Yad e Yar Ka Mausam by Ana Ilyas | Best Urdu Novels

Yad e Yar Ka Mausam by Ana Ilyas | Best Urdu Novels
Yad e Yar Ka Mausam by Ana Ilyas

Yad e Yar Ka Mausam by Ana Ilyas , Ana Ilyas is one of the best famous Urdu novel writer. Yad e Yar Ka Mausam by Ana Ilyas is the latest novel . Although it is much the latest, even though it is getting very much fame. Every novel reader wants to be in touch with this novel.Yad e Yar Ka Mausam by Ana Ilyas is a very special novel based on our society and love.

Yad e Yar Ka Mausam by Ana Ilyas

Ana Ilyas has written many famous novels that her readers always liked. Now she is trying to instill a new thing in the minds of the readers. She always tries to give a lesson to her readers, so that a piece of writing read by a person, and his time, of course, must not get wasted.

Yad e Yar Ka Mausam by Ana Ilyas | Rude Hero Based Novel

Yad e Yar Ka Mausam by Ana Ilyas Complete Urdu Novel Read Online & Free Download, in this novels, fight, love, romance everything included by the writer. There are also sad moments because happiness in life is not always there. So this novel is a lesson for us if you want to free download Yad e Yar Ka Mausam by Ana Ilyas  to click on the link given below,

 

↓ Download  link: ↓

If the link doesn’t work then please refresh the page.

Yad e Yar Ka Mausam by Ana Ilyas Ep 9 PDF

 

 

 

