Meeral Novel by Noor Fatima | Best Urdu Novels

Meeral Novel by Noor Fatima , Noor Fatima is one of the best famous Urdu novel writer. Meeral Novel by Noor Fatima is the latest novel . Although it is much the latest, even though it is getting very much fame. Every novel reader wants to be in touch with this novel. Meeral Novel by Noor Fatima is a very special novel based on our society and love.

Meeral Novel by Noor Fatima

Noor Fatima has written many famous novels that her readers always liked. Now she is trying to instill a new thing in the minds of the readers. She always tries to give a lesson to her readers, so that a piece of writing read by a person, and his time, of course, must not get wasted.

Meeral Novel by Noor Fatima

Meeral Novel by Noor Fatima | Rude Hero Based Novel

Meeral Novel by Noor Fatima Complete Urdu Novel Read Online & Free Download, in this novels, fight, love, romance everything included by the writer. There are also sad moments because happiness in life is not always there. So this novel is a lesson for us if you want to free download Meeral Novel by Noor Fatima  to click on the link given below,

↓ Download  link: ↓

If the link doesn’t work then please refresh the page.

Meeral Novel by Noor Fatima PDF Ep 1 TO 20

 

Read Online  Meeral Novel by Noor Fatima:

لان میں اسے روشنی سی محسوس ہوئی تھی۔ اس وقت لان میں کون ہوسکتا ہے؟

اس نے سوچا اور لان کی طرف قدم بڑھا دیا۔لان کے قریب آکر اس نے دیکھا کہ لان میں موجود کرسیوں اور میز کو بہت خوب صورتی سے پھولوں سے سجایا گیا ہے۔اور میز کے قریب کوئی کھڑا ہے پر اس کا منہ دوسری طرف ہے۔

کو۔۔۔کون ہیں آپ؟

اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔

ابھی وہ شخص مڑتا اور بتاتا کہ وہ کون ہے۔

اس سے پہلے ہی بی جان کی آواز اس کے کانوں میں پڑی ۔

اٹھ جاؤں میرال! صبح کے گیارہ بج گئے ہیں۔

پتا نہیں تم اتنی گہری نیند کیسے سو لیتی ہو کہ تمہیں میری آواز بھی نہیں آرہی ہے۔ میں کب سے تمہیں اٹھا رہی ہوں۔

بی جان کی آواز پر اس کی آنکھ کھلی اور وہ خوابوں کی دنیا سے واپس آئی۔

بی جان!آج تو سونے دیں۔ آج تو سنڈے ہے۔ روز میں جلدی اٹھ تو جاتی ہوں۔

اس نے آنکھیں ملتے ہوئے کہا۔ اس کو اپنے خواب کے ادھورے رہنے اور اس شخص کا چہرہ نہ دیکھنے کا دکھ تھا۔

ٹھیک ہے سوتی رہو۔ تمہیں پتہ بھی ہے کہ میں تمہارے بغیر ناشتہ نہیں کرتی ہوں اور مجھے ناشتے کے بعد دوائی بھی کھانی ہوتی ہے پر کوئی نہیں آج دوائی نہیں بھی کھاتی تو تمہیں کون سا فرق پر جانا ہے۔

بی جان نے ناراض ہوتے ہوئے کہا۔

بی جان! آپ کو پتا تو ہے کہ مجھے آپ کی کتنی فکر ہے۔ پھر  بھی آپ ایسی باتیں کیوں کرتی ہیں۔ میرال اب اٹھ چکی تھی۔

ہاں مجھے پتا ہے کہ تمہیں کتنی میری فکر ہے۔ اس لئے تو مجھے تنگ کرتی ہو۔

بی جان نے جان بوجھ کر ایسا کہا۔

میں نہیں کروں گی تو کون تنگ کرے گا۔ پر اب آپ اپنی ناراضگی ختم کرئے۔ اب تو میں اٹھ گئی ہوں ۔بس دو منٹ میں برش کرکے نیچے آتی ہوں۔

میرال نے کمفرٹر ایک سائڈ پر رکھا۔

اچھا ٹھیک ہے آجاؤ جلدی میں نیچے جارہی ہوں۔

آج ناشتہ تمہاری پسند کا بنایا ہے۔

بی جان نے کہا اور نیچے چلی گئی۔

کچھ دیر بعد میرال اور بی جان ڈائنگ ٹیبل پر موجود تھیں۔

ویسے بی جان آج ناشتہ بہت مزے کا ہے۔ میرال نے اپنے پسند کا آملیٹ کھاتے ہوئے کہا۔

ہاں آج مینا نے ناشتہ بہت مزے کا بنایا ہے۔

بی جان نے ملازمہ کا نام لیا۔

ہائے! بی جان اللہ کا شکر ہے آج آپ نے میری تعریف کی ورنہ آپ تو مجھے ڈانتی ہی رہتی ہیں۔

مینا نے آتے ہی شکایت کی اور ہاتھ میں پکڑی ٹوسٹ کی پلیٹ ٹیبل پر رکھی۔ مینا کا اصل نام تو  ماہین تھا پر اس کی ڈرامائی حرکتوں کی وجہ سے میرال نے اس کا نام مینا کماری رکھا ہوا تھا۔

میں تمہیں تمہاری حرکتوں کی وجہ سے ہی ڈانتی ہوں۔ کام کرتے ہوئے تمہارا سارا دھیان تو ٹی وی  ڈراموں کی طرف ہوتا ہے۔

بی جان نے اس کو اس کی غلطی بتائی۔

میں چائے لانا تو بھول ہی گئی ۔ میں چائے لے کر آتی ہوں۔

مینا نے فوراً وہاں سے جانے کی کی۔

اس کے ڈرامے تو چلتے رہیں گے۔ تم بتاؤں تمہارا انٹر کا رزلٹ کب آرہا ہے؟

بی جان نے بریڈ پر جیم لگایا۔

اگلے ہفتے آرہا ہے۔ مجھے تو بہت ٹینشن ہورہی ہے کہ رزلٹ کیا آئے گا؟

میرال نے جوس گلاس میں ڈالا۔

ٹینشن نہ لو۔

بی جان نے اسے حوصلہ دیا۔

کوشش کرتی ہوں کہ ٹینشن نہ لوں۔ آپ یہ بتائے کہ آج آپ گھر پر ہی ہیں یا کہیں جانا ہے؟

میرال نے پوچھا۔

ہاں میں نے جانا ہے اپنی NGO تھوڑی دیر کے لئے۔ پر شام تک آجاؤں گی۔ رات کا کھانا ساتھ ہی کھائے گے۔ تم نے کہیں جانا ہے کیا۔

بی جان نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے کہا۔

مینا چائے لاچکی تھی۔

جی میں نے عنایہ کی طرف جانا ہے۔

میرال نے اپنی بچپن کی دوست کا نام لیا۔

اچھا چابی لے جانا۔

بی جان نے کہا۔

اس کا گھر یہ تین گھر چھوڑ کر تو ہے۔ آپ جب گھر آئے گی تو مجھے کال کردئیے گا میں آجاؤں گی۔

میرال نے جوس کا آخری سیپ لیا۔

اچھا ٹھیک ہے۔  میں تیار ہونے جارہی ہوں ۔ NGO  ٹائم پر پہنچنا ہے۔ مینا یہ برتن کچن میں رکھ کر میرے کمرے میں آنا۔ اور مجھے کپڑے استری کردینا۔

بی جان نے کہا اور اپنے کمرے میں چلی گئیں۔

  • •••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••

مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ تمہیں اس طرح کا خواب کیوں آیا۔

وہ کچھ دیر پہلے عنایہ کے گھر آئی تھی اور اس کو اپنا خواب سنا چکی تھی۔

میں بھی یہی سوچ رہی کہ ایسا خواب کیوں آیا ۔ ابھی تو رزلٹ آنے والا ہے اور مجھے اس طرح کے خواب آرہے ہیں۔  مجھے تو کوئی رزلٹ کے حوالے سے خواب آنا چاہئے۔

میرال نے سوچتے ہوئے کہا۔ آج صبح کا سارا خواب اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم رہا تھا۔

پر عنایہ مجھے اس چیز کا افسوس رہے گا کہ میں اس شخص کا چہرہ نہیں دیکھ سکی ۔

میرال کو پھر افسوس ہوا۔

تم بس یہ دیکھنا چاہتی ہو کہ خواب والا شخص ریحان ہے کہ نہیں۔

عنایہ نے اس کی دل کی بات کہی۔

ہاں ویسے چاہتی تو میں یہ ہی ہوں۔

ریحان کا نام سن کر میرال کے چہرے پر پیاری سی مسکراہٹ آگئی۔

پر ایسا بھی تو ہوسکتا ہے کہ وہ شخص کوئی اور ہو ریحان نہ ہو۔

عنایہ نے اس کو چڑانے کے لئے کہا۔

تم ایسا کیوں کہہ رہی ہو۔

میرال ناراض ہوئی۔

میں ایسا اس لئے کہہ رہی ہوں کہ تمہاری تائی بہت چلاک ہے۔ وہ تمہیں اپنی بہو آسانی سے نہیں بنائے گی۔

عنایہ میرال کی تائی کی فطرت سے واقف تھی۔

تائی امی اچھی ہیں۔ بس میری اور ان کی سوچ الگ ہے۔ پر وہ مجھ سے بہت پیار کرتی ہیں۔ اور مجھے ایسا لگتا ہےکہ وہ جانتی ہیں کہ میں ریحان کو پسند کرتی ہوں۔ اس لئے وہ کبھی کبھی سختی سے بات کرتیں ہیں۔ آخر کون ساس اپنی بہو کو پسند کرتی ہے۔

میرال نے اپنی تائی کی سائڈ لی اور آخری بات پر عنایہ کو آنکھ ماری۔

اگر تائی کو پتا ہے تو پھر ریحان کو بھی پتا ہی ہوگا۔

عنایہ نے کہا جو وہ کچھ  دنوں سے کہنا چاہتی تھی۔

نہیں ان کو نہیں پتا ہوگا۔ وہ یہاں پر ہوتے ہی کب ہیں۔ وہ تو ڈوبئ میں ہوتے ہیں۔

میرال نے نفی میں سر ہلایا۔

پر گھر بھی آتا ہی ہے سال میں ایک دو دفعہ ۔ میں نہیں مانتی کہ اسے پتا نہیں ہوگا۔ اسے پتا ہوگا۔ پر اگر اس نے ابھی تک تم سے اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی تو تم خود کرلو کہ پتا تو لگے کہ اس کے دل میں کیا ہے۔

عنایہ نے اسے سمجھایا۔

اچھا کوشش کروں کی بات کرنے کی۔ تم نے مجھے کچھ کھلانا ہے کہ نہیں ۔

میرال نے بات بدلنے کی کوشش کی۔

مجھے تمہاری بہت فکر ہے میرال ۔

عنایہ نے کہا اور کھانے کے لئے کچھ لینے کچن میں چلی گئی۔

  • •••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••

میرال صبح سے ہی دس بجنے کا بے صبری سے انتظار کر رہی تھی۔ دس بجے رزلٹ آنا تھا۔

"بی جان دس کب بجے گے"۔

میرال سے اب اور انتظار نہیں ہو رہا تھا۔

بس دس منٹ رہ گئے ہیں۔ تھوڑا صبر کرلو۔

بی جان تسبیح پر کچھ پڑھ رہیں تھی۔

یہ دس منٹ بھی دس گھنٹے کی طرح لگ رہے ہیں۔ میں عنایہ کو فون کرتی ہوں۔ اس کا کیا حال ہے۔

میرال نے اپنے فون سے عنایہ کا نمبر ڈائل کیا۔

اسلام و علیکم!

عینی! کیا کر رہی ہو؟ مجھ سے تو انتظار نہیں ہو رہا کہ کیسا آئے گا رزلٹ۔۔

میرال نے عنایہ کے فون اٹھاتے ہی بولنا شروع کردیا۔

وعلیکم السلام! بس کرو مجھے بھی بولنے دو۔

مجھے ٹینشن  ہے پر اتنی بھی نہیں۔

میرال ٹائم ہو گیا ہے میں رزلٹ چیک کرنے لگی ہوں بعد میں تم سے بات کرتی ہوں۔

عنایہ نے فوراً  فون بند کردیا۔

میرال نے  فون سائڈ پر رکھ کر اپنا لیپ ٹاپ  اٹھایا اور بی جان کے ساتھ بیٹھ کر رزلٹ چیک کرنے لگی۔ اس کے بہت اچھے نمبر آئے تھے۔

بی جان! آپ کی دعائیں اور میری محنت رنگ لے آئی یہ دیکھیں میرے کتنے اچھے نمبر آئے ہیں۔

میرال نے بی جان کو رزلٹ دیکھایا۔

ماشاءاللہ ماشاءاللہ میری بچی کے کتنے اچھے نمبر آئیں ہیں۔ میں ابھی چوکیدار سے مٹھائی مگواتی ہوں۔

بی جان نے اللّٰہ کا شکر ادا کیا اور اٹھ کر چوکیدار کو مٹھائی کا کہنے چلی گئیں۔

میرال کو عنایہ کا فون آیا ۔

کیوں جی اب ٹینشن ختم ہوگئی؟.

عنایہ کی آواز سے خوشی چھلک رہی تھی۔ اس کے بھی اچھے نمبر آئے تھے۔

ہاں اب تو میں بہت خوش ہوں۔ اچھا چل بعد میں بات کرتی ہوں۔ ابھی بابا کو فون کرنا ہے۔

میرال اپنے بابا کو فون کرنے لگی تھی پر عنایہ کا فون آگیا تھا۔

اچھا چل سہی ہے۔

عنایہ نے کہا اور فون بند کردیا۔

میرال ابھی اپنے بابا کو فون کرنے لگی تھی کہ اس کے بابا کا خودی فون آگیا۔

اسلام و علیکم بابا!

وعلیکم اسلام ! مبارک ہو بھی میری بیٹی اتنے اچھے نمبروں سے پاس ہو گئی ہے۔

ہمدان صاحب نے  خوشی سے کہا۔

بابا میں نے بتانا تھا۔ پر آپ نے پہلے ہی میرا رزلٹ چیک کرلیا۔

میرال ناراض ہوئی۔

کیا کروں بیٹا مجھ سے صبر ہی نہیں کیا گیا۔ اس لئے چیک کرلیا۔ اچھا یہ بتاؤ کہ میری بیٹی کو کیا گفٹ چائیے ؟

ہمدان صاحب نے پوچھا۔

جو آپ کا دل کرئے ۔ پر گفٹ آپ خود لےکر آئیں  گے۔ ویسے بھی آپ دوماہ پہلے آئے تھے۔ اب کب آنا ہے؟

میرال نے پوچھا۔

ابھی تو بہت کام ہے کچھ دنوں تک بتاؤں گا کہ کب آنا ہے۔

ہمدان صاحب نے اس کو پیار سے کہا۔

ٹھیک ہے پر جلدی آنے کا پروگرام بنائے ۔ آئی مس یو۔۔۔

میرال نے کہا اور اپنی آواز میں آئی نمی کو چھپایا۔ وہ اکثر اپنے بابا سے بات کرتے ہوئے رونے لگ جاتی تھی۔

میرال میری بھی بات کرواؤ ۔

بی جان ابھی لاونج میں آئی تھیں۔

جی یہ لیں ۔

میرال نے بابا کو اللّٰہ حافظ کہہ کر بی جان کو فون دے دیا۔ اور خود اپنے کمرے میں چلی گئی۔

تم ہمیشہ میری پوتی کو اداس کر دیتے ہو۔

بی جان اپنے بیٹے سے ناراض ہوئی۔

امی جی آپ جانتی تو ہیں کہ میں مصروف ہوتا ہوں۔ آپ نے کہا تھا کہ کاروبار پاکستان شیفٹ کرلو۔ پر یہ آسان نہیں ہے۔

ہمدان صاحب نے اپنی ماں کو سمجھانے کی کوشش کی۔

میں تو سمجھ جاتی ہوں پر میرال کو کون سمجھائے وہ تمہیں بہت یاد کرتی ہے۔ اس لئے چاہے آسان ہو یا مشکل تم اپنا کاروبار پاکستان میں شیفٹ کرو ۔

بی جان نے حکم دیا۔

جی ٹھیک ہے میں کوشش کروں گا۔ پر دو تین سال تو لگ جائیں گے۔

ہمدان صاحب نے مجبوراً اپنی امی کی بات مانی۔ جب ان کی بیوی حور کا انتقال ہوا تو کچھ دن بعد انہوں نے پاکستان چھوڑ دیا تھا ۔ اس وقت میرال صرف چار سال کی تھی۔ وہ اپنے ساتھ بی جان اور میرال کو بھی لے کر جانا چاہتے تھے پر بی جان اپنا گھر چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی تھی ۔ اس وقت میرال چھوٹی تھی۔ اس لئے اس کو ہمدان صاحب نے بی جان کے پاس ہی چھوڑ دیا تھا۔

  • •••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••

میرال  ۔۔۔۔۔ میرال  چلو فرحان ( میرال کے تایا) کے گھر مٹھائی دیں آئے ۔

بی جان نے اس کے کمرے میں آکر کہا۔

مٹھائی پر کیوں؟

میرال بیڈ سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔

تمہارے پاس ہونے کی خوشی میں۔

بی جان نے کہا۔

بی جان ان کے گھر سے تو کوئی نہیں آیا مٹھائی لے کر آخر ایان کا بھی تو رزلٹ آیا ہے تو پھر ہم کیوں جائیں۔

میرال نے اپنے تایا کے چھوٹے بیٹے کا نام لیا جو میرال کا ہم عمر تھا ۔ میرال ایان اور عنایہ ایک ہی کالج میں پڑھتے تھے۔ اب ان تینوں کا ایک ہی یونی میں ایڈمیشن لینے کا ارادہ تھا۔

ہاں تو کچھ نہیں ہوتا ہم ان کے گھر پہلے مٹھائی لے جاتے ہیں۔

بی جان نے کہا۔

اچھا ٹھیک ہے پر ہم کچھ دیر ہی رکے گے۔

میرال نے کہا اور الماری سے اپنے لئے کپڑے نکالنے لگی۔

تایا ابو کا گھر ان کے گھر کے برابر میں ہی تھا۔

وہ تیار ہوکر نیچے آئی تو بی جان بھی تیار تھیں اور پھر دونوں گھر کے گیٹ سے باہر آگئے۔

  • •••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••

اسلام و علیکم! تائی امی۔

میرال نے لاونج میں داخل ہوتے ہی تائی امی کو سلام کیا۔

وعلیکم السلام بیٹا کیا حال ہے؟ اسلام و علیکم امی جی آپ کو  بہت مبارک ہو  ۔ میری بیٹی کے بہت اچھے نمبر آئے ہیں۔ مجھے ایان نے بتایا تھا۔ ناہید بیگم نے  میرال کو گلے لگاتے ہوئے کہا اور مٹھائی کا دبا پکڑ کر ٹیبل پر رکھا۔

ناہید بیگم اپنی ساس اور میرال کو دیکھ کر خاصی بدمزہ ہوئیں تھیں۔ ان کی اپنی ساس سے کبھی بنی نہیں تھی ۔ اور میرال تو انہیں حور کی وجہ سے بری لگتی تھی۔ پر وہ کیسی مقصد کی وجہ سے میرال پر اپنا جھوٹا پیار جتاتی رہتی تھیں۔

میں ٹھیک تائی امی آپ بتائیں زارا آپی کہاں ہیں؟

میرال نے لاونج میں ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا۔

میں یہاں ہوں۔ اسلام و علیکم بی جان۔

زارا جوس کے گلاس ٹرے میں رکھ کر لے آئی ۔

وعلیکم السلام! بیٹا تم تو اور کمزور ہوگئی ہو۔

بی جان نے جوس کا گلاس لیتے ہوئے کہا۔

جی وہ بس آج کل میں ڈائٹنگ کر رہی ہوں۔

زارا نے کہا اور میرال کے ساتھ بیٹھ گئی۔

بس  اس کی منگنی کی تاریخ نزدیک آرہی ہے اس لئے ڈائٹنگ شروع کی ہوئی ہے۔

ناہید بیگم نے بتایا۔

بی جان مجھے تو یاد ہی نہیں تھا کہ زارا کی منگنی اگلے ہفتے ہے ابھی تائی امی نے بات کی تو یاد آیا۔ میں نے تو ابھی تک کپڑے بھی نہیں بنائے۔

میرال کو فوراً ٹینشن ہو گئی۔

اچھا آج شام کو چلیں گے شاپنگ پر ۔

بی جان نے اس کو کہا۔

آپ دونوں ایان کے ساتھ چلے جائیے گا

ناہید بیگم نے کہا۔

ویسے یہ کہاں ہے ایان؟؟ میں صبح سے فون کررہی ہوں۔ پر میرا فون ہی نہیں اٹھا رہا ہے۔

میرال نے جوس پیتے ہوئے کہا۔

وہ اپنے دوست کی طرف گیا ہے کچھ دید میں جائے گا۔ تب اس سے پوچھ لینا۔

ناہید بیگم نے کہا۔

ویسے میری منگنی ہے تو ریحان بھائی نے آنا ہے۔ زارا نے میرال کے کان کے قریب سرگوشی کی۔

میرال جو جوس پی رہی تھی۔ گلاس اس کے ہاتھ سے گرتے گرتے بچا۔

ریحان نے آنا ہے پر مجھے تو لگا کہ وہ مصروف ہونگے اور نہیں آپائیں گے۔

میرال کا دل خوشی سے ناچ رہا تھا۔

آج صبح ان کا فون آیا تھا کہ وہ آرہے ہیں۔

زارا نے پھر اس کے کان کے پاس سرگوشی کی۔

زارا کو پتا تھا کی وہ ریحان کو کتنا پسند کرتی ہے۔

کچھ دنوں میں ریحان بھی آجائیں گے۔ کتنا مزا آئے گا۔ ابھی کچھ دیر پہلے وہ اور بی جان ایان کے ساتھ شاپنگ کرکے واپس آئے تھے۔ بی جان کو ناہید بیگم نے  منگنی پر کیا دینا ہے کا مشورہ لینے کے لئے روک لیا تھا۔میرال اپنے گھر آگئی تھی۔ وہ لاونج میں بیٹھی  کب سے ریحان کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ اس کا اور ریحان کا سارا بچپن ایک ساتھ گزرا تھا۔  بچپن میں ریحان اسے بہت تنگ کرتا تھا اور وہ اس سے بہت چڑتی تھی پر پھر کب اسے اس سے محبت ہوگئی اسے پتا ہی نا چلا۔ پر اس میں کبھی اتنی ہمت ہی نہ ہوئی کہ وہ اس کو بتا سکے کہ وہ اس سے کتنی محبت کرتی ہے۔جب ریحان کو دوبئی سے جاب کی آفر ہوئی تو میرال بہت اداس تھی  کہ وہ جارہا ہے پر ریحان بلکل بھی اداس نہ تھا بلکہ وہ بہت خوش تھا۔ پھر وہ چلا گیا۔ ریحان کو  گئے ہوئے دو سال ہوگئے تھے۔ ان دو سالوں میں وہ بس دو دفعہ آیا تھا۔ وہ بھی کچھ دنوں کے لئے۔۔۔۔۔۔۔

اب تو شاید وہ زیادہ دن رکیں۔ آخر ان کی بہن کی منگنی ہے۔

میرال نے سوچا۔

ویسے ان کی فیس بک آئی ڈی یا انسٹا چیک  کرتی ہوں۔ وہاں پر ہوسکتا کہ کچھ لگایا ہو پاکستان آنے کا ۔ میرے خیال سے کل پرسوں تک ہی آئیں گے۔

میرال نے موبائل پر اس کی فیس بک چیک کی۔

پر وہاں پر ایسا کچھ بھی نہ تھا۔ پھر وہ اس کی انسٹا چیک کرنے لگی۔وہاں پر کچھ نیو پیکس اس نے پوسٹ کی ہوئی تھی۔ پر وہ پیکس اس کی کسی لڑکی کے ساتھ تھی۔ آخر یہ ہے کون جو آج کل ریحان کے ساتھ ہی ہوتی ہے۔

اس نے سوچا۔

ہوگی کوئی دوست یا آفس میں ساتھ کام کرتی ہوگی۔

اس نے اپنے آپ کو کئی دفعہ دی گئی تسلی پھر دی۔ کیونکہ کافی دنوں سے روز ہی وہ اس لڑکی کے ساتھ لی گئی تصاویر پوسٹ کر رہا تھا۔

میرال!! چلو آجاؤ کھانا کھا لیں۔ اور رات کو ٹائم پر سوجانا صبح تم نے ایڈمیشن  کے سلسلے میں یونیورسٹی بھی جانا ہے۔

بی جان  آتے ہی میرال کو جلدی سونے کی تلقین کرنے لگی۔

بی جان آپ فکر نہ کریں میں وقت پر سو جاؤں گی۔ چلیں پہلے کھانا کھا لیں ۔ویسے بھی آج ہم کافی لیٹ ہو گئے ہیں آپ نے دوائی بھی کھانی ہے ۔ آپ وہاں سے جلدی آجاتیں ۔ میں روز آپ کو کہتی ہوں کہ دوائی وقت پر لیا کریں ۔ پر آپ میری بات سنتی ہی نہیں ہیں۔

میرال نے اپنا موبائل سائڈ پر رکھا اور بی جان کے ساتھ ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھ گئی۔

تم کتنا بولتی ہو۔ ناہید سے کوئی کام کی باتیں کر رہی  تھی اس لئے وقت لگ گیا۔

بی جان نے پیار سے اس کی گال کھنچی۔

  • •••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••

ہیلو! میرال نے نیند میں فون اٹھایا۔

تم ابھی تک سو رہی ہو؟؟

دوسری طرف ایان تھا۔

تو اس ٹائم میں اٹھ کر کیا کرتی ۔ تم نے ٹائم دیکھا ہے۔

میرال نے گھڑی دیکھی جہاں 3 بج رہے تھے۔

ہاں 3 بج رہے ہیں۔ تو۔۔۔

ایان نے ایسے کہا جیسے عام سی بات ہو۔

تو یہ کہ مجھے اس ٹائم فون کیوں کیا ہے؟

میرال کا دل کیا اپنا سر دیوار میں مار لے۔

مجھے یہ کہنا تھا کہ میں صبح تمہارے ساتھ یونی نہیں جاسکتا ہوں ۔ مجھے اپنے ایک دوست کو لینے ایر پورٹ جانا ہے۔ میں ابھی ایر پورٹ کے لئے نکل گیا ہوں ۔ اس لئے سوچا ابھی فون کرکے بتا دیتا ہوں بعد میں کہیں بھول نہ جاؤں ۔

ایان نے اسے تفصیل سے بتایا۔

یہ تمہیں رات کو نہیں یاد تھا کہ دوست کو لینے جانا ہے۔ اب یاد آرہا ہے۔

میرال کا تو دماغ ہی گھوم گیا۔

ارے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی دوست کا فون آیا تھا۔ کہ ایک گھنٹے میں اس کی فلائٹ ہے۔ اور میں نے اس کے ساتھ اس کا فلیٹ سیٹ کرنے میں مدد کرنی ہے۔ اگر فلیٹ سیٹ نہ کرنا ہوتا تو میں تمہارے ساتھ چلا جاتا پر اب نہیں جاسکتا ہوں ۔ سوری۔

ایان نے کہا اور جلدی سے اس کی سنے بغیر فون  بند کردیا۔

ہیلو ۔۔۔۔۔ ہیلو ۔ بدتمیز ہمیشہ ایسی صورت حال میں فون بند کردیتا ہے۔

میرال کو اس پر بہت غصّہ آرہا تھا۔

اس نے 7 بجے کا الارم لگایا اور سونے کے لئے لیٹ گئی۔ اس کو بہت نیند آرہی تھی۔ کچھ دیر میں وہ سو چکی تھی۔

کیا۔۔۔۔۔۔۔ اب تم میرا دماغ خراب نہ کرو۔ پہلے اس ایان نے میرا دماغ خراب کیا ہوا ہے وہ بھی نہیں جارہا ہے اور اب تم نے جانے سے انکار کر دیا ہے۔

میرال ابھی کچھ دیر پہلے ہی اٹھی تھی۔ اور اس نے ساتھ ہی عنایہ کو فون کیا تھا۔

یار میری بھی مجبوری ہے ۔ خالہ نے آنا ہے تو امی کہہ رہی ہیں کہ تم گھر پر رہنا ۔ ورنہ میں چلتی ۔ تم ایک کام کرو تم ڈرایئور کے ساتھ چلی جانا۔

عنایہ نے اسے مشورہ دیا۔

بہت شکریہ آپ کے مشورے کا۔ جب میں نے اکیلے جانا ہے تو مجھے تمہارے مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔ میرا دل کررہا کہ میں ایان اور تمہارا سر پھاڑ دوں۔

میرال نے غصے میں فون بند کیا۔

  • •••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••

بی جان کے دو بیٹے تھے ۔ بڑا بیٹا فرحان اور چھوٹا بیٹا ہمدان۔ بی جان کے شوہر کو فوت ہوئے کافی عرصہ ہوگیا تھا۔ اس وقت صرف فرحان کی شادی ہوئی تھی۔فرحان کی شادی بی جان نے اپنے خاندان میں کی تھی۔ ناہید بیگم ان کے دور کے رشتےداروں میں سے تھی۔ ناہید بیگم نے آتے ہی گھر میں جھگڑے شروع کر دئیے تھے۔ جس کی وجہ سے بی جان اکثر پریشان رہتی تھیں۔ ہمدان صاحب نے اپنی پسند سے حور سے شادی کی تھی۔ حور ان کے ساتھ یونی میں پڑھتی تھی۔ فرحان صاحب اور ناہید بیگم  کے تین بچے تھے۔ ریحان زارا اور ایان۔ ہمدان صاحب اور حور کی ایک ہی بیٹی تھی میرال ۔ میرال جب چار سال کی تھی تو حور کا انتقال ہوگیا تھا۔ اسکو کینسر ہو گیا تھا۔ جس کا پتا انہیں  آخری سٹیج پر چلا  تھا۔ ہمدان صاحب اپنی بیوی سے بہت محبت کرتے تھے ۔ اس لئے ان کے انتقال کے کچھ عرصے بعد ہی لندن چلے گئے تھے۔ وہ میرال اور بی جان کو بھی ساتھ لے جانا چاہتے تھے پر بی جان نہیں مانی اور میرال چھوٹی تھی ۔اس لئے اسے بی جان کے پاس ہی چھوڑ دیا تھا۔ ہمدان صاحب سال میں پانچ چھ چکر پاکستان کے لگا لیتے تھے۔ پر وہ جب بھی پاکستان میں ہوتے تھے تو ان کو حور کی بہت یاد آتی تھی۔ اس لئے وہ اکثر اداس رہتے تھے۔ ریحان میرال سے پانچ سال بڑا تھا۔ زارا میرال سے دو سال اور ایان اور میرال ہم عمر تھے۔ اس لئے دونوں کی کافی دوستی تھی۔ جب میرال دس سال کی ہوئی تو ہمدان صاحب نے اپنے آبائی گھر کے ساتھ والا گھر خرید لیا  تھا اور میرال اور بی جان وہاں شفٹ ہو گئے تھے۔

  • •••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••

آج کتنی گرمی ہے ۔۔

وہ کچھ دیر پہلے یونی پہنچی تھی۔ اور ایڈمیشن کی ڈیٹیل لے کر واپس جانے کا سوچ رہی تھی۔ کہ اسی وقت عنایہ کا فون آیا ۔ پہلی دو تین  بار تو اس نے فون ہی نہیں اٹھایا۔ پر عنایہ بھی بہت ڈھیٹ تھی۔ اس نے بھی فون کرنا نہیں چھوڑا۔ تو مجبوراً اس نے فون اٹھا لیا۔

اب کیا مسئلہ ہے؟ کیوں بار بار فون کرکے تنگ کررہی ہو؟ تمہاری طرح ویلی نہیں ہوں۔ مصروف ہوں۔

میرال نے مصروف انداز میں کہا۔

میں بھی کوئی ویلی نہیں ہوں ۔ مجھے تو تمہاری فکر ہورہی تھی کہ پتا نہیں کیسے گئی ہوگی پر نہیں تمہیں تو عزت راس ہی نہیں ہے۔

عنایہ بھی اس سے کہاں کم تھی۔

بہت شکریہ آپ کی فکر کرنے کا اگر اتنی فکر ہوتی تو میرے ساتھ آتی تم۔

میرال بھی اس کو اسی کی زبان میں سنا رہی تھی۔

اسی وقت یونی میں ایک تیز رفتار گاڑی داخل ہوئی۔ میرال فون میں اتنی مگن تھی کہ اس نے دیکھا ہی نہیں کہ گاڑی اس کے سر پر پہنچ گئی۔ ایک دم سے گاڑی کو اتنا قریب دیکھ کر اس کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ گیا اور موبائل گاڑی کے ٹائر کے نیچے آگیا۔

میرا موبائل۔۔۔

میرال چیخی۔۔۔۔

گاڑی والے نے ایک دم سے بریک لگائی۔

میرال نے غصے میں گاڑی کی کھڑکی ناک کی۔

گاڑی میں ایک لڑکا تھا۔ اس نے شیشہ نیچے کیا۔

آپ کو نظر نہیں آتا۔ آپ کی گاڑی کے نیچے آکر میرا موبائل ٹوٹ گیا ہے۔

میرال نے غصے سے کہا۔

دیکھیں میں نے بریک لگانے کی کوشش کی تھی پر آپ بھی تو پتا نہیں کس دنیا میں تھی کہ آپ پتا ہی نہ چلا۔

اس لڑکے نے آرام سے کہا۔

تو آپ کو سا آرام سے گاڑی چلا رہے تھے۔ ایسے لگ رہا تھا کہ گاڑی چلا نہیں رہے بلکہ اڑا رہے ہیں۔

میرال نے کہا اور اس کے ہاتھ میں پکڑا موبائل چھینا۔

آپ میرا موبائل واپس کریں ۔

اس لڑکے نے اس سے موبائل چھیننے کی کوشش کی۔

میرال نے اس کا موبائل زور سے دور پھینکا ۔

میرا فون۔۔

اس لڑکے نے بس اتنا ہی کہا۔

آپ نے میرا فون توڑا میں نے آپ کا فون توڑ دیا۔ حساب برابر۔۔۔۔

میرال نے کہا اور تیزی سے اپنی گاڑی میں جاکر بیٹھ گئی اور ڈرائیور کو گاڑی چلانے کا کہا۔ اس کو ڈر بھی لگ رہا تھا۔

وہ لڑکا میرال کو غصے سے دیکھ رہا تھا۔ اس کی نظر نے دور تک میرال کا پیچھا کیا تھا۔

