اور مسکراتے لبوں سے.. ماں کی تصویر کو چوما.. اور پھر.. حور کو کال ملائ…
تبھی زرینہ بھی ا گئ..
زرینہ انٹی.. میری فرسٹ پوزیشن ائ ہے.. "اسنے خوش ہوتے ہوئے بتایا..
زرینہ اسکی میڈ تھی جو ہر وقت اسکے ساتھ رہتی تھی..
ماشاءاللہ ماشاءاللہ…" زرینہ نے اسکے سر پر پیار دیا…
مجھے لگتا ہے.. یہ خبر اپکو حور بیبی کو.. وہیں جا کر دینی چاہیے.. اپ دو سال سے حویلی نہیں گئیں.. حور بیبی حیدر سائیں بہرام سائیں.. سب اپ سے ملنے اتے ہیں.. اس بار اپکو جانا چاہیے"
اسنے کہا تو مشل.. کی مسکراہٹ مدھم ہو گئ…
نہیں زرینہ انٹی…
میں ادھر ہی ٹھیک ہو.. جب سے یہاں ائ ہو… کم از کم اپنا اپ… بوجھ نہیں لگتا.." اسنے مدھم اواز میں کہا تو زرینہ نے… اسکے شانے پر ہاتھ رکھا..
اپ کچھ نہ سوچیں.. بس حور بیبی اور حیدر سائیں کی خوشی دیکھیں…
وہ بہت خوش ہو گئیں" اسنے کہا تو وہ زرینہ کی جانب دیکھنے لگی…
اور پھر تھوڑی بہت محنت کے بعد… زرینہ کی بات.. پہلی بار ہی
صیحی مشل نے مان لی…
زرینہ خوش ہو کر پیکینگ کرنے لگی… جبکہ مشل بھی.. کچھ ہی دیر میں اسکی ہیلپ کرنے لگی.. اور تقریبا دو گھنٹے بعد وہ ڈرائیور کے ساتھ جو.. اسکے پاس ہی ہر وقت رہتا تھا.. حویلی کے لیے نکل گئ….
اسے بہت خوشی ہو تہی تھی..
اسنے ہاتھ میں ریزلٹ سختی سے پکڑ رکھا تھا… راستہ.. گزر رہا تھا.. وہی راستے.. دوبارہ نظر ا رہے تھے…
اور پھر مزید کچھ گھنٹوں میں اسکی گاری حویلی ا کر رکی.. تو.. اسکی خوشی پر جیسے اوس سی پڑی…
سارگل کی گاڑی بھی پارکینگ میں کھڑی تھی.. مگر.. کوی بھی ردعمل دیے بغیر وہ اندر کی جانب بڑھی…
تو لاونج میں ہی سب موجود تھے حور اور حیدر اسکو اندر اتا دیکھ.. خوشی سے اپنی جگہ سے اٹھے.. جبکہ باقی سب بھی.. وہاں ایشا.. اور صارم کی شادی کی تاریخ رکھی جا رہی تھی…
اور جیسے خوشی دوبالی ہو گئ..
بابا میں نے ٹاپ کیا ہے ایف ایس سی میں فرسٹ پوزیشن فرسٹ گریڈ"وہ حیدر کو دیکھ کر بولی… سفید چہرے پر خوشی کی سرخی ایس الگا.. جیسے.. دودھ میں چیری گھول دی ہو.. جبکہ شورٹ کرتا اور جینز میں مفلر ڈالے وہ.. معصوم سی مشل سے بلکل مختلف لگ رہی تھی..
واہ بھئ" حیدر نے.. اسکے سر پر پیار دیا…
اور.. وہ خوشی سے سب کو اپنا ریزلٹ دیکھنے لگی..
بہت خوب بیٹا" بہرام نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا… اور اپنی جیب سے.. چند نوٹ نکال کر اسکی ہتھیلی پر رکھے"مشل.. ہنس دی..
نہیں اسکی تو ضرورت نہی" اسنے کہا تو… بہرام نے نفی کی…
بیٹا جی پوری فیملی کے نکامے بچوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اپ نے.. تحفی کیا سلیبریشن بنتی ہے کیوں حیدر" وہ بولا تو حیدر نے سر اثبات میں ہلایا..
اور سلیبریشن تو اس بات پر بھی بنتی ہے کہ میری بیٹی دو سال بعد دوبارہ حویلی ائ ہے.. کتنا مس کیا تھا میں نے تمھیں" حور نے.. مشل کو سینے سے لگایا..
تو سب نے اقرار کیا…
تبھی اندر عینہ داخل ہوئ.. وہ مشل کو حیرت سے دیکھنے لگی..
مشل نے اگے بڑھ کر عینہ کو گلے سے لگا لیا..
اور اسے اہنا ریزلٹ دیکھایا…
عینہ.. مسکرا دی..
اسے خوشی ہوئ کہ مشل دوبارہ.. حویلی ا گئ تھی…
اوکے تو کل رات میری طرف سے سب کو دعوت.. اور…
کل ہی ڈیٹ بھی اناونس کر دیں گے "حیدر نے کہا تو.. سب نے حامی بھر لی..
جبکہ عینہ کے کانوں میں اواز گونجی
کل رات" اسکا دل بیٹھ ہی گیا…
………………
وہ کمرے میں ائ تو زرینہ اسکے ساتھ تھی.
اپ ارام کریں یہ میں لگا لوں گی"اسنے کہا.. تو زرینہ اسکے سر پر ہاتھ پھیرتی.. وہاں سے چلی گئ.. جبکہ وہ اس بات پر خوش تھی کہ اسکا اس سے سامنا نہیں ہوا… اور ریزلٹ کی خوشی تو اسکے انگ انگ سے چھلک رہی تھی اسنے مفلر گلے سے نکالا اور.. اپنے کپڑے کبرڈ میں لگانے لگی…
ابھی دو سوٹ ہی رکھے تھے کہ.. اسے احساس ہوا جیسے اسکے پیچھے کوئ ا کھڑا ہوا ہو…
مشل… کے گرد مخصوص کلون کی سمیل پھیلنے لگی..
اسنے جیسے تھوک نگلا جس سے بچنے پر وہ خوش تھی.. وہ اسکے پیچھے کھڑا تھا…
مشل پلٹی نہیں.. تبھی اسے.. اپنی کمر پر.. ہاتھ رینگتے محسوس ہوے.. اسکی دھڑکنیں اتھل پتھل ہو گئیں…
مجھے گلے نہیں لگاو گی "اسکے بالوں میں سے کیچر نکال کر.. سارگل نے.. اسکے بال.. ایک شالڈر پر.. سرکا دیے…
وہ ایک بار پھر اسے ڈرا رہا تھا خود سے.
مگر وہ بھول گیا تھا.. دو سال کا عرصہ بیچ میں حائل ہے…
مشل.. نے اسکے ہاتھ جھٹکے.. اور کبرڈ کا دروازہ بند کر کے.. مڑی..
ہمم بیوٹیفل" سارگل نے ڈھاٹئ سے کہا.. اسکی برڈز بھڑ گئیں تھیں…
کیوں آئیں ہیں میرے روم میں" مشل نے غصے سے کہا.. تو سارگل نے.. ائ برو اچکائ..
میری بیوی کا کمرہ ہے کیا پرعبلم ہے"وہ ڈھٹائ سے کہتا…
بیڈ پر لیٹ گیا..
کون سی بیوی.. شادی کرنے والے تھے اپ تو دوسری…"
جان سارگل.. غصہ کیوں ہو رہی ہے. ایکچلی میں نے اپنا ارادہ بدل لیا.. ہے… سوچ رہا ہوں.. اسبے مثال خوبصوتی کو.. اپنی دولہن بنے دیکھو… "وہ مشل کے قریب انے لگا…
جبکہ مشل نے پاس سے فروٹ نائف اٹھا لی..
اینف سارگل خان… مزید ایک قدم بھی نہیں….
اپکے موڈ پر نہیں چلنا مجھے…. اور نہ میں نے اپنا موڈ بدلا ہے… اپکی دولہن بننے کی مجھے کوئ خواہش نہیں…" وہ آنکھیں نکال کر بولی سارگل کے ماتھے پر بل سے ڈل گئے..
کیوں مشل بیبی پڑھتے پڑھتے کسی.. اوازہ سے دل لگا بیٹھی ہو.." سارگل نے دانت پیس کر اسکی جانب دیکھا..
اب وہ اسے کیا بتاتا.. کہ دو سال میں.. اسکے دل کو… اسنے خوابوں میں ا ا کر کس طرح.. اپنے حق میں اتار کر اپنی محبت میں گرفتار کیا تھا.. اور اب تو سارگل کو اسکو دیکھ ے کے بعد بس یہ دل تھا کہ وہ اٹھا کر اسے اپنے کمرے میں لے جائے..
مگر یہاں تو کہانی ہی الگ تھی..
مشل نے اسکی جانب دیکھا..
ہاں… پسند ہے مجھے کالج میں ایک لڑکا.. "وہ کہہ گئ…
سارگل نے غصے سے اسکیطرف دیکھا..
جانتی ہو اپنے شوہر کے سامنے کھڑی ہو…" وہ غضب ناک ہوا..
اچھا "مشل ہنسی..
جس وقت مجھ پر پیسے پھینک کر وہاں سے بھاگنے کے لیے کہا تھا.. تب نہیں پتہ تھا.. کہ شوہر ہیں اپ میرے" اسنے.. بھی آنکھیں نکالیں…
تبھی دروازہ بجا…
دونوں نے دروازے کی جانب دیکھا..
مشل چندہ دروازہ کھولو" حور کی اواز پر مشل اس جانب بڑھی…
تبھی سارگل نے اسے دبوچ لیا… اور… اسکی اوز بند کرنے کو.. اسکے لبوں پر قفل ڈال دیا…
کافی جنونی انداز میں… جبکہ باہر حور دروازہ بجا رہی تھی..
وہ اپنی من مانی کر کے اگلے ہی لمہے ہٹا..
تمھیں تو زمین میں گاڑ دوں گا میرے علاوہ کسی اور کے بارے میں سوچا بھی تو…
تمھارے گرد صرف سارگل خان ہے… اور بس "اپنی حاکمیت ظاہر کرتا.. وہ پیچھلی کھڑکی سے لون میں اتر گیا.. جبکہ مشل نے.. دانت بھینچ کر.. اسکیطرف دیکھا…
ہر بار نہیں" اسنے سوچا
. اور دروازہ کھول دیا…
……………… .
بیل بجی.. وہ جاگ رہی تھی….
اسنے فون اٹھایا.. دل کو جیسے معلوم تھا.. کہ یہ وہی ہو گا…
کہاں ہو" فون اٹھاتے ہی اسکی اواز ائ..
ک… کمرے میں "عینہ نے جواب دیا…
داود نے سگار کا دھواں ارد گرد اڑا دیا..
میرے پاس او تمھیں دیکھنے کا دل کر رہا ہے "اسنے… کہا تو عینہ کے ہاتھ سے موبائل چھوٹتے چھوٹتے بچا…
م… میں اس.. اس وقت" اسنے گھڑی دیکھی… رات کے 3 بج رہے تھے..
ڈرائیور باہر کھڑا ہے..
دس منٹ ہیں تمھارے پاس"اسنے کہا.. تو عینہ.. کے ہاتھ پاوں کانپ اٹھے جبکہ اسنے.. فون بند کر دیا…
وہ بلکنی میں ائ تو اسے ہارن کی اواز سنائ دی..
بہت تیز تھا.. کوئ بھی اٹھ سکتا تھا.. یہ تو شکر تھا کہ.. چوکیدار بھی انگ رہا تھا…
جاو کے نہیں.." وہ ناخن کاٹنے لگی…
کنفیوز سی ہو کر… ؛اسی اسنہ میں دوسرا ہارن بجا.. اور بس عینہ گھبرا کر باہر کی جانب بھاگ اٹھی…
اس وقت اسے یہ ہارن روکوانا تھا.. خوف بھی تھا… دل میں…
مگر.. وہ چپکے سے.. باہر نکل گئ.. سامنے کے گیٹ کے بجائے پیچھلے دروازے سے…
ڈرائیور نے اسکو دیکھا.. اور اسکے لیے دروازہ کھولا…
اسے عجیب شرمندگی ہوئ..
مگر وہ شخص اسے کوئ موقع ہی نہیں دے رہا…
ادھے گھنٹے میں وہ اسکے کمرے کے سامنے کھڑی تھی باہر سے ہی وہ اسے… نظر ا رہا تھا…
وہ سگار پی رہا تھا.. عینہ کو دھچکا لگا.. جبکہ کمرے میں معمولی اندھیرہ تھا..
عینہ کو یہاں ا کر… ایکدم جیسے اپنی غلطی کا احساس سا ہوا…
اسے اتنی رات گئے نہیں انا چاہیے تھا
وہ پلٹتی اس سے پہلے ہی داود کے ہاتھ کی گرفت میں ا گئ…
داود نے ایک جھٹکے سے اسے اندر کھینچ کر.. گلاس ڈور بند کر دیا…
عینہ کی سانس اتھل پتھل ہو گئ…
د.. داود "داود… اسکے چہرے.. پر.. اپنی انگلی سے سطر کھینچتا.. جیسے اسے اپنے قابو میں کر گیا…
نکاح کرو گی مجھ سے" اسنے سوال کیا.. چہرہ اسکے چہرے کے نزدیک لے ایا.. جبکہ انگلی کی حرکت عینہ کے لبوں پر تھی..
عینہ کی سانس اٹک گئ… اسنے بے بسی سے داود کیطرف دیکھا…
نکاح.. کرو گی" دوسری بار سوال ہوا… جبکہ انگلی کی حرکت.. اب اسکی پلکوں پر تھی..
کہو ہاں"اسنے اسکے کان میں کہا..
عینہ… نہ جانے کیوں اسے انکار نہیں کر سکی…
اور اسنے اثبات میں سر ہلا دیا….
داود مسکرا کر پیچھے ہٹا..
اور دو قدم چل کر دوبارہ سگار کو لبوں سے لگا لیا..
سوچ لو.." اسنے.. گھیری نظروں سے عینہ کو دیکھا…
عینہ بھی اسی کیطرف دیکھنے لگی..
نہ جانے کیوں اسے جیسے داود کا یہ ایک امتحان لگا.. جیسے وہ اگر اس میں پاس ہو گئ تو پیچھلی غلطیوں کے گناہ دھل جائیں گے..
س.. سوچ لیا" عینہ نے جواب دیا..
داود نے مسکرا کر سر ہلایا..
اور فون اٹھایا…
کوئ زبردستی نہیں ہے" اسنے پھر سے کہا..
چاہو تو جا سکتی ہو "عینہ اسکے نزدیک ائ..
ایسے کیوں کہہ رہے ہیں" اسنے پوچھا.. تو.. داود کی آنکھیں اسکی آنکھوں میں گڑ گئیں کچھ جتاتی ہوئیں.. سی..
عینہ نے آنکھیں پھیر لیں..
داود نے ہارون کو کال کی..
وہ تو اسکی بات پر حونک ہوا…
مگر.. جو اسنے کہا.. اسنے 10 منٹ میں سارے انتظام کر لیے..
مگر داود کے کان میں گھس کر ایک بار پوچھا ضرور کون ہے یہ.. کیاکر رہے ہو "
بہرام خان کی بیٹی" داود.. ہنسا… ہارون…. نے ایک پل کے لیے آنکھیں کھولیں…
اور.. بس وہ اسکے اگے.. تالیاں بجاتا.. وہاں سے چلا گیا…
عینہ یہ سب.. نہ سمھجی سے دیکھ رہی تھی..
کیا ہوا"داود نے.. اسکے گال پر ہاتھ رکھا….
عینہ نے.. اسکا ہاتھ پکڑ لیا..
اسے سمھجہ نہیں ایا کیا کہے…
ڈر لگ رہا ہے" داود نے.. پوچھا.. تو وہ سر اثبات میں ہلا گئ..
جبکہ آنکھیں بھی بھیگ گئیں…
تو چلی جاو.. "اسنے.. راستہ چھوڑا..
عینہ کو وہ اس وقت بہت ظالم لگا..
عینہ نے نفی کی تو وہ مسکرا دیا……
اور 15 منٹ صرف 15 منٹ میں وہ اسکے تمام جمہ حقوق کا مختیار بن گیا تھا…..
وہ خاموشی سے بیٹھا تھا جبکہ عینہ کی آنکھیں بھیگتی جا رہیں تھیں سب لوگ وہاں سے جا چکے تھے.. تبھی ایک ملازم ایا..
میڈیم کو انکے گھر چھوڑ دو "اسنے حکم دیا.. اور وہاں سے اٹھ کر.. وہ بیڈ روم کی جانب چلا گیا.. جبکہ عینہ… ادھے پورشن میں گیرے پردوں کو دیکھنے لگی…..

سر اگر اپ کو برا نہ لگے تو ایک بات کرنا چاہتا ہوں" وہ تقریبا روز ہی معاز کے پاس اتا تھا.. عابیر بھی وپیں بیٹھی تھی.. جبکہ معاز جو کافی کمزور ہو گیا تھا… اسنے اسکی جانب دیکھا..