Read Online Yad e Yar Ka Mausam by Ana Ilyas

"نجوہ جلدی کرو يار۔ ميں ليٹ ہورہا ہوں" احتشام کی حھنجھلاتی آواز کچن ميں جلدی جلدی ناشتہ بناتی نجوہ کے کانوں ميں بآسانی پہنچ رہی تھی۔
ناشتہ تيار ہوچکا تھا۔ ٹيبل پر سيٹ کرتے اس نے کمرے کی جانب دوڑ لگائ۔
"کيا ہے احتشام۔۔ ايک تو رات آپکی وجہ سے ميں دير سے سوتی ہوں اور پھر صبح جلدی جلدی کا شور ايسے مچاتے ہيں۔ جيسے سارا قصور ميرا تھا" الماری سے اسکے سوکس نکالتے اسکی روہانسی آواز ميں بولے جانے والا شکوہ
ڈريسنگ کے سامنے کھڑے احتشام کے ہونٹوں پر مسکراہٹ لے آيا۔
"ہاں تو اب تمہارے قريب آتے ہی ميری نينديں اڑ جاتی ہين تو قصور تو تمہارا ہی ہوا نا" گھنی مونچھوں تلے کٹاؤ دار لبوں ميں مسکراہٹ دبائے وہ اسے مزيد غصہ دلا گيا۔
تيکھے چتونوں سے الماری کے پٹ زور دار آواز ميں بند کرتے وہ خطرناک تيوروں سميت اسکی جانب آئ۔
"اچھا نا يار مذاق کررہا تھا" اپنے پاس کھڑی نجوہ کے چہرے کے خطرناک ہوتے تاثرات ديکھ کر وہ مصالحانہ انداز اپناتے ہوۓ بولا۔
ہاتھ بڑھا کر يکدم اسے خود سے نزديک کيا۔
"آئندہ ميں ضماد کے کمرے ميں سوؤں گی۔۔" اپنا آپ اسکی گرفت سے چھڑاتی وہ ہنوز ناراض لہجے ميں بولی۔
"اچھا نا يار۔۔ سوری" اسکے پھولے گالوں کو محبت سے ديکھا۔
"نہيں کوئ ضرورت نہيں آپکی سوری کی۔۔ خود بارہ بارہ بجے تک موبائل ميں گھسے رہتے ہيں۔ جيسے ہی مين سونے لگتی ہوں آپکو محبتيں لٹانی ياد آجاتی ہيں۔ اور صبح ذرا سی دير ہوجاۓ تو مجھے باتيں سناتے ہيں" اسکی بھرائ آواز پر احتشام کو معاملہ گمبھير ہوتا لگا۔
"اچھا نا يار مذاق کررہا تھا۔ اب صبح صبح ناراض چہرہ دکھا کر مجھے آفس بھيجو گی" اسکے چہرے کا رخ اپنی جانب کيا۔ مگر وہ دوبارہ چہرہ دوسری جانب موڑ چکی تھی۔
"ناشتہ ٹھنڈا ہورہا ہے" سنجيدہ لہجہ۔
"سوری" اسکے سر سے ماتھا ٹکا کر اسکی سانسيں منتشر کرنے ميں کوئ کسر نہيں چھوڑی۔
"ہٹيں اب۔۔ بڑے معصوم بنتے ہيں۔۔ اچھا سنيں" اپنا موڈ ٹھيک کرتے شرم سے سرخ چہرہ لئے وہ پيچھے ہٹی۔
"جی ميری جان سنائيں" اسے خود سے الگ کرکے پرفيوم اسپرے کيا۔ اور ايک آخری ناقدانہ نگاہ شيشے پر ڈال کر اپنا عکس ديکھا۔
"آج شام ميں فراج کی فلائٹ ہے" خوشی سے دمکتے چہرے کو احتشام نے نظر بھر کر ديکھا۔ دونوں باتيں کرتے کمرے سے باہر نکلے۔
"اوکے ڈئير تم تيار رہنا۔ ہم اسے ريسيو کرنے چليں گے" محبت سے اسکے شانے پر بازو ٹکاۓ۔ اپنی ہمراہی مين اسے لئے ٹيبل پر آيا۔ ضماد پہلے سے وہاں بيٹھا ان کا انتظار کررہا تھا۔
"بابا يو آر سو ليزی۔۔ ميں کب سے ريڈی ہوں۔ اور آپ کو ماما ريڈی کرتی ہيں ۔۔ آپ پھر بھی اتنے ليٹ ريڈی ہوتے ہيں" ضماد کے شکوے پر احتشام کی شرارتی نظروں نے نجوہ کے سرخ ہوتے چہرے کو ديکھا۔
"بتاؤ اب۔۔ تم مجھے اتنا ليٹ کيوں تيار کرتی ہو"ہونٹ دباۓ وہ شرارتی لہجے ميں نجوہ سے مخاطب ہوا۔
"کوئ نہيں۔۔ بس اب خاموشی سے دونوں ناشتہ کريں۔۔ اور جائيں۔ ميں بھی دو گھڑی سکون کی گزاروں" دونوں کو گھوری سے نوازتی وہ انکی پليٹوں ميں انکی پسند کی چيزيں ڈالنے لگی۔
_____________________________
"ممی پليز ميں کسی کے گھر نہيں ٹہر رہا۔ آپ بس ڈيڈی سے کہيں ميرا ہاسٹل ميں ايڈميشن کروائيں" ماتھے پر بل ڈالے وہ کب سے ماں کو منانے کی پوری کوشش کررہا تھا۔ جو اسکے نسٹ ميں ايڈميشن کا سنتے ہی اسلام آباد ميں مقيم اپنی بہن کو فون کرکے اسکے آنے کا بتا چکی تھيں۔
"ميں تمہار ايڈميشن کينسل کروادوں گی اگر تم نے بحث کی تو۔ بس ميں نے کہہ ديا کہ تم آپا کے گھر ہی رکو گے تو وہيں رکو گے" سوٹ کيس ميں اسکی چيزيں رکھتے ہوئے زہرہ کا پل بھر کو ہاتھ رکا۔
"ممی اگر وہاں کوئ لڑکا ہوتا تو ميں رک بھی جاتا مجھے کوئ اعتراض نہيں تھا۔ مگر خالہ کی سب بيٹياں ہيں۔ اب لڑکيوں ميں رہتا ميں اچھا لگوں گا" وہ ہر ممکن دليل دے رہا تھا۔
"ارے بے وقوف وہ سب تمہارے آنے کا سنتے ہی اتنی ايکسائيٹڈ ہورہی ہيں۔ اور ايک تم ہو۔ جس کے نخرے ہی ختم نہيں ہورہے" اسکی ايک اور دليل کو انہوں نے ہوا ميں اڑايا۔
"اچھا ٹھيک ہے اگر ايک مہينے تک ميرا وہاں دل نہ لگا تو ميں ہاسٹل شفٹ ہوجاؤں گا" وہ منہ پھلا کر بولا۔
"ميری جان دل تو تمہارا ايسا لگے گا کہ يہاں آنے کا پھر دل بھی نہيں کرے گا" وہ محبت سے اسکے پھولے چہرے پر ہاتھ پھير کر مسکراتے لہجے مين گويا ہوئ۔
وہ دھپ سے بيڈ پر بيٹھا جہاں زہرہ اسکا سامان پھيلاۓ ايک ايک چيز ترتيب سے اسکے سوٹ کيس ميں رکھ رہيں تھيں۔ آخر چار سالوں کے لئے اب اسے اسلام آباد ہی رہنا تھا۔ سول انجييرنگ کی ڈگری لينے تک۔
شوق بھی تو اسی کا تھا جو لاہور کی يو ای ٹی چھوڑ کر نسٹ سے پڑھنے کا خواہش مند تھا۔ اب اپنی خواہش کا بھگتان بھی تو بھگتنا تھا۔ شمع خالہ کے گھر جانے پر وہ راضی نہيں تھا جن کی تين بيٹياں تھيں اور تينوں اس سے بڑی۔
مگر ماں کے مجبور کرنے پر وہ جارہا تھا۔ دس سال بعد ان سب سے ملنا تھا۔ اسی لئے بے تکلفی بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔ اسی لئے وہ شديد جھجھک رہا تھا۔
________________________
وہ ائیر پورٹ پر ويٹنگ ايريا کی جانب بڑھ رہا تھا۔ جہاں پہلے سے ہی اسکے ماں باپ اور بہن بھائيوں کے علاوہ جو واضح اور روشن چہرہ تھا وہ نجوہ کا تھا۔ محبت سے اسکے چہرے کو نظروں ميں سمويا۔ اسے پورا يقين تھا کوئ اور آئے نہ آئے مگر احتشام اور نجوہ ضرور موجود ہوں گے۔
سب سے مل کر آخر ميں وہ نجوہ کی جانب بڑھا۔
جس نے محبت سے اسکے شانے پر ہاتھ رکھ کر بڑوں کی طرح پيار ديا۔
"کيسے ہو بڈی" اسکے چہکتے لہجے ميں محبت ہی محبت تھی۔ چار سال بعد وہ اس چہرے کو ديکھ رہا تھا۔
"بالکل ٹھيک جناب آپ سنائيں۔۔۔ ضماد ابھی تک اکيلا گھوم پھر رہا ہے۔۔" وہ شرارت سے ضماد کو گود ميں اٹھا کر بولا۔
"ہاں اور تمہيں تو ايک بھی دنيا ميں لانے کی توفيق نہيں ہوئ" وہ کہاں پيچھے رہ جانے والوں ميں سے تھی۔ فراج اور احتشام کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔
"مانا کہ باہر سے آيا ہوں مگر اب اتنا بھی ايڈوانس نہيں کہ شادی کے بنا ہی۔۔۔۔" اگلی بات اس نے شرارت سے ادھوری چھوڑی۔
"بے شرم شادی کی ہی بات کررہی ہوں۔ شادی کرو۔۔ اور مجھے بھی پھوپھو بننے کا موقع دو" اسکے شانے پر زوردار دھپ لگاتے وہ اسکے ساتھ ہی چل رہی تھی۔ باقی سب بھی آگے پيچھے چلتے ہوۓ ائير پورٹ سے باہر نکل رہے تھے۔
"نہ نہ۔۔۔۔۔ آپ تو ميرے بچوں کی پھوپھو کبھی نہيں ہوسکتيں" اسکی بات پر احتشام اور نجوہ نے الجھ کر اسے ديکھا۔
"آپ ميرے بچوں کی بھی دوست ہی ہوں گی" اسکی بات پر محبت سے نجوہ نے اسکے کندھے پر ہولے سے سر رکھا۔
احتشام نے محبت سے ان دونوں کی جانب ديکھا۔ وہ ان دونوں کی آپسی دوستی اور محبت کم عقيدت سے واقف تھا۔
احتشام کے ساتھ نجوہ کی شادی کی سب سے زيادہ حمايت فراج نے کی تھی۔ اس لحاظ سے بھی اسے فراج بہت پيارا تھا۔
"ہاۓ ميں صدقے کيوں نہيں" اسکے بازو پر ہاتھ رکھے وہ محبت بھرے لہجے ميں بولی۔
"خالہ بس اب جلدی جلدی لڑکی ڈھونڈيں" جتنی دير مين اسکا سامان گاڑی ميں رکھا وہ لوگ کھڑے اسکے مستقبل کی باتيں کرتے رہے۔
__________________________
وہ ائير پورٹ پر موجود ادھر ادھر ديکھ رہا تھا۔ گوکہ زہرہ نے اسے شمع خالہ کی بيٹيوں کی تصويريں نہ صرف دکھائيں تھيں بلکہ حفظ کروا دی تھيں۔ تاکہ ائير پورٹ پر ان ميں سے کوئ بھی آۓ تو وہ بآسانی انہيں پہچان لے۔
مگر روبرو ديکھنے اور تصوير ميں ديکھنے ميں فرق ہوتا ہے۔
سامان کی ٹرالی لئے وہ ابھی ادھر ادھر ديکھ ہی رہا تھا کہ بائيں جانب سے ايک خوش شکل لڑکی اسکی جانب بڑھی۔ يہ شمع خالہ کی سب سے چھوٹی بيٹی تھی۔
جو کہ فراج سے چھ سال بڑی تھی۔
"ہيلو ينگ مين کيسے ہو" اسکی جانب ہاتھ بڑھاتے ہوۓ وہ خوشدلی سے بولی۔
"ہيلو کيسی ہيں آپ" اپنی کوفت چھپاۓ وہ ہولے سے مسکرا کر بولا۔ اور نرمی سے اسکا ہاتھ تھاما۔
"ماشاءاللہ بڑے اور بہت پيارے ہوگۓ ہو" وہ شرارت سے اسکے خوبرو چہرے کو ديکھ کر بولی۔
اونچا لمبا۔۔ گردن سے ذرا نيچے آتے گھنے لمبے بال۔ مگر لڑکوں والا پتلی جسامت کا مالک فراج خوبصورت لڑکوں کی صف ميں آتا تھا۔
فراج نے ايک تفصيلی نظر اس کے مسکراتے چہرے پر ڈالی۔ درميانے قد کی گندمی مگر صاف رنگ، بڑی بڑی روشن آنکھوں اور تيکھے نقوش والی، گھنے مگر کندھوں سے ذرا نيچے آتے بالوں کی اونچی سے پونی بناۓ۔ گلے ميں اسکارف لئے ٹاپ اور جينز ميں ملبوس وہ پرکشش لڑکی تھی۔
"شکريہ " ايک دھمیی سی مسکراہٹ سے فراج نے اسکی تعريف وصول کی۔
سامان اٹھاۓ وہ اسکی گاڑی تک گيا۔ سب سامان ڈگی ميں رکھوا کر وہ اسکے برابر گاڑی کی فرنٹ سيٹ پر بيٹھا۔
"بھئ تمہارے آنے کی خوشی ميں ميں نے آج آفس سے چھٹی لی ہے" وہ اسے اطلاع دے رہی تھی يا اپنی خوشی کا اظہار کررہی تھی وہ سمجھ نہيں سکا۔ ہاں مگر اتنا اندازہ ہوگيا کہ وہ بہت سوشل تھی۔
"شکريہ۔۔ يہ ميرا قصور ہے يا ميں اس بات پر خوشی محسوس کروں" فراج بھی اپنے شرارتی موڈ ميں آيا۔
نجوہ نے گاڑی سٹارٹ کرتے اسکی شرارت پر تھوڑا سا حيرت کا اظہار کيا۔
"ارے واہ۔۔ چھوٹے۔۔ تم تو مذاق بھی کر ليتے ہو۔ مجھے تو سنجيدہ ٹائپ کے لگے تھے" وہ بے تکلفی سے اسکے بارے ميں سوچے گئے خيالات کا اظہار کررہی تھی۔
"سنجيدہ ہوں مگر بہت زيادہ بھی نہين" اس نے صاف گوئ سے کہا۔ "
"بس پھر ميری اور تمہاری خوب جمے گی" وہ گاڑی چلاتے ہوۓ خوشی سے بھرپور لہجے ميں بولی۔
فراج کو کچھ ہی لمحوں ميں معلوم ہوگيا کہ وہ کافی باتونی ہے۔ نجوہ کی سب سے بڑی بہن "ماريہ" شادی شدہ تھی اور اسلام آباد ميں ہی رہائش پذير تھی جبکہ اس سے چھوٹی "ربيعہ" فارن آفس ميں جاب کرتی تھی۔ نجوہ خود بھی بينکر تھی۔ ايم بی اے کے بعد اس نے بينک ميں جاب شروع کردی تھی۔ تينوں بہنيں محبت کرنے والی تھيں۔
فراج کو لگا کہ ماں کا اسے يہاں بھيجنے اور رہنے کا فيصلہ اتنا بھی غلط نہيں تھا۔
فراج خود دو ہی بہن بھائ تھے۔ وہ بڑا اور فضيلہ اس سے چھوٹی ميٹرک کی اسٹوڈنٹ تھی۔ لاہور رہنے اور ٹف روٹين کی وجہ سے وہ بہت کم کزنز سے ملتا تھا۔
ہاں فضيلہ کی سب سے فون پر خوب دوستی رہتی تھی۔
شمع خالہ کے علاوہ ايک ماموں تھے جو باہر کے ملک ميں اپنی بيوی اور تين بچوں دو بيٹوں اور ايک بيٹی کے ساتھ بہت سالوں سے رہائش پذير تھے۔ ان کا بھی کم کم ہی آنا جانا رہتا تھا۔
ننھيال کی نسبت ددھيال چونکہ اس کا لاہور ميں ہی تھا اسی لئے ان سب سے ملنا ملانا زيادہ رہتا تھا۔
مگر اسکے باوجود بہت زيادہ دوستی اسکی کسی بھی کزن سے نہيں تھی۔
نجوہ نجانے کون کون سے بچپن کے قصے چھيڑ کر بيٹھی تھی۔ انہی سب ميں راستہ کٹنے کا پتہ بھی نہيں چلا۔
_________________________
"ميں نے اس ويک اينڈ پر زہرہ خالہ کو گھر آنے کی دعوت دی ہے" رات ميں سب کاموں سے فارغ ہو کر وہ جيسے ہی ضماد کو سلا کر آئ احتشام کو چاۓ ديتے ہی دن بھر کی روداد روزانہ کی طرح شروع کرچکی تھی۔
"ٹھيک ہے۔۔ کيا کيا بنانا ہے وہ بھی ڈيسائيڈ کرکے بتا دينا ميں چيزيں لا دوں گا" کپ سے چاۓ کے گھونٹ بھرتے اس نے نجوہ کی بات کی تائيد کی۔
"بس اب يہ لڑکا شادی کے لئے بھی مان جاۓ تو کيا ہی اچھا ہو" احتشام کے برابر بيڈ پر بيٹھتے ہاتھوں پر لوشن لگاتے وہ حسرت سے بولی۔
"اس بے چارے کی آزادی تمہيں پسند نہيں" احتشام نے مسکراہٹ لبوں ميں دبا کر اسے چھيڑا۔
اور وہ توقع کے عين مطابق چھڑ بھی گئ۔
"اس بات کا کيا مطلب ہے؟" تيکھے چتونوں سے اسے گھورا۔
"مطلب يہ ميری جان کہ ہماری آزادی تو سلب ہوگئ اب اس بے چارے کے پيچھے کيوں پڑی ہيں" احتشام کی بات پر وہ اسکے نزديک ہوتی اب اسے گھوريوں سے نواز رہی تھی۔
"اچھا تو مجھ سے شادی کرکے آپکی آزادی سلب ہوگئ ہے۔" وہ کمر پر ہاتھ ٹکاۓ اسکے مذاق کو ہميشہ کی طرح سنجيدہ لے چکی تھی۔
"مجھ سے شادی کے لئے بے چين کون تھا۔۔ کون جينے مرنے کے دعوے کررہا تھا۔ اس وقت تو شادی کے علاوہ کچھ دکھائ نہيں دے رہا تھا" وہ ايک ہی سانس ميں بولتی گئ۔
اسکے غصے پر احتشام کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔
"يار تمہيں غصہ دلانا کچھ مشکل نہيں" چاۓ کا کپ خالی کرکے سائيڈ ٹيبل پر رکھتے اسکی کمر کے گرد بازو جماتے اسے کچھ اور قريب کيا۔
"کوئ ضرورت نہيں اس التفات کی" غصے سے اپنے گرد موجود اسکے بازو کو جھٹکا۔
"تمہيں نہيں مگر مجھے ہے۔۔ اس التفات نہيں۔ اس محبت کی" اسکی کوشش ناکام بناتے گھمبير لہجے ميں بولتے اسے اور نزديک کيا۔
"کيا آپ واقعی پچھتا رہے ہيں مجھ سے شادی کرکے؟" دل ميں موجود شک کو لفظوں ميں ڈھالا۔
"افف ميری جھلی جان۔ ايسا کچھ نہيں ہے۔ يار اب تمہارے ساتھ مذاق بھی نہ کروں" افسوس سے اسے ديکھا۔
"ميری زندگی ميں تم نہ ہوتی تو يقين کرو۔۔ يہ نامکمل ہوتی۔ تم سے ہی تو سب مکمل ہے۔ تم سے شادی زندگی کا حسين لمحہ ہے۔ اور ہر لمحہ ميری زندگی تم سنگ مزيد حسين ہورہی ہے" محبت پاش نظروں سے اسے ديکھتے وہ اپنی دلی کيفيت بيان کررہا تھا۔
"آپ مجھے کبھی چھوڑيں گے تو نہيں" نجانے کس خوف کے زير اثر اسکے کندھے پر سر رکھ کر کہا۔
"يار اب تم مار کھاؤ گی۔۔۔۔ سواۓ موت کے اور کوئ وجہ مجھے تم سے دور نہيں کرسکتی" مضبوط لہجے ميں اسےيقين دلايا۔
"احتشام" اسکی بات پر وہ ہولے سے چلائ
"جی احتشام کی جاناں" اسکی حالت پر ہنستے ہوۓ اسے خود ميں بھينچا۔
"ايسی بات کريں گے تو ميں سچ ميں خفا ہوجاؤں گی" نروٹھے لہجے ميں اسے غلط بات کہنے کا احساس دلايا۔
"اوکے اوکے۔۔۔ مگر اب تم بھی کوئ فضول کی باتيں نہيں سوچوں گی" سائيڈ ليمپ آن کرکے لائٹ آف کرتے اسے ويسے ہی ساتھ لگاۓ ليٹ کر مزيد عہد و پيمان باندھے۔
---------------------
اسے يونيورسٹی جاتے ہوۓ ايک ماہ ہوچکا تھا۔ شروع شروع ميں اسے شمع خالہ کے گھر ايڈجسٹ کرنے ميں تھوڑی مشکل ہوئ تھی۔ مگر پھر آہستہ آہستہ وہ عادی ہوگيا۔ اسے الگ کمرہ ديا گيا تھا۔ جہاں وہ اپنی مرضی سے رہتا تھا۔ شمع خالہ خود قريبی کالج ميں پڑھاتی تھيں۔ گھر پر کک رکھا ہوا تھا جسے فراج کی پسند ناپسند سے آگاہ کيا جا چکا تھا۔
ربيعہ اور نجوہ وقتا فوقتا اسے کمپنی ديتی رہی تھيں۔
بلکہ يہ کہنا بہتر ہوگا کہ نجوہ نے اسے يونيورسٹی ميں ايڈجسٹ ہونے ميں خوب مدد کی تھی۔ بہت سی چھوٹی اور بڑی باتوں سے آگاہ کيا تھا۔ جس کی بدولت فراج نے احسن طريقے سے يونيورسٹی کی زندگی ميں قدم رکھ لئے تھے۔
نجوہ پک اينڈ ڈراپ بھی اسے خود ديتی تھی۔
کل اسکی پہلی پريزينٹيشن تھی اور اس وقت نجوہ اسکے کمرے ميں موجود اسکی تياری کروا رہی تھی۔
"تم نروس کيوں ہورہے ہو۔۔ ميرے سامنے يہ حال ہے تو کل پوری کلاس کے سامنے کيسے بولو گے" چوتھی بار اسکے پہلی ہی سلائيڈ پر اٹکنے پر اب کی بار نجوہ اسے زبردست جھاڑ پلا رہی تھی۔
"يار مجھ سے يہ نہيں ہوگا۔ ميں کل فيل ہوجاؤں گا" وہ بيڈ پر بيٹھا مسلسل سر نفی ميں ہلا رہا تھا۔
"کيوں نہيں ہوگا۔ باقی کيا کسی اور سيارے کی مخلوق ہيں۔ اٹھو اور صرف يہ سوچو کے اس کمرے ميں تم اکيلے موجود ہو"وہ ايک بار پھر اسکی ہمت بندھا رہی تھی۔
"نہيں نجوہ ميں نہيں کر سکوں گا۔۔ ميری آواز اور ٹانگيں کانپنے لگ جاتی ہيں" وہ بے چارگی سے ٹانگيں لٹکاۓ بيڈ پر ليٹ چکا تھا۔
"اٹھو نہيں تو اب مار کھاؤ گے مجھ سے" ماتھے پر بل ڈالے وہ اسکی بزدلی پر کڑھ رہی تھی۔
"دنيا ميں کوئ چيز ناممکن نہيں ہے۔ اور يہ جو تم گھبرا رہے ہو۔ ايک بار اس پہ قابو پالو تو سمجھو پھر کبھی ايسے سچويشن ميں يوں بزدلوں کی طرح ليٹے نہيں ہوگے۔ خالہ کا سوچو۔۔ خالو کا سوچو جنہوں نے اتنی دور اپنے جگر کا گوشہ بھيجا ہے۔ جس سے انہيں کتنی ہی اميديں ہيں۔ اپنے وہ خواب سوچو جن کی تکميل کے لئے تم نے کچھ نہيں ديکھا۔ کيا وہ خواب خواب ہی رہ جاۓ گا۔ "
اسکے برابر بيٹھی اسکے بازو پر ہاتھ رکھے مسلسل اسے چئير اپ کررہی تھی۔
"کيا آپ کے ساتھ بھی ايسا ہی ہوتا تھا" چہرہ موڑے اسکے پرسکون چہرے کو ديکھا۔
"ہاں نا۔ اب بھی کبھی آفس ميں پريزينٹيشن دينی ہو تو ساری رات گھبراتی ہوں۔ مگر جب ايک بار بولنا شروع ہوجاؤں تو پھر بولتی چلی جاتی ہوں۔ صرف يہ سوچتی ہوں کہ يہ جو سب ميرے سامنے بيثھے ہيں انہيں کچھ نہيں آتا۔ ميں ان ميں سب سے زيادہ قابل ہوں۔ اور بس پھر گھبراہٹ اڑن چھو ہو جاتی ہے" وہ مسکرا کر اس سے اپنے تجربات شئير کررہی تھی۔
"اور سب سے بہترين طريقہ پتہ ہے کيا ہے۔ شيشے کے سامنے کھڑے ہو کر بولنا۔ جب آپ خود کو فيس کرليتے ہيں تو آپ پوری دنيا کو فيس کرنے کے قابل ہوجاتے ہيں۔ اصل مسئلہ ہی خود کو فيس کرنے کا ہوتا ہے۔ خود سے بڑھ کرآپ کسی سے خوفزدہ نہيں ہوسکتے۔" اسکی بات پر وہ اٹھ کر بيٹھا۔ نجوہ نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تھپتھپايا۔
فراج گہری سانس کھينچ کر اٹھا۔۔ اور پھر شيشے کے سامنے کھڑے ہو کر وہ بولا تو پھر بولتا چلا گيا۔ نجوہ نے مسکراتے ہوۓ اسے ديکھا۔ جو بڑے آرام سے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاچکا تھا۔
ايک دو بار اور پريکٹس کروا کر وہ اسکے کمرے سے نکلنے لگی جب اس نے بے اختيار نجوہ کا ہاتھ تھاما
اس نے مڑ کر سواليہ نگاہوں سے ديکھا۔ فراج نے اسکا ہاتھ دونوں ہاتھوں ميں تھام ليا۔
"تھينک يو سومچ" وہ تشکر آميز لہجے ميں بولا۔
"تھينک يو سے کام نہيں چلے گا۔ اچھی سی پريزينٹيشن دو۔ پھر اتنے گھنٹے تمہارے ساتھ مغز ماری کرنے کے چکر ميں مجھے ٹريٹ ملنی چاہئيے" دوسرے ہاتھ سے اسکے بال بگاڑ کر فہمائشی لہجہ اپنايا۔
"ڈن ہوگيا۔ کل گھر واپسی پر جو کہيں گی وہ کھلاؤں گا" وہ بھی خوشدلی سے بولا۔
"چلو اب ريسٹ کرو۔۔ اور کل پريزينٹيشن سے پہلے بس ايک بار پريکٹس کرلينا" اسکا ہاتھ تھتھپا کر اسکی ڈھيلی گرفت سے ہاتھ نکالا۔
"اوکے باس" فراج نے سليوٹ کے انداز ميں الرٹ ہو کر جواب ديا۔
"گڈ نائيٹ" کمرے سے باہر جاتے بولی۔
"گڈ نائيٹ" فراج نے مسکراتے ہوۓ اسکے نکلتے ہی کمرے کا دروازہ بند کيا۔ اب وہ کسی حد تک اپنی تياری سے مطمئن تھا۔
________________________
"احتشام اٹھ جائيں يار۔۔ ريڈی ہوجائيں" کانوں ميں ٹاپس پہنتی وہ عجلت بھرے انداز ميں صوفے کے پاس آئ۔
جہاں وہ کانوں ميں ہيںڈ فری ڈالے گانے سن رہا تھا اور ساتھ ساتھ گيم کھيل رہا تھا۔
"اچھا جناب اٹھ گئۓ" اسکی جانب ديکھے بنا ہينڈ فری نکالی اور موبائل سائيڈ پر رکھتے جيسے ہی نگاہ ڈريسنگ کے سامنے کھڑی نجوہ پر پڑی ساری تھکاوٹ دور ہوگئ۔
