Garoor Novel by Tania Tahir | Free and Best Urdu Novels

Garoor Novel by Tania Tahir is the best novel ever. Novel readers liked this novel from the bottom of their hearts. Beautiful wording has been used in this novel. You will love to read this one. Garoor Novel by Tania Tahir is very romantic novel, if you love to read romantic novels then you must read Garoor Novel by Tania Tahir.

This novel by Tania Tahir is a special novel, many social evils has been represented in this novel. Different things that destroy today’s youth are shown in this novel. All type of people are tried to show in this novel.

Garoor Novel by Tania Tahir

Tania Tahir has written many novels, which her readers always liked. She tries to instill new and positive thoughts in young minds through her novels. She writes best. 

Garoor Novel by Tania Tahir

If you want to download this novel, you can download it from here:

↓ Download  link: ↓

Note!  If the link doesn’t work please refresh the page

Garoor Novel by Tania Tahir Complete PDF

 

 

 

دستار حیدر خانم کے سر پر سجے گی…..

سمھجا دو.. اسے.. ورنہ ہم   سے برا کوئ نہیں ہو گا "وہ تنفر سے کہتے…. کھڑے ہوئے..   وہاں سب خاموشی سے بیٹھے تھے…..

جبکہ ان سب میں حیدر موجود نہیں تھا….

مراد شاہ لٹھے کے سفید کڑ کڑاتے سوٹ میں اپنی مغرور شخصیت سے بے نیاز ابھی اپنے کمرے کیطرف بڑھتے…  کہ باہر سے اندر مردان خانے کیطرف آتا…

بہرام انکی آنکھوں کا نور چشم نظر…  اپنے گالوں کے ڈیمپل کی نمائش کرتا.. اندر داخل ہوا.. وہ جانتے تھے وہ کہاں سے آیا ہے…  اور ابھی کچھ دیر میں کہاں جاے گا اور… رات اسکی کہاں گزرے گی….

آو او…. خان…. بولو کام ہو گیا"وہ انکے سینے میں سمایا…. یہ لاڈ بھی صرف بہرام خان کے وہ اٹھاتے تھے.. جبکہ آج تک انھوں نے اپنے بیٹوں کو بھی سینے سے نہیں لگایا تھا….

وادی کالام کے سردار تھے آخر کو.. ضدی خود پسند…. 5 بیٹوں اور.. انکے بچوں سے بھی جس شخص کی نہ بنی…. وہ اپنے سب سے چھوٹے.. پوتے…  کے دیوانے تھے.. ایک تو یہ.. پوری وادی کالام میں اسکے جیسا…  حسین خوبصورت بہادر…. نیڈر…  مرد کوئ نہیں تھا…..

انکے بقول…  ایک خانزادے کو صرف بہرام خانم جیسا ہونا چاہیے.. ورنہ وہ خانزادہ ہی نہیں اسکی عادات….. اسکا نخرہ اسکی بدتمیزی.. کیا نہیں تھا.. جس پر مراد شاہ فدا تھے…

اور اگر اسکے برعکس دیکھا جائے…

جتنی محبت وہ بہرام خان سے کرتے تھے.. اتنی.. ہی چیڑ…  اور ٹاکرہ انکا حیدر خان.. جو انکا سب سے بڑا پوتا تھا …  اور دستار جس کے سر سجائ جانی تھی…  …

جتنی وہ حیدر خان سے چیڑ کھاتے تھے.. ان سے کئ گناہ زیادہ حیدر ان سے نفرت کرتا تھا..

بوجہ انکی…  روایات…

جس کا پاس سب کرتے تھے سواے حیدر کے…

ایک بار…  صرف وہ اپنی مورے کے ہاتھوں مجبور ہوا تھا.. اور اس مجبوری کا ساتھ نبھاتے آج اسے دو سال ہو چکے تھے.. اور اگر کوئ یہ کہتا کہ حیدر.. خان نے.. اس مظلوم.. جان پر ان دو سالوں میں بے پناہ ستم توڑے ہیں تو یہ کہنا غلط نہیں تھا…..

بہروم کو سینے سے لگا.. کر انکا..  دل…  جیسے…. ٹھنڈا ہو گیا….

سینا فخر سے چوڑا ہو گیا….

کام ہو گیا.. داجی…  بس…. کل سارے ثبوت آپکے پاس.. وہ سالہ خود لے کر آئے گا "وہ  معمولی سے انداز میں بولا.. سب خاموشی سے.. دادا پوتے کے لاڈ دیکھ رہے تھے…

یہ تو حقیقت تھی جو.. بھی مراد خان کے…. ناجائز کاموں کے درمیان آیا.. یہ تو انھوں نے اسے خرید لیا..

یہ پھر مروا دیا….

اور یہ بے نیازی تو سرداروں کی شان تھی….

جیتے رہو…  ہمارے خان نے کو کوئ دقت تو نہیں ہوئ نہ… "وہ

. بولے تو.. لہجے میں اسکے لیے بے پناہ فکر محبت چاہت تھی…

بلکل نہیں داجی…  بھلہ مجھے کیا دقت ہونی ہے…  ہمیشہ دشمن کی دکھتی رگ.. پکڑتا ہوں میں یعنی بیٹی…" وہ قہقہ.. لگا کر ہنسا.. جبکہ انکا بھی قہقہ.. اٹھا…

دستار کا اصل حقدار…  تو.. میرا لاڈالا ہے…   بس دستور کا پاس نہ ہوتا.. تو اس ننجہار کو…  کبھی منہ نہ لگاتے " وہ منہ بگاڑ کر بولے….  اور بہرام…  ہنس دیا…

داجی یہ.. دستار گدی…  ان سب جھمیلوں میں نہیں پڑنا ابھی مجھے… " وہ بولا.. وہ دونوں سب سے اس طرح غافل تھے جیسے وہاں اور کوئی موجود ہی نہیں….

ہاں ہاں ابھی تو تمھارے کھیلنے کودنے کے دن ہیں.. "وہ.. پیار سے بولے.. اور مسکراے..

مگر خانم…. ہماری ایک خواہش تو تمھیں ابھی پوری کرنی ہے.. "اسکے.. خوبصورت صبیح چہرے پر گہیر آنے والے بالوں کو.. انھوں نے اپنے ہاتھ کی مدد سے پیچھے کیا…

داجی کا حکم سر آنکھوں پر…  مگر..   میری بات کی اہمیت پوری پوری ہو گی" وہ انگلی اٹھا کر جیسے انھیں وارن کر رہا تھا.. اور یہ ہی بات تو.. انکا دل جیت لیتی تھی…

لحاظ وہ انکا بھی نہیں کرتا تھا….

ہمارے خان.. پر داجی قربان…." وہ اسکی پیشانی چومتے.. اردگرد دیکھنے لگے..

سب خاموشی سے.. یہ ملن دیکھ چکے تھے…

میڈیا…. اور پریس کو بھی بلاو…  یاور خانم…  ہمارے.. خان…. سیاست میں اییں گے…." انھوں نے اسکا شانہ تھپتھپا یا…

اسے کوئی غرض نہیں تھی سیاست میں آنا نہ آنا…  اسے ان چیزوں سے بھی فرق نہیں پڑتا تھا.. اگر داجی ایسا چاہتے تھے.. تو.. وہ سیاست میں آ جاتا…

اسنے شانے اچکائے….

میں فریش ہوں گا.." اسنے انکی طرف دیکھا..

ہاں ہاں کیوں نہیں…  جاو.. کسی خاص چیز کی طلب تو نہیں" وہ معنی خیزی سے بولے.. تو…  وہ.. بے اختیار ہنس دیا….

بہرام خان اپنے انتظام  کر لیتا ہے خود ہی… "اسنے…  کہا…  اور اپنے کمرے کی جانب چل دیا.. جبکہ وہ پیچھے…  اب اسکے قصیدے.. کر رہے تھے.. کہ وہ کتنا نیڈر ہے.. اور آج تک کیا کیا کر چکا ہے.. جو سب پہلے سے ہی جانتے تھے…

………………….

حیدر…  خان.. مردان خانے.. میں داخل ہوا تو چارو اطراف میں سناٹا تھا.. اور شکر ہی تھا کم از کم.. اسے کسی کی شکل تو نہیں دیکھنی پڑے گی….

وہ تیز تیز قدم اٹھاتا…  سیاہ لباس میں اس وقت اس سیاہ رات کا ہی حصہ لگ رہا تھا….

مزاج ہمیشہ کیطرح بگڑا ہوا تھا.. چہرے پر خرکتی تو.. اب جیسے ہر وقت رہنے لگی.. تھی.. پر کشش خوبصورت نقوش…. کھڑے تھے…

مغرور نقوشوں میں جیسے اپنے لیے بھی رعایت نہیں تھی….

وہ اپنے کمرے…  کی جانب آیا…

اور.. دروازہ کھولنا چاہا…

مگر.. اسکا ہاتھ وہیں رک گیا جب دروازے کا اندر سے تالا پایا…

وہ جانتا تھا اندر کون ہو سکتا ہے….

اسکے جبڑے تنے…..

دماغ میں غصے کا گراف…  نہ جانے کہاں پہنچا….

اسنے…  نفرت سے ایک نظر.. جیسے…  اس دروازے پر ڈالی.. گویا اسنے ارمیش خان کو گھورا ہو… اس سے نفرت.. وہ ہر پل ہر سانس کے ساتھ کر سکتا.. تھا…

دروازہ کھٹکھٹانا اسکی غیرت کو غوارہ نہیں تھا.. بھلہ حیدر.. خان…  وادی کالام کا ہونے والا نیا سردار اپنے کمرے میں دروازہ بجا کر داخل ہو…

اس سے پہلے وہ وہاں سے پلٹتا…

ٹک کی آواز سے دروازہ کھلا …  کسی کا کانپتا.. وجود.. اندھیرے میں اسے کھڑا پا کر…  مزید کانپ اٹھا…  حالت ایسی بری ہو گئ.. کہ…  اپنی ٹانگوں پر کھڑا ہونا.. اب تک کا مشکل ترین کام لگا….

م…. معافی چاہتی…  ہوں…  س… سائیں…  "وہ رو دینے کو تھی.. معافی بروقت مانگ لی کہ شاید وہ معاف ہی کر دے…

وہ اندر آ گیا…

اور…  بس پھر…  ارمیش کی عین تواقع کے مطابق.. اسکے…  دوپٹے میں چھپے بالوں کو جھپٹ کر ایسے بری طرح جھنجھوڑا…  کہ…  اسکا سر چکرا کر رہ گیا…

ارمیش خانم.. تمھاری اتنی اوقات کہ…. ہمارے کمرے کا تالا لگاو… "وہ پھنکارہ…

معاف کر دیں سائیں…." وہ.. سسک اٹھی دھان پان سی.. وہ اسکے وجود کے سامنے تو جیسے ننھی سی ڈری سہمی گڑیا معلوم ہوئ جو دو سال سے یہ ستم سہہ رہی تھی…

معافی….. ٓ

دوبارہ کہو زرا.. سن نہ سکے ہم…. "وہ.. اسکو ایک جھٹکے سے اپنے نزدیک کرتا.. پوچھنے لگا…

ارمیش…  کا کانپتا وجود…  اسکی قربت پر مزید کانپ اٹھا.. وہ جانتی تھی اگر.. وہ کچھ نہ بولی تو وہ اسے مارنا شروع کر دے گا…

اسکے کلون.. اور سگریٹ کے ساتھ ساتھ.. شراب کی مہک.. اسکو…  عجیب…  حالت سے دوچار کر گئ….

سائیں…  آئندہ ایسا نہیں ہو گا…. میں.. مجھے معاف کر دیں…  میں قسم کھاتی ہوں با خدا.. آئندہ ایسا نہیں ہو گا…. "وہ سسکتی ہوئ.. اسکے قدموں میں بیٹھ گئ.. اور.. اسکی ٹانگ کو اپنے کانپتے ہاتھوں سے تھام کر گڑگڑانے لگی…

ہمممم" اسنے اپنی ٹانگ جھٹکی…  وہ دور ہوئ….

اور وہ.. تنفر سے چلتا.. اپنے بستر.. پر بیٹھا…

اور ارمیش کو دیکھنے لگا….

وہ آنسو پونچتی اٹھی…  اور اسکے قدموں میں بیٹھ گئ…

اسکے کانپتے ہاتھ.. اسکا جوتا اتار رہے تھے…..

جبکہ…  حیدر…  بستر پر پیچھے گیر گیا…

اسنے چونک کر…  حیدر کی جانب دیکھا….

نہ جانے اسے کیا ہوا.. تھا.. وہ پریشان ہو اٹھی تھی…

مگر.. اسکو چھونے کی اجازت.. اسکی اجازت کے بغیر نہیں تھی..

وہ جوتا اتار کر.. سائیڈ پر کرتی.. خوف سے لرزتی…  اسکے پاس.. بیٹھی.. اور.. ابھی وہ.. اسکے…  بازو کو چھوتی…  حیدر نے.. اسکا وہی ہاتھ تھام کر موڑ دیا….

کیوں…  "وہ…  اسکی کلائ توڑ دینے کا رادہ رکھتا تھا….

ارمیش کو بہت تکلیف ہوئ…  مگر ہر روز ہوتی تھی….

سائیں…  کھا…. کھانا لاو.." وہ بے بسی سے.. اپنی کلائ میں اسکی انگلیاں گڑتی دیکھ رہی…  تھی…

صرف تم دفع ہو جاو…   "وہ سرد لہجے میں بولا…  ارمیش.. کا ہاتھ بھی چھوڑ دیا…. اور.. دوبارہ آنکھیں بند کر لیں…

وہ کتنا خوبصورت تھا…

کتنا مکمل….. مگر اسکا نہیں تھا…. یہ شاید اس حویلی کا کوئ بھی مرد…  اپنی عورت کا نہیں تھا…

وہ اٹھی…  اور خاموشی سے باہر نکل آئ..

سیاہ رات میں مردان خانے میں اگر اسے کوئ یوں ہی چلتا ہوا.. دیکھ لیتا.. تو شاید…

اسکا آخری دن ہوتا.. آج دنیا میں….

وہ.. پلو سے خود کو چھپاتی…  زنان خانے میں جانے لگی…  کہ…. سامنے کافی کا کپ تھامے کھڑے…

احمر خان کو دیکھا…  جو نہ جانے کیوں مسکرا رہا.. تھا..

سر پر پلو مزید کھینچ لیا….

اور بغیر بولے…  وہاں سے گزرنے لگی…

احمر کی بھی نگاہ اسپر اٹھی تو.. وہ گڑبڑایا..

وہ معافی چاہتا ہوں..  "وہ اس سے پہلے کچھ بولتا.. ارمیش نے.. نفی میں سر ہلایا..

کچھ نہیں ہوتا لالہ" پھوپھو سائیں کا بیٹا احمر.. ہی صرف حویلی کا وہ مرد تھا…  جو.. ہر عورت کی عزت کرنا جانتا تھا…

ارمیش کا نم لہجہ دیکھ کر.. احمر نے تاسف سے.. حیدر کے بارے میں سوچا.   کتنا ہلکان کر چکا تھا.. وہ ارمیش کو….

وہ بغیر کچھ بولے وہاں سے چلی گئ…  جبکہ احمر بھی وہاں سے ہٹا..

حویلی میں پردے کا خاصا احتمام کیا جاتا تھا….

مگر صرف تب.. جب داجی.. یا بی جان…  ہال کمروں میں ہوتے…  اسکے علاوہ سب اپنی من مرضی کرتے خاص کر بہرام…  خان…

ارمیش نے پلٹ کر دیکھا…. احمر وہاں سے جا چکا تھا….

وہ.. ہال کمرے میں صوفے پر سکڑ کر بیٹھ گئ….

اور.. گٹھنوں میں منہ دے کر.. اسے گزشتہ دو سال پہلے کی وہ گھڑی یاد آئ.. جس میں وہ…  حیدر خان کے نکاح میں دے دی گئ تھی…

اسنے آنکھیں موند لیں…

داجی.. آپ ہمیں ہماری مرضی کرنے دیں.. "اسکی دھاڑ سنتے ہی سب.. اکھٹے ہو گئے.

مردان خانے.. کی جالیوں پر عورتیں کان لگا چکیں تھیں….

اپنے سرداروں کی لڑکیاں مر گئں ہیں جو.. باہر. سے اٹھا کر لے آئیں بہتر جانتے ہو ہمارے خاندان.. میں غیر ذات کی کوئ عورت نہیں آ سکتی" انکی کڑک آواز میں رتی بھی گنجائش نہیں تھی..

ہمیں نہیں فرق پڑتا ان رسموں رواجوں سے…  ہمیں شادی کرنی یے اپنی مرضی اپنی پسند سے" وہ بھی دوبادو ہوا…

یاور خانم سمھجاو. عقل کے ناخن دو اسکو…  ورنہ انجام جانتے ہو"انھوں نے اپنے بڑے بیٹے کو گھورا.. اور بہرام…  جو.. وہیں آیا تھا اسے اپنے پہلو میں بیٹھا لیا….

میں بھی دیکھتا ہوں.. کون یہاں ہم پر اپنی مرضی تھوپتا ہے "حیدر کو تو پتنگے ہی لگ گئے تھے…

وہ وہاں سے نکلتا.. کہ.. داجی کی آواز گونجی..

ہم مروا دیں گے حیدر خانم ہماری لیے مشکل نہیں…. اس بدزات لڑکی…  کے باعث ہمارے منہ کو آ رہے ہو" وہ چلائے

ہاں آ رہا ہوں کیونکہ تھک چکے  ہیں ہم ان.. سو کولڈ روایتوں سے… "وہ انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا…  تو…  وہ اسکو گھورنے لگے..

حیدر "یاور خان کو ہی احساس ہوا.. اس سے پہلے داجی کوئ بڑا قدم اٹھاتے..

ہوتے کون ہیں یہ ہم پر پابندیاں لگانے والے… "وہ تنک کر چینخا.. سب خواتین نے…  حیرت سے منہ پر ہاتھ رکھا…..

کہ آج تک کوئ بھی داجی سے اس انداز میں نہیں بولا تھا…

بس کرو…  بابا سائیں کے ساتھ اس انداز میں مخاطب ہونے والے تم بھی کوئ نہیں ہو…." انھوں نے ڈپٹا…

تو مراد خان.. اب.. دونوں باپ بیٹوں کو سہولت سے دیکھنے لگے…

بتا چکے ہیں ہم.. حور سے شادی کریں گے.. اور یہاں اسے لے کر بھی نہیں اے گے…  بھول جائیں ہمیں اور چھوڑ دیں ہماری جان" وہ.. بولا.. اور باہر نکلنے لگا….

یاور خانم "دادجی للکارے….

حکم بابا سائیں.. یاور خان کو بھی بیٹے کی ضد اچھی نہ لگی…

اگر.. حیدر خانم اس حویلی کی دہلیز.. اس بدبخت.. لڑکی کے لیے پار کرے.. تو…

سکینہ کو طلاق دے کر اس کے ساتھ روانہ کر دو…. آخر کو.. اس منحوس کو جنم دینے والی ہے…." وہ بولے…  لہجے میں چٹانوں کی سختی تھی حیدر کے پاوں.. جیسے زمین نے جکڑے….

وہ ایڑیوں کے بل پلٹا..

داجی مہم سے مسکراے…

وہ اپنی ماں سے.. بہت.. انکے نزدیک ضرورت سے زیادہ…  اٹیچ تھا تبھی انھوں نے یہ کارا وار کیا جبکہ.. زانان خانے میں کھڑیں وہ.. سسک اٹھیں اس عمر میں طلاق کا داگ…

حیدر کچھ نہ بولا…. بس.. انھیں گھورتا رہا….

بتاو سائیں.. کیا فیصلہ ہے.. "داجی.. بولے.. بہرام ان سب سے اکتایا ہوا دیکھ رہا تھا….

حیدر.. مارے غصے.. کے اپنی پھولی سانسوں پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا.. کہ نہیف سی آواز ابھری..

حیدر سائیں.." پر نم آواز…   اسکی ماں کی ہی تھی.. اسنے زور سے آنکھیں میچ لیں…

ہمارے سفید بالوں کی لاج رکھ لو" وہ بولیں نہیں سسکی تھیں…

حیدر کا بس نہیں چلا.. داجی…  کو قتل ہی کر دے.. مگر نہ وہ ایسا کر سکتا تھا..

نہ اپنی محبت سے دستبردار ہو سکتا تھا.. وہ کچھ سوچتا ہوا.. تن فن کرتا.. وہاں سے چلا گیا…

جبکہ پیچھے…  داجی.. نے.. زنان خانے سے…  دیکھتی سکینہ.. کے سر پر پہلی بار ہاتھ رکھا.. شاید وہ پہلی خاتون تھیں…. جن کے سر پر داجی نے ہاتھ رکھا

تم ہمیں عزیزز ہو. "وہ بس اتنا ہی بولے…  تو سکینہ نے سر ہلایا…

اور یوں.. ارمیش نے…. حیدر کے پاوں میں پڑنے والی بیڑیاں دیکھیں…  اور وہ خود بھی ہٹ گئ…

……………..

اگلے روز ہی.. وہ حویلی سے.. نکل چکا تھا.. وہ سوچ چکا تھا.. حور سے شادی کر کے.. اسے شہر میں گھر لے کر رکھے گا…

حور.. کے آفس کے باہر گاڑی روک کر.. وہ نکلا.. اور اندر.. دندناتا ہوا.. گیا.. حور کی نوکری اسے بلکل پسند نہیں تھی.. آخر کو سرداروں کا؛. خون تھا.. مگر یہیں اسنے پہلی بار.. اس چنچل لڑکی کو دیکھا تھا جو اسکے دل کو ایسی بھائ. کے اسکے بعد.. کوئ جچا نہیں…

حور اپنے کام میں مگن تھی.. حیدر نے اسکی کلائ پکڑی اور اسے.. کھینچ کر باہر لے آیا..

حیدر یہ کیا حرکت ہے "وہ غصے سے بولی..

اگر میں بھی یہ ہی پوچھوں یہ کیا حرکت ہے کہہ چکا ہوں چھوڑو اس نوکری کو پھر بھی" وہ گاڑی میں اسے پٹختا…. بولا.. تو حور نے.. مزید غصے سے اسے دیکھا..

میں بھی تمھیں کہہ چکیں ہوں. حیدر جس دن میرے گھر تمھارے گھر والے رشتہ لے آئیں گے.. میں یہ نوکری چھوڑ دو گی.

پلیز.. حیدر کچھ کرو…  سب میرے رشتے کے پیچھے پڑے ہیں" وہ نم آواز میں بولی.. تو حیدر اسے آہستہ آہستہ تمام حالات بتاتا گیا جسے حور.. ڈبڈبائ آنکھوں سے سنتی گئ..

حیدر کو اسکی آنکھوں میں آنسو بلکل اچھے نہ لگے.. اور داجی سے مزید نفرت بڑھ گئ..

مطلب ہم ایک نہیں ہو سکتے" حور پھینکا سا ہنسی.. دل کرچی کرچی ہوا تھا..

میں نے یہ کب کہا.. ہم نکاح کریں گے اور میں تمھیں…

بلکل نہیں حیدر" اسنے اسکی بات کاٹی…

میں وہ لڑکی نہیں ہوں.. جو چھپ چھپا کر نکاح کر لے.. اور بھلے  ہم تمھارے جتنے امیر نہیں مگر حیدر خان.. عزت ہے.. خاندان میں معاشرے میں…. بھاگی ہوئ لڑکی کھلوانا چاہتے ہو مجھے" وہ.. رونے لگی.

حور.. تم جانتی ہو نہ ہم ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے.. سمھجنے کی کوشش کرو داجی بلکل…  ضد پر آڑے ہیں" وہ اسکو سمھجا نے کی کوشش کرنے لگا.. مگر حور نے اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکال لیا…

میں بھی تمھیں پہلے روز ہی بتا چکی ہوں.. حیدر….

میں پوری عزت سے تمھاری زندگی میں شامل ہونا چاہتی ہوں.."

اسنے.. پھر کہا..

داجی نہیں مانیں گے… "وہ بے بس ہوا..

تو پھر ایک دوسرے کو بھول جانے میں بہتری ہے"وہ ڈبڈبائ نظروں سے بولی.. تو.. حیدر بے چین ہوا..

مجھے جانا ہے" حور باہر نکلنے لگی.. حیدر کا ازلی غصہ عود کر آنے لگا.

کوئ مشکل نہیں ہے تمھارے لیے مجھ سے نکاح کرنا" وہ اسکی کلائ جکڑ کر بولا..

ہاتھ چھوڑو حیدر  مجھے تکلیف ہو رہی ہے" حور کے گال پر آنسو پھیسلا…

ہمیں بھی تکلیف ہو رہی ہے تمھاری اس بے رخی سے" حیدر کی آنکھیں التجا کر رہی تھیں…

میں انتظار کروں گی.. تمھارا.." حور.. سسک کر.. گاڑی سے نکلی…

تو حیدر.. ہاتھ مار کر رہ گیا.. …

…………….

وہ کون سا انداز نہیں تھا جس سے حیدر خان نے داجی کو یا یاور خان.. کو منانے کی کوشش نہ کی تھی.. مگر وہ.. ایک بات.. غیر برادری کی لڑکی.. کی رٹ لگائے ہوے تھے…

حیدر.. ان کچھ دنوں میں بلکل کملا کر رہ گیا تھا.. اور حویلی کا کون سا شخص نہیں تھا جو اسکی حالت سے واقف نہ ہو…

داجی اپنی ضد پر آڑے تھے.. اور حیدر اپنی.. اور اسی طرح…  جہاں وہ…  حور سے روز ملتا تھا.. اب.. پانچ ماہ گزر چکے تھے.. وہ حور کے پاس نہ گیا.. مقصد داجی کو ماننے کا تھا….

پھر ایک روز داجی نے.. اسکی شادی کا شوشہ چھوڑ دیا…

اور وہ بھی ارمیش سے.. وہ حیدر.. سے.. پانچ سال چھوٹی تھی…

اور یاور خان سے چھوٹے بھائ.. جواد خان کی اکلوتی بیٹی تھی….

حیدر تو.. اس افتاد پر ہتھے سے اکھڑا…  مگر داجی نے.. اسکی ماں کو موہراہ بنا کر….

اسکو ایسے شکنجے میں جکڑا کہ وہ پھڑپھڑا بھی نہ سکا…

اور زبردستی کی بنیاد پر…  ارمیش خان کو حیدر خان کے نکاح میں دے دیا گیا….کسی نے بھی ارمیش سے پوچھنے کی زحمت نہیں کی تھی کہ وہ کیا چاہتی ہے.. بس اسے حکم ہوا.. اور اسپر حکم ماننا فرض تھا

حیدر نکاح ہوتے ہی.. حویلی سے غائب ہو گیا.. یہ نکاح جلد بازی میں کیا گیا.. اور داجی نے.. صرف ولیمے کا علان کیا….

حیدر.. حویلی سے سیدھا…  حور کے پاس پہنچا….

مگر.. جو خبر.. اسکو وہاں جا کر ملی.. وہ اسکے قدموں تلے زمین کھینچ گئ تھی..

حور کی تین ماہ پہلے ہی شادی ہو چکی تھی….

اور وہ دن تھا.. حیدر خان سرے سے بدل گیا…..

ارمیش کے ساتھ ہوئ زیادتیوں کو وہ سوچ میں بھی تصور نہیں کرنا چاہتی تھی….

اور.. پھر اسنے ایک اور رات…  وہاں حویلی کے ہال میں گزار دی…

حیدر کی آنکھ کھلی.. تو کمرے میں اندھیرا .. جبکہ ہلکی پھلکی ٹھنڈک.. کا احساس اور اس کے  علاوہ دبیز پردے بھی کھڑکیوں کے آگے ڈلے ہوئے تھے.. وہ اٹھا تو سر بری طرح گھوم رہا تھا…

اسنے ارد گرد دیکھا…  تو ارمیش کا وجود کہیں نظر نہ آیا….

حیدر کا دماغ گھوما….

وہ ایک جھٹکے سے اٹھا….

اور…  بالوں میں ہاتھ پھیرتا باہر نکلا…  اسکی جرت بھی کیسے ہوئی کہ.. وہ اسکے اٹھنے سے پہلے وہاں سے نکلی بھی.. وہ دندناتا ہوا…  زنان خانے کیطرف بڑھا.. مردان خانے کے ہال میں سب ہی تھے..

دوپہر کے کھانے کی تیاریاں کی جا رہیں تھیں..

مگر ان میں سے ایک بھی چیز سے.. اسے فرق نہیں پڑتا تھا.. وہ تو یہ دیکھانا چاہتا تھا کہ انکی پسند کی اسکے نزدیک کتنی اوقات ہے اور یہ بات بار بار باور کرنے…  سے اسکے دل کی بھڑاس کچھ کم ہوتی تھی جبکہ وہ اس سب میں کسی کے نازک جزبات کو بھول جاتا تھا…

ارمیش"وہ زنان خانے کے ہال میں کھڑا ہو کر دھاڑا.. اسکی موجودگی وہاں دیکھ کر.. سب ہی چہروں کو ڈھانپ گئیں…

جبکہ وہ لاپرواہ…  رات کے سیاہ لباس میں بکھرے بالوں کے ساتھ کھڑا تھا..

چہرے پر…  الجھن بھرے تصورات تھے..

جی.. جی سائیں" ارمیش کچن سے برآمد ہوئ تو.. حیدر…  نے..  ایک کھینچ کر تھپڑ اسکے منہ پر جڑ دیا… جس کا مقصد اپنے پیچھے کھڑے داجی کو بھی دیکھانا تھا…

ارمیش خانم اپنی اوقات سے باہر نکل رہی ہو" وہ اسکو بری طرح جھنجھوڑتا چینخا…

ارمیش کو اپنا کان سن ہوتا محسوس ہوا.. خفت سے وہ بری طرح سسکی….

حیدر.. یہ کیا حرکت ہے.." بالآخر.. جواد خان.. بول اٹھے حالانکہ انھوں نے کبھی ارمیش کو کوئی اہمیت نہیں دی تھی کہ.. انکی بیوی…  اس ایک بیٹی کے سوا انھیں کوئی اولاد نہ دے سکی تھی…

جس کی وجہ سے.. انھوں نے دوسری شادی کی اور دوسری بیوی سے.. بھی دو بیٹوں کے بعد کوئ اولاد نہ ہوئ…

ارے ارے.. جواد خانم…  بھی بولے.. "وہ  تمسخر سے ہنسا…  ارمیش کی سسکیاں دل چیر رہیں تھی…

حیدر نے جان بوجھ کے.. اسکے.. بالوں کو…  دوبارہ جھنجھوڑا.. وہ.. سسکتی ہوئ خوف کے زیر اثر…  اسکے ہاتھوں کی حرکت پر ادھر ادھر ہوتی رہی…

تھی بھی تو نازک سی.. مگر اسکی ساری نزاکت…  حیدر ختم کر رہا تھا….

بیٹی ہے وہ میری…. تم یہ سب وہ بھی سب کے سامنے نہیں کر سکتے"وہ بولے تو لہجہ کمزور تھا…

داجی…  سمیت.. انکے…  5 بیٹے بھی تھے جبکہ.. باقی سب بھی آہستہ آہستہہ وہیں جمع ہو رہے تھے…

لڑکیاں مردوں کو آتا دیکھ ارمیش کی قسمت ہر آنسو بھاتی.. چھپ چکیں تھیں.. سب خوف کے زیر اثر تھے..

میں نے تو نہیں کہا.. تھا اس نمونے کو مجھ سے بیاہ دو.. خیر.. بیوی ہے میری…  الٹا لٹکاو یہ سیدھا…  کوئی یہاں کچھ کہہ کر تو دیکھاے…. "وہ سب پر خاص طور پر داجی ہر نگاہ ٹکا کر بولا….

دل.. اس سب.. سے اکتا بھی چکا تھا…  تبھی ارمیش کے کان کے پاس وہ سب کے سامنے بے باکی سے جھکا….

داجی نے.. خونخوار نظروں سے اسے دیکھا…

کیوں جانم.. اور تماشے کی گنجائش ہے.. یہ کمرے میں آنا ہے.." وہ بولا.. لہجے میں سکون ہی سکون تھا…

ارمیش…  کانپتی.. ہوئ اسکے پیچھے پیچھے چل دی….

وہاں.. فرح…  خانم اپنی بیٹی کے ساتھ ہونے والے اس ستم پر خون کے آنسو رو کر رہ گئیں جبکہ کوئی تھا. جو.. ان لڑکیوں کے کمرے میں…  غصے سے ادھر ادھر…. چہل قدمی کرتی اس ناانصافی پر…  بولے جا رہی تھی…

…………………

یہ کیا بیہودگی ہے.. ہر وقت حیدر خان اسی طرح کرتے ہیں مجھے سمھجہ نہیں آتی ارمیش…  آخر…  یہ سب برداشت کیوں کرتی ہے.. یہ حویلی کم جیل زیادہ ہے جہاں.. ہم اپنے ارمانوں کا گلہ گھونٹ کر ایک دن.. لاشیں بن جائیں گی.. صرف داجی کو نیچا دیکھانے کے لیے انھوں نے اسکے ساتھ اتنا برا سلوک کیا.. میرا بس چلے تو.. "

بس کرو" مریم خان نے اسکی کینچی کی طرح چلتی زبان کو خوف سے…  جھنجھلا کر بند کرنے کے لیے ڈپٹا…

بی جان مسکراتی نظروں سے اسکے سرخ چہرے کو دیکھنے لگی…

ارمیش کے ساتھ جو ہو رہا تھا.. انکا دل بھی بہت کٹتا تھا….

مختصر سی انکی پوتیاں تھیں مگر وہ بھی اپنے باپ دادا پر بھاریں تھیں…

یہ بیٹوں کی خواہش کرنے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ .. جنم انھوں نے عورت کی کوک سے ہی لیا ہے…

وہ.. تاسف سے.. ارمیش کو سوچ کر رہ گئیں…

اماں.. جان آپ یوں چپ کرا  رہیں ہیں.. کبھی تائ جان کا غم سوچیں وہ کس قدر…  تکلیف محسوس کرتی ہوں گی.. اور.. ارمیش…  وہ.. تو شروع سے ڈرپوک تھی "وہ.. غصے سے…  چھوٹی سی ناک سکیڑ.. کر…  بیٹھ گئ….

نین خانم…. اتنا غصہ اچھا نہیں" بی جان نے پیار سے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرہ…

بی جان…  کیا یہ ٹھیک ہے…  ہم کیا بھیڑ بکریاں ہیں.. ہماری مرضی نہیں. کوئی.. دم گھٹ گیا ہے ان روایتوں میں… "وہ.. ڈبڈباے لہجے میں بولی….

یوں ہی…  دم نکلتا ہے….

مگر…. ہاں بیٹے شاید ہم عورتوں کا سرداروں کی عورتیں ہونا ستم ہے"

بی جان.. بولیں…  باقی سب بھی.. وہیں جمع تھے…

نین بس کرو "اماں نے کہا…. تا کہ ماحول کا اثر ختم ہو مگر…

سب کا ارمیش کے لیے غم سے برا حال تھا…

جبکہ نین…. سب کو دیکھ کر جھنجھلا کر.. اٹھ گئ…

سفید گرارے.. قمیض میں.. چھوٹی کرتی پہنے.. بڑا سارا دوپٹہ لیے.. ہاتھوں پر مہندی سجاے.. وہ بے انتھا. خوبصورتی کا شہکار تھی..  مگر غصہ.. ناک پر ہر وقت دھرا رہتا تھا….

…….. ………..

بہرام سائیں.. بہت عرصہ ہوا.. شاپنگ بھی نہیں کرائ.. "شبنم نے اسکے چہرے پر اپنی مخروطی انگلیاں چلائیں…  بہرام.. نے.. گلاس میں موجود سیال اپنے اندر اتار کر اسکیطرف دیکھا.. جو…  کسی شریف کی نظر میں بیہودہ لباس میں…. اسپر.. تقریباً لیٹی ہوئی تھی…

بہرام.. رات بھر.. سے یہیں پر تھا.. اور.. اب.. شام ڈھلنے لگی تھی.. وہ حویلی جانا چاہتا تھا.. مگر شراب کی کثرت کے باعث.. وہ اٹھ نہ سکا یہ شاید وہ اٹھنا نہیں چاہتا تھا.. اوپر سے.. شبنم کے کچھ کچھ دیر بعد.. پڑنے والے.. حسین وار سے.. وہ جیسے.. وہیں رہ گیا.. دماغ.. شارب نوشی…  کے باوجود بھی چوکس تھا..

اسنے کوئی جواب نہ دیا.. تو شبنم ایک بار پھر بیھودگی پر اترنے لگی مگر شاید اب بہرام خان.. تھک چکا تھا اکتا چکا تھا….

اور ابھی وہ اس سے پہلے اسے جھڑکتا…

اسکا فون بجنے لگا..

اے پیچھے ہٹو"وہ.. تیوری چڑھا کر بولا تو شبنم ہنس دی..

ساری رات…. تو نہ سوچا کہ پیچھے بھی ہٹانا ہے.. اچانک…  پیچھے ہٹانے کی بات یاد آ گئ.. ہمارے نک چڑے سائیں کو" شبنم نے…  اسکے ہاتھ سے موبائل چھیننا چاہا….

بہرام.. نے اسکے بال پکڑ کر.. اسکا سر.. پیچھے.. تکیے سے لگایا.. اور…  شبنم.. تلملانے لگی. پھر ہنسنے لگی.. بہرام کو اس سے کوفت ہونے لگی..

وہ کال اٹینڈ نہیں کر پا رہا تھا.. تبھی اسکے منہ پہ  تھپڑ…  لگا دیا.. تھپڑ کی شدت سے.. شبنم بلکل سن رہ گئ.. جبکہ وہ.. اٹھا.. اسکے قدموں میں لڑکھڑاہٹ نہیں تھی…

ہاں.. بولو.. "اسنے خود کو آئینے میں دیکھا..

حد سے زیادہ خوبصورتی میں معمولی سا غصہ گھلا ملا تھا…

سائیں مداخلت معاف سائیں…

پریس.. میڈیا.. پولیس…  کوٹھے…  میں ہیں…" اسکا خاص ملازم .. ہچکچا کر بولا…  بہرام کا.. سارا.. نشہ.. جو… بمشکل ہی چڑھتا تھا.. بھک سے اڑا…

کیا مطلب ہے.. آج سے پہلے تو ایسا نہ ہوا.." وہ.. چھینگاڑہ…

سائیں…  آپ اب سیاست میں آ گئے ہیں.. گستاخی معاف.. آپکو وہاں سے.. جلد نکلنا ہو گا.. ورنہ.. ورنہ بہت غلط.."

گالی…  بند کر  اپنا منہ…. "اسنے موبائل بند کیا…

اور چہرے ہر ہاتھ پھیرا..

اگر اسکا وجود یہاں دیکھا جاتا تو.. داجی کی سیاست سمیت عزت…  دو کوڑی کی رہ جاتی..

جبکہ.. اسکی عزت کو.. بھی بے شمار داغ.. لگتے.. اسے یہاں سے نکلنا تھا.. اور.. اس میڈیا کا بینڈ تو.. وہ بعد میں بخوبی بجائے گا.. وہ سوچ چکا تھا…

وہ شبنم پر ایک غلط نظر ڈالے بغیر دروازہ کھول کر نکلا..

نیچے ہال سے کئ آوازیں آ رہیں تھیں..

یہاں بہرام.. خان موجود ہیں.. آپ دیکھ سکتے ہیں ناظرین…  سردار مراد خان کا پوتا .. جو سیاست.. میں عورتوں کے حقوق کے لیے قدم رکھ رہا ہے.. جس کی پہلی تقریر ہی عورتوں کے حقوق پر تھی.. وہ آدمی.. اس گھٹیا جگہ پر اپنی راتیں رنگین کر رہا ہے.. اور جس کی نظر میں.. عورت.. کی ولیو.. صرف…  ایک بستر تک ہو.. وہ معاشرے کی عورتوں کو کس نگاہ سے دیکھے گا.. "کسی کی تیز.. باریک.. پہنکارتی ہوئ اواز….

پر.. اسکی آئ برو اچک گئ…

اسنے گریل میں سے.. پولیس.. اہلکار.. میڈیا.. کو دیکھا.. اور…  نگاہ…  پیٹھ موڑے کھڑی.. اس تیز ترار لڑکی پر گئ…

آی ویل کل یو" وہ…  غرایا…

مگر اسکی شکل بھی دیکھنا چاہتا تھا….

وہ.. گریل کے ساتھ ساتھ چلنے لگا.. حالانکہ یہ اسکے لیے خطرے سے خالی نہیں تھا.. مگر.. بلیو جینز… پر وائٹ…  کرتے میں پونی ٹیل کیے.. وہ لڑکی..جو بھی تھی.. پشت سے کافی پر کشش تھی.. اور.. آواز.. اس سے بھی زیادہ.. مگر الفاظ کافی زہریلے تھے..

وہ.. گریل سے گھومنے لگا…

تو لڑکی نے خود ہی رکھ پھیر لیا…

ہمیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ آپ. بھی بدلنخواستہ ہمارے ساتھ آئے ہیں "اسنے ایریا کے ایس ایچ او.. کو.. غصے سے دیکھا…

گلابی شھابی رنگت میں.. بولنے.. اور گرمی کے باعث…  سرخی.. گھلی ملی تھی جبکہ…

گردن پر.. پسنیے سے بالوں کی چیپکی ہوئ.. لٹیں…

اس لڑیرے.. کی آنکھوں کو خیر کر رہیں تھیں…

قربان جاو.. اس حسن پر" وہ…  گھیری.. چمک لیے.. بولا…

ایس اچ او گڑبڑایا…

نہیں میڈیم ایسا کیوں ہو گا بھلہ…." وہ.. نرمی سے بولا..

آپکو غلط فہمی ہو سکتی ہے.. وہ بہت عزت دار خاندان سے ہیں.. "وہ.. بولا تو..

اس لڑکی نے نفرت سے اسکیطرف دیکھا..

سر ابھی اس عزت دار خاندان کی حقیقت…  معلوم ہو جاے گی.. "اسنے.. کہا.. اور.. اب مجبورن  ایس اچ او کو اپنے بندے پھیلانے پڑے.. جبکہ بہرام…  کے لبوں پر مسکراہٹ رینگنے لگی…

کیا چیز ہے.. "وہ پھر بڑبڑایا..

پولیس اہلکار…  اسکو دیکھ چکے تھے..

وہ.. اپنی شیو پر ہاتھ پھیرتا خاموش.. نظر انپر ڈال کر.. رہ گیا.. جو.. اسکی ایک خاموش نظر سے.. انجان بنتے.. ارد گرد تو پھیلے مگر اس تک نہ پہنچے…

بہرام.. خان بھی.. چلتا.. ہوا…  سٹور روم.. کی اوٹ میں ہوا…

وہ وہاں سے.. باہر ہونے والا سارا نظارہ تک رہا تھا…

مجھے ایسا لگتا ہے تمھاری خبر غلط ہے.. تم سوچ نہیں سکتیں.. یہ لوگ تمھیں الٹا لٹکا دیں گے "واصف کی جھنجھلائ… ہوئ.. آواز پر.. عابیر نے اسکی جانب دیکھا…

میری انفارمیشن کبھی غلط نہیں ہو سکتی.. وہ.. کل کا آیا.. لڑکا.. عوام کو الو بنا دے" وہ غصے کی کیفیت میں تھی.. بہرام. جو انکے پیچھے روم میں ہی کھڑا تھا…

اسکی کل کا آیا سن کر.. اسکے ہونٹوں پر گھیری مسکراہٹ چھاپ چھوڑ گئ…

پولیس…  پورے کوٹھے. کو چھان مار چکی تھی…

مگر بہرام خان کو ڈھونڈ کر بھی اگر آنکھیں بند کر لیں تھیں تو وہ انھیں کبھی نہیں مل سکتا تھا…

واصف پر ایس ایچ او چڑھ دوڑا.. جبکہ عابیر یہ سب تماشہ .. دیکھنے لگی….

یہ ایک غلط جگہ.. "

بس کرو بی بی" ایس سیچ او نے.. غصے میں کہا..

عابیر بغیر ڈرے اسکی صورت دیکھنے لگی…

یہاں تک پہنچانے کے لیے بہت شکریہ مگر کسی شریف انسان ہر الزام کا آپ کا کوئی حق نہیں.. بس صحافی کی طاقت استعمال کرتے ہیں "وہ بڑبڑای

بڑبڑایا.. واصف اسکی خوشامد کرنے لگا.. جبکہ عابیر اوپر جاتی سیڑھیوں کو گھور کر رہ گئ.. وہ جانتی تھی.. وہ آدمی یہیں ہے..

ابھی وہ.. آگے بڑھتی کہ کسی نے.. اسے…  پیٹ پر.. بازو حائل کر کے.. اپنی طرف کھینچا…  ہاتھ کی سختی اسکے پیٹ پر بری طرح تھی.. جبکہ لمس اسقدر…  برا.. کہ.. وہ تلملاتی رہ گئ…

سائیں…. اوپر.. دائیں جانب چوتھے کمرے میں نیم مردہ…  سی شبنم…  کے  پہلو کی سلوٹیں…  بتا دیں گی…  کہ بہرام خان.. وہیں تھا…. بھلہ آپکی جیسی نظر.. ان.. دوٹکے کے پولیس والوں کے پاس کہاں…

جلد ملیں گے دوبارہ… "اسکے کان میں زہر انڈیلتا وہ جھٹکے سے اسے دھکا دے.. کر…  فرار ہوا…  جبکہ عابیر ابھی سمبھالتی.. اور دوڑ کر اس کمرے تک جاتی.. وہ وہاں سے غائب تھا.. اسنے واصف.. کو دیکھا جو اب تک ایس سیچ او کو.. سمھجا رہا تھا…  مگر وہ کچھ نہیں کر سکی تبھی.. مٹھی پر ہاتھ مار کر رہ گئ…

بال بال بچے ہو آج تم.. اگر داجی کو اس بات کی بھنک بھی پڑی تو
بیٹے تم تو گئے کام سے "معاویہ نے اسکی جانب دیکھا.. جس کا قہقہ گاڑی.. میں گونجا…
ہونٹوں میں سگریٹ دباے ناک کی چونچ پر بلیک گاگلز رکھے… بہرام نے معاویہ کیطرف دیکھ کر آنکھ دبائ….
یہ بال بال بچنا کیا ہوتا.. ہے… معاویہ صاحب.. ہم تو ہر بار بچ نکلتے ہیں.. کوٹھے کے مورچوں پر ہمارے بندے بیٹھے ہیں پولیس ہماری جیب میں ہے.. اور کیا چاہیے… کیا چاہیے جینے کے لیے… "وہ دلکشی سے ہنسا… معاویہ بھی ہنس دیا….
مگر افسوس" معاویہ نے دکھ سے اسکیطرف دیکھا…
کس بات پر"مستعدی سے ڈرائیو کرتے ہوئے… اسنے.. گاگلز کی آڑ میں سے.. اسکیطرف آنکھیں گھمائیں..
.. اب کیا ہو گا یار خان. کچھ کرو کچھ کرو… ہماری راتیں… " اسنے اسکا مظبوط شانہ جھنجھوڑا.. تو بہرام پھر ہنسا….
معاویہ خانم.. صبر بھی کوئی شے ہے….
ابھی کچھ دن تو… نہ چاہتے ہوئے بھی صبر کرنا ہو گا… کیونکہ… ریڈ پڑ چکی ہے.. مشکل ہی ہے وہ جگہ دوبارہ کھلے…
برحال.. کالام زندہ بعد" وہ تفصیلی سمجھاتے ہوئے اینڈ میں جوش سے بولا.. اور گاڑی کی سپیڈ بڑھا.. دی.. جبکہ معاویہ… نے بھی پرجوش ہو کر نعرہ لگایا.. تھا…
جیو خان.."
……
عابیر… بیٹا.. کھانا کھا لو "مما نے اسکیطرف دیکھا جو ابھی سو کر اٹھی تھی…
میرا سیل کہاں ہے" اسنے اٹھتے ساتھ ہی.. موبائل کی تلاش میں نگاہ گھمائ…
عابیر… کھانا تو کھا لو.. بس.. اٹھتے ساتھ ہی موبائل چاہیے" وہ غصے سے بولیں.. اور کمرے سے نکل کر چھوٹے سے صحن میں آ گئیں جہاں بابا ابھی کام سے آئے تھے.. وہ سرکاری کلارک تھے
متوسط گھرانے کے یہ لوگ اپنی زندگی سکون اور خوشی سے جی رہے تھے…
کام ایسا ہے مما کیوں خفا ہوتی ہیں… " اسنے کہا.. اور.. اپنے باپ کے پاس بیٹھ گئ..
اسکی سفید رنگت میں گلابی رنگ جیسے گھل مل رہا تھا… بالوں کا رفلی جوڑا بناے.. وہ بادامی.. آنکھوں کو سیل پر جماے.. بیٹھی تھی..
میں تو کہتی ہوں.. اکبر صاحب.. اسکی شادی ہونے والی ہے.. اس گندی نوکری پر سے ہٹا لیں" انھوں نے پانی کا گلاس تھماتے ہوئے.. کہا تو.. عابیر اچھل پڑی…
جبکہ نیھا کی کھی کھی.. سننے لائق تھی.. وہ دو ہی بہنیں تھیں.. بیٹا انکا کوئی نہیں تھا…
پیسے کی بھی کوئ ریل پیل تو نہ تھی مگر زندگی پھر بھی خوش اور مطمئین تھی..
مما شادی کا جھنجھٹ تو سال بعد تھا یار… ابھی.. کچھ ماہ ہوئے ہیں مجھے فیلڈ میں آئے.. اور… معاذ سے تو میں بات کر بھی چکیں ہوں سال ڈیڈ سے پہلے نو شادی "اسنے.. ماں کیطرف دیکھا.. جنھوں نے گھورا..
دیکھ رہیں ہیں کینچی کی طرح چلتی ہے زبان اسکی.. ہر بات کا.. جیسے جواب پٹ تیار ہے.. اسکے پاس…
اور یہ معاذ کیا ہوتا ہے.. بھلے وہ تمھارا کزن ہے مگر منگیتر بھی ہے.. تمیز سے نام لیا کرو"
ہاں وضو کر کے لوں گی آئندہ.. "وہ منمنائ…. تو اکبر صاحب کھل کر ہنسے..
نیھا بھی ہنس دی..
آپکی شے کا نتیجہ ہے ورنہ اس لڑکی میں لڑکیوں والی تو کوئی بات ہی نہیں ہے.. "وہ غصے میں تھیں..
توبہ توبہ" عابیر نے کانوں کو ہاتھ لگایا…
جبکہ اسکا سیل بجا…
آہ واصف کی کال ہے" اسنے کال اٹینڈ کی…
ہاں واصف.. بولو" مما کی گھورتی نظروں سے آنکھ بچا کر.. وہ.. اٹھ کر اندر ائ..
یار.. کہاں فوت ہو چکی ہو… کمال کرتی ہو میں گدھا ہوں یہاں پر کب سے انتظار کر رہا ہوں.. وہ غصے سے بھڑکا..
یار آہستہ بول لو.. سو گئ تھی.. اب اس میں خود کو گدھا کہہ کر.. تو.. دوسروں کے منہ میں اپنی کمزوری دینے والی بات ہوگی یہ تو "وہ بولی تو واصف نے ماتھا پیٹا..
میری غلطیاں نہ نکالو… اور اپنی تشریف کا ٹکرا اٹھا کر.. باہر نکلو.. میں یہاں کیفے کے باہر ویٹ کر رہا ہوں.. ہمیں کالام کے لیے نکلنا ہے.."
واصف نے جیسے اسے یاد دلایا.. تو.. وہ… اپنے… اتنے شدید.. زبردست بلکھڑ زہن.. کو ایک پل کی خاموشی.. دان کر کے.. جیسے ہوش میں ائ..
واصف.. بابا کا یہ معاذ کا مسلہ نہیں.. ہے.. ماما کو منانا" اسنے کمرے سے باہر جھنکا.. اسکی ماں اسکے باپ کے کان میں جھکی.. یقیناً اسی کے بارے میں باتیں کر رہی تھی..
شاباش لڑکی.. تمھیں کل سے یہ بات پتہ ہے اب تک.. منہ ہلا نہ سکی تم" واصف بھڑکا..
اچھا.. بس کرو… ڈانٹ.. نہیں سنیں… .. تم ایسا کرو یہیں آ جاو… جب تم بات کرو گے یقیناً مما مان جائیں گی" اسنے کہا تو واصف نے فون کو گھورا..
میرا استعمال.. کرتی ہو شادی کسی اور سے کرتی ہو… "وہ غصے سے بولا.. تو عابیر کھلکھلائ…
آتا ہوں.. "واصف بھی ہنس دیا…
عابیر.. سکون سے باہر آ گئ ہاں وہ بھول گئی تھی… اس کوٹھے کو تو وہ بند کرا چکی تھی.. جبکہ.. کل سارا دن وہ.. اس پختون لہجے.. اور اپنے گرد بھندی سخت گرفت میں الجھتی رہی…
اسے شدید افسوس تھا وہ شخص وہیں تھا مگر اس تک پہنچ نہیں پائ وہ.. اور اب وہ اسی کے علاقے میں جا رہی تھی…
اور اسکا بینڈ بھی بجا دینا چاہتی تھی….
اسے ایک طرف سے تو سکون تھا.. واصف.. مما کو منا لے گا.. مگر معاذ کو بھی اطلاع دینا ضروری تھی….
معاذ.. اسکے مامو کا بیٹا تھا…. اور ابھی ایک ماہ پہلے دونوں کی منگنی ہوئی تھی… اور چونکہ وہ پہلے بھی ایک دوسرے سے کافی فرینک تھے…
منگنی کے بعد بھی فرینکنیس… قائم ہی رہی…
معاذ کو اسکی جاب سے شادی سے پہلے کوئی مسلہ نہیں تھا ہاں البتہ شادی کے بعد… اس کی اجازت نہیں تھی…
………………..
حیدر.. کو کل دستار باندھی جانیں تھی جس میں سب کی شراکت بہت ضروری تھی.. مگر حیدر خان.. نے کمرے سے باہر نکلنا بھی ضروری نہیں سمھجا…
وہ یوں ہی کمرے میں لیٹا ایل ای ڈی.. سرچنگ کر رہا تھا.. جبکہ پورا دن ہو گیا تھا ارمیش بھی کمرے سے باہر نہیں نکلی تھی.. جب وہ ہوتا… وہ اسکو ہلنے تک نہیں دیتا تھا.. اپنے کاموں میں اسکو جیسے.. گھول دیا تھا.. ابھی بھی وہ حیدر کے کپڑے واشروم میں دھو… رہی تھی.. حالانکہ حویلی میں یہ کام ملازمین کے ہوتے تھے مگر.. اس شخص نے… ارمیش پر اپنے سارے کام تھوپے ہوئے تھے.. اس سے بھی اسکو کوی مسلہ نہیں تھا اگر حیدر اسے عزت کے چند بول سے نواز دے..
کپڑے دھوتے ہوئے.. اسے کل رات ہوئے.. اپنے ساتھ حیدر کے واحشانہ سلوک پر… جی بھر کر رونا آیا…
اسکی کلائ پر بھی جا بجا زخم تھے جن پر سرف لگنے سے… جلن کا احساس بہت بڑھ رہا تھا..
اسکا قصور کیا تھا.. اسے ایسی سزا کیوں مل رہی تھی….
سرخ آنکھوں کو صاف کر کے.. ارمیش نے باہر کیطرف دیکھا…
اگر اسے زیادہ دیر لگ جاتی تو یقیناً وہ شخص نیا ہنگامہ شروع کر دیتا….
اسنے اسکی آخری شرٹ بھی دھوئ…
اور سپین کر کے.. اسنے.. ٹوکری میں کپڑے رکھ دیے.. ایک بار دھوپ بھی لگانا ضروری تھی…
تو کل وہ ملازم سے چھت پر.. کپڑوں کو دھوپ لگوا دیتی ابھی تو خیر رات تھی.. اور کالام کا موسم… سدھا بہار.. ٹھنڈا خوشگوار تھا…
اسکا بلکل بھی باہر جانے کو دل نہیں تھا…
مگر نکلنا تو تھا.. انھیں گیلے کپڑوں سے وہ باہر آئ…
مقصد.. کپڑے تبدیل کرنا تھا.. مگر.. وارڈروب تو باہر تھی..
اسکے باہر نکلتے ہی.. حیدر نے اسکو ترچھی نظروں سے دیکھا… ارمیش نے اسکی جانب نہیں دیکھا تھا….
اسکے چہرے پر جا بجا نیلے نشان.. تھے…
حیدر… نے ایک.. پل کے لیے.. خود… پر ملامت.. کا سوچا مگر اگلے ہی لمہے.. اسنے وہ خیال جھٹک دیا…
اسکا بھی کوئی قصور نہیں تھا…
ارمیش.. کپڑے لے کر.. کپڑے.. تبدیل کر.. کے.. صوفے پر آ کر بیٹھی.. اسکا.. دل اپنی مورے سے ملنے کے لیے مچل رہا تھا… وہی تو تھیں… جو.. اسکے زخموں پرمرہم رکھتیں تھیں…
وہ انگلیاں چٹخانے لگی… تو حیدر نے زیچ ہو کر اسکیطرف دیکھا…
کیا چاہتی ہو "اسنے خود ہی پوچھا.. مگر لہجہ بلا کا کڑک تھا…
ارمیش نے پورے ایک دن بعد اسپر نگاہ ڈالی…
نائٹ گاون میں وہ کس قدر خوبصورت لگ رہا تھا…
اگر اسکی محبت وفا.. ارمیش کے نام ہوتی تو یقیناً وہ دنیا کی خوش قسمت ترین عورت ہوتی…
حیدر.. نے ای برو اچکائ….
پاگل ہوگئ ہو.. خانم.. آ جاو ادھر.. دماغ درست کر دیتا ہوں "
. اسنے… شنیل کی شیٹ.. ہٹائ…
ارمیش کا دل بیٹھ گیا…
نہیں… وہ ایسا نہیں چاہتی تھی… وہ.. اس سے دور جانا چاہتی تھی…
اسکے گلے میں آنسو پھنسنے لگے.. مگر اسکی اتنی جرت نہیں تھی کہ جب.. حیدر… خان نے اسے خود بلا لیا تھا.. تو وہ.. وہاں سے بھاگ جاتی… کاش وہ ایسا کر سکتی..
کاش.. اسکی زندگی پر اسکا حق ہوتا….
کاش وہ نین کیطرح بہادر ہوتی….
وہ اٹھی.. آنکھوں کے گوشے.. سرخ ہو گئے.. آنسووں نے بے پناہ جلن کر دی.. قدم من من بھاری ہو گئے… اور وہ.. اسکے پاس بستر پر آ گئ….
حیدر نے اسکی کلائ.. پر پھر چہرے پر لگے زخموں…. کو دیکھا….
نہ جانے کس طرح.. اسکا ہاتھ اسکی انگلیاں اسکے کلائ کے زخموں کو سہلانے لگیں ارمیش کو مزید تکلیف ہونے لگی…
ارمیش خانم… یہ چکر کیا ہے…. جب… آتی ہو ایسے روتی ہو جیسے.. پہلی عورت ہو دنیا کی جس کا.. مرد…. "وہ روکا… اسکیطرف دیکھا….
نہیں… سائیں.. ایسا تو کچھ نہیں.. اسنے اپنے آنسو کو بے دردی سے رگڑ ڈالا.." اور سر جھکا گئ… حیدر نے سختی سے بندھے اسکے.. دوپٹے کو.. اس سے جدا کر
. دیا…
ارمیش.. کا چڑیا سا دل.. اچھل کر جیسے حلق کو آیا…
مگر ہمیں دال میں کچھ کالا لگتا ہے کیوں خانم… بہت مرد ہیں یہاں.. کہیں کسی پر دل ول تو نہیں پھینک بیٹھی" بستر میں سرکتے ہوئے… اسکو.. اپنے ساتھ.. لیٹاتے.. وہ.. اپنے لفظوں سے اسکی روح… کو.. کئ ٹکڑوں میں تقسیم کر رہا تھا…
باخدا سائیں آپکے سوا کوئی نہیں" ارمیش… نے اپنے انسووں سے جھنجھلا کر.. آنکھیں رگڑیں حیدر نے اسکی گیرے آنکھوں میں سرخ.. ڈورے دیکھے….
اسکی آنکھیں خوبصورت تھی….
اسکا چہرہ.. میدے کی سی رنگت لیے.. چھوٹے چھوٹے.. تیکھے معصوم نقوش…. وہ کسی بھی… شخص کے دل کی دھڑکن بن سکتی تھی…. مگر حیدر کی حور کے ارمانوں کا خون.. تھی..
حیدر نے اسکے ہنائ ہاتھوں.. کو اپنے چہرے پر رکھ لیا…
جبکہ.. ہاتھ… اسکی.. گردن.. پر حرکت کرنے لگا.. ارمیش.. سانس روکے.. آنکھیں بند کر گئ غصہ نہیں تھا.. اسکے لمس میں.. مگر….
حیدر نے رفتا رفتا.. اسکی گردن دبانا شروع کر دی.. یہاں تک کے ارمیش کا سانس اکھڑنے لگا.. بیڈ پر ہاتھ مارتی.. وہ.. بلکنے لگی…
خانم…. ہمارے پہلو میں رہ کر کسی اور کا خیال… بھی لائیں.. تو اگلی سانس کو بھی اتنی تکلیف دیں.. گے.. کہ… یاد رکھو گی… "حیدر… پھنکارہ…
سائیں" وہ سسکی…. اور.. اپنے کانپتے ہاتھ اسکے چہرے پر رکھے….
حیدر.. اسکے تھر تھر کانپتے وجود سے دور ہوا…
کھڑی ہو.. دفع ہو یہاں سے ".. وہ نفرت سے.. بولا… تو.. ارمیش… گھٹ گھٹ کر رو دی.. یہ اسکی عزت تھی کہ وہ پل میں.. اسے نکل جانے کو کہہ دیتا تھا.. ورنہ سارا سارا دن.. خود کے پاس قید…. بامشقت میں رکھتا تھا..
مگر اس وقت ارمیش کو.. یہ زلت… اپنے آرام اور سکون کا سبب لگی.. وہ.. اپنا دوپٹہ اٹھاتی.. وہاں.. سے… پل میں غائب ہو جانا چاہتی تھی
.
حیدر نے تمسخر سے اسکی حرکت اسکی عجلت کو دیکھا…
ارے خانم صبر بھی کوئ شے ہے.. جان من"... وہ گاون کی ڈوریاں باندھتا…. اسکے پیچھے ہی اٹھا.. ارمیش نے مڑ کر دیکھا….
میخانا سجا دو.. پھر جہاں مرضی غارت ہونا… مگر سجانا… مردان خانے کے ہال میں".. وہ اسکی لٹوں…. کو اسکے.. سرخ.. پڑتے چہرے سے.. ہٹاتا.. نفرت کی انتھا پر تھا….
وہ جانتی تھی اب وہ.. داجی… کو نیچا دیکھانے کے لیے اس.. حولیے میں.. جو.. یقیناً… کمرے سے باہر.. اچھا.. یہ مناسب نہ لگتا…
اور.. وہ بھی شراب نوشی کرنے والا تھا… جو.. کہ حویلی میں.. کرنا…. داجی کے غصے کو ہوا دینا تھا…
جس نے یہ شغل پورا کرنا ہوتا تھا.. وہ عموما… حویلی کے باہر کرتا.. اور.. سب سے زیادہ.. بہرام کی یہ عادت تھی جبکہ باقی.. سب… تو کبھی کبھار.. ہی.. بلکے زیادہ تر کرتے ہی نہیں تھے.. اور.. یہ وہ واحد شے تھی.. جو داجی خود نہیں کرتے تھے..
ارمیش.. اپنے کمرے میں دوبارہ آئ… ایک الماری کھول کر.. کانپتے ہاتھوں سے.. وہ مشروب نکالا…. خدا سے معافی مانگتی.. وہ… ابھی… باہر جاتی.. کہ.. حیدر جو.. دیوار سے ٹیک لگائے اسکے ہلتے لبوں .. اور آنکھوں سے مسلسل بہتے اشک کو.. ناگواری سے دیکھ رہا تھا…
اسکو ٹوک گیا….
سامنے.. بستر. پر جاو.. اور.. پانچ منٹ میں سو جاو.. ورنہ چھٹا منٹ.. تمھیں ہم سے نہیں بچا سکتا "وہ شانے اچکا کر لاپرواہی سے بولا….
تو ارمیش جو اپنی مورے سے ملنے کے لیے بے تاب تھی اس حکم پر.. گھیرہ سانس لیتی.. آنسو پونچتی.. بستر پر لیٹ کر.. کروٹ موڑ گئ…
ہاں وہ سو جانا چاہتی تھی
اگر اسے کوئی ایک رات.. سکون کی میسر آ ہی گئ تھی….
اور پھر وہ واقعی ہی پانچ منٹ میں سو گئ.. جبکہ حیدر.. ایک نظر.. بوتل پر ڈال کر.. ٹیرس ہر نکل آیا..
کل دستار اسکے سر پر سج جاتی…
اور اسکے بعد وہ داجی کو… بتاتا… کہ.. فیصلے ہوتے کیا ہیں…
اسنے… سوچا… اور تادیر وہاں کھڑا پرانی یادوں.. کو سوچتا رہا..
……………..
نین ہاتھ کتنے پھیکے لگ رہے ہیں.. جاو.. میرا بچہ.. مہندی لگاو"بی جان… نے اسکے سر کی مالش کرتے ہوئے کہا… جبکہ نظر سامنے سے آتی ارمیش پر گئ.. تو وہ دونوں ہی جلدی سے اٹھیں.. ارمیش نے بی جان کو ڈبڈبائ.. آنکھوں سے دیکھا…
نین پارہ ہائ.. کیے.. دونوں ہاتھ کمر ہر رکھے… ارمیش کو دیکھ رہی تھی… حیدر… کا پاگل پن.. اسکے چہرے پر عیاں تھا..
ارمیش ایک پل کو روکی.. اور پھر اگلے پل دوڑ کر وہ بی جان کی گود میں.. سر رکھ کر بری طرح بلک اٹھی…
کیوں بی جان "وہ سسکی نین کی بھی آنکھیں بھیگی.. جبکہ… دور.. کھڑی… انوشے تو.. اس سب سے بری طرح خوف زدہ تھی…
تبھی وہ اپنے کمرے سے بھی کم ہی نکلتی…
صبر کرو خانم… حیدر خان… ہو جائیں گے ٹھیک" بی جان نے کیا سے کیا کریں گے"اسکے ریشمی بالوں پر ہاتھ پھیرتے کہا…
کیسے بی جان.. کب… دو سال… دو سال… دو صدیاں معلوم ہو رہی ہیں…. .. دم گھٹتا.. ہے.. بی جان.. کوئ شخص کیسے… اتنا ظالم ہو سکتا ہے" وہ.. بری طرح رو رہی تھی..
سب غلطی ارمیش بی بی تمھاری ہے"نین… غصے سے بولی…
نین تمھارا ہر بات میں بولنا ضروری ہے"مورے نے جھڑکا تو… وہ منہ بنانے لگی…
آپ ہر بار مجھے چپ کراتیں ہیں… کیوں سہتی ہے یہ انکے ستم… اپنی ناکام عشقی کے بدلے نکال رہیں ہیں… خدا جانے سردار بنے گے تو کیا کریں گے"… وہ غصے سے بولی جا رہی تھی…
ارمیش نے سر اٹھا کر اسکیطرف دیکھا…
اور چپ رہ گئ… اب مزید اسکا رونے کا بلکل دل نہیں تھا…
دستار… آج حیدر کے سر پر باندھنی تھی….
اور سب مرد حضرات… وہیں گئے تھے جبکہ حویلی میں چند ملازم اور صرف خواتین تھیں..
ب.. بی جان. مجھے شادی نہیں کرنیں "انوشے نے… انکی طرف دیکھتے ہوئے… کہا.. اسکا لہجہ سہما سہما تھا….
بی جان نے گھیرہ سانس بھرہ حیدر نے سب.. کو ہی.. اس طرح خوف ذدہ کر دیا تھا کہ لگتا ہی نہیں تھا.. حویلی میں کوئی کھل کر سانس بھی لے رہا ہے یہ نہیں…
انوشے بچپن سے ہی معاویہ کی منگ تھی… اور یہ بات وہ بخوبی جانتی تھی بلکے سب ہی…
جبکہ اسکی بڑی بہن ریہا کی شادی… باسط خان… حیدر خان کے بھائ.. سے طے پائ… تھی.. انوشے.. اور ریہا.. جواد خان سے چھوٹے…. سکندر خان کی بیٹیاں تھیں جبکہ.. انکا دو ہی بھائ.. تھے.. وصی خان… اور شمروز خان…. دونوں.. ہی ابھی چھوٹے…. تھے…
اچھا جاو…. اب… ارمیش خانم ہمارے پاس ہیں.. تم اور نین.. جاو کچن میں.. درخنے کو بولوں. کھانے کا انتظام اچھا ہونا چاہیے….
خدا خیر کرے.. دستار.. سج گئ ہو گی.. ہمارے بچے کے "بی جان نے.. پیار سے کہا.. تو نین نے منہ کھول کر اسکو دیکھا…
توبہ یہ محبت وہ بھی جنگلی سے" وہ ناک سیکیڑنے لگی…. تو بی جان ہنس دیں..
دیکھ رہی ہو ارمیش خانم…. کیسے چپڑ چپڑ بولتی ہی یہ لڑکی.. "بی جان.. نے.. اسکے سندھر مکھڑے کو دیکھ کر.. مسکرا کر کہا.. تو.. وہ بھی ہنس دی….
یہ بات.. دیکھ لیں بی جان… حیدر.. سڑو خان کی برائ.. ارمیش کو اچھی لگی ہے.. اور یقین مانیں پہلی بار اچھی لگی ہے یہ مجھے" وہ کھلکھلائ…
تو… بی جان… تو سر تھام گئ….
جبکہ مورے گھورے بغیر نہ رہ سکیں…
بہرام کی بہن تھی.. آخر کو بہرام جیسی ہی تھی….
بہرام.. اور نین دو ہی… بہن بھائ… مراد خان کے سب سے چھوٹے بیٹے…. عظیم خان کے بچے.. تھے…. اور دونوں ہی ایک جیسے… منہ زور سے تھے….
اب ایسا بھی نہیں ہے… کہ تم انھیں کھلم کھلا برا کھو "ارمیش نے.. اسکو گھورا.. نین… تو غش کھا گئ…
بڑی تیز ہو بھئ…" اسنے اسکو چٹکی کاٹی… کافی دنوں بعد.. حویلی کے زنان خانے میں جیسے چہچہاہٹ تھی…
نین… پیٹو گی "ارمیش.. اسکو مارنے کے لیے دوڑی جو… کہ اپنا.. گرارا.. دونوں ہاتھوں میں اٹھا.. کر.. اوپر اپنے کمرے کو دوڑی…
نین… رونق ہے… ارمیش کو کیسے.. خوش کر دیا "فرح خان.. نے اپنی بیٹی کو.. جیسے مشکلوں سے ہنستے دیکھا تھا
بی جان نے اثبات میں سر ہلایا…. اور خود کچن کی جانب چل دیں.. کہ وہ چارو.. تو.. اب ایک کمرے میں بند ہو چکیں تھیں…
……………..
دستار سر پر سجائے.. وہ.. مردان خانے میں داخل ہوا.. تو.. سب کے چہرے.. کھلے ہوئے تھے.. داجی بھی مسکرا رہے تھے….
مگر حیدر کو انکی مسکراہٹ کچھ جچی نہیں…
ان سب کے علاوہ باقی.. علاقے کے لوگ بھی تھے آج.. دعوت.. تھی حیدر کا صدقہ کیا جا رہا تھا.. جبکہ وہ.. سفید.. لٹھے کے سوٹ.. میں… خاموش بیٹھا ادھر ادھر دیکھ رہا تھا….
لوگ اس سے مل رہے تھے…
اپنے نئے سردار… کی خوشامد کر رہے تھے اسے رتی بھی ان باتوں سے فرق نہیں پڑتا تھا.. اور ہوا بھی پھر کچھ یوں ہی کہ… کچھ دیر تو.. وہ یہ سب برداشت کرتا رہا.. اور جب داجی بڑے گھمنڈ میں اسکے ساتھ آ کر بیٹھے تو وہ ایکدم اٹھ گیا… یاور خان نے اسے تنبھی نظروں سے گھورا.. مگر وہ.. اگنور کر گیا.. دستار سر پر سے اتاری..اور داجی کے برابر میں رکھ کر.. وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا.. اپنے روم کیطرف بڑھ گیا….
مزید یہ ڈرامے بازی ہم سے برداشت نہیں ہوتی"اسکی بڑبڑاہٹ واضح تھی..
داجی کا خون کھول اٹھا جبکہ چارو طرف سناٹا چھا گیا…
جواد خان.. انھوں نے اپنے بیٹے کو پکارہ.. ایک للکار تھی انکی آواز میں.. حیدر.. اپنے کمرے کے دروازے پر رک کر پلٹا.. انکی للکار… پر.. وہ مہم سا مسکرا دیا…
بھرے مجمے میں وہ انکو بے عزت کر چکا تھا.. ٹھنڈک ہی ٹھنڈک تھی سینے میں… وہ.. اپنے روم میں چلا گیا.. جبکہ داجی سرخ ہو رہے تھے انکا چہرہ جیسے خون چھلکا رہا تھا….
ان سب کو… کھانا.. حویلی کے باغ میں کھلا کر.. فارغ کرو "داجی کہہ کر… آپنی جگہ سے اٹھے
کام ڈاون داجی" بہرام نے آگے بڑھ کر.. انکی طرف دیکھا… جبکہ اسکیطرف دیکھ کر داجی کے لبوں پر کھل آنے والی مسکراہٹ سے سب نے سکھ کا سانس لیا…
ہمارا خان.. کالام کی جان… داجی کا مان.. "وہ اسکی پیشانی چوم گئے جبکہ وہ
. اس توڑ جوڑ پر جی بھر کر ہنسا….
کیا بات ہے داجی… سن رہے ہو معاویہ خانم.. داجی کی شاعری" وہ.. ہلکے پھلکے انداز میں صوفے پر دھپ سے بیٹھا.. علاقے والے.. وہاں سے جا چکے تھے اب.. صرف.. حویلی کے مرد تھے… جو صوفے پر بیٹھے.. داجی.. بھی مسکرا دیے….
خان… ہم اپنے زمانے کے شاعر رہے ہیں" داجی بھی اسکے برابر بیٹھتے ہلکے پھلکے انداز میں بولے تو.. وہ. دادا دینے لگا…
داجی… رات.. میڈیا… حویلی پر انوائٹیڈ ہے" احمر نے.. انھیں جیسے یاد دلایا.. تو وہ سر ہلا گئے..
کیوں خان"انھوں نے… بہرام کیطرف دیکھا..
آل ٹائم ریڈی سائیں" وہ ہاتھ اٹھا کر بولا.. تو داجی کا سیرو خون بڑھا….
……………..
نین کیوں جھانک رہی ہو" مورے نے اسے کھینچ کر… ایک طرف کیا جو مرادن خانے میں جھانک رہی تھی…
مورے.. یہ آپکی نظر مجھ پر ہی کیوں ہوتی ہے.. ویسے.. حیدر.. لالا.. نہایت.. ڈیش ہیں داجی.. کو منہ کی مار.."
چپ کرو کم بخت کیا بولے جا رہی ہو "مورے کو تو غصہ ہی آیا کوئی سن لیتا تو…
نین.. شانہ سہلا کر رہ گئ..
بھاگ جاو یہاں سے "وہ بولیں اور ابھی نین ہٹتی ہی.. کہ احمر.. اندر داخل ہوا.. اور سلام کیا..
سلام مامی جان" اسنے سلام کیا.. تو نین پردہ کرتی وہاں سے ہٹی.. جبکہ احمر نے اسکی پشت پر ناچتی بل کھاتی چوٹیا کو… دیکھا
جبکہ اسکے ہاتھوں ہر سجی ہنا… وہ.. بس دم ساد کر رہ گیا….
خیریت بیٹے…. صفینا خانم کو کہیں ان سے بات کریں گے" انھوں نے اسکی والدہ کا ذکر کیا…
نہیں مامی جان.. بس یہ کہنا تھا.. داجی کا حکم ہے میڈیا… کی آمد پہ ر تمام خواتین… اپنے اپنے کمروں میں رہیں اور درخنے.. سے شاندار دعوت کے انتظام کا حکم ہے" اسنے… تفصیلی کہا تو.. وہ سر ہلا گئیں
بہتر"انھوں نے کہا.. اور بی جان کو بتانے کے لیے.. چلیں گئیں جبکہ احمر… کچن کی جانب آ گیا.. کہ کافی کی طلب تھی.. مگر اسے بلکل انداز نہیں تھا.. وہ پری وہاں ملی.. گی.
نین.. املی چن چن کر.. کھا رہی تھی.. جبکہ کچن میں کوئی دوسرا بھی نہیں تھا..
آپ ہمیشہ بھول جاتیں ہیں یہ آپکو نقصان دے گی "احمر اندر داخل ہوا تو.. نین ساکت رہ گئ.. سر پر دوپٹہ جمایا.. اور ہلکا سا نقاب کی اوٹ میں کر کے وہ بڑی بڑی آنکھوں میں.. کجل سجائے اسے گاہل تو کر رہی تھی ساتھ گھور بھی رہی تھی…
چھوٹے… جب بھی میں املی کھاتی ہوں تمھارا پکڑنا فرض ہے" وہ بولی تو غصہ ملا جھلا تھا..
صرف چھ ماہ چھوٹے کو آپ.. بقائدہ چھوٹے نہیں بولا سکتیں.." احمر کو برا لگا…
ہاں تو چھوٹے تو ہو نہ"وہ لاپرواہی سے پھر املی کھانے لگی…
چھ ماہ" اسنے دوبارہ یاد دلایا.. اور کافی بنانے لگا…
نین کچھ بھی نہ بولی…
آپ جانتی ہیں.. آپکی اور میری یہاں موجودگی.. زنان خانے میں ادھم لے آئے گی"
احمر نے اسے.. احساس دلایا.. اب وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے املی سے دور نہیں کر سکتا تھا تبھی چاہتا تھا وہ چلی جائے حالانکہ دل اسے دیکھتے بھرتا نہ تھا…
دیکھو.. خان صاحب.. زیادہ پکھما نہ بنو مجھ پر.. سب پلین بنا کر کچن میں آئ تھی اور تم ٹپک پڑے…. تف ہے تم پر بھی… دشمن کہیں کے"وہ ہاتھ جھاڑتی غصے سے بولی احمر.. نے مسکراہٹ روکی اور کافی.. پینے لگا جو کہ بن چکی تھی..
کیسے انتظام" وہ کچھ ریلکس ہوا…. کیونکہ وہ املی چھوڑ چکی تھی..
مطلب یہ کہ.. بی جان… مورے.. صفینہ پھوپھو… فرح تائ.. "سب ایک کمرے میں بند ہیں.. کوئ اہم مسلہ ہے شاید.. اور باقی.. سب بھی اپنے اپنے کمروں میں آرام فرما رہے ہیں…
اور. بس ارمیش خانم ہیں جو جانتی ہیں ہم یہاں ہیں.. اور اب تم بھی" وہ.. بہت خوبصورت بولتی تھی.. بات بات پر غصہ بھی کر جاتی تھی…
احمر نے.. کبھی اسکی آنکھوں کے سوا.. مکمل چہرہ نہیں دیکھا تھا.. بال بھی دوپٹے کے نیچے سے ہی دیکھے تھے.. مگر وہ اتنے میں ہی اسکے حسن کا دیوانہ.. تھا…
آپ.. اور.. آپکے بھائ بہرام لہ لہ.. پلینینگ کافی کامیاب کرتے ہیں "وہ ہلکا سا ہنسا..
چھوٹے زیادہ باتیں نہ بھنگارو… جا رہے ہیں ہم" وہ شانے بے نیازی سے بولتی جانے لگی…
میرا نام احمر ہے "احمر چیڑا..
تو میں نے کب.. سمندر خان رکھا ہے.." وہ دوبادو ہوئ.. سمندر خان حویلی کا پرانا ملازم تھا.. احمر بل کھا کر رہ گیا…
……………
حویلی کا لون… میڈیا پریس.. بڑے بڑے سیاست دان.. دوست احباب.. اور.. علاقے کے خاص لوگ.. دوسرے علاقے کے سردار.. غرض کون نہیں تھا… اس دعوت میں.. جس میں.. حیدر خان کی دستار.. کی اطلاع سب کو کی گئ تھی تو دوسری طرف.. بہرام خان.. کا سیاست میں آنا… سب کو بتایا گیا تھا کہ وہ داجی کی جگہ سیاست میں سمبھال رہا تھا.. داجی کی خوشی کو کوئ ٹھکانہ نہیں.. تھا جبکہ خلاف توقع. حیدر بھی سب سے مسکرا کر مل رہا تھا… ….
سر آپکے اور بھی پوتے ہیں.. صرف بہرام خان ہی کیوں سیاست میں آے "میڈیا.. نے سوال داگا… تو داجی مسکرا دیے…
کیونکہ بہرام خانم.. کی صلاحیتوں کے.. ہم خود… گواہ ہیں….
اور ہمارے خان… اپنے ملک کی خدمت.. کریں اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا.." پوتے کے لیے عشق تو جیسے.. انکی.. ہر ادا سے جھلک رہا تھا.. بہرام انکے اس قدر فراڈ باتوں پر.. اپنے قہقے دبا کر بس مسکرا دیا.. اور پھر اسکی.. نظر.. دور مائک کو جھلاتی اسی حسینہ پر پڑی.. جو… اسکی راتیں تو غارت کر رہی تھی مگر بہرام کچھ سمھجنا نہیں چاہتا تھا…
روز رات کو وہ اسکے خواب میں.. غصے سے بھناتی نہ جانے کیوں آتی تھی.. اور دن میں وہ ہزار ہا بار.. شاید.. معاویہ خانم سے اسکاذکر کرتا تھا.. اور. اس مختصر ملاقات کو سوچتا..
کالام کی فضا میں جیسے نور اتر آیا تھا..
وہ اسی کو دیکھ رہی تھی جبکہ بہرام.. بھی انھیں آنکھوں کو دیکھ رہا تھا.. جو شاید سمندر سی گھیری تھیں…
بہرام.. "داجی نے شانہ ہلایا تو وہ.. جیسے دنیا میں لوٹا.. اور.. دوبارہ اسکیطرف دیکھا.. جو اب نزدیک آ رہی تھی.. وہ اسکے سوال کا منتظر دیکھائ دینے لگا…
آپکے نزدیک عورت کی کیا ولیو ہے" عابیر نے اسکے آگے مائک کیا وہ مبہم سے مسکرایا.. کیا جان لیوا مسکراہٹ تھی…
سفید سوٹ پر.. گیرے چادر ڈالے وہ آج اپنے علاقائی لباس میں… وہاں محفل کی جان معلوم ہو رہا تھا…
اور اوپر سے.. ستم یہ کہ وہ ڈرنک تھا.. مگر اس بات کا احساس تو اسے خود کو بھی نہیں تھا…
ماں.. بہن"وہ… بہت مودب ہو کر بولا…
داجی کا سینہ فخر سے پھولا….
عابیر تو تپ ہی گئ..
ڈپلومیسی کی کوئ انتھا نہیں تھی .. اسکے کان میں اسکے الفاظ گونجے… جو.. اسنے کہے.. تھے.. عابیر کا بس نہیں چلا وہ اس شخص کو شوٹ کر دے کس قدر جھوٹا تھا وہ…
اوو ریلی مگر آپ کے عمر کے نوجوان اس نوعیت کو نہیں سمجھتے مسٹر بہرام…. اور کہیں کہیں.. آپکی کم عمری.. کی جھلک یہ واضح کر رہی ہے کہ آپ پڑھا ہوا.. سبق.. اچھے سے یاد کیے ہوئے ہیں… "وہ بولی تو بہرام.. کے چہرے پر ایک تاثر پل بھر کے لیے ابھرا…
عابیر" واصف نے غصے سے اسکو جھنجھوڑا.. داجی کے چہرے پرخرکتگی.. تھی جبکہ وہاں سب.. ہی… اس لڑکی کو کڑوی نظروں سے دیکھنے لگاے تھے..
حد تو یہ تھی ان کڑوی نظروں میں… حیدر کی بھی نظریں شامل تھیں…
دیکھیں… آپ کسی کو.. کتنا پڑھا سکتے ہیں… جب تک سیکھنے.. والا دلچسپی نہ لے…اسکے علاوہ سائیں.. کوئ سبق پڑھایا اسے جا ہی نہیں سکتا… جو خود اس سبق کو پڑھنا نہیں چاہتا اور.. 26 سال.. کے بہرام خان… جن کی ڈگری.. ہی.. سیاسیات.. کی ہے ہمیں لگتا نہیں.. انھیں کسی کے پڑھائے ہوئے درس کی ضرورت ہے…
ملک سنوارنے.. والے کم ہوتے ہیں…. ملک بگاڑنے والے زیادہ..
آپ لوگ بگاڑنے… والوں… کی اتنی.. حوصلہ شکنی نہیں کرتے جتنے طنز کے تیر آپ نئی آنے والے زہن پر کرتے ہیں کہ وہ اپنے حصلے پست کر دے…. اور چھوڑ دے.. سب کچھ…
ملک ایک سے نہیں بنتا.. میڈیم…. اس ملک کو.. ضرورت ہے.. نوجوان بہادر.. زہین لوگوں کی اور ویسے بھی ہم لمبے چوڑے وعدے نہیں باندھ رہے.. صرف ایک وعدہ کرتے ہیں ہم اپنی عوام سے "شاطر چلاکی.. گھمنڈ… نظروں میں چبھتے تیر.. لہجے میں کڑواہٹ.. اور اس کڑواہٹ میں ملی.. نرمی.. عابیر..کو بہت کچھ.. سنگین سا اسکے لہجے میں محسوس ہوا..
ہمارا ہماری عوام سے احساس کا وعدہ ہے.. اور اس وعدے کو ہم مرتے دم تک نبھائیں گے… آپ لوگ.. بھی دیکھ لیجیے گا.. آپ مہمان ہیں.. کھانا کھا کر جائیے گا "
وہ.. کہا.. کر.. وہاں سے.. گزر گیا… داجی سمیت سب کے لب… فتحانہ مسکراے.. جبکہ عابیر… وہاں سے ہٹی.. وہ آدمی حقیقتاً… کوئ بہت اونچی چیز تھا…
خان.. کمال کر دیا یارررر" معاویہ.. نے.. چپکے سے بئیر اسے تھمائ…
یار خانم یہ لڑکی کالام سے نکلنی نہیں چاہیے" بئیر کے سیپ بھرتے اسنے.. کہا.. تو.. معاویہ نے اسکی صورت دیکھی.. پیچھلے.. دس دن سے کہہ رہا ہوں.. کہ.. سب تیار ہے چلو چلو.. تب تو… عجیب بوکھس بھانے بنا رہے تھے اور اب.. ریپوٹر چاہیے.. برحال…. ٹھیک ہے" معاویہ نے لاپرواہی سے شانے اچکا دیے…
بہرام.. اس لڑکے کے ساتھ کھڑی عابیر کو تکتا گیا.. اسکی آنکھوں میں تپش تھی کہ عابیر اسے دیکھنے پر مجبور ہوئ.. مگر عابیر کی آنکھوں میں نفرت کے سوا کچھ نہیں تھا…
بہرام. چیڑ سا گیا..
داجی کہتے.. تھے.. وہ.. کالام.. کا حسن ہے… تو وہ لڑکی.. ایک عام سی لڑکی.. اسکو نفرت بھری نظر سے کیوں دیکھ رہی تھی..
…..
…………….
حیدر تھکا تھکا سا کمرے میں آیا… تو ارمیش کو دیکھ کر چند پل روکا….
آنکھوں میں حیرت اتر گئ… سرخ لباس میں… چھوٹے سے فراق کی ڈوریووں کو پشت پر باندھنے میں وہ اتنی انھمک تھی کہ حیدر کی موجودگی کو محسوس نہ کر سکی جبکہ سندھر چہرہ سرخ لیپسٹک سے سجا تھا.. حیدر کا دماغ جیسے.. سٹاک ہو گیا…
پہلی بار دو سالوں میں اسنے اسے اس طرح دیکھا تھا.. شاید وہ جھنجھلا گئ تھی ڈوری بند نہیں ہو رہی تھی تبھی وہ چوڑیاں چڑھانے لگی… گلے میں نیکلس سجا کر.. وہ ڈوری نین سے بندھوانے کا ارادہ کرتی پلٹی.. .. درحقیقت نین کی دوست کی شادی تھی جس پر جانے کے لیے.. بہت منت سماجت سے.. وہ… اور نین جا رہے تھے جبکہ انوشے بھی ساتھ ہی تھی… اور. سمندر خان کو داجی نے.. انکو.. لے جانے کا اور پھر وہاں روک کر گھنٹے بعد لے آنے کا کہا.. وہ تو اسی بات پر خوش تھیں تینوں کے اجازت مل گئ تھی…
وہ اپنی جگہ پر.. کھڑی کی کھڑی رہ گئ.. حیدر سٹیل کھڑا تھا.. بغیر حرکت کے…
ارمیش کے حلق میں گٹھلی سی پھنس گئ…
سلام سائیں"اسنے دوپٹے کا پلو سر پر سجاتے.. سلام کیا.. لہجہ کانپ رہا تھا….
حیدر.. اپنے بھاری.. بھاری.. قدموں سے.. اس حسن کی دیوی… کے.. قریب آنے لگا….
ارمیش خوف سے اسکے قدموں کو دیکھنے لگی کاش کے وہ آتی ہی نہ یہاں… وہیں نین کے کمرے میں تیار ہو جاتی.. حالات کچھ ٹھیک اسے محسوس نہیں ہو رہے تھے…
عورت اپنے مرد.. کو.. کس طرح ڈھیر کرتی ہے.. کیا خانم.. سیکھ کر آئ ہو دو دن میں "اسکے گالوں ہر اپنی انگلیاں چلاتے… وہ.. مدھم مگر نرم گرم لہجے میں.. اسکی سانسی روک گیا.. حیدر کی آنکھوں کی تھکاوٹ.. اور خمار بتا رہا تھا.. ارمیش.. کی جان بخشیی آج ممکن نہیں…
س… سائیں… نین… کے س.. ساتھ جانا ہے… " وہ ہمت باندھتی اسکی بڑھتی منہ زور جسارتوں سے ہلکان ہوتی… اٹک اٹک کر بولی….
خانم.. سردار سے پوچھنے کی زہمت بھی نہ… کی… "
ارمیش کو… اسکی انگلیاں اپنی ڈوری سے کھیلتی محسوس ہوئیں.. اسکی آنکھیں بھیگ گئیں نین.. کے غصے کے گراف سے.. بھی وہ ڈرتی تھی مگر.. اس وقت.. وہ پیٹنا نہیں چاہتی تھی.. تبھی حیدر خان.. کے منہ زور جزبوں.. کے آگے خود کو بہنے دیا…
حیدر.. اسے.. بیڈ تک لے آیا…
اور ارمیش.. نے… آنکھیں موند لیں.. ایسا نہیں تھا.. حیدر خان… سے اسے نفرت تھی… بلکے اسکے اتنے ستم سہنے کے بعد بھی وہ حیدر خان کی ہی تھی مگر حیدر خان… کی طلب… اور اسکی تکلیف دے.. قربت.. ارمیش… کو.. اپنی اوقات اور اسکی زندگی میں اپنی ولیوں یاد دلا دیتی تھی… جب.. وہ… ان… نازک لمہوں میں اسکے وجود میں اپنی حور کو ڈھنڈتا تھا.. اور اس وقت بھی ارمیش کی انکھ کا ایک ایکا آنسو.. اور اسکی دبی دبی سسکیاں… یہ بتا رہیں تھیں حیدر خان ایک بار.. پھر.. اپنی ناکام عاشقی کے بدلے پر اتر آیا ہے…..
…………………………
اس ایک رات میں ہی.. اس دم گھٹنے والے ماحول سے بھاگ جانا چاہتی تھی .. مگر بیقوقت بارش اور بس سٹوپ کے روک جانے .. نے سب ستیاناس کر دیا تھا… اور وہ ایک عام سے ہوٹل میں واصف کے ساتھ تھی…
اسے.. اس سچویشن سے خوف بھی آ رہا تھا کہ آج سے پہلے وہ راتوں میں گھر سے باہر نہ رہی تھی….
واصف اچھا لڑکا تھا
مگر لڑکا تھا… وہ.. سوے ہوئے واصف.. کو وہیں چھوڑ کر اس ہوٹل.. کے باہر آ گئ.. جہاں اندھیرہ تھا.. اور بارش جل تھل دیکھا رہی تھی..
اسے دور دور تک کوئ شخص نہ دیکھا… تو.. وہ ہاتھ بڑھا کر بارش… کو محسوس کر رہی تھی…
بارش کا ہر ٹھنڈا قطرہ جیسے.. اسکو زندگی… کا احساس بخش رہا تھا….
سرکار….. بارش اس نا چیز کو بھی بہت پسند ہے… مگر موسلادھار… نہیں.. رم جھم "اسکی بات ذو معنی تھی.. وہ ایک جھٹکے سے پلٹی…
اسکی بات میں… اسکے سوال کا جیسے اثر تھا…
جینز شرٹ میں… ہڈی لیے.. وہ.. کچھ دیر پہلے سے بلکل الگ سا.. لگ رہا تھا…یا وہی.. زلیل لگ رہاتھا شاید….
عابیر نے اسکو جواب نہیں دیا.. اور گزرنے لگی..
بہرام نے جلدی سے اسکاہاتھ تھام لیا….اور نہ جانے کیسے عابیر کا ہاتھ اٹھا.. اور کھینچ کر تھپڑ.. اسکے منہ پر.. پڑا…
تم ایک آوارہ غنڈے موالی.. گھٹیا… انسان ہو….
اور یہ بات بھلے عوام… جان پائے یہ نہیں مگر میں اچھے سے جانتی ہوں….
اور…. اپنے کام سے کام رکھو "وہ چلائ….
جبکہ بہرام.. تو آپے سے بایر ہوتا.. اسکے.. کومل لبوں.. پر اپنے ہاتھ… کی سخت گرفت رکھ گیا.. کہ وہ پیلر سے جا لگی.. اور خوف سے اسکو تکنے لگی…
سائیں.. اتنی اکڑ..
. نہیں جان من.. لڑکی.. کو.. اپنی اوقات نہیں بھولنی چاہیے…
اور… اس مجال پر تو…. خان… کی جان قربان….
کیوں.. اب میری مجال دیکھے گا.. ہمارا سرکار "
.
وہ اسپر چھانے لگا….
جبکہ عابیر کو.. اپنے پیٹ پر… اسکی سرسراتی انگلیاں محسوس ہوئیں.. وہ تڑپ اٹھی آنکھیں… بھیگنے لگی.. بہرام اسکی بے بسی کو انجوائے کرنے لگا…
لگتا تھا… شیرنی ہے….
مگر.. یہ تو ہرن نکلی.. خوبصورت ہرن.." اب وہ اسکے بالوں کو چھیڑنے لگا..
عابیر جھٹپٹائ…
مگر بہرام کی گرفت… بہت سخت تھی…
اسکی آنکھوں میں بے بسی.. باہر کی برسات.. کی شکل اختیار کر گئ..
بہرام حولے سے ہنس دیا…
سائیں…. بس دو بول معافی….. کے… بندہ نا چیز پلکوں ہر بیٹھا لے گا" اسکے منہ پر سے ہاتھ ہٹا کر… اب اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر.. وہ اسے خود کے بے حد نزدیک کر گیا… عابیر کو گویا.. سانپ کاٹ گیا…
چھوڑو مجھے" وہ چلائ…
سرکار گلہ خراب ہو جائے گا "وہ سکون سے بولا.. نہ جانے اسکے چلانے پر بھی.. کوئ کیوں نہیں آیا تھا…
تم ایک نیچ انسان ہو…. "وہ اس سے الگ ہونے کی تگ و دو میں تھی
… معافی" وہ آنکھیں نکال کر.. غرایا
میری جوتی مانگے گی "وہ بھی اکڑ کر بولی..
ٹھیک ہے.. تو.. آپکی جوتی اور جوتی کی مالکن.. کو اٹھالیتے ہیں…" وہ… سنگین لہجے میں بولا…. عابیر کی جان ہوا ہونے لگی…
وہ.. غصے سے… اسکی صورت دیکھ کر.. لٹھ مار انداز میں بولی..
سوری"
ارے.. مکھن سنا ہی نہیں زرا اونچا سنتے ہیں ہم" وہ اسکے لبوں کے قریب اپنا کان لے گیا
عابیر جل ہی گئ..
سوری میں نے کہا.. سوری… " بہرام کا قہقہ ابھرا….
اسنے.. اسے چھوڑ کر سر کو خم کیا… لبوں پر جان لیوا مسکراہٹ تھی…
عابیر.. اسپر دو حرف بول کر.. وہاں سے چلی گئ.. جبکہ.. وہ فضا میں اسکی خوشبو.. محسوس کرنے لگا..
وہ اپنے گھر آ گئی تھی… اور کسی حد تک مطمئین تھی.. اسنے سنا تھا کالام بے انتہا خوبصورت وادی ہے.. مگر.. پیچھلے ایک دن میں اسے وہ بلکل پسند نہیں ائ…
کیونکہ وہ جھوٹا مکار…. دھوکے باز…. گھمنڈی انسان.. وہاں کا سردار تھا بھلہ عابیر کو وہ جگہ پھر پسند آ بھی سکتی تھی…
اسنے.. اس جگہ پر اور اسکے سردار ہر دو حرف بول دیے تھے.. اسنے ایک رپورٹ بھی تیار کی تھی.. جس میں صاف صاف درج تھا…
بہرام خان.. ایک عیاش…. انسان ہے.. جو عورتوں سے صرف کھیلنا جانتا ہے… .. وہ اپنی چکنی چپڑی باتوں سے عوام کو صرف بیوقوف بنا رہا ہے….
اور عوام جو حد سے زیادہ یہ تو معصوم ہے یا کم عقل….
ہر بار.. غلط سے درست کی امید لگا لیتی ہے….
اس شخص کی عیاشی اسکی گندی گرے آنکھوں سے جھلکتی ہے… اور عابیر.. کو اس سے سخت نفرت ہے….
اسنے قلم ٹیبل پر پھینکا.. اور غصے سے سیٹ پر ٹیک لگا دی.. ایک بار پھر اپنی تیار کردہ رپورٹ پڑھی… اسکی.. چمکتی آنکھیں اس رپورٹ کو گھورتیں رہیں…. کیا لاجواب رپورٹ تیار کی تھی اسنے.. کس قدر.. پرسنل نوعیت کی تھی.. یہ رپورٹ اڈیٹر دیکھ کر باغ باغ ہو جاتا… اور وہ کھلکھلا دی.. اپنی رپورٹ کے انداز پر… ہنستے ہنستے اسنے سر ٹیبل پر دھر دیا.. وہ تھک گئ تھی بھوک بھی لگی تھی…
جبکہ… رات کا وقت تھا سب سو رہے تھے.. .. اسکی بے وقت بھوک اسے کچن کی جانب کھنچ رہی تھی.. وہ… مما کی نظروں سے بچتی.. کچن تک پہنچی.. اور… فریج کھول کر بڑی ساری چاکلیٹ نکال کر اب وہ مزے سے کھاتی.. دوبارہ.. اپنے روم کیطرف چل دی جہاں اسکا سیل وائبریٹ ہو رہا تھا معاذ کا نمبر دیکھ کر اسنے اٹینڈ کیا…
کیسی ہو"سوال ہوا…
ٹھیک ہوں" وہ ریلکس سی بولی..
کیا کر رہی تھیں "اسنے پھر پوچھا..
ریپوٹ تیار کر رہی تھی اب بس سونے لگی ہوں"
کس کی رپورٹ میڈیم کون معصوم.. تمھارا شکار ہوا ہے "وہ ہنس کر بولا..
معصوم ہمم" اسنے منہ بنایا…
اچھا اچھا.. اتناغصہ کیوں.. رپورٹ کیسی تیار کی ہے.. 9 بجے کے بلیٹن میں آ جائے گی "اسنے.. پھر سوال کیا..
ارے"وہ ہنس دی.. رپورٹ کو پھر پڑھنے لگی..
یہ پرسنل نوعیت پر اترتی ریپوٹ ہے.. اڈیٹر.. نے پڑھ لی.. تو… پریشان ہو جائے گا" وہ کھلکھلا رہی تھی.. معصوم سی ہنسی.. رات کے اس پھیر معاز کو بہت بھلی لگی…
کیا لکھا ہے ایسا بھی" اسنے مسرمائز ہوتے پوچھا…
کہ عابیر اکبر کو بہرام خان کی گندی.. گرے آنکھوں سے نفرت ہے "
اسنے سامنے لکھی لائن دھورائ.. معاذ خاموش ہو گیا…
کون ہے وہ جس پر اتنا پرسنل ہو گئ تم"اسکی آواز اب سنجیدہ تھی عابیر ہنس دی…
اب تم.. فضول سوچے مت پالنا.. وہ ایک کرپٹ سیاستدانوں کا سردار ہے.. اور ہماری بساعت سے.. بہت دور.. سمھجو چاند… اور زمین "اسنے اسکو تسلی دی..
کبھی کبھی چاند زمین کے لیے.. خود زمین پر اجاتے ہیں "وہ اب بھی سنجیدہ تھا..
میں نے تو کبھی نہیں دیکھا… کہ.. کبھی چاند بھی زمین پر آیا ہو"وہ بھی سنجیدہ ہوئ.. دوسری طرف خاموشی چھا گئ…
تمھاری زندگی میں.. صرف میں ہوں" اسنے سوال کیا.. عابیر کے ماتھے پر بل پڑ گئے…
میری زندگی میں تم بھی نہیں ہو.. کیونکہ شادی سے پہلے میرے پاس تمھارے لیے کوئ جزبہ نہیں.. تو.. کسی اور کا تو سوال ہی کیا ہے…. وہ بھی ہماری پہنچ سے اسقدر دور. کہ چاہ کر بھی ہاتھ نہیں بڑھا سکتے.. اور چاہنے کی بھی بات بکواس ہے.. زہر.. لگتا ہے وہ شخص.. خیر وہ ہمارا ٹوپک نہیں.. تمھارا شکی ہونا مجھے کبھی پسند نہیں آیا تم میرے کام کو جانتے ہو… برحال.. تمھیں اپنی عادت کو بدلنا ہو گا "وہ حد سے زیادہ سنجیدہ تھی.. معاذ ہنس دیا…
ارے مزاق کر رہا ہوں.." عابیر کے تیور چڑھے..
جانتا ہوں بھئ تمھارے کام کو.. اور تمھارے اڑیل دماغ کو بھی… چلو شاباش سو جاو.. ریلکس ہو کر.. "اسنے مسکرا کر کہا تو.. عابیر نے بھی سکھ کی سانس لی..
اوکے گڈ نائٹ" اسنے فون بند کیا ایک نظر پھر.. رپورٹ پر درج بہرام خان کے نام پر ڈالی.. اور آٹھ.. کر بیڈ پر.. آ کر لیٹ گئ..
جبکہ وہ یہ بھول گئ تھی کہ اس ورک پر.. بہرام کے نام کے ساتھ اسکا نام بھی درج تھا…
…………..
وہ بری طرح… ساجد کو پیٹ رہا تھا اسطرح کے ساجد کی آہیں.. حویلی کو ہلا رہیں تھیں..
حرام خور.. تجھے کہا تھا.. بس اڈا نہ کھلے کم از کم تب تک جب تک میں نہ کہو پھر کس کی اجازت سے بس اڈا کھلا "اسنے.. ڈنڈا ایک طرف پھینکا.. اور اب ساجد.. پر مکے برسانے لگا.. معاویہ ایک طرف کھڑا.. یہ منظر حیرر سے دیکھ رہا تھا.. جبکہ باقی سب بھی.. تھے مگر.. شاید اس کے باپ میں بھی اتنی جرت نہیں تھی کہ وہ اسے روک سکتے.. جبکہ ساجد.. کی دھلائ دیکھ سب ملازم سہم چکے تھے..
بول منہ سے بھونک سالے… "وہ.. اسے اپنے جوتے سے پیٹنے لگا..
معاف کر دیں سائیں.. خدا قسم.. مجھے کسی نے نہیں کہا تھا.. اگر کوئی کہتا تو.. ایسا کبھی نہ ہوتا.." ساجد بلکتے ہوئے.. اسکے پاوں پکڑ رہا تھا جو… اسکی عمر.. کا بھی لحاظ بلاطاق رکھ چکا تھا..
معاویہ کو وہ کہہ چکا تھا بس اڈے رکوا دو.. عابیر کالام سے جانی نہیں چاہیے..
مگر معاویہ اپنی عیاشی میں اتنا مگن تھا کہ وہ اسکا کام نہیں کر سکا.. اور اب یہ زلزلہ.. ساجد.. کی بوڑھی ہڈیاں سہہ رہیں تھیں
انوشے خوف سے.. جبکہ نین افسوس.. اور ارمیش آنسو بھری آنکھوں سے.. چھت پر سے یہ منظر دیکھ رہے تھے.. جبکہ نیہا.. انھیں وہاں سے ہٹنے کو مسلسل کہہ رہی تھی.. ساجد کی چینخوں نے انھیں.. چھت پر آنے پر مجبور کیا تھا.. جو کہ وہ کبھی ائیں نہیں تھیں….
بہرام کے سانس پھلنے لگے تھے مگر.. اسکا جنون کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا….
تبھی حیدر داجی… جواد خان.. یاور خان.. جو کسی فیصلے میں گئے تھے حویلی میں داخل ہوے تو.. یہ منظر دیکھ کر وہ بھی اپنی جگہ رک گئے..
ساجد.. درد سے.. چلا رہا تھا جبکہ وہ اسکے.. ہاتھ پر.. بوٹ رکھے.. انگلیاں بالوں میں پھنسائے…
وحشت زدہ سا لگ رہا تھا.. ملگجا سا حولیہ.. وہ.. انکا بہرام نہیں لگ رہا تھا…
بہرام"حیدر غصے سے چلایا.. جبکہ دوسری طرف نگاہ اٹھا کر بھی… اسنے دیکھنا ضروری نہیں سمھجا…
ہم نے کہا ہٹ جاو.. ورنہ اچھا نہیں ہو گا" وہ پھنکارہ… تو.. بہرام نے.. ایک ٹھوکر.. اسکے ماری.. اور دور ہوا…
ساجد… زمین پر بےہوش ہو گیا… جبکہ یاور خان کے اشارے پر… اسے.. وہاں سے ملازم … دکھ بھری نظروں سے دیکھ کر لے گئے..
امیر کی طاقت تھی غریب کی کیا اوقات بھلہ…..
داجی کی جان" داجی.. اسکی طرف بازو پھیلا کر… بڑھے….
مگر… وہ وہاں سے ہٹا.. اور اب معاویہ کا گریبان پکڑ لیا…
کیوں.. معاویہ.. خانم جان پیاری نہیں تھی کیا اپنی" وہ دھاڑ اٹھا…
بہرام.. میں "معاویہ اس سے پہلے بولتا.. بہرام نے.. اسکے کھینچ کر تھپڑ مارا….
ہماری دوستی کا یہ تکازہ نہیں تھا سائیں.. کہ تمھاری عیاشی… بہرام.. کا سکون چھین لے "وہ.. شیر کیطرح غرایا…
سب اسکے عجب انداز دیکھ رہے تھے.. وہ بارہا.. غصہ کرتا تھا… چیزیں اٹھا اٹھا کر پھینک دیتا تھا…
کسی کا لحاظ نہیں کرتا تھا…
کھانا پینا بند کر دیتا تھا….
ہزار ہزار داجی سے.. عظیم خان سے.. یہاں تک کے حیدر سے بھی… نکھرے اٹھوتا تھا مگر.. آج تک کسی نے اسکو اتنا جنونی نہیں دیکھا تھا وہ بھی بس اڈا کیوں کھلا اس بات پر کیا راز تھا.. جس کو وہ خود سمجھ نہیں پا رہا تھا.. کیا تکلیف تھی.. کیسی بے چینی بدسکونی.. تھی….
کیوں تھی… َ"وہ جھنجھلا تا… ہوا… وہاں.. سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا…
کاش.. وہ رگوں میں مچلتی اس بے قراری.. جو دل تک پھنچ رہی تھی.. کو سمھجہ پاتا….
…………………….
ارمیش کو سمھجہ نہیں آیا.. کہ وہ اتنا خوش کیوں ہے.. حالانکہ اسکی وجہ سے.. نین اور انوشے بھی شادی میں نہیں جا سکیں تھیں اور اس سے سخت خفا تھیں… جنھیں وہ منا منا تھک چکی تھی.. مگر مجال ہے نین میڈیم کا ٹیسا اترا ہو….
اور پھر ساجد.. کی آہیں سن کر وہ بری طرح کا نپی… اسے دو سال پہلے کی وہ بھیانک.. رات یاد آ گئ…
جس میں.. اسنے شاید… دنیا جہان کی تکلیف سہی تھی…
مگر بہرام.. خان ساجد پر.. بلکل بھی رحم نہیں کھا رہا تھا بلکل اسی طرح جس طرح.. وہ رحم کی بھیک مانگ مانگ کر بے ہوش ہو گئ تھی…..
اسکی آنکھیں جھلملا اٹھیں درد سے دل پھٹنے لگا…
تبھی وہ آ گیا… وہ وہاں آ گیا.. اور اسکی ایک دھاڑ سے… بہرام.. پیچھے ہٹ گیا…
حالانکہ وہ جانتی تھی… کہ.. بہرام کسی کو گھاس نہیں ڈالتا.. مگر شاید وہ ہانپ چکا تھا تبھی اپنی مرضی سے ہٹ گیا…
مگر… ارمیش کو تو یوں ہی لگا کہو2ہ حیدر کے للکارنے پر ہٹا تھا..
اسکی آنکھیں چمک گئیں…
دل.. دھڑک اٹھا… اس میں رحم تھا….
کہیں کسی کے لیے تو…
وہ یہ ہی سوچے جا رہی تھی.. بی جان کی گود میں سر رکھے کہ نین آ دھمکی
ہٹو یہاں سے.. جاو چلی جاو اپنے میاں راج کمار کے پاس.. اور اب نظر مت آنا ہمیں "وہ… پنک کرتی.. شرارے میں.. ہاتھوں کو ہمیشہ سے.. ہنا… سے سجائے.. بال کھولے… آج.. بے پناہ حسین لگ رہی تھی..
ارمیش منہ بسور تی آٹھ گئ جبکہ وہ بی جان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئ.. بی جان مسکرا کر.. اسکے بالوں میں ہاتھ چلانے لگیں…
نین سوری نہ" ارمیش عاجز آئ…
بی جان کون ہے یہ.." وہ تو آنکھیں ہی پھیر گئ..
انوشے بھی وہیں آ گئ…
وہ… پیازی.. سے رنگ کے.. وہی کرتی گرارے.. میں بے پناہ معصوم سی… لگ رہی تھی…
وہ.. سامنے چئیر پر بیٹھ کر اب نین کو مسکرا کر دیکھ رہی تھی
نین "ابھی ارمیش کچھ بولتی کے بی جان نے ٹوکا…
اچھا بس کرو… نیہا… کے کپڑے.. لینے جانا ہے.. ایک ماہ رہ گیا شادی میں.. یہاں انکے لڑائ جھگڑے نہیں مکتے…
میں کرتیں ہو خان جی سے بات" انھوں نے سب کو ڈپٹا.. مگر نین کی زبان پر شدید کھجلی ہوئ..
آوے.. ہوئے….. خان جی…. ای. ی. ی… ہماری بی جان.. کے خان جی" وہ کھلکھلائ.. بی جان آنکھیں کھولے سرخ سی ہونے لگیں…
اللہ توبہ… شرم کر لڑکی "وہ کان پیٹنے لگی..
بھلہ میری عمر ہے تیرے مزاق کی" وہ اسکے کان کھینچنے لگی تو وہ اٹھ بیٹھی.. باقی سب بھی آ گئے تھے.. جبکہ پھوپھو تو اسپر واری صدقے تھیں اپنے احمر کے لیے وہ اسے ہمیشہ سے پسند تھی..
تو.. اور.. ابھی تو آپ.. جوان ہیں بھئ"وہ.. انکے.. دوپٹے میں چھپے چہرے کو تکنے لگی… بی جان تو.. شرم سے سرخ پڑ گئیں…
تبھی وہاں.. داجی آ گئے.. سب ایکدم الرٹ ہو گئے.. وہ نین کی باتیں سن چکے تھے.. نین شرمندہ ہونے کے بجائے.. بی جان کی شرم جھجھک سے محظوظ ہو رہی تھی.. جبکہ داجی… مہم سا مسکراے.. حالانکہ وہ.. کبھی.. زنان خانے میں موجود خواتین کی کسی بات پر مسکراتے نہیں تھے. کسی بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتے تھے کجا کہ مسکرانا….
بی جان تو مزید شرمندہ ہو گئیں.. جبکہ داجی.. انھیں ہی دیکھ رہے تھے.. پھر نین کو دیکھا.. جو شرارت بھری نظریں گاڑے ہوئ تھی..
وہ چاہتے تھے.. بہرام.. انکا پوتا اکلوتا ہو.. مگر نین ہو گئ تھی.. تبھی نین سے انکی کوئ خاص. لگاوٹ نہ تھی.. خیر انکی تو کسی. پوتی سے نہ تھی.. ہاں پوتوں کے لیے وہ مرنے مارنے پر اتر آتے تھے.. جبکہ بہرام تو انکی جان تھا…
کل.. سب.. شہر چلیں جانا.. سمندر خان کے علاوہ.. احمر… اور معایہ بھی ہو گئے.. ساتھ "انھوں نے کہا.. تو سب نے.. سر ہلایا..
داجی… ایک بات کرنی ہے.. آپ سے" یہ پھوپھو تھیں جو جھجھکتی ہوئ بولیں…
انھوں نے ایک نظر دیکھا..
ہمارے کمرے میں آ جاو "
انھوں نے کہا.. تو بی جان اور پھپھو کمرے میں چل دیں جبکہ سب حیران تھے ایسی کیا بات ہونے ولی ہے جس سے وہ لاعلم. ہیں.
.. …….
کمرے میں ملگجا سا اندھیرہ اس بات کا گواہ تھا کہ باہر… اتری رات کی سیاہی.. کمرے.. کے مکین پر بھی اتر چکی ہے…
جبکہ… کمرے کا مکین.. بیڈ کے پاس
.. ایک ٹانگ فولڈ کیے دوسری ٹانگ پھیلائے… کارپٹ پر بیٹھا.. سر بیڈ.. پر رکھے.. آنکھیں موندے.. وہ بے بسی.. یاد کر رہا تھا.. جس سے.. آج شاید اسے عشق ہو گیا تھا…
ہاں.. ان آنکھوں کی بے بسی… لہجے کا لڑکھڑا جانا… پر.. غصے.. سے بولنا.. اور پھر بے بس ہو جانا.. اسکے دل پر.. وہ سب مناظر وار کر رہے تھے جبکہ وہ صرف ایک ملاقات تھی..
صرف ایک ملاقات.. جس کو گزرے.. آج.. نہ جانے کتنے دن گزر گئے تھے مگر… وہ آنکھیں وہ چہرہ… اڑتے بالوں کی آوارہ لٹیں.. کچھ بھی تو نہیں جا رہا تھا اس کے زہن سے.. کہ وہ…
چاہ کر بھی معاویہ کے ساتھ.. اس دن کے بعد نہ جا سکا…
جس دن اسنے.. اس لڑکی کو دیکھا.. تھا.. نہ جانے کیسے.. اسکے بعد… وہ.. دوبارہ.. ان جگہوں پر جا نہ سکا…
کوئ جھنجھلاہٹ کوئ بات کچھ نہیں تھا.. مگر.. ایک سرور تھا ایک نشہ تھا جو شراب سے زیادہ.. پراسرار… مزے دار تھا.. کہ.. وہ بے چینی بھی.. اسکو.. سرور بخش رہی تھی….
وہ حولے سے مسکرا دیا…
داجی کی بات یاد آئ.. وہ ان سے بھی نہیں ملا تھا…
کالام کا شیر…
کالام کا حسن "وہ ہنسا..
داجی.. بھی بس.. اسکو.. اٹھانے میں کثر نہ چھوڑتے تھے.. مگر اسکی نشیب.. کہاں گیری.. جس کا اسے نام تک پتہ نہیں تھا..
گلاس میں.. بوتل.. الٹ کر.. اسنے… گلاس لبوں سے لگایا…
اور ایک سانس میں پی گیا…
مگر بے چین.. آنکھیں بے بس ہوتا لہجہ… اسکے زہن.. کو گدگدا رہا تھا.. اور وہ بہکتا.. پوری بوتل ہونٹوں سے لگا گیا….
اب وہ جھوم رہا تھا…
وہ حسین دلکش چہرہ…
اسے.. دیوانہ بنا رہا تھا…