ہاں بیٹا بولو" اسنے کہا… وہ انکا محسن تھا ان مشکل حالت میں ایک بیٹے کی طرح اسنے انکی مدد کی تھی شاید دل میں گلٹ تھا کہ کہیں نہ کہیں اسکا ہاتھ بھی تھا.. داود کے گمشدہ ہونے میں جبکہ بڑی وجہ فیزا تھی..
فیزا دروازے کے باہر کھڑی.. اسکی بات سن رہی تھی…
سر.. میں فیزا سے شادی کرنا چاہتا ہوں "مراد نے بنا لگی لیپٹی کے بات شروع کی… تو ایک پل کو معاز اور عابیر ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئے معاز کی یہ بہت خواہش تھی کہ فیزا اور داود کی شادی کر دی جائے اور فیزا اسکی آنکھوں کے سامنے رہے مگر.. شاید یہ خواہش پوری نہیں ہو سکتی تھی.. اور کب تک.. کب تک وہ بچی ان دونوں کا بوجھ اٹھاتی..
بیٹے یہ باتیں اسطرح تو نہیں ہوتیں… والدین آئیں اپکے.. تو پھر فیزا کی رضامندی کے بعد ہی میں کوئ فیصلہ کروں گا "معاز نے ہلکی پھلکا سی اپنی امادگی کا اظہار کر دیا..
جبکہ مراد کو تو جیسے ہفت کلیم ہاتھ لگ گیا ہو.. اسکے چہرے پر خوشی دیکھنے لائق تھی
کیوں نہیں سر.. کل ہی میں اپنے پیرنٹس کو بھیج. دو گا" اسنے کہا.. جبکہ عابیر بھی مسکرا دی…
حالات.. وقت.. سب میں ڈھلاو لے ایا تھا.. اب کہاں وہ انا باقی تھی.. یہ ضد.. اب بس خوشیوں کی منتظر تھیں آنکھیں اور مراد ان دونوں کو ہی پسند تھا.. فیزا کے لیے بھی اچھا لگا.. مگر فیزا کی مرضی کے بغیر وہ کچھ نہیں کرنا چاہتے تھے..
کچھ دیر بیٹھ کر ان کے ساتھ گپ شپ لگا کر وہ وہاں سے اٹھا تو بے حد خوش تھا..
فیزا.. اسے براندے میں ہی دیکھ گئ وہ کھا جانے والی نظروں سے مراد کو دیکھ رہی تھی…
غالبا اپ کوئ اعتراض نہیں کریں گیں "اسنے مسکرا کر کہا…
اعتراض ہی اعتراض ہی مراد صاحب اپکو کیا لگ رہا ہے یہ مہربانیوں کی قیمت میں ہوں گی تو بھول ہے اپکی" اس نے غصے سے کہا.. مراد ایک پل کو حیران ہوا جبکہ اگلے ہی لمہے اسنے غصے سے اسکا بازو پکڑ کر اپنے قریب کیا..
پاگل ہو گئ ہو میری محبت کو قیمت سمھجہ رہی ہو.. دماغ ٹھکانے ہے یہ لگا دوں میری نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھا لیا ہے تم نے" وہ اپنی اصلیت پر اترا.. فیزا ایکدم اس سے خوفذدہ ہوئ تھی…
اپنے دماغ میں بیٹھا لو اج نہیں تو کل تمھیں مسیز مراد ہی بننا ہے…
سیدھی طرح بن جاو ٹھیک ہو گا.. ورنہ.. الٹے طریقے شاید تمھیں پسند نہ آئیں" غرا کر بولتا وہ اسکے پاس سے نکل گیا.. کل کیا بھیجنا تھا اسنے اج ہی مما بابا کو بھیجنے کا فیصلہ کر لیا تھا…
حویلی ادھے گھنٹے کی ڈرائیو کر کے… پھنچا .. تو وہاں فنکشنز کی تیاریاں شروع تھیں اج.. مشل کے انے کی خوشی میں جہاں دعوت تھی وہیں صارم اور ایشا کی ڈیٹ فیکس کی جانی تھی وہ جانتا تھا.. ایشا کی شادی کی وجہ سے اسکے ماں باپ مصروف ہوں گے مگر اسکا کام بھی قیمتی تھا اور اچھا ہی تھا اسکی شادی بھی جلد از جلد ہو جاے….
تاکہ وہ اس لڑکی کا دماغ ٹھیک سے ٹھکانے لگائے ..
معاویہ کے روم کا دروازہ بجا کر.. وہ روکا اور اجازت ملنے پر اندر داخل ہوا..
تو.. معاویہ فون پر بات کر رہا تھا جبکہ انوشے.. اج کے فنکشن کے لیے ڈریس نکال رہی تھی..
او بیٹا بیٹھو"انوشے نے کہا تو وہ بیٹھ گیا…
معاویہ کے فارغ ہوتے ہی اسنے.. اسکو ساری بات بتا دی..
فیزا… یعنی معاز کی بھانجی اس سے شادی کرنا چاہتے ہو تم" معاویہ کو حیرت ہوئ..
جی ہاں. "مراد نے کہا..
وہ کبھی نہیں مانیں گے بیٹا جی جو تم لوگوں نے انکے بیٹے کے ساتھ کیا. اور جو کچھ ہو چکا ہے دو سال پہلے.. وہ بلکل حامی نہیں بھریں گے. بھول جاو"معاویہ چونکہ کچھ نہیں جانتا تھا تبھی خود ہی اعتراض کرتا بولا…
انھیں کوئ پروبلم نہیں ہے اپ پلیز اج ہی چلے جائیے" مراد نے کہا. تو معاویہ سمیت انوشے نے بھی دیکھا…
تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہو "معاویہ نے الجھ کر پوچھا… تووہ رفتہ رفتہ انھیں سب بتاتا چلا گیا…
دونوں ہی خانوش ہو گئے..
میں بس یہ جاننا چاہتا ہوں اپ لوگوں کو تو کوئ ایشو نہیں ہے کہ تایا سائیں… کی وجہ سے.. کوئ.. فیزا کے خلاف ہو.." اسنے یہ بات پوچھنا بھی ضروری سمھجی..
نہیں بیٹا. وہ تو معصوم لڑکی ہے اسسکا کیا قصور ہے ان سب میں. یہ تو بڑوں کی اپسی جنگیں ہیں…
اور جب انھوں نے اپنا دل بڑا کیا ہے تو ہمیں کیا مسلہ ہے اچھا ہے دونوں فیملیز کے اپسی تعلقات بھی اچھے ہو جائیں گے" انوشے نے کہا تو مراد مسکرا دیا..
تھنکیو مما" اسنے ماں کو پیار کیا.. جبکہ معاویہ پرسوچ نظروں سے بیٹے کو دیکھ رہا تھا..
زیادہ مت سوچیں بس.. دولہن بنا کر اسے یہاں لے آئیں باقی سب کام میرے ہیں "اسنے کہا تو.. معاویہ.. نے.. مسکرا کر اسکیطرف دیکھا..
بہت دولہا بننے کا شوق چڑھ رہا ہے"وہ ہنسا..
افکورس تیس کا ہو گیا ہوں بھئ"مراد سمیت انوشے بھی ہنسی
………….
مراد کی ضد پر معاویہ اور انوشے سب کو بتا کر… مراد کا رشتہ لینے چلے گئے جبکہ انکے ساتھ ارمیش بھی گئ تھی…
بہرام نے اسے نہیں روکا تھا…
شاید اسی طرح وہ اس سے راضی ہو جائے کیونکہ پیچھلے دو سالوں میں ارمیش وہ ارمیش لگتی ہی نہیں تھی…
فیزا کے لیے یہ سب حیرت انگیز تھا.. ابھی کچھ دیر پہلے وہ گیا تھا اور فورا ہی اسنے.. سب کو بھیج دیا….
معاز تو تزبزب کا شکار تھا…
تم ٹھیرو میں پوچھتی ہوں.. بچی کی رائے کے بغیر ہم کوئ فیصلہ نہیں کر سکتے "عابیر نے کہا تو معاویہ نے سر ہلایا..
عابیر اتنی اچھی… کیسے ہو سکتی ہے.. اسنے ایک منٹ کو سوچا…
اور پھر مسکرا دیا….
سب بدل جاتا ہے وقت کے ساتھ سب….
فیزا بیٹا…. تم سب جان تو گئ ہو.. بتاو تم کیا چاہتی ہو.. کوئ زور زبردستی نہیں ہے بیٹا جو تم فیصلہ کرو گی وہی ہو گا… مگر ایک بات یاد رکھنا بچے….
تم زمہ داری ہو ہماری… اور مجھے اور تمھارے مامو دونوں کو ہی مراد پسند ہے…. اچھا لڑکا ہے….
ضرور وہ تمھیں خوش رکھے گا….
اور تمھاری زمہ داری سے ہم سکبدوش ہوں… جلد از جلد اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہو گی… داود.. تو نہ جانے کہاں چھپ گیا ہے…. اسکا انتظار… بے کار ہے.. "وہ خاموش ہوئ تو فیزا نے اسکی نم آنکھیں دیکھیں…. وہ بہت مظبوط عورت تھیں اسے اج محسوس ہوا….
اور نہ جانے کیسے…. شاید ان انسو کی لاج رکھ لی اسنے.. اپنی حامی دے دی….
اور اسکے بعد عابیر کی آنکھوں کی خوشی دیکھ کر.. اسکے لب بھی مسکرائے.. ان دو سالوں میں شاید پہلی بار اسنے اسے اتنا خوش دیکھا تھا..
ماشاءاللہ ماشاءاللہ… اللہ مبارک کرے.. "اسکو پیار کر کے… وہ باہر نکل گئ جبکہ روشی بھی خوشی سے اچھلتی باہر چلی گئ.. اور فیزا ایکدم بیڈ پر گیری.. آنکھوں کے اگے.. مراد اور لیلا کا منظر گھما….
معاف تو میں کبھی نہیں کروں گی تمھیں" اسنے دانت کچکاتے ہوئے سوچا…..
……………..
بہت خوب بیٹے بہت خوب.. منگنی شادی سب کرا لوں ایک میں لٹکا ہوا ہوں دو سال کا شادی شدہ پلس ابھی تک کوارہ.." مراد کی خوشی کی انتہا نہیں تھی جب سے اسکو پتہ چلا فیزا نے حامی بھر دی ہے جبکہ سارگل پکا چیڑہ بیٹھا تھا…
خیر.. کوارا کہنا خود کو… نہیں فضول بات ہے جس مقصد کے لیے تم نے شادی کی تھی وہ تو پورا کر ہی لیا تھا ڈھٹائ سے" مراد نے گھور کر اسکو دیکھا..
اچھا بھئ بیوی تھی میری میں نے کچھ بھی کیا. اب جب میں رخصتی چاہتا ہوں تو اس میں اکڑنے والی کوئ بات ہے بھلہ" سارگل نے کہا تو مراد نے تالی بجائ..
مگر تم اکڑو تو کچھ نہیں مقابل نے انکار کیا تو انا پر لگ رہی ہے کمال.. ڈھائ سال تم نے اس معصوم لڑکی کا خون پیا ہے"
جھوٹ ہے سرا سر اگر اتنا ہی پیا ہوتا تو دو تین چنو منو کھیل رہے ہوتے بھائ کے گرد"اسنے دانت نکال کر کہا تو.. مراد نے اسکی کمر پر مکہ مارا….
بیہودگی کے ریکارڈ توڑ دو تم "مراد چیڑا…
اب اس میں بیہودگی کہاں سے ا گئ" سارگل نے کمر سہلاتے ہویے کہا…
مراد اسکو گھورتا رہا….
ایسے نہیں چلے گا تمھاری شادی ہو گی تو میری بھی ہو گی ورنہ اس منحوس صارم کی بھی نہیں ہونے دو گا"سارگل نے اٹھتے ہویے دھمکی دی..
اس میں میرا کیا قصور ہے" وہ پیچھے ہی ا دھمکا..
تو تو اپنا منہ بند رکھ.. زہر لگ رہا ہے شرم نہیں ایے گی بڑے بھائ کنوارے بیٹھیں خود گھوڑی چڑھے گا.. "سارگل نے تپ کر اسکی گردن دبوچی..
بھائ میرا نام اس کنوارے پن سے نکالو… ڈیٹ فیکس ہو گی میری بھی اج.. "مراد ہاتھ جھاڑتا… اٹھا تو صارم بھی جان بچا کر اس سے نکلا..
اللہ کرے.. تم دونوں کے گھوڑے کی ٹانگیں ٹوٹ جائیں مولوی بیمار پڑ جائے.. کالام میں سیلاب ا جایے… منحوسو بخشوں گا نہیں" اسکے چلانے کا کوئ بھی اثر لیے بغیر وہ دونوں اندر چلے گئے جبکہ وہ.. مشل کی گردن دبا دینا چاہتا تھا….
اسنے بہرام کو زبردستی حیدر کے پاس رخصتی کی بات کرنے کے لیے بیھجا تھا.. مگر مشل نے صاف انکار کر دیا تھا کہ وہ رخصتی نہیں چاہتی.. تبھی سارگل کی جان پر بن رہی تھی… اور سب نے مشل کی بات کو پوری پوری اہمیت بھی دی تھی….
…………….
وقت گزر رہا تھا… شام ہونے کو ائ تھی بڑی حویلی سج اٹھی تھی… سب تیار ہو ہو کر لون میں جا رہے تھے…
فنکشن کمبائین تھا کیونکہ گھر گھر کے لوگ تھے…
مشل نے وائٹ شورٹ فراک اور وائٹ ہی پلازو پہنا ہوا تھا جبکہ اسکا نازک سراپا سفید کمدار لباس میں سارگل پر تو ظلم ہی کر رہا تھا اور خود بھی وائٹ کرتا شلوار میں ملبوس تھا.. اور مشل کے گرد ایک سو ایک گارڈ دیکھ کر وہ کڑھنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتا تھا…
جبکہ مراد جو براون کرتا شلوار میں ملبوس تھا.. بے چینی سے فیزا کا انتظار کر رہا تھا کیونکہ معاویہ ان سب کو اج کی دعوت میں مدعو کر کے ایا تھا… مگر افسوس کی بات تھی کہ فیزا کے علاوہ سب ائے تھے…
اور ان سب کو ارمیش بے حد پروٹوکول دیے رہی تھی.. بہرام ارمیش کو خوش دیکھ کر خوش تھا نہ ہی اسنے عابیر کو دیکھ کر کوئ ریسپونس دیاتھا نہ ہی عابیر کی جانب سے. کوئ ریسپونس ایا تھا.. دونوں کی لیے ایک دوسرے کا ہونا یہ نہ ہونا برابر تھا….
صارم جبکہ ہواوں میں اڑ رہا تھا کیونکہ ایشا اورینج کلر کے ڈریس میں بے حد پیاری لگ رہی تھی اور جلد ہی انکی شادی کی ڈیٹ کے ساتھ مراد کی شادی کی ڈیٹ بھی اناونس ہونی تھی…
مگر ان سب میں کوئ تھا.. جو سیاہ گولڈن کام کے لباس میں سب سے الگ تھلگ کھڑی تھی….
کیونکہ جس تیزی سے گھڑی کی سوئ اٹھ کے ہندسے کیطرف جا رہی تھی عینہ کی جان پر بن رہی تھی…
کھلی پریشان پریشان سی زلفیں جبکہ لائٹ بوجھل بوجھل سا میکپ اور اسپر بس براون لیپسٹک.. وہ پوری محفل کی جان بنی کھڑی تھی مگر سب سے الگ.. ہاتھ میں موبائل تھامے… بے حد کنفیوز…
ہیلو "پیچھے سے اتی اواز پر وہ پلٹی.. سامنے بلیک ہی ڈنر ڈریس میں کوئ کھڑا تھا وہ اسے نہیں جانتی تھی..
ہیلو" اسنے اہستگی سے کہا…
میرا نام مہد ہے… "اسنے ہاتھ اگے بڑھایا…
مگر عینہ اسکا ہاتھ نہیں تھام سکی انکی کلاس میں یہ عام بات تھی مگر.. اسے ایسا لگا.. داود دیکھ رہا ہو اور اگر اسے پتہ چل گیا.. تو وہ ضرور یہ تو اسے مار دے گا.. یہ اس سے دور چلا جایے گا جو وہ برداشت نہیں کر سکتی تھی…
اسنے بس سر ہلا دیا.. مہد نے مسکرا کر ہاتھ ہٹا لیا..
اپ کچھ پریشان سی لگ رہیں ہیں "اسنے کہا تو عینہ کا دل کیا رو دے.. پہلے وہ پریشان تھی اور اوپر سے.. یہ ادمی بلاوجہ اس سے باتیں کر رہا تھا…
ج.. جی نہیں میں.. بس میری طبعیت نہیں ٹھیک" عینہ نے کہا.. اور اپنی جانب اتے بہرام کو دیکھا…
عین اپ ملی ہو مہد سے "بہرام نے مسکرا کر عینہ کو اپنے حصار میں لیا..