پيچ اور وائيٹ ديدہ زيب قيمض اور ٹراؤذر ميں دوپٹہ کندھے پر ايک سائيڈ پر ڈالے بالوں کو ادھ کھلا چھوڑے وہ اپنی تياری پر آخری نگاہ ڈال رہی تھی۔ ہلکا سا ميک اپ کئے وہ احتشام کا موڈ فريش کرگئ۔ محبت سے اسکے گرد ہاتھ لپيٹ کر اسکی پشت کو سينے سے لگايا۔
"شام اس وقت کوئ رومينس نہيں" اس کی نظروں کے پيام کو سمجھتے وہ پہلے ہی اس پر بندھ باندھ چکی تھی۔
وہ برا سا منہ بناتا اسکے سر پر پيار کرکے سيدھا ہوا۔
"سوری نا جانو۔۔ آپ کو پتہ ہے نہ ٹائم کم ہے ۔ سب لوگ آنے والے ہوں گے" اسکے خراب موڈ کو ديکھتے وہ لجاجت بھرے انداز ميں بولی۔
پھر اسے منانے کے چکر ميں اسکے پاس گئ جو وارڈروب سے اپنا ہينگ کيا وائيٹ شلوار سوٹ نکال رہا تھا۔
جيسے ہی نجوہ نے اسکے بازو پر ہاتھ رکھا احتشام نے جان بوجھ کر جھٹکے سے ہٹايا۔ نجوہ کا اسکی بے رخی پر منہ کھل گيا۔
"شام"۔۔ وہ صدمے کے مارے بس يہی کہہ سکی۔
"کيا شام۔۔ جاؤبس اپنے مہمانوں کی آؤ بھگت کرو" بچوں کی طرح منہ پھلاۓ وہ واش روم کی جانب بڑھ رہا تھا جب وہ راستے ميں حائل ہوئ
"اب آپ ايسے کريں گے ميرے ساتھ" آنکھوں ميں آنسو لئے وہ بے يقينی سے اسے ديکھ رہی تھی۔ وہ جانتا تھا وہ اسکی ذرا سی بے رخی برداشت نہيں کرپاتی۔ مگر بس اپنے دل کی کمينی سی خواہش کو پورا کرنے کے لئے وہ کبھی کبھی جان بوجھ کر ايسا کرتا تھا۔ عجيب سی سرشاری ہوتی تھی اسکی ديوانگی کو ديکھ کر۔
"اور آپ ايسی کريں گی ميرے ساتھ۔۔۔ جب سے آيا ہوں تمہيں ايک بار بھی تنگ نہيں کيا۔ ميں نے کون سا گھنٹوں تمہيں لئے اندر بيٹھے رہنا تھا۔۔ اب اتنی معصوم شکل بنا کر ميرا غصہ نہ ٹھنڈا کرو" وہ ہنوز ايٹيٹيوڈ دکھا رہا تھا۔
"ايسے نہ کريں۔۔ سوری" وہ سنجيدہ ہوچکی تھی۔ يکدم اسکے بازو سے سر ٹکاۓ وہ اسے منانے کی کوشش کررہی تھی۔
احتشام کو اس پر ترس آيا۔
"پہلے ہی اگر ايسے پاس آجاتی تو مجھے يہ جھوٹ موٹ کا ناراض نہ ہونا پڑتا" محبت سے وہی بازو اسکے گرد پھيلاۓ وہ بشاش لہجے ميں بولا۔
اسکی شرارتی آواز سن کر جھٹکے سے نجوہ نے سر اٹھايا۔ ايک ناراض نگاہ اس پر ڈالی۔ احتشام نے مسکراتے ہوۓ اسکی پيشانی پر محبت کی مہر ثبت کی۔
"بہت خراب ہيں آپ" اسکے بازو پر چٹکی کاٹ کے پيچھے ہوئ۔
"وہ تو ميں ہوں۔ ميری جان۔ چلو تم کچن ميں جاؤ۔ باقی کی ناراضگی بعد ميں دکھاؤں گا" مسکراتے ہوۓ واش روم کی جانب بڑھا اور وہ مطمئن سی کمرے سے باہر نکلی۔
________________
اسکی پريزينٹيشن نہايت شاندار ہوئ تھی۔ وعدے کے مطابق واپسی پر جب نجوہ اسے لينی آئ فراج اسے گاڑی کسی مشہور آئسکريم شاپ پر موڑنے کا کہہ چکا تھا۔
"آج سے آپ ميری استاد اور ميں آپکا شاگرد" وہ مسلسل نجوہ کی شان ميں تعريفوں کے پل باندھ رہا تھا۔
"اچھا بس۔۔ اب اتنا بھی مجھے آسمانوں پر مت بٹھاؤ" وہ مسکراہٹ بمشکل روکتے رعب سے بولی۔
"نہيں مطلب۔۔۔ سيريسلی يار مجھے پريزيٹيشن ديتے وقت آپکی نصيحتيں مسلسل ياد آتی رہيں" وہ خوشی سے جگمگاتا چہرہ لئے گاہے بگاہے اسے ديکھتا جا رہا تھا۔
ايک مشہور آئسکريم شاپ پر گاڑی رکتے ہی دونوں باہر آئ۔
شاپ کے اندر جاکر گلاس وال کے قريب دو بندوں کی ميز انہوں نے سنبھالی۔
مينيو کارڈ سے اپنی اپنی پسند کا آرڈر ديا۔
"يہ اسلام آباد کی سب سے بہترين آئسکريم شاپ ہے" نجوہ اسے ساتھ ساتھ جگہوں کے بارے ميں بھی وقتا فوقتا آگاہ کرتی رہتی تھی۔
"سيٹنگ تو بہت زبردست ہے" فراج نے ايک طائرانہ نظر چاروں جانب ڈالی۔ ايک نظر نجوہ کو ديکھا جو ٹھوڑی کے نيچے دونوں ہاتھوں کی مٹھی بناۓ۔ کہنياں ميز پر ٹکاۓ باہر ديکھ رہی تھی۔
يکدم انکی ٹيبل پر ناک ہوا۔ فراج اور نجوہ کی نظر بيک وقت نووارد پر پڑھی۔
"پليزينٹ سرپرائز" سامنے کھڑۓ خوبرو سے بندے کو ديکھ کر نجوہ کے چہرے پر جو چمک نظر آئ۔ فراج کو پل ميں بہت کچھ سمجھا گئ۔ اور آنے والا بھی آنکھوں ميں مخصوص چمک لئے نجوہ کے خوشی سے بھرپور چہرے کو ديکھ رہا تھا۔ جبکہ فراج آنکھوں ميں اجنبيت لئے ٹيبل کے قريب کھڑے شخص کو ديکھ رہا تھا۔
"فراج يہ احتشام ہيں ہمارے اکاؤنٹس مينجر، اور احتشام يہ فراج ہے ميرا کزن اور بيسٹی۔ ميں نے کل ہی آپ کو بتايا تھا۔"نجوہ نے فورا سنبھلتے ہوۓ تعارف کروايا۔ فراج کھڑا ہوکر احتشام سے مصافحہ کرنے لگا۔
"نائس ٹو ميٹ يو ينگ مين۔ آجکل نجوہ کی آدھی سے زيادہ باتوں کا محور آپ کی ہی ذات ہوتی ہے" احتشام نے مسکراتے ہوۓ گرمجوشی سے فراج سے ہاتھ ملايا۔
"پليز ہيو آ سيٹ سر" فراج نے فورا کرٹسی نبھائ۔
"شيور" وہ بھی ساتھ والی ٹيبل سے ايک کرسی گھسيٹ کر انکے ساتھ بيٹھ گيا۔
"آپ مجھے فالو کررہے تھے" فراج نے ويٹر کو ہاتھ سے اشارہ کرکے ايک اور آئسکريم لانے کا کہا۔
"شايد" مسکراہٹ دبا کر اس نے لمحہ بھر کے لئے نجوہ کی آنکھوں ميں جھانکا۔ فراج نے اب کی بار غور سے احتشام کو ديکھا۔ چھ فٹ سے نکالتا قد، سليقے سے جيل سے سيٹ کئے ہوۓ گھنے بال۔ وائٹ بليو لائننگ والی شرٹ اور بليک پینٹ پہنے کھڑے نقوش اور چہرے پر موجود ہلکی سی داڑھی اسے جاذب نظر بناتی تھی۔
اسکی بار بار نجوہ کی جانب اٹھنے والی نظريں فراج کو بہت کچھ باور کروا رہی تھيں۔
"آپکی پريزينٹيشن کيسی ہوئ؟" احتشام نے اچانک اسکی جانب مڑ کرپوچھا۔
فراج بھی يکدم سيدھا ہوا۔ حيران کچھ کہتی نظريں نجوہ پر ڈاليں۔
"الحمداللہ! لگتا ہے آپ نجوہ کے صرف کوليگ نہيں ہيں؟" فراج کو اميد نہيں تھی کہ نجوہ اس شخص کے اس حد تک قريب ہوگی کہ ہر بات اس سے شئير کرتی تھی۔
اسکی نظروں سے نجوہ کے چہرے پر کھلنے والے رنگ پوشيدہ نہيں رہے تھے۔ وہ حيران ہوا۔ يعنی وہ شخص اسکے لئے کچھ اور ہی اہميت رکھتا تھا۔
"ارے نہيں يار بس ايسے ہی نجوہ نے تذکرہ کيا تھا" احتشام نے اپنی بے ساختہ مسکراہٹ روکتے چہرے پر سنجيدگی طاری کرتے بات بدلی۔
ہلکی پھلکی باتوں کے دوران انہوں نے آئسکريم کھائ۔
نجوہ اور وہ نجوہ کی گاڑی ميں گھر کی جانب چل دئيے جبکہ احتشام اپنی گاڑی ميں آفس کی جانب روانہ ہوگيا۔
نجوہ نے فراج کو ڈراپ کرکے واپس بينک جانا تھا۔
"بہت افسوس ہوا مجھے" گاڑی ميں فراج کی آواز سنائ دی۔ نجوہ نے اچنبھے سے اسے ديکھا۔
"کس بات کا؟" سواليہ نظروں سے اسے ديکھا۔
"بيسٹی کہہ کر تعارف ميرا کروايا۔ مگر باتيں ان سے شئير کرتی ہيں"فراج کے لہجے ميں گھلا شکوہ اسے مسکرانے پر مجبور کر گيا۔
"ارے تم سے کون سی بات شئيرنہيں کی" حيرت سے پوچھا۔
"وہ صرف کوليگ نہيں ہيں نا" وہ اپنی بات پر زور دے کر بولا۔
"پليز اب چھوٹا سمجھ کر بہلائيے گا مت۔۔ آپ سے چھوٹا ہوں مگر ويسے بڑا ہو چکا ہوں۔ نظروں اور چہروں کو پڑھنا تھوڑا تھوڑا سيکھ ليا ہے" نجوہ نے ايک نظر اسے ديکھا جوسامنے ديکھ رہا تھا۔ چہرے پر ہلکی سی شيو آئ ہوئ تھی۔ ليمن کلر کی ٹی شرٹ اور بلو جينز ميں اس کا گورا رنگ کچھ اور بھی چمک رہا تھا۔ آج کل تو اس نے جم بھی جانا شروع کرديا تھا جس کی وجہ سے جسامت اب بھری بھری لگتی تھی۔ وہ کہيں سے بچہ نہيں لگ رہا تھا۔
نجوہ کو ماننا پڑا۔
"اچھا جی ميں بھی سنوں کہ جناب نے کيا کيا پڑھ ليا ہے" وہ اسے چڑانے والے لہجے ميں بولی۔
"اچھے ہيں۔۔ ہينڈسم اور گڈلکنگ۔۔ آپ کے ساتھ سوٹ کررہے تھے" اسکے اس بے ساختہ تبصرے پر حيرت سے نجوہ کا منہ کھل گيا۔
"بدتميز" وہ حيا سے بس اتنا ہی کہہ سکی۔ اس نے اب تک احتشام کے سامنے اس بات کا اعتراف تک نہيں کيا تھا اور نہ ہی کبھی احتشام نے۔ مگر اسکی بولتی نظريں اسے بہت کچھ کہہ جاتی تھيں۔ ہاں وہ يہ مانتی تھی کہ وہ اسے باقی کوليگز سے زيادہ ٹريٹ کرتی ہے مگر اتنا بڑا اعتراف فی الفور اس نے کسی کے سامنے نہيں کيا تھا جو فراج اتنی آسانی سے کہہ گيا۔
اسکے چہرے پر بکھری لالی ديکھ کر وہ شرارت سے مسکرايا۔
"مان ليں جناب" اسکی بات پر وہ بمشکل ہنسی چھپا سکی۔
"ہم نے کبھی آپس ميں ايسی کوئ بات نہيں کی" وہ اب صاف گوئ سے اسے بتا رہی تھی۔
"تو کرليں نہ اب۔ ربيعہ آپا کی اگلے مہينے شادی ہے تو ميرے خيال سے آپ کو بھی ساتھ نبٹا دينا چاہئيے" اسکی بات پر حيرت کی زيادتی سے اس کا منہ کھلا۔
"پاگل ہو گئے ہو تم۔۔ اتنی جلدی نہيں ہے مجھے۔۔ اور ابھی تو کسی کو بتايا بھی نہيں۔۔پتہ نہيں سب اس بات کو قبول کريں يا نہيں" اسکے چہرے پر لمحہ بھر کو تفکر جھلکا۔
"ڈونٹ وری يار مين آپکے ساتھ ہوں۔ بس ايک دو بار اور احتشام بھائ سے مل لوں۔۔ اور ميرے خيال سے آپ بھی کسی سے ڈسکس کر ليں۔ اتنا اچھا انسان بار بار نہيں ملتا۔ جس طرح انکے چہرے سے آپ کو ديکھ کر خوشی اور ايک الگ ہی طرح کی روشنی جھلک رہی تھی۔ يقين کريں مجھے تو اسی لمحے سمجھ آگئ تھی۔ کہ کچھ گڑبڑ ہے" وہ بھی مزے سے اسے بتانے لگا۔
"تمہيں بڑا پتہ ہے" وہ منہ بنا کر بولی۔
"لڑکوں کی اس معاملے ميں حس بہت تيز ہوتی ہے۔ آج کل کا جو دور ہے۔ سکول کے زمانے سے سچی اور جھوٹی عشق و عاشقی کی داستانيں ديکھتے آرہے ہيں۔ منٹوں ميں پتہ چل جاتا ہے کون سا لڑکا کس لڑکی کو کس انداز سے ديکھ رہا ہے" اسکی بات پر نجوہ کی آنکھيں حيرت کی زيادتی سے پھٹيں۔
"تمہيں تو ميں بڑا بھولا بچہ سمجھتی تھی۔ تم تو پورے ہو" اسکی بات پر فراج نے ہنس کر سر جھٹکا۔
"بھولا تو ہوں۔ تبھی تو ان چکروں ميں نہيں پڑا۔ خیر مجھے چھوڑيں ۔ آپ کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ بس بندے کو گرين سگنل ديں۔" وہ ہتھيلی پر سرسوں جما رہا تھا۔
"اچھا ميری اماں جان" گھر کے قريب آتے ہی اس نے بات ختم کی۔ فراج کے اترتے ہی وہ گاڑی ريورس کرکے آگے بڑھا لے گئ۔
____________________________
کھانا نہايت خوشگوار ماحول ميں کھايا گيا۔ احتشام کے چچا کا گھر ان کے قريب ہی تھا۔ ان کی بيٹی "اسوہ" اکثر اسکی مدد کروانے آجاتی تھی۔ بہت ہی اچھی اور ملنسار تھی۔ نجوہ کی تو بہت اچھی دوستی تھی۔
قريب ہی اسکول ميں جاب بھی کرتی تھی۔
اس وقت بھی وہ اسکے گھر موجود تھی اور بہت اچھی ميزبانی کررہی تھی۔
کھانے کے بعد احتشام اور فراج کچھ الگ تھلگ سے بيٹھے باتيں کررہے تھے۔ جبکہ زہرہ، شہباز (فراج کے والد) اور فضيلہ کو اسوہ اور احتشام کے چچا چچی کمپنی دے رہے تھے۔
"فراج بات سنو" نجوہ نے ہولے سے قريب آ کر اسے کچن ميں آنے کا کہا۔
وہ احتشام سے ايکسکيوز کرتا اسکے پيچھے کچن ميں گيا۔
"کيسی لگی لڑکی؟" جيسے ہی فراج اندر داخل ہوا۔ نجوہ کاؤنٹر کے قريب ہی کھڑی ايک ہاتھ کمر پر ٹکاۓ کچن کے دروازے کے بالکل سامنے رکھے صوفے پر بيٹھی اسوہ کو ديکھ کر جوش سے اپنے سامنے آکر رکتے فراج کے سينے پر بندھے بازو پر ہاتھ رکھ کر بولی۔
فراج لمحہ بھر کو ساکت ہوا۔ پھر آنکھوں ميں شرارتی مسکراہٹ سجاۓ ايک نظر اوپر سے نيچے اسے ديکھ کر مسکرايا۔
"بہت پياری۔۔ ہميشہ کی طرح" اسکے خود کو يوں شرارتی انداز ميں ديکھنے پر نجوہ ماتھے پر بل لا کر اب کے اسکے بازو پر رکھے اپنے ہاتھ کو زور سے اسکے بازو پر مارا۔
"ہاں تو۔۔ ابھی تو يہی ايک لڑکی کھڑی ہے۔۔ تو اسی کے بارے ميں بتاؤں گا نا" مسکراہٹ دباۓ بولا۔ مگر اسکی آنکھوں ميں ناچتی شرارت نجوہ کو تپا گئ۔
"کبھی ڈھنگ سے جواب نہ دينا" اس سے پہلے کے وہ کچھ اور کہتی احتشام کچن کے دروازے پر نمودار ہوا۔
"احتشام بھائ ۔۔ آپ انصاف کريں۔۔۔ انہوں نے پوچھا لڑکی کيسی لگی۔ يہ نہيں بتايا کہ کون سی لڑکی۔۔ اور ميں بے چارا يہ سوچ کر کہ اب ميزبان کے منہ پہ کيا سچائ بولوں، نہ صرف ان کی جھوٹی تعريف کرگيا، بلکہ اللہ جھوٹ نہ بلواۓ ۔۔ ان کو لڑکی بھی کہہ ديا" احتشام کو اپنے دکھ ميں شامل کرتے وہ دہائياں دينے لگا۔
"اب اگر ان کو لڑکی نہ کہتا تو انہوں نے تو جھٹ ميرا کان مروڑ دينا تھا" احتشام اسکی آہ ہ بکا پر مسکراۓ جا رہا تھا۔ جناتا تھا وہ کتنا بڑا ڈرامے باز ہے۔
"ميری بيوی ابھی بھی لڑکی ہی ہے۔۔ تم اپنی نظر ٹيسٹ کرواؤ" احتشام کے اسکی سائيڈ لينے پر نجوہ کے ماتھے پر پڑے بل سيدھے ہوۓ۔ گردن اکڑا کر فراج کو ديکھا۔
"بھئ يہ باتيں آپ ہی کرسکتے ہيں۔۔ کيونکہ آپکی بھی محبوری ہے۔ اب اگر سچ بوليں گے تو رات گھر سے باہر ہی گزارنی پڑے گی" فراج نے بھی اس پر چوٹ کی۔ احتشام کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔
"ديکھيں ذرا باتوں ميں لگا کر اصل بات سے ہی ہٹا ديا ہے۔۔ ارے ڈفر ميں اسوہ کی بات کررہی ہوں۔ احتشام کی کزن۔۔
بس مين نے اسے تمہارے لئے پسند کرليا ہے" اپنے ہاتھ اٹھا کر اس نے جيسے بات ہی ختم کردی۔
"يہ اچھا طريقہ ہے کھانے پہ بلا کر اپنی مرضی ٹھونسنے کا" فراج برا سا منہ بنا کر بولا۔
"ارے نہيں يار۔۔ ظاہر ہے زندگی تمہيں گزارنی ہے لہذا آخری فيصلہ بھی تمہارا ہوگا۔ ہم تو صرف مشورہ دے رہے ہيں۔" احتشام نے فورا بات سنبھالی۔ ورنہ نجوہ سے بعيد نہيں تھی اسی وقت مولوی بلوا کر اس کا نکاح بھی کروا ديتی۔
"اس پر چھوڑا نا۔۔ تو اس نے اگلے چھ سال بھی اس ٹاپک پر نہيں آنا" نجوہ نے اسے لتاڑا۔
"سوچنے ديں يار۔۔ چليں ديکھ ليتے ہيں آپکی اسوہ کو بھی" اب احتشام کے سامنے وہ اسکی کزن کے بارے ميں کوئ حتمی بات تو کہہ نہيں سکتا تھا۔ لہذا ان سے سوچنے کا وقت مانگا۔
"کوئ جلدی نہيں ہے تم آرام سے سوچو" احتشام نے اسے کشمکش ميں ديکھ کر سہولت سے مشورہ ديا۔
"کيوں جلدی نہيں ہے۔ بس ايک دو دن ميں دے رہی ہوں۔ جلدی سوچو" وہ اپنے ہی راگ الاپ رہی تھی۔
"نجوہ۔۔" احتشام نے اب کی بار اسے تنبيہہ کی۔
"اچھا نا۔۔ مگر اب باہر جا کر صحيح سے ديکھنا اسے۔ ايم اے انگلش ہے۔ جاب بھی کرتی ہے۔ کانفيڈينٹ اور سگھڑ بھی ہے۔" اس نے جلدی جلدی اسکی ساری خوبياں بيان کيں۔ اور احتشام کی گھوریوں کو ديکھ کر جلدی سے کچن سے نکل گئ۔
"سوری يار۔ پليز نجوہ کی جلد بازی کا برا نہيں منانا۔۔ تم جانتے ہو نا وہ تم سے کتنی اٹيچڈ ہے۔ اور چاہتی ہے کہ تمہاری زندگی کا يہ اہم فيصلہ وہ کرے۔۔۔ ميں جانتا ہوں ايسے حق جتانا غلط ہے۔ تمہاری زندگی ہے تم سوچ سمجھ کر فيصلہ لو" نجوہ کے کچن سے نکلتے ہی احتشام اسکے سامنے آيا۔ اسکے کندھے پر دھيرے سے ہاتھ رکھتے اسے سمجھايا۔
"آپ يہ سب کہہ کر مجھے يہ احساس دلا رہے ہيں کہ ميں آپ سب اور خاص طور پر نجوہ کے لئے کوئ غير ہوں" افسوس سے بھری نظريں اس پر ڈالتے شکوہ کيا۔
"ارے نہيں يار" احتشام نے فورا نفی کی۔
"نجوہ کا مجھ پر ہر طرح کا حق ہے۔ وہ جس سے کہيں گی۔ جب کہيں گی۔ ميں شادی کرنے کو تيار ہوں۔" ايک ايک لفظ پر زور ديتے وہ احتشام کو بہت کچھ باور کروا گيا۔
"تھينکس۔۔ يہ سن کر وہ خوشی سے نہال ہوجاۓ گی" احتشام نے مسکراتے ہوۓ اسکے کندھے کو تھپتھپايا۔
"وہ اور آپ بہت اہم ہيں ميرے لئے۔۔ ميرا نہيں خيال مجھے يہ بتانے کی ضرورت ہے" اسکے مان بھرے انداز پر احتشام نے بے اختيار اسے گلے لگايا۔ نہ فراج کا کوئ بھائ تھا نہ ہی احتشام کا۔ اسی لئے وہ ہميشہ فراج کو چھوٹے بھائ کی طرح ٹريٹ کرتا تھا۔ اور يہی حال فراج کا تھا۔
___________________
جيسے ہی فراج کے اصرار پر نجوہ نے گھر ميں احتشام کا ذکر کيا۔ سب اسکے پيچھے لگ گئے۔
"اماں ميں نے کون سا اسے ہاں کہہ دی ہے۔ ميں آپ کو ايسی لگتی ہوں" وہ افسوس سے ماں کو ديکھ رہی تھی جو احتشام کا سن کر کب سے سر پکڑے بيٹھی تھيں۔
"تمہاری پھوپھو نے پہلے سے ہی تمہارے لئے تمہارے ابا سے بات کی ہوئ ہے۔ اب انہين مين کيا جواب دوں" وہ سر سے ہاتھ ہٹا کر اسے گھور کر بوليں۔
نجوہ نے افسوس بھری نظروں سے فراج کو ديکھا۔ اس وقت وہ تينوں لاؤنج ميں صوفوں پر آمنے سامنے بيٹھے ہوۓ تھے۔
"ميں نے آپ کو پہلے ہی کہا تھا کہ جب بھی ميری باری آئ ۔۔ ميں کنواری رہ جاؤں گی مگر خاندان ميں نہيں کروں گی" وہ کڑے تيوروں سے ماں کو ديکھ رہی تھی۔
"ہاں بس کچھ فيصلے تم کرلو۔۔ کچھ تمہارے ابا کر ليں۔ اور ميرے لئے تو قبر کھدوا دو" وہ بھی پنجے جھاڑ کے اسکے پيچھے پڑ گئيں۔
"خالہ ملنے ميں تو کوئ حرج نہيں۔۔ اور نجوہ کون سا کہہ رہی ہيں کہ آپ پہلی بار ميں ہاں کرديں۔ مگر ميرا خيال ہے لڑکا اور لڑکے کی مرضی کے بغير يہ سب کرنا ٹھيک نہيں۔" فراج کی بات سنتے ہی شمع نے تيکھے چتونوں سے اسے ديکھا۔
"تو بھی مل چکا ہے؟" تيور خطرناک ہوتے جارہے تھے۔
"خالہ ملا نہيں۔ بے اتفاقيہ ملاقات ہوئ تھی۔" اور پھر فراج نے صاف گوئ سے اس دن کا واقعہ کہہ سنايا۔
"خالہ يہ کہاں اور کس کتاب مين لکھا ہے کہ ايک جگہ رشتے کی بات کردی۔۔ اولاد راضی نہيں ہوئ۔ تو پھر بھی اسے وہيں نتھی کرنا ہے۔ آپ خود پڑھی لکھی ہيں۔ مجھے کم از کم آپ سے ايسی فرسودہ بات کی اميد نہيں" فراج نے جس بے تکلفی سے شمع کو اس اہم مسئلہ کی جانب نشاندہی کی شمع تو شمع۔۔ نجوہ بھی حيرت زدہ اسے ديکھ کر رہ گئ۔ وہ فراج جو اپنے کام سے کام رکھنے والا تھا۔
نجوہ يوں اسے اپنی وکالت کرتے ديکھ کر شديد حيرت زدہ تھی۔ اس کی حمايت پر بے اختيار اس پر پيار بھی آيا۔
"ميں خالو سے بھی بات کرنے کو تيار ہوں۔ ميرا نہيں خيال کہ اتنی سی بات پر يوں کسی کی زندگی کو تباہ کرديا جاۓ" شمع نے کسی قدر فخر سے اسے ديکھا۔ انہين اس لمحے وہ اٹھارہ سالہ فراج نہيں کوئ بہت بردبار مرد محسوس ہوا۔ انکی بہن نے واقعی اسکی تربيت بے حد اچھی کی تھی۔
"ميں بات کرتی ہوں تمہارے خالو سے۔ بس دعا کرو وہ اڑنہ جائيں" شمع انکی بات مان تو رہيں تھيں۔ مگر اپنے شوہر کی بہن سے محبت کے بارے ميں بھی واقف بھی تھيں۔
اور وہی ہوا۔ رات ميں جس وقت انہوں نے بات کی شوکت صاحب نے تو ہنگامہ کھڑا کرديا۔
"تو يہ سب تمہيں اس وقت سوچنا چاہئيے تھا جب تمہاری رضا مندی سے ميں نے انہيں ہاں کی تھی۔" وہ انگارے چباتے بولے۔
"ہاں مگر ابھی بات ہم دو خاندانوں کے درميان ہے۔۔ کون سا ہم نے سب کو بتا دی ہے" شمع منمنائيں۔
"بھيجو نجوہ کو ميرے پاس" قہر برساتی نظروں سے انہيں ديکھتے وہ يکدم کوئ حتمی فيصلہ کرتے بولے۔
شمع الٹے قدموں باہر کی جانب بھاگيں۔
"تمہارا بلاوا آيا ہے" وہ جو لاؤنج ميں بيٹھی پريشانی سے ناخن چبانے ميں مصروف تھی۔ ماں کی ہوائياں اڑتی شکل ديکھ کر تھوگ نگل کر رہ گئ۔ باپ سے وہ تينوں جتنی فرينک تھيں۔ اتنی ہی ان کے غصے سے ان کی جان جاتی تھی۔ ربيعہ اور فراج بھی وہاں موجود تھے۔
ان دونوں نے اس کا حوصلہ بڑھايا۔
وہ ڈرتے ڈرتے اندر کی جانب بڑھی۔
"ابا آجاؤں" دروازہ ناک کرکے ان سے اجازت ملتے ہی کمرے کے اندر آئ۔ جہاں کمرے کے وسط ميں دونوں ہاتھ کمر کے پيچھے باندھے وہ اسے لال انگارہ آنکھوں سے ديکھ رہے تھے۔
"تمہاری ماں نے تمہيں بتا ديا ہوگا کہ تمہاری پھوپھو کے بيٹے رحمان سے ميں نے تمہاری بات کچھ عرصہ پہلے طے کر دی تھی" انہوں نے گلا کھنکھارتے بات شروع کی۔
