Ishq e Jawadan by Noor e Arooj | Free Urdu Novels

Ishq e Jawadan by Noor e Arooj is the best novel ever. Novel readers liked this novel from the bottom of their heart. Beautiful wording has been used in this novel. You will love to read this one. 

Ishq e Jawadan by Noor e Arooj

Ishq e Jawadan by Noor e Arooj is a special novel, many social evils has been represented in this novel. Different things that destroy today’s youth are shown in this novel. All type of people are tried to show in this novel.

Ishq e Jawadan by Noor e Arooj | Romantic Urdu Novels

Ishq e Jawadan by Noor e Arooj | Free Urdu Novels

 

 

 

Noor e Arooj has written many novels, which her readers always liked. She tries to instill new and positive thoughts in young minds through her novels. She writes best. 

If you want to download this novel, you can download it from here:

↓ Download  link: ↓

 

 

 

 

Note!  If the link doesn’t work please refresh the page

Ishq e Jawadan by Noor e Arooj PDF Episode 1 to 28

 

 

 

Read Online Ishq e Jawadan by Noor e Arooj:

لہروں سے لڑا کرتا ہوں میں سمندر میں اتر کر
ساحل پہ کھڑا ہوکے میں سازش نہیں کرتا
وائٹ یونیفارم اور کیپ پہنے وہ پاکستان نیوی شپ اسلت( PNS-Aslat) میں کھڑا تھا، یہ پاکستان نیوی کی F-22 ذوالفقار کلاس کی شپ ہے۔ اس شپ کی خاصیت یہ ہے کے یہ خاص میزائل رکھتی ہے، جو دور سے دشمن کی سبمرین اور شب کو پہچان کر اس پر میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
"ہیلو، ہیلو، کمانڈر مجتبیٰ ولید حیدر۔۔ اٹس کنڑول روم، این انڈین K-43 از ڈیکٹکٹڈ ان آور ائیریا، اٹ از یور ٹارگٹ۔ " جیب میں رکھے واکی ٹاکی سے آئی آواز پر وہ متوجہ ہوتے اندر کی جانب بڑھا۔
"آرڈر ریسیوڈ، آور اینڈ آؤٹ۔ " واکی ٹاکی دوبارہ سے جیب میں رکھتے وہ شپ کے میزائل بیسمنٹ کی طرف بھاگا۔
"کیا ہوا لالے؟ اب کس کی موت آئی ہے؟" بیسمنٹ میں موجود شہیر نے اسے شرارتی نظروں سے گھورا۔
"وہی ہمیشہ کی طرح انڈین آرمی، ناجانے کیوں ان کو سکون نہیں آتا ، روز ہمارا ایک آدھ میزائل ضائع کروانے آجاتے ہیں۔" مصنوعی سنجیدگی سے کہتا وہ شہیر کو قہقہ لگانے پر مجبور کر گیا۔
شہیر جانتا تھا کے اب گلے کچھ سیکنڈز میں انڈین سبمرین کے زرے بھی نہیں ملیں گے، کیونکہ وہ کمانڈر مجتبیٰ ولید حیدر کے ایریا میں آنے کی غلطی کر بیٹھے ہیں۔ جس کا نشانہ خطا ہونا ناممکن سی بات تھی۔
وہ اپنی جگہ پر بیٹھا دور بین سے سبمرین کی حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھا، وہ انڈین K-43 آہستہ آہستہ نامحسوس انداز میں ان کی شپ کے قریب آتی جارہی تھی، مجتبی کے چہرے پر اس کی اس چالاکی پر تمسخر بھری مسکراہٹ ابھری۔
اس نے پانچ تک گن کر میزائل کا رخ اس سبمرین کی طرف کرتے میزائل شوٹ کیا، انہیں ایک دم جھٹکا لگا تھا جس کے بعد ہر طرف سکوت چھا گیا۔ اس نے دور بین میں دیکھا تو اب وہاں پانی میں صرف ذرات دکھائی دے رہے تھے
"سر، اس بچارے کو تو جانے دیتے، ابھی غریب نے کیا ہی کیا تھا" تین منٹ میں ایک دھماکے کے ساتھ انڈین سبمرین تباہ ہوئی تو شہیر شرارت سے بولا
"یار جانے تو میں اسے دیتا مگر پھر میرا ریکارڈ ٹوٹ جاتا ناں، اور مجھے ابھی ورلڈ رکاڑد بنانا ہے مزائل اٹیکس کا" شہیر کے سر سے ٹوپی اتارتے وہ بھی شرارت سے بولا۔۔
"یار مجتبی نا کیا کر۔" شہیر کو سخت چڑ تھی اس طرح کیپ اتارنے سے تبھی تپ کر بولا۔۔۔
"شرم کرو، سینئر کو اس طرح بلاتے ہیں۔" مجتبی سے اسے آنکھیں دکھائی مگر وہ جانتا تھا یہ محض ڈرامہ ہے ورنہ ان دونوں کی دوستی مثالی تھی
"گھر کب جارہا ہے تو؟" شہیر نے اس کی بات ہوا میں اڑاتے پوچھا۔
"نیکسٹ ویک ماموں کی برسی ہے، تب ہی جاؤں گا۔" اچانک اس کا لہجہ سنجیدہ ہوگیا تھا۔
"ہمممم! ذین کیسا ہے؟ مطلب پہلے سے کوئی امپرومنٹ ہوئی یا نہیں؟" شہیر اور وہ دونوں ایک دوسرے کی زندگی کے ہر راز سے واقف تھے۔
"اس کی حالت ابھی بھی ویسی ہی ہے اینی مم اور ماما بابا اسے سمجھا سمجھا کر تھک چکے ہیں مگر وہ کچھ سمجھنا ہی نہیں چاہتا۔" مجتبی نے ایک گہرا سانس بھرا۔
یہ ان کی زندگی کا تاریک پہلو تھا جسے وہ چاہ کر بھی اپنی زندگی سے کھرچ نہیں سکتے تھے۔ جہان زندگی حسین یادیں دیتی ہے وہیں یہ کبھی کبھار اتنی بےرحم ہوجاتی ہے کے انسان چاہ کر بھی ان لمحات کو بھلا نہیں پاتا۔
@@@@@@@@
"سنیں!" بلیو یونیفارم پہنے آنکھوں پر سن گلاسز لگائے چھ فٹ سے نکلتا قد، براؤن ہلکی ہلکی شیو ، براؤن بال اور آنکھوں کے ساتھ ، کھڑی مغرور ناک اور تیکھے نقوش والا وہ شہزادہ اپنے سامنے کھڑے ائیر کرافٹ مین سے بولا۔
"جی سر؟" ائیر کرافٹ مین نے سیدھا ہوتے اسے سیلوٹ کرتے پوچھا۔
"ایویشن کیڈٹ حریم عباد کو میرے آفس میں بھیجیں پلیز۔" وہ فائل کی طرف دیکھتا نرمی سے بولا۔ ائیر کرافٹ مین نے غور سے اس حسین شہزادے کو دیکھا جو بہت نرم بولتا تھا چھوٹے بڑے ہر کسی کی عزت کرتا تھا، بس مسکراتا بہت کم تھا
"جی سر!" سپاہی اس سے کہتا باہر کی جانب بڑھ گیا۔
حریم کو اس کا پیغام ملا تو وہ چلتے ہوئے اس کے آفس کی طرف آگئی باہر رک کر دروازے پر دیکھا تو "وونگ کمانڈر ارتضیٰ ولید حیدر" کی نیم پلیٹ لگی تھی۔ یہ رینک پڑھ کر اس کے دل میں ایک دم درد سا اٹھا تھا
"مے آئی کم ان سر؟" اس نے ہلکا سا سر اندر کرتے کہا تو وہ اپنی چئیر سے کھڑا ہوتا سر ہلا گیا۔ حریم اندر آکر کھڑی ہوگئی وہ اس کے اگلے آرڈر کی منتظر تھی۔
"پرنسس! یہاں آئیں" ارتضیٰ نے گلاسز اتار کر رکھتے بازو پھیلائے اسے پاس بلایا، وہ شاید جانتی تھی کے اس نے اسے کیوں بلایا
وہ چلتے ہوئے آکر خاموشی سے اس کے سینے پر سر رکھ گئی، صبح سے دل میں پلتی بےچینی کو سکون ملا تھا،کب سے روکے ہوئے آنسو جاری ہو چکے تھے، ارتضیٰ کچھ بھی بولے بغیر اس کی کمر سہلا رہا تھا
وہ ہر سال آج کے دن یوں ہی کرتا تھا، اسے کوئی تسلی ، کوئی دلاسہ نہیں دیتا تھا خاموشی سے اس کا سر اپنے سینے سے لگا کر اس کا سارا درد خود میں اتار لیتا تھا، عجیب سا رشتہ تھا ان کا انہیں کبھی کچھ بولنا نہیں پڑتا تھا سامنے والا خود ہی سب سمجھ جاتا تھا
"آر یو اوکے پرنسس؟" جب رو کر دل کا بوجھ ہلکا ہوا تو وہ خود ہی پیچھے ہٹی، ارتضیٰ نے اس کا آنسوؤں سے تر چہرہ ہاتھوں میں تھام کر اس کے آنسو صاف کرتے پوچھا۔
"ہممم، آئی ایم اوکے۔" زبردستی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجا کر بولی جانتی تھی وہ ایسے ہی اس کے لیے پریشان رہے گا۔
"جب بھی دل اداس اور پریشان ہو تو آپ کو پتا ہے ناں کے آپ کو کیا کرنا ہے؟" انگوٹھے کی مدد سے اس کے گال سہلاتے پوچھا تھا جس پر اس نے سر اثبات میں ہلایا
"آپ کے پاس آنا ہے" دھیمی سی آواز میں بولا تھا
"بلکل میرے پاس آنا ہے، اپنا ہر دکھ ، ہر درد مجھے دے دینا ہے اور یہ پیارے سے چہرے پر صرف مسکراہٹ رکھنی ہے،اوکے؟" بار بار کی سمجھائی بات وہ ایک بار پھر اسے سمجھا رہا تھا۔ حریم نے اس کی بات پر اثبات میں سر ہلایا
"دیٹس لائیک مائی پرنسس" اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے اس ک سر تھپتھپایا۔ حریم نے سامنے کھڑے اپنے پیارے سے شوہر کو دیکھا جو اللّٰہ کی طرح سے اسے دیا جانے والا بہت پیارا تحفہ تھا اگر وہ کوئی چیز لیتا ہے تو اس کے بدلے بہت قیمتی چیز دے بھی دیتا ہے۔
@@@@@@@@
"پینتھر، یہ کیس بہت زیادہ رسکی ہے۔ ہمیں بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔" لیپرڈ نے اپنے سامنے کھڑے پینتھر کو دیکھ کر کہا حالانکہ اسے اچھے سے پتا تھا کوئی فائدہ نہیں جو پینتھر سوچ لے وہ کر کے رہتا ہے
"میں فیصلہ کر چکا ہوں ، میں انڈیا جاؤں گا، اور مجھے کوئی روک نہیں سکتا ، اس بار ان کے ساتھ کوئی بہت اہم انسان جڑا ہے جو ہمیں اندر سے کھوکھلا کرنا چاہتا ہے، ہمیں کسی بھی قیمت پر انہیں روکنا ہوگا" پینتھر کی پرسوچ نظریں سامنے بورڈ پر ٹکی تھیں
کچھ ہی دیر پہلے آئی ایس آئی کے ہیڈ نے انہیں ایک اہم مشن دیا تھا جس میں انہیں انڈیا جانا تھا کیونکہ اس بار پاکستان آرمی میں سے کوئی بہت اہم انسان یا شاید ان کا کوئی فیملی میمبر را کے ساتھ مل کر پاکستان کو نقصان پہنچانے والا تھا
اور یہ مشن ان دونوں کو ملا تھا، لیپرڈ نے سر سے دو دن سوچنے کا وقت مانگا مگر پینتھر اسی وقت اقرار کر گیا، وہ دنوں اس وقت میٹنگ روم میں ہی تھے جبکہ باقی سب جاچکے تھے۔
"کیا سوچا ہے تم نے، نیکسٹ سٹیپ کیا ہوگا؟" لیپرڈ نے اس کی پرسوچ نظریں دیکھیں تو سمجھ گیا کے وہ بہت کچھ سوچ چکا ہے۔
"میں انڈیا جاؤں گا اور را میں شامل ہو جاؤں گا، جبکہ تم یہیں رہ کر مشکوک لوگوں پر نظر رکھو گے۔" پینتھر نے اس کی طرف دیکھ کر کہا
لیپرڈ جانتا تھا وہ خود ہی خطرے میں کودے گا مگر وہ ہرگز بھی اسے اکیلے انڈیا جانے نہیں دینے والا تھا مگر فلحال اس کے سامنے سر اثبات میں ہلا گیا۔
"ہمم۔۔ تو کام کس دن سے شروع کرنا ہے ؟" لیپرڈ نے کچھ توقف کے بعد پوچھا
"میں فلحال گھر جارہا ہوں، ایک ہفتے بعد ہم اپنے مشن پر کام شروع کریں گے، تب تک میں ایک چکر گھر کا لگا لوں۔" سنجیدہ انداز میں کہتے وہ باہر کی جانب بڑھ گیا
لیپرڈ بھی فائلز وغیرہ سمیٹ کر محفوظ کرتے اس کے پیچھے ہی باہر نکل گیا، یہ تھے مارخور، پاکستان کے دفاع کی آخری لکیر، دنیا کی نمبر ون ایجنسی کے شیر ، اور پاکستان کی بہادر ماؤں کے سپوت جو دشمن کو ان کی اوقات میں رکھنا خوب جانتے ہیں
@@@@@@@@
سویرا اور ولید صبح سے ہی ابراہیم ولا آگئے تھے، انہوں نے زندگی کے کئی سال ایک دوسرے کی سنگت میں گزار دیے تھے جہاں خوشیاں بھی تھی اور درد بھی اور سب سے بڑا دکھ تھا عباد کی جدائی کا دکھ،
اٹھارہ سال پہلے ایک انڈین حملے کے دوران عباد کے پلین کے انجن خراب ہونے کی وجہ سے اس کا پلین کریش ہوگیا، اس وقت ذین نو سال کا تھا جبکہ حریم محض ساڑھے چار سال کی تھی
عائشہ پر تو گویا قیامت ٹوٹ پڑی تھی، بھری جوانی میں وہ بیوگی کی چادر اوڑھ گئی تھی مگر اسے جینا تھا اپنے بچوں کی خاطر ، اس نے ذین اور حریم کی خاطر اپنا ہر دکھ چھپا لیا تھا۔ ویسے بھی یہ پاکستانی فوجیوں کی بیویاں بھی عجیب ہوتی ہیں اپنے شوہروں کو وطن پر قربان کر کے بیٹوں کو بھی انہی کے نقشِ قدم پر چلاتی ہیں
مگر ذین جو اس وقت، وقت کے اس حصے میں تھا جہاں ہر بری یاد ذہن کے پردے پر نقش ہوجاتی ہے وہ چاہ کر بھی اپنے باپ کی موت کو قبول نہیں کر پارہا تھا، حریم چھوٹی تھی اسے سب نے مل کر سمبھال لیا خاص کر ارتضیٰ نے
مگر ذین پر کسی کے سمجھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا، وہ عجیب سرد مزاج بن گیا تھا۔ سارا سارا دن اپنے آوارہ دوستوں کے ساتھ پھرتا رہتا تھا اگر کوئی کچھ کہتا تو جھگڑنے لگتا، عائشہ نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا تھا۔
وہ سب لوگ لاوئج میں جمع تھے ، سارہ بیگم، زینب بیگم ، سویرا ، عائشہ اور پرنیاں، حیدر صاحب ابراہیم صاحب کے ساتھ سٹڈی میں تھے جبکہ ولید کسی کام سے باہر گیا تھا، ٹی وی پر کوئی ڈاکیومنٹری لگی تھی
اس میں آرمی کے شہداء کے گھر والوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جارہا تھا، وہ لوگ پورے انہماک سے ٹی وی دیکھ رہے تھے اچانک ایک دھماکے کے ساتھ ٹی وی کی سکرین چکنا چور ہوئی تھی۔۔ سب نے بےساختہ منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی چیخوں کو روکا تھا اور پیچھے کی طرف دیکھا
ذین سرخ آنکھوں کے ساتھ سامنے دیکھ رہا تھا اس نے گلدان اٹھا کر ٹی وی میں مارا تھا۔ وہ سب لوگ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئیں
"یہ کیا بدتمیزی ہے ذین؟" عائشہ نے غصے سے ذین کو ڈپٹا تھا
"میں کتنی بار کہہ چکا ہوں کے مجھے اس گھر میں یہ ڈھکوسلے بازی نظر نہیں آنی چاہیے، تو پھر کیوں دیکھ رہی تھیں آپ یہ سب، یوں ان لوگوں کو بلا کر دو لفظ ہمدردی کے بول کر یہ لوگ کیا سمجھتے ہیں یہ ان کے نقصان کو پورا کرسکتے ہیں؟ ہوںںںں ڈرامے بازی" تنفر سے کہتا وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اپنے کمرے میں چلا گیا
"میں کیا کروں جانی، یہ لڑکا کیوں مجھے تکلیف سے دو چار کرتا ہے، اس کا باپ وطن کے عشق میں فنا ہوگیا اور یہ فوج سے اتنی نفرت کرتا ہے کے ان کا نام سننا تک پسند نہیں کرتا" عائشہ روتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گئی
"عاشی۔۔۔ پلیز سمبھالو خود کو، پرنیاں بیٹا جاؤ ذین کو دیکھو۔" سویرا عائشہ کے کندھے کے گرد ہاتھ پھیلاتے پرنیاں سے بولی
پرنیاں سر ہلاتے ہوئے ذین کے روم کی طرف بڑھ گئی جہاں سے توڑ پھوڑ کی آوازیں آرہی تھیں اس نے کچھ دیر رک کر اندر جھانکا، جہاں وہ اب پہلے کی نسبت پرسکون تھا۔۔ پرنیاں چلتے ہوئے اس کے پاس کھڑکی میں آکر کھڑی ہوگئی
"کیسا فیل کر رہے ہو اب؟" اسے باہر جھانکتا دیکھ پوچھا تھا۔ جس کا جواب دینا اس نے ضروری نہیں سمجھا پرنیاں کو اس پر شدید حیرت کوئی تھی اسے اس کا نیچے کیا گیا عمل یاد آیا
"کیوں؟ آخر کیوں ہو تم ایسے؟ ایک محبِ وطن فوجی کے بیٹے ہو کر تم اتنی نفرت کیوں کرتے ہو وردی سے اور وردی والوں سے" وہ صدمے سے گنگ تھی، کوئی اتنی نفرت کیسے کر سکتا ہے کسی سے
"ہاں, نفرت ہے مجھے وردی سے، نفرت ہے پاک آرمی سے، کیونکہ اس وردی نے مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا، میرا عشق مجھ سے دور کر دیا، کیوں آخر کیا قصور تھا میرا؟" اس کی آنکھوں سے نفرت کی چنگاریاں نکل رہی تھیں۔
"مگر وہ سب قسمت میں لکھا تھا۔ اور ہونی کو کون ٹال سکتا ہے ۔"اس نے اسے سمجھانے کی بےضرر سی کوشش کی تھی جبکہ جانتی تھی اس کا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔
دل کے بہلانے کو غالب خیال اچھا ہے۔۔۔ یہ سب فضول تاویلیں مجھے مت دو، تمہاری کوئی بھی بات اس سچ کو بدل نہیں سکتی کے میری اس زندگی اور حالات کی زمہ دار پاک آرمی ہے۔"تمسخر بھری مسکراہٹ لبوں پر سجائے وہ اسے لاجواب کر چکا تھا۔
عباد کے بعد ذین کو ہر چیز سے عجیب سی چڑ ہوگئی تھی، اس کی نظر میں اگر اس کا باپ آرمی میں ناہوتا تو وہ اتنی جلدی دنیا سے نا جاتا، ذین سب سے زیادہ عباد کے قریب تھا، وہ اس کے جانے کے بعد کئی راتیں سکون سے سو نہیں سکا تھا۔
ہر روز وہ پوری پوری رات جاگ کر گزار دیتا تھا کیونکہ اسے محبت سے اپنی آغوش میں سلانے والا اس کا باپ اسے اس بےرحم دنیا میں چھوڑ کر جاچکا تھا۔ پرنیاں جس طرح آئی تھی ویسے ہی واپس چلی گئی
@@@@@@@@
شاہ زیب رات کے دو بجے باہر لان میں چہل قدمی کر رہا تھا جب داہیم کی گاڑی گیٹ پر آکر رکی، وہ شاہ زیب کو وہاں دیکھ کر سمجھ چکا تھا کے آج اس کی کلاس پکی ہے۔۔ اسنے گاڑی سے نکلتے چہرے پر زمانے بھر کی معصومیت سجانی چاہی
"اسلام علیکم بابا جانی" داہیم نے شاہ زیب کے قریب آتے اس کا ہاتھ تھام کر ہونٹوں سے لگایا یہ ان کا انداز تھا باپ سے محبت جتانے کا
"وعلیکم السلام صاحب زادے، کہاں سے آرہے ہیں رات کے اس وقت؟" شاہ زیب اس کے چہرے پر چھائی مصنوعی معصومیت کو دیکھتے تیکھے انداز میں اسے پوچھا
"بابا وہ۔۔۔۔ وہ۔۔۔ میں دراصل میں دوستوں کے ساتھ چلا گیا تھا۔" وہ ان کے سوال کے لیے تیار نہیں تھا تب ہی گڑبڑا گیا
"اپنی حرکتوں سے باز آجائیں داہیم خانزادہ ، یہ آپ کی آوارہ گردیاں روز بروز بڑھتی جارہی ہیں، حوزان کو دیکھیں، ماشاءاللہ ایک نام بنا لیا ہے اس نے پولیس فورس میں جبکہ آپ دونوں کی عمر میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے اور ایک آپ ہیں جنہیں کوئی فکر ہی نہیں ہے" شاہ زیب نے ہمشیہ کی طرح اسے حوزان کا حوالہ دیا تھا
داہیم خاموشی سے سر جھکائے اس کی ڈانٹ سن رہا تھا جب وہ خود بول بول کر تھک گیا تو چپ ہوگیا، کیونکہ اس کے اس بیٹے نے ڈھٹائی میں پی ایچ ڈی کر رکھی تھی۔
"جائیں اب روم میں ، اور دوبارہ میں آپ کو لیٹ نائٹ آوارہ گردی کرتے ناں دیکھوں " شاہ زیب نے اس کے تھکے چہرے پر نظر ڈالتے کہا
"جی بابا" داہیم احترام سے کہتا اپنے روم کی طرف بڑھ گیا، بہرام جو اپنی بالکنی میں کھڑا سب دیکھ رہا تھا نفی میں سر ہلا گیا، جب تک داہیم گھر نہیں آجاتا تھا بہرام کو نیند ہی کہاں آتی تھی۔
داہیم کمرے میں داخل ہونے لگا تو سامنے والے کمرے کا دروازہ کھلنے کی ہلکی سی آواز آئی وہ سمجھ گیا تھا کے بہرام آج بھی اس کے انتظار میں جاگ رہا ہے وہ اپنے کمرے میں جانے کی بجائے وہیں رک گیا
"کیا یار لالہ۔۔۔ آپ سو کیوں نہیں جاتے میرا انتظار کرنا ضروری ہے؟" وہ اپنے بھائی کی محبت پر کبھی کبھی حیران ہو جاتا تھا اس کے لیے آب اور شاہ زیب کے بعد اگر کسی کو ماں باپ کا درجہ ملتا تو وہ بہرام ہوتا۔
"آپ کو پتا ہے ناں داہی جب تک آپ گھر نہیں پہنچ جاتے ہمیں سکون نہیں ملتا پھر آپ یہ سب آوارہ گردیاں بند کیوں نہیں کر دیتے۔" بہرام پیچھے ہاتھ باندھے سنجیدگی سے بولا۔
"لالہ! پلیز یار ، یہی تو عمر ہے گھومنے پھرنے کی پھر تو ذمہ داریاں کی نبھانی ہیں اور آپ کی طرح بیگم کے نخرے ہی اٹھانے ہیں، ویسے بیگم سے یاد آیا میری بھابھی ماں کیسی ہیں" شرارت سے کہتے اس نے بہرام کا دھیان بھٹکانا چاہا جس میں وہ کامیاب رہا تھا
بہرام کی آنکھوں میں چھن سے حسال کا حسین چہرہ آیا تھا، نازک سی کانچ کی وہ گڑیا جان تھی اس کی مگر وہ اپنی سنجیدہ طبیعت کے باعث کبھی کھل کر اس سے اظہار نہیں کر سکا تھا، داہیم ہر وقت بھابھی ماں ، بھابھی ماں کرتے اسے چڑاتا رہتا تھا
"مجھے کیا پتا، تمہاری بھابھی ماں ہیں تمہیں پتا ہو!" داہیم کے سامنے زیادہ دیر خیالوں میں کھویا رہنے کا مطلب تھا اپنی شامت کو آواز دینا اسی لیے اس نے جلدی سے اس پر بات ڈالی تھی۔
"جی جی بھابھی ماں تو میری ہی ہیں مگر جانم تو آپ کی ہیں۔" شرارت سے اپنے روم کی طرف بڑھتے کہا اگر وہ بہرام کی گرفت میں آجاتا تو بہرام نے اسے چھوڑنا نہیں تھا۔۔
"داہیم آپ کب سدھریں گے؟" بہرام نے نفی میں سر ہلاتے پوچھا
"جب آپ کے کیوٹ کیوٹ سے بچے مجھے چاچو بلائیں گے تب۔" اس سے پہلے بہرام اسے پکڑتا وہ جلدی سے روم میں گھستا روم لاک کر چکا تھا۔۔
بہرام سر جھٹک کر اپنے روم میں چلا گیا داہیم خانزادہ لاعلاج تھا۔ اگلے دن صبح وہ سب لوگ ناشتے کی ٹیبل پر جمع تھے۔ آب کچن میں ان کے لیے ناشتہ بنا رہی تھی ان گزرے سالوں میں ان کی زندگیوں میں بھی بہت کچھ بدلا تھا پلوشہ بیگم، ماہ پری بیگم اور رانیہ بیگم کچھ سالوں کے وقفے سے خالقِ حقیقی سے جا ملی تھیں
ذیشان کا ٹرانسفر اسلام آباد ہوجانے کی وجہ سے وہ سب لوگ اپنی آبائی حویلی چھوڑ کر یہاں شفٹ ہوگئے تھے شاہ زیب بھی بزنس کی وجہ سے اسلام آباد کا ہوکر رہ گیا۔ مشک اور دلکش دونوں پیار محبت سے ایک ساتھ رہ رہی تھیں
تو وہیں آب اور شاہ زیب بھی اپنی زندگی میں خوش و خرم تھے۔ ان کی زندگی میں ایک اور خوبصورت اضافہ آزین کی صورت میں ہوا تھا، ہری آنکھوں والی آزین میں پورے خاندان کی جان تھی حسال کے بعد وہ ان سب میں دوسری لڑکی تھی جو باپ اور بھائیوں کے بعد شاہ زر اور ذیشان کی بھی جان تھی
اور وہ رگِ جاں تھی حوزان کی، انہوں نے حسال کا بہرام اور حوزان کا آزین سے نکاح دو سال پہلے آزین کے سولہ سال کی ہوتے ہی کر دیا تھا۔ حوزان کے لیے اس کی سویٹی ہی سب کچھ تھی تو سویٹی کے لیے اس کا خان
"داہیم، آج آپ ہمارے ساتھ ہمارے ایک دوست کے گھر چل رہے ہیں " شاہ زیب نے جوس پیتے داہیم کو دیکھ کر کہا
"جی بابا " انہوں نے باپ کی بات پر کیوں، کب، کیسے کرنا سیکھا ہی نہیں تھا جو شاہ زیب نے کہہ دیا وہ ان کے لیے حرفِ آخر تھا۔ ہاں مگر یہ شک سویٹی پر لاگو نہی ہوتی تھی کیونکہ وہ وہی کرتی تھی جو وہ چاہتی تھی اور ہر کوئی اس کی بات پر لبیک کہتا تھا
"ماما سویٹی کہاں ہے؟" بہرام نے آزین کی غیر موجودگی محسوس کرتے آب سے پوچھا
"وہی جہاں وہ ہر بار آپ کے بابا کے بات نہ ماننے پر ہوتی ہیں۔" آب نے منہ بسور کر کہا تھا وہ آج بھی ویسی ہی تھی معصوم اور سادہ سی اور اس کی یہی معصومیت شاہ زیب کو اس کا دیوانہ بناتی تھی
"ڈونٹ ٹیل می بابا نے پھر اس کی بات سے انکار کیا ہے اور وہ گئی ہے اپنے خان کے پاس؟" داہیم نے ہنستے ہوئے پوچھا ان کی بہن کا سارا زور اپنے خان پر ہی تو چلتا تھا۔
"جی وہیں گئی ہے اور اب شام سے پہلے واپس نہیں آئے گی اور ناں ہی اس کی پھپھو اسے آنے دیں گی" آب نے اسی انداز میں بتایا اسے ان سب کا آزین کو اس طرح سر چڑھانا پسند نہیں تھا اس کے نزدیک انہوں نے اسے بہت زیادہ خود سر اور ضدی بنا دیا تھا مگر اس کے اعتراض کرنے پر سب کہہ دیتے تھے کے اس کا خان ہےناں اس کی ضد پوری کرنے کے لیے۔
@@@@@@@@
"کیا ہوا ہے سویٹی؟ یار کچھ بتاؤ بھی؟" حسال کب سے اس سے پوچھ رہی تھی مگر اس کی ایک ہی ضد تھی کے میں خان کو ہی بتاؤں گی جو آج جلدی کام پر چلا گیا تھا ذیشان ، شاہ زر ، مشک ، دلکش سب نے باری باری اس سے پوچھا تھا مگر وہ کسی کو کچھ بتانے کو تیار نہیں تھی
"دیدہ یار نہیں ناں میں خان کو بتاونگی ناں۔۔" اپنی پونی ٹیل ہلاتے ہوئے معصومیت سے بولا تھا اس کی یہی معصوم صورت سب کو اس سے پیار کرنے پر مجبور کر دیتی تھی
"اوکے مت بتاؤ چلو آؤ کچن میں چلتے ہیں میں تمہارے لیے فرائز بناتی ہوں، ٹھیک ہے؟" حسال کو جب لگا کے وہ نہیں بتائے گی تو وہ بات بدل گئی
وہ دونوں کچن میں آگئیں آزین اس کے پاس بیٹھی اسے سارے زمانے کی باتیں سنا رہی تھی جبکہ حسال مسکرا کر اسے سنتی اس کے لیے فرائز اور نگٹس بنا رہی تھی دلکش اور مشک دونوں باہر لاونج میں بیٹھی تھیں جبکہ شاہ زر اور ذیشان اپنے اپنے کام پر جاچکے تھے۔ ذیشان اسوقت کمشنر کی پوسٹ پر تھا۔
وہ شام تک ان کے ساتھ لاوئج میں رہ کر اس کا انتظار کرتی رہی مگر جب وہ آٹھ بجے تک بھی نہیں آیا تو اٹھ کر اس کے روم میں آگئی، اس کا واڈروب کھولتے اس میں سے اس کی فیورٹ ٹی شرٹ اور ٹراؤزر نکال کر پہن لیا اسے اپنے خان کی خوشبو بہت پسند تھی صوفے پر بیٹھی میگزین الٹ پلٹ کرنے لگی پھر ناجانے کب وہیں بیٹھے بیٹھے نیند کی آغوش میں چلی گئی
اس نے کمرے میں آتے اپنی کیپ اتار کر ٹیبل پر رکھی۔ کمرے میں اسے اپنے علاؤہ کسی اور کی بھی خوشبو محسوس ہوئی تھی اور یہ خوشبو تو اس کی نس نس میں بسی تھی اس کی رگِ جاں کی خوشبو وہ جھٹکے سے مڑا وہ وہیں پیچھے موجود صوفے پر لیٹی تھی۔
ایک ہاتھ ڈھل کر نیچے لٹک رہا تھا جبکہ وہ خود بےترتیب سی صوفے کی پٹی پر سر رکھے سو رہی تھی۔ ایک تو اس کی جاناں کو نیند بہت آتی تھی اسے دیکھتے ہی اس کی ساری تھکن کہیں دور جاسوئی تھی
بلیک یونیفارم میں ملبوس نیلی آنکھوں والا شہزادہ یک ٹک اپنی زندگی کو دیکھتا اس کے پاس چلا آیا۔ اس کے سر کے پاس نیچے بیٹھتے اس کا بازو اٹھا کر صوفے پر رکھا
"سویٹی! ویک اپ میری جان،" انگلی سے اس کے بال چہرے سے ہٹائے اس وقت اس کی سویٹی دنیا کی سب سے معصوم لڑکی لگ رہی تھی حالانکہ وہ کتنی معصوم تھی یہ وہ اچھے سے جانتا تھا
اگر اس نے خوبصورتی اپنے باپ سے چرائی تھی تو معصومیت میں وہ اپنی ماں کا پرتو تھی مگر شرارتوں میں وہ بلکل اپنے سسر پر گئی تھی۔
اس کی انگلیوں کا لمس محسوس کرتے وہ آہستہ سے آنکھیں کھول گئی، ہری آنکھوں میں کچی نیند کا خمار تھا جن میں سرخ ڈورے تیرتے مقابل کا ضبط آزما رہے تھے
"خان! آپ آگئے؟" خوبصورت مسکراہٹ لبوں پر سجائے سیدھی ہوئی، اس وقت وہ بلیک ٹی شرٹ اور بلیک ٹراؤزر میں ملبوس تھی جو یقیناً اس نے اسی کے واڈروب سے نکالے تھے۔
وہ ہمیشہ ایسے ہی حلیے میں ملتی تھی۔ گھر میں اپنے بھائیوں کے اور یہاں آتی تو اس کے کپڑوں کا کباڑہ کرتی۔
"جی خان کی جان! خیریت آپ یہاں کیوں لیٹی ہیں؟" اس کا حلیہ دیکھ کر وہ دلکشی سے مسکرا دیا
"وہ ہمیں آپ سے ضروری بات کرنا تھی" وہ چہرے پر زمانے بھر کی معصومیت سمیٹ لائی اور ایسا تب ہی ہوتا تھا جب اسے کوئی بات منوانا ہوتی
"حکم کریں جاناں" دل پر ہاتھ رکھے جھکا تھا
"ہمیں گاؤں جانا ہے! بابا نہیں مان رہے" اس کے انداز پر مان بھری مسکراہٹ سجائے بولی جانتی تھی اس کا خان اس کی کوئی بات نہیں ٹال سکتا
"مگر" اسے ضروری کام تھا مگر اس کی مسکراہٹ کم ہوتی دیکھ وہ اپنا کام بھاڑ میں جھونک چکا تھا اس کے نزدیک اگر کوئی اہم تھا تو صرف اس کی سویٹی
"اوکے سویٹی! آپ ریڈی رہیے گا جب جانا ہو مجھے کال کر دیجیے گا" نیچے سے کھڑا ہوتے بولا
"اوہ! خان یو آر دی بیسٹ۔۔۔ آئی لو یو۔۔۔ " وہ ہر بار ایسے ہی معصومیت میں اظہار کر کے اس کا ضبط آزماتی تھی۔
سب اسے یونہی زن مرید نہیں کہتے تھے اس کے نزید اس کے بابا سب سے بڑے زن مرید تھے مگر اس نے اپنے باپ کو بھی پیچے چھوڑ دیا تھا۔ حسال ہر بار اسے چھیڑتی تھی مگر وہ محض مسکرادیتا۔
"اچھا اب آپ گھر جائیں گی یا یہیں رکیں گی؟" اس کے چہرے پر نظریں جمائے بولا
"نہیں حسال دیدہ کہہ رہی تھیں آج ہم ان کے ساتھ رکیں گے۔" وہ سر دائیں بائیں ہلاتے بولی اس کی اس ادا کر حوزان کا دل دھڑکا تھا۔
"یوں مت کیا کریں جاناں! " اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر روکا تھا۔
"چلیں جائیں اب جاکر آرام کریں۔" اس کے گال تھپتھپاتے کہا تھا وہ جتنی دیر اس کے سامنے رہتی اسے ایسے ہی اپنے آپ پر ضبط کے کڑے پہرے لگانے پڑتے
اس کی بات پر وہ سر ہلا کر وہ روم سے باہر نکل گئی اس کا رخ حسال کے کمرے کی طرف تھا حوزان چند لمحے کھڑا اس کا احساس محسوس کرتے چینج کرنے چل دیا۔۔
@@@@@@@@
مجتبی آج ہی گھر پہنچا تھا کل صبح عباد کی برسی تھی۔ ارتضیٰ اور حریم دونوں راستے میں تھے ، جبکہ سویرا اور ولید پرنیاں کے ساتھ ابراہیم ولا جاچکے تھے اس کا ارادہ بھی اب چینج کر کے وہیں جانے کا تھا۔
"ہیلو، جی پھپھو؟" موبائل کی بیل پر اس نے فون اٹھایا تو مہمل کا فون تھا۔
"ہیلو مجتبیٰ، آپ پہنچ گئے ہو گھر؟" مہمل نے بھتیجے کی آواز سن کر پوچھا
"جی پھپھو، ابھی ابھی پہنچا ہوں" وہ ساتھ ساتھ روم میں آتا اپنے کپڑے نکالنے لگا۔
"ابراہیم ولا کب جاؤ گے؟" اچانک اس کی آواز میں اداسی گھل گئی تھی یہ دو دن ان سب کی زندگیوں میں ہمیشہ اداسی اور دکھ لے کر آتے تھے
"جی پھپھو بس ابھی چینج کر کے جاؤں گا " مجتبیٰ ان کی آواز میں گھلی نمی محسوس کرتے لب بینچ گیا
"اوکے جاتے ہوئے یہاں سے ہوکر جائیے گا حرم کو ساتھ لے جانا ہے مجھے اور آپ کے چاچو کو بڈی کی قبر پر جانا ہے۔" مہمل کو پتا تھا اس نے کیسے بات پوری کی تھی اس کا جان سے پیارا بھائی کتنے عرصے سے منوں مٹی تلے سو رہا تھا۔
"ٹھیک ہے پھپھو، میں آدھے گھنٹے میں پہنچتا ہوں" مجتبی فون بند کرتے واشروم کی طرف بڑھ گیا، تقریباً ایک گھنٹے بعد وہ احتشام ولا پہنچ چکا تھا لاونج میں آیا تو سامنے حرم وائٹ شلوار قمیض پہنے سر پر سکائی بلو ڈوپٹہ لیے بیٹھی تھی
"اسلام علیکم" اس نے اندر آتے سلام کیا تھا
"وعلیکم السلام ! کیسے ہیں آپ؟" حرم اٹھ کر اس کے پاس آئی مجتبیٰ نے آگے بڑھ کر اس کے دوپٹے سے ڈھکے سر پر لب رکھے مہینوں بعد اسے یہ چہرہ دیکھنے کو ملتا تھا جو اس کے دل کے ایوانوں پر چمکتا تھا
"الحمدللہ آپ سنائیں ؟" حرم اس کی محبت محسوس کرتے مسکرا دی
"میں بھی ٹھیک ہوں، " حرم نے اپنے سامنے کھڑے خوبرو شہزادے کو دیکھا جو اپنی گہری سیاہ آنکھوں میں اس کے لیے محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر لیے ہوئے تھا
"اہمممم۔۔۔ گائز سینسر پلیز اس گھر میں معصوم اور شریف لوگ بھی رہتے ہیں" وہ دونوں یک ٹک ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے جب غزل کی آواز پر وہ دونوں ہوش میں آئے
"جی پورے خاندان میں ایک آنسہ غزل صاحبہ ہی تو معصوم اور شریف ہیں ہم باقی سب کے تو پوسٹر لگے ہیں وانٹڈڈ کے" حرم اس کی بات پر جھنپ گئی تھی جبکہ مجتبی نے اسے گھورتے ہوئے کہا
غزل احتشام اور مہمل کی چھوٹی بیٹی تھی جو حرم سے تین سال چھوٹی تھی اور ایم ایس سی کی سٹوڈنٹ تھی جبکہ حرم اور پرنیاں میڈیکل کے بعد اب آرمی میں کیپٹن کی پوسٹ پر تھیں، ان کے علاؤہ حریم ائیر فورس میں انجنئیر کی ٹرینگ لے رہی تھی
"جی بلکل ، میں تو ابھی بچی ہوں اور ایک آپ لوگ ہیں جہاں موقع ملتا ہے رومنٹک مووی کی شوٹنگ شروع کر دیتے ہیں" غزل منہ بنا کر بولی
پانچ سال پہلے مجتبیٰ حرم، ارتضیٰ حریم اور پرنیاں اور ذین کا نکاح ہوا تھا اس وقت مجتبیٰ، ارتضیٰ اور ذین بائیس بائیس جبکہ حرم اور پرنیاں انیس انیس اور حریم ساڑھے سترہ سال کی تھی مجتبی اور ارتضیٰ دونوں حرم اور حریم سے بہت محبت سے پیش آتے تھے وہ ہوبہو ولید کا روپ تھے اسے جیسے نرم خو اور محبت کرنے والے۔
ان کے برعکس ذین کا رویہ پرنیاں سے عجیب سا ہوتا تھا وہ اس سے ناں ہی بہت زیادہ محبت ظاہر کرتا تھا اور نہ ہی سرد ہوتا وہ اسے عام کزن کی طرح ہی ٹریٹ کرتا تھا
"ہم چاہے رومینٹک مووی شوٹ کریں ، چاہے سیڈ کریں تمہیں کیا پروبلم ہے" وہ اور مجتبی جب بھی ملتے تھے ایسے ہی ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے لگتے تھے
"یااللہ مجتبیٰ، غزل کیا ہوگیا ہے آپ دونوں کو؟ کبھی تو سکون سے دو گھڑی گزار لیا کریں" حرم ایک دم بولی تھی
"ہنی میں نے کچھ نہیں کیا ہمیشہ کی طرح اس چیونٹی نے لڑائی شروع کی تھی" مجتبیٰ اس کے بولنے پر ایک دم سیدھا ہوا تھا
"چیونٹی ہوگی آپ کی ہنی ، آپ ، آپ کے بچے۔۔" غزل کے دل پر لگا تھا چیونٹی لفظ
"کس کے بچوں کی بات ہو رہی ہے بھئی" اس سے پہلے مجتبیٰ جوابی کاروائی کرتا احتشام وہاں آتے بولا مجتبی کو تو موقع مل گیا تھا اسے تنگ کرنے کا
"میرے اور میرییی ہنی کے بچوں کی بات کر رہی ہے غزل! چاچو" جان بوجھ کر میری پر زور دیا تھا پتا تھا احتشام چڑے گا
"شرم کرو تم مجتبی اور غزل تم بھی، بچے ایسی باتیں نہیں کرتے ، اور حرم تم یہاں آؤ میرے پاس " احتشام کو مجتبی کے حرم پر حق جتانے سے بہت چڑ تھی
"حرم کہیں نہیں جائیں گی یہیں اپنے شوہر کے پاس کھڑی ہوں گی" اس سے پہلے کے حرم احتشام کے پاس جاتی مجتبی اس کے کندھوں کے گرد بازو پھیلاتے اسے اپنے ساتھ لگا چکا تھا
حرم کبھی اسے دیکھتی تو کبھی احتشام کو یہ ان کی بچپن کی بحث تھی اس نے جب سے ہوش سنبھالا تھا تب سے ان دونوں کو اپنے لیے لڑتے دیکھ رہی تھی احتشام کو غزل سے زیادہ حرم سے محبت تھی اور مجتبیٰ بچپن سے حرم کو اپنے قریب رکھتا تھا یہاں تک کے احتشام کو بھی اس کے پاس نہیں آنے دیتا تھا
اسی بات پر اس کا اور احتشام کا چھتیس کا اکڑا چلتا تھا اب بھی غزل فل آن موڈ میں تھی ان دونوں کی لڑائی دیکھنے کے جبکہ حرم اپنا سر پکڑ چکی تھی
"تھوڑی سی شرم کر لیں کمانڈر مجتبیٰ ولید ، آپ اپنے سسر کے سامنے یہ کیا تھرڈ کلاس حرکتیں کر رہے ہیں؟" احتشام دانت پیس پر بولا۔۔
"جانے دیں یار چاچو، کہہ کون رہا ہے ، اپنا وقت بھول گئے ہیں جب میری پھپھو سے شادی کے لیے آپ نے دادا ابو اور پاپا کے سامنے ڈائیلاگ مارے تھے؟" مجتبی کونسا کم تھا فوراً اسے اس کا وقت یاد دلایا تھا
"کونسا منحوس وقت تھا جب میں نے اس کے سامنے شوخی مارنے کے لیے اپنی اس بہادری کا قصہ سنایا تھا تب سے تو اس میں شرم بلکل ہی ختم ہوگئی ہے" اس کی بات پر احتشام خود سے بولا
"کیا سوچنے لگے چاچو جاننننن" اسے آگ لگا کر مجتبیٰ کے دل کو ٹھنڈک پہنچی تھی تبھی اسے جلانے کے لیے بولا۔
"کچھ نہیں تمہیں جس کے کام کے لیے بلایا تھا وہ کرو" احتشام منہ بناتے بولا، کبھی کبھی اسے اپنا بھانجا زہر لگتا تھا
"کیا ہو گیا ہے احتشام ، میں نے بلایا تھا مجتبیٰ کو " مہمل کب سے ان کا شور سن رہی تھی اور اسے اچھی طرح پتا تھا کے کیا شور ہے
"اسلام علیکم پھپھو" مجتبی مہمل کے گلے لگتا بولا
"وعلیکم السلام پھپھو کی جان" مہمل نے محبت سے بھتیجے کا ماتھا چوما
"مہمی آپ نے خیریت سے بلایا تھا مجتبیٰ کو ؟" احتشام مصنوعی سا مسکراتے ہوئے بولا
"جی وہ حرم اور غزل کو ماموں کی طرف لے کر جانا تھا تو میں نے سوچا مجتبی کے ساتھ چلی جائیں گی" مہمل نے آرام سے اسے بتایا
"ٹھیک ہے پھپھو ، ہم چلتے ہیں پھر، چلیں ہنی" مجتبی مہمل سے کہتا حرم کی طرف مڑا۔ جس پر اس نے اثبات میں سر ہلایا
وہ حرم اور غزل کو لیے گاڑی کی طرف بڑھ گیا جبکہ احتشام اور مہمل دونوں اپنی گاڑی میں بیٹھ کر قبرستان کی طرف روانہ ہوئے
اٹھارہ سال پرانی یہ قبر آج بھی دیکھنے والے کو یوں محسوس ہوتی تھی جیسے ابھی بنی ہو کوئی ہر روز وہاں آتا تھا اس پر مٹی اور پانی ڈالتا تازہ پھول ڈالتا اس قبر کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کسی کا عشق یہاں سویا ہو
وہ عشق جو ناقابلِ فراموش ہوتا ہے، جسے بھلایا نہیں جاتا، ذین ہمیشہ کی طرح آج بھی خاموش سا وہاں بیٹھا تھا وہ ہر روز اپنے باپ سے ملنے آتا تھا مگر کبھی ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکالتا تھا شاید اس سے بھی ناراض تھا
اچانک اس کا فون بجا جیب میں ہاتھ ڈالتے موبائل نکالا اس کے دوست کا فون تھا مظہر سے اس کی دوستی یونیورسٹی میں ہوئی تھی جو ابھی تک قائم و دائم تھی۔
"ہیلو ، ذین " وہ اٹھ کر قبرستان سے باہر نکل آیا شاید باپ کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا
"ہیلو ، ہاں مظہر بولو" سرد ترین آواز میں بولا جو کے اس کا خاصا تھی
"ذین اس بار ہمیں انڈیا جانا ہوگا، باس چاہتا ہے تم بھی ہمارے ساتھ آؤ" مظہر سیدھا مدعے کی بات پر آیا تھا
"مگر پہلے تو ہماری یہ بات نہیں ہوئی تو اب وہ مجھے انڈیا کیوں بلانا چاہتا ہے؟" ذین کو اس ان دیکھے بوس سے سخت چڑ تھی
"پتا نہیں یہ تو اب وہاں جاکر ہی پتاچلے گا" مظہر کی پرسوچ آواز موبائل میں گونجی ذین خالی سڑک پر چلتاجا رہا تھا مگر باربار اسے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے کوئی اس پر نظر رکھے ہوئے ہے
"ٹھیک ہے جب جانا ہو مجھے بتا دینا، اس بار تو بوس سے مل کر ہی رہوں گا" ذین نے رضامندی دیتے فون کاٹا پھر ادھر ادھر دیکھتے گھر کی طرف بڑھ گیا
کہتے ہیں دوست انسان کی پہچان ہوتے ہیں جو ہم پر اور ہماری زندگی پر گہرے اثرات رکھتے ہیں یہ ہمیں سہی راستے کی طرف بھی لا سکتے ہیں اور غلط راہ پر بھی موڑ سکتے ہیں
ذین کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا، عباد کے بعد اسنے بولنا بلکل چھوڑ دیا تھا جس کی وجہ سے اس کا کوئی دوست نہیں تھا جب کوئی ٹیچر اس کے فادر کے بارے میں پوچھتا اور عباد کے بارے میں پتا چلنے پر ہمدردی میں اسے دیکھتا تو اسے اس ہمدردی سے نفرت محسوس ہوتی تھی
باپ سر پر نہ ہو تو کوئی ایسا نہیں ہوتا جو سر کی چھت بن سکے، کوئی لاکھ محبت جتا لے باپ کی کمی کو پورا نہیں کر سکتا، یونیورسٹی میں جب اس کی ملاقات مظہر سے ہوئی تو اس نے عباد کے بارے میں جاننے پر ہمدردی نہیں جتائی تھی
وہ اس سے باتیں کرتا تھا خود ہی بولتا رہتا شروع شروع میں ذین کو اس سے بھی چڑ تھی مگر پھر اسے بھی عادت ہونے لگی اس کی بےتکی باتوں کی، یونیورسٹی لائف ختم ہوئی ۔ مظہر اکثر اسے باتوں باتوں میں آرمی کے خلاف کرنے لگتا تھا
آرمی کی وجہ سے ہر روز کوئی ناں کوئی مرتا ہے، آرمی میں صرف بڑی پوسٹ والوں کی عزت ہے جو اپنے سے نچلے عہدے والوں کی جان خطرے میں ڈالتے ہیں، اس طرح کی کئی باتیں مظہر نے آہستہ آہستہ اس کے ذہن میں ڈالنی شروع کر دیں
پانی اگر پتھر پر بھی مسلسل گرتا رہے تو اس میں سوراخ ہو جاتا ہے ذین تو پھر انسان تھا اور اسے تو پہلے ہی آرمی سے چڑ تھی سو وہ چڑ کچھ عرصے میں نفرت میں بدل چکی تھی۔ ایک دن مظہر نے اسے بتایا کے اس کا بوس ہے جس کے باپ کی وفات بھی آرمی میں ہونے کی وجہ سے ہوئی
ذین کو اس کے باس میں اپنا آپ نظر آیا مظہر دن با دن اسے آرمی کے خلاف اور اپنے باس کی طرف متوجہ کرتا جارہا تھا۔۔ اور اب اس کے باس نے اسے انڈیا بلایا تھا ناجانے کیوں
ناجانے ذین کی یہ نفرت اسے اور اس سے جڑے رشتوں کو کتنا نقصان پہنچانے والی تھی، ناجانے کب وہ اپنی زندگی کا اصل مقصد سمجھنے والا تھا اور زندگی اسے کہاں سے کہاں لے جانے والی تھی
@@@@@@@@
"کیسے ہیں بڈی؟ امید ہے ٹھیک ہوں گے، آپ کو میری یاد نہیں آتی ناں؟" مہمل عباد کی قبر کے پاس بیٹھی اس پر ہاتھ پھیرتے بول رہی تھی اس نے اپنا چہرہ اچھے سے ڈھانپ رکھا تھا۔ جانتی تھی عورتوں کا قبرستان آنا اچھا نہیں ہوتا مگر ہر سال آج کے دن وہ خود کو روک نہیں پاتی تھی یہاں آنے سے
"مجھے آپ کی بہت یاد آتی ہے، آپ کو پتا آپ کی بیٹی بہت بڑی ہوگئی ہے ماشاءاللہ، ذین بھی بڑا ہو گیا اور آپ کا داماد، آپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ائیر فورس آفیسر ہے ، بہت محبت کرتا ہے وہ ہماری حریم سے" احتشام چپ چاپ اپنی زندگی کو سسکتے ہوئے دیکھ رہا تھا
"عائشہ بھی آپ کو بہت یاد کرتی ہے ، وہ پہلے اتنی بہادر نہیں تھی مگر آپ کی محبت نے اسے بہت بہادر بنا دیا ہے" مہمل نے بےساختہ اپنی سسکی روکی تھی کتنا مشکل ہوتا ہے اپنوں کو منوں مٹی تلے سوئے دیکھنا
"مہمل ، پلیز میری جان" احتشام نے بےساختہ اسے کندھوں سے تھاما تھا
"شام دیکھیں ناں میرے بڈی اس بار بھی مجھے جواب نہیں دے رہے" مہمل اس کے لگتے روتے ہوئے بولی
"شام کی جان وہ یہیں ہے آپ کے پاس، آپ کو دیکھ رہا ہے آپ جانتی ہیں شہید کبھی مرتا نہیں ہے تو کیوں رو رو کر اسے تکلیف دے رہی ہیں" احتشام نے اس کا سر سہلاتے ہوئے اسے حوصلہ دیا
"ہممم۔۔۔ میرے بڈی یہیں ہے میرے پاس ، وہ زندہ ہیں، میں اب نہیں روؤں گی" مہمل نے جلدی سے اپنے آنسو صاف کیے احتشام کے لیے اس کا کوئی بھی انداز نیا نہیں تھا ہر سال اس کی حالت کم و بیش ایسی ہی ہوتی تھی
"آئیں چلیں گھر چلتے ہیں انکل آنٹی انتظار کر رہے ہوں گے" احتشام نے اسے پکڑ کر کھڑا کیا
"چلتی ہوں بڈی، آپ اپنی جنت میں خوش رہیں ، ہم بہت جلد ملیں گے " ایک الوداعی نظر عباد کی قبر پر ڈال کر وہ احتشام کے حصار میں چلتی باہر نکل گئی۔
وہیں ابراہیم ولا میں ولید گھر آیا تو سب لوگ کسی ناں کسی کام میں مصروف تھے عباد کی برسی پر قرآن خوانی ہونا تھی جس کی تیاری وہ سب کر رہے تھے
"پری بیٹا ، آپ کی ماما کدھر ہیں؟" ولید نے پاس سے گزرتی پرنیاں کو دیکھ کر پوچھا
"بابا ماما اوپر ماموں کے روم میں ہیں" وہ ولید سے کہتی سارہ بیگم کی آواز پر ان کی طرف بڑھ گئی ولید سیڑھیاں چڑھتے اوپر عباد کے روم میں آگیا عائشہ نیچے باقی سب کے ساتھ تھی سو وہ بغیر ناک کیے اندر آگیا
سویرا عباد کی تصویر تھامے شدت سے رو رہی تھی اس کے لب آہستہ آہستہ ہل رہے تھے مطلب وہ اپنے بھائی سے رازوں نیاز میں مصروف تھی
"سویرا،" ولید اس کے پاس آکر نیچے بیٹھا
"ولی، بھائی، بھائی اتنی جلدی کیوں چلے گئے؟ ان کے جانے کا دکھ کم ہی نہیں ہوتا ہر وقت یہ احساس دل کو تڑپاتا ہے کے میرا بھائی اب نہیں ہے " سویرا ولید کے سینے پر سر رکھے اپنا دکھ ہلکا کرنے لگی
"ویرا، وہ اللّٰہ کی امانت تھا ، ہم سب کو ایک ناں ایک دن جانا ہے کسی کو پہلے تو کسی کو بعد میں ، ہم کسی کو روک نہیں سکتے " ولید ہمیشہ کی طرح آج بھی اس کا سہارا بن گیا تھا اس کی مضبوط ڈھال
"اس طرح رو کر آپ ناں صرف عباد کو بلکے مجھے اور باقی سب کو بھی تکلیف دے رہی ہیں، آپ جانتی ہیں ناں عباد آپ سے کتنی محبت کرتا تھا" ولید کی بات پر اس نے آنسو صاف کرتے سر اثبات میں ہلایا
"تو پھر رونا بند کریں شاباش ورنہ وہ ناراض ہو جائے گا، اور ابھی آپ کے شہزادے بھی پہنچنے والے ہیں اگر انہوں نے آپ کو اداس دیکھا تو وہ دونوں بھی ناراض ہو جائیں گے" ولید اس کے سر پر بوسہ دیتے بولا
"کیا مجتبیٰ اور ارتضیٰ پہنچ گئے گھر؟" سویرا جلدی سے سیدھی ہوئی، عباد کے بعد اس کا دل ہر وقت ہولتا رہتا تھا خاص کر ارتضیٰ کی طرف سے
"جی بس دس منٹ تک پہنچ جائیں گے وہ بھی آپ کی بہوؤں کو لے کر، تو اب جلدی سے اٹھیں اور عباد کو مسکرا کر یاد کیا کریں" اس نے سویرا کو کھڑا کیا تو سویرا عباد کی تصویر کو دیکھتی مسکرا دی یوں لگا جیسے اس کے مسکرانے پر عباد بھی مسکرا دیا ہو
وہ دونوں نیچے آئے تو تھوڑی دیر بعد مجتبی حرم اور غزل کو لے کر آگیا اس کے آتے ہی دوبارہ ہارن بجا اور ارتضیٰ اور حریم اندر آئے
"اسلام علیکم ماما جانی" وہ دونوں ایک ساتھ آکر سویرا کے گلے لگے وہ دونوں ہمیشہ ایسا ہی کرتے تھے ان کا کہنا تھا کے ہم ایک ساتھ دنیا میں آئے تھے تو ماما بابا کا پیار بھی ایک ساتھ وصول کریں گے
وہ دونوں ساتھ کھڑے ایک دوسرے کا آئینہ لگ رہے تھے اگر کوئی فرق تھا تو صرف آنکھوں اور بالوں کے رنگ کا، سویرا سے مل کر وہ دونوں ولید کے گلے لگے
"کیسی ہیں آپ اینی مم؟" ارتضیٰ اور مجتبی عائشہ کا ایک ایک ہاتھ ہاتھوں میں لے کر لبوں سے لگا کر مسکرا کر بولے
"میرے بچے ٹھیک ہیں تو میں بھی ٹھیک ہوں، " عائشہ نے باری باری ان دونوں کا ماتھا چوما حریم اور حرم سویرا کے گلے کا ہار بنی ہوئی تھیں
"حرم ، حریم" عائشہ نے ان دونوں سے الگ ہوتے ان دونوں کو آواز دی
"ممانی جان، ماما جانی" وہ دونوں سویرا سے الگ ہوتے آکر عائشہ کے گلے لگیں سب لوگ ان چاروں کو مل کر اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ چکے تھے
"پھپھو جانی پری کہاں ہے؟" حرم اور پرنیاں کیونکہ ایک ساتھ جوب کرتی تھیں سو وہ ایک دوسرے سے ملتی رہتی تھیں جبکہ حریم کو تو چھٹی ہی بہت کم ملتی تھی وہ کہنے کو ان دونوں سے ڈیڑھ سال چھوٹی تھی مگر ان تینوں میں دوستی کمال کی تھی
"پری یہاں ہے میری شونا" پری پیچھے سے اس کے گرد حصار باندھتی ہوئی بولی جس پر حریم مسکرا دی حریم ان سب میں سب سے چپ چپ رہنے والی لڑکی تھی
آہستہ آہستہ اور کم بولنا ، نہ کسی سے بحث نہ لڑائی اور ہر وقت چہرے پر رہنے والی کیوٹنیس جس پر سب سے زیادہ پیار ارتضیٰ کو آتا تھا۔ اب بھی اس کی مسکان ارتضیٰ کا سیروں خون بڑھا گئی تھی وہ کسی کا بھی لحاظ کیسے بغیر یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا
"شرم کر لے بھائی، سب لوگ دیکھ رہے ہیں، تیری ہی ہے " مجتبی نے اس کی نظروں کا ارتکاز محسوس کرتے چھیڑا جس پر وہ جھنپ گیا
"اور مجھے شرم کرنے کا کہہ کون رہا ہے خود تو جیسے تم نے حرم سے نظریں ہٹا رکھیں ہیں ناں؟" ارتضیٰ اسے اچھی طرح جانتا تھا اسی لیے بدلہ لیا
"بھئی میں تو آلریڈی خاندان میں بےشرم مشہور ہوں مگر آپ تو "وونگ کمانڈر ارتضیٰ ولید حیدر" ہیں، خاندان کے سب سے شریف بچے آپ تو ایسی حرکتیں مت کریں" ارتضیٰ اپنی خاموش طبع کے باعث سب میں نیک اور شریف کہلاتا تھا جبکہ مجتبی کی بے باکیاں سب نے ملاحظہ کر رکھی تھیں
"شٹ اپ " ارتضیٰ نے بحث ختم کرنا بہتر سمجھا کیونکہ مجتبی سے باتوں جیتنا کونسا آسان تھا
"اسلام علیکم! " ابھی وہ سب باتوں میں مصروف تھے جب اجنبی آواز پر سب نے گیٹ کی طرف دیکھا، ایک خوبصورت اور وجیہہ مرد کے ساتھ ایک ہنڈسم سے لڑکے کو دیکھ کر وہ سب چونکے تھے سوائے ولید کے
@@@@@@@@
سویٹی سونے کے لیے حسال کے روم میں آگئی تھی ، حسال شاہ زر اور ذیشان کو دودھ وغیرہ دے کر ابھی روم میں آئی تھی جب اس کا فون بجا،بہرام کا نام پڑھ کر اس کا دل بےساختہ دھڑکا تھا
"ہیلو؟" حسال نے فون اوکے کرتے کان سے لگایا
"اسلام علیکم" بہرام کی سنجیدہ سی آواز پر حسال کو سلام نہ بلانے پر شرمندگی ہوئی
"وعلیکم السلام" آہستہ سے کہا جس پر مقابل کر چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی
"سویٹی کہاں ہیں ؟ انہیں نیچے بھیج دیں میں گیٹ پر ہوں" بہرام نے آزین کے بارے میں پوچھا جو مزے سے سورہی تھی
"آپ باہر ہیں؟ " حسال اس کے فون کرنے پر حیران ہوئی تھی وہ اندر کیوں نہیں آیا تھا
"جی!" بہرام نے مختصراً کہتے فون بند کر دیا، وہ جانتا تھا سویٹی اب تک سوچکی ہوگی وہ تو صرف حسال کو دیکھنے آیا تھا مگر سیدھا سیدھا کہنا بھی اس کی فطرت کے خلاف تھا تب ہی بہانہ بنایا
حسال ایک نظر سویٹی کو دیکھتے دوپٹہ سہی کرتے باہر چلی گئی وہ کھڑوس اسے دیکھنے آیا تھا یہ وہ اچھے سے جانتی تھی مگر پھر اسے انجان بنتے دیکھ خود بھی انجان بن گئی
وہ باہر آئی تو وہ گیٹ کے سامنے گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا تھا حسال اس کی طرف بڑھ گئی حسال کو دیکھتے وہ سیدھا ہوا
"سویٹی کہاں ہے؟" بہرام نے انجان بننے کی کوشش کی
"آپ اچھی طرح جانتے ہیں سویٹی کہاں ہے" سرسری انداز میں کہتے اسے جتایا تھا کے میں تمہارے بہانے سمجھتی ہوں، بہرام اس کے انداز پر خجل سا ہوگیا
"کیسی ہیں آپ؟" سیدھا ہوکر اس سے پوچھا تھا
"میں ٹھیک ہوں آپ بتائیں؟" حسال سے اس کی نظروں کا مقابلہ کرنا مشکل ہورہا تھا جو محبت سے اسے دیکھ رہا تھا
"الحمدللہ" حسال انگلیاں مڑوڑتی یہاں وہاں دیکھ رہی تھی وہ سمجھ گیا تھا اس کی نظروں کے ارتکاز سے نروس ہو رہی ہے
"اوکے میں چلتا ہوں گڈ نائیٹ" وہ اسے مزید تنگ نہیں کرنا چاہتا تھا اسی لیے رخ بدل گیا
"ارے ایسے کیسے ، پلیز اندر آئیں ناں بابا کو پتا چلا کے آپ ایسے باہر سے چلے گئے ہیں تو وہ غصہ ہوں گے" حسال بوکھلاتے ہوئے جلدی سے بولی
"میں جس سے ملنے آیا تھا مل لیا ہے اور رہی تایا جان کی بات تو انہیں بتائیے گا ہی نہیں میرے آنے کا" دو قدم اس کے قریب آتے اس کے ماتھے پر لب رکھتے گاڑی میں بیٹھتا وہ وہاں سے جاچکا تھا
حسال وہیں اس کے لمس کے حصار میں کھڑی رہ گئی وہ بہت کم ایسے اظہار کرتا تھا مگر جب کرتا تھا تو اس کی سانسیں تک روک دیتا تھا ، حسال بےساختہ مسکرا دی بہت پیارا تھا اسے وہ کھڑوس
@@@@@@@@
"ہیلو، پینتھر" پینتھر گاڑی میں تھا جب اس کا موبائل وائبریٹ ہوا
"ہممم بولو" لیپرڈ کی بات پر اس نے سنجیدگی سے بولا
"پینتھر ابھی ابھی زیرو زیرو کا پیغام ملا ہے ہمارا مین ٹارگٹ بھی انڈیا جا رہا ہے ، وہاں وہ کوئی میٹنگ کرنے والے ہیں" لیپرڈ کی بات پر پینتھر نے لب بینچے تھے
"ہمیں ان آستین کے سانپوں کو جلد سے جلد پکڑنا ہوگا ، یہ ہمارے ملک کو اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں ، جنہیں اپنا سمجھا جاتا ہے وہی پیٹ پر چھرا گھونپ دیتے ہیں" پینتھر کے ماتھے کی رگیں تن چکی تھیں
"کیا کرنا ہے اب؟ میں بھی تمہارے ساتھ انڈیا جاؤں گا پینتھر" لیپرڈ نے آخری فیصلہ اسے سنایا تھا
"ہمممم ٹھیک ہے کل رپورٹ کرو ہیڈ آفس میں بھی پہنچ جاؤں گا " پینتھر پرسوچ انداز میں بولا
"اوکے" لیپرڈ نے کہتے فون بند کر دیا تھا پینتھر کے ماتھے پر سوچ کی لکیریں ابھری تھیں ناجانے کون تھا وہ انسان جو اپنے ہی ملک سے غداری کرنے جارہا تھا
ناجانے آگے قسمت انہیں کیا دکھانے والی تھی کون کس کے مقابل آنے والا تھا، زندگی کبھی کبھی ہمیں وہاں سے مارتی ہے جہاں ہماری سوچ بھی نہیں جاتی
"وعلیکم اسلام ! شاہ زیب، آؤ ناں یار وہاں کیوں رک گئے" ولید شاہ زیب کو دیکھتا اٹھ کر اس کی طرف بڑھا
"اسلام علیکم انکل!" ولید شاہ زیب کے گلے لگ کر پیچھے ہوا تو داہیم نے اسے سلام کی
"وعلیکم السلام بیٹا، کیسے ہیں آپ" ولید نے محبت سے اس کے سلام کا جواب دیا
"الحمدللہ انکل" سر جھکائے کھڑا وہ بہت ادب سے گویا ہوا
"ولید یہ داہیم خانزادہ ہے میرا چھوٹا بیٹا" شاہ زیب نے ولید کا تعارف کروایا
"ماشاءاللہ، آؤ شاہ ، داہیم بیٹا آؤ " ولید انہیں لیے اندر بڑھا جہاں سب لوگ ان کے انتظار میں تھے
"سویرا ، عائشہ بھابھی ، ماما بابا یہ میرے بہت اچھے دوست ہیں شاہ زیب خانزادہ اور یہ ان کا بیٹا داہیم خانزادہ" ولید نے حیرت سے سب کو اپنی طرف دیکھتے ان کا تعارف کروایا تھا
"شاہ یہ میری مسز ہیں سویرا ولید ، یہ میرے جڑواں بیٹے ہیں وونگ کمانڈر ارتضیٰ ولید اور نیول کمانڈر مجتبیٰ ولید، اور یہ میری بیٹی ہیں کیپٹن ڈاکٹر پرنیاں ولید" ولید نے سب سے پہلے ان کا تعارف اپنی فیملی سے کروایا تھا
مجتبی اور ارتضیٰ نے باری باری شاہ زیب اور داہیم کو گلے لگایا پرنیاں نے سلام بلایا تو شاہ زیب نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا، داہیم نے دلچسپی سے پرنیاں کی جھکی نظروں کو دیکھا
"اور شاہ یہ سویرا کی بھابھی عائشہ ہیں ، یہ ہماری پرنسس حریم ہے، یہ ہماری دوسری بیٹی حرم ہیں ماشاءاللہ یہ بھی ڈاکٹر ہیں اور یہ ہمارے گھر کی چڑیا غزل" ولید نے باری باری سب کا تعارف کروایا
"اسلام علیکم!" احتشام کی آواز پر وہ سب لوگ گیٹ کی طرف متوجہ ہوئے
"وعلیکم السلام ، " شاہ زیب کی آواز پر احتشام کو خوشگوار حیرت کا جھٹکا لگا تھا
"شاہ زیب تم،کیسے ہو یار؟ اور ذیشان کہاں ہے؟ وہ کیوں نہیں آیا" احتشام شاہ زیب کے گلے لگتا بولا
ذیشان کی دوستی ولید اور احتشام سے ایک کیس کے سلسلے میں ہوئی تھی جب آئی ایس آئی کی طرف سے دیے جانے والے کیس میں انہوں نے ذیشان کی مدد لی تھی
تب سے ان لوگوں کا ایک دوسرے سے ملنا جلنا تھا مگر کبھی ایک دوسرے کے گھر جانے کا اتفاق نہیں ہوا تھا اس بار ولید نے خاص کر کے انہیں عباد کی برسی میں بلایا تھا
"ذیشان کو ارجینٹ میٹنگ میں جانا پڑگیا ، وہ کل آئے گا شاید شاہ زر بھی آئے، مگر میں کل تھوڑا بزی ہوں اسی لیے آج ہی آگیا" شاہ زیب نے بہت سلیقے سے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا تھا
"ہممم۔۔۔ شاہ زر سے ملے بھی کافی عرصہ ہو گیا، خیر شاہ زیب یہ میری مسز ہیں مہمل احتشام" احتشام نے اس کا تعارف مہمل سے کروایا شاہ زیب نے سر کے اشارے سے اسے سلام بلایا
"عائشہ بھابھی مجھے بہت افسوس ہوا عباد کا سن کر، مگر یہی مشیتِ ایزدی تھی اور وہ تو شہید ہوا تھا اور شہید کا رتبہ بہت بلند ہوتا، اللّٰہ اس کے درجات بلند فرمائے" شاہ زیب صوفے پر بیٹھ کر عائشہ سے مخاطب ہوا
"آمین ، شکریہ بھائی جیسے اس کی رضا ویسے ہم راضی، اور مجھے فخر ہے کے میں ایک شہید کی بیوہ ہوں" عائشہ نم آنکھوں سے مسکرائی تھی اس شخص کا ساتھ بہت کم تھا مگر جو تھا وہ اس کا کل سرمایہ تھا
وہ لوگ آپس میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے جب ذین وہاں آیا ، ارتضیٰ، مجتبیٰ اور باقی سب سے مل کر وہ ایک سائیڈ پر حریم کو بازو کے گھیرے میں لیے بیٹھ گیا
حریم بھائی کے سینے سے لگی باپ کی خوشبو محسوس کرنے کی کوشش کر رہی تھی وہ اور ذین دونوں ہی بہت زیادہ کم گو تھے، حریم تو یوں لگتا تھا جیسے کوئی سہما ہوا بچہ بھیڑ میں کھو گیا ہو
ارتضیٰ اردگرد ہوتا تو پرسکون رہتی ورنہ ہر وقت سہمی غزال کی طرح اردگرد دیکھتی ، اسی لیے ارتضیٰ نے اس کا ایڈمیشن ائیر فورس اکیڈمی میں کروایا تھا تاکے وہ اس کے قریب رہ سکے
ولید نے شاہ زیب کو کھانے پر روک لیا تھا،کھانا سب نے اچھے ماحول میں کھایا، ذین سب سے معذرت کرتا روم میں جا چکا تھا جبکہ داہیم کی نظریں گھوم پھر کر بار بار پرنیاں کی طرف اٹھ رہی تھیں
ارتضیٰ نے حریم کو اپنے ساتھ والی کرسی پر بیٹھایا تھا،ہر چیز پکڑ کر پہلے اس کی پلیٹ میں ڈالتا تو کبھی اسے کھانے کے لیے فورس کرتا اسے کوئی پرواہ نہیں تھی کوئی اس کے بارے میں کیا سوچے گا
جب کبھی اسے حریم کے زرا سے بھی اداس ہونے کا علم ہوتا تب تب ارتضیٰ اس کا سایہ بن جاتا تھا، باقی سب گھر والے تو حریم کے لیے اس کی پوزیسیونیس سے واقف تھے مگر شاہ زیب حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات لیے اسے دیکھ رہا تھا
وہ اسے کچھ کچھ بہرام جیسا لگا تھا اسی کی طرح بردبار، میچور اور سنجیدہ سا جبکہ مجتبی کی نیچر داہیم جیسی تھی اب بھی وہ دونوں پرانے دوستوں کی طرح ہنسی مزاق کر رہے تھے
کھانا کھا کر وہ اور داہیم واپسی کے لیے نکل گئے، دوستی کی یہ داستان جو کئی سال پہلے شروع ہوئی تھی وہ آگے ناجانے کن کن راہوں سے گزرنے والی تھی