کہاں رہ گئی تھی؟ اور تمہارا فون کیوں بند جارہا ہے؟
میرال ابھی ابھی گھر پہنچی تھی۔ بی جان اس کا انتظار بہت دیر سے کر رہی تھیں۔
"بس ٹریفک تھی اس لئے ٹائم لگ گیا اور موبائل اس لئے بند ہے کیونکہ میرا موبائل ٹوٹ گیا ہے"۔
میرال نے ٹیبل پر پڑے جگ سے پانی کا گلاس بھرا اور صوفے پر بیٹھ کر پینے لگی۔
پر موبائل کیسے ٹوٹ گیا؟
بی جان نے اس کا موبائل اٹھا کر دیکھا جس کی سکرین بلکل ٹوٹ چکی تھی۔
"وہ میں یونی سے نکل رہی تھی کہ اسی وقت ایک گاڑی تیز رفتار میں آئی اور میرا موبائل میرے ہاتھ سے گر گیا اور گاڑی کے نیچے آگیا"۔
میرال نے بی جان کو بتایا۔
"تم ضرور فون پر بات کررہی ہوگی"۔ بی جان کو اس کی عادت کا پتا تھا۔
"جی فون پر بات ہی کررہی تھی۔ عنایہ نے دماغ کھایا ہوا تھا"۔
کیا میری بات ہورہی ہے؟؟
ابھی میرال کی بات مکمل ہی نہیں ہوئی تھی کہ عنایہ آگئی۔
"جی آپ کی ہی بات ہورہی ہے۔ اب تم مصروف نہیں ہو؟ صبح تو بہت مصروف تھی"۔
میرال کو اس کو دیکھ کر اور غصہ آگیا۔
"مصروف تو میں بہت ہوں۔ پر مجھے تمہاری فکر ہورہی تھی۔ بی جان کا فون آیا تھا کہ تم ابھی تک نہیں آئی ہو تو اس لئے میں آگئی کہ شاید اب تک آگئی ہوگی اور دیکھو تم آگئی"۔
عنایہ اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی۔
بی جان آپ اتنا پریشان کیوں ہو گئی تھیں؟ "میں اتنی بھی لیٹ نہیں آئی ہوں ۔ابھی صرف دوپہر کے دو بجے ہیں"۔
میرال نے اپنا منہ بی جان کی طرف کیا۔ جس کا مطلب تھا کہ وہ عنایہ سے بات ہی نہیں کرنا چاہتی۔
"مجھے فکر ہورہی تھی کہ صبح 9بجے تم گئی تھی۔ اور اتنا ٹائم تو نہیں لگتانا اور میرے پاس ڈرائیور کا فون نمبر بھی نہیں تھا"۔
بی جان نے اپنی پریشانی بتائی۔
تمہاری خالہ نہیں آئیں؟
میرال کو یاد آیا تو عنایہ کی طرف منہ کرکے پوچھا۔
"نہیں وہ کل آئیں گی۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی ان کا فون آیا تھا"۔
میرال کے گھور کر دیکھنے پر اس نے جلدی جلدی کہا۔
"بی جان آپ تو کہہ رہی تھی کہ میرال ابھی تک نہیں آئی یہ میرال بیٹھی تو ہوئی ہے"۔
ایان لاونج کے داخلی دروازے سے اندر آیا۔
بی جان آپ نے کس کس کو فون کیا تھا؟
ایان کو دیکھ کر میرال کا دل کیا کہ وہ اس کا سر پھاڑ دے۔
"میں نے صرف ان دونوں کو فون کیا تھ"ا۔
بی جان نے ایان کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
"اب تم دونوں آگئے ہو۔ جب میں صبح کہہ رہی تھی تب تو تم دونوں کو کوئی نا کوئی کام تھا"۔
میرال کو ان دونوں پر بہت غصہ تھا۔
میرال کیا ہوگیا ہے؟ اتنا غصہ کیوں کررہی ہو؟ بی جان نے اسے ٹوکا۔
"یہ آپ ان دونوں سے پوچھیں ۔ ان دونوں کو میرے ساتھ یونی جانا تھا پر یہ دونوں صبح مصروف تھے"۔
میرال نے اپنے غصے پر قابو کرنے کی کوشش کی ۔
"پر تم یہ بھی تو دیکھو کہ ان دونوں کو تمہاری کتنی فکر ہے ۔یہ دونوں اپنے سارے کام چھوڑ کر آگئے ہیں"۔
بی جان نے اسے پیار سے سمجھایا۔
"تو اور کیا میرال دیکھو مجھے اور عنایہ کو تمہاری کتنی فکر ہے۔ میرے دوست کا ابھی پورا سامان اس کے گھر میں شفٹ بھی نہیں ہوا تھا ۔ میں فوراً بی جان کی کال پر آگیا"۔
ایان نے معصوم شکل بنائی۔
"اپنے ڈرامے بند کرو مجھے پتا ہے تمہیں کتنی فکر ہے میری"۔
میرال نے منہ بنایا۔
"بری بات میرال "۔
بی جان کے ٹوکنے پر میرال چپ ہوگئی۔
"اچھا تم تینوں باتیں کرو میں مینا کو چائے اور سموسے فرائی کرنے کا کہتی ہوں"۔
بی جان اٹھ کر کچن میں چلی گئیں۔
"ویسے میرال تم سہی کہہ رہی تھی ۔ مجھے تمہاری فکر بلکل بھی فکر نہیں ہے ۔ میں تو یہ سوچ رہا تھا اگر تم مر گئی تو میرے بھائی کا کیا ہوگا"۔
ایان نے شرارت سے مسکرایا۔
"میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں"۔
میرال نے صوفے پر پڑا کشن ایان کو مارا۔
ویسے تمہارا فون کیسے ٹوٹا ہے؟
عنایہ نے اس کا فون دیکھا جو ٹیبل پر پڑا تھا۔
"تمہاری وجہ سے۔ میں تم سے فون پر بات کررہی تھی تو میرے ہاتھ سے گر گیا اور گاڑی کے نیچے آگیا"۔
میرال نے اسے پوری بات بتادی۔
"ارے یاد آیا ۔تمہارا فون اچانک بند ہوگیا تھا اس لئے مجھے تمہاری زیادہ فکر ہورہی تھی اور پھر بی جان کا بھی فون آگیا"۔
عنایہ کو یاد آیا۔
"مجھے تم دونوں پر اس لئے بھی غصہ ہے کیونکہ تم میں سے کوئی میرے ساتھ ہوتا تو شاید میرا موبائل نہ ٹوٹتا یا اگر ٹوٹ بھی جاتا تو تم دونوں اس کو سہی سبق سیکھاتے"۔
میرال کو پھر اس لڑکے پر غصہ آنے لگا۔
"ویسے تو تم نے بھی اس کو سہی سبق سیکھایا ہے۔ اس کا فون ہی توڑ دیا"۔
عنایہ کو دکھ ہورہا تھا۔
"تمہیں کیوں اتنا دکھ ہورہا ہے ۔ کوئی بدتمیز انسان تھا"۔
میرال کو پھر وہی سین یاد آیا جب اس نے گاڑی اسکے فون پر چڑھا دی تھی۔
"مجھے اس لئے افسوس ہورہا ہے کہ تم نے جان بوجھ کر اس کا موبائل توڑا ہے۔ اور اس نے غلطی سے تمہارا موبائل گاڑی کے نیچے دیا تھا"۔
عنایہ نے اس لڑکے کی سائڈ لی۔
"پر اس کو گاڑی آہستہ چلانی چاہئے تھی"۔
ایان نے میرال کا ساتھ دیا۔
"تو اور کیا"۔
میرال نے بھی ہاں میں ہاں ملائی۔
"پر پھر بھی اس نے میرال کو کچھ بھی نہیں کہا جب اس نے اس کا فون توڑا"۔
عنایہ نے سوچتے ہوئے کہا۔
"ہاں ویسے میں حیران تھی کہ اس نے کچھ کہا ہی نہیں بس غصے سے دیکھ رہا تھا۔ اور مجھے ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں کچھ کہہ ہی نہ دے اس لئے میں فوراً گاڑی میں بیٹھ گئی"۔
میرال نے تفصیل سے بتایا۔
"ویسے کل ریحان بھائی آرہے ہیں"۔
ایان نے موضوع بدلا۔
میرال کے چہرے پر کئی رنگ بکھر گئے۔
"اچھا میں بی جان کو دیکھ کر آتی ہوں ۔ مینا کو چائے کا کہنے گئی تھی ۔ ابھی تک آئی نہیں"۔
میرال ریحان کے ذکر پر اٹھ گئی۔ ویسے تو ایان اور عنایہ دونوں جانتے تھے کہ وہ ریحان کو پسند کرتی ہے پر پھر بھی اس کو شرم آرہی تھی۔
"تمہارا بھائی میری دوست کے ساتھ بلکل اچھا نہیں کر رہا ہے۔ وہ اس کے نام پر بھی شرما جاتی ہے اور وہ اس سے سیدھے منہ بات ہی نہیں کرتا"۔
میرال کے جانے کے بعد عنایہ نے کہا۔
"ہاں کل بھائی آتے ہیں تو میں ان سے بات کرتا ہوں۔ کام کی وجہ سے کافی مصروف رہتے ہیں اس لئے شاید میرال سے ٹھیک سے بات نہیں کر پاتے۔ پر مجھے لگتا ہے کہ وہ بھی میرال کو پسند کرتے ہیں"۔
ایان نے کہا۔
"بات ضرور کرنا" ۔
عنایہ نے دوبارہ کہا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
میرال آج صبح جلدی اٹھ گئی تھی ۔ اور اب تیار ہورہی تھی ۔کیونکہ ایان نے کچھ دیر پہلے فون کرکے بتایا تھا کی وہ ریحان کو لینے ایر پورٹ جارہا ہے۔
میرال کتنا ٹائم لگانا ہے تیار ہونے میں؟
بی جان اسے کمرے میں آگئیں۔
"بس میں تیار ہوں"۔ آپ تیار ہوگئیں؟
میرال نے اپنے آپ کو آئینے میں دیکھتے ہوئے کہا۔
"میں تو تیار ہوں۔ تم جلدی سے نیچے آجاؤ" ۔
بی جان نے کہا اور نیچے جانے لگیں۔
"چلیں ساتھ ہی چلتے ہیں"۔
میرال نے اپنا پرس اٹھایا اور ان کے ساتھ چلنے لگی۔
"مینا گھر کا دھیان رکھنا ۔ ہم فرحان کے گھر جارہے ہیں ۔ کچھ دیر تک آجائے گے"۔
بی جان اور وہ نیچے آچکے تھے ۔ بی جان نے مینا کو ضروری ہدایات کیں۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
ان دونوں کو فرحان صاحب کے گھر آئے کافی دیر ہوگئی تھی پر ریحان اور ایان ابھی تک نہیں آئے تھے۔
یہ دونوں کہاں رہ گئے ہیں؟
بی جان نے فرحان صاحب سے پوچھا۔
"پتا نہیں امی جی ! فون کررہا ہوں پر دونوں میں سے کوئی بھی نہیں اٹھا رہا ہے"۔
"ہم اسلئے فون نہیں اٹھا رہے تھے کیونکہ ہم گھر کے نزدیک ہی تھے"۔
فرحان صاحب کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ایان لاونج میں داخل ہوا اس کے پیچھے ریحان بھی تھا۔ میرال جو کچھ ریلکس ہوکر بیٹھی تھی سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔
ریحان نے سب کو سلام کیا اور بی جان کے پاس پیار لینے کے لئے آیا ۔ میرال بی جان کے ساتھ ہی بیٹھی تھی ۔ اس کے آتے ہی وہ نظریں جھکا گئی۔
"کیسی ہو میرال "؟؟
ریحان نے بی جان سے پیار لیتے ہی میرال کی طرف متوجہ ہوا۔
"می۔۔۔۔میں ٹھیک ہوں" ۔ آپ کیسے ہیں؟
میرال نے اسے دیکھا۔ بلو جینز اور شرٹ میں وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا۔ اس کے اچانک اسے مخاطب کرنے پر وہ گھبرا ہی گئی تھی ۔ پر اب اس نے اپنے آپ کو سنبھال لیا تھا۔
"میں بلکل ٹھیک ہوں" ۔
ریحان نے اس کی بات کا جواب دیا اور باقی سب سے مل کر فرحان صاحب کے ساتھ جاکر بیٹھ گیا۔
"یہ لیں آپ سب کے لئے جوس"۔
زارا جو ریحان سے ملتے ہی کچن میں چلی گئی تھی ۔ سب کے لئے جوس لے آئی۔
"ارے ابھی میں نے اور میرال نے کچھ دیر پہلے تو پیا ہے"۔
زارا نے بی جان اور میرال کے آگے دوبارہ جوس کیا تھا۔
"کچھ نہیں ہوتا بی جان میرے آنے کی خوشی میں دوبارہ پی لیں۔ اور ویسے بھی اوریج جوش تو میرال کو بہت پسند ہے"۔ کیوں میرال؟؟
ریحان نے اس سے تصدیق چاہی۔
"جی مجھے اوریج جوس پسند ہے"۔
میرال نے ٹرے سے گلاس اٹھایا۔
اسکو خوشی تھی کہ ریحان کو یاد ہے کہ اسے اوریج جوس کتنا پسند ہے۔
سب کچھ نا کچھ باتیں کر رہے تھے ۔ پر میرال خاموش تھی ۔وہ بس وقفے وقفے سے ریحان کو دیکھ رہی تھی۔ دو تین دفعہ دونوں کی نظریں ملیں تو میرال نظر چرا گئی۔
کچھ دیر بعد میرال زارا کے ساتھ کچن میں آگئی اور دوپہر کے کھانے میں اس کی مدد کرنے لگی۔
"ویسے آج تو تم بہت خوش ہوگی" ۔
زارا نے چکن کو مصالحہ لگا کر فریج میں رکھا۔
"جی میں خوش ہوں ۔ ریحان جو آگئے ہیں"۔
"ویسے آج تو سب کچھ ان کی پسند کا ہی بنا ہوگا"۔
میرال نے کھیرے کاٹتے ہوئے کہا۔
"ہاں آج تو سب کچھ بھائی کی پسند کا بنا ہے"۔
زارا کتنا ٹائم ہے کھانے میں؟
ناہید بیگم کچن میں آئیں ۔
"جی بس آدھے گھنٹے تک سب کچھ تیار ہو جائے گا"۔
زارا نے کہا اور بریانی میں چاول ڈالنے لگی۔
"اچھا ٹھیک ہے میرال تمہیں بی جان بلا رہیں ہیں"۔
ناہید بیگم نے میرال سے کہا اور کچن سے باہر چلی گئیں۔
جی بی جان آپ نے بلایا تھا؟
میرال نے بی جان کے پاس آئی ۔
"ہاں وہ کیک بنایا تھا نا رات کو تم نے اور مینا نے وہ لے آؤ"۔
بی جان نے اس کو یاد دلایا۔
"جی وہ تو ہم لانا ہی بھول گئے"۔
میرال کو یاد آیا ۔
"میں بھی جاؤں میرال کے ساتھ اس بہانے آپ کا گھر بھی دیکھ لوں گا ۔ کافی عرصے سے دیکھا نہیں ہے"۔
ریحان بھی اس کے ساتھ جانے کے لئے تیار تھا۔
"بیٹا تمہیں اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ بھی تمہارا ہی گھر ہے۔چلے جاؤ" ۔
بی جان نے پیار سے کہا۔
وہ اور ریحان گھر سے باہر آگئے اور میرال کے گھر جارہے تھے۔
میرال اس کے ساتھ خاموشی سے چل رہی تھی۔ اس کو خوشی تھی کہ وہ اس کے ساتھ جارہا ہے ۔اس کو ساتھ ساتھ گھبراہٹ ہو رہی تھی۔
میرال نے بیل بجائی ۔ مینا نے دروازہ کھولا سلام کیا اور اپنے کوارٹر میں چلی گئی۔
"آپ لوگوں کا گھر تو کافی اچھا لگ رہا ہے اور اس کی ڈیکوریشن بہت زبردست ہے٫۔
ریحان اور میرال گھر کے لاونج میں آچکے تھے۔
ریحان نے پورے لاونج کا جائزہ لیا۔ ہر چیز بہت سلیقے سے رکھی گئی تھی۔
"جی ڈیکوریشن میں نے اور بی جان نے کی ہے"۔
میرال نے خوشی سے کہا اور کچن میں چلی گئی ۔ وہ بھی میرال کے پیچھے کچن میں آگیا۔
میرال نے فریج سے کیک نکالا۔
"واؤ کیک کتنا اچھا لگ رہا ہے"۔
ریحان نے کیک کی تعریف کی۔
"ویسے میں نے پہلی دفعہ بنایا ہے ۔ پتا نہیں کیسا بنا ہے"۔
میرال نے کیک شیلف پر رکھا۔
"پہلی دفعہ میں ہی لگتا ہے کافی دل سے بنایا ہے بہت اچھا لگ رہا ہے۔ میرا دل کر رہا ہے کہ ابھی کھالوں"۔
ریحان نے کہتے ساتھ ہی ریک سے چمچ اٹھایا۔
"نہیں۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ ابھی نہیں کھانے کے بعد کھایئے گا"۔ میرال نے فورا کیک پیچھے کیا اور کیک کے اوپر رکھا ہوا شیشے کا ڈھکن ٹھیک کیا۔
"چلو تم کہتی ہو تو ٹھیک ہے"۔
ریحان نے چمچ واپس ریک میں رکھ دیا۔
"اچھا چلو باقی گھر بعد میں دیکھ لوں گا ۔ ابھی چلتے ہیں"۔
ریحان کو کیسی کا میسج آیا اور اس نے جانے کا کہا۔
"چلیں ٹھیک ہے"۔
میرال نے کیک اٹھایا پر اس کے ہاتھ سے گرنے لگا تو اس نے دوبارہ شیلف پر رکھ دیا۔
"ارے دھیان سے میں اٹھا لیتا ہوں"۔
ریحان نے کیک اٹھایا اور وہ دونوں گھر سے باہر نکل گئے۔
"تم دونوں کو اپنے گھر سکون نہیں آتا"۔ وہ اور بی جان کچھ دیر پہلے فرحان صاحب کے گھر سے اپنے گھر آئے تھے۔ اب وہ ٹی وی اون کرکے بیٹھی تھی کہ ایان اور عنایہ آگئے۔
"ریحان بھائی سونے چلے گئے تھے۔ اس لئے میں نے سوچا کیوں نا تمہیں تنگ کیا جائے اور یہ محترمہ تو پہلے سے ہی گیٹ پر کھڑی تھیں"۔
ایان نے عنایہ کی طرف اشارہ کیا۔
"اس کو چھوڑو تم بتاؤ" ۔ ریحان بھائی آئے ہیں تم ملی؟
عنایہ اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی۔
"ارے! ملی میرال اور ریحان بھائی نے کافی باتیں بھی کی"۔
میرال کے کچھ کہنے سے پہلے ہی ایان بول پڑا۔
اچھا واقعے! عنایہ ایان کی طرف متوجہ ہوئی۔
"ہاں بس کچھ بات کی کوئی اتنی زیادہ بھی باتیں نہیں کیں"۔
میرال نے نارمل انداز میں کہا۔
"ہاں تو میرا بھائی اور کتنی باتیں کرتا۔ آج ہی تو آیا ہے تھکا بھی ہوا تھا۔ پھر بھی اس نے کھانا سب کے ساتھ کھایا اور تم سے باتیں بھی کیں"۔
ایان نے اپنے بھائی کی طرف داری کی۔
"تم اپنے بھائی کی اتنی سائڈ نہ لو"۔
عنایہ نے اسے منہ چڑایا۔
"کیوں نہ لوں آخر میرا بھائی ہے"۔
ایان نے بھی اسے منہ چڑایا۔
"تم دونوں نے اگر لڑنا ہی ہے تو کہیں اور جاکر لڑو۔ میں دماغ خراب نہ کرو"۔
میرال پہلے ہی کافی تھک گئی تھی۔ اب ان کی باتوں سے اور بور ہو رہی تھی۔
"میرال اس کی باتوں کی طرف دھیان نہ دو"۔ "میں نے تو ایک پلین سوچا ہے تمہارے اور ریحان بھائی کے لئے"۔
عنایہ نے وہ بات شروع کی جو کرنے آئی تھی۔
کیا پلین ؟
میرال اور ایان نے ایک ساتھ پوچھا۔
"کل تم لوگ شاپنگ پر جانا اور ریحان بھائی کو بھی ساتھ لے جانا"۔
عنایہ نے ان دونوں کو پورا پلین بتایا۔
"پر تم بھی ہمارے ساتھ چلنا"۔
ایان نے عنایہ سے کہا۔
میں کیوں جاؤں؟
"کیونکہ مجھے بھی کمپنی دینے والا کوئی ہونا چاہیے"۔
ایان نے آرام سے کہا۔
"ہاں عنایہ تم بھی ساتھ چلنا آخر پلین تمہارا ہے اور اگر ہم کچھ بھول جائے تو بتا دینا"۔
میرال نے بھی اس کو جانے کے لئے کہا۔
"اچھا ٹھیک ہے تم لوگ تیار رہنا"۔
عنایہ مان گئی تھی۔
"ویسے یہ بی جان کہاں ہے۔ کافی دیر سے نظر نہیں آئیں"۔
ایان نے ادھر اُدھر دیکھا۔
"بی جان اپنے کمرے میں آرام کر رہی ہیں"۔ مینا کچھ۔۔۔
ابھی میرال مینا کو کہنے ہی لگی تھی کہ کچھ کھانے کے لئے لے کر آئے کہ وہ پہلے ہی چائے اور کباب ٹرے میں رکھے لے آئی تھی۔
"ارے واہ تم تو میرے کہنے سے پہلے ہی چائے لے آئی"۔
میرال خوش ہوئی۔
"جی میں نے آپ کی آوازیں سن لی تھی۔ اس لئے چائے بننے کے لئے رکھ دی تھی"۔
مینا نے مزے سے بتایا۔
ایان کو کوئی فون آیا وہ سننے کے لئے باہر چلاگیا۔
"ویسے مینا کافی سگھڑ ہو گئی ہے اس کی شادی نہ کردیں"۔
عنایہ نے مینا کو چھیڑا۔
"بس میرے منگیتر کو نوکری مل جائے پھر میری شادی ہو جائے گی"۔
مینا نے شرماتے ہوئے منہ کے آگے دوپٹہ کیا۔
"مینا تم جاکر اپنا کام کرو"۔
میرال نے مینا کو واپس کچن میں جانے کے لئے کہا۔
"تم کیوں اس کو تنگ کرتی رہتی ہو"۔
میرال نے عنایہ کو ٹوکا۔
"میں تو ویسے ہی بس تنگ کر رہی تھی اس کو تنگ کرنے کا بڑا مزا آتا ہے"۔
کس کو تنگ کر رہی تھی؟
ایان ابھی ابھی واپس لاونج میں آیا تھا۔
"کیسی کو نہیں"۔ میرال نے جواب دیا۔
"تم چائے پیو"۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
وہ صبح جلدی اٹھ گئی تھی۔ کافی دیر سے ایان کے فون کا انتظار کررہی تھی۔ پر وہ تو جیسے ان تینوں کا پلین بھول ہی گیا تھا۔ تھک ہار کر اس نے خود ہی فون کرنے کا سوچا۔
ہیلو! "میں تمہیں ہی فون کرنے والا تھا"۔
ایان نے فورا عنایہ کا فون اٹھایا۔
"تو فون کیا کیوں نہیں " ۔
عنایہ نے اپنے غصے کو قابو کیا۔
"میں جب سے اٹھا تھا۔ اپنے پلین پر ہی کام کر رہا تھا۔ پر ریحان بھائی مان ہی نہیں رہے تھے"۔ "ابھی بڑی مشکل سے مانے ہیں۔ تم ایک کام کرو میرال کو فون کر دو کہ دوبجے تک تیار رہے" ۔
ایان نے بات مکمل کی ۔
"اچھا ٹھیک ہے"۔
عنایہ نے فون بند کیا۔
دو بجے وہ میرال کے گھر تھی۔ دونوں بلکل تیار تھے۔ کچھ دیر میں ایان اور ریحان بھی آگئے اور وہ سب شاپنگ کرنے کے لئے نکل گئے۔
"میرال وہ دیکھوں وہ ڈریس کتنا اچھا لگ رہا ہے"۔
عنایہ نے میرال کو کہا۔
"ہاں اچھا تو لگ رہا ہے آؤ دیکھتیں ہیں"۔
میرال اور عنایہ اس شاپ میں چلی گئیں ۔
ایان اور ریحان بھی ان دونوں کے پیچھے گئے۔
"تم لوگوں نے اور کتنی شاپنگ کرنی ہے؟ میرا اور ریحان بھائی کا شاپنگ بیگ اٹھا اٹھا کر ہاتھ تھک گیا ہے"۔
"ارے میرا تو نہیں تھکا تم آرام سے شاپنگ کرو میرال" ۔
ریحان نے خوش دلی سے کہا۔
"واہ! میرال ریحان بھائی تو لگتا ہے کہ تم پر دل وجان سے فدا ہیں"۔
عنایہ نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔
میرال نے اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے اسے گھورا۔
"مجھے بہت بھوک لگی ہے۔ پہلے کچھ کھا لیتے ہیں پھر تم لوگ کرتی رہنا شاپنگ"۔
ایان کہتے ہی شاپ سے باہر نکل گیا۔ مجبوراً ان سب کو بھی اس کے ساتھ جانا پڑا۔
"ارے میں اپنا ایک شاپنگ بیگ تو دکان میں ہی بھول آئی۔ ایان میرے ساتھ چلنا دیکھ کر آتے ہیں"۔
ابھی وہ لوگ کچھ کھانے کے لئے بیٹھے تھے کہ
عنایہ پلین کے مطابق وہاں سے اٹھ گئی۔
"ریحان بھائی اب کھانے کا آرڈر دیں میں آتا ہوں"۔
ایان بھی اس کے ساتھ چل دیا۔ اور وہ دونوں وہاں سے کچھ دور جاکر کھڑے ہوگئے۔ جہاں سے وہ دونوں ان دونوں کو دیکھ سکیں پر ان دونوں کو پتا نہ چلے۔ ان تینوں کا یہی پلین تھا کہ میرال اور ریحان کو اکیلے بات کرنے کا موقع دیا جائے۔
اور تمہاری کیا مصروفیات ہیں آج کل؟
ریحان نے بات شروع کی کھانے کا آرڈر وہ دے چکے تھے۔
"آج کل تو گھر میں ہی ہوتی ۔ ایڈمیشن کے لئے اپلائے کیا ہے ۔ ابھی لیسٹ نہیں لگی ہے"۔
اور آپ بتائے؟ آپ کی جاب کیسی جارہی ہے؟
میرال نے بھی سوچا کہ پوچھ لے۔
"اچھی جارہی ہے جاب تو ۔ اب تو میں سوچ رہا ہوں کہ زارا کی شادی کے ساتھ ہی یا اس کے بعد میں بھی شادی کرلوں"
ریحان کی بات پر میرال نے اسے حیران ہوکر دیکھا۔وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
کوئی لڑکی پسند ہے آپ کو؟
میرال نے فوراً نظریں جھکا لی۔
"ہے پر ابھی تک اس سے اس بارے میں بات نہیں کی"۔
ریحان نے سیدھا سا جواب دیا۔
میرال اس کے جواب پر الجھ گئی۔
"ویسے مجھے لگتا ہے کہ ایان تمہاری دوست کو پسند کرتا ہے۔ دیکھوں پہلے خود ہی کہہ رہا تھا کہ بھوک لگی ہے۔ اور اس کے ایک دفعہ کہنے پر فوراً اس کے ساتھ چلا گیا"۔
ریحان کو جو لگ رہا تھا اس نے بتایا۔
"ایسا کچھ نہیں ہے ہم تینوں بچپن سے ساتھ ہیں تو اس کی اور ایان کی بھی کافی اچھی دوستی ہے"۔
ریحان کی بات پر میرال نے اپنا سر پیٹ لیا۔ اگر یہ بات ان دونوں کو پتا چل جائے تو ۔۔۔ ان کے ری ایکشن سوچ کر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔
اور وہ دونوں جو دور سے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے ۔ سمجھیں کہ شاید ریحان نے اس سے اظہار محبت کر دیا ہے ۔اس لئے وہ مسکرا رہی ہے۔
اکیلے اکیلے کیوں مسکرایا جارہا ہے؟
ایان اور عنایہ واپس ٹیبل پر آگئے اور کرسی کھینچ کے بیٹھ گئے۔
"میں نہیں مسکرارہا۔ میرال مسکرا رہی ہے"اور بیگ ملا؟
ریحان نے ان دونوں کے خالی ہاتھوں کو دیکھا۔
"نہیں اس کو شاپ پر جاکر یاد آیا کہ اس نے تو وہ ڈریس خریدا ہی نہیں تھا"۔
ایان نے کہا۔ اسی وقت کھانا بھی آگیا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
"پھر میرا پلین اچھا تھا نا"۔
عنایہ اور ایان میرال کے روم میں موجود تھے۔
"بہت ہی فضول پلین تھا۔ میری الجھن اور بڑ گئی ہے"۔
میرال نے پریشانی سے بولا ۔
کیوں ایسا کیا ہوگیا؟ کیا کہہ دیا ریحان بھائی نے؟ "ہم تو خوش ہورہے تھے کیونکہ جب ہم آئے تھے تو تم مسکرا رہی تھی"۔
ایان بھی گفتگو میں شامل ہوا۔
"میں مسکرا رہی تھی شرما نہیں رہی تھی"۔
میرال کو اس کی دماغی حالت پر شبہ ہوا۔
اچھا یہ تو بتاؤ کیا بات ہوئی اور ریحان بھائی نے کیا کہا؟
عنایہ نے پوچھا۔
"باتیں تو بہت ہوئی اور باتوں باتوں میں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کی جاب کیسی جارہی ہے۔ تو کہتے کہ اچھی جارہی ہے اور میں سوچ رہا ہوں کے شادی کرلوں۔ پھر میں نے پوچھا کہ کوئی لڑکی پسند ہے تو کہتے کہ ہے پر ابھی اس کو نہیں بتایا"۔
میرال نے بات مکمل کی۔
"کیا پتا وہ لڑکی تم ہی ہو"۔
عنایہ نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
"نہیں مجھے ایسا لگا کہ وہ شاید کیسی اور کی بات کر رہے ہیں"۔
میرال کی آنکھوں کے سامنے پھر وہی سین آیا جب اس نے یہ کہا تھا۔
پر اگر وہ تمہیں پسند نہیں کرتا تو پھر انہوں نے تم سے یہ بات کیوں کی؟؟
ایان نے پوچھا۔
"پتا نہیں ! اس لئے تو کہہ رہی ہوں کہ ان کی باتوں کی وجہ سے میں اور الجھ گئی ہوں۔اور ایک بات اور بھی وہ کہہ رہے تھے"۔
میرال نے ایان اور عنایہ کی طرف دیکھا۔
کیا کہہ رہے تھے؟؟
دونوں نے ایک ساتھ پوچھا۔
"وہ کہہ رہے تھے کہ ایان کو تو بہت بھوک لگی تھی پر عنایہ کے ایک دفعہ کہنے پر اس کے ساتھ چل دیا۔ مجھے لگتا ہے یہ عنایہ کو پسند کرتا ہے"۔
میرال نے اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے سنجیدگی سے ریحان جیسے کہہ رہا تھا ویسے ہی کہا۔
"کیا!!!! ایسا کچھ نہیں ہے۔ یہ تو ہمارے پلین کا حصہ تھا کہ ہم تم دونوں کو اکیلے بات کرنے کا موقع دیں گے"۔
ایان تو اچھل ہی پڑا۔
"تو اور کیا۔ ریحان بھائی پتا نہیں کیا سمجھ رہے اور ویسے انہیں اپنی بھائی کی حرکتیں نہیں پتا۔ میں اس کو کیوں پسند کروں گی"۔
عنایہ نے بھی کہا۔
"کیوں میری حرکتیں اب ایسی بھی نہیں ہے کہ تم پسند نہ کر سکو۔ اور ویسے بھی بھائی کو لگتا کہ میں تمہیں پسند کرتا ہوں۔ پر انہیں یہ نہیں پتا کہ تم کتنی بیواقوف ہو۔ مجھے عقل مند لڑکیاں پسند ہیں"۔
ایان نے بھی اپنا بدلہ پورا کیا۔
"کیا میں تمہیں بیوقوف لگتی ہوں۔ تمہارے ساتھ کوئی دو منٹ بیٹھے تو پاگل ہو جائے"۔
عنایہ کو بھی غصہ آگیا۔
"اچھا تم تو کب سے بیٹھی ہو تم تو پاگل نہیں ہوئی"۔
ایان نے اسے کہا۔
"تم دونوں تو لڑنا بند کرو۔ میں نے ان کو کہہ دیا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہے ۔ ہم تینوں بچپن سے ساتھ ہیں اس لئے تم دونوں کی اچھی دوستی ہے۔پر تم دونوں تو ایسے لڑتے ہو۔ اگر ریحان تم دونوں کی لڑائی دیکھ لیں تو دوبارہ ایسا کبھی نہ سوچیں۔ اس لئے اگر اب تم دونوں کا لڑنے کا دل کرے تو ریحان کے سامنے لڑنا"۔
میرال ان کی لڑائی سے تنگ آگئی تھی۔
"ویسے یہ صحیح ہے۔ میں بی جان سے مل کر آتا ہوں۔ ویسے بھی اگر یہاں بیٹھا تو دوبارہ میری اس سے لڑائی ہوجائے گی"۔
ایان نے اٹھتے ہوئے کہا ۔
"ویسے میرال زارا آپی کی منگنی والے دن ہی یونی میں لیسٹ لگنی ہے۔ تمہیں اس لئے بتا رہی کہ جس کو یاد رہا وہ چیک کر لے"۔
عنایہ نے بیڈ پر پڑا کشن اپنی گود میں رکھا۔
اچھا کیا کہ بتا دیا۔
"بس اب اللّٰہ کرے کہ ہم تینوں کا نام لیسٹ میں آجائے"۔
"آمین" ۔
دونوں نے ایک ساتھ کہا۔
تمہارے بابا نے زارا آپی کی منگنی پر آنا ہے؟
عنایہ نے پوچھا۔
"نہیں وہ شادی پر آئے گے"۔
میرال نے بتایا۔ وہ کچھ اداس بھی ہوئی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
"یہ ایان کب آئے گا۔ آج تو میں نے اس کو مار مار کر سیدھا کر دینا ہے"۔
زارا نے غصے سے کہا۔
میرال عنایہ اور زارا کو ایان نے ہی پالر میں چھوڑا تھا۔ وہ تینوں کافی دیر سے تیار ہو چکی تھیں۔ پر ایان ابھی تک لینے نہیں آیا تھا اور فون بھی نہیں اٹھا رہا تھا۔
"زارا آپی کافی ٹائم ہو گیا ہے ہمیں ہال بھی پہنچنا ہے وہاں تو مہمان آنا شروع ہوگئے ہوں گے"۔
میرال نے پریشانی سے گھڑی دیکھی جہاں شام کے سات بج رہے تھے۔
"میں ابو کو فون کرتی ہوں۔ یہ ایان تو پتا نہیں کہاں ہے"۔
زارا نے فرحان صاحب کا نمبر ملایا۔
"اسلام علیکم! ابو ہم لوگ کب کے تیار ہو گئے ہیں پر ایان ابھی تک نہیں آیا"۔
زارا نے فوراً ایان کی شکایت کی۔
"وعلیکم السلام! میں بتانا ہی بھول گیا۔ ایان اپنے کیسی دوست طرف گیا ہے ۔ میں ڈرائیور کو کہتا ہوں تم تینوں کو لے آئے"۔
فرحان صاحب نے اللّٰہ حافظ کہہ کر فون بند کردیا۔
کیا کہا تایا ابو نے ؟
میرال بھی اب انتظار کر کر تھک گئی تھی۔
"وہ کہتے ہیں کہ ایان اپنے کیسی دوست کی طرف گیا ہے ۔ ڈرائیور آرہا ہے کچھ دیر میں" ۔
زارا نے بتایا۔
"اس ایان کی آج خیر نہیں پتا نہیں اس کے کتنے دوست ہیں" ۔
"تو اور کیا ۔ اس کو آج بتانا ہی ہوگا" ۔
عنایہ کو بھی بہت غصہ تھا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
تمہیں یاد آگیا کہ تمہاری بہن کی آج منگنی ہے؟
میرال عنایہ اور زارا کچھ دیر پہلے ہی ہال پہنچی تھیں۔ میرال ہال کے داخلی دروازے کے پاس ہی چکر لگا رہی تھی کہ جیسے ہی آیان آئے وہ اس کو سیدھا کرے۔
"مجھے تو یاد ہی تھا لگتا ہے تم بھول گئی ہو گی اس لئے اس طرح کی باتیں کر رہی ہو"۔
ایان کو اندازہ تھا کہ وہ ضرور اسی کا انتظار کر رہی ہوگی تاکہ اسے باتیں سنا سکے اس لئے وہ تیار ہو کر آیا تھا۔
"پھر تم یہ بھول گئے تھے کہ تم نے اپنی تین بہنوں کو پالر چھوڑا ہے اور ان کو وہاں سے لے کر بھی آنا ہے"۔
میرال کو غصہ تو بہت تھا پر آس پاس کے مہمانوں کا خیال کرتے ہوئے وہ اپنے منہ پر ہلکی سے مسکراہٹ سجا کر اس سے پوچھ رہی تھی۔
"میری صرف ایک ہی بہن ہے"۔
ایان نے اسے یاد دلایا۔
"تو میں اور عنایہ تمہاری بہنیں نہیں ہیں"۔
میرال نے معصوم سی شکل بنائی۔
"ہاں تم بھی میری بہن ہو۔ بلکہ تمہیں تو میں اپنی بھابھی بنانا چاہتا ہوں۔ پر عنایہ وہ تو میری بہن نہیں ہے"۔
ایان نے مزے سے کہا۔
کیا تم عنایہ کو پسند کرتے ہو؟
" اگر عنایہ کو یہ پتا لگ گیا نہ تو وہ تو تمہیں مار ہی دے گی"۔
اس کی بات پر میرال کو کافی حیرت ہوئی۔
ویسے آج وہ کتنی پیاری لگ رہی ہے۔
ایان نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے سامنے دیکھا جہاں سے وہ آرہی تھی۔ اس نے پنک کلر کی میکسی پہنی تھی اور ہم رنگ دوپٹہ کندھے پر پن اپ کیا ہوا تھا۔
"ویسے پیاری تو لگ رہی ہے۔ تم بھی کم نہیں لگ رہے ۔ بلیک تھری پیس سوٹ تم پر بہت سوٹ کر رہا ہے"۔
میرال نے اس کی تعریف کی۔
"ویسے ریحان بھائی اور میری آج کی ڈریسنگ ایک جیسی ہے"۔
ایان نے اس کو بڑی رازداری سے بتایا۔
"تو اس بات کو تم اتنی رازداری سے کیوں بتا رہے۔ تمہارا دماغ سہی ہے مجھے تم کچھ پاگل پاگل لگ رہے ہو"۔
میرال کو وہ پاگل ہی لگا۔
"اب تم مجھے پاگل نہ کہو"۔
ایان عنایہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
" اور یاد آیا جب میں نے بتایا تھا کہ ریحان نے بھی یہی کہا تھا کہ تم عنایہ کو پسند کرتے تو تب تو تم مکر گئے تھے"۔
میرال کو اس دن والی بات یاد آئی ۔
"ہاں کیونکہ عنایہ وہی موجود تھی اگر میں اس کے سامنے مان جاتا کہ میں اس کو پسند کرتا ہوں تو وہ تو مجھے اسی وقت مار دیتی" ۔
ایان ابھی بھی اس کو ہی دیکھ رہا تھا۔ وہ کیسی سے بات کررہی تھی۔
"ویسے اگر میں اس کو بتا دوں تو وہ تو تمہیں ابھی بھی مار سکتی ہے"۔
میرال نے مزے سے کہا۔
"اب تم مجھے بلیک میل نہ کرو"۔
ایان کو لگا کہ اس سے غلطی ہو گئی جو اس کو بتا دیا۔
"بلیک میل تو ابھی میں نے کیا بھی نہیں ہے وہ تو ابھی میں کروں گی"۔
"دیکھو اگر ایسا کچھ کیا تو پھر میں بھی ریحان بھائی کو بتا دوں گا کہ تم انہیں پسند کرتی ہو"۔
ایان نے اسے دھمکانا چاہا۔
"بتا دو بلکہ ابھی ریحان آتے ہیں تو بتا دینا ۔ اس طرح تو میرا کام آسان ہو جائے گا۔ میں تو کب سے انہیں بتانا چاہ رہی پر ہمت ہی نہیں ہورہی ہے"۔
میرال اس کی دھمکی میں بلکل بھی نہ آئی۔
ویسے یہ بتاؤ کون سے دوست کی طرف گئے تھے؟
میرال نے بات بدلی۔
"وہی جس کو اس دن ایئرپورٹ سے لینے گیا تھا۔اس کو بھی میں نے منگنی پر بلایا تھا پر اس کو ابھی پاکستان کے راستے نہیں پتا اس لئے اس کو لینے گیا تھا"۔
ایان نے پوری بات بتائی۔
ویسے یہ ریحان کب آئے گے؟
میرال کو کب سے اس کا انتظار تھا۔
"وہ دیکھو آگئے "۔
ایان نے داخلی دروازے کی طرف اشارہ کیا ۔
میرال نے ریحان کو دیکھا۔ بلیک تھری پیس میں وہ بہت ہنڈسم لگ رہا تھا۔ کم تو وہ بھی نہیں لگ رہی تھی۔
اس نے پنک پاجامے کے ساتھ پنک شاٹ فراک پہنا ہوا تھا اور ہم رنگ دوپٹہ کندھے پر پن اپ کیا ہوا تھا۔
"ہائے پریٹی گرل!
ریحان نے اس کے پاس آکر کہا۔ ایان کسی کام کا بہانہ بنا کر وہاں سے چلا گیا تھا۔
"ہائے! آپ بھی بہت اچھے لگ رہے"۔
میرال نے بھی اس کی تعریف کی۔