"مجھے اب معلوم ہوا ہے۔ پہلے معلوم ہوتا تو اپنی پسند کو وہيں دفنا ديتی" آنکھيں نيچے کئے وہ نرم لہجے مين بولی۔
اسکی بات پر شوکت نے ابرو اچکا کر اسے ديکھا۔
"اب پتہ چل گيا نا۔۔ تو جو خناس تمہارے دماغ ميں ہے اسے نکال باہر کرو۔۔ ميں اپنی بہن کے سامنے شرمندہ نہيں ہونا چاہتا" انکی آواز اتنی بلند ضرور تھی کہ باہر بيٹھے لوگوں تک بآسانی پہنچتی۔ نجوہ نے انکی بات پر لمحہ بھر کے لئے دکھ بھری نگاہ اپنے باپ پر ڈالی جن کے لئے اولاد سے زيادہ بہن اہم تھی۔
اس سے پہلے کے وہ کچھ کہتی۔ يکدم دروازہ ناک ہوا۔ شوکت نے غصے سے دروازے کو گھورا۔
"آجاؤ" آنے والے کو اجازت ملی۔ نجوہ نے بھی گردن موڑ کر دروازے مين ايستادہ فراج کو حيرت سے ديکھا۔ وہ کيا کرنے آيا تھا۔
"مداخلت کے لئے معذرت" نجوہ کے برابر کھڑے ہوتے اس نے ادب سے ہاتھ باندھے اور آنکھيں جھکا کر کھڑا ہوگيا۔
"آپ کی بات بجا ہے خالو۔ مگر کيا اسلام ميں بيٹی کے رشتے کے لئے بيٹی کی مرضی سے پہلے رشتہ داروں کی مرضی کو اہميت دی جاتی ہے؟" اسکی بات پر وہ برہم ہوۓ۔
"اب تم مجھے اسلام سکھاؤ گے" نجوہ کا دل کيا سر پيٹ لے۔ اسکی خاطر وہ ڈانٹ کھانے آگيا تھا۔
"اللہ مجھے معاف کرے۔ ميری مجال۔۔ ميں تو صرف ايک سادہ سا سوال لے کر آيا ہوں۔ تاکہ کل کو جب مين اپنی بيٹی کی شادی کروں تو مجھے يہ معلوم ہو کہ مجھے کس کی پسند کو پہلے فوقيت دينی ہے" اسکے معصوم بن کر اتنی گہری بات کرنے پر وہ لمحہ بھر کو چپ ہوۓ۔ جبکہ نجوہ نے اپنی مسکراہٹ ہونٹوں ميں دبالی۔
"احتشام مسلمان ہے۔ اور ہمارے ہی مسلک سے تعلق رکھتا ہے۔ ايک بار مل کر جانچ لينے ميں حرج نہيں۔ جب ہم اپنی زندگی کے ہر لمحے ميں دو تين آپشنز کو ہميشہ مدنظر رکھتے ہيں۔ پلين اے اور پلين بی بناتے ہيں۔ اسی لئے ايک پلين يا آپشن نہ چل سکے تو دوسرے سے استفادہ ليں۔ تو پھر اس معاملے ميں ہم کيوں اتنے اصولوں کے سخت ہوجاتے ہيں۔ نجوہ نے يہ تو کہا ہی نہيں کہ صرف انکی پسند کو ہی مد نظر رکھا جاۓ۔ وہ تو ايک آپشن آپ کو بتا رہی ہيں۔
آپ تو اتنے جانبدار ہيں کہ مجھے لگا کہ آپ فورا اس آپشن کو ديکھنے پر اصرار کريں گے۔" فراج جس طريقے سے نجوہ کی وکالت کررہا تھا وہ سب ديکھنے اور سننے لائق تھا۔
"کيا آپ بھی اپنے آپشن پر ويسے ہی سخت اصول رکھتی ہيں جيسے خالو" اب کی بار اس نے نجوہ سے سوال کيا۔ اس اچانک حملے کے لئے وہ تيار نہيں تھی۔ ہق دق اسے ديکھا۔ پھر نفی مين سر ہلايا۔
"ميں نے تو ابھی پوری بات کی ہی نہيں کہ ابا نے حرف آخر کی طرح فيصلہ سنا ديا" اب کی بار نجوہ نے بھی بہترين الفاظ کا چناؤ کيا۔
"ميں تو صرف يہ کہنا چاہتی تھی کہ آپ ايک بار احتشام سے مل ليں۔ ميرا کوئ جذباتی تعلق وابستہ نہيں۔ ہاں مگر زندگی گزارنے کے لئے بہتر انسان لگا۔ يا يہ کہنا بہتر ہے کہ ميں نے ہميشہ آپ جيسی صفات کا حامل لڑکا چاہا۔ اور ويسی ہی صفات والا لڑکا ملا تو سوچا يہی بہتر ہے" نجوہ کی خواہش پر اب شوکت کے پاس ماننے کے سوا کوئ چارہ نہيں تھا۔
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد انہوں نے ہنکارا بھرا۔
"ٹھيک ہے۔ اس لڑکے کو کہو اس اتوار کو مجھ سے ملے۔ اور يہ بات تم نہيں فراج اس سے کہے گا۔ تم کل پھر اس لڑکے سے تفصيلی ملاقات کرو۔ اور مجھے اسکی عادات کے بارے ميں تفصيل سے بتاؤ۔ اور اگر ميرے ملنے اور تمہارے ملنے پر اسکی عادات ميں جھول محسوس ہوا۔ ميں وہيں انکار کردوں گا۔ فی الحال ميں رحمان کو بھی نظر ميں رکھنا چاہتا ہوں" انکی بات پر فراج اور نجوہ نے ايک پرسکون سانس ہوا کے سپرد کی۔
"اب جاؤ۔۔ ميرا منہ کيا ديکھ رہے ہو" انہيں وہيں جمع ديکھ کر وہ خشونت بھرے انداز سے بولے۔
دونوں نے باہر کی جانب دوڑ لگائ۔
کمرے سے باہر آتے ہی نجوہ يکدم فراج کے گلے لگی۔
"تھينک يو بڈی" فرط جذبات سے اسے سمجھ نہيں آرہا تھا کہ اسکے ساتھ دينے پر اس کا شکريہ کيسے ادا کرے۔
فراج چند لمحوں کے لئے اسکی حرکت پر گنگ رہ گيا۔ اس کے ہاتھ پہلو ميں ہی رہے۔
نجوہ اس سے الگ ہو کر اب ماں اور بہن کی جانب بھاگی۔ جبکہ وہ چںد ثانيے اپنی جگہ سے ہلنے کے قابل نہيں رہا۔
___________________________
اگلے دن رات ميں فراج نے نجوہ کو فون کرکے اسوہ کے لئے گرين سگنل دے ديا۔
نجوہ کی تو خوشی کی انتہا نہ رہی۔
"آج کوئ خاص بات ہے" احتشام جس وقت گھر آيا تب سے رات تک وہ نجوہ کا خوشی سے دمکتا چہرہ مسلسل نظروں کے فوکس مين رکھے ہوۓ تھا۔
"آپکے لئے سرپرائز" اسکے برابر بيڈ پر بيٹھتے وہ تجسس آميز انداز ميں بولی۔
"ہممم۔۔۔۔۔ ميں پھر سے بابا بننے والا ہوں" کچھ پل سوچنے کے بعد احتشام کی بات پر نجوہ سر پيٹ کر رہ گئ۔
"بس شادی شدہ ہونے کا يہی نقصان ہے آدمی کو ہر وقت يہی فکر رہتی ہے کہ بيوی گیارہ بچوں کی ٹيم بنا لے" نجوہ اسکی بات پر بدمزہ ہوئ۔
"گيارہ نہيں۔۔ ميں تو بارہ کی ٹيم بناؤں گا" احتشام شرارتی لہجے ميں بولا۔
"افف۔ آپ تو گس نہ ہی کريں۔ ميں خود بتا ديتی ہوں۔ فراج اسوہ سے شادی کے لئے مان گيا ہے" وہ چہکتے لہجے ميں بولی۔
"واؤ ديٹس گريث" فراج جو بيڈ پر نيم دراز تھا نجوہ کی بات سنتے ہی فورا سے پہلے اٹھ کر بيٹھا۔
"اس نے کہا ہے دوہفتوں تک نکاح کرديں۔ منگنی ونگنی کے وہ حق ميں نہيں۔ اور پھر چھ ماہ بعد شادی" وہ پرجوش لہجے ميں بولی۔
"يہ تو بہت اچھا ہے" احتشام بھی اسکے فيصلے سے خوش ہوا۔
"اور ہاں اس نے کہا ہے احتشام بھائ سے کہيں کہ چچا کو سختی سے جہيز سے منع کرديں" نجوہ نے اہم بات بتائ۔
"يار اب ايسے تو نہيں ہوسکتا۔ ظاہر ہے انکی کی اکلوتی بيٹی ہے وہ تو ضرور اسے شان سے بياہيں گے" احتشام کچھ پريشان ہوا۔
"ليکن احتشام يہ تو اچھا ہے نا۔۔ اگر ہم ايسی فرسودہ رسموں کو ختم کرديں۔ ميں خود چچا سے بات کرلوں گی" نجوہ تو فراج کے اس فيصلے سے بے حد خوش تھی۔
"اللہ کا ديا سب کچھ ہے زہرہ خالہ کے پاس اور پھر فراج بھی سيٹلڈ ہے۔۔۔ آفس شروع کرچکا ہے۔ کہيں سے کوئ کمی نہيں ہوگی اسوہ کو" وہ ان وقتوں کا حق ادا کررہی تھی جب فراج نے اسکی شادی کے لئے سب کو مناتے وقت ايڑی چوٹی کا زور لگا ديا تھا۔
"بات تمہاری غلط نہيں۔ ليکن اگر وہ کوئ سامان نہيں دے سکے تو مجھے پکا يقين ہے کہ چچا پيسے تو لازمی اسوہ کو ديں گے۔" احتشام بھی اپنے چچا کو اچھے سے جانتا تھا۔
"اب انہين منانا ہمارا کام ہے۔ بس کل شام ميں چليں گے۔ کيونکہ پرسوں خالہ باقاعدہ رشتہ لے کر آنا چاہ رہی ہيں" نجوہ نے اسے مزيد بتايا۔
"چلو ٹھيک ہے کل چليں گے" احتشام نے ہامی بھری۔
"بس اب اللہ کرے سب اچھے سے ہوجاۓ" لائٹ بند کرکے احتشام کے قريب ليٹ کر اسکے سينے پر سر رکھتے وہ اپنے سے زيادہ فراج کے مستقبل کے خواب بن رہی تھی۔
"ان شاءاللہ سب اچھا ہوگا۔ اب تم اپنے ڈريسز کی فکر کرو" احتشام نے ايک اور بات کی جانب اسکی توجہ دلائ۔
"اوہ ہاں۔۔ ديکھيں۔ فراج ميرا دوست نہيں ميری سہيلی ہے۔ اور اپنی سہيلی کی شادی پر ميں سب سے اچھا لگنا چاہتی ہوں" احتشام کی توقع کے عين مطابق اب وہ نئ فکر پر پوری رات سير حاصل گفتگو کرسکتی تھی۔
"ميری جان تو اب بھی سب سے اچھی لگتی ہے" اسکے بالوں ميں ہولے سے انگلياں پھيرتے ماتھے پر بوسہ ديتے اسے خود ميں بھينچا۔
"نہيں جناب يہ خالی خولی تعريفوں سے بات نہيں بنے گی۔ جيب ڈھيلی کرنی پڑے گی" وہ يکدم فاصلہ قائم کرتی دھونس بھرے لہجے ميں بولی۔
"ايکسکيوزمی مسز۔۔۔ ميری سب جيبيں تم پہلے ہی کتر چکی ہو" اسکی بات پر وہ غصے اور افسوس کے ملے جلے تاثرات لئے يکدم اسکے سينے پر ہاتھ مار گئ۔
"مجھے جيب کترا کہہ رہے ہيں" غصے سے لال پيلی ہوئ۔
"ميں نے يہ کب کہا۔ اب تم خود اپنے بارے ميں زيادہ جانتی ہو" مسکراہٹ دباۓ اسکے ہاتھ کو اپنے ہاتھ کی گرفت ميں لے کر دبايا۔
"نہيں آپ نے مجھے چور کہا ہے" وہ بات کہاں سے کہاں لے گئ۔ احتشام کا مذاق ہميشہ کی طرح اسے مشکل ميں ڈال چکا تھا۔
اب ساری رات اسے مناتے گزرنی تھی
-----------------------------
احتشام سے ملنے اور اسے جانچنے کے بعد شوکت صاحب کو نجوہ کے لئے بہتر وہی لگا۔ کچھ فراج نے بھی انکی وقتا فوقتا برين واشنگ کی کہ انہيں مانتے ہی بنی۔
احتشام کی تين بہنيں اور وہ ايک ہی بيٹا تھا۔ بہنيں سب شادی شدہ تھيں۔ ماں باپ ميں سے بھی ماں تو تھی نہيں صرف سرمد صاحب تھے۔ چھوٹی سی يہ فيملی شوکت اور شمع کو پسند آئ۔
شوکت صاحب نے بہن سے معذرت کی جبکہ وہ يہ فيصلہ سنتے ہی بھائ سے قطع تعلق ہوگئيں۔ شمع اور شوکت نے بہت کوشش کی کہ وہ ملنا نہ چھوڑيں مگر وہ کسی صورت نہيں مانيں۔ شوکت صاحب کے باقی بہن بھائيوں نے انہيں يہ کہہ کر سمجھايا کہ وقتی غصہ ہے ٹھيک ہوجائيں گی۔ مگر وہ بہن کے چکر ميں اپنی بيٹی کا نقصان نہ کريں۔
يوں ربيعہ کی مہندی پر احتشام اور نجوہ کا نکاح رکھا گيا۔
دن پر لگا کر اڑے ۔۔۔ فراج گھن چکر بن گيا۔ دو دوکزنز کی شاديوں کا کام تھا اور وہ اکيلا گھر ميں سب ذمہ داريوں کو اجسن طريقے سے نبھا رہا تھا۔
شادی سے دو دن پہلے زہرہ اور فضيلہ بھی آچکے تھے۔ باقی کے بھی رشتہ دار بھی آہستہ آہستہ جمع ہونے لگ گۓ تھے۔
"زہرہ تم نے تو ہيرا پيدا کيا ہے" شمع اور زہرہ اس وقت باقی مہمانوں کے ساتھ بيثھی ربيعہ کی جہيز کی چيزيں رکھ رہی تھيں۔
"بس آپ اللہ کا شکر ہے اس نے ميرے بچے کو اچھے راستے پر ہی لگاۓ رکھا" زہرہ کے لہجے ميں بيٹے کے لئے محبت ہی محبت تھی۔
"بے شک۔ اللہ کی مرضی کے سوا پتہ بھی نہيں ہل سکتا۔ مگر ميں تو کہوں گی کے ايسے بچے آجکل کے دور ميں کہاں نظر آتے ہيں۔ فراج نے تو ميرے بيٹے ہونے کا حق ادا کيا ہے" وہ فخر سے لاؤنج کے دروازے سے ملازموں کے ساتھ اندر آتے فراج کو ديکھ کر بوليں۔ جو اس وقت گھر کے ہی لان ميں مہندی کا انتظام کروا رہا تھا۔
"نہ اس لڑکے نے دن ديکھا ہے نہ رات۔۔ ميرا اور ميری بچيوں کا ہر کام کيا ہے"
"بس آپا اللہ نے اسے آپکی آسانی کا ذريعہ بنايا۔ دعا کريں ميرے بچے کی زندگی ميں بھی ہميشہ ايسی ہی آسانی رہے" زہرہ نے تشکر سے کہا۔
"ان شاءاللہ کيوں نہيں۔۔ اللہ اسکے نصيب ميں ايسا ہی ہيرا لکھے جيسا يہ خود ہے" فراج کو خلوص دل سے انہوں نے دعا دی۔
وہاں بيٹھے سب لوگوں نے آمين کہا۔
__________________________
وہ آفس ميں بيٹھا کام کررہا تھا کہ نجوہ کالنگ پر چونکا۔
سرعت سے فون اٹھايا۔
"السلام عليکم! کيسی ہيں؟" مصروف سے انداز پھر بھی توجہ بھرپور تھی۔
"وعليکم سلام جيتے رہو! ميں بالکل ٹھيک تم سناؤ" ہميشہ کی طرح بشاش لہجہ۔
"ميں بھی ٹھيک" مختصر جواب ديا۔
"آج شام ميں گھر آسکتے ہو؟" اسکی فرمائش پر اب کے کام روکا۔
"خيريت؟" اس کا سوال بے ساختہ تھا۔
"ہاں کچھ ضروری کام ہے" اس نے گول مول جواب ديا۔
"حاضر ہوجاؤں گا۔۔ کب تک آؤں؟" فورا ہامی بھری۔
"پانچ چھ بجے تک آجانا" جلدی سے ٹائم سيٹ کيا۔
"ٹھيک۔۔ اور کوئ حکم" لہجہ خاص تھا۔
"نہيں بس آج کے لئے اتنا ہی کافی ہے" وہ اسکی تابعداری پر مسکرائ۔
خدا حافظ کہہ کر وہ واپس کام ميں مصروف ہوگيا۔
شام ميں اسکے طے کردہ وقت کے مطابق وہ آچکا تھا۔
ضماد جو کے لان ميں کھيل رہا تھا۔ اسے گود ميں اٹھاۓ لاؤنج ميں داخل ہوا۔ سامنے صوفے پر نجوہ کے ساتھ اسوہ بھی بيٹھی ہوئ نظر آئ۔
"السلام عليکم" اس نے بلند آواز ميں سلام کيا۔
نجوہ نے گرمجوشی سے جواب ديا جبکہ اسوہ نے ايک نظر اسے ديکھ کر ہولے سے جواب ديا۔
اس ايک نظر ميں بھی وہ اسکی وجاہت کی قائل ہوچکی تھی۔ چھ فٹ سے نکلتا قد، کندھے تک آتے بال رف سے تھے اس وقت پھر بھی اسے وجيہہ بنا رہے تھے۔ ہلکی سی شيو۔۔ اندر کو دھنسی آنکھيں جنہيں وہ شايد ہی پورا کھولتا تھا، صاف رنگت، کالے سنہری مکس بال۔۔ بھنچے لب۔۔ کسرتی جسم۔۔ بليک پينٹ اور آف وائٹ شرٹ پہنے اور آف وائيٹ ڈاٹس والی ٹائ لگاۓ ۔۔۔ اسوہ کو اپنی قسمت کا روشن ستارہ لگا۔
"کيسی ہيں آپ؟" خوش اخلاقی سے دونوں کا حال چال پوچھا۔
"بالکل ٹھيک۔۔ تمہارا ہی انتظار کررہی تھی" دو دن ہو چکے تھے۔ زہرہ اسوہ کے گھر رشتہ لے کر گئيں اور ہاں کروا کر ہی اٹھيں تھيں۔ اب دونوں جانب نکاح کی تيارياں عروج پر تھيں۔
"کيا لو گے؟ جوس، چاۓ ۔ کافی"وہ سامنے صوفے پر بيٹھا تھا۔ اسوہ نے اٹھتے ہوۓ پوچھا۔
"آپ جانتی تو ہيں پھر پوچھتی کيوں ہيں" اسکی بات پر يکدم اسوہ نے اسکی جانب ديکھا۔ جو نجوہ کو ايک نظر ديکھ کر ضماد کے کسی ٹواۓ کو ديکھنے ميں مصروف تھا۔ ںظر ميں کچھ خاص چمک تھی۔ جو اسوہ کو الجھا گئ۔
"تمہاری يہ عادت نہيں چھوٹی۔۔ سردی گرمی کافی پينے کی" وہ ہنستے ہوۓ کچن کی جانب بڑھی۔ اسکی بات پر وہ جو سر اٹھا کر اسکا ہنستا چہرہ ديکھ رہا تھا بے خيالی ميں کچن جانے تک فراج کی نظروں نے نجوہ کا پيچھا کيا۔
يکدم نظر موڑ کر اس نے خود کو ديکھتی اسوہ کی جانب ديکھا۔
اسکے يکدم نظروں کا زاويہ خود پر آتے ديکھ کر اسوہ نے گھبرا کر نظريں جھکائيں۔
"آپ کی جاب کيسی چل رہی ہے؟"فراج نے اسے ديکھتے ديکھتے ہی سوال کيا۔
"جی اچھی" اسے اميد نہيں تھی کہ وہ ايکدم اسے مخاطب کرے گا۔
"کون سے سبجيکٹ پڑھاتی ہيں آپ؟"بات سے بات نکال رہا تھا۔
"انگلش" اسوہ نے اسے ديکھا
"گريٹ"اس نے سراہا۔
"آپ کا آفس سيٹ ہوگيا؟" فراج کی ان چھوٹی چھوٹی باتوں نے اسے ريليکس کيا۔ وہ بھی اب سوال پوچھنے لگی۔
"الحمداللہ۔۔ پراجيکٹس تو پہلے سے يہاں سے ملنے لگ گئے تھے۔ مگرانہيں پراسيڈ تبھی کر سکتا تھا جب يہاں آکر اپنا سيٹ اپ بناتا۔ اسی لئے آنے سے پہلے انہيں ہالڈ کروا ديا تھا۔ آنے سے پہلے احتشام بھائ نے آفس کی بلڈنگ اور انٹيرئير سب سيٹ کرديا تھا۔ ميں نے تو بس بيٹھنا ہی تھا آکر۔" فراج نے تفصيل سے سب بتايا۔
"ويسے حيرت ہے لوگ باہر سے پڑھ کر وہيں سيٹ ہوجاتے ہيں ۔۔ آپ واپس کيوں آئے" اسوہ کا سوال اسے کچھ چبھا۔
"ميں وہاں صرف پڑھنے کی نيت سے گيا تھا۔ خود سيٹ ہونے نہيں۔ کتنی مضحکہ خيز بات ہے کہ ہم اپنے ملک کے خرچوں پر اعلی تعليم تو لے آتے ہيں۔ مگر جب اس کو واپس فائدہ پہنچانے کی بات آتی ہے تب ہم منہ پھير کر يہ کہہ ديتے ہيں کہ يہاں کيا رکھا ہے۔ يہ نہيں سوچتے اس ملک نے ہی ہميں قابل بنايا ہے کہ ہم اپنا آپ دنيا ميں منوا کر آئيں۔" فراج کا لہجہ عام ہر گز نہيں تھا۔ اسوہ کو اپنا سوال گلے پڑتا محسوس ہوا۔
"ميں نے تو ايسے ہی پوچھا تھا۔ آپ کو ہرٹ کرنا مقصد نہيں تھا" وہ جلدی سے وضاحت دينے لگی۔
"ميں نے بھی ايسے ہی جواب ديا ہے آپ کو شرمندہ کرنا مقصد نہيں" فراج کے چہرے کی بڑھتی سنجيدگی ديکھ کر اسوہ کو اب خاموش ہونا بہتر لگا۔
اسی اثناء ميں نجوہ کافی لے آئ۔
"ارے تم لوگ خاموش کيوں بيٹھے ہو؟" وہ انہيں خاموش ديکھ کر حيرت سے بولی۔
"ہم کافی سير حاصل گفتگو کرچکے ہيں" فراج کی بات پر اسوہ کو ايسا محسوس ہوا جيسے اس نے اسے سنايا ہو۔
"اچھا بھابھی مين چلتی ہوں" اسے وہاں سے جانا ہی مناسب لگا۔ سامنے بيٹھا شخص اسے پہلے جتنا سيدھا لگا تھا۔ اب اتنا ہی مشکل لگ رہا تھا۔
"ارے ابھی تھوڑی دير پہلے تو آئ ہو" نجوہ نے ان دونوں کو ملانے کے لئے ہی تو فراج کو آفس سے بلايا تھا۔
"سکول کا کچھ ضروری کام ياد آگيا" وہ جان چھڑانے والے انداز ميں بولتی فورا اٹھی اور لاؤنج سے باہر نکل گئ۔
فراج اس تمام گفتگو ميں لاتعلق سا بيٹھا رہا۔
"ارے عجيب ہے۔۔ اور تم۔۔ ساری زندگی کيا اب خاموشی سے ہی رہو گے اسکے ساتھ۔۔ انسان کوئ بات ہی کرليتا ہے" ناسمجھی سے لاؤنج سے نکلتی اسوہ کو ديکھ کر اب اس نے توپوں کا رخ فراج کی جانب کيا۔ جو مزے سے کافی پيتا موبائل ميں نجانے کيا کررہا تھا۔
"ميں تو پريکٹس کررہا تھا۔۔ عموما شوہر حضرات کو بيويوں کے سامنے خاموشی کا ہی لبادہ اوڑھنا پڑتا ہے۔ کيا پتہ کب کون سی بات دل ناتواں پر ٹھک کرکے لگے اور شوہر بچارہ اپنی غلطی ہی ڈھونڈتا رہے" نجوہ کے غصے کا اس پر کوئ اثر نہيں تھا۔
"بہت ڈھيٹ ہو" اس نے تاسف سے اسے ديکھا۔
اسوہ سے بات کرکے اسے کوئ خاص خوشی نہيں ہوئ تھی۔ وہ عام سی سطحی سوچ کی لڑکی لگی۔ مگر وہ پہلی ہی ملاقات ميں اسکے بارے ميں کوئ خاص رائے قائم کرنا نہيں چاہتا تھا۔
____________________________
"ہيلو فراج جلدی سے اوپر ميرے روم ميں آؤ" وہ ابھی اسٹيج کی ڈيکوريشن کروا کے فارغ ہوا ہی تھا کہ فون پر نجوہ کی کال آئ۔ عجلت ميں کہہ کر اس نے فون جلدی سے رکھ ديا۔
"فراج بھائ يہ گجرے اوپر نجوہ آپی کو دے ديں" نجوہ کے چچا کی بيٹی فراج کو اوپر جاتے ديکھ کر تيزی سے اسکی جانب آئ اور ايک لفافہ پکڑا کر اسی تيزی سے نيچے کے ايک کمرے ميں گم ہوگئ جہاں مہمان ٹہراۓ گئے تھے۔
فراج لفافہ پکڑ کر تيزی سے سيڑھياں طے کرتے نجوہ کے کمرے کے دروازے کے سامنے رکا۔ ہاتھ بڑھا کر ناک کيا۔
"آجاؤ" نجوہ کی آواز آتے ہی وہ مصروف سے انداز ميں اندر آيا۔ مگر چند پل کو سامنے کا منظر ديکھ کر وہ ساکت ہوگيا۔
پستہ رنگ کی ديدہ زيب ميکسی ميں۔ خوبصورت سا ہئير سٹائیل بناۓ ٹيکا جھومر ہر سنگھار کئے وہ فراج کو مبہوت کرچکی تھی۔ شيشے کے سامنے بيوٹيشن کے ساتھ کھڑی کانوں ميں آويزے پہنتی آج فراج کو کوئ اور ہی نجوہ لگ رہی تھی۔ اس نے کھنکھار کر اپنی موجودگی کا احساس دلايا۔
نجوہ بھول چکی تھی کہ اس نے فراج کو کمرے ميں آنے کا کہا تھا۔ يکدم مڑتے ہوۓ فراج کو ديکھ کر مسکرائ۔ اس نے نظروں کا زاويہ بدلا۔
"يہ پھول" جلدی سے ہاتھ ميں تھاما شوپر آگے کيا۔
"ميں کيسی لگ رہی ہوں" اسکے سوال پر فراج نے ضبط سے آنکھيں اٹھا کر لمحہ بھر کر اسکے خوبصورت روپ کو ديکھا۔
"بہت اچھی۔۔" مسکرا کر اسکے روپ کو سراہا۔ پھر سے نظريں اسکے سندر روپ سے ہٹائيں۔
نجوہ نے اسکے بڑھے ہاتھ سے شاپر تھاما۔
"تھينک يو۔ تم بھی تيار ہو جاؤ اب" شاپر کھولتے اس ميں سے گجرے نکال کر پہنتے فراج کو مشورہ ديا۔
"جی۔۔" وہ نظريں جھکاۓ فورا وہاں سے نکلا۔
کچھ ہی دير ميں ربيعہ اور نجوہ کے سسرال والے آگئے۔
پہلے نجوہ اور احتشام کا نکاح کيا جانا تھا۔
فراج، شوکت، اور گھر کے تمام بڑے پہلے نجوہ کے کمرے ميں پہنچے۔ نيٹ کے دوپٹے کا گھونگھٹ نکالے وہ صوفے پر بيٹھی تھی۔ مولوی کے ساتھ شوکت صاحب بھی اسکے دائيں بائيں جانب بيٹھے۔
آف وائيٹ شلوار کرتے پہ ڈارک گرے چادر کندھوں پر ڈالے وہ بے حد خاموش سا نجوہ کو سائن کرتے ديکھ رہا تھا۔ نجانے ايک عجيب سی خاموشی کيوں اسکے اندر باہر تھی وہ سمجھنے سے قاصر تھا۔ يہ کيوں ہورہا تھا۔ نجوہ سے سائن کروا کر وہ سب باہر موجود اسٹيج پر بيٹھے احتشام کی جانب بڑھے۔ تين بار قبول ہے کہتے ہی اس نے سائن کئے۔
سب سے پہلے اسکے گلے لگ کر مبارک دينے والا فراج تھا۔