جی ڈیڈ"عینہ نے اثبات میں سر ہلایا…
مہد مسکرا دیا…
بھئ میری چڑیا کی کچھ طبعیت نہیں ٹھیک.. تبھی گم سم سی ہے ورنہ سب سے زیادہ چہکتی ہے" بہرام نے.. مسکرا کر مہد سے کہا.. تو وہ ہنس دیا…
جی انھوں نے ابھی بتایا ہے کہ انکی طبعیت نہیں ٹھیک "
عینہ کو یہ سب باتیں بے کار لگ رہیں تھیں وہ موبایل کو گھور رہی تھی.. اور اچانک ہی موبائل بجا… تو نمبر ان نون تھا…
وہ اچھل اٹھی…
وہ جانتی تھی وہ کون ہے اور اسنے شکر ادا کیا کہ.. جس نمبر پر اسنے اسکا نام سیو کیا تھا اس سے کال نہیں تھی…
یہ کوی اور نمبر تھا اگر وہ ہوتا تو لازمی بہرام دیکھ لیتا کیونکہ وہ اسے اپنے حصار میں لیے کھڑا تھا..
ایکس.. ایکسکیوز می"وہ مدھم اواز میں بولی تو دونوں نے سر ہلایا اور وہاں سے چلے گئے..
جبکہ عینہ سے کال ہی نہیں پیک ہو رہی تھی وہ کتنا ڈر گئ تھی اس سے.. وہ حویلی کے اندر اپنے روم میں ا گئ…
کال دوبارہ ائ.. تو اسنے کال پیک کی..
ڈنر از ریڈی عینہ ڈالنگ…
شادی کے بعد کا پہلا ڈنر.. اور اپکا شوہر بے تابی سے اپکا انتظار کر رہا ہے"وہ گھمبیر اوز میں بولتا.. عینہ کے وجود میں سنسنی دوڑا گیا…
عینہ ناخون کاٹنے لگی…
وہ بری طرح گھبرائ تھی یہاں تو فنکشن تھا.. اور وہ کیسے کیسے جایے گی..
د.. داود" اسکا لہجہ بھیگا..
نو.. کوئ بھانہ نہیں.. ابھی اور اسی وقت میرے پاس او… "حکم دیا…
داود گھر میں فنکشن ہے… مراد لالا اور صارم لالا کی ڈیٹ فیکس ہے.. م.. میں کیسے.. میں.. کل.. ا جاو گی.. "اسنے اہستگی سے.. کہا… جبکہ… پیچھے سے گھیرہ سانس لیا گیا…
اوکے میں اتا ہوں "بس اتنا کہا گیا..
نہیں نہی داود اپ یہاں ا گئے تو قیامت ا جایے گی.. پلیز اپ ایسا مت کریں "وہ ایکدم کھڑی ہو گئ..
دوسری طرف داود نے سگار لبوں میں لے کر گھیرہ کش بھرا تھا… جبکہ لب مسکراے تھے
پھر تم ا جاو "وہ نارملی بولا…
عینہ کی سسکیاں وہ سن رہا تھا…
مگر کچھ نہیں بولا…
میں.. کیس.. کیسے"اسنے موبائل کان سے ہٹایا.. اور انسو صاف کیے.. کال بند ہو گئ تھی…
وہ یہاں ا جاتا اور یہ بات کہ وہ اسکے نکاح میں ہے.. اایک بڑا طوفان لے اتی..
اسے خود ہی کچھ کرنا تھا.. وہ اٹھی.. اور دوڑتی ہوئ نیچے ائ..
تو اسے ایشا نظرا ئ.. جو اسے ہی ڈھونڈ رہی تھی..
عینہ کہاں چلی گئ ہو یار ڈیٹ ان ناونس ہو رہی ہے اور تمھاری کوئ خبر نہیں "ایشا نے کہا.. تو عینہ نے.. ایشا کو پیچھے کیطرف کھینچا..
ایشا میری بات سنو میں پیچھلے دروازے سے.. اپنی گاڑی میں جا رہیں ہوں کہیں.. میں جلد او گی
. تم بس یہاں سمبھال لینا سب کچھ بھی کچھ بھی کہہ کر.. میں میں اتی ہوں" اسنے کہا ایشا کا تو منہ کھل گیا..
یہ کیا بولے جا رہی ہو کہاں. جا رہی ہو اس وقت.." وہ اسکے پیچھے ای… جبکہ عینہ نے سرخ آنکھیں اسکیطرف اٹھائ..
داود کے پاس "ایشا ایکدم دور ہوئ
داود" بے ساختہ اسکے منہ سے نکلا….
ہاں مگر تم کسی کو نہیں بتاو گی "اسنے اسے تنبھی کی..
مگر عینہ… "
وہ کچھ کہتی کہ عینہ باہر نکل گئ…
……………..
وہ نہیں جانتی تھی وہ کس جگہ پر رہتا ہے…
تبھی گاڑی میں بیٹھ کر وہ بری طرح رو دی.. ڈر لگ رہا تھا.. اسکا دل پتے کیطرح کانپ رہا تھا..
مگر خود ہی اپنے انسو صاف کیے…
تبھی اسکا فون بجا..
اب بھی نمبر مختلف تھا…
اسنے کال پیک کی..
تمھاری گاڑی کے پیچھے میرا ڈرائیور ہے اسکی گاڑی میں بیٹھ جاو"بس اتنا کہا اور فون بند کر دیا…
عینہ خاموشی سے گاڑی سے اتر گئ….
اور پیچھے اسکی گاڑی میں بیٹھ گئ..
دس منٹ میں وہ اسکے کمرے کے سامنے کھڑی تھی…
گلاس وال سے اندر کا نظارہ دیکھ رہا تھا…
اندر کنڈلز اور گلاب کے پھولوں سے عجب ماحول دیا ہوا تھا.. کہ عینہ کا اپنی ٹانگوں پر کھڑا ہونا مشکل ہو گیا.. جبکہ وہ خود.. نائٹ گاون میں چئیر پر بیٹھا جھول رہا تھا.. سگار بھی ساتھ ساتھ جاری تھی..
داود نے اسکیطرف چہرہ موڑا…
اسکی آنکھیں سرخ تھیں اسے دور سے ہی لگا…
جبکہ اچانک ہی کمرے میں تمام روشنیاں بوجھ گئیں..
داود گم ہو گیا تھا.. اندھیرہ ہو گیا تھا چارو طرف…
وہ دروازہ بجانے لگی…
دروازہ کھلا.. اور کسی نے اسے اندر کھینچ لیا…
داود"عینہ نے اس اندھیرے میں اسکی شناخت کرنا چاہی… اور پھر مدھم سی.. دو تین کنڈلز جلنے لگیں جس سے.. اسے داود کا چہرہ دھنلا سا دیکھا جو اسکے چہرے کے بے حد قریب تھا…
داود…. مج.. مجھے ڈر لگ رہا….
عینہ کے لفظ.. چن لیے گئے تھے…
مزید وہ بول نہیں سکی…
شیشے کی گلاس وال سے.. لگی.. وہ مقابل کے جنون کو سہہ رہی تھی…
پھولوں کی مہک نے جیسے نئے سیرے سے انکا احاطہ کر لیا تھا…
کمرے میں خاموشی کا دورانیا بڑھنے لگا…
جبکہ عینہ کے لیے یہ لمحات.. خوف کے زیر اثر تھے..
وہ اپنی مرضی سے اس سے دور ہوا…
ویلکم ٹو مائے وارلڈ"مدھم اوز میں کہہ کر اسنے انگوٹھے کی مدد سے عینہ کے رخسار کو چھوا….
عینہ بڑی بڑی آنکھوں اے اسکی صورت تکنے لگی…
مگر بولی کچھ نہیں… تبھی داود نے.. جھک کر اسے… اپنے بازوں میں بھر لیا….
عینہ.. کا وجود کانپ رہا تھا.. داود مسکرا دیا…
عینہ نے… ہونٹوں کو دانتوں تلے دبا لیا…
جبکہ داود نے اسے.. گول میز کے گرد پڑی.. کرسی پر بیٹھایا.. اور ایک بار پھر معمولی… سا اسپر حملہ کیا.. جس پر وہ سٹپٹائ..
کہا تھا نہ یہ میرے غلام ہیں "اسنے.. کہا تو عینہ کا چہرہ سرخ ہو گیا…
جبکہ وہ اسکے سامنے بیٹھنے کے بجائے.. بلکل اسکے ساتھ بیٹھ گیا.. چئیر کھینچ کر ایسے کے.. عینہ.. خود میں سیمٹنے لگی…
د… داود" عینہ نے فوک کیطرف دیکھتے ہوئے سوال کیا.. جس میں چکن کا پیس پھنسا تھا اور داود اسکے منہ میں ڈال رہا تھا…
یس بیوٹی" عینہ نے لقمہ لیا… اور اسی فوک سے داود نے بھی کھایا…
اسکی توجہ پلیٹ کیطرف تھی
اپ.. اپکو مجھ پر غصہ نہیں اتا"اسنے کچھ جھجھکتے ہوے پوچھا اور فوک کا لقمہ لیا
میرا غصہ برداشت کر لو گی عینہ"داود نے سنجیدگی سے اسکیطرف دیکھا…
عینہ کو اسکی آنکھوں سے شرمندگی ہوئ….
اور اسنے نفی میں سر ہلا دیا..
پہلے اسے اسکا یہ سرد انداز نہیں برداشت ہو رہا تھا.. کجا کہ غصہ..
داود مسکرا دیا..
پھر پوچھ کیوں رہی ہو" اسنے پھر سے لقمہ اسکے منہ میں دیا…
اپ.. اپ نارمل نہیں لگ.. لگتے" اسنے اپنے ہاتھوں سے ایک پیس اٹھا کر داود کے منہ میں ڈالا… تو داود نے.. اسکی نازک انگلیوں کو دانتوں تلے دبا لیا..
اہ "عینہ سسکی…
وہ مسکرایا… پھر چھوڑ دیا….
ابنارمل کہہ رہی ہو" وہ سنجیدہ ہوا..
ن.. نہیں" عینہ نے فورا نفی کی
تم بھی تو ویسی نہیں ہو.. یہ گلے میں چین.. یہ ہاتھوں میں بریسلٹ.. یقیناً والد صاحب کا انعام ہے" اسنے معمولی سی نظر اسکی گردن پر ڈال کر اسکے منہ میں بائٹ دی.. اور خود کھانے لگا..
عینہ کو وہ دن یاد ایا جب اسنے اسکی چین توڑ دی تھی..
ی.. یہ ڈیڈ نے.. بی.. ایس سی کے ریزلٹ.. پر د.. دی تھی" اسنے بتایا.. تو داود نے سر ہلایا.. کہا کچھ نہیں…
م… میں اتار دیتی ہوں" اسنے کہا تو.. داود نے کوئ ایکشن نہیں لیا.. عینہ نے چپ چاپ وہ چین اور بریسلیٹ اتار دیا….
داود اسے لقمے دیتا رہا…
وہ کھاتی رہی اسکیطرف دیکھتی رہی…
وہ حد سے زیادہ ہینڈسم ہو گیا تھا.. کہ نظر ٹک سی جاتی تھی
کیا.. دیکھ رہی ہو" داود نے نگاہ اتھائ جبکہ عینہ نے گھبراہ کر گیراہ لی..
ک.. کچھ نہیں" اسنے فورا نفی کی…
داود مسکرایا.. اور فوک چھوڑ دیا…
عینہ نے فوک کی جانب دیکھا.. اسے بھوک لگی تھی.. کیونکہ وہ اسی پریشانی میں صبح سے کچھ نہیں کھا پائ تھی مگر حمت نہ ہوئ مزید کہنے کی…
باتیں کرو" اسنے.. اسکے بلکل نزدیک ہو کر… گردن میں اپنا چہرہ کر کے مدھم اواز میں کہا..
عینہ… کے لیے یہ لمہات نا قابل برداشت ہوئے..
کیا ہوا" داود نے تیوری ڈالی..
ک.. کچھ نہیں.. وہ میں کچھ سوچ رہی تھی بس "عینہ نے کہا.. داود سیدھا ہو گیا..
کیا" سوال کیا اور خود ہی بائٹ لی..
عینہ نے ایک نطر دیکھ کر سر جھکا لیا..
اپ… اپ داود اپ.. اپنا غصہ نکال لیں مگر ایسے مت ہوں" اسنے کہا تو آنکھیں گیلی ہو گئیں جبکہ… اسکا ہاتھ بھی پکڑا..
اچھا" وہ ہنسا….
چلو پھر "وہ اٹھا… ٹیبل کی کینڈل بھجائ..
عینہ کی آنکھیں کھولیں….
جو اسے سمھجہ ا رہ اتھا کیا وہ ہونے والا تھا…
داود نے اسکی جانب ہاتھ بڑھایا.. لب مسکرا رہے تھے… عینہ نے کانپتا ہاتھ اسکے ہاتھ میں رکھ دیا…
اگلے دن کی صبح… اج کی رات کے راز چھپائے ہوئے ہو گی…" اسنے گھمبیر اواز میں کہا… اور عینہ کو بیڈ پر لیٹایا.. جبکہ… وہاں کی کینڈلز سب بھج گییں تھیں… داود نے پردے گیراہ کر کمرے میں مزید اندھیرہ کیا..
داود مجھے ڈر لگ رہا ہے.. پلیز یہ سب.." اسنے اٹھنا چاہا… داود نے.. ہاتھ پکڑ لیا جبکہ خود بیڈ پر گیرہ..
کہا نہ اس رات کے راز.. اگلی صبح بھول جانا" اسنے اسے اپنی جانب کھینچتے ہوے کہا..
عینہ سسکنے لگی..
داود کے سینے پر سر رکھے.. وہ سسک رہی تھی..
داود نے کوئ پیش قدمی نہیں کی….
عینہ نے سر اٹھایا..
داود آنکھیں بند کیے لیٹا تھا..
اپ… اپ.. مجھے ڈرا رہے تھے نہ بس" اسنے انسو صاف کرتے ہویے کہا…
میں اپنے قول سے نہیں پھیرتا…" وہ ایکدم اٹھا… اور عینہ.. کو پیچھے گیرہ دیا…
جبکہ وہ اسے مکمل اپنے قبضے میں کر چکا تھا.. کہ عینہ کی دم مارنے کی ہمت نہ ہوئ… داود کی سرگوشیاں اسے اپنے کانوں میں سنائ دے رہیں تھیں…
جبکہ اسکا ہر عمل.. عینہ کو دنیا سے بہت دور لیتا جا رہا تھا.. کہ وہ سب… پس پشت ڈال رہی تھی….
رات کی تنہائی.. اسپر مسکرائ تھی..
جبکہ… اسکی محبت بھی….
گزرتے.. لمہوں کو.. اور اسکے سوے ہوئے وجود کو دیکھ کر….
وہ سویا نہیں تھا…
اسکا سر.. سینے پر رکھے… وہ اگلی ادھی رات بھی جاگتا رہا..
جبکہ عینہ بے ہوش سو چکی تھی.
کچھ دیر.. بعد اسنے سگار کو.. ایش ٹرے میں مسلہ اور اسکا وجود بانہوں میں بھر کر.. اسنے گاڑی میں ڈالا.. اور حویلی کی جانب نکل گیا..
وہ دانت بھینچے.. حویلی کے باہر گاڑی میں بیٹھا تھا جبکہ عینہ کا سر ڈھلکا ہوا تھا.. بہت سہولت سے اسنے اسے لیٹایا تھا کہ وہ اٹھ نہ سکے…
مگر وہ یوں ہی گاڑی روکے کھڑا تھا.. کہ صبح کی کرنیں اسمان پر پھیلنے لگیں….
سیاہی سے نکلتی نیلاہٹ داود نے اپنی آنکھوں سے پہلی بار دیکھی…
تبھی عینہ کے وجود میں حرکت ہوئ… اور اسنے سر ہلا کر…
چہرہ موڑا… اور خود سمیت داود کو گاڑی میں اور پھر حویلی کے باہر دیکھ کر… اسکے جیسے قدموں تلے زمین نکلی تھی…
وہ جھٹکا کہا کر اٹھی…
داود نے اسے سرخ نظروں سے دیکھا…
اتنی ارام دہ نیند اچھی نہیں ہوتی…. "وہ سٹیرنگ کو سختی سے تھامے اسکی جانب دیکھ رہا تھا…
عینہ کے دل کی دھڑکنیں کسی انہونی کا احساس دلا رہی تھی…
اسے… داود کی آنکھیں جیسے جتا رہیں تھیں….
اسکی آنکھیں پل میں بھیگتی چلیں گئیں….
کیا وہ اسے بدنام کر دے گا… ہاں وہ بدلا لے گا بلکل اسی طرح بدلہ لے گا اسنے بھی تو بھرے مجمعے میں اسکا ساتھ چھوڑا تھا…
اب وہ بھی اس سے بدلہ لے گا..
عینہ کی سرخ آنکھوں میں داود نے اپنی آنکھیں گاڑیں ہوئیں تھیں دونوں ہی ساتھ گزارے حسین پل جیسے فراموش کر چکے تھے.. باقی تو بس بدلہ رہ گیا تھا…
داود نے اسکا ہاتھ غصے سے جکڑا.. کہ عینہ سسک اٹھی….