@@@@@@@@
آزین اور حوزان دونوں دن کے تقریباً دس بجے اسلام آباد سے نکلے تھے جانے سے پہلے وہ لوگ شاہ زیب ولا آئے تھے۔ آزین نے چینج کر کے چادر اور بیگ وغیرہ لیا، بہرام اور آب کو مل کر وہ دونوں گاؤں کے لیے نکل گئے
آزین نے ریڈ کلر کی شرٹ اور وائیٹ ٹراؤزر پہنا تھا بالوں کو دونوں سائیڈ سے ہلکا ہلکا پکڑے پیچھے کیچر لگا رکھا تھا سر پر چادر لیے وہ حوزان کو دیوانہ کر رہی تھی جو خود وائٹ شرٹ اور بلیک پینٹ کوٹ پہنا تھا
"سویٹی میری جان، آپ نے کوئی گرم جیکٹ بھی نہیں پہنی کمراٹ میں اچھی خاصی ٹھنڈ ہوگی " سویٹی کو کوئی بھی گرم چیز پہنے دیکھ کر حوزان نے فکرمندی سے کہا
"خان،ہمیں ٹھنڈ نہیں لگ رہی ناں" آزین منہ بسورتے ہوئے بول
"اگر آپ کو ہلکا سا زکام بھی ہوا تو میں آپ سے بات نہیں کروں گا" حوزان نے دوسرا طریقہ استعمال کیا تھا وہ جتنی بےپرواہ تھی اسے اتنی جلدی بیماریاں آگھیرتی تھیں
"پرامس خان،ہم اپنا خیال رکھیں گے" گردن پر ہاتھ رکھتے معصومیت سے بولی اپنے خان کی ناراضگی بھی تو برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ کچھ دیر تک وہ حوزان کے موبائل پر مصروف ہو چکی تھی وہ اسے دیکھ کر نفی میں سر ہلا گیا
سوات کے قبیلے کی سردار حویلی کے اکلوتے وارث " گوہر خان" سردار گل ریز خان کے پوتے اور سردار گل نور کا بیٹا تھا۔ ان کی وفات کے بعد اب وہ سردار بنا تھا
آج گوہر خان اپنے خاص آدمی کے ساتھ سوات کی حدود کی طرف آیا تھا۔ موبائل میں مصروف وہ اردگرد کے نظاروں سے لطف اندوز ہو رہا تھا
"خان، آئیں ناں آپ بھی " قریب سے آتی اجنبی آواز پر وہ پلٹا تھا کچھ فاصلے پر موجود باغ میں نظر پڑی تو نظر وہیں ساکت ہوگئی تھی
وہ آج چہل قدمی کے لیے اس طرف نکل آیا تھا ورنہ عموماً وہ مصروفیت کی وجہ سے گھر سے نکل نہیں پاتا تھا اس پری وش پر نظر پڑتے ہی وہ سمجھ گیا تھا کے شاید قسمت اسے کسی مقصد سے یہاں لائی ہے
وہ ایک ٹرانس کی کیفیت میں چلتا ہوا باغ میں داخل ہوا تھا، ایک اندیکھی طاقت اسے اس طرف کھینچ رہی تھی وہ سامنے کھڑی لڑکی سے محض کچھ قدموں کی دوری پر تھا
مقابل کی نظر اس پر پڑی تو حیرت سے اس کی آنکھیں پھیل گئیں اس سے پہلے وہ اپنی ڈھلکی ہوئی چادر سر اور منہ پر ڈالتی ایک مضبوط وجود اسے اپنے پیچھے چھپا گیا تھا
سویٹی اور حوازن گاؤں سے کچھ دور پہنچے تھے جب سویٹی ایک باغ دیکھتے ضد کرتے اس کو وہاں لے آئی تھی، وہاں زیادہ آباد نہیں تھی نہ ہی زیادہ لوگ موجود سے سو بےدھیانی میں سویٹی کی چادر سر سے پھسل کر کندھوں پر آگئی تھی
وہ کھلکھلا کر اردگرد دیکھ رہی تھی جبکہ حوزان ہونٹوں پر خوبصورت مسکراہٹ لیے اپنی رگِ جاں کو مسکراتا ہوا دیکھ رہا تھا جب ایک اجنبی چلتا ہوا اس کی سویٹی کے پاس آیا
اس آدمی کی ایکسرے کرتی آنکھیں اس کی بیوی کے آر پار ہو رہی تھیں یک دم اس کی آنکھوں سے شعلے لپکنے لگے تھے اس نے آگے بڑھتے سویٹی کو اپنی پشت پر چھپایا تھا جیسے ہر برائی ہر خطرے سے محفوظ کردینا چاہتا ہو
مقابل نے حیرت سے اس کی آنکھوں کے سرد پن اور سختی سے بینچے ہوئے ہونٹوں کو دیکھا جو یوں لگتا تھا جیسے اسے آنکھوں سے ہی قتل کر ڈالے گا
"سویٹی میری جان آپ جاکر گاڑی میں بیٹھیں" حوزان نے پیچھے دیکھے بغیر کہا جس پر سویٹی چپ چاپ گاڑی کی طرف بڑھ گئی
"آپ کی تعریف؟" حوزان نے سرد نظروں سے اسے دیکھا تھا
"سردار گوہر خان، اور آپ؟" اس نے ایک غرور سے کہا تھا
"سردار حوزان خاقان، خان صاحب جب گھر سے نکلیں تو اپنی نظر کو اسکی حد میں رکھ کر نکلا کریں" حوزان نے ٹھنڈے ٹھار لہجے میں اسے دھول چٹائی تھی
"اگر ہم آنکھیں بند رکھیں گے سردار صاحب تو قبیلے پر نظر کون رکھے گا، یہ ہمارا علاقہ ہے اور یہاں چڑیا بھی ہماری اجازت کے بغیر پر نہیں مارتی" گوہر خان کے لہجے میں عجیب سا غرور و تکبر بھرا تھا
"جی بلکل رکھیے نظر، یہاں پر مارنے والی ہر چڑیا پر نظر رکھیے مگر چڑیا پر، دوسروں کی عزت پر نہیں، کیونکہ خان اپنی عزت کی طرف اٹھنے والی نظر کو نکالنا اچھی طرح جانتے ہیں، اور یہ بات آپ کو اچھی طرح پتا ہوگی" حوزان نے اس کے کندھے سے نادیدہ گرد جھاڑتے ہوئے کہا تھا۔
"چلتا ہوں سردار صاحب، آپ سے ہوئی یہ پہلی ملاقات کافی یادگار تھی، امید ہے دوبارہ نہیں ملیں گے، خدا حافظ" سرد لہجہ مقابل کو سلگا گیا تھا
حوزان آنکھوں پر سن گلاسز لگاتے گاڑی میں جاکر بیٹھ گیا، گوہر خان کے سامنے سر گاڑی لے جاتے وہ اسے بہت پیچھے چھوڑ گیا تھا
"دوبارہ تو ہم ضرور ملیں گے خان صاحب، آخر آپ ہمارا گلاب اپنے ساتھ لیے جارہے ہیں، اور یہ تو طے ہے کے اس گلاب کو ہمارے آنگن میں ہی کھلنا ہے" گوہر خان خود کلامی کے سے انداز میں بولتا گاڑی کی طرف بڑھ گیا
اس کی نظروں میں سرخ لباس میں ملبوس وہ نازک وجود سما گیا تھا مگر وہ شاید یہ نہیں جانتا تھا کے جس گلاب کو اپنے آنگن میں لگانا چاہتا وہ تو پہلے سے ہی کسی اور کے وجود میں کھل کر اسے مہکا چکا ہے
"خان!" کافی دیر خاموشی کے بعد سویٹی نے اسے پکارا تھا حوزان کا چہرہ بتا رہا تھا کے اسے کتنا غصہ آیا ہوا ہے۔
"جی خان کی جان،" گوہر خان سے بات کرتے اس کے لہجے میں جتنا سرد پن تھا اس وقت اتنی ہی محبت تھی
"آپ ناراض ہیں مجھ سے، ہمیں ایسے وہاں نہیں جانا چاہیے تھا، اور ہمیں نہیں پتا تھا وہاں وہ برا آدمی آجائے گا" وہ خود بھی خان تھی سو جانتی تھی کے خان عزت کے معاملے میں کتنے سخت ہوتے ہیں اسی لیے صفائی دیتے بولی
"میں نے آپ سے کہا کے آپ کی غلطی تھی، ایک بات یاد رکھیے گا میری جان میں آپ کا محافظ ہوں ہر جگہ، ہر لمحہ ، اور آپ کے خان میں اتنی سکت ہے کے آپ کو میلی نگاہ سے بچا سکے، آپ کی کوئی غلطی نہیں ہے آپ وہ سب کریں گی جو آپ کا دل چاہے گا باقی آپ کو سنبھالنے کے لیے میں ہوں،سو اب فکر مت کریں میں اپنی جاناں سے ناراض نہیں ہو سکتا" گاڑی کو ایک طرف کھڑا کرتے وہ آزین کی طرف مڑا
"اور دوسرا آپ کو کیوں لگا کے وہ آدمی برا ہے؟" حوزان کو اس کے برا کہنے پر ہنسی آئی تھی مطلب اس کی بیوی کو نظروں کی پہچان کرنا آتا تھا
"پتا نہیں بس وہ اچھے نہیں تھے ، عجیب طرح سے دیکھ رہے تھے " آزین معصومیت سے بولی، وہ شرارتی بہت تھی مگر بچپن سے لڑکوں میں رہنے کی وجہ سے اسے بہت سی حساس باتوں کا علم نہیں تھا
دوسرا خان جو اسے کبھی بھی کوئی فضول چیز نہیں دیکھنے دیتا تھا وہ لوگ بھلے ہی اسلام آباد میں رہائش پذیر تھے مگر تھے تو اندر سے وہی روائتی خان جو بیٹیوں کو ایک حد میں دیکھنا پسند کرتے ہیں
"ہاہاہاہا میری جان، آپ اتنی پیاری کیوں ہیں؟ ناں آپ اتنی پیاری ہوتیں اور نہ وہ برا آدمی آپ کو دیکھتا" حوزان اب ہلکے پھلکے انداز میں اس سے باتیں کر رہا تھا
"آپ میرا مذاق اڑا رہے ہیں میں آپ سے بات نہیں کروں گی" سویٹی اس کے ہنسنے پر برا مان گئی تھی
"او سو سوری میری جان میری یہ مجال کے میں اپنی سویٹی کا مذاق اڑاؤں" اس کی طرف جھکتے اس کے ماتھے کو لبوں سے چھوتے محبت سے کہا
اسی طرح چھوٹی چھوٹی باتوں کے دوران سفر تمام ہوا تھا اور وہ لوگ کمراٹ پہنچے تھے ، وہ لوگ سیدھا خانزادہ حویلی آئے تھے
@@@@@@@@@
را ہیڈ آفس انڈیا۔۔۔
را کے ہیڈ آفس میں ایک شخص سربراہی کرسی پر جھول رہا تھا اس کے سامنے میز پر پانچ لوگ بیٹھے تھے وہ اس کے کیس میں اس کے ساتھی تھے
"ساتھیو آپ سب کو پتا ہے کے اس وقت ہمارا ایک بہت اہم ساتھی آئی ایس آئی میں موجود ہے، وہ بہت کوششوں سے اس مقام تک پہنچا ہے ، اور اب اس نے ایک ایسا جال بچھایا ہے کے یہ پاکستان والے دیکھتے رہ جائیں گے" وہ آدمی مکروہ ہنسی ہنستا ہوا بولا جس پر باقی سب کے قہقے بھی نکلے تھے
"بہت جلد وہاں سے ایک بہت کام کا آدمی یہاں آرہا ہے جو ہمارے لیے سونے کی چڑیا ثابت ہو سکتا ہے، ہمیں بس کچھ دیر انتظار کرنا ہے اور پھر آئی ایس آئی سے دنیا کی نمبر ون ایجینسی ہونے کا خطاب چھین لیا جائے گا" اس آدمی کی شاطر نظریں سامنے دیوار پر ٹکی تھیں
"بھارت ماتا کی" وہ آدمی اپنی جگہ سے کھڑا ہوتا ہوا بولا۔
"جے" ان سب کی آواز ایک ساتھ اس خاموش ماحول میں گونجی تھی۔
ایک بہت بڑا طوفان آنے والا تھا اور یہ طوفان کس کس کو لپیٹ میں لینے والا تھا یہ کوئی نہیں جانتا تھا مگر یہ تو طے تھا کے یہ طوفان بہت سے لوگوں کو کہیں سے کہیں پہنچانے والا تھا
انہیں خانزادہ حویلی پہنچتے رات ہوگئی تھی، سویٹی تو آتے آتے ہی سوگئی تھی حوزان اسے اٹھا کر اس کے روم میں سلا آیا، کہنے کو یہ اس کا ننھیال تھا مگر اس کا اور حسال کا سارا بچپن یہیں گزرا تھا
پلوشہ بیگم، رانیہ بیگم اور ماہ پری بیگم نے ان سب بچوں میں کبھی کوئی فرق نہیں کیا تھا بلکہ باہر سے دیکھنے والے کو علم ہی نہیں ہو پاتا تھا کے کون کس کا بچہ ہے
حوزان ہمیشہ سے دلکش اور شاہ زیب سے زیادہ شاہ زیب اور آب کے نزدیک رہا تھا، ذیشان اکثر کہتا تھا کے وہ شاہ زیب کا بیٹا ہے اور سویٹی اس کی بیٹی ہے، جس پر سویٹی لاڈ سے ذیشان کے گلے کا ہار بن جاتی جبکہ حوزان بھی مسکرا دیتا
بہرام زیادہ خانوش رہنا پسند کرتا تھا، حوزان اور بہرام میں سب سے بڑا فرق یہی تھا کے بہرام سنجیدہ مگر نرم خو تھا بلکل شاہ زیب کی طرح جبکہ حوزان سنجیدہ کے ساتھ ساتھ سرد مزاج بھی تھا
اسے جو انسان پسند نہیں آتا تھا وہ سامنے والے کی شکل دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا تھا سویٹی وہ واحد انسان تھی جس کے سامنے حوزان کا بلکل مختلف روپ ہوتا تھا، وہ اس کے ساتھ ہنستا بھی تھا اور کھل کر جیتا بھی تھا
اس نے ذیشان کے نقشِ قدم پر چلتے سی ایس ایس کے ایگزیمز دیے تھے جس کے بعد وہ پولیس میں بھرتی ہوا تھا اس کی ذہانت اور قابلیت کی وجہ سے اس نے بہت جلد اپنا ایک نام بنا لیا تھا پولیس فورس میں
اگلے دن سویٹی اٹھی تو نو بج چکے تھے، منہ پر پانی کے چھینٹے مارتے وہ نیچے کی طرف بھاگی، حوزان کہیں نہیں تھا وہ چلتے ہوئے باہر آئی تو وہ لان میں بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا، وائٹ شلوار سوٹ پہنے کندھوں پر براؤن شال رکھے وہ شہزادہ لگ رہا تھا
سویٹی چلتے ہوئے اس کی طرف آئی اس کی کرسی کے ہینڈل پر بیٹھتے سر اس کے شانے سے ٹکا دیا حوزان جانتا تھا وہ اٹھ کر سب سے پہلے اس کے پاس آئے گی تب ہی بغیر حیران ہوئے مسکرا دیا
"جاناں، آپ پھر سے بغیر کوئی شال لیے باہر آگئی ناں" حوزان کی ناراض سی آواز پر سویٹی سیدھی ہوئی
"وہ مجھے جلدی میں یاد نہیں رہا" لاڈ سے اس کے کندھے میں منہ چھپاتے بڑبڑائی
"اٹھیں یہاں سے، یہاں آئیں" حوزان نے اسے ہینڈل سے اٹھاتے کھسکتے ہوئے اس کے لیے جگہ بنائی، اب کرسی پر وہ دونوں بیٹھ چکے تھے حوزان نے اپنی شال ایک طرف سے اس کے کندھے پر پھیلائی
"کیا ہوا جاناں، آپ اتنی خاموش کیوں ہیں؟" اسے چپ چاپ اپنے کندھے سے لگے دیکھ حوزان نے پوچھا کیونکہ اس کی سویٹی زیادہ دیر چپ رہنے والوں میں سے نہیں تھی
"خان، ہمیں دادو، بڑی دادو اور چھوٹی دادو کی یاد آ رہی ہے" سویٹی کی نم آواز پر حوزان تڑپ گیا تھا ابھی زیادہ عرصہ تو نہیں ہوا تھا انہیں بچھڑے، وہ خود بھی تو رات سے انہیں مس کر رہا تھا
"آزین، میری جان، میری زندگی پلیز، روئیں مت، وہ ہمارے پاس ہیں ، ہمارے دل میں زندہ ہیں، اگر آپ اس طرح روئیں گی تو انہیں تکلیف ہوگی" اس کے بالوں پر لب رکھتے انہیں سہلایا تھا
"ایسا کیوں ہوتا ہے خان، ہم جن سے اتنی محبت کرتے ہیں وہ ہمیں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور ہمیں ان کے بغیر جینا پڑتا ہے" وہ سر اٹھائے معصومیت سے بولی
"کیونکہ یہی قانونِ قدرت ہے میری جان، ہم چاہے کسی سے کتنی محبت کر لیں، ان کو دیکھ دیکھ کر سانسیں لیں، جب جس کا وقت آجائے اسے جانا پڑتا ہے، اور ایک دن تو ہم سب کو جانا ہے ناں" حوزان نرمی سے اس کا گال سہلاتے بولا
"خان ، پرامس کریں آپ ہمیں کبھی چھوڑ کر نہیں جائیں گے، اگر موت آنی ہے تو پہلے مجھے۔۔۔" پتہ نہیں آج وہ اتنی بڑی بڑی باتیں کیوں کر رہی تھی مگر اس کی موت والی بات حوزان کے دل پر برچھیاں چلا گئی تھی
" نہیں بلکل نہیں میری جان، اگر آپ کو کچھ ہو گیا تو آپ کا خان کیا کرے گا اس دنیا میں ، ایسی باتیں مت کریں، ابھی تو ہمیں بہت سا سفر طے کرنا ہے، بہت دور تک جانا ہے ایک ساتھ" اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھے اس کی بات کاٹی تھی، زور سے اسے خود میں بینچے وہ خود کو پرسکون کرنے لگا
@@@@@@@@
رات کو وہ سب لوگ ابراہیم ولا میں ہی رکے تھے کافی دیر بیٹھ کر سب لوگ اپنے کمروں میں سونے کے لیے جاچکے تھے ارتضیٰ روم میں گیا، بیڈ پر لیٹ کر سونے کی کوشش کی مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی
جانتا تھا حریم سو نہیں سکے گی، اس کی سوجی آنکھیں اور اداس چہرہ گھوم پھر کر اس کی آنکھوں میں آرہا تھا، اس کی پرنسس اداس ہو اور وہ سکون سے سو جائے یہ کیسے ممکن تھا
وہ اٹھ کر روم سے نکل آیا، اسے پتا تھا حریم روم نہیں نہیں ہوگی ، اسی لیے چلتا ہوا گھر کی پچھلی طرف آیا، وہ پچھلی طرف بنی سیڑھیوں میں سے دوسری سیڑھی پر بیٹھی تھی
ارتضیٰ چپ چاپ آکر اس کے برابر بیٹھ گیا، حریم نے اسے دیکھا تو اس کی نم آنکھیں دیکھ کر ارتضیٰ کے دل کو کچھ ہوا تھا
" پرنسس، آپ پھر سے مجھے اور ماموں کو تکلیف دے رہی ہیں" ارتضیٰ اس کے آنسو صاف کرتے بولا
حریم کچھ بھی بولے بغیر اس کے سینے پر سر رکھ گئی، وہ اب رو نہیں رہی تھی مگر اداس ضرور تھی ، اپنے بابا اور ارتضیٰ کو تکلیف وہ نہیں دے سکتی تھی
وہ دونوں چپ چاپ آسمان پر نظریں جمائے بیٹھے تھے، ارتضیٰ آہستہ آہستہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا تھا جبکہ حریم خاموشی سے اس کے ساتھ لگی ہوئی تھی
تھوڑی دیر بعد ارتضی نے جھک کر دیکھا تو وہ وہیں اس کے سینے سے لگی سو چکی تھی، ارتضی نے جھک کر اس کی پیشانی کو چھوا ، سوتے ہوئے وہ بلکل معصوم گڑیا کی طرح لگ رہی تھی
ارتضیٰ نے ریلنگ سے ٹیک لگاتے اسے خود پر نیم دراز کیا، ناجانے کب تک وہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتا رہا، وہ بار بار نیند میں بھی بےچین ہو رہی تھی، اسی حالت میں بیٹھے بیٹھے وہ کب سویا اسے خود بھی علم نہیں ہوا
صبح چھے بجے کے قریب مجتبی نماز پڑھ کر باہر آیا تو یونہی ٹہلتے ٹہلتے پچھلی طرف آ گیا، ارتضی اور حریم کو دیکھتے ایک مسکان اس کے لبوں پر آئی تھی، ارتضی بچپن سے ہی حریم کے لیے اتنا ہی پوزیسیو تھا، اس نے بچپن میں بھی کبھی مجتبی کو حریم کے ساتھ کھیلنے تک نہیں دیا تھا، ہر وقت اس کے ساتھ رہتا اسے خوش رکھتا۔
وہ چلتا ہوا ان دونوں کی طرف آیا، اسے اپنے بھائی پر پیار اور حریم پر بےساختہ ترس آیا تھا، اتنی سی عمر میں وہ لڑکی بہت حساس ہوگئی تھی، اور اسے وہ بہت عزیز تھی
"ارتضیٰ، اٹھ جا میرے بھائی، اس سے پہلے گھر کا کوئی بڑا تم دونوں میاں بیوی کا یہ رومینس ملاحظہ کرے اٹھ جا" مجتبی نے تھوڑی اونچی آواز میں کہا جس پر ارتضی آنکھیں مسلتا ہوا اٹھ گیا
اس نے حریم کو دیکھا جو ٹھنڈ محسوس کرتے اسی کے وجود میں چھپنے کی کوشش کر رہی تھی پھر سامنے کھڑے مجتبی کو دیکھا، وہ سیدھا ہوا ہی تھا کے حریم بھی آہستہ سے آنکھیں کھول گئی
"گڈ مارننگ لو برڈز" مجتبی مسکراتے ہوئے بولا، حریم اس کے سامنے ارتضی سے اتنی قریبی دیکھ کر شرم سے ڈوب مرنے کو تھی وہ شرمندگی سے سر جھکائے کھڑی ہوگئی
"مجتبی، ایک منٹ میں یہاں سے دفع ہو جاؤ" اس سے پہلے کے وہ وہاں سے بھاگتی ارتضی اس کی کلائی تھامتے مجتبی سے بولا
"مطلب اب تم مجھ پر پانچ منٹ بڑا ہونے کا روب جماؤ گے؟ مجتبی نے آئی برو آچکا کر پوچھا جس پر ارتضی نے اسے اچھی خاصی گھوری سے نوازا تھا
"جا رہا ہوں، جا رہا ہوں، گھورو تو مت" شرارت سے آنکھ دباتے وہ وہاں سے چلا گیا
"پرنسس! کیا سوچ رہی ہیں؟" ارتضی نے اس کے شرمندہ اور پرسوچ چہرے کو دیکھ کر کہا
"میں اس طرح، یہاں سو گئی، مجتبی کیا سوچ رہا ہوگا" معصوم سا چہرہ لیے اپنی معصوم سی پریشانی بتائی تھی
"ایک بات یاد رکھیے گا میری جان، میں آپ کا شوہر ہوں، آپ حق رکھتی ہے مجھ پر ، میرے وجود پر، آپ کو میرے حوالے سے ہوئی کسی بھی بات پر شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے، پریشانی میں آپ کی مدد کرنا اور آپ کو سہارا دینا میرا فرض ہے اور آپ کا حق" اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر اسے بچوں کی طرح سمجھایا
"سمجھ گئیں؟" اس کا چہرہ اوپر اٹھاتے پوچھا جس پر وہ سر ہلا گئی
"چلیں جائیں شاباش، جاکر چینج کریں اور اب رونا نہیں ہے اوکے" ارتضی اس کا سر تھپتھپاتے ہوئے بولا
حریم وہاں سے چلتے اپنے روم کی طرف بڑھ گئی جب ارتضی کی نظروں نے آخر تک اس کا پیچھا کیا تھا پھر خود بھی فریش ہونے کی نیت سے اندر کی طرف بڑھ گیا
@@@@@@@@
"چاچو، " ذیشان اور شاہ زر ابراہیم ولا عباد کی برسی میں شامل ہونے کے لیے نکل رہے تھے جب داہیم خاقان ولا آیا۔ ذیشان کو دیکھتے وہ اس کی طرف بڑا
"جی چاچو کے لاڈلے" ذیشان نے محبت سے داہیم کو دیکھا
"چاچو ، آپ عباد چاچو کی برسی میں جارہے ہیں ناں؟" داہیم نے شریف سی شکل بنا کر پوچھا
"ہممم" ذیشان نے اس کے پوچھنے پر حیرت سے اسے دیکھا
"میں بھی چلوں کیا آپ کے ساتھ؟" دنیا جہاں کی شرافت اس وقت داہیم کے چہرے پر رقصاں تھی
"کیوں خیریت، تم تو شاید کل بھی گئے تھے " ذیشان نے اسے دیکھا جو بہت کم ایسے کسی کے گھر جاتا تھا
"جی وہ۔۔ وہ ولید چاچو کا بیٹا مجتبی، میرا دوست بن گیا ہے، اس نے مجھے بہت فورس کیا تھا آنے کے لیے" اس کے ذہن میں پرنیاں کو حسین چہرہ آیا تھا مگر بروقت بہانہ بناتے خود کو بچا گیا
"ہممم اوکے ، چلو چلیں" شاہ زر کو وہاں آتا دیکھ ذیشان نے اسے نے کا اشارہ کیا
دوسری طرف تھوڑی دیر میں سارے مہمان آگئے تھے، آج ابراہیم ولا کے درودیوار پر بھی سوگواریت طاری تھی۔ اس گھر کا اکلوتا بیٹا برسوں سے منوں مٹی تلے جا سویا تھا، ارسلان صاحب اور سارہ بیگم کے کندھے ڈھلک گئے تھے
اور عائشہ، اسے محبت اور چاہت سے اس گھر میں لانے والا، اس کی ہر خواہش پر لبیک کہنے والا اور بچوں کی طرح اس کے لاڈ اٹھانے والا اسے کب سے تنہائیوں کا باسی بنا کر راہِ عدم کا مسافر بن چکا تھا
اسے وہ ہر ہر لمحہ یاد آتا تھا، اس کی مسکراہٹ، اس کی دیوانگی، اس کی محبت جھلکاتی آنکھیں اور باتیں ، اسے یوں لگتا جیسے اس کے اندر باہر صرف عباد ہی عباد بسا ہے
شاہ زر اور ذیشان بھی وہاں پہنچ چکے تھے، داہیم کی نظروں نے بےساختہ اسی پری وش کو تلاشا تھا جو شاید اندر کاموں میں مصروف تھی، قرآن خوانی کے بعد سارے مہمان آہستہ آہستہ جانے لگے تھے
داہیم نے بہت کوشش کی تھی پری کی ایک جھلک دیکھنے کی مگر شاید اس کی قسمت میں نہیں تھا تب ہی اسے بےمراد واپس جانا پڑا، ابھی وہ گیٹ کے قریب پہنچا تھا جب اسے پرنیاں کی آواز سنائی دی
سفید شلوار قمیض پہنے سر پر حجاب لپیٹے وہ اندر کسی سے مخاطب تھی، اسنے بےساختہ اسے مڑ کر دیکھا تھا، عجیب سی کشش محسوس ہوتی تھی اسے اس لڑکی میں
ناجانے اس محبت میں کس کا دل ٹوٹنا تھا اور کس کا دل آباد ہونا تھا، مگر جو بھی تھا رشتوں کی یہ ڈور آہستہ آہستہ الجھتی جارہی تھی
@@@@@@@@@
آئی ایس آئی ہیڈ آفس (پاکستان)
ابھی ابھی آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر میں ایس آر کیس کے آفیسرز کی میٹنگ ہوئی تھی، سب لوگ پوری طرح میٹینگ کی طرف متوجہ تھے ایسے میں نقاب میں چھپی دو شرارتی نظریں سب کو گھورنے میں مصروف تھیں
"اوکے جینٹل مین آج کی میٹنگ ختم ہوئی، سب لوگ جاسکتے ہیں، پینتھر، لیپرڈ اور سوان آپ تینوں یہیں رکیں" ہیڈ نے سب کو جانے کا کہہ کر ان تینوں کو روکا تھا
"جی سر" پینتھر سنجیدگی سے ان کی طرف متوجہ ہوا
"پینتھر کیس کے لیے تم، لیپرڈ اور سوان تینوں انڈیا جاؤ گے، اس کیس میں تم لوگوں کو ایک فی میل پارٹنر کی بھی ضرورت ہوگی اور سوان اس کے لیے پرفیکٹ ہے" انہوں نے مکمل حجاب اور نقاب میں موجود لڑکی کی طرف اشارہ کیا
"مگر سر، ہم سب خود کر سکتے ہیں، ہمیں کسی اور کی ضرورت نہیں ہے ، اور خاص کر ایک لڑکی کی، ہم وہاں انہیں سنبھالیں گے یا کام کریں گے؟" لیپرڈ کی بات پر سوان نے سر اٹھا کر اسے گھورا تھا
"مجھے خود کو سمبھالنا بھی آتا ہے میجر اور اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کو سمبھالنا بھی" سوان نے تمسخر بھری آواز میں اس پر طنز کیا تھا
"جی وہ تو آپ کو دیکھ کر اندازہ ہو رہا ہے کے آپ خود کو کتنا سمبھال سکتی ہی " اس کے نازک سے سراپے پر چوٹ کرتے کہا
"اپنی حد میں رہو میجر" اس کی بات پر وہ پھنکاری تھی
"شٹ اپ، جسٹ شٹ اپ میجر اینڈ سوان، بچے نہیں ہیں آپ دونوں جو اس طرح لڑ رہے ہیں" ہیڈ کی آواز پر وہ دونوں سیدھے ہوئے تھے
وہ تینوں ان کے لاڈلے سٹوڈنٹس تھے تب ہی ان کے سامنے بحث کر رہے تھے ورنہ وہ صرف یس سر سننے کے عادی تھے اب بھی اپنے ازلی غصے سے بولے
"سوری سر" دونوں یک زبان ہو کر بولے تھے
"ہمممم، اینی ایشوز" انہوں نے خاص کر پینتھر کو دیکھ کر کہا تھا
"نو سر" پینتھر کی سنجیدہ آواز پر انہوں نے سر ہلا دیا
زندگی ایک بار پھر اپنے معمول پر آگئی ارتضیٰ اور حریم واپس ائیر فورس اکیڈمی جاچکے تھے، مجتبی کو بھی کل سے ڈیوٹی دوبارہ جوائن کرنی تھی،حرم اور پرنیاں کی بھی ایک چھٹی رہ گئی تھی جبکہ غزل بھی واپس کالج جوائن کر چکی تھی
ان سب کے گھر ایک بار پھر خالی ہوگئے تھے وہ بچے ہی تو گھر کی رونق تھے، مجتبی ساری پیکنگ کرکے سویرا اور ولید کے روم میں آگیا، ابھی دن کے چار بجے تھے اور اسے اگلے دن صبح چھے بجے جانا تھا سو کچھ وقت ماں کے ساتھ گزارنے کی نیت سے وہاں آگیا
سویرا ابھی ابھی عصر کی نماز پڑھ کر بیڈ پر بیٹھی تھی جب مجتبی آکر اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا، سویرا نے محبت سے اپنے شہزادے کو دیکھا وہ بلکل ولید کی کاپی تھا وہ ہی کیا ارتضی بھی بلکل باپ جیسا تھا
"کیا ہوا میری جان؟" سویرا نے جھک کر اس کے ماتھے پر بوسہ دیا
"کچھ نہیں ماما جانی، صبح مجھے واپس رپورٹ کرنی ہے، سوچا کچھ دیر آپ کے پاس آجاؤں" مجتبی نے سویرا کے دونوں ہاتھ تھام کر عقیدت سے لبوں سے لگایا
"اللّٰہ تمہیں ہر امتحان میں کامیاب کرے، ہر بری نظر سے بچائے اور اپنے حفظ و امان میں رکھے میرا بچہ" سویرا نے آنکھوں سے اپنے خوبرو بیٹے کی نظر اتاری تھی جو لاکھوں لڑکیوں کا دل دھڑکا سکتا تھا
کالی گہری آنکھیں، کالے بال، ستون کھڑی ناک، ہلکی ہلکی مونچھیں اور داڑھی اور سب سے بڑھ کر ہمہ وقت رہنے والی حسین مسکراہٹ جو کسی کو بھی دیوانہ کر سکتی تھی مگر وہ تو صرف ایک لڑکی کا دیوانہ تھا
"کیا ہوا ماما، اس طرح کیوں دیکھ رہی ہیں؟" مجتبی نے سویرا کو اپنی جانب ٹکٹکی باندھے دیکھتے پوچھا
"دیکھ رہی ہوں میرا بیٹا کتنا ہینڈسم ہے، کئی لڑکیوں کا کرش ہوگا" سویرا شرارت سے لب دبائے بولی
"دیکھ لیں ماما مگر آپ کی بہو کو قدر ہی نہیں ہے میری" مجتبی مصنوعی خفگی سے بولا کیونکہ وہ حرم کو اندر آتے دیکھ چکا تھا
حرم، احتشام اور مہمل اس سے ملنے آنے والے تھے یہاں پہنچ کر حرم تو جلدی سے سویرا کو بلانے آگئی مگر برا ہو جو سامنے ہی مجتبی صاحب تشریف فرما تھے
"ماما کہہ دیں اپنے بیٹے کو اب یہ اتنے بھی ہینڈسم نہیں ہیں" حرم منہ بسور کر بولتے آکر سویرا کے ساتھ بیٹھتے اس کے گلے میں بانہیں ڈال گئی
"نہیں جی میری ماما کو پتا ہے ان کا بیٹا بہت ہینڈسم ہے، ہیں ناں ماما" مجتبی اٹھ کر بیٹھتے رخ ان کی طرف موڑ گیا
"نو جی!" حرم نے اسے زبان دکھائی
"یس جی!" مجتبی اس کی حرکت پر مسکراہٹ دبا کر بولا
"مجتبی، حرم بس کرو کیا بچوں کی طرح کر رہے ہو" سویرا جانتی تھی وہ بس اس کے سامنے لڑ رہے ہیں ابھی اگر احتشام آجاتا تو مجتبی کے منہ سے محبت کے سوا کچھ ناں نکلتا
"حرم آپ کی ماما اور بابا بھی آئے ہیں؟" سویرا نے حرم سے پوچھا
"جی ماما، وہ نیچے ہیں دونوں" حرم اس کے گرد سے بازو ہٹاتی اٹھی سویرا اٹھ کر باہر چلی گئی حرم نے اس کے پیچھے جانا چاہا جب مجتبی اس کی کلائی تھام گیا
"ارے ارے کہاں جارہی ہیں مسز؟ جس سے ملنے آئی ہیں اس سے تو مل لیں" مجتبی نے اس کی کلائی کو جھٹکا دیا جس پر وہ ایک ہی جست میں اس کے چوڑے وجود کا حصہ بنی تھی
"مل تو لیا ہے" حرم کا دل اس کی حرکت پر رک گیا تھا، پلکیں رخساروں پر سجدہ ریز ہوئی تھیں جبکہ چہرہ ایسے تھا جیسے ابھی خون چھلکنے لگے گا، مجتبی نے یہ حسین منظر مبہوت ہوکر دیکھا تھا
"شوہر کو ایسے نہیں ملا جاتا مسز مجتبی ولید حیدر" اس کا جھکا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑ کر اوپر اٹھایا
"ہمارے یہاں ایسے ہی ملتے ہیں مسٹر مجتبی ولید حیدر"حرم نے بمشکل آواز نکالتے کہا
"اوہ اس کا مطلب مجھے آپ کو یہ بھی سکھانا پڑے گا، چچچچچ افسوس مسز افسوس" آہستہ سے اس کے ماتھے کو چھوتے شرارت سے بولا
"مجتبی پلیز تنگ مت کریں" حرم نے اس کا حصار توڑنا چاہا مگر یہ اس نازک جان کے بس میں نہیں تھا
"ابھی تنگ کرنا شروع ہی کہاں کیا ہے مسز، الزام تو مت لگائیں یار" اس کے چہرے کو دیکھتے وہ کھو گیا تھا بےخودی کے عالم میں جھکا تھا مگر اس سے پہلے کے پوری طرح اسے مشکل میں ڈالتا پرنیاں کی آواز پر جلدی سے سیدھا ہوا تھا
"اوپسسس سوری، مگر یار دھیان رکھا کرو ہر جگہ ہی شروع ہو جاتے ہو" حرم اس کی آواز پر شرمندگی سے سر جھکا گئی تھی جبکہ مجتبی نے اسے گھورا
"دیکھیں ڈاکٹر، زیادہ ہمارے پرسنل معاملے میں انٹر فئیر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اپنا کام کیا کریں آپ" مجتبی نے دانت پیستے کہا ایک تو ان کا سپیشل مومنٹ خراب کے دیا اوپر سے انہیں ہی سنا رہی تھی
"دیکھو کمانڈر، اپنے یہ پرسنل مومنٹ روم میں سپینڈ کیا کریں اب مجھے تھوڑی پتا تھا آپ ماما بابا کے روم کا بھی لحاظ نہیں کریں گے" پری نے سنجیدہ لہجے میں کہا مگر اس کی آنکھوں میں شرارت صاف جھلک رہی تھی
"اب چلو، احتشام چاچو بلا رہے ہیں آپ دونوں کو" پرنیاں نے بات ختم کرتے کہا کیونکہ ہار تو مجتبی نے ماننی نہیں تھی
"ایک تو یہ چاچو کو پتہ نہیں کیوں نہیں برداشت ہوتی اپنی بیٹی میرے پاس" اسے پتا تھا احتشام ہی جل بھن رہا ہوگا
"مجتبی، شرم کریں میرے بابا ہیں" حرم نے اسے گھورا تھا
"جانتا ہوں مگر جو سچ ہے وہ سچ ہے، تمہارا باپ ہی دشمن ہے ہمارے رومینس کا" وہ اس وقت سہی تپا ہوا تھا
"اب اپنا یہ صدمہ بعد میں دور کر لینا ابھی نیچے چلو" پرنیاں نے نفی میں سر ہلاتے کہا اور خود نیچے کی طرف بڑھ گئی
وہ تینوں نیچے آئے تو ولید بھی آچکا تھا اور احتشام اور ولید باتیں کر رہے تھے
"کہاں رہ گئے تھے حرم بیٹا آپ لوگ" احتشام نے حرم کو دیکھ کر پوچھا
"چاچو میں آپ کی بیٹی کو خدا حافظ کہہ رہا تھا مگر عین ٹائم پہ آپ کا بھیجا فوجی وہاں پہنچ گیا" مجتبی دانت پیس کر مسکراتے بولا حرم کا دل کر رہا تھا وہ غائب ہو جائے
ولید، سویرا اور مہمل کے لبوں پر دبی دبی مسکراہٹ تھی، اب ٹام اور جیری کی لڑائی شروع ہونے والی تھی جو دیر تک جاری رہنی تھی
@@@@@@@@@
"بہرام بیٹا جاتے ہوئے حسال کو بھی آفس لیتے جائیے گا" بہرام صبح ناشتہ کر رہا تھا جب شاہ زیب کی آواز پر ان کی طرف متوجہ ہوا
حوزان اور سویٹی واپس آچکے تھے اور حوزان دوبارہ سے اپنی جاب میں مصروف ہوچکا تھا سویٹی نے اسی سال بی ایس (کیمسٹری) میں ایڈمیشن لیا تھا
"بابا آفس؟ کیوں خیریت؟" بہرام حسال کے آفس جانے کا سن کر حیران ہوا تھا
"ہاں وہ دراصل اسے انٹرن شپ کرنی ہے، شاہ زر نے اسے اپنے آفس جانے کا کہا مگر اس نے منع کر دیا وہ کہیں اور جاب کرنا چاہتی تھی اور گھر کی عزت غیر لوگوں میں کام کرے اس سے اچھا وہ ہمارے آفس میں جاب کر لے، میں نے بات کی تھی حسال سے مشکل سے مانی ہے" شاہ زیب نے اس کے پوچھنے پر اسے تفصیلاً بتایا تھا
"ہممم اوکے بابا میں چلا جاؤں گا" بہرام سنجیدگی سے بولتا ناشتے کی طرف متوجہ ہوا
"لالہ، دھیان رکھیے گا، اب آپ آفس میں کسی بھی لڑکی سے بات نہیں کر سکتے، کسی فی میل کلائنٹ سے بھی ڈیل نہیں کر سکتے " سویٹی شرارت سے بہرام کی طرف جھک کر بولی
"کیوں جی وجہ؟" بہرام نے بھی سرگوشی میں پوچھا
"کیونکہ اب حسال دی گریٹ آپ کے آفس میں ہوں گی اور ان کی ملکیت کو کوئی دیکھے یہ وہ ہرگز برداشت نہیں کرنے والیں" سویٹی اسے پہلے ہی صورت حال سے آگاہی دے رہی تھی
"اوہ تو میں حسال دی گریٹ کی ملکیت ہوں؟" بہرام نے آنکھیں چھوٹی کر کے مصنوعی حیرت سے پوچھا
"جی بلکل، جس طرح بابا ماما کی ملکیت ہیں، خان ہماری ملکیت ہیں ٹھیک ویسے ہی آپ حسال دیدہ کی ملکیت ہیں، اور جیسے ہم کسی لڑکی کو خان کی طرف دیکھنے بھی نہیں دیتے ویسے ہی حسال دیدہ آپ کو بھی نہیں دیکھنے دیں گی" وہ بڑے مزے سے اسے بتارہی تھی، اسے بلکل اندازہ نہیں تھا کس کے ساتھ کیا بات کرنی وہ بلکل کھلی کتاب جیسی تھی
"اوکے جی میں دھیان رکھوں گا" بہرام مسکرا کر اس کے سر پر بوسہ دیتے باہر نکل گیا
شاہ زر ولا پہنچ کر وہ گاڑی لے کر اندر آگیا وہاں بھی سب لوگ ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھے تھے سوائے حوزان اور ذیشان کے جو شاید نہیں یقیناً پولیس سٹیشن جاچکے تھے
"اسلام علیکم ایوری ون" بہرام اندر داخل ہوتے ہوئے بولا
"وعلیکم السلام بہرام بیٹا، کیسے ہیں آپ" شاہ زر اسے دیکھتے مسکرا کر اٹھا اور اسے گلے لگایا
"الحمدللہ تایا ابو میں بلکل ٹھیک ہوں، پھپھو کسی ہیں آپ اور تائی جان آپ" وہ باری باری مشک اور دلکش سے ملا
"ہم بھی اللّٰہ کا شکر ہے ٹھیک ہیں" مشک نے مسکرا کر اپنی بیٹی کے نصیب کو دیکھا تھا اونچا لمبا، شہزادوں کی سی آن بان رکھنے ولا وہ شہزادہ بلکل شاہ زیب جیسا تھا
اسی جیسی نیلی جھیل سی آنکھیں، ڈارک براؤن بال، کھڑی ناک، مونچھیں اور ہلکی ہلکی داڑھی اور ہلکے سرخی مائل ہونٹوں کے ساتھ وہ کسی کو بھی اپنے عشق میں پاگل کر سکتا تھا
"تایا ابو وہ میں حسال کو لینے آیا تھا، بابا نے کہا وہ بھی آج آفس جائیں گی" ان سے مل کر وہ سنجیدگی سے شاہ زر کی طرف مڑا
"ہاں بیٹا کیوں نہیں، وہ ناشتہ کر چکی ہیں آپ کی گاڑی کا ہارن سنتے بیگ لینے گئی ہیں" وہ بول رہا تھا جب حسال سیڑھیوں سے اترتی نظر آئی، بہرام اسے دیکھ کر ساکت رہ گیا تھا
"لائیٹ پنک امبریلا فراک پہنے ، سر پر ہمرنگ دوپٹے سے سلیقے سے حجاب کیے، گرے آنکھوں کو کاجل سے دو آتشہ کیے وہ چلی آرہی تھی، سرخ یاقوتی لبوں پر پنک گلوز غضب ڈھا رہا تھا سائیڈ پر اسی رنگ کا چھوٹا سا بیگ لٹکائے ہاتھوں میں پنک گھڑی اور پاؤں میں پنک ہی کھسہ پہنے وہ اپسرا لگ رہی تھی
بہرام اس وقت کہاں تھا، کون اسے دیکھ رہا تھا اسے کچھ اندازہ نہیں تھا، وہ تو بس اپنی حسین بیوی کے اس قاتل روپ کو آنکھوں کے زریعے دل میں بسا رہا تھا، وہ ہمیشہ سادہ رہتی تھی ، آج جب اس طرح تیار ہوئی تھی تو بہرام کو سب سے بیگانہ کر گئی تھی
"چلیں" خود پر اس کی نظروں کا ارتکاز محسوس کرتے وہ شرم سے دہری ہورہی تھی، اس نے آہستہ سے اس کے پاس آتے کہا، جس پر وہ ہوش میں آیا
"ہاں۔۔ ہاں چلیں" اپنے حواس بحال کرتے وہ سب کو خدا حافظ کہتے باہر نکل گیا حسال بھی ان سب سے پیار لیتی باہر چلی گئی
"مش زرا روم میں آئیے گا مجھے آفس کے لیے ریڈی ہونے میں آپ کی مدد چاہیے" شاہ زر کہتا روم کی طرف بڑھا مشک نے دلکش کی طرف دیکھا جو شرارت سے اسے دیکھ رہی تھی
"جائیں جائیں، لالہ کو مدددد چاہیے" نچلا لب دبائے دلکش شرارت سے بولی
"بدتمیز" مشک اس کے کندھے پر چت لگاتے اپنے روم کی طرف بڑھ گئی، گزرے سالوں میں شاہ زر کی اس کے لیے دیوانگی میں کوئی فرق نہیں آیا تھا بلکہ اس کی محبت دن با دن بڑھتی جارہی تھی، اور یہ اس کی محبت ہی تھی جو مشک کو بوڑھا نہیں ہونے دے رہی تھی
گھر سے باہر حسال جب گاڑی میں آکر بیٹھی تو بہرام نے گاڑی سٹارٹ کی، چپ چاپ گاڑی آگے بڑھاتے وہ آفس کی جانب گامزن تھا حسال بھی خاموشی سے باہر دیکھ رہی تھی
"آئیندہ آپ کاجل اور یہ گلوز بلکل نہیں لگائیں گی" بہرام کی آواز پر حسال اس کی طرف مڑی
"جی؟" اسے سمجھ نہیں آیا تھا
"میں نے کہا آپ آئیندہ کاجل اور لپ گلوز نہیں لگائیں گی" بہرام کی سنجیدہ آواز میں کہی بات پر حسال کو لگا وہ اچھی نہیں لگ رہی تب ہی اس نے کہا ہے،
"کیوں؟ میں اچھی نہیں لگ رہی؟" حسال نے اداسی سے سامنے شیشے میں دیکھا پہلی بار وہ اس طرح ریڈی ہوئی تھی
"اگر آپ نے دوبارہ یہ سب لگایا تو میں خود کو بلکل نہیں روکوں گا اور اسی وقت، اسی لمحے آپ کی رخصتی ہوجائے گا، پھر میں آپ کو اچھے سے بتاؤں گا کے آپ اچھی لگ رہی ہیں یا نہیں" بہرام نے لطیف سی بات بھی اتنی سنجیدگی سے کہی تھی کے حسال چند لمحے اس کی بات سمجھنے کی کوشش کرتی رہی
جس وقت اسے سمجھ آیا، اس کا چہرہ بےساختہ سرخ ہوا تھا، یہ بندہ کسی دن اس کی جان نکالنے والا تھا اپنے انداز اور باتوں سے اس کے بعد آفس آنے تک حسال نے اس کی طرف دیکھا تک نہیں تھا
@@@@@@@@@
"کیا مسئلہ ہے مظہر؟ جب میں نے تمہیں کہا تھا کے مجھے بغیر وجہ کے فون مت کرنا تو کیوں کیا؟ " ذین کی سنجیدہ اور سرد آواز پر مظہر گڑبڑا گیا تھا
"وہ یار، میں کیا کرتا باس کا فون آیا تھا، وہ تم سے بات کرنا چاہتا تھا" ذین کے غصہ کو دیکھتے اس نے آہستہ سے بہانا بنایا
"ایک تو یہ باس نے تنگ کیا ہوا ہے، اسے بتایا نہیں تھا کے میں اس کی مدد صرف اس لیے کر رہا ہوں کیونکہ وہ اپنے بابا کو انصاف دلانا چاہتا ہے، اس سے زیادہ مجھ سے کوئی امید نہ رکھے" ذین نے اسی انداز میں کہا
وہ آدمی جس کے لیے مظہر کام کرتا تھا اس نے اور مظہر نے مل کر ذین کو کہانی سنائی تھی کے اس کا باپ آرمی میں تھا وہ آرمی کے لیے شہید ہوا مگر ایک آفیسر نے اس کا کام اپنے نام کر کے اسے غدار قرار کروا دیا
ذین کو اس سے ہمدردی ہوئی تھی باپ کو کھونے کی اذیت وہ بھی جانتا تھا اور اس کے باپ کو تو پھر بھی سب عزت دیتے تھے مگر مقابل کے باپ کو تو انصاف بھی نہیں ملا تھا اب وہ لوگ اس آفیسر سے بدلا لے کر اس کے باپ کو بےقصور ثابت کرنا چاہتے تھے
"ہممم جانتا ہوں، اسی لیے باس نے ہمیں ملنے کے لیے بلایا ہے، ایک غدار کا بیٹا کہہ کر اسے ملک بدر تک کر دیا ہے اور اب ہمیں اسے انصاف دلانا ہے" مظہر کی بات پر ذین نے سر ہلا دیا
"ٹھیک ہے، میں جاؤں گا تمہارے ساتھ، کم از کم کرنے کے بعد ہی اس آفیسر کو عزت مل جائے" ذین کے چہرے پر اداسی آئی تھی
"چلو پھر تیار رہنا جب جانا ہوا میں تمہیں بتادوں گا" مظہر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے کہا
ذین ایک نظر اسے دیکھ کر گھر کی طرف واپس چل دیا، اسے اندازہ تھا کے وہ غلط کر رہا ہے مگر فلحال اسے صرف کسی کو انصاف دلوانا تھا اور اس سب میں آرمی والوں کے ساتھ کیا ہوتا کیا نہیں وہ بلکل نہیں سوچ رہا تھا
اس کی یہ غلطی اسے کہاں لے جانے والی تھی یہ کوئی نہیں جانتا تھا ان کی زندگیاں بہت جلد بدلنے والی تھیں کون کیا پانے والا تھا اور کون کیا کھونے والا تھا یہ بھی ابھی سامنے آنا تھا۔
ارتضیٰ اور حریم کو واپس آئے ایک ہفتہ ہوگیا تھا، حریم ایک بار پھر معمول پر آگئی تھی وہ دل لگا کر ٹرینگ کر رہی تھی کیونکہ اسے اپنے بابا کی بہادر بیٹی بننا تھا جس پر وہ فخر کرتے
وہ بہت محنت سے کام کر رہی تھی مگر اپنی خاموش طبیعت کے باعث وہ کوئی دوست نہیں بنا سکی تھی ویسے بھی بچپن سے ارتضی کے علاؤہ اس نے کسی کو دوست بنایا ہی نہیں تھا، یہاں بھی کئی لڑکیوں نے اس سے بات کرنی چاہی مگر اس کی خاموشی دیکھتے خود ہی پیچھے ہو جاتیں
اور وہ وونگ کمانڈر ارتضیٰ کی منکوحہ ہے اس بات کا علم وہاں سب کو ہوچکا تھا سو لڑکے تو ویسے ہی اس سے کوسوں دور رہتے تھے، ویسے تو آرمی کا رول ہوتا ہے کے آپ ٹرینگ کے دوران نکاح یا شادی نہیں کر سکتے مگر چونکہ وہ پہلے سے نکاح شدہ تھی اور اس کا بیک گراؤنڈ آرمی فیملی سے ہونے کی وجہ سے کوئی اشو نہیں بنا تھا
سئینرز بھی کم ہی اسے چھیڑتے تھے ایک تو وہ تھی اتنی معصوم اور پیاری کے کسی کا اسے سزا دینے کا من نہیں کرتا تھا اور ویسے بھی وہ کم ہی کوئی غلطی کرتی تھی ارتضیٰ اسے ہر چیز بروقت سکھا دیتا تھا
آج ارتضی کی فلائیٹ تھی اور یہ اس کی عادت تھی کے وہ ہر بار جانے سے پہلے حریم سے مل کر جاتا تھا، اس کا ایمان تھا کے زندگی اور موت اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے سو وہ ہر وقت شہادت کے لیے تیار رہتا تھا
مگر جانے سے پہلے اپنی معصوم سی پرنسس کو لوٹ آنے کا وعدہ دے کر جاتا تھا کیونکہ وہ تو پہلے ہی اس کے سہارے جی رہی تھی مزید کوئی بھی صدمہ وہ شاید برداشت نہ کرپاتی، مگر وہ شاید بھول رہی تھی کے زندگی کبھی بھی ہماری پسند کے مطابق نہیں چلتی
آج بھی وہ جانے سے پہلے اکیڈمی آیا تھا حریم سے ملنے وہ لوگ ابھی ابھی فیلڈ سے واپس آئے تھے آج ان کی شوٹنگ کلاس تھی وہ روم میں آکر ابھی فریش ہوئی تھی جب ارتضی وہاں آیا
"مے آئی کم ان پرنسس" دروازہ نوک کرتے ارتضی نے پوچھا اس کی روم میٹ ابھی واپس نہیں آئی تھی سو وہ آرام سے وہاں آگیا
"ارتضیٰ، آئیں ناں پلیز" حریم اس کے اس طرح پوچھنے پر شرمندہ سی ہوگئی
"کیسی ہے میری پرنسس" اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامے ارتضی نے پوچھا
"میں ٹھیک ہوں، آپ کیسے ہیں؟" جس دن سے وہ لوگ واپس آئے تھے وہ آج مل رہے تھے
"میں بھی ٹھیک ہوں" اتنا کہتے وہ خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھنے لگا جیسے حفظ کر لینا چاہتا ہو، حریم کا دل زور سے دھڑکا تھا
"آپ فلائیٹ کے لیے جا رہے ہیں ناں؟" اس نے پوچھا کم بتایا زیادہ تھا وہ جب بھی جاتا تھا ایسے ہی اسے دیکھا کرتا تھا ٹکٹکی باندھے جیسے آخری بار دیکھ رہا ہو
"ہمممم " ارتضی نے آہستہ سے سر اثبات میں ہلایا اسے پتا تھا اب اسے سمجھانا ایک الگ مرحلہ ہوگا
"ارتضیٰ!" حریم کی آواز میں اداسی اور نمی بیک وقت جھلکی تھی یہ شخص اس کی زندگی کا حاصل تھا اس کے جینے کا مقصد اس کے بغیر وہ کچھ بھی نہیں تھی
"ارتضی کی جان پلیز، اگر آپ اس طرح اداس ہوں گی تو میں جا نہیں پاؤں گا" اس کی نم آواز پر ارتضی تڑپ اٹھا تھا وہ جتنا اسے غم اور اداسی سے دور رکھنا چاہتا تھا وہ اتنا اداس ہوتی تھی
"میں کیا کروں ارتضیٰ، مجھے ڈر لگتا ہے آپ کو کھونے سے، میں مر جاؤں گی اگر آپ کو کچھ بھی ہوا، میرے پاس آپ کے علاؤہ کچھ بھی نہیں ہے " وہ جب بھی جاتا تھا حریم کی حالت ایسی کی ہوتی تھی
"میری جان، میری زندگی پلیز، اس طرح رو کر مجھے کمزور مت کریں، آپ تو میری طاقت ہیں، میں دنیا کی ہر مشکل سے لڑ سکتا ہوں مگر آپ کے آنسووں سے نہیں" ارتضیٰ اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھامے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا
"آپ مجھے واپس چاہیں، دو گھنٹے بعد آپ سہی سلامت میرے پاس آئیں گے" نم آواز میں اتنی نرمی سے حکم سنایا تھا کے ارتضی سو جان سے فدا ہوا تھا
"جو حکم یور ہائنس، صرف دو گھنٹے آپ کا خادم آپ کے پاس ہوگا، لیکن اگر آپ نے اس عرصے میں میری زندگی کو زرا سا بھی اداس کیا تو سزا ملے گی، پتہ ہے ناں" دل پر ہاتھ رکھتے جھک کر کہا، اس کی سزا والی بات پر حریم کا چہرہ سرخ ہوا تھا
وہ شخص سزا میں بھی اس پر اپنی محبت لٹاتا تھا اور بےتحاشا لٹاتا تھا تب ہی حریم زرا کم ہی اسے ایسا موقع دیتی تھی ارتضی اس کا شرم سے سرخ ہوتا چہرہ دیکھ کر مسکرا دیا
"اوکے پرنسس چلتا ہوں، بس یوں گیا اور یوں آیا" اس کے ماتھے اور آنکھوں کو عقیدت اور محبت سے چھوتے سرگوشی میں بولا
"فی امان اللّٰہ" حریم نے آیت الکرسی پڑھ کر اس پر حصار کھینچا تھا اسے اللّٰہ کی امان میں دیتے اس نے ایڑھیوں کے بل اونچا ہوتے اس کے ماتھے کو چھوا
ارتضی اس کی محبت کو اپنے گرد ایک مضبوط حصار کی طرح محسوس کر رہا تھا جس کے ہوتے اسے کوئی تکلیف چھو بھی نہیں سکتی تھی وہ اس پر محبت بھری نظر ڈالتا باہر نکل گیا
اس کے جانے کے بعد فریحہ اندر آئی، فریحہ اس کی روم میٹ تھی، وہ عجیب سی نیچر اور فطرت کی لڑکی تھی جو ہر وقت خود کو حریم سے بہتر ثابت کرنے کی کوشش کرتی رہتی، جب بھی ارتضی اس سے ملنے آتا یا اسے بلاتا وہ عجیب انداز سے اسے دیکھتی اور باتیں کرتی تھی
"اوہ تو وونگ کمانڈر صاحب آئے تھے ، تب ہی میڈم خیالوں میں گم ہیں" اس نے اندر آتے کہا حریم اس کی باتوں کی گہرائی سمجھے بغیر اثبات میں سر ہلا گئی
"ہوں، ایسا ہے کیا اس لڑکی میں جو یہ وونگ کمانڈر صاحب پاگل ہوئے ہوئے ہیں، نہ سٹائل ہے ، نا کونفیڈینس ، اور ایسے ٹریٹ کرتے ہیں جیسے کہیں کی مہارانی ہو" حریم کے باہر جاتے ہی وہ بڑبڑائی تھی
اسے حریم سے عجیب سا حسد ہوتا تھا وہ خود بھی خوبصورت تھی مگر حریم سے زیادہ نہیں حریم بلکل سادہ رہتی تھی کبھی اسنے اپنی خوبصورتی کے بارے میں نہیں سوچا تھا کیونکہ ارتضیٰ تو ہر حال میں اس کا دیوانہ تھا
مگر ارتضی کی یہی دیوانگی فریحہ کو اس سے حسد میں مبتلا کر دیتی تھی، اس نے بہت کوشش کی ارتضی کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی جب بھی وہ آتا بہانے بہانے سے اس سے بات کرتی، حریم کو باتیں سناتی مگر حریم اسے ان سنا کر جاتی
حریم جانتی تھی وہ کیا ہے ارتضی کے لیے ، ارتضی کو تو شاید حریم کے علاؤہ کوئی لڑکی دکھائی ہی نہیں دیتی تھی کیونکہ حریم تو بچپن سے ہی اس کے دل و دماغ پر قابض تھی اور بچپن کی محبتیں اکثر انسانوں میں خون کی طرح شامل ہوجاتی ہیں
دوسری جانب ارتضی کا ایف-17 ٹھنڈر ہوا میں آیا تو ایک عجیب سا احساس اسے خود پر چھاتا محسوس ہونے لگا، حریم کے بعد یہ پاک فضائیں اس کا عشق تھیں، وہ عشق بھلے ہی حریم سے زیادہ کرتا تھا مگر اگر کبھی زندگی میں اسے ان پاک فضاؤں اور حریم میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا تو وہ بے جھجھک خود کو ان فضاؤں کے حوالے کر دیتا
کیونکہ عشق چاہے وطن سے ہو یا معشوق سے اس میں اپنی ذات مارنی پڑتی ہے، اور وہ عشق جو ابد سے سانسوں میں بسا ہو اس کا مقابلہ دنیا کی کسی چیز سے نہیں کیا جاسکتا، ارتضی کا عشق جاودان تھا اس دھرتی سے بھی اور حریم سے بھی
@@@@@@@@@
حوزان پولیس سٹیشن میں بیٹھا ایک امپورٹنٹ فائل دیکھ رہا تھا آج کل وہ لوگ ڈرگ مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہے تھے جو نوجوان نسل کو اس گھٹیا لت پر لگا رہے تھے انہوں نے اب تک کئی ڈرگ ڈیلرز کو پکڑا تھا
حوزان کا سارا دھیان فائل کی طرف تھا جب اس کا موبائل وابریٹ کرنے لگا، اس نے موبائل دیکھا تو سویٹی کا نام جگمگا رہا تھا، اس نے فائل بند کرتے سائیڈ پر رکھی کیونکہ اگر وہ دو منٹ بھی کال اٹھانے میں دیر کرتا تو سویٹی اس سے ناراض ہوجاتی
"السلام علیکم" حوزان نے فون اٹھاتے محبت سے کہا اس کے پاس کھڑے حوالدار نے حیرت سے اس کھڑوس کی نرم آواز سنی جو ہمیشہ بولتا کم دھاڑتا زیادہ تھا
"وعلیکم السلام خان کیا آپ فری ہیں؟" دوسری طرف سے ایک ادا سے پوچھا گیا تھا ایک عجیب سا مان تھا اس کے لہجے میں جیسے وہ اس کے لیے ہمیشہ فری ہوگا
"آپ کے لیے خادم ہر وقت حاضر ہے جاناں حکم کریں" اس کی آواز بہت کم تھی مگر حوالدار بھی پوری طرح کان لگا کر سننے کی کوشش کر رہا تھا
"ہمیں شاپنگ کے لیے جانا ہے خان، بہرام لالہ اور حسال دیدہ آفس گئے ہیں اور داہیم لالہ کو تو گھر آنے کی فرست ہی نہیں ملتی" وہ منہ بسورتے اسے سب کی شکایات لگا رہی تھی
"کب جانا ہے ؟" وہ بزی تو تھا مگر اب اسے مینج کرنا ہی تھا
"جب آپ فری ہوں مجھے بتا دیجیے گا، آئی نو آپ کو بھی کام ہوں گے میں ویٹ کر لوں گی" اس کی بات پر ایک دلکش مسکراہٹ حوزان کے چہرے پر آئی تھی کبھی کبھی اس کی سویٹی بہت سمجھ داری کی باتیں کرتی تھی
حوالدار نے حیرت سے اسے مسکراتے ہوئے دیکھا حوزان خود پر جمی حوالدار کی نظریں محسوس کر رہا تھا تب ہی مسکراہٹ کی جگہ چہرے پر سختی سجائے اسے زبردست گھوری سے نوازا جس پر وہ جلدی سے سیدھا ہوا تھا
"ٹھیک ہے جاناں آپ شام میں ریڈی رہیے گا میں سیدھا وہیں آؤں گا پھر چلیں گے شاپنگ کے لیے" حوزان نے پورا پلین ترتیب دیتے اسے بتایا
"ٹھیک ہے میں ریڈی ہو جاؤں گی" سویٹی مسکراتے ہوئے بولی
"اوکے جاناں میں اب کام ختم کر لوں، اللّٰہ حافظ لو یو" سرگوشی کرتے موبائل بند کرتے دوبارہ فائل کی طرف متوجہ ہوا
حوالدار سمجھ گیا تھا فون کے دوسری طرف ضرور کوئی بہت اہم ہستی ہوگی تب ہی اس نے اتنی محبت سے بات کی تھی ورنہ تو وہ ہر وقت مرچیں چبائے رکھتا تھا
شام کو تقریباً سات بجے وہ گھر آگیا تھا، وہ سیدھا شاہ زیب ولا آیا تھا، شاہ زیب اور بہرام ابھی آفس میں تھے جبکہ داہیم اپنے دوستوں کے ساتھ بائیک ریسنگ کے لیے گیا تھا داہیم کے لیے تو زندگی کا مقصد ہی تھرل تھا
وہ کئی بار شاہ زیب سے وعدہ کر چکا تھا کے وہ آفس آئے گا مگر "وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوجائے" کے مترادف ہمیشہ بس باتوں میں ہی انہیں ٹرخا جاتا تھا
آب نے اسے کھانے کے لیے فورس کیا مگر وہ اگلی بار کہتا سویٹی کو لیے باہر نکل آیا، آب ہمیشہ کی طرف سر نفی میں ہلا کر رہ گئی اس کی بیٹی کو بگاڑنے میں سب سے بڑا ہاتھ اس کے داماد کا تھا
وہ دونوں شاپنگ مال آگئے تھے سویٹی شاپنگ کم کر رہی تھی اور گھوم پھر زیادہ رہی تھی، شاپنگ تو بس بہانہ تھا وہ تو اپنے خان کے ساتھ ٹائم سپینڈ کرنا چاہتی تھی تب ہی یہاں آئی تھی
وہ دونوں سیڑھیاں اتر رہے تھے جب حوزان کو فون آگیا وہ فون سننے کے چکر میں وہیں رک گیا جبکہ سویٹی جو نیچے کچھ دیکھ رہی تھی نیچے جانے لگی اسنے نیچے پہنچ کر دیکھا تو حوزان پیچھے نہیں تھا
وہ حوزان کو دیکھنے کے لیے تیزی سے مڑی جب سامنے سے آتے وجود سے ٹکراگئی، ٹکرانے سے اس کے منہ پر ڈالی گئی چادر ہلکی سی سرک گئی تھی جسے وہ فوراً سمبھال چکی تھی
گوہر خان جو ابھی وہاں آیا تھا اچانک لڑکی سے ٹکرانے پر اسے غصہ آیا مگر جب نظر اس حسینہ کے چہرے پر پڑی تو سارا غصہ اڑن چھو ہوا تھا اتنے دونوں سے جو اسکے دل و دماغ پر چھائی تھی وہ اس وقت اس کے سامنے کھڑی تھی
وہ یک ٹک سویٹی کے نقاب میں چھپے چہرے کو دیکھ رہا تھا، جبکہ سویٹی اس دن والے آدمی کو دیکھ کر ڈر گئی تھی اسے حوزان کا وہ غصہ یاد آیا تھا
"کیسی ہیں آپ خانم، یقیناً میں تو آپ کو یاد ہوں گا، ملے تھے اس دن ہم" گوہر خان بڑی محبت سے بولا تھا جبکہ سویٹی کی نظر سیڑھیوں کی طرف تھی جہاں سے حوزان نے آنا تھا
"کون۔۔۔کون ہیں آپ؟" سویٹی نے ڈرتے ہوئے اس سے پوچھا
"ڈریں مت خانم، میں ایک ادنیٰ سا بندہ ہوں، اور آپ کواپنی زندگی میں شامل کرنے کا خواہش مند ہوں اگر آپ یہ اعزاز بخشیں تو" گوہر خان اس معصوم چڑیا کو ڈرتا دیکھ مسکرا دیا
"آپ کیا بول رہے ہیں، ہم۔۔" وہ بتانا چاہتی تھی کے وہ شادی شدہ ہے مگر تب تک گوہر کی نظر اوپر سے آتے حوزان پر پڑی وہ نہیں چاہتا تھا یہاں کوئی تماشہ ہو،یہ شکر تھا کے حوزان نے ابھی اسے نہیں دیکھا تھا
"چلتا ہوں خانم،بہت جلد ملاقات ہوگی" وہ سویٹی کی نقابسے جھلکتی آنکھیں دیکھ کر کہتا وہاں سے چلا گیا
"کیا ہوا سویٹی؟ یہاں کیوں آگئیں" سویٹی اس کی عجیب باتوں کو سوچ رہی تھی جب حوزان کی آواز پر متوجہ ہوئی اسے دیکھتے ہی سویٹی کو سکون ملا تھا وہ بغیر لوگوں کی پرواہ کیے اس کے ساتھ لگ چکی تھی
وہ کانپ رہی تھی اور اس کی یہ حالت حوزان کو ڈرا رہی تھی ابھی تک تو وہ ٹھیک تھی،سویٹی قبائلی جھگڑوں کے بارے میں بچپن سے سنتی آئی تھی اور ان سب سے بہت خوفزدہ تھی
آج اس شخص کی باتیں اسے خوفزدہ کر گئی تھیں کہیں وہ اب کسی قبائلی جنگ کی وجہ نہ بن جائے یہی خوف اسے ستا رہا تھا
"کیا بات ہے میری جان، کچھ ہوا ہے کیا؟ آپ اس طرح ڈری ہوئی کیوں ہیں؟" حوزان نے سویٹی کو سیدھا کرتے پوچھا
"کچھ نہیں وہ آپ آنہیں رہے تھے تو میں ڈر گئی"سویٹی نے سیدھے ہوتے بہانہ بنایا وہ ہرگز اسے بتا کر غصہ نہیں دلانہ چاہتی تھی
"میں یہیں تھا جاناں،تو باقی شاپنگ کریں؟" حوزان اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھامتے بولا
"نہیں، بس مجھے گھر جانا ہے،میری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی" سویٹی کا دل پوری قوت سے دھڑکے جارہا تھا
"کیا ہوا آپ کی طبیعت کو؟ ڈاکٹر کے پاس چلیں؟" حوزان کو تو بس ٹینشن لینے کا موقع چاہیے ہوتا تھا
"نہیں زیادہ خراب نہیں ہے بس تھکاوٹ ہے آرام کروں گی تو ٹھیک ہو جاؤں گی" وہ اس کا ہاتھ تھام کر باہر لے جاتے ہوئے بولی
"اوکے چلیں چلتے ہیں" حوزان بھی سیدھا ہوکر اس کے ساتھ چلنے لگا، تو کیا اب کوئی اور نئی داستان جنم لینے والی تھی؟ کیا سویٹی کی وجہ سے کچھ بہت بڑا اور برا ہونے والا تھا؟
@@@@@@@@
"پینتھر سر،میں نے یہ رپورٹ تیار کر لی ہے جو لوگ ہمارے شک کے گھیرے میں آتے ہیں یہ ان کے نام اور بائیو ڈیٹا ہے" سوان نے ایک فائل لاتے پینتھر کو دی
"گڈ جوب سوان، بہت اچھا کام کیا ہے تم نے،اور کوئی رپورٹ؟" پینتھر نے ستائشی انداز میں سوان کو دیکھا تھا
"تھینک یو سر،سر ایک اور بات پتا چلی ہے" سوان نے اپنی تعریف پر خوش ہوتے بتایا آج کل اس کا مقصد صرف لیپرڈ کو ہرا کر پینتھر کی نظر میں مقام حاصل کرنا تھا
"ہممم بولا؟" پینتھر نے فائنل دیکھتے ہنکارا بھرا
"سر ہمارا جو مین ٹارگٹ ہے، اس وقت انڈیا میں ہے، اور اس نے کچھ اور لڑکوں کو بھی پھنسا رکھا ہے، جو شاید اس کی پوری حقیقت سے واقف نہیں ہیں،اس نے انہیں مس گائیڈ کیا ہے اور اب وہ لوگ اس کا ساتھ دیتے اپنے ہی ملک کو دھوکا دینے والے ہیں" سوان کی بات پر پینتھر کے ماتھے پر تفکر کے جال بنے تھے
"ہمممم اس کا مطلب اب ہمیں ایک نہیں ایک سے زیادہ لوگوں کو ٹارگٹ کرنا ہے" پینتھر کی پرسوچ آواز پر سواننے سر ہلایا تھا
"جی سر، ناجانے کون بیچارے ہوں گے جو اس کے جال میں پھنس گئے ہیں" سوان کو ان سب سے ہمدردی ہوئی تھی
"یہی یہی ہمدردی انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتی، جن سے آپ ہمدردی کر رہی ہیں ناں سوان صاحبہ، وہ لوگ غدار ہیں، اپنے ہی ملک سے غداری کرنے والے،پھرچاہے وہ اس کے لیے کتنی ہی تاویلیں گھڑیں، سب بیکار ہیں، وہ سب سزا کےحق دار ہیں اور انہیں سزا ملے گی" لیپرڈ کو ان غداروں کے لیے اس کی ہمدردی سخت زہر لگی تھی
"آپ سے مخاطب کون تھا میجر، میں پینتھر سے بات کررہی تھی، فالتو میں ٹانگ مت اڑایا کریں" سوان کو اسکی مداخلت زہرلگی تھی
"واہ بھئی واہ وہ پینتھر اور میں لیپرڈ کی جگہ میجر؟ کیا کہنے ہیں آپ کے سوان صاحبہ" لیپرڈ اس کے منہ سے میجر سن سن کرتنگ آچکا تھا
"ایکچولی لیپرڈ چیتے کو کہتے ہیں اور وہ سب سے بہادر جانور ہے ، جبکہ آپ پر یہ نام کچھ خاص سوٹ نہیں کرتا سو میں نہیں کہتی" تمسخرانہ مسکراہٹ لیے اسے جلایا تھا
"اچھا اور تمہارا نام جیسے بہت سوٹ کرتا ہے سوان اتنی حسین ہوتی ہے اور تم کیا ہو بندریا ہوںںںں" لیپرڈ نے فوراً بدلہ لیا تھا
"ہاں کہہ تو ایسے رہے ہیں جیسے آپ نے مجھے دیکھا ہوا ہے کے میں خوبصورت ہوں یا نہیں" سوان نے اس کی بات پر منہ بسورا
"مجھے دیکھنے کا کوئی شوق نہیں" لیپرڈ نے بھی اسی انداز میں کہا تھا
"دکھا کون رہا ہے" سوان نے بھی اپنا انداز جاری رکھا
"سوان، لیپرڈ، گیٹ آوٹ فرام مائی روم" پینتھر کی ٹھنڈی ٹھار آواز پر دونوں سیدھے ہوئے تھے
"پینتھر۔۔ " لیپرڈ نے کچھ کہنا چاہا
"آئی سیڈ گیٹ آوٹ فرام ہیر" پہلے سے زیادہ سرد انداز میں چبا کر کہا
وہ دونوں ایک دوسرے کو غصے سے گھور کر ہنننن کرتے باری باری باہر نکل گئے، آفس سے نکل کر سوان دائیں جبکہ لیپرڈ بائیں مڑ گیا، دونوں ہی ایک دوسرے کے استاد تھے