ارمیش..روم.میں آئ تو.. تھکن سی تھی حالانکہ وہ یوں ہی بی جان کے پاس لیٹی رہی.. تھی پھر بھی تھکان طبعیت بوجھل… دل الٹ سا رہا تھا
.
حیدر نے اسے پھر ملگجے حولیے میں دیکھا… ماتھے پر بل ڈل گئے…
خانم یہ منحوس شکل اور منحوس حولیہ دیکھانا ہو تو آنکھوں کے سامنے مت آیا کرو… "وہ سرد لہجے میں بولا..
حالنکہ کہ یہ معمولی بات تھی…. مگر ارمیش کا دل اس وقت اس قدر حساس ہو رہا تھا کہ وہ… آنکھوں پر… مٹھیاں رکھ کر وہیں بیٹھتی رونے لگی…
اسکی سسکیاں سن کر حیدر.. منہ کھولے اسے دیکھنے لگا..
ایسا بھی کیا.. بول دیا جو اتنا ڈرامہ کر رہی ہو "وہ غرایا…
ارمیش کا رونا بند نہ ہوا.. الٹا.. وہ پہلی بار اسے.. اب غصے سے گھور رہی تھی…
حیدر… توغش کھا گیا….
یہ نین کی صعوبت کا اثر ہے کہ زبان تڑ تڑ اور آنکھیں… گھورنے کے کام آنے لگیں ہیں مگر خانم بھولو مت.. آنکھیں نوچ لیں گے زبان کھینچ لیں گے" وہ سنجیدگی سے بولا…
ارمیش بے بس سی اٹھی…
چینج کرو" وہ پیچھے سے بولا.. وہ اسکا مفہوم سمھجہ چکی تھی.. مگر.. وہ تھکی ہوئ تھی بری طرح.. دل الگ.. عجیب و غریب سا ہو رہا تھا..
وہ جو.. اسکا ہر حکم مانتی تھی.. بھنا کر.. بغیر ریسپونس کیے.. واشروم میں جانے لگی کہ.. پیچھے سے حیدر نے اسکی چوٹیا سمیت سر… گرفت میں لے لیا….
یہ ناز نخرے.. کس عاشق کو دیکھا رہی ہو… ہم تو تمھارے کچھ بھی نہیں لگتے…..
پھر کون سا عاشق پال لیا جس نے.. ہمارے سامنے سر اٹھانا سیکھا دیا.. "وہ اسکے کان میں غرا رہا تھا.. ارمیش کی آنکھیں بھیگی
سائیں میں.. تھک.. تھک گئ تھی" ارمیش کو ڈر لگنے لگا…
اور.. خانم تمھیں لگتا ہے.. ہمیں تمھاری تھکاوٹ کی رتی بھی پرواہ ہے "وہ.. اسکا منہ دبوچے اپنی انگلیاں اسکے نازک گالوں میں گاڑے کھڑا تھا..
ارمیش میں اسکا ہاتھ ہٹانے کی جرت نہیں تھی..
میں میں.. لباس تبدیل کر کے آپکے پاس.. آتی ہوں.. "وہ مرے دل سے.. ربورٹ کیطرح.. بولی تو حیدر نے اسے جھٹک دیا..
حور بہت خوبصورت تھی.. ہر طرح پرفیکٹ.. اکثر ہم سوچتے تھے کیسے.. کیسے کوئ اتنا خوبصورت ہو سکتا ہے….
مگر دیکھو… ہمارے نصیب میں.. تمھاری یہ منحوس صورت آ گئ.. اور اوپر سے.. اس احسان.. کو خانم جھنجھلا کر نہیں.. خندہ پیشانی سے قبول کرو… اب جاو "وہ.. زہر کے نشتر اچھالتا… بستر پر جا کر لیٹ گیا.. جبکہ..
وہ مرے مرے قدموں سے اپنا نائیٹ ڈریس.. جو سب کے سب.. حیدر کی مرضی منشا کے تھے.. جنھیں.. وہ.. کبھی.. اکیلے میں بھی نکال کر نہ دیکھے… وہ.. درد سی آہیں بھرتی… واشروم میں قید ہو گئ…
وہ بری طرح رونے لگی کہ اسکی سسکیاں باہر بھی سنائ دے رہیں تھیں…
مگر.. وہ.. بہرہ سا ہو گیا تھا..
روتے روتے وہ بے حال ہوتی بیٹھ گئ….
مگر آنے والی قے نے.. اسکو اٹھنے پر مجبور کیا…
اور وہ واشبیسن پر جھک گئ…
بے حال ہوتے اسنے سر اٹھایا… ط
تو اسکا معصوم چہرہ… سرخ ہو رہا تھا جبکہ زردیاں گھولی ہوئیں تھیں.. وہ کانپنے لگی… اسے مزید قے.. آنے لگی.. اور پھر.. مسلسل.. آنے سے.. اسکا اپنی ٹانگوں پر کھڑا ہونا مشکل ہو گیا.. وہ ہنپتی.. دروازے تک پہنچی…
آنسو متواتر گیر رہے تھے.. حیدر.. اسکو دیکھ کر.. اچانک اٹھا..
خانم "اسکے لب پھڑ پھڑائے…
ارمیش… نے ہونٹ نکال کر سسکی لی.. وہ…
اسکی کمر میں فورا ہاتھ ڈال کر سہارا دے گیا…
ارمیش.. اسپر گیر گئ جبکہ حیدر اسے بیڈ پر لے آیا.. انٹرکام اٹھا کر اسنے فورا ڈاکٹر کو بلانے کا حکم دیا.. وہ شاید پہلی بار.. پریشان ہوا تھا.. وہ بھی اسکے لیے..
……….. …
ڈاکٹر.. آیا… اور خوشخبری سنائی تو مانو.. حویلی.. میں مسرت آمیز ایک لہر دوڑ گئ.. داجی کا فخر سے سینہ چوڑا ہو گیا تھا.. کہ.. انکا پر پوتا ہی ہو گا… جبکہ بی جان بھی بہت خوش تھیں.. اور باقی سب بھی…. لڑکوں نے یہ خبر سنی ضرور.. مگر کوئ خاص ردعمل نہ دے سکے.. جبکہ لڑکیاں خوشی سے اچھل رہیں تھیں.. کیونکہ انھیں ارمیش عزیز تھی.. ایک تو شادی کی خوشی دوسری یہ خوشی.. جیسے…
مزا دوبالا ہو گیا تھا..
حیدر خاموش تھا…
صاف بات تھی وہ اس عورت سے اپنی اولاد نہیں چاہتا تھا.. جبکہ ارمیش…. نے جب یہ خبر سنی تو عجیب سا احساس وجود میں جاگا…
مگر حیدر کی خاموشی اور سنجیدگی اسکے حوصلے توڑ گئ…
ہم یہ بچہ نہیں چاہتے تم ہمارے ساتھ شہر چلو.. اور آزاد ہو اس جھنجھٹ سے"وہ.. صوفے پر بیٹھا اس وقت.. ارمیش کو حد سے زیادہ برا لگا.. کہ اسکا بس نہ چلا.. وہ سامنے بیٹھے شخص کا منہ نوچ لے.. اور پوچھے.. کہ اپنی اولاد کے ساتھ ہی.. اتنا ظلم…
مگر وہ خاموش رہی.. اسکو دیکھتی رہی….
سنائ دے رہا ہے خانم یہ.. کانوں میں.. رویاں ڈال لیں ہیں "وہ.. اسکو گھورتے ہوئے بولا…
اپنی نسل ختم کر رہیں ہیں سائیں" وہ مدھم آواز میں افسوس سے بولی…
حیدر آٹھ کے اسکے نزدیک آ گیا…
اگر یہ نسل تم سے نہ ہوتی تو.. مر کے بھی نہیں کرتا.. ہم نہیں چاہتے اپنی اولاد سے بھی نفرت کریں اسکی شکل کو بھی کوسیں.. تو بہتر ہے.. آزاد ہو اس جھنجھٹ سے" وہ دوٹوک لہجے میں.. اسکے دل کے کئ ٹکڑے کر گیا…
اور داجی کو کوئ خوشی ہماری طرف سے مل. رہی ہے.. کیسے گوارا کریں… " وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا اضطرابی کیفیت کا شکار تھا…
سائیں ایسا ظلم مت کریں آپ مت قبول کریں اس بچے کو.. مگر . قتل مت کریں کیا منہ دکھائیں گے قیامت کو اس کو ہم… "ارمیش کو اسکے لہجے میں کوئ لچک نہ دیکھی.. اسے انداز ہوا کہ وہ اس سے کتنی نفرت کرتا ہے.. اسکے لیے کوئ گنجائش بھی نہیں…. تو.. اسے اپنے بچے کی جان خطرے میں محسوس ہوئ..
بکواس بند کرو" وہ چلایا.. ارمیش روتی رہی.. اسکے آگے ہاتھ جوڑنے لگی…
حیدر نے اسکا منہ.. سختی سے پکڑا…
ہم، مزید تماشے برداشت نہیں کریں گے.. باہر جا رہے ہیں.. دس منٹ میں واپس ائیں.. تو.. ہماری مرضی.. کے مطابق ہمیں ملنا.. ورنہ… اس کے بعد کی ذمہ دار خود ہو گی" اسکا منہ جھٹک کر.. وہ دو قدم دور ہوا..
نہیں.." ارمیش… معمولی سا چلائ.. مگر وہ سفاک بڑے بڑے قدم بھرتا.. باہر نکل گیا… جبکہ ارمیش اسکے پیچھے دروازے تک آئ تھی.. خوف سے.. وہ اپنے.. پیٹ پر ہاتھ رکھ کر رہ گئ…
……………
اسکے لیے یہ خبر کسی شاکڈ سے کم نہیں تھی کہ.. نیہا کے ساتھ اسکی بھی شادی کی جا رہی تھی… اور وہ بھی احمر خان کے ساتھ.. اسکے وجود میں جیسے پتنگے لگ گئے…
سب اس فیصلے پر بہت خوش تھے یہاں تک کے مورے بھی بی جان.. اور پھوپھو اسکو پیار کر کے جا چکیں تھیں جبکہ باقی سب بھی اور وہ یوں ہی بیٹھی خلا میں گھور رہی تھی..
شادی ہونی تھی جلد با دیر.. اسے اس سے کوئی مسلہ نہیں تھا مگر اپنے سے چھوٹے شخص سے… کیا کمی تھی اس میں جو.. اسے احمر کے ساتھ باندھا جا رہا تھا.. جو خود کچھ نہیں تھا… بچپن سے… وہ.. اپنے نانکے میں رہتا تھا…
ایسے شخص کے ساتھ اسنے شادی کا تصور نہیں کیا تھا…
اسے غصہ آنے لگا.. اور ساتھ رونا بھی مگر.. یہ بات تو طے تھی کہ وہ کسی احمر.. کے ساتھ شادی نہیں کرے گی…
مورے.. اسکے پاس آئیں انوشے بھی وہیں بیٹھی تھی کافی ایکسائیڈیڈ لگ رہی تھی….
مورے میں احمر سے شادی نہیں کرو گی"اچانک کمرے کی چہکتی ہوئ فضا میں اسکی آواز بلند ہوئ تو انوشے.. سمیت مورے بھی.. سن اسے دیکھنے لگیں…
میں نے کہہ دیا ہے.. میں اپنے سے چھوٹے لڑکے سے کبھی شادی نہیں کرو گی.." وہ باغی لہجے میں بولی…
مورے نے خوف سے اسکے منہ پر سختی سے ہاتھ رکھا…
بکواس کیے جا رہی ہو.. منہ پھاڑ کر شرم حیا ختم ہو گئ ہے یوں منہ اٹھا کر بول دیا جاتا ہے کچھ بھی…" مورے.. غصے سے بولیں…
ہاں جب آپ پر ظلم ہو رہا ہو تو یوں ہی ہوتا ہے.. کیا سمجھتے ہیں یہ داجی خود کو…. سب کو اپنی پسند سے جوڑ رہے ہیں یہ جانے بغیر دوسرا کیا چاہتا ہے اور وہ بھی اس شخص کے ساتھ جو بچپن سے یہاں پڑا ہے وہ خود کچھ بھی نہیں … " وہ چلا اٹھی جبکہ.. بی جان بھی وہیں کھڑی رہ گئیں جو اسپر سے مرچے وارنے کو لائیں تھیں اسکے علاوہ ان سے چند قدم دور… پھوپھو بھی ساکت تھیں…
منہ بند کر بدبخت اپنا" مورے کے تو ہاتھ پاوں پھول گئے.. اسکے منہ پر کھینچ کر تھپڑ مارا. جبکہ اسے اس تھپڑ سے کوئ فرق نہیں پڑا..
دیکھ لوں گی میں.. جا رہی ہوں میں حیدر لالا کے پاس اور پوچھو تو زرا… کس جنم کا بدلہ لے رہیں ہیں فیصلے انکے ہاتھ میں ہیں… اور وہ اب.. سب سے بدلے نکالیں گے کیا"سرخ آنکھوں سے وہ کہیں سے بھی.. وہ نین نہیں لگ رہی تھی جو ہر وقت چھکتی رہتی تھی..
نین" انوشے نے اسکو پکڑنا چاہا….
جبکہ وہ ہاتھ جھٹکتی.. وہاں سے نکلی تو ایک پل کے لیے بی جان اور پھوپھو کو دیکھ کر.. اسکے دل کو کچھ ہوا.. کہ ان دونوں کی ہی آنکھیں نم تھیں…
مگر آج وہ جزبات میں بہہ جاتی تو ساری زندگی.. احمر.. کو برداشت کرنا پڑتا تبھی کسی کے بھی سنے بغیر.. وہ… بغیر لحاظ کے… مردان خانے کیطرف بڑھی..
روک جاو. نین"تائ نے بھی فرح خانم نے بھی.. اس سے روکنا چاہا مگر.. وہ.. نہ روکی…
اور مردان.. خانے کی جالی.. آج پہلی بار کسی عورت نے پار کر لی تھی….
وہاں.. سب ہال میں کسی موضوع کو زیر بحث لائے ہوئے تھے..
الیکشن کے دن قریب آ رہے تھے جبکہ بہرام کمرہ نشین تھا کوئ سمھجہ نہہ پا رہا تھا.. تبھی.. نین کو پردے کی اوٹ میں سرخ آنکھوں سے وہاں دیکھ کر سب ایکدم اٹھے…
لڑکی ہوش میں تو ہو"داجی.. غصے سے دھاڑے جان تو گئے تھے کہ یہ بغاوت کس نے کرنے کی جرت کی تھی…
جی ہوش میں ہوں مگر آپ اپنے ہوش گوا چکے ہیں" وہ سرد لہجے میں بولی تو… داجی اشتعال سے اٹھے… اور ابھی وہ اسکا منہ تھپڑوں سے سجاتے.. احمر نے بیچ میں ٹوک دیا…
داجی.. داجی.. ایک منٹ پلیز" اسکے لہجے میں التجا تھی.. نین کو وہ سخت زہر لگا.. مگر وہ یوں ہی کھڑی رہی..
نین خانم آپ جائیں.. ہماری عورتوں کا مردان خانے میں کوئ کام نہیں… آپ کو جو بات کرنی ہے تمیز کے دائرے میں بی جان سے کریں وہ داجی تک پہنچا دیں گے" احمر.. نظر جھکائے بولا.. تو سب نے.. جیسے تائیدی انداز میں اسے دیکھا جیسے وہ بلکل ٹھیک کہہ رہا ہو…
تم اپنا منہ بند رکھو احمر خان… داجی.. ہر بار اپنی مرضی ہم پر نہیں تھوپ سکتے مجھے تم سے شادی نہیں کرنی کبھی نہیں کرنی بلکل نہیں کرنی.. وجہ یہ ہی ہے. کہ تم مجھ سے چھوٹے ہو.. اور ہمارا کوئ جوڑ نہیں اور دوسرا.. تم.. ہو کیا.. بچپن سے تمھیں یہیں دیکھا ہے.. تمھارا اپنا وجود کیا ہے… تم خود کچھ نہیں ہو .. تو یہ… الٹے سیدھے رشتے جوڑ کر مجھے بھی ارمیش جیسی زندگی دینا چاہتے ہیں تو سوچ ہے انکی "وہ چلائ.. گریل کے اس پار تمام عورتیں تھر تھر کانپ رہیں تھیں…
جبکہ احمر شاکڈ سا اسے دیکھ رہا تھا.. سب ہی حیران.. تھے.. انکے گھر کی کسی عورت میں اتنی جرت.. تو یہ بات تو.. حیران کن ہی تھی…
داجی نے احمر کو.. پیچھے جھٹکا….. اور نین کے منہ پر.. تھپڑ کھنچ مارا… اور یک بعد دیگر پڑنے والے تھپڑ.. نین.. کا حجاب.. اٹھ چکا تھا.. چہرہ سرخ جبکہ.. ہونٹ سے لکیر پھوٹ پڑی تھی..
بغاوت کرتی ہے ہم سے.. ہم کون ہوتے ہیں.. بتاتے ہیں تمھیں.. دل تو کرتا ہے….. یہیں سر قلم کر دیں مگر نہیں تمھارے لیے اس سے بہتر سزا ہے میرے پاس
احمر. بلاو. .. سمندر خان.. کو… اسکے ساتھ بیاہ کر.. اس بدزات کے قدموں سے حویلی پاک کرو"وہ دھاڑے.. نین.. آنکھیں پھاڑے اس فیصلے کو.. سنتی.. بل کھا کر رہ گئ… اسنے.. اپنے باپ کی جانب دیکھا.. جو.. اسے گھور رہا تھا…
کیوں عظیم خان… کوئ اعتراض ہے" اب وہ.. غظیم خان کی طرف دیکھنے لگے جنھوں نے نفی میں سر ہلا دیا….
نین جیسے بہرے مجمعے .. میں تنہا رہ گئ تھی..
تمھیں سنائ نہیں دے رہا" داجی احمر پر دھاڑے مگر وہ یوں ہی کھڑا تھا.. معلوم نہیں تھا… وہ حسینہ.. اپنا دیدار یوں کراے گی….
داجی نے احمر کو گھورا.. اور… معاویہ کیطرف دیکھا.
. مولوی کا انتظام کرو… ہمارے سامنے سر اٹھانے والے کا سر قلم کر دیں گے ہم… اور اس لڑکی کی بغاوت کا انجام یہ ہی ہونا چاہیے "معاویہ پہلے تو نین کو دیکھ کر حیران رہ گیا.. مطلب حویلی میں بھی اتنی خوبصورتی تھی… اب تو.. اسے اپنی منگیتر کو دیکھنے کا تجسس بھی ہوا…
آج ویسے بھی انھوں نے شہر جانا تھا مگر یہ ڈرامہ ہو چکا تھا.. تبھی وہ سر ہلاتا باہر نکلا…
نین سے کھڑا ہونا محال تھا…
وہ.. بہرام کو ڈھونڈنے لگی.. وہ اسکا بھائ تھا شاید کچھ کرتا.. مگر وہ وہاں نہیں تھا…
داجی.. یہ ہم نہیں ہونے دیں گے کہ آپ.. حویلی کی عزت کو.. ملازم کے حوالے کر دو"حیدر… بولا… تو نین نے… آنسو صاف کر کے.. اسکیطرف دیکھا….
حیدر لالا…" ابھی وہ کچھ بولتی کہ.. اسنے ہاتھ اٹھا دیا…
اگر تم طریقے سے بات کرتی تو ضرور ہم تمھارے ساتھ یہ ظلم نہ ہونے دیتے.. کہ داجی کی مرضی.. تم پر تھپتے مگر.. تم نے جو قدم اٹھایا ہے.. وہ ناقابل برداشت ہے… آج تک.. حویلی کی عورتوں کو کسی نے نہیں دیکھا اور آج تم نے خود کو سب کے سمانے بے پردہ کر کے اپنے اندر کی بغاوت.. سے آگاہ کیا….
افسوس ہے ہمیں.. کہ یہ تمھاری تربیت تھی "حیدر نپے تلے لفظوں میں.. اسے سنانے لگا… داجی… مٹھیاں بھینچتے.. صوفے پر بیٹھ گئے.. خیر سمندر خان سے تو وہ بھی کسی صورت اسکو نہ بیاہتے تو اچھا تھا.. کہ.. حیدر فیصلہ کرتا….
تربیت.. آپکی تربیت کہاں جا سوئ تھی جو ارمیش خانم کا جینا حرام کر دیا آپ نے… اور… مجھے تربیت کے درس دے رہیں ہیں.. میری زندگی کا فیصلہ کرنے والے نہ.. داجی ہیں اور نہ.. ہی آپ.. یہ کوئ بھی ہاں باپ کو بھی میں نے دیکھ لیا.. پیسے کی چکا چوند انھیں داجی کے سامنے سر اٹھانے نہیں دے رہی..
زہریلے لوگ ہیں آپ سب….. "وہ.. حلق کے بل چلا رہی تھی… خواتین تو منہ پر ہاتھ رکھ کر رہ گئیں.. حیدر نے ناگواری سے اسے دیکھا….
چاچا سائیں… یا تو.. آپ.. انکا منہ بند کرا لیں ورنہ ہم واقعی داجی کا فیصلہ مان لیں گے" حیدر بڑے ضبط سے بولا… نین.. کو اپنا آپ جیسے فضول سا لگا… متواتر بہنے والے آنسوں نے.. اسکی آنکھوں پر… ایک سوگ اتارا تھا…
معاویہ.. سمندر خان.. اور مولی سمیت اندر داخل ہوا.. نین بھاگ کرزنان خانے کیطرف بڑھنے لگی کہ.. عظیم خان نے اسکا ہاتھ جکڑ لیا.. اور اسکے منہ پر کپڑہ ڈالا..
بابا سائیں نہیں بابا سائیں پلیز.. بیٹی ہوں میں آپکی… مت کریں مجھ پر ظلم…. "وہ التجا کرنے لگی مگر وہ تو کان بند کر گئے تھے
احمر خانم.. کیا تم ہماری بیٹی کو قبول کرو گے "عظیم خان کڑے تیوروں میں پوچھ رہے تھے… احمر.. مجمند تھا… انھیں اسکی خاموشی… میں انکار محسوس ہو گیا.. نین تو ایک پل کو اسکو بھی دیکھ کر رہ گئ.. یہ کیا ہو رہا تھا.. اسکی جلد بازی.. کیا کر رہی تھی…
وہ اپنا ہاتھ چھڑا نہیں پا رہی تھی…
نکاح پڑھواو.. مولوی صاحب.. سمندر خان سے نین خانم کا.. "وہ
. بولے. تو داجی نے.. پہلو بدلہ….
جبکہ حیدر.. کو بھی احمر پر غصہ آیا.. اور یہ ہی حال.. معاویہ سمیت وہاں سب کا.. تھا…
نین تو چیخنے چلانے لگی… مگر.. اپنے ہی باپ کے ہاتھ کے تھپڑ.نے. اسکی بولتی بند کرا دی…
خواتین کی سسکیاں آج مردان خانے میں گونج رہیں تھیں…
مولوی.. صاحب.. نے نکاح شروع کیا.. سمندر خان تو حکم کا غلام تھا.. سر جھکائے کھڑا تھا…
وہ یہ بھی نہ کہہ سکا کے.. وہ جوان بچوں کا باپ ہے….
احمر.. نے پر جلالی نظروں سے یہ منظر دیکھا. وہ جیسے ہوش میں آیا تھا.. ایک دم….
رک جاو.. "اسکی دھاڑ نے.. ایک بار.. سب..کو چپ کرا دیا مولوی.. صاحب بھی اسکو دیکھنے لگے.. جبکہ نین اب کہ ساکت تھی…
داجی ہم نین خانم کو اپنی زوجیت میں لینا چاہتے ہیں کیا آپکو اعترض ہے" وہ.. دو ٹوک لہجے میں بولا.. تو داجی نے.. اٹھ کر اسکا شانہ تھپتھپایا… جبکہ سب نے سکھ کا سانس لیا….
اور احمر.. سمندر خان بچارے کو ایک نظر.. دیکھ کر.. بیٹھا.. وہ دوپٹہ.. ڈالے… ساکت بیٹھی تھی.. مولوی صاحب نے.. نکاح شروع کیا.. نین کو.. اپنا دل کٹتا محسوس ہوا.. مگر.. وہ ایک بات سوچ.. چکی تھی وہ.. ان سب کو… مزاہ چکھا کر رہے گی.. خاص کر اپنے باپ کو.. اور.. اس شخص کو.. جو… بہت عظیم بن رہا تھا…
بہرام سو کر اٹھا تو.. اسے محسوس ہوا.. رات ہو چکی تھی ایک اچھا تاثر.. اسکے وجود میں سرایت کر رہا تھا..
اسنے.. بیڈ سے نیچے قدم رکھا… اور انڑکام پریس کیا.. جس سے اسکے خاص ملازم کو اسکے جاگنے کی اطلاع مل گئ.. اور.. وہ بوتل کے جن کی طرح… اسکے روم میں داخل ہوا.. وہ ایک چھوٹا.. تقریباً بیس سال کا لڑکا.. تھا…
کمرے میں جا بجا پڑی شراب کی بوتلوں کو.. منیب نے.. ایک نظر دیکھا اور پھر اپنے مالک پر نظر ڈالی جو شرٹ لیس.. بیٹھا آنکھیں بند کیے نا جانے کس بات پر مسکرا رہا تھا….
صاحب کچھ کھانے کو لاو"اسنے پوچھا تو… بہرام نے آنکھیں وا کیں…
نہیں کچھ پینے کا دل ہے" اسنے… بوتلوں پر نظر ڈال کر کہا.. مگر تمھارے ہاتھ سے نہیں…
آج تو جام محبوب کے ہاتھ سے پیئیں گے "وہ کافی سے زیادہ خوش لگ رہا تھا… منیب نے سر ہلایا..
معاویہ خانم کو.. کہہ دو آج شہر جانا ہے "وہ اٹھتے ہوئے بولا تو منیب باہر چلا گیا.. جبکہ وہ.. واشروم میں… تقریب بیس منٹ بعد وہ باہر آیا.. تو.. پینٹ… کی بیلٹ ڈالتے ہوئے.. اسنے دروازے کیطرف دیکھا.. جہاں منیب کھڑا تھا.. وہ اکثر بغیر بجائے بھی آ جاتا تھا… مگر بہرام کو ناگواری ہونے کے باوجود وہ اسے کم ٹوکتا تھا…
صاحب معاویہ صاحب نے جانے سے انکار کر دیا ہے انھوں نے کہا ہے.. آپ انکے کچھ نہیں لگتے"منیب نے کہا.. تو.. اسکے ماتھے پر بل ڈلے
ٹھیک ہے جاو میں دیکھ لوں گا.." اسنے کہا تو منیب باہر چلا گیا… جبکہ آب وہ اپنی شرٹ ڈال کر.. بالوں کو بنا رہا تھا.. جن پر کسی جیل یا سپرے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی وہ ایسے ہی کافی سٹائلش تھے…
بال بنا کر اسنے خود پر سپرے کیا… پھر پرفیوم.. لگا کر.. وہ خوشبو میں بسا.. مسکراتا ہوا کمرے سے نکلا.. تو مردان خانے میں اسے کوئ نہ دیکھا.. وہ شانے اچکا تا.. پہلے داجی کے کمرے کیطرف بڑھا.. بغیر اجازت طلب کیا… دھاڑ سے دروازہ کھولتا… وہ اندر آیا.. داجی… کھڑکی کے پاس کھڑے تھے…
مڑ کر.. اسکیطرف دیکھا… تو جیسے آج ہوئے واقعے کا سارا اثر زائل ہو گیا…
آو میری جان.. آنکھوں کو چین دینے میں اتنی دیر لگا دی… "وہ اسکو سینے… سے لگائے…. فخر محسوس کرنے لگے جبکہ وہ دھیرے سے مسکرایا…
خیریت… کچھ الجھے الجھے ہیں آپ" وہ انکے چہرے کے تاثرات بخوبی پہچان گیا تھا…
زیادہ کچھ نہیں….... "وہ آب لاپرواہی سے بولے کے اسے دیکھ کر تو سارے غم غلط ہو جاتے تھے…
اچھا.." اسنے بھی لاپرواہی سے شانے اچکائے…
اور باہر جانے لگا کیونکہ معاویہ کی کلاس لگانی تھی..
میرے رات کے شہزادے.. اس وقت.. کہاں کی تیاری ہے "وہ مسکرا کر اسکو.. سجا سنورا دیکھ کر بولے.. یہ بھی نہ پوچھا کہ دو دن تک وہ.. کمرے میں کیوں بند تھا.. اور ملازم کو مارنے کا مقصد.. وہ تو بس اسکی صورت… دیکھ کر ہی.. شیری ہو گئے تھے جیسے…
شہر" وہ… بولا… جبکہ.. جیب سے سیل فون نکال کر.. اسکو بھی اون کیا ساتھ ساتھ جو وہ پاور آف کیے ہوے تھا…
اسوقت کیوں" انھیں حیرت ہوئ.. حال کہ وہ کسی سے اتنے سوال نہیں کرتے تھے… مگر بہرام… کے لیے تو.. ہر بات الگ ہی تھی…
اجی داجی.. مرکز جب شہر میں ہے.. ہمارا تو.. کالام کی حسین وادیوں میں.. راتیں…. بے چین… ہیں.." وہ قہقہ لگاتا… باہر نکل گیا جبکہ وہ.. پرسوچ نظروں سے ماتھے پر معمولی بل ڈلے.. اس کی بات کی تہہ تک پہنچ رہے تھے…
……………….
اووو معاویہ سائیں ناراض.. حسینا بننے کا کوئ فائدہ نہیں ہے.. جانتے ہو بخوبی.. منانے کی عادت نہیں ہے ہمیں…
کالام کی شان ہیں ہم… بھلہ تم جیسے کو منائیں گے آب " سوتے ہوئے معاویہ.. پر سے کمبل کھینچ کر… وہ.. مغرور لہجے میں بولا… مگر مقابل بھی معاویہ تھا..
دفع دور" ایک نظر اسکو دیکھ کر.. وہ.. زور سے بولا اور کروٹ موڑ گیا…
سالے.. اتنے پنجے نکال.. کہ میرے ہاتھوں زندہ بچ جائے "بہرام.. نے.. کھینچ.. کر اسکے کمر میں مکہ جڑ دیا.. معاویہ نے.. ایک کہرام اٹھا لیا…
جبکہ وہ سکون سے اسکی اداکاری دیکھ رہا تھا..
معاویہ کو بالآخر خود ہی چپ ہونا پڑا..
ہو گیا" بہرام نے اکتا کر پوچھا معاویہ نے جواب نہ دیا…
یار جلدی ا[ھ وقت نہیں ہے "وہ اجلت سے بولا….
تو معاویہ کو بدلنخواستہ اسکی بات مان کر دینی پڑی…
دس منٹ میں وہ ریدی تھا جبکہ ناراضگی آب بھی برقرار تھی..
سالے منہ مت سجا آب…. معافی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا.. اور.. تو جانتا ہے.. منانا کسی کو مجھے تا نہیں.. تو.. اپنا.. دو سو گز کا منہ ٹھیک کر.. آج تو.. بڑی قاتل رات ہے.. مزے کریں گے"... وہ اس چھڑتا ہوا.. بولا.. جبکہ معاویہ اسکے چہرے کی چمک دیکھ رہا تھا…
مدھم سا مسکرا دیا…
جیپ میں دونوں ہی ایکسائٹیڈ سے سوار.. تھے.. اور بہرام اپنے مخصوس سٹائل میں جیپ دوڑا رہا تھا.. معاویہ. بس اتنا جانتا تھا کہ وہ کسی کوٹھے پر رات رنگین کرنے کجا رہے ہیں.. جبکہ.. بہرام.. کی تو نیا ہی کہیں اور ڈوبی ہوئ تھی..
کچھ دیر.. میوزک سننے کے بعد معاویہ نے کچھ سوچتے ہوئے میوزک بند کیا…
جیپ رات کی تاریکی کو چیرتی ہوئ… بڑے جوش سے شہر کے راستے کو تھی….
جیسے مالک.. کی خوشی میں خود بھی سرمست ہو…
تجھے پتا ہے.. آج.. کیا ہوا ہے حویلی میں "معاویہ نے پوچھا تو بہرام نے نفی میں گردن ہلا.. دی…
وہ تو اٹھا ہی ابھی تھا….
معاویہ کا دل کیا… اسکا منہ توڑ دے مگر.. اب منہ اپنا بھی سلامت رکھنا تھا…
وہ اپنی بہن سے اتنا غافل تھا.. خیر حویلی میں.. عورتوں کے ساتھ تو یہ ہی ہوتا آیا تھا..
پھر وہ رفتہ رفتہ.. اسے سب بتاتا چلا گیا.. جبکہ.. بہرام.. کے ماتھے پر کئ شکنیں ابھری…
غصے کا گراف اچانک ہی بڑھا..
نین. اسقدر گستاخ.. ہے… "وہ مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا…
تم مجھے حویلی میں ہی بتاتے" وہ غصے سے بولا…
اوو بھائ.. حویلی میں ایک ہنگامہ تھا.. جس وقت تم کوپیاں چڑھا کر.. پڑے تھے.. خود اٹھتے اور میں کیوں.. لگاو بجھاو "وہ شانے اچکا کر بول آ… بہرام کا دل تو کیا جیپ موڑ لے.. مگر…
اسوقت دل.. کی.. آواز بس اس چہرے کے گرد طواف کر رہی تھی.. اور وہاں نہ پہنچتا تو شاید.. اسک چین سکون سب ختم ہو جاتا….
تبھی.. گاڑی شہر کے راستے پر ڈالی رکھی..
احمر … سمجھدار ہے" وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا…
ہاں بھئ بہت… تمھاری جیسی.. تمھاری ہی سرپہری بہن کو سمبھال لیں گے معلوم ہے " معاویہ ہنسا تو بہرام اسے گھورنے لگا..کھا مت جانا آب میری نازک جان کو "معاویہ نے ڈرنے کی اداکاری کی جبکہ بہرام کا مکہ.. اسکے بازو پر پڑا.. اور وہ بلبلا کر رہ گیا…
……………………
نین سرخ سوجی آنکھوں سے.. کھڑکی سے پار… چاند کو دیکھ رہی تھی….
مگر اندر کی آگ.. اسے چین لینے نہیں دے رہی تھی…
ایک تو اسے.. اس سے چھوٹے شخص سے بیاہ دیا تھا… جبکہ
وہ.. کیا تھا.. اسکی حویلی میں پوزیشن کیا تھی.. کیا داجی اسے اپنے پوتوں جیسا مقام دیتے تھے.. ہرگیز نہیں بلکل نہیں…
اور ایسے شخص کو اسکی قسمت میں بندھ دیا گیا…
اسنے اپنے کمرے کو تھس نہس کر دیا تھا…
چند ہی منٹوں میں مگر غصہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا…
وہ یہاں رہنا ہی نہیں چاہتی تھی.. داجی کو انکی جیت کا جشن بنانے دیتی…
انکی روایتوں کو.. توڑنے کی ایک سرکشی.. اسکے وجود میں… بھنبھڑ پکا رہی تھی….
آب اسے کیا ڈر تھا.. اور وہ کیوں ڈرتی.. احمر کے ساتھ.. تو جو کرنا تھا وہ بعد کی بات تھی… فلحال.. داجی کی قید سے باہر نکلنا تھا…
اسنے آنسو پونچے…. تمام خواتین اس سے سخت خفا تھیں کوئ اسکے پاس نہیں آیا تھا.. اگر وہ تحمل سے کام لیتی تو ضرور اسکی بات کا حل نکل جاتا مگر اسکی جلد بازی نے.. باقی سب پر بھی مزید سختی کر دی تھی…
رخصتی کا شوشا بھی چھوڑ دیا گیا تھا…
کہ شادی اپنے وقت پر ہر حال میں ہونی تھی.. اور جو.. خواتین. بازاروں کے چکر لگا لیتی تھیں آب ان پر بھی پابندی لگا دی گئ تھی.. کہ… سب.. چیزیں مرد حضرات اپنی مرضی سے لے آئیں گے…
نین.. کو کسی سے کوئ غرض نہیں تھا.. وہ. تو آنے والے کل کو سوچ رہی تھی.
………….
اسکا خوبصورت چہرہ اس انداز میں دیکھنے کو ملنا تھا یہ تو اسنے تصور بھی نہیں کیا تھا…..
وہ بہت حسین تھی اتنا انداز تو تھا اسے… جب اسکا چھوٹا بھائ… آنکھوں کو چندھیا دینے والا حسن رکھتا تھا.. تو پھر.. اسکی تو بات ہی کیا تھی…
مگر احمر کے ساتھ ساتھ حویلی کے سب لڑکوں اور شاید ملازموں نے بھی اسے دیکھ لیا تھا… اور.. یہ ہی بات اسکا دل جلا رہی تھی.. وہ اتنی جزباتی کیوں تھی….
وہ سمھجہ نہیں پاتا تھا…..
اور پھر اسکے دماغ میں… اسکی باتیں گردش کرنے لگیں…
وہ اسے کیا سمھجتی تھی…
یہ تو اسکی باتوں اور لہجے نے ہی.. واضح کر دیا تھا.. کہ اسکی نظر میں اسکی کوئ ولیو نہیں.. وہ اسے خود سے چھوٹا سمھجتی ہے… حالانکہ یہ فرق کوئ معنی تو نہیں رکھتے.. پھر وہ ٹھیک ہی تھی…
بھلہ وہ.. خانزادی اسکو پسند بھی کیوں کرتی… تھا ہی کیا اسکے پاس…
نانکے کی دہلیز پر ساری زندگی گزاری تھی… اور آب آگے بھی….
وہ کچھ سوچنے پر مجبور ہوا… آج اپنے باپ پر بھی شدید غصہ آیا….
جن کی وفات نے.. انھیں… دو کڑی کا کر دیا تھا….
……………..
نین کے بارے میں سوچتے ہوئے اسے.. خوف آ رہا تھا.. اگر سمندر خان سے اسکی شادی ہو جاتی پھر…
پھر پھر کیا ہوتا.. ہاں وہ جلد باز تھی.. معملہ حل کرنے کے بجائے بگاڑ چکی تھی…
وہ اسکے پاس جانا چاہتی تھی مگر… حیدر کی کمرے میں موجودگی اسکے قدموں کو بند باندھ گئ….
صوفے پر بیٹھی… وہ.. سر.. پشت پر لگائے… بیٹھی تھی….
حیدر اپنے موبائل میں مصروف تھا….
ایک نظر اسکی جانب دیکھا….
خانم کل دس بجے حویلی سے شہر کے لیے نکلنا ہے "کڑے لہجے میں وہ… بولا.. تو ارمیش کی روح فنا ہو گئ….
سائیں آپ ایسا نہیں کر سکتے" اچانک وہ قدرے انچی آواز میں بولی…
تو… حیدر نے موبائل سائیڈ پر پٹخا.. اور آٹھ کھڑا ہوا.. اسکے اٹھتے ہی… ارمیش کا دم نکلا…
خانم…. اگر خود کو نین سمھجہ رہی ہو تو… یقین مانو زبان… کھینچ.. کر گردن پر.. لپیٹ دیں گے" وہ اسکا چہرہ جکڑتا غرایا….
ارمیش رونے لگی سرخ… آنکھیں اس بے حس کو دیکھ رہیں تھیں..
مت دیں ایسی سزا… سائیں… ہم ہاتھ جوڑتے ہیں خدا کے لیے…. ایسا مت کریں.. میں میرا کیا قصور ہے" وہ سسکی.. تو وہ اسکا چہرہ جھٹک کر رہ گیا….
جب ہم یہ بچہ چاہتے ہی نہیں.. تو کس خوشی میں. تم… بکواس کر رہی ہو" وہ غصے سے گھورنے لگا….
ارمیش کا دم گھٹنے لگا.. کیا یہ احساس صرف چند لمہوں کا تھا….
کیا کل صبح.. اسکا وجود خالی ہو جائے گا.. اور پھر وہ دوبارہ اسکی غلامی کرے گی.. کیا وہ اس لیے پیدا ہوئ تھی.. کیا اسکی زندگی میں سکون نہیں تھا…
وہ.. بری طرح رونے لگی….
جبکہ.. وہ لاپرواہی سے بستر پر لیٹ گیا…
آب تمھیں خط لکھوں.. یہ خود آٹھ کر آ رہی ہو "وہ دھاڑا… ارمیش.. کی سسکی دم توڑ گئ…
اور وہ
.. مرے مرے قدموں سے.. ڈریسنگ روم میں چلی گئ…
……………….
اسکے لیے اسکا گھر ڈھونڈنا کوئ مشکل کام نہیں تھا… اس وقت.. وہ گاڑی میں بیٹھا… شراب کی بوتل.. منہ سے لگایے… سامنے اس چھوٹے سے گھر کو گھور رہا تھا…
جبکہ معاویہ… نہ سمھجی سے اسے دیکھ رہا تھا..
آب منہ سے کچھ پھوٹو گے یہ…. میرا صبر یوں ہی ازمانہ ہے"
یہ لڑکی چاہیے.. معاویہ سائیں… ابھی چاہیے" ضدی لہجے میں.. وہ بس دو لفظوں میں.. اسے بہت کچھ باور کرا گیا…
معاویہ.. ایک پل کو چپ سا رہ گیا….
کون ہے یہ "وہ کچھ دیر بعد بولا….
معلوم نہیں…" وہ بس اتنا بولا.. بوتل کو اسکی طرف اچھال دیا….
اور دروازہ کھول کر باہر نکلا…
کہاں" معاویہ نے پوچھا….
تم نے جہاں جانا ہے چلے جاو" وہ.. ناگواری سے بولا.. اسک اٹوکنا زہر ہی لگا…
اور آگے بڑھ گیا.. معاویہ بھی باہر آ گیا…
بھائ یہ ہو کیا رہا ہے" وہ ہلکی آواز میں چلایا… بہرام نے بغیر لحاظ کے اسکے منہ پر پنچ دے مارا….
آگے بھی کچھ بتاو کیا ہو رہا ہے "وہ شدید غصے سے بولا.. تو.. وہ اسے کود کر رہ گیا….
جبکہ… بہرام… کے وجود میں مزاہ.. سا ابھرا….
آب کالام… کا سردار… کھڑکیاں پھلانگے گا… "وہ ہلکا سا بولا….
معاویہ… پر تو حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ… رہے تھے…. مگر آب وہ خاموش تھا جبکہ. بہرام… اس پائپ کو دیکھ رہا تھا… جو کافی مظبوط لگ رہا تھا.. کیا وہ اسکا وزن سہہ سکتا تھا…
خیر اسے پہ رواہ نہیں تھی… اسنے… تو.. اوپر جانا تھا.. اسے معلوم نہیں تھا کہ یہ اوپر پایپ کہاں جاتا ہے…
برحال… جہاں بھی جاتا ہو… وہ.. اسے ڈھوند ہی لے گا…
معاویہ سائیں…….. مزاہ آنے والا ہے "اسے منہ میں جیسے رس گھل رہا تھا… معاویہ کو اپنی کفلنکس..گاگلز موبائیل.. تھما کر.. وہ پاوں جماتا…. پائپ پر چڑھنے لگا..
تمھارے جسم کی.. 4 ہڈیاں تو لازمی ٹوٹیں گی لکھ کر رکھ لو…" معاویہ کی بربڑاہٹ.. پر کان دھرے بغیر وہ مسرور سا چڑھتا گیا.. وہ پائپ سیدھا چھت کو جاتا تھا…
شاید… اسے دیوار پھلانگنے میں کچھ تردد ہوا.. کہ ایسا کام نہیں کیا تھا کبھی مگر وہ چھت پر پہنچ ہی گیا… یہ دو منزلہ چھوٹا سا گھر تھا.. وہ بآسانی چڑھا تھا…
چھت پر چڑھ کر.. اسنے نیچے جھنکا.. اور تفخر سے معاویہ کو دیکھا.. جو داد دیتا.. واپس گاڑی کی طرف جا رہا تھا.. بہرام بھی پلٹا.. اور.. اپنی شرٹ کے اوپری بٹن کھول کر.. اسنے کالر کھڑے کیے جس سے.. کچھ اسکا چہرہ چھپ گیا….
اور وہ آب چھت پر بنے.. دروازے کیطرف بڑھنے لگا… دروازہ کھلا ہی تھا…
بےوقوف لوگ"وہ شانے اچکا تا… نیچے اترا تو گھر میں اندھیرہ تھا.. اسے اپنا آپ چور ہی لگا… وہ.. ہنستا ہوا… دوسری منزل کی سیڑھیاں اترنے لگا.. کیونکہ اوپری منزل میں تو شاید بس سٹور.. تھا.. نیچے چھوٹا سا صحن براندہ تھا.. اور دو کمرے تھے…
جن کی لائٹس آف تھیں…
جبکہ صحن میں ایک بلب جل رہا تھا..
گھر ہے یہ صابن دانی "وہ چیڑا… اور.. ایک کمرے میں جھانکا.. اور مایوسی ہوئ… پھر دوسرے کمرے میں جھانکا تو دو الگ الگ بیڈز تھے اسے انداز ہو گیا.. کہ یہ.. ہی وہ کمرہ ہو گا..
کیونکہ.. پہلے والے کمرے میں سنگل بیڈ تھا….
وہ.. آرام سے کمرے میں داخل ہوا… پنکھے کی خشک ہوا.. اسکی نازک مزاجی پر گراہ گزری.. اور پل میں اسکے سفید رنگ میں… سرخی گھل گئ..
وہ.. دائیں جانب والے بیڈ کیطرف بڑھا .. کوئ سر تک تانے چادر پڑا تھا.. اسنے چادر معمولی سی کھینچی…
مگر مایوسی ہوئ.. وہ چند پل اس چہرے کو بھی دیکھتا رہا..
نوٹ بیڈ"کمنٹ پاس کرتا.. وہ آب اطمینان سے دوسرے بید کیطرف بڑھا.. اور.. سہولت سے چادر کھینچ دی…
تو وہ صبیح چہرہ.. جو اسے چند دنوں میں تڑپا گیا تھا.. اسکے سامنے تھا.. وہ مبہووت سا اسے دیکھے گیا.. وہ تو اسکے لیے بنی تھی.. ایسا لگتا.. یہ بات تو لکھ دی گئ ہے.. وہ.. کمال بہادری سے.. اسکے پاس بیٹھ گیا.. کمرے کی خشک ہوا بھی.. اب معمولی سی لگی…
وہ عابیر کے چہرے کو.. چاہت سے دیکھ رہا تھا.. دل و دماغ.. میں کمال سکون اتر چکا تھا…
اسنے ہاتھ بڑھا کر.. اسکے چہرے.. پر.. انگلی چلائ….
ہلکے سے پسینے کی بوندیں محسوس ہوئیں…
بہرام… دیوانہ سا ہو گیا.. خود پر قابو دنیا کا سب سے مشکل ترین کام لگا….
اسنے ضبط سے.. مٹھی بھینچ.. لی…
اور پھر.. اسکے نازک لبوں… پر نگاہ ٹھر گئ.. ایسی جمی کے ہٹنے کا نام نہ لیا..
جبکہ.. عابیر.. کی نیند کچی ہونے لگی تھی اسے محسوس ہو رہا تھا.. مگر وہ بے حس و حرکت اسکے.. لبوں کے کنارے پر
. موجود نگ کی مانند تل پر… مدہوش سا.. انگوٹھا چلا رہا تھا..
عابیر کی اچانک ہی پٹ سے آنکھ کھولی…
پہلے تو وہ کچھ سمھجہ نہ سکی اور جب سمھجہ کو کچھ لگا.. تو… اسکے منہ سے اس سے پہلے چینخ نکلتی…
بہرام… اسپر جھک گیا…..
عابیر.. تڑپ اٹھی جبکہ بہرام…. کی مدہوشی….
جان لیوا.. تھی….
عابیر نے
. اسکے شانے پعر مکے مارے
.. مگر وہ اپنی منشہ سے دور ہوا….
اور…. پھر اسکے لبوں کے کنارے.. میں موجود.. تل کو دیکھنے لگا..
عابیر… کو کچھ سمھجہ نہیں آ رہا تھا… وہ ہونک.. .. ایک پل اسے دیکھتی رہی…
اور پھر
. ہاتھ گھما.. کر.. اسکے.. منہ پر تھپڑ جڑ دیا…..
تب بھی…. اسکو سکون نہ ملا.. ایک جھٹکے سے آٹھ کر بیٹھتے.. اسنے بہرام کا منہ نوچ لیا…
کمینے انسان…. "وہ دھاڑی…
بہرام
. جیسے نیند سے جاگا تھا…
مگر مسکراہٹ نے.. L.. اسکے لبوں کا ساتھ نہ چھوڑا….
سائیں آپکو کیسے پتہ میں کمینا انسان ہوں" وہ معصومیت سے بولا…
عابیر شاکڈ تھی…
وہ یہاں اسکے پاس کیوں آیا تھا…
اور پھر اسے.. وہ پل یاد آ گئے…. یعنی وہ اسے بھی کوٹھے پر بیٹھی کوئ لڑکی سمھجہ رہا تھا.. اسکا دماغ بھنایا….
اسنے ارد گرد دیکھا.. آج وہ اس شخص کا سر پھاڑ دیتی
اسکو دھکا دے کر.. وہ تیر کی تیزی سے اٹھی… بہرام بھی مسکراتا ہوا آٹھ گیا….
سرکار شور کریں گی.. تو عزت اور اعتماد دونوں جائیں گے.. چند پل.. تمیز کے دے دیں.. ساری زندگی پڑی.. ہے.. سر بھی پہاڑ لیجیے گا… روکا کس کافر نے ہے.. "وہ.. مزے سے بولا.. تو عابیر.. جو اب الٹے قدم.. لینے والی تھی کہ.. جا کر بابا کو اٹھائے یا.. کم از کم.. معاذ کو فون کرے.. وہیں تھم گئ….
یہ انسان.. اسکی سوچ سے زیادہ نیچ تھا.. مگر اسکی بات مان لینا.. مطلب شے دے دینا تھا.. کہ وہ آگے بھی اسکے گھر آ جائے.. وہ اس کھیل تماشے کو سمھجہ نہیں پا رہی تھی.. شاید وہ کوئ بدلہ لے رہا تھا..
تم یہاں سے دفع ہو جاو.. تمھارے لیے بہتر ہے…. "انگلی اٹھا کر.. غصے سے بولنے پر… اسکا چہرہ سرخ ہو رہا تھا..
بہرام دل پر ہاتھ رکھے اسے دیکھنے لگا….
کوئ اتنا پیارا.. کیسے ہو سکتا ہے…..
پھر سارے کا سارا کیسے ہو سکتا ہے…."وہ گھمبیر لہجے میں بولتا.. اسکی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے.. اسکے نزدیک ہوا.. تو.. عابیر.. بدک کر دور ہوئ.. اور… بس.. وہ دوسرے کمرے میں اس سے پہلے دوڑتی…
بہرام نے اسکی کلائ پکڑ لی… عابیرکو جیسے کرنٹ لگا تھا.. وہ کلائ چھڑوانے کی تگ و دو کرنے لگی… مگر مقابل.. اسے.. نائٹ..ڈریس میں سر سےپاوں تک.. گھورے جا رہا تھا… عابیر کے لیے یہ لمہے کسی عزاب سے کم نہ تھے….
مکھن آپکی بہن بھی ملائ جیسی ہے…. ویسے میں جانتا ہوں میں.. کمینا ہوں مگر.. نیچ نہیں ہوں… اپ نے اب میری مرضی کے خلاف جانے کی کوشش کی.. تو.. یقین مانیے….
ہم تو بدنام زمانہ ہیں ہی ہیں… اپکی.چھوٹی سی بہن کا کیا ہو گا.. ویسے بھی… اس عمر کی لڑکیوں.. کو.. ایسے شوق ہو جاتے ہیں… پھر الزام مت دیجیے گا "وہ اپنے گھٹیا پن… کے بارے میں بڑی سہولت سے اسے آگاہ کر رہا تھا.. جبکہ… ریہا کے بارے میں سوچ کر عابیر… کا دل پہلی بار اس انسان.. کی سفاکیت سے کانپا تھا….
بہرام.. کی مسکراہٹ گھیری ہوئ.. تیر نشانے پر ٹکا تھا.. اسنے ہاتھ چھڑانے کی تگ و دو ختم جو کر دی تھی… بہرام نے بھی اسکا ہاتھ چھوڑ دیا…
سائیں آپکے ساتھ… چاند دیکھنا چاہتا ہوں….. زرا چاند…کو بھی دیدار خاص کرا دیں.. بس پھر آپ سکون سے سویے گا.. "وہ.. اپنی ہی ہانکتا.. اسکا بازو پکڑ.. کر.. اسے سیڑھیوں کے راستے چھت پر لے آیا… عابیر .. کا وجود اب بھی خوف سے کانپ رہا تھا.. صرف میٹرک کلاس کی سٹوڈنٹ تھی اسکی بہن.. اور یہ شخص.. اس سے توقع بھی کیا کی جا سکتی تھی.. جو اسکے گھر آ کر.. اپنی گیری ہوئ حرکت سے باز نہ آیا.. نہ جانے وہ اسکی بہن کے ساتھ کیا کرے.. بے بسی سے.. اسکی آنکھیں سرخ.. ہو گئیں… بہرام کی بھی نظر.. اسپر اتھی….
اور وہیں… اٹک کر رہ گئ… بادامی آنکھیں سرخی لیے… کمال نظارہ پیش کر رہیں تھیں….
سرکار.. اب تو دل کر رہا.. ہے.. تمھیں اور رولاو….
ایسا نظارہ.. باخدا پہلے کہاں دیکھنے کو ملا تھا… "وہ اسکی پلکوں کو چھوتا .. چاہت سے بولا…
عابیر.. نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا…
یہ جو تم حرکتیں کر رہے ہو.. اب تم دیکھنا.. میں میڈیا.. میں تمھارے ساتھ کرتی کیا ہوں….." وہ آنکھیں نکالتی… غرائ.. تو وہ بے باک قہقہ لگا اٹھا…
میٹھی… سردار تو چاہتے ہی یہ ہی ہیں… بلکے یہ جو.. تم نے مجھے دھمکایا ہے نہ….
اس کا اثر… یہ بھی ہو سکتا ہے.. کہ صبح کی پہلی نیوز… یہ بن جائے…
کالام کے سردار… ایک معمولی سی لڑکی… سوسوری ریپورٹر کے گھر کی چھت پر… اسکے ساتھ… چاند دیکھتے پائے گے.. کیا اس لڑکی کے.. ساتھ.. بہرام… مراد خان کا افئیر چل رہا ہے… یہ……… ؟؟؟؟؟ "وہ روکا… معنی خیز لہجہ تھا
… انکے بیچ.. کوئ… ناجائز تعلق ہے…" وہ مزے سے اسکے کان میں جھک کر بولا… عابیر… کی آنکھوں کے آگے.. حقیقی معنوں میں… تارے چمک اٹھے… اس سے کوئ بھی امید کی جا سکتی تھی….
چاہتے کیا ہو تم…. "وہ جھنجھلا کر چلائ… تو.. بہرام نے اسکے لبوں پر اپنی ہتھیلی جما… کر اسکی کمر میں ہاتھ ڈال لیا….
آب اسکا چہرہ سنجیدہ دکھ رہا تھا جبکہ کلون کے ساتھ ساتھ کسی اور چیز کی مہک.. سے عابیر… کی سانسیں اٹک گئیں.
. میرے ساتھ ابھی کالام بھاگ چلو …. دو بول.. دور ہو بس مجھ سے….. ان دو بولوں کا فاصلہ مختصر کر دو…. اج سے پہلے.. میں نے محسوس ہی نہیں کیا تھا.. کہ.. وجود میں دل بھی.. کوئ شے ہے…. مجھے لگتا تھا یہ بس بے حس لوتھڑا ہے…
مگر جب سے.. تمھیں دیکھا ہے عابیر مجھے لگتا ہے… یہیہ… سانس لینے لگا ہے.. اسکی دھڑکنیں کانوں میں گونجتی ہیں.. مجھے نشہ.. سا چڑھ جاتا.. ہے… سب سے مہنگی شراب پیتا ہے.. تمھارا یہ مرید…. مگ… اب ایسا لگتا ہے… جب میرے پاس.. تم ہو… تو.. یہ سب وقتی چیزیں.. بے وقتی ہو گئیں ہیں.. سمھج رہی ہو نہ….. "وہ دھیرے دھیرے اسے سمجھاتا…
کافی پیارا لگ رہا تھا.. مگر عابیر… پر.. آج ہی سارے حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹنے تھے… اسکا اپنے بال سنوارا ہاتھ.. اسنے جھٹکا دیا.. اور اس سے دور کھڑی ہو گئ….
عابیر کے اس وقت ہاتھ پاوں بری طرح کانپ رہے تھے…. ایسا نہیں تھا وہ اس سے ڈر گئ تھی.. بس اس وقت.. اس سے اپنا آپ سمبھل نہیں رہا تھا…..
بہرام ڈھٹائ سے مسکرایا….
معلوم نہیں تھا.. ملاقات اتنی خوبصورت ہو گی… "وہ… چند لمہے پہلے کی جانے والی اپنی حرکت کو باور کرا رہا تھا… عابیر.. نے نفرت سے.. اسکو دیکھا….
جبکہ.. اسکا قہقہ اٹھا…
آف یہ ادائیں…… ڈاکا ڈل گیا…. سرکار… ڈاکا…" کہتے ساتھ ہی.. اسنے… بالوں میں ہاتھ پھیرہ.. اور اس پائپ کو دیکھا.. جہاں سے وہ چڑھا تھا..
چلتا.. ہوں سائیں دل تو نہیں کر رہا ویسے.. مگر کل او.. گا… ابھی ایک ضروری.. کام بھی ہے…
مجھے یاد کرتی رہنا مجھے اچھا لگے گا" وہ اسکا گال تھپتھپا کر… دوبارہ اس راستے … اتارنے لگا جبکہ عابیر.. وہیں بیٹھتی چلی گئ..
یہ سب کیا تھا …
کیا اسنے ایک خوفناک خواب دیکھا تھا…
شاید.. ابھی اسکی جھٹکے سے آنکھ کھلے.. اور وہ اپنے بستر پر ہو…
شاید یہ خواب ہو.. مگر ایساکچھ نہیں تھا.. کچھ دیر بعد گاڑی کی آواز آئ.. اور پھر وہ گاڑی دور جاتی محسوس ہوئ جبکہ عابیر کا دل سچ میں حلق میں آ گیا تھا…
………………. ے
حیدر کے ساتھ شہر آتے ہوئے.. اسے اپنا آپ مردہ محسوس ہو رہا تھا…
کیا خوشیوں کی مدت اتنی قلیل ہوتی ہے…. کیا اسے اتنی ہی محدود مدت کے لیے خوشیاں ملنی تھی….
ہوسپیٹل… میں داخل.. ہوتے ہوئے.. حیدر نے اسکا ہاتھ تھام لیا تھا.. اسکا ہاتھ برف کی مانند سرد تھا….
گھر پر کسی کو بتانے کی اسنے زحمت نہ کی تھی اور دو دن سے ارمیش کو کمرے سے باہر بھی نہیں نکلنے دیا تھا اول تو اسے کسی کا خوف نہیں تھا.. مگر جتنی سہولت سے یہ کام ہو جاتا اتنا بہتر تھا…
ارمیش کے آنسو جھرنے کی طرح متواتر بہہ رہے تھے…
وہ بے بسی کی آخری انتہا کو چھو رہی تھی.. کہیں دل میں اگر اسکے لیے.. محبت کی رمک باقی تھی.. تو وہ شاید آج دم توڑ جاتی.. اور اسکے بعد ان دونوں کے درمیان صرف نفرت کا رشتہ رہ جاتا….
وہ اسے ایک روم میں لے آیا تھا.. یہ ہوسپیٹل بہت خوبصورت تھا.. اگر.. وہ اس غم کو اپنے ساتھ لے کر نہ آتی تو ضرور یہاں کی خوبصورتی.. سے چکا چوند رہ جاتی.. مگر.. اسکی اولاد چند گھنٹوں بعد اسکے وجود کا حصہ نہ رہتی.. اس سے برا… دکھ اور کیا ہو سکتا تھا…
اور قاتل بھی باپ…..
یہ.. کیسا ستم تھا….
وہ.. ہوسپیٹل.. کے روم… میں.. سرخ.. چہرے… اور سوجی ہوئ.. آنکھوں سے.. سامنے.. کھڑے حیدر کو دیکھ رہی تھی.. جو ڈاکٹر سے بات کر رہا تھا..
مگر مجھے نہیں لگتا سر آپکی وائف اس چیز کے لیے تیار ہیں… "ڈاکٹر نے ارمیش کو دیکھتے ہوئے کہا..
دیکھیے آپ سے مشورہ نہیں مانگا ہم نے… آپ کے علاوہ بھی بہت ڈاکٹر.. مل جائیں گے ہمیں .. تو بہتر.. یہ ہی ہے.. آپ.. چپ چاپ اپنا کام کریں" وہ اپنے مخصوص اڑیل لہجے میں بولتا.. ارمیش.. کے دل کو کئ ٹکڑوں میں تقسیم کر گیا…
اسنے ہار مان لی. دل ہی دل میں… اپنے بچے کے آگے ہاتھ جوڑ.. کر.. معافیاں مانگیں کے وہ بے بس تھی….
اسنے بے دردی سے… اپنے آنسو صاف کیے یہ آخری بار تھا بس… اور پھر نرس نے… اسے بیڈ پر لیٹایا…
جبکہ حیدر ایک نظر… دیکھ کر باہر نکل گیا…
ڈاکٹر نے اسے اپنے روم میں آنے کو کہا….
تو وہ.. بےزار سا.. اسکے روم میں چلا گیا….
آئیں حیدر صاحب پلیز بیٹھیں "ڈاکٹر نے اسے.. کرسی کی طرف اشارہ کر کے کہا..
میڈیم آپ کیا چاہتی ہیں" حیدر کو اب غصہ آنے لگا…
سر پلیز… میں آپ سے تھوڑی سی بات کرنا چاہتی ہوں… اگر.. آپ کو ٹھیک لگے.. تو
بات کریں جلدی"حیدر نے اسکی بات کاٹ دی…
دیکھیں سر.. آپکو یہ بیبی نہیں چاہیے… بٹ سچویشن ایسی ہے.. کہ اگر میں نے.. یہ کام کیا تو آپکی بیوی… پوری عمر کے لیے شاید دوبارہ ماں نہ بنے" ڈاکٹر نے تحمل سے اسے سمجھایا..
حیدر ایک پل کے لیے چونکہ… کچھ ہی سیکینڈز میں اسکی چہرے پر.. معمولی سا پسینہ ایا…
اور پھر بس چند لمہوں بعد وہ نارمل ہو گیا…
یہ آپکا مسلہ نہیں.. اپکو کس خوشی میں ہمدردی ہو رہی ہے" وہ غصے سے بولا.. تو ڈاکٹر تاسف سے اسے دیکھنے لگی..
اگر آپکو یہ بچہ نہیں چاہیے تو آپ.. کسی اور کو یہ بچہ دے سکتے ہیں.. جیسے ہی آپکی وائف کے نو ماہ پورے ہوں گے فل سیکیورٹی کے ساتھ… ہم یہ کام کر لیں گے" … ڈاکٹر اصل بات پر ائ
آپ چاہتی کیا ہیں میں کسی دوسرے ہسپتال چلا جاو گا….
آپ سے صرف یہ کہا ہے مجھے یہ بچہ نہیں چاہیے… پھر مقصد فضول گوئ کا" وہ ہتھے سے اکھڑا.. تبھی دروازہ ایکدم کھل کر کوئ اندر آیا… تھا… اور اسکے قدموں میں بیٹھ گیا… وہ کوئ لڑکی تھی…
پرانی سی چادر میں… وہ حولیے سے کافی.. بے بس لگ رہی تھی حیدر.. ایکدم اٹھا.. ڈاکٹر.. کی آنکھ نم ہوئ..
درحقیقت… اس لڑکی کی ساس نے… اس کو دھکا دے کر.. اسکے.. چار ماہ کا بچہ مار دیا.. جبکہ اس لڑکی کا شوہر… بھی بیرون ملک تھا…
اور اب دو ماہ گزر چکے تھے جبکہ وہ لڑکی دوبارہ ماں نہیں بن سکتی تھی.. تبھی وہ پیچھلے دو ماہ سے… ہسپتال کی دہلیز سے چمٹ کر رہ گئ تھی..
اور جب حیدر کی بات.. غلطی سے ڈاکٹر نے اسکے سامنے رکھی.. تو.. وہ.. اس شخص کے پاوں پڑنے کو بھی تیار تھی.. اسکا شوہر بھی خاصا دکھی تھا اپنے بچے کے لیے جبکہ.. اسکی ساس نیم پاگل سی تھی….
اور وہ دونوں ہی بچہ اڈوپٹ کرنا چاہتے تھےتبھی ڈاکٹر نے حیدر کے سامنے یہ بات رکھی تھی..
خدا کے لیے…. مجھ پر رحم کھاو… میں ماں نہیں بن سکتی.. اللہ تمھیں بہت دے گا….
مجھ سے یہ دکھ نہہ سمبھالا جا رہا..
وہ بچہ تمھیں نہیں چاہیے… قتل مت کرو اسکا….
مجھے دے دو… یقین مانو… سگی اولاد سے بڑھ کر چاہو گی…
بس مجھے دے دو… "
حور"
حیدر کے قدموں تلے زمین کھسک چکی تھی… یہ آواز… جس کے لیے.. دو سال سے وہ ترس رہا تھا….
وہ اپنے ہی قدموں پر لڑکھڑایا تھا…
لڑکی نے سر اٹھایا…. اسکی آنکھیں بری طرح سوجی ہوئیں تھیں… جبکہ.. چہرہ برسوں کا بیمار لگتا تھا… حور کے ہاتھ بھی جیسے وہیں تھم گئے…
وہ دونوں ایک دوسرے کو ایسے تک رہے تھے.. جیسے.. پیاسا کنوایں کو…
ڈاکٹر.. بھی نا سمھجی سے دیکھ رہی تھی دونوں کی ہی آنکھوں میں شناسائی کی رمک
تھی….
حیدر "حور کے لب بے آواز پھڑپھڑائے… تھے
……………….
حویلی میں دوپہر اتر چکی تھی…
کالام کی فضا ویسی ہی تھی جب کے سب.. کام ویسے ہی چل رہے تھے.. ارمیش دو دن سے.. زنان خانے میں نہیں آئ تھی اگر تیسرے دن بھی نہ آتی تو.. تب بھی.. چاہ کر بھی کوئ نہیں پوچھتا….
نین اپنے کمرے میں ہی تھی…
جبکہ انوشے… اور نیہا.. اپنے روم میں… باقی سب بھی کھانے کے بعد اپنے اپنے رومز میں تھے…
نین کو جب محسوس ہوا کہ باہر کوئ نہیں.. تو.. وہ دروازہ کھول کر باہر آئ.. اور سناٹے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ تیزی سے مردان خانے کیطرف بڑھی تھی… خوشقسمت ہی تھی کہ.. وہاں پر بھی کوئ نہیں تھا…
وہ… احمر کے کمرے کیطرف بڑھی آج پھر اسنے بنا سوچے سمھجے ایک اور بڑا قدم اٹھایا تھا… جس کا معلوم نہیں کیا انجام ہونے والا تھا….
وہ احمر کے کمرے میں آئ تو.. وہ خالی تھا.. اسنے کوفت سے سر جھٹکا خوف بھی محسوس ہوا زیادہ دیر وہ یہاں رک کر اپنے لیے عزاب نہیں کرنا چاہتی تھی.. تقریباً.. بیس منٹ بعد دروازہ کھلا… اور احمر مصروف سا کچھ ڈاکومنٹس دیکھتا اندر داخل ہوا.. اور بیڈ پر… اپنا چہرہ نقاب میں چھپائے نین کو دیکھ کر
. اسے بری طرح جھٹکا لگا.. دو دن بعد انکی رخصتی تھی… اور.. اب…
اسنے.. دروازہ لوک کیا… کیونکہ باہر اب سب آ چکے تھے.. اور ہال روم میں بیٹھ کر ہی.. سب… اب.. داجی سے گفتگو کرتے….