چلی جاو "اسنے کچھ دیر بعد اسکو چھوڑ دیا جبکہ گاڑی سٹارٹ کر لی..
عینہ نے حیرت سے اسکیطرف دیلھا.. جبکہ اسے اپنی سوچ پر شرمندگی تو ہوئ الگ بات تھی.. ایک بار پھر اسنے اسے.. بے اعتباری تھما دی تھی..
د.. داود" اسنے بات کرنا چاہی..
میں نے کہا جاو.. صبح ہو جائے گی کبھی یہ تمھاری آنکھوں کی زبان حقیقت کا روپ نہ دھار لے" وہ سختی سے آنکھیں نکال کر بولا… تو عینہ رونے لگی….
اسے نہیں سمھجہ ا رہی تھی داود… اسے ایک لمہے میں پریشان کرتا تھا.. پھر.. اسکا ساتھ دیتا تھا…
مگر عینہ کے اندر کا خوف اسکا ساتھ نہیں چھوڑ رہا تھا..
وہ خاموشی سے گاڑی سے نکلی.. اور جس طرح.. پیچھلے دروازے سے ائ تھی اسی طرح اندر چلی گئ..
یہاں تک کے داود دور کھرا اسے دیکھتا رہا.. اور پھر.. تیزی سے گاڑی گھما کر ریورس کر لی…
………………..
حویلی میں دھوم دھام سے جیسے شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں تھیں کون نہیں تھا. جو اپنے کام میں پانی تیاری میں مگن نہیں تھا…
جبکہ بس ایک سارگل تھا… جو کرھ رہا تھا..
اج وہ لیٹ اٹھا تھا… سنڈے کے باعث کام پر بھی نہیں جانا تھا تبھی سب گھر پر تھے…
اسنے ناشتہ کیا… تو ٹیبل پر قسمت سے اس وقت کوئ نہیں تھا.. وہ اٹھنے لگا تھا کہ سامنے سے مشل ائ…
وہ شاید خود بھی دیر سے اٹھی تھی.. اور ارد گرد بھی کوئ نہیں تھا… مگر سامنے سارگل کو دیکھ کر
.. وہ دوبارہ کمرے میں جاتی کہ سارگل نے اسکو ایک لمہے میں جکڑا اور.. اسی کے کمرے میں لے گیا…
جبکہ مشل نے خود پر افسوس کیا…
اچھی بھلی وہ اس سے بچی ہوئ تھی اور اج وہ اسکی گرفت میں ا گئ…
یہ جو تم کر رہی ہو.. تمھیں کیا لگ رہا ہے تمھاری میں چلنے دو گا "اسنے مشل کا ہاتھ سختی سے پکڑا..
چاہتے کیا ہیں اپ مجھ سے" مشل نے اس سے اسکا ہاتھ چھڑانا چاہا مگر افسوس کے وہ چھڑا نہیں سکی…
میں چاہتا ہوں تم عزت سے.. شادی کے لیے ہاں کر دو "سارگل نے سنجیدگی سے کہا.. تو مشل نے جھٹکے سے اس سے اپنا ہاتمھ چھڑایا..
مجھے لگتا ہے میں روبوٹ ہوں اپ نے جو کہہ دیا میں نے وہ کر دیا.. تو یہ بھول ہے اپکی.. اپ نے ایک معصوم کے جزبات کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا تھا اور اج بھی صرف اپ کے اندر کی ہوس اپکو مجبور کر رہی ہے اور میں بلکل بھی اب وہ نہیں کرو گی کیونکہ میں کمزور نہیں ہوں"
وہ چلائ…
اور پھر نہ جانے کیسے سارگل کا ہاتھ اٹھا.. اور مشل کے گال پر نشان چھوڑ گیا… کیا فضول ڈرامہ لگایا ہو اہے تم نے ہوس ہوس ہوس…" وہ دھاڑا…
مشل نے بھیگی نظریں اٹھائ….
بیوی ہو تم میری..
ہوس ہوتی تو تم سے نکاح کر کے یہ ٹنٹا نہ پالتا.. سمھجی "
اسنے اسے دھکا دیا.. مشل ایک قدم دور ہوئ…
سارگل اسکو چند لمہے گھورتا رہا
مشل سر جھکائے کھڑی رہی..
سارگل کو اسکا چپ رہنا عجیب سا لگا…
اب بولتی کیوں نہیں ہو" اسنے اسکا ہاتھ پکڑا…
مشل نے ایک جھٹکے سے ہاتھ چھڑایا…
کیونکہ ایک مرد نے اپنی طاقت کا استعمال کر کے میرا منہ بند کرا دیا ہے سارگل خان… اب میں بول کر کیا کرو" اسنے زخمی نظروں سے اسکی جانب دیکھ کر کہا…
سارگل نے.. ماتھے پر ہاتھ پھیرہ..
میری بات سنو "اسنے دوبارہ اسکا ہاتھ پکڑا…
پلیز اپ جائیں یہاں سے "اسنے انسو صاف کر کے کہا…
سارگل کو خود پر شدید غصہ ایا…
اسے رام کرنے کے بجائے… اسنے اسے خود سے مزید بدزن کر دیا…
جائیں یہاں سے ورنہ میں بابا کو بلا لوں گی سارگل خان"وہ اسے دھکا دیتی بولی… تو سارگل نے.. اسکی جانب دیکھا…
چہرے پر اسکے نشان دیکھ کر اسے… خود پر غصہ ا رہا تھا..
اور پھر وہ کمرے سے باہر نکل گیا..
سب بگڑتا جا رہا تھا سب…"
اسنے سوچا.. اور.. غصے سے ہتھیلی پر ہاتھ مار کر وہ.. باہر نکل گیا…
…………..
مگر قسمت شاید اچھی نہیں تھی…
وہ بری طرح بہرام سے ٹکرایا…
کہاں سے ا رہے ہو" اسنے ایک نظر مشل کے کمرے کیطرف دیکھا اور دوسری نظر سارگل پر ڈالی…
کہیں نہیں "سارگل نے نفی میں سر ہلایا اور گزرنے لگا کہ بہرام نے اسکا شانہ تھامہ…
چلو میرے ساتھ"گھور کر کہتے ہوئے وہ اسے مشل کے روم کیطرف لے گیا..
جبکہ سارگل نے بالوں میں ہاتھ پھیرہ اسکا بس نہیں چلا کہ کسی طرح اندر سے مشل کو غائب کر دے..
بہرام نے دروازہ بجایا.. تو اندر سے کوی جواب نہیں ایا
اسنے ہلکا سا دروازہ کھولا…
سارگل نے دانت بھینچے…
وہ صوفے پر گٹھنوں میں سر دیے بیٹھی تھی…
جبکہ اسکی سسکیاں پورے کمرے میں گونج رہیں تھیں تھیں..
سارگل پیچجے کھرا تھا.. جبکہ بہرام اندر داخل ہوا اور.. اسنے مشل کے سر پر ہاتھ رکھا..
مشل نے سر اٹھایا…
تو اسکے چہرے پر انگلیوں کے نشان دیکھ کر بہرام کا خون کھول اٹھا.. اسنے پلت کر سارگل کی جانب دیکھا..
سارگل نے سر جھکا لیا..
کیا ہوا ہے بیٹا.. کس نے مارا ہے"جان تو وہ گیا تھا مگر مشل کے مبہ سے سننا چاہتا تھا..
ڈیڈ کچھ نہیں ہو ابس"
شیٹ اپ"بہرام دھاڑا…
مشل اپ کو سارگل نے مارا ہے" بہرام نے سنجیدگی سے پوچھا.. مشل نے کچھ نہیں.. کہا…
اسے مزید رونا ا رہا تھا…
بہرام نے مٹھیاں بھینچی وہ ایک جھٹکے سے پلٹا.. اور کھینچ کر تھپڑ سارگل کے منہ پر مارا… کہ وہ دو قدم دور ہوا…
تمھاری ہمت کیسے ہوئ مشل پر ہاتھ اٹھانے کی" وہ چلایا… مشل نے اچانک منہ پر ہاتھ رکھا یہ سب اسکے لیے بے یقینی لیے ہوے تھا..
سارگل کا چہرہ سرخ ہو گیا..
لگا اب تھپر تمھیں اب ائ سمھجہ کہ اسکی تکلیف کیا ہوتی ہے.. عورت پر ہاتھ اٹھا کر ثابت کیا کر رہے تھے تم" اسنے اسکا گریبان پکرا سارگل کچھ نہیں بولا.. جبکہ مشل چاہ کر بھی نہرام کو روک نہیں پائ وہ خود میں اتنی ہمت نہیں پا رہی تھی..
ایک بات یاد رکھو سارگل خان اتنی طاقت دیکھانی ہے تو مجھ پر دیکھاو دیکھ لیتا ہوں میں تم کیا چیز ہو… غلطی پر غلطی کیے جا رہے ہو اور یہ سمھجہ لیا تم نے کہ میں بے بس ہو گیا.. اولاد کو پوچھ نہیں سکتا"اسکے چلانے سے رفتہ رفتہ سب وہاں اکھٹے ہونے لگے تھے.. یہ تماشہ سب کھڑے دیکھ رہے تھے…
دفع ہو جاو یہاں سے" اسنے اسے دھکا دیا تو وہ چپ چاپ وہاں سے نکلتا چلا گیا جبکہ مراد اسکے پیچھے لپکا..
سارگل بات سنو "
بس" اسنے سرخ آنکھیں نکالیں…
میں کچھ دیر اکیلا رہنا چاہتا ہوں" اسنے کہا اور باہر نکل گیا…
…………….
غصہ حد سے زیادہ تھا خود پر سب پر
وہ افس میں بیٹھا… فائلوں پر فائلیں پٹخ رہا تھا….
تبھی چوکیدار ایا… اور کسی کے انے کی اطلاع دی وہ ملنا تو کسی سے نہیں چاہتا تھا مگر… بالوں میں ہاتھ پھیرتا… وہ سیدھا ہوا.. اور اندر داخل ہوتے ہارون کو دیکھا….
دونوں کی درمیان رسمی سی بات چیت ہوئ.. اور ہارون نے مدعا اسکے سامنے رکھا…
تم کیوں ہڑپنا چاہتے ہو اسکے ہوٹلز"سارگل نے اسکو گھور کر دیکھا…
سنا ہے تم پیسوں کے لیے کوئ بھی کیس لڑتے ہو.. میں نے اسی لیے تمھاری طرف رکھ کیا..
اگر تم نہیں کرنا چاہتے تو میں کسی اور کے پاس چلا جاتا ہوں.. اب سوال جواب تمھیں تو دینے نہیں یا میں" ہارون نے ٹکا سا جواب دیا.. تو سارگل نے تپ کر اسکیطرف دیکھا..
اچھا تو کتنے دینے والے ہو تم مجھے"
ایک کروڑ "ہارون نے اسکی آنکھوں میں دیکھا…
سارگل نے ایک پل کو بس اسکو حیرت سے دیکھا…
ٹھیک ہے." اسنے بغیر سوچے سمھجے حامی بھر لی…
جبکہ ہارون مسکرایا تھا…
گڈ پھر جلد ملتے ہیں" وہ ہاتھ ملا کر اتھا سارگل نے بس سر ہلایا..
اور ہارون کو باہر جاتے ہویے دیکھا…
ہو گیا کام"اسنے اطلاع دی
گڈ" مقابل نے کہا اور فون بند کر دیا…
………………
وہ شاپینگ مال سے ابھی باہر نکلنے لگا تھا کہ.. کسی سے زور سے ٹکرایا…
اسنے تیوری چڑھا کر دیکھا.. اور اپنے سامنے پرنسپل کو دیکھ کر اسکے ماتھے کے بل غائب ہوئے…
پرنسپل اسکی جانب دیکھ کر مسکرائے داود بھی مسکرا دیا…
بس رسمی سا…
کیسے ہو برخوردار "انھوں نے کہا تو.. داود نے سر ہلایا..
میں ٹھیک اپ کیسے ہیں" اسنے پوچھا… اور ابھی وہ کوئ بات کرتے کے پیچھے سے چیخوپکار کی اوز سنائ دینے پر پرنسپل بھکلا کر پیچھے مڑے…
انھوں نے اپنی بیٹی کو زمین پر گیرتے دیکھا تو وہیں سب چھوڑ کر وہ اسکی جانب بھاگے…. داود بھی اس افراتفتی پر انکے پیچھے ہوا…
حیا حیا بیٹا آنکھیں کھولو"وہ اسکے گالوں کو چھونے لگے..
ای تھینک اپکو انھیں ہوسپٹل لے جانا چاہیے" داود نے کہا تو انھوں نے سر ہلایا جبکہ انکھ سے انسو لاتعداد بہہ رہے تھے…
جب ان سے حیا کو اٹھایا نہیں گیا تو… داود نے…
انکو پیچھے کر کے…
انکی بیٹی کو. بازو میں اٹھایا اور گاڑی میں ڈالا…..
انکی نم سرخ آنکھوں سے انسو بہتے اسے بہت عجیب سے لگ رہے تھے…
اپ فکر نہ کریں ہو سکتا ہے گرمی کی وجہ سے گھبراہٹ یہ بی پی لو ہو گیا ہو"داود نے کہا تو انھوں نے نفی میں سر ہلایا…
برین ٹیمر ہے اسکو" وہ مدھم اواز میں بولے..
داود شاکڈ سا انکیطرف دیکھنے لگا…
جبکہ ہوسپیٹل بھی ا گیا تھا..
بلاشبہ وہ لڑکی کافی خوبصورت تھی..
…………………
تم مجھے بتانا پسند کرو گی کہ اتنی رات گئے.. داود کے پاس کی اکرنے گئ تھی اور داود داود کہاں میرا مطلب کیا ہو رہا ہے یہ سب" ایشا جھنجھلا سی گئ.. کسی طرح اسنے بات سمبھال لی تھی مگر سب ہی بہت غصہ ہوئے تھے بلکہ بہرام تو اسکے روم میں اسکی طبعیت ہوچھنے بھی جا رہا تھا.. کہ ایشا نے بہت مشکل سے روکا. اور صبح ہوتے ہی وہ اسکے روم میں تھی..
وہ… وہ میں ان سے ملی تھی.." اسنے بے تکا سا جواب دیا.. کیا وہ اسے بتا دیتی کہ اسنے نکاح کر لیا تھا…
اسے شرمندگی سی ہوئ…
عینہ بات کیا ہے" ایشا نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا..
تم کسی کو تو نہیں بتاو گی"اسنے گھبرا کر کہا..
نہیں جلدی بتاو اب"
وہ داود میں نے داود سے.. ایشا میں نے نکاح.. نکاح کر لیا ہے"
کیا"وہ دو قدم دور ہوئ..
د.. داود سے" عینہ نے اسکی جانب دیکھا…
اسے شدہد شرمندگی ہوی یہ بتاتے ہوئے..
تم پاگل ہو گئ ہو جانتی ہو یہ بات کیا طوفان لاے گی" ایشا نے اسے جھنجھوڑا…
میں میں.. میں اسے نہیں کہو سکتی اب"عینہ رونے لگی تو.. ایشا نے سر تھام لیا….
ابھی وہ مزید بات کرتی کہ ارمیش کے پکارنے پر دونوں الرٹ سی ہو گئیں..
چلو.. دونوں شاپینگ کے لیے نکلنے لگے ہیں ہم فیزا کو بھی لینا ہے"
ارمیش نے کہا تو وہ دونوں اتھ گئیں جبکہ ایشا نے عینہ کو گھور گھور کر ہی پریشان کر رکھا تھا..
حویلی کی سجاوٹ دیکھنے لائق تھی… اج مراد اور صارم سمیت فیزا اور ایشا کو مہندی لگنی تھی….
تبھی ایک بھگدڑ مچی ہوئ تھی سب اپنے اپنے کاموں میں مگن تھے…
جبکہ عینہ مشل اور ایشا ایک کمرے میں تھیں..
نہ ایشا کو صارم دیکھ سکتا تھا نہ سارگل نے اس دن کے بعد مشل کو دیکھا تھا..
وہ دیکھنا بھی نہیں چاہتا تھا.. اسنے خاموشی کا لبادہ اڑھ لیاتھا..
فلحال وہ اس کیس میں الجھا ہوا تھا….. یہ جانے بغیر کے کوئ بڑی سہولت سے اس کیس میں اسکو پہنسا رہا ہے…..
اس وقت بھی وہ فائل کو چیک کر رہا تھا.. جس میں لیگلی وہ تمام مارکیٹس کسی جمشید نامی ادمی کی تھیں جن پر ہارون قبضہ کرنا چاہتا تھا…
اور اسنے اپنے پیپرز بھی سارگل کے حوالے کر دے تھے.. جو کہ جالی تھے سارگل یہ بات جانتا تھا…
اور اب اسے کسی بھی طرح کورٹ میں یہ بات واضح کرنی تھی کہ یہ سب ہارون کی مارکٹس ہیں جس پر جمشید نامی ادمی نے قبضہ کیا ہوا ہے..