"تھینک یو! پر تم زیادہ اچھی لگ رہی ہو"۔ تم میرا ویلکم کرنے کے لئے ہی کھڑی تھی نا؟
ریحان نے اس کی طرف دیکھا۔
"ن۔۔۔ن نہیں میں تو ایان کے ساتھ باتیں کر رہی تھی"۔
میرال نے فوراً آنکھیں جھکا لیں۔وہ بہت خوش تھی کہ ریحان نے اس کی تعریف کی ہے۔
"اچھا مجھے لگا کہ میرے لئے کھڑی تھی"۔
"اچھا چلو باقی سب کے پاس چلتے ہیں"۔
ریحان اور وہ ایک ساتھ چل رہے تھے۔
"میرال ادھر آؤ"۔
بی جان نے اس کو بلایا۔
"جی آتی ہوں"۔ میرال بی جان کی بات سننے چلی گئی۔
"جی بی جان" ۔
"جاؤ تم اور عنایہ جاکر زارا کو لے آؤ" ۔
"جی اچھا"۔
میرال برائیڈل روم کے اندر گئی وہاں عنایہ پہلے سے موجود تھی۔ وہ دونوں زارا کو سٹیج تک لے اور ارحم کے ساتھ بیٹھا دیا۔ ارحم زارا کی خالہ کا بیٹا تھا اس لئے منگنی کی فنکشن کمبائن تھا۔
وہ اور عنایہ خود سٹیج پر پڑے صوفے کے پیچھے جاکر کھڑی ہوگئیں۔
عنایہ کے والدین بھی انوئٹڈ تھے پر ان کو کہیں اور فیملی میں کیسی شادی پر جانا تھا۔ اس لئے وہ نہیں آ پائے تھے ۔
منگنی کی رسم شروع ہوئی ۔ زارا نے ارحم کو انگھوٹھی پہنائی اور پھر ارحم نے زارا کو انگھوٹھی پہنا دی۔ سب نے خوب تالیاں بجائیں اور شور مچایا۔
ان سب کی بہت سی تصویریں اتری تھیں۔ پھر جب فیملی فوٹو اترنے لگی تو میرال کے ساتھ
ریحان آکر کھڑا ہوگیا اور عنایہ کے ساتھ ایان ۔ ابھی تصویر کھچنے میں کچھ ٹائم تھا کیونکہ ابھی سب سیٹ ہو رہے تھے۔
"میرال میں تو یہ تصویر اپنے پاس سنبھال کر رکھوں گا"۔ ایان نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔
"میں بھی"۔
میرال نے بھی آہستہ آواز میں کہا۔
ایان فوراً اپنی جگہ پر واپس چلا گیا۔
ریحان اور عنایہ نے ان دونوں کی بات نہیں سنی تھی۔
کھانا کھل چکا تھا۔ وہ اپنی پلیٹ میں تھوڑے سے چاول ڈال کر بی جان کے ساتھ آکر بیٹھ گئی تھی۔
"میرال!عنایہ کہاں پر ہے ؟
بی جان کو عنایہ کا خیال آیا انہوں نے کافی دیر سے اسے نہیں دیکھا تھا۔
"بی جان! اس کو گھر سے کال آئی تھی۔ وہی سننے گئی ہے"۔
میرال نے چاول کھانا شروع کئے۔
"مبارک ہو میرال"!
عنایہ اس کے اور بی جان کے قریب آکر چیخی تھی۔
"کس چیز کی مبارک؟
بی جان نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ میرال بھی اسی کو دیکھ رہی تھی۔
"وہ میرا٫ میرال اور ایان کا یونی لیسٹ میں نام آگیا ہے۔ ابھی امی کا فون اس لئے آیا تھا۔ ان کو میں کہہ کر آئی تھی کہ آج لیسٹ لگنی ہے"۔
عنایہ نے خوشی سے بتایا۔
"پر لیسٹ تو صبح کے وقت لگتی ہے ابھی تو رات کے نو بج رہے ہیں"۔
بی جان نے اس سے سوال کیا۔
"بی جان! عنایہ آج صبح جب ہمارے گھر آئی تھی اس وقت اپنی امی کو لیسٹ چیک کرنے کا کہہ کر آئی تھی"۔
میرال نے جواب دیا۔
"جی پر امی بھی بھول گئیں تھیں۔ ابھی کچھ دیر پہلے انہیں یاد آیا تو انہوں نے چیک کیا"۔
عنایہ نے بی جان کو پوری تفصیل بتادی۔
"اچھا اچھا سہی! یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ تم تینوں کا نام آگیا ہے۔ اب تم بھی کچھ کھا لو"۔
بی جان خوش ہوئیں۔
"میں کھانا پلیٹ میں ڈال کر لاتی ہوں"۔
عنایہ کرسی سے اٹھ گئی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
زارا کی منگنی کو دو ہفتے ہو گئے تھے۔ ریحان اسکی منگنی کے اگلے دن ہی واپس دوبئی چلا گیا تھا۔
آج ان تینوں کا یونی میں پہلا دن تھا۔
"ایان جلدی سے میرے گھر آجاؤ۔ میں اور عنایہ کب سے تمہارا انتظار کررہے ہیں"۔
میرال نے کوئی پانچویں دفعہ اس کو میسج کیا تھا ۔ پر وہ میسج سین ضرور کر رہا تھا پر جواب نہیں دے رہا تھا۔
"پتا نہیں کیا کررہا ہے ۔ میسج سین کر رہا ہے پر جواب ہی نہیں دے رہا"۔
میرال کو اب غصہ آرہا تھا۔
"میں پہلے دن ہی لیٹ نہیں ہونا چاہتی"۔
عنایہ نے گھڑی پر ٹائم دیکھا۔
"آجاتا ہے۔ تم دونوں اتنا پریشان نہ ہو"۔
بی جان نے دونوں کو ٹوکا۔
"میں آگیا"....
ایان نے ان دونوں کے پاس ڈورتا ہوا آیا۔
"تم آرام سے بھی آسکتے تھے" اور میرے میسجز کا جواب کیوں نہیں دے رہے تھے؟
میرال نے اسے گھورا۔
"میں آرام سے آتا تو پھر تم نے ہی کہنا تھا کہ لیٹ ہوگئے اور میں تیار ہورہا تھا اس لئے تمہارے میسجز کے جواب نہیں دے سکا اور اب تم دونوں لیٹ کروا رہی ہو میں گاڑی سٹارٹ کررہا ہوں آجاؤ"۔ اللّٰہ حافظ بی جان!
ایان کہتا ہوا باہر نکل گیا اس کے پیچھے وہ دونوں بھی بی جان کو اللّٰہ حافظ کہتی باہر آگئیں۔
ایان نے گاڑی سٹارٹ کی میرال آگے فرنٹ سیٹ پر بیٹھی اور عنایہ پیچھے بیٹھی ایان نے گاڑی گھر کے پورچ سے روڈ پر ڈالی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
"یار! آج تو میں نے سوچا تھا کہ پہلا دن ہے تو یونی گھومیں گے پر پہلے دن ہی اتنے لیکچرز"۔۔۔۔۔
وہ تینوں لگاتار چار لیکچرز لینے کے بعد اب فری ہوئے تھے۔اور کینٹین میں آئے تھے۔
عنایہ تو بہت تھک گئی تھی۔
"میں اپنے لئے چپس اور کوک لینے جارہا ہوں"۔ تم دونوں نے کیا کھانا ہے؟
ایان نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا۔
"مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا۔ تم میرے لئے بھی کوک اور چپس لے آؤ"۔
میرال نے کینٹین پر ایک سائڈ پر بنے کاؤنٹر کی طرف دیکھا۔ جہاں پر کافی ساری کھانے کی چیزیں تھیں۔
"میرے لئے بھی یہی لے آؤ"۔
عنایہ نے موبائل پر ٹائم دیکھا اور موبائل ٹیبل پر رکھ دیا۔
"میرال وہ دیکھو وہ لڑکا کب سے تمہیں اتنے غصے سے دیکھ رہا ہے"۔
عنایہ کی نظر اچانک ساتھ والی ٹیبل پر گئی تھی۔
"کون؟
میرال نے موبائل سے نظریں ہٹا کر ساتھ والی ٹیبل کی طرف دیکھا۔
"ارے! یہ تو وہی لڑکا ہے۔ جس کا میں نے موبائل توڑا تھا"۔ پر یہ یہاں کیا کر رہا ہے؟
میرال اس لڑکے کو دیکھ کر پریشان ہوگئی۔ کیونکہ وہ ابھی بھی اس کو غصے سے دیکھ رہا تھا۔
"پڑھتا ہوگا یہاں پر"۔
عنایہ نے اندازہ لگایا۔
"چلو یہاں سے چلتے ہیں۔ مجھے ویسے ہی یہ انسان بہت عجیب لگ رہا ہے۔ باہر جاکر ایان کو کال کر دیتے ہیں کہ وہ چیزیں لے کر باہر آ جائے"۔
میرال کو اس لڑکے کے اس طرح غصے سے دیکھنے سے ڈر لگا تھا۔وہ کوئی تماشا نہیں چاہتی تھی۔
"اچھا ٹھیک ہے باہر چلتے ہیں"۔
عنایہ نے اپنا بیگ اٹھایا۔ وہ اور میرال ایک ساتھ کرسی سے اٹھیں۔
اس لڑکے کی نظروں نے میرال کا کینٹین سے باہر نکلنے تک تعاقب کیا۔
"تم دونوں اچانک کینٹین سے باہر کیوں آگئی؟
وہ دونوں گراؤنڈ میں آکر بیٹھ گئیں تھیں۔ اب ایان آیا تھا۔
"ویسے ہی میرا دم گھٹ رہا تھا"۔
عنایہ ایان کو بتانے لگی تھی پر میرال نے اس کو نہ بتانے کا اشارہ کیا اور خود بتادیا۔
"کیا ہوا تمہیں طبیعت ٹھیک ہے؟
ایان پریشان ہوا۔
"ہاں میں اب ٹھیک ہوں۔ اس لئے تو باہر آگئے تھے کہ کھلی ہوا میں سانس سہی آئے گا"۔
میرال نے جواب دیا۔ اور چپس کا پیک کھولا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
آج اس کا یونی آنے کا بالکل بھی دل نہیں تھا پر وہ صرف اپنے دوست نبیل کی وجہ سے آیا تھا۔
"کہاں ہو؟ میں تمہارا کب سے کینٹین میں انتظار کررہا ہوں"۔
اس نے کہا اور فون بند کردیا۔
اسی وقت ساتھ والی ٹیبل پر دو لڑکیاں آکر بیٹھیں۔ ان کے ساتھ ایک لڑکا بھی تھا جو شاید کچھ کھانے کے لئے لینے چلا گیا تھا۔ان میں سے ایک لڑکی وہی تھی جس نے اس کا موبائل توڑا تھا۔ اس کو دیکھ کر اس کو بہت غصہ آیا۔
"ارے تم یہاں۔ میں دوسری طرف ڈھونڈ رہا تھا"۔
نبیل اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھا۔
"مائر! تم اتنے غصے میں کیوں ہو؟
اس کے کوئی جواب نہ دینے پر وہ سمجھ گیا کہ وہ غصے میں ہے۔
"مجھے اس لڑکی پر غصہ آرہا ہے"۔
مائر نے آنکھوں کے اشارے سے بتایا۔ نبیل نے مڑ کر ساتھ والی ٹیبل کی طرف دیکھا۔
"کیوں ؟ اس نے کیا کیا؟
نبیل کو وہ کوئی نیو سٹوڈنٹ لگی کیونکہ اس نے پہلے اس کو یونی میں نہیں دیکھا تھا۔
"یہ وہی لڑکی ہے جس نے اس دن میرا موبائل توڑا تھا"۔
مائر کو اس دن والا واقعہ پھر یاد آگیا۔
"او! تو یہ وہ بہادر لڑکی ہے جس نے میرے دوست کا فون توڑا تھا۔ ویسے تو نے بھی اس کا فون گاڑی کے نیچے دے دیا تھا"۔
نبیل نے اس کو یاد کرایا۔
"پر میں نے جان بوجھ کر اس کا فون گاڑی کے نیچے نہیں دیا تھا۔ پر اس نے جان بوجھ کر میرا فون توڑا تھا" ۔
اس کو بہادر کہنے پر اس نے اس کو گھور کر دیکھا۔ آنکھیں غصے سے لال ہورہی تھیں۔
"بس یار اتنے غصے سے بھی نہ دیکھ اسے"۔
نبیل نے اس کو ٹوکا۔
کچھ دیر بعد جب اس لڑکی نے اسے دیکھا تو وہ فوراً اپنی دوست کو لے کر وہاں سے چلی گئی تھی۔
اس نے دور تک اس کو دیکھا تھا۔
"دیکھ تو نے اتنے غصے سے اس کو دیکھا کہ وہ یہاں سے چلی ہی گئی"۔
نبیل کو افسوس ہوا۔ اسے خود کبھی کبھی اپنے دوست کے غصے سے ڈر لگتا تھا۔
"اچھا ہوا چلی گئی ورنہ میں غصے میں پتا نہیں کیا کرتا"۔
مائر کو غصہ تو بہت آتا تھا پر وہ اپنے غصے کو کافی حد تک کنٹرول کر لیتا تھا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••وہ آج پھر لیٹ گھر آیا تھا۔
"مائر! تم آج پھر اتنے لیٹ آئے ہو"۔
زاہد صاحب کب سے اس کا انتظار کر رہے تھے۔
"اسلام وعلیکم! بابا۔ وہ میرا ایک یونی کا پروجیکٹ ہے اسی پر کام چل رہا ہے ۔ اسلئے لیٹ ہوگیا"۔
مائر نے انہیں بتایا۔
"پھر بھی جلدی آنے کی کوشش کیا کرو تمہاری ماں پریشان ہو جاتی ہے"۔
زاہد صاحب کو ہمیشہ اس کی فکر لگی رہتی تھی۔
"پہلی بات تو یہ کہ وہ میری ماں نہیں ہے۔ وہ صرف آپ کی سیکنڈ وائف ہے۔ اور دوسری یہ کہ انہیں کہہ دیں میری فکر نہ کیا کریں"۔
ہاجرہ بیگم کا نام سن کر اس کا حلق تک کڑوا ہوا تھا۔
"وہ تو تمہیں اپنا بیٹا ہی مانتی ہے ۔ تم پتا نہیں کیوں اس کو ماں نہیں مانتے"۔
جب وہ چار سال کا تھا تو اس کی ماں کا انتقال ہو گیا تھا۔ کچھ عرصے بعد زاہد صاحب نے دوسری شادی کرلی تھی۔ پر اس نے یہ قبول نہیں کیا تھا۔ اور زاہد صاحب اکثر ان دونوں کی غلط فہمیاں دور کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔
ہاجرہ بیگم ایک اچھی خاتون تھی۔ پر مائر کو ہمیشہ وہ کوئی مطلبی خاتون ہی لگی تھی۔
"میں سونے جارہا ہوں اللّٰہ حافظ بابا"!
مائر اپنے روم کی طرف جانے لگا۔
"تم نے کھانا نہیں کھانا؟
زاہد صاحب نے پیچھے سے سوال کیا۔
"میں کھاکر آیا ہوں"۔
فوراً جواب دیا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔
"آپ نے کیوں اس کو بتایا کہ میں اس کے لئے پریشان تھی۔ آپ کو پتا تو ہے کہ میری اور اس کی کبھی بنی نہیں تو پھر آپ نے ایسے ہی اس کا موڈ خراب کردیا" ۔
ہاجرہ بیگم جو اپنے کمرے میں اس کی ساری باتیں سن رہی تھیں۔اس کے جانے کے بعد کمرے سے باہر آئیں۔
"میں نے تو ایسے ہی بات کی پر اس کو بری لگ گئی"۔ "مجھے مائر کی بہت فکر ہے ۔ اس کے مزاج میں کتنا غصہ آگیا ہے اور وہ کبھی کھل کر کوئی بات بھی نہیں کرتا ہے"۔
زاہد صاحب اور وہ اپنے کمرے میں آگئے۔
"آپ اس سے زیادہ سے زیادہ باتیں کرنی کی کوشش کیا کریں۔ اور میرا ذکر اس کے سامنے نہ کیا کریں"۔
ہاجرہ بیگم نے انہیں اس سے بات کرنے کا طریقہ بتایا۔
"اور غصہ اتنا بھی نہیں کرتا وہ"۔
ہاجرہ بیگم نے مائر کی سائڈ لی۔
"میں مصروف بھی تو اتنا ہوتا ہوں کہ اسے ٹائم ہی نہیں دے پاتا۔ پر میں کوشش کروں گا"۔
آج اتوار کا دن تھا۔ وہ کب سے برتنوں کے ساتھ کشتی کررہی تھی۔جب عنایہ نے کچن میں جھانکا۔
"آج سورج کہاں سے نکلا ہے"۔ تم برتن کیوں دھو رہی ہو؟
عنایہ حیران ہوئی۔
"تم حیران ہونا بند کرو۔ اور آکر میری مدد کرواؤ۔ ایک تو یہ برتن ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے"۔
میرال برتن دھو دھو کر تنگ آگئی تھی۔
مینا کہاں ہے؟
عنایہ نے ادھر اُدھر دیکھا۔
"مینا کماری کے کسی کزن کی شادی ہے اس لئے آج صبح ہی گاؤں گئی ہے۔ اس لئے تو ان برتنوں سے میں کشتی لڑ رہی ہوں"۔
میرال نے برتنوں کی طرف اشارہ کیا۔
"ویسے تم کتنے عرصے بعد برتن دھو رہی ہو؟
عنایہ نے دھلے ہوئے برتنوں کو کپڑے سے خشک کرنا شروع کیا۔
"شاید چھے مہینے پہلے دھوئے تھے۔ جب مینا بیمار تھی۔ تب تو بی جان سے بڑی ڈانٹ پڑی تھی۔ کیونکہ میں نے ان کے پسند کے ڈنر سیٹ کی دو پلیٹیں توڑ دی تھیں"۔
میرال کو وہ دن یاد آیا۔
"آج سارے برتن سلامت ہیں یا کچھ ٹوٹا ہے؟
عنایہ ساتھ ساتھ جو برتن خشک ہوچکے تھے کیبنیٹ میں رکھ رہی تھی۔
"ہاں یار! آج بھی دو گلاس ٹوٹے ہیں۔ پر بی جان کو نہیں پتا اور میں نے ٹوٹے ہوئے گلاس ڈسٹبن میں پھینک دیئے ہیں"۔
میرال نے مزے سے بتایا۔
"کیا تم نے دو گلاس توڑ دیئے"۔
بی جان جو عنایہ کی آواز سن کر کچن میں آئی تھیں۔ میرال کی بات سن کر سر پر ہاتھ رکھا۔
"آپ چھپ چھپ کر ہماری باتیں سن رہی تھیں؟
میرال گلاسوں والی بات کو گول کرگئی۔
"بات گھمانے کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے تو سمجھ نہیں آتا کہ تمہیں کب کام کرنا آئے گا۔ جب بھی تمہیں کوئی کام کہو تو تم ضرور کچھ نا کچھ توڑتی ہو"۔
بی جان نے اپنا سر تھام لیا۔
"اب ایسے بھی نہ کہیں۔ بی جان! اس دن میں نے ریحان کے لئے کیک بنایا تو تھا اور سب کو بہت پسند آیا تھا۔ اس میں، میں نے کوئی کام خراب نہیں کیا تھا اور کچھ توڑا بھی نہیں"۔
اس نے بی جان کو یاد کرایا۔
"ہاں تو ایک دن کوئی کام خراب نہیں کیا تو کیا ہوا۔ باقی تو پورا سال تم کوئی نا کوئی کام خراب کرتی رہتی ہو"۔
بی جان کا آج پورا موڈ تھا اس کو داٹنے کا۔
"تم ہسنا بند کرو"۔
عنایہ جو اپنی ہنسی روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔ میرال کی بات پر دوبارہ ہنسی۔
"میں اپنے کمرے میں جارہی ہوں۔ اب کوئی چیز نہ توڑنا"۔
بی جان جاتے جاتے بھی اس کو نصیحت کرنا نہ بھولیں۔
"تم کیوں آئی ہو؟
میرال نے روکھے لہجے میں پوچھا۔
"کیوں میں نہیں آسکتی کیا اور تم تو ایسے پوچھ رہی ہو جیسے میں ہمیشہ کسی کام سے آتی ہوں"۔
عنایہ نے اس کے لہجے کی پروا نہ کی۔
"ویسے تم کتنی بدل گئی ہو۔ ابھی کچھ دنوں پہلے جب ہمارے ایگزام نہیں ہوئے تھے تو ہم کتنی مستی کرتے تھے۔ پر اب تم بہت سیریس ہو گئی ہو"۔
عنایہ کچھ دیر بعد بولی۔
"میں بدلی تو نہیں ہوں۔ وہ تو بس تائی امی نے کہا تھا کہ ریحان کو سیریس ٹائپ کی لڑکیاں اچھی لگتی ہیں تو اس لئے میں بھی سیریس ٹائپ کی لڑکی بننے کی کوشش کررہی ہوں"۔
میرال نے شرماتے ہوئے کہا۔
"اچھا! اس لئے تم اتنی سیریس ہوگئی ہوں۔ پر اب تو وہ واپس دوبئی چلے گئے ہیں" تو۔۔۔۔۔
عنایہ نے تو کو کافی لمبا کیا۔
"تو کیا؟
میرال نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
"تو یہ کہ آج میں نے کچھ نوٹس فوٹوکاپی کروانے تھے تو راستے میں میں نے ایک گھر کے لان میں امرود کا درخت دیکھا۔ وہ درخت کافی حد تک باہر کی طرف تھا۔ تو میں سوچ رہی کہ کیوں نا وہاں سے امرود توڑے جائے"۔
عنایہ نے اپنا پلین بتایا۔
"پر مجھے پتا ہے کہ تم میرے ساتھ نہیں چلو گی کیونکہ اب تم بدل گئی ہو۔ بلکہ اب تو تم نے لوگوں سے ڈرنا شروع کردیا ہے"۔
عنایہ نے جان بوجھ کر ایسا کہا۔
"میں کن لوگوں سے ڈرنا شروع ہوگئی ہوں؟
میرال نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
"اس دن یونی میں تم اس لڑکے سے کتنا ڈر گئی تھی"۔
عنایہ نے یاد کرایا۔
"وہ تو میں ایان کی وجہ سے ڈری تھی۔ کہ کہیں کوئی جھگڑا ہی نہ ہوجائے۔اور پھر ایان کا بھی تو پتا ہے اس نے سب کچھ بی جان کو بتا دینا تھا"۔
میرال نے اس کو وجہ بتائی۔
"ویسے یار! یہ بات چھوڑو میرے منہ امرودوں کا سوچ کر ابھی سے پانی آرہا ہے۔ یہ برتن تم خشک کرکے کیبنٹ میں رکھو۔ میں ابھی کپڑے چینج کرکے آئی"۔
میرال نے بات جلدی جلدی سنک کا نلکا بند کیا اور اپنے دوپٹے سے ہاتھ پونچھے۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
وہ دونوں اپنے گھر والی گلی سے دو گلیاں چھوڑ کر اس گھر کے سامنے کھڑے تھے۔
"ویسے ہمارا کبھی اس گلی سے گزرنا ہی نہیں ہوا"۔
میرال نے گھر کا جائزہ لیا۔
"ہاں وہ آج میں نے سوچا کہ رستہ بدل کر گھر جاتے ہیں تو میں نے یہ دیکھا۔"
عنایہ نے درخت کی طرف اشارہ کیا۔
درخت کافی حد تک باہر کی طرف تھا۔
"عنایہ درخت کافی اونچا ہے"۔
میرال نے کافی کوشش کی کہ امرود تک ہاتھ پہنچ جائے پر امرود اس کے ہاتھ سے کافی اونچے لگے ہوئے تھے۔
"ایک کام کرتے ہیں جو ہم کانٹی بنا کر لائے ہیں اس سے امرود اتارنے کی کوشش کرتے ہیں"۔
عنایہ نے مشورہ دیا اور کانٹی کو گھوما کر امرود والی ٹہنی پر ڈالا اور کھینچنا شروع کیا۔
درخت کی ٹہنیاں بہت زور سے حل رہی تھی
"عنایہ آرام سے گھر والوں کو پتا چل گیا تو عزت افزائی ہوجانی ہے"۔
میرال نے اس کو ٹوکا۔
"ارے! فکر نہ کرو ۔ جتنی خاموشی ہے اس گھر میں مجھے نہیں لگتا یہاں کوئی رہتا ہوگا"۔
عنایہ نے امرود کی ٹہنی کو زور سے کھینچا ۔دو تین امرود نیچے گرے۔
"یہ درخت اتنا ہل کیوں رہا ہے"۔ ہوا بھی نہیں چل رہی پھر یہ کیسے؟
مائر جو ابھی لان میں آیا تھا درخت کو ہلتے ہوئے دیکھ کر اسے حیرت ہوئی۔
"لگتا ہے بچے امرود توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں"۔
اس نے سوچا اور گیٹ کھول کے دیکھنے لگا کہ کون سے بچے ہیں۔ پر گیٹ کھولتے ساتھ ہی اس کو شدید حیرت کا جھٹکا لگا۔
"تم یہاں کیا کررہی ہو؟
اس نے اونچی آواز میں کہا۔
"آ۔۔۔۔۔آپ؟؟
وہ جو امرود توڑنے میں مگن تھی۔ اس کی اونچی آواز سے ڈر ہی گئی۔
"جی میں! تم میرے گھر کے باہر یہ کیا کر رہی ہو؟
مائر نے غصے سے اسے گھورا۔
"میں امرود توڑ رہی ہوں"۔
میرال نے اپنے ہاتھ میں پکڑے امرود اسے دیکھائے۔
"وہ تو مجھے بھی نظر آرہا ہے۔ تمہیں شرم نہیں آتی ایسے بچوں کی طرح امرود توڑتے ہوئے۔ میں ابھی پولیس کو فون کرتا ہوں"۔
مائر نے جیب سے اپنا فون نکالا۔
"ارے! امرود توڑنے کی بھلا کیا سزا ہوتی ہے"۔
میرال کو حیرت ہوئی۔ عنایہ خاموشی سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔
"امرود توڑنے کی سزا نہیں بھی ہوتی تو کیا ہوا۔ میں پولیس کو کہوں گا کہ تم دونوں میرے گھر چوری کرنے آئے ہو"۔
مائر نے ایسے ظاہر کیا جیسے وہ نمبر ڈائل کررہا ہو۔
"ارے! آپ ایسا نہیں کر سکتے ہیں۔ آپ نے میرا فون توڑا تھا تو میں نے پولیس کو بلایا تھا"۔
میرال کو اب واقع میں دڑ لگا۔
"پر تم نے خود تو میرا فون توڑ دیا تھا نا"۔
مائر نے اس کو یاد کرایا۔
"ہاں تو غصے میں تو بندہ ایسا کرہی دیتا ہے"۔
میرال نے پریشانی میں اپنے ہاتھ کی انگلیاں مڑورنا شروع کی۔
"یہاں کیا ہو رہا ہے؟
ہاجرہ بیگم جو شور سن کر باہر آئیں تھیں۔ دو لڑکیوں کو دیکھ کر حیران ہوئیں۔
"اسلام وعلیکم ! آنٹی"۔
میرال اور عنایہ نے فوراً سلام کیا۔ مائر ان دونوں کو حیرت سے دیکھ رہا تھا کہ یہ کر کیا رہیں ہیں۔
"آپ دونوں مائر کی دوست ہیں؟
ہاجرہ بیگم نے سوالیہ نظروں سے دونوں کو دیکھا۔
"جی نہیں پر ہم یونیورسٹی فیلو ہیں"۔
میرال نے جلدی سے کہا۔
"اچھا سہی۔ آپ دونوں اندر تو آئیں"۔
ہاجرہ بیگم دونوں کو اندر لے جانے لگی۔مائر بلکل خاموشی سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔
میرال اور عنایہ نے جلدی سے امرودوں کو شاپر میں رکھا اور ان کے ساتھ اندر جانے لگیں۔
"آپ دونوں بیٹھے یہاں پر میں ایک منٹ میں چائے کا کہہ کر آتی ہوں"۔
ہاجرہ بیگم نے ان دونوں کے ہاتھ میں امرود کا شاپر دیکھ لیا تھا۔ اور انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ ان دونوں نے امرود توڑے ہیں۔ اس لئے شاید مائر ان دونوں پر غصہ ہورہا تھا۔
"نہیں آنٹی! ہم بہت لیٹ ہو جائے گے۔ آپ چائے رہنے دیں"۔
میرال نے ہاجرہ بیگم کو روکنا چاہا۔
"نہیں بیٹا ایسے اچھا نہیں لگتا۔تم دونوں بیٹھو میں آتی ہوں"۔
ہاجرہ بیگم کچن میں چلی گئیں۔
"ویسے ہم دوست کب سے ہوگئے؟
مائر نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا۔
"وہ۔۔۔وہ میں نے کب کہا کہ ہم دوست ہیں۔ میں نے تو کہا کہ ہم یونیورسٹی فیلو ہیں"۔
میرال نے فوراً آنکھیں جھکا کر ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے بولی۔
"میسز زاہد! میں اپنے دوست کی طرف جارہا ہوں"۔
اس نے وہی سے آواز لگائی اور چلا گیا۔
"بس کچھ دیر میں چائے آجائے گی"۔
ہاجرہ بیگم نے اس کی آواز پر اچھا کہا اور ان دونوں کے پاس آگئیں۔
"بیٹا آپ دونوں کا نام کیا ہے؟ میں نے پوچھا ہی نہیں اور گھر کہاں ہے؟
میرال کے ساتھ بیٹھتے ہوئے انہوں نے پوچھا۔
"میرا نام میرال ہے اور یہ میری دوست ہے اس کا نام عنایہ ہے ہم لوگوں کا گھر دوگلیاں چھوڑ کر ہے"۔
میرال نے بتایا۔ عنایہ تو بس خاموشی سے بیٹھی ان دونوں کی باتیں سن رہی تھی۔
"آپ دونوں کا ابھی یونیورسٹی میں نیو ایڈمیشن ہوا ہے ؟
ہاجرہ بیگم نے پوچھا۔ اتنی دیر میں چائے بھی آگئی۔
"جی ابھی نیو ہی ایڈمیشن ہوا ہے"۔
عنایہ نے جواب دیا۔
"اچھا اچھا۔ مجھے تو آپ دونوں بہت اچھی لگی ہو۔ آجایا کرو ہمارے گھر میں گھر میں اکیلی ہی ہوتی ہوں۔ مائر اور زاہد صاحب تو رات کو ہی گھر پر ہوتے ہیں"۔
ہاجرہ بیگم نے ان دونوں کو دوبارہ آنے کی دعوت دی۔
"جی ضرور"۔
میرال نے بھی پیار سے کہا۔ اس کو یہ آنٹی اچھی لگی تھیں۔
"بیٹا! آپ مجھے اپنا نمبر دے سکتی ہو؟
ہاجرہ بیگم کے نمبر مانگنے پر میرال کو حیرت ہوئی۔
"جی آنٹی میں آپ کو اپنا نمبر دے دیتی ہوں"۔ میرال نے پہلے سوچا کہ نہ دے نمبر۔ پھر اس نے سوچا کہیں آنٹی کو برا ہی نہ لگ جائے۔
چائے تو پیو۔
ہاجرہ کے کہنے پر اس نے کپ اٹھایا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
"ویسے تم تو مائر کو دیکھ کر دڑ ہی گئی تھی اور اس کی پولیس والی دھمکی نے تو ساری کسر پوری کردی"۔
عنایہ اس کی اس وقت کی حالت یاد کرکے ہنس رہی تھی۔ ابھی وہ دونوں گھر جارہے تھے۔
"تم ہسنا بند کرو ایک تو مجھے تم پر اور اس مائر پر بہت غصہ آرہا ہے"۔
میرال نے اپنے غصے کو دبایا۔
"مجھ پر کیوں غصہ آرہا ہے؟ "تم خود اسکی باتوں سے ڈر گئی تھی ۔میں نے تو بس یہی کہا اس میں غصہ کرنے والی بات کیا ہے"۔
عنایہ نے مزے سے کہا۔
"تم پر اس لئے غصہ آرہا ہے کیونکہ یہ سارا پلین تمہارا تھا اور ڈری میں اس لئے تھی کیونکہ وہ پولیس بلا رہا تھا۔ اور گھر پر نہ بابا ہیں نہ ریحان اور تایا ابو اور ایان بھی آفس گئے ہوئے ہیں"۔ تو اگر ہم جیل چلے جاتے تو ہمیں وہاں سے چھڑانے کون آتا؟ "اور اگر کوئی آبھی جاتا تو ڈانٹ بہت پڑتی"۔" وہ تو اچھا ہوا کہ اس کی امی باہر آگئیں"۔
میرال سانس لینے کو رکی۔
"ویسے ہم ایان کو بھی فون کرکے بلا سکتے تھے"۔
عنایہ نے مشورہ دیا۔
"ایک نمبر کا چمچہ ہے وہ بی جان کا گھر جاتے ہی ہماری شکایت لگاتا"۔
"ہاں ویسے یہ تو ہے۔چلو چھوڑوں اس بات کو یہ بتاؤ تم یہ امرودوں والا شاپر کیوں ساتھ لے آئی ہوں؟
عنایہ نے اس کے ہاتھ میں شاپر دیکھا۔
" ارے! اتنی مشکل سے ہم نے یہ امرود توڑے تھے اور پھر ہم پکڑے بھی گئے تو ایسے ہی چھوڑ آتی۔ تمہارے گھر چل کر ان کی چاٹ بناتے ہیں"۔
میرال نے مزے سے چٹخارہ لیتے ہوئے کہا۔وہ دونوں عنایہ کے گھر کے گیٹ پر پہنچ چکے تھے۔
"ویسے آنٹی کتنی سوئٹ تھیں"۔
وہ دونوں اپنی اپنی چاٹ کی پلیٹ لے کر ابھی ٹی وی لاونج میں بیٹھے تھے۔
"ہاں آنٹی کافی اچھی تھیں۔ مجھے ان سے مل اچھا لگا۔ وہ تو اس مائر کی ماں بلکل بھی نہیں لگتی"۔
میرال نے عنایہ کی بات کی تائید کی۔
"ویسے مجھے لگتا ہے وہ واقع ہی اسکی ماں نہیں ہیں۔ تم نے دیکھا تھا وہ اپنی ماں کو نام سے پکار رہا تھا"۔
عنایہ کو یاد آیا۔
"میں نے تو نہیں دیکھا اور نہ سنا ۔ ویسے بھی ان کے گھر کا معاملہ ہے۔ ہم کیوں ڈیسکس کریں"۔
میرال نے اسکو ٹوکا۔
"ویسے آج ایان آفس کیوں گیا ہے؟
عنایہ ایان کو مس کر رہی تھی۔
"کیوں تم بہت مس کر رہی ہو؟
میرال نے شرارت سے کہا۔
"ہاں مس تو کر رہی ہوں۔ اس کی باتیں مزے کی ہوتی ہیں"۔
"ارے واہ! تم ایان کی تعریف کررہی ہو"۔
میرال کو حیرانی ہوئی۔
"تو نہیں کرسکتی کیا؟
عنایہ نے اسے گھورا ۔
"کر سکتی ہو کر سکتی ہو۔ اچھا یاد آیا تم ابھی میرے ساتھ میرے گھر چلنا۔ آج رات کا کھانا میں نے بنانا ہے تو تم میری مدد کرنا ٹھیک ہے"۔
میرال کو ابھی یاد آیا تھا۔
"اچھا پر شام تک آؤں گی۔ ورنہ امی نے گھر سے ہی نکال دینا ہے کہ وہاں پر سارا دن رہتی ہو رات کو رہ لینا"۔
عنایہ نے آہستہ آواز میں کہا۔
"اچھا ابھی آنٹی کو بتاتی ہوں"۔
میرال نے اس کو دھمکایا۔
"ارے! نہیں تم کیا چاہتی ہو مجھے ابھی مار پر جائے"۔
عنایہ تو واقع ہی ڈر گئی تھی۔
"اچھا اب میں اپنے گھر چلتی ہوں تم یہ برتن دھو دینا"۔
میرال نے خالی چاٹ کی پلیٹ ٹیبل پر رکھی اور اپنے گھر جانے لگی۔
"ویسے بہت ہی بدتمیز ہو کھایا پیا اور چلے گئے"۔
عنایہ کی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
وہ کب سے میرال کو سمجھا رہی تھی کہ ایسے چکن کو مسالا لگانا ہے پر اس کو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا۔ پھر اس نے خود ہی چکن کو مسالا لگانا شروع کیا۔
"ہائے گلز! کیا بنایا جارہا ہے۔
ایان ابھی آیا تھا اور آتے ساتھ ہی اس نے کچن میں جھانکا۔
"میں کچھ نہیں بنا رہی۔ عنایہ تکا بریانی بنا رہی ہے اور مجھے سیکھانے کی کوشش کر رہی ہے"۔
میرال نے کھیرا کاٹنا شروع کیا۔ ساتھ ساتھ وہ کھا بھی رہی تھی۔
"تم سے نہیں پوچھ رہا ہوں"۔
ایان نے کھیرے والی پلیٹ سے کھیرا اٹھا کر منہ میں ڈالا۔
"ویسے مجھے تو عنایہ کے ہاتھ کے کھانے بہت اچھے لگتے ہیں۔ میں تو کھانا کھا کر ہی جاؤں گا"۔
عنایہ نے اس کی تعریف پر اسکو مڑ کر حیرت سے دیکھا۔ آج کل وہ کچھ زیادہ ہی اس کی تعریف کرنے لگا تھا۔
"ارے! ایان میرے ساتھ آنا"۔
میرال اس کو کہتی کچن سے باہر نکل گئی۔
"کیا ہے؟ "تم نے مجھے کیوں بلایا؟
ایان بھی کچن سے باہر آیا۔
"تمہارا دماغ ٹھیک ہے۔ تم کیا چاہتے ہو کہ عنایہ تمہارے ساتھ ساتھ میرا سر بھی پھاڑ دے"۔
میرال نے آہستہ آواز میں کہا۔
"میں نے ایسا کیا کیا"۔
ایان کو سمجھ نہ آیا۔
"مجھے عنایہ کے ہاتھ کے کھانے بہت پسند ہیں۔ او بھائی! اتنی تعریفیں نہ کرو کہ اس کو شک ہوجائے"۔
میرال نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
"میں نے ایسے ہی کہا تھا"۔
ایان گھبرا ہی گیا۔
"پر وہ تمہیں حیرت سے دیکھ رہی تھی۔ ویسے بھی ابھی ہمیں پتا ہی نہیں ہے کہ وہ تمہیں پسند کرتی ہے کہ نہیں"۔ "جب تک ہمیں پتا نہیں لگ جاتا تب تک تم اپنے جذبات کو قابو میں رکھو"۔ "کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم تینوں کی دوستی خراب ہوجائے"۔
میرال نے اس کو سمجھانا چاہا۔
"ہاں میں خیال رکھوں گا"۔ "میں بی جان سے مل کر آتا ہوں اور ہاں میرے لئے بریانی رکھ لینا"۔ "میں جاتے ہوئے اپنے گھر لے جاؤں گا اور آرام سے کھاؤں گا"۔
ایان جاتے جاتے بھی فرمائش کرگیا تھا۔ میرال نے اس کی بات پر بس سر ہلایا۔
"ایان کہاں گیا؟
عنایہ نے اس کو اکیلے کچن میں آتے دیکھا تو پوچھا۔
"وہ بی جان کو ملنے گیا ہے۔ اچھا مجھے بتاؤ اور کیا کرنا ہے"۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
"مائر ابھی تک گھر نہیں آیا۔ آپ کو پتا ہے کب تک آئے گا؟
ہاجرہ بیگم نے زاہد صاحب سے پوچھا۔ جو ابھی کچھ دیر پہلے گھر آئے تھے۔
"ہاں اس کا فون آیا تھا۔ وہ اپنے دوست کی طرف تھا۔ کہہ رہا تھا تھوڑی دیر میں آجائے گا"۔
"آپ اس کی اتنی فکر نہ کیا کریں"۔
زاہد صاحب نے ان کو سمجھایا۔
"چلیں آپ فریش ہو جائے میں کھانا لگاتی ہوں"۔
ہاجرہ بیگم کچن میں کھانا گرم کرنے چلی گئی۔ ویسے تو ان کے گھر ہر کام کے لئے ملازم موجود تھے پر وہ رات کا کھانا خود ہی گرم کرتی تھیں۔
" آج میں مائر کی یونیورسٹی فیلو سے ملی مجھے بہت اچھی لگی"۔
دونوں ڈائنگ ٹیبل پر موجود تھے۔ جب ہاجرہ بیگم نے بات شروع کی۔
"مائر کی کلاس فیلو سے آپ کی کیسے ملاقات ہوئی"۔
زاہد صاحب نے سوالیہ نظروں سے ان کو دیکھا۔
ہاجرہ بیگم نے آج کا پورا واقعہ ان کو سنا دیا۔
"مجھے تو وہ لڑکی بہت اچھی لگی۔ وہ اور اس کی دوست شاید ہمارے لان میں جو امرود کا درخت ہے وہاں سے امرود توڑ رہیں تھیں ۔ اور مجھے لگتا ہے کہ انکو یہ نہیں پتا تھا کہ یہ مائر کا گھر ہے"۔
ہاجرہ بیگم مسکراتے ہوئے ساری بات بتا رہی تھیں۔
"ویسے نام کیا ہے اس بچی کا؟
زاہد صاحب بھی مسکرا رہے تھے۔
"میرال نام ہے۔ مجھے تو بہت اچھی لگی ہے۔ میں نے تو اس کا نمبر بھی لے لیا ہے۔ اور اس دوبارہ آنے کی دعوت بھی دی ہے۔
ہاجرہ بیگم نے چاول کھانا شروع کئے۔
"ویسے اچھی بات ہے ۔ پر آپ کے بیٹے کو لگتا ہے کہ وہ بلکل اچھی نہیں لگتی"۔
زاہد صاحب نے اندازہ لگایا۔
"مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے۔ پر وہ لڑکی کچھ دیر ہمارے گھر میں رہی تھی اور اتنی رونق ہو گئی تھی کہ کیا بتاؤں"۔
ہاجرہ بیگم پانی پینے کو رکی۔
"ویسے ایسے مزاج کی لڑکی ہی ہمارے بیٹے کی زندگی میں رونک لا سکتی ہے"۔
زاہد صاحب نے کھانا ختم کرکے نیپ کن سے ہاتھ صاف کئے۔