آپ اتنی جزباتی کیوں ہیں "وہ اپنا غصہ دباتا… بولا…
سنو چھوٹے…." وہ بغیر لحاظ کے اٹھی…
احمر "احمر نے ناگواری سے ٹوکا…
چھوٹے" وہ پھر دوبادو ہوی… احمر کلس ہی گیا… مگر اب کچھ نہ بولا….
میں یہاں ایک پل نہیں رہنا چاہتی…
تم مجھے آج رات ہی.. یہاں سے لے کر جا رہے ہو.. سمھجے "وہ… اسکو خاموش دیکھ کر.. تڑی… دینے لگی..
احمر تو غش کھا گیا….
آپکا دماغ ٹھکانے پر نہیں.. حویلی کے علاوہ.. کہاں جائیں گے" وہ… کچھ نارمل سا ہوا.. اور.. ڈر بھی لگا کہ کوئ آ نہ جائے… اور اس سر پھری لڑکی پر غصہ الگ آ رہا تھا..
میرا دماغ اب ٹھکانے پر آ چکا ہے….
مجھے یہاں نہیں رہنا.. کس قدر بے زمیرے ہو تم.. ساری زندگی نانکے کے ٹکڑوں پر پلتے رہے اب.. مجھے بھی یوں ہی رولنے کا ارادہ ہے تو سوچ ہے تمھاری "وہ چلائ… احمر اسے.. دیکھ کر رہ گیا…
وہ کسی کے دل کے ٹوٹنے کا احساس کیوں نہیں کرتی تھی…
نہیں میں آپکو ایسی زندگی نہیں دو گا.. مگر جلد بازی… غلط قدم ہے" احمر اب بھی پرسکون تھا جبکہ نین کو اسکا سکون زہر لگا…
تم اگر مجھے یہاں سے نہ لے کر گئے تو.. میں بھاگ جاو گی. مگر داجی کو خوش ہونے نہیں دے سکتی.. انھوں نے حویلی کی لڑکیوں کو گاجر مولی سمھجہ لیا ہے کہ.. انکے حکم پر سر جھکا لیں.. ایسی چوٹ دے کر جاو گی کہ.. یاد رکھیں گے "
وہ غصے سے سرخ ہوتی…. اس وقت اپنے آپے میں نہیں لگ رہی تھی
نین آپ ہوش میں تو ہیں.." احمر اسکے ارادے جان کر پریشان ہو اٹھا… اچانک ہی اسنے نین کو دونوں شانوں سے تھام کر جھنجھوڑا… تو نین کا حجاب کھل گیا… احمر وہیں تھم گیا.. نین بھی جزبز ہوئ اور فورا اس سے دور ہوی
بیہودہ انسان.." وہ غصے سے… تپ اٹھی.. احمر. دور ہوا..
آپ ایسا کچھ نہیں کریں گی" احمر نے کہا تو.. نین نے گھورا…
تم مجھے نہیں روک سکتے.. یہ تو اب میں کروں گی.. اور دیکھتی ہوں کون مجھے روکتا ہے "وہ باہر نکلنے لگی..
نین کیا ہو گیا ہے آپکو…
اپکی یہ حرکتیں جانتیں ہیں آپکو کس مصیبت میں ڈال دیں گی "وہ… اسکا ہاتھ تھام گیا….
تمھیں میرے سر ڈال کر مصیبت تو ڈال دی.. اب.. جو میرا دل کرے گا میں وہ کروں گی.. میرا سکون برباد کر کے تم اور داجی سکھ سے جی لو گے تو.. یہ تمھارا وہم ہے……." وہ سنجیدگی سے کہتی.. اپنا ہاتھ چڑھا گئ…
اتنا بھی برا نہیں ہوں میں نین"احمر… کے دل کو کچھ ہوا تھا.. دکھ الگ تھا.. کہ اس لڑکی کے پاس اسکے لیے گنجائش نہیں….
بےزمیر ضرور ہو… اور یہی بات تم سے نفرت دلاتی ہے… "وہ کہہ کر.. اسکا ہاتھ جھٹک کر.. وہاں سے نکلی… احمر ساکت تھا….
اتنی نفرت… وہ تو.. اتنی محبت کرتا تھا اس سے.. کہ.. اسکی آنکھیں چیخ چیخ کر اسکے عشق کی گواہی دیں.. اور.. اسکے دل تک اسکی پکار پہنچ ہی نہیں رہی تھی…. اسنے… اپنے جزبات کو پرے دھکیل کر سب سے پہلے باہر دیکھا…. شکر تھا کہ ہال میں کوئ نہیں تھا.. مگر اسکو اپنے قدم من من بھاری لگے
………………
معاویہ داجی کے کہنے پر سامان.. لے آیا تھا.. اور وہی دینے.. وہ.. زنان خانے میں آیا.. تو… وہاں… تو کوی نہیں تھا اسے غصہ الگ آیا… تبھی وہاں سے نین گزری…
ایک فولادی نظر معاویہ پر ڈال کر… وہ.. وہاں سے طوفان کیطرح گزر گی.. معاویہ.. تو.. اس ادا پر محظوظ بھی نہ ہو سکا کہ.. اب.. وہ صرف لڑکی نہیں تھی احمر کی بیوی تھی…
اسنے.. سامان وہیں پٹخا.. ساری رات داجی کی جان.. بہرام نے برباد کی.. اور صبح ابھی آنکھ بھی نہ کھلی تھی.. داجی کے اڈرز آ گئے..
وہ ابھی پلٹتا.. کہ کوی گنگناتا.. ہوا… پیچھلے لون میں سے گزرا… معاویہ کو.. وہ گنگناہٹ.. بہت بھلی لگی مگر اگنور کرتا ابھی وہ آگے بڑھتا.. کہ.. وہ جو بھی تھی ہال میں آ گی….
اور اچانک معاویہ کو دیکھ کر.. اسکی چیخ نکل گئ…
معاویہ کے تیور بگڑے….
ایک تو نیند بہت آ رہی تھی.. اوپر سے وہ کوئ بھوت تھا جو اسکو دیکھ کر چیخ ماری جاتی..
اس سے پہلے وہ.. پری وہاں سے بھاگ اٹھتی.. معاویہ کی آواز نے اسکے قدم پکڑ لیے…
نام کیا ہے تمھارا "وہ سنجیدہ سا بولا…
انوشے… کا دم نکلنے لگا.. اسنے اچھی طرح خود کو دوپٹے سے ڈھانپ لیا…
کچھ پوچھا ہے میں نے زبان کرایے پر دی ہے" وہ پھر بولا.. مگر انوشے کے الفاظ حلق میں ہی دم توڑ رہے تھے جبکہ.. خوف الگ تھا.. ویسے ہی وہ حویلی کے مردوں سے خوب ڈرتی تھی…
بولتی ہو.. یہ…. تمھارا سر پھوڑوں" اسنے واس اٹھا کر.. انوشے پر جیسے ہی تانا….
بڑی بڑی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں جبکہ.. ان میں موٹے موٹے آنسو… ہاتھ کانپ اٹھے اور ہاتھوں کی کپکپاہٹ نے… اسکے ہاتھ سے.. نقاب چھڑوا دیا… معاویہ اس نو عمر کلی کو غور سے دیکھنے لگا….
جس کے چہرے کا ہر نقش اپنی مثال آپ تھا…
ماشاءاللہ "اچانک اسکے منہ سے نکلا…
اور واس سائیڈ پر رکھ دیا… لبوں پر مسکراہٹ.. آ گئ…
نام بتاو" مصنوعی بل ڈالے پوچھا.. خود سے خوف کھاتی وہ لڑکی اسے بہت اچھی لگی.. اندازاا تو ہو گیا تھا کہ وہ انوشے ہے.. کیونکہ.. نین سے چھوٹی.. وہی تھی.. اور.. حویلی کی سب سے چھوٹی.. لڑکی تھی.. اور اسکا چہرہ معصومیت چیخ چیخ کر یہ بات کہہ رہی تھی کہ وہ وہی ہے..
ان… نو شے"بمشکل بولی…
اٹک کیوں رہی ہو" وہ غصہ کرتا اسکے نزدیک ہوا… انوشے نے قدم پیچھے لیے… رونا الگ آ رہا تھا…
وہ بچوں کیطرح ہونٹ نکال کر سسکنے لگی..
یہ عادت اس میں اور ارمیش میں ہی تھی…
معاویہ "معاویہ نے اپنا تعارف کرایا.. انوشے نے چونک کر اسکو دیکھا..
معاویہ محظوظ ہوا….
اور پھر.. اسنے ارد گرد دیکھا.. اور.. اوپر دوڑ لگا دی جبکہ.. معاویہ ابھی اسے اپنی نظروں سے دور نہیں کرنا چاہتا تھا…
مگر وہ جا چکی تھی..
یہ بھی ٹھیک ہے.. بغل.. میں حسن پڑا تھا.. ہم شہر کے چکر لگایے نہیں تھکتے "وہ… بڑبڑا کر سر پر ہاتھ مارتا ہوا.. مردان خانے کی جانب چلا گیا..
گاڑی تیزی سے.. کالام کے راستے پر سفر کر رہی تھی جبکہ ارمیش… خاموش بیٹھی تھی اور حیدر کے لبوں پر.. مسکراہٹ تھی مگر وہ مسکراہٹ بلکل بھی واضح نہیں تھی…
آب سے گزرے پیچھلے چند گھنٹوں کو یاد کر کے.. اسکی… تکلیف کا احساس دوبالا ہو گیا تھا… اسے اپنا اپ جیسے اب بلکل بے کار لگا جیسے اسکی ضرورت اسکی.. اہمیت… کچھ نہیں تھی.. زندگی میں جینے کو…. پہلی بار اسنے لب کشائ کی… اپنے حق کے لیے وہ اسکے سامنے ڈٹی… جبکہ اسنے اسکو.. نئے سرے سے توڑ دیا… آج اسکے توڑنے میں بدلاو یہ..تھا کہ وہ آگ.. جو وہ چھپائے بیٹھا تھا اسکی رمق نہیں تھی…
آج کسی کی چاہت کو پورا کر دینے کا.. جوش تھا….
چند گھنٹے پہلے….
جب… روم میں دوبارہ کوی ڈاکٹر یا… حیدر خود بھی نہ آیا.. تو.. وہ.. اٹھ کر.. روم سے باہر آ گئ..
لوگوں کی بھیڑ میں وہ تنہا اسے ڈھونڈتی پھیر رہی تھی..
کیا وہ اسے چھوڑ گیا تھا..
مگر وہ کہاں گیا تھا.. وہ کیوں چلا گیا تھا….
اسے راستہ سجاہای نہیں دے رہا تھا
.. وہ کہاں جائے پہلے کبھی.. وہ.. یوں کب نکلی تھی گھر سے.. وہ سیدھی چلتی جا رہی تھی..
ایک بار پھر آنسو نکل آئے تھے.. ہونٹ.. بھی نکلنے لگے تھے.. وہ اسقدر معصوم لگ رہی تھی.. کہ کوئ بھی اسپر فدا ہو جاتا.. مگر وہ شخص تو آنکھیں بند کیے ہوئے تھا…
وہ.. چلتی چلتی باہر اگئ…
جبکہ… حیدر اب بھی نہیں دیکھا تھا.. ہوسپیٹل سے نکلتے ہی بہت بڑا لون تھا… وہ لون کے چارو اطراف دیکھنے لگی.. ابھی وہ.. بقائدہ رونا شروع کرتی کہ.. ایک کونے میں بنچ پر بیٹھے حیدر اور اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھی ایک لڑکی کو دیکھ کر وہ وہیں ٹھر گئ….
ستم پر ستم تھا…..
وہ حور تھی….
حالانکہ پہلے کبھی اسکو دیکھا نہیں تھا… مگر حیدر کی آنکھیں.. گواہی دے گئیں تھیں…..
نہ جانے اسکے قدم کیسے انکی طرف خود بخود اٹھنے لگے….
اور وہ حیدر کے سامنے جا کھڑی ہوئ… کسی گڑیا کی مانند جو… ریموٹ سے چلائ جائے…
سفید چادر کے حوالے میں سندھر معصوم سا مکھڑا دیکھ.. حور.. ایک پل کو.. چونکی….
ارمیش یوں ہی کھڑی تھی…
یہ… ہماری.. بیوی ہے ارمیش"اسنے کچھ اٹک کر اسکا تعارف کرایا…
حور مسکرا دی..
بہت پیاری ہے…" مگر مسکراہٹ میں جلن کا انثر واضح تھا….
تم سے زیادہ نہیں. "حیدر… نے اسکا ہاتھ تھاما…. حور نے حیرت سے ارمیش کو.. پھر حیدر کو دیکھا.. ارمیش اب بھی یوں ہی کھڑی تھی..
تم ادھر بیٹھو ہم آتے ہیں "حیدر… نرمی سے کہہ کر.. حور کو لے کر.. کچھ فاصلے پر چلا گیا…
ارمیش وہیں بیٹھ گئ.. اسکے کانوں میں حیدر کی آواز آ رہی تھی…
تم نے ہمارا انتظار نہیں کیا.." وہ تڑپ کر بولا تھا..
کیا تھا.. بہت کیا تھا مگر تم نہیں آئے "مقابل بھی شکواہ کناہ تھا…
اسنے انکی طرف نگاہ نہیں اٹھائ تھی.. وہ.. دل کی دھڑکنوں کا شور سن رہی تھی… جو اسے سمھجہ آ رہا تھا.. وہ حقیقت کے روپ میں نہیں دیکھنا چاہتی تھی…
کچھ دیر.. وہاں سے آواز نہیں ای…
برحال جو گزر گیا.. اسکو بدلہ نہیں جا سکتا… ہمارے راستے جدا ہیں صرف تمھاری وجہ سے…. "وہ رکی کچھ دیر کے لیے…
تم اپنی بیوی کے ساتھ خوش رہو…" اسکی پھر سے آواز آئ مگر آنسوؤں کے ساتھ..
کس نے کہا ہے ہم خوش ہیں خوش ہوتے تو اپنے بچے کے ساتھ ایسا نہ کرتے دو سال… گزر گئے ہمیں اسی کشمکش میں…
اور تم ہمیں کہہ رہی ہو.. کہ اب تمھارے ملنے کے بعد بھی ہم پیچھے ہٹیں ناممکن.. ایسا کبھی نہیں ہو گا.. حور تم پہماری ہو.. "
ارمیش.. کا دم گھٹنے لگا…. کتنا پیار تھا اسے اس سے..
کوئ.. اتنا… ظالم کیسے ہو سکتا ہے….
کیا وہ اس سے دور نہیں جا سکتا تھا.. وہیں اسکے پاس کھڑے ہو کر.. وہ کسی ورق کی طرح.. اسکو پھاڑ رہا تھا… بے رحمی سے…
تمھاری بیوی پاس ہی ہے" حور جزبز ہو کر بولی…
وہ صرف بیوی ہے.. اور تم ہمارا چین سکون.. ہماری محبت.. ہمارا عشق ہو" حیدر.. کی آواز میں جان لیوا…. مان تھا… یقینی طور پر حور کو.. اپنا آپ خوشقسمت لگا تھا….
حیدر… ہم ایک نہیں ہو سکتے"وہ پھر بولی… ارمیش… نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام لیا….
اسے چکر آنے لگے تھے طبعیت… جیسے نڈھال ہو گئ تھی…
ہم ایک ہو سکتے ہیں تم ہم پر سب چھوڑ دو…." وہ پھر بولا..
میں ماں نہیں بن سکتی "حور جھنجھلای…
مجھے فرق نہیں پڑتا… کیونکہ ہم باپ بن رہے ہیں …. "یعنی فیصلہ ہو گیا تھا.. اسکا ڈر سامنے تھا.. ارمیش نے سرخ آنکھیں کھولیں….
ہاں ہمارا بچہ تمھارا بچہ ہی تو ہے… تم نے.. صرف ایک بچے کے لیے اپنا کیا حال کرلیا….
تم ہی اسکی ماں ہو…. وہ ہمارا بچہ ہو گا" اسنے بڑی چاہت سے.. جیسے.. اسکو.. سکون اور ارمیش کو بے سکون کیا تھا…
مگر تمھاری بیوی" حور.. بھی خودغرضی کی انتہا پر تھی..
اسے کوئ مسلہ نہیں… فکر مت کرو "حیدر… کا لہجہ سرد تھا…
حور نے شاید اسے بے یقینی سے دیکھا تھا.. ارمیش.. کو انکے قدموں کی چاپ.. اپنے نزدیک محسوس ہوئ…
اور.. وہ دونوں اسکے.. سامنے آ کھڑے ہوئے…
ارمیش کی نگاہ انکے ہاتھوں پر ٹھر گئ جو حیدر نے تھام رکھے تھے….
خانم… یہ بچہ… ہمارا ہے.. ہم اس کے بارے میں فیصلے کا پورا اختیار رکھتے ہیں… کوئ. مسلہ تو نہیں "اسنے پہلی بار.. اسسے سوال کیا تھا اسکی مرضی اپنا اختیار دیکھا کر پوچھی تھی…
ارمیش نے حیدر کیطرف دیکھا…
میں اپنا بچہ کسی.. ایرے گیرے کو نہیں دوں گی سائیں….
اس سے بہتر ہے.. مروا دیں آپ" وہ سنجیدگی سے ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولی….
حیدر… حیرانگی سے.. اسکے لہجے کی مظبوطی.. اور اسکی اتنی زبان درازی دیکھنے لگا….
حور نے طنزیہ نظریں حیدر پر ٹکائیں..
اور حیدر کی مردانگی نے بھرپور جوش مارا تھا….
اسکی محبوبہ کے سامنے اسکی بیوی نے اسکی ولیو ٹکے کی کر دی تھی…
ایک لمحہ.. صرف ایک لمحہ لگا تھا… اردگرد بیٹھے کئ لوگوں نے.. ارمیش کے منہ.. ہر چھاپ چھوڑ دینے والے طمانچے کی گونج سنی تھی.. مگر ارمیش اپنی جگہ سے ٹس مس نہیں ہوی..
حور کو ایک گو نا گو سکون ملا.. اسنے.. اسکی خامی.. پر ٹونٹ کیا تھا…
خانم یقین مانو ہمیں یقین نہیں آ رہا "حیدر نے اسکا.. منہ جکڑا.. ارمیش اسی طرح بے تاثر رہی..
تمھیں تو ہم اچھے سے بتائیں گے" وہ اسکی آنکھوں کی بغاوت.. کو اگنور کرتا حور.. کی جانب لپکا جو اس سے جان چھڑا کر.. جا رہی تھی..
حور… "حیدر بولا…
ارمیش دھندلائ آنکھوں سے اسکو دیکھنے لگی..
تمھاری بیوی نے میری بےعزتی کی ہے… "حور چیخی لوگ تماشہ دیکھ رہے تھے…
وہ بچہ تمھارا ہے….
یہ وعدہ ہے ہمارا.. اور اسنے جو کیا.. اسکا سبق… اسکو بہت سخت ملے گا.. تم پریشان مت ہو.. چلو ہم تمھیں گھر چھوڑ دیتے ہیں …" اسنے.. کہا.. تو… حور… اپنے زمیر.. کی جائز آواز کو دباتی بہت کچھ سوچتی.. حیدر کے ساتھ ہو لی.. جبکہ ارمیش نے.. اگلے ڈیڈ گھنٹے حیدر کا اسی بینچ پر بیٹھ کر انتظار کیا.. اس تھپڑ نے اسکا ہونٹ پھاڑ دیا تھا لوگ تاسف سے کچھ پل اسے دیکھ کر ادھر ادھر ہو لیے.. جبکہ وہ.. بے حس و حرکت تھی.
ڈیڈ گھنٹے بعد وہ اسے کھینچتا ہوا اپنے ساتھ گاڑی میں لے آیا…
بہت زبان کھل گئ ہے
میری حور کو تانا دو گی.. تم تم… "بیٹھتے ساتھ ہی.. محاسبہ شروع ہو گیا تھا…
اسنے.. دو تھپڑ مزید رکھ دیے.. ارمیش… یوں ہی بیٹھی رہی.. شاید اسکے جزبات مر چکے تھے.. اسے تکلیف نہیں ہو رہی تھی….
وہ اپنی بھڑاس اسپر اچھے سے نکال کر.. اب باقی حساب گھر.. جا کر لینے پر وارن کرتا… کالام کے راستوں پر ہو لیا تھا…
لیکن وہ شاید بے خبر تھا.. اب وہ… پرانی ارمیش کو دفن کر کے.. نئ ارمیش کو ساتھ لے جا رہا تھا….
جو جلد ہی اسکی ہمتیں توڑ… دینے والی تھی… اسکو خبر ہونے تک….
……………….
احمر.. کو نین کی دھمکی سے نہ چاہتے ہوئے بھی خوف آ رہا تھا..
یہ تو اسے کچھ ہی دنوں میں پتہ چل گیا تھا کہ وہ شدید جزباتی لڑکی ہے.. اور اپنا کہا پورا کرنے کو کسی بھی حد تک جا سکتی ہے.. تبھی.. وہ.. داجی کے کمرے کیطرف بڑھا.. اس سے پہلے… کوئ غلط قدم اسے داجی کی بندوق کا نشانہ بناتا… ایسا نہیں تھا.. وہ.. کسی سے ڈرتا تھا… اس کی تربیت داجی نے کی تھی…
اور… یہاں کوئ کسی سے ڈر تا نہیں تھا.. اپنی من مانی عام تھی مگر… داجی.. کا کنٹرول سوائے بہرام کے سب پر تھا…
اسنے دروازہ کھٹکھٹایا….
تو اندر سے.. اندر آنے کی اجازت ملی.. اور وہ اندر آ گیا….
سلام داجی "اسنے سلام کیا تو داجی نے.. اسکی جانب دیکھ کر سر ہلا کر سلام کا جواب دیا…
وہ بہت کم انکے پاس آتا تھا…
ان کے لیے.. یہ چونکنے کی بات تو تھی مگر.. انھیں اپنے تصورات پر کمال کنٹرول حاصل تھا…
داجی… وہ میں" اسنے بولنا شروع کیا.. تو وہ.. ساری توجہ اسکی جانب مرکوز کر گئے..
کیا کہنا چاہتے ہو خان.. کھل کر کھو.. عورتوں کی طرح اٹکنا نہیں سکھایا ہم نے تمھیں" وہ کڑے لہجے میں بولے تو اسنے تھوک نگلا..
داجی میں رخصتی کے بعد… حویلی میں نہیں رہنا چاہتا…
میں میں.. خود.. اپنے قدموں پر کچھ کرنا چاہتا ہوں.. اور نین خانم کو.. بھی…
بس.." داجی.. کی دھاڑ پر وہ تقریباً اچھلا ہی تھا…
آخر کو اسکو پالا تھا وہ جانتے تھے.. کون کیا ہے…
کس کی زبان بول رہے.. ہو.. احمر خان…. اس بدزات کی اتنی جرت.. کے وہ مردان خانے میں تم سے ملنے.. اور یہ درس دینے پھنچ گئ" وہ چنگھاڑے.. احمر.. تو شاکڈ رہ گیا.. انھوں نے کتنا پرفیکٹ انداز لگایا تھا..
ایسا نہیں ہے داجی.. یہ میری اپنی خواہش ہے… مورے.. اور نین میری زمہداری ہیں اور میں.. انھیں نبھانا چاہتا ہوں" وہ مظبوط لہجے میں انکی بات کی نفی کرنے لگا..
تین سال کے تھے خان.. جب ہماری گود میں آئے….
تب.. سے.. ہماری آنکھوں کے سامنے ہو… ہمیں یہاں رہنے والے ہر فرد کا پتہ ہے.. کہ وہ کتنے پانی میں ہے…
آج سے پہلے تو نہ سوچا یہ سب… پھر آج یہ خیال اچانک.. آ گیا… احمر سائیں.. ہمارے ساتھ سیاست نہیں چلے گی.. اس گستاخ لڑکی…. کا ہم حشر بگاڑ دیں گے.. "وہ غصے سے بولتے اٹھے….
داجی.. داجی.. کہاں جا رہے ہیں" احمر پریشانی سے انکے پیچھے لپکا مگر انھیں روکنا اسکے بس میں نہ تھا….
عظیم خان.. "داجی.. مردان خانے کے ہال میں للکارے…
جی… بابا سائیں" وہ فورا انکے قریب… ہوے…
سن لو اپنی بیٹی.. کے کرتوت….
احمر خان کو.. حویلی چھوڑنے پر اکسا رہی ہے" وہ غرایے.. رفتہ رفتہ سب ہی باہر نکل آیے.. اور اس بات پر سب کے منہ کھل گئے…
معاویہ کا دل کیا نین کو ٹروفی دے آئے.. بھئ… کیا لڑکی تھی…
مگر احمر.. حویلی چھوڑتا یہ تو کسی کو منظور نہیں تھا…
عظیم خان نے کچھ دیر خود پر قابو پانے کی کوشش کی اور پھر زنان خانے کیطرف.. چل دیے داجی بھی ساتھ تھے.. جبکہ احمر… کو.. اپنی سب سے بڑی غلطی کا احساس ہو گیا…
اس سیلاب پر بندھ بس ایک انسان باندھ سکتا تھا… وہ بہرام کے کمرے کیطرف بڑھا…. جبکہ معاویہ بھی اسکے پیچھے ہوا..
…………..
نین خانم کو بولاو…. پوچھ ہی لیں اس سے اتنی نیچ تربیت کی ہے.. تم نے.. اسکی… خانم کے وہ مردان خانے میں منہ اتھا کر.. پہنچ جاتی ہے… اور احمر خان کو حویلی چھوڑنے پر اکسا رہی ہے "عطیم خان… اپنی بیوی.. پر داھارے.. شاید ان سب کا زور بس اپنی عورتوں پر چلتا تھا.. جبکہ وہ سب مرد ایک دوسرے کے لیے لڑنے مرنے تک کو تیار تھے…
انوشے اور نیہا.. تو کچن کی اوٹ میں چھپ گئیں آج پھر نین کی وجہ سے عدالت لگی ہوی تھی باقی.. سب بھی ھیران حونک تھیں.. جبکہ پھوپھو… کی آنکھ نم ہوئ تھی…
بی جان بھی ورطہ ھیرت تھیں…
داجی کے حکم پر درخنے… نین کے کمرے کیطرف دوڑی.. آج.. وہ اس لڑکی کا دماغ درست کر دینا چاہتے تھے…
درخنے کو پریشان حال دیکھ کر.. نین کو جو خود بھی دروازے سے کان لگائے سن رہی تھی.. ڈر.. گئ… نہ جانے کیا ہونے والا تھا.. احمر کو تو وہ کچا چبا جائے گی اگر وہ زندہ بچی تو..
خود کو چادر میں ڈھانپ کر.. وہ سستی سے.. نیچے آئ….
اور… خوف سے لرزتے ہوئے… اپنے باپ دادا کو دیکھا.. جو… اسکو مار دینے کے در پر تھے…
تمھاری اتنی جرت.. خانم.. اس عمر میں میرے پگڑی کا خیال بھی بلایے تاق رکھ دیا ہے تم نے "عظیم. خان.. چلائے.. تو نین ایک پل کو سہم گئ.. مگر.. پھر اسکے اندر چھپی باغی لڑکی نے انگڑائ لی…
آپ نے.. بابا سائیں ہونے کا حق ادا کیا تھا…." وہ… سرخ آنکھوں سے.. انھیں دیکھتی بولی… تو عظیم خان اپنا آپا کھوتے.. اسپر جھپٹتے کے احمر بیچ میں آ گیا.. نین.. نے.. اسکی قمیض کو پیچھے سے جکڑ لیا…
وہ ڈر.. گئ تھی..
بیوی ہیں یہ میری.. اور کوئ انپر ہاتھ اٹھانے کا حق نہیں رکھتا….
" وہ اٹل لہجے میں بولا.. تو.. عظیم خان سمیت داجی نے بھی اسے گھورا…
تم.. ہمارے سامنے.. زبان درازی کرو گے" داجی… نے احمر کا گریبان پکڑا… جو… سر جھکا گیا تھا کہ داجی کے سامنے.. وہ بدتمیزی نہیں کرنا چاہتا تھا.. مگر نین کو.. بیچ چوھرایے پر چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا…
داجی…" بہرام… نے انھیں پکارا.. داجی احمر کی اس چلاکی پر.. بل کھا کر رہ گیے جبکہ. اسکا گریبان چھوڑنے پر.. احمر کے لب معمولی سے مسکرائیے.. جسے داجی نے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا…
اور مڑ… کر… بہرام کو.. دیکھا.. جو… رف سے.. ٹراوزر شرٹ.. میں . معاویہ کے ساتھ کھڑا تھا…
یار آپکو میری نیند پیاری نہیں ہے "وہ چیڑتا ہوا بولا…
یہ تم سب لوگ زنان خانے میں کیا کر رہے ہو" داجی نے.. باقی سب کو گھورا.. اور پھر اھحمر کو بھی جو… نین کا ہاتھ چھوڑ کر.. وہاں سے نکلتا چلا گیا…
بہرام اب بھی تیور بگاڑے وہیں کھڑا تھا….
دادا کی جان.. جاو سو جاو… "انھوں نے.. اسکے ماتھے پر بوسہ دیا.. تو… وہ بھی.. وہاں سے چلا گیا.. جبکہ ایک سخت نظر نین پر ڈال کر وہ وہاں سے نکل گئے…
عظیم خان بھی.. وہاں سے نکل آئے جبکہ بی جان نے…
نین.. کو پکڑا.. اور اپنے کمرے میں لے گئیں…
جبکہ اسکی نظر اپنی روتی ہوئ مورے پر تھی جن کو باقی سب سمبھال رہے تھے..
آج اسے دکھ ہوا تھا…. اسکی وجہ سے… اسکی مورے کو کیا سنا پڑا… تھا..
……………..
رات گئے نیند پوری کر کے وہ اٹھا….
اور.. انٹرکام پریس کیا.. تو منیبب کمرے میں آیا….
سائیں کھانے کو لاو کچھ "اسنے پوچھا..
ہاں کھانا داجی کے کمرے میں لگا دو وہیں کھاو گا."اسنے کہا تو منیب وہاں سے چلا گیا.. جبکہ.. اسنے معاویہ کو میسیج کیا…
رات چلنے کا "اور آٹھ کر.. نیک سیک سے تیار ہو کر.. وہ.. پندرہ بیس منٹ میں.. داجی کے کمرے میں تھا..
بغیر اجازت طلب کیے.. وہ اندر داجل ہوا… تو.. داجی نے مسکرا کر اسکو دیکھا..
آو.. میرے شہزادے.." انھوں نے… دونوں بازو پھیلائے.. تو.. بہرام ان میں سما گیا.. جبکہ اسی وقت.. دروازہ نوک کر کے معاویہ بھی اندر آیا.. اور مسکرا کر.. انکو سلام کیا…
داجی میرے اکاونٹس خالی ہیں" بہرام.. نے کہا.. تو داجی نے. حیرت سے اسے دیکھا.. ابھی کچھ دن پھیلے.. تو.. پچاس لاکھ ٹرانسفر کراے تھے مگر… کوی سوال کیے بغیر انھوں نے.. اپنے خاص آدمی کو.. فون گھمایا…
بہرام.. خان کے اکاونٹ میں.. ایک کروڑ…
نہیں دو" وہ بیچ میں بولا… تو داجی… کا سیرو خون بھڑا…. اپنی بات تو وہ جیسے ڈنکے کی چوٹ پر منواتا تھا…
تین کروڑ ٹرانسفر کر دو" انھوں نے کہا تو… وہ خوشی سے انکی طرف دیکھنے لگا..
جیو سرکار "وہ اپنے مخصوص لہجے میں دادا دینے لگا…
تو دونوں ہی کھل کر ہنسے…
داجی یہ. کرم نوازی کبھی ہم ہر بھی کر دیا.. کریں"وہ شکواہ کرنے لگا…
معاویہ سائیں… محنت کا پھل بہت میٹھا ہوتا ہے.. کر کے.. دیکھو زرا "داجی نے.. کہا تو.. معاویہ اس دہرائے پر منہ بسور ے لگا..
ہاں.. جی اس.. نے تو.. سارے محنت کے پیڑ لگائے ہوئے ہیں "
یو جیلس" بہرام کا قہقہ داجی کے سینے میں ڈھنڈ ڈال گیا….
جبکہ معاویہ نے.. منہ پر ہاتھ پھیرہ…
خان…. ایک جلسہ کرنا ہے…. شہزادے کچھ وقت دو" داجی کچھ یاد آنے پر بولے.. بہرام منہ بسور گیا…
میرا بچہ.. بس.. دو گھنٹے کی تو بات ہے.. سب تیار ہے. بس تم نے بولنا ہے… میری جان دادا کے لیے.." وہ اسکو ایسے پچکار رہے تھے.. جیسے وہ. کوئ.. دو سلا کا بچہ ہو….
بہرام.. نے.. حامی بھر.. دی…
کب.. ہے "
پرسو" انھوں نے کہا.. تو وہ سر ہلا گیا..
چلو معاویہ سائیں آج پھر جلدی انا پڑے گا.. نیند بھی پوری کرنی ہے. ورنہ دن کو ہم سوتے رہ جائیں گے.. داجی کے جلسے کا کیا بنے گا "وہ ہنستا ہوا اٹھا..
کھانا تو کھاو.." داجی نے ٹوکا..
نہیں داجی…. ہم اپنے سرکار کے ہاتھوں کھائیں گے"وہ آنکھ دباتا… باہر نکلا جبکہ.. داجی کا چہرہ اچانک سنجیدہ ہوا.. معاویہ بھی پل میں نکلا کبھی اس سے سوال جواب نہ شروع ہو جائیں…
……………..
ایک بار پھر اسی.. طرح… گاڑی.. اس کے گھر کے سامنے روکے.. وہ… شراب کی بوتل لبوں سے لگائے.. سرخ آنکھوں سے.. اس چھوٹے سے گھر کو دیکھ رہا تھا..
معاویہ سائیں لگتا ہے. سرکار ڈر گئے ہیں "وہ سنجیدگی سے بولا…
معاویہ.. نے اسکیطرف دیکھا…
اس سے کیا فرق پڑتا ہے" وہ شانے اچکا گیا.. اتنا تو معلوم ہو ہی گیا تھا.. کہ وہ. ریپوٹر کے پیچھے پڑا ہے.. مگر اس کے دل کی بے چینی تک ابھی نہیں پھنچ پایا تھا.. کہ اسے.. یہ سب فلرٹ لگ رہا تھا…
ایسے نہیں سائیں مزاہ نہیں آتا جبکہ تک… وہ ٹکر کا مقابلہ نہ کریں" وہ آب بھی سنجیدہ تھا…
اوو بھائی.. میں کلب جا رہا ہوں.. جب تو. اپنے.. سرکار سے فارغ ہو جاے تب.. بتا دینا.."
معاویہ عاجز آیا..
بیٹے گاڑی.. یہیں چھوڑ پیدل چلا جا "بہرام بھی آخر بہرام تھا..
بوتل اسپر اچھال کر وہ چابی نکالتا… آگے بڑھ گیا جبکہ معاویہ اسے پیچھے سے زبردست گالیوں سے نواز رہا تھا…
پھر اسی طرح چوروں کے مافق.. وہ.. عابیر کے گھر میں گھس آیا…
اور.. دوبارہ… انھیں راستوں سے ہوتے…
وہ اس کمرے تک.. اور پھر اس بیڈ تک پہنچا… مگر.. وہ بیڈ خالی تھا…
مکھن واقع ڈر گیا ہے "وہ محظوظ ہوا.. اور دوسرے بیڈ پر دیکھا جہاں… کوئ نہیں تھا.. اسے کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا…
تو وہ دوسرے کمرے میں گیا.. جہاں.. وہی سنگل بیڈ تھا.. اور دو لوگ تھے.. پھر عابیر کہاں تھی..
اسی کشمکش میں دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسنے پورا گھر چھان مارا.. میٹر شاٹ ہونے لگا.. اور… وہ دندناتا ہوا… اس کمرے میں گھس گیا. اور سوئچ بورڈ پر ہاتھ مارا….
تو کمرے میں روشنی پھیل گئ..
سب سے پہلے اکبر صاحب کی آنکھ کھلی.. اور اس سے پہلے وہ سمبھلتے.. اسنے انکا گریبان جکڑ لیا
..کون ہو تم "وہ خوف زدہ ہوے ..
تیری بیٹی کا یار…. کہاں ہے وہ.. جلدی بول" وہ بنا لحاظ کے اپنا آپا کھو چکا تھا.. اکبر صاحب.. ھیران و پریشان.. سے اس نوجوان.. سرخ آنکھوں والے لڑکے کو دیکھنے لگا…
عابیر کہاں ہے"وہ چلایا.. تو.. مقابل لیٹی عورت بھی اٹھ گی.. اور ھیرت اور خوف سے اسکی چیخ نکل گی جس پر بہرام نے توجہ نہ.. دی..
وہ. اپنی. نانی کے گھر ہے. پیچھلے ایک ہفتے سے" اکبر صاحب نے.. اسے بتایا.. تو. وہ انھیں جھٹک کر.. سر میں ہاتھ پھیر کر رہ گیا..
سن میری بات…. اسے فورا.. بولا…. کل اگر.. عابیر یہاں نہ ہوئ.. تو اس پوری صابن دانی میں آگ لگا دوں گا.. سمھجا" اسے جھٹکا دے کر.. وہ.. پلٹا.. جب وہ ہی نہیں تھی تو وہ اس گھر میں کیا کرتا.. وہ پلٹ گیا.. مگر ابھی کالام جانے کا ارادہ نہیں تھا.. جب تک وہ اس سے مل نہ لیتا…
جبکہ اکبر.. صاحب… نے فورا… پریشانی سے.. عابیر کو فون ملایا تھا.. جبکہ.. مما رونے لگی تھی کچھ سمھجہ نہیں آ رہا تھا کیا ہو رہا ہے..
اور اس پہیلی کو عابیر ہی حل کر سکتی تھی…….
…………………..
تھینکیو معاذ "عابیر نے مدھم سی سمائل دی تو.. معاز نے دل پر ہاتھ رکھا..
تم پریشان تھی تو میں کیسے نہ تمھاری پریشانی ختم کرتا…
اوپر سے تم شییر بھی نہیں کرتی پھر مجھے لگا تم فیڈپ ہو اسی لیے تمھاری چھٹیاں لے کر.. میں تمھیں یہاں لے آیا" اسنے تفصیلی کہا تو عابیر کو وہ رات یاد آ گی.. جسے وہ سوچنا نہیں چاہتی تھی..
اس دن کے بعد اسکی طبعیت پریشانی لے لے کر کافی خراب ہو گئ تھی اور جب معاذ کو پتہ چلا تو.. وہ اسے.. نانی کے گھر لے آیا…
یہاں پرسکون ہوں میں" اسنے جیسے.. لہلہاتے درختوں کی ٹھنڈک کو محسوس کیا..
میں بھی" معاذ.. نے گھمبیر لہجے میں کہا.. تو.. عابیر اسکو ایک نظر دیکھ کر رکھ پھیر گئ..
تبھی اسکا فون بجا..
بابا نے اس وقت کیوں کال کی"اسنے جلدی سے فون پیک کیا..
ریہا.. اور تم کل فورا گھر او" انھوں نے سخت لہجے میں کہا..
بابا"وہ تو انکے سخت لہجے پر حیران تھی.. کہ انھوں نے اگلی بات سنے بغیر فون بند کر دیا..
کیا ہوا" معاذ نے پوچھا..
پتہ نہیں.. بابا"وہ.. پریشانی سے موبائل دیکھنے لگی… آنکھیں بھی بھیگ گئیں تھیں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا
ریلکس.. میں کل تمھیں وہاں چھوڑ دو گا.. جاو سو جاو"اسنے تسلی دی تو وہ سر ہلاتی چلی گئ مگر ساری رات نیند نہیں آنی تھی وہ جانتی تھی
اسکی آنکھ کھلی تو کمرے میں حیدر کی آواز گونج رہی تھی…
تم کس چیز کی فکر کر رہی ہو حور جب ہم ہیں تمھارے ساتھ… تو کچھ نہیں ہو سکتا… بس… تم.. کچھ دن ریسٹ کرو… تمھارے ماں باپ نے تمھارے ساتھ زیادتی کی ہے…
اگر کوئ اور ہوتا تو بچتا نہ ہم سے….
ابھی تمھیں… آرام کی ضرورت ہے…. باقی ساری فکریں مجھے دے دو.. میں جانتا ہوں آگے کیا کرنا ہے… "وہ اسے تسلی دے رہ اتھا.. مگر ارمیش کو.. اتنا سا بھی فرق نہیں پڑا… وہ… اٹھی اور بال باندھ.. کر… واشروم کی جانب برھ گئ.. حیدر نے چونک کر اسکیطرف دیکھا.. حیدر کی اجازت کے بغیر تو اسے بستر سے اٹھنے کی… اجازت تھی ہی نہیں…
ہاں حور ہم نے پیسے بھی بھیجا دیے ہیں… کیوں رو رہی ہو.. اب.. یار.. "اسنے.. ارمیش.. پر دو حرف بول کر حور پر توجہ دی…
ہم کمرے میں ہوں" مسکرا کف بتایا گیا.. تب تک ارمیش بھی ہاتھ منہ دھو کر آ گی تھی.. اور اب.. ڈریسر کے سامنے کھڑی اپنے لمبے بالوں کی چوٹیا کھول رہی تھی….
حیدر.. اسکے لمبے بالوں کو دیکھ رہا تھا.. جو سنھری ہونے کے ساتھ ساتھ ریشم کی مانند تھے… اور کمر سے.. نیچے تک جاتے تھے…
ہم ہاں"چونک کر وہ پھر فون کیطرف متوجہ ہوا.. ارمیش نے.. اسپر.. ایک غلط نظر ڈالنا بھی گورا نہیں کیا…
بال بنا کر.. اسنے تھوڑا سا میکپ کیا.. آج اسکی ہر ادا حیدر کو پیچھلے دنوں سے الگ لگی.. وہ کبھی میکپ نہیں کرتی تھی.
لباس بھی.. خوبصورت زیب تن کیا ہوا تھا جبکہ اب وہ چوڑیان چڑھا رہی تھی… جبکہ چہرے… کے تصورات پر.. سکوت تھا…
ایسا سکوت جیسے… مرنے کے بعد…. چہرہ.. بے حس بے رحم نظر آتا ہو… جو دوسروں کے لیے.. کچھ نہ کرنے کی رعایت نہ رکھتا ہو…
اوکے ہم.. شہر.. کے لیے.. پندرہ منٹ میں نکلیں گے"اسنے کہ کر فون بند کیا.. جبکہ حور ابھی بول رہی تھی…
وہ اٹھا.. اور اسکے پیچھے جا کھڑا ہوا…
کل مارے گئے تھپیڑوں کے نشان کو اسنے میکپ سے چھپا لیا تھا…
حیدر کے پیچھے کھڑے ہونے پر نہ اسکے چہرے پر شرم تھی نہ.. خوف.. نہ اسکی.. پلکیں گیرنے اٹھنے لگیں تھیں…
حیدر.. کو یہ سب.. بہت برا لگا.. تبھی.. اسنے.. ارمیش کی سرخ چوڑیوں سے سجی کلائ.. کو.. پکڑ کر اسکی کمر پرلگا دیا جبکہ چہرے پر حد سے زیادہ سختی تھی..
خانم نکھرے کس بات کے… "وہ پھنکارہ ارمیش سر جھکایے کھری رہی.. اسکی کلائ میں چوڑیاں ٹوٹ کر چبھنے لگیں تھی گر چہرے پر معمولی سا بھی تکلیف کا انصر نہ تھا.. حیدر اسکو گھورتا رہا.. کلائ کو مزید موڑ دیا.. ارمیش کو لگا.. اسکا.. ہاتھ ٹوٹ جائے گا…
بے تاثر چہرے پر.. آنسوں نے لکیر باندھ لی…
جبکہ پلکیں جھکیں ہوئیں تھیں…
جو ہو وہی رہو… حور سے تو ہم شادی کریں گے… مگر تمھیں.. چھوڑنے کا سوال نہیں ہے… حور.. ہمارا مسلہ ہے.. اور ہم تمھارے… آج کے بعد یہ ادائیں دکھائیں تو ہم. پہلے ہی بہت برے ہیں یاد ہو گا تمھیں.. "اسنے جھٹکے سے اسکو چھوڑا…
ارمیش.. نے اپنی زخمی کلائ.. کو بس ایک نظر دیکھا.. اور دوپٹہ درست کر کے… وہ.. چپ چاپ باہر کی جانب ہو لی….
حیدر کا خون کھول اٹھا.. اس سے پے وہ کمرے سے نکلی تھی.. اسکی بات کا جواب نہیں دیا تھا.. تیار وہ کس کے لیے ہوئ تھی ج. ایک نظر بھی اسکیطرف نہیں دیکھ رہی تھی..
وہ اپنی شامت کو خود بولا رہی تھی…
حیدر نے.. حور کو سوچتے ہوئے… ارمیش… کو بعد پر ڈال کر وہ تیار ہونے چل دیا….
حور سے ملنے کی خوشی نے جلد ہی ارمیش کو بھلا دیا تھا…
…………………
ساری رات گاڑی میں گزار دی تھی معاویہ تو سو گیا تھا جبکہ وہ پوری رات… ڈرنک کرتا رہا… اسکی غیر موجودگی نے…. دل و دماغ کو جیسے جلتی بھٹی میں سلگا دیا تھا…
دن کا سورج پہلی بار اپنی آنکھ سے نکلتا دیکھا… پھر.. آہستہ اہستہ یہ جان لیوا وقت گزرتا رہا…. اور… دوپہر ہونے کو آئ.. کالام میں تو یہ موسم اتنا…. شدید نہیں لگتا تھا.. جتنا شہر میں آ کر گرمی کا احساس ہوا.. ویسے اس انسان کو.. پتہ بھی کیسے چلتا.. جو راتوں کو جاگ کر پورا دن.. اپنی نیند پوری کرتا ہو…
وقت سرکتا جا رہا تھا.. اسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا…
ساری بوتلیں جو اسکی گاڑی میں تھیں وہ بھی ختم ہو گئ تھی…
اسکا دماغ بھنا چکا تھا.. معاویہ کو سکون سے سوتا دیکھ.. اسنے.. اسکے بازو پر زور سے مکہ.. مارا.. تو وہ بلبلا کر اٹھ گیا….
یہاں.. سونے کے لیے ساتھ لایا تھا "بہرام نے سنجیدگی سے پوچھا.. اسکی آنکھوں میں پوری رات جاگنے کا خمار تھا… جبکہ لہجہ… معمولی س لڑکھڑا رہا تھا.. اور یہ پہلی بار ہی تھا شاید کے وہ.. ڈرنک کی اس قدر مقدار کے بعد.. لڑکھڑا رہا تھا. مگر حواس اب بھی قابو تھے……
معاویہ نے.. منہ پر ہاتھ پھیرہ اور الرٹ ہوا… معملہ تو حد سے زیادہ ہی سیریس لگ رہا تھا..
تم.. سوئے نہیں… "اسنے سوال کیا… بہرام نے جواب نہ دیا..
چلو" وہ گن نکال.. کر… گاڑی سے اترا…
بہرام.. مسلہ کیا ہے بتاو گے"معاویہ اسکے پیچھے ہوا…
وہ غائب ہے گھر پر نہیں ہے کہاں ہے وہ… نہیں پتا مجھے….
اور جب وہ میری نظروں سے دور ہے میں سکون سے کیسے سو جاو…." وہ چلایا…..
معاویہ نے اسکا بازو پکڑنا چاہا… مگر.. اسنے.. ہاتھ جھٹکا.. اور.. دوبارہ اس گھر میں داخل ہو گیا…
دروازہ اندر سے.. لوک تھا… بہرام.. کا چہرہ سرخ ہو گیا.. اور اسنے.. لاتے.. مار مار کر.. اس دروازے کو توڑنے کا احد کر لیا.. معاویہ کو سمھجہ نہیں آ رہا تھا کیسے روکے اسے.. ماحلے کے لوگ بھی جمع ہونے شروع ہو گئے.. چیما گویاں شروع ہو گئیں تھیں.. تبھی دروازہ کھلا….
اکبر صاحب کے رونگ اڑ چکے تھے.. ماحلے میں بدنامی… الگ تھی..
کہاں ہے تیری بیٹی بول جلدی"اسنے اسکا گریبان پکڑ جر جھنجھوڑ ڈالا…
وہ وہ.. آ رہی ہے" اکبر صاحب بولے تو.. وہ سر ہلا کر انھیں جھٹک گیا….
لوگ گھر میں جمع ہو رہے تھے…
اکبر صاحب کی بیگم.. کا رو رو کر برا حال تھا جبکہ وہ.. خود بھی پریشان حال تھے….
بہرام.. نے اب لوگوں پر توجہ دی تو.. بلا دھڑک.. اوپر ہاتھ کر کے… فائر کھول دیے…
گالی سالون نکلو یہاں سے "وہ دھاڑا.. لوگ.. باہر نکلے جبکہ خواتین کی سرگوشیاں سنے لائق تھی…
لگتا ہے بیٹی کا معملہ ہے ہائے توبہ.. کسی کی ایسی اولاد نہ ہو….
خاک ڈلوا دی باپ کے سر پر" اکبر صاحب کے لیے یہ سب جان لیوا تھا جبکہ بہرام سمیت معاویہ کو بھی.. رتی بھی فرق نہ پڑا…
وہ اندر لاونج میں صوفے پر ٹانک پر ٹانک رکھ کر بیتھ گیا.. بے چینی الگ تھی….
کچھ دیر مزید انتظار کی سولی پر لٹکا پڑا…
اور.. دروازہ بجا.. بہرام یون ہی مٹھی بھینچے بیٹھا رہا.. جبکہ معاویہ بھی بیتھا تھا…
کچھ ہی دیر میں اسکی آواز سنائی دی.. جبکہ اسکے.. ساتھ کوئ لڑکا بھی تھا.. لونج سے باہر صحن کا منظر نظر آ رہا تھا.. عابیر نے مان باپ کو دیکھا.. دونوں کی ہی آنکھیں نم تھیں…
تمھارا عاشق آیا ہے "مما کی انگاریں چباتی آواز پر وہ چونکی.. اور پھر سب سمھجہ آنے لگا.. معاذ حیران سا… دیکھ رہا تھا.. جبکہ ریہا.. بھی.. ایسے ہی دیکھ رہی تھی..
وہ دونوں آگے سے ہٹے جبکہ عابیر کو وہ سودے پر پوری شان سے بیٹھا دیکھا…. اسکے پاوں کانپے تھے….
……………………
وہ ایک لمہے کہ لیے سن رہ گئ مگر اگلا لمہہ.. اسکا.. دماع گھوما.. اور وہ سیدھا.. لاونج کیطرف بڑھی…
سب اسکے پیچھے تھے..
یہ کیا تماشہ ہے… "وہ.. بولی.. بہرام کے اندر تک سکون اتر گیا.. پیستل سائیڈ پر اچھال کر.. وہ… دلنشین آنکھوں سے… اسے تکنے لگا… جبکہ اسکے پیچھے معاز بھی تھا..
عابیر.. کون ہے یہ " معاذ نے پوچھا… جبکہ بہرام.. نے اسکی جانب دیکھا…
چہرے پر خرکتگی تھی…
خاموش…. مزید بولا.. تو اگلا سانس لینے قابل نہیں رہے گا…
معاویہ سائیں.. زرا.. تنہائ میسر ہو گی یا یوں ہی کھڑے رہنا ہے آپ نے"
حضور بندہ حاضر.. مگر.. خان ایک وعدہ بنتا ہے… "معاویہ اور وہ ایک دوسرے سے.. ایسے بات کر.. رہے تھے جیسے وہاں کوئ نہ ہو…
جبکہ سب.. حیران کھڑے تھے…
کیسا وعدہ "بہرام بے گھورا..
خان.. ہماری بھی ملاقات ہونی چاہیے…
منگنی ہو گئ پتہ بھی نہیں لگتا کے منگنی شدہ ہیں "وہ منہ بسور نے لگا..
سالے تو ویسے بھی.. اپنا پورا کرلیتا ہے… "بہرام نے.. کہا تو وہ ہنس دیا..
چلو.. بھئ. ہمارے خان کو تنہائی چاہیے" معاویہ نے سب کو باہر چلنے کا کہا…
کیا بکواس ہے" معاذ دھاڑا..
ابے اوئے… یہ پاگل ہے جنگلی ہے.. تجھے کاٹ لیا تو.. سولہ ٹیکے.. بھی کم.. لگتے ہوں گے ڈائریکٹ.. اللہ کے پاس پہنچے گا.. زیادہ نہ بول. بھائ.. چل باہر چل"معاویہ نے گن اٹھا کر اسپر تانی…
میری بیٹی… "اکبر صاحب.. نے معاویہ کے دھکا دینے ہر دھای دی.. عابیر.. کی آنکھیں نم ہو گئیں..
یہ سب کیا کر رہے ہو گم "معاویہ ان سب کو دھکا دے کر باہر لے جا رہا تھا جبکہ عابیر کا دم نکل رہا تھا..
میری بھولی چڑیا… یہ سب تم نے کیا ہے اگر تم نہ جاتی تو میں بھی ایسا قدم نہ اٹھتا.." مسکرا کے وہ شانے اچکا گیا جبکہ عابیر کا ضبط کھو رہا تھا…
چاہتے کیا ہو تم " اسکے لہجے کی معمولی سی بے بسی اسے بہت پسند آئ…
سرکار… ہم صرف. آپکو چاہتے ہیں…. آپکے سوا چاہ کیسے سکتے ہیں "وہ اسکے نزدیک ہوا.. عام سے لباس میں اسکا چہرہ دمک رہا تھا….
جبکہ عابیر اس سے دور ہوی.. اسے کچھ سمھجہ نہیں آ رہا تھا یہ سب کیا ہو رہا ہے اسکے باپ.. اور منگیتر کے سامنے یہ شخص.. اسکو رسوا کر رہا ہے…
باہر سے اونچا اونچا بولنے کی آوازیں آ رہیں تھیں معاز.. اور اکبر صاحب سمیت.. مما کی بھی آواز تھی اسکی آنکھیں بھیگ گئیں
صرف اپنی فیملی کی وجہ سے.. وہ اسکے سامنے کمزور پڑی تھی..
ارے… میتھی رو کیوں رہی ہو "بہرام.. مسکرا کر.. اسکی بے بس آنکھوں میں جھانکنے لگا..
جاو تم یہاں سے کیوں مجھے رسوا کر رہے ہو" عابیر.. بولی.. سرخ.. آنکھیں…. اور آنسو ون کی آمیزش.. بہرام.. کو جان لیوا لگیں.. اچانک ہی اسکی نازک کمر میں ہاتھ ڈال کر.. وہ اسے بلکل نزدیک کر گیا.. اتنا کہ.. دونوں کے چہرے ایک انچ کے فاصلے پر تھے عابیر… ایک پل کو حیران ہوئ…
وجود میں کپکپاہٹ… اتر ای.. بہرام نے.. محسوس کیا.. اسکی خوشی دیکھنے لائق تھی..
مکھن کیوں تڑپا رہی ہو…..
بس کرو نہ… دو دن میں… میرا سانس.. روک دیا آپ.. نے.. سائیں.. اتنا ستم نہیں کرتے….
آپ ہماری ہو جائیں…. بس.. "وہ.. بڑی چاہ سے.. اسکے چہرے پر انگلیاں چلاتا وہ بھک رہا تھا.. نظریں.. اسکے لبوں کے کنارے ر موجود تل.. پر ٹھر گئیں.. تھیں….
عابیر… کا خون.. کھول اٹھا.. ایک جھٹکا دے کر وہ اس سے جدا ہوی.. اور کھینچ کر تھپڑ.. اسکے منہ پر دے مارا…
کمینے…. تمھیں کیا کگ رہا ہے.. میں کوئ کوٹھے پر بیٹھی نیچ لڑکی ہون.. میرے گھر میں گھس او گے میرے باپ کی عزت اچھالو گے.. اور میں نہیں خاموش رہو گی.. یہ عشق کا بھوت.. ان سے.. پورا کرو.. آج کے بعد بہرام خان میرے.. پاس نظر بھی ایگ تو.. یقین مانو.. میں تمھارا وہ حشر کرو گی.. کہ تمھاری نسلیں بھی یاد رکھیں گی. دفع ہو جاو ".. وہ بلند اوز میں چلائ
بہرام. نے.. اپنے اندر امڈنے والا اشتعال… بمشکل دبایا.. اور مسکرا دیا….
اگر میں تمھیں کوتھے پر بیٹھی لڑکی سمھجہ رہا ہوتا.. تو.. تم سے.. اس زبان میں بات نہ کرتا….
اور یقین مانیں سرکار جن سے آپکو دیکھا.. ہے.. کوٹھا تو کیا.. کہیں بھی جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا… کسی کو دیکھنا الگ بات ہے.. میٹھی… میرا طریقے غلط ہیں.. مگر.. میرے جزبات نہیں…. "وہ پھر سے.. دوبارہ اسی انداز میں بولتا عابیر کو زہر ہی لگا…..
جاو یہاں سے" عابیر کرے تیوروں میں بولی..
آپکی وجہ سے.. ساری رات جاگا ہون.. اور ملاقات کی مدت.. بس چند منٹ.. بلکل نہیں… "وہ ضدی لہجے میں بولا تو.. عابیر پاوں پٹخ ے لگی..
تمھیں یہ کیوں نہیں سمھجہ آ رہا.. میرا باپ.. اور منگیتر.. ہے.. یہاں… "وہ غصے سے چلای..
منگیتر ہممممم… وہ دو فٹیا….
میرے دلبر… آپ ہم سے یاری لڑاو…. یقین مانو فخر سے بتاو گی…
کہ یہ میرا.. سائیں ہے.. "وہ صوفے پر بیٹھتا…. اسکو.. دیکھتا مسکرا.. رہا تھا… عابیر اس پر لعنت بیجتی اس سے پہلے باہر نکلتی.. بہرام نے اسکی کلائ تھامی.. اور اپنی جانب کھینچ.. لیا.. کہ وہ اسپر غیرتی کہ عابیر نے.. اسی کی ٹانگ کا سہارا لے کر.. خود کو اسپر گیر نے سے بچایا….
اگلی بار.. کب ملو گی.. "بہرام اسکے بال پیچھے کان. میں اڑستا.. بولا….
مر جاو تم" عابیر.. نے خود کو چھڑانا چاہا.. مگر.. بہرام.. نے نہ چھوڑا… وہ.. رونے لگی. سرج آنکھیں بھیگ گییں کسی بھی لرکی کے لیے یہ لمہ موت سے کم نہیں تھا. وہ اتنی مظبوط بھی بار بار ہار رہی تھی…
کل… ملنے او گا… اب کہیں مت جانا ورنہ.. سرکار آپ کے باپ کی کھوپڑی ارانے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا "مسکرا کر کہتا.. وہ زبردستی.. ایک گستاخی.. کر گیا… عابیر. کا خون کھول اٹھا… اس سے پہلے وہ اسکو پھر رکھتی بہرام نے اسکو خود سے دور دھکیلا..
سرکار.. ہزار بار حاضر یہ گال.. بار بار چھونے کا دل کرتا ہے کیا ہمیں" وہ زیچ کر رہا تھا اسے.. عابیر یون ہی اسے گھورتی رہی.. جبکہ وہ. ایک ونک دیتا.. باہر.. نکل گیا.. باہر. وہی رونا دھونا جاری تھا…
بہرام.. مسکراتا ہوا.. معاز کے قریب آیا…
ہممم" وہ ہنسا…
پاور از پاور "اسکے منہ ہر دو لفظ اچھال کر.. وہ.. معاویہ. کو اشارہ کرتا باہر نکل گیا…
جبکہ باہر.. کان لگایے لوگ بھی اسکے نکلنے پر. ادھر ادھر ہوگئے…
…………..
ارمیش میری جان کیا ہو گیا ہے… "مورے اسکا چہرہ تھامے پوچھ رہیں تھیں جبکہ وہ ایسے ہی بیٹھی تھی…
کچھ تو بولو میری جان… " ارمیش نے.. انکی طرف دیکھا….
آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے جبکہ.. چیرہ بے تاثر تھا…
مر گئ ارمیش… "اسنے.. مدھم آواز میں کہا….
ایسے کیسے مر گی.. دماغ ٹھیک ہے تمھارا.." یہ نین تھی جو کافی دیر سے جاموش تھی.. بی جان… نے اس دن اسکو اچھی خاصی کلاس لی تھی جس کا اسپر رتی بھی اثر نہیں ہوا تھا…..
میں نین نہیں ہوں… ارمیش ہوں مجھے ارمیش کیوں نہیں سمھجا کوئ… سب اپنی مرضی اپنی مرضی.. چلا رہے ہیں…
شادی سے پہلے مورے.. نے کہا.. جو وہ کہے وہ کرنا… وہ جیسا کہتے گئے ویسا کیا میں.. نے.. انکی مار سہتی رہی….
پھر تم کہتی ہو اپنے لیے سٹینڈ لو….
اپنے لیے سٹیند لے کر بھی مار کہانی ہی ہےتع ارمیش مر کیوں مہی جاتی.. سب.. اپنی مرکی اپنی من مانی کرتے ہیں.. آپ سب لوگوں کو میری فکر نہیں ہے. بس یہ فکر ہے. حیدر.. ارمیش کے ساتھ ٹھیک ہو جائے…
ارمیش پھر مرے یا جیے.. اگر میں یہاں ہون.. تو مجھ سے سوال کیے جا رہے ہیں. تین دن سے میں کہاں تھی.. پوچھا کسی نے…
مار دیں ارمیش کو.. سب کو سکون آ جائے گا "وہ چلاتی ہوی.. اٹھی.. اور.. اپنے روم کی جانب چل دی… کسی.. میں اسکو روکنے کی ہمت نہ ہوئ.. ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھی وہ.. کھلوانا سمھجہ لیا تھا اسکو تو… سب نے..
………………..
وہ اپنے کمرے میں بیٹھی… ٹیبل پر سر رکھے.. اس سلشخص کو سوچ رہی تھی جو اسکی زندگی میں نہ جانے کیوں آ گیا تھا…
بابا نے اسپر.. ہر چیز کی پابندی لگا دی تھی.. کیسا یقین جب سب.. اس سے منہ موڑ چکے تھے.. اور.. اسکی فورا.. شادی کی جا رہی.. تھی….
یہ کیسا یقین تھا.. نہ معاذ اسکی کچھ سن رہا تھا.. نہ بابا مما…
سب اسے قصور وار کہہ رہے تھے.. مما… نے اسکی نوکری کی وجہ ٹھرائ….
اور.. جہاں عابیر… کی عزت تار تار ہو رہی تھی
وہاں وہ شخص سکون میں تھا..اپنی صفائ میں ایک لفظ.. اسے بولنے نہیں دیا گیا تھا…
کیوں..
اسنے غصے سے ساری رائٹنگ ٹیبل اجاڑ دی..
وہ بقائدہ آواز سے رو رہی تھی.. اسکے خواب دم توڑ گئے تھے کچھ بنے کے خواب…
سادگی سے اسکا نکاح کر کے اسے دوسرے شہر بھیجا جا رہا تھا.. سارا محلہ.. اسکی آوارگی کی کہانیاں ایک دوسرے کو سنا رہا تھا..
عابیر کا دم گھٹنے لگا تھا….
مگر حل کچھ سجاہی نہیں دے رہا تھا….
رو رو کر.. اسنے اپنا برا حال کر لیا تھا…
باپ نے پی بار اسپر ہاتھ اٹھایا تھا.. سب بہاڑ میں جاتے.. مگر اسکے ماں باپ تو یقین کرتے… انھوں نے بھی بے یقینی دیکھا کر اسکا.. مان توڑ دیا تھا….
روٹی کھا لو. "مما نے.. اسکے رونے کا نوٹس لیے بغیر.. ٹیبل پر کھانا رکھا اور باہر نکل گئیں.. وہ دھندلائ نظروں سے انھیں دیکھنے لگی…
چھوڑو گی نہیں تمھیں میں بہرام خان.." وہ.. مٹھی بینچ جر اسے سوچنے لگی.. اور پھر.. آنسو پونچھ کر اٹھی…
بیگ شانے پر ڈالا…..
اورمما کے پاس آئ..
مما میں کچھ دیر میں آتی ہوں"
اسنے کہا. وہ اسکی سوجی آنکھیں دیکھ کر.. برتن وہیں پھینک کر اٹھیں..
کیوں ملاقات کا وقت ہو گیا ہے. کیا. جو… منہ اٹھا کر نکل پڑی ہو.. دفع ہو جاو.. اندر.. کہیں نہیں جو گی تم" وہ غصے سے بولیں
مما "وہ تو حیران رہ گئ…
آپ میرا یقین کریں.. میں"
چپ "وہ چلائیں..
یہ عاشقی پالنے سے پہلے سوچ لیتی.. کے غریب مان باپ اور ایک بہن بھی ہے "وہ غصے سے اسے جھنجھوڑ رہیں تھیں..
عابیر پھر رونے لگی…
انھوں نے اسکا بیگ.. اٹھا جر چھولے ہر رکھ کر جلا ڈالا.. اسکا موبائیل اسکا سامن. سب جل رہا تھا…
اور وہ.. بے بسی.. کی آخری انتھا پر.. رو رہی تھی…
مما بھی رو رہیں تھیں جبکہ.. ریہا بھی….
……………
دادا کی جان.. اٹھ جاو دوسرا دن چھڑ گیا ہے.. جان کالام. آج جلسہ ہے "وہ اسکے گھنے بالوں میں انگلیاں چلاتے… پیار. سے بولے..
بہرام نے آنکھیں وا کیں اور سمکرا جر اسے دیکھا…
داجی… عشق کیا ہوتا ہے" وہ ایسے ہی لیٹے لیٹے بولا.. داجی مسکرائیے..
بہرام خان عشق ہے"وہ بولے…
سائیں مزاق نہیں" وہ چیڑا…
بھئ ہمارے لیے تو.. ہمرا خان عشق ہے.. باقیوں کا پتہ نہیں" وہ شانے اچکا گئے..
داجی وہ عشق ہے… ہمرا سرکار عشق ہے…
اسکی آنکھیں اسکا غصہ.. اسکا چہرہ.. اسکا وجود.. عشق ہے…
اسکا خمار عشق ہے…
وہ سراپا عشق ہے… وہ ہمارا عشق ہے..
داجی.. آپکا شہزادہ ڈوب گیا…
عشق کی وادیوں میں….
جی کرتا ہے.. اسے بانھوں میں بھر لو….
مگر… ہمرا سرکار زرا نکھریلا ہے.. ہتھ مشکل آئے گا "وہ.. پرجوش سے انھیں سب بتا رہا تھا.. داجی سنجیدگی سے سب سمھجہ رہے تھے..
یہ تو خیر ناممکن تھا کہ.. کالام کی شان… کی بیگم…
عام.. سی بنے..
مگر وہ ابھی اسے یہ سب نہیں.. بتا سکتے تھے.. تبھی خاموشی سے مسکرائے…
ابھی آیا میں.. آج تو.. وہ بھی رو بارو ہوں گے" وہ مزے سے کہتا. رات. کی بچی. شراب کا گھونٹ بھرتا…
واشروم کیطرف بھاگا..
جان دادا… آپکی یہ خواہش… پوری ہونا نا ممکن ہے" وہ بولے… اور… روم سے نکل گئے….