ہم بیٹے ہیں سمندر ہے،ہم طوفانوں کے پالے ہیں
دشمن کے لیے ہم غیض و غضب،ہم خنجر، نیزے بھالے ہیں
ہر آن، گھڑی تیار کھڑے، اک کوہِ گراں کی صورت ہم
ہر طوفان کا رخ موڑیں ہم، ہم ساحلوں کے رکھوالے ہیں
ہم سینہ چیریں لہروں کا، نگران تجارتی راہوں کے
دشمن کو روندا ہے ہم نے، جب بھی پتوار سمبھالے ہیں
ہم بپھرےطوفاں کے ساتھی،سرکش موجوں پر رقص کناں
ہم مر کر بھی پھر ہیں زندہ، دھرتی سے عشق نرالے ہیں
اس سبز ہلالی پرچم کو ہم ساحل ساحل لہرائیں گے
دھرتی کا قرض چکائیں گے، ہم عاشق ہیں متوالے ہیں
ہم سطح سمندر سے نیچے اور بحروبر پر راج کریں
جانباز بھی ہم، شاہباز بھی ہم، ہم ہمت و جرت والے ہیں
رکنا بھی نہیں جھکنا بھی نہیں،بازو بھی توانا جذبے بھی
ہم بدر و بابر غازی کے، طارق ٹیپو کے جیالے ہیں
دور تک پھیلے نیلے وسیع سمندر، اوپر چھائے نیلے امبر کے سائے تلے ، دھرتی ماں کے یہ سپوت خود کو ہر لمحہ وطن پر نچھاور کرنے کو تیار رہتے ہیں، پانی ایک ایسی چیز ہے جو جتنی ہماری زندگی کے لیے ضروری ہے اتنی ہی پراسرار ہے
یہ اپنے اندر ناجانے کتنے بھید سمیٹے ہوئے ہے، اگر رات کی تاریخی میں دنیا کا سارا اندھیرا خود میں جزب کر لیتا ہے تو دن کی روشنی میں آئینے کے ماند اسی روشنی کو دوسروں پر بکھیر دیتا ہے
پاک افواج میں سے اس وقت اگر سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا کسی کو کرنا پڑ رہا ہے تو پاک بحریہ ہے،کیونکہ انہیں بیک وقت نہ صرف دشمن سے نبٹنا پڑتا ہے بلکے سمندر میں آئے طوفانوں کو بھی زیر کرنا ہوتا ہے
ناجانے کتنی ماؤں کے لال ان ظالم موجوں کا شکار ہوکر شہادت کا رتبہ پاگئے تو ناجانے کتنے بہادر سپوت دشمن کی گولیوں کا نشانہ بن کر بروقت علاج نہ مل سکنے پر خالقِ حقیقی کی رحمت سے جا ملے
مگر ان میں سے کوئی بھی مشکل کوئی بھی پریشانی کبھی پاک بحریہ کے ارادوں اور ہمت کو نہ ڈگمگا سکی، آج بھی پاکستان کے بیٹے بڑے فخر سے یہ سفید وردی پہن کر سمندر میں اترتے ہیں
مجتبی ابھی ابھی شپ کی انسپکشن کر کے واپس آیا تھا اور اب کھڑا سامنے نظر آتے وسیع سمندر کو دیکھ رہا تھا، اگر ارتضی کو پاک فضاؤں سے عشق تھا تو مجتبی کا عشق یہ نیلا سمندر تھا
اسے ان لہروں سے لڑنا، موجوں کو دھوکا دینا بہت پسند تھا، اپنے تن پر پہنی سفید وردی اس کا عشق ، اس کا مان اور اس کی محبت تھی، جسے پہنتے ہوئے اس نے قسم کھائی تھی کے اگر کبھی موقع آیا تو وہ اس نیلے سمندر کو مٹی مان کر خود پر اوڑھ لے گا
وہ ناجانے کتنی دیر ان سوچوں میں گم رہتا تھا جب اس کی جیب میں موجود سپیشل سیل پر کال آئی، یہ سیل خاص قسم کا موبائل ہوتا ہے جسے ہیڈ کوارٹر کے علاؤہ بات کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے
"اسلام علیکم" مجتبی نے فون اٹھاتے کان سے لگایا، اس کی آواز اپنے آفس میں سفید اورآل پہنے کرسی سے ٹیک لگائے بیٹھی حرم کے کانوں میں رس گھول گئی تھی
"وعلیکم السلام! کیسے ہیں؟" دھیمی سی آواز میں پوچھا تھا اس کے انداز پر مجتبی دلکشی سے مسکرا دیا
"الحمدللہ مسز، آپ بتائیں، کیا کر رہی تھیں؟" سامنے نظر اٹھا کر دیکھتے پوچھا
"ابھی راؤنڈ سے واپس آئی تھی تو سوچا آپ کو کال کر لوں، آپ کیا کر رہے تھے " اس کی مسکراتی آواز محسوس کرتے حرم بھی مسکرا دی
"میں دور دور تک پھیلے وسیع و عریض سمندر کو دیکھ رہا ہوں، آپ کو پتا ہے ہنی یہ منظر اتنا حسین ہے کے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں بیان کرنے کے لیے" مجتبی کی آواز میں عشق اور جنون کی آنچ تھی
"مجھ سے بھی زیادہ حسین ہیں کیا ؟" حرم کو عجیب سی جلن ہونے لگی تھی مجتبی کو اس سے زیادہ کوئی چیز عزیز ہو یہ اس کی برداشت سے باہر تھا
"آپ کا مقابلہ میں کسی بھی چیز سے نہیں کر سکتا میری جان، اگر میرا ملک میری جان ہے تو آپ میری روح ہیں، نہ جان کے بغیر زندگی ممکن ہے اور نہ روح کے بغیر، اور اس وقت میرا دل چاہ رہا ہے کے کاش آپ اس وقت یہاں ہوتیں" اس کے لہجے میں محبت ہی محبت تھی
"اچھا اگر میں وہاں ہوتی تو آپ کیا کرتے؟" حرم اس کی محبت محسوس کرتے ہلکی پھلکی ہوگئی تھی
"میں، میں آپ کو بانہوں میں بھر کر قریب کر لیتا اور پھر " آنچ دیتا لہجہ حرم کی دھڑکن بڑھا گیا تھا
"پھر؟" لب دانتوں میں دبائے پوچھا تھا
"اپنے ہونٹ آپ کے کان کے قریب لے کر جاتا ،پھر" سارے جذبات اس کے لفظوں میں سمٹ آئے تھے
"پھر؟" حرم کا دل اس کے ہاتھوں سے نکلتا جارہا تھا
"پھر بڑے پیار سے کہتا" مجتبی آہستہ آہستہ بول رہا تھا
"کیا؟" حرم دل و جان سے متوجہ ہوئی تھی
"مچھلی جل کی رانی ہے
جیون اس کا پانی ہے
ہاتھ لگاؤ گے تو ڈر جائے گی
باہر نکالو گے تو مر جائے گی" مجتبی خود ہی کہتے قہقہ لگا کر ہنس دیا
دوسری طرف حرم جو کچھ اچھا سننے کی منتظر تھی اس کی بات سن کر حیران پریشان تھی مگر پھر اپنی حالت اور اس کی بات یاد کرتے خود بھی ہنسنے لگی
وہ دونوں ہنس رہے تھے ہنس ہنس کر برا حال ہوگیا تھا حرم کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے ہنس ہنس کے ، وہ جب بھی رکتی دوبارہ یاد آنے پر پھر سے ہنس دیتی
"مجتبی،آپ کا کوئی حال نہیں ہے" بامشکل ہنسی روک کر حرم نے کہا
"بس جی کبھی غرور نہیں کیا" سر کو خم دیتے اس نے ایک ادا سے کہا جس مجتبی کو اندر سے بلاوا آگیا
"اوکے ہنی، مجھے جانا ہے پھر بات ہوگی، اللّٰہ حافظ اینڈ لو یو، اپنا خیال رکھیے گا" مجتبی نے پیار سے اسے کہا
" اللّٰہ خافظ اینڈ مس یو" آخری بات اتنی آہستہ کہی تھی کے وہ خود بھی بامشکل سن سکی تھی۔
حرم فون بند کرتے ایک بار پھر ہنس دی، پرنیاں جو وہیں آرہی تھی اس نے حیرانی سے حرم کو اتنا ہنستے دیکھا
"کیا ہوا ہے یار، کیوں اکیلی اکیلی ہنس رہی ہو " پری حیرانی سے اس کے سامنے بیٹھتے پوچھا
"کچھ نہیں یار، تمہارا بھائی ناں اپنے نام کا انوکھا پیس ہے" ایک بار پھر ہنسی چھوٹی تھی
"قسم سے یار کہنے کو میرے دونوں بھائی جڑواں ہیں مگر دونوں میں زمیں آسمان کا فرق ہے، ویسے ہوا کیا ہے؟" پری نے نفی میں سر ہلاتے بولا اس کے پوچھنے پر حرم نے اسے ساری بات بتائی
اب وہ دونوں ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہورہی تھیں، مجتبی جب بھی ان کے ساتھ ہوتا ایسے ہی انہیں ہنساتا رہتا تھا حرکتوں میں وہ بلکل احتشام پر گیا تھا
@@@@@@@@@
حسال کو دو دن ہو گئے تھے آفس آتے ہوئے، شاہ زیب اسے ہر چیز خود سکھا رہا تھا کبھی کبھار اسے بہرام سے بھی مدد لینی پڑ جاتی تھی، بہرام کی سیکریٹری ایک لڑکی تھی، فلک بہت ماڈرن اور خوبصورت لڑکی تھی
حسال کا تو اسے دیکھ کر ہی منہ بن جاتا تھا اس کا اور بہرام کا رشتہ ابھی آفس میں کسی کو معلوم نہیں تھا اسی لیے فلک میڈم بہرام پر ڈورے ڈالنے میں مصروف تھیں
آج بھی حسال ایک فائل لے کر بہرام کے آفس میں آئی تھی جس پر اسے اس کی مدد چاہیے تھی وہ بغیر ناک کیے اندر آئی تھی سامنے ہی بہرام لیپ ٹاپ پر جھکا ہوا تھا جبکہ فلک اس کے بلکل قریب جھک کر کھڑی اسی کچھ بتا رہی تھی
دوپٹے کے بغیر فل فیٹنگ شرٹ میں فلک اسے زہر سے بھی زیادہ بری لگی تھی اس کے اندر آنے پر فلک سیدھی ہوکر کھڑی ہوئی
"مس حسال آپ کو تمیز نہیں ہے باس کے کیبن میں آنے کی، بغیر ناک کیے اندر آگئیں ہیں آپ" فلک نے سختی سے حسال کو سنائیں تھیں جس پر حسال نے ایک کٹیلی نظر بہرام پر ڈالی
جیسے کہہ رہی ہو سمجھا لیں اپنی سگی کو، بہرام کو اس کی نظریں دیکھ کر ہنسی تو بہت آئی مگر پھر اپنی مسکراہٹ دبا گیا
"جی مس حسال آپ کو کوئی کام تھا کیا" بہرام نے بات بدلنے کی خاطر پوچھا
"جی سررر، آپ سے ایک فائل ڈسکس کرنی ہے اکیلللے میں" اپنی بات پر زور دیتے حسال نے ایک تیش بھری نظر فلک پر ڈالی تھی
"اوکے، مس فلک یو مے گو ناؤ، اگر ضرورت ہوئی تو میں آپ کو بلا لوں گا" بہرام نے فلک کو جانے کا اشارہ کیا
"مگر سر، ہم ضروری کام کر رہے تھے " فلک کو حسال کی مداخلت پر غصہ آرہا تھا
"مس فلک آپ نے شاید سنا نہیں سر نے کیا کہا ہے، انگلش سمجھ آتی ہے یا میں ایکسپلین کروں؟" سینے پر بازو باندھ کر حسال نے اسے باہر کا راستہ دکھایا تھا
فلک اپنی ہتک محسوس کرتے غصے سے فائلز اٹھاتے باہر نکل گئی، اس کے جانے کے بعد حسال نے فائل ٹیبل پر پٹخی اور غصے سے اس کے پاس آئی
"فوراً سے پہلے اپنی سیکرٹری بدلیں، دوبارہ اگر یہ ڈائن آپ کے قریب نظر آئی ناں تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا" اس کی چئیر کے ہینڈل پر ایک ہاتھ رکھے دوسری انگلی اٹھا کر وہ قدرے جھک کر بولی
بہرام تو اس کی جرت دیکھ کر دنگ رہ گیا تھا مطلب اس نے تو سویٹی کی بات کو مزاق سمجھا تھا مگر حسال میڈم تو سچ میں خونخوار بن گئی تھیں
"حسال، وہ صرف میری سیکرٹری ہیں، کام کے لیے موجود ہیں یہاں، جسٹ کام ڈاؤن " بہرام نے آرام سے اسے سمجھانا چاہا
"کام، معلوم ہے مجھے وہ یہاں کتنا کام کرتی ہے، بہتر ہے میری بات مان لیں ورنہ اگر میں نے اسے آپ سے دور کیا تو آرام سے تو بلکل نہیں کروں گی" حسال کے غصے میں زرا بھی کمی نہیں آئی تھی
بہرام نے مسکراہٹ دبا کر اس کی اٹھی ہوئی انگلی تھام کر اسے ایک جھٹکے سے کھینچا، حسال نے بامشکل اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر خود کو اس پر گرنے سے بچایا تھا
"کیا بات ہے مسز بہرام خانزدہ، یہ والی حسال اب تک کہاں تھیں، میں تو اپنی بیوی کو معصوم اور بھولی سی سمجھتا تھا مگر آپ تو شیرنی بن گئی ہیں" اس کی ناک سے ناک ٹکراتے محبت سے بولا
"میں معصوم اور بھولی ہی ہوں مگر صرف تب تک جب تک کوئی میرے شوہر پر بری نظر نہیں ڈالے گا، اگر کبھی بھی کسی نے آپ کو مجھ سے دور کرنے کی کوشش کی تو میں اسے جان سے ماردوں گی" اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مضبوط لہجے میں بولی
"ہممم، اگر مجھے پتا ہوتا ہے آپ کسی اور کو میرے قریب دیکھ کر اس طرح اظہار کر دیں گی تو میں پہلے ہی آپ کو آفس لے آتا" سنجیدہ سے لہجے میں شرارت کی تھی
"اہممم، " شاہ زیب خانزادہ کی آواز پر حسال جلدی سے سیدھی ہوئی تھی اس وقت اس کا دل چاہ رہا تھا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے حالانکہ ان میں اچھا خاصا فاصلہ تھا بات کرتے ہوئے مگر وہ اس کے کندھوں پر جھکی ہوئی تھی یہی بات اسے شرمندہ کر رہی تھی
"کیا بات ہے بیٹا جی، جس دن سے میری بہو آفس آرہی ہیں آپ کے تو انداز ہی بدل گئے ہیں" حسال جلدی سے فائلز اٹھاتے باہر جاچکی تھی اس کے جاتے ہی شاہ زیب نے بہرام کو دیکھا
"بابا پلیز یار، آپ غلط سمجھ رہے ہیں، آپ کی بہو یہاں دھمکی دینے آئی تھیں، کے اگر میں نے اپنی سیکرٹری نہیں بدلی تو مجھے اور اسے دونوں کو نہیں چھوڑیں گی" بہرام نے منہ بسور کر انہیں ان کی لاڈلی کی شکایت کی تھی
"ہاہاہاہا، سہی ہے یار، اس کا مطلب میری بہو اپنی ساس پر گئی ہیں، تمہاری ماما نے بھی کبھی کسی لڑکی کا سایہ بھی برداشت نہیں کیا مجھ پر" شاہ زیب کو آب کا مشک سے پہلی بار جیلس ہونا یاد آیا
"اب آپ بتائیں میں کیا کروں؟" بہرام آج سہی میں حیرت زدہ ہوا تھا حسال کا نیا روپ دیکھ کے
"بیٹا سیکرٹری بدلو، اور کوئی اوپشن نہیں ہے آپ کے پاس، ایسا کرو حسال کو فلک کی پوسٹ دے دو" انہوں نے آخر میں سنجیدگی سے مشورہ دیا
"ہمممم، اب تو کچھ کرنا ہی پڑے گا" بہرام کی پرسوچ نظریں دروازے پر ٹکی تھی جہاں سے کچھ دیر پہلے اس کی شیرنی باہر گئی تھی
@@@@@@@@@@
کل ذین کو مظہر کے ساتھ انڈیا جانا تھا، اس نے گھر میں دوستوں کے ساتھ مری جانے کا بہانہ بنایا تھا، اسے نہیں معلوم تھا وہ جس دلدل میں جارہا ہے وہاں سے واپس آسکے گا یا نہیں مگر اسے جانا تھا
زندگی رسک لینے کا نام ہے وہ بھی یہ رسک لینا چاہتا تھا اگر اس کی وجہ سے کسی کو انصاف مل سکتا تھا تو کیا حرج تھا، مگر وہ جانے سے پہلے پرنیاں سے ملنا چاہتا تھا
ہاں سے سچ تھا کے اس نے کبھی اسے محبت سے مخاطب نہیں کیا تھا مگر یہ بھی سچ تھا کے وہ اس کی منکوحہ تھی، اور نکاح ایک ایسا بندھن ہے جو خود با خود دلوں میں گنجائش نکال لیتا ہے
اس کے لیے بھی پرنیاں بہت اہم تھی، اس نے کبھی اس بارے میں زیادہ نہیں سوچا تھا مگر یہ سچ تھا کے وہ محبت کرتا تھا پرنیاں سے، مگر اس محبت کو دل کے نہاں خانوں میں چھپا کر رکھتا تھا
بلکہ سچ تو یہ تھا کہ وہ خود کو پرنیاں کے قابل نہیں سمجھتا تھا، وہ بہت پیاری تھی، ایک قابل آرمی ڈاکٹر تھی اور وہ کیا تھا ایک ضدی، بگڑا ہوا شخص جو کسی قابل نہیں تھا
وہ آج اسلام آباد آرمی ہوسپٹل آیا تھا، حرم اور پری ہوسپٹل کے قریب ہی ایک فلیٹ میں رہ رہی تھیں گھر دور ہونے کی وجہ سے روز آنا جانا ممکن نہیں تھا، اسی لیے وہ وہاں رہ رہی تھیں
اس نے حرم سے پرنیاں کا پوچھا تھا اور یہ بھی کہا تھا کے پری کو یہ بات نہ پتا چلے، حرم نے اسے بتایا کے اس کی آج نائیٹ ڈیوٹی تھی جبکہ پرنیاں ابھی ڈیوٹی دے کر واپس گئی تھی، حرم نے ہی اسے چابی گارڈ سے لینے کا کہا تھا
رات ہوتے ہی وہ وہاں آگیا تھا اس میں اتنا حوصلہ نہیں تھا کے اس سے بات کرتا یا اس کے کسی سوال کا جواب دیتا، اسی لیے اس کے سونے کا انتظار کر کے آیا تھا،وہ اندر آیا تو پری حسبِ توقع سو رہی تھی
وہ چپ چاپ آکر اس کے قریب بیٹھ گیا، گردن تک کمفرٹر اوڑھے وہ سکون سے سو رہی تھی، ذین کئی ثانیے اس کے معصوم پرسکوں چہرے کو دیکھتا رہا، وہ سوتے ہوئے بہت خوبصورت لگ رہی تھی
"آئی ایم سوری پری" ذین اتنی آہستہ بولا تھا کے خود بھی اپنی آواز نہیں سن سکا
"میں جا رہا ہوں پری، مجھے نہیں معلوم میں لوٹ سکون گا یا نہیں، جہاں میں جارہا ہوں وہاں کیا چیز میری منتظر ہے ، تم بہت پیاری ہو، مجھ سے کہیں زیادہ اچھا انسان ڈیزرو کرتی ہو، اگر میں لوٹ نہ سکا تو کسی ایسے انسان کا ہاتھ تھام لینا جو تمہیں مجھ سے بھی زیادہ چاہتا ہو، " ذین اس کی طرف جھکے آج پہلی بار اتنا زیادہ بول رہا تھا
"اپنا خیال رکھنا میری جان، اور مجھے معاف کر دینا" اس کے ماتھے کو نہایت نرمی سے چھوتے وہ اٹھا تھا اور بغیر مڑے وہاں سے نکلتا چلا گیا، پری نیند میں اپنے محرم کا پہلا لمس تک محسوس نہ کر سکی
ناجانے اس کی قسمت میں دوبارہ یہ لمس لکھا بھی تھا یا یہ ذین کی محبت کی پہلی اور آخری مہر تھی، زندگی کا نیا باب شروع ہونے جارہا تھا جہاں سب کچھ الجھنے یا شاید سلجھنے والا تھا
نیلے فلک پر دور دور تک پرواز کرتے ان طیاروں میں ایک طیارہ اس کے ارتضی کا بھی تھا جسے وہ بڑی مہارت سے آسمان کی بلندیوں میں لے کر جاتا اور واپس لاتا تھا، وہ ناجانے کب سے اکیڈمی کے گراؤنڈ کے ایک ویران گوشے میں بیٹھی آسمان پر نظریں ٹکائے ہوئے تھی
وہ ہمیشہ ایسے ہی کرتی تھی جب بھی ارتضی فلائیٹ کے لیے یا اٹیک کے لیے جاتا وہ خاموشی سے یہاں آکر بیٹھ جاتی اور جب تک وہ واپس ناں آتا ایسے ہی آسمان میں پرندوں کی ماند اڑتے طیاروں پر نظریں ٹکائے رکھتی
اسے ارتضی کے بنا اس دنیا سے خوف محسوس ہوتا تھا، ایسا لگتا تھا جیسے اس کے اردگرد محض ایک ویران جنگل ہے جس میں وہ ارتضی کے بغیر بھٹک جائے گی اور اس جنگل کی تاریکی اسے اپنی لپیٹ میں لے لے گی
ارتضی نے بہت کوشش کی تھی اس بہادر بنانے کی، دنیا کا سامنا کرنے کی طاقت اس کے اندر پیدا کرنے کی، وہ بہت حد تک اس میں کامیاب ہوگیا تھا مگر اس سب میں وہ خود حریم کے لیے لازم و ملزوم بن گیا تھا،وہ باقی سب کا سامنا کر سکتی تھی مگر تب تک جب تک وہ اسکے ساتھ ہوتا
ٹھیک دو گھنٹے بعد اسے اپنی مخصوص یونیفارم میں ارتضی آتا ہوا دکھائی دیا، اس کے چہرے پر من موہنی سی مسکان تھی جیسے وہ جانتا تھا کے حریم اسے وہیں اپنا انتظار کرتی ملے گی
وہ پاس آیا تو حریم بنا کچھ بولے چپ چاپ اس کے ساتھ لگ گئی جیسے اس کے ہونے کا یقین چاہتی تھی، لڑکیاں کمزور نہیں ہوتیں بس کبھی اپنوں کو کھونے کا ڈر تو کبھی اپنوں کی بےپناہ محبت انہیں کمزور بنا دیتی ہے
"میں ٹھیک ہوں پرنسس، اور وعدے کے مطابق ٹھیک دو گھنٹے بعد آپ کے پاس ہوں " مجتبی اس کے بال اور کمر سہلاتے ہوئے بولا
"میں ڈر گئی تھی" ہمیشہ کا کہا گیا جملہ حاضر تھا
"ایک آرمی آفیسر کی بیٹی، ایک آفیسر کی منکوحہ اور اب خود ایک آفیسر ہوکر آپ ڈر گئی، نوٹ فئیر زندگی، آپ حریم ہیں ارتضی کی حریم جو اللّٰہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا تو آپ کیسے ڈر سکتی ہیں" ارتضی اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامے پوچھ رہا تھا
"میں ڈرنا نہیں چاہتی مگر جب آپ کے بغیر ایک لمحہ بھی تصور کرتی ہوں ناں تو اس لمحے سے خوف آتا ہے مجھے" حریم آنکھیں جھکائے نم آواز میں بولی
"بی بریو پرنسس، میں چاہے آپ کے سامنے رہوں یا نہ ناں رہوں ایک بات یاد رکھیے گا کے میں آپ کے ساتھ ہمیشہ رہوں گا، آپ کا سایہ بن کر " ارتضی اس کی کمزوری اچھی طرح سمجھتا تھا اسی لیے وقتاً فوقتاً اسے سمجھاتا رہتا تھا
"چلیں اب ایک پیاری سی سمائل دیں اور روم میں جائیں شام ہورہی ہے ،سردی بھی بڑھ رہی ہے" ارتضی نے اپنی انگلیوں سے اس کے لبوں کو مسکرانے کے انداز میں پھیلایا
اس کے کندھوں کے گرد بازو پھیلائے اس کے روم کی طرف بڑھا، شام ہورہی تھی اسی وجہ سے وہاں زیادہ کیڈیٹس نہیں تھے ، روم کے باہر آتے اس نے اسے اندر جانے کا اشارہ کیا اور اس کے اندر جاتے ہی خود واپس مڑ گیا
فریحہ جو سامنے سے آرہی تھی ارتضی کو وہاں دیکھتے ہونٹوں پر پراسرار سی مسکراہٹ سجائے آگے بڑھی ، ارتضی ابھی واپس مڑا ہی تھا جب وہ زور سے ارتضی سے ٹکرائی
ارتضی نے بےساختہ مقابل کو گرنے سے بچانے کے لیے اسے کمر سے تھاما، فریحہ تو اتنی قریب سے ارتضی کو دیکھ کر ہی اس کی آنکھوں میں کھو گئی تھی ارتضی نے جلدی سے سیدھا ہوتے اسے سیدھا کیا
"آر یو آل رائٹ مس" اسے کھڑا کرتے ارتضی نے سنجیدگی سے پوچھا اسے یہ لڑکی ویسے ہی زہر لگتی تھی جب بھی نظر آتی تھی کوئی ناں کوئی اوچھی حرکت ہی کرتی تھی
"فریحہ" اسے غصہ تو بہت آیا کے اتنی بار وہ اسے نام بتا چکی تھی مگر وہ ہر بار بھول جاتا تھا مگر پھر بھی مسکرا کر بولی
"مس وٹ ایور از یور نیم، آئی ایم آسکنگ اف یور آر فائن اور ناٹ" اب کی بار اس نے سرد انداز میں کہا تھا یہ لڑکی تو زیادہ ہی پھیل رہی تھی
"آہہہہ، سر میرا پاؤں" فریحہ کو اس کے ایٹیٹیوڈ پر غصہ تو آیا مگر پھر مصنوعی کراہتے ہوئے اپنا پیر تھام گئی (اب تو یہ کھڑوس مجھے ضرور اٹھا کر روم میں چھوڑ کر آئے گا) وہ لنگڑاتے ہوئے دیوار کا سہارا لینے لگی
"حریم، حریم کم فاسٹ" اس نے ہلکا سا مڑتے حریم کو آواز دی
"جی؟" حریم اس کی آواز پر جلدی سے باہر نکلی
"یہ آپ کی روم میٹ کے پاؤں میں شاید موچ آگئی ہے انہیں روم میں لے جائیں، اور ان کے بینڈیج بھی کر دیجیے گا" اس کا گال تھپتھپا کر کہتے ارتضی باہر کی جانب بڑھ گیا
فریحہ کا سارا پلین خراب ہوگیا تھا، اب وہ حریم کی مدد لیتی اتنے خراب دن بھی نہیں آئے تھے اس کے سو آرام سے چلتے ہوئے روم میں داخل ہوگئی
"کیا ہوا فریحہ، آپ کے تو چوٹ لگی تھی؟" حریم نے اسے خود سے چلتا دیکھ کر معصومیت سے پوچھا
"نہیں زیادہ نہیں لگی، میں اب ٹھیک ہوں" مصنوعی مسکراہٹ سجائے اسے دیکھا
"ہممم اوکے" حریم کندھے اچکاتی اپنے کام کی طرف متوجہ ہوئی، فریحہ نے سوچ لیا تھا اب تو چاہے کچھ بھی ہو جائے ارتضی کو تو وہ حاصل کر کے ہی رہے گی
@@@@@@@@
گوہر خان نے جب سے سویٹی کو دیکھا تھا تب سے وہ اس کے حواسوں پر سوار تھی اور گوہر خان ان لوگوں میں سے تھا جو جب کسی چیز پر نظر ٹکا لیتے تھے پھر اسے حاصل کرکے رہتے اور جو چیز حاصل ناں ہوتی اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیتے
"ہاں گل جان بولو؟ کیا خبر ملی ہے ہماری خانم سائیں کے بارے میں؟" وہ بڑے کروفر سے اپنی نشت پر براجمان اپنے سامنے موجود گل جان سے مخاطب ہوا تھا
"خان سائیں، بی بی جی کا تعلق وادی کمراٹ کے خانزادہ قبیلے سے ہے، وہ قبیلے کے سردار کی بیٹی ہیں سائیں، شاہ زیب خانزادہ جو اپنی آبائی حویلی چھوڑ کر اسلام آباد میں رہتے ہیں، اور سائیں ، ایک اور بات پتا چلی ہے" گل خان کہتے کہتے جھجھکا تھا کیونکہ گوہر خان غصے میں اپنی سدھ بدھ کھو بیٹھتا تھا
"کیا بات ہے گل جان، جلدی بولو" اس کی سرد آواز پر گل جان کانپا تھا
"خان سائیں وہ، وہ" اگر وہ یہ خبر نہ دیتا تب بھی مرتا اور دے دیتا تب بھی مرتا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیا کرے
"گل جان اس سے پہلے کے ہم تمہارے سینے میں اپنی بندوق کی ساری گولیاں اتاریں اپنی زبان کھولو" گوہر خان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا تھا
"خان سائیں بی بی کا نکاح دو سال پہلے خاقان قبیلے کے سردار حوزان خاقان سے ہوچکا ہے جو بڑے سردار کے چھوٹے بیٹے ذیشان خاقان کا بیٹا ہے" گل جان نے ڈرتے ڈرتے بات مکمل کی تھی
" نہیںںںں، یہ نہیں ہو سکتا، پہلی بار گوہر خان نے کسی کو سچے دل سے چاہا ہے، وہ ہمارے سوا اور کسی کی نہیں ہوسکتی" گوہر خان نے ٹانگ مار کر اپنے سامنے رکھے میز کو چکنا چور کیا تھا
"مگر خان ان کا نکاح ہوچکا ہے" گل خان نے آہستہ سے کہا تھا وہ اس کا خاص آدمی تھا تب ہی یہ بات کر کے اب تک زندہ تھا
"تو کیا ہوا جیسے نکاح ہوا تھا ویسے ٹوٹ بھی جائے گا، اس میں کونسی بڑی بات ہے، " گوہر خان کی نظروں میں حوزان خاقان کا سراپہ لہرایا تھا وہ جانتا تھا حوزان سے سویٹی کو الگ کرنا آسان نہیں ہوگا
"لیکن خان، اگر اس سردار نے بی بی کو طلاق نہ دی تو آپ کیا کریں گے؟" گل خان کو اس کے ارادے نیک ہرگز نہیں لگ رہے تھے
"اگر وہ آرام سے میرے راستے سے نہیں ہٹا تو مجبوراً مجھے اسے اس دنیا سے ہی اٹھانا ہوگا، جو میں بلکل نہیں چاہتا، مگر اپنی خانم کے لیے میں کچھ بھی کروں گا" لبوں پر پراسرار سی مسکراہٹ سجائے گوہر خان کے ماتھے پر سوچوں کے جال بکھرے ہوئے تھے
دوسری طرف شاہ زیب ولا میں سویٹی جب سے گوہر خان سے ملی تھی تب سے اسے عجیب سا خوف گھیرے میں لیے ہوئے تھا، دو دن سے وہ ناں تو ٹھیک سے کھا پی رہی تھی اور ناں اچھل کود کر رہی تھی
آب اور شاہ زیب بھی اسے خاموش دیکھ کر پریشان ہوگئے تھے ورنہ وہ کبھی اتنا عرصہ سکون سے نہیں بیٹھتی تھی آب کے بار بار پوچھنے پر بھی وہ کچھ بتانے کو تیار نہیں تھی
وہ اس دن حوزان کو سب کچھ بتا تو دیتی مگر اسے پتا تھا حوزان غصے میں اسی وقت گوہر خان کی تلاش میں نکل پڑتا اور پھر اس کا جو حال کرتا وہ بھی وہ اچھے سے جانتی تھی اور وہ ہرگز نہیں چاہتی تھی کے حوزان کوئی نئی دشمنی پالے
آب نے اس کی مسلسل خاموشی سے تنگ آتے حوزان کو فون کیا تھا کیونکہ حوزان وہ واحد انسان تھا جو اس سے ہر بات اگلوا سکتا تھا
"السلام علیکم" حوزان نے فون اٹھا کر کان سے لگایا
"وعلیکم السلام حوزان بیٹا، آب بات کر رہی ہوں" آب نے اس کی آواز سن کر محبت اور شفقت سے جواب دیا
"جی ممانی جان، کیسی ہیں آپ خیریت سے فون کیا؟" حوزان اس کی آواز پہچان چکا تھا
"حوزان بیٹا میں تو ٹھیک ہوں مگر تمہاری سویٹی ٹھیک نہیں ہے" آب کے کہنے پر وہ جو پہلے ہی دو دن سے اس کی کال نہ آنے پر پریشان تھا ایک دم سیدھا ہوا
"کیا ہوا سویٹی کو ممانی جان؟" ساری فائلز سائیڈ پر کرتا وہ پریشانی سے ان کی طرف متوجہ ہوا
"بیٹا جس دن سے آپ لوگ شاپنگ سے واپس آئے ہیں اس دن سے وہ عجیب بی ہیو کر رہی ہے، نہ ڈھنگ سے کھانا کھاتی ہے، نہ کوئی شرارت کرتی ہے بس چپ چپ سی ہے، کیا کچھ ہوا تھا اس دن" آب کو لگا شاید ان دونوں میں کوئی ان بن ہوئی ہوگی
"نہیں تو ممانی جان، اس دن تو کوئی بات نہیں ہوئی، خیر میں آدھے گھنٹے میں وہاں پہنچتا ہوں پھر ان سے پوچھوں گا کیا معاملہ ہے" حوزان کو اس دن والی اس کی حالت یاد آئی تھی
"ٹھیک ہے بیٹا، آپ ہی اب دیکھو اس لڑکی کو ویسے بھی آپ سب نے لاڈ پیار دے دے کر اسے بگاڑ دیا ہے" آب نے ایک بار پھر اسے وہی سنایا تھا جو وہ ہمیشہ کہتی تھی
"ممانی جان، بچی ہیں وہ ابھی، ٹھیک ہوجائیں گی، آپ فکر مت کریں" حوزان ان کی شکایت پر مسکرا دیا
"ابھی وہ بچی ہیں، ایک دو سال میں ہم آپ کی شادی کردیں گے اور آپ شادی کے بعد بھی انہیں بچی کی طرح ہی ٹریٹ کرتے رہیے گا" آب کو صدمہ ہوا تھا اپنی اٹھارہ سالہ بیٹی کے لیے بچی لفظ سن کر
"ممانی جان ، ان کے بچپنے اور معصومیت سے عشق ہے مجھے اور آپ فکر مت کریں میں انہیں سمبھال لوں گا، ابھی رکھتا ہوں اللّٰہ حافظ" حوزان ان کی بات پر مسکرا دیا
"اللّٰہ حافظ بیٹا" آب نے مسکرا کر کہتے فون بند کر دیا
حوزان کے چہرے پر تفکر چھایا تھا اسے جلد از جلد سویٹی کے پاس پہنچنا تھا اور اس سے اس کی پریشانی کی وجہ جاننی تھی، اس کی سویٹی معمولی سی بھی ٹینشن میں ہو یہ وہ ہرگز برداشت نہیں کر سکتا تھا
@@@@@@@@
پینتھر، لیپرڈ اور سوان تینوں آج انڈیا جارہے تھے، ان کا ارادہ بارڈر کراس کر کے جانے کا تھا مگر اس میں رسک تھا اگر بھارتی فوج کو بھنک بھی لگ جاتی تو وہ الرٹ ہو جاتے اور ان کا را میں شامل ہونا مشکل ہو جاتا
اسی لیے ہائی کمانڈ کے آرڈر پر وہ لوگ پلین سے جارہے تھے انہوں نے نکلی پاس پورٹ بنوا لیے جن کے مطابق وہ بھارتی شہریت رکھتے تھے، سوان اور لیپرڈ کو بھارتی میاں بیوی کے روپ میں ڈھالا گیا تھا
لیپرڈ نے بہت شور مچایا کے اسے اس بندریا کے ساتھ ہرگز نہیں جانا مگر پینتھر کی ایک گھوری پر وہ فوراً سیدھا ہوا تھا، اور اب وہ تینوں پلین میں بیٹھے اپنی منزل کی جانب گامزن تھے
لیپرڈ اور سوان دونوں ساتھ بیٹھے تھے جبکہ پینتھر ان سے کچھ فاصلے پر موجود تھا، سوان اور لیپرڈ نظروں ہی نظروں میں ایک دوسرے کا قتل کر دینا چاہتے تھے وہ دونوں ہر دو منٹ کے بعد ایک دوسرے کو زبردست سی گھوری سے نوازتے
"لکشمی، ارے او لکشمی دیوی، یہ زرا ٹانگیں تو سیدھی کرو مجھے باہر جانا ہے " لیپرڈ اور سوان کے نکلی نام لکشمی اور راکیش تھے سوان کو سب سے زیادہ زہر تو اپنا نام لگ رہا تھا
اس کی یہ ناپسندیدگی لیپرڈ نوٹ کر چکا تھا تب ہی اسے چڑانے کے لیے اونچی آواز میں بولا
"سوامی میں آپ کے ساتھ ہی بیٹھی ہوں اتنا چلا چلا کر کیوں بول رہے ہیں" کافی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر سوان نے اسے گھوری سی نوازا تھا
"ارے لکشمی مجھے لگا کہیں جہاز میں بیٹھ کر تمہاری سننے کی حس خراب نہ ہوگئی ہو اسی لیے اونچی بولا" لیپرڈ کو اس کا تپا تپا انداز مزہ دے رہا تھا
"سوامی میں آپ کی طرح پہلی بار پلین میں نہیں بیٹھی سو بےفکر رہیں میری حسِ سماعت بھی بلکل ٹھیک ہے اور ہاتھ پاوں بھی" سوان نے اب بھی بار غصے سے دھیمی آواز میں کہا تھا
"لکشمی تم غصے میں کتنی حسین لگتی ہو" سامنے بیٹھی عورت کو اپنی جانب متوجہ دیکھ کر لیپرڈ نے مصنوعی مسکراتے ہوئے اسے دیکھا
"اگر ایک اور بار آپ نے مجھے اس فضول نام سے پکارا ناں میجر، تو میں آپ کو اٹھا کر باہر پھینک دوں گی" دانت پیستے اس نے سرگوشی میں بولی
"ابھی سے پریکٹس کر لیں سوان جی، ابھی آپ کوئی کافی عرصہ یہی نام سننا ہے" لیپرڈ اسے چڑانے کے لیے شرارت سے بولا
" آپ کے علاؤہ اور کسی کو ضرورت نہیں پڑے گی فضول میں میرا نام چلا چلا کر لینے کی" سوان کو پتا تھا اس کی کسی بات کا اثر اس ڈھیٹ پر نہیں ہونا
"بھئی میں تو پکاروں گا ہی آخر کو آپ میری دھرم پتنی ہیں" نچلا لب دانتوں میں دبائے لیپرڈ نے شرارت کی
"میجر، کین یو پلیز شٹ یور ماوتھ فار سم ٹائم" سوان نے اس کے آگے ہاتھ جوڑ کر کہا
"اوکے اوکے اب نہیں بولوں گا، ویسے کیا آپ تھوڑی جگہ دیں گی مجھے جانا ہے" لیپرڈ نے اب کی بار آرام سے کہا تھا
"جائیں" سوان نے دانت پیس کر سائیڈ پر ہوتے کہا، وہ دونوں لڑتے جھگڑتے ایک نئے سفر پر گامزن تھے جہاں ان کی زندگیاں بدلنے والی تھیں
مجتبی اور شہیر دونوں شپ کے بیسمینٹ میں موجود تھے جب اچانک الارم کی آواز پر ان کا دھیان ریڈار کی طرف گیا، مجتبی نے دور بین سے اردگرد کا جائزہ لیا مگر پانی کے اندر کچھ نہیں تھا اس کا مطلب وہ جو کوئی بھی تھا وہ سمندر کے اوپر تھا
مجتبی بھاگتے ہوئے بیسمنٹ سے نکلا، باہر آکر دور بین سے دیکھا تو ایک شپ ان کے ائیریا میں داخل ہورہا تھا وہ شپ دیکھنے میں ہی کچھ گڑبڑ لگ رہا تھا مجتبی نے سے دیکھا تو اس شپ میں اسلحہ بردار آدمی کھڑے پہرہ داری کر رہے تھے
وہ سمجھ گیا تھا کے یہ سمگلنگ شپ ہے اور اس میں یا تو اسلحہ کی یا پھر کسی اور چیز کی سمگلنگ کی جارہی ہے، اور ان کے چہروں سے لگ رہا تھا جیسے وہ لوگ غلطی سے اس طرف آگئے ہوں جس کا اندازہ انہیں خود بھی نہیں تھا
"ہیلو! کنڑول روم، کمانڈر مجتبیٰ ولید حیدر رپورٹنگ، اوور" اس نے واکی ٹاکی نکال کر رپورٹ کی تھی
"یس کمانڈر، کنڑول روم، اوور" سامنے سے آفیسر کی آواز سنتے مجتبی نے انہیں رپورٹ کی
"وی ٹارگٹ آ سمگلنگ شپ ان آور ائیریا، کین وی اٹیک آن اٹ، اوور" اس کے پاس وقت کم تھا اسے جو بھی کرنا تھا ابھی کرنا تھا
"وی ول سینڈ ٹیم بی دئیر دین یو کین پروسیڈ، اوور" کنٹرول روم نے آرڈر ملتے ہی وہ اندر بھاگا
اندر جاکر اس نے اپنا سپیشل اٹیک سوٹ پہنا، جیکٹ پہنے، شوز پہن کر گن کو لوڈ کیا، سر پر مخصوص ڈائیونگ کیپ پہنتے وہ باہر نکلا تھا، تب تک فضاء میں ہیلی کاپٹر کی آواز سنائی دی
کچھ ہی دیر میں انہوں نے لائف بوٹ نکالی اور اس میں سوار ہوتے پوری تیزی سے اس سمگلنگ شپ کی طرف روانہ ہوئے، کچھ دور پہنچ کر مجتبی جو لیڈ کر رہا تھا اس نے سامنے موجود اسلحہ برداروں کا نشانہ لیا
اس کے نشانہ باندھتے ہی اس کی ٹیم کے نوجوان بھی ایک ایک آدمی پر گن پوائنٹ کر چکے تھے، مجتبی کے ہاتھ کے کیے اشارے پر تین سیکنڈ بعد انہوں نے ایک ساتھ اٹیک کیا تھا، سامنے موجود سب دشمن واصل جہنم ہوچکے تھے
مگر دوسری طرف موجود لوگ چوکنا ہوگئے تھے تب ہی اپنے بچاؤ میں وہ کسی ناں کسی چیز کی آڑ میں ہوکر فائرنگ کر رہے تھے مگر اس طرف سے ہوتی مسلسل فائرنگ کی وجہ وہ لوگ بوکھلا گئے تھے
شپ میں پہنچتے ہی مجتبی اور اس کے ساتھی باری باری شپ میں چڑھے تھے، پاک فوج کے یہ جیالے آہستہ آہستہ آگے بڑھتے سب دشمنوں کو واصل جہنم کرتے جارہے تھے
مجتبی شپ پول کی آڑ میں ہوتا اختیاط سے فائرنگ کر رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ ہر طرف نظر رکھے اپنے جوانوں کو بھی پروٹیکٹ کر رہا تھا یہ سب نوجوان کسی ماں کے بیٹے ، کسی بہن کے بھائی اور کسی بیوی کے سہاگ تھے اور اس وقت اس کی زمہ داری تھے
آہستہ آہستہ وہ پوری شپ کو کنڑول میں لے چکے تھے اب صرف بیسمنٹ کے اندر موجود لوگ رہ گئے تھے مجتبی نے آگے بڑھ کر بیسمنٹ کا دروازہ کھولا
سنسناتی ہوئی گولی اس کی طرف آئی مگر وہ بروقت نیچے جھکتا خود کو بچا گیا اس نے گولی چلائی تو وہ سامنے موجود ٹارگٹ کی ٹانگ پر لگی تھی جس پر انہیں اسے دبوچنے کا وقت مل گیا
اس سے گن چھینتے مجتبی اسے باہر لے کر آیا تھا تب تک نیوی کے جوان باقی شپ کی چیکنگ کر چکے تھے اور اب ایک گول دائرے میں اس کے سامنے کھڑے تھے
"سر اس مردود کو مارا کیوں نہیں آپ نے؟" سامنے کھڑے نوجوان نے اسے دیکھتے پوچھا
"شہزادے یہ بہت کام کی چیز ہے، یہ بہت سی گندی مچھلیوں کو پکڑوائے گا" مجتبی پرُ اسرار انداز میں مسکرا دیا، اس سے پہلے کوئی کچھ سمجھتا گولی کی آواز آئی اور وہ آدمی مجتبی کے ہاتھ سے چھوٹ کر گرا جس کے سر سے بھل بھل خون بہہ رہا تھا
"بچ کے کمانڈر" کسی نوجواں کی آواز پر مجتبی پلٹا اس سے پہلے کے وہ فائر کر کے مقابل کا قصہ تمام کرتا سنسناتی ہوئی گولی مجتبیٰ کے جسم کو چیرتی ہوئی نکل گئی
"کمانڈر، کمانڈر مجتبیٰ، کمانڈر" نوجوانوں میں سے کسی نے گولی چلانے والے کو واصل جہنم کیا تھا باقی سب آفیسرز مجتبی کی طرف بڑھے تھے
@@@@@@@@
ذین اور مظہر باس کے بھیجے ہوئے پاسپورٹ پر انڈیا آگئے تھے اور آج وہ دونوں اس سے ملنے کے لیے جانے والے تھے ذین کو اس جگہ اور باقی چیزوں میں رتی برابر بھی دلچسپی نہیں تھی وہ جلد از جلد اس کی مدد کر کے اپنی راہ جانا چاہتا تھا
باس نے ان دونوں کو ممبئی کے ایک ہوٹل میں بلایا تھا، شام کو تقریباً سات بجے کے قریب وہ دونوں اپنے ہوٹل سے نکلے تھے ، ہوٹل پہنچ کر باس کے آدمی نے آگے آکر ان دونوں کی آنکھوں پر پٹی باندھی
"یہ کیا حرکت ہے مظہر، اگر باس کو ہم پر یقین ہی نہیں تھا تو ہمیں بلایا کیوں؟" ذین کو اس کی پٹی باندھنے والی حرکت پر غصہ آیا تھا ایک تو وہ اس شخص کی مدد کے لیے پاکستان سے یہاں آگیا تھا اور اب وہ ان پر بداعتمادی ظاہر کر رہا تھا
"ذین یار غصہ مت کر آج کل ہر کوئی اپنی سیکیوریٹی کے لیے اتنا تو کرتا ہی ہے ناں" مظہر نے اسے صبر سے کام لینے کا کہا تھا
ایک آدمی ان دونوں کو تھامتے ہوئے الگ الگ راستوں سے گزار کر ایک کمرے میں لے گیا، وہاں جاکر اس نے انہیں کرسیوں پر بیٹھاتے ان کی آنکھوں سے پٹیاں کھولیں، کچھ دیر بعد جب آنکھیں اندھیرے سے مانوس ہوئیں تو انہوں نے اردگرد نظر دوڑائی
یہ ایک درمیانے سائز کا کمرہ تھا جس میں چاروں طرف اندھیرا تھا صرف سامنے ایل سی ڈی پر ایک آدمی جو سر سے پیروں تک بلیک لباس میں ملبوس تھا اور سامنے ایک آدمی رخمی حالت میں گرا ہوا تھا
بلیک کپڑوں میں ملبوس اس شخص نے دیکھتے ہی دیکھتے اس آدمی کی کھال چاقو سے ادھیڑنا شروع کر دی، آدھ مرا ہوا شخص اس حالت میں بھی تکلیف سے چیخ رہا تھا مگر مقابل پر اس کی چیخیں، سسکیاں کچھ بھی اثرانداز نہیں ہورہی تھیں
وہ اپنے کام میں اس طرح مگن تھا جیسے کوئی گیم کھیل رہا ہو، ذین کو سامنے نظر آتے منظر سے کراہیت سی محسوس ہورہی تھی اس نے مظہر کی طرف دیکھا جس کی حالت تقریباً اس جیسی ہی تھی
کافی دیر بعد جب بلیک کپڑوں والے شخص نے مقابل کی ساری جلد اتار دی تو اس کے دل کے قریب چاقو سے وار کرتے اس کا دل نکال کر ہاتھ پر رکھا، خون کا وہ سرخ لوتھڑا ابھی تک دھڑک رہا تھا، اس نے شخص نے اس کے کے بھی کئی ٹکڑے کیے جیسے خود کو تسکین پہنچا رہا ہو
اچانک ایل سی ڈی آف ہوگئی اور کچھ ہی لمحوں بعد وہی بلیک کپڑوں والا شخص ایک جانب سے چلتا ہوا کمرے میں داخل ہوا، اندھیرے کی وجہ سے یہ معلوم نہیں ہوسکتا تھا کے وہ جہاں سے آیا وہاں کوئی دوازہ تھا یا کھڑکی، ذین اور مظہر تب تک خود کو سمبھال چکے تھے
"ہیلو میرے دوستو، کیسے ہو تم دونوں" وہ شخص آکر ان دونوں کے سامنے بیٹھ چکا تھا اور یوں بولا جیسے ناجانے وہ کتنے پرانے دوست ہوں
"ہیلو باس، ہم ٹھیک ہیں، یہ ذین ہے " ذین کو بولنا ویسے بھی پسند نہیں تھا سو یہ فریضہ بھی مظہر نے انجام دیا تھا
"جانتا ہوں جانتا ہوں، یہ وہی شاہکار ہے جس کا مجھے انتظار تھا" اس کی شکل ہڈی اور اندھیرہ سر پر ہونے کی وجہ سے صاف نظر نہیں آرہی تھی مگر اس کی آواز بہت بھدی تھی
"کام کی بات پر آؤ باس، کون ہو تم اور مجھ سے کیا چاہتے ہو" ذین نے سرد آواز میں کہا تھا اب اسے لگ رہا تھا جیسے اس نے یہاں آکر کوئی غلطی کر دی ہو یہ شخص تو انسان بھی نہیں تھا
"ہممم مظہر نے تمہیں میری کہانی بتائی نہیں؟" اس نے پرسوچ نظروں سے مظہر کو دیکھتے پوچھا
"میں سنی سنائی کہانیوں میں دلچسپی نہیں لیتا مجھے سیدھی بات اپنے منہ سے بتاؤ کون ہو تم اور کیا چاہتے ہو" ذین کا انداز حد درجہ سنجیدہ تھا
"آئی لائک اٹ، مجھے ایسے لوگ بہت پسند ہیں جو سیدھا کام کی بات کرتے ہیں" اس کی بات پر باس مسکرا کر بولا
"میرا نام جبران ہے، میرے بابا پاکستان آرمی میں میجر سے اور صرف میجر نہیں تھے بلکہ آئی ایس آئی میں تھے ، ان کے ذمہ ایک کیس تھا کچھ دہشت گردوں کو پکڑوانے کا کیس جس کے پیچھے را اور دوسری سوپر پاورز تھیں، بابا نے دن رات محنت کرکے یہ کیس پورا کیا ان دہشت گردوں کو پکڑوایا، مگر ایک اور آفیسر نے میرے بابا کی فائلز چرا کر وہ کیس اپنے نام سے جمع کروادیا اور میرے بابا پر ان دہشت گردوں کے ساتھ ملے ہونے کا الزام لگا دیا، بابا کو پکڑنے کے دوران گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا مگر انہیں وہ آنر اور رتبہ نہ مل سکا جو ان کا حق تھا، ان کے مرنے کے بعد ہمیں بھی غدار کا خاندان کہہ کر پکارا جانے لگا" وہ شخص کچھ دیر رکا تھا جیسے ماضی میں گم ہو گیا ہو
"ہمیں مجبوراً پاکستان چھوڑ کر یہاں آنا پڑا مگر بارڈر کراس کرتے ہوئے کچھ آفیسرز نے ہمیں دیکھ لیا اور فائرنگ کے دوران میری ماں کو بھی مار دیا گیا، ایک ہی جھٹکے میں مجھے یتیم اور تنہا بنا دیا پاکستان آرمی نے، مگر اب اور نہیں اب وقت ہے ان سے بدلہ لینے کا، وہ آفیسر آج بھی زندہ گھوم رہا ہے مگر اور نہیں اب اسے حساب دینا ہوگا" اپنے باپ کا ذکر کرتے ہوئے اس کے لہجے میں جتنی معصومیت تھی اب اتنی ہی وحشت اور درندگی تھی
"مگر اس سب میں تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ میں کیا کر سکتا ہوں تمہارے لیے ؟" ذین کا سوال وہیں کا وہیں تھا کے آخر وہ اس سے کروانا کیا چاہتا ہے
"تمہیں ایک بہت اہم کام کرنا ہے۔۔۔۔ " اب جبران کے چہرے پر پراسرار سی مسکراہٹ تھی
@@@@@@@@
آج صبح جب حسال آفس آئی تو ایک دھماکا اس کا منتظر تھا فلک کی جگہ اسے بہرام کی اسسٹنٹ کی پوسٹ دے دی گئی تھی، اب وہ سر تھام کر رہ گئی اس نے تو صرف فلک کو راستے سے ہٹانا چاہا تھا مگر اب خود چوبیس گھنٹے اس کھڑوس کا سامنا کرنا پڑے گا
"سر کیا میں پوچھ سکتی ہوں میری پوسٹ کیوں چینج کی گئی ہے؟" وہ بہرام کے آتے ہی دندناتے ہوئے اس کے آفس پہنچی تھی
"کیا بات ہے مس حسال، آپ کو ہی تو پروبلم تھی میری سیکرٹری سے اب جب میں نے اپنی سیکرٹری بدل دی ہے تب بھی آپ کو اشو ہے؟" بہرام نے اس کی بات پر سکون سے جواب دیا تھا
"ہاں میں نے کہا تھا سیکرٹری بدلنے کا، مگر یہ تو نہیں کہا تھا کے اس کی جگہ مجھے مشکل میں ڈال دیں" حسال روہانسی لہجے میں بولی
"میں مشکل ہوں یا سیکرٹری کی جاب مشکل ہے؟" بہرام نے آئی برو اچکاتے پوچھا یہ لڑکی ناجانے اس سے کیا چاہتی تھی
"دونوں، خیر مجھے یہ جاب نہیں کرنی میں اپنی پرانی جاب سے بہت خوش ہوں؟" حسال نے ایک ادا سے کہا جیسے باس بہرام نہیں وہ ہو، بہرام اس کی اس ادا پر فدا ہوا تھا بڑی مشکل سے مسکراہٹ ضبط کی
"پھر سوچ لیں مس حسال کیونکہ مس فلک ابھی ابھی مجھے اپنی سیکرٹری والی جاب واپس بحال کرنے کا کہہ چکی ہیں، اگر آپ نہیں کرنا چاہتی یہ جاب تو میں انہیں واپس بلا لیتا ہوں؟ کیا خیال ہے؟" بہرام نے خود پر مصنوعی سنجیدگی طاری کرتے پوچھا
"ہاں ہاں بلا لیں، بلا لیں اگر اپنی اور اپنی اس چہیتی کی جان عزیز نہیں ہے تو ضرور بلا لیں" دانت پیستے حسال نے مسکرا کر کہا اس کی جیلسی اب بہرام کو مزہ دے رہی تھی
"تو پھر آپ بن رہی ہیں ناں میری "سیکر یڑری" " بہرام نے بڑے سٹائل سے دبا کر سیکرٹری لفظ بولا تھا
"جی بلکل، اب تو آنا ہی پڑے گا ورنہ آجائے گی وہ ڈائن اپنے سنہری بال لہراتے ہوئے" حسال نے فلک کے بلونڈڈ بالوں پر طنز کیا تھا
"اوکے تو آج سے ہی شروع کریں، سب سے پہلے تو اپنا سامان میرے روم میں شفٹ کریں، اور پھر میرے لیے ایک کپ کافی بنا دیں، بغیر چینی کے" بہرام ہلکا سا مسکرا کر کہتا لیپ ٹاپ پر جھکا تھا
"اوکے سر" حسال اپنا غصہ ضبط کرتے باہر نکلی تھی مگر بھلا ہو سامنے سے آتی فلک اس سے ٹکرا گئی
"بہت اڑ رہی ہو ناں تم حسال میڈم، مجھ سے میری پوسٹ چھین کر کیا ثابت کرنا چاہتی ہو کے تم بہرام سر کو مجھ سے چھین لوگی؟ وہ تم جیسی لڑکی کو گھاس تک نہیں ڈالیں گے" فلک نے اپنا غصہ اس پر انڈیلا تھا مگر اس نے غلط وقت پر چھیڑ دیا تھا
"پہلی بات میں انسان ہوں تمہاری طرح چمگاڈر نہیں ہوں جو ہوا میں اڑتی پھروں، دوسری میں دوسروں کی چیزیں نہیں چھینتی اور اپنی چیز پر کسی کو نظر تک نہیں رکھنے دیتی ، اور لاسٹ بٹ نوٹ دا لیسٹ میں گھاس کھاتی بھی نہیں ہوں جو وہ مجھے نہیں ڈالیں گے تو میں مر جاؤں گی" حسال نے اسے اچھی خاصی سنا کر اپنا غصہ ہلکا کیا تھا
"دیکھا لو جتنا ایٹیٹیوڈ دکھانا ہے، میں تمہاری نظروں کے سامنے بہرام خانزادہ کا دل جیتوں کی اور تم دیکھتی رہ جاؤ گی" فلک نے انگلی اٹھا کر کہا جس پر حسال ہنس دی جیسے بچے کی بےوقوفانہ بات پر ہنسا جاتا
"فلک، بہرام خانزادہ کا دل جیتنے سے پہلے یہ دیکھ لینا کے ان کے پہلو میں دل ہے بھی یا وہ پہلے ہی کسی کے نام ہو چکا ہے، اٹس این ایڈوائس فار یو" اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے کہا
"ناؤ اف یو ایکسکیوز می، مجھے اپنا سامان بہرام سرررر کے روم میں شفٹ کرنا ہے، میرے پاس بلکل ٹائم نہیں فالتو باتوں کے لیے" مسکرا کر اسے آگ لگاتی حسال وہاں سے جاچکی تھی
فلک محض دانت پیس کر رہ گئی ایک اور جنگ کا اعلان ہوچکا تھا اب بس جنگ کے نتائج سامنے آنا باقی تھا۔
عقابوں کے تسلط پر فضائیں فخر کرتی ہیں
خودی کے رازدانوں پر دعائیں فخر کرتی ہیں
بطن سے بیٹے پیدا ہوں جس کے محمود عالم سے
وہ دھرتی سر اٹھاتی ہے وہ مائیں فخر کرتی ہیں
ایم ایم عالم کی تصویر کے سامنے کھڑا وہ سر اٹھائے اسے دیکھ رہا تھا، ایم ایم عالم کو کون نہیں جانتا یہ پاکستان کا وہ بہادر سپوت تھا جس نے 1965 کی جنگ میں ایک منٹ میں بھارت کے پانچ جنگی طیارے اکیلے مار گرائے
یہ دھرتی ایسے کئی سپوتوں کو جنم دے چکی ہے مگر ایم ایم عالم وہ ہے جس کا قائم کردہ رکارڈ آج تک کوئی نہیں توڑ سکا، ارتضی آنکھوں میں محبت اور عقیدت لیے اس تصویر کو دیکھ رہا تھا
یہ شخص اس کے لیے اس کا آئیڈیل تھا، جس نے سیکھایا تھا کے ارادے مضبوط ہوں اور اللّٰہ پر کامل یقین ہو تو کوئی کام ناممکن نہیں ہوتا، وطن سے عشق کی ایک عظیم داستان رقم کرنا اسی نے سکھایا تھا وہی نہیں ائیر فورس میں آنے والا ہر جوان ایم ایم عالم کا جانشین بننا چاہتا ہے
ارتضی کی صرف یہی خواہش تھی کے وہ ایک دن کچھ ایسا کر سکے کے یہ ملک، یہ دھرتی اس کے ہونے پر ناز کر سکے، وہ اپنا آپ اس زمین پر وار کر امر ہونا چاہتا تھا، مگر پھر جب حریم کو دیکھتا تو ڈگمگا جاتا، وہ اس کی کمزوری بن گئی تھی
وہ ناجانے کن سوچوں میں گم تھا جب ائیر کرافٹ مین نے اس کے قریب آکر کر سلوٹ کیا، وہ آہستہ سے اس کی طرف مڑا
"السلام علیکم سر" اس کی آواز پر ارتضی نے آہستہ سے سر ہلاتے جواب دیا
"سر ایویشن کیڈیٹ حریم کو پینک اٹیک ہوا ہے، وہ کسی سے سمبھل نہیں رہیں" اس کی بات پر ارتضی بھاگتے ہوئے باہر کی جانب بڑھا تھا
جس دن عباد شہید ہوا تھا اسی دن حریم سیڑھیوں سے گری تھی، وہ بہت چھوٹی تھی سامنے پڑی باپ کی لاش اور ماں کی حالت سمجھ نہیں سکتی تھی مگر ہر طرف آہ و بکا اور چیخوں کی آواز، اور پھر گر کر سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے وہ کئی دن بیہوش رہی تھی
ہوش میں آنے کے بعد سے اب تک اچانک اس کے سر میں درد شروع ہو جاتا تھا وہ تھوڑا سا شور و غل بھی برداشت نہیں کر پاتی تھی کہیں بھی چیخوں کی آواز سنتی تو پینک کرنے لگ جاتی تھی
آج اس کے سینئرز میں سے دو کیڈیٹس کی فرسٹ سولو فلائیٹ تھی اور جب بھی کوئی کیڈیٹ سولو فلائیٹ لیتا تھا تو باقی سب ان پر رنگ دار اور سادہ پانی پھینکتے تھے اور اس سب میں ایک شور برپا ہوجاتا تھا شاید اسی وجہ سے حریم کو پینک اٹیک ہوا تھا
"پرنسس، پرنسس آر یو اوکے ؟" حریم سر ہاتھوں میں تھامے زمین پر بیٹھی تھی جبکہ بہت سارے کیڈیٹس اردگرد کھڑے سے وہ ان کے درمیان میں سے جگہ بناتا اس کے پاس آکر بیٹھا
"نہیں، بابا، بابا، شش، چپ، بابا " آنکھوں میں تکلیف دہ تاثر لیے وہ آہستہ آہستہ بول رہی تھی
"یہ پاگل ہے کیا؟ ہوں اٹینشن لینے کے بہانے، ڈراما کوئین" اردگرد موجود لڑکیاں حسد میں جلتی سرگوشیاں کر رہی تھیں جو ارتضی نے کانوں تک بھی جارہی تھیں
"ایوری ون گو بیک ٹو یور ورک" سرد ترین آواز میں ارتضی نے انہیں دفع ہونے کا کہا تھا
"پرنسس، میں یہاں ہوں، دیکھیں، پرنسس ریلیکس" ارتضی نے اس کے ہاتھ سر سے ہٹاتے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھاما
"ار۔۔۔۔ارتضی۔۔۔" حریم اسے اپنی قریب محسوس کرتے آہستہ سے بولی
"ارتضی کی جان پلیز، ریلیکس کریں، کوئی نہیں ہے یہاں سب ٹھیک ہے" اس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہے تھے ارتضی بلکل بچوں کی طرح اسے پچکار رہا تھا
"ارتضی، وہ، وہ لوگ، شور تھا،بابا" حریم روتے ہوئے اردگرد اشارہ کر رہی تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا بولے
"نہیں میرا بچہ، کچھ نہیں ہے یہاں دیکھیں کوئی نہیں ہے، صرف حریم ہے اور ارتضی ہیں، حریم کے ارتضی، دیکھیں، " وہ اس کا حجاب ٹھیک کرتے پیار سے بولا
"کوئی نہیں ہے؟" حریم نے بےیقینی سے اردگرد دیکھا
"نہیں کوئی نہیں ہے، سب کچھ ٹھیک ہے، آئیں چلیں میرے ساتھ، ہم باہر چلتے ہیں ٹھیک ہے؟" آہستہ سے کھڑے ہوتے اسے بھی ساتھ کھڑا کیا
"نہیں، باہر نہیں جانا، میری کلاس ہے" حریم کی حالت اب پہلے سے بہتر تھی اسی لیے آہستہ سے بولی
"ٹھیک ہے باہر نہیں جاتے آئیں میرے آفس چلتے ہیں، میں جوس منگواتا ہوں آپ کے لیے" ارتضی اسے تھامے اپنے آفس میں لے آیا
انٹر کام سے اس کے لیے جوس منگوایا اس کے پاس صوفے پر بیٹھتے خود اسے جوس پلایا حریم نم آنکھوں سے ارتضی کو دیکھتی جوس پی رہی تھی اگر وہ نہ ہوتا تو اس کی زندگی آج کیا ہوتی وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی
"آپ ٹھیک ہیں اب؟" گلاس ٹیبل پر رکھتے اس کے دونوں ہاتھ تھامے جس پر وہ سر اثبات میں ہلا گئی
"میں آپ کو بہت تنگ کرتی ہوں ناں؟" حریم کی آنکھوں کے ساتھ ساتھ آواز میں بھی نمی تھی جو ارتضی کے دل پر وار کر رہی تھی
"کس نے کہا آپ مجھے تنگ کرتی ہیں، میری بیوی اس دنیا کی سب سے پیاری بیوی ہیں، میرا دل ہیں، میری جان ہیں، آپ میری ہیں آپ کا ہر دکھ، ہر تکلیف بھی میرا ہے، سو یہ کبھی مت سوچیے گا یہ سب مجھے کبھی بھی آپ سے بیزار کر سکتا ہے" اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں تھام کر اس کے ماتھے کو لبوں سے چھوا
"تھینک یو فار آلویز بینگ دئیر فار می، تھینک یو فار بینگ مائین" حریم اس کے کندھے پر سر رکھتے آہستہ سے بولی
"نو نیڈ آئی واز، آئی ایم اینڈ آئی ول آلویز بی دئیر بائی یور سائیڈ، یو ڈونٹ نیڈ ٹو تھینک می، بیکوز یو آر مائی لائف، اینڈ آئی لو ٹو پروٹیکٹ یو، لو یو جاناں" اس کے کندھے پر بازو پھیلاتے سر پر ٹھوڑی ٹکائے بولا
وہ دونوں ابھی باتیں کر رہے تھے جب ارتضی کا فون بجا، اس نے فون اٹھاتے کان سے لگایا تو دوسری طرف کی بات سنتے اس کے پیروں تلے سے زمین نکلی تھی
"واٹٹٹٹ" وہ ایک دم دھاڑا تھا حریم اس کی تیز آواز پر کانپ گئی تھی
@@@@@@@@@
اگلے آدھے گھنٹے میں حوزان شاہ زیب ولا پہنچ چکا تھا، وہ وہاں پہنچا تو گھر میں صرف آب اور سویٹی ہی تھیں وہ آب سے ملتا ہوا اوپر سویٹی کے روم میں آیا،جو ڈم لائیٹ چلائے بیڈ پر لیٹی تھی، چھت پر ٹکی انکھیں اس کے نیند میں ناں ہونے کا پتا دے رہی تھیں
"سویٹی" حوزان کی آواز پر وہ ایک جھٹکے میں اٹھ کر بیٹھی تھی
"خان؟" حوزان چلتا ہوا آکر اس کے سامنے بیٹھا، سویٹی اب اٹھ کر بیٹھ چکی تھی
"کیا بات ہے خان کی جان، دو دن سے آپ نے اپنے خان کو فون نہیں کیا؟" خان اسے یوں ظاہر کروا رہا تھا جیسے وہ آب کے یہاں بلانے پر نہیں بلکہ اس سے ملنے آیا ہو
"کچھ نہیں وہ بس یونی کا کچھ کام تھا اسی میں مصروف تھی" سویٹی آنکھیں جھکائے بولی کیونکہ وہ پہلی بار اپنے خان سے جھوٹ بول رہی تھی
"ہمممم ،اچھا چلیں چھوڑیں، آئیں کہیں باہر ڈنر کرنے چلتے ہیں" حوزان اس کی جھکی نظروں سے اس کا جھوٹ پکڑ چکا تھا مگر وہ یہاں اس کی پریشانی دور کرنے آیا تھا بڑھانے نہیں، اور اگر وہ نہیں بتا رہی تھی تو یقیناً بات کوئی بڑی تھی جس کا اسے پتا چلانا تھا
"مگر" اس کے ذہن میں اس دن گوہر خان کا اچانک سامنے آنا آیا، اگر وہ دوبارہ آگیا؟
"کوئی اگر مگر نہیں، جلدی سے ریڈی ہو جائیں میں باہر ویٹ کر رہا ہوں" حوزان اس کا ماتھا چومتے باہر چلا گیا
کچھ ہی دیر میں وہ بلیک شلوار قمیض پر بڑی سی شیشیوں سے سجی بلیک چادر لیے نیچے آگئی، حوزان کو وہ عجیب کھوئی کھوئی سی لگی، اس کی سویٹی ایسی تو کبھی نہیں تھی، وہ دونوں آب سے ملتے باہر آگئے تھے