"تھينکس يار۔۔ تم نے بہت مدد کی" احتشام اسکے گلے لگے سرگوشی نما آواز ميں بولا۔
"تھينکس نہ کہي۔ کبھی آپ کی بھی مدد کا موقع ميں ايسے ہی لوں گا۔۔ پھر ميرا شکريہ پورا ہوگا" وہ خوشگوار انداز ميں بولا۔
"اينی ٹائم يار۔۔ ابھی بتاؤ يہاں کون پسند ہے۔۔ ہم ابھی کوششيں شروع کرديتے ہيں" وہ بھی اسکی بات کا مزہ لے کر بولا۔
"ہے تو يہيں کہيں۔۔" اسکی بات پر فراج نے حيرانگی سے اسکے چہرے کی چمک کو ديکھا۔
"مذاق کررہا ہوں" اسکی حيران شکل ديکھ کر وہ ہنس کے پيچھے ہوتے اسٹيج سے اترا۔
نجوہ کو اسٹيج تک لانے کے لئے شمع نے فراج اور شوکت کو بھيجا۔
"چلو بھئ بہن کو لے کر آؤ" ربيعہ نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ اسے نجوہ کے کمرے کی جانب دھکيلا۔
"بہن نہيں دوست" وہ اسکی تصحيح کروانے لگا۔
"چليں جی اپنے سئياں کے پاس" فراج نے داياں ہاتھ اسکی جانب بڑھا کر شرارتی آواز ميں کہا۔
اسی لمحے شوکت صاحب بھی اندر آئے۔ نجوہ کو ساتھ لگا کر پيار کيا۔ اسکا باياں ہاتھ فراج کے ہاتھ ميں تھا اور داياں شوکت کے ہاتھ ميں۔ فراج نے بائيں ہاتھ سے اسکی ميکسی کو ہولے سے اٹھايا تاکہ اسے چلنے ميں دقت نہ ہو۔ وہ ہر ہر لمحہ نجوہ کا خيال رکھتا تھا۔ اس محبت پہ نجوہ کی آنکھوں ميں آنسو لہراۓ۔
"آپکی رخصتی نہيں ہورہی ابھی۔ زيادہ خوش ہو کر سينٹی نہ ہوں" اسکی آنکھوں ميں آنسو لہراتے ديکھ کر اسے چھيڑنے والے انداز ميں بولا۔ ہاتھ کو بھينچ کر اسے تسلی دی۔ سپاٹ لائيٹ ميں لئے وہ دونوں اسے تھامے اسٹيج کے قريب لا رہے تھے۔
احتشام اسے ريمپ پہ آتے ديکھ کر بے اختيار اپنی جگہ سے کھڑا ہوا۔ يہ تو کوئ اور ہی نجوہ تھی۔
اسٹيل گرے شلوار قيمض پر بليک کوٹ پہنے وہ خود بھی بے حد وجيہہ لگ رہا تھا۔ مگر اس لمحہ نجوہ اسے مات کررہی تھی۔
Lover, please take care of me
If you’re not here than I’m not living
Cause lover, I’m meant to be
So close to you I hear your heart beat
I’m the one that you know
And the one you call home
The one that you love
The one that you’re keeping
From the moment you wake
Till we break for the day
You’re the one that I love
The heart that I’m stelaing
فراج نے نجوہ کی اينٹرنس کے ساتھ ہی يہ خوبصورت گانا بجانے کا پہلے سے ہی ڈی جے کو کہہ رکھا تھا۔
ہر لفظ ان دونوں کی محبتوں کی عکاسی کررہا تھا۔
اسٹيج کے قريب آتے ہی فراج نے اسکا ہاتھ احتشام کے بڑھے ہاتھ ميں تھمايا۔ اسکی عمر بھر کی خوشی کی دعا ديتے اسٹيج سے اتر گيا۔
انکے اسٹيج پر آتے ہی دوسری جانب کے اسٹيج پر ربيعہ کی مہندی کی رسم شروع ہوئ۔ وہ دن تھکا دينے والے تھے۔ جن ميں فراج نے بھرپور طريقے سے شوکت اور شمع کا ساتھ ديا۔
_______________________________
رات میں کاموں سے فارغ ہو کے اس نے فراج کو فون کیا. نکاح میں چند دن رہ گئے تھے اور ابھی تک اسوہ کا ڈریس نہیں لیا تھا.
احتشام ابھی تک گھر نہیں آیا تھا.
چوتھی بیل کے بعد دوسری جانب سے فون اٹھا لیا گیا تھا.
"کیسی ہیں آپ" سلام دعا کے بعد فراج نے حال پوچھا.
"میں تو ٹھیک ہوں دلہے میاں.. تم اب ذرا جلدی تیاریاں پکڑو" فون کندھے سے لگائے. بیڈ پر پاؤں رکھے دونوں ہاتھوں سے ان پر لوشن لگارہی تھی.
"اب کس بات کی تیاری.. کہیں آپ رخصتی کی تیاری تو نہیں کر رہیں" وہ اچنبھے سے بولا.
"ارے نہیں بھئ! کل تم شام میں جلدی آجانا. اسوہ کو ساتھ لے جا کر نکاح کا ڈریس پسند کر لینا..اوراب کچھ انڈرسٹینڈنگ بناؤ اس سے" وہ حکمیہ انداز میں بولی.
"شاپنگ پہ بس میں اور آپکی بھابھی ہی جائیں گے؟" اس نے تصدیق چاہی.
"نہیں پورے خاندان کو لے کر جانا. اففف فراج میں تمہارا کیا کروں.. باہر پڑھنے کے دوران بس چھولے بیچتے رہے ہو.. حد ہوگئ.." وہ تلملا گئ. اسکی تلملاہٹ پر فراج کا قہقہہ بے ساختہ تھا.
"نہیں آپ کہنا کیا چاہتی ہیں. پڑھائ کے ساتھ کیا میں گرل فرینڈز بناتا رہا ہوں" اب وہ تفتیشی انداز پہ اترا
"ویسے سچ بتاؤ کیا واقعی کوئ لڑکی پسند نہیں آئ.. ایسا ہو نہیں سکتا... اتنے ہیرو سے تو ہو تم... آخر کوئ تو ہوگی" وہ رازدارانہ انداز میں بولی.
"ہاں... ایک تھی" ایک گہرا سانس کھینچ کر وہ عجیب سے انداز میں بولا.
"تو پاگل پہلے کیوں نہیں بتایا. ہم تو ایسے دقیا نوسی نہیں.. کہتے تو بات آگے چلاتے" وہ پریشان سی ہوئ.
" محبت میں ملن تو ضروری نہیں..اسکی اور میری محبت ان ضرورتوں سے کہیں آگے کی تھی" وہ پہلی بار یوں نجوہ پہ کھلا
"فراج تم نے کبھی بتایا کیوں نہیں.. کون تھی.. یا اللہ.. لگتا ہے روگ لگالیا.. میں تو بیسٹ فرینڈ تھی تمہاری.. مجھے کیوں نہیں بتایا کبھی" اسکا دل ڈوبا.. وہ بات ہی ایسی کر رہا تھا..
" بالکل آپ ہی بیسٹ فرینڈ ہیں.. مگر بتانے کو کچھ تھا نہیں کیا بتاتا... مجھے بس اسکی چاہ ہے.. اسکے ملنے کی چاہ نہیں.. خیر چھوڑیں.. آپکی اسوہ بہت اچھی ہے. پلیز اسکے سامنے ایسی کوئ بات مت کرنا. نجانے کتنے ارمان لے کر وہ مجھے زندگی میں شامل کررہی ہے. میں اسکے ساتھ پورے خلوص سے یہ رشتہ نبھانا چاہتا ہوں"نجانے کس رو میں وہ اپنی آدھی ادھوری محبت بتا گیا تھا.. یکدم احساس ہونے پہ خود کو سنبھالا..
"فراج.. سچ بتاؤ کوئ کسک تو نہیں" وہ بھی تو محبت کی ستائ ہوئ تھی کیسے نہ جانتی کے محبت میں نہ ملنا کیسا تکلیف کا باعث ہے. اس نے بھی تو احتشام سے ڈوب کر محبت کی تھی. فراج کے علاوہ کوئ اس حقیقت سے واقف ہی کہاں تھا.
" کسک ہوتی تو نئے بننے والے رشتے میں خیانت کا مرتکب ہوتا اور یہ خیانت میرے ہر انداز سے ظاہر ہوتی..ایسا کچھ نہیں.. بس سمجھیں میں نے آپکو کبھی کچھ بتایا ہی نہیں.اس بات کو اسی اندھیری رات کی نظر کر دیں.
اچھ اسوہ سے پوچھ کر مجھے ٹائم بتا دیں کب اسے پک کروں اور ہاں مجھے اسکا موبائل نمبر بھی دیں.
کب تک آپ کبوتر بن کے پیغام ادھر سے ادھر کریں گی" لہجے میں بشاشت لاتے وہ نجوہ کو کچھ دیر پہلے والی کیفیت سے باہر نکال لانے میں کامیاب ہو گیا.
"اچھا جی تو اب میں کھٹکنے لگی ہوں" وہ ہمیشہ کی طرح اسکی باتوں میں آکر کچھ دیر پہلے کی باتیں بھلا چکی تھی.
"ہاں نا.. اب انڈراسٹینڈنگ ایسے ہی تو ہوگی.."وہ شرارتی لہجے میں بولا.
"اچھا بتاتی ہوں. ابھی فون رکھو.. بلکہ اسوہ کو تمہارا نمبر دے کر کہتی ہو ں خود ہی بتا دے" وہ جلدی سے سب طے کرکے بولی
"نہیں آپ ایک کام کرین مجھے اسکا نمبر سینڈ کریں. میں خود یہ نیک کام کر لیتا ہوں.. لڑکیاں پہل کرتے اچھی نہیں لگتیں.اورشاید وہ جھجھک بھی جائے.. بہتر ہے میں خود یہ بے تکلفی کی دیوار گراؤں" اس نے سہولت سے سمجھایا.
"ہائے فراج.. کتنے سمجھدار ہو تم.. ماشاءاللہ... اسوہ بہت خوش رہے گی"نجوہ کے لہجے میں تفاخر تھاا.
"ان شاءاللہ.. چلیںاب فون بند کریں اور اپنے میاں کے کان کھائیں. "وہ پھر سے شریر لہجے میں بولا.
"وہ تو آئے ہی نہیں ابھی تک" وہ منہ بنا کے بولی.
"رات کے گیارہ بج رہے ہیں. ان کو اب آجانا چاہئیے.. پتہ کریں کہاں پھر رہے ہیں..زیادہ ڈھیل نہ دیں" وہ اسے چھیڑنے والے انداز میں بولا..
"جی نہیں وہ ایسے نہیں.." وہ اسکے چڑانے پہ چڑ کے بولی.
"میں نے کب کہا ایسے ہیں. میں تو کہہ رہا ہوں ویسے ہیں".
"اچھا زیادہ میرے میاں کے خلاف باتیں نہ کرو.. اسوہ کا نمبر بھیجتی ہوں"اسکی باتوں پہ ہنستے ہوئے اس نے فون بند کیا
____________________________
دو سال کب پر لگا کر گزرے پتہ ہی نہيں چلا۔ انہی دنوں احتشام کی پوسٹنگ لاہور ہوگئ۔ اس نے افسروں کو کہلوا کر نجوہ کی پوسٹنگ بھی لاہور کروا دی۔ تاکہ شادی کے فورا بعد وہ دونوں وہاں شفٹ ہوجائيں۔
شادی کی تيارياں زوروں پر تھيں۔ ربيعہ کی شادی سے بھی بڑھ کر فراج نے نجوہ کی شادی ميں پل پل کام کيا۔
ربيعہ اور ماريہ اپنے بچوں کے ہمراہ آچکی تھيں۔ گھر ميں خوب رونق لگی ہوئ تھی۔
"چل بھئ فراج آجا" ڈھولکی رکھے وہ دونوں فراج کو اپنے ساتھ گھسيٹ رہی تھيں۔ دونوں کے بچے اور شوہر نامدار بھی موجود تھے۔
"نجوہ مہندی لگوانے کے بعد ايک تھپڑ کس کے فراج کو مارنا تاکہ اسکی بھی شادی جلدی ہو۔" ربيعہ نے شرارتی مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ صوفے پہ بيٹھی نجوہ سے کہا۔ سب اس وقت لاؤنج ميں موجود تھے۔
"جی بالکل اور ميرا ايم ايس آپ کريں گی" فراج کی خواہش تھی کے انجينرنگ کی چار سال کی ڈگری کے بعد وہ باہر کے ملک ايم ايس کے لئے جاۓ۔
"بھئ وہيں سے کوئ ڈھونڈ لو۔۔ دونوں اکٹھے شادی کے بعد ايم ايس کرنا۔۔ ايم ايس کا ايم ايس اور ہنی مون کا ہنی مون ہوجاۓ گا۔ وہ بھی لونگ ہنی مون" ربيعہ لونگ پہ زور دے کر بولی۔
"مرتضی بھائ۔۔ يہ ربيعہ آپا جب تک ہمارے پاس تھيں۔ ايسی ہر گز نہيں تھيں۔ آپ کيا کھلاتے ہيں انہيں" فراج نے اسکی بے باکی پہ چوٹ کرتے ہوۓ کہا۔
"بھائ مجھے تو پہلے دن سے ايسی ہی ملی تھی۔ شايد تم لوگوں سے ٹيلنٹ چھپايا ہو" وہ بھی فراج کے ساتھ مل کر ربيعہ کا ريکارڈ لگانے لگا۔
"حد ہے ويسے ۔۔۔ يہ تو بس ہے ہی نجوہ کا۔ اور آپ بھی اسکے ساتھ مل کر ميرا ريکارڈ لگانے لگے۔" ربيعہ نے افسوس سے سر ہلاتے کہا۔
"يہ تم اسے جہيز ميں کيوں نہيں لے جاتيں" اب کی بار ماريہ کے شوہر رميز نے بھی گفتگو ميں حصہ ليا۔
سوال نجوہ سے تھا اور اشارہ فراج کی جانب تھا۔
"اس غدار نے يہاں ايڈميشن لے ليا نہيں تو يہ بھی وہيں ہوتا لاہور ميں" نجوہ پيلے جوڑے ميں بيٹھی مزے سے بولی۔
"ہاں تو اب يہاں سے جا کر وہاں آپکا ميکا بھی تو بسائيں گے نا۔۔ اب روز آپ اپنے دکھڑے رونے خالہ کے پاس تو نہيں آسکتيں۔ ہاں ممی اور ميرے پاس تو آسکتی ہيں"
"ہاۓ ميں صدقے۔۔۔" نجوہ محبت سے مسکراتے ہوۓ بولی۔
"اچھا چلو بھئ يہاں تو مذاکرات ختم نہين ہورہے گانے شروع کرو" ماريہ نے انکی توجہ اصل کام کی جانب دلائ جس مقصد کے لئے وہ سب اکٹھے بيٹھے تھے۔
رات گۓ تک پھر يہ محفل جاری رہی۔
________________________________
"کيسی ہيں؟" اگلے دن شام ميں فراج اسوہ کو لينے اسکے گھر پہنچ چکا تھا۔ گاڑی سے اتر کر پہلے اندر آگيا۔ سب سے مل کر اسوہ کے والدين سے اس کو لے جانے کی اجازت لے کر اسے لئے باہر نکلا۔
گاڑی ميں بيٹھتے کے ساتھ ہی اسکا حال پوچھا۔ براؤن جديد تراش خراش کا سوٹ پہنے بالوں کو ادھ کھلا چھوڑا ہوا تھا۔ ہلکا سا ميک اپ کئے وہ اس لمحے فراج کو ايک خوش شکل لڑکی لگی۔
وہ خود اس لمحے لائيٹ براؤن سوٹ اور کافی کلر کی شرٹ پہنے ہوۓ تھا۔ اسوہ نے ايک نظر اس وجيہہ شخص کو ديکھا۔ اسے اپنی قسمت پہ ناز ہوا۔
رات ميں جس وقت فراج نے اسے کال کی پہلے تو اسے يقين نہيں آيا مگر پھر آدھا گھنٹہ اس سے بات کرکے اسوہ کے خيالات اسکے بارے ميں بالکل بدل گۓ۔ اس دن نجوہ کے گھر پر باہر سے واپس آنے پر ان کی جو بحث ہوئ تھی اسکے بعد سے اسے فراج اپنے لئے اچھا انتخاب نہيں لگا۔
مگر رات جس دھيمے اور اچھے انداز ميں اس نے اسوہ سے بات کی۔ اس کو ايسا لگا کہ اس شخص کے ساتھ زندگی يقينا بہت خوبصورت گزرے گی۔
"الحمداللہ! بالکل ٹھيک۔ آپ کيسے ہيں۔ تھکے ہوۓ لگ رہے ہيں؟" رات کے بعد اتنا تو ہوا تھا کہ انکے درميان بے تکلفی کی ديوار گری تھی۔
"ارے نہيں۔۔ ميں بہت مضبوط اعصاب کا بندہ ہوں۔۔ آپ کو روز شاپنگ پہ لے جاسکتا ہوں" فراج نے ہلکے پھلکے انداز ميں کہا۔
"آپ کو کون سا کلر پسند ہے؟" اسوہ نے شرميلے سے لہجے ميں پوچھا۔
"ڈريس آپ نے پہننا ہے۔ کلر مجھ سے پوچھ رہی ہيں" وہ اسکی بات کا مطلب سمجھ چکا تھا۔
"ہاں تو اب آپکی ہی پسند کی چيزيں پہنوں گی نا" وہ ناز سے بولی۔
"اچھا جناب۔۔ ويسے ميں نے سنا ہے آجکل پاکستان ميں نکاح پر آف وائيٹ کلر کا بہت ٹرينڈ ہے۔ تو ايسا کرتے ہين اسی ميں آپ اور ميں دونوں ڈريس لے ليتے ہيں" فراج نے اسے پتے کی بات بتائ۔
"ہاں ايسا تو ہے" اس نے بھی ہاں ميں ہاں ملائ۔
اسے اچھا سا ڈريس دلوا کر اور اپنا بھی لے کر۔ رات ميں کھانا کھلا کر پھر اس نے اسوہ کو گھر چھوڑا۔ وہ شام ان دونوں کی انڈرسٹينڈنگ کی شروعات کی شام تھی۔ اسوہ کو اتنی دير ميں يہ تو سمجھ آگيا کہ فراج بہت رومينٹک انسان نہيں ہاں ليکن بے حد خيال رکھنے والا ہے۔ اسکے لئے فی الحال يہی بہت تھا۔
__________________________
شادی کا دن بھی آپہنچا۔ فراج جس لمحے اسے پارلر لینے پہنچا۔ وہ اور ربيعہ باہر گاڑی ميں آئيں۔
اسے پيچھے بٹھا کر ربيعہ خود آگے فراج کے ساتھ بيٹھی۔
جيسے ہی وہ گاڑی چلانے لگا نجوہ کی چہکتی آواز اسکی سماعتوں سے ٹکرائ۔
"بڈی ايک بار ديکھ تو لو مجھے۔" اسکی آواز پر ايکسليٹر دباتا اسکا پاؤں چند لمحے وہيں ساکت ہوا۔ خود کو کمپوز کرتے اس نے جيسے ہی پيچھے مڑ کر ديکھا۔ ڈيپ ريڈ اور مہندی گرين لہنگے ميں دلہن بنی وہ فراج کو اس لمحے دنيا کی سب سے حسين لڑکی لگی۔
خوشی نے اسکے چہرے کا احاطہ کرکے عجيب سی چمک اسکے چہرے اور آنکھوں ميں پيدا کررکھی تھی کہ جس سے نظريں چرانے کے سوا فراج کے پاس اور کوئ راستہ نہيں تھا۔
"ارے آنکھيں چرا رہے ہو۔۔ تعريف تو کردو۔ کيا بری لگ رہی ہوں" اسے نظريں چراتے ديکھ کر پہلے وہ حيران اور پھر يہ سوچ کر پريشان ہوئ کہ کہيں ميک اپ برا نہ کرديا ہو۔
"يو لک سٹننگ۔۔ " تين لفظوں ميں گويا وہ سب کہہ گيا۔
اسکے لہجے کی گمبھيرتا پر غور کئے بنا وہ خوشی سے مسکرائ۔
"تھينک يو۔۔ مجھے پتہ تھا تم ميری سچی تعريف کروگے" وہ مان سے بولی۔
"اچھا۔۔ تو کيا احتشام بھائ جھوٹی تعريفيں کرتے ہيں۔۔۔" خود کو کچھ دير پہلے کی کيفيت سے نکالتے اس نے گاڑی آگے بڑھائ۔
"ہاں نا۔۔ نکاح کے بعد اب چاہے اچھی لگے يا بری۔ اس بے چارے کو تو تعريف کرنی ہی پڑے گی" ربيعہ بھی اسے چھيڑنے لگی۔
"ہاں ہاں کر لو اچھی طرح ميری بے عزتی۔۔ بچو آج کے بعد ياد کروگے مجھے" اسکی بات پر يک لخت فراج کی نگاہوں نے اسکے گھونگھٹ ميں چھپے چہرے کو ديکھنے کی پھر سے تمنا کی۔
"نہ بھئ ہم تو شکرانے کے نفل پڑھيں گے۔ کيوں فراج" ربيعہ کسی طور اسے بخشنے کو تيار نہيں تھی۔
"جی بالکل ميں نے تو سو مانے ہوۓ ہيں۔۔" فراج مسکراہٹ ہونٹوں ميں دباۓ بولا۔
"بہت برے ہو تم لوگ" وہ روہانسے لہجے ميں بولی۔ شادی ہال جانے تک پھر فراج اور ربيعہ اسے منانے ميں لگے رہے۔ چند لمحوں بعد سب رسميں پوری کرکے وہ احتشام کے سنگ رخصت ہوچکی تھی۔ اپنی محبت کو پانے کے لئے۔
______________________
سب اس وقت تيار ہوچکے تھے مگر احتشام کی آفس سے واپسی ابھی تک نہيں ہوئ تھی۔ اسوہ پارلر سے نا صرف تيار ہوکر آچکی تھی بلکہ دلہے والے بھی آچکے تھے۔
احتشام اور نجوہ کی خواہش پر اسوہ اور فراج کا نکاح ان کے گھر ميں منعقد کيا گيا تھا۔
شمع، شوکت، ربيعہ اس کا شوہر اور بچے بھی موجود تھے۔ ماريہ نہيں آسکی تھی۔ مگر شادی پر آنے کا اس کا پورا ارادہ تھا۔
"کہاں رہ گيا احتشام" وہ سجی بنی يہاں سے وہاں پھر رہی تھی۔ بے بی پنک اور رائل بلو پشواز ميں خوبصورتی سے تيار ہوئ وہ مہمانوں کی آؤ بھگت ميں لگی تھی۔ سب انتظام پورے تھے بس احتشام کا انتظار تھا۔
اسکے آتے ہی نکاح شروع ہونا تھا۔
"اچھی بھلی چھٹی لی ہوئ تھی۔ بس عين دوپہر کو ان کے آفس والوں کو ضروری کام ياد آگيا۔ آفس سے نکل پڑے ہيں بس ميرے لئے گجرے لينے رک گئے ہيں۔ کہا بھی ميں نے کے کيا ضرورت ہے۔ کہنے لگے نہيں ميری بيوی کی تياری گجروں کے بغير کيسے پوری ہوسکتی ہے" زہرہ کے پوچھنے پر اس نے تفصيلی جواب ديا۔ محبت بھرے لہجے پر زہرہ نے بے اختيار اسکی بلائيں ليں۔
"ايسا شوہر بھی نصيیب والوں کو ملتا ہے۔ قدر کيا کر اسکی" اسے بازو پہ چپت لگاتيں وہ اسوہ کی ماں کی جانب بڑھی۔
سب مہمان خوش گپيوں ميں مصروف تھے۔ احتشام کی بہنيں۔ والد۔ اسوہ کے ماں باپ اور چند اور رشتے دار سب اکٹھے تھے۔ دوسری جانب سے فراج کے ددھيال ميں سے بھی ايک تايا کی فيملی اور ايک پھوپھو کی فيملی موجود تھی۔ باقی کے دو اور چچا اور پھوپھو باہر کے ملکوں ميں سيٹل تھے۔ سبھی کا ارادہ اب شادی پر آنے کا تھا۔
نجوہ ضماد کے لئے بسکٹس لينے کچن ميں گئ۔ فراج بھی اسکے پيچھے پيچھے تھا۔
"آپ کے شوہر نامدار کے کيا ارادے ہيں۔۔ کيوں ميرے نکاح ميں خلل ڈال رہے ہيں۔ اب آ بھی جائيں۔ چيف گيسٹ ميں اور اسوہ ہيں مگر بن وہ رہے ہيں" فراج اسکا دماغ کھانے پہنچ چکا تھا۔
"وہ اپنی بيوی کے لئے گجرے لے کر نکل چکے ہيں۔ بس پہنچنے والے ہوں گے۔ سيکھو ان سے بيوی کو خوش رکھنے کے گر" کيبنٹ سے بسکٹ نکال کر اسے بی اماؤں کی طرح سمجھايا۔
"جی جی انکی طرح کے دو چار اور مجنوں پيدا ہوگۓ تو يہ دنيا بس ليلی مجنوؤں کی ہی بن جاۓ گی۔ لوگ اپنے کاموں سے بھی جائيں گے۔" آف وائٹ شلوار قميض ميں سينے پر ہاتھ باندھے وہ اسکے سجے سنورے روپ کو ديکھ کر چڑا رہا تھا۔
"تم تو ہو ہی نکمے" اسکے کندھے پر ہاتھ مارتے وہ باہر نکلی۔ اسی لمحے فراج کے موبائل پر کال آئ۔
"کيا کہہ رہے ہيں۔ احتشام بھائ۔۔۔ ليکن کيسے۔۔ کون سے ہاسپٹل ميں" فراج کے منہ سے نکلنے والے الفاظ پر نجوہ کے کچن کے دروازے سے نکلتے قدم وہيں جم گئے۔
"جی ميں آرہا ہوں" وہ تيزی سے نجوہ کے پاس سے آندھی طوفان کی طرح نکلا۔۔ نجوہ کو بہت کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔ دل نے کسی انہونی کا راگ الاپا اس ميں اتنی ہمت نہ ہوئ کہ فراج سے فون کی بابت پوچھتی۔
بس خالی نظروں سے باہر ديکھا۔۔ يکدم بھگدڑ سی مچی۔ احتشام کے والد، چچا، شوکت، فراج سميت باہر کی جانب دوڑے۔ احتشام کی بہن کی دلدوز چيخ سن کر نجوہ وہيں بيثھتی چلی گئ۔
ربيعہ اور زہرہ کی نظر بے اختيار کچن کے دروازے ميں اڑے حواسوں ميں بيٹھی نجوہ پر پڑی۔ وہ بے اختيار اسکی جانب بڑھيں۔
"سب خت۔۔ خخ۔۔ ختم ہوگيا" کچھ دير پہلے جن آنکھوں ميں زہرہ نے احتشام کی محبت کے جگنو ديکھے تھے اب وہاں جدائ کا ٹھاٹھيں مارتا سمندر تھا۔
"نہيں ميری جان۔۔۔ سب۔۔ سب ٹھيک ہوگا۔ بس ايکسيڈينٹ ہوا ہے۔۔ اللہ خیر کرے گا" زہرہ نے اسکے سندر روپ سے نظريں چرائ۔
"سب ٹھيک ہوگا۔۔ سب ٹھيک ہوگا" وہ اس وقت اپنے حواسوں ميں نہيں تھی۔ زہرہ کے الفاظ بڑبڑانے لگی۔
"سب ٹھيک ہوگا۔۔ تو سب بين کيوں کررہے ہيں" يکدم وہ چلائ۔ احتشام کی بہنيں يکدم اسکے چلانے اور زور زور سے رونے پر اسکی جانب بڑھيں۔۔
سب کے دلاسوں کے باوجود اسے سب غلط لگ رہا تھا۔
اور وہی ہوا گھنٹے بعد ايمبولينس ميں احتشام کا مردہ وجود لے کر سب مرد اندر آۓ۔
وہ گھر جو کچھ دير پہلے خوشيوں کا گہوارہ بنا تھا اب وہاں صف ماتم بچھ چکا تھا۔
_____________________________