جلسہ تو اپنی جگہ ہو رہا تھا.. لوگ اسکے انداز گفتگو سے.. ایمپریس نظر آ رہے تھے.. یہ جلسہ یقیناً کامیاب جانے والا تھا.. مگر وہ نہیں تھی..
کیوں…؟؟؟؟؟
اسے بے چینی ہونے لگی… میڈیا تو تھا.. اور وہ لڑکا بھی نظر آ رہا تھا جس کے ساتھ وہ آئ تھی پھر.. وہ کیوں نہیں تھی..
تقریباً دو گھنٹے.. متواتر جھوٹ بولنے سے اسکی زبان ہی اکڑ گئ تھی جبکہ ابھی اور بھی سپیچ باقی تھی اسنے.. وہیں اختتام کیا.. اور سٹیج سے اتر گیا… داجی نے.. اسپر ترچھی نظر ڈالی.. اور بھی قبیلے کے اور.. علاقائی لوگوں کے علاوہ دوست احباب بھی..
اور. سیاست دان بھی تھے…
مگر اسنے کسی کی پرواہ نہ کی اور سٹیج سے اتر گیا.. معاویہ اسکے پیچھے لپکا..
یہ کیا کر رہے ہو خان.. سب لوگ دیکھ رہے ہیں " معاویہ نے اسکا ہاتھ تھامہ ..
سائیں وہ تو آئ ہی نہیں" بہرام نے گاگلز کے پیچھے سے اسکو دیکھا…
معاویہ کا دل کیا سر پیٹ لے..
بہرام. تم جانتے ہو نہ داجی تمھیں نہیں تو ہم سب کو کھا جائیں گے.. تم اپنی تقریر پوری کرو"معاویہ نے اسے دوبارہ کھینچا…
بس… کہہ دیا نہ اب مزید نہیں… "وہ غصے سے بولا…
عابیر کا خیال سر پر بری طرح حاوی تھا..
اور وہ معاویہ کے روکنے کے باوجود.. وہاں سے نکل جاتا اگر داجی کو اپنی جانب آتا نہ دیکھتا… تو.. معاویہ داجی کو دیکھ کر. سائیڈ پر.. ہوا…
دادا کی جان…… کیا ہوا شہزادے… لوگ منتظر ہیں" انھوں نے. اسکو لاڈ سے.. دیکھا..
داجی.. میرا موڈ نہیں اب" وہ.. موبائیل نکالتا ایک نمبر ڈائل کرنے لگا..
ٹھیک ہے ٹھیک ہے…. ہمارے.. خان کا موڈ نہیں.. تو.. بس ختم جلسہ.. مگر خان ابھی کہیں نہیں جا سکتے.. چندا… اپوزیشن پارٹی کو بھی خرید لیا ہے.. بیٹے.. اب تو… ضروری ہے آپکا وہاں ہونا.."
داجی اسے پیار سے پچکارنے لگے.. وہ اب مزید وہاں نہیں بیٹھنا چاہتا تھا..
داجی میں"
ہمارے لیے "انھوں نے کہا…. تو.. وہ بدلنخواستہ انکی… جانب بڑھ گیا..
جبکہ فون پک ہونے پر اسنے… ضروری تنبھی دی تھی… جو کہ عابیر کے متعلق تھی.. کہ… اس روز کے بعد اسنے اسکے گھر کے باہر عابیر کی پھیرہ داری کے لیے… ایک بندہ رکھ دیا تھا.. اب وہ اسی کو فون کر رہا تھا.. جس نے اسے بتایا کہ وہ تو.. اس روز کے بعد گھر سے نکلی ہی نہیں.. تب جا کر. بہرام.. کے بے چین قدم سکون میں آئے…
رات دیر تک پارٹی جاری رہی جلسہ اس وقت ختم ہونے کے بعد بھی..
شراب بھی تھی شباب بھی تھا.. مگر اسکی توجہ شراب پر تھی…
جبکہ شباب پر ایک نظر بھی نہیں ڈالا تھا…
……………….
حیدر.. دو دن سے.. گھر نہیں آیا تھا.. وہ کمرے میں سکون سے تھی سب اسکا خیال رکھ رہے تھے.. مگر.. وہ اپنے کمرے سے نہ نکلی…
مگر آج اسے احساس ہو رہا تھا.. کہ وہ غلط کر رہی ہے…
بھلہ ان سب کا کیا قصور تھا…
وہ سب تو اسی کی بھلائ چاہتیں تھیں….
تبھی.. اسنے… خود.. کو کوسا. اور…. باہر نکل آئ…
مردان خانے میں کوئ نہیں تھا آج.. بہرام لالا کا جلسہ تھا تبھی. سب وہیں گیے ہوئے تھے.. وہ.. جلدی سے. زنان خانے کیطرف بڑھی…
بی جان ہال میں بیٹھیں تھیں.. اسکی جانب دیکھ کر. اپنے بازو وا کیے…
وہ بھی انکے بازوں میں سما گئ..
معافی چاہتی ہوں بی جان.. اس دن بہت بدتمیزی کی تھی "وہ نم لہجے میں بولی…
جبکہ بی جان اسے پیار کر رہیں تھیں.. آہستہ آہستہ سب اکھٹے ہونے لگے….
اسنے سب سے ہی معافی مانگی…
خاص کر اپنی مورے.. سے… سب نے.. ہی اسکو پیار.. کیا.. اور زنان خانے میں ایک اچھی فضا بن گئ…
بی جان… ڈھولک رکھتے ہیں. کل نیہا کی مہندی ہے اس سے پہلے.. "نین بولی تو.. ایک نظر سب نے اسکی طرف دیکھا… بی جان سے تو اسنے بات کر لی تھی مگر باقی سب سے.. اسنے کوئ بات نہیں کی تھی.. بی جان نے اسے اپنی قسم دی تھی کہ وہ آج کے بعد یہاں سے جانے کی بات نہیں کرے گی.. جس کو اسنے مان تو لیا تھا…
مگر زہن اب بھی گردش میں تھا…
آب کیا مجھے بھی سب سے معافی مانگنی ہو گی ارمیش نے اتنی مانگی ہے فٹی فٹی کر لیں سب "وہ… بولی.. تو.. کسی کیطرف سے کوئ ریسپونس نہ آیا…
اسنے بے چارگی سے بی جان کو دیکھا..
جو نین خانم نے کیا.. وہ غلط تھا.. سرا سر….
مگر.. ہم لوگوں نے بھی غلط کیا… لڑکی کی مرضی جانے بغیر.. اسے کسی کے ساتھ باندھ دینا ناانصافی ہے..
بی جان اگر.. یہ.. تماشہ لگانے کے بجائے ہمیں کہتیں.. تو ضرور کوئ نہ کوئ حل نکل جاتا "یہ تائ جان تھیں جو اس دن سے ہی کافی غصے میں تھیں…
تائ جان.. پلیز. میں.."
نین.. آپ ہم سے مت بولیں آپکی وجہ سے… آپکی مورے کی تربیت پر کتنی انگلیاں اٹھیں ہیں…. آپ نے سوچا.. داجی سے کتنی بدتمیزی کی ہے آپ نے.. سب کے سامنے بے پردہ ہو گئیں اور پھوپھو سائیں کے بارے میں سوچا… آپ کے الفاظ انھیں کتنی تکلیف دے رہے ہوں گے آج تک کسی نے.. ایسا نہیں کہا جبکہ.. آپ… آپ.. بلا دھڑک سناے جا رہیں ہیں.. "تائ.. نے اسکو اچھا خاصا لتاڑا نین کی آنکھیں بھیگ گئیں جبکہ شرمندگی سے سر جھکا لیا…
پھوپھو ساییں.. ہم معافی چاہتے ہیں ہمیں غصے میں کچھ سمھجہ نہیں آیا…
میرا مقصد آپکا دل دکھانا نہیں تھا… " وہ… انکے پاس آ کر بیٹھی.. اور.. سرخ.. آنکھوں سے انھیں دیکھنے لگی…
تم نے ٹھیک کہا جو بھی کہا" انھوں نے کہا.. تو.. سب.. ہی.. نم آنکھوں سے انھیں دیکھنے لگے..
نہیں آپ ایسا نہ کہیں.. پلیز.. آپ معاف کر دیں مجھے"وہ سسکی.. تو انھوں نے اسکی پیشانی چوم لی.. وہ انھیں عزیز تھی بچپن سے ہی…
سب مسکرا دیے.. کہ.. جب انھوں نے معاف کر دیا تو.. کسی اور کے ناراض رہنے کا کوئ جواز نہیں تھا….
میں میں ایک بات کہنا چاہتی ہوں" اسنے مورے سے بھی معافی مانگی.. اور پھر.. سکون تو اسکو تھا نہیں.. تبھی.. بولی.. تو.. سب نے چونک کر اسے دیکھا..
پلیز پھوپھو.. میں ابھی.. شادی نہیں چاہتی.. پلیز.. آپ لوگ پہلے نیہا کی ہی شادی… کر دیں مجھے رخصتی.. نہیں کرنی" اتنی آسانی سے تو وہ احمر کے دام میں نہیں پھنسنا چاہتی تھی
… نین" مورے نے گھورا..
رک جاو… "انھوں نے روکا…
ٹھیک ہے جیسا تم چاہو" انھوں نے کہا تو وہ ایک پل… انھیں دیکھتی رہ گئ.. اور پھر اتنا پرجوش ہو کر چیخی.. کہ سب نے کانوں میں انگلیاں ڈال دیں..
جبکہ.. اسکی کھلکھلایٹ.. دیکھنے لائق تھی..
اگر نین.. سدھر جائیں تو کیا ہی بات ہے "مورے نے افسوس سے کہا.. جبکہ اب وہ ڈھولک کے لیے.. درخنے کو آرڈرز دے رہی تھی..
ارمیش انوشے… نیہا.. سب ہی بہت خوش تھے
……………..
معاویہ…. آرام سے زنان خانے میں آیا…. ارادہ.. انوشے سے ملنے کا تھا…
آرام آرام سے قدم رکھتا… وہ.. پورے ہال میں جھانک رہا تھا.. بہرام.. مردان خانے کے دروازے پر تھا….
تو نے تو کہا تھا.. یہیں کہیں ہو گی "بہرام نے. غصے سے اسے گھورا.. اگر داجی یہ کسی کو بھی.. پتا چل جاتا تو… بلا لحاظ… لتاڑا جاتا… اور یہ جانے کے بعد کے ہم.. کیا کرنے اییں ہیں.. حویلی.. سے ہی نکال دیا جاتا….
یار اس دن تو یہیں تھی.. اچانک ہی ای تھی" معاویہ نے… آہستہ آواز میں پوچھا…
چلو آتا نہ پتا… چلیں ہیں ملاقاتوں کے لیے" وہ بھنایا…
تو معاویہ نے اسے گھورا…
کمرہ کون سا ہے "بہرام نے.. اب زنان خانے میں آ کر پوچھا…
معلوم نہیں" اور یہ کہنے کی دیر تھی.. بہرام نے ہاتھ گھوما کر اسے رکھا.. وہ.. گردن سہلا کر رہ گیا…
نالائق اب تک… ہم سے کچھ سیکھا ہی نہیں" وہ.. تفخر سے بولا.. تو معاویہ منہ چیڑا کر.. ادھر ادھر دیکھنے لگا..
ابھی وہ دونوں اسی ادھیڑ پن میں تھے کہ.. اسکا کمرہ کون سا ہو گا..
احمر کی آواز پر.. دونوں ہی اچھل پڑے…
کیا ہو رہا ہے" وہ.. دونوں کو گھور رہا تھا…
میں تو تم سے بڑا ہوں تو مجھ سے.. پوچھنے کا کوی مقصد نہیں.. اس سے پوچھو.. یہ.. اپنی.. تازی تازی.. محبوبہ سے کیوں ملنے آیا ہے. حویلی کے اصولوں کے خلاف جاتا ہے سالے" اسنے اسکی.. گردن پکڑی معاویہ تو.. حیران رہ گیا…
اس چور کو میں نے بھی پکڑا ہے.. داجی کے پاس.. لے کر جاتا ہوں اسے میں" بہرام سنجیدہ اور کافی غصے میں لگ رہا تھا..
رہنے دو داجی اس کی ایک دو پہسلی توڑ دیں گے… "احمر نے.. افسوس سے.. کہا.. تو.. بہرام.. نے اسکو جھٹکا..
یہ بس احمر کی وجہ سے.. تو بچ گیا.. ورنہ"اسنے اسپر مکہ تانا..
اچھا اچھا بس کرو بہرام.. چلو… معاویہ آئندہ ایسا نہ ہو ورنہ میں… ماموجان کو بتا دو گا "احمر نے کہا تو.. معاویہ نے سر ہلایا….
احمر.. دونوں کو ایک نظر دیکھ کر.. وہاں سے چلا گیا.. جبکہ معاویہ.. کا پارہ… ہنڈرڈ سینٹی گریڈ ہر پھنچا.. اور.. اسنے اپنی پشاوری چیپل نکالی..
دیکھ تجھے بچایا.. ہے. سالے.." بہرام نے. اسے روکنا چاہا.. کہ. معاویہ کی چپل. اسپر گھومتی ہوئ ای.. اور اگر وہ نہ بیٹھتا.. تو ضرور منہ پر کھاتا..اور پھر.. جنگ.. جو شروع ہونی تھی.. دیکھنے لائق تھی..
بہرام.. اس سے بچنے کے لیے. پیچھلے لون میں بھاگا.. دونوں کے قہقہوں کی آواز.. سن کر کوی.. بری طرح ڈرا… تھا…
جبکہ.. لون.. میں وہ دونوں ایک دوسرے کی دھلائ کر رہے تھے .. گالیوں سے بھی نوازا جا رہا تھا.. انوشے.. کے ہاتھ پاوں کانپ گئے.. رات کی تاریکی میں چاند دیکھنا اسے بہت پسند تھا.. مگر.. یہ..
وہ حیران تھی.. اور قدرے اندھیرے میں.. تبھی ان کی نظر اسپر نہیں پڑی تھی..
اور جس طرح وہ
. ایک دوسرے کو پیٹ رہے تھے…
انوشے تو.. بری طرح سہمی.. سمھجہ نہیں آیا. کس کو بلائے…
اور اسی خوف کے تحت اسنے خود کو ڈھانپا اور اندر بی جان کو بتانے کے لیے.. اس سے پہلے دوڑتی.. بہرام کی نظر اسپر گئ..
اے روکو"وہ زور سے بولا.. انوشے وہیں ٹھر گئ
انوشے" معاویہ نے فورا پہچان لیا…
اووووو"بہرام… نے اسے چٹکی کاٹی.. جبکہ معاویہ اپنے بال درست کرتا.. آگے بڑھا… اسکا گریبان.. چاک تھا.. بہرام وہیں سے لیٹا… ان دونوں کو دیکھ رہا تھا….
کیسی ہو" معاویہ نے اسکی جانب دیکھا جو نقاب کیے.. سیاہ دوپتے کا.. حیرت بھری آنکھوں سے دیکھ رہی تھی….
کیا ہوا ڈر گئ" معاویہ اسکے مزید نزدیک ہوا
بتاتا ہوں میں داجی کو…. "بہرام ہاتھ جھاڑتا اٹھا.. انوشے جو.. معاویہ کو.. دیکھ رہی تھی.. جو.. کافی ڈیشنگ تھا.. بہرام کی بات پر.. اسکے ہاتھوں کا دم نکلا…
ارے نہیں.. یہ تو جھوٹ بول رہا ہے "معاویہ نے بات سمبھال آ چاہی. مگر…. انوشے کی آنکھیں بھیگنے لگ گئ تھیں…
بلکل نہیں.. زنان خانے میں ایسی لڑکیاں توبہ توبہ.." بہرام… کی اداکاری عروج پر تھی جبکہ انوشے… خود سے تھر تھر کانپ رہی تھی….
لالا… نہ.. نہیں… میں تو… "انوشے… کی بھیگی.. بھیگی آواز معاویہ.. نے کڑے تیوروں سے.. اسے دیکھا… جبکہ اتنے میں.. ہی انوشے وہاں سے فرار.. تھی.. معاویہ کا بس نہیں چلا.. بہرام کے اندر بم بلاسٹ کر دے..
وہ خونخوار نظروں سے پلٹا… جبکہ.. بہرام.. اسے دھکا دے.. کر وہاں سے.. مردان خانے کیطرف بھاگا.. ایک بار پھر.. حویلی میں اسکے قہقہے گونج رہے تھے…
………………
اسکے لیے ماں باپ کی بے اعتباری… سوہان روح تھی…
جبکہ معاذ سے بھی کونٹکٹ کر کر کے وہ تھک چکی تھی کوئ اسکی آواز نہیں سننا چاہتا تھا….
کچھ ہی دنوں میں اسکی رخصتی تھی…
اسے شادی سے کوئ مسلہ نہیں تھا مگر.. اسطرح.. کے اسکے عزیز ہی اس سے نفرت کر رہے تھے..
ریہا سے مما اسکو بات نہیں کرنے دیتی تھی.. بابا سے بولنے پر وہ جواب نہیں دیتے تھے اور مما.. تو اس سے بری طرح بدزن تھی.. کیا اتنی بے اعتبار ہو کر وہ اس گھر سے جائے گی.. اور اگلے گھر.. میں بھی بے اعتباری منہ کھلے کھڑی ہو گی.. وہ بری طرح رونے لگی تھی..
اس ایک شخص نے اسکو کیا سے کیا کر دیا تھا.. محبت کرنے والے لوگ… نفرت کر رہے تھے…
جب آپکی اہمیت آپکے اپنے ہی گیرا دیں تو اس تکلیف کو کیا کہتے ہیں یہ عابیر سے بہتر کوئ نہیں جانتا تھا…
…………..
مہندی کا فنکشن.. ختم ہوا… تو. حویلی کے مردان خانے کے لون میں نئے سرے سے. مردوں کا فنکشن شروع ہو گیا تھا.. اور وہ کیا تھا سب جانتے تھے….
نین.. ان سب کو کھینچ کھانچ کر چھت پر لے آئ..
نین کوئ آٹھ گیا.. تو جان َسے مارے جاییں گے..
نیہا خوفزدہ تھی جبکہ باقی سب بھی. اور وہ تو.. نیچے.. ہونے والی عیاشی کو دیکھ توبہ توبہ کر رہی تھی مگر دیکھنا بھی فرض تھا جیسے..
لو جی حیدر. لالا بھی آئے "وہ بولی تو ارمیش…. نے ایک نظر نین کو ضرور دیکھا مگر نیچے نہ جھانکا وہ اور نیہا پیچھے کھڑے تھے…
معاویہ کی حرکتیں دیکھو.. اللہ.. توبہ" نین نے.. جلدی سے چہرہ موڑا..
انوشے نے.. تھورا سا نیچے جھانکا.. اور پیچھے ہٹ گئ.. دل بری طرح دھڑکا.. جبکہ.. چہرے پر اداسی بھی چھا گئ…
سب سے اچھے احمر لالا ہیں" اسنے کہا اور وہ سب سیڑھیوں کیطرف بڑھیں..
ہممم نوٹنکی ہے "نین.. نے منہ بگاڑہ..
شکر نہیں ہے تم میں… "ارمیش کے گھورنے پر وہ کندھے اچکا گئ.. وہ سب تو اپنے اپنے روم میں چلی گئی جبکہ ارمیش اپنے روم میں آ گئ…
وہ.. جلدی سے اب.. اس لہنگا کرتی سے نجات چاہتی تھی..
تبھی.. روم میں داخل ہوتے ہی.. ڈریسنگ کیطرف بڑھتی کہ اسکے قدم.. حیدر کو بیڈ پر بیٹھا دیکھ ایک پل کو روکے… ن
وہ یہاں کیوں تھا.. باہر تو اسکا من پسند کھیل جاری تھا…
اسنے سوچا اور پھر.. دوبارہ ڈریسنگ.. کی طرف بڑھنے لگی… کہ حیدر نے اسکی کلائ جکڑ.. لی….
ارمیش کو محسوس ہوا.. وہ بری طرح تپ رہا تھا…
خانم.. ضرورت ہے تمھاری "وہ.. آنکھوں میں.. گھمبیر تاثر لیے اسے گھور رہا تھا.. ارمیش نے ایک پل کو اسکو دیکھا.. اور. ایک جھٹکے سے ہاتھ چھڑایا…
پیچھلے چار دن سے. آپ جس کے پاس تھے سائیں کیا اس سے ضرورتیں پوری نہیں کیں" وہ.. بے تاثر لہجے میں اسے گھور رہی تھی… حیدر نے.. چند سانہیے حیرت سے اسے تکا… اور. پھر کھینچ کر تھپڑ دے مارا.
خانم.. بتایا تھا نہ.. حور ہمارا مسلہ ہے اور ہم تمھارا.. یہ کیا ناز نکھرے لیے بیٹھی ہو کس نے.. تمھاری ہمارے سامنے زبان نکالنے.. کی جرتیں بڑھا دیں سمھجہ کیا رہی ہو خود کو.. "وہ مسلسل.. اسکو. مارتا.. چینخ رہا تھا….
جبکہ ارمیش.. خود کو بچانا چاہ رہی تھی..
ح…. حیدر" ارمیش نے اسکا دوبارہ اٹھتا ہاتھ تھاما… اسکا چہرہ سرخ تھا.. جبکہ.. آنکھوں سے اشک جاری تھے…
ایک کان کا اویزہ… بیڈ سے نیچے.. پڑا تھا.. جبکہ دوسرے کان سے.. ہلکا سا خون نکلنے لگا تھا.. گردن پر بھی حیدر.. کے ناخنوں کی خراشیں تھیں غرض پل میں حیدر نے اسکی اوقات اسپر واضح کر دی…
حیدر نے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ سے جھٹکا اور اسکے بال… پکڑ کر اسکا چہرہ اپنے چہرے کے قریب کیا
خانم…. فضول محنت مت کرو……
سب ضایع ہے.. "مدھم سی مسکراہٹ.. لیے.. وہ اسکو باور کرا رہا تھا… کہ وہ اسکے سامنے کچھ نہیں
ارمیش کے بال کھنچ رہے تھے.. وہ مزید پٹ کر… اپنے بچے کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتی تھی.. تبھی.. نگاہ جھکا گئ..
جبکہ حیدر.. نے.. بے دردی سے… اسکے کانپتے… لبوں پر قفل لگایا…
ارمیش کو یہ قربت بچھو کی مانند ڈسنے لگی….
اسکی سسکیاں بلند ہو رہیں تھیں جبکہ وہ. اسپر پوری طرح حاوی ہو چکا تھا…..
برات کا فنکشن حویلی کے لون میں ہی ہوا تھا.. جبکہ.. وہ کون سا شخص… تھا…. جو اس فنکشن میں موجود نہیں تھا….
جلسہ اسکا بہت کامیاب گیا تھا.. جبکہ اس علاقے سے وہ جیت چکے تھے.. اب.. اسمبلی میں انکی سیٹ پکی تھی.. ایک جشن تھا… جو روز منایا جا رہا تھا.. اسی سوچ کے تحت اس فنکشن پر.. داجی نے کوئ کثر نہیں چھوڑی تھی دعوت ایسی تھی.. کہ.. کبھی.. کسی نے نہ کھائ ہو….
بہرام… بلیک علاقائ سوٹ میں… جیسے محفل کی جان بنا ہو ا تھا… ہفتہ ہونے کو ایا تھا.. وہ عابیر سے نہیں ملا تھا تبھی اکھڑا اکھڑا سا تھا اور یہ سب داجی کی وجہ سے ہوا تھا وہ کبھی کسی کام میں پھنسا دیتے کبھی کسی..
میں ضروری نہیں تھا کہ..وہ انکی مانتا.. بس.. مراوت کے ہاتھوں مجبور تھا…
سارا فنکشن بے کار گزرا تھا….
اور پھر رخصتی کا شور اٹھنے لگا…
حالانکہ.. زنان خانے سے مردان خانے میں.. نیہا نے انا تھا مگر خواتین پھر بھی.. رونے کا شغل لگا رہیں تھیں…
یہاں سب بے چین تھے….
احمر نین کو دیکھنے کے لیے جبکہ معاویہ انوشے کو.. اور بہرام یہاں سے بھاگنے کے لیے…..
جبکہ حیدر.. خود شہر جانے کے لیے بے چین تھا…..
بلآخر رخصتی ہوئ…. اور مردان خانے میں تھوڑی دیر بعد ہی نیہا کو… اسکے روم میں بیٹھا دیا گیا.. اب جیسے سارے ہنگامے بیٹھ گئے تھے.. مگر نہ احمر نین کو دیکھ سکا تھا نہ معاویہ انوشے کو..
بہرام.. اس جھنجھٹ کے ختم ہوتے.. ہی.. گاڑی کی چابی لے کر نکلنے لگا.. کہ داجی کے پکارنے پر روکا.. اسنے.. جھنجھلا کر پاوں زمین پر مارا اور پھر ضبط کرتا.. انکی طرف بڑھا سب مہمان جا چکے تھے.. بس کچھ ہی تھے… اور وہ بھی نکل رہے تھے..
خان ان سے ملو… یہ mpa صفدر ہیں… اور یہ انکی بیٹی…
وردہ "داجی نے… اسکا تعارف کرایا جبکہ وہ دونوں باپ بیٹی مسکرا دیے.. اور بہرام یہاں مراوت میں بھی مسکرا نہ سکا…
وردہ.. اس شہزادے کو غور سے دیکھ رہی تھی..
داجی.. مجھے ضروری کام ہے.. میں.. پھر ملو گا" وہ.. کہتا.. وہاں سے ہٹا… داجی نے کافی خفت محسوس کی.. وردہ انھیں بہرام کے لیے.. بہت بھائ تھی…
ٹھیک ہے مراد شاہ ہم بھی چلتے ہیں.. اب اسمبلی میں ہی ملاقات ہو گی" صفدر نے کہا.. تو لہجہ سنیجدہ تھا..
ارے…. کہاں چلے.. پہلی بار ہمارے علاقے میں ائے ہو.. ایک رات تو روکو" داجی نے.. کہا. تو.. باقی سب نے بھی تائید کی.. داجی کے پانچوں بیٹے.. وہاں کھڑے تھے…
بہرام ان سے کچھ فاصلے پر جا چکا تھا… معاویہ بھی اسکے پیچھے تھا…
نہیں انکل… اب چاہیں تو اپنے فرینڈ کو روک لیں مگر مجھے جانا ہے پلیز " وردہ نے معمولی سی مسکراہٹ سے کہا.. تو.. سب مسکرا دیے.. معلوم ہی نہیں ہو رہا تھا یہ وہی لوگ ہیں جو اپنی عورتوں کو بے حجاب دیکھنے پر قتل و غارت پر اتر اتے ہیں…
کیوں نہیں بیٹی.. ہمارے خان تمھیں…. چھوڑیں گے وہ بھی شہر ہی جا رہے ہیں" داجی نے کہتے ساتھ ایک بار پھر اسے پکارہ… جس کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا تھا.. اور وہ ایسا برا پھٹتا.. کہ یہ سب یاد رکھتے .. وہ لہو رنگ آنکھوں سے انھیں دیکھنے لگا…
خان.. وردہ بیٹی کو انکے.. گھر چھوڑ دینا" وہ داجی کی سب چلاکی سمھجہ رہا تھا….
معاویہ سائیں.. چھوڑ دیں گے" اسنے وہیں سے جواب دیا.. وردہ کا چہرہ سنجیدہ ہوا.. جبکہ یہ ہی حال صفدر کا تھا…
باقی سب.. بہرام کی حرکت پر بس… خون پی کر رہ گئے…
خان.. ہم نے کہا اپ چھوڑیں گے "داجی نے.. جیسے وارنیگ دی. وہ اسکے قریب ا گئے تھے.. اور اسکے شانے پر ہاتھ رکھتے … دباو دینے لگے…
دیکھ لو گا اپکو میں.." بہرام.. نے بھی انھیں گھورا…. داجی مسکرائے…
اچھے سے دیکھنا دادا کی جان.. "وہ.. خوشی سے بولے… اور بہرام.. باہر نکل گیا…
. جائیں .. بیٹا… "وردہ کو انھوں نے کہا تو.. وہ.. سر ہلاتی چل دی.. جبکہ باقی سب وہ.. ہنستے ہوے مردان خانے کیطرف بڑھے…
معاویہ.. وہیں کھڑا تھا.
جبکہ بہرام اپنی جیپ.. میں.. رات کی تاریکی میں بھی گاگلز لگائے.. اتنا لاجواب لگ رہا تھا.. کہ وردہ… اس پر فدا ہونے لگی..
معاویہ سائیں مہمان کو اسکے ٹھکانے پر پہنچا دو "بہرام نے کہا.. تو معاویہ… نے سر ہلایا..
مگر اپکے داجی نے کہا.. کہ اپ. چھوڑیں گے" وردہ.. نے ایک نظر معاویہ کو دیکھا. اور اسکی جیپ میں بیٹھ گئ…
بہرام کے لیے یہ سب بڑا ضبط.. ازما کام تھے…
معاویہ سمھجہ رہا تھا… وہ… غصے سے پھٹ ہی نہ جایے.. تبھی. وہ بھی جیپ میں سوار ہوا.. اور جیپ…. انچے نیچے راستو پر دوڑنے لگی وہ سنجیدگی سے ڈرائیو کر رہا تھا.. سر پر دھن سوار تھی کہ.. عابیر سے ملنا ہے…
اور سب.. مل کر.. اس سے اسکو دور رکھ رہے تھے…
اہستہ چلائیں خان…. "وردہ کو حقیقت میں خوف محسوس ہوا.. یہ راستے کس قدر خطرناک تھے…..
بہرام نے اچانک ہی.. گاڑی روکی…
معاویہ کے لب مسکرائے…..
معاویہ سائیں اگر شرم ورم کا کوئ سین ہے تو باہر جا سکتے ہو" وہ سنجیدگی سے سٹرینگ پر ہاتھ جمائے… بولا… وردہ کا منہ کھلا علاقہ سن سان تھا…
سائیں کیسی شرم….." معاویہ.. نے.. سکون.. سے… کہا…
مگر ہماری بھی باری ائے گی… بھلنا مت"وہ…. مزے سے بول رہا تھا.. وردہ کا سانس حلق میں ہی اٹک گیا..
کیا.. کیا مطلب ہے اس سب بکواس کا "وہ حمت کرتی بولی…
بلبل… یہ زبان تو.. لڑکیوں کو بڑی جلدی سمھجہ ا جاتی ہے" بہرام.. اپنی مخصوس ٹون میں اترا…
اور گاگلز اترے…. اب وہ کفلنکس اتار رہا تھا.. جبکہ.. قمیض کے اوپری دو بٹن.. کھولے…
وردہ… کے تو اوسان ہی خطا ہو گئے. وہ بولڈ تھی مگر. کبھی اس حد تک نہیں گئ. تھی. وہ چینخ مارتی… گاڑی سے باہر نکلی…. سانس بری طرح پھولے.. جبکہ… وہ بے اوسان بنا.. پیچھے دیکھے…. دوڑنے لگی…
معاویہ کا قہقہ… گاڑی میں گونجا.. اور وہ.. اچھل کر. فرنٹ سیٹ پر بیٹھا…
باسٹرڈ"بہرام.. نے.. غصے سے… کفلنلس.. ڈش بورڈ پر پھینکے.. اور گاڑی.. بھڑا دی…
جبکہ معاویہ نے جھک.. کر… واین کی بوتلیں نکالیں .. ایک اسکے ہاتھ میں تھمائ جبکہ. ایک.. خود کھول لی..
ویسے خان… اگر… وہ ریپورٹر.. نہ ملی ہوتی… تب بھی.. سائیں ایسے جانے دیتے لڑکی کو" معاویہ نے انکھ دبای… بہرام نے. بوتل لبوں سے ہٹائ.. اور اسکو دیکھا…
بھابھی…" اسنے تنبھی نظروں سے اسے دیکھا.
جی حضور بھابھی اب تو بتاو "اسنے فورا اسکی بات مانی..
تمھیں کیا لگتا ہے خان" بہرام مدھم سا مسکرایا….
جبکہ.. دونوں کا قہقہ…. گاڑی.. اور سن سان رستوں کو جگمگا گیا…
………………
حور… کے مسلسل میسیجیز ا رہے تھے جبکہ وہ والٹ.. اور کیز لینے کے لیے روم میں ایا تو.. ارمیش کو بیڈ پر لیٹا پایا….
وہ.. اسکو اگنور کرتا…. اپنا سامان اٹھانے کے لیے بڑھا… کہ.. اسکی مدھم سی سسکی سنائ دی….
حیدر نے. کچھ چونک کر دیکھا….
ارمیش ابھی بھی.. سرخ لباس میں تھی جبکہ… آنکھوں پر ایک ہاتھ رکھے دوسرے ہاتھ…. کو.. بلنکیٹ میں چھپایا ہوا تھا….
اسنے پھر سے اگنور کیا…. اور.. سامان اٹھا کر باہر کو جاتا… کہ.. اسکی سسکی نے پھر اسکے پاوں پر قفل ڈالے.. وہ جھنجھلا کر پلٹا… اور.. اس تک پہنچ کر.. اسکی آنکھوں پر سے ہاتھ جھٹکا….
بکھرے بکھرے میکپ.. میں… وہ جان لیوا.. لگی…
مگر.. اسنے خود کو ڈپٹا.. کہ حور کے پاس پہنچنا زیادہ ضروری تھا…
مسلہ کیا ہے تمہارے ساتھ.. ہر وقت کی منحوست تنگ نہیں اتی.. خانم "وہ.. غصے سے بولا.. ارمیش.. نے اسکی جانب دیکھنا گوارا نہ کیا.. اور انسو پوچھ کر.. وہ اٹھ بیٹھی.. اس دن کے بعد سے وہ.. اس سے ایک لفظ نہیں بولتی تھی..
حیدر کو.. یہ بات اہنی انا پر گراں گزری…
اسنے سامان.. بیڈ پر پٹخا.. اور ارمیش کے بال جکڑ لیے.. ارمیش کی پلکیں اب بھی جھکیں تھیں..
نام لو ہمارا"وہ اسکے چہرے کے ایک ایک نقش پر.. اپنی تپتی نظریں گاڑتا بولا…
ارمیش خاموش رہی…
حیدر نے مزید اسکے بال کھینچے تو ارمیش کا چہرہ.. اوپر اٹھ گیا….
حیدر.. اسکی پھیلی سرخ لیپسٹک.. کو دیکھنے لگا..
کہو حیدر" اسکی اواز مدھم تھی.. جیسے وہ ان ہونٹوں کے سحر میں جکڑا جا چکا تھا.. اب.. میسیج کی بولتی ٹون یہ.. حور.. فلحال اسکے دماغ سے غائب ہو گئ..
ارمیش.. نے.. دونوں.. ہاتھوں سے.. اسکے سینے پر دباو ڈالا… اور اسے پیچھے جھٹکا.. وہ اتنا کمزور نہیں تھا.. مگر ایک قدم خود سے پیچھے ہو کر وہ اسکی جرتیں دیکھ رہا تھا…
دور رہیں….. مجھ سے "وہ سرخ آنکھوں اور بھیگے لہجے میں.. بولی…
اووو اچھا…. ویسے تم خانم خاموش جب رہتی ہو تو کم منحوس لگتی ہو"... اسنے اپنے شانے پر سے چادر.. اتاری.. اور دور صوفے پر اچھال دی…
ارمیش.. نے… روخ موڑ لیا..
جائیں جہاں جا رہے تھے "وہ بال سمیٹتی.. اٹھتی.. حیدر نے اسے اٹھنے نہ دیا وہ اسکے بلکل سامنے کھڑا تھا….
خانم ہماری بات.. مانی نہیں اپ نے"اسنے.. ارمیش کا چہرہ.. دبوچا…. ارمیش کو تکلیف ہوئ.. اور اپنا ہاتھ.. حیدر کے ہاتھ پر رکھ کر.. وہ ہاتھ ہٹانے لگی.. حیدر کی نظر اسکے صاف شفاف ہاتھ کی… جلد پر گئ.. جو جگہ جگہ سے سرخ.. ہو گئ تھی.. اور اسپر چھالے بنے تھے..
ارمیش کی بھی نظر اسکی نظر سے ٹکرائ.. اسنے ہاتھ ہٹایا…
کیسے لگی یہ "حیدر ر.. نے ماتھے پر بل ڈالے پوچھا..
اپکو کیا ہے اس سے زیادہ.. اپ مار کر دے دیتے ہیں" ارمیش.. کو دوبارہ سے تکلیف ہونے لگی… تبھی.. وہ.. بولی….
حیدر نے.. دانت بھینچ کر اسکو دیکھا….
میں تمھیں مارو تمھارے جسم کے ایک ایک حصے کو کاٹ کے پھینک دوں مجھے افسوس نہیں… مگر کوئ.. اور یہ کرے.. وہ زندہ نہیں بچے گا.. بتاو مجھے کیسے ہوا یہ" وہ بولا.. تو ارمیش… کی آنکھیں آنسوں سے بھر گئیں…
درخنے سے چائے گیر گئ" وہ.. نا جانے کیسے اسے بتا گئ.. جبکہ… وہ تو اب اس شخص سے بات بھی نہیں کرنا چاہتی تھی…
اندھی ہے کیا وہ "حیدر دھاڑا.. اور ایکدم اٹھا…
روک جائیں سائیں…. اپکو میرے لیے.. یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں…. "ارمیش سرد لہجے میں بولی.. تو حیدر بل کھا کر پلٹا..
تم نہ اس قابل ہی نہیں ہو کہ تم سے تمیز سے بات کی جائے"وہ.. غصے سے اسے دیکھنے لگا….
ہممم تمیز" ارمیش.. نے مدھم اواز میں کہا.. حیدر کے لیے یہ بات ہضم کرنا ہی دشوار تھی کہ وہ لڑکی جسے دو سالوں سے… وہ ایسے ٹریٹ کرتا… تھا.. جیسے وہ کوی ملازمہ ہو اور وہ ایک لفظ نہیں بولتی تھی جبکہ اب.. اسکی اتنی زبان کیسے لگ گئ تھی..
اسنے ارمیش کی بربڑاہٹ پر.. کھینچ کر تھپڑ .. دے مارا.. جبکہ. گردن بھی دبا.. دی. ارمیش.. تکیے.. پر پڑی تڑپنے لگی…
اسکے ہاتھ میں بلا کی سختی تھی.. ارمیش کا سانس.. رک رہا تھا….
س… سائیں.. "اسنے خود کو چھڑانے کی بھرپور کوشش کی.. مگر.. حیدر.. نے. دوسرے ہاتھ سے.. اسکا منہ بھی دبا دیا…
اسے محسوس ہوا.. اب.. اسکا دم نکل جائے گا….
اور اس سے پہلے سانسیں جسم کا ساتھ چھوڑتیں. وہ دور ہوا.. اور.. ایک جھٹکے سے.. اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر.. اسکو نزدیک کیا…
ارمیش…. بری طرح.. رونے لگی.. کہ اسکی مدھم مدھم چیخیں.. حیدر کے سینے میں دم توڑ رہیں تھیں..
خانم. انسان کو اپنی اوقات.. اور شناخت نہیں بھولنی چاہیے.. "وہ اسکے سر پر ہاتھ پھیرتا… مدھم مسکراہٹ کے ساتھ… جیسے اسے سمھجا رہا تھا…
ارمیش کا وجود اسکے ہاتھوں میں بری طرح کانپ رہا تھا…….
وہ کچھ نہ بولی… حیدر.. اسکا سسکنا.. رونا.. سنتا رہا…
اچھی لگ رہی ہو" کچھ دیر بعد حیدر نے ہی.. اسکا چہرہ اوپر کیا..
ارمیش.. بے بس.. اسے دیکھنے لگی..
اسے اندازا ہو گیا تھا.. وہ.. اسکے سامنے کچھ نہیں… وہ بولے.. تب بھی.. وہ نہ بولے تب بھی. وہ شخص.. اس سے اپنی غلامی ہی کرائے گا…
حیدر.. نے.. جھک کر.. اسکی لیپسٹک کو.. مزید.. برباد کر دیا.. جبکہ اسکے ہاتھ اپنی گردن میں حائل کر کے.. وہ پوری طرح. اس میں گم ہو گیا….
چند.. عزیت ناک.. پل گزرنے کے بعد… وہ.. فون کی بیل پر جھٹکا کھا کر.. اٹھا….
ارمیش… خود کو.. سمبھالنے لگی.. جبکہ وہ.. بھی خود کو سمبھالتا… فون اٹھا گیا…
حیدر میں پیچھلے ایک گھنٹے سے تمہارا انتظار کر رہیں ہوں"حور غصے سے بولی.. تو. وہ مسکرا دیا..
بس ایک ضروری کام میں پھنس گیا تھا.. اب نکلتا ہوں نہ اڑ کر پھنچ جاو گا تمھارے پاس" وہ.. ارمیش کی غیر.. ہوی حالت. کو.. مزے سے دیکھتا.. اٹھا… اور… ڈریسنگ کے سامنے چلا گیا…
کیسا کام"حور کے لہجے میں خدشے تھے… سمھجہ تو وہ گئ تھی
وہ اتنا اہم ہی نہیں کہ.. اپ اسکو سوچ کر وقت برباد کرو.. چلو بند کرو اور گھڑی دیکھو.. پندرہ منٹ میں اتے ہیں "اسنے کہا.. تو وہ ہنکارہ بھر کر فون بند کر گئ…
ارمیش ایک بار پھر رونے لگی تھی.. حیدر گنگنا رہا تھا…
اب اسے اسکے سسکنے یہ رونے کی فکر نہیں تھی.. کیونکہ یہ تکلیف.. اسنے اسے دی تھی.. وہ. پھر سے.. تیار ہو کر.. اسکے پاس ایا.. اور دراز میں سے.. برنول نکال کر. اسنے اسکے ہاتھ پر احتیاط سے لگایا.. اور اسکے ماتھے پر بوسہ دے.. کر. وہ اپنا سامان اٹھا کر.. نکل گیا… پیچھے ارمیش کی چیخیں.. اور. کمرے کی تنہائی تھی… وہ اسے پاگل کر رہا تھا….
……………….
احمر نے دروازہ کھولا تو سامنے نین کو دیکھ.. اسکی آنکھیں پھٹ گئیں…
نین یہ سب کیا ہے "وہ.. ہڑبڑایا… کتنا ہنگامہ ہوا تھا… پہلے بھی اور پھر وہ.. ا گی تھی..
میں یہ سوچ رہی ہوں چھوٹے..
احمر" وہ غصے سے بولا..
اچھا کچھ بھی… "نین نے ناک پر سے مکھی اڑائ…
کہ حویلی کے باہر کا نظارہ کیسا ہو گا" اسنے. سوچا.. اور اسکیطرف دیکھا…
یہ سارے افلاطونی کام اپ نے مجھ سے ہی کرانے ہوتے ہیں.. داجی زندہ نہیں چھوڑیں گے جائیں یہاں سے" وہ. اسکو بیڈ پر بیٹھا دیکھتے ہوئے بولا.. جبکہ اس سے خود کافی فاصلے پر تھا…
ہاں نہ میں چاہتی ہوں داجی تمھیں سولی پر چڑھا دیں"نین نے خونی نظروں سے اسے دیکھا..
احمر افسوس کے سوا کچھ نہ کر سکا…
باہر لے کر چلو مجھے"اسنے دو ٹوک لہجے میں کہا.. جبکہ نقاب سے چہرہ چھپایا ہوا تھا..
ناممکن "احمر نے جھٹ کہا..
ٹھیک ہے.. ابھی ابھی.. نکلتی ہوں تمھارے کمرے سے.. اور… پکا کوئ نہ کوی دیکھے گا… پھر.. بچانے مت انا "نین نے باغی لہجے میں کہا… جبکہ احمر کا صبر جواب دے گیا..
وہ.. ایک سیکنڈ میں اسکے نزدیک ہوا…..
اور. اسکی کمر میں ہاتھ ڈال لیا..
نین کے حقیقی معنی میں چھکے چھوٹ گئے تھے.. وہ آنکھیں پھاڑے.. اسکو دیکھ رہی تھی. جس کے لب مدھم سی مسکراہٹ میں.. ڈھلے تھے…
اور وہ.. اہستگی سے اسکا نقاب.. اتار رہا تھا.. نین کا پورا وجود کانپ گیا اسے احمر سے یہ توقع نہیں تھی..
ماشاءاللہ "نین کا چہرہ دیکھ کر احمر نے پیار سے کہا…
نین کو اس سے گھن انے لگی..
زلیل انسان" وہ چنگھاڑی….
اور اسے دھکا. دے کر.. دروازے کیطرف دوڑی…
نین اپ غلط سمھجہ رہیں ہیں "اسکا کوئ غلط ارادہ نہیں تھا مگر.. نین نہ جانے کیا.. سمھجہ رہی تھی…
سمھجہ گئ ہوں میں تم بھی باقیوں کیطرح حوس پرست ہو بس. "وہ بلند اواز میں دھاڑی..
پلیز اواز اہستہ رکھیں…" احمر نے اس طوفان کو روکنا چاہا…
دیکھتے جاو… میں تمھارے ساتھ کرتی کیا ہوں" وہ وارن کرتی باہر بھاگی…
تو احمر. بھی پیچھے نکلا.. قسمت ہی تھی ہال میں کوئ نہیں تھا..
ایک اور بیر ڈال لیا تھا. اب احمر نے نین سے.. نہ جانے اب وہ کیا کرتی
وہ مسکرا دیا….
بس اسکو دیکھنے کی خواہش.. پوری ہو گئ تھی..
…………………..
اس صابن دانی میں.. کبھی نہ.. او میں.. اگر.. ہمارا سرکار.. یہاں نہ ہو "بہرام.. شراب کی بوتل پیتا… جھنجھلا کر بولا..
یار انوشے یاد ا رہی ہے" معاویہ اپنے ہی گم میں… تھا…
چل…. چلیں "اسنے… کہا.. تو معاویہ نے روکا…
خان اج.. کوٹھے پر چلتے ہیں…"
سرکار کے ساتھ بےایمانی نہیں چلے گی.. سائیں.. پہلے ہی.. ہماری میٹھی.. اکھڑی اکھڑی.. رہتی ہے. معلوم ہو گیا. تو کھا جائے گی.." وہ.. مزے سے ہنسا..
ابے.. کس نے بتانا.. بھابھی کو" معاویہ جھنجھلایا….
ملے بغیر کہیں بھی نہیں" بہرام قطعی لہجے میں بولا…
اور ملنے کے بعد" وہ پرجوش ہوا…
سوچیں گے"بہرام نے کہا. اور دنوں گاڑی سے نکالے..
چھت سے جانے کی اب ضرورت نہیں تھی تبھی دونوں نے. انکا دروازہ بجایا….
دروازہ نہ کھلنے پر. دونوں نے لاتیں مارنی شروع کر دیں…
تو.. جھٹ دروازہ کھلا..
رات زیادہ تھی تبھی. ارد گرد کوئ نہیں تھا….
اکبر صاحب کو دیکھ کر دونوں نشے میں جھومتے سلام جھاڑنے لگے.. اکبر صاحب…
چاہ کر بھی انھیں… نکال نہ سکے کے انکے ہاتھ میں بندوقیں تھیں…
دلبر….. "بہرام… صحن میں پڑی.. کرسی.. پر بیٹتھتا.. بندوق.. سائڈ پر پڑی.. چھوٹی سی.. میز پر رکھتا.. اونچی اواز میں.. چلایا..
عابیر… جس کی نیندیں تو اڑ چکیں تھیں اسکی اواز پر… ایکدم اٹھی مگر باہر نہ نکلی..
مکھن کہاں ہوں" وہ پھر بولا…
بیٹا کیوں کر رہے ہو ایسا ہماری عزت برباد ہو گئ…. مت کرو ایسا" اکبر صاحب کے پاس اسکے سامنے ہاتھ جوڑنے کے سوا کوئ چارا نہیں تھا.. بہرام انھیں سرخ نظروں سے دیکھنے لگا.. عابیر.. ریہا.. اور مما بھی دیکھ رہیں تھیں. عابیر تو تڑپ ہی اٹھی…
وہ اچانک ہی دوڑتی ہوی.. باہر نکلی
..بابا اپ اس نیچ کے سامنے ہاتھ جوڑیں گے…"
عابیر"اکبر صاحب دھاڑے…
سرکار خوشآمدید"بہرام.. ہنستا. ہوا… اسکو دیکھ کر بولا… دل.. میں چین سکون اتر گیا…
اکبر صاحب…کو عابیر پر اسقدر غصہ تھا کہ وہ اسپر ہاتھ اٹھاتے کہ بہرام نے فائر کھول دیا . عابیر..
سمیت سب کی چینخ نکل گئ.. مگر گولی.. اکبر کو نہیں لگی تھی.. پاس سے گزر گئ…
ایک ہاتھ بھی لگایا.. تو تن سے الگ کر دوں گا… "بہرام سنجیدگی سے بولا…
عابیر…. بھیگتی آنکھوں سے باپ کو دیکھنے لگی..
اکبر صاحب.. اسے.. وہیں چھوڑ کر… اندر چلے گئے..
بابا" عابیر.. کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا… اسنے تو.. سب ثابت کر دیا…
سائیں تھوڑی دیر تو روکو"بہرام نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا جبکہ وہ.. باپ کے جانے پر اور پھر دروازہ بند کر دینے پر.. مچل اٹھی..
سمھجدار ہے"معاویہ.. ہنس پڑا… جبکہ.. خود بھی باہر چلا گیا.. صحن میں بس وہ دونوں رہ گئے…
عابیر اپنا ہاتھ چھوڑانے.. کی کوشش کرتی.. زمین پر بیٹھ کر.. رونے لگی.. بہرام نے اسے کھینچ کر اپنی چئیر کے نزدیک کر لیا….
اور اسکا چہرہ دیکھنے لگا….
اس چہرے پر.. بہرام قربان جائے.."ایک ہاتھ سے اسکا ہاتھ قابو کیے جبکہ دوسرے سے.. اسکے چہرے پر ہاتھ.. چلاتا.. وہ مدہوشی میں تھا…
عابیر نے اسکا ہاتھ جھٹکا…
اور.. ایک ہاتھ سے اسکاگریبان نوچ ڈالا
سسسسی" بہرام کے سینے پر اسکے نخون چبھے تھے…
مگر وہ پھر بھی مسکرا دیا…
اور.. عابیر کو مزید کھینچ کر.. وہ جھک کر.. اسکے چہرے پر جھکنے لگا.. کہ.. عابیر نے اسکے منہ پر تھپڑ دے مارا… بہرام نے. وہ ہاتھ بھی تھام لیا…
اور.. اسکی انگلیوں کو دیکھنے لگا…
عابیر کا دل خوف سے لرزا…
بہرام نے. ان نازک انگلیوں کو لبوں سے لگایا اور پھر دانتوں میں دبا لیا.. اتنی زور سے.. کہ. عابیر کی چینخ.. سن کر.. اکبر صاحب. جو اس سے نفرت کا اظہار کر کے جا چکے تھے تڑپ کر باہر نکلے..
انکی بیٹی تڑپ رہی تھی.. جبکہ وہ دانتوں میں اسکی انگلیاں لیے مسکرا رہا تھا…
وہ بھاگ کر اس تک پہنچے.. اور اپنی بیٹی کو چھڑوایا….
عابیر انکے سینے سے لگی… رونے لگی.. جبکہ بہرام.. بندوق لے کر اٹھا..
چلتا ہوں.. سرکار… ہرملاقات.. میں…. اپنے کھٹے سے باندھ لیتیں ہیں… کبھی تفصیلی.. ملیں گے.. پھر.. اپکو سسکا نہ دیا.. تو نام بدل دینا.. "وہ بے باکی سے کہتا.. انگلش دھن گنگناتا.. وہاں سے نکلا…
عابیر سمیت اج اکبر صاحب بھی رو رہے تھے جبکہ اندر ریہا.. اور مما بھی روئے جا رہیں تھیں..
ہنستا بستا گھر.. اجڑ کر رہ گیا تھا…
موبائیل مسلسل بج رہا تھا کمرے کی فضا.. میں انگلش…. مدھم سونگ کی اواز ایک تسلسل سے اٹھ رہی تھی….
جبکہ.. بیڈ پر دیکھا جائے تو بہرام خان.. تکیوں میں منہ دیے.. اندھا مدہوش لیٹا تھا.. بیڈ کے اردگرد.. شراب کی بوتلیں پڑیں تھیں جبکہ سگریٹ… کی ڈبیاں الگ پڑیں تھیں….
فون کرنے والا بھی.. مسلسل فون کیے جا رہا تھا….
اسکی کشدہ پیشانی پر بل ڈلے.. اور وہ ایکدم.. تکیے ہٹاتا اٹھ بیٹھا.. آنکھوں میں.. کم نیند کی سرخیاں تھیں….
فون اٹھایا… اور بغیر دیکھے اٹینڈ کیا…
گالی… کون سی تکلیف ہوئ ہے"پورے کمرے میں اسکی للکار تھی…
سائیں.. سائیں… جی میں رشید" دوسری طرف سے. زرا گھگھیایا.. کر بتایا گیا…
کون رشید.. "وہ پھر دھاڑا نیند سے دماغ سن تھا…
جی.. وہ.. سائیں…
یہاں بی بی سائیں کے گھر پر جی بڑی ہلچل ہے" رشید اصل بات پر ایا…
بہرام کو اب بھی کچھ سمھجہ نہیں ا رہا تھا…
اس سے پہلے وہ.. اسکو گالیاں دیتا اسکے دماغ میں زرا سا کلیک ہوا…
ادھا لٹکا کمبل.. اوپر سے ہٹایا…
کیسی ہلچل" رشید نے.. سکھ کا سانس لیا. کہ شکر ہے اسکی یاداشت ا چکی تھی…
سائیں کچھ… ٹھیک نہیں لگ رہا .. بہت سارے لوگ ا رہے ہیں. وہ لڑکا.. بھی ہے جس کا فوٹو اپ نے دیکھایا تھا…. اور بھی کافی لوگ ہیں جی.. کچھ گڑبڑ سی لگ رہی ہے" رشید نے اسے ساری بات بتائ.. تو.. وہ بالوں میں ہاتھ پھیر کر اٹھا….
اگر… جیسا تم بتا رہے ہو…. ویسا نہ ہوا تو یاد رکھنا… میں تمھارا وہ حشر کرو گا… کہ دوبارہ.. سانس لینے قابل بھی نہیں رہو گے" وہ اسے وارن کرتا.. فون بند کر کے.. اٹھا.. اور.. اسی نائٹ ڈریس.. جو.. کہ.. ٹراوزر.. شرٹ پر مشتمل تھی… شرٹ کے بٹن بند کرتا.. چپل.. سفید پاوں میں پہنتا وہ تقریبا باہر کی جانب بھاگا تھا… اور سیدھا معاویہ کے کمرے کے اگے رکا….
دروازہ… کھول کر.. اسنے.. معاویہ کو نیندوں میں ہی جھنجھوڑ دیا….
معاویہ نے یڑبڑا کر اسے دیکھا..
کیا"
چلو میرے ساتھ.." وہ بہرام کا سنجیدہ چہرہ دیکھ جر.. اسکے ساتھ ہو لیا… اور دنوں اسی حولیے میں.. ایک جھپکے کیطرح حویلی سے نکلے تھے…
مردان خانے کے ہال میں سب نے ہی انھیں یوں گزرتے دیکھا.. تو… سب.. انھیں روکتے رہ گئے مگر بہرام.. نے نہ روکنا تھا نہ ہی وہ روکا….
داجی ماتھے پر بل ڈالے…. دیکھنے لگے…
احمر خان "
جی داجی" وہ ایکدم انکی طرف متوجہ ہوا…
اس وجہ کا پتہ لگواو… جس کی بنا پر خان نے اپنی نیند کی پروا نہیں کی "سب ہی جانتے تھے.. وہ دن میں کبھی حویلی میں نہیں دیکھتا جبکہ رات.. کو ہی. اسکے. رخ روشن کا دیدار ہوتا تھا…
جی داجی" احمر نے کہا تو.. وہ سر ہلا گئے
…………………
حیدر اگر تم نہ ہوتے تو میں ان حالات میں پاگل ہو جاتی "حور نے بھیگی نظروں سے اسے دیکھا… جو… بڑی شان سے صوفے پر بازو پھیلائے بیٹھا تھا… وہ دو دن سے.. حور کے پاس تھا…
تم نے ہمیں اتنی دیر سے کیوں یاد کیا…
یہ گھر تمھارا ہے.. تم سکون سے رہو.. بس.. ایک کام ہے حور.. وہ بھی جلد ہو جائے تو ہم شادی کر لیں" حءدر نے ابھی.. ان دو دنوں میں حور کو ایک اپارٹمنٹ خرید کر دیا تھا…
حور.. اس کام کو جانتی تھی… تبھی خاموش ہو گئ.. جب سے حیدر اسے ملا تھا تب سے ہی.. وہ… مہتشم سے.. خلا لینے کی رٹ لگائے ہوئے تھا….
حور نے اسکی جانب دیکھا. وہ کام بھی ہو جائے گا.. مگر میری ساس… محتشم کو پتہ چلا تو.. وہ یہاں آ جائے گا "حور نے کسی خدشے کے تحت کہا..
تو اس سے ڈرتا کون ہے" حیدر نے.. غور سے حور کو دیکھا..
ڈرنے کی بات نہیں ہے حیدر میں کچھ پل سکونو کے تمھارے ساتھ گزارانا چاہتی ہوں جس میں بس میں اور تم ہوں نہ کوئ.. اور وجود ہو.. مگر میری ساس لازمی کچھ غلط جر دے گی"وہ اب بھی ڈری ہوئ تھی..
اوکے.. میں دیکھتا ہوں… اسکو بھی تم پریشان مت ہو" ھیدر نے اسکا ہاتھ تھامہ تو حور مسکرا دی…..
کچھ دیر دونوں کے درمیان خاموشی قائم رہی جبکہ حور نے کچھ توقف کے بعد حیدر کو دیکھا..
اس دن تم کیا اہم کام کر رہے تھے"حور نے. ماتھے پر بل ڈالے.. گھر کے چکر میں وہ یہ بات بھول گئ تھی..
حیدر کھل کر ہنسا.. جبکہ حور… نے… غصے سے دیکھا…
حیدر نے اسکی چھوٹی سی ناک کو دو انگلیوں کے درمیان پیار سے بھینچ ڈالا….
ایسے سوال کرتی ہوئ بہت اچھی لگ رہی ہو.. کہاں لے جائیں ہم اپنا دل" حور کو.. اسکی.. چاہت بھری نظروں سے صاف محسوس ہوا.. تھا کہ وہ بات گھما گیا ہے.. اسنے رخ پھیر لیا…
حیدر نے اسکے شانے پر بازو پھیلایا…
ڈئیر ڈارلنگ…. زرا سبق سیکھانا.. تھا بس" وہ بدلنخواستہ چھپے ہوئے لفظوں میں بتا ہی گیا..
مجھ سے ملنے کے بعد بھی اسکے قریب جاتے ہو" حور کا غصہ کم ہی نہیں ہو رہا تھا….
اہو.. تمھیں جیلس ہونے کی کوئ ضرورت نہیں.. محبت اور بیوی میں فرق ہوتا ہے بہت"حءدر نے. اسکو پیار سے.. سمھجایا..
ہوں میں جیلس…. تم صرف میرے ہو حیدر"وہ بھیگی پلکوں سے اسے دیکھنے لگی..
ہم نے کب کہا ہم تمھارے نہیں… ہم بھی بس تمھارے ہی ہیں.. اب.. خلا کا نوٹس بھیجوا کر… تم بھی پوری طرح ہماری ہو جاو "
حیدر نے.. پھر وہی ذکر چھیڑا…
تم مجھے سکھ کا سانس نہ لینے دینا.. "حور چیڑی.. جبکہ حیدر پھر ہنس دیا…
پھر دونوں کے درمیان خاموشی چھا گئ..
تم اسے.. شہر بلوا لو "حور نے کچھ سوچتے ہوئے کہا…
کیوں" حیدر بلکل نہیں سمھجا….
حیدر مجھے بچہ بلکل صحت مند اور بہت پیارا چاہیے…. تبھی میں اسے نہ چاہتے ہوئے اپنے سامنے رکھنا چاہتی ہوں "وی شانے بے نیازی سے بولی.
ڈالنگ. وہ ہمرا بچہ ہے.. اسکی خوبصورتی کو اپ چیلینج نہیں کر سکتیں اور دوسری بات.. ارمیش.. بھی بہت خو صورت ہے.. تو یہ فخر.. نہیں بنتی"
کیا مطلب ہے"حور تو اس بات پر چڑھ دوڑی حیدر نے زبان دانتوں تلے دبا لی…
ہمارا مطلب… یہ تھا" وہ ہنسی روکتے ہوئے بولنے کی کوشش کر رہا تھا..
تمگاری اس سو کولڈ بیوی سے زیادہ خوبصورت ہوں میں سمھجے" وہ غصے سے بولی..
نوڈاوٹ"حیدر نے ہار مان لی
تم.. چار دنوں کے لیے اسے یہاں لے او.. تاکہ میں اچھے سے.. بیبی کی گروتھ وغیرہ… کی معلومات خود اپنی پسند کے ڈاکٹر سے کروں "حور نے ھکم دیا.. جبکہ وہ سر جھکا گیا.. لگ ہی نہیں رہا تھا یہ وہی حیدر ہے….
……………
گھر کے سامنے گاڑی روک.. کر.. وہ گن.. ہاتھ میں تھامے… دروازہ.. لات مار کے کھول کر اندر داخل ہوا…. تو.. صحن میں کوئ نہیں تھا… اسنے.. رشید. کے وجود میں گولیاں اتارنے کا.. سوچ لیا تھا..
مگر جب وہ یہاں تک پہنچ گیا تھا…
تو.. سرکار سے ملے بغیر کیسے جاتا.. تبھی وہ اندر.. ایا.. معاویہ بھی پیچھے ہی تھا…
اور سامنے کا منظر دیکھ کر. وہ جیسے پتھر کا ہو گیا…
سرخ لباس میں.. وہ.. بے انتھا.. حسین لگ رہی تھی بدامی آنکھوں پر ہلکا ہلکا میکپ.. آنکھوں کے سجے پاپوٹے.. اور.. پلکیں سجدہ ریز.. لبوں پر سرخ کندھاری لیپسٹک.. اور ہلکی سی جیولری کے ساتھ.. وہ بہرام.. کا دل دھڑکا گئ.. مگر اسکے مقابل بیٹھے معاز کو دیکھ کر وہ ہوش میں ایا.. جبکہ پیچھے معاویہ بھی منہ کھولے کھڑا تھا…
نکاح جاری تھا.. اور اس سے پہلے عابیر قبول ہے.. کہتی.. بہرام.. کی بندوق سے گولی نکلی.. اور معاز کا بازو چیر گئ…
وہاں ایکدم ہڑبڑی میچ گئ…
جبکہ… معاز.. اپنا بازو تھامے.. درد سے کراہ رہا تھا..
عابیر جانتی تھی.. وہ ا گیا ہے.. اسنے انکھ اٹھا کر نہیں دیکھا….
اسکے دل میں موجود ساری نفرتوں کا اکیلا وارث تھا وہ..
اور نہ جانے کیوں اسے یقین تھا وہ ضرور ائے گا…
وہ یوں ہی بیٹھی رہی جبکہ.. بہرام
. اب سب کو مزے سے دیکھ رہا تھا…
تقریبا لوگ ڈر چکے تھے.. جبکہ معاز کے والدین… اسکے بہتے خون پر.. انسو بہا رہے تھا..
یہ لڑکی ہی منحوس ہے.. نہیں کرنی مجھے اپنے بیٹے کی شادی اس سے.. ارے عاشق پال ہی لیا.. تھا تو.. یہ پرسائ کا ڈہکوسلا کیوں کر رہی ہے… "معاز کی ماں اونچی اواز میں اسکو کوسنے لگی.. جو سر جھکائے بیٹھی تھی….
بہرام مسکرایا… اور اسکے.. بلکل سامنے جا کر بیٹھ گیا.. ٹانگ پر ٹانگ رکھے وہ.. معاز کی بے بسی دیکھ رہا تھا….
ایسا کچھ نہیں ہو گا…. یہ ادمی بھلے مجھے مار دے مگر میں عابیر کو کسی صورت نہیں چھوڑوں گا"معاز. غصے سے بولا.. تکلیف تو اسے بہت ہو رہی تھی تبھی ہلکی سی اواز کانہ گی…
بہرام اور معاویہ نے تعایدی اندز میں اسکو دیکھا…
خان دوسرا بازو بھی ضایع کر ڈال" معاویہ نے.. کہا تو بہرام.. نے.. سر ہلایا..
جو حکم سرکار"اور وہ اب دوسرے بازو پر گن تاننے لگا کہ.. معاز کا باپ سامنے ا گیا…
بیٹا ہمیں معاف کر دو یہ ہمارا اکلوتا بیٹا ہے… "وہ گڑگڑایا… تو.. بہرام نے گن نیچے کر لی….
تو اس اکلوتے میں اتنی گرمی… ہاہا.. جچی نہیں.. خیر.. یہ سب کیا ڈرامہ ہے"وہ اب سنجیدگی سے.. اکبر کو دیکھ رہا تھا.. جو اپنی بیٹی کی حفاظت کرتے کرتے ہار گیا تھا….
چلے جاو یہاں سے کیوں ہمارے پیچھے پر گئے ہو "اس سے پہلے اکبر صاحب کچھ بولتے انکی بیگم چلائ… تو.. ریہا نے انکا بازو تھام لیا….
بہرام نے بس ایک نظر اسپر ڈال کر عابیر کو دیکھا..
نہ جانے کیوں اسے.. لگا. جیسے وہ اسکی منتظر ہو.. اپنی مرضی سے سوچ کر اسکا دل باغ باغ ہوا….
وہ مسکرایا… معاویہ کی جانب بندوق اچھالی. جو اسنے فورا کیچ کی…
کیا خیال ہے سرکار…. اج ہی اپنا بنا لیں اپکو "وہ عابیر کے پاس ا کر.. بے باکی سے.. اسکے.. چہرے کو تکنے لگا…
معاز…. کی غیوت.. نے جیسے جوش مارا تھا.. اور.. اسبے ایکدم اٹھتے.. بہرام.. کا گریبان.. پکڑ لیا..
تیرا میں وہ حشر کرو گا.. کہ یاد رکھے گا… سالے" وہ غصے سے.. بولا..
بہرام نے ایک نظر اسکے ہاتھوں کو دیکھا.. اور ایک کھینچ کر مکہ. اسکے جبڑے پر دے مارا…
وہاں.. چیخیں سننے لائق تھی..
میرے گریبان پر ہاتھ ڈالے گا.. مجھے گالی دے گا" وہ بے اوسان.. معاز کا کچومبر بنا رہا تھا.. لاتوں مکووں کی بارش کر دی تھی…
معاز کی منٹ میں نھڈال ہو کر.. ایک طرف گیرہ.. جبکہ.. بہرام نے. اسے اٹھا کر صحن میں پٹخ دیا…