وہ کلاس میں بیٹھی کب سے لیکچر سمجھنے کی کوشش کررہی تھی۔ پر سب کچھ اس کے دماغ کے اوپر سے گزر رہا تھا۔ وہاں پر موجود بہت سے سٹوڈنٹس کا یہی حال تھا۔ کچھ تو بس کلاس میں موجود تھے پر دماغی طور پر اپنے موبائل کی دنیا میں گم۔ عنایہ اور ایان بھی آج نہیں آئے تھے۔ اب اس کو اس بورینگ لیکچر سے نیند آنے لگی تھی۔پر پھر بھی وہ اپنی آنکھیں زبردستی کھولے پروفیسر پر یہ ظاہر کر رہی تھی جیسے اس کو بہت اچھا سمجھ آرہا ہے۔ آدھے گھنٹے بعد لیکچر ختم ہوا تو سب نے سکون کا سانس لیا۔اس کو آج سے پہلے کبھی کیمسٹری اتنی مشکل نہیں لگی تھی جتنی آج اس لیکچر میں لگی تھی۔ ویسے تو کیمسٹری اس کا پسندیدہ سبجیکٹ تھا اور اس نے بی ایس کیمسٹری میں ایڈمیشن بھی اس لئے لیا تھا۔پر آج اس کو لگ رہا تھا جیسے یہ سبجیکٹ رکھ کر اس نے غلطی کی ہو۔
وہ اپنا بیگ اٹھا کر کلاس سے باہر آگئی۔ آج صبح سے ہی آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے تھے۔ فروری کا مہینہ چل رہا تھا۔ میرال گراؤنڈ کی طرف چل دی۔ کوریڈور سے گراؤنڈ دو سٹپ نیچے جاکر تھی۔ وہ وہی ان سٹپس پر ایک سائڈ پر پیلر کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔ ہوا ایک دم سے تیز چلنا شروع ہوگئی تھی۔اس کو اس طرح کا موسم بہت پسند تھا۔
"آج عنایہ بھی آجاتی تو کتنا مزا آتا"۔
اس نے سوچا۔
عنایہ نے رات کو ہی اس کو بتا دیا تھا کہ وہ کل نہیں آئے گی کیونکہ ان کے گھر مہمان آرہے ہیں تو وہ مصروف ہے۔
"اسلام وعلیکم! بی جان" ۔
وہ جو پیلر سے ٹیک لگائے ٹھنڈی ہوا کو چہرے پر محسوس کر رہی تھی۔ فون کی بیل پر آنکھ کھولی۔
"بیٹا جلدی گھر آجاؤ ۔ موسم بھی کتنا خراب ہورہا ہے"۔
بی جان کو ہمیشہ ہی اس کی فکر رہتی تھی۔
"بی جان اتنے مزے کا تو موسم ہے۔ میں کچھ دیر تک آتی ہوں"۔
"ابھی کوئی اور لیکچر تو تھا نہیں"۔ میرال نے سوچا۔
"تم آؤ گی کیسے؟؟
بی جان کو یاد آیا کہ ڈرائیور کو تو انہوں نے صبح ہی واپس بلوالیا تھا۔
"آپ ڈرائیور کو بھجوا دیں"۔
میرال نے ان کی مشکل حل کی۔
"ڈرائیو تو ناہید کو لے کر گیا ہے اس لئے تو آج صبح ڈرائیور کو بلایا تھا۔ تم ایسا کرو ایان کو فون کرو اور اس کو بلالو"۔
بی جان کو ایان کا خیال آیا۔
"بی جان وہ تو رات سے اپنے دوست کے ساتھ اسپتال میں ہے"۔
ایان کے دوست کا رات کو ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔ چوٹ تو زیادہ نہیں آئی تھی پر پھر بھی ڈاکٹر نے انڈر اوبزرویشن رکھا تھا۔ اس کے دوست کی ساری فیملی دوسرے شہر میں تھی اس لئے ایان اس کے ساتھ رک گیا تھا۔
"اچھا ہاں یاد آیا ۔ اب تم کیسے آؤ گی۔ میں نے منع بھی کیا تھا کہ آج نہ جاؤ ۔ نہ عنایہ جارہی ہے نہ ایان ۔ پر تم سنتی کب ہو"۔
بی جان کو اس پر غصہ بھی آرہا تھا اور اس کی فکر بھی ہو رہی تھی۔
"بی جان ڈانٹے تو نہ۔ آج یونی آنا ضروری تھا۔ اس لئے میں تو آگئی تھی۔ میں کچھ کرتی ہوں۔ آپ پریشان نہ ہوں"۔
میرال نے انہیں حوصلہ دیا۔
"اچھا میں فرحان سے بھی فون کر کے پوچھتی ہوں کہ وہ کہاں ہے۔ اس سے بات کرکے تمہیں فون کرتی ہوں۔ اور اگر تمہارا کسی دوست کے ساتھ گھر آنے کا پروگرام بنے تو مجھے پہلے ہی فون پر بتادینا۔
بی جان نے اس کو تاکید کی۔
"اچھا ٹھیک ہے اللّٰہ حافظ"۔
میرال نے کہا بی جان نے بھی اللّٰہ حافظ کہا اور فون بند کر دیا
"باہر گیٹ پر جاتی ہوں ہوسکتا ہے کوئی رکشہ ٹیکسی مل ہی جائے"۔
میرال نے سوچا اور اپنا بیگ اٹھا کر کھڑی ہوگئی۔ اس کو ڈر بھی لگ رہا تھا کیونکہ اس نے کبھی اکیلے رکشے یا ٹیکسی میں سفر نہیں کیا تھا۔
"وہ گیٹ کے قریب آکر کھڑی ہو گئی۔ بادل اور گہرے ہو گئے تھے اور ہلکی ہلکی بوندا باندی بھی شروع ہوگئی تھی"۔
گیٹ سے باہر میرال کو کوئی بھی رکشہ یا ٹیکسی نظر نہیں آیا تھا۔ کافی سٹوڈنٹس آ جا رہے تھے۔ وہ گیٹ کی اندر کی طرف ایک سائڈ پر کھڑی ہوگئی تھی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
آج اس کا موڈ صبح سے خراب تھا موسم کی طرح۔۔۔۔
پہلے ہی ساری رات وہ یونی کے پروجیکٹ پر کام کر رہا تھا۔ اور اب جب یونی میں پروجیکٹ جمع کروانا تھا تو زاہد صاحب نے اس کو ایک اور حکم دے دیا کہ ہاجرہ بیگم جو اپنی بہن کے گھر گئی تھی ان کو لے کر آؤ۔ ہاجرہ بیگم کا نام سن کر اس کا رہا سہا موڈ بھی خراب ہوگیا۔ پہلے تو اس نے سوچا کہ انکار کردے۔ پر اسکو بھی پتہ تھا کہ اس کے انکار کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہونا آخر میں لینے اس نے ہی جانا تھا۔ کیونکہ وہ اکیلی کم ہی سفر کرتیں تھیں۔ کبھی زاہد اور کبھی مائر کے ساتھ ہی آتی جاتی تھیں۔
"آپ نے کوئی جواب نہیں دیا؟ میں خود لے آتا پر ایک ضروری میٹنگ ہے"۔
زاہد صاحب نے اس کو خاموش دیکھ کر پوچھا۔
"ٹھیک ہے میں لے آتا ہوں"۔
مائر نے جواب دیا اور اپنا بیگ لے کر بابا کو سلام کیا لاؤنج سے باہر چلا گیا۔
"سوری بیٹا سوری تمہیں اتنی دیر انتظار کرنا پڑا"۔
وہ کوئی ایک گھنٹے سے ہاجرہ بیگم کی بہن کے گھر کے باہر گاڑی میں بیٹھا ان کا انتظار کررہا تھا اور وہ اب آئی تھیں۔
"وہ اصل میں مجھے ابھی تھوڑی دیر پہلے پتہ چلا کہ تم لینے آگئے ہو۔ میں نے ملازم کو بھی ڈانٹا کہ اس نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا"۔
ہاجرہ بیگم سچ کہہ رہیں تھیں ۔ انہیں واقع ہی اس کے آنے کا علم ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی ہوا تھا۔
"چلیں بیٹھیں گاڑی میں"۔
اس نے بس اتنا ہی کہا۔ غصہ تو اسے بہت تھا پر ان کا چہرہ دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ سچ بول رہی ہیں۔ اس لئے اپنے غصے کو پی گیا اور ان کے بیٹھتے ہی گاڑی سٹارٹ کردی۔
"مجھے یونی میں پروجیکٹ جمع کروانا ہے۔ اس لئے تھوڑا ٹائم لگ جائے گا"۔
اس نے گاڑی یونی کی طرف موڑتے ہوئے کہا۔
"کوئی بات نہیں بیٹا"۔
ہاجرہ بیگم نے بس اتنا ہی کہا۔
کچھ دیر بعد اس نے یونی کے گیٹ کے سامنے گاڑی روکی۔
میرال اس وقت گیٹ کے پاس اندر کی طرف کھڑی سوچ رہی تھی کہ کیا کرے۔ مائر اس کے پاس سے گزرا پر سٹوڈنٹس کا کافی رش تھا اس نے میرال کو نہ دیکھا نہ میرال نے اسے دیکھا۔
"اب کیا کروں ؟؟ کوئی رکشہ یا ٹیکسی بھی نظر نہیں آرہے ہیں۔ اور بارش بھی تیز ہوگئی ہے"۔
میرال نے بادلوں کو دیکھا جو اور گہرے ہوگئے تھے۔
"مجھے آج آنا ہی نہیں چاہئے تھا۔ پر اب کیا کروں"۔
اس کو بہت ٹینشن ہورہی تھی۔
"مائر یہ وہی لڑکی ہے نا جو اس دن ہمارے گھر آئی تھی"۔
ہاجرہ بیگم کافی دیر سے میرال کو دیکھ رہیں تھیں۔ انہیں وہ کچھ پریشان لگی۔ مائر جو ابھی پروجیکٹ جمع کرواکے آیا تھا تو اس سے کہا۔
"جی وہی ہے"۔
مائر نے سرسری سا دیکھا۔ اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔
"جاکر پوچھ کر تو آؤ کہ کوئی پریشانی تو نہیں ہے۔موسم بھی دیکھو کتنا خراب ہے اور مجھے لگتا ہے کہ اس کو ابھی تک کوئی لینے نہیں آیا۔ تو پوچھ لو"۔
ہاجرہ بیگم کو میرال کی فکر ہورہی تھی۔
"آپ پریشان نہ ہوں اس کے دوست ہونگے اس کے ساتھ" ۔
مائر کو ہاجرہ بیگم کا فکر کرنا ڈراما لگا۔
"اس وقت تو کوئی بھی دوست اس کے ساتھ نظر نہیں آرہا تم ایک دافعہ پوچھ تو آؤ"۔
ہاجرہ بیگم نے اس کی بات کو اگنور کیا۔
"اچھا ٹھیک ہے پوچھ لیتا ہوں٫۔
مائر اس سے پوچھنا تو نہیں چاہتا تھا۔ پر اس کو بھی وہ پریشان لگی اس لئے سوچا کہ پوچھ لے۔
"اسلام وعلیکم!"
میرال کا دھیان دوسری طرف تھا۔ اس کے سلام کرنے پر چونکی۔
"جی ؟؟؟؟
میرال اس کو دیکھ کر حیران ہوئی۔
"سلام کا جواب جی کب سے ہوا۔ خیر چھوڑو اس بات کو۔ تم یہاں گیٹ پر کیا کر رہی ہو؟
مائر نے وہ پوچھا جو پوچھنے آیا تھا۔
"وہ میں نے گھر جانا ہے تو کسی رکشہ یا ٹیکسی میں جانے کا سوچ رہی ہوں"۔
میرال نے اپنا فون بیگ میں رکھا۔
"تم آج اکیلی آئی ہو؟ تمہاری دوست کہاں ہے؟
مائر نے اردگرد دیکھا۔
"وہ آج کچھ مصروف تھی اس لئے نہیں آئی"۔
میرال کو اس کے سوالوں سے کوفت ہو رہی تھی۔
"تم نے پہلے کبھی اکیلے رکشے یا ٹیکسی میں سفر کیا ہے؟
مائر نے ایک اور سوال پوچھا۔
"نہیں"۔ میرال نے نفی میں سر ہلایا۔
"چلو میں چھوڑ دیتا ہوں تمہیں تمہارے گھر"۔
مائر کو وہ سر نفی میں ہلاتے ہوئے بہت معصوم لگی۔
"ن۔۔۔ نہیں میں خود چلی جاؤں گی"۔
میرال اس کی آفر پر گھبرا گئی اور اس کو اس کے ساتھ اکیلا جانا ٹھیک نہ لگا۔
"میں اکیلا نہیں ہوں۔ مسز ہاجرہ گاڑی میں ہیں۔ تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں تم میرے ساتھ چل سکتی ہو"۔
مائر کو اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ اکیلے جانے پر گھبرا رہی ہے۔اس لئے فوراً کہا۔
"ٹھیک ہے"۔
مائر کی بات پر اس کو کچھ حوصلہ ہوا۔ وہ کچھ دیر سوچنے کے بعد اس کے ساتھ جانے کے لئے رازی ہوگئی۔
گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے ہاجرہ بیگم کو سلام کیا۔
"وعلیکم السلام! بیٹا۔ آپ کیسی ہو؟ آپ آج اکیلی یونی آئی تھی؟
ہاجرہ بیگم نے خوش دلی سے پوچھا۔
"جی میں ٹھیک ہوں ۔ میری دوست کو کچھ کام تھا اس لئے وہ نہیں آئی۔ آج ایک اہم لیکچر تھا اسلئے میں آگئی تھی۔ پر میں جس گاڑی میں آئی تھی وہ بی جان نے واپس بلوا لی تھی۔ اور اب وہ گاڑی گھر پر نہیں تھی اور باقی بھی سب مصروف تھے۔ اس لئے میں کسی رکشہ یا ٹیکسی سے گھر جانے کا سوچ رہی تھی اور آنٹی آپ کا کیا حال ہے؟
میرال اپنی عادت کے مطابق بولی جارہی تھی۔
مائر تو حیران تھا کہ اس کا سن سن کر دماغ تھک گیا ہے اور وہ بول بول کر نہیں تھکی۔
"میں بھی بلکل ٹھیک ہوں"۔ اچھا بی جان کون ہیں؟
ہاجرہ بیگم اس کی باتوں پر مسکرا رہی تھیں۔
"وہ میری دادی ہیں۔ میں ان کے ساتھ ہی رہتی ہوں۔ میرے بابا ملک سے باہر ہوتے ہیں"۔
میرال نے پھر سے شروع ہوگئی۔
"اچھا تو آپ کی مام کہاں ہوتیں ہیں؟
ہاجرہ بیگم کو اس سے باتیں کرنا اچھا لگ رہا تھا۔
"وہ اس دنیا میں نہیں ہیں۔ جب میں چار سال کی تھی تو ان کی ڈیتھ ہوگئی تھی"۔
میرال کی بات پر مائر نے بیک ویو میرر سے میرال کو دیکھا۔ وہ ایک پل کو اداس ہوئی۔
"او سوری بیٹا! تم اداس نہ ہو"۔
ہاجرہ بیگم شرمندہ ہوئیں۔
"کوئی بات نہیں آنٹی"۔
میرال کو لگا کہ شاید آنٹی شرمندہ ہورہیں ہیں۔ اس لئے فوراً کہا۔
" یہاں سے آگے کہاں جانا ہے؟
مائر نے اپنے گھر کے قریب پہنچ کر پوچھا۔
"وہ جو آگے دوکان آرہی ہے وہی والی گلی میں جانا ہے"۔
میرال نے اس کو راستہ سمجھا دیا۔
مائر گاڑی اس کی گلی میں لے گیا۔
"آنٹی آپ بھی آئیں نا"۔
کچھ دیر بعد گاڑی میرال کے گھر کے سامنے رکی تھی۔
"ارے نہیں بیٹا پھر کبھی ضرور آؤں گی اب تو گھر کا بھی پتا لگ گیا ہے۔ ابھی تو کافی تھک گئی ہوں۔ گھر جاکر آرام کروں گی"۔
ہاجرہ بیگم نے پیار سے منع کردیا۔
"جی! آپ کا بہت شکریہ مجھے گھر تک لفٹ دینے کا"۔
میرال نے گاڑی سے اتر کر ہاجرہ بیگم کا شکر ادا کیا اور اندر چلی گئی۔
٫گاڑی تو میں چلا رہا تھا۔ میرا شکریہ تو ادا نہیں کیا"۔
مائر جو اس انتظار میں تھا کہ وہ ابھی اس کا بھی شکر ادا کرئے گی کافی بدمزا ہوا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
"تم کو میں نے منع بھی کیا تھا کہ آج یونی نہ جاؤ پر تمہیں سمجھ کب آتا ہے"۔
بی جان اس کے آتے ہی شروع ہوگئی تھی۔
"ارے گھر آ تو گئی ہوں۔ وہ تو اچھا ہوا کہ ہاجرہ آنٹی مل گئی"۔
میرال نے مائر کا نام لینے سے گریز کیا۔
"پر تم نے تو کہا تھا کہ کوئی یونی فیلو ہے اور ساتھ اس کی مام ہیں"۔
بی جان نے اس کو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
"جی تو میں اس کی امی کا ہی بتا رہی ہوں"۔
میرال نے ان کو بتایا۔
"سہی ویسے بھی تمہارے تایا تائی نے دماغ کھایا ہوا تھا۔ اب کچھ سکون ہوا ہے"۔
بی جان نے اپنا سر تھام لیا اور صوفے پر بیٹھ گئیں۔
"کیوں کیا ہوا؟
میرال کو پریشانی ہوئی وہ بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئی۔
"زارا کے سسرال والوں نے تمہارے تایا کو بلایا تھا پھر تمہاری تائی بھی وہی چلی گئی۔ ان کو اگلے ہفتے کی شادی کی ڈیٹ چاہئے ہے۔ کیونکہ ان کے لڑکے نے اگلے مہینے لندن چلے جانا ہے"۔
بی جان سانس لینے کو رکی۔
"پر اس کے باہر جانے سے شادی کا کیا تعلق ہے"۔
میرال کو سمجھ نہ آیا ۔
"تعلق یہ ہے کہ اگر شادی ہوگئی تو زارا کو آسانی سے جلدی ویزا مل جائے گا۔ وہ زارا کو ساتھ لے کر جانا چاہتا ہے"۔
بی جان نے اس کو سمجھایا۔
"اچھا سہی۔ پھر کیا ڈیسائڈ ہوا"۔
میرال نے اپنے بیگ سے فون نکالا۔
"تمہاری تائی نے مجھے فون کیا تو پہلے تو میں نے انکار کر دیا پر پھر جب مجھے پتا چلا کے وہ زارا کو ساتھ لے کر جانا چاہتا ہے تو پھر میں بھی مان گئی"۔ "اب اگلے ہفتے زارا کی شادی ہے اور بہت سی تیاریاں بھی کرنی ہے۔ تم میری بات سن بھی رہی ہو کہ نہیں"۔
بی جان نے اس ہاتھ سے موبائل چھینا۔
"میں سن رہی ہوں آپ کی بات میرا موبائل تو دیں۔ اب شاپنگ پر تو کل ہی جاؤں گی"۔
میرال نے بی جان سے موبائل مانگا۔
"ویسے بھی شادی پر کہاں مزا آئے گا۔ بابا بھی نہیں آئے گے۔ اور ریحان بھی نہیں"۔
آخری والی بات اس نے آہستہ آواز میں کی۔
"تم اداس نہ ہو"۔ بی جان نے فوراً اس کو موبائل پکڑا دیا۔
"تمہارے بابا شادی تک آجائیں گے اور ریحان بھی آجائے گا"۔
بی جان نے اس کی پوری بات سن لی تھی۔
میرال کو شرمندگی ہوئی۔
"اچھا اب اپنا موڈ ٹھیک کرو اور جاکر کپڑے چینج کرو۔ میں مینا سے کہتی ہوں کہ کھانا لگائے۔ پھر شام کو چلتے ہیں شاپنگ پر"۔
بی جان نے اس کا موڈ ٹھیک کرنے کی کوشش کی۔
"اچھا جارہی ہوں کپڑے چینج کرنے"۔
میرال اٹھ کر اپنے کمرے میں جانے لگی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
"میرال مجھے تنگ کرنا بند کرو۔ رات کو تمہیں کچھ پسند نہیں آرہا تھا اور اب شور مچایا ہوا ہے کہ ابھی تک میرے کپڑے نہیں آئے"۔
عنایہ گھر کے اندر داخل ہوئی تو میرال کو ڈانٹ کھاتے ہوئے پایا۔
"کیا ہوا؟ میرال کیوں تنگ کررہی ہو بی جان کو"۔
عنایہ نے اپنی ہنسی روکنے کی کوشش کی۔
"میں تنگ نہیں کررہی ہوں ۔ مجھے صرف اس بات کی ٹینشن ہے کہ اگلے ہفتے شادی ہے اور میرا ابھی تک بس ایک جوڑا آیا ہے"۔
میرال نے اپنی پریشانی بتائی۔
"تو کل رات کو کہا تو تھا کہ کوئی اور جوڑا بھی لے لو پر تمہارے نخرے ختم نہیں ہورہے تھے اور آج یونی کیوں نہیں گئی۔ میرا دماغ کھایا ہوا ہے"۔
بی جان نے پھر اس کو ڈانٹا۔
مجھے اور کوئی جوڑا پسند نہیں آرہا تھا۔ میری کزن کی شادی ہے تو شاپنگ میں ٹائم تو لگے گا نا۔ اور آج میرا دل نہیں تھا یونی جانے کا"۔
میرال نے پاس پڑے پانی کے جگ سے گلاس بھرا اور پی گئی۔
"بی جان آپ اس کو جانے دیں شاپنگ پر میں بھی اسکے ساتھ چلی جاؤں گی"۔
عنایہ نے مشورہ دیا۔
"میں تو خود اسے کہہ رہی ہوں کہ یہ تمہارے ساتھ چلی جائے پر یہ ہی ضد کررہی ہے کہ میرے ساتھ جاناہے"۔
بی جان نے بتایا۔
"آپ کی بھی تو ابھی شاپنگ رہتی ہے۔ اس لئے تو کہہ رہی ہوں کہ آپ اور میں چلتے ہیں"۔
میرال نے وہی کہا جس پر اسے ڈانٹ پر رہی تھی۔
"میں روز روز شاپنگ پر نہیں جاسکتی ہوں"۔
"تو آپ پریشان نہ ہوں آپ اور میرال ایک ساتھ شاپنگ پر پرسو چلے جانا ۔بلکہ میں لے جاؤں گا۔"
ایان جو ابھی آیا تھا اور ساری بات سن چکا تھا مشورہ دیا۔
"تم بھی آج یونیورسٹی نہیں گئے؟ یہ تم تینوں نے کس چکر میں ایک ساتھ چھٹی کی ہے"۔
بی جان نے اس کی بات کو نظر انداز کیا۔
"ہم نے میرال کے چکر میں چھٹی کی ہے۔ آج اس جانے کا دل نہیں تھا"۔
ایان نے سارا الزام میرال پر ڈال دیا۔
"وہ ۔۔۔وہ میری کزن کی شادی ہے ۔ تیاریاں بھی تو کرنی ہے اس لئے چھٹی کی۔
میرال نے ایان کو گھور کر دیکھا۔
"آپ یہ بات چھوڑیں۔ ویسے ایان ٹھیک کہہ رہا ہے آپ میرال کے ساتھ پرسو چلے جانا بازار۔آج میں اور میرال چلے جاتے ہیں"۔
عنایہ نے ان کا دھیان ایان کی بات کی طرف کیا۔
"ہاں ویسے ایان ٹھیک کہہ رہا ہے"۔
بی جان مان گئی تھی۔
"دیکھا میں نے آتے ہی مسئلہ حل کردیا"۔
ایان نے شوخی سے کہا۔
"زیادہ شوخے نہ بنو"۔
میرال بی جان کے پاس بیٹھ گئی اور ان کے کندھے پر سر رکھ دیا۔
"مینا اچھی سی چائے تو بناکر لاؤ"۔
عنایہ نے مینا کو آواز لگائی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
"تم نے تو کل آنا تھا۔ کل آئے نہیں اور آج صبح صبح ہی آگئے ہو"۔
نبیل کو اس کی وجہ سے آج جلدی اٹھنا پڑا تھا۔
آج ان دونوں کی یونی میں کوئی کلاس نہیں تھی۔
"کل میں لیٹ ہوگیا تھا۔ اس بیواقوف کی وجہ سے"۔
اس کی بات پر اس کو میرال یاد آگئی ۔
"کون ؟؟ کس کی بات کر رہے ہو؟
نبیل کی ابھی پوری طرح سے نیند بھی نہیں کھل رہی تھی اور وہ پہلیاں بوج رہا تھا۔
"وہی میرال۔۔۔۔"
مائر نے اس کا نام لیا ۔
"کون میرال ؟
نبیل کو تو پتا ہی نہیں تھا میرال کا۔
"وہی جس نے میرا فون توڑا تھا"۔
مائر نے اس کو یاد دلانے کی کوشش کی۔
"اچھا پر تجھے اس کا نام کیسے پتا چلا؟ اور کل کیا ہوا"۔
نبیل کو یاد آہی گیا۔
مائر نے اس کو اس دن کا اور کل کا سارا واقعہ سنا دیا۔
"مجھے اس پر بہت غصہ ہے۔ ہم نے اس کو لفٹ دی اور اس نے شکریہ ادا بھی نہیں کیا"۔
مائر کو پھر یاد آیا۔
"پر اسنے آنٹی کو تو شکریہ بولا نا"۔
نبیل کو اس کی شکل دیکھ کر ہنسی آرہی تھی۔
"ہاں پر گاڑی میں میں بھی تو تھا۔ اور گاڑی میں چلا رہا تھا۔ تمہاری آنٹی نہیں"۔
مائر نے اس کی نقل اتاری۔
"چل اب اپنا موڈ خراب نہ کر۔ اور تو نے بھی آنٹی کے کہنے پر ہی لفٹ دی۔ ویسے تو نے کونسا اس کو لفٹ دینی تھی"۔
نبیل کی بات پر اس کو یاد آیا۔ جب وہ اس سے پوچھ رہا تھا کہ پہلے کبھی اکیلے رکشے یا ٹیکسی میں سفر کیا ہے تو اس نے جب نفی میں سر ہلایا تھا تو وہ کتنی معصوم لگی تھی۔ اس کے لبوں پر مسکراہٹ آئی۔
"اب مسکرا کیوں رہا ہے؟؟
نبیل اس کی مسکراہٹ دیکھ چکا تھا۔
"کک کچھ نہیں" ۔
مائر ٹال گیا۔
"ویسے کل تو مائر بلکل ہیرو لگا ہوگا ہیں نا"۔
عنایہ اس وقت میرال کے کمرے میں موجود تھی اور میرال اس کو بتا چکی تھی کہ کل کیا ہوا اور اب وہ اس کو تنگ کررہی تھی۔
"بلکل بھی نہیں۔ مجھے تو کوئی ویلن ہی لگ رہا تھا۔ جب اس نے کہا کہ میں چھوڑ دیتا ہو تمہیں تمہارے گھر میں تو ڈر ہی گئی تھی۔ پھر جب اس نے بتایا کہ ہاجرہ آنٹی بھی اس کے ساتھ ہیں تو کچھ سکون ہوا"۔
میرال نے اس کو تفصیل بتائی۔
"ہاں پر انٹری تو ہیرو والی ہی ماری تھی نا ویسے کل تو موسم بھی بڑا رومانٹک تھا"۔
عنایہ کہاں باز آنے والی تھی۔
"لگتا ہے تم نے مجھ سے مار کھانی ہے۔ جو ایسی باتیں کر رہی ہو"۔
میرال کو اب اس کی باتوں پر غصہ آرہا تھا۔
"جتنا غصہ کرنا ہے کرلو۔ پر مجھے تو یہی لگتا ہے کہ وہ تمہیں پسند کرنے لگا ہے"۔
عنایہ نے بس مذاق میں کہا۔
"تمہیں پتا ہے کہ میں ریحان کو پسند کرتی ہوں۔ پھر بھی تم ایسی باتیں کرتی جارہی ہو"۔
میرال اس کی بات پر سیریس ہوگئی۔
"ارے میں تو بس مذاق کررہی تھی۔ تم تو سیریس ہی ہوگئی ہو اچھا سوری"۔
عنایہ نے اپنے کان پکڑے۔
"میں سیریس اس لئے ہوئی ہوں تاکہ تم دوبارہ اس طرح کی بات نہ کرو۔ اور ایسی باتیں اپنے دماغ سے نکال دو"۔
میرال واقع ہی برا مان گئی تھی۔
"اچھا یہ باتیں چھوڑو ہم کتنے لیٹ ہوگئے ہیں۔ چلو جلدی سے تیار ہو جاؤ بازار بھی جانا ہے"۔
عنایہ نے موضوع بدلا۔
"میں تو تیار ہی ہوں۔ تمہاری باتیں ہی ختم نہیں ہورہی ہیں۔ چلو اٹھو میں بھی بس بیگ میں ضروری چیزیں رکھ لوں"۔
میرال نے پاس پڑا بیگ چیک کیا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
" تم اتنی دیر سے کبھی کچھ پسند کرتی ہو کبھی کچھ پر تم لیتی کچھ ہو نہیں۔ بس یہ کچھ چیزیں لی ہیں"۔
عنایہ کوئی تیسری چوتھی دفعہ اس کے ساتھ مال کا چکر لگا رہی تھی۔
"تم چپ کر کے چلو ۔ چیزیں پسند کرنے میں ٹائم لگتا ہے"۔
میرال نے کہا اور ایک اور شاپ میں گھس گئی۔
عنایہ کو بھی مجبوراً اس کے پیچھے جانا پڑا۔
"شکر ہے تمہیں کوئی ڈریس تو پسند آیا"۔
میرال نے ایک ڈریس فائنل کیا۔
"چلو اب شاپنگ بعد میں کرنا پہلے ہم آئسکریم کھانے چلیں گے"۔
عنایہ نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔
"اچھا ٹھیک ہے۔ چلو"۔
میرال اور وہ شاپ سے باہر آگئیں۔ پاس ہی آئسکریم شاپ تھی وہاں سے دونوں نے آئسکریم لی اور لفٹ کی طرف جانے لگے۔ اب ان کا ارادہ نیچے والی شاپ پر جانے کا تھا۔
"ویسے کتنا مزا آئے تمہارا نیو ہیرو مائر بھی یہاں آجائے"۔
عنایہ نے جان بوجھ کر ایسا کہا اور اپنے چلنے کی رفتار تیز کی اور اس سے آگے نکل گئی۔
"تمہیں میں نے منع بھی کیا تھا پر تمہیں میری بات سمجھ نہیں آتی"۔
میرال نے بھی چلنے کی رفتار تیز کی پر وہ پھر بھی اس سے آگے تھی۔ وہ اس کو ایک زوردار تھپڑ مارنا چاہتی تھی۔ پر جب نہ مار سکی تو اپنے ہاتھ میں پکڑی آئسکریم کی کون گھوما کر اس کو ماری۔ پر وہ سائڈ پر ہوگئی اور لفٹ سے باہر نکلتے مائر کے کوٹ کو خراب کرگئی۔ یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ نہ میرال کو پتا چلا اور نہ ہی مائر اپنے بچاؤ کےلئے کچھ کرسکا۔
"یہ کیا بدتمیزی ہے۔ تمہارے پاس کوئی سیدھا کام نہیں ہے۔ جب دیکھوں الٹے کام کرتی رہتی ہو"۔
مائر اس کو غصے سے گھور رہا تھا۔
"س۔۔۔۔ سوری مجھے بلکل بھی پتا نہیں چلا اور میں نے یہ کون عنایہ کو مارنے کے لئے پھینکی تھی"۔
میرال کو سمجھ نہ آیا کیا کہے۔
"آئسکریم کھانے کےلئے ہوتی ہے ناکہ مارنے کے لئے تم نے میرا سارا کوٹ خراب کردیا ہے۔ مجھے ایک ضروری میٹنگ میں جانا تھا"۔
مائر کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اپنا کوٹ کیسے
صاف کرے۔
"یہ لیں ٹیشو۔ اس سے صاف کرلیں"۔
عنایہ پاس کی شاپ سے ٹیشو لے آئی۔
"اب تو اسی سے صاف کرنا پڑے گا"۔
مائر نے اس کے ہاتھ سے ٹیشو لے لیا۔
"اور تم کیا میرا پیچھا کررہی ہو۔ جو ہر جگہ مل جاتی ہو"۔
مائر نے اپنا کوٹ صاف کرتے ہوئے کہا۔
"اب ہر جگہ بھی نہیں مل جاتی اور مجھے تو لگتا ہے کہ آپ میرا پیچھا کر رہے ہیں"۔
میرال نے آہستگی سے کہا پر اس نے سن لیا تھا۔
"میں ویسے ہی بہت مصروف ہوتا۔ میرے پاس اتنا ٹائم نہیں ہے کہ پیچھا کرؤں وہ بھی تمہارا"۔
مائر نے بھی اسی کی ٹون میں جواب دیا۔
"تو ہم لوگ کون سا فارغ ہوتے ہیں جو آپ کا پیچھا کریں گے"۔
میرال کو تو اس کی بات پر تپ ہی چڑ گئی۔
"ہیلو اسلام و علیکم! جی جی میں بس پہنچ گیا"۔
اسی وقت مائر کو فون آیا تھا۔ میرال کو ایک غصے والی گھوری سے نوازتا ہوا وہ آگے بڑھ گیا تھا۔
"چلو اس نے سارا موڈ ہی خراب کردیا ہے۔ اور تم پیچھے کیوں ہوئی؟"
میرال کو عنایہ پر بہت غصہ آرہا تھا۔
"تو کیا کرتی؟ تم نے تو آئسکریم سے میرے کپڑے خراب کردینے تھے۔اور غلطی تمہاری ہے تم میرے مذاق پر فضول میں ناراض ہورہی تھی"۔
عنایہ نے اس کے ہاتھ سے جوتوں والا شاپر پکڑا کہ کہیں یہی نہ مار دے۔
"ویسے غلطی تمہاری تھی تمہیں ایسا مذاق ہی نہیں کرنا چاہیئے تھا"۔
میرال نے اس کو شاپر پکڑنے نہ دیا۔
"ویسے میں نے ویسے ہی کہا تھا کہ وہ یہاں آجائے اور دیکھو وہ آگیا۔ مجھے لگتا ہے تمہاری لائف میں کوئی ٹوئسٹ آنے والا ہے"۔
عنایہ نے پھر اس کو چھیڑا۔
"مجھے لگتا ہے تمہاری لائف میں کوئی ٹوئسٹ آنے والا ہے کیونکہ تم ہی چاہ رہی تھی کہ وہ یہاں آجائے اور وہ آبھی گیا۔ ویسے اللّٰہ سے کچھ اور مانگ لیتی"۔
میرال نے الٹا اس کو ہی سوچ میں ڈال دیا
"ویسے یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں۔ لیکں یاد آیا میں تمہارے لئے سوچ رہی تھی کہ وہ یہاں آجائے تو۔ اپنے لئے تھوڑی سوچ رہی تھی"۔
عنایہ اطمینان سے کہا۔
"بی جان کا میسج آیا ہے۔ کہہ رہی ہیں کہ جلدی گھر آجاؤں شام ہونے والی ہے باقی شاپنگ کل کرلینا"۔
میرال نے اس کی بات کو اگنور کیا اور فون دیکھتے ہوئے کہا۔
"چلو پھر باقی شاپنگ کل کرلیں گے"۔
عنایہ اور وہ اوپر سے نیچے آتے ہوئے پارکنگ ایریا کی طرف جانے لگیں۔
"مجھے ایک آئیڈیا آیا ہے کیوں نا اس کی گاڑی کا ٹائر پنچر کردیں"۔
میرال نے مائر کی گاڑی کو دیکھتے ہوئے کہا۔ جو ان کی گاڑی سے کچھ دور پارک تھی۔
"رہنے دو ایسا نہ ہو کہ وہ آجائے اور ہمیں ٹائر پنچر کرتے ہوئے دیکھ لے"۔
عنایہ نے اس کو وارن کیا۔
"ہاں رہنے دیتے ہیں۔ ویسے بھی بندے کو کبھی کسی قسم کی ایمرجنسی بھی ہوسکتی ہے اور جلدی میں کہیں جانا بھی پڑ سکتا ہے تو اگر گاڑی پنچر ہوگئی تو کیسے جائے گا"۔
میرال کو خیال آیا تو کہا۔
"اچھا چلو دیر ہورہی ہے بی جان نے میری ٹانگیں توڑ دینی ہے"۔
میرال کے کہنے پر وہ فوراً گاڑی میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی اور دوسری طرف سے وہ بھی بیٹھ گئی اور ڈرائیور نے گاڑی سٹارٹ کردی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
وہ اور بی جان کب کے تیار تھے۔ پر ابھی تک ایان نہیں آیا تھا۔
"بی جان یہ لڑکا ہمیشہ لیٹ کرواتا ہے۔ نہ فون اٹھا رہا ہے نہ آرہا ہے۔ باتیں کروالو اس سے میں لے جاؤں گا بازار" ۔
میرال نے اس کی نقل اتاری۔
"جاؤ دیکھ کر آؤ کہ ابھی تک کیوں نہیں آیا اور ناہید اور زارا کو بھی دیکھ لینا انہوں نے بھی ساتھ جانا تھا"۔
بی جان نے اس کو تلقین کی۔
"جی جاتی ہوں"۔
میرال نے اپنا موبائل وہی ٹیبل پر رکھا اور ساتھ والے گھر میں ایان کو بلانے چلی گئی۔
"اسلام وعلیکم! تائی امی!"
میرال نے گھر کے اندر داخل ہوئی تو ناہید بیگم باہر کی طرف آرہی تھیں۔
"وعلیکم السلام بیٹا! میں تمہارے گھر ہی آرہی تھی۔ یہ کہنے کہ تم اور بی جان آجاؤں ہماری طرف کیونکہ کچھ دیر انتظار کرنا پڑے گا۔ ایان ابھی تک سو رہا ہے۔ زارا کب سے اس کو اٹھا رہی ہے پر وہ تو ٹس مس نہیں ہورہا اٹھتا ہے اور پانچ منٹ کا کہہ کر سو جاتا ہے"۔
ناہید بیگم بھی اس کو اٹھا اٹھا کر اب تھک گئی تھیں۔
"آپ فکر نہ کریں۔ اس کو میں اٹھاتی ہوں"۔
میرال کہتے ہی اس کے کمرے کی طرف چل دی۔
"ایان اٹھ جاؤ۔ اب اگر تم نہ اٹھے تو میں نے پانی ڈال دینا ہے"۔
میرال نے اس کو دھمکی دی اور زارا کو اشارے سے پانی لانے کو کہا۔ وہ سر ہلاتی کچن میں چلی گئی اور جب واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں ٹھنڈے پانی بوتل تھی۔
"ایان تم نہیں اٹھ رہے"۔
میرال نے پھر پوچھا۔ پر وہ تو ڈھیٹ بنا سو رہا تھا۔زارا نے بوتل کا ڈھکن کھولا۔ میرال کچھ پیچھے ہوگئی۔ زارا نے اس پر ٹھنڈا ٹھنڈا پانی ڈال دیا۔
"آاااااا۔ پاگل ہوگئی ہو۔ ایک تو مجھے سکون سے سونے نہ دینا۔ اچھا بھلا اتنا اچھا خواب دیکھ رہا تھا"۔
ایان نے بیڈ سے اٹھتے ہوئے کہا۔
"تو پہلے کہنا نہیں تھا کہ میں شاپنگ پر لے جاؤں گا"۔
میرال نے اس کو یاد کروایا۔
"ہاں تو اٹھ کر لے جانا تھا۔ پر یہ تو بد تمیزی ہے کہ تم پانی پھینکو"۔
ایان نے ناراضگی سے زارا کی طرف دیکھا۔
"اب یہ ناراض محبوبہ کی طرح نخرے کرنا بند کرو اور اٹھو جاؤ تیار ہو جاؤ۔ ہم باہر تمہارا انتظار کر رہے ہیں"۔
وہ اور میرال اس کے کمرے سے باہر آگئیں۔ آدھے گھنٹے بعد وہ بھی تیار ہوکر آگیا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ سب بازار جانے کے لئے نکل گئے تھے۔ عنایہ ان کے ساتھ نہیں تھی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
زارا کافی سارے برائیڈل ڈریسز دیکھ چکی تھی پر اس کو کوئی بھی پسند نہیں آرہا تھا۔
"زارا آپی جلدی کریں۔ میں نے بھی ابھی شاپنگ کرنی ہے"۔
میرال اب تنگ ہورہی تھی۔
"یار تم اور بی جان جاکر اپنی شاپنگ کرلو۔ کیونکہ ٹائم تو لگے گا"۔
زارا نے اس کو مشورہ دیا۔
"ہاں یہ ٹھیک ہے۔ چلیں بی جان! میں بھی ساتھ چلتا ہوں"۔
ایان بھی ان کے ساتھ شاپ سے باہر آگیا۔ اب وہ لوگ اوپر والے فلور پر جارہے تھے۔ وہاں پر بہت سی فینسی ڈریسز کی دکانیں تھیں۔
"یہ دیکھوں یہ ڈریس عنایہ پر کتنا اچھا لگے گا ہے نا"۔
وہ کوئی ڈریس دیکھ رہی تھی۔ جب ایان نے آکر اس کو ایک ڈریس کی طرف اشارہ کر کے کہا۔
"اچھا تو لگے گا۔ پر ابھی تم نے لینا ہے اس کے لئے؟؟
میرال نے حیرت سے پوچھا۔
"نہیں ابھی تو ویسے ہی دیکھ رہا ہوں۔ پہلے اس سے اظہار محبت کرکے شادی کے لئے پرپوز تو کرلوں۔ ویسے اس سے بات کرنا بڑا مشکل ہے"۔
ایان نے کافی دفعہ اس سے بات کرنے کی کوشش کی تھی پر ہر دفعہ وہ بات شروع تو کر لیتا تھا پر بات بدل دیتا تھا۔
"ہاں ویسے مشکل تو ہے۔ پر تمہیں اتنی جلدی کیا ہے۔ پہلے زارا کی شادی ہوگی پھر ریحان کی پھر تمہاری باری ہے"۔
میرال نے اس کو یاد کروایا۔
"مجھے یاد ہے کہ میں گھر میں چھوٹا ہوں۔ زارا آپی کی تو شادی ہورہی ہے اور اب جب ریحان بھائی آئیں تو تم ان سے اظہار محبت کردینا۔ تاکہ سال چھ مہینے تک تمہاری بھی شادی ہوجائے"۔
ایان نے اس کو سمجھایا۔
"اپنے چکر میں تم چاہتے ہو کہ میری بھی جلدی شادی ہوجائے۔ میں نے ماسٹر کرنے سے پہلے شادی نہیں کرنی۔ اور یہ مجھے جو اظہار محبت کے مشورے دے رہے ہو۔ یہ مشورے اپنے بھائی کو دو"۔
میرال کو تو اس کی بات پر غصہ ہی آگیا۔
"میں کیسے بھائی کو کہہ دوں۔ میرے اور ان میں اتنی بے تکلفی نہیں ہے"۔
ایان نے اپنا مسئلہ بتایا۔
"تم دونوں کی کون سی باتیں چل رہی ہیں جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں"۔
بی جان ایک سوٹ دیکھ رہیں تھیں اور ساتھ میرال کا بھی انتظار کررہیں تھیں پر وہ آنے کا نام نہیں لے رہی تھی اس لئے وہ خود اس کے پاس آگئیں۔
"جی بی جان میں آہی رہی تھی۔ چلیں ہم وہ سوٹ دیکھتے ہیں جو آپ نے پسند کیا ہے"۔
میرال بی جان کو لے کر واپس وہی چلی گئی جہاں وہ سوٹ پڑا تھا۔
"اسلام وعلیکم!"
ایان کو کسی کا فون آیا اور وہ سننے کے لئے شاپ باہر چلا گیا۔
"میرال میں جو تمہیں بات بتانے لگا ہوں پلیز اداس نہ ہونا"۔
کچھ دیر بعد ایان نے اس کے پاس آکر کہا۔
"کیا ہوا ہے؟
میرال پریشان ہوئی۔
"وہ تمہارے بابا نہیں آرہے زارا کی شادی پر ان کو بہت کام ہے اور ریحان بھائی بھی نہیں آرہے ہیں۔ مجھے ابھی فون آیا تھا تمہارے بابا کا"۔
ایان نے تفصیل بتائی۔
"پر بابا سے کل بات ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا تھا وہ آنے کی پوری کوشش کریں گے"۔
میرال اداس ہوگئی۔
"چلو اب اداس نہ ہو"۔
ایان نے اس کو تسلی دی۔
"میں گھر جانا چاہتی ہوں۔ ویسے بھی میری شاپنگ ہوگئی ہے"۔
میرال کا اب اور مال میں رکنے کو دل نہیں کر رہا تھا۔
"اچھا ٹھیک ہے۔ تم اور بی جان گاڑی میں چل کر بیٹھو میں زارا آپی اور امی کو لے کر آتا ہوں"۔
ایان نے گاڑی کی چابی اس کو دی۔
"ٹھیک ہے"۔
میرال نے چابی لے لی۔ اس کو اور بی جان کو گاڑی میں بیٹھے پندرہ منٹ ہوئے تھے جب ایان کے ساتھ ناہید بیگم اور زارا آتے ہوئے نظر آئے۔
"بی جان میرال کا موڈ کیوں اوف ہے"۔
زارا نے گاڑی میں بیٹھتے ہی پوچھا۔
"کیونکہ اس کے بابا تمہاری شادی پر نہیں آرہے ہیں" ۔
ایان نے جواب دیا۔
"کل میری بھائی صاحب سے بات تو ہوئی تھی تب تک تو ان کا آنے کا ہی پلین تھا"۔
ناہید بیگم نے سوچتے ہوئے کہا۔
"جی پلین تو تھا پر ایک ضروری کام آگیا ہے اس لئے نہیں آپائیں گے"۔
ایان نے جلدی سے کہا اور گاڑی سٹارٹ کردی۔
"بی جان میرا موبائل کہاں ہے؟
میرال اپنے بیگ میں موبائل ڈھونڈ رہی تھی۔
"تم نے لاؤنج میں ٹیبل پر رکھ دیا تھا۔ اور ایان کو بلانے چلی گئی تھی۔ یاد آیا۔ وہی پڑا ہوگا"۔
بی جان نے اس کو یاد دلایا۔
"جی یاد آگیا ہے۔ پر آپ نے اپنے بیگ میں کیوں نہیں رکھا؟"
میرال نے اپنے بابا کو فون کرنا تھا۔
"اس لئے تاکہ تم آئندہ سے اپنے موبائل کا دھیان رکھو اور ایسے کہیں بھی نہ چھوڑ دو"۔
بی جان نے اس کو کہا۔
"پر میں نے بابا کو فون کرنا تھا"۔
میرال نے رونے والا منہ بنایا۔
"گھر جاکر کرلینا۔ ابھی تو کچھ دیر پہلے ایان کی بات ہوئی ہے"۔
بی جان نے اس کو ٹوکا۔
"میرال میری جان! اداس نہ ہو"۔
ناہید بیگم نے پیار سے اسے حوصلہ دیا۔
کچھ دیر تک وہ لوگ گھر پہنچ چکے تھے۔ میرال نے سب کو اللّٰہ حافظ کہا اور اپنے گھر چلی گئی۔ جبکہ بی جان نے ناہید کے ساتھ ان کے گھر جانا تھا۔ تاکہ وہ دونوں مل کر ساری چیزوں کا حساب لگا سکیں کہ کیا لیا اور کیا کچھ رہ گیا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
گھر آکر اس نے کتنی دفعہ اپنے بابا کا نمبر ملایا پر وہ اوف تھا۔ اور پھر کچھ خیال آنے پر ریحان کا نمبر بھی ملایا پر وہ بھی بند تھا۔ کچھ دیر وہ وہی لاؤنج میں بیٹھی رہی پھر وہ اپنے کمرے میں آگئی۔ کب اس کر آنکھ لگی اس کو پتا نہ چلا۔
"تم لوگوں نے یہ پلین بنانے سے پہلے مجھ سے پوچھا کیوں نہیں؟ میری بچی اتنی اداس ہے تب سے جب سے ایان نے بتایا ہے کہ تم دونوں نہیں آرہے"۔
بی جان کو جب پتا چلا کہ یہ ان سب کا پلین تھا۔ تو سب کی خبر لی۔
"بی جان ہم ابھی تو آئیں ہیں۔ آپ آتے ہی ڈاٹنے لگی ہیں۔"
ہمدان صاحب نے شکوہ کیا۔
ایان کچھ دیر پہلے ان دونوں کو لینے ائیرپورٹ چلا گیا تھا۔ پہلے ہمدان صاحب کی فلائٹ لینڈ کی اور آدھے گھنٹے بعد ریحان کی۔ اور اب وہ لوگ ابھی گھر آئے تھے۔ اور آتے ہوئے میرال کے لئے کیک اور اس کی پسند کی بہت سی کھانے کی چیزیں بھی لائے تھے۔
اب وہ سب لوگ ہمدان صاحب کے گھر میں داخل ہوئے تھے۔ جہاں خاموشی تھی۔
"میرال تو یہاں ہے ہی نہیں"۔
ایان نے لاؤنج میں ادھر اُدھر دیکھا۔
"اپنے کمرے میں ہوگی۔ میں دیکھتی ہوں"۔
بی جان اس کے کمرے کی طرف چل دی۔ وہ وہی سو رہی تھی۔
"میرال! اٹھو بیٹا!"
اس کو ایسا لگا جیسے ہمدان صاحب اس کو آواز دے رہے ہیں۔
"بابا!"
اس نے آہستہ آواز میں کہا۔
"جی بیٹا اٹھو!"
ہمدان صاحب نے اس کے سر پر پیار دیا۔
"بابا! آپ آگئے۔۔۔۔"
میرال نے آنکھیں کھولیں تو ہمدان صاحب کو دیکھا اس کو یقین نہیں آرہا تھا اس نے اپنی آنکھیں ملی۔
"جی میں آگیا"۔
ہمدان صاحب کے کہنے پر اس نے اپنی آنکھیں پوری کھولیں۔
"پر ایان تو کہہ رہا تھا کہ آپ نہیں آرہے؟؟"
میرال نے دور کھڑے ایان کی طرف اشارہ کیا۔
"میں نے ہی کہا تھا کہ نہ بتانا کیونکہ میں نے آپ کو سرپرائز دینا تھا۔ اچھا اب اٹھو اور باہر آؤ کچھ اور بھی سرپرائز ہے"۔
ہمدان صاحب نے اس کو پلین بتادیا۔
"کیا سرپرائز ہے؟
میرال نے تجسس سے کہا۔
"باہر تو آؤ"۔
ہمدان صاحب نے کہا اور باہر چلے گئے۔ بی جان اور ایان پہلے ہی باہر چلے گئے تھے۔ ریحان تو پہلے ہی باہر تھا۔ کچھ دیر بعد وہ باہر آئی تو لاونج میں میں اندھیر تھا۔ وہ جیسے ہی لاؤنج میں موجود ٹیبل کے پاس پہنچی تو لاؤنج کی ساری لائٹس اون ہوگئی۔
"ہیپی برتھڈے ٹو یو۔۔۔۔۔۔"
سب نے ایک ساتھ کہا۔ زارا اور ناہید بیگم بھی ان کے گھر آچکے تھے۔
"پر آج تو میرا برتھڈے نہیں ہے"۔
میرال کو خوشگوار حیرت ہوئی۔
"جی پر آپ کی پچھلے سال کی سالگرہ پر میں یہاں نہیں تھا۔ اس لئے میں نے سوچا کہ آج ہی سیلیبریٹ کر لیتے ہیں"۔
ہمدان صاحب نے اس کے سر پر پیار دیا اور دوسرے ہاتھ سے اس کی ہاتھ میں چھری پکڑائی۔ سب کی تالیوں کے بیچ اس نے کیک کٹ کیا۔
میرال آج بہت خوش تھی کیونکہ اس کے بابا اور ریحان دونوں آگئے تھے اور بابا نے اتنا اچھا سرپرائز دیا تھا۔
"واہ یار کتنی اچھی تصویریں ہیں۔ تم مجھے بھی بلا لیتی میں بھی تمہاری برتھڈے سیلیبریٹ کر لیتی"۔
عنایہ نے اس کے موبائل میں رات کی تصویریں دیکھتے ہوئے کہا۔
"ہاں پر رات کو بہت دیر ہوگئی تھی۔ اس لئے تمہیں نہیں بلایا۔ ورنہ میں تو سوچ رہی تھی بلانے کا"۔
میرال نے وضاحت دی۔
"یہ سرپرائز تمہارے بابا نے دیا یا ریحان نے"؟
عنایہ نے اس کے لئے جگ سے جوس گلاس میں نکالا۔
"یہ سرپرائز تو بابا نے دیا ہے۔ پر میں خوش ہوں کہ ریحان بھی آگئے۔ اب میں نے سوچا ہے کہ ہم شادی پر بہت مزا کریں گے"۔
میرال نے مزے سے اپنا پلین بتایا۔
"ہاں مزا تو کریں گے"۔
عنایہ نے بھی کہا۔
"اچھا میں اب چلتی ہوں میں نے بابا کے ساتھ شاپنگ پر بھی جانا ہے"۔
میرال کو یاد آیا تو اس نے جوس کا خالی گلاس ٹیبل پر رکھا۔
"اچھا ٹھیک ہے جاؤ"۔
عنایہ نے اس کو جانے کی اجازت دی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
آج مہندی کا فنکشن تھا۔ یہ فنکشن فرحان صاحب کے گھر کے لان میں رکھا گیا تھا۔ لان کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔ مہمان آنا شروع ہو چکے تھے۔
"میرال جلدی کرو۔ تمہاری وجہ سے میں بھی ابھی تک فنکشن میں نہیں گئی"۔
"اچھا چلتے ہیں"۔
میرال نے اپنے آپ کو آئینے میں دیکھتے ہوئے کہا۔آج اس نے پنک لہنگا اور یلو شرٹ پہنی تھی ساتھ یلو دوپٹہ لیا ہوا تھا۔ وہ آج بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ خوبصورت تو عنایہ بھی لگ رہی تھی اس نے یلو لہنگا اور یلو ہی شرٹ پہنی ہوئی تھی ساتھ ڈارک پرپل کلر کا دوپٹہ لیا ہوا تھا۔
"اب جلدی کرلو"۔
عنایہ نے پھر کہا۔
"اچھا چلو"۔
میرال نے اپنا موبائل پکڑا اور اس کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گئی۔ ساتھ ساتھ وہ ایان کو میسج بھی کر رہی تھی۔
"کس کو میسج کر رہی ہو"؟؟
عنایہ نے دیکھا کہ وہ کسی کو میسج کررہی ہے۔
"ایان کو میسج کر رہی ہوں۔ میں نے اسے پٹاخے لانے کے لئے کہا تھا۔ دوبارہ یاد کروا رہی ہوں تاکہ یاد سے لے آئے"۔
میرال اور وہ ساتھ والے گھر کے لان میں آگئے تھے۔
"تم نے پٹاخے بھی چلانے ہیں"؟؟
عنایہ نے حیرت سے کہا۔
"ہاں اور تم اتنا حیران ہونا بند کرو"۔
میرال نے اس کا حیرانی سے کھلا منہ بند کیا۔
"ماشاءاللہ! ماشاءاللہ! تم دونوں کتنی پیاری لگ رہی ہو"۔
بی جان نے پیار سے کہا۔
"ویسے آپ زیادہ پیاری لگ رہیں ہیں"۔
میرال نے ان کی تعریف کی۔ عنایہ نے بھی ہاں میں ہاں ملائی
"شکریہ"۔
بی جان نے پیار سے کہا۔
میرال اور عنایہ مسکرا دی۔
"چلو عنایہ ایان آگیا ہے"۔
میرال نے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی۔وہ دونوں گیٹ کے پاس آگئیں۔
"واہ! ایان تم تو بہت سارے پٹاخے لے آئے۔ اب ہم یہ گول گول گھومنے والا پٹاخا ہے نا یہ ہم جب ارحم بھائی آئیں گے تب چلائیں گے"۔
میرال نے اپنا پلین بتایا۔
"ویسے مجھے حیرت ہے۔ تم کچھ دن پہلے اپنے آپ کو بدل رہی تھی اور سیریس اور سمجھدار ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔ پھر سے یہ بچوں والی شراتیں شروع کردی"۔
ایان بھی حیران تھا۔
"میں بھی اس لئے ہی حیران تھی"۔
عنایہ نے بھی کہا۔
"یار میرا دل کررہا تھا بچہ بننے کو"۔
میرال نے مزے سے کہا۔
"چلو پھر میں بھی بچی بن جاتی ہو"۔
عنایہ نے کہا اور ایک پٹاخہ جلا کر اس کی طرف پھینکا۔ میرال اپنے بچاؤ کے لئے پیچھے ہوئی۔
"تم کوئی سیدھا کام نہیں کرسکتی"۔
مائر جو ابھی گیٹ سے اندر داخل ہوا تھا۔ اگر وقت پر پیچھے نہ ہوتا تو میرال اس سے ٹکڑا جاتی۔
"میری غلطی نہیں ہے۔ عنایہ نے میری طرف پٹاخہ پھینکا تو میں اپنے بچاؤ کے لئے پیچھے ہوئی تھی"۔
میرال نے فوراً اپنی صفائی دی۔
"ویسے آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔ یہ ہمارے گھر کا فنکشن ہے۔ آپ کو کس نے بلایا"؟
میرال نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
"یہ کون ہے٫؟
ایان نے عنایہ سے آہستہ آواز میں پوچھا۔
"یہ ہماری یونی میں پڑھتا ہے۔ اس دن میرال گھر بھی اس کے اس کی مما کے ساتھ آئی تھی"۔
عنایہ نے اس کو بتایا۔
"اچھا میں آتا ہوں۔ مجھے ریحان بھائی نے بلایا تھا"۔
ایان کو یاد آیا تو وہ لان کی طرف چلا گیا۔
"میں اور میری فیملی انوائیٹڈ ہیں"۔
مائر نے جواب دیا۔
"تو انویٹیشن کارڈ دیکھائے"۔
میرال نے کہا اور ساتھ ہاتھ آگے کیا۔
"تم کسی شادی پر جاتی ہو تو کاڈر ساتھ لے کر جاتی ہو"؟
مائر کو اس بات پر غصہ آیا۔
"تو اور کیا کہوں ؟ آپ خود بتائیں مجھے کیسے پتا چلے گا کہ آپ کو انوائیٹ کیا گیا"۔
میرال نے وضاحت دی۔
"مائر بیٹا تم آگئے۔ بابا کہاں ہیں"؟
اسی وقت ہمدان صاحب باہر آئے ۔
"اسلام وعلیکم انکل! بابا بھی آرہے ہیں"۔
مائر نے فوراً جواب دیا۔
میرال ان دونوں کو حیرت سے دیکھ رہی تھی۔
"اسلام و علیکم! ہمدان کیا حال ہے؟ بہت بہت مبارک ہو آپ کو بھتجی کی شادی کی"۔
زاہد صاحب نے گیٹ سے اندر آتے ہی مبارک باد دی۔ ان کے ساتھ ہاجرہ بیگم بھی تھیں۔
"وعلیکم السلام! خیر مبارک! اور بھابھی آپ کا کیا حال ہے"؟
ہمدان صاحب نے پوچھا۔
"میں بلکل ٹھیک"۔
ہاجرہ بیگم نے جواب دیا۔
"میرال بیٹی ! یہ میرے بہت اچھے دوست ہیں یہ ان کی وائف اور یہ ان کا بیٹا ہے"۔
ہمدان صاحب نے ان کا تعارف کروایا۔
"اسلام و علیکم!"
میرال کی حیرت کم ہوئی تو اس کو شرمندگی ہوئی کہ وہ کب سے ان کو دیکھ رہی تھی پر سلام نہیں کیا۔
"وعلیکم السلام ! کیا حال ہے میرال٫؟
ہاجرہ بیگم نے خوش دلی سے کہا۔
"آپ ان کو جانتی ہیں٫؟
زاہد صاحب نے حیرت سے پوچھا۔
"جی میں نے آپ کو بتایا تھا کہ مائر کی یونی فیلو ہے جو ہمارے گھر آئی تھی یہی ہے"۔
ہاجرہ بیگم نے بتایا۔
"یہ تو اچھی بات ہے کہ آپ سب میرال کو پہلے سے جانتے ہیں اور میرال آپ سب کو"۔
ہمدان صاحب خوش ہوئے۔
عنایہ خاموشی سے یہ سب دیکھ رہی تھی۔
"آپ لوگ کیا کر رہے تھے"؟
ہمدان صاحب نے اس کے ہاتھ میں پٹاخے دیکھ لئے تھے۔
"وہ میں نے ایان سے پٹاخے منگوائے تھے۔ ہم نے ابھی چلانے ہیں"۔
میرال نے مزے سے کہا۔
"اس لڑکی کا کچھ نہیں ہوسکتا"۔
مائر نے سوچا۔
"چلیں پھر آپ لوگ چلائے پٹاخے پر دھیان سے"۔
ہمدان صاحب نے اس کو تلقین کی۔
"جی بابا! ہم دھیان سے پٹاخے چلائے گے"۔
میرال نے کہا اور عنایہ کو ساتھ لے کر لان میں چلی گئی۔
"آپ لوگ آجائیں"۔
ہمدان صاحب ان کو لے کر لان میں چلے گئے۔
وہ لوگ لان میں لگی ہوئی ٹیبلز میں سے ایک ٹیبل کے گرد پڑی ہوئی چیڑز پر بیٹھ گئے تھے۔
وہ دور ایک طرف اپنے کزنز کے ساتھ پٹاخے چلارہی تھی۔ مائر کی اچانک نظر پڑی۔ پھر دوبارہ سے وہ اپنے موبائل میں مصروف ہوگیا۔
"میرال کچھ پٹاخے بچالو کل چلائے گے"۔
ریحان ابھی آیا تھا۔
"نہیں آج ہی سارے چلا لیتے ہیں۔ کل ہال میں کوئی چلانے نہیں دے گا"۔
میرال نے دو پٹاخوں کو ایک ساتھ آگ لگائی۔
"میرال اس کو مزا چکھاتے ہیں"۔
ایان اور ریحان کسی کام سے گھر کے اندر گئے تھے۔ مائر کچھ دور کھڑا کسی سے فون پر بات کررہا تھا۔
"ہاں ویسے آئیڈیا تو اچھا ہے"۔