حوزان سارے راستے خاموش رہا تھا آج تو خلافِ معمول سویٹی بھی ایک لفظ بھی نہیں بولی تھی اور یہی بات حوزان کی پریشانی میں اضافہ کر رہی تھی، وہ دونوں ہوٹل آگئے تھے ایک سائیڈ پر ٹیبل لیتے حوزان نے اسے چئیر پر بیٹھایا اور پھر خود سامنے بیٹھ گیا
حوزان نے بولنا شروع کیا تو سویٹی بھی آہستہ آہستہ اس ٹینشن سے باہر آنے لگی اس کا خان اسکے پاس تھا اس کے سامنے فلحال اس کے لیے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں تھا
کافی دیر سے حوزان کو لگ رہا تھا جیسے کوئی ان پر نظر رکھے ہوئے ہے، سویٹی کا چہرہ اس کی طرف تھا اور حوزان کے پیچھے دیوار تھی سو اس پر کسی کی نظر نہیں پڑ رہی تھی مگر پھر بھی کوئی تو تھا جو ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھا
"جاناں، آپ ٹھیک ہیں ناں، اگر کوئی پریشانی ہے تو آپ مجھ سے شئیر کر سکتی ہیں" حوزان نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھامتے پوچھا
"جب تک میرے خان میرے ساتھ ہیں مشکل کی کیا مجال کے وہ مجھ تک پہنچے، میں بلکل ٹھیک ہوں" سویٹی نے اس لمحے گوہر نامی بلا کو ذہن سے نکال باہر کیا تھا
"ڈیٹس لائک مائی گرل، اب یہ بات آپ نے ہمیشہ یاد رکھنی ہے" اس کا گال کھینچتے حوزان کا دل باغ باغ ہوا تھا، اس کی ذات پر اس کی سویٹی کا یقین کرتی تھی اس پر بھروسہ رکھتی تھی
"ہممم" سویٹی اس کی بات پر اثبات میں سر ہلا کر مسکرا دی، تھوڑی دیر بیٹھ کر وہ دونوں واپسی کے لیے اٹھ گئے تھے حوزان نے اسے آکر گاڑی میں بیٹھایا
"ایک منٹ سویٹی میرا موبائل شاید اندر رہ گیا ہے میں ابھی لے کر آیا، یہیں ویٹ کریں" حوزان اس سے کہتے واپس مڑا تھا، پارکنگ لاٹ سے نکل کر وہ ہوٹل کے سامنے آگیا
اچانک اس کا ہاتھ اٹھا تھا اور ساتھ سے گزرتا آدمی لڑکھڑا کر گرا تھا، حوزان نے اسے کالر سے پکڑا کر اوپر کیا
"تجھے کیا لگا تھا، تو ایس پی سردار حوزان خاقان کی جاسوسی کرے گا اور مجھے پتا نہیں چلے گا، " اس کے سرد ترین لہجے میں کہی بات پر سامنے والے کا خون خشک ہوا تھا
" میں، میں نے کچھ نہیں کیا" وہ لڑکھڑاتے لہجے میں بولا، اس کی بات پر حوزان ایسے مسکرایا جیسے کسی بچے کی بات پر مسکرایا جاتا ہے
"تم نے کیا کیا ہے اور کیا نہیں یہ میں تمہیں تفصیل سے بتاؤں گا ابھی میری بیوی میرا انتظار کررہی ہے، حوالدار" حوزان نے پیچھے سے آتے سول کپڑوں میں ملبوس حوالدار کو بلایا وہ کب سے اس شخص کو پہچان چکا تھا تب ہی اس نے میسج کر کے حوالدار کو بلا لیا تھا
"جی سر؟" حوالدار نے اس کے پاس آتے پوچھا
"میرے مہمان کو لے جاؤ اور اس کا اچھے سے خیال رکھنا، میں بعد میں آؤں گا" اسے حوالدار کے حوالے کرتے وہ گاڑی میں واپس آگیا جہاں اس کی زندگی اس کے انتظار میں تھی
@@@@@@@@@
پینتھر، لیپرڈ اور سوان انڈیا پہنچ چکے تھے اور اب ایک ہوٹل میں قیام پذیر تھے، سوان اور لیپرڈ ایک فلیٹ میں میاں بیوی کی حثیت سے رہ رہے تھے جبکہ پینتھر ان کے فلیٹ کے قریب ہی دوسرے فلیٹ میں قیام پزیر تھا
اب ان کا مقصد را میں شامل ہونا تھا جس کے لیے انہیں پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت تھی، پینتھر دوپہر کے قریب ان کے فلیٹ میں آیا تھا اور اب وہ دونوں بیسمینٹ میں موجود آگے کا لائحہ عمل تیار کر رہے تھے
"سر میں نے ہمارے ٹارگٹ کو ٹریک کر لیا ہے اور ٹریکر اس کے موبائل کے گوگل سے کنیکٹ کر دیا ہے، اب ہمیں بس انہیں ٹریس کرنا ہے" سوان نے اپنا لیپ ٹاپ اس کے سامنے رکھا تھا
"ہممم، گڈ، لیکن ایک بات یاد رکھنا جو بھی کرنا ہے ہمیں سوچ سمجھ کر کرنا ہے اس بھول میں مت رہنا کے انہیں ہمارے بارے میں علم نہیں ہے" پینتھر نے لیپ ٹاپ پر دیکھتے سوان اور لیپرڈ سے کہا
"پینتھر، کیا ہم ان کا پیچھا کرنے جائیں،ہمیں ان کا پلین جاننا ہوگا" لیپرڈ اس وقت بلکل سنجیدہ تھا کیونکہ اب بات ان کے ملک کی تھی
"ہممم تم اور سوان دونوں میاں بیوی کی حثیت سے جاؤ گے تاکے اگر کوئی دیکھ بھی لے تو تمہیں کپل سمجھ کر زیادہ دھیان نہ دے اور ان پر نظر رکھو گے، مگر ان کو بلکل بھی شک نہیں ہونا چاہیے" پینتھر نے لیپ ٹاپ بند کرتے کہا
"کیا ہے یار، ہر جگہ اس مصیبت کو ساتھ رکھنا ضروری ہے؟" لیپرڈ کو اب غصہ آنے لگا تھا اکیلے کام کرنا الگ بات تھی اور کسی اور کی زمہ داری نبھانا الگ بات اور وہ بھی ایک لڑکی کی
"ہاں جیسے میں تو آپ کے ساتھ رہنے کے لیے مری جارہی ہوں ناں؟ پینتھر سر میں الگ جاسکتی ہوں" سوان کو بھی اسکا ایٹیٹیوڈ دیکھ کر غصہ آگیا تھا
"لیپرڈ، سوان اگر تم دونوں نے ایسا ہی نان سیریس انداز اپنائے رکھا تو میں تم دونوں کو واپس بھجوا دوں گا" پینتھر نے سرد انداز میں گھورا تھا
"تم دونوں کل سے مشن پر کام کرو گے، مجھے کچھ دن غائب ہونا ہوگا سو میرے بعد تم دونوں کو ہی ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے، میں نے را میں شامل ہونے کا راستہ ڈھونڈ لیا ہے سو اب سے ہمارا مشن شروع ہوگا" پینتھر کے لہجے میں جنون ہلکورے لے رہا تھا
"انڈرسٹینڈ؟" پینتھر کی سنجیدہ آواز پر وہ دونوں جو ٹکٹکی باندھے پینتھر کو دیکھ رہے تھے ہوش میں آئے
"یس سر" وہ دونوں اٹھتے ہوئے اسے سیلوٹ کرتے بولے
وطن کے یہ جیالے ایک بار پھر تیار تھے خود کو ملک پر قربان کرنے کے لیے یہ تھے پاکستان کی دفاع کے علمبردار، جن کے بغیر شاید یہ ملک کبھی بھی قائم نہ رہ پاتا
"کیااااا؟" جبران کی بات سن کر ذین کا دماغ بھک سے اڑ گیا تھا، وہ کیا کروانا چاہ رہا تھا اس سے
"تمہارا دماغ ٹھیک ہے، تم جانتے بھی ہو کے تم کیا کہہ رہے ہو؟" مظہر بھی ساری بات سن کر پریشان ہوگیا تھا ان کے وہم و گمان میں نہیں تھا
"مجھے نہیں لگتا کے میں نے کوئی ناممکن بات کی ہے" جبران نے پرسکون سی نظر اس پر ڈالی تھی جو پریشان لگ رہا تھا
"تم چاہتے ہو میں آئی ایس آئی میں شامل ہوجاوں اور وہاں پر موجود اس آفیسر کی کیس فائل لاکر تمہیں دوں؟ یہ انہونی بات نہیں ہے تو اور کیا ہے، تم جس جگہ مجھے جانے کے لیے کہہ رہے ہو وہ میرا سسرال نہیں ہے، دنیا کی نمبر ون خوفیہ ایجینسی ہے، اور ویسے بھی میں وردی والوں کو اپنے سامنے برداشت نہیں کرسکتا کجا کے خود وردی پہن لوں" ذین نے سرد ترین آواز میں اس کی بات کا مزاق اڑایا تھا
"تم ایک شہید آفیسر کے بیٹے ہو، تمہیں فوج میں باخوشی لے لیا جائے گا جہاں سے تمہیں آئی ایس آئی میں شامل ہونا زیادہ مشکل نہیں ہوگا، جیسے ہی تم اس آفیسر کی فائل لاکر مجھے دوگے تمہارا کام ختم ہو جائے گا، مجھے باقی کسی چیز سے کوئی غرض نہیں ہے مجھے بس اس آفیسر کو وہی تکلیف دینی ہے جو اس نے میرے باپ کو دی" جبران نے اسے سارے پلین سے آگاہ کیا
"میں فوج میں شامل نہیں ہوں گا اور یہ میرا آخری فیصلہ ہے" ذین ہرگز بھی وردی پہننے کا خیال بھی ذہن میں نہیں لانا چاہتا تھا
"ہممم اگر تم یہ سب نہیں کرنا چاہتے تو میرے پاس ایک اور راستہ ہے اگر تم اس پر عمل کرو تو" جیران کی پرسوچ نظریں اس پر اٹھی تھیں
"کیسا راستہ" ذین کو اپنے یہاں آنے کے فیصلے پر پچھتاوا ہورہا تھا ناجانے وہ شخص اس سے کیا چاہ رہا تھا
" مجھے کچھ ذرائع سے معالومات ملی ہے کے آئی ایس آئی کے کچھ ایجنٹس انڈیا میں موجود ہیں، ان کا یہاں آنے کا کیا مقصد ہے یہ میں نہیں جانتا مگر اگر ہم ان تک پہنچ گئے تو تم ان میں سے کسی کا روپ لے کر آئی ایس آئی میں شامل ہوسکتے ہو" چہرے پر مکروہ مسکراہٹ سجائے وہ ان دونوں کو حیران کر گیا تھا
"اور اگر میں تمہاری بات نہ مانوں اور انکار کر دوں تو؟" ذین نے جبران کے چہرے کو دیکھتے سرد انداز میں کہا جس پر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی
"زیادہ کچھ نہیں مگر سنا ہے تمہاری بہن بہت خوبصورت ہے، سوچو میں اس کے ساتھ کیا کیا کر سکتا ہوں" جبران نے خباثت سے مسکرا کر کہا
"گھٹیا انسان، تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بہن کا نام لینے کی، میں تمہارے باپ کو انصاف دلانے کے لیے پاکستان سے یہاں آیا اور تم میری بہن کے بارے میں بکواس کر رہے ہو" ذین نے جھٹکے سے اٹھ کر اس کا گریبان پکڑا مظہر نے جلدی سے ذین کو دونوں کندھوں سے تھام کر روکا
"ذین صبر سے کام لو، ہم یہاں ہیں یہ پاکستان میں ہمارے اپنوں کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے، اپنا نہیں تو ان کا ہی خیال کر لو، یہ شخص بہت ظالم ہے" مظہر نے سرگوشی کے انداز میں اسے رام کرنا چاہا
"کیا چاہتے ہو تم، یہی ناں کے میں وہ فائل لاکر تمہیں دوں تو ٹھیک ہے میں کروں گا مگر اس کے بعد اپنی یہ مکروہ شکل میرے سامنے کبھی مت لانا" ذین صرف مظہر کی خاطر پیچھے ہٹ گیا کیونکہ حریم کی حفاظت کے لیے ارتضیٰ تھا مگر مظہر کی بھی بہنیں تھیں جنہیں وہ خطرے میں نہیں ڈال سکتا تھا
"ٹھیک، تم بس مجھے وہ فائل لا دو اس کے بعد تم اپنے راستے، میں اپنے راستے" جبران تمسخر سے مسکرا دیا جانتا تھا وہ اس بات پر مان جائے گا
"مگر جن آئی ایس آئی ایجینٹس کی تم بات کر رہے ہو انہیں ڈھونڈو گے کیسے، وہ آئی ایس آئی ایجینٹس ہیں جنہیں آج تک بڑی بڑی سوپر پاورز نہیں پکڑ سکیں تم کیسے پکڑو گے؟" اب کی بار مظہر نے ذہن میں گونجتے سوال کو زبان دی تھی
"میں انہیں نہیں وہ مجھے ڈھونڈیں گے، ہم انہیں خود اپنے تک لائیں گے " اس کی گھٹیا سوچ ناجانے کہاں کہاں سفر کر رہی تھی
ذین نے دل میں مصمم ارادہ کر لیا تھا کے وہ دوبارہ اس جیسے گھٹیا لوگوں کا ترنوالہ نہیں بنے گا وہ یہ آخری غلط کام کر رہا تھا مگر کون جانے یہ ارادہ کامیاب ہونے والا تھا یا وہ ہمیشہ کے لیے اسی دلدل میں گم ہو جانے والا تھا
"مظہر مجھے تھوڑی دیر اکیلا چھوڑ دو" وہ دونوں وہاں سے باہر نکلے تو ذین مظہر کی طرف مڑا اسوقت اسے اپنے اس دوست سے بھی نفرت ہورہی تھی جس کی وجہ سے وہ اس دلدل میں آگیا تھا
مظہر سر ہلاتا دوسری طرف چل دیا، ذین کتنی ہی دیر سڑکیں ناپ کر ہوٹل واپس آگیا اس کا دماغ پھٹ رہا تھا مگر کوئی بچاؤ کا راستہ نظر نہیں آرہا تھا جبکہ مظہر واپس اسی جگہ مڑ گیا
"شاباش رادھو، تم نے جو مہرہ ڈھونڈا ہے ناں یہ اب پاکستان اور پاکستان آرمی کی بربادی کی وجہ بنے گا، ایک شہید کا بیٹا ایک غدار بنے گا" جبران نامی شخص نے مظہر کو دیکھتے کہا
"میں نے بہت سال لگا کر اس کی برین واشنگ کی ہے، اسے تیار کیا ہے اسے لگ رہا ہے کے وہ ایک بچارے شخص کی مدد کر رہا ہے مگر اصل میں تو وہ خود اپنی بربادی کی وجہ بن رہا ہے، ویسے رام ان باقی ایجینٹس کا پتا چلا " رادھو نے رام کو دیکھتے پوچھا
"بہت جلد وہ ہم تک پہنچ جائیں گے مگر اس بار جب ان کا سامنا اپنوں نے ہوگا تو وہ کچھ نہیں کر سکیں گے " رام کی مکروہ مسکراہٹ پر رادھو بھی مسکرا دیا
انہوں نے بہت طریقے سے ذین کو فرضی کہانی سنائی تھی اصل میں تو وہ دونوں را کے ایجینٹس تھے جو آئی ایس آئی میں گھس کر پاکستان کو تباہ کرنا چاہتے تھے اور ذین کو ان کے سامنے کرنا چاہتے تھے تاکے وہ بےبس ہو جائیں
مگر وہ یہ نہیں جانتے تھے کے وقت آنے پر اگر پاکستانی فوجیوں کو اپنے ملک اور اپنے سگے بھائی میں سے بھی کسی کو چننا پڑے تو وہ ملک کو چنتے ہیں تو پھر ذین ان کے سامنے کیا حثیت رکھتا تھا
@@@@@@@@@@
حسال جب سے بہرام کی سیکریٹری بنی تھی تب سے بہرام نے اسے گھن چکر بنا دیا تھا کبھی اس سے ایک فائل بنواتا، کبھی دوسری تو کبھی اس سے کافی بنواتا اور خود آرام سے بیٹھا اسے نہارتا رہتا
آج ان کی ایک بہت اہم میٹینگ تھی جس میں فارن ڈیلیگیشن آنے والا تھا اس نے حسال کو میٹنگ سے ریلیٹیڈ فائلز اس کے لیپ ٹاپ کے پاس رکھنے کے لیے کہا تھا اور خود ارینجمینٹس دیکھنے باہر چلا گیا
"پتا نہیں خود کو کیا سمجھتے ہیں، اکڑو، کھڑوس، سڑیل" حسال اونچی بڑبڑانے کے ساتھ زور زور سے فائلز ٹیبل پر پٹخ رہی تھی وہ فائلز رکھ کر باہر نکل گئی
کچھ ہی دیر میں بہرام آیا اور فائلز لیتے میٹنگ روم کی طرف آیا اور جاکر میٹینگ سٹارٹ کی، اس نے ساری پریزینٹیشن بہت اچھے سے دی تھی کیونکہ ان کی زرا سی غلطی بھی ان فارنرز پر برا اثر ڈال سکتی تھی
انہیں بہرام کے آئیڈیاز بہت پسند آئے تھے جس پر انہوں نے ڈیل ڈن کی تھی اب بس انہیں ڈیل سائن کرنی تھی بہرام نے کونٹریکٹ پیپرز پہلے سے بنوا لیے تھے کیونکہ اسے پورا یقین تھا کے یہ ڈیل انہیں ہی ملے گی
اس نے فائلز میں مخصوص فائل تلاش کرنی چاہی مگر فائل وہاں نہیں تھی، مطلب حسال نے فائل رکھی ہی نہیں سب لوگوں کی نظریں اس پر تھیں بہرام کو سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے اگر اٹھ کر فائل لینے جاتا تو وہ لوگ کیا سمجھتے کے وہ فائلز تک پوری نہیں کر سکتا
اچانک اسے اپنے کھٹنے پر حرکت محسوس ہوئی اس نے غیر محسوس انداز میں دیکھا تو فلک اس کی طرف وہی فائل بڑھا رہی تھی جو اسے چاہیے تھی اس نے آہستہ سے وہ فائل تھامتے یوں ظاہر کیا جیسے اس نے فائل وہیں سے پکڑی ہو
ڈیل سائن ہوچکی تھی سب لوگ آہستہ آہستہ میٹینگ روم سے باہر جانے لگے اب وہاں وہ اور فلک رہ گئے تھے وہ مشکوک نظروں سے فلک کو دیکھتے بولا
"یہ فائل آپ کے پاس کیسے پہنچی مس فلک؟" یہ فائل تو اس کے آفس میں تھی
"سر جب آپ میٹینگ روم میں آگئے تھے تو میں آپ کو دیکھنے وہاں گئی تھی آتے ہوئے میری نظر فائل کے ٹائیٹل پر پڑی تو میں یہاں لے آئی مگر پہلے آپ کو دے نہیں سکی" فلک نے معصوم سی شکل بنا کر بتایا
"تھینک یو مس فلک اگر آپ یہ فائل نہیں لاتیں تو شاید آج یہ ڈیل ہاتھ سے نکل جاتی" بہرام نے مشکور نظروں سے اسے دیکھتے کہا
"اٹس اوکے سر، یہ تو میرا فرض تھا" محبت پاش نظروں سے اسے دیکھتے وہ مسکرا کر بولی بہرام کو حسال پر غصہ آیا تھا جس کی لاپرواہی پر یہ سب ہوا تھا، وہ میٹینگ روم سے باہر نکلا اور اپنے آفس کی طرف بڑھا
فلک اس کے جانتے ہی مکروہ سا مسکرا دی اس نے بڑی چالاکی سے آفس میں جاکر وہ فائل وہاں سے نکالی تھی کیونکہ وہ حسال کو فائلز سیٹ کرتے دیکھ چکی تھی مطلب فائل غائب ہونے پر سارا الزام حسال پر آتا
بہرام آفس میں داخل ہوا جہاں حسال مزے سے اس کی چئیر پر بیٹھی کینڈی کرش کھیلنے میں مصروف تھی اس نے پٹخنے کے انداز میں چیزیں میز پر رکھی تھیں
"مس حسال اگر آپ کام نہیں کر سکتیں تو آفس مت آیا کریں" غصے سے اسے بازو سے تھام کر اپنے مقابل کھڑا کیا
"کیا، کیا ہوا؟" حسال کو اس اچانک افتاد کی سمجھ ہی نہیں آئی تھی
"کیا ہوا، آپ کی زرا سی لاپرواہی آج اتنی امپورٹینٹ ڈیل خراب کر سکتی تھی، جب میں نے آپ کو فائلز دھیان سے رکھنے کا کہا تھا تو آپ نے اپنا کام دھیان سے کیوں نہیں کیا" بہرام کی آواز آہستہ مگر سخت تھی جو حسال کو تکلیف دے رہی تھی
اچانک حسال کی نظر شیشے کے دروازے سے باہر پڑی جہاں فلک تمسخر بھری مسکراہٹ لیے اسے دیکھ رہی تھی حسال ایک پل میں سمجھ گئی تھی کے ان کو لڑانے کی سازش فلک نے کی تھی
"میں نے کچھ نہیں کیا، میں نے وہ فائل وہیں رکھی تھی" ایک تو بہرام کی سختی دوسرا فلک کی تمسخر بھری مسکراہٹ حسال کے آنسو پل بھر میں رخساروں کی زینت بنے تھے
اس کے آنسو دیکھ کر بہرام کا غصہ پل بھر میں ہوا ہوا تھا یہ اتنی بڑی بات ہرگز نہیں تھی جس پر اس کی محبوب بیوی اپنے قیمتی آنسو ضائع کرتی، اس نے جلدی سے حسال کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھاما تھا
"حسال میری جان، آئی ایم سوری، پلیز روئیں مت، شاید مجھ سے فائل یہاں چھوٹ گئی ہوگی، آپ کی کوئی غلطی نہیں آپ پلیز روئیں تو مت" دونوں انگوٹھوں سے اس کے رخسار صاف کرتے بہرام نے اسے پچکارہ تھا اپنا پلین فیل ہوتے دیکھ فلک پاؤں پٹختی وہاں سے جاچکی تھی
"آپ نے، آپ نے مجھے ڈانٹا ہے، اس منحوس فائل کی وجہ سے "۔ حسال روتے ہوئے ہچکی بھرتے بولی پہلی بار بہرام نے اس طرف اس سے بات کی تھی مگر زیادہ رونا اسے فلک کے سامنے ڈانٹنے پر آرہا تھا
"آئی ایم سوری جاناں پلیز مجھے معاف کر دیں زندگی، آئی پرامس میں دوبارہ کبھی آپ کو نہیں ڈانٹوں گا" بہرام نے اس کا سر اپنے سینے سے لگاتے سہلایا شاید وہ اوور رئیکٹ کر گیا تھا
"اگر دوبارہ آپ نے مجھے ڈانٹا تو میں آپ سے کبھی بات نہیں کروں گی" حسال کے آنسو رک گئے تھے مگر آواز سے خفگی واضح تھی
"کبھی نہیں، آئی پرامس کبھی نہیں ڈانٹوں گا" بہرام نے اس کی خفگی محسوس کرتے مسکرا کر اپنے لب اس کے دوپٹے سے ڈھکے بالوں پر رکھے
@@@@@@@@@
مجتبی کے کندھے میں گولی لگی تھی جو نقصان دہ ہوسکتی تھی اگر اسے بروقت ہوسپٹل نہ پہنچایا جاتا مگر خوش قسمتی سے جس جیٹ میں ٹیم بی وہاں آئی تھی اسی میں مجتبی کو اسلام آباد سی ایم ایچ میں منتقل کیا گیا
اس وقت حرم ڈیوٹی پر تھی جب کچھ آفیسرز اسے لے کر آئی سی یو میں پہنچے واڈ بوائے بھاگتے ہوئے حرم کے کمرے کی طرف آیا، جو کسی پیشینٹ کا چیک اپ کرکے اسے میڈیسن لکھ کر دے رہی تھی
"ڈاکٹر حرم، ایمرجنسی کیس ہے جلدی چلیں" واڈ بوائے کی آواز پر حرم سب کو چھوڑ کر اپنا سٹریتھوسکوپ اٹھائے آئی سی یو کی طرف بڑھی
اندر پہنچنے سے پہلے اس نے جلدی سے آپریشن سوٹ پہنا اور پیشینٹ کے قریب آئی، اچانک اس کی نظر مریض کے چہرے پر پڑی، یہ لمحہ اس کے لیے قیامت خیز تھا، مجتبی، اس کا مجتبی اس کے سامنے خون میں لت پت پڑا تھا وہ اسے دیکھتے ساکت ہوگئی تھی
"ڈاکٹر جلدی کریں، پیشینٹ کا بلڈ تیزی سے بہہ رہا ہے" نرس کی بات پر ہوش میں آئی اس نے مجتبی کے چہرے پر ہاتھ رکھا اس کے ہاتھوں میں لرزش واضح تھی، اس کا دماغ ماؤف ہوچکا تھا
تب ہی پرنیاں وہاں پہنچی تھی اسے شاید خبر ہوچکی تھی اس کی حالت بھی حرم سے مختلف نہیں تھی انہوں نے آج تک ہزاروں کیس دیکھے تھے مگر آج پہلی دفع ان دونوں کا جان سے پیارا شخص ان کے سامنے تھا اور انہیں آج اپنی ساری ڈاکٹری کہیں گم ہوتی دکھائی دے رہی تھی
"حرم، ہوش میں آؤ میری جان، مجتبی کو آج حرم کی نہیں، ڈاکٹر حرم مجتبی کی ضرورت ہے، آج مجتبی کی جان اللّٰہ کے بعد تمہارے ہاتھ میں ہے، سمبھالو خود کو" سب سے پہلے پرنیاں ہوش میں آئی تھی اس نے حرم کے کندھے پر ہاتھ رکھا جو مجتبی کے چہرے پر ہاتھ رکھے ساکت کھڑی تھی
"ہننن، ہاں میرے مجتبی کو میری ضرورت ہے میں انہیں کچھ نہیں ہونے دوں گی کچھ بھی نہیں، نرس، جلدی سے مجھے انجیکشن دیں" حرم پرنیاں کی بات پر ہوش میں آئی تھی اسے آج یہ جنگ لڑنی تھی اپنے مجتبی کو بچانا تھا اسی لیے آنسو صاف کرتے نرس سے مخاطب ہوئی
انجیکشن لگاتے اس نے آپریشن شروع کیا سب سے پہلے مجتبی کے کندھے سے گولی نکالی اس دوران اس نے ایک بار بھی اپنے ہاتھ کو کانپنے نہیں دیا تھا کیونکہ اگر وہ کمزور پڑتی تو شاید مجتبی کو کھو دیتی
گولی نکال کر اس نے مجتبی کی بازو پر پٹی باندھی باہر شاید ارتضی آچکا تھا جس نے خون دیا تھا، خون کی بوتل آتے ہی حرم نے اسے وہ خون لگا دیا، ارتضی کا خون آہستہ آہستہ مجتبی کے جسم میں منتقل ہورہا تھا
پٹی باندھ کر حرم نے ہاتھوں سے دستانے اتارے چہرے سے ماسک ہٹایا اور پھر آہستہ سے مجتبی کے چہرے پر جھکتے اپنے لب اس کے ماتھے پر رکھے
"جلدی سے ٹھیک ہو جائیں مجتبی، آپ کی ہنی آپ کو اس حال میں نہیں دیکھ سکتی،پلیز مجھے مت تڑپائیں میں مرجاؤں گی" حرم کہتے بار بار اس کے ماتھے پر جھک کر لب رکھتی
وہ اس کے چہرے پر نظر ڈال کر باہر آگئی جہاں ولید، سویرا، مہمل، احتشام، پرنیاں، حریم، ارتضیٰ، عائشہ سب لوگ کھڑے تھے ہر کسی کے چہرے پر تکلیف دہ تاثرات تھے سویرا، مہمل اور عائشہ تو باقائدہ آنسوں سے رو رہی تھیں
"حرم، بیٹا کیسا ہے مجتبی، وہ ٹھیک ہے ناں؟" ولید اسے دیکھتے جلدی سے اس کی طرف بڑھا
"بابا جان پریشان مت ہوں مجتبی ٹھیک ہیں، گولی زیادہ گہری نہیں گئی تھی بس بےہوش ہیں کل تک ہوش آجائے گا" حرم کا گلہ آنسو پیتے پیتے رندھ چکا تھا
"حرم، وہ بلکل ٹھیک ہے ناں، اور تو کوئی ٹینشن کی بات تو نہیں ہے ناں؟" احتشام کی پریشان آواز پر وہ ہلکا سا مسکرا دی کوئی کہہ نہیں سکتا تھا کے یہ وہی احتشام ہے جو ہر وقت مجتبی سے لڑتا رہتا تھا
"پاپا کوئی ٹینشن والی بات نہیں، بس تھوڑی سی چوٹ ہے وہ ٹھیک ہو جائیں گے " حرم انہیں تسلی دیتے سویرا اور مہمل کے پاس آئی انہیں سب کچھ سمجھاتے اس نے انہیں حوصلہ دیا تھا
کتنی عظیم ہوتی ہیں ناں یہ مائیں بھی جانتی ہیں کے بیٹوں کی ہلکی سی چوٹ بھی برداشت نہیں کر سکیں گی مگر پھر بھی خود انہیں تیار کر کے وطن پر قربان ہونے کے لیے بھیج دیتی ہیں
اور ان ماؤں کے وہ عظیم سپوت جانوں کو ایسے ہتھیلی پر لے کر پھرتے ہیں جیسے یہ ان کی جان نہ ہو کوئی معمولی چیز ہو،
فقط آبِ رواں سے کب وطن سیراب ہوتا ہے
گلوں کے خون سے بھی آب یاری کرنا پڑتی ہے
حریم ، حرم اور پرنیاں کے ساتھ آئی سی یو کے باہر چئیر پر بیٹھی تھی، اس کا دل بہت ڈر گیا تھا ہنستا مسکراتا مجتبی اچانک سے اس حال میں پہنچ گیا تھا اسے بےساختہ دوپہر کا وقت یاد آیا جب وہ اور ارتضی آرام سے ارتضی کے آفس میں بیٹھے تھے
"کیا کہہ رہے ہیں آپ، آر یو شیور؟" ارتضی کی پریشان آواز پر حریم کا دل دہلا تھا
"جی میں پہنچ رہا ہوں" ارتضی فون بند کرتے جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھا
"کیا ہوا؟" حریم نے اسے اٹھتے دیکھ پوچھا
"مجتبی کے گولی لگی ہے، ہوسپٹل میں ہے وہ" ارتضی بامشکل خود پر ضبط پائے کھڑا تھا مجتبی اس کا آدھا حصہ تھا، اس کا سایہ جس کے بغیر وہ اپنے ہونے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا
"کیااا، مجتبی بھائی، وہ ٹھیک تو ہیں ناں؟" ارتضی کی بات پر حریم جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھی تھی، ایک منٹ میں آنکھوں میں آنسو جمع ہوئے تھے
"پتا نہیں یار، میں وہیں جارہا ہوں، دعا کریں وہ ٹھیک ہو" ارتضی کی خود کی آواز کانپ گئی تھی ناجانے اس کا بھائی کس حال میں تھا
"ارتضی مجھے بھی آپ کے ساتھ جانا ہے" حریم جلدی سے اس کا بازو پکڑتے ہوئے بولی
"مگر پرنسس، آپ کی کلاس ہے ناں؟" ارتضی بس جلد از جلد ہوسپٹل پہنچنا چاہتا تھا
"میں نہیں لے سکوں گی ایسے کوئی کلاس، مجھے مجتبی بھائی کو دیکھنا ہے، پلیز مجھے لے جائیں ساتھ" حریم نے روتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام رکھا تھا
"ٹھیک ہے چلیں، بٹ آپ روئیں گی نہیں اوکے" وہ جلدی سے باہر نکلتے ساتھ اسے ہدایت کرنا نہیں بھولا تھا
"حریم، شونا آپ بھی گھر چلی جاو تھوڑی ریسٹ کر لو جاکر" پرنیاں کی آواز پر وہ حال میں لوٹی تھی
"نہیں پری، مجھے نہیں جانا آپ سب بھی تو یہاں ہو ناں" انہوں نے مشکل سے ولید، سویرا، مہمل اور احتشام کو گھر بھیجا تھا جبکہ وہ چاروں وہیں تھے
"ڈاکٹر، ڈاکٹر پیشینٹ کو ہوش آرہا ہے" صبح چار بجے کے قریب نرس نے آکر انہیں اطلاع دی تھی اس کی بات سن کر حرم بھاگتے ہوئے آئی سی یو میں پہنچی تھی
"مجتبی، آنکھیں کھولیں پلیز" حرم نے اس کے چہرے پر ہاتھ رکھتے پکارا آنسو نا چاہتے ہوئے بھی بہہ رہے تھے وہ جو مجتبی کے چہرے پر جھکی ہوئی تھی اس کا ایک آنسو ٹپک کر مجتبی کے چہرے پر گرا تھا
مجتبی نے آہستہ سے آنکھیں وا کرنے کی کوشش کی روشنی کی چبھن پر وہ دوبارہ سے پلکیں موند گیا، اپنے چہرے پر جانا مانا لمس محسوس کرتے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولنے کی کوشش کی جب ماتھے پر نمی کا احساس ہوا
"ہنی۔۔" سرگوشی میں حرم کو پکارا تھا جیسے اس حالت میں بھی حرم کا لمس پہچانتا ہو، اس کی سرگوشی حرم کے جسم میں جان ڈال گئی تھی
"مجتبی، دیکھیں آپ کی ہنی آپ کے پاس ہے، آنکھیں کھولیں شاباش" آنسو صاف کرتے ایک بار پھر اس کا چہرہ تھپتھپایا
"ہنی میری جان، روئیں مت پلیز" آنکھیں کھولیں تو سامنے حرم آنسووں سے تر چہرہ لیے کھڑی تھی، اسے اس حالت میں بھی صرف اپنی ہنی کے آنسو تکلیف دے رہے تھے
"میں نہیں رو رہی مجتبی، یہ دیکھیں، آپ بس ٹھیک ہو جائیں آپ کی ہنی آپ کو اس حالت میں نہیں دیکھ سکتی" حرم اپنے آنسو صاف کرتے بولی پھر آہستہ سے اپنا سر اس کے سینے سے ٹکا گئی یہ ایک رات اس کے لیے قیامت خیز تھی
"پلیز ہنی ، اس گولی سے زیادہ آپ کی حالت تکلیف دہ ہے، میں ٹھیک ہوں اب " نقاہت ذدہ سی آواز میں مسکرا کر اسے تسلی دی
"اہممم، کیا ہم اندر آجائیں؟" پرنیاں کے گلہ کھنگارنے پر حرم جلدی سے سیدھی ہوئی پری کے پیچھے کھڑی حریم بھی اپنا سرخ ہوتا چہرہ جھکائے کھڑی تھی اور ساتھ ہی ارتضی ہلکی سی مسکان لیے ہوئے تھا
"یار مجتبی، تمہیں آرام ہی کرنا تھا تو بتا دیتے بابا تمہیں چھٹی لے دیتے یہ گولی کھانا ضروری تھا" پرنیاں ماحول بدلنے کی غرض سے بولی
"یار پری وہ کیا ہے ناں میرا بچپن کا خواب تھا کے مجھے گولی لگے اور پھر ہنی میرا اوپریشن کرے، ہائے کتنی رومینٹک سیچویشن ہے ناں؟" مجتبی بھی آہستہ آواز میں شرارت سے بولا
"شرم کریں مجتبی اس حالت میں بھی آپ بعض نہیں آرہے" شرم سے حرم کا چہرہ لال ہوگیا تھا اتنی بری حالت میں بھی اسے رومینس کی سوجھی تھی
"ہاں جی، کمانڈر صاحب ، بس ایک ہی گولی میں ڈھیر ہوگئے، بھئی جان بناؤ جان، مجھے دیکھو اکیلا ایف 17 چلاتا ہوں" ارتضی اس کے بیڈ کے پاس رکھی چئیر پر بیٹھتا بولا
"وہ کیا ہے ناں وونگ کمانڈر صاحب میں اصلی انسان ہوں پنجابی موویز کا ہیرو نہیں جو آٹھ آٹھ گولیاں کھا کر بھی اپنے قدموں پر کھڑا رہوں" مجتبی تو مجتبی ہی تھا کسی کے قابو میں کیسے آتا، اس کی بات پر سب کے چہروں پر مسکراہٹ دوڑ گئی تھی
"حریم پرنسس، وہاں کیوں کھڑی ہیں یہاں آئیں" مجتبی کے بیڈ کو حرم نے تھوڑا سا اوپر کر کے سیٹ کر دیا تھا تب ہی وہ حریم کو دروازے کے پاس کھڑے دیکھ کر بولا
"مجتبی بھائی، آپ یہاں اس طرح اچھے نہیں لگ رہے" حریم کی آنکھوں میں ایک بار پھر آنسو آئے تھے وہ ان سب میں سب سے زیادہ حساس تھی
"بھائی کا بچہ، بھائی بلکل ٹھیک ہیں، پلیز ان پیاری سی آنکھوں میں آنسو بلکل اچھے نہیں لگ رہے" حریم اس کے پاس آکر کھڑی ہوئی تو اس نے حریم کا سر تھپتھپایا
"ہیلو، یہ اب زیادہ ہوگیا" ارتضی نے فوراً حریم کو بازو سے تھام کر اپنی دوسری طرف کیا
"حریم کو پرنسس، میرا بچہ اور سب کچھ صرف میں بلا سکتا ہوں یہ بات مت بھولا کرو" ارتضی صاحب کہاں برداشت کر سکتے تھے حریم کو کوئی اور پیار کرے
"ارتضیٰ" حریم نے ارتضی کو گھورا تھا بچپن سے وہ ایسے ہی کرتا تھا کسی کو حریم کے اردگرد بھی نہیں رہنے دیتا تھا
"سوری پرنسس مگر یہ میری برداشت سے باہر ہے" ارتضیٰ نے اس کی گھوری پر ہاتھ اوپر کیے
"ہننن، نہیں تو ناں سہی میرے پاس بھی میری پرنسس ہے سو زیادہ شیخی دیکھانے کی ضرورت نہیں ہے" مجتبی نے آہستہ سے حرم کا ہاتھ تھامتے اسے کھینچا جس پر وہ اس کے بستر پر اس کے ساتھ بیٹھ گئی
"شروع کس نے کیا تھا، مجھے وہ ڈیڑھ سال ابھی تک یاد ہے جب میری پرنسس ابھی دنیا میں نہیں آئی تھی تم مجھے حرم کو دیکھنے بھی نہیں دیتے تھے تو میں کیوں اپنی پرنسس تمہیں دیکھنے دوں" وہ آج کہیں سے بھی ستائیس سالہ نوجوان نہیں لگ رہے تھے بلکہ وہ دونوں وہی آٹھ سالہ بچے بن گئے تھے جو اپنی پرنسس کسی سے شئیر کرنے کے لیے تیار نہیں تھے
"آپ دونوں بھائیوں کا کچھ نہیں ہو سکتا ہم دونوں ساری زندگی آپ کی پوزیسیونیس ہی برداشت کرنے والی ہیں" حرم نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے ان دونوں کو دیکھا تھا
پرنیاں نے مسکرا کر اپنے بھائیوں اور بھابھیوں کو دیکھا تھا جن کی ایک دوسرے میں جان بستی تھی اس نے دل سے ان کی خوشیوں کی دعا کی تھی
@@@@@@@@@
حوزان اگلے دن اس جگہ آیا تھا جہاں اس نے اس آدمی کو رکھا تھا اس کے آنے تک حوالدار اس سے پوچھ گچھ کرتا رہا مگر وہ کچھ بولنے کو تیار نہیں تھا اسی لیے اب حوزان خود وہاں آیا تھا
" ہاں تو میں آخری بار پوچھ رہا ہوں کون ہو تم، اب کی بار اگر تمہاری زبان نہ کھلی تو پھر تمہارے ساتھ کیا ہوگا اس کی ذمہ داری میری ہرگز نہیں ہوگی" حوزان اس آدمی کی چئیر کی طرف جھکتا ہوا بولا
"میں نہیں جانتا کچھ بھی، چھوڑ جو مجھے" وہ آدمی کمال کی برداشت رکھتا تھا ورنہ اب تک جتنا حوالدار اسے مار چکا تھا کوئی اور ہوتا تو اب تک سب کچھ بتا چکا ہوتا
"ہمممم، تو تم نہیں بتاو گے؟ ٹھیک ہے، حوالدار، میرا سپیشل ہتھیار تو لاو" حوزان مسکرا کر حوالدار سے بولا
کچھ ہی لمحوں کے بعد حوالدار ہاتھ میں لوہے کا چھوٹا سا روڈ لے کر آیا، حوزان نے وہ روڈ اس آدمی کی انگلیوں میں اس طرح رکھا کے ایک انگلی اوپر اور دوسری نیچے رکھ کر اتنا زور سے دبایا کے کڑک کی آواز کے ساتھ اس کی انگلی ٹوٹ چکی تھی
"آہہہہ، بتاتا ہوں پلیز یہ مت کرو" اس سے پہلے کے حوزان اس کی دوسری انگلی روڈ کے سوپر رکھ کر دباتا وہ جلدی سے بولا
"بولو، پانچ منٹ میں مجھے ہر بات جاننی ہے" حوزان کی سرد آواز پر وہ درد بھلاتا شروع ہوچکا تھا
"میں بہادر خان ہوں وادیِ سوات کا رہنے والا ہوں مجھے، گوہر، گوہر خان نے بھیجا تھا، آپ پر نظر رکھنے کے لیے اس نے مجھے پیسے دیے تھے، میں بس یہی جانتا ہوں اس کے علاوہ مجھے کچھ علم نہیں ہے" بہادر خان نے ٹھہر ٹھہر کر ساری بات اسے بتا دی
حوزان کی آنکھوں میں گوہر خان سے پہلی ملاقات لہرائی تھی اس کی گھٹیا نظریں اس کی سویٹی پر تھیں، اس دن مال میں بھی اسے لگا تھا جیسے اس نے گوہر خان کو دیکھا تھا مگر وہ اسے اپنا وہم سمجھ کر جھٹک گیا
اس کا مطلب اس دن گوہر خان وہاں تھا، کہیں اس دن سے آزین کے ڈر اور خوف کے پیچھے گوہر خان تو نہیں تھا، آزین کا ڈر جانا، اتنے دن زیرِ خوف رہنا، آہستہ آہستہ ساری گتھی سلجھتی جارہی تھی
"ہممم تم واپس جاو گے گوہر خان کے پاس اور اسے وہ سب کچھ بتاو گے جو وہ جاننا چاہتا ہے" حوزان کا دماغ بہت دور تک گھوڑے دوڑا رہا تھا
"مگر" اس آدمی کو سمجھ نہیں آیا کے حوزان خود اپنی مخبری کیوں کروانا چاہتا ہے
"جو کہا ہے وہ کرو، اور اسے ہماری اس ملاقات کا علم نہیں ہونا چاہیے سمجھے؟" حوزان نے سرد آواز میں اسے حکم دیا جس پر وہ اثبات میں سر ہلاگیا
حوزان وہاں سے نکل کر شاہ زیب ولا آگیا تھا دن کا وقت تھا سو سب لوگ اپنے اپنے کام پر جاچکے تھے سوائے سویٹی کے جس کی یونی سے چھٹیاں چل رہی تھیں، وہ سیدھا اسی کے روم میں آیا تھا دروازہ ناک کرتے اندر آیا جہاں سویٹی بیڈ پر بیٹھی لیپ ٹاپ پر مصروف تھی
"ارے خان، آپ یہاں؟" سویٹی اسے دیکھتے لیپ ٹاپ رکھ کر خوشگوار حیرت سے اس کی طرف بڑھی
"سویٹی میں جو پوچھوں گا مجھے اس کا سچ سچ جواب جاننا ہے بلکل سچ" حوزان کی سنجیدہ سی آواز پر سویٹی کو حیرت ہوئی آج اس کا لہجہ عجیب سا تھا
"کیا ہوا خان؟" سویٹی پریشان سی اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی
"کیا آپ اس دن مال میں گوہر خان سے ملیں تھیں؟ وہی شخص جس سے ہم سوات میں ملے تھے؟ کچھ چھپانے کی کوشش مت کریے گا " حوزان نے اسی انداز میں بات جاری رکھی سویٹی کی سانس سینے میں اٹک گئی تھی اسی بات سے تو وہ ڈرتی تھی
"وہ ، وہ خان، اس دن وہ شخص سامنے آگیا تھا اور۔۔" سویٹی نے ڈرتے ڈرتے ساری بات اسے بتا دی تھی
"اس شخص کی یہ جٌرت، کے وہ میری سویٹی پر اپنی گندی نظر ڈالے، اور آپ نے یہ بات مجھے اسی دن کیوں نہیں بتائی" حوزان سرد آواز میں بولا تھا وہ چاہ کر بھی اس پر چیخ نہیں سکتا تھا
"خان وہ میں ڈر گئی تھی، میں نہیں چاہتی تھی میری وجہ سے کوئی لڑائی ہو، یا آپ کو کوئی نقصان ہو" سویٹی نم آواز میں بولی خان کے غصے سے ہی تو ڈرتی تھی وہ
"آزین ایک بات یاد رکھیے گا، جب تک میں زندہ ہوں کسی کو آپ کی پرچھائی کو بھی چھونے کی اجازت نہیں دوں گا اور جنگ کا آغاز تو گوہر خان آپ کے بارے میں سوچ کر ہی کر چکا ہے، اسے اب مجھ سے کوئی نہیں بچا سکتا" حوزان نے کمر سے تھام کر اسے اپنے قریب کرتے غصے سے کہا
"خان پلیز، مت کریں، اگر اس نے آپ کو کوئی نقصان پہنچا دیا تو؟" سویٹی اس کے چہرے پر ہاتھ رکھے بولی اسے صرف اپنے خان کی پرواہ تھی باقی دنیا سے اسے کوئی غرض نہیں تھی
"جب تک آپ کی محبت میرے ساتھ ہے میرا کوئی بال بھی بیکا نہیں کر سکتا، سو ساری فکر دل سے نکال دیں، اور دوبارہ آپ چھوٹی سے چھوٹی بات بھی مجھے بتائیں گی" حوزان محبت سے اس کا ماتھا چھوتے بولا جانتا تھا اسے کیا بات پریشان کر رہی ہے
"ہممم " آزین اثبات میں سر ہلاتے اس کے سینے پر سر ٹکا گئی، یہ وہ جگہ تھی جہاں کوئی دکھ کوئی پریشانی اس تک نہیں پہنچ پاتی تھی اس کی کل کائنات آسماتی تھی حوزان کی پناہوں میں
@@@@@@@@@
لیپرڈ اور سوان دونوں آج شاپنگ کرنے آئے تھے بلکہ شاپنگ تو ایک بہانہ تھا اصل میں وہ دونوں وہاں جبران عرف رام کے آدمیوں کے تعاقب میں آئے تھے، وہ دونوں ایسے ہی دکھا رہے تھے جیسے وہ میاں بیوی ہوں
سوان کے چہرے پر ماسک لگا تھا جبکہ لیپرڈ تو اپنا پورا روپ ہی بدل چکا تھا وہ دونوں ایسے ظاہر کر رہے تھے جیسے وہ کپڑے خرید رہے ہوں مگر ان کی نظر سامنے شاپ میں کھڑے آدمیوں پر تھی
"لیپرڈ، وہ آدمی اس طرف جارہا ہے، اور دوسرا اس طرف، آپ لیفٹ جائیں میں رائیٹ جاتی ہوں" سوان نے لیپرڈ کا دھیان ہٹتے ہی اسے کہا اور لیپرڈ کے جواب دینے سے پہلے ہی وہ آدمی کے پیچھے جاچکی تھی
لیپرڈ دانت پیستے دوسرے آدمی کے تعاقب میں چل دیا، وہ دونوں کافی دیر ان کا پیچھا کرتے رہے مگر افسوس وہ آدمی اچانک غائب ہوگیا،مگر لیپرڈ نے مخصوص دکان کی نشاندہی کر لی تھی اسی لیے سوان کو دیکھنے واپس آگیا
وہ واپس آیا تو سوان وہاں نہیں تھی اس نے اس طرف جاکر بھی دیکھا جہاں وہ گئی تھی مگر وہ وہاں بھی کہیں نہیں تھی لیپرڈ اسے وہاں ناں پاکر پریشان ہوگیا تھا وہ پاگلوں کی طرح ادھر ادھر دیکھا تھا
"سر" اچانک سوان نے پیچھے سے اس کا کندھا تھپتھپاتے اسے متوجہ کیا وہ ایک دم پلٹا اسے سامنے پاتے لیپرڈ کے چہرے پر سکون کی لہر دوڑی تھی
"کہاں تھیں تم، کب عقل آئے گی تمہیں یہ پاکستان نہیں ہے جہاں تم منہ اٹھا کر کہیں بھی چل پڑو، دماغ جگہ پر ہے یا نہیں؟" لیپرڈ غصہ سے اس کے کان کے قریب جھکے بول رہا تھا کچھ ہی لمحوں میں اس نے اسے ڈرا دیا تھا
"کیا ہو گیا ہے سر، میں بچی نہیں ہوں جو کھو جاوں گی، میں ایک ایجینٹ ہوں سو آپ کو اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں جانتی ہوں میں کیا کر رہی ہوں" سوان بھی اتنی ہی آواز میں بولی
دور سے وہ دونوں ایک ہیپی کپل لگ رہے تھے جو محبت سے ایک دوسرے کے کانوں میں سرگوشیاں کر رہے ہوں مگر اصل معاملہ تو کچھ اور ہی تھا، لیپرڈ کو اچانک احساس ہوا تھا کے وہ کچھ زیادہ ہی رئیکٹ کر گیا تھا
"چلو اب چلیں،باقی کا کام کل کریں گے" لیپرڈ خجل سا ہوگیا تھا پھر یہ احساس مٹانے کے لیے اسے ڈپٹ کر بولا سوان اسے دیکھتے ناسمجھی سے کندھے اچکا گئی اور پھر اس کے پیچھے چل دی
جبکہ دوسری جانب پینتھر نے را کا ایک آدمی اپنے قبضے میں کیا تھا جس پر وہ بہت عرصے سے نظر رکھے ہوئے تھا اسی لیے اس نے موقع ملتے ہی اسے اغواء کر لیا تھا اور اس کا روپ دھارتے وہ بڑی آسانی سے را میں شامل ہو چکا تھا
کل را کے ہیڈ نے کچھ ایجینٹس کی میٹینگ بلائی تھی جس میں انہیں کوئی ضروری کیس ڈسکس کرنا تھا پینتھر کو اب بس کل ہونے کا انتظار تھا تاکے وہ ان کا سارا پلان جان سکے
دس بجے کے قریب سویرا، ولید، احتشام اور مہمل بھی آگئے تھے ہوسپٹل، ارتضی اور حریم مجتبی کے فورس کرنے پر واپس جاچکے تھے، پرنیاں کو اس نے تھوڑی دیر ریسٹ کرنے بھیجا تھا جبکہ حرم اس کے لاکھ کہنے کے باوجود بھی نہیں گئی تھی
"ماما یار بس کریں میں ٹھیک ہوں اب، آپ سب کے آنسو مجھے زیادہ تکلیف دیتے ہیں" سویرا کب سے اسے ساتھ لگائے رو رہی تھی جبکہ مہمل کا حال بھی کچھ مختلف نہیں تھا
"اگر تمہیں کچھ ہوجاتا تو تمہاری ماں تم سے پہلے قبر میں جاسوتی " سویرا نے روتے ہوئے مجتبی کا ماتھا چوما
"اللّٰہ نہ کرے ماما اللّٰہ آپ سب بڑوں کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رکھے" مجتبی اس کی بات پر تڑپ اٹھا تھا بھلا وہ اپنے ماں باپ کے بغیر زندگی تصور بھی کر سکتا تھا
"سویرا میرا بیٹا شیر ہے، اور شیروں کو یہ چھوٹی موٹی چوٹیں کچھ نہیں کہیتں" ولید سویرا کو کندھوں سے تھام کر کھڑا کرتے بولا
"بلکل ماما، میں بابا کا شیر بیٹا ہوں، ہم فوجی ایسی گولیاں تو ناشتے کے ساتھ کھانے کے عادی ہوتے ہیں سو آپ پلیز ریلیکس رہیں، اور پھپھو جانی آپ بھی" مجتبی نے کچھ دور احتشام کے ساتھ لگ کر روتی مہمل کو دیکھا
"یہ تمہاری پھپھو کا تو دماغ خراب ہے، کہا بھی تھا یہ نمونہ ڈرامے کر رہا ہے اٹینشن لینے کے لیے پھر بھی روئی جارہی ہے" احتشام ماحول بدلنے کی غرض سے بولا حالانکہ کل سے اس کی خود کی جان نکل رہی تھی
"ہاں، اسی لیے کل ساری رات خود ایک پل کے لیے بھی نہیں سوئے ہیں ناں؟" مہمل نے اس کے کندھے پر چت لگاتے اس کا راز کھولا تھا
"وہ، وہ تو میں پریشان تھا کے حرم سوئی ہوگی یا نہیں؟" احتشام کہاں اپنی محبت کا اظہار کر سکتا تھا مجتبی سے اسی لیے بہانہ بنا دیا
"ہاں ہاں بلکل ایسا ہی ہے چاچو میرے لیے تھوڑی پریشان تھے انہیں تو ہنی کی فکر تھی، بٹ چاچو میری ہنی تو کل ساری رات میرے لیے جاگتی رہی، ہوش میں آتے ہی سب سے پہلے مجھ سے ملی، کتنا پیار کرتی ہے ناں میری ہنی مجھ سے" مجتبی کی زبان ایک بار پھر پوری سپیڈ سے چل رہی تھی
اس کی بات پر جہاں سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکھری تھی وہیں حرم بری طرح جھنپ گئی، احتشام اس کی بات پر مصنوعی منہ بنانے لگا
"لو یہ لو غزل کو بھی پتا چل گیا آگیا فون اس کا، خود ہی نبٹو اس سے" احتشام کا موبائل وائبریٹ ہوا اس نے دیکھا تو غزل کا فون تھا
"السلام علیکم چیونٹی، کیسی ہو" مجتبی فون کان سے لگاتے بولا
"آپ مجھ سے بات ناں ہی کریں تو اچھا ہے" غزل کی خفگی بھری آواز اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ سجاگئی
"اچھا تو پھر فون کیوں کیا ہے تم نے" مسکراہٹ دباتے پوچھا جس پر دوسری طرف اسے رونے کی آواز سنائی دینے لگی
"میں ہوسٹل میں ہوں، جہنم میں نہیں جو آپ لوگوں نے مجھے اتنی بڑی بات بتانا ضروری نہیں سمجھا، کیوں نہیں بتایا کے آپ کو گولی لگی ہے؟" غزل روتے ہوئے بول رہی تھی
"یار چیونٹی چھوٹی سی بات تھی سوچا خوامخواہ تمہیں پریشان کریں، ویسے بھی تمہارے فائنلز سر پر ہیں، تم پیپر کی تیاری کرتی یا میری ٹینشن لیتی، ویسے تمہیں بتایا کس نے؟" مجتبی اس کے رونے پر پریشان ہوگیا تھا
"ارتضی بھائی سے بات ہوئی تھی کچھ دیر پہلے ان کے منہ سے نکل گیا ہوسپٹل کا، پھر میرے اتنا فورس کرنے کے بعد بتایا انہوں نے" وہ رونا بند کر چکی تھی مگر آواز ابھی بھی بھیگی ہوئی تھی
"اوہ، چلو اب رونا بند کرو، بل بتوڑی لگ رہی ہوگی روتے ہوئے، اور ہاں اپنے ایگزیمز پر فوکس کرو زیادہ ڈرامے کرنے کی ضرورت نہیں ہے" مجتبی اسے چپ کروانے کے لیے روبدار آواز میں بولا
"بھاڑ میں جائیں، مجھے بات ہی نہیں کرنی آپ سے" غزل ناراضگی سے کہتی فون کاٹ گئی، مجتبی جانتا تھا وہ خود ہی مان جائے گی سو مسکرا کر موبائل احتشام کو تھما گیا
کچھ دیر وہاں رہ کر وہ سب لوگ بھی مجتبی کے اسرار کرنے پر واپس چلے گئے، اس کا کہنا تھا اس کی ہنی ہے اس کے پاس، اس کا خیال رکھنے کے لیے سو آپ سب اپنے اپنے گھر جائیں
وہ دوائیوں کے زیرِ اثر سوگیا تو حرم بھی ہوسپٹل کے راونڈ پر چلی گئی، کھانے کا وقت ہوا تو وہ سوپ لے کر اس کے روم میں آگئی، سویرا آتے ہوئے سوپ بناکر لائی تھی
وہ روم میں آئی تو مجتبی سو رہا تھا، خون نکلنے کی وجہ سے ہلکا ہلکا زرد ہوا چہرہ، پیشانی پر بکھرے بال، کھڑی ناک اور چہرے پر بچوں جیسی معصومیت سجائے وہ پرسکون سا سو رہا تھا
حرم سوپ سائیڈ پر رکھتی اس کے بیڈ کے پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گئی، اسے یاد نہیں تھا اس کے دل نے کب سے مجتبی کے نام پر دھڑکنا شروع کیا، جب سے اس نے ہوش سمبھالا تھا خود کو مجتبی نام کے قفس میں قید پایا
اس کا دل بچپن سے ہی مجتبی کے نام پر دھڑکتا آرہا تھا، اور پھر نکاح کے بعد تو وہ پوری کی پوری اس کی ہوگئی تھی، اگر یہ کہا جاتا کے وہ جیتی ہی مجتبی کے لیے تھی تو غلط نہ ہوتا
"نظر لگانے کا ارادہ ہے مسز؟" اچانک سے آئی مجتبی کی آواز پر حرم ہڑبڑا کر سیدھی ہوئی
"نہیں، نہیں تو وہ میں تو بس آپ کا زخم دیکھ رہی تھی" جلدی سے بہانہ بنایا تھا وہ ایک دم جھنپ گئی تھی
"لگتا آپ کو میرے زخم سے بہت پیار ہوگیا ہے آہہہہ" وہ اس سے باتیں کرتا کرتا ایک دم اٹھنے لگا جب زخم پر دباؤ آیا تو وہ کراہ کر رہ گیا
"مجتبی، کیا کر رہے ہیں آپ، سٹیچیز ٹوٹ جائیں گے" مجتبی کے چہرے پر تکلیف دیکھ کر حرم کی آنکھیں نمکین پانیوں سے بھری تھیں وہ ایک دم سر جھکاتے رو دی
"حرم" مجتبی نے سیدھے ہوکر دیکھا تو حرم کو روتے دیکھ لب بینچ کر رہ گیا ایک ہاتھ سے اس کا چہرہ ٹھوڑی سے تھام کر اوپر کیا
"مسز مجتبی ولید حیدر، ایک گولی آپ کے شوہر کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی تھی آپ نے خوامخواہ رو رو کر ان حسین آنکھوں کو سوجا دیا، یہاں دیکھیں، جب تک آپ کی دعاوں کا حصار میرے گرد موجود ہے ناں مجھے کچھ نہیں ہو سکتا" مجتبی نے حرم کی آنکھوں کو چھوتے ہوئے محبت سے سرگوشی کی
"مجتبی،میں کیا کروں آپ کو اس طرح نہیں دیکھ سکتی میں" حرم آہستہ سے اس کے ہاتھوں پر سر ٹکاتے رو دی
"ہنی اگر آپ نے ابھی کے ابھی رونا بند نہیں کیا تو پھر جیسے میں چپ کرواوں گا وہ طریقہ آپ کو یقیناَ پسند نہیں آئے گا" مجتبی کی سنجیدہ مگر جذبوں سے چور آواز پر حرم جلدی سے سیدھی ہوتے آنسو صاف کر گئی
مجتبی اس کی تیزی پر ہنس دیا، حرم نے سوپ پکڑ کر آہستہ آہستہ اسے پلانا شروع کیا، حرم سر جھکائے اسے سوپ پلا رہی تھی جبکہ مجتبی محبت پاش نظروں سے اس کا حسین چہرہ دیکھ رہا تھا
@@@@@@@@@@
ذین اور مظہر دونوں اس وقت جبران کے کہنے پر انڈیا میں ہی موجود تھے ان دونوں کا مقصد پاکستانی ایجینٹس کی نظروں میں آنا تھا اور انہیں اپنے پیچھے جبران تک لانا تھا
اسی لیے وہ دونوں آزادی کے ساتھ گھوم پھر رہے تھے تاکے آئی ایس آئی ایجینٹس آسانی سے ان پر نظر رکھ سکیں، اسی مقصد کے تحت آج وہ دونوں ایک مال میں آئے تھے جہاں جبران کے آدمیوں کی دکانیں تھیں
ذین کا بس نہیں چل رہا تھا کسی بھی طرح یہاں سے نکل کر پاکستان پہنچ جائے، وہ جلد از جلد جبران کا کام کر دینا چاہتا تھا تاکے اپنے ملک لوٹ سکے جہاں اس کی ماں دن رات اس کی ہدایت کی دعا مانگ رہی تھی
کہتے ہیں کئی بار نیک سے بد اور بد سے نیک پیدا ہوتے ہیں، امام حسین علیہ السلام کے قاتل کے والد ایک جلیل القدر صحابی تھے جنہیں دنیا میں ہی جنت کی بشارت دے دی گئی تھی مگر ان کا بیٹا ایک جہنمی بن گیا، انسان کو نیک یا بد اس کے اعمال بناتے ہیں ناں کے ان کے والدین کے اعمال
ذین بھی تو اپنے باپ کا نام خراب کررہا تھا، عباد نے جس ملک کے لیے اپنی جان ہنستے ہنستے وار دی، ذین اسی ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے جارہا تھا جس کا اسے احساس تک نہیں تھا
دوسری طرف پرنیاں اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑی چاند پر نظریں جمائے ہوئے تھی، چاند کو دیکھ کر اس کے ذہن میں صرف ایک ہی خیال گردش کر رہا تھا جس طرح یہ چاند اس سے دور تھا ٹھیک اسی طرح ذین بھی اس سے میلوں کے فاصلے پر تھا
"ذین" اس کے دل کے ایوانوں پر چمکتا نام، جس سے اس نے بہت محبت کی تھی، کرتی بھی کیوں ناں وہ اس کا شوہر تھا، جس سے محبت کا حکم اللّٰہ نے اسے دیا تھا، مگر کچھ اپنی نیچر اور کچھ ذین کے سرد انداز کی وجہ سے وہ آج تک اس سے کچھ نہیں کہہ سکی
آج کل اس کا دل عجیب احساس کے زیرِ اثر تھا، ناجانے کیوں یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ذین خطرے میں ہے، جیسے کچھ برا ہونے والا تھا، کچھ ایسا جس کے بعد سب کچھ بدلنے والا تھا
آج کل اس کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی بات پر نم ہونے لگی تھیں، اس کی حسین آنکھوں کا پہلا خواب ذین تھا،اس کی دھڑکنوں کا امین تھا وہ مگر ناجانے کیوں سب کچھ گہری کھائی میں گم ہوتا سا محسوس ہوتا تھا
"آپ کہاں ہیں ذین، پلیز جہاں بھی ہیں واپس آجائیں، مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے، اللّٰہ جی پلیز میرے ذین کی حفاظت فرمانا، آجائیں ذین مجھے اپنی پناہوں میں چھپا لیں مجھ سے کبھی دور مت جائیے گا ذین پلیز" اور ایک بار پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی
زندگی کوئی قصہ یا کہانی نہیں ہوتی جس میں ہمیشہ ہمیں سہی انسان سے محبت ہو،اور جس سے محبت ہو وہ مل بھی جائے، اصل زندگی میں غلط وقت پر غلط انسان سے بھی محبت ہوجاتی ہے، اور محبت بچھڑ بھی جاتی ہے
ذین اور پرنیاں کی محبت کی عمر کتنی تھی یہ کوئی نہیں جانتا تھا، ان دو دلوں کو ملنا تھا یا انہیں عمر بھر کا کوئی روگ لگنا تھا یہ تقدیر طے کر چکی تھی اب بس سامنے آنا باقی تھا
@@@@@@@@@
آج حسال اور بہرام کے آفس کی چھٹی تھی سو وہ دونوں اپنے اپنے گھر پر آرام کر رہے تھے بہرام سو رہا تھا جب سویٹی اس کے روم میں آئی،بہرام کو سوتا دیکھ سویٹی کی رگِ شرارت پھڑکی تھی
وہ آرام سے چلتی بیڈکے پاس آئی اور پاس پڑا مارکر اٹھا کر بہرام کی آنکھوں پر چشمہ بنا دیا، گال پر موٹا سا تل بنا کر اپنا موبائل نکال کر حسال کو فون کرتے فون کان سے لگایا
"ہیلو دیدہ، کیسی ہیں آپ" آہستہ سے کہا تاکے بہرام اٹھ نہ جائے
"میں بلکل ٹھیک ہوں میری جان، آپ کیسی ہیں؟" حسال شاید اٹھ چکی تھی تب ہی فریش سی آواز میں بولی
"میں بھی ٹھیک ہوں جلدی سے واٹس ایپ آن کریں" شرارت سے مسکرا کر کہا جس پر حسال نے واٹس ایپ آن کیا
سویٹی نے اسے ویڈیو کال ملاتے بہرام کا چہرہ کیمرے کے سامنے کیا، پہلے تو بہرام کا چہرہ دیکھتے حسال کا دل زور سے دھڑکا تھا مگر جب اس کے چہرے پر غور کیا تو ایک دم قہقہ لگا گئی وہ لگ ہی اتنا مضائقہ خیز رہا تھا
بہرام کی آنکھ قہقہوں کی آواز پر کھلی تھی اسنے حیرت سے سویٹی کو دیکھا،سویٹی موبائل اسے پکڑاتی بیڈ سے اتر گئی جانتی تھی اگر یہاں رہی تو بہرام کی ڈانٹ سے اسے کوئی نہیں بچاسکے گا، بہرام تو حسال کی خوبصورت ہنسی میں کھویا ہوا تھا
بہرام کی اچانک نظر سامنے نظر آتے اپنے چہرے پر پڑی تو ایک پل کے لیے ڈرگیا، پھراسے حسال اور سویٹی کے ہنسنے کی وجہ سمجھ آئی وہ ایک دم موبائل آف کرتے اٹھا
"سویٹییی" آہستہ سے سویٹی کا نام لیتے وہ نفی میں سر ہلاتے اٹھا اس کی بہن کا کچھ نہیں ہوسکتا تھا
فریش ہوکر نیچے آیا تو سب لوگ ناشتہ کرنے میں مصروف تھے، وہ آکر شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا جبکہ آزین اس سے چھپنے کی کوشش کر رہی تھی
"بہرام، بیٹا آج آپ سویٹی اور حسال کو کہیں گھمانے لے جاو، حسال کافی دن سے آفس جا جا کر سٹریسڈ ہوگئی ہوگی کچھ فریش ہو لیں گی" وہ سمجھ گیا تھا یہ آئیڈیا کس کاتھا
"جی بابا جو آپ چاہیں" مگر باپ کو انکار کرنا انہیں نہیں آتا تھا سو حامی بھر گیا کچھ ہی دیر میں سویٹی تیار ہوکر آئی تو وہ دونوں خاقان ولا پہنچے، سویٹی حسال کو پہلے ہی فون کر چکی تھی سو وہ انکے آتے ہی باہر آگئی
آزین اسے دیکھے دروازہ کھول کر پچھلی سیٹ پر چلی گئی تھی تاکے حسال آگے بیٹھ سکے، حسال کے بیٹھتےہی وہ لوگ پہلےایک مال کی طرف روانہ ہوئے حسال نے ہاتھ بڑھا کر میوزک آن کیا جس پر اسکافیورٹ سانگ چل گیا
تم جو آئے زندگی میں
بات بن گئی
عشق مذہب عشق میری
ذات بن گئی
سپنے تیری چاہتوں کے
سپنے تیری چاہتوں کے
دیکھتی ہوں اب کئی
دن ہے سونا اور چاندی
رات بن گئی
تم جو آئے زندگی میں
بات بن گئی
زندگی بے وفا ہے یہ مانا مگر
چھوڑ کر راہ میں جاو گے تم اگر
چھین لاوں گا میں آسمان سے
تمہیں
سونا ہوگا ناں یہ دو دلوں کا نگر
رونقیں ہیں دل کے در پہ
رونقیں ہیں دل کے در پہ
میرے دل کی جیت میری
ہار بن گئے
یہ گانا وہ جب بھی سنتی تھی اسے بہرام یاد آتا تھا، بہرام اور وہ چاہے اپنے جذبات کا اظہار ناں کرتے مگر سچ یہی تھا کے وہ دونوں ایک دوسرے سےبہت محبت کرتے تھے، ان کی یہ محبت آگے چل کر ان کی طاقت بننے والی تھی