وہ یہ بھی جانتا تھا اس ادمی نے بھی کورٹ میں کیس دائر کیا ہوا تھا.. اب جیتا کون ہے یہ فیصلہ کل ہونا تھا…
…………………
عینہ نےسیل فون اٹھایا…
تو اسکی کال ا رہی تھی نہ جانے وہ ان نون نمبر سے کیوں کرتا تھا مگر اسنے اسکے سارے نمبر سیو کیے ہویے تھے..
اسکی کال اٹینڈ کرتے ہویے.. اسکے لبوں پر بہت پیاری سی مسکراہٹ ا گئ..
اسنے اپنے بھالو کو بانہوں میں بھرا اور کال پیک کی…
کیسی ہو "سوال کیا گیا..
میں ٹھیک ہوں" وہ مسکرا کر بولی…
ملنے نہیں او گی"اسنے پوچھا…
مگر گھر میں شادی ہے.. اور اب نکلنا رزق ہو گا.." عینہ کچھ پریشان سی ہوئ…
تو پھر"داود نے لاپرواہی سے کہا..
تو یہ کہ داود صاحب… اج.. نہیں مل سکتی میں اپ سے" وہ ہنس کر بولی..
مگر عینہ میڈیم یہ تو نہ انصافی ہو جایے گی.. کون مجھے میری بیوی سے ملنے سے روک سکتا ہے تم نہ ائ تو میں ا جاو گا سیمپل" اسنے کہا
داود اپ مجھے ڈراتے ہی" عینہ کی اواز مدھم ہوئ…
تم نے بھی تو مجھے ڈرایا تھا" اچانک ہی اسکے منہ سے نکلا.. عینہ خاموش ہو گئ….
دوسری جانب بھی خاموشی چھا گئ..
میں اپ سے"
کوائٹ.. "وہ گھمبیر لہجے میں بولا….
عینہ میں داود ہوں.. یہ بھولنا مت.." اسکا لہجہ بدلا بدلا سا تھا..
داود.. "اسے پریشانی نے ا گھیرہ..
اپ یہاں نہیں آئیں گے نہ" وہ بھالو چھوڑ کر اٹھی..
داود ہنسا…
ہاں میں وہاں نہیں او گا… تم او گی نہ میرے پاس" وہ معصومیت سے بولا…
ج.. جی میں او گی "اسنے حامی بھری..
ٹھیک ہے پھر رات 9 بجے ملتے ہیں ڈنر.. ساتھ کریں گے"اسنے اطلاع دی..
مگر فنکشن"وہ منمنائ…
مجھ سے زیادہ اہم ہے" اسنے پوچھا… عینہ نے نفی کی…
نہیں…" اواز مدھم تھی
گڈ ڈالنگ… میں تمھارا انتظار کرو گا "کہہ کر اسنے فون بند کر دیا…
ابھی وہ پلٹا ہی تھا کہ اپنے پیچھے ہارون کو کھڑا پایا..
تم تو بہت شاطر نکلے… یار….
اب کیا کرنے والے ہو اس لڑکی کے ساتھ… گھما کر گیرے گی.. بہرام خان کی سیاست جب یہ بات میڈیا پر اے گی کہ اسکی بیٹی.. چھپ چھپ کر…
شیٹ اپ" داود نے انگلی اٹھا کر اپنے اندر اٹھتے اشتعال کو روکا…
ہارون چپ ہو گیا..
وہ لڑکی تمھارا کنسرن نہیں ہے….
وہ عینہ ہے داود کی عینہ… اور اسکی عزت… مجھے.. ہر چیز پر پیاری ہے… اگلی بار تمھارے منہ سے اسکا نام نہ سنو. ورنہ سب لحاظ بلائے طاق رکھ دوں گا" وہ سرد لہجے میں بولا تو ہارون نے ہاتھ اٹھے..
بھائ مجھے کیا پتہ تھا تمھارے ڈھیٹ دل میں اب بھی وہ پنجے گاڑے بیٹھی ہے… خیر.. یہ حیا نامی لڑکی کا کیا کیس ہے.. جب تم گھٹنوں گٹھنوں عینہ کے عشق میں ڈوبے پڑے ہو" ہارون نے پوچھا.. کیونکہ پیچھلے دو دن سے وہ اس لڑکی کے پاس ہسپیٹل جا رہا تھا….
اج اس لڑکی کا نکاح ہے" داود نے سنجیدگی سے بتاتے ہوئے سگار سلگائ..
کیا عجیب شوشہ چھوڑا ہے ٹیومر ہے اس لڑکی کو… کون کر رہا ہے یہ نیکی.. اوووو اب سمھجا. "اسنے اسکی جانب ایسے دیکھا جیسے سب سمھجہ گیا ہو….
کیا سمھجے "داود مسکرایا…
ماسٹر مائنڈ.." ہارون نے تالی بجائ..
بلکل میں برداشت ہی نہیں کر پا رہا تمھیں کنوارا" داود.. نے دھواں اسکے منہ پر چھوڑا…
کیا بکواس ہے" ہارون اچھلا…
کیا مسلہ ہے…" داود نے تیوری چڑھائ…
جس لڑکی کی دو دن کی گرنٹی نہیں تم اسکے پلے باندھ رہے ہو مجھے اور ویسے بھی میں شادی نہیں کرنا چاہتا .. تو میرے بھائ یہ باتیں اپنے دماغ سے نکل ددو" ہارون نے صاف انکار کیا..
مجھے اپنی گرنٹی دے رہے ہو تم کہ اگلے لمہے تم زندہ رہو گے..
تمھارے ہزاروں کی تعداد میں دشمن ہیں.. پولیس تمھیں پروٹیکٹ نہیں کرتی ..….
مگر لگتا ہے تمھارے ایک لمہے کا بھی بھروسہ ہے"داود نے اسے حقیقت کا ائینہ دیکھایا…
ہارون غصے سے اسکی صورت تکنے لگا….
وہ بیمار ہے" اسنے جیسے اسکو بتانا ضروری سمھجا..
جانتا ہوں… تمھیں صرف نکاح کرنا ہے…
میں نے یہ نہیں کہا اسکے ساتھ اپنی ازدواجی زندگی گزار دو…
جبکہ یہ نکاح میڈیا پر میرے نام سے ڈیسپوز ہو گا…. "
اسنے سہولت سے کہا..
مگر میں کروں ہی کیوں "ہارون کے پلے کچھ نہیں پڑ رہا تھا…
داود سنجیدگی سے اسکی جانب دیکھنے لگا..
تم نے مجھے اپنے ساتھ رکھا تھا.. مجھ سے پوچھ کر رکھا تھا "داود نے اب کہ غصے سے پوچھا…
کیا مصیبت ہے یار" ہارون چیڑہ…
چلو… زیادہ نہ سوچو… پہلے ہی اتنے جرائم ہیں تمھارے سر.. کوئ ایک نیکی کا کام کر کے.. ثواب کماو "
داود ہنسا…
تو ہارون نے گھورا…. زہر لگ رہے ہو اس وقت مجھے تم"
وہ کہہ کر پاوں پٹخ کر اسکے ساتھ باہر نکلا…
………………………….
مہندی کا فنکشن بہت بڑے پیمانے پر تھا…
سب ہی اس فنکشن میں شامل تھے جبکہ یہاں سے فارغ ہو کر.. انھیں فیزا کیطرف جانا تھا….
مشل نے یلو کلر کا لہنگا جبکہ چھوٹی سی کرتی پہنی ہوئ تھی دوپٹہ.. اسنے ایک طرف ڈالا ہوا تھا.. اور وہ صارم اور مراد کے پاس کھڑی.. تھی…
سارگل نے اسے دور سے دیکھا…
اور سنجیدگی سے وہ سٹیج پر ایا صارم اور مراد کا منہ میٹھا کرایا…
سب اسکی سنجیدگی کو محسوس کر رہے تھے.. مگر مشل کی مرضی کے اگے کوئ کچھ نہیں کر سکتا تھا…
مشل اسکو دیکھے گی.. وہ صارم کی کسی بات پر
مدھم سا مسکرایا…
اور پھر نیچے اتر گیا…
اسکی خاموشی اسے بلکل اچھی نہیں لگی..
دل کیا جا کر اس سے بات کرے.. مگر دل کو سمبھال کر وہ یوں ہی کھری رہی.. جبکہ وہ بہرام کے ساتھ ساتھ.. سب سے ملتا ہوا پھیر رہا تھا…
عینہ نے گولڈن کامدار ڈریس پہنا تھا جو داود نے… اسکے پا سپارصل بھیجا تھا.. اور سب کے پوچھنے پر اسنے اون لائن اڈر کا بھانا بنا دیا..
سوٹ کامدار تھا اور بے ھد خوبسورت. جبکہ عینہ اس میں بے حد حسین لگ رہی تھی… کہ مہد اسے دیکھتا ہی گیا..
مما… اپکو اج تو بات کر لینی چاہیے اور کتنا دیر کریں گی"وہ بے چینی سے بولا تو وہ ہنسی… ہاں میں بھی سوچ رہی ہوں اج تو بات کر ہی لو ن چلو روکو تم" مہد کو کہہ کر وہ… ارمیش کے اپس ا گئیں…
جبکہ مہد… عینہ کی جانب چلا گیا..
اسے یقین تھا.. اسکے رشتے کے لیے حامی بھر لی جائے گی کیونکہ.. وہ کافی عرصے سے معاویہ کے ساتھ بیزنیس جر رہے تھے…
کیسی ہیں اپ اج تو اپکی طبعیت ٹھیک لگ رہی ہے" مہد کے بولنے پر وہ ایکدم ڈری…
جی" اسنے کہا…
اپ بہت خوبصورت لگ رہیں ہی"مہد کی تعریف پر اسکا بس نہیں چلا وہ وہ فون کال بند کر دے جو چل رہی تھی.. یعنی داود یہ سب سن رہا تھا…
جی شکریہ " اسنے کہا اور موبائل دیکھنے لگی جس پر نمبر گیر رہے تھے..
اپ.. اتن اگبراتی کیوں ہیں" مہد ہنسا.. تو عینہ نے دیکھا کال بند ہو گئ..
اسنے مہد کیطرف دیکھا…
پمیز ایکسکیوز می"اسے اچانک غصہ ایا تھا.. اتنی مشکلوں سے وہ اسکے ساتھ ٹھیک ہو رہا تھا اور وہ.. لڑکا… پتہ نہیں کیوں. اگیا تھا…
اسے در بھی لگ رہا تھا..
مہد نے مسکرا کر اسکی پشت دیکھی.. اور سامنے سے اتی اپنی ماں کو دیکھا جو مسکرا رہیں تھیں..
وہ کہہ رہیں ہیں کہ کل اپ لوگ آئیں ہمارے گھر اور بہرام سے سہولت سے اس موضوع پر بات کریں "اپنی ماں کی بات سن کر مہد کی خوشی کی انتہا نہ رہی…
جبکہ عینہ… گھڑی میں وقت دیکھ رہی تھی..
یہاں کا فنکشن تو تمام ہوا ہی تھا.. اب فیزا کیطرف جانا تھا…
وہ سمھجہ نہیں پا رہی تھی کیا کرے..
ایشا سے بھی نہیں کر سکتی تھی جو کہ دولہن بنی بیٹھی تھی..
اور بس اسکے دماع میں خود کو تکلیف دینے کے سوا کوئ بہانا نہیں ایا..
وہ سب گاڑیوں میں سوار ہو رہے تھے کہ…
عینہ جو کہ ہیل میں تھی اسنے جان بوجھ کر اپنے پاوں کو موڑا.. اور پھیدل کر گیری..
عینہ"ارمیش نے اسے تھاما…
اسے زیاسہ نہیں لگی تھی مگر درد ہو رہا تھا..
مگر چونکہ اسے.. بچنے کے لیے ڈرامہ کرنا تھا تبھی اسنے تکلیف کے اثار بڑھا لیے..
مما بہت درد ہو رہا ہے لگتا یے موچ. اگئ" وہ بولی تو ارمیش نے پریشانی سے اسکو دیکھا تب تک بہرام سارگل سب اسکے گرد جما ہ وگیے..
ہنی تم اندر چلو…" سارگل نے کہا تو اسے خوشی ہوئ.. اسکا کام اسان ہو گیا تھا..
میں روکتا ہوں تمھارے ساتھ"وہ بولا تو… عینہ کا رنگ اڑا..
نہیں بھائ اپ جائیں.. میں ٹھیک ہو.. تھوڑی دیر ارام کروں گی پھر ٹھیک ہو جاو گی"اسنے کہا.. تو سارگل نے نفی کی اور زبردستی وہ اسکے ساتھ روکا…
جبکہ سب اسکو خیال رکھنے کا کہہ کر چلے گئے..
مراد بھی روکنا چاہتا تھا مگر.. سارگل نےا سے بھیج دیا…
عینہ اپنے کمرے میں بیٹھی یہ سب سوچ رہی تھی سڑھے نو ہو گئے تھے اب تک کچھ نہیں ہو اتھا کوئ فون کال نہیں تھی…
اسکے دل میں دھکر پکڑ شروع ہو گئ…
اور پھر بلاخر وہ اٹھی… کمرے سے باہر نکلنے ہی لگی تھی کہ سارگل کمرے میں ایا وہ جلدی سے بستر پر بیٹھ گئ..
ہنی میں کچھ دیر تک اتا ہوں افس جا رہا ہوں اوکے پریشان مت ہونا… "اسنے کہا تو عینہ نے ہلکی سی سمائل دے کر.. سر ہلایا..
سارگل تو چلا گیا اب اسے جانا تھا..
وہ ہمیشہ کیطرح چور راستہ اختکار کر کے.. اپنی گاڑی میں.. دس منٹ میں اسکے کمرے کے سامنے تھی…
اب اسے راستوں کا اندازا ہو گیا تھا..
کمرے میں کوئ نہیں تھا…
اسنے دروازہ کھولنا چاہا کہ پیچھے سے.. اسکے ہاتھ پر اسکا ہاتھ رکھا گیا مگر یہ ہاتھ سختی سے رکھا گیا تھا.. عینہ نے پلٹ کر دیکھا…
وہ اسکے پیچھے کھڑا تھا..
دروازہ کھول کر وہ.. اندر داخل ہوا..
عینہ بھی اندر داخل ہوئ…
داود… بیڈ والے پورشن میں جا کر لیٹ گیا…
اسکی طبعیت عینہ کو کچھ خراب سی لگی.
کیا ہوا ہے اپکو. "وہ اسکے پاس ائ..
اور بس داود نے.. ایک جھٹکے سے اسکو… دونوں بازوں سے پجڑ کر جھنجھوڑ دیا..
کون ہے یہ.. جو تمھاری تعریفیں کر رہا تھا اور تم سن رہی تھیں" وہ دھاڑا…
عینہ کا رنگ فق ہو گیا…. یہ سب تیاری کس کے لیے تھی کون کہتا ہے تمھیں اتنا تیار ہو تم بتاو مجھے" اسنے.. غصے سے اسکے بال جکڑے….
عینہ کی ہچلی بندھ گئ…
داود نے اسے بیڈ پر پھینک دیا…
عینہ نے اٹھنا چاہا مگر داود نے اسے اٹھنے نہیں دیا…
میں وہ خود بات کرتے ہیں"
وہ بولی
کرتے ہیں "داود نے اسکا منہ جکڑا اج وہ پرانا داود لگ رہا تھا….
ک.. کرتا ہے" عینہ نے تصیحی کی…
تم صرف داود کی ہو سمھجی تم… تمھیں پانے کے لیے بہت کچھ سہا ہے میں نے.. اگ لگا دوں گا میں ہر اس شخص کو جو تمھارے قریب بھی پھٹکا" وہ دھاڑا… تو عینہ.. رونے لگی.
س.. سوری داود "اسنے منمنا کر کہا..
داود.. نے اسے چھوڑ دیا…
وہ اٹھ بیٹھی…
اسکی شکل دیکھنے لگی….
داود نے انکھ اتھا کر اسکی جانب دیکھا…
پلیز غصہ تھوک دیں "وہ مسکرائ…
داود.. نے پیچھے ٹیک لگا لی..
ادھر او" اسنے اسے پاس بلایا… عینہ کا دل دھڑکا مگر وہ انکار نہی نہیں کر سکتی تھی وہ… تھرا سا اگے ہو کر اسکے نزدیک ہوئ..
داود اسکے بالوں کو چھونے لگا… پھر اسکے جھمکوں کو چھیڑنے لگا… عینہ خاموش بیٹھی دل کی بے ترتیب دھڑکنیں سمبھال رہی تھی…
داود کی جسارتیں بھڑتی جا رہیں تھیں… وہ اسکے چہرے کے نزدیک اپنا چہرہ لے ایا…
ہم.. ہم کچھ اور… "عینہ کچھ دور ہوئ..
داود ہنسا..
جیسا کہ" اسنے ائ برو اچکائ…
اپ اپ اپنے پیرنٹس سے نہیں ملیں گے.. کیا"اسنے سوال کیا جبکہ داود نے اسکے لبوں پر انگلی رکھ دی….