معاویہ سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا یہ تو ہونا ہی تھا….
جبکہ.. سب.. بہرام کو روکنا چاہ رہے تھے.. جس کے اپنے ہاتھ زخمے ہو گئے تھے جب اسنے معاز کو جالیوں پر دے مارا….
معاز بے ہوش ہونے کے قریب تھا…
کہ.. معاز کی ماں نے…. عابیر.. کو جھنجھوڑ دیا.. جو سن سب رہی تھی.. مگر.. ایک فلک بھی نہیں اٹھا رہی تھی…
بدزات. میرا بیٹا مار دے گا تیرا عاشق کیسے سکون سے بیٹھی ہے منحوس. کہیں کی… "عابیر. نے.. انکیطرف دیکھا.. اسکی آنکھوں.. میں نمی.. تھی سرخ.. لائن تھی مگر اسنے آنسوں کو چھلکنے نہ دیا….
عابیر مار دے گا وہ اسے…. تم نے ہی بلایا ہے اسے یہاں" یہ مما تھیں… جو.. نفرت سے اسکی طرف دیکھ رہیں تھیں..
عابیر بیٹے میرے بیٹے کو بچا لو "یہ ماموں تھے اسکے اگے گڑگڑائے…
معاویہ یہ سب دیکھ رہا تھا ایک پل کو.. اسے عابیر پر بہت ترس ایا.. وہ بےقصور لڑکی… کس قدر برے برے الزامات کا شکار ہو گئ تھی….
عابیر… بچاو بچاو معاز کو" بابا.. نے اسکا ہاتھ تھام کر کھڑا کیا..
اسنے صحن کی جانب دیکھا جہاں وہ بھپرا شیر بنا… معاز کو مار ہی دینا چاہتا تھا….
معاز خونم خون بے جان پڑا تھا..
عابیر.. کی انکھ سے.. نہ چاہتے ہوئے بھی انسو نکل ائے…
وہ.. لہنگا سمبھالتی… صحن میں ائ سب جیسے سانس روکے دیکھ رہے تھے.. وہ.. بہرام کی قریب جانے لگی..
اس قدر نازک حالت میں معاویہ کو شغل سوجھ رہا تھا….
اسنے اپنا موبائل.. نکال لیا…
عابیر.. اسکے قریب بڑھنے لگی….
اور.. بہرام کے شانے پر ہاتھ رکھ دیا…..
بہرام… کو ایس الگا.. جیسے.. تپتے سہرا میں بارش سی برس گئ ہو.. اسنے… اپنا پسینہ ایک ہاتھ سے صاف کیا. اور پلٹ کر عبیر کو دیکھا.. اور اسی وقت معاویہ نے.. یہ منظر قید کر لیا….
تمھیں میں چاہیے ہوں….. "عابیر.. مدھم اواز میں اس سے پوچھ رہی تھی.. اور جیسے اسے اپنے سحر میں جکڑ چکی تھی…
بہرام نے معصومیت سے سر ہلا دیا جبکہ معاویہ اب اس منظر کی وڈیو بنا رہا تھا..
تیری معصومیت خان" اسکی ہنسی رعکنا مشکل تھی..
باقی سب نفرت سے یہ نظارہ دیکھ رہے تھے…
چلو میرے ساتھ" عابیر نے اسکا ہاتھ تھامہ… بہرام اسکے ساتھ کھنچتا چلا گیا… سب معاز کیطرف بڑھ گئے.. اب عابیر سے انکا کوئ واسطہ تعلق نہیں تھا….
طس ریہا تھی جو اپنی بہن کی بے بسی پر خون کے انسو رو رہی تھی باہر معاز کو ہسپتال لے کر جایا جا رہا تھا.. جبکہ اندر ایک ڈرا سہما مولوی.. بہرام خان معاویہ… اور ریہا.. سمیت عابیر کے علوہ کوئ نہیں تھا…
مولوی صاحب نکاح شروع کریں "وہ.. بے لچک لہجے میں بولی.. بہرام نے.. نفی کی.
نہیں.. سائیں ایسے نہیں.. ہماری شادی اتنی روخی پھیکی کبھی نہیں.." وہ بولا.. تو عابیر… نے اسکی بات کا نوٹس نہیں لیا…
بہرام.. ہونٹوں پر انگلی رکھے.. اس لڑکی کے ٹشن دیکھ رہا تھا.. مزاہ بھی خوب ایا.. واہ کیا نکاح تھا…
پھر سب.. پس پشت ڈال کر.. اسنے عابیر کے لیے قبول ہے. کہہ دیا.. جبکہ عابیر نے بھی… قبول ہے کہہ کر.. خود کو بہرام کے سپرد کیا.. اب یہ کوئ نہیں جانتا تھا.. کہ..
بہرام کی زندگی میں سکون انا تھا.. یہ…
اس کی زندگی ایک عزیت سے دو چار ہونے والی تھی…
……………….
وہ ایسے نکاح نہیں کرنا چاہتا تھا.. مگر مسرور تھا…
بے حد بے انتھا خوشی تھی.. جو اسکو چین نہیں لینے دی رہی تھی اسے سمھجہ نہیں ا رہا تھا اخر اتنی جلدی.. وہ اسکی ہو کیسے گئ.. اب وہ ایک شاندار ولیما دینے والا تھا..
خان داجی.. جان لے لیں گے "معاویہ گاری کو مستعدی سے ڈرائیو کرتا بولا…
ہم دے دیں گے جان" عابیر.. کو خود کے قریب کرتا.. وہ نہایت چاہت سے بولا.. جبکہ عابیر.. ابھی کچھ پل پہلے ہونے والے قصے میں محو. تھی..
اج کے بعد تمھارا ہمارا کوئ تعلق نہیں مر گئ تم ہمارے لیے بدنام کر دیا پوری دنیا میں ہمیں.. ایسی اولاد سے بہتر تھا اللہ ہمیں اولاد نہ دیتا.." مما نے.. اسکو تھپڑ مارتے ہوئے.. غصے سے کہا.. جبکہ وہ خود بھی رو رہیں تھیں.. بہرام اس سے پہلے.. انھیں کچھ کہتا.. عابیر نے اسکا ہاتھ تھام لیا… اسنے بابا کو دیکھا جبکہ اکبر اسکا.. تھاما ہاتھ دیکھ رہے تھے…
اگر یہ ہاتھ تھامنے کی تمھاری اپنی خواہش تھی تو ایک بار کہہ دیتی… عزت سے رخصت کر دیتا "انھوں نے.. بس اتنا کہا.. جبکہ عابیر نے فورا وہ ہاتھ چھوڑا…
اور انکے سینے سے لگ گئ.. جبکہ اکبر صاحب یوں ہی کھڑے تھے….
انھوں نے اسکو پیار نہیں کیا جبکہ خود ہی خود سے جدا کر دیا.. اور اندر چلے گئے.. سارا خاندان انپر تھو تھو کر کے چلا گیا تھا.. عزت غیرت کی دھجیاں اڑ چکیں تھیں….
اسنے ریہا کو دیکھا. تو وہ انکے سینے میں سما گئ.. ا
اپکی اپنا خیال رکھنا "اسنے روتے ہوئے کہا.. بہرام اکتا کر یہ سب دیکھتا رہا…
اسبے ریہا کو پیار کیا.. اور.. گھر کی دہلیز پار کر گئ…..
ماں باپ کا مان….
معاشرے میں عزت سب گنوا کر.. وہ نکل ائ تھی..
بہرام.. مسرور سا.. اسے.. خود سے لگایے.. کالام کے حسن راستو کو دیکھ رہا تھا.. جو.. دن میں اور بھی حسین لگ رہے تھے.. معاویہ.. ڈرائیو کر رہا تھا…
عابیر.. نے بہرام کے سینے پر سر رکھ دیا….
بہرام نے چونک کر اسکو دیکھا…. جس کی آنکھیں بند تھیں…
دل جیسے خوشی سے پھٹنے کے قریب تھا… سب ٹھیک ہو رہا تھا…
سائیں…. ابھی راستہ باقی ہے.. کیوں بھکا رہیں ہیں "اسنے.. پیار سے اسکے. خوبصورت چہرے… پر. اپنا ہاتھ رکھا.. عابیر نے. سرخ سجئیں آنکھوں کو کھول کر اسکو دیکھا….
بہرام اسکی ہی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا…..
عابیر کی آنکھوں میں نفرت کے سوا کچھ بھی نہیں تھا… بہرام.. نے.. ہلکے سے.. ماتھے پر بل ڈالے… آنکھیں پھیر لیں….
اسے اسکی آنکھوں کی نفرت ناگوار گزری تھی عابیر مسکرا دی….
اور پوری طرح اسکی بانہوں میں مقید ہو گئ
کیا ہوا.. بہرام… ان آنکھوں میں اپنا عکس نہیں دیکھا کیا "وہ اسکے سینے.. میں موجود دل کی بے ہنگم دھڑکنوں کو.. سنتی… بولی… بہرام نے اسکو دیکھا..
معاویہ خان ہیں گاڑی میں تھوڑا دور ہو جاو.." بہرام نے سنجیدگی سے کہا.. عابیر حیرت کا اظہار کرتی اس سے دور ہوئ…
ہم ہیسبینڈ وائف کے بیچ میں… پھر اس شخص کو رکھا کیوں ہے.. بہرام خان.. تم نے.. ویسے. یہ تھمارا نوکر ہے کیا.. جو تمھاری ہر وقت دم بنا رہتا ہے" گاڑی میں خاموشی چھا گئ….
بہرام حیران تھا جبکہ معاویہ سرخ چہرہ. لیے گاڑی روک گیا…
میٹھی وہ میرا دوست ہے.. وہ میرا یار ہے اور اپ اسکے بارے میں ایسے بات نہیں کر سکتی" بہرام زرا سختی سے بولا..
اوہ اچھا… "عابیر.. خود پر سے جیولری کھنچتہی طنزیہ ہنسی….
معاویہ نے بہرام کی جانب دیکھا..
تم خود ڈرائیو کرو میں جا رہا ہوں "اس سے عابیر کا حتق آمیز لہجہ بلکل برداشت نہ ہوا…. اور وہ گاڑی سے نکل گیا.. کہ ابھی بہرام کچھ کہتا ہی..
غیرت بھی ہے "" عابیر مدھم سا ہنسی.. اور جیولری کو لاپرواہی سے.. سیٹ پر پھینک دیا…
بہرام… نے.. ماتھے پر ایا پسینہ صاف کیا…
اور ڈرائیونگ سیٹ پر ا گیا…
دلبر اگے ا جائیں "وہ مسکرا کر بولا…
عابیر نے سنجیدگی سے اسے دیکھا..
موڈ نہیں" وہ کہہ کر… سیت کی پشت سے ٹیک لگا گئ..
بہرام ہنس دیا..
جان.. بہرا.. ہم اپ کے غلام.. مگر. کچھ لوگ ہیں جنھیں.. بہرام خان.. بہت عزیز رکھتا ہے..
انھیں ایسے مت کہیں "وہ گاڑی چلاتا اسے سمھجانے لگا…
عابیر نے جواب نہ دیا.. بہرام نے مڑ کر اسکو دیکھا.. وہ آنکھیں بند کیے ہوئے تھی…
اسنے سپید بھڑا دی مگر معاویہ.. اب بھی دماغ سے نہیں نکلا تھا..
………………
حیدر… حویلی پہنچا. تو سب ہی ہال میں تھے وہ بغیر کسی کو دیکھے.. اپنے کمرے میں بڑھ گیا…
یہ حیدر سائیں.. کیا کرتے پھیر رہیں ہیں. اج کل اتنے شہر کے چکر کیوں لگ رہے ہیں "داجی نے.. یاور کیطرف دیکھا.
معلوم کرتا ہوں داجی" انھوں نے فورا کہا تو وہ سر ہلا گئے….
تبھی.. ہال میں بہرام.. خان داخل ہوا…
کالام کی جان… شہزادے.. اتنی دیر سے کہاں تھے.. خان"داجی اپنی جگہ سے اٹھے تو وہ تھکا تھکا سا.. انکے بازوں میں سمایا.. جبکہ اسکے پیچھے کھڑی سرخ جوڑے میں لڑکی دیکھ کر داجی کی مسکراہٹ اور جوش دم توڑ گیا…
کون ہے یہ" وہ اس سے الگ ہوتے بولے…
بیوی ہے ہماری.. اور اپکی بہو"وہ پیار سے اسے دیکھتا بولا…
داجی… سمیت وہاں سب پر حیرت کا طوفان ٹوت پڑا….
یہ کیا کہہ رہے ہو خان "وہ دھاڑے… بہرام نے چونک کر انکو دیکھا..
کیوں کیا ہو گیا… " وہ.. سکون سے بولا…
خان.. اب نیچ ذات.. ہمارے خاندان کی بہو بنے گی کبھی نہیں" وہ چلائے غصے سے چہرہ سرخ ہو رہا تھا.. اس سے پہلے بہرام کچھ کہتا..
ایکسکیوز می…. کیا مطلب ہے نیچ ذات کا…
اپ لوگوں کی بڑی اونچی زات ہے تربیت تک تو ہے نہیں اپکی اولاد کو "وہ غصے سے دوبادو بولی… بہرام.. کے لب مدھم سے مسکرائے
داجی شیر کے ساتھ شیرنی جچتی ہے… " وہ انکے شانے پر ہتاھ رکھتا.. انکو دیکھنے لگا..
اپ میرے ساتھ چلیں.. میں سب سمجھاتا ہوں "
اسنے کہا اور منیب کو دیکھا..
بی بی کو زنان خانے میں لے جاو… "
جی صاحب… منیب عابیر کے پیچھے جا کھڑا ہوا.. جبکہ … عابیر وہاں سب کو گھورتی وہی چل دی جبکہ بہرام اسکو… انکھ بھر کر دیکھتا رہا..
اسے اتنا تو سمھجہ ا ہی گیا تھا..
کہ وہ اسے اچھا خاصا ٹف ٹائم دینے والی ہے.. کتنا یہ ابھی اسکی سوچ نہیں تھی
یہ کیا کیا ہے تم نے خان "داجی نے اسکا ہاتھ غصے سے ہٹایا..
ہماری محبت کا یہ صلہ دیا اتنی غداری" انکا غصہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا جبکہ بہرام.. صوفے پر.. بیٹھ کر.. سامنے ٹیبل پر ٹانگیں پھیلا گیا…
وہ کب.. سے انھیں قائل کرنے کی کوشش کر رہا تھا مگر.. وہ تو کچھ سمھجہ ہی نہیں رہے تھے.. جبکہ اسکی نازک مزاجی پر اب سب چیز گراں گزر رہی تھی…
کسی کا بھی ایک لفظ بھی زہر کیطرح لگ رہا تھا.. اور وہ اب.. جان چھڑانا چاہتا تھا.. مگر اپنی پوزیشن بھی حویلی میں ہلنے نہیں دے سکتا تھا… تبھی داجی کا. پٹ جانا زیادہ ضروری تھا..
یہ میں کیا سن رہا ہوں "ابھی وہ داجی سے کچھ کہتا ہی کہ.. حیدر دھاڑ سے دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا..
حیدر سائیں تمیز تہزیب بھلا دی ہے" داجی کو شدید ناگواری ہوئ اسکے بغیر اجازت طلب کیے انے پر ..
تمیز تہزیب اور اپکے… کمال اصولوں کی دھجیاں تو یہ اپکا شہزادہ اڑا چکا ہے.. اور اپکو.. ہمارے پیچھے پڑنے کی پڑی ہے" وہ غصے سے دھاڑا..
ایک اور"بہرام نے… جھنجھلا کر.. حیدر کو دیکھا..
حویلی میں کوئی غیر عورت نہیں ائے گی"حیدر نے جیسے حکم دیا.. بہرام نے.. آنکھیں گھمائ…
اچھا اور حویلی کے باہر… اپارٹمنٹ دلائے جا رہے ہیں…. کمال ہے.. لالا… حویلی والوں کی حلال کی کمائ.. اس شادی شدہ.. پر لٹائ جا رہی ہے" وہ بھی بہرام تھا.. وہاں وار کیا.. حیدر ایک پل کو سن کھڑا رہ گیا..
وہ تمھارا مسلہ نہیں" وہ.. تیور بگاڑ کر بولا…
یہ اپکا مسلہ نہیں "بہرام دوبادو سنجیدگی سے بولا….
داجی نے دونوں کیطرف دیکھا. اور بہرام کی بات کا مفہوم سمھجتے انھیں مزید غصہ چڑھنے لگا..
کمال… بہت خوب…. یہ سب کرتے پھیر رہے ہو.. سارے.. نامعقول….. بہت خوب… کوئ کالام کے باہر اج کے بعد قدم نہیں رکھے گا… دیکھ لیں گے ہم… کتنا اپنی من مانی کر لو گے تم لوگ " وہ غصے سے… چلائے… بہرام مسکرا دیا.. اب شہر جا کر اسنے اچار تو نہیں ڈالنا تھا.. جبکہ حیدر کی تلملاہٹ دیکھنے لائق تھی..
اس نے جو حرکت کی اسکو دیکھنے کے بجائے.. اپ پھیر ہمارے پیچھے.. لگ چکے ہیں.. مگر اپ یہ بات اج سن لیں حویلی میں.. کوئ.. بھی غیر لڑکی نہیں رہے گی "وہ.. ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا….
داجی تو خود یہ ہی چاہتے تھے… انکے خاموش ہوتے ہی بہرام کا میٹر شاٹ ہونے لگا..
کیا بکواس ہے… حویلی بہرام خان کی ہے… کوئ یہ بات.. بھول رہا ہے تو.. خود جا کر رہے فلیٹوں میں… یہ سب میرے نام ہے.. اور میں جسے چاہو… اسے لاو گا…. یہاں کسی میں اتنا دم ہے کہ بہرام کو روکے "وہ ایکدم اٹھتے دھاڑا تھا….
سردر ہونے کی حثیت سے… تم اس گستاخی… کی وجہ سے سزا کے مستحق ہو.. جانتے ہو نہ.. کہ کالام کا سردار کون ہے.." حیدر… نے اسکی آنکھوں میں دیکھا..
ہاں جانتا ہوں ایک بزدل شخص ہے.. جو… خود تو.. اپنی محبت پا نہیں سکا.. اج تک… ایک عورت پر اپنی مردانگی دیکھا رہا ہے… اور مجھے سزا دے گا" اس سے پہلے وہ ایک دوسرے کا.. گریبان پکڑتے داجی نے.. دونوں کے بیچ ا کر… دونوں کو ہی.. حدیں پار کرنے سے روکا….
جاو حیدر خان.. سمبھال لیں گے ہم اس معاملے کو" داجی نے حیدر کو نکالا..
اس سے کہیں طلاق دے… اسے.. اور فارغ کرے "حیدر نے نخوت سے کہا جبکہ بہرام نے واس اٹھا کر دیوار پر دے مارا..
اگر دوبارہ یہ بات کہی تو.. گدی سے زبان کھینچ لوں گا "وہ دھاڑا تھا.. داجی نے.. اسکو تھامہ ورنہ اسکا بس نہیں چل رہا تھا حیدر پر چڑھ دوڑے….
جاو تم.. اور شہر جانے کے بارے میں سوچنا بھی مت "داجی نے جیسے وارن کیا..
کون روکے گا مجھے"حیدر.. نے لاپرواہی سے کہا..
روکیں گے نہیں… اس وجہ کو ضرور مروا دیں گے یاد رکھنا "وہ آنکھیں نکال کر بولے…
دیکھ لوں گا"حیدر سر ہلاتا… نکلا…
جبکہ داجی نے بہرام کی جانب دیکھا…
دادا کی جان… کیوں "وہ جیسے.. اسکے اگے ہارے تھے….
بہرام نے.. غصے سے انھیں دیکھا..
میری اہمیت ہے.. یہ.. اپکی.. رسموں کی" بہرام نے.. غصے سے پوچھا..
جان دادا صرف اپکی.." مسکرا کر.. اسکی پیشانی… چومی.. تو بہرام کو جیسے اپنے کانوں پر یقین نہ ایا… یہ ایکدم کیا ہوا تھا.. وہ. حیرانگی اور خوشی کے ملے جھلے تاثر لیے انھیں دیکھنے لگا….
سچ "وہ بے یقین ہوا…
سو فیصد" انھوں نے اسکے بکھرے بال.. مزید بگاڑے…
شیر لگتا ہے… میرا جب غصے میں ہوتا ہے.. "وہ ہنسے بہرام.. بھی ہنس دیا…
لو یو داجی" وہ جوش میں انکے سینے سے لگ گیا.. جبکہ… داجی.. کی نظریں ٹوٹے ہوئے واس کے کانچ کے ٹکڑوں پر تھیں…..
لو یو ٹو… شہزادے" سنجیدگی سے کہا…
بہرام جیسے ہلکا ہو گیا.. اور ان سے الگ ہو کر.. وہ. اب اپنے روم میں جا کر لمبی تان کر سوتا تو.. رات… جاگتا.. جو اسکے بقول اسکی زندگی کی سب سے حسین رات ہونے والی تھی کیونکہ اس رات میں عابیر اسکے پاس اسکے ساتھ ہوتی…
وہ داجی کے روم سے نکل گیا…
کبھی کبھی درست راہ پر انے کے لیے….شہزادے یہ سمھجہ لو.. لانے کے لیے توڑنا پڑتا ہے… حیدر کو… ہم نے توڑا تھا… سب کے سامنے تمھیں سب کے سامنے نہیں توڑ سکتے…..
افسوس…. ہے ہمیں
مگر تم ہمیں ہر شے سے عزیز ہو….
ٹوٹ کر جوڑوں گے تو صرف ہمارے ہو گے….
چار دن کے شوق پر.. ہم… تمھیں کچھ نہیں کہہ رہے… "
بستر پر بیٹھتے.. وہ جیسے.. خیالوں میں اس سے مخاتب ہوئے تھے
…………….
حویلی بہت خوبصورت تھی.. عابیر زنان خانے میں داخل ہوئ تو بی جان.. اور سب نے اسے دیکھا.. جبکہ منیب یہ اطلاع دے گیا کہ یہ بہرام سائیں کی بیوی ہیں
سب شاکڈ تھے جبکہ عابیر کو سب کا گھورنا اکورڈ لگا…
واہ…. "یہ نین تھی…
عابیر نے سر سے پاوں تک… اس لڑکی کو دیکھا.. جو کافی.. خوبصورت تھی بلکہ سب ہی یہاں خوبصورت تھے.. مگر اسکی خوبصورتی.. اور پھر.. اندز بے نیازی کا جوڑ نہیں تھا…
مان لیا نین خانم کا بھائ تھا" وہ بولی تو لہجے میں داد ہی دادا تھی…
نین"مورے نے اسے ٹوکا….
کون ہو لڑکی تم "بی جان نے. اب عابیر سے ڈائرکٹ سوال کیا…
مجھے لگتا تھا.. صرف ایک وہ ہی سر پھیرہ ہے مگر یہاں سب ہی ہیں مگر اس میں مقدار زرا زیادہ ہے" عابیر بغیر جھجکے تجزیہ کرنے لگی..
تو سب کے منہ کھل گئے وہ اپنے شوہر کا زکر کس طرح کر رہی تھی…
کیا مراد ہے.. کس انداز میں بہرام سائیں کو پکار رہی ہو" بی جان کو برا لگا بلکہ باقی سب و2 بھی جبکہ نین کے دانت باہر نکل اے..
جیو شیرنی.. ہماری خوب بنے گی "عابیر نے اس لڑکی کی خوشی دیکھی… معمولی سی حیرت ہوئ… مگر چہرے کی سنجیدگی نہ گئ…
اگر اپ لوگ اجازت دیں مجھے ارام کرنا ہے "وہ.. تمیز کے دائرے میں ان سب سے بولی..
ہاں کیوں نہیں بہرام.. سائیں کا… کمرہ ہی اپکا کمرہ ہے جائیں مردان خانے.. میں اوپر والا.. سرا پورشن بہرام سائیں کا ہی ہے" نین.. نے مزے سے کہا جبکہ بی جان اسے گھورنے لگی..
لڑکی رات سے پہلے مردان خانے میں نہیں جا سکتی تم…
ہماری رسموں کے خلاف ہے" بی جان نے لگے ہاتھ بتا دیا..
تو میں تو ان رسموں کا حصہ نہیں ہوں.. وہ زرا معصومیت سے بولی.. نین.. نے بمشکل اپنی ہنسی روکی..
ہم نہیں جانتے.. بہرام سائیں.. نے کیا کہنا ہے سردار جی کو…
مگر ہم یہ ضرور جانتے ہیں وہ اپنی بات سے نہیں ہٹیں گے جب تم نے رہنا ادھر ہی ہے تو رسمیں تم پر بھی لاگو ہوتی ہیں "بی جان نے.. اسکو.. گھورا… جو.. انکی نین سے بھی دو ہاتھ اگے لگ رہی تھی…
عابیر کا سر درد کرنے لگا.. ویسے بھی بہرام کے کمرے میں جا کر اسے کوئ فائدہ ہوتا.. اسکی شکل دیکھ کر خود پر بیتا ہر.. لمہ یاد اتا تبھی.. اسنے سیلینڈر کیا..
اوکے مگر میں ریسٹ کرنا چاہتی ہوں اپکی رسموں میں ارام کی اجازت ہے "عابیر نے… پوچھا.. تو… بی جان.. سمیت سب گھور کر رہ گئے..
جا جھلی… تیری ہی ہم جھولی لگ رہی ہے.. اپنے ہی کمرے میں لے جا" نین کے ہنستے چہرے کو.. بی جان نے دیکھا.. اور زرا غصے سے کہا..
جو حکم بی جان"وہ.. عابیر کا ہاتھ تھامتی.. انوشے اور ارمیش کو پیچھے انے کا کہتی.. وہاں سے اگے چل دی.. جبکہ پیچھےسب میں چیماگویاں شروع تھیں…
……………
ارمیش خانم کہاں ہے"ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی حیدر دندناتا ہوا زنان خانے داخل ہوا…
سب ہی بڑے تھے تبھی کسی نے پردہ نہ کیا..
حیدر سائیں یہ.. بات اچھی نہیں" بی جان نے زرا ناگواری سے کہا..
اسنے جواب نہیں دیا..
درخنے.. ارمیش کو بھیجو جلدی"وہ.. غصے سے بولا.. جبکہ درخنے. نین کے کمرے کیطرف بھاگی. اور وہ پلٹ کر اپنے کمرے میں ا گیا..
کچھ ہی دیر میں ارمیش بھی ا گئ..
سامان باندھو اپنا ساتھ لے جائیں گے تمھیں " حیدر نے کہا تو ارمیش نے اسکو دیکھا….
مجھے کہیں نہیں جانا"ارمیش نے نفی کی.. حیدر نے مٹھیاں بھینچی..
پوچھا ہے ہم نے"وہ دھاڑا.. ارمیش اپنی جگہ اچھل کر رہ گئ…
بتایا ہے میں نے" اسنے کہا…
ارمیش ہمارا ہاتھ اٹھ جائے گا"حیدر نے وارن کیا…
کب نہیں اٹھتا جب ملتے ہیں نیا زخم دے جاتے ہیں جسے اپکے انے تک.. ٹھیک کرتی ہوں.. پھر ا کر.. کوئ تکلیف دینے لگتے ہیں" وہ رونے لگی.. حیدر.. نے اسکا منہ جکڑا…
زبان تمھاری جلا دیتے ہیں بہت ہی منحوس بولتی ہو"وہ اپنی ٹون پر اترا…
ارمیش خوف سے اسے دیکھنے لگی.. ایک منٹ میں چلو.. ہمارے ساتھ.. دو دن میں چھوڑ جائیں گے واپس"حیدر نے جیسے اخری حکم جاری کیا
ارمیش مانتی نہ تو اور کیا کرتی..
کچھ بھی باندھے بغیر یوں ہی بیٹھی انسو بھاتی رہی.. حیدر نے اسکا ہاتھ تھاما اور خاموشی سے حویلی سے نکل گیا…
……………..
اس اپارٹمنٹ کووہ بڑی توجہ سے دیکھ رہی تھی وہ کافی خوبصورت تھا مگر وہ یہاں کیوں ائے تھے سمھجہ نہیں آیا اور پھر.. حور بڑی شان سے.. ائ.. سامنے سے. اور حیدر کے گلے لگ گئ.. جبکہ.. ارمیش کے ہاتھ سے… چادر کا نوکڑ چھوٹ گیا جو اسنے نروس ہو کر تھام لیا تھا..
حور.. ارمیش کی جھکی پلکیں اور چمکتی رنگت.. ناگواری سے دیکھتی رہی..
اندر او"اسنے کہا.. تو…. وہ زرا ڈرتی.. اندر داخل ہوئ.. حیدر پہلے ہی صوفے پر.. شان سے بیٹھ گیا…
ارمیش.. سامنے جبکہ حور بلکل حیدر کی بغل میں جم کر بیٹھ گئ..
حیدر کی آنکھیں بند تھیں جبکہ سر.. صوفے کی پشت پر… اسکو اپنی طبعیت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی تھی..
ارمیش کو وہ مسلسل گھورے جا رہی تھی…
جبکہ ارمیش. کی جان حلق میں ائ ہوئ تھی…
کیسا ہے.. بیبی"حور نے سوال کیا.. ارمیش نے کوئ جواب نہ دیا…
حور نے. خفت سے.. اسے دیکھا.. نہ جانے کیوں اسکے اندر کا کمپپلکس بار بار اسے یہ بات کہتا تھا کہ ارمیش صرف اسکا مزاق بناتی ہے کہ وہ ماں نہیں بن سکتی.. اور یہ ہی بات.. اسکو… تپا دیتی تھی…
حیدر… شاپنگ پر چلتے ہیں "اچانک حور کو شوشہ چھوٹا..
ہم بہت لمبی ڈرائیو کر کے اے ہیں " حیدر نے… نقاہت سے کہا..
جب تمھیں میں کہہ رہی ہوں چلنا ہے. تو چلنا ہے"حور نے.. ضدی لہجے میں کہا.. حیدر مدھم سا مسکرایا..
بس ایک گھنٹے میں چلتے ہیں" اسنے
کہا.. ارمیش سر جھکائے سب سن رہی تھی.. یہ اسکا گھر نہیں تھا کہ وہ اٹھ کر چلی جاتی…
تبھی بندھی ہوئ بیٹھی تھی..
اوکے.. جاو تم ریسٹ کرو… میں بھی. ریسٹ کرتیں ہوں تب تک.. "حور نے کہا. اور وہ دونوں اسکو چھوڑتے.. وہاں.. سے اٹھ گئے….
ارمیش.. نم پلکوں سے ارد گرد دیکھنے لگی..
کیا اذیت تھی.. مگر وہ انسان سمھجتا کب تھا.. وہ تلخی سے مسکرائ..
شکر تھا وہ دونوں الگ الگ کمروں میں گئے.. کچھ دیر تو ارمیش یوں ہی بیٹھی رہی.. جبکہ.. پھر.. وہ اٹھی.. اور جس روم میں حیدر گیا تھا.. وہ اس روم میں.. ابھی داخل ہوتی کہ… حور ساتھ والے کمرے سے نکل ائ…
کہاں جا رہی ہو"حور نے غصے سے پوچھا ارمیش ایک پل کو کانپی جیسے وہ کوئ چوری کر رہی تھی…
نہ جانے حور سے اسے ڈر سا لگتا تھا اب بھی اسکی او از سے وہ سہمی.. اور پھر بغیر جواب دیے ایک پل میں وہ روم کا دروازہ کھولتی اندر گھس گئ…
حور نے دانت پیس کر اسکو دیکھا اسکے بقول وہ اسے اپنا اختیار دیکھا کر گئ تھی حیدر پر.. اور اسکی بات کا جواب نہ دے کر وہ خود کو سمھجہ کیا رہی تھی..
حور اپنے اپ ہی اس سے شدید نفرت.. محسوس کرنے لگی….
………………..
حیدر جو بیڈ پر کمبل میں لیٹا تھا… تیزی سے دروازہ کھلنے پر… ناگواری سے.. اسنے سامنے دیکھا… ارمیش دروازے سے.. ٹیک لگائے.. تیزی سے سانس لے رہی تھی…
اسنے… نہ جانے کیسے ہاتھ ارمیش کیطرف بڑھایا.. اور جیسے.. کسی ڈرے سہمے بچے کو کوئ بڑا اپنے پاس بلائے.. ویسے اشارہ کیا..
ارمیش کے پاس اس وقت اسکے سوا کوئ نہیں تھا.. وہ ایک پل میں.. اسکی بانہوں کا حصہ بنی…
حیدر نے.. اسپر اچھے سے بلنکٹ ڈال کر.. پوری طرح.. اپنے سینے میں جکڑ لیا…
اسکے نہنہے سے دل کی رفتار کافی تیز تھی…
کیا مسلہ ہے خانم"حیدر… نے.. اسکا.. دوپٹہ.. الگ کیا.. اور اسکے بالوں کو نرمی سے سہلانے لگا…
ڈر. ڈر لگ رہا ہے" ارمیش کی اواز بھیگی ہوئ تھی..
ہم ہیں یہاں مرے نہیں ہیں جو ڈر رہی ہو"اسکی کنسرن میں بھی ارمیش کے لیے کافی تلخی تھی..
اللہ نہ کرے" اسنے سر اٹھا کر… اسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا…
حیدر اسکو توجہ سے دیکھنے لگا..
وہ کافی معصوم.. تھی.. اور اسوقت حور اور حیدر سے چھوٹی.. ڈرنا اسکا بنتا تھا…
انجانے خدشے ارمیش کو جکڑ رہے تھے..
حالانکہ کہ.. یہ حور سے ہوتے ہوئے عمل جچتا نہیں. تھا.. مگر شاید.. اسے ارمیش کی قربت کی عادت تھی…
تبھی… وہ… اسکا خوف… اپنے منہ زور جزبوں سے کم کرنے لگا…
شاید اپنی تھکاوٹ بھی اتار رہا تھا..
جبکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ…
حور باہر سلگ سلگ کر.. ہلکان ہو رہی تھی…
………………..
معاویہ کافی غصے میں تھا.. جب سے.. عابیر کی باتیں سنی تھیں.. بہرام سے بھی بات نہیں ہوئ تھی..
نہ جانے اسے کیا سوجی.. رات ڈھلتے ہی… وہ.. زنان خانے میں آ یا.. اور پیچھلے لون کی جانب بڑھ گیا اسکی توقع کے عین مطابق وہ وہیں تھی…
معاویہ کو اپنی جانب آتے دیکھ.. انوشے کے ہاتھ سے چائے کا کپ گر گیا.. گھبراہٹ سے.. ہاتھوں میں پسینے پھوٹ پڑے کانپتے ہاتھوں سے.. نقاب کیا.. معاویہ نے غصے سے وہ نقاب کھینچ دیا…
سمھجتی کیا ہو.. خود کو.. چور ہوں میں.. جو… مجھ سے پردہ کر رہی ہو "وہ الٹا ہی ہانکنے لگا..
انوشے.. دم سادے اسے دیکھنے لگی…
اب بولتی کیوں نہیں" اسنے انوشے کو جھنجھوڑا..
انوشے… کی آنکھیں بھیگ گئیں..
اور وہ دن بھی یاد ایا.. جب نیہا کی مہندی تھی.. اسنے معاویہ سے رخ پھیر لیا..
جب وہ اسکے دل میں سما ہی گیا تھا…
تو… ٹھیک ہے… وہ بھی.. پورا بدلہ لینے والی تھی…
کیا مطلب ہے اس سب کا" معاویہ غصے سے بولا..
آہستہ بولیں کوئ آ جائے گا" وہ پہلی بار اس سے اس طرح بولی.. معاویہ… ایک منٹ کو اسکو سننے لگا…
میں کسی سے ڈرتا ہوں "وہ. سر میں ہاتھ پھیرتا بولا..
میں ڈرتی ہوں" انوشے.. نے سر جھکا لیا..
معاویہ کو.. یہ دھوپ چھاو سی لڑکی بڑی پیاری لگی غصہ بھی جانے لگا..
کس سے.." وہ غور سے اسے دیکھ رہا تھا..
آپ سے" انوشے.. کو مہندی کی رات یاد آ گئ.. تبھی.. ٹکا سا جواب دے کر… وہ وہاں سے جانے لگی…
تو معاویہ نے… اسکا ہاتھ تھام لیا..
انوشے وہیں تھم گئ….
وہ اسے رفتا رفتا اپنی جانب کھینچ رہا تھا…
انوشے کے دل بری طرح دھڑکنے لگا..
اپنی محبت سے بھی کوئ ڈرتا ہے" اسکی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھ کر وہ کافی خوش تھا..
انوشے.. نے بمشکل اپنے حواس قائم کیے..
سائیں" وہ مدھم لہجے میں بولی..
حکم سائیں "معاویہ.. اسکی.. کان کی لو کو تک رہا تھا جس میں.. چھوٹی سی بالی تھی.. یہ پہلی لڑکی تھی.. جس کو.. وہ ایک حد میں رہ کر بات کررہا تھا..
اگر محبت سے ڈرنا نہیں چاہیے.. تو محبت کو.. ذلیل بھی نہیں کرنا چاہیے"وہ بولی.. مگر معاویہ سمھجا نہیں
کیا مطلب "اسنے اسکا رخ اپنی جانب کیا…
محبت کا وجود ہے.. تو غیر عورتوں… کی خوبصورتی… متاثر نہیں کرتی "
وہ بھیگے لہجے میں بولی..
معاویہ کچھ کچھ سمھجنے لگا..
اگر محبت ہوتی.. تو.. اس رات.. اس لڑکی.. کے ساتھ نازیبا حرکتیں.. نہ ہوتیں.. محبت عورت پر فرض نہیں…
مرد پر فرض… اور عورت کا حق ہے…
مجھے آپ سے محبت نہیں….
تو.. محبت کو. بیچ میں لانے کی بھی ضرورت نہیں.. معافی چاہتی ہوں.. حویلی کی عورتوں کو اتنا بولنے کی اجازت نہیں… "وہ.. اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑاتی… اسکا کھلا منہ یوں ہی چھوڑ کر.. اگے بڑھ گئ.. جبک معاوہہ.. یوں ہی کھڑا تھا…
……………..
اسکو کوئ اٹھا رہا تھا.. شدید ناگوار لگا مگر.. سب یاد ا گیا کہ وہ اپنے گھر پر نہیں تھی….
اسنے تھوڑی سی انکھ کھولی .. اور اٹھ کر بیٹھ گئ..
خوبصورت ترشیدہ بال ادھر ادھر بکھر گئے..
سامنے نین تھی.. وہ بہت بولتی تھی اور نہ جانے اسے دیکھ کر.. ایکسائٹیڈ کیوں ہو جاتی تھی…
عابیر نے اسکو دیکھا…
بہرام سائیں کا حکم ایا ہے.. تمھیں بلا رہے ہیں "نین نے سکون سے کہا.. وہ اسکے گرارا شرٹ میں کافی دلکش لگ رہی تھی…
کہاں پایا جاتا ہے وہ" عابیر نے سارے بال ایک شانے پر ڈالے.. اور اسکو دیکھا.. کمرے میں ایک اور لڑکی بھی تھی… وہ خاموش ہی تھی جب سے.. وہ ائ تھی..
نین کھل کر ہنسی…
مردان خانے میں پایا جاتا ہے" اسنے بتایا… تو عابیر نے سر ہلایا.. اور اٹھنے لگی..
ویسے تم اتنی تابیدار لگتی نہیں جتنی اسوقت دیکھ رہی ہو" نین نے.. اسے چھیڑہ..
عابیر طنزیہ مسکرائ….
تم اچھی ہو…
مگر ائ تھینک.. اس چھوٹی سی لڑکی کو میں پسند نہیں ائ "اسنے سنجیدگی سے… انوشے کو دیکھا…
ایسا… نہیں ہے بھابھی سائیں " انوشے ایکدم بولی..
ارے پلیز یہ سائیں میرے نام کے ساتھ نہ لگاو.. میں عابیر ہوں اوکے "وہ اٹھ کر.. نرمی سے بولی اور باہر نکل ائ وہ دونوں بھی باہر ا گئیں….
جب اندھیرہ ہو جائے مردان خانے میں تب جانا.. "نین نے اسکے کان میں گھس کر کہا..
کیوں" عابیر نے حیرت کا اظہار کیا..
بھئ حویلی کے اصول ہیں…
اسوقت تو سب ہوں گے.. تم جاو گی تو ایک ادھم اٹھا لیں گے"نین نے اسے سمھجایا… تو عابیر… نخوت سے چہرہ موڑ گئ…
نین اور انوشے وہاں بیٹھی خواتین کے پاس رک گییں جبکہ اسنے دوبارہ سلام کیا اب مزاج زرا سب کو اسکے درست لگے…
بیٹھ جاو" بی جان نے بھی نرمی سے کہا..
کیوں "وہ.. انکاری ہوئ..
بہرام نے بلایا ہے… اور میں بھی تو دیکھو کہاں رہتا ہے "
وہ بے باکی سے بولی تو سب کی آنکھیں حیرت سے پھٹیں رہ گییں…
لڑکی خان کہو… یہ کیا منہ اٹھا کر شروع ہو جاتی ہو" بی جان نے غصے سے کہا تو.. عابیر شانے اچکا گئ…
اور مردان خانے کی طرف بڑھ گئ…
نین نے داد دینے والے انداز میں تالی بجائ.. بی جان نے چپل اٹھا لی.. جبکہ وہ.. ایک لمحے میں غائب ہوئ تھی.
اپکی یہ عادت سب سے بری ہے" احمر کی پیچھے سے اتی اواز پر.. وہ… جھٹکے سے پلٹی اور املی کو ہاتھ میں دبا لیا..
تم سے پوچھا ہے" غصے سے بولی…
نہیں.. بتایا ضرور ہے میں نے بیمار ہونے کا زیادہ دل کرتا ہے اپکا"وہ کافی بناتے ہوئے.. بولا..
دیکھو زیادہ فری نہ ہونا تم… بھولی نہیں ہوں میں وہ رات"نین تو غصے سے اگ بگولہ ہونے لگی…
احمر نے اسکی جانب دیکھا اور مدھم سا مسکرا دیا..
یقین مانیے وہ بھولنے ولای رات تھی بھی نہیں "وہ اسکے چہرے کے سحر میں محو ہوتا بولا…
نین نے غصے سے اسکو دیکھا..
تم تم نہ ادھر ہی رکو… بتاتی ہوں میں سارے گھر والوں کو.. خاص طور پر داجی کو… کہ تم مجھ سے گندی گندی باتیں کرتے ہو" وہ.. تو اسپر چڑھ دوڑی جبکہ احمر کے اہتھ سے.. چمچ چھوٹ گیا.. اسکے چہرے پر شدید حیرت کا تاثر تھا..
خدا کا خوف کریں نین کب کی ہے میں نے اپ سے.." وہ تو.. اس لڑکی کے اتنا بے باک ہونے پر ہی حیران تھا..
ہمم جھوٹ بول کر کم از کم میں اس رات کا بدلہ تو لو جبکہ تم گھٹیا پن کی لاسٹ سٹیج پر تھے"
احمر.. گھٹیا پن کی لاسٹ س[یج اور اس دن ہوئ زرا سی قربت کا ملاپ سمھجہ نہ سکا..
اپ جانتی بھی ہیں گھٹیا پن کی لاسٹ سٹیج کیا ہے" اسنے سوال کیا اور اسکی آنکھوں میں دیکھا جو اب اسکے سامنے نقاب نہیں کرتی تھی.. اور احمر اسکے چہرے کے حسن میں یوں ہی کہو جاتا…
تم پھر سے.. کر رہے ہو…" نین نے انگلی اٹھا کر غصے سے کہا…
کوئ حال نہیں اپکا.. "احمر نے ہنس کر سر ہلایا..
ہاں تم تو دادا اماں ہو نہ.. کوئ… بہت معصوم سی"وہ… دوبودو ہوئ احمر نے خاموش رہنے میں ہی عافیت جانی…
تم نے عابیر کو دیکھا..
اسکی خاموشی نین کو بری لگی تبھی خود سے سوال داغا..
جی دیکھ لیا ہے.. انھوں نے.. چھپنے کی کوشش بھی کب کی تھی" احمر نے شامے اچکائ..
پیاری ہے کہ بلکل میرے جیسی"وہ ایکسائٹیڈ لگی…
ام م م مجھے اپ سے بھی دو ہاتھ اگے لگی ہے
. دیکھ لینا.. جلد اپکے بھائ کو نظارہ دیکھا دے گی.. دن میں چاند تارے"احمر مدھم سا ہنسا…
اول تو.. مجھ سے دو ہاتھ اگے کہہ کر جیلس فیل نہ کراو.. اور دوسرا اچھے سے جانتے ہو تم.. بہرام.. سائیں.. بہت بڑے کمینے انسان ہیں… برحال… عشق میں پھر… بھی رعایت رکھ لیں
گے" اسنے سکون سے کہا
نین اپ نے گالی دی ہے"احمر.. نے اسکی توجہ… دوسری طرف کرائ…
نین گھیرہ سانس لیتی اسکو دیکھنے کیا گھورنے لگی…
تمھیں نا کوئ… دس بارہ بچوں کی ماہ ہونا چاہیے تھا.. ایسی شاندار تربیت کرتی کہ کیا ہی بات تھی.. حکومت کیطرف سے نوبل اوارڈ ملتا تمھیں.." وہ چیڑ کر بولی…
احمر کا پہلی بار شاید زندگی میں قہقہ نکلا تھا..
ہی ہی بہت ہنسنے کی بات تھی" اسکو ہنستا دیکھ وہ بولی اور.. پھر سے املی کھانے لگی..
اپنے شوہر کی اپ کتنی عزت کرتیں ہیں ماشاءاللہ سے "احمر.. نے املی.. کو دیکھتے. کہا.. وہ اسکو گھورتا.. دیکھ محسوس کر کے… املی چھپا گئ..
جزاک اللہ "اسنے شانے بے نیازی سے کہا تو.. وہ کافی کا مگ اٹھانے لگا…
جبکہ لبوں پر مسکراہٹ تھی..
سنو ایک بات سوچ رہی ہوں میں… نین نے… اسکا بازو تھامہ.. احمر.. اس بازو پر اسکی نرم گرفت… دیکھ.. دل میں کافی خوش ہوا تھا.. کیا وہ جو غصہ تھا.. وہ وقتی تھا….
اسنےا یک پل کو سوچا…
بہرام لالا.. کے پاس گئ ہے اج عابیر کیا خیال ہے.. دیکھیں…. "
نعوذبااللہ.." احمر نے اسکی بات پوری ہونے سے.. پہلے ہی کان تھام لیے.. کتنا خرافاتی دماغ تھا اس لڑکی کا.. عابیر.. ارے ارے کر کے رہ گئ…
اسنے اسکی بات پوری نہیں سنی تھی.. وہ اسکی بات کا کیا مطلب لے رہا تھا.. احمر نے اسکے ہاتھ سے املی کھنچی اور اسے گھورتا ہوا وہاں سے نکل گیا..
………………….
وہ جانتا تھا وہ.. لون میں ہوگی…
اج ڈیرے پر کچھ زیادہ ہی پی لی تھی…
وہ جھومتا جھامتا مردان خانے سے زنان خانے میں ایا…
اور پیچھلے لون کیطرف ا گیا وہ وہیں بیٹھی چاند کو دیکھ رہی تھی..
احمر اسکی طرف بڑھنے لگا انوشے نے بھی اسکو دیکھ لیا..
وہ ایکدم اٹھی اسکے قدموں کی لڑکھڑاہٹ بتا رہی تھی کہ.. وہ ڈرنک ہے.. انوشے ڈر کر اس سے پہلے بھاگتی.. معاویہ نے.. اسکا ہاتھ تھام لیا.. کلائ کو اس زور سے جکڑا کہ انوشے… تکلیف سے کراہی اور کھینچ. کر اسے.. ساامنے دیوار کے ساتھ لگا کر اسنے اسکے راستہ روک دیا…
انوشے اسے اپنے اتنے قریب دیکھ کر.. ڈر گئ…
اور سر جھکا لیا..
معاویہ کے کلون کے ساتھ شراب کی بدبو مل گئ تھی..
انوشے… کا سر چکرانے لگا…
تو… تمھیں محبت نہیں "معاویہ نے اسکا چہرہ اٹھا کر.. کہا…
انوشے نم آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی..
کیسا انسان تھا وہ…
انوشے بی بی محبت محبت… ہوتی ہے آنکھوں میں دکھ جاتی ہے مگر ہمارے درمیان چونکہ ایس اکچھ نہیں تو…
ٹھیک ہے… بہت اچھا… مگر تمھیں تو یسا ہی معاویہ ملے گا" وہ.. طنزیہ ہنسا..
تم بچ لو… بچ نہیں سکتی.. تم چھپ جاو چھپ نہیں سکتی.. کیونکہ.. تمھیں معاویہ… کا ہی ہونا ہے…
اس دن وہ درس….
مجھے سونے نہیں دے رہا…. "
وہ اسکے چہرے پر نرم انگلیاں چلاتا… بول رہا تھا اہستہ اہستہ..
انوشے کا دل کانپا…
ہٹیں.. "وہ بہت کم اواز میں بولی.. معاویہ مسکرا دیا..
تم نے کہا نازیبا حرکتیں.. تم جانتی ہو….
مجھے پسند ہیں لڑکیاں… "وہ جان بوجھ کر اسکی آنکھوں میں دیکھتی تکلیف… کو.. مزے سے دیکھتا بولا..
تو پھر اپ میرے پاس کیوں ائے ہیں "انوشے ہمت کر کے بولی
تم میری لڑکی ہو.. سوچو تمھارے ساتھ کیا کیا ہو گا "وہ.. اسکی گردن کو دیکھتا اس سے پہلے اسپر جھکتا.. انوشے نے تڑپ کر اسے دور کیا.. وہ منہ پر ہاتھ رکھے حیرت کے ساتھ مسلسل روئے جا رہی تھی…
حویلی کے مرد اچھے نہیں تھے مگر اتنے برے تھے.. اسکے وہم و گماں.. میں نہیں تھا…
اسکا دل بری طرح دھڑک رہا تھا.. معاویہ کو کچھ غلط کا احساس ہوا…
انوشے روکو.. "معاویہ کا نشہ جیسے اڑا تھا…
اسنے اسے روکنا چاہا…
انوشے.. تو اس بری طرح سہمی تھی کہ.. وہ چیخنے لگی
..مورے ے ے ے"
معاویہ نے ارد گرد دیکھا.. وہ بری طرح رو رہی تھی…
معاویہ نے دکھ سے اسکو دیکھا.. وہ کیا اسے مطلب سمھجتا.. حالانکہ وہ اسپر برتری.. ثابت کرنے ایا تھا…
اور جب ہو گئ تھی وہ ڈر گئ تھی تو اسے برا کیوں لگ رہا تھا..
انوشے.. وہاں سے جا چکی تھی جبکہ وہ… ایسے ہی کھڑا تھا اج پھر ایک اور بار..
……………………
حیدر ایک جھٹکے سے اٹھا…
وقت اتنا گزر چکا تھا.. اسنے ایک نظر ارمیش کو دیکھا.. جو.. سو رہی تھی.. اسوقت اسکے چہرے پر.. بلا کی معصومیت تھی.. حءدر ایک پل کو مسکرایا.. اور پھر حور کا خیال اتے ہی وہ.. الٹے قدموں بھاگا تھا..
باہر سے برتن پٹخنے کی اواز ا رہی تھی حیدر نے زبان دانتوں تلے دبا لی.. غلط ہو گیا تھا…
وہ کچن کی جانب بڑھنے لگا…
حور وہیں تھی.. اسنے ہلکا سا کھنکھارا..
حور نے پلٹ کر اسکیطرف دیکھا..
واہ مہراجہ اٹھ گئے ہیں کیا خیال ہے.. اپکی اور اپکی.. بیوی.. کی خدمت میں کچھ پیش کروں "وہ چیخی جبکہ ہاتھ میں تھامی پلٹ دیوار پر دے ماری..
حور میری جان.. ایم سوری" حیدر نے جیسے ا0نی غلطی مانی..
اگر تم نے عیاشی کرنی تھی تو کرو.. میں تمھارے اور تمھاری بیوی کے بیچ نہیں ای ہوں حیدر خان
وہ .. پھر چلای.. لحیدر کو شدید شرمندگی ہوئ…
اج تو تمھاری بیوی جشن منایے گی.. مجھے بھی مارنے کی کوشش کی اور میری ہی محبت کء قربت میں رہی" وہ رونے لگی..
حور بات سنو میری.. کیا بولے جا رہی ہو.. ارمیش نے تمھیں مارنے کی کوشش کی. "وہ سمھجا نہیں وہ ایساکیسے بول رہی ہے…
ارمیش اور کسی کو مارے
ہاں دھکا دیا ہے صرف کھانے کا پوچھا تھا اتنی زور سے دھکا دی ا.. سیڑھیوں سے گیرتی.. مر جاتی تم بھی خوش ہو جاتے تمھاری بیوی بھی" وہ بری طرھ رونے لگی ھیدر کے ماتھے پر بل ڈل گئے اسنے
احور کا ہاتھ تھامہ اور.. سیدھا اپنے کمرے کی جانب چل دیا..
ارمیش اب بھی سو رہی تھی ارمیش کا ھولیہ دیکھ کر حور نے.. دانت پیسے..
حءدر نے بنا لحاظ کے ارمیش کو.. بیڈ سے ہاتھ پکڑ کر کھینچ ڈالا.. پپلے تو اسے کچھ سمھجہ نہ ائ.. اور جب ائ تو اپنے سامنے.. دونوں کو دیلھ کر وہ.. حیران ہوئ…
تم نے حور کو دھکا دیا "حیدر غصے… بولا…
ارمیش.. کو کچھ سمھجہ نہ ائ کہ حیدر نے اسکا ہاتھ بری طرح پکر کر جھنجھوڑ دیا….
اسقدر بدتمیزی" وہ غصے اور حیرانگی میں تھا..
سائیں میں نے کچھ"
شیٹ اپ.. اسقدر زبان دراز ہو گئ وہ" وہ دھاڑا جبکہ ارمیش کے منہ پر اپنے تھپڑ.. کی انگلیوں کے نشان دیکھنے لگا…
ارمیش.. کی آنکھیں سرخ ہو گئیں..
میں نے کچھ نہیں کیا" اسنے ہونٹ نکالے.. حیدر نے.. حور کی جانب دیکھا… جو مسکرا رہی تھی.. پھر ایکدم سنجیدگی سے حیدر کو دیکھنے لگی..
اسکی آنکھوں میں عجیب سی بات تھی جیسے وہ اپنی بیوی پر یقین لے ایا تھا کہ وہ سچی ہے..
حور گھبرائ..
حیدر جھوٹ بول رہی ہے.. اس نے مجھے مارنے کی کوشش کی تھی "حور بولی.. تو.. حیدر نے… دانت بھینچے..
معافی مانگو.. ارمیش" وہ بولا.. ارمیش نے اسکی جانب دیکھا .. انسو اسکے گالوں پر لڑھک ائے…
معافی چاہتی ہوں"وہ بولی.. وہ سسکنے لگی جبکہ حیدر حور کو لے کر باہر نکل ایا..
کیوں جھوٹ بولا تم نے ہم سے" وہ اب حور سے.. پوچھ رہا تھا انداز سخت ہی تھا..
حیدر وہ"
بس حور.. مجھے یہ حرکتیں نلکل نہیں پسند تمھیں وہ نہیں پسند تم مججے کہو میں اسے واپس بھیج دوں گا مگر جھوٹ.. بول کر یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں "وہ دو ٹوک لہجے میں بولا…
بیوی کی حمایت لے رہے ہو" حور نے.. نم آنکھوں سےا سکو دیکھا..
نہیں وہ بیوی ہے صرف بیوی اور تم محبت ہو… تمھیں سمھجہ ا رہی ہے نہ "وہ اسکے گال پیار سے تھپتھپانے لگا.. اسنے سر ہلایا..
میں کھانا لگاتی ہوں" اسنے کہا..
نہیں.. تیار ہو جاو شاپینگ پر چلیں گے" اسنے یاد دلیا تو وہ سر ہلا گئ…
جبکہ حیدر اسے وہیں چھوڑ اپنے کمرے میں دوبارہ ایا..
ارمیش کی سسکیوں سے کمرہ گونج رہا تھا…
وہ کچھ دیر برداشت کرتا رہا پھر غصے سے بولا..
کب تک رو گی خانم "
مجھے حویلی جانا ہے.. "وہ جلدی سے بولی..
دو دن بعد" حءدر نے کہا..
کیوں" وہ پگر رونے لگی
حویلی جانا ہے "ہونٹ نکال کر.. وہ سسکی.. حیدر.. نے.. اسکو دیکھا…
اج اسے اتنا محسوس کیوں ہو رہا تھا اسپر ہاتھ اٹھانا حالانکہ یہ تو عام بات تھی..
شاید وہ بے قصور تھی اس لیے..
مگر وہ تو.. پہلے بھی بے قصور تھی.. اسنے زمیر کی اواز کو جھٹکا.. اور.. اسکیطرف دیکھا..
کہا نہ.. دو دن بعد"وہ پھر بولا…
نہیں" ارمیش نے ضد کی
جبکہ حیدر کا میٹر گھوما..
ایسی کی تسیسی تمھاری اور تمھاری حویلی کی"اسنے ایک جھٹکے سے اسے نزدیک کیا.. اور اسکی سانسو کو بھی قید کر گیا…
ارمیش.. اسکو روک نہیں سکتی تھی بھلہ وہ موم کہ گڑیا اس ادمی کے سامنے کیا تھی..
اسکی جسارتیں بڑھ رہیں تھیں…
ارمیش نےا سکو دور کیا….
حیدر.. نے ایک قدم پیچھے لیا…
اور اسکے سرخ چہرے کو دیکھنے لگا
اپکے پاس مجھے ہرانے کا نس یہ ہی طریقہ ہے"وہ روتے میں چلائ..
اسکا چلانا حیدر کو مزاہ دینے لگا.. وہ ہنسا..
دونوں.. ہاتھوں سے پھیر سے چہرہ اسکا تھام لیا
جب ہم حور سے شادی کر لیں گے تو تمھیں بھی ازاد کر دیں گے تم بھی اچھے سے لرکے سے شادی کر لینا" اسنے.. آنکھوں ہی آنکھوں میں دیکھ کر کہا.. جیسےطوہ اسکے اگلے عمل کو منتظر ہو اس بات کے بعد..
اور ارمیش نے اسکی عین توقع کے مطابق ہی کیا..
اسکو دور جھٹکا…
اتنے ظلم کے بعد.. خانم اتنی محبت" وہ.. اسکی گردن.. میں چہرہ گھونستا بولا…
ارمیش نے اسکی جانب دیکھا.. آنکھوں کی نمی گالوں پر تھی..
اپکو. پشتاتا ہوا نہیں دیکھ سکتی" وہ بولی تو حیدر نے چونک کر دیکھا..
اور پھر قہقہ لگانے لگا…
وہ پہلی بار اسکے سامنے ہنسا…
ارمیش یو ہی دیکھتی رہی..
وہ ہنستے ہوئے اسکے گال تھپتھپا کر. پیشانی چوم گیا..
اور یوں ہی.. واشروم کی جانب چلا گیا…
ارمیش.. انسو صاف کرنے لگی.. اسکا لمس اسے پسند تھا… مگر وہ تکلیف بھی اتنا ہی دیتا تھا…
وہ بید پر بیٹھ کر حور کا جھوٹ سوچ کر پھر سے.. رونے لگی..
حیدر فریش سے باہر ایا…
اسکو دیکھا…
اب اسکے رونے کی اسے پروا نہیں تھی…
وہ.. اچھا سا تیار ہوتا…
وہاں سے.. نکلنے لگا… کہ دروازے میں مڑا…
ارمیش کی جانب دیکھا.. وہ بھی اسے ہی دیکھ رہہ تھی…
حءدر نے اسے سمائیل کے ساتھ ایک ونک پاس کی..
اور.. وہاں سے نکل گیا.. ارمیش.. نے کچھ دیر بعد گاڑی کی اواز سنی..
وہ اپنی بے بسی اور اس لڑکی کی فتح پر.. سسک کر رہ گئ.. کر بھی کیا سکتی تھی …
……………………
عابیر کو منیب اسکے کمرے کے سامنے چھوڑ گیا..
اسنے دروازہ بجانے کی زحمت نہ کی اور کمرے میں ا گئ تو ایک پل کو ساکت رہ گ>..
کمرہ مکمل روشنیوں سے بھرا تھا..
نیم اندھیرے میں کینڈلز.. جگہ جگہ بکھری ہوئ تھیں.. جبکہ کمرے میں اے سی کی.. خنکی بڑی بھلی لگ رہی تھی گو کہ حویلی میں. اور کالام میں اسے.. گرمی لگی ہی نہیں. تھی پھر بھی یہ خنکی اچھی لگی..
سفید.. بیڈ کی چادر پھولوں سے لدی ہوی بہت ہی حسین لگ رہی تھی نیڈ سے نیچے بھی پھول بکھرے ہوئے تھے..
عابیر مسکرا دی اس شخص کے ارمانوں پر..
اسنے پلٹ کر دیکھا…
وہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا.. تھا.. ٹروازر شرٹ میں بے پناہ حسین لگ رہا تھا مگر عابیر کو اسکی صورت سے زیادہ کسی کی صورت بدصورت نہیں لگتی تھی…
بہرام اسکو اپنے علاقائ لباس میں دیکھ کر دل سے مسکرایا تھا…
دروازہ بند کرتا وہ اسکی جانب بڑھنے لگا.. عابیر کا دل.. کانپ رہا تھا.. مگر.. اسنے کچھ واضح نہیں کیا..
وہ اسکے نزدیک ایا…
اور.. اسکے کی کمر میں ہاتھ ڈال کر.. اسے اپنے سینے سے چیپکا لیا..
مکھن اس رات کا انتظار… بہت شدید تھا… "وہ.. اسکے چہرے پر نرمی سے انگلیاں چلانے لگا..
عابیر سانس روکے بغیر شرمائے.. اسکی آنکھوں کو دیکھنے لگی
بہرام.. نے.. چاہت سے.. اسکی پلکوں کو لبوں میں دبا لیا…
سرکار.. شرماتی بھی نہیں ہو" وہ مدھم سا ہنسا…
بہرام… کی بات کا اسنے جواب نہ دیا.. اور پلکیں جھکا لیں.. جبکہ بہرام دل کھول کر ہنسا عابیر نے پھر اسکی جانب دیکھا…
اتنی تابعداری" وہ خود ھیران تھا…
عابیر سے اسے تابعداری کی امید نہیں تھی..
عابیر اب بھی یوں ہی کھڑی تھی جبکہ وہ.. بہکنے لگا تھا…
میری ملائ… اتنی خوبصورت کیوں ہے" وہ.. اسکے چہرے.. کے نقوش کو… بے قراری سے چھو رہا تھا…
جبکہ عابیر سن کھڑی تھی بہرام… اسکے لبوں کے کنارے پر موجود تل کو.. غور سے دیکھتا.. اچانک اسپر جھک گیا…
اسکے لمس میں تڑپ تھی…
بہرام نے.. اسکے ہاتھ اپنی گردن میں ڈالے اور کمر کو جھٹکا دے کر.. اسے دیوار کے ساتھ لگا دیا.. وہ اسپر بڑی شدت سے حاوی ہوا تھا…
عابیر کا دم گھٹنے لگا.. مگر وہ اپنی مرضی سے ہٹا…
بہرام نے.. سانس بھال کرتے اب اسکی گردن پر وار کیا…
وہ.. اپنی حدود پر کر رہا تھا.. عابیر نے اسکو.. نہیں روکا..
جبکہ اسکی آنکھیں بھیگ گئیں تھیں.. انسو لڑھک کر.. بہرام خان.. کے مدہوش چہرے پر گیرہ.. تو وہ ایکدم الرٹ ہوا…
اسنے عابیر کو دیکھا.. جو لبوں کو دانتوں میں لیے ضبط سے کھڑی تھی بہرام..
مسکرا دیا.. اور.. اسکا ہاتھ تھاما تو. اسنے اسکی جانب دیکھا…
وہ اسے بیڈ پر لے ایا…
عابیر بھی اسکے ساتھ چل رہی تھی مگر چہرے پر سنجیدگی تھی..
بہرام.. اسکے ساتھ بیٹھا.. اور ابھی اس سے پہلے وہ کچھ اور کرتا.. عابیر نے…
اسکا ہاتھ جھٹکا… وہ حیرانگی سے چونک کر دیکھ رہا تھا…
تم کتنے بدصورت ہو کبھی کسی نے بتایا"عابیر اسکی حیران آنکھوں میں سفاکیت سے دیکھتی بولی..
ہاں بہرام خان کے رنگ اڑے تھے…
اسکا چہرہ اس انداز مج پھیکا پڑا.. کہ عابیر… مسکرا اٹھی..
بہت بدصورت ہو تم….
بدصورتی کے ساتھ کون جی سکتا ہے" وہ.. اسکے چہرے کے قریب ہوئ..
بہرام… کی سانسیں تیز ہو رہیں تھیں.. وہ سن رہی تھی..
وہ ہلکا سا پیچھے ہوا.. حءرت ہی حیرت تھی…
مجھے تمھاری بدصورتی سے… الجھن ہوتی ہے گھن اتی ہے… " وہ… اسکے چہرے کو عجیب… انداز میں دیکھ رہی تھی..
تم وہ گندی گوٹھلی ہو جسے میں نغل نہیں سکتی… اغل نہیں سکتی پھنس گئ ہو…" وہ متلا کر بولی بہرام جھٹکے سے اٹھا…
اسکا پارہ ہوئ ہو رہا تھا..
دل کی دھڑکن.. بری طرح تھی..
عابیر ہنس پڑی…
تمھیں پہلے کوئ بتا دیتا تو اج تمھیں دکھ نہ ہوتا.." وہ کہتے ہوئے اٹھی.. اور اسکے قریب انے لگی..
دور رہو "بہرام دھاڑا.. عابیر
اووو کر کے رہ گئ..
جبکہ وہ.. شدید گھبراہٹ.. میں کمرے سے نکل گیا..
ابھی تو.. مزید سہنا ہے"عابیر ہنس کر شانے اچکا گئ..