وہ شديد سکتے ميں تھی۔۔ کون کون اس سے لپٹ کے رو رہا تھا اسے کچھ ہوش نہیں تھی۔
"کتنا خوش تھا احتشام" سنيعہ، احتشام کی بڑی بہن نجوہ کے کندھے پر سر رکھے بولی۔
"کل ہی مجھے فون کرکے کہنے لگا، خالہ نجوہ کے کزن کا نہيں کل ميرے بھائ کا نکاح ہے۔ ميرا تو بس نہيں چل رہا دنيا جہان کے سب شگن کروں اسکے نکاح پر" زہرہ منہ پر ہاتھ رکھے سسکتے ہوئے بوليں۔
ضماد سہما ہوا نانی کی گود ميں بيٹھا تھا۔ حيرت سے سامنے رکھے پلنگ پہ باپ کو سوتے ديکھ رہا تھا۔ ماں کے زاروقطار روتے بے خبر وجود پر بھی گاہے بگاہے نظر ڈال ليتا۔
سب رشتے داروں نے اسکا آخری ديدار کر ليا تھا۔
نجوہ يک ٹک کفن ميں لپٹے اپنے محبوب کو ديکھ رہی تھی۔ محويت کا سلسلہ تب ٹوٹا جب يکدم سب مرد اندر آکر اسکی چارپائ کو اٹھانے لگے۔
"ايسے کيسے۔۔ کوئ ہاتھ نہيں لگاۓ گا" وہ يکدم تير کی طرح چارپائ کے ہتھے پر ہاتھ رکھ کر انہيں روک گئ۔
وہ جو جھک کر چارپائ کا پايہ اٹھانے لگا تھا اسکی متحوش حالت ديکھ کر شدت گريہ سے آنکھيں مي گيا۔ آنسوؤں کے کتنے ہی قطرے دونوں رخساروں پر بہہ گئے۔
"آنکھيں کھوليں نہ احتشام۔۔ آپ ايسا نہيں کرسکتے ميرے ساتھ۔۔ مجھے يوں ۔۔ تنہا چھوڑ کر جارہے ہيں۔۔ ميں خفا ہوجاؤں گی۔۔ کيوں لينے گۓ تھے ميرے گجرے۔۔ منع کيا تھا نہ آپ کو۔۔ نہيں سنتے آپ ميری ۔۔ ہميشہ۔۔۔" اسکے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے تھامے وہ لفظ لفظ سراپا احتجاج بن گئ تھی۔ قدرت کے اس فيصلے کو ماننے سے انکاری تھی۔
"ہم۔۔ ہميشہ۔ اپنی کی آپ نے۔۔ ميں کہتی تھی نا ڈرتی ہوں آپ کی دوری سے۔۔ ہميشہ مجھے آزماتے تھے۔۔ ہميشہ کہتے تھے دوريوں ميں ملن کی خوشبو ہوتی ہے يہ اتی رہنی چاہئيے۔۔۔
مگر ايسی دوری کيوں دے رہے ہيں۔ جس ميں اب ملن کی کوئ خوشبو نہيں ہے۔ صرف جدائ کا درد بھرا ہے۔
مت کريں ميرے ساتھ ايسے۔۔ واپس آجائيں۔۔ آپکی نجوہ نہيں جی پاۓ گی" وہ چلا رہی تھی۔۔ روتے روتے گلا بيٹھ چکا تھا اس کا۔ شوکت صاحب نے اسے بے اختيار گلے لگايا۔۔ وہ جو ساری زندگی خود کو مضبوط انسان کہتے آۓ تھے۔ اولاد کے غم نے انہيں توڑ ديا تھا۔ اسے گلے سے لگاۓ پھوٹ پھوٹ کر رو دئيے۔
"ابا کہيں نا انہيں۔۔ ميں کيسے۔۔۔ نجوہ کيسے رہے گی۔۔ مجھے بھی ساتھ لے جائيں۔۔ نہيں رہنا يہاں۔۔ ميرا دل بند ہوجاۓ گا۔۔۔ ابااااا کہيں نا شام کو" باپ کے سينے سے لگی وہ سب کو رلا رہی تھی۔۔۔
"بيٹے ۔۔ بس کرو۔۔ ميری جان۔۔ اسکا آخری سفر اتنا مشکل نہ بناؤ" انکے منہ سے بمشکل تسلی کے يہ الفاظ نکلے۔
اشارے سے زہرہ کو اسے سنبھالنے کا کہا۔ انہوں نے کھينچ کر اسے مضبوطی سے ساتھ لگايا۔
اسے خود سے ہٹاتے فورا سب لڑکوں کو اشارہ کرکے چارپائ اٹھائ۔
"ابا۔۔ مت لے کر جائيں۔۔ فراج۔۔ پليز فراج۔۔ رہنے دو انہيں ميرے پاس" وہ زہرہ کا حصار توڑ کر نکلنا چاہتی تھی مگر ربيعہ اور زہرہ نے بڑی مضبوطی سے اسے تھام رکھا تھا۔
يکدم وہ چکرا کر انکے بازوؤں ميں جھول گئ۔
__________________________
ايک ہفتہ گزر چکا تھا احتشام کی موت کو۔۔۔ آہستہ آہستہ دور پرے سے آنے والے چلے گۓ۔ احتشام کی دو بہنوں کو بھی واپس اسلام آباد جانا پڑا۔ بڑی نند اور سسر اسکے پاس ہی تھے۔ ربيعہ بھی واپس جاچکی تھی۔ اب اسکے پاس ہر وقت اسوہ، شمع اور زہرہ رہتی تھيں۔
اتنے دنوں کے بعد بھی وہ سنبھل نہيں پارہی تھی۔
"کيوں ظلم کررہی ہو ميری جان۔۔ سارا سارا دن چند نوالوں کے سوا کچھ نہين کھاتی۔۔ ايسے کيسے چلے گا۔" دوپہر کا کھانا زہرہ بڑی مشکل سے اسے چند نوالوں سے زيادہ نہيں کھلا پائيں تھيں۔
"خالہ ميرے اندر ہی نہيں اترتا۔ لگتا ہے شام کے ساتھ ساتھ ميرے اندر کا ہر فنکشن ختم ہوگيا ہے۔ سانسيں بھی پتہ نہيں کس مجبوری ميں لے رہی ہوں" بيڈ پر اجڑی حالت ميں ٹيک لگا کر بيٹھی ياسيت سے سامنے ديکھتی کپکپاتے ہونٹوں سے چند لفظ وہ بولتی تھی۔ سارا سارا دن خاموش رہتی۔ بس ديواروں کو يا گھر ميں لگی احتشام کی تصويروں کو گھورتی رہتی تھی۔
ضما دکا بھی ہوش نہيں تھا۔ فضيلہ يا پھر شمع ہی کے ساتھ وہ سارا دن لگا رہتا ورنہ شام ميں جيسے ہی فراج آتا وہ بس اسی کے ساتھ رہتا تھا۔
فراج نے بھی اسے قيمتی متاع کی طرح سميٹا تھا۔ احتشام ضماد کے مستقبل کے حوالے سے کتنے ہی خواب فراج سے شئير کرتا تھا۔۔۔ کل سے اس کا سکول بھی فراج کے اصرار پر دوبارہ جوائن کروانا تھا۔
"ضماد کو ديکھو اسے ماں کی شديد ضرورت ہے اس وقت۔۔ وہ بولايا بولايا پھرتا ہے۔۔ بہت اگنور ہورہا ہے۔" زہرہ نے اس کا دھيان بٹانا چاہا۔
"خالہ مجھے لگتا ہے ميرے سب احساس مر گئے ہيں۔ مجھے احتشام کے علاوہ کوئ ياد ہی نہيں رہتا" آنسو قطار در قطار اسکے گالوں پر بہہ رہے تھے۔
"بيٹے سنبھالو خود کو۔۔ يوں کيسے زندگی گزرے گی" اسکے چہرے پر بکھری لٹوں کو محبت سے پيچھے کرتے زہرہ کا دل اسکی حالت پر روز کٹتا تھا۔
"ميرا يہ زندگی جينے کو دل نہيں کرتا۔۔ خالہ ايسا احتشام نے اپنا عادی بنايا تھا۔۔ انکے ساتھ کی عادت محبت سے زيادہ جان ليوا ہوگئ ہے" وہ روتے روتے زہرہ کی گود ميں سر رکھ گئ۔
"ممی"کندھے پر ننھے ہاتھ کے لمس کے ساتھ گھبرائ ہوئ آواز آئ۔ وہ تڑپ کر اٹھی۔
ضماد کو گود ميں بھر کر خود سے لگا کر بھينچ ليا۔
"مجھے معاف کردينا ميری جان ميں اس وقت اچھی ماں نہيں بن پارہی۔۔ صرف ايک بيوی ہوں۔۔ " ضماد کو ساتھ لگاۓ وہ سسک سسک کر رودی۔
__________________________
"کيسا ہے" شہرام روز اس سے رابطے ميں تھا۔ وہ جانتا تھا اس وقت اسے ايک دوست کی اشد ضرورت ہے۔
"پتہ نہيں يار کچھ سمجھ نہيں آرہی۔۔" اسکی اداس آواز ائير پيس سے ابھری۔
"وہ کيسی ہے؟" شہرام کی بات پر اسکی آنکھيں نم ہوئيں۔
"عدت مين ہے۔۔ ميں اسے ديکھ تو نہين پاتا مگر جب بھی جاتا ہوں۔ ہر تھوڑی دير بعد اسکے تڑپ تڑپ کر رونے کی آواز پورے گھر ميں گونجتی ہے۔۔" اسکی متحوش حالت کا بتاتے دو آنسو لڑھک کر اسکے گالوں سے پھسلے۔
"تو اسے فون کرليا کر" شہرام نے حل بتايا۔
"ميں فون پر بھی اسکا سامنا نہيں کرپاؤں گا" ايک مجرمانہ اعتراف کيا۔
"پاگل ہوگيا ہے۔۔ تو جانتا ہے نا۔۔ احتشام بھائ کے علاوہ وہ سب سے زيادہ تيرے قريب ہے۔ اسے تيری ضرورت ہے" سات سمندر پار بھی وہ ان دونوں کی حالت بہت اچھے سے جانتا تھا۔
"ميں نہيں کرپاؤں گا۔ ميں راتوں کو آجکل سو نہيں پاتا۔۔ شہری مجھے ايک گلٹ ديمک کی طرح کھا رہا ہے" ايک ہاتھ سے موبائل تھامے دوسرا ہاتھ بالوں ميں الجھاۓ وہ اس وقت ٹيرس پر مضطرب سا کھڑا تھا۔
"کون سا گلٹ؟" وہ چونکا۔
"ميں نے تو ہميشہ اسکی خوشيوں کی دعا کی تھی۔۔ کيا ميری نظر انہيں کھا گئ۔۔ شہری ميں نے تو يہ اعتراف تيرے سوا کسی سے نہيں کيا تھا۔۔ ميری محبت تو بے غرض تھی۔۔ مجھے بس اسکی خوشی عزيز تھی۔۔ تو جانتا ہے نا ميری محبت اسکے لئے عام سطحی محبت نہيں تھی۔ کبھی اسے اس نظر سے ديکھا ہی نہيں کہ وہ ايک لڑکی ہے۔۔ وہ بس ميری محبت تھی۔
جس کا ہنسنا رونا۔۔۔۔۔ شام بھائ کے نام پر شرمانا۔۔۔ انکی محبت ميں پاگل ہونا۔۔ مجھے تو اس سب سے بھی محبت تھی۔۔۔ دل کو يہ اطمينان بہت ہوتا تھا کہ وہ خوش ہے۔۔ پھر يہ سب کيا ہوگيا" وہ شدت جذبات سے روپڑا۔
ايک شہرام ہی تو تھا۔ جو اسے ايسا سمجھا تھا کہ وہ پرت در پرت اس پر کھلتا گيا۔
"تو پاگل ہے۔۔۔ ايسا کچھ نہيں ہے۔ تو فضول کی بات سوچ رہا ہے۔۔۔ تيری نظر۔۔ پاگل ہے تو۔۔ مجھ سے بڑھ کر تيری بے ريا محبت کا کون گواہ ہوگا۔۔ ايسا مت سوچ فراج۔۔" اسکی بات سن کر شہرام سواۓ افسوس کے اور کچھ نہ کرسکا۔ يہ کس نہج پر وہ سوچ رہا تھا۔
"پتہ نہيں۔۔ يار مجھے ايسا کيوں لگتا ہے" وہ بے بسی سے بولا۔
"ميں کچھ دنوں ميں پاکستان آرہا ہوں۔۔۔ آکر تيرا دماغ ٹھکانے لگاتا ہوں۔ تو بس ضماد کو اکيلا مت ہونے دينا۔۔۔ اس لمحے اسے تيری بہت ضرورت ہے" شہرام کی بات پر اپنے گال صاف کرکے وہ ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گيا۔
"نجوہ بہت غلط کررہی ہے اسکے ساتھ۔۔ مگر کہيں وہ بھی حق بجانب ہے۔۔ بس اسی لئے ميں روز يا تو ادھر چلا جاتا ہوں يا پھر ضماد کو اپنے پاس لے آتا ہوں۔۔ آج تو ممی بھی کہہ رہی تھيں۔ کہ جب تک تم نہ آؤ اس کا حال ايسا ہوتا ہے جيسے ميلے ميں بچہ گم ہوگيا ہو۔۔ احتشام کی جدائ نے تو اسے اکيلا کرہی ديا ہے۔ مگر نجوہ کی متوحش حالت نے اسے اور بھی تنہا کرديا ہے۔ ماں کے ہوتے وہ ماں کو ڈھونڈتا ہے" وہ کب کا غبار آج شہرام کے آگے نکال رہا تھا۔
"اسی لئے کہا ہے جيسے بھی ہو۔ تو روز اسکے پاس جا۔۔ اللہ بہتر کرے گا۔۔ اور زہرہ آنٹی سے بھی بات کر چھوڑ تاکہ اسکی عدت ختم ہوتے ہی سب مينٹلی اس سب کے لئے تيار ہوں۔ جو ہم سوچ چکے ہيں" شہرام نے جس جانب توجہ دلائ وہ تو اس بات کو بھلا بيٹھا تھا۔
"مجھے ڈر لگ رہا ہے شہری" وہ خو‌فزدہ لہجے ميں بولا۔
"تجھے ميں آکر ٹھيک کرتا ہوں۔ بس ايک دو دن اور صبر کر" وہ اس کے خوف پر زچ ہوا۔
"يہ بہت مشکل ہے" اس نے اپنا خوف ظاہر کيا۔
"تو مرد کا بچہ ہے کہ نہيں۔۔۔ اس بارے ميں کوئ بکواس نہ سنو۔۔ تو يہ کرے گا۔۔ اور تو ہی کرے گا" وہ اسے تنبيہی انداز ميں بولا۔
"چل تو ريسٹ کر۔۔ کل بات کرتے ہيں" وہ دامن بچا گيا۔
______________________
It’s been cold since the day you left
And I haven’t slept yet
I’m so tired and restless
Hard to move, I’m frozen
Like I’m stuck in slow motion
Or capsized in some far away ocean
I’m screaming for help, but my mouth won’t open
Only you can hear these pleas tonight
Standing still, afraid to rest
The icy chill across my chest
Anything changes, I might just miss
You coming back to this
So I’ll stay frozen, until your kiss
You knew what you were doing that night
Knew what to say to make me wanna fight
Stun me and run away was your plan
To leave me motionless, I’m frozen
آج دس دن بعد وہ اپنی وارڈ روب کے ساتھ والی احتشام کی وارڈ روب کھولے کھڑی تھی۔
"ہاں بس اب کہہ ديں۔۔ ميری تو چوائس ہی بکواس ہے۔۔ پہلے ميری دی شرٹ بری لگتی ہے پھر وہی جی جان سے پہنتے ہيں" آنکھوں ميں آنسو لئے وہ سامنے لٹکی براؤن لائننگ شرٹ پر ہاتھ پھير رہی تھی۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی تو انکی اينورسری گزری تھی۔ جس پر ہميشہ کی طرح وہ اسکے لئے ڈريس شرٹ لائ اور وہ سو سو نقص نکال رہا تھا۔
"يار مسئلہ يہ ہے مجھ سے کسی کا دل توڑا نہيں جاتا۔۔ بس تمہارا دل رکھنے کو پھر پہن ليتا ہوں" ناراض سی نجوہ کو خود سے لپٹاۓ وہ مزے سے بولا۔
"رہنے ديں دل رکھ رہے ہيں۔۔ آپ کو قدر ہی نہيں ميری" اسکا حصار توڑنے کی کوشش کرتی وہ اسے اور بھی پياری لگی۔
"تمہاری اتنی قدر ہے دل کرتا ہے دو چار اور تم جيسی لے آؤں" اسکی بات پر حسب توقع وہ چلائ۔
"خبردار ايسا سوچا بھی۔۔ قتل کردوں گی آپ کا" اپنے الفاظ ياد کرتے اسکی شرٹ کو تھامے وہ پھوٹ پھوٹ کر رودی۔
"دو چار کی جگہ آٹھ دس کرليں۔۔ شام ۔۔۔ مگر واپس آجائيں۔ ميں نہيں رہ پا رہی آپکے بنا۔۔
مجھے صبر نہيں آرہا۔۔ ہر گزرتا دن مجھے پہاڑ سا لگتا ہے" اسکے تخيل سے باتيں کرتی وہ کرلائ۔
شرٹ سے گزرتی نظر سامنے رکھی اسکی رسٹ واچ پر پڑی۔
"يار تمہاری چوائس دن بدن اچھی ہوتی جارہی ہے" شرارتی مسکراہٹ ہونٹوں ميں دبائے اسکی دی ہوئ گھڑی کو پہن کر بولا۔
"آپ بھی ميری چوائس تھے" وہ منہ بنا کر بولی۔
"آہ۔۔ آپکا يہ احسان تو ميں ساری زندگی نہيں بھولوں گا ملکہ عاليہ کہ آپ نے مجھے چنا تھا" اسکے حسرت سے کہنے پر وہ اپنی مسکراہٹ نہيں روک پائ۔
"مان ميرا احسان کے ميں نے ہاں کردی تھی" وہ گڑدن اکڑا کر بولی۔
"جی جی۔۔ مرتے دم تک يہ احسان مانوں گا" ايک بار پھر يادوں نے يلغار کی۔
"کيوں ہر بات ميں مرنے کی باتيں کرتے تھے" اسکی گھڑی تھامے وہ پھر سے روتے ہوۓ بے بسی سے بولی۔
"آپ نے اچھا نہيں کيا ميرے ساتھ۔۔ اکيلا کرگئے مجھے۔۔" گھڑی رکھ کر زور سے الماری کے پٹ بند کرکے انکے ساتھ پيشانی ٹکاۓ وہيں روتے روتے بيٹھتی چلی گئ۔
کيا کيا نہ تھا ياد کرنے کو۔۔ پل پل اسکی گھر ميں بسی مہک اسے رلاتی تھی۔
وہ صبر کرتی بھی تو کيسے۔
_________________________________
"ميرے خيال سے سادگی سے فراج اور اسوہ کا نکاح کرديا جاۓ" اسوہ کے والد ذيشان اس وقت زہرہ، شوکت اور شمع کے ساتھ لاؤنج ميں موجود تھے۔
"آخر احتشام کی شديد خواہش تھی يہ" اب کی بار مونا (اسوہ کی والدہ) نے بھی کہا۔
زہرہ نے اچٹتی نگاہ ان کے چہرے پر ڈالی۔ شمع اور شوکت تو ششدر انکی بات سن رہے تھے۔
ان کی بيٹی کس تکليف سے گزر رہی تھی انہيں احساس نہيں تھا اس بات کا۔
"ميرے خيال سے ابھی تو يہ سب بالکل بھی مناسب نہيں لگتا۔ ابھی دن ہی کتنے ہوۓ ہيں۔ کچھ وقت تو گزرنے ديتے" فرحان (احتشام کے والد) خشمگيں نگاہوں سے اپنے بھائ کو ديکھ کر بولے۔
ان پر غم کا پہاڑ ٹوٹا تھا اور انکے بھائ کو اپنی بيٹی کی فکر تھی۔
"ارے نہيں بھائ صاحب ہمارا يہ مقصد نہيں تھا۔" مونا بات سنبھالنے کی کوشش کرنے لگيں۔
"جو بھی مطلب تھا۔ بہرحال ابھی يہ سب ميرے گھر ميں ڈسکس نہيں ہوگا۔ ميری بہو دن رات تکليف ميں مبتلا ہے۔ اور يہاں ہم رشتوں کی بات لے کر بيٹھيں" وہ کڑک لہجے ميں بولے۔
"معذرت بھائ صاحب ميں تو سمجھا تھا کہ اپنا سمجھ کر آپ ميری بات سمجھيں گے۔ ليکن خير۔۔ ہماری بات آپ کو بری لگی ہے تو معذرت۔ احتشام ميرا بھی بيٹے جيسا تھا" ذيشان کا لہجہ بھی بدلا تھا۔
"بيٹا جيسا ہونے ۔۔ اور بيٹا ہونے ميں بہت فرق ہوتا ہے۔ بہتر ہے اس وقت تم دونوں اپنے گھر جاؤ" وہ کسی صورت اپنے بھائ کو اس وقت اپنے سامنے برداشت نہيں کر پا رہے تھے۔
زہرہ، شمع اور شوکت کو کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہيں پڑی۔
وہ دونوں مياں بيوی تن فن کرتے نکل گئے۔
"معذرت بھائ صاحب۔۔ اپنوں کے روپ ميں بھی چھپے غيروں کا غم کے وقت پتہ چلتا ہے" مغموم آواز ميں شوکت صاحب سے معذرت کرکے وہ اٹھ کھڑے ہوۓ۔
"ارے نہيں بھائ صاحب۔۔ آپ دل چھوٹا مت کريں۔ وہ شايد اپنے مسئلے کو اس مسئلے سے بڑا مسئلہ سمجھ کر ہم سے بات کررہے تھے۔ اس ميں آپ کا کيا قصور" اپنی جگہ سے يکدم کھڑے ہوتے شوکت صاحب نے انکے کندھے پر ہاتھ رکھ کے گويا انہيں تسلی
دلائ۔
-------------------------------
"نجوہ سے کہيں کل سے ضماد کو تيار کردے سکول کے لئے۔" رات ميں کھانے کے ٹيبل پر وہ ماں کو ياد کروانا نہيں بھولا تھا۔ کل سے وہ ان کے ہی گھر ميں شفٹ ہوچکی تھی۔
وہ گھر احتشام نے آفس کی وجہ سے ليا تھا۔ اب وہاں وہ اکيلی نہيں رہ سکتی تھی۔ تھا بھی کرائے پر۔ پندرہ دن ہو چکے تھے احتشام کو اس دنيا سے گئے ہوۓ۔ کچھ دن تو اسکی بڑی نند اسکے ساتھ ہی رہيں اور فرحان صاحب بھی۔
مگر اب انہيں بھی واپس اسلام آباد جانا تھا۔ فرحان صاحب نے بہت کہا کہ وہ انکے ساتھ چلے۔ ويسے بھی وہ اس گھر ميں اکيلے رہتے تھے۔ وہ گھر احتشام کے ہی نام تھا۔ مگر نجوہ ميں وہاں جانے کی ہمت نہيں تھی۔ وہ اس شہر سے ابھی نہيں جانا چاہتی تھی جہاں اسکے احتشام کی خوشبو تھی۔
سب نے مل کے فيصلہ کيا کہ فی الحال عدت تک وہ زہرہ کے گھر شفٹ ہوجاۓ۔
نجوہ کے پاس اسکے علاوہ اور کوئ آپشن بھی نہيں تھا۔ احتشام اتنا چھوڑ کر گيا تھا کہ اسے پيسے کی کوئ فکر نہيں تھی۔ وہ خود بھی کماتی تھی۔ مگر اب بينک سے ريزائن کرديا تھا۔
زہرہ نے اسکے لئے الگ سے گھر ميں ايک کمرہ سيٹ کرديا تھا۔
اس کا کھانا بھی وہيں بھجوا ديا تھا۔ فضيلہ بھی اسکے پاس اسکی دلجوئ کے لئے اسی کے کمرے ميں تھی۔
"کہتی ہوں۔" زہرہ نے بمشکل چند لقمے زہر مار کئے۔ جوان بھانجی کا دکھ ديکھا ہی نہيں جاتا تھا۔
"فراج وہ آج ضد کررہی تھی کہ احتشام کی قبر پر اسے لے جايا جائے" صبح سے اس نے ايک ہی رٹ لگا رکھی تھی۔ زہرہ کو اس وقت فراج سے بات کرنے کا موقع ملا تھا۔
"کيا کرے گی جاکر۔۔ پہلے کم اپنا حال برا کيا ہے" اس کا چاول سے بھرا چمچ منہ ميں لے جاتا ہاتھ پل بھر کو رکا تھا۔
"لے جاؤ کيا پتہ اسی بہانے کچھ صبر آجاۓ" ان کے لہجے ميں اسکے لئے شديد تکليف بول رہی تھی۔
"ايسے رشتوں کے لئے صبر کبھی نہيں آتا۔" چاولوں کو پليٹ ميں ادھر ادھر کرتے وہ کھوکھلے لہجے ميں بولا۔
احتشام نے ہميشہ اسے بھائيوں سے بڑھ کر چاہا تھا۔ اور جاتے جاتے بڑی بھاری ذمہ داری اس پر ڈال گيا تھا۔
اس کا درد اور بھی بڑھا۔
"آپ فی الحال اسے بہلائيں۔ ميں سارا دن گھر نہيں ہوتا۔ آپ اسے کمرے سے باہر نکاليں ايسے تو بيمار پڑ جاۓ گی۔ اس کی عدت کے باعث ميں ابھی اسکے پاس جا نہيں سکتا۔ ورنہ سنبھال ليتا اسے۔" زہرہ نے پل بھر کو کسی احساس کے تحت اس کا چہرہ ديکھا۔ نجانے کيوں ايک عجيب سا خيال ان کے ذہن ميں کوندا۔
"ابھی تو آئ ہے۔ کل صبح لے کر آؤں گی اسے باہر" ايک گہری نظر اسکے سنجيدہ چہرے کو ديکھتے برتن سميٹنے لگيں۔ وہ بھی کھانا ختم کرکے نيپکن سے منہ صاف کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔
_________________________
"تو نے ابھی تک کسی سے گھر ميں بات کيوں نہيں کی" شہرام اور وہ اس وقت پھر سے آمنے سامنے بيٹھے تھے۔ دو مہينے ہونے کو آئے تھے۔ شہرام بھی چھ مہينے کی چھٹی پر آيا ہوا تھا۔ بہن کی شادی تھی اور کچھ فراج کی وجہ سے اپنا پروگرام لمبا کيا تھا۔ فراج ان لمحوں کا دوست تھا جب اسے کسی بہت اپنے کی اشد ضرورت تھی۔ جب ايم ايس کے لئے وہ باہر گيا تب اسکی دوستی اپنے کلاس فيلو شہرام سے ہوئ۔
اس کے آنکھوں ميں چھپی محبت جو کسی کو کبھی نظر نہيں آسکی تھی نجانے اسے کيسے معلوم ہوگئ۔
آہستہ آہستہ وہ اس پر کھلتا چلاگيا۔ نجوہ کے لئے اپنی محبت کا اعتراف شايد اس نے خود سے بھی تب پہلی بار کيا تھا جب شہرام نے اسے پکڑا تھا۔
"محبت ميں مبتلا ہو۔" وہ دونوں اس وقت لندن آئ کے پاس بيٹھے آس پاس پھرتے لوگوں پر کمنٹس پاس کرکے ہنس رہے تھے جب ايک دم شہرام نے بات کا رخ ہی بدل ديا۔
"ہاں۔۔۔ تمہاری محبت ميں" يکدم سنجيدہ ہوتے اعتراف کرتے جملے کے آخر ميں بات ہنسی ميں اڑا گيا۔
"مبتلا ہو تو ہچکچا کس بات پر رہے ہو۔ اعتراف بھی ايسے کر رہے ہو جيسے جرم کررہے ہو" وہ اسے بخشنے کو تيار نہيں تھا۔
"تمہيں کيا دورہ پڑا ہے۔۔ کچھ نہيں ہے ايسا" سامنے ديکھتے اس سے نظريں چراتے بات پھر سے آئ گئ کرنے کی کوشش کی۔
"يہ جو تمہاری کھوکھلی ہنسی ہے نا۔۔ يہ محبت کا زخم کھا کر ہی نصيب ہوتی ہے" وہ اب بھی سنجيدہ تھا۔
"ايسا کچھ نہيں" اب کے بری طرح جھٹلايا۔۔ اس سے زيادہ شايد خود کو۔
"جرم ہے کيا محبت کرنا؟" پھر سے اسکے سوال پر اب کی بار اس نے لمبی سانس بھری۔ چوڑے سينے پر بازو باندھے۔
"نہين۔۔ مگر ميری محبت کسی کی سمجھ ميں نہيں آئے گی" استہزائيہ مسکراہٹ لبوں پر آ کر ٹہری۔
"جو محبت سمجھ آجاۓ۔۔ وہ محبت نہيں ہوتی" شہرام کی بات پر يکدم اسکی جانب ديکھا۔
"تو وہ کيا ہوتی ہے؟" سوال اٹھايا۔
"وقتی کشش۔۔۔ محبت تو جذبہ ہی ايسا ہے کہ جس کی کھوج ميں ساری زندگی گزار دو۔۔ اور ہر بار يہ ايک نيا باب کھولے خود کو پڑھنے پر اکساۓ۔۔ محبت ميں سب جان ليا تو مزہ ہی ختم ہوگيا" شہرام کی بات پر اب کے وہ چونکا
"کيا تم بھی چوٹ کھاۓ ہو؟" ايسی گہری باتيں تو اس مزے کو چکھے بغير انسان کر ہی نہيں سکتا۔
"ہاں۔۔ مگر تمہاری جيسی نہيں کی۔۔ شايد اسی لئے مطمئن نہيں" اسکی تکليف اسکے چہرے سے عياں ہوئ۔
"تم کيسے اتنے مطمئن ہو؟" خود ہی الجھ کر اس سے پوچھا۔
"کيونکہ ميری محبت ميں ملن کی آرزو نہيں۔۔ بس محبت کرتے جانے کی خواہش ہے۔۔ مجھے سے چھ سال بڑی ہے۔ اسی لئے لگتا ہے کہ جرم کيا ہے۔۔ مگر يہ ميں اور ميرا اللہ جانتا ہے کہ ايک بھی آلودہ نظر اسکے وجود پر نہيں ڈالی۔ وہ کسی کی امانت تھی اور امانت ميں ايک نظر کی خيانت نہيں کی۔ مگر اسکی محبت دل سے مٹا نہيں سکتا" اب کے پوری طرح اس پر کھلا۔ پھر شہرام کے بتانے پر نجوہ کے متعلق ہر بات بتاتا چلا گيا۔
"پہلی بار اس سے محبت کا احساس تب ہوا جب آئسکريم کھلانے اسے لے کر گيا اور پہلی بار احتشام بھائ سے ملا اسکے چہرے پر انہيں ديکھ کر کھلتے ہوۓ رنگوں کو ديکھ کر اندازہ ہوا محبت نے ان دونوں سے ہوتے مجھ تک بھی رسائ کی ہے۔ پھر اسے اسکی محبت سے ملانے کے لئے ايڑی چوٹی کا زور لگا ديا۔
جس دن وہ رخصت ہوئ۔ اس دن بہت اطمينان بھری نيند آئ کہ اسکی محبت ميں کہيں بھی خود غرض نہيں بنا۔
مجھے نہيں معلوم وہ کب کب خوبصورت لگتی ہے۔ مجھے نہيں معلوم اسکی آنکھوں کا رنگ کيا ہے مجھے اسکے کسی خدوخال کا علم ہی نہيں۔ بس يہ جانتا ہوں کہ وہ سراپا محبت ہے ميرے لئے۔
اسکی ايک مسکراہٹ کے لئے کچھ بھی تياگ دينے کو تيار ہوں۔ پتہ نہيں يہ محبت بھی ہے يا نہيں۔۔ بس اس جيسا کوئ نہيں نہ ہی کوئ ہو سکتی ہے" اسکی اس عجيب و غريب محبت کی داستان سن کر وہ ششدر رہ گيا۔
"تو جانتا ہے يہ محبت سے بھی آگے کے مرحلے ہوتے ہيں جس ميں وجود کی چاہ ختم ہو کر روح کی چاہ ہوتی ہے" شہرام کی بات پر وہ ہولے سے مسکرايا۔ بڑی جان ليوا مسکراہٹ تھی۔
"پتہ نہيں يار۔۔ بس اتنا جانتا ہوں کہ وہ بس وہ ہے۔۔ کوئ اور وہ جگہ نہيں لے سکتا" عجيب سا اقرار تھا۔
"شادی کرے گا کسی اور سے؟" اسکی بات پر اس نے بھنويں سکيڑ کر اسے ديکھا۔
"ہاں نا۔۔ کيوں نہيں۔۔ جب کوئ اچھی لڑکی ملی ضرور کروں گا" اسکی بات پر شہرام چکرايا۔
"پاگل لگ رہا ہے مجھے تو" اسے گھورا
"شکريہ اسی لئے کہا تھا مت پوچھ۔ مگر تجھے شوق تھا ميری داستان سننے کا" اس دن کے بعد سے شہرام اسکے اس راز کا ساتھی بن گيا۔
اور آج وہ اس سے اس ذمہ داری کو نبھانے کی بات کررہا تھا جس کی خواہش احتشام آخری وقتوں ميں کرگيا تھا۔
"شيری مجھے يہ سب سوچ کر ہی عجيب لگ رہا ہے۔ تو جانتا ہے ميں نے کبھی اسکے وجود کی خواہش نہيں۔ ميری محبت ميں پانا کہيں تھا ہی نہيں" وہ سر ہاتھوں پر گرائے الجھا ہوا تھا۔
"تو کيا کرے گا۔۔ اسے ساری عمر اکيلا چھوڑ دے گا" اسکی بات پر اس نے جھٹکے سے سر اٹھايا۔
"نہيں"
"تو کيا خود شادی رچا لے گا اور سوچ کيا تيری بيوی اسکی اور ضماد کی ذمہ داری تجھے اٹھانے دے گی۔" شہرام کی بات پر وہ خاموش رہا۔
"احتشام کی خواہش کا کوئ پاس نہيں تجھے" وہ اسے ہر ممکن طريقے سے آج قائل کرنا چاہتا تھا تاکہ اسکی عدت ختم ہونے تک تمام معاملات بخير و خوبی انجام پا جائيں۔
"مجھ ميں اتنا حوصلہ نہيں کہ يہ خواہش پوری کروں" وہ سچے دل سے بولا۔
"تو پھر اسے سسکتا ہوا ديکھتا رہ۔۔ تو جانتا ہے احتشام اور تيرے علاوہ اسے کوئ اور سنبھال ہی نہيں سکتا۔ کيا اسکی شادی کسی اور سے کروا کر تو يہ سمجھتا ہے کہ وہ اسے وہ محبت، احساس اور توجہ دے گا جو احتشام کے بعد تو اسے دے سکتا ہے۔۔ اپنی محبت کی اس فلاسفی کو اس وقت ايک طرف رکھ ۔۔ اور حقيقت کا سامنا کر" شہرام آج اسکی کھل کر کلاس لے رہا تھا۔
"ساری زندگی اسے دل ميں بسا سکتا ہے مگر اپنا نام نہيں دے سکتا۔۔ تيری محبت يہ سبق پڑھاتی ہے تجھے" شہرام کی بات پر خالی نظروں سے اسے ديکھا۔
"وہ کبھی نہيں مانے گی" ہاتھوں کی بند مٹھی ہونٹوں پر رکھتے نفی ميں سر ہلايا۔
"پہلے اپنے آپ کو منا لے۔ اسے منانے کے لئے بہت سے لوگ ہيں" شہرام نے اسکی بات ہوا ميں اڑائ۔
"تو تيار ہے کہ نہيں۔۔ ہاں يا ناں" وہ اسے آج کسی صورت بات منواۓ بغير اٹھنے نہيں دينا چاہتا تھا۔
"ضماد کا سوچ تيرے علاوہ کسی ميں اتنا جگرا نہيں کہ وہ نجوہ کے ساتھ اسے قبول کرے اور وہ اکيلی کيسے اسے سنبھالے گی" اسکی آنکھوں کے آگے ضماد کا معصوم چہرہ گھوما۔ احتشام کی ڈيتھ کے بعد سے وہ فراج کے ساتھ شديد اٹيچ ہو چکا تھا۔ ماں کی عدم توجيہی کو بھی فراج کی محبت ميں ڈھونڈتا تھا۔ اور اس نے بھی تو کوئ کسر نہيں اٹھائ تھی۔ حتی کہ آجکل تو وہ سوتا بھی اسکے ساتھ تھا۔ وہ کيسے کسی اور کو دے کر اسکی ناقدری کروا سکتا تھا۔ اسکی محبت کے وجود کا حصہ تھا وہ۔۔ فراج تو اسے قميتی متاع کی طرح سنبھالتا تھا۔
"ميں تيار ہوں" کچھ دير سوچ کر وہ پختہ ارادہ کرتا ہوا بولا۔
"اب ايک دو دن ميں آنٹی اور انکل سے بات کر ميں ويک اينڈ تک چکر لگا کر ان سے سب بات فائنل کرواتا ہوں" اس نے سچا دوست ہونے کا ثبوت ديا تھا۔ ہر پل اسکے ساتھ تھا۔
"ٹھيک ہے"
________________________
رات گئے وہ گھر آيا۔ اس وقت شدت سے کافی پينے کی طلب ہوئ۔ گھر ميں سب سوچکے تھے شايد کوئ نظر نہيں آرہا تھا۔ گھڑی پر وفت ديکھا تو رات کا ايک بجا ہوا تھا۔
قدم کچن کی جانب بڑھائے۔ مگر دروازے پر ہی ٹھٹھک گيا۔
سامنے ہی چولہے کے پاس کالے کپڑوں ميں سر پر دوپٹہ لپيٹے اسکی جانب سے رخ موڑے وہ نجوہ ہی کھڑی تھی۔ شايد چاۓ بنا رہی تھی۔ دروازے پر ہونے والے کھٹکے کی آواز سن کر پلٹی۔ پھر يکدم دوازے ميں فراج کو ايستادہ ديکھ کر رخ موڑ گئ۔
"کچھ چاہئيے" منہ دوسری جانب موڑے پوچھا۔