میرال نے اپنے بابا کی ٹیبل کی طرف دیکھا۔ اس کے بابا اور مائر کے والدین بھی ادھر نہیں تھے۔ شاید کسی کام سے گھر کے اندر گئے تھے۔
میرال نے چار پٹاخے ایک ساتھ جلائے اور مائر کی طرف پھینک دیئے۔
"یہ کیا بدتمیزی ہے"۔
مائر فوراً پیچھے ہوا۔
"ہم نے تو بس مذاق کیا ہے"۔
میرال نے اس کو غصہ دیلانے والے انداز میں کہا۔اور کامیاب بھی رہی۔
"تم بہت بدتمیز ہو"۔
مائر نے غصے سے کہا۔
"اچھا سوری میں نے بس مذاق کیا تھا۔ زیادہ دل پر نہ لیں"۔
میرال کو لگا کہ کہیں وہ اس کے بابا کو شکایت نہ لگا دے اس لئے معافی مانگ لی۔
اس نے کوئی جواب نہ دیا اور واپس جاکر کرسی پر بیٹھ گیا۔
"میرال ابھی تک ارحم بھائی اور ان کے گھر والے آئے کیوں نہیں باقی تو سارے مہمان آگئے ہیں"۔
عنایہ نے پوچھا۔
"وہ لوگ راستے میں ہیں ٹریفک بہت ہے اس لئے ٹائم لگ رہا ہے"۔
آج ارحم اور زارا کا نکاح بھی تھا۔
کچھ دیر بعد ارحم کے گھر والے آگئے اور نکاح بھی ہوگیا۔ اب مہندی کی رسم کے لئے زارا اور ارحم کو ساتھ بیٹھا دیا گیا تھا۔
میرال اور عنایہ ایک ساتھ رسم کرنے کے لئے سٹیج پر گئی تھی۔ پھر جب ان دونوں نے رسم کرلی تو سٹیج سے نیچے آگئیں پھر ایان اور ریحان نے رسم کی۔ جب سب رسم کرچکے تو ہمدان صاحب نے سب کو سٹیج پر بلایا۔ بی جان پہلے سے ہی سٹیج پر زارا اور ارحم جس صوفے پر بیٹھے تھے۔ اس کے ساتھ والے صوفہ پر بیٹھی تھیں۔ ہمدان صاحب ان کے پاس صوفے پیچھے کھڑے تھے۔ میرال اپنے بابا کے ساتھ کھڑی ہوگئی اور عنایہ بھی میرال کے ساتھ کھڑی ہوگئی دوسری طرف والے صوفے پر ناہید بیگم بیٹھ گئیں اور ان کے ساتھ ہی فرحان صاحب کھڑے تھے۔ ایان اور ریحان پیچھے کھڑے ہوگئے۔
"ارے مائر تم بھی آجاؤ"۔
ہمدان صاحب نے اس کو بھی سٹیج پر آنے کا کہا۔
"اسکو بلانے کی کیا ضرورت تھی"۔
میرال نے عنایہ کے کان میں کہا۔
"مجھے تو تمہارے بابا کے پورے ارادے لگ رہیں ہیں اس کو داماد بنانے کے"۔
عنایہ کو جو لگ رہا تھا وہی کہا۔
"ایسی باتیں نہ کرو"۔
میرال نے اسے گھورا۔
"نہیں انکل آپ کی فیملی فوٹو ہے میں کیا کرؤں گا"۔
مائر کو بھی عجیب لگا۔
"کوئی بات نہیں بیٹا آجاؤ"۔
ہمدان صاحب کے اصرار پر اس کو سٹیج پر آنا پڑا۔
مائر ہمدان صاحب کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔ ہمدان صاحب کے دوسری طرف میرال تھی۔ عنایہ جہاں کھڑی تھی وہاں سے ایان اور ریحان کافی دور کھڑے تھے۔ کافی جگہ خالی تھی۔ ہمدان صاحب تو زاہد صاحب اور ہاجرہ بیگم کو بھی سٹیج پر آنے کا اصرار کر رہے تھے پر وہ نہیں آرہے تھے۔ پھر انہوں نے ناراض ہونے کی دھمکی دی تو وہ بھی سٹیج پر آگئے ۔عنایہ کے ساتھ ہاجرہ بیگم کھڑی ہوگئیں اور ان کے ساتھ زاہد صاحب۔
"میرال مسکرا تو لو"۔
میرال کا منہ بنا ہوا تھا۔
"مسکرا لیتی ہوں"۔
میرال نے عنایہ کو گھورا۔ پھر زبردستی مسکرائی۔ فوٹو گرافر نے کافی ساتھ تصویریں لیں۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
"آج کے فنکشن نے تو تھکا ہی دیا"۔
فرحان صاحب ابھی کمرے میں آئے تھے۔
"جی میں بھی بہت تھک گئی ہوں۔ اور مجھے تو ہمدان بھائی پر غصہ بھی آرہا ہے"۔
ناہید بیگم نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
"کیوں ہمدان نے کیا کیا"؟
فرحان صاحب کو سمجھ نہ آیا۔
"ارے کیا ضرورت تھی اپنے دوست کی فیملی کو ہمارے فیملی کی تصویر میں شامل کرنے کی"۔
یہ بات انہیں اس وقت بھی اچھی نہیں لگی تھی۔ جب ہمدان صاحب زاہد صاحب اور ان کی فیملی کو سٹیج پر بلا رہے تھے۔
"تو کیا ہو گیا۔ تصویر میں تو عنایہ بھی تھی"۔
فرحان صاحب نے ان کا غصہ کم کرنے کی کوشش کی۔
"وہ تو میرال کی دوست ہے اور کب سے اس کا آنا جانا ہے ہمارے گھر" ۔
ناہید بیگم نے لوشن کی بوتل سے لوشن نکالا اور ہاتھوں پر لگایا۔
"تو اسی طرح وہ ہمدان کا بہت اچھا اور پرانا دوست ہے"۔
فرحان صاحب نے وضاحت دی ۔
"پھر بھی وہ ہمارے گھر تو پہلی مرتبہ آئیں ہیں"۔
ناہید بیگم نے کہا۔
"نہیں وہ پہلے بھی ہمارے گھر آتے تھے۔ جب ہمدان یہی ہوتا تھا۔ یاد نہیں ہے تمہیں"۔
فرحان صاحب نے اس کو یاد کروایا۔
" ہاں پر اب تو اتنے عرصے بعد آئیں ہیں۔ پر مجھے ان کا ہمارے ساتھ فوٹو لینا برا لگا ہے۔ مجھے تو لگ رہا ہے کہ ہمدان بھائی اپنے دوست کے بیٹے کو میرال کے لئے پسند کرچکے ہیں۔ آپ جلدی اپنے بھائی سے ریحان اور میرال کے رشتے کی بات کریں"۔
ناہید بیگم نے اپنا خدشہ ظاہر کر دیا۔
"اچھا ایک دفعہ یہ شادی کے فنکشن ختم ہو جائے تو پھر میں پہلے ریحان سے اس کی مرضی کا پوچھوں گا اگر وہ راضی ہوا تو پھر ہمدان سے بات کروں گا"۔
فرحان صاحب نے سوچ کر جواب دیا۔
"پر ریحان کو کیا عتراض ہونا ہے"۔
ناہید بیگم کسی بھی طرح میرال کی جائیداد کو اپنے ہاتھ سے نکلنے دینا نہیں چاہتی تھی۔
"بچوں سے پوچھنا ضروری ہے"۔
فرحان صاحب نے دوٹوک انداز میں کہا تو ناہید بیگم چپ ہوگئیں۔
بارات کا فنکشن ہال میں تھا۔ بی جان تو کب کی تیار ہوچکی تھیں۔ پر باقی سب ابھی تک اپنی تیاریاں کر رہیں تھیں۔ وہ سب پالر میں موجود تھے۔ زارا تیار ہوچکی تھی ناہید بیگم کا ہییر سٹائل بن رہا تھا۔ میرال کا میک اپ ہورہا تھا۔ باقی سب ہال پہنچ چکے تھے۔ ان سب کو ریحان نے لینے آنا تھا۔
کچھ دیر بعد وہ سب تیار تھے۔ اور ریحان کے آنے کا انتظار کررہے تھے۔
"بی جان ریحان بھائی کو فون تو کریں کہ آجائیں اب" ۔
زارا نے بی جان کو فون کرنے کا کہا۔
"آجاتا ہے تھوڑی دیر انتظار کرلو"۔
ابھی بی جان نے کہا ہی تھا کہ باہر سے کوئی ملازم انہیں یہ ہی بتانے آیا کہ آپ لوگوں کو لینے کے لئے آگئے ہیں۔
"چلو میرال تم زارا کے ساتھ پیچھے بیٹھ جاؤ"۔ وہ لوگ باہر آئے تو بی جان نے کہا۔
وہ زارا کے ساتھ پیچھے بیٹھ گئی اور ناہید بیگم بھی اس کے ساتھ بیٹھ گئیں۔آگے بی جان بیٹھی تھیں۔
وہ لوگ ہال پہنچے تو ناہید بیگم اور بی جان زارا کو لے کر اندر چلی گئیں۔ میرال گاڑی سے اتر کر وہی رک گئی کیونکہ وہ ریحان کے ساتھ اندر جانا چاہتی تھی۔
"تم اندر نہیں گئی"۔
میرال کو ابھی بھی ہال سے باہر کھڑا دیکھ کر اسے حیرت ہوئی۔
"وہ میں آپ کا انتظار کر رہی تھی کہ آپ کے ساتھ چلوں گی"۔
میرال نے فوراً کہا۔
"اچھا چلو"۔
ریحان نے اپنی حیرت کو کم کرنے کی کوشش کی۔
"یہ آج کتنی چینج لگ رہی ہے"۔
وہ ہال میں داخل ہوئی تو سامنے سے آتے مائر کی اچانک نظر پڑی۔ وہ رکا۔
"لگتا ہے ان دونوں کی بہت دوستی ہے"۔
مائر نے اس کے پیچھے آتے ریحان کو بھی دیکھا اور پھر وہ دونوں کوئی بات کر رہے تھے اور ہنس رہے تھے۔
"پر مجھے کیوں برا لگ رہا ہے"۔
اس نے اپنے آپ کو ڈانٹا۔ پر پتا نہیں کیوں ان دونوں کو ایک ساتھ ہنستے ہوئے دیکھ کر اسے جلن ہورہی تھی۔
"مائر یہاں کیا کر رہے ہو"؟
وہ اپنے خیالوں میں گم تھا۔ جب زاہد صاحب اس کے پاس آئے۔
"ک۔۔۔کچھ نہیں۔ آپ بتائیں"۔
مائر اپنے خیالوں سے باہر آیا۔ وہ دونوں اب وہاں پر نہیں تھے۔ جہاں کچھ دیر پہلے کھڑے ہنس رہے تھے۔
"میں نے تمہیں اپنے ایک دوست سے ملانا ہے"۔
زاہد صاحب مائر کو اپنے دوست سے ملانے کے لئے ساتھ لے گئے۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
"میرال آج تم کتنی پیاری لگ رہی ہو"۔
عنایہ ابھی ابھی آئی تھی۔
"تم اتنی دیر سے آرہی ہو"۔
میرال نے اس کی بات کو اگنور کیا۔
"بس راستے میں ٹائم لگ گیا"۔
عنایہ نے لیٹ آنے کی وجہ بتائی۔
"انکل آنٹی کہاں ہیں"؟
میرال نے اس کے والدین کا پوچھا۔
"امی تو بی جان سے ملنے گئیں ہیں اور ابو تمہارے بابا کے ساتھ کھڑے ہیں"۔
"ویسے آج تو وہ بہت ہینڈسم لگ رہا ہے"۔
عنایہ نے آنکھوں سے مائر کی طرف اشارہ کیا۔
میرال نے مڑ کر دیکھا۔ وہ کسی سے بات کررہا تھا۔ بلیک تھری پیس سوٹ میں وہ کافی اچھا لگ رہا تھا۔میرال نے ایک نظر دیکھا۔ پھر واپس عنایہ کی طرف مڑی۔
"مجھے لگا تم ریحان کا کہہ رہی ہو۔ آج وہ بھی بہت اچھے لگ رہے ہیں"۔
میرال نے اس کو گھورا۔
"وہ بھی یعنی یہ بھی اچھے لگ رہیں ہیں۔ ہیں نا"؟
عنایہ نے اس کی بات پکڑی۔
"ہاں اچھے لگ رہیں ہیں۔ پر وہ تو یہاں پر سب لوگ اچھے لگ رہیں ہیں۔ اب تم اپنا دماغ نہ چلانا"۔
میرال نے وضاحت دی۔
"چلو بی جان لے پاس چلتے ہیں۔ بارات آنے والی ہے"۔
عنایہ نے بات بدلی۔
"تم اتنا آہستہ کیوں چل رہی ہو"؟
عنایہ نے دیکھا اس سے ہائی ہیلز میں چلا نہیں جارہا تھا۔
"یار مجھ سے ان جوتوں میں چلا نہیں جارہا ہے"۔
میرال بہت مشکل سے اس کا کندھا پکڑ کر چل رہی تھی۔
"تو تم نے اتنی ہائی ہیلز نہیں پہننی تھی"۔
عنایہ نے بھی اب اس کے ساتھ آہستہ آہستہ چلنے لگی تھی۔
"بی جان نے کہا تھا کہ ہائی ہیلز اچھی لگیں گی"۔
میرال نے بتایا۔
"پر تم اتنی دیر سے کیا کررہی تھی؟ کیونکہ میں تو ابھی کچھ دیر پہلے آئی ہوں"۔
عنایہ کو خیال آیا تو پوچھا۔
"میں جب سے ہال میں آئی ہوں۔ یہاں بیٹھی تھی۔ اور تمہارا انتظار کر رہی تھی"۔
میرال نے صوفے کی طرف اشارہ کیا جہاں وہ بیٹھی تھی۔ عنایہ کو آتے دیکھ کر اٹھ کر اس کے پاس آئی تھی۔
وہ لوگ بی جان کے پاس پہنچ چکے تھے۔
"چلو لڑکیوں بارات آگئی ہے۔ چلو"۔
وہ لوگ پھول کی پلیٹیں لےکر باہر آگئے اور بارات کا ویلکم کیا۔
"میرال چلو زارا کو سٹیج پر لے آتے ہیں"۔
کچھ دیر بعد جب ارحم سٹیج پر بیٹھ گیا تھا تب بی جان نے کہا اور اس کو اور عنایہ کو لے کر برائڈل روم میں لے گئیں۔
"میرال ڈرو نہیں دھیان سے چلو"۔
وہ زارا کو لے کر سٹیج پر جارہے تھے ۔ جب بی جان نے اس کو کہا۔
"جی میں کوشش تو کر رہی ہوں۔ پر آپ سٹیج پر زارا آپی کو لے جائیں کیونکہ کہیں میں گر نہ جاؤں"۔
میرال نے بی جان سے کہا۔
"اچھا ٹھیک ہے"۔
بی جان اور عنایہ زارا کو سٹیج پے لے گئیں۔
میرال وہی سائڈ پر پڑے صوفے پر بیٹھ گئی۔
"کیا ہوا آج تو میری بیٹی مجھ سے ملی ہی نہیں"۔
ہمدان صاحب نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
"آپ خود ہی مصروف تھے۔ اپنے دوست اور ان کی فیملی کے ساتھ"۔
میرال نے ناراض ہوتے ہوئے کہا۔
"ہاں کافی عرصے بعد ملا ہوں تو کچھ باتیں کر رہا تھا"۔
ہمدان صاحب نے جواب دیا۔
"ہہم پر آپ کو مجھے زیادہ ٹائم دینا چاہئے کیونکہ میں آپ کی بیٹی ہوں"۔
میرال اب بھی ناراض تھی۔
"اچھا اب میری بیٹی کیسے مانے گی؟
ہمدان صاحب نے پیار سے پوچھا۔
"ہہم سوچنا پڑے گا"۔
میرال نے سوچتے ہوئے کہا۔
"ٹھیک ہے آپ سوچیں مجھے آپ کے تایا ابو بلا رہیں ہیں"۔
ہمدان صاحب کو فرحان صاحب نے دور سے اشارہ کیا۔
"جی آپ بات سن کر آئیں ان کی"۔
میرال اٹھ کر سٹیج پر جانے لگی تھی کیونکہ زارا اسے کب سے بلا رہی تھی۔ وہ دھیان سے سٹیج پر چھڑ گئی تھی۔ پھر اس نے زارا اور ارحم کے ساتھ کئی ساری تصویریں لیں۔ عنایہ بھی ان کے ساتھ تصویریں لے رہی تھی۔ پھر ایان بھی آگیا۔ کافی دیر وہ ہنسی مذاق کرتے رہے۔
"مائر تم یہاں اکیلے کیوں کھڑے ہو"؟
ہاجرہ بیگم نے پوچھ تو لیا تھا پر اب ان کو لگ رہا تھا کہ انہوں نے غلطی کی ہے۔
"آپ سے مطلب ؟ اور ویسے بھی اب میں ان لڑکیوں کے ساتھ تصویریں لینے سے تو رہا"۔
مائر نے سٹیج کی طرف اشارہ کیا جہاں میرال اور باقی تصویریں لے رہے تھے۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے ساتھ تلخ ہو جاتا تھا۔
"میں نے تو ویسے ہی کہا"۔
ہاجرہ بیگم شرمندہ ہو گئیں تھیں۔ وہ وہاں سے چلی گئیں۔
"آہ میرا پاؤں" ۔۔۔۔
میرال سٹیج سے نیچے اتر رہی تھی تو اس کا پاؤں مڑ گیا۔ پر سٹیج پر کافی رش تھا اس لئے کسی نے دیکھا نہیں تھا۔ پر مائر نے دیکھ لیا تھا۔ کیونکہ وہ وہی کچھ فاصلے پر کھڑا تھا۔
"کیا ہوا"؟
مائر اس کے پاس آیا۔
"کچھ نہیں بس پاؤں مڑ گیا ہے"۔
میرال نے رونی آواز میں کہا۔
"تو دھیان سے چلنا تھا۔ اب اٹھو"۔
مائر نے پہلے سوچا کہ کسی کو کہے کہ اس کی مدد کرے پر سب مصروف تھے کوئی ان کی طرف متوجہ نہ تھا۔ پھر اس کو عنایہ نظر آئی جو شاید میرال کو ہی ڈھونڈ رہی تھی۔ مائر نے اس کو بلایا۔
"ارے کیا ہوا"۔
عنایہ نے اس کو سہارا دے کر اٹھایا اور پاس کے صوفے پر لے گئی۔
"دھیان سے یہاں بیٹھ جاؤ"۔
عنایہ نے اس کو بیٹھایا۔
ابھی بھی اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ مائر نے اس کی طرف دیکھا تو اس کو وہ بہت معصوم لگی۔ اس کے ہاٹ کی ایک بیٹ مس ہوئی۔
"میں کوئی چیز لے کر آتی ہوں تمہارے پاؤں پر لگانے کے لئے"۔
عنایہ کو یاد آیا کہ ان کی گاڑی میں ہر وقت فرسٹ ایڈ باکس موجود ہوتا ہے۔
"حوصلہ کرو ٹھیک ہو جائے گا"۔
مائر وہیں صوفے کے پاس کھڑا تھا۔
میرال نے اس کو حیرت سے دیکھا۔ کہ وہ بھی اتنی آرام سے بات کرسکتا ہے۔
"کچھ دیر بعد عنایہ آگئی"۔
بی جان اور اور ناہید بیگم کو بھی پتا چل گیا تھا وہ بھی آگئیں۔ مائر وہاں سے چلا گیا۔ رخصتی کے وقت بھی میرال عنایہ کا سہارا لے کر چل رہی تھی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
"تونے آج بھی شادی پر جانا ہے"؟؟
نبیل ابھی اس کے گھر آیا تھا۔ آج ان دونوں کا مووی دیکھنے جانے کا پلین تھا۔ پر وہ تو زارا کے ولیمے میں جانے کے لئے تیار ہورہا تھا۔
"ہاں وہ ڈیڈ کے دوست ہیں تو نہیں جاؤں گا تو برا لگے گا"۔
مائر نے خود پر پرفیوم چھڑکتے ہوئے جواب دیا۔
پر تونے تو کہا تھا کل کہ تم کل نہیں جاؤ گے۔ "کہیں تجھے پیار تو نہیں ہوگیا"؟
نبیل نے شکی نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
"ن۔۔نہیں کیسی باتیں کر رہا ہے" ۔
مائر تو گھبرا ہی گیا۔
"وہ تو کل ڈیڈ نے کہا تو اس لئے جارہا ہوں"۔
مائر نے پھر بتایا۔ کل اس کے ڈیڈ نے جانے کا کہا تو تھا۔ پر اس کا خود بھی دل تھا جانے کا۔ پر اس کو اپنی کیفیت ابھی سمجھ نہیں آرہی تھی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
آج وہ بس بیٹھی ہوئی تھی۔ اور سب کو دیکھ رہی تھی۔ اس کا پاؤں کافی سوج گیا تھا۔ آج صبح ہی ڈاکٹر کو چیک کروایا تھا۔ ڈاکٹر نے زیادہ چلنے پھرنے سے منع کیا تھا۔
"ویسے بہت بری بات ہے ۔ تم لوگ مجھے اکیلا چھوڑ کر خود زارا آپی اور ارحم بھائی کے ساتھ تصویریں لے رہے ہو"۔
عنایہ اور ایان ابھی اس کے پاس آئے تھے۔
"یار اب تمہیں ڈاکٹر نے چلنے پھرنے سے منع کیا ہے تو تمہیں کیسے لے کر جائیں سٹیج پر۔ یہاں آئے ہیں نہ تمہارے ساتھ تصویریں لینے"۔
ایان نے فوراً کہا۔
"ویسے میرال بی بی کو نظر لگ گئی ہے۔ کتنی پیاری تو لگ رہیں تھی کل"۔
مینا اس کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔
"ہاں پر پیاری کا پتا نہیں مجھے تو لگتا ہے کہ دو دن اس نے سب کو بہت تنگ کیا ہے اور پٹاخے چلا چلا کر تنگ کیا ہے۔ ان میں سے کسی کی بدعا لگی ہوگی"۔
ایان نے تو ویسے ہی اس کو چھڑنے کے لئے کہا تھا۔
"مجھے لگتا ہے یہ مائر کی ہی بدعا لگی ہے"۔
میرال نے سوچا۔
"اچھا میرال میں کچھ دیر بعد آتا ہوں تمہارے ساتھ پیکس لینے کے لئے"۔
ریحان نے ایان کو اشارے سے بلایا۔
عنایہ اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئی اور اس کے ساتھ پیکس لینے لگی۔
"بی جان بلا رہی ہیں۔ سن کر آنا کیا کہہ رہیں ہیں"۔
میرال کو بی جان نے اشارہ کیا۔
"اچھا میں سن کر آتی ہوں"۔
عنایہ بی جان کے پاس چلی گئی۔
"اب ٹھیک ہے تمہارا پاؤں"؟؟
وہ کب سے اس کے اکیلے ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔ اب مینا بھی کسی کام سی اٹھی تھی تو وہ فوراً اس کے پاس آیا۔
"آپ تو بہت خوش ہونگے۔ آپ کی ہی بدعا لگی ہے ۔ میں نے آپ پر پٹاخہ پھینکا تھا نا"۔
میرال اپنے موبائل میں مصروف تھی۔ اس کی آواز پر چونکی۔
"میں کیوں بدعا دوں گا؟ تم نے مجھے ایسا سمجھا ہے"۔
مائر کو اب لگ رہا تھا کہ اس نے غلط کیا جو اس سے حال پوچھنے آیا۔
"ہاں تو اور کیا کہوں"۔
میرال نے بھی اسی کی ٹون میں کہا۔
"میری غلطی جو میں تمہارا حال پوچھنے آیا"۔
مائر نے کہا اور چلا گیا۔
"لو جی ایک تو اس کو غصہ بہت جلدی آتا ہے"۔
میرال دوبارہ اپنے موبائل میں مصروف ہوگئی ۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
"ریحان بہت دنوں سے تم سے ایک بات کرنی تھی پر ٹائم ہی نہیں مل رہا تھا"۔
آج زارا کے ولیمے کو دو دن ہوگئے تھے۔ فرحان صاحب کو اس سے بات کرنے کا ٹائم ہی نہیں مل رہا تھا۔ آج بھی ناہید بیگم نے ان کو زبردستی ریحان کے کمرے میں بھیجا تھا۔
"جی کہیں"۔
ریحان نے کہا۔
"ویسے تم سونے تو نہیں لگے تھے"؟
انہوں نے پوچھا۔
"جی پر آپ کہیں کیا کہنا ہے"۔
ریحان نے ان سے دوبارہ کہا۔
"میں اور تمہاری امی تمہاری شادی کا سوچ رہے ہیں۔ میرال تمہیں کیسی لگتی ہے"؟
انہوں نے پوچھا۔
"میرال میرے لئے بلکل زارا کی طرح ہے۔ کیا آپ لوگ اس سے میری شادی کا سوچ رہے ہیں"؟
ریحان کو پہلے سے ہی شک تھا۔
"ہاں پر اگر تمہاری مرضی نہیں ہے تو ہم کوئی زبردستی نہیں کریں گے۔ ابھی ہم نے ہمدان سے کوئی بات نہیں کی"۔
فرحان صاحب نے تحمل سے ساری بات بتائی۔
"یہ تو اچھی بات ہے کہ آپ نے ہمدان چاچو سے کوئی بات نہیں کی۔ ورنہ میں بھی کافی شرمندہ ہوتا"۔
ریحان ان کی بات پر خوش ہوا۔
"اصل میں، میں کسی اور کو پسند کرتا ہوں۔
ریحان نے کچھ دیر بعد کہا۔
ناہید بیگم دروازے کے باہر سے ساری باتیں سن رہیں تھیں۔
ناہید بیگم دروازے کے باہر سے ساری باتیں سن رہیں تھیں۔
"تم کس کو پسند کرتی ہو"؟
ناہید بیگم سے رہا نہ گیا تو وہ بھی کمرے میں آگئیں۔
"آپ ہماری باتیں سن رہیں تھیں"؟
ریحان ان کو دیکھ کر حیران ہوا۔
"ہاں سن رہی تھی۔ اور مجھے تو ویسے ہی کچھ دن سے لگ رہا تھا کہ جب تم سے بات کریں گے تو تم کچھ ایسا ہی جواب دو گے۔ مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتا کہ آخر میرال میں برائی کیا ہے جو تم اس سے شادی نہیں کر سکتے"۔
ناہید بیگم شروع ہوچکی تھیں۔
"ناہید آپ حوصلہ کریں میں بات کررہا ہوں۔ پہلے اس کی بات تو سننے دیں"۔
فرحان صاحب نے بیوی کو ٹوکا۔
"مجھے اس کی کوئی بات نہیں سننی"۔
ناہید بیگم نے ریحان کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
"امی آپ میری بات تو سمجھیں۔ میرال میں کوئی برائی نہیں ہے پر مجھے کوئی اور پسند ہے ۔ امی وہ بھی بہت اچھی لڑکی ہے۔ پہلے وہ لوگ یہاں پاکستان میں ہی رہتے تھے۔ کچھ عرصہ پہلے باہر شفٹ ہوئے ہیں"۔
ریحان نے ناہید بیگم کو قائل کرنا چاہا۔
٫مجھے کسی لڑکی کو نہیں دیکھنا۔ بس تم فوراً اس لڑکی سے سارے رابطے ختم کرو۔ ہم لوگ جلد ہی تمہاری اور میرال کی شادی کروانا چاہتے ہیں"۔
ناہید بیگم نے فیصلہ سنایا۔
"امی آپ ایسا کیسے کر سکتی ہیں"۔
ریحان نے ان کو سمجھانا چاہا۔
"مجھے کچھ نہیں سمجھنا تم بس میری بات مانوں ورنہ ۔۔۔۔۔۔ ورنہ میں خودکشی کرلوں گی"۔
ناہید بیگم نے رونا شروع کردیا تھا۔
"امی آپ کیسی باتیں کر رہیں ہیں۔ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ کیا کروں"۔
ریحان پریشان ہوگیا۔
"ناہید بیگم یہ کیا طریقہ ہے۔ میں آپ کو پہلے بھی کہا تھا کہ ریحان کی مرضی ہوگی تو ہم یہ رشتہ کریں گے۔ اب اگر اس کی مرضی نہیں ہے۔ آپ اس کو کیوں مجبور کررہیں ہیں"۔
فرحان صاحب نے غصے میں کہا۔ وہ کافی دیر سے ان کی باتوں کو برداشت کررہے تھے۔
"پر مجھے وہ لڑکی بالکل قبول نہیں ہے۔ جس نے ابھی سے میرے بیٹے کو قابو کیا ہوا ہے۔ بعد میں تو وہ ہمیں گھر سے باہر نکال دے گی"۔
ناہید بیگم نے اپنے آنسو صاف کئے۔
"امی سونیا بلکل ایسی نہیں ہے"۔
ریحان نے فوراً کہا۔
"مجھے نہ سمجھاؤ کہ وہ کیسی ہے۔ مجھے پتا لگ رہا ہے کہ وہ کیسی ہے۔ جو لڑکی لڑکوں کے ساتھ چکر چلائے وہ کیسی ہوسکتی ہے"۔
ناہید بیگم نے نفرت سے کہا۔
"امی اس نے میرے ساتھ کوئی چکر نہیں چلایا۔ ہم دونوں کافی عرصے سے ایک ہی آفس میں جاب کرتے ہیں۔ میں نے اس کو پرپوز کیا تھا اور وہ بھی اس نے اس صورت مانا ہے۔ جب میں نے کہا کہ میں اس سال ہی اس سے شادی کروں گا"۔ "اب میں اس کو نہیں چھوڑ سکتا۔ وہ لوگ اگلے مہینے پاکستان آرہے ہیں تو ہم لوگ ان کے گھر رشتہ لے کر جائیں گے۔ یہ میں نے سوچا تھا۔ پر آپ تو میری بات سمجھ ہی نہیں رہیں ہیں"۔
ریحان نے ان کو ساری بات بتائی۔
"میں بات سمجھ رہی ہوں۔ پر میرال کا کیا جو تمہارے خواب دیکھتی ہے"۔
ناہید بیگم نے اب نرمی سے بات کی۔
"وہ خواب میں نے اس کو کبھی نہیں دیکھائے۔ اور اس کے ذہن میں یہ بات آپ نے ڈالی ہے کہ میری اور اس کی شادی ہوگی"؟
ریحان کو لگا شاید انہوں نے ایسا کیا ہو۔
"ہاں میں نے ہی اس کے دل میں یہ بات ڈالی تھی۔ کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ میری اولاد میرے فیصلے کو اہمیت دے گی۔ پر نہیں مجھے کیا پتا تھا۔ اور ویسے بھی اب میرال تم سے محبت کرتی ہے۔ تو اس کو بھی دکھ پہنچاؤ گے"۔
ناہید بیگم جذباتی ہوئی۔
"میں نے اس کو کبھی نہیں کہا تھا کہ مجھے پسند کرے اور میں نے کبھی اس سے کوئی وعدہ بھی نہیں کیا تھا۔ پر سونیا سے میں نے وعدہ کیا ہے ۔اور وہ میں توڑ نہیں سکتا"۔
ریحان نے دوٹوک انداز میں کہا۔
"ٹھیک ہے ہم اس بارے میں اب بات نہیں کریں گے"۔
فرحان صاحب نے فوراً کہا۔
"تو میرال کی آپ کو فکر نہیں ہے"۔
ناہید بیگم نے رونی آواز میں کہا۔
"مجھے اس کی فکر ہے۔ اس لئے اس کی شادی ریحان سے نہیں کرنی ہم نے"۔
فرحان صاحب نے سوچ لیا تھا۔
"تو وہ بھی اس کی کسی اور سے شادی سے پر دکھی ہوگی"۔
ناہید بیگم کسی صورت ماننے کو تیار نہیں تھی۔
"میرال کو دکھ ہوگا پر مجھے امید ہے کہ وہ کچھ عرصے تک سنبھل جائے گی۔ اور اب چلو یہاں سے"۔
فرحان صاحب ناہید بیگم کو ریحان کے کمرے سے لے گئے تھے۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
آج وہ کافی دنوں بعد یونی آئی تھی۔ تو اس کو پتا چلا تھا کہ اگلے مہینے سے اس کے ایگزامز شروع ہورہے ہیں۔
"یار کچھ دن یونی نہیں آئی تو یہاں کا تو نقشہ ہی بدل گیا"۔
وہ اور عنایہ ابھی آکر گراؤنڈ میں بیٹھے تھے۔ ان سے کچھ دور کچھ لڑکیاں بیڈمنٹن کھیل رہیں تھیں۔
م"جھے تو خود کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ پہلے سمسٹر کے پیپر بھی آگئے"۔
ابھی وہ دونوں اگلے مہینے ایگزامز کا جان کر دکھی تھیں۔
"یار زارا آپی کی شادی کے چکر میں کچھ پڑھا ہی نہیں گیا۔ اور کیمسٹری تو مجھے پہلے بھی سمجھ نہیں آرہی تھی۔ اب پتا نہیں کیا کریں ہم"۔
میرال کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیسے ایک مہینے میں تیاری کرے۔
"ویسے ابھی ٹائم ہے ہم تیاری کر سکتے ہیں"۔
عنایہ نے حساب لگایا۔
"تم کرسکتی ہو۔ پر مجھے تو کیمسٹری سمجھ نہیں آرہی میں کیا کروں؟ اب تو کوئی ٹیوشن بھی نہیں ملے گا۔ ایک کام کرتے ہیں ۔ اس دفعہ نقل مار کر پاس ہوجاتے ہیں۔ میں آج ہی یوٹیوب پر نقل مارنے کے نت نئے طریقے دیکھوں گی"۔
میرال نے اس کو آئیڈیا دیا۔
"مجھے تو پہلے ہی لگتا تھا کہ تم نالائق ہو۔ پر مجھے نہیں پتا تھا کہ تم ایگزامز میں پاس ہونے کے لئے پڑھنے کی بجائے نقل کرنے کے نت نئے طریقے ڈھونڈو گی"۔
میرال اور عنایہ کو پیچھے سے آواز آئی تو وہ دونوں فوراً کھڑی ہوکر مڑی۔ مائر ان دونوں کی باتیں سن چکا تھا۔
"آپ یہاں کیا کر رہے ہیں"؟
میرال اس کو یہاں دیکھ کر حیران ہوئی۔ زارا کی شادی کے بعد آج ان دونوں کی ملاقات ہوئی تھی۔
"وہ مسز ہاجرہ نے تمہیں بلایا ہے۔ ہمارے گھر کوئی دعوت ہے۔ تو ہمدان انکل بھی انوائیٹ ہیں پر انہوں نے مجھے کہا کہ تمہیں بتا دوں۔ وہ چاہتی ہیں کہ تم گھر پہلے آجاؤ"۔
مائر نے ٹہر ٹہر کر بات کی۔
"اچھا ٹھیک ہے میں یونی سے گھر جاتے ہی آپ کے گھر آجاؤں گی"۔
میرال کو حیرانی ہورہی تھی۔ کہ وہ اس سے اتنی آرام سے بات کررہا ہے۔
"اچھا ٹھیک ہے"۔
مائر نے کہا اور چلا گیا۔
"ویسے تمہیں اس کا لہجہ عجیب نہیں لگا"۔
عنایہ نے میرال کا کندھا ہلایا۔ جو ابھی بھی حیران تھی۔
"ہاں مجھے بھی عجیب لگا۔ خیر چھوڑو"۔
میرال نے فون بیگ سے نکالا۔
"کہیں اس کو سچ میں تم سے پیار تو نہیں ہوگیا"؟
عنایہ اس کے کان کے پاس چیخی۔
"کیا ہے۔ میرے کان خراب کرنے ہیں۔ اور تم پھر شروع ہوگئی۔ چلو کلاس کا ٹائم ہوگیا ہے"۔
میرال نے موبائل بیگ میں رکھا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
آج صبح جب ہاجرہ بیگم نے اس کو کہا کہ وہ میرال کو جلدی آنے کا کہہ دے تو وہ ان کی بات آرام سے مان گیا۔
ہاجرہ بیگم کو بھی حیرت ہوئی۔ کیونکہ ان کو لگ رہا تھا کہ وہ نہیں مانے گا۔ کیونکہ وہ تو میرال سے بہت چڑتا ہے۔
اس کو خود بھی سمجھ نہیں آرہا تھا۔ کہ وہ ایسا کیوں کررہا ہے۔ اب جب وہ میرال سے بات کررہا تھا تو اس نے اپنا لہجہ نارمل رکھنے کی پوری کوشش کی تھی پر وہ اپنا لہجہ نارمل نہ رکھ سکا تھا۔ جس کا اندازہ اس کو میرال کے چہرے پر حیرت دیکھ کر ہوا تھا۔
"کیا ہوا"؟
وہ گاڑی میں آکر بیٹھ گیا تھا۔ کیونکہ اب اسے آفس جانا تھا۔ نبیل بھی اس کے ساتھ گاڑی میں موجود تھا۔
"پتا نہیں کیا ہوا ہے مجھے"۔
مائر ابھی بھی ہوش میں نہیں تھا۔
"میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ محبت ہوگئی ہے"۔
نبیل کی بات پر اسے ہوش آیا۔
"کیا واقعے ہی مجھے محبت ہوگئی ہے؟ میرال سے؟ پر کیسے ہم دونوں کے مزاج میں کتنا فرق ہے۔ میں تو زیادہ تر سیریس ہی رہتا ہوں اور وہ ہر وقت مذاق کرتی رہتی ہے"۔
مائر اس سے پوچھ رہا تھا۔
"تو پھر تم بتاؤ کہ تمہیں کیا ہوا ہے"؟
نبیل نے اس سے پوچھا۔
"یہی تو سمجھ نہیں آرہا۔ اچھا مجھے یاد آیا کہ آج ایک میٹنگ ہے تو تو بھی میرے ساتھ آفس ہی چل۔ پھر لنچ پر چلیں گے"۔
مائر کا پلین آج گھر جاکر لنچ کرنے کا تھا۔ پر اب اس نے سوچا تھا کہ وہ باہر ہی لنچ کرلے گا۔ کیونکہ گھر پر تو میرال آرہی تھی۔ تو وہ اس کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ کہ شاید اس طرح وہ اچھی طرح سے سمجھ سکے کہ اس کو کیا ہوا ہے۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
"بی جان اسلام وعلیکم"!
اس نے گھر آتے ہی ان کو سلام کیا۔
"وعلیکم السلام! کیسا گزرا آج کا دن یونی میں"؟
بی جان نے پوچھا۔
"بہت اچھا۔ پر ایگزامز شروع ہونے لگے اگلے مہینے سے"۔
میرال نے ان کو بتایا۔
"ابھی ٹائم ہے تیاری کر لینا"۔
بی جان نے اس کو حوصلہ دیا۔
"جی کوشش کروں گی۔ ابھی تو مجھے ہاجرہ آنٹی کے گھر جانا ہے۔ انہوں نے بتایا آپ کو"؟
میرال نے وہی صوفے پر اپنا بیگ رکھا اور ٹیبل پر پڑے جگ سے پانی گلاس میں ڈالا۔
"ہاں فون آیا تھا۔ وہ تو مجھے بھی جلدی آنے کا کہہ رہی تھی پر میں نے تو معذرت کرلی۔ کیونکہ ابھی کچھ دیر میں ریحان کی بھی واپسی کی فلائٹ ہے تو مجھے فرحان کے گھر جانا ہے"۔
بی جان نے اس کو بتایا۔
"چلیں پھر میں چینج کرکے آتی ہوں"۔
میرال کا بھی دل تھا کہ وہ ریحان کو سی اوف کرنے جائے پر اس کو تو ابھی یاد آیا تھا کہ اس کی آج واپسی کی فلائٹ ہے۔ اب تو وہ نہیں جاسکتی تھی کیونکہ وہ پہلے ہی ہاجرہ آنٹی کے گھر جانے کا کہہ چکی تھی۔ اب منع کرنا اسے مناسب نہ لگا۔
"چلیں بی جان میں چلتی ہوں"۔
کچھ دیر بعد جب ہاجرہ بیگم کے گھر کا ڈرائیور آگیا تو وہ سلام کرکے باہر آگئی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
"ویسے تم نے اچھا کیا میری بات مان لی۔ میں نے اکیلے بور ہی ہوجانا تھا"۔
اس کو آئے ہوئے ایک گھنٹہ ہوگیا تھا۔ وہ اس سے باتیں کرنے کے ساتھ ساتھ سٹاف کی بھی کچن میں نگرانی کر رہیں تھیں۔ وہ بھی ان کے ساتھ کچن میں ہی کھڑی تھی۔
"ویسے مجھے بھی آپ کے گھر آکر بہت اچھا لگا ہے"۔
وہ بھی ہاجرہ بیگم کی کمپنی کو انجوائے کر رہی تھی۔
"ویسے دو بج رہیں ہیں پر مائر ابھی تک نہیں آیا۔ لنچ وہ اکثر گھر میں ہی کرتا ہے"۔
ہاجرہ بیگم نے گھڑی پر ٹائم دیکھا۔
میرال نے بس خاموشی سے ان کی بات کو سنا۔
"ایک کام کرو تم اس سے فون کرکے پوچھ لو کب تک آئے گا۔ باہر لاؤنج میں لینڈ لائن سےفون کرلو"۔
ہاجرہ بیگم نے اس کو کہا۔ وہ کہنے لگی تھی کہ وہ فون نہیں کرے گی پر وہ کہہ نہ سکی۔
"آنٹی مجھے ان کا نمبر نہیں پتا"۔
میرال کو سمجھ نہ آیا کیا کہے۔
"اچھا مجھے لگا کہ شاید تمہارے پاس اس کا نمبر ہوگا۔ اچھا ایک کام کرو۔ میرے فون سے فون کرلو اسے۔ اصل میں میری بات کا وہ اکثر الٹا جواب ہی دیتا ہے"۔
ہاجرہ بیگم نے وضاحت دی۔
"جی۔ میں کال کر لیتی ہوں"۔
میرال کو حیرت ہوئی کہ وہ اپنے بیٹے سے بات کرتے ہوئے کیوں ڈر رہی ہیں۔ ساتھ ہی اس نے اس کا نمبر ملایا۔
"ہیلو! جی بولیں"۔
دوسری طرف سے اس کی بے زاری سے بھری آواز آئی۔
"وہ۔۔۔وہ آپ کی امی پوچھ رہی ہیں کہ آپ کھانا کھانے کیوں نہیں آئے"۔
میرال نے کچن سے باہر آکر اس کی بات کا جواب دیا۔ کیونکہ کچن میں ہاجرہ بیگم ملازمین کو کچھ بتا رہیں تھیں۔ اور میرال کو کچن میں اس کی آواز بھی سہی نہیں آرہی تھی۔
"میرال"!!!!!!!
وہ فوراً اس کی آواز پہچان گیا تھا۔ ویسے تو ان کی فون پر پہلی دفعہ بات ہورہی تھی۔
اس کا اس سے سامنا نہ ہو اس لئے وہ آج گھر لنچ کے لئے نہیں گیا تھا۔ پر پھر بھی اس کی آواز فون پر سن لی تھی۔ دل کے کسی میں وہ خوش تھا۔
"آپ کو کیسے پتا چلا"؟
میرال حیران تھی کہ اس نے اس کی آواز فوراً پہچان لی۔
"یہ چھوڑو۔ مام میرا مطلب ہے مسز ہاجرہ کو کہہ دینا کہ میں آج باہر ہی لنچ کروں گا"۔
اس نے جلدی جلدی کہا اور فون بند کردیا۔
"ہیلو"!!
"یہ بھی عجیب ہے"۔
میرال واپس کچن میں چلی گئی۔
"ویسے آنٹی آپ سے ایک بات پوچھوں۔ آپ برا تو نہیں مانے گی"۔
میرال نے ہاجرہ بیگم کو دیکھتے ہوئی کہا۔
"جی پوچھو"۔
وہ بھی سوچ رہیں تھی کہ کیا پوچھنا ہے۔
"وہ مائر آپ کو نام سے کیوں بلاتا ہے؟ میرا مطلب ہے وہ آپ کو مام کیوں نہیں کہتا"۔
میرال نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
"کیونکہ میں اس کی اصلی مام نہیں ہوں۔ میں زاہد کی سیکنڈ وائف ہوں"۔
ہاجرہ بیگم نے آرام سے اس کی بات کا جواب دیا۔
"ویسے مجھے نہیں پتا تھا"۔
میرال ان کو حیرت سے دیکھ رہی تھی۔ کیونکہ وہ جب سے ان سے ملی تھی وہ ہمیشہ مائر کا خیال رکھتی ہوئی نظر آئیں تھیں۔
"تمہاری پڑھائی کیسی جارہی ہے"؟
ہاجرہ بیگم نے بات بدلی۔
"پڑھائی تو اچھی جارہی ہے۔ پر اگلے مہینے ایگزامز ہیں اور مجھے تو کچھ نہیں آتا۔ وہ میری کزن کی شادی تھی تو میں نے کچھ یاد ہی نہیں کیا۔ اور کیمسٹری تو مجھے بلکل بھی نہیں آتی"۔
میرال نے انہیں تفصیل سے بتایا۔
"چلو پریشان نہ ہو۔ آؤ اب مائر تو نہیں آرہا تو ہم ہی کھانا کھا لیتے ہیں"۔
وہ اس کو اپنے ساتھ ڈائینگ ٹیبل تک لے آئیں۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
"تم ایک کام کرو کہ اب تیار ہوجاؤ۔ سب آنے والے ہونگے"۔
میرال اپنے کپڑے اور جیولری ساتھ لے کر آئی تھی۔
"جی۔ بس تھوڑی دیر میں"۔
میرال نے جواب دیا۔ کچھ دیر بعد وہ گیسٹ روم تیار ہونے چلی گئی۔
وہ کپڑے بدل چکی تھی۔ ہاجرہ بیگم کمرے میں آئیں۔
"میں بس یہ دیکھنے آئی تھی کہ تمہیں کوئی پریشانی تو نہیں ہے"۔
انہوں نے اپنے آنے کی وضاحت دی۔
"جی نہیں آنٹی! مجھے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ آپ بہت اچھی لگ رہیں ہیں"۔
میرال نے ان کی تعریف کی وہ تیار ہوکر بہت اچھی لگ رہیں تھیں۔
"تھینک یو! تم بھی بہت پیاری لگ رہی ہو۔ بس جلدی سے آجاؤ"۔
وہ اس کو کہہ کر باہر چلی گئیں۔
وہ اپنے بالوں میں برش کرنے لگی۔
"مسز ہاجرہ آپ یہاں"۔۔۔۔۔۔۔
وہ جو گیسٹ روم کی لائٹ اون دیکھ کر یہاں آیا تھا۔ اس کو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بال برش کرتے دیکھ کر رکا۔
"وہ۔۔۔۔ یہاں نہیں ہیں"۔
میرال اس کو دیکھ کر گھبرا ہی گئی۔
"س۔۔۔سوری مجھے یاد ہی نہیں تھا کہ تم ہمارے گھر پر ہی ہو۔ تو مجھے لگا کہ گیسٹ روم کی لائٹ شاید ویسے ہی اون ہے"۔
اس نے کہا اور واپس پلٹا۔
"آج یہ کتنی پیاری لگ رہی ہے"۔
اس کے چہرے پر ایک خوبصورت مسکراہٹ تھی۔
"یہ کہاں سے آگیا"۔
میرال نے اس کے جاتے ہی دروازہ لاک کیا۔
"اگر مجھے پہلے پتا ہوتا کہ یہ اتنی جلدی آ جائے گا پہلے ہی دروازہ لاک رکھتی"۔
اس نے سوچا۔
ان سب نے تھوڑی دیر پہلے کھانا کھایا تھا۔ اب سب لاؤنج میں بیٹھ کر کافی انجوائے کررہے تھے۔ مائر ، ہمدان صاحب اور زاہد صاحب آپس میں سیاست پر باتیں کررہے تھے۔ دوسرے صوفے پر بی جان میرال اور ہاجرہ بیگم بیٹھی کسی ڈرامے کو ڈیسکس کررہیں تھیں۔
"میرال بیٹا آپ کی پڑھائی کیسی جارہی ہے"؟
زاہد صاحب نے اس سے پوچھا۔ مائر نے بھی ایک نظر اس کی طرف دیکھا پھر اپنے موبائل میں مصروف ہوگیا۔
"پڑھائی تو اچھی جارہی ہے۔ پر اگلے مہینے ایگزامز ہے اور میری تیاری بالکل بھی نہیں ہے"۔
میرال نے بتایا۔
"اچھا تو کوئی ٹیوشن رکھنے کا سوچا"۔
زاہد صاحب نے دوبارہ پوچھا۔
"جی سوچ رہی ہوں کہ کوئی ٹیوشن دیکھ لوں"۔
میرال نے کافی کا آخری سپ لیا اور کپ پاس پڑے ٹیبل پر رکھا۔
"تو آپ کو مائر پڑھا دے گا۔ میرا بیٹا بہت لائق ہے ۔ اس کا تعلیمی ریکارڈ بہت اچھا ہے۔ ویسے آپ کو کس سبجیکٹ میں زیادہ مشکل ہورہی ہے"؟
زاہد صاحب نے پوچھا۔ باقی سب خاموشی سے دونوں کی گفتگو سن رہے تھے۔
"کیمسٹری میں زیادہ مشکل ہورہی ہے۔ ویسے تو میرا فیورٹ سبجیکٹ ہے۔ پر اب کافی مشکل لگتا ہے"۔
میرال نے بتایا۔
"اچھا پھر تو مائر آسانی سے پڑھا دے گا۔ مائر تو شروع سے کیمسٹری میں بہت اچھا ہے۔ آپ کل سے ہی پڑھنے آجاؤ"۔
زاہد صاحب نے مائر سے پوچھے بغیر ہی اس کو کل سے پڑھنے آنے کا کہا۔
"ہمدان تمہیں تو کوئی اعتراض نہیں" ؟
زاہد صاحب کو خیال آیا تو پوچھا۔
"نہیں مجھے تو کوئی اعتراض نہیں
پر ایک بار مائر سے بھی پوچھ لو کہ اس کے پاس ٹائم ہے کہ وہ آسانی سے پڑھا سکے"۔
ہمدان صاحب نے ان کا دھیان مائر کی طرف کیا۔
"ہاں میرے تو ذہن میں ہی نہیں رہا"۔
زاہد صاحب نے مائر کی طرف دیکھا۔
"میرے پاس شام کا ٹائم فری ہے۔ پانچ بجے میں گھر آجاتا ہوں تو۔ میرال پانچ بجے پڑھنے کے لئے آجائے"۔
مائر نے پہلے سوچا کہ وہ منع کر دے پر پھر منع نہ کر سکا۔
میرال تو انکار کرنا چاہتی تھی پر صورتحال ہی ایسی تھی کہ انکار نہ کر سکی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
"ویسے اب تو تمہاری اچھی تیاری ہوجائے گی"۔
عنایہ کچھ دیر پہلے اس کے گھر آئی تھی۔ تو اس نے بتایا۔
"کہاں سے اچھی تیاری ہو جائے گی۔ پتا نہیں کیسا پڑھاتا ہے۔ میں تو انکار کرنے والی تھی پر صورتحال ہی ایسی تھی کہ میں انکار نہ کرسکی"۔
میرال نے اس کو بتایا۔
"ویسے تم بھی میرے ساتھ پڑھنے کے لئے چلو"۔
میرال کے ذہن میں آیا۔
"میں کوئی نہیں جارہی اس کے پاس پڑھنے۔ میں تو گھر میں ہی پڑھ لوں گی"۔
عنایہ نے فوراً انکار کیا۔
"ویسے یہ بہت بری بات ہے۔ ایک طرف تم مجھے کہہ رہی ہو کہ میری تیاری زیادہ اچھی ہو جائے گی۔ اور دوسری طرف تم میرے ساتھ جانے کو تیار نہیں"۔
میرال نے کشن اٹھا کر اس کو مارا جو اس نے کیچ کرلیا تھا۔
"یار تمہیں پتا تو ہے کہ اس کو غصہ جلدی آجاتا ہے"۔
"اور تم بھی بی جان سے ہاتھ کرو۔ ہم کوئی اور ٹیوشن دیکھ لیں گے"۔
عنایہ نے اس کو مشورہ دیا۔
"میں نے بی جان سے بات کی تھی پر انہوں نے صاف انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ کہیں اور بھی تو ٹیوشن جانا ہے تو یہی چلی جاؤ"۔
میرال نے بتایا۔
"چلو پھر میں اپنے لئے کوئی اور ٹیوشن ڈھونڈتی ہوں"۔
عنایہ نے کہا اور اس کے کمرے میں پڑھے صوفے پر بیٹھ گئی۔
"اچھا بتاؤ کیا کھاؤ گی"؟
میرال نے پوچھا۔
"بی جان بریانی بنا رہیں ہیں۔ اب تو بن بھی گئی ہوگی۔ وہ لے آؤ"۔
عنایہ نے مزے سے کہا۔
"مجھے پہلے ہی شک تھا کہ تم یوں آرام سے کیوں بیٹھ گئی ہو۔ ورنہ تو ہر وقت جلدی گھر جانے کی پڑی رہتی ہے"۔
میرال بیڈ سے اٹھ کر نیچے جانے لگی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
آج آفس میں اس کا بہت مصروف دن گزرا تھا۔ اور اب اس کا سر درد کر رہا تھا۔ وہ پانچ بجے جب گھر آیا تو اس کو لاؤنج میں بیٹھے دیکھا تو اسے یاد آیا کہ اس نے اس کو پڑھانا بھی تو ہے۔ یہ سوچتے ہی اس کا دماغ گھوم گیا۔
"اسلام وعلیکم"!
میرال نے اس کو لاؤنج کے دروازے سے اندر آتے دیکھا تو فوراً سلام کر دیا۔
"وعلیکم السلام! جلدی سے اپنی کتابیں نکالو میں فریش ہوکر آتا ہوں"۔
وہ اس کو کہتا اپنے کمرے میں چلا گیا۔ ہاجرہ بیگم کچن میں رات کے کھانے کی تیاری کر رہیں تھیں۔
"اچھا اب کیمسٹری کی بک کھولو اور بتاؤ کیا سمجھ نہیں آرہا"؟
مائر اس کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا۔
"مجھے تو ابھی تک کچھ بھی سمجھ میں نہیں آیا"۔
میرال نے معصوم سی شکل بنائی۔
"ویسے مجھے تم اتنی نالائق بھی نہیں لگتی تھی"۔
وہ تو پہلے ہی تھکا ہوا تھا۔ اب اس کی بات پر تو اس کا دل کیا کہ ابھی ہمدان انکل کو فون کرکے انکار کردے کہ میں آپ کی بیٹی کو نہیں پڑھا سکتا۔
"میں نالائق نہیں ہوں۔ آپ مجھے پہلے چیپٹر سے سمجھائے گے تو مجھے سمجھ آجائے گا"۔
میرال اس کی بات کا برا مان گئی۔
"اچھا چلو یہاں سے سمجھاتا ہوں"۔
مائر نے پہلا چیپٹر کھولا۔
"یہ میں تم دونوں کے لئے کافی لے کر آئی ہوں"۔
ہاجرہ بیگم نے ٹرے ان دونوں کے سامنے رکھا۔
" آپ شاید بھول رہیں ہیں کہ یہ یہاں پڑھنے کے لئے آئی ہے۔ کوئی مہمان نہیں ہے۔ جب مہمان بن کر آئے تو جو مرضی کھلائیے گا اور پلائیے گا"۔
مائر کی بات پر اس کا کافی کے کپ کی طرف جاتا ہاتھ رکا۔
"اور تم یہ جلدی سے نماریکل سولو کرو"۔
اس نے میرال کو ٹوکا۔
میرال نے برا سا منہ بنایا۔ اور للچاتی نظروں سے کافی کو دیکھا۔ جس کو ہاجرہ بیگم واپس کچن میں لے کر جارہیں تھیں۔
"کل تمہارا ان پہلے دس نماریکلز کا ٹیسٹ ہے۔ تو گھر سے تیاری کر کے آنا"۔
مائر نے اس کا کیا ہوا نماریکل چیک کرتے ہوئے کہا۔
"پر وہ اتنے سارے میں کیسے تیاری کروں گی"۔
میرال پریشان ہوئی۔
"تمہارے ایگزامز ایک مہینے بعد ہیں تو اسی طرح تیاری کرنی پڑے گی"۔
مائر نے نارمل انداز میں جواب دیا۔
"اچھا تو اب میں چھٹی کروں"؟
میرال نے جلدی سے پوچھا۔
"ہاں ٹائم کافی ہوگیا ہے. چھٹی کرو"۔
مائر نے گھڑی کی طرف دیکھا۔ جہاں سات بج رہے تھے۔
"میرال گھر کیسے جاؤ گی"؟
ہاجرہ بیگم نے اس کو بیگ میں چیزیں رکھتے ہوئے دیکھا تو پوچھا۔
"میں خود ہی چلی جاؤں گی۔ یہ دو گلیاں چھوڑ کرتو گھر ہے"۔
میرال نے فوراً کہا۔
"نہیں رات ہو گئی ہے۔ مائر تمہیں چھوڑ آئے گا"۔
ہاجرہ بیگم نے مائر کی طرف دیکھا۔
"جی چھوڑ آتا ہوں۔ چلو"۔
مائر نے گاڑی کی چابی ٹیبل سے اٹھائی اور باہر چلا گیا۔ میرال نے ہاجرہ بیگم کو خدا حافظ کہا اور اس کے پیچھے چلی گئی۔
"ویسے دوگلیاں چھوڑ کر گھر ہے تو اس کے لئے گاڑی میں جانے کی کیا ضرورت تھی"۔
میرال نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا۔
"کیونکہ میں اس وقت تھکا ہوا ہوں۔ اس لئے گاڑی نکال لی"۔
اس نے آرام سے جواب دیا۔ وہ ابھی بحث کے موڈ میں نہیں تھا۔ پہلے ہی اس کا سر بہت درد کر رہا تھا۔
میرال بھی چپ ہوگئی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
اس کو مائر کے پاس پڑھنے جاتے ایک ہفتہ ہوگیا تھا۔ اور اس ایک ہفتے میں وہ بس کچھ دیر کے لئے ہی ایان اور عنایہ سے ملی تھی۔ کیونکہ وہ کام ہی اتنا دیتا تھا کہ وہ رات دیر تک پڑھتی رہتی تھی۔
"بی جان آج میں نے نہیں جانا پڑھنے۔ میرے سر میں درد ہورہا ہے اور مجھے لگ رہا ہے کہ جیسے بخار ہو جائے گا"۔
میرال نے بہانہ بنایا۔ آج اس کا موڈ آرام کرنے کا تھا۔ اور عنایہ کو بلا کر کوئی مووی دیکھنے کا تھا۔
"اچھا تو تم آرام کرو جاکر میں ہاجرہ کو فون کرکے کہہ دیتی ہوں کہ آج تم نہیں آؤ گی"۔
بی جان کو اس کی فکر ہوئی۔
"جی ٹھیک ہ"ے۔
میرال ان سے کہہ کر خوشی خوشی اپنے کمرے میں آگئی۔
"یس اب آئے گا مزا۔ ابھی عنایہ کو فون کرتی ہوں"۔
میرال نے اپنے موبائل پر عنایہ کا نمبر ڈائل کیا۔
"یار! آج میں پڑھنے نہیں جارہی ہوں تو تم ایک کام کرو کہ تھوڑی دیر میں آجاؤ کوئی اچھی سی مووی دیکھ لیتے ہیں"۔
میرال اسکے فون ریسیو کرتے ہی شروع ہوچکی تھی۔
"اچھا ٹھیک ہے میں تھوڑی دیر میں آتی ہوں"۔
عنایہ نے فون بند کیا۔
"اب یہ کیوں فون کررہا ہے"۔
میرال کے موبائل پر مائر کا نام جگمگا رہا تھا۔
"اسلام وعلیکم"!
میرال نے ایسی آواز نکالی جس سے لگے کہ وہ بیمار ہے۔
"وعلیکم السلام! پڑھنے کیوں نہیں آئی"؟
مائر نے پوچھا۔
"وہ آج میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ مجھے بہت بخار ہے"۔
میرال نے مری ہوئی آواز نکالی۔
"اچھا تو دوائی کھا کر آجاؤ ۔ ویسے بھی تمہاری آواز سے تو نہیں لگ رہا کہ تم بیمار ہو"۔
مائر کو لگا کہ وہ بہانے بنا رہی ہے اور اس کی ایکٹنگ پر اس کے لبوں پر مسکراہٹ آئی۔
"میرا گلا خراب تھوڑی ہے جو آواز سے پتا لگے گا"۔
میرال کو لگا کہ وہ پکڑی گئی ہے پھر بہت سوچ کر کہا۔
"اچھا ایک کام کرو اپنے گھر کے لاؤنج میں پڑھنے کے لئے بیٹھو میں پانچ منٹ میں آتا ہوں"۔
مائر نے اس کی بات سنے بغیر فون کٹ کیا۔
"ارے۔۔۔۔ یار کیا ۔ چلو اب بیگ لے کر جاؤں نیچے"۔
میرال نے فون سائڈ پر رکھا۔
وہ آج آفس نہیں گیا تھا۔ بس اس کا دل نہیں کررہا تھا۔ پر اب وہ بور ہورہا تھا۔ پھر کچھ دیر پہلے جب ہاجرہ بیگم نے بتایا کہ آج میرال پڑھنے نہیں آرہی تو اس نے اس کو فون کیا۔
وہ کچھ دیر پہلے اس کے گھر آیا تھا۔ بی جان اس سے مل کر اپنے کمرے میں کوئی فون سننے چلی گئیں تھی۔
میرال منہ بنا کر پڑھائی کر رہی تھی۔
"یار یہ دیکھوں بہت اچھی مووی"۔۔۔۔۔۔
عنایہ جو اپنے دھیان میں بولتی ہوئی آرہی تھی۔ لاونج میں مائر کو دیکھ کر اس کی زبان کو بریک لگی۔
"اسلام وعلیکم"!
عنایہ نے فوراً سلام کیا۔
"وعلیکم السلام! اچھا تو تم بخار کا ڈراما کر رہی تھی۔ اور تم لوگوں کا مووی دیکھنے کا پلین تھا"۔
مائر نے اس کی بات سن لی تھی۔
ج"ی یہی پلین تھا۔ اب روز پڑھ پڑھ کر میں تھک گئی تھی۔ آپ نے بھی تو سنڈے کی چھٹی بھی نہیں دی"۔
میرال نے اس کو بتا دیا۔
"تمہارے ایگزامز میں کچھ دن ہی رہ گئے ہیں اور تمہیں موویز دیکھنے کی پڑی ہے۔ تمہیں تو چاہئے کہ پڑھائی پر زیادہ سے زیادہ دھیان دو"۔
مائر نے اس کو سختی سے کہا۔
"اچھا ٹھیک ہے"۔
میرال نے دوبارہ کیمسٹری کی کتاب کھولیں اور پڑھنے لگی۔
"اچھا میرال میں چلتی ہوں۔ کل یونی میں ملاقات ہوگی"۔
عنایہ نے جلدی سے کہا اور چلی گئی۔