دن آہستہ آہستہ اپنی مخصوص رفتار سے گزرنے لگے تھے وقت کا پہیہ کبھی رکتا نہیں ہے چلتا رہتا ہے، حریم پوری تندہی سے اپنی ٹرینگ کررہی تھی اسے اپنے بابا کو اور ارتضی کو پراوڈ فیل کروانا تھا مگر وہ معصوم یہ نہیں جانتی تھی کے وہ کسی حاسد کے حسد کا شکار ہونے والی ہے
حسد انسان کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے جس طرح آگ گیلی لکڑی کو جلا دیتی ہے، انسان دوسروں کی خوشیوں سے جل کر خود کو بھی تباہ کر دیتا ہے اور دوسروں کو بھی، فریحہ کا حسد حریم اور ارتضیٰ کی زندگی میں کیا آگ لگانے والا تھا یہ بہت جلد سامنے آنا تھا
"ہیلو گرلز، کیا ہورہا ہے، کیڈیٹ حریم تو ہم سے بات کرنا بھی پسند نہیں کرتیں بھئی" ایویشن کیڈٹ موحد جو ان کا بیج فیلو تھا حریم اور ساتھ دو تین لڑکیوں کو بیٹھا دیکھ کر وہاں آیا
موحد کو معصوم سی حریم بہت اچھی لگتی تھی وہ اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا، بہن بھائیوں کی کمی کو بہت محسوس کرتا تھا بھائی کی کمی تو دوست پوری کر دیتے تھے مگر ایک بہن کی کمی تھی سو حریم کو جب بھی دیکھتا تو بےساختہ دل سے خواہش ابھرتی کے کاش وہ اس کی بہن ہوتی
"وہ کیا ہے ناں موحد، کے ہماری حریم زرا بڑے لوگوں سے تعلق رکھتی ہیں سو وہ آپ جیسے چھوٹے موٹے لوگوں کو بلانا پسند نہیں کرتیں" حریم کی کلاس فیلو نے ارتضی کی طرف اشارہ کیا جسے سمجھتے سب کے چہروں پر مسکراہٹ دوڑ گئی تھی جبکہ حریم بےساختہ جھنپ گئی
"ہاں ویسے یہ تو ہے، حریم آپ سچ میں ہمیں بلانا پسند نہیں کرتیں" موحد جانتا تھا وہ ارتضی کی منکوحہ ہے اور ارتضی کی اس کے لیے محبت سے تو ساری اکیڈمی واقف تھی
"نہی، نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے موحد بھائی" حریم سر جھکائے معصوم سا، بچوں جیسا منہ بنائے بولی، موحد کو اس کا معصوم سا انداز بہت پیارا لگا
"ایسی نہیں تو کیسی بات ہے مسز ارتضی حریم" موحد شرارت سے لب دبائے بولا
"ہم جارہے ہیں، آپ لوگ ہمیں تنگ کر رہے ہیں" حریم ان سب کی مسکراہٹ دیکھ کر وہاں سے جانے کے لیے اٹھ گئی
"حریم، حریم بات تو سنیں" موحد اسے ناراض ہوتے دیکھ کر اس کے پیچھے آیا
"کیا ہے؟" حریم آہستہ سے خفگی بھری آواز میں بولی
"ناراض مت ہوں پلیز، میرا مقصد آپ کو ناراض کرنا نہیں تھا، اگر برا لگا ہو تو سوری" موحد اس کے سامنے کھڑے ہوکر کان پکڑ کر بولا
"ارے موحد بھائی یہ کیا کر رہے ہیں، پلیز ایسا مت کریں میں ناراض نہیں ہوں" حریم مسکرا کر بولی، ویسے بھی ناراض ہونے والی کوئی بات نہیں تھی
"یار اتنے عرصے بعد تو مجھے بہن ملی ہے اور میں اسے ناراض کر لوں، یہ تو اچھی بات نہیں ہے ناں" موحد اس کے بےریا چہرے کو دیکھ کر بولا
"بہن؟" حریم کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی وہ کتنی مخلصی سی اسے بہن کہہ رہا تھا
"ہاں بہن، اللّٰہ نے مجھے سب کچھ دیا بس ایک پیاری سی بہن کی کمی تھی، جب آپ کو دیکھتا ہوں ناں تو دل سے خواہش نکلتی ہے کے میری بھی ایسی معصوم سی بہن ہوتی، کیا مسز ارتضیٰ میری بہن بننا پسند کریں گی" موحد نرمی سے کہتا آخر میں شرارت سے بولا
"کیوں نہیں اتنا ہینڈسم بھائی پاکر مجھے خوشی ہوگی" حریم نے دل سے اس کی تعریف کی تھی وہ تھا بھی ایسا ہینڈسم اور شرارتی سا سب کو مسکرانے پر مجبور کر دیتا تھا
"خوش رہو، اللّٰہ تمہیں دنیا کی ساری خوشیاں دے" موحد اس کے حجاب سے ڈھکے سر پر ہاتھ رکھ کر بولا
"آمین" حریم آج بہت خوش تھی کبھی کبھی اپنے غیروں جیسے ہوجاتیں ہیں اور کبھی کوئی غیر اپنوں سے بڑھ کر بن جاتے ہیں
اگر یہاں ایک مخلص رشتے کی بنیاد رکھی جارہی تھی تو دور دو آنکھیں حریم کی خوشیوں کو تباہ کرنے کی سازشیں کرنے میں مصروف تھیں، حریم وہاں سے چلتے ارتضی کے آفس کی طرف آگئی گئی دو دن سے وہ دونوں ایک دوسرے سے ملے نہیں تھے
"مے آئی کم ان سر؟" ارتضیٰ ایک فائل پر جھکا ہوا تھا جب حریم کی آواز پر جھٹکے سے جھکا سر اٹھایا
"آفکورس پلیز کم ان یور ہائینس" وہ مسکرا کر کہتا اپنی جگہ سے اٹھا حریم چلتی ہوئی اس کے پاس آئی ارتضی نے اپنے بازو وا کیے تو وہ کچھ جھجھکتے ہوئے اپنا سر اس کے سینے پر ٹکا گئی
"کیسی ہیں آپ؟" محبت سے ٹھوڑی اس کے سر پر ٹکاتے پوچھا
"میں ٹھیک ہوں، آپ کہاں تھے دو دن سے؟" آہستہ سے سر اٹھاتے اس کی طرف دیکھ کر خفگی سے پوچھا وہ بنا بتائے غائب رہا تھا دو دن
"آئی ایم سوری پرنسس، اچانک سے ایک ضروری کام کے لیے جانا پڑا، جلدی میں آپ کو بتا نہیں سکا" ارتضی اس کا ناراض مکھڑا دیکھ کر ہولے سے مسکرا دیا
"میں بہت پریشان ہوگئی تھی، عجیب عجیب خیالات آرہے تھے" اس کے چہرے سے ہی اس کے دل کا حال معلوم ہورہا تھا
"پرنسس، اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان مت ہوا کریں، آپ کو ہماری جاب کا پتا تو ہے ہمیں کبھی بھی کہیں بھی جانا پڑ سکتا ہے" ارتضی نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر سمجھایا
"اور بتائیں، ٹرینگ کیسی چل رہی ہے" اسے خاموش دیکھ کر ارتضی بات بدل گیا، وہ چاہ کر بھی حریم کی حساسیت کو کم نہیں کرسکتا تھا، وہ فطرتاً ہی حساس تھی اور انسان کی فطرت کوئی بدل نہیں سکتا
"ہممم، سب ٹھیک چل رہا ہے، ہمارے سر۔۔۔۔" پھر وہ ہمیشہ کی طرح چھوٹی چھوٹی باتیں اسے بتانے لگی جو وہ لبوں پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں اشتیاق لیے سن رہا تھا، اس کی پرنسس کے منہ سے نکلی ہر بات اس کے لیے اہم تھی چاہے وہ بات چھوٹی اور معمولی ہی کیوں ناں ہو
@@@@@@@@@
انہیں نیو دہلی آئے کافی دن ہوچکے تھے جہاں انہیں جبران کے ہونے کی خبر ملی تھی وہ غیر محسوس انداز میں جبران کے آدمیوں پر نظر رکھے ہوئے تھے، جہاں کہیں انہیں ان کے ہونے کا زرا سا بھی امکان نظر آتا وہ لوگ خاموشی سے وہاں پہنچ جاتے
پینتھر کافی دنوں سے روپوش ہوچکا تھا جس کا صاف مطلب تھا کے وہ را میں شامل ہوچکا ہے، سو اب جو بھی کرنا تھا انہیں کرنا تھا، کل وہ دونوں جس آدمی کے پیچھے گئے تھے اس سے ملی اطلاع کے مطابق آج جبران کا رائٹ ہینڈ چاندنی چوک جانے والا تھا
چاندنی چوک ایک بہت مشہور جگہ ہے جہاں مختلف قسم کے بازار اور شاپنگ مالز ہیں، اس دفعہ ان کا مقصد بہت بڑا اور خطرناک لگ رہا تھا، کیونکہ اس سب میں بہت سے لوگ شامل تھے جن میں سے دو لوگ پاکستان سے یہاں آئے تھے، یہ لوگ پاکستان میں پھیل کر پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کرنا چاہتے تھے
لیپرڈ اور سوان چاندنی چوک آگئے، مگر سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ انہوں نے اس آدمی کو دیکھا نہیں تھا اور نہ ہی انہیں اس کے بارے میں کچھ علم تھا جس سے اسے پہچاننا مشکل تھا
"سر، ہمیں اس آدمی کے بارے میں کچھ بھی علم نہیں ہے ہم اسے پہچانیں گے کیسے؟" سوان اتنی بھیڑ دیکھ کر پریشان ہوچکی تھی یہ ایک ایجینٹ کی حثیت سے اسکا پہلا باضابطہ کیس تھا
"پہلی بات اتنی بھیڑ میں مجھے سر کہنا بند کرو، دوسرا، تم جانتی ہو ناں ہم کون ہیں، ہم وہ ہیں جو دشمن کی نظروں سے اسے پہچان لیتے ہیں، ان کی چال کو انہیں پر الٹنا جانتے ہیں، سو خود کو پہچانو اور اردگرد دیکھو، جس پر بھی ڈاوٹ ہو فوراً مجھے خبر کرو" لیپرڈ نے اس کی بات سن کر سنجیدگی سے کہا
"اوکے" اس کی باتوں نے سوان کے اندر ایک نئی روح پھونک دی تھی اسے احساس ہوا تھا کے وہ کون ہے وہ آئی ایس آئی ایجینٹ ہے، جن کے لیے ناممکن، کب، کیوں اور کیسے جیسے الفاظ بنے ہی نہیں ہیں
اور پھر ان کے اندر کا مارخور بیدار ہوا تھا جو آستین میں چھپے سانپوں کو پہچان کر ان کا سر کچلنا جانتے ہیں، انہوں نے سرسری سی نظر اردگرد دوڑائی جو سرسری ہرگز بھی نہیں تھی
اور کچھ ہی دیر میں ان دونوں کی نظر ایک شخص پر رکی تھی، وہ شخص محتاط انداز میں اردگرد دیکھ رہا تھا، جیسے پکڑے جانے کا خوف ہو، دوسری سب سے بڑی وجہ تھی اس کے دائیں کلائی پر لگا کٹ کا نشان، کیونکہ اب تک انہوں نے جبران کے جتنے بھی آدمی دیکھے تھے ان سب کی کلائی پر یہ نشان ضرور موجود تھا
یہ نشان عام انسان کے لیے معمولی سا نشان تھا جو کسی کے لیے بھی قابلِ غور نہیں تھا مگر ایک ایجینٹ کے لیے یہ بہت بڑی نشانی تھی جو وہ لوگ پہلے دن سے نوٹ کر رہے تھے
وہ دونوں اس طرح اس انسان کے پیچھے چل رہے تھے جیسے ایک ہیپی کپل شاپنگ کے لیے نکلا ہو، اس شخص نے دوتین بار مڑ کردیکھا مگر وہ دونوں اس کے دیکھنے سے پہلے دکان میں لگے کپڑوں کی طرف متوجہ ہوجاتے تھے
وہ شخص ایک سمت میں چلتا جارہا تھا، اچانک ایک باریک سی گلی کی نکڑ کر وہ رک گیا، اس کے پیچھے دیکھنے پر سوان اور لیپرڈ دکان کی اوٹ میں ہوگئے، اس گلی میں داخل ہوتا ہوا وہ وہاں سے چلتا ہوا آگے جارہا تھا بیچ میں دو تین جگہ رک کر اس نے کچھ آدمیوں سے بات چیت کی
کافی دیر چلنے کے بعد وہ لوگ بہت دور آچکے تھے وہ دونوں اتنی خاموشی سے اس کا پیچھا کر رہے تھے کے اس شخص کے سائے کو بھی علم ناں ہو سکے، اچانک وہ لوگ ایک علاقے میں داخل ہوئے ان کا دھیان جگہ کی طرف بلکل نہیں تھا
اچانک ان دونوں کی نظر کچھ لڑکیوں اور عورتوں پر پڑی جو بھڑکیلے کپڑے پہنے، میک اپ سے لدے چہروں کے ساتھ ادھر ادھر پھر رہی تھیں اچانک ان دونوں نے اردگرد دیکھا اور یہ دیکھنا غضب ہوا تھا
"ریڈ لائٹ ائیریا" ان دونوں کے منہ سے بےساختہ نکلا تھا یہ وہ علاقہ تھا جہاں شریف آدمی آنے کا سوچ بھی نہیں سکتا اور خاص کر ایک باکردار لڑکی، یہ تو شکر تھا کے سوان نے اپنا چہرہ ماسک سے ڈھکا ہوا تھا جس پر لووگں کو زیادہ شک نہیں ہوا
ان کے آگے چلتا آدمی ایک دم سے رکا تھا اور پیچھے مڑ کر دیکھا اپنی حیرت میں انہیں چھپنے کا وقت نہیں ملا، اس سے پہلے اس آدمی کی نظر ان پر پڑتی لیپرڈ ہوش میں آتے سوان کو تھام کر دیوار سے لگا چکا تھا
سوان حیرت سے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی جو اسے کمر سے تھامے دیوار سے لگا کر بلکل اس کے اوپر جھکا ہوا تھا ان دونوں میں بمشکل ایک انچ کا فاصلہ تھا، ان شہد رنگ آنکھوں کو اتنی قریب سے دیکھتے لیپرڈ کا دل عجیب لے پر دھڑکا تھا اس نے ایسا احساس پہلی بار محسوس کیا تھا
"کیا، کیا کر رہے ہیں آپ، ہٹیں پیچھے" سوان نے غصے سے اسے پیچھے دھکا دینا چاہا
"شششش، وہ آدمی ہمارے پیچھے کھڑا ہے، ہلنا مت" لیپرڈ نے اس کے کان کے قریب جھکتے سرگوشی کی، سوان کی اپنی حالت خراب ہو رہی تھی دل تھا کے دھڑکے جارہا تھا
کچھ لمحوں بعد لیپرڈ نے پیچھے دیکھا تو وہ شخص ایک گندے سے ٹوٹے ہوئے مکان کی طرف جارہا تھا، اس نے کمرے میں داخل ہوکر باہر دور تک جھانکا اور پھر دروازہ بند کر دیا
"ہم کل صبح اس کمرے میں موجود لڑکی سے بات کریں گے، ہوسکتا کوئی ثبوت مل جائے، ابھی فلحال واپس چلتے ہیں" سوان جو گزرے لمحوں کی قید میں تھی اس کی آواز پر ہوش میں آئی
"ہممم، ٹھیک ہے" سوان آہستہ سے کہتے واپسی کے لیے قدم بڑھا گئی، عجیب سی کیفیت تھی وہ دونوں ہی اپنی حالت کو کوئی نام نہیں دے پارہے تھے شاید ایک نئی داستان کا آغاز ہوچکا تھا
@@@@@@@@@
حوزان اور آزین کی زندگی میں بھی فلحال سکون اور چین قائم تھا، بہرام جب سے اسے اور حسال کو ڈنر کروا کر لایا تھا اس کے بعد سے آزین نے اسے نہیں چھیڑا تھا، گوہر خان بہادر خان کو زمہ داری دینے کے بعد بلکل خاموش تھا، مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کے بہادر خان حقیقت میں حوزان کا ایک مہرہ ہے جو وقت آنے پر اپنے ہی بادشاہ کو مروانے والا تھا
آزین کی آٹھارویں سالگرہ آرہی تھی جس کے لیے سب سے زیادہ پرجوش حوزان تھا مگر وہ آزین کو یوں ظاہر کروا رہا تھا جیسے اسے کچھ بھی یاد نہیں دو دن بعد آزین اٹھارہ سال کی ہونے والی تھی بہرام نے اس کے لیے ایک گرینڈ سرپرائز پارٹی ارینج کرنے کا فیصلہ کیا
سویٹی چپ چاپ انتظار کررہی تھی کے سب لوگ تیاریاں شروع کریں مگر کوئی بھی اس بارے میں بات ہی نہیں کر رہا تھا جس پر اس کا موڈ آف ہوچکا تھا، اب بھی وہ صبح سے دیکھ رہی تھی لیکن کوئی بھی اس کی طرف متوجہ تک نہیں تھا
"ماما جانی" ناشتے کے بعد دلکش اور مشک شاہ زیب ولا آگئی تھیں، بہرام اور حسال آفس جاچکے تھے، حوزان پولیس سٹیشن اور باقی شاہ زیب اور شاہ زر بھی افس گئے تھے وہ تینوں خواتیں لاونج میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے جب سویٹی وہاں آئی
"جی میری جان؟" اس کی معصوم سی آواز پر آب نے مسکراہٹ دبائی وہ جانتی تھیں سویٹی کو کیا بات پریشان کر رہی ہے
"ماما جانی آپ لوگوں کا کیا پلان ہے آج اور کل کا اور اس کے بعد" سویٹی نے گھما پھرا کر پوچھا اب وہ ڈائریکٹ تو نہیں کہہ سکتی تھی کے میری برتھڈے کا کیا پلان ہے
"ہممم، کچھ خاص نہیں، گاؤں جانا تھا مگر اب اگلے ہفتے جائیں گے ابھی تو وہاں برف باری ہورہی ہوگی" آب سنجیدہ چہرے کے ساتھ اسے دیکھتے بولی، آزین ان کی بات پر منہ لٹکاتے روم میں چلی گئی
"آب، ہمیں اسے بتا دینا چاہیے، اب وہ اداس ہوگئی ہے" مشک کو اس کا لٹکا ہوا منہ اچھا نہیں لگا تھا وہ تو ان دونوں گھروں کی رونق تھی
"مشک، فکر مت کرو وہ تھوڑی دیر میں ٹھیک ہوجائے گی، اور یاد ہے ناں بہرام نے سختی سے منع کیا تھا اسے کچھ بتانے سے " آب نے اسے تسلی دی جانتی تھی وہ آزین سے بہت بہت پیار کرتی ہے
"ہاں پر آب مجھے بھی اس کی اداسی اچھی نہیں لگ رہی، وہ تو ہماری چڑیا ہے جو چہکتی ہوئی اچھی لگتی ہے" دلکش کا چہرہ بھی سویٹی کی اداسی یاد کرتے اداس ہوچکا تھا
"ایک تو جو آپ سب نے اسے ایکسٹرا لاڈ پیار دے دے کے بگاڑ رکھا ہے ناں، بہت پچھتاو گی تم کل کو، مطلب دل یار وہ تمہاری بہو ہے کوئی روعب رکھو اس پر، اس کی ہر بات ماننا فرض نہیں ہے آپ سب پر اور خاص کر حوزان پر" آب اب چڑ گئی تھی حد سے زیادہ لاڈ پیار نے ہی سویٹی کو اتنا حساس بنا دیا تھا کے وہ اپنی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی رد ہونا برداشت نہیں کرتی تھی
"آب میڈم زیادہ بولنے کی ضرورت نہیں ہے، کیا تم اپنی بہو کے لاڈ نہیں اٹھاتی، خود بھی تو حسال حسال کرتی رہتی ہو،خبردار ہماری بہو اور بیٹی کو کچھ کہا تو" مشک نے آب کو ڈپٹا تھا، سویٹی خاقان قبیلے کی اکلوتی اور لاڈلی بہو تھی پھر بھلا وہ اس کے خلاف کچھ کیسے سن سکتی تھیں
"بلکل، سہی کہہ رہی ہیں مشک بھابھی، ہماری آزین بہت سمجھدار اور پیاری ہے، تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے" آب ان کی بات پر خاموشی سے سر نفی میں ہلا گئی، یہاں سب سویٹی کے ہی دیوانے تھے جن سے کچھ کہنا بیکار تھا
"ہیلو خان" آزین نے کمر میں آتے اپنی آخری امید کو فون کیا، صرف اس کا خان ہی تو تھا جو اس کے بارے میں ہر بات یاد رکھتا تھا
"جی خان کی جان؟" حوزان اس کی اداس سی آواز سن کر محبت سے بولا
"خان کوئی مجھ سے پیار نہیں کرتا" اپنی آواز میں زمانے بھر کی اداسی سمیٹ کر بولی
"کون پیار نہیں کرتا میری جان سے؟" حوزان لب دبائے مسکرا دیا، وہ جانتا تھا اس کی سویٹی کو کیا ہوا بہرام اسے سرپرائز پارٹی کے بارے میں بتا چکا تھا
"کوئی بھی پیار نہیں کرتا، آپ بھی نہیں کرتے" اب بھی بار آواز میں خفگی کا عنصر واضح تھا
"ارے ارے اتنا بڑا الزام ہوا کیا ہے یہ تو بتائیں؟" حوزان عجیب مشکل میں پھنس گیا تھا ناں سرپرائز خراب کرسکتا تھا ناں اسے اداس دیکھ سکتا تھا
"خان آپ کو بھی یاد نہیں ہے پرسوں کیا ہے؟" صاف ظاہر تھا کے اب ایک بار اور پوچھنے پر وہ خود بتا دے گی اپنی برتھڈے کا
"وہ، آزین، ایکچولی مجھے کمشنر صاحب کا فون آرہا ہے، میں آپ سے بعد میں بات کرتا ہوں اوکے، اپنا خیال رکھیے گا، اور اداس نہیں ہونا، لو یو بائے" حوزان نے جلدی جلدی کہتے فون بند کر دیا
"ہاںںں، جائیں آپ بھی، میں بات ہی نہیں کروں گی اب کسی سے بھی، کسی کو بھی مجھ سے پیار نہیں ہے" سویٹی غصے سے کہتے فون دور پھینک چکی تھی
ایک ہفتہ ہوسپٹل رہنے کے بعد مجتبی کو ڈسچارج کر دیا گیا تھا، فلحال وہ آرمی کی طرف سے لیو پر تھا سو ولید اسے گھر لے آیا تھا، ہر وقت کاموں میں مصروف رہنے والا مجتبی اس جبری قید سے تنگ آچکا تھا سویرا اسے بلکل بھی باہر نکلنے نہیں دے رہی تھی
حرم ہر روز آکر اس کی بینڈیج چینج کر دیتی تھی، احتشام اور مہمل بھی دو دفعہ اسے مل کر جاچکے تھے اب بھی وہ بچوں جیسا منہ بنائے بیڈ پر بیٹھا تھا جبکہ سویرا سامنے بیٹھی اسے سیب کاٹ کاٹ کر دے رہی تھی
حرم اپنے وقت پر وہاں آئی تو مجتبی کے چہرے پر بیزاری اور اس کا معصوم سا انداز دیکھ کر بےساختہ مسکرا دی، کبھی وہ اتنا سمجھدار ہوتا تھا کے یقین کرنا مشکل لگتا تھا تو کبھی بلکل ہی بچہ بن جاتا تھا
"السلام علیکم ماما جانی" حرم اندر آتے سویرا کو دیکھ کر بولی
"وعلیکم السلام میری جان، کیسی ہو تم" سویرا اسے دیکھتے اپنی جگہ سے اٹھی، محبت سے اس کا ماتھا چوما، ارتضی اپنی زندگی اور اپنی جنت کا محبت بھرا مظاہرہ دیکھتے مسکرا دیا
"میں بلکل ٹھیک ہوں ماما جانی، وہ مجھے مجتبی کی بینڈیج چینج کرنا تھی" حرم آخر میں کچھ جھجھکتے بولی وہ اس کا مریض تھا مگر پہلے اس کا شوہر بھی تھا وہ زور اس کی بینڈیج بدلتی عجیب احساسات کا شکار ہوجاتی تھی
"ماما جانی، کچھ سوچ لیں اب" مجتبی کے معنی خیزی سے بولنے پر ان دونوں نے حیرت سے اسے دیکھا
"کیا سوچ لوں؟" انہیں بلکل سمجھ نہیں آئی تھی وہ کیا کہہ رہا ہے
"میرے لیے مستقل ڈاکٹر لے آئیں کب تک بیچاری ڈاکٹر اتنی دور سے آئیں گی میرے علاج کے لیے، ابھی تو شکر ہے یہ میری گولی کا علاج کرتی ہیں ورنہ جو مرض مجھے ہوا ہوا ہے اس کے لیے ایک مستقل ڈاکٹر ضروری ہیں" حرم کے من موہنے چہرے کو دیکھتے وہ معنی خیزی سے بول رہا تھا
"حرم اس لڑکے کا دماغ خراب ہے، تم اس کی باتوں میں دھیان مت دو اور بینڈیج چینج کر دو، پاگل" سویرا اس کی بات پر نفی میں سر ہلاتے باہر چلی گئیں جاتے ہوئے احتیاطً دروازہ بند کردیا جبکہ حرم ابھی تک اس کی باتیں سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی
"کیا ہوا سویٹ ہارٹ، کیا سوچ رہی ہیں؟" مجتبی اس کا کنفیوزڈ چہرہ دیکھ کر شرارت سے لب دباتے بولا
"آپ کو کون سا مرض ہے جس کے لیے مستقل ڈاکٹر چاہیے اور کون سی ڈاکٹر مانگ رہے ہیں" حرم کمر پر ہاتھ رکھتے لڑاکا بیویوں کی طرح بولی
"مجھے دل کا مرض لاحق ہے میری جان، اور میرا علاج صرف ایک ڈاکٹر کے پاس ہے اور وہ ہیں ڈاکٹر حرم مجتبیٰ" وہ اس کے انداز پر مسکراتا ہوا اٹھ کر آہستہ سے اس کے پاس آیا، اس کی کمر کو تھام کر جھٹکے سے قریب کھینچتے بولا
"آپ بھی ناں مجتبی، ہمیشہ الٹی سیدھی باتیں ہی کرتے رہیے گا" حرم اس کی فلسفیانہ باتوں پر نفی میں سر ہلا گئی
"یہ میری محبت ہے بیگم جسے آپ الٹی سیدھی باتیں کہہ رہی ہیں" مجتبی نے اس کی بات پر منہ بنایا ایک تو اس کی بیوی اسے رومینٹک بھی نہیں ہونے دیتی تھی
"اچھا پیچھے ہٹیں مجھے آپ کی بینڈیج کرنی ہے" حرم نے اس سے الگ ہونا چاہا مگر اس کا حصار مضبوط تھا
"ہاں تو کرلیں، قریب سے ہی تو کرنی ہے ناں" مجتبی اپنی ساری بیزاری بھول چکا تھا، اور اب حرم کو تنگ کرنے کے پورے موڈ میں تھا
"مجتبیٰ، پلیزز۔۔" حرم اس کے حصار میں کنفیوز ہورہی تھی جبکہ وہ پوری طرح شرارت پر آمادہ تھا
مجتبی اسے تنگ کرنے کا ارادہ کچھ دیر ملتوی کرتا پیچھے ہوا، حرم نے اسے شرٹ اتارنے کا اشارہ کیا جسے وہ سرے سے نظر انداز کر گیا، حالانکہ وہ روز اس کے کہے بغیر اپنی شرٹ اتارتے گلے میں ٹاول ڈال لیتا تھا مگر آج تو اس میں کوئی شیطانی روح آگئی تھی
"مجتبی پلیز، شرٹ اتاریں مجھے بینڈیج کرنی ہے" ہوسپٹل والوں نے مجتبی کے لیے نرس ارینج کرنی چاہی مگر حرم کیسے کسی اور لڑکی کو اپنے شوہر کے قریب برداشت کر لیتی سو یہ ذمہ داری اپنے سر لے لی مگر اسے کیا پتا تھا یہ ذمہ داری اس پر بھاری پڑنے والی
"وہ کیا ہے ناں ڈاکٹر، میرا ہاتھ دکھ رہا ہے، مجھ سے نہیں ہوگا" جان بوجھ کر اسے چڑایا تھا حرم کو ایک دم اس پر غصہ آیا اسے بازو سے تھام کر بیڈ کر دھکا دیا وہ گرنے کے انداز میں بیڈ پر بیٹھا اس نے جان بوجھ کر خود کو ڈھیلا چھوڑا تھا ورنہ اسے ہلانا حرم جیسی نازک گڑیا کے بس کی بات نہیں تھی
"اگر اب آپ یہاں سے ہلے یا کچھ بولا تو میں آپ سے کبھی بات نہیں کروں گی" انگلی اٹھا کر اسے دھمکی دی جس پر وہ شرافت سے منہ پر انگلی رکھ گیا
حرم نے آہستہ سے دھڑکتے دل کے ساتھ اس کی شرٹ کے بٹن کھولے، اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے جبکہ چہرہ شرم سے جھکا ہوا تھا وہ اس کا شوہر تھا، اس کا محرم مگر ایک فطری جھجک جو ہر عورت میں موجود ہوتی وہ آڑے آرہی تھی
بٹن کھول کر چوٹ والی سائیڈ سے شرٹ بازو کی طرف کی، آہستہ سے پہلے سے لگی پٹی ہٹائی، سپرٹ سے زخم کو صاف کرنے کے لیے وہ جھکی، سپرٹ کی جلن پر مجتبی کے منہ سے سسکی برامد ہوئی تھی، حرم نے جلدی سے زخم پر پھونک ماری، اس سب میں وہ بلکل اس کے قریب جھک چکی تھی مجتبی سانس روکے اپنی محبت، اپنی بیوی کو اپنے قریب دیکھ رہا تھا
دوائی لگا کر بینڈیج کرتے حرم جلدی سے پیچھے ہوئی کچھ ہی دیر میں اس کی حالت غیر ہوچکی تھی، مجتبی یک ٹک اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا کیا کچھ نہیں تھا اسکی آنکھوں میں استحاق، محبت، جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر، حرم نے ایک پل کو اسکی آنکھوں میں دیکھا مگر اس کی نظروں کی تاب ناں لاتے اس کی پلکیں رخساروں پر سجدہ ریز ہوئیں تھیں
"ٹھک ٹھک ٹھک" ناجانے یہ خوش کن لمحہ کتنا لمبا چلتا جب دروازے پر ہوتی دستک پر وہ دونوں ہوش میں آئے تھے
"یس؟" مجتبی آہستہ سے شرٹ کے بٹن بند کرتا دروازے کی جانب مڑا
"چھوٹے بابا، نیچے احتشام صاحب اور مہمل بی بی آئی ہیں،سویرا بی بی کہہ رہی ہیں آپ نیچے آجائیں" ملازم کی بات پر مجتبی نے منہ بسورا تھا
"یار حرم ایک بات کا تو مجھے یقین ہوگیا ہے، چاچو پکے دشمن ہیں میری محبت اور رومینس کے" مجتبی بچوں جیسے انداز میں کہتا اسکی طرف مڑا
"مجتبی" حرم نے تنبیہی انداز میں اسے گھورتے کہا
وہ دونوں چلتے ہوئے بیچے آگئے جہاں مہمل اور احتشام لاونج میں بیٹھے تھے مجتبی مہمل کے گلے لگ کر چلتا ہوا آکر احتشام کے پاس بیٹھا
"یار چاچو قسم سے اتنی کمال ٹائیمنگ ہے آپ کی دل چاہتا ہے آپ کے ہاتھ چوم لوں" دانت پیستے بظاہر مسکرا کر بولا
"بس بیٹا فوجی ہوں ناں، ہر کام سہی وقت پر کرنا پسند ہے مجھے" احتشام اس کی زومعنی بات سمجھ کر اسی کے انداز میں بولا جبکہ حرم ان کی باتیں سمجھتی زمیں میں گڑھنے والی تھی ان کے برعکس مہمل اور سویرا اپنی باتوں میں مصروف تھیں
"کر لیں جتنا ظلم کرنا ہے مجھ معصوم پر،ایک بار میرا وقت آ لینے دیں، گن گن کر بدلے ناں لیے تو میں بھی آپ کا بھتیجا نہیں" مجتبی نے چہرے پر ہاتھ پھیرتے کہا
"بیٹا، ابھی تمہارا وقت بہت دور ہے، فلحال تو ہمارا وقت ہے" احتشام کو اسکا تپا تپا انداز مزہ دے رہا تھا
"وہ کیا کہتے ہیں چاچو، آپ کا وقت آیا ہے ہمارا دور آئے گا، بےفکر رہیں، اپنی ہنی کو آپ سب سے چھپا لوں گا اور کوئی کچھ نہیں کر سکے گا" اب وہ دونوں سرگوشیوں میں ایک دوسرے کو چڑا رہی تھے حرم انہیں ان کے حال پر چھوڑتی مہمل اور سویرا کی طرف متوجہ ہوئی
"شرم تو نہیں آرہی سسر کے سامنے ایسی باتیں کرتے ہوئے" احتشام نے اسے شرم دلانی چاہی کو کے ناممکن سی بات تھی
"شرم، یار چاچو یہ شرم نامی چیز ہمارے لیے بنی ہی نہیں، اور میں نے جو بھی سیکھا ہے آپ سے ہی سیکھا ہے" مجتبی اسے دیکھتے آنکھ دبا کر بولا احتشام نے خاموش رہنے میں ہی عافیت جانی کیونکہ مجتبیٰ ولید حیدر ہار ماننے والوں میں سے تھا ہی نہیں
@@@@@@@@@@
حسال اپنے اور بہرام کے آفس میں بیٹھی ایک فائل پر کام کر رہی تھی، اسے اس آفس میں رکھنے والا بھی بہرام ہی تھا، بہرام ایک ضروری میٹینگ کے لیے باہر گیا تھا، کام کرتے کرتے اچانک حسال کو کچھ دن پہلے کی رات یاد آئی
وہ رات اس کی زندگی کی اب تک کی سب سے حسین رات تھی، وہ اور سویٹی بہرام کے ساتھ ڈنر پر گئیں تھیں، انہوں نے خاموشی سے ریسٹورنٹ میں آکر ڈنر کیا تھا مگر واپسی پر ریسٹورنٹ سے نکلتے انہیں حوزان مل گیا تھا، سویٹی جلدی جلدی مچاتے حوزان کے ساتھ گھر چلی گئی
اسکے جانے کے بعد وہ اور بہرام گاڑی میں اکیلے رہ گئے تھے، گاڑی کی فضا میں معنی خیز سی خاموشی پھیل گئی تھی، بہرام نے گاڑی سٹارٹ کی اور خاموشی سے سڑک پر ڈال دی
"لونگ ڈرائیو پر چلیں حسال" اچانک بہرام کی آواز نے اس خاموشی کو توڑا تھا اس کے پوچھنے پر حسال صرف سر ہلا گئی آفس میں وہ جتنا اسے سنا لیتی تھی اس وقت اتنا ہی نروس تھی
بہرام گاڑی کی سپیڈ کم کرتے ایک لمبی سڑک پر ڈال گیا، باہر موسم خوشگوار ہوگیا تھا، کالے کالے بادل ہر سو چھانے لگے، اسلام آباد کے موسم کا تو ویسے ہی کوئی بھروسہ نہیں تھا، تیز چلتی ہواؤں نے موسم کو عجیب سی خوشگواریت بخشی تھی
"آپ کو پتا ہے حسال، میرا اس وقت کیا دل چاہ رہا ہے" بہرام باہر سڑک پر نظر ٹکائے آہستہ سے اس کا سرد ہاتھ تھامے نرمی سے بولا، حسال کا دل جیسے ہتھیلی میں آگیا تھا
"کی۔۔۔کیا؟" ایک دم ہی اس کی آواز لڑکھڑا گئی تھی
برستی بارش
رات کا سماں
لمبی خالی سڑک
اور آپ کا ساتھ
یہ سب مجھے میسر ہو تو میں اپنی ساری زندگی اس ایک ساعت کے نام کر دوں" اس کا ہاتھ نرمی سے دباتے جیسے اپنی محبت کو اس تک پہنچایا تھا، حسال خواب کی سی کیفیت میں بیٹھی تھی
وہ خواب میں بھی تصور نہیں کر سکتی تھی کے بہرام خانزادہ کبھی یوں اپنے جذبات کا اظہار کرے گا، کیونکہ وہ ہمیشہ خود کو چھپا کر رکھتا آیا تھا مگر شاید وہ حسال کے سامنے خود کو چھپا نہیں سکتا تھا کیونکہ وہ تو اس کا لباس تھی
بارشیں یوں اچانک ہوئیں
تو لگا تم شہر میں ہو
رات بھر پھر وہ جب ناں رکیں
تو لگا تم سحر میں ہو
کہیں اک ساز ہے گونجی
تیری آواز ہے گونجی
میری خاموشیوں کو اب
کر دے بیاں
تیرے بن بےوجہ سب ہے
تو اگر ہے تو مطلب ہے
نہیں تو ٹوٹا سا ادھورا کارواں
اک تیرا راستہ
اک میرا راستہ
نئیوں رہنا وے جدا
نئیوں رہنا وے جدا
اچانک سے ہلکی ہلکی بارش ہونے لگی جو کچھ ہی دیر میں تیز ہونے لگی تھی، اچانک حسال نے بہرام کے الفاظ کا اثر زائل کرنے کے لیے میوزک پلئیر آن کیا مگر عاطف اسلم کی آواز انہیں اپنے سحر میں جکڑ گئی
اچانک بہرام نے گاڑی روکی اور باہر نکل گیا، گھوم کر دوسری طرف سے آتے اس کا ہاتھ تھام کر اسے باہر نکالا
"بہر۔۔۔بہرام یہ کیا کر رہے ہیں آپ، ٹھنڈ لگ جائے گی" حسال آج اس کے انداز دیکھ کر حیران تھی جو کوئی اور ہی بہرام لگ رہا تھا
"لگ جانے دیں، کون جانے یہ خوبصورت لمحات پھر میسر آئیں یا ناں آئیں" آہستہ سے اس کا ہاتھ تھام کر اپنے قریب کھینچا
اس کا ہاتھ تھام کر اپنے کندھے پر رکھا، اپنا ہاتھ اس کی کمر پر رکھتے دوسرے ہاتھ سے اس کا ہاتھ تھامے آہستہ آہستہ قدموں کو حرکت دینے لگا، بہرام کے دل میں موجود حسال کی محبت سر چڑھ کر بول وہی تھی
حسال ایک دم سب کچھ بھولتے ہوئے مسکرا دی اب وہ دونوں دنیا جہاں بھلائے ایک دوسرے کے سنگ زندگی کے رنگ کشید کر رہے تھے بارش میں بھیگتے، ہنستے مسکراتے دنیا کی فکروں سے آزاد
اچانک بہرام رک گیا، حسال کو اپنے قریب کرتے اپنے لب اس کے ماتھے پر رکھ دیے،حسال ساکت ہوتے اپنی آنکھیں بند کر گئی، بہرام اس کا محبوب شوہر تھا جس سے وہ بےانتہا محبت کرتی تھی اور وہ بھی اسے دیوانوں کی طرح چاہتا تھا
"ہیلو، میڈم، آپ سے بات کررہی ہوں میں" سامنے کھڑی آفس کی ورکر نے چٹکی بجائی جس پر حسال ہوش میں آئی تھی، اس رات کے بعد سے وہ ایسے ہی بیٹھے بیٹھے کھونے لگی تھی
"ہہ، ہاں؟ کیا ہوا؟" حسال ایک دم ہڑبڑانے ہوئے بولی
"بہرام سر کہاں ہیں؟ اس فائل پر ان کے سائن چاہیں" لڑکی حیرت سے سے دیکھ کر سر جھٹکتے ہوئے بولی
"وہ، بہرام میرا مطلب ہے بہرام سر ایک میٹنگ کے لیے گئے ہیں" حسال اپنی بےخودی پر لعنت بھیجتے اس کی طرف متوجہ ہوئی
"ہممم،اوکے، جب سر آئیں تو اس فائل پر سائن کروا دیجیے گا" وہ لڑکی فائل رکھتے باہر نکل گئی جبکہ حسال سر جھٹکے کام کرنے کی کوشش کرنے لگی
@@@@@@@@@@
ذین اور مظہر پاکستانی ایجینٹس پر نظر رکھے ہوئے تھے، وہ لوگ چاندنی چوک آئے تھے، سامنے موجود جبران کے رائٹ ہینڈ پر نظریں جمائے ساتھ ہی ساتھ وہ دونوں اردگرد نظر رکھے ہوئے تھے
مظہر کی نظر ایک لڑکے اور لڑکی پر پڑی، لڑکے کی نظریں چاروں طرف گھوم رہی تھیں جبکہ لڑکی جو نقاب میں تھی وہ بھی اسی کے انداز میں سب لوگوں کو دیکھ رہی تھی
"ذین" ذین جو اردگرد دیکھ رہا تھا مظہر کی آواز پر اس کی جانب متوجہ ہوا تھا
"ہمممم" رخ موڑ کر مظہر کو دیکھا جو ایک طرف غور سے دیکھ رہا تھا
"وہ اس لڑکے اور لڑکی کو دیکھو، ان کا انداز کچھ عجیب نہیں لگ رہا" مظہر نے ذین کو بتاتے ان دونوں کی طرف اشارہ کیا جس پر ذین بھی ان کی طرف متوجہ ہوا
ان دونوں کی حرکات و سکنات ویسے تو قابلِ توجہ نہیں تھیں مگر پھر بھی کچھ عجیب ضرور تھیں، اچانک وہ دونوں میاں بیوی ایک جانب کو چلنے لگے، مظہر نے آگے دیکھا تو جبران کا رائیٹ ہینڈ بھی اسی سمت تھا
"ذین،چلو، وہ دونوں اس طرف جارہے ہیں، جبکہ سانو بھی ان کے آگے ہی ہے، چلو چلیں" مظہر نے ذین اے کہتے آگے کی طرف قدم بڑھائے، ذین بھی کوفت ذدہ ہوتے ہوئے اس کے پیچھے چل دیا، اسے ان سب معاملات میں رتی برابر بھی کوئی انٹرسٹ نہیں رہا تھا
وہ دونوں چپ چاپ ان کا پیچھا کر رہے تھے، جہاں وہ لوگ رکتے وہیں، یہ لوگ بھی رک جاتے، آخر چلتے چلتے وہ لوگ ریڈ لائٹ ائیریا میں داخل ہوئے تھے، اچانک اس لڑکے نے لڑکی کو تھام کر قریب کیا، ایک پل کو تو انہیں یہی لگا تھا ہے وہ دونوں کو کپل ہیں جو یہاں آئے ہیں
انہوں نے دیکھا سانو ایک لڑکی کے کمرے میں چلا گیا، جسے دیکھتے کچھ دیر بعد وہ دونوں بھی واپس چلے گئے تھے، ان کو جاتا دیکھ ذین حیرت سے مظہر کی طرف مڑا
"وہ دونوں جارہے ہیں، ہم نے انہیں پکڑا کیوں نہیں؟" ذین کو یہی پتا تھا کے اسے ایک پاکستانی ایجینٹ کو پکڑ کر اسکا روپ دھارنا تو اب جب انہیں وہ مل گئے تھے تو انہیں جانے کیوں دیا
"کیونکہ وہ پاکستانی ایجینٹس ہیں، عام لوگ نہیں، انہیں پکڑنا آسان نہیں ہے، ہوسکتا ہے یہ ان کی کوئی چال ہو، ہمیں سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہے" مظہر اس وقت ایک شاطر را ایجینٹ کی طرح سوچ رہا تھا
"مظہر، کب ختم ہوگا یہ سب، مجھے واپس جانا ہے، میں نے یہاں آکر بہت بڑی غلطی کی ہے" ذین کو ہر چیز سے وحشت سی ہورہی تھی ناجانے وہ کیا کررہا تھا اور کیوں؟ کیا ملنا تھا اسے، مگر وہ جبران کی دھمکی کی وجہ سے خاموش تھا کیونکہ وہ مظہر کی فیملی کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا
"فکر مت کرو ذین، کچھ ہی دنوں کی بات ہے، پھر ہم واپس چلے جائیں گے، اگر ہم نے اس کا کام نہیں کیا تو وہ انسان میرے گھر والوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، اگر مجھے پتا ہوتا کے وہ اتنا برا ہے میں کبھی تمہیں یہاں ناں لاتا" مظہر جھوٹی افسردگی چہرے پر طاری کرتے بولا
"تم فکر مت کرو مظہر، ہم اس کا کام کر دیں گے پھر وہ تمہاری فیملی کو کچھ نہیں کرے گا،صرف ایک فائل ہی تو دینی ہے اسے" ذین نہی جانتا تھا کے جسے وہ عام سی فائل سمجھ رہا ہے وہ کیا تباہیاں پھیلا سکتی تھی
سچ کہتے ہیں، لاعلمی کبھی کبھی ہمیں بہت بڑے بڑے نقصانات سے دوچار کروا دیتی ہے،ذین کی لاعلمی ناصرف اسکے لیے بلکے اور بہت سے لوگوں کے خطرہ بن سکتی تھی جس سے وہ انجان تھا
وہ وارتا ہے جان مجھ پر
میں اس قدر لاڈلی ہوں اس کی
ارتضی رات کے وقت اپنے روم میں جانے کی بجائے دوستوں کے ساتھ باہر نکل آیا، انہوں نے ریسٹورنٹ میں ڈنر کیا، وہاں سے نکلتے روڈ پر آئے تو سامنے بیکری نظر آئی جس پر اسے حریم کا خیال آیا، کل وہ اس سے ناراض تھی حالانکہ وہ اسے منا چکا تھا مگر پھر بھی اسے خوش کرنے کے لیے اسے چوکلیٹس کا خیال آیا وہ ان سب سے معذرت کرتا گاڑی اس طرف بڑھا گیا
ارتضی کے بعد حریم اگر کسی چیز کی دیوانی تھی تو وہ تھیں چوکلیٹس، بیکری میں آکر اس نے مختلف قسم کی بےشمار چوکلیٹس خرید ڈالیں، انہیں پیک کرتے وہ باہر آکر گاڑی میں بیٹھا، اکیڈمی پہنچ کر اب اس کا رخ حریم کے ہوسٹل کی جانب تھا
" حریم" حریم اور باقی لڑکیاں میس سے ڈنر کر کے واپس جا رہیں تھیں جب موحد کی آواز پر حریم رکی
"جی موحد بھائی؟" اس کے ساتھ کی کیڈیٹس اسے وہاں چھوڑ آگے بڑھ گئیں
"یہ تمہاری بک، آج تم سر منیر کی کلاس میں چھوڑ گئی تھیں" موحد کے ہاتھ میں اس کی سٹیٹس کی بک تھی جو شاید وہ غلطی سے وہیں چھوڑ آئی تھی
"اوہ، بہت شکریہ موحد بھائی، مجھے ابھی اس کا ٹیسٹ بھی تیار کرنا تھا" حریم نے سر پر ہاتھ مارا سر منیر نے انہیں اگلے دن کے لیے ٹیسٹ دیا تھا
"اٹس اوکے گڑیا، ہوجاتا ہے کبھی شکریہ کی ضرورت نہیں ہے" موحد اس کی معصوم سی حرکت دیکھتا مسکرا دیا
"پرنسس" وہ دونوں ابھی بات کر رہے تھے جب ارتضی اسے ہوسٹل کے باہر کھڑا دیکھ وہیں آگیا
"السلام علیکم سر" موحد نے اسے وہاں آتے دیکھا تو جھٹ سیلوٹ کیا سنئیرز کو سیلوٹ کرنا اکیڈمی کا بہت سخت رول تھا
"وعلیکم السلام " اسے جواب دیتے ارتضی حریم کی طرف مڑا
"پرنسس آپ اتنی لیٹ یہاں کیا کر رہی ہیں؟" نرمی اور فکرمندی سے پوچھا رات کے وقت وہاں ٹھنڈ ہونے لگی تھی تب ہی وہ پریشان ہوگیا
"سوری ٹو انٹرپٹ سر بٹ کیڈیٹ حریم اپنی بک کلاس میں بھول گئی تھیں تو میں وہی دینے آیا تھا، میرے بلانے پر ہی رکی تھیں وہ" موحد نہیں چاہتا تھا ارتضی ان دونوں کو ساتھ دیکھ کر کوئی غلط مطلب نکالے اسی لیے صفائی دیتے بولا
"صبح ٹیسٹ ہے اور میں بک کلاس میں ہی بھول گئی" حریم کو تو رہ رہ کر خود پر غصہ آرہا تھا اسی لیے صدمے سے بولی
"اٹس اوکے پرنسس ہوجاتا ہے پریشان مت ہوں، اینڈ تھینک یو ینگ مین، آپ نے ہماری مسز کو بہت بڑی پریشانی سے بچا لیا ورنہ انہوں نے رو رو کر برا حال کر لینا تھا" حریم کا رونے والا منہ دیکھ کر ارتضی محبت سے بولا
"ارے سر تھینک یو کی کوئی بات نہیں، یہ تو میرا فرض تھا، میں چلتا ہوں سر، کہیں ہوسٹل والے مجھے آج رات باہر ہی ناں پھینک دیں" موحد مسکرا کر کہتا اسے سیلوٹ کرتا وہاں سے چل دیا
"کیا ہوا پرنسس، کس سوچ میں گم ہیں؟" حریم کو سوچوں میں گم دیکھ ارتضی نے اس کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ ہلایا
"اگر موحد بھائی میری بک نہیں لاتے تو میں ٹیسٹ کیسے دیتی" وہ بلکل رونے والی ہوگئی تھی، ویسے بھی اسے چھوٹی چھوٹی باتوں کی ٹینشن لینے کی عادت تھی
" اففف پرنسس، جو ہوا نہیں اسے سوچ کر پریشان کیوں ہورہی ہیں؟" ارتضی نے نفی میں سر ہلاتے اپنی حساس بیوی کو دیکھا تھا
"اچھا خیر یہ چھوڑیں، میرے پاس آپ کے لیے ایک سرپرائز ہے، آنکھیں بند کریں" ارتضیٰ اسے ٹینشن سے نکالنے کے لیے بات بدل گیا چوکلیٹس اس نے کب سے اپنے پیچھے چھپا رکھی تھیں
"سرپرائز، کیسا سرپرائز؟" حریم حیران کن تاثرات لیے بولی
" کلوز یور آئیز پرنسس" ایک ہاتھ سے اس کی پلکوں کو ملایا تھا اس نے آنکھیں بند کیں تو ارتضیٰ نے چوکلیٹس والا ہاتھ سامنے کیا
"ناو اوپن دیم" آہستہ سے کہا تو حریم جلدی سے اپنی آنکھیں کھول گئی
"چوکلیٹس، تھینک یو سو مچ ارتضیٰ، تھینک یو" اس کے ہاتھ سے چوکلیٹس کا بیگ لیتے وہ بے ساختہ اس کے ساتھ لگی تھی ارتضی آہستہ سے مسکرا دیا، جانتا تھا وہ ایسے ہی خوش ہوگی، یہ تو شکر تھا رات کے وقت باہر کوئی نہیں تھا
"یور سمائل از آل واٹ آئی وانٹ یور ہائینس" اس کے سر کو تھپتھپاتے وہ محبت سے بولا
"اب تو آپ ناراض یا اداس نہیں ہیں ناں؟" حریم جلدی سے اس سے الگ ہوئی، وہ اپنی ہی حرکت پر جھنپ گئی تھی، ارتضی اس کی جھنپ مٹانے کو بولا
"میں آپ سے کبھی ناراض نہیں ہوسکتی، تھوڑا اداس تھی مگر اب بہت خوش ہوں، تھینک یو" حریم ہلکی سی مسکراہٹ لیے بولی اور اس کی یہی مسکراہٹ تو ارتضی کی زندگی تھی
"اوہوں، آپ کو مجھے تھینک یو کہنے کی ضرورت نہیں ہے، بس آپ خوش رہا کریں، کیونکہ جب آپ مسکراتی ہیں ناں تو لگتا ہے میں زندہ ہوں، آپ کی زرا سی بھی اداسی برداشت نہیں ہے مجھ سے" آہستہ سے اس کے ماتھے اپنی محبت اور عقیدت کے پھول کھلاتے کہا تو وہ ایک دم نروس ہوگئی
"وہ،وہ میں چلتی ہوں، وارڈن ڈور بند کر دے گی" پلکیں جھکا کر بولتی وہ ارتضی کے ضبط کا امتحان لے رہی تھی
"جائیں، اور اپنا خیال رکھیے گا، گڈ نائیٹ" آہستہ سے اس کا گال تھپتھپاتے اسے اجازت دی
"گڈ نائیٹ" حریم آہستہ سے بولتی بھاگنے کے انداز میں وہاں سے نکلتی چلی گئی، ارتضیٰ نے محبت سے اپنی متاعِ حیات کو جاتے دیکھا، مگر وہ نہیں جانتا تھا کے اس کی اس حسین زندگی کو کسی حاسد کی نظر لگنے والی تھی
@@@@@@@@@
دو دن گزر گئے تھے مگر کوئی بھی اس کی برتھ ڈے کے بارے میں بات تک نہیں کر رہا تھا، سویٹی ایک دن تو دیکھتی رہی مگر پھر غصے سے منہ بناتی روم میں بند ہوچکی تھی، کل سے وہ کسی سے بات نہیں کر رہی تھی یہاں تک کے حوزان کو بھی فون نہیں کیا تھا
شاہ زیب اس کے کمرے میں ملنے گیا تو منہ پھلائے دور سے ہی اسے سلام کرتی پھر بلینکٹ اوڑھ گئی، شاہ زیب تو اس کا ناراض چہرہ دیکھتے اسے بتا دینا چاہتا تھا مگر بہرام نے مشکل سے انہیں روکا تھا، صرف ایک دن کی ہی تو بات تھی
"بہرام، داہیم کا کوئی اتاپتا ہے کہاں ہے وہ؟" شاہ زیب نے ڈنر ٹیبل پر بہرام سے پوچھا داہیم کافی دنوں سے گھر نہیں آیا تھا
"بابا میں نے اسے دبئی بھیجا ہے بزنس کے سلسلے میں، وہ اب سیریس ہوکر بزنس کرنا چاہتا ہے، سو میں نے اسے ایک چانس دے دیا" بہرام نے شاہ زیب خانزادہ کو دیکھتے کہا، اس نے بہت مشکل سے داہیم کو بھیجا تھا وہ جانا نہیں چاہتا تھا
"ہممم، گڈ، شکر ہے اسے بھی عقل آئی" شاہ زیب ڈنر کی طرف متوجہ ہوگیا، وہ سب لوگ ڈنر کر کے اپنے اپنے روم میں چلے گئے بہرام سب کو منا کر چکا تھا کے سویٹی کو بارہ بجے کوئی وش نہیں کرے گا اور وجہ سے وہ سب واقف تھے
رات کا پہر تھا ہر کوئی اپنے اپنے کمرے میں پرسکون نیند سو رہا تھا، سویٹی اپنے روم میں ڈنر کر چکی تھی کافی دیر جاگتی رہی کے شاید کوئی منانے آئے مگر گیارہ بجے کے قریب وہ تھک کر سو گئی بارہ بجنے سے پندرہ منٹ پہلے اس کے کمرے کی بالکنی میں سایہ سا لہرایا تھا
کچھ ہی منٹوں بعد بلیک جینز اور بلیک ہڈی میں ملبوس حوزان خاقان اندر آیا تھا، بیڈ پر نظر ڈالی تو اس کی دھڑکن پرسکون نیند سو رہی تھی وہ جانتا تھا اس کی نیند پکی ہے تب ہی آرام سے آگے بڑھا، چند لمحے اس کے حسین چہرے کو دیکھتے رہنے کے بعد آہستہ سے اسے بانہوں میں اٹھایا تھا
اسے اٹھا کر اب کی بار دروازے سے باہر نکلا، بہرام پہلے ہی سیکیورٹی گارڈ کو بتا چکا تھا کے حوزان آئے گا، سو اس نے دروازے کھول دیے تھے، حوزان نے اسے لاکر آرام نے گاڑی میں بیٹھایا اور گھوم کر اپنی طرف والی سیٹ پر بیٹھا
تیزی سے گاڑی چلا کر وہ ایک فارم ہاوس پر آیا تھا، یہ فارم ہاؤس اس کے دوست کا تھا، جو آج اس نے اس سے کہہ کر کھلوایا تھا، باہر نکل کر سویٹی کی طرف آیا اور جیب سے بلیک پٹی نکال کر اس کی آنکھوں پر باندھی
اسے گود میں اٹھا کر فارم ہاؤس کی پچھلی جانب بنے لان میں لایا، وہاں پہنچ کر اس نے آہستہ سے اسے نیچے کھڑا کیا، وہ نیند میں جھول کر اس کے کندھے سے لگ گئی
"سویٹی میری جان، اٹھ جائیں" سر جھکا کر آہستہ سے اسے پکارا تھا، دو تین بار پکارنے پر وہ نیند سے بیدار ہوئی مگر آنکھوں پر بندھی پٹی نے کچھ بھی دیکھنے سے روکا تھا
"یہ، یہ کیا کہاں ہوں میں، خان آپ ہیں کیا؟" سویٹی ایک دم خوفزدہ ہوگئی تھی اس نے آنکھوں سے پٹی ہٹانی چاہی مگر حوزان اس کا ہاتھ تھام کر اسے روک گیا
"نو سویٹ ہارٹ ابھی نہیں، ون سیکینڈ" حوزان نے اس کا رخ لان کی طرف کیا اور پھر گھوم کر اس کے پیچھے جاتا اس کی آنکھوں سے پٹی ہٹا گیا، سویٹی پلیکیں جھپک کر اردگرد دیکھ کر چند لمحے ساکت رہ گئی تھی
پورے لان کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا، بلیک کلر کے بلونز کے درمیان میں ٹیبل اور دو چئیرز پڑی تھیں، جن پر بلیک ہی کور تھے ٹیبل کے اوپر درمیان میں کینڈلز اور پھول سجائے گئے تھے اردگرد لائیٹنگ اور ڈیکوریشن دیکھنے والے کو مبہوت کر رہے تھے
"ہیپی برتھڈے ٹو یو، ہیپی برڈے ڈے ٹو یو، ہیپی برتھڈے سویٹی، ہیپی برتھڈے ٹو یو، ہیپی برتھڈے سویٹ ہارٹ، مینی مینی ہیپی ریڑنز آف دی ڈے" بارہ بجتے ہی حوزان اس کے کان کے قریب جھکتے سرگوشی میں بولا
"خان،آپ کو یاد تھا" آزین بےانتہا خوشی سے اس کی جانب پلٹی تھی، وہ کیسے بھول گئی کے اس کا خان اس سے متعلق کوئی بات کیسے بھول سکتا تھا
"کیا میں اپنی جان کی زندگی کا سب سے اہم دن بھول سکتا ہوں؟ مسکراتے ہوئے اس نے اس کا خوشی سے جگمگاتا چہرہ دیکھا
"تھینک یو تھینک یو تھینک یو سو مچ خان، آئی لو یو سو مچ" سویٹی اپنے لیے اس کی کی گئی اتنی تیاری دیکھ کر بہت خوش تھی، ویسے تو وہ ہر سال اس کی برتھڈے کو یادگار بناتا تھا مگر اس طرح سرپرائز اس نے پہلی بار دیا تھا
"آئی لو یو ٹو میری جان، اچھا اب جلدی سے یہ ڈریس پہن کر آئیں جائیں" حوزان اس کی طرف ایک بیگ بڑھاتے ہوئے بولا سویٹی نے بیگ پکڑا اور اس کے بتائے ہوئے کمرے کی طرف بڑھ گئی
اس نے بیگ کھولا تو اس میں بلیک کلر کی پاوں تک آتی نیٹ کی میکسی تھی، کواٹر سلیوز والی خوبصورت میکسی دیکھ کر سویٹی دم بخود رہ گئی تھی، مسکراتے ہوئے اس نے ڈریس چینج کیا اب تک وہ اپنے ٹراوزر اور داہیم کی گھٹنوں تک آتی شرٹ پہن رکھی تھی،
اس نے روم میں نظر دوڑائی تو وہاں ایک ڈریسنگ بھی تھا جس پر برش پڑا تھا، بیگ ٹٹولا تو اس میں سے بلیک نازک سے سینڈلز نکلے، بالوں کو کھول کر برش کیا اور پھر جوتا پہنتے باہر آئی اتنی سی تیاری میں ہی وہ حوزان کے حواسوں پر سوار ہونے کی صلاحیت رکھتی تھی
وہ باہر آئی تو حوزان ٹیبل پر کیک رکھ رہا تھا، خوبصورت سا کریم کیک جس پر ہیپی برتھڈے خان کی جان لکھا تھا، سویٹی دو دن سے جتنا اداس رہی تھی اس وقت اتنا ہی خوش تھی، حوزان نے اسے دیکھا تو چند لمحے مبہوت ہو گیا
"میں کیسی لگ رہی ہوں خان؟" سویٹی اس کے سامنے آکر رکتے ہوئے بولی
"آپ اتنی حسین لگ رہی ہیں کے دل چاہ رہا ہے آپ کو ساری زندگی اپنے سامنے بیٹھا کر دیکھتا رہوں، اور تمام عمر اسی طرح بسر ہوجائے" آہستہ سے اس کا ہاتھ اپنی گرفت میں لیتے حوزان ایک ٹرانس کی کیفیت میں بول رہا تھا
"خان، " سویٹی اس کی بات پر سر جھکا گئی، اس کی آنکھوں میں جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا جس کا سامنا کرنا سویٹی کے بس کی بات نہیں تھی
"ہاں، چلیں، کیک کاٹیں" حوزان اس کے پکارنے پر ہوش میں آیا اس کے ہاتھ میں چھری تھمائی، اس نے کیک کاٹا تو حوزان نے آہستہ سے تالیاں بجاتے برتھڈے وش کیا
سویٹی نے کیک کاٹتے اس کی طرف بڑھایا، حوزان نے تھوڑا سا کیک کھاتے باقی اس کے منہ میں ڈال دیا، سویٹی چھری رکھتے اس کی طرف مڑی، وہ چپ چاپ اسے دیکھ رہی تھی جس کا صاف مطلب تھا کے اب گیفٹ دو
حوزان نے آہستہ سے جیب سے مخملی کیس نکالا، کیس کھولا تو اس میں وائٹ گولڈ کا خوبصورت سا پینڈینٹ تھا، وائٹ کلر کا چھوٹا سا گلاب جس کے درمیان میں ایک نگ تھا، پینڈینٹ دیکھتے سویٹی ایک بار پھر ساکت ہوئی تھی وہ حوزان نے اس کے لیے ہر چیز بہترین کی تھی
"مے آئی" پینڈینٹ ہاتھ میں لیتے حوزان نے پوچھا جس پر سویٹی اپنے بال ایک سائیڈ پر کرتے دوسری طرف گھومی حوزان نے آہستہ سے وہ پینڈینٹ اس کے گلے کی زینت بنایا
"خان، یہ بہت، بہت بہت خوبصورت ہے" سویٹی اپنے گلے میں چمکتے لاکٹ کو تھامتے بولی
"پہلے نہیں تھا مگر اب بہت خوبصورت لگ رہا ہے" اس کی صراحی دار گردن میں وہ لاکٹ ایک شان سے جگمگا رہا تھا
"میرے ساتھ ڈانس کرنا پسند کریں گی مائی لیڈی؟" حوزان نے اس کے شرمانے پر مسکراتے اپنا ہاتھ اس کے سامنے پھیلایا
سویٹی نے مسکرا کر اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ دیا، حوزان نے اپنے موبائل پر میوزک پلئیر آن کرتے سانگ لگایا اور اسے لیے آہستہ آہستہ حرکت کرنے لگا
اردگرد موجود ہر چیز محبت سے اس حسین جوڑے کو دیکھ رہی تھی جو اپنی محبت میں گم آنے والی آزمائشوں سے بےنیاز وقت کی خوبصورتی کشید کررہے تھے جبکہ آنے والا وقت اپنے جلو میں کچھ اہم لے کر آرہا تھا
@@@@@@@@@
وہ دونوں آج اپنی مرضی سے اس گندی جگہ پر آئے تھے کیونکہ یہ وہ لوگ تھے جو اپنے ملک کی خاطر زہر کا پیالہ تک ہنستے ہنستے پی لیتے ہیں تو پھر اس جگہ آنا جہاں آنے کا وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کونسی بڑی بات تھی
"سوان، ایک بار پھر سوچ لیں، کیا آپ ایسا کرنا چاہتی ہیں؟" لیپرڈ کو اس کی فکر ہورہی تھی جو پلین اس نے بنایا تھا اس میں بہت خطرہ تھا مگر وہ یہ خطرہ مول لینا چاہتی تھی
"جانتی ہوں سر، مگر ہمارے پاس ایک یہی راستہ ہے اسے پکڑنے کا، آپ فکر مت کریں میں سمبھال لوں گی" یہ پہلی بار تھا جب وہ دونوں لڑنے کے علاوہ کوئی اور بات کر رہے تھے
"ہممم اوکے، مگر کچھ بھی ہو فوراً مجھے میسج کر دینا میں آجاوں گا" لیپرڈ نے کہتے اسے حوصلہ دیا تھا، ان کا پلان بہت رسکی تھی مگر اس کے علاوہ کوئی راستہ بھی نہیں تھا
"اوکے میں چلتی ہوں" سوان گاڑی سے اترتے بولی، لیپرڈ کی نظروں نے دور تک اس کا تعاقب کیا تھا، ناجانے کیوں اسے ڈر لگ رہا تھا اس نے آیت الکرسی پڑھ کر دور جاتی سوان پر بھونک ماری اور اسے اللہ کی امان میں دیا تھا
سوان چلتے ہوئے اسی کمرے کے سامنے آئی، دن کا وقت تھا سو وہاں زیادہ رش نہیں تھا، اندر موجود لڑکی نے دروازہ کھولا، ایک انجان نقاب پوش کو دیکھتے اس نے دروازہ بند کرنا چاہا مگر سوان اسے دھکا دیتے اندر داخل ہوچکی تھی
اس سے پہلے کے وہ لڑکی چیخ کر کسی کو بلاتی سوان اس کے کان کے پیچھے مخصوص رگ کو دباتے اسے بےہوش کر چکی تھی، سوان نے اسے گھسیٹ پر بیڈ کے نیچے ڈالا اب وہ چوبیس گھنٹوں سے پہلے ہوش میں نے والی نہیں تھی
اس نے الماری سے اس کا لباس نکالا وہاں ایک ساڑھی تھی جس کا بلاوز چھوٹا سا تھا، وہ پہننا نہیں چاہتی تھی مگر مجبوری تھی سو جلدی سے وہ ساڑھی پہن لی، اس نے نقاب اتارا تو اس کا نوخیز حسن آج بےپردہ ہوا تھا اگر اس وقت کوئی اسے دیکھ لیتا جو اپنا سب کچھ ہار جاتا
اس نے اپنی جینز کی پاکٹ سے نیٹ کا چھوٹا سا کپڑا نکالا اور اپنے چہرے کے سامنے باندھ لیا، ساڑھی کے پلو کو اچھی طرح اپنے گرد پھیلاتے اپنا برہنہ پیٹ بہت حد تک چھپا گئی تھی اس کا چہرہ پوری طرح چھپا ہوا نہیں تھا مگر اتنا ضرور تھا کے وہ پہچانی نہیں جارہی تھی
شام ڈھلتے ہی وہ بیڈ پر بیٹھ گئی اس نے پیچھے کی طرف ساڑھی میں بےہوشی کا انجیکشن رکھ لیا تھا کچھ ہی دیر میں دروازے پر آہٹ ہوئی، سانو اندر آیا تھا اسے بیڈ پر بیٹھا دیکھ حیران ہوا مگر پھر سر جھٹکتے دروازہ بند کر گیا
"ارے رادھا ڈارلنگ، آج تو لگتا ہے تو بھی موڈ میں ہے، پہلے ہی اپنی جگہ سمبھال گئی" وہ شاید آج نشے میں تھا تب ہی بہکی بہکی باتیں کر رہا تھا سوان نے شکر کیا تھا کے اللّٰہ نے اس کی مدد کی تھی آدھا کام پہلے ہی ہوچکا تھا اسے باقی کا کام کرنا تھا
"ارے بول کیوں نہیں رہی تو" وہ لڑکھڑاتا ہوا بیڈ کے پاس آیا، سوان کا دل بہت زور سے دھڑک رہا تھا اللّٰہ کا نام لیتے وہ خود کو تیار کر چکی تھی
"چل مت بول، ویسے بھی آج کل میرا دماغ بہت پکا ہوا ہے، یہ سالے پاکستانی ایجینٹ، خود کو بہت تیس مار خان سمجھتے ہیں، اس بار باس نے انہیں انہی کے انداز میں مارنے کا پلان بنایا ہے" وہ نشے میں بڑبڑا رہا تھا اگر ہوش میں ہوتا تو شاید اس کی خاموشی سمجھ پاتا
وہ آکر سوان کے اوپر جھکا تھا، سوان نے ہاتھ پیچھے لے جاتے انجیکشن نکالا، اس کے اوپر سے ڈھکن ہٹایا، ایک گھٹیا شخص کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر اسے گھن آرہی تھی مگر اسے یہ کرنا تھا
سانو کا ہاتھ سوان کے نقاب کی طرف بڑھا، اس سے پہلے وہ اسے ہٹاتا، سوان اس کے بازو میں انجیکشن لگا چکی تھی، ایک جھٹکے سے وہ آدمی کھڑا ہوا، اس نے حیرانی سے سوان کو دیکھا،
"کو۔۔۔کون ہو تم، " اس نے غرا کر پوچھا اسے چکر آرہے تھے
"تمہاری موت گھٹیا انسان" سوان اس سے زیادہ سرد اور مضبوط آواز میں بولی
"میں تجھے چھوڑوں گا نہیں ۔۔۔۔ " سانو گالی دیتے اس کی طرف بڑھا مگر دوائی کا ڈوز زیادہ ہونے کی وجہ سے زیادہ دیر کھڑا نہیں رہ سکا اور بےہوش ہوتے گر گیا
"ڈن" سوان نے لیپرڈ کو میسج کیا، کچھ دیر بعد اسے کمرے کی پچھلی طرف موجود کھڑکی پر دستک سنائی دی، اس نے اٹھ کر کھڑکی کھولی، لیپرڈ اندر آیا، سوان کے ساڑھی میں ملبوس سراپے کو دیکھتے وہ چند پل ساکت ہوا تھا وہ پوری طرح خود کو ڈھانپے ہوئے تھی مگر اس کا نازک سا سراپہ واضح ہورہا تھا
لیپرڈ نے چپ چاپ اپنی جیکٹ اتارتے اس کی طرف بڑھائی کیونکہ اب وہ چینج کرنے کا رسک نہیں لے سکتی تھی انہیں جلد سے جلد وہاں سے نکلنا تھا، لیپرڈ نے سانو کو کندھوں پر اٹھایا اور کھڑکی سے باہر نکلا، سوان اس کی جیکٹ پہنتے اپنا سکارف لپیٹتے باہر نکلی،
سانو کو گاڑی میں ڈال کرلے جاتے وہ دونوں اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھے، آج وہ اپنی منزل کے ایک قدم قریب آچکے تھے اب وہ دشمن کی تاک میں تھے یا دشمن ان کی یہ بہت جلد پتا چلناتھا
مجتبی کی حالت پہلے سے بہتر تھی تب ہی سویرا کے لاکھ منا کرنے کے باوجود بھی وہ فون کرکے لیو کینسل کرواچکا تھا اور اب صبح یونٹ ریپورٹ کرنے کی تیاری کر رہا تھا
"مجتبی، بیٹا کچھ دن اور ریسٹ کر لیتے، آج جانا ضروری ہے کیا؟" سویرا اسے پیکنگ کرتا دیکھ کر بولی
"ماما جانی میں بلکل ٹھیک ہوں، آپ ٹینشن مت لیں میں مزید ریسٹ نہیں کر سکتا" مجتبی سویرا کے ہاتھ تھام کر بولا
"مگر بیٹا" سویرا کا دل بلکل مطمئن نہیں ہورہا تھا
"السلام علیکم" حرم کی آواز پر ان دونوں نے دروازے کی جانب دیکھا
"وعلیکم السلام میری جان" سویرا حرم کو گلے لگاتے ہوئے بولی
"کیا ہوا ماما جانی؟ آپ پریشان لگ رہی ہیں؟" حرم نے سویرا کے چہرے کو دیکھتے پوچھا، اس کے چہرے سے فکرمندی واضح تھی
"ہنی بیٹا اب تم ہی اسے سمجھاؤ، ابھی اس کا زخم پوری طرح بھرا نہیں ہے اور یہ واپس ڈیوٹی جوائن کر رہا ہے" سویرا نے حرم کو بھی اپنا ہم خیال بنانا چاہا
"ماما آپ پریشان مت ہوں بات کرتی ہوں" حرم نے سرگوشی میں کہا وہ اپنا باقی کا سامان دیکھ رہا تھا، سویرا ایک نظر انہیں دیکھ کر باہر چلی گئی
مجتبی، لائیں میں آپ کا یونیفارم پریس کر دوں" مجتبی اپنا یونیفارم لیے آئیرن سٹینڈ کی طرف بڑھا تھا جب حرم نے اس کے ہاتھ سے یونیفارم لے لیا
"آپ نے تو ماما سے کہا تھا کے آپ مجھے منا لیں گی رکنے کے لیے، اب خود ہی میرا یونیفارم پریس کررہی ہیں" مجتبی نے مسکراہٹ دباتے پوچھا اشارہ صاف تھا کے وہ اس کی ہلکی سی سرگوشی بھی سن چکا تھا
"وہ تو میں ماما کو حوصلہ دے رہی تھی جبکہ میں جانتی ہوں آپ نہیں رکنے والے" اس کے یونیفارم کی سفید شرٹ پریس کرتے مصروف انداز میں کہا
"آپ مجھے کتنا سمجھتی ہیں ناں" آہستہ سے اس کے پاس آتے پیچھے سے اسے اپنے حصار میں لیا
"مجتبی، کیا کر رہے ہیں، شرٹ جل جائے گی پلیز پیچھے ہٹیں" حرم اس کی حرکت پر سٹپٹا گئی تھی، مگر وہ یوں تھا جیسے سنا ہی ناں ہو
"ہنی، ہم فوجیوں کی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا، اس دن چلی وہ گولی میرے دل پر یا سر میں بھی لگ سکتی تھی، مجھے موت سے ڈر نہیں لگتا، شہادت تو ایک فوجی کا سب سے بڑا خواب ہوتی ہے، مجھے اپنے بعد آپ کی تنہا زندگی، آپ کے آنسووں سے ڈر لگتا ہے" مجتبی ناجانے آج کس رو میں بہہ کر سنجیدہ سا بول رہا تھا
حرم شرٹ پر سے استری ہٹاتے اس کے حصار میں ہی پیچھے اس کی طرف مڑی، اس کا چہرہ دیکھا جس پر آج الگ سا احساس تھا، شاید حرم کی محبت کہیں ناں کہیں اس کی کمزوری بن رہی تھی
"مجتبی، ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے گا، میں کیپٹن ڈاکٹر حرم مجتبی ہوں، کمانڈر مجتبیٰ ولید حیدر کی منکوحہ، میں اس دنیا میں اللّٰہ اور اس کے رسول کے بعد سب سے زیادہ محبت آپ سے کرتی ہوں، کیونکہ یہی میرا فرض ہے، کبھی سوچیے گا بھی مت کے میری محبت کبھی آپ کی کمزوری بنے گی" حرم اس کا خوبرو چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیے بولی، کبھی وہ بہت سمجھدار ہوتا تو کبھی معصوم بچوں جیسا
"شہادت ایک فوجی کے لیے کیا مقام رکھتی ہے یہ میں اچھے سے جانتی ہوں، میں نے ہمیشہ دعا کی ہے کے اللّٰہ آپ کے بغیر مجھے ایک بھی سانس نہ لینے دے لیکن اگر کبھی مجھ میں سے اور وطن میں سے وطن کو چنتے آپ نے اپنا آپ اس وطن پر قربان کر دیا تو آپ مجھے کبھی ڈگمگاتا نہیں پائیں گے، میں ویسے ہی ثابت قدم رہوں گی جیسے کمانڈر مجتبیٰ ولید حیدر کی بیوی کو رہنا چاہیے" آنکھوں میں نمی لیے اسے سمجھا رہی تھی
اس کے بغیر زندگی کا تصور بھی مشکل تھا، مگر وہ پھر بھی بول رہی تھی کیونکہ وہ خود ایک آرمی آفیسر تھی، وہ کبھی بھی مجتبی کے فرض کی راہ میں نہیں آنا چاہتی تھی، اور یہی تو کرتی آئی ہیں پاکستان کی بہادر مائیں اور بیویاں
"آئی ایم پراوڈ آف یو میری جان، مجھے آپ سے ایسے ہی جواب کی توقع تھی" اس کے ماتھے پر اپنی محبت کی مہر شان سے سجاتے مان سے کہا
حرم اس کے سینے سے لگتے اپنے آنسو اس سے چھپا گئی، مجتبی اچھے سے جانتا تھا اس نے کس ہمت سے یہ باتیں کہیں ہیں، تب ہی زور سے اسے خود میں بینچ گیا
" مگر فکر مت کریں اگلے سو سال تک میرا آپ کی جان چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے" اس سوگواریت کو ختم کرنے کے لیے مجتبی شرارت سے بولا جس پر حرم آنسو پیتے مسکرا دی
"چلیں اب ریڈی ہوجائیں، اور پہلے مجھے اپنا زخم دیکھنے دیں" حرم اس کے کندھے پر ہلکا سا تھپڑ مارتے سیدھی ہوئی
مجتبی اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے اس کے سامنے جھکا، اس کا زخم کافی حد تک مندمل ہوچکا تھا، حرم نے دوائی سے زخم صاف کرتے پٹی بدل دی، مجتبی جب تک ہونیفارم بدل کر آیا تب تک حرم اس کا سارا سامان پیک کر چکی تھی
مجتبی بال برش کرتے اس کے سامنے آکھڑا ہوا، حرم نے منہ میں مختلف آیات کا ورد کرتے اس پر حصار کھینچا، اس کے ہاتھ سے کیپ لے کر ایڑھیوں کے بل اوپر اٹھتے وائٹ نیوی کیپ اس کے سر پر رکھی، اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھتے اس کے ماتھے کو چھوا
"اللّٰہ کی امان" سیدھی کھڑی ہوتے آہستہ سے بولی، مجتبی اس کی محبت پر مسکرا دیا
"تھینک یو سویٹ ہارٹ" اسے اپنے ساتھ لگاتے اس کے دوپٹے سے ڈھکے سر پر ہولے سے لب رکھے، بیگ پہن کر اس کا ہاتھ تھامتے کمرے سے باہر نکلا، لاونج میں سویرا اور ولید سے ملتا، باہر کی جانب بڑھا، حرم اس کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی
وہ باہر نکل کر گاڑی میں بیٹھا تو حرم نے دل میں اسے اپنی دعاوں کے حصار میں لے لیا، وہ وہیں کھڑی اسے خود سے دور ہوتا دیکھتی رہی، محبوب اگر محرم ہو تو محبت کا عالم ہی کچھ اور ہوتا ہے اور اپنی سب سے محبوب ہستی کو خود سے دور بھیجنا آسان نہیں ہوتا
خدا نہ کرے کبھی دور ہونا پڑے تم سے
سنا ہے جی نہیں پاتا کوئی جان سے بچھر جانے کے بعد
@@@@@@@@
رات کو تقریباً ڈیڑھ بجے کے قریب حوزان اسے گھر چھوڑ کر گیا تھا، وہ بہت خوش تھی کیونکہ اور کسی کو ناں سہی مگر اس کے خان کو اس کی برتھڈے یاد تھی، اس کے لیے سب کچھ خواب کی طرح تھا، آکر بھی وہ کافی دیر جاگتی مگر پھر ناجانے کس وقت نیند نے اسے اپنی آغوش میں لیا
صبح صبح شاہ زر ولا سے ذیشان، دلکش، شاہ زر، مشک اور حسال وہاں آگئے تھے ان کے آتے ہی سب لوگ سویٹی کے کمرے میں آگئے، وہ اپنے ٹیڈی بیئر کو خود میں بینچے خوبصورت مسکراہٹ لبوں پر لیے پرسکون نیند سو رہی تھی
"ہیپی برتھڈے ٹو یو، ہیپی برتھڈے ٹو یو، ہیپی برتھڈے ڈئیر آزین، ہیپی برتھڈے ٹو یو" تالیوں اور سب کی ملی جلی آوازوں پر آزین کی آنکھ کھلی تھی سب لوگ اس کے اردگرد کھڑے تھے
وہ حیرت سے سب کو دیکھنے لگی مگر جب حواس بحال ہوئے تو خوشی سے چیخ پڑی، بھاگتے ہوئے اٹھ کر سب سے پہلے شاہ زیب کے گلے لگی، باری باری سب سے پیار لیتی وہ دل سے مسکرا رہی تھی
"ویسے سویٹی، دیکھ لیں، آپ ہر وقت خان خان کرتی رہتی ہیں مگر آپ کے خان کو آپ سے زیادہ نیند پیاری ہے، سو رہے تھے صاحب زادے آپ کو وش تک کرنے نہیں آئے" ذیشان نے شرارت سے کہتے اسے چڑانا چاہا، اس کی بات پر آزین کے لبوں پر مسکراہٹ آئی تھی
"ذیشان چاچو، وہ حوزان ذیشان خاقان ہے، ایسا ہوسکتا ہے کے وہ سویٹی کی برتھڈے بھول جائے یا اس سے پہلے کوئی اور سویٹی کو وش کر دے" حسال کی بات پر جہاں ذیشان کا منہ کھلا تھا باقی سب مسکرا دیے جبکہ سویٹی سب کا دھیان اپنی طرف محسوس کرتے حسال کے ساتھ لگ گئی
"ویسے سویٹی کیا گفٹ دیا حوزان نے تمہیں؟" حسال اور بہرام کو حوزان کے پلان کے بارے میں سب کچھ پتا تھا تب ہی شرارت سے سرگوشی کرتے بولی
"واوووو" سویٹی نے آہستہ سے الگ ہوتے پینڈنٹ ہاتھ میں پکڑتے دکھایا، باقی سب لوگ ایک دوسرے سے باتوں میں مگن ہوچکے تھے سو ان کی سرگوشیوں کی طرف کسی کا دھیان نہیں تھا
پھر باقی سارا دن انہوں نے وہیں مختلف کاموں میں گزارا تھا،حسال اور سویٹی سارا دن سویٹی کے روم میں رہی تھیں تب ہی سویٹی کو اپنی برتھ ڈے پارٹی کا علم نہیں ہوسکا تھا، بہرام اور حسال کے مشترکہ فیصلے سے پارٹی کا تھیم ڈیزنی تھیم رکھا گیا تھا
چونکہ صرف خاص خاص مہمان ہی آنا تھے سو سب کو ڈریس کوڈ دو دن پہلے بتایا جاچکا تھا، شام کے وقت ان کے روم میں ان کی ڈریسز آگئیں تھیں، حسال نے اس کے پوچھنے پر کچھ بھی بولے بغیر اسے ڈریس تھماتے اسے چینج کرنے بھیجا اور اپنا ڈریس لیتے ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گئی
اس کا ڈریس بلو کلر میں تھا، سینڈریلا فراک میں وہ سچ مچ کی سنڈریلا لگ رہی تھی، بالوں کا اونچا جوڑا بنایا، کانوں میں چھوٹے چھوٹے ٹاپس اور باریک سا پینڈینٹ پہنے ہلکا سا گلوز لگایا، بلو کلر کا ہیل والا جوتا دیکھتے وہ بیڈ کی طرف بڑھی
"سویٹی جلدی۔۔۔" بہرام بولتا ہوا اندر آیا تو سامنے موجود حسال کو دیکھتے دم بخود رہ گیا، وہ خود بھی سینڈریلا کے پرنس کے ڈریس میں تھا،وہ دونوں آمنے سامنے کھڑے یک ٹک ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے
حسال اس کی نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے نظریں جھکا گئی، آہستہ سے چلتے بیڈ پر بیٹھ کر جوتا پہننا چاہا، مگر ایک تو ہیل والا جوتا اور اس کی سٹریپ جو بند ہوکر نہیں دے رہی تھی، بہرام اسے دیکھتے گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھا
اس کے ہاتھ کو آہستہ سے ہٹاتے اس کے جوتے کا سٹریپ بند کرنا چاہا، حسال جلدی سے پاوں پیچھے کرتے اٹھ کر کھڑی ہوگئی، وہ ہرگز نہیں چاہتی تھی بہرام اس کے پاوں کو ہاتھ لگائے
"پلیز، یہ آپ کیا کر رہے ہیں،میں خود کر لوں گی" حسال ہڑبڑاتے ہوئے بولی
"اٹس اوکے حسال، اس میں کوئی بڑی بات نہیں ہے، آپ میری بیوی ہیں اور اپنی بیوی کی مدد کرنے سے میں چھوٹا بلکل نہیں ہوجاوں گا، سو چپ چاپ یہاں بیٹھیں اور مجھے میرا کام کرنے دیں" بہرام نے اسے ہاتھ سے تھام کر اپنے سامنے بیٹھایا
آہستہ سے نازک سا ہیل والا جوتا اس کے پاوں میں پہناتے اس کی سٹریپس بند کیں، اس سے پہلے کے وہ اٹھتا کلک کی آواز پر سر اٹھا کر دیکھا، سامنے ڈریسنگ کے پاس بیوٹی کے ڈریس میں کھڑی آزین ان کی تصویر بنا چکی تھی
"ارے واہ، ماشاءاللہ کتنے پیارے لگ رہے ہیں آپ دونوں، اور پک دیکھیں کتنی پیاری آئی" آزین نے ان کے پاس آتے انہیں ان کی تصویر دیکھائی وہ دونوں سچ میں بہت اچھے لگ رہے تھے، بہرام بےساختہ جھنپ گیا
"تم بھی بہت پیاری لگ رہی ہوں میری جان، چلو مہمان آنا شروع ہوچکے ہیں جلدی سے نیچے آجاؤ" بہرام جھنپ مٹانے کو جلدی سے کہتا باہر نکل گیا سویٹی شرارتی مسکراہٹ لیے حسال کو دیکھنے لگی
"کیا ہوا سویٹی؟" حسال ناسمجھی کے تاثرات سجاتی بولی حالانکہ کے جانتی تھی وہ کیوں اس طرح دیکھ رہی ہے
" بھئی میرا بھائی تو ابھی سے آپ کا دیوانہ ہوچکا ہے،واہ واہ کیا خوبصورت سین دیکھا ہے میں نے آج" سویٹی شرارتی انداز میں کہتی اسے چڑا رہی تھی
"اور جو میرا بھائی تمہارا بچپن سے دیوانہ ہے وہ، کوئی نہیں، آرہا ہے تمہارا پرنس بھی پھر مجھے بھی بہت کچھ دیکھنے کو ملے گا" حسال نے محبت سے اسے دیکھا جو بیوٹی کے یلو ڈریس میں اپنے کھلے بالوں کو اوپر سے پن اپ کیسے بہت اچھی لگ رہی تھی
حسال نے جلدی سے بلو کلر کا سٹالر اپنے سر پر لیتے خوبصورت سا حجاب کیا، سویٹی نے بھی بالوں کو سمیٹ کر حجاب کیا، گلوز لگا کر جوتا پہنتے وہ حسال کے ساتھ ہی باہر نکلی
شاہ زیب اور آب سنو وائیٹ اور پرنس کے ڈریس میں تھے جبکہ مشک اور شاہ ذر نے جیسمین اور الہ دین جیسے ڈریس پہنے تھے،دلکش اور ذیشان، ارورا اور فیلیپس کے گیٹ اپ میں تھے
@@@@@@@@@
جبران نے آج دو دن بعد ذین اور مظہر کو ملنے بلایا تھا، کیونکہ کل سے سانو غائب تھا، اس نے اسے بہت فون کیے مگر وہ کسی فون کا جواب نہیں دے رہا تھا، یا شاید وہ صرف یہ ظاہر کروارہا تھا کے سانو غائب ہوا ہے
"کیوں بلایا ہے ہمیں؟" ذین اور مظہر آئے تو ان کے آنے کے کچھ دیر بعد جبران اندر آیا، ذین کا اسے دیکھتے موڈ بگڑا تھا، سارے فساد کی جڑ یہی شخص تھا
"مجھے بہت اہم خبر دینی تھی تم دونوں کو، یوں سمجھو ہم منزل کے ایک قدم قریب پہنچ چکے ہیں" جبران نے مسکراتے ہوئے کہا تو انہوں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا
"کیا مطلب، ہم کچھ سمجھے نہیں" مظہر کی حیرت دو چند ہوئی تھی ناجانے وہ کیا زومعنی باتیں کر رہا تھا
"سانو غائب ہے، یا یوں کہوں کے شاید وہ آئی ایس آئی کے ہاتھ لگ چکا ہے" جبران کی پرسوچ نظریں سامنے ٹکی ہوئیں تھیں، ذین حیرت سے اس شخص کو دیکھ رہا تھا جو اپنے سب سے قریبی شخص کو مشکل میں دیکھ کر بھی پرسکون تھا، اس نے جتنا اسے بتایا تھا بات اتنی سادہ نہیں تھی، ضرور کچھ چھپا ہوا تھا
"کیا، مطلب کیسے، ہمیں تو انہیں یہاں لے کر آنا تھا ناں؟ تو وہ خود کیوں پکڑا گیا؟" مظہر ایک دم بولا مگر پھر ذین کو دیکھ کر بات بدلتے بولا
"پلان تو یہی تھا، مگر سانو نے شاید کچھ اور سوچا ہوگا تب ہی وہ ان کے ہاتھ لگ گیا، ورنہ اسے پکڑنا آسان نہیں تھا" جبران کی لہجہ عجیب سی پراسراریت لیے ہوئے تھا
"ہممم، جو بھی کرنا ہے جلدی کرو، میں جلد از جلد یہ کام پورا کرنا چاہتا ہوں" ذین کی بےزار آواز پر جبران نے اسے گھورا
"ہاں، فکر مت کرو بہت جلد معاملہ نبٹ جائے گا" جبران آہستہ سے کہتے دوبارہ اسی راستے پر چل دیا جہاں سے آیا تھا
وہ دونوں بھی وہاں سے نکلتے ہوئے اپنے ہوٹل کی طرف بڑھ گئے، رات کا پہر تھا ہر کوئی پرسکون نیند سو رہا تھا جب ہوٹل کے اسی کمرے میں دو سائے نظر آئے، یوں لگتا تھا جیسے کوئی گہرا رازو نیاز ہورہا ہو
"رام مجھے پوری بات بتاو، تم اتنے پرسکون کیوں ہو؟" مظہر اس وقت جبران کے سامنے کھڑا پوچھ رہا تھا
"کیونکہ میں نے ہی سانو کو پکڑوایا ہے، سانو جانتا تھا آئی ایس آئی ایجینٹس اس کا پیچھا کر رہے ہیں" رام کی بات پر مظہر عرف رادھو کے ماتھے پر بل گہرے ہوئے تھے
"مگر کیوں، تم جانتے ہو ناں وہ اس کا کیا حال کریں گے" مظہر ابھی طرح جانتا تھا آئی ایس آئی کے ہاتھ لگنے کا کیا مطلب تھا
"فکر مت کرو، سانو انہیں اپنے جال میں پھنسا کر یہاں لائے گا، اور آگے سے ان کا سامنا ہوگا ذین سے، جب ایک پاکستانی، وہ بھی ایک فوجی کے بیٹے کو اپنے مقابل دیکھیں گے تو ان کے قدم ڈگمگائیں گے، جس کا فائدہ اٹھا کر ہم انہیں دبوچ لیں گے، اور ذین کو ان کی جگہ آئی ایس آئی میں شامل کریں گے، اور پھر ذین بنے گا وہ مہرہ جو پاکستان کی بربادی کی وجہ بنے گا" رام کی مکروہ آواز پر مظہر نے قہقہ لگایا تھا
جبکہ اپنے بستر پر بےفکری کی نیند سوتا ذین سوچ بھی نہیں سکتا تھا کے اس کا دوست اصل میں کون ہے، اور اس کی ذات کو کس طرح استعمال کیا جارہا ہے، مگر رام یہ نہیں جانتا تھا کے آئی ایس آئی والوں کو اگر ملک کی خاطر سگے باپ کا بھی گلا کاٹنا پڑے تو وہ چوکتے نہیں ہیں
ناجانے ذین کی زندگی کیا موڑ لینے والی تھی، کیا وہ راہِ راست پر آنے والا تھا یا دشمنوں کے ہاتھوں کھلونا بند کر آئی ایس آئی کا شکار ہونے والا تھا، قسمت آہستہ آہستہ اپنے اوراک پلٹ رہی تھی جس میں کچھ نیا آنے والا تھا
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک جہاں میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
آج حریم کی کلاس کی پہلی فلائیٹ تھی، حالانکہ وہ انجئینرز تھے مگر ہر شعبے میں فلائیٹ لازمی ہوتی ہے سو آج ان کی بھی پہلی فلائیٹ تھی، ان کے ساتھ ایویشن کے سٹوڈینٹس بھی تھے اور سب لوگوں میں سے دو دو لوگوں کو ایک ساتھ رکھا گیا تھا
قسمت سے حریم اور موحد کو ایک ٹیم میں رکھا گیا تھا، موحد فائیٹر پائلیٹ کی ٹرینگ کر رہا تھا سو ان میں سے پہلے موحد اپنے ہیڈ انسٹرکٹر کے ساتھ فلائیٹ کے لیے گیا تھا، اور اسکے بعد حریم
جیٹ میں سوار ہوتے وقت حریم کے احساسات بہت عجیب تھے، ایک عجیب سا خوف تھا جو اسے لپیٹ میں لیے ہوئے تھا، اس نے ارتضی کو نہیں بتایا تھا کے آج اس کی فلائیٹ ہے، کیونکہ اگر ارتضی اس سے ملنے آتا تو وہ اپنے ارتضی کی ڈرپوک حریم بن جاتی جو ہر مشکل میں اس کی پناہوں میں چھپنے کی جگہ ڈھونڈتی تھی
"حریم، یو کین ڈو اٹ، ڈرو مت کچھ نہیں ہوگا" موحد شاید اس کے چہرے کے تاثرات سے سمجھ گیا تھا کے وہ ڈر رہی ہے،
"ہممم " ایک گہرا سانس کھینچتے وہ جیٹ میں بیٹھی، جیٹ میں بیٹھتے اس نے اپنی توجہ فلائیٹ کی جانب مبذول کی، اس کے ہاتھوں میں لرزش تھی، انسٹرکٹر کے کہنے پر اس نے اس کی بتائی ہدایات پر عمل کرنا شروع کیا
ہواوں میں آتے اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ ایک نئی جگہ پر آگئی ہو، ایک نیا جہاں، جو سب سے الگ تھا، بادلوں کو قریب سے دیکھتے وہ الگ ہی محسوسات کا شکار ہورہی تھی، اب اسے سمجھ آیا تھا کے ان فضاوں سے عشق کیا چیز ہوتی ہے
اسے خود میں بہت سی تبدیلیاں محسوس ہورہی تھیں، اس کا دل چاہ رہا تھا یہیں انہیں فضاوں میں اڑتی رہے، آخر وہ کیوں ناں عشق کرتی ان فضاوں سے، ان سے اس کا رشتہ بہت گہرا تھا، یہ وہی آسمان تھا جہاں کبھی اس کا باپ سانسیں لیتا تھا، جو اس کے باپ کی رگوں میں خون کی ماند بہتے ہوئے عشق کی معراج تھا
اور ارتضی، اس کا ارتضی بھی تو ان ہی ہواوں کا دیوانہ تھا، وہ بھی اپنا تن، من، دھن سب کچھ ان پاک فضاوں پر قربان کرنے پر تیار تھا تو پھر وہ کیوں ناں کرتی عشق ان فضاوں اور ہواوں سے، سارا ڈر، سارا خوف کہیں دور جاسویا تھا، اس وقت وہ خود کو عباد اور ارتضی کی بانہوں میں محسوس کر رہی تھی
فلائیٹ لینڈ ہوئی تو وہ نیچے اتری، اسے ایک دم سے چکر آیا تھا، اس سے پہلے کے وہ گرتی موحد جلدی سے اسے تھام چکا تھا، فریحہ نے کمینی سی مسکراہٹ لیے اس منظر کو دیکھا تھا، دیکھا تو ارتضی نے بھی تھا، ایک سلگتی ہوئی نگاہ سامنے نظر آتے منظر پر ڈال کر وہ واپس مڑا
حریم کی سامنے نظر اٹھی تو ارتضی مڑتا ہوا نظر آیا، وہ ایک دم سیدھی ہوئی، سر کو دیکھا جو کلاس ختم ہونے کا کہہ رہے تھے وہ اجازت ملتے ہی ارتضی کے پیچھے بھاگی
"ارتضی، ارتضیٰ" حریم نے اسے آواز دے کر روکنا چاہا مگر وہ وہاں سے نکل کر اپنے آفس آگیا،
ارتضی کو کچھ دیر پہلے کا وقت یاد آیا، وہ اپنے آفس میں بیٹھا کام کر رہا تھا جب ائیر کرافٹ مین وہاں آیا، اس کے ہاتھ میں کوئی کاغذ تھا جو اس نے ارتضی کے حوالے کیا اور چلا گیا
"ایویشن کیڈٹ حریم ارتضی کی فرسٹ فلائیٹ ہے اور کمانڈر ارتضیٰ ولید حیدر اس کے پاس موجود نہیں ہیں، یہ تو اچھی بات نہیں، اگر اپنی بیوی کو پہلی بار ہواوں میں اڑتا دیکھنا چاہتے ہیں تو آجائیں، وہ آپ کو بتانا تو نہیں چاہتی تھی مگر مجھے لگا آپ کو معلوم ہونا چاہیے" کاغذ پر لکھی تحریر پڑھتے وہ بھاگنے کے انداز میں وہاں سے نکلتا رننگ ٹریک پر آیا تھا
مگر سامنے کا منظر دیکھ اسے شدید غصہ آرہا تھا، پہلے اسے غصہ حریم کا اسے اپنی فلائیٹ ہے بارے میں ناں بتانے پر تھا اور دوسرا موحد کا اسے چھونے پر، وہ تو اپنی پرچھائی کو بھی اجازت نہیں دیتا تھا حریم کو دیکھنے یا چھونے کی تو کسی اور کو کیسے برداشت کر سکتا تھا، وہ آفس میں آکر غصے سے ٹہلنے لگا
"ارتضی،" حریم اس کے قریب آتے بولی، اسے پتا تھا وہ اس کے ناں بتانے پر ناراض ہوگا
"ارتضی، آئی ایم سوری، مجھے معاف کر دیں، مجھے آپ کو بتانا چاہیے تھا" حریم اس کے بازو پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی
"نہیں حریم، آپ سوری کیوں بول رہی ہیں، میں اتنا اہم نہیں ہوں کے مجھے اس بارے میں بتایا جاتا" سنجیدہ ترین آواز میں بولتے وہ اسے رونے پر مجبور کررہا تھا
"ارتضی پلیز، ایسا مت بولیں، میں جانتی تھی آپ کو دیکھ کر میں صرف آپ کی حریم بن جاوں گی، جو کانٹا تک چبھنے پر روتے ہوئے آپ میں پناہ ڈھونڈتی ہے، مگر آج مجھے سٹرونگ بننا تھا، اسی لیے میں نے آپ کو نہیں بتایا ورنہ آپ وہاں آجاتے" حریم آہستہ سے اس کے سینے سے لگ گئی جانتی تھی یہاں آکر ارتضی کی ساری ناراضگی ختم ہوجائے گی
اور ایسا ہی ہوا تھا، ارتضی اسکا احساس محسوس کرتے ہی ساری ناراضگی، سار غصہ بھول گیا تھا، وہ اس کی حریم تھی، اس کی پرنسس، جس سے ناراض رہنا ناممکن تھا
"دوبارہ چاہے کچھ بھی ہو، آپ مجھ سے کچھ نہیں چھپائیں گی، اوکے؟" ارتضی آہستہ سے اس کے گرد حصار باندھتے اس کے سر پر ٹھوڑی رکھتے ہوئے بولا
"پرامس،" حریم آہستہ سے آنکھیں بند کرتے بولی، وہ سب کچھ برداشت کر سکتی تھی مگر اپنے ارتضی کی ناراضگی ہرگز برداشت نہیں کر سکتی تھی
"آپ کو پتا ہے ارتضیٰ، آج جب میں وہاں اوپر فضاؤں میں تھی ناں، تو مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میں بابا کے بہت پاس ہوں، وہ مجھے دیکھ کر مسکرا رہے تھے " وہ آنکھیں بند کیے ہی اسے اپنے محسوسات بتا رہی تھی
"آپ کو پتا ہے ایسا کیوں محسوس ہورہا تھا آپ کو؟" ارتضی نے اس کو اپنے سامنے کرتے ہوئے پوچھا، جس پر وہ آنسو جھپکتے نفی میں سر ہلا گئی
"کیونکہ ماموں کو عشق تھا پاک فضاوں سے،وہ زمین سے زیادہ وہاں رہنا پسند کرتے تھے،ان کا عشق جاوداں تھا، تب ہی تو وہ عشق ان سے ہم میں آیا ہے، یہ کیسے ممکن ہے کے ان کے خون میں دوڑتا عشق آپ کے خون میں منتقل ناں ہوتا" ارتضی اس کے ماتھے پر اپنی محبت کی مہر سجاتے بولا
"انہوں نے اپنے عشق پر اپنا آپ قربان کر دیا ارتضی، کیا انہوں نے ایک بار بھی ماما اور ہمارے بارے میں نہیں سوچا؟" آنکھوں میں آنسو لیے وہ بچوں جیسی معصومیت لیے بولی
"ایک بات یاد رکھیے گا پرنسس، عشق وہ ہوتا ہے جس میں اپنی ذات بھی فراموش کر دی جاتی، اینی مم اور آپ دونوں ماموں کی زندگی کا لازمی جزو تھے، ان کا دل تھے مگر جہاں بات عشق کی ہو وہاں باقی سب ثانوی ہوجاتا ہے" ارتضی نہیں چاہتا تھا وہ ایک لمحے کے لیے بھی عباد کو غلط تصور کرتی
"تو کیا ہر عاشق ایسا کرتا ہے، کیا اگر کبھی آپ کو اپنےعشق اور مجھ میں سے کسی ایک کو چننا پڑا تو آپ اپنے عشق، ان پاک فضاوں کو چنیں گے؟" ناجانے کس رو میں بہہ کر حریم آنکھوں میں امید لیے اس سے پوچھ بیٹھی
"میرا معاملہ ماموں سے تھوڑا سا مختلف ہے، کیونکہ میں نے ایک نہیں دو دفعہ عشق کیا ہے، ایک دفعہ ان فضاوں سے اور ایک بار آپ سے، میرے لیے کسی ایک کو چننا بہت مشکل ہے، ہاں مگر اگر کبھی آزمائش کا لمحہ آیا تو میرا انتخاب یہ پاک فضائیں ہوں گی، کیونکہ آپ کو تو میں وہاں جاکر پالوں گا جہاں ہم کبھی نہیں بچھڑیں گے، مگر یہاں اس دنیا میں اگر اپنے فرض میں کوتاہی کر گیا تو آپ کو وہاں بھی نہیں پاسکوں گا" محبت سے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر اسے سمجھایا
اور یہی تو حق تھا، اگر وہ حریم کے عشق کو اس دنیا میں چن کر وطن سے بےوفائی کر لیتا تومر کر اللّٰہ کے ہاں کس منہ سے حریم کا ساتھ مانگتا،لیکن اگر وطن سے وفا نبھاتے امر ہوجاتا تو حق سے آخرت میں اس ابدی زندگی کے لیے حریم کا عشق پا لیتا
@@@@@@@@@@
سویٹی حسال کے ساتھ نیچے آئی تو نیچے تقریبا سب مہمان آچکے تھے، ڈیزنی کے تھیم میں وہ سب لوگ بہت اچھے لگ رہے تھے، سویٹی کے لیے یہ سب ایک حسین خواب جیسا تھا، ایسا نہیں تھا کے اس کی سالگرہ پہلے دفعہ منائی جارہی تھی
وہ ان دونوں خاندانوں کا سب سے لاڈلا بچہ تھی، ہر سال یہ دن اسی طرح بہت دھوم دھام سے منایا جاتا تھا مگر اس سال پہلے حوزان کا سرپرائز اور پھر یہ سرپرائز وہ بہت زیادہ خوش تھی، اپنا خوبصورت یلو فراک سمبھالتی وہ بڑوں کے پاس آئی تھی
"واووو، ماما بابا آپ دونوں بہت پیارے لگ رہے ہیں" شاہ زیب اور آب کو سنو وائیٹ اور اسکے پرنس کے گیٹ اپ میں دیکھ کر وہ پُرجوش سی بولی، آب نے ان سب کے اصرار پر بامشکل وہ ڈریس پہنا تھا، کہنے کو وہ جوان بچوں کی ماں تھی مگر پھر بھی وہ ویسی ہی تھی کیوٹ اور پیاری سی، شاہ زیب کو دیوانہ بناتی ہوئی
"ایسے اچھا لگتا ہے بھلا، اس عمر میں؟" آب شرمندہ سی ہوتے ہوئے بولی، وہ بار بار اردگرد دیکھ رہی تھی
"اوفو ماما، کیا ہوا آپ کی عمر کو، مجھ سے بس ایک دو سال بڑی لگتی ہیں آپ، اور میرے بابا تو ابھی بھی آپ پر فدا ہیں" سویٹی شرارتی سی مسکراہٹ سجائے بولی،اسکی بات پر سب بڑوں کے لبوں پر مسکراہٹ دوڑی تھی
"سویٹی!" آب نے جھنپتے ہوئے اسے گھورا، حالانکہ سویٹی نے کچھ غلط نہیں کہا تھا
"دیکھیں میری پھوپھو اور ذیشان بابا کتنے اچھے لگ رہے" سویٹی نے دلکش اور ذیشان کے گلے میں بازو ڈال کر کہا دلکش جو پرپل ارورا کے ڈریس میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی جبکہ ذیشان نے وائٹ شرٹ پر بلو جیکٹ پہنی تھی
"ہم تو بھئی ایور گرین کپل ہیں" ذیشان مصنوعی کالر جھاڑتے ہوئے بولا، جس پر سویٹی نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی تھی
" تایا جان، تائی اماں آپ دونوں بھی بہت پیارے لگ رہے ہیں" سویٹی مشک اور شاہ زر کے گلے لگتے ہوئے بولی
" ہماری پرنسس بھی بہت اچھی لگ رہی ہے" شاہ زر نے محبت سے اس خوبصورت سی پری کو دیکھا تھا
"ویسے بیوٹی یہاں ہے، مگر تمہارا بیسٹ ابھی تک نہیں آیا" ذیشان نے دروازے کی طرف دیکھتے اسے چھیڑا
"بیوٹی ہو لیکن اسکا بیسٹ ناں ہو یہ کیسے ہو سکتا ہے بابا؟" پیچھے سے آتی آواز پر وہ سب اس طرف مڑے تھے
پرنس کے ڈریس میں وہ بہت اچھا لگ رہا تھا، سویٹی یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا، حوزان کی نظر سویٹی پر پڑی تو وہ بھی ساکت پوا تھا، بیوٹی کے ڈریس میں وہ سچ مچ کی بیوٹی لگ رہی تھی
اس کے آنے کے کچھ ہی دیر بعد کیک کاٹا گیا، انہوں نے خوشگوار ماحول میں کیک کاٹا، اب وہ سب لوگ فوٹو سیشن کر رہے تھے، بہرام نے باری باری سب جوڑیوں کی تصویریں بنائی تھیں، حوزان نے بہرام اور حسال کی تصویریں بنائیں
اس کے بعد صرف سویٹی اور حوازن رہ گئے تھے، مہمان سارے تقریباً جاچکے تھے اچانک بہرام شاہ زیب کے بلانے پر دوسری طرف ان کے پاس چلا گیا، کیمرہ حسال نے تھام لیا، اس نے انہیں سیدھا ہونے کے لیے کہا حوزان ایک دم اس کی طرف مڑتے اسے کمر سے تھام کر اپنی طرف کھنیچ گیا
حسال نے ان کی تصویر بنا دی، حوزان نے اسے سامنے کھڑا کرتے خود نیچے جھکا تھا، اسی طرح مختلف پوز بنا بنا کر تصویریں بنائیں، کافی دیر بعد وہ لوگ بھی باقی سب کے پاس چلے گئے
"ہاں ہیلو، بہادر خان، کیا خبر ہے؟" بہادر خان جو حوزان پر نظر رکھے ہوئے تھا گوہر خان کے فون کرنے پر متوجہ ہوا
"خان، یہاں خانم کے گھر پارٹی ہے، سننے میں آیا ہے کے آج خانم کی سالگرہ ہے" اس نے باہر سے گزرتے مہمانوں کی باتوں سے اندازہ لگاتے گوہر خان کو بتایا
"ہمممم، تو آج ہماری خانم کا جنم دن ہے، ہم جا تو نہیں سکے مگر ہماری طرف سے پھول لے کر انہیں بھجوا دو" گوہر خان نے کچھ سوچتے ہوئے بہادر خان کو حکم دیا
"جو حکم خان، کام ہوجائے گا" بپادر خان فون بند کرتے ایک فلاور شاپ پر گیا، وہاں سے پھولوں کا خوبصورت گلدستہ لے کر وہیں سے شاپ کیپر سے کارڈ پر گوہر خان لکھوایا اور لے کر شاہ زیب ولا آگیا
اس نے گارڈ کو پھول پکڑا کر سویٹی کو دینے کے لیے کہا، گارڈ اندر آیا تو وہ سب لوگ اندر جاچکے تھے اسے کچھ دور سویٹی فون پر بات کرتے نظر آئی، گارڈ نے جاکر پھول اسے پکڑائے، سویٹی نے آنکھ کے اشارے سے پوچھا تو گارڈ نے بتایا کے ایک آدمی دے کر گیا ہے
"گوہر خان " فون بند کرتے اس نے کارڈ اتار کر دیکھا تو اس پر لکھا گوہر خان کا نام دیکھتے اس کا دل ڈوبا تھا وہ شخص اس حد تک آگیا تھا،وہ وہیں ساکت کھڑی تھی جب حوزان نے آکر اس کے ہاتھ سے وہ کارڈ اچک لیا
"گارڈ، گارڈ" کارڈ پرھ کر حوزان نے گارڈ کو بلایا
"جی صاحب؟" گارڈ اس کے سامنے آکر رکا
"یہ کون دے کر گیا؟" حوزان نے سرد آواز میں پوچھا
"صاحب ایک آدمی آیا تھا وہی دے کرگیا چھوٹی بی بی کے لیے" گارڈ کی بات پر حوزان نے مٹھیاں بینچیں
"اوکے آپ جائیں" گارڈ کو بھیج کر وہ سویٹی کی طرف مڑا جو زرد چہرہ لیے کھڑی تھی
"سویٹی، میری جان پریشان مت ہوں، میں سنبھال لوں گا سب کچھ" آہستہ سے اسے تھام کر گلے لگاتے حوصلہ دیا تھا
@@@@@@@@@
سانو کو قید کیے انہیں دوسرا دن تھا، مگر وہ زبان کھولنے کو تیار نہیں تھا، لیپرڈ نے اس پر بہت سختی کر کے دیکھ لی تھی مگر وہ شاید کسی ڈھیٹ مٹی سے بنا تھا، تب ہی اس کی زبان کچھ بھی بولنے پر راضی نہیں تھی
"میں تم سے آخری بار پوچھ رہا ہوں سانو، جبران کہاں ہے؟ اگر اب تمہاری زبان نہیں کھلی تو تمہیں مارخورز کا اصل چہرہ دیکھنا پڑے گا" لیپرڈ کی آواز اتنی سرد تھی کے سانو کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ محسوس ہونے لگی تھی
"میں، نہیں بتاوں گا" سانو کا چہرہ مار کھا کھا کر لہو لہوہاں ہوچکا تھا مگر وہ بولنے کو تیار نہیں تھا
"سر اگر آپ کی اجازت ہو تو میں بات کرنا چاہوں گی اپنے مہمان سے" سوان کی آواز پر لیپرڈ نے مڑ کر اسے دیکھا
"ہاں ہاں کیوں نہیں، آئی ناں، زرا انہیں پاکستانی کی بیٹیوں کی طاقت دکھائیں" لیپرڈ پیچھے ہوا تو سوان بازو اور ہاتھوں کو سیدھا کرتی اس کے پاس آکر بیٹھی
"کیا چاہتے تھے تم لوگ؟ پاکستان کی جڑوں کو کھوکھلا کرنا تھا ناں، ہممم چلو آج تمہیں پاکستان کی طاقت کا چھوٹا سا نمونہ دکھاتی ہوں" سوان نے کہتے جیب سے چھوٹا سا چاقو نکالا لیپرڈ کو اشارہ کیا تو وہ نمک اور برف لے آیا
سوان نے سانو کا ہاتھ تھام کر گہرا کٹ لگایا، اس کا ہاتھ دو سطحوں میں بٹ گیا تھا سانو کی چیخوں سے وہ کمرہ گونج اٹھا تھا مگر بیسمینٹ ہونے کی وجہ سے کوئی فائدہ نہیں ہوا، سوان نے ان دو حصوں کے درمیان اطمینان سے نمک بھرا
کٹی ہوئی جگہ پر نمک کی جلن سے سانو بلبلا اٹھا تھا، سوان نے یہیں بس نہیں کیا، اس کا ہتھ الٹا کر کے برف بر رکھ کر دبا دیا، چوٹ پر نمک کی جلن اور برف کی جلن مل کر اس کی روح فنا کر ہی تھی
" بولو، کہاں ملے گا جبران؟" سوان نے سرد انداز میں پوچھا، سانو تکلیف سے دوہرا ہورہا تھا، مگر اسے اس درد سے نجات کی راہ نظر نہیں آرہی تھی
"نہیں بتاو گے، ہممم ٹھیک ہے، ویسے مجھے بھی مزہ آرہا تھا، کیا خیال ہے کیوں ناں تمہاری آنکھ نکال کر وہاں بھی ایسے ہی نمک بھر دوں؟" اس کے دوسرے ہاتھ پر بھی وہی عمل دہراتے اسے ڈرایا تھا سانو مسلسل چیخ رہا تھا
"چلو کرتے ہیں" سوان نے کہتے چاقو اس کی آنکھ کی طرف بڑھایا، جیسے جیسے چاقو کا آنکھ سے فاصلہ کم ہورہا تھا سانو کی جان لبوں پر آرہی تھی
"بتاتا ہوں، بتاتا ہوں یہ مت کرو پلیز" سانو جلدی سے بولا تھا، جب اسے سب بتانا ہی تھا تو اپنی جان پر ظلم کیوں سہتا، سو سب کچھ بتانا ہی ٹھیک سمجھا
"تم سے مل کر اچھا لگا سانو، دوبارہ نہیں ملیں گے، جہنم میں مزے کرنا، گڈ بائے" اس کی بات ختم ہوتے ہی سوان نے اپنا تیز دھار چاقو زور سے اس کے سر میں مارا تھا، جو اس کا دماغ چیر گیا تھا،
یہ وہ گھٹیا لوگ تھے جو پاکستان کی طرف میلی نگاہ سے دیکھتے تھے، درحقیقت تو یہ لوگ اپنے ملک تک کے سگے نہیں ہوتے تو کسی اور کے کیسے ہو سکتے ہیں، ان جیسے ناسوروں کو ختم کرنا کی بہتر ہوتا ہے
ایک بار پھر راوی میں چین ہی چین لکھا گیا تھا، مجتبی واپس جاچکا تھا، حرم اور پرنیاں ہوسپٹل میں مصروف ہوگئی تھیں، حرم اپنے مریضوں کے ساتھ مصروف تھی،تھوری فراغت ملی تو اسے یاد آیا کے کچھ دن بعد ان کے نکاح کی اینورسری آنے والی تھی
وہ اپنے کیبن سے نکل کر پرنیاں کے کیبن کی طرف بڑھی، دروازہ کھول کر اندر آئی تو پری ناجانے کن سوچوں میں گم چئیر پر بیٹھی تھی، حرم حیرت سے اسے دیکھتی اندر آئی
"پری" اس کے ٹیبل کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھتے اسے مخاطب کرتے ہوئے بولی
"پری" پرنیاں کو متوجہ ناں ہوتے دیکھ کر حرم نے ٹیبل بجایا جس پر پرنیاں ہوش میں آئی
"ہاں ، کیا ہوا؟" ہڑبڑاتے ہوئے سیدھی ہوئی اس کے چہرے پر بکھرے سوچوں کے جال حرم سے پوشیدہ نہیں رہ سکے تھے، آخر وہ اس کی بیسٹ فرینڈ تھی ان میں کبھی کوئی راز نہیں رہا تھا
"کیا بات ہے پری؟ تم پریشان لگ رہی ہو؟" حرم نے میز پر دھرے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر پوچھا
"پتا نہیں حرم،ایک عجیب سی بےچینی ہے جو مجھے اندر سے کھا رہی ہے، ایسا لگتا ہے جیسے کچھ برا ہونے والا ہے، پتا نہیں کیوں؟" پرنیاں نے اپنے دل میں پلتے وہم حرم کو بتائے
"تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے ناں؟ نیند پراپر لے رہی ہو؟" حرم کو لگا تھا جیسے اسے کوئی طبعی مسئلہ ہے
"سب ٹھیک ہے یار،مگر میری چھٹی حس بار بار کچھ غلط ہونے کا اشارہ دے رہی ہے، جیسے میرا کوئی بہت پیارا مجھ سے دور ہورہا ہو، مجھے بہت ٹینشن ہورہی ہے،اللہ میرے بھائیوں اور بابا لوگوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھے" پرنیاں کا چہرہ دیکھ کر یوں محسوس ہورہا تھا جیسے وہ اب روئی یا تب
"اچھا اچھا سوچو پری میری جان، یہ سب زیادہ سوچنے کا نتیجہ ہے، تم مجتبی اور ارتضیٰ کو فون کر لیتی" حرم نے اس کا ہاتھ دباتے اسے سمجھایا پری کی باتوں پر اس کا اپنا دل ہولنے لگا تھا
"ہاں میں نے تھوڑی دیر پہلے ہی ان دونوں سے بات کی ہے" پری کی فکر کم نہیں ہوئی تھی،یہ کوئی الگ ہی احساس تھا جو اسے کچوکے لگارہا تھا
"بس پھر سب کچھ اللّٰہ پر چھوڑ کر خود کو پرسکون کرو،گہرا سانس لو" حرم نے مسکراتے ہوئے اسے کہا جس پر وہ اثبات میں سر ہلا گئی
"تم یہاں آئی تھی اس وقت خیریت؟" پری کچھ بہتر ہوئی تو اسے یاد آیا کے وہ دونوں اس وقت کہاں ہیں
"ہاں وہ میں تمہیں یاد کروانے آئی تھی کے دو دن بعد ہمارے نکاح کی پانچویں سالگرہ آرہی ہے، میں چاہ رہی تھی اس بار ہم لوگ کوئی سرپرائز پلان کرتے ہیں" حرم کے بتانے پر اسے ایک پل میں وہ دن یاد آیا تھا جب ان کا نکاح ہوا تھا
ویسے تو بچپن سے ہی سب بڑوں کے منہ سے وہ اپنا اور زین کا نام ایک ساتھ سنتی آئی تھی،مگر کبھی اس سب کی طرف دھیان نہیں دیا، ایسا نہیں تھا کے وہ زین کو ناپسند کرتی تھی بس وہ اپنے سارے جذبات اپنے محرم کے لیے رکھنا چاہتی تھی
نکاح سے دو دن پہلے ولید اور سویرا اس کے کمرے میں آئے، وہ حسبِ معمول کتابوں میں غرق تھی، اس کا جنون تھیں اس کی کتابیں، کورس کی کتابوں کے علاوہ وہ ہر قسم کی کتابیں شوق سے پڑھتی تھی
"پری، میرا بچہ آپ فری ہو؟" ولید کی آواز پر اس نے کتابوں سے سر اٹھایا اور مسکرا دی
"جی بابا، آئیں ناں" پری کتابوں کو سائیڈ پررکھتے بولی
"پری بیٹا، آج آپکے بابا آپ سے کچھ مانگنے آئے ہیں، امید ہے ہماری بیٹی ہمیں مایوس نہیں کرے گی" سویرا کو دیکھتے ولید نے تمہید باندھی
"بابا آپ مانگیں مت حکم کریں، آپ کی بیٹی آپ کے لیے ہنستے ہنستے جان بھی دے دے گی" ولید کے گرد بازو پھیلاتے پری لاڈ سے بولی
"اللّٰہ آپ کو لمبی زندگی دے میری جان، آپ کی اینی مم آپ کا اور زین کا نکاح کرنا چاہتی ہیں، آپ کیا چاہتی ہیں؟" ولید اس کے بالوں پر شفقت بھرا بوسہ دیتے بولا
پرنیاں کچھ لمحے خاموش ہوگئی تھی، یہ سچ تھا کے وہ دماغی طور پر اس سب کے لیے تیار تھی، مگر اس طرح اچانک پوچھنے پر وہ چپ ہوگئی، اس کی زندگی کے ہر فیصلے کا اختیار ولید اور سویرا کے پاس تھا
"بولو بیٹا، آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں، میں انہیں ہاں بول دوں؟" ولید نے سر جھکا کر اس کا چہرہ دیکھنا چاہا
"بابا جیسے آپ ٹھیک سمجھیں،مجھے کوئی اعتراض نہیں" آہستہ سے کہتے وہ سر جھکا گئی
"جیتی رہیں میرا بچہ، اللّٰہ آپ کو ڈھیروں خوشیاں دے" اس کے ماتھے کو چومتے دعا دی سویرا باپ بیٹی کے محبت بھرے مظاہرے پر مسکرا دی
اور پھر دو دن بعد ان سب کا نکاح کر دیا گیا تھا، اس نے پورے دل سے اپنا آپ زین کے نام کر دیا تھا، اور اس دن کے بعد سے اس کا ہر جذبہ، ہر احساس صرف زین کے لیے تھا
"پری، کہاں کھو گئی؟" ایک بار پھر حرم کی آواز اسے حال میں واپس لائی تھی
"کچھ نہیں، تم دیکھ لو کیا کرناپھر مجھے بتا دینا" زین تو یہاں تھا ہی نہیں سو وہ یہ کس لیے کرتی، اسی لیے بےدلی سے بولی
"ہممم اب تو تم ایسے ہی کہو گی، زین بھائی جو یہاں نہیں ہیں، پتا نہیں کب واپس آتے، اور اس بار تو ناجانے مجتبی کو بھی چھٹی ملتی ہے یانہیں،" حرم کو یاد آیا کے کچھ دن پہلے ہی تو مجتبی ڈیوٹی پر گیا تھا
"چلو تم کام کرو میں چلتی ہوں" مریض کو اندر آتادیکھ حرم وہاں سے اٹھ کر اپنے کیبن کی طرف آگئی، وہ ایک فوجی کی بیوی تھی سو اسے اپنی خوشیوں سے پہلے اپنے شوہر کے فرض کا خیال رکھنا تھا
ان کی زندگیوں میں خوشی مسلسل تھی اور ناں غم دائمی، اپنے اپنے فرض نبھاتے وطن کی محبت کو سینے سے لگائے وہ سب زندگی کا مدار طے کر رہے تھے، آنے والا وقت ان کے لیے کے لیے کچھ نئے غم، کچھ نئی آزمائشیں لارہا تھا جس سے انجان وہ سب چین سے جی رہے تھے
@@@@@@@@@
سویٹی کی برتھڈے کو گزرے تین دن ہوچکے تھے، سب لوگ ایک بار پھر اپنے اپنے معمول پر آگئے تھے، بہرام اور حسال آفس جانا شروع کر چکے تھے، بہرام پچھلے کچھ دنوں سے حسال کو اپنے ساتھ آفس لے کر جاتا تھا جس پر سب سے زیادہ تکلیف فلک کو ہورہی تھی
آج صبح بھی وہ دونوں ایک ساتھ آفس میں داخل ہوئے تو کئی نظریں بےساختہ ان کی طرف اٹھی تھی، کچھ میں ستائش تھی تو کچھ میں جلن، اور دو آنکھیں ایسی بھی تھیں جن میں حسد اور نفرت کی آگ جل رہی تھی، فلک نے مٹھیاں بینچتے انہیں اپنے سامنے سے گزرتے دیکھا
"مس حسال، ایک کپ کافی اور سیف انٹر پرائزز کی فائل میرے ٹیبل پر دے کر جائیں" حسال اپنے ٹیبل کی طرف بڑھی تو بہرام اسے مخاطب کرتے بولا
"ایک تو یہ سہی کافی کے نشئی ہیں، ہر آدھے گھنٹے بعد ان کو کافی چاہیے ہوتی، اور آرڈر ایسے دیتے ہیں جیسے میں انکی بیوی ہوں" منہ بناتے کافی میکر کی طرف بڑھی ساتھ ہی ساتھ بڑبڑاہٹ بھی جاری تھی
"اگر یاد نہیں تو کروادوں، آپ بیوی ہی ہیں میری" بہرام جو اسے منہ بناتا دیکھ وہاں آیا تھا اس کی آخری بات سنتا اس کے کان کے قریب جھکتے بولا،وہ اس کے بولنے پر ایک دم سے ڈر گئی
"کیا کر رہے ہیں آپ، اگر میرا ہارٹ فیل ہو جاتا پھر؟" وہ دل پر ہاتھ رکھتے پلٹ کر بولی،
"آپ کا دل آپ کے پاس ہے؟" سنجیدہ سا چہرہ لیے اس کے قریب ہوتے سرگوشی کی تھی
"کیا کر رہے ہیں، ہم آفس میں ہیں، پلیز پیچھے ہٹیں" اسے اپنے اتنے قریب کھڑے دیکھ کر حسال سٹپٹائی تھی
"جلدی سے میری کافی بناکر دیں مسز بہرام خانزادہ" مسکرا کر اس کا شرم سے سرخ ہوتا چہرہ دیکھ کر پیچھے ہوا
حسال نے اسے کافی بناکر دی، سارا دن کام میں کیسے گزرا اسے اندازہ ہی نہیں ہوا، بہرام اور وہ دونوں مصروف انداز میں کام کر رہے تھے، ہوش تو تب آیا جب رات کے قریب چوکیدار نے آکر اس سے سب کے جانے کا بتایا
ان کا تھوڑا سا کام رہ گیا تھا سو اسے جانے کا کہہ کر وہ دونوں دوبارہ کام میں مصروف ہوچکے تھے، اچانک لائیٹ جانے پر وہ دونوں سیدھے ہوئے
"یہ، یہ لائیٹ کیسے چلی گئی" حسال کی خوفزدہ آواز پر بہرام سیدھا ہوا، اسے یاد آیا کے حسال کو اندھیرے سے ڈر لگتا ہے،
"ڈونٹ وری حسال، ابھی لائیٹ آجائے گی، پریشان مت ہو" بہرام نے اس کا ہاتھ تھام کر تسلی دی، اپنے موبائل کی ٹارچ آن کرتے اس کا خوف سے سفید پڑتا چہرہ دیکھا، کمرے میں صرف اس کے موبائل کی روشنی تھی
"حسال چلیں گھر چلتے ہیں، باقی کام کل کر لیں گے" اس کی حالت دیکھتے بہرام اپنا سامان سمیٹتے اٹھا، اس کا ہاتھ تھامے اسے ساتھ لیے باہر چل دیا، آفس کا دروازہ کھولنا چاہا جو باہر سے بند تھا،
اس نے بارہا دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر دروازہ کھل نہیں رہا تھا، آفس کی طرف واپس آیا، حسال کو وہاں بیٹھاتے شاہ زیب کو فون کرنا چاہا، مگر پھر اسے یاد آیا کے وہ سب لوگ تو گاؤں جاچکے ہیں
بہرام، حسال اور حوزان کے علاوہ باقی سب لوگ کمراٹ گئے تھے، انہیں بھی ایک دو دن تک جاناتھا، وجہ پلوشہ بیگم کی برسی تھی، اس نے سیکیورٹی گارڈ کو فون کیا مگر اس کا فون ان ریچ ایبل آرہا تھا۔ بہرام کو ایک دم پریشانی نے آگھیرا، ایک طرف حسال کی حالت اور دوسری طرف یہ سب حالات
بہرام نے موبائل ٹیبل پر رکھنا چاہا جب اس کا ہاتھ لگنے سے میز پر رکھا گلاس نیچے گرکر چکنا چور ہوگیا تھا، گلاس گرنے پر حسال ڈر کر پیچھے ہوئی تھی، مگر اس کے پیچھے کانچ کے ٹکڑے تھے، بہرام نے اس کی بازو تھام کر اسے اپنی طرف کھینچا، جس پر وہ اس کے چوڑے وجود کا حصہ بنی تھی
"دھیان سے حسال، ابھی کانچ چبھ جاتا" بہرام نے اس کے پاؤں کو دیکھنا چاہا، اسے پتا تھا اس نے نازک سی سینڈلز پہن رکھی ہیں
"ہم گھر کیسے جائیں گے؟ مجھے ڈر لگ رہا ہے"حسال کی کانپتی آواز پر وہ سمجھ چکا تھا کے وہ بےانتہا خوفزدہ ہے
اب ان کے پاس یہیں رات گزارنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا، حسال کو فلحال کوئی ہوش نہیں تھا، وہ بس اس کے ساتھ لگی کانپ رہی تھی، بہرام نے صوفے پر بیٹھنا چاہا مگر سامنے صوفے کی طرف جانے کے لیے جہاں سے گزرنا تھا وہاں کانچ بکھرا ہوا تھا
"حسال، چلیں وہاں کاوچ پر بیٹھ جاتے ہیں، کب تک کھڑے رہیں گے" بہرام نے اسے سیدھا کرنا چاہا جس پر وہ اسکا بازو تھام گئی
"حسال یہاں، میری طرف دیکھیں، کچھ بھی نہیں ہے، میں ہوں ناں آپ کے پاس، آئیں چلیں، میرے پیروں پر اپنے پیر رکھیں" بہرام نے اس کا چہرہ تھامتے کہا
"مگر" حسال نے حیرت سے اس کی بات سنی،
"جو کہہ رہا ہوں کریں، پاؤں رکھیں، " اس کے کہنے پر آہستہ سے حسال اس کے پیروں پر کھڑی ہوئی، بہرام نے اس کی کمر سے تھام کر اسے سہارا دیا، اور اسی انداز میں چلتا ہوا کاوچ کی طرف آیا
اس کے پاوں کے نیچے کانچ کے کئی زرے آئے تھے مگر مضبوط جوتا ہونے کی وجہ سے اس کے پاوں محفوظ تھے، اس نے حسال کو کاوچ پر بیٹھایا اور اس کے پاس بیٹھ گیا، کچھ ہی دیر میں حسال آہستہ سے اس کی بازو سے سر ٹکا گئی اس نے جھک کر دیکھا تو وہ سو چکی تھی، وہ اسے دیکھ کر مسکراتا خود بھی آنکھیں موند گیا
@@@@@@@@@
جبران، مظہر اور زین کو لے کر اپنے اڈے پر آیا تھا، یہ دہلی میں موجود ایک کھنڈر نما عمارت تھی، جہاں بظاہر کاٹھ کباڑ موجود تھا، مگر جب وہ لوگ اندر بڑھے تو جبران نے ہاتھ بڑھا کر ایک بٹن دبایا جس سے دیوار چاک ہوگئی
وہ لوگ اندر آئے تو یہ ایک جدید قسم کی لیب نما جگہ تھی، جہاں مختلف الماریاں بنی ہوئی تھیں، کمرے میں داخل ہوتے وہاں مختلف میز لگے ہوئے تھے جن پر کئی کمپیوٹر سیسٹمز رکھے ہوئے تھے
اس کے علاوہ کچھ چپس اور دوسری مشینیں بھی تھیں، زین حیرت سے اس کمرے کو دیکھ رہا تھا، اور سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کے جبران کا ان سب چیزوں سے کیا تعلق، اور کیا مقصد تھاانہیں وہاں لانے کا
"کیا ہوا؟ تم لوگ یہی سوچ رہے ہو ناں کے یہ سب کیا ہے؟اور میں تم لوگوں کو یہاں کیوں لایا ہوں؟" جبران کی آواز پر وہ دونوں اس کی جانب متوجہ ہوئے تھے
"یہ میرے بابا کا خواب تھا، وہ چاہتے تھے میں ایک انجینئر بنوں، اور نئی نئی ڈیوائسیز بنا کر ملک و قوم کا نام روشن کروں، یہ چپ دیکھو،" جذباتی انداز میں کہتے اس نے انہیں ایک چھوٹی سی چپ دکھائی
"یہ ایسی چپ ہے کے اگر اسے کسی کے جسم پر لگا دیا جائے تو یہ وہاں جاکر اس کے جسم کا حصہ بن جاتی ہے، اور ایک قسم کے ٹریکر اور ڈیٹیکٹر کا کام کرتی ہے، یہ ہمیں اس شخص کابائیو ڈیٹا دے دیتی ہے، جو ہماری لیسٹ میں موجود ہو" وہ دونوں اس چپ کو دیکھتے حیران ہوئے تھے
"کیا مطلب ڈیٹا کسطرح دیتی ہے؟ " اگر یہ چپ تھی تو صرف اس کا اندرونی سسٹم بتاتی، مگر بائیو ڈیٹایہ حیران کن بات تھی
"جینز، یہ جینز کو کوڈ کر کے ڈی این اے کے ذریعے اس انسان کے بارے میں سب بتا دیتی ہے، کیونکہ ہر انسان کا ڈی این اے انٹرنیشنل ڈیٹابیس میں موجود ہوتا ہے" جبران کی بات پر ان کی آنکھوں میں ستائش ابھری تھی وہ سچ میں بہت عقل مند تھا
"زین تمہیں یہ چپ لے کر، آئی ایس آئی کے سارے بڑے عہدے داروں میں انجیکٹ کرنی ہوگی،تاکے ہم اس شخص کو تلاش کر سکیں جس نے میرے بابا کو مروایا تھا" زین اب ان کے یہاں آنے کے مقصد کو سمجھا تھا
"مگر اسکے لیے ہمیں پہلے ان ایجینٹس کو ڈھونڈنا جن کا مجھے روپ لینا، مگر ابھی تک تم اس پر کچھ نہیں کر سکے" زین نے اسے یاد دلایا انہیں پکڑنے کی بجائے وہ اپنا آدمی ان کے حوالے کر کے سکون سے بیٹھا تھا
"فکر مت کرو، ہمیں انہیں نہیں ڈھونڈنا،بہت جلد وہ ہمیں ڈھونڈتے ہوئے یہاں آئیں گے، بلکل آتے ہی ہوں گے" مکروہ مسکراہٹ لیے وہ بول رہا تھا جب سسٹم الرٹ کی آواز پر متوجہ ہوا
"ہمارا ٹارگٹ آگیا، دھیان سے ہمیں ہر صورت انہیں ہرانا ہے" جبران کی آواز پر مظہر اور وہ چوکنا ہوئے تھے
"مگر یاد رہے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے، جب تک میں تمہارا کام نہیں کرتا تب تک انہیں قید رکھ کر پھر انہیں باحفاظت چھوڑ دینا" زین نے انہیں تنبیہ کی تھی، وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچنا چاہتا تھا
"ہاں بلکل، ہمیں بس انہیں پکڑنا ہے" جبران نے مظہر کو آنکھوں سے اشارہ کرتے کہا جسے سمجھتے وہ مسکرا دیا
تب ہی اس دیوار نما دروازے پر ہلچل ہوئی، کچھ ہی لمحوں بعد دیوار کھلی تھی، وہ سب لوگ ادھرادھر ہوتے چھپ چکے تھے، آنے والوں نے خود کو ٹیبل کی اوٹ میں کرتے ان کی طرف دھویں والے کیپسیول پھینکے تھے، اچانک پورے کمرے میں سفید دھویں کے مرغولے اٹھے تھے
تجھے دشمنوں کی خبر نہ تھی
مجھے دوستوں کا پتہ نہ تھا
تری داستاں کوئی اور تھی
مرا واقعہ کوئی اور ہے
جو دشمن سامنے نظر آتا ہے اس سے لڑنا آسان ہوتا ہے بانسبت اس دشمن نما دوست کے جو آستین میں سانپ بن کر بیٹھا ہوتا ہے، تاریخ گواہ ہے کے آج تک بڑے بڑے جنگجووں کو اگر شکستِ فاش ہوئی ہے تو محض اپنوں کی وجہ سے
آج بھی ہم نہیں جانتے کے بظاہر محبت سے پیش آنے والا انسان اپنے دل میں ہمارے لیے کیا کچھ لیے ہوئے ہے، حریم کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہورہا تھا، بظاہر اس کی دوست نظر آنے والی فریحہ اس کی سب سے بڑی دشمن بن گئی تھی جس کا حریم کو اندازہ تک نہیں تھا
فریحہ کے دل میں موجود کینہ اور نفرت دن بادن بڑھتی جارہی تھی، اسے ہر صورت میں ارتضی اور حریم کو جدا کرنا تھا، اپنی اس نفرت میں وہ یہ تک بھول گئی تھی کے وہ کس شعبے سے تعلق رکھتی ہے، اور اگر بالفرض ارتضی حریم کو چھوڑ بھی دیتا تو کیا وہ فریحہ کا ہوتا
حریم آج صبح سے بہت خوش تھی کیونکہ پرسوں اس کے اور ارتضی کے نکاح کو پانچ سال ہونے والے تھے، یہ دن ہر سال اس کے لیے بہت سی خوشیاں لے کر آتا تھا کیونکہ ارتضی ہر ممکن کوشش کرتا تھا اس دن کو خاص بنانے کی
اسے یاد نہیں تھا کے ارتضی کو اس سے محبت کب ہوئی، کیونکہ جب سے اس نے ہوش سمبھالا تھا تب سے ہی وہ ارتضی کی اس محبت اور کئیر کو دیکھتی آئی تھی، عائشہ نے اسے بتایا تھا کے جب وہ پیدا ہوئی تھی تو اسے سب سے پہلے ارتضی نے دیکھا تھا، اس کا نام تک ارتضیٰ کی پسند پر رکھا گیا تھا
ارتضیٰ زین کو بھی اس کے پاس نہیں آنے دیتا تھا، ہر وقت اس کا سایہ بنا رہتا، سویرا اور ولید بامشکل اسے گھر لے کر جاتے تھے ورنہ اس کا بس چلتا تو ایک منٹ کے لیے بھی حریم سے الگ ناں ہوتا، عباد کے جانے کے بعد جس طرح ارتضی نے اسے سمبھالا
وہ سب لوگ ارتضیٰ کی دیوانگی سے واقف تھے، اسی لیے زین پرنیاں اور حرم مجتبی کے ساتھ ان کا بھی نکاح کر دیا گیا، ارتضی تو ہمیشہ سے ہی حریم کا تھا مگر پھر حریم کو بھی مکمل طور پر ارتضیٰ کے سپرد کر دیا گیا
فریحہ جو اس کا کھلتا چہرہ دیکھ کر جل بھن رہی تھی اس کے دماغ میں اس وقت زہریلی سوچوں کے جال بن رہے تھے اس نے سوچ لیا تھا کے وہ یہ دن ان دونوں کی زندگی کا سب سے بدتر دن بنا دے گی، مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کے ہماری تدبیروں سے بڑھ کر اللّٰہ کی تدبیر ہوتی ہے
"حریم، تم نے کیا گفٹ لیا کمانڈر ارتضیٰ کے لیے" ہونٹوں پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے وہ حریم سے مخاطب ہوئی جو بیڈ پر لیٹی سونے کے تیاری کر رہی تھی
"گفٹ؟" اس نے تھوڑا سا اٹھ کر حیرانی سے اسے دیکھا کیونکہ آج تک ہمیشہ ارتضی نے اسے گفٹس دیے تھے اس نے تو کبھی ارتضی کو گفٹ نہیں دیا تھا
"ہاں گفٹ، کیوں کیا تم صرف لیتی ہو دیتی نہیں ہو؟" طنزیہ انداز میں بولتی وہ اسے تاسف میں گھیر چکی تھی
"ارتضیٰ کو مجھ سے گفٹ لینا نہیں پسند، وہ کہتے ہیں میں پرنسس ہوں اور پرنسس صرف تحفے قبول کرتی ہے دیتی نہیں ہے" اپنی سادگی میں وہ آرام سے اسے بتا گئی جبکہ فریحہ اس کی بات پر سیخ پا ہو گئی تھی
"ایسا تو سب کہتے ہیں مگر کتنا برا لگتا ہے کے ہم خود تو گفٹس لیتے رہیں جبکہ سامنے والے کو کچھ بھی ناں دیں" وہ آہستہ آہستہ اس کو اپنے مطلب کی طرف لارہی تھی
"تو، اب میں کیا کروں؟" معصوم سا چہرہ بنائے اس سے پوچھا
"کرنا کیا ہے، کل چلتے ہیں شاپنگ کرنے میں تمہیں بہت پیارا گفٹ دلواوں گی" شیطانی مسکراہٹ لیے کہا
"مگر سر مان جائیں گے؟" ان کی کلاس تھی اسی لیے اسے ڈر تھا ناجانے سر جانے دیں یا نہیں
"دے دیں گے، ویسے بھی کچھ ہی دن ہیں ہمارے کیڈیٹس کی حثیت سے، پاس آوٹ تک کھل کر یہ دن جی لیں" وہ لوگ سینئر تھے اور دو ماہ میں ان کی پاس آوٹ کی تقریب تھی اکیڈمی میں سینئرز کو فریشنرز کی نسبت آزادی حاصل ہوتی تھی، پہلے سال انہوں نے بہت سختیاں برداشت کی تھی مگر اب وہ اپنا بدلنے نئے آنے والوں سے لے رہے تھے
"اوکے" وہ کہتے خاموشی سے لیٹ گئی، تمام فکروں سے دور وہ آنے والے حسین کل کے خواب دیکھ رہی تھی جبکہ کوئی اس کے اس حسین کل کو تباہ کرنے کی سازش کرنے میں مگن تھا
اگلے دن کلاس کے بعد انہوں نے اکیڈمی سے باہر جانے کا پلان بنایا تھا، کلاس لے کر وہ چینج کرتے باہر نکلی، فریحہ اسے لیے اکیڈمی سے کچھ دور موجود مال میں آگئی، فریحہ اسے ایک شاپ سے دوسری شاپ میں گھما رہی تھی
اس نے ایک خوبصورت سی واچ پسند کی تھی ارتضیٰ کے لیے، وہ لوگ واپس جانے لگے جب فریحہ اسے وہاں رکنے کا کہہ کر واپس اندر چلی گئی، اور اس سے چھپ کر دوسرے دروازے سے نکل کر وہ واپس اکیڈمی چلی گئی
حریم کافی دیر اس کا انتظار کرتی رہی مگر وہ واپس نہیں آئی رات کا اندھیرا پھیلنے لگا تو حریم نے واپسی کے لیے قدم بڑھائے، ٹیکسی لے کر وہ اکیڈمی کی طرف روانہ ہوئی، راستے میں ایک سنسان سڑک پر کچھ لوگون نے ٹیکسی رکوائی
وہ باہر نکلی تو وہ چھے سات آوازہ لڑکے تھے جو شاید شرارت سے ان کی گاڑی رکوا گئے تھے، اس نے باہر نکل کر ہمت سے ان سے پوچھا، آخر وہ ایک آرمی آفیسر تھی، مگر افسوس اس وقت اس کی گن اس کے پاس نہیں تھی
اسے دیکھتے ان لڑکوں کی نیت میں فتور آیا تھا، یا شاید انہیں اسی لیے بھیجا گیا تھا اس میں کچھ تو راز تھا، وہ قدم با قدم اس کی طرف بڑھنے لگے، اگر ایک یا دو ہوتے تو شاید وہ ان کا مقابلہ کر لیتی مگر وہ ایک چھوٹی سی جان ان سب سے اکیلے نہیں لڑ سکتی تھی
اس نے الٹے قدموں بھاگنا شروع کر دیا، وہ لڑکے بھی اسے بھاگتا دیکھ اس کے پیچھے بھاگے، بھاگتے بھاگتے سڑک پر اس کے پاوں کے نیچے پتھر آیا جس پر وہ بری طرح نیچے گری تھی، وہ لڑکے ہنستے ہوئے اس کے سر پر کھڑے تھے
ان میں سے ایک نے بڑھ کر اسے ہاتھ لگانا چاہا جس پر حریم نے اس کے ہاتھ کو ہٹاتے اس کے منہ پر مکہ مارا اچانک حملے پر وہ لڑکھڑا کر پیچھے ہوا، غصے سے اسے گھورتے وہ دوبارہ اس کی طرف بڑھا، پیچھے سے دو تین لڑکے اور ایک ساتھ آئے تھے
"مجھے مارے گی ۔۔۔۔" گالی نکالتے ہوئے وہ سب حریم کی طرف بڑھے مگر اس سے پہلے کے اسے ہاتھ لگاتے ان چاروں کے ہاتھ دو دو مضبوط ہاتھوں نے تھامے تھے
حریم نے سر اٹھا کر دیکھا تو موحد اور ارتضی اس کے سامنے ڈھال بن کر کھڑے تھے ارتضی نے ایک ایک مکہ ان دونوں لڑکوں کے مارا اس کے ہتھوڑے جیسے ہاتھ کا مکہ کھاتے ان کے منہ میں خون کا ذائقہ گھلا تھا،
موحد نے بھی باقی دونوں کے پنچ مار کر انہیں گرایا، وہ دونوں شیر بن کر جھپٹے تھے ان سب پر، کچھ ہی دیر میں وہ انہیں مار مار کر ادھ موا کر چکے تھے، ارتضی کے سر پر خون سوار تھا، وہ ان سب کی جان لینے کے در پے تھا
"میری پرنسس کو ہاتھ لگاو گے تم لوگ، ان کی طرف گندی نظر بھی کیسے ڈالی تم سب نے، میں جان سے مار ڈالوں گا تم سب کو" وہ پے در پے ان سب کو مار رہا تھا
"سر، سر پلیز آپ حریم کو دیکھیں، میں ان کو سمبھالتا ہوں" موحد نے اسے تھام کر روکنا چاہا جو کچھ ہی پلوں میں ان سب کو ادھ موا کر چکا تھا
" سر پلیز" موحد نے ایک دم اسے جھٹکا دیتے سیدھا کیا جس پر اس نے مڑ کر حریم کو دیکھا، حریم ان دونوں کو دیکھ کر ضبط کھوتے پھوٹ پھوٹ کر رو دی، عورت چاہے کسی بھی شعبے سے ہو عزت کے معاملے میں وہ بہت حساس ہوتی ہے
"پرنسس" ارتضی خود کو چھڑاتا جلدی سے اس کے پاس آیا، اس نے تو کبھی اپنی پرنسس کو گرم ہوا تک نہیں لگنے دی تھی تو اب یہ سب کیا ہونے جارہا تھا
"ارتضی" ارتضی نے اسے تھام کر کھڑا کیا تو وہ سسکتے ہوئے بولی
"ارتضیٰ کی جان، میرا بچہ، پلیز مت روئیں سویٹ ہارٹ، مجھے معاف کر دیں، میں لیٹ ہو گیا ، معاف کر دیں" ارتضی دیوانہ وار اس کے چہرے کے ہر نقش پر اپنا احساس چھوڑ رہا تھا جان نکلنا کسے کہتے ہیں وہ کچھ لمحوں میں سمجھ گیا تھا
"آپ، آپ یہاں کیسے آئیں" ارتضیٰ نے اسے اس ویران جگہ اکیلے دیکھ کر پوچھا جس پر اس نے اسے ساری بات بتا دی، ارتضی جانتا تھا یہ گھٹیا حرکت فریحہ ہی کر سکتی وہ کوئی بچہ نہیں تھا جو فریحہ کی نظروں اور حرکتوں کو سمجھ ناں پاتا
"آپ اور موحد بھائی یہاں کیسے؟" کچھ دیر بعد حریم کے حواس بحال ہوئے تو اس نے پوچھا انکا اس طرح آنا کوئی اتفاق نہیں تھا
موحد کو فریحہ کا اس سے ملنا یاد آیا، وہ اکیڈمی سے ہوسٹل کی طرف جارہا تھا جب اسے فریحہ سامنے سے آتی نظر آئی، وہ وہاں سے گزرنے کی بجائے اس کے پاس آیا جس کا رنگ اڑا ہوا تھا
"کیا ہوا فریحہ، آپ پریشان لگ رہی ہیں؟ سب ٹھیک ہے؟" موحد اس کا چہرہ دیکھتے بےساختہ پوچھ گیا
"وہ، وہ کیڈٹ موحد، میں اور حریم مال تک گئیں تھیں، مگر جب واپس آنے لگے تو وہ ناجانے کہاں چلی گئی واپس بھی نہیں آئی" اپنے چہرے پر مصنوعی فکر سجاتے اس نے اسے ساری رداد سنائی، موحد پریشانی سے اسے دیکھتا باہر کی جانب بڑھا
اس نے حریم کو بہن کہا ہی نہیں مانا بھی تھا، حریم کا معصوم چہرہ بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے آرہا تھا، اگر وہ کسی مشکل میں پھنس جاتی تو، اس کے جاتے ہی فریحہ مسکرا دی، اس کا ارادہ کچھ دیر بعد ارتضی کو بتانے کا تھا تاکے وہ جب حریم کو ڈھونڈنے جاتا اسے موحد کے ساتھ دیکھ پاتا
اس نے آنے سے پہلے کچھ لڑکوں کو پیسے دیتے حریم کے پیچھے بھیجا تھا، موحد وہاں سے نکل کر باہر آیا تو سامنے سے ارتضیٰ آتا دکھائی دیا، اس نے جلدی سے ارتضی کو حریم کے غائب ہونے کا بتایا جس پر وہ دونوں بنا وقت ضائع کیے اسے ڈھونڈنے نکلے تھے
اکیڈمی کی طرف آتی سڑک پر آئے تو انہیں دور ایک سنسان جگہ پر کچھ لڑکے دکھائی دیے، اس وقت اس سڑک پر ان لڑکوں کا ہونا عجیب تھا تب ہی وہ لوگ گاڑی سے نکلے ، وہاں بیٹھی لڑکی پر انہیں حریم کا گمان ہوا تھا سو اسے بچانے کے لیے اس کے پاس آگئے
"چلیں سر، ان سب کو میں پولیس کے حوالے کر آوں، آپ کیڈیٹ حریم کو لے کر اکیڈمی جائیں" موحد ان لڑکوں کو دیکھتا ہوا بولا جو کچھ دور زمین پر گرے ہوئے تھے
"اوکے، ویسے تھینک یو موحد، مجھے وقت رہتے اگاہ کرنے کا، میں تمہارا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گا" ارتضی موحد سے بات کر رہا تھا جب اچانک ایک گاڑی آئی جس میں نے تین لڑکے اترے، جلدی جلدی ان سب کو اس میں بیٹھاتے وہاں سے فرار ہوگئے،
انہوں نے انہیں پکڑنے کی کوشش کی مگر کچھ فاصلہ ہونے کی وجہ سے وہ سب بھاگنے میں کامیاب ہو گئے ویسے بھی ان کے لیے ارتضی کا سکھایا گیا سبق ہی کافی تھا، وہ دونوں حریم کو لیے گاڑی کی طرف بڑھے
"پرنسس دوبارہ آپ مجھے بتائے بغیر کہیں نہیں جائیں گی، اوکے" ارتضی حریم کی حالت کی وجہ سے پیچھے اس کے ساتھ بیٹا تھا جبکہ موحد گاڑی چلا رہا تھا تب ہی ارتضی اس کا ہاتھ تھامتے بولا
"سوری ارتضیٰ" معصوم سا چہرہ بنائے اس کی طرف دیکھا، اسے پتا تھا غلطی اس کی ہے، ارتضی کو اب بس کسی بھی طرح فریحہ کو حریم سے دور رکھنا تھا، جو اس کی معصوم سی پرنسس کو نقصان پہنچانا چاہتی تھی
@@@@@@@@@
سویٹی کی برتھڈے کے اگلے دن ہی وہ سب لوگ کمراٹ آگئے تھے، حوزان کا ضروری کیس تھا جس کی وجہ سے وہ جا نہیں سکا تھا، حسال اور بہرام بھی آفس کی وجہ سے نہیں آسکے، انہیں دو دن بعد آنا تھا، مگر سویٹی کو تو گاوں جانے کا بہانہ چاہیے ہوتا تھا
اب بھی دو دن سے وہ لوگ کمراٹ آئے ہوئے تھے، اور وہ مسلسل کٹورہ جھیل جانے کی ضد کر رہی تھی، وہ جھیل صرف آب اور دلکش کی ہی پسندیدہ نہیں تھی بلکہ ان کی اولاد بھی اب اس کے نقشِ قدم پر چل نکلی تھی
سویٹی شاہ زیب کو کہہ رہی تھی کے وہ اسے کٹورہ جھیل لے جائے مگر شاہ زیب کو ایک ضروری جرگے کے سلسلے میں جانا تھا سو اس نے انکار کر دیا، مگر اس کی ضد پر اس نے اسے ڈرائیور کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی
وہ ڈرائیور کے ساتھ وہاں آتو گئی تھی مگر اسے حسال، حوزان ، بہرام اور داہیم کے بغیر بلکل مزہ نہیں آرہا تھا، کچھ لمحے وہاں کی خوبصورتی سے مبہوت رہنے کے بعد وہ واپسی کے لیے اٹھ گئی، اس سے پہلے وہ اوپر سڑک پر جاکر گاڑی میں بیٹھتی کسی وجود نے اس کا راستہ روکا تھا
بہادر خان سویٹی کے پل پل کی خبر گوہر خان کو دے رہا تھا، جب سے گوہر خان کو پتا چلا تھا کے سویٹی کمراٹ آرہی ہے اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا، اسے کسی بھی طرح سویٹی سے ملنا تھا
"ہیلو بہادر خان؟ بولو کیا خبر ہے؟" آج صبح گوہر خان نے بہادر کو فون کیا تو دوسری طرف سے سنی جانے والی خبر سن کر اس کا دل باغ باغ ہوا تھا
"خان، خانم آج کٹورہ جھیل دیکھنے جارہی ہیں" بہادر خان نے آرام سے اسے اس کے مطلب کی خبر دی
"کس کے ساتھ جارہی ہے ہماری خانم؟" چہرے پر چمک لیے سنجیدگی اور بےتابی سے پوچھا
" معلوم نہیں خان، مگر شاید اکیلی کیونکہ شاہ زیب خانزادہ ابھی ابھی کہیں گئے ہیں، اور ان کے گھر میں فلحال کوئی مرد نہیں" بہادر خان یہ ساری خبریں باتوں باتوں میں کبھی ڈرائیور تو کبھی چوکیدار سے پوچھ لیتا تھا
"ہممم، ٹھیک ہے، " گوہر خان نے ہنکارا بھرتے فون بند کر دیا
"تو اب آپ سے دوبارہ روبرو ملنے کا وقت آگیا ہے خانم" سامنے لگے شیشے میں دیکھتے گوہر خان نے خود سے سرگوشی کی تھی
وہ اسی وقت سوات سے کمراٹ کے لیے روانہ ہوا تھا، اور تقریباً دو گھنٹے میں وہ کٹورہ جھیل پہنچ چکا تھا، گاڑی سے اترتے نیچے نظر دوڑائی تو سویٹی پتھر پر بیٹھی تھی، ہلکے گلابی رنگ کے لباس پر کالی چادر اوڑھے وہ دور سے ہی دیکھنے والوں کو متوجہ کر رہی تھی حالانکہ کے اس کا چہرہ ڈھکا ہوا تھا
گوہر خان وہاں سے اتر کر نیچے آیا، وہ شاید واپس جانے کا ارادہ رکھتی تھی جب ہی گوہر خان اس کے سامنے آتے اس کا راستہ روک گیا
"پخیر راغلے خانم، کیسی ہیں آپ؟" اس کی ہری جھیلوں میں جھانکتے وہ بڑی محبت سے بولا تھا
"آپ، آپ یہاں کیا کر رہے ہیں؟" سویٹی اسے یہاں دیکھ کر حیران ہوئی تھی ناجانے کیوں یہ شخص اس کے پیچھے پڑ گیا تھا
"اوہ تو آپ نے ہمیں پہچان لیا، بھئی بھول بھی کیسے سکتی ہیں، ہم بھولنے والی چیز ہی نہیں ہیں، اور جہاں تک رہی یہاں آنے کی بات تو ہم یہاں آپ سے ملنے آئے ہیں" مسکراتے ہوئے وہ ایک غرور سے بول رہا تھا جبکہ سویٹی کو وہ اس وقت زہر لگ رہا تھا
"دیکھیں، ہم شادی شدہ ہیں، سو آپ ہمارا پیچھا چھوڑ دیں" سویٹی نے سخت آواز میں کہا، اس نے سوچ لیا تھا کے وہ اب ڈرے گی نہیں ورنہ اس شخص کو مزید ڈھیل ملے گی
"شادی شدہ نہیں خانم، صرف نکاح ہوا ہے، اور کوئی بات نہیں جس طرح نکاح ہوا ویسے ہی ٹوٹ بھی جائے گا" اس کی بات پر بھی گوہر خان کے اطمینان میں کوئی فرق نہیں آیا تھا
"آپ کا دماغ خراب ہے، آپ کی ہمت کیسے ہوئی اتنی گھٹیا بات کرنے کی، میرے خان کو پتا چل گیا تو وہ آپ کو جان سے مار دیں گے" یہ شخص اب اپنی حد سے بڑھ رہا تھا، اسے اس کے خان سے الگ کرنے کی بات کر رہا تھا
"ناں ناں خانم، آپ کا خان صرف میں ہوں، اگر سردار حوزان خاقان ہمارے راستے سے نہیں ہٹا تو وہ جان سے جائے گا" سویٹی کے حق سے میرا خان کہنے پر گوہر خان کو آگ لگ گئی تھی
"چٹاخ، آپکی ہمت کیسے ہوئی میرے خان کے بارے میں ایسا سوچنے کی بھی، اگر میں چپ ہوں تو اسے میری کمزوری مت سمجھیں، اگر کسی نے، کسی نے بھی میرے خان کی طرف بری نظر اٹھائی تو مجھ میں اتنی ہمت ہے کے اس کی آنکھیں نکال سکوں " سویٹی نے زوردار تھپڑ گوہر خان کے رسید کیا تھا، اس نے اس کے خان کو مارنے کے بارے میں سوچ بھی کیسے لیا
وہ اس کے ایک طرف سے ہوکر نکلتی چلی گئی جبکہ گوہر خان ساکت نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا، اس کی آنکھیں پل بھر میں آگ کی طرح دھکنے لگی تھیں، سویٹی نے اس پر ہاتھ اٹھا کر اس کی مردانگی پر وار کیا تھا ایک خان ہوکر اس نے ایک چھوٹی سی لڑکی سے تھپڑ کھایا
"اس تھپڑ کا حساب آپ کو چکانہ ہوگا خانم، اور یہ قیمت آپ کا خان چکائے گا، اس کی زندگی کے دن گننا شروع کر دیں، اور خود کو میری زوجیت میں دینے کی تیاری کر لیں خانم" دانت پیستے اس نے سویٹی کو جاتے دیکھ سرگوشی کی تھی، وہ چاہتا تو ابھی اس سے بدلہ لے سکتا تھا مگر وہ سمجھ گیا تھا کے سویٹی کی جان کس میں قید ہے
سو اب وہ اس کی کمزوری پر وار کرتے اس سے بدلہ لینا چاہتا تھا، وہ اس وقت غلط سہی ہر فرق بھول گیا تھا، اسے اب بس کسی بھی طرح سویٹی کو حاصل کرنا تھا، حوزان کو مار کر اس کا مان توڑنا تھا، وہ مان جو اسے اپنی محبت پر تھا
@@@@@@@@@
"ہیلو، ہاں پینتھر بولو؟" لیپرڈ اور سوان آج اپنے پلان پر عمل درآمد کرنے کی تیاری کر رہے تھے جب پینتھر کا فون آیا
" راجہ کیسا؟ (بولا کچھ اس نے)" اس نے کوڈ ورڈ یوز کرتے پوچھا کیونکہ دشمنوں کے بیچ رہتے انہیں اختیاط کرنی تھی
"ہاں اس نے اڈریس بتا دیا، ہم لوگ آج حملہ کرنے والے ہیں" لیپرڈ نے اسے پلان سے آگاہ کرتے بتایا
"کہاں جارہا ہے راجہ؟(کہاں حملہ کرنا تم لوگوں نے؟)" دوبارہ اسی انداز میں پوچھا
"شہر سے باہر جاتی سڑک پر ایک بلڈنگ ہے، جو ابھی زیرِ تعمیر ہے، وہیں جانا " لیپرڈ نے سوان کو دیکھا جو مزے سے ٹی وی چلائے انڈین ڈرامہ دیکھ رہی تھی
"ہممم میں فارغ ہوکر ملنے جاوں گا راجہ سے، اسے کہنا مجھے فون کرتا رہے ( میں تمہارے بلاتے ہی آجاؤں گا، بس ایک سگنل دے دینا)" پینتھر پرسوچ انداز میں بولتا فون بند کر گیا
"او ہیلو میڈم، ہم تمہاری نانی کے گھر نہیں آئے جو مزے سے ٹی وی دیکھ رہی ہو، ہمیں اٹیک کرنا ہے کچھ دیر میں" لیپرڈ نے سوان کے پاس آتے اسے گھرکا تھا
"سر کیوں سٹریس لے رہے ہیں، ناجانے پھر موقع ملے ناں ملے سوچا یہ لاسٹ ایپی دیکھ لوں" شرارت سے کہتے وہ نظریں دوبارہ ٹی وی پر مرکوز کر گئی
"ٹھیک ہے، تم آخری ایپی دیکھ لو، میں جارہا ہوں اکیلے" لیپرڈ غصے سے کہتا اپنے روم کی جانب مڑا
"میں اکیلا جارہا ہوں" اس کو متوجہ ناں ہوتا دیکھ اونچی آواز میں بولا
"اوف او، آپ ناں سر، چلیں، چلتے ہیں میں بھی ریڈی ہوں اور ساری تیاری بھی کر چکی ہوں" سوان غصے سے ٹی وی بند کرتے اٹھ کر اس کی جانب آئی
وہ دونوں اپنے اپنے روم میں بڑھے کچھ ہی دیر بعد وہ دونوں ماسک سے ڈھکے چہرے اور پورے بلیک لباس پہنے باہر نکلے تھے سوان نے اوپر عبایہ پہن لیا تاکے کسی کو شک ناں ہو، جبکہ لیپرڈ نے ماسک اتار کر جیب میں رکھ لیا
گاڑی میں بیٹھ کر وہ دونوں اس کھنڈر نما عمارت کے سامنے آئے تھے، یہ عمارت یوں محسوس ہوتی تھی جیسے برسوں پہلے کوئی اسے بنانا چھوڑ چکا ہو، وہ دونوں ماسک سیٹ کرتے باہر نکلے، آہستہ سے چلتے ہوئے اندر آئے
"سر، یہاں تو دیوار ہے" سوان نے سامنے ہر طرف دیوار دیکھ کر کہا، جبکہ ٹارگٹ یہیں شو ہورہا تھا
"یہ دیوار نہیں ہے، یہاں کہیں ناں کہیں کوئی بٹن ہوگا، چیک کرو" لیپرڈ نے کہتے خود بھی تلاشی لینی شروع کی،
" مگر سر یہاں تو کچھ نہیں، بس یہ ڈبہ سا لگا ہے، جیسے ہیمر سٹینڈ ہو" سوان نے ایک طرف لگے ایک چھوٹے سے ڈبے کو دیکھتے کہا
"نو سوان، اسے چھیڑنا مت، یہ ہیمر بوکس نہیں ہے، یہ اس دروازے کو کھولنے کی چابی ہے، میں اسے کھولتا ہوں تم میرے اشارہ کرنے پر گیس بم پھینکنا" لیپرڈ اس باکس کی طرف آتا ہوا بولا
اس نے اس ڈبے ہو ہلایا تو ایک دم سے وہ دیوار چاک ہوئی تھی، سوان نے جلدی سے گیس بم پھینک دے چاروں طرف گیس پھیل چکی تھی، وہ دونوں گن اٹھائے اختیاط سے اندر کی جانب بڑھے تھے
اور آتے ہی ڈیسک اور الماری کے پیچھے چھپ گئے، سامنے والے بھی کسی ناں کسی چیز کی اوٹ میں تھے، دونوں طرف سے کچھ کچھ دیر بعد فائر کی آواز گونجتی، مگر سب کے نشانے خطا ہورہے تھے
زین کو اپنوں پر گولیاں چلاتے بلکل اچھا نہیں لگ رہا تھا، وہ خاموشی سے گن نیچے کیے سائیڈ پر ہوگیا، اس سے نہیں ہونا تھا یہ سب کچھ، جبران نے غصے سے اسے سائیڈ پر ہوتے دیکھا، زین اس کا پلان خراب کر رہا تھا
مظہر ٹبیل کے نیچے سے چلتا ہوا سوان کے پیچھے آیا، سوان سامنے کی طرف دیکھتے فائر کر رہی تھی، اپنے پیچھے ہلچل محسوس کرتے اس نے فائر کرنا چاہا مگر مظہر اس کے ہاتھ پر گن مارتے اسے گن دور پھینک چکا تھا
"گن پھینک دو، تمہاری ساتھی ہمارے قبضے میں ہے" مظہر کی آواز پر لیپرڈ کی فائر کرتی بندوق خاموش ہوئی تھی، وہ ایک دم رکتے سوان کی طرف مڑا جو اب سامنے مظہر کے قابو میں تھی جس نے اسکی کنپٹی پر بندوق رکھی ہوئی تھی
"کیا لگا تھا تم لوگوں کو جبران نے کچی گولیاں کھیلی ہیں، اتنا آسان نہیں مجھے پکڑنا، اگر لڑکی کو زندہ دیکھنا چاہتے ہو تو گن پھینک دو" جبران اسے دیکھتا تمسخر سے بولا
"گن پھینکو" لیپرڈ کو گن ناں چھوڑتے دیکھ وہ دہاڑا، لیپرڈ نے آہستہ سے گن پھینک دی، جبران قدم با قدم چلتا اس کے پاس آیا
" تم آئی ایس آئی والے خود کو سمجھتے کیا ہو؟ بہت تیس مار خان ہو؟ اصل میں تو تم لوگ بےوقوف ہو، میرے بچھائے جال میں پھنس گئے، میں نے ہی سانو کو تم لوگوں کو سچ بتانے کا کہا تھا، اور دیکھو تم دونوں یہاں آگئے؟" جبران عرف رام مکروہ مسکراہٹ لیے بولا
"اب تم دونوں میری قید میں رہو گے، جبکہ تمہاری جگہ میرا آدمی آئی ایس آئی میں شامل ہوگا" جبران نے مسکراتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھا جہان زین کھڑا تھا، وہ کیا کرت کیا ناں کرے کی کشمکش میں تھا،
اس نے سوچا تھا وہ جبران کا دھیان بھٹکتے ہی ان آفیسرز کو بھگا دے گا، اور خود بھی بھاگ جائے گا، کیونکہ وہ نہیں کر سکتا تھا یہ سب، اسے نفرت تھی اس خون خرابے سے
گن پھینک دو رام، تمہارا کھیل ختم" ایک اجنبی آواز پر جبران نے دروازے کی جانب دیکھا جہاں ایک اور نقاب پوش کھڑا تھا، سوان کا دھیان بٹتے ہی کہنی مار کر اسے دور کرتے گن چھین چکی تھی
"تم لوگ مجھے تو مار دو گے" رام آہستہ آہستہ پیچھے ہورہا تھا
"مگر اپنے ہی لوگوں کو کیسے مارو گے" اچانک اس نے زین کو کھینچ کر اپنے سامنے کیا تھا،
"چچچچ ایک شہید آفیسر کا بیٹا، ملک کا غدار بن گیا، اپنے دشمنوں کا ساتھ دے رہا تھا، مگر پھر بھی ہے تو تم لوگوں کے ملک کا، تم لوگوں کا بھائی، تم لوگ اسے تو نہیں مار۔۔۔۔ " ابھی اس کے الفاظ منہ میں تھے جب پینتھر کی گن سے نکلی گولی اسے چپ کرواچکی تھی