"کيسی ہيں" دو مہينے بعد وہ اسکے روبرو تھی۔ کچھ شہرام سے کی جانے والی گفتگو کا اثر تھا کہ اسے سامنے ديکھ کر قدم وہيں جم گئے تھے۔ حالانکہ وہ دو ماہ سے اسی کے گھر تھی مگر اسکی عدت کی وجہ سے وہ اسکے سامنے نہيں جاتا تھا۔
"ٹھيک ہوں۔۔ کچھ چاہئيے" سوال دہرايا۔
"کافی بناتی تھی۔ آپ چائے بنا ليں۔ ميں بعد ميں بنا لوں گا" اپنی بات کہہ کر قدم پيچھے موڑے ہی تھے کہ اسکے پکارنے پر رک گيا۔ مگر نظر اسکی جانب نہيں کی۔
"رکو ميں بنا ديتی ہوں لے جاؤ" سنجيدگی سے کہتی کپ ميں کافی بنانے لگی۔
"آپ کو زحمت ہوگی۔"لہجہ سرسری تھا
"بکواس نہيں کرو۔۔ کوئ زحمت نہيں ہوگی" وہ برا منا کر بولی۔ چند لمحے خاموشی رہی صرف کافی پھينٹنے کی آواز آرہی تھی۔
وہ وہيں سر جھکاۓ کھڑا رہا۔ تھوڑی دير بعد گرم دودھ ڈال کر مگ ٹيبل پر رکھا۔ فراج نے آہستہ سے آگے آکر سامنے موجود ٹيبل سے مگ اٹھايا۔
"تھينک يو" شکريہ کہہ کر مڑا جب پھر سے اس نے پکارا۔۔
"مم۔۔ ميں نے سنا تھا کہ جب تم ہاسپٹل پہنچے تو احتشام کچھ دير کے لئے ہوش ميں آئے تھے اور تمہيں اپنے پاس بلايا تھا۔ "نم آواز ميں بولی۔ شايد بہت دنوں بعد فراج نظر آيا تھا خودبخود اس سے دل کی باتيں کرنے کو دل کيا تھا۔ وہ تھا بھی تو دل کے اتنے قريب۔ ہر بات اس سے شئير کرتی تھی۔ اب دکھ بھی اس سے شئير کرنے کو دل مچلا تھا۔
"جی" رخ موڑے مختصر کہا۔ نجوہ نے رخ موڑ کر اسے ديکھا جو اسکی جانب پشت کئيے کھڑا تھا۔
"کيا کہا تھا انہوں نے فراج" لہجے ميں حسرت لئے بولی۔
"آپکی ذمہ داری مجھے سونپی تھی" اسکی بات پر آنسو قطار در قطار آنکھوں سے بہے۔
'اور۔۔۔ اور کيا کہا تھا" اٹکتے لہجے ميں پوچھا۔ اس نے گردن موڑی مگر رخ ابھی بھی نہيں موڑا۔
"کچھ خواہشيں کيں تھيں۔۔ جلد ہی آپ کو پتہ لگ جاۓ گا" کہہ کر مزيد اسکی بات سنے کچن سے نکلتا چلا گيا۔
وہ نم آنکھوں سے اسکی چوڑی پشت کو تب تک ديکھتی رہی جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہيں ہو گيا۔
_________________________
"ممی ميں آسکتا ہوں" اگلے دن رات ميں وہ ماں کے روبرو موجود تھا۔ شہباز بھی کمرے ميں موجود تھے۔ وہ کچھ دير پہلے ہی ضماد کو سلا کر آيا تھا۔
"ہاں بيٹا آجاؤ" انکی اجازت ملتے ہی وہ کمرے ميں داخل ہوا۔
وہ دونوں اس وقت بيڈ پر ہی بيٹھے تھے۔ وہ پاس پڑی ايک کرسی اٹھا کر بيڈ کے قريب کرتا ہوا اس پر بيٹھ گيا۔
ہاتھوں اک انگلياں آپس ميں الجھاۓ وہ زہرہ کو بھی الجھا ہوا لگا۔
"بيٹے کيا بات ہے؟" شہباز نے کتاب ايک جانب رکھ کر اسے غور سے ديکھا۔
"آپ سے ايک خواہش کا اظہار کرنا ہے۔ اميد کرتا ہون آپ دونوں ميرا ساتھ ديں گے" ان کی جانب ديکھنے سے گريز کرتے نگاہيں نيچی ہی رکھيں۔
"ہاں ہاں بيٹے کہو" انہوں نے اس کا حوصلہ بڑھايا۔ زہرہ بالکل خاموش اسے ديکھ رہی تھيں۔
"ميں چاہتا ہوں کہ نجوہ کی عدت ختم ہوتے ہی آپ لوگ خالہ اور خالو سے ميرے رشتے کی بات کريں" انکی بات پر وہ دونوں لمحہ بھر کے لئے الجھے۔
"ہاں بيٹے بس عدت ختم ہوتے ہی ہم اسوہ کے ساتھ آپ کا نکاح کرديں گے" اب کی بار بھی فراج نے جواب ديا۔
اس نے سر اٹھا کر باپ کو ديکھا۔
"ميں اسوہ سے نہيں نجوہ سے نکاح کی بات کررہا ہوں" اس کی اگلی بات پر وہ دونوں ششدر رہ گئے۔
"کيا کہہ رہے ہو" شہبار کے لہجے ميں تيکھا پن آيا۔
"يہ ميری ہی نہيں احتشام بھائ کی بھی خواہش تھی" اسکی بات پر وہ دونوں جہاں کے تہاں رہ گئے۔
"جس لمحے انہيں ڈيتھ سے پہلے ہوش آيا تھا اس لمحے انہوں نے مجھے اندر بلا کر اپنی يہی خواہش ظاہر کی تھی۔ ميرا نہيں خيال آپ دونوں کو اعتراض ہونا چاہئيے۔ جہاں تک عمروں کا فرق ہے ميرے لئے يہ معنی نہيں رکھتا ميرے لئے صرف نجوہ اور ضماد کی ذمہ داری نبھانا اہم ہے" زہرہ نے محبت سے اسے ديکھا۔ اس لمحے انہيں فراج اور بھی سمجھ دار اور ذمہ دار لگا۔
"بيٹے يہ فيصلے جذباتی طريقے سے نہيں کئے جاتے" شہباز اب بھی اسکے لہجے کی سچائ کو نہيں بھانپ سکے تھے
"يہ فيصلہ جذباتی ہے بھی نہيں۔۔۔ بہت سوچ سمجھ کر بات کررہا ہوں۔ آپ ايسا سوچ بھی کيسے سکتے ہيں کہ ميرے اس فيصلے کے پيچھے جذباتی پن پويشدہ ہے ڈيڈی مين نے آج تک کوئ فيصلہ جذباتی ہو کر نہيں کيا۔ آپ مجھے اچھے سے جانتے ہيں" اب کی بار اس نے باپ کی آنکھوں سے آنکھيں ملائيں۔
"زہرہ" وہ بس اتنا ہی کہہ سکے۔
"ميں ايک دو دن ميں آپا سے بات کروں گی۔ تم فکر نہ کرو۔ مگر نجوہ سے بات ہم اسکی عدت ختم ہونے پر کريں گے" انہوں نے پل ميں اپنا فيصلہ سنايا تھا۔ ماں تھيں کيسے نہ اسکے اندر کا حال جانتيں۔ وہ تو کب سے اسکے اندر کے حال سے واقف تھيں۔ مگر وہ بے خبر تھا۔ جب سے نجوہ کو گھر لائيں تھيں۔ نجانے کيوں يہی خواہش انکی بھی خواہش بن گئ تھی۔ مگر فراج سے کہا نہيں تھا کہ نجانے اس کا ردعمل کيا ہو۔ مگر اب وہ مطمئن تھيں۔
"تھينکس ماں" اپنی جگہ سے کھڑے ہو کر انکے قريب آکر انکی پيشانی چومی۔
"مجھے پتہ ہی نہيں چلا ميرا بيٹا اتنا بڑا ہوگيا" محبت سے اسکے چہرے پر ہاتھ پھيرا۔
"پوری طرح نبھاؤگے نا؟" کسی خدشے کے زير اثر پوچھا۔
"اپنی آخری سانس تک نبھاؤں گا" انکے سامنے بيٹھتے انہيں ساتھ لگاتے پوری طرح تسلی دی۔ شہباز نے بھی محبت سے دونوں کو ديکھا۔ اسکی اور نجوہ کی خوشيوں کی دل سے دعا کی۔
____________________________
کچھ ہی دنوں بعد زہرہ نے شمع اور شوکت کو فون کرکے اپنی خواہش کا اظہار کيا۔
"زہرہ ميری جان ميں تمہارے اس فيصلے کی دل سے قدر کرتی ہوں مگر مجھے سمجھ نہيں آرہی اس فيصلے پر کيا کہوں" وہ کشمکش ميں تھيں۔ شہباز اور زہرہ نے ويڈيو کال کی ہوئ تھی۔ يہ بات آمنے سامنے ہی ہو سکتی تھی۔ اور فی الحال ويڈيو کال سے بہتر آپشن نہيں تھی۔
"آپا وہ ميری جان ہے۔ يقين کريں ميں نے فراج پر کوئ دباؤ نہيں ڈالا۔ اس نے خود اس خواہش کا اظہار کيا ہے۔ اگر وہ نہ کرتا تو ميں اس سے اس بارے ميں بات کرتی۔ ميں چاہتی ہوں اسکی عدت پوری ہونے تک ہم سب اس بات کو فائنل کرليں" زہرہ کی بات پر شمع نے بے اختيار شوکت کو ديکھا۔
"ديکھو زہرہ۔۔ اس سب ميں نجوہ کی مرضی بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی کے ہم سب کی۔ بلکہ سب سے زيادہ اسی کی مرضی اہميت رکھتی ہے۔ وہ اگر نہ مانی تو ہم زبردستی تو نہيں کرسکتے" شوکت اسے اچھے سے جانتے تھے۔
"تو کيا ساری عمر وہ ايسے ہی رہے گی۔ ابھی اس کی عمر ہی کيا ہے" شمع نے انہيں يک لخت ٹوکا۔
"وہ اب بچی نہيں ہے شمع جس پر ہم زبردستی کريں" شوکت نے انہيں رسان سے سمجھانا چاہا۔
"مگر ايک بچے کی ماں ہے۔ اور اس وقت جس فيز سے گزر رہی ہے اسے اسکی مرضی پر نہيں چھوڑا جاسکتا۔وہ اپنے لئے اس وقت درست فيصلہ نہيں کرے گی"
"آپا صحيح کہہ رہی ہيں بھائ صاحب" شہباز نے شمع کی بات کی تائيد کی۔
"ابھی تو وہ سنبھل بھی نہيں پا رہی ہم کيسے ايک نئ پريشانی ميں اسے مبتلا کر ديں" وہ نجوہ کے غم کا بار اٹھا کر تھک سے گئے تھے۔
"اس کو اس غم سے ہی تو نکالنا ہے۔ وہ جس ياسيت کا شکار ہورہی ہے۔ اس سے اس کو بچانا ہے۔ آپ سمجھنے کی کوشش کريں۔ ہم يوں ہار جائيں گے تو اسے کيسے منا سکيں گے" زہرہ انہيں ہر طرح قائل کررہی تھيں۔
"ميں تو تم لوگوں کے ساتھ ہوں۔ عدت ختم ہوتے ہی اس سے بات کرتی ہوں۔ تم لوگوں نے اسوہ کے گھر والوں کو انکار بھجوا ديا ہے؟" کسی خدشے کے تحت شمع نے پوچھا۔
"جی آپا آج ہی فون کرکے ان سے معذرت کر لی تھی۔ جس طرح انہوں نے احتشام کی ڈيتھ کے ہفتے بعد ہی بے حسی سے نکاح کی بات کی تھی۔ ميرا دل تو اسی دن ان سے اٹھ گيا تھا" زہرہ شکايتی انداز ميں بوليں۔
"تو اور کيا۔ بھائ کا احساس نہيں کہ وہ کس غم سے گزر رہا ہے۔ اپنی پڑ گئ انہيں" شمع نے بھی دکھ سے کہا۔
"بس يہی وقت ہوتا ہے اپنوں اور پرائيوں کو پہچاننے کا۔ آپ احتشام کے والد سے بھی بات کرليجئے گا۔ آخر ان سے تعلق تو ہے نا" زہرہ کی بات ان دونوں مياں بيوی کو مناسب لگی۔
________________________
نجوہ کی عدت تک سوائے نجوہ کے سبھی کے درميان اس رشتے سے متعلق بات ہوچکی تھی۔ حتی کہ شمع اور شوکت نے فرحان صاحب سے بھی بات کرلی۔
"شوکت صاحب وہ پہلے بھی آپکی بيٹی تھی۔ اب بھی آپکی بيٹی ہے۔ ميں خوش قسمت ہوں کچھ وقت کے لئے ہی صحيح آپ نے اسے ہم سے منسوب کيا۔ آپ جو بھی فيصلہ کريں ہميں کوئ اعتراض نہيں ہے۔ فراج ہمارا ديکھا بھالا بچہ ہے۔ سچ مانيں تو مجھے اپنا احتشام ہی لگتا ہے۔ روز مجھے فون کرکے حال چال پوچھتا ہے۔ مجھے ايسا لگتا ہی نہيں کہ ميرا احتشام اس دنيا ميں نہيں" فراج کا ذکر کرتے انکی آواز نم ہوئ۔
"بے شک۔ مگر وہ ابھی بھی آپکی بيٹی ہے۔ ہميں خوشی ہوگی اگر اس نيک کام ميں آپ شريک ہو کر ہميں عزت بخشيں گے۔ احتشام کے جانے کا يہ ہرگز مقصد نہيں کہ ہمارا رشتہ ختم ہوچکا ہے۔" شوکت نے بڑے سبھاؤ سے انکی اہميت کا احساس دلايا۔
"آپ جيسے لوگوں سے رشتہ توڑا جا ہی نہيں سکتا۔ ميں ضرور اپنی بيٹی کو رخصت کرنے آؤں گا۔ اس کو منانے کا بھی کہيں گے تو بھی ميں حاضر ہوجاؤں گا۔ بس اللہ اسے خوش رکھے جہاں بھی رہے" آنکھوں کی نمی صاف کرتے انہيں کيا کیا نہ ياد آيا تھا۔ احتشام کی نجوہ کے لئے ديوانگی سے وہ بہت اچھی طرح واقف تھے۔
"بے حد شکريہ بھائ صاحب آپ نے ہمارا مان رکھ کر يقين کريں بہت بڑا احسان کيا ہے" شوکت صاحب حقيقت ميں انکے ممنون تھے۔
"پليز ايسے مت کريں۔" سلام دعا کے بعد انہوں نے فون رکھ ديا۔
يکدم وہ دن پوری جزئيات کے ساتھ سامنے آيا جب انہوں نے احتشام کی آنکھوں ميں نجوہ کے لئے محبت پڑھی تھی۔
"برخوردار آجکل بڑے مسکراتے ہوئے پائے جاتے ہيں" دونوں ناشتے کی ميز پر آمنے سامنے بيٹھے تھے جب موبائل پر کچھ ٹائپ کرتے مسکراتے ہوۓ احتشام کی گويا چوری پکڑی۔
"ہاں تو مسکراتے رہنا چاہئيے صحت اچھی رہتی ہے" وہ چونکے بغير مزے سے مسکراہٹ چھپا کر بولا۔
"يہ مسکراہٹ موبائل پکڑ کر ہی کيوں آتی ہے۔ چکر کيا ہے؟" آخر اسکے باپ تھے۔
"چکر ہی تو چل نہيں رہا" اب کی بار وہ کھل کر ہنسا۔
"او بے شرم۔۔۔ چکر وکر چلانا بھی نہيں۔ بتاؤ کون ہے ۔۔ آج ہی رشتہ لے کر جاتا ہوں" وہ سنجيدگی سے بولے۔
"ہولڈ آن ڈيڈي اتنی کيا جلدی ہے۔ لڑکی کو تو راضی ہونے ديں۔ يہ نہ ہو آپ رشتہ لينے پہنچے آگے سے جواب ملے۔" وہ حيرت سے ان کی تيزياں ديکھتے بولا۔
"ميرے اتنے پيارے بيٹے کو کوئ بے وقوف ہی انکار کرے گا" وہ فخر سے اسے ديکھ کر بولے۔
"چلو اب شروع ہوجاؤ کون ہے؟" اور پھر اس نے اسے ليکر يے تک نجوہ کے متعلق ايک ايک بات بتائ۔
"سنجيدہ ہو؟" ان کے سنجيدگی سے پوچھنے پر وہ بھی سنجيدہ ہوا۔
"ميں آپ کو ايسا لگتا ہوں جو فلرٹ کرتا ہے؟" وہ برا منا کر بولا۔
"نہيں۔۔ اسی لئے کہا ہے ايڈريس بتاؤ جلد ہی پہنچتا ہوں" اور پھر نجوہ کی جانب سے عنديہ ملتے انہوں نے دير نہيں لگائ تھی۔
سب ياد کرتے وہ بار بار آنکھوں کی نمی صاف کرنے لگے۔
________________________
يہ نجوہ کی عدت کے دو دن بعد کی بات تھی۔
"ميں کچھ کام سے کل اسلام آباد جارہا ہوں" رات کے کھانے پر سب کی موجودگی ميں اس نے بتايا۔ نجوہ اور ضماد بھی ڈائيننگ پر موجود تھے۔ عدت کے ان چند مہينوں ميں وہ سوکھ کر تنکا بن گئ تھی۔ ايسا لگتا تھا بس زندہ رہنے کے لئے کھا رہی ہے۔ وہ شوخی۔۔ شرارت سب مفقود تھا۔
نجوہ کو عدت ختم ہوتے ہی جتنا فراج کا انتظار تھا وہ اتنا ہی اس سے بھاگ رہا تھا۔
ايسا لگتا تھا کوئ اجنبی ہے۔ وہ تو اميد لگاۓ بيٹھی تھی کہ عدت ختم ہوتے ہی وہ اس کی دلجوئ کے لئے آئے گا۔ احتشام کی وہ سب باتيں جو وہ کسی سے نہيں کرسکی تھی۔ وہ اس سے شئير کرنے کی خواہاں تھی۔ مگر وہ تو بےگانہ بنا بيٹھا تھا اور اب اسلام آباد جارہا تھا۔
"کتنے دنوں کے لئے؟"زہرہ نے کل ہی نجوہ سے بات کرنی تھی اور وہ اپنی غير موجودگی کا عنديہ دے رہا تھا۔
"شايد دو تين دن لگ جائيں۔ کل ضماد کو چھٹی کروا دينا۔ پھر تو ويک اينڈ ہے۔ منڈے سے ميں پھر سے اپنے چيمپ کو لانے لے جانے کی ڈيوٹی کروں گا" سنجيدگی سے ماں کو بتاتے پھر مسکراتے ہوۓ ضماد کو ديکھا اس نے بھی پياری سی مسکراہٹ پاس کی۔
"ميرا گفٹ بھی لائيں گے؟" وہ مزے سے فرمائش کررہا تھا۔
"ضماد" نجوہ نے ٹوک کر اسے گھورا تھا۔
"ميرے اور ضماد کے بيچ آئندہ کوئ نہيں بولے گا" فراج کو اس کا ٹوکنا شديد کھلا تھا۔ نجوہ نے حيرت سے اسکے چہرے کی سختی ديکھی۔ اس نے کبھی نجوہ سے اس لہجے ميں بات نہيں کی تھی۔ تين دنوں سے وہ مسلسل اسے حيران کرنے پر تلا تھا۔
"جو ميری جان کہے گا وہ لاؤں گا۔ ميں کال کروں گا تب تک آپ سوچ لينا کيا منگوانا ہے" محبت سے اسے ديکھا۔
کھانے کے بعد جس وفت زہرہ اسے کمرے ميں دودھ دينے آئيں وہ پيکنگ ميں مصروف تھا۔
"ميں کل نجوہ سے بات کروں گی" وہ پتہ نہيں اسے مطلع کررہی تھيں۔ يا خود کو۔
"جی آپ نے کل بھی مجھے بتايا تھا" وہ مصروف سے انداز ميں بولا۔
"اسی لئے بھاگ رہے ہو؟" کھوجتی نظروں سے اسے ديکھا۔ شرٹ بيگ ميں رکھتے اس کے ہاتھ رکے۔ سر اٹھا کر ماں کو ديکھا۔ جو بيڈ کے دوسری جانب کھڑيں تھيں۔
"بھاگنا ہوتا تو يہ فيصلہ ہی نہيں ليتا۔ کچھ تو آفس کا کام ہے اور پھر ميں چاہتا ہوں ميری غير موجودگی ميں اچھی طرح سوچے۔۔ ميرا خيال ہے دو تين دن ميں کچھ تو اسکا آتش فشاں کم ہوگا۔ تاکہ ميں پھر آکر اپنے طريقے سے اسے مناؤں" اس کی بات انہيں مناسب لگی۔ شايد فراج کی غير موجودگی اس بات کے لئے بہتر تھی۔
_________________________
نيند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ وہ جانتا تھا آنے والے چند دن اسکی زندگی کے بہت مشکل ہونے والے ہيں۔ ايک بہت بڑے محاذ پر اسے لڑنا ہے۔
کمرے سے نکل کر وہ باہر لان ميں چلا آيا۔ نومبر کے موسم کی خنکی فضا ميں رچی بسی تھی۔ ايک گہرا سانس لے کر ماحول کی خاموشی ميں خود کو بھی گم کرنا چاہا۔ اپنے قريب ہوتی آہٹ سے چونکا۔
گردن موڑ کر ديکھا تو نجوہ اسکے قريب کھڑی تھی۔
"تمہيں کيا ہوگيا ہے؟" دو دن سے جو سوال گردش کررہا تھا آخر پوچھ ليا۔ وہ اس لمحے کچن ميں ہی تھی جب فراج کو لاؤنج سے نکل کر باہر جاتے ديکھا۔ کچھ سوچ کر اسکے پيچھے آئ۔
فراج نے ايک سرسری نظر اس پر ڈالی۔ بليو کلر کی شلوار قميض پر کالے رنگ کا دوپٹہ سر اور شانوں کو ڈھکے ہوۓ تھا۔
"کچھ بھی نہيں" گردن موڑ کر پھر سے سامنے پولز کو تکنے لگا۔
"ميرا دوست کہيں کھوگيا ہے" دو قدم آگے آتے اسکے شانے پر ہميشہ کی طرح سر رکھا۔ مگر پہلے اور اب ميں بہت فرق تھا۔ آج اسکے سر رکھنے پر فراج نے خود پر بڑا ضبط کيا۔
گہری سانس بھرتے اسے بازو سے تھام کر اپنے سامنے کيا۔
"کيوں ظلم کررہی ہيں خود پر۔۔۔ حال ديکھا ہے آپ نے اپنا۔۔۔۔۔ آپ سے جڑے ابھی بہت سے رشتے زندہ ہيں۔ اور آپ کو اس حال ميں ديکھ کر ہميں کتنی تکليف ہوتی ہے۔ اندازہ ہے آپ کو؟" اس وقت وہ اپنا ہر اضطراب، ہر سوچ پس پشت ڈال کر نجوہ کا دوست بن چکا تھا جس کی اسے شديد ضرورت تھی۔
اسکی محبت پر آنکھيں نم ہوئيں۔ اسکے کندھے پر سر رکھتے وہ بے آواز رونے لگی۔
"مجھے ايسا لگتا ہے ميری صرف سانسيں چل رہی ہيں۔۔۔ فراج ميں اب کہيں ہوں ہی نہيں۔ احتشام نے بہت برا کيا ہے ميرے ساتھ" فراج اسے حوصلہ دينے کے چکر ميں خود ايک امتحان سے گزر رہا تھا۔
"آپ يہ کيوں نہيں سوچتيں کہ اللہ کی اس ميں کوئ مصلحت ہوگی۔" وہ اسے کيا بتاتا۔۔ احتشام نے وعدہ لے کر اس پر بڑا ظلم کيا تھا۔
"کون سی مصلحت فراج۔۔ کيسی مصلحت۔۔ ميں کس تکليف ميں ہوئ کوئ انداز نہيں کرسکتا" اسکی بات پر وہ تڑپ کر پيچھے ہٹی۔
"پتہ نہيں انہيں کيا ہوگيا تھا۔۔ کچھ دنوں سے کہنے لگ گئے تھے 'نجوہ ميرے بغير بھی اپنے کام کيا کرو۔۔ کبھی ميرے بغير بھی رہنا پڑسکتا ہے'۔۔۔۔ دل چير جاتی تھيں انکی يہ باتيں۔۔ کيا انہيں معلوم ہو گيا تھا کہ وہ مجھے جدائ کی آگ ميں دھکيل کر جانے والے ہيں" کھوئ ہوئ وہ احتشام کی باتيں بتانے لگی۔ يہ سب اس نے کسی سے شئير نہيں کيا تھا۔ اسکی بات پر وہ لب بھينچ گيا۔
"ضماد کو ديکھيں يار۔۔ پليز اسکے لئے خود کو سنبھاليں۔۔ وہ اب آپ ميں احتشام بھائ کو بھی ڈھونڈتا ہے۔۔ اور ہاں آئندہ ميں جو کچھ بھی ضماد کے لئے کروں۔۔۔ وہ کچھ بھی مجھ سے فرمائش کرے۔۔ آپ نے اسے نہيں ٹوکنا۔۔ مجھے بہت برا لگا تھا آپ کا انداز" وہ صاف گوئ سے اسے بتا رہا تھا۔ اس کا ذہن بھی بٹانے ميں کامياب ہوگيا۔
"نہيں فراج اسے اب پتہ ہونا چاہئيے کہ اس کا باپ نہيں رہا۔ وہ يوں ہر کسی سے فرمائشيں نہيں کرسکتا" روانی ميں اپنی بات کہہ کر فراج کی اپنے بازو پر ہونے والی سخت گرفت سے اندازہ ہوا وہ اسے ہرٹ کرچکی ہے۔
"ہم ہر کسی ہيں اب۔۔۔ خاص طور پہ ميں۔۔ ميں کوئ ہوں آپکے اور ضماد کے لئے" وہ دکھ سے اسے ديکھ رہا تھا۔
"ميرا يہ مطلب نہيں تھا" وہ گھبرائ۔ اس نے ضبط کرتے ہوۓ اسکی بازو سے ہاتھ ہٹاۓ۔
"بہتر ہے کہ اپنی فضول سوچوں کو آئندہ الفاظ نہ ہی پہنايا کريں تو اچھا ہے۔ " وہ شديد برا منا چکا تھا۔
"اچھا سوری" اسکا بگڑتا موڈ ديکھ کر بولی۔
"آپکی سوری نہيں پرامس چاہئيے۔۔ ميں ضماد اور آپکے لئے کچھ بھی کروں۔۔ آپ آئندہ يہ غيروں والی باتيں نہيں کريں گی۔۔ نہيں تو اپنے دوست کو کھوديں گی" اس نے تنبيہہ کی۔
"اچھا بابا۔۔۔ نہيں کہوں گی۔۔ پاگل۔۔ چلو سو اب۔۔ صبح کب کی فلائيٹ ہے؟" اس کی بات مانتے ہی بنی۔
"نو بجے" اسکے ساتھ ہمقدم ہوتے اندر کی جانب بڑھا۔
"پيکنگ کرلی؟"
"جی۔" لاؤنج کا دروازہ بند کيا۔
"چلو پھر اچھی سی نيند لو۔۔ اور زيادہ دن مت لگانا۔ ميں اور ضماد تمہارے بغير بہت اکيلا محسوس کريں گے" وہ صاف گوئ سے بولی۔
"جب کہيں گی آجاؤں گا" ہلکی سی مسکراہٹ اس پر اچھالتے گڈنائيٹ کہتے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گيا وہ بھی ہولے سے مسکراتے اپنے اور ضماد کے کمرے کی جانب بڑھ گئ۔
______________________________
"مصروف تو نہيں ہو" وہ ضماد کی بکس چیک کررہی تھی جب زہرہ اسکے کمرے ميں آئيں۔
"نہيں خالہ۔۔ آجائيں" زہرہ کو دروازے ميں ايستادہ ديکھ کر وہ نفی ميں سرہلاتے انہيں اندر آنے کا اشارہ کرکے بکس ايک جانب رکھ گئ۔
"ديکھو بيٹے۔۔ ابھی تمہاری کوئ عمر نہيں ہے۔ ضماد بھی چھوٹا ہے۔ يوں اکيلے ساری زندگی نہيں گزرتی۔۔ ہم سب آج ہيں تو کل نہيں۔۔ ساری زندگی تمہارے ساتھ کوئ نہيں رہ سکتا" اسکے قريب بيڈ پر بيٹھتے اسکے الجھے بکھرے بالوں کو سميٹ کر محبت سے بوليں۔
وہ ناسمجھی سے انہيں ديکھنے لگی۔ وہ جو کہنا چاہ رہيں تھيں۔ وہ سمجھ کر بھی سمجھنا نہيں چاہ رہی تھی۔
"کيا کہنا چاہ رہی ہيں خالہ کھل کر کہيں" وہ الجھ رہی تھی۔
"ميری جان ہم سب نے ايک فيصلہ کيا ہے۔ اور اميد کرتے ہيں تم ہمارے فيصلے کا پاس رکھو گی" زہرہ کی بات پر اس کا دل پريشان ہو اٹھا۔ وہ اب ايسا سوچنا بھی نہيں چاہتی تھی۔
"ہم تمہاری عدت کا انتظار کررہے تھے۔ اب خير سے تم فارغ ہوگئ ہو۔ تو ميری جان ہم چاہتے ہيں تم پھر سے اپنا گھر بساؤ" اب کے زہرہ نے واقعی کھل کر بات کی۔
"کیا کہہ رہی ہيں آپ" انکی بات پر وہ بے يقينی سے انہيں ديکھنے لگی۔
"ميری شادی ہو چکی ہے۔۔ اور احتشام کے بعد ميں مر تو سکتی ہوں مگر يہ سب نہيں کرسکتی۔۔ خالہ پليز يہ نہ کہيں" آنسو آنکھوں ميں جمع ہونے لگے۔
"ميرے بچے ميں جانتی ہوں يہ آسان نہيں۔۔ بہت مشکل ہے تمہارے لئے۔ مگر خود سوچ اکيلے کيسے ضماد کو سنبھالو گی" وہ بے بسی سے اسکے آنسو صاف کرتے ہوئے بوليں۔
"کيوں کيوں نہيں کرسکتی۔۔ بس ميں اور ضماد ايک دوسرے کے لئے کافی ہيں۔ ہميں کسی کی ضرورت نہيں" وہ نفی ميں مسلسل سر ہلا رہی تھی۔
"ضرورت ہے۔۔۔ تمہيں بھی اور ضماد کو بھی۔ دونوں کو۔۔" وہ اپنی بات پر زور دے کر بوليں۔
"ہم تمہيں يوں اپنے ساتھ بے وقوفی نہيں کرنے ديں گے" وہ اس ڈپٹ کر بوليں۔
"مت کريں خالہ۔۔ ميں کسی اور کے بارے ميں ايسا سوچ بھی نہيں سکتی۔۔ " انکے ہاتھ تھامے وہ بے بسی سے روپڑی۔
"ميری جان وہ تمہيں کبھی فورس نہيں کرے گا۔۔ وہ جانتا ہے تمہارے لئے احتشام کيا مقام رکھتا ہے۔ وہ ہميشہ تمہيں احتشام سے ايسی ہی محبت کرنے دے گا۔ بس وہ تمہيں اپنا نام دينا چاہتا ہے۔ تحفظ دينا چاہتا ہے" زہرہ کی ان کہی بات پر اس کا دل شدت سے دھڑکا۔ رونا بھول کر وہ متوحش نظروں سے انہيں ديکھنے لگی۔
"کک۔۔ کون۔۔ کس کی بات کررہی ہيں" اسکے سوال پر انہوں نے لمحہ بھر کو سانس بھرا۔
"فراج۔۔۔ ميں تمہيں اپنی بہو بنا کر ہميشہ کے لئے يہيں رکھنا چاہتی ہوں" محبت سے اسکے ہاتھوں سے ہاتھ نکال کر اس کا چہرہ انہی ہاتھوں ميں تھام کر ماتھے پہ بوسہ ديتے اسے بتايا۔
"کيا کہہ رہی ہيں آپ" وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے انکی بات سن کر سن ہوئ۔
"فراج تم سے شادی کرنا چاہتا ہے اور ہم سب بھی يہی چاہتے ہيں۔۔ " اب کی بار انہوں نے تفصيل سے بتايا۔
"پاگل ہے وہ۔۔ اور۔۔ اور آپ سب۔۔ کيوں اسکا ساتھ دے رہے ہيں۔۔ دماغ خراب ہے اس کا" ان کے ہاتھ اپنے چہرے سے جھٹکتے وہ چلائ۔
"نہيں ميرا بچہ۔۔ وہ پورے دل سے يہ فيصلہ کر چکا ہے اور ہم سب بھی۔ بس تمہاری عدت ختم ہونے کے منتظر تھے۔ تاکہ آرام سے تم سے بات کرسکيں۔ بيٹے اکيلے اتنی لمبی زندگی نہيں گزر سکتی۔ تمہيں ايک ساتھی کی ضرورت ہے اور ضماد کو باپ کی۔ فراج سے بہتر کوئ اور نہيں ہے۔۔ وہ تمہيں کبھی احتشام کو ياد کرنے سے نہيں روکے گا۔ وہ ہر بات جانتا ہے۔۔ ہر ايک چيز سے واقف ہے۔ اور پوری چاہت سے تمہيں اپنا رہا ہے۔ ميں اس وقت فراج کی ماں نہيں۔ تمہاری ماں بن کر بات کررہی ہوں تم سے" وہ اسکی غير ہوتی حالت ديکھ کر پريشان ہورہی تھيں۔
"خالہ کيوں کررہے ہيں يہ ظلم آپ سب۔۔۔ اول تو ميں کبھی اب شادی نہيں کروں گی۔ دوسرا وہ چھوٹا ہے مجھ سے۔۔ کيا ہوگيا ہے آپ سب کو" وہ شديد اذيت سے گزررہی تھی۔
"ميری طرف سے صاف انکار ہے۔۔ پليز آئندہ يہ بات مت کیجئے گا" وہ چہرہ ہاتھوں ميں تھام کر کرلانے لگی۔
زہرہ جانتی تھيں۔ بلکہ سبھی جانتے تھے وہ اتنی جلدی آمادہ نہيں ہوگی۔
"يہ بات تم بھول جاؤ کے تم سے اب کوئ اس سلسلے ميں بات نہيں کرے گا۔ ہم سب کے علاوہ شوکت بھائ ، آپا سب گھر والے راضی ہيں۔ تم بھی اچھی طرح سوچو" اسے اس کے حال پر چھوڑ کر اور بہت کچھ باور کروا کر وہ کمرے سے جاچکی تھيں۔ ان کے حتمی انداز کو ديکھ کر اس کا غصے سے برا حال ہوگيا۔ رونا دھونا چھوڑ کر
ادھر ادھر تيزی سے موبائل ڈھونڈا۔۔ 'تو يہ وجہ تھی تمہارے رويے کی'۔۔ اسے فراج کا اسلام آباد جانے سے پہلے والا رويہ ياد آيا۔
"ابھی دماغ سيدھا کرتی ہوں ميں تمہارا۔۔" غصے سے بڑبڑاتے اس کا نمبر موبائل ميں ڈھونڈا۔۔ ساتھ ہی کال ملا کر فون کان سے لگايا۔
____________________________
کچھ دير پہلے ہی اسے زہرہ کا ميسج ملا تھا کہ وہ نجوہ سے بات کرچکی ہيں اور وہ شديد غصے ميں ہے۔
وہ اس وقت اپنے ہوٹل کے روم ميں موجود تھا۔ اضطراب کے عالم ميں بالوں ميں ہاتھ پھيرتا گلاس وال کے سامنے آکھڑا ہوا۔ سامنے ہی اونچے لمبے پہاڑ موجود تھے۔
اسکی سوچوں کا ارتکاز موبائل کی آواز سے ٹوٹا۔
ہاتھ ميں موجود موبائل سيدھا کيا۔ 'نجوہ کالنگ' ديکھ کر گہرا سانس ہوا کے سپرد کرتے کال يس کی۔
"ابھی اسی وقت تم واپس آؤ۔۔ دماغ سيدھا کرتی ہوں ميں تمہارا" فون سے اسکی چنگھاڑتی آواز پر اس نے لمحہ بھر کو آنکھيں بند کيں۔
"اتوار کو آؤں گا۔ تب تک اچھے سے سوچيں" اپنے غصے کے برخلاف اس کا پرسکون انداز اسے آگ لگا گيا۔
"شرم نہيں آتی تمہيں۔۔ تم۔۔ تم دوست ہو ميرے فراج کيا ہوگيا ہے تمہيں" وہ صدمے سے بولی۔
"شادی کی خواہش کرنا بے شرمی ہے؟" وہ الٹا اس سے سوال کررہا تھا۔
"تم۔۔ تمہاری شادی اسوہ سے ہونی ہے" وہ اسے ياد کروانے لگی۔
"وہ چيپٹر کلوز ہوچکا ہے۔" اس کا ٹہرا ہوا لہجہ نجوہ کو پھر سے اجنبی لگا۔
"احتشام بھائ کہتے تھے تمہيں۔۔ انکی بيوی کے لئے ايسی سوچ رکھی تھی تم نے" اب اس نے جذباتی بليک ميلنگ کی۔
"نہيں۔۔۔ مگر اب ايسا سوچا ہے اور اب ايسا سوچنے ميں حرج نہيں" وہ کسی طور اسکے غصے سے قابو نہيں آرہا تھا۔
"تم واپس آؤ۔۔ بس تمہارے سر سے يہ بھوت اتارتی ہوں ميں" وہ اشتعال دباتے دباتے بھی چٹخ کر بولی۔
فراج نے گھڑی پر ٹائم ديکھا۔
"تم آرہے ہو يا نہيں۔۔ نہيں تو ميں خود کو کچھ کرلوں گی" اسکی دھمکی پر فراج نے لب بھينچے۔
"ميں رات تک پہنچ جاؤں گا" اسکی دھمکی رائيگاں نہيں گئ تھی۔ آنے کا سنتے ہی اس نے فورا کال کاٹی۔ فراج موبائل سامنے کئے چند پل ساکت ہی رہا۔ ہمت مجتمع کرتے اپنا سامان سميٹنے لگا۔ ساتھ ساتھ سيٹ بک کروائ
I forgot
That I've been through This before
Yet with each time
I learn more
That love doesn't grow on trees
Like somethin you pick for free
No but love is a precious pearl
That costs you everything
And it's worth so much more
Just a treasure you receive
But it's worth is yours to leave
No but love is a choice you make
To give rather than take