صبح کا سورج نکل ایا تھا.. مگر پلکیں نہیں جھپکی گئیں تھیں… وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھے… بیٹھا.. اسکی صورت تک رہا تھا.. جو سکون سے سو رہی تھی…
وقت گزر رہا تھا…
بہرام.. کے دل میں طوفان اٹھ رہے تھے..
ایسے طوفان… جن کے اگے.. اگر کوئ اتا.. تو جل کر بھسم ہو جاتا.. ہاں بلکل ایساہی تھا…
یہ لڑکی.. اگر اسکی چاہت نہ ہوتی تو.. وہ اسے بتاتا. کہ وہ کیا.. ہے.. اور.. بہران خان کالام کی جان کیا ہے…
بہرام نے مٹھی.. کو صوفے کے کونے پر مارنا شروع کیا.. اسکے الفاظ دماغ.. میں… چبھ رہے تھے…
وہ مارتا گیا.. ہاتھ مارتا گیا.. حتی کہ.. اسنے… ٹیبل پر سے گلاس اٹھا کر دیوار پر دے مارا…
عابیر چھناکے کی اواز سے.. اٹھی.. اور سامنے اسے دیکھ کر.. ایکدم دنگ رہ گئ..
کل رات کے لباس میں.. گلے میں ٹائ جھولائے.. اگلے بٹن کھولے بکھرے بالوں سے وہ کتنا مضطرب لگ رہا تھا…
عابیر کو حیرانگی ہوئ.. وہ اتنا خود پسند تھا یعنی..
ایک کمزوری.. اسکی.. اسکے ہاتھ ا گئ تھی…
عابیر.. نے اب ایک نظر گلاس کو دیکھا…
جو کئ ٹکڑوں میں تقسیم تھا…
اسی طرح ٹکڑے ہو جاتے ہیں…
جنھیں دوبارہ کوئ جوڑ نہیں سکتا…
جیسے تم اسے اسکی اصل شکل میں نہیں لا سکتے…
یوں ہی ٹکڑے کر دیا ہے.. تم سب نے مل کر"وہ سنجیدگی سے کہتی.. اٹھی.. واشروم میں جاتی بہرام نے ایکدم اسکو جکڑا..
کیا کیا ہے میں نے تمھارے ساتھ…
محبت… یہ چار پانچ لفظ کو میں کسی پر پھینکنا بھی پسند نہ کرو اگر میں تم سے کر گیا تو تم… یہ سب کرو گی میرے ساتھ.. اج تک میری نیند کوئ حرام نہیں کر سکا تم نے ایک رات میں.. مجھے سونے نہ دیا…
عابیر بہرام.. کی اگر تم محبت ہو تو.. بہرام خود اپنا عشق ہے… "وہ دھاڑا.. عابیر کو ایک پل کے لیے اس سے خوف ایا…
اور محبت کو تو میں… گاڑ سکتا ہوں مگر میرا.. عشق….
نہ ختم ہونے والا ہے" وہ اسکے بازوں کو سختی سے جکڑتا.. چلا رہا تھا..
یہ ہی یہ ہی تمھارا غرور کسی دن کسی بہت کمزور کے ہاتھوں ٹوٹے گا..
تمھیں مجھ سے محبت وحبت نہیں ہے… صرف تمھارے دماغ میں فطور سوار ہے کسی طرح تم مجھے رام کر لو کسی طرح…
تم میرے وجود تک رسوائ کر لو… اور بس….
بس اتنا ہی…. محبت.. محبت کے معنی.. کیا ہیں.. تمھیں انکا علم نہیں…. سمھجے… ہٹو میرے راستے سے جتنی تم نے مجھے رسوائ دی ہے…
فقت چند لفظوں سے جو کمرے میں بند تمھیں بولے گے تم تڑپ اٹھے…
تم نے مجھے رسوا کیا ہے.. مجھے مار دیا ہے… تو تمھیں کیا لگتا ہے.. سکون سے جینے دوں گی میں تمھیں "وہ… جیسے پہٹ پڑی.. بہرام.. اسکی نفرت دیکھ کر رہ گیا…
عابیر نے اسے دھکا… دیا…
بہرام دو قدم دور ہوا..
اور عابیر وہاں سے نکل گئ…
بہرام.. چہرے پر ائے پسینے کا صاف کرتا… خود بھی ڈریسنگ روم میں چلا گیا…
حالانکہ وہ اسپر غصہ نہیں کرنا چاہتا تھا.. مگر…
پھر بھی وہ اسپر غصہ کر گیا تھا…
…………………
تیار ہو کر وہ اپنے روم سے نکلا تو عابیر بھی اسکے ساتھ نکل ائ… بہرام نے چونک کر اسکو دیکھا.. اسوقت مردان خانے میں بہت لوگ تھے…
جبکہ.. باقی سب گھر والے بھی تھے…
بہرام.. ایک قدم پیچھے ہوا..
سائیں کچھ دیر بعد کمرے سے نکلنا… "اسنے.. کچھ جھک کر کہا اور اسکے اگے ا گیا..
کیوں" وہ ماتھے پر تیوری ڈالے بولی… اتنی نفرت تھی اسے اس سے.. کہ ایک.. بات بھی اسکی ماننا زہر لگتا تھا
گاوں کے لوگ.. ائے ہوئے ہیں اور مردان خانے میں… عورتیں اسی طرح منہ اٹھا کر نہیں اتی"اسنے پیار سے سمھجایا… کہ غصے سے وہ ہینڈل نہیں ہو رہی تھی..
عابیر نے ایک چبھتی نظر اسکی مدھم مسکراہٹ پر ڈالی اور
. ایک قدم دور ہو کر کمرے میں چلی گئ..
بہرام کی مسکراہٹ کھل اٹھی اسنے اسکی بات جو مان لی تھی..
بہرام وہیں سے نکلتا.. ہال میں ایا
تو سب سمیت گاوں کے لوگ اسے..
دیکھنے لگے..
اوو.. شیر… دادا کی جان"داجی نے.. بڑے فخر سے.. اسکے بے مثال حسن کو دیکھتے کہا.. تو وہ انکے ساتھ بیٹھ گیا..
گاوں کے لوگ.. اسکو.. تک رہے تھے….
بھئ ووٹنگ شروع ہو گئ ہے..
سب سے زیادہ ووٹ… ہمارے سائیں بہرام کو پڑنے چاہیے" انھوں نے کہا تو سب پرجوش ہو کر تالیاں بجانے لگے..
بہرام بھی معمولی مسکراہٹ کے ساتھ بیٹھا تھا اسے معاویہ کے علاوہ سب نظر ا رہے تھے..
معاویہ کو بھی منانا تھا… اسکے دماع نے کلک کیا..
اور اس سے پہلے وہ.. وہاں سے اٹھتا…
عابیر کو اپنے پیچھے کھڑا دیکھ اسے جھٹکا لگا تھا….
ہال میں سکوت چھا گیا…
سب چپ کیوں ہو گئے… کیا بہرام خان کی بیوی سے نہیں ملیں گے"وہ.. سنجیدگی سے بولی اور اسکے بولنے کی دیر تھی ہال میں لوگوں کے درمیان چیماگویاں شروع تھیں..
سب کی زبان پر یہ ہی الفاظ تھی..
بہرام سائیں نے شادی کر لی…
بہرام سائیں نے شادی کر لی…
داجی.. نے عابیر کو دیکھا.. پھر.. اپنے ساکت کھڑے پوتے کو..
یاور" وہ.. سختی اور سنجیدگی سے بولے…
باہر لے جاو سب کو" اسنے.. پہلے لوگوں کو نکالنے کی کی… سب اہستہ اہستہ یاور خان کے کہنے پر باہر نکلنے لگے..
ارے وہ سب چلے گے.. میں ملی بھی نہیں "عابیر نے افسوس سے کہا…
وہاں موجود باقی لوگوں کے دل دھڑک اٹھے تھے اب کیا ہونے والا ہے.. کوئ نہیں جانتا تھا.. مگر ناگواری ہی ناگواری تھی…
گستاخ منہ بند کر اپنا" داجی.. اس سے پہلے عابیر پر جھپٹتے… بہرام نے بیچ میں ہی انکا ہاتھ پکڑلیا…
خان… یہ بنے گی ہمارے خاندان کی بہو یہ.. جسے.. پردے کا پاس نہیں.." داجی نے.. بہرام سے اپنا ہاتھ چھڑایا..
عابیر.. کی ہنسی چھوٹ گئ.. طنزیہ ہنسی
کیا لوگ تھے منافق عجیب..
واہ واہ واہ… کیا بات ہے پردہ.. یہاں پردہ بھی ہوتا ہے" وہ.. اردگرد دیکھنے لگی
. بہرام یوں ہی کھڑا اسے دیکھ رہا تھا…
اوہ ہاں مجھے لگتا ہے.. یہ سلاخیں پردہ ہیں. وہ عورتوں کے لیے بنائ گئ ہیں.. ماں اپنے بیٹے سے نہیں مل سکتی بہن اپنے بھائ سے کچھ ایسی پردہ داری ہے… " عابیر نے.. زنان خانے کی جالی.. کو چھوا اسے محسوس ہوا وہاں پر عورتیں جمع تھیں..
وہ ازاد انسان تھا.. اسنے کبھی سوچا نہیں تھا.. کہ وہ یہ اس سے متعلق… کوئ انسان.. داجی کے کٹھڑے میں… کھڑے ہو گے.. اور وہ تماشہ بنے گا.. اسوقت بہرام کے ماتھے کی رگیں تن گئیں…
بہرام یہ تو اسے یہاں تو اسے سے لے جاو ورنہ اب ہم سے برا کوئ نہی ہو گا"عظیم خان بھی دھاڑے…
لو.. یہ کیوں لے کر جائیے گا. میں خود چلی جاو گی پاوں ہیں میرے پاس… اور.. ایک منٹ….
یہ جو منافقت اپ لوگوں نے پھیلائ ہوئ ہے.. اس کو.. ختم کریں یہاں تو سب ہی.. عجیب شکلوں کے ہیں..
قانون بھی صرف عورتوں کے لیے… واہ رے… حویلی اور اس حویلی کی نحوست"وہ بے دھڑک بولتی.. دوبارہ اپنے کمرے میں پلٹ گئ…
دیکھ رہے ہو خان… یہ یہ ہمارے اصول اور ہمیں منحوس کہہ گئ… اور تم چپ کھڑے رہ گئے.. ایسی گیدڑوں والی تربیت کی تھی میں نے تمھاری ایسی" داجی نے اسے جھنجھوڑ دیا…
بہرام انکا ہاتھ جھٹکتا…
حویلی کے حال سے ہی نکلنے لگا…
مگر اس سے پہلے وہ نکلتا… روکا…
میرے کمرے میں کوئ نہ جائے…. " اسنے گردن موڑ کر کہا.. اور سیدھا.. اپنی گاڑی کیطرف بڑھ گیا…
غصہ کہیں نہ کہیں تو نکلنا ہی تھا…
معلوم نہیں تھا اب کون معصوم جان اس غصے کی نظر ہونے والی تھی…
…………………..
وہ لوگ ساری رات نہیں ائے تھے..
وہ ڈرتی رہی تھی.. بار بار مورے.. کو یاد کر کے وہ روتی رہی تھی.
اسے تنہائ سے ڈر لگتا تھا…
اور پوری رات وہ کیسے.. گزار دیتی..
برحال نیند تو.. شاید.. انسان کو انگاروں پر بھی ا جاتی ہے جب اسنے انا ہو…
اور یہ ہی ہوا تھا فجر کی نماز پڑھ کر وہ مسلسل روے جا رہی تھی اور اچانک غنودگی نے جا لیا…
تبھی… گھر میں کھٹ پٹ کی اواز ائ…
وہ ایکدم الرٹ ہوئ ڈر مزید لگنے لگا…
حیدر"اتنے خوف میں بھی اسنے ایک جن کو ہی پکارہ تھا…
عجیب محبت تھی…
قدموں کی اواز بھی ا رہی تھی جبکہ اب بولنے کی اواز ا رہی تھی…
وہ.. بری طرح سہم چکی تھی..
اور جیسے ہی اسکی سماعتوں نے اس اواز کو پہچانا… اسے کچھ سہجائ نہیں دیا.. وہ بغیر کچھ دیکھے.. اندھا دھن باہر کیطرف بھاگی… چھوٹے سے.. ڈرائینگ روم میں.. وہ.. اور حور آمنے سامنے کھڑے تھے تبھی ارمیش ای اور.. اسکے سینے سے لگ گئ…
گھر میں کوئ ہے سائیں.. ابھی مجھے آوازیں ائ ہیں "وہ سسکنے لگی ایک پل کو تو حیدر حیران ہوا.. پھر اسے فکر ہوئ.. کہ گھر میں کون تھا.. مگر وہ تو ابھی ائے تھے اور بولے بھی وہی تھے ایک دوسرے سے…
اسے ارمیش کی کم عقلی پر غصہ ایا…
اسنے اسے خود سے دور کیا.. ارمیش خجالت کا شکار ہوئ.. وہ کیسے اتنی بے اختیار ہو سکتی تھی…
واہ بڑی ڈرامے باز ہو تم تو "حور نے نخوت سے کہا…
خانم دماغ ٹھیک ہے" حیدر نے بھی لتاڑا تو.. وہ مزید کنفیوز ہوتی.. اور رو دی..
ایییی تم زیچ نہیں ہوتے اسکے ہر وقت رونے دھونے سے… "حور نے برا سا منہ بنایا.. حیدر خاموش رہا جبکہ ارمیش حور کو دیکھ کر رہ گئ…
جاو کمرے میں کچھ دیر بعد ڈاکٹر کے پاس جانا ہے "اسنے سختی سے کہا تو.. ارمیش.. انسو پوچھتی.. کمرے میں چلی گئ…
یہ احساس شدت سے ہوا کہ اسکا کوئ نہیں تھا.. مگر.. تھا یہ غلط تھا وہ ناشکری نہیں تھی.. اللہ تھا اسکے ساتھ.. اور پھر اللہ نے اسکو اولاد جیسی نعمت دی… کیا یہ نعمتیں کم تھیں..
اسنے.. سوچتے ہوئےزمین پر پڑا دوپٹہ اٹھایا…
باہر سے آوازیں انا بند ہو گئیں تھیں.. تو کیا وہ اسکے روم میں چلا گیا تھا..
اسنے ایک پل کو سوچا… دل پھر خون کے انسو رونے لگا..
کیا بس اسکی قسمت میں ان آنسو کا ساتھ تھا…
اسنے.. ائینے میں اپنا عکس دیکھا.. سرخ سوجے پیپوٹے.. اور زردی مائل چہرہ کل والے کپڑے…
وہ تو کبھی ایسی نہیں دیکھتی تھی..
مگر حیدر کی محبت نے.. اسکا یہ حال کر دیا تھا…
اسے بھوک لگنے لگی.. تو.. وہ کچن میں ا گئ وہ ٹھیک سمھجی تھی وہ حور کے کمرے میں جا چکا تھا…
اسنے اس بند کمرے کو… افسوس سے دیکھا.. انسان.. کتنا… بڑا سمھجتا ہے خود کو.. حالانکہ اسکی.. اہمیت زرے کے برابر بھی نہیں.. وہ شخص بھی.. ایک نا محرم لڑکی کے ساتھ خود کو مصروف کر کے.. کتنا بڑا بن رہا تھا..
اسنے.. نظریں پھیریں اور کچن میں ا گئ…
بریڈ انڈا بناتے ہوئے نہ جانے اسکے ہاتھ خود باخود کانپنے لگے.. اسنے کچھ نہیں کھایا تھا جب سے یہاں ائ تھی..
وہ عورت اسکا بچہ لینا چاہتی تھی.. اسکا نہ سہی اسکے بچے کا احساس تو وہ کر سکتے تھے نہ.. اسنے پھر اسی کے بارے میں سوچا.. اب کہ وہ رونے لگی.. اسکی حمت نہیں بن رہی تھی.. مگر. وہ تنہا تھی.. مورے نین انوشے.. بی جان. تائ جان پھوپھو کون تھا جس کے سامنے وہ روتی اور اسکے احساس میں.. کوئ اسکے لیے کچھ بنا دیتا.. مگر کیا وہ بھی اسکے اپنے تھے…
بغیر بتائے.. وہ لڑکی انکے گھر سے کب سے غائب تھی نہ اسکی مورے یہ… نہ اسکے بابا جان.. یہ ہی قریب رشتے تھے نہ انھیں وہ یاد بھی نہیں ائ تھی.. وہ کیسے اپنے تھے…
جو اسکے لیے فکر مند نہیں تھے حیدر کے لیے تھے.. کہ وہ شخص اسکے ساتھ ٹھیک ہو جائے بس. وہ یہ چاہتے تھے…
اسنے.. کانپتے ہاتھوں سے. ابھی ایک لقمہ منہ میں رکھنا چاہا…
کہ حور.. نے. اسکے ہاتھ سے.. سلائس لے کر.. دور پھینک دیا..
تمھیں یہ احساس ہے کہ.. حیدر اور میں بھوکے ہیں ساری رات باہر.. گزار دی. اور اب بھی اپنے کھانے کی پڑی ہے… "وہ کمر پر ہاتھ رکھے اسکو دیکھنے لگی…
ارمیش.. نے بھی اسکی جانب دیکھا…
ارمیش نے جواب نہ دیا اور.. پلیٹ اٹھا کر.. وہ کچن سے نکلنے کو تھی.. کہ حور.. کو.. پھر سے وہی احساس ہوا.. جیسے. وہ.. خاموشی کا طمانچہ مار گئ ہو اسے..
سمھجتی کیا ہو خود کو" حور نے اسکے ہاتھ سے پلیٹ لے لی..
راستہ چھوڑیں میرا" ارمیش کو اس سے خوف ا رہا تھا وہ اسپر چڑھ رہی تھی.. جبکہ نقاہت نے اسے. مزید کمزور کر دیا تھا.
مہرانی صاحبہ میرا گھر ہے یہ "حور نے غصے سے.. اسکا منہ پکڑا لیا.. ارمیش نے.. ہاتھ کی مدد سے خود کو چھڑوانا چاہا…
مگر حور کا بس نہیں چل رہا تھا اس کو بھی وہ کمزوری دے دے جو.. اس کے وجود میں ہے.. اور بس اس خیال نے اسکو.. آپے میں نہ چھوڑا…
اسنے ارمیش کو بری طرح جھنجھور دیا..
یہ یہ تیری آنکھیں بار بار کہتی ہیں مجھے کہ میں ماں نہیں بن سکتی.. میں نوچ لوں گی انھیں "وہ اسکی آنکھوں کو.. ابھی چوٹتی.. ارمیش نے اسے پیچھے دھکا دیا..
اسکا سانس پھول گیا تھا.. یہ سب کیا ہو رہا تھا کیا ہو گیا تھا اسے.. وہ کیا پاگل تھی.. اسکا دل… جیسے پھٹنے کو تھا وہ اسے پکارنا چاہتی تھی…
مگر.. حلق میں اواز دم توڑ رہی تھی…
جبکہ حور کا غصہ مزید اپے سے باہر ہوا.. کیونکہ پیچھے گیرتے ہی وہ منہ کے بل گیری تھی…
اور یہ گیرنا ہی اسے احساس.. کمتری میں کیا ڈالتا.. وہ… چیل کیطرح اسپر جھپٹی..
تیرا یہ بچہ میں مار دوں گی پھر تو بھی میرے جیسی ہی ہو جائیے گی تیری یہ آنکھیں برتری کا احساس نہ کریں گی "وہ کوئ پاگل لگ رہی تھی…
اسنے ارمیش کے پیٹ پر مارنا چاہا.. کہ.. ارمیش جو اسکی بکواس حیرت سے سن رہی تھی اچانک اس میں نا جانے کون سی فولادی قوت اسکے اندر ا گئ…
کہ اسنے کھینچ کر حور کے منہ پر تھپڑ دے مارا…
وہ اپنے قدموں پر لڑکھڑائ تھی..
میرے بچے کو ختم کرو گی تم.. تم "وہ حقارت سے چلای.. اسوقت وہ کہیں سے بھی ڈری سہمی ارمیش نہیں لگ رہی تھی…
یہ خانزادی کا بچہ ہے.. تمھاری جیسی ایری گیری کا نہیں جو… کسی کے ساتھ بھی راتیں گزار لے.." وہ.. اسکے بال نوچتی دھاڑی…
اور اسے پرے دھکیل دیا..
حیدر اسکے چیخنے چلانے پر نیندوں میں اٹھتا باہر ایا…
اور سامنے اک منظر دیکھ کر حیدر حیران رہ گیا.. ارمیش حور کے بالوں میں لٹکی ہوئ تھی…
ارمیش" حیدر کی دھاڑ پر اسکی گرفت ہلکی ہوئ مگر اج.. اسنے چھوڑا نہیں.. حور بری طرح رونے لگی..
حیدر یہ مجھے مار دے گی" وہ سسکی..
ارمیش کو اب اسکے ڈرامے کی.. کوی پرواہ نہیں تھی. وہ لڑکی اسکے بچے کو مارنے کے منسوبے بنا رہی تھی.. اسکے وجود میں پہلی بار کوی بات انگارے بھر گئ…
ارمیش خانم.." حیدر نے ارمیش کی کلای پکڑ کر جھٹکی..
کیا پاگل پن ہے.. کیا حرکتیں کر رہی ہو"حیدر اس سے پہلے کوی ایکشن لیتا.. ارمیش نے.. کھینچ کر حیدر کے منہ پر تھپڑ مارا…
حیدر سمیت حور پر بھی جیسے.. حیرتوں کا پہاڑ… ٹوٹ پڑا…
بے غیرت ہیں اپ.. بے غیرت… "وہ.. پھنکاری. اور.. دونوں پر نفرت بھری نظر ڈال کر وہ باہر بھاگ گئ..
حیدر نے اسے روکا نہیں وہ کہاں جا رہی تھی…
اس سے پوچھا نہیں وہ تو اس شہر سے ناواقف تھی پھر اسنے کہا‌ جانا تھا…
وہ تو… ابھی. اس بات پر ہی ھیران تھا کہ.. یہ لڑکی اسکے منہ پر تھپڑ مار گئ…
حور.. خود بھی اس ڈری سہمی ارمیش کی جرت پر.. دم سادھ گی تھی.. اسکے.. ارادے ناکام ہوئے تھے اسے اسکا بھی افسوس تھا..
جبکہ ارمیش.. ہچکیوں سے روتی.. روڈ پر… اب سہمی ہوی چل رہی تھی..
نہیں جانا تھا اسنے حویلی نہیں جانا تھا.. اسنے.. اس جگہ. جہاں اسکی کوی اہمیت نہیں تھی ایک بار پھر.. اسے اسکے.. پلے ڈال دیتے…
اسے اکتاہٹ ہو گئ تھی.. اب اسے ان لوگوں میں نہیں رہنا تھا..
وہ روتے روتے بھی تھک گی تھی…
چلتے چلتے وہ کافی دور نکل ای تھی وہ تو یہاں کسی کو جانتی بھی نہیں تھی…
مگر وہ چلتی جا رہی تھی چلتی جا رہی تھی..
اج دل بری طرح ٹوٹا تھا.. وہ شخص ہر حال میں بس.. حور کا تھا جائز یہ نہ جائز…
اسے اب حیدر چاہیے بھی نہیں تھا…
وہ.. گلیوں میں موڑنے کا سوچنے لگی
مگر کہاں جانا تھا…
سمھجہ سے بالا تر تھا…
اسنے ابھی..ایک موڑتے موڑ پر قدم رکھا ہی تھا.. کہ.. ایک جیپ اسکے سامنے ا روکی…
بہرام لالا"ارمیش نے دھڑکتے دل سے اسکی جانب دیکھا..
جو آنکھوں پر گاگلز لگائے… اسکو گھور رہا تھا…
ارمیش اس سے دور ہونے لگی..
سٹاپ ارمیش" بہرام.. نے انگلی اٹھا کر اسکو روکا…
ارمیش کو ایسا لگا.. کافی عرصے بعد اسے کسی نے اسکے نام سے پکارہ تھا…
گاڑی میں او"بہرام نے ہھر سے کہا..
وہ ھویلی نہیں جانا چاہتی تھی…
مگر وہ جاتی تھی یہ شخص یوں نہیں جائے گا اپنی قسمت کو کوستی وہ.. اسکی گاڑی میں بیٹھ گئ..
کیا قسمت.. کوئ نہیں راہ کھولنے والی تھی…
یہ کوئ نہیں جانتا تھا..
نگر دونوں جانب.. اج گھیرے زخم لگے ہوئے تھے..
وہ حویلی میں داخل ہوا….. تو.. رات کافی ہو گئ تھی..
مردان خانے میں کوئ نہیں تھا…
اسکے کمرے سے کچھ فاصلے پر ہی حیدر کا کمرہ تھا..
اج اسے نا جانے کیوں محسوس ہو رہا تھا.. اس حویلی میں.. رہنے والا ہر فرد بے حص سفاک ہے.. جس میں وہ وخد بھی شامل ہے…
وہ سر جھٹکتا… اپنے کمرے میر ایا.. اور.. دروازہ کھلنا چاہا جو کہ اندر سے بند تھا… اسنے ناگواری سے دروازے کو دیکھا…
عابیر دروازہ کھولو"شاید ناراضگی تھی تبھی… اسنے اسے اسکے نام سے پکارہ…
مگر جواب نادر تھا…
اسنے پھر کھٹکھایا….
ناجانے کس چیز نے اسے کمزور کیا تھا… کہ وہ شخص جو.. کسی کو گھاس نہ ڈالے.. وہ.. اپنے ہی کمرے کے باہر کھڑا دروازہ بجا رہا تھا…
اگر کوئ اور دیکھ لیتا.. تو غش کھا جاتا…
عابیر دروازہ کھولو"اسنے اب کہ سختی سے کہا
عابیر نے پھر بھی دروازہ نہیں کھولا بہرام.. دانت پیس کر وہاں سے ہٹا.. اور معاویہ کے کمرے کی جانب چل دیا جبکہ اسکے پلٹتے قدم. سن کر اندر وہ کھل کر مسکرائ تھی…
معاویہ کے کمرے کا دروازہ مخصوس انداز میں کھول کر.. وہ اندر ایا.. معاویہ.. ابھی… تیار تھا نہ جانے وہ کہاں جا رہا تھا…
بہرام کو دیکھ کر اسکا سپرے کرتا ہاتھ روکا…
ایک دن میں بیوی سے.. من بھر گیا جو میری یاد ا گئ "معاویہ نے طنز کیا.. بھرام.. نے… اسکی جانب گھور کر دیکھا..
یہ بات.. مت بھولنا.. کہ لس کی بیوی کے بارے میں بات کر رہے ہو" بہرام نے.. کہا اور اسکے بستر پر جوتوں سمیت لیٹ گیا…
اچھا یہ بات تم نے اپنی بیوی کو کہی کہ یہ بات مت بھولو کہ تم کس کے دوست کے بارے مین بات کر رہی ہو.. تب تو منہ میں… گڑھ بھر گیا تھا نہ" معاویہ شدید جزباتی ہوا.. درحقیقت.. اسے عابیر کی یہ بات بہت بری لگی…
بہرام نے.. جواب نہ دیا…
کہاں جا رہے ہو" اسنے بات بدلی
جہاں بھی جاو.. تم سے مطلب "وہ پھر بگڑا…
بہرام.. اٹھا…
اور.. اسکی گردن کو سختی سے دبوچ لیا..
سالے.. سمھجہ کیا رہا ہے خود کو.. میری معاشوقہ ہے تع جو طنز پر طنز مارے جا رہا ہے.. حویلی کی دیواریں بھی یہ بات جانتی ہے بہرام.. معاویہ اور داجی کے بغیر نہیں رہ سکتا.. پھر جب چل کر تیرے پاس ا ہی گیا ہوں.. تو… اتنا بھاو دیکھا رہا ہے"اسنے ایک دو پنچ.. چیخنے کے ساتھ اسکے پیٹ میں دے مارے..
کمینے" معاویہ بھی چلایا.. اور.. اسکا بازو پکڑ کر موڑنا چاہا.. کہ.. بہرام نے.. پھیر.. اسکی گردن دبوچ لی..
چھوڑ منحوس"وہ. دھاڑا…
ٹھیک ہے پہلے یہ بتا جا کہاں رہا ہے" بہرام نے ویسے ہی اسکو گھمایا…
معاویہ کا چہرہ سرخ ہونے لگا بس نہ چلا اس ادمی کو کچا چبا جائے..
شبنم کے پاس. "معاویہ نے بتایا..
بہرام نے اسے جھٹکا
لو وہ بھی کوئ چیز… ہے" اسنے منہ بنایا…
تجھ سے پوچھا ہے"وہ پھر.. بگڑا…
شرم کر. تیری لائن اب تک انوشے سے فٹ نہیں ہوئ جو باہر منہ مارنے جا رہا ہے" اسنے کہا تو معاویہ کو.. ایک دم میں اس تبدیلی.. پر صدمہ ہی ہو گیا…
بہرام اسکی ایکٹینگ پر قہقہ لگا گیا…
مولوی صاحب فطوے.. کسی اور پر جھاڑنڑنا..
شادی اپکی ہوئ ہے میری نہیں.. میری شادی ہو گی مجھے بھی عشق وشق کا بھوت چڑھے گا.. میں بھی.. کر لوں گا کنارہ" اسنے.. کہا.. تو بہرام کو عابیر کا کل سے اب تک کا رویہ یاد ا گیا…
عجیب شے ہے.. یہ محبت بھی سمھجہ ہی نہیں اتی… کچکچھ" وہ.. کچھ گم سے انداز میں بولا… اور پھر معاویہ کو دیکھا..چل تیری انوشے سے معلاقات کراو"وہ ہنسا… پوپورے دانت نکال کر.. وہ معاویہ کو زہر لگا…
مجھے نہیں ملنا… "معاویہ کو.. اپنی حرکت یادد ائ…
کیوں" بہرام نے پوچھا…
تو معاویہ نے ایک نظر اسکو دیکھ کر.. ساری داستان اسے سنا دی..
بہرام.. کی ہنسی.. بند ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی معاویہ نے زیچ ہو کر… ایک مکا اسکے بازو پر دےمارا
تجھے کس نے ہیرو بننے کے لیے کہا تھا"وہ ہنستے ہوئے بولا…
یار مجھے غصہ ا گیا.. عجیب لڑکیاں ہیں محبت نہیں ہے.. بھلہ اپنے منگیتر سے نہیں ہے کوئ تک ہے" وہ.. بولا.. تو بہرام.. نے سر ہلایا..
ہم جیسے بھی ہیں… محبت توکرتے ہیں نہ. ااب..
مولوی کے گھر پر پیدہ ہوتے تو.. ایسا بھی کچھ نہ کرتے"معاویہ اپنی ہی حانکے جا رہا تھا جبکہ بہرام مسلسل ہنس رہا تھا..
تیری جیسے دوستو کو.. بندہ… دفن کر دے کہیں"وہ چیڑہ
بہرام.. نے.. اسکا غصہ دیکھ کر ہاتھ اٹھائے اوکے..
اگے کیا سوچا ہے اب… "اسنے سوال کیا…
کیا سوچنا ہے.. شادی کرو گا اور کیا.. وہ بھی تو دیکھے…
معاویہ تو ایسا ہی ہے "وہ جنونی سا لگا..
بیٹے پھر یہ محبت نہیں ہوئ…
اور اچھی بات ہے کرنا بھی مت…" اسنے مشورہ دیا تو.. بہرام.. کی ایک دن میں کایا پلٹ پر.. اسنے.. اسکو دیکھا..
تو کیوں.. دیوداس کی پارو لگ رہا ہے "اسنے پوچھا
بہرام.. نے گھور کر دیکھا.. اور پھر.. عابیر اسکے دماغ میں ا گئ.. وہ گاوں کے لوگوں کے سامنے مردان خانے میں آ گئ تھی…
حالانکہ کے میں نے روکا تھا.. بس داجی اور باقی سب اس بات پر مشتعل ہو گیے…"
اور بہرام خان
داجی کے بقول کالام کی جان… اساس بات پر غمزدہ ہے.. رہنے دے اندر کی بات بتا"
اسے یقین نہ ایا کہ اس جیسا.. انسان.. اس بات کو.
فوقیت دے گا…
بہرام نے اسکی جانب دیکھا..
عابیر کے الفاظ اسکا رویہ اسکی نفرت.. وہ سوش سوچ.. کر.. بے حد الجھ گیا تھا..
وہ ایسی نفرت کرتی ہے مجھ سے.. جس کا کبھی اختتام نہیں."
اسنے کہا.. لہجے میں اسکے پہلی بار معایہ نے اداسی محسوس کی اگر داجی دیکھتے تو لازمی. عابیر کی ہڈی پھسلی ایک کر دیتے.. تاور تو نے.. ایک دن میں ہار مان لی" معاویہ کو غصہ ایا
… دو تھپڑ لگا… "معاویہ وک بلکل بھی اسکا اداس انداز اچھا نہ لگا…
تھپڑ.." وہ ہنسا…
بہت… تیزتیزہے میرا سرکار..ایسا وار کرتا ہے… کہ. اگلا لفظ نہ بول پائے بات تھپڑ کی کرتا ہے"وہ ہنسا
معاویہ کو غصہ تو بہت ایا مگر جانتا تھا وہ بے حد جزباتی انسان ہے..
تبھی معاویہ خاموش ہوا..
چل پیتے ہیں "اسنے کہا… تو بہرام بھی اٹھ گیا…
اور دونوں بوتلیں ہاتھ میں لے کر… حویلی کے لون میں ا گئے.. جہاں انھوں نے
کچھ دیر بعد ہی کھانے پینے کا سامان منگوا لیا.. اور اب دونوں کی باتیں تھیں نشہ تھا سکون تھا…
مگر.. محبت تھی دماغ سے چمٹ ہی گئ تھی…
……………………
عابیر سو کر اٹھی.. زہن دل و دماغ.. جیسے کافی عرصے بعد تھکاوٹ… سےسے ازاد ہویے تھے..
گھر والوں کے بارے میں.. سوچ کر.. اسکا دل اداس ہوا..
اسنے.. ان سے رابطہ کرنے کا سوچا….
وہ یوں اپنوں کے بغیر کیسے رہے گی
وہ یہ بھول گئ تھی کہ وہ وہاں سے رسوا ہو کر ائ ہے موبائل اسکے پاس نہیں تھا.. بابا مما کی یاد ا رہی تھی جبکہ ریہا بھی یاد ا رہی تھی.. یہ حویلی اسکے لیے بس ایک قید تھی جس سے وہ جلد ازاد ہو جانے والی تھی..
وہ اس شخص سے طلاق لے لے گی.. ہر حال میں..
نگر اس سے پہلے.. وہ اسے.. اتنا توڑ دے گی.. کہ.. اسکا امن سکون سب برباد ہو جائے گا.. اور… اسکی تکلیف سے سب سے زیادہ.. عابیر کو سکون ملتا…
مگر اسکے پاس موبائل نہیں تھا…
اسنے.. اب بہرام کے بارے میں سوچا…
کل رات دروازہ نہ کھول کر اسنے اسکے منہ پر ایک اور طمانچہ مارا تھا…
وہ اٹھی اور ارام سے…
صاف ستھری ہوی لباس وہی تھا.. اب اسے یہ لباس بھی بدلنا تھا…
اسنے… جان بوجھ کر.. کمرے سے باہر قدم نکال دیے دوپہر کا وقت تھا مردان جانہ بھرا ہوا.. تھا…
جبکہ وہ. اسے کہیں نہ دیکھا…
یہ کیا کر رہی ہو ابھی مت نکلو کمرے سے ورنہ چھپ کر پیچھلے لون کیطرف سے یہاں ا جاو… "نین کی اواز تھی اسنے ساتھ دیکھا… اور.. اسے چیڑ ہوئ.. یہ لڑکی بلاوجہ اس سے چیپک رہی تھی اسنے گھور کر دیکھا.. اور سامنے چل دی.. نین نے دل تھام لیا..
یہ جرت نہیں. سیدھا سیدھا داجی سے پنگا تھا..
کہاں ہے تمھارا پوتا… شرم نہیں اتی بیوی کو چھور کر کس کے ساتھ گل چھرے اڑا رہا ہے "وہ بولی.. تو… سب نے ہی چونک کر اسکی جانب دیکھا…
لڑکی دفع ہو جاو یہاں سے" داجی نے.. دانت پیستے ہویے صفدر صاحب کو دیکھا…
جو اسے.. ہی دیکھ رہا تھا…
کیوں میں کیوں جاو… بات سنو میری تمھارے زانان خانے میں دبکی کوئ… لڑکی نہیں ہوں میں… جب وہ ا جائے تو اسے کہ دینا.. کمرے میں ائے" وہ جان بوجھ کر… اسقدر بدتمیزی کرتی چلی گئ…
سب حونک تھے…
بہرام خان کو بلاو" داجی نے.. دھار کر منیب کو کہا تو وہ معاویہ کے کمرے کیطرف بھاگا….
معاویہ کا دروازہ کھٹکھٹا کر… اسنے اندر خود ہی قدم رکھ دیے.. وہ دونوں دو مختلف سمتوں میں مزے سے سو رہے تھے..
خان" منیب نے.. مدھم اواز میں پکارہ..
بہرام سائیں "اسنے پھر پکارہ بہرام نے اسکی جانب دیکھا.. آنکھوں میں سرخی تھی کچی نیند کا خمار.. تھا.. منیب پر اس سے پہلے نزلہ گیرتا.. اسنے سب بک دیا.. بہرام جھٹکا کہا کر اٹھا معاویہ بھی اٹھ گیا جبکہ وہ اگے پیچھے وہاں سے نکلے….
داجی ادھر ادھر ہال میں چکر کاٹتے دیکھے..
تو مارا گیا اج"معاویہ نے اسے اطلاع دی..
نئ خبر ہے" وہ چیڑا.. اور داجی کے سامنے جا کھڑا ہوا..
خان وہ بدزات… اسے اسے تمیز ہی نہیں.. ہم اور مزید ایک دن اسے برداچمشت نہیں کریں گے… سمھجے تم فارغ کرو اسے "
داجی چلایے تو اسنے ناگوار نظریں اٹھایں..
داجی بیوی ہے وہ میری" وہ.. ضبط سے بولا.. انکا گالی دینا اسے کہان برداشت ہوا تھا..
اچھا شہزادے.. یہ بیوی ہے تمھاری جس کے کمرے سے نکلنے کے بجایے تم معاویہ سائیں کے کمرے سے نکلے… کمال ہے خان تم پر اتنے اندھے ہو جاو گے تم مھبت میں واہ" انھوں نے گھور کر اسے دیکھا.. تو. وہ. خاموش رہ گیا..
بہرام سائیں.. بات کو سمھجو. وہ لڑکی
. ہماری روایات.. ہماری رسموں میں نہیں رہ سکتی وہ ایک بے باک لڑکی ہے… اور یہاں اس کی کوی جگہ نہیں" یاور جان نے بھی سمھجایا..
اس سے پہلے وہ کوئ بات بولتا..
ہیچھے سے… اتی عابیر کی اواز پر.. وہ.. وہیں تھم گیا…
روایات… اپکی روایات ہر میں تھوکتی بھی نہیں… اور اپ مجھے غالی دیں گے… ہمت بھی کیسے ہوئ ایری غیری نہیں ہون جو کوئ بھی منہ اتھا کر گالی دے دے گا..
اپ سب اتنے ہی عزت دار تمیز دار ہیں… تو اپنی اولاد کی پرورش کرتے ہوئے کافی کنجوسیت.. نہیں دیکھائ "وہ ھلق کے بل چلائ…
عظیم خان یاور خان جواد خان… باپ کے ساتھ اسقدر بدتمیزانہ سلوک پر ایکدم اکھڑے… بہرام.. ان سب کے سامنے تن گیا جبکہ عابیر تو چاہتی یہ ہی تھی اس شخص کو بے عزت کر کے رکھ دے…
بے غیرت ہو گئے ہو کیا بہرام خان.." عظیم خاں چلائے..
بابا سائیں یہ اپکا مسلہ نہیں.. وہ عابیر کو ہاتھ سے پیچھے کرتا.. بولا…
اچھا تو یہ چھٹانک بھر کی لڑکی ہمارے بابا سائیں کو کچھ بھی کہاے… اور ہم سنتے رہیں" یاور.. خان.. بولے تو وہ ابھی کچھ جواب دیتا کہ عابیر اپنا ہاتھ اس سے چھڑوا کر.. وہاں سے چلی گئ..
داجی نے.. دانت بھینچ کر بہرام کو دیکھا…
اور وہ بھی چلے گئے جبکہ سب ہی وہاں سے رفتا رفتا نکل گئے عابیر نے.. دور کھڑے.. اس شخص کو اکیلے دیکھا…
اب سمھجہ ائ بہرام خان.. اپنوں کا بیگانہ ہو جانا کتنا عزیت ناک ہے.. محسوس کرو تم بھی اس تکلیف کو اچھے سے.. "اور ہھر وہ وہاں سے چلی گی.. جبکہ بہرام.. کے ساتھ معاویہ.. کھڑا تھا.
تم کیوں کھڑے ہو چلے جاو اکیلا چھوڑ کر تم بھی" وہ دھاڑا.. ٹیبل پر پڑا واس دیوار پر دے مارا….
بہرام ریلکس "معاویہ نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا..
ریلکس ریلکس ہو جاو میں… اج میں اس لرکیس ے پوچھ ہی لوں یہ چاہتی کیا ہے"وہ.. دندناتا ہوا معاویہ کو راستے سے ہٹاتا.. اپنے روم میں ایا.. .
جہاں عابیر… بیڈ پر بیٹھی… تھی. جیسے اسی کی منتظر ہو..
بہرام نے ایک جھٹکے سے اسے اپنے نزدیک کیا..
کیوں کر رہی ہو ایسا… کیوں سکون نہیں لینے دے رہی مجھے" وہ… جیسے بے بسی سے بولا تھا..
دو دن میں ہار گئے تم… صرف دو دن میں ایک ماہ.. تم نے میرا ہر ہر لمہہ جھنم کر دیا تھا.." عابیر اسکو نفرت سے دیکھتی بولی..
کیسے مانو گی عابیر سائیں کیسے.. بتاو مجھے جو کہو گی وہ کروں گا مگر "
میرے مان باپ اور معاشرے کے سامنے میری عزت بھال کر سکتے ہو"وہ اسکی بات کاٹتی اسے دھکا دے کر چلائ…
بہرام نے بالوں میں ہاتھ پھیرہ وہ مظطرب تھا اسنے ایسا تو کچھ نہیں سوچا تھا…
مگر.. وہ سکون چاہتا تھا کیونکہ وہ سکون کا عادی تھا..
ٹھیک ہے جو تم چاہتی ہو وہی ہو گا… وعدہ ہے میرا" اسنے ہلکی سی سمائیل کی.. عابیر نخوت سے اسے دیکھ کر روکھ مور گئ.. اسکی اسقدر نفرت بہرام کو نہ جانے کیوں توڑ گئ تھی..
وہ جو غرور تھا خود پر وہ پاش پاش ہو رہا تھا..
مگر بری تکلیف دے کر..
بہرام وشروم میں جانے لگا..
رک جاو.. اتنی بڑی حویلی ہے کہیں بھی چلے جاو "اسنے اسے باہر نکلنا چاہا..
بہرام بغیر جواب دیے.. واشروم میں چلا گیا مگر نہ جانے اسکی سانسیں کیوں پھول گیین تھیں محبت تکلیف دے رہی تھی یہ وہ لڑکی…
…………………..
حیدر نے اسکے بعد پورے دن حور سے کوئ بات نہ کی..
جبکہ حور بھی بلائ بلائ پھیر رہی تھی..
حیدر کے اندر ارمیش اگ لگا گئ تھی..
وہ کچھ دیر بعد ہی اسے ڈھنڈنے نکلا تھا.. مگر… وہ اسے کہیں نہ ملی اور اب وہ گھر میں داخل ہوا تھا… حور نے اس سے سوال بھی کیا مگر.. اسنے کوئ جواب نہ دیا..
اس وت ارمیش اور اپنی مردانگی پر پڑنے والا تھپر اسے تلملا رہا تھا…
کیا وہ حویلی چلی گئ تھی..
وہ… سوچتے ہوئے… یاور جان کو نمبر ڈائل ل کرنے لگا…
بیوی کی پریشانی ہو رہی ہے "وحر نے دروازہ بند کیا.. اور اسکیطرف دیکھا..
دیکھ رہی ہو اس تھپڑ کا نشان" اسنے غصے سے مبائل پٹختے.. حور کو بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑا..
حور اسکے گال پر معمولی سی سرخی دیکھ کر… ابھی کچھ بولتی کہ وہ بولا
اول تو اسے مجھے ملنا نہیں چاہیے اور اگر مل گئ تو زندہ گاڑھ دوں گا" وہ اسے جھٹک کر دوبارہ.. موبائل پر جھپٹا…
حور کے دل پہر سکون سا پڑا..
محتشم کو خلا.. کے کاغز بھیج دو…. میں جلد از جلد تمھارے نکاح میں انا چاہتی ہوں" اسنے حیدر کا بازو پکڑتے ہوئے کہا…
حیدر نے جھٹکا کہا کر اسکو دیکھا.. موبائل دوبارہ وہیں چھوڑ دیا.. پورے دن کی تھکن جیسے… ان لفظوں نے اتار دی تھی..
تم سچ کہہ رہی ہو" وہ… جیسے بے یقین تھا..
ہاں.. "حور نے اسکی خوشی دیکھ کر… خود بھی خوشی محسوس کی خوشیوں پر اسکا بھی حق تھا…
مگر حیدر.. وہ… بچہ"حور نے.. جھجھکتے ہوئے کہا..
وہ میرا ہے" وہ بے لچک لہجے میں بولا
تو حور کو تسلی ہو گئ..
جبکہ حیدر نے اسے سینے سے لگا لیا…. جبکہ دونوں ہی مسکرائے تھے.. وہ یہ بھول گئے تھے کہ دوسروں کی خوشیاں برباد کر کے… وہ خوش کیسے رہ سکتے تھے….
………….
وہ اس برے سارے فلیٹ میں اکیلی تھی…
ڈر تو لگ رہا تھا مگر دل میں بے چینی نہیں تھی…
دل پرسکون تھا….
اسنے اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا.. اور مسکرا دی…
میرا رب تمھاری حفاظت کرے گا"اسنے سوچا.. اور اٹھی فلیٹ میں سب چیز موجود تھی.. وہ کھانا بھی کھا چکی تھی…
وہ حویلی والوں سے دور ہی رہنا چاہتی تھی مگر اسنے بہرام کو ایسا کچھ نہیں کھا تھا پھر بھی وہ اسے یہاں لے ایا.. تھا..
انھی وہ یہ ہی سوچ رہی تھی کہ دروازہ بجا…
یہاں کون ا سکتا تھا.. کہیں چور تو نہیں…
وہ سر سے پاوں تک کانپ اٹھی..
دروازہ دبارہ بجا اب بیل کے ساتھ کوئ ہاتھوں سے بھی دروازہ توڑ دینا چاہتا تھا..
اسنے آنکھوں میں خوف سے ائ نمی کو صاف کیا… اور ہمت کرتی دروازے کے پاس ا گئ…
ایک بار پھر دھڑ دھڑ ہوئ.. اسنے… بمشکل ہی سہی دروازہ کھول دیا…
سامنے.. گاگلز آنکھوں پر چڑھائے…
وائٹ ڈریس شرٹ.. اور بلیو پینٹ میں.. وہ بہرام خان تھا.. جس کے چہرے سے ہی تعصورات اچھے خاصے بگڑے ہوئے تھے..
ارمیش کو شدید شرمندگی ہوئ..
سوری لالا"اسنے سر جھکا کر کہا…
اج کل میں اپنے ہی ٹھکانوں پر… باہر… غیروں کی طرح کھڑا.. بجا رہا ہوتا ہوں…" وہ دانت کچکا کر بولا…
تو… ارمیش دور ہو گئ…
جبکہ بہرام.. اندر ا گیا..
یہ جگہ… ابادی میں ہے.. چور وور کا سوچنا بھی مت اور یہاں کون اتا ہے کون نہیں سب مجھے پتا چل جاتا ہے" اسنے جیسے لاشعوری طور پر اسے سکیور کیا تھا کہ وہ.. فکر نہ کرے..
جی لالا"ارمیش نے کہا.. اور اسکو صوفے پر بیٹھتا دیکھا…
اپکے لیے کچھ کھانے کو لاو"وہ.. سر پر دوپٹہ درست کرتی بولی..جبکہ بہرام…. اپنا موبائل نکالے.. ایک نمبر ڈائل کرنے لگا… اسنے ایسے ہی سر ہلا دیا..
وہ تو عابیر کے والدین کے پاس جانے کا ارادہ رکھتا تھا.. وہ ہر حال میں اس لڑکی کو خوش کرنا چاہتا تھا…
جو اس سے خوش تو کیا اسکی شکل بھی نہیں دیکھتی تھی.. جبکہ بہرام اپنے دل کے جزبات پر اور کتنا غصہ کرتا بھلہ وہ اسکے قابو سے باہر تھا..
تبھی وہ سب بگڑا ہوا.. ٹھیک کر رہا تھا.. اور.. اپنے اپ کو بھی جیسے بھول گیا تھا… بس شراب کو نہیں بھول پاتا تھا…
ارمیش اسکے اقرار پر کچن میں ا گئ اسنے بریانی بنائ تھی.. حویلی کی سب لڑکیوں کو سب کام اتے تھے مگر.. کرتی سارے کام درخنے ہی تھی..
مگر اپنے اپنے موڈ پر باقی سب بھی کر ہی لیتے تھے جبکہ وہ تو ایساکچھ بھی نہیں کر پاتی تھی.. حیدر نے اسے سکھ دیا ہی کب تھا.. وہ حیدر کے بارے میں پھر سے سوچتی کے دماغ کو جھڑک گئ.. اب وہ اسے کبھی نہیں سوچے گی بس.
اس نے اپنا دماغ دوسری طرف لگایا…
اور پلیٹ.. میں سب سامان لگا کر وہ باہر لے ای..
ہاں معاویہ میں.. پھنچتا ہوں تمھارے پاس… جب تم شہر پہنچو تو مجھے بتا دینا"بہرام نے کہہ کر فون بند کیا.. اور ارمیش کو دیکھا….
سفید دوپٹے کے حالے.. میں… گلابی چہرہ… چمک رہا تھا…
اسنے پھر کھانے کی ٹرے دیکھی..
ان دونوں کی کبھی اپس میں حویلی میں کوئ بات نہیں ہوئ تھی شکلوں کی پہچان بھی بس ایسے ہی تھی…
صرف نام کی واکفیت تھی…
مجھے نہیں کھانا میں جا رہا ہوں "اسنے کہا..
اور ہاں… وہ… منیب کی بہن ہے.. وہ تمھارے ساتھ ا کر رہے گی… تو گھبرانہ مت کبھی دروازہ ہی نہ کھولو" اسنے سنجیدگی سے طنز کیا.. ارمیش کی تو آنکھیں ہی نہیں اٹھ رہیں تھی اول تو اسے یقین ہی نہیں ا رہا تھا… یہ بظاہر اتنا لاپرواہ جزباتی.. دیکھنے والا انسان اندر سے… اتنا کئیرنگ کیسے ہو سکتا ہے…
حالانکہ وہ اسے.. لے جا سکتا تھا حویلی تماشہ بنوا سکتا تھا.. وہ ایسا ہی تھا.. چھوٹی سی بات پر.. اکڑ جانے والا.. مگر اب کیا ہو گیا تھا..
اسکے بغیر کہے وہ اسے یہاں لے ایا.. تھا.. سختی سے ہی سہی اسکی کئیر کر رہا تھا…
وہ حونک رہ گئ..
جبکہ بہرام.. نے اسپر اگلی نظر ڈالی ہی نہیں کیونکہ معاویہ کی کال ا رہی تھی…
وہ اس سے پہلے نکلتا… کہ.. اچانک رک گیا…
پیچھے پلٹ کر دیکھا… وہ یوں ہی سر جھکائے کھڑی تھی.. اسکے ماتھے پر بل ائے..
کہیں کھڑے کھڑے تو نہیں سوتی تم"بہرام.. نے اسکو ٹوکا.. ارمیش ہڑبڑا کر سیدھی ہوئ.. جبکہ پھر سے شرمندگی ہونے پر… وہ سر جھکاتی… کہ.. بہرام نے.. سر نفی میں ہلایا…
اسے یہ لڑکی عجیب ہی لگی…
اب اسکی نظر بریانی پر گئ…
حالانکہ وہ مسالے والے کھانے نہیں کھاتا تھا.. کیونکہ زیادہ تر اسے چائنیز پسند تھا… مگر پھر بھی اسنے جھک کر ایک چمچ منہ میں ڈال لیا..
واو"بے ساختہ اسکے منہ سے تعریف نکلی ارمیش تو سرخ پڑ گئ.. اسے خوشی ہوئ کہ اسکی چیز اسنے چکھی تھی…
اسنے وہ پلیٹ ہاتھ میں اٹھا لی.. اور لے کر باہر نکل گیا…
جبکہ فلیٹ کا دروازہ بھی بند کر دیا تھا….
ارمیش سن کھڑی رہ گئ…
یہ کیا وہ تو پوری پلیٹ ہی لے گیا تھا…
اسنے حیرت سے سوچا…
…………………..
نین اپنے کپڑے الٹ پلٹ رہی تھی.. کہ عابیر وہاں ا گئ..
مجھے تمھارے کچھ کپڑے چاہیے"وہ بغیر روکے بولی..
اوکے.. جو تمھیں پسند ہے لے لو" نین نے مسکرا کر اسکے سامنے اپنے کپڑے کیے.. وہ رنگ برنگے کپڑے گرارا کرتی کی ہی شکل کے تھے..
یہ سب تماشہ پہنتی کیسے ہو"عابیر اکتا کر بولی..
نین ہلکا سا ہنسی
یہ ہمارا علاقائ لباس ہے… اور اچھا لگتا ہے.. مجھے تو بہت.. دیکھو مہندی بھی اچھی لگتی ہے چوڑیاں بھی… میں اور ارمیش.. تو اپنے ہاتھ ہمیشہ مہندی سے سجے رکھتے تھے..
تمھیں بھی لگاو" وہ پرجوش ہوئ..
عابیر نے منہ بنایا..
کبھی نہیں…" اسکا ایسے حقارت سے کہنا.. نین کو برا لگا…
یو نو.. جب سے میں یہاں ائ ہوں.. خواتین عجیب جوکر بنی پھیرتی ہیں اور مرد.. ہم ذلیل… خیر مجھے یہ سب نہیں پسند.. کہ اپنے اپ کو لڑکی کے بجائے میں گائے سمھجو… بس یہ سوٹ ٹھیک ہے یہ لے جا رہی ہوں تھنکیو" وہ کہہ کر نکل گئ.. جبکہ نین یوں ہی کھڑی رہ گئ…
اسے عابیر کا انداز اسکی گفتگو اسکے بول سخت برے لگے تھے..
اسکا مسلہ بہرام تھا.. زنان خانے کی خواتین نہیں جسے جوکر کہہ گئ تھی…
وہ اسقدر منہ پھٹ نکلے گی نین کو تو یقین ہی نہ ایا…
جبکہ عجیب خفت کا سا احساس ہوا… بے عزتی الگ محسوس ہوئ.
اسنے اپنے مہندی سے سجے ہاتھوں کو دیکھا….
کیا وہ جوکر لگتی تھی.. "پہلی بار وہ.. عجیب احساس میں گھیر گئ..
غصہ الٹا ایا…
رونا بھی وہ اسے کیسے باتیں سنا کر چلی گئ…
نین نے غصے سے سارے کپڑے.. پھینکے وہ اس سے کپڑے لے لے گی..
جب ہم جوکر ہیں عابیر بی بی تو… ہمارے کپڑے بھی نہیں پہنے." اسکے غصے کا گراف حد سے زہادہ تھا.. وہ دندناتی ہوئ نیچے ائ.. مگر عابیر جا چکی تھی.. لاونج میں بھی کوئ نہیں تھا..
وہ مردان خانے میں نہیں جا سکتی تھی اسوقت تبھی… غصہ نکالنے.. کچن میں ا گئ…
اور املی ڈھنڈنے لگی…
معلوم نہیں کیوں… اسکی آنکھیں بھیگ بھیگ جا رہیں تھیں..
کسی کو.. اتنا ڈی گریڈ کرنے کا کیا حق تھا. وہ شہر سے ائ تھی تو.. کیا. انپر سردار بن گئ تھی..
اسے املی مل گئ.. سرخ آنکھوں سے املی کھانے لگی جبکہ اسے بھی سوچ رہی تھی
چھوڑو گی نہیں تمھیں میں "اسنے گال پر اتے.. انسو رگڑ دیے.. وہ اسے جوکر کہہ رہی تھی.. دل تو اسکا بیٹھ ہی گیا تھا..
تبھی وہاں احمر ا گیا.. سامنے اسے روتا دیکھ.. احمر کی تو جان سوکھ گئ…
نین" وہ ایک پل میں اس تک پہنچا.. جبکہ نین بھی سیدھی ہو گئ..
اس سے کچھ فاصلے پر رک کر اسنے.. نین کو دیکھا…
کیوں روئ ہیں اپ.. کیا ہوا ہے" اسنے سوال کیا..
نین کا دل ویسے ہی بھر رہا تھا.. وہ.. آنکھوں پر مٹھی رکھ کر رونے لگی..
نین "احمر تو حیران ہی رہ گیا
. دوسروں کو رولا دینے والی لڑکی کیسے رو سکتی تھی خود
ہوا کیا ہے بی جان نے کچھ کہا ہے.. یہ مورے نے یہ مامی جان نے"وہ.. اسکے نزدیک ہوا.. اور اسکا مومی ہاتھ تھام لیا.. پہلی بار. اسکو چھوا تھا.. ایک نایاب احساس بھی وجود میں ہلچل نہ مچا سکا الٹا اسکا رونا.. پریشان کر رہا تھا..
اپ بتائیں گی.." احمر نے اب سختی سے پوچھا..
وہ عابیر سمھجتی کیا ہے خود کو بہت کوئ خوبصورت شے ہے..
اتنی بدتمیز… ہمیں.. بلکہ سب.. زنان خانے کی عورتوں کو جوکر کہہ رہی تھی.. کہتی ہے..
ہم جو پہنتے ہیں تماشہ ہے..
مہندی کو بھی ایسے حقیر نظروں سے دیکھ رہی تھی…" وہ کسی معصوم بچے کیطرح اسے شکایت لگانے لگی.. اول تو احمر کو بہت اچھا لگا کہ اسنے اس سے اپنی پریشانی شئیر کی تھی اور دوسرا عابیر کی اس حرکت پر وہ حیران ہوا..
ایسا کیوں کہا انھوں نے" احمر نے سوال کیا.. نین کو غصہ ہی ایا..
پوچھ کر اتی ہوں"وہ الٹا اسپر چڑھ دوڑی
نہیں میرا مطلب.. یہ بہت بدتمیزی کی ہے انھوں نے"َاحمر سنجیدگی سے بولا
بہت زہر لگ رہی ہے وہ مجھے" نین نے کہا تو… احمر مسکرا دیا…
اچھا"
ہنس لو تم" وہ غصے سے بولی…
نہیں میں ہنس نہیں رہا.. اور یہ انھوں نے اپ سے جیلسی.. فیل کرتے ہوئے کہا تھا..
اپ بہت پیاری لگتی ہیں بہت اپنی لگتی ہیں اس لباس میں سجی سنوری… بہت پیاری" احمر نے اسکی تعریف کی وہ احمر کو.. دیکھنے کم. گھورنے لگی.. گویا یقین کر رہی ہو.. وہ کسی قسم کا مزاق تو نہیں کر رہا..
احمر.. سنجیدہ تھا…
ہمم پتا ہے جل رہی تھی" اسنے کہا.. تو احمر نے سر ہلا دیا..
اب رونا نہیں "احمر نے پیار سے اسکو دیکھا..
ہاں میں کیوں ضایع کرو اسپر اپنے انسو. "نین نے بھی کہا.. وہ ناک سے مکھی اڑا دی..
مگر وہ چڑیل میرا سوٹ لے گئ" نین غصے سے بولی..
احمر کو ہنسی ائ.. ابھی کل تک وہ اسکے جیسی تھی اور اسے کافی پسند تھی
مگر یہ بات کہ کر.. بھلہ اسنے.. اپنی شامت بلوانی تھی تبھی.. اسکی طرف دیکھا..
کچھ نہیں ہوتا رہنے دو اپ" اسنے کہا…
کیوں "وہ اکڑی…
ایسے ہی" اسنے انتقامی آنکھوں سے. عابیر کو سوچا.. اور دھپ دھپ کرتی کچن سے نکل گی..
احمر نے پیچھے سے… اسکی چھوڑی املی اٹھا کر.. بکس میں ڈال کر رکھ دی..
درحقیقت عابیر کی بات اسے بھی اچھی نہیں لگی تھی.. نین کے سامنے تو اسنے ایساکچھ نہی کہا تھا…
مگر بہرام سے بات کرنے کا وہ فیصلہ کر چکا تھا…
………………..
بہرام اور معاویہ نے اج پھر اس گھر کے سامنے گاڑی روکی جہاں دوبارہ انے کا سوچا نہیں تھا اس گھر کی قیمتی چیز وہ چرا لے گیا تھا..
مگر چوری کی تھی نہ تبھی راس نہیں ائ…
آنکھوں پر گاگلز لگائے اج وہ اپنے شخصیت کے برخلاف کام کرنے جا رہا تھا… معاویہ.. بھی چپ چاپ اسکے ساتھ ہو لیا…
بہرام نے دروازہ کھٹکھٹایا…
تو کچھ دیر بعد دروازہ ریہا نے کھول دیا…
وہ سامنے بہرام کو دیکھ کر ایکدم پرجوش ہوتی.. باہر ائ.. بہن نہیں تھی…
اسے دکھ ہوا پھر یہ یہاں کیوں تھا…
اکبر صاحب سے بات کرنی ہے"معاویہ نے کہا تو وہ سر ہلاتی.. ہٹی.. تو وہ دونوں اندر ا گئے…
مما نے انھیں دیکھا ایکدم اگے آئیں…
کیوں ائے ہو یہاں اب مزید رسوائ رہتی تھی کیا" مما نے غصے سے کہا..
میڈیم ہم اکبر صاحب سے بات کرنا چاہتے ہیں.. "معاویہ بولا.. تو.. مما نے اسکوگھورا..
وہ رسوائ.. انھیں جان سے مار رہی ہے.. دو دل کے دورے پڑ چکے ہیں. ان چار دنوں میں.. تمھیں دیکھ کر… مر ہی جائیں گے چلے جاو تم یہاں سے "انھوں نے روتے ہوئے… کہا تو. بہرام نے.. دیکھا…
اسکی محبت کچھ زیادہ ہی برا کر گی تھی..
کسی کا سہارا چھن رہا تھا..
وہ اندر ہیں" اب کہ بہرام بولا.. اور اندر چلا گیا مما پیچھے انھیں روک رہیں تھیں مگر وہ کیا تھا.. کہ وہ ضد کا پکا تھا…
اسنے.. اکبر صاحب کو دیکھا..
بستر پر وہ ایک کمزور لحاش لگ رہے تھے…
پہلی بار کسی بات پر اسے دکھ ہوا.. یہ ہی حال معاویہ کا تھا…
اکبر صاحب نے ہلکی سی آنکھیں کھولیں…
بہرام کو سامنے دیکھ کر انکی نظروں نے عابیر کو تلاشا تھا…
کس ہسپیٹل لے کر جاتے رہے ہو "بہرام نے ریہا سے سنجیدگی سے پوچھا..
معاذ بھیا لے کر جاتے ہیں.. مگر.. اتنے پیسے نہیں کے علاج پورا ہو" ریہا نے اسے صاف بات بتائ..
معاذ کا نام سن کر.. اسنے.. اپنا غصہ دبایا..
معاویہ گاڑی میں ڈال. "بہرام نے کہا.. تو وہ سب حونک ہوئے اکبر صاحب سمیت..
نہیں میں کہیں نہیں جانا چاہتا "اکبر صاحب نے کہا… تو بہرام.. نے اسکی طرف دیکھا..
جب صحت یاب ہو گے.. تو زیادہ بہتر اندز میں مجھے یہاں سے نکلنے کا کہو گے.. "اسنے کہا.. تو معاویہ مدھم سا ہنسا…
اور پھر دونوں نے ان سب کے نہ نہ کرنے کے باوجود.. اکبر صاحب کو گاڑی میں ڈالا.. اور ان دونوں ماں بیٹی کو لے کر.. وہ
.. شہر کے بڑے ہسپٹل کی جانب بڑھ گیا..
اگر اکبر صاحب کو کچھ ہوتا.. تو عابیر تو مر کر بھی اسکی نہ ہوتی.. جبکہ اسکے اندر بھی بلاوجہ گلٹ جڑ پکڑ رہا تھا.. وہ بدل رہا تھا..
یہ محبت کی مات اسے بدل رہی تھی
ہسپیٹل سے فارغ ہو کر انھیں انکے گھر چھوڑ .. وہ باہر سے ہی نکل گیا…
اب کیا کرنا ہے… "معاویہ نے کہا…
تو بہرام… نے جواب نہ دیا..
بوتل دے" اسنے بس اتنا کہا.. معاویہ نے شانے اچکا دیے..
اور بوتل نکال کر اسکو دی… اب وہ.. ڈرنک کر رہا تھا.. ڈرائیو کر رہا تھا.. جبکہ عابیر… اسکے دماغ میں گردش کر رہی تھی..
………………….
صیحی شام وہ حویلی پہنچ گیا تھا.. جب سے عابیر ای تھی حویلی والے اسے.. اپنی طبعیت کے برخالف جاتا ہوا دیکھ رہے تھے.. جو شخص زرا سی بات پر پوری حویلی سر پر اٹھا لے.. اسکا اتنا سیدھا نداز کس کو بھانا تھا بھلہ…
اسے لگا بہت دن گزر گئے داجی کے پاس گئے ہوئے. وہ انکے کمرے میں داخل ہوا…
وہ… ارام کر رہے تھے… وہ انکے بستر میں گھس گیا..
وہ ایساہی تھا.. بچپن میں بھی. وہ اپنے باپ سے چھپ کر کسی بھی بات پر.. انکے بستر میں چھپ جاتا تھا.. جبکہ اج تو.. وہ بہت اداس تھا…
اوپر سے داجی بھی ناراض تھے…
اسنے آنکھیں بند کیں.. اور نہ جانے.. کیا ہوا… کہ وہ کچھ ہی دیر میں وہاں سو گیا..
داجی بھی سو رہے تھے..
تقریبا.. گھنٹے بعد انکی انکھ کھلی تو اپنے برابر میں.. بہرام کو دیکھ کر انھیں. اسپر رج کر پیار ایا..
اسوقت وہ چھ سال والا بہرام ہی لگا… مگر کل ہونے والی ھرکت یاد کر کے وہ.. اٹھ گئے..
اسکی خاطر.. وہ.. عابیر کو قبول کر بھی لیتے مگر وہ ایک انتہائ گستاخ لڑکی تھی…
وہ.. اٹھ کر فریش ہونے چلے گئے جبکہ…
وہ بھی کچھ دیر میں اٹھ گیا..
تکیوں سے ٹیک لگا کر… وہ.. بیٹھا انکو دیکھ رہا تھا جو اپنی چئیر پر بیٹھ رہے تھے جبکہ اخبار انکے ہاتھ میں تھا…
مبارک ہو خان قومی اسمبلی میں سیٹیں نکال لیں ہیں.. عشق معشوقی سے فرصت ملے تو.. کل چل لینا ساتھ"مدھم طنزیہ اواز میں بولے تو وہ ہنس دیا..
جان بہرام… بیوی کیطرح بی ہیو کھا رہے ہو" وہ اٹھا…
جبکہ داجی نے گھورا..
بیوی کا نام مت لینا.. "انھوں نے وارن کیا
پھر کس کا لوں مراد خان کا" وہ ہنسا..
داجی نے ریسپونس نہیں دیا..
یار پلیز داجی وہ غصے میں ہے میں وعدہ کر رہا ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا" اسنے کہا.
خان… کیسے ٹھیک ہو گا.. چلو ٹھیک ہے وہ غصے میں ہے تو ہم سب کو.. وہ… سناے گی…
بڑے چھوٹے کی تمیز نہیں اس لڑکی کو… "
داجی وہ جان بوجھ کر کر رہی ہے درحقیقت وہ ایسی نہیں ہے "اسنے فیور کیا..
ہماری برداشت سے باہر ہے جیسی بھی ہے… " داجی نے سختی سے کہا..
کیا میں بھی" اسنے معصومیت کے ریکارڈ توڑے اب کسی طرح تو انھیں ٹریپ کرنا تھا…
داجی نے ایک نظر اسکو دیکھا…
ادھر او"اب کیا کیا جا سکتا تھا…
وہ تو انکی جان تھا….
بہرام دانت نکالتا ان تک پہنچا…
اور داجی کے اگے جھکا.. داجی نے اسکے کان پکڑ لیے.. اور کھینچے
داجی ی ی ی" وہ چلایا…
پھنس گئے ہو خان
بلکل بری طرح"انھوں نے کہا.. تو وہ انکی سنجیدگی پر.. یہ بات سن کر رہ گیا…
محبت ہے داجی "
جو محبت رسوا کرے دامن بچا لو اس سے" انھوں نے پھر کہا…
پھر.. تو.. مجھے رسوائ ملنی ہی چاہہے اور وہ مجھ سے دامن ٹھیک ہی تو بچا رہی ہے میری محبت نے اسے رسوائ دی"
خان بدل رہے ہو "داجی.. کو برا لگا..
داجی وہ حکم کرے… میں رات کو دن بھی کہنے کو تیار ہوں مگر.. وہ.." اسنے سر انکی گود میں رکھا..
نہیں خان" داجی تو غصے سے دھاڑے..
میری پرورش نے تمھیں کمزور ہونا نہیں سکھایا"اسکی ٹوٹ پھوٹ انھیں تڑپا گئ..
اپکی پرورش نے مجھے زور زبردستی سکھائ ہے"
اسنے انکی طرف دیکھا وہ نظریں چرا گئے…
تبھی معاویہ کمرے میں ایا..
ارے واہ صلہ ہو گئ" وہ ہنسا…
بھلہ شہزادے سے دور رہتا میں" داجی نے پیار سے اسکے بال سہلائے..
اسی خوشی میں اج داجی بھی پیے گئے" معاویہ نے کہا تو.. بہرام بھی ہنسا…
کبھی نہیں.. ہمیں پسند نہیں" داجی نے کہا..
بس رہنے دیں… "بہرام نے. منہ بنایا..
خان. اسکے علاوہ کچھ بھی.." داجی نے.. اسکو مسکرا کر دیکھا.. وہ اور معاویہ ایک دوسرے کو دیکھتے .. مسکرا کر داجی کے کان پر جھکے وہ.. انکی سننے کے لیے بے چین ہی تھے..
پھر کوٹھے پر چلتے ہیں. اف. ف. ف کیا چیز ہے مینا"یہ بہرام تھا..
نہیں داجی… شبنم شاندار ہے" موایہ نء لے بھی کیا
بے غیرتوں" داجی کی دھاڑ پر وہ دونوں اچھلے..
رک جاو یہیں" انھوں نے اپنی سوٹی اٹھائ…
داجی کتنے ہی کرپٹ تھے مگر ایسے کاموں میں ہاتھ کبھی نہیں ڈالا تھا
داجی اج برسوں بعد.. پرانے داجی لگے…
وہ دونوں اگے اگے بھاگ رہے تھے جبکہ داجی کی چھڑی نے معاویہ کو سینکھ دیا تھا.. جبکہ بہرام کو تو وہ خود ہی نہیں مار رہے تھے
. حویلی میں ایک شور وغل.. اٹھ گیا..
خواتین بھی زنان خانے کی جالی سے یہ نظارا دیکھ رہیں تھیں سب کے لبوں پر مسکراہٹ تھی..
عابیر بھی یہ شور سن کر باہر… ائ.. اور ان سب کو ہنستا مسکراتا دیکھ اسے ایک بار پھر اپنے یاد ائے تھے…
اور دل میں ان سب کو برباد کر دینے کا عزم مزید بڑھ گیا.. وہ زنان خانے کے کچن کیطرف چلی گئ…
……………….
بہرام "احمر نے اسکو پکارہ.. جو.. ڈائیننگ کیطرف جا رہا تھا.. اج سب.. اکھٹے کھانا کھانے والے تھے..
ہاں بولو" احمر کیطرف بہرام مڑا…
نین میری بیوی ہے….
بھلے تمھاری بہن سہی مگر.. میرا رشتہ جو ہے اس سے وہ یہ بات بلکل برداشت نہیں کرے گا میری بیوی.. کو لے کر یہ اسکے حلیے پر کوی بات کہے.. بلکے زنان خانے کی خواتین کو بھی کوئ اپنے بدلے کی اگ میں رگڑے…
تو بہتر ہو گا…. تم خود سب چیزوں کو قابو میں کر لو"چند لفظ کہہ کر.. وہ وہاں سے چلا گیا جبکہ بہرام… کی مٹھیاں بھینچ گئیں…
یہ ادمی کبھی اسکے سامنے بولا نہیں تھا اور اج کیسے سنا گیا.. تھا… اسکا بس نہیں چلا سب میں گھس کر پھٹ جائے..
برحال غصے کو قابو کرتا.. وہ.. ڈائینگ پر ایا. رات کا کھانا سرو ہو رہا تھا.. سب باتیں کر رہے تھے اچھا ماحول تھا…
وہ بھی داجی کے ساتھ بیٹھ گیا..
تبھی.. وہاں .. مرد ملازموں کے سامنے.. عابیر ہاتھ میں ڈش تھامے.. چلی ائ..
کچن میں جب وہ گئ.. تو.. درخنے نے سب کی چوائس کا بتایا.. بہرام سپائس نہیں کھاتا تھا.. بس پھر کیا…
اسنے وہ ڈش اسکے سامنے رکھی..
بہرام ساکت رہ گیا…
وہ کیوں ائ تھی.. سب ایکدم خاموش ہوئے..
جان.. اپکے لیے خاص طور پر بنایا ہے"اسنے اسکی پلیٹ میں مسکرا کر سرو کیا.. اور.. بہرام کے سرخ پڑتے چہرے.. کو دیکھ کر دل میں قہقہے لگاتی وہ وہاں سے چل دی.. سب ہی دانت کچکا گئے تھے..
جبکہ بہرام مسلسل.. شرمندگی کا سامنا کر رہا تھا.. اسنے سر جھکا لہا…
اور عابیر کا سرو کیا کھانا کھانے لگا
. باقی سب بھی کھانا کھانے لگے مگر سب اسے کھانے کے ساتھ جیسے تماشے کیطرح دیکھ رہے تھے…
ملازم کی بھی نظریں اسی پر تھی…
وہ کھانا کھائے جا رہا تھا.. مسلسل.. مسلسل… سب کا کھانا رک گیا.. وہ بہرام کو دیکھ رہے تھے جس لال چہرہ.. سرخ انار کی مانند تھا.. جبکہ. پسینہ شدت سے پھوٹ رہا تھا…
داجی نے.. اسکا جنونی انداز دیکھا اور اس کھانے کی ایک چمچ.. بھر… منہ میں ڈالی تو انھیں لگا. جیسے اگ منہ میں رکھ لی ہو.. اس قدر مرچی..
خان"داجی نے پلیٹ اٹھا کر دیوار میں دے ماری جبکہ اسے جھنجھوڑ دیا..
بہرام.. نے انکا ہاتھ ہٹایا.. اور وہاں سے نکل گیا…
داجی.. نے ایک عزیت سے آنکھیں میچی تھیں..
مجھے تو سمھجہ نہیں ا رہا یہ سب برداشت کیوں ہو رہا ہے" یاور خان پہلی بار داجی.. کے اوپر داھاڑے تھے کھانا برباد ہو گیا تھا.. معاویہ تو اسکے پیچھے بھاگا تھا جبکہ سب ہی اٹھ گئے..
دن اپنی رفتار سے گزر رہے تھے…
مگر بہرام کی زندگی میرں کوئ تبدیلی نہیں ائ تھی عابیر نے بدتمیزانہ رویہ اب سب کے ساتھ شروع کر دیا تھا.. وہ کسی کو گھاس نہیں ڈالتی تھی حتئ کہ خود بہرام کو بھی…
اسے روم میں نہ انے دینا سب کے سامنے اسکی انسلٹ کرنا…
سب پر ٹونٹ کرنا…
اسنے مسلسل جاری رکھا ہوا تھا…
باقی سب صرف اس لڑکی کو بہرام کی وجہ سے برداشت کر رہے تھے مگر اس سب سے.. ایک بات ضرور ہوئ تھی کہ حویلی والے ایک دوسرے کا احساس کرنے لگے تھے.. جو مرد
وہاں رہنے والی عورتوں کو.. حقیر فقیر سمھجتے تھے.. اب عابیر کے اس رویے پر سب…
اپنے سے جڑے رشتے کی قدر کرنے لگے تھے…
حویلی میں اسے رویے سے تبدیلی اچھی ائ تھی مگر یہ سب اتنے نہ محسوس انداز میں ہوا تھا کہ.. کسی نے یہ فیل نہیں کیا خاص طور مرد حضرات نے مگر خواتین اس تبدیلی پر پھولے نہیں سما رہیں تھیں…
اخر کو انکے صبر کا پھل تھا…
جبکہ بہرام ویسے ہی لٹکا ہوا تھا.. اسکی شوخی مدعوم ہو گئ تھی…
وہ عابیر کو خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرنے لگا… جس طرح وہ چاہتی وہ ہر چیز کو اسی رنگ میں ڈھال دیتا.. مگر عابیر تو یہ محسوس ہی نہیں کر رہی تھی.. جہاں پوری حویلی اسکی دشمن بنی ہوئ تھی
. وہاں بہرام اگر اسکے سامنے کھڑا نہ ہوتا تو کوئ بھی اسے نہ چھوڑتا …
داجی کو بہرام پر شدید غصہ تھا.. جبکہ
حیدر کی گمشودگی تو انھیں کھلا رہی تھی کہ اخر وہ کہاں چلا گیا ہے…
اکبر صاحب کا علاج بھی وہ پورا کرا چکا تھا.. اور وہ اب کافی صحت یاب ہو گئے تھے..
بہرام کے اس انداز پر وہ.. اچھے خاصے اس سے متاثر ہو گئے تھے
دل میں جو ایک خلش تھی وہ جاتی رہی تھی.. اور اسکی سب سے بڑی وجہ اپنوں کا رویہ ہے.. جہاں انھیں اپنے علاج کے لیے کچھ پیسوں کی ضرورت پڑی وہیں سب ان سے دور بھاگ گئے مگر معاذ اب بھی انکے ساتھ تھا.. اور وہ ریہا کی شادی اس سے کرنے کے خواہش مند تھے کیونکہ بہرام ایک اچھا انسان وقع ہوا.. تھا اور عابیر کی فکر کم ہونے لگی تھی…
ابھی کچھ دیر پہلے بہرام نے انھیں سے بات کی تھی اور انھیں حویلی انے کی دعوت بھی دی تھی..
کہ وہ تھک چکا تھا.. چار ماہ ہونے کو ائے تھے.. وہ سب برداشت کر رہا تھا…
مگر عابیر ان چار ماہ میں ایک انچ اپنی جگہ سے نہیں ہلی تھی.. الٹا.. اج کل وہ عجیب رویہ رکھ رہی تھی..
اسنے بہرام سے موبائل مانگا.. تو اسنے سب سے مہنگا موبائل اسے لے دیا جبکہ وہ خوش بھی تھا کہ اسنےا س سے کچھ مانگا…
مگر.. جب سے موبائل ایا تھا.. وہ ہر وقت فون پر بات کرتی رہتی تھی یہاں تک کے بہرام کے سامنے بھی نہیں ٹلتی تھی.. بات چیت کے انداز سے صاف دیکھتا تھا کہ وہ کوئ لڑکا ہے..
پہلے تو وہ اپنا وہم سمھجنے لگا.. مگر جب.. اسے.. اس بات کی تصدیق ہوئ…
تو اسنے دل کو یہ کہہ کر سمھجایا کہ وہ یہ سب صرف اسے عزیت دینے کے لیے کر رہی ہے…
مگر پھڑکیاں بھی لگی ہوئ تھیں.. وہ بدل گیا تھا.. جب سے اس سے ملا تھا اپنے شوق ترق کر چکا تھا ماسوائے شراب پینے کے الٹا عابیر کا رویہ.. اسکی بتمیزی اسکی بداخلاقی…
اس جتنا توڑتی وہ اتنا پینے لگا تھا
..
مگر چڑھتی ہی نہیں تھی.. وہ چاہتا تھا اس شراب کا نشہ ایسا چڑھے کے وہ.. برسو سوے.. مگر.. کیا تکلیف.. کا مزہ تھا.. کہ اس
. لڑکے کو.. جو پورے پورے دن سوتا تھا چین کی نیند..
اب نیند ہی نہیں اتی تھی
. ساری ساری رت اور دن وہ آنکھوں میں کاٹ دیتا…
وہ ایسا نہیں تھا.. مگر وہ خود کو بے حد کمزور محسوس کرتا تھا.. خاص طور پر اس لڑکی کے سامنے..
چار ماہ سے وہ اپنے کمرے میں نہیں گیا تھا…
جبکہ معاویہ اور داجی تو… عبیر کے پکے دشمن بنے بیٹھے تھے…
اکبر صاحب نے اسکی دعوت قبول کر لی تھی…
وہ خوش ہوا.. اب یقیناً سب ٹھیک ہو جائے گا…
کیوں مسکرایا جا رہا ہے"معاویہ نے پوچھا تو.. اسنے اسے ساری بات بتا دی..
معاویہ چڑا…
مجھ سے اس عورت کی بات مت کیا کر" معاویہ نے سختی سے کہا.. تو بہرام نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا..
تو جانتا ہے… نہ انوشے کے لیے میری فیلنگز.. یار میں اب تک حیران ہوں اس عورت نے ہماری آنکھوں کے سامنے .. اسکے ہاتھوں پر چائے پھینک دی
.. اسے تجھ سے تکلیف ہے. وہ تجھ سے بدلے لے.. یہ سب کر کے وہ اپنا مقام گیرا چکی ہے.. اور میری نظر میں اب اسکی کوئ ولیو نہیں… بھلے تو مجھے مار ڈال"جب سے انوشے کے ہاتھ جلے تھے معاویہ تو.. عابیر کو مار دینا چاہتا تھا..
ہاں ان دونوں کے درمیان کچھ ٹھیک نہیں ہوا تھا.. مگر انکی نظریں ایک دوسرے پر شاید ایک بار ہی اٹھیں تھیں وہ چیخ چیخ کر کہتی تھیں کہ انکے دل بندھ گئے ہیں…
اور معاویہ اب بقائدہ اظہار کرنے لگا تھا…
جبکہ کل ہونے والے واقعے پر.. اگر بہرام عابیر کے اگے نہ اتا.. تو شاید حویلی میں پہلی بار معاویہ کا اعتاب دیکھا جاتا..
مگر بہرام اسکے.. لیے ایسا ہو جاتا.. کہ.. جیسے اگلے انسان کے بدن میں ایک قطرہ نہیں چھوڑے گا…
بہرام خاموش ہو گیا. وہ کون سا یہ چاہتا تھا سب اس سے محبت کریں. بس وہ اسکی محبت مان لے باقی سب ٹھیک ہو جائے گا..
بس.. کچھ ہی دیر میں عابیر کی فیملی نے انا تھا.. وہ داجی اور باقی سب کو.. نارمل کرنا چاہتا تھا.. تا کہ.. سب ٹھیک ہو.. تبھی.. معاویہ کو اچھی طرح تنبھی کی جو اسنے مشکل ہی سہی.. اسکے کہنے پر مان لی..
اب وہ داجی کے پاس گیا تھا جبکہ معاویہ سوچ رہا تھا کیا یہ وہی بہرام ہے….
…………………..
کرن.. اج ہم شاپینگ پر چلیں گے"ارمیش نے پرجوش ہو کر کہا…
کرن منیب کی بہن.. جو اج سے چار ماہ پہلے اسکے پاس ائ تھی اور اسی کے پاس رہتی تھی..
سر تھام گئ..
خانم جب سے خان نے اپکو… باہر نکلنے کی اجازت دی ہے تب سے اپ تو ہر وقت شاپینگ کا ہی سوچتی ہیں" کرن.. اسکے سامنے بیٹھتی کہنے لگی..
کتنی بدتمیز ہو تم.. بیبی کی شاپینگ کرنے چلیں گے نا.. لالا نے بہت سارے پیسے دیے تھے مجھے" وہ یاد کرتی بولی جب بہرام.. اج سے ایک ماہ پہلے ایا تھا اور پیسے دے گیا تھا جبکہ اسے ہر چیز کی کھلی اجازت دے گیا تھا…
مگر خانم.. ابھی تو.. گئے تھے.. ہم لینے" کرن زیچ ہوئ..
تم چل رہی ہو یہ میں جاو "اسنے غصے سے پوچھا.. چار ماہ میں وہ کافی خوش رہنے لگی تھی…
اچھا اچھا ہم چلتے ہیں "کرن اٹھی…
اور پھر دونوں باہر نکل ائ.. باہر ڈرائیور بھی تھا مگر اسے رکشے میں جانے کا نیا شوق ہوا…
اور ارمیش نے کرن اور.. اسکے شوہر.. کے ساتھ خوب بحث کی جبکہ اسکا شوہر انھیں ایسے.. جانے نہیں دینا چاہتا تھا..
ٹھیک ہے میں.. سائیں سے بات کر لیتا ہوں" اسنے کہا… اور بہرام کو کال ملانے لگا…
ارمیش کی سانس رکی..
بہرام ضرور اسے شوٹ کر دینے کا حکم دے دے گا…
وہ اسے روکنا چاہتی تھی اپنا فیصلہ بدل. رہی تھی.. مگر تب تک.. روحیل فون ملا چکا تھا..
جی خان معافی چاہتا ہوں جی بی بی خانم باہر جانا چاہتی ہیں"
نہیں خان مسلہ تو کوئ نہیں جی وہ رکشے پر جانا چاہتی ہیں" روحیل نے زرا ڈرتے ہوئے کہا…
ارمیش دم سادھے.. سن رہی تھی وہ کیا کہہ رہے تھے پتہ تو نہیں چل رہا تھا.. مگر روحیل کے ایکسپریشن کوئ.. حوصلہ افضا نہ تھے…
جی جی خان.. ہو جائے گا.. جی. میں.. دیکھ لوں گا.. سمبھال لوں گا" اسنے بات کر کے فون بند کر دیا جبکہ ارمیش افسردہ ہو گئ..
حویلی کے مرد ایسے ہی تھے…
ضدی.. خود سر…
اسے دکھ کے ساتھ غصہ انے لگا..
اپ جا سکتی ہیں بی بی خانم.. خان کہہ رہے ہیں جو وہ چاہتی ہیں ویسا ہی کرو" روحیل نے.. بتایا تو گویا اسے اپنے کانوں پر یقین نہ ایا.. وہ پلٹی…
کیا…" روحیل نے.. اس چادر میں چھپی لڑکی کی خوشی حیرت سے دیکھی تھی.. ہنسی بھی ای تھی. جبکہ کرن بھی کھی کھی کر رہی تھی کیونکہ وہ ایکسائٹیڈ اتنا ہی تھی.. ارمیش نے دونوں کو گھورا.. اور.. روحیل کو رکشہ لانے کا حکم دیا وہ کبھی نہیں بیٹھی تھی رکشے پر. اور اج اسے بہت مزاہ انے والا تھا..
بہرام کو بہت ساری دعائیں دے کر.. وہ… رکشے کا انتظار کرنے لگی…
اسے تو یقین ہی نہیں. ارہا تھا کہ. کوئ اسکے ساتھ اتنی بھلائ بھی کر سکتا ہے.. زندگی نے جیسے اسے نئے رخ سے روشناس کرایا تھا جس میں وہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں جمع کر رہی تھی….
انے والے وقت سے انجان…
کہ اسے ان خوشیوں کو جمع کرنے کی ضرورت نہیں تھی…
رکشہ ا گیا. وہ پرجوش سی بیٹھ کر… کرن کا ہاتھ تھام گئ.. کرن اپنی چھوٹی سی بی بی خانم کی حرکتیں دیکھ کر قہقہے روکنا چاہ رہی تھی…
رکشہ اپنی منزل کیطرف چل رہا تھا جبکہ روحیل پیچھے گاڑی میں.. انکے ساتھ ہی تھا.. اور ایک بڑے سارے مول کے اگے رکشہ رکا.. ارمیش پہلے بس.. کالونی کی چھوٹی دوکانوں پر ہی جایا کرتی تھی وہ تو اتنے بڑے مول میں گم ہو جاتی اسنے.. واپس رکشے میں بیٹھنا چاہا مگر کرن اسکا ہاتھ تھام کر اندر چلنے لگی جبکہ روحیل بھی ساتھ ہی.. تھا…
کرن… کیا ہے… "ارمیش نے اسے چٹکی کاٹیی
خانم اب ا ہی گئیں ہیں تو کچھ لے لیں" اسنے کہا اور وہ ایک شاپ میں چلے گئے ارمیش.. جب اس شاپ میں ائ تو بلکل ہی بچوں کی چیزوں میں گم ہو گئ….
اور وقت کا اسے بلکل احساس نہ ہوا…
جبکہ اسی دوران کرن اسے.. کہ گئ تھی کہ وہ روحیل کے ساتھ ساتھ والی شاپ میں ہے.. جبکہ ارمیش کا بس نہیں چل رہا تھا سارا سامان خرید لے..
وہ سب.. لے کر باہر ائ.. تو اسے ڈر سا لگا…
سامان بہت بھاری تھاجو اس سے اٹھایا نہیں جا رہا تھا جبکہ وہ دونوں کہاں تھے پتہ نہیں.. وہ سامنے چلنے لگی…
اب وہ لوگوں سے کرن کا کیسے پوچھتی. اسنے بے بسی سے ارد گرد دیکھا.. تو نیچے فلور پر جیسے نگاہ جم گئ…
ہاں وہ وہی تھا چار ماہ بعد اسے دیکھا تھا…
وہ بلکل ویسا ہی تھا…
مگر اسکے چہرے پر مسکراہٹ تھی جو اسکے ساتھ رہتے ہوئے کبھی نہیں ہوتی تھی..
ارمیش اسکے ساتھ حور کو دیکھنے لگی..
آنکھوں سے انسو نکلنے لگے.. دل
. بری طرح گھبرایا تھا…
ان کی اسکیطرف کوئ توجہ نہیں تھی.. جبکہ وہ جانتی ہی نہیں تھی کہ.. حور اسکو دیکھ چکی ہے
حور اسکو وہاں دیکھ کر حیران تو ہوئ مگر اب جبکہ وہ محتشم سے خلا لے چکی تھی.. اور.. انکی اج رات شادی تھی تو..
اب ارمیش دوبارہ اسکی زندگی میں ائے اسے کسی طور گوارا نہیں تھا…
حیدر اس شاپ میں چلو میں اتی ہوں "اسنے حیدر کا رخ ہی پھیر دیا…
کیوں تمھیں کہاں جانا ہے" حیدر نے پوچھا…
تو حور اسے ٹال کر.. دوکان میں کرتی خود ارمیش کیطرف انے لگی.. جو انکے چڑھ جانے کے باوجود اب بھی سیڑھیوں کے پاس کھڑی تھی..
حور.. اسکو دیکھتی رہی جس کا وجود معمولی سا فریبی ہوا تھا…
اسکے اندر کی حسد ایک بار پھر ارمیش کو دیکھ کر… جاگ اٹھی تھی…
اور پھر نہ جانے کیسے.. اسنے.. ارمیش کو.. ان سیڑھیوں سے نیچے دھکا دے دیا…
وہ پورے سامان سمیت منہ کے بل.. نیچے سیڑھیوں پر لڑھکتی لڑھکتی… جا رہی تھی… جبکہ اسکی چینخیں بھی… تھیں لوگ اسکی طرف دوڑے.. جبکہ اسنے بے ہوش ہونے سے پہلے.. حور کو مسکراتے دیکھا تھا…
………………
عابیر اکبر صاحب اور اپنی فیملی کو دیکھ کر… کافی دل برداشتہ یوئ تھی… کتنی بے عزتی کر کے اسے نکالا گیا تھا.. اور اج پھر وہی لوگ اسے اسی عزت سے ملنے ائے تھے اسکی خوشی کو کوئ ٹھکانہ نہ رہا..
مما اور.. ریہا کو زنان خانے میں لے جایا گیا.. جبکہ معاذ… اور اکبر صاحب کو مردان خانے میں.. بہرام نے معاذ کے ساتھ رنجش ختم کر دی تھی کیونکہ.. ریہا اور اسکی جلد شادی ہونے والی تھی.. مگر معاذ حد سے زیادہ سنجیدہ دیکھائ دیتا تھا.. نہ وہ بہرام سے بولتا تھا.. نہ ہی بہرام اس سے بولنا پسند کرتا تھا..
مگر عابیر کے نام سے جڑا فطور ختم ہو چکا تھا…
اب تو عابیر نے ہی اسے الو بنا رکھا تھا…
مما اور ریہا بی جان. اور باقی خواتین کے ساتھ بیٹھیں تھیں.. انھیں وہ لوگ کچھ الگ.. سے کافی اچھے لگے.. اور.. اج دل میں کافی خوشی بھی ہوئ تھی بیٹی کو اتنے بڑے گھر میں دیکھ کر.. انکا دل تو کر رہا تھا.. خاندان بھر کو.. عابیر کے ٹھاٹ باٹ دیکھائیں…
مما… اپ میرے روم میں ا جائیں یہاں کب تک بیٹھیں گی"بی جان ابھی مما سے بات کر ہی رہیں تھیں کہ وہ.. بیچ میں اکتا کر بولی.. نین کا تو دل کیا اس حد سے زیادہ بدتمیز لڑکی کا منہ توڑ دے اور اسکی ماں سے پوچھے.. ایسی تربیت کی تھی.. اولاد کی…
بی جان.. خاموش ہو گئیں جبکہ مما کو بھی بہت برا لگا.. کافی غیر اخلاقی سا تھا اسکالب و لہجہ جس میں صرف حقارت تھی..
بیٹا تمھارے ہی گھر میں ہوں "مما نے مسکرا کر کہا..
نو یہ میرا گھر نہیں خیر اپ ان لوگوں سے میلنے نہیں آئیں.. چلیں اٹھیں…" اسنے ماں کا ہاتھ تھاما… اور وہاں سے لے گئ.. پیچھے سب.. ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے اور وہاں کھڑی ریہا کو.. تو نین کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی..
جاو تم بھی اپنی بہن کے حجرے میں" وہ غصے سے بولی تو بی جان نے اسکی جانب دیکھا..
نین"انھوں نے کافی غصے سے.. جیسے تنبیھی کی تو وہ چپ ہو گئ جبکہ ریہا.. شرم سے پانی پانی ہو رہی تھی.. کتنی عجیب حرکت کی تھی اسکی بہن نے..
میں معافی چاہتی ہوں "اسنے کہا… اور اس راستے پر چلنے لگی جہاں سے عابیر گزری تھی…
………………..
اکبر صاحب کو امید نہیں تھی کہ وہ لوگ انکے ساتھ اتنا اچھا رویہ رکھیں گے… وہ کافی خوش دیکھائ دے رہے تھے
. بدلنخواستہ ہی سہی سب بہرام کے لیے. ساری تلخی بھلائے.. بہت خوش اخلاقی سے مل رہے تھے جس میں داجی بھی شامل تھے…
بہرام
. سب ٹھیک ہونے کی اس لیے.. خود بھی بہت خوش تھا…
وہ سب ہی.. بہرام کے سیاست میں انے کے بعد.. اسکے.. اپنے حلقے میں کام.. کرکاردگی… اور لوگوں میں اسکی مقبولیت کا ذکر کر رہے تھے.
تبھی ان لوگوں میں.. عابیر ا گئ..
ایک بار پھر اسنے… وہ کام کیا تھا.. جو.. داجی سمیت وہاں سب کو انگارے لگا دے گیا جبکہ اکبر صاحب کو.. بھی خود اسکا اسطرح انا اچھا نہ لگا.. حالانکہ وہ اور انکے گھر کا موحول.. یوں پردے کا قائل نہی تھا مگر ماحول ایساتھا کہ وہ لڑکی وہاں اکیلے اتی.. کافی بری لگی تھی..
عابیر سائیں. " بہرام.. نے دانت پیس کر اسکیطرف دیکھا..
اپ اندر جائیں" مگر پھر بھی وہ سمبھل کر بولا کہ اج تو اس عزیت سے چھٹکارے کا دن تھا.. اج وہ کوئ جھگڑا نہیں چاہتا تھا..
میں نے تم سے بات نہیں کی… بابا اپ مجھ سے ملنے ائیں ہیں کب تک یہیں رہے گے"وہ بے دھڑک بولی بہرام کا چہرہ.. سرخ ہو گیا… خفت اور بے عزتی کا احساس شدید ہوا.. معاذ سمیت اکرم صاحب بھی عابیر کو دیکھ رہی تھی..
یہ کیا… وہ اسقدر بدتمیز… کیسے ہوئ…
یہ شاید وہ تھی…
یہ… ؟؟؟؟؟ وہ حونک تھے دونوں
داجی.. نے جتاتی نظروں سے بہرام کو دیکھا.. اور وہاں سے اٹھ گئے
باقی سب بھی وہاں سے چلے گئے جبکہ.. بہرام نے.. بھی عابیر کو.. وہاں سے جاتے دیکھا تھا..
لعنت دوں تجھے… یہ… یہ کہوں کہ تجھے گلکوس کی بوتل لگنی چاہیے.. کہ طاقت ائے "معاویہ.. شدید غصے سے بولا..
بہرام نے اسے پیچھے دھکیلا اور وہاں سے.. چلا گیا…
عابیر بیٹے یہ کیا حرکت تھی" اکبر صاحب نے کہا.. تو.. عابیر نے انکی طرف دیکھا…
کچھ نہیں بس یہ سب اسی قابل ہیں "اسنے شانے اچکائے.. اور پھر ان سب سے باتیں کرنے لگی…
………………………..
وہ سب جا چکے تھے…. عابیر تو ضد لگا کر بیٹھ گئ کہ اسے اس قید میں نہیں رہنا.. جبکہ اسی کے ساتھ وہ کافی ہنگامہ بھی کر چکی تھی
. بہرام کولگا اسکے ماتھے کی نسیں پھٹ جائیں گی.. وہ تو اب بھی ویسی ہی تھی.. کیوں وہ سب تو اسنے کر دیا جو وہ چاہتی تھی پھر بھی کیوں…
اسکا دماغ چکرانے لگا تھا.. یہ تو اکبر صاحب خود اسے چھوڑ گئے ورنہ وہ ایک پل کو روکنے کو تیار نہیں تھی.. جبکہ بہرام نے معاذ کے بھی الفاظ سنے..
شاید تم حد سے زیادہ خود میں تبدیلیاں لے ائ ہو"
اسکا دماغ ماوف ہو رہا تھا
.. عابیر تھی کہ قابو میں نہیں. ارہی تھی اور جب بات حد سے بڑھی اسنے.. ایسی گرفت سے اسکی کلائ پکڑی کے.. عابیر ایک پل کو ساکت ہوئ.. اور پیچھے کھینچ لیا.. جبکہ اکبر صاحب سمیت سب شاکڈ تھے.. عابیر کو لے کر وہ سب بھی چلے گئے.. عابیر نے بہرام کی ااس حرکت پر.. اسکے منہ پر ہاتھ اٹھا.. دیا..اور پھر شاید وہ نہیں جانتا تھا.. وہ کیا کر رہا ہے.. اسنے.. عابیر کے منہ پر اتنے تھپڑ دے مارے کے..
اسکے ہاتھ کے اندر کا گوشت.. نیلا پڑ گیا.. عابیر کا منہ تو گویا سوج ہی گیا…
ناجائز فائدہ اٹھایا ہے تم نے میری محبت کا"وہ چنگھاڑا…
داجی سمیت سب نے ہی اسکو اور عابیر کو لون میں دیکھا تھا مگر کوئ کچھ نہ بولا..
عابیر روئ نہیں وہ.. لون میں یوں ہی بیٹھی تھی جبکہ بہرام.. کا فون بجنے لگا…
اسنے… کھولتے زہن کے ساتھ.. فون اٹھایا.. اور جو خبر اسکو ملی.. اسکے قدموں سے زمین سرکی تھی جیسے…
اور وہ عابیر.. کو وہیں چھوڑ کر باہر بھاگا. تھا…
…………………..
میرا بچہ.. "ہسپیٹل کے روم میں قدم رکھتے ہی اس کے کانوں نے اس چیخ کو سنا تھا…
جبکہ ارمیش کو بیڈ پر تڑپتا ہوا پایا..
اسنے روحیل سمیت کرن کو… ایسے دیکھا.. جیسے انھیں چیر پھاڑ کر دے گا… وہ دونوں سہمے..
کیسے ہوا یہ" اسنے پوچھا.. بھیچی بھیچی اواز میں… بے انتہا سرد پن تھا.. اور پھر.. روحیل نے اسے سب بتایا.. تو… بہرام نے ایک کھینچ کر تھپڑ دے مارا.. تھپڑ میں اتنی شدت تھی…
کہ وہ دیوار سے بجا…
فائر ہو تم اور تمھاری بیوی" اسنے کہا… تو… روحیل سمیت کرن کے بھی اوسان خطا ہوئے. مگر بہرام کے پاس کوئ لچک نہیں تھی..
ارمیش.. دل ہار ہار کر چیخ رہی تھی جبکہ وہ باہر نکل ایا.. اسے سمھجہ نہ ایا.. کیا کرے.. حویلی والوں کو بلائے..
کیونکہ یہ سب وہ خود .. ہینڈیل نہیں کر سکتا تھا…
اور اسکی بیوی کوئ اتنی اچھی نہیں تھی جسے اعتماد میں لیا جاتا…
وہ محبوبہ.. جس کے ناموں نے ریڈرز کو ایمپریس کیا تھا وہ صرف بیوی رہ گی تھی…
اسنے موبائل اٹھایا.. اور داجی کو کال کی… اب حیدر.. پاتال میں سے بھی نکل کے ا جاتا… کیونکہ.. داجی کا پوتا… ختم ہوا تھا