یہ عشق ہے
یہ عجیب ہے
کہاں ہر کسی کا نصیب ہے
یہ اسی کے در کا غلام ہے
جہاں صدق ہے، ایثار ہے
جہاں درد بھی اک بہار ہے
یہ جو عشق ہے
یہ جو عشق ہے
حرم کی صبح آنکھ کھلی تو ابھی باہر اندھیرا تھا، چہرے سے بلینکٹ ہٹاتے اٹھ بیٹھی، موبائل پکڑ کر وقت دیکھا تو ابھی پانچ بجے تھے، سامنے سکرین پر جگمگاتا میسیج اس کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا گیا مجتبی نے محبت سے بھرے لفظوں میں اپنا عشق اس تک پہنچایا تھا، سامنے نظر آتے اشعار پڑھ کر اس کا دل خوشگوار انداز میں دھڑکا تھا
"میری زندگی میں آکر مجھے جینے کا مقصد دینے کے لیے شکریہ ہنی، آپ کو مجھے ملے آج پانچ سال، ساٹھ مہینے، چھتیں سو گھنٹے، دو لاکھ سولا ہزار منٹس، ایک کروڑ انتیس لاکھ ساٹھ ہزار سیکنڈ ہو چکے ہیں، اور یہ پل یہ لمحے میرا کل سرمایہ ہیں، آئی لو یو سویٹ ہارٹ اینڈ نیڈ یو ٹل کی اینڈ آف مائی لائف"
اس کا بھیجا میسج پڑھ کر حرم کے چہرے پر حسین مسکراہٹ بکھر گئی، وہ شخص محبت کا اظہار بھی ہمیشہ اپنے انداز میں کرتا تھا، اسے اس وقت مجتبی کی دوری بہت کھلی تھی، دل چاہ رہا تھا کہیں سے نکل کر وہ سامنے آجائے
"تھینک یو مجتبی، مجھ سے بے تحاشہ اور بے وجہ محبت کرنے کے لیے، مجھ میں کچھ بھی خاص نہیں ہے، جو ہے صرف آپکی محبت کی وجہ سے ہے، اور ہیپی اینورسری، مس یو" میسج ٹائپ کر کے اسے سینڈ کیا اور پھر نماز ادا کرنے کے لیے اٹھ گئی
جائے نماز پر بیٹھی وہ اللّٰہ کا شکر ادا کر رہی تھی جس نے اسے اتنی محبت کرنے والے شوہر سے نوازا، محبت مل جانا ہر کسی کی قسمت میں نہیں ہوتا، اس کی قدر صرف وہ جانتا جسے کئی آزمائشوں سے گزر کر اس کی محبت ملتی ہے، لیکن اگر کوئی بغیر آزمائشوں کے محبت کو پالے تو اس پر سجدہِ شکر واجب ہوجاتا ہے
کافی دیر سجدہ میں رہنے کے بعد وہ اٹھی اور نیچے آگئی، کچن میں آتے اپنے ہاتھوں سے مہمل اور احتشام کے لیے ناشتہ بنایا،وہ کل ہوسٹل جانے کی بجائے گھر آگئی تھی، اسے کچھ ضروری سامان لینا تھا، احتشام اور مہمل نیچے آئے تو اسے ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے ناشتہ لگاتے دیکھا، احتشام نے بےساختہ اس کی مسکراہٹ دائمی ہونے کی دعا کی تھی
"کیا بات ہے، میرا بچہ بہت خوش ہے آج؟" احتشام نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے معنی خیزی سے کہا
"نہیں تو بابا، ایسی تو کوئی بات نہیں ہے" مسکراہٹ دباتے انکار کرنا چاہا مگر اس کی خوشی اس کے چہرے سے جھلک رہی تھی
"بیٹا جانی باپ ہوں میں آپ کا، کیا میسج بھیجا اس نالائق نے؟" مصنوعی سنجیدگی دکھاتے پوچھا ساتھ ہی چئیر گھسیٹ کر بیٹھ گیا
"اور ان دونوں میاں بیوی میں کیا بات ہوئی یہ وہ آپ کو کیوں بتائے؟" مہمل نے اسے گھورا تھا، آخر اس کے لاڈلے بھتیجے کو نالائق کہا تھا اس نے، احتشام اس کے گھورنے پر سیدھا ہوا، حرم ان دونوں کے تاثرات دیکھ کر مسکرا دی
وہ تیار ہوکر ہوسپٹل آگئی تھی، آج اس نے سکن کلر کی خوبصورت سی کلیوں والی فراک پہنی تھی، سلیقے سے حجاب کیے ہلکے سے میک اپ میں وہ بہت حسین لگ رہی تھی، صبح سے کوئی ناں کوئی اسے مبارک باد دینے آرہا تھا
شام تک مختلف مریضوں اور ایمرجینسی میں مصروف رہنے کے بعد تقریباً شام سات بجے وہ ہوسٹل جانے کے لیے اٹھی تھی، ہوسپٹل سے نکل کر گاڑی کے پاس آئی ابھی اس نے گاڑی کے ہینڈل پر ہاتھ رکھا تھا جب کسی نے اس کے منہ پر رومال رکھا، اس سے پہلے وہ کچھ سمجھتی یا کرتی کلوروفام کی تیز مہک پر وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوتے مقابل کی بانہوں میں جھول گئی تھی
دوبارہ جب اس کی آنکھ کھلی تو وہ ایک پارک نما جگہ پر تھی، یہ جگہ زیادہ بھری ہوئی نہیں تھی مگر پھر بھی کچھ لوگ اردگرد موجود تھے، اس نے ادھر ادھر تلاش کرنا چاہا مگر وہاں کوئی نہیں تھا، اٹھ کر پارک کی دوسری طرف دیکھا تو سامنے دیکھتے ساکت رہ گئی
سامنے ہی سفید یونیفارم پہنے مجتبی مسکراتے ہوا سامنے کسی سے بات کر رہا تھا، وہ ایک ٹرانس کی کیفیت میں چلتی ہوئی اس تک گئی، اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے متوجہ کرنا چاہا، مجتبی مسکراتے ہوئے اس کی طرف مڑا
"اوہ تو آپ کو ہوش آگیا مسز، بہت نازک ہیں یار ویسے آپ، اتنی جلدی بےہوش ہوگئیں" اپنی مخصوص شرارتی مسکراہٹ لیے اسے چھیڑا
"آپ مجتبی آپ سچ میں یہاں ہیں؟" حرم کو لگ رہا تھا جیسے یہ اس کا خواب ہے جس میں مجتبی اس کے سامنے موجود تھا
"افکورس مسز، کیوں آپ کو کیا لگتا ہے یہاں میرا جن کھڑا ہے، کہیں تو یقین دلاوں؟" مجتبی اس کے چہرے پر پھونک مارتے ہوئے معنی خیزی سے بولا
"مگر آپ کب آئے مجتبی؟" وہ خوشگوار حیرت میں مبتلا ہوتے پوچھا
"بس آج ہی آیا ہوں انفیکٹ سیدھا یہیں آیا ہوں" مجتبی نے محبت سے اس کا خوشی سے جگمگاتا چہرہ دیکھا
"مگر یہ کونسا طریقہ تھا، آپ سیدھے طریقے سے بھی مجھے یہاں لا سکتے تھے " حرم کو کچھ دیر پہلے کی اس کی واردات یاد آئی تو منہ بنا کر بولی
"مسز، میرا نام مجتبی ولید حیدر ہے، اور سیدھے کام مجھے بلکل پسند نہیں ہیں" مجتبی نے مسکرا کر کہتے اپنی کیپ اتارتے اس کے سر پر رکھی، اس کے گال کھینچے تو حرم بھی ناراضگی بھلاتے مسکرا دی
"اچھا اب آنکھیں بند کریں" مجتبی نے اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھتے اس کا رخ موڑا
"تھری، ٹو، ون" اس کے کان میں سرگوشی کرتے اس نے اپنے ہاتھ ہٹائے تب ہی اچانک فضاء میں فائر ورکس ہونے لگے، اندھیری رات میں آسمان پر ستاروں کی ماند چمکتے فائر ورکس ایک حسین منظر پیش کر رہے تھے جس کو دیکھ کر وہ مبہوت ہوگئی تھی
"ہنی" مجتبی کی پکار کر مڑی تو وہ ایک گھٹنا زمین پر رکھے اس کے سامنے جھکا ہوا تھا
"ہنی جس طرح یہ فائر ورکس اس آسمان پر چمکتے زمین کو روشن کر رہے ہیں ٹھیک اسی طرح سے آپ نے میری زندگی میں آکر میری تاریک زندگی کو روشن کیا ہے، آپ میرے دل کے آسمان پر جگمگاتا وہ چاند ہیں جس کی روشنی میرے روم روم میں پھیلی ہے، تھینک یو فار بینگ مائین سویٹ ہارٹ، آئی لو یو فرام کی ڈیپیسٹ کور آف مائی ہارٹ، ہیپی انیورسری بےبی " اس کے سامنے پھولوں کا گلدستہ بڑھائے وہ آنکھوں میں دنیا بھر کے جذبات سمیٹے بول رہا تھا
حرم گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھی تھی، پارک کا یہ حصہ باقی گوشوں کی نسبت ویران تھا، جہان اندھیرا بھی زیادہ تھا، حرم آنکھوں میں نمی اور ہونٹوں پر حسین مسکراہٹ لیے اسے دیکھ رہی تھی اس کے ہاتھ سے گلدستہ تھام کر ہونٹوں سے لگاتے رو دی
"یار ہنی، میں نے اتنی رومینٹک اور لمبی تقریر کی ہے اور آپ رو رہی ہیں؟" مجتبی نے اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر اس کے آنسو پونچھے
"تھینک یو مجتبی،مجھ سے اتنی محبت کرنے کے لیے، مجھے سمجھ نہیں آتا آپ کی محبت کا جواب کیسے دوں" حرم اپنے چہرے پر رکھے اس کے ہاتھوں پر ہاتھ رکھتے بولی
"ہممم، آپ بس اس پیارے سے چہرے پر مسکراہٹ کو برقرار رکھا کریں، یہی میری محبت کا جواب ہوگا" اس کی آنکھوں کو چھوتے وہ پیار سے بولا
دور چمکتے ستاروں نے اس دیوانے کی محبت پر بےساختہ ماشاءاللہ کہا تھا، اور اردگرد موجود پودوں اور درختوں نے یہ حسین منظر دیکھا جہاں سفید یونیفارم میں ملبوس شہزادہ محبت سے اپنی کیپ پہنے بیٹھی اپنی شہزادی کو دیکھ رہا تھا
@@@@@@@@@@
کھڑکیوں سے نکل کر آتی روشنی بہرام کے چہرے پر پڑی تو اس نے آنکھیں کھولیں، اس نے اٹھنا چاہا تو خود پر بوجھ سا محسوس کرتے سر جھکا کر دیکھا جہاں حسال اس کے سینے پر سر رکھے پرسکون سو رہی تھی، یہ حسین نظارہ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر گیا
وہ کتنے ہی پل بنا پلکیں جھپکے حسال کا چہرہ دیکھتا رہا، جہاں زمانے بھر کی معصومیت رقصاں تھی، ہونٹوں کو ہلکا سا کھولے وہ ایسے سو رہی تھی جیسے اپنے بستر پر موجود ہو،بہرام اس کا انداز دیکھتے کھل کر مسکرایا
"حسال، حسال، سویٹ ہارٹ اٹھ جائیں، صبح ہوچکی ہے" بہرام اس کے بال اپنے بازو اور اس کے چہرے سے ہٹاتے بولا، مگر وہ شاید گہری نیند میں تھی تب ہی سن نہیں سکی
"کیا بات ہے بھئی، ہمارے آفس میں یہ سب بھی ہوتا ہے ہمیں تو پتا ہی نہیں تھا" تالیوں کی آواز کے بعد فلک کی طنز سے بھرپور آواز پر بہرام نے دروازے کی جانب دیکھا، اس کی پاٹ دار آواز اور تالیوں کی گونج پر حسال کی نیند ٹوٹی تھی، اپنی حالت کا اندازہ ہوا تو جلدی سے سیدھی ہوئی
"ارے ارے، حسال میڈم، آرام سے، اس طرح گھبرا کیوں رہی ہیں، ساری رات باس کے ساتھ گزار کر اب کیوں شرما رہی ہیں؟" فلک کی بات پر ان دونوں نے دروازے کی سمت دیکھا جہاں تقریباً سارے ورکرز موجود تھے جبکہ فلک سب سے آگے کھڑی تھی
"کیا بکواس ہے یہ مس فلک، مائینڈ یور لینگیوج" بہرام کی آواز پر فلک کچھ لمحے سہمی تھی مگر پھر ڈھیٹ بن گئی
"کیوں سر، آپ یہاں اپنی ورکر کے ساتھ رات گزار سکتے ہیں اور میں بات بھی نہیں کر سکتی، کیا نہیں تھے آپ دونوں یہاں ساری رات ایک ساتھ؟" فلک نے اپنی گندی سوچ ان پر آشکار کی تھی
اس کی بات پر ہر طرف سرگوشیاں ہونے لگی تھی، ہر کوئی شک اور نفرت بھری نظروں سے ان دونوں کو دیکھ رہا تھا،
"شکل سے کتنی معصوم لگتی تھی، بہرام سر ایسے لگتے تو نہیں تھے، شکل مومناں کرتوت کافراں" کئی قسم کی آوازیں ان دونوں کے کانوں میں پڑ رہی تھیں جس پر بہرام ضبط سے مٹھیاں بینچ کر رہ گیا
"مس فلک۔۔۔" بہرام غصے سے دھاڑا تھا،اسکا بس نہیں چل رہا تھا فلک کو زندہ درگور کر دے جس نے اسکی حسال کو سب کی نظروں میں مشکوک بنادیا تھا وہ دونوں مجرم ناں ہوتے ہوئے بھی کٹہرے میں کھڑے تھے
"ایک منٹ بہرام، مجھے ہینڈل کرنے دیں" حسال نے کونفیڈینس سے بہرام کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے پرسکون کرنا چاہا
"واہ بھئی واہ حد ہے ڈھٹائی کی، ابھی بھی کیسے بےشرمی سے کھڑی ہے" پیچھے سے کسی کی آواز گونجی تھی، حسال چلتے ہوئے فلک کے پاس آئی
"چٹاخ" زوردار تھپڑ کی آواز بہرام کے آفس میں گونجی تھی سب لوگوں کا منہ کھلا تھا اسکی حرکت پر
"کیا کہا تم نے ، میں نے اور بہرام نے ساری رات اس کمرے میں اکیلے گزاری، ہیں ناں، اور مجھے اس پر شرم آنی چاہیے، مگر مجھے شرم نہیں آرہی اور ہم دونوں یہاں ایک رات تو کیا جتنی راتیں چاہیں ایک ساتھ جہاں مرضی گزار سکتے ہیں، جانتی ہو کیوں؟" اس کی آنکھوں میں اپنی آگ ٹپکاتی آنکھیں گاڑھے وہ غصے سے بولی،اس کی بات پر سب لوگ حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے جو اتنی آسانی سے اتنی بڑی بات کہہ رہی تھی
"کیونکہ جس آفس میں کھڑے ہوکر، جس انسان پر تم میرے ساتھ رات گزارنے کا الزام لگا رہی ہو ناں،وہ مجھ پر اور میرے وجود پر مجھ سے زیادہ حق رکھتا ہے، اور ایک شوہر سے اپنی بیوی کے ساتھ رہنے پر دنیا کی کوئی عدالت جواب طلبی نہیں کر سکتی" اس کی بات پر سب کی زبانوں پر تالے لگ گئے تھے
"اور آپ سب، کسی کی بھی باتوں میں آکر آپ لوگ دوسروں پر الزام لگائیں گے، آج تک کبھی کسی نے بہرام کے کردار میں کوئی جھول دیکھا ہے، میرے شوہر کے اور میرے کردار کو جانچنے والے آپ سب ہوتے کون ہیں؟" حسال نے اب کی بار پیچھے کھڑے لوگوں کو گھورا تھا جو اب آہستہ آہستہ وہاں سے نکلنے لگے تھے
بہرام تو حیرت سے اپنی شیرنی کو دیکھ رہا تھا سویٹی نے سچ کہا تھا، وہ سچ میں اس کی خاطر ہر کسی سے لڑ گئی تھی، وہ مان اور فخر سے اسے بولتا دیکھ رہا تھا، صوفے سے ٹیک لگائے اب وہ بلکل پرسکون تھا
"اور تم، تمہیں میرے شوہر نے گھاس نہیں ڈالی تو تم اپنے اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی، میں نے کہا تھا ناں میرے شوہر کے دل کو جیتنے سے پہلے یہ دیکھ لینا کے وہاں اس کا دل ہے بھی یا نہیں، کیونکہ جس دل پر تم قبضہ کرنا چاہتی تھی ناں وہ تو ناجانے کب سے میری ملکیت ہے" حسال ہونٹوں پر تمسخرانہ مسکراہٹ سجائے فلک سے بولی جس کا چہرہ تاریک پڑ چکا تھا
"مس فلک، جاتے ہوئے اپنا سامان لے کر جائیے گا، اور بہرام چیک بک پلیز" حسال نے اس سے کہتے بغیر مڑے بہرام کی طرف ہاتھ بڑھایا، جس پر بہرام نے ایک پل بھی سوچے بغیر سائن شدہ چیک بک اسے تھما دی
"یہ رہی تمہاری ایڈوانس سیلری، دوبارہ مجھے اپنی شکل مت دیکھانا" چیک بک پر رقم لکھتے چیک اس کے سامنے رکھتے اسے جانے کا اشارہ کیا، وہ اپنا سا منہ لے کر وہاں سے نکلتی چلی گئی، اس کی ساری پلینگ پر پانی پھر گیا تھا بلکہ اسے بہت بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا
"کیا بات ہے مسز بہرام خانزادہ، آج تو آپ نے مجھے حیران کردیا ہے" بہرام مسکراتا ہوا اسکے سامنے آتے بولا
"ہاں تو، وہ بکواس کر رہی تھی اور میں خاموش رہ کر سنتی رہتی" حسال کا سخت تیش آیا ہوا تھا فلک کی حرکت پر
"نہیں نہیں بلکل نہیں، آپ نے جو بھی کیا بہت اچھا کیا، مگر مجھے نہیں پتا تھا میری بیوی میرے لیے اتنی پوزیسیو ہے" بہرام آج بہت خوش تھا حسال کی باتوں میں موجود اپنی ذات کا مان اسے آسمان پر پہنچا گیا تھا
"میں نے آپ سے پہلے دن ہی کہا تھا، میں اپنے شوہر پر کسی غیر کا سایہ بھی برداشت نہیں کروں گی، اور ایسی چڑیلوں سے اپنے شوہر کی حفاظت کرنا مجھے آتا ہے" حسال اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی
"حسال، آپ کو پتا ہے مجھے اس وقت آپ پر کتنا پیار آرہا ہے،" بہرام کی اچانک بےتکی سی بات پر حسال سب کچھ بھولے حیرت سے اسے دیکھنے لگی
"دل چاہ رہا ہے آپ کو دل میں چھپا کر اس دنیا سے بہت دور لے جاوں اور اپنے دل میں موجود ساری محبت آپ پر لٹا دوں" آہستہ سے اسکے ماتھے کو عقیدت سے چھوتے بہرام نے سرگوشی کی،
اس کی بات پر حسال کے گال تپ اٹھے تھے نظریں جھکائے وہ فرار کی راہ ڈھونڈ رہی تھی، مگر پھر کوئی جائے فرار ناں پاتے اسی کے کشادہ سینے میں چھپ کر خود کو اس سے چھپا گئی تھی
@@@@@@@@@
لاکھ پردوں میں رہوں بھید مِرے کھولتی ہے
شاعری سچ بولتی ہے
تیرا اصرار کے چاہت کا کبھی اظہار ناں ہو
واقف اس غم سے میرا حلقہ احباب ناں ہو
تو مجھے ضبط کے صحراوں میں کیوں رکھتی ہے
شاعری سچ بولتی ہے
یہ بھی کیا بات ہے کے چھپ چھپ کے تجھے پیار کروں
اگر کوئی پوچھ ہی بیٹھے تو میں انکار کروں
وقت کی ہر بات کو دنیا کی نظر تولتی ہے
شاعری سچ بولتی ہے
میں نے اس فکر میں کاٹی کئی راتیں کئی دن
میرے شعروں میں تیرا نام ناں آئے لیکن
جب تیری آنکھ میری سانس میں رس گھولتی ہے
شاعری شچ بولتی ہے
تیرے جلوں کا اثر تو میری ایک ایک غزل
تو میرے جسم کا سایہ ہے یوں کترا کے ناں چل
پردہ داری تو خود اپنا بھرم کھولتی ہے
شاعری سچ بولتی ہے
غزل مکمل کرتے اس نے پن کاغذ پر رکھتے قریب ٹیبل پر رکھی اپنی اور زین کی نکاح کی تصویر پکڑی، وہ بھی کل حرم کے ساتھ ہی گھر آئی تھی مگر طبیعت میں عجیب سی بےچینی ہونے کی وجہ سے وہ واپس نہیں گئی تھی
آج ان کے نکاح کو پانچ سال ہوگئے تھے،اس نے غور سے تصویر کو دیکھا، سفید فراک پر سرخ نیٹ کا دوپٹہ لیے وہ شرم سے سرخ چہرہ جھکائے بیٹھی تھی جبکہ زین سفید شلوار قمیض میں چہرے پر مخصوص سنجیدگی لیے بیٹھا تھا
زین نے نکاح کے بعد سے لے کر آج تک اس سے کبھی اس قسم کی کوئی بات نہیں کی تھی، ناں کبھی کوئی محبت بھرے الفاظ، ناں ہی کوئی سرگوشی، وہ دونوں آج بھی ویسے ہی تھے جیسے عام کزنز ہوتے ہیں، مگر وہ اپنے دل کا کیا کرتی جس میں روزِ اول سے صرف زین تھا
تصویر ہاتھوں میں تھامے وہ یک ٹک زین کے سنجیدہ چہرے کو دیکھ رہی تھی، اس نے آج تک اپنے جذبات خود سے بھی چھپا کر رکھے تھے،کبھی کسی کو بھنک تک نہیں لگنے دی کے وہ زین کے لیے کیا محسوس کرتی ہے
"پری" سویرا کی آواز پر اس نے تصویر رکھ کر آنسو صاف کرنے چاہے جب تصویر اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گری، شیشہ ٹوٹنے کی آواز پر پرنیاں کا دل دھلا تھا
"کیا ہوا پری؟" سویرا نے اس سے پوچھا جو ساکت بیٹھی ٹوٹے ہوئے فریم کو دیکھ رہی تھی،اس کا دل عجیب وسوسوں میں گھر گیا تھا، سویرا نے اس کی محویت دیکھتے نیچھے دیکھا اور پھر جھک کر تصویر اٹھائی
"اوہ یہ فریم تو ٹوٹ گیا، کوئی بات نہیں میں ولی کو کہوں گی وہ ٹھیک کروا دیں گے، تم آو چل کر کھانا کھا لو" سویرا اس کا انداز نوٹ کیے بغیر عام سے لہجے میں بولی
"مجھے بھوک نہیں ماما، بس سونا چاہتی ہوں کچھ دیر" اپنے دل کو سمبھالتے وہ اٹھ کر بیڈ کی طرف بڑھی
"چلو تم کچھ دیر آرام کرو میں پھر کھانا بھجوا دوں گی" سویرا اس کے سر پر ہاتھ رکھتے باہر نکل گئی
پینتھر کی گن سے نکلی گولی زین کے سینے میں پیوست ہوئی تھی، وہ ایک جھٹکے سے جبران کے ہاتھوں سے پھسل کر نیچے گرا تھا، جبران منہ کھولے زین کو نیچے گرا ہوا دیکھ رہا تھا
"تمہیں کیا لگا تھا رام، ہمیں اپنے ملک سے بڑھ کر کوئی بھی عزیز ہوسکتا ہے، اگر اسکی جگہ میرا باپ یا بھائی بھی ہوتا تو اس کا یہی حال ہوتا" وہ چلتا ہوا جبران کی طرف بڑھا جسے قدم با قدم موت اپنی جانب آتی نظر آرہی تھی
پینتھر نے گن کا رخ مظہر کی طرف کرتے فائر کیا جس پر اگلے ہی لمحے وہ بھی جہنم رسید ہوا تھا، لیپرڈ اور سوان آرام سے کھڑے اسے دیکھ رہے تھے جو کالے سائے کی طرح جبران پر چھانے کو تیار تھا
"کیا کہا تھا تم نے، ہم بےوقوف ہیں؟ تمہارے بچھائے جال میں پھنس گئے؟ مگر سچ تو یہ ہے کے تم ہمارے جال میں پھنسے تھے ہم جانتے تھے تم نے سانو کو سچ بتانے کا کہا ہے، تب ہی ہم یہاں آئے تھے، تم اپنے اوور کنفیڈینس میں یہ بھول گئے کے جو شخص اپنے وطن کا ناں ہوسکا ہم اس کے کیسے ہوں گے، جیسے بھی ہو مگر یہ اپنے ملک کا غدار تھا، اور غدار کی سزا صرف موت ہوتی ہے" پینتھر نے ایک نظر نیچے پڑی زین کی باڈی کو دیکھتے کہا
زین ان بدنصیبوں میں سے تھا جو دشمون کے ہاتھوں مہرہ بن کر لقمہ اجل بن گیا، جانے انجانے میں ہی سہی مگر وہ اپنے ہی ملک کو ایک ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے جارہا تھا، ایک شہید کا بیٹا ہوکر وہ غلط کام کرنے جارہا تھا اور غلط کام کا نتیجہ غلط ہی ہوتا ہے
اسے بھی اپنے غلط ہونے کا احساس ہوا تھا،مگر تب تک بہت دیر ہوچکی تھی،شاید اس کی قسمت میں ایک غدار کی حیثیت سے مرنا لکھا تھا، وہ تو چلا گیا تھا مگر اس کے پیچھے رہ جانے والوں پر یہ سن کر کیا بیتنے والی تھی یہ سوچنا بھی مشکل تھا
پینتھر نے گن کی پچھلی سائیڈ زور سے رام کے سر پر مارا، جس پر وہ بےہوش ہوتے نیچے گرا تھا، وہ اچانک آئی آفت پر اپنا دفاع تک نہیں کرسکا، تب ہی آسانی سے ان کے ہاتھ لگ گیا
"لیپرڈ، ان دونوں ڈیڈ باڈیز کو ٹھکانے لگاو، یہ مظہر رام کا آدمی رادھو ہے، اسے یہیں کہیں دفنا دو، اور یہ دوسری ڈیڈ باڈی لے کر تم دونوں پاکستان جاؤ، اس کے گھر والوں کا پتا لگا کر باڈی ان کے حوالے کرو، میں اس رام سے ملاقات کر کے مشن پورا ہوتے ہی واپس آجاؤں گا" پینتھر بےتاثر لہجے میں بول کر رام کے بےہوش وجود کو اٹھائے باہر نکل گیا
لیپرڈ نے زین کو سیدھا کیا جس کے دل کے مقام پر گولی لگی تھی شاید تب ہی بہت جلد اس کی روح پرواز کر گئی تھی اور اسے تڑپنے کا بھی موقع نہیں ملا، لیپرڈ نے ایک افسوس بھری نظر اس پر ڈالی اور پھر اسے اٹھاتے باہر کی طرف بڑھا
انہیں اب بھی اسی طرح زین کو اپنا رشتہ دار ثابت کرتے واپس جانا تھا، اور پھر شام تک وہ لوگ پلین میں بیٹھے واپسی کے سفر پر گامزن تھے، یہاں آتے ہوئے کسی نے نہیں سوچا تھا کے واپسی کا سفر کیسا ہوگا،اگر زین کو علم ہوتا یہ سفر اسکا آخری سفر ہے تو شاید وہ کبھی وہ سب ناں کرتا جو وہ کر چکا تھا
وہ لوگ جس وقت واپس اکیڈمی پہنچے تھے اندھیرا ہوچکا تھا، سو ارتضی فلحال فریحہ کو بھولتے حریم کی طرف متوجہ ہوا اس نے سوچ لیا تھا کے وہ فریحہ کو اسی کے انداز میں شکست دے گا، اگر وہ اس کی محبت کو آزمانا چاہتی تھی تو ایسا ہی سہی اسے بھی جاننا تھا کے وہ آخر کس حد تک جاسکتی ہے
حریم کو اس نے فریحہ کے بارے میں کچھ بھی بتانے سے گریز کیا تھا، ورنہ اس کی معصوم سی پرنسس کا دل ٹوٹ جاتا جو وہ بلکل برداشت نہیں کر سکتا تھا، سو اسے آرام کرنے کا کہتے ہوسٹل کی جانب روانہ کیا تھا، حریم بھی اسے خدا حافظ کہتے جاچکی تھی
اگلے دن کی صبح میں کچھ خاص تھا، یوں محسوس ہوتا تھا جیسے پوری فضا میں محبت رچی بسی ہو، حریم صبح کل کی نسبت بہت بہتر محسوس کر رہی تھی، جو ہونا تھا وہ ہوچکا تھا سو وہ بھی سب کچھ بھولتے خود کو سمبھال گئی
وہ یونیفارم پہن کر کلاس لینے کے لیے آئی تو کلاس خالی دیکھ کر حیران رہ گئی، کوئی کیڈیٹ بھی وہاں موجود نہیں تھا وہ وہاں سے چلتی ٹریننگ گراونڈ میں آئی سامنے ہی کچھ کیڈیٹ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کھڑے تھے جن کے ہاتھوں میں بڑے بڑے بورڈ پکڑے ہوئے تھے
"ارتضی کی پرنسس، اس طرف " اسے دیکھ کر سب سے پہلے کیڈیٹ نے بورڈ پلٹا اس پر لکھے الفاظ پڑھ کر اسے حیرت ہوئی مگر پھر کچھ سوچ کر دو قدم آگے بڑھی
اس کے آگے سب کارڈز پر ایرو بنے ہوئے تھے، وہ ان ایروز کو دیکھتے ان کی سمت میں چلتی جارہی تھی، آخر کار وہ رن وے پر پہنچ گئی، تھوڑی ہی دور ایک ہیلی کاپٹر کھڑا تھا جبکہ اس سے کچھ دور ایک کیڈٹ کھڑی تھی
"پلیز گیٹ ان کی ہیلی پرنسس" اس نے کارڈ پلٹا، حریم اس سے کچھ پوچھنے کے لیے آگے بڑھی جبکہ پیچھے سے کسی نے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی، وہ خوشبو سے جان چکی تھی کے اس کے پیچھے کون ہے
"ارت۔۔ " اس نے ارتضی کو پکارنا چاہا مگر اس سے پہلے ہی وہ اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھے اسے چپ کروا چکا تھا
ارتضی اسے لیے ہیلی کی طرف آیا، اندر بڑھتے اسے تھام کر اندر بیٹھایا، ان کے سوار ہوتے ہی ارتضی کا دوست جو ہیلی کاپٹر چلا رہا تھا اس نے انجن سٹارٹ کیا، اور کچھ ہی پلوں میں وہ دور فضاوں میں تھے
"پرنسس" ارتضی کے پکارنے پر حریم نے آنکھوں سے پٹی ہٹائی اس کے بلکل سامنے ارتضیٰ موجود تھا، ہاتھوں میں مخملی کیس تھامے گھنٹوں کے بل موجود تھا، جبکہ وہ سامنے سیٹ پر بیٹھی تھی، وہ خواب کی سی کیفیت میں تھی، یہ شخص اس کی زندگی کو ہر بار نئے طریقے سے حسین بنا دیتا تھا
"ہیپی انیورسری پرنسس" اس کے ہاتھ میں رنگ پہناتے اس کے کان میں سرگوشی کی تھی کیونکہ وہاں ہواوں کا شور اس قدر تھا کے وہ دور سے اس کی آواز سننے سے قاصر تھی
ارتضی نے اسے تھام کر کھڑا کیا اور پیچھے سے پیراشوٹ اٹھاتے پہنا، حریم کو تھام کر دوسری بیلٹ کی مدد سے خود سے باندھا، حریم حیران پریشان سی اسے دیکھ رہی تھی وہ ناجانے کیا ارادے رکھتا تھا
"میرے ساتھ ان فضاؤں کے سفر کے لیے ریڈی ہیں آپ پرنسس" اسے قریب کرتے اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے پوچھا اس کے محبت سے پوچھنے پر حریم نے اثبات میں سر ہلایا وہ اگر اسے اپنے ساتھ دوسری دنیا میں بھی لے جاتا تو وہ بلا چوں چراں کیے چل دیتی
اس کے سر ہلاتے ہی ارتضی نے ہیلی سے نیچے جمپ کیا، اب وہ دونوں ہزاروں فٹ بلندی پر ہواوں میں تیر رہے تھے، حریم نے اسکے جمپ کرتے ہی زور سے آنکھیں میچ لیں مگر پھر کچھ لمحوں بعد ہمت کرتے آنکھیں کھولیں
اس کے بلکل سامنے دو براؤن آنکھیں محبت سے اسے تک رہی تھیں، ان آنکھوں میں اس کے لیے بےتحاشہ محبت تھی، وہ دونوں یک ٹک ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے ہوا میں نیچے کی طرف گر رہے تھے جبکہ ارتضی نے پیراشوٹ کھولا
پیراشوٹ کھلتے ہی ایک جھٹکے سے وہ تھوڑا اوپر ہوئے تھے اور پھر ہوا میں تیرنے لگے، اردگرد موجود نظارے مبہوت کر دینے والے تھے مگر وہاں پرواہ کسے تھی، کیونکہ اس وقت حریم کے لیے اس کے ارتضیٰ اور ارتضیٰ کے لیے اس کی پرنسس ہر چیز سے اہم تھی
"کچھ کہیں گی نہیں پرنسس؟" ارتضیٰ نے اسے چپ دیکھ کر پوچھا
"آپ نے یہ سب کب اور کیسے کیا؟" حریم ابھی تک حیرت زدہ تھی، اس طرح سارا ارینج کرنا اتنا آسان بھی نہیں تھا مگر سامنے ارتضی تھا جس کے لیے کچھ مشکل بھی نہیں تھا
"زیادہ کچھ نہیں بس اپنے بیج کا ٹاپ کیڈیٹ ہونے کا فائدہ اٹھایا بس، سر یاسر سے کہہ کر آپ کی کلاس کینسل کروائی، اس ہیلی کے لیے سر باسط سے اجازت لی، اور کچھ جونئیر سٹوڈینٹس پر روعب ڈال کر ان سے مدد لی" وہ بڑے مزے سے اس کو اپنی کارستانی سنا رہا تھا
"مگر آپ نے اتنا سب کچھ کیوں کیا؟ آپ کچھ سمپل بھی تو کر سکتے تھے؟" حریم اس دیوانے کو دیکھ کر حیران تھی جو اس کے لیے ناجانے کیا کچھ کرتا رہا تھا
"پرنسس، اب ہی تو آپ کو ان فضاؤں سے عشق کا ادراک ہوا ہے، میں چاہتا تھا یہ فضائیں جن کا عشق آپ کی اور میری رگوں میں خون کی ماند گردش کرتا ہے انہی فضاوں کو گواہ بنا کر آپ سے اپنی محبت کا اظہار کروں" ارتضی محبت سے دوسرا ہاتھ بھی اس کے گرد پھیلاتے بولا
"ارتضی، آپ اتنی محبت کیوں کرتے ہیں مجھ سے؟" اس کی محبت کو محسوس کرتے حریم کی آنکھوں میں آنسو آئے تھے
"کیونکہ میری جان میں خود کو مجبور پاتا ہوں آپ سے محبت کرنے پر، یہ میرے خون میں شامل ہے، الہام کی طرح میرے دل پر اتری ہے یہ محبت تو میں کیسے محبت ناں کروں آپ سے؟" ارتضی نے اس کی آنکھوں پر بوسہ دیا
وہ دونوں آہستہ آہستہ زمین کی طرف آرہے تھے، یہ اسلام آباد کے اطراف میں موجود جنگل تھا جہان انہون نے لینڈ کرنا تھا، کچھ ہی دیر میں وہ نیچے پہنچے تو ارتضی اسے وہاں سے لے کر واپس آسلام آباد واپس آیا
اور اسے لے کر لنچ کے لیے آیا تھا، سارا دن اس نے حریم کو مختلف جگہوں کی سیر کروائی تھی، ڈھیر ساری شاپنگ کرتے اس نے یہ دن حریم کی زندگی کا سب سے یادگار دن بنا دیا تھا، مگر وہ نہیں جانتا تھا کے یہ دن سچ میں ان سب کی زندگیوں کا سب سے یادگار دن بننے والا تھا
شام میں وہ دونوں ڈنر کر کے ہوسٹل کی طرف واپس جارہے تھے جب ارتضیٰ کا موبائل بجا تھا، فون اٹھاتے اسے جو خبر سننے کو ملی تھی وہ بجلی بن کر اس کے اعصاب پر گری تھی، اس نے بےساختہ ایک نظر اپنے ساتھ بیٹھی حریم پر ڈالی، اس کے دل میں عجیب سا درد اٹھا تھا
@@@@@@@@@@
حوزان آج صبح ہی کمراٹ آیا تھا اور آتے ہی سیدھا خانزادہ حویلی آیا تھا کیونکہ اتنے دن اپنی سویٹی سے دور رہنا اس کے بس کی بات نہیں تھی اب بھی سب سے پہلے وہ اسے ملنے اس کے روم کی طرف آیا تھا،صبح ہونے کی وجہ سے کوئی بھی اپنے روم سے باہر نہیں نکلا تھا
حوزان اس کے کمرے میں آیا تو وہ پرسکون سی سو رہی تھی، حوزان یک ٹک اس کے چہرے کو دیکھے گیا، یہ چہرہ اس کل کائنات تھا، جس کے بغیر یہ دنیا اس کے لیے بےمعنی سی تھی، وہ چلتا ہوا آکر اس کے بیڈ کے قریب نیم دراز ہوا، اس نے آتے ہی گارڈ سے سویٹی کے گزرے دنوں کی ساری رپورٹ طلب کی تھی
انہوں نے ہی اسے بتایا تھا کے وہ پرسوں کٹورہ جھیل دیکھنے گئی تھی اور یہ بھی کے اس دن کے بعد سے وہ حویلی سے باہر نہیں نکلی تھی یہاں تک کے لان تک بھی نہیں آئی تھی، اور یہی بات اسے تشویش میں مبتلا کر رہی تھی
"سویٹی؟" اس کے چہرے پر اپنی انگلیوں کا لمس چھوڑتے حوزان نے اسے پکارا تھا جو اتنے دنوں بعد اس کی آواز اور لمس پاتے پٹ سے آنکھیں کھول گئی
"خان" نیند سے بھری نیم وا آنکھوں کے ساتھ اس نے حوزان کو دیکھا
"کیسی ہیں خان کی جان؟" مسکرا کر محبت سے پوچھا اور وہ جو اسے اپنا تصور سمجھ رہی تھی ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی
"خان " ناجانے اسے کیا ہوا وہ بےساختہ اس کے کندھے پر سر رکھے پھوٹ پھوٹ کر رو دی، شاید دو دن سے دل میں جمع شدہ غبار نکال رہی تھی، دو دن سے وہ یہ بوجھ اکیلے اٹھا رہی تھی
"کیا ہوا میری جان، اس طرح کیوں رو رہی ہیں؟" حوزان اس کی حالت پر پریشان ہوگیا تھا یہ رونا اس کی دوری کا ہرگز نہیں تھا، یہ کوئی اور چیز تھی جس پر وہ ضبط کھو بیٹھی تھی
"خان، وہ، وہ گوہر خان" سویٹی کے منہ سے سرسراتا ہوا نام نکلا تھا جس پر حوزان کے ماتھے کی رگیں تن گئی تھی یہ شخص اب اس کے ہاتھوں سے مرنے والا تھا
"کیا کیا اس شخص نے؟" حوزان نے اس کے بال سہلاتے پوچھا، گوہر خان کو اس کی سویٹی کی آنکھ سے بہے ایک ایک آنسو کا حساب دینا تھا
سویٹی نے اسے ساری بات حرف با حرف بتا دی، وہ اب اس سے کچھ بھی چھپانا نہیں چاہتی تھی، حوزان جیسے جیسے سنتا جارہا تھا اس کے غصے کا گراف بڑھتا جارہا تھا، جبکہ سویٹی اس کے سینے میں منہ دیے رونے میں مصروف تھی
"بس سویٹی، میری جان بس کریں، اس طرح رو رو کر خود کو اور مجھے تکلیف مت دیں" حوزان نے اسے سیدھا کرتے اس کے آنسو آنگوٹھوں سے صاف کرتے اسے حوصلہ دیا
"خان، اگر اس نے آپ کو کوئی نقصان۔۔" وہ سسکی بھرتے بامشکل کہہ سکی تھی اس دن تو بہادر بن گئی تھی مگر اپنے خان کے سامنے وہی معصوم اور نازک سی سویٹی بن گئی تھی
"خان کے دل کے ٹکڑے، وہ آپ کے خان کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا، اس نے جو حرکت کی ہے میری زندگی پر بری نظر ڈال اس کا حساب اسے دینا ہوگا" حوزان نے اس کے ماتھے اور سوجی ہوئی آنکھوں کو چھوتے ہوئے کہا
"اور میری جان تو بہت بہادر ہے، اتنے اچھے سے حالات کا مقابلہ کیا، بہت اچھا جواب دیا آپ نے اس کی حرکت کا، آئی ایم پراوڈ آف یو جاناں" اسے بازو کے حصار میں لے کر بیڈ سے ٹیک لگاتے اس کے بال سہلائے
"وہ میرے سامنے میرے خان کو نقصان پہنچانے کی بات کر رہا تھا، میرا بس چلتا تو اس کی جان لیتی" بات کرتے کرتے اس کے لہجے میں عجیب سی شدت پسندی آگئی تھی
"اتنی محبت کرتی ہیں اپنے خان سے؟" حوزان کا سیروں خون بڑھا رہی تھیں اس کی باتیں
"اس دنیا میں مما بابا کے بعد میں سب سے زیادہ محبت آپ سے کرتی ہوں خان، اگر کبھی کسی نے آپکو نقصان پہنچانے کی یا مجھ سے دور کرنے کی کوشش کی تو میں اسے چھوڑوں گی نہیں" سختی سے اس کی شرٹ پکڑتے شدت سے بولی
"سویٹی، میری زندگی کی بنیاد ہیں آپ، اگر آپ نہیں تو میں بھی نہیں، اور فکر مت کریں جب تک آپ کی دعاوں کا حصار میرے گرد موجود ہے دنیا کی کوئی طاقت مجھے نقصان نہیں پہچا سکتی، اسی لیے بےفکر رہیں، اور ساری فکر مجھ پر چھوڑ دیں، میں سب دیکھ لوں گا، اوکے" حوزان اس کے بال سہلاتے اسے سمجھاتا رہا
اب اسے گوہر خان کا کوئی ناں کوئی حل نکالنا تھا، اس کی سویٹی کو ڈرا دھمکا کر اس نے بلکل اچھا نہیں کیا تھا اب اسے حوزان خاقان کے عتاب کا نشانہ بننے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا
@@@@@@@@@
سوان اور لیپرڈ دونوں پاکستان پہچ چکے تھے زین کی ڈیڈ باڈی لے کر انہوں نے سی ایم ایچ میں بھجوا دی تھی، جہاں سے اس کے گھروالوں کو تلاش کیا جانا تھا، اس کی باڈی کو سٹریچر پر ڈال کر اندر لے جایا گیا
سوان اور لیپرڈ نے ساری بات آئی ایس آئی کے ہیڈ کو بتا دی تھی، انہوں نے اس کی انفو نکالی تو پتا چلا کے وہ میجر ولید حیدر کا داماد ہے جو خود آئی ایس آئی آفیسر رہ چکا تھا ، انہوں نے ولید اور احتشام سے رابطہ کرتے انہیں معاملے سے آگاہ کیا تھا، ولید کچھ لمحے تک کچھ بول ہی نہیں سکا، اسے سمجھ نہیں آرہا تھا زین کی غداری پر آنسو بہائے یا اپنی بیٹی کے اجڑنے پر
"ڈیڈ باڈی کہاں ہے سر؟" ولید چونکہ خود بھی ان کے انڈر کام کر چکا تھا سو اسی لحاظ سے مخاطب کرتے سنجیدہ لہجے میں گویا ہوا
"سی ایم ایچ" ان کے بتاتے وہ دونوں ہوسپٹل آئے تھے آج پرنیاں کی ڈے شفٹ تھی، وہ کیبن سے نکل کر ایمرجنسی میں جارہی تھی جب چلتے ہوئے اس کا دوپٹہ پاس سے گزرتے سٹریچر میں الجھا
بےزار سی ہوتے وہ دوپٹہ چھڑانے کے لیے مڑی تھی جب اچانک اس کا ہاتھ لگنے سے سٹریچر پر سے سفید چادر کھسکی تھی، اس نے سرسری سی نظر سٹریچر پر ڈالی جس پر وہ اگلے ہی لمحے وہیں پتھر ہوگئی تھی
زین کا سفید اور سرد چہرہ اس کے سامنے تھا، اس کی ٹانگوں نے اس کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیا تو وہیں بیٹھتی چلی گئی، اس کا زین، اس کا شوہر اسے چھوڑ کر جاچکا تھا، ولید اور احتشام ہوسپٹل میں داخل ہوئے تو اندر آکر پرنیاں کو ایک سٹریچر کے قریب نیچے گرے دیکھ وہ معاملہ سمجھ چکے تھے
ولید نے ضبط سے مٹھیاں بینچی تھیں، زین کے ایک غلط فیصلے نے ناں صرف اس کی جان لے لی بلکہ اس سے جڑے لوگوں کو بھی اذیت میں دھکیل دیا تھا ولید چلتا ہوا آکر پرنیاں کے پاس نیچے بیٹھا، اس نے سر اٹھا کر ایک اجنبی سی نگاہ باپ کے چہرے پر ڈالی
وہ رو نہیں رہی تھی بس ساکت سی نظروں سے سامنے گھور رہی تھی، عمر ہی کیا تھی اس کی محض چوبیس سال اور اتنی سی عمر میں وہ بیوگی کی چادر اوڑھ گئی، وہ محبت جسے اس نے اب تک محسوس تک نہیں کیا تھا وہ ہمیشہ کے لیے اس سے چھن گئی
"بابا، یہ زین نہیں ہیں ناں؟" پرنیاں کی آواز یوں محسوس ہوتا تھا جیسے گہری کھائی سے آرہی ہو، وہ بےتاثر لہجے میں بولی تو ولید نے تڑپ کر اسے سینے سے لگا لیا
"جاچکا ہے زین میری جان، چلا گیا زین وہیں جہاں عباد چلا گیا تھا، مگر تکلیف تو یہ ہے کے ایک شہید کا بیٹا ایک غدار کہلاتے مرا، " آہستہ آہستہ بولتے اس نے پرنیاں کے سر پر دھماکا کیا تھا وہ ایک جھٹکے سے اس سے الگ ہوئی
"غد۔۔۔ غدار؟" پرنیاں کی آواز مین بےیقینی اور ٹوٹے کانچ کی کرچیاں تھیں، ولید نے بدلے میں اسے ساری بات بتا دی، یہ سب سنتے پرنیاں کی تکلیف میں اضافہ ہوا تھا، وہ فوج سے نفرت کرتا ہے یہ وہ جانتی تھی مگر اس نفرت میں وہ اتنا بڑا قدم اٹھا لے گا یہ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی
اسکی آنکھ کے آنسو اور تمام احساسات پر جیسے برف جم گئی تھی، ولید اور احتشام نے سب ریکوائرمینٹس پوری کرتے اس کی باڈی ریسیو کی تھی اور پھر پرنیاں کو لیتے باہر نکلے ان کا رخ ابراہیم ولا کی طرف تھا جہاں ایک قیامت برپا ہونے والی تھی
انہوں نے راستے میں مجتبی اور ارتضی کو فون کر دیا تھا رات کا اندھیرا ہھیلتے وہ لوگ ابراہیم ولا پہنچے تھے، ایمبولینس کا سائرن سنتے وہ سب باہر آئے مگر سامنے زین کا مردہ وجود دیکھتے وہ سب پتھر کا مجسمہ بن گئے تھے
اس کی باڈی کو درمیان میں لاکر رکھا توعائشہ بھاگتے ہوئے باکس کے قریب آئی، زین کا چہرہ دیکھتے وہ نفی میں سر ہلا کر اپنی چیخوں کو دباتی نیچے بیٹھتی چلی گئی، سویرا اور مہمل بھی وہاں آگئیں تھیں، ہر کوئی رو رہا تھا چیچیں تھیں، سسکیاں تھیں مگر اس سب میں بھی پرنیاں کی آنکھ سے ایک بھی آنسو نہیں نکلا تھا
مجتبیٰ اور حرم پارک سے باہر نکل رہے تھے جب مجتبی کا سیل وائبریٹ ہوا، اس نے موبائل نکالتے دیکھا تو ولید کا فون تھا، اس نے مسکراتے ہوئے فون اوکے کرتے کان سے لگایا
"السلام علیکم بابا جان" بہت محبت اور احترام سے پکارا تھا
"وعلیکم السلام، مجتبی کہاں ہو؟ ولید کی آواز کی سنجیدگی اور اداسی مجتبی کو متوجہ کر گئی تھی
"بابا جان آج ہی واپس آیا ہوں اس وقت ہنی کے ساتھ ہوں، سب خیریت آپ پریشان لگ رہے ہیں" اب کے وہ بھی سنجیدہ ہوا تھا ولید کا اس طرح فون آنا عام بات ہرگز نہیں تھی
"حرم کو لے کر ابراہیم ولا پہنچیں جلدی" ولید نے کہتے فون بند کر دیا جبکہ وہ ہیلو ہیلو کرتا رہ گیا
"کیا ہوا مجتبی، کیا کہہ رہے تھے بابا؟" حرم نے اس کے چہرے پر چھاتی سنجیدگی دیکھ کر پوچھا ناجانے کیوں اس کا دل ناخوشگوار انداز میں دھڑکا تھا
"پتہ نہیں، ہمیں ابراہیم ولا آنے کا کہا ہے، ماجرا کیا ہے یہ تو وہیں جاکے پتا چلے گا" وہ کہتا گاڑی میں سوار ہوئے حرم کے بیٹھتے ہی وہ ہواؤں سے باتیں کرتے ابراہیم ولا پہنچے تھے
دروازے پر موجود ایمبولینس اور لوگوں کا ہجوم بہت کچھ کہہ رہا تھا جسے وہ ماننا نہیں چاہتے تھے، اب ناجانے کونسی ازمائش آئی تھی، دھڑکتے دل کے ساتھ وہ دونوں اندر بڑھے تھے مگر سامنے نظر آتے منظر نے جیسے انہیں پتھر کا مجسمہ بنا دیا تھا
سامنے ہی تابوت پڑا تھا، حرم لڑکھڑا کر گرنے لگی جب مجتبی جلدی سے اسے تھام گیا، بامشکل خود کو گھسیٹتے وہ دونوں اندر آئے تھے تابوت میں نظر آتا چہرہ دیکھ حرم گرنے کے انداز میں نیچے بیٹھی
کہنے کو زین اس کی ماں کے رضاعی بھائی کا بیٹا تھا، اسکے ماموں کا خون مگر جس طرح مہمل کو عباد سے بےتحاشہ محبت تھی ٹھیک اسی طرح حرم کے لیے زین سگے بھائیوں سے بڑھ کر تھا، اسے اپنے سامنے اس حالت میں دیکھ کر اس کے آنسو بےاختیار بہے تھے
"زین بھائی، مجتبی، یہ زین بھائی نہیں ہیں، ایسا نہیں کر سکتے یہ ہمارے ساتھ، میری پری، میری پری کیسے رہے گی ان کے بغیر، پری، پری کہاں ہے" حرم شدت سے بہتے آنسووں کے ساتھ بولتی سب کو رلا رہی تھی مجتبی شدتِ ضبط سے سرخ چہرہ لیے باہر نکل گیا
عائشہ ایک طرف بلکل خاموش بیٹھی تھی اس کے بیٹے نے تو اس سے رونے کا حق تک چھین لیا، آج اگر اس کا بیٹا شہید ہوتا تو وہ بھی آنسو بہاتی خوشی کے آنسو، اپنے بیٹے کی بہادری پر سر فخر سے بلند کرتی مگر اب، زین نے انہیں سر اٹھانے کے قابل بھی نہیں چھوڑا تھا
جبکہ سارہ بیگم کی بوڑھی آنکھوں نے جواب دے دیا تھا، وہ مسلسل روئے جارہی تھیں، زینب بیگم کا حال بھی مختلف نہیں تھا عباد کو بھلے ہی انہوں نے جنم نہیں دیا تھا مگر وہ ان کا بیٹا تھا جسے انہوں نے اپنا دودھ پلایا تھا، اور آج اپنے جوان سال پوتے کی میت پر بیٹھی وہ تڑپ اٹھی تھیں
سویرا تو کبھی جوان بھتیجے کو دیکھتی تو کبھی ساکت بیٹھی اپنی بیٹی کو جس پر کسی مورت کا سا گمان ہونے لگا تھا، اگر کوئی چیز اس کو انسان ثابت کر رہے تھے تو وہ اس کے آنسو تھے جو مسلسل اس کے گلابی گالوں پر بہہ رہے تھے
مہمل بار بار بےہوش ہورہی تھی، عباد کی موت کا صدمہ کیا کم تھا جو اس میں زین کا دکھ بھی شامل ہوگیا، وہ اسکے جان سے پیارے بھائی کا جگر گوشا تھا اس کی پیاری بھتیجی کا سہاگ تھا، جس نے ابھی بہاریں دیکھنی تھیں مگر بہار آنے سے پہلے ہی وہ خزان کا شکار ہوگئی
"پری، پری میری جان" حرم پری کے پاس آئی جو یک ٹک سامنے دیوار کو دیکھ رہی تھی حرم نے تڑپ کر اسے سینے سے لگایا مگر اس کے وجود میں کوئی جنبش نہیں ہوئی، وہ سب بیٹھے رو رہے تھے جب چیخ پر سب کا دھیان داخلی دروازے کی جانب گیا
ارتضیٰ کو جب ولید نے فون کیا تو وہ حریم کو لے کر گھر آگیا، اس کا دل خون ہورہا تھا اس کی معصوم سی پرنسس کیسے برداشت کر پاتی یہ صدمہ، اس کے ہاتھوں کی لرزش سے بےنیاز حریم اچانک گھر جانے پر حیران ہورہی تھی
ابراہیم ولا کے باہر گاڑی روکتے وہ باہر نکل کر اسکی جانب آیا، وہ دونوں ابھی تک یونیفارم میں موجود تھے حریم اتنا رش اور شور دیکھ کر سہم گئی تھی، سختی سے ارتضی کا ہاتھ تھاما، خود پر ضبط کرتے ارتضی اسے کندھوں سے تھام کر اندر بڑھا
اندر آئے تو سامنے کا منظر دیکھ کر حریم کے قدم اٹھنے سے انکاری ہوگئے، وہ ساکت نظروں سے سامنے دیکھ رہی تھی، بہت سال پہلے کا منظر ایک بار پھر سامنے لہرایا تھا، ویسا ہی تابوت، اتنا ہی رش، وہی آہیں، سسکیاں اور شور، اس نے چند قدم آگے بڑھ کر تابوت کی جانب دیکھا
زین کا چہرہ دیکھتے ہی اس کے منہ سے زور دار چیخ برامد ہوئی تھی، اور اس سے پہلے کوئی کچھ سمجھتا وہ لہرا کر ارتضیٰ کی بانہوں میں گری تھی، دماغ جیسے اندھیروں میں ڈوبتا جارہا تھا، اس نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا اتنے حسین دن کا اختتام اس قدر وحشت ناک ہوگا
"پرنسس، پرنسس، حریم، حریم آنکھیں کھولیں، حریم" اس کی حالت ارتضی کے ہاتھ پاؤں پھلانے کے لیے کافی تھے، اس کی آواز پر ولید، احتشام اور مجتبی بھی بھاگتے ہوئے اندر آئے تھے
"ارتضی جلدی حریم کو ہوسپٹل لے کر جاو، جلدی کرو" سویرا نے اٹھ کر حریم کی نبض ٹٹولی تو وہ بہت دھیمی چل رہی تھی ان سب کو زین کو چھوڑ حریم کی فکر لاحق ہوگئی تھی وہ سب مزید صدمے کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے
ارتضیٰ جیسے آیا تھا انہی قدموں واپس ہوسپٹل کی جانب بڑھا، حریم کو آتے ہی ایمرجنسی میں شفٹ کر دیا گیا تھا، ارتضی جلے پیر کی بلی کی ماند یہاں سے وہاں گھوم رہا تھا اس کا دل درد سے پھٹا جارہا تھا اس کی زندگی اندر آئی سی یو میں تھی اور وہ اتنا بےبس تھا کے کچھ کر بھی نہیں سکتا تھا
کچھ ہی لمحوں بعد آئی سی یو کا دروازہ کھولتے ڈاکٹر باہر نکلی تھی ارتضیٰ ایک پل کی بھی دیری کیے بغیر ان تک پہنچا تھا، ڈاکٹر کا چہرہ کچھ خاص امید ظاہر نہیں کر رہا تھا
"ڈاکٹر میری بیوی؟" ارتضی نے بےتابی سے پوچھا
"کمانڈر ارتضیٰ، آپ کی مسز کا بہت سوئیر نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے، اگر صبح تک انہیں ہوش ناں آیا تو ہم کچھ نہیں کہہ سکتے، کچھ بھی ہو سکتا ہے"
@@@@@@@@@
حسال اور بہرام بھی کمراٹ آگئے تھے کل پلوشہ بیگم کی برسی تھی، سو اس وقت پوری حویلی پر ایک سوگواریت طاری تھی، انہوں نے بہت سی مشکلات اور آزمائشیں برداشت کی تھیں ہر کوئی اداس اور دکھی تھا
کل انہیں سارے قبیلے میں کھانا اور کپڑے تقسیم کرنے تھے اسی لیے حوزان اور بہرام تو آتے ہی کاموں میں مصروف ہوچکے تھے، آب، دلکش اور مشک پلوشہ بیگم کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن پاک کی تلاوت کر رہی تھیں
حسال اور سویٹی بھی ان کے پاس بیٹھی ان کا ساتھ دے رہی تھیں، شاہ زیب اور شاہ زر باقی انتظامات دیکھ رہے تھے ذیشان کو ایک کیس کی وجہ سے اچانک واپس جانا پڑا سو وہ اسلام آباد جاچکا تھا
"زیب، داہیم کب تک آرہا ہے" شاہ زر نے پاس کھڑی کسی ملازم کو کام سمجھاتے شاہ زیب سے پوچھا
"بات ہوئی میری کل اس سے کہہ رہا تھا ایک ڈیڑھ ہفتہ لگ جائے گا اسے، ایک امپورٹنٹ میٹینگ رہتی ہے پھر آئے گا" شاہ زیب نے اس کی بات پر متوجہ ہوتے ہوئے کہا
"ہممم " شاہ زر نے اس کی بات پر ہنکارا بھرا تب ہی شاہ زیب کا موبائل وائبریٹ ہوا، اس نے دیکھا تو ذیشان کا فون تھا فون اوکے کرتے کان سے لگایا
"ہاں ذیشان بولو؟" شاہ زیب کے پوچھنے پر ناجانے دوسری طرف سے کیا کہا گیا کے شاہ زیب کا چہرہ سنجیدہ ہوگیا
"ٹھیک ہے ہم آتے ہیں، تم وہاں پہنچو" شاہ زیب نے آہستہ سے کہتے فون بند کر دیا
"کیا بات ہے شاہ زیب، تم پریشان لگ رہے ہو؟" شاہ زر نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھتے پوچھا جو بہت رنجیدہ لگ رہا تھا
"ولید کا بھتیجا، عباد ابراہیم کا بیٹا زین، اس دنیا میں نہیں رہا" شاہ زیب نے بمشکل بتایا تو شاہ زر کا دل بھی دکھ سے بھر گیا، اپنوں کو کھونے کی تکلیف کیا ہوتی ہے یہ وہ دونوں اچھی طرح جانتے تھے
"انا للّٰہ وانا الیہ راجعون، اللّٰہ مغفرت فرمائے اس بچے کی"شاہ زر تکلیف سے بولا
"آمین، اس مشکل وقت میں انہیں ہماری ضرورت ہے، میں کچھ دیر میں نکلنے والا ہوں، کیا تم چل رہے ہو میرے ساتھ؟" شاہ زیب نے اس سے پوچھا جس پر وہ سر اثبات میں ہلا دیا
ان دونوں نے بہرام اور حوزان کو بتایا اور اسلام آباد کے لیے روانہ ہوئے جانا تو وہ دونوں بھی چاہتے تھے مگر یہاں رہنا بھی ضروری تھی سو وہ وہیں رک گئے، مگر دکھ انہیں بھئ ہوا تھا ایک انجان شخص کے دنیا سے جانے کا
بہرام کے سر میں شدید درد ہونے لگا تھا، ٹینشن اور دکھ نے اسے بےحال کر دیا تھا تب ہی حوزان کو وہاں چھوڑتا اندر کی جانب بڑھا کچن میں چائے کا کہنے آیا تو سامنے حسال سفید شلوار قمیض پہنے سر پر سلیقے سے دوپٹہ اوڑھے چائے بنانے میں مصروف تھی
" حسال ایک کپ چائے میرے لیے بھی بنا دیں پلیز" اچانک اس کی آواز سن کر حسال اچھلی تھی خفگی سے مڑ کر اسے دیکھا جو سر تھامے کرسی پر بیٹھا تھا، حسال کو اس کا چہرہ کچھ مرجھایا سا محسوس ہوا، چائے چولہے پر چڑھاتی وہ آہستہ سے اس کی جانب آئی
"بہرام،کیا ہوا آپ کو؟ آپ ٹھیک ہیں؟" حسال نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے پوچھا
"ہممم، سر میں درد ہے" آہستہ سے کہتے ہاتھوں سے اپنی کنپٹیاں مسلنے لگا، حسال اس کا ہاتھ ہٹاتے اپنی مومی ہاتھوں سے اس کا سر دبانے لگی، اس کے ہاتھوں کا نرم لمس بہرام کے روم روم میں سکون بن کر سرائیت کرتا چلا گیا
"کیا بات ہے بہرام، یہ صرف سر درد نہیں ہے، کیا کوئی اور بات بھی ہوئی ہے" حسال کو اس کے چہرے پر کوئی اور تاثر بھی نظر آیا تھا تب ہی پوچھا
"بابا کے دوست ہیں ولید انکل، ان کے بھائی عباد انکل جو کئی سال پہلے شہید ہوچکے ہیں، ان کے بیٹے کی ڈیتھ ہوگئی ہے، بابا اور تایا جان وہیں گئے ہیں" بہرام کی بات پر حسال کے ہاتھ رکے تھے بےاختیار آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے
"حسال میری جان، آپ کیوں رو رہی ہیں؟" بہرام کے ماتھے پر حسال کا آنسو ٹوٹ کر گرا تو وہ تڑپ کر اٹھا تھا، بےساختہ اسے خود سے لگایا
"بہرام، ان کی ماں اور بہنوں پر کیا گزر رہی ہوگی، وہ کیسے اتنا بڑا صدمہ برداشت کریں گی؟" حسال اس انجان شخص کی موت سے زیادہ اسکی ماں بہن کی تکلیف پر رو دی
"بس میری جان، جو اللہ کی مرضی، ہم کون ہوتے ہیں اس کے فیصلوں میں بولنے والے، اللّٰہ پاک اس کی مغفرت فرمائے" اس کا سر تھپتھپاتے اسے حوصلہ دیا، دکھ تو اسے بھی بہت ہورہا تھا
"آمین" وہ سوں سوں کرتے بولی، رشتے صرف خون کے ہی نہیں ہوتے وہتے رشتے انسانیت کے بھی ہوتے ہیں، اور اصل انسان وہی ہوتا تو دوسروں کی خوشیوں میں خوش اور دکھوں میں اداس ہو
@@@@@@@@
پرنیاں ولید حیدر بنتِ ولید حیدر آپ کا نکاح زین عباد ابراہیم ولد عباد ابراہیم سے باعواض پچاس ہزار سکہ رائج الوقت کیا جاتا ہے کیا آپ کو قبول ہے؟"
"قبول ہے"
"قبول ہے"
"قبول ہے"
"بیٹا آپکی اینی مم نے زین کے لیے آپ ہاتھ مانگا، آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں"
"زین بھائی اور پری بھابھی دنیا کا سب سے پیارا کپل ہیں، "
"زین بھائی پری بھابھی کو دیکھیں کتنی پیاری لگ رہی ہیں" حریم کی آواز پر زین نے سر اٹھا کر اسے دیکھا چند لمحے اسے دیکھتے رہنے کے بعد نظر جھکا گیا
"نفرت ہے مجھے وردی سے اور وردی والوں سے" پرنیاں کے کانوں میں ناجانے کون کون سی آوازیں گونج رہی تھیں، وہ اردگرد سے بےنیاز ماضی کے سفر پر روانہ ہوچکی
اک عشق نظرکی وادی تھی جہاں پیارکی ندیا بہتی تھیں
کچھ دل والے بھی رہتے تھے جو پیار کی باتیں کرتے تھے
جب پیار کا موسم آتا تھا اور پھول پیار کے کھلتے تھے
اس مست بھری ہی شاموں میں پیار سے دو دل ملتے تھے
اک رات وہ بستی اجڑ گئی اور پیار کی ہستی بکھر گئی
پھر ہر اک دل کو سوگ ملا اور جیون بھر کا روگ ملا
اب دیوانے پھرتے رہتے ہیں، ہر اک سے یہ وہ کہتے ہیں
اقرار کسی نے ناں کرنا تم اور پیار کسی سے ناں کرنا تم
اس کے اردگرد رونے کی، سسکیوں کی بےتحاشہ آوازیں گونج رہی تھیں مگر اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا، اس کی محبت کا محل جو اس کے دل میں بنا تھا وہ چند پلوں میں ہی زمین بوس ہوچکا تھا، اس کی محبت نے اس کے دل پر بہت کاری وار کیا تھا
رات کب گزری ، زین کو کب غسل دیا گیا، اور آخری دیدار کے لیے میت کو کب واپس لاکر رکھا گیا اسے کچھ پتا نہیں تھا، دل درد کی شدت سے پھٹنے کے قریب تھا، مگر وہ پتھر ہوچکی تھی اپنا درد اندر ہی اندر دبائے جارہی تھی
"پری، میری جان، ایک آخری بار دیکھ لو زین بھائی کو، پھر وہ تمہیں کبھی دکھائی نہیں دیں گے" حرم نے اسے جھنجھوڑ کر ہوش میں لانا چاہا مگر بےسود وہ اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہیں ہلی تھی
"پری" عائشہ کی پکار پر اس پتھر ہوئے وجود میں جنبش ہوئی تھی، اس کا اور عائشہ کا غم سانجھا تھا، اگر اس نے اپنا سہاگ کھویا تو وہ بھی غداری جیسا روح فرسا الزام لگنے کے بعد تو عائشہ بھی تو اسی تکلیف میں تھی
"اینی مم" وہ ضبط کھوتے عائشہ کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی، وہ خالہ بھانجی ناجانے کس کس غم پر رو رہی تھیں، مگر ایک دوسرے کا سہارا پاتے وہ نئے سرے سے بکھری تھی
اور پھر زین چلا گیا، ان سب کو روتا بلکتا چھوڑ کر، منوں مٹی تلے جا سویا، ارتضی کچھ پلوں کے لیے جنازے میں شامل ہونے کے لیے آگیا تھا اور جنازہ ہوتے ہی واپس لوٹ گیا، وہ ایک پل بھی اپنی حریم کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا
صبح کی روشنی غموں کے گھور اندھیروں سے نکل کر امید کی کرن لے کے پھوٹی تھی، جسے جانا تھا وہ جاچکا تھا، مگر جو زندگی اور موت کی کشمکش میں گھری آئی سی یو میں تھی اسے شاید سب گھر والوں کی دعائیں اور ارتضیٰ کی محبت موت کے منہ سے کھینچ لائی تھی
ارتضیٰ فجر کی آذان سن کر قریبی مسجد چلا گیا، رت جگے کی چغلی کھاتی آنکھیں، بکھرے بال، شکن زدہ وردی وہ بلکل ہارے ہوئے جواری کی طرح لگ رہا تھا جو اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لٹانے کے درپے ہو، نماز پڑھ کر بارگاہِ الٰہی میں ہاتھ اٹھائے تو ایک آنسو ٹوٹ کر اس کی ہتھیلی پر گرا
محبت بھی کتنی عجیب شے ہے ناں، اگر میسر ہو تو انسان کو دنیا کا خوش قسمت ترین انسان بنا دیتی ہے اور اگر کھو جانے کا خطرہ لاحق ہوجائے تو اسی انسان کا فقیروں سے بدتر حال کر دیتی ہے، ارتضی آج اس بادشاہ کے دربار میں فقیر بنا بیٹھا تھا جو کل کائنات کا خالق و مالک ہے، جو انسان پر اس کی بساط سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا
"اے اللّٰہ، اے تمام جہانوں کے پروردگار، تو رحمٰن ہے، تو رحیم ہے، کوئی چیز تیرے قبضہ قدرت سے باہر نہیں، تو چاہے تو نواز دیتا ہے، میری محبت کو زندگی بخش دے میرے مالک، اس معصوم نے اپنی زندگی میں سوائے محرومیوں کے کچھ نہیں دیکھا، تو نے میری محبت کو میرا محرم بنایا، اسے میری رگِ جاں بنایا، اب مجھے اس کا غم نا دینا میرے مالک، مجھ پر رحم فرما، میری حریم پر رحم فرما، اسے زندگی عطا فرما"
بند آنکھوں کے ساتھ آہستہ آہستہ ہلتے ہونٹوں اور گالوں پر بہتے آنسووں کے ساتھ وہ کوئی دیوانہ لگ رہا تھا، اس کی حالت دیکھ اردگرد لوگ بھی تڑپ اٹھے تھے کے ناجانے اس خوبرو شہزادے کو کیا تڑپ تھی، مگر وہ یہ نہیں جانتے کے اس خوبرو شہزادے کا دل، اس کی معصوم شہزادی اس وقت زندگی اور موت کے درمیان کہیں معلق تھا
دوسری جانب حریم کو ہوش آیا تو سویرا اس کے پاس آئی، حریم ساکت نظروں سے چت لیٹی چھت کو گھور رہی تھی، اس کی آنکھ سے آنسو کا ایک قطرہ تک نہیں بہا تھا، سویرا اس کی حالت دیکھتے ایک پھر تڑپ اٹھی تھی، بھائی کو کھونے کی تکلیف کیا ہوتی یہ اس سے بہتر کون جان سکتا تھا
"حریم، میری جان، ایسے چپ مت رہو، تھوڑا سا رو لو، چیخ لو مگر چپ مت رہو، زین تمہارا بھائی اب اس دنیا میں نہیں رہا" سویرا نے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر کہا، وہ خود ڈاکٹر تھی اسی لیے جانتی تھی کے اس کا اس طرح رہنا خطرناک ہوسکتا تھا
"حریم، میرا بچہ" اسے ٹس سے مس ناں ہوتے دیکھ سویرا نے تڑپ کر پکارا مگر وہ تو شاید پتھر بن گئی تھی جس پر کوئی بات اثر نہیں کر رہی تھی
"کیا ہوا سویرا" ولید سویرا کی آواز سن کر اندر آیا، سویرا اسے حرکت ناں کرتے دیکھ پھوٹ پھوٹ کر رو دی
"ولی، ولی حریم کو دیکھیں ناں، یہ کوئی ردعمل نہیں دکھا رہیں" سویرا ولید کا بازو تھام کر بولی، اس کی یہ حالت اس کے دماغ پر برا اثر ڈال سکتی تھی
"سویرا، پلیز سمنبھالیں خود کو، میں ارتضیٰ کو فون کرتا ہوں" ولید جانتا تھا اسے صرف ارتضی کی اس فیز سے باہر نکال سکتا تھا تب ہی روم سے نکالتے ارتضی کو فون کیا جو مسجد سے باہر نکل رہا تھا
"السلام علیکم، جی بابا" اس کی آواز ضبط اور برداشت کی وجہ سے اس کی آواز بھاری ہوچکی تھی
"ارتضیٰ، حریم کو ہوش آگیا ہے، مگر اس کی حالت ٹھیک نہیں جلدی آؤ یہاں" جہاں پہلی بات پر اس نے اللّٰہ کا شکر ادا کیا تھا وہیں دوسری بات سنتے اس کا دل دہلا تھا وہ تیز تیز چلتا ہوسپٹل کہ طرف بڑھا
"میں آرہا ہوں بابا" وہ جلدی سے بولتا فون بند کرکے بھاگتا ہوا حریم کے روم میں پہنچا جہاں ولید اور سویرا پریشان سے کھڑے تھے
"کیا ہوا بابا، حریم " ارتضیٰ نے اسے دیکھتے ولید سے پوچھا
"مجتبی حریم کوئی ریکٹ نہیں کر رہی، اس کا رونا بہت ضروری ہے ورنہ اس کے دماغ پر برا اثر پڑ سکتا ہے، کچھ بھی کر کے اسے رلاو" ولید نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے کہا
"جی بابا میں دیکھ لیتا ہوں، آپ فکر مت کریں" ارتضی کے کہنے پر وہ چپ چاپ باہر نکل گئے ارتضیٰ چلتا ہوا حریم کے پاس آیا
"پرنسس" ارتضی نے اس کے بیڈ پر بیٹھتے پکارا مگر وہ یوں تھی جیسے سنا ہی ناں ہو
"یہاں دیکھیں پرنسس، رحم کھائیں اپنے ارتضی پر، کیا چاہتی ہیں، کے میں بھی زین کی طرح مر جاوں؟" ارتضی کے الفاظ حریم کے دل پر تیر کی طرح پیوست ہوئے تھے اس نے ایک جھٹکے سے شکوہ کرتی نگاہوں سے اسے دیکھا
"ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں، آپ اس طرح خود کو ازیت دیں گی تو کیا لگتا ہے آپ کو، میں آپ کی تکلیف برداشت کر سکوں گا، مر جاوں گا میں پرنسس، رحم کھائیں مجھ پر" آنکھوں میں نمی لیے ارتضی نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے، حریم کی آنکھوں میں پانی بھرنے لگا تھا، ارتضیٰ کے سوا اس کے پاس بچا ہی کیا تھا اور وہ بھی ایسی باتیں کر رہا تھا
حریم نے نچلا ہونٹ دباتے اپنی سسکی روکی تھی، ارتضیٰ نے اس کی حالت دیکھتے اسے کندھوں سے تھام کر خود میں بینچ لیا، حریم ضبط کے تمام بندھن توڑتے پھوٹ پھوٹ کر رو دی، ارتضی نے ضبط سے آنکھیں میچ لیں، اپنی محبت کو روتے دیکھنا آسان نہیں ہوتا