کل کا دن یقیناً بہت بڑا دن ہو گا عین…. بس اتنا سمھجہ لو تم. میری زندگی ہو…
داود تمھارے بغیر نہیں رہ سکتا… مگر داود داود ہے.. یہ بھی مت بھولنا…" وہ پیار سے بول کر اسکے رخسار کو اپنے لبوں سے چھو گیا…
عینہ اپنی جگہ سے اٹھی..
میں جاو" اسنے پوچھا.. تو داود نے غور سے اسکیطرف دیکھا..
کیوں.. کیا کافی ہو گئ.. اس لڑکے کی تعریف جو شوہر کے پاس. اکر بدق رہی ہو "وہ سنجیدگی سے بولا تو.. عینہ اسکے پل میں بدلنے پر حیران رہ گئ..
داود ایسا تو نہیں ہے "اسنے کہا… تو داود نے.. اسکے بالوں کو متھی میں جکرا.. اور اسکے نازک لبوں پر شدت سے قہر ڈھانے لگا…
کہ عینہ کی سانسیں اکھڑ گئیں…
تادیر وہ اسے ہلکان کرتا رہا..
بہت خوبصورت لگ رہی ہو" اسکے لبوں سے پھوٹتی خون کی لکیر کو انگوٹے سے صاف کرتا.. وہ بولا.. تو عینہ نےا پنے انسو صاف کیے..
اور مسکرا دی.. وہ اسے بلکل بھی خفا نہیں دیکھ سکتی تھی..
. …………………
کیس وہ جیت گیا تھا.. مطمئین تھا ہاں اس میں صلاحیت تھی.. وہ غلط کو صیحی ثابت کر سکتا تھا…
وہ اٹھا .. اور لنچ کرے کے لیے .. جہاں سب بیٹھے کل کے فنکشن کو ڈسکس کر رہے تھے.. کہ پاس ابھی جاتا ہی کہ.. کھٹاکھٹ.. پولیس کی نفری.. ہال میں بھر گئ…
یہ کیا حرکت ہے"معاویہ اور بہرام بیقوقت اٹھے….
جبکہ باقی سب بھی غصے سے اٹھے…
صارم نے سب خواتین کو دوسری طرف بیج دیا…
کس کی اجازت سے میرے گھر میں گھسے ہو" بہرام دھاڑا.. تو کمشنر.. اسکے سامنے ایا..
معافی چاہتا ہوں سر مگر اپکے بیٹے کے خلاف… وارنٹس ہیں…
عدالت کی آنکھوں میں دھول جھوکی ہے اپ کے بیٹے نے…"
کمیشنر صاحب نے.. سارگل کیطرف دیکھ کر کہا…
سارگل کے قدموں تلے جیسے زمین کھسکی تھی..
بایر سے شوروغل بڑھنے لگا..
یہ میڈیا کو کس نے بلایا ہے" بہرام کچھ سمھجہ نہیں پا رہا تھا… یہ سب ہو کیا رہا ہے.. اور میڈیا کو دیکھ کر ان سب کے رنگ اڑے تھے..
یہ بدنامی ان سب کے چہروں کو سرخ کر گئ..
کیا بکواس ہے سارگل یہ" میڈیا کے کیمرے… کھٹاکھٹ انکی تصویریں لے رہے تھے.. جبکہ مراد اور صارم انھیں نکالنا چاہ رہے تھے ایک افراتفری سی مچ گی تھی بہرام نے تبھی سارگل سے پوچھا…
سارگل کے لیے یہ لمحہ کسی عزاب سے کم نہیں تھا..
اسکی عزت اسکی ریپوٹیشن..
ایس اتو کبھی نہیں ہو اتھا کہ وہ کہیں چوک جائے پھر یہ سب "
وہ خود بھکلا چکا تھا..
جبکہ بہرام… چاہ کر بھی اسکے ٹکڑے نہیں کر پایا.. سارگل کا جھکا سر.. اسکو برسوں کی عزت.. اسکے دادا کی عزت… کی دھجیاں اڑا چکا تھا..
کیا یہ سچ یے اپ نے ایک کروڑ کھایا ہے" میڈیا انلے نزدیک انے لگا…
جبکہ.. بہرام پیچھے ہٹ گیا…
اارمیش مشل… سمیت عینہ بھی رونے لگی تھی..
نہیں میرا بیتا ایسا نہیں کر سکتا.." اسنے کہا اور باہر نکلنا چاہا.. نگر.. نین نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا…
حویلی کی دھلیز پر پہلی بار پولیس چڑھی تھی..
جبکہ میدیا انکی عزت اچھال رہا تھا..
سر ہمیں سارگل خا. کو اریسٹ کرنا ہے.."
کمیشنر نے کہا تو.. بہرام نے سارگل کی جانب دیکھا..
لے جاو "وہ ایک جلال کو خود میں دباتا بولا…
نہیں ڈیڈ"سارگل نے نفی کی.. جبکہ بہرام وہیں چھور کر اسے اندر چلا گیا..
پولیس نے میڈیا کے سامنے… اسکے ہاتھ میں ہتھکڑیاں ڈالی.. سارگل کے چہرے کے ساتھ آنکھیں بھی خون چھلکا رہیں تھیں…
تم فکر نہیں کرو میں دیکھ لوں گا سب "مراد اسکے ساتھ ساتھ.. پولیس وین میں بیٹھا…
انکے نکلتے ہی وہاں سے میڈیا.. بھی چلا گیا جبکہ..
اج کی ہوٹ نیوز…
پولیٹیشن بہرام خان کا بیٹا سارگل خان جو کہ ایک بڑا وکیل ہے.. کروڑوں میں کھیلنے والا انسان.. رشوت لے کر ناجائز لوگوں کے حق پر ڈاکا ڈالنے والا ایک چور… "
داود نے ٹی وی بند کر دیا..
ہارون کی جانب دیکھا….
چلو سٹیشن…
یارم کو کہہ دو.. اس کے ساتھ یہ ہیڈ لائن بھی چلے..
مشہور بیزنیز مین… داود احمد….
حیا التاف سے شادی کے بندھن میں بندھ. گئے.."
اسنے کہا.. تو ہارون مسکرایا..
وہ گلے میں بندھی ٹائ کو ڈھیلا کرتے ہوئے پولیس سٹیشن میں داخل ہوا تو… انسپیکڑ اسکو دیکھ کر مسکرا کر اٹھا…
کیسے ہیں سر اپ" اسنے ہاتھ اگے بڑھایا داود نے ہاتھ ملا کر.. ارد گرد دیکھا…
سارگل خان کہاں ہے"اسنے سیدھی بات کی..
چلیں سر "انسپیکڑ.. اسکے اور ہارون کے ساتھ ہو لیا…
داود نے اسے دور سے سل کے اندر چکر بے چینی سے کاٹتے ہوئے دیکھا اور مسکرا دیا….
کیسے ہو سارگل خان" اسکی اواز پر سارگل بل کہا کر پلٹا
. ماتھے پر بل ڈالے وہ داود کو دیکھ رہا تھا….
تم…. تم یہاں کیا کر رہے ہو"وہ دانت بھینچ کر بولا….
جبکہ یارون کو اسکے پیچھے کھڑا دیکھ وہ سب سمھجہ گیا.. اور خود پر قابو نہ پاتے ہوئے…
وہ سلاخوں کے اندر سے ہی انپر جھپٹا…
اوپس" داود مسکرا کر پیچھے ہوا…
کمینے انسان… بخشو گا نہیں اب تمھیں میں "وہ چلایا…
جبکہ انسپیکڑ نے اسکی سلاخوں پر ڈنڈا مارا…
نہیں رہنے دو بوولنے دو بیچارے کا زخم تازہ ہے….
ابھی تو تڑپے گا "داود نے سکون سے کہا… تو سارگل نے.. سلاخوں پر ہاتھ مارا اور دو قدم دور.. ہوا… ہاں وہ کیسے پھنس سکتا تھا..
یہ ادمی اسکے پیچھے پڑا تھا مگر کسی کے اندر.. اتنی جرت نہیں تھی کہ سارگل خان کو پکڑ سکتا…….
کیسا لگ رہا ہے تمھیں نہ تمھارا باپ ایا نہ… کوئ اور تمھیں بچایے گا کون سارگل خان…. تم تو بے بس ہو گئے"وہ اسکے نزدیک ہوا اور مدھم اواز میں بولتا سارگل کا خون سلگا گیا….
پہلے تجھے چھوڑ دیا تھا… اب تیرے ٹکڑے کر دوں گا میں…"
اچھا…. سچ… چل کر کے دیکھا "داود نے ائ برو اچکائ….
پھر ہنسا….. جب سارگل کوئ جواب نہ دے سکا…..
ہارون بھی سکون سے یہ منظر دیکھ رہا تھا..
مگر فکر نہ کرو…. "داود نے.. جیسے اسے تسلی دی..
تم بلکل فکر نہیں کرو…. میں تمھیں یہاں زیادہ دیر نہیں رہنے دوں گا.. بس رات تک تم یہاں کھڑے ہو کر اپنی عزت کا جنازہ نکلواو صبح تم ازاد…. اپنا جنازہ خود اٹھانے کے لیے" وہ مسکرایا…
سارگل کا دل کیا وہ زور زور سے چلائے….
اسکی رگیں پھٹنے کو ہو رہیں تھیں…..
کیوں کیوں کر رہے ہو یہ سب تم" بلاخر وہ بول اٹھا..
کیوں….. مطلب تم مجھ سے یہ پوچھ رہے ہو کیوں….
"وہ طنزیہ ہنسا….
لگتا ہے تمھاری یادشت چلی گئ..
چلو تم ارام سے سکون سے سوچو میں تمھارے ساتھ کیوں کر رہا ہوں یہ سب… پھر باقی باتیں تمھارے ازاد ہونے کے بعد…. "وہ مسکراتا ہوا اسکے پاس سے ہٹا…
تو سارگل اسکی پشت کو گھورنے لگا…
اج سے پہلے اسے اتنی بے بسی محسوس نہیں ہوئ تھی..
بے اختیار اپنی تزلیل پر اسکی آنکھوں کی سرخی میں نمی گھل گئ تھی….
…………………
حویلی میں ایک کہرام ایا ہوا تھا….
لوگوں کے فونز.. بہرام نے زیچ ہو کر فون دیوار میں دے مارا جبکہ ارمیش کا رونا بھی اس سے برداشت نہ ہو رہا تھا.. مگر سارگل کے پاس وہ کسی صورت نہیں جائے گا یہ بات تو طے تھی…
میڈیا اس خبر کو جتنا اچھال سکتا تھا.. اچھال رہا تھا.. جبکہ…
اسنے اب تک… ایل ائ ڈی نہیں کھولی تھی…
وہ سر تھامے بیٹھا تھا.. جبکہ ارمیش دروازہ کھول کر اسکے پاس ائ….
بہرام مجھے میرا بیٹا چاہیے اپ اسے اکیلا چھوڑ کر یہاں بیٹھے ہیں.. یہ سب.. بہرام اٹھیں… " وہ بولی مگر اسنے جواب نہیں دیا..
ارمیش کے انسو متواتر گیر رہے تھے..
بہرام اپ ایسا نہیں کر سکتے…. " بلاخر وہ چلائ…
تو بہرام نے اسکے دونوں بازوں سختی سے تھام لیے…
چاہتی کیا ہو تم.. جانتی ہو کیا ہو اہے یہاں جانتی ہو..
میرے داجی کا نام خراب ہوا ہے ارمیش خانم بھولو مت وہ بھی تمھارے.. تمھارے بیٹے نے.."
وہ میرا بیٹا ہے" ارمیش نے اسکے ہاتھ ہٹائے… اج اسے بھی خوب غصہ ایا تھا…
وہ صرف میرا بیٹا ہے"اسنے اسکی جانب دیکھا…
ارمیش میں کوئ بحث نہیں چاہتا جاو یہاں سے"
اسنے کہا تو ارمیش نے اسکی جانب زخمی نظروں سے دیکھا…
اج سے پہلے اپ مجھے اتنے برے کبھی نہیں لگے"وہ غصے سے کہہ کر وہاں سے نکل گئ جبکہ بہرام نے اسکے نکلتے ہی روم لوک کر لیا….
…………………..
ریمورٹ اسکے ہاتھ سے چھٹا…. اور کارپٹ پر گیرہ…
سامنے چلتی ہیڈ لائن اسنے آنکھیں بند کر کے پھر سے کھولی شاید یہ کوئ غلط فہمی ہو…. اسے اپریٹر کی اواز انی بند ہو گئ تھی…
جبکہ دل کی دھڑکنیں کانوں میں سنائ دے رہیں تھیں…
داود احمد.. شادی کے بندھن.. ح.. حیا الطاف.. "
وہ نیچے بیٹھتی چلی گئ…
سانسیں تیز سے تیز تر ہونے لگیں….
ایسا نہیں ہو سکتا…" اسنے… بہتے انسو سے نفی کی..
نہیں ایسا نہیں ہو سکتا… "اسنے پھر سے خود سے کہا..
ایسا کیسے ہو سکتا ہے" وہ پاگلوں کیطرح رونے لگی..
داود میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے"وہ چیخی… جبکہ ارد گرد پڑی ساری چیزیں اسنے.. زمین بوس کر دیں..
نہیں ہو سکتا ایس ا.. یہ جھوٹ ہے.. جھوٹ بول رہی ہے.. یہ" اسنے ریمورٹ اتھا کر.. ایل ای ڈی پر مارا.. جبکہ… وہ ہزیانی انداز میں چیخ رہی تھی… انسو سے چہرہ سرخ تھا
" نہیں…"
نہیں داود… "وہ اچانک کمرے سے باہر بھگنے لگی..
ایشا.. جو اسی کے کمرے کی جانب ا رہی تھی… جبکہ اسکے پیچھے ارمیش بھی تھی کیونکہ اسکے چیخنے کی اواز پر.. وہ سب پریشان سے ہویے تھے…
عینہ" ایشا نےا سکو تھاما..
نہیں چھورو مجھے چھوڑو ایشا.. وہ شادی کر چکا ہے.. کیوں.. نہیں ہو سکتا ایسا.. چھوڑو مجھے" وہ… بری طرح روتے ہویے اپنا اپ چھڑوا رہی تھی..
ایشا خود حیرت کا شکار ہوئ جبکہ.. عینہ کو سمبھلنا اور ارمیش کی نظروں سے وہ چور سی ہوئ..
عینہ کیا بولے جا رہی ہو.. کون کس کی بات کر رہی ہو سمبھالو جوخد کو" ارمیش.. اسکو پکڑنے لگی..
نہیں مما… داود.. داود نے شادی کر لی… مما وہ ایسا نہیں کر سکتا..
مما… میں میں ہوں اسکی بیوی.. وہ کسی اور کو کیسے بیوی بنا سکتا ہے" وہ… بری طرح مچلی.. ارمیش.. کا ہاتھ اسکے ہاتھ سے چھٹا.. جبکہ اسکی چیخو پکار پر سب وہاں جمع ہو چکے تھے جن میں بہرام بھی تھا…
سب شاکڈ نظروں سے.. عینہ کو دیکھ رہی تھی جسے ایشا.. تھامی ہوئ تھی..
عینہ روتے ہوئے زمین پر گیری..
میں بیوی ہوں اسکی وہ نہیں کر سکتے کسی سے شادی.. جانے دو مجھے.. مجھے پوچھنا ہے.. ان سے.. کیوں کیا انھوں نے میرے ساتھ ایسا "عینہ… بولی تو… بہرام لمبے لمبے قدم بھرتا.. اسکے سامنے ایا اور ایک ہاتھ بڑھا کر اسکو اپنے سامنے اٹھایا…
عینہ" وہ سختی سے اسکی جانب دیکھنے لگا…
کیا بکواس کر رہی "ہاں وہ سننا چاہتا تھا… کہ اسکی بیٹی انکار کر دے…
عینہ نے باپ کی جانب دیکھا….
اور اسکے سینے سے لگ گئ…
اور اسکے بعد.. اسکا رونا سب کو رولا گیا جبکہ بہرام… نے اسکو تھامہ نہیں…
ڈیڈ…. وہ میرے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں.. وہ بدلا لے رہے ہیں مجھ سے… میں نہیں رہ سکتی داود کے بغیر… "وہ بولی…
بہرام.. اسکی آنکھوں کو دیکھ رہا تھا.. اج ان آنکھوں میں اسے وہی درد دیکھائ دے رہا تھا جو کچھ سالوں پہلے اسکی آنکھوں میں تھا…
وہ روتے روتے اسکے قدموں میں بیٹھ گئ…
ڈیڈ مجھے داود چاہیے… میں نہیں جانتی کچھ.. میں نہیں جانتی کسی دشمنی کو….
پلیز… پلیز "وہ اس سے فرید کر رہی تھی جبکہ بہرام کی آنکھوں میں وہ منظر گھوم رہے تھے جب وہ عابیر کا ہاتھ تھامے حویلی میں داخل ہوا تھا….
کیا اس وقت داجی کا مان بھی اسپر سے یوں ہی ٹوٹا تھا…
وہ کوئ چھاٹا بچہ نہیں تھا…
اسکا باپ زندہ تھا.. مگر… اسے داجی کی اسوقت شدید یاد ا رہی تھی…
اسکی بیٹی اسکے قدموں میں تھی…. اور کس کے لیے تھی.. دو سال میں اسے لگا… شاید وہ سب بھلا چکی ہو… مگر…
اسکے پاس اپنے ہی اندر اتھنے والے سوالوں کے جواب نہیں تھے..