داجی بھوکے شیر کیطرح حیدر کے پیچھے پڑ گئے تھے…. انھوں نے یاور خان کو بھی کہہ دیا تھا اگر حیدر خان… دو تین دن میں حویلی نہ ائے تو… وہ اسے اک کر دیں گے….
سب ملازم اور خاص بندے حیدر کی تلاش میں تھے جبکہ ارمیش کی حالت… پر… سب کا ہی دل کٹ رہا تھا.. وہ بار بار بے ہوش ہو رہی تھی..
حور نے بلاخر اسکے بچے کو مار ہی دیا…
زنان خانے کی خواتین بھی اسکے گم میں برابر کی شریک تھیں…
سب کو ارمیش کو لے کر اپنی اپنی بے حسی… نے بہت تڑپایا.. تھا…
خاص طور پر مورے کو… وہ اسکی ماں تھیں پھر بھی چار ماہ تک وہ.. حویلی نہ ائ.. انکی نظروں کے سامنے نہ ائ… اور انھوں نے بس حیدر پر اکتفا کر لیا.. کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ ہے تو ٹھیک ہی ہو گی.. جبکہ وہاں سب جانتے تھے کہ ارمیش اور حیدر کے تعلقات کیا ہیں اور حیدر ارمیش کو کس طرح ٹریٹ کرتا… ہے..
پھر بھی وہ سب لوگ حیدر پر بھروسہ کر رہے تھے جبکہ… حیدر نے اسکے ساتھ کیا.. کیا…
اور اگر.. بہرام نہ ملتا تو.. نہ جانے وہ کہاں جاتی…
سب خود کو ارمیش کا قصور وار سمھجہ رہے تھے…
جبکہ ارمیش.. بس اپنے ہی غم میں تھی.. اسکا بچہ جسے بچانے کے لیے.. اسنے ہر حدیں پار کیں.. اس عورت کی حسد نے اسکو.. مار ہی دیا…
اس کا رو رو کر برا حال تھا جبکہ وہ اپنے ساتھ سب کو رلا رہی تھی..
داجی نے بھی اسکے سر پر ہاتھ رکھا .. تھا… اخر کو انکا.. پڑ پوتا… جو ان کی شان میں مزید اضافہ کرتا وہ چلا گیا تھا.. مر گیا تھا انکا بس نہیں چل رہا تھا وہ حیدر کو… اپنے ہاتھوں سے مار دیں… مگر.. ابھی ممکن نہیں تھا…….
جبکہ ان سب میں عابیر… تھی جسے ہر گیز بھی افسوس نہیں ہوا تھا.. انسانیت کے ناطے بھی نہیں…
وہ جس قسم کے لوگ تھے انکی سزائیں اس سے بھی بڑھ کر ہونی چاہیے تھی جبکہ وہ بھول گئ تھی سزا دینے والی وہ کوئ نہیں تھی..
اور رب جس کو.. چاہے سزا دے اور جس کو چاہے اپنی رحمت.. کے زریعے معاف کر دے.. مہربانی اسکی صفت ہے..
اور جب ان لوگوں کا غرور اپنے ہی توڑ رہے تھے.. تو…
وہ انکا مزاق بنانے والی کوئ نہیں تھی….
مگر.. اسکی خصلت بدل رہی تھی جس کا اسے اندازا بھی نہیں ہو رہا تھا…
اس وقت سب ہی ارمیش کے کمرے میں تھے.. سب اسکی دل جوئ میں لگے تھے کہ کسی طرح وہ مسکرا دے ان سب کو معاف کر دے…
مگر ارمیش.. ویران آنکھوں سے.. بس خاموشی اڑھے ہوئ تھی..
چندہ… یہ پی لو اچھا محسوس کرو گی"بی جان نے سوپ کا پیالہ اسکے اگے کیا..
وہ ان سب سے بھی کوئ بحث نہیں کرنا چاہتی تھی..
اسکی قسمت میں محبت اور احساس نام کی کوئ چیز نہیں تھی.. تو وہ.. کس کس.. سے شکوے گلے کرتی.. اسنے خاموشی سے باول تھام کر.. سوپ پینا شروع کر دیا.. مورے منہ پر ہاتھ رکھ کر رونے لگی…
بی جان اس سے کہیں معاف کر دے اپنی ماں کو… مت تڑپائے… "وہ بولیں تو سب کی آنکھیں نم ہو گئیں جبکہ… ارمیش یوں ہی سپاٹ انداز میں سوپ پیتی رہی…
ایک اور بھی تھا.. جس کو… یہ سب ڈرامے بازی لگ رہا تھا..
رک جاو خانم.. ابھی اسے پریشان نہ کرو…." بی جان نے.. انھیں روکا… تو وہ.. مزید رو دیں. پھوپھو نے انکو سمبھالا… مگر بیٹی.. کو دیکھ کر.. ان کا بس نہیں چل رہا تھا خود کو ختم کر لیں اخر کو وہ ماں تھیں پھر. کیوں نہ اسکے لیے سہی فیصلے کر سکیں.. کیوں نہ دیکھ سکیں کے وہ.. بھی خوشیوں کی منتظر ہے…
ویسے یہ مکافات عمل ہے"ایک طرف کھڑی عابیر.. بولی… تو سب نے پلٹ کر دیکھا.. ارمیش اب بھی سوپ کیطرف متوجہ تھی…
جو جیسا بوتا ہے ویسا کاٹتا.. ہے… " وہ پھر بولی….
اپ جیسے لوگوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے"
دفع ہو جاو یہاں سے" نین کا تو میٹر گھوم گیا…
تمھارے ساتھ جو بھی ہوا.. اس میں میری بیٹی کا کوئ قصور نہیں تھا نہ ہی میری بیٹی نے کچھ کیا جسے تم مکافات عمل کہہ رہی ہو…" مورے بھی بولیں اب وہ بلکل بھی.. ا پنی بیٹی کے ساتھ زیادتی برداشت نہیں کر سکتیں تھیں ہاں زمیر تب جاگا تھا.. جب بیٹی مر گئ تھی…
عابیر یوں ہی مسکراتی رہی…
عابیر خانم"
بی جان بولیں..
میرے نام کے ساتھ اپنی یہ گندی شناخت مت لگانا اج کے بعد…. "وہ دھاڑی .. سب حق و دق… اسکی بی جان کے ساتھ اسقدر بدتمیزی پر اسکو دیکھنے لگے…
ہممم بہت اچھا ہو رہا ہے…. بہت ہی اچھا.. اور ابھی.. ہوگا.. وہ بھی مرے گا تب ہی سکون ملے گا مجھے"وہ چلاتی ہوئ کوئ پاگل لگ رہی تھی… اور بولتی ہوئ یوں ہی نکل گئ…..
بی جان کا چہرہ خفت سے سرخ پڑ گیا…
نین اور انوشے کو عابیر پر بہت ہی غصہ ا رہا تھا…
مگر غصہ دباتیں… وہ ارمیش کیطرف متوجہ ہوئیں اسوقت ارمیش کو انکی سب سے زیادہ ضرورت تھی
……………….
عابیر وہاں سے نکل کر اپنے کمرے کی جانب چلنے لگی یہ لوگ اس لائق تھے ہی نہیں کہ وہ ان کے پاس جاتی…
اپنے کمرے میں جانے سے پہلے وہ داجی کے کمرے کے سامنے سے گزری تو بہرام معاویہ کو وہیں پایا…
داجی انکے ہاتھ میں کوئ چیز تھما رہے تھے…
وہ گھڑی تھی جس پر ہیرے لگے تھے.. جبکہ بہرام اور معاویہ دونوں ہی گھڑی کی تعریف کر رہے تھے…
عابیر کچھ دیر وہاں کھڑی.. ان سب کو دیکھتی رہی… اور پھر… اچانک ہی مسکرا دی حالانکہ.. کچھ وقت پہلے جایا جاتا تو.. وہ لڑکی.. دوسروں کی ٹو میں کبھی نہیں لگی.. مگر اب بہرام اور اسکے خاندان والوں کو زلیل کرنے کے لیے وہ اپنی سطح سے بہت نیچے جا چکی تھی کہ اب تو اسکے گھر والے بھی یہ کہتے کہ.. اسے ہو کیا گیا ہے…
ریہا.. اس مسلسل اسکے بدل جانے کا شکواہ کرتی رہتی.. جبکہ ماما بھی اسکو اب تو غصے سے بدتمیز کہنے لگ گئیں تھیں بابا.. اسکی ان حرکتوں پر اس سے بات نہیں کر رہے تھے جبکہ معاذ جس پر تو اسکا خون کھولتا تھا.. وہ تو اسے پسند کرتا تھا.. پھر اسکی چھوٹی بہن.. سے کیوں شادی کر رہا تھا.. وہ بری طرح جلن حسد.. غصہ اور بدلے ان سب میں پھنس کر خود کو تباہ کر رہی تھی…
عابیر وہاں سے گزر گئ….
اگے نا جانے کیا ہونے والا تھا…
……………..
بہرام.. شاید بھول گیا تھا.. یہ اسی کا کمرہ ہے… اسکی ملکیت جہاں اسکے حکم کے بغیر کوئ نہیں اتا تھا.. مگر اب.. اسے اجازت طلب کرنی پڑتی تھی جبکہ اکثر وہ معاویہ کے کمرے میں ہوتا…
وہ اندر داخل ہوا تو عابیر.. بیڈ پر بیٹھی کوی نیوز دیکھ رہی تھی اسے دیکھتے ہی اٹھی..
تم تم یہاں کیوں اے ہو"وہ غصے سے بولی…
کیونکہ یہ میرا کمرہ ہے… اور میرے سرکار بھی اسی کمرے میں ہیں" وہ مسکرا کر… اسکی طرف بڑھا… کہ عابیر نے گلدان اٹھا لیا..
اپنے غلیظ… وجود اور اس بدصورت چیرے کو مجھ سے دور رکھو"وہ داھاڑی بہرام.. نے دانت بھینچے..
میری محبت نے اور مہلت نے تمھیں زیادہ سر چڑھا لیا ہے "وہ.. انگلی اٹھا کر بولا….
تم صرف یہاں سے دفع ہو جاو اس کے علاوہ کچھ نہیں "وہ بدتمیزی سے آنکھیں نکال کر بولی…
مجھے بلکل امید نہیں تھی… قطرہ قطرہ میرے دل کو اپنی طرف سے پتھر نہ کرو….
جو میں نے کیا وہ میں بھگت چکا ہوں ہاں میں نے غلط کیا.. میرا طریقہ غلط تھا… مگر میں نے.. سب صیحی کرنے کی بھی تو کوشش کی ہے جو لوگ تم پر تھو تھو کر رہے تھے.. اج وہی.. تمھیں خوشقسمت سمھجتے ہیں…
مگر.. مجھے ان سے نہیں صرف تم سے غرض ہے میٹھی.. کیوں کر رہی ہو… ایسا "وہ پھر سے بولا تو عابیر نے اسکی طرف دیکھا..
کیونکہ مجھے تم سے نفرت ہے اور میں تم سے علیحدگی چاہتی ہوں طلاق دو ابھی اور اسی وقت مجھے جو شخص مجھے ایک انکھ نہیں بھاتا چار ماہ سے… میں اس حویلی کو جیل سمھجے ہوئے ہوں اور.. تم یہ کہہ رہے ہو. کہ میں کیوں کر رہی ہوں دو مجھے طلاق. "وہ دھاڑی .. بہرام ساکت رہ گیا…
ہر طرح سے اسکو پورٹیکشن سپورٹ دینے کے بعد بھی وہ ویسی ہی تھی…
اسکا دل جیسے…. ٹوٹ سا گیا…
طلاق تو میں تمھیں نہیں دوں گا یہ سوچ تو اپنے زہن سے نکل دو.. کان کھول کر سنو.. کان صاف کر کے سن لو طلاق تمھیں میں نہیں دوں گا…." وہ بھی چلایا….
اور واشروم میں چلا گیا..
میں بھی دیکھ لوں گی تمھیں" عابیر نے.. واس.. بیڈ پر پھینکا اور کمرے سے ہی نکل گئ اس ادمی پر اسے اتنا سا بھی بھروسہ نہیں تھا"
……………….
ارمیش کی حویلی واپسی کی…. وہ چوتھی شام تھی جب حیدر بڑے تفخر سے حویلی میں داخل ہوا… مردان خانے میں سب موجود تھے…
حیدر کو دیکھ کر ایکدم سب اٹھ گئے….
بہرام بھی وہیں داجی کے پاس بیٹھا تھا…
اسکے پیچھے اتی. موڈرن سی لڑکی کو دیکھ کر داجی کی ایک للکار تھی حویلی میں…
ہماری بندوق لاو"ملازم حرکت میں ائے… سب ہی ان دونوں اور داجی کی جانب دیکھ رہے تھے…
جبکہ داجی حیدر کو چیر پھاڑ کر دینا چاہتے تھے….
تیری جرت بھی کیسے ہوئ سردار ہو کر اس نیچ برادری میں شادی کرے… ہماری خانم میں کیا کمی تھی" وہ اسکا گریبان جھنجھوڑ کر بولے.. دونوں کے اپس میں بندھے ہاتھ بتا رہے تھے کہ وہ کسی مظبوط رشتے میں بندھے ہیں…
داجی یہ میری زندگی ہے اور میں نے فیصلہ کر لیا تھا.. جو کہ اپکے سامنے ہے… " حیدر نے بنا ڈرے سکون سے کہا….
بے غیرت"داجی خود پر قابو کھوتے ہوئے.. اسکے منہ پر زور دار طماچہ مار گئے.. جس کا احساس.. حیدر کو خفت زدہ کر گیا…
اسکا چہرہ سرخ ہو گیا… مگر ایسا ایکشن… وہ امید رکھتا تھا.. یہیں ہو گا…
چار ماہ سے.. تیری بیوی کہاں ہے کس حالت میں ہے تجھے نہیں پتا تھا اور اس کے ساتھ رنگرلیاں بنا رہا تھا حیدر خان… ہمیں افسوس ہے.. کہ تم ہمارے خون ہو…. "
بس کریں داجی" وہ بھی غصے سے بولا…
بہرام قتل بھی کر ائے اپ اسے معاف کر دیں گے میں اگر اپنی مرضی کر ایا تو… اپ مجھے گالیاں نکال رہے ہیں "وہ شاید اپنی جگہ درست تھا..
مجھے اپنے معملے میں گھسیٹنے کی ضرورت نہیں… میں.. کمزور نہیں ہوں. جو عورت سے بدلا لو. اور بیقوقت دو عورتوں سے تعلق رکھو اور اپنے ہی بچے کو مار دوں " بہرام کے تو سر پر بھجی تبھی وہ.. انگلی اٹھا کر دانت پیس کر بس چند لفظوں میں اسکی دھجیاں اڑا گیا…
حیدر نے کھا جانے والی نظروں سے اسے.. دیکھا… جبکہ اپنے ہی بچے کو مار دوں… یہ بات اسے سمھجہ نہ ائ.. یہ اگر ا گئ تو یہ سب اسےبکواس ہی لگا..
ہماری مرضی ہم جو مرضی کریں…. سرداری ہمارے سر پر ہے تبھی ہمارے فیصلے کے خلاف کوئ نہیں جا سکتا" وہ اپنی پگ کا فائدہ اٹھاتا… اپنے کمرے میں جانے لگا… کہ ایک منٹ کو روکا…
ارمیش خانم.. کو طلاق دے چکے ہیں ہم…. وہ ہماری طرف سے ازاد ہیں پیپرز کچھ دنوں تک مل جائیں گے" وہ سفاکیت سے بولا..
وہاں سب کے قدموں سے زمین کھسکی تھی…
حویلی میں طلاق کا رواج نہیں تھا. اور اج حویلی سردار نے اس رویات کو توڑ ڈالا تھا…
داجی… صوفے پر گیرے تھے..
ایک غیر لڑکی کے لیے وہ اپنے خاندان اپنے گھر کی لڑکی کے ساتھ کتنی بڑی زیادتی کر گیا تھا…
زنان خانے کی گیرل سے کان لگائے… عورتوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا…
جبکہ… ( مورے ارمیش کی ماں) کے اچانک زمین بوس ہونے پر وہاں چیخوپکار دیکھنے لائق تھی….
……………………
ایک اور ڈرامہ.. عابیر نے نخوت سے سب دیکھا… اور وہاں سے ابھی نکلتی.. کہ داجی کے کمرے کا دروازہ کھلا پایا…
اسے معلوم. نہیں تھا اتنی جلدی اسے یہ موقعہ میسر ائے گا…
وہ ارد گرد دیکھتی اندر چلی گئ…
جبکہ ہال سارا خالی ہو گیا تھا.. داجی کا بی پی ہائ ہو گیا تھا.. جبکہ مورے.. صدمے سے بے ہوش… تبھی وہ سب انھیں ڈاکٹر کے پاس لے گئے تھے زنان خانے میں عورتیں گم منا رہی تھیں تبھی اسکو یہاں کوئ نہ دیکھتا…
وہ اندر داخل ہوئ.. جبکہ وہاں سے گزرتے منیب نے اسے حیرت بھری نظروں سے دیکھا.. اور وہ بھی گزر گیا…
ملکوں کے معملے میں نوکروں کا کیا کام مگر عابیر کا اتنا چھپ کر جانا اسے معیوب ضرور لگا تھا…
عابیر اندر ائ..
اتنا شاندار کمرہ تھا.. مگر بہرام کے کمرے سے کم..
اسنے.. دروازے کی جانب دیکھا اور اپنا کام شروع کیا…
گھڑی تھی کہ مل کر نہیں دے رہی تھی.. وہ مسلسل.. جدوجہد میں تھی.. الماریاں بھی بند تھیں اور پھر ایک الماری کو کھلا پا کر اسنے اندر دیکھا.. تو اس میں… ایک تجوری نما خانہ تھا… جو لاک تھا اسے غصہ ایا.. اور پھر دماغ میں کلک ہوا… اسنے دراز میں کافی چابیاں دیکھیں تھیں… وہ بڑھی.. اور چابیوں.. کا گوچھا اٹھا کر اسنے کوشش شروع کی.. اور.. بلاخر وہ کامیاب ہو ہی گئ…
اسے حیرت ہوئ. وہ کامیاب ہو گئ ہے…
اسنے اندر جھنکا.. کافی سامان تھا مگر ایک لال بکس جس میں اسے یقین تھا.. گھڑی ہو گی.. اسنے وہ دیکھا.. اور اندر گھڑی دیکھ کر.. سب ٹھیک کر کے… وہ.. پلٹتی….
ابھی کہ دروازے پر بہرام کو کھڑا دیکھ.. اسکے ہاتھ سے گھڑی چھوٹ گئ…
جبکہ منہ حونک تھا…
دل کی دھڑکن.. اتنی تیز تھی.. جیسے… کسی بھی چور کے میلے دل نے.. پہلی بار دھڑکنا سیکھا ہو…
………………….
جب وہ گھر ایا تھا… تب ہی.. منیب نے اسے بتایا کہ عابیر داجی کے کمرے میں ہے وہ سمھجا نہ کہ وہ وہاں کیوں ہے وہاں تو اسکے علاوہ ایسے ہی کوئ نہیں جاتا اور عابیر جو سب کو اپنا دشمن سمھجے وہ کس لیے گئ تھی….
وہ داجی کے کمرے کیطرف ایا…
اور سامنے کا منظر دیکھ کر.. ہاں اج بہرام خان کا دل کیا.. وہ اپنے منہ پر تھپیڑوں کی برسات کر دے….
اپنے دل کو کئ ٹکڑوں میں باٹ دے….
خود کو ریزہ ریزہ کر دے کہ.. اسنے اس لڑکی سے محبت کی..
اس لڑکی کے لیے خود کو سر تا پیر بدل لیا…
وہ بہرام.. جو راتوں میں … بدنام.. سڑکوں کا راہی… اسکی ایک جھلک سے.. کسی دوسری لڑکی کو حرام کر گیا خود پر..
اور یہ صلہ تھا اسکی محبت کا…
وہ یوں ہی اسے دیکھ رہا تھا…
آنکھوں میں سرخی.. جبکہ… اس سرخی نے معمولی سی نمی کا لبادہ اڑھا.. اور پھر.. اسنے آنکھیں بند کیں…
اور.. اگے بڑھا..
عابیر کچھ لمحے سمھجہ نہ سکی.. اسکا مقصد چوری نہیں تھا ان لوگوں کے مال میں اسے کیا دلچسپی..
اسکے بقول حرام ہی تھا..
ہاں اتنا ضرور تھا اس گھڑی کو گم کر کے.. وہ.. ایک نئے سرے سے.. بہرام کو تکلیف.. دیتی.. اور.. ایک نیا محاظ اٹھتا..
گھڑی کو بہرام کے کپڑوں میں چھپانا چاہتی تھی.. تبھی وہ نہ چاہتے ہوئے شرمندہ ہو گئ..
بہرام اسکے نزدیک ا گیا..
اتنا مت گیراو خود کو کہ اٹھ نہ سکو"اسنے… ایک ایک لفظ پر زور دیا..
چور نہیں ہوں میں" وہ بھی شرمندگی بھلائے بولی…
ٹھیک ہے.. رکھ لو اسکو… دیکھنا چاہتا ہوں کیا کرو گی اسکا"اسنے.. اس گھڑی کو ایک نظر دیکھ کر کہا…
عابیر.. کو.. دوبارہ شرمندگی نے ا گھیرہ…
زیادہ نہ بنو تم سمھجے…. طلاق تو تم سے لے کر رہو گی… "گھڑی کو وہیں پھینک کر.. وہ… غصے سے کہتی نکل گئ.. جبکہ.. بہرام اس قیمتی گھڑی کو ٹوٹا ہوا.. دیکھ رہا تھا…
داجی کی پسندیدہ گھڑی تھی وہ…
……………………………
ارمیش کو خبر مل گئ تھی…
وہ اٹھی… بی جان.. سمیت باقی سب نین انوشے سب رو رہے تھے… گھر کے گھر میں یہ کیا ہو گیا تھا…
اتنا فساد کیوں ہو گیا تھا حویلی میں….
سب رو رہے تھے جبکہ.. وہ اٹھی.. اور دو نفل شکرانے کی نیت باندھ لی…
مگر وہ عہد کر چکی تھی اپنے بچے کے لیے وہ حور اور حیدر کو کبھی معاف نہیں کرے گی…..
………………….
انوشے روتے ہوئے نیچے.. ا گئ.. یہ سب اس سے برداشت نہ ہو رہا تھا..
اسے اس حویلی پر کوئ بدعا لگی..
اسکا دل کیا بہرام بھائ کو کہہ دے.. اپ ازاد کر دیں عابیر کو شاید وہ ہی ہمیں بدعائیں دیتی ہے…
وہ اپنے رونے کا شغل… لون میں پورا کر رہی تھی.. معاویہ نے… زنان خانے کے ہال میں سسکیوں کی اواز کو پہچان لیا…
اور وہ دوسری طرف نکل ایا..
اتے ساتھ ہی.. اسکا ہاتھ تھاما.. اور دیکھنے لگا. جو عابیر نے جلا دیا تھا.. اب کافی اچھا ہو گیا تھا…
مر گیا ہوں میں.. جو رو رہی ہو"اسنے.. کہا. تو انوشے نے سرخ چہرے سے اسے دیکھا…
اپ سے ہمارا کیا لینا دینا… جو ہم اپکے لیے روے…" اسنے ٹکا سا جواب دیا..
بہت نہیں ہمت ا گئ تم میں "معاویہ نے گھورا..
اپ بھی ہمارے ساتھ وہی کریں گے جو حیدر لالا نے کیا ہے ارمیش کے ساتھ"
وہ خوف ذدہ سی بول گئ
..لو تو تم عابیر جیسی بن جانا" معاویہ نے بھی پکڑا..
وہ بہت بری ہیں "اسنے ناک سکیڑی..
تو اچھا کون ہے"اسنے کسی احساس کے تحت پوچھا..
میں خود" وہ اسکو دھکا دیتی… کہہ کر بھاگی..
ہاں دیکھ لوں گا کتنی اچھی ہو شادی کی بات کروں گا اب میں "وہ پیچھے سے ہانکا.. انوشے کا دل زوروں سے دھڑکا.. مگر وہ بھاگ گئ…
اسے شدید غصہ ا رہا تھا.. اتنا سب کرنے کے باوجود بھی.. وہ شخص اپنی جگہ سے ہلنے کے لیے تیار نہیں تھا.. اخر کس مٹی سے بنا تھا.. مگر ایک بات طے تھی کہ.. وہ اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی تھی..
وہ اسکے ساتھ کبھی نہیں رہ سکتی تھی.. کیونکہ وہ شخص…
اسکو ذلیل اور رسوا کر چکا تھا….
وہ مزید اسکے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتی تھی…
تبھی اسے روم میں اتا دیکھنے لگی..
بہرام نے بھی اسکیطرف دیکھا..
اسکی خاموشی پر مسکرا دیا…
اج بادل باہر گرجے ہیں تو اندر کی گرج کم پڑ گئ.. مزے کی بات ہے یہ تو"وہ… ہنسا.. عابیر کو لگا. وہ.. اسپر ہنسا ہو..
وہ کچھ نہ بولی.. کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ وہ. اسے مزید برا لگنے لگا تھا…
وہ اسکی خاموشی پر خود بھی خاموش ہو گیا…
ارمیش کیسی ہے" اسنے بس ایسے ہی پوچھ لیا…
عابیر.. نے ائ برو اٹھای…
بڑی فکر ہے… "اسنے طنز کیا..
اپکی ہی مہرابانی ہے سائیں.. ایک اپ نے پوری حویلی کے حالات بدل ڈالے"وہ.. اچھے موڈ میں تھا. اور کل کی بات بھلا چکا تھا..
عابیر کا سکون جیسے غارت ہونے لگا..
میں تمھارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی مجھے طلاق دو"اسنے سیدھے لفظوں میں کہا کہ کسی بھی سٹیپ سے پہلے وہ اس سے سیدھی طرح بات کر لے..
میں تمھیں طلاق نہیں دوں گا عابیر… "وہ.. بولا.. لہجہ مظبوط تھا…
مگر میں تمھارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی"وہ.. گھور کر بولی..
کچھ نہیں ہوتا.. میں تو رہنا چاہتا ہوں نہ" وہ.. بہت تسلی سے بولا..
میں تمھیں کبھی معاف نہیں کروں گی… " وہ اپنی جگہ سے اٹھی..
میں تم سے معافی مانگتا ہوں اپنے ہر عمل کی…
خدارا تھوڑی سی جگہ دے دو بس" وہ کہیں سے بہرام نہیں لگ رہا تھا.. جو خود کو بہت غرور سے کالام کا سردار کہتا تھا.
نہیں… کبھی نہیں… تم معافی کے لائق نہیں… "عابیر دو ٹوک لہجے میں بولی.. بہرام نے.. گھیرہ سانس بھرہ..
جو بھی ہے طلاق کا تصور نکال دو "وہ جانتا تھا وہ ضد پر ہے.
کبھی تو وہ اپنی ضد سے ہٹے گی…
وہ یہ ہی سوچ کر خاموش ہوا…
نہیں تمھیں خود دینی پڑے گی میں تمھارے لیے ایسے حالات بنا دوں گی"وہ.. جیسے اسے وارن کر رہی تھی..
میں بدلا ہوں ڈالنگ… مگر میری ضد نہیں… جو کر سکتی ہو کر لو"قریب ا کر وہ.. اسکے گال کو چھو… کر.. مسکرایا.. عابیر نے اسے جھٹک دیا…
اب تم دیکھو میں کرتی کیا کیا ہوں تمھارے ساتھ… "وہ
.. غصے سے اسکی پشت دیکھ رہی تھی…
…………………..
دن بے کیف گزر رہے تھے کوئ رونک نہیں تھی…
داجی کی طبعیت بلکل ٹھیک نہیں تھی.. تبھی ابھی تک حیدر کے بارے میں کوئ فیصلہ نہیں لیا گیا تھا…
جبکہ حیدر… اس رات انے کے بعد… ایک بار پھر جا چکا تھا…
جبکہ حور نے… ہر حال میں اس راز کو.. چھپا لیا تھا… کہ.. اسکے بچے کو کس نے مارا پہلے وہ ڈری ضرور تھی کہ ارمیش سب کو بتا دے گی مگر اسکی خاموشی اور صدمہ کافی فائدہ پہنچا رہا تھا…
وہ اسے لے کر دوبارہ چلا گیا تھا…
جبکہ باقی سب… ارمیش کے لیے حد سے زیادہ حساس ہو رہے تھے..
حتیٰ کہ.. مرد حضرات بھی ارمیش کے لیے کافی کنسرن رکھ رہے تھے
.
حویلی میں چند ماہ میں بہت کچھ بدلا تھا.. حویلی والوں کا تنتنا ٹوٹا تھا…
معاویہ سکون سے شہر جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ… اچانک دروازہ کھلا..
اور اسنے بس عابیر کو اندر اتے دیکھا تھا….
کیا مسلہ ہے کیوں ائ ہو "
معاویہ غصے سے بولا…
میں نے سوچا اپنے شوہر کے ملازم سے مل لوں" عابیر نے اسکی جان سلگائ اخر کو.. وہ بھی شامل تھا…
بکواس اپنی اپنے اندر رکھو.. سمھجی"معاویہ غصے سے کھولنے لگا..
لو کیا غلط کہہ دیا.. تمھاری حویلی میں نہایت بری پوزیشن ہے… اور ہر وقت ہر وقت اسکا دم چھلہ بنے رہتے ہو.. سکون نہیں کیا تمھیں "وہ اسے زیچ کر رہی تھی.. معاویہ نے دانت پیسے…
باہر نکلو.. دفع ہو… "معاویہ نے غصے سے اسکا بازو پکڑ کر اس سے پہلے وہ اسے باہر دھکیلتا…
عابیر نے ایک نظر اسکو دیکھا.. اور.. زور زور سے چیخنے لگی..
جبکہ.. معاویہ نے حیران ہو کر
. اسکا ہاتھ چھوڑنا چاہا مگر.. اسنے اسکا ہاتھ نہ چھوڑا…
اور زور زور سے چیخنے چلانے لگی اسکی چیخیں حویلی کو ہلا گئ تھیں…
ایک پل میں سب وہاں جمع ہوئے تھے…
ملازم تو.. صورتحال سمھجہ کر دانتوں میں انگلیاں دے گئے..
یہ کیا حرکت ہے عابیر کیوں تماشہ لگا رہی ہو "وہ اسے جھٹک کر چلایا…
جبکہ عابیر دور جا گیری.
بہرام کے قدموں میں.. بہرام… آنکھوں میں بے یقینی لیے.. معاویہ کو دیکھ رہا تھا..
اسکی آنکھوں میں عجیب سا تاثر تھا…
جھوٹ.. جھوٹی ہے یہ" اسکا لہجہ ہکلا گیا… اسکی آنکھوں کی بے یقینی دیکھ کر…
عابیر… یہ.. یہ خود ائ تھی" معاویہ.. بولا… جبکہ اسکی بات پوری ہونے سے پہلے.. بہرام نے… معاویہ کے منہ پر پنچ دے مارا…
معاویہ کا ہونٹ پھٹا تھا.. جبکہ.. بہرام کے ہاتھ پر بھی بہت زور سے لگی تھی.. داجی خاموشی سے دیکھ رہے تھے..
حویلی میں یہ سب تو اب روز کا تماشہ تھا…
وہ چپ چاپ اندر چلے گئے جبکہ.. خواتین سمیت.. انوشے.. کا تودم نکلا تھا..
معاویہ نے بہرام کو ایک لفظ نہ کہا…
جبکہ بہرام عابیر کو سختی سے پکڑ کر اندر گھسیٹتا ہوا لے گیا…
اپنے روم میں اتے ہی…
اسنے اسے بیڈ پر دھکا دیا… اور کھینچ کر دروازہ بند کیا..
عابیر کو محسوس ہوا… اسے اسکی حرکت کا اندازا ہو گیا ہے..
کیوں وہ اسکے پاس پہنچتے ہی دھاڑا..
کیوں گیرا رہی ہو اپنا معیار کیوں.. اس حد تک اس حد تک. عابیر"وہ بے بسی شدید بے بسی محسوس کر رہا تھا…
جبکہ عابیر.. نے سکون سے پہلو
. بدلا..
طلاق دے دو" اسنے.. اسی سنجیدگی سے کہا.. بہرام نے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا…
ان آنکھوں میں نمی تھی مگر عابیر کو… بلکل.. اسپر رحم نہ ایا.. وہ ایسی نہیں تھی اسے ایسا بنایا گیا تھا…
اور فیصلہ تو وہ کر چکی تھی…
بہرام… کے لیے اج کل جیسے سانس بھی مشکل ہو گیا تھا…
اسکو وہیں چھوڑ کر… وہ وہاں سے باہر نکل گیا جبکہ.. اب. کہ اسنے تالا کمرے کو باہر سے لگا دیا تھا..
یہ کیا کیا ہے تم نے"عابیر اندر سے دھاڑی…
بہرام… نے کوئ جواب نہیں دیا…
…………………
وہ دوڑ کر الٹے قدموں معاویہ کے پاس پہنچا تھا….
معاویہ اپنے.. ہونٹ پر لگے خون کو.. صاف کر رہا تھا..
بہرام کو دیکھ کر کوئ ایکشن نہ دیا…
کس گناہ کی سزا ہے یہ" وہ.. ہارا ہوا سا بولا…
لہجہ بھیگا ہوا تھا.. جبکہ معاویہ کا دل کٹ گیا…
اے بہرام.. خان.. ادھر دیکھ.. مرد روتے نہیں…. رونا نہیں….
اگر وہ چاہتی ہے… تو اسے چھوڑ دے… اسے قید کر کے.. خود کو اور اسکو.. نہ دے تکلیف.. مگر رو کر یہ ثابت نہ کر.. کہ… تو.. ایک ہارا ہوا مرد ہے "معاویہ.. تو اسپر چڑھ دوڑا..
بہرام نے.. اسے دھکا دیا…
کیوں کیوں مرد کیوں نہیں روتے…
عورت… صرف عورت ہی مرد کو رولا سکتی ہے…
اور مجھے یہ عورت رولا رہی ہے.. اج….
مرد انسان نہیں ہوتے
.. جو مرد نہیں رو سکتے.. کب تک.. یہ کھوکھلا کھول مردوں پر لگا رہے گا کہ وہ رو نہیں سکتے….
عورت مرد کو رولا دیتی ہے معاویہ سائیں.. عورت.. کی نفرت.. مرد کو ختم کر دیتی ہے….
اس سے کہو
.. مجھ سے نہ کرے نفرت… میں مانتا ہوں نہ اپنے سارے گناہ "وہ… عجیب کفیت کا شکار… دھاڑ رہا تھا.. جبکہ آنکھوں میں نمی.. کافی تکلیف دہ تھی….
داجی… نے.. اسکو… ہارتے ہوئے دیکھا..
انھیں سب یاد ایا… کیسے.. کس طرح.. اسکی انھوں نے پرورش کی تھی…
ضد… بے حسی
. اسکے اندر.. غرور اسکی بے انتھا حسن کا…
وہ سب ملیامیٹ کر دیا تھا… اج..
اسکے ہارنے پر وہ بھی ٹوٹ گئے تھے…
حویلی کے لوگ بکھر رہے تھے…
مسلسل.. بے بسی سے…
مگر وقت فیصلوں کا تھا…..
اگر وہ بھی.. ہار جاتے تو.. کہیں کوئ فیصلہ نہ ہو پاتا…
سب سے پہلا خیال انکے دماغ میں حیدر کا ایا تھا.. اور اسکے بعد وہ بہرام.. کا مسلہ حل کر کے حویلی میں سکون کے خواہش مند تھے..
اسکی سرداری.. کے تمام معاملات داجی خد سمبھال رہے تھے.. اب سرداری کس کے سر سجنی تھی.. یہ بھی وہ ایک لمہے میں طے کر چکے تھے…
……………………..
حیدر کو حور مل چکی تھی اور کیا چاہیے تھا..
انسانیت کے نام کا احساس بھی اسکے اندر سے مٹ چکا تھا..
اسنے پلٹ کر ارمیش.. کے بارے میں نہ سوچا ….
حور نے.. اس کے تمام عصابوں.. پر قابو پا لیا تھا…
جبکہ ان دونوں کے بقول زندگی بھی خوبصورت گزر رہی تھی..
کہ… وہ… حویلی چھوڑنے کے .. ہفتہ گزرنے کے بعد…
کی شام تھی…
جب… دروازے کی اواز بجنے پر.. وہ حیدر کے پہلو سے اٹھی..
نائٹ ڈریس کی ڈوریاں بند کیں.. اور دروازے کیطرف بڑھنے لگی…
کریر تھا…
اسنے سگنیچر کر کے لفافہ لیا.. اور اسکو ابھی کھولتی کہ حیدر بھی باہر ا گیا…
حور نے اسکو مسکرا کر دیکھا..
حیدر بھی مسکرایا…
اور.. حور نے اسکے ہاتھ میں لفافہ تھما دیا
.
میں فریش ہونے جاتی ہوں یہ تمھارے نام ہی ایا ہے"اسنے کہا.. اور.. گزرنے لگی کہ حیدر نے اسکا ہاتھ تھام کر اسکو بازوں میں بھر لیا.. جبکہ دوسرے ہاتھ کی مدد سے. لفافہ کھولنے لگا… اب حور اور حیدر دونوں کی نظریں لفافے پر تھیں…
حیدر نے. لفافہ کھولا تو اندر سے قانونی کاغز نکلا…
جس میں صاف درج تھا کہ قانونی لحاظ سے.. اسے.. حویلی.. حویلی کی وراثت.. اور تمام.. کاروبار سے.. اک کر دیا گیا ہے.. جبکہ اسکا بینک بیلنس
. بھی.. ضبط کر لیا گیا ہے..
حیدر آنکھیں پھاڑے سب پڑھ رہا تھا جبکہ یہی حال حور کا بھی تھا..
یہ سب کیا بکواس ہے حیدر"حور اس سے الگ ہوتی.. چلائ اسکے تو وجود میں پتنگے لگ گئے
یہ کیا..
حیدر کی محبت کے ساتھ ساتھ اسکی شہورت… اسکی امارت.. جس کی وہ خواہش مند تھی…
وہ سب اسے چاہیے تھی…
اور جب ملی تو ایک ہفتے میں ہی سب.. ایک بار پھر اس سے… چھین گیا
..یہ سب داجی نے کیا ہے" حیدر نے دانت پیسے…
کیا مراد ہے اب تمھارے پاس کچھ نہیں" حور کا تو دل بیٹھنے لگا…
حیدر نے اسکی جانب دیکھا.. اور وہ پیپر پھینک کر.. سر تھام لیا..
داجی ایسا نہیں کر سکتے.. سردار ہیں ہم کالام کے "وہ حیران پریشان… تھا… کچھ سمھجہ نہیں. ارہی تھی..
ہاں یہیں بات ہے.. سب ابھی بھی تمھارے پاس ہے نہ.. "حور تو… حد سے زیادہ خوف ذدہ ہوئ..
پیدا ہوتے ہی غربت دیکھی شادی کے بعد غربت دیکھی.. اور اب.. جب خوشیاں ملیں تھیں تو دوبارہ. غربت کا منہ نہیں کبھی نہیں…
معلوم نہیں.. جب وہ اک کر چکے ہیں تو سرداری بھی کسی اور کو ملے گی…" حقیقتاً اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کا.. داجی اسکے ساتھ ایسا کریں گے…
کیا مطلب ہے حیدر تم کنگلے ہو گئے ہو" وہ تو.. اسکا بازو.. ہٹاتی.. اس سے دور ہوتی.. منہ کھولے پوچھ رہی تھی..
حیدر نے اسکیطرف دیکھا…
تم فکر نہ کرو… تمھیں خوش رکھو گا "اسنے.. حور کے عجیب و غریب رویے پر حیرت کا اظہار ترق کر کے… اسکو تسلی دی..
بھاڑ میں گیا سب.. ٹھیک ٹھیک کھاک ٹھیک ہو گا.. جیب میں تمھارے روپیہ بھی نہیں رہا اور سب ٹھیک ہونے کے داوے کر رہے ہو" وہ غصے سے چلائ..
یہ کس قسم کا رویہ ہے حور"حیدر نے.. بھی اب غصہ کیا.. پہلے ہی.. اسے کچھ سمھجہ نہیں. ارہا تھا.. اوپر سے.. یہ سب..
رویہ رویہ.. اف
. اف… "حور نے پاوں پٹخے..
تم.
حویلی جا رہے ہو.. بھلے معافی مانگو پاوں پڑو…
ہم تمھارے جائیداد تمھاری وراثت سے دستبردار نہیں ہو سکتے بلکل نہیں "وہ ہزیانی انداز میں بول رہی تھی جبکہ حیدر نے اسکا بازو جکڑا..
بکواس ہے انھوں نے نکال دیا اور ہم پلٹ کر جائیں کبھی نہیں بس اپنا بچہ… لینے جائے گے… " وہ.. سرخ چہرے سے دو ٹوک لہجے میں بولا…
بچہ.. بچہ.. حیدر… جب پیسہ نہیں ہو گا تو بچے کو کیا کھلاو گے"
حور نے.. بچے کے مارنے کی بات چھپاتے ہوئے اسے سمھجانا چاہا..
نہیں حور ہم دونوں ساتھ ہوں گے تو کچھ بھی نہیں ہو گا غلط تم فکر نہ کرو.. اور. ہم کرتے ہیں .. بابا سائیں سے بات…. ایسے کیسے اک کر سکتے ہیں وہ ہمیں" وہ.. کنپٹی دباتا بولا اور کمرے میں چلا گیا.. جبکہ حور.. اسے دیکھ کر روخ موڑ گئ…
اسنے مٹھیاں بھینچی…
اب کیا ہو گا… پیسہ یہ عیش ارام…
اف اسکا سر پھٹنے لگا تھا..
پھر سے غربت کا منہ تو وہ کبھی نہیں دیکھے گی..
اسنے سوچا.. اور.. پاس پڑے کشن.. اٹھا اٹھا کر.. زمین پر مارنے لگی ..
زہنی طور پر وہ کافی.. ڈسٹرب محسوس کر رہی تھی..
……………………….
اج اسکی کانفرنس… تھی.. اسکا دورانیہ کافی کامیاب جا رہا تھا.. پہلے جو کرپشن.. داجی نے کروائ بھی تھی اب وہ سب ختم کر کے.. وہ.. ٹھیک کام کرنے لگا تھا…
وہ روم میں ایا تو.. عابیر کے سامنے کھانا رکھا..
عابیر نے ایک پل میں کھانا اٹھا کر.. دیوار پر دے مارا.. بہرام نے ایک سیکنڈ کو دیکھا.. اور پھر.. فریش ہونے چلا گیا.. وہ باہر ایا تو.. عابیر نے پورا کمرہ تھس نہس کر رکھا تھا…
بہرام نے کچھ نہیں کہا..
زیادہ اچھے مت بنو تم.. "عابیر نے اسکا بازو جھٹک کر کہا…
عابیر.. سائیں ہم بعد میں بات کریں گے" وہ سہلوت سے بولا
ازاد کیوں نہیں کرتے مجھے"جبکہ وہ چلائ
اور اسکے منہ کو اپنے ناخنوں سے نوچ ڈالا.. وہ پاگل ہو چکی تھی نہ جانے کیا چاہتی تھی…
بہرام نے غصے سے.. اسکے ہاتھ ہٹائے.. اور اسے دور دھکا دیا..
پاگل ہو گئ ہو "
ہاں ہو گئ ہوں.. طلاق دو مجھے.. ازاد کرو مجھے"وہ.. اسپر چیزیں مارنے لگی..
تمھارا دماغ.. تو اج ا کر اچھے سے درست کروں گا بہت مہلت دے دی تمھیں تم نے… جینا حرام کر دیا… "
وہ زیچ ہوتا ہوا بولا…
اور باہر نکلا…
عابیر… نے اسکا ہاتھ تھامہ..
شہر جا رہے ہو "اسنے سنجیدگی سے پوچھا..
ہاں" اسنے.. جواب دیا مگر لہجے میں سختی تھی..
مجھے بھی جانا ہے" اسنے کہا..
بہرام نے چند پل اسے دیکھا..
اپنا دماغ سیٹ رکھو.. عابیر… "وہ.. اسے.. سمھجانے لگا..
بس زیادہ نہ بولوں جو کہا ہے وہ کرو"وہ سختی سے بولی..
ڈرائیور چھوڑ ائے گا"
اسنے کہا اور باہر نکل گیا..
جبکہ عبیر کی گاڑی بھی اسکی گاڑی کے پیچھے ھویلی سے نکلی تھی..
شاید ہمیشہ کے لیے پشتاوں کو ساتھ لے کر…
یہ شاید.. اب.. اسکے پلٹنے کی باری تھی مگر وقت تو ہاتھ سے بھربھری ریت کی مانند نکل رہا تھا…
……………….. یا نکل گیا تھا..
کوئ نہیں جانتا تھا..
داجی اپ نے اب کیا سوچا ہے.. اگر ہم نے سردار نہیں بیٹھایا.. تو.. لازمی ہمارے حریفوں میں سے کوئ سر اٹھائے گا "احمر… نے کہا تو.. انھوں نے سر ہلایا.. کمرے میں سب.. موجود تھے سواے.. بہرام خان کے جو کہ اج اپنی اہم کانفرنس میں گیا ہوا تھا.. اور حیدر خان کے.. جو… حویلی سے جا چکا تھا…
اج خان کی کانفرنس ہے… " داجی نے احمر کیطرف دیکھا..
جی.. داجی "اسنے جواب دیا..
ساتھ کون گیا ہے "انھوں نے پوچھا…
معاویہ سائیں" عظیم خان نے جواب دیا تو انھوں نے سر ہلا دیا..
ایک لڑکی نے توڑ دیا.. ہمارے خان کو.. "وہ.. خاصے افسردہ لگ رہے تھے..
کوئ کچھ نہیں بولا… تو انھوں نے.. احمر کیطرف رکھ کیا..
چلاو.. زرا.. ایل سی ڈی خان کا نٹرویو دیکھیں" انھوں نے کہا.. تو.. باقی سب پہلو بدل گئے اتنے اہم مسلے کو چھوڑ کر انھیں معاویہ کی پڑی تھی..
احمر نے ایل سی ڈی چلا کر.. نیوز چینل لگا دیا…
کانفرنس شروع ہی تھی جبکہ ان لوگوں نے دیر سے دیکھی..
وہ بڑے تمتراق سے.. کرسی پر بیٹھا.. وہی مخصوص سٹائل سے.. ناک کی چونچ پر عینک رکھے سنجیدگی اور کچھ بے زاریت سے اپنی تعریفیں سن رہا تھا…
داجی مسکرا دیے…
وہ جان تھا انکی….
بس وہ خوش رہتا باقی دنیا تو بھاڑ میں جائے انکی بلا سے…
اس سے سوال کیے جانے لگے جن کا جواب وہ ہمیشہ کیطرح.. بڑی چلاکی سے دے رہ اتھا..
داجی کو.. اسکی زاہانت پر فخر ہوا…
اسکے سیٹ پر انے کے بعد نہ جانے کیا قسمت کا پھیر ہوا تھا کہ.. پہلے جو وہ ہر معملے میں کرپشن ضروری سمھجتے تھے..
یہاں.. کرپشن.. وہ خود نہیں کر رہا تھا…
کانفرنس بہت اچھی ج رہی تھی…
سب ہی کافی مطمئن ہوئے تھے کیونکہ اسکی.. پیچھے سے ہی… کرکردگی بہت اچھی جا رہی تھی…
میڈیا نے اب اس سے پرسنل سوال شروع کر دیے جس کا وہ مسکرا کر جواب دیتا ابھی اٹھتا…. کہ.. اسے اپنے شانے پر ایک ہاتھ محسوس ہوا….
پہلی.. ہاں پہلی بار بہرام خان کا دل انجانے خدشے سے دھڑکا تھا.. وہ اس ہاتھ کے کمس کو پہچانتا تھا…
اسنے ایک پل کو آنکھیں بند کیں.. کان میں لگی.. بلوٹوتھ میں معاویہ کی پریشان اواز ابھری..
تو نے عبایر کو کیوں بلایا ہے"
اسنے آنکھیں وا کیں.. میڈیا کی نظریں اسپر نہیں تھیں بلکہ پیچھے کھڑی عابیر پر تھیں.. وہ پہلی بار تو میڈیا پر نہیں ائ تھی..
یہ یہ کہنا بہتر ہے کہ.. عابیر اکبر پہلی بار میڈیا کے سامنے نہیں ائ تھی…
بلکہ مسز بہرام خان پہلی بار کیمرے کے سامنے ائ تھی…
بہرام نے.. مڑ کر اسکیطرف.. دیکھا…
جو
. سنجیدگی.. اور آنکھوں میں نفرت بھرے کھڑی تھی..
بتاو گے نہیں دنیا کو اپنی بیوی کے بارے میں " بلکل خاموش ماحول میں عابیر کی اواز ابھری تھی.. بہرام کو پہلی بار یہ اواز کانوں میں چبھتی محسوس ہوئ…
اسنے عابیر کا وہی ہاتھ سختی سے پکڑا…
مگر عابیر نے اسکا کوئ اثر نہ لیا..
الٹا مسکرائ…
میں عابیر اکبر.. ایک عام سی لڑکی…
ایک کافی.. امیر.. اور سیاست کی دنیا میں اپنا نام منوانے والے… بہرام خان کی بیوی ہوں… اپ سب لوگ مجھے جانتے ہیں کیونکہ میں اپ کی طرح ایک عام انسان ہوں.. مگر یہ لوگ بہت بڑے لوگ ہیں.. بہت بڑے "طنزیہ مسکراہٹ کو لبوں پر سجائے.. وہ.. بہرام کی گھورتی نظروں میں نظریں گاڑے ہوئ.. تھی.. کھٹاکھٹ کیمرے سے تصاویر کھینچی جا رہی تھیں ایک.. فارمل سی کانفرنس میں ذاتی نوعیت کا مرچ مسالہ.. میڈیا تو جیسے.. نیوز کا بھوکہ تھا…
کیمروں کی روشنی عابیر کے چہرے پر تھی..
بہرام اسے لے کر نکل.. کچھ ٹھیک نہی لگ رہا مجھے"معاویہ کی اواز اسے اپنے کان میں سنائ دی..
عابیر… گھر چلو" اسنے.. مزید سختی سے اسکا ہاتھ جکڑ کر.. مدھم اواز میں اسے کہا… تو.. عابیر ہنسنے لگی..
کیوں بہرام خان بہت سٹیمنا ہے تم میں تو…
کہاں جا سویا اج… "
وہ مسکرا کر اونچی اواز میں بولی.. معاویہ نے دانت کچکائے..
بہرام اج اپنی محبت کو.. ریزہ ریزہ ہوتا دیکھ رہا تھا…
تو.. ناظرین.. اپ دیکھ سکتے ہیں یہ بہرام خان ہیں…
انکی تو کیا ہی بات ہے…
انکے دادا اپ جانتے ہی ہوں گے.. سب.. مراد خان..
کو تو.. جان چھڑکتے ہیں انپر…
بے انتھا…. بے شمار…. مگر.. انکی تربیت بڑی الہ عرفا کی ہے کہ خاندانی سے لگتے ہیں…
دنیا جہاں کی کرپشن کرواتے.. ہیں ان سے.. اور یہ بھی محبت میں عاوم کو لوٹتے ہیں… اور.. میڈیا کی نظر میں مسکرا مسکرا کر دھول جھونکتے ہیں…
عیاشی انکی فطرت ہے.. یہ کوٹھے پر اکثر پائے جاتے ہیں…
عورتیں سے کھیلنااور انکی عزتوں کو دو کڑی کا کر دینا.. انکے نزدیک.. جیسے… معمولی سی بات ہے
اور شراب وہ تو پوچھو ہی مت.. بچے کو دودھ کی ضرورت ہوتی ہے.. اور بہارام خان… کالام کی جان… کو.. شراب کی ضرورت ہوتی ہے
جس پر.. جس.. پر بھی انکا دل ا جائے.. یہ انھیں اٹھا لیتے ہیں…
انکی شادی رکوا دیتے ہیں…
انہو بدنام کر دیتے ہیں…
انکے بقول میں انکی بیوی عابیر اکبر…
یہ جو خوش حال.. زنگی سے بھرپور مسکان انکے.. منہ پہ ر سجای ہے یہ میرے ارمانوں کا خون ہے… "
وہ.. چیخی…
چارو طرف جیسے.. سناٹا چاہ گیا جس میں صرف عابیر کی اواز.. جیسے تابوت میں اخری کیل ٹھونک رہی تھی…
یہ اسقدر برا انسان ہے.. منافق.. مطلبی.. اسے صرف حوس ہے…
اور حوس کا پجاری مجھے مجبورا اپنے ساتھ باندھے ہوئے ہے…" وہ بہرام کو دھکا دیتی بولی…
لائیو کانفرنس.. میں.. یہ سب لائیو دنیا دیکھ رہی تھی…
حریف تھے جیسے… مزے میں ا گئے تھے جبکہ.. باقی سب.. دانتوں تلے انگلیاں دبا گئے تھے…
اج میں سب کے سمنے اس شخص سے اہنی نفرت کا اظہار کر کے.. اس سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہوں….
طلاق دو مجھے ابھی اسی وقت"وہ چلائ…
بہرام.. کی آنکھیں سرخی… کو چھلکانے کو تھیں…
وہ مٹھیاں بھینچے کھڑا تھا…
کیا کچھ نہیں برباد ہوا تھا… اسکا اس سب سے..
کیسا لگ رہا ہے.. رسوا ہو کر دنیا کے سامنے.. بہرام خان" عابیر زرا جھک کر مسکرا کر بولی…
یہ تو بہرام ہی جانتا تھا اسے کیسا لگ رہا ہے…..
سب. وہاں بہرام کے ردعمل.. کے منتظر تھے.. وہ کیا کرے کا.. ہیڈ لائنز بن رہیں تھیں..
کچھ تو جھوٹ بول چکے تھے کہ بہرام خان نے عابیر اکبر کو طلاق دے دی جبکہ.. کچھ مزید ان باتوں میں مسالہ لگا چکے تھے…
جبکہ بہرام کے لیے.. سب ٹھر گیا تھا…
یہ مکافات عمل تھا… یہ…
اب محبت اسکی قسمت میں نہیں رہی تھی…
اسے لگا جیسے وہ تنہا ہو گیا ہے.. بھرے بازار میں اسکو اکیلا کر دیا تھا.. اور اب وہ معصوم بچے کیطرح چھپ جاتا.. رونے لگتا.. یہ.. پھر… اسکے اندر.. ایک اور بہرام جنم لینے والا تھا..
عابیر اسکیطرف دیکھ رہی تھی.. اسے سو فیصد یقین تھا بہرام طلاق دے گا…
بہرام کے لب ہلے.. جبکہ عابیر سمیت سب کے دل دھڑک اٹھے…
میں تمھیں طلاق نہیں دو گا "بہرام نے عابیر کی چمکتی آنکھوں میں بے یقینی مایوسی سی دیکھی.. اب مسکرانے کی باری اسکی تھی..
اب تم میری محبت نہیں ہو… صرف ضد ہو." اسنے.. دو لفظ میں جواب دیا جسے صرف عابیر سن سکی..
اور وہاں سے نکلتا چلا گیا…
آنکھوں کو اچھے سے گاگلز سے ڈھانپ کر.. وہ سیاہ.. شلوار سوٹ میں..
کمال ڈاھاتا وہاں سے نکل گیا…
جبکہ عابیر وہیں کھڑی تھی میڈیا اب اسکیطرف بڑھا..
میم کیا.. بمسٹر بہرام.. اپکو مارتے ہیں…
کیا.. انکا شادی سے پہلے اپ سے کوئ.. ناجائز تعلق تھا..
ایسے ہی کئ.. عجیب و غریب سوالوں. نے اسکا دل بری طرح دھڑکایا تھا.. وہ وہاں سے پلٹی…
تو سامنے واصف کو کھڑا پایا…
عابیر.. کو نہ جانے.. کیسا محسوس ہو رہا تھا.. وہ سر جھکا گئ اور اسکے پاس سے نکلنے لگی..
مجھے لگتا تھا تم ہمیشہ اچھے اور صیحی فیصلے کرتی ہو.. ایک نازک سی.. معصقم سی لڑکی ہو…
پھر جو تمھارے ساتھ ہوا. تو میں نے تمھارے لیے دعا کی.. کہ.. تمھارے جیسی نازک مزاج لڑکی.. ہمیشہ خوش رہی.. تمھاری عزت.. جو کھو گئ…. پھر اسی شخص کے ہاتھوں لوٹ ائے اور ایسا ہوا بھی…
مگر میں نہیں جانتا تھا.. چار پانچ ماہ میں.. تم اپنی ساری معصومیت بھلا دو گی.. تم بھول جاو گی تم ایک لڑکی ہو.. اور یہ دنیا…
بھوکی ہے….
گھات گھات پر بیٹھا شکاری تمھیں تمھارے اج کیے گئے عمل.. کے بارے میں ضرور بتائے گا کہ وہ صیحی تھا یہ غلط…
چلتا ہوں "عابیر تو وہیں ٹھر گئ تھی جبکہ وہ وہاں سے نکل گیا تھا…
چند پل جیسے اسے اپنے دل کی دھڑکن بھی سنائ نہیں دی..
جبکہ.. کچھ دیر بعد یاد ایا کہ اتنا سب کرنے کے بعد بھی بہرام نے اسے طلاق نہیں دی تو.. وہ بلبلا اٹھی.. غصہ الگ ایا..
اور وہ تیز تیز چلتی.. ابھی.. اس گاڑی میں بیٹھتی جو بہرام نے دی تھی.. اور اسنے ڈرائیور سے لے لی تھی. جبکہ ڈرائیور بہرام انفارم کر چکا تھا..
کہ چند لڑکیوں کی اواز بھی اسے اپنے کانوں میں سنائ دی..
یار یہ کتنی ناشکری ہے.. بہرام جیسا مرد کس کی خواہش نہیں…
ہمم چل چھوڑ اس کے ساتھ بھی تو غلط ہوا تھا…
اسنے خود ہی بتایا ہے…
مگر یہ پھر بھی… یہ کوئ طریقہ نہیں.. کمرے میں سلجھانے والی بات کو یہ کیسے دنیا کے سامنے لے ائ..
عابیر کا بس نہیں چلا.. اس لڑکی کا منہ توڑ دے.. وہ.. گاڑی میں بیٹھی اور گاڑی اپنے گھر کو ڈال دی..
اسے سننا ہی نہیں تھا کسی کو…
گھر کے سامنے گاڑی روک کر وہ نکلی تو.. اسے لگنا کیا تھا سارا محلہ اسے.. دیکھ رہا تھا. لوگ اسکے ارد گرد ابھی جمع ہوتے. کہ.. وہ گھ را کر وہاں سے اندر ا گئ..
یہ سب کیا تماشہ ہے… "اسنے سوچا.. اسنے بہرام کے ساتھ بلکل ٹھیک کیا تھا..
وہ اسی لائق تھا اسے محسوس ہونا چاہیے تھا کہ.. وہکس ازیت سے گزری تھی…
وہ پلٹی.. مما سامنے ہی تھیں..
ریہا بھی…
وہ نہیں جنتی تھی کہ.. انکے گھر کا خرچہ پانی اب.. کون اٹھا رہا ہے جبکہ اکبر صاحب تو عمر سے پہلے ہی کافی.. کمزور لگنے لگے تھے..
شاید حقیقی معنی میں اج تم نے اپنی عزت کا جنازہ نکالا ہے.. "
مما نے کہا.. وہ منہ کھولے انھیں دیکھنے لگی..
جبکہ وہ دونوں ندر چلیں گئیں..
مگر عابیر کا دماغ گھوما تھا..
سسب مجھے ہی غلط کیوں کہہ رہے ہیں.. اسنے جو کیا.. کیا وہ نہیں دیکھا کسی نے..
اتنی عرصے قید میں رکھا وہ نہ دیکھا…
بس کریں اپی..
کیا ظلم کیے انھوں نے اپ پر…
شادی اپ نے خود نے کی…
ان سے…
گئیں اپ خود انکے ساتھ…
وہاں اپکے ٹھاٹ دیکھ کر.. خاندان کی ہر لڑی اپکے جیسے نصیب کی خواہش مند ہے…
ہاں سچ ہے بہرام خان نے اپکو رسو اکیا…
مگر اپ نے یہ کیوں نہ سوچا کہ وہ تو چند لوگ تھے…
اور اس شخص نے انھیں چند لوگوں میں اپکی بے انتھا.. قدر اور عزت بڑھا دی..
اور اج.. اپ اپ خود.. اپنے پاوں پر کلہاڑی مار کے آئیں ہیں..
اپکی جزباتیات…
سب کو ہلکان کر گئ…
اپ گئیں خود… اس ریپورٹینگ شعبے میں جبکہ.. سب نے کہا.. کہ.. یہ شعبہ اپکے لیے ٹھیک نہیں…
پھر اپ نے.. اس کوٹھے پر جہاں کوئ شریف لڑکی جانا پسند نہ کرے وہاں جا کر اس ادمی کو… ایکسپوز کرنا چاہا..
اپ خود انکی نظروں میں آئیں.. ورنہ انھیں الہام نہیں ہوا تھا.. اس سڑے بسے محلے میں کوئ عابیر بھی رہتی ہے…
چلو ٹھیک ہے.. وہ اپکی ڈیوٹی تھی.. اسکے بعد.. کالام گئیں اپ.. زبردستی مما بابا سے اجازت لی..
وہاں جا کر.. اپ نے فضول سوال کیے…
پھر انکی نظروں میں ا گئیں…
اگر انھوں نے صرف غلط کیا
تھا.. تو اپ نے اج حدیں پار کر دیں ہیں "وہ غصے سے کہتی.. وہاں سے چلی گئ.. جبکہ عابیر اپنی جان سے عزیز بہن.. کے منہ سے یہ سب سن کر… جیسے اپنے قدموں پر ہلی تھی….
………………
چند ہی لمہوں میں داجی نے اس ہال روم کو کباڑ میں بدل دیا تھا…
یاور خان گاڑی نکالوں اج اس لڑکی.. کے اندر یہ گولیاں اتار کر ہمیں سکون ملے گا..
وہ چلائے..
بابا سائیں…. بہرام.. خان.. کا پتہ لگانا زیادہ ضروری ہے. اس لڑکی کو بات میں دیکھ لیں گے"یاور خان نے سمھجانا چاہا.. داجی.. تو.. اپے سے باہر ہی ہو رہے تھے جبکہ..
معاویہ خان کو اپنے موبائل سے نمبر ڈایل کیا تو فون بند جا رہا تھا..
یہ کیا بکواس ہے.. بتا دے رہے ہیں ہمارے خان کو کچھ ہوا تو… سب تباہ کر دین گے.. سمھجہ کیا لیا.. وہ لاوارث ہے کوئ غیرہ پڑا ہے"داجی.. نے موبائل. کان سے اتار کر دے کر زمین پر مارا اور
. وہاں سے.. نکلنے لگے..
داجی.. صفدر صاحب کا فون ہے" اسیسٹینٹ.. کے فون پر انے والی کال پر احمر نے کہا.. جبکہ باقی سب کے پاس بھی فون انا شروع ہقے.. داجی نے پھر پیچھے مڑک کر نہ دیکھا انکے وجود میں تو پتنگے لگے تھے..
انکی جان… انکا بہرام.. مشکل میں تھا اور وہ.. ان… لوگوں کو اہمیت دیتے.. بھلے انکی سیٹ چلی جاتی.. مگر انھیں بہرام سے شیادہ عزیز کوئ نہیں تھا..
احمر بھی انکے پیچھے ہوا کہ کہیں مزید نقصان نہ ہو جائے…
جبکہ باقی سب سمیت خواتین بھی جو خد بھی یہ سب دیکھ چکیں تھیں…
دعا گو تھیں کہ بہرام مل جائے..
نین اور مورے تو بقائدہ رو رہیں تھیں.. مگر.. وہ اب ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے تھے..
…………………..
حیدر نے ایل ای ڈی بند کی.. عابیر پر بے انتھا غصہ ہی ایا…
وہ بہرام کو سوچ رہا تھا.. وہ کہاں ہو گا…
جبکہ حور جو.. جیسے ہر پل جلے پاوں کی بلی بنی رہتی تھی… اسکے پاس ائ..
جب سب ختم ہو جاے گا تب ہوش میں او گے "وہ بولی تو حیدر نے چونک کر اسکیطرف دیکھا…
یہ تم جب سے شادی ہوئ ہے کافی اونچا بولتی ہو.. محبوبہ کم بیوی زیادہ لگتی ہو.." اسنے ہنس کر.. حور کو.. اپنی قید میں لینا چاہا کہ حور.. اسے دھکا دے کر دور ہوئ..
یہ جو ہر وقت کا رومینس ہے یہ کھاتے رہنا ہے تم نے ساری زندگی…"
وہ غصے سے بولی..
مگر ہمارے فلیٹ میں اتنا سب ہے. کہ تم ایک ماہ عیاشی کر سکتی ہو "وہ ہنسا…
تو حور کا خون کھول گیا اسے اگے کی فکر تھی جبکہ یہ ادمی سنجیدہ ہونے کو تیار نہیں تھا….
حیدر… تم کب حویلی جاو گے"حور نے بمشکل نرمی سے پوچھا..
کبھی نہیں ساری زندگی بس ہم اپکے پاس رہے گئیں "اسنے گھمبیر لہجے میں کہتے ہوئے حور کو نزدیک کیا…
نہ جانے اس لمہے حور کو کیا ہوا اسنے جھنجھلا کر حیدر کے منہ پر تھپڑ دے مارا….
زہر لگتے ہیں مجھے وہ مرد جنھیں صرف یہ اتا ہو.. کہ بیوی…"
قہ روکی.. حیدر حونک تھا…
میں تمھیں کہہ چکیں ہوں… تم حویلی جاو گے"وہ.. غصے سے بتی اندر چلی گئ.. جبکہ..
حیدر کے دماغ میں جیسے فلیش بیک ہوا تھا.. اور حور کے لیے ارمیش کو مارا گیا پہلا تھپڑ یاد ا گیا…
ابھی تو بہت کچھ تھا…
……………………..
بہرام… رات گزر چکی ہے بس کر" معاویہ نے… اسکے ہارھ سے بوتل لی..
ام ہوں… بلکل چپ.. اسنے کہا.. عیاش ہوں میں.. جبکہ میں.. یہ سوچ رہا ہوں… یہ سالہ محبت انسان کو…. گالی..
بنا دیتی ہے……
اور میں بن گیا..
میں بھول گیا میں بہرام ہوں بہرام خان…
اسنے… لبوں سے پھر بوتل لگا لی…
جبکہ نشہ تھا کہ اج خوب چڑھ رہا تھا…
ہم نے سوچا تھا اب اس راستے پر نہیں چلیں گے"معاویہ نے اسے اسکی بات یاد دلائ..
اوو بھائ" وہ ہنسا..
شراب چھوڑنی کی بات تو ہوئ بھی نہیں تھی..
یہ برینڈی.. اس سے محبت ہونی چاہیے.. اممممم.. ہلک میں اترے تو.. رگ رگ میں لزت بھر دے…
وہ پھر ہنسا.. معاویہ کو اج اسکے پینے پر پہلی بار غصہ ایا اور پہلی بار اسنے اسکا ساتھ نہیں دیا..
طلاق کیوں نہیں دیتا اسے "معاویہ نے پوچھا.. تو.. وہ بوتل ہٹا کر مسکراتا سر ہلانے لگا..
میرے ماتھے پر بیوقوف لکھا ہے کیا" اسنے قہقہ لگایا…
وہ نہیں میرا مگر اس سے محبت ہے تو ہے…
یہ اگر رسموں رواجوں سے بغاوت ہے تو ہے
سچ کو میں نے سچ کہا جب کہ دیا تو کہ دیا
اب زمانے کی نظروں میں یہ حماقت ہے تو ہے..
کب کہا میں نے وہ مل جائے مجھے میں اسکو
غیر نہ ہو جائے وہ بس اتنی حسرت ہے تو ہے
جل گیا پروانہ اگر تو کیا خطا ہے شمع کی
رات بھر جلنا جلانا اسکی قسمت ہے تو ہے..
دوست بن کر دشمنوں سا وہ ستاتا ہے مجھے
پھر بھی اس ظالم پر مرنا اپنی فطرت ہے تو ہے
وہ نشے میں جھومتا.. اسے اپنی عاشقی کی دستان اب بھی سنا کر معاویہ کو تپا رہا تھا جبکہ خود.. بوتل کے ساتھ جھوم رہا تھا…
تبھی.. فلیٹ کا دروازہ دھڑ دھڑ بجا…
جائے جناب داجی… ا گئے ہیں.. "وہ ہنسا…
معاویہ نے جیسے… تھوک نگلا…
اور دروازہ کھولنے بھڑا.. کہ داجی اندھی طوفان کیطرح اندر داخل ہوئے…
اور ایک زور دار مکہ معاویہ کی ناک پر جڑ دیا..
جب اس کا کوئ فائدہ نہیں تو رکھا کیوں ہے" وہ دھاڑے…
اور معاویہ کا موبائل دے کر زمین پر مارا.. معاویہ منہ کھولے اپنے موبائل ٹکڑے دیکھنے لگا..
بیٹے… میرا منہ بھی دیکھ لے یہ ملاپ اگر اب بھی نہ ہوتا تو لازمی میں تو.. وفات پا جاتا" احمر نے.. افسوس سے اسکے موبائل کو دیکھا.. اور.. بتا کر اگے بڑھا..
بہرام لاونج میں بیٹھا تھا.. حالت کافی بکھری ہوی تھی جبکہ لبوں پر مسکان تھی…
جان دادا.. مار دینا چاہتے ہو کیا.. یار" داجی پل میں اس تک پہنچ کر بوتل کو اس سے چھینتے.. اسے سینے میں بینچ گئے.. وہ کسی بچے کیطرح انکے وجود میں چھپ گیا…
چھوڑ دو اس لڑکی کو.. چھوڑ دے یار… " وہ… اسکی سسکیاں اپنے سینے.. میں… بری مشکلوں سے برداشت کر رہے تھے.. معاویہ احمر بھی.. بے چین ہو چکے تھے جبکہ معاویہ کا بس نہیں چل رہا تھا.. اسے جان سے مار دے..
خان" داجی.. نے.. اسکو جھنجھوڑا..
وہ.. گھیرہ سانس لیتا اٹھا.. اور.. گال پر پھیلی نمی کو صاف کر کے دوبارہ شراب کی بوتل اٹھانے لگا کہ.. داجی نے.. وہ بوتل دھکیل دی..
یار… قیمتی تھی" وہ افسوس سے بولا…
خان… اج کے بعد میں نہ دیکھو اسے پیتے ہوئے "وہ سختی سے بولے…
وہ ہنسنے لگا..
ڈن.. مگر اج پینی ہے"اسنے فرمائش کی.. داجی نے گھورا…
معاویہ سائیں کچھ کرو کچھ کرو… معملہ خراب ہو رہا.." وہ اپنے اپکو نارمل ظاہر کرنے لگا…
اے خان.. "داجی. نے اسکا حسین چہرہ اپنی جانب موڑا.. گیرے آنکھوں میں بے پناہ اداسی تھی غم تھا…
حکم خان" وہ.. نشے کی کیفیت سے نڈھال ہونے لگا..
احمر اور معاویہ.. دونوں کو دیکھ رہے تھے..
ہمارا کہا مانو گے" انھوں نے کسی سوچ کے تھت پوچھا…
بہرام نے انکی جانب دیکھا..
نہ کروں تو "اسنے سوال کیا…
تب بھی.. وہ ہی کرو گے جو ہم کہیں گے" انھوں نے سختی سے کہا..
پہلے کبھی کیا ہے" وہ ہنسا.. اور انکی گود میں سر رکھ دیا…
نیند سی انے لگی تھی…
ارمیش خانم سے شادی کر لو.. اور اسے حکم سمھجنا.." وہ.. اسکی بند ہوتی آنکھوں کو… دیکھتے.. اٹل لہجے میں بولے.. وہ.. جو ابھی آنکھیں بند کر رہا تھا.. آنکھیں پھاڑے انھیں دیکھنے لگا…
ساکت سپاٹ…
انکی بھی آنکھوں میں کوئ لچک نہیں تھی…
نہیں کا لفظ زبان پر بھی مت لانا" انھوں نے پہلے ہی وارن
کیا
ورنہ.. "وہ ائ برو اچکا کر بولا…
جبکہ داجی نے نفی میں سر ہلایا…
ورنہ جب کریں گے تب بتائیں گے"
وہ سنجیدہ دیکھائ دیے..
داجی مگر… "
معاویہ سائیں خاموش ہو جاو…. "انھوں نے سختی سے روکا..
تو وہ چپ ہو گیا…
بہرام.. ایک پل انھیں دیکھتا رہا…
اور پھر آنکھیں بند کر لیں.. ہنسنے لگا…
چند گھنٹے بھی فارغ نہیں رہنے دیں گےَ"
خان سنجیدہ ہیں ہم"داجی نے کہا.. پھر کوئ کسی پر فیصلے تھوپ رہا ہے.." وہ ایکدم اٹھ کر غصے سے بولا…
یقین ہے ہمارا.. یہ فیصلہ شاندار ہو گا"
میں نے اچار نہیں ڈالنا اپکے یقین کا…
بیوی ہے میری "وہ بولا..
اچھا" داجی ہنسے.. معاویہ احمر تو جیسے تماشہ دیکھنے ائے تھے
بہرام نے گھورا…
بیوی نہیں صرف لڑکی.. عجیب مرد ہو ویسے خان تم" انھوں نے طنز کیا وہ خوب سمھجتا تھا…
جو اپ چاہتے ہیں.. نہ وہ مین نہیں چاہتا اور نہ شاید ارمیش" اسنے کہا…
اس بار انکی مرضی.. سے ہی ہو گا.. اور تم پر ہماری مرضی چلے گی.. دماغ کو.. تیار رکھنا"کہتے وہ اتھ گئے..
کیا تماشہ ہے" بہرام نے گلاسوں پر ہاتھ مارا جو ٹیبل سے گیر گئے..
داجی سکون سے وہاں جیسے ائے تھے چلے گئے..
معاویہ منہ کھولے.. بہرام کو دیکھ رہا تھا..
گالی… منہ توڑ دو گا.. چلا جا یہاں سے"وہ دھاڑا..
معاویہ تو بے انتھا خوش ہوا تھا اگر ایسا ہو جاتا تو کافی اچھا ہوتا…
اسکے بقول دو ٹوٹے ہوئے لوگ ایک دوسرے کو نہیں توڑ سکتے تھے…
جبکہ بہرام.. نے.. دوسری بوتل کھول لی تھی..
کیا عجیب شوشہ چھوڑا تھا داجی نے بھی..
ارمیش کے لیے یہ خبر کسی صدمے سے کم نہیں تھی.. اسنے مورے کیطرف دیکھا جو… بی جان اور بباقی سب کے ساتھ لے کر یہ خبر آئیں تھیں…
کیا مجھے جینے دیا جائے گا"اسنے سپاٹ انداز میں پوچھا…
سب نے دکھ سے اسکیطرف دیکھا… حیدر کی جانب سے پیپر انے کے بعد بھی.. وہ ویسی ہی رہی… تھی…
ان سب کا ہی اسکی ایسی حالت دیکھ کر دل کٹ رہا تھا…
خانم…."
بی جان….. مجھے کسی سے شادی نہیں کرنی.. اگر اس حویلی میں میری کوئ اہمیت یہ اپ سب لوگوں کے دلوں میں میری کوئ عزت ہے.. تو
اور اگر اپ لوگ مجھے… کوئ جانور سمھجتے ہیں.. جو احساسات.. سے عاری ہے.. تو پھر ایک بار زبردستی کر کے شادی کرا دی میں کر لوں گی.. ایک اور ایسے شخص سے… جو…
اپنی ناکام محبت کا.. گم مجھے..پھر توڑ توڑ کے بنائے گا.. "
اسنے کہا… اور ان سب سے روخ موڑ لیا..
سفید لباس میں پور نور چہرے کے ساتھ وہ.. بے حد پیاری تو لگ رہی تھی مگر کب تک اسے اس طرح دیکھا جاتا.. دن اپنی رفتار چل رہے تھے.. ایک کے بعد ایل دن… ا رہا تھا.. اسکی عدت ختم ہونے کو تھی…
مگر اسکی زبان کی چپ.. لاکھ سب کے بولنے کے باوجود نہیں ٹوٹی تھی..
اور اج جب یہ بات کہی گئ تو سنجیدگی سے یہ کہہ کر وہ.. ان سب سے رخ موڑ گئ..
وہ زندگی سے دور جا رہی تھی خوشیوں کو خود پر حرام کر رہی.. تھی کسی سے بھی اسکی یہ خاموش تکلیف نہیں دیکھی جا رہی تھی.. اور اس بار اسکا احساس صرف زنان خانے میں نہیں.. بلکہ مردان خانے.. میں بھی بہت تھا…
ٹھیک ہے کوئ تم پر زبرددتی نہیں کرے گا… "بی جان نے.. اسکے ریشمی بالوں پر ہاتھ پھیرہ
. اسنے انکی جانب دیکھا.. یہ لمس… بہت عرصے بعد اسے میسر ایا تھا…
ماں اولاد سے کیسی محبت کرتی.. تب بھی جب وہ اسکے سامنے ہو.. اور تب بھی جب وہ اسکے وجود کا حصہ ہو..
اولاد کو.. کتنی ہی دوسری محبتیں گھیر لیں مگر.. ماں کی محبت کے لیے.. اسک اوجد ہمیشہ ترستا ہے…
ارمءش کی آنکھیں نمکین پانیوں سے بھرنے لگی..
وہ تو بہت نرم دل… سی لڑکی تھی…
بی جان کی ممتا ک المس… اسکے اندر ایک تڑپ بھر گیا…
بی جان.. کی بھی آنکھوں میں انسو انے لگے…
اور.. انھوں نے اسے کھینچ کر.. اپنے سینے سے جو جکڑا.. تو.. وہ سب کو رولا گئ…..
اسکی.. سسکیاں… اسکی ہچکیاں…..
اسکا بآواز بلند رونا….
سب کے دل منہ کو ا رہے تھے…
بی جان کے پاس کوئ لفظ نہیں تھا… وہ اسے کیسے تسلی دیتیں…
میں کسی کو معاف نہیں کروں گی "وہ… بری طرح رو رہی تھی..
قاتل ہے… حیدر… " اسنے چیخ کر کہا…
بی جان بے بسی سے سب کو دیکھ رہیں تھیں جو.. خود رو رہیں تھی
ارمیش.. چندہ بس.. کرو"انھوں نے کہا.. تو اسنے نفی میں سر ہلایا.. خوبصورت چہرہ سرخ ہو چکا تھا… جبکہ… گالوں پر انسوں کی لڑیں تھیں…
بی جان اس شخص نے مجھے بہت تکلیف دی ہے…. بے حد.. تکلیف… اسکی… اسکی حور.. جس… کی وجہ سے دو سال میں نے عزیت میں گزر دیے.. تب بھی مجھے صلہ نہ ملا.. میں صرف ارمیش رہی جبکہ حور پھر بھی اسکی تھی…
ان دونوں نے میرے بچے کو مارا ہے… دونوں نے… "وہ جنونی سی ہو رہی تھی….
جبکہ مسلسل رو بھی رہی تھی..
ارمیش خانم… بس میرا بچہ.. اللہ صبر کا پھل دے گا تمھیں" انھوں نے اسکی پیشانی چومی…
کب بی جان… دو سال سے اپ کہے جا رہی ہیں.. کب اخر. کب ملے گا مجھے صبر کا پھل… میرے لیے کانٹے کیوں ہیں.. "وہ ہونٹ نکال کر روتی… اپنے ساتھ ساتھ سب کو تکلیف دے رہی تھی…
بی جان تو وہاں سے اٹھ گئیں.. ان سے مزید نہیں دیکھی جا رہی تھی یہ تکلیف.. اخر وہ چپ رہ کر کرتیں بھی کیا… .
جبکہ بی جان کی جگہ اب.. مورے نے.. لے لی تھی…
ارمیش میری بچی.. "انھوں نے.. اسکو.. پکڑا تو وہ ماں کے لمس پر نئے سرے سے بکھرتی تڑپ رہی تھی…
………………..
داجی تک یہ پیغام پہنچ گیا.. تھا کہ ارمیش نے انکار کر دیا ہے.. انھیں امید تھی کہ یہ ہی ہو گا..
ابھی کچھ دیر پہلے.. بہرام بھی ایا تھا باہر سے…
وہ انکے سامنے ہی بیٹھا تھا جب بی جان کی جانب سے پیغام ایا.. اسکے جبڑے تنے.. داجی نے اسکی جانب دیکھا…
مگر بولے کچھ نہیں جبکہ وہ جیسے ایا تھا ویسے ہی چلا گیا…..
معاویہ داجی کے اگلے حکم کے لیے کھڑا تھا وہ خود چاہتا تھا کہ ارمیش اور بہرام کی شادی ہو جائے تبھی بہرام کے پیچھے نہیں گیا تھا..
کیا لگتا ہے… معاویہ خان"انھوں نے معاویہ کیطرف دیکھا تو معاویہ کو اس شخص میں جو غرور اور تنتنا تھا… بکھرتا محسوس ہوا.. یہ وہ شخص تجھا.. جو اپنی بات کا مشورہ کیا.. کسی کو بتانا ضروری نہیں سمھجتا تھا.. اور اج..
داجی… یہ ہو جائے تو بہت بہتر ہو گا" اسنے کہا…
مگر"وہ کچھ الجھے ہوے سے لگے..
داجی ارمیش خانم کبھی اپکی بات نہیں ٹالیں گی "اسنے جیسے انھیں… ایک اور قدم اٹھانے کیطرف راغب کیا.. تو وہ اسکی شکل دیکھنے لگے…
چلو پھر" وہ ااچانک ہی اٹھے…
میں بھی"معاویہ نے حیرت سے کہا… تو انھوں نے بس سر ہلا دیا..
اور معاویہ داجی کے ساتھ زنان خانے کیطرف بڑھا… تو.. زنان خانے کے ہال میں کوئ بھی نہیں تھا…
داجی اوپر.. ارمیش کے کمرے کیطرف بڑھنے لگے معاویہ وہیں ٹھر گیا…
کیونکہ… ایک انچل سا اسے دوسری طرف جاتا دیکھا تھا…
اس سیریس ماحول میں بھی اسکو شرارت سوجی تھی…
وہ بھی داجی سے انکھ بچاتا پیچھے ہو لیا…
اے روکو" اسنے مسکرا کر پیچھے سے اواز دی یہ لڑکی چند ہی دنوں میں.. اسکے دل میں بس چکی تھی..
انوشے کے قدم تھمے…
مگر وہ مڑی نہیں…
بہت مسلہ ہو جائے گا اگے تو اگر تم یوں ہی بھری رہی" اسنے.. ہنستے ہوئے اسکا ہاتھ پکڑا.. انوشے نے ایکدم اپنا ہاتھ چھڑایا جھٹکا دے کر…
معاویہ نے چونک کر اسکیطرف دیکھا…
اپ مجھے کیوں روکتے ہیں…
کس لیے.. کن باتوں کے لیے کیا بات ہے ہمارے پاس کیا موضوع ہے… جب ہمارے پاس کوئ بات نہیں.. جب ہمارا ایک دوسرے سے کوئ تعلق نہیں تو.. کیوں روکتے ہیں مجھے…
ہمارے درمیان کوئ گفتگو نہیں ہے.. یہ ہاں میں یہ پوچھو ک9 عابیر اپ کے کمرے سے کیوں نکلی…. اسنے چیخے کیوں ماری…
یہ پوچھو اور اپ جواب دیں گے.. اپ کیسے مرد ہیں.. جو.. "وہ.. ناگواریت سے بولتی روکی.. کہ اچانک ہی معاویہ نے. غصے سے اسکا منہ جکڑ لیا…
اپنے کسی بھی عمل کا میں کسی کو بھی جواب دہ نہیں ہوں…. سمھجی تم.. اور تم مجھ پر اتنا گھٹیا… الزام جو لگا رہی ہو ب~یر ثبوت کے اس کو بھگتو گی… " اسنے اسکو جھٹکا…
میں نے الزام نہیں لگایا" اسکی بھیگی آنکھوں میں… تکلیف تھی..
اچھا کیا ثبوت ہے تمھارے پاس کے عابیر.. کے ساتھ میں نے کچھ کیا تھا… تم نے اپنی انکھ سے دیکھا تھا"وہ دھاڑا….
جبکہ وہ سہم گئ..
میں نے سنا تھا.. بہرام لالا نے اپکو مارا بھی" وہ. رو دینے کو ہوئ.. خود کو کمزور بھی محسوس کیا کہ.. اسے لگ رہا تھا اب کہ اسنے غلط کر دیا ہے…
بہرام.. نے مجھے مارا تو اسکا مطلب میں گناہگار ہوں.. "معاویہ غضب سے اسکو دیکھ رہا تھا..
نہ جانے کیوں تم اس دل میں اتر گئ… اگر.. تمھارے لیے.. جزبے نہ ہوتے تو.. تمھیں اس الزام پر ابھی بتا دیتا… " وہ غصے سے مٹھی بھینچ کر بولا…
میں "انوشے.. کا دل کہہ رہا تھا کہ اسنے واقعی الزام لگا دیا ہے..
بس…… مجھ سے کچھ پوچھے بغیر الزام لگا کر.. تم نے مجھے ہرٹ کیا ہے"وہ انوشے کو توجہ سے دیکھتا اب.. غصہ بھلائے.. ڈرامے بازی پر اتر ایا… اسے برا ضرور لگا تھا کہ.. انوشے نے اسپر یقین نہیں کیا مگر.. وہ یقین کرتی بھی کیسے. وہ کوئ پرسا نہیں تھا.. اور ایک وقت تھا اسکا یہ وتیرہ رہ اتھا.. مگر…
وہ اس سے ناراض نہیں ہوانا چاہتا تھا تبھی اسکی ڈری سہمی شکل کو انجوائے کرنے لگا…
میں ایسا نہیں چاہتی تھی"انوشے.. نے روتے ہوئے کہا..
مگر تم نے ایسا ہی کیا ہے… تم مجھ سے سوال کر سکتی تھی مگر تم نے تو لزام لگایا وہ بھی. عابیر کی وجہ سے جبکہ تم جانتی ہو.. وہ ایک خودسر لڑکی ہے.. جو اپنی ضد میں.. سب کر جاتی ہے." اسنے اسکی جانب دیکھا… مگر… اسکے جھکی جھکی پلکیں بہت پیاری لگیں جبکہ ہاتھ اسکے کانپ رہے تھے..
بہت برا کیا ہے تم نے انوشے ڈارلنگ اسکو مزید ڈراتا اسکے قریب ہوا..
انوشے.. کا دم نکلا…
کہ وہ اسکے بہت قریب ا گیا تھا..
کہ اسکے کلون کی مہک انوشے کے ذہن پر سوار ہونے لگی..
اور تم سے سارے حساب کتاب اب بس اپنے کمرے میں لوں گا… جبکہ تم صرف بس میرے بس میں ہو گی…..
کوئ بچانے والا… نہیں "وہ.. اسکے کے گلابی گالوں پر.. اپنی انگلی سے.. ایک سطر کھینچتا.. انوشے کو بے ہوش کرنے کے قریب تھا…
انوشے حونک اسکی جانب دیکھ رہی تھی..
ایسے دیکھو گی تو.. ابھی بدلے لینا شروع کر دوں گا" وہ… اسکے ہونٹوں کو دیکھ رہا تھا.. انوشے کو جیسے ہوش ایا..
یہ کیا. اسنے.. معاویہ کے سینے پر ہاتھ رکھ کر دور کیا.. معاویہ. اس سے دور ہو گیا…
اور چمکتی آنکھوں سے دیکھنے لگا….
جبکہ انوشے.. ایک قدم.. دور ہوئ پھر دوسرا اور پھر جیسے وہ سر پٹ ایسی دوڑی کہ معاویہ کا قہقہ ابھرا…
بدتمیز "انوشے کے لب بھی مسکرائے یہ احساس ہی بہت مزے دار تھا کہ وہ اس سے محبت کرنے لگا تھا…
………………
حور نے اس سے معافی مانگنے کی زحمت نہیں کی تھی.. اسے غصہ بہت شدید ایا.. وہ چار دنوں سے اس سے بات نہیں کر رہا تھا اور اسے تو کوئ فرق ہی نہیں پڑ رہا تھا…
اور اج صبح جب اسے گھر سے جاتے دیکھا تو خقد ہی اسے بولنا پڑا..
کہاں جا رہی ہو"وہ غصے سے بولا…
جب شوہر ہٹ دھر ہو کر گھر میں پڑا ہو.. تو بیوی کو کچھ نہ کچھ کر لینا چاہیے یہ ہی عقل مندی ہے نہ کہ… اسکے.. اس پر پڑی رہے"
کیا بکواس ہے"حیدر غصے سے بولا.. بھلہ وہ.. کیا تھا اور وہ یہ لہجہ برداشت کرتا.. ارمیش نے کبھی اسے دو بادو جواب نہیں دیا تھا.. اسنے حور کو اپنی طرف کیا…
تو حور.. خود کو چھڑا کر دور ہو گئ..
خبردار… جو تم نے مجھے چھوا بھی… "وہ تو آنکھوں میں ائ…
اس کا مطلب تمھیں صرف ہمارے پیسے سے محبت ہے" حیدر نے بڑے دکھ سے کہا…
تو حور ہنسی…
نہیں حیدر.. مجھے تم سے محبت ہے… مگر میں سسک سسک کر زندگی نہیں گزارو گی تمھارے سب اکاونٹس بند ہیں….
کیا کھاو گے…. ہاں.. کہہ رہی ہوں حویلی چلو… معافی مانگو سب سے" اسنے.. زرا نرمی سے کہا تو حیدر…. اسکی صورت بس تک کر رہ گیا…
حور… بدل گئ تھی یہ ایسی ہی تھی.. وہ سمھجہ نہیں سکا.. .
حور ہ. حویلی نہیں جاے گے" وہ اٹل لہجے میں بولی..
تو پڑے رہو.. اس گھر میں ہاتھ پر ہاتھ رکھے"حور غصے سے. بولی…
تمیز سے بات کرو" حیدر نے اسپر.. ہاتھ اٹھایا… تو اگلا لمہہ اسے شاکڈ کر گیا.. حور نے بھی اسکے منہ پر تھپڑ دے مارا..
ارمیش نہیں ہوں میں.." وہ دھاڑی..
نہ تمھارے باپ کی غلام… جب تک تم تمیز سے نہیں رہو گے میں بھی تمیز سے بات نہیں کروں گی"وہ وارن جرتی.. وہاں سے چلی گئ..
اور حیدر… سامنے لگے ائینے میں اپنا.. منہ دیکھتا رہ گیا.. اسے لگا اسکا عکس اس پر ہنس رہا تھا…
منہ چیڑہ رہا تھا…
………………………..
یہ عمل عابیر کو نقصان کی اتھا گہرائیوں میں اتار چکا تھا. مگر اسے یہ سب بس لوگوں کی بے وقوفی ہی لگی.. اسنے صرف بدلہ لیا تھا.. بھلہ اس میں کیا برائ تھی…
وہ اب خوش تھی سکون میں تھی دنیا کے سامنے.. اسکو ایکسپوز کر کے. جہاں اسپر.. کیچڑ اچھالی جا رہی تھی وہیں.. دوسری طرف اسکی ساک ہل چکی تھی..
اور اسکی بلہ سے بھاڑ میں جائے…
وہ دوبارہ سے اپنی زندگی میں خوش رہنا چاہتی تھی..
نہ جانے کیوں اسے ریہا کی شادی معاذ سے ہوتی بلکل اچھی نہ لگی وہ شخص اسکا دیوانہ تھا. اور اسکے راستے سے ہٹتے ہی اسکی بہن سے کر تہا ہے شادی..
یہاں تو سب ہی منافق ہیں اسنے سوچا… اور.. اہنے پرانے حولیے میں ائ..
جینز کرتے میں.. اس نے سکون کا سانس لیا…
اور بیگ اٹھا کر باہر ائ.. گاڑی اسی کے پاس تھی اسنے.. جوب کے لیے دوبارہ جانے کا سوچا…
کہاں جا رہی ہو"مما نے نہ چاہتے ہوئے بھی پوچھ لیا…
جوب پر" اسنے سکون سے جواب دیا..
عابیر تمھارے ساتھ مسلہ کیا ہے "مما کو تو غصہ ہی ا گیا…
کیا مطلب" وہ حیران ہونے لگی..
کسی کی بیوی ہو تم… اور اسے نہیں پتہ.. کے تم پھر سے اس گندی جاب پر جا رہی ہو"
بیوی.. ہممم" وہ ہنسی…
میں کسی کی بیوی نہیں ہوں.. اور وہ عجیب سا ادمی میرے لائق تھا ہی نہیں یہ عشق عشقی اور معشقی مجھے نہیں پسند… اور اپنی مرضی کے خلاف عابیر نہیں چلتی "وہ بڑے تفخر سے کہہ کر وہاں سے باہر نکل گئ….
مما نے اسکے اسقدر بدتمیزانہ رویے.. پر انکھ میں ائ نمی صاف کی.. ریہا نے انکی جانب دیکھا…
اور دونوں ایک دوسرے سے نظریں چرا گئیں…
جبکہ عابیر گاڑی میں ابھی بیٹھتی ہی.. کہ… محلے کے لوگوں نے باتیں بنانا شروع کر دیں.. اسے تپ تو بہت ائ.. مگر وہ کان بند کرتی گاڑی میں سوار ہو گئ..
………………..
دن گزر گئے تھے.. اسکی عدت پوری ہو گئ تھی…
جبکہ.. حویلی کا ماحول بھی خاصا بدل گیا تھا…
اج معاویہ کے سر پر.. دستار بندھنی تھی…
سب ہی بہت خوش تھے…
داجی کا فیصلہ تھا کہ معاویہ دستار سمبھالے گا..
جبکہ باقی کسی نے انکے خلاف جانے کی کوشش نہیں کی..
سب بدل رہا تھا سواے.. ارمیش اور بہرام کے..
وہ اپنی ہی دنیا میں مگن ہو گی اتھا.. ہر وقت شراب…
ہر وقت شراب.. جب سیاسی معملے بھی داجی نے کافی مشکل سے.. نمٹائے تھے.. جبکہ بہرام شراب سے نکلنے کو تیار نہیں تھا…
اور دوسری طرف ارمیش.. اور داجی کی ملاقات کے بعد ایک بار پھر ارمیش.. نے خاموشی کا لبادہ ایسا اڑھا.. کہ.. سب تھک گئے مگر اسکی قفل نہ ٹوٹی..
ہم چاہتے ہیں.. معاویہ کے سر پر دستار سجنے کے بعد ان تینوں کی شادی کر دیں "داجی نے کیا.. وہاں سب موجود تھے سواے بہرام کے..
بہت خوب بابا سائیں" یاور خان نے کہا تو داجی مسکرائے..
مگر داجی بہرام کو کون ہینڈل کرے گا "معاویہ نے پوچھا..
ہم کر لیں گے" انھوں نے جواب دیا…
اور اپنی جگہ سے اٹھ گئے معاویہ نے بھی ساتھ چلنا چاہا مگر وہ ہاتھ کے اشارے سے روک گئے…
معاویہ وہیں ٹھر گیا.. اور.. داجی بہرام کے کمرے کیطرف بڑھ گئے..
کمرے کا دروازہ کھولا.. تو… وہ.. بیڈ پر اندھا پڑا تھا جبکہ شراب کی بوتلیں زمین پر پڑیں تھیں.. انھیں پہلی بار اسپر شدید غصے ایا..
خان"وہ.. اسکی شرٹ لیس… کمر پر.. ہاتھ مار کر اٹھانے لگے.. اسنے آنکھیں کھولین اور سیدھا ہوا..
خان بولا لیتے کیوں ائے" اسنے. اٹھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا…
اطلاع دینی تھی تبھی خود ا گئے"وہ اسکے سامنے کھڑے ہو کر اسکو اٹھنے کا اشارہ کرنے لگے..
کیسی اطلاع وہ کھڑا ہوا..
دو دن بعد ارمیش خانم سے نکاح ہے تمھارا"
انھوں نے مظبوط لہجے میں کہا.. تو بہرام دھپ سے بیڈ پر گیرہ
پھر وہی" وہ عاجز ایا…
بلا چوں چراں"
یار داجی مجھے نہیں کرنی شادی کسی سے بھی نہیں" اسنے اکتا کر کہا.. تو… داجی کا ہاتھ گھوما.. اور ایک کرارا تھپڑ بہرام کے جیسے.. طوطے اڑا گیا…
ہوش میں رہو.. بہرام خان…
بلکل ہوش میں… یہ شے.. اور یہ مدہوشی وہ بھی اس لڑکی کے لیے ہمیں گوارا نہیں.. ہم اس حویلی کے ایک ایک فرد کو خوش دیکھنا چاہتے ہیں ماضی کی ہر غلطی کو درست کرنا چاہتے ہیں.. "
وہ غصے سے چلایے.. وہ ویسے ہی انکی صورت تکنے لگا.. داجی نے پہلی بار اسے مارا تھا…
ارمیش خانم کے ساتھ کوئ زیادتی نہیں چلے گی… " انھوں نے ووارن کیا…
بہرام انکو گھورنے لگا.. داجی کو اسکی ڈھٹائ پر غصہ ایا…
کہ وہ پھر سے نارمل دیکھائ دے رہا تھا..
شرط ہے میری" اسنے کسی سوچ کے تحت کہا…
اور میں کوئ شرط نہیں مان رہا.. کیو کہ کوئ رشتہ.. شرطوں پر نہیں بنتا"داجی.. نے.. نفی کی.. تو.. وہ… ایکدم اٹھا..
مجھ سے تھپڑ برداشت بڑی مشکل سے ہوا ہے کہ میری جگہ اپ کسی اور کو نہیں دے سکتے.. بھلے وہ ارمیش خانم کیوں نہ ہو…
بہرام بہرام ہے… اور.. وہی اپکی جان ہے. اور اسی کے لیے اپ سب کریں گے اور میری شرط بھی مانے گے" وہ تو ارمیش کے لیے پڑنے والے تھپر پر اچھا خاصا تلملایا…
داجی مسکراہٹ چھپا کر بولے…
کیسی شرط" لہجہ اطب بھی اکڑا ہوا تھا..
وہ انکی طرف ایک لمہے دیکھ کر.. جھکا.. انکے چہرے کیطرف..
عابیر… اس حویلی میں دوبارہ ائے گی"
اسنے سکون سے کہا…
اور اپ.. مجھے نہیں روکیں گے"وہ سپاٹ انداز میں بولا…
ایسا کبھی نہیں ہو گا…" داجی کو.. مزید غصہ ایا..
میری یہ ہی شرط ہے"... وہ کہہ کر پھر بیٹھ گیا…
داجی نے دانت بھینچے…
اگر تمھارے دماغ میں یہ سوچ ہے کہ تم. عابیر کو چیڑانے کے لیے شادی کر رہے ہو ارمیش سے تو.. ہماری خانم گیرہی پڑی نہیں ہیں "داجی دھاڑے تو. وہ.. انکو دیکھنے لگا..
ایساکچھ نہیں کہا میں نے.. "اسنے نفی کی..
پھر کیا وجہ اس کو یہاں لانے کی"وہ گھورنے لگے..
کوئ وجہ نہیں… اب کوئ وجہ نہیں… مگر وہ یہیں رہے گی.. بس یہ ضد ہے" اسنے.. شانے اچکا کر کہا.. تو داجی کا دل کیا اسکے بال نوچ دیں..
اتنا سرد کیوں ہو جاتا تھا وہ..
ٹھیک ہے مگر پہلے شادی ہو گی… "وہ.. کہہ کر وہاں سے نکل گئے.. جبکہ.. بہرام.. نے بغیر کچھ بھی سوچے.. شراب کی بوتل اٹھائ.. اور مسکرا کر دیکھا..
میری محبت"اسنے بوتل کو چوما… اور.. کھولنے لگا…
اسے عابیر یہ ارمیش سے فل حال کوئ کنسرن نہیں تھا…