وہ آج جلدی آگئی تھی۔ ابھی ساڑھے چار ہورہے تھے۔ اس نے پانچ بجے آنا تھا۔
"میرال یہ کافی پی لو۔ ابھی مائر کے آنے میں ٹائم ہے"۔
ہاجرہ بیگم کچن سے اس کے لئے کافی بنا کر لائیں تھیں۔
"جی آٹنی تھینک یو"۔
میرال نے ان کے ہاتھ میں پکڑے ٹرے سے کافی کا مگ اٹھایا۔
ہاجرہ بیگم واپس کچن میں چلی گئی۔ وہ کافی پیتے ہوئے ساتھ ساتھ لاؤنج کی سائڈ کی دیوار پر بنی بک شیلف میں پڑی بکس دیکھنے لگی۔
"بکس کا ٹیسٹ تو کافی اچھا ہے مائر کا"۔۔۔۔
اچانک اس کا فون بجا۔ وہ بکس دیکھنے میں اتنی مگن تھی کہ اس کے ہاتھ سے کافی کا کپ چھلکا اور بک شیلف کے ساتھ دیوار پر لگی پینٹنگ کو داغدار کر گیا۔
"اوو۔۔۔۔ یہ کیا ہو گیا"۔
میرال نے فوراً اپنے ہاتھ میں پکڑا کافی کا مگ سائڈ پر رکھا اور کچن کی طرف دیکھا۔ کیونکہ اوپن کچن تھا۔ اس لئے اس کو ہاجرہ بیگم نظر آرہیں تھیں وہ کوئی کام کر رہیں تھیں۔ میرال نے فوراً سائڈ پر پڑا ہوا کپڑا پینٹنگ پر ڈال کر اس کو ڈھک دیا۔ اور آرام سے پڑھنے بیٹھ گئی۔
"آج تو تم بڑی جلدی آگئی۔ اچھی بات ہے"۔
مائر ابھی گھر کے اندر داخل ہوا تھا۔
"اسلام وعلیکم"!
میرال نے گھبرا کر اس کو سلام کیا۔
"وعلیکم السلام! جلدی سے ٹیسٹ ریوائز کرو۔ میں چینج کرکے آتا ہوں"۔
مائر نے اس کے سلام کا جواب دیا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔
"تم نے کافی پی لی۔ میں یہ مگ کچن میں لے جاتی ہوں۔ مائر نے دیکھ لیا تو پھر بولے گا"۔
ہاجرہ بیگم کچن سے آئی اور کافی کا خالی مگ لے گئیں۔
کچھ دیر بعد وہ اپنے کمرے سے باہر آیا۔ آج وہ کافی تھکا ہوا لگ رہا تھا۔
"مجھے ٹیسٹ ریوائز ہو گیا ہے۔ آپ مجھے ٹیسٹ دے دیں"۔
میرال کے کہنے پر مائر نے اس کو ٹیسٹ دے دیا۔
"اور خود اپنے موبائل میں مصروف ہوگیا"۔
میرال ٹیسٹ کرتے ہوئے بار بار اس کو دیکھ رہی تھی کہ کہیں اس کا دھیان تو نہیں گیا پینٹنگ کی طرف۔ پر وہ شاید بہت تھکا ہوا تھا۔ اس لئے وہ خاموشی سے صوفے کے ساتھ ٹیک لگا کر اپنا موبائل یوز کر کررہا تھا۔
"میرا ٹیسٹ ہوگیا ہے۔ اب میں گھر جاؤں"؟
میرال نے ریجیسٹر اس کو تھمایا۔
"اتنی جلدی کیوں ہے گھر جانے کی"؟
مائر اس کا ٹیسٹ چیک کرنے لگا۔
"وہ میں کب کی آئی ہوئی ہوں"۔
میرال نے فوراً کہا۔
"اچھا ٹھیک ہے جاؤ۔ میں ٹیسٹ کل چیک کرلوں گا"۔
مائر نے ریجیسٹر سائڈ پر رکھا۔ ابھی اس میں ٹیسٹ چیک کرنے کی ہمت نہیں تھی۔
"ویسے جاؤ گی کیسے"؟
مائر کو خیال آیا تو پوچھا۔
"وہ میں نے ایان کو فون کردیا ہے۔ آج وہ گھر پر ہی تھا اس کے ساتھ ہی جاؤں گی"۔
میرال نے اس کو بتایا اور ایان کو دوبارہ فون کیا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
"کیا ہوا ہے؟ اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو؟ کہیں کسی کا قتل تو نہیں کر آئی"۔
ایان ابھی اسے لینے آیا تھا۔ ہاجرہ بیگم نے اس کو کچھ دیر بیٹھنے کا کہا۔ پر اس کو کہیں جانا تھا۔ اس لئے اس نے معذرت کرلی۔ میرال اسے کافی گھبرائی ہوئی لگی۔
"میں نے کیوں کسی کا قتل کرنا ہے"۔
میرال جلدی سے ہاجرہ بیگم سے ملی اور گاڑی میں بیٹھ گئی۔
"شکل دیکھو اپنی۔ ایسا ہی لگ رہا ہے"۔
ایان نے اس کی شکل کی طرف اشارہ کیا۔
"قتل تو نہیں کیا پر اگر مائر کو پتا لگ جاتا تو وہ میرا قتل ضرور کردیتا"۔
میرال نے اپنے چہرے پر آیا پسینہ پونچا۔
"کیوں تم نے ایسا کیا کیا"۔
ایان گاڑی سٹارٹ کر چکا تھا۔
"وہ ہاجرہ آنٹی میرے لئے کافی لے کر آئی تھیں تو مجھ سے غلطی سے ان کے لاونج میں لگی پینٹنگ پر گر گئی۔ ویسے تو ہاجرہ آنٹی کو بھی نہیں پتا چلا"۔
میرال سانس لینے کو رکی۔
"اور میں نے جلدی سے اس پینٹنگ پر وہاں پر پڑا کوئی کپڑا ڈال دیا۔ ابھی تک تو کسی کا دھیان نہیں گیا تھا۔ پر جب جانا ہے تو پھر تو میری شامت آنی ہے"۔
میرال نے بات مکمل کی۔
"فکر نہ کرو۔ کیا پتا وہ تمہیں کچھ کہہ نہ۔ کیونکہ ان کو کیسے پتا چلے گا کہ تم نے ان کی پینٹنگ خراب کی ہے"۔
ایان نے اس کو حوصلہ دیا۔
"ہاں یہ تو ہے"۔
میرال نے کہا اور گاڑی سے اتر گئی کیونکہ اس کا گھر آچکا تھا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
وہ رات کو بہت تھکا ہوا تھا۔ اس لئے جلدی سو گیا تھا۔ اور اسی وجہ سے اس کی آنکھ آج جلدی کھل گئی تھی۔ وہ اپنے گھر کے قریبی پارک میں جاگینگ کے لئے آگیا۔
وہ کافی دیر سے جاگینگ کر رہا تھا۔ اب تھک گیا تھا۔ کچھ دیر سانس لینے کے لئے ایک سائڈ پر پڑے بنچ پر بیٹھ گیا۔ ہلکی ہلکی چلتی ہوا اس کو اچھی لگ رہی تھی۔ اس نے بنچ کی بیک کے ساتھ ٹیک لگائی اور آنکھیں بند کرلی۔ بند آنکھوں کے پیچھے ایک سایا سا لہرا۔ اس نے فوراً آنکھیں کھول دی۔ ساتھ ہی اس کے لبوں پر مسکراہٹ آئی۔
"کچھ لوگ اکیلے اکیلے بیٹھے مسکرا رہیں ہیں۔ کیا وجہ ہے"؟؟
نبیل تو روز ہی جاگینگ کے لئے پارک میں آتا تھا۔آج اس کو دیکھ کر اس کو خوشگوار حیرت ہوئی۔
"کیا اب میں مسکرا بھی نہیں سکتا"؟
مائر نے الٹا اس سے سوال کیا۔
"نہیں نہیں میرا یہ مطلب تھوڑی تھا۔ میں تو یہ پوچھنا چاہ رہا تھا کہ کس کا خیال آپ کے چہرے پر مسکراہٹ لے آیا"۔
نبیل نے پھر پوچھا۔
"بس آگیا تھا کسی کا خیال"۔
مائر نے ٹالا۔
"کہیں یہ خیال میرال کا تو نہیں تھا"۔
نبیل نے اس کو چھڑا۔
"تمہیں کیوں بتاؤں"۔
مائر کو لگا کہ وہ پکڑا گیا۔ پر پھر اس نے فوراً کہا۔
"مجھے نہ بتاؤ۔ اس کو تو بتا دو۔ ایسا نہ ہو کہ تم بتانے میں دیر کرو۔ اور وہ کسی اور کی ہوجائے"۔
نبیل نے اس کو ڈرایا۔
"پر پہلے میں خود تو سمجھ لوں کہ میری فیلیگز کیا ہیں"۔
مائر نے سوچتے ہوئے کہا۔
"پر جلدی سمجھ لو"۔
نبیل نے پھر کہا۔
"اچھا اب تیرے لیکچر پھر کبھی سنوں گا۔ ابھی تو آفس جانا ہے۔ پھر ملتا ہوں"۔
مائر نے گھڑی پر ٹائم دیکھا۔ اور جانے کے لئے اٹھ گیا۔
"یہ پینٹنگ پر کپڑا کیوں ہے"؟
وہ ابھی لاونج میں داخل ہوا تھا تو اس کی نظر پڑی۔
اس نے کپڑا ہٹایا۔
"میرال۔۔۔۔۔۔ تم نے یہ کیا کیا؟ میری فیورٹ پینٹنگ تھی یہ"۔
مائر نے پینٹنگ کو دیکھا جو کافی گرنے کی وجہ سے پوری خراب ہوچکی تھی۔ اور مائر کو پورا شک تھا کہ یہ میرال کی ہی حرکت ہے۔
"اسلام و علیکم! کون ہے"؟
مائر نے اس کو فون کیا۔ پر وہ شاید ابھی فون کی بل پر اٹھی تھی اور شاید اس نے نمبر دیکھے بغیر فون اٹھایا تھا۔
"وہی جس کے گھر کی پینٹنگ تم خراب کرکے آئی ہو"۔
مائر نے پینٹنگ کو افسوس سے دیکھا۔
٫ک۔۔۔کون سی پینٹنگ"؟؟
میرال کی نیند اب کھل چکی تھی۔
"تم نے کل کافی پی تھی نا۔ دیکھو یہ مت کہنا کہ نہیں پی۔ جب میں گھر آیا تھا تو میں نے ٹیبل پر خالی پڑا مگ دیکھا تھا"۔
مائر نے اس کو یاد کروایا۔
"ہاں تو پی تھی پر اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ پینٹنگ پر میں نے کافی گرائی"۔
میرال نے فوراً کہا۔
"یعنی تم نے ہی پینٹنگ پر کافی پھینکی۔ کیونکہ میں نے تو یہ کہا ہی نہیں کہ پینٹنگ کیسے خراب ہوئی۔ تم نے خود کہا کہ کافی سے خراب ہوئی"۔
مائر کی بات پر میرال نے اپنی زبان دانتوں تلے دبائی۔
"جی مجھ سے ہی گری تھی۔ پر میں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا تھا"۔
میرال نے اپنی صفائی دی۔
"تو پھر پینٹنگ کپڑے سے چھپائی کیوں"؟
مائر نے آرام سے پوچھا۔ کیونکہ اس کا اس پر غصہ کرنے کا دل نہیں کر رہا تھا۔
"وہ اس لئے تاکہ آپ کو پتا نہ چلے۔ ورنہ آپ نے بہت ڈانٹنا تھا"۔
میرال کی بات پر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی۔
"پر میں تو اب بھی ڈانٹ سکتا ہوں۔ پر نہیں ڈانٹوں گا۔ تم نے کہا کہ غلطی سے ایسا ہوا تو مان لیتا ہوں۔ پر آئندہ خیال رکھنا۔ اور پڑھنے ٹائم پر آجانا"۔
مائر نے فون بند کردیا۔ اور وہ حیرت سے فون کو دیکھ رہی تھی۔
"ویسے حیرت ہے اس نے مجھے ڈانٹا نہیں۔ چلو اچھا ہے"۔
میرال نے فون سائڈ ٹیبل پر رکھا اور دوبارہ سونے کے لئے لیٹ گئی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
"بابا! آپ نے مجھے یہاں کیوں بلایا ہے"؟
ایان کو فرحان صاحب نے فون کرکے اپنے دوست کے گھر بلایا تھا۔
"بیٹا بات ہی کچھ ایسی تھی۔ آج تمہارے بھائی کا نکاح ہے"۔
فرحان صاحب کی بات پر وہ ان کو حیرت سے دیکھنے لگا۔
"کیا مطلب نکاح پر کس سے؟ اور ریحان بھائی کہاں ہیں"؟
ایان نے پوچھا۔
"وہ ابھی تھوڑی دیر میں یہاں آجائے گا۔ میں نے سوچا کہ گھر میں تو تمہاری امی نے یہ نکاح ہونے نہیں دینا تھا۔ اس لئے یہاں کر لیتے ہیں"۔
فرحان صاحب نے ڈرائنگ روم میں بیٹھتے ہوئے کہا۔
ان کا دوست ان دونوں سے مل کر ابھی گیا تھا۔
"پر مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ بھائی کا نکاح کس کے ساتھ ہورہا ہے"۔
ایان کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔
"تمہارا بھائی ایک لڑکی کو پسند کرتا ہے۔ یہ بات اس نے بتائی تھی۔ پر تمہاری ماں نہیں مان رہی۔
اور آج تمہارا بھائی اور سونیا بیٹی کی فیملی دوبئی سے پاکستان آچکے ہیں۔ اور کچھ دیر میں ریحان ان کو یہاں لے آئے گا"۔
فرحان صاحب نے بتایا۔
"پر ریحان بھائی کی شادی تو میرال سے نہیں ہونی تھی۔ امی تو یہی چاہتی تھیں"۔
ایان نے ان کو کہا۔
"پر جب لڑکا ہی راضی نہیں ہے تو پھر کیسے کر دیں اس کی شادی میرال کے ساتھ۔ اس طرح تو میرال کے ساتھ بھی برا ہوجائے گا"۔
فرحان صاحب نے اس کو وجہ بتادی۔
"جی"۔۔
ایان کو سمجھ نہ آیا کہ وہ کیا کہہ۔ اس کو بار بار میرال کا خیال آرہا تھا۔ اس کو جب پتا چلے گا تو اس کو کتنا دکھ ہوگا۔
کچھ دیر بعد ریحان اور اس لڑکی کی فیملی آگئی۔ اور ریحان اور سونیا کا نکاح ہوگیا۔
ایان کو سونیا کی فیملی اچھی لگی تھی۔ اس کو سونیا بھی اچھی لگی تھی۔ پر پھر بھی اس کو بار بار میرال کا خیال آرہا تھا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
"میرال اٹھ جاؤ"۔
بی جان اس کو اٹھانے آئی تھی۔ پر وہ تو ٹس سے مس نہیں ہورہی تھی۔
"بی جان تھوڑی دیر اور سونے دیں"۔
میرال نے کچھ دیر بعد کہا۔
"میرال تمہاری تائی کہہ رہی ہے کہ آج ان کے گھر کوئی فنکشن ہے" ۔
"کون سا فنکشن"؟
میرال نے آنکھیں ملتے ہوئے پوچھا۔
"یہ تو جائیں گے تو پتا چلے گا۔ کیونکہ ناہید کو خود بھی نہیں پتا کہ کون سا فنکشن ہے۔ اس کو تو بس فرحان نے سب رشتےداروں کو بلانے کا کہا ہے"۔
بی جان نے اس کو بتایا۔
"اچھا میں جلدی سے تیار ہوتی ہوں۔ پھر تائی امی کے گھر چلتے ہیں"۔
میرال نے کہا۔ وہ خود تجسس میں تھی کہ آخر کون سا فنکشن ہے۔
وہ آج بہت دل لگا کر تیار ہوئی تھی۔ کچھ دیر پہلے ہی عنایہ نے اس کو فون کرکے بتایا تھا کہ ریحان کو اس نے اپنے گھر کی طرف جاتے ہوئے دیکھا ہے۔ پہلے تو اس کو یقین نہیں آیا۔ پر عنایہ کے بار بار کہنے پر اس کو یقین کرنا پڑا۔
"شاید آج کا فنکشن میرے اور ریحان کے لئے ہی رکھا گیا ہو۔ کہیں میری ان کے ساتھ منگنی تو نہیں ہونے لگی"۔
یہ خیال ہی اس کے لبوں پر مسکراہٹ لے آیا تھا۔
پر اس کو آنے والے وقت کا نہیں پتا تھا۔
"ماشاءاللہ! آج میری پوتی کتنی پیاری لگ رہی ہے"۔
بی جان ابھی اس کے کمرے میں یہی دیکھنے آئیں تھیں کہ وہ تیار ہوئی کہ نہیں۔ پر وہ تو بالکل تیار تھی اور بہت پیاری لگ رہی تھی۔ اور خوش بھی لگ رہی تھی۔ بی جان خود بھی خوش تھیں۔ ان کو لگ رہا تھا کہ شاید آج فرحان اور ہمدان نے مل کر کوئی سرپرائز میرال کے لئے پلین کیا ہے۔ وہ سرپرائز شاید ریحان اور میرال کی منگنی ہو۔ کیونکہ وہ بھی ریحان کو کچھ دیر پہلے اپنے کمرے کی ٹیرس سے اپنے گھر کی طرف جاتے ہوئے دیکھ چکی تھیں۔
انہوں نے دل میں میرال کو ڈھیروں دعائیں دے ڈالی۔
"میں بھی تیار ہوں۔ ایک ساتھ چلتے ہیں"۔
بی جان نے اس کا دوپٹہ اس کے سر پر دیا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
وہ سب فرحان صاحب کے گھر پہنچ چکے تھے۔ کافی مہمان بھی آگئے تھے۔ پر فرحان صاحب اور ریحان گھر پر موجود نہ تھے۔ ایان مہمانوں کی میزبانی کر رہا تھا۔
"ناہید فرحان اور ریحان نظر نہیں آرہے۔ کہاں ہیں"؟
بی جان نے قریب سے گزرتی ہوئی ناہید بیگم سے پوچھا۔
"بی جان مجھے خود بھی نہیں پتا کہ یہ دونوں کہاں گئے ہیں۔ بس یہ کہہ کر گئے ہیں کہ کسی کو لینے جانا ہے"۔
ناہید بیگم نے بتایا۔
"میرال تم نے جوس لیا"؟
ناہید بیگم بی جان کے ساتھ بیٹھی میرال کی طرف متوجہ ہوئیں۔
"جی میں پی چکی ہوں"۔
میرال نے مسکرا کر جواب دیا۔ ساتھ ہی سارے ہال کی لائٹس بند ہوگئیں۔ اور ایک سپورٹ لائٹ اون ہوگئی۔ سب کھڑے ہوکر دیکھنے لگے کہ اس لائٹ میں کون گھر کے اندر داخل ہورہا ہے۔
بی جان اور میرال بھی کھڑے ہوگئے۔
ریحان اور اس کے ساتھ کوئی لڑکی گھر کے اندر آرہی تھی۔
"یہ لڑکی کون ہے"؟
میرال کو لگا جیسے اس کے جسم میں بالکل طاقت نہیں رہی۔
"آپ سب حیران ہونگے کہ آج آپ سب کو کیوں بلایا گیا ہے"۔
فرحان صاحب نے ملازم کو کہہ کر لائٹس اون کروا دی تھیں۔ اب وہ سب کو یہاں بلانے کا مقصد بتا رہے تھے۔
"میرے بیٹے ریحان کا کل ہم نے نکاح کیا ہے اور آج رخصتی کرکے ہم اپنی بہو کو گھر لے آئے ہیں۔ نکاح میں صرف میں اور میرے بیٹے شامل تھے۔ پر آج ہم نے آپ سب کو اپنی خوشی میں شامل کیا ہے۔ انشاء اللہ! اس ہفتے کو دھوم دھام سے ولیمے کی تقریب منقعد کی جائے گی"۔
فرحان صاحب تو اور بھی بہت کچھ کہہ رہے تھے پر اس کو سنائی نہیں دے رہا تھا۔ اس کو اپنا سر چکراتا محسوس ہورہا تھا۔
ناہید بیگم تو خود حیران تھی کہ یہ کیا ہوگیا۔
کافی لوگ باتیں بھی کر رہے تھے۔ ہمدان صاحب بہت خوش تھے۔ اور وہ فرحان صاحب اور ریحان کو مبارک باد دے رہے تھے۔
"میرال"۔۔۔۔۔۔
بی جان کے ساتھ کھڑی میرال ایک دم سے نیچے گرنے لگی۔ بی جان کی آواز پر ناہید بیگم نے آگے ہوکر میرال کو سہارا دیا پر وہ بے ہوش ہوچکی تھی۔ ہمدان صاحب بھی میرال کے پاس آئے ۔
"کیا ہوا ہے میرال کو"؟
ہمدان صاحب پریشان ہوئے۔ ایان بھی آگے آیا۔
"کچھ نہیں شاید کمزوری ہوگئی ہے۔ تم فکر نہ کرو۔ میں اور ناہید اس کو کمرے میں لے کر جاتے ہیں"۔
بی جان نے بات سنبھالتے ہوئے کہا۔ اور ناہید کے ساتھ مل کر وہ میرال کو کمرے میں لے گئیں۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
"ویسے ناہید مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی۔ اگر تم لوگوں نے ریحان کا رشتہ کہیں اور ہی کرنا تھا تو مجھے اور میرال کو کیوں امید دلائی۔ اور اگر وہ کسی اور کو پسند کرتا تھا تو تم ہم کو بتا سکتی تھی۔ پر تم نے تو ہمیں آج کے فنکشن کا بھی صحیح سے نہیں بتایا کہ کس سلسلے میں ہے"۔
بی جان ناہید بیگم سے شکوہ کررہیں تھیں۔
"بی جان ریحان کی پسند کا مجھے کچھ دن پہلے پتا چلا تھا۔ پر میں نے تو صاف انکار کردیا تھا اور سوچا تھا کہ خودی کچھ دن میں اس لڑکی کو بھول جائے گا۔ بی جان یقین مانئے۔ مجھے خود بھی نہیں پتا تھا کہ آج کا فنکشن کیوں رکھا گیا ہے۔ آپ سب کی طرح میں بھی حیران ہوں"۔
ناہید بیگم واقع ہی حیران تھیں۔ بلکہ پریشان تھیں۔ کیونکہ ان کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسا بھی ہوجائے گا۔ ان کو بہت دکھ تھا۔ پر بی جان کے دکھ اور ان کے دکھ میں بہت فرق تھا۔ بی جان کو میرال کے دکھی ہونے کا دکھ تھا۔ پر ناہید بیگم کو جائیداد اپنے ہاتھوں سے جانے کا دکھ تھا۔
"جب ریحان نے بتایا تھا کہ وہ کسی کو پسند کرتا ہے تو تمہیں مجھے بتانا چائیے تھا۔ تاکہ میں میرال کو سمجھا دیتی کہ ریحان اس کو نہیں کسی اور کو پسند کرتا ہے۔ اس طرح میری پوتی بے ہوش تو نہ ہوتی"۔
بی جان میرال کو ہوش میں لانے کے لئے اس کے منہ پر کافی دفعہ پانی کا چھڑکاؤ کر چکی تھیں پر وہ ہوش میں نہیں آرہی تھی۔
"ہمدان جلدی سے کسی ڈاکٹر کو لے کر آؤ۔ میرال کو ہوش نہیں آرہا"۔
بی جان نے ہمدان صاحب کو فون کیا۔
کچھ دیر بعد ہمدان صاحب ڈاکٹر کو لے کر کمرے میں آئے۔
ڈاکٹر نے میرال کو ڈریپ لگائی۔
"پریشانی کی تو کوئی بات نہیں ہے"؟
ہمدان صاحب نے فکر مندی سے ڈاکٹر سے پوچھا۔
"نہیں بلکل بھی پریشانی کی بات نہیں ہے۔ بچی کا شوگر لیول بہت ڈاؤن ہے۔ شاید کھانے پینے کا خاص دھیان نہیں رکھتی۔ آپ تسلی رکھیں ڈریپ ختم ہونے تک انشاء اللہ ہوش ضرور آجائے گا"۔
ڈاکٹر نے ان کو تسلی دی۔
کچھ دیر بعد اس کو ہوش آگیا تھا۔ وہ بی جان اور اپنے بابا کے ساتھ اپنے گھر آگئی تھی۔ بی جان کے ساتھ وہ اپنے کمرے میں آگئی تھی۔ اور ہمدان صاحب اس کے لئے کھانا لے آئے تھے۔ ان کے اسرار پر اس نے روٹی کے کچھ نوالے کھائے تھے۔ وہ اس کو کھانا کھلا کر اس کو سونے کی ہدایت کرتے ہوئے اس کے کمرے سے چلے گئے تھے۔ بی جان ابھی بھی اس کے کمرے میں موجود تھی۔
"میرال تو میری اچھی پوتی ہے نا۔ پلیز ہمت کرو۔ میری غلطی ہے جب مجھے پتا چلا تھا کہ تم ریحان کو پسند کرتی ہو۔ مجھے اس وقت ہی تمہیں روک دینا چائیے تھا۔ پر پتا نہیں میں نے ایسا کیوں نہیں کیا"۔
بی جان خود بھی بہت شرمندہ تھیں۔
"بی جان آپ کی غلطی نہیں ہے۔ میری غلطی ہے۔ میں نے یہ جانے بغیر کے ریحان کیا چاہتے ہیں۔ خود سے ہی سوچ بیٹھی تھی کہ وہ بھی مجھے پسند کرتے ہونگے"۔
میرال کچھ دیر بعد بولی۔ اور اپنی آنکھوں میں آئے آنسو صاف کئے۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
آج صبح سے ہی آسمان کالے بادلوں کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔ آج عنایہ اس کو زبردستی اپنے ساتھ یونی لے کر آئی تھی۔ جب اس نے رات کو عنایہ کو فون کرکے بتایا تھا کہ ریحان نے شادی کرلی۔ تو اس وقت عنایہ نے اس کو بہت حوصلہ دیا۔ پر وہ اس وقت اس سے مل نہیں سکتی تھی۔ اس لئے وہ صبح ہوتے ہی اس سے ملنے آئی تھی۔
اور پھر بی جان کے ساتھ مل کر اس کو یونی جانے کے لئے راضی کیا تھا۔
"آج موسم کتنا اچھا ہورہا ہے۔ کیوں میرال"؟
وہ اس وقت عنایہ کے ساتھ کینٹین پر موجود تھی۔ اور کرسی پر بیٹھی آنکھیں بند کئے ہوا کو محسوس کر رہی تھی۔ جب عنایہ کی بات پر اس نے آنکھ کھولی۔
"مجھے تو موسم اداس لگ رہا ہے"۔
میرال نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا۔
"ویسے یہ تو تم نے ٹھیک کہا۔ جب ہم خوش ہوتے ہیں تو ہمیں گرمی بھی اچھی لگ رہی ہوتی ہے۔ اچھا یہ بتاؤ تمہاری تیاری کیسی جارہی ہے ایگزامز کی"۔
عنایہ بات بدلی۔
"کل سے کتاب کھول کر نہیں دیکھی۔ اور تم بھی مجھے یہاں لے آئی ہو آج تو کوئی لیکچر بھی نہیں ہے"۔
میرال نے اس کو گھورا۔
"میں تو تمہارا موڈ ٹھیک کرنے کے لئے یہاں لے کر آئی تھی۔ اور ویسے تم نے آج ٹیوشن جانا ہے"۔
عنایہ نے پوچھا۔
"نہیں۔ آج نہیں جاؤں گی"۔
میرال نے جوس کا سپ لیا۔
"اچھا میں آتی ہوں"۔
عنایہ نے ایان کو دیکھا جو کچھ دور کھڑا کسی سے بات کررہا تھا۔ تو اس نے اس سے بات کرنے کا سوچا۔
"مجھے کبھی یہ اندازہ بھی نہ ہوا کہ وہ کسی اور کو پسند کرتا ہے"۔
یہ سوچتے ہی اس کی آنکھوں میں پھر سے آنسو آئے۔
یہ منظر کسی اور نے بھی اچانک دیکھا۔
آج موسم اچھا تھا تو اس نے سوچا کہ یونی ہی چلے۔ ابھی وہ کینٹین کی طرف نبیل کو ڈھونڈنے آیا تھا۔ اور میرال کو روتے ہوئے دیکھ کر اس کو تکلیف ہوئی۔ پہلے تو وہ اپنے جذبات کو سمجھ نہ سکا کہ اس کو اس کا رونا اتنا تکلیف کیوں دے رہا ہے۔ وہ اس سے پوچھنا چاہتا تھا کہ کیا ہوا۔ پر وہ پوچھ نہ سکا۔ آج اس میں ہمت ہی نہیں ہورہی تھی کہ وہ اس سے پوچھے کہ کیا ہوا ہے۔
"ہاں اچھا میں باہر آرہا ہوں"۔
اسی وقت اس کو نبیل کا فون آیا۔ تو وہ ہوش میں آیا اور یونی کے مین گیٹ کی طرف چلا گیا۔
نبیل یونی کے گیٹ پر اس کا انتظار کر رہا تھا۔ ان دونوں نے کہیں جانا تھا۔ وہ نبیل کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گیا۔ اس نے نبیل کو گاڑی چلانے کا کہا۔ کیونکہ اس کا دماغ تو کہیں اور تھا۔ صبح اس کو موسم خوشگوار لگ رہا تھا۔ اب اس کو موسم اداس لگ رہا تھا۔
"مجھے واقع ہی محبت ہوگئی ہے تم سے میرال"۔۔۔۔
وہ اپنے خیال میں اس سے مخاطب تھا۔
"کیا ہوا ہے؟ تو اتنا چپ کیوں ہے"؟
نبیل اس سے پوچھ رہا تھا۔
"بس دل اداس ہو رہا ہے"۔
مائر نے اپنے دھیان میں کہا۔
"کیوں کیا ہوا"؟
نبیل پریشان ہوگیا۔
"ن۔۔نہیں کچھ بھی نہیں"۔
مائر ہوش میں آیا۔
"مجھے جلد ہی بابا سے بات کرنی ہوگی۔ کہ میں میرال سے محبت کرتا ہوں اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں"۔
"تمہیں کیا واقع ہی نہیں پتا تھا کہ ریحان بھائی کسی اور کو پسند کرتے ہیں"۔
وہ لڑکا جو ایان سے بات کررہا تھا اب جا چکا تھا۔ تو عنایہ نے اس سے پوچھا۔
"مجھے واقع ہی نہیں پتا تھا۔پرسو جب بابا مجھے اپنے دوست کے گھر لے کرگئے تو پتا چلا۔ پر میں اس وقت کیا کرسکتا تھا"۔
ایان نے مڑ کر اس کو جواب دیا۔
"تم ریحان بھائی سے بات تو کر سکتے تھے"۔
عنایہ نے اس کو شکوہ بھری نظروں سے دیکھا۔
"میں نے سوچا تھا کہ ان سے بات کروں۔ پر سب کچھ اتنا جلدی ہوا کہ بات کرنے کا وقت ہی نہیں ملا"۔
ایان نے واقع ہی اس سے بات کرنے کی کوشش کی تھی۔
"تم کل بھی تو ریحان بھائی سے بات کرسکتے تھے"۔
عنایہ کچھ دیر بعد کہا۔
"میں نے کل بات کرنے کا سوچا تھا۔ سوچا تھا کہ ان سے شکوہ کروں گا کہ انہوں نے میرال کے ساتھ ایسا کیوں کیا۔ پر پھر مجھے خیال آیا کہ ریحان بھائی نے تو کبھی نہیں کہا تھا کہ وہ میرال سے محبت کرتے ہیں۔ نہ انہوں نے کبھی اس سے کوئی وعدہ کیا تھا۔ تو پھر میں ان سے کس بات کا شکوہ کرتا"۔
ایان نے اس کو تفصیل سے بتایا۔
"مجھے تو لگتا ہے کہ ہماری غلطی ہے۔ جو میرال کو آس دیلاتے رہے۔ کیونکہ ریحان بھائی نے تو کبھی ایسا نہیں کہا تھا۔ مجھے کم ازکم ریحان بھائی سے کافی عرصہ پہلے پوچھنا چاہئے تھا کہ وہ میرال کے بارے میں کیا سوچتے ہیں"۔
ایان کو واقع ہی میرال کے لئے برا لگ رہا تھا۔
"مجھے بھی میرال کے لئے برا لگ رہا ہے۔ میں نے بھی اس کو آس دیلائی تھی۔ میں نے آج بہت مشکل سے اس کا سامنا کیا ہے۔ وہ بہت دکھی ہے"۔
عنایہ نے اپنی آنکھ میں آئے آنسو صاف کئے۔
"مجھ میں تو ہمت ہی نہیں ہورہی اس کا سامنا کرنے کی۔ اس لئے تو میں تم دونوں کے پاس وہاں کینٹین میں نہیں آیا"۔
وہ ان دونوں کو کافی دیر پہلے ہی کینٹین میں دیکھ چکا تھا۔
"اب بہتر یہی ہے کہ تم ریحان بھائی سے میرال کے بارے میں کوئی بات نہ کرو۔ کیونکہ اب سونیا بھابھی بھی آچکی ہیں۔ اور اگر یہ بات ان تک پہنچ گئی تو رشتوں میں بدمذگی پیدا ہوگی"۔
عنایہ کو کچھ خیال آیا تو کہا۔
"میں بھی یہی سوچ رہا ہوں کہ اب میرال کے بارے میں ریحان بھائی سے کوئی بھی بات نہ کروں"۔
ایان نے بھی یہی سوچا تھا۔
"اچھا اب میں میرال کے پاس جاتی ہوں۔ کافی دیر سے یہاں پر ہوں"۔
عنایہ نے موبائل پر ٹائم دیکھا تو کہا۔
"ٹھیک ہے جاؤ"۔
ایان کے کہنے پر وہ میرال کے پاس جانے لگی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
آج وہ کب سے میرال کا انتظار کررہا تھا پر وہ پڑھنے نہیں آئی تھی۔ تھک ہار کر وہ اب اپنے کمرے میں آگیا تھا۔ اور کمرے میں آتے ہی اس نے اس کو فون کیا تھا۔ پر اس نے اس کی کال کاٹ دی تھی۔ اس نے پھر اس کو فون کیا پر اب اس کا نمبر بند تھا۔
مائر نے موبائل سائڈ ٹیبل پر رکھا۔ اور اپنے کمرے کی ٹیرس پر آگیا۔ ابھی بھی آسمان پر کہیں کہیں بادل تھے اور ہوا چل رہی تھی۔ اس نے آنکھیں بند کرکے ایک لمبا سانس لیا۔
"آج میں بابا سے بات کرلوں گا"۔
پہلے اس نے میرال سے بات کرنے کا سوچا تھا۔ پر پھر اس میں ہمت ہی نہیں ہورہی تھی کہ وہ اس کو بتائے کہ اس کو اس سے محبت ہوگئی ہے۔ پھر اس نے سوچا تھا کہ وہ جب پڑھنے آئے گی تو اس کو بتا دے گا اور اس سے پوچھ بھی لے گا کہ وہ اس کے بارے میں کیا سوچتی ہے۔ پر پھر اس کو یہ مناسب نہ لگا۔ تو اس نے سوچا کہ وہ فون پر اس سے بات کرلے۔ پر اس نے تو فون اٹھایا ہی نہیں۔ اب وہ آج رات ہی زاہد صاحب سے بات کرنے کا سوچ رہا تھا۔
اس نے اپنی ٹائی کی ناٹ لوز کی۔
"چھوٹے صاحب آپ کو بڑھے صاحب بلارہے ہیں"۔
اس وقت ایک ملازم کمرے میں آیا۔
"میں آتا ہوں"۔
وہ ملازم کو جواب دینے ٹیرس سے کمرے میں آیا تھا۔
وہ کچھ دیر بعد زاہد صاحب کے کمرے میں چلا گیا تھا۔
"جی بابا آپ نے بلایا تھا"۔
اس نے کمرہ ناک کرکے اندر آنے کی اجازت مانگنے کے بعد پوچھا۔
"ہاں وہ آج جو میٹینگ تھی اس کے بارے میں پوچھنا تھا"۔
زاہد صاحب کوئی فائل دیکھ رہے تھے۔ ساتھ ہی اس کو بیٹھنے کا اشارہ بھی کیا۔
"جی آج کی میٹینگ تو بہت اچھی ہوئی تھی"۔
مائر نے ان کو بتایا۔
"یہ تو اچھی بات ہے۔ یہ فائل بھی تمہیں دیکھانی تھی یہ آج ایک نیا پروجیکٹ شروع کرنے کا سوچا ہے میں نے۔ تم بھی بتاؤ کہ کیسا رہے گا"۔
زاہد صاحب ایک نئے پروجیکٹ کی فائل اس کو دیکھا رہے تھے۔
"جی یہ پروجیکٹ تو بہت اچھا ہے"۔
اس نے پوری فائل دیکھنے کے بعد کہا تھا۔
"مجھے آپ سے بات کرنی ہے"۔
مائر کافی دیر سے ان سے بات کرنے کی اپنے اندر ہمت جمع کر رہا تھا۔
"جی بیٹا بولیں کیا بات کرنی ہے"؟
زاہد صاحب نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
"میں میرال کو پسند کرتا ہوں اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں"۔
مائر نے ایک سانس میں ہی پوری بات کردی۔
"تمہاری بات سے مجھے خوشی ہوئی ہے۔ کیونکہ میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ تمہاری اور میرال کی شادی ہوجائے۔ میں ہمدان سے بات کروں گا پر میرال ابھی پڑھ رہی ہے تو مشکل ہی ہے کہ ہمدان مانے اور تم بھی تو ابھی پڑھ رہے ہو"۔
زاہد صاحب کو خوشگوار حیرت ہوئی۔ کچھ دیر اس کو خاموشی سے دیکھتے رہے۔ پھر انہوں نے کہا۔
"آپ ان سے بات کرئیے گا کہ ابھی فلحال منگنی کردیں یا پھر نکاح کردیں"۔
مائر کو ان کی بات سے بے چینی ہوئی۔ کہ کہیں ہمدان انکل منع ہی نہ کر دیں۔
"میں بات کرتا ہوں۔ تم پریشان نہ ہو۔ اور چلو نیچے چلتے ہیں۔ رات کے کھانے کا وقت ہورہا ہے"۔
زاہد صاحب نے اس کو حوصلہ دیا۔ اور اس کو اپنے ساتھ نیچے لے آئے۔ کھانے کے دوران بھی وہ کافی بے چین لگ رہا تھا۔ ہاجرہ نے بھی محسوس کیا۔ پر انہوں نے اس سے کچھ نہیں پوچھا۔ کیونکہ اگر وہ پوچھتی بھی تو اس نے کوئی سیدھا جواب تو دینا نہیں تھا۔
"بابا! میں نے کھانا کھا لیا ہے۔ میں کمرے میں سونے کے لئے جارہا ہوں"۔
کھانا تو اس سے پہلے ہی کھایا نہیں جارہا تھا۔ بہت مشکل سے اپنی پلیٹ میں ڈالے چاول ختم کرکے اس نے کہا۔
"بیٹا! کھانا تو ٹھیک سے کھاؤ"۔
ہاجرہ بیگم کو بھی اس کی فکر ہوئی تو فوراً کہا۔
"نہیں بس اور کھانے کا دل نہیں کررہا"۔
مائر نے ان کو آرام سے جواب دیا اور اپنے کمرے میں جانے لگا۔
ہاجرہ بیگم اس کو حیرت سے دیکھ رہی تھیں۔ کیونکہ ان کو تو یہی لگ رہا تھا کہ وہ ابھی ان سے بدتمیزی سے بات کرے گا۔ پر اس نے تو آرام سے جواب دیا اور اپنے کمرے میں چلاگیا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
"زاہد صاحب یہ لیں آپ کی کافی"۔
کھانا کھانے کے بعد زاہد صاحب اپنے کمرے میں جا چکے تھے۔ اور وہ ان کے لئے کچن میں کافی بنا رہیں تھیں۔ اور اب وہ کافی لے کر اپنے کمرے میں آئیں تھیں۔
"تھینک یو"۔
زاہد صاحب نے کافی کا مگ پکڑتے ہوئے کہا۔ وہ کمرے میں ایک سائڈ پر پڑے صوفے پر بیٹھے لیپ ٹاپ پر کوئی کام کر رہے تھے۔
"مجھے آج مائر کچھ پریشان لگا۔ آپ نے دیکھا اس نے کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھایا"۔
ہاجرہ بیگم ان ساتھ ہی بیٹھ گئیں۔
"مجھے پتا ہے کہ وہ کیوں پریشان ہے"۔
زاہد صاحب نے لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹا کر ان کو دیکھا۔
"کیا پریشانی ہے"؟
ہاجرہ بیگم بھی پریشان ہوئیں۔
"پریشانی اتنی بھی نہیں ہے پر مائر زیادہ پریشان ہوگیا ہے۔ اصل میں مائر میرال کو پسند کرتا ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہے"۔
زاہد صاحب نے ان کو بتایا۔
"یہ تو اچھی بات ہے۔ مجھے میرال ویسے ہی بہت پسند ہے۔ تو پھر وہ کیوں پریشان ہے۔ کہیں آپ نے منع تو نہیں کردیا"۔
ہاجرہ بیگم نے خیال آنے پر ان سے پوچھا۔
"میں نے منع نہیں کیا ۔بس یہ کہا ہے کہ ہمدان سے بات تو کروں گا پر ابھی میرال پڑھ رہی ہے تو کیا پتا وہ نہ مانے۔ اور مائر بھی تو ابھی پڑھ رہا ہے"۔
زاہد صاحب نے ان کو مائر سے ہوئی بات بتائی۔
"جی پر مائر کا تو لاسٹ ایئر ہے۔ اور وہ کاروبار بھی تو سنھبال رہا ہے"۔
ہاجرہ بیگم نے فوراً کہا۔
"مائر کہہ رہا تھا کہ ابھی منگنی یا نکاح کردیں۔ میں ہمدان سے بات کروں گا۔ پر ابھی میں مائر کو کوئی آس نہیں دیلانا چاہتا۔ پہلے میں زاہد سے بات کرلوں"۔
زاہد صاحب نے ان واضح بتایا۔
"جی ویسے یہ تو ٹھیک ہے۔ پہلے آپ ان سے بات کرلیں"۔
ہاجرہ بیگم نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
آج اس کا پہلا پیپر تھا۔ وہ دوبارہ مائر کے پاس پڑھنے نہیں گئی تھی۔ وہ گھر میں ہی تیاری کررہی تھی۔ مائر نے اس کو بہت مرتبہ فون کیا تھا پر اس نے ایک دو دفعہ ہی اس کی کال اٹھائی تھی۔ اور اس کو کہہ دیا تھا کہ اب وہ پڑھنے نہیں آئے گی۔ اس نے بھی زیادہ اسرار نہیں کیا تھا۔ کیونکہ وہ اس کو فون کال پر بھی نارمل نہ لگی تھی۔ پر اس کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ میرال اتنی دکھی کیوں ہے؟
میرال اب کافی حد تک سنبھل گئی تھی۔ ساری رات جاگ کر اس نے پیپر کی تیاری کی تھی۔ "میرال کیسی تیاری ہے پیپر کی"؟
عنایہ ابھی ابھی یونی آئی تھی۔ آج وہ دونوں الگ الگ آئے تھے۔ کیونکہ عنایہ اپنی خالہ کہ گھر سے آرہی تھی۔
"اچھی تیاری ہے۔ تم بتاؤ۔ اب خالہ کی طبیعت کیسی ہے"؟
میرال نے پوچھا۔ اس کی خالہ کا رات کو خطرناک حد تک بلڈ پریشر ہائی ہوگیا تھا۔ کچھ دیر وہ اسپتال میں بھی رہی تھیں۔ پھر رات کو گھر آگئیں تھیں۔
"اب بہتر ہیں۔ ورنہ رات کو تو ہم سب ڈر ہی گئے تھے۔ اور تمہیں پتا تو ہے کہ خالہ یہاں پر اکیلے رہتیں ہیں۔ ویسے تو وہ جوائنٹ فیملی میں رہتیں ہیں۔ پر خالو اور عون تو ملک سے باہر ہے نا"۔
عنایہ نے اس کو تفصیل سے بتایا۔
"تمہارے خالو اور ان کے بیٹے تو اب آجانا چاہیے"۔
میرال نے اس کو کہا۔
"ہاں نیکسٹ ویک تک خالو اور عون جائے گے"۔
عنایہ نے اس کو بتایا۔
"اچھا چلو پیپر شروع ہونے والا ہے"۔
وہ دونوں ایگزامینیشن ہال کی طرف چل دی۔
کچھ دیر بعد وہ پیپر دے کر ہال سے نکلی تو باہر مائر کو کھڑا پایا۔
"اسلام وعلیکم"!
میرال کو اس کو دیکھ کر حیرت ہوئی۔
"وعلیکم السلام! کیسا ہوا پیپر"؟
مائر نے اس کے سلام کا جواب دینے کے بعد پوچھا۔
" آپ تو یہ فون پر بھی پوچھ سکتے تھے"۔
میرال کو اس کا یہاں آنا عجیب لگا۔
"کیا پتا تم فون نہ اٹھاتی"۔
مائر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
"ن۔۔نہیں ایسی بات نہیں ہے میں فون اٹھا لیتی۔ وہ کچھ دن پہلے میں کچھ پریشان تھی۔ اس لئے فون نہیں اٹھا رہی تھی"۔
میرال کو لگا شاید اس نے آج اس کو پہلی دفعہ مسکراتے دیکھا ہے۔ کیونکہ یاد کرنے پر بھی اس کو یاد نہ آیا کہ پہلے کبھی وہ اس سے بات کرتے ہوئے مسکرایا ہو۔
"تم نے بتایا نہیں کہ پیپر کیسا ہوا ہے"۔
مائر نے اس کے چہرے کے آگے ہاتھ ہلایا۔
"ج۔۔جی اچھا ہوا ہے"۔
میرال ہوش میں آئی۔
"اچھا تو اب پڑھنے آؤ گی"۔
مائر اس سے بہت آرام سے پوچھ رہا تھا۔
"ن۔۔۔نہیں میری گھر میں کافی اچھی تیاری ہورہی ہے۔ اگر کوئی پڑھائی میں مشکل ہوئی تو آجاؤں گی۔ اچھا اب میں چلتی ہوں۔ آپ بھی آفس سے لیٹ ہورہے ہوں گے۔ اور عنایہ گیٹ پر میرا ویٹ کر رہی ہوگی"۔
میرال نے فوراً کہا اور وہاں سے چل دی۔
"میں نے بھی گیٹ کی طرف ہی جانا ہے"۔
مائر بھی اس کے ساتھ چلنے لگا۔
"میں آپ دونوں کو گھر ڈراپ کردوں"؟
مائر نے گیٹ کے پاس پہنچ کر پوچھا۔
"نہیں ہمارا ڈرائیور آگیا ہے ہم چلیں جائے گے۔ بہت بہت شکریہ"۔
میرال نے گیٹ کے پاس پہنچتے ہی عنایہ کا ہاتھ پکڑا اور گیٹ پار کر گئی۔ اس کا ڈرائیور ان دونوں کا انتظار ہی کررہا تھا۔
"میرال تم نے اتنی جلدی کیوں کی گاڑی میں بیٹھنے کی وہ کوئی بات کررہا تھا"۔
عنایہ نے اس سے پوچھا۔ اس کو حیرت ہورہی تھی۔
"میں نے اس کو جواب دے دیا تھا"۔
میرال نے اس کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
"عنایہ خاموش ہوگئی"۔
کچھ دیر بعد وہ دونوں گھر پہنچ چکے تھے۔ عنایہ اپنے گھر جانے کی بجائے اس کے ساتھ بی جان کو سلام کرتی ہوئی اس کے کمرے میں آگئی تھی۔
"تم نے اپنے گھر نہیں جانا"۔
میرال نے اس سے پوچھا۔
"چلی جاتی ہوں۔ پہلے تم بتاؤ کہ تم اتنا عجیب بی ہیو کیوں کر رہی ہو"؟
عنایہ کو جاننے کا تجسس تھا۔
"یار! عجیب بی ہیو میں نہیں مائر کررہا ہے۔ آج ایک دم مجھ سے پوچھنے آگیا کہ پیپر کیسا ہوا ہے۔ تمہیں پتا ہے آج میں نے اس کو مسکراتے ہوئے بھی دیکھا اور اس نے مجھ سے بہت آرام سے بات کی۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ اس کے دماغ میں کیا چل رہا ہے"۔
میرال نے اس کو ساری بات بتادی۔
"ہہم جو تم بتارہی ہو۔ میں خود بھی سوچنے پر مجبور ہوگئی ہوں کہ اس کے دماغ میں کیا چل رہا ہے"۔
عنایہ بھی سوچ میں پڑ گئی۔
"ویسے ریحان بھائی کا ابھی تک ولیمہ کیوں نہیں ہوا"؟
عنایہ کو یاد آیا تو پوچھا۔
"سونیا کے کچھ رشتے داروں نے آنا تھا اس لئے ولیمہ لیٹ ہوگیا۔ کل ہے ولیمہ۔ تم لوگوں کے گھر کارڈ پہنچ گیا ہوگا"۔
میرال نے اس کو بتایا۔
"ہاں ہوسکتا ہے۔ پر میں نے ابھی تک نہیں دیکھا۔ اچھا میں کافی تھک گئی ہوں تو گھر چلتی ہوں"۔
عنایہ نے کہا۔ اب اس کو پتا چل چکا تھا۔ جس کا اس کو تجسس تھا۔ اس لئے اس نے گھر جانے کا سوچا۔