"ار۔۔ارتضی میرے۔۔۔میرے ساتھ۔۔ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں؟ پہلے بابا۔۔۔ اور۔۔۔ اور اب زین بھائی" ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں وہ اس تک اپنی تکلیف پہنچا رہی تھی حالانکہ ارتضیٰ کو اس کے الفاظ کی ضرورت نہیں تھی وہ اس کی تکلیف کو اس سے بہتر جانتا تھا
"بس میری جان، جانتا ہوں صبر مشکل ہے مگر اللّٰہ اگر درد دیتا ہے تو اس پر صبر بھی وہی دیتا ہے، جس کا جو وقت لکھا ہے اسے اسی وقت جانا ہے ہم چاہ کر بھی انہیں روک نہیں سکتے، زین کو ایسے ہی جانا تھا سو وہ چلا گیا، رو رو کر اس کی روح کو تکلیف مت دیں" ارتضیٰ اس کے بال سہلاتے ہوئے اسے حوصلہ دے رہا تھا
"مگر پری بھابھی، ان کا کیا قصور تھا، ان کی آنکھوں نے تو ابھی خواب دیکھنے شروع کیے تھے اور ساتھ ہی ان کے سب خواب ان سے چھن گئے" حریم آنکھوں میں آنسو لیے سراپا سوال بنی تھی جبکہ اس کے سوال پر ارتضی کا دل درد سے پھٹنے کے قریب تھا، اسکی معصوم سی بہن اتنی چھوٹی عمر میں بیوہ ہوگئی تھی
"حریم پری کا بھی اللّٰہ وارث ہے، اگر اللّٰہ نے اس کی قسمت ایسے ہی لکھی ہے تو ہم اس پر راضی ہیں، ہم چاہ کر بھی اللّٰہ کے فیصلوں میں دخل اندازی نہیں کر سکتے" اس کے بال سائیڈ پر کرتے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھاما
"مجھ سے یہ درد برداشت نہیں ہورہا ارتضی، یوں لگتا ہے جیسے میرا دل رک رہا ہے، یہ سب کیسے ہوا ارتضی، میرا بھائی ایسے کیسے چلا گیا؟" حریم کے معصوم سے چہرے پر آنسووں کی جھڑی لگی ہوئی تھی
"وہ، پرنسس، دراصل، زین کی مری میں کچھ اوباش لڑکوں سے لڑائی ہوگئی تھی لڑائی کے دوران ناجانے کیسے گولی چل گئی جو اس کے دل کے مقام پر لگی تھی" حریم ابھی ابھی ہوش میں آئی تھی وہ ہرگز نہیں چاہتا تھا کے اسے زین کی موت کے اصل حقائق معلوم ہو، تب ہی جھوٹ سے کام لیا
اس کی بات سنتے حریم کے آنسووں اور آہوں میں اضافہ ہوا تھا، ارتضیٰ نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے اسے خود میں بینچ لیا، زخم بہت بڑا تھا سو بھرنے میں بھی وقت درکار تھا
@@@@@@@@@
اگلے دن صبح سے ہی خانزادہ حویلی میں ہلچل مچی ہوئی تھی سب لوگ کاموں میں مصروف تھے، سارا قبیلہ حویلی میں جمع تھا، ایک طرف خواتین کی قطار تھی اور دوسری طرف مردوں کی، دلکش اور آب خواتیں کو جبکہ بہرام اور حوزان مردوں کو کپڑے دے رہے تھے
جس کے بعد وہ نیچے بچے دستر خوانوں پر بیٹھتے جارہے تھے جہاں ملازم انہیں کھانا کھلا رہے تھے، آب نے ایک نظر تمام لوگوں پر ڈالی، یہ قبیلہ اور اس کے لوگ ان کا اپنا خاندان تھا جنہوں نے ہر قدم پر ان کا ساتھ دیا تھا، قبیلے کے سردار کو کھونے کے بعد بھی پلوشہ بیگم کا ساتھ دیا، شاہ زیب کے آنے تک پلوشہ بیگم کے ہر فیصلے کا احترام کیا
حوزان اس کام سے فارغ ہوتے اندر آیا جہاں سویٹی سفید پٹھانی سوٹ پہنے سر پر سلیقے سے دوپٹہ اوڑھے ملازموں کے ساتھ کام میں ہاتھ بٹا رہی تھی حوزان اسکا یہ ذمہ دار روپ دیکھ کر ہلکا سا مسکرا دیا اور پھر چلتا ہوا اس کے پاس آیا
"سویٹی،" آزین اس کے پکارنے پر متوجہ ہوئی سامنے ہی حوزان سفید شلوار قمیض پر براون چادر اوڑھے اپنی نیلی آنکھوں کے ساتھ نظر لگ جانے کی حد تک پیارا لگ رہا تھا
"جی خان؟" آزین نے حوزان کو نظروں کے حصار میں رکھتے معصومیت سے کہا تو حوزان اس کے چہرے سے نظریں ہٹا گیا، وہ نہیں چاہتا تھا سویٹی کو اس کی ہی نظر لگ جائے
"ماما کہہ رہی ہیں، کچھ کپڑے اور کھانا لے کر خاقان قبیلے جانا ہے، کیا آپ چلیں گی میرے ساتھ" نرمی سے کہتے اس سے پوچھا تھا
"ہاں بلکل میں ضرور چلوں گی آپ چلیں میں شال لے کر آتی ہوں" سویٹی اسے کہتے اپنے روم کی طرف بڑھنے لگی جب حوزان اس کی کلائی تھام کر روک گیا، سویٹی نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا
حوزان نے چپ چاپ اس کا ہاتھ چھوڑتے اپنے کندھوں سے اپنی شال اتاری، پھر پیچھے کی طرف ہاتھ لے جاتے اپنی شال سویٹی پر اوڑھا دی، اس کی شال سے آتی خوشبو محسوس کرتے سویٹی کو یوں لگا جیسے وہ اس کے حصار میں ہو
"چلیں" حوزان اس کا ہاتھ تھامے باہر کی جانب بڑھا جبکہ سویٹی ایک ٹرانس کی کیفیت میں چلتی جارہی تھی، اس کا خان ہمیشہ ایسے ہی اسے حیران کر دیتا تھا، اپنی محبت اور عقیدت سے
وہ دونوں تقریباً پندرہ منٹ کے بعد خاقان قبیلے کے قریب پہنچے تھے، جب اچانک ایک ٹرن لیتے ایک گاڑی ان کی گاڑی کے سامنے آئی، حوزان نے بامشکل سٹیرنگ گھماتے گاڑی کو دوسری طرف موڑا تھا، سامنے گہری کھائی تھی، سویٹی کی چیخ بےساختہ تھی، حوزان اپنے حواس بحال کرتے بریک لگا کر گاڑی گھما گیا
کھائی کے بلکل کنارے پر آکر گاڑی رکی تھی، اگر ایک لمحے کی بھی دیر ہوجاتی تو وہ دونوں کئی فٹ گہری کھائی میں جاگرتے، حوزان نے غصے سے مڑ کر دوسری گاڑی کو دیکھنا چاہا مگر تب تک وہ فرار ہوچکے تھے
"سویٹی میری جان" حوزان ان کو بھولتا، اپنے ساتھ بیٹھی اپنی زندگی کی طرف متوجہ ہوا، جس کا چہرہ خوف سے سفید پڑ چکا تھا، آنکھیں بند کیے وہ حوزان کی شال کو زور سے مٹھیوں میں بینچے ہوئے تھا
"خان، خان، وہ " وہ اس حد تک خوفزدہ ہوچکی تھی کے اسے کچھ بھی سمجھ ہی نہیں آرہا تھا تب ہی منہ سے بےربط سے الفاظ نکل رہے تھے
"کچھ بھی نہیں ہوا میری جان، سنبھالیں خود کو، دیکھیں سب ٹھیک ہے، آپ ٹھیک ہیں، میں بھی ٹھیک ہوں" حوزان نے اس کے کندھوں سے تھام کر اسے حوصلہ دیا
"خان" سویٹی اپنے خوف سے بچنے کے لیے اس کے ساتھ لگتے اس کے قمیض کو مٹھیوں میں تھام گئی، اگر ابھی حوزان گاڑی ناں روک پاتا تو کیا ہوسکتا تھا ان کے ساتھ
"بس میری زندگی، آپ کے خان کے ہوتے ہوئے آپ کو کچھ نہیں ہوسکتا، بس میرا بچہ" حوزان آہستہ آہستہ اس کا سر تھپتھپا رہا تھا کافی دیر بعد وہ کچھ سنبھلی تو وہ لوگ آگے کے سفر پر روانہ ہوئے
قبیلے پہنچ کر حوزان کچھ ضرورت مندوں کے گھر سامان پہنچا رہا تھا وہ ایک گھر میں داخل ہوا،سویٹی منہ ڈھانپے گاڑی کے پاس کھڑی تھی جب ایک چھوٹا سا بچہ بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا اسے کچھ بھی سمجھنے کا موقع دیے بغیر ایک کاغذ اس کے ہاتھ میں تھماتے جیسے آیا تھا ویسے ہی واپس مڑ گیا
"آج جو غلطی سے ہوا وہ دوبارہ بھی ہو سکتا ہے خانم، اگر آپ میری ناں ہوئیں تو میں آپ کو حوزان خاقان کی بھی نہیں ہونے دوں گا،اپنے خان کے آخری دن گننا شروع کر دیں، آپ کا عاشق گوہر خان" سفید کاغذ پر لکھے الفاظ پڑھتے سویٹی کا دل سکڑ کر پھیلا تھا
حوزان باہر آیا تو سویٹی گاڑی کے پاس ساکت کھڑی تھی اس کی طرف سویٹی کی کمر تھی، وہ چلتا ہوا اس کے پاس آیا،
"سویٹی" حوزان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ چونک کر اس کی طرف مڑی، مگر اپنے ہاتھ میں تھاما کاغذ مروڑتے دور پھینک دیا،وہ نہیں چاہتی تھی حوزان غصے میں کچھ غلط کر بیٹھے وہ پہلے ہی گوہر خان کے خون کا پیاسا ہو چکا تھا
"جی" بامشکل خود کو سنبھالتے اس نے مسکرا کر پوچھا
"چلیں واپس؟" حوزان نے پرسوچ انداز میں اس کا چہرہ دیکھتے پوچھا جس پر اس نے سر اثبات میں ہلا دیا، اور کچھ ہی دیر میں وہ دونوں واپسی کے سفر پر گامزن تھے
@@@@@@@@
ولید نے غزل کے ہوسٹل فون کر دیا تھا،زین کے بارے میں سنتے ہی وہ واپس آگئی تھی، شاہ زیب اور شاہ زر بھی ان سے مل کر تعزیت کر چکے تھے ہر کوئی اس جوان موت پر صدمے سے چور تھا، عائشہ اور پرنیاں ساکت سا چہرہ لیے ایک طرف بیٹھیں تھیں
شاہ زیب اور شاہ زر دونوں ولید اور احتشام کے ساتھ لاوئج میں آئے جہاں وہ سب خواتین بیٹھیں تھیں، وہ دونوں آکر عائشہ اور پرنیاں کر سامنے بیٹھ گئے، ان دونوں کی ہی نظریں جھکی ہوئی تھیں
"بھابھی، بہت افسوس ہوا سن کر، اللّٰہ پاک بچے کے درجات بلند فرمائے، اور آپ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے" شاہ زیب عائشہ کے سر پر آہستہ سے ہاتھ رکھ کر بولا
"بس بھائی جو اللّٰہ کی رضا" عائشہ صبر کر چکی تھی کیونکہ اتنا رونے کے باوجود بھی عباد واپس نہیں آیا تھا تو بھلا اب وہ رو کر کیا کر لیتی
"اللّٰہ اس بچی کو بھی صبر دے جس نے اپنا سہاگ کھو دیا" شاہ زیب اور شاہ زر نے باری باری پرنیاں کے سر پر ہاتھ رکھا جو چہرہ جھکائے بیٹھی تھی پرنیاں کی حالت دیکھتے سب کا دل کٹ رہا تھا مگر اس وقت سوائے صبر کے وہ سب کچھ نہیں کر سکتے تھے
ایک ہفتہ ہو چلا تھا اس واقع کو، زندگی آگے بڑھنے لگی تھی مگر ابراہیم ولا میں جیسے سب کچھ وہیں منجمند ہوچکا تھا، ولید نے دو دن بعد سختی سے سب کو کہہ دیا تھا کے اب زین کا نام کوئی نہیں لے گا، کیونکہ ایک محبِ وطن شہید فوجی کے گھر میں ایک غدار کی یاد کی بھی کوئی جگہ نہیں تھی
اس کی بات پر ہر انسان تڑپا تھا، مگر یہ بھی سچ تھا کے ان سب کو ہی زین کے اس قدم سے دکھ پہنچا تھا، ایسا نہیں تھا کے ولید نے کبھی زین کو سمجھایا نہیں تھا، اس نے ہمیشہ اسے سمجھانے کی کوشش کی مگر فوج کی مصروفیت کی وجہ سے وہ اسے زیادہ وقت اور توجہ نہیں دے سکے تھے
حریم کو جب ساری بات کا علم ہوا تو آنسووں کا ایک سمندر تھا جو اس کی آنکھوں سے بہہ نکلا تھا، اس کا بھائی اتنی بڑی حماقت کیسے کر سکتا تھا، وہ سب نہیں جانتے تھے کے زین وہاں کیسے اور کیا سوچ کر گیا، انہیں صرف یہ پتا تھا کے زین پاکستان دشمن عناصر کے ساتھ تھا جو آئی ایس آئی کے جوانوں کی گولی کا نشانہ بن گیا
دوسری جانب آج پینتھر واپس آگیا تھا، آتے ہی سیدھا ہیڈ کوارٹرز آیا تھا، جہاں سر کو ساری تفصیل سے آگاہ کرتے وہ باہر کی جانب بڑھا، سامنے دیکھا تو لیپرڈ مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا
"ہاں بھئی لالے، کیسا ہے، کیا بنا کیس کا؟" لیپرڈ نے غیر سنجیدگی سے پوچھا
"سب ٹھیک ہے، کیس پورا ہوچکا ہے" پینتھر نے اپنی مخصوص گھمبیر آواز میں کہا
"تو اب آگے کا کیا پلان ہے؟" لیپرڈ نے بھی سنجیدہ ہوتے پوچھا
"فلحال چھٹیاں ہیں، سو اگر گھر جانا چاہو تو جاسکتے ہو" پینتھر نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا
"تم نہیں جاؤ گے گھر؟" لیپرڈ نے اس کا پرسکون چہرہ دیکھتے ہوئے کہا
"یہ کوئی پوچھنے کی بات ہے؟" پینتھر نے اسے گھورا تھا جو فضول بکواس کرتا اس کا سر کھا رہا تھا
"اوکے اوکے گھورو تو مت" لیپرڈ نے ہاتھ کھڑے کرتے ڈرنے کی اداکاری کی پینتھر اس کے ڈراموں پر نفی میں سر ہلا کر آگے چل دیا
زین کو گئے کئی دن بیت چکے تھے، ان سب کی زندگی واپس اپنے اپنے مدار میں داخل ہوگئی تھی، زندگی کا اصول یہی ہے یہ کے چاہے کوئی کتنا ہی عزیز یا پیارا کیوں ناں چھوڑ جائے یہ رکتی نہیں ہے، ہمیں سب کچھ بھلائے اگے بڑھنا پڑتا ہے
حریم کی حالت بہت اچھی نہیں تھی تھی مگر ارتضیٰ کی محبت اور توجہ آہستہ آہستہ اسے زندگی کی طرف واپس لارہی تھی، وہ سب کچھ چھوڑ کر گھر بیٹھ جانا چاہتی تھی، اسے عائشہ کے پاس رہنا تھا مگر ارتضیٰ کے پہلے پیار اور پھر سختی سے سمجھانے پر مجبوراً اسے اکیڈمی واپس جانا پڑا
پری کی حالت بہت خراب تھی، زرد کملایا ہوا چہرہ، آنکھوں کے گرد بنتے سیاہ حلقے، اور چہرے پر موجودگی اداسی جو کسی صورت کم ہونے میں نہیں آرہی تھی، حرم ہر وقت سائے کی طرح اس کے ساتھ رہتی تھی، مجتبی اور ارتضیٰ کے جانے کے بعد کچھ دنوں سے حرم پرنیاں کے پاس آگئی تھی
سب کے زبردستی کرنے پر پرنیاں نے ہوسپٹل جوائن کر لیا تھا مریضوں کے ساتھ مصروف ہوکر اس نے رونا کم کر دیا تھا مگر اس کے چہرے کی نرم سی مسکراہٹ کہیں کھو گئی تھی، اگر وہ کبھی مسکراتی بھی تو محض دوسروں کو دکھانے کی خاطر ورنہ سارا دن چپ چاپ گزار دیتی
ابھی بھی وہ اپنے کیبن میں بیٹھی ناجانے کن سوچوں میں گم تھی، سامنے بیٹھی حرم اسے ہنسانے کے لیے پتا نہیں کہاں کہاں کی باتیں سنا رہی تھی، جبکہ اس کا دھیان تو کہیں اور ہی بھٹک رہا تھا
"حرم، ہم تو میڈیکل کے سٹوڈینٹس ہیں ناں، کیا ایسا ہو سکتا ہے کے ایک انسان کا دل مردہ ہوچکا ہو لیکن پھر بھی وہ زندہ رہے" حرم جو بول رہی تھی اچانک پری کی آواز پر متوجہ ہوئی اس کی بات پر حرم نے حیرت سے اسے دیکھا
"کیسی باتیں کررہی ہو پری، اگر دل ہی مر جائے یا کام کرنا بند کر دے تو کوئی کیسے جی سکتا ہے؟" حرم اس کی بات کی گہرائی میں جائے بغیر سرسری سا بولی
"مگر میں تو جی رہی ہوں ہنی، میرا دل مر چکا ہے تو پھر میں سانس کیوں لے رہی ہوں؟ کیا سائنس غلط ہے کیونکہ اس کے مطابق اب تک تو مجھے مر جانا چاہیے تھا ناں؟" سامنے کی جانب دیکھتے وہ بےتاثر سے لہجے میں بولی جبکہ اس کے لہجے کا کرب محسوس کرتے حرم کی سسکی نکلی تھی وہ بھاگتے ہوئے اس کے کیبن سے نکلتے اپنے روم کی طرف آگئی، وہ اس کے سامنے ضبط نہیں کھو سکتی تھی
اپنے روم میں آتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی، محبت کے بچھڑنے کا کرب کیا ہوتا ہے یہ وہ اچھے سے جانتی تھی،مجتبی کوصرف گولی لگی تھی اور وہ تڑپ اٹھی تھی تو پری نے تو اپنی محبت کو ہمیشہ کے لیے کھو دیا تھا تو وہ کیسے صبر کر لیتی، اسے وہاں بیٹھے تھوڑی ہی دیر گزری تھی جب اس کا موبائل وائبریٹ ہوا
"ہیلو" بامشکل سسکی روکے پوچھا جبکہ آواز بھاری ہوچکی تھی جسے دوسری طرف موجود مجتبی اچھے سے محسوس کر چکا تھا
"کیا ہوا ہنی، آپ رو رہی ہیں؟ " مجتبی اس کی بھیگی آواز محسوس کرتے تڑپ گیا تھا مجتبی کے پوچھنے پر حرم سب کچھ بھولے ایک بار پھر رونے لگی
"ہنی میری جان،پلیز بتائیں کیا ہوا ہے؟" مجتبی اس کے اس طرح سسکنے پر پریشان ہو گیا پچھلے کچھ عرصے سے آنسو جیسے ان کی زندگی کا حصہ بن گئے تھے
مجتبی۔۔ مجتبی۔۔۔ پری، مجھ سے پری کا حال نہیں دیکھا جارہا" بامشکل آنسووں کے درمیان بولتے وہ ارتضی کو بھی لب بینچنے پر مجبور کر گئی کے جو بھی ہو اپنی بہن کی حالت پر ان کا دل بھی کٹتا تھا
"ہنی بی بریو میری جان، پری کے لیے مشکل وقت ہے، آپ کو ہی انہیں سنبھالنا ہے، اگر آپ خود ہمت ہار جائیں گی تو پری کو کون سنبھالے گا" مجتبی نے اسے حوصلہ دیتے سمجھایا وہ چاہ کر بھی اپنی بہن کا دکھ دور نہیں کر سکتا تھا
"مجتبی جب میں سوچتی ہوں ناں کے پری کیسے جی رہی ہے تو میرا دل کٹتا ہے، اپنی محبت کے بغیر ایک دن گزرنا بھی مشکل ہوتا ہے، اور پری کو تو ہمیشہ اس تکلیف میں رہنا ہے" حرم خود کو بےبسی کی انتہا پر محسوس کر رہی تھی اس کی عزیز از جان دوست تکلیف میں تھی اور وہ سوائے دیکھ کر درد محسوس کرنے کے کچھ نہیں کر سکتی تھی
"ہنی میری جان، زندگی اسی کا نام ہے، کبھی کبھی ہمیں جان سے پیارے لوگوں کو کھو کر بھی جینا پڑتا ہے، درد میں تڑپتے ہوئے بھی مسکرانا پڑتا ہے، اور پری کی قسمت میں شاید یہ تکلیف لکھی تھی، ہم چاہ کر بھی اس کی تکلیف خود پر نہیں لے سکتے، مگر اسے سنبھال تو سکتے ہیں ناں؟" مجتبی کے پاس سوائے اسے سمجھانے کے لیے کوئی چارہ نہیں تھا
"ہمممم " حرم آنسو صاف کرتے خود کو کمپوز کرنے لگی کیونکہ اسے پری کو زندگی کی طرف واپس لانا تھا
"تو بس پھر، میری غیر موجودگی میں میری ہنی کو میری کمی پوری کرنی ہے، ارتضیٰ حریم کو سنبھال رہا ہے، آپ کو پری اور ماما لوگوں کو سنبھالنا ہے، اوکے" مجتبی گہرا سانس کھینچتے بولا
"جی میں سمجھ گئی، میں پری کو پھر سے جینا سکھاوں گی، زندگی یوں نہیں کٹتی، اسے آگے بڑھنا ہوگا" حرم کے لہجے میں ایک عزم تھا ایک مضبوط ارادہ
"شاباش میری جان، اب آپ پری کے پاس جائیں اور اس کا اور اپنا خیال رکھیے گا، اوکے اللّٰہ حافظ،" مجتبی نے محبت پاس لہجے میں کہا
"اوکے آپ بھی اپنا خیال رکھیے گا، اللّٰہ حافظ" حرم نے کہتے ہوئے فون بند کر دیا، اور پھر اپنا بیگ اور اوور آل لیتے پری کے روم کی طرف بڑھ گئی
@@@@@@@@@
وہ سب ابھی تک کمراٹ میں ہی تھے، دو دن پہلے داہیم بھی واپس آگیا تھا، اس کی وجہ سے شاہ زیب کی کمپنی کو دبئی کا ایک بہت بڑا کنڑیکٹ ملا تھا جس پر شاہ زیب بہت خوش تھا، جسے وہ لاپرواہ سمجھتا تھا اس نے ایک بہت ذمہ داری والا کام کیا تھا
کل انہیں واپس اسلام آباد جانا تھا سو آج سب لوگ خاقان حویلی جمع ہوئے تھے وہ سب لوگ باہر لان میں ڈیرہ جمائے بیٹھے تھے خواتیں میں سے مشک، دلکش اور آب تینوں کچن میں مصروف تھیں جبکہ حسال اور سویٹی باہر ان سب کے پاس تھیں، حوزان کسی ضروری کام سے باہر گیا تھا
پیچھے، شاہ زیب، شاہ زر، ذیشان، بہرام اور داہیم کرسیوں پر بیٹھے باتوں میں مگن تھے، داہیم انہیں دبئی میں ہوئی میٹینگ کا احوال سنا رہا تھا، اس نے بات ختم کی تو سویٹی اس کے پاس آئی، اب وہ اور سویٹی باتوں میں مگن ہوچکے تھے
"زیب،تم دوبارہ گئے تھے ابراہیم ولا، کیسی ہیں اس بچے کی ماں اور وہ بچی؟" شاہ زر نے اس سے عائشہ اور پرنیاں کے متعلق پوچھا
"نہیں یار مجھ میں حوصلہ ہی نہیں تھا دوبارہ ان کا سامنا کرنے کا، عائشہ بھابھی نے اپنا جوان سالہ بیٹا کھو دیا، جبکہ پرنیاں، اس بچی کے بارے میں سوچ کے دل کٹتا ہے" شاہ زیب کے لہجے میں افسردگی تھی،داہیم جو پہلے ہی ان کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کررہا تھا پرنیاں نام پر متوجہ ہوا
"کیا ہوا بابا؟ سب خیریت، یہ وہی عائشہ آنٹی تو نہیں جن کے گھر ہم گئے تھے " داہیم نے پریشانی سے پوچھا
"ہاں بیٹا وہی ان کا بیٹا زین، کچھ دن پہلے اس کی وفات ہوگئی، ولید کے گھر والے صدمے سے بےحال ہیں، جوان بیٹا، بھائی اور شوہر کھو دیا انہوں نے" داہیم کو ان کی بات سن کر بہت دکھ ہوا تھا، کسی اپنے کو کھونے کا دکھ واقعے ہی بہت بڑا ہوتا ہے
"شوہر، مطلب زین شادی شدہ تھا؟" داہیم کو وہ سنجیدہ سا لڑکا یاد ایا جو اس دن لاوئج میں ملا تھا اس سے
"شادی نہیں مگر نکاح ہوا ہوا تھا، ولید کی بیٹی تھی ناں پرنیاں اس سے" شاہ زیب کی بات پر داہیم گنگ رہ گیا تھا،
"اس کا بچی کا حال سب سے برا تھا، یوں لگتا تھا جیسے اس نے اپنی کل متاع گنوا دی ہو، ولید سے بات ہوئی تھی وہ بتا رہا تھا کے بہت مشکل سے ہوسپٹل جانے کے لیے راضی ہوئی ہے پرنیاں، ورنہ تو وہ زندگی سے ہی بیزار ہوچکی ہے، ہر وقت روتی رہتی ہے" شاہ زیب اسے بتا رہا تھا جبکہ اس کا دماغ ناجانے کہاں جاچکا تھا
"داہیم، کیا ہوا؟ " بہرام جو اس کے ساتھ بیٹھا تھا اسکا کندھا ہلاتے بولا جو ساکت سا بیٹھا تھا
"کچھ نہیں بھائی، کچھ ضروری کام یاد آگیا ہے میں ابھی آیا" داہیم بہانے سے وہاں سے اٹھتا باہر کی جانب بڑھ گیا
"ارے داہیم، اسے کیا ہوا؟" حسال جو اس سے کوئی بات کرنے آرہی تھی اسے باہر جاتا دیکھ حیرانی سے بولی
"پتا نہیں، شاید کوئی ضروری کام یاد آگیا ہوگا" بہرام اسے دیکھتے ہوئے بولا، جو اسے دن با دن مزید خوبصورت لگنے لگی تھی
"اوہ اب کیا کریں؟" وہ پریشان سا چہرہ بناتے ہوئے بولی
"کیوں کیا ہوا؟ کوئی کام تھا آپ کو؟" بہرام سنجیدگی کے اٹھ کر اس کے مقابل کھڑا ہوا
"وہ ہمیں لوڈو کھیلنی تھی، مگر اب داہیم تو چلا گیا، میں اور سویٹی ہیں، دو لوگوں کو تو مزہ ہی نہیں آئے گا" اداس سا چہرہ بنائے کہا تھا جیسے سارا ارادہ دھرا کا دھرا رہ گیا ہو
"چلیں داہیم کی جگہ داہیم کا بھائی کھیلے گا، آئیں کھیلتے ہیں" بہرام اس کا ہاتھ تھام کر سویٹی کی طرف بڑھا
"ارے مگر" حسال نے کچھ کہنا چاہا مگر بہرام کچھ سن نہیں رہا تھا وہ دونوں سویٹی کے پاس آئے جو لڈو سامنے رکھے بیٹھی تھی
"بھائی ہم تو تین لوگ ہیں، ایک اور ہو تو مزہ آئے گا، بابا جان کو کہتے ہیں ہمارے ساتھ کھیلیں" سویٹی نے دیکھا ایک سائیڈ خالی تھی تب ہی شاہ زیب کو بلانا چاہا
"ماموں کی بجائے آپ ماموں کے بھانجے کو بھی یاد کر سکتی تھیں" وہ کھڑی ہوئی تھی جب کسی نے اس کے کان کے قریب جھک کر سرگوشی کی پیچھے دیکھا تو حوازن اپنی شانداز پرسنیلٹی کے ساتھ کھڑا تھا
"ارے خان، آپ، آپ بھی کھیلیں گے ہمارے ساتھ؟" سویٹی اسے دیکھ کر خوش ہوگئی، مشکل سے ہی سہی مگر وہ پچھلا واقع بھول گئی تھی
"بلکل، " حوزان چوتھی جگہ پر بیٹھتے بولا، اور پھر ان چاروں سے کھیلتے ہوئے خوب انجوائے کیا، حوزان غیر محسوس انداز میں سویٹی کی گوٹ کو بچاتا آرہا تھا، ناں خود اسے پکڑتا اور ناں کسی اور کو پکڑنے دیتا
کافی دیر کھیلنے کے بعد، وہ لوگ اٹھ کر اپنے اپنے روم کی طرف بڑھ گئے، داہیم کئی گھنٹوں سے گیا واپس نہیں آیا تھا، مگر وہ جناتے تھے وہ ضرور اپنے دوستوں کی طرف نکل گیا ہوگا، سو سب بےفکر تھے مگر کون جانے کس کے دل میں کیا چل رہا
@@@@@@@@@@
ہماری ٹوٹی سانسیں
ہماری سوچتی آنکھیں
ہماری جاگتی راتیں
ہوا کے دوش پہ رکھی منا جاتیں
تمہیں واپس بلاتی ہیں
سنو تم لوٹ آو ناں
تمہارے بعد جو بھی ہے
تمہارے سوگ میں ڈوبی ہوئی ہیں
وقت کی سوئی اسی لمحے پہ ٹھہری ہے
جہاں تم نے بچھڑنے کا ارادہ کرلیا تھا
اور میں یادوں کے سفر میں
تنہا رہ گئی تھی
تمہیں معلوم ہے،
جب دل دھڑکتا ہے
تمہارا نام لیتا ہے
یہ آنسو جب بھی بہتے ہیں
تمہارے غم میں بہتے ہیں
ہوائیں جب بھی گلیوں میں بھٹکتی ہیں
تمہیں ہی گنگناتی ہیں، تمہارا بین کرتی ہیں
یہ بارش جب بھی ہوتی ہے
تمہاری یاد کی شمعیں جلاتی ہے
شفق مجھ کو تمہارے وصل میں بھیگے
ہوئے ان موسموں کے ان گنت قصے سناتی ہے
سنو جب تم نہیں ہو تو
یہاں ہر سمت اب اک خوف ہے،
اک درد ہے، اک آہ زاری ہے
سنو تم لوٹ آو ناں
جہاں تم ہو وہ دنیا کب تمہاری ہے
سنو تم لوٹ آو ناں
تمہارے بعد جو بھی ہے
تمہارے سوگ میں ڈوبا ہوا ہے
اپنے ہوسٹل کے کمرے میں موجود وہ زین کی تصویر ہاتھوں میں تھامے بیٹھی تھی، اس کے آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر تصویر پر گر رہے تھے، وہ جتنا اسے بھلانے کی کوشش کوتی اتنی ہی شدت سے وہ اسے یاد آتا تھا
یہ سچ تھا کے انہوں نے کوئی بہت حسین لمحات نہیں گزارے تھے ایک دوسرے کے ساتھ مگر محبت وصل میں بھیگے لمحوں کا نام تو نہیں ہے، یہ تو ہجر میں سلگتی راتوں کا نام ہے، یہ وہ آگ ہے جو انسان کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے
وہ بھی تڑپ رہی تھی سلگ رہی تھی، مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کے اس کی یہ تکلیف کسی اور کو بھی تکلیف دے رہی تھی، کوئی تھا جو بنا دیکھے اس کا دکھ محسوس کر رہا تھا، اور برداشت بھی کر رہا تھا
دوسری جانب داہیم جتنا سوچ رہا تھا اتنا درد محسوس کر رہا تھا، پری کی تکلیف پر اسے بھی تکلیف ہورہی تھی، وہ کسی بھی طریقے سے پری کی تکلیف دور کرنا چاہتا تھا، اس نے سوچ لیا تھا کے اسے کیا کرنا ہے
ہر کوئی اپنی اپنی جگہ تکلیف میں تھا، ہر کسی کے درد کی نوعیت الگ الگ تھی، مگر کہیں ناں کہیں یہ درد ایک دوسرے سے جڑا ہوا تھا، اور اس درد کو ختم کب اور کس نے کرنا تھا یہ وقت نے طے کر رکھا تھا بہت جلد ان سب کی زندگیاں بدلنے والی تھیں
آج حریم کی پاس آوٹ کی تقریب تھی، دو مہینے گزر چکے تھے دیکھا جاتا تو یہ دو ماہ بہت جلد گزرے تھے مگر اگر کوئی ان سب سے پوچھتا تو وہ بتاتے کے ان کے لیے یہ وقت اور لمحات بہت سست روی سے گزر رہے تھے
فریحہ کو ارتضیٰ نے دوبارہ ایسا کوئی موقع نہیں دیا تھا کے حریم کو ٹریپ کرتی، دوسرا حریم کی خود کی حالت ایسی نہیں تھی کے وہ کسی بھی قسم کی بات پر کوئی ردعمل ظاہر کرتی، سو فلحال ان کی زندگی پرسکون تھی
لڑکوں کی پریڈ ہوچکی تھی اور اب باری تھی لڑکیوں کی، جن میں لائیٹ بلو اور نیوی بلو کلر کی یونیفارم پہنے، بالوں کو سمیٹ کر حجاب میں لپیٹے، سوگوار سے حسن میں حریم بھی ان میں شامل تھی
پوری پریڈ میں ارتضی کی نظر صرف حریم پر تھی، ارتضی اور اس کے بیج کے آفیسرز بھی اپنی یونیفارم پر اپنے بیج لگائے وہاں کھڑے تھے، ارتضیٰ محبت پاش نظروں سے اپنی پرنسس کو دیکھ رہا تھا جو وہاں موجود تمام فی میل کیڈیٹس میں سب سے ممتاز لگ رہی تھی
آخر میں اس کی وردی پر بیج لگاتے اسے کیڈیٹ سے آفیسر کا عہدہ دیا گیا تھا، سورڈ آف آنر تھام کر اس پر بوسہ دیتے آنکھوں سے لگایا اور پھر باقی سب کے ساتھ مل کر وطن کی مٹی سے تجدیدِ وفا کا عہد کیا، اس سب میں اس کی جو حالت تھی وہ ناقابلِ بیان تھی، پورے جسم میں ایک ان دیکھا احساس گردش کر رہا تھا جو شاید اس وطن کے ہر جیالے کی رگوں میں دوڑتا تھا
تقریب کے بعد سارے کیڈیٹس اپنے اپنے گھروالوں کی طرف بڑھ گئے تھے، حریم بھی اوڈینس میں بیٹھے ولید، سویرا، عائشہ، احتشام اور مہمل کی طرف بڑھی، ارتضی اس وقت کچھ سئینرز کے ساتھ مصروف تھا، ولید نے فخر سے اپنی طرف آتی اپنی بہو کم بیٹی کو دیکھا تھا
"بابا" اس کے پاس آتے حریم معصومیت سے بولی، ولید نے آگے بڑھ کر اسے سینے سے لگایا اور اس کی پیشانی پر شفقت بھرا بوسہ دیا
"آئی ایم پراوڈ آف یو میری جان" حریم اس کے بھائی کی بیٹی تھی وہ بھائی جو ان سب کو جان سے عزیز تھا، سو اس کا عزیز ہونا تو لازم تھا
"ماما جانی" ولید سے الگ ہوتے وہ سویرا کے پاس آئی جو آنکھوں میں نمی لیے اسے دیکھ رہی تھی
"خوش رہو میری جان، ہمیشہ اس ملک کا اور ہمارا نام روشن کرو" محبت سے اسے خود سے لپٹاتے پیار کیا، جس کی خود کی آنکھیں بھیگ چکی تھیں، احتشام نے بھی اسے پیار دیتے اس کے سر پر لب رکھے،
"پھپھو " حریم نے مہمل کو آواز دی جو ادھر ادھر دیکھتے اپنے آنسو چھپا رہی تھی، اسے حریم میں اپنا بڈی نظر آرہا تھا،
"حریم، میری جان، میرے بڈی کی نشانی، آج بڈی کی روح سرشار ہوچکی ہوگی" اس کے پکارنے پر مہمل نے تڑپ کر اسے دیکھا، اسے خود سے لگاتے وہ شدت سے رو دی، آنسو تو ان سب کے ہی نکل آئے تھے
"مما" حریم آنکھوں کی نمی چھپاتے عائشہ کے پاس آئی، عائشہ نے اس کی وردی پر ہاتھ پھیرا، یہ وردی عباد کا عشق تھی اور عباد اس کا عشق تھا، تو بھلا اسے یہ وردی پیاری کیوں ناں ہوتی
"آج میں آپ کے بابا کی نظروں میں سرخرو ہوگئی ہوں حریم، آج آپ نے اپنے بابا کا خواب پورا کیا ہے، اللّٰہ آپ کو دنیا بھر کی خوشیاں عطا فرمائے" عائشہ نے محبت سے حریم کے چہرے کے نقوش کو چوما تھا کے یہ چہرہ اسے عباد کی یاد دلاتا تھا
"پرنسس" وہ ان سب سے باتیں کر رہی تھی جب ارتضیٰ کی آواز پر پیچھے مڑی، نیوی بلو یونیفارم پہنے، اپنے مخصوص سٹائل میں ارتضیٰ زمانے بھر کی محبت آنکھوں میں سمائے کھڑا تھا
حریم چلتے ہوئے اس کے پاس آئی، اب دونوں ایک ساتھ کھڑے بہت پیارے لگ رہے تھے، جبکہ ولید اور احتشام انہیں ساتھ دیکھتے سویرا لوگوں کو لیے وہاں سے نکل گئے، حریم کو ارتضیٰ کے ساتھ آنا تھا
"کنگریچولیشن پرنسس، یو میک می سو پراوڈ، آئی لو یو جاناں" اس کے ماتھے کو چھوتے ارتضیٰ محبت سے بولا، حریم کھل کر مسکرا بھی نہیں سکی، زین کے بعد سے تو اس کی مسکراہٹ شاید کہیں کھو گئی تھی
"آج میں بہت خوش ہوں پرنسس، آج آپ اپنے ارتضیٰ سے جو بھی مانگیں گی میں آپ کو دوں گا، بولیں، کیا چاہیے آپ کو؟" اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامے پوچھا تھا
"مجھے کچھ نہیں چاہیے ارتضیٰ، بس وعدہ کریں آپ ہمیشہ میرے ساتھ رہیں گے، مجھے چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے، وعدہ کریں؟" آنکھوں میں نمی لیے وہ ارتضیٰ کو تڑپنے پر مجبور کر گئی تھی، باپ اور بھائی کو کھونے کے بعد اب اس کے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں بچا تھا سوائے ارتضیٰ کے، اگر اسے کچھ ہوجاتا تو وہ بھی مر جاتی
"میری جان، زندگی اور موت اللّٰہ کے ہاتھ میں ہے، جب جس کا بلاوا آگیا اسے تب جانا ہی ہوگا، اسی لیے میں آپ سے زندگی بھر ساتھ کا وعدہ نہیں کرتا، ہاں مگر یہ وعدہ کرتا ہوں کے جب تک میری سانس چل رہی ہے تب تک میں آپ کو کبھی کسی مقام پر اکیلا نہیں چھوڑوں گا" اس کی بھیگی آنکھوں پر لب رکھتے ارتضی نے اس پر سے اداسی کے رنگ کم کرنے چاہے، جس میں وہ بہت حد تک کامیاب ہوچکا تھا
مگر ان کی یہ محبت کسی اور سے برداشت نہیں ہوئی تھی، دل میں جل رہی حسد کی آگ میں اضافہ ہوا تھا، فریحہ جو دور سے ان دونوں کو ایک ساتھ کھڑے، محبت کے مظاہرے کرتے دیکھ فریحہ کا دل جل کر راکھ ہو گیا تھا
"جتنی محبت جتانی ہے جتا لیں کمانڈر ارتضیٰ ولید حیدر، کیونکہ میں آپ کی پرنسس کا وہ حال کروں گی کے وہ آپ کو منہ دکھانے کے قابل بھی نہیں رہے گی" وہ اپنی حسد اور نفرت بھری نگاہ ان پر ڈالتے ہوئے بولی
@@@@@@@@@
انہیں آسلام آباد آئے دو ماہ ہوچکے تھے، سویٹی واپس یونی جانا شروع کر چکی تھی، گوہر خان کی طرف سے فلحال مکمل خاموشی تھی جس کا مطلب تھا کے وہ ضرور کچھ بہت بڑا پلین کر رہا ہے
آج حوزان ایک اہم کیس کے لیے گیا ہوا تھا، وہ پچھلے دو ہفتوں سے چائلڈ سمگلنگ کیس پر کام کر رہا تھا،ایک انٹرنیشل تنظیم کے کارکن پاکستان سے چھوٹے بچوں کو اغواء کرتے تھے اور پھر مہنگے داموں انہیں آگے فروخت کرتے تھے جیسے وہ انسان کے بچے ناں ہوں بلکے کوئی معمولی چیز ہوں
اس نے باقاعدہ طور پر الگ الگ جگہوں سے معلومات حاصل کیں تھیں، جو بچے اغواء ہورہے تھے وہ زیادہ تر غریب گھروں کے بچے تھے جن کے لیے آواز اٹھانے والا کوئی نہیں ہوتا، اور اگر کوئی آواز اٹھا بھی دیتا تو پولیس محکمے میں موجود ان کے حواری بڑی آرام سے معاملہ رفعہ دفع کر دیتے
یہ کیس چونکہ عالمی سطح کا تھا اسی لیے اس بار پولیس کے ساتھ کچھ خوفیہ ایجینسیاں بھی جڑ چکی تھیں، خاص کر کے یہ کیس آئی ایس آئی کے جوانوں کو دیا گیا تھا حوزان اپنی جگہ پر سب ضروری اقدامات کر رہا تھا، آج وہ کچھ مشکوک جگہوں پر پوچھ تاچھ کے لیے جانے والا تھا
یہ آسلام آباد کے ایک معمولی سے علاقے میں بنی بستی تھی جہاں زیادہ تر گونڈے موالی قسم کے لوگ رہتے تھے، اور اغواء کے زیادہ کیسز اسی علاقے کے اردگرد سے آرہے تھے،حوزان پولیس یونیفارم کی بجائے سیول کپڑوں میں تھا
اس نے آکر کچھ عورتوں اور مردوں سے باتوں باتوں میں معلومات لینی شروع کیں، اس کا شک ٹھیک تھا،وہ لوگ اسی بستی سے تھے،وہ چاہتا تو ابھی انہیں پکڑ سکتا تھا مگر اسے ان لوگوں کے زریعے ان بڑی مچھلیوں کو پکڑنا تھا جو اصل کھیل کھیل رہی تھیں اس کے علاوہ جو بچے ان کے قبضے میں تھے انہیں بھی بازیاب کروانا تھا
وہ اپنا کام پورا کرنے کے بعد وہاں سے نکل آیا، ابھی وہ راستے میں تھا جب اچانک اس کی گاڑی پر فائرنگ شروع ہوگئی، ایک دم سے گئیر بدلتے اس نے سپیڈ کم کی تھی اور پھر گاڑی کو دوسری سڑک کی طرف موڑ دیا، دو گولیاں ٹائر میں لگی تھی جس سے گاڑی بےقابو ہونے لگی ایک درخت کی اوٹ میں گاڑی روکتے وہ گاڑی سے نکلتے ایک بڑے سے پتھر کے پیچھے چپ چکا تھا
اس کے پیچھے آنے والی گاڑیاں تعداد میں چار سے پانچ تھیں، مگر وہ گولیوں کی بوچھاڑ سے اندازہ لگا چکا تھا کے ہر گاڑی میں صرف ایک ایک ہی انسان تھا، وہ لوگ اپنی گاڑیوں سے نکل کر اس کی گاڑی کو دیکھنے کے لیے بڑھے،
حوزان نے باری باری ان چاروں کی سمت کا تعین کیا، پھر پہلی گولی سے ان میں سے ایک کو جہنم رسید کیا، باقی سب اس آواز پر متوجہ ہوتے فائرنگ شروع کر چکے تھے، حوزان دوسری طرف ہوتے نیچے لیٹا اور دوسرے شخص کا نشانہ لیا
باقی تینو گولیوں کی سمت کی طرف گھومے، گاڑی کی اوٹ میں ہوتے انہوں نے فائر کیا، مگر اگلے ہی لمحے حوزان کی گولی ایک اور دشمن کے لگی تھی، جبکہ اس کی گولی حوزان کے بازو کو چیرتے ہوئے نکل گئی، ایک کراہ نکلی تھی اس کے منہ سے
کچھ دیر کی اس جھڑپ کے بعد باقی دونوں بھی زخمی ہوکر گر چکے تھے، حوزان وہاں سے نکل کر اپنی گاڑی کی طرف آیا، مگر اس کے ٹائر پنکچر ہوئے دیکھ کر غصے سے گاڑی پر مکہ مارتے ہوئے وہ پیدل ہی سڑک کی طرف بڑھا تھا کچھ دیر تک وہ وہیں سڑک پر نظر دوڑاتا رہا مگر کچھ نظر ناں آنے پر آہستہ آہستہ چلنے لگا
"ٹھاہ" اچانک فضاء میں گولی چلنے کی آواز آئی، حوزان کو یوں محسوس ہوا جیسی کسی نے اس کے پیٹ میں آگ سی بھڑکا دی ہو، بامشکل مڑ کر دیکھا تو ان میں سے ایک اپنی گن تھامے اس کا نشانہ لگائے ہوئے تھا، حوزان نے اپنی گن سے اس کی باقی ماندہ سانسیں بھی چھینی تھیں
اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھتے وہ سڑک پر گھٹنوں کے بل جھک گیا، خون تیزی سے اس کے جسم سے نکل کر سڑک پر گرنے لگا تھا وہ ہوش کھوتے وہیں گر گیا، آہستہ آہستہ اس کا دماغ ماؤف ہونے لگا تھا، کچھ ہی پلوں میں وہ پوری طرح ہوش و حواس سے بیگانہ ہوچکا تھا
ارتضیٰ اور حریم جو اکیڈمی سے گھر واپس جارہے تھے، ٹریفک کی وجہ سے آج اس راستے جو مڑ گئے، سامنے سڑک پر کسی کو گرا دیکھ ارتضیٰ گاڑی سے نکل کر جلدی سے اس کی جانب بڑھا
"یہ ابھی زندہ ہیں پرنسس، جلدی سے گاڑی کا پچھلا ڈور کھولیں"، ارتضیٰ نے حریم سے کہا تو اس نے جلدی سے دروازہ کھولا، ارتضی حوزان کو وہاں لیٹاتے جلدی سے سی ایم ایچ کی جانب بڑھا
سویٹی اپنے روم میں بیٹھی اسائنمنٹ پر کام کر رہی تھی جب اچانک اس کا دل عجیب سے انداز میں دھڑکنے لگا تھا، چلتے ہاتھ جیسے بہکنے لگے تھے، کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کے آخر اسے ہوکیا رہا ہے، وہ بکس رکھتے اٹھ کر باہر نکل آئی
نیچے آئی تو آب نیچے نہیں تھی شاید وہ روم میں ریسٹ کر رہی تھی، اس نے واپس اوپر جانا چاہا جب لینڈ لائن پر آتی کال پر متوجہ ہوتے اس طرف بڑھی، فون اٹھا کر کان سے لگایا تو دوسری جانب شاہ زیب تھا
"ہیلو، آب، آب حوزان کو گولی لگی ہے، وہ ہوسپٹل میں ہیں، میں وہیں جارہا ہوں، آپ پلیز سویٹی کو یہ بات پتا مت چلنے دیجیے گا" شاہ زیب اس کی آواز سنے بغیر جلدی سے بولتا فون بند کر گیا
جبکہ سویٹی جہاں کھڑی تھی وہیں بیٹھتی چلی گئی، حوزان کو گولی لگی تھی یہ بات اس کے دماغ میں جھکڑ چلانے لگی تھی، مطلب گوہر خان اپنا گندہ کھیل کھیل ہی گیا تھا، یہ سب اس کی وجہ سے ہورہا تھا، اگر وہ ناہوتی تو حوزان پر کوئی مشکل ناں آتی
@@@@@@@@@@
داہیم کچھ دنوں سے مسلسل پرنیاں کے ہوسپٹل کے چکر لگا رہا تھا، پہلے دن اپنے بازو پر چوٹ لگواتے وہ ہوسپٹل آیا تو اور نرس سے کہہ کر پرنیاں سے ٹریٹمنٹ لیا تھا جس نے آکر آرام سے اس کے بازو پر پٹی باندھ دی، اس کا بےتاثر اور بے رونق چہرہ دیکھ داہیم اس کی تکلیف سمجھ گیا تھا مگر باوجود کوشش کے بھی اسے مخاطب نہیں کر سکا
اس کے بعد بھی وہ دو بار آیا مگر ہر بار کی طرح بغیر پرنیاں سے ملے یا بات کیے وہ واپس چلا جاتا، آج بھی کافی دیر ویٹینگ ایریا میں بیٹھنے کے بعد وہ واپس جانے کی نیت سے اٹھا تھا جب پرنیاں اپنے کیبن سے نکل کر باہر جاتی ہوئی دکھائی دی
داہیم اسے جاتا دیکھ اس کے پیچھے ہولیا، پرنیاں اپنی گاڑی میں بیٹھ کر لیک ویو پارک آگئی، یہ جگہ اس کی پسندیدہ تھی، پارک کا ایک سرا قدرتی جھیل کی طرف تھا جہاں کا نظارہ بہت حسین تھا، پرنیاں چپ چاپ آکر وہاں کھڑی ہوگئی، سامنے نظر آتا ڈوبتے سورج کا منظر بہت دلکش لگ رہا تھا
"یہ سورج بھی کتنا بےوفا ہے ناں، شام ہوتے ہی دوسروں کی زندگی میں اندھیرا کر کے ڈوب جاتا ہے" داہیم اس کے ساتھ کچھ فاصلے پر کھڑا ہوتے ہوئے بولا، پرنیاں اس کی آواز پع چونکی تھی مگر کچھ خاص ردعمل نہیں دیا
"ویسے آپ کو ڈوبتے سورج کو دیکھنا پسند ہے کیا؟" اسے جواب ناں دیتے دیکھ دوبارہ مخاطب کیا
"ہممم، کیونکہ یہ انسان کو اس کی اوقات بتاتا ہے، کے چاہے کچھ بھی کر لو، جتنی مرضی کوشش کر لو، وقت پورا ہوتے ہی سب کو ڈوبنا پڑتا ہے" پرنیاں سنجیدہ سی آواز میں بہت گہری بات بول گئی تھی
"ہاں یہ تو ہے، مگر مجھے چڑھتا سورج دیکھنا زیادہ پسند ہے، پتہ ہے کیوں؟" داہیم اس کے چہرے کو دیکھ کر بولا جو سورج کی نارنجی روشنی میں بہت حسین لگ رہا تھا، اس کے سوال پر پرنیاں نے حیرت سے اسے دیکھا جیسے جاننا چاہتی ہو کے کیوں؟
"کیونکہ وہ اپنے ساتھ امید کی کرن لے کر طلوع ہوتا ہے، ہر اندھیرے کی کوئی ناں کوئی سحر ضرور ہوتی ہے، سو عقل مندی یہی ہے کے اندھیروں کا عادی ہونے کی بجائے انسان کو روشنی کا استقبال کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے" داہیم کی گہری بات کا مفہوم وہ کچھ حد تک سمجھ چکی تھی
"آپ شاہ زیب انکل کے بیٹے ہیں ناں؟ جو اس دن ان کے ساتھ آئے تھے؟" پری کو اس دن بھی یہ چہرہ جانا پہچانا لگا تھا مگر اب اس کے بولنے پر یاد آیا یہ کوئی زیادہ پرانی بات تو نہیں تھی تب ہی سنجیدگی سے بولی
"جی خاکسار کو داہیم شاہ زیب خانزادہ کہتے ہیں، اور آپ یقیناً پری ہیں، آئی مین پرنیاں ہیں، ولید انکل کی بیٹی" داہیم مسکرا کر بولا مگر پری مروتاً بھی مسکرا نہیں سکی
"آپ کو پتا ہے پرنیاں، یہ جگہ میری فیورٹ ہے، کیونکہ یہاں بہت سکون ہے، جہاں انسان اپنے دکھوں کو بھلا کر سکون محسوس کرتا ہے" داہیم سامنے جھیل کے شفاف پانی کو دیکھتے ہوئے بولا
"ہممم سہی کہا، شاید میں بھی اسی لیے یہاں کھینچی چلی آتی ہوں، تاکے اپنے دکھوں کو بھول سکوں" پرنیاں کے کھوئے ہوئے لہجے پر داہیم نے لب بینچے تھے
"چلیں اب بہت لیٹ ہوگیا ہے، آپ اب گھر جائیں، اندھیرہ ہورہا ہے، اپ کا یہاں رہنا ٹھیک نہیں ہے" داہیم نے اندھیرہ پھیلتے دیکھ کر کہا
"میں کچھ دیر تک چلی جاوں گی، آپ چلے جائیں، میں ٹھیک ہوں" پری کہتے ایک بار پھر سامنے کی جانب متوجہ ہوگئی، داہیم کچھ لمحے اسے دیکھتے رہنے کے بعد لمبے لمبے ڈگ بھرتے وہاں سے نکلتا چلا گیا، وہ آج اپنے مقصد کے قریب آگیا تھا اب بس اسے آہستہ آہستہ پرنیاں کو اس غم سے نکالنا تھا
میرے حاصل یہ محرومی عجب محسوس ہوتی ہے
تجھے پاکر بھی تیری طلب محسوس ہوتی ہے
تمہارے ساتھ دیکھی تھی وگرنہ زندگی ہم کو
نہ تب محسوس ہوتی تھی ناں اب محسوس ہوتی ہے
نیلے وسیع امبر پر آج عجیب سا سماں تھا، سیاہ گھور بادلوں اور آفتاب میں عجیب سی جنگ چھڑی تھی، دونوں ایک دوسرے کو مات دینے میں پیش پیش تھے، کبھی سیاہ روئیں جیسے بادل سورج کو اپنی آغوش میں بھر لیتے تو کبھی چمکتا سورج ان بادلوں کی گود سے نکل کر ان کے ساتھ چھپن چھپائی کھیلنے لگتا
یہ نظارہ دیکھتا وسیع سمندر بھی آج جوش میں آکر اپنی موج میں تھا، اپنے اوپر موجود بیڑوں کو خود میں ڈبونے کو بیتاب یہ موجیں آج پوری طرح سرکش ہورہی تھیں، ایسے موسم میں کوئی بھی ناخدا غلطی سے بھی سمندر میں نہیں اترتا تھا مگر پاکستان نیوی کے جوان ان خطرناک موجوں میں بھی اپنے فرض کی ادائیگی میں صف آرا تھے
مجتبی شپ کے اندر موجود تھا جب کنڑول روم سے پیغام موصول ہوا کے کچھ دہشت گرد اس خراب موسم کا فائدہ اٹھا کر یہاں سے اپنا بیڑہ گزارنے والے ہیں، مگر وہ شاید یہ بھول گئے تھے کے ان کا مقابلہ پاکستان نیوی سے ہے جن پر ایسے موسموں اور موجوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا، ان کے لیے اگر کچھ اہم ہوتا ہے تو صرف وطنِ عزیز کی حفاظت
"یار لالے، کیا ٹارگٹ سیٹ کیا ہے آج تو نے؟" شہیر اسے سنجیدہ ہوتے دیکھ شرارت سے بولا، مجتبی ولید حیدر ایک بار پھر اپنے وحشی روپ میں آنے والا تھا، اسے جتنی نفرت دہشت گردوں سے تھی اتنی کسی سے نہیں تھی کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو بظاہر اپنے ہوکر اپنوں کا خون بہاتے ہیں
"ٹینشن مت لے جانی، جتنے بھی ہاتھ لگے سب گنتا جائیں" مجتبی کی آنکھیں اس کے تیش کی گواہ تھیں مگر بظاہر ہلکے پھلکے لہجے میں بولا، اب بس انہیں نیوی کے جوانوں کا انتظار تھا، اس کا بس چلتا تو اکیلا ہی نکل جاتا انہیں واصلِ جہنم کرنے مگر ہیڈ آفس کے آرڈرز سے انکار کرنا ناممکن تھا
آہستہ سے جیب میں ہاتھ ڈالتے اپنا والٹ نکالا، والٹ میں اس کی اور حرم کی تصویر تھی جس میں وہ وائٹ یونیفارم میں ملبوس تھا جبکہ اس کے آگے بیٹھی حرم نے اس کی وائٹ کیپ پہن رکھی تھی، ایک محبت پاش نظر حرم کے مسکراتے چہرے پر ڈال کر والٹ بند کرتے دوبارہ جیب میں رکھا
وہ جب بھی گھر سے یہاں آتا تھا تو سب کچھ پیچھے چھوٹ جاتا تھا، یہاں وہ ناں کسی کا بیٹا تھا، ناں کسی کا بھائی اور ناں کسی کا شوہر، اس وردی کو پہن کر وہ صرف ایک فوجی تھا جس کی اولین ترجیح شہادت ہوتی ہے، اس کی بھی سب سے بڑی خواہش یہی تھی جس کے لیے وہ ہمیشہ تیار رہتا تھا
جوانوں کے آنے کے بعد وہ سب لوگ لائف بوٹ میں سوار ہوکر ان سرکش موجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سمندر میں اترے تھے اگر سمندر کی باغی موجیں طاقتور تھیں تو سامنے بھی پاک فوج کے جیالے تھے جن کا کام ہی سرکشی کو روکنا تھا، نیوی کے جوان پوری قوت سے بازو چلاتے پانی کی لہروں کا مقابلہ کر رہے تھے
اور آخر کار وہ اپنی منزل پر پہنچ گئے، یہ ایک بہت بڑا بیڑہ تھا، جس میں موجود دشمن شاید اسی گمان میں تھے کے اس موسم میں ان کے پیچھے آنے والا کوئی نہیں ہے، تب ہی بےفکر ہوکر اندر موجود تھے، وہ سب شپ کے ساتھ رسی لٹکاتے ہوئے آہستہ آہستہ شپ میں سوار ہوئے تھے
اپنی اپنی بندوق تھامے اندر کی جانب بڑھے، وہ ان دشمنوں کو سمبھلنے کا موقع دیے بغیر انہیں جہنم واصل کرتے جارہے تھے، مجتبی سب سے آگے تھا، آہستہ آہستہ سب دروازے کھولتے انہوں نے دشمن کا صفایا کیا تھا، اب صرف بیسمنٹ میں دیکھنا باقی تھا
مجتبی ان کو اشارہ کرتے نیچے کی جانب بڑھا، وہ باری باری سب دروازے کھول رہا تھا، ایک دروازہ کھولتے اس کے ہاتھ تھمے تھے، یہ ایک بڑا سا کمرہ تھا جس میں بیس پچیس کے قریب چھوٹے چھوٹے بچے تھے، جن کی عمریں نو دس برس کے قریب تھیں، وہ سب بدحال نظر آرہے تھے، بکھرے بال، پھٹے ہوئے کپڑے، سرخ خوفزدہ چہرہ اور گالوں پر بہتے آنسو، مجتبیٰ کا دل سسکا تھا انہیں یوں دیکھ کر ناجانے کن کے لال تھے جو ان وحشیوں کے ہاتھ لگ گئے
"شہیر " مجتبی نے آواز دے کر اپنے پیچھے موجود شہیر کو بلایا تب تک باقی جوان دشمنوں کو ان کے انجام تک پہنچانے میں مصروف تھے شہیر اس کی آواز سن کر آگے آیا
"دو جوانوں کو یہاں بلاو، انہیں بولو ان بچوں کو پروٹیکشن دیں، تم مجھے فولو کرو" سنجیدگی سے کہتے وہ بچوں کی طرف بڑھا جو اسے دیکھ خوفزدہ ہورہے تھے
"ڈرو مت بچو، آپ لوگ محفوظ ہو، ہم فوجی ہیں، جو آپ کی مدد کرنے آئے ہیں" انہیں خوفزدہ دیکھ کر وہ بامشکل مسکرا کر دوستانہ انداز میں بولا
"آپ فوجی ہو؟ وہ جو ان گندے لوگوں کو مارتے ہیں؟ میری امی کہتی تھیں جہاں فوجی ہوں وہاں گندے لوگ نہیں رہتے" ان میں سے ایک بچہ تھوڑا حوصلہ پاتے آگے بڑھا
"ہاں بیٹا ہم وہی ہیں، فکر مت کرو اب کوئی گندا انسان زندہ نہیں رہے گا، آپ لوگوں نے شور نہیں کرنا اور جیسا یہ بھائی کہیں ویسے کرنا ہے، ٹھیک ہے؟" مجتبی انہیں دلاسہ دیتے بولا پھر اٹھ کر آگے والے کمروں کی طرف بڑھا
اچانک ایک کمرے سے نسوانی چیخوں کی آواز سنائی دینے لگی، اس نے جلدی سے آگے بڑھتے اس کمرے کا دروازہ ٹانگ مارتے کھولا جہاں سے آواز آرہی تھی، سامنے کا منظر دیکھ اس کا خون خولا تھا، دو تین وحشی درندے ایک معصوم لڑکی پر جھکے ہوئے تھے اس کے پیچھے شہیر بھی اندر آیا
"کون ہے ب۔۔۔" ان میں سے ایک آدمی شور پر سیدھا ہوا یہ کمرہ کافی آگے تھا اور لوہے کے دروازے کی وجہ سے وہ شاید باہر ہونے والی کاروائی سے انجان تھے، اس سے پہلے وہ شخص بات مکمل کرتا مجتبی کی گولی اس کے سر کے چیتھڑے اڑا چکی تھی،
اس کے ساتھی گولی کی آواز پر سیدھے ہوئے مگر اس سے پہلے وہ کچھ کرتے شہیر اور مجتبی ان دونوں کا قصہ بھی تمام کر چکے تھے، وہ لڑکی گولی کی آوازوں پر کان ڈھانپتے چیخ اٹھی، مگر کچھ لمحوں بعد سامنے سفید وردی میں ملبوس مجتبی کو دیکھ اس کے چہرے پر اطمینان پھیلا تھا، یہ شاید اس کے تن پر موجود وردی کا کمال تھا
اگلے ہی لمحے مجتبی اور شہیر ساکت ہوئے تھے، وہ لڑکی بھاگتے ہوئے مجتبی کے ساتھ لگی تھی، اونچی اونچی روتے وہ اس کی شرٹ مٹھیوں میں تھام گئی، شہیر نے آگے بڑھ کر اس کی چادر زمین سے اٹھائی اور لاکر اس کے پاس کھڑا ہوا
"گڑیا، اب تم محفوظ ہو، سمبھالو خود کو شاباش" مجتبی نے اس کا سر تھپتھپاتے اسے سیدھا کیا، وہ لڑکی بھی شاید اپنی غلطی سمجھ چکی تھی شرمندہ ہوتے ہوئے سیدھی ہوئی، شہیر نے پیچھے سے اس کی چادر اس کے سر پر ڈالی،
مجتبی نے اس لڑکی کو چہرہ دیکھا، میدے جیسی صاف رنگت، ہری غزالی آنکھیں جو رو رو کر سوج چکی تھیں، ان پر مڑی ہوئی خمدار پلکیں، برواں بال جن کی آوارہ لٹیں چہرے پر بکھری تھیں،سیب کی طرح سرخ اور پھولے گال اور سرخ یاقوتی لب جن کے اوپر ننھا سا تل موجود تھا وہ بےانتہا حسین لڑکی تھی
چند لمحے تو شہیر بھی گنگ رہ گیا، اس کے چہرے پر معصومیت رقصاں تھیں وہ دیکھنے میں تقریباً سولا سترہ سال کی لگ رہی تھی، وہ دونوں اس معصوم بچی کا حال دیکھ کر صدمے میں تھے
"گڑیا، کیا نام ہے آپ کا؟ اور آپ یہاں کیسے؟" مجتبی نے شفقت سے اس کے ڈھکے ہوئے سر پر ہاتھ رکھتے پوچھا
"امارہ نام گلِ لالہ ہے، ام قالام گاؤں میں رہتا تھا اپنے اماں بابا کے ساتھ، امارہ بابا ان کے ساتھ کام کرتی تھی، مگر انہوں نے امارے بابا کو مار دیا، پھر ایک دن آکر ام کو زبردستی لے جانے لگا، اماری اماں نے ام کو بچانے کی کوشش کی مگر انوں نے اماری اماں کو بھی مار دیا، ہم اماں کو دیکھ کر بےہوش ہوگیا تھا اسکے بعد جب ام کو ہوش آیا تو ام اس کمرے میں تھا، دو دن سے ام ادھر ہے اور آج یہ سانڈ اندر آگئی اور ہماری چادر اتار کر پھینک دی، یہ ام کو مار رہی تھی مگر پھر آپ آگئی" وہ لڑکی دیکھنے میں بھی پٹھان لگ رہی تھی اور اب انہیں یقین ہوگیا
ان دونوں کے چہروں پر افسوس جھلکنے لگا تھا، کس قسم کے وحشی لوگ تھے جنہیں غلط سہی کی تمیز تک بھول گئی تھی، جو انسان سے جانور بن چکے، ان کے نزدیک اپنے پرائے کسی کی کوئی اہمیت نہیں تھی، اس معصوم سی لڑکی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے جارہے تھے جسے یہ بھی نہیں پتہ تھا کے آخر انہوں نے اسے پکڑا کیوں ہے
"گل بیٹا آپ کا کوئی رشتہ دار ہے جہان ہم آپ کو بھیج سکیں؟" مجتبی نے بڑے پیار سے اس سے پوچھا جس سر جھکائے سوں سوں کر رہی تھی شہیر کو اس لڑکی کی تکلیف دل پر محسوس ہورہی تھی
"نہیں لالہ، ام کا صرف اماں بابا تھے، اور کوئی نہیں ہے" اس کی بات پر گلِ لالہ کو اپنا اصل دکھ یاد آیا تھا کے اب اس بھری دنیا میں کوئی بھی نہیں تھا ان دونوں کو اس کے لیے دکھ ہوا
"کس نے کہا کوئی نہیں ہے، آج سے میں آپ کا لالہ ہوں، ٹھیک ہے، آو میرے ساتھ" مجتبی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے فیصلہ کیا تھا وہ آگے بڑھا تو وہ بھی اس کے پیچھے چل دی شہیر بھی اس کے ساتھ ہی باہر بڑھا جہاں سب دشمن مارے جاچکے تھے
"آپ بھی امارے لالہ ہو؟" شہیر جو ناجانے کیوں خود کو اسے دیکھنے سے روک نہیں پارہا تھا اس کے اچانک سوال پر گڑبڑا گیا
"استغفار، میں تمہارا لالہ نہیں ہوں" وہ اپنی طبیعت کے بر خلاف سختی سے بولا جس پر گلِ لالہ سہم گئی تھی شہیر کا دل کس لے پر دھڑک رہا تھا اور وہ اسے بھائی بنانے پر تل گئی تھی
وہ سب جوان ایک بار پھر فتح کا تاج سجائے سر فخر سے بلند کیے باہر نکلے تھے، یہ وہ لوگ تھے جو اپنی ذات سے پہلے دوسروں کو رکھتے ہیں، تب ہی کامیاب ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے پیچھے لاکھوں ماوں کی دعائیں ہوتی ہیں۔
سو جاؤ عزیزو کے فصیلوں پہ ہر اک سمت
ہم لوگ ابھی زندہ و بیدار کھڑے ہیں
@@@@@@@@@@
بہرام کو حوزان کے بارے میں پتا چلا تو وہ جلدی سے ہوسپٹل پہنچا جہان حوزان ابھی ایمرجنسی میں تھا، گولی حوزان کے دائیں بازو میں لگی تھی، گولی تو نکال دی گئی تھی مگر خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے اسے ابھی ہوش نہیں آیا تھا
"ارتضیٰ بیٹا تھینک یو سو مچ اگر آپ وقت پر حوزان کو ہوسپٹل نہیں لاتے تو کچھ بھی ہوسکتا تھا" شاہ زیب پہلے تو ارتضیٰ اور حریم کو وہاں دیکھ کر حیران ہوا مگر جب پتا چلا کے وہ حوزان کو یہاں لائے ہیں تو مشکور انداز میں بولا
"ارے انکل، شرمندہ مت کریں، ہمیں نہیں پتا تھا جس کی ہم مدد کر رہے ہیں وہ کون ہے، ہم تو بس اپنا فرض نبھا رہے تھے مگر ہمیں خوشی ہوئی کے ہم آپ کے کام آئے" ارتضی مسکرا کر بولا، تب ہی بہرام بھی وہاں آگیا، کچھ ہی دیر میں وہ لوگ ایک دوسرے سے متعارف ہوچکے تھے
داہیم وہاں آیا تو ارتضی اسے پہچان گیا تھا وہ بھی بڑے محبت سے ان سے ملا
"اوکے انکل، ہم چلتے ہیں، آپ فکر مت کریں حوزان ٹھیک ہو جائے گا، حریم کو گھر چھوڑنا ہے سب پریشان ہورہے ہوں گے، میں انشاء اللہ دوبارہ چکر لگاوں گا" ارتضی وقت دیکھتے بولا انہیں وہاں شام ہوچکی تھی
"ہاں بیٹا، اللّٰہ آپ کو اس نیکی کا اجر دے، دھیان سے جائیے گا، اور ابھی ولید کو مت بتائیے گا وہ خوامخواہ پریشان ہوجائے گا" شاہ زیب نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے کہا
وہ سر ہلاتے وہاں سے چل دیے، اب وہاں شاہ زیب، داہیم اور بہرام تھے ذیشان کا فون نہیں لگ رہا تھا اور شاہ زر راستے میں تھا، ابھی کچھ خبر نہیں تھی سو ان سب کا وہاں رکنا بیکار تھا تب ہی شاہ زیب بہرام کی جانب مڑا
"بہرام بیٹا آپ گھر جاؤ، پہلے جاتے ہوئے اپنی پھپھو اور تائی اماں کو حوصلہ دہتے جائیے گا، حسال اور سویٹی کا بھی خیال رکھیے گا، ہم دونوں ہیں یہاں" شاہ زیب کو پتا تھا گھر میں وہ سب پریشان ہورہی ہوں گی
بہرام سرہلا کر وہاں سے نکل آیا، وہ سیدھا خاقان ولا آیا تھا جہاں دلکش ، مشک اور حسال لاوئج میں ہی تھیں، ان تینوں کی حالت خراب تھی، آنکھوں میں آنسو اور لبوں پر دعا لیے وہ سب حوزان کی زندگی کے لیے دعاگو تھیں
"پھپھو" بہرام نے دلکش کے پاس آتے اسے پکارا، وہ جو آنکھیں بند کیے بیٹھی تھی اس کی آواز پر سیدھی ہوئی، حسال اور مشک بھی ان کی جانب متوجہ ہوئے تھے
"بہرام۔۔ بہرام میرا حوزان، وہ ٹھیک ہے ناں؟ " دلکش اس کے بازو تھامتی بےچینی سے بولی مشک اور حسال کے کان بھی اس کی جانب لگے تھے
"فکر مت کریں پھپھو، حوزان ٹھیک ہے، گولی نکال دی ہے، کچھ گھنٹوں میں ہوش آجائے گا" اس نے انہیں خود سے لگایا اس کے جواب پر سب کے سانس میں سانس آئی تھی
"یااللہ تیرا شکر، میں شکرانے کے نوافل ادا کر لوں" دلکش اوپر کی طرف دیکھ کر شکر ادا کر کے بولی مشک بھی اس کے ساتھ اٹھ کر اندر کی جانب بڑھ گئی، حوزان اس گھر کا اکلوتا وارث تھا جس سے وہ سب بہت محبت کرتے تھے
"حسال" حسال سر جھکائے کھڑی تھی تب ہی بہرام نے اسے پکارا اسے پتا تھا وہ رو رہی ہوگی
"حسال، جاناں حوزان ٹھیک ہے، پلیز روئیں مت" اس کی آواز پر حسال نے ار اٹھایا تو بہرام اس کے آنسو دیکھ کر تڑپ اٹھا تھا
" بہرام آپ کو پتا حوزان نے کبھی مجھے بھائی کی کمی محسوس ہونے نہیں دی، اس نے ہمیشہ مجھے چھوٹی ہوتے ہوئے بھی بڑی بہنوں والا مان دیا ہے، اگر اسے کچھ ہوجاتا تو ہمارا کیا ہوتا؟" حسال اس کا سہارا پاتے ہی سسک اٹھی
" آپ کو لاڈلا بھائی بلکل ٹھیک ہے میری جان، اب یوں رو رو کر اسے اور مجھے تکلیف مت دیں" بہرام نے اس کے آنسو اپنی انگلیوں کی پوروں پر چنے تھے
"سویٹی، سویٹی کیسی ہوگی، اگر اسے پتا چل گیا تو وہ برا حال کر لے گی" حسال کو اچانک سویٹی کا خیال آیا ان سب کی یہ حالت تھی تو آزین کا کیا ہوتا، خان اور سویٹی کی جان تو ایک دوسرے میں قید تھی
"اسے ابھی معلوم نہیں ہے، بابا نے ماما کو منع کر دیا تھا اسے بتانے سے، میں گھر ہی جارہا ہوں، ماما کو بھی میری ضرورت ہوگی" بہرام کو یہ حوصلہ تھا کے سویٹی اس سب سے لاعلم ہے مگر اسے یہ نہیں پتا تھا کے درحقیقت جس سے وہ سب لوگ یہ بات چھپانا چاہ رہے تھے اسے پتا چل چکا تھا
"ہاں ماما اور چھوٹی ماما کی بھی حالت ٹھیک نہیں ہے ورنہ میں بھی ساتھ چلتی" حسال کو سویٹی کی فکر لاحق ہوگئی تھی
"آپ یہیں رہیں اور پھپھو اور تائی اماں کا خیال رکھیں، میں وہاں سب سمبھال لوں گا، اپنا خیال رکھیے گا، اللّٰہ حافظ" اس کے ماتھے کو عقیدت سے چھوتے وہ باہر نکل گیا
گھر آیا تو سامنے ہی سویٹی لینڈ لائن کے پاس زمین پر بیٹھی تھی،ساکت چہرہ اور کھویا ہوا انداز اسے سمجھا گیا تھا کے وہ سب جان گئی ہے، اسے اپنی بہن کی حالت دیکھ کر تکلیف ہوئی تھی
"سویٹی میرا بچہ، لالہ کی جان، یہاں کیوں بیٹھی ہیں؟" بہرام جلدی سے اس کے پاس آیا
"لالہ خان" بہرام کو دیکھ کر وہ فون کی طرف اشارہ کرتے بولی
"لالہ کا بچہ، خان بلکل ٹھیک ہیں، بازو میں گولی لگی تھی مگر اب وہ ٹھیک ہے، میں ابھی وہیں سے آرہا ہوں" بہرام اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامتے بولا
"لالہ،مجھے خان کے پاس جانا ہے، پلیز مجھے خان کے پاس لے جائیں، پلیز لالہ" اچانک ہی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے تھے، وہ سسکتے ہوئے اس کے دونوں ہاتھ تھام کر بولی
"ہاں میری جان، ہم کچھ دیر بعد جائیں گے، ابھی وہ بےہوش ہیں ناں، ڈاکٹر نے کہا تھوڑی دیر تک ہوش آجائے گا" بہرام اسے ساتھ لگاتے اس کا سر سہلاتے ہوئے بولا
سویٹی اس کے ساتھ لگی رونے لگی، حوزان کی تکلیف اس کے دل پر بھی وار کر رہی تھی، مگر وہ اتنی بےبس تھی کے اسے اس تکلیف سے نجات بھی نہیں دے سکتی تھی، مگر اس کا روم روم اپنے خان کے لیے دعاگو تھا
@@@@@@@@
پینتھر، لیپرڈ اور سوان آج ایک بار پھر اسی میٹینگ روم میں جمع ہوئے تھے، انہیں ایک نیا کیس سونپا گیا تھا، جس میں انہیں ملک کے اندر اور باہر ایک ایسے گروہ کو پکڑنا تھا جو چھوٹے بچوں کی سمگلنگ کرتا تھا،
"سوان، جو ڈیٹا میں نے کہا تھا وہ کلیکٹ کیا تم نے؟" پینتھر کی سنجیدہ سی آواز نے میٹینگ روم میں چھائی خاموشی کو توڑا تھا
"یس سر، میں نے سارا ڈیٹا جمع کر لیا ہے، اور اس دوران مجھے بہت سی اور باتوں کا بھی علم ہوا ہے" فائل اس کی جانب بڑھاتے سوان بھی اسی سنجیدگی سے بولی