حویلی میں شادی کی تیاریاں ہوتے دیکھ جیسے… اسے ہوش ایا تھا یہ سب کیا ہو رہا تھا…
سب ہی خوش تھا جبکہ… وہ عجیب سے کیفیت کا شکار تھا ایسا خواب تو اسنے عابیر کے ساتھ دیکھا تھا…
مگر وہ خواب کس طرح پورا ہو رہا تھا..
وہ مسلسل بے چینی کا شکار تھا.. حویلی میں سب بہت خوش تھے…
یہاں تک کہ معاویہ بھی اسے ہری جھنڈی دیکھا چکا تھا…
اسے اس بات سے بلکل فرق نہیں پڑتا تھا کہ داجی اسے فورس کر رہے تھے…
وہ چاہتا تو داجی کی بات.. نہ مانتا مگر وہ اتنا ضرور جانتا تھا کہ.. داجی عابیر کو یہاں انے نہیں دیں گے اور اگر.. اسے لانا تھا تو شادی کرنی ہی تھی.. مگر دل تھا مٹھی میں جکڑا ہوا تھا…
وہ… بغیر کچھ سوچے سمھجے.. گاڑی کی چابی اٹھا کر.. وہاں سے بڑی بے تابی سے نکلا تھا….
کچھ ہی گھنٹے کی رف ڈرائیو کے بعد وہ.. اسکے گھر کے سامنے تھا….
اسے یاد ایا کچھ مہینوں پہلے یہاں انے کی اسکی تڑپ ہی الگ تھی…
اور اج یہاں انے کی تڑپ الگ تھی اج کچھ کہو جانے چھوٹ جانے کا احساس ہو رہا تھا…
وہ.. اپنے مخصوس سٹائل میں گاڑی سے نکلا.. اج اسنے ڈرنک نہیں کی تھی..
چاہ کر بھی پی نہ سکا.. وہ باہر نکلا اور دروازہ بجایا…
تو کچھ ہی منٹ میں دروازہ کھل گیا… ریہا.. کو سامنے دیکھا…
اور اس سے پہلے وہ سوال کرتا…
اپی… گھر پر نہیں ہیں "
کہاں ہے وہَ" بہرام نے… بے تابی سے پوچھا تو ریہا کو اپنی بہن پر شدید افسوس ہوا…
انھوں نے اپنی جوب ریجوائن کر لی ہے رات لیٹ اتی ہیں صبح جلدی چلی جاتی ہیں"اسنے جواب دیا.. تو بہرام کے جبڑے تن گئے..
کہاں ہے اسکا افس" اسنے پوچھا تو ریہا نے اسے ایڈریس سمھجایا..
بس بہت ہو چکی تھی…
بہرام کو عابیر پر شدید غصہ.. ا رہا تھا…
وہ لڑکی حد سے زیادہ بڑھ رہی تھی صرف.. اپنی ضد اور جنون میں…
بہرام.. انھیں سوچوں میں گھیرہ.. دوبارہ گاڑی کیطرف بڑھا… اور ریہا کے بتائے گئے پتے کی جانب.چلا گیا….
اونچی عمارت کے سامبے گاڑی روک کر.. اسنے اندر قدم رکھا تو اسے سامنے وہ لڑکا نظر ایا… جو اکثر اسے کنفرنس میں بھی اور دوسرہ عابیر کے ساتھ بھی اکثر نظر اتا تھا.. جبکہ واصف بھی اسے پہچان گیا…
بہرام نے اسکی آنکھوں میں شناسائ دیکھ کر… اسکیطرف ہی قدم بڑھائے..
تو واصف کے اطلاع پر اسکا خون کھول گیا…
کب سے چل رہا ہے یہ سب "اسنے دانت بھینچ کر پوچھا..
چار پانچ دن سے…." وہ.. بتا کر افسوس سے اسکیطرف دیکھنے لگا.. جبکہ بہرام پلٹ گیا..
چینل کے اونر… کے بیٹے کے ساتھ ابھی کچھ ہی دنوں سے عابیر کے ماراسم بڑھ رہے تھے..
اور یہ ہی بات واصف نے.. اسکو بتائ اور یہ بھی کہ وہ ابھی بھی.. اسکے ساتھ لنچ پر گئ ہوئ ہے…
بہرام.. کو.. محسوس ہو رہا تھا.. یہ لڑکی جلد ہی اسکے دماغ کو مفلوج کر دے گی.. وہاں حویلی میں جہاں اسکی.. شادی کی تیاریاں ہو رہیں تھیں.. کل اسکا نکاح تھا…
ارمیش کے ساتھ اور وہ صرف ایک اس کے تحت کے شاید کچھ.. تو عابیر کا دل اسکی جانب سے نرم ہوا ہو.. اسکیطرف لپکا تھا.. جبکہ.. وہاں تو.. اور بھی برے حالات ہو چکے تھے.. وہ ریسٹورنٹ میں ایا.. تو سامنے ٹیبل پر ہی وہ کسی لڑکے کے ساتھ مسکراتی.. ہنستی نظر ائ…
اسکے ماتھے پر بلوں میں شدید اضافہ ہوا…
لاکھ چااہت.. کے باوھود کبھی وہ اسکے پاس ہنسی تک نہیں اور یہاں.. وہ کتنی خوش لگ رہء تھی.. اسکے اندر کا عاشق جیسے دم توڑ رہا تھا… وہ لڑکا. اسے کچھ دیکھا رہا تھا شاید.. تبھی.. وہ.. اشارہ کرتی اور بھی ہنسنے لگی..
بہرام…. نے مٹھیاں بھینچی… اور… بنا لحاظ کے وہ پل میں اس لڑکے پر ایسا.. پڑا.. کہ… وہ.. ریسٹورنٹ میں ابھرنے والی… آوازوں پر بھی توجہ نہ دے سکا.. وہ بری طرح اس لڑکے کو پیٹ رہا تھا. جبکہ عابیر کے.. ہاتھ کے.. مکے اسے اپنی کمر پر محسوس ہوا. اور کسی جلاد کی طرح اسکو دھکا دے گیا…
تم اس قابل تھی ہی نہیں.. "وہ دھاڑا جبکہ پھر اس لڑکے کو پنچ مارا…
پلیز سر… میرے ہوٹل کی ریپوٹیشن خراب ہو رہی ہے.. پلیز" منیجر نے.. بہران کو ققابو کرنا چاہا مگر وہ.. اسے جھٹک گیا…
میرے نکاح میں ہو تم ازاد نہیں کیا میں نے تمھیں جو تم… یوں پھیرو گی سب کے ساتھ"وہ.. عابیر کو جھنجھوڑ کر چیخا…
جبکہ عابیر.. کا دماغ اسقدر گھوما.. کہ. وہ بہرام کے منہ پر وہاں بھرے مجمے میں تھپڑ لگا گئ..
جب میں تمھارے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو کیوں.. کتوں کی طرح پیچھے پڑ چکے ہو میرے" وہ.. زور سے چینخی…
سمھجتے کیا ہو اپنے اپ کو… تم جو مرضی کرتے پھیرو.. اچانک اتنے نیک ہو گئے.. کہ..
شیٹ اپ
. شیٹ اپ" عابیر کو لگا کہ اسکا جبڑا اج ٹوٹ جائے گا…
چلو "وہ.. اسکا ہاتھ.. اپنی گرفت میں جکڑتا.. وہاں سے لے کر نکلا جبکہ عابیر.. نے اسسے خود کو چھڑوانے کی ہر ممکن کوشش کی جو.. ناکام ہی رہی.. بہرام.. اسے ایک بار پھر اسکی مرضی کے بغیر اپنے ساتھ لے جا رہا تھا..
چھوڑو مجھے.. چھڑو بہرام.." عابیر گاڑی میں بیٹھنے کے لیے بلکل تیار نہیں تھی…
جبکہ وہ اسے زبردستی گاڑی میں اسے دھکیل رہا تھا..
اگر تم نے مجھ سے ک ھی محبت بھی کی ہے تو تمھیں اس محبت کی قسم… چھوڑ دو مجھے جینے دو مجھے" اسنے جیسے ایک پیترا پھینکا.. اور بہرام کے ہاتھ کی گرفت اسکے ہاتھ پر چھٹتی چلی گئ….
عابیر… نے اسے پیچھے دھکا دیا.. اور خود گاڑی سے نکلی….
دونوں کے سانس بری طرح پھول رہے تھے…
تم.. میری نفرت.. کے لائق ہو صرف. " عابءر نے اسکا گریبان جکڑا…
اس حویلی اس قید خانے میں دوبارہ میں کبھی نہیں جاو گی اور تم سے بھی جلد ازاد ہو جاو گی… یاد رکھنا.. تم نے ایک غلط انتخاب کیا تھا… عابیر غریب خاندان کی ضرور تھی مگر عام تام نہیں تھی جس.. کو تم رسوا کر دءتے اور وہ.. تمھارے ساتھ زندگی گزتے. تمھاری اس دو ٹکے کی محبت کی قید میں ماے فٹ…" وہ نفرت سے پھنکاری اور اسے عہاں چھوڑ کر. دوبارہ ہوٹل کیطرف دوڑی جہاں.. اب ایمبولینس بایر ا کھڑی ہوئ تھی..
شہر کی تپتی دھوپ نے.. بہرام کو اچھے سے جھلسا دیا تھا..
اخری کوشش… بھی.. اسکی دم توڑ گئ.. تھی…
اور محبت جو پہلے ہی آہیں بھر رہی تھی.. وہ نہیں جانتا تھا.. وہ مر گئ… یہ… ابھی بھی سسک رہی ہے… وہ.. یوں ہی سامنے ہوٹل کیطرف دیکھتا رہا…
اس لڑکے کو.. سٹریچر پر ڈال کر.. باہر لایا گیا…
تو عابیر اسکے ساتھ تھی.. جبکہ کان پر فون لگا تھا وہ کس سے بات کر رہی تھی اسے پتہ نہیں تھا…
مگر… وہ اس انجان لڑکے کے ساتھ.. تھی..
جبکہ.. وہ تنہا کھڑا تھا…
اسکو ہوش ہی نہیں تھی.. سامنے سے ایمبولینس جا چکی تھی لوگ ایک بار پھر.. اپنی اپنی زندگیوں میں مگن ہو گیے تو یہ ہوتی ہے زندگی..
وہ.. بھی پلٹا.. اور گاڑی میں بیٹھ کر.. شاید ان راستوں سے پمیسہ کے لیے دور نکل گیا…
……………… .
تو تم نے قسم کھا لی کہ.. تم حویلی دوبارہ نہیں جاو گے "وہ ایک بار پھر اسکے سر پر سوار تھی جبکہ.. حیدر حور کے رویوں سے.. کافی دکھی تھا.. مگر ٹابت نہیں کرنا چاہتا تھا.. وہ اخبار دیکھ رہا تھا.. جبکہ اسکے تمام دوست اسکا ساتھ چھوڑ چکے تھے کوئ اسے اپنی کمپنی یہ کام میں بھی حصہ دار نہیں بنانا چاہتا.. تھا…
وہ لوگوں کے اسقدر بدل جانے سے.. زیادہ حور کے بدلنے پر بکھرا تھا..
حور ہم مصروف ہیں.. "اسنے کہا.
حیدر صاحب…کنگلے ہیں اپ… یہ ہم ہم.. سیٹھوں پر جچتا ہے…
جو کسی کام کے نہیں ان پر یہ سب نہیں جچتا"
وہ اسکے.. بازو کو.. سختی سے پکر کر طنز کرتی بولی..
حور تمیز سے رہو تم "" حیدر کو غصہ ایا…
تمیز… ہاہا… تمھارے جیسے.. مرد بس.. اپنی گزری ہوئ… دولت.. کی عادتیں نہی بھولتے.
اور تم کس قدر بیوقوف ہو.. کس قدر.
اچھی بھلی دولت جائیداد چھوڑ کر اس.. فلیٹ پر پڑے ہو… "وہ دانت کچکاتی بولی…
حیدر مدھم سا مسکرایا..
مطلب پیسے کی جیت ہے.."
لو… اتنے بڑے ہونے کے بعد بھی تمھیں پتا نہیں لگا… "
وہ پھر سے طنز کرنے لگی…
عقل مندی یہ ہی ہے کہ.. تم.. دوبارہ حویلی جاو.. اور پاوں واو پکڑو سب کے"
اسنے پھر سے مشورہ دیا..
ہم نہیں جائیں گے" اسنے پھر سے کہا اور اٹھنے لگا..
مجھے لگ رہا ہے محتشم سے.. ڈائیورس لے کر میں نے غلط ہی کیا.. کم از کم وہ تمھاری طرح کنگلا نہیں تھا"وہ چیخی..
تم ایک سائیکو لڑکی ہو.. مجھے سمھجہ نہیں ا رہا ہمیں یہ احساس اتنی دیر سے کیوں ہوا… "حیدر پلٹ کر اسے گھورتا ہوا بولا..
اووو تو محبت وحبت سب ختم تمھارے اندر سے ہاں… اب میں سائیکو ہو گئوہ غصے سے اٹھی..
ہم تم سے بات نہیں کرنا چاہتے "اسنے ناگواریت سے کہا.. تو حور.. نے اسکے گزرتے ہی واس اٹھا کر.. مارا…
میں بتا رہی ہوں.. اگر تم نہ گئے تو میں چلی جاو گی حویلی.. بیٹھے رہو یہیں" اسنے چیخ کر کہا.. جبکہ ھیدر نے اندر سر تھاما تھا… اپنا..
وہ تو کبھی اس قسم کی زہنی اذیت کا عادی نہیں رہا تھا…
ایسا کیوں ہو رہا تھا…
اور پھر کسی کی سسکیاں… اسکے کانوں میں گونجی اسکے دل نے پہلی بار خوف محسوس کیا.. اور وہ جھٹک گیا..
نہیں.. ایسا کچھ نہیں ہے"اسنے دل کی اواز کو دبایا…
……………. …….
وہ حویلی پہنچا.. تو حویلی کو باہر سے دیکھنے لگا…
لائٹوں اور پھولوں سے سجی یہ حویلی بہت.. پیاری لگ رہی تھی.. وہ.. ا ندر ایا. اور پورچ میں گاڑی روکی تو.. سامنے اسے وہ ملازم نظر ایا… جسے اسنے عابیر کے لیے کتنا پیٹا تھا…
اسے لگا یہ اس شخص کی ہی بدعائیں تھی شاید..
وہ ملازم اسکو دیکھ کر وہاں سے ایکدم غائب ہو گیا.. جبکہ بہرام اندر ا گیا..
اسکا دل و دماغ سن ہو چکا تھا…
وہ اپنے کمرے کیطرف جانے لگا کہ.. داجی نے روک لیا..
خان. بات سنو یار… یہ دیکھو.. ہم چاہتے ہیں ارمیش کا لہنگا تم خود پسند کرو… اس لڑکے کو دیکھو ہمرای چھوٹ کا کتنا فائدہ اٹھا رہا ہے…انوشے خانم کے لیے کیسے چیزیں پسبد کر رہا ہے"وہ خوشگواریت سے طولے تو معاویہ ہنسنے لگا..
اور یقین مانو خان احمر سائیں تو کسی نوخیز دولہن کی طرح شرما رہے ہیں جبکہ انکی بیگم محترم نے حویلی سر پر اٹھائ ہوئ ہے…
کہ وہ ہر چیز اپنی پسند کی لے گی… "
داجی نے اپنی نام نہاد پابندیاں ہٹا دیں تھیں جبکہ جلد ہی شادی کے بعد زنان خانے کی جالیاں بھی ہٹا دی جاتیں…
داجی نے جب یہ کہا تو زنان خانے کی خواتین نے انکار کر دیا کہ وہ یہ نہیں چاہتی اور داجی اس بات سے کافی خوش تھے ..
بہرام نے دونوں کیطرف دیکھا…
اور.. اس کاپی کیطرف دیکھا جس میں کافی سارے ڈیزائنر لہنگے تھے…
ارمیش خانم سے پسند کروایں"اسنے.. کہا.. تو داجی.. اور معاویہ دونوں اسکی طرف دیکھنے لگے…
ٹھیک یے برو تیری شیروانی پسند کرائیں گے اس سے" معاویہ نے ماحول کی کثافت کم کرنا چاہی..
بہرام کچھ نہیں بولا…
ٹھیک ہے "داجی نے کہا.. اور اسکے پاس سے ہٹ گئے…
جبکہ… بہرام اندر اپنے روم کیطرف چلا گیا..
اسک ادل کیا.. دھاڑے مار مار کے رو دے مگر رونے سے خود کو بعض ہی رکھا.. وہ کمزور نہیں تھا..
اسنے چند لمہے سوچا اور.. بوتل نکال کر اپنا شغل جارہ کر دیا…
جبکہ کمرے میں بیت تیز اواز میں میوزک چل رہا تھا…
اسے گھبراہٹ ہوئ تو بلکونی میں ا گیا…
میوزک کی اوزا.. حالانکہ اسکے سر میں بج رہی تھی مگر وہ اندر کے شور سے بچنا چاہتا تھا…
تبھی اسنے.. اواز کم نہیں کی کچھ دیر اسمان کی جانب دیکھتا رہا…
اور… پھر اسکی نظر حویلی کے پیچھے بنے باغ پر گئ.. جس کا بس تھوڑا سا حصہ ہی نظر اتا.. تھا…. وہاں سفید چادر میں کھڑی.. لڑکی کو وہ پہچان چکا تھا.. اسے شکل تو نظر نہیں ا رہی تھی مگر وہ جس طرح اسمان کو دیکھ رہی تھی اسے معلوم ہو گیا وہ ارمیش ہی ہے..
ارمیش…. بہرام. "اسنے لبوں سے دنوں کا نام لیا…
دماغ جیسے.. پاگل ہونے کے قریب تھا..
وہ ا0نی برداشت پر حیران تھا..
وہ بلکونی سے ہٹ گیا…
کمرے میر ایا تو ساری لائٹس بھجا کر. اسنے بوتل لبوں سے لاگائ.. اور صوفے پر اڑھا تیچھا لیٹ گیا….
……………
سرخ لباس پہن کر وہ واشروم سے باہر ائ تو وہاں بیٹھی دو اور دلہنیں بھی اسکے روپ سے جیسے.. حیران رہ گئیں…
جب وہ پہلے دلہن بنی تھی تو خوف زدہ تھی.. اور اسکے ارمان.. اس خوف.. نے ایسے جکڑے تھے. کہ وہ ساری رات.. بس پیٹتی رہی…
اور اج دلہن بنی تو.. اسے.. لگ رہا تھا. وہ سوچنے سمھجنے کی صلاحیت نہیں رکھتی..
ہزار بار سب نے اس سے پوچھا کہ داجی نے اسے ایسا کیا کہا ہے…
مگر وہ کیس کو بھی نہیں بتانا چاہتی تجی اور نہ ہی بتایا..
ارمیش بہت خوبصورت لگ رہی ہو…
جی اپی اپ بہت پیاری لگ رہیں ہیں..
اپ تو. ابھی سے بہت پیاری لگ رہی ہیں ایسا لگ رہا کہ میکپ کی ضرورت ہی نہیں…
بہت ساری باتیں اسے اپنے کانوں میں سسنائ دے رہیں تھیں….
وہ ائینے کے سامنے بیٹھ گئ…
ایک بار پھر قسمت.. اسے.. ایک.. ادھورے شخص سے جوڑ رہی تھی اور اسے یقین تھا وہ حیدر سے زیادہ.. شدت پسند انسان ہے..
وہ خود کو… کوسوں. اور.. مار پیٹ کے لیے زہنی طور پر تیار کر رہی تھی
. مگر.. دل ہمیشہ سے جیسے.. اس مار پیٹ سے در جاتا تھا…
مگر چہرہ بغیر تاثر رکھے.. وہ… چپ چاپ رہی.. انوشے اور نین.. دنوں ہی.. اس سے باتیں کر رہیں تھیں جبکہ وہ کوئ جواب نہیں دے رہی تھی.. کیا یہ اپکے لیے مشکل نہیں ہوتا.. کہ اپ یہ تصور کریں اپ دوسری بار دولہن بنے گے وہ بھی کسی اور شخص کے لیے….
وہ بس اسی تکلیف کا شکار تھی مگر ایسا نہیں تھا.. اسے حیدر کا خیال بھی ایا.. تھا.. اس شخص سے جتنی نفرت کرتی کم کرتی….
وہ اور اسکی بیوی اسکے بچے کے قاتل تھے….
چند گھنٹوں میں وہ تینوں تیار ہو گئیں ج کہ تینوں ہی ایک سے بڑھ کر ایک لگ رہی تھیں مگر ارمیش.. پر جو روپ تھا.. اسکی کوی جوڑ نہیں تھی…
انوشے تو کافی ڈری ہوئ تھی.. نا جانے معاویہ.. کیسا ہوا…
جبکہ نین… کا تو میٹر گھوم رہا تھا.. ہان پہلے وہ اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی.. مگر وقت کے ساتھ ساتھ وہ.. اسے.. اچھا لگنے لگا تھا…. اور جہاں معاویہ. انوشے کے لیے سب خرید رہا تھا.. وہاں وہ پتہ نہیں کہاں تھا…
چھپ کر بیٹھا تھا ساری شاپینگ اسے خود کرنی پڑی تھی اور.. ہمیشہ کیطرح اسے اسپر کافی سے زیادہ غصہ تھا…
جبکہ ارمیش.. کچھ نہیں سوچ رہی تھی چارو ططرف صرف سناٹا تھا..
اور انے والے وقت کا خوف….
ارمیش تم ہم دونوں سے زیادہ پیاری لگ رہی ہو"نین نے جان بوجھ کر اسکو چھیڑہ.. اسنے.. کچھ نہیں کہا. تو انوشے.. کو ہنسی ائ..
تمگارے اندر کبھی شکر نہیں اتا اب جو تمھاری شکل یے ویسی ہی دیکھو گی نہ تم… "
اسنے کہا. تو نین نے منہ بنایا..
اگر اس.. بے بی ڈول احمر نے میرء تعارف نہ کی تو "وہ سوچ میں پڑی جبکہ انوشے کو خوب ہنسی ائ..
اف کیسا نام رکھا ہے تم نے احمر بھائ کا.. "
اب وہ ایسا ہی ہے.. میں کیا کرو" نین نے.. شانے اچکائے.. اور دونوں ہی ہنس پڑی…
ارمیش کی سنجیدگی دیکھ کر.. وہ دونوں ایکدم خاموش ہوئ تھیں..
ارمیش" نین نے اسکا شانا تھامہ..
نین میں کوئ بات نہیں کرنا چاہتی.." اسنے کہا.. ابھی وہ کچھ کہتی ہی کہ.. بی جان سمیت سب خواتین اندر ا گئیں…
اور ایک اور بار پھر وہ سب سے اپنی تعریفیں سننے لگی..
بی جان یہ کوئ بات نہیں تھی"نین نے آنکھیں گھمائ..
ارے میرا خانم اج تو.. بڑی ہی پیاری لگ رہی ہے بس اپنی چونچ بند رکھنا "بی جان کی بات پر جہاں اسنے منہ بنایا وہاں سب ہنس دیے سوائے ارمیش کے..
………………
اہ شیٹ.. اج اسکی شادی ہے… "معاویہ نے بلاخر منیب کے ساتھ مل کر اسکا کمرہ کھول ہی لیا.. کمرے میں شراب کی خوشبو سے اسکو ابکائ ائ…
اور… اسنے بلکنی.. کھول دی وہ صوفے پر الٹا پڑا تھا..
اوو بھائ تیری شادی تھی اج.." معاویہ نے اسکو.. جھنجھوڑا.. جبکہ منیب جلدی جلدی کمرہ صاف کر رہا تھا
باہر مہمان بھر رہے ہیں …
اور یہ نواب نیندیں پوری کر رہا ہے" معاویہ کو غصی ایا.. تبھی اسکو ایک کک لگائ تو بہرام صوفے سے نیچے گیرہ.. اور ہڑبڑا کر اٹھا…
کیا منحوست ہے "وہ دھاڑا…
سالے منحوس تیری شادی تھی اج.. "اسنے کہااور ہاتھ کی مدد سے اسے اٹھایا…
بہرام نے ہاتھ جھٹکا..
لنگڑا نہیں ہوں" اسنے ناگواریت سے کہا..
تو دولہے میاں.. جا کر لباس بھی بدل لیں" معاویہ نے اسے شیروانی دی..
یہ نہیں پہنی مجھے "اسنے.. انہار کیا. اور اپنی الماری کیطرف بڑھا اسکو سر میں شدید درد محسوس ہو رہا تھا…
تبھی قدم بھی لڑکھڑا رہے تھے.. اپنی وارڈروپ سے.. کالا لباس نکال کر وہ. واشروم میں بند ہو گیا. اور یوں ہی کپڑوں سمیت شاور ک6 نیچے جا کھڑا ہوا..
اپنے اندر کی اگ کو بجھاتا تبھی وہ.. کچھ سوچنے سمھجنے قابل ہوتا.. ورنہ… اسے خود بھی اپنی حرکتوں کا نادازا نہیں تھا…
معاویہ نے شیرونی کو اور پھر اسکے سیاہ جوڑے کو دیکھا.. تو عابیر کا خو. جرنے کا دل کیا..
ایک ہنستے کھیلتے انسان کو ختم کر دیا تم نے "اسنے سوچا…
اور باہر نکل گیا.. جبکہ منیب.. کو اردر دے چکا تھا.. کہ اسکے باہر جاتے ہی کمرے کو.. سجا دیا جائے..
…………..
نکاح نامے پر دستک کرتے دو دل تھے.. جن کی کوئ دھڑکن نہیں تھی جبکہ… چار دل تھے جو بڑی مسرور لہر پر دھڑکے تھے…
دعوت ایسی تھی کہ…. لوگوں کی آنکھیں چندھیا کر رہ گئیں تھیں.. داجی کے قہقے.. یاور خان عظیم خان.. جواد خان… سمیت باقی سب بھی اسطرح خوش تھے جیسے کوئ جنگ جیت لی گئ ہو..
معاویہ احمر اور بہرام.. الگ الگ صوفوں پر بیٹجے تھے.. معاویہ اور احمر.. بھی بات بات پر ہنس رہے تھے جبکہ بہرام اج سے پہلے اتنا سنجیدہ کبھی دیکھائ نہیں دیا..
خوشی ہوئ بیٹا.. اپلی شادی پر"
صفدر صاحب.. نے کہا. تو اسنے انکے بڑھے ہاتھ کو تھام لیا..
ہونی تو نہیں چاہیے تھی جبکہ اپ اپنی بیٹی.. کی شادی بھی مجھ سے کرانا چاہتے تھے"
تڑاخ دے کر انکے منہ ہر بات مار کر وہ پھر سے سنجیدہ ہو کر بیٹھ گیا جبکہ صفدر صاحب بل کہا کر رہ گئے…
معاویہ نے بمشکل اپنا قہقہ دبایا تھا.. جبکہ احمر اپنی جگہ سے اٹھ کر صفدر صاحب کو پروٹوکول دینے لگا…
سالے… اس بلاوجہ کے پنگے کی وجہ" معاویہ نے.. پوچھا تو.. بہرام نے اسکیطرف دیکھا..
میں پوچھو بلواجہ ہنسنے کی وجہ.." اسنے سنجیدگی سے پوچھا..
بھئ میں اپنی شادی سے بے حد خوش ہوں جتنا ہنسو اتنا کم"اسنے بڑے فخر سے کہا تو.. بہرام نے روخ موڑ… لیا…
میں جا رہا ہوں… داجی کو بتا دینا" اسنے اٹھتے ہوئے کہا..
بہرام مگر" معاویہ نے روکنا چاہا تو وہ.. ہاتھ ہلاتا وہاں سے نکل گیا… جبکہ معاویہ نے منہ بھر کر گالی دی تھی اسے.. اسنے داجی کو جا کر بتایا… تو داجی نے سر ہلا دیا.. اب تو وہ.. ہو گیا تھا جو وہ چاہتے تھے…
……………..
جلد ہی سب دلہنوں کو انکے کمروں میں بیٹھایا گیا تو.. اب کہ دل کی دھڑکنوں کی گونج.. اتنی شدید تھی کہ وہ چارو سہم ہی گئے کہیں کوئ اور نہ سن لے…
معاویہ کے دانت تو اج جیسے.. باہر کا پتہ لے کر ائے تھےا ندر جانے کا نام نہیں لے تہے تھے..
اج وہ اسکے کمرے میں تھی وہ.. جو بہت کم عرصے میں اسکے دل میں سما گئ تھی…
اپنے کمرے میں اسکی موجودگی پر وہ.. مسرور سا تھا…
جبکہ اج معاویی جے اور بہرام کے بھی دستوں نے اسے جکڑ لیا تھا.. اسنے بیرام کو رج رج کر گالیاں دءں ہاں شاید وہ اچھے وقت پر بچ کر نکل گیا تھا.. جبکہ وہ… پھنس کر رہ گیا تھا..
یار داجی بچاو مجھے… سردار ہوں اب میں اور میری کوئ عزت نہیں ہے"معاویہ کی دھوائ پر.. قہقہوں کی گونھ دیکھنے والی.. تھی..
لڑکوں اس بے تاب کو چھوڑنا مت" داجی نے کہا تو اسکا تو منہ کھل گیا…
اسنے… باپ کی طرف دیکھا تو انھوں نے ہی کچھ مدد کی تو وہ اڑتا ہوا اب اپنے کمرے کیطرف ایا.. ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر.. اسنے. اپنی مسکراہٹ روکنے کی کوشش کی.. اخر تنگ کیے بغیر سکون کہاں ملنا تھا.. سنجیدگی سے.. وہ اندر داخل ہوا.. تو انشے.. سامنے دولہناپے کے روپ میں اسکے کمرے کو چار چند لگا رہی تھی..
دل میں ماشاءاللہ کہہ کر.. وہ.. اپنی محویت.. پر خود کو ٹوکتا… اگے بڑھا.. اور.. اسکی جانب دیکھنے لگا.. وہ حد سے زیادہ پیاری لگ رہی تھی..
لڑکی شرم ورم بھلا دی ہے تم نے"وہ سخت لہجے میں بولا.. تو انوشے نے.. اپنی.. قاتل. نگاہوں سے اسکیطرف دیکھا.. معاویہ کے فل نے ایک بیٹ مس کی..
سلام کون کرے گا.. تمھارے شوہر ہونے کے ساتھ ساتھ. ہم کالام. کے سرادر بھی ہیں.. اور.. اس بد تمیزی پر کافی سخت سزا دے سکتے ہیں تمھیں" وہ… اسکے سرخ دوپٹے کی جانب دیکھتے ہوئے بول جو پینوں میں جکڑا ہوا تھا….
انوشے کے ہاتھ بری طرح کانپنے لگے…
وہ میں.. اسلام و علیکم.."
اسنے اٹکتے ہوئے کہا.. تو معاویہ نے.. ہلکا سا جھک کر.. اسکے گال پر اپنے ہاتھ کی پشت پھیری…
وسلام… زندگی… "
انوشے کی کپکپاہٹ.. اسکے وجود کو مسرور کر گئ.. وہ اسکے سامنے بیٹھ.. کر اسکی مخروطی انگلیوں کو اپنے ہاتھ کی گرفت میں لے گیا…
کچھ بولو گی نہیں "اسکی خاموشی کو محسوس کر کے اسنے کہا تو انوشے جو شرم سے دھوری ہو رہی تھی کچھ بھی بول نہ سکی…
معاویہ نے اسکی تھوڑی پکڑ کر اسکا چہرہ اونچا کیا..
اسکا دل بری طرح بہکنے لگا..
میری زندگی میں تمھارے انے کے بعد کوئ نہیں" اسنے.. اسکے چہرے کے قریب ہوتے ہوئے بتایا…
انوشے.. کی جھکی پلکیں بند ہو گئیں…
جبکہ معاویہ نے اسکی نتھ کو.. پیار کیا…
انوشے کا چہرہ سرخ ہو گیا…
اور وہ عابیر والا معملہ…"
اپ اس بارے میں مجھے صفائ مت دیں مجھے اپ پر یقین ہے"اسنے اسے بیچ میں ہی ٹوک کر.. مدھم اواز میں کہا تو وہ مسکرا دیا…
اسکا ہاتھ تھام لیا….
جبکہ دونوں ہنائ ہتھیلیوں کو کھول کر اسپر پیار کیا..
انوشے… شرما سی گئ…
معاویہ.. کھڑا ہوا اور گھوم کر اسکے.. برابر… لیٹ گیا… اور فرست سے اسکو دیکھنے لگا.. جبکہ وہ انگلیاں چٹخا رہی تھی اور کافی کنفیوز بھی تھی…
اب "اسنے اسکے بازو کو کھینچ کر.. اپنے قریب کیا…
انوشے کسی موم کی گڑیا کی مانند لگ رہی تھی…
اہو ایک منٹ… یہ معاویہ کی نائٹ ہے.. یہ شرمانا مسکرانا نہیں چلے گا" وہ ایکدم اٹھتا بے باکی سے بولا… انوشے.. تو پریشان ہی ہو گئ…
اممم کچھ میوزک اور ڈینس ہونا چاہیے" اسنے سوچتے ہوئے کہا…
معاویہ اپ یہ کیا کہہ رہے ہیں "انوشے روہانسی ہی ہو گئ… اسے تو.. بلکل اندازا نہیں تھا وہ کیا کر رہا تھا…
لو اس میں کیا بڑی بات ہے دیکھو انوشے مجھے.. ڈانس پارٹیز منی سیکرٹس..
معاویہ"انوشے.. چیخے کے وہ دل کھول کر ہنسا.. اور اسکو بانہوں میں جکڑ.. لیا…
اسکے نرم لمس پر انوشے اسکے ساتھ سراھ بہک رہی تھی جبکہ معاویہ.. انوشے پر اپنی محبت کی بارشیں برسا رہا تھا…
کمرے میں محبت بھری خاموشی.. ان دونوں کے ملن کی نشانی تھی…. ….
……………
وہ کمرے میں ایا… تو.. نین آئینے کے سامنے کھڑی تھی..
اہ احمر… تیرا کیا ہو گا یار"
احمر نے کہا اور دروازہ بند کیا..
نہ شرمانا نہ مسکرانا… " اسنے سوچا… اور.. اگے بڑھ کر.. اسکے سامنے ایا جو شیشے میں اپنا عکس دیکھ رہی تھی…
اسلام و علیکم "اسنے خود ہی کہا اس سے امید بھی نہیں تھی..
بات مت کرو مجھ سے اگر میں تم سے شادی کر کے تم پر احسان کر ہی رہی تھی تو تم.. اپنے.. حجرے سے باہر نکل کر میری خواہشیں پوری نہیں کر سکتے تھے" وہ اسکو دھکا دیتی بولی…
نین اپ جانتی ہیں.. میں "احمر نے صفائ دینا چاہیے..
ہاں میں جانتی ہوں.. سب تم چوہے ہو"وہ غصے سے بولی..
احمر نے منہ بنایا…
اب اسی بھی بات نہیں.. میں معاویہ کیطرح نہیں ہوں شاید" اسنے کہا.. تو… نین نے کمر پر ہاتھ رکھا.. سرخ لہنگے میں وہ باکمال لگ رہی تھی…
میں میں… مجھ سے بات مت کرو جا رہی ہوں میں "وہ بے بس ہوتی باہر نکلنے لگی کہ احمر نے ایکدم اسکا ہاتھ پکڑا…
اج اپ کہیں نہیں بھاگ سکتیں..
دوسروں کے سامنے نہ سہی.. اس چار دیوری میں. میں ضرور اپکی زبان کو بریکیں لگا سکتا ہوں" وہ مسکرا کر اسکے ہاتھ کو جھٹکا دیتا.. اپنے نزدیک کر گیا کہ.. نین کی پشت اسکے سینے سے لگی.. دونوں کے دل دھڑک اٹھے..
نین اپ مجھ سے نفرت کرتی ہیں" احمر نے گزشتہ باتوں کو یاد کرتے ادکے کان کے اویزے کو چھوتے ہوئے پوچھا.. نین تو اس لمس پر..
ذہنی طور پر بلکل جیسے مفلوج ہو گئ تھی.. کچھ بولا ہی نہیں گیا..
بتائ مجھے میں اپکی مرضی کے خلاف کچھ نہیں کرو گا"
ن… نہیں" اسکے لب پھڑپھڑائے…
احمر.. کے دل جیسے پہلی بار بے حد خوش ہوا…
میں اپکو کبھی.. دوسروں پر نہیں چھوڑو گا… اپنے بازو پر کمایا اپکو کھلاو گا "اسنے.. اسکارخ اپنی جانب کیا…
نین کے اندر کچھ بولنے کی ہمت نہ ہوئ…
مگر یہاں بولنا ضروری تھا…
اگر مجھے یہ پتا نہ ہوتا تو تم سے کبھی شادی نہ کرتی" اسنے.. کہا تو.. احمر مسکرایا…
میری زندگی.. میں انے کا شکریا.. "اسنے اسکی گردن میں ہاتھ ڈال کر.. اسکے گال پر لب رکھے.. نین کی آنکھیں پوری کھل گئیں..
ہیلو میری منہ دیکھائ"اسے اچانک یاد ایا..
صبح لینا" احمر نے اسکا دوپٹہ اتارا..
مگر"اسنے احتجاج کرنا چاہا.. مگر احمر نے.. اسکے.. لبوں پر قفل لگا دیا..
نین جیسے پل میں اسکے وش میں ائ تھی.. جبکہ احمرا ج اسپر اپنی محبت کی تمام حدیں ثابت کر دینا چاہتاتھا……
وہ کمرے میں ایا تو حور کہیں نہیں دیکھی اسے حیرت ہوئ اتنی رات کو اسے اپنی جگہ پر ہونا چاہیے تھا پھر وہ کہاں تھی..
اسے نہیں لگتا تھا اسکے بازو میں ہمت نہیں کہ وہ کما نہیں سکتا.. مگر دنیا تو جیسے اسے توڑ دینا چاہتی تھی..
اسنے اپنی اوقات سے کافی گیر کر.. نوکری تلاش کرنا چاہی مگر وہی. کہیں اسکی تعلیم بہت زیادہ تھی.. تو کہیں… ویکنسی نہیں تھی.. جاب ڈھنڈنا اسے اسوقت دنیا کا بہت مشکل کام لگا…
اس کڑے وقت میں جہاں وہ چاہتا تھا کہ حور اسکو سمیٹے اسکی دل جوئ کرے وہیں وہ لڑکی غائب تھی…
جب اسے دل جوئ کی ضرورت بھی نہیں ہوتی تھی تب بھی ارمیش اسکے لیے حاضر ہوتی تھی…
اسے بس خیال ایا… جس میں وہ اچھا خاصا محو ہو گیا…
اور کچھ دیر بعد جب احساس ہوا تو… اسے اندازا ہوا.. اسکے دل نے.. دو لفظ بولے..
جن پر وہ اپنے دل کو شدت سے ڈپٹ گیا..
حور تو اسکی محبت تھی….
حور ہی تو سب تھی اسنے اسے پا لیا..
شاید وہ بس غصے میں ہے. وہ اسے منا لے گا.. اسنے سوچا.. اور اداس دل کو.. فریش کرنا چاہا.. مگر حور کو پورے گھر میں ڈھنڈنے کے باوجود وہ اسے کہیں نہ ملی..
اب اسے پریشانی ہونے لگی..
تبھی وہ دوبارہ کمرے میں ایا… تو سائیڈ ٹیبل پر اسکا…
موبائل دیکھا.. اسنے موبائل کی جانب دیکھا..
اپنا موبائل بھی چھوڑ گئ تو گئ کہاں..
اسکے ماتھے پر بل دلے اور اسنے.. موبائل کے نیچے پڑے… پیپر پر نظر ڈالی…
وہ حور کی تحریر تھی جسے پڑھ کر.. حیدر کے جبڑے تنے اور اسنے اپنا سر تھام لیا..
اسقدر باغی تھی وہ لڑکی.. اسکا دل کیا.. اج حور کو اچھے سے.. بتا دے کہ… وہ ہے کیا.. مگر وہ ہوتی تو بتاتا..
میں حویلی جا رہی ہوں… کیونکہ مجھے.. غربت منظور نہیں.. تم سے شادی کر کے بھلے میں نے غلطی کر لی ہو.. مگر اسکو سدھارنا مجھے خوب اتا ہے.. "یہ لائنیں اسنے کئ بار پڑھیں.. اور… گاڑی کی چابی لے کر وہ.. فورن وہاں سے کالام کے لیے نکلا تھا یہ تو شکر تھا وہ لڑکی گاڑی نہیں لے گئ تھی اب وہ کس کے ساتھ گئتھی وہ نہیں جانتا تھامگر حور کے دماغ ٹھکانے وہ اج اچھے سے لگانے والا تھا…
…………
.. حویلی کی چمک دھمک دیکھ کر اسکی آنکھیں پھیلیں تھیں…
دروازہ کھلا ہی تھا جبکہ پوری حویلی جیسے دولہن کیطرح سجی تھی ملازم.. سامان سمیٹ رہے تھے لگ رہا تھا جیسے یہاں کوئ فنکشن ہوا ہو..
یہاں کیا ہوا ہے"اسنے ایک ملازم سے پوچھا
جی… بہرام سائیں معاویہ سائیں اور احمر سائیں کی جی اج شادی تھی اپ کافی دیر سے آئیں" اسنے کہا.. تو حور نے… سر ہلایا…
ہممم انسان ہے یہ.. گدھا.. اتنا سب چھوڑ کر صرف ایہ محبت کے لیے اس… ڈبیا سے فلیٹ پر پڑا ہے… "اسنے سوچا اور اندر کی جانب چل دی….
جی اپ کون.. خان لوگ سو رہے ہیں "داخلی دروازے کے باہر ایک کھڑے گارڈ نے اسے روکا…
حیدر خان کی بیوی ہوں میں… "حور نے برے تفخر سے کہا.. اسے احساس ہوا… کہ… حیدر کا نام اسکے ساتھ جڑنے کے بعد اسکی ریپوٹیشن کتنی بڑھ گئ تھی..
میڈیم… حیدر سائیں کو حویلی سے نکال دیا تھا داجی.. نے تو انکو یہاں انے کی اجازت نہیں اور نہ ہی انکی بیوی کو. تو چلتی پھیرتی نظر او بی بی.." وہ پٹھان کافی سختی سے بولا.. حور کا تو منہ ہی کھل گیا..
تمھیں معلوم ہے.. تم کس سے بات کر رہے ہو" -حور غصے سے بولی..
بی بی سر مت کھاو پہلے ہی دماغ گھوما ہوا ہے… جاو یہاں سے نکلو ہم نہیں جاتا کون حیدر ہے… جب تک بڑے خان کا حکم نہیں ہوتا"وہ ٹکا سا جواب دے کر اسے دھکا دے گیا.. حور پیچھے ہوئ.. جبکہ خفت کا حساس شدید تھا..
ت.. تو بتاو.. اپنے بڑے خان کو حور ائ ہے َ" وہ کچھ ہکلائ…
اہ.. تمھیں سمھجہ نہیں اتا اب کسی بھی ایری گیری کے لیے ہم بڑے خان کو اٹھائے گا… تمھارا دماغ وماغ تو نہیں ہلا ہوا" وہ چیخا تو.. وہ اس سے دور ہو گئ.. وہ ڈر گئ تھی مطلب کالام کی سردی میں وہ رات کہاں گزارے گی.. کہاں جائے گی.. اسے سمھجہ نہیں ا رہی تھی..
دیکھو تم… " ابھی وہ بات پوری کرتی کے کریڈائل بجنے لگا…
کون ہے سمندر خان "داجی نے پوچھا.. وہ جاگ رہے تھے جبکہ کھڑکی سے وہ.. سمندر جان کو کسی سے بحث کرتے بھی دیکھ چکے تھے..
جی خان وہ حیدر سائیں کی بیوی ہے "سمندر خان نے کہا.. تو.. داجی کے لب مسکرائے..
جب تک حیدر سائیں خود نہ ا جائیں تب تک یوں ہی کھڑا رکھو "انھوں نے کہا.. تو سمندر خا. نے سر ہلایا…
جبکہ فون بھی رکھ دیا..
ہاں بی بی وہاں جا کر بیٹھ جاو.. حیدر سائیں کے بغیر اندر جانے کی اجازت نہیں "اسنے کہا تو.. حور… نے دانت پیس کر اسکو دیکھا اج سے پہلے اسکی کبھی اتنی بے عزتی نہیں ہوئ تھی…
مگر وہ کر بھی کیا سکتی تھی فون بھی نہیں لائ تھی.. تبھی لون کے سٹیپ پر بیٹھ کر وہ حیدر کے انے کی دعا کرنے لگی….
تقریبا ایک گھنٹے وہ باہر سلگتی رہی…
جبکہ گھنٹے بعد اسکی دعا قبول ہوئ.. اور حیدر کی پراڈو اندر داخل ہوئ تو حور کو جیسے سکون سا ہوا…
وہ دوڑ کر اس تک پینچی ھیدر گاڑی سے نکلا.. اور حور.. کے منہ پر ابھی وہ رکھتا ہی کہ اسے وہ دن یاد ا گیا.. ہاں یقیناً وہ ارمیش نہیں تھی کہ برداشت کر لیتی….
اسنے اپنے ہاتھ کو قابو کر کے سختی سے اسکا ہاتھ جکڑا..
کیوں ائ ہو یہاں "وہ غصے سے بولا…
بس کرو حیدر… ہمارا حق ہے. یہاں انا" وہ بھی غصے سے بولی…
چلو اندر "اسنےا سکا ہاتھ پکر کر کھینچا…
کبھی نہیں چلو گھر اپنے یہاں ہمارے لیے کچھ بھی نہیں ہے" اسنے کہا تو حور.. کا تو دماع گھوم گیا.. اتنے قریب ا کر وہ اس دولت شہرت سے دور ہو جائے کبھی نہیں…
حیدر… میری بات سنو میں یہاں سے کہیں نہیں جاو گی اور اگر تم نے زبدستی کی تو.. میں وہ کرو گی کہ تم یاد رکھو گے" وہ چیخی.. تبھی.. حیدر اسکو جواب دیتا کہ داجی.. کو اتا دیکھ کر اسنے روخ موڑ لیا.
کیا وہ بے بس ہو گیا تھا کہ ایک لڑکی کو نہیں سمبھال پا رہا تھا…
کیسے ہو برخردار" داجی کا لہجہ اسے مزاق اڑاتا ہوا لگا…
مگر اسنے کوئ جواب نہیں دیا…
جی ہم ٹھیک ہیں "حور نے.. حیدر کی لاتعلقی پر دانت پیسے اور مسکرا کر جواب دیا..
داجی بھی مسکرائے مگر انکی مسکراہٹ کے پیچھے چھپا طنز حیدر سمھجہ سکتا تھا اگر حور سمھجتی اور اسے اسکی ذلت کی فکر نہ ہوتی تو کبھی وہ یہ قدم نہ اٹھاتی حیدر کو شدید ذلت کا احساس ہو رہا تھا.. اج ایسا احساس تو کبھی بھی نہیں ہوا تھا…
کیسے انا ہوا… "داجی کی نظر… حیدر سے ہٹ ہی نہیں رہی تھی…
جبکہ ھیدر کو یہ نظریں اب چبھنے لگیں تو وہ پلٹا…
چلو حور" اسنے حور کا ہاتھ تھامہ داجی کچھ نہیں بولے
..ہیں.. حیدر دماغ درست کرو اپنا… تمھارے بڑے ہیں معافی مانگو"حور نے تو اچانک ہی.. کہا حیدر…. کا چہرہ سرخ ہو گیا… اسے لگا.. وہ زمین میں گڑھ رہا ہو.. جبکہ داجی.. مسکرا رہے تھے
اج اسے.. اندازا ہو جانا چاہیے تھا.. اپنے پراے کا…
مگر اب کیا فرق پڑتا تھا.. کچھ بھی نہیں..
حور.. چپ چاپ چلو یہاں سے" اسنے… بھینچے بھینچے لہجے میں کہا….
جبکہ حور تو.. اپنی جگہ سے ہلنے کو تیار نہیں تھی… اگر یہ ادمی عقل سے پیدل ہو گیا ہے.. تو… اسے تو عقل دیکھانی چاہیے..
وہ.. دادا جی.. میں اس کی طرف سے اپ سے معافی مانگتی ہوں… ہم تو چھوٹے ہیں غلطی کر دی ہم نے.. اپ تو بڑے ہیں اپکا ظرف بھی برا ہے ہم. دونوں کو معاف کر کے.. ہمیں اپنی شفقت میں لے لیں "اسنے تسلی سے کہا.. داجی حیدر کو دیکھ رہے تھے جس کا چہرہ جون چھلکانے کو تھا…
ہمارا خون ہے.. غیرت کوٹ کوٹ کر بھری ہے.. جانتے ہیں ہبھی نہیں جھکے گا.. مگر جھکنا.. تو پڑے گا… " داجی نے اسکو دیکھتے سوچا….
اور حور کیطرف دیکھا.. جو چاپلوسی میں لگی تھی..
معاف کیا" انھوں نے بس اتنا کہا…
مگر ہم نے معافی نہیں… مانگی"وہ بولا نہیں چلایا تھا…
مگر ہم نے معاف کر دیا… کیونکہ جب دل ٹھنڈا ہو جائے تو… معاف کرنا یہ نہ کرنا…. کہاں اہمیت رکھتا ہے "وہ سکون سے بول رہے تھے… حیدر نے نا جانے جود کو کیسے قابو رکھا…
حور چلو" اسنے پھر کہا.. اب وہ اسے یہاں چھوڑ جاتا تو یقیناً اسکا مزید تماشہ اور بے عزتی ہوتی..
اف حیدر تم کتنے بے عقل ہو وہ ہمیں معاف کر چکیں ہیں.. چلو اندر"حور نے اسے جھڑا تو داجی مسکرا دیے اور اندر چلے گئے جبکہ ھیدر تو سن ہو گیا…
اگر اج کوئ یہ کہتا زمین کھلے اور وہ اس میں سما جائے تو اسے منظور ہوتا…
……………………….
صبح کا سورج نکل تو ایا تھا.. مگر وہ مزے سے سو رہا تھا….
جبکہ اسے بھی جکڑا ہوا تھا..
معاویہ ہٹیں پلیز"انوشے تو شرمندگی سے ہلکان ہو گی..
یار.. کیا مسلہ ہے.. یہ بھی کوئ وقت ہے رات تک اٹھیں گے سو جاو" اسنے پھر سے اسکو کھینچ لیا..
معاویہ… انوشے… کو رونا انے لگا.. معاویہ نے آنکھیں کھولیں…
بلاوجہ تم کل رات سے روے جا رہی ہو. "اسنے گھور کر دیکھا…
خوب سمھجہ لو بیگم سردار صاحب کا دماع گھوم تو… اپکے ساتھ اچھا نہیں ہو گا"اسنے وارن کیا..
کل سے کون سا اچھا ہو رہا ہے.. "وہ اپنی جگہ سے مدھم اواز میں کہتی اٹھی..
ادھر ادھر ہی روکے بہت کینچی بن رہی ہو بتاتا ہوں تمھیں" وہ گاون کی ڈوریاں… بند کرتا اٹھتا کہ وہ واشروم میں دوڑی…
اپ کتنے خطرناک ہیں معاویہ" اسنے.. کانپتے دل سے.. مدھم اواز میں کہا..
بیبی ٹریلر پر اتنا.. پریشان ہو"وہ دروازے کو بجاتا بولا..
انوشے کا چہرہ سرخ وہ گیا…
اچھا دروازہ کھولو" اسنے کہا…
انوشے کی آنکھیں پھیلیں… مگر جواب کوئ نہ دیا..
بچو دیکھ لوں گا سرداع سے پنگے کا انجام.. تمھاری موت ہے لڑی موت "وہ اسے درانے لگا.. جبکہ اسکی مدھم سی ہنسی. سنائ دے کر.. وہ.. مزے سے گنگنانے لگا….
زندگی کا اصل مزہ.. تو.. یہاں تھا… وہ نہ جانے کیوں… غلط راہ پر رہا…
اسنے سوچا.. اور خدا.. کا شکر ادا کیا..
……………………..
نین اٹھ جائیں بی جان وغیرہ کوئ ا گیا تو کتنی شرمندگی کی بات ہے… "احمر نے اسکے منہ پر ٹاول پھینکا تو وہ پھر کسمسا کر سو گئ…
نین" وہ زیچ ہوا….
اور اسکو جھنجھوڑ دیا..
احمر میرا دل کر رہا ہے تمھارا سر پھاڑ دوں"وہ چلائ..
اف اپنا والیم تو کم کر لیں پوری دنیا کو بتانا ہے کیا کہ اپ نواب جاگ چکیں ہیں" اسنے اسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھا..
دور رہو مجھ سے" اسنے اسکے ہاتھ جھٹکے..
ایک نمبر کے اچھے لفنگے ہو تم اوین سب تمھیں شریف سمھجتے ہیں" وہ غصے سے بولی.. احمر ہنس دیا..
چلو کہیں تو بدمعاشی دیکھائ میں نے" وہ آئینے میں اپنا اور اسکا مکمل عکس دیکھتا مسکرایا..
دیکھو زرا تمیز سے رہو… " اسنے انگلی اٹھا کر وارن کیا…
اور نہ رہو تو" احمر نے نین کی انگلی تھامی…
نین جزبز ہوئ…
وہ تم.. تم جاو یہاں سے" وہ.. اسکی آنکھوں سے گھبرا گی جبکہ احمر نے اگے بڑھ کر اسکا ماتھا چوم لیا..
اپ میرے دل میں تب سے ہیں جب سے مجھے اپنا معلوم ہوا…
میری سانسوں کا اداراک ہوا.. میرا اور اپکا ساتھ کافی پرانا ہے نین" اسنے.. اسکے ہاتھ تھام کر جزب سے کہا.. نین.. مدھم سا مسکرای.. احمر.. کی مھبت کا اندازا اسے جوب ہو چکا تھا..
چلیں اب شرمانا بند کریں مجھے لرتی بھیڑتی نین پسند ہے.. اور جلدی ریدی ہون سنا ہے اج.. بہت برا ناشتہ ہونے والا ہے.. داجی کا پیغام تھا.. ناشتہ سب کا.. زنان جا ے میں ہو گا "
اسنے اسے اطلاع دی..
مرد اور عورتوں دونوں کا" نین کو ھیرت ہوئ…
احمر ہنس دیا..
ہاں دونوں کا.. کیا جانتی نہیں اپ.. بہرام جان کی شادی تھی یہ.. تو وہ وہ بھی ہو گا جو کسی کے تصور میں نہ ہو "اسنے شانے اچکائے.. تو.. نین نے سر ہلایا..
مزاہ ایے گا ھویلی کی روایت ٹوٹے گی "نین کو سوچ کر ہی مزاہ ا رہا تھا…
مگر یہ صرف اج اج کی بات ہے جان دل… کل سے وہی پردہ وہی ہردے داری"وہ… اسکے گال کو چھوتا بولا..
مگر. میرے خیال سے اب کیا فائدہ" نین نے سوچتے ہوئے کہا..
مگر میرے خیال سے اب اپ کو اٹھ جانا چاہیے" اسنے اسے ہوش دلایا تو.. وہ.. سر ہلاتی اتھی جبکہ احمر باہر نکل گیا…
………………
باہر تو سما ہی نرالہ تھا.. داجی.. خود ساری سیٹینگ کرا رہے تھے.. زنان خانے کی خواتین سے بات چیت کر رہے تھے….
ملازم وہاں ہان البتہ کوئ نہیں تھا.. جب ملازموں نے ٹیبل لگای.. تب سب خواتین نے پردہ کر لیا جبکہ باقی گھر والوں کے سامنے وہ سلیقے سے دوپٹہ لیے ہوئے تھیں….
او او اھمر خان"داجی اسے دیکھ کر خوش ہوئے جبکہ احمر.. کو کچھ جھجھک سی محسوس ہوئ…
جبکہ دوسری طرف معاویہ صاحب منہ اٹھائے… مسکرتے ہوئے.. ائے.. اور داجی کی بانہوں کا ہار بنے…
واہ داجی.. اج تو.. مزاہ ہی ا جائے گا" اسنے کہا تو.. وہ ہنس دیے..
جبکہ انوشے کا تو وہاں کھڑا ہونا مشکل تھا تبھی وہ نین کے اتے ہی.. وہاں سے بھاگ گی.. جبکہ باقی سب بھی کچھ دیر کے لیے وہان سے ہٹیں..
چلو بھی لڑکوں ہمارے جان کے اٹھنے سے پہلے یہاں سب کچھ ریڈی ہونا چاہیے.. اوکے" انھوں نے تنبھی کی..
داجی.. نیا نویلہ نوخیز دولہا… ہوں میں ایک اپکا.. خان ہی ولہو نہیں بنا تھا کل" اسنے دوہائ دی..
تو.. وہ.. ہاتھ کے اشارے سے بات رفا دفع کرتے.. اگے بڑھ گئے… انکی خوشی دیکھنے لائق تھی..
………………
ارمیش نے… اس کی جانب دیکھا.. جو بید پر الٹا پڑا.. تھا… جبکہ وہ باہر جانے کے لیے تیار تھی تیار بھی کیا…
ہلکے اسمانی سادے سے لباس.. میں بالوں کی چوٹیا بنایے بنا میکپ کے وہ.. کہیں سے بھی نئئ دولہن نہیں لگ رہی تھی…
ارمیش خود میں اسے اتھانے کی ہمت نہیں رکھتی تھی تبھی.. وہ چپ چاپ صوفے پر بیٹھ گی.. اور اسکے اٹھنے کا ناظار کرنے لگی تقریبا ادھا گھنٹہ گزرا تھا.. اور وہ انگڑای لیتا اٹھا..
اسے امءد نہیں تھی وہ اتنہ جلدی اتھ جایے گا..
بہرام نے کچھ دیر کسمسانے کے بعد اسنے صوفے پر دیکھا… تو. وہ آنکھیں جھکایے سکڑی سیمتی بیٹھی تھی..
بہرام نے. بوتل کو ڈھونڈنا چاہا…
مگر بوتلیں خالی تھیں…
اور بید کے نیچے ناچ رہیں تھیں.. اسکے ماتھے پر بل سےائے.. اور وہ اپنی جگہ سے اٹھا…
اور پاوں زمین پر رکھنا چاہا… تو اسکا پاوں زمین پر رکھنے کے بجائے بوتل پر پڑا… اور وہ اس سے پہلے مکمل کھڑا ہوتا…
بوتل پر پاوں کی وجہ سے دوبارہ سے دھڑام گیرہ…
جبکہ بوتل ناچتی ہوی جھومتی جھامتی دور جا پڑی..
ارمیش.. ساکت اسکو دیکھنے لگی.. جبکہ بہرام کو خوامخواہ شرمندگی ہوئ..
اسکے سامنے.. ارمیش اٹھی اور. اسکے پاوں کے پاس دوسری بوتل کو.. اٹھانے لگی.. کہ.. کہیں وہ دوبارہ نہیں… گیر جائے…
اے ے ے یہ کیا کر رہی ہو"بہرام نے ایکدم اسے ٹوکا تو وہ در کر دور ہوئ.. اور بری بڑی حونک آنکھوں سے اسکو دیکھنے لگی..
خبردار جو کبھی.. میرے قدموں میں جھکی.
میری کھپڑی بہت الٹی ہے… سیدھی ہی رہنے دو.. اور اس ناپاک چیز کو کبھی ہاتھ مت لگانا…
میں اچھا انسان نہیں… کوی تو اچھا رہے پھر اس کمرے میں…
خانم.. کبھی وہ عمل نہ کرنا.. جو تمھیں جھکائے… سر جھکا کر نہیں.. اونچا کر کے رہو… بہرام جان کی بیوی ہو… "اسنے… کچھ ڈپٹتے ہوئے.. کہا…
ارمیش خاموش ہو گی…
اسکی آنکھوں میں انسو کی تعداد کتنی تھی کوی نہیں جانتا تھا…
سب جیسے کسی فلم کی طرح اسکی آنکھوں میں گھوم رہا تھا…
حیدر کا اسے اپنے قدموں میں جھکانا…
اس سے شراب کی بوتلوں کو ہاتھ لگوانا…
اسے مارنا پیٹنا.. کیا کیا نہیں یاد ایا… دل جیسے. پھٹنے کے قریب ہوا…
آنکھوں سے نہ چاہتے ہوئے بھی انسو باہر نکل ائے…
خانم… تمھیں رونے سے منع کیا ہے میں نے "بہرام کو وہ ل|کی بلکل سمھجہ نہیں ائ… تبھی وہ بھناتا ہوا اٹھا…
ارمیش نے پلٹ کر اسکیطرف دیکھا.. اور پل میں انسو صاف کر لیے…
تیار ہو جاو اتا ہوں میں" اسنے اسکی خاموشی سے زیچ ہو کر.. کہا…
تو ارمیش کچھ حیران رہ گی…
وہ تو تیار تھی "اسنے اپنی نمی کو صاف کیا… اور
پھر سے صوفے پر بیٹھ گی…
بیس مبٹ میں وہ اپنے بال تولیہ سے رگڑتا باہر نکلا…
تو وہ ویسے ہی بیٹھی تھی…
تم تیار نہیں ہوئ"اسنے پوچھا…
وہ.. میں.. وہ.. تیار ہوں میں تو"ارمیش نے اٹکتے ہوئے جھجھکتے ہوئے بتایا…
صدقے…." اسنے ای برو اچکای….
کھری ہو جاو" وہ ریڈ ہوا…
ارمیش اپنی جگہ سے اٹھی…
تولیہ کو نکال کر غصے سے اسکے ہاتھ میں پٹخ کر وہ. اسکی وارڈروپ کیطرف بڑھا.. تو وہاں سارے ہی پھیکے رنگ تھے…
اور بس ایک سرخ جوڑا تھا…
جو شاید کسی خاتون نے رکھ دیا تھا.. بہرام نے وہ ڈریس نکالا…
پکڑو اسے پہن کر ڈھنگ کا میکپ کرو "اسنے اسکے ہاتھ میں تھاما کر ارڈر کیا…
اسے یاد ایا.. کبھی حیدر نے اس سے فرمائش نہیں کی تھی….
وہ بس اس سے اپنا مطلب پورا کرتا تھا.. بھلے جیسے بھی…
ایک ہی چھت تلے ایک ہی.. خاندان کے لوگ.. کتنا تزاد تھا…
وہ… کپرے ہاتھ میں تھامے… واشروم میں چلی گی..
اسکے جاتے ہی بہرام نے گھیرہ سانس کھینچا…
کیا وہ نارمل ہو سکتا تھا….
کیا وہ نارمل ہو جاتا…
یہ جانتے ہویے بھی کہ اسکا دل.. اب دھڑک نہیں رہا…
پہلے کیطرح.. جیسے.. بے جان ہو گیا ہو….
اور بے جان دل کیا دھڑک اٹھتے ہیں.. شاید معجزہ ہی ہوتا ہے…
وہ اپنے عکس کو دیکھتا… گزشتہ باتوں کو یاد کرنے لگا..
تم کتنے بدصورت ہو.. "یہ بازگشت شاید… وہ مر بھی جاتا تب بھی نہ.. اسکے دماع سے نکلتی…
انھیں سوچو میں وہ واشروم سے نکل ای..
بہرام نے اسکو اوپر سے نیچے تک دیکھا…
بلاشبہ ہو بے حد خوبصورت تھی…
بہرام نے رخ موڑ لیا کیونکہ وہ حد سے زیادہ کنفیوز تھی…
ارمیش وہیں کھری رہی جبکہ بہرام کو خود ہی وہان سے ہٹنا پرا..
وہان سے ہت کر وہ بید پر بیتھ کر جوگز پہنے لگا.. جبکہ ارمیش نے سرخ لیپسٹک اٹھای..
ہونٹوں کو سجانے لگی…
شاید دو سالوں میں پہلی بار. اسنے سرج لباس پہنا تھا.. اور اس شخص نے تب بھی صرف اپنی طلب پوری کی تھی..
اسنے ان سوچو کو خود سے دور جھٹکا…
اور بال کھول کر وہ… اپنے حسن کو مزید نکھارتی.. اسکے سامنےا ی..
بہرام نے اسکیطرف دیکھا..
وہ سر جھکائے کھڑی تھی.. جبکہ اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے…
اسنے.. اسکے وہی کانپتے ہاتھ تھامے…
اور اسپر گفت مظبوط کر کے.. وہ باہر کی جانب چل دیا…
مردان جانے میں کوئ نہیں تھا.. اسے ھیرت ہوئ.. ارمیش نے سر پر دوپٹہ لیا ہوا تھا…
بہرام نے زنان خانے میں جانے سے پہلے وہ دوپٹہ اسکے سر سے اتار دیا…
میرے ساتھ محفوظ ہو تم…. "اسکے کان میں جھک کر وہ بولا… ارمیش کی آنکھیں تیزی سے بھیگی…
اور وہ اسکی ہمراہی میں زنان خانے میں داخل ہوئ…
تو وہاں تو سما ہی اور تھا…
ویلکم ویلکم" یہ معاویہ تھا..
جیتے رہو ماشاءاللہ "داجی کی پرجوش اواز اور ایسی کئ آوازوں نے انکا استقبال کیا..
وہ دونوں حیران رہ گئے.. شاید پہلی بار انھوں نے سب کو اکھٹے دیکھا تھا…
مگر… ایکطرف جیسے ہی انکی نگاہ اٹھی.. سب ساکت رہ گئے..
حیدر… وہ یہاں "سب کے منہ پر یہ سوال تھا سوائے داجی کے..
نگاہ میں نفرت ہی نفرت تھی…
بہرام نے کوئ نوٹس نہیں لیا مگر اسے محسوس ہوا ہاتھ میں موجود نازک ہاتھ.. شدت سے کانپنے لگا تھا…
چلیں سب ناشتے کی میز پر" داجی نے کہا…
اور سب ٹیبل پر اکھٹے ہونے لگے…
سب دوبارہ مسکرانے لگے اب حیدر کے ہونے نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا تھا مگر.. مورے کی انکھ بھر ای تھی دل خوش بھی تھا مگر بیتے سے ناراضگی بھی تھی…
حور کے کھینچنے پر حیدر بھی اپنی جگہ سے ہلتا.. اس ٹیبل پر ایا..
ارمیش کو بہرام کے ساتھ دیکھ کر جیسے اسکے پاوں زمین نے جکڑے تھے…
وہ اتفاقاً انکے سامنے بیٹھا…
بہرام نے ارمیش کے لیے… چئیر کھینچی وہ بہرام کی جانب دیکھتی.. اس چییر پر بیٹھی…
خانم.. سکون سے بیٹھو "ارمیش کی بے چینی پر.. بہرام نے اسکی ٹانگ کو پکڑا… ٹیبل کے نیچے تو.. ارمیش.. سن ہو گئ…
جبکہ بس ہلکی پھولکی باتوں میں کھا رہے تھے..
ارمیش کا دم نکل رہا تھا.. بہرام کی انگلیاں مسلسل حرکت کر رہیں تھیں شاید اس شخص نے سامنے بیٹھے ادمی پر سے اسکی توجہ اسطرح ہٹائ تھی…
کھانا تو کھاو.. "اسنے سکی پلیٹ کیطرف اشارہ کیا.. ارمیش سے کانٹا اٹھانا… اس دنیا کا مشکل ترین کام لگا.
یہ حویلی کا پہلا ناشتہ تھا جو بہت شاندار گزرا تھا……
سب کے مسکراتے چہرے تھے…
ناشتہ ختم ہی اسے لگا.. وہ اسے چھوڑ جائے گا.. اخر کو حیدر تو اٹھ کر چلا گیا تھا…
پھر اب تو ڈرامہ رہا ہی نہیں تھا.. مگر وہ وہیں بیٹھا تھا.. داجی بھی وہیں تھے.. جبکہ… باقی سب بھی…
کل ہونے والے ولیمے کا ذکر چھیڑہ تھا…
ارمیش سر جھکائے بیٹھی تھی.. جبکہ وہ.. موبائل میں مصروف دیکھ رہا تھا…
خان کس ہوٹل میں بوکینگ کرانی یے"داجی نے پوچھا…
تو اسنے چونک کر سر اٹھایا…
جیسے وہ بات سن نہیں رہا ہو.. جیسے وہ اس ماحول میں ہو ہی نہیں اسنے دیکھا تو داجی نے پھر اپنی بات دہرائ..
شہر.. کا کون سا ہوٹل پسند ہے خان بس وہیں.. بوکینگ کرا لیں گے" داجی نے کہا.. تو سب جیسے اسکی طرف متوجہ ہو گئے اسنے ارمیش کی طرف دیکھا.. وہ سر جھکائے بیٹھی تھی…
سب خواتین بڑے اشتیاق سے اسکی جانب دیکھ رہیں تھیں.. جبکہ معاویہ احمر سمت مرد بھی اسکیطرف متوجہ تھے..
لالا بول بھی چکو" نین کی اچانک زبان پھیسلی تو اب سب کی خوفناک نظروں کا مرکز وہ بن گئ..
بی جان نے نین کو گھورا..
میرا مطلب.. وہ بس
. ایسے ہی زبان پھیسل گئ" وہ سر جھکا کر منمنائ.. معاویہ اور احمر نے تو داجی کی وجہ سے اپنی ہنسی روکی….
جبکہ… اسکی رونے والی شکل دیکھ کر سب مدھم سا ہنسے.. سواے ارمیش بہرام کے…
نہیں شہر نہیں…. یہیں اسی حویلی میں کر لیں گے.. میرے خیال سے کالام سے زیادہ خوبصورت جگہ کوئ اور نہیں…. "اسنے نپے طلے لفظوں میں کہا…
تو سب نے تائیدی انداز میں سر ہلایا..
سب ہی اسکے فیصلے سے خوش تھے جبکہ.. اسنے ایک بار پھر ارمیش کیطرف دیکھا.. اور سب کے سامنے وہ اسکے کان پر جھکا.. ارمیش.. کا رنگ ایکدم سفید پڑا…
اتنا سر جھکاو گی تو گردن ٹوٹ جائے گی.. اور تمھیں پہلے ہی کہہ چکا ہوں.. مجھے ڈری سہمی… لڑکیاں نہیں پسند… "وہ اپنی بات سے اسے بہت کچھ باور کرا رہا تھا.. مگر وہ اپنا ڈر… اپنی جھجھک کہاں لے کر جاتی.. بہرام اس محفل میں سے اٹھ گیا.. جبکہ… ارمیش پھر اسی طرح بیٹھ گئ..
جاو ارمیش بیٹے ارام کر لو" بی جان کو ہی اس پر ترس ایا…
معاویہ اور احمر سمیت باقی لڑکے بھی نکل گئے جبکہ وہاں صرف داجی.. رہ گئے.. انوشے ارمیش نین کو بھی نیہا انکے رومز میں لے گئ..
سب کے جاتے ہی بی جان نے داجی کی طرف دیکھا…
اپ نے دیکھا سائیں.. حیدر سائیں کو دیکھ کر امیش خانم.. کس طرح در گئیں تھیں.. "اسنے کہا تو انھوں نے سر ہلایا جبکہ پھوپھو نے بھی انکی بات کی تائید کی..
بابا جان ہم نہیں جانتے اپ نے کیا سوچ کر حیدر سائیں کو حویلی میں انے دیا مگر… ہمیں لگتا ہے ارمیش خانم.. بلکل سمبھل نہیں پائیں گی.. وہ پہلی ہی.. اتنی نازک ہیں.." انھوں نے کہا.. تو داجی بھی اپنی جگہ سے اٹھے..
حیدر.. سائیں… کو اپنا اوقات کا اندازا خود باخود ہو رہا ہے… اور ہم چاہتے ہیں ارمیش خانم کا خوف نکل جائے اور وہ ہمارے خان کے ساتھ نارمل زندگی گزریں اور جب سینا ٹھنڈا ہو تو… کوئ گلہ نہیں رہتا.." انھوں نے بیٹی کی بات کا جواب دیا…
اور.. مردان خانے کی جانب چل دیے.. جبکہ