وہ اسکے پاس نیچے بیٹھا….
اور اسکا.. روتا سر اٹھایا..
اسکی بیٹی معصوم تھی….
نکاح کیا ہے تم نے "یہ بات وہ ہی جانتا تھا کہ کتنے ضبط سے وہ یہ سوال کر رہا ہے…
عینہ نے بلاترادد کے حامی بھری….
ڈیڈ… داود" وہ سسکی….
بہرام نے اسکے انسو صاف کیے… اور اسکو سینے میں بھینچ لیا….
وہ شخص پیچھے ہی پیچھے اسکی بیٹی کی معصومیت کے ساتھ کھیل گیا تھا.. اور وہ… اتنا اندھا ہو گیا تھا….
…………………….
اگر بہرام چاہتا تو.. پل میں وہ جیل سے باہر نکل سکتا تھا.. مگر رات ہونے کو ائ تھی…..
مراد وہیں اسکے پاس تھا.. جبکہ میڈیا.. نے اس ایشو کا اج کا ہوٹ ٹاپک بنا دیا تھا….
کچھ ہی دیر میں.. انسپیکٹر نے.. اسکو ازاد کر دیا…
سارگل کا دل کیا اس انسپیکڑ کا سر پھاڑ دے…
مگر وہ جاموشی سے باہر نکل گیا….
میڈیا.. باہر منہ کھولے کھرا تھا.. جبکہ وہ کسی کا بھی جواب دیے بغیر…
مراد کی گاڑی کیطرف دوڑا…
اج وہ داود کو قتل کر دے گا وہ سوچ چکا تھا..
سارگل"مراد.. چلایا…
جبکہ سارگل کسی کے قابو میں انے والا تھا بھلہ….
جب وہ اسکے قابو میں نہیں ایااور گاڑی بھگا لے گیا تو مراد نے بہرام کو کال کی…
سارگل کے لیے.. داود کا گھر ڈھونڈنا مشکل نہیں تھا.. مراد ٹیکسی لے کر.. اسکے پیچھے ہوا….
……………….
تین گاڑیاں بیقوقت داود کے بنگلے کے باہر روکیں.. ٹائر کے چرچرانے کی اواز.. اسے اپنے کمرے تک سنائ دی..
اسنے آنکھیں کھولیں.. مسکراہٹ نے لبوں کا احاطہ کر لیا…
تو اج تم سب میری دہلیز پر ا گئے "اسنے سوچا…
اندر تک جیسے سکون سا اتر گیا….
دو سال کی عزیت بس ایک لمہے میں رفا ہو گئ….
اور داود احمد بڑی شان سے اپنی جگہ سے اٹھا… اور.. اپنے کمرے کے باہر ایا.. دوسری طرف.. ہارون بھی اپنے پورشن سے نکلا.. تو اسکے پیچھے… ایک خوبصورت مگر کچھ کمزور سی لرکی بھی گھبرائ ہوئ سی کھڑی تھی…
عینہ نے زخمی نظروں سے داود کو دیکھا اور ہھر اس لڑکی کو دیکھ کر…
اسکا دل کئ ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا.. جبکہ داود کی نظر.. بہرام خان پر تھی…
نطر کی ٹھنڈک بہرام کو سخت زہر لگی….
جبکہ سارگل نے ریوالور نکال کر.. داود کی طرف تان دیا..
اسکے ریوالور نکالتے ہی ہارون نے… اور کئ گارڈز نے سارگل پر تانا… داود سنجیدگی سے انکی جانب دیکھ رہا تھا جبکہ پیچھے کھڑی لڑکی نے… منہ پر ہاتھ رکھ کر… اپنا خوف کم کرنے کی کوشش کی…
چوروں کی طرح انتقام قائر لیتے ہیں… "بہرام نے اسپر مسکرا کر طنز اچھالا… تو داود ہنس دیا…
انتقام میرا بنتا نہیں کوئ…
نہ میں نے لیا…. ہاں بس…. جو میرے ساتھ کیا میں نے ویس اکر دیا….. " اسنے لاپرواہی سے کہا….
تو بہرام نے بمشکل اپنا غصہ ضبط کیا….
عینہ کی سسکیاں….. اسکے کانوں میں ہتھوڑیں بسرا رہی تھیں..
اگر اسکی بیٹی اج اسے کمزور نہیں کرتی.. تو لازمی… بہرام خان اج اسی دھرتی میں داود کو غاڑ دیتا.. جبکہ مقابل کی جانب سے بھی.. ایس اہی کچھ سوچا گیا تھا…
عینہ کو.. وہ اپنے پاس رکھنا چاہتا تھا…
اور سیدھی طرح وہ کبھی نہیں اتی.. تبھی اج وہ اسکی دہلیز پر کھڑی تھی اور وہ جانتا تھا..ا گے کیا ہو گا….
داود ریلکس یار "اسنے پل میں کمرے کا حولیہ بگاڑ دیا تھا… ہارون… کو اج اندازا ہو گیا کہ وہ شخص اس لڑکی کی چاہت میں کتنا دیوانہ ہے…
یار مجھے ایک بات بتاو… یہ لڑکی میرے ساتھ ایسا کرتی کیوں ہے" وہ دھاڑا اور اسکے دونوں بازو پکڑ کر جھنجھوڑا…
کیا صرف محبت میں نے کی تھی جو وہ ہر جگہ میرا ساتھ چھوڑ جاتی ہے" اسنے سرخ نظروں سے سوالیہ انداز میں پوچھا..
ہارون نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا..
میرے خیال سے ایک لڑکی کے سامنے اسکا باپ اور اسکا محبوب کھرا ہو تو بہلے اسکے دل میں اپنے مھبوب کے لیے کتنی ہی الفت کیوں نہ ہو… وہ سائیڈ اپنے باپ کی ہی لیتی ہے… اور اسنے بھی وہی کیا.. "ہارون نے اسے سمھجانا چاہا..
تو پھر تو داود احمد.. اس دنیا کا سب سے بڑا پاگل ہے.. جو ایسی لڑکی کے پیچھے سب چھور چھاڑ کر پڑا ہے جو کبھی اسکے ساتھ محبت نہبا نہیں سکتی" وہ جیسے ٹوٹا ہوا لگا.. دو سالوں میں ہارون نے پہلی بار اسے بکھرا ہوا دیکھا….
وہ خاموش رہا… اور کچھ دیر پہلے ہونے والے واقعے کو یاد کرنے لگا کہ جب… بہرام نے سارگل کی بندوق سے گولی اس سے پہلے نکلتی اور اسنے اس بندوق کو فضا میں بلند کر کے داود کو نشانہ بننے سے روکا….
جبکہ وہ.. بغیر کچھ کہے سارگل کا گریبان تھامے… وہاں سے نکلا اور جاتے جاتے اسنے عینہ کی جانب دیکھا…
بیٹیاں باپ کا مان ہوتی ہیں… اور جب وہ مان ٹوٹ جائے تو علیحدگی بہتر ہے…. وہ تمھارا شوہر ہے اج میں خود تمھیں یہاں چھوڑ جا رہا ہوں "بہرام کی یہ بات… عینہ جو سسکیاں بھر رہی تھی… حونک نظروں سے… اسکی جانب دیکھتی…
رہی اور ایک نظر داود کیطرف دیکھا.. جو جانتا تھا یہ ہی سب ہو گا اور اب عینہ اسکے ساتھ رہے گی.. جبکہ عینہ نے اس کے پیچھے کھڑی لڑکی کو بھی دیکھا.. جو اپنے انسو روک رہی تھی…
اسکے باپ جا رہا تھا….
وہ باپ جس نے کبھی اسے کانٹا بھی چبھنے نہیں دیا جبکہ جب سے داود.. اسکی زندگی میں ایا تھا… کیا ہو رہا تھا اسکے ساتھ.. اور اب بھی.. وہ تو شادی کر چکا تھا….
ڈیڈ"اسنے داود سے نظریں پھیریں.. اور بہرام.. کا لپک کر بازو تھامہ…
ڈیڈ میں میں یہاں نہیں روکوں گی.. مجھے اپکے ساتھ جانا ہے" اسنے انسو صاف کر کے کہا.. جبکہ سارگل کا ممچہرہ اس بات پر ہی سرخ ہو رہا تھا کہ داود اور عینہ نکاح میں ہیں….
بہرام نے کوئ جواب نہیں دیا.. اور سارگل کو اسی طرح وہ وہاں سے نکال لے گیا جبکہ عینہ بغیر پیچھے دیکھے بہرام خان کے ساتھ ہو لی…
پیچھے داود ایک بار پھر خالی ہاتھ کھڑا تھا….
اسنے کھینچ کر مکہ میرر وال پر مارا کہ اسکے کمرے کی خوبصورت میرر وال پر دڑاڑ پڑ گئ….
اور وہ اندر چلا گیا.. جبکہ اسنے سکینٹو میں کمرے کا حویلہ بغاڑ دیا تھا…
تمھیں ہوش سے کام لینا ہو گا…. یہ بھی ہو سکتا تھا تمھیں یہ بھی سوچنا چاہیے تھا… "ہارون کے کہنے پار داود غصے سے بہنا گیا…
اور اس سے پہلے وہ چلاتا….
ہارون اس سے پہلے بولا…
اب انتقام یہ بے کی اگ میں مت جلنا داود اگر تم… اس لرکی کو چاہتے ہو… اور اگر.. تمھارے دل میں اس لڑکی کے لیے کچھ نہیں تو اس جھوٹے تماشے کو بند کرو…" وہ جیسے اس طرھ بولا جیسے اج سے دو سال پہلے بولا تھا.. بے لچک لہجہ…
میرر وال سے اندر جھانکتی لڑکی نے اسکی کڑک اواز پر دل تھامہ تھا….
داود نے سر تھام لیا.. اس سے بہرام کی فتح برداشت ہی نہیں ہو رہی تھی..
بہرام خان جیت گیا…. " وہ بولا….
ہارون ہنس ا..
نہیں یار…. اصل تو ہار اسکی ہوئ ہے…
وہ لڑکی تمھاری بیوی ہے.. یہ کیوں بھول رہے ہو… بھئ.. تم اس ساری بازی کو دوبارہ پلٹ سکتے….." وہ اسکے ساتھ بیتھ کر اسکو مشورہ دینے لگا….
وہ ادمی میری برداشت سے باہر ہے…. "داود نے چیڑ کر کہا…
بدلہ پورا ہو ا.. اسکی ساک بری طرح ہل گئ ہے.. دو سلا پہلے جو حالات تھے.. اج وہ نہیں رہے.. اب تم چل مارو… چارو طرف سے.. گیم تمھارے ہاتھ میں ہے.. انھیں چار ناچار تمھیں قبول کرنا ہی پڑے گا.. اگر تم اس جھوتے نکاح کا تماشہ بند کرو تو" ہارون کی بات پر اسنے.. اسکی جانب دیکھا جبکہ ہارون اسکی آنکھوں میرے اترتے تاثر کو دیکھ کر سر ہلانے لگا..
گڈ اب مجھے نظر ا رہا ہے تمھاری یہ الٹی کھپڑی کچھ سوچنے قابل ہے اب میں اپنے پورشن میں جا رہا ہوں.. گڈ نا>ٹ" اسنے.. سکون سے.. کہا…
اور.. باہر نکلا تو… سامنے حیا کو.. کان لگایے دیکھ اسکے ماتھے پر بل ڈلے…
ہیلو لڑکی… یہ ان مینرڈ حرکت ہے" وہ انگلی اٹھا کر بولا.. حیا… ایکدم در کر دل تھام گئ…
پھر منہ بنا کر اسکی جانب دیکھنے لگی..
میرا نام حیا ہے "اسنے کہا تو ہارون مسکرایا..
اوو رئیلی.. مجھے لگا.. مسیز ہارون ہو تم… "وہ اسکے نزدیک.. انے لگا.. جبکہ حیا کو ڈر الگ لگ رہا تھا.. وہ ایکدم دور ہوئ… بات سنو… اتنی بھی بری نہیں ہو… جیتنا میں سمھجہ رہا تھا "اسنے کہا.. تو حیا… پل میں وہاں سے دوڑ لگا گئ.
اسکا دل زوروں سے دھڑکا تھا. جبکہ ہارون… اسکے پیچھے گیا..
بھاگو مت "وہ چیخا.. حیا روک گئ..
مجھے اپ سے ڈر لگتا ہے جائیں اپ "وہ اسکو ہاتھ سے دور کرنے لگی..
ٹھیک ہے بھئ جاو تم یہاں سے.. میں کون سا مرے جا رہا ہوں… "وہ چیڑ کر بولا…
تو حیا پھر سے بھاگنے کو تیار تھی..
مگر ہارون کی گھوری پر وہ عزت سے چلنے لگی.. جبکہ ہارون اسکے پیچھے پیچھے.. تھا..
حیا. اسکے ساتھ والے روم میں چلی گئ..
جبکہ ہارون ایک نظر دروازے کو دیکھ کر.. اپنے روم میں چلا گیا…
…………………….
نیوز سن کر جیسے پورا گھر عجب سناٹے کا شکار ہوا تھا…
عابیر تو وہیں تھم گئ تھی.. معاز. بھی الگ.. خاموش ہو گیا تھا جبکہ فیزا کو تو داود پر رج کر غصہ ایا.. اور روشنی بھائ کے امیر ہونے پر ہی خوش تھی…
کل فیزا کی بارات تھی گھر میں کام تھے کافی.. مگر.. عابیر.. سمیت معاز کی خاموشی بھی ٹوٹی نہیں تھی…
وہ سب صحن میں بیٹھے تھے جبکہ…
فیزا چایے بنانے اٹھی تھی..
تبھی باہر ہیوئ بائیک ا رکی…. اکثر انکے دروازے کے پاس سے ہیوی بائیک ا رکتی تھی مگر پھر چلی جاتی تھی.. تبھی وہ کسی بھی گمان میں نہیں تھا..
انکا بیٹا امیر ہو گیا تھا شادی کر چکا تھا.. ان کا اب اسکی زندگی سے کیا لینا دینا بھلہ..
عابیر نےا یک خاموش نظر داود کی بائیک پر ڈالی جو.. اسکے ایگل کے پنجرے کے پاس کھڑی تھی…
جبکہ اسکا ایگل بھی اب اڑتا نہیں تھا….
دروازے پر مانوس دستک سے.. عابیر بل کھا کر اٹھی..
معاز نے اسکی بے تابی پر اسکی جانب دیکھا..
میں دیکھتی ہوں مامی بیٹھیں اپ "فیزا نے کہا.. تو عابیر نے نفی کی.
نہیں میں کھولتی ہوں… دل میں جو اس تھی… اسنے کانپتے ہاتھوں سے اپنے گھر کا دروازے کھولا.. تو سامنے پورے دو سال.. ہاں. یعنی 730 دنوں بعد داود کو اسی ہیوئ بائیک پر.. عام سے رف سے حولیے پر اسی طرح.. جس طرح وہ ماتھے پر بل ڈالے.. عینک ناک کی چونچ پر رکھے دوسروں کو گھورتا تھا کھرا دیکھ کر.. عابیر کو سمھجہ نہی2 یا.. ہنسے یہ روے…
اسکے پیچھے دو گارڈز نمودار ہوے داود نے تپ کر انکو دیکھا حالانکہ وہ انھیں روک چکا تھا مگر وہ پھر بھی اسکے پیچھے ائے تھے.
مما یار.. اگے کھڑی رہیں گی تو اندر کیسے او گا… "وہ بولا وہی لہجہ…. عابیر… جو اسکی شادی کی خبر سن کر.. اس سے دل ہی دل میں ناراض ہو چکی تھی.. انسو صاف کر کے مسکرای اور اسے نادر انے کا راستہ دیا..
داود باییک سے اترا..
یہ بائیک واپس لے جاو" اسنے ایک گارڈ سے کہا..
عابیر پرجوش نظروں سے بیتے کو دیکھنے لگی..
وہ اندر ایا…
عابیر کی آنکھوں کےا گے چٹکی بجائ..
کیا زیادہ ہینڈسم ہو گیا ہوں" وہ ہنسا.. تو عابیر بے ساختہ اسکے سینے سے لگ گئ…
داود کی بھی آنکھیں نم ہوئیں…
دو سال ماں کو سزا دے کر اج… مسکراتے ہویے ا رہے ہو… داود.. اتنے برے کیوں ہیں پا" وہ بولی.. داود ہنس دیا… اسکے بالوں پر پیار کیا….
ااب کہیں نہیں جاو گا "اسنے بغیر کسی شکوے کے مان کے ہاتھ پر بھی پیار کیا..
عابیر کا تو اسکو دیکھ کر ہی دل نہیں بھر رہا تھا.. وہ دونوں ماں بیٹے ہمیشہ کیطرح خود میں مگن تھے…
باقی سب کو فراموش کیے.. معاز کو لگا ایک بار پھر سے جیسے اس میں طاقت بھر گی ہو…
داود موڑا…
اف حریفوں کی نظریں نہیں بدلیں.. "وہزیچ کرنے والی مسکراہٹ لیے اسکے کے نزدیک سے گزر کر… روشنی کے پاس ایا..