"مام میں نے آپ کے لئے بھی ناشتہ بنایا ہے"۔
سونیا نے کچن میں جاتی ہوئی ناہید بیگم کو کہا۔
"کوئی ضرورت نہیں تھی۔ میرے لئے ناشتہ بنانے کی۔ میرے ہاتھ پاؤں ابھی تک سلامت ہیں۔ میں خود اپنے کام کرسکتی ہوں"۔
ناہید بیگم نے روکھے انداز میں کہا۔وہ اس سے ایسے ہی بات کرتی تھیں۔ سونیا جب سے رخصت ہوکر اس گھر میں آئی تھی۔ ناہید بیگم کا رویہ ایسا ہی تھا۔ شروع شروع میں ایان بھی اس سے اول تو بات ہی نہیں کرتا تھا اور اگر کرتا بھی تو روکھے انداز میں کرتا۔ پر سونیا کیونکہ ایک اچھی لڑکی تھی۔اس نے سب کے دل میں جگہ بنا لی تھی۔ ایان کا رویہ بھی اس کے ساتھ سہی ہوگیا تھا۔ پر ناہید بیگم کے لئے وہ جو بھی کرلے وہ اس سے سہی سے بات نہیں کرتیں تھیں۔
"مام پر"۔۔۔۔
سونیا نے ان کو دوبارہ کہنا چاہا۔
"خاموش مجھے دوبارہ مام نہ کہنا میں تمہاری مام نہیں ہوں۔ اور اپنے کام سے کام رکھا کرو"۔
ناہید بیگم نے اس کو اچھا خاصا ڈانٹ دیا۔
وہ اپنے آنسو چھپاتی ہوئی اپنے کمرے میں آگئی۔
"کیا ہوا"؟
بیڈ پر بیٹھے ریحان نے پوچھا۔ ریحان اب مستقل طور پر پاکستان میں سیٹل ہوگیا تھا۔ اور یہاں پر اپنے بابا کے ساتھ بزنس سنبھال رہا تھا۔
"کچھ نہیں بس آپ کی امی نے ابھی تک مجھے دل سے قبول نہیں کیا ہے۔ میں تو ہمیشہ ان کے ساتھ اپنے تعلقات اچھے رکھنے کی کوشش کرتی ہوں پر وہ پھر بھی مجھے کسی نہ کسی بات پر ڈانٹ دیتیں ہیں"۔
سونیا نے اپنے آنسوؤں کو روکنا چاہا پر وہ نہ رکے۔
"اچھا تم حوصلہ کرو۔ مام دل کی بری نہیں ہیں بس وہ کچھ ناراض ہیں مجھ سے"۔
ریحان نے اس کو حوصلہ دیا۔
"پر وہ کیوں ناراض ہیں؟ مجھے سمجھ نہیں آتا"۔
سونیا نے پھر اس سے وہی سوال کیا جو کافی دفعہ کرچکی تھی۔
"کیونکہ وہ میری شادی کسی اور سے کروانا چاہتی تھیں۔ پر میں نے تم سے شادی کرلی۔ اس لئے"۔
ریحان نے اس کو آج بتا ہی دیا۔
"وہ کس کے ساتھ آپ کی شادی کروانا چاہتی تھیں"؟
سونیا نے اپنے آنسو صاف کئے۔
"میرال سے۔ وہی میری کزن ۔ میرے چاچو کی بیٹی"۔
ریحان نے اس کو بتایا۔
"تو کیا میرال بھی ایسا ہی چاہتی تھی"؟
سونیا نے پوچھا۔ اس کو یاد آگیا تھا کہ کون میرال ہے اس نے ولیمے کی تقریب میں اس کو دیکھا تھا۔
"پتا نہیں۔ پر اس کو بھی مام نے یہ بات بتائی ہوئی تھی کہ وہ ہم دونوں کی شادی کروائے گی"۔
ریحان نے بتایا۔
"تو پھر ہوسکتا ہے کہ وہ آپ کو پسند کرتی ہو۔ تبھی تو وہ اداس تھی۔ مجھے ولیمے پر ایسا ہی لگا تھا"۔
سونیا نے اس کو یاد کرکے بتایا۔
"ہہم ہوسکتا ہے۔ پر اس میں اس کی بھی کوئی غلطی نہیں ہے۔ کیونکہ مام کو اس سے کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہئے تھی۔ کچھ دنوں تک وہ ٹھیک ہو جائے گی"۔
ریحان نے اس کو حوصلہ دیا۔ جو اس بات پر اور پریشان ہوگئی تھی۔
"پر مجھے میرال کے لئے برا لگ رہا ہے۔ چاہئے کسی کے بھی کہنے پر اس نے آپ سے محبت تو کی ہے۔ اور پھر آپ نے بھی کہیں اور شادی کرلی تو اس کو برا تو لگا ہوگا"۔
سونیا کو میرال کی فکر ہورہی تھی۔
"اچھا تو میں اب اس سے شادی کر لیتا ہوں"۔
ریحان نے اسکو تنگ کرنے کے لئے کہا۔
"ریحان "۔۔۔۔
سونیا نے اسکو گھور کر دیکھا۔
"ہاں تو اور کیا کہوں۔ اگر میں اس سے شادی کربھی لیتا تو شاید میں کبھی خوش نہ رہ سکتا۔ اور شاید وہ بھی کبھی خوش نہ رہتی۔ میری دل سے دعا ہے کہ میرال کو کوئی بہت اچھا انسان ملے۔ جو اس کو بہت چاہتا ہو۔ جو اس سے اپنے مرضی سے کسی کے دباؤ میں آئے بغیر شادی کرے"۔
ریحان نے میرال کو دعا دی۔
"آمین"۔۔۔۔
سونیا نے کہا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
آج اس کا سیکنڈ لاسٹ پیپر تھا۔ پر آج مائر اس کے سنٹر نہیں آیا تھا۔ آج اس کو اس کی کمی محسوس ہورہی تھی۔
"شاید میں نے اس کو اس دن کچھ زیادہ ہی باتیں سنادی۔ اس لئے وہ آج نہیں آیا"۔
میرال نے سوچا۔
"کیا سوچ رہی ہو۔ چلو جلدی آج ویسے ہی گرمی بہت زیادہ ہے"۔
عنایہ پہلے ہی گرمی سے تنگ آئی ہوئی تھی۔ اور وہ اب یہاں پر اکیلے کھڑی تھی۔
"آرہی ہوں"۔
میرال اپنے خیالوں سے باہر آئی۔
"کیا آرہی ہوں۔ میں کب سے گیٹ پر تمہارا انتظار کر رہی ہوں اور تم یہاں پر ہی ہو"۔
عنایہ نے اس کو غصے کہا۔
"اچھا اب ڈاٹنا بند کرو"۔
میرال نے اس کا غصہ کم کرنے کی کوشش کی۔
دونوں ساتھ چلتے ہوئے گیٹ سے باہر نکل گئے۔ اور گاڑی میں بیٹھ گئے۔
کچھ دیر بعد وہ دونوں گھر پہنچ گئے تھے۔ عنایہ اپنے گھر چلی گئی تھی۔ اور وہ اپنے گھر میں داخل ہوگئی تھی۔
"اسلام وعلیکم بی جان!"
اس نے لاونج میں آتے ہی بی جان کو اسلام کیا۔
"وعلیکم السلام! اچھا ہوا تم آگئی میں سوچ ہی رہی تھی کہ یہ کھیر فرحان کے گھر کون دی کر آئے گا۔ تم منہ ہاتھ دھو کر یہ کھیر دے آنا"۔
بی جان نے کھیر میز پر رکھی۔
"بی جان! آپ جانتی تو ہیں کہ میں اب ان کے گھر نہیں جاتی ہوں۔پھر بھی آپ مجھے ہی کہہ رہی ہیں"۔
میرال نے ناراضگی سے منہ بنایا۔
"ایسا کب تک چلے گا کہ تم فرحان کے گھر نہیں جاؤ گی؟ تمہیں اس کے گھر کبھی نہ کبھی تو جانا پڑے گا نا۔ ویسے بھی فرحان پوچھ رہا تھا اور ناہید بھی پوچھ رہی تھی کہ تم کافی دنوں سے آئی نہیں"۔
بی جان نے اس کو پیار سے سمجھایا۔
"پر آپ تو جانتی ہیں کہ وہاں اگر ریحان مجھے نظر آگیا تو اس کا سامنا میں کیسے کروں گی"۔
میرال نے اپنی مشکل بتائی۔
"میرال تمہیں ہمت تو کرنی ہوگی۔ اس کا سامنا تو کرنا ہوگا۔ اور سونیا سے بھی مل کر آنا بہت اچھی لڑکی ہے"۔
بی جان نہیں چاہتی تھیں کہ کوئی بھی جانے کہ میرال کیا چاہتی تھی۔
"اچھا ٹھیک ہے چلی جاؤں گی"۔
میرال نے کہا اور کپڑے چینج کرنے جانے لگی۔
"ہاں جاؤ پھر جب آؤ گی تو میں نے ایک ضروری بات بھی کرنی ہے"۔
بی جان نے اس کو جاتے ہوئے دیکھا تو کہا۔
"اچھا ٹھیک ہے"۔
میرال نے اتنا ہی کہا۔
آج صبح ہی ہمدان صاحب نے بی جان سے مائر کے رشتے کی بات کی تھی۔ بی جان تو بہت خوش تھیں۔ انہیں خود بھی مائر بہت پسند تھا۔ پر میرال سے کیسے بات کرنی تھی یہ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ پھر انہوں نے سوچا کہ بات کرکے دیکھتی ہوں کہ کیا کہتی ہے۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
"امی آپ کو کیا ہو گیا ہے پہلے تو آپ اتنا غصہ نہیں کرتی تھیں"؟
ایان ابھی آیا تھا اور ناہید بیگم سے کہنے لگا۔
"مجھے کچھ نہیں ہوا۔ تمہارے بھائی نے اپنی پسند کی شادی کرکے اچھا نہیں کیا۔ اور وہ لڑکی سونیا مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ پتہ نہیں خود کو کیا سمجھتی ہے؟ جب دیکھو ریحان کو اور تمہیں میرے خلاف کرتی رہتی ہے"۔
ناہید بیگم کو پہلے ہی بہت غصہ تھا۔ اس کی بات پر اور آگیا۔
"مجھے کسی نے شکایت نہیں لگائی۔ میں خود صبح دیکھا تھا۔ آپ کے لئے سونیا بھابھی نے ناشتہ بنایا تھا۔ اور آپ نے نہیں کھایا۔ پھر جب انہوں نے کہا تو آپ نے ان کو ڈانٹ دیا"۔
ایان نے صبح دیکھا تھا۔ کہ کیسے ناہید بیگم نے سونیا کو ڈانٹا تھا۔
"مجھے تو تمہاری سمجھ نہیں آتی۔ کل تک تمہیں بھی سونیا بری لگتی تھی اور آج اچھی لگ رہی ہے۔ ایسا کون سا جادو کردیا ہے کہ تم اپنی بھابھی کی تعریفیں ہی کرتے جارہے ہو"۔
ناہید بیگم نے اس کو ڈانٹا۔
"مجھے سونیا بھابھی بری نہیں لگتی تھیں۔ بلکہ مجھے میرال کا سوچ کر دکھ ہوتا تھا۔ اس لئے میں سونیا بھابھی سے اپنا رویہ ٹھیک نہیں رکھ پاتا تھا۔ پھر میں نے سوچا کہ ان سب میں ان کی تو کوئی غلطی ہی نہیں ہے۔ تو پھر میں کیوں ان کے ساتھ اپنا رویہ برا رکھوں۔اور ویسے بھی سونیا بھابھی ایک اچھی انسان ہیں"۔
ایان نے پوری سچائی سے کہا۔
"بس تم بھی اس کے ساتھ مل جاؤ۔ تم سب نے مجھے اکیلا کردیا ہے"۔
ناہید بیگم نے رونا شروع کردیا۔
"ارے آپ رو کیوں رہی ہیں۔ پلیز نہ روئیں"۔
ایان ان کو روتا دیکھ کر پریشان ہوگیا۔
"تم میری ایک بات مانوں گے"؟
ناہید بیگم نے روتے ہوئے اس سے کہا۔
"جی کیا بات ہے"۔
ایان نے پوچھا۔ اور ان کو کرسی پر بیٹھایا اور جگ سی پانی گلاس میں ڈال کر پلایا۔
"تم۔۔۔۔۔تم میرال سے شادی کرلو"۔
ناہید بیگم کی بات پر جہاں ایان ان کو حیرت سے دیکھ رہا تھا۔ وہی دروازے کے پاس کھڑی میرال کے ہاتھ سے کھیر کا باؤل گرتے گرتے بچا۔
"امی آپ یہ کیا کہہ رہی ہیں۔ میں میرال سے کیسے شادی کرسکتا ہوں۔ وہ میرے بہنوں کی طرح ہے۔ آپ پلیز یہ بات دوبارہ نہ کہئے گا"۔
ایان نے انکار کردیا۔
"پر تم کیوں انکار کر رہے ہو۔ وہ ایک اچھی لڑکی ہے"۔
ناہید بیگم اس کو پھر بھی سمجھا رہی تھیں۔
میرال وہی سے واپس پلٹ گئی۔ ان دونوں تو اس کے آنے کا پتاہی نہ چلا۔ میرال نے کچن میں باؤل رکھا اور ملازمہ کو بتا کر گھر چلی گئی۔ جب وہ کھیر دینے فرحان صاحب کے گھر آئی تھی تو اس وقت گھر کے لاؤنج میں کوئی بھی نظر نہ آیا۔ تو ملازمہ سے پتا چلا کہ ناہید بیگم اپنے کمرے میں ہیں۔ تو وہ وہی چلی گئی۔ پر وہاں پر جو بات ہورہی تھی وہ سن کر تو اس کا وہاں سے بھاگنے کو دل کیا۔
وہ سیدھا اپنے کمرے میں آئی تھی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
بی جان اس کے کمرے میں آئی تو وہ اپنے کمرے کی ٹیرس پر تھی۔
"کیا ہوا ہے؟ یہاں کیا کر رہی ہو"؟
بی جان بھی ٹیرس پر آگئیں۔
"کچھ نہیں بس ایسے ہی کمرے میں گھٹن ہورہی تھی"۔
میرال نے کہا۔ اس کو واقع ہی کمرے میں گھبراہٹ ہورہی تھی۔
"تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے"۔
بی جان نے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔
"میں ٹھیک ہوں۔ آپ پریشان نہ ہوں"۔
میرال نے ان کو حوصلہ دیا۔
"کیسے پریشان نہ ہوں"۔
بی جان کو ٹینشن ہوئی۔
"اچھا یہ بتائیں کہ آپ نے مجھ سے کیا بات کرنی تھی"؟
میرال نے بات بدلی۔
"جو پوچھنا تھا وہ پوچھنا ضروری تو ہے پر کیا تم اپنے غصے کو سائڈ پر رکھ میری کہی ہوئی بات کے بارے میں سوچو گی"۔
بی جان کو لگ رہا تھا کہ آرام سے بات نہیں سنے گی۔
"آپ بتائیں میں آرام سے سنوں گی"۔
میرال نے ان کو تسلی دی۔
"مائر تم سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ اپنے والدین کے ہاتھ تمہارا رشتہ بھیجا ہے"۔
بی جان کی بات سن کر اس کو حیرت کو جھٹکا لگا۔ کچھ دیر تو ہو بول ہی نہ سکی۔
"یہ آپ کیا کہہ رہیں ہیں۔ میں اس سے کیسے شادی کرسکتی ہوں۔ آپ جانتی تو ہیں کہ میں ریحان کو پسند کرتی ہوں"۔
میرال نے حیرت سے کہا۔
"ہاں پر اب وہ شادی شدہ ہے۔ تم نے کسی سے تو شادی کرنی ہے اس سے ہی کرلو۔ مجھے تو لڑکا اچھا لگتا ہے"۔
بی جان نے اس کی تعریف کی۔
"بی جان اس کو بہت غصہ آتا ہے"۔
میرال نے ان کو انکار کرنے کی وجہ بتائی۔
"یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے"۔
بی جان نے اس کو سمجھایا۔
"اچھا ٹھیک ہے میں سوچ کر صبح آپ کو بتاؤ گی"۔
میرال نے فلحال ان سے یہی کہا۔
"اچھا ٹھیک ہے۔ اچھے سے سوچ لینا"۔
بی جان نے اس کے ماتھے پر بوسہ لیا اور اس کے کمرے سے چلی گئیں۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
"اچھا اس لئے وہ ایسا کہہ رہا تھا کہ کوئی بات سن کر حیرت یا خوشی ہوئی ہے"۔
میرال کو اس کی بات یاد آرہی تھی۔
"پر میں کیا جواب دوں بی جان کو"؟؟؟
وہ سونے کے لئے لیٹ گئی۔
"تائی امی نے آج مجھے بہت دکھ دیا ہے۔ ایان کہیں ان کی بات مان نہ لے"۔
وہ ایک دم سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔
"اگر ایسا ہوا تو ۔پھر نہیں نہیں میں ایان سے شادی نہیں کروں گی۔ وہ تو عنایہ کو پسند کرتا ہے۔ پھر میں کیا کروں۔ مائر کے رشتے کے لئے ہاں کردوں"؟؟؟
اس نے اپنے آپ سے پوچھا۔
"ہاں میں اس کے رشتے کے لئے ہاں کر دیتی ہوں۔ ویسے بھی ابھی کون سا شادی ہونے لگی ہے"۔
میرال نے فیصلہ کر لیا تھا۔
وہ آج صبح جلدی اٹھ گئی تھی۔ اسی وقت اس کا موبائل بجا۔ اس نے سائڈ ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھایا تو اس پر مائر کا نام جگمگا رہا تھا۔
"یہ مجھے کیوں فون کررہا ہے"؟
میرال کو اتنی صبح اس کا فون دیکھ کر حیرت ہوئی۔
"اٹھاؤں فون؟؟؟؟ نہیں نہیں یہ پھر وہی بات کرے گا"۔
میرال کو یاد آگیا کہ اس نے کیا پوچھا تھا۔ اب تو اسے پتا بھی چل گیا ہوا تھا۔ اس نے اپنا فون اوف کردیا۔ اس کو عجیب گھبراہٹ ہوئی تھی۔
"ویسے میں گھبرا کیوں رہی ہوں؟ مجھے گھبرانا نہیں چاہئے"۔
میرال نے اپنے آپ کو ڈانٹا۔
"میرال" ۔۔۔ ۔
بی جان اس کو اٹھانے کمرے میں آئیں۔
٫ارے واہ تم تو پہلے کی ہی اٹھی ہوئی ہو"۔
بی جان نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
"جی بس آج جلدی آنکھ کھل گئی"۔
میرال نے ان کو بیڈ پر بیٹھایا اور خود ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گئی۔
"ارے اب آٹھ جاؤ"۔
بی جان نے ٹوکا۔
"اچھا بس کچھ دیر ایسے لیٹنے دیں"۔
میرال نے پھر بی جان کی گود میں سر رکھ دیا۔
بی جان اس کے بالوں میں اپنے ہاتھ کی انگلیاں
پھیرنے لگی۔
"مجھے تم سے پوچھنا تھا کہ کیا سوچا تم نے"؟؟
بی جان نے پیار سے پوچھا۔
"کس بارے میں"؟
میرال نے بے خیالی میں پوچھا۔
"مائر کے رشتے کے بارے میں"۔
بی جان نے اس کو بتایا۔
"سوچ رہی ہوں کہ ہاں کر دوں"۔
میرال نے آہستہ آواز میں کہا۔
"یہ تو اچھا سوچ رہی ہو"۔
بی جان خوش ہوئیں۔
"ٹھیک ہے پھر آپ ان لوگوں کو ہاں کردیں"۔
میرال مان گئی۔
"چلو ٹھیک ہے۔ اب اٹھ جاؤ اور نیچے آجاؤ ۔ مینا نے ناشتہ بنالیا ہوگا"۔
بی جان نے اس کو اٹھنے کا کہا۔
"تو کیا مینا آگئی۔ کب آئی"؟
میرال کو خوشگوار حیرت ہوئی۔ بی جان کی گود سے سر اٹھاتے ہوئے اس نے پوچھا۔
"رات کو آئی تھی۔ اپنے بھائی کے ساتھ"۔
بی جان نے بتایا۔ مینا اپنے گاؤں گئی ہوئی تھی۔
اس کو دو دن بعد آنا تھا پر وہ جلدی آگئی تھی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
"یار! تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں کہ مائر تمہیں پسند کرتا ہے"۔
عنایہ کو اس نے فون پر بتایا تو وہ اسی وقت ہی اس کے گھر آگئی تھی۔ اب اس کے کمرے بیٹھ کر اس سے شکوہ کررہی تھی۔
"مجھے خود کل رات کو پتا چلا ہے"۔
میرال نے اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
"تو تمہیں مجھے رات کو بتانا چائیے تھا۔ اور تم نے ہاں بھی کردی۔ کیوں"؟
عنایہ کا شکوہ کم نہیں ہوا۔
"رات کو مجھے خود سمجھ نہیں آرہا تھا تو تمہیں کیا بتاتی۔ اور ہاں میں نے اس لئے کردی کہ ابھی تو صرف منگنی ہونی ہے۔ شادی میں ٹائم ہے۔ تب تک میں سوچ بھی لوں گی کہ مجھے اس سے شادی کرنی چاہیے کہ نہیں"۔
میرال نے اس کو بتایا۔
"ویسے یہ بری بات ہے۔ وہ تمہیں پسند کرتا ہے اور تم ایسی باتیں کر رہی ہو"۔
عنایہ نے افسوس سے کہا۔
"دیکھو عنایہ تمہیں پتا ہے کہ میں ریحان کو پسند کرتی ہوں۔ پر اب اس کی شادی ہوچکی ہے۔ اور بی جان کو یہ رشتہ پسند ہے۔ میں ان کو دکھی نہیں کرنا چاہتی ہوں۔ جہاں تک بات ہے کہ سوچنے کی تو مجھے واقع ہی سوچنے کے لئے وقت چایئے۔ اور اگر وہ اچھا انسان ہوا تو میں کیوں اس کو چھوڑوں گی"۔
میرال نے اس کو تفصیل سے بتایا۔
"ویسے مجھے تو کب سے لگتا تھا کہ وہ تمہیں پسند کرتا ہے بس تم ہی میری بات نہیں سمجھ رہی تھی"۔
عنایہ نے اس کو چھیڑا۔
"تم پھر شروع ہوگئی ہو۔ ویسے کل تائی امی کی باتوں کی وجہ سے بھی میں نے جلدی اس رشتے کے لئے ہاں کردی"۔
میرال اداس ہوئی۔
"کیوں وہ کیا کہتیں ہیں"؟
عنایہ نے ہوچھا۔
"وہ چاہتی ہے کہ میری اور ایان کی شادی ہوجائے"۔
میرال کی بات پر عنایہ کے دل کو کچھ ہوا۔
"پر انہوں نے ایسا کیوں کہا"؟
عنایہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس کو دکھ کیوں ہورہا ہے۔
"پتا نہیں۔ شاید ان کو دکھ ہوگا کہ میری شادی ریحان سے نہیں ہوئی یا کوئی اور وجہ ہوگی"۔
اس نے بس اتنا ہی کہا۔
"پر ان کو ایسا نہیں کہنا چاہئے تھا"۔
عنایہ نے کچھ دیر بعد کہا۔
"ہاں اس لئے میں نے مائر کے رشتے کے لئے ہاں کردی۔ کیونکہ اگر ایان تائی امی کے مجبور کرنے پر ہاں کردیتا تو باقی سب نے بھی مان ہی جانا تھا"۔
میرال کو جو لگ رہا تھا اس نے بتایا۔
"میری دعا ہے کہ مائر تمہارے لئے ایک اچھا ساتھی ثابت ہو"۔
عنایہ نے اس کو دعا دی۔
"آمین" ۔
میرال نے کہا۔
"ویسے اس نے تمہیں فون کیا"؟
عنایہ نے شرارت سے پوچھا۔
"کیا تھا پر میں نے نہیں اٹھایا"۔
میرال کو یاد آیا ۔
"کیوں ؟ اٹھانا تو تھا ؟ پتا تو چلتا کہ کیا کہتا"۔
عنایہ اب اس کو چھیڑ رہی تھی۔
"یار میرا دماغ ابھی اس ساری صورتحال کو سمجھ نہیں رہا ۔ایسے میں اس سے کیا بات کرتی اس نے تو پتا نہیں کیا باتیں کرنی تھیں۔ پہلے میں اپنے دماغ کو تیار تو کرلوں پھر بات کرلوں گی"۔
میرال نے اس کو ساری صورتحال بتائی۔
"اچھا چلو پر اب فون آئے تو بات کر لینا۔ اور مجھے ضرور بتانا کہ اس نے کیا کہا"۔
عنایہ نے بتانے پر زور دیا۔
"اچھا سوچوں گی"۔
میرال کا بات کرنے کا کوئی موڈ تو نہیں تھا۔ پر اس کو ٹالنے کے لئے کہا۔
"اچھا اب کچھ کھانے کو بھی دے دو۔ تمہاری وجہ سے میں نے ناشتہ بھی نہیں کیا"۔
عنایہ کو اب بھوک کا احساس ہورہا تھا۔
"تو میں نے تمہیں کہا تھا کہ میرا فون سن کر ساتھ ہی فوراً آجاؤ ۔ ناشتہ کرکے آتی۔ پر نہیں تمہیں تو پوری بات جاننے کا تجسس تھا"۔
میرال نے بھی حساب برابر کیا۔
"ویسے بہت بری بات ہے۔ میں نیچے جاکر بی جان سے کہہ دیتی ہوں وہ مجھے تمہاری طرح باتیں نہیں سنائے گی۔ بلکہ پیار سے ناشتہ کروائیں گی"۔
عنایہ نے کہا اور نیچے جانے لگی۔
"شوق سے جاؤ اور دروازہ بند کرکے جانا"۔
میرال نے مزے سے کہا اور بیڈ پر بیٹھ گئی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
وہ ابھی ابھی زاہد صاحب کے آفس پہنچے تھے۔ پر وہ کسی میٹنگ میں بزی تھے۔ اس لئے انہیں کچھ دیر انتظار کرنا پڑا۔
"سوری یار! تمہیں انتظار کرنا پڑا"۔
زاہد صاحب نے معذرت کی۔
"ارے! نہیں کوئی بات نہیں"۔
ہمدان صاحب کرسی پر بیٹھ گئے۔
"کیا پیو گے؟ کیا منگواؤ ؟ چائے یا کافی"؟
زاہد صاحب نے پوچھا۔
"کافی منگوا لو"۔
ہمدان نے کرسی کی بیک کے ساتھ ٹیک لگائی۔
"بی جان نے میرال سے بات کی تھی۔ اس کو اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں ہے"۔
ہمدان صاحب نے وہ بات کی جو کرنے آئے تھے۔
"مبارک ہو۔ اب ہم دوست سے رشتے دار بننے والے ہیں۔ میں بہت خوش ہوں"۔
زاہد صاحب نے خوشی سے کہا۔
"بس میرال کے ایگزامز ختم ہو جائے تو پھر ان دونوں کی منگنی یا پھر نکاح کر دیں گے"۔
ہمدان صاحب نے کہا۔
"ہاں بلکل ٹھیک کہا"۔
زاہد صاحب نے ان کی ہاں میں ہاں ملائی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
"تمہیں ایک دفعہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ جب میں نے کہا ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا جب ایان راضی نہیں ہے تو پھر تم کیوں ضد کررہی ہو"؟
فرحان صاحب نے غصے سے کہا۔
" آپ مجھے سمجھانے کی بجائے اپنے بیٹے کو سمجھائے۔ آخر میرال میں کیا برائی ہے"؟
ناہید بیگم سمجھنے کو تیار نہیں تھیں۔
"میرال میں کوئی برائی نہیں ہے۔ پر ایان اس سے شادی نہیں کرنا چاہتا"۔
فرحان صاحب نے غصے سے کہا۔ اس وقت ان کو ہمدان صاحب کا فون آیا ۔ انہوں نے اپنی طرف سے فون کاٹا پر کال ریسیو ہوگئی۔ انہوں نے موبائل سائڈ پر رکھ دیا۔
"آپ میری بات نہیں سمجھ رہے۔ میرال کے نام پر ہمدان کی ساری جائیداد ہے۔ اور یہ گھر آبائی گھر ہے اس میں بھی ہمدان کا حصہ ہے۔ جو بعد میں میرال کا ہی ہوگا۔ اگر ایان اور میرال کی شادی ہوجائے گی تو سب کچھ ہمیں مل جائے گا"۔
ناہید بیگم نے ان کو آج بتا ہی دیا۔
یہ سب ہمدان صاحب نے بھی سنا ان کو بہت افسوس ہوا۔
"تم اتنی لالچی کیسے ہو سکتی ہو"؟؟
فرحان صاحب نے ان کو افسوس سے دیکھا۔
"اس میں لالچ کیا ہے۔ میرال میرے بیٹے کے ساتھ خوش رہے گی"۔
ناہید بیگم نے آرام سے کہا۔
"اب تو میں ایسا کبھی بھی ہونے نہیں دوں گا"۔
فرحان صاحب نے کہا۔
"آپ کو ان دونوں کی شادی کروانی پڑے گی"۔
ناہید بیگم اور بھی بہت کچھ بول رہی تھی پر ہمدان صاحب کی ہمت ہی نہ ہوئی سننے کی۔ انہوں نے فون بند کردیا۔
"میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔ کہ ان کا میری بیٹی سے پیار صرف اس کی جائیداد کی وجہ سے تھا"۔
ہمدان صاحب کو دکھ ہوا۔
"کیا یہ بات بی جان کو بتاؤ؟ نہیں ان کو دکھ ہوگا۔ میں اس بارے میں زاہد سے بات کرتا ہوں۔ کہ مائر اور میرال کا نکاح میرال کے آخری پیپر والے دن کردیں گے"۔
ہمدان نے سوچا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
مائر بہت خوش تھا۔ جب سے اسے پتا چلا تھا کہ میرال نے ہاں کردی ہے۔
اور ابھی کچھ دیر پہلے اس کو نکاح کا بھی پتا چلا تھا کہ میرال کے آخری پیپر والے دن نکاح ہے۔
ہمدان صاحب نے زاہد صاحب کو ساری صورتحال بتائی تھی تو ان کو بھی یہی مناسب لگا کہ مائر اور میرال کا نکاح کر دیتے ہیں۔
مائر کب سے اس کو فون کر رہا تھا پر وہ کال ریسیو ہی نہیں کررہی تھی۔
اس نے پھر فون کیا۔
"کیا ہے آپ بار بار فون کیوں کر رہے"؟؟
اس نے فون ریسیو کرلیا تھا۔
"نہ سلام نہ دعا! پہلے سلام تو کرلو"۔
مائر کو خوشی ہوئی کہ اس نے فون اٹھ تو لیا۔
"آپ مجھے بار بار فون کررہیں ہیں اس لئے پوچھا"۔
میرال کو آج سے بات کرنا بہت مشکل لگ رہا تھا ۔
"ہاں تو جب سے ہمارا رشتہ پکا ہوا ہے تم تو میرا فون ہی نہیں ریسیو کر رہی ہو"۔
مائر نے شکوہ کیا۔
"اس لئے تو نہیں کر رہی تھی کال ریسیو۔ مجھے آپ سے بات کرنا بہت مشکل لگ رہا ہے"۔
میرال نے صاف بات کی۔
"کیوں میں نے کیا کوئی کیمسٹری کا سوال پوچھنا ہے جو بات کرنا مشکل لگ رہا ہے"۔
مائر کو اس کی بات پر ہنسی آئی۔
"اصل میں اچانک یہ نیا رشتہ اس کی وجہ سے بات کرنا مشکل لگ رہا ہے"۔
میرال کو سمجھ نہ آیا کہ کیا کہیے۔
"کیوں تم مجھے پسند نہیں کرتی"؟
مائر نے پوچھا۔ وہ یہی تو جاننا چاہتا تھا۔
"میں آپ کو ویسے پسند نہیں کرتی جیسے آپ سمجھ رہے۔ بی جان کو یہ رشتہ اچھا لگا تھا۔ اور مجھے بھی کوئی برائی نہیں لگی تو میں نے ہاں کردی"۔
میرال سے وہی کہا جو اس کے دل میں تھا۔
"اچھا۔ مجھے لگا شاید تم مجھے پسند کرتی ہو۔ اس لئے ہاں کی"۔
مائر کی اداس سی آواز آئی۔
"میں پیپر کی تیاری کر رہی ہوں۔ آپ سے پھر کبھی بات کروں گی"۔
"اللّٰہ حافظ"!
میرال نے کہا اور اس کے اللّٰہ حافظ کہنے کے بعد فون بند کردیا۔
اور کتابیں کھول کر دوبارہ پڑھنے لگی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
آج اس کا آخری پیپر تھا۔ گرمی صبح سے ہی بہت زیادہ تھی۔
"یار! آج گرمی بہت زیادہ ہے۔ دعا کر بادل آجائیں اور رات تک بارش ہوجائے"۔
عنایہ نے گرمی سے نڈھال ہوتے ہوئے کہا۔
"ہاں اللّٰہ کرے"۔
میرال نے بھی دعا کی۔
"آمین"!
عنایہ نے کہا۔
وہ دونوں کلاس روم کے اندر چلے گئے۔
آج پیپر بہت آسان آیا تھا۔ ساری کلاس ہی بہت خوش تھی۔ کچھ دیر بعد جب وہ دونوں پیپر دے کر باہر آئے تو ہوا چل رہی تھی۔ آسمان پر ہلکے ہلکے بادل بھی آگئے تھے۔
"ہماری دعا قبول ہوگئی"۔
عنایہ نے خوشی سے کہا۔
"ہاں جی! چلو جلدی سے گھر چلتے ہیں"۔
میرال نے کہا اور وہ دونوں گیٹ کی طرف جانے لگے۔
"یہ تمہارے گھر لائٹس کیوں لگ رہی ہیں"۔
عنایہ نے گاڑی سے اترتے ہوئے پوچھا۔
"ہاں ویسے میں بھی یہی سوچ رہی کہ لائٹس کیوں لگ رہی ہیں"۔
میرال کو حیرت ہوئی۔
"چلو اندر چلتے ہیں پتا چل جائے گا"۔
عنایہ نے میرال کا بازو پکڑا اور اس کو گھر کے اندر لے جانے لگی۔
"کدھر! تم کدھر جارہی ہو"؟
میرال کو پتا تھا کہ اس کو تجسس ہے۔ اس لئے وہ اس کے ساتھ جارہی ہے ورنہ وہ تو اس کو راستے میں کہہ رہی تھی کہ وہ اپنے گھر جائے گی اور سوئے گی۔
"یار دیکھنے تو دے کہ کون سا فنکشن ہے"۔
عنایہ نے اس کو ساتھ لئے گھر کے اندر چلی گئی۔
"بی جان! گھر میں کوئی فنکشن ہے"؟
میرال نے سلام کے بعد پوچھا۔
"ہاں جی تمہارا نکاح ہے"۔
بی جان کی بات پر میرال کا منہ حیرت سے کھلے کا کھلا رہ گیا۔

"یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟؟ میرا نکاح؟؟ پر مجھے تو کسی نے بتایا ہی نہیں"۔
میرال نے بی جان کو دیکھتے ہوئے کہا۔
'اب بتا تو رہی ہوں۔ اگر پہلے بتا دیتی تو سرپرائز کیسے دیتی"؟؟
بی جان نے اس کو پیار سے سمجھانے کی کوشش کی۔
"پر بی جان آپ کو مجھ سے چھپانا نہیں چائیے تھا۔ آپ نے ایسا کیوں کیا"؟
میرال نے ان سے پوچھا۔
"یہ تمہارے بابا کا فیصلہ تھا۔ اس کے کہنے پر میں نے تمہیں نہیں بتایا تھا۔ پر اس میں ہرج ہی کیا ہے؟ تم نے خود تو رشتے کے لئے ہاں کی تھی"۔
بی جان نے اس کو بتایا۔
"پر بی جان میری زندگی کا سوال ہے۔ آپ مجھے بتا تو دیتی"۔
میرال تو رو دینے کو تھی۔
"اب تم کیا چاہتی ہو"؟
بی جان نے اس سے پوچھا۔
"میں کچھ نہیں چاہتی پر آپ کو بتانا چاہئے تھا"۔
میرال کو اندازہ تھا کہ اب اس کو نکاح کرنا ہی پڑے گا۔ کیونکہ اگر وہ اس وقت انکار کرے گی تو اس کے گھر والوں کی بہت بے عزتی ہو گی۔ اس لئے اس نے ہاں کر دی۔
"جیتی رہو۔ خوش رہو۔ جاؤ عنایہ اس کو اندر لے جاؤ کچھ دیر میں بیوٹیشن آجائے گی"۔
بی جان نے عنایہ کو ہدایت کی۔
عنایہ اس کو کمرے میں لے گئی۔
"یار! ویسے بی جان پہلے بتا دیتی۔ تو میں تمہارے نکاح کے لئے نیا ڈریس ہی لے لیتی"۔
عنایہ کی بات پر میرال نے گھور کر اس کو دیکھا۔
"تم چپ کرکے بیٹھ جاؤ۔ انہوں نے مجھے نہیں بتایا تمہیں کیسے بتانا تھا"۔
میرال نے اس کو ڈانٹا۔
"پر انہیں مجھے بتانا چاہئے تھا۔ تاکہ میں ان کی مدد کروا سکتی"۔
عنایہ نے اس کی ڈانٹ کا کوئی اثر نہ لیا۔
"تم صرف اپنے بارے میں سوچ رہی ہو۔ میرے بارے میں بھی سوچو۔وقت کا بھی پتا نہیں چلتا میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میری شادی ریحان سے نہیں کسی اور سے ہوگی۔ پر دیکھو ۔پر میں کیا کروں مجھے وہ نہیں بھولتا"۔
میرال کی آنکھوں سے آنسو نکلے۔
"تمہیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا"۔
عنایہ نے اس کو سمجھانا چاہا۔
"کوشش کر تو رہی ہوں۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کی۔ پر مجھے تھوڑا ٹائم بھی تو دیں۔ میں نے تو اس لئے ہاں کہا تھا کہ ابھی منگنی ہوگی۔ تو مجھے اپنے آپ کو سنبھالنے کے لئے تھوڑا ٹائم مل جائے گا پر یہ تو نکاح ہی کرنے لگے۔ اب میں کیا کروں۔ اور مائر کو تو مجھے بتانا چائیے تھا"۔
میرال روتے ہوئے اس کو بتارہی تھی۔
"اچھا اب چپ کر جاؤ۔ اور کپڑے چینج کرلو"۔
عنایہ اسکے ہاتھ میں ایک خوبصورت سا گرے اور ریڈ کمبینیشن کا جوڑا پکڑایا۔ یہ جوڑا آج صبح ہی ہاجرہ بیگم نے بھجوایا تھا۔
میرال نے جوڑا تھام لیا اور ڈریسنگ روم میں چلی گئی۔ جب وہ جوڑا چینج کرکے آئی تو اس وقت تک بیوٹیشن آچکی تھی۔ میرال خاموشی سے آئینے کے سامنے بیٹھ گئی۔ بیوٹیشن نے اس کو تیار کرنا شروع کیا۔ کچھ دیر بعد عنایہ اپنے گھر سے اپنے کپڑے لے کر آگئی تھی۔ کیونکہ بی جان نے کہا تھا کہ وہ بھی یہی تیار ہوگی۔ میرال کو تیار کرنے کے بعد بیوٹیشن نے اسے بھی تیار کردیا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
مائر نے گرے کلر کی شیروانی پہنی تھی۔ وہ آج کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا۔ اس کو میرال کا انتظار تھا پر وہ ابھی تک نہیں آئی تھی۔ نکاح کے فنکشن کا سارا اہتمام لان میں کیا گیا تھا۔ کچھ دیر بعد نکاح شروع ہو گیا۔ اور نکاح کے بعد میرال کو عنایہ اور بی جان لے آئیں اور اس کے ساتھ بیٹھا دیا۔ مائر کے ہارٹ کی ایک بیٹ مس ہوئی۔
میرال نے اس کو نظر اٹھا کر نہیں دیکھا۔ بس خاموشی سے بیٹھ گئی۔
"اسلام وعلیکم!آج کو تم بہت پیاری لگ رہی ہو"۔
مائر نے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی۔
پر میرال نے کوئی جواب نہ دیا۔
"کوئی جواب تو دو"۔
مائر نے اس سے کہا۔
"کیا کہوں"؟
میرال نے بے زار سی آواز میں کہا۔
"تمہیں کیا ہوا ہے"؟
مائر کو اس کا رویہ عجیب لگا۔
"مجھے کچھ نہیں ہوا"۔
میرال نے بس اتنا ہی کہا۔
پھر کیمرہ مین نے ان دونوں کی تصویریں لینا شروع کردی۔ تو دونوں خاموش ہوگئے۔
پھر کھانے کا دور چلا۔ دونوں کو بات کرنے کا موقع نہ ملا۔
ریحان اور سونیا ان دونوں کو مبارکباد دینے سٹیج پر آئے۔ میرال کا دل کیا کہ وہ کہیں بھاگ جائے۔ ریحان کافی دیر مائر سے باتیں کرتا رہا۔
ناہید بیگم تو بڑی مشکل سے اس فنکشن میں آئیں تھیں۔ اگر فرحان صاحب ان کو غصے سے فنکشن میں آنے کے لئے نہ کہتے تو وہ کبھی نہ آتیں۔ ایان تو بہت خوش تھا۔ اس کو مائر پہلے ہی بہت اچھا لگتا تھا۔ میرال خاموشی سے نیچے منہ کرکے بیٹھی تھی۔ اس کو اس وقت کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
آج کے فنکشن کے لئے وہ ذہنی طور پر تیار نہیں تھی۔ وہ اس وقت بہت تھک چکی تھی۔ سب مہمان جاچکے تھے۔ وہ اپنے کمرے میں آگئی تھی۔ اس نے اپنی ساری جیولری اتار کر ڈریسنگ پر رکھی۔ الماری سے کپڑے نکالے اور بدلنے چلی گئی۔
کچھ دیر بعد وہ کپڑے چینج کرکے آئی تو بی جان کمرے میں موجود تھیں۔
"جی بی جان آپ سوئی نہیں ابھی تک"؟
میرال نے ان سے پوچھا۔ اور ان کے ساتھ بیٹھ گئی۔
"تم نے کھانا کیوں نہیں کھایا"؟
بی جان دیکھ چکی تھی جب سب کھانا کھا رہے تھے تو اس نے کھانا نہیں کھایا تھا۔
"بی جان مجھے بھوک نہیں ہے"۔
میرال نے ان کو کہا۔
"ڈرامے نہ کرو۔ مینا کھانا لے کر آرہی ہے ۔ کھانا کھاؤ۔ میں بھی اس وقت تک یہاں سے نہیں جاؤں گی جب تک تم کھانا نہیں کھاؤ گی"۔
بی جان نے اس کا کوئی بہانہ نہ سنا۔
کچھ دیر بعد مینا کھانا لے کر آگئی۔ بی جان نے اس کو اپنی نگرانی میں کھانا کھلایا۔ اس کا بلکل بھی دل نہیں تھا پر بی جان کے کہنے پر اس کو کھانا پڑا۔ کچھ دیر بعد بی جان اپنے کمرے میں چلی گئی۔ وہ بھی سونے کے لئے لیٹ گئی۔ اسی وقت مائر کا فون آیا۔
"اب یہ کیوں کال کررہا ہے۔ میں نے نہیں بات کرنی"۔
میرال نے موبائل اوف کردیا۔
اس وقت اس کا دماغ ویسے ہی کام نہیں کررہا تھا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
مائر کو رات سے ہی اس کا فون نہ ریسیو کرنا عجیب لگ رہا تھا۔ اور پھر اس کا موبائل کا اوف ہونا۔ اس کو لگ رہا تھا کہ وہ اس کو نظر انداز کررہی ہے۔
"شاید اس کو کچھ وقت چائیے ہوگا اس نئے رشتے کو تسلیم کرنے کے لئے"۔
اس نے سوچا۔
آج ان کی یونی کسی ٹریپ پر جارہی تھی۔ پر وہ نہیں جانا چاہتا تھا۔
اسی وقت نبیل کا فون آیا۔
"تو ٹریپ پر نہیں جارہا۔ تیرا فیصلہ فائنل ہے"؟
نبیل اس سے پوچھ رہا تھا۔
"کیوں ؟ ایسا کیا ہوگیا ہے جو اتنا پوچھ رہا ہے"؟
مائر اس کی باتوں سے بور ہوا۔
"میں تو اس لئے پوچھ رہا تھا کہ بھابھی جارہیں ہیں ٹریپ پر اور فائنل لیسٹ میرے ہاتھ میں۔ اگر تو نے جانا ہے تو بتادے"۔
نبیل کی بات پر اس کو حیرت ہوئی۔
"میرا نام بھی لکھ دو میں جارہا ہو"۔
مائر نے کہا اور فون بند کردیا۔
"اچھا جی ٹریپ پر جانے کی تیاری ہورہی ہے۔ اور مجھے لگا کہ اپ سیٹ ہوگی"۔
مائر نے تصور میں اس سے کہا۔
"چلو اب میں بھی پیکنگ کرلیتا ہوں"۔
اس نے الماری سے اپنا سوٹ کیس نکالا۔
رات کو ہی اس کو پتا چلا تھا کہ اس کی یونی ٹریپ پر جارہی ہے۔ اس نے صبح ہوتے ہی اپنا نام لکھوا دیا۔ اور صبح وہ ہمدان صاحب سے اجازت بھی لے چکی تھی۔ ویسے تو اس کو لگ رہا تھا کہ شاید وہ اس کو اجازت نہ دے۔ پر انہوں نے دے دی تھی۔
"شاید بی جان نے بابا سے بات کی ہو کہ مجھے اتنی جلدی نکاح نہیں کرنا تھا۔ اور اسی وجہ سے وہ مان گئے ہوں کیونکہ میں نے بھی تو ان کی بات مانی ہے"۔
میرال نے سوچا۔ وہ اپنے کپڑے پیک کر رہی تھی۔ کچھ دیر میں اسے نکلنا تھا۔ اس نے عنایہ کو بھی کہا تھا کہ ساتھ چلے پر وہ جانے کے لئے تیار نہ تھی۔ پھر میرال نے بھی زیادہ فورس نہ کیا۔
وہ بی جان اور ہمدان صاحب سے مل کر اب یونی پہنچ چکی تھی اور لیسٹ میں اپنا نام چیک کرکے وہ بس میں بیٹھ چکی تھی۔ بس نے اپنی منزل کی طرف قدم بڑھانا شروع کئے۔ وہ باہر کے نظاروں کو دیکھ رہی تھی۔ اس کو سکون اپنے اندر اترتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔ "اچھا ہوا جو میں نے ٹریپ پر آنے کا سوچا۔ کچھ دماغ کو سکون ملے گا۔ پھر دماغ ٹھیک سے چلے گا"۔
میرال کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی۔ میرال نے کانوں ہینڈ فری لگا لی اور گانے سننے لگی۔ اس کو باہر کے نظارے دیکھتے ہوئے گانے سننا اچھا لگ رہا تھا۔ بس میں سب کافی ہلا گلا کررہے تھے۔ پر وہ ان سب سے بے خبر گانا انجوائے کررہی تھی۔ میرال کے ساتھ کوئی لڑکی بیٹھی تھی۔ جو کافی آگے ہوکر بیٹھی تھی۔ جس کی وجہ سے میرال کو مائر نظر ہی نہیں آیا وہ دوسری سائڈ والی کھڑکی والی سیٹ پر بیٹھا تھا۔ اس نے میرال کو دیکھ لیا تھا۔ پر میرال پیچھے ہوکر بیٹھی ہوئی تھی۔ اس لئے اس کی مائر پر نظر نہ پڑی۔ وہ گانے سنتے سنتے کب سوگئی اس کو پتا ہر نہ چلا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
"اچھا ہوا جو تم کل یہاں ہی رک گئی تھی۔ ورنہ میں نے تو پاگل ہی ہوجانا تھا۔ پتا نہیں ہمدان کے دماغ میں کیا آیا۔ جو فورا ہی بیٹی کا نکاح کر دیا۔ نہ کوئی مشورہ لیا۔ نہ پہلے بتایا"۔
ناہید بیگم کو اب بھی ہمدان صاحب پر بہت غصہ تھا۔
"امی آپ کو تو پتا ہی ہے کہ ہمدان چچا پہلے کون سا مشورہ لیتے ہیں۔ تو پھر آپ ان پر غصہ کرکے کیوں اپنا دل جلا رہی ہیں"؟
زارا کو اب ان کی باتوں سے اکتاہٹ ہورہی تھی۔
"ارے میں تو اس لئے کہہ رہی ہوں کہ ہمیں اگر پہلے بتا دیتے تو میں نے یہ نکاح کبھی نہیں ہونے دیتی۔ میں نے تو کہہ دینا تھا کہ ایان سے کردیں میرال کی شادی وہ کون سا برا ہے۔ پر ہمدان نے تو بلکل وقت ہی نہ دیا"۔
ناہید بیگم کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ ہمدان صاحب کا سر پھاڑ دے۔
"امی اب بس کریں میں آپ کی باتیں سن سن کر تھک گئی ہوں۔ میرال کا نکاح ہونا تھا ہوگیا۔اب آپ یہ سوچے کہ یہ نکاح ختم کیسے ہوگا"۔
زارا کی بات پر ناہید بیگم نے اس کو دیکھا۔
"کیا مطلب ہے تمہارا"؟
ناہید بیگم نے پوچھا۔
"مجھے میرال خوش نہیں لگ رہی تھی۔ اور خوش ہوگی بھی کیسے ہمیں پتا تو ہے کہ وہ ریحان کو کتنا پسند کرتی تھی۔ یا شاید ابھی بھی کرتی ہے"۔
زارا نے ان کو سمجھانا شروع کیا۔
"ویسے تو یہ میں نے سوچا بھی نہیں تھا"۔
ناہید بیگم خوش ہوئیں۔
"تو اب سوچے ۔اگر مائر کو پتا لگ جائے کہ میرال اس کو نہیں کسی اور کو پسند کرتی تھی اور اب بھی وہ اس سے نکاح کے بعد بھی کسی اور کو پسند کرتی ہے تو پھر وہ اس کو ضرور چھوڑ دے گا"۔
زارا نے اپنا پلین بتایا۔
"پلین تو اچھا ہے پر میرال کیا مان جائے گی ایان کے لئے"؟
ناہید بیگم نے سوچتے ہوئے کہا۔
"میں ایان کے لئے نہیں ریحان کے لئے بات کررہی ہوں۔ ریحان سے بھی تو اس کی شادی ہوسکتی ہے۔ ویسے بھی سونیا نہ آپ کو پسند ہے نہ مجھے۔ بس سونیا کو کسی طرح سے بھائی کے دل سے نکالنا ہوگا"۔
زارا نے شاطرانہ انداز میں کہا۔
"یہ کام تو مجھ پر چھوڑ دو۔ میں ان دونوں کو الگ کر کے ہی رہوں گی"۔
ناہید بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا۔ اب ان کو لگ رہا تھا کہ اب وہ میرال کی جائیداد پانے میں کامیاب ہوجائے گی۔
انہوں نے ساری زندگی میرال کو اتنا پیار ایسے ہی تو نہیں کیا تھا۔ وہ اس کے سارے نخرے اس کی جائیداد کی وجہ سے ہی اٹھاتی تھیں۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
"تم میرا فون کیوں نہیں ریسیو کر رہی ہو"؟
وہ لان میں بیٹھی چائے پی رہی تھی۔ جب ایان اس کے گھر کے گیٹ سے اندر آیا اور اس کے پاس آتے ہی کہا۔
"میں بزی تھی اس لئے آپ کا فون ریسیو نہیں کرسکی"۔
عنایہ نے جھوٹ بولا۔ جب سے اس کو پتا چلا تھا کہ ایان کی شادی ایان کی ماں میرال سے کروانا چاہتی تھیں ۔تب سے اس کو بہت عجیب لگ رہا تھا۔ اس کو ایان کے دور جانے کا دکھ ہوا تھا۔ جیسے وہ اس کو کھو دے گی۔ پھر جب میرال کا نکاح مائر سے ہوگیا۔ تو اس کا ڈر تو کم ہوگیا۔ پر اس کو ایک اور ڈر لاحق ہو گیا کہ اس کو ایان کو کھو دینے کا ڈر کیوں تھا۔ ابھی تک وہ اسی الجھن میں تھی۔ جس کی وجہ سے وہ ایان کو اگنور کر رہی تھی۔ اور اس کا فون بھی ریسیو نہیں کررہی تھی۔ اس کو یہ ڈر تھا کہ جو وہ سمجھ نہیں پارہی اس سے پہلے ایان نہ سمجھ جائے۔
"کہاں بزی تھی ویسے؟ کیونکہ یونی تو بند ہے۔ نہ تم ٹریپ پر گئی۔ پھر کہاں بزی تھی"؟
ایان نے سنجیدگی سے پوچھا۔
"میں اپنے گھر کے کاموں میں بزی تھی۔ اور ویسے بھی آپ نے مجھ کو ایسا کیا کہنا تھا۔ جو بار بار فون کر رہے تھے"؟
عنایہ نے پوچھا۔ اور چائے خالی کپ ٹیبل پر رکھا۔
"میں نے بس تمہارا حال پوچھنا تھا۔ کل تم نکاح ہونے کے تھوڑی دیر بعد چلی گئی تھی"۔
ایان نے کل محسوس کیا تھا۔ کہ وہ اس کو نظر انداز کر رہی تھی۔
"اب ہر کوئی آپ کی طرح فارغ تو نہیں ہے"۔
عنایہ نے جان بوجھ کر ایسا کہا۔
"تمہیں تو ویسے بھی میری فکر نہیں ہے۔ پر مجھے امید ہے کہ تمہیں ایک دن ضرور میری فکر کرو گی"۔
ایان نے کہا اور گیٹ سے باہر چلا گیا۔
اسے عنایہ کی بات سن کر دکھ ہوا تھا۔ وہ عنایہ سے اپنے دل بات اب جلد کرنا چاہتا تھا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
"اب اٹھ جاؤ۔ ہم مری پہنچ گئے ہیں"۔
ساری بس خالی ہوگئی تھی پر وہ ابھی تک نہیں اٹھی تھی۔ مائر نے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی۔
"آ۔ ۔آ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں"؟؟؟؟
میرال فوراً اٹھ گئی تھی۔ اور اس کو یہاں دیکھ کر حیران تھی۔
"میں بھی تمہاری طرح ٹریپ پر آیا ہوں"۔
مائر نے مزے سے جواب دیا۔
"پر آپ کو نہیں آنا چائیے تھا۔ میں نے ٹریپ پر اکیلے آنا تھا آپ کیوں آئے"۔
میرال کو اس پر غصہ آرہا تھا۔
"تو میں کیوں نہیں آسکتا۔ یونی کا ٹریپ ہے میں نے سوچا میں بھی انجوائے کروں گا۔ اچھا اب کیا ساری باتیں یہاں پر ہی کرنی ہے۔ چلو سب باہر گھوم پھر رہے ہیں۔ ہم بھی گھومنے چلتے ہیں اور پھر کھانا بھی تو کھانا ہے"۔
مائر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو سیٹ سے اٹھانا چاہا۔
"میں آپ کے ساتھ نہیں جاؤں گی۔ میں خود چلی جاؤں گی گھومنے۔ میری ایک دوست ابھی یہی وہ بس سے باہر کھڑی ہے ۔میں اس کے ساتھ جاؤں گی"۔
میرال نے اپنا ہاتھ چھڑوایا۔
"ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی"۔
مائر نے آرام سے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا ۔
میرال نے فوراً اپنا بیگ لیا اور بس سے اتر گئی۔
"اس کو مجھ سے کوئی مسئلہ ہے"؟
مائر اس کے رویے پر سوچ میں پر گیا۔
میرال اور رمشا اس کو جاتے ہوئے نظر آئے۔
میرال رمشا کے ساتھ کافی آگے چلی گئی تھی۔ وہ لوگ یہاں پر کھانا کھانے کے لئے رکے تھے پر وہ دونوں کافی دور نکل آئی تھیں۔
"یار! ہم کہاں جارہے ہیں"؟
میرال نے رمشا سے پوچھا۔
"کہیں بھی نہیں ۔بس میں جب اپنے مام ڈیڈ کے ساتھ یہاں آئی تھی تو یہاں پر ایک بہت اچھی پرفیوم کی شاپ تھی پر اب تو کہیں پر بھی نہیں ہے"۔
رمشا نے اردگرد دیکھتے ہوئے کہا۔
"ہہم چلو پھر واپس چلتے ہیں۔ ایسا نہ ہوکہ بس نکل جائے"۔
میرال نے اس کو کہا۔ تو دونوں جلدی جلدی واپسی کی طرف چلنے لگی۔
"یہ میرال اور اس کی دوست نظر نہیں آرہیں ہیں۔ پتا نہیں کہاں چلی گئیں ہیں"۔
مائر سوچا اور میرال کا نمبر ڈائل کیا۔ پر اس نے فون نہیں اٹھایا۔
"ایک تو یہ لڑکی میرا فون پتا نہیں کیوں ریسیو نہیں کرتی"۔
مائر کو اس پر غصہ آرہا تھا۔ پھر اس نے اس کو میسج کیا۔ پر اس نے میسج کا بھی کوئی رپلائے نہ دیا۔
مائر نبیل کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھ گیا۔
"واہ! یار آج تو میرے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائے گا۔ مجھے تو لگا تھا کہ اب ہمیں کوئی لفٹ ہی نہیں ہونی"۔
نبیل نے اس کو دیکھ کر حیرت سے کہا۔
"ابھی تو تمہاری بھابھی مجھے لفٹ نہیں کروا رہی"۔
مائر نے پانی بوتل کا کہہ کھول کر منہ سے لگائی۔
"چل کوئی بات نہیں"۔
نبیل نے اس کو حوصلہ دیا۔
"یار! کیسے کوئی بات نہیں۔ مجھے اس کی فکر ہورہی ہے پتا نہیں کہاں گئی ہوئی ہے اور میرا فون بھی نہیں اٹھا رہی ہے"۔
مائر نے فکر مندی سے کہا۔
"یار! فکر نہ کر رمشا کے ساتھ گئی ہے ۔آجائے گی۔ کچھ دیر میں"۔
نبیل نے اس کو تسلی دی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
اس کو رمشا بہت اچھی لگ رہی تھی۔ اور اس کی باتیں تو تھیں ہی بہت مزے کی۔ وہ اس کے ساتھ بہت انجوائے کر رہی تھی ۔ وہ دونوں واپس ہوٹل کی طرف جارہے تھے۔
" یار! آج ہی ہم دونوں بس میں ملے ہیں اور ہماری دوستی کتنی اچھی ہوگئی ہے"۔
رمشا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
"ہاں یہ بات تو ہے۔ مجھے بھی تمہارے ساتھ بہت مزا آرہا ہے۔ میں تمہاری کمپنی کو انجوائے کر رہی ہوں"۔
میرال نے اس کی تعریف کی۔
"ویسے وہ کون ہے؟ جو تمہیں ہی دیکھ رہا ہے۔ جیسے تمہارا ہی انتظار کر رہا ہو"؟
رمشا نے دور ہوٹل کے پاس کھڑے مائر کو دیکھ کر پوچھا۔
" وہ۔۔۔۔۔۔ وہ میرا دوست ہے"۔
میرال کو سمجھ نہ آیا کہ اس نے جھوٹ کیوں بولا ہے۔

 

See also  Jannat Do Qadam Download Pdf

 

Another Novels to read are:

 

 

♥ Download More:

 Areej Shah Novels

 Zeenia Sharjeel Novels

 Famous Urdu novel List

 Romantic Novels List

 Cousin Rude Hero Based romantic  novels

 

 

 

آپ ہمیں آپنی پسند کے بارے میں بتائیں ہم آپ کے لیے اردو ڈائجیسٹ، ناولز، افسانہ، مختصر کہانیاں، ، مضحکہ خیز کتابیں،آپ کی پسند کو دیکھتے ہوے اپنی ویب سائٹ پر شائع کریں  گے

Copyright Disclaimer:

We Shaheen eBooks only share links to PDF Books and do not host or upload any file to any server whatsoever including torrent files as we gather links from the internet searched through world’s famous search engines like Google, Bing etc. If any publisher or writer finds his / her book here should ask the uploader to remove the book consequently links here would automatically be deleted.

Leave a Comment

close