No love is a field with gold
Worth selling
Everything
And it's worth dying for
_________________________
آدھے گھنٹے بعد نجوہ کے موبائل کی اسکرين پر فراج کا ميسج جگمگايا۔
ميسج کھولا تو واپسی کی ٹکٹ کی تصوير تھی۔
"ہونہہ" اس نے نخوت سے موبائل بند کرکے رکھا۔
اسی لمحے شمع کی کال آئ۔
"کيسی ہيں ماں" آنسوؤں ميں گھلا لہجہ انہيں تڑپا گيا۔
"ميں ٹھيک ہوں ميری جان۔۔ تم سناؤ" ممتا کی تکليف اور محبت دونوں کی آميزش اس لمحے اسے بھرپور طريقے سے انکی آواز سے محسوس ہوئ۔
"مجھے يہاں نہيں رہنا ميں کچھ دنوں ميں ضماد کا ٹرانسفر ليٹر بنواتی ہوں اور ميں آپکے پاس آرہی ہوں" انہيں کچھ بھی کہنے کا موقع دئيے بغير وہ اپنا فيصلہ سنا رہی تھی۔
"زہرہ نے تم سے کوئ بات کی ہے؟" اسکی بات کا جواب دينے کی بجاۓ وہ وہی موضوع چھيڑ بيٹھيں تھيں جس سے وہ جان چھڑانا چاہ رہی تھی۔
"اماں پليز اب آپ مت شروع ہو جانا۔۔ ميں کسی کے بھی کسی بے وقوف فيصلے کی بھينٹ نہيں چڑھنا چاہتی" وہ پہلے ہی غصے ميں بھری بيٹھی تھی۔
"بيٹے۔۔ بيٹے۔۔۔ بات نہ تو غلط ہے اور نہ معيوب۔۔" انہوں نے اسے شانت کرنا چاہا
"پليز اماں آپ کسی کی بے جا حمايت نہيں کريں گی۔ احتشام اگر ميری ذمہ داری اس پر ڈال کر گئے ہين تو اس کا مطلب يہ نہيں کہ ميں اسکے ساتھی شادی رچا کر بيٹھ جاؤں۔۔ انکے کہنے کا اس نے اتنا غلط مطلب ليا ہے۔۔ سوچ کر ہی ميرا شرم سے ڈوب مرنے کو دل کررہا ہے" وہ اپنی عقل کے مطابق اس بات کا مطلب نکال چکی تھی۔
"ايسا نہيں ہے نجوہ۔۔ تم ہماری بات کو تو سمجھو۔۔"
"پليز آپ لوگ مجھے سمجھيں۔۔ آپ لوگوں نے ايسا سوچا بھی کيسے۔۔۔ مجھے تو آپ اور ابا پہ حيرت ہے۔۔ آپ لوگوں کے لئے ميں اتنا بوجھ بن گئ ہوں کہ فٹا فٹ سر سے اتارنے کے در پہ ہيں" بات کرتے کرتے اس کا لہجہ رندھا۔
"ايسا نہيں ہے نجوہ۔۔ مگر بيوہ کو بھی شادی کی اسلام نے پوری اجازت دی ہے۔ تم يہ کيوں نہيں سمجھ رہی" وہ زچ ہو کر بولين۔
"ہاں بالکل اجازت دی ہے مگر اپنے سے چھ سال چھوٹے اور بھائيوں جيسے کزن سے شادی کی نہيں۔۔ اسے ہميشہ چھوٹوں کی طرح ٹريٹ کيا۔۔ اور اب اسے شوہر۔۔ اف اماں ميری تو سوچ تک يہ قبول کرنے کو تيار نہيں۔۔ اور ويسے بھی ميرے لئے ضماد ہی بہت ہے۔۔ مجھے کسی مرد کی ضرورت نہيں۔۔ آپ اور ابا مجھے بتا ديں۔ اگر بوجھ لگ رہی ہوں تو ميں کہيں اور چلی جاؤں گی۔ مگر يہ طے ہے کہ ميں يہ حماقت کبھی نہيں کروں گی۔ ابھی تو احتشام کا غم نہيں جارہا ۔۔ ميں تو ابھی اس تکليف سے سنبھل نہيں پار رہی۔ آپ لوگ اتنے بے حس کيسے ہوسکتے ہيں" وہ افسوس سے بولی۔
"بيٹے ہم بے حس نہيں ہيں۔۔ دن رات کس قدر تمہاری تکليف ميں گھل رہے ہيں تمہيں کيا اندازہ۔۔۔ خود ماں ہو۔۔ سوچو اولاد کی تکليف پر کيسے کليجہ منہ کو آتا ہے۔ تم بھی ہماری اولاد ہو۔۔ تمہاری تکليف سے تمہارے ابا کی صحت پر کتنا اثر آيا ہے۔ اندازہ ہے تمہيں۔۔ ماں باپ کبھی اولاد کے لئے بے حس نہيں ہوسکتے ميری جان۔۔ ہم تمہيں خوش اور شاد آباد ديکھنا چاہتے ہيں" وہ اسے بہت سا احساس دلاگئيں مگر وہ کچھ بھی سمجھنے اور محسوس کرنے سے قاصر تھی۔
"کيا ميری خوشی صرف شادی ميں ہی پوشيدہ ہے۔۔ جب ميں کہہ رہی ہوں کہ ميں ايسے ہی ٹھيک ہوں تو آپ لوگوں کو يہ بات کيوں نيں سمجھ آرہی" آنسو گالوں پر سے پھسلتے جارہے تھے۔
"تم حقيقت کا سامنا کيوں نہيں کررہی۔ ہم کتنے دن تمہارے اور ضماد کے ساتھ ہيں۔ بھائ کوئ ہے نہيں تمہارا ۔۔ ہوتا بھی تو ہر کوئ اپنی زندگی جيتا ہے۔ کسی کا بار کوئ بھی ساری زندگی نہيں اٹھا سکتا۔ پھر کيا کروگی تم۔ آج کو تم فراج سے شادی نہيں کرتی تو زہرہ آخر اپنی بہو لائے گی نا۔ وہ کتنی دير تمہيں برداشت کرے گی۔ ان سب باتوں کو بھی پوری طرح سوچو۔۔ ميں مانتی ہوں تمہارے لئے احتشام کو بھلانا مشکل ہے۔
تمہيں کوئ اسے بھلانے کے لئے بھی نہيں کہہ رہا۔ زہرہ۔ فراج يہ سب تمہارا ہر طرح ساتھ دينے کو تيار ہيں۔ مگر ہر کوئ ايسا نہيں ہوگا۔ او رميں صاف بتا رہی ہوں۔۔ تم اگر آج انکار کرتی ہو تب بھی ميں تمہاری شادی کہيں نہ کہيں کروں گی۔ ميں ہر گز ہر گز تمہيں يوں اکيلے نہين رہنے دوں گی" بہت سے پہلو سمجھاتے آخر شمع نے اسے سختی سے کہا۔
"تو ٹھيک ہے ميں ضماد کو لے کر کہيں چلی جاؤن گی" وہ بھی دھمکيوں پر اتری۔
"ہاں چلی جانا مگر پہلے ہميں مار دينا" دونوں جب اب بات چيت غصے کا رخ اختيار کرچکی تھی۔
"اماں" وہ دبا دبا احتجاج بلند کرگئ۔
"مر گئ اماں۔۔ فاتح پڑھ لو" شمع نے غصے سے فون بند کيا۔
نجوہ سر پکڑ کر بيٹھ گئ۔ فراج پر غصہ مزيد بڑھ گيا۔
__________________________-
وہ وعدے کے مطابق رات گيارہ بجے گھر پہنچ چکا تھا۔
زہرہ اور نجوہ جاگ رہيں تھيں۔ مگر زہرہ لاؤنج ميں بيٹھيں تھيں اور نجوہ اپنے کمرے ميں۔
شام سے ہونے والی بات چيت اور نجوہ کی حالت ديکھتے ہوۓ۔ فضيلہ نے شام سے ضماد کو نجوہ کے پاس نہيں بھيجا تھا۔ سارا وقت اسے اپنے ساتھ کھيل اور باتوں ميں لگا کر اس وقت اپنے کمرے ميں لئے سوچکی تھی۔
زہرہ نے ہی اسے ضماد کو اپنے ساتھ رکھنے کا کہا تھا۔ وہ جانتی تھيں کہ نجوہ اس وقت شديد ڈپريس ہے اور تنہائ کی خواہش مند بھی۔
جس وقت رات کے کھانے پر بھی نجوہ کمرے سے باہر نہيں آئ تب زہرہ نے شہباز کو بھی ساری بات بتا دی۔ انہوں نے بھی اسے ڈسٹرب کرنے سے منع کيا۔ اب جو بھی کرنا تھا انہيں فراج کی واپسی کے بعد کرنا تھا۔ فراج فون کرکے اپنی واپسی کے بارے ميں بتا چکا تھا۔
اور يہ اندازہ تو سب کوہی تھا کہ نجوہ کی اس حالت کے بعد يقينا فراج کی واپسی آج يا کل مين ہوجاۓ گی۔
اپنا ہينڈ کيری لئے وہ لاؤنج ميں داخل ہوا۔
"کيسے ہو۔۔ کھانا کھاؤ گے" اسے اندر آتے ديکھ کر زہرہ صوفے سے اٹھ کر اسکی جانب بڑھيں۔ ہميشہ کی طرح پيشانی پر پيار کرکے بالوں کو سنوارتے محبت سے پوچھا۔
"نہيں ماں کھانے کا موڈ نہيں۔۔ آپکی بہو ٹو بی جاگ رہی ہے؟" سہولت سے انہيں منع کرتے آخر مين شرارت سے پوچھا۔
"جی اور شديد غصے ميں ہے۔ اس نے بھی کھانا نہيں کھايا۔ يقينا تمہارا ہی انتظار کررہی ہے۔" وہ آنے سے پہلے زہرہ کو اپنی واپسی کی وجہ بتا چکا تھا۔
"چليں پھر اکٹھے ہی کھانا کھائيں گے۔ آپ اب سوجائيں۔ ميں ذرا حاضری دے آؤں" زہرہ کو محبت سے ساتھ لگا کر پيار کرتے اوپر کی جانب بڑھا جہاں اس کا، نجوہ اور فضيلہ کا کمرہ تھا۔
"وش ميں بيسٹ آف لک" سيڑھياں چڑھتے اپنے کمرے کی جانب جاتی زہرہ کو پکار کر کہا۔ انہوں نے بھی مسکراتے ہوئ وکٹری کا نشان بنايا۔
اپنے کمرے ميں ہينڈکيری رکھنے کے بعد وہ نجوہ کے کمرے کی جانب بڑھا۔
ہاتھ بڑھا کر دستک دی۔
"کم ان" کی آواز پر ہينڈل پر ہاتھ رکھ کر گھمايا۔
____________________
وہ کافی دير سے ادھر ادھر ٹہل کر اسکا انتظار کررہی تھی۔
باہر ہونے والی ہلچل سے محسوس ہوا کہ شايد وہ آگيا ہے۔
کچھ دير بغد اسکے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئ۔ کڑے تيوروں سے دروازے کو ديکھ کر "کم ان" کہا۔ چند لمحوں بعد دروازہ کھول کر وہ اسکے روبرو تھا۔
"السلام عليکم" اپنے پيچھے دروازہ آہستہ سے بند کيا۔ نجوہ نے ايک نظر اسکے وجيہہ سراپے پر ڈالی۔ دل نے آج کسی اور انداز ميں اسے ديکھا۔ مگر فورا دل کی آواز کا گلا گھونٹ کر خشمگيں نگاہوں سے اسے ديکھتے بادل نخواستہ سلام کا جواب ديا۔
پينٹ کی پاکٹس ميں ہاتھ ڈالے اس نے ايک سرسری نظر نجوہ کے غصيلے چہرے پر ڈالی۔
"کيوں بے وقوفی کررہے ہو؟" کسی قدر بے چارگی سے سوال کيا۔ وہ اسے کتنا عزيز تھا کاش وہ جان جانتا مگر اس لحاظ سے ہر گز نہيں جو وہ سوچے بيٹھا تھا۔
"کبھی آپ مجھے کہتی ہيں شرم کرو۔۔ کبھی بے وقوفی کے طعنے ديتی ہيں۔ شادی اگر ايسا ہی برا کام تھا تو پھر آپ نے يہ بے شرمی اور بے وقوفی کيوں کی تھی" اپنی گہری بولتی نظريں اس پر ڈالے وہ اسکے غصے کو کسی خاطر ميں نہيں لا رہا تھا۔
اسکے جواب پر نجوہ نے دانت کچکچاۓ۔
"تو اسی دن کا انتظار کررہے تھے۔۔" اب وہ اسے غيرت دلانے کی کوشش کررہی تھی۔
"نہيں يہ دن شايد ميرے اس فيصلے کا منتظر تھا" اسکی حاضر جوابی اور معاملہ فہمی کو نجوہ سے بہتر کون جانتا تھا۔ مگر يہی دو خوبياں آج اسکے خلاف جارہی تھيں۔
"فراج ۔۔ تم۔۔ تم کيوں نہيں سمجھ رہے۔۔ يہ سب پاگل پن ہے۔۔ تم ميرے لئے کيا ہو کيا تم جانتے نہيں۔۔ ميں مر کر بھی تمہارے بارے ميں ايسا نہيں سوچ سکتی" آنکھوں ميں آنسو لئے وہ صوفے پر بيٹھ کر سر ہاتھوں ميں گرا گئ۔
"ہم جب بھی کسی سے شادی کرتے ہيں۔ يا قسمت ہميں اس شخص کے قريب لے جاتی ہے اس سے پہلے تک ہم ميں سے کوئ بھی کسی کے بارے ميں ايسا نہيں سوچتا۔ کيا کبھی کسی کو ديکھا ہے کہ وہ بچپن سے ہی يہ فيصلہ کرچکے کہ اسے کس سے شادی کرنی ہے۔ کزنز ميرج ميں تو ہميشہ آپ انجان ہی ہوتے ہيں۔ حتی کے خاندان سے باہر شادی کرتے بھی آپ کو نہين پتہ ہوتا کہ آپکی قسمت کس کے ساتھ جڑنی ہے۔ پھر يہ سوال اٹھانا ہی بے کار ہے کہ ميں نے کبھی تمہارے بارے مين ايسا نہيں سوچا۔۔ يہ قسمت کے فيصلے ہوتے ہيں۔۔ ميرے يا آپ کے نہيں" آہستہ آہستہ چلتا وہ اسکے قريب مگر فاصلے پر اسی صوفے پر بيٹھ گيا۔
"تو ٹھيک ہے تم نے اپنا فيصلہ ليا۔۔ اور ميں اپنا فيصلہ لے رہی ہوں۔ مجھے انکار ہے" اب کی بار وہ سختی سے بولی۔
"مگر مجھے آپکے اس انکار کے لئے بھی کوئ ٹھوس وجہ چاہئيے" وہ ٹلنے کو تيار ہی نہيں تھا۔
"مجھے آج تم صرف ايک مرد لگ رہے ہو۔۔ ميرے وہ دوست نہيں جس سے بات کرتے مجھے اسکی جنس کا سوچنے کی ضرورت نہيں پڑتی تھی" وہ دانت بھينچے اسکی جانب ديکھنے سے گريز کر رہی تھی۔ اسکی آنکھوں سے لپکتے جذبے اسے الجھن ميں مبتلا کررہے تھے۔
"کيا اس ميں ميرا قصور ہے؟" اسکے سوال پر نجوہ نے تيکھی نظروں سے اسے ديکھے۔
"دفع ہوجاؤ تم يہاں سے ابھی اسی وقت" وہ سمجھ گئ تھی وہ آرام سے سمجھنے والا نہيں۔۔ وہ تہيہ کرچکا تھا۔
"دفع بھی ہو جاؤں گا۔ مگر اپنی بات کا جواب لئے بغير نہيں۔۔ اس رشتے سے انکار کی کوئ ٹھوس وجہ بتائيں" اب کی بار اسکا لہجہ بھی سخت تھا۔
"اسکی وجہ يہی ہے کہ مجھے ساری زندگی شادی نہيں کرنی۔ بس کرنی تھی کرلی۔ اب دوبارہ نہيں۔۔ احتشام کے علاوہ ميں کسی کے بارے مين سوچ بھی نہيں سکتی۔ نہ ان کی جگہ کسی اور کو دے سکتی ہوں .سمجھے تم" اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے وہ غصے ميں بولی۔
"يہ تو ميں پہلے سے ہی سمجھتا ہوں۔۔ مجھے احتشام بھائ کی جگہ لينی بھی نہيں۔۔ مجھے اپنی ہی جگہ کو اپ گريڈ کرنا ہے" اسکے غصے کا اس پر کوئ اثر نہيں تھا۔
"تم اپنی پہلے والی جگہ بھی کھو چکے ہو" وہ جو اسکے مقابل آچکا تھا نجوہ اس سے منہ موڑ کر بولی۔
"مجھے جگہ بنانی اچھے سے آتی ہے" وہ اسے چيلنج کرتا ہوا بولا۔
"کسی بھی غلط فہمی مت رہنا۔۔ تمہارا منہ بھی توڑ سکتی ہوں" اب کی بار اسکی جانب ديکھتے انگلی اٹھا کر اسے وارن کيا۔
"بصد شوق۔۔" وہ بھی انتہائ ڈھيٹ بنا ہوا تھا۔ پھر يکدم اسکی وہ انگلی جو وہ اسکی جانب تانے کھڑی تھی۔ پکڑ کر ہاتھ پر گرفت مضوط کی۔ نجوہ اس حرکت کے لئے تيار نہ تھی۔ وہ تو بھونچکا رہ گئ۔
"ميں بھی آپ کو اچھے سے جانتا ہوں اور آپ بھی مجھے اچھے سے جانتی ہيں۔ اتنا تو آپ کو معلوم ہے جب ميں کسی چيز کا ارادہ کرلوں تو اسے پورا کرکے رہتا ہوں۔۔ چاہے اسکے لئے مجھے کسی بھی حد تک جانا پڑے۔۔" اپنی عزم لئے نظريں اسکی ڈری سہمی نظروں ميں ڈالتے ہوۓ اسکے چھکے چھڑا گيا۔
"مت گرو اتنا" وہ نفرت سے ہاتھ چھڑاتے بولی۔
"آپ کے لئے اپنی ذات آپکی ہی نظروں ميں گر بھی جاۓ تو مجھے کوئ افسوس نہيں۔ مگر آپ کو آپکے اپنے ساتھ زيادتی ہر گز نہيں کرنے دوں گا۔۔ اپنا مائنڈ جلد ميک اپ کرليں۔کيونکہ اسی مہينے مجھے آپ اس گھر ميں ميرے نام سے چلتی پھرتی نظر آئيں" جھک کر اسکی آنکھوں ميں آنکھيں ڈالے وہ نجوہ کو کانپنے پر مجبور کرگيا۔ يہ وہ فراج تو نہيں تھا۔۔اپنی بات ختم کرکے وہ کمرے سے جا چکا تھا مگر نجوہ وہيں پتھر کے بت کی مانند کھڑی تھی۔
________________________
جس لمحے وہ کمرے ميں آيا۔ زہرہ کو اپنے کمرے ميں اپنا منتظر پايا۔
"آپ۔۔ کيا ہوا" ماں کو ديکھ کر وہ حيران ہوا۔
"بس پريشانی لگی تھی کہ وہ کيا کہے گی۔ کمرے ميں سکون نہيں آيا تو يہاں چلی آئ کے تم سے پوچھوں کے کيا کہا اس نے ؟" وہ بے چينی سے اسکی جانب بڑھيں۔
"ماں وہ اتنی جلدی تو مانيں گی بھی نہيں۔ مگر ہميں انکی کسی بھی احمقانہ اور جذباتی پن کی وجہ سے پيچھے نہيں ہٹنا۔" زہرہ کے کندھوں پر ہاتھ رکھے وہ انہيں تسلی دينے لگا۔
"وہ روتی ہے تو ميرا دل کرلاتا ہے" وہ مغموم لہجے ميں بوليں۔
"آپ چاہتی ہيں وہ عمر بھر يوں ہی روتی رہيں" اس نے سوال کيا۔
"نہيں۔۔بيٹے۔۔ کون ماں ايسا چاہے گی۔ تم دونوں کی طرح عزيز ہے وہ مجھے" اسک چہرے پر ہاتھ رکھے وہ اسکی محبت سے چور لہجے ميں بوليں۔
"تو بس پھر اولاد اگر حماقت کرے تو اسکی جذباتی باتوں ميں نہيں آنا چاہئيے۔ آپ کو ياد ہے جب ميں پڑھنے کے لئے اسلام آباد جارہا تھا اور آپ مجھے خالہ کے گھر جانے پر راضی کررہی تھيں۔ تب آپ ميری کسی جذباتی بليک ميلنگ ميں نہيں آئيں تھيں۔۔ بس اب بھی آپ کو نجوہ کی کسی جذباتی بليک ميلنگ ميں نہيں آنا۔۔ ان شاء اللہ سب بہتر ہوگا۔ آپ پريشان نہ ہوں" انہيں ساتھ لگاۓ وہ تسلی دينے لگا۔ مگر يہ سب کتنا مشکل تھا وہ اچھے سے جانتا تھا۔
"ان شاءاللہ" وہ صدق دل سے بوليں۔
_________________________
اگلے دو دن فراج سے اس کا سامنا نہيں ہوا۔
مگر باقی گھر والے اسے مسلسل سمجھاتے رہے۔ ربيعہ نے بھی اسے فون کيا۔
شمع اور شوکت دو دن بعد لاہور زہرہ کے گھر موجود تھے۔ سب اسے سمجھا رہے تھے مگر وہ کسی طور سمجھنے کو تيار نہيں تھی۔
محبت سے پيار سے سب سمجھا رہے تھے۔
"نجوہ ديکھ بيٹا اگر يہ فعل ايسا ہی برا ہوتا تو اللہ بيوہ کو دوسری شادی کی اجازت نہ ديتا" اس وقت بھی شمع اسکے کمرے ميں بيثھی اسے سمجھا رہی تھيں۔
"تو اللہ نے يہ کہاں لکھا ہے کہ کسی کی مرضی کے بغير اسکی شادی کردو" وہ تلخ لہجے ميں بولی۔
"مگر يہ بھی نہيں کہا کہ ايسی عورت کو اسکے حال پر چھوڑ دو" اسکی نسبت وہ کافی تحمل کا مظاہرہ کر رہی تھيں۔
"کيا ہوا ہے ميرے حال کو۔۔ ميں خود اپنے بچے کا خرچہ پانی اٹھا سکتی ہوں۔ ميں نے اپنے مينجر کو کال کی ہے۔ اگلے ماہ سے ميں بينک جوائن کر رہی ہوں" اسکی بات پر وہ کتنے ہی لمحے خاموش ہوگئيں۔
"ہمارا سب کچھ تمہی لوگوں کا ہے۔ بات پيسے کی نہيں۔ تمہيں اور ضماد کو ايک مرد کی ضرورت ہے۔ يہ باہر کا ملک نہيں جہاں ايک کی دوسرے کو خبر نہ ہو۔ جہاں لوگ دوسروں کی زندگيوں ميں دخل دينا فرض نہ سمجھتے ہوں۔ اس معاشرے ميں تمہيں جگہ جگہ آوارہ لوگ مليں گے۔ کس کس سے خود کو بچاؤ گی۔ سب منہ پھاڑے عورت کو روندنے کو تيار کھڑے ہوتے ہيں۔ يہ معاشرہ ايک اکيلی عورت کو وہ عزت نہيں ديتا جس کا وہ حق رکھتی ہے" وہ کس دل سے يہ تکليف دہ باتيں کہہ رہی تھيں يہ وہی جانتی تھيں۔
"اماں چند سالوں کی بات ہے ميرا ضماد بڑا ہوجاۓ گا پھر مجھے کسی سے پريشان ہونے کی ضرورت نہيں ہوگی۔ " وہ التجائيہ انداز ميں بولی۔
"اور ان سالوں ميں تم کيا کروگی۔۔ ہميں اپنی زندگيوں کا پتہ ہے کہ کتنی ہيں۔۔ نہيں بيٹا۔۔ ہزار بيمارياں ساتھ لگاۓ پھر رہے ہيں۔۔۔ تو کيسے ميں تمہيں زمانے کی تند وتيز ہواؤں کے سپرد اکيلا کرکے چل دوں" وہ ہر ممکن کوشش کررہی تھيں اسے منانے کی۔
"فراج تمہيں چاہت سے اپنا رہا ہے۔ کل کو کيا گارنٹی ہے کہ جس شخص سے شادی کرو وہ چاہت سے اپناۓ يا مجبوری ميں۔ ضماد کو قبول کرے يا نہيں" انکی بات پر اس نے زچ ہو کر ماتھے پر زور سے ہاتھ مارا۔
"مجھے کرنی ہی نہيں دوسری شادی تو کسی دوسرے تيسرے کی بات کہاں سے آگئ۔۔ اور فراج۔۔ اسکا تو اب نام بھی نہ لين ميرے سامنے۔۔ گھٹيا۔۔ شخص۔۔ مجھے اسے پہچاننے ميں غلطی ہوئ۔ نجانے کب سے نظر رکھ کر بيٹھا تھا مجھ پر" وہ حقارت سے اسکا ذکر کر رہی تھی۔
"نجوہ" شمع اسکی بات پر بھڑک اٹھيں۔
"اپنی بات پہ قائم رہنے کے چکر ميں کسی کی ذات کے ايسے بخيے مت ادھيڑو کے بعد ميں ساری زندگی کے لئے پچھتانا پڑے۔ " انہوں نے غصے سے اسے ٹوکا۔
"ہاں تو۔۔۔ کوئ طريقہ ہے۔۔ ميں دوست سمجھتی تھی۔ اور وہ۔۔ کيا نکلا وہ۔۔ کس نظر سے مجھے ديکھتا تھا۔۔ پاگل اور بے وقوف تھی مين۔ بھول گئ تھی کہ مرد کی خصلت کبھی نہيں بدل سکتی۔ ہوس پرست" ايک بار پھر وہ کڑوے کسيلے لہجے مين بولی۔
"خاموش ہوجاؤ اب۔۔ اس سے پہلے کے ميرا ہاتھ اٹھ جائے" وہ غصے سے ہانپنے لگيں۔ اسکی بے غرض محبت کے لئے وہ کتنے غلط الفاظ کا چناؤ کررہی تھی۔
"بجائے بيٹی کاساتھ دينے کے آپ اس کا ساتھ دے رہی ہيں" وہ حيرت سے انہيں ديکھ رہی تھی۔
"بيٹی اگر کھائ ميں گرنا چاہے تو اسے گرنے دوں يا اسے بچانے والے کا ساتھ دوں؟" ملامتی نظروں سے اسے ديکھ کر پوچھا۔
"پتہ نہين سب کو کيا سرخاب کے پر نظر آرہے ہيں اس ميں۔۔۔۔ جو مجھے نہيں دکھائ دے رہے" استہزائيہ لہجے ميں ہنکارار بھرا۔
"وہ بے غرض اور بے لوث محبت نظر آرہی ہے جو تمہاری بند آنکھوں کو نظر نہيں آرہی۔ ورنہ کون ہے جو ايک بيوہ سے شادی کی حامی بھرے۔ اور ايسی جس کا ايک بچہ بھی ہو۔۔ وقت ملے تو سوچنا ضرور" اب کی بار وہ اسکے لئے سوچ کے دروا کرکے اسکے پاس سے اٹھ گئيں۔
"ہمدردی کا بخار چڑھا ہے اسے بس" وہ بھی ٹس سے مس نہ ہوئ۔
___________________________
ايک ايک کرکے سب اسکے آگے ہار چکے تھے۔ مگر وہ تھی کہ بے مقصد اور بے معنی انکار کو طول دے رہی تھی۔ فراج نے دوبارہ اس سے بات نہين کی تھی۔ مگر بافی سب سے اسے نجوہ کے اٹل ارادوں کی خبر مل رہی تھی۔ مگر فی الحال وہ خاموش تھا۔
دو چار دن رہ کر شمع اور شوکت نے واپسی کی راہ لينی چاہی۔
ان دنوں بنا کسی کو بتاۓ وہ ضماد کے ٹرانسفر کا کام کروا چکی تھی۔
بہت دنوں بعد صبح سب ناشتے کی ميز پر بيٹھے تھے۔
"ہم رات کی فلائٹ سے واپس جارہے ہيں" شوکت صاحب نے سب کی موجودگی کے باعث اپنی واپسی کا تذکرہ چھيڑا۔
"ميری بھی ٹکٹ ساتھ کرواليجئيے گا۔ ميں اور ضماد بھی آپکے ساتھ جائيں گے۔ اسکے سکول سے ميں نے ٹرانسفر ليٹر بنوا ليا ہے" اس نے بھی دھماکا کيا۔ فورک سے ايگ کھاتے ہوۓ فراج کا ہاتھ وہيں اسی زاويے پر رکا۔
"آپ اور ضماد کہيں نہيں جارہے" وہ اس سے براہ راست بولا۔
"تم کون ہوتے ہو يہ فيصلہ کرنے والے" اپنی شرر بار نگاہوں سے اس نے اپنے سامنے براؤن پينٹ کوٹ ميں سجے سنورے فراج کو ديکھا۔
"ابھی تو نہيں کچھ دنوں ميں بہت کچھ ہونے والا ہوں" واپس باقی کا ناشتہ کرتے جيسے اسے معمول کی اطلاع دی۔
"بکواس بند کرو اپنی۔۔ مين اب کی بار واقعی منہ توڑ دوں گی تمہارا" وہ چلا کر کرسی سے کھڑی ہوئ۔ سب اسکے ری ايکشن پر ساکت ہوئے۔
"زہے نصيب" وہ اسی تحمل سے مسکراتی نظروں سے اسے ديکھ کر بولا۔
"ميں تمہيں وارن کررہی ہوں اپنی حد ميں رہو۔۔ آپ ميری ٹکٹس کروائيں" اسے وارن کرتے وہ باپ سے مخاطب ہوا۔
"ڈيم اٹ" اب کی بار فراج اس سے زيادہ بلند آواز ميں بولا۔
"فراج آرام سے بيٹا" زہرہ اسکے غصے پر دہل گئيں۔ دہل تو سبھی گئے تھے انہيں يوں مد مقابل آتے ديکھ کر۔
"نہيں ماں بہت ہوگيا تماشا۔۔ آرام سے محبت سے سب انہيں سمجھا رہے ہيں۔۔ اور انہيں سمجھ ہی نہيں آرہی" اسکی آواز اب بھی بلند تھی۔
نجوہ بھی لمحہ بھر کر ساکت ہوئ۔
"آج شام ہی نکاح ہوگا۔ آپکی اجازت ہے خالو" نجوہ کو سپاٹ نظروں سے ديکھ کر اس نے شوکت صاحب کی جانب ديکھا۔
"ميں ختم کرلوں گی خود کو۔۔ اب اگر تم نے يہ بکواس کی" وہ پھر سے چلائ۔ فضيلہ نے اسے تھامنا چاہا۔۔
"يہ ليں۔۔ پکڑيں يہ۔۔ ختم کريں خود کو ابھی اسی وقت" سامنے موجود تيز دھار چھری ہاتھ ميں پکڑ کر وہ طيش کے عالم ميں اسکی جانب بڑھا۔۔ اسکے ہاتھ ميں جھٹکے سے چھری تھمائ۔
"فراج آرام سے بيٹے" اب کی بار شہباز بھی بولے۔
"نہيں ڈيڈی انہيں بہت شوق ہو رہا ہے مظلوم بننے کا۔۔ ہم پاگل ہيں جو دن رات ان کی فکر مين گھل رہے ہيں۔۔ ٹھيک ہے۔۔ آپ کو ميرے چھوٹے ہونے پر اعتراض ہے۔ تو شام تک کسی ايسے کا نام بتائيں جو آپ کا ہم عمر يا آپ سے بڑا ہو ميں قسم کھاتا ہوں ميں اسی لمحے آپ سے دستبردار ہوجاؤں گا۔۔ صرف آج شام۔۔" ٹيبل پر زور سے چھری پھينکتے وہ سرد نظروں سے اسے ديکھ کر بولا۔ جو اسکے آگے بڑھنے پر خوف سے پيچھے ہٹی تھی۔
"ايک فصلہ آپ نے کيا تھا احتشام سے شادی کا۔۔ سب نے اسکا مان رکھا۔۔ آج جب ايک فيصلہ باقی سب کر رہے ہيں تو آپ سب کے ساتھ کيا کررہی ہيں۔۔ يہی ظرف ہے آپ کا۔" وہ دکھ سے اسے ديکھنے لگا۔
"رہ سکتی ہيں نہ آپ اکيلی تو پھر ايک چکر اکيلی بھرے بازار کا اسی حليے ميں لگا کر آئيں۔۔ اور پھر ديکھيں کيسی کيسی نظريں آپ پر پڑتی ہيں۔۔ کيا کريں گی۔۔ ہاں کيا کريں گی ايسی غليظ نظروں کا۔۔ نوچ سکيں گی۔۔ سب کو وارن کرتی پھريں گی کہ آپ کو مت ديکھيں۔۔اگر اللہ نے عورت کو اکيلا اس معاشرے ميں پيدا کرنا ہوتا تو وہ مرد کو اسکی کفالت نہ سنونپتا۔ صرف پيسہ زندگی نہيں ہے۔۔ مرد کا ساتھ اس سے بھی بڑھ کر ضروری ہے۔
اگر اللہ نے ايک شادی لکھی ہوتی تو وہ بيوہ اور طلاق يافتہ کی دوبارہ شادی پر زور نہيں ديتا۔ اگر مرد کو چار شاديوں کی کھلی اجازت دی ہے نا۔۔۔ تو بيوہ اور طلاق يافتہ کو بھی اسی طرح کھلی شادی کی اجازت دی ہے۔
اگر بيوی کے مرنے کے بعد آدمی دوبارہ شادی کرسکتا ہے تو شوہر کے مرنے کے بعد عورت بھی دوبارہ شادی کرسکتی ہے۔ يہ معيوب ہوتا تو ميرا اللہ اس کا دوبارہ حکم نہ ديتا۔
اس ميں مصلحت ہے تو اس نے عورت کے دوبارہ گھر بسانے پر زور ديا ہے۔ اتنا علم رکھ کر بھی اگر آپ کو يہ بات سمجھ نہيں آرہی تو تف ہے آپکی تعليم پر۔" وہ غصے ميں آيا تو پھر بولتا چلا گيا۔ سب خاموش تھے۔
"اگر ان ميں سب ايک بات بھی غلط ہے تو مجھے بتائيں۔ باخدا ميں کبھی آپ سے دوبارہ اس خواہش کا ذکر تک نہيں کرون گا۔" اب کی بار آواز اونچی نہيں تھی مگر لہجہ بہت کھرا تھا۔
"ميں آپ کو فورس نہيں کروں گا۔ اب کوئ آپ کو فورس نہيں کرے گا۔ مگر ايک بار غيرجانبداری سے سوچيں کہ کيا ہم ميں سے کسی کا اس ميں کوئ لالچ پوشيدہ ہے۔ اور اگر اس سب کو نہيں تو اپنے شوہر کی اس خواہش کا احترام کرليجئيے گا جو انہوں نے مرنے سے پہلے مجھ سے کی تھی۔ ميں اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ اس خواہش کا ذکر احتشام بھائ نے خود کيا تھا۔" اپنی بات کہہ کر وہ پل بھر کے لئے بھی وہاں نہيں رکا۔
"ہم سب اس سے زيادہ اب تمہيں کچھ نہيں کہيں گے۔ کچھ دیر تک سوچ کے بتا دو۔ ميں پھر تمہاری اور ضماد کی واپسی کی ٹکٹ بھی کروا دوں گا" شوکت اسے ساکت ايک ہی جگہ پر کھڑے ديکھ کر اسکے قريب آکر سر پر ہاتھ رکھ کر اپنی بات کہہ کر دوسرے کمرے ميں جا چکے تھے۔
سب آہستہ آہستہ وہاں سے جاچکے تھے۔ مگر اس پر ملامتی نظر ڈال کر۔
فضيلہ پہلے سے ہی ضماد کو لے کر دوسرے کمرے ميں جا چکی تھی۔
بس وہ وہاں اکيلی ساکت کھڑی تھی۔
I will try to safe your soul
Wherever it's taking me
I'll carry you with me
Deep down inside my heart
Oh someday you may forgive me
Cause there's no whole without the part
I'm not yours to keep
And I'm leaving you now
I will try to safe your soul
____________________________
ابھی اسے آفس پہنچے دو گھنٹے بھی نہيں ہوئے تھے کہ فضيلہ کا فون آگيا۔
"بھائ ڈيڈی کہہ رہے ہيں جلدی گھر پہنچے" وہ حواس باختہ سی بولی۔
"کيوں کيا ہوا ہے سب خيرہے" وہ اسکی آواز سن کر پريشان ہوا۔
پھر جو کچھ اس نے فون پر کہا وہ اسکے ہوش اڑانے کے لئے بہت تھا۔
"ميں آتا ہوں" چند پل وہ ساکت نظروں سے کال بند کرنے کے بعد بھی فون کو خالی نظروں سے ديکھتا رہا۔
اسے يقين نہيں آرہا تھا۔
"يہ کيسے ہو سکتا ہے" خود سے بڑبڑاتے وہ اپنی چيزيں سميٹ رہا تھا۔
________________________

 

 

 

Another Novels by Ana Alyas are:

 

 

♥ Download More:

 Areej Shah Novels

 Zeenia Sharjeel Novels

 Famous Urdu novel List

 Romantic Novels List

 Cousin Rude Hero Based romantic  novels

 

 

 

آپ ہمیں آپنی پسند کے بارے میں بتائیں ہم آپ کے لیے اردو ڈائجیسٹ، ناولز، افسانہ، مختصر کہانیاں، ، مضحکہ خیز کتابیں،آپ کی پسند کو دیکھتے ہوے اپنی ویب سائٹ پر شائع کریں  گے

 

 

Copyright Disclaimer:

We Shaheen eBooks only share links to PDF Books and do not host or upload any file to any server whatsoever including torrent files as we gather links from the internet searched through world’s famous search engines like Google, Bing etc. If any publisher or writer finds his / her book here should ask the uploader to remove the book consequently links here would automatically be deleted.

Leave a Comment