بھیا" وہ ایکسائٹیڈ تھی…
عابیر کو لگا اج اسکا گھر پورا ہو گیا ہو… اسکے گھر کی رونک لوٹ ائ تھی…
داود نے امروشنی کو بھی پیار کیا اور فیز اکی جانب دیکھا..
سنا ہے.. اسے. گدھے سے شادی کر رہی ہو" اسکا اپنا ہی انداز تھا… سب کو چھیڑ کر بدسکون کر دینے کا…
فیزا جو اسپر کافی غصہ تھی اسکو دیکھ کر… دلی خوشی محسوس کر رہی تھی… وہ مسکرائ… تو داود نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا…
اور اب وہ اپنے باپ کی صورت تک رہا تھا جو اسے کافی کمزور لگا..
کیوں ائے ہو اب بھی" معاز تیور بگاڑے… اسکے نزدیک جانے لگا..
معاز" عابیر حیرانگی سے. اسکی جانب دیکھ کر بولی..
چپ ہو جاو تم"معاز نے اسکو ٹوکا.. داود ڈھیٹوں کیطرح اسکو دانت دیکھانے لگا..
حریفوں کو دیکھے بغیر مزاہ نہیں ا رہا تھا."
باپ کو حریف کہتے ہوے شرم بھی نہیں اتی"وہ اسکے مقابل ایا…
داود نے شانے اچکائے..
یہ جو اپکے تیور ہیں.. مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے میرے انے پر اپکے اندر گلوکوس بھر دیا گیا ہے.. یار بابا کچھ تو میرے بارے میں اچھا سوچ لیتے"وہ بولا تو پہلے کیطرح منہ بنایا…
عابیر سمیت فیزا اور روشنی بھی ہنسی..
بھیا.. بابا نے تو اپکو سب سے زیادہ مس کیا ہے…. اور سچی میں ایسا لگ رہا ہے ببا میں انرجی بھر گئ ہے" اسکے کہنے پر وہ سب ہنس دیے جبکہ معاز نے روشنی کو گھورا..
میری اولاد سب سے زیادہ خراب ہے" وہ چیڑ کر بولا..
چلو چلو مان لو.. کچھ نہیں ہوتا.. "داود.. نے باپ کے گلے میں بازو ڈالے..
معاز. کو بیٹے کے انداز تقویت دے رہے تھے..
پہلے یہ بتاو شادی کس سے کی ہے" معاز اس سے دور ہوا…
اف.. مما یہ سی ائ ڈی ہی ملے تھے شادی کرنے کو" وہ ماں کے پاس جا کر بیٹھا…
عابیر نے تو چاہت سے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرہ….
اور وہ کتنا فدا ہوتی اپنے بیٹے پر…. بار بار خدا کا شکر ادا کر رہی تھی….
جواب دو "معاز بولا… تو داود مسکرایا..
عینہ سے "اسنے انکھ ماری تو سب اچھل پڑے..
مگر تمھاری نیوز تو کوئ حیا الطاف… "
فیزانے الجھ کر پوچھا..
جھوٹی تھی" اسنے سکون سے کہا…
داود سے پنگا لیا تھا… ایند تک پہنچا کر ایا ہوں "وہ سنجیدہ ہوا…
عابیر نے اسکا شانہ تھامہ..
بہت غلط بات ہے داود "اسنے کہا تو داود اسکیطرف دیکھنے لگا…
لڑکی کے لیے اپنا شوہر بانٹنا اسان نہیں ہوتا.. بھلے جھوٹ ہو یہ یا سچ" اسنے کہا تو وہ کچھ نہیں بولا..
ہمیشہ سے.. تمھاری اولاد نکمی ہی رہی ہے" معاز بھی بیٹھ گیا..
مجھے کیوں لگ رہا ہے اپ جیلس ہو رہے ہیں مجھ سے" داود نے اسے چیڑہ جبکہ معاز نے.. چپل نکالی..
یار بابا کوئ حد… دس دس ہوٹلز کا مالک باپ سے پیٹ رہا ہے میڈیا میں تھلکا مچ جائے گا "وہ چیختا ہوا بھاگا جبکہ معاز کی چپل گھمتی ہوئ اس تک پہنچی مگر اسے لگی نہیں…
سب سمیت اب کی بار معاز کا بھی قہقہ بلند ہوا..
ادھر او…. معلوم نہیں تھا… تم میرے گھر کی.. میرے دل کی رونق ہو" اسنے.. نم آنکھوں سے داود کے ماتھے پر پیار کیا.. تو داود.. کے لیے شاید اج کا دن اپنی زندگی کا بہترین دن تھا.. باقی سب کی بھی آنکھیں نم ہوئیں
..میرا بیٹا" معاز نے اسکے کالر کو درست کیا…
داود مسکرا دیا….
ہاں یہ بہترین دنوں میں سے ایک دن تھا…
ڈیڈ محبت اپنی جگہ جنگ اپنی جگہ…" وہ شرارت سے بولا…
تو معاز ہنسا.. اور دونوں بغل گیر ہوئے…
………………..
بہرام ڈیڈ دن سے کسی سے بات نہیں کر رہا تھا..
ارمیش عینہ سارگل.. تینوں جیسے الگ الگ… غم ذدہ تھے..
میڈیا جتنا چھال سکتا تھا اچھال رہا تھا.. مگر.. اگلے دن ہی وہ تمام ہیڈ لائنز بند کرا دیں گئیں…
پیسہ دے دلا کر.. معاویہ نے ان خبروں کو رکوا ضرور دیا تھا.. مگر انکی ساک بری طرح ہلی تھی…
سارگل کے لیے اپنہ ساک سے زیادہ باپ کی ناراضگی جان لیوا تھی…
اور بالآخر ہمت کر کے اسنے دروازہ بجا ہی دیا…
دروازہ کھولا دیکھ کر… ارمیش اور عینہ بھی سارگل کے ساتھ اندر داخل ہوئیں.. بہرام ان سب کو دیکھ کر کوئ ریسپونس دیے بغیر…
اپنی بک پڑھنے لگا…
سارگل اور عینہ نے ایک دوسرے کیطرف دیکھا…
اور جس طرح وہ بچپن میں اپنی کسی غلطی پر شرمندہ ہو کر اسکے پاس اتے تھے بلکل اسی طرح وہ دونوں باپ کے قدموں میں بیٹھ گئے….
سوری ڈیڈ"سارگل نے اسکا ہاتھ تھامہ.. جبکہ عینہ رونے لگی…
ہاں باپ کا مان توڑ کر وہ سکون میں نہیں تھی…
پہلے بہرام عینہ کو اپنے قدموں میں سے اٹھا لیتا تھا.. مگر اج اسنے ایسا نہیں کیا…
سوری ڈیڈ… میں اب ایسا کوئ کام نہیں کروں گا جس سے اپکو شرمندگی ہو" وہ حقیقت میں. شرمندہ تھا.. باہر لون سے گزرتی مشل نے یہ منظر دیکھا… اور نہ جانے اسے کیا سوجہ سارگل کی کھٹا کھٹ تصویریں کھینچ لیں..
بیٹا تم مجھے اچھے سے شرمندہ کر چکے ہو… گھر کی چار دیوای میں نہیں.. پوری دنیا میں.. کس چیز کی کمی ہے ہمیں سارگل خان… کہ تم رشوت لینے لگے… "وہ سختی سے بولا سارگل جاموش ہو گیا ٹھیک ہی تو کہہ رہے تھے وہ…
خان ہو تم خان… اہنی شناخت کیوں بھول گئے.. باپ تمھارا بیوروکریسی میں.. دادا پر دادا کی خائیدادوں سمیت باپ کی جائیداد کے بھی اکیلے وارث اور اتنا گھٹیا کام" وہ سختی سے اسکا ہاتھ جھٹک گیا…. سارگل شرمندگی سے سر نہ اٹھا سکا…
اور تم" اسکا روخ عینہ کی جانب ہوا..
میری بیٹی… اور میرے پیٹھ پیچھے مجھ سے دھوکا "وہ بولا.. جبکہ عینہ سے مزید براداشت نہ ہوا..
ڈیڈ اپ مار لیں مجھے میں بہت گندی بیٹی ہوں اپکی.. میں نے بہت غلط کیا… پلیز ڈیڈ میں نہیں جاو گی نہیں دیکھو گی اسے.. مگر میں میں اپکے بغیر نہیں رہ سکتی" وہ اسکے سینے سے لگی بول رہی تھی…
بہرام… کی خود بھی آنکھیں بھیگی…
تم دونوں نے میری عزت.. کہیں کی نہیں چھوڑی" وہ پھر بولا..
عینہ نے اسے سختی سے تھام لیا…
اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی…. ارمیش نے.. بہرام کے شانے پر ہاتھ رکھا…
ماں باپ کا ضرف بہت زیادہ ہوتا ہے بہرام…. یقیناً… اب ان دونوں کیطرف سے اپکو کوئ… تکلیف نہیں ملے گی…" وہ بولی.. جبکہ اس سے پہلے ہی بہرام نے عینہ کو تھام لیا تھا..
مجھ معصوم پر بھی نظرے کرم کر دو" سارگل پیچھے سے بولا…
تم تو پانی شکل کہیں گم ہی کر لو "بہرام نے بیٹی کے انسو صاف کیے جبکہ.. سارگل کو گھورا.. سارگل.. نے ماں کی جانب دیکھا..
بس اپنی بیٹی کے انسو قیمتی ہیں میرے.. بیتے کی کوئ ولیو نہیں. "وہ سارگل کو پیار کرنے لگی…
ڈیڈ ایم سوری…. میں جانتا ہوں اپ سب مینیج کر لیں گے"اسنے کہا جبکہ بہرام نے اسکی گودی پر ایک تھپر رکھا…
میرے بچوں کے بعد بھی مجھے معلوم ہے اپ یوں ہی ماریں گے مجھے.. "
وہ چیڑ کر بولا..
مشل کو شادی کے لیے مناو…. اس سے پہلے نظر مت انا تمھاری ہر غلطی اسکے ماننے سے معاف ہو گی"اسنے کہا تو سارگل اٹھا.. ٹھیک ہے بیٹی ہی قیمتی ہے اپ کے لیے "وہ منہ بسور کر باہر نکلا جبکہ ہلکا بھی ہو اتھا.. اب مشل کو منانا باقی تھا…
بہرام نے عینہ کی جانب دیکھا…
صرف تمھارے منہ کو اس لڑکے کو قبول کر رہا ہوں میں "بہرام کی بات پر عینہ اور ارمیش جھٹکا کہا کر اسکی جانب دیکھنے لگے..
مگر شدید زہر لگتا ہے وہ مجھے…. اور جب تک وہ خود نہیں ائے گا.. اسی طرح اپنی ماں کو لے کر.. اور وہ اس حیا نامی لڑکی کو طلاق نہیں دے گا.. میں تمھیں نہیں بھیجو گا… اا سے زیادہ تمھارا باپ تمھارے لیے کچھ نہیں کر سکتا"وہ کہہ کر عینہ کی سرخ آنکھیں دیکھنے لگا..
اور تم اس سے کوئ رابطہ نہیں رکھو گی" اسنے ایک اور پابندی لگائ جبکہ عینہ سب مانتی جا رہی تھی…
اب رونا تو بند کرو چڑیا سادل ہے… "بہرام نے ڈپٹا تو عینہ.. اسکے سینے سے پھر سے لگ گئ..
سکون تو میسر ہو گیا.. مگر.. داود نے جو اکسے ساتھ کیا تھا وہ بھول نہیں سکتی تھی بھلے وہ ساری زندگی اسکے نام پر گزار دے مگر دوبارہ اسکے پا س نہیں جائے گی اسنے سوچا… ………..
…………….
بارات کا دن بھی ا پہنچا…..
وہ کب سے مشل سے ملنے کی کوشش کر رہا تھا مگر مشل اسکے ہاتھ ہی نہیں لگ رہی تھی….
اور بلاخر چوری چھپے اسنے اسکے روم میں جانے کی سوچی بہت مشکلوں سے وہ اسکے روم تک پہنچا….
اور دروازہ کھولا مگر جالی کمرہ اسکا منہ چیڑہ رہا تھا..
وہ ہاتھ پر مکہ مار کر رہ گیا…
وہ پلٹا… تو سامنے سے…. اتے شخص کو دیکھ کر… اسکے ماتھے پر شدید بل ڈلے جبکہ.. وہ تیر کی تیزی سے… اس تک پہنچا…
کیا کرنے اے ہو "اسنے اسکا گریبان جکڑا…
داود نے اسکے ہاتھوں کی جانب دیکھا اور پھر دور سے اتے بہرام کو دیکھا….
سالے صاحب بہنوئ.. کی عزت کرنا نہیں سیکھائ اپکے والد محترم نے… یہ بس لوٹ گھسوٹ سکای ہے" اسنے ہاتھ جھٹکا…
تب تک بہرام بھی پہنچ چکا تھا جبکہ داود.. مزے سے صوفے پر بیٹھا….
ان دونوں کے غصے سے کھولتے چہروں کو دیکھنے لگا…
کیا…. " اسنے لاپرواہی سے پوچھا….
کتنے ڈھیٹ انسان ہو تم….. بلکل اپنے والدین سے ڈھٹائ لی ہے "بہرام خونخوار نظروں سے دیکھتا. اسکے سمانے بیٹھا.. جبکہ داود ہنسا….
اب کیا کر سکتے ہیں…. "وہ لاپرواہ سا دیکھا جبکہ آنکھیں چارواطراف میں گھوم رہیں تھیں…
کوئ چائے اپنی کا رواج نہیں… اپنے رشوات کے مال کا مزاہ ہمیں بھی چکھاو…. "وہ مسلسل سارگل کو طعنوں کی زد پر رکھے ہوئے تھا.. داود کے انے کی جبر حویلی میں اگ کیطرح پھیلی تھی رفتہ رفتہ سب جمع ہونے لگے..
ارمیش نے اسکی شاندار پرسنیلٹی کو آنکھوں آنکھوں میں سرہایا تھا..
تمھیں زہر نہ کھلا دیں کہیں.. نکلا یہاں سے" سارگل ایک ابر ہھیر اسکی جانب بڑھا…
سارگل" بہرام نے روکا..
بے انتہا سمھجدار ہے یہ انسان تمھارے معملے میں "بہرام کیطرف اشارہ کر کے وہ ہنسا. جبکہ سب کا خون سلگا گیا…
ماں باپ کہاں ہیں تمھارے" بہرام نے پوچھا..
کیوں بتاو"اسنے الٹا جواب دیا.. بہرام نے ضبط سے مٹھی بھینچی…
جبکہ بہرام کی نظر عینہ پر اٹھی جو زخمی نظروں سے اسکو دیکھ رہی تھی..
زہے نصیب…" وہ انچی اواز میں بولتا.. اٹھا..
عینہ کا رنگ فق ہو ا…
اب یہ کون سانیا روپ تھا اسکا…

رک جاو یہیں "اس سے پہلے وہ عینہ تک پہنچتا بہرام کی اواز پر رکا…
اپ مجھے روکنے والے کون ہوتے ہیں "وہ سنجیدگی سے بہرام کی جانب دیکھنے لگا…
تمھاری بیوی کا باپ… اگر تو تم مجھے ابھی کچھ دیر میں یہ کہنے والے ہو کہ میں اسکا شوہر ہوں اوربلا بلا"اسنے بھی اسکے مقابل اتے کہا….
داود چند لمہے اسکی آنکھوں میں دیکھتا رہا…. اور پھر مسکرا دیا…
ٹھیک ہے…. پھر اپنے دماغوں سے رخصتی نکال دینا… خالی ہاتھ لوٹنے کا بھی اپنا ہی مزاہ ہے.. میں نے تو اکثر چکھا ہے یہ مزاہ" وہ دوبارہ سکون سے بیٹھتا…. بولتا سب کو زہر ہی لگا…
جبکہ اچانک حال میں لوازمات اتے دیکھ جہاں بہرام اور سارگل سمیت معاویہ مراد کے ساتھ ساتھ داود خود بھی حیران تھا…
مگر اپنی حیرانگی چھپا گیا….
ملازموں نے اسکے سامنے لوازمات رکھے… وہ مسکرا کر بہرام کو دیکھنے لگا….
جبکہ بہرام نے اس سب تماشے کی جڑ کو دیکھا جو پیچھے چائے کی ٹرے لیے خود ا رہی تھی…
داود ارمیش کو دیکھ کر.. جو پھیلا بیٹھا تھا سمٹ سا گیا..
عینہ خود حیرانگی سے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی… مگر تا دیر نہیں جلد ہی وہ وہاں سے ہٹ گئ..
اسکو دیکھ کر جہسے اسکی دوسری شادی کا یاد اتے ہی نئے سرے سے زخم ہرے ہوئے تھے.
لو بیٹا "ارمیش نے چائے کا کپ اسکے ہاتھ میں